Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چوبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(42)

بہت دنوں سے ولیم سوچ رہا تھا کہ سرکاری نوکری پر لعنت بھیج دے۔ صرف اوکاڑہ میں رہ کر اپنا ذاتی فارم چلائے،جس پر کیتھی کسی طرح بھی راضی نہ ہو سکتی۔ شاید وہ اُسے بھی نظر انداز کر کے فیصلہ کر بیٹھتا کہ اچانک اُس کی خوش نصیبی سے برطانیہ پر ایک آفت ٹوٹ پڑی اور وہ تھی جنگ عظیم دوم۔ ہٹلر کی حکومت نے مشرقی یورپ میں ایک وسیع اور جدید سلطنت “لونگ اسپیس” (لیبن سروم) کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ اُس نے یہ خیال اپنے لوگوں پر واضح کیا تو جرمن لیڈروں نے یورپ پر جرمنی کے تسلط کیلئے جنگ کو ضروری قرار دے دیا۔ سویت یونین کی غیر جانبداری حاصل کرنے کے بعد جرمنی نے یکم ستمبرانیس سو انتالیس میں پولنڈ پر حملہ کرکے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کر دیا۔ اِس کھلم کھلا جارحیت کو روکنے کے لیے برطانیہ اور فرانس نے رد عمل کے طور پر تین ستمبر کو جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اُدھر ایک ماہ کے اندر جرمن نے سویت فوجوں کے اتحاد سے پولنڈ کو شکست دے دی۔ پولینڈ جرمنی اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب اِس سب کچھ سے لا تعلق ولیم پنجاب کے چیف سیکرٹری ہاؤس لاہور میں کُھڈے لائن لگا،فائلوں کے اُوپر سے مکھیاں اُڑا رہا تھا۔ وہ اِس جنگ کی خبریں تو مسلسل سُن رہا تھا لیکن ابھی جنگ کی آواز براہ راست ہندوستان نہیں پہنچی تھی۔ اِس لیے اُسے اس سب کچھ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ویسے بھی کچھ وقت تک عارضی سکون ہو چکا تھا،جونو اپریل انیس سو چالیس تک جاری رہا اور اُس وقت ختم ہوگیا،جب جرمن فوجوں نے پھر ایک دفعہ ناروے اور ڈنمارک پر حملہ کردیا۔ یہی وہ وقت تھا جب بر طانیہ کے کان پر دوبارہ جوں رینگی اور وہ اِس کھجلی پر چونکا۔ اُدھر جنگ کا آغاز ہو ااِدھر برطانوی کالونیوں میں انگریزوں اور مقامیوں کو افسریاں پلیٹوں میں بکنے لگیں۔ اِسی ریلے میں کئی معتوبوں کی غلطیاں بھی تھوڑی بہت سرزنش کے بعد بخش دی گئیں۔ چنانچہ ولیم کی بھی سنُ لی گئی اور اُس کی خدمات دہلی ڈویژن کے سپرد کر دیں۔ جہا ں انہیں بطور ڈپٹی کمشنر ضلع روہتک بھیج دیا۔

ولیم کا اتنی جلدی اچانک ڈپٹی کمشنر بن جانا نہایت اعزاز کا باعث تھا اور کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ کجا لاہورمیں پندرہ ماہ سے مکھیاں مارنے کاکام اور کجاایک دم پورے ضلع کا وائسرائے۔ آڈر ملنے کے بعد اُس نے فوراً کیتھی کو اطلاع دی اور کہا،محترمہ جلدی ضلع کی میم بننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ کیتھی نے یہ سنتے ہی اوکاڑہ میں اپنی نیابت کے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کر دی۔ سب سے پہلے اُس نے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر ملنے والے ملازمین کی لسٹ تیار کی۔ جس کی تعداد پینتیس کے لگ بھگ تھی۔ اِن میں خاص کر،سائیس،دھوبی،خانساماں،بھنگی،باورچی،مالی،گھسیارا،چڑی مار، قصاب، مچھیرا، ماشکی، مالشیا،حلوائی،سگ پرور،بٹیر باز،مرغ باز،اور اسی طرح کے نجانے کیا کیا الا بلا نوکروں کی پلٹنیں تھیں۔ یہ تو باقاعدہ نجی ملازم تھے۔ ورنہ تو اب پورا ضلع ملازم ہونے والا تھااور کسی کی کیا جرات کہ اُن کی مرضی کے خلاف پر بھی مارتا۔ ولیم اِسی خوشی میں نولکھی کوٹھی پر پہنچا اور سب دوستوں کو بلا کر ایک لمبی دعوت سے سر فراز کیا۔ جانسن صاحب نے (جو ایک سال پہلے ریٹائرڈ ہو چکے تھے) اپنے تجربات کی تھکادینے والی کہانیاں سنائیں اور ایسی ایسی نصیحتوں کی زنبیلیں کھولیں،جو اگرچہ بوسیدہ ہو چکیں تھیں،پھر بھی ولیم کو سننی پڑیں کہ یہ کچھ دیر کی کوفت اُس کے والد کے لیے طمانیت کاباعث تھی۔ جانسن کے لیے ویسے بھی یہ ایک ایسی خوشی تھی،جس کا نہ ملنا ایک طرح کی بے توقیری تھی،کہ پشت در پشت ملنے والی کمشنری اگر کسی جگہ رک جاتی تو خاندان کو بٹہ لگ جاتا۔ اِس لیے جانسن صاحب ولیم سے بھی زیادہ پُرجوش تھے اور دوستوں کو اپنے خاندان کے قصے لطف لے لے کر سنا رہے تھے۔ اگر ولیم کے ڈپٹی کمشنر بننے کی کہانی اندر سے کھولی جاتی تو کہیں جانسن صاحب کی بار آور کوششیں درمیان میں موجود تھیں۔ دعوت میں پادریوں سے لے کرڈپٹی کمشنروں تک سب جمع تھے،جنہیں جانسن صاحب کو اپنا نام و نامود دکھانا منظور تھا۔ دعوت کے بعد ولیم بلا تاخیر افسرانہ اعزاز کے ساتھ روہتک کی طرف روانہ ہوگیا اور سیدھا ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں جا کر دم لیے۔ جو چنددن پہلے اُس کے لیے خالی کر کے،اُس میں ولیم کا ذاتی سامان لگا دیا گیا تھا۔

یہ بنگلہ ایک طرح کا گورنر ہاؤس ہی تھا۔ وہ بڑی بڑی پیلے رنگوں کی دیواریں اور دیواروں کے اندر سفید انڈے کی طرح کا اونچا سا بنگلہ،جس کے بے شمار کمرے،مہمان خانے،ڈائیننگ روم،ڈرائینگ روم اور دوسرے کمرے تھے۔ اِن کے علاوہ کئی کئی چبوترے،سہ دریاں،بارہ دریاں اور شش دریاں سفید رنگوں میں ایک کے بعد ایک بنگلے کے کھلے صحنوں میں ہنس رہی تھیں۔ یہ سب تو ایک طرف،ولیم بنگلے میں اُترا تو اُس کا استقبال کرنے کے لیے آدھا شہر وہاں موجود تھا۔ دو ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،ضلع کی پانچوں تحصیلوں کے تحصیلدار،نائب تحصیلدار،پولیس کے افسر اور نہ جانے کس کس شعبے کے لوگ تھے۔ ان سرکاری لوگوں کے علاوہ شہر کے بڑے اور امیر لوگوں کی الگ کھیپ سلام کرنے کے لیے پہنچی ہوئی تھی۔ ولیم نے ان سینکڑوں افراد کے مجمعے کو دیکھا،جو اُسی کی خاطر کھڑے تھے،تو چند لمحوں کے لیے اُس کے اندر رعونت نے بھرپور پھریری لی۔ لیکن اِس طرح کے معمولات وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ دیکھ چکا تھا،اِس لیے زیادہ فرق نہ پڑا اور وہ پہلی حالت میں آ گیا۔ لوگ بہت زیادہ تھے لیکن ولیم نے ترتیب میں کھڑے ہوئے آٹھ دس سے ہی ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا۔ اسی طرح ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر جان میکن نے بھی چند لوگوں کا تعارف کرا کے باقی کو نظر انداز کر دیا۔ وہ جان گیا تھا،صاحب اِس وقت تھکے ہوئے ہیں اور جلد ی مجمع اپنے سے دور کر دینا چاہتے ہیں۔

روہتک میں کافی عرصے سے ڈپٹی کمشنر کی جگہ پر اسسٹنٹ کمشنر ہی کام کر رہا تھا۔ یہاں کسی کو اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی اور کام بخوبی چل رہا تھا لیکن اچانک جنگ کی وجہ سے ہنگامی حالات پیدا ہوئے تو اس آسامی کو پُر کرنے کا خیال آ گیا اور قرعہ ولیم کے نام نکل آیا۔

تعارف کے بعد ولیم نے جلد ہی سب کو رخصت کر دیا تاکہ دوسرے دن مکمل آزادی کے ساتھ اگلے اقدام کا بندوبست کیا جائے۔
دوسرے دن ولیم ڈپٹی کمشنر ہاؤس پہنچا تو عمارت کو اندازے کے مطابق نہایت پُر شکوہ پایا۔ دور تک بلندو بالا کمرے ہی کمرے اور کھلی راہداریاں۔ ولیم کا اپنا کمرہ جلال آباد والے سے دگنا تھا۔ انتظامیہ کا پروٹوکول بھی کمال تھا۔ مگر اِس کے باوجود ولیم کو یہاں کچھ خلا سا محسوس ہو رہا تھا۔ جس کی فی الحال نشان دہی تو نہیں ہو رہی تھی لیکن کچھ ایسا ضرور تھا،جسے ولیم سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ یہاں اُس کا،پی اے،ایک راجپوت رانا دھنپت رائے تھا،جو شائستہ اور صاف ستھرا پچاس سال کی عمر کے لگ بھگ کا شخص تھا۔ اُس کی مونچھیں ضرور تھیں لیکن ایسی،جس سے ولیم کو کسی قسم کی تکلیف پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ سر پر کُلے دار پگڑی نے مو نچھوں کو مزید بارعب بنا رکھا تھا۔ رائے دھنپت صاحب اردو کے ساتھ انگلش بھی اچھی طرح سمجھتا اور بولتا تھا۔ ولیم کو پہلے دن ہی اُس کی لیاقت کا اندازہ ہو گیا۔ اُس نے اُسے جتنی ہدایات دیں،اُن پر اس قدر پھرتی سے عمل کیا کہ خود ولیم بھی دنگ رہ گیا۔

ولیم نے دوسرے روز ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنرز اورتمام تحصیلداروں کا اجلاس طلب کیا اور کام کے آغاز کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے لگا۔ اُسے ایک بات کا اطمنان تھا کہ اب اُسے بہت سے کاموں میں آزادی ہوگی۔ وہ اُن کے بارے میں کسی کو جواب دہ نہیں ہو گا۔ وہ بے دھڑک اُن کو نبٹانے کی طرف توجہ دے گا اور جو کام اپروول کے محتاج ہوئے،وہ آہستہ آہستہ بھی آگے بڑھتے رہے تو مضائقہ نہیں۔ ولیم نے پہلے ہی اجلاس میں اپنی گزارشات کی وضاحت کردی اور تمام تحصیلوں کے ذمہ دار افسروں پر واضع کر دیا کہ اُسے صرف تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول تعلیم کے بہتر نتائج،دوم معاشی ذرائع کا پیدا کرنا اور سوم گورنمنٹ کے لیے خراج کے نظام کو مزید بہتر بنانا۔ یہ اُن کی پہلی ترجیحات ہیں۔ اِن کے علاوہ تمام کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضلعی گزٹ کے مطابق،جس کا مطالعہ کئی روز پہلے ولیم کر چکا تھا،روہتک میں امن و امان کے حوالے سے زیادہ خرابی نہیں تھی۔ لوگوں میں اکڑ پھکڑ کافی تھی لیکن بڑے پیمانے پر شر پسندی پھیلانے کی جرات ابھی تک پیدا نہ ہو سکی تھی،نہ ہی آگے توقع تھی۔ اس لیے ولیم نے اس معاملے پر بات کرنے کی زحمت نہیں کی اور ہدایات دے کر اجلاس ختم کر دیا۔ آفیسرز،جنہیں ابھی تک روہتک میں کسی ڈپٹی کمشنر نے ڈیل نہیں کیا تھا،کو بھی ولیم کے انداز گفتگوسے واضح ہو گیا کہ اب بڑے افسر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میٹنگ کے انجام پر اُنہوں نے بھی کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ولیم کو محسوس ہوا،وہ جو سوچ رہا تھا،اتنا آسان نہیں تھا۔ اب اور طرح کی مجبوریاں سامنے دکھائی دینے لگیں۔ اُسے اس بات کا ندازہ نہیں تھا کہ حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔ اچانک مسلم لیگ اور کانگرس کے جلسے چل نکلے تھے،جن سے اُسے پہلے ہی بہت زیادہ کوفت ہوتی تھی۔ وہ اُن کو روکنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا تھا۔ کئی بار دفعہ چوالیس کا نفاذ کر کے اس طرح کے جلسوں کا ناطقہ بند بھی کیا َلیکن صاحبانِ جلسہ کہیں اُوپر سے احکامات حاصل کر کے لے آتے اورآزادی کی بکواس شروع کر دیتے۔ ولیم کو بعض اوقات ان سے وحشت محسوس ہوتی۔ ولیم کو اس بات پر شدید غصہ آتا کہ ان کے بڑے اصل میں انگریزوں کو نکال کر اپنی حکومت چاہتے ہیں۔ اُس کے ذہن میں طرح طرح کے اندیشے آنے شروع ہو جاتے۔ وہ سوچتا،کیایہ ہندوستانی اُسے بھی نکال دیں گے؟ حالا نکہ اُن کے خاندان کو یہاں پورے ڈیڑھ سو سال ہوگئے ہیں۔ بعض اوقات ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے کہتا،یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ جو حکومت اتنی جدو جہد اور طاقت سے حاصل کی گئی ہے،اُسے انگریز اتنی آسانی سے اِن گنواروں کے سپرد نہیں کریں گے۔ جن کے پاس نہ تعلیم ہے اور نہ حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ وہ خیال کرتا،اصل میں یہ سب کچھ جنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان خیالات اور اندیشوں کے باوجود ولیم اپنے تئیں کچھ نہ کچھ کرنے میں جتا رہا اور کافی سارے نتائج حاصل بھی کر لیے مگر چند مہینوں میں حالات کے پیشِ نظر ولیم کو اندازہ ہو گیا کہ اُس کے جنگ کے متعلق اندازے ٹھیک نہیں تھے۔ وہ طول پکڑتی جارہی تھی۔ اِدھر اُس کے اختیار ات کی کڑیاں آہستہ آہستہ ٹوٹتی جا رہی تھیں۔ مقامی اور کالوں کی جراتیں بڑھ رہی تھیں اور بعض احکامات پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ عمل کر نے پر مجبور تھا،جو ہندوستان کی آزادی اور کالوں کے وافر حقوق کے متعلق ہوتے۔ ولیم نے حالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا تو اُسے لگا،اُوپر کی سطح پر کہیں گڑ بڑ ہو چکی ہے۔ اُس کی بھیجی ہوئی فائلیں یا تو بغیر اپروول کے واپس آ رہی تھیں یا اُن میں بلا وجہ کی تاخیر ہو رہی تھی۔ کبھی بجٹ کا بہانہ کر کے،کبھی کہ دیا جاتا،حکومت کی اِس کام میں ترجیح نہیں ہے۔ پھروہ جلد ہی بہت کچھ جان گیا اوراُسے پتا چل گیا کہ اس وقت پورے ہندوستان کی انتظامیہ اِسی طرح چل رہی ہے۔ جس میں اُس کا کام بھی عبوری سطح کا اور ہنگامی بنیادوں پر ہو گیا تھا۔ اس حالت میں اُسے ایک سال گزر گیا۔ اس دوران کام کی بڑھتی ہوئی یکسانیت نے اُس کی طبیعت کو تباہ کر دیا۔ اِن حالات میں کیتھی اُسے اِدھر اُدھر سے ہر وقت دلاسا دینے میں لگی رہتی اور پل پل کا خیال رکھتی۔ لیکن اسے کمشنری کی جتنی خوشی ہونی چاہیے تھی، وہ سب غارت ہو کے رہ گئی۔ اِس وقت کمشنر ی کے اختیارات اُس کے لیے ایک ایسا خواب ہو گئے تھے،جن میں مناظر تو نظر آتے ہیں لیکن خواب دیکھنے والا اُن مناظر کو نہ چھو سکتا ہے،نہ اُن سے لذت حاصل کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ ایسی گائے کا دودھ تھا،جو جنگ کی وجہ سے ہر کس و ناکس کو پلا دیا گیا۔ دوئم،اِس شاہانہ عہدے کے ساتھ کچھ ایسی ہدایات نتھی کردی گئیں،جو کسی طرح بھی ڈپٹی کمشنر جیسی پُر وقار ذات کے لیے جائزنہیں تھیں۔ بجائے اِس کے،کہ ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع میں بلا شرکتِ غیرے،جیسا کہ وہ سوچ رہا تھا، حکمرانی کرے، اُسے بریگیڈیروں اور جنرلوں کی ہدایات پہنچنا شروع ہو گئیں اور سخت سے سخت حکم وصول ہونے لگے۔ مثلاً ضلع سے جتنے جوان ہو سکیں،فوج میں بھرتی کے لیے بھیجے جائیں۔ غلہ کو ذخیرہ کر کے اُس کا حساب پہنچایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ خراج اور مالیہ وصول کیا جائے۔ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ بعض اوقات تو یہ حکم نامے کمشنر آفس سے آنے کے بجائے ڈائریکٹ ہی وصول ہونے لگے،جو ولیم کے لیے اس قدر آزار کا باعث تھے کہ اُسے اپنا یہ عہدہ ایک چپڑاسی سے بھی بد تر معلوم ہونے لگتا۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر وہ کس کے ماتحت ہے؟ آیا اپنے ڈویژن آفس کی سول انتظامیہ کا،جہاں سے اصولی طور پر اُسے تنخواہ ملتی ہے یا پھر میرٹھ چھاونی کا،جہاں کے فوجیوں کی حیثیت اُس کے سامنے ایک گنوار زبان استعمال کرنے والے جانوروں کی تھی۔ ولیم کبھی کبھی خیال کرتا،اِس سے تو بہتر اُس کے وہی دن تھے،جب وہ جلال آباد میں اسسٹنٹ کمشنر تھا اور ہیلے کا ماتحت تھا۔ اُسے ہیلے،اپنے باپ اور اُن ڈپٹی کمشنروں پر رشک آنے لگا،جووقار کو تباہ کردینے والی جنگ سے پہلے ریٹائر ہوکر عزت بچا چکے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے سوچتا کہ مصیبت کے دن تھوڑے ہی ہیں،گزر جائیں گے تو اُن کی افسری کی شان میں بھی پہلے والی چمک دمک آجائے گی۔ مگر اُسے پھر آزادی کے متوالوں کے بے ڈھنگے مطالبوں کی یاد آجاتی جو روز بروز بڑھ رہے تھے اور منظور بھی ہورہے تھے۔

ایک طرف درج بالا بکواسیات تھیں،دوسری طرف روہتک کا ماحول ولیم کے لیے انتہائی اذیت ناک تھا۔ اُسے روہتک میں ڈیڑھ سال کے قریب گزر چکا تھا۔ یہ عرصہ اُس کی طبیعت کو اچاٹ کر دینے کے لیے ہر دن نئی بیزاری لے کر آتا اور ولیم کی نحوست میں اضافہ کر دیتا۔ یہ ضلع دہلی کے مغرب میں چالیس یا پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خشک شہر تھا،جس کے مضافات میں مٹی کے ٹیلے،عک اور ببول کی جھاڑیاں حد نظر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ شہر کے ساتھ ساتھ پختہ اینٹیں بنانے والے بھٹوں کی کثرت تھی۔ اُن کی چمنیوں سے اُٹھنے والا دھواں ہر وقت شہر پر سایے بلند کیے رکھتا۔ اُن سایوں کے بیچ اُڑتی ہوئی چیلیں چکر کاٹتی رہتیں،کبھی بلندی پر اور کبھی بالکل چھتوں کے اُوپر۔ شہر کی عمارتیں زیادہ تر پکی اینٹوں کی اور پُرانے دور کی یاد دلانے والی تھیں۔ اُن پر کام اگرچہ بہت نفاست سے کیا گیا تھا لیکن اب وہ اکثر جگہ سے خراب ہو رہا تھا۔ شہر کی قریباً ساری آبادی نہ جانے کون سی زبان بولتی تھی اور کس کلچر سے تعلق رکھتی تھی۔ راجستان سے روز کی اُٹھنے والی آندھیوں نے اُس پر مزید کام دکھایا تھا۔ آئے دن شہر کے درو دیوار گرد و غبار کی تہوں میں دب جاتے۔ مضافات میں اُڑتی ہوئی ریت اور دھول نے ہر چیز کو مٹیالا بنا دیا تھا۔ لوگوں کے چہرے بھی اسی مٹی،خشکی اور دھول کے باعث اتنے بے رونق ہو چکے تھے کہ ولیم کو جلال آباد کے لوگ اِن کے مقابلے میں نہایت خوبصورت لگنے لگے۔ کڑوا تمباکو اِن کی مرغوب غذا تھی۔ آٹھوں پہر میں کوئی لمحہ ہو گا کہ اُن کے بوڑھے،جوان حتیٰ کہ بچے بھی اس لعنت میں گرفتار نہ ہوں۔ تمباکو کے کثیف اور مسلسل دھویں سے اُن کی مونچھیں اور داڑھیاں بھوری،زرد اور بدبو دار ہو چکی تھیں اور وہ اُسی ابکائی پیدا کر دینے والے رنگوں سے مانوس تھے۔ یہ لوگ نہایت سوکھے سڑے،لمبی مونچھوں،چھوٹی قامتوں،باریک آنکھوں اور چھوٹے چھوٹے پاؤں کے ساتھ دھوپ اُگاتی سڑکوں پر آتے جاتے نظر آ تے۔ بعض دفعہ ولیم اِن کے رنگ برنگے چیتھڑوں اور ٹاکیوں سے سیے گئے بستروں کے بارے میں غور کر کے کانپ جاتا،جو اُس نے دیکھے تو نہیں تھے،لیکن اِن لوگوں کی ظاہری حالت سے ہی اُن بستروں کی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ جن میں دوپہر کی گرمی نکلنے تک پڑے سوتے یہ لوگ پیٹ کی بودار کثیف ہوائیں چھوڑتے رہتے اور اُن کو خود ہی سونگھتے رہتے۔ ولیم کو اُن کی دھوتیوں پر ہرگز اعتراض نہ ہوتا،اگر وہ اصل میں دھوتیاں ہی ہوتیں۔ وہ تو محض بے کار چیتھڑے تھے،جو ہمیشہ اُن کے گھٹنوں سے اُوپر اُٹھے رہتے۔ اُن چیتھڑو ں کا ایک پلو نیچے سے کھینچ کر مزید پیچھے گانڈ کی طرف سے باندھ لیاجاتا،جو ایک کچھا سا بن کر رہ جاتا اور وہ رانگڑ اُسی کچھے میں ننگادندناتا پھرتا۔ بعض اوقات وہ کچھا اتنا چھوٹا ہوتا کہ اُس کے سُکڑے ہوئے سیاہ چوتڑ صاف نظر آتے۔ ولیم یقیناً اُن کا لباس،عادات اور زبان بدلنے پر قادر نہ تھا لیکن وہ چاہتا تھا،کم از کم جس سے بھی اُس کی ملاقات ناگزیر ہو،وہ انسانوں کی حالت میں اُس کے پاس آئے۔ ولیم نے اپنے عملے کو ملاقات کے لیے ضروری ہدایات جاری کر دیں کہ ملاقاتی اپنے لباس میں پاجامہ اور کُرتہ کا اہتمام کرے۔ اسی طرح دیسی چمڑے کے جوتوں کی بجائے انگلش جوتے پہن کر آئے یاکم از کم جوتوں کے اندر اُس کے پاؤں سرسوں کے تیل اور مٹی میں غچ غچ نہ ہوں،نہ جوتوں کے چمڑے سے چرر چرر کی آواز پیدا ہو۔

لوگوں کی بد شکلی کے علاوہ ولیم کو روہتک کے مضافات سے بھی وحشت آنے لگی۔ کوسوں تک سبزے کی ایک پتی بھی نہیں تھی۔ نہ کوئی نہر اور پانی کا انتظام نظر آ رہا تھا۔ کچھ تھا،تو تمباکو کی سر سر ی فصلیں،جو اِن لوگو ں کے رزق کا واحد سہارا تھیں۔ تمباکو کی اسی بہتات کی وجہ سے ہر شخص کے ہاتھ میں اپنا ایک حقہ تھا،جسے وہ ہر وقت گُڑ گڑاتا رہتا۔ شہر کی منڈی معمول کے مطابق ہندووں کے ہاتھ میں تھی۔ مسلمان یہاں بھی محض حقے پر گزارہ کیے ہوئے تھے۔ کلچر دونوں قوموں کا ایک ہی تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ جو مسلمان تھے،اُن میں مسلمانوں والی کوئی بات نہیں تھی،سوائے مفلسی اور غربت کے۔ جسے دور کرنا ولیم کے بس سے باہر تھا۔ یہاں اِتنے مسائل اور حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی دیکھ کر ولیم کا دل چھوٹ چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا،جتنی جلدی ہوسکے،اُس کو دہلی کے مضافات سے نکال کر جالندھر،لاہور یا ملتان ڈویژن کے حوالے کر دیا جائے مگر جو کام کرنے کے لیے اُسے یہاں تعینات کیا گیا تھا،اُس کا ٹارگٹ حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ جس کے لیے ولیم نے بہر حال اپنی سی کوشش ضرور کی اور اُس میں کامیاب بھی ہوا۔ سچ پوچھیں تو یہ ضلع اِس کام کے لیے ویسے بھی مناسب ترین تھا۔ وسطی پنجاب یا فیروز پور سے لوگوں کوبرطانوی فوج میں لے جانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہاں لوگوں کی روٹی پوری ہو رہی تھی۔ دریاؤں کے ارد گرد بیلے،چراگاہیں اور فصلیں اُن لوگوں کی زیادہ نہ سہی،بنیادی ضروریات پوری کر رہی تھیں۔ جبکہ روہتک اور راجستان جیسے علاقوں میں بھوک اور ریت کے بگولوں کے سوا کچھ نہیں تھا،یاپھر مونچھیں تھیں کہ اُگی چلی جاتی تھیں۔ چنانچہ ولیم کی طرف سے فوج میں بھرتی کے اعلان کے ساتھ ہی ہزاروں لوگ بھاگے چلے آئے۔ جنہوں نے انگریزی وقار کو میدانِ جنگ میں مزید برقرار رکھنے کے لیے اپنی مونچھوں کے تاؤ اور زیادہ کر دیے تھے۔ ایک ایک دن میں دو دوسو لوگوں کی بھرتی ہونے لگی اور چند مہینوں میں ہزاروں لوگوں کو انگریزی ٹوپیاں پہنا کر محاذوں پر بھیجنے کے لیے ریوڑوں کے ریوڑ تیار کر لیے گئے۔ یہ اتنی بڑی اور شاندار کامیابی صرف جہلم،روہتک یا راجستان ہی سے حاصل ہوئی تھی۔ باقی تمام اضلاع میں اتنی نفری کسی بھی علاقے سے نہیں مل سکی تھی۔

اِدھر ولیم کے یہ حالات تھے،اُدھرجرمنی کی حوصلہ افزائی پرسویت یونین نے جون انیس سو چالیس میں بالٹک ریاستوں پر قبضہ کرکے اُنہیں باقاعدہ طور پر اپنے ملک کا حصہ بنا لیا۔ اٹلی،جو اتحاد (جرمنی کے حلیف ممالک) کا رُکن تھا،وہ بھی اس جنگ میں شریک ہوگیا۔ تیرہ اگست سے اکتیس اکتوبرانیس سو چالیس تک جرمنی نے انگلستان کے خلاف ہوائی جنگ شروع کی اور اْس میں شکست کھائی۔ اِس جنگ کو بیٹل آف برٹن یعنی برطانیہ کی لڑائی کہا جاتا ہے۔

مئی انیس سو بیالیس میں جب ولیم روہتک سے ہندوستانی راجپوتوں کو فوجی بھرتی کروانے میں لگا ہوا تھا،برطانوی شاہی فضائیہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پہلی بار جرمنی کے اندرجنگ کرتے ہوئے ہزاروں بمبار جہازوں سے بمباری شروع کردی اور جرمنی کے بیشتر شہری علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ انیس سو بیالیس کے اختتام اور انیس سو تینتالیس کے شروع میں اتحادی فوجوں نے شمالی افریقہ میں سلسلہ وار زبردست فوجی کامیابیاں حاصل کیں۔ افریقہ میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ نفری پر مشتمل مخالف فوجوں کے اتحاد نے مئی انیس سو تینتالیس میں ہتھیار ڈال دیا۔

اِدھر ولیم کا تبادلہ کانگرا کر دیا گیا،جہاں اُسے با لکل اِنہی حالات کا سامنا ہوا جیسا روہتک میں چل رہے تھے۔ یہاں ولیم نے ایک سال گزارا اور اگلے سال اُسے ریاست کپور تھلہ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر متعین کر دیا۔ یہاں تک کہ اگست انیس سو پینتالیس میں برلن میں جرمنی کے ہتھیار ڈال دینے پر جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دن گنے جا چکے تھے۔ جس کا احساس ولیم کو ایک سال پہلے ہوگیا تھا مگر ابھی شاید اُسے یقین تھا کہ یہ کام کہیں اُس کی ریٹائر منٹ کے قریب جا کر ہو سکے گا۔ اُنہی دنوں ولیم کا تبادلہ بطور ڈپٹی کمشنرگُرداسپور کردیا گیا اور ہزار کوششوں کے باوجود اُسے منٹگمری نہیں بھیجا گیا۔ اِس بارے میں ولیم نے نہایت اہم سفارشیں بھی کروائیں۔ لیکن جب اُسے اس معاملے میں شدید ناکامی ہوئی تو وہ سوچنے لگا کہ منٹگمری میں اُس کی پوسٹنگ ایک خواب ہی ہو کر رہ جائے گی کیونکہ معاملات ہر دن مزید بگڑتے جا رہے تھے۔ ان حالات میں ولیم کی ذہنی کیفیت اتنی تبدیل ہو گئی کہ قریب کے جاننے والوں کو اُس پر شبہ ہونے لگا،کہیں پاگل نہ ہو جائے۔ بات بات پر اُلجھنا،احکام دیتے ہوئے تحمل کو چھوڑ بیٹھنا اور بعض اوقات سامنے والے کو گالی بھی دے دینا ولیم کی عادات میں شامل ہو رہا تھا۔ اِس بات کی سب سے زیادہ تشویش کیتھی کو تھی،جو سب سے زیادہ یہ عذاب جھیل رہی تھی مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اُسے اس بات کا شدید احساس تھا کہ یہ سب کچھ ولیم سے مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر ہو رہا ہے۔ ولیم کے ہاتھ سے اختیارات کی ڈور روز بروز نکلتی جا رہی تھی اورگورنمنٹ کی طرف سے وصول ہونے والے ہرنئے حکم پر اُس کے چڑچڑے پن میں اضافہ ہو جاتا،جو کئی دن تک بر قرار رہتا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا،ہٹلر نے گورنمنٹ بر طانیہ کی ہڈیوں کا تمام گودا کھینچ لیا ہے اور اب اُن کے پاس نو آبادیات میں اپنا اقتدار قائم رکھنے کی نہ طاقت ہے اور نہ ہی جواز۔ خاص کر ہندوستان کی حالت اس معاملے میں بہت مختلف تھی۔ اتنے بڑے اور وسیع خطے کو کنٹرول کرنے کے لیے اُن کے پاس وقت بھی نہیں بچا تھا اور نہ وسائل۔ کیونکہ سوسال میں اکٹھی کی گئی دولت پانچ ہی سالوں میں ٹھکانے لگ گئی تھی اور وہ اس ماشکی کی طرح خالی ہو گئے تھے،جس کی مشک میں چھید ہو گئے ہوں،کہ گہرے کنویں سے مشک کی لمبی رسی کھینچتے کھینچتے جس کے ہاتھ شل ہو جائیں مگر مشک کا سارا پانی اس عرصے میں دوبارہ اُسی کنویں میں بہ جائے۔ ان باتوں کے علاوہ جو مشکل سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اب ہندوستانی بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب یہ لوگ چالاکی اور عیاری میں گوروں کے بھی کان کاٹتے تھے اور اِس چکر میں تھے،کب انگریز یہاں سے نکلیں۔ ایسے میں انہیں آزاد نہ کرنا ایسے ہی تھا،جیسے بغیر ہتھیار کے بھیڑیے کے ساتھ رات گزاری جائے۔ اس ساری صورت حال میں ولیم نہ صرف یہ کہ ہند وستانیوں سے ناخوش تھا بلکہ انگریزوں سے اور اپنے آپ سے بھی ناراض تھا۔ وہ یہ سب کچھ ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اُس وقت تو اُسے اور بھی غضب آتا،جب وہ کسی انگریز کو ہندوستان چھوڑنے کے متعلق گفتگو کرتے دیکھتا،یا اُسے پتا چلتا،اُس کا فلاں دوست اپنا بوریا بستر سمیٹ کر انگلستان جا رہا ہے۔ ولیم کا اُس وقت خون کھولنے لگ جاتا گویا یہ سب اُس کے خلاف سازش تھی جس میں انگریز،مسلمان،ہندو سب شامل تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(33)

مولوی کرامت کی آنکھ کھلی تو ستارے اپنی ترتیب بدل رہے تھے لیکن کھتیاں صبح کاذب سے ابھی دور تھیں اور فجر کی اذان میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت عادت کے مطابق بہت ہی سانجرے اُٹھ جاتا تھا۔ اِس لیے حاجات ضروریہ وغیرہ کے لیے کھیتوں میں نکل جاتا،جو اکثر لوگوں کا معمول تھا۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گھروں میں جھاڑے پیشاب کے لیے جگہ بنائی جائے۔ کھیتوں میں منہ اندھیرے اِس کام کے لیے جانے سے تازہ ہوا اور لمبی سیر کے ساتھ ساتھ رفع حاجت کے کام سے بھی فارغ ہو جا تا۔ کئی لوگ تو اِس سلسلے میں چلتے چلتے تین چار کلو میٹر تک نکل جاتے۔ بہر حال اِس کے بعد مولوی کرامت سیدھا پاس کی چھوٹی مسجد کا رخ کرتا جس میں زیادہ تر غلام حیدر کی رعا یا اورچند ادھر اُدھر کے لوگ نماز پڑھنے آجاتے۔ مولوی مسجد میں پہنچ کرتہجد پڑھتا،پھر قرآن کھول لیتا اور جب تک نماز فجر کا وقت نہ ہو لیتا،اُسی کی تلاوت کرتا رہتا۔ اِس مسجد کا مولوی پہلے سے ایک موجود تھا،جو غلام حیدر کا خاندانی مولوی بھی تھا۔ اِس لیے مولوی کرامت کو اُس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑتی لیکن دل ہی دل میں اِس بات کا دکھ بھی تھا۔ اور خواہش تھی،کاش وہ اِس مسجد کا مولوی بن جائے۔ کبھی اُس کے جی میں خیال آتا،خدا کرے یہ مولوی مر جائے۔ پھر اُسی خیال میں اپنی امامت کے منصوبے بنانے لگتا۔ مگر تھوڑی دیر بعد جھر جھری لے کر اس سوچ کو جھٹک دیتا اور خدا سے توبہ کرتا۔ ایک دفعہ اُسے یہ خواب بھی آیا کہ پہلا مولوی مر گیا ہے اور وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے۔

اب اُسے جلال آباد میں آئے ہوئے اور سکول میں پڑھاتے کئی دن ہو گئے تھے۔ رہنے کے لیے چوہدری غلام حیدر کی حویلی میں انتظام بھی تھا۔ حویلی کی ڈیوڑھیوں میں سے ایک ڈیوڑھی کے چھوٹے سے کمرے میں چراغ دین کا رشتے دار ہونے کے ناطے بستر جمانے کی جگہ مل چکی تھی اور ناشتے کے علاوہ دو وقت کا کھانا بھی مل جاتا۔ ہیڈ منشی اُس کی کارکردگی سے کافی مطمئن تھا۔ سکول سے چھٹی کے بعد مولوی صاحب فارغ ہوتا۔ ان اوقات میں وہ جلال آباد اور اُس کے مضافات کی سیر کو نکل جاتا۔ اِس طرح کچھ ہی دنوں میں اُس نے یہ علاقہ بھی قریب قریب دیکھ لیا۔

جلال آباد کہنے کو تحصیل تھی لیکن اس کی آبادی بنگلہ فاضلکا سے بھی کم تھی۔ مشکل سے چارسو گھر کا شہر تھا۔ گویا ایک قصبہ تھا،جسے فیروز پور ضلع کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ جلال آباد میں تحصیل کمپلیکس کے علاوہ ایک چھوٹی سی غلہ منڈی تھی،جس کے زیادہ تر آڑھتی ہندو تھے اورکاروبار پر قابض تھے۔ منڈی میں جن اجناس کا لین دین تھا وہ بھی مخصوص تھیں۔ جیساکہ جَو،باجرہ،چنے اور گندم۔ ان کے علاوہ نہ ہی جلال آباد میں کوئی فصل تھی اور نہ بڑے پیمانے پر کسی اور شے کا کاروبار تھا۔ البتہ سُرخ مرچیں،پیاز،لہسن اور سستے پھل،جن میں سے اکثر سڑے ہوتے تھے،یہاں تھوڑے بہت دستیاب تھے۔ منڈی کے باہر بھی کچھ دوکانیں تھیں لیکن وہ دوکانیں جلال آباد کے بازار میں تھیں۔ بازار مشکل سے بیس پچیس دوکانوں پر مشتمل تھا۔ اِنہی میں ایک دو کپڑے کی بھی تھیں۔ اُن میں بھی کھدر اور سوتی کپڑے کے علاوہ دوسرا کپڑا نظر نہیں آتا تھا یا ہاتھ کے بنے ہوئے کھیس،چادریں اور رنگ برنگی لنگیاں تھیں۔ منڈی کے بر عکس یہاں کچھ سکھ دوکانداربھی نظر آ جاتے مگراُ ن کی حالت ہندو ؤں سے کافی پتلی تھی اور مسلمان تو سِرے سے نہیں تھا۔ دکانوں میں روزمرہ استعمال کی چیزیں اور چھوٹی موٹی کھانے کی اشیا مثلاً دیسی شکر،گُڑ،نمک،مسالہ جات،ٹانگر،میدے کی برفی اور کھانڈ کی چوسنے والی گولیا ں،چاول،دال اور اسی طرح کی دیگر چیزیں بوریوں میں کُھلے منہ پڑی رہتی تھیں۔ اکثر دکانداروں نے تیسرے درجے کی کھجوریں بھی رکھی تھیں،جن پر ہر وقت مکھیاں بھنبھناتی رہتیں اور گاہک مکھیوں سے بے پروا یہ سستی کھجوریں لے جاتے۔ کھجوریں اور ٹانگر عموماً دیہات سے آئے ہوئے لوگ ہی اپنے ساتھ لے کر جاتے۔ یہ چیزیں سستی ہونے کے ساتھ میٹھی اور مزیدار بھی لگتیں اور بچے اِنہیں کھا کے خوش ہو ہو کر اُچھلتے کودتے۔ اِن کے علاوہ ایک حلوائی تھا،جس کی دوکان تو نہیں تھی،بس ایک پھٹے پُرانے شامیانے کے نیچے دو چولہوں کے اُوپر دو کڑاہیاں رکھ کر ایک میں جلیبی اور دوسری میں پکوڑے تَل تَل کر پراتوں میں ڈھیر لگاتا جاتا۔ یہ حلوائی مسلمان تھا۔ بازار میں آنے والے ہر ایک نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا کہ وہ اِس سے پکوڑے اور جلیبی ضرور لے کر کھائے اور گھر لے جائے۔ ایک مدت ہو گئی تھی لیکن اِس کا یہ تھڑا دوکان میں نہیں بدلا تھا اور نہ اس نے کاروبار میں کچھ اضافہ کیا تھا۔ ان دکانوں اورمنڈی کے علاوہ جلال آباد میں ایک مسجد،ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی تھا اور یہ تینوں مذہبی عمارتیں اپنے اپنے مکینوں کے درمیان ہی تھیں۔ اِن کے علاوہ کوئی ایسی خاص چیز نہیں تھی جس کا ذکر کیا جائے۔ ہاں ریلوے اسٹیشن البتہ جلال آ باد کے شمال کی طرف تحصیل کمپلیکس کے بالکل ساتھ پڑتا تھا۔ یہ اُس وقت واحد سواری تھی،جو جلال آباد کے رہنے والوں کو دور دراز لے جاتی اور لے آتی۔ اکثر دیہاتی بھی اِسی ریل کے ذریعے جلال آباد آتے۔ کیو نکہ اُس وقت ریل اکثر بڑے بڑے دیہاتوں میں رُکتے ہوئے آتی تھی۔ کرایہ سستا ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی اشیاء بھی اِسی کے ذریعے منڈی میں لا کر بیچتے یا پھر یہاں سے فیروز پور لے جاتے۔ ریل کے علاوہ سواری اور باربرداری کے لیے جو ذرائع تھے،اُن میں زیادہ تر گدھے،اونٹ اور گَڈے تھے جسے آپ بیل گاڑی کہہ لیں۔ بعض لوگ گھوڑے کو بھی استعمال میں لاتے مگر یہ خال خال ہی تھا۔ کچھ بڑے زمینداروں یا پولیس کے پاس۔

محکمہ تعلیم کے طرف سے مولوی کرامت کو نیا حکم نامہ ملے تین دن ہو چکے تھے مگر ابھی تک اُس نے کام شروع نہیں کیا تھا۔ وہ اِسی شش پنج میں تھا کہ کیا کرے اور کس طرح لوگوں کو اُسی کام کے لیے تیار کرے؟ جس کے خلاف خود وہ یا اُس کے بھائی بند فتوے دے چکے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ جب تین دن اِسی سوچ بچار میں گزر گئے تو اُسے اچانک ایک ترکیب سوجھی اور آج مولوی نے اُس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ اُس نے تہیہ کر لیا کہ جلال آباد کی جامع مسجد سے اپنی ڈیوٹی شروع کر ے گا۔ مولوی کرامت نے بستر سے اُٹھ کر سر پر ا چھے طریقے سے پگڑی باندھی۔ اُس کے بعد بستہ بغل میں دبایا اور چھڑی پکڑ کر کمرے سے باہر نکل پڑا۔ باہر نکل کر اُس نے ایک دفعہ بستہ اور چھڑی زمین پر رکھ کر اپنے کمرے کو تالا لگاکر چابی ازار بند سے باندھی پھر بستہ اور چھڑی زمین سے دوبارہ اُٹھا ئی اور چل دیا۔ باہر اُس کی گدھی موجود تھی،جس کے آگے مولوی صاحب نے رات بہت ساری چاولوں کی پھک ڈال دی تھی۔ پھک ابھی تک کافی مقدار میں پڑی تھی،جسے مولوی کی گدھی وقفے وقفے سے کھا رہی تھی۔ یہ گدھی اُس نے سواری کے لیے جودھا پور سے پورے سات روپے کی لی تھی لیکن اُس پر سواری کرنے کا ابھی موقع نہیں ملا تھا کیونکہ سکول نزدیک تھا۔ مگر اب مولوی کو جو ڈیوٹی دی گئی تھی،اُس کے مطابق اُسے ارد گرد کے گاؤں میں بھی جانا پڑنا تھا۔ سفر طے کرنے کے لیے اُسے گدھی کا سہارا چاہیے تھا۔ لیکن اس وقت مولوی نے اُسے وہیں بندھا رہنے دیا کیونکہ جامع مسجد زیادہ دور نہیں تھی۔

ابھی اندھیرا تھا اور بہار کی ہوا ہولے ہولے چل رہی تھی۔ ہوا کے اندر سردی کا لمس بالکل ختم ہو چکا تھا کیونکہ فروری کب کا نکل گیا تھا اور مارچ اپنے آخری دن پورے کر رہا تھا۔ مولوی کرامت زمین پرچھڑی ٹکاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھنے لگا۔ اِدھر اُدھر لیٹے آوارہ کتوں نے مولوی کرامت پر اس طرح بھونکنا شروع کر دیا،جیسے اُن کی سلطنت میں ایک اور اُن کا شریک آگیا ہو۔ مولوی کرامت دور ہی سے کتوں کو چھڑی دکھاتاآگے بڑھتا گیا۔ ابھی وہ مسجد کے دروازے پر ہی تھا کہ موذن نے اذان دینا شروع کردی۔ مولوی کرامت نے جلال آباد کی مسجد میں قدم رکھا تو اُس کا دل ایک مرتبہ بالکل ڈگمگا سا گیا۔ کہاں تو اپنے گاؤں کی مسجد کا واحد مالک تھا،جو اُس کا ایک قسم کا گھر تھی۔ وہ اُس میں جب چاہتا اذان دیتا،جب چاہتا نماز کا وقت آگے پیچھے کر دیتا اور جیسے چاہتا مسجد کے درودیوار کے اور صفوں کے بار ے میں فیصلے صادر فرماتا۔ ایک یہ مسجد تھی جس کی ہر شے اجنبی تھی۔ یہاں نہ کسی نے اُس سے پوچھ کے اذان دینا تھی اور نہ دوسرے کسی معاملے میں کوئی مشورہ لینا تھا۔ اُسے محسوس ہوا جیسے روح گھٹتی جارہی ہو اور وہ ابھی مر جائے گا۔ عین ممکن تھا مولوی کرامت گھبرا کے واپس مڑ جاتا،اُسی وقت اُس نے اپنے پیچھے ایک شخص کے قدموں کی آواز سُنی جس کے سبب مولوی کرامت نے اپنے دل کو سنبھالا دیا اور مسجد کے صحن میں داخل ہو گیا۔ مسجد کے دائیں بائیں برآمدے تھے،جن میں صفیں بچھی ہوئی تھیں لیکن ان برآمدوں میں ایسے لگتا تھاجیسے مدت سے کسی نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ صفوں پر گرد او ر سفید سیم اُبھری ہوئی تھی،جو لال ٹین کی روشنی میں صاف نظر آ رہی تھیں۔ شاید سردی کی وجہ سے برآمدوں میں نماز نہ پڑھنے کے ساتھ اُن کی صفائی کا خیال بھی نہیں رکھا گیا تھا۔

مولوی کرامت نے اپنا بستہ اُتار کر وہیں برآمدے میں رکھا اور طہارت خانے کی طرف رُخ کیا۔ کچھ دیر میں حاجت سے فارغ ہو کر پہلے آرام سے وضو کیا پھر خاص مسجد میں آکر محراب کے پاس کھڑا ہو گیا تا کہ با جماعت فرض ادا کرنے سے پہلے نماز سُنت ادا کر لے۔ مولوی نے دیکھا،جس موذن نے اذان دی تھی،وہ بیٹھا تسبیح کے دانے گن رہا تھا۔ غالباً اُس نے اپنی نمازِ سُنت ادا کر لی تھی۔ مولوی کرامت نے اُسے سلام علیکم کہا اور جوا ب سُنے بغیر ہی نماز کے لیے اللہ اکبر کہ دیا۔

نماز با جماعت میں کم از کم ڈیڑھ سو آدمی جمع تھے اور یہی بات مولوی کرامت کے لیے خوشی کا باعث تھی۔ جب سب لوگ نماز پڑھ کر دعا مانگ چکے اور اُٹھ کر جانے لگے تو مولوی کرامت کھڑا ہو گیا اور بولا،بھائیو کچھ دیر کے لیے اگر بیٹھ جاؤ اور میری بات سُن لو تو تمھاری مہربانی ہو گی۔ لوگ مولوی کرامت کی بات سُن کر بیٹھ تو گئے لیکن ذرا بد دلی سے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے مولوی صاحب کچھ دیر تقریر کرنے کے بعد اپنی کسی ضرورت کے لیے چندہ مانگ لے گا جیسا کہ اکثر اس طرح کے ملاً حضرات کا معمول تھا۔ پھر بھی اُنہوں نے سوچا،کچھ دیر کے لیے سُن لینے میں کیا حرج ہے۔

سب لوگ بات سننے کو تیار ہو گئے تو مولوی کرامت نے بولنا شروع کر دیا۔ اِس تقریرکے لیے اُسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ جب سے ہوش سنبھالے تھے،مولوی کرامت نمازیوں کو باتیں ہی سناتا آیا تھا۔

میرے مسلمان بھائیو،مَیں جلال آباد کے اِس بڑے اسکول میں منشی بن کر آیا ہوں جو انگریز بہادر نے ہمارے بچوں کے لیے بنایا ہے۔ میرا ارادہ ہے مَیں تمھارے بچوں کو عربی،فارسی اور حساب کتاب پڑھاؤں تاکہ یہ بڑے ہو کر بابو بنیں۔ گورنمنٹ انگریز بہادر نے مجھے کچھ ہی دن پہلے اِس نوکری پر رکھا ہے لیکن جب میں نے دیکھا،اِس بڑے اسکول میں تو مسلمان بچے نام کو بھی نہیں۔ سارے بچے ہندو،سکھ اور چوہڑے ہیں تو میرا جی بہت دُکھا۔ اس لیے میں نے ارادہ کیا مَیں آپ کو خود آ کر گزارش کروں کہ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کراؤ۔
مولوی کرامت کی بات سُن کر سب لوگ حیران ہوئے۔ اُنہیں یہ خیال تک نہیں تھا کہ کوئی مولوی ہم سے چندے کے علاوہ اِس طرح کے سوال بھی کرنے آئے گا۔ یہ تو بالکل ہی انوکھا آدمی تھا،بلکہ اُن کی حیرت اِس لیے بھی زیادہ ہوگئی کہ اسکول میں داخلے کی بات ایک مولوی کر رہا ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں،اِن اسکولوں میں مسلمان بچوں کو نصاریٰ کی تعلیم دے کر کرسٹان بنایا جاتا ہے۔ اِسی لیے تو چوہڑوں کے پورے گاؤں کے گاؤں کرسٹان ہوئے ہیں۔

اُن کی حیرانی اور پریشانی دیکھ کر مولوی کرامت مزید بولا،بھائیو،میرے اور آپ کے رسول اور اللہ کے پیارے نبی محمدعربی نے فرمایا ہے،علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے لیکن کتنی بد بختی ہے ہمارے لیے کہ ہمارے نبی کے اس فرمان پر ہندو اور چوہڑے تو عمل کر رہے ہیں مگر ہم نافرمانی کر رہے ہیں۔ مجھے یہ بتاؤ ہم اپنے گھر کے پاس بننے والے اسکولوں میں ہی بچے نہیں بھیجتے،چین میں جانا تو دور کی بات ہے۔ میرا اور آپ کا نبی جانتا تھا،میری امت غریب ہے،ان کے پاس چین جانے کا خرچہ نہیں ہوگا اس لیے اُس نے کرسٹان،جو شروع دن سے ہی ہمارے نوکر اور ہمارے لیے کام کرنے والے رہے ہیں،اُن کو اس کام پر لگایا کہ وہ ہمارے لیے اِس طرح کے سکول اور مدرسے بنائیں جس طرح چین میں ہوتے ہیں۔ اب آپ ہی بتاؤ ہم چین جا سکتے تھے؟ نہیں جا سکتے تھے نا؟ تو بھائیو،اِس گورنمنٹ کا شکر کرو کہ جس نے چین لا کر جلال آباد میں اور فیروز پور میں رکھ دیا اور ہمیں دور نہیں جانا پڑا۔

مولوی کرامت کی بات سُن کر مسجد کے پیش امام نے فوراً ٹوکا،لیکن وہ تو مولوی صاحب،رسولِ پاک نے دین کے علم کی بات کی تھی کہ دین کا علم اگر تم کو چین میں جا کر حاصل کرنا پڑے تو اتنا لمبا بھی سفر کرنا مگر یہ انگریزی سکولوں میں تو کرسٹان کا علم ہے۔ ان سکولوں میں جا کر ہمارے بچے کرسٹا ن ہو جائیں گے اور دین خراب ہو جائے گا۔ تم نے فرنگی سرکار سے پیسے کھا لیے ہیں۔
مولوی کرامت کو اُس کی بات بہت بُری لگی۔ اُس نے سوچا اگر اِسی طرح یہ خبیث مولوی مجھے ٹوکتے رہے تو نوکری ضرور چلی جائے گی۔ اگر چہ اُس نے خود بھی ْقصور میں کئی باراِن اسکولوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور لوگوں کو روکا تھا کہ وہ ان اسکولوں میں نہ جائیں لیکن اب معاملہ وہ نہیں رہا تھا۔ اُس کے خیال میں اب گورنمنٹ نے بچوں کو کرسٹان بنانا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اِس جاہل مولوی کو کیا پتا سرکار کا نظریہ بدل چکا ہے۔

مولوی کرامت نے دیکھا کہ بات بگڑ سکتی ہے تو اُس نے بڑے تحمل سے ایک نئی چال چلی اور کہا،پہلی بات تو یہ ہے بھایؤ کہ اب گورنمنٹ سرکاری اسکولوں میں مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے مولویوں کو رکھ رہی ہے۔ سرکار نے اعلان کیا ہے،جو مولوی اچھی طرح سے دین اور عربی فارسی پڑھا ہو گا،اُسے سرکار اسکولوں میں تنخواہ پر مُنشی رکھے گی تا کہ وہ خود مسلمان بچوں کو پڑھائیں۔ اِس طرح کوئی خطرہ نہیں رہے گا اُن کے کرسٹان بننے کا۔ مجھے یہ مولوی صاحب ایک بات بتائیں،چین میں کون سے دین کی تعلیم دی جاتی تھی؟ ہمارا پیغمبر تو آیا عرب میں۔ اِس لیے دین اور اُس کا علم تو سارا وہاں تھا لیکن آپ نے یہ کیوں کہا،تم چین میں جانا؟ بتاؤ؟ (اپنی سفید ڈاڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے )اِس کا مطلب ہے،وہ کوئی اور علم تھا،جس کے لیے چین جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پھر چند لمحے رُک کراور پیش امام کی طرف رُخ کر کے،جس کے آگے مولوی کرامت نے گورنمنٹ کی نوکری کا لقمہ پھینک دیا تھا اور وہ ذہنی طور پر شکست تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہو چکا تھا،مجھے ایک بات بتاؤ مولوی صاحب ! جب بد ر کی جنگ ہوئی اور کافر پکڑے گئے تو اُن کو آزاد کر نے کی ہمارے نبی نے کون سی شرط لگائی تھی؟پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر،پوچھو اِس سے؟
ایک شخص جو اُن میں سب سے معزز نظر آ رہا تھا اور ہلکی سی ڈاڑھی بھی رکھتا تھا،ایسے محسوس ہوتا تھا،پیش امام کا زیادہ تر خرچہ اِسی کے گھر سے پورا ہوتا ہے۔ اُس نے پیش امام سے پوچھا،جی مولوی صاحب آپ بتائیں کس شرط پر ہمارے رسول نے اُن قیدیوں کو چھوڑا تھا؟

جب پیش امام نے چند لمحے تک کوئی جواب نہ دیا تو اُس شخص نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب آپ ہی بتائیں،وہ کون سی شرط تھی؟

اب مولوی کرامت کو اپنی فتح قریب نظر آرہی تھی۔ نوکری کی نوید سُن کر پیش امام نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ لہذا مولوی کرامت نے بولنا شروع کیا،ہوا یہ مومنو،جب نبی پاک اُن قیدیوں کو پکڑ کر مدینے لے آئے توآپ نے اعلان کیا،جو کا فر قیدی ہمارے دس مسلمان بچوں کو تعلیم دے گا اور اِنہیں پڑھنا لکھنا سکھائے گا،ہم اُس کو آزاد کر دیں گے۔ اِس حکم پر بیس قیدیوں نے مدینے کے پورے دوسو مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا اور ہمارے نبی پاک نے اُن کو شرط کے مطابق آزاد کر دیا اور پیسے بھی دیے۔

یہ کہ کر مولوی کرامت خموشی سے مسجد میں موجود لوگوں کی طرف دیکھنے لگا۔ جب چند ثانیے اسی طرح گذر گئے اور کسی نے اُس کی بات کو رد نہ کیا تو مولوی کرامت نے مزید اپنی بات کو پختہ کرنے کے لیے کہا،اب مسلمانو آپ ہی بتاؤ،وہ قیدی تو پکے کافر تھے۔ رسول تو رسول،خدا کو بھی نہیں مانتے تھے،پھر بھی رسول پاک نے مسلمان بچوں کو اُن سے پڑھانے سے گریز نہ کیا لیکن نصاریٰ تو پھر بھی خدا کو مانتے ہیں اور مفت میں آپ کے بچوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں تا کہ مسلمان خود حکومت کرنے کے قابل ہو جائیں۔ ہندوستان پر حکومت کرنا مسلمانوں کا حق ہے اور گورنمنٹ بہادر چاہتی ہے،ہم پڑھ لکھ جائیں تاکہ وہ ہماری امانت ہم کو سونپ کر چلے جائیں۔ یاد رکھو اگر تم اپنے بچوں کو ان گورنمنٹ کے اسکولوں میں نہیں پڑھاؤ گے تویہ ہنود اور چوہڑے اور سکھ،یہ سب فرنگی سرکار کے جانے کے بعد ہم پر حکومت کریں گے۔

او بھلے لوگو،تمھارے علاوہ یہ سب قومیں فٹا فٹ اِن اسکولوں میں جا کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہمارے بچے ایسے ہی ڈنگر کے ڈنگر بھیڑ بکریاں چرا رہے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ کیا تم نے نہیں دیکھا،عدالتوں اور کچہریوں میں سب ہندو لوگ ہیں جو فیصلے بھی ہمارے خلاف کرتے ہیں اور یہ بنیے جو چاہیں اپنے بھئی کھاتوں میں لکھ دیں۔ پھر تمھاری گردن پر ناخن رکھ کر جتنا چاہیں وصول کر لیں۔ تمھیں تو نہ پڑھنا آئے اور نہ اُن کھاتوں کے حساب کتاب کے دیکھنے کا طریقہ۔ اِسی لیے ہمارے قرضے بڑھتے جاتے ہیں اور پشتوں سے لے کر اب تک ادا نہیں ہوتے۔ یاد رکھو اگر ہمارے بچے نہیں پڑھیں گے تو پنجاب پھر سکھوں کے پاس چلا جائے گا۔ بھلا تمھیں پتا ہے؟مہاراجہ رنجیت نے کیا کیا تھا؟ اُس نے ہماری بادشاہی مسجد میں اپنی فوج کے گھوڑے باندھ کر اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ جہاں اُنہوں نے لید اور پیشاب کر کر کے اتنی بدبوپھیلائی اوراتنا گند مارا کہ بچارے گنبد اور میناروں کے کبوتر بھی ہجرت کر گئے۔ یہ انگریز بہادر ہی تھے،جنہوں نے وہ شاہی مسجد ان سے آزاد کرا کے ہمیں دی۔ اگر فرنگی سرکا ر مسلمانوں کی دشمن ہوتی تو اُس مسجد کو سکھوں سے آزاد کیو ں کراتی؟ پھر اُس جگہ اپنا گرجا بنا لیتی۔ اِسی دوران مولوی کرامت کو یاد آیا کہ جب فرنگیوں نے دہلی فتح کیا تھا،تو انہوں نے بھی جامع مسجد دہلی میں اپنے گھوڑے باندھ دیے تھے اور اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ مگر شکر ہے کہ اِس بات کا کسی کو بھی پتا نہیں تھا،ورنہ بات بگڑ جاتی۔ یا اگر پیش امام کو پتا بھی تھا،تو اب وہ نہیں بول سکتا تھا۔ کیو نکہ نوکری ملنے والی تھی۔ بہر حال مولوی کرامت نے اس بیہودہ خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی،مگر صدقے جاؤں اِس منصف اور عادل گورنمنٹ کے،جنہوں نے مسلمانوں کے لیے یہ سب کچھ کیا اور ہم ہیں کہ اپنے ہی دشمن۔ سکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں بھیجتے اور چوہڑے جو ہمارا گند صاف کرنے والے ہیں،وہ پڑھ پڑھ کر بابو بنتے جا رہے ہیں۔ یہی حالت رہی تو ایک دن آئے گا ہماری اولادیں اُن کا گند صاف کریں گی۔ جس سے سرکا ر ہمیں بچانا چاہ رہی ہے۔

مولوی صاحب یہ بات آپ نے پہلے ہمیں کیوں نہیں بتائی،ایک شخص جس کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی،اُس نے سر سے صافا اُتار کر گھٹنوں کے نیچے رکھا اور بولا،ہم تو خط پتر بھی نہیں پڑھ سکتے۔ کہیں سے شادی موت کا لفافہ آ جائے تو بیس دروازے بھونکتے ہیں،تب جا کر کوئی پڑھ کے سناتا ہے۔ وہ بھی سو سو نخرے کرتا ہے۔

مولوی کرامت نے اپنا وار کار گر ہوتے دیکھا تو مزید اُس پر جملہ کسا،تو اور کیا؟ پھر سو باتیں ایسی ہوتی ہیں کسی غیر کو نہیں بتانی ہوتیں،جس سے خط پڑھواتے ہیں وہ اُنہیں بھی جان جاتا ہے اور گھر کی بات خواہ مخواہ باہر نکل جاتی ہے۔ پھر یہ ہندو اور چوہڑے تو ہمارے ویسے بھی دشمن ہیں۔ بھائی تعلیم بہت ضروری ہے۔

اس کے بعد مولوی کرا مت نے اپنا بستہ کھولا اور اُس میں سے ہاتھ بھرلمبا اور آدھ ہاتھ چوڑا رجسڑ اور ایک قلم اور دوات نکال کر بیٹھ گیا اور کہا،جلدی سے اب اپنے اپنے بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے نام لکھواؤ۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – سترہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(32)

ولیم کو جلال آباد سے چھٹی پر لاہور آئے دودن ہو گئے تھے۔ اگلے دو دن نولکھی کوٹھی پر گزارنے تھے۔ جس کے لیے اُس نے اپنی ماما اور بہن لورین کو بھی تیار کر لیا۔ لورین ممبئی سے لاہور اپنی ماما کو ملنے کے لیے آئی تھی اورپچھلے دس دن سے یہیں تھی۔ اب جو ولیم آیا تو لورین کو بھی اپنی جنم بھومی یا د آ گئی۔ جہاں بگھیوں پر بیٹھ کر وہ دونوں رینالہ کی نہری کوٹھی اور مچلز کے باغوں میں جامنوں اور پاپلر کے پیڑوں کی گنگناتی لوریاں سنتے تھے۔ پھر وہاں سے محافظوں کی پلتنوں میں خراماں خراماں نولکھی کوٹھی آجاتے۔ اس سیر میں اُن کے دوست ایشلے،سمتھ اور ڈینی اکثر اُن کے ساتھ ہوتے۔ ایشلے جو اُس وقت بھی اُلٹی سیدھی نظمیں لکھ لکھ کر سناتا تھا اب بہت بڑا شاعر بن گیا تھا۔ یہ تمام زمین اُن کی اپنی ملکیت تھی لیکن رینالہ اور ستگھرہ اسٹیٹ کے درمیان اوکاڑہ کے پاس کلیانہ اسٹیٹ کی زمین اور آموں کے باغ میں گھری ہوئی نولکھی کوٹھی سے اُنہیں خاص اُنسیت تھی۔ کیونکہ اِسی کوٹھی میں وہ پیدا ہوا تھا۔ بڑی نہر جسے دوآبہ کہتے ہیں،کے دونوں کناروں پر دور تک پیپلوں کے اُونچے اُونچے درختوں نے نہر کے صاٖ ف پانی پر اپنی چھتریوں کا سایہ کر کے اُسے جنت سے نکالی گئی نہروں سے ٹھنڈا اور بہشت آفرین بنا دیا تھا۔ پیپلوں سے ہٹ کر نہر کے دونوں طرف کی زمین پر آموں کے باغ اگر ایک طرف سے مچلز کو چھوتے تھے تو دوسری طرف اوکاڑہ کینال بنگلوں کے ساتھ جا لگتے تھے۔ نہر لوئر باری دوآب،جس کا پاٹ اور پانی کا بہاؤ دریاوں کی ناک کاٹتا تھا،کے دونوں کناروں پر کھڑے گھنے درختوں کی چھاؤں کے نیچے چوڑی اور سخت پٹڑی پر چلتی ہوئی بگھی کی روانی پانی کی روانی سے کم نہ تھی۔ مارچ کا آغاز تھا اور یہ دن لاہور میں غارت کرنے کا اُس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اِس کے ساتھ اُسے اپنی والدہ اور لورین کے ساتھ کچھ وقت صرف کرنے کی بھی خواہش تھی۔ کیونکہ کافی عرصے سے آبائی گھر میں پورے خاندان کو مل کر بیٹھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ ولیم آٹھ سال لندن رہا۔ اُس کی غیر حاضری میں ہی لورین بیاہ کر ممبئی جا پہنچی۔ جبکہ جانسن صاحب کا لاہور تبادلہ ہونے کی وجہ سے اُس کی والدہ بھی وہیں منتقل ہو گئی۔ اس طرح نولکھی کوٹھی،نہری کوٹھی،آموں کے وسیع باغ اورنہر کے آس پاس دور تک لہلہاتی سرسبز فصلیں اپنے مالکوں کا منہ دیکھنے کو ترس گئی تھیں۔ ولیم نے اپنی ماں اور باپ جانسن صاحب کو بھی تیار کر لیا کہ چھیٹوں کے دو دن اوکاڑہ گھر میں گزار لیں۔ لورین تو پہلے ہی بے تاب تھی۔ اب جانسن صاحب نے بھی تیاری پکڑ لی۔ اس طرح یہ چار افراد کا قافلہ سرکاری جیپوں پر لاہور سے اوکاڑہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ قافلے کی نگرانی اور پروٹو کول کے لیے دو مزید جیپیں ساتھ تھیں۔ جن پر حفاظتی پولیس اور دیگر عملہ سوار تھا۔ نولکھی کوٹھی پر پچیس تیس ملازم جانسن کی غیر حاضری میں بھی ہر وقت موجود رہتے تاکہ مویشی فارم،اصطبل،کوٹھی اور باغ کی حفاظت رہے۔ لیکن اُن کے کوٹھی پر جانے سے ملازم کم پڑ سکتے تھے۔ اس لیے جانسن نے ڈپٹی کمشنر منٹگمری کو اپنے آنے کی اطلاع کر دی۔ اُسے کہہ دیا کہ کچھ ملازم بھی وہاں بھیج دیے جائیں۔ چنانچہ رات ہی اُن کے استقبال کے لیے پچاس ساٹھ افراد مزید نو لکھی کوٹھی پر پہنچ گئے تھے۔ موسم کافی خوشگوار تھا اور ولیم بھی بہت دنوں کے بعد جارہا تھا۔ اس لیے اُسے کچھ زیادہ ہی لطف محسوس ہو رہا تھا۔ ہلکی ہوا کے جھونکوں اور روشن دن میں ولیم اور اُس کی فیملی نولکھی کوٹھی پہنچی تو دن کے دس بج رہے تھے۔ ادھر اُدھر بندوقیں تھامیں سنتری اور محافظ اِس طرح پھیلے تھے جیسے وائسرائے کا دورہ ہو۔ ان کے علاوہ دیسی عوام اور کاشت کار ستگھرہ روڈ پر دور تک سڑک کے کنارے سلامی کو حاضر ہوئے تھے۔ اِن میں نوئے فی صد تو وہ تھے جو جانسن صاحب کی زمین کی دیکھ بھا ل اور کاشت کرتے تھے۔ باقی کے بھی بالواسطہ انہی کے دامن سے بندھے اپنی روٹی پیدا کرتے تھے اور خوش اس لیے تھے کہ مقامی مالکان کی نسبت جانسن صاحب کا رویہ ان مزارعین کے ساتھ کافی بہتر تھا۔ نولکھی کوٹھی ایک فرلانگ رہ گئی تو ولیم نے خواہش ظاہر کی کہ وہ گاڑی سے اُتر کر اپنے گھر جائے۔ ولیم کی اس تجویز پر اُس کی والدہ،لورین اور بذاتِ خود جانسن صاحب بھی گاڑی سے اُتر گئے۔ اِن کو دیکھتے ہوئے باقی عملہ بھی احتراماً جیپوں سے اُتر گیا اور پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ولیم فیملی کے ساتھ آہستہ آہستہ گھر کے باغات کے درمیان چھوٹی نہر پر بچھی صاف سڑک پر جا رہا تھا۔ جبکہ مقامی چودھری،سرداراور سیاستدان کلے دار پگڑیاں سروں پر باندھے اور مزارع لوگ دھوتیاں،جانگیے پہنے،ہاتھ باندھے،استقبال میں چپ چاپ ولیم اور اُن کے خاندان کو گزرتے دیکھ رہے تھے۔ ان مقامیوں کے سیاہ رنگ کے چہرے،گال پچکے ہوئے اور سکڑی ہوئی کالی ٹانگیں بتا رہی تھیں کہ غلاموں کی حقیقی تصویر انہی لباسوں میں بنتی ہے۔ انہیں دیکھ کرولیم نے ایک لمحے کے لیے خدا وند یسوع مسیح کا شکر ادا کیا کہ اُس کی رگوں میں بہر حال انگریزی خون دوڑتا ہے۔ لیکن پھراُن کی دل جوئی کے لیے اچانک ولیم نے اپنا ہاتھ اُوپر کر کے اُن مقامی مزارعوں کو سلام کر دیا۔ ولیم کے اِس عمل کو دیکھ کر سارے کا سارا عملہ،اُس کا باپ جانسن،ولیم کی والدہ،ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،تحصیلدار صاحب حتیٰ کہ دوسرا تمام عملہ بھی سکتے میں آگیا۔ ولیم نے مقامیوں کو سلام کر کے پورے انگریزی وقار کو ہی داؤ پر نہیں لگایا تھا بلکہ اپنی ملازمت سے بھی کھیل گیا تھا۔ اُس کے اس عمل سے دیسی لوگ بہت خوش ہوئے لیکن معاملہ بہر حال خطر ناک تھا۔ جسے ولیم بھی فوراً ہی بھانپ گیا اور اپنے آپ میں شرمندہ ہونے لگا۔ ایک اضطراب انگیز خاموشی میں چلتے ہوئے نولکھی کوٹھی کے صحن میں پہنچ گئے۔ صحن میں پہنچ کر جانسن صاحب نے جلدی سے سب کو رخصت کیا اور کوٹھی کے اندر داخل ہو گیا۔ ولیم جانسن صاحب کے اندر اُٹھنے والے طوفان کو جانتا تھا کہ وہ اُس کے اس عمل پر کتنا پریشان ہو گیا تھا۔ اُسے معلوم تھا،اگر یہ رپورٹ کمشنر صاحب کو پہنچ گئی تو ولیم کے لیے کیا خرابی پیش آ سکتی ہے۔ جانسن کو اُس وقت ہر گز کوئی پریشانی نہ ہو تی،اگر یہ کام ولیم کی بجائے کوئی دوسرا انگریز افسر کرتا۔ ولیم اُس کا بیٹا تھا اور یہ بات ولیم بھی جانتا تھا کہ اُس کا باپ ڈپٹی کمشنر ہوتے ہوئے اس عمل کو کتنا ناگوار سمجھ رہا ہے۔ اب گھر میں خلوت کے دوران اُس کی سرزنش ہونے کا وقت قریب تھا۔ اِس کے باوجود اسے یہ حوصلہ تھا کہ ابھی اُسے اپنے ہی باپ سے واسطہ تھا،جو سر زنش کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتا تھا۔ اُسے اس بات پر بھی حیرت ہو رہی تھی کہ آخر اُس سے اچانک یہ غیر معمولی حرکت سر زد کیسے ہو گئی تھی۔

کوٹھی کے ڈرائنگ روم میں داخل ہو کر صوفوں اور کرسیوں پر بیٹھ چکے تو ولیم اپنے باپ کی زبان سے شکوہ سننے کو تیار ہو گیا۔ وہ مدت کے بعد نولکھی کوٹھی میں داخل ہوا تھا اور نہیں چاہتا تھا اُس کا باپ ایسی بات کرے جو سارے مزے کو کر کرا کر دے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ اُسے اپنے باپ سے نصیحتوں کا باب سنتے ہی بننی تھی۔ اِس کے بر عکس جانسن نے ولیم کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی بیگم کو مخاطب کیا اور بولا،حنا باورچی سے کہو چائے کا سامان لگائے،اِتنے میں میں نہا لوں۔ یہ کہ کر جانسن باتھ روم میں داخل ہو گیا۔ ولیم وہیں بیٹھا لورین سے باتیں کرنے لگا۔ ولیم جانتا تھا جانسن صاحب نے نصیحت فی الحال معطل کی ہے بھلائی نہیں۔ لیکن فی الوقت تو جان چھٹی۔ حِنًانے باورچی کو چائے لگانے کے لیے آواز دی۔ پھر بیٹے اور بیٹی کے پاس آ بیٹھی۔ ولیم نے بھر پور نظر سے ماں کی طرف دیکھا اور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ حِنًا کی عمر پچاس سے تجاوز کر چکی تھی لیکن اُس کے جسم میں ابھی اتنی جازبیت اور کشش تھی جو کسی بھی مرد کو ایک دفعہ چونکا دینے کے لیے کافی تھی۔ وہ ایک لحظے کے لیے باپ کی قسمت پر رشک کرنے لگا۔ لیکن چند ثانیوں بعد ہی ایک لرزش سی لے کر اُس نے یہ خیال جھٹک دیا اور لورین سے بولا،لورین کیوں نہ ہم آج ایشلے،سمتھ اور ڈینی کو بھی یہیں بُلا لیں،مل کر فلاش کھیلیں اور ایشلے سے شاعری سنیں؟

لورین نے نہایت جوش میں آکر ولیم کی بات سے اتفاق کیا اور کہا،ولیم یہ آئیڈیا آپ نے بہت عمدہ پیش کیا ہے لیکن اِس کے ساتھ ایک اورکام بھی ہو جائے،آج رات طوفانی قسم کی چاندی ہو گی۔ کیوں نہ نہر دواب کے بہتے پانی میں تختے بچھا کر رات وہاں پر ہی چاندنی کا نظارہ کیا جائے،وہیں پر فلیش کھیلی جائے اور ایشلے سے شاعری سنی جائے؟

لورین کیا دن یاد کرا دیے،ولیم نے بالکل لڑکپن کا سا انداز اپناتے ہوئے لورین کے شانے پر ہاتھ مارا۔
دونوں کی گرم جوشیاں دیکھ کر حِنًا بھی گفتگو میں شریک ہو گئی اور بولی،تم دونوں اپنے باپ پر بالکل نہیں گئے۔ عین میرا دماغ پایا ہے،مکمل عیاش اور بے تکا،لیکن پیارو یہی زندگی ہے۔

حِنًا کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ جانسن صاحب باتھ روم سے وارد ہوگئے۔ انہوں نے حنا کی قریباً پوری بات سُن لی تھی۔ مسکراتے ہوئے بولے،ڈارلنگ حِنًا عیاشیاں تو ہم نے آپ کو کرائی ہیں۔ یاد کرو جب تم لندن چھوڑنے پر آمادہ ہی نہیں تھی اور ہم کتنی مشکل سے آپ کو بہلا پھسلا کر یہاں کھینچ لائے۔ اب ہمیں اتنا بھی خشک نہ جانو۔ یہ سب کچھ آپ کو اور آپ کے بچوں کو ہمیں نے سکھایا۔ یہ میرا پردادا مارٹن ہی تھا،جو سوتی کپڑا لینے آیا اور کمپنی کا داماد بن گیا۔ پھر ایک دنیا نکل گئی لیکن ہم نے دیکھ لیا تھا کہ اصل میں ملٹن کی جنت گم گشتہ یہی ہے۔ جو اب ہماری پشتوں میں چلے گی۔ اِس لیے ہم نہ نکلے اور دانتوں سے ہندوستان کی ریشمی گرہ پکڑلی۔ اِسی کا نتیجہ ہے کہ تم باغوں میں بیٹھی ہو۔ ورنہ کئی انگریز تو ابھی بھی ممبئی میں ٹین کے ڈِبوں میں بیٹھے ہیں اور دن رات بدبو اور پسینے سے کھیلتے ہیں۔

جانسن صاحب کی بات سن کر حِنًا سمیت سب ہنس دیے۔ اتنے میں باورچی چائے لگا کر ہاتھ باندھے ایک طرف کھڑا ہو گیا تھا۔ جانسن صاحب سیدھے چائے کی میز ہی کی طرف لپکے اور ایک نشست پر بیٹھ گئے۔ اُن کے بعد حنا،ولیم اور لورین بھی میز کی طرف بڑھے۔ اِس وقت سب کا موڈ خوش گوار تھا،اسلیے کھل کر باتیں ہونے لگیں۔ لورین نے جانسن صاحب سے کہا،پاپا آج ہمارا پروگرام فلیش اور شاعری کا بنا ہے۔ وہ بھی نہر دواب کے بہتے پانی پر تخت بچھا کر کینال بنگلہ کے پاس پیپلوں کی چھاؤں میں۔ کیسا رہے گا؟

بھئی آپ نے خیال تو کمال کا سوچا ہے،جانسن صاحب نے کہا،میرا خیال ہے یہ منصوبہ بھی برخوردار اسسٹنٹ کمشنر جناب ولیم صاحب کی اختراع ہے۔ یہ ہمارا شاعر مزاج بیٹا کچھ نہ کچھ کر کے رہے گا۔
نو پاپا،ولیم بولا،یہ شاعرانہ اختراع آپ کی بیٹی کی ہے،ولیم شاید جانسن کی طرف سے اس منصوبے کی ذمہ داری قبول کر لیتا لیکن وہ جانتا تھا دراصل جانسن صاحب نے ولیم پر چوٹ کی تھی۔ جو اُس نے اپنے مزارعین کو سلام کرنے کی ایجاد کی تھی۔
جی،لورین نے مُکا لہراتے ہوئے کہا،پاپا یہ منصوبہ میرے دماغ کا سرمایہ ہے،جو میں نے جناب میں گزار اہے۔
حِنًابولی،لوبھئی اب تو سارا گھر ہی شاعر ہو گیا ہے۔ ایشلے کی صحبت میں کچھ تو ہونا ہی تھا۔

جبکہ سارا گھر نواب پہلے ہی تھا۔ اب لکھنؤ لُٹنے میں کیا کسر باقی رہ گئی؟ جانسن صاحب نے لقمہ دیا،اس کے بعد ایک اور قہقہ لگا۔
چائے ختم ہو چکی تو جانسن صاحب نے نائب تحصیل دار کو طلب کیا جس کی ڈیوٹی جانسن صاحب اور اُس کی فیملی کے اوکاڑہ میں قیام تک اُن کے ساتھ لگ چکی تھی۔ نائب تحصیلدار جانسن صاحب کا بلاوا سنتے ہی بھاگتا ہوا اندر داخل ہواور حکم سننے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ جانسن کے چہرے پر نہایت سنجیدہ افسرانہ تمکنت سمٹ آئی،جو ایک ڈپٹی کمشنر کی طبیعت کواِس وقت لازم تھی۔ مسٹر،لورین جوکچھ کہتی ہے،وہ غور سے سنو اور اُس پر جلدی عمل کرو۔ اب جانسن صاحب نے لورین کی طرف دیکھا جس کا مطلب تھا کہ وہ اپنی بات تحصیل دار کو سمجھادے۔ لورین نے تحصیل دار کو وہ تمام ہدایات جاری کردیں جس کا آئیڈیاپہلے وہ بیان کر چکی تھی۔ تحصیل دار ہدایات سن کر جیسے ہی مڑا ولیم نے اُسے دوبارہ آواز دی،سنیے مسٹر،رینالہ سے ایشلے اورڈینی کو اطلاع کر دو،اُن کے دوست ولیم اور لورین نولکھی کوٹھی پہنچ گئے ہیں اور آپ کو یاد کر رہے ہیں۔ سہ پہر تک آ جائیں ہم کھانا اُن کے ساتھ کھائیں گے۔ اس کے علاوہ کچھ بٹیروں اورمر غابیوں کے گوشت کا بندوبست بھی کرا دو۔

جی بہتر سر،تحصیل دار نے فرمانبرداری سے حکم سنا۔

حکم دینے کے بعد جانسن پھر حِنًاکی طرف متوجہ ہو گیا اوراُس کے ساتھ دوبارہ بات کرنے لگا،اس کا مطلب تھا کہ تحصیل دار صاحب جا سکتا ہے۔ اُس نے ہلکاسا ہاتھ اُٹھا کر ماتھے پر رکھا اور صحن سے باہر نکل گیا۔

اس وقت تک ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔ اب جانسن نے اپنے خاص منشی تفضل شاہ کو بلانے کا ارادہ کیا،جو جانسن کی تمام زمینوں کا ذمہ دار تھا اور مزارعین کے ساتھ سارے حساب کتاب کا کھاتہ بھی اُسی کے پاس تھا۔ خانساماں نے کچھ ہی دیر بعد تفضل شاہ کو بلا لیا۔ تفضل شاہ پچاس پچپن سال کا نہایت شستہ آدمی تھا۔ وہ جانسن کے سامنے اپنے سادات پن کا وقار بر قرار رکھنے کے لیے جھکنے سے گریز ہی کرتا،جس کا احساس جانسن کو بھی تھا۔ اورجانسن کو شاہ صاحب کا اتنا سا نخرہ اُن کی ایمانداری کی وجہ سے قبول تھا۔ ویسے بھی ہندوستان میں سادات کا جو احترام تھا،جانسن اُس سے خوب واقف تھا۔ اِدھر جانسن شاہ صاحب سے زمینوں کے حساب کتاب میں جُت گئے اُدھر ولیم،لورین اور اُن کی والدہ حِنًا مویشی فارم کا دورہ کرنے کے لیے چل پڑے،جو صرف دو سو قدم کے فاصلے پر نولکھی کوٹھی کے پچھواڑے واقع تھا۔ اِس فارم میں اعلی قسم کی ساہیوال نسل کی گائیں اور نیلی کی سینکڑوں بھینسیں تھیں۔ ان گائیں اور بھینسوں کا دودھ اور مکھن سارا سال ہندوستان کے انگریز دوست احباب کے علاوہ انگلنڈ تک بھی جاتا۔ اکثر دفعہ نوابوں اور مہاراجاؤں کی خدمت میں بھی مکھن مہر بستہ بھیجا جاتا۔ جس کے عوض داد اور صلے حاصل کیے جاتے۔ فارم میں گائیں اور بھینسوں کے علاوہ شرطوں پر دوڑنے والے بیل اور گھوڑے بھی تھے۔ جن میں میم صاحبہ کی تو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ وہ جانسن کے شوق تھے اور بھرپور شوق تھے۔ فارم اور اُس کے مضافات میں پھیلی ہوئی تمام چیزیں باور کراتی تھیں کہ صاحب نوابوں سے کسی طرح بھی کم نہ تھے۔ بہت سے انگریز افسروں کو اس فیملی کے یہ نخرے اور نوابی انداز کھٹکتے تھے لیکن جانسن صاحب اور اُس کا باپ اور دادا ایسے چالاک تھے کہ جس افسر کی طرف سے اُنہیں حسد اور نقصان کا اندیشہ ہوتا اُسے اتنے زیادہ تحفے اور گھی مکھن بھیج دیتے کہ اُس بچارے کو مروتاً خاموش ہونا ہی پڑ جاتا۔ ایک دو دفعہ تو انتہائی مہنگے قسم کے دو گھوڑے بھی گورنر لاہور کی نذر کیے گئے۔ اصل پوچھو تو اسی کی وجہ سے جانسن صاحب اتنی جلدی اس اہم عہدے پر جا کر کھڑے ہو گئے تھے اور انہیں اُن کی مرضی کے بغیر کہیں ہلایا بھی نہیں گیاتھا۔

تینوں برٹش ماں،بیٹا اور بیٹی فارم کا دورہ کرتے جا رہے تھے جبکہ ملازم اُن کے ادھر اُدھر دوڑتے ہوئے ایک ایک مویشی کے متعلق معلومات دیتے جاتے۔ لیکن وہ ان سے ذرا فاصلے پر ہی چلتے،مبادا بدبو یا کسی دوسری حرکت سے میم صاحب اور ولیم صاحب ناراض نہ ہو جائیں۔ نیم اور پیپلوں کے لا تعداد درختوں کے سائے میں نہر کے کنارے کنارے یہ فارم ایک مثالی حیثیت رکھتا تھا۔ جس کو دوسری طرف دور تک آموں،مالٹے،امرود اور جامنوں کے باغوں نے اپنی پناہ میں لے رکھا تھا۔ اِن باغوں کے درمیان سے لہریں لیتی صاف پانی کی ایک چھوٹی سی نہر تھی۔ جس کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔ اُس کے کناروں پر بھی نیم اور پاپلر کے اُونچے پیڑوں کی سبز چھاؤں نے نہر کا دماغ نہر شداد کے پلے تک پہنچا رکھاتھا۔ یہی وجہ تھی ولیم اپنی زندگی کے فسانے انہی بستیوں کے حوالے رکھنا چاہتا تھا۔ فارم کے تمام مویشی انتہائی صحت مند تھے۔ نہ تو کسی کی ہڈیاں نظر آ رہی تھیں اور نہ ہی کسی جانور کے جسم پر میل کچیل تھا۔ ہر ایک مویشی لکڑی کی بنی ہوئی کُھرلیوں میں منہ دیے چارہ کھانے میں اور لمبی پوچھلیں ادھر اُدھر چلانے میں مگن تھا۔ اِسی طرح چھوٹے کٹوں اور بچھڑوں کی کُھرلیاں الگ تھیں۔ جن پر یہ اگرچہ بندھے تھے لیکن بندھے ہوئے بھی دڑنگے مارنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اس طرح یہ اور بھی زیادہ بھلے لگتے تھے۔ بھینسوں کے جسم اتنے کالے اور شفاف تھے،چاہے تو منہ دیکھ لو۔ جبکہ گائیں گلابی رنگ کی بڑی بڑی ہرنیاں لگتی تھیں۔ لورین چلتے چلتے کسی جانور کی دم کو ہاتھ لگاتی تو وہ ایک دم اچھل پڑتا مگر اتنے میں لورین شرارت کر کے پیچھے ہٹ چکی ہوتی۔ دور کھڑے ملازمین کے لیے ہر چند یہ معمولی بات تھی لیکن وہ محض لورین کو خوش کرنے کے لیے ایک بڑاسا قہقہ لگا دیتے۔ جیسے اُس نے کوئی بڑاکارنامہ سر انجام دے دیا ہو۔

فارم کو عبور کر کے ولیم،لورین اور حنا نہر کے دامن میں چلنے لگے تو ایسے لگا جیسے تین گلابی سرو باغوں کے سائے سائے چلے جاتے ہوں۔ مقامی وہیں رک گئے تھے کہ وہ اِس سیر میں ہم قدمی کے قابل نہیں تھے۔ یہ بات ولیم اور دیسی سب ہی جانتے تھے۔
ولیم کے ذہن میں بچپن ہی سے ایک خیال تھا لیکن اُس پر واضح نہیں ہو رہاتھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے اور جو سوچ رہا ہے وہ ٹھیک بھی ہے کہ نہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ گاہے گاہے کرتا بھی رہا ہے۔ اِسی ذہنی کیفیت کے تحت یا مقامی لوگوں کے چہروں کو دیکھتے ہوئے اُس نے چلتے چلتے حناًسے ایک سوال کر ہی دیا،ماما کیا ایسا نہیں ہو سکتا اِن دیسی لوگوں کے لیے ایک انگریزی سکول قائم کر دیں،جہاں اِن کی جاہل اولاد یں کچھ پڑھ لکھ کر اپنی حالت سیدھی کر لیں؟ پھر حناًکے جواب دینے سے پہلے ہی خود دوبارہ بولا،میرا مطلب ہے اُس کی نگرانی ہم کیتھی کے حوالے کر دیں،کہ وہ یہاں آکر فارغ تو نہیں بیٹھے گی،گویا ثابت کرنا تھا کہ دراصل وہ یہ مقامیوں کے لیے نہیں کیتھی کے لیے کرنا چاہتا ہے۔

حنا نے ایک نظر ولیم کی آنکھوں میں جھانکا اور بولی،ولیم میرا خیال ہے تمھیں کیتھی سے زیادہ ان کالوں فکر ہے۔ تم ان کے بارے میں حاکم بن کر کیوں نہیں سوچتے؟خدا وند یسوع مسیح نے تم پر ایک برکت ناز ل کر کے کمشنر بنا دیا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو وہ اپنی برکت واپس لے لے اور تم انہی کالوں کے ساتھ عذاب میں گرفتار ہو جاؤ۔ کیونکہ اِنہیں ایسی حالت میں ہم نے نہیں خدا وند یسوع مسیح نے رکھا ہے۔ اب اِن کو نہ یسوع مسیح جانتا ہے اور نہ یہ اُس کو جانتے ہیں۔ اس لیے ان سے دور رہو اور خدا برکتوں کو ضائع نہ کرو۔ جانسن صاحب تمھارے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔ وہ کہ رہے تھے فیروز پور سے بھی ان کی رپورٹس اچھی نہیں آ رہیں اور یہ کہ ولیم گورنمنٹ سے زیادہ رعایا کا وفادار ہے۔ اِس بات کے اثرات اِس کی ملازمت پر بُرے پڑیں گے۔

ولیم کو اپنی ماں کی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے یسوع مسیح غریبوں اور ناداروں کا ساتھ دینے کے خلاف ہو۔ اگر یہ بات ٹھیک تھی تو پھر ہندوستان کے جتنے شودر اور دلت ہیں،یسوع مسیح کو مان کر اُن کی حالت کیوں ٹھیک نہیں ہوئی؟ وہ تو اِن مسلمانوں اور سکھوں سے کہیں زیادہ بدترحالت میں ہیں۔ اور یہ ہندوستان کے نوابین،جن کی حالت ہم سے بھی کہیں بہتر ہے،یہ کس یسوع مسیح کو مانتے ہیں؟لیکن یہ وہ باتیں تھیں،جن کے سمجھنے کی حناً صاحبہ کو ضرورت نہیں تھی۔ اِس لیے ولیم نے اپنی ماں کی بجائے چلتے چلتے ایک لمحے کے لیے لورین کی طرف دیکھا اور بولا،لورین میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر پورا ہندوستان اِسی طرح کا ہو جائے،جس طرح ہمارا یہ فارم اور زمینیں اور باغات ہیں تو گورنمنٹ کا کیا نقصان ہو گا۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں اُس کے خراج اور مالیے میں اضافہ ہو گا۔ اور جہاں برطانیہ میں آج یہاں سے دس روپے جاتے ہیں،وہاں اسے سو پونڈ جانے لگیں گے۔

لورین نے ولیم کی اس بات پر غیر استفہامی انداز میں سر جھٹکا اور بولی،ولیم مجھے ایسی باتیں سمجھ نہیں آتی۔ تم یہ بتاؤ کیتھی کو کب یہاں لا رہے ہو؟ اب وہ بے چاری کب تک سردی میں ٹھٹھرتی رہے گی۔ میں چاہتی ہوں اُسے ان آموں کے موسم تک بیاہ کر لے ہی آؤ۔
ولیم نے کاندھے اُچکائے اور حِنًا کی طرف دیکھا اور بولا،یہ بات تو ماما ہی طے کریں گی،اُسے کب لانا ہے؟ پھر مسکراتے ہوئے،میں نے تو اپنا کام مکمل کر دیا ہے۔

حنا نے ولیم کی طرف دیکھا اور بولی،ولیم تمھارے اشارے کی بات ہے۔ مَیں کمشنر صاحب سے ابھی بات کر لیتی ہوں لیکن پہلے یہ طے کرو اُس کے لیے کون سی قیام گاہ آپ کے حوالے کی جائے؟

ماما میرا تو خیال ہے اِس جگہ سے بہتر کوئی ٹھکانہ نہیں۔ وہ یہاں بہت خوش رہے گی۔ میں چاہتا ہوں میں اُس کے لیے یہاں ایک جدید اسکول قائم کر دوں،جہاں چھوٹے پیمانے پر مقامی عیسائی اور مسلمان بچوں کی تعلیم کا انتظام ہو جائے۔ وہ ویسے بھی اس کام کو پسند کرتی ہے۔

اوکے،جیسے آپ کی مرضی،لیکن میرا خیال ہے آپ پہلے اُسے بیاہ لاؤ۔ اُس کے بعد دوسرے منصوبوں پر عمل کر لینا،حنا نے ولیم کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔

نہر اب مالٹوں کے باغ سے آموں کے باغ کی طرف نکل گئی تھی۔ اِس لیے ولیم،لورین اور حنا نے اپنا راستہ بدل کر شرینہہ کے بڑے بڑے درختوں کے درمیان سے دوبارہ نولکھی کوٹھی کی طرف پھیر لیا۔ بہار شروع ہورہی تھی۔ شرینہہ کی شاخوں پر پھوٹتی ہوئی تازہ پتوں کی کونپلیں ایسی میٹھی خوشبو چھوڑ رہیں تھیں،جن کے آگے سارے جہان کے پرفیوم ماند تھے۔ ولیم اور لورین اِن دھیمی خوشبووں کے درمیان لمبے لمبے سانس لینے لگے اور سینہ پھلا کر آکسیجن اندر کھینچنے لگے۔ آہستہ آہستہ اِسی طرح سیر کرتے ہوئے وہ سرسوں اور برسن کے کھیتوں میں کھڑے ہوئے میٹھے کے پیڑوں کے بیچ سے نولکھی کوٹھی میں آ نکلے۔ جہاں میٹھے کے پیڑ کے تیز خوشبو والے سفید سفید پھول لورین کو اتنے بھائے کہ اُس نے مٹھی بھر پھول توڑ کر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیے اور نولکھی کوٹھی کے صحن میں پڑی خوبصورت لکڑی کی کرسیوں پر ایک دم گر کے بیٹھ گئی۔ اِسی صحن میں کچھ فاصلے پر جانسن صاحب تفضل شاہ سے حساب کتاب کر کے ابھی ابھی فارغ ہوئے تھے اور اب وہ اُٹھ رہے تھے۔ ڈیڑھ بج چکا تھا اور بھوک بھی خوب چمک گئی تھی،جس پر فارم کے بیچوں بیچ لمبی سَیر نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ لورین نے وہیں باورچی کو طلب کر کے لنچ کے بارے میں پوچھا،باورچی نے نہایت ادب سے جواب دیا،میم صاحبہ آپ کا ہی انتظار ہے،لنچ تو کافی دیر کا لگ چکا ہے۔ باورچی کی طرف سے کھانے کا سن کر سب ایک ہی دفعہ کوٹھی کے وسیع ڈائیننگ ہال کی طرف اُٹھ کھڑے ہوئے۔

ڈائیننگ ہال کم از کم تیس فٹ لمبا اٹھارہ فٹ چوڑا اور پچیس فٹ اُونچی چھت پر محیط تھا۔ دیواروں کے ساتھ بڑے بڑے طاق اور طاقوں میں سجے ہوئے فانوس،جھاڑ اورآتش دان لگے تھے۔ آتش دان کی خاص ضرورت تو نہیں تھی۔ کبھی کبھی ہی سخت سردی میں جلتا تھا لیکن انگریزی طرز تعمیر کے مطابق اُس کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ کمرے کے درمیان میں ایک بڑی اور صندلی ٹیبل،جس پر ریشمی دسترخوان اِس طرح بچھا تھا کہ اُس کے کنارے نیچے پاؤں تک چُھوتے تھے۔ چھت پر لٹکے ہوئے فانوس اور اُن کے درمیان بجلی کے پنکھے ڈائیننگ ہال کو ایک نوابی شان سے دو چار کرتے تھے،بجلی رینالہ بجلی گھر بن جانے سے کافی مقدار میں دستیاب تھی۔ اِس لیے بعض اور بھی چیزیں بجلی پر چلنے والی مہیا کی گئیں۔ جن میں سے اکثر اِسی ڈائیننگ ہال اور ڈرائنگ روم میں موجود تھیں۔ مثلاًگراموں فون،ریکارڈر سسٹم،بھاپ دان،کھانا پکانے کے لیے ہیٹر اور اِسی طرح کی بیشتر چیزیں۔ ڈائننگ ہال میں بچھا ہوا قالین بھی اپنی مثال آپ تھا،جو سپیشل نواب صاحب آف بہاولپور نے جانسن صاحب کو اُن کی بہاولپورریاست میں تعیناتی پر تحفہ دیا تھا۔ اِس کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں مختلف جگہوں سے تحفہ میں آئی ہوئی ڈائننگ ہال اور ڈرائنگ روم میں موجود تھیں۔ اِن سب چیزوں کو انہی دو کمروں میں رکھنے سے جانسن صاحب کے نوابوں اور مہاراجوں سے تعلقات اپنے شریکے کے انگریزوں پر اچھی طرح کھل جاتے تھے۔ جن کی بعض انگریز افسر حسرت ہی کر کے رہ جاتے۔ کھانا میز پر دور تک چینی،کانچ اور سٹیل کے برتنوں میں سجا تھا۔ دوپہر کا یہ کھانا دودھ،مکھن،جیم،اچار،پلاؤ،روغنی روٹیاں،کھیر،جوس اور دو تین قسم کے گوشت پر منحصر تھا۔ سوئر کا گوشت اِس خاندان نے عرصہ پہلے چھوڑ رکھا تھا۔ اِس لیے اُس کا میز پر کوئی انتظام نہیں تھا۔ اِس معاملے میں جانسن اور ولیم کے اُن انگریز دوستوں کو کوفت ہوتی تھی جنہیں یہ گاہے بگاہے کھانے پر بلاتے لیکن باقی چیزیں کافی مزیدار ہوتیں اور کھانا بد مزانہ ہو پاتا اور سوئر کے بغیر بھی اُن کا گزارا چل ہی جاتا۔ ویسے بھی نولکھی کوٹھی پر اکثر اُن کے رینالہ اسٹیٹ،ستگھرہ اسٹیٹ اور مچلز والے انگریز مہمان ہی آتے تھے،جو خود بھی دیسی کھانوں میں رچ بس گئے تھے۔

کھانے کی میز پر بھی کافی گپ شپ رہی لیکن یہاں بھی جانسن صاحب نے ولیم سے اُس کی جلال آباد میں تعیناتی اور ملازمت کے تجربات سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا۔ اِس پر ولیم حیران تھا لیکن خوش بھی تھا کہ ایسے خوشگوار ماحول میں اِس طرح کی گفتگونامناسب تھی۔

دس پندرہ منٹ میں ہلکی وائین کے ساتھ مزیدار کھانا کھا کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے کیونکہ چار بجے رینالہ سے ولیم کے بچپن کے دوست ایشلے کے آ جانے پر اُس کا استقبال بھی کرنا تھا۔ جس سے پچھلے سات سال سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔ لندن سے آنے کے بعد ولیم کو مسلسل نوکری کے بکھیڑوں میں اتنا وقت ہی نہ مل سکا کہ وہ دوستوں کے ساتھ مل کر کچھ دیر گپ شپ کی چہلیں کر لے اور ایشلے سے اُس کی شاعری سن لے،جو بچپن کے وقت تو محض دل بہلانے کی ہوتی تھی لیکن بعد میں جب اُس نے ولیم کو اپنی نظمیں لندن بھیجیں تو وہ بہت عمدہ تھیں۔ آج ایشلے سے ہونے والی ملاقات کے تصور میں اُسے عجب سرشاری کا لطف محسوس ہو رہا تھا۔ لندن میں اُسے کیتھی نے کسی بھی قسم کی کمی محسوس نہ ہونے دی تھی لیکن ایشلے کی بات ہی کچھ اور تھی۔ اِنہی احساسات میں اُسے اپنے اور ایشلے کے ساتھ گزارے ہوئے ایسے وقت کی جھلکیاں یاد آنے لگیں،جنہیں یاد کر کے وہ کچھ شرما سا گیا لیکن وہی جھلکیاں اُسے مزید لطف اندوز کرنے لگیں اور وہ ایشلے کی ملاقات کے لیے بے چین سا ہو گیا۔ لندن سے آنے کے بعد اُس سے ملاقات اس لیے بھی نہ ہو سکی تھی کہ وہ جب ہندوستان آیا تو ایشلے کلکتے میں ایک کالج میں بطور پروفیسر تقرری کے لیے اپنے آڈر لینے جا چکا تھا۔ اُس کے بعد ولیم لاہور سے فیروز پور چلا گیا۔ یوں اب تک دونوں میں دوری بر قرار رہی تھی لیکن خوش قسمتی سے اب دونوں ہی اوکاڑہ میں موجود تھے اور ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کے لیے بے چین تھے،جو چند لمحو ں کے بعد ہونے والی تھی۔ جانسن صاحب قیلولے کے لیے جاچکے تھے لیکن ولیم باہر نکل کر صحن میں ٹہلنے لگا۔ ،تھوڑی دیر ٹہلتے ٹہلتے اُس نے باورچی کو آواز دے کر کافی بنانے کے لیے کہا اور پھر اُسی طرح ٹہلنے لگ گیا۔ اگرچہ اُس کا چہل قدمی کرنے کو دل نہیں چاہ تھا لیکن اُسے بس ایشلے سے ملنے کی بے چینی لگی ہوئی تھی۔ اِسی کیفیت میں ولیم کو پندرہ منٹ گزرگئے۔ اتنے میں باورچی کافی بنا کر لے آیا اوروہ کوٹھی کے وسیع لان میں پڑی ہوئی کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ کر کافی کی چسکیاں لینے لگا۔ ابھی اُس نے دو ہی گھونٹ لیے تھے کہ دور سے گاڑی کے ا ٓنے کی آواز سنائی دی۔ ولیم کافی کا کپ وہیں رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور آموں کے باغ کے دوسری طرف سے آنے والی گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔ چند ہی لمحوں میں اُسے ایشلے اور ڈینی کے چہرے نظر آ گئے جنہیں اِتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پہچاننے میں دقت نہیں ہوئی۔ اُس نے دور ہی سے دونوں کی شکلوں میں واضع فرق کو محسوس کر لیا تھا۔ جیسے ہی جیپ پیپل کے درخت کے نیچے پکی انیٹوں کی سڑک پر آکر رُکی،ولیم ملنے کے لیے تیز ی سے اُس طرف چل پڑا۔ اُدھر سے ایشلے اور ڈینی بھی گاڑی سے چھلانگ مارکر ولیم کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اِس تیزی میں ڈینی کا کنٹوپ سر سے گرتے گرتے بچا۔ اِس اشتیاق میں سب نے ملازموں کے سامنے اپنے پورے انگریزی وقار کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ دیا اور ایک دوسرے کو بے انتہا جوش کے ساتھ گلے ملنے لگے۔ رہ رہ کر لپٹنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کے بوسے بھی لے لیے۔ ان کے اس انداز کو دیکھ کر ملازم حیران رہ گئے۔ اُن کی نظر میں یہ فعل انتہائی غیر اخلاقی اور تعجب انگیز تھا اور یہ بات راسخ کر دینے کے لیے کافی تھا کہ فرنگی قوم بہت زیادہ فحاشی پھیلانے والی ہے۔ کچھ دیر وہیں کھڑے اپنے اشتیاق کو کم کرنے کے بعد تینوں اسی جگہ لان میں بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے۔ اِس جذباتی ملاقات میں ولیم کو یہ بھی نہ یاد رہا کہ دوستوں کو چائے ہی پوچھ لے۔ کچھ دیر چہلیں کرنے کے بعد اُس کو خیال آہی گیااور اُس نے ملازم کو آواز دے کر کافی بنانے کے لیے کہا۔ ایشلے جو ولیم کا اصل میں جی کا دوست تھا،کچھ دیر جی بھر کے ولیم کی طرف دیکھتے ہوئے بچپن کے نظاروں میں کھو گیا پھر بولا،دوست میں نے تو خیال کیا تھا،آپ لندن کے ہو کر رہ گئے،ہندوستان نہیں لوٹو گے اور یہاں ہم آپ کی روح ہی تلاش کریں گے۔

ولیم ایشلے کی سبزی مائل نیلی آنکھوں میں دیکھ کر بولا،ڈیئر میں آپ کو ایک بات بتا دوں،آپ صر ف شاعری کرتے ہیں لیکن اُس پر عمل مَیں کرتا ہوں۔ دیکھنا ایک روز آئے گا آپ میری روح ہندوستان کی خوشبووں میں ڈھونڈو گے (پھر آموں کے باغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )اِن درختوں کے پتوں کی رگوں میں میری سانس چلتی ہے۔

ڈینی ولیم کو جذباتی ہوتے دیکھ کر بولا،چھوڑ یار آپ تو شاعری میں بات کرنا شروع کر دیتے ہو۔ یہ کام ایشلے کے لیے رہنے دے۔ تم نے ایک سال سول سروس میں گزار لیا ہے۔ کوئی اُن تجربوں کا حال سنا،کیسا لگا اِس نوکری میں آنا آپ کو؟ ولیم نے ڈینی کی بات کامزالیتے ہوئے ایشلے کی طرف دیکھا اور بولا،ایشلے،یہ ڈینی عجیب آدمی ہے،کوئی موضوع چھیڑو،یہ بات دوسری طرف گھمانے کی کرتا ہے۔ اچھی بھلی بچپن کی محفل جمنے لگی ہے تو یہ چاہتا ہے،مَیں ملازمت کے کریہہ پیشے کی الف لیلیٰ چھیڑ دوں۔ دوست یہ ایک ایسی ملازمت ہے جس میں اپنی طرف سے صر ف ڈانس کر سکتے ہو۔ ہدایات کہیں اور سے ملتی ہیں۔ تم اِس ساری بکواس کو ایک طرف رکھو اور میری سنو،لورین بھی آئی ہوئی ہے۔ ہمارا پروگرام آج نہر کے پانی پر تخت بچھا کر رات کی سفید چاندنی میں فلاش کھیلنے اور ایشلے سے شاعری سننے کا ہے۔ یہ وہی نہر ہے ایشلے،جس میں آپ آٹھ سال کی عمر میں یسوع مسیح کے حوالے ہونے لگے تھے۔ پھر میری چیخ نے ایک ملازم کو چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اِسی نہر میں آج رات ہم لکڑی کے تختوں پر جھولا جھولیں گے۔ یہ آئیڈیا لورین نے پیش کیا ہے۔ بتاؤکیسا رہے گا؟

ایشلے اُچھلتے ہوئے کھڑا ہو گیا اور بولا،ارے کمال ہے ولیم،لورین کے آنے کی خبر دے کر آپ نے صحرا ئے دل میں شبنم بھر دی۔ بہتی ہوئی نہر کے درمیان بیٹھ کر لورین سے باتیں کرنے کا لطف تو خوب آئے گا۔ لیکن یہ بتاؤ،اُس کا خاوند تو ساتھ نہیں ہے؟پھر باتیں کھل کر نہیں ہو سکیں گی( چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے )لیکن وہ نظر نہیں آرہی۔
اِس وقت سو رہی ہے۔ تھکی ہوئی تھی۔ ولیم نے وضاحت کی،اُس کاخاوند اُسے کچھ دنوں کے لیے یہاں چھوڑ کر بنارس گیا ہے کسی نواب کے کیس کی تاریخ پر عدالتی معاملے میں۔ اور ہاں آپ کو اگر نہانا دھونا ہے اور آرام کر نا ہے تو کر لیں۔ ابھی ساڑھے تین ہوئے ہیں،رات آٹھ بجے ہم وہاں جائیں گے۔

آرام کی ضرورت نہیں ہے جناب کمشنر صاحب،ایشلے نے ولیم کو طنز کرتے ہوئے کہا،اِس طرح کے چونچلے سول سروس والوں کے ہوتے ہیں۔ ہم تو ٹھہرے مست شاعر۔ رات کی تنہائیوں میں پہروں پھرنے والے اور خوبصورت شکلوں پر نغمے کہنے والے۔ یاد ہے ناآپ کو؟ آپ پر اور لورین پر بھی کئی کئی نظمیں کہ رکھی ہیں۔ کیا لورین ویسی ہی ہے؟ مجھے تو اُس کو دیکھے بھی تین سال ہو گئے۔ ممبئی کیا گئی ہماری ذات ہی بھول گئی۔
ہاں ہاں ویسی ہی ہے،ولیم نے زور دے کر کہا۔

تینوں دوست کوٹھی کے صحن میں بیٹھے کافی کے ساتھ باتوں کے طوطے اُڑاتے رہے۔ بیچ بیچ میں ایشلے اپنی نظمیں بھی سناتا رہا،جن میں یورپ اور ہندوستانی فضاؤں کا امتزاج تھا۔ اِتنے میں دور سے آوازے لگاتی ہوئی لورین بھاگی آئی اور ایشلے کے آتے ہی گلے لگ گئی۔ اُس کے بعد ڈینی کو ملی اور بیٹھتے ہی ایشلے سے بولی،ایشلے آپ بہت یاد آتے ہو،ممبئی میں آپ کی نظمیں اکثر گنگناتی ہوں۔

ایشلے نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا،لیجیے ایک اور جھوٹ سن لیں۔ ایک خط تک لکھا نہیں اور لگیں مجھے یاد کرنے۔
لورین نے ڈینی کی ایک چٹکی لیتے ہوئے کہا،ڈینی،یہ ایشلے نرا شاعر ہے،احمق شاعر۔ ہم سے شادی کر لیتا،شاعری کے لیے اِسے دوسرے موضوع کی تلاش نہ کرنی پڑتی۔ جتنی چاہتا ہم پر نظمیں کہہ لیتا۔

لورین کے اس چھیڑخانی والے جملے پر سب نے بلند قہقہ لگا یا۔ اِس کے بعد لورین نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا،ولیم،ایشلے سے ذرا وہ کبوتروں والی نظم سنیے،بہت عمدہ ہے۔ جب آپ لندن میں تھے اِس نے مجھے سنائی تھی۔

ارے ایشلے کوئی ایسی نظم بھی لکھی ہے جو لورین کو بھی پسند آگئی؟،ذرا سنیں تو سہی،ڈینی نے ایشلے سے کہا۔
ایشلے نے اپنا ہیٹ اُتار کر میز پر رکھا اور شاعرانہ انداز سے ایک طرف پہلو بدلتے ہوئے نظم شروع کردی۔ ڈینی،لورین اور ولیم ہمہ تن گوش ہو گئے۔

اپریل کا آسمان بلند ہے
ایک بڑے زمرًد کے انڈے کی طرح
نیلا اور شفاف
اس کی پہنائیوں میں اُڑتے کبوتروں کا
سفید رنگ سفید ہی نظر آتا ہے
اور پنجوں کے ناخن گلابی
مجھے اپنی آنکھوں پر کبھی اعتبار نہیں رہا
مگر میں اپریل کے آسمان سے دھوکا نہیں کھا سکتا
میں نے اسے پچیس بہاروں میں دیکھا
اُس وقت جب پرندے اُڑتے ہیں
اور پریاں ہواؤں میں پَر پھیلاتی ہیں
تمھیں خبر ہے،مَیں اِسے کبوتروں والا آسمان کہتا ہوں
چراگاہوں میں چرتے مویشوں کے درمیان دیکھتا ہوں
جب وہ چرتے چرتے اپنامنہ سبز چارے سے اُوپر اٹھا کر
خدا کو دیکھتے ہیں
کبوتروں کی پرواز کو دیکھتے ہیں
یہ کبوترہمیشہ اُڑتے رہیں گے
اُس وقت بھی جب میں نہیں ہوں گا
میرا یقین اعلان کرتا ہے
بڑے آسمان کے کبوتر ہی خدا ہیں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اب شام کے پانچ بج چکے تھے اورشفق کا سورج لال روشنی چھوڑ رہا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی لان کے سبزے میں سیاہ مچھر تیرنے لگے جو اُڑ اُڑ کر آنکھوں کو آتے تھے لیکن ہوا ایسی خوشگوار اور رومان پرور تھی کہ ہر ایک کو غش آرہا تھا۔ اتنے میں جانسن صاحب بھی باہر نکل آئے۔ اُن کے ساتھ حنا بھی تھیں۔ جانسن کے لان میں آتے ہی تمام لوگ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ڈینی اور ایشلے نے آگے بڑھ کر جانسن صاحب کو سلام کیا اور ہاتھ ملایا،۔ جانسن نے اُنہیں مربیانہ انداز میں سلام کا جواب دیا اور کہا،لڑکو ! آپ کے لیے نہر پر تخت بچھا دیے گئے ہیں۔ مَیں اور حَنًا بھی ڈنر آپ کے ساتھ ہی نہر پر کریں گے۔ اِس لیے تیار ہو جاؤ۔ اِتنا کہ کر جانسن صاحب نے آگے قدم بڑھائے اور مالٹوں کے سفید چمکتے ہوئے پھولوں کی طرف بڑھ گئے جبکہ باقی دوبارہ وہیں بیٹھ گئے۔ اُن کے ساتھ حَنًابھی وہیں بیٹھ گئی،پھر دوبارہ باتیں اور شاعری شروع ہو گئی۔ مدتوں کے بعد ولیم کو اس طرح کی محفل پہلی دفعہ میسر آئی تھی۔ اِس لیے وقت گزرنے کا اندازہ ہی نہ ہوا۔ حتیٰ کہ جانسن صاحب جو کچھ دیر ہی پہلے مالٹوں کے باغ میں نکل گئے تھے،دوبارہ نمودار ہوئے اور بولے،آپ ابھی تک یہیں بیٹھے ہیں؟ بھلے آدمیو اب تو ساڑے چھ بج چکے ہیں۔ جانسن صاحب کے ہوش دلانے پر سب ایک ہی دم کھڑے ہو گئے۔ دیکھا تو صحن کے باہر خادمان اور مامائیں اور انتظامیہ کا عملہ اُن کے انتظار میں کھڑا تھا۔ ایشلے نے جانسن صاحب کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا،سر،ہم آپ کے غصہ سے مستثنیٰ ہیں کہ شاعر ہونے کے ناتے اتنا تو حق رکھتے ہیں (پھر ولیم کی طرف دیکھ کر) جناب کمشنر صاحب،کیا ہم آپ کی اجازت سے نہا کر کپڑے بدل لیں۔

ولیم نے سر سے ہیٹ اُتار کر جواب دیتے ہوئے سر جھکایا اور کہا،مہاراج اب جلدی کریں ورنہ میں آپ کی اسٹیٹ ضبط کر لوں گا۔ سول سروس آپ کے خیال میں مذاق ہے؟اس فقرے پر سب ہنس دیے۔

اسکے بعد ولیم،جانسن،ڈینی اور لورین تیار ہونے کے لیے کوٹھی میں چلے گئے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

رات کے دو بجے تک نہر کے چلتے پانی پر چاندنی رات میں شراب،بٹیروں اور مرغابیوں کے کباب،فلیش اور شاعری کرتے اور گاہے گاہے ہندوستان اور یورپ کی زندگی کا جائزہ لیتے سب ہی اتنا تھک چکے تھے کہ صبح گیارہ بجے آنکھ کھلی۔ البتہ جانسن صاحب صبح چھ ہی بجے دوبارہ جاگ گئے تھے اور فارم کی سیر کرتے ہوئے دور تک نکل گئے۔ گیارہ بجے اُٹھ کر سب نے نہایا اور کافی لی۔ حتیٰ کہ لنچ کا وقت ہو گیا۔ لنچ کے بعد ولیم نے اعلان کیا،دوستومیں نے ابھی براستہ ہیڈ سلیمان کی جلال آباد نکلنا ہے،اِس لیے میری رخصت کا وقت آرہا ہے۔ انشاء اللہ اگلے سینچر دوبارہ ملاقات ہو گی۔ آپ چاہیں تو یہاں رہیں اور چاہیں تو رینالہ جائیں۔ یہ کہ کر تیاری میں مصروف ہو گیا۔ دو بجے کے قریب جب ولیم بالکل تیار ہو گیااور ڈینی اور ایشلے کو ملنے کے لیے باہر نکلا تو وہ دو نوں بھی پیپل کے سائے تلے کھڑی اپنی گاڑی کے پاس رینالہ جانے کے لیے تیار تھے۔ ولیم دوستوں کے پاس جا کھڑا ہوگیا،جہاں لورین پہلے ہی موجود تھی۔ جانسن صاحب نے ولیم کو مخاطب کر کے کہا،ولیم دوستوں کو رخصت کر کے ذرا اندر آئیں۔

ولیم ڈرائینگ روم میں پہنچا تو جانسن صاحب اور حَنًا دونوں بیٹھے اُس کا انتظار کررہے تھے۔ ولیم ہیٹ اُتار کر سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا اور جانسن کی بات سننے کے لیے تیار ہو گیا۔

جانسن نے بلا کسی تمہید کے بات شروع کی،ولیم یہ ڈرانئگ روم میں جتنی تصویریں دیکھ رہے ہو،یہ سب آپ کے اجداد کی ہیں۔ اِن میں سے کوئی ایسانہیں جس کی خدمات خاندان اور گورنمنٹ کے لیے یکساں فخر کا باعث نہ ہو۔ یہ ہندوستان،جس کے رومان میں آپ مبتلا ہو،یہ ہمیں بھی اتنا ہی اپنی طرف کھینچتا ہے جتنا آپ کو،لیکن اِس کی محبت کے کچھ آداب ہیں اور وہ آداب تمھارے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔ تمھیں معلوم ہونا چاہیے،کالے اور سفید لوگوں کے درمیان ایک لکیر ہے۔ اُسے جب بھی عبور کیا جائے گا،اُسی وقت یہ زمین اپنے گلے سے ہمارے اقتدار کی رسی کاٹ دے گی۔ میں بھی اِس حق میں ہوں کہ کالوں کی غربت اور جہالت ختم ہونی چاہیے۔ اُسے بہت حد تک ہم نے ختم کیا بھی ہے،لیکن کیا آپ اِس بات کو بھول گئے کہ ہماری اِن پر حکومت کا سبب اِن کی یہی جہالت ہے۔ چنانچہ اُسے ایک حد تک ان پر مسلط رکھنا ضروری ہے۔

ولیم نے جانسن کی بات سنتے سنتے اپنا پہلو بدلا، جسے دیکھ کر جانسن نے بات جاری رکھی،آپ کے جانے کا وقت ہو رہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک دو باتیں اس وقت آپ کو بتا دینا بہت ضروری ہیں۔ ہم کچھ کام میں آزاد ہیں اور کچھ میں مجبور۔ یہ فارم اور یہاں جگہ جگہ ہماری نشانیاں،جو ہم نے اِس زمین پر ثبت کی ہیں،ہم چاہتے ہیں وہ ہمارے نام پر برقرار رہیں۔ حالات کے فیصلے ضروری نہیں ہمارے فیصلوں سے اتفاق کریں مگر ہم اپنی کوشش جاری رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم خود اپنے پاؤں کاٹناشروع کر دیں،جیسا کہ آپ کی طرح انسانیت کا درد رکھنے والے کئی انگریزافسر کر رہے ہیں،تو ہمیں اپنی قسمتوں پر شکوہ نہیں کر نا چاہیے۔ مجھے آپ کے متعلق کمشنر ہاؤس سے کچھ شکایات وصول ہوئی ہیں،جو بہت خطرناک ہیں۔ اپنے پیروں کی زمین دیکھ کر قدم اُٹھاو۔ ایسا نہ ہو اگلے قدم پر زمین ختم ہو جائے۔ تمھارا کام اِس وقت صرف نوکری کرنا ہے۔ فیصلے کرنا گورنمنٹ کے بڑوں کا کام ہے۔ میں چاہتا ہوں،آپ بڑوں میں شامل ہو جاؤ لیکن اُس وقت کا انتظار کرو۔ جو آپ کے پاس موجود ہے،اُس کو بچاؤ۔ میری نوکری تین سال رہ گئی ہے۔ اُس کے بعد مَیں بھی تمھارے رحم و کرم پر ہوں۔ اِس سے آگے میں آپ کو کچھ نہیں سمجھا سکتا۔ (پھر بات بدلتے ہوئے ) میں یہ چاہتا ہوں،کیتھرین کو جلد بیاہ لیا جائے۔ یہ کوٹھی آپ کی ہے۔ آپ اس کے وارث ہو۔ جب چاہو،اُسے یہاں اُتار سکتے ہو۔ جلال آباد جاکر پہلا کام اُسے تار بھیج کر بُلانے کا کرو۔ میں اگست تک اُسے یہاں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اِتنا کہ کر جانسن اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس کے بعد ولیم بھی باہر نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا،جو سفر کے لیے تیار کھڑی تھی۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چودہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(27)

 

ہیلے نے آہستگی سے سلور کی دھات کے بنے ہوئے نہایت نفیس اور خوبصورت سگار کیس سے ایک سگار نکالا،اُ س کو دو تین دفعہ ناک کے قریب لے جا کر ہلکے ہلکے اپنی سانس اوپر کھینچ کر پہلے سگار کے خوشبو دار تمباکو کا سرور لیا پھر اُسے لیمپ کی آگ دے کر جلا لیا۔ اس کے بعد دو تین چھوٹے چھوٹے کش لے کر میز کے دوسری طرف بیٹھے ولیم کو دیکھنے لگا۔ ولیم اس سارے عمل میں خاموش بیٹھا ہیلے کی فطرت کا جائزہ لیتا رہا۔ ہیلے کی عینک کے شیشے نہایت چمکدار اور باریک تھے۔ کمانیاں اور کمانیوں کی زنجیر سنہری دھات کی تھیں۔ اُن کے بارے میں ولیم فیصلہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ سونے کی ہیں یا محض سونے کے رنگ میں تیار ہوئی ہیں۔ نیلے رنگ کی ٹائی پر چھوٹے چھوٹے زرد پھول بنے تھے۔ کوٹ کے بٹن کُھلے ہو ئے تھے اس لیے ٹائی اُس کی ناف تک لٹکی ہوئی صاف نظر آ رہی تھی۔ شرٹ بھی ہلکے نیلے رنگ کی بہت ہی عمدہ کپڑے سے بنی تھی،جو ولیم کے قدرے اُبھرے ہوئے پیٹ پر کافی جچ رہی تھی۔ شرٹ کے اُوپر کوٹ سُرمئی رنگ کا تھا،جس پر ہاتھی دانت کے بڑے بڑے بٹن تھے۔ یہ بٹن کوٹ کے ساتھ سلے ہوئے نہیں تھے بلکہ الگ سے نتھی کیے گئے تھے تاکہ دوسرا کوٹ پہننا ہو تو اُتار کر اُس کے ساتھ لگا لیے جائیں۔ ہیلے کی مونچھیں اتنہائی سیاہ اور نوکدار تھیں مگر مونچھیں بھاری نہیں تھیں۔ منہ کا دہانہ کھلا ہوا اور چوڑا تھا اور آنکھیں خوفناک حد تک چمک دار تھیں۔ ایسی شخصیت جوانی میں زیادہ خوبصورت نہیں لگتی مگر اِس عمر میں،جس میں اب ہیلے پہنچ چکا تھا،کافی دیدہ زیب ہو جاتی ہے اور سامنے والے کو رعب میں دبا لیتی ہے۔ پچھلی ملاقات میں و لیم کو ہیلے کے چہرے میں ایک سادگی نظر آ ئی تھی۔ اُس کا تاثر اس دفعہ بدل رہا تھا۔ ہیلے کی آنکھوں اور ماتھے کی تیوریوں میں ایک کٹیلی عیاری اور اُس کے ساتھ اپنے جونیئر سے ایک قسم کی بے نیازی کاتاثر اُبھر رہا تھا۔ جس کا مطلب تھا ہیلے ولیم کو اپنے عہدے کی حیثیت سے خبردار کرنے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔ ولیم کواپنے باپ دادا کی سروس سے مشاہدہ تھا کہ ایک ضلع میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ اُسے یہ بھی خوب علم تھا کہ ہندوستانی سول سروس کے انگریزبرطانیہ میں موجود سول سروس کے لوگوں کے سامنے احساس کمتری کا شکار تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لاشعوری طور پرہر نئے آنے والے آفیسر کو اپنے سینئر ہونے کا باور کرانا ضروری سمجھتے۔ اس سلسلے میں اُن سے عجیب عجیب حرکات سر زد ہوتیں۔ کبھی ضرورت سے زیادہ نصیحتیں،کبھی ڈانٹ اور کبھی اپنی ضروری اور غیر ضروری معلومات کا وقت بے وقت اظہار۔ ہندوستانی سول سروس میں موجود دیسی لوگوں کی تو خیر اُن کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ تو افسر ہو کر بھی اُن کے غلام تھے اور انگریز افسر کی سینیارٹی کو ضرورت سے زیادہ قبول کر لیتے مگر نئے انگریز افسر یہاں آکر بھی برطانوی شہریوں جیسی حرکتیں کر تے۔ اِس کی وجہ سے ہندوستانی سول سروس کی نوکری میں بزرگ انگریز افسروں کو اپنی عزت اور وقار پر ضرب پڑتی محسوس ہوتی،جو برطانیہ میں افسری کرنے والوں پرممکن نہیں تھی۔ وہ مرکز میں ہونے کی وجہ سے فیصلے صادر کرنے والوں میں سے تھے اور اکثر شُرفا ہوتے جبکہ ہندوستان میں تو نچلی قوموں کے افسروں کی بہتات ہوچکی تھی اور اس بات کا اندازہ برطانیہ میں موجود بیوروکریسی کو تھا۔ بلکہ ہندوستانی بیوروکریسی کو بھی بخوبی تھا۔ ولیم کو ہیلے اب ویسا ہی احساس کمتری کا شکار آفیسر لگ رہا تھا اور یہ بات ولیم کے لیے خطرناک تھی۔ کیونکہ احساس کمتری میں مبتلا افسر کے ہاتھ سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ اب ولیم کو ہیلے سے کچھ کچھ ڈر محسوس ہونے لگا تھا۔ وہ اِس انتظار میں تھا کہ جلد از جلد ہیلے اپنا منہ کھولے اور بات سامنے آئے۔ اُسے اندیشہ تھا،اُسے جلال آباد میں امن وامان کے حوالے سے ضرور ڈانٹ پلائی جائے گی۔
ہیلے نے کچھ دیر کی خموشی کے بعد بالآخر مُہر توڑی اور بولا،نوجوان آپ فیلڈ میں آ کر کیا محسوس کر رہے ہیں ؟
بہت اچھا سر،مزا آرہا ہے کام کرنے کا،ولیم نے تحمل سے جواب دیا۔

 

میں نے آج تک آپ کی بھیجی گئی تمام فائلوں کا مطالعہ کیا ہے،ہیلے نے گفتگو میں اطمنان پیدا کرتے ہوئے کہا،ولیم آپ بہت تیز دوڑ رہے ہیں۔ اِس میں ساتھ دینے والے ہانپ جائیں گے یا شاید آپ کی ہی سانس اُکھڑ جائے،اس کے بعد اس نے میز کے ایک کونے پر پڑی تانبے کی

 

خوبصورت گھنٹی کا بٹن دبا دیا جس کے بعد فوراً ایک ہندو ملاز م اندر داخل ہوا،تحصل جلال آباد کی فائلیں لاؤ۔

 

ملازم ہیلے کا حکم سن کر باہر نکل گیا۔ ولیم نے سوچا ہیلے کا خاص جلال آباد تحصیل کا نام لینے کا مطلب یہ باور کرانا ہے کہ اُس کے ما تحت فیروز پور کی پوری پانچ تحصیلیں ہیں۔ جن میں سے ایک جلال آباد کی تحصیل بھی ہے۔ چناچہ ولیم سمجھ لے کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر میں بہت فرق ہے۔ ولیم انہی خیالات میں تھا کہ ہیلے کی دوبارہ آواز سُنائی دی،میں نے آپ کی تمام فائلوں کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ بہت عمدہ کام کر رہے ہیں لیکن ہمیں بہت سے کام ایک ہی وقت میں نہیں چھیڑدینے چاہییں۔

 

ولیم نے سر اُٹھا کر دیکھا تو جلال آباد سے بھیجی گئیں چاروں فائلیں میز پر پڑی تھیں،جنہیں ملازم چند ثانیے پہلے رکھ کر جا چکا تھا اور اُن پر ہیلے اب گفتگو کرنا چاہ رہا تھا۔ ولیم نے ایک لمحے کے لیے ہیلے کی طرف دیکھا اور اپنے لہجے میں تھوڑی سی خوشامد کانمک ڈال کر بولا،سر میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں تحصیل میں گورنمنٹ اور عوام کے جو مسائل موجود ہیں،اُن پر آپ کی توجہ مبذول کرا دوں۔ باقی تو جو آپ کہیں گے وہی ہو گا،میں تیز دوڑوں گا بھی تو تحصیل سے باہر نہیں جا سکتا۔

 

ہیلے ولیم کے اس جواب سے ہلکا سا مسکرا دیا اور دوبارہ بولا،ولیم جانتے ہو؟ مجھے اُس وقت اپنی خوشامد اچھی لگتی ہے جب کوئی میرا انگریز جونیر کرتا ہے ورنہ دیسی افسر تو بنے ہی خوشامد کے لیے ہیں۔ بہر حال یہ ایک بات تھی،ہم اپنے مقصد کی طرف آتے ہیں۔ آپ سرِ دست اپنی ترجیحا ت ایک یا دو کامو ں کو دو۔ ہم جانتے ہیں،اِن علاقوں میں اتنے مسائل ہیں جن پر برطانیہ حکومت اگر دو سو سال تک مسلسل کام کرے تو بھی وہ ان کے رنگ کی طرح صاف نہیں ہو سکتے لیکن یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ میں ایک فائل آپ کو دے رہا ہوں (ولیم کی طرف ایک فائل بڑھاتے ہوئے،جسے ولیم نے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا اور کھولنے لگا) اِس میں کچھ ہندو بنیوں کے نجی سود در سود کے نظام اور اُن کے ہاتھوں پنجاب کے غریب دیہاتیوں کے استحصال کی کار گزاریاں ہیں۔ یہ وہ لعنت ہے جس کی ہم نے سختی سے حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ یہ بنیے ناصرف پورے پنجاب کے غریب اور مالدار لوگوں کو رہن رکھے ہوئے ہیں بلکہ ہندوستان بھر میں اِن کی قینچیاں نوابوں سمیت ہر ایک کی جیب پر چل رہی ہیں۔ اس کے بعد ہیلے ولیم کی طرف جھکتے ہوئے بولا،میں یہ بات آپ کو نہ تو فائل پر لکھ کر دے سکتا ہوں اور نہ ہی کسی اور طرح سے سمجھا سکتا ہوں،صرف زبانی کہ سکتا ہوں۔ لیکن اس کو لکھے ہوئے احکام سے زیادہ اہم سمجھو۔ تمھیں یہاں بلانے کا سب سے اہم مقصد یہی تھا۔

 

ولیم ہیلے کی خوشامد والی طنز سے اتنا گھبرا گیا تھا کہ کچھ لمحے اُس کا دماغ بھی ٹھکانے پر نہیں رہا تھا لیکن جب ہیلے نے اپنی گفتگو آگے بڑھائی تو اُس کی خجالت جلد ہی صاف ہوگئی۔ اُسے اس گفتگو سے ایک گونہ اطمنان سا ہوا۔ وہ جس واقعے سے ڈر رہا تھا،اُس کے متعلق خوف رفع ہو گیا اور اب بغیر جھجھک کے بولا،سر عوام کا استحصال تو اور بھی کئی رنگ میں جاری ہے لیکن ان بنیوں پر ہی خاص توجہ دینے کی ایسی کون سی مجبوری لاحق ہو گئی۔

 

بہت سی،ہیلے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا،ان کی وجہ سے حکومت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ زمین داروں سے سود کی رقم ادا نہیں ہو پاتی،نتیجہ یہ کہ ان کا کیس عدالت میں آجاتا ہے اور عدالت قرضے کے عوض زمینداروں کے مالیاتی حقوق بنیوں کے نام کر دیتی ہے۔ بنیے خود زمین داری سے واقف نہیں۔ وہ سب کچھ مزارعوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ مزارع وہی ہوتے ہیں،جو ان بنیوں کے مقروض ہیں۔ چنانچہ یہی لوگ اُن زمینوں کی کاشت کرتے ہیں لیکن انہیں فصل سے بہت کم حصہ ملتا ہے اور اُن زمینوں میں مزارع دلچسپی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے علاقے میں کاشتکاری کانظام آگے پنپ نہیں رہا۔ دوسرا بڑا نقصان یہ کہ اِن کے نجی بنکاری نظام نے سرکاری بنکوں کے نظام میں خلل ڈال رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی بنکو ں کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔ اس عمل سے گائے کا دودھ بکری کے تھنوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

 

تو سر اس میں مَیں کس طرح اپنا وجود ثابت کر سکتا ہوں؟،ولیم سمجھ گیا تھا کہ عوام کا استحصال تو خیر ایک بات تھی۔ اصل مقصد تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے آخر میں بتایا لیکن اُس نے سوچا مُردے کی وراثت پانے والوں سے بچ کر مرنے والے کا اُسترا بھی گورکن کو مل جائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔

 

تم مالیات کے نظام میں پٹواری کے دخل اور زمین کی خریدو فروخت میں ٹیکس کو جتنا ہو سکے زیادہ فروغ دو۔ اگرچہ اِس کے نفاذ کے معاملے میں آپ کو تمام ہدایات تحریری ہی وصول ہوں گی۔ لیکن ایسا ہوتا ہے کہ لوگ باہر ہی باہر زمین فروخت کر دیتے ہیں،جس کا اندراج کاغذات میں نہیں ہوتا۔ ہوتا یہ ہے کہ نہری پانی کا مالیہ وہ ادا کرنا شروع کر دیتا ہے جس نے زمین مول لے لی ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ زمین خود بخود مالیہ ادا کرنے والے کے نام ہو جاتی ہے،جو عموماً بنیا ہوتا ہے۔ ہم اس نظام کو مشکل بنا رہے ہیں اور ہر حالت میں زمین خریدنے والے پر بھاری ٹیکس لگا رہے ہیں۔ وہ کسی بھی صورت میں بغیر گورنمنٹ کو ٹیکس دیے زمین اپنے نام نہیں کروا سکتا۔ دوسری طرف بہت سے فیصلے چونکہ تحصیل سطح پر آپ نے خود ہی کرنے ہیں۔ اِس لیے کوشش کرنا کہ بنیوں کو کم سے کم اُن فیصلو ں میں فائدہ پہنچے۔ باقی تمام معاملات اِس بارے میں مالی تحصیل دار کو پتا ہے۔ وہ آپ کو مشورے دیتا رہے گا۔

 

ولیم تھوڑی دیر کے لیے چُپ بیٹھا رہا پھر مسکرا کر بولا،سر ایک کافی کا کپ مزید مل جائے گا ؟

 

وائے ناٹ،ہیلے نے ایک بار پھر گھنٹی کا بٹن دباتے ہوئے کہا،اور ہاں ایک بات یاد آئی،آپ کوئی بھی کام براہِ راست خود کرنے کی کوشش نہ کیا کریں،مختلف کاموں کے لیے آپ کے پاس مختلف آفیسر ہیں بس انہی سے سروکار رکھیں اور زیادہ دوروں سے پر ہیز کریں۔ چوری ڈکیتی اور امن و امان پولیس کا کام ہے۔ آپ اُن کے لیے تمام ہدایات ڈی ایس پی کو دیا کریں۔ مَیں حیران ہوں یہ تمام چیزیں آپ کی ٹریننگ کا حصہ تھیں لیکن آپ پھر بھی جودھا پور اور جھنڈو والا کے چکر لگاتے پھرے۔ یہ پولیس کا کام ہے اُن کو کرنے دیں۔

 

ولیم کو ہیلے کے یہ جملے سُن کر ایک دفعہ پسینہ آ گیا اور اُسے لگا جیسے اصل میں اسی لیے بلایا گیا ہے،باقی سب باتیں بہانہ تھیں۔ لیکن یہ بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آیا ڈپٹی کمشنر صاحب ملزمان کی مدد کرنا چاہتے یا اُسے کسی نقصان سے بچانے کے پیش نظرسرزنش کر رہے ہیں۔ ولیم نے اس بات کو ذرا کھول دینا مناسب سمجھا اور کہا،سر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے،کچھ دنوں سے جلال آباد میں شرپسندوں نے قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ میں نے اُس کے لیے ڈی ایس پی لوئیس کو کچھ احکامات جاری کیے ہیں،جن میں سودھا سنگھ کے مال کو ضبط کرنے کے احکام بھی ہیں۔ اُن کے لیے آپ کی منظوری چاہیے،یہ کہ کر ولیم نے سودھا سنگھ کی فائل جو ڈی ایس پی لوئیس نے آج صبح ہی ولیم کے حوالے کی تھی،ہیلے صاحب کے آگے کر دی اورولیم اُس وقت حیران رہ گیا جب ہیلے نے اُس پر بلا تردد دستخط کر دیے،تو گویا ملزموں کی پشت خالی تھی۔

 

فائل پر دستخط کے بعد ولیم قدرے پُر سکون ہو گیا۔ اُس نے کافی کی چسکیوں کے ساتھ دوسرے مسائل پر گفتگو شروع کردی،جن میں دو مسئلے سب سے اہم تھے اور انہی پر ولیم اصل میں کام کرنا چاہتا تھا۔ اُن میں سے ایک تعلیم اور دوسرا جلال آباد میں نہری نظام کی مزید بہتری اور بڑے پیمانے پر کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے بنگلہ نہر کی تجویز۔ جسے ہیلے نے بہت سراہا اور اُس پر جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ چاہے گا،اسی ماہ کی چیف سیکرٹری صاحب سے ملاقات پر اُن سے اس کی منظوری لے لے۔ الغرض اِن مسائل پر ایک گھنٹے تک دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی،جو نہایت خوشگوار ماحول میں تھی۔ اُس کے بعد ولیم نے اجازت چاہی اور ابھی اُٹھنے ہی لگا تھا کہ ہیلے نے ولیم کو روک کر پھر ایک جملہ کہ دیا۔
ولیم کیا نام ہے اُس لڑکے کا،،غلام حیدر،،ہاں اُس کو انصاف ملنا چاہیے۔ لیکن اُس کی ریفل دو مہینے کے لیے قبضے میں لے لو اور اُس پر خاص نظر رکھو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملزموں کے ساتھ نرمی برتو۔ شر پسندوں کو سختی سے دبادو۔ یہ کہ کر ڈپٹی کمشنر صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی ولیم بھی اُٹھ گیا۔

 

اب بارہ بج گئے تھے اور کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ اس لیے دونوں کھانے کے کمرے کی طرف چل دیے۔ اِسی دوران ولیم سوچنے لگا کہ خدا کی پناہ ہیلے کتنا چالاک آدمی ہے۔ اُس نے ہر گز پتا نہیں چلنے دیا کہ اصل میں اُسے کس لیے بلایا گیاہے۔ تمام اہم مسائل پر اُس نے اس طرح گفتگو کی کہ وہ اُس کے اصل ارادوں سے بالکل بھی واقف نہیں ہو سکا۔

 

(28)

 

ٍڈی ایس پی لوئیس کی گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی جب اُنہوں نے جھنڈو والا پر یلغار کی۔ اس بات کا پولیس کو پتا تھا کہ دما کے قتل کی خبر سنتے ہی سردار سودھا سنگھ پٹیالہ جا چکا ہے اور فی الحال اُس کے گرفتار ہونے کے امکانات صفر ہیں۔ لیکن پرچے میں کچھ اور لوگوں کے نام بھی درج تھے اس کے علاوہ سردار سودھا سنگھ کا بھائی سردار نتھا سنگھ بھی وہیں موجود تھا،جس کی گرفتاری اِس کیس میں کافی کار آمد ثابت ہو سکتی تھی۔ علاوہ ازیں جھنڈووالا پر یہ چھاپہ اوربھی بہت سے عوامل کو سامنے لا سکتا تھا۔ اگر اس وقت بھی چھاپہ نہ مارا جاتا توپورے علاقے میں لا اینڈ آڈر کا خطرناک تاثر پیدا ہو جاتا اور کہا جاتا کہ پولیس سردار سودھا سنگھ پر ہاتھ ڈالنا تو ایک طرف جھنڈووالا میں وارنٹ گرفتاری لے کر داخل بھی نہ ہو سکی۔

 

لوئیس صاحب خود جیپ پر سوار تھے جن کے ساتھ انسپکٹر متھرا،انسپکٹر مدن لال اور تھانیدار بلرام تھا۔ اِن کے علاوہ چار تھانوں کے چالیس گھوڑ اسوار تھے،جن میں سب انسپیکٹر،حوالدار اور سپاہی سب شامل تھے۔ پولیس کے سپاہی گھوڑوں پر اسوار کچھ جھنڈو والا کے باہر ناکہ لگا کر کھڑے ہو گئے تاکہ ملزم بھاگ نہ سکیں اور باقی گاوں کے اندر گلیوں میں پھیل گئے۔ ڈی ایس پی لوئیس اور باقی تمام عملے نے سودھا سنگھ کی حویلی کا گھیراو کر لیا۔ جھنڈو والا میں اِس قدر انگریزی افسر اور دیسی پولیس لوگوں نے پوری زندگی تو کیا خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔

 

اِکا دُکا لوگ جاگ اُٹھے تھے،جو ادھر اُدھر کام میں اور اپنی فصلوں میں ہل وغیرہ جوتنے کے لیے نکل رہے تھے۔ اِن لوگوں میں سے کچھ اُٹھنے کے باوجود نیند کے خمار میں تھے۔ اُن کی آنکھیں ابھی پوری طرح نہیں کھلی تھیں۔ کچھ بیل ہنکا کر لے جا رہے تھے۔ کوئی کسئی اور درانتی لے کر اور گدھی پر واہنا رکھے آنکھیں ملتے سانجرے ہی سانجرے چارہ لینے جا رہا تھا۔ اِنہیں اِس ناگہانی آفت کا کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے ؟جب جاگنے والوں نے جیپ کی آواز اور گھوڑوں کی دڑ دڑ سُنی تو اُنہوں نے سونے والوں کو جلدی جلدی اُٹھایا اور سب لوگ باہر کی طرف بھاگنے لگے۔ باہر ہر طرف فرنگی پولیس کے پہرے اور کالی نال والی بندوقیں ہی بندوقیں تھیں۔ پولیس مخبروں کی دی ہوئی اطلاع کے مطابق کئی گھروں میں گھوڑوں سمیت داخل ہو رہی تھی اور بندوں کو گھسیٹ کر باہر نکال رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ بیتوں اور چابکوں سے اُن کی پٹائی بھی جاری تھی۔ اِن گرفتار ہونے والوں میں تھانیدار بلرام کے مطابق وہ لوگ تھے،جو جودھا پور کے چراغ دین کے قتل اور مونگی کی تباہی میں شامل تھے۔ اِن کے ناموں اور گھروں کی مخبری دیدار سنگھ کی رپورٹ کے مطابق جھنڈو والا ہی کے ایک شخص نے کی تھی۔
ملزموں کو نہایت بے دردی سے پیٹا بھی جا رہا تھاکہ اُن پر انگریزی قانون کی اچھی طرح سے دہشت طاری ہو جائے اور مکمل خوف و ہراس پھیل جائے۔ جھنڈو والا میں ایک طرح سے یک دم قیامت برپا ہو چکی تھی۔ حملے کی شدت اور خوف سے عورتوں نے اونچی اونچی چیخنا اور رونا دھونا شروع کر دیا۔ مرد ادھر اُدھر بھاگنے لگے لیکن اب پولیس بھی،جو ہاتھ میں آتا پکڑ پکڑ کر کوٹاپا پھیرنے لگی۔

 

اس سارے عمل کے دوران ڈی ایس پی لوئیس سودھا سنگھ کے گھر کے سامنے سات آٹھ افراد کے عملے کی حفاظت میں کھڑا آ رام سے اِس پورے منظر سے محظوظ ہو رہا تھا۔ جبکہ سنتری ملزموں کو پکڑ پکڑ کر اُس سے کچھ فاصلے پر ڈھیر کر رہے تھے۔ چھ سات سپاہی اور تھانیدارسودھا سنگھ کی حویلی میں داخل ہو چکے تھے تاکہ گھر کی مکمل تلاشی لی جائے۔ ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ سودھا سنگھ وہیں پر موجود ہو اور یہ ہوائی اُڑا دی گئی ہو کہ وہ پٹیالا چلا گیا ہے۔ یقیناً تھانیدار اکیلا آتا تو اُس کی جرات نہیں تھی کہ وہ سودھا سنگھ کی حویلی میں داخل ہو تا لیکن اب تو تحصیل کا سب سے بڑا انگریز پولیس افسر اُن کے ساتھ تھا۔ اِس لیے سپاہی،حوالدار اور تھانیدار سب ہی دلیر ہو گئے۔ وہ سودھا سنگھ کی حویلی کی چار پائیاں اور موڑھے اُلٹ پلٹ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں سودھا سنگھ کے بھائی نتھا سنگھ کو بھی ڈپٹی صاحب کے سامنے لا کر پھینک دیا،جس کا ڈیل ڈول یوں تو بھائی ہی کی طرح تھا لیکن شخصیت میں رعب خاک نہیں تھا۔ فقط داڑھی کی لمبائی اتنی تھی کہ سودھا سنگھ کی داڑھی اُس کے نصف میں ہو گی۔ نتھا سنگھ لوئیس کے قدموں میں اِس طرح پڑا تھا جیسے چھوٹا سا بچہ پیاس سے بلک رہا ہو اور یہ ایسی گستاخی تھی،جس کو دیکھ کر پورے گاؤں والوں کے پسینے چھوٹ گئے۔ اُن کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ انگریز سرکار اِتنے غصے میں ہو گی۔ ابھی لوئیس صاحب نتھا سنگھ کی طرف متوجہ ہی تھے کہ کچھ سپاہی پیت سنگھ کو بودیوں سے پکڑ کر لے آئے۔
اب دن کا سورج سامنے چمک رہا تھا اور پندرہ بندے ہاتھ بندھے لوئیس صاحب کے آگے پڑے تھے،جن پر ڈنڈوں اور چابکوں کی لگاتاربارش نے اُن کے جسم بھی اُدھیڑ کر رکھ دیے تھے۔ جھنڈو والا کے لوگوں کو یہ تو پتا تھا کہ پولیس کسی دن اُن پر ضرور چڑھائی کرے گی لیکن اُنہیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ معاملہ اِتنا سنجیدہ ہو جائے گا اور فرنگی اُن پر یوں لوہے کے گھوڑے اور آگ کے چابک لے کر چڑھ دوڑیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ اب ضرورت سے زیادہ حوصلہ چھوڑ بیٹھے۔ انگریز سرکار کی اتنی سختی دیکھ کر اُن کے اوسان جاتے رہے اور پیشاب خطا ہو گئے۔ سوائے رونے چیخنے اور واویلا کرنے کے اُنہیں اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
چھاپے کے شروع میں ایک دو عورتوں نے سپاہیوں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے کی کوشش بھی کی لیکن جب اُن پر بھی ڈنڈے چل گئے تو وہ بھی سہم کر چُپ ہو بیٹھیں۔ وہ سوچ رہے تھے،اچھا ہی ہوا سودھا سنگھ پٹیالا چلا گیا ورنہ آج اُس کی ساری عزت اور رعب فرنگی سرکار پاجامے کے رستے نکال دیتی پھر جھنڈو والا کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔ لوگ اگر کسی کی ذلت کی مثال دیتے تو وہ جھنڈو والا کا نام لیتے۔

 

پولیس کا چھاپہ انتہائی صبح کے وقت پڑا تھا،اس لیے کافی لوگ سوئے ہوئے اچانک دبوچے گئے۔ بعض کو پولیس کی اتنی زیادہ نفری کے سامنے بھاگنے کی بھی جرات نہیں ہوئی۔ وہ جتنا بھی تیز دوڑتے،گھوڑوں سے آگے نہیں نکل سکتے تھے اور ہاتھ آنے پر پولیس کا غصہ بر داشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ پھر وہ پٹائی ہوتی کہ گرو جی بھی دنگ رہ جاتے۔ اِس کے علاوہ پکے مجرم بھی سمجھ لیے جاتے۔ چنانچہ اُنہوں نے بھی نہ بھاگنے میں ہی مصلحت جانی۔

 

کافی دیر تک یوں ہی پکڑ دھکڑ جاری رہنے کے بعد جب گاؤں کے مرکز میں ایک مجمع لگ گیا تو لوئیس صاحب نے تھانیدار کو حکم دیا کہ سودھا سنگھ،جگبیر سنگھ اور دوسرے نامزد مجرموں کامال مویشی اور جو مخبری کے مطابق مشکوک مجرم ہاتھ نہیں آ سکے،اُن کا بھی مال آگے رکھ کے پھاٹک لے چلو۔ جو ملزم پکڑے گئے ہیں،اُن کا مال لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جب سب کچھ نپٹا لیا گیا تو لوئیس صاحب،جن کے سر پر پولیس کی ستارے والی ٹوپی اتنی بارعب ہو چکی تھی کہ اب اُسے بھنگی بھی پہن لیتا تو واہگرو سے زیادہ باعزت سمجھاجاتا،اُس نے اپنے دائیں پاؤں کے جوتے پر ہاتھ میں پکڑی ہوئی بیت سے ٹھوہکا لگاتے ہوئے گاؤں وا لوں کو مخاطب کر کے کہا،اہلیانِ جھنڈو والا،مَیں آپ کو دو دن کا وقت مزیددیتا ہوں،جن ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں،تھانیدار اُن کے نام آپ کو پڑھ کر سُنا رہا ہے۔ اگر اُنہوں نے دو دن تک اپنی گرفتاری نہ دی تو یاد رکھو،سرکار اُن کا مال لے کر جا رہی ہے۔ سرکار اُن کا یہ مال نیلام کرنے کی مجاز ہوگی اور اُس کی رقم اپنے خزانے میں داخل کرلے گی۔ اِس کے علاوہ اُن کے گھروں کو کھُدوا دیا جائے گا اوربیوی بچوں کو جلال آباد تھانے لے جا کر بند کر دیا جائے گا۔ یہ کہ کر لوئیس صاحب انسپیکڑ متھرا کی طرف مُڑے اور بولے،متھراصاحب آپ اِن سب کو اپنی نگرانی میں تھانے پہنچاؤ اور کل میٹنگ کے لیے تھانیدار کو ساتھ لے کر پہنچ جاؤ۔ ہم دیکھتے ہیں،کس طرح گورنمنٹ کے قانون کے ساتھ مذاق اُڑایا جاتا ہے اور سودھا سنگھ کتنا بڑا سورما ہے۔

 

اس کے بعدلوئیس صاحب جیپ پر بیٹھ گئے اور ڈرائیورنے انجن کی گراری کارسًہ کھینچ دیا اور پورے بارہ بجے پولیس مجرموں کے قافلے کے ساتھ جلال آباد روانہ ہو گئی۔

 

تمام مجرم ہاتھ بندھے ایک گڈ پر بٹھا لیے۔ جس کے آگے دو بیل جُتے ہوئے تھے،جو اُسی گاؤں سے لیے تھے۔ گَڈے کو بیس گھڑ سوار سپاہیوں کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ جن میں سے اکثر کے پاس لمبی نال والی توڑے دار بندوقیں تھیں۔ جب سپاہی فوجاسیو کے گھر کے سامنے سے گزرے تو فوجا سیو دروازے کے باہر کھڑا اُنہیں دیکھ رہا تھا۔ حقیقت میں اُنہیں اِس طرح قید میں بندھے ہوئے جاتے دیکھ کر فوجا سیو کا جی اندر سے زار زار رو رہا تھا۔ جیسے کہ رہا ہو دیکھا،میں نہ کہتا تھا اِس کا نتیجہ بہت بُرا ہو گا لیکن کیا کیا جائے۔ اگر سرداروں کو شراب پینے کے بعد کچھ ہوش بھی رہتا تو آج اِس گَڈ میں سرداروں کی بجائے فرنگی سوار ہوتے لیکن اب تو اِس کی حسرت ہی کی جا سکتی تھی۔ وقت گزر جائے تو سوائے سیاپے کی چوٹوں کے کچھ نہیں بچتا۔ اور حقیقت میں یہ مصیبت اُن پر جگبیر کی وجہ سے آئی تھی اور اب وہ حرامی سودھا سنگھ کے ساتھ پٹیالا میں بیٹھا مزے کر رہا تھا اور اِن غریبوں کو پھنسا دیا۔ پولیس مال مویشی اور ملزموں سمیت جھنڈو والا سے نکل گئی تو عورتوں کو رونے کا موقع مل گیا۔ اُنہوں نے بین کر کر کے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ بعض دو ہتھڑ پیٹنے لگیں۔ پورے گاؤں کی فضا انتہائی سوگوار ہو چکی تھی،جیسے سب گھروں میں ماتمی صفیں بچھ گئی ہو ں۔ یہ دیکھ کر فوجا سیو آہستہ آہستہ چلتا ہوا گاؤں کے اُسی مرکز میں آیا جہاں تھوڑی دیر پہلے سب سے بڑا پولیس والا فرنگی کھڑا تھا۔ فوجا سئیو کو دیکھتے ہی اُس کے گرد تمام گاؤں کا مجمع لگ گیا۔ خاص کر عورتیں پیٹ پیٹ کر اپنا بُرا حال کر رہی تھیں۔ باقی لوگ یا تو طرح طرح کے تبصرے کر رہے تھے یا بولنے والو ں کو فقط ٹک ٹک دیکھے جا رہے تھے۔ اس تمام صورت حال میں صرف فوجا سیو ہی تھا جس کے ہوش کچھ ٹھکانے پر تھے اور گاؤں والوں کے لیے دلاسے اور ڈھارس کی جگہ تھی۔ فوجا سیو نے جب دیکھا کہ سب اُسی کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ اب جو اُپا کرنا ہے،اُس کے بارے میں بتائے،تو فوجا سیو تمام متروں کی طرف دیکھ کر تلخی سے بولا،مترو،ہُن شیر بنو،جو کجھ تسیں کرنا سی،اوہ کر لیا،ہن تاں شریکاں دی واری آ،ہن واری دی سٹ مرد بن کے سہوو۔ پھر تھوڑی دیر چپ کرنے کے بعد دوبارہ بولا،بیرو گھبران دی کوئی گل نہیں۔ ہُن آپاں مرداں طرحاں مقابلہ کراں گے۔ اَتے جلد ہی اپنے متراں نوں فرنگیاں کولوں لے کے آجاں گے۔ مَیں اَج ہی سردار ہرے سنگھ نوں جا کے مل ناں۔ باقی مال تاں آن جان آلی شے آ۔ اوندا دکھ نئیں کرنا۔ اِس کے بعد سردار فوجا سئیو نے دیون سیو کو آواز دے کر کہا،دیون پُت میری گھوڑی تے ساز کس دے۔ مینوں ہُن فیروز پور جانا ای پے گیا۔ بھجیاں باہواں تاں سیاناں کیہیا وا گل نوں ای اوندیاں۔ اُس نے سکھ عورتوں کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا،کوئی گل نئیں دھیؤ جے سودھا سنگھ اَتے جگبیر تُہانوں مشکل وچ چھڈ کے پٹیالا نس گئے نے۔ مَیں تہاڈے باپو دی تھاں تہاڈے نال آں۔ سردار ہرے سنگھ کولوں اودوں ہی اُٹھاں گا۔ جَد مال تے بندے جھنڈو والا اپنے گھر آ جان گے،تسیں فکر ناں کرو۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(20)

 

شیح صاحب مَیں اس معاملے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ ڈپٹی کمشنر نے فائل کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد تحمل سے بولنا شروع کیا۔ قتل اور لوٹ مار کی ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔ کیانام ہے آپ کا مسٹر………… حیدر( غلام حیدر کی طرف منہ کرتے ہوئے) آپ خود پرچہ کے مدعی بن چکے ہیں۔ سودھا سنگھ نامزد ملزم قرار دیا جا چکاہے اور سب سے اہم بات یہ کہ خود ولیم دلچسپی لے رہا ہے۔ غالباً کچھ دن پہلے اُس نے مجھ سے اس بارے میں سرسری گفتگو بھی کی تھی۔ میرا خیال ہے، وہ اس قصے کو جلد ہینڈل کر لے گا۔ آپ اس بارے میں پریشان نہ ہوں۔

 

شیخ مبارک علی نے مزید گزارش کے سے انداز میں کہا، حضورہمیں گورنمنٹ کے انصاف سے کچھ اندیشہ نہیں مگرصاحب نئے نئے آئے ہیں۔ سُنا ہے ابھی مزاج کے کھُردرے ہیں۔ آپ اس بارے میں ذاتی طور پر کمشنر صاحب کو ہدایات پھر بھی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ ڈر ہے اگر دیر ہو گئی تو خدانحواستہ کچھ مزید خرابی نہ ہو جائے۔ آپ تو جانتے ہیں سکھ آخر سکھ ہوتاہے سمجھنے میں دیر کرتاہے۔

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے صاحب نے اپنی کُرسی کو ایک دم مکمل گھما کر سیدھا کیا اور شیخ صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،شیخ صاحب مجھے تو اپنے تجربے سے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ مسلمان اور سکھ الگ الگ دماغ کے مالک ہیں۔بس داڑھیوں کی لمبائی میں فرق ہے۔ آپ فکر نہ کریں، دونوں عقل کے ایک ہی قبیلے سے منسلک ہیں۔

 

شیخ مبارک ڈپٹی کمشنر کی بھرپور طنز کو محسوس تو کر گیا پھر بھی چہرے پر خوشگواری کا تاثر لاتے ہوئے دوبارہ بولا، سر آپ میری بات کہیں اور ہی لے گئے۔ بہر حال آپ ہمارے حاکم ہیں۔اگر ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے ؟ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ اپنی بات عرض گزار کر دیں۔ اگر حکم ہو تو یہ غلام حیدر،شیر حیدر کا بیٹا اپنی درخواست آپ کے حضور سنانے آیا ہے ( پھر غلام حیدر سے مخاطب ہو کر) بیٹا آپ صاحب بہادر کو بتاؤ۔جو آپ کی صاحب سے ملاقات ہوئی ( پھر ڈپٹی کمشنر سے ) سر ذرا سن لیں ایک بار۔

 

غلام حیدر نے اشارہ پاتے ہی اپنی ولیم کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو مِن و عن ڈپٹی کمشنر کے گوش گزار کر دی، جسے اُس نے نہایت غور اور تحمل سے سُنا پھر سکون سے بولا،لیکن مجھے تو یہ رپورٹ ہے کہ ولیم سراسر مسٹرحیدر کی طرف داری کر رہاہے۔ کل ہی ولیم نے انتہائی قریب سے واقعات کا جائیزہ لینے کے لیے موقعہ واردات پر جا کر خود حالات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تھانیدار کو بُلا کر سرزنش کی۔ اس سب کے باوجود میں کیسے اُسے مزید ہدایات دے سکتاہوں۔

 

پھر تمام رپورٹس کا خلاصہ شیخ صاحب اور غلام حیدر کو سنا دیا۔ جسے سُن کر شیخ مبارک حسین تو شرمندہ اور کھسیانا سا ہوا مگر غلام حیدر کو حیرانی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت نے گھیرلیا۔

 

اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیاہے۔ وہ ڈپٹی کمشنر کی بات پر یقین کرے یا ولیم صاحب اور تھانیدار کے رویے کو سامنے رکھے۔ ایک بات اُسے مطمئن بھی کر رہی تھی۔اور وہ تھی ڈپٹی کمشنر کی معلومات، جو اس کیس کے بارے میں اتنی جلدی اُس تک پہنچ گئیں تھیں۔ اُس نے سوچا،اگر یہ سچ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر ولیم تک میرے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتے ہیں تو کیوں سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے تھانیدار پر دباؤ نہیں ڈال رہے ؟جبکہ آج اس واردات اور قتل کو آٹھ دن گزر چکے ہیں۔ غلام حیدر یہ سوچتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے مخاطب ہوا،مگر سر سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے کون سی مشکل ہے کہ ابھی تک وہ حوالات میں نظر نہیں آتا۔ آپ کی سرکار میں پہلے تو کبھی ایسی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔ میری خبرکے مطابق وہ ابھی آرام سے نہیں بیٹھا، نہ بیٹھے گا، مزید کوئی نہ کوئی فساد پیدا کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے بسکٹ کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہوئے کاندھے اُچکائے،پھر شیخ مبارک حسین کو مخاطب کرتے ہوئے بولا،شیخ صاحب، برخوردار کو سمجھائیں اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھے۔ گورنمنٹ کے کام کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ویسے بھی یہ چھوٹے موٹے کام پولیس انتظامیہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ کمشنروں کے کرنے کو اور بہت کچھ ہے ہیں۔ کچھ اصول اور قاعدہ ہوتاہے۔

 

ہمیں معلوم ہے اس معاملے میں تاخیر ہوئی ہے یانہیں۔ سودھا سنگھ جلد گرفتار ہو جائے گا۔ اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو میں ولیم سے تاکید کر دیتاہوں۔یہ کہہ کر اُ س نے شیخ مبارک حسین کی طرف الوداعی سلام کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ اس کامطلب تھا کہ میٹنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ مبارک حسین نے اشارے کو سمجھتے ہوئے فوراً اٹھ جانے میں بہتری خیال کی اور ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا کیونکہ مزید بولنا صاحب کا موڈ خراب کرنے کے مترادف تھا۔ جس کا اشارہ اُُس کے آخری رویے سے مل چکا تھا۔ شیخ مبارک کو دیکھ کر غلام حیدر بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے بھی صاحب کے ساتھ بے دلی سے ہاتھ ملایا اور کمرے سے باہر نکلنے کے لیے مڑا۔اسی اثنا میں ڈپٹی کمشنر کی آواز دوبارہ سنائی دی، جس کا تخاطب تو شیخ مبارک حسین تھا مگر غلام حیدر نے بھی مڑ کر ڈپٹی کمشنر کی طرف دیکھا،

 

شیخ صاحب ایک بات آپ کے فائدے کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ حیدر کو سمجھائیں قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریزکرے۔مجھے افسوس ہوا ہے کہ سودھا سنگھ نے قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ جس کا اُسے خمیازہ بھگتنا ہے مگر ایسا نہ ہو کہ اُس کی دیکھا دیکھی ہمارا دوست بھی جھنڈو والا کو میدان جنگ بنادے (پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)مسٹر آپ پڑھے لکھے ہیں۔ ذرا آہستہ اورسمجھ داری سے چلیں اور قانون کاساتھ دیتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ولیم آپ کے حق میں بُرا نہیں ہے۔کل یا پرسوں آپ کو بہت اچھی خبر ملے گی۔ گڈ بائے

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے کے یہ آخری جملے ایسے تھے جنھوں نے چلتے چلتے شیخ مبارک حسین اور غلام حیدر کی ڈھارس بندھا دی۔ خاص کر یہ جملے شیخ صاحب کو بہت ہی پسند آئے جو بڑی دیر سے اپنی خجالت محسوس کر رہاتھا اور سوچ رہاتھاکہ اُس نے ناحق غلام حیدر کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے پاس آکراپنا بھرم گنوا لیا۔ اب کمشنر صاحب کی اِن باتوں نے شیخ صاحب کی کچھ نہ کچھ عزت رکھ لی تھی۔ غالباً کمشنر صاحب نے آخری وقت میں محسوس کر لیاتھاکہ اُس کے ہاتھوں سے شیخ صاحب کی ذلت ہو گئی ہے۔ شاید اسی لیے اس نے یہ چند کلمات ادا کر کے تکدر دُور کرنے کی کوشش کی تھی۔

 

(21)

 

ایس ڈی او جنتا مان نقشے پر درج شدہ تمام معلومات جب ولیم کے گوش گزار کر چکاتو ولیم اُٹھ کر خود دیوار پر آویزاں اُس دس فٹ لمبے اور آٹھ فٹ چوڑے کپڑے پر بنے نقشے کے قریب کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیرخاموشی سے اُس کا جائزہ لینے کے بعد بولا، جنتا مان، جلال آباد کے اِس سارے حدود اربعے میں جو بات مجھے سمجھ آئی ہے، وہ یہاں کا ناقص نہری نظام ہے۔یقیناً یہاں کام چوری اور بددیانتی کے سواکچھ پیدا نہیں ہوتا۔(چھڑی سے مختلف مقامات کی نشاندھی کرتے ہوئے) کیاآپ دیکھ رہے ہیں کہ روہی کا تمام علاقہ زیریں اور اپّر اور بنگلہ سے اُوپر کا علاقہ، یہ تمام کا تمام آب پاشی سے یکسر خالی ہے۔ حالانکہ اس پورے علاقے کی زمین نشیبی ہے اور پانی کا بہاؤ نہایت آسانی سے اپنی تہیں بچھا سکتا ہے۔ کیا ہمیں اِس بہت بڑے علاقے کی ضرورت کااحساس نہیں ہونا چاہیے؟ جبکہ آپ کے پاس وسطی پنجاب کی حد پر بہتے ہوئے ستلج کا چوڑا پاٹ اپنی کشادہ پیشانی سے دعوت دے رہاہے۔ کیا ہمارا اس سے فائدہ اٹھانا فرنچ کو ناگوار گزرتا ہے جن کا وجود کم ازکم میری معلومات کے مطابق یہاں نہیں ہے؟ ہم اِس بنگلہ سے جلال آباد تک آنے والے برساتی نالے کو اِس کام کے لیے استعمال کر کے اُسے میٹھے پانی کی بہتی ہوئی نہر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔جبکہ ایک ہیڈ برج پہلے سے سُلیمانکی پر موجود ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی سر دردی اور زحمت گوارا کریں،جو اس قدر ضروری ہے جس قدر ہمارا اپنا وجود، تو یہ خاکستری زمینیں سبز رنگوں میں بدل جائیں۔ ولیم نے معنی خیز انداز میں جتنا مان کی طرف دیکھ کر پوچھا، کیا خیال ہے آپ کا جنتا مان؟

 

سرآپ کی یہ حکمت تو واقعی ایک اہم قدم ہے جلال آباد تحصیل کے لیے،جنتا مان بولا “مگر میں سرکار کی خدمت میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس ہیڈ سے نہر پہلے نکل چکی ہے۔ یہ آپ کی چھڑی کے اُوپر اُسی کی لائن جا رہی ہے لیکن اس کا پانی گورنمنٹ نے ریاست بہاونگر کو سیراب کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ہم دوسری نہر یہاں سے کیسے نکال سکتے ہیں؟
اسی سے، ولیم نے نقشے پر نہر والی جگہ کو چھڑی سے ٹھوہکا دیتے ہوئے کہا، اِسی نہر سے جنتا مان، ہم ایک دوسری نہر نکال سکتے ہیں،جو جلا ل آباد کے زیریں اور روہی کے پورے علاقے کو سیراب کرے گی۔

 

نہر کا تمام عملہ جو میٹنگ میں موجود تھا ولیم کی اس بات پر متعجب ہوا۔وہ جانتے تھے ولیم جو کہ رہا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اِس کام کے لیے لاکھوں روپے کا فنڈ اور منصوبہ بندی درکار تھی۔ جس کے لیے کم از کم گور نمنٹ اُن کی سروس کے دوران تو اجازت دینے پر ر ضامند نہ ہو گی اور اگر ہو بھی گئی تومنصوبہ بناتے ہوئے کئی برس بیت جائیں گے،لیکن خاموش رہے اور ولیم بولتا چلا گیا۔

 

دیکھیں ہم اس ہیڈ کی گیج کو بڑھا کر دُگنا کر دیں گے اور تین در مزید کھول دیں گے۔ اِسی طرح اِس نہر کا پاٹ بھی دُگنا کر دیں گے۔جو ہیڈ سے لے کر چار کلو میٹر تک چلے گا اور یہاں گونا پور کے مقام پر ہم اپنی نہر کا رُخ روہی کے زیریں علاقے کی طرف موڑ دیں گے۔ یعنی جتنا پانی ہم نے ہیڈ سے ریاست کی نہر کو دیا ہو گا، وہ پانی ہم جلال آباد کی تحصیل کے لیے اس طرف موڑ لیں گے۔ جس کے لیے ہمیں اُس نہر کی ضرورت ہے، جو ابھی تک ہم نے نہیں کھودی۔ یہ نہر روہی کے ساتھ ساتھ فاضلکا بنگلہ کے بالائی حصوں اور اُن علاقوں کو پانی دیتی ہوئی، تارے والی، سے اس برساتی نالے میں گر کر جلال آباد اور سری مکھسر کے درمیان تک پہنچ جائے گی۔پھر جلال آباد شہر کو چُھو لے گی۔ اس نہر کا پاٹ پچاس فٹ ہو گا اور گہرائی آٹھ فٹ۔ جہاں سے ہم ریاست کی نہر کو الگ کریں گے، وہاں ایک گیج لگادیں گے تاکہ اپنا پانی بغیر خیانت کے حاصل کر لیں۔

 

بیر داس، جو تمام گفتگو بہت تحمل سے سن رہاتھا اور نہری سپر وائزر تھا “بولا” سر اس کے لیے بہت بڑے بجٹ کی اور وقت کی ضرورت ہے۔ میں جانتاہوں، اس کام میں کتنا خرچہ اُٹھے گا اور کتنا وقت لگے گا اور کتنے لوگوں کی ضرورت ہو گی۔

 

ولیم مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آیا اور اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولا “ بیر داس مسائل اور مصیبتوں کے آگے صبر اور حرکت کی ڈھال باندھی جاتی ہے۔گھبرایے نہیں۔رہی بات تمھارے سب کچھ جاننے کی تو یہ بہت عمدہ بات ہے۔ ہمیں آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے،جو اس طرح کی معلومات رکھتے ہوں۔ سرِ دست میں آپ کی ایک کمیٹی بنا رہاہوں، جس کے سربراہ جنتامان ہوں گے۔ آپ کے پاس ایک ماہ ہو گا۔اس عرصے میں سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھو، تمام علاقے کی پیمائش کرو اور اخراجات سے لے کر ممکنہ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی فائل کو تیار کرو۔ آپ کی مدد کے لیے میں ڈیوڈ صاحب کو آپ کے ساتھ کر دیتاہوں۔یہ نہر کے تیار کرنے میں اتھارٹی کادرجہ رکھتے ہیں۔ تمام لوگ اِن سے ہر طرح کی مدد لے سکتے ہیں۔ ہم ایک مہینے کے اندر یہ تیار شدہ رپورٹ حکومت کو پیش کر دیں اور اُنھیں میرا خیال ہے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔لیکن پہلا کام جو نہایت محنت طلب اور جانفشانی کا ہے، وہ آپ کریں گے،جس کے لیے میں ابھی سے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اِس کے بعد ولیم بیر داس سے مخاطب ہو کر بولا، بیرداس آپ نہر کے فوائد اور اِس میں گورنمنٹ کو جو کچھ خرچ کے بعد حاصل ہو گا،اُس کا بھی پورا حساب کیجیے گا۔ یہ رپورٹ کسی بھی طرف سے ناقص نہیں رہنی چاہیے۔ کیامیری بات آپ کی سمجھ میں آچکی ہے؟

 

جی سر،جنتا مان نے نہایت گرم جوشی سے جواب دیا۔

 

گُڈ، اب ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں، ولیم نے میٹنگ ختم کر تے ہوئے کہا لیکن جنتا مان، آپ، بیرداس، ڈیوڈ اور میں کل اس سلسلے میں دورہ کر رہے ہیں۔ ہم یہاں سے بنگلہ، وہاں سے ہیڈ سلیمانکی اور واپسی پر نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گونا پور،جہاں سے ہماری اصلی نہر کی بنیاد شروع ہو گی، سے روہی کی طرف مڑ جائیں گے۔پھر روہی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جلال آباد واپس آئیں گے۔ میرا خیال ہے صبح آٹھ بجے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ رات ہیڈ سلیمانکی پر بسر کریں گے۔ وہاں مسٹر میتھیو ہماری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں گے۔
یہ کہتے ہوئے ولیم دروازے سے نکل کر راہداری سے ہوتا ہوا چائے کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔جبکہ نجیب شاہ رہنمائی کرتے ہوئے ساتھ چل رہاتھا۔ اُن دونوں کے پیچھے نہر اور مال کا پورا عملہ بھی اُس کمرے سے باہر نکل آیا،جو پچیس افراد پر مشتمل تھا۔

 

چائے کاکمرہ تیس فٹ لمبا اور پندرہ فٹ چوڑا تھا۔ ایک قسم کا کانفرنس ہال کہہ سکتے ہیں لیکن اس کام کے لیے شاید کبھی استعمال نہیں ہو سکا تھا۔ یہاں نہ تو اس قسم کی کرسیاں تھیں اور نہ ہی کانفرنس کے باقی لوازمات، لاؤڈ سپیکر یا اسٹیج وغیرہ۔ ایک لمبی میز ضرور تھی، جس پر چائے کا سامان پڑا ہوا تھا۔ میز پر سفید رنگ کا نہایت نفیس کپڑا اور خوبصورت چائے کے برتن نجیب شاہ کی انتظامی نفاست کی غمازی کر رہے تھے۔ کمرے کی دیوار پر سفید قلعی تھی۔ لیکن دیواروں پر داغ دھبا نظر نہ آنے کے باوجود محسوس ہو رہاتھاکہ کمرے کو بناتے وقت جو رنگ کیاگیا تھا، اُس پر دوبارہ قلعی کرنے کی نوبت ابھی تک نہیں آئی تھی۔ایسے لگتا تھا کہ کمرہ اکثر بند ہی رہتا ہے اور جب زیادہ چائے پینے والے ہوں تو اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب تو نجیب شاہ کو محسوس ہو گیا تھا کہ یہ اکثر کھولنا پڑے گا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں میں ثابت ہو گیا تھا کہ ولیم روایتی اسسٹنٹ کمشنروں کی طرح کا نہیں ہے جو محض افسری کرنے آتے ہیں۔ویسے بھی ولیم سے پہلے زیادہ تر تحصیلدار ہی جلال آباد میں پوسٹ ہوتے رہے تھے، جو اکثردیسی لوگ ہی ہوا کرتے تھے۔ گورنمنٹ یا عوام کے لیے کام کرنے کو وہ غالباً ثانوی حیثیت پر ہی رکھتے تھے۔ اُن کا اصل کام تو ہندوستانیوں کو یہ جتلانا تھا کہ وہ اُن کے حاکم بنا دیے گئے ہیں اور وہ اُن کی رعایا ہیں۔اِسی وجہ سے اس کمرے کے کھولنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

 

نجیب شاہ نے سوچا، ولیم کا آئے دن علاقے کا دورے کرنے کا سلسلہ بڑھا تو کام کی شدت خود بخود بڑھ جائے گی۔ کیونکہ یہ دورے نہ تو سؤروں کے شکار کے سلسلے میں تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں کی عادات وخصائل سے محظوظ ہونے کے لیے۔ جس کا پہلے والے افسروں میں بہت زیادہ رواج تھا۔ چائے کے دوران پندرہ منٹ تک ادھر اُدھر کی گپ بازی کے بعد ولیم اپنے کمرے میں چار پانچ انگریز افسروں کو لے کر آ گیا۔ باقی لوگوں کو اپنی میزوں پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان افسروں میں، ڈیوڈ، انجینئر جوزف، ایکسئین سٹیورٹ، مالیکم تحصیل دار اور براہم میتھیومحکمہ مال کا انسپکشن افسر شامل تھے۔

 

جب چاروں سامنے بیٹھ چکے تو ولیم نے سب کو مخاطب کر کے ایک بھرپور تقریر کی۔ اس تقریر سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ دلی جذبات کے ساتھ کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اُس نے اپنے باپ اور دادا کو ماتحت افسروں سے مخاطب ہوتے دیکھا تھا۔ اس لیے کچھ وہ تجربہ اور کچھ ذاتی جوش و خروش نے ایسے الفاظ کا رُخ ڈھال لیا کہ آفیسرز ولیم کا کام کے سلسلے میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔اُس نے نے اپناہیٹ میز پر رکھا اور بولا،

 

ڈیئر آفیسرز، میں جانتا ہوں کہ میں جلال پور میں ایک اجنبی، ناتجربہ کار اور نو آموز داخل ہوا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے آپ کا تجربہ، آپ کا علم اور علاقے کے متعلق آپ کی شناسائی میرا ذاتی سرمایہ ثابت ہو گی۔ اس سلسلے میں آپ میرے پیش رو، مجھے طاقت دینے والے اور کام پر اُکسانے والوں میں سے ہوں گے۔ میرے دوستو، میں آپ ہی کی طرح حکومت سے تنخواہ لینے والا اُس کا ملازم ہوں تاکہ علاقے میں اُس کے قوانین کی عملداری کا فریضہ انجام دوں۔حکومت کے لیے خراج اور مالیہ جمع کروں، نظم و ضبط اور خیر خواہی کا فرض ادا کروں، یہاں کے اَن پڑھ اور گنواروں کو تعلیم، تہذیب اور سماجی معاشرتی اور معاشی اقدار سے آگاہ کروں، جس سے یہ لوگ ایسے ہی دور ہیں جیسے یورپ اِن سے دور ہے۔ لیکن اس کے ساتھ میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہوں گاکہ یہ سب کام تب ہی اچھے طریقے سے انجام پا سکتے ہیں جب عوام کی خوشحالی اور اُن کے جان و مال کی حفاظت اور اُن کے روزگار کے مسائل درست ہوں گے۔ آپ مجھے جتنا بھی اِن لوگوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے میں لیکچر دیں، مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود صرف اس لیے اپنے سابقہ آقاؤں کے کام نہ آ سکے کہ اِنہیں ہر معاملے میں مکمل طور پر بانجھ رکھا گیا تھا۔چنا نچہ ہمیں پہلے یہاں کے عوام کی فلاح کے لیے اقدام کرنے ہوں گے،بطور حاکم یہ ہما را پہلا کام ہے۔ یاد رکھو،یہاں جگہ جگہ پر اُگی ہوئی خود رو جڑی بوٹیاں اور سرکنڈے اگر عوام کے لیے مُضر ہیں تو ہمارے لیے بھی مُضر ہیں۔ یہاں کی پبلک بھوکی مرے گی تو ہم بھی زیادہ دیر گائے کے تازہ دودھ نہیں پی سکتے۔ گورنمنٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جس مٹی سے تم سو روپیہ نکالو اُس میں سے بیس روپے اُسی مٹی پر ضرور خرچ کرو تاکہ مزید سو روپیہ حاصل کر سکو۔ یہ طریقہ اُسی مرغی کی مثال ہے جسے آپ ایک دمڑی کا دانہ دے کر درجن انڈے لیتے ہیں۔ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ہندوستان ایسی مرغی نہیں جو کُڑک ہو اور ہمیں انڈا دینے سے انکار کر دے۔ ہمارا سابقہ تجربہ بتاتاہے،جس نے اس کی مٹی کے حلق میں پانی کے چند قطرے انڈیلے، اِس کے پستانوں نے اُس کے کٹورے میٹھے دودھ سے بھر دیے،۔عوام کی خوشحالی، حکومت کی عزت اور وقار کا پروانہ ہوتی ہے اور اس کی مفلسی بادشاہ کو بے وقار کر دیتی ہے۔ کوئی بھی حاکم زیادہ دیر تک اپنی رعایا کا گوشت نہیں کھا سکتا،۔ یاد رکھو بیمار رعایا کا گوشت بھی بیمار ہوتا ہے، جس سے کینسر پھوٹتے ہیں اور جو اندر ہی اند ر ہی بادشاہ کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی رعایا کو صحت مند اور باوقار دیکھنا ہے تاکہ ہم خود باوقار نظر آئیں۔ مسٹر جوزف مَیں یہ نہیں کہتا کہ میں افسری کرنا پسند نہیں کرتا اور کام کامجھے بہت شوق ہے۔ یقیناً مجھے اسسٹٹ کمشنر ہونا پسند ہے۔ اگر میں بطور افسر یہاں نہ آتا تو شاید مجھے بھی عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔مگر میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اب اپنی مصروفیت کا مرکز سیر وشکار کو بنا لوں اور کام بالکل نہ کروں۔ میں یہاں ہر صورت کام کروں گا جس کے لیے مجھے مدد گار اور دوست چاہییں۔ میں نہیں جانتا کہ میں یہاں کتنے دن رہوں گا، مگر جتنے دن رہوں گا، زمینوں کو آباد کرنا اور لوگوں کو تعلیم دینا میری اولین ترجیح ہو گی اور آپ کو اس سلسلے میں میرا ساتھ دینا ہو گا۔ میں دیسی لوگوں پر انحصار نہیں کرتا۔ ان کے اندر کام کی بجائے چاپلوسی اور کام چوری کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

 

مسٹر ڈیوڈ، یہاں کی زمینوں اور لندن کی مٹی میں یہ فرق ہے، اگر یہاں بیج بو کر پانی دو گے تو ہرابھرا پودا سر نکالے گا مگر وہاں بیزار کر دینے والی سردی اُسے برف میں بدل دے گی۔اور وہ مسلسل کی بارش اُسے گلا دے گی جو تمہاری رگوں تک اُتر ی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس عقل ہے اور ہندوستان کے پاس وسائل۔یہی ہماری اور ہندوستان کی خوش قسمتی ہے۔ اس لیے جو ذمہ داری مجھ پر ہے، مَیں اپنے حصے کی پوری کروں گا، آپ اس کے لیے مجھے طاقت اور بازو دیں گے۔ کل میرے ساتھ دورے پر چلو۔ہم اِن تمام معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے دو دن میں واپس آ جائیں گے۔

 

ولیم ہیٹ دوبارہ سر پر رکھتے ہوئے کرسی سے اُٹھا اور بولا، مسٹر مالیکم آپ کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ آپ اس معاملے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟
مالیکم جو اڑتالیس سال کی عمر کا پختہ تحصیل دار تھا اور پچھلے تین سال سے یہیں پر تھا، نہایت تحمل سے بولا،سر کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی افسر کی خواہش پر اُس کے ماتحت نے کام کرنے سے انکار کیا ہو؟ماتحت کا کام عمل درآمد کرنا ہے۔ افسرجس قدر اپنے حکم میں مخلص ہو گا، ماتحت اُسی اخلاص سے عمل کرے گا۔ ہمیں آپ کی خواہش معلوم ہو گئی، آپ کی محکم رائے کا اندازہ ہو گیا اور حکم کے اخلاص پر یقین آ گیا ہے۔ اب آپ جو چاہیں گے ہم اُسے ہر حالت میں ممکن بنائیں گے۔

 

ولیم خوشی اور مسرت سے اٹھتے ہوئے بولا، بہت خوب مالیکم صاحب، بہت خوب، ہم کل بنگلہ فاضلکا میں جا کر باقی معاملات پر بات کریں گے کیونکہ نقشہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ اب آپ جا سکتے ہیں گڈ بائے۔

 

افسروں کے کمرے سے جانے کے بعد ولیم اپنی کرسی پر دراز ہو کر دیر تک خالی الذہن آنکھیں بند کیے سکون سے پڑا رہا۔ آج اُس نے بہت سے کام نپٹائے تھے۔ تین انتہائی اہم میٹنگز میں دماغ کی حالت بچہ پیدا کرنے والی عورت کی سی ہو چکی تھی۔اس لیے وہ دفتر کے کسی بھی معاملے پر آج کے دن مزید غور کرنے سے کترا رہاتھا۔ولیم نے آنکھیں بند کر لیں اور ان فرصت کے لمحوں میں اُسے کیتھی یاد آنے لگی۔

 

وہ اُس کے ساتھ لندن کے مضافات میں گزارے گئے مسحور کن لمحات میں کھو گیا۔ کیتھی کی نیلی آنکھوں میں بلوریں چمک، ماتھے پر گہرے سنہری بال اور یاقوت کے ریزوں میں گُندھے اور پنکھڑیوں میں تِرشے ہوئے باریک ہونٹ ولیم کی آنکھوں میں چاقو کی سی تیز دھار کے چرکے لگا رہے تھے۔بالائی ہونٹ کے اوپر سُرمئی تِل ولیم کے سامنے تصویریں بن کر گھومنے لگا۔

 

یونیورسٹی کے صحن میں چھو ٹے سے پہاڑی ٹیلے پر جمی ہوئی برف کے اُوپر جب گرتے گرتے وہ اُس کی باہوں میں جھول گئی اور پھر دونوں لڑھکتے ہوئے نیچے تک آ گئے تھے، جس دوران اُس کے بازو کی ہڈی بھی تڑخ گئی۔ اُس وقت کیتھی کا کرب اور تکلیف سے سونے میں گھُلا ہوا چہرہ اور بھی اچھا لگاتھا۔ ولیم کو یاد آیا کہ کرسمس کی رات تو قیامت برپا کر دینے والی تھی، جب لہروں میں گھومتی ہوئی سرد شام کی دُھند میں وہ دونوں لندن کے جنوبی مضافات میں موجو د تاریخی گرجا گھر (ایس ٹی سوویئر )میں گئے تھے۔ جسے بُردت خاندان نے ۱۶۲۲ میں اپنے ذاتی فارم ہاؤس میں بنایا تھا اور اُس خاندان کی بہت سی یادگار بھی اس کے اندر موجود تھیں۔اُس شام چناروں کے زرد پتوٌ ں کے گرتے ہوئے شور اور کھڑکھڑاہٹ میں ہر چیز کس قدر رومان انگیز ہو گئی تھی۔ اُس رومان پرور ماحول میں بھورے آسمان سے اُترتی ہوئی دُھند اور کُہر نے اُن دونو ں کے چہرے اس طرح بھگو دیے تھے جیسے دو فرشتوں کو دُھلا ہوا سفید نور اپنی ٹھنڈک کے حصار میں لے لے اور پھر اُنہیں اُڑائے اُڑائے سفید خو شبو کی وادیوں کی سیر کراتا پھرے۔ گرجا سے واپسی پر وہ اور کیتھی ایک دوسرے کی بانہوں میں جھولتے ہوئے بہت دیر چناروں کے باجتے پتوں کی سر سراہٹ میں دور تک چلتے رہے تھے۔ پھر بگھی پربیٹھ کر اپنے کمرے میں آئے تھے۔اُس وقت کیتھی کا چہرہ کتنا سُر خ اور سبزی گھُلی ہوئی سفید یوں میں دہک رہا تھا۔گرم کمرے میں سُرخ کوئلوں سے اُٹھتی ہوئی حرارت کے پاس چند منٹ تک بیٹھے رہنے کے بعد اُس نے کیتھی کا بوسہ لیااورپھر وہ بیڈ پر لیٹ گئے۔ اُس وقت پہلی دفعہ اُس نے کیتھی کے سنہرے بالوں سے انگلیوں میں خلال کرتے ہوئے سینے پر کَسی ہوئی شرٹ سے اُبھاروں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں ہلکا ہلکا دبایا اور ساتھ ہی اُس کی شرٹ کے عنابی بٹن بالترتیب کھولتا گیا۔ جس کے نیچے دودھیا لمس اور دوبلوریں آئینے اور اُن آئینوں کے درمیان حشر خیز سفید اور نرم و ملائم نشیب تڑپ رہا تھا۔آئینوں پر ہاتھ رکھ کر اُس نے جب اپنے ہونٹ اُس نشیب پر رکھے تو کیتھی کس طرح دوہری ہو ہو کر گرتی تھی۔ ایسے میں اُس کا سینہ اُبھر ُابھر کر ولیم سے لپٹ لپٹ جاتا تھا۔اسی حالت میں کیتھی کی سانسیں تیز تیز حرکت کرنے لگیں تو اُس نے کیتھی کی بلاؤز کے تمام بٹن کھول کر دودھ میں نہائے ہوئے پستانوں کی نرمی اور ناف کے ہیرے میں چمکتی ہوئی بالی کی حدت کو محسوس کیا تھا۔، تب کیتھی کیسے پیار اور شہوت کے ملے جلے جذبے کے ہاتھوں بے قابو ہو کر دوہری ہونے لگی تھی اور اُس کے گرد اپنی بانہوں کو اس سختی سے جکڑ جکڑ لیتی تھی جیسے ابھی مر جاے گی۔وہ وقت تو عین فتنہ تھا، جب اُس نے کیتھی کی سکرٹ اُتار کر یکدم اپنے ہونٹ اُس کی سرین کے اندر پیوست کر دیے تھے۔ تب تو وہ یوں بے حال ہو کر اُس کے ساتھ گھوم گئی تھی جیسے توری کی بیل شیشم کی ٹہنیوں سے لپٹ جائے۔پھر ولیم اُس منظر کو یاد کر کے تھوڑا سا مسکرا دیا جس میں اُس نے بالآخر کیتھی کی ناف کے اُو پر بیٹھ کر اپنی پینٹ کی بیلٹ بھی بٹن سمیت جلد ہی کھول دی تھی۔جبکہ کیتھی انتہائی بے چینی سے اُس کی شرٹ قریب قریب پھاڑ رہی تھی۔ یہ وہ آخری لمحے تھے جب اُس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی ہلکی روشنی بھی آف کر کے دو دودھیا جسموں کونورانی اندھیروں کے حوالے کر دیا تھا۔ جس کے بعدوہ دونوں خوابوں کی دنیا میں چَلے گئے تھے۔ پھر ولیم تمام اُن بعد میں مسلسل آنے والے لمحات کو یاد کرنے لگا۔جس میں اُس نے کیتھی کی نیلی رگوں میں سُرخی بھر دی تھی، مگر وہ پہلی رات کا منظر تو کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔

 

کرسی پر آرام سے پڑے پڑے وہ کتنی ہی دیر اُن یادوں میں کھویا رہا پھر اچانک سیدھا ہو کر بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔کرم دین اندر آیا تو ولیم نے اُسے کہا، کافی کا ایک کپ لاؤ اور نجیب شاہ کو اندر بھیجو۔

 

کرم دین پھُرتی سے باہر نکل گیا۔چند لمحوں بعدنجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اُسے ہدا یات دینا شروع کر دیں،نجیب شاہ اِسی وقت لند ن میں ایک تار بھیج دو، میں ابھی پانچ منٹ میں آپ کو ایک لیٹر دے رہاہوں، دوسری بات یہ کہ ہمارے کل کے دورے کے لیے کیا بندوبست کیاہے؟

 

سر تین جیپیں تیار ہیں،نجیب شاہ بتانے لگا، جن آفیسرز کے نام آپ نے بتائے ہیں وہ اور ڈی ایس پی لوئیس صاحب بھی چھٹی سے واپس آچکے ہیں،اگر آپ حکم دیں تو انہیں بھی پیغام بھیج دیتا ہوں۔ ان کے علاوہ انسپکٹررام داس اور چھ سنتری مزیدہیں۔میں نے ضرورت کی تمام چیزیں بھی بالکل تیار کروا دی ہیں جو سفر میں کام آ سکتی ہیں۔

 

گُڈ، ولیم نے مسکراتے ہوئے اظہارِ مسرت کیا پھر ایک کاغذ پر کچھ لکھتے ہوئے اُسے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ اتنے میں کرم دین کافی لے کر آ گیا۔ کافی کی گرم گرم اٹھتی ہوئی بھاپ نے ولیم کی اشتہا بڑھا دی،۔وہ کافی کی چسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ کیتھی کو خط لکھنے لگا۔
پیاری کیتھی تمھیں خط لکھے بہت دن ہو گئے۔ آج سے چار دن پہلے تمھاراخط ملا تو میں پڑھنے کے بعد دیر تک اُسے چومتا رہا پھر سینے پر رکھ کر سو گیا۔ خواب میں تم ملیں اور مَیں نے دیکھا تم میرے سینے پر لیٹی ہوئی ہو۔پیاری کیتھی اب تمھیں یہ کہنا بالکل واہیات لگتا ہے کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ اب تو ہم محبت کی خندقیں پاٹ کر کے اشتہاؤں کے قلعے کی فصیلوں کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ جس میں ہم تیسری قوت کا مقابلہ ایک جسم بن کر کریں گے۔ ہم محلوں میں رہیں گے، تکیوں کے درمیان لیٹیں گے اور ریشمی گدٌوں پر بیٹھ کر فانوسوں کی رونق میں چہلیں کریں گے جس میں کوئی تیسرا مخل نہ ہو۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں،تمھارے خواب کی تکمیل میں جُتا ہوا ہوں اور سخت محنت کر رہا ہو ں تاکہ تمھاری خوابگاہ تیار کرنے کا خواب پورا کر سکوں۔ یہاں دفتر میں کام بہت بڑھ گیا ہے۔تم جانتی ہو، تمہارا ولیم اب ایک عام اور کھنڈرا لڑکا نہیں رہا۔میں جانتا ہوں تمھیں یقین نہیں آ رہا ہو گا مگر یہ سچ ہے میں اب بڑے بڑے کام کرنے لگا ہوں۔ جیسا کہ کمشنروں کی بہت سی سنجیدہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، میری بھی ویسی ہی سنجیدہ ذمہ داریاں ہیں۔ یقین مانو میں یہاں بڑی بڑی میٹنگیں کر رہا ہوں جن میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ دیسی لوگ تو ایک طرف،یہاں کے انگریز افسر بھی مجھے سلام کرتے ہیں۔ میں نے تمھیں کہا تھا،ایک دن تم ایک بڑے کمشنر کی بیوی ہو گی جو ہندوستان کی کھلی سڑکوں اور شاداب وادیوں کی سیر کو نکلا کرے گی۔ بس وہ دن قریب آ گئے ہیں۔ میں یہاں کچھ اہم کام نپٹا لوں اُس کے بعد چند ماہ میں ہی تمھیں بیاہ کر ہندوستان لے آؤں گا۔ بس چند ماہ اور انتظار میری جان۔ سرِ دست میں یہاں اپنا وجود ثابت کرنا چاہ رہاہوں اور مجھے یقین ہے وہ جلد ہی ہو جائے گا، اُس کے بعد ہم تم ہوں گے اور ہندوستان پر ہمارا اقتدار اور تمہاری نوکرانیوں اور ملازماؤں کے گروہ کے گروہ ہوں گے، ہمارے دو پیارے پیارے تمہارے جیسے بچے ہوں گے۔ اب ایک بوسہ دو

 

تمہارا اور تمہارا ولیم

 

ولیم نے کافی کی آخری چُسکی کے ساتھ ہی خط کی تحریر کو انجام دیا پھر نجیب شاہ کو طلب کر کے خط اُس کے حوالے کیا اور کہا،اِسے ابھی بذریعہ تار کیتھی کو روانہ کردے۔ نجیب شاہ کے کمرہ سے نکلنے کے بعد ولیم نے کلارک کی طرف دیکھا، وہاں چار بج رہے تھے۔ اُس نے سوچا کہ آج تو وقت نکلنے کا احساس ہی نہیں ہوا اور اگر دفتر کی مصروفیات اسی طرح رہیں تو زندگی کے نکلنے کا بھی پتا نہیں چلے گا۔ ایک دو منٹ آج کے گزرے واقعات پر دوبارہ نظر دوڑانے کے بعد وہ کرسی سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر سامنے ہی کلرکوں کے کمروں کے درمیان والی ساٹھ فٹ لمبی اور دس فٹ چوڑی راہداری عبور کرکے باہر کی چوکی پر پہنچا تو اُسے اپنی پُشت پر کئی آفیسرز اور کلرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ غالباً وہ اسی انتظار میں تھے کہ کب صاحب کمرے سے باہر نکلے اور اُن کی آج کے دن سے جان چُھٹے۔ ولیم نے سب پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ طائرانہ سی نظر ماری اور آگے بڑھ گیا۔کسی کی جُرات نہیں ہوئی آگے بڑھ کر ولیم سے سلام لے یا اُسی کی طرح مسکرا کر جواب دے۔وہ سب فقط ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور جب ولیم آگے بڑھ گیا تو دو آفیسر بھی اُس کی تائید میں پیچھے پیچھے بنگلے کی طرف پیدل ہی چل پڑے جو دفتر کی عمارت سے زیادہ سے زیادہ دو سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ افسروں کے ساتھ چار سنتری بنگلے تک آئے۔ اس پیدل واک کے دوران ولیم نے کسی سے کوئی بات نہیں کی البتہ بنگلے کے گیٹ کے اس طرف ہونے کے بعد انھیں تھینکس ضرور کہا۔

 

(22)

 

دلبیر سنگھ صبح سات بجے ہی جیپ اسٹارٹ کر کے ولیم کے بنگلے پر آگیا تھا باقی کا بھی تمام عملہ پونے آٹھ بجے تک پہنچ گیا اور پورے آٹھ بجے ولیم اپنے بنگلے سے باہر نکل آیا۔ مالیکم کے ساتھ ہاتھ ملا کر باقی سب کو گڈ مارننگ پر ہی اکتفا کیا اور آگے بڑھ کر جیپ میں بیٹھ گیا۔ ولیم کے بعد دوسرے بھی جیپوں کی طرف بڑھے اور سوا آٹھ بجے ولیم جلال آباد سے نکل پڑا۔

 

یہ دن فروری کے آغاز کے تھے۔ بنگلے کے دائیں طرف کھڑے پیپل کے پتے مسلسل گرتے رہنے سے سڑک پر زردی بکھر چُکی تھی۔سڑک کچی تھی لیکن اُس پر اینٹوں کے بھٹے سے بچ جانے والی پکی اینٹوں کی ملی جُلی کیری اور ریت پوری سڑک پر دور تک پھینکی گئی تھی تا کہ گرد نہ اٹھ سکے۔ یہ سُرخ رنگ کی کیری کمپلیکس سمیت جلال آباد شہر کی قریباًتمام سڑکوں پربھی ڈال دی گئی تھی جو وافر مقدار سے بھٹوں سے مل جاتی تھی۔ روز کی روز اُن پر ماشکی چھڑکاؤ بھی کر دیتے۔جس کی وجہ سے مٹی بیٹھ جاتی۔ اس سڑک پر بھی صبح ہی ماشکی چھڑکاؤ کر کے جا چکا تھا۔ بلکہ تحصیل کا بڑا صاحب ہونے کی وجہ سے ولیم کے گھر کو جانے والی سڑک پر چھڑکاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا۔ آج ہوا قدرے تیز اورٹھنڈی چل رہی تھی۔ اس لیے ولیم نے نکلتے وقت گلے میں مفلر بھی لپیٹ لیا۔ جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑا تو مضافات میں کچھ کچھ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وسطی پنجاب کے بر عکس یہاں درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لیے نظر دُور تک چلی جاتی تھی اور جیسے ہی جیپیں جلال آباد سے دور ہونا شر وع ہوئیں۔ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت بھی کم ہونا شروع ہو گئے۔جب جلال آباد چار میل پیچھے رہ گیا تو ہر طرف ویرانی ہی ویرانی نظر آنے لگی۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کے بجائے دو رویہ سرکنڈوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ تھے۔ جن سے کبھی خرگوش اور کبھی گیدڑ یا سؤر جیپوں کے شور سے اچانک نکل کر بھاگ اُٹھتا اور کبھی کانٹوں والی سیہہ سڑک پر جیپ کے آگے آگے تھوڑی دُور تک دوڑ کر دوسری طرف غائب ہو جاتا۔ سورج جیسے جیسے بلند ہو تا جا رہا تھا، سڑک کی گرد جو رات میں پڑنے والی اوس سے جم چکی تھی،وہ غبار بن کر اُٹھنے لگی۔ حتیٰ کہ جیپوں کے پیچھے دھویں اور گردو غبار کے بادل سے چڑ ھ جاتے اور پیچھے کی طرف دیکھنے سے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ قافلہ ٹوٹیانوالہ،بدھو کے اور جمالکے سے ہوتا ہوا آگے فاضلکا بنگلہ کی طرف بڑھتاگیا۔

 

ولیم بڑی گہری نظروں سے اِس پورے علاقے کا جائزہ لیتا ہوا جا رہاتھا۔ سڑک پر ریت اور مٹی کی ملی جُلی گرد تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس پورے علاقے پر دریا کا کافی اثر تھا۔ اِس وجہ سے کہیں کہیں کیکر اور بہت زیادہ عک، کریر اور ون کے درخت تھے۔ان کیکروں اور جھاڑیوں کے علاقے میں جگہ جگہ چرواہے اپنی بھیڑوں اور بکریوں کے ساتھ بکثرت نظر آ رہے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں کاپے اور کاندھوں پر کلہاڑیاں تھیں۔ان کے ذریعے وہ بلند کیکروں کی شاخیں کاٹ کر اُتارتے۔ جن سے ان کی بکریاں تمام پتے اور نرم کونپلیں اس طرح صاف کر جاتیں جیسے کسی مرغی کی کھال کھینچ لی گئی ہو۔ ان چرواہوں کی سادگی اور اپنے حال میں مست رہنے کی کیفیت دیکھ کر ولیم متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ پاؤں میں عموماً چمڑے کے پھٹے پُرانے جوتے اور سر پر ایک چھوٹا سا پٹکا نظر آتا تھا۔ یہ چرواہے اور ان کی بھیڑ بکریاں تھوڑی دیر تک ولیم کی جیپ کو حیرانی سے کھڑے دیکھتے رہتے،اُس وقت تک جب تک وہ اُن کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔بکریوں کی حیرانی دو چند ہوتی تھی کہ اُن کے منہ میں گھاس یا شاخ کی پتی بھی وہیں رک جاتی اور منہ اور آنکھیں دیر تک کھلی رہتیں۔ ظاہری ہیئت سے پتا چلتا تھا کہ یہ چرواہے زیادہ تر مسلمان تھے۔ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ایک ایک یا دو دو میل کے بعد نظر آ رہی تھیں۔ ان آبادیوں کے لوگ بھی کہیں ننگ دھڑنگ بچے، کہیں عورتیں یا مرد جیپوں کو پاس سے گزرتا دیکھ کر حیرت سے تکنے لگ جاتے۔ کوئی بھی آبادی چالیس یاپچاس گھروں سے زیادہ نہیں تھی بلکہ اکثر اس سے بھی کم پانچ دس جھونپڑوں پر ہی مشتمل تھیں۔ ولیم اس پورے ویران اور غیر سبز علاقے کو دیکھتا اور سوچتا جا رہا تھا کہ یہ لوگ کیا کماتے اور کیا کھاتے ہوں گے۔ اُسے ان غریب آبادیوں پر ترس آنے کے ساتھ ساتھ وحشت ہو رہی تھی،جنھیں کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کس حکومت کی رعایا ہیں اور اُن کے کیا حقوق ہیں اور کتنے فرائض ہیں۔ کبھی کبھی اس ویرانی میں دو چار سبز کھیت بھی نظر آ جاتے تھے،جو رہٹ یا بارش کے لطف کا نتیجہ تھے اور حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ سکول اور مدرسے کا تو دُور دُور تک نام ونشان نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،کاش حکومت برطانیہ دولت سمیٹنے کے علاوہ بھی کچھ کام کر سکتی۔ اُسے اِس علاقے کا بنجر پن دیکھ کر وحشت ہونے لگی۔ وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا اور یہاں کے سابقہ ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو کوسنے لگا،جنھوں نے کبھی یا تو اپنے دفتر سے نکل کر دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی یا اگر دیکھا بھی تھا تو وہ کسی بھی احساس سے عاری تھے۔ انہوں نے ان لوگوں کی حالت پر کبھی غور نہیں کیا تھابلکہ ان کے لیے کچھ کرنا تو دُور کی بات تھی،سوچا بھی نہیں ہو گا۔

 

ولیم خیالات کی اسی رو میں گم تھا کہ اُسے ایک ٹیلے پر قصبہ نما گاؤں دکھائی دیا جس کی طرف دو تین گَڈے بھوسے اور چارے سے لدے جارہے تھے۔جن کے آگے بیل جُتے ہوئے تھے۔ان گَڈوں کی خصوصیات یہ تھیں کہ پہیوں سے لے کر ہر چیز لکڑی کی تھی۔لکڑی کے بڑے بڑے پہیے چلتے ہوئے ایسی آواز پیدا کر رہے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کو کھینچنے کے لیے کسی دیو کا کلیجہ چاہیے۔جنہیں بچارے بیل محض اپنے جانور پن کی وجہ سے کھینچے لیے جا رہے تھے۔یہ سراسر جانوروں کے ساتھ ظلم تھا لیکن یہ گڈے ہی وہاں کی مقبول ترین اور مقامی ترکھانوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی بار برداری کی سستی شے تھی۔ اسے چلانے کے لیے صرف دوبیل اور ایک کسان چاہیے ہوتا۔جس کے لیے ضروری نہیں تھا کہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہو۔ بلکہ اُسے ایک چار سال کا بچہ بھی بغیرتجربے کے ہانک کر لے جا سکتا تھا۔ بس وہ گڈے پر بیٹھ سکتا ہو۔ ولیم نے دلبیر سے کہا، دلبیر سنگھ اس قصبے میں جیپ روک دو۔ دلبیر سنگھ نے گاؤں میں داخل ہونے سے چند قدم دُور ہی جیپ روک دی۔ولیم کی جیپ کے پیچھے دوسری دونوں جیپیں بھی آ کر رُک گئیں۔ گاؤں کے ارد گرد ہرے بھرے کھیت لہلہا رہے تھے، جن میں زیادہ تر مکئی، باجرا، گوارہ اور چنے کی فصلیں تھیں۔ ان فصلوں کو دیکھ کر ولیم کو ایک گونہ مسرت اور حوصلہ ہوا۔

 

مالیکم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا، سر اس گاؤں کا نام تارے والا ہے۔ قدرے بڑی آبادی ہے اور زراعت میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تیس فیصد مسلمان ہیں، چالیس فیصد کے قریب سکھ ہیں، بیس فی صد ہندو اور باقی چوہڑے ہیں۔ یہاں پر ایک پرائمری سکول بھی موجود ہے۔
گڈ، ولیم بولا، ہم کچھ دیر اس گاؤں کو دیکھنا چاہیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم گاؤں کی طرف چل دیا۔ کچھ لوگ جیپوں کے رُکتے ہی جمع ہو گئے تھے۔ مگر اب تماشا دیکھنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ خاص کر بچوں کا جوش اور حیرانی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔گاؤں کے مکان زیادہ کچے ہی تھے۔ دو چار پکے مکان بھی تھے مگر وہ بھی ایسے خاص پکے نہ تھے۔ ولیم اور دس دوسرے ملازمین جیسے ہی گاؤں کی طرف بڑھے، مرد، خواتین اور بچے گاؤں کی چوڑی اور کھلی گلیوں میں دو رویہ کھڑے ہو گئے۔ بعض کھسر پھُسر کر کے ایک دوسرے کو سوال بھی کرنے لگے۔ کچھ ڈرے اور سہمے ہوئے بھی تھے۔ غالباً پولیس افسر اور سنتریوں کی وجہ سے یہ کیفیت تھی۔ ولیم کو گاؤں والوں کی حیرانی اور ہیجانی کیفیت سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ اِس سے پہلے انگریز افسروں نے کبھی گاؤں میں قدم رکھا بھی ہو گا تو صرف اُن کی گوشمالی کے پیش نظر، اسی لیے اکثر ڈرے ہوئے تھے۔ گلیاں اس قدر کھلی تھیں کہ پچاس فٹ کی ضرور تھیں۔ انہی گلیوں میں جگہ جگہ پر گدھے اور بھینسیں بندھی تھیں جن کے آگے چارہ بغیر کُترے،لمبے لمبے مکئی، چری اور باجرے کے ٹانڈوں کی شکل میں اکثر چبایا ہوا پڑا تھا۔ بعض جانور اُنہی چبائے ہوئے ٹانڈوں کو بار بار چبا رہے تھے۔ اُس کے پتے وہ کھا چکے تھے۔گدَھوں کے سامنے چاولوں کے باریک چھلکے ڈھیر ہوئے پڑے تھے، جنھیں وہ شوق سے کھا رہے تھے۔ ولیم گزرتے ہوئے ایک گدھے کے پاس پہنچا تو وہ اچانک ہینکنے لگا، جس سے ولیم ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹا۔ اُسے ڈرتے ہوئے دیکھ کر بچے ہنس دیے اور وہ کھسیانا سا ہو کر آگے بڑھ گیا۔ پورا گاؤں کھیتوں کی نسبت بلندی اور ریتلی زمین پر تھا۔اس وجہ سے نہ تو وہاں بارش کے پانی کے آثار تھے اور نہ ہی گندگی نظر آئی۔البتہ درختوں کی یہاں بھی کمی تھی۔ کہیں کہیں کسی گھر کے صحن میں ٹاہلی یا نیم کا پیڑ ضرور نظر آ رہا تھا۔ مالیکم ولیم کو اس گاؤں کے متعلق اپنی معلومات دے رہاتھاجس کا مطلب تھا وہ یہاں پہلے بھی آچکا ہے۔

 

سر، یہاں ایک مسجد، ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی ہے، یہ گاؤں اصل میں نواب سر شاہنواز ممدوٹ کی ملکیت ہے اور انھی چوراسی گاؤں میں سے ایک ہے جو اُن کی ملکیت ہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر محنتی اور جفاکش ہیں۔ ان کو تحصیل جلال آباد ہی لگتی ہے مگر ان کی آمدورفت اور خرید و فروخت تحصیل مکھسر میں رہتی ہے۔ نواب صاحب یہاں کبھی کبھار آتے ہیں۔ یہ جو کچھ اُسے حصہ دیتے ہیں،وہ لے کر چلتا بنتا ہے۔ ادھر اُدھرکھیتوں میں جو رہٹ لگے ہوئے ہیں،یہ سب اُسی نے لگوا کر دیے ہیں۔ گورنمنٹ ان علاقوں پر توجہ اس لیے نہیں دیتی کہ ان کے ذمہ دار نواب صاحب ہیں اور وہ خود دلچسپی کم لیتے ہیں۔ یہاں کے سکول میں بچوں کی تعداد تیس ہے۔

 

مالیکم اس طرح معلومات دیے جا رہا تھا جیسے یہ کوئی نیا ملک تھا جس پر انگریز سرکار حملے کا منصوبہ ترتیب دے رہی ہو۔

 

لوگوں کی تعداد میں تماشائیوں کی صورت کا فی اضافہ ہو چکا تھا جن میں اب مردوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔مردو ں کی طرح اکثر عورتوں نے بھی دھوتیاں باندھی ہوئی تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سی بڑی بوڑھیوں کے کگھرے بھی بندھے تھے، جن کے گھیرکا پھیلاؤ کم از کم تین گز تک تھا۔اُنہیں دیکھ کر ولیم کے ذہن میں ایسے ہی ایک خیال آیا کہ اتنے کپڑے سے تو دومیموں کا لباس بن جائے۔یہ بوڑھیاں کتنا کپڑا ضائع کرتی ہیں۔

 

ولیم گاؤں کے چوک میں پہنچا تو عجیب سرشاری میں چلا گیا۔چوک بہت ہی بڑا سو مربع میٹر میں پھیلا ہوا تھا۔جس کے عین درمیان میں غلہ پیسنے والا خراس تھا۔ پتھر کے اُوپر نیچے دو بڑے بڑ ے بھاری پُڑ گھرر گھرر کرتے گھوم رہے تھے۔ اتنے بھاری خراس کو چلانے کے لیے ایک اونٹ مسلسل دائرے میں چل رہاتھا، جس کے کوہان کے ساتھ خراس کے آنکڑے بندھے تھے اور آنکڑے کے آخری سرے پر چوڑی تختی پر ایک آدمی بیٹھا اُونٹ کو ہانکتا جاتاتھا۔ اس طرح اونٹ کے دائرے میں گھومنے سے پتھر کے پُڑ گھومتے تھے۔ بالائی پتھر میں ایک سوراخ تھا جس میں غلہ یا گندم متواتر تھوڑی تھوڑی کر کے ڈالی جا رہی تھی، جو آٹا بن بن کر نیچے بوریوں میں گرتا جاتا۔ولیم نے ایسا منظر پہلی دفعہ دیکھا تھا، اس لیے دلچسپی سے دیکھنے کے لیے وہاں کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر اُس منظر کو دیکھنے کے بعد ولیم آگے چل دیا۔ اس چوک میں دو چار درخت بھی،بیری اور ٹاہلی کے کھڑے سایہ دے رہے تھے۔ یہ دن سردیوں کے تھے اس لیے کسی نے بھی اُن کے سایے کی طرف دھیان نہیں دیا۔ چوک کے مشرقی کونے میں مسجد تھی۔اُسے ولیم نے دُور ہی سے دیکھنے پر اکتفا کیا۔ مغرب کی طرف ذرا ایک دوسری گلی میں گوردوارہ بھی تھا۔ مندر کہیں دکھائی نہ دیا۔ اب آگے آگے ولیم چل رہا تھا، اُس کے پیچھے ماتحت عملہ اور اُن کے پیچھے تماشا دیکھنے والے چھوٹے بڑے لوگوں کا پورا مجمع تھا۔ اُن کا ڈر مکمل طور پر دور ہو چکا تھا۔ اس لیے پیچھے پیچھے آنے والوں کی آوازیں اب شور کی صورت اختیار کرتی جارہی تھیں۔ بچوں کا کوئی بھی مخصوص لباس نہیں تھا۔کچھ نے محض نیکریں پہنیں ہوئیں تھیں۔ بعض دھوتی قمیض میں تھے اورکچھ ویسے ہی الف ننگے چھڑنگیں مارتے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔نہ اُنہیں سردی کی پرواہ اور نہ ہی اُن پر سردی گرمی کے موسموں کا اثر تھا۔ یہ سب ولیم سے دُور دُور ہی تھے۔ ولیم نے پاس ہی کھڑے ایک شخص سے سکول کے بارے میں پوچھا تو اُس نے گاؤں کے دوسرے کونے کی طرف اشارہ کیا اور بھاگ کر پُھرتی سے آگے آگے چل دیا۔ گویا وہ انھیں وہاں تک پہنچانے کا پابند ہو گیا ہو۔

 

وہ شخص اُنھیں ایک بہت چوڑی گلی سے گزارتے ہوئے ایک جگہ لے گیا جہاں تین چار درخت ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔ اُن سے تھوڑا ہٹ کے چار ٹولیوں میں تیس پینتیس کے قریب لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک بڑا سا کمرہ تھا اور بس۔ اِس کے علاوہ وہاں نہ کوئی دوسرا کمرہ تھا نہ کہیں چار دیواری کے نشان تھے اور نہ ہی اُستاد نظر آ رہا تھا۔ ولیم پاس پہنچا تو سب بچے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اکثر بچوں نے پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ یہ سب زمین پر بغیر ٹاٹ یا کپڑا بچھائے بیٹھے تھے۔ اُسی شخص نے آگے بڑھ کر ایک بچے سے پوچھا،پُتر، ماشٹر موتی لال کدھر ہے؟ بچے یک زبان بول اُٹھے، وہ ہگنے گیا ہے۔ ولیم جب اُن کے جوا ب کو سمجھنے سے قاصر رہا تو اُسی دیہاتی شخص نے ولیم کوسمجھاتے ہوئے کہا، صاحب بہادر،ماسٹر جی جھاڑا کرنے گئے ہیں۔ ولیم پھر بھی کچھ نہ سمجھا تو اُس نے کچھ اور وضاحت کی،جی میرا مطبل ہے مُنشی جی جنگل کرنے گیا۔یہ بات ولیم کے لیے مزید پیچیدہ ہو گئی کہ سکول کی بجائے وہ جنگل میں کیا کرنے گیا ہے۔اس کشمکش کو دیکھتے ہوئے بیر داس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا،سر یہ کہہ رہا ہے،ماسٹر موتی لال لیٹرین میں گیا ہے۔ ولیم یہ جان کر مسکرا دیا۔

 

ولیم پڑھنے والے بچوں اور سکول کی حالت دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گیا کہ یہ بچے بھی کیا پڑھتے ہوں گے؟ اُس نے بیرداس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بیرداس کیا آپ بھی اسی طرح کے سکولوں میں پڑھتے رہے ہیں؟

 

سر وہ ذرا اِن سے بہتر تھے، مگر کچھ اسی طرح کے تھے، بیر داس نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔

 

اتنے میں ایک شخص بھاگتاہوا کھیتوں کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ اُسے دیکھ کر بچے ایک دم بول اُٹھے، وہ آگئے ماشٹر جی، آگئے۔

 

بیرداس نے سب بچوں کو بیٹھنے کا کہا۔ اتنے میں ماسٹر موتی لعل دھوتی اور پگڑی دُرست کرتا اور ہانپتاہوا پاس آ یا اور دونوں ہاتھ باندھ کر ولیم کو سلام کرکے کھڑا ہو گیا۔اُسے ولیم کے عہدے اور اتھارٹی کا تو با لکل پتا نہیں تھا۔ البتہ اتنا ضرور باور ہو گیا کہ فرنگی ہے تو کوئی بڑا افسر ہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری روزی روٹی کا بھی اختیار ہو گا۔ بچے بالکل سہمے ہوئے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ کیونکہ جس قدر اُن کا ماسٹر ڈرا ہوا تھا اُس سے بچوں کو معلوم ہوا کہ کوئی بہت ہی بڑا افسر آیا ہے۔ ولیم نے آگے بڑھ کر موتی لعل سے کہا :موتی لعل، یہاں کتنے اُستاد ہیں؟

 

موتی لعل ہاتھ باندھے ہوئے “سرکار میں ایک ہی ہوں”۔
بچے کتنے ہیں؟
سرکار چالیس ہیں
اور بھاگ کر کمرے سے ایک رجسٹر لے آیا۔ پھراُس کو کھول کر ولیم کے سامنے کر دیا۔
یہ سب بچے اسی گاؤں کے ہیں؟

 

ناں سرکار، اس گاؤں کے تو صرف بارہ بچے ہیں۔باقی ادھر اُدھر کے گاؤں سے آتے ہیں۔
کیوں؟ اس گاؤں میں صرف بارہ ہی بچے ہیں۔ گاؤں تو کافی بڑا نظر آتاہے۔
(سہمے ہوئے انداز میں) صاحب بہادر،مسلمان اپنے بچوں کو یہاں پڑھنے نہیں بھیجتے۔
وہ کیوں؟ ولیم نے حیرانی سے پوچھا۔

 

ولیم کے اس سوال پر موتی لعل گھبرا گیا او ر مزید بولنے سے کترانے لگاکیونکہ مسلمانوں کا ایک بڑا مجمع تماشائیوں کی شکل میں سامنے کھڑا تھا۔ اُس بچارے کی ہمت نہیں تھی، اُن کے سامنے کوئی چغلی کی بات کرتا۔ اُسے جھجکتا ہوا دیکھ کر مالیکم آگے بڑھ کر بولا،سر اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے دیہاتوں میں ایسے مولوی کثرت سے ہیں، جو جگہ جگہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے سکولوں میں مت بھیجو کیونکہ پڑھانے والے اکثر ہندو اور سکھ ہیں اور تعلیم نصاریٰ کی ہے۔ وہ انھیں ڈراتے ہیں کہ ان سکولوں میں پڑھنے سے مسلمانوں کے بچے یا تو ہندو اور سکھ ہو جائیں گے یا عیسائی۔ اسی لیے ہمارے سکولوں میں مسلمان بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

“ہوں……” ولیم معنی خیز انداز میں ہنکارا اور اگر سکول ہیں بھی تو اسی طرح کے۔ مگر مالیکم آپ نے یہ بات پہلے مجھے نہیں بتائی۔یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تُلسی داس نے بھی سرسری پہلے اسی طرح کی کوئی بات کی تھی۔ ہم کیوں ان بچوں کے لیے مسلمان ٹیچر کا بندوبست نہیں کرتے۔ فوراً تلسی داس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کرو، خیر اس معاملے پر بعد میں بات کرتے ہیں اور یہ کیا ہے؟ ولیم کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

 

سرکار یہ گورنمنٹ کے سکول کی عمارت ہے، موتی لعل نے پہلو میں چلتے ہوئے کہا۔
ولیم کمرے میں داخل ہوا تو چکرا سا گیا۔ وہاں صرف خالی دیواروں پر نہائت بوسیدہ چھت تھی،جو بجائے آنکڑوں کے،سرکنڈوں کے گٹھوں سے تیار کی گئی تھی اور اب اُس میں بھی جگہ جگہ چھید نظر آرہے تھے۔کمرے کو ایک دروازہ لگا ہوا تھا۔اس کے سوا نہ وہاں ڈیسکیں تھیں، نہ کرسی، نہ میز اور نہ خدا کی بھری پُری کائنات میں سے کچھ اور چیز،جو اُس تیس ضرب پندرہ فٹ چار دیواری میں موجود ہوتی۔

 

ولیم نے اس طرح کے سکول کب دیکھے تھے اور نہ ایسے سکول ماسٹر جن کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ تھا اور نہ کوئی شکایت۔ ولیم کو شک ہوا کہ شاید اُسے تنخواہ بھی ملتی ہے کہ نہیں۔ اس شبے کو دُور کرنے کے لیے اُس نے آخر موتی لعل سے پوچھ لیا،موتی لعل آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟

 

موتی لعل بولا، حضور آپ کے سایہ اقبال سے پچیس روپے ماہ بہ ماہ مل جاتے ہیں۔
اور ان بچوں کو پڑھاتے کیا ہو؟ ولیم کو حوصلہ ہوا کہ چلو خیر سے ایک کام تو ہو رہاہے۔
سرکار سب ہی کچھ پڑھاتاہوں، موتی لعل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ریاضی، ابتدائی انگریزی، اردو، فارسی، تاریخ اور تھوڑا بہت جغرافیہ۔ بس سرکار پانچویں تک یہی کچھ ہے۔ آپ کچھ بھی اِن بچوں سے پوچھ سکتے ہیں سرکار۔

 

ٹھیک ہے موتی لعل،ہمیں آپ پر اعتماد ہے اور کمرے سے باہر آتے ہوئے مالیکم سے مخاطب ہو کر، مسٹر مالیکم میرا خیال ہے،یہ مسئلہ آب پاشی کے نظام سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ کیا آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں؟ہمیں اس مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔
یہ کہتے ہوئے ولیم واپس مُڑا۔ولیم کے واپس ہوتے ہی مجمع ایسے چھٹ گیا جیسے کسی نے دھویں کا شیل مارا ہو۔پلک جھپکتے میں راستہ صاف ہو گیا اور ولیم اُسی راستے چلتا ہوا اپنی جیپ تک آگیا۔

 

سچ بات تو یہ تھی کہ ولیم کو ایسے تعلیمی نظام کا بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر بہت رنج ہوا۔ اُس پر ایک بددلی کی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ جلدی سے پلٹ کر اپنی جیپ کے پاس آیا۔ دلبیر سنگھ نے رولر پر رسا پہلے ہی چڑھا رکھا تھا۔ اُس نے ایک ہی جھٹکے سے رسا کھینچ کر جیپ کو اسٹارٹ کر دیا۔ اُس کے فوراً بعد ہی دوسری دونوں جیپوں کے رسے بھی با لترتیب کھینچ دیے گئے۔اور یکے بعد دیگرے جیپیں روانہ ہو گئیں۔ گاؤں کے تماش بین وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔انُھیں اتنے افسروں کا اس گاؤں میں آنے اور اُسی طرح خالی ہاتھ چلے جانے پر تعجب ہو رہا تھا۔ نہ کسی کی سرزنش ہوئی، نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی لگان،ٹیکس یا کسی اور قسم کا مطالبہ یا فوج میں بھرتی کا اعلان ہوا۔اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کس قسم کا انگریز تھا ا ور انگریز پولیس کا دورہ تھا۔

 

اُنھیں اسی حیرانی میں چھوڑ کر ولیم اور اس کا عملہ آگے بڑھ گیا۔ گاؤں میں کافی وقت صرف ہو گیاتھا اور اب گیارہ بج چکے تھے۔ جیپ کچی سڑک پر دوڑتی جا رہی تھی۔ اُس کے ٹائروں کی موٹی گُڈیاں گرد اُٹھا اُٹھا کر پیچھے آنے والی جیپوں پر پھینک رہی تھیں۔جن میں پولیس کے تھانیدار، سنتری اور دفتر کا دیسی عملہ آ رہا تھا۔ جیپ کی رفتار کے ساتھ ساتھ ولیم کا دماغ بھی دوڑ رہا تھا۔ اب اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس کے کاندھوں پر کِس قدر بھاری ذمہ داری تھی۔ پورے علاقے کی معا شی اور تعلیمی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور اُس پر لڑائی فساد اور ڈکیتی کے کئی واقعات، سینکڑوں مسائل تھے۔ خاص کر دیہاتی علاقوں کی کسمپرسی دل دہلا دینے والی تھی۔ کرنے کے بہت سے کام تھے اور وسائل کم۔لیکن اگر وہ ان سب کو نظر انداز کر کے سابقہ افسروں کی طرح دفتر میں بند ہو جائے تو سب کچھ خود بخود آسان تھا۔ یہ سوچ کر اُس نے جُھرجھری لی، یہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ اب تو ہندوستان اُس کا اپنا ملک تھا۔ پچھلی چار نسلوں سے اُس کا خاندان اِسی کی مٹی سے اپنا رزق اٹھاتا رہا اور اب تو اُس کی رگوں میں دوڑنے والا خون یہیں کے پانی اور سبزے سے تیار ہوا تھا۔ اُسے لندن سے صرف اتنی ہمدردی تھی جتنی ڈیڑھ سو سال کے مہاجرین کی نسلوں کو اپنے سابقہ وطن سے ہو سکتی ہے۔ ولیم نے اپنی زندگی کے بیشتر سال لاہور کے مال روڈ اور منٹگمری کی نہروں کے کناروں پر دوڑتے ہوئے گزارے تھے۔ اُس نے سوچا اُس کا دادا یہیں پیدا ہوا، باپ نے یہیں پر جنم لیا اور وہ خود اسی مٹی سے پھوٹا۔اب کون ہے، جو اُسے کہے کہ ہندوستان اُس کا اپنا ملک نہیں ہے۔وہ ہر حالت میں یہیں رہے گا اور انہی لوگوں کے لیے کام کرے گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

 

جیپ کے مسلسل دوڑتے چلے جانے سے اُس کے خیالات میں بھی تسلسل پیدا ہو گیا۔ دل ہی دل میں بہت سے منصوبے بنانے لگا، تعلیم، زرعی سٹرکچر، سڑکیں،پُل،عدل و انصاف اور شہری آبادیوں کا قیام۔ انہی خیالی منصوبوں کے دوران وہ جلال آباد کی تحصیل کو ہرے بھرے کھیت، باغات، خوشحال گاؤں اور ان کے اندر جگہ جگہ تعلیمی مرکزوں کو دیکھنے لگا۔شاید وہ بنگلہ فاضل کے پہنچنے تک اسی رَو میں بہا جاتا مگر اچانک جیپ کے بریک لگے اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ چونک گیا۔

 

دلبیر سنکھ نے جیپ روکتے ہی چھلانگ لگائی۔ اُس کے ساتھ ہی ڈیوڈ اور جوزف بھی نیچے اُتر کر سڑک کے دائیں کونے پر لیٹے ہوئے سؤر کو دیکھنے لگے، جو اچانک مکئی کے کھیت سے نکل کر اور سرکنڈوں کی باڑ عبور کر کے سڑک پر آتے ہی جیپ سے ٹکرا گیا تھا اور اب مرنے کے لیے ہونک ہونک کر سانس لے رہا تھا۔ اتنے میں پچھلی دونوں جیپوں کے سوار بھی اُتر کر وہیں آ کھڑے ہوئے۔

 

سؤر کی ٹانگ کو ہلاتے ہوئے دلبیر سنگھ بولا، صاحب جی ذرا دیکھیں مِرگی پینا کیسے ادھوانے کی طرح پھولا ہوا ہے؟ گُلیاں کھا کھا کے چربی چڑھی ہوئی ہے۔ پورے دو من گوشت ہو گا۔
اتنے میں تحصیدار مالیکم بھی پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اُسے دیکھنے لگا۔ ڈیوڈ، جوزف، مالیکم سب جی ہی جی میں خوش ہونے لگے کہ غیب سے کیا عمدہ گوشت مفت ہاتھ آ گیا ہے۔ جوزف سنتریوں کو کچھ حکم دینے ہی لگا تھا کہ ولیم نے آگے بڑھ کر دلبیر کو مخاطب کیا، دلبیر! اسے اُٹھا کر اُدھر پھینک دو اور آگے بڑھو۔

 

ٍولیم کے اس حکم کو سن کر تمام سنتری اور انگریز آفیسر حیران رہ گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ کوئی بولتا، ولیم نے غصے سے دلبیر کی طرف دیکھا جو تذبذب میں کھڑا دوسرے افسروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ولیم کو اِس طرح اپنی طرف دیکھتے ہوئے دلبیر سنگھ مٹی اور گرد میں اَٹے اور ہونکتے ہوئے سؤر کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچے لگا،جِسے دیکھ کر ایک سنتری اور آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اتنا موٹا تازہ گوشت ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کر مالیکم سے نہ رہا گیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا، سر آپ کیا کرتے ہیں؟یہ سؤر ہے،آپ اسے پھینک رہے ہیں۔ ہم اسے جیپ میں ڈال کر بنگلہ فاضلکا میں لے چلتے ہیں۔وہاں مزے سے رات کٹے گی۔
ولیم نے بے پروائی سے اپنی جیپ کی طرف مڑتے ہوئے کہا، لیکن مجھے اس کا گوشت پسند نہیں۔

 

تو سر آپ نہ کھائیں ہم کھا لیں گے،مالیکم نے زور دیتے ہوئے کہا،پھر دلبیر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے” دلبیر اِسے پچھلی جیپ میں رکھ دو۔

 

اس سے پہلے کہ دلبیر سنگھ اور معاون سنتری مالیکم کا حکم مانتے، ولیم نے ڈانٹ کر دلبیر کو حکم دیا، دلبیر سنگھ میں نے کہا ہے اِسے پھینکو اور آکر جیپ میں بیٹھو (پھر مالیکم کی طرف منہ کر کے) مالیکم صاحب،میں جانتا ہوں،آپ لوگوں کو سؤر بہت پسند ہے لیکن آج تو بہرحال میں آپ کو یہ نہیں کھانے دوں گا۔ مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔ جب اکیلے ہوں تو شوق سے کھایئے گا۔آپ جلدی سے جیپ میں بیٹھیں، میں آپ کو بنگلہ میں جا کر اپنی طرف سے بھیڑ کا گوشت کھلاؤں گا۔ فی الحال جلدی کریں،ہمیں بہت سے کام نپٹانے ہیں۔ ولیم کے اس دو ٹوک فیصلے پر مالیکم کو تھوڑی سی کوفت ضرور ہوئی مگر وہ پھر ہلکا سا مسکرا کر جیپ میں ولیم کے پہلو میں آ بیٹھا اور دلبیر سنگھ نے جیپ دوبارہ گیئرمیں ڈال کر اُسے سرپٹ دوڑانا شروع کر دیا۔

 

ولیم نہایت سنجیدگی سے بیٹھا ہوا ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف منصوبوں پر غور بھی کر رہا تھا۔ ولیم کی اس قسم کی سنجیدگی کی وجہ سے مالیکم، جوزف اور ڈیوڈ نے اپنا رویہ نہایت محتاط کر لیا۔جیپیں چک پکھی کو کراس کر گئیں اور اب اُن کا رُخ فاضلکا میلوٹ روڈکی طرف تھا۔ مالیکم اب کی بار زیادہ گفتگو کرنے کی بجائے صرف مختلف جگہوں کے نام بتاتا گیا۔چک پکھی سے آگے کی ڈھاریاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آنے لگیں اور ولیم کو یہ دیکھ کر کچھ حوصلہ بھی ہوا کہ یہاں کے علاقے کافی حد تک سر سبز تھے۔ آتے جاتے راہگیر جو زیادہ تر گدھوں اور گَڈوں پر چارہ اور غلہ وغیرہ لادے چل رہے تھے، اُن کی حالت بھی کچھ بہتر تھی۔ سامی والا سے بناں والی اور وہاں سے عامی والا کو پیچھے چھوڑتی ہوئی جیپیں جیسے ہی شیخ سبحان میں داخل ہوئیں تو ولیم کو گاؤں کے مغربی کونے پر باغ کے کنارے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ ولیم نے دلبیر سنگھ کو حکم دیا، دلبیر یہاں جیپ کو روک دو۔

 

اس گاؤں کا منظر ولیم کو انتہائی دلکش لگا۔ گاؤں بہت ہی چھوٹا تھا مگر سر سبز فصلوں اور درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ دلبیر سنگھ نے جیسے ہی باغ کے پاس جا کر جیپ روکی، لوگوں کی توجہ فوراً جیپوں کی طرف ہو گئی۔ وہ سب حیرت سے انھیں دیکھنے لگے۔ ولیم کے ساتھ دوسرا تمام عملہ بھی جیپوں سے اُتر کر مجمعے کی طرف بڑھنے لگا۔ پولیس اور انگریزی اور دیسی افسروں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر لوگ گھبرا گئے۔ وہ ڈر کر تتر بتر ہونے لگے اور بھاگ بھاگ کر چھپنے کا بندوبست کرنے لگے۔کچھ بھاگ کر باغ میں چلے گئے۔ باغ امرود اور مالٹے کے ملے جلے پودوں سے نہایت ہرا بھرا اور پھلوں سے لدا پھندا بہاریں دے رہا تھا۔ ساتھ ہی دو رہٹ چل رہے تھے جنھیں بیلوں کی جوڑیاں چلا رہی تھیں۔ بیلوں کے مسلسل دائرے میں گھومنے سے کاریز کی ٹینڈیں کنویں سے صاف اور شفاف پانی بھر بھر کر نالیوں میں انڈیلتی جاتیں، پھر یہ پانی چنے اور گندم کی فصلوں کے درمیان سے ہوتا ہوا باغ کی کیاریوں میں بچھا جاتا۔ ولیم یہ سارا منظر دیکھ کر ایک دفعہ تو پچھلی تمام کوفتیں بھول گیا۔ اُسے فروری کے سرد دنوں میں مشرقی پنجاب میں ایسی کسی جگہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ وہ اس سارے منظر کو دیکھتا ہوا جب بھاگے ہوئے مجمعے میں سے اُن چند لوگوں کے قریب آیا جو یا تو بھاگنے سے معذور تھے یا اُنہیں کسی قسم کا ڈر نہیں تھا، تو اُس پر کھلا کہ دراصل کچھ لوگ بانک اور پلتھاکھیلنے میں مصروف تھے۔ باقی سب لوگ اُن کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ مجمعے میں زیادہ تر سکھ اور مسلمان شامل تھے۔ ولیم کو دیکھ کر پلتھا بازوں نے کھیل رو ک دیا۔ انھیں ڈر ہوا شاید انگریز صاحب بہادر کو اُن کا یہ کھیل حکومت کے خلاف ایک سازش لگا ہے اور وہ یہاں چھاپا مارنے آیا ہے۔ انہوں نے جلدی سے اپنی ڈانگیں اور گتکے چھپادیے تھے۔ اُنھیں اس قدر گھبرایا دیکھ کر ولیم نے بیر داس سے کہا، بیر داس انھیں مطمئن کرو کہ ہم ان کا کھیل دیکھنے کے لیے رُکے ہیں۔وہ اپناکھیل جاری رکھیں، ہم انھیں انعام دیں گے۔

 

ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔ہم بنگلہ فاضل کا جار ہے ہیں۔ تمہارے بانک اور پلتھا بازی کا کھیل دیکھنے اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے یہاں ٹھہریں گے، تم اپنا کھیل جاری رکھو۔ صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی اچھے کھیل کا نظارادے گا، صاحب اُسے اپنے ہاتھ سے انعام بھی دیں گے۔

 

سنتری کا اعلان سُن کر لوگوں اور پلتھا بازوں کی ڈھارس بندھی۔وہ دوبارہ اکٹھا ہونے لگے،۔اس کے بعد دلبیر سنگھ نے کہا، مترو اپنے گھروں سے صاحب کے بیٹھنے کے لیے دوچار منجیاں لاؤ۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم اور دیگر عملہ چار پائیوں پر آرام سے بیٹھ گیا۔ بھاگتے ہوئے لوگ بھی واپس لوٹ آئے اور کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔دو دو سکھ اور مسلمان پلتھے باز جوان میدان میں آ کر اپنی پُھرتیاں دکھانے لگے۔ گتکوں اور ڈنڈوں کے کھڑاک، ٹھکا ٹھک ہونے لگے۔ دوسری طرف دلبیر سنگھ اور دوسرے سنتری کافی اور کھانے کا سامان جیپوں سے نکال کر ولیم اور افسروں کے لیے تیار کرنے لگے۔ پلتھے بازی کے اس کھیل میں ڈنڈوں کی کھڑاک اور اُن کے تیزی سے گھوم کر ایک دوسرے پر پینترے بدل بدل کر وار کرنے سے ولیم محظوظ ہونے کے ساتھ لرز بھی رہا تھا۔ کھیل انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ خطرناک بھی تھا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے واروں کی کاریگری کے متعلق ولیم کسی قسم کا علم تو نہیں رکھتا تھا۔البتہ سکھوں کے ایک دم واہگرو اور مسلمانوں کے یا علی مدد کے نعروں سے اُسے یہ پتہ ضرور چل رہا تھا کہ اس جوڑ میں دراصل کِس کا پلہ بھاری رہا۔ لوگوں کا شور شرابہ اور جوش و خروش اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جب ایک جوڑ کا مقابلہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ ہر جوڑ کو لڑنے کے لیے دس فٹ اونچی لکڑی کے دو انچ سایہ ڈھلنے کا وقت دیا جاتا،جس میں وہ اپنے گتکے عجب عجب انداز کے مطابق ٹانگوں اور بازؤوں اور بغلوں کے اوپر نیچے سے نکال نکال کر چلاتے۔ ہر جوڑ کا مقابلہ ختم ہونے پر دو سکھ سردا ر اور دو مسلمان پلتھے کی سمجھ رکھنے والے اپنا فیصلہ کسی ایک کے حق میں سنا دیتے جس میں اختلاف بالکل پیدا نہ ہونے پاتا۔
ولیم، ڈیوڈ، جوزف، مالیکم یہ کھیل انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ لوگ جو بھاگ کر باغ یا گاؤں میں گُھس گئے تھے اب وہ بھی پلٹ کر آ چکے تھے۔ دلبیر سنگھ نے اسی دوران کھانا اور کافی وغیرہ ولیم اور دوسرے افسروں کے سامنے رکھ دیا۔ اُن کے لیے یہ ایک عمدہ پکنک بن گئی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ کھیل جاری رہا۔ جس میں آٹھ جوڑوں کے مقابلے ہوئے۔ ان میں ایک مقابلہ برابر اور باقی سات میں چارسکھ جوان اور تین مسلمان جوانوں نے جیتے۔ کھیل کے اختتام پر ولیم نے اعلان کیا کہ وہ اس میں شریک تمام جوانوں کو ابھی نقد انعام دینا چاہتا ہے۔ جیتنے والے کو دس روپے اور ہارنے والے کو پانچ روپے اور جو برابر رہے اُنھیں بھی دس دس روپے۔ ولیم کے اس اعلان پر تمام لوگوں نے نعرے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ہر طرف واہگرو اور یا علی مدد کا شور بلند ہونے لگا۔ ولیم حیران تھا کہ یہ دونوں شخص کون ہیں۔ انعام خود اُس نے دیا ہے۔ کھیل میں مختلف ناموں والے حصے لے رہے تھے اور نعرے یا تو واہگرو کے لگ رہے ہیں یا پھر علی مدد کے۔حالاں کہ یہ دونوں یہاں موجود نہیں۔ واہگرو کے بارے میں تو اُسے کچھ معلومات تھیں لیکن یا علی سے آشنائی پہلی بار ہو رہی تھی۔بہرحال کسی سے پوچھے بغیر ہی ولیم نے خیال کیا کہ یہ بزرگ بھی واہگرو کے مقابلے کا کوئی جواں مرد ہوگا۔ولیم نے انعام دینا شروع کیا تو اُس کے نقش قدم پر جوزف، ڈیوڈ، براہم اور مالیکم نے بھی اپنی لاج رکھنے کے لیے جیتنے والوں کو اپنی طرف سے پانچ پانچ روپے دینے کا اعلان کر دیا۔جس کی وجہ سے ایک دفعہ پھر بھرپور نعرہ بازی ہوئی۔ اب ایک دو نعرے انگریز سرکار زندہ باد کے بھی لگا دیے گئے۔جن کو سُن کر ولیم اور انگریز افسروں کو ایک گُونہ مسرت ہوئی مگر اپنے انگریزی وقار کے پیش نظر اُس کا اظہار نہ کرنا ہی بہترخیال کیا۔

 

ساڑھے چار بج چکے تھے اور بنگلہ فاضل کا کافی دور تھا۔ اس لیے یہ صلاح ٹھہری کہ آگے کا سفر مختصر کر کے جلدی سے “بنگلہ فاضل کا” پہنچا جائے۔لہٰذا بستی شیخ سبحان ہی سے دلبیر سنگھ نے جیپ کو دائیں ہاتھ موڑ کر اُس کا رُخ سیدھا بنگلے کی طرف کر دیا۔ جس کا مطلب تھا کہ روہی کے علاقے کا دورہ کل پر ملتوی کر دیا گیا ہے، جو بستی شیخ سبحان سے جنوب میں ریاست بہاول نگر تک اور مغرب میں راجستھان کے ساتھ جا کر ملا ہوا تھا۔ اب شام ہونے میں کچھ ہی دیر تھی اور امید تھی کہ چھ بجے تک وہ بنگلہ پہنچ جائیں گے۔ جہاں ریسٹ ہاؤس میں دن کی تھکن دور کر کے اگلے دن ہیڈ اور نہر کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُس کے بعد اگلا فیصلہ کیا جائے گا کہ دورہ مختصر کرنا ہے یا علاقے میں مزید حالات کو دیکھنے کے لیے سیر کرنے کی ضرورت ہے۔البتہ ولیم کے خیال میں کسی علاقے کا دورہ اُس علاقے کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – نویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(16)

 

متھرا صاحب مجھے پانچ دن کے اندر سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری چاہیے، ولیم اپنی ٹانگیں میز پر بچھا کراور کمر کو کرسی پر لٹا کر متھراداس سے مخاطب ہوا،کیا خیال ہے آپ کا یہ کام ممکن ہے؟ (پھر تھانیدار کی طرف منہ کر کے )کیا یہ بات مناسب تھی بیر سنگھ، جس شخص پر تم چھ دن پہلے تین سو دو کا پرچہ دے چکے ہو۔ اُس کی گرفتاری کے لیے تم چیونٹی بھر نہیں رینگے۔ اس کے لیے کیا میں لاہور سے تھانیدار بلواؤں؟

 

تھانیدار بیر سنگھ کانپتے ہوئے فائل آگے بڑھا کر بولا، سر یہ دیکھیں میں کارروائی کر رہا ہوں لیکن سودھا سنگھ کی گرفتاری تھوڑا سا مشکل کام ہے۔ مقابلے کا خطرہ ہے مگر میں اُسے نہیں چھوڑوں گا۔

 

کیا اس کے بارے میں تم نے ہمیں رپورٹ دی؟ ولیم کالہجہ انتہائی سخت ہو چکا تھا، یا تم سمجھتے ہو سودھا سنگھ کو گرفتار کرناآپ کے معدے کے لیے بُرا شگون ہے کیونکہ غلام حیدر نے تمھارے لیے کبھی دیسی شراب کے مٹکے نہیں بھجوائے حالانکہ تم اُس کے بہت زیادہ حق دار تھے اور سودھا سنگھ کا ایک آدمی اسی کام پر اُس کا تنخواہ دار ہے۔( پھر متھرا کی طرف مخاطب ہو کر) متھرا صاحب ایک بات طے ہے، مَیں یہاں صرف سکھ مسلمان کے جھکڑے چکانے نہیں آیا۔ مجھے اور بہت سے کام ہیں، اُنہی میں سے ایک یہ بھی ہو سکتا ہے۔ سود ھا سنگھ میرے لیے اور بہت سے مجرموں کی طرح ایک مجرم ہے اور بس۔ اگر آپ دونوں یہ کام نہیں کر سکتے تو گورنمنٹ کی طرف سے آپ کو اجازت ہے کچھ اور کام کیجئے۔ گورنمنٹ کوئی دوسرا آدمی حاصل کر لے گی۔

 

بیر سنگھ نے اپنی خاطر اس انداز سے ہوتے دیکھی تو لرز گیا اور کچھ دیر تک سر جھکاکر سوچنے کے بعد ہمت کر کے بولا “سر ہم گورنمنٹ کی بے عزتی نہیں ہونے دیں گے۔ سودھا سنگھ کو اس کی حویلی میں گرفتار کر کے لاؤں گا۔ آپ با لکل فکر نہ کریں۔میں نے سب تحقیق اچھی طرح کر لی ہے۔ وہ اس معاملے میں صاف مجرم ہے۔جما سنگھ نے مجھے مخبری کر کے سب کچھ بتا دیا ہے۔

 

یہ جما سنگھ کون ہے؟ ولیم نے اب کہ کرسی سے اُٹھتے ہوئے پوچھا اور اپنی بیت ٹھوڑی کے نیچے ٹکاکر اُسے میز کا سہارا دے کر کھڑا ہو گیا۔ اب ولیم کے لہجے میں فوراً نرمی آگئی۔وہ جانتا تھا گھی کو تھوڑا سا گرم کیا ہے تو اُس نے برتن کی سطح چھوڑ دی تھی۔اس لیے ولیم نے تھانیدار کے ساتھ شفقت کا سا انداز اپنا لیا تھا، ہمیں یقین ہے بیر سنگھ آپ نے کوئی بہتر تدبیر سوچی ہو گی لیکن جلدی۔

 

ولیم کو نرم پڑتے دیکھ کر تھانیدار کو مزید بولنے کی ہمت ہوئی۔ سر یہ جما سنگھ سردار فوجا سیؤ کا بھتیجا ہے۔ دونوں جھنڈو والا میں ہی رہتے ہیں۔ فوجا سیؤ سردار سودھا سنگھ کے دن رات کا یا ر ہے۔ حملہ کرنے سے پہلے اُس سے بھی مشورہ لیا گیا تھا اور فوجا سیؤ نے اُسے اس کام سے روکا تھا۔ مگر پیت سنگھ اور جگبیر نے اُسے حملہ کرنے پر اُکسایا اور سر، جب آپ جھنڈو والا گئے تھے۔ آپ کے بعد وہاں فوجا سیؤ اور جگبیر کی منہ ماری ہوئی تھی۔ اُنھوں نے فوجا سیؤ کو بے عزت کر کے حویلی سے نکال دیا۔اِسی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے اُس کے بھتیجے نے مخبری کر دی۔

 

تو کیا جما سنگھ کو فوجا سیؤ نے آپ کے پاس بھیجا؟ولیم نے مزید ٹٹولتے ہوئے پوچھا۔

 

ناں سر، وہ تو یہ کہہ رہا تھا اِس بات کی خبر چاچے فوجے کو بالکل نہ ہو کہ مَیں نے آپ کو بتایا ہے، تھانیدار نے اب سر آگے کر کے سرگوشی کے انداز میں کہنے کی کوشش کی جیسے کوئی سُن رہا ہو، اُس نے بتایاہے اِن کے اور بھی بہت خطرناک ارادے ہیں۔ اگر سودھا سنگھ کو جلد نہ پکڑا گیا تو وہ غلام حیدر کو برباد کر دے گا۔ اُسے شیر حیدر پر بڑا وَٹ ہے سرکار۔وہ غلام حیدر سے اُس سب کاحساب چُکانا چاہتا ہے جو شیر حیدر سے اُسے ماتیں ہوئی ہیں۔
ہوں! ولیم دوبارہ کرسی پر بیٹھ کر سوچنے لگا۔

 

ولیم تھانیدار کی معلومات سے متاثر ہوا۔ تھانیدار یہ سب کچھ کبھی نہ اُگلتا اگر ولیم اُس کے ساتھ سخت رویہ اختیار نہ کرتا۔ اُسے تو سردار سودھا سنگھ کی خوشی منظور تھی اور اُس نے جما سنگھ کے بارے میں سودھا سنگھ کو مطلع بھی کرنا تھا۔مگر جما سنگھ کی خوش بختی کہ ولیم نے تھانیدار کو دفتر میں جلد طلب کر کے اُس کی ساری خواہش پر پانی پھیر دیا۔

 

ولیم نے کچھ دیر خموشی کے بعد متھرا اور تھانیدار دونوں کو مخاطب کر کے کہا، آپ دونوں کیس کو فوراً ہینڈل کرو۔ مَیں آپ کو سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے پانچ دن دیتا ہوں۔ اس سے زیادہ میرے پاس وقت نہیں۔ اب آپ جائیں اور دیکھو اگر جما سنگھ کی خبر باہر نکلی تو اُس کے ذمہ دار آپ دونوں ہوں گے۔ گورنمنٹ کا مخبر اُس کی آنکھ ہوتا ہے اور اپنی آنکھ کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

 

متھرا اور تھانیدار سلام کر کے باہر نکلے تو ولیم کچھ دیر تک کرسی پر سر ٹکائے بیٹھا رہا۔ دس پندرہ منٹ بیٹھنے کے بعد کرسی سے اٹھا، سر پر ہیٹ رکھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ ولیم کو کمرے سے نکلتے ہوئے افسروں اور کلرکوں نے دیکھا تو سب مؤدب ہو گئے۔ نجیب شاہ بھاگ کر ولیم کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ ولیم اُسی خاموشی اور بغیر تأثر کے دفتر کی عمارت سے نکل کر سامنے والے گراؤنڈ میں کھڑا ہو گیا اور پوری عمارت کا بغور جائزہ لینے لگا۔ عمارت سُرخ اینٹوں سے تیار کی گئی تھی، جس کے چاروں طرف پچیس فٹ کھلے دالان در دالان برآمدے تھے۔ برآمدوں کے ستون آٹھ پہلو میں انتہائی صفائی اور کاریگری سے تیار کیے گئے تھے اور اُن کی چھتیں پچیس فٹ اونچی تھیں۔ برآمدوں سے آگے اور کمروں کے سامنے زمین سے تین فٹ اونچی چوکی چلنے کے لیے بنائی گئی۔اسی طرح وہ چوکی برآمدوں سے باہر کی سمت بھی موجود تھی،جو چھوٹی سُرخ اینٹوں ہی کی بنی ہوئی تھی مگر پتھر کی چوکی سے کہیں خوبصورت تھی۔ برآمدوں سے آگے چوکی کے سا تھ ہی دفتر کے کمرے شروع ہو جاتے تھے، جن میں تحصیدار، نائب تحصیلدار، محکمہ مال اور کچہری انتظامیہ کے کمرے تفصیل وار کوئی سو کے قریب ہوں گے۔ آفیسرز کے کمرے قدرے بڑے اور کھلے تھے جبکہ کلرکوں کے کمرے انتہائی تنگ لیکن چھتوں کی اونچائی سب کی ایک جیسی تھی۔ گرمی کے دن اونچی چھتوں کے کمروں میں آسان گزر جاتے ہیں۔ اس عمارت کو اگر غور سے دیکھیں تو باہر سے انتہائی خوبصورت لیکن اندر سے بدنما تھی۔آفیسرز کے کمروں کے سوا ہر کمرہ کاغذوں کے بوسیدہ پلندوں، میل جمی ہوئی فائلوں اور گرد و غبار سے اٹی ہوئی میز کرسیوں کا عجائب خانہ تھا۔ ولیم نے آتے ہی ایک آدھ دفعہ کلرکوں کے کمروں کا جائزہ لے لیا تھا۔ جس میں اُسے شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر کلرک کی میز جگہ جگہ سے چھدی ہوئی تھی۔ غالباً جو نیا کلرک آتا وہ سب سے پہلے اپنا نام اُس پر کندہ کرنے کی کوشش کرتا۔ ہر میز کی دراز گھی اور تیل سے لتھڑی ہوئی تھی کہ گھروں سے لائے ہوئے کھانے رکھنے کی یہ درازیں بہترین مصرف تھیں۔ گویا میز کی ہر دراز میں میل کچیل اور بدبو کی ایک دنیا آباد تھی۔ اِسی طرح ہر میز یا کرسی پر جا بجا کیلوں اور لوہے کی پتریوں کی ٹھونکا ٹھانکی ہوئی تھی۔ دراصل کسی بھی کلرک نے اس طرف کبھی توجہ نہ دی کہ پرانی کرسی یا میز کو بدل لیا جائے بلکہ وہ خود ہی اُن کی مرمت کرتے رہتے تھے۔

 

اِس سلسلے میں ہتھوڑیاں اور کیلیں جا بجا کمروں سے برآمد ہو سکتی تھیں۔ نئی چیز منگوانے کے لیے چونکہ درخواست دینا پڑتی، یا پھر لمبے چوڑے نوٹ لکھنا ہوتے، جو اگرچہ کرسیوں کی خود ساختہ مرمت سے کہیں آسان تھے مگر وہ کام مشکل ہی تصور کیے جاتے کہ جب تک درخواست اُوپر سے ہو کر واپس محکمہ خزانہ تک آتی، کلرک کا تبادلہ ہو چکا ہوتا۔ اس لیے کوئی بھی یہ ذمہ داری قبول نہ کرتا اور اُسی فرنیچیر پر وقت کاٹ لیتا۔ ولیم نے چلتے چلتے پوری عمارت کا چکر کاٹ لیا۔ چہل قدمی کے دوران قریب قریب تمام آفیسر ولیم کے جلو میں شامل ہو چکے تھے۔ عمارت کو چاروں طرف سے دیکھنے کے بعد ولیم ایک بڑے صحن میں کھڑا ہو گیا۔جس میں سڑی گھاس اور گھاس کے ارد گرد کیاریوں میں گیندے کے سوکھے ہوئے پودے کھڑے تھے۔ کچھ دیر یہاں رکنے کے بعد اُس نے ادھر اُدھر عمارت سے ذرا ہٹ کر چہل قدمی شروع کر دی، جہاں چھوٹے چھوٹے قطعات میں کہیں ٹماٹر اور کہیں پیاز یا لہسن کاشت کیا گیا تھا۔ اکثر جگہیں خالی تھیں، جن میں بے کار جڑی بوٹیاں اور جھاڑ جھنکاڑ تھا۔ جن جگہوں پر سبزیاں تھیں، اُنھیں بھی زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی۔ دراصل یہ سبزیاں افسروں کی بیگمات نے دفتر میں کام کرنے والے اُن چپڑاسیوں کی کام چوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، لگوائی تھیں، جنھیں دفتر کا کام بار محسوس ہوتا لیکن افسروں کے بچے کھیلانا اور اُن کی بیگمات کا کام کرنا ان لوگوں کے دائیں بائیں ہاتھ کے کام تھے۔

 

درخت نہ ہونے کے برابر تھے۔ البتہ جڑی بوٹیوں اور عک کے پودوں کی بہتات سے دفتر کی ویرانی کا ازالہ بہت حد ہو چکا تھا، جو ولیم کی طبیعت پر اچھا اثر نہیں ڈال رہا تھا۔

 

یہ چہل قدمی ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ جس میں ولیم کے ماتحت افسروں نے اپنی خوشی اور نوکری کے جبر کے باعث حصہ لیا۔ ایک جگہ جہاں رہٹ چل رہا تھا،ولیم رُک گیا اور تمام افسروں کی طرف مخاطب ہو کر بولا،مسٹرز میرا خیال ہے، جو کچھ میں دیکھ اور سوچ رہا ہوں آپ اُس سے بے خبر ہیں۔ میں یہاں کام کرنے آیا ہوں۔ گورنمنٹ کے لیے، لوگوں کے لیے اور آپ کے لیے۔ آپ سب گورنمنٹ کے اِس لیے ملازم ہیں کہ احکام پر عمل کرانے میں میرے معاون ہوں۔ (پھر کچھ دیر رُک کر اور بیت کو بائیں ہتھیلی پر مار کر) کیا آپ اس علاقے کو د یکھ رہے ہیں؟ دُور تک ویرانی اور بیزاری نظر آ رہی ہے۔ ایسی صورت میں اگر ہم کام نہ کریں تو ہمارا یہاں کیا جواز بنتاہے ؟مجھے افسوس ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کو کاشت کاری سے کوئی دلچسپی نہیں۔ (نائب تحصیلدار مدن لعل کی طرف منہ کر کے) مدن لعل کل صبح نو بجے نہر کے عملے کی میٹنگ بلواؤ اور کچھ سرکردہ زمینداروں کو بھی جمع کرو۔ میں جلال آباد میں لہلہاتے کھیت اور باغات دیکھنا چاہتا ہوں( نجیب شاہ کی طرف دیکھ کر )تحصیل کمپلیکس میں ایک دو رہٹ لگوانے کا بندوبست کرو۔ ہم یہاں چوہوں سے مورچے کھدوانے نہیں آئے۔ مجھے ایسی جگہوں سے وحشت ہوتی ہے، جہاں رات کتوں اور گیدڑوں کے لشکر چوکیاں بھریں۔

 

ولیم کاحکم ملتے ہی ہر ایک نے اپنی نوٹ بکوں پر پُھرتی سے اندراجات شروع کر دیے۔

 

(17)

 

دو بگھیاں اور دس گھوڑے شیخ نجم علی کی کوٹھی کے سامنے رکے تو ادھر اُدھر کے راہگیر حیرت سے دیکھنے لگے۔ اُن کی نظر میں کوئی بہت بڑا رئیس آیا تھا۔ بعض لوگ اپنی دکانوں سے نکل کر بازار میں کھڑے ہو گئے مگر غلام حیدر نے کسی کی طرف توجہ نہ دی، بگھی سے اُتر کر سیدھا دروازے کی زنجیر ہلا دی۔ رفیق پاولی اور دوسرے سب آدمی بھی اپنی سواریوں سے نیچے اُتر آئے۔ رفیق پاولی “علی منزل” کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔کوٹھی کی لمبائی سو میٹر تک پھیلی ہوئی تھی۔جس کے نیچے کپڑے، پرچون اور لوہے والوں کی بیسیوں دکانیں قطار میں دور تک نظر آ رہی تھیں۔کوٹھی انڈے سے زیادہ سفید تھی اور تین منزلوں پر مشتمل اتنی اونچی کہ اُوپر تک دیکھنے کے لیے اُسے اپنی پگڑی سنبھالنا پڑی۔ مرکزی دروازہ مغلیہ قلعے کا ہاتھی گیٹ معلوم ہوتا تھا۔ بیضہ گیر اُوپر نیچے لمبی اور چوڑی ڈاٹوں سے کم از کم تیس فٹ تک چڑھا یا ہوا۔ جس کے اُوپر دونوں سروں پر دو ببر شیرمنہ کھولے دھاڑ رہے تھے۔ شیر سیمنٹ اور چونے کے ہونے کے باوجود اِن کے بنانے میں ایسی کاریگری دکھائی گئی تھی کہ یہ بالکل اصلی لگتے۔ اِس کے علاوہ نیچے سے لے کر اُوپر کی دو منزلوں تک دیواروں میں بے شمار محرابیاں اور ڈاٹیں مزید تھیں۔اِن ڈاٹوں پر اُوپر تلے کئی طاق تھے،جن پر اس قدر نفاست سے کام کیا گیا تھا کہ ایک ایک طاق مہینوں کی محنت کا نتیجہ نظر آ رہا تھا۔ ان تین تین ڈاٹوں کے اندر کہیں محض سجاوٹ کے لیے جالیاں تھیں اور کہیں بیچ بیچ دیو دار کی لکڑی کی لا تعداد کھڑکیاں کھلتی تھیں۔ انھی کھڑکیوں، جالیوں اور الماریوں سے ہوا اور روشنی کوٹھی کے اندر جاتی۔ اس کے علاوہ پوری کوٹھی اُوپر سے لے کر پاؤں کی اینٹوں تک سفید چونے اور ابرق میں نہلا دی گئی کہ دیکھنے والے کی آنکھیں سفید روشنی میں بہہ جاتیں۔ یوں تو غلام حیدر کی حویلی بھی کم نہ تھی مگررفیق پاولی نے سوچا کہ جتنی عمدہ اور شاندار یہ کوٹھی ہے اورجتنا کرایہ شیخ صاحب کو اس ایک ایکڑ سے ماہانہ آ جاتا ہو گاِ اتنی تو شیرحیدر کے دو گاؤں کی آمدنی بھی مشکل سے تھی۔

 

انہی خیالوں میں گم اُسے پتہ ہی نہ چلا کب وہ سب ایک بڑے ہال نما کمرے میں نرم نرم چوڑی اور لمبی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے۔بڑی بڑی لالٹینیں اور کانچ کے بھاری فانوس اونچی سفید چھت سے لٹکے ہوئے تھے۔ قدموں کے نیچے فرش پر بھی بڑی صاف اور لال رنگ کے پھول بوٹوں والی نرم دریاں بچھی تھیں۔ جن کے اندر آدھا پاؤں گھُس جاتا۔ رفیق پاولی کوٹھی اور کمرے کی ہیبت میں ہی گم تھا۔ سوچ رہا تھا کہ غلام حیدر کا دوست بھی کتنے بڑے باپ کا بیٹا ہے۔ سچ ہے بڑے پانیوں میں بڑی مچھلیاں۔ اس سے پہلے اُس کی اتنے بڑے لوگوں سے نہ تو ملاقات ہوئی تھی اور نہ ہی ایسے اچھے گھر دیکھے تھے۔شیر حیدر کے تو جتنے دوست یار تھے، وہ صرف گاؤں اور دیہاتوں میں رہنے والے زمیندار تھے۔ اُن کے گھر وں سے تو شیر حیدر کی حویلی کئی درجے بہتر تھی۔ اُس نے سوچا واپس جا کر وہ غلام حیدر سے بھی ایک اِسی طرح کا بڑا سا کمرہ حویلی کے بیرونی احاطے میں بنوائے گا۔ غلام حیدر کے بڑے بڑے دوستوں کو بٹھانے کے لیے ڈھنگ کی جگہ تو ہونی چاہیے۔ اب چاہے اس پر ایک گاؤں کی سال بھر کی آمدنی ہی کیوں نہ لگ جائے،وہ ایسا کمرہ تو غلام حیدر سے بنوا کر رہے گا۔انہی سوچوں میں اُسے بالکل نہیں اندازہ تھا کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے۔ اچانک غلام حیدر نے رفیق پاولی سے مخاطب ہو کر کہا، چاچارفیق یہ میرا دوست نجم علی ہے۔ غلام حیدر کی آواز سن کر رفیق پاولی خیالات سے چونکا۔ اُس نے نظریں اُوپر اُٹھا کر دیکھا تو نجم علی اُس کی طرف ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا۔ بالکل غلام حیدر کی دوستی کے ہی قابل تھا۔ نجم علی کو دیکھ کر رفیق پاولی تو خیالات کی دنیا سے باہر نکل آیا مگر دوسرے لوگوں کی توجہ ڈرائنگ روم یا بڑے کمرے ہی پر مرکوز رہی۔
نجم نے سب کے ساتھ سلام دعا کے بعد ملازم سے کہا، صاحب کے بندوں کے لیے کھانا پانی کابندوبست کرواور(ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہ نہانے دھونے کا کمرہ ہے،سب منہ ہاتھ دھو لو۔ ان سے فارغ ہو کر نجم علی غلام حیدر کو دوسرے کمرے میں لے گیا اور بیٹھتے ہوئے بولا،خیر ہے غلام حیدر،لاہور سے کب آئے ؟ آج فوجاں کس طرف چڑھی ہیں۔یہ چھوَیاں، ریفلاں؟ کوئی مسئلہ ہو گیا کیا؟

 

غلام حیدر نے مدھم آوازمیں سر اُوپر اٹھاتے ہوئے کہا “ نجمے یاراب تو شائد لاہور مکمل طور پر چھوڑنا پڑ جائے، ابا فوت ہوگیا۔

 

اِنَّ للہ، کب؟ نجم علی نے حیرت سے پوچھا۔

 

آج چھٹا دن ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ستم یہ ہوا کہ علاقے میں دشمنی مزید پیدا ہو گئی۔ دشمنوں نے میرا ایک بندہ مار دیا، بیس ایکڑ مونگی کی فصل تباہ کر دی، کچھ لے گئے، باقی جلا گئے۔

 

لاحول ولا،َ یہ کس وقت ہوا ؟ نجم علی ہونق سا ہو گیا۔

 

ابا کے قل والی رات، غلام حیدر سیدھا بولتا چلا گیا، سردار سودھا سنگھ ابا کا بڑاواہیات دشمن ہے۔ منڈی گرو ہر سا کے پاس ہمارے گاؤں جودھا پور کے قریب ہی اُس کا گاؤں ہے،جھنڈو والا نام سے۔ ابا سے کئی دفعہ منہ کی کھا چکا تھا۔ اب وہ فوت ہوئے تو اُس نے عین پھوڑے پر ضرب ماری ہے۔ میں تو تعزیت کرنے آئے مہمانوں اور ختم درود میں اُلجھا ہو اتھااور خیال تک نہیں تھا کہ کوئی اس طرح کی حرکت بھی کرے گا مگر اُس نے اپنا کام دکھا دیا۔فصل بر باد کرنے کے ساتھ ساتھ میرا ایک بندہ بھی مار دیا۔

 

پھر اب کیا ارادہ ہے؟ نجم علی نے پوچھا، پرچہ درج کرایا؟

 

پرچہ تو درج کروا دیاہے۔ غلام حیدر نے بتانا شروع کیا، پر نجمے لگتا ہے،سودھا سنگھ کے ہاتھ لمبے ہیں۔ تھانیدار سے لے کر اُوپر تک سب اُسی کے کنویں سے پانی پیتے ہیں۔ ابا کیا فوت ہوا، سب نے نظریں پھیر لیں۔ اب تو خبریں ہیں کہ چوہے بھی شراب کے مٹکوں سے نکل نکل کر سامنے آ رہے ہیں۔
تھانیدار سے بات کی،نجم نے پوچھا۔

 

تھانیدار چھوڑ،اسسٹنٹ کمشنر تک سے بات کی مگروہ اپنی اکڑ میں ہے۔ نیا نیا پہلی دفعہ ہماری تحصیل میں ہی آ لگاہے، یہیں تجربہ سیکھنے کے لیے۔ مجھے لگتا ہے وہ کچھ نہیں سیکھے گا۔ اُس کے سیکرٹری نجیب شاہ نے بتایا ہے کہ اُسے باغوں اور فصلوں کی بیماری ہے۔امن و امان کی طرف ذرا دھیان نہیں۔ اگر اسی طرح چلا تو تھوڑے دن نکالے گا۔ کیونکہ جلال آباد میں چور بھی کھمبیوں کی طرح اُگتے ہیں۔

 

آج فیروز پور کیسے؟ اگر مجھ سے کوئی مدد کی ضرورت ہو تو حاضر ہوں مگر میرا تھانے کچہری میں تو کوئی واسطہ نہیں اور نہ کوئی واقف ہے،نجم نے وضاحت آمیز لہجے میں کہا۔

 

اس تنگ وقت میں آپ کی طرف آنے کا مقصد آپ کی مدد حاصل کرنا ہی ہے، غلام حیدر بولا، تم اپنے والد شیخ مبارک سے کہو،وہ ڈپٹی کمشنر سے میری ملاقات کا بندوبست کروادے تاکہ ہم سودھا سنگھ پر پکا ہاتھ ڈالیں۔ یہ مسئلہ میری عزت اور انا کا بن چکا ہے۔ اگر سودھا سنگھ گرفتار نہ ہو ا تو سمجھ لو شیرحیدر کا نام ابھی اُس کے جسم کے ساتھ دفن ہو جائے گا اور میں جیتے جی ایسا ہونے نہیں دوں گا۔دوسری طرف میری رعایا ہے۔ ابھی تک تو انھیں امید ہے کہ میں بہت کچھ کر گزروں گا لیکن تمھیں یہ نہیں پتا کہ رعایا خود کچھ نہیں ہوتی۔اس کا معاملہ پل میں تولہ اور پَل میں ماشہ والا ہوتا ہے۔ جس طرح یہ لوگ پہاڑ جیسے مضبوط ہوتے ہیں، تھوڑی سی ہمت ماند پڑے تو اُسی لمحے رائی بن جاتے ہیں۔ ابھی تک وہ سمجھے بیٹھے ہیں، مَیں سودھا سنگھ کا گاؤں کھود ڈالنے پر قادر ہوں۔اگر انھیں پتا چل جائے کہ میری تحصیل میں سُبکی ہوئی ہے اور گورنمنٹ میں مجھے کوئی نہیں جانتا تو یہ جتنے بندے میرے ساتھ شیروں کے جگرے والے نظر آتے ہیں،ابھی گیدڑوں سے بد تر ہو جائیں گے۔ اس لیے میں ان پر اپنا بھرم کھونا نہیں چاہتا۔ تم مجھے اپنے والد شیخ مبارک سے ملاؤ، میں اُن سے خود بات کرتا ہوں۔

 

نجم علی نے سنجیدگی سے تمام بات سن کر غلام حیدر کی طرف دیکھا اور بولا،حیدر اصل میں ابا تو لدھیانے میں ہیں۔ وہاں سے وہ پرسوں آئیں گے۔ تم کو دو دن یہاں رُکنا پڑے گا۔یا پھر کل ہم خود ملاقات کی راہ نکال لیتے ہیں۔ میرا خیال ہے کمشنر صاحب بات سُن لے گا۔ اگر چاہو تو اپنے بندوں کو واپس بھیج دو، چاہو تو یہیں رہنے دو۔

 

نہیں ہمارا خود ڈپٹی کمشنر سے ملنا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔بلکہ اُلٹا کام بگڑے گا،غلام حیدر نے جواب دیا،یہ کام اتنا مشکل نہیں مگرمصیبت یہ ہے کہ نواب افتخار لندن میں ہے اور اُس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ با لفرض رابطہ ہو بھی جائے تو وہ اتنی دور سے مناسب طریقے سے معاملہ سمجھ نہیں سکے گا۔ اس لیے اُس کو اس پنگے میں ڈالنا بہتر نہیں۔رہا اُس کا باپ سر شاہنواز تو اس وقت وہ کشمیر میں گیا ہوا ہے۔اُس سے بھی رابطہ نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی اُن سے اس کام کے لیے کہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ان نوابوں شوابوں سے کوئی بڑا کام لیں گے۔ میں چچا مبارک کا یہاں انتظار کر لیتا ہوں لیکن ہاتھ سخت ڈالنا چاہتا ہوں۔

 

ہاں بہتر یہی ہے تم یہاں رُک کر ابّا کا انتطار کر لو۔ اُن کی ڈپٹی کمشنر صاحب سے مل کر بات کرنے کی صورت ذرا الگ ہے، اس لیے انھیں آنے دیں اور اپنے ان بندوں کو واپس جلال آباد بھیج دو،یہ وہا ں کے حالات پر نظر رکھیں۔

 

نجم علی “غلام حیدر دوبارہ بولا” میں کچا ہاتھ ڈالنا نہیں چاہتا لیکن مجھے جلدی بھی بہت ہے۔ اس طرح کی ملاقات جس میں صرف انھیں بات سنانی مقصود ہو، مجھے منظور نہیں۔سرسری ملاقات کرنے میں قباحت یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر زیادہ سے زیادہ اسسٹنٹ کمشنر کولکھ دے گا کہ اس مسئلے کو دیکھو جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس طرح میں جلال آباد میں مزید بے عزت ہو جاؤں گا اور اسسٹنٹ کمشنر مزید میرے خلاف ہو جائے گا۔

 

ٹھیک ہے پھر ابا کو واپس آنے دو۔ڈپٹی کمشنر سے اُن کے اچھے تعلقات ہیں، نجم علی نے کہا، لیکن ایک بات اگر برا نہ مانو تو کہوں “تم اِن زمین کے دھندوں سے جان چھڑا کیوں نہیں لیتے؟ خواہ مخواہ کی دشمنی میں اُلجھے ر ہو گے، ساری عمر لڑائی اورتھانہ کچہری میں برباد ہو جائے گی۔ اپنی زمین کسی کو ٹھیکے پر دے کر آرام سے لاہور چلے جاؤ۔ یہاں بلا وجہ گنواروں میں پھنسے رہنا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔

 

نجم علی مجھے اس طرح کے مشورے کی فی الحال ضرورت نہیں۔ تم میرے بندوں کے سونے کا بندوبست کردو۔یہ بھی تھکے ہوئے ہیں۔کل صبح میں انھیں واپس بھیج دوں گا، غلام حیدر نے غصے سے جواب دیا۔

 

ٹھیک ہے بھائی ناراض نہ ہو،یہ کہہ کر نجم علی وہاں سے اُٹھ کر باہر نکل گیا۔

 

نجم علی نے مہمانوں کے تمام انتظامات بوڑھے ملازم میراں داد کو سونپ کر خاص ہدایت کر دی کہ کوئی شکایت پیدا نہ ہو۔ اس کے بعد خود غلام حیدر کے پاس آ بیٹھا۔ دونوں سکول کے زمانے کی باتیں کرنے لگے،جو مڈل تک گورنمنٹ ہائی سکول فیروز پور میں گزارے تھے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات اور بچپن کی شرارتیں یاد کر کے ہنستے رہے۔اِن خوش گپیوں اور یادوں میں غلام حیدر کی طبیعت سے کچھ تکدّر دور ہو گیا اور رات کا ایک بج گیا۔بالآخر باتیں کرتے دونوں وہیں سوگئے۔
اگلے دن صبح سات بجے اُن کی آنکھ کھلی۔ نہانے دھونے اور ناشتہ کرنے میں دس بج گئے۔ ناشتے کے بعد غلام حیدر اپنے لوگوں کے پاس ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو وہ سب اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔اُن کے چہروں سے محسوس ہو رہا تھا کہ نجم علی کے ملازم نے اُن کی کافی آؤ بھگت کی تھی۔سب کی طرف سے خوشگوار تاثر مل رہا تھا۔

 

غلام حیدر نے رفیق پاولی کی طرف دیکھ کر بلا کسی تمہید کے کہا،جو رات کی نسبت کافی ہشاش بشاش نظر آ رہا تھا، چاچا رفیق آپ ایسا کرو، بندوں کو لے کر آج واپس جلال آباد چلے جاؤ اور دونوں گاؤں کے معاملات پر پوری نظر رکھو۔ دشمن کسی بھی طرف سے دوبارہ شرارت کر سکتا ہے۔ کل شیخ صاحب واپس آ جائیں گے تو میں پر سوں ڈپٹی کمشنر صاحب سے ملاقات کر کے شام پانچ بجے یہاں سے جلال آباد کے لیے ریل پکڑ کر سات یا آٹھ بجے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ جاؤں گا اور دیکھو کسی کو بھنک بھی نہ پڑے کہ میں کہاں ہوں اورکس وقت یہاں سے نکلوں گا۔بس اب جاؤ اور میرا پرسوں وہاں انتظار کرنا۔با قی کسی قسم کی جلدی کسی بھی کام میں ضروری نہیں۔

 

(جاری ہے)