Categories
شاعری

آدم بو! آدم بو!!

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آدم بو! آدم بو!!

[/vc_column_text][vc_column_text]

تم شمشانوں کی خاموشی سے
خوابوں کو پھر باندھ رہے ہو
لو ہے کی نوکیلی باڑیں
دل کےاندرچھید کریں گے۔
جنگی ترانے۔۔۔۔۔۔۔
ارمانوں کے گیت
چرا کر لے جائیں گے
بارودوں کی آگ جلی تو
صحن کے چولھے بجھ جائیں گے
توپوں کی ان آوازوں میں
انسانوں کے خوف بکیں گے
ماں کے آنسو
شہر کا پانی زہر سا کڑوا کر جائیں گے
ہتھیاروں کی دھات تمھاری دھڑکن پی کر
کتبوں اور تابوتوں کی تعمیر کرے گی
نفرت کی آندھی پھر دروازے پر
آدم بو آدم بو چیخ رہی ہے
تم شمشانوں کی خاموشی سے
خوابوں کو پھرباندھ رہے ہو

Image: Necmettin Asma
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

جنگ: ایک کولاژ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

جنگ: ایک کولاژ

[/vc_column_text][vc_column_text]

مورچے کھودنے کا کفارہ دینے کو
قبریں جسموں سے پر کرنی پڑتی ہیں

 

———————

 

بوڑھی کمریں بیٹوں کے دفنانے کو جھکتی ہیں
سیدھی نہیں ہوتیں

 

—————-

 

قبروں پر جو پانی چھڑکا جاتا ہے
چکھ کر دیکھو
اس میں نمک ہے

 

————-

 

پائینتی لگ کر آپ ہی آپ سلگنے والی اس عورت نے
جنگ چھڑنے سے خوابوں کے دفنانے تک
خوشبو نہیں پہنی

 

———–

 

سرہانے پر ہاتھ پھیرتی ماں سے پوچھو
جیتا کون

 

—————

 

تمغے جس سونے سے ڈھالے جاتے ہیں
اس میں سے نیت کا کھوٹ علیحدہ کرنا ناممکن ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]