Categories
شاعری

عشرہ / لونٹھا پولیس

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ان کی سیٹیوں الارموں ہوٹروں شوٹروں کے چلو میں
ٹریفک کا شور ڈوب مرنے کی جگہ ڈھونڈتا ہے

 

ملٹی نیشنلوں کے نیون سانپوں کو سالم نگل جاتے ہیں
ان کی نیلی پیلی چھپکلیاں لال ہرے اژدھے

 

عربی فرنچی داڑھیاں، نیچے سے موثر جرمن رانیں
ڈھیلے ماٹھے لینڈ لارڈ ہو جاتے ہیں انہیں تکتے ہی ہارڈ
ایسوں ویسوں کو اوقات سے بڑھ کے لفٹ نئیں دیتے
ہلکی رشوت پھلکی سفارش گھٹیا گفٹ نئیں لیتے

 

ملین ڈالر مین کے جیسی بائیک ہے ان کے نیچے
بگٹٹ بھاگ نکلتے ہیں کسی ادھیے والے کے پیچھے
Categories
شاعری

عشرہ / قصہ ء پاک و ہند ما قبلِ قدیم

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

قصہ ء پاک و ہند ما قبلِ قدیم

[/vc_column_text][vc_column_text]

لادے بموں سے سینے
میزائلوں سے شانے
تند ایٹمی طنابیں
تیز آتشی نشانے

 

اندر سے پر، نمانے
‘مانی’ کو ترسے نکلے

 

ادھڑی ہوئی جرابیں
اکھڑے ہوئے مسوڑھے
لڑنے کو گھر سے نکلے
ستر برس کے بوڑھے!

 

(مانی = روٹی یا کھانا، سندھی میں)

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں سمجھتا تھا
کہ دنیا تمہارے بغیر چھوٹی سی ہے
تمہاری پروان چڑھتی زندگیوں کے درمیان
مجھے معلوم نہ تھا
کہ میں پانی کی طرح بہہ رہا ہوں
اور مٹی کی طرح اڑ رہا ہوں
اور کتنا زندہ ہوں
اور کتنا مر چکا ہوں
تم نے نہیں دیکھا
کہ سب کس طرح مجھ کو دیکھتے تھے
اور جانتے تھے
کہ میں یکتائی کی جنگ جیت نہیں سکتا
کیونکہ شاعری اور تم ایک ساتھ
میرے گوشت اور میری ہڈیوں کے گودے میں رچے بسے تھے
تم نے کبھی ان راستوں پر قدم نہیں رکھے
جن پر چلتے ہوئے
میرے پاؤں گِھس گئے
اور میں صفر اعشاریہ صفر ایک ملی میٹر سے
قامت کا مقابلہ ہار گیا
تم نے وہ آنسو بھی نہیں دیکھے
جو میری آنکھوں میں امنڈنے کے باوجود
تیزی سے یُوٹرن لے کر
دل کے اندر کی مٹی میں جذب ہوتے رہے
یہاں تک کہ اب وہاں
سیال دھاتوں اور گاڑھی کیچڑ کی دلدل نے
خون کی نالیوں کا راستہ روک لیا ہے
اپنی اپنی نیندوں کی آسودگیوں میں
تم نے خوابوں کی ان درزوں کو بھی نہیں دیکھا
جن سے گزرتے ہوئے
میرے جسم کی کھال اتر گئی
اور میری لہو ٹپکاتی ہوئی برہنہ پرچھائیں
بے وجودی کی تصویر بن گئی
اب میں زندگی کے کسی البم میں نظر نہیں آتا
اور گفٹ پیپر میں لپٹی ہوئی چیزوں کی طرح
ایک کونے میں پڑا سب کو دیکھتا رہتا ہوں!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عشرہ / رجزیہ بین

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

رجزیہ بین

[/vc_column_text][vc_column_text]

اصل مسائل ذکر ای کوئی نئیں
رام، رحیم کو فکر ای کوئی نئیں
ملا، پنڈت دونو رج کے
گرجیں گرجتی ہیں گج وج کے
اینکر، بینکر، ٹینکر، فوجی
جاہل جنتا، اور من موجی
تاریں ہلانے والی — کمپنیاں
پتلے نچانے والی — کمپنیاں
لوگ تو بھوک، بیماری جھیلیں
لیڈر جنگیں / صلحیں کھیلیں!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عشرہ/ جنگ کی خوشگوار صبح

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عشرہ/ جنگ کی خوشگوار صبح

[/vc_column_text][vc_column_text]

آنکھیں ملتے بہادر علی کو بیک وقت دیکھا جا سکتا تھا
نانبائی اور گوالے کے بالمقابل تھڑوں پر ملی جلی قطاروں میں
کنبے کے ساتوں افراد کا ناشتہ، نو سالہ شانوں پہ آن پڑا تھا
جلدی!جلدی! چھوٹے بہن بھائی کے ساتھ سکول کا رخ کرنا تھا
سب سے ضروری، گھر کے تینوں بڑے مردوں کو مزدوری جانا تھا

 

پراٹھا جانے کب سے یخ ٹھنڈا ہو رہا
چائے پکنے میں ابھی کتنی دیر اور ہے
ویسے اسے کوئی ایسی خاص بھی بھوک نہیں
پر باپو پیڑھی سے، ماں چوکی سے ٹلنے کا نام نہ لیں تو!!
لکشی بار بار آنکھ بچا کے روپی کو میسیج کرنے لگتا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عشرہ / سترہ سے سترہ تک

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

سترہ سے سترہ تک

[/vc_column_text][vc_column_text]

ظلم کے زور پہ کھینچی گئی لائن
خلق کے خون سے سینچی گئی لائن
اس خونی ریکھا کی رکھشا
اب تک کس کھاتے میں قرض ہے
اس کَالی دیوی کی سیوا
آخر کس چکر میں فرض ہے
کیا تاریخ کا قاعدہ کوئی نئیں؟
اور اک جنگ کا فائدہ کوئی نئیں!
پھولوں سے خالی گملے تھے
سترہ دن… سترہ حملے تھے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عشرہ/ میں اور کراچی کے حالات کا رخ

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں اور کراچی کے حالات کا رخ

[/vc_column_text][vc_column_text]

چائے رس کھا کے گھر سے نکلا
بڑے بھائی کے بیان نے راتوں رات حالات کا رخ بدل دیا تھا

 

بوہنی ہونے تک دوسری بیڑی پی گیا تھا میں
تخت لہور سے دھاڑ سنائی دی اور پھر گیا حالات دا منہ ول قبلہ شریف

 

ایک تو سورج سر پر دوسرے دھندا ایک دم سے مندا
کپتان نے تیز سوئنگ سی پھینکی، بال بال بچا حالات کا جبڑا

 

لنچ بریک میں ڈبل چائے پی کڑک، ایمان سے مزا آ گیا
چھوٹے بھائی کی وضاحت نے حالات کا رخ پھر پھیر کے رکھ دیا

 

بمشکل آنکھ لگی، پڑوس میں ٹی وی پر جمے ہوئے تھے سب
حالات کا رخ موڑنے اپنی طرف، اپنی طرف سے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عشرہ/ بنی کشمیر کے عذاب

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

عشرہ 1: بنی کشمیر کے عذاب

ملا مودی بولتا ہے تو منہ سے لفظ نہیں تیز دروغ آمیز چھرے نکلتے ہیں
جو سیدھے تاریخ کے چہرے پر پڑتے ہیں، جہاں صدیوں نئے گھاو گلتے ہیں

وادی کی سب نر اولادیں لالہ فرعون کے کام کی ہیں
ساری قراردادیں کاغذ کی، ساری صلحیں نام کی ہیں

باپ ہتھیلی پر وہ گولی سجائے بیٹھا ہے جس نے جوان بیٹے کی جان لی
گلاب کے جھنڈ میں لا کر ذبح کیا، شمر نے شبیر کی آخری خواہش مان لی

پہلے ہندو طالبان نے خوب جی بھر کے نہتوں کے خون کی ہولی کھیلی
وائوو! وقت پہ بی بی سی والوں کو دیکھ کے گن کی جگہ غلیل نے لے لی

کشمیریوں کے لیے انڈیا پاکستان دو عارضی، خطرناک جھوٹ ہیں
بھیڑیوں کے مذاکرات، بھیڑوں کی نسل کشی کی کھلی چھوٹ ہیں

عشرہ 2: کشمیر کے حق میں اکھل گاو رکھشک پریشد کی تجاویز

کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے بہتر ہو گا کہ کشمیریوں کو چن چن کے مار دیا جائے
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بے ہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں

ان سب قابلِ عمل منصوبوں پر ہماری مہان سرکار کا روکڑا البتہ کافی اٹھ جائے گا
تھوڑی سی بد نامی اور ہو رہے گی، کتا چینلوں کے آگے مزید اشتہار ڈالنے پڑیں گے

کیوں نہ کشمیریوں کو سرے سے مزے سے بیچ ڈالا جائے
امریکہ روس چین جاپان عرب ایران۔۔۔افغانستان، جو بھی بولی لگا دے

قیمتی زرِمبادلہ سے لانچ کریں گے ہم اکھنڈ بھارت ورش کا جدید ترین راکٹ — دا گڈ گائے ماتا
جو اسی نوے فیصد تک درست پیش گوئی کر سکے گا ہمارے شدھ کشمیر کے پوتر موسم کی
Categories
شاعری

عشرہ/ سو قومی نظریہ

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

سو قومی نظریہ

پہلے دو راونڈ تو خالی گئے
اس کے بعد گینڈوں اور ہاتھیوں نے زک پہنچانے کا کوئی موقع علی الترتیب سینگوں اور سونڈوں سے نہ جانے دیا

بھیڑیوں نے دور تک تعاقب کیا
پھر بھی اکثر لومڑیاں جل دے گئیں کچھ کھیت رہیں

سوروں اور شکاری کتوں کی لڑائی میں
آخر الذکر کا ہانپتا پلڑا بھاری رہا

چربیلے لذیذ گوشت پر خونخوار فاتحین کا دست و گریباں ہونا بنتا تھا
جو کہ اب ہماری تاریخ کا سنہری باب ہے

زخمی خرگوش کے اب تک بچے کھچے چھیچھڑوں اور ہڈیوں پر
آوارہ کتیوں، پلوں، بلیوں، بلوں کی شدید سر پھٹول لائیو جا رہی ہے

مومنِ اعظم

اپنے فیورٹ ایگ اینڈ بیکن ناشتے سے انصاف کرنے کے بعد
وہ یہ کہنا کبھی نہیں بھولا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا

نوزائیدہ وطن کے بڑے بازو کو جوشِ خطابت سے جھنجھوڑتے ہوئے اسے خوب یاد آیا
کہ قومی زبان وہ چنے جو اکثر لوگوں کی طرح خود اسے بھی نہ آتی ہو

اس نے یہ ملک فوجیوں اور سیاستدانوں، وڈیروں اور صنعتکاروں کی مدد سے بنایا، صاف ظاہر ہے انہی کے لیے
جس میں پتا نہیں کہاں سے اور بہت سے غیر ضروری لوگ آ رہے یا پہلے سے رہتے ہوئے پائے گئے

اس کے اندر چھپا ہوا مردِ مومن، بیٹی کو کافر سے مرضی کی شادی کیسے کرنے دیتا، رحمت اللہ علیہ
جیسے خود ویسی ہی ایک کافرہ سے شادی اس کے مرد-حق ہونے کا ثبوت بنی، رحمت اللہ علیہ

شام ڈھلے جب وہ تھک جاتا تو دو چار جام کے بعد حسبِ ذائقہ
ریش دراز ملاوں، زباں دراز صحافیوں اور دست دراز سٹوڈنٹوں کے ساتھ نظریہء ضرورتِ پاکستان کھیلتا

سو قومی نظریہ (2) ۔۔۔ دس نمبری آزادی

کس کے پلّے لیڈروں کی انگریزی پڑی تھی
گِنے چُنوں کو اپنی اپنی تیزی پڑی تھی
نوّے فیصد دیش جب ان کے لیے جاہل تھا
ووٹ کا حق پھر کتنے فیصد کو حاصل تھا؟
کیسے سمجھا جائے سب پر سب واضح تھا
نام نہاد آزادی کا مطلب واضح تھا
اب تک جو نالائقِ فہم ہے، تب واضح تھا
تاج کے بردوں، راج کے پروردوں کے علاوہ
کون سا بھاری مینڈیٹ، جس نے ووٹ دیا تھا
اِس تقسیم کے حق میں کس نے ووٹ دیا تھا