Categories
شاعری

میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں جو خواب میں
ساڑھی پہن کر
سندھی بولتی ہوں
تم لوگ جو جنگ کرو گے
تو میں کہاں جاؤں گی؟
میرابچہ جو آج بھی
نانا کی جنم بھومی کا
طعنہ سہتا ہے
کیا وہ ایک نئی ہجرت کرے گا؟
یا ہم سب زندگی سے موت کی جانب
ہجرت کریں گے؟
تم جو جنگ کرو گے

Categories
شاعری

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر
ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے
بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے
آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے
رجز قومی ترانہ بن جائے
تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے
بچے ماں کی چھاتیوں سے
خون چوسنے لگتے ہیں
کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا
اور یومِ آزادی پر لوگ
پھلجھڑیاں نہیں، اپنی خوشیاں جلاتے ہیں

فوج کبھی نغمے نہیں گُنگنا سکتی
کہ سپاہی کھیتیاں اُجاڑنے والے
خود کار اوزار ہوتے ہیں

کیا پھول نوبیاہتا عورت کے بالوں
اور بچوں کے لباس پر ہی جچتا ہے؟
کاش۔۔۔!
وطن کی حدود کے تعیّن کے لیے
پھولوں کی کیاریاں
آ ہنی تاروں کا متبادل ہوتیں!

Categories
شاعری

پونے دو ارب گلیڈی ایٹرز ( علی اکبر ناطق)

مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں
ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں

پھر اُن میں سے ایک مارا جاتا ہے
یا پھر دونوں
یہاں تک کہ میدان خون کا تالاب بن جاتا ہے
اُسی لمحے تماشا دیکھنے والوں کی تالیاں گونجتی ہیں
تالیوں کی آوازیں گلیڈی ایٹر کی لاشیں نہیں سُنتیں
وہ فقط تڑپتی ہیں
مَیں اِس کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
کیونکہ مَیں جانتا ہوں
مَیں کسی بھالے ، نیزے یا تلوار کی ضرب سے بہت دُور ہوں
فقط ایک تماشائی
فاتح گلیڈی ایٹر کی قیمت
میری صرف ایک تالی کے برابر ہے
وہ تالی
جسے کبھی کبھی مَیں اپنے زانو پر پیٹتا ہوں
یا دونوں ہاتھوں سے بجاتا ہوں
گلیڈی ایٹر میری تالی کی آواز کو شناخت نہیں کر سکتا
کہ وہ ایک لمحے میں بہت سی تالیاں سُنتا ہے
یا اگر وہ زخموں سے چور ہے یا مر چکا ہے تو اُسے تالیاں بالکل سنائی نہیں دیتیں
اِس کا تجربہ
ایک ایسے شخص کو کیسے ہوسکتا ہے جو میدان سے باہر بیٹھا ہے
ہاں مگرجب تک اچانک تماشائی خواب سے بیدار نہ ہو جائے
اور اُسے پتا چلے کہ وہ خود گلیڈی ایٹر ہے
اور ابھی چند لمحوں بعد مرنا ہے
اے پونے دو ارب گلیڈی ایٹرو
ایک دن تمھیں پتا چلے گا کہ تم تماشائی نہیں ، گلیڈی ایٹر ہو
پھر تمھیں کوئی تالی، کوئی نعرہ سنائی نہیں دے گا
تمھارے کان بحرے ہو جائیں گے
اور میدان خون کے تالاب میں بدل جائیں گے
پھر تمھیں خبر ہو گی یہ تماشا محظوظ ہونے والا نہیں
Image: Pakistan Today

Categories
شاعری

خلا میں لڑھکتی زمین

زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے
خلا
اپنی برفاب وسعتوں میں
زمانے اگلتا ہوا چل رہا ہے
سفر
زاویوں کی پناہوں میں بیٹھا ہوا
خواب میں ڈھل رہا ہے
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے
ہوا
اپنی سانسوں کے بارود میں
خواہشوں کو الٹتی ہوئی بہہ رہی ہے
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

سمندر کی خوں خوار لہریں
سفر در سفر خوف پہنے ہوئے
بھاگتی جا رہی ہیں
کبھی چاند کے
اور کبھی
سورج کے جلتے ہوئے جسموں کو پی کے
کئی رنگ پھیلا رہی ہیں
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

Categories
شاعری

جنگ سخت کوش ہے

عراقی نژاد امریکی شاعرہ دنیا میخائل
انگریزی سے ترجمہ سلمیٰ جیلانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار
صبح سویرے
سائرنوں کو جگاتی ہے
اور ایمبولینسوں کو
مختلف علاقوں میں بھیجتی ہے
لاشوں کو ہواؤں میں جھلاتی ہے
اسٹریچروں پر زخمیوں کو لادتی ہے
ماؤں کی آنکھوں سے
بارش کے سندیسے بھیجتی ہے
زمین کھود ڈالتی ہے
بہت سی چیزیں
کھنڈروں کے اندر بے ٹھکانا کر دیتی ہے
ان میں سے کچھ بے جان اور گیلے پن سے دمکتی ہوئی
اور کچھ زرد رو، ابھی بھی تڑپتی ہوئی
یہ سب سے زیادہ خیال پیدا کرتی ہے
بچوں کے ذہنوں میں
دیوتاؤں کا دل بہلاتی ہے
آسمان میں آتش بازی اور میزائل چھوڑ کر
کھیتوں میں بارودی سرنگوں کی بوائی کرتی ہے
خاندانوں کو ہجرت پر اکساتی ہے
پیشواؤں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے
جب وہ شیطان پر لعن طعن کرتے ہیں
(غریب شیطان ایک طرف آگ میں جھلستا ہے)
جنگ مسلسل کام میں لگی رہتی ہے،
دن دیکھتی ہے نہ رات
یہ ظالموں کا حوصلہ بڑھاتی ہے
کہ وہ لمبی لمبی تقریریں کریں
جرنیلوں کو تمغوں اور شاعروں کو موضوعات
سے نوازتی ہے
مصنوئی اعضاء کی صنعت کو بڑھاوا دیتی ہے
مکھیوں کو کھانا کھلاتی ہے
تاریخ کی کتابوں میں نئے صفحات جوڑتی ہے
قاتل اور مقتول میں مساوات قائم کرتی ہے
عاشقوں کو ایسے خط لکھنا سکھاتی ہے
کہ نوجوان لڑکیاں ان کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو جائیں
اخباروں کو تصویروں اور مضامین سے بھر دیتی ہے
یتیموں کے لئے نئے گھر تعمیر کرتی ہے
کفن بنانے والوں کو توانائی بخشتی ہے
قبریں کھودنے والوں کی پیٹھ ٹھونکتی ہے
اور سیاسی رہنما کے چہرے پر مسکراہٹ پینٹ کرتی ہے
وہ ناقابل بیان محنت سے کام کرتی ہے
پھر بھی
ابھی تک
کسی نے ایک لفظ اس کی تعریف میں نہیں کہا
Image: Wissam Al Jazairy

Categories
شاعری

لاشوں کا احتجاج

بچے اب درختوں پہ اگیں گے
جنم لینے سے انکار سمے
بچے نے ڈائری لکھی
جس میں
بم دھماکوں سے
بہرے اور اندھے ھونے والے بچوں کی آپ بیتیاں تھیں

ماؤوں کی خوفزدہ سانسوں میں
بسی کہانیوں میں
درد زہ کی چیخیں تھیں۔
زمیں بوس عمارتوں کے ملبے سے
خون آلود لاشیں
ظلم کے خلاف نعرے لگاتی بر آمد ہوئیں۔

حاملہ عورتیں جو بمباری کے زہریلے دھوئیں میں
مرنے کے قریب ہیں
دسویں مہینے میں بھی
بچوں نے جنم لینے سے انکار کر دیا
انھوں نے آپریشن تھیٹر جانے سے پہلے بتایا

داستانوں کی ڈائری کے لکھاری میں
گل مکئی لکھا جائے
تو شاید
انسانی لاشوں سے
ایسا تخم اگے
جو زمیں کی پیشانی کو سیندور سے بچا سکے۔
ورنہ بچوں کو
درختوں پہ اگنا پڑے گا۔

درخت یہ سن کر تھر تھر کانپ رہے ہیں۔
انھوں نے لاشوں کے ڈھیر دیکھ کر
خود کو بانجھ کر لیا ہے۔
کوئی انکی مددکو نہیں پہنچا
ابھی تک
آگ لگانے والے مفرور ہیں۔

Categories
شاعری

امن کا پرندہ

امن قبرستان میں قید کردیا گیا
اور باہر فاختہ اڑا دی گئی
جسے کوئی بھی دانہ ڈال سکتا ہے
جسے کوئی بھی بیچ سکتا ہے
جسے مارنے کے لیے
غلیل کافی ہے

Categories
شاعری

وقت کا نوحہ

میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے
صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے
گھروں کی چلمنوں سے اُس پار
باہر بیٹھی ہَوا رو رہی ہے
نظام سقّہ پیاس کی اوک کے سامنے
سبیل لگائے ہوئے العطش بانٹتا ہے

زمانہ پیاس کے نوحے پر
ماتمی دف بجا رہا ہے
ڈبلیو ٹی او اناج کی گٹھریوں پہ بیٹھی
بھوکوں کو امن کے حروف سے بھری
پلیٹ دے رہی ہے
یو این او کی آنکھ کے کناروں کی جنبشوں سے دنیا
کپکپا رہی ہے

ماں؟؟؟
مامتا کو ہنسی آ رہی ہے
دودھ کی جگہ چھاتیوں میں
نظریے اور فلسفے گھولے جا رہے ہیں
وقت کی ڈور پر جھولتے بچوں سے
جھولنے کے اوقات چھینے جا رہے ہیں
بارود، بم، میزائل اور دھماکے
دھرتی کی کوکھ میں دھکیلے جا رہے ہیں

Image: Banksy

Categories
شاعری

ایک اور فتح کے بعد

بموں اور گولیوں سے
مری دھرتی اب نئی دنیا اگائے گی
ہوا
مردہ گلے جسموں کی بو میں
لڑکھڑائے گی
ڈری سہمی ہوئی مائیں
اب اپنے وقت سے پہلے
زمانے جننا سیکھیں گی
کھلی آنکھوں میں حیرانی سمیٹے
میرے بچے
پہلی بولی، درد سے آہوں سے
اور چیخوں سے سیکھیں گے
بلیک آؤٹ میں بیٹھے
ایڈیسن کو شکریے کی میل بھیجیں گے
عقوبت خانوں میں بے داغ جسموں پر
زمانے چڑھ گئے تو کیا
ہم ایور یوتھ کریموں سے
ہر اک سلوٹ چھپالیں گے
کلوننگ کے لئے خلئے ملیں گے
فرد ہم پھر سے بنالیں گے
زمین یہ بجھ گئی تو کیا
نئے سیارے پر جاکے
نئی دنیا بسا لیں گے

Categories
شاعری

بارود گھر

بارود گھر
بہت دیر کر دی
فرشتوں نے نیچے اترتے ہوئے
فاختہ
اپنی منقار میں
کیسے زیتون کی سبز پتی دبائے
جہنم سے پرواز کرتی؟
فلک دور تھا
اور بارود گھر شہر کے وسط میں
Categories
شاعری

راوی رستہ موڑ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

راوی رستہ موڑ

[/vc_column_text][vc_column_text]

راوی رستہ موڑ
کبھی اس شہر کی جانب جو جلتا ہے
سن زخمی آواز
جو سینے چیر رہی ہے
جھومر کی وادی میں کس نے پھینکا ہے بارود؟؟
جھلس گئے بالَوچ
کون “پری پیکر” ہیں جنہوں نے ڈسے بلوچی خواب ؟؟
کون ” کرم فرما” ہاتھوں نے زہرکیا یہ آب؟؟
ظلم کریں عُہدوں والے اور گالی سنے پنجاب؟؟؟؟
تَو راوی !
اب تُو رستہ موڑ
ذرا اس شہر کی جانب اے بوڑھے دریا !
غصیلی خلقت کو سمجھا
کہ میں تو خود روتا ہوں !
دیکھ ! مِری لہروں نہروں سے نکل رہی لاشیں
اپنے ہی آنچل سے پھندہ لیتی یہ بہنیں
ڈگری پر پٹرول چھڑک کر جلتا مستقبل
دیکھ ! یہ اُجڑے خواب اور خوابوں سے خالی ہر دل
جس کرسی کے پایے تیرے دل میں ہیں پیوست
میری لہروں اور ترے درّوں پر نازل مشترکہ آسیب
جن کی سنگینوں سے ادھڑے سندھ بلوچستان
جن کی خون آشام ہوس نے لوٹا پاکستان
یار بلوچستان
وہی اپنے مجرم ہیں !
راوی رستہ موڑ بلوچستان کی جانب
پھولوں کے ہمراہ
کہ سب دکھ سکھ سانجھے ہیں !

Image: Abid Khan
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

امن کے عالمی دن پر ہندوستانی ہمسائے کے نام خط

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میرے ہمسائے!

 

ہو سکتا ہے تمہاری رائے میرے بارے میں تبدیل ہو گئی ہو، اور ہو سکتا ہے کہ اب تم میرے خط کو وصول کرنے سے انکار کر دو۔ دیکھو مجھے کسی کے فوجی کے مرنے کی کوئی خوشی نہیں ہوتی تمہارے اٹھارہ فوجی مرے، مجھے ان کے مرنے کا دکھ ہے۔ مگر ایک ایسے وقت میں ہی تو امن کی بات کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے، اس پاگل پن کے بیچ ہی تو ہمیں دانشمندی کے حق میں دلائل دینے ہیں۔

 

اگر کل کلاں کو میرے اور تمہارے ملک کے مابین جنگ ہوئی تو میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ میں تم پر بندوق تان سکوں گا کہ نہیں۔
ایک ایسے وقت میں امن کی بات کرنا جب ایک طرف سے جنگ کی للکار ہو اور دوسری طرف ہر حملے کا سامنا کرنے کے عزم کا اظہار معلوم نہیں کس قدر دانشمندی ہے لیکن مجھے ابھی تک فیصلہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اگر کل کلاں کو میرے اور تمہارے ملک کے مابین جنگ ہوئی تو میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ میں تم پر بندوق تان سکوں گا کہ نہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ میرے لیے بہر طور انسانیت اپنے ملک سے محبت ور تمہارے ملک سے دشمنی نبھانے سے زیادہ اہم ہے اور میں کسی ایسے پاگل پن کا حصہ نہیں بن سکتا جو حب الوطنی، مذہب یا قومیت کی بنیاد پر رچایا جائے۔ میں جنگ نہیں چاہتا اور اگر جنگ ہوئی تو میرے لیے کسی کے بھی خلاف بندوق اٹھانا ممکن نہیں ہو گا سوائے اپنے۔ میں کسی بھی اور شخص پر خواہ وہ میرے دشمن ملک سے ہی ہو گولی چلانا ممکن نہیں۔ سو اگر کبھی ہمارے درمیان جنگ ہوئی اور اگر کبھی ہم دونوں کے ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کو نابود کرنے کو ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں تو جان لینا کہ میں تب تک خود کو مار چکا ہوں گا۔

 

میرے اور تمہارے دیس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور ہم پلک جھپکتے میں ایک دوسرے کے ملکوں کو راکھ کر سکتے ہیں۔ ہم اربوں کی آبادیاں جھلسا سکتے ہیں اور ہمارے میزائل ایک دوسرے کو لمحوں میں ہمیشہ کے لیے بنجر کر سکتے ہیں۔ مگر سوچو کہ دونوں طرف ایک دوسرے کی اس تباہی کا جشن منانے کو بھی کوئی نہیں بچے گا۔ وہ بھی نہیں جو اس وقت “جنگ کرو، برباد کر دو، دشمن کو منہ توڑ جواب دو” کی گردان کر رہے ہیں۔ موت کے لیے اتنے اسباب مہیا کرنے کو دفاع کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیا اپنے دفاع کے لیے ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ملکوں کو تباہ کرنے کے ہتھیار جمع کر لیں اور اتنی فوجیں اکٹھی کر لیں کہ ہمارے لیے سانس لینا مشکل ہو جائے؟

 

ہم صرف اس لیے ایک دوسرے کے بچوں اور ماوں کو قتل کرنے اور ان پر بارود برسانے کو تیار ہیں کیوں کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے سوام کوئی اختیار ہمارے ملکوں نے نہیں دیا
ہمارے جوہری ہتھیار، ہمارے میزائل، ہمارے طیارے، ہمارا گولہ بارود اور ہمارے لشکر کیا یہ سب کچھ ہی ہمارے وطنوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس ایک دوسرے کو دینے کے لیے دھکمیوں کے سوا کچھ بھی نہیں؟ یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ ہم ڈیڑھ ارب انسانوں کو ایک ایسی تباہی میں جھونکنے کو ہمہ وقت تیار رہیں جس کا ماتم کرنے والے بھی باقی نہیں رہیں گے؟

 

کیا ہمارے سکولوں میں یوم دفاع اور جنگوں میں جیت کے مقدموں کی بجائے امن کی اہمیت اور افادیت کے مضامین شامل نہیں کیے جا سکتے؟ کیا ہم ا پنے وسائل جو ایک دوسرے کو موت کو گھاٹ اتارنے کے لیے بارود کے انبار کھڑے کرنے کو صرف کر رہے ہیں وہ ہماری زندگیوں کو بہتر بنانے پر خرچ نہیں کر سکتے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دشمن قرار دینے کے لیے اپنے ٹی وی چینلوں کی زبانیں دراز کر لیں، ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے انجان رہنے کو ترجیح دینے لگیں؟ مگر میرے لیے یہ آسن نہیں۔ آخر میں ایک ایسے شخص کو کیسے دشمن تسلیم کر لوں جو مجھ سے سینکڑوں میل دور رہتا ہے اور جس سے مجھے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا، جس نے مجھے کبھی دیکھا ہی نہیں اور جسے میں جانتا تک نہیں اور تم کس طرح ایک ایسے شخص سے نفرت کر سکتے ہو جس سے تم واقف نہیں؟ ہم صرف اس لیے ایک دوسرے کے بچوں اور ماوں کو قتل کرنے اور ان پر بارود برسانے کو تیار ہیں کیوں کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے سوام کوئی اختیار ہمارے ملکوں نے نہیں دیا، ہمیں یہی کہا گیا ہے کہ جنگ ہی واحد حل ہے۔ مگر ہمیں نفرت کے علاوہ بھی کچھ منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیئے، ہمیں جنگ کے سوا بھی کوئی حل تلاش کرنا چاہیئے۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

ستیارتھی ، ملالہ اور امن

پاکستان اور بھارت اپنے قیام سے لے اب تک تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں اوربدقسمتی سے اب تک دونوں ممالک میں اس جنگی جنون میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکی ۔ ان ممالک کے بیچ جہاں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے وہیں ان ممالک میں غربت کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ صدیوں سے اکھٹے رہنے والوں کے درمیان نفرت کی لیکریں دن بددن گہری ہوتی جا رہی ہے ۔ جہاں اس نفرت کی دیوار کو بڑھانے والے افراد موجود ہیں وہاں امن کے متوالے ان نفرتوں اور عداوتوں کے خلاف کمر بستہ نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی ہمیں اوسلو میں نوبل امن ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کیلاش ستیارتھی اور ملالہ یوسف زئی نظر آتے ہیں جن کو دونوں دیسوں کے کروڑوں افراد نے ٹیلی ویژن سکرین پر براہ راست دیکھا۔ یہ لمحات یقینا” قابل دید اور قابل ستائش تھے جنہیں شاید لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ ایوارڈ دنیا میں غیر معمول کام کرنے والے افراد کو ہر سال دیا جاتاہے۔ 1903ء سے 2014ء تک 103شخصیات اور 25عالمی تنظیموں کو نوبل انعام سے نوازاگیا ہے۔ 17 سالہ ملالہ دنیا کی سب سے کم عمر نوبل انعام حاصل کرنے والی شخصیت بن چکی ہیں ۔ سوات کی ملالہ یوسف زئی کو عالمی شہرت بی بی سی اردو پر گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھنے پر اس وقت ملی جب طالبان نے سوات میں لڑکیوں کے سکولوں پر حملے کرنے اور ان کو تعلیم حاصل کرنے سے باز رکھنے کیلئے گولی و بارود کو بطور ہتھیار استعمال کیا ۔ اس وقت ملالہ نے ان دل خراش واقعات کو قلم بند کرنا شروع کیا اور تعلیم کے حق کے لیے آوازاٹھائی۔
طالبان کے خلاف آواز اٹھانے پر 9 اکتوبر 2012 کو طالبان دہشت گردوں نے ملالہ کی سکول وین پر حملہ کر دیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی تھیں۔ انہیں علاج اور اپنی اور گھر والوں کی جان کے تحفظ کےلئے برطانیہ منتقل ہونا پڑا جہاں صحت یاب ہونے کے بعد وہ اب زیرِ تعلیم ہیں۔ دو بین الاقوامی اداروں نے ملالہ کے حالات و واقعات پر دستاویزی فلمیں بھی بنائی ہیں جن میں انہوں نے کھل کر تعلیم پر پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ اب اگر لڑنا ہے تو غربت کے خاتمے کے لیے لڑنا ہے ، اب اگر جنگ ہو گی تو وہ جہالت ، پسماندگی اور ناانصافی کے خلاف ہو گی۔
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے گاؤں ودیشا میں 11جنوری 1954 کو پیدا ہونے والے کیلاش ستیارتھی نے 1990 میں بچوں کے حقوق کیلئے ایک سماجی تنظیم بچپن بچاؤ آندولن کے قائم کی اور بچوں کی مزدوری کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کیا۔ اس تنظیم نے 80 ہزار بچوں کو مزدوری سے ہٹا کر تعلیم کے زیوار سے آراستہ کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی پورے زور و شور کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ نوبل ایوارڈ کی اس تقریب میں کیلاش نے کہا کہ ’ہر بچے کو پڑھنے اور بڑے ہونے کے لیے آزاد ہونا چاہیے، اپنی مرضی سے ہنسنے اور رونے کے لیے آزاد ہونا چاہیے اور انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس اشلوک پر کیا ’ہمیں جہالت سے علم کی طرف، اندھیرے سے روشنی کی طرف بڑھنا ہے۔ “جبکہ ملالہ نے اپنے خطاب میں دنیا کے طاقت ور ممالک اور طبقات سے یہ سوال کیاکہ ’ایسا کیوں ہے کہ بندوقیں بانٹنا آسان ہے اور کتابیں بانٹنا مشکل ہے، ٹینک بنانا آسان لیکن سکول بنانا مشکل ہے۔ ملالہ نے کہا کہ یہ ایوارڈ صرف ان کا نہیں بلکہ ان بچوں کا ہے جو تعلیم چاہتے ہیں، ان خوفزدہ بچوں کا ہے جو امن چاہتے ہیں اور ان بےزبان بچوں کا ہے جو تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ملالہ نے کہا کہ ’یہ ان بچوں پر ترس کھانے کا نہیں بلکہ اقدامات کرنے کا وقت ہے تاکہ یہ وہ آخری وقت ہو جب ہم کسی بچے کو ناخواندہ دیکھیں۔ اپنے انعام سے ملنے والی رقم سے ملالہ نے ملالہ فنڈ کے تحت اپنے آبائی علاقے سوات اور شانگلہ میں سکولوں پر خرچ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس خوشی اور مسرت کے موقع پر ستیارتھی اور ملالہ کا یہ مشترکہ ایوارڈ اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ہر شہری کو یہ عہد کرنا ہو گا کہ وہ امن کی خاطر اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ جنگ کے طبل بجانے کی بجائے اپنے سیاسی اور جغرافیائی مسائل کو بات چیت کے ذریعے مل بیٹھ کر حل کریں ۔ دونو ں قوموں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ اب اگر جنگ کرنی ہے تو اس خطے کی محرومیوں کےخاتمے کے لیے اس خطے کے مسائل کے خلاف کرنی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ اب اگر لڑنا ہے تو غربت کے خاتمے کے لیے لڑنا ہے ، اب اگر جنگ ہو گی تو وہ جہالت ، پسماندگی اور ناانصافی کے خلاف ہو گی۔ اگر واقعی ہم امن ایوارڈ لینے والوں کو داد تحسین دینا چاہتے ہیں تو اان امن پسند اقدامات کی طرف بڑھنا ہو گا اور اپنے اپنے دیس کے مقتدر طبقات کو قائل کرنا ہو گا کہ وہ امن کے راستے کی طرف اپنے سفر کا آغاز کریں۔