Laaltain

عشرہ / لونٹھا پولیس

ادریس بابر: ان کی سیٹیوں الارموں ہوٹروں شوٹروں کے چلو میں
ٹریفک کا شور ڈوب مرنے کی جگہ ڈھونڈتا ہے

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

نصیر احمد ناصر: اب میں زندگی کے کسی البم میں نظر نہیں آتا
اور گفٹ پیپر میں لپٹی ہوئی چیزوں کی طرح
ایک کونے میں پڑا سب کو دیکھتا رہتا ہوں!

عشرہ / رجزیہ بین

ادریس بابر: اصل مسائل ذکر ای کوئی نئیں
رام، رحیم کو فکر ای کوئی نئیں

عشرہ/ جنگ کی خوشگوار صبح

ادریس بابر: پراٹھا جانے کب سے یخ ٹھنڈا ہو رہا
چائے پکنے میں ابھی کتنی دیر اور ہے
ویسے اسے کوئی ایسی خاص بھی بھوک نہیں

عشرہ / سترہ سے سترہ تک

ادریس بابر: ظلم کے زور پہ کھینچی گئی لائن
خلق کے خون سے سینچی گئی لائن
اس خونی ریکھا کی رکھشا
اب تک کس کھاتے میں قرض ہے

عشرہ/ بنی کشمیر کے عذاب

ادریس بابر: کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے بہتر ہو گا کہ کشمیریوں کو چن چن کے مار دیا جائے
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بےہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں

عشرہ/ سو قومی نظریہ

ادریس بابر: اپنے فیورٹ ایگ اینڈ بیکن ناشتے سے انصاف کرنے کے بعد
وہ یہ کہنا کبھی نہیں بھولا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا