ہائے عرفان خان (علی اکبر ناطق)

قسم ہے مجھے اپنی آنکھوں کی جو بہت برکت والی تھیں اِن میں حزن و ملال کے سیراب بھر گئے ہیں یہ آنکھیں دیکھنے میں بہت ہنرمند اور سمجھنے میں جلد باز تھیں یہ غم سے بھر گئی ہیں کیا تم نہیں جانتے غم کتنا بے رحم دیوتا ہے ایسی آنکھوں میں یاس کے کنکر […]
شگاف جو زیر تعمیر ہے (عرفان خان کے لیے) — مدثر عباس

بہار نے ہماری طرف پھول پھینکے قبرستان نے ہماری طرف ایک قبر پھینکی مجھے نہیں معلوم کہ پھول اور قبر ہمارے اس شخص کے ہاتھ کیسے لگ گئے جس شخص کو ہم ابھی تختی پر زندگی لکھنا سکھا رہے تھے جلد باز دن نے ہمیں اتنی بھی سہولت نہیں دی کہ ہم ایک موت کی […]
