Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(51)

یہ انیس سو پچھتر کے دسمبر کا آغاز تھا اور ملک کو وجود میں آئے اٹھائیس سال ہو گئے تھے۔ اِس عرصے میں ولیم مقامی لوگوں میں اِس طرح گھل مل گیا کہ رنگ اور آنکھوں کے سوا اُس میں ولائتیوں کی کوئی حرکت نہ رہی۔ اردو پہلے بھی روانی سے بول لیتا تھا،اب پنجابی میں بھی خاصا ہاتھ صاف کر لیتا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مرغے لڑانے،کبڈی کروانے اور قصے کہانیاں سننے کا شوق حدسے آگے نکل گیا۔ آئے دن نولکھی کوٹھی پر محفلیں جمنے لگیں۔ ولیم کے جاننے والے عشا کے بعد جمع ہو جاتے۔ کوئی نہ کوئی کہانی کہتا،جس میں رات کے گیارہ بج جاتے۔ محفل کے بعد ولیم کی طرف سے سب کو کبھی کھانا کھلایا جاتا اور کبھی صرف چائے پلائی جاتی۔ سب جانتے تھے،اُس کے پاس پیسے بہت زیادہ ہیں۔ اِس لیے وہ اُس کا احترام بھی ویسے ہی کرتے۔ مگر یہ سب لوگ غریب غربا اورمزارع قسم کے تھے۔ بیورو کریسی اور اُمرا کو ولیم نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ بلکہ اُن کو اب ولیم کے بارے میں پتا بھی نہیں تھا کہ ایسا کوئی انگریز بھی یہاں موجود ہے۔ اِس معاملے میں اشرافیہ تو ایک طرف،مدت ہوئی،اُس کے اپنے بیوی بچوں نے بھی اُسے بالکل بھلا دیا تھا۔ پہلے پہل اُنہوں نے دو تین چکر لگائے اور ولیم کو بھی سرسری انگلستان جانے کا مشورہ دیا لیکن جب ولیم نے سختی سے اِس بات کو رد کر دیا تو وہ بھی آہستہ آہستہ اُسے بھولنے لگے اور اب نوبت یہاں تک آگئی کہ ولیم کے خطوں کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔ ایک آدھ بارجواب دیا بھی،تو وہ ایک دو سطر میں ایسا سرسری تھا،جسے خط کے نام پر مذاق کہہ لینا چاہیے۔ اُس کے بعد مکمل خا موشی طاری ہو گئی تھی۔ اُنہوں نے گھر بدل لیا تھا تو اُس کا پتا بھی نہیں بتایا اور پچھلے چھ سال سے ولیم کے کسی خط کا جواب بھی نہ دیا،نہ ٹیلی فون ہی کیا۔ بہت سے پرانے دوستوں کی وساطت سے ولیم نے اُن کا پتا بھی کرایا مگر کچھ خبر نہ ملی۔ ویسے بھی دوستوں نے اِس بارے میں زیادہ کھوج لگانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ولیم نے اُنہیں زیادہ تنگ کیا۔ کیونکہ اب یہ بھی اُن کے بغیر اِس طرح رہنے کا عادی ہو چکا تھا،جیسے اُس کا کوئی رشتے دارتھا ہی نہیں۔ ایسی بات نہیں تھی کہ اُسے اپنے رشتوں کا احساس نہیں تھا۔ شروع شروع میں جب اُس کے بیوی بچے گئے،تو وہ کئی سال مضطرب رہا اور بہت دفعہ،جب بھی اُنہیں ضرورت پڑی،ولیم نے اپنی بچی کھچی پونجی سے رقم بھیجنے میں تامل نہ کیا اور رشتوں کا درد رکھے رکھا۔ مگر اب اُس کے ہاتھ سے سارے رشتے ہی نکل چکے تھے،تووہ کیا کرتا۔ مچلز والے ابھی موجود تھے،جن کے ساتھ سلام دعا چل رہی تھی۔ لیکن وہ بھی لندن او ر اوکاڑہ کے درمیان معلق رہتے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ اِس آنے جانے میں اُنہوں نے اپنے رئیسانہ ٹھاٹھ کو برقراررکھا اور ولیم سے بہت زیادہ مختلف ہو چکے تھے۔ یا کہہ لیں کہ ولیم ہی اُن سے مختلف ہو گیا تھا۔ اِس لیے اُن کے اندر بھی اب دبی دبی سرد مہری موجود تھی،جسے ولیم نے بہت دیر پہلے بھانپ لیا تھا۔ مگر وہ شاید اُن میں گزری نشانیوں کے ریزے تلاش کرنے کے لیے تعلق کو ٹوٹنے نہیں دے رہا تھا اوربرابر وہاں پھیرا لگایا کرتا۔ بلکہ اُس وقت بھی،جب وہ لندن میں موجود ہوتے۔

زمانے کے گزرتے ماہ سال میں ولیم کو اِس پورے نقصان پر تاسف تو ہوا لیکن وہ اُس کو قبول کر چکا تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے اُس نے بھی اُنہیں یاد کرنا چھوڑ دیا۔ اگر یاد آتے بھی تو طبیعت کو جلد کسی اور طرف مائل کر کے مصروف ہو جاتا۔ زیادہ تر انگریزی ناولیں اور انگریزی شاعری کی کتابیں پڑھنے میں لگا رہتا،جو سینکڑوں کے حساب سے اُس کی کوٹھی میں موجود تھیں۔ اُن کے خریدنے میں اُس نے ایک خطیر رقم خرچ کی تھی۔ کتاب خوانی کے علاوہ قصہ سننے کی لت اُسے شدت سے لگ چکی تھی،جس کے لیے وہ عصر سے ہی تیاری کر نا شروع کر دیتا۔

اکثر ہاتھ میں چھڑی تھامے سرپر ہیٹ رکھے پیدل ہی نکل پڑتااور اِدھر اُدھر پھرتا رہتا۔ زیادہ تر کمپنی باغ اوکاڑہ میں،جو اُسی کی تجویز پر بنا تھا۔ کبھی دس کلومیٹر طے کر کے نہری کوٹھی چلا جاتا یاکسی اور جگہ۔ مگر زیادہ تر اُس کا سفر لمبا نہیں ہوتا تھا۔ اِسی طرح دیسی لوگوں کے ساتھ چلتے چلتے بات چیت کر لیتا۔ بگھی،ٹانگے پر ہوتا تو ایک آدھ سواری بھی ساتھ بٹھا لیتا۔ کافی عرصہ پہلے زمین پر سے اُس کا قبضہ اُٹھ گیا تھا۔ جب وہ باقاعدہ آہستہ آہستہ کر کے چند ہی سالوں میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسروں کے نام الاٹ ہوگئی۔ اِس لیے جو پیسہ ہاتھ میں تھا،وہ رفتہ رفتہ کنارے لگنے لگا۔ ولیم کو اب اُس کی زیادہ پروا بھی نہیں تھی۔ کیونکہ کوٹھی ابھی تک اُس کے پاس تھی اور آٹھ دس سال تک مزید ساتھ دینے والا پیسہ بھی تھا۔ اِس لیے بھی اُسے کوئی فکر نہیں تھی کہ دیسی لوگوں کی طرح اُس کے دس دس بچے نہیں تھے۔ اُس نے رینالہ،اوکاڑہ،گوگیرہ اور اُن کے مضافات میں اِس طرح اپنے آپ کو گم کر لیا،جیسے یہ سب علاقے اُس کی ملکیت ہوں۔ حالانکہ اب تمام زمینیں اور فارم ملٹری نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے،جو تقسیم سے پہلے گوروں کی ملکیت تھے۔ ولیم نے کئی طرح سے اثر رسوخ اختیار کر کے نولکھی کوٹھی پر اپنا قبضہ بر قرار ہی رکھا اور کچھ روپے سا لا نہ کے حساب سے اُس کا کرایہ اداکرتا رہا۔ جب اُس کی زمینوں پر قبضہ ہوا تھا تو وقتی طور پر ولیم انگلستان چلا گیا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد واپس آگیا تھااور نولکھی کوٹھی میں بطور کرایہ دار براجمان رہا۔ ویسے بھی یہ کوٹھی ایک جرنیل کے نام لیز پر تھی،جس میں اُسے رہنا تو نہیں تھا کیونکہ نہ تو یہ کوٹھی کسی بڑے شہر میں تھی اور نہ ہی اوکاڑہ شہر کے درمیان میں تھی۔ اوکاڑہ کے شمال مشرق میں نہر کے دوسری طرف تین کلومیٹر باہر تھی،جس میں کسی مقامی کو رہنے کی کیا ضرورت تھی،جبکہ ولیم اِس کا کرایہ بھی زیادہ دینے کو تیار تھا اور پچھلے کئی سال سے دیتا بھی رہا تھا۔ اِس لیے اُس کا یہ مسکن بر قرار رہا۔

کچھ دنوں سے اُس کی طبیعت میں ایک بے چینی پھر داخل ہو رہی تھی۔ وہ کون سی بات تھی،جس کے باعث یہ کیفیت تھی۔ اس بارے میں ابھی وہ خود بھی لا علم تھا۔ ایک شام اِسی طرح سب جمع تھے اورمیاں محبوب علی خاص لاہورسے داستان کہنے کے لیے آئے ہوئے تھے،جو پہلے بھی کئی دفعہ آ چکے تھے۔ کوٹھی کے دالان میں ولیم کی کرسی کے سامنے پہلے آٹھ دس کرسیاں اور اُس کے آگے تین تین چار پا ئیاں دو طرفہ لگی ہوئی تھیں،جن کے درمیان چھ فٹ کی کھلی جگہ تھی۔ ولیم کی کرسی سے آخری چار پائی تک کم از کم دس قدم کا فاصلہ تھا۔ اِس طرح کہ داستان گو موقع کے مطابق بیچ میں چہل قدمی کر سکے۔ جیسا کہ اکثر پنجابی داستان گو مجمعے کے بیچ چل پھر کر اور اداکاری کر کے کہانی سناتے ہوئے،بیچ میں کہیں کہیں لوک بولیوں،دوہروں اور ماہیوں کے ٹانکے لگاتے جاتے ہیں۔ اِس سے کہانی کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ ولیم کے ہاں اکثرکہانی کہنے والے پنجابی ہوتے تھے۔ اِس لیے اُس نے کوٹھی کے دالان میں بیٹھنے کی شکل اسی صورت میں ڈھال رکھی تھی۔ میاں محبوب علی در اصل نواب مظفر علی قزلباش کا ذاتی داستان گو تھا،جو ولیم کے اُن دِنوں کا دوست تھا،جب وہ ڈپٹی کمشنر تھا۔ اِسی دوستی کو وہ آج تک نبھائے چلا آ رہا تھا۔ یہ سردیوں کی رات تھی اورآٹھ بج چکے تھے۔ محبوب علی داستان شروع کرنے ہی والے تھے کہ چوہدری شفیع محمد بھی آن بیٹھا،جس کے ساتھ سترسال کا ایک بڈھا تھا۔ شفیع محمدکی ستگھرہ موڑ پردو مربعے زمین تھی اور ولیم کے ساتھ اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔ ولیم جب بھی سیرکو نکلتا،اکثر چوہدری شفیع محمد کے پاس جا بیٹھتا۔ اِس طرح شفیع محمد بھی اُس کے حاضر باشوں میں تھا اوریہ رشتہ برابری کی سطح پر ہی قائم تھا۔ آج شفیع محمد کے ساتھ یہ بڈھا البتہ نیا تھا۔ اُس کے سر پر سفید پگڑی تھی اور سفید ہی کھدر کا دُھوتی اورکُرتہ تھا۔ پاؤں میں چمڑے کے دیسی جوتے تھے،جس کو خریدے ہوئے غالباً کئی سال گزر چکے تھے۔

سلام دعا کے بعد سب بیٹھ گئے تو چوہدری شفیع نے ولیم سے مخاطب ہو کر کہا،صاحب بہادر،یہ امیر سبحانی ہے۔ آج ہی حویلی لکھا سے آیا ہے۔ میں کل وہاں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا۔ وہیں اپنے بہنوئی کے ہاں میری اِس سے ملاقات ہوئی۔ بہت عمدہ داستان کہتا ہے۔ جب میں نے اِس سے وہاں داستان سنی تو اِس کا شیدائی ہو گیا اورمنت کی کہ میرے ساتھ ایک دو دن اوکاڑہ چل۔ امیر سبحانی اُجاڑے سے پہلے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں رہتا تھا۔ اِس لحاظ سے میں نے سوچا،اِسے آپ سے ملانا اچھا رہے گا۔ کیونکہ آپ بھی کافی عرصہ جلال آباد میں رہے ہیں اوراُسے یاد بھی کرتے ہیں۔ یہ آپ کا ہم وطن بھی ہے اور داستان تو یہ ایسی کہتا ہے کہ ساری رات گزر جائے گی۔ مگر آپ کا جی چاہے گا،سنتے جائیں۔

شفیع محمد تعارف کرا چکا تو ولیم نے ایک نظر بھر کر امیر سبحانی کی طرف دیکھا،گویا وہ آئینہ ہو،جس میں ولیم اپنے ماضی کا چہرہ دیکھ رہاتھا۔ دل ہی دل میں ولیم نے پوری کائنات کی خاموشی سمیٹ کر اپنے اندر بھر لی اور چند لمحے اُسی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ لوگوں نے اُسے حقہ پیش کیا اور بیٹھنے کے لیے سامنے کی ایک کرسی خالی کر دی۔ اتنے میں ولیم اپنی سابقہ حالت میں لوٹ چکا تھا۔ اُس نے پورے مجمعے کی طرف دیکھا اور کہا،کوئی بات نہیں۔ چلو آج ہم امیر سبحانی سے سن لیتے ہیں۔ محبوب علی تو ایک دو دن ابھی یہاں ہی ہیں۔ کیوں امیر سبحانی ہمیں سناؤ گے؟

جیسی آپ کی رائے،(اور سوالیہ انداز میں چوہدر ی شفیع کی طرف دیکھا)

اُس نے کہا،بھائی امیر آپ کو لایا کس لیے ہوں؟یہ صاحب ہمارے لیے بڑالاڈلا ہے۔ آج اِسے ایسی داستان سناؤ کہ خوش ہو جائے۔
چوہدری صاحب کوشش کرتا ہوں۔ اِس کے بعد امیر سبحانی نے حقے کے دو چار لمبے لمبے تیز کش لیے،پھر اُٹھ کے چارپائیوں اورکرسیوں کے درمیان والی راہداری میں کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ بھر کا کڑھا ہوا رومال گلابی رنگ کا،جیب سے نکال کرہاتھ میں پکر لیا،جو داستان گووں کی تسکین کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ امیر سبحانی نے رومال کے چاروں کونے اکٹھے کر کے مٹھی میں دبا لیے اور ولیم کی طرف منہ کرکے بولا،صاحب اجازت ہے تو عرض کروں؟ پھر داستان شروع کر دی اور ہلکے ہلکے قدموں سے آگے پیچھے چلنے بھی لگا۔

اول حمد خدا وند باری، دوم پاک رسول
تیجا نام علی کاجاپوں،جس کی دو جگ دھوم
چوتھی پاک رسول کی بیٹی پانچواں حسن حسین
اِن کے بعد ہیں بارہ ہادی سید کُل کونین
غازی پاک عباس بہادر،لے کر اُس کا نام
قصہ ایک دلاور کا مَیں تم کو سناؤں تمام

امیر سبحانی تمہید کے بعد اصلی داستان کی طر ف اس طرح پلٹا کہ اچانک ولیم سمیت پورا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا اورکہانی سننے کے ساتھ ساتھ امیر سبحانی کی حرکات و سکنات کو بھی غورسے دیکھنے لگا۔

آنکھوں دیکھا حال ہے،نہیں سُنی گنی یہ بات
سب سچ کہانی بیلیوں،شاہد رب کی ذات
اک شہرجلال آباد تھا،اُس مشرق کے پنجاب
جسے چھوڑا وِچ فساد میں،سنو مرے احباب
اُس شہرجلال آبادمیں،تھا ایک جوان دلیر
بیٹا حیدرشیر کا تھا،دھرتی کا وہ شیر
نام غلام حیدر اُس کا،جانے سب سنسار
ہوا شہید وہ سورما،پَر دیے گورکھے مار

اِس کے بعد جیسے ہی امیر سبحانی نے داستان کا قد غلام حیدر کے ذکر کے ساتھ آگے بڑھایا اور قصے کی رمزیں کُھلنا شروع ہوئیں،ولیم کی آنکھیں کُھلنے لگیں۔ امیر سبحانی کی آواز میں ایسی تمکنت اور داستان کہنے میں ایسی دلآویزی تھی کہ سب مجمعے کے سروں پر گویا پرندے بیٹھے ہوں۔ مجال ہے،کسی کا دھیان ادھر اُدھر بھٹک جائے۔ ولیم کا معاملہ کچھ آگے کا تھا۔ جیسے جیسے داستان آگے بڑھ رہی تھی،اُس کی یاد داشت کے دریچوں کے پٹ ایک ایک کر کے وا ہوتے جا رہے تھے۔ اُسے یوں لگ رہا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن چکا ہے۔ امیر سبحانی چارپائیوں کے درمیان کی راہداری میں ایک ہاتھ میں جریب پکڑے،کبھی آگے اور کبھی پیچھے چلتا اور غلام حیدر کا قصہ نظم کی شکل میں بیچ بیچ نثرکے ٹوٹے جما کر یوں اُٹھاتا،جیسے آئتوں کے درمیان تفسیر کی وضاحتیں ہوں۔ اِس طرح کہانی میں ایک تو تا ثیر بڑھ جاتی تھی،دوسرا سمجھنے میں آسانی رہتی۔ کہانی کے اِس انداز سے یوں تو سارا مجمع ہی کہانی سننے کی بجائے دیکھ رہا تھا۔ مگر ولیم توگویا پچھلے زمانے میں پہنچ گیا تھااورنہیں چاہتا تھا کہ یہ قصہ ختم ہو۔ اُس کے لیے چالیس سال بعد یہ ایک ایسا منظر تھا،جو اگر نہ آتا تو شاید ولیم کی زندگی میں ایک ایسا خلا رہ جاتا،جو نہ تو کبھی پُر ہوتا اور نہ ہی ولیم کو پتا چلتا،وہ کون سا خلا ہے؟ داستان آگے بڑھتی گئی۔ سب سنتے گئے اور ولیم اُس کے ایک ایک منظر میں کھوتا گیا۔ حتیٰ کہ رات گیارہ بجے امیر سبحانی نے داستان دوسرے دن عشا کے وقت تک روک دی۔ اِس کے بعد سب مہمانوں کو کھانا پیش کیا گیا۔ کھاناکھا کر سب رخصت ہو گئے اور امیر سبحانی چوہدری شفیع کے ساتھ ٹانگے پر بیٹھ کر چلا گیا۔

لوگ تو داستان سن کر چلے گئے مگر ولیم کی رات سو سال کی ہو گئی۔ امیر سبحانی نے داستان شروع نہیں کی تھی،ولیم کی زندگی کا افسانہ چھیڑ دیا تھا۔ اگرچہ ِاس میں اُس کا اپنا ذکر تین چاردفعہ ہی آیا تھا۔ وہ بھی غلام حیدر کے ضمن میں مبالغے کے ساتھ،۔ مگر یہ مبالغہ بھی ولیم کو اچھا لگا۔ بلکہ عین سچ لگا اوروہ چاہ رہا تھا،یہ کہانی کبھی ختم نہ ہو۔ اِنہی سوچوں میں ولیم کی ساری رات نکل گئی اور اُس کی آنکھیں گویا یاقوت ہو گئیں۔ کبھی اُٹھ کے ٹہلنے لگتا،کبھی بستر پر جا پڑتا۔ حتیٰ کہ فجر کی اذان نے صبح کی سواری کا نقارہ بجا دیا۔ رات بھر ولیم کے دماغ میں جودھا پور،جھنڈو والا،غلام حیدراورجلال آباد کے مضافات کا وہ علاقہ پھرتا رہا،جہاں اُس نے اُن دنوں دورہ کیا تھا۔ وہ رہ رہ کر اُنہی مضافات میں چلا جاتا اور تڑپ تڑپ کے رہ جاتا۔ کہانی ابھی تک وہاں تک پہنچی تھی،جب غلام حیدرفیروز پور میں شیخ مبارک کے پاس ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بندوبست میں گیا تھا۔ لیکن وہ دلچپ اِتنی تھی کہ ولیم کو اپنے ساتھ غلام حیدر کے کردار سے بھی شدید دلچسپی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہو گیا کہ آخر اُس کے ساتھ کیا بنی؟ دن چڑھا تو اُس نے بادامی رنگ کی بید پکڑی اور سیر کو نکل کھڑا ہوا۔ یہ سیر اُن زمینوں اور باغوں کی تھی،جو اب اُس کی ملکیت میں نہیں تھیں۔ اُس کی عمر اتنی لمبی سیر کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔ پھر بھی وہ جوانوں سے کہیں زیادہ پھرتیلا اور پیدل چلنے والا تھا۔ وہ دوبارہ شام ہونے اور کہانی کے شروع ہونے کے انتظار میں کُڑھنے لگا اور خدا خدا کر کے پھر عشا کا وقت ہو گیا اور ولیم کی کوٹھی میں داستان کے پالان لگ گئے۔

یہ محفل دس دن بر پا رہی۔ امیر سبحانی نے اِس طرح اُس میں رنگ بھرا کہ محبوب علی بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ہر آدمی عش عش کر اُٹھا اور سب نے اُسے کچھ نہ کچھ ضرور دیا۔ ولیم نے دس ہزار روپے کے ساتھ کئی تحفے بھی دیے۔ اتنی بڑی رقم امیر سبحانی نے کبھی ایک دم نہیں دیکھی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں ولیم کے لیے تشکر کے آنسو آگئے۔ اب چونکہ ہر شخص پر کھل گیا تھا کہ جلال آباد کا اُس وقت کا اسسٹنٹ کمشنر ولیم تھا،اور یہ کہ ُاس نے غلام حیدر کے ساتھ زیادہ سخت رویہ اختیار بھی نہیں کیا تھا۔ اِس کے علاوہ یہ اِس داستان میں ایک بڑے متحرک کردار کی شکل میں سامنے رہا ہے اور سکھوں کی بانسری بجانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اِس لیے وہ سب ولیم کی محبت میں اور زیادہ مانوس ہو گئے۔ لیکن ولیم کہانی سننے کے بعد مزید اُداس رہنے لگا۔ اُسے وہ بھولی ہوئی تمام شامیں اور اُن شاموں میں جلنے والے قمقمے یاد آنے لگے،جو کسی بھی طرح سے خوش گوار تھے۔ اِس منظر میں اُسے پھر کیتھی اور بچوں کی یادیں ستانے لگیں،جو اگر چہ اب بچے نہ رہے تھے لیکن ولیم نے اُنہیں جس قدوقامت میں چھوڑا تھا،وہ اُسے اُسی قامت میں دِکھنے لگے اور مسلسل تڑپانے لگے۔ مگر اب اُن کا کوئی پتا نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،اگر ایک بار اُسے خط آ جائے تو وہ اُن سے ملنے کے لیے لندن ضرور جائے گا۔ وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا اور خط لکھنے لگا۔

بیڈ روم کی تمام چیزیں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ بلکہ کئی چیزیں تو استعمال کے قابل بھی نہیں رہی تھیں اور اُس نے نئی چیزیں نہ خریدنے کی قسم کھا لی تھی۔ کوٹھی بھی ولیم کی طرح بوسیدہ ہو چکی تھی۔ پھر بھی کوئی چیز اِس تنہائی میں دل کو سکون اور اطمنان بخشنے والی تھی،تو وہ یہی کوٹھی تھی،جو اُس کی اپنی تھی۔ ولیم نے کیتھی اور بچوں کو تسلی سے بیٹھ کر دوبارہ خط لکھا اور خود جا کر اوکاڑہ کچہری بازارکے تار گھر سے تار کیا۔ لیکن اُس کا کبھی جواب نہ آیا اور دن مزید گزرتے گئے۔ ولیم آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید امیر سبحانی سے کہانی سننے کے بعد وہ جلد بوڑھا ہونے لگا تھا۔ اُ س نے سوچا،کاش اُس کی امیر سبحانی سے ملا قات ہی نہ ہوتی اور وہ اتنا جلدی بوڑھا نہ ہوتا۔ یہ اُداسی کی حالت ولیم پر کئی مہینوں تک جاری رہی۔ سردیاں گزر گئیں،بہار نکل گئی،گرمیاں چلی گئیں،پھر سردیاں آگئیں۔ اِن بدلتے مہ و سال کے فاصلوں سے اُس کے زخم بھرنے لگے اور دو سال بعد اُس کی حالت پھر معمول پر آگئی۔ لیکن اب اُس کی شاہ خرچیاں ختم ہو گئی تھیں۔ کیونکہ جمع پونجی قریب قریب ٹھکانے لگ چکی تھی اور اُس کی زندگی کے شب و روز ارد گرد کے علاقوں میں گھومتے ہوئے،اُفق کی طرف جلدی سے سمٹتے جارہے تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(33)

مولوی کرامت کی آنکھ کھلی تو ستارے اپنی ترتیب بدل رہے تھے لیکن کھتیاں صبح کاذب سے ابھی دور تھیں اور فجر کی اذان میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت عادت کے مطابق بہت ہی سانجرے اُٹھ جاتا تھا۔ اِس لیے حاجات ضروریہ وغیرہ کے لیے کھیتوں میں نکل جاتا،جو اکثر لوگوں کا معمول تھا۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گھروں میں جھاڑے پیشاب کے لیے جگہ بنائی جائے۔ کھیتوں میں منہ اندھیرے اِس کام کے لیے جانے سے تازہ ہوا اور لمبی سیر کے ساتھ ساتھ رفع حاجت کے کام سے بھی فارغ ہو جا تا۔ کئی لوگ تو اِس سلسلے میں چلتے چلتے تین چار کلو میٹر تک نکل جاتے۔ بہر حال اِس کے بعد مولوی کرامت سیدھا پاس کی چھوٹی مسجد کا رخ کرتا جس میں زیادہ تر غلام حیدر کی رعا یا اورچند ادھر اُدھر کے لوگ نماز پڑھنے آجاتے۔ مولوی مسجد میں پہنچ کرتہجد پڑھتا،پھر قرآن کھول لیتا اور جب تک نماز فجر کا وقت نہ ہو لیتا،اُسی کی تلاوت کرتا رہتا۔ اِس مسجد کا مولوی پہلے سے ایک موجود تھا،جو غلام حیدر کا خاندانی مولوی بھی تھا۔ اِس لیے مولوی کرامت کو اُس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑتی لیکن دل ہی دل میں اِس بات کا دکھ بھی تھا۔ اور خواہش تھی،کاش وہ اِس مسجد کا مولوی بن جائے۔ کبھی اُس کے جی میں خیال آتا،خدا کرے یہ مولوی مر جائے۔ پھر اُسی خیال میں اپنی امامت کے منصوبے بنانے لگتا۔ مگر تھوڑی دیر بعد جھر جھری لے کر اس سوچ کو جھٹک دیتا اور خدا سے توبہ کرتا۔ ایک دفعہ اُسے یہ خواب بھی آیا کہ پہلا مولوی مر گیا ہے اور وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے۔

اب اُسے جلال آباد میں آئے ہوئے اور سکول میں پڑھاتے کئی دن ہو گئے تھے۔ رہنے کے لیے چوہدری غلام حیدر کی حویلی میں انتظام بھی تھا۔ حویلی کی ڈیوڑھیوں میں سے ایک ڈیوڑھی کے چھوٹے سے کمرے میں چراغ دین کا رشتے دار ہونے کے ناطے بستر جمانے کی جگہ مل چکی تھی اور ناشتے کے علاوہ دو وقت کا کھانا بھی مل جاتا۔ ہیڈ منشی اُس کی کارکردگی سے کافی مطمئن تھا۔ سکول سے چھٹی کے بعد مولوی صاحب فارغ ہوتا۔ ان اوقات میں وہ جلال آباد اور اُس کے مضافات کی سیر کو نکل جاتا۔ اِس طرح کچھ ہی دنوں میں اُس نے یہ علاقہ بھی قریب قریب دیکھ لیا۔

جلال آباد کہنے کو تحصیل تھی لیکن اس کی آبادی بنگلہ فاضلکا سے بھی کم تھی۔ مشکل سے چارسو گھر کا شہر تھا۔ گویا ایک قصبہ تھا،جسے فیروز پور ضلع کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ جلال آباد میں تحصیل کمپلیکس کے علاوہ ایک چھوٹی سی غلہ منڈی تھی،جس کے زیادہ تر آڑھتی ہندو تھے اورکاروبار پر قابض تھے۔ منڈی میں جن اجناس کا لین دین تھا وہ بھی مخصوص تھیں۔ جیساکہ جَو،باجرہ،چنے اور گندم۔ ان کے علاوہ نہ ہی جلال آباد میں کوئی فصل تھی اور نہ بڑے پیمانے پر کسی اور شے کا کاروبار تھا۔ البتہ سُرخ مرچیں،پیاز،لہسن اور سستے پھل،جن میں سے اکثر سڑے ہوتے تھے،یہاں تھوڑے بہت دستیاب تھے۔ منڈی کے باہر بھی کچھ دوکانیں تھیں لیکن وہ دوکانیں جلال آباد کے بازار میں تھیں۔ بازار مشکل سے بیس پچیس دوکانوں پر مشتمل تھا۔ اِنہی میں ایک دو کپڑے کی بھی تھیں۔ اُن میں بھی کھدر اور سوتی کپڑے کے علاوہ دوسرا کپڑا نظر نہیں آتا تھا یا ہاتھ کے بنے ہوئے کھیس،چادریں اور رنگ برنگی لنگیاں تھیں۔ منڈی کے بر عکس یہاں کچھ سکھ دوکانداربھی نظر آ جاتے مگراُ ن کی حالت ہندو ؤں سے کافی پتلی تھی اور مسلمان تو سِرے سے نہیں تھا۔ دکانوں میں روزمرہ استعمال کی چیزیں اور چھوٹی موٹی کھانے کی اشیا مثلاً دیسی شکر،گُڑ،نمک،مسالہ جات،ٹانگر،میدے کی برفی اور کھانڈ کی چوسنے والی گولیا ں،چاول،دال اور اسی طرح کی دیگر چیزیں بوریوں میں کُھلے منہ پڑی رہتی تھیں۔ اکثر دکانداروں نے تیسرے درجے کی کھجوریں بھی رکھی تھیں،جن پر ہر وقت مکھیاں بھنبھناتی رہتیں اور گاہک مکھیوں سے بے پروا یہ سستی کھجوریں لے جاتے۔ کھجوریں اور ٹانگر عموماً دیہات سے آئے ہوئے لوگ ہی اپنے ساتھ لے کر جاتے۔ یہ چیزیں سستی ہونے کے ساتھ میٹھی اور مزیدار بھی لگتیں اور بچے اِنہیں کھا کے خوش ہو ہو کر اُچھلتے کودتے۔ اِن کے علاوہ ایک حلوائی تھا،جس کی دوکان تو نہیں تھی،بس ایک پھٹے پُرانے شامیانے کے نیچے دو چولہوں کے اُوپر دو کڑاہیاں رکھ کر ایک میں جلیبی اور دوسری میں پکوڑے تَل تَل کر پراتوں میں ڈھیر لگاتا جاتا۔ یہ حلوائی مسلمان تھا۔ بازار میں آنے والے ہر ایک نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا کہ وہ اِس سے پکوڑے اور جلیبی ضرور لے کر کھائے اور گھر لے جائے۔ ایک مدت ہو گئی تھی لیکن اِس کا یہ تھڑا دوکان میں نہیں بدلا تھا اور نہ اس نے کاروبار میں کچھ اضافہ کیا تھا۔ ان دکانوں اورمنڈی کے علاوہ جلال آباد میں ایک مسجد،ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی تھا اور یہ تینوں مذہبی عمارتیں اپنے اپنے مکینوں کے درمیان ہی تھیں۔ اِن کے علاوہ کوئی ایسی خاص چیز نہیں تھی جس کا ذکر کیا جائے۔ ہاں ریلوے اسٹیشن البتہ جلال آ باد کے شمال کی طرف تحصیل کمپلیکس کے بالکل ساتھ پڑتا تھا۔ یہ اُس وقت واحد سواری تھی،جو جلال آباد کے رہنے والوں کو دور دراز لے جاتی اور لے آتی۔ اکثر دیہاتی بھی اِسی ریل کے ذریعے جلال آباد آتے۔ کیو نکہ اُس وقت ریل اکثر بڑے بڑے دیہاتوں میں رُکتے ہوئے آتی تھی۔ کرایہ سستا ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی اشیاء بھی اِسی کے ذریعے منڈی میں لا کر بیچتے یا پھر یہاں سے فیروز پور لے جاتے۔ ریل کے علاوہ سواری اور باربرداری کے لیے جو ذرائع تھے،اُن میں زیادہ تر گدھے،اونٹ اور گَڈے تھے جسے آپ بیل گاڑی کہہ لیں۔ بعض لوگ گھوڑے کو بھی استعمال میں لاتے مگر یہ خال خال ہی تھا۔ کچھ بڑے زمینداروں یا پولیس کے پاس۔

محکمہ تعلیم کے طرف سے مولوی کرامت کو نیا حکم نامہ ملے تین دن ہو چکے تھے مگر ابھی تک اُس نے کام شروع نہیں کیا تھا۔ وہ اِسی شش پنج میں تھا کہ کیا کرے اور کس طرح لوگوں کو اُسی کام کے لیے تیار کرے؟ جس کے خلاف خود وہ یا اُس کے بھائی بند فتوے دے چکے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ جب تین دن اِسی سوچ بچار میں گزر گئے تو اُسے اچانک ایک ترکیب سوجھی اور آج مولوی نے اُس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ اُس نے تہیہ کر لیا کہ جلال آباد کی جامع مسجد سے اپنی ڈیوٹی شروع کر ے گا۔ مولوی کرامت نے بستر سے اُٹھ کر سر پر ا چھے طریقے سے پگڑی باندھی۔ اُس کے بعد بستہ بغل میں دبایا اور چھڑی پکڑ کر کمرے سے باہر نکل پڑا۔ باہر نکل کر اُس نے ایک دفعہ بستہ اور چھڑی زمین پر رکھ کر اپنے کمرے کو تالا لگاکر چابی ازار بند سے باندھی پھر بستہ اور چھڑی زمین سے دوبارہ اُٹھا ئی اور چل دیا۔ باہر اُس کی گدھی موجود تھی،جس کے آگے مولوی صاحب نے رات بہت ساری چاولوں کی پھک ڈال دی تھی۔ پھک ابھی تک کافی مقدار میں پڑی تھی،جسے مولوی کی گدھی وقفے وقفے سے کھا رہی تھی۔ یہ گدھی اُس نے سواری کے لیے جودھا پور سے پورے سات روپے کی لی تھی لیکن اُس پر سواری کرنے کا ابھی موقع نہیں ملا تھا کیونکہ سکول نزدیک تھا۔ مگر اب مولوی کو جو ڈیوٹی دی گئی تھی،اُس کے مطابق اُسے ارد گرد کے گاؤں میں بھی جانا پڑنا تھا۔ سفر طے کرنے کے لیے اُسے گدھی کا سہارا چاہیے تھا۔ لیکن اس وقت مولوی نے اُسے وہیں بندھا رہنے دیا کیونکہ جامع مسجد زیادہ دور نہیں تھی۔

ابھی اندھیرا تھا اور بہار کی ہوا ہولے ہولے چل رہی تھی۔ ہوا کے اندر سردی کا لمس بالکل ختم ہو چکا تھا کیونکہ فروری کب کا نکل گیا تھا اور مارچ اپنے آخری دن پورے کر رہا تھا۔ مولوی کرامت زمین پرچھڑی ٹکاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھنے لگا۔ اِدھر اُدھر لیٹے آوارہ کتوں نے مولوی کرامت پر اس طرح بھونکنا شروع کر دیا،جیسے اُن کی سلطنت میں ایک اور اُن کا شریک آگیا ہو۔ مولوی کرامت دور ہی سے کتوں کو چھڑی دکھاتاآگے بڑھتا گیا۔ ابھی وہ مسجد کے دروازے پر ہی تھا کہ موذن نے اذان دینا شروع کردی۔ مولوی کرامت نے جلال آباد کی مسجد میں قدم رکھا تو اُس کا دل ایک مرتبہ بالکل ڈگمگا سا گیا۔ کہاں تو اپنے گاؤں کی مسجد کا واحد مالک تھا،جو اُس کا ایک قسم کا گھر تھی۔ وہ اُس میں جب چاہتا اذان دیتا،جب چاہتا نماز کا وقت آگے پیچھے کر دیتا اور جیسے چاہتا مسجد کے درودیوار کے اور صفوں کے بار ے میں فیصلے صادر فرماتا۔ ایک یہ مسجد تھی جس کی ہر شے اجنبی تھی۔ یہاں نہ کسی نے اُس سے پوچھ کے اذان دینا تھی اور نہ دوسرے کسی معاملے میں کوئی مشورہ لینا تھا۔ اُسے محسوس ہوا جیسے روح گھٹتی جارہی ہو اور وہ ابھی مر جائے گا۔ عین ممکن تھا مولوی کرامت گھبرا کے واپس مڑ جاتا،اُسی وقت اُس نے اپنے پیچھے ایک شخص کے قدموں کی آواز سُنی جس کے سبب مولوی کرامت نے اپنے دل کو سنبھالا دیا اور مسجد کے صحن میں داخل ہو گیا۔ مسجد کے دائیں بائیں برآمدے تھے،جن میں صفیں بچھی ہوئی تھیں لیکن ان برآمدوں میں ایسے لگتا تھاجیسے مدت سے کسی نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ صفوں پر گرد او ر سفید سیم اُبھری ہوئی تھی،جو لال ٹین کی روشنی میں صاف نظر آ رہی تھیں۔ شاید سردی کی وجہ سے برآمدوں میں نماز نہ پڑھنے کے ساتھ اُن کی صفائی کا خیال بھی نہیں رکھا گیا تھا۔

مولوی کرامت نے اپنا بستہ اُتار کر وہیں برآمدے میں رکھا اور طہارت خانے کی طرف رُخ کیا۔ کچھ دیر میں حاجت سے فارغ ہو کر پہلے آرام سے وضو کیا پھر خاص مسجد میں آکر محراب کے پاس کھڑا ہو گیا تا کہ با جماعت فرض ادا کرنے سے پہلے نماز سُنت ادا کر لے۔ مولوی نے دیکھا،جس موذن نے اذان دی تھی،وہ بیٹھا تسبیح کے دانے گن رہا تھا۔ غالباً اُس نے اپنی نمازِ سُنت ادا کر لی تھی۔ مولوی کرامت نے اُسے سلام علیکم کہا اور جوا ب سُنے بغیر ہی نماز کے لیے اللہ اکبر کہ دیا۔

نماز با جماعت میں کم از کم ڈیڑھ سو آدمی جمع تھے اور یہی بات مولوی کرامت کے لیے خوشی کا باعث تھی۔ جب سب لوگ نماز پڑھ کر دعا مانگ چکے اور اُٹھ کر جانے لگے تو مولوی کرامت کھڑا ہو گیا اور بولا،بھائیو کچھ دیر کے لیے اگر بیٹھ جاؤ اور میری بات سُن لو تو تمھاری مہربانی ہو گی۔ لوگ مولوی کرامت کی بات سُن کر بیٹھ تو گئے لیکن ذرا بد دلی سے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے مولوی صاحب کچھ دیر تقریر کرنے کے بعد اپنی کسی ضرورت کے لیے چندہ مانگ لے گا جیسا کہ اکثر اس طرح کے ملاً حضرات کا معمول تھا۔ پھر بھی اُنہوں نے سوچا،کچھ دیر کے لیے سُن لینے میں کیا حرج ہے۔

سب لوگ بات سننے کو تیار ہو گئے تو مولوی کرامت نے بولنا شروع کر دیا۔ اِس تقریرکے لیے اُسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ جب سے ہوش سنبھالے تھے،مولوی کرامت نمازیوں کو باتیں ہی سناتا آیا تھا۔

میرے مسلمان بھائیو،مَیں جلال آباد کے اِس بڑے اسکول میں منشی بن کر آیا ہوں جو انگریز بہادر نے ہمارے بچوں کے لیے بنایا ہے۔ میرا ارادہ ہے مَیں تمھارے بچوں کو عربی،فارسی اور حساب کتاب پڑھاؤں تاکہ یہ بڑے ہو کر بابو بنیں۔ گورنمنٹ انگریز بہادر نے مجھے کچھ ہی دن پہلے اِس نوکری پر رکھا ہے لیکن جب میں نے دیکھا،اِس بڑے اسکول میں تو مسلمان بچے نام کو بھی نہیں۔ سارے بچے ہندو،سکھ اور چوہڑے ہیں تو میرا جی بہت دُکھا۔ اس لیے میں نے ارادہ کیا مَیں آپ کو خود آ کر گزارش کروں کہ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کراؤ۔
مولوی کرامت کی بات سُن کر سب لوگ حیران ہوئے۔ اُنہیں یہ خیال تک نہیں تھا کہ کوئی مولوی ہم سے چندے کے علاوہ اِس طرح کے سوال بھی کرنے آئے گا۔ یہ تو بالکل ہی انوکھا آدمی تھا،بلکہ اُن کی حیرت اِس لیے بھی زیادہ ہوگئی کہ اسکول میں داخلے کی بات ایک مولوی کر رہا ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں،اِن اسکولوں میں مسلمان بچوں کو نصاریٰ کی تعلیم دے کر کرسٹان بنایا جاتا ہے۔ اِسی لیے تو چوہڑوں کے پورے گاؤں کے گاؤں کرسٹان ہوئے ہیں۔

اُن کی حیرانی اور پریشانی دیکھ کر مولوی کرامت مزید بولا،بھائیو،میرے اور آپ کے رسول اور اللہ کے پیارے نبی محمدعربی نے فرمایا ہے،علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے لیکن کتنی بد بختی ہے ہمارے لیے کہ ہمارے نبی کے اس فرمان پر ہندو اور چوہڑے تو عمل کر رہے ہیں مگر ہم نافرمانی کر رہے ہیں۔ مجھے یہ بتاؤ ہم اپنے گھر کے پاس بننے والے اسکولوں میں ہی بچے نہیں بھیجتے،چین میں جانا تو دور کی بات ہے۔ میرا اور آپ کا نبی جانتا تھا،میری امت غریب ہے،ان کے پاس چین جانے کا خرچہ نہیں ہوگا اس لیے اُس نے کرسٹان،جو شروع دن سے ہی ہمارے نوکر اور ہمارے لیے کام کرنے والے رہے ہیں،اُن کو اس کام پر لگایا کہ وہ ہمارے لیے اِس طرح کے سکول اور مدرسے بنائیں جس طرح چین میں ہوتے ہیں۔ اب آپ ہی بتاؤ ہم چین جا سکتے تھے؟ نہیں جا سکتے تھے نا؟ تو بھائیو،اِس گورنمنٹ کا شکر کرو کہ جس نے چین لا کر جلال آباد میں اور فیروز پور میں رکھ دیا اور ہمیں دور نہیں جانا پڑا۔

مولوی کرامت کی بات سُن کر مسجد کے پیش امام نے فوراً ٹوکا،لیکن وہ تو مولوی صاحب،رسولِ پاک نے دین کے علم کی بات کی تھی کہ دین کا علم اگر تم کو چین میں جا کر حاصل کرنا پڑے تو اتنا لمبا بھی سفر کرنا مگر یہ انگریزی سکولوں میں تو کرسٹان کا علم ہے۔ ان سکولوں میں جا کر ہمارے بچے کرسٹا ن ہو جائیں گے اور دین خراب ہو جائے گا۔ تم نے فرنگی سرکار سے پیسے کھا لیے ہیں۔
مولوی کرامت کو اُس کی بات بہت بُری لگی۔ اُس نے سوچا اگر اِسی طرح یہ خبیث مولوی مجھے ٹوکتے رہے تو نوکری ضرور چلی جائے گی۔ اگر چہ اُس نے خود بھی ْقصور میں کئی باراِن اسکولوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور لوگوں کو روکا تھا کہ وہ ان اسکولوں میں نہ جائیں لیکن اب معاملہ وہ نہیں رہا تھا۔ اُس کے خیال میں اب گورنمنٹ نے بچوں کو کرسٹان بنانا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اِس جاہل مولوی کو کیا پتا سرکار کا نظریہ بدل چکا ہے۔

مولوی کرامت نے دیکھا کہ بات بگڑ سکتی ہے تو اُس نے بڑے تحمل سے ایک نئی چال چلی اور کہا،پہلی بات تو یہ ہے بھایؤ کہ اب گورنمنٹ سرکاری اسکولوں میں مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے مولویوں کو رکھ رہی ہے۔ سرکار نے اعلان کیا ہے،جو مولوی اچھی طرح سے دین اور عربی فارسی پڑھا ہو گا،اُسے سرکار اسکولوں میں تنخواہ پر مُنشی رکھے گی تا کہ وہ خود مسلمان بچوں کو پڑھائیں۔ اِس طرح کوئی خطرہ نہیں رہے گا اُن کے کرسٹان بننے کا۔ مجھے یہ مولوی صاحب ایک بات بتائیں،چین میں کون سے دین کی تعلیم دی جاتی تھی؟ ہمارا پیغمبر تو آیا عرب میں۔ اِس لیے دین اور اُس کا علم تو سارا وہاں تھا لیکن آپ نے یہ کیوں کہا،تم چین میں جانا؟ بتاؤ؟ (اپنی سفید ڈاڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے )اِس کا مطلب ہے،وہ کوئی اور علم تھا،جس کے لیے چین جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پھر چند لمحے رُک کراور پیش امام کی طرف رُخ کر کے،جس کے آگے مولوی کرامت نے گورنمنٹ کی نوکری کا لقمہ پھینک دیا تھا اور وہ ذہنی طور پر شکست تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہو چکا تھا،مجھے ایک بات بتاؤ مولوی صاحب ! جب بد ر کی جنگ ہوئی اور کافر پکڑے گئے تو اُن کو آزاد کر نے کی ہمارے نبی نے کون سی شرط لگائی تھی؟پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر،پوچھو اِس سے؟
ایک شخص جو اُن میں سب سے معزز نظر آ رہا تھا اور ہلکی سی ڈاڑھی بھی رکھتا تھا،ایسے محسوس ہوتا تھا،پیش امام کا زیادہ تر خرچہ اِسی کے گھر سے پورا ہوتا ہے۔ اُس نے پیش امام سے پوچھا،جی مولوی صاحب آپ بتائیں کس شرط پر ہمارے رسول نے اُن قیدیوں کو چھوڑا تھا؟

جب پیش امام نے چند لمحے تک کوئی جواب نہ دیا تو اُس شخص نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب آپ ہی بتائیں،وہ کون سی شرط تھی؟

اب مولوی کرامت کو اپنی فتح قریب نظر آرہی تھی۔ نوکری کی نوید سُن کر پیش امام نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ لہذا مولوی کرامت نے بولنا شروع کیا،ہوا یہ مومنو،جب نبی پاک اُن قیدیوں کو پکڑ کر مدینے لے آئے توآپ نے اعلان کیا،جو کا فر قیدی ہمارے دس مسلمان بچوں کو تعلیم دے گا اور اِنہیں پڑھنا لکھنا سکھائے گا،ہم اُس کو آزاد کر دیں گے۔ اِس حکم پر بیس قیدیوں نے مدینے کے پورے دوسو مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا اور ہمارے نبی پاک نے اُن کو شرط کے مطابق آزاد کر دیا اور پیسے بھی دیے۔

یہ کہ کر مولوی کرامت خموشی سے مسجد میں موجود لوگوں کی طرف دیکھنے لگا۔ جب چند ثانیے اسی طرح گذر گئے اور کسی نے اُس کی بات کو رد نہ کیا تو مولوی کرامت نے مزید اپنی بات کو پختہ کرنے کے لیے کہا،اب مسلمانو آپ ہی بتاؤ،وہ قیدی تو پکے کافر تھے۔ رسول تو رسول،خدا کو بھی نہیں مانتے تھے،پھر بھی رسول پاک نے مسلمان بچوں کو اُن سے پڑھانے سے گریز نہ کیا لیکن نصاریٰ تو پھر بھی خدا کو مانتے ہیں اور مفت میں آپ کے بچوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں تا کہ مسلمان خود حکومت کرنے کے قابل ہو جائیں۔ ہندوستان پر حکومت کرنا مسلمانوں کا حق ہے اور گورنمنٹ بہادر چاہتی ہے،ہم پڑھ لکھ جائیں تاکہ وہ ہماری امانت ہم کو سونپ کر چلے جائیں۔ یاد رکھو اگر تم اپنے بچوں کو ان گورنمنٹ کے اسکولوں میں نہیں پڑھاؤ گے تویہ ہنود اور چوہڑے اور سکھ،یہ سب فرنگی سرکار کے جانے کے بعد ہم پر حکومت کریں گے۔

او بھلے لوگو،تمھارے علاوہ یہ سب قومیں فٹا فٹ اِن اسکولوں میں جا کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہمارے بچے ایسے ہی ڈنگر کے ڈنگر بھیڑ بکریاں چرا رہے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ کیا تم نے نہیں دیکھا،عدالتوں اور کچہریوں میں سب ہندو لوگ ہیں جو فیصلے بھی ہمارے خلاف کرتے ہیں اور یہ بنیے جو چاہیں اپنے بھئی کھاتوں میں لکھ دیں۔ پھر تمھاری گردن پر ناخن رکھ کر جتنا چاہیں وصول کر لیں۔ تمھیں تو نہ پڑھنا آئے اور نہ اُن کھاتوں کے حساب کتاب کے دیکھنے کا طریقہ۔ اِسی لیے ہمارے قرضے بڑھتے جاتے ہیں اور پشتوں سے لے کر اب تک ادا نہیں ہوتے۔ یاد رکھو اگر ہمارے بچے نہیں پڑھیں گے تو پنجاب پھر سکھوں کے پاس چلا جائے گا۔ بھلا تمھیں پتا ہے؟مہاراجہ رنجیت نے کیا کیا تھا؟ اُس نے ہماری بادشاہی مسجد میں اپنی فوج کے گھوڑے باندھ کر اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ جہاں اُنہوں نے لید اور پیشاب کر کر کے اتنی بدبوپھیلائی اوراتنا گند مارا کہ بچارے گنبد اور میناروں کے کبوتر بھی ہجرت کر گئے۔ یہ انگریز بہادر ہی تھے،جنہوں نے وہ شاہی مسجد ان سے آزاد کرا کے ہمیں دی۔ اگر فرنگی سرکا ر مسلمانوں کی دشمن ہوتی تو اُس مسجد کو سکھوں سے آزاد کیو ں کراتی؟ پھر اُس جگہ اپنا گرجا بنا لیتی۔ اِسی دوران مولوی کرامت کو یاد آیا کہ جب فرنگیوں نے دہلی فتح کیا تھا،تو انہوں نے بھی جامع مسجد دہلی میں اپنے گھوڑے باندھ دیے تھے اور اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ مگر شکر ہے کہ اِس بات کا کسی کو بھی پتا نہیں تھا،ورنہ بات بگڑ جاتی۔ یا اگر پیش امام کو پتا بھی تھا،تو اب وہ نہیں بول سکتا تھا۔ کیو نکہ نوکری ملنے والی تھی۔ بہر حال مولوی کرامت نے اس بیہودہ خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی،مگر صدقے جاؤں اِس منصف اور عادل گورنمنٹ کے،جنہوں نے مسلمانوں کے لیے یہ سب کچھ کیا اور ہم ہیں کہ اپنے ہی دشمن۔ سکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں بھیجتے اور چوہڑے جو ہمارا گند صاف کرنے والے ہیں،وہ پڑھ پڑھ کر بابو بنتے جا رہے ہیں۔ یہی حالت رہی تو ایک دن آئے گا ہماری اولادیں اُن کا گند صاف کریں گی۔ جس سے سرکا ر ہمیں بچانا چاہ رہی ہے۔

مولوی صاحب یہ بات آپ نے پہلے ہمیں کیوں نہیں بتائی،ایک شخص جس کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی،اُس نے سر سے صافا اُتار کر گھٹنوں کے نیچے رکھا اور بولا،ہم تو خط پتر بھی نہیں پڑھ سکتے۔ کہیں سے شادی موت کا لفافہ آ جائے تو بیس دروازے بھونکتے ہیں،تب جا کر کوئی پڑھ کے سناتا ہے۔ وہ بھی سو سو نخرے کرتا ہے۔

مولوی کرامت نے اپنا وار کار گر ہوتے دیکھا تو مزید اُس پر جملہ کسا،تو اور کیا؟ پھر سو باتیں ایسی ہوتی ہیں کسی غیر کو نہیں بتانی ہوتیں،جس سے خط پڑھواتے ہیں وہ اُنہیں بھی جان جاتا ہے اور گھر کی بات خواہ مخواہ باہر نکل جاتی ہے۔ پھر یہ ہندو اور چوہڑے تو ہمارے ویسے بھی دشمن ہیں۔ بھائی تعلیم بہت ضروری ہے۔

اس کے بعد مولوی کرا مت نے اپنا بستہ کھولا اور اُس میں سے ہاتھ بھرلمبا اور آدھ ہاتھ چوڑا رجسڑ اور ایک قلم اور دوات نکال کر بیٹھ گیا اور کہا،جلدی سے اب اپنے اپنے بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے نام لکھواؤ۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پندرہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(29)

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے میں داخل ہوتے ہی اُس کی بلندو بالا سُرخ عمارت کی ہیبت میں دب کر کھڑا ہو گیا۔ سامنے پہاڑ جیسی سرخ عمارت بڑی بڑی حویلیوں کا سر نیچا کر رہی تھی۔ جس کے کئی کئی دالان اور بیسیوں کمرے اِدھر اُدھر پھیلتے چلے گئے تھے۔ دائیں بائیں کے کمروں کے اندر راہداریاں اور راہ داریوں میں بلند و بالا تیس درجے کی ڈاٹ والے در۔ اِن دروں کے ستون گول اور اونٹوں کی قامت سے دگنے تھے۔ واقعی انگریز سرکار نے بڑے پیسے خرچ کر کے یہ عمارت بنائی تھی۔ جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا گرجا بھی تھا۔ بڑے بڑے گھاس کے میدان اور اُن کے کناروں پر لگے ہوئے ٹاہلیو ں،نیم،پیپل اور شریہنہ کے درخت چھاؤں کیے ہوئے تھے۔ کچھ بچے قطار بنا کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ اُن سب نے ملیشیے کی سیاہ رنگ کی قمیضیں اور شلواریں پہن رکھی تھیں۔ بچوں کے سروں پر پگڑیاں تھیں۔ کچھ ٹوپیاں پہنے ہوئے۔ ایک دو بچے ننگے سر بھی نظر آئے۔ مولوی کرامت کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اب کس سے ملے اور کیا کرے ؟ وہ دیر تک گیٹ کے اندر داخل ہو کر سکول کے اُس چوکیدار کے پاس کھڑا رہا،جو گیٹ پر ڈیوٹی کے لیے بیٹھا تھا۔ چوکیدار اپنی ہی ذات میں مگن،سر نیچا کیے،کچھ منہ کے اندر ہی اندر گنگنا تا رہا اور نظر اُٹھا کر مولوی کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ یہ چوکیدارایک سکھ نوجوان لڑکا تھا،جس کے سر پر اتنی بڑی پگڑی تھی کہ پورے جسم کو دبا رہی تھی۔ جب اُس نے مولوی پر کچھ توجہ نہ دی تو مولوی کرامت نے ڈرتے ڈرتے پوچھا،سردار صاحب،ہیڈ منشی صاحب سے ملنا ہے اور جیب سے نکال کر وہ رقعہ دکھایا،جو تُلسی داس نے مولوی کرامت کو دیا تھا اور کہا تھا کہ جا کر منشی بھیم داس کو دکھا دینا۔ باقی وہ سب کچھ تمھیں سمجھا دے گا۔ چوکیدار نے مولوی کی آواز پر پہلی دفعہ سر اُٹھا کر غور سے دیکھااور اُس کے لباس،داڑھی،پگڑی اور چہرے کی سادگی اور نفاست سے متاثر ہو کر بولا، شاہ جی کیہ کہنا ہیڈ منشی نوں؟

 

مَیِں یہاں منشی بن کے آیا ہوں،اُسے رپورٹ کرنی ہے۔

 

یہ سُن کر وہ جلدی سے اُٹھا اور بِنا کچھ بولے مولوی کے آگے چل دیا۔ مولوی کرامت اُس نوجوان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا،یہاں تک کہ ایک کمرے کے سامنے جا کر،جس کی چھت پر دو جھنڈے لگے تھے۔ ایک برطانیہ سرکار کا اور دوسرا پنجاب ایجوکیشن منسٹری کے مونو گرام کا،وہاں پہنچ کر نوجوان نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب ہیڈ ماشٹر صاحب اندر بیٹھے آ۔
یہ کہ کر وہ وہیں سے اُلٹے قدموں واپس ہو گیا۔ جبکہ مولوی کرامت آگے بڑھ کر کمرے میں داخل ہو گیا اور جھٹ اسلام و علیکم کہ دیا۔ اندردوتین منشی اور بھی بیٹھے تھے لیکن مولوی کرامت نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ہیڈ منشی وہی ہے جو میز کی دوسری طرف بیٹھا ہے۔ کمرہ اندر سے کافی کھلا اور صاف ستھرا تھا۔ جس میں آٹھ دس لکڑی کی کرسیاں تھیں۔ ایسی کرسیاں وہ پہلے بھی ولیم کے دفتر میں دیکھ چکا تھا۔ سامنے ایک چوکور لکڑی کی ہی میز تھی،جس پر نیلے رنگ کا میز پوش بچھا تھا۔ اُسی میز کی دوسری طرف ہیڈ منشی صاحب بیٹھے تھے۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی،جن پر بڑے اور موٹے شیشوں کی عینک چڑھی تھی۔ رنگ سیاہی مائل مٹیا لااور سر پر سفید رنگ کی دوپًلی ٹوپی اِس طرح دبا کے جمائی تھی کہ پورا سر اُس میں چھپ گیا تھا۔ منشی صاحب خود بھی کرسی پر بیٹھے میز کے پیچھے گویا چھپے ہوئے تھے۔ صرف اُن کی گردن سے اُوپر کا حصہ ہی نظر آ رہا تھا۔ اُس کے اس طرح بیٹھے ہونے سے قامت کااندازہ بھی ہو رہا تھا کہ ساڑھے چار فٹ سے زیادہ نہیں ہو گا۔ لیکن آنکھوں سے اطمنان اور سکون صاف جھلکتا تھا۔ اِس بات سے ثابت ہو رہا تھا کہ ہیڈ منشی کو ہرطرف سے مکمل سکون ہے اوراُن کے خانگی اور روزی روٹی کے معاملات صحیح چل رہے تھے۔ مولوی کرامت نے سوچا کہ اب اُس کے حالات بھی جلد ہی اللہ نے چاہا تو اِسی منشی جیسے ہو جائیں گے۔

 

رقعہ ابھی تک مولوی کرامت کے ہاتھ ہی میں تھا۔ اِس سے پہلے کہ ہیڈ منشی صاحب سلام کا جواب دیتا،مولوی کرامت نے وہ رقعہ اُن کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ منشی نے رقعہ اُٹھا کر کھولااور جیسے ہی اُس کی تحریر پڑھی،اُٹھ کر مولوی کرامت سے ہاتھ ملایا اور کہا،بیٹھیں مولوی صاحب،آپ کے بارے میں مجھے دو دن پہلے اطلاع مل چکی تھی اور میں آپ کا انتظار ہی کر رہا تھا۔ پھر ایک کُرسی کی طرف اشارہ کر کے،مولوی صاحب تشریف رکھیں۔

 

مولوی کرامت ہیڈمنشی کا اشارہ پا کر ایک کُرسی پر بیٹھ گیا لیکن اضطراری طور پر اِس طرح بیٹھا جیسے جمعے کا خطبہ دینے کے لیے منبر پر بیٹھا ہو۔ ہیڈ منشی صاحب بڑے کائیاں تھے فوراً بھانپ گئے اور بولے،مولانا آپ کہیں پیش امام تھے؟

 

جی حضور،تین پشتوں سے ہم یہی کرتے ہیں،ضلع قصور کے ایک گاؤں راڑے میں پیش امامت کرتا ہوں۔

 

تعلیم کی سرکار میں کوئی واقف تھا،جس نے آپ کی سفارش کی ؟

 

بس سرکار خدا واقف تھا،یا ہماری سرکار انگریز بہادر کمشنر صاحب کی مہربانی تھی۔ ورنہ اس عاجز کو کون جانتا تھا۔

 

ہیڈ منشی سمجھا مولوی کرامت کی انکساری اصل میں اپنی سفارش کو چھپانے کے لیے ہے۔ ورنہ اسسٹنٹ کمشنر سے تو ملنا ہی ناممکن ہے۔ کجا وہ خود سردردی لے کر اُسے سرکار میں منشی رکھیں۔ اس کے پیچھے لازماًکسی نواب کا ہاتھ ہو گا یا کوئی چال ہے۔ بہر حال جو بھی ہے تلسی داس نے بھی خبردار کر دیا تھا کہ مولوی کرامت کا خیال رکھنا صاحب کا خاص آدمی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ تعاون ہی کیا جائے اور اسی کی مرضی کے مطابق کام بھی دیا جائے۔ کہیں شکایت کر کے ہماری نوکری کو ہی نہ لے ڈوبے۔

 

آپ کون سے درجے کو پڑھانا چاہیں گے ؟

 

حضور،میں تو نوکر ہوں۔ جہاں سے کہیں گے،بچوں کو پڑھا دوں گا۔ درجوں کا تو مجھے حساب نہیں۔ اِس معاملے میں صاف کورا ہوں۔

 

ٹھیک مولانا،آپ آٹھویں کے درجے کو فی الحال فارسی اور عربی گرائمر کی مبادیات کا درس دے دیا کریں۔

 

بہتر سرکار،مولوی کرامت نے بے چینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلو بدلا۔

 

ٹھیک ہے مولوی صاحب،آپ اب آرام سے گھر جائیں۔ کل اتوار کی چھٹی ہے۔ پرسوں تشریف لے آئیں،ذکاء اللہ صاحب ہمارے ایک عربی اور فارسی کے منشی ہیں،وہ آج چھٹی پر ہیں،پرسوں وہ بھی آ جائیں گے۔ وہ آپ کا تعارف بچوں سے کرا دیں گے اور پڑھانے کے طور طریقے بھی بتا دیں گے۔ آج سے آپ کی حاضری اور تنخواہ شروع ہوگئی ہے (ایک رجسٹر مولوی صاحب کے سامنے کرتے ہوئے ) اپنا نام مولوی صاحب اِس رجسٹر پر درج کر کے انگوٹھا بھی لگا دیں۔
مولوی کرامت نے ہیڈ منشی کے کہنے پر تمام کام نپٹا دیا،پھر کہا،حضور اب جاؤں ؟
جی مولوی صاحب لیکن پرسوں ضرور تشریف لے آئیں۔

 

جی سرکار،اور اُٹھ کھڑا ہوا لیکن گھبراہٹ میں گرتے گرتے بچا۔

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے سے باہر نکلا تو اُسے محسوس ہوا کہ وہ گویا ایک جیل سے باہر نکلا ہے۔ ہیڈ منشی کے کمرے میں اُس کا دم گھُٹنے لگا تھا۔ پہلی بار سرکاری رجسٹر پر دستخط کرتے ہوئے اُسے لگ رہا تھا کہ شاید اپنی قید کے پروانے پر دستخط کر رہا ہے۔ اِسی وجہ سے گھبراہٹ شروع ہو گئی تھی۔ اب دروازے سے باہر نکلا تو گھبراہٹ کا تاثر فوراً ہی زائل ہو گیا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

مولوی کرامت نے سکول جانے کے لیے کھدر کا سفید کُرتہ،سفید ہی کھدر کی چادر پہن لی۔ کبھی شادی بیاہ یا ختم درود کے لیے مولوی کرامت کی بیوی نے اُس کے لیے بنا کر لکڑی کے صندوق میں رکھے ہوئے تھے لیکن سال ہا سال سے اُن کے استعمال کا وقت نہیں آیا تھا۔ یا یہ کہیں کہ استعمال کرنے کو جی نہیں چاہا تھا کہ پھر کون روز روز اس طرح کے کپڑے بنائے گا۔ ویسے بھی کسی نہ کسی کے ہاں سے سال میں ایک لُنگی اور کُرتا فوتگی یا شادی پر مل ہی جاتا تھا۔ اِتنے سال پڑے رہنے کے بعد کپڑوں کی تہیں اِتنی جم گئیں اور سلوٹیں اتنی سخت ہو گئیں تھیں،جو کسی استری سے بھی جلد نہیں نکل سکتی تھیں۔ جس کا وجود ویسے بھی وہاں نہیں تھا۔ بلکہ مولوی کرامت نے تو ابھی تک استری کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ اِن بے شمارسلوٹوں کے باوجود مولوی کے کُپڑوں میں صفائی اور نفاست موجود تھی۔ صافہ بھی بالکل نیا تھا،جو کل ہی جلال آباد کے بازار سے خریدا تھا۔ جوتے البتہ پُرانے ہی تھے۔ ویسے بھی جوتوں کو جب تک وہ نہ ٹوٹیں،کون پُرانا کہتا ہے۔ یہ جوتے انتہائی موٹے چمڑے کے تھے،جنہیں موچی نے سخت قسم کے دھاگے سے سیا تھا۔ تین سال گزرنے کے باوجود یہ نہ تو پھٹے تھے اور نہ ہی سلائی اُدھڑی تھی۔ پگڑی میں بھی کئی کئی پیچ دیے اور طرہ بھی چھوڑا۔ داڑھی ویسے بھی سفید ہوگئی تھی،جس کی وجہ سے سفید لباس اور بھی جچ رہا تھا۔ القصہ مولوی پہلے دن بن ٹھن کے سکول میں گیا کہ سب دیکھنے والے اُس کے لباس اور چال ڈھال سے بہت متاثر ہوئے۔

 

مولوی یوں تو فارسی،عربی اور اردو کے ابتدائی اور بنیادی گرائمر اور زبان کے بارے میں کافی سُدھ بدھ رکھتا تھا لیکن اُسے سکول میں بچے پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ہر چند وہ اپنی معلمی کے تمام کمالات فضل دین پر آزما کر اِس کام میں ماہر ہو چکا تھا لیکن دوسروں کے بچوں کو پڑھانے کا موقع پہلی ہی دفعہ ہی ملا تھا۔ اس لیے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا کہ خدا جانے کیا غضب ہو جائے۔ خاص کر اُسے سکول کے ہیڈ منشی سے انگریز افسر کی نسبت زیادہ خوف تھا۔ لیکن جب مولوی نے بچوں کو پڑھانا شروع کیا تو کام بہت آسان لگا۔ کیونکہ جو کتابیں مولوی کرامت کو بچوں کو پڑھانے کے لیے دی گئیں تھیں،وہ اِتنی آسان اور سادہ تھیں کہ اُنہیں فضل دین بھی پلک جھپکنے میں فر فر پڑھ جاتا۔ بلکہ پڑھانے پر بھی قادر تھا۔ یہ کتابیں عربی کے ابتدائی افعال اور گردانوں کے صیغوں پر مشتمل تھیں،جس میں چھوٹے چھوٹے جملوں کا استعمال تھا اور اُن کے اردو میں استعمال کے طریقے بتائے گئے تھے۔ مولوی کرامت کے سامنے فضل دین کی مثال موجود تھی۔ یہاں بھی وہی طریقہ لگاتے ہوئے سبق شروع کیا اور بچوں کو وہ وہ نقطے بتائے کہ وہیں بیٹھے بیٹھے اُنہیں پورا پورا سبق یاد ہو گیا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اُس کے منہ سے ایسی گالی نکل جاتی جس میں پنجابی کا ایک گُوڑا رچاہو ہوتا کہ بچے پڑھنے کے ساتھ محظوظ بھی ہوتے رہے۔ آہستہ آہستہ اِسی وقت کے دوران مولوی کرامت کی ایک تو جھجھک بھی دور ہو گئی،دوم آگے کے لیے رستہ صاف آسان ہو گیا۔ مولوی کرامت نے سوچا اگر یہی پڑھانا کہتے ہیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ چھٹی ہوئی تو مولوی اتنا خوش تھا کہ بغلیں بجاتا ہوا گھر تک گیا۔

 

(30)

 

ولیم کے کمرے میں تمام تحصیل کابینہ جمع تھی۔ پولیس آفیسر لوئیس،ایجوکیشن آفیسر تُلسی داس،محکمہ مال کے آفیسر،محکمہ نہر کے آفیسراور دوسرے آٹھ دس آفیسر مزید کرسیوں پر لکڑی کی لمبی میز کے دو طرفہ اپنی اپنی فائلوں کوسامنے رکھے مکمل تیاری کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ یوں تو یہ سب دیسی اور انگریزی افسر اپنے کام کو احسن طریقے سے سمجھتے تھے اور اُسے پورا کرنے کا تجربہ بھی کسی بڑے افسر سے کہیں زیادہ تھاکہ اگر اُن کو آزادی سے کام انجام دینے کی اجازت مل جائے تو منٹوں میں نپٹا دیں لیکن بیوروکریسی اِس با ت کو نہیں مانتی۔ عموماً تحصیل جلال آباد میں ایسے افسر آتے رہے جو خود تو خیر کام کو سمجھتے نہیں تھے،اگر ماتحت کام کرنے کی صلاحیت رکھتا بھی تھا تو اُسے ایسی پیچیدہ اور نافہم قسم کی ہدایات میں اُلجھا دیتے کہ ایک آسان سا کام بھی اقلیدسی قاعدوں اور کلیوں کا اچھا خاصا تماشا بن جاتا۔ پھر یا وہ کام فائلوں ہی میں دب کر مر جاتا ورنہ نہایت بے کار حالت میں انجام پاتا اور بالآخر اُس کمشنر کا تبادلہ کہیں اور ہو جاتا۔ اِس طرح تحصیل کی ترقی ہو تو رہی تھی لیکن کچھوے کی چال سے۔ مگر ولیم کا معاملہ اور تھا اور یہ بات پچھلے عرصے کے دوران تمام افسر بھی جان گئے تھے کہ اُن کو ہرن کی قلانچوں کے حساب سے دوڑنا پڑے گا ورنہ ولیم آگے نکل جائے گا،وہ پیچھے رہ جائیں گے اور ولیم سے پیچھے رہ جانے کا مطلب نوکری سے فارغ ہونا تھا،جو کسی طرح بھی گوارا نہ تھا۔ ابھی ولیم صاحب کمرے میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن افسروں پر اس طرح خاموشی چھائی تھی جیسے جنازے کی دعا میں بیٹھے ہوں۔ ہر ایک اپنی فائل پر نظریں جمائے ولیم کے انتظار میں متوقع سوالات کا جواب سوچنے میں مگن تھا۔ سب افسران کو بیٹھے ہوئے پندرہ منٹ ہوچکے تھے اور اب کچھ ہی دیر میں ولیم صاحب کمرے میں داخل ہونے والے تھے۔ پھرچند ثانیوں بعد وہ وقت آگیا جب نجیب شاہ نے باہر سے ولیم کے لیے دروازہ کھولا۔ اُس نے بڑے احترام سے دروازے کے ایک طرف کھڑے ہو کردائیں ہاتھ اُس کا ایک پٹ کھول دیا اور اُسی لمحے ولیم سُرمئی رنگ کے تھری پیس سوٹ میں اندر داخل ہو گیا۔ تمام افسر اُٹھ کر تعظیماً کھڑے ہو گئے۔ نجیب شاہ نے دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔ ولیم نے افسروں کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور دیر سے آنے پر سوری کرتے ہوئے لیڈنگ کُرسی پر بیٹھ گیا۔ یوں تو ولیم نے مسکراتے ہوئے اپنی دیر آید پر معذرت کی تھی لیکن سب جانتے تھے کہ یہ اُن وی آئی پی تکلفات میں سے ایک تکلف ہے جو ہر افسر کا اپنے جونیئر سے فرق واضح کرتا ہے۔ جس کا وہ خود بھی عملی طور پر اکثر مظاہرہ کرتے ہیں۔

 

ولیم کے کُرسی پر بیٹھنے سے پہلے ہی تمام لوگ اٹین شن ہوچکے تھے کیونکہ یہ ایک اہم میٹنگ تھی،جو فائلوں سے آگے عملی طور پر کام کرنے کے لیے بُلائی گئی تھی۔ اِس میٹنگ میں اصلاً وہی کام ڈسکس ہونے تھے،جن کے بارے میں ولیم ڈی سی صاحب سے بات کر چکا تھا۔ اُس نے لیڈنگ چیئر پر بیٹھ کر ایک دفعہ تمام آفیسر زپر ایک طائرانہ نظر ماری پھر سب سے پہلے ڈی ایس پی لوئیس سے مخاطب ہوا،لوئیس صاحب پہلے آپ بتایے،کیابنا سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے حوالے سے؟

 

سوال کے دوران ولیم کا لہجہ اتنا سپاٹ اور دو ٹوک تھا جس سے محسوس ہو رہا تھا کہ آج صاحب بہادر کا معذرت قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ لوئیس صاحب کی خو ش بختی تھی کہ اُس نے پچھلے تین دن میں اِس معاملے میں کافی کچھ کام کر لیا تھا۔ جس پر ولیم داد کے سوا کچھ کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا تھا۔

 

لوئیس نے فائل سے سر اُوپر اُٹھاکر ایک بار ولیم کو دیکھا اور بولا،سر مَیں نے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے لیے باقاعدہ پولیس کارروائی کو عملی جامہ پہنا کر کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جو گرفتار نہیں ہو سکے اُن کا مال بحق سرکار ضبط کر لیا گیا ہے۔ اِن گرفتار ہونے والوں میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو شاہ پور اور جودھا پور کے واقعات میں ملوث تھے۔ اُن کے ملوث ہونے کا ثبوت مخبروں اور دیگر ذرائع کی ہم آہنگی سے مہیا کیا گیا ہے۔ جس کے لیے سی آئی ڈی آفیسر متھرا اور تھانیدار بلرام کے علاوہ تین سب انسپیکٹر بھی شامل تھے۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ ملزموں نے اقرار جرم بھی کر لیا۔ جھنڈووالا میں مَیں خود پولیس کے ساتھ تھا جبکہ عبدل گجر کی طرف انسپیکٹر ڈیوس کو بھیجا گیا۔ اُس نے نہایت کامیابی سے آپریشن کیا ہے۔ فی الحال واقعات کے مرکزی ملزم سردار سودھا سنگھ،عبدل گجر اور شریف بودلہ گرفتار نہیں ہوسکے۔ اُمید ہے اُنہیں بھی جلد ہی قانون کے چاک پر بٹھا دیا جائے گا (پھر فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے )سر اِس فائل میں کیس کی تمام تفصیلات،گرفتار ملزمان اورمال کی ضبطی کے متعلق اہم معلومات موجود ہیں۔

 

لیکن لوئیس صاحب،ولیم نے فائل کو دیکھتے ہوئے کہا،اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہی مرکزی ملزم جنہیں آپ ابھی تک گرفتار نہیں کر سکے،وہ جلد ہی کوئی دوسری کارروائی نہ کریں گے ؟اگر اِسی طرح کی ایک اور کارروائی ہوگئی تو اِس کا مطلب ہے ہم اپنی جڑیں خود ہی کاٹ رہے ہیں۔

 

سر اب ایک اور کارروائی نہیں ہوگی،لوئیس نے انتہائی پُر اعتماد لہجے سے جواب دیتے ہوئے کہا،مزید کارروائی کے لیے نہ تو اُن کے پاس آدمی ہیں اور نہ ہی ہمت۔ تیسری ضر ب مَیں نے اُن پر اخلاقی بے توقیری کی لگائی ہے۔ میں نے اُن کو اِس طرح ذلیل کیا ہے کہ اب اُنہیں اپنے وقار کو سمیٹنے میں زمانے لگیں گے۔ (ولیم کے ہاتھ کے نیچے پڑی فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) سر اِس فائل میں کارروائی کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ آپ اِس کا آرام سے مطالعہ کر کے میرے لیے مزید جو حکم چھوڑیں گے،مَیں اُس پر عمل کرنے کا پابند ہوں گا۔
ولیم نے لوئیس کی کارروائی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا،گُڈ،مرکزی ملزم کب تک گرفتار ہوں گے؟

 

لوئیس نے اپنا دایاں کان کھجا کر ولیم کی طرف دوبارہ دیکھا اورکہا،سر اُس کے لیے میں نے مہاراجہ پٹیالا کو سردار سودھا سنگھ کے وارنٹ گرفتاری کے ساتھ خط بھیج دیا ہے۔ اب صورتِحال یہ ہے کہ مہاراجہ نے سودھا سنگھ کی گرفتاری نہ بھی دی،جس کی ہمیں عین توقع ہے،تو ہم اُس کا عدالت میں انتظار کریں گے۔ وہ لامحالہ عدالت سے اپنی عبوری ضمانت کروائے گا،جب ہم اُسے گرفتار تو نہ کر سکیں گے۔ لیکن اُس کے فرار کی راہیں بھی مسدود ہو جائیں گی۔ اِس طرح وہ عدالت میں حاضر ہونے کا پابند ہوگا۔ اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہوا تو مجرم قرار پا کر اشتہاری ہو جائے گا۔ اشتہاری ہونے کی وجہ سے مہاراجہ اُس کی کوئی مدد نہیں کر پائے گا لیکن بات یہاں تک نہیں پہنچے گی۔ عبوری ضمانت پر حاضری کے وقت اُس کی ضمانت منسوخ ہو جائے گی اور ہم اُسے گرفتار کر لیں گے۔ یہی کچھ عبدل گجر اور شریف بودلہ کا معاملہ ہے۔ ہم نے کچھ اُن کے بندے پکڑے ہیں۔ وہ خود اُن کے خلاف ثبوت ہیں۔ یہ لوگ بھی عبوری ضمانت کے بعد عدالت میں حاضر ہونے کے پابند ہیں۔ کیونکہ انہیں بھی مقدمے کا سامنا تو بہر حال کرنا ہے،جو چند ہی روز میں شروع ہو جائے گا۔ بھاگ یہ اِس لیے نہیں سکتے کہ یہاں ان کی زمین،گھر بار،اولاد اور رشتے داریاں ہیں۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی گنوانے کی حماقت نہیں کریں گے اور یہیں رہیں گے۔ (مسکرا کر ) زیادہ سے زیادہ حج پر چلے جائیں گے لیکن واپس یہیں آئیں گے۔

 

ویل ڈن مسٹر لوئیس،ولیم نے سنجیدہ لہجے میں لوئیس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر کچھ لمحے سوچنے کے بعد سوالیہ انداز میں پوچھا،غلام حیدر کی کیا خبر ہے آپ کے پاس ؟ میرا خیال ہے اُس پر ہمیں نظر رکھنی چا ہیے۔ یہ اُس پر دوسرا حملہ ہے اور ایسے میں کوئی شخص کچھ بھی غلط کارروائی کر سکتا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں اِس بارے میں ؟

 

سر آپ کی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،لوئیس تائید میں بولا،احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے،اُسے بھی عینک میں رکھا جائے۔ آپ جو بھی اُس کے بارے میں فرمائیں گے،اُس پر بھی غور ہو سکتا ہے۔

 

لوئیس،ولیم نے فائل کو بند کرتے ہوئے دو ٹوک کہا،غلام حیدر کے پاس سُنا ہے ایک ریفل ہے۔ آپ اُس سے وہ ریفل فوراً تین ماہ کے لیے قبضے میں لے لیں اور اُسے پیغام بھیج دیں،وہ اپنے آدمیوں کا اسلحہ بھی کچھ دنوں کے لیے گورنمنٹ کو جمع کروا دے۔

 

جی بہت بہتر،لوئیس پوری فرمانبرداری سے بولا،یہ ہو جائے گا سر۔

 

کوئی اور بات ؟ ولیم نے لوئیس سے بات قریباً ختم کرتے ہوئے پوچھا۔

 

نو سر،لوئیس نے جواب دیا

 

اوکے،لیکن اس کیس کے بارے میں جو بھی اہم پیشرفت ہو،آپ مجھے اُس سے مطلع کرنے کے پابند ہو ں گے،ولیم یہ کہ کر اب تحصیل ایجوکیشن تُ افسرتلسی داس کی طرف متوجہ ہوا،جو گول شیشوں کی عینک لگائے اپنی فائل کے اُوپر قریب قریب گرا ہوا تھا۔

 

تُلسی داس آپ بتائیں،آپ کی طرف سے کیا پرفارمنس ہوئی ؟ابھی تک،مجھے سب سے زیادہ تشویش آپ کے محکمے کی طرف سے ہے۔ جس کی کارکردگی خوردبین سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تُلسی داس نے فائل ولیم کی طرف سرکا کر اپنی عینک کو اُتارا اور بات شروع کی،سر میں نے آپ کے حکم کے مطابق ایک تعلیمی پالیسی اس طرح ترتیب دی ہے کہ جلال آباد کے جتنے گاؤں ہیں،اُن کو دس پر تقسیم کیا گیا ہے اور ہر دس گاؤں کا ایک مرکزی گاؤں بنا دیا ہے۔ جس میں ایک آٹھویں درجے کا اسکول ہو گا۔ اُس میں پورے دس گاؤں کے بچے آ کر پڑھا کریں گے۔ اِسی طرح ہر پانچ گاؤں کے لیے ایک پانچویں درجے کا اسکول بنایا جائے گا۔ یوں تحصیل میں آٹھویں درجے کے مزید تیس سکول بنیں گے اور پانچویں درجے کے ساٹھ اسکول ہوں گے۔ جن پر کل لاگت اوراسکولوں کے مقام کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے،جو اس فائل میں درج ہے۔ اِسی طر ح دسویں درجے کے اسکول کے بارے میں بھی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جن کی تعداد مزید چار تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تمام کام دو سال کے عرصے میں مکمل ہو سکتا ہے۔
گُڈ تُلسی داس،ولیم نے خوش ہو کر تُلسی داس کو شاباش دی،۔ ہم یقیناً اِس کے لیے اپنے پورے وسائل استعمال کریں گے اور جلد ہی گورنمنٹ سے اِس کے لیے فنڈ منظور کرا لیں گے۔ تم کام کرنے کے لیے تیار رہو۔ یہ بتاؤ مسلمان بچوں کی اسکول میں حاضری پوری کرنے کے لیے کیا حل نکالا ہے آپ نے ؟

 

سر یہ ایک ٹیڑھی کھیر ہے،تُلسی داس نے معذرت دارانہ لہجے میں اپنی وضاحت پیش کی،جب تک مسلمان مولوی راستے میں حائل ہے،یہ کام مشکل نظر آتا ہے۔ لوگ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ہم نے لاکھ طرح سے کوشش کر کے دیکھ لی ہے۔ آپ ہی کچھ اِس بارے میں حکم دیں یا پھر پولیس کے ذریعے جبر سے اُنہیں لایا جائے اور جرمانے یا سزا کا عمل دخل کیا جائے۔

 

اوں ! ولیم تھوڑی دیر کے لیے خموشی سے تُلسی داس کی بات پر غور کرنے لگا پھر سر اوپر اُٹھا کر بولا،تُلسی داس! مَیں نے آپ کے حوالے ایک مولوی صاحب کو کیا تھا،وہ کہاں ہے ؟
اُسے سر آپ کے حکم پر جلال آباد کے مرکزی ہائی اسکول میں فارسی اور عربی کا مُنشی رکھ لیا ہے تیس روپے ماہانہ پر۔

 

تُلسی داس،ولیم بولا،مولوی،کیا نام ہے اُ س کا؟
کرامت سر،تُلسی داس نے یاد دلایا

 

ہاں کرامت،مولوی کرامت۔ تُلسی داس اُسے آپ ٹارگٹ دو کہ سرکار کے اسکولوں میں مسلمان بچوں کو داخلے کے لیے لے کر آنا اُس کی ذمہ داری ہے۔ اُسے بتاؤ،وہ جس قدر مسلمان بچوں کی تعداد میں اضافہ کرے گا،سرکار اتنا ہی اُس کی تنخواہ میں اضافہ کرے گی۔ اِس لیے فی الحال اُس کا کام لوگوں کو اس بات پر تیار کرنا ہے۔ یقینایہ کام وہی کر سکتے ہیں۔ آپ اِس فارمولے کو آزماؤ۔ اِس کے علاوہ اِس طرح کے مزید پانچ مولوی جلال آباد تحصیل کے ہی رہنے والے ملازم رکھ لو اور اِس مولوی کو اُن کا ہیڈ بنا دو۔ میرا خیال ہے،اِس طرح سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

 

ولیم کی اِس انوکھی ترکیب پر تُلسی داس سمیت سب ہلکا سا مسکرا دیے۔ یہ ایک ایسا نکتہ تھا،جو ابھی تک کسی کو بھی نہ سوجھا تھا اور ولیم ہی کا خلاق ذہن تھا،جو ایسا بے ضرر اور زود اثر حل نکال سکتا تھا۔ مولویوں کو سرکاری اسکول کی ملازمت دے کر اور اُنہیں مسلمان بچوں کے داخلے پر نامزد کر کے حقیقت میں ایک تیر سے دو کام لیے جا سکتے تھے کہ جو روکنے والے تھے،وہ اب دعوت دینے والے ہوجاتے اور لوہے سے لوہا کا ٹنا نہایت ہی آسان ہو جاتا۔

 

تُلسی داس سے فارغ ہو کر ولیم نے تحصیل دار مالیکم کی طرف رخ کیا اور بولا،جی مالیکم صاحب آپ اور ڈیوڈ صاحب کا کام قریب قریب مشترک ہے۔ آپ کے کام میں کیا پیچیدگیاں ہیں؟ آخر جلال آباد میں ہر طرف اُڑتی ہوئی خاک اور گردو غبار کا کیا علاج ہے ؟ مجھے حیرت ہے آپ پچھلے دو سال سے یہاں موجود ہیں لیکن یہاں کی مٹی جم نہیں پائی اور خاکی میدانوں نے سبزی کا لباس نہیں پہنا۔ آج یہ طے ہو جائے کہ اس تحصیل کے چہرے پر کب رونق آئے گی۔

 

مالیکم صاحب،جو بے چینی سے میٹنگ کا دورانیہ لمبا ہوتے دیکھ رہے تھے،نے آگے کی طرف ہوتے ہوئے وضاحت کی،سر اصل میں ہندوستانیوں کی جہالت کا علاج مشکل ہے۔ ورنہ تو چھ ماہ میں ہی خربوزوں کے کھیت اور آموں کے باغ لہلہااُٹھیں۔

 

وہ کون سی جہالت ہے جس کا علاج نہیں ؟ولیم حیرانی سے بولا،اگر گورنمنٹ جہالت دور کرنے پر قادر نہیں تو ہمیں کوئی حق نہیں ملازمت کرنے کا۔ ہم آرام سے بستر سمیٹیں او ر برطانیہ کی سردی میں آگ تاپیں اور دُھند سے لطف اُٹھا ئیں۔

 

مالیکم ولیم کے اِس تُرش جواب سے گھبرا گیا اور شرمندگی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اُسے مشکل سے نکالنے کے لیے ڈیوڈ نے اپنی عینک اُتاری اور بات آگے بڑھائی،سر مالیکم کی بات کا مقصد ہے کہ عوام ساتھ نہیں دیتی۔ مثلاً بیلداروں اور نہری سُپر وائزروں نے ہمیں بتایا کہ لوگ نہر سے نکالے گئے کھالوں کے نگال میں مٹی اور کوڑا کرکٹ بھر دیتے ہیں اور نہر کا پانی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے۔ اُن کے خیال میں گورنمنٹ نے نہر کے پانی میں ایسی دوائی ملا رکھی ہے،جس سے فصلوں میں بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ جب اُس فصل کا غلہ لوگ استعمال کرتے ہیں تو وہ بیماری لوگوں میں پھیل جاتی ہے۔ یعنی انسان نامرد ہو جاتا ہے اور نسل آگے نہیں بڑھتی۔ اِس لیے یہ لوگ نہر کا پانی ہی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے اور مکمل طور پر بارشوں کے سہارے رہتے ہیں۔

 

ڈیوڈ کی بات سے حوصلہ پا کر مالکم نے مزید وضاحت کی،سر ایک بات اور ہے۔ زمیندار سمجھتے ہیں گورنمنٹ اُن سے اِس پانی کا معاوضہ لے گی،جو اُن کی فصلوں کی قیمت سے بھی زیادہ ہو گا۔ اِسی ڈر سے ایک زمیندر نے اپنی بیسیوں ایکڑ کھڑی چاول کی فصل کاٹ کر اپنے مویشیوں کو کھلا دی تاکہ نہ ہو بانس نہ بجے بانسری۔ اب ایسے میں بتائیے کیا کیا جائے ؟
ولیم ان کی باتوں پر حیرانی کے ساتھ ہنس دیا،پھر تحمل سے بولا،مالیکم صاحب آپ مجھے بتایے اگر یہ قوم اتنی جاہل اور سادہ نہ ہوتی تو کیا ہم پندرہ بیس ہزار لوگ اِن کروڑوں گدھوں پر حکومت کر سکتے تھے ؟اِن کی یہی جہالت تو آپ کے لیے نعمت ثابت ہوئی۔ لیکن اب ہمی نے اِن کو تعلیم دینی ہے،اِنہیں سکھانا ہے۔ اِن کی معاشی اور ذہنی ترقی کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ میں نے نہری منصوبے کی فائل لاہور تک پہنچا دی ہے۔ جلد واپس آ جائے گی۔ چھ مہینے تک میں یہاں ایک مزید نہر دیکھنا چاہتا ہوں۔ اُس سے پہلے آپ پر ایک بھاری ذمہ داری یہ ہے کہ جن کا پانی منظور ہو چکا ہے،اُن کی ٖفصلوں تک پانی لے جانے کے ذمہ دار آپ دونوں ہیں۔ نہری پانی کے علاقوں کا دورہ کرو اور تمام زمینداروں کی حلقہ وار میٹنگ بلاؤ۔ انہیں بتاؤ،آیندہ کسی نے اپنا الاٹ شدہ پانی ضایع کیا تو اُس کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا اور سزا بھی دی جائے گی۔ اپنے مالی اور نہری پٹواریوں کو اِس کا بنیادی طور پر پابند بناؤ۔ وہ اپنے اپنے علاقے کے گوشوارے ہر مہینے آپ کو جمع کرائیں۔ جو کچھ مالیے یا خراج کا حساب ہو اُسے تحصیل میں آ کر کانو گووں سے پاس کروائیں۔ میں دو مہینے کے اندر یہ تمام کام درست دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں آئے چھٹا مہینہ ہے اور کارکردگی صفر ہے،جومجھے منظور نہیں( پھر لوئیس صاحب کی طرف منہ کر کے )لوئیس صاحب آپ اس معاملے میں جو کچھ مدد اِن کو در کار ہو،بلا چون و چرا دیجیے گا۔

 

لوئیس نے فقط،ہاں،میں سر ہلانے پر اکتفا کی۔ کچھ دیر توقف کے بعد ولیم دوبارہ بولا،مَیں چار روز کے لیے چھٹی پر جا رہا ہوں۔ آج سے پانچویں روز واپس آؤں گا۔ آپ اِس عرصے میں اپنی تمام بریفنگ تیار کر لیں۔ مَیں نہیں جانتا،مجھے کتنے دن تحصیل جلال آباد میں کام کرنے کا موقع ملے گا لیکن میں چاہتا ہوں،جب یہاں سے جاؤں،لوگ خوشحال ہو چکے ہوں اور گورنمنٹ کا خراج بیس گنا زیادہ ہو چکا ہو۔ اِس گفتگو کے بعد ولیم نے میٹنگ کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – دسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(18)

 

سردار سودھا سنگھ سورج چڑھنے سے کافی دیر پہلے بیدار ہو گیا۔ پلنگ سے آہستہ سے اُٹھا اور رضائی آرام سے بینت کور کے اُوپر ڈال دی۔ اِس کے بعد اپنی پگڑی سر پر درست کی، کرپان باندھی اور منہ اندھیرے ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ باہر ڈیوڑھی میں رات کے جتنے پہرے دار تھے سب سو چکے تھے، البتہ چھدّو جاگ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ رات کو سردار سودھا سنگھ کے اٹھتے ہی اپنی چارپائی پر جا پڑتا تھا۔اس لیے صبح اُس کی آنکھ جلدی کھُل جاتی۔ اُس نے اشنان تو مہینوں بعد کرناہوتا تھا اس لیے سردی میں صبح کے وقت آگ جلانے کے سوا اُسے کوئی کام نہ تھا۔آج بھی اُس نے صبح گوردوارے کا گھنٹہ بجنے سے پہلے ہی آگ جلا لی تھی۔ سردار کو ڈیوڑھی کی طرف آتے دیکھ کر چھدّو فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پرنام کیا۔ سردار نے چھدّو کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، چھدّو ڈیوڑھی کا دروازہ کھولو۔ چھدّو کو سردار سودھا سنگھ کے معمول کا پتہ تھا، اس لیے سودھا سنگھ کے بولنے سے پہلے ہی دروازے کی بلیاں اُٹھانے لگااور آہستہ آہستہ پانچوں بلیاں اُٹھا دیں۔ دروازے کو دھکیلنے کے لیے تختوں کے نیچے لکڑی کے چھوٹے پہیے لگے ہوئے تھے۔پھر بھی اِس پہاڑ جیسے دروازے کو دھکیل کر ایک طرف کرتے ہوئے چھدّو کو بہت زور لگانا پڑا۔دروازہ اتنا بڑا اور بھاری تھا کہ اُس سے دو دو ہاتھی ایک وقت میں گزرنے کی راہ تھی۔ کالی سیاہ ٹاہلی کی موٹی موٹی چگاٹھوں پر تین انچ کے موٹے اور چھ ضرب دس فٹ کے چوڑے اور لمبے تختے تھے، جن پر کلو کلو بھرکے بے شمار لوہے اور تانبے کے کیل کڑے جَڑے ہوئے تھے۔ تختوں کے علاوہ لوہے کا وزن ہی کوئی تین چار من کے قریب ہو گا۔ سردار سودھا سنگھ نے آگے بڑھ کر چھدّو کا اس معاملے میں ہاتھ بٹایااور دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی سردار سودھا سنگھ باہر نکل گیا اورچھدو لنگڑاتا، ہانپتا دوبارہ آگ کے پاس آ بیٹھا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے گوردوارہ پہنچ کر سنت سے کہا کہ اُسے اشنان کرائے۔ حوض کے کنارے کھڑے ہو کر کپڑے اتارنے لگا۔حوض کا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔رات بھر پڑنے والے پوہ کے پالے اور ٹھنڈی ہوا سے پانی کے اُوپر برف کی کاغذی تہہ جم چکی تھی۔لیکن سردار سودھا سنگھ نے بچپن ہی سے کبھی گرم پانی اشنان کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔ اُس کے خیال میں پانی گرم کر کے نہانا زنانیوں کا کام تھا۔ اس طرح کے لچھن کرنے سے سردار وں کی مردانگی میں فرق آتا تھا۔ سودھا سنگھ کی کمر اور پورے جسم پر ریچھ کی طرح بالوں کے اتنے گچھے اُگے تھے کہ ماس کی ذرا بھی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ ان کھردرے بالوں میں چھپے جسم کونہلانے کے لیے سنت نے لسی کی بھری ہوئی گاگر رات کو ہی منگوا لی تھی۔ یہ اُس کا معمول تھا۔ سودھا سنگھ کے جسم کے اوپرکھٹی لسی گرا کر،جو کم از کم چوبیس گھنٹے پُرانی ہوتی،وہ دونوں ہاتھوں سے جسم کو رگڑتا۔پھر ٹھنڈے پانی کے کٹورے بھر بھر کراُس کے اوپر ڈالتا تو جسم کے بال کالے شیشوں کی طرح چمک اُٹھتے اور ایسے لگتا پورے جسم پرچھوٹے چھوٹے باریک سانپ اُگ آئے ہوں۔

 

سر دار سودھا سنگھ نے اشنان کرنے کے بعد آرام سے کپڑے پہنے اور پوجا پاٹ میں مصروف ہو گیاحتیٰ کہ سورج چڑھنے کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اُس کے بعد وہ گوردوارہ سے نکل کر کھیتوں کی طرف چل دیا۔ کھیتوں کی لمبی سیر نے سردار سودھا سنگھ کی طبیعت میں جوانوں کی سی تازگی بھر دی۔ رات بھر اوس پڑتے رہنے سے ہر طرف پھیلی ہوئی فصلوں پر سبزے پر اور پگڈنڈیوں پرٹھنڈک ہی ٹھنڈک اور تریل جمع ہو چکی تھی۔ بہت سارے لوگ ادھر اُدھر اپنے ہل جوتے ہوئے بیلوں کو ہانک رہے تھے۔اِن صبح سویرے ہلوں میں جُتے ہوئے بیلوں کی بجتی ہوئی گھنٹیاں سردار سودھا سنگھ کو گوردوارے کے گھنٹے کی آواز سے کہیں زیادہ مسحور کن لگنے لگیں۔ دُور تک دیسی سرسوں کے پیلے پھول،برسن کا چارہ اور گندم کے کھیت جن پر ابھی خوشے یا سٹے نہیں نکلے تھے، یہ سب اور ان کے درمیان جا بجا بہتا ہوا، کھالوں اور رہٹ کاپانی شیشے پر لڑھکتے ہوئے شفاف پارے کی طرح تیر رہا تھا۔ سردار سودھا سنگھ کبھی کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں اور کبھی کھال کے کناروں پر چلتا اور چھوٹے موٹے کھڈوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ کبھی کبھی دور سے کوئی واہگرو یا ست سری اکال کا نعرہ بلند کرتا تو سردار صاحب ہاتھ ہلا کر یا اُسی طرح نعرے کے ساتھ اُس کا جواب دے کر بغیر ٹھہرے آگے چلتا گیا۔ اسی طرح سردار سودھا سنگھ، ٹاہلیوں، کیکروں اور شرینہہ کے درختوں کا طواف کرتا، کھیتوں کی اوس اور لمس لیتا سورج کے منہ دکھانے کے ساتھ ہی دوبارہ حویلی کی ڈیوڑھی کے بڑے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو سب نے اٹھ کر سردار صاحب کو پرنام کیا۔ سردار سودھا سنگھ تھوڑی دیر وہاں رُکا، دو ایک لوگوں کے ساتھ ہلکی پھلکی چہل کی پھر زنانے میں چلا گیا۔ اس سیرسے سردار صاحب کی بھوک کافی چمک گئی تھی کیونکہ وہ کم از کم دو میل چلا تھا۔

 

زنانے میں داخل ہوتے ہی سردار سودھا سنگھ نے بینت کور کو آواز دی جو گرنتھ پڑھنے میں مصروف تھی، او بنتے جلدی نال بھوجن دے دے۔ ہُن بُھکھ بڑی لگ گئی آ۔ جد ویکھو گرنتھ پڑھ دی رہندی آ، پتا نئیں گروجی نال کوئی مُک مکا کر لیا وا۔

 

بینت کور نے بیٹھے بیٹھے ہی اجیت کور سے کہا “پت اجیتے چھیتی نال اپنے پِتاجی نوں ناشتہ کروا، میں تھوڑا جہیا رہ گیا، پڑھ لاں۔ اونی دیر وچ کِتے تیرے پِتا جی دی جان نہ نکل جاوے۔

 

اجیت کور، جلدی سے اُٹھ کر ناشتہ تیار کرنے لگی۔اتنی دیر میں چھماں نے دُور تک پھیلے صحن کے ایک کونے میں جہاں دھوپ خوب نکل کر سفید ہو گئی تھی، چار پائی لگا دی،جس پر سردار سودھا سنگھ چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ کرپان اتار کر اُس نے چارپائی کی ادوائین کی طرف رکھ دی۔ اس عرصے میں بینت کور بھی گرنتھ کو غلاف میں لپیٹ کر اونچے اورمحرابی نما طاق میں رکھ کر پاس آ بیٹھی۔ چند منٹوں میں اجیت کور نے ناشتہ تیار کر کے چھماں کو پکڑا دیا اور خود لسی جگ میں ڈالنے لگی۔ چھماں نے ناشتہ سردار سودھا سنگھ کر سامنے رکھ کر بڑا سا کپڑا اُس کے زانوؤں پر پھیلا دیا تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں۔ اسی اثنا میں اجیت کور لسیً لے کر آگئی اورسامنے تپائی پر ناشتہ رکھ دیا گیا۔ دیسی سرسوں کا مکھن میں گُھلا ہوا ساگ اور مکھن میں تیرتے ہوئے پراٹھوں نے،جن سے گرم گرم بھاپ کے لمس اُٹھ رہے تھے،سودھا سنگھ کی مزید بھوک بڑھا دی۔

 

پہلے سردار سودھا سنگھ نے سیر بھر کا پیتل کا گلاس جسے نئی قلعی کرائی گئی تھی، بھر کر گٹا گٹ کر کے پیا۔ ہلکے نمک والی لسی نے سردارجی کے کئی مسام کھول دیے۔ اگر کسی نے سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر صبح سویرے نمک والی لسی نہیں پی تو وہ نہیں جان سکتا کہ سردار سودھا سنگھ اِس وقت کتنی شرابوں سے مخمور تھا۔ لسی پینے کے بعد سردار صاحب نے ساگ کے ساتھ پراٹھے کا لقمہ لیا اور اُسے کھانے لگا۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کے تین سالہ بیٹے موہن سنگھ کو گود میں لے کر سامنے خموش بیٹھی تھی جبکہ چھماں جو گھر کی ملازمہ تھی،گھر کے بقیہ کام نمٹانے لگی اور اجیت کور نے چولہے پر رکھے دودھ کے نیچے پاتھیوں کی ہلکی آنچ رکھ دی۔ پاتھیوں کی ہلکی آنچ سے ایک تو دودھ برتن سے اُبل کر باہر نہیں گرتا دوسرا یہ کہ تھوڑی تھوڑی آگ کے دُھکنے سے دودھ خوب کڑھ بھی جاتاہے اور اُس پر موٹی با لائی آ جاتی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کرتے ہوئے بینت کور کو دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان نظر آ رہی تھی۔

 

خیر ہے بنتو کچھ کملائی لگتی ہو؟سودھا سنگھ نے بھاری مونچھوں اور گھنی داڑھی کے درمیان میں کہیں چُھپے ہوئے منہ کے دھانے کی طرف لُقمہ لیجاتے ہوئے پوچھا۔

 

بینت کور نے دھیمے سے، ہاں، میں سر ہلا دیا۔

 

پر ہوا کیا؟ کچھ تو پتا چلے “سردار سودھا سنگھ کھانے سے بغیر ہاتھ روکے بولا”

 

سردار جی مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ آج کل بُرے بُرے سپنے دیکھتی ہوں، بینت کور نے سر اُٹھا کے آخر سردار جی کو اپنی پریشانی بتانے کی کوشش کی۔
“ پھر بینت کور مزیدآگے ہو کر بولی” کنتا، جودھاں، بلّو اور دوسری کُڑیاں سو سو طریقے کی باتیں کرتی ہیں۔

 

سودھا سنگھ لا پروائی کے ساتھ ایک اور لسی کا گلاس چڑھاتے ہوئے بولا،اسی لیے دن رات گرنتھ اور پاٹھ پوجا کے دوالے رہتی ہو۔وہ کیا باتیں کرتی ہیں کچھ تو پتا چلے بنتے؟

 

بینت کور سرگوشی کے سے انداز میں بولنے لگی، وہ کہتی تھیں غلام حیدر کی وائسرائے کے ساتھ رشتے داری ہو گئی ہے۔ اُس کی کُڑی کے ساتھ اِس منڈے کا یرانہ ہے۔ اندر خانے شادی بیاہ کے قصے بھی چل رہے ہیں۔ سودھے مجھے فکر ہے اگر یہ باتیں ٹھیک ہیں تو پھر بڑے سیاپے پڑ جان گے۔ واہگرو نہ کرے،اگر سردار جی وائسرائے نے غلام حیدر کو اپنی کُڑی دے دی تو پھر،،،؟ بس مجھے یہی پریشانی ہے کہ ہمارا سیدھا سیدھا فرنگیوں سے وَیر پڑ جائے گا۔ مَیں تو کہتی ہوں ان فرنگی عیسائی اور مُسلوں کا اندر سے دھرم بھی ایک ہی ہے۔ دونوں ہی اپنے مُردوں کو گڑھوں میں دباتے ہیں اور کوئی پیغمبروں شغمبروں کو مانتے ہیں۔ ان کو وَیر صرف سرداروں سے ہی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کر کے ایک بڑا سا ڈکار لیا اور بینت کور کی بات سن کر ہلکا سا قہقہہ مارا،پھر مونچھوں سے لسی کی سفیدی صاف کرتے ہوئے بولا۔ بنتو! تُونے اتنی باتیں کہاں سے سیکھ لی ہیں؟ حوصلہ رکھ، یہ فرنگی کسی کے متر نہیں، جتنے سرداروں کے دشمن ہیں اتنے ہی مُسلوں کے بھی ہیں۔ پھر دشمنی تو مردوں کا گہنا ہوتی ہے، بنتو۔وَیر کے بغیر مرد ایسے ہی ہے جیسے اکھاڑوں میں ناچنے والا کُھسرا،جس کے سارے یار ہی یار ہوتے ہیں۔ غلام حیدر کل کا مُنڈا میراکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔چاہے ملکہ کے ساتھ بیاہیا جائے۔ اس مُسلے کی دُم تو اب چکی کے پَڑ نیچے آئی ہے۔ کل تک اُس کو سُر لگ جائے گی۔ ایہہ نہیں جانتا سرداروں کی چھوَیوں میں لوہا دیگی ہوتا ہے۔ پتھر کے سینے میں لگے تو خون نکال دے۔یہ تو پھر ایک پڑھاکو چھوہرا ہے۔

 

پھر بھی سودھا سنگھ “بینت کور دوبارہ بولی” سُنا ہے اُس کے پاس ایک پکی ریفل بھی ہے۔ سردار جی تُوں احتیاط ہی کر۔ باہر نکلے تو چار بندے بھی ساتھ لے لیا کر۔ اکیلا ہی نہ سیراں کو نکل جایا کر،تجھ پر گرو جی کی رکھ ہو، مجھے تورات ہَول پڑتے رہے۔ جب آنکھ بند کرتی تھی،میرے منہ میں سواہ، تجھے ہتھ کڑیوں میں دیکھتی تھی۔ات نیند نہیں آئی۔ میری مان سودھا سنگھ، غلام حیدر سے صلح کر لے، یہ فرنگی بڑے بُرے ہیں۔ ظالموں میں ذرا ترس نئیں۔ بڑے سے بڑے سردار سے نہیں ڈرتے۔ سنا نہیں؟ رنجیت سنگھ کی نسلوں تک کو ہتھ کڑیاں اور بیڑیاں لگاکر لے گئے۔سودھے مجھے تو بڑا ڈرا لگتا ہے۔

 

دیکھ بنتو “سردار سودھا سنگھ غصے سے بولا” تم مردوں کے بکھیڑے میں نہ پڑا کرو۔ساری رات سوتی ہو۔سُفنے کدھر سے دیکھتی ہو۔ خراٹے مار مار کے میری نیند حرام کر دیتی ہو۔( کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولا) تمہاری مت رونے دھونے سے آگے نہیں بڑھتی۔ اب یا تو غلام حیدر رہے گا یا سردار سودھا سنگھ۔ تُو دیکھتی جا،مَیں نے ڈپٹی کمشنر سے سفارش کابندوبست کر لیا ہے۔ بس تُوں اپنے کام کر اور کسی زنانی کی باتوں پر غور نہ کر۔ یہ ہمارے کرنے کے کام ہیں، ہم بہتر کر لیں گے۔اتنا کہ کر سودھا سنگھ نے کرپان کمر سے باندھی اور پگڑی سر پر رکھ کر بیرونی حویلی میں آ گیا،جہاں بہت سارے سردار جمع ہو ئے بیٹھے تھے۔ سردار سودھا سنگھ کو آتے دیکھ کر سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔سودھا سنگھ نے چار پائی پر بیٹھتے ہی جگبیر سنگھ کو بلایا۔ جب وہ پاس آ کر سامنے والی چار پائی پر بیٹھ گیا تو سردار نے کہا، جگبیراس سے پہلے کہ تھانیدار یہاں سنتری لے کر پہنچے، ہم اپنی اگلی گوٹی چل دیں۔کیا پورا بندوبست ہو گیا ہے؟

 

جگبیر نے کھنگھار کا گلہ صاف کیا اور بولا، سردار صاحب بس آپ کی اشیرواد چاہیے۔باقی تو ہر شے کی تیاری ہے۔ پیت سنگھ کو میں نے ساری بات سمجھا دی ہے۔ چھ گھوڑیاں تیار کھڑی ہیں شاہ پور کا مُلک لوٹنے کے لیے۔ آج شام گھنٹہ بجنے کے ساتھ ہی پیت سنگھ، پھجا سیؤ، ہرا سنگھ، دمّا سنگھ، چھندا سیؤ اور میں نکل جائیں گے۔ عبدل گجر کے چالیس بندے ہوں گے۔ واہگرو کی منشا ہوئی تو صبح چانن ہو جان گے۔

 

اس کے بعد سودھا سنگھ نے جگبیر کے کان کے پاس ہو کر ہَولے سے کہا، جگبیرے ایک آدھ بندہ ضرور پھڑک جانا چاہیے۔ کم سے کم عبدل گجر کی کَنڈ پر تین سو دو ضرور رکھ آنا۔ اس طرح معاملہ زیادہ گھمبیر ہو جائے گا اور غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکے گا۔

 

سردار جی آپ چنتا رکھیں،بندہ ایک نہیں دو دو لمکیں گے،جگبیر نے شرارت آمیز ہنسی بکھیرتے ہوئے جواب دیا۔

 

آخری بات کسی کو بھی سنائی نہ دی۔ البتہ ہر ایک یہ ضرور جان گیاکہ سردار سودھا سنگھ نے پتے کی بات جگبیر سے آخر ہی میں کی ہے، جس پر جگبیر نے ہنستے ہوئے آنکھ بھی ماری تھی۔ اس کے بعد کافی دیر تک دوسری باتیں ہوتی رہیں، جن کا غلام حیدر کے معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا۔یہاں تک کہ سورج چمک کر سامنے آگیا اور سب لوگ اپنے کام کاج کو نکل گئے۔ لوگوں کے جانے کے بعدحویلی دوبارہ چار چھ نوکروں کے علاوہ قریباً خالی ہو گئی اورسردار سودھا سنگھ بھی زنانے میں چلاگیا۔

 

(20)

 

عشا کی نماز پڑھنے کے بعد دس بارہ نمازی،جن میں اکثر بڈھے تھے، سب اپنے گھروں کو چلے گئے مگر مولوی کرامت وہیں بیٹھا رہا۔ اُس نے نہ تو کسی سے بات کی اور نہ ہی دعا مانگنے اور نماز پڑھانے میں طوالت اختیار کی تھی۔ وہ مسجد کی محراب میں بیٹھا اس طرح سوچ میں ڈوبا تھا جیسے صبح سب کچھ لٹنے والا ہو۔ اُس نے اسی مسجد کے احاطے میں ہوش سنبھالے تھے اور آج وہ پچپن کا ہو چکا تھا۔اُس نے وہیں اپنا پہلا سبق پڑھا تھا۔ اسی فرشِ خاک پر پیشانی رکھی تھی،تو یہی خاک اُس کے لیے خاک ِشفابن چکی تھی۔

 

مسجد نہایت چھوٹی، بوسیدہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی مگر مولوی کرامت کے لیے کعبۃاللہ سے کم نہیں تھی۔ اُسے مسجد کی ایک ایک شے سے محبت تھی۔یہی وجہ تھی کہ رات اِسی مسجد میں رہ گیا اور باہر جانے کو جی نہ چاہا۔ اُس کے لیے پُرانے طاقوں میں پڑے مٹی کے وہ چراغ جن میں اپنے ہاتھوں سے برس ہابرس تک تیل ڈال کر جلاتا رہا تھا۔ اُن کے اندر پڑے ہوئے روئی کے پھمبے، جوبیسیوں سال تیل اور آگ کے دھویں میں گُھل مل کر نہایت میلے کچیلے ہو گئے تھے۔ مسجد کی چھت کے برسوں پُرانے اور دھویں سے سیاہ ہوئے شہتیر اور آنکڑے، جن پر مکڑی کے سیاہ جالے لگے ہوئے تھے، دیواروں میں ٹیڑھے میڑھے طاق اور اُن میں بوسیدہ غلافوں میں لپٹے قرآن اور قاعدے سپارے، جن کی اپنی حالت بھی غلافوں سے کم نہیں تھی،۔کچے فرش پر بچھی کھجور کے پتوں کی چٹائیاں جو گھِس گھِس کر اتنی پرانی ہو چکی تھیں کہ اُن میں ملائمت اور چمک پیدا ہو گئی تھی۔اُن چٹائیوں کے دھاگے تو کب کے ریزہ ریزہ ہو چکے تھے مگر پتےٌ اپنی ترتیب میں فقط پیروں کے دباؤ کی وجہ سے ہی ایک دوسر ے کے ساتھ جُڑے رہ گئے تھے۔ ان کے علاوہ دیواروں میں جگہ جگہ تنگ روزن۔ اُن روزنوں اور روشندانوں میں بے شمار چڑیوں،فاختاؤں اورلقے کبوتروں کے گھونسلے اس طرح بنے تھے کہ اُن کی وجہ سے وہ بالکل بند ہو چکے تھے۔انہی روزنوں میں پھنسے پرندوں کے پر، تنکے،خس اور بِیٹوں نے سورج کی کرنوں اور ہواکا راستہ ایک عرصے سے روک رکھا تھا۔مسجد کی محراب جو ایک قسم سے مولوی کرامت کے جسم کا حصہ تھی۔اس چھوٹی سی چار فٹ چوڑی، پانچ فٹ لمبی اور آٹھ فٹ اونچی محر اب میں کئی چیزیں مثلاً لکڑی کا پرانا چار سیڑھیوں والا منبر،جس پر بیٹھ کر اُس کا دادا، باپ اور پھر وہ خود جمعہ کا خطبہ دیتے رہے یا کبھی کبھار وعظ کہتے رہے۔ جن میں چند بندھی ٹکی نصیحتوں کا اصرار تھا،جو گاؤں والوں کو کبھی کی ازبر ہو چکی تھیں، جیسے اُن کے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیاں۔اُس منبر کا رنگ اب کوئی نہیں بتا سکتاتھاکہ جب وہ نیاتھا تو کیا ہو گا۔ محراب کے اندرکاندھوں کے برابر تین چھوٹی چھوٹی محرابیوں والے طاق اور اُن میں رکھے چراغ۔ جن کے جلانے کی ڈیوٹی بچپن سے اُس کی اپنی ہی رہی۔ اُس کے علاوہ مسجد کے صحن کے مشرقی کونے میں وہ چبوترہ جس پر کھڑے ہو کر پانچ وقت اذان دیتا تھا۔الماریوں میں پڑی لکڑی کی رحلیں، میلاد النبیؐ کے دن مسجد کی چھت اور صحن میں باندھی جانے والی رنگ برنگی کپڑے کی جھنڈیاں، رمضان کے مہینے میں روزہ افطاری کااعلان کرنے والا نقارہ، حتیٰ کہ صحن کے ایک کونے میں پڑی ہوئی مُردوں کو لاد کر لے جانے والی چارپائی، وہ ایک ایک چیز کو غور سے دیکھتا گیا اور اُسے بوسے دیتا گیا۔ غرض صحن سمیت اس تیس فٹ لمبی اور بیس فٹ چوڑی مسجد کی ایک ایک شے مولوی کرامت کے وجود کاحصہ بن چکی تھی، جسے اگر اُس کے بس میں ہوتا تو اٹھا کر جلال آباد لے جاتا۔ کئی دفعہ ذہن میں آیا کہ نہ جائے مگر پھر اُسے فضل دین کا خیال آ جاتاجو محض روٹیاں اکٹھی کرنے اور جھڑکیاں کھانے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ اسی عالم میں اُسے صبح نے آ لیا۔

 

مسجد میں صبح کی نماز چھوڑ کر باقی چار وقتوں میں نمازیوں کی تعداد پندرہ بیس سے کبھی نہیں بڑھی تھی۔ صبح کے وقت چالیس پچاس فرد ہر صورت جمع ہو جاتے۔ یہ اصول اسی گاؤں کی مسجد کا نہیں تھا۔ پنجاب کے جتنے دیہات یا شہر ہیں، وہاں کے نمازیوں کی یہی حالت ہے۔ یہ لوگ صبح کی نماز کو عموماً ترجیح دیتے ہیں اور باقی کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔با لکل اُس نوکر کی طرح جس کا مالک اُسے کوئی کام بتا کر فوت ہو جائے اور وہ نوکر اُس کام کا ایک فی صد کر کے باقی اپنے مالک کے زندہ ہونے تک ملتوی کر دے۔صبح کی نماز پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اِن دیہاتی لوگوں کو ہمیشہ سے ہی رات کو جلد سو نے کی اور صبح جلد اُٹھنے کی عادت ہوتی ہے۔ چونکہ صبح کے وقت اٹھ کر کرنے کو کوئی اور کام نہیں ہوتااور نماز پڑھنے کے لیے ہاتھ منہ دھونا ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے صبح کی نماز گویا منہ ہاتھ دھونے کا بہانہ سمجھ لیں۔ اس کے علاوہ صبح کے وقت لوگ تازہ دم بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال آج فجر کی نماز میں معمول کے مطابق گاؤں کے قریباً سبھی سر کردہ لوگ جمع تھے جن کی تعداد ساٹھ تک تھی۔

 

نماز ختم ہوئی تو مولوی کرامت نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ گڑگڑا کر دُعا کی اور اس کو اتنا لمبا کھینچا کہ نمازی فکر مند ہو گئے۔ ہر ایک شخص کا نام لے کر، اُن کی ضروریات کی تمام چیزیں صحت، دولت اورا یمان تک مولوی صاحب نے اللہ سے مانگیں۔ اس کے بعد نمازیوں کی طرف منہ کر کے رُندھی ہوئی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔

 

گاؤں والو، خدا تم کو سلامت رکھے اور اس گاؤں پر کبھی کوئی مصیبت نہ آئے۔مجھے یہ کہتے ہوئے بہت دُکھ ہو رہاہے کہ میں آج یہاں سے ہجرت کر جاؤں گا۔ تم نے میری اور میرے باپ دادا کی بہت خدمت کی۔اس مٹی میں جنتا ہمارا رزق تھا،وہ ہم نے کھا لیا۔ اب آگے کا دانہ پانی اللہ نے کہیں اور لکھ دیا ہے۔اب دعاؤں کے ساتھ رخصت چاہتا ہوں۔

 

اتنا کہتے ہوئے مولوی کی آواز ایک دم بھرّا گئی۔ اُس سے آگے نہ بولا گیا اور ہچکی بندھ گئی َمولوی کو روتے دیکھ کر سب لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
سچ بات تو یہ تھی کہ آج تک مولوی کرامت کی کسی بھی شخص سے چپقلش نہ ہوئی تھی۔ سب کے گھروں میں آنا جانا کُھلا تھاَ ہر ایک کی ماں بہن کو مولوی کرامت نے اپنی ماں بہن سمجھا۔ کبھی نہ کسی شخص سے منہ بھر کے مانگااور نہ کم زیادہ ملنے پر بُڑبُڑ کی۔جو کسی نے دیا،رکھ لیا، نہ دیا تو خموش ہو گیا۔ گاؤں میں مولوی کی ایک انچ زمین نہ تھی َ۔گھر کا جو احاطہ رہنے کے لیے تھا وہ بھی چوہدری گلزار محمد نے دے رکھا تھا مگر مولوی کرامت گاؤں کی تمام زمین کو اپنی ملکیت ہی سمجھتا تھا۔ جس کھیت سے جی چاہا، ساگ اتار لائے۔ جہاں سے چاہا سبزی، مکئی کے بھٹے، گنا، لہسن، پیاز غرض ہر شے کسی کے بھی کھیت سے مولوی کرامت بغیر پوچھے کاٹ لاتے تھے۔ کسی نے آج تک منہ نہ پھٹکارا۔ کافی عرصہ پہلے ایک دو دفعہ مولوی کرامت کو شہر کی مسجدوں سے پیش امامت کی پیش کش بھی ہوئی۔مولوی صاحب نے انہی سہولیات کے باعث وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا مگر اب کے معاملہ الٹ تھا۔ایک تو انگریزی سرکار کی نوکری، اُس پر رحمت بی بی کی دس ایکڑ زمین کی سنبھال۔ مولوی کرامت نے سوچا اُسے چاہے تنگی ہو جائے، مگر فضل دین کا مستقبل ضرور سنور جائے گا۔ اب چونکہ مولوی کرامت کی پیدائش اسی گاؤں کی مٹی کے خون سے ہوئی تھی اس لیے آج گاؤں چھوڑنے پر دل بھر آنا فطری عمل تھا۔

 

جب دن کافی چڑھ آیا اور کُہر نے آنکھوں کا راستہ چھوڑ دیا تو چوہدری گلزار، الہٰ بخش، دین محمد اور دوسرے کئی لوگ مولوی کرامت کو رخصت کرنے کے لیے اُس کے گھر کے سامنے جمع ہوگئے۔ آج شام چار بجے کی ریل سے مولوی کرامت نے جلال آباد کا ٹکٹ لینا تھا۔ اس لیے چار سے پہلے اُسے سامان لے کر ریلوے اسٹیشن پر پہنچنا تھا۔ سامان کیاتھا، دو لکڑی اور ایک لوہے کاصندوق،جن میں پرانے کپڑے، پانچ دس کتابیں اور گھر کے چھوٹے موٹے برتن۔ اس کے علاوہ تین عدد بستر جن میں پرانی رضائیاں اور چٹائیاں تھیں اور باقی اللہ اللہ۔

 

یہ سارا سامان ایک گَڈ پر باندھ دیا گیا جو حسین محمد کا تھا۔ اُس نے اپنے نوکر سے کہا، وہ مولوی صاحب کا سامان ریلوے اسٹیشن پر چھوڑ آئے۔ اُس کے علاوہ دو تین لڑکے مزیدجو کبھی مولوی کرامت کے شاگرد رہ چکے تھے، وہ بھی ریلوے سٹیشن تک جانے کے لیے ساتھ ہو گئے۔ ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق اُس کی کچھ نہ کچھ خدمت کی۔ کوئی مولوی کرامت، اُس کی بیوی اور فضل دین کے لیے کپڑے لے آیا۔ کسی نے پیسے دیے۔کسی نے کچھ اور تحفہ۔یوں مولوی کرامت کے پاس ڈیڑھ سو روپیہ اور کپڑوں کے کئی جوڑے جمع ہو گئے۔

 

مولوی کرامت تمام لوگوں کے ساتھ گلے مل مل کر رویا۔ شریفاں بی بی کے گرد عورتوں کا مجمع الگ تھا،جو اُسے بڑی گلوگیری سے دعائیں دے رہی تھیں۔ فضل دین نے آج نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ اس سب کچھ سے بے نیاز نئی دنیا دیکھنے کے لیے بے تاب اور خوش خوش سفر کو آمادہ، جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ وہ ایسی جگہ جا رہاہے جہاں دن کا رنگ ہرا ہرا ہوتا ہے اور راتوں کو جگمگ کرتے تارے کوٹھوں کی چھتوں پر آجاتے ہیں۔ اُسے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ اُس جگہ پر رنگ برنگ کی میٹھی میٹھی برفی، ٹانگر، جلیبی اور کرارے پکوڑے بھی بہت سستے مل جائیں گے۔ اس لیے اب وہ جی بھر کر جلیبی اور پکوڑے کھایا کرے گا،جو ڈیڑھ سال پہلے پیر نتھو شاہ کے میلے میں اُس کے والد مولوی کرامت نے اُسے لے کر دیے تھے۔وہ جلیبی کیسی مزیدار تھی۔ مگر روٹیاں مانگنے کے لیے کہاں جائے گا ؟اس اہم معاملے میں ابھی تک اُس کا دماغ کچھ کام نہیں کر سکا تھا۔ پتا نہیں وہاں کی روٹیاں گھی والی ہوں گی یا سوکھی،خیر جیسی بھی ہوں گی لیکن اب وہ کسی کا کام نہیں کرے گا۔ جلد ہی روٹیاں اکٹھی کر کے گھر بھاگ آیا کرے گا۔ آج اُس نے جوتے نئے پہننے تھے،اس لیے پاؤں خود بخود ادھر اُدھر اٹھ رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی ہوا میں اڑ جائے گا۔ان نئے جوتوں کی وجہ سے اُسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ سب سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے۔

 

مولوی کرامت، رحمت بی بی اور فضل دین گڈ پر بیٹھ گئے۔ جس پر اُن کاسامان لد چکاتھا۔ اپنی بکری اور چارپائیاں مولوی نے وہیں پر بیچ دیں کہ اُنھیں کون اُٹھائے اُٹھائے پھرتا۔آخر رمدو نے بیلوں کو ہانک لگادی اور دو بجے سہہ پہریہ قافلہ چک راڑے سے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کی طرف رخصت ہو گیا، جو کم از کم سو میل قصور سے دُور تھااور اب
“جا نی دھیے راوی۔۔۔۔۔نہ کوئی آوی نہ کوئی جاوی”
والا معاملہ تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
اداریہ

لکھ پنجابی، بول پنجابی

 

 

اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری نظرانداز شدہ صوبائی زبانوں میں تدریس اور سرکاری خط وکتابت کی جانب پہلا قدم ہے۔ دیگر صوبوں میں مقابی زبانوں کے نفاذ اور ترویج کے لیے قانون سازی کا عمل مکمل ہو چکاہے۔ تاہم پنجابی کو ذریعہ تعلیم بنانے اور دفتروں میں رائج کرنے کے لیے قانون سازی کے اقدامات تاخیر کا شکار ہیں۔ پنجابی زبان کوذریعہ تعلیم بنانے کے لیے لاہور پریس کلب کے سامنے 29 اگست کو ایک مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کا اہتمام پنجابی زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم “پنجابی وچار نے کیا تھا۔ سانجھ پبلی کیشنز کے مالک اور پنجابی دانشور امجد سلیم نے صوبوں میں ہونے والی قانون سازی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

 

عام طور پرعلاقائی زبانوں کو تدریس، دفتری امور کی انجام دہی اور عدالتی کارروائی کے لیے ناموزوں سمجھا جاتا ہے۔ ان زبانوں میں علمی اور پیشہ ورانہ اصطلاحات کے فقدان کا تصور نوآبادیاتی دور کی فکری میراث ہے۔ پنجابی زبان وادب کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیم’دل دریا پاکستان’ کے بانی علی احمد اس تاثرسے اختلاف کرتے ہیں۔ علی احمد کا کہنا تھا کہ پنجابی زبان تمام علوم کی تدریس کی اہلیت رکھتی ہے۔

 

اٹھارہویں ترمیم علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کی قومی شناخت میں شمولیت کا نقطہ آغاز ہے۔ ماضی کے برعکس یہ پہلا موقع ہے جب وفاق نے پاکستان میں پائے جانے والے ثقافتی تنوع اور لسانی کثرت کو تسلیم کیا ہے۔ پنجابی شاعر اور صدا کار افضل ساحر لسانی اور ثقافتی تنوع کووفاقی سالمیت کے لیے سودمند سمجھتے ہیں۔
Categories
اداریہ

Students’ ill-health causes 52% absenteeism: school health program awaiting proper implementation

LAHORE: Government should declare emergency in school health sector to get positive results from School Health Program (SHP). These views were expressed by health-education experts in a seminar titled “Evidence Generation and Advocacy for Institutionalisation of School Health Programme (SHP) in the Punjab,” organised by Nur Centre for Research and Policy (NCRP), on Thursday.

The NCRP conducted a survey in 38 schools of 8 districts to assess the impact of the government’ recent SHPs on students’ health, nutrition literacy and practices, and documented the prospects of implementation. Nur Foundation came together with the Health and Education Departments’ authorities and stakeholders in these districts with objective of school health and nutrition situation analysis in Punjab and barriers to institutionalisation of SHP.

According to findings, it is observed that 52% of girls and 42% of boys are absent from school due to ill-health.
Mostly selected schools have no proper facilities of clean drinking water, sanitary washrooms and no first aid arrangements. Parents and community members are generally unaware of the currently ongoing SHPs because they are not involved in any capacity. Finding shows; fever, headaches, earaches, toothaches, and stomach problems were common reasons for absenteeism, 20% girls and 22% boys had intestinal worm infection, low weight for age was found in 7% girls and 17% boys, inadequate drinking water arrangements in 31% and 41% boys’ schools, sanitary latrines absent from 27% girls’ and 22% boys’ school, no libraries in 50% girls’ and 41 % boys’ schools, awareness about ongoing SHP among principals and teachers is limited and they feel quite detached from the programme being implemented by the health sector.

The NCRP’s dissemination seminar acted as a forum to review and share the findings and challenges confronting Pakistan in improving the health and nutritional status of school going children.

The seminar was chaired by Advisor to Chief Minister Punjab on Health Khawaja Salman Rafiq, Parliamentary Secretary on Health Khawaja Imran Nazir, Member Standing committee for Health Punjab Mahwish Sultan, Parliamentary Secretary for Education Punjab, and MPAs Dr. Muraad Rass, Rana Munawar, Hussain Ghos Khan and DG Health Punjab, Dr. Zahid Pervaiz among others. The seminar had representation from key officials from the government as well as the private sector including NGOs/INGOs like UNICEF, UNCHR, WHO and corporate social representatives.

While addressing seminar, Advisor to Chief Minister Punjab on Health Khawaja Salman Rafiq said that government launched SHP in 33 districts to address the health, hygiene and nutrition issues faced by children at government schools. President, Nur Foundation Shahima Rehman said, “We are all Pakistan and are heading towards a health crisis that needs to be addressed now. These children are our future and their health should be a priority. Health impacts education and without education, our country cannot get out of this vicious cycle of poverty and increase its global competitiveness as well as promote human and economic development.”

The study on SHP was undertaken with the aim to generate evidence to advocate the institutionalisation of the School Health Programme (SHP) in the Education System in Punjab, for enhancing education outcomes and promoting economic development in Punjab.

CEO of Nur Foundation Dr. Haroon, stated, “Together we must sit down and discuss on how to carry things forward beyond research for implementation.” The study on SHP was undertaken with the aim to generate evidence to advocate the institutionalisation of the School Health Programme (SHP) in the Education System in Punjab, for enhancing education outcomes and promoting economic development in Punjab.

Talking about the programme Saba Sheikh said, “The burden needs to be shared between Education and Health. How do we have an impact? We need to have sound advocacy strategy in mind to convince policy makers and to have a practical impact. We need to act as watchdog when the programme is being implemented. You all are stakeholders and we need your support to advocate the institutionalization of the School Health Programme (SHP).”

Categories
نان فکشن

Khan gharaa de band ve: The making of an artist

(Asad Fatemi)

Whenever a folk meets another, some questions are quite obvious; “what’s your native district” and again “which town?” and then the story telling begins. Well, I’m from Jhang, and for Jhangochis, I come from Kot Shakir. Here, I use to face another question. They ask about the mysterious line from a famous song by Mansoor Malangi;

Tere pichhe Kot Shakirchhadya, aap cha malya’i Jhang ve,

Khan gharaa de band ve..

Having a very little thought about where to begin from, I flash back to the olden corridors of my high school, a structure founded in 1870’s as boys vernacular school, now named as Govt. Boys High School Kot Shakir. The elderly people use to tell about the days from some four decades back, when an entire generation of iconoclast Jaangli poets, singers, lovers and story tellers of our time was living its boyhood in the boarding house of this school. That was a place on a healthy walking distance from the school and the town population, surrounded by green fields and the wilderness providing shelter to howling jackals, venomous snakes and the rebellious love makers.

I am talking about the time when Mahr Riaz Budana, Shafqat Khan Sial, Idris Chela and many other stars of Jaangli poetry were living at one place. And there was a boy with a harmonium, called Malangi, son of a Mirasi from a farther village Garh Maharaja.

And there was a woman Zohra Khanum, the young wife of an elderly folk Muhammad Khan. She had fare complexions, luminous eyes and long black curly hair. Khanum never visited the boarding house yet she was perhaps the most obsessively discussed woman in the residence. Her seducing body language made her a bombshell among the pleasure seekers and her flawless beauty made her a quixotic inspiration for the poets. She was simply an anecdotal sweetheart. Imagine that clear dawn when Khanum was finding some bare ground in the fields, to sit and defecate, with a clay vessel in her hand. Idris Chella, notorious for his extempore poetry, was descending from a nearby mound. He witnessed our Khanum tucking her dress up and sitting in the thick crop to practice the morning routine, with her glabrous bottom exposed for a moment. The poetry genius couldn’t help himself to stop chanting his ‘just revealed’ Dohra by its first line;

Pir Raaje Shah di kandak de vich ajj vekhya him chann lahnda…

Translation: Today I’ve seen the moon setting in the wheat field of Pir Raaje Shah… (this is the name of my grandfather)

Among all those chasers and the praisers of Khanum’s beauty, Mehmood Lohar was the only one to earn a fortune. He was son of a smart blacksmith from a neighboring village Aliana who had changed his profession from blacksmith to goldsmith and the word Lohar (blacksmith) was part of his name, only to clue up his ancestral caste. Mehmood was a tall boy with broad shoulders, strong wrists and a handsome masculine face-cut. A boy dumb in English and Science Subjects but familiar with his father’s goldsmith tools, was about to shine in the school by being our Khanum’s heartthrobe.

The school boys from the other villages are advised to be cautious in hooking around with women of the town. Whether the gossip mongers of boys boarding house were expecting Mehmood to go for some adventure. A promised tryst on the River Jehlum (aka. Kishanganga) bank, in a full-moon autumn night, was the time and place of the bitter end of their story.

They were caught. Khanum escaped the occasion, leaving her dress on the “crime scene” and Lohar was beaten up by the invading people. He was sent back to his own village, carried on a charpoy with his bones broken. Khanum was back to her home and by the dusk of dawn, the scandal was trending every public space of the town. Muhammad Khan claimed the honor of a disadvantaged husband, he managed a traditional punishment for the crime of his previously escaped wife. He beat him cruelly. Khanum was apple of her parent’s eyes. She sent a messenger to her mother narrating her version of the case. Her mother was a supportive soul from the city Jhang.A Couple of days later, her brothers came to the town and they beat up her sister’s husband in revenge. They took their sister back to stay at her mother’s house in Jhang for a very long period.

Mehmood Lohar was not the part of chattering in the town, he had left Kot Shakir. He was healing with his bone injuries and keeping alive the wounds of his heart. One day he came across the poet schoolmate Shafqat Khan, who found Lohar in a pitiful outlook and a painful agony of defeat. Lohar said to his poet friend;

“You’ve witnessed all the accounts of my story, from luxury to the misery. You are a poet and you can feel the way I do… write me some verses…”

The poet took a piece of paper and apparently didn’t take any manipulative liberty in documenting his feelings, he tuned up Lohar’s request into some simple lyrical lines, and there was a complete song;

Tere pichhe Kot Shakir chhadya, aap cha malya’i Jhang ve,
Khan gharaa de band ve..

(I left Kot Shakir in your love, and you settled back in Jhang..
Compose me a stanza, O Khan!)

A copy of the stanzas was made and taken to the boarding house. Somebody presented the piece of paper to the boy with harmonium, in an evening meet up. Malangi sang it to the fellows, and it bewitched the entire house. The next Friday, in the weekly performance assembly Mansoor Malangi was asked to formally play the song to the teachers and the pupils of his school. Those who listened, went back to their villages and told other folks about the fresh masterpiece. On the upcoming crop festival, Malangi’s song was the hottest thing to talk about. A true work of art had come up with its deserved appreciation. Malangi was famous and he didn’t stop on one song. The earliest audio cassette with his very first song on side A, and the second song “Hik phul motiye da” on side B, has been the trendiest gift for the youth of entire district. Nothing could stop his voice from prevailing in the breadth of Punjab and the entire world.

The old Kot Shakir is now a shrinking town, somehow rearranging its population on the western sand mounds cut apart by Khushab Road. The periodical river floods are increasingly frequent and a big piece of the deeper cultivation lands is fallen infertile of salination. Some new schools were founded in the other villages and boys had got faster ways to move to their schools, hence the existence of boarding house was finally challenged. The building is turned to Government Girls High School, and now it is a new hideout for the haunting fantasies of the boys from later generations, though the wilderness is not its most immediate neighbor anymore.

Mehmood Lohar has now nothing to do with the gold business, he’s again a destitute blacksmith earning his livelihood by sharpening the peasants’ reapers in the harvesting seasons. He is now an elderly man with a grown up family and a nostalgic soul with a profound sense of absolute failure in life. Zohra Khanum was lately back to her husband and she brought forth some five beautiful children. She has learned to live happily with her young kids. And today is the day when I am hearing the news that Mansoor Malangi has died of heart disease. The radios and televisions are echoing the melodies those are quite familiar to the ears. He was touchy about the arrangements he sang and choosy about the lyrics he took for his songs. His records have led many instrumentalists, poets, places and beauteous darlings to the memory of eternity.

Ustad Malangi is dead, live long the two rivers.

Categories
خصوصی

چراغ بانٹتے پھرتے ہو چھین کر آنکھیں

campus-talks

 Untitled-1وزیر اعلیٰ پنجاب نے لیپ ٹاپ تو تقسیم کئے ہیں مگراب ان کو استعمال کرنے کا اجازت نامہ بھی درکار ہے۔کئی تعلیمی اداروں بالخصوص خواتین کے اداروں میں موبائل اور کمپیوٹر جیسی بدعتوں کے استعمال پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار وومن سرگودھا ان میں سے ایک ہے۔ پنجاب کے دیگر اداروں کی طرح اس کا لج کی کئی طا لبا ت کے حصے میں بھی خادم اعلیٰ کے عطا کیے لیپ ٹاپ آئے۔ کا لج میں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے لیپ ٹا پ کا استعمال پہلے ہی بہت محدود تھا۔ پورے کا لج میں بالعموم اور کالج ہاسٹل میں بالخصوص انتظامیہ کمپیوٹر کے استعمال کو فحاشی گردانتی ہے۔ ہاسٹل میں رہائش پزیر طالبات میں سے تقریبا 30 کے پا س لیپ ٹا پ تھے جو انہیں گھر بھیجنے پڑے۔ واضح رہے کہ ہاسٹل میں موبائل رکھنے پر پابندی عرصہ دراز سے قائم ہے۔ وائس پرنسپل سے اجازت طلب کی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر دبا دی کہ ہمارے ہاں بچییاں ‘امیچور’ ہیں اس لیے ہم نے کمپیو ٹر کا استعما ل سختی سے منع کیا ہوا ہے۔

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار وومن سرگودھاسے ایک طالبہ