
موتی نے سرخ پھولدار اور ریشمی کپڑے سے بنی،روئی سے بھری،پتلی اورچوکورگدیلی دیوار پر جھاڑ کر پہیےدار کرسی کے تختے پر پٹخی مگرگدیلی پر پڑےمیل
ہمارے بہترین وقت میں ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں اور ہمارے برے دنوں میں ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے ہمارے برے دنوں میں ہمارے
[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950
میں جو خواب میں ساڑھی پہن کر سندھی بولتی ہوں تم لوگ جو جنگ کرو گے تو میں کہاں جاؤں گی؟ میرابچہ جو آج بھی
ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے رجز
چیزیں جب کھو جاتی ہیں انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہوں جو شامل ہو جاتی ہیں ان چیزوں میں جو بہت پہلے کھو گئیں تھیں
پرکار کی نوک پر کاغذی گلوب نے تیزی سے حرکت کی اور مجھے کئی حصوں میں منقسم کردیا میں نہیں جانتا میرا کون سا ٹکڑا
زندگی کے لئے ایک عورت کو بس سانس لینا ہی کافی نہیں اس کو لازم ہے وہ کوہساروں کی آواز سنتی ہو نیلے افق کی
میں نے دھیرے دھیرے خواب کی ایک ایک گانٹھ کھولی اور اس ڈوری کو اپنی گردن پر لپیٹ لیا میں نے آہستہ آہستہ تمنا کی
ٹرانسکرپشن: خضر حیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال: عارف وقار کے ساتھ انٹرویو میں آپ نے بتایا تھا کہ آپ نے اس کائنات کی ٹوٹیلٹی(Totality) کو وٹگن سٹائن
شاید اس سیارے پر مَیں اکیلا ہی ہوں اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر اکیلے ہی طے کرنا ہے باقی سب ہمسفر شاید ابھی
یوم محبت رفیق حیات کے ساتھ شریک سفر اشارے کی رنگین بتی کے نیچے سرخ لباس میں ملبوس جوان فقیرنی ہاتھ میں پھول گود میں
