Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(48)

دھوپ اور گرمی کی وجہ سے پورا فیروز پور جہنم کی دیگ ہوگیا تھا۔ ہر چیز کر راکھ ہو رہی تھی۔ اگر کسی نے گرمی اور دھوپ کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کی ہو اور اُسے یقین نہ آرہا ہو کہ گرمی کا دوسرا نام وہ ذلت ہے،جس کے بعد سوچنے سمجھنے کی تمام قوتیں سلب ہو جاتی ہیں،تو اُسے لا کر فیروز پور کے جیٹھ ہاڑ میں ڈبو دینا چاہیے۔ لیکن اب کے معاملہ دوسرا تھا۔ لوگ اِس عقل سوز گرمی اور دھوپ کو بھول کر کسی اور دھیان میں لگے ہوئے تھے۔ ایک خاموشی،دبی دبی خاموشی،جس میں حواس باختہ کر دینے والا خوف اور بجھا بجھا ڈر تمام لوگوں پر چھایا ہو ا تھا۔ پوری آبادی میں نہائت خموشی اور لاشعوری تقسیم کا عمل جاری تھا۔ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے دو حصوں میں بٹنے لگے تھے۔ آپس کی اِس لاشعوری تقسیم میں اُن کی زبانوں پر ہر وقت ست سری اکال یا اللہ اکبر کی تکرار پہلے سے کئی گنا ہو گئی۔ وہ نہیں جانتے تھے،بغیر وقفے کے اِن مذہبی نعروں سے کیا حاصل کر رہے ہیں،لیکن اپنے کلمہ گو بھائی کو دیکھ کر ہر فرد نے اُن نعروں کو ادا کرنا اور اُن کاجواب دینا اپنے اوپر لازم کر لیا تھا۔ گویا دونوں گروہوں نے اپنے اپنے دیوتا میدان میں لا کھڑے کیے،جو ایک عرصہ تک غیر متحرک رہے تھے اور اب اُن کی طاقت کا مظاہرہ کسی وقت بھی ہو سکتا تھا۔ مگر ایک بات ابھی تک نہ جانے کیوں راز میں تھی کہ اِس میدان کو تیار کرنے والے ظاہراً نظر نہ آ رہے تھے۔ آخر وہ سب سے بڑا دیوتا کہاں تھا؟ جو دونوں بڑی طاقتوں کو خموشی سے بھڑا دینا چاہتا تھا لیکن اُس کی آگ کو وقت سے پہلے بالکل خموش رکھ رہا تھا۔ نہ اُس کی لکڑیاں دکھائی دیتی تھیں اور نہ اُس کے بندوبست میں لگے ہوئے چہروں کی کچھ خبر تھی۔ بس ہر ایک چیز اِس طر ح اپنے ہی آپ منظم اور اپنی اپنی صفوں میں درست ہو رہی تھی،جیسے پانی کا بہاؤ سوکھے ہوئے پاٹ میں پڑے تنکوں کو اِدھر اور اُدھر دونوں کنارے کے حوالے کرتا ہوا،آپ اکیلا سمندر کی جانب چلا جائے۔ اگرچہ یہ قضیہ سارے ہند وستان میں ایک ہی طرح سے چل رہا تھا لیکن تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور خاص فیروزپور میں معاملات اِس طرح پُر اسرار تھے کہ اِس بارے میں کوئی بھی دماغ کوشش کے باوجود اِن حالات کا پتا چلانے میں ناکام تھا۔ ہر شے میں نحوست اور بے وقعتی اور بد نیتی یو ں دبے قدموں چلی آئی تھی کہ اُس کے متعلق کوئی دعوہ نہیں کر سکتا تھا کہ اُس نے بدلتے ہوئے آسمان اور زمین کا مشاہدہ کر لیا ہے۔ ہاں ایک بات جو سب جانتے تھے اور ہر فرد اُس کے بارے میں وثوق سے اپنی آنکھ کا اعتبار پیدا کر سکتا تھا،وہ یہاں کے لوہاروں کی تپتی ہوئی بھٹیاں تھیں،جن میں اِتنا ایندھن جھونکا جا چکاتھا کہ اب سر کنڈوں کے تنکوں تک کی نوبت آ گئی تھی۔ لوہار وں کی دوکانیں،جن کی چھتیں،کھپریل،ٹوٹے پھوٹے بانسوں اور سخت جنتر کے سستے آنکڑوں سے بنی تھیں،بھٹی سے اُٹھنے والے دھویں اور آگ کی لپکوں نے،جو اُن کی واحد خوراک تھیں،پورے پورے علاقوں کو جلا دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ یہی وہ جگہیں تھیں،جن کا مالک کوئی سکھ لوہار تھا اور کوئی مسلمان۔ مگر لوہے کو سُرخ کرنے کی مہارت دونوں میں ایک ہی جیسی تھی۔ دونوں کے پاس آرہن،چھینی،ہتھوڑا اور چمٹا بھی ایک ہی طرح سے کام کرتا تھا۔ لوہے پر اُن دونوں کی ضربوں کی دھمک بھی ایک جیسی پڑتی تھی۔ حتیٰ کہ دونوں کے لوہا کوٹتے ہوئے بغلوں کا پسینہ اور پسینے کی بدبوسے ایک ہی طرح سے کراہت پید ہوتی تھی۔ اِس کے باوجود دونوں میں ایک ایسا ناقابل بیان فرق موجود تھا،جس کی وضاحت وہ خود بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اُس فرق سے وہ اِتنے وفادار تھے،جیسے اُس کے ساتھ زندگی کا لمس بندھا ہوتا ہے۔ اِن لو ہاروں کو کئی دنوں سے تلواریں،چھویاں،برچھیاں اور سنگینیں بنانے سے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی اور بھٹیوں کی چھتیں،جن پر پہلے ہی دھوپ،گرمی،دھویں اور اُڑتے ہوئے بگولوں سے گرد اور مٹی کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی تھیں،آگ کے تپاؤ میں کٹھالی کی طرح پک کر سیاہ اور چکی تھیں۔ یہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ نہ یہ سب تیاری سات سمندر پار اُن سفید لوگوں کے لیے تھی،جنہوں نے لال قلعہ سے لے کر جلیانوالا باغ تک،دونوں جگہ اپنے نقشے درست کیے تھے۔ نہ اُن لوگوں کے لیے،جو دیسی ہونے کے باوجود اُن کے درمیان نہ تھے،نہ اُن کی طرح کھاتے پیتے تھے اور نہ ہی اُن کی طرح بولتے تھے۔ یہ سب کچھ وہ اپنے لیے ہی کر رہے تھے۔ بلکہ یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ تیاری تھی بھی کہ نہیں۔ ہاں کچھ ہی دنوں بعد اتنی سمجھ اور آنے لگی تھی کہ یہ خموش نحوست اُس وقت شروع ہوئی،جب کسی نے اُسی ملک میں ایک مزیدملک بنانے کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ ملک کیا تھا؟کہاں بننا تھا؟ اور اس میں کن لوگوں نے رہنا تھا؟یہ ابھی طے نہیں ہوا تھا،مگر یہ طے تھا کہ اِس کی بنیادوں میں گاڑھے اور پتلے،سبھی قسم کے خون کا گارا او رکٹے ہوئے سروں کی اینٹیں استعمال ہونا تھیں،جس میں تیز دھار لوہے کا بہت زیادہ کام تھا۔ اور یہ بھی طے تھا کہ جس کے پاس جتنا زیادہ اور جتنا تیز لوہا ہو گا،وہی اپنی عمارت بلندتعمیر کرے گا۔ اس میں ست سری اکال اور اللہ اکبر کو بھی کردار ادا کرنا تھا۔ لیکن اُن کا عمل دخل صرف لوہے کے استعمال کے وقت تھا۔

چھ سات مہینے تو یہی حالت رہی لیکن اب کچھ دنوں سے اِس منحوس اور اُکتا دینے والی خموشی کا سکوت ٹوٹنے لگا تھا۔ سان پر چڑھی ہوئی بر چھیاں ڈانگوں پر چڑھنے لگیں۔ اَن کہی ٹولیاں تر تیب پانے لگیں اور اَن سُنی کہانیاں سُنی جانے لگیں۔ پُر امن گاؤں میں راتوں کو پہرے جمنے لگے۔ جوانوں نے مونچھوں کو تاؤ دینے شروع کر دیے لیکن کیوں؟ یہ ابھی بھی کسی کو پتا نہیں تھا۔ بس کہانیاں تھیں،کہ فلاں سکھڑے نے فلاں مسلے کو برچھی مار دی یا فلاں مُسلے نے فلاں سکھ کو تلوار سے کاٹ کر اُس کی انتڑیاں نکال دیں۔ مگر یہ سب دیکھا کسی نے نہیں تھا،سُن ضرور رہے تھے۔ یہ کہاں ہو رہا تھا؟یہ بھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔ ہاں اِتنا اور ہوا،چوہدریوں نے اپنے مزارعے بدل لیے اور مزارعوں نے چوہدری۔ مسلمان مسلمانوں کے ہاں چلے گئے اور سکھ سکھوں کے ہاں۔ پُرانے محلے داروں نے اپنے محلے اور گلیاں تک بدل لیں۔ گھر وں کے پُر سکون آنگنوں میں سونے والے کوٹھوں جا چڑھے اور ساری ساری رات جاگ کر پہرے داریوں میں لگ گئے۔ ڈھاریوں میں مال کی رکھوالی کرنے والے مال مویشی ہی گاؤں لے آئے۔ مزید دن گزرے تو سونے والے اچانک ڈر کرہڑ بڑا اُٹھتے اوراُٹھ اُٹھ کر بھاگنے لگے۔ پھر خبر ملتی کہ کچھ بھی نہ تھا۔ پھر کچھ دنوں بعد کچھ ہونے بھی لگا۔ واہریں اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ کبھی دائیں طرف سے بلوے کی خبر آتی،کبھی بائیں طرف سے۔ تھوڑی دیر میں واویلا اُٹھتا کہ سکھوں نے حملہ کر دیا۔ لوگ اللہ اکبر اور یا علی کے نعرے مارتے اپنی ڈانگیں اور برچھیاں لے کر چند لمحوں میں جمع ہو جاتے۔ وہ بر چھیاں،جو اُنہوں نے رات اپنے سرہانوں کے ساتھ رکھی تھیں۔ لیکن پتا چلتا،خبر جھوٹی تھی۔ دو ہفتے بعد یہ کھیل بھی ختم ہوا اور خبریں سچی ہونے لگیں۔ اِس لیے کہ نیا ملک بننے میں اب کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی،بلکہ وہ بن چکا تھا۔ لیکن وہاں نہیں،جہاں فیروز پور تھا۔ بلکہ ستلج کے اُس پار منٹگمری کی طرف۔ اچانک اُنہیں پتا چلا،یہ اُن کا وطن نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟اِس کا ابھی جواب نہیں تھا۔ وہ یہاں سے نکل کر کس مکان،کس دیہات یا کس شہر میں جائیں گے؟یہ سب نہ اُنہیں پوچھنے کی طاقت تھی اور نہ ہی اُنہیں کسی ایسے شخص کا پتا تھا،جو یہ سب کچھ اُن بتا سکتا ہو۔ ڈھاریاں،بستیاں،قصبے اور فیروز پور کے چھوٹے چھوٹے شہر وں کی آبادیاں،جن کی تعداد کم سے کم چار یا پانچ ہزار تھی،سب کے سب لوہے کے ہتھیاروں سے بھر گئے۔

پھر وہ دن جلد آگئے،جب لال آندھیوں،جھکڑوں،بگولوں کے اُٹھتے ہوئے طوفانوں اور خشک زمینوں سے د ھوپ کے اُڑتے ہوئے غباروں کے ساتھ دکن کی طرف سے سیاہ بادلوں کے پرے چڑھ آئے۔ یہ عذاب اکیلا نہ تھابلکہ دوسری طرف سے کرپانوں،گنڈاسوں،تلواروں اور چھویوں کے مینہ برسنے لگے۔ بیٹھے بیٹھے جانے کس غیب سے اشارہ ملا کہ لوہے کی تیز دھاریں ریشمی جسموں کی رگیں کاٹنے لگیں۔ واہگرو کی جَے،ست سری اکا ل اور اللہ اکبر کا آوازہ بلند چوراہوں،راہوں،نہر کی پٹڑیوں اور ہر اُس جگہ پر گونجنے لگا،جہاں کوئی بے دست و پا نظر آیا۔ انگریزی نظام کی تمام کڑیاں ایک ہی ہلے میں کٹ کر گر گئیں۔ پولیس معطل اور نظام ثقہ کا سکہ رائج ہو گیا۔

ہو سکتا تھا جلال آباد اور مکھسر میں حالات ویسے ہی مست چال چلتے رہتے اور کسی کو باور نہ ہوتا،کیا ہو رہا ہے۔ اُن کی تلواروں،کرپانوں اوربرچھیوں کو پڑے پڑے ساون کے پانی سے زنگ لگنا شروع ہو جاتا کہ ہریانہ،لدھیانہ اور دہلی سے لُٹے پٹے قافلے نمودار ہونے لگے۔ ۔ گڈے ہی گڈے،چھکڑے ہی چھکڑے،انسان،گدھے،بیل،بکریاں،اُونٹ،گائیں اور بھینسیں اور چیتھڑوں میں لپٹے،ننگے،سفید لٹھوں میں،ننگے پاؤں،ننگے سر،پگڑیاں باندھے،پیدل،سوار،گدھوں پر،گھوڑوں پر،بیمار ایک دوسرے کے کاندھوں پر،کفن کی ٹاکیوں میں لپٹے مُردے،ہزاروں انسانوں،لاکھوں انسانوں کے قافلے اور قافلوں کے تعاقب میں بھی قافلے۔ ڈانگوں والے،برچھیوں والے،داڑھیوں والے،مڑاسے مارے ہوئے،ننگے سر،اسوار،گھوڑوں پر۔ گویا انسانوں کی کھمبیا ں نکل آئیں تھیں،جن کی نہ کوئی پکار تھی،نہ پُرسش تھی اور نہ احساس تھا۔ بس نعرے تھے،بلوے تھے اور خون کے لمبے سلسلے،ہزاروں سال لمبے۔

غلام حیدر کو تشویش تو پہلے ہی بہت تھی لیکن جھنڈو والا کی خبر نے اُسے تڑپا کر رکھ دیا۔ ہوا یہ،آج صبح جب حویلی کے بیرونی صحن میں آیا تو اُسے ایک اجنبی نظر آیا،جسے اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ غلام حیدر چار پائی پر بیٹھ چکا تو اُس نے اُٹھ کر سلام کیا۔ غلام حیدر نے دیکھا،وہ لنگڑا کے چل رہاتھا۔ بہر حال اُس کے سلام کا جواب دیا اور پوچھا،وہ کون ہے؟

رفیق پاؤلی نے اُس شخص کے بولنے سے پہلے ہی کہا،چودھری غلام حیدر،یہ رشید عُرف چھدو ہے۔ جھنڈو والا سے آیا ہے۔ کہتا ہے،وہ بہت اہم خبر لایا ہے،جسے سوائے تمھارے کسی کو نہیں بتانا چاہتا۔

غلام حیدر نے کہا،چار پائی دور اُس کونے میں رکھ دو۔

جب غلام حیدر چھدو کو لے کر اکیلا بیٹھ گیا تو اُس نے جلدی سے بولنا شروع کر دیا،چودھری صاحب،میں خاص سودھا سنگھ کا ملازم تھا۔ اُس کے قتل کے بعد بھی اُسی کا نمک کھا رہا ہوں لیکن اِس وقت ایسی مجبوری آ پڑی ہے کہ تیری طرف آنا ضروری ہو گیا تھا۔ آخر مسلمان ہوں۔ اپنے آپ کو روک نہیں سکا۔ بات یہ ہے کہ جودھا پور کے مسلمان اِس وقت بہت خطرے میں ہیں۔ آج شام سے پہلے اُن سب کو سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ نے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور اِس کے لیے پوری تیاری ہو چکی ہے۔ جتنی جلدی ہوسکے،اپنے بندوں کو اسلحہ دے کر بھیج،تاکہ اُن کو نکال لائیں۔ خدا نخواستہ دیر ہو گئی تو سب کچھ تلپٹ ہو جائے گا۔ چھدو کی بات سُن کر غلام حیدر سُن ہو گیا۔ اُس کے دماغ میں جو خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی،آخر وہی کچھ ہوا تھا۔ سوچتے سوچتے اُس کا ذہن نچڑ کے رہ گیا،مگر سمجھ میں کچھ نہ آ رہا تھا۔ غلام حیدر کی رعایا تو ایک طرف،خود وہ نہیں جانتا تھا کہ حالات اِتنی تیزی سے بدلیں گے۔ پورے علاقے میں،جہاں اُس کی چند ہی دن پہلے ہیبت تھی اور اُس کا نام سُن کر سکھوں کو پسینے چھوٹ جاتے تھے،وہیں ہر شے اُس کے اثر سے اچانک اِس طرح نکل گئی،جیسے وہ ابھی پیدا ہی نہ ہوا ہو۔ کہاں تو ایک سال پہلے آدھے فیروز پور میں اُس نے الیکشن میں وہ کردار ادا کیا تھا،جس کی توقع نواب افتخار بھی نہیں کر رہا تھا۔ کانگرس اور یونینسٹ کو ووٹ ہی نہیں پڑنے دیے۔ اب اُسے اپنے اور اپنے بندوں کے جان و مال کے بھی لالے پڑ گئے تھے۔ آخر اُس نے ایک فیصلہ کر لیا پھر مطمئن ہو کر وہیں آ گیا،جہاں بہت سے آدمی جمع تھے۔

بادل اِتنے کالے اور گہرے تھے کہ اُن کے نہ برسنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہوا بالکل بند تھی،جس کی وجہ سے حبس صبح کے وقت ہی اتنا بڑھ گیا تھا کہ محسوس ہونے لگا،ابھی بارش ہو جائے گی۔ یہ بارش ہو جاتی تو ساون کی پہلی بارش تھی۔ دن کافی چڑھ آیا تھا۔ غلام حیدر کے بندے حقہ پینے میں مصروف تھے۔ اُسے پاس آتے دیکھ کر سب اُٹھنے لگے تو غلام حیدرنے اشارے سے سب کو بیٹھ جانے کے لیے کہا،پھر رفیق پاؤلی سے مخاطب ہوا،چاچا رفیق،جلدی سے ہمارے تمام بندوں کو جمع کر لو اور جو باہر نکلے ہوئے ہیں،اُن کو بھی بلا لو۔

رفیق پاؤلی نے غلام حیدر کو اِتنا گھبرائے ہوئے دیکھا تو وہ خود بھی پریشان ہو گیا۔ بولا،غلام حیدر خیر ہے،اتنی پریشانی کس لیے ہے؟ آدمی تو سارے ہی اِدھر ہیں۔

ہاں خیر ہی ہے،غلام حیدر نے تحمل سے جواب دیتے ہوئے کہا،تم سب میری ایک بات غور سے سُن لو۔ اب کوئی بندہ میرے پوچھے بغیر کہیں نہیں جائے گا۔ ایک بات طے ہے کہ فساد ہونے والا ہے۔ اِتنا بڑا فساد،جس کے آگے چراغ دین اور سودھا سنگھ کے قتل کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ سب کچھ تلپٹ ہونے والا ہے۔ اِس فساد میں کون کہاں جائے گا،اِس کی کسی کو خبر نہیں۔ اِس لیے کوشش کرو،ایک دوسرے سے الگ نہ ہو۔ کچھ دن پہلے میں نے جو محسوس کیا تھا۔ اُس کے پیش نظر اسلحہ تو ضرورت سے زیادہ جمع کر لیا تھا،لیکن اب سکھوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ اِس لیے مزید بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے لگ رہا ہے،جتنا کچھ احتیاطاً کیا گیا تھا،وہ اِس بند کے آگے تنکوں کا گھونسلا ہے۔ یہ بھی اچھی طرح سے جان لو کہ اب ہمیں بھی ستلج پار چلنا ہو گا۔
اور یہ گھر؟جانی چھینبا بولا،

یہ گھر،زندگی رہی تو واپس آ جائیں گے،غلام حیدر نے جانی کی بات کاٹتے ہوئے کہا،لیکن اِس وقت یہ حالات نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہم لٹتے ہوؤں کا تماشا دیکھتے رہیں۔ پھر خودبھی زنخوں کے ہاتھوں مر جائیں۔ مَیں نے دس دن پہلے فرید کوٹ کے نواب صاحب سے دس ریفلیں اور گولیاں منگوا لی تھیں۔ اُنہیں ملا کے اب ہمارے پاس چودہ رائفلیں اور چار سو کار توس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ میری پکی رائفل بھی ہے،جس کی مرے پاس پچاس گولیاں باقی ہیں۔ چاچا رفیق،سب بندوں سے کہہ دو،جن کے پاس کچھ نہیں ہے،وہ کچھ نہ کچھ ضرور اپنی بغل میں دبالیں۔ ہماری عورتوں کے پاس بھی چھُری کانٹا موجود ہونا چاہیے۔

یہ بات کہہ کر غلام حیدر کچھ دیرکے لیے چپ ہو گیا،جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔ پھر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق،تم ایسا کرو،جانی اور الطاف کو لے کر بیس مزید بندوں کے ساتھ بمع اسلحہ جودھا پور چلے جاؤ او ر جودھا پور والوں کو اپنی نگرانی میں جلال آباد لے آؤ۔ اِس وقت وہ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ دو بندے شاہ پور بھیج کر اُن کو خبر کر دو کہ جتنی جلدی ہو سکے،اپنا سامان باندھ کر بنگلہ فاضلکا کی طرف روانہ ہو جائیں اور وہیں بیٹھ کر ہمارا انتظار کریں۔ جب تک ہم نہ آ جائیں،آگے نہیں بڑھنا۔ وہاں سے اکٹھے ہیڈ پار کریں گے۔ یہ کام جلدی کرو،دیر اب نقصان کی طرف لے جائے گی۔

یہ حکم دے کر غلام حیدر جلدی سے واپس اندرونی صحن کی طرف چلا گیا۔ اِدھر رفیق پاؤلی نے ہوا کی تیزی سے اُس کی بات پر عمل شروع کر دیا۔ امیر سبحانی اور شیدے کو شاہ پور کی طرف بھیج کر آپ دس بجے سے پہلے ہی جودھا پور روانہ ہو گیا۔ رفیق پاؤلی کا جودھا پور کی طرف روانہ ہونا تھاکہ بادلوں نے گرجتے ہوئے برسنا شروع کر دیا۔ بارش ایسی شدید تھی کہ خدا کی پناہ۔ سیر سیر بھر کے تریڑے گرنے لگے۔ مگر رفیق پاؤلی نے اپنا سفر جاری رکھا کیونکہ معاملہ اب واقعی ہاتھ سے جاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اُس کا خیال تھا،بارشوں کی وجہ سے دیر کی گئی تو خون کی بارشیں شروع ہو جائیں گی۔ حالات کے مطابق یہاں سے اب جتنی جلدی ہوسکے،نکلنا ضروری ہو گیا تھا تاکہ اکٹھے سفر کیا جائے اور بغیرجانی اور مالی نقصان کے ستلج پا کر لیا جائے۔

اِدھر تو غلام حیدر یہ فیصلے کر رہا تھا،اُدھر جھنڈو والا میں الگ اپنے فیصلے ہو رہے تھے کہ جودھا پور وا لوں سے کیا سلوک کیا جائے؟سردار سودھا سنگھ کا بیٹا موہن سنگھ ابھی چھوٹا تھا۔ اِس لیے فیصلہ کرنے کا حق سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ کو دے دیا گیا۔ اُس نے کافی دنوں کی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ پورے جودھا پور میں کسی مرد کو زندہ نہ چھوڑا جا ئے۔ عورتوں کو آپس میں بانٹ لیا جائے اور بچوں کو نوکر بنا کر اُن سے بیگار لی جایا کرے،کہ اِن مُسلوں کی یہی سزا ہے۔ دوسری طرف جودھا پور میں یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ موت نے اُن پر نازل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اُنہوں نے بھی فی بندے کے حساب سے جو چیز لوہے کی ہاتھ آئی،اُسے سنبھال لیا۔ تمام عورتوں اور بچوں کو غلام حیدر کے جودھا پور والے مکان میں جمع کر دیا۔ اپنا اپنا سامان گٹھڑیوں میں باندھ کر ضروری چیزیں لے لیں اور باقی اندر رکھ کر مکانوں کو تالے لگا دیے کہ جب ٹھنڈ ٹھنڈار ہو گا تو اپنے گھروں میں دوبارہ آ بسیں گے۔ عورتوں نے یہ سوچ کر گھروں کے جندروں کی چابیاں اپنے گھگھروں کے ازاربندوں سے باندھ لیں۔ بھلا ایسے بھی کبھی ہوا،کسی کو کوئی زبر دستی اپنے گھروں سے نکال دے۔ آخر یہ دنگا فساد ایک دن تو ختم ہونا ہی تھا،جو نہ جانے کس شطونگڑے نے شروع کیا تھا اور بیٹھے بٹھا ئے گھروں سے بے گھر کر دیا۔ رحمت علی نے سب لوگوں کو حوصلہ دیا اور کہا،ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اب ہم مل کر ہی مریں گے اور مل کر جیئں گے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے سکھڑے زبردستی گاؤں کو آ گ لگا ئیں؟ وہ اچھی طرح جانتے ہیں،یہ گاؤں اُسی غلام حیدر کا ہے جس کی بندوق سے سکھڑے اِس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شیطان اعوذ بااللہ سے۔

جودھا پور میں کل مل ملا کے پچاسی مرد تھے،جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل جانے کے لیے پوری تیاری کر لی اور غلام حیدر کے مکان کو مورچہ بنا کر آنے والی آفت کا انتظار کرنے لگے۔ اِدھر ساون بھی اپنی جولانی پر تھا۔ سہ پہر چار بجے بادلوں کے کالے سایوں کے ساتھ موت کے زرد سائے بھی جودھا پورپر منڈلانے لگے۔ شمشیر سنگھ دو سوبندے لے کر،جو کرپانوں،چھویوں اور گنڈاسوں سے لیس تھے،جودھا پور کی طرف روانہ ہو گیا۔ اِس دفعہ اُس نے صرف کرپانوں پر بھروسا کرنے کی بجائے رائفلیں بھی ساتھ لے لیں،جن کی تعداد پانچ تھی۔ سردار سودھا سنگھ کے قتل کے بعد وہ صرف ڈانگ سوٹے پر بھروسا نہیں کر سکتے تھے۔ شمشیر سنگھ جانتا تھا،حالات جتنے بھی سکھوں کے حق میں ہوں،مُسلے بہر حال ایسے بچھو تھے جو کسی نئے طریقے سے بھی ڈنک مار سکتے تھے۔ ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ غلام حیدر نے اُن کے لیے کوئی انتظام نہ کیا ہو۔ شام چار بجے شمشیر سنگھ کے جتھے نے جودھا پور پہنچ کر پورے گاؤں کا محا صرہ کر لیا۔ اِدھر رحمت علی نے پہلے ہی اُن کے انتظام کے لیے سب کچھ سمیٹ کر غلام حیدر کے مکان پر جمع کر لیا تھا اور لڑنے کے لیے ہر طرح سے تیار وہا ں بیٹھے تھے۔ عورتیں اِس کے لیے ہرگز تیار نہیں تھیں۔ وہ کسی بھی طرح سے نہیں چاہتی تھیں،فساد ہو۔ اُن کے سننے میں ایسی بُری بُری خبریں پہنچتی تھیں،جن کو برتنے کا اُن میں یارا نہیں تھا۔ اُن عورتوں میں سے کچھ مسلسل نماز میں تھیں،۔ کچھ دعا اور درود کے ورد میں مصروف ایک انہونے خوف میں مبتلا تھیں۔ اُنہیں مرنے سے زیادہ اِس بات سے دہشت ہو رہی تھی کہ خدا نخواستہ اُن پر حملہ ہو گیا اور مرد لڑتے لڑتے مارے گئے تووہ لمبی داڑھیوں اور بد بو دار بغلوں والے نا پاک سکھڑوں کے ہاتھ ا ٓجائیں گی۔ وہ جو اُن سے سلوک کریں گے،اُس کا تصور ہی کپکپا دینے والا تھا۔ تمام بچے سہمے ہوئے اپنی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔ منہ اندھیرا ہورہا تھا۔ اِس عالم میں جوں جوں سکھوں کے حملے کی خبریں ملتیں،دہلا دینے والے ہول پڑتے اور شام کے سائے بھوتوں کی طرح جودھا پور میں چلتے پھرتے نظر آتے۔ اچانک بادل زور سے گرجنے لگے۔ ہوا کا زور بڑھا تو عورتوں نے چاروں قل اور آیہ کرسی کی تلاوتیں شروع کر دیں۔ پانچ بجے شام گھوڑوں کی ٹاپوں اور پیدل سکھوں کے قدموں کی دڑ دڑ شروع ہوئی تو عورتوں کے وظیفوں اور دعا ؤں کی گنگناہٹ اتنی تیز ہو گئی،جیسے شہد کی مکھیوں کے چھتے بکھررہے ہوں۔ رحمت علی کی ہدایات پر مردوں نے دو رائفلوں کے ساتھ پوری طرح حملے کا جواب دینے کے لیے اپنے نشانے سیدھے کر لیے۔ و ہ یہ تو جانتے تھے،اِتنے سکھوں کی یلغار کے سامنے مٹھی بھر لوگوں کا کیا بنے گا۔ مگرشایدیہی دن تھا،جب سب کے ایمان کا یقین ایک جیسا ہو گیا تھا،اور وہ مولا علی کو دل میں اور با آواز بلند بھی پکار رہے تھے۔

شمشیر سنگھ اور اُس کا جتھا جودھا پور میں داخل ہوا تووہ حیران رہ گئے۔ سارے گاؤں میں کوئی فرد بھی اُنہیں کسی گلی میں چلتا پھرتا نظر نہ آ یا۔ گویا کوئی دیو پھر گیا ہو۔ مکانوں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ بادلوں کے سیاہ پھریروں میں صرف درختوں کی شاخیں اور پتے تھے،جو لہرا لہرا کر اپنے ہونے کی گواہی دے رہے تھے۔ اِس ویرانی میں اُن کا ہلنا بھی گاؤں کی وحشت میں اضافہ کر رہا تھا۔ چند منٹوں کے لیے تو شمشیر سنگھ پریشان ہو گیا۔ لیکن جلد ہی اُسے پتا چل گیاکہ مُسلوں نے غلام حیدر کے بڑے احاطے میں پناہ لے رکھی ہے۔ گاؤں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اُنہیں ڈھونڈنے میں زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی۔ اُس نے سوچا،یہ اور بھی اچھا ہے،سارے ایک ہی جگہ پر قابو آ گئے ہیں۔ اُسی وقت اُس نے مکان پر حملے کا حکم دے دیا۔ اِس سے پہلے کہ شمشیر سنگھ کا جتھا حملہ آور ہوتا،رحمت علی نے فیصلہ کیا کہ سکھوں پر گولی چلا دی جائے۔ رحمت علی اور جودھا پور کے مر دمکان کی چھت پر ہونے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے اُن کی دسترس سے باہر تھے۔ بلکہ جب تک گولیاں ختم نہ ہو جاتیں سکھوں کا مکان میں داخل ہونا مشکل تھا۔ چنانچہ اِدھر شمشیر سنگھ کے لوگ حویلی کی طرف بڑھے،اُدھر ایک دم کوٹھے کے اُوپر تنی بندوقوں سے تین فائر نکل کرسیدھے سکھوں کے ہجوم میں گھس گئے۔ فائر کارتوسوں سے کیے گئے تھے،اِس لیے چھَرًے اِس طرح زور سے بکھرے،جیسے مینہ کے چھنٹے برس پڑے ہوں۔ بادل زور سے برس اور گرج رہے تھے۔ اِس قدر تیز بارش میں حملہ آوروں کا دھیان پہلے ہی بٹا ہوا تھا کہ ِان فائروں سے وہ اور زیادہ بوکھلا گئے۔ لیکن اب وہ بھاگنے کے لیے نہیں آئے تھے۔ اُن کے دو بندے گر گئے جس کی وجہ سے غصہ دو چند ہو گیا اور وہ اندھا دُھن مکان کے دروازے کی طرف دوڑ پڑے۔ کچھ نے چھت کی طرف گولیاں برسانی شروع کردیں۔ بہت سے سکھوں نے مل کر حویلی کے بڑے دروازے کو دھکا دیا تو وہ منٹوں میں زمین بوس ہو گیا۔ اُس کے ساتھ ہی تمام سکھڑے مکان کے صحن میں بھر گئے،جن پر کوٹھے کی چھت سے ایک اور فائر وں کی بوچھاڑ پڑی۔ اِس بوچھاڑ سے کئی سکھ مزید زخمی ہو کر گر پڑے۔ لیکن وہ مسلسل واہگرو اور ست سری اکال کے نعرے لگاتے ہوئے اور تلواریں،برچھیاں لہراتے ہوئے آ گے ہی چلے آ رہے تھے اور کوٹھے پر بھی فائر کرتے جاتے۔ اِس فائرنگ سے حمیداکمبو،دلاور عرف دُلا اور شرفو اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن سوائے اِس کے،کوئی رستہ نہیں تھا کہ لڑ مریں۔ چنانچہ وہ بھی چھت پر بیٹھے فائر پر فائر کرنے لگے۔ اِس مسلسل فائرنگ اور بارش کی وجہ سے شمشیر سنگھ کا جتھا کچھ دیر کے لیے کمروں کے دروازوں کی طرف بڑھنے سے رُک گیا،جہاں عورتیں چھُریاں اور دات تھامے اور خالی ہاتھ،بچے ماؤں کے پہلووں سے چمٹے سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ باہر کے شور شرابے اور مار دھاڑ میں ڈر اتنا غالب آ گیا کہ کچھ عورتیں دعاؤں کو چھوڑ کر رونا شروع ہو گئیں۔ اِسی باہر کے پٹاخوں اور نعروں کی اُونچی آوازوں سے گھبرا کر بچے مسلسل رو رہے تھے۔ رحمت علی نے محسوس کیا کہ سکھ کچھ ہی دیر میں کمروں کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہو جائیں گے اور سب کچھ برباد ہو جائے گا،تو اُس نے،جن لوگوں کے پاس رائفلیں تھیں،اُنہیں کہا کہ وہ چھت پر ہی رہیں اور سکھوں پر اُس وقت تک فائر کرتے جائیں جب تک کارتوس موجود ہیں یا جب تک ہم زندہ ہیں۔ باقی سب نیچے چھلانگیں مار کر دالان میں جمع سکھوں پر حملہ کر دو۔ ویسے بھی کئی سکھ صحن میں کھڑے ہوئے نیم کے بڑے درخت پر چڑھ چکے تھے۔ جس کی شاخیں مکانوں کی چھتوں سے بھی بلند تھیں۔ یہ سکھ یہاں سے چڑھ کر کوٹھوں پر بیٹھے لوگوں پر فائرنگ کرنے لگے۔ جس کی وجہ سے بندوں کا نقصان بڑھ گیا۔ اِن حالات کے پیش نظر آمنے سامنے سے بھی فائرنگ شروع ہو گئی۔ رحمت علی کی بات سُن کر سب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ،نیچے چھلانگیں مار دیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے دوبدو لڑائی شروع ہو گئی۔ چھویاں،ڈانگیں،کرپانیں اور بر چھیاں اِس طرح برسنے لگیں جیسے ساون کی بارش برس رہی تھی اور پانی کے ساتھ خون کے پرنالے بھی بہنا شروع ہو گئے۔ سکھ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اِس لیے نقصان مسلمانوں کا زیادہ ہو رہا تھا۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ سکھ مکمل طور پر محفوظ تھے۔ اگر دو بندے مسلمانوں کے گرتے تو ایک سکھوں کا بھی گر جاتا۔ کچھ ہی دیر میں لڑائی نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ کسی کو کسی کا ہوش نہ تھا۔ بس غلام حیدر کے مکان کا تین کنال کھلا صحن تھا،بارش کا شور تھا،خون اور پانی کے تریڑے تھے۔ یا پھریا علی مدد اور واہگرو کے نعروں کی گونج تھی۔ جن میں بچوں اور عورتوں کے رونے کی آواز دب کر رہ گئی تھی۔ جودھا پور والے اِس بے جگری سے لڑ رہے تھے کہ شمشیر سنگھ حیران رہ گیا۔ مکان چاروں طرف سے گھرا ہوا تھا۔ مرنے والے اور لڑنے والوں کے پاس اب نہ تو قائد اعظم تھا،نہ نواب افتخار اور نہ ہی گاندھی اور نہرو موجود تھے۔ وہ سب لیڈراپنے گھروں میں محفوظ،اِس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ہندوستان کے صوبے پنجاب کے ضلع فیروزپور کی تحصیل جلال آباد کے تھانے مکھسر کے ایک گاؤں جودھا پور میں اِس وقت خون اور پانی کی جنگ ہو رہی ہے۔ اُنہیں نہیں پتا تھا کہ ُاس کے نتیجے میں،جو مارے جارہے ہیں،اُن کا مقدمہ کس عدالت میں چلایا جاسکتا ہے؟یا اگر وہ جانور ہیں اور اُن کا خون بہا نہیں تو یہ اُنہیں پہلے کیوں نہ بتایا گیا۔ جہاں تک یا د پڑتا ہے،اُن کے کانوں نے تو کسی آزادی وغیرہ کا نام سنا تھا۔ اُن بڑے لیڈروں نے تو جودھا پور،شاہ پور اور جھنڈو والا کے نام بھی نہیں سُنے تھے،جو ہوائی جہازوں کے ذریعے سرحدیں پار کر رہے تھے،بمع سازو سامان اور اہل و عیال۔ ان بڑے بڑوں کو تو چھوڑیے،خود اِن جودھاپور اور جھنڈووالا کے لڑ کر مرنے والوں کو بھی نہیں پتا تھا،وہ کیوں لڑ اور مر رہے ہیں؟کیونکہ اِس لڑائی میں نہ گاندھی شامل تھا اور نہ محمد علی جناح،لیکن لڑائی جاری تھی اور لاشیں گر رہی تھیں،بارش ہو رہی تھی۔

اِسی دوران رفیق پاؤلی گاؤں میں اپنے بندوں کے ساتھ داخل ہو گیا اور جودھا پور پر اِتنے سارے حملہ آور سکھوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ جلد ہی ساری صوت حال کو سمجھ گیا تھا اور جی میں اِس بات پر خدا کا شکر کیا کہ غلام حیدر کے سامنے سرخ رو ہونے کے لیے عین موقعے پر پہنچ گیا تھا۔ رفیق پاؤلی نے فوراً اپنے آپ کو سنبھا لا اور اپنے بندوں کو سکھوں پر فائر کھولنے کا کہہ دیا۔ جس کے بعد ایک دم یا علی کے نعروں کے ساتھ سکھوں پر پانچ مزید رائفلوں سے گولیاں برسنا شروع ہو گئیں۔ شمشیرسنگھ اور اُس کے ساتھی اِس اچانک حملے سے گھبرا گئے۔ مگر جلد ہی اُس نے اپنے بندوں کو قابومیں کر کے رفیق پاؤلی پر بھی حملے کے لیے آگے کر دیا۔ رفیق پاؤلی کے آنے سے جودھا پوریوں کے حوصلے کئی گنا بڑھ گئے۔ اُس کی وجہ سے مکان کے اندر اور باہر،دونوں جگہ گھمسان کا رن پڑ گیا۔ رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے کھلی جگہ پر تھے۔ اِس لیے اندر کی لڑائی سے باہر کی لڑائی زیادہ تیز ہو گئی۔ اُدھر اندر والے بھی کئی لوگ بھاگ کر باہر آنے لگے۔ اُنہیں محسوس ہوا،غلام حیدر اپنے بندوں کے ساتھ مدد کو آگیا ہے۔ اِس افراتفری میں یہ ہوا کہ چند ہی لمحوں میں حویلی کا صحن سکھوں سے خالی ہو گیا اور باہر لڑائی کا زور پیدا ہو گیا۔ اب چھت پر بیٹھے ہوئے بندوق والوں کو کُھل کر فائر کرنے کا موقع مل گیا۔ لیکن کارتوس کم ہو گئے تھے۔ مگر اُس کا اندازہ خدا کا شکر ہے،شمشیر سنگھ کو نہیں تھا۔ باہر چونکہ لڑائی کا زور بہت بڑھ گیا تھا اور سب کا رخ رفیق پاؤلی اور اُ س کے بندوں کی طرف تھا،اِس لیے شمشیر سنگھ کی گولیوں اور کرپانوں کا تماشا بھی اُدھر ہی ہونے لگا۔ اُدھر جودھا پور والے،جو حویلی کے اندر لڑ رہے تھے،وہ بھی باہر نکل آئے۔ عورتیں اور بچے پھر کچھ دیر کے لیے محفوظ ہو گئے۔ لڑائی کا یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ جس میں ابھی تک کسی کو نہیں معلوم تھا کہ کتنے مسلمان مر گئے ہیں اور کتنے سکھ؟البتہ اِتنا ہو ا کہ رفیق پاؤلی کے آنے کی وجہ سے جودھا پور والوں کے حوصلے اور قوت میں اضافہ ہو گیا۔ اِس لیے وہ پہلے سے زیادہ بہادری سے لڑ نے لگے۔ اُن کے اِس طرح لڑنے سے سکھوں کے حوصلے اُٹھ سے گئے۔ وہ جس عظیم فتح کا گمان لے کے جھنڈو والا سے آئے تھے،اُس پر کچھ اوس پڑ تی نظر آ رہی تھی۔ نقصان ہر چند مسلمانوں کا ہی زیادہ تھا لیکن شمشیر سنگھ اور اُس کے متروں کو حملہ کرنے سے پہلے یہ توقع نہیں تھی کہ معاملہ اتنی مزاحمت اختیار کر جائے گا۔ اِدھر نہ جانے کہاں سے کاہنا سیؤ نے تاک کر ایک گولی ماری کہ سیدھی آکر رفیق پاؤلی کے دل پر لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اِس گولی کا لگنا تھا،مسلمانوں نے نعرہ بازی بلند کر دی۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ مر تو جانا ہے،کیوں نہ زیادہ سے زیادہ سکھوں کو لے کر مریں۔ یہ سوچ کر مسلمان اِس طرح سکھوں پر ٹوٹ پڑے جیسے سروں پر بارش کے تریڑے گر رہے تھے۔ اِس گھمسان کی وجہ سے لاشوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی اور بیسیوں بندے ادھر اُدھر بکھر گئے۔ گویا پانی پت کی لڑائی جاری ہو۔ بارش کے پانی کا زور،کیچڑ اور اُس میں زخمی ہو کرگرنے والوں کا خون،زخمیوں کی چیخیں اور ڈانگوں کے کھڑاک نے وہ ہنگامہ برپا کیا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ شمشیر سنگھ کو یہ دیکھ کر اپنی فتح کے آثار قریب نظر آنے لگے۔ وہ مزید زور زور سے ست سری اکال کے نعرے دہرانے لگا۔ اِس کی وجہ سے اپنے آپ سے بے خبر ہو گیا اور آگے پیچھے کی ہوش نہ رہی۔ اُسی وقت چھت پر سے ایک گولی شمشیر سنگھ کے ماتھے پر آکر لگی اور وہ گھوڑے سے سیدھا زمین آ پڑا۔ یہ دیکھ سکھوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ اُنہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ مسلمانوں نے اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی یلغار بڑھا دی اور بھاگتے ہووں کو مارنے لگے۔ یہی وہ وقت تھا،جب سکھوں نے جیتی ہوئی لڑائی کو شکست سمجھ لیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں اُن سے خالی ہو گیا۔ البتہ جاتے ہوئے اُنہوں نے شمشیر سنگھ کی لاش ضرور اُٹھا لی۔ باقی جو سکھ مر گئے تھے،اُن کو وہیں چھوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے جودھا پور والوں میں مزید خوشی دوڑ گئی اور وہ اُن کا تعاقب کرتے ہوئے ایک دو ایکڑ تک پیچھے بھاگے،پھر لوٹ آئے۔ لڑائی قریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی تھی۔ اِس لیے شام کے سائے برستے ہوئے بادلوں کے ساتھ مل کر گہرا اندھیرا کرنے لگے۔ لاشوں کا حساب شروع کیا تو جودھا پور کے چالیس بندے مر چکے تھے اور سولہ سکھ بھی وہیں ڈھیر ہوئے پڑے تھے۔ زخمیوں کی تعداد الگ تھی۔ اِس کے علاوہ رفیق پاؤلی اور اُس کے ساتھ آئے بیس میں سے پانچ بندے مزید مارے جا چکے تھے۔

بارش ابھی ہلکی ہلکی جاری تھی۔ کچی زمین ہونے کی وجہ سے کیچڑ،پانی اور کھوبے نے چلنے پھرنے میں مشکل پیدا کر دی۔ رفیق پاولی مارا جا چکا تھا،اِس لیے حالات کی ڈور جانی چھینبے اور رحمت علی نے سنبھا ل لی۔ شام کی اذان کا وقت ہو گیا تھا۔ جانی نے سب زندہ لوگوں،بچوں اور عورتوں کو اکٹھا کیا اور اُنہیں کہا،جو کچھ اُٹھا سکتے ہو،اُٹھا لواور جلدی یہاں سے نکلنے کی کرو۔ رحمت علی نے کچھ بندوں کو لے کر ایک گڑھا کھدوانا شروع کر دیا تاکہ لاشوں کو جلدی سے دفن کر دیا جائے۔ اب یہ طے تھا کہ اتنی جلدی یا کم از کم رات کے وقت سکھ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ مگر یہ ضرور تھا کہ اگلے دن وہ دوبارہ نئی طاقت سے چڑھ آئیں گے۔ اِس لیے رات ہی جودھا پور چھوڑ دینا ضروری تھا۔ عورتیں اپنے مرنے والوں پر رونے اور بین کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری میں مصروف ہو گئیں۔ وہ کبھی اپنے کپڑے سنبھالتیں اور کبھی بھائیوں،باپوں اور خاوندوں کے اُوپر گر گر کے دو ہتھڑ پیٹتیں اور بین کرتیں،جنہیں چند لمحوں بعد وہ خود چھوڑ جانے والی تھیں۔ اُنہیں رہ رہ کر اِن لاشوں کی تنہائی اور بے کسی کچوکے لگا رہی تھی۔ جن پر اب نہ وہ اگر بتی سلگا سکتی تھیں اور نہ اُن کی قبروں پر بیٹھ کے ماتم کر سکتی تھیں۔ اِسی عالم میں جو کپڑا لتا،اُن کے ہاتھ میں آیا،اُس کی گٹھڑی باندھ لی۔ گڑھا تیار ہو گیا توجودھا پور کے مولوی نے،جو خوش قسمتی سے بچ گیا تھا،جلدی سے اور مختصر ترین جنازہ پڑھا اور لاشوں کو دفنانے کا کہہ دیا۔ سکھوں کی لاشیں،جن سے اب وحشت ہو رہی تھی،اُنہیں ویسے ہی پڑا رہنے دیا۔ اِس دوران بارش بالکل رُک چکی تھی۔ گویا بارش ایک ایسا رجز تھی،جو اُس وقت تک جاری رہا،جب تک لاشیں گرتی رہیں۔

رات دس بجے کے قریب یہ بد نصیب قافلہ،جس کے آدھے مرد پل بھر میں لاشوں میں تبدیل ہو کر گڑھے میں جا چکے تھے،جلال آباد کی طرف چھکڑوں پر اور پیدل روانہ ہو گیا۔ عورتیں اور بچے خوش قسمتی سے بچ گئے تھے۔ قافلے کے ساتھ رفیق پاؤلی،حمیدا کمبوہ سمیت پانچ لاشیں،آٹھ زخمی،بین کرتی ہوئی عورتیں اور روتے ہوئے بچے تھے،جورات کے اندھیرے میں اپنے گھروں کو چھوڑتے ہوئے،اُن پر حسرت بھری نظر بھی نہ مار سکے اور اپنے گھروں کی دہلیزوں کو ڈر کے مارے پلٹ کر دیکھ بھی نہ سکے۔ بوڑھی عورتیں،بچے اور زخمی زیادہ تر چھکڑوں پر لادے گئے،جب کہ جوان عورتیں اور مرد پیدل چل دیے۔ بارش اِتنی شدید ہوئی تھی کہ ہر طرف جل تھل عام ہو گیا۔ سڑکیں پانی اور کیچڑ میں بدل جانے سے چھکڑوں اور گڈوں کا چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ چنانچہ اُن کو جتنا زیادہ ہلکا رکھا جا سکتا تھا،چھکڑوں میں جُتے ہوئے بیلوں کے لیے اتنا ہی بہتر تھا۔ یہ قافلہ رات بھر کراہتا ہوا چلتا رہا،جس کے پیچھے پیچھے ڈر بھی دوڑا چلا آرہا تھا،اس لیے وہ پل بھر کو کہیں آرام کرنے کے لیے ٹھہر بھی نہ سکااوردن نکلنے تک جلال آباد پہنچ گیا۔

قافلہ جس وقت جلال آباد پہنچا،صبح کے چھ بج رہے تھے۔ غلام حیدر فکر مندی سے اُن کے انتظار میں اِدھر اُدھر حویلی میں ٹہل رہا تھا۔ جیسے ہی اُس نے اِس لُٹے پُٹے قافلے کو دیکھا اور رفیق پاؤلی کی لاش پر نظر پڑی تو دل ایک جھٹکے کے ساتھ دہل گیا اور دم سینے میں اٹک سا گیا۔ غلام حیدر نے تمام لوگوں کی دلجوئی کی خاطر قافلے کو جلدی سے حویلی کے احاطے میں اُتارا اور عورتوں اور بچوں کو اندرونی صحن میں بھیج دیا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں اور بیوی موجود نہیں تھیں۔ اُنہیں غلام حیدر نے دس پندرہ دن پہلے ہی پاکپتن بھیج دیا تھا،جس کے بارے میں یقین تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہو جائے گا۔ اِس لیے اُنہیں دلاسا دینے کے لیے حویلی میں کوئی نہیں تھا۔ یہ عورتیں،جو اپنے تازہ مُردوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جودھا پور کے گڑھے میں چھوڑ آئی تھیں۔ یہ عورتیں،جنہیں لاشوں پر آرام سے بیٹھ کر رونا نصیب نہیں ہوا تھا اور نہ اُن کی قبروں اور چارپائیوں کے پایوں کو پکڑ کر بین کر سکیں تھیں۔ یہ سب غلام حیدر کی حویلی کے اندرونی صحن میں اِس طرح داخل ہو رہی تھیں،جیسے صحرائے سینا سے نکل آئی ہوں اور اب آرام سے بیٹھ کر اپنے نقصان کا تخمینہ لگا سکیں۔ رفیق پاؤلی،حمیدہ کمبوہ،دلاور،الہ داد اور شریف جلاہے کی لاشیں حویلی کے دالان میں پڑی غلام حیدر کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر رہی تھیں۔ جبکہ وہاں کھڑے ہو ئے تمام لوگ اُن کو ایسے دیکھ رہے تھے،جیسے خراج تحسین پیش کر رہے ہوں۔ باقی اِدھر اُدھر بیٹھ کر اُن کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،اب وہ اِن کا نہ تو بدلا لے سکے گا اور نہ مداوا کر سکے گا،۔ سوائے اِس کے کہ وہ اِن بچے کھچے اور اُجڑے پُجڑے لوگوں کو لے کر جتنی جلدی ہو سکے،ستلج پار کر جائے۔

ایک طرف تو غلام حیدر کے یہ مزارع اور رعایا تھی،جو اُس پر اپنا حق سمجھتے ہوئے یہاں آگئے تھے یا لائے گئے تھے۔ اِن کے علاوہ ارد گرد کے ہزاروں لوگ بھی حویلی کے آس پاس جمع ہو رہے تھے،جنہیں یا تو سکھوں کا ڈر تھا،یااُن کے پاس سفر کرنے کے لیے ضرورت کا تنکا تک نہ تھا۔ غلام حیدر کے پاس اِن لوگوں کا جمع ہو جا نا اُنہیں گویا اپنی حفاظت کا یقین دلاتا تھا۔ لوگ اتنے جمع ہو گئے تھے جن کا حویلی کے صحن میں پورا آنا مشکل ہو گیا۔ اِس لیے اُنہوں نے حویلی کے باہر ہی اپنے آسن جما لیے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،ایک دو دن تک تو یہاں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن زیادہ دیر تک وہ اِن لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔ اُس کا ڈر سکھوں پر ایک حد تک رہ سکتا تھا۔ اُس کے بعد معاملہ بگڑ جاتا۔ کیونکہ اطلاعیں ملنے لگی تھیں کہ دریا پار سے سکھوں کے کئی قافلے لُٹ پُٹ کر جلال آباد آرہے ہیں،جو شمالی اور جنوبی پنجاب کے مسلمانوں کے جہاد کی نظر ہو گئے ہیں۔ اب اُن کی آبادی لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی،جنہیں دیکھ کر جلال آباد اور مضافات کے عام اور شریف سکھوں کے بھڑک اُٹھنے کا بھی اندیشہ تھا۔ وہ کسی وقت بھی غلام حیدر کے ڈر کو نظر انداز کر سکتے تھے۔ جب غلام حیدر کو جانی چھینبا جودھا پور میں ہونیوالی لڑائی کا تمام ماجرا سنا چکا تو اُس نے ایک ٹھنڈی آ ہ کھینچی۔ جس کا مطلب غالباًیہ تھا کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ اِسی لیے اُٹھتے ہوئے بات فوراًکسی اور طرف پھیر دی اور بولا،جان محمد ایسا کرو،جلدی سے چاچے رفیق اور دوسرے شہیدوں کی لاشوں کا بندوبست کر کے انہیں دفناؤ،بادل پھر چڑھ آئے ہیں اور نہ جانے کب برسنا شروع ہو جائیں۔ اِس کے علاوہ ہمارے گودام میں جتنا غلہ ہے،اُس کے دروازے اِن اجنبی دیس میں جانے والے مسافروں پر کھول دو۔ بچارے جتنے دن یہاں ہیں،پیٹ بھر کر کھا لیں،پھر خدا جانے اِنہیں کبھی کھانا نصیب ہو،یا نہ ہو۔ اور جہاں یہ جا رہے ہیں،وہاں کوئی اِن کا پُر سان حال ہو گا بھی کہ نہیں۔ بادل پھر گرجنے لگے تھے اور اُن کی سیاہی کل سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جودھا پور کی لڑائی کو چار دن گزر چکے تھے۔ عورتوں کے بین رک تو گئے تھے لیکن اُنہیں رہ رہ کر اپنے مُردوں کی یاد آتی تو وہ پھر رونا شروع کر دیتیں۔ پھر یہ درد جلد ہی تھم جاتااور چُپ کر جاتیں۔ یہ قافلہ اِرد گرد کے بیس پچیس گاؤں کا تھا،جس کی تعداد کم از کم چھ ہزار ہو چکی تھی اور اِس کا نقیب غلام حیدر تھا۔ غلام حیدر کی جیپ (جو نواب افتخار نے اُسے الیکشن جیتنے کے بعد تحفے کے طور پر دی تھی)،کے ارد گرد تیس پینتیس گھڑ سوار بندوقوں اور برچھیوں سے لیس چل رہے تھے۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ بارش تھمنے کو نہیں آتی تھی۔ کچی سڑکیں کیچڑ سے اِس قدر بھر گئیں کہ دو قدم چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ بعض جگہ تو دُور تک گھُٹنوں گھٹنوں پانی کے تا لاب لگ گئے اور پیدل والوں کے لیے،جو قافلے کا ستر فی صد تھے،مصیبت ہو گیا۔ اُن کا حساب،کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا،والا تھا۔ لیکن غلام حیدر کسی کو بھی پیچھے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اِدھر سکھ بارش کی طرح،نہ جانے آسمان سے برس رہے تھے کہ زمین سے اُگ رہے تھے۔ اُن سکھوں میں سے بیشتر کی حالت بھی انتہائی ابتر تھی۔ اُن کے لُٹے پُٹے اور بے دست و پا چھوٹے چھوٹے گروہ جب غلام حیدر کے قافلے کے قریب سے گزرتے تو دونوں اطراف کی آنکھیں ایک دوسرے کی کسمپرسی پر شرمندگی سے جھک جاتی اور وہ بغیر ست سری اکال،یا واہگرو کا نعرہ مارے گزر جاتے۔ غلام حیدر جانتا تھا،یہ وہی لوگ ہیں،جن کی حالت جودھا پور والوں سے کم نہیں تھی۔ اب بارش اور تیز ہوا نے اتنا زور پکڑ لیا تھا کہ اگست کا مہینہ پوہ ماگھ سے آگے نکل گیا۔ اُ س پر ستم یہ کہ نہر بنگلہ کے کنارے فسادیوں نے توڑ کرپانی سڑکوں اور کھیتوں پر بہا دیا۔ جس کی وجہ سے اِنہیں مجبوراً نہر کی پٹڑی پر چلنا پڑا۔ چلتے چلتے ایک جگہ سے قافلہ گزرا تو دیکھ کر حیران رہ گئے،نہر بنگلہ،جسے ولیم کے نہری عملے نے بنایا تھا،کی پٹڑی پر چار کلو میٹر تک لاش کے ساتھ لاش جوڑ کر اِس طرح رکھی ہوئی تھیں کہ ایک مرد کی لاش،اُس کے بعد عورت کی لاش پھر مرد کی لاش تھی۔ کسی کا گَلا کٹا تھا،کسی کے جسم کا کوئی اور عضو کٹا تھا،خون اور مٹی میں لتھڑی ہوئی اِن کئی ہزار لاشوں کا سلسلہ دور تک اِسی طرح پھیلا ہوا تھا۔ خُدا جانے،آنے والے دنوں میں اِن کا بندوبست کون کرنے والا تھا۔ اُن کو دیکھ کر قافلے کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ سوچنے لگے،اگر غلام حیدر ساتھ نہ ہوتا،تو اُن کی بھی یہی حالت ہوتی۔ یہ سب لاشیں مسلمانوں کی تھیں،جن کے اُوپر پاؤں رکھ کراور اُن کو روند کر اِس قافلے نے چار کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ کیونکہ کھیتوں میں اور سڑکوں پر پانی اور کیچڑ نے چلنے کی سکت بالکل ختم کر دی تھی۔ لاشیں ایک دن پہلے کی تازہ ہی تھیں۔ بارش اُن گمنام شہیدوں پر برس برس کراپنی رحمتیں نچھاور کر رہی تھی۔ اِن مشکلوں کے باوجود قافلہ روز کے دس کلو میٹر طے کر رہا تھا۔ رستے میں کئی کئی شرنارتھیوں اور مقامی سکھوں کے لوٹ مار والے جتھوں سے ٹاکرا بھی ہو رہا تھا۔ لیکن غلام حیدر کے حفاظتی دستوں کو دیکھ کر اِدھر اُدھر ہو جاتا۔ البتہ دہلی،ہریانہ اور مشرقی پنجاب کے بالائی علاقوں سے آنے والے مہاجرین کو لوٹنے سے اُنہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ لوگ اِن کے ہاتھوں سے اِس طرح لٹ لٹ کر خالی ہو رہے تھے جیسے ببول کی شاخیں اُونٹ کے منہ میں آکر پتوں سے صاف ہو جاتی ہیں اور مسلمان اِس طرح کٹ رہے تھے،جیسے دھان کی فصلیں جالندھر کی درانتیوں سے کٹتی ہیں۔ بہر حال غلام حیدر کا قافلہ گپھایااور لکھے کی سے ہوتا ہواپانچ دن میں فاضلکا بنگلہ پہنچ گیا۔ قافلہ ہیڈ سلیمانکی کی بجائے لکھے کی سے ہی دریا پار کر کے وسطی پنجاب میں داخل ہو سکتا تھا۔ لیکن ُمون سُون کی بارشوں کی وجہ سے،جو پچھلے کئی دن سے ایک پل سکون نہیں لینے دے رہی تھی،دریا کا پاٹ بڑھ کر ایک کلو میٹر ہو گیا تھا اور گہرائی بھی معمول سے کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ بہت سے لوگوں نے،چاہے وہ سکھوں میں سے تھے یا مسلمانوں میں،براہ راست دریا کو پار کرنے کی کوشش بھی کی،لیکن اُن کی لاشیں ہی کناروں پر آئیں اور کئیوں کی تو لاشیں بھی نہیں ملیں۔ ا سِ لیے اُدھر کا راستہ مکمل بند ہو چکا تھا اور سلیمان کی ہیڈ سے پار کرنا ناگزیر تھا۔ بنگلہ میں ایک رات گزارنے کے بعد،جہاں شاہ پور والے اُن کا انتظار کر رہے تھے،سب مل کر ہیڈ سلیمانکی کو روانہ ہو گئے اور شام کے وقت ہیڈ پر پہنچ گئے۔ سلیمانکی ہیڈ پہنچ کر غلام حیدر حیران رہ گیا۔ دُور تک لوگ ہی لوگ تھے۔ جدھر نظر جاتی سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ غلام حیدر اتنے سارے لوگوں کو ہیڈ کے مضافات میں بیٹھے دیکھ کر پریشان ہو گیا اور یہاں پر رکے رہنے کا سبب معلوم کرنے لگا۔ کافی دیر تک تحقیق کرنے سے اُس پر جلد ہی کھل گیا کہ معاملہ کیا ہے؟ کئی لوگ پندرہ دن سے بیٹھے تھے۔ اِن میں سے وہ بھی تھے،جن پر رات کے وقت لوٹ مار کرنے والے کئی کئی بار شب خون مار چکے تھے،قتل کر چکے تھے،اسباب لوٹ کر لے جا چکے تھے اور عورتوں تک کو اُٹھا کر لے گئے تھے۔ بلکہ ایسے بھی تھے،جو ڈیڑھ دو دوسو میل سے بالکل مع اسباب سلامت آگئے تھے،مگر یہاں پر اُن کو لوٹ لیا گیا تھا۔ اِس کا سبب گورکھا فوج تھی،جو ہیڈ پر دونوں طرف کے لوگوں کو عبور کرانے پر متعین تھی۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ انتہائی بے رحمی کا سلوک کرتے ہوئے،اُن کو پچھلے پندرہ بیس دنوں سے ہیڈ پر ہی روکے بیٹھی تھی۔ جبکہ ہندؤوں اور سکھوں کو برابر ہیڈ کراس کرا رہی تھی۔ اُس کی کچھ وجہ تویہ تھی کہ ہیڈ کا پُل نہائت تنگ اور کافی لمبا تھا اور اُس کے دونوں سروں پر لاکھوں لوگ گزرنے کے لیے بیٹھے تھے،جن کے پاس مال مویشی،گڈے،چھکڑے اور دوسرا بے بہا مال اسباب بھی تھا۔ جبکہ وقت بہت کم تھا لیکن زیادہ دخل بد نیتی کا تھا۔ گور کھا فورس پاکستان مخالف تھی۔ اِس لیے اُن کا مسلمانوں کے ساتھ متعصب ہو جانا فطری تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کو مسلسل روکے کھڑی تھی اور دوسری طرف سے اپنے ہم مذہبوں کو بارڈر عبور کرا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان کئی دنوں سے یہاں بیٹھے بیماری سے مر رہے تھے،بھوک سے مر رہے تھے،بارشوں سے مر رہے تھے،اور رہے سہے بدمعاشوں کی لوٹ مار،قتل و غارت اور شب خون سے مر رہے تھے۔ غلام حیدر نے پورے دو دن تک تمام چیزوں کا جائزہ لیا،چل پھر کر لوگوں کے حالات معلوم کیے،پھر دل ہی دل میں ایک فیصلہ کرنے لگا۔

بڑی سوچ بچار کے بعد اُس نے ڈیوٹی پر موجود میجر صاحب سے ملاقات کی کوششیں شروع کر دیں۔ مگر ہزار کوشش کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔ غلام حیدر جلال آباد کے علاقے میں کتنا ہی معروف سورما رہا ہو،اب اُس کی حیثیت یہاں پر ایک عام آدمی ہی کی تھی۔ بالکل اُن بے شمار لوگوں کی طرح،جن کی اوقات اِس وقت گورکھا فورس کے سامنے بارش میں بھیگے ہوئے،خارش زدہ کتے کی تھی۔ ایسا کتا،جس کو کراہت،اور بیماری کے ڈر سے گھر کی دہلیز کے باہر سے ہی دھتکار دیا جاتا ہے۔ غلام حیدر میجر سے ملنے کے لیے اور اپنے مسائل بتانے کے لیے آگے تک چلا گیا اور فورس کے بار بار منع کرنے پر ضد کرنے لگا تو دو تین سپاہیوں نے غلام حیدر کو گالیوں کے ساتھ دو چار دھولیں جما دیں،جنہیں ہزاروں لو گوں نے دیکھا۔ اُن لوگوں نے بھی،جنہیں امیر سبحانی کے ریکارڈ ابھی تک یاد تھے۔ اُن سب لوگوں نے اُن گالیوں کو سنا،جو غلام حیدر کے ماں باپ کو دی گئی تھیں اور اُن دھولوں کو دیکھا،جو غلام حیدر کو پڑی تھیں۔ خود امیر سبحانی نے دیکھا،جس نے یہ ریکارڈ بھرے تھے اور اب وہ ریکارڈ اِس طرح یاد تھے،جیسے اپنے ہاتھوں کی پانچ انگلیاں۔ اِس حبس پیدا کر دینے والی اور سانس روک دینے والی بے عزتی کی وجہ سے غلام حیدر کا جی چاہا،وہ اِسی وقت دریا میں چھلانگ لگا دے۔ مگر غلام حیدر نے دریا میں چھلانگ نہیں لگائی،ایک سخت فیصلہ کر لیا،۔ وہ تھا گورکھا فورس سے بھِڑ جانے کا۔
غلام حیدر نے واپس اپنے قافلے میں آکر سب دوستوں کو جمع کیا۔ جوش اور جذبات سے بھری ہوئی رُندھا دینے والی آواز میں بولنے لگا،بھائیو،مَیں تمھارا بھائی غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ماں ابھی اُس پر رونے والی موجود ہے۔ جس کا ایک بیٹا اور بیوی اُس پر بین کرنے والی ابھی بیٹھی ہے۔ یاد رکھنا،میں نے کبھی تمھارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ نہ میں نے پیٹھ دکھائی اور تمھیں حقیر جانا۔ میں نہ تو قائد اعظم ہوں،جو اِس وقت دہلی میں بیٹھا ہے اور نہ نواب افتخار،جو لاہور نواب ولاز میں ہے۔ میں غلام حیدر ہوں،جس نے ہجرت کی۔ بارشوں میں تمھارے ساتھ،بیماری میں تمھارے ساتھ اور فساد میں تمھارے ساتھ۔ جسے رفیق پاؤلی کا دُکھ ہے،حمیدا کمبوہ کا دکھ ہے،چراغ دین کا دُکھ ہے اور اُن جودھا پور کے چالیس شہیدوں کا دکھ ہے،جو گڑھوں میں دفن ہو گئے۔ مَیں غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ذِلت آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ یہ ذلت مجھ غلام حیدر کی ہوئی،جسے جھنڈو والا جانتا ہے،میگھا پور جانتا ہے،پورا فیروز پور جانتا ہے۔ یہ ذلت میری نہیں،تم سب کی ہے۔ میں نہیں چاہتا،لوگ مجھ پر ہنسیں اور مزے لے کر میری رسوائی کی کہانیاں اپنی اولادوں کو سنائیں۔ میں امیر سبحانی کی زبان کو جھوٹا نہیں کر سکتا اور ذلت سے جی نہیں سکتا۔ تم میں سے جو میرے ساتھ جانا چاہتا ہے،آ جائے۔ میں آج فیصلہ کرنے والا ہوں،اپنے اور اِن حرامزادوں کے درمیان،جنہوں نے بزدلوں کی طرح مجھے ذلیل کیا ہے۔ مَیں اُن کے ساتھ دو ہاتھ کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ جس نے میرا ساتھ دینا ہے،آ جائے۔ ورنہ میں اکیلا ہی اِس آگ سے گزرنے کے لیے تیار ہوں۔ زندہ رہا تو تمھارے ساتھ ہیڈ پار کروں گا،مارا گیا توراستہ ضرور کھول جاؤں گا۔ یہ کہہ کر غلام حیدر نے اپنی جیپ پر پاؤں رکھ دیا۔ اُسے دیکھتے ہی جانی چھینبا،شادھا تیلی،شوکا ماچھی اور چھ مزید جوان غلام حیدر کے ساتھ چل پڑے۔ اِن سب کے پاس رائفلیں تھیں۔

غلام حیدر کو دُھولیں مارنے کے بعد گورکھا فورس کے جوان مزید اَکڑ میں آ گئے تھے۔ ہیڈ پر زیادہ سے زیادہ پچاس سپاہی اور چھ آٹھ افسر موجود تھے لیکن اسلحہ کافی تعداد میں تھا۔ سکھ،ہندو،اور دوسری قومیں۔ اُن کے گدھے،گھوڑے اور دیگر مال مویشی ہیڈ کو عبور کر کے اِدھر آ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے ہجوم حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ غلام حیدر اور اُس کے بندے جیسے ہی آگے بڑھ کر فورس کے سپاہیوں کے قریب ہوئے،اُنہوں نے جھٹ خطرے کو بھانپتے ہوئے رائفلیں تان لیں اور فوراً پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ یہ وقت سہ پہر کا تھا اور بارش کچھ دیر کے لیے رُکی ہوئی تھی۔ لیکن ہوا اور دریا کے پانی کا شور بہت تھا۔ جوانوں نے جیسے ہی رائفلیں سیدھی کر کے رُکنے کو کہا،غلام حیدر نے عاقبت سے بے نیازہو کرفائر کھول دیا۔ اُس کے ساتھ اُس کے بندوں نے بھی۔ دوسری طرف سے بھی گولیاں برسنی شروع ہوگئیں اور پُل پر بھگدڑ مچ گئی۔ پہلے ہی ہلے میں کئی سپاہی فائر لگنے سے گر گئے۔ غلام حیدر نے شوکے تیلی کو بھی گرتے دیکھ لیا تھا۔ گولی اُس کے سینے پر آ کرلگی تھی۔ گولیاں اتنی شدت سے برسنے لگیں کہ کسی کو یہ خیال نہ رہا،کس کو لگتی ہے اور کس کو نہیں۔ گولیوں کے ڈر سے کئی لوگ دریا میں کود کرپانی کو پیارے ہو گئے۔ غلام حیدر کا ڈرائیور جیپ کو جھٹ پٹ میں ہیڈ پر لے گیا،جہاں میجر صاحب موجود تھے۔ وہ اپنے کیبن میں بیٹھے تھے۔ لیکن کیبن زیادہ مضبوط نہ تھا۔ محض گھاس پھونس کا ایک جھونپڑا ہی تھا۔ گولیاں اب نہایت نزدیک سے اور دوُ بدُو چل رہی تھیں۔ جن کے تڑاکوں میں اتنی شدت آ گئی کہ دُور دُور تک مجمعے چھٹ گئے اور پُل چند ہی لمحوں میں اِس طرح صاف ہو گیا،جیسے جھاڑو پھر گیا ہو۔ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کوئی فرد نظر نہ آتا تھا۔ دھکم پیل میں زیادہ تعداد تو دریا میں ہی جا پڑی تھی۔ جس کی گہرائی کم از کم اِس پُل پر سے سو فٹ تھی۔ غلام حیدر عین پُل کے اُوپر پہنچ چکا تھا اور مسلسل گولیاں چلا رہا تھا۔ میجر صاحب کے کیبن کو گولیوں کے دھماکوں سے آگ لگ کر،گھاس پھونس کو اِس طرح جلا رہی تھی،جیسے چتا سے الاؤ اُٹھ رہے ہوں۔ یہ حالت دیکھ کر میجر کیبن سے باہر کی طرف بھاگ اُٹھا۔ اِنہی اوقات میں غلام حیدر نے تاک کر اُس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی،جن میں سے دو گولیاں اُس کے سر میں جا لگیں اور وہ وہیں لڑھک گئے۔ گورکھا سپاہیوں نے اپنے افسر کو یوں ڈھیر ہوتے دیکھا،تو وہ بوکھلا گئے۔ اِسی بوکھلاہٹ میں اُنہوں نے اندھا دھند فائرنگ برسا دی۔ اس دو طرفہ شدید فائرنگ میں دونوں طرف کے لڑنے والے اور دوسرے لوگ بیروں کی طرح گرنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں غلام حیدر بھی گولیوں کی بارش میں اپنے ساتھیوں سمیت،وہیں ہیڈ کے پل پر خون میں لت پت ہو گیا اور بارش کی رم جھم میں کچی سڑک پر منہ کے بل گر پڑالیکن ابھی جانی چھینبا بچا ہوا تھا۔ وہ اُس سنگِ میل کے پیچھے بیٹھا تھا،جس پر لکھا تھا،دہلی چار سواٹھارہ کلو میٹر۔ وہ سنگ میل کی آڑ لے کر مسلسل کار توس چلا رہا تھا،جس کی وجہ سے بچی کھچی گورکھا فورس اِدھر اُدھر بھاگ گئی اور چوکی بالکل خالی ہو گئی،جو میجر صاحب کے مرنے کی وجہ سے پہلے ہی تتر بتر ہوچکی تھی۔ اِسی بھاگم دوڑ میں جانی چھینبے کو بھی گولی لگ گئی۔ گولی اُس کی پسلیوں میں نجانے کدھر سے کچھ لمحے پہلے آ کر لگی تھی،لیکن اُس نے زخمی حالت میں ہی سنگ میل کی آڑ سے باہر آکر مسلمان قافلوں کو پکارنا شروع کر دیا۔ لوگ،جو موت جیسی حالت میں زندگی اور اُس ہیڈ سے اُکتائے بیٹھے تھے،وہ غلام حیدر کے غم کو بھول کر دریا کی طرح ہیڈ کی طرف بڑھے اور لمبے لوہے کے پُل پر چڑھ گئے۔ یہ پُل،جو اب بالکل خالی پڑا تھا۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ جس نے پُل خالی کرایا ہے،وہ کون ہے؟ اور اُس کی لاش کو اُٹھانا ضروری ہے کہ نہیں۔ غلام حیدر کی رعایاکے لوگ اور عورتیں اپنی اپنی لاشوں کے گرد اکٹھا ہو کر رونے پیٹنے لگیں مگر پھر اُنہوں نے بھی جلد ہی لاشوں کو اُٹھا کر چھکڑوں پر رکھ لیا اور دریا پار کرنے والوں کے ساتھ مل گئے۔ جبکہ جیپ اُس جگہ پر تنہا کھڑی رہ گئی،جس کی ہر چیز سلامت ہونے کے با وجود اُسے کوئی دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اُس کا مالک کون ہے؟جانی چھینبے کے لگا ہوا زخم تو جان لیوا نہیں تھا لیکن اُس کا خون اِتنا بہہ گیا کہ وہ بھی چند لمحوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملا۔

اب ہجوم اتنا زیادہ اور بے قابو ہو چکا تھا،اگر کوئی فورس آ بھی جاتی تو وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اُن خانہ خرابوں اور بھوکوں کے سیلاب نے جب پُل کے دوسری طرف جا کر ہندؤوں اور سکھو ں کی تھوڑی سی جمیعت کو دیکھا تو اُن پر بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ پھر تو نہ کسی کی ہدایت اُنہیں بچا سکی اور نہ قرآن و رسول کے واعظ کسی کام آئے۔ اس معاملے میں سب سے پیش پیش وہ ملا لوگ تھے،جو دہلی،ہریانہ،روہتک،گڑگاؤں اور حصار سے دھکے کھاتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔ وہ اُس وقت تک بیٹھے اور لُٹتے رہے جب تک غلام حیدر نہ آ پہنچا اور اب جو اُنہیں موقع ملا تو مُلا نے جہاد کے فتوے شروع کر دیے اور روہتکی مجاہد بن گئے۔
الغرض مسلمان پُل پار کرتے رہے اور مجاہد بنتے رہے۔ جبکہ جلال آباد،شاہ پور اور جودھا پور والے سب کو یہیں چھوڑ کر اپنی لاشوں کے ساتھ منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گئے۔ امیر سبحانی،جو غلام حیدر کے ملازموں میں واحد آدمی بچا تھا،وہ غلام حیدر کی لاش اُس کے وارثوں کے حوالے کرنے کے لیے پاکپتن جانا چاہتا تھا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں،بیوی اور اُس کا بیٹا انتظار میں بیٹھے تھے لیکن لاش خراب ہونے کے ڈر سے اُس نے غلام حیدر اور دوسرے ساتھیوں کی لاشیں وہیں ہیڈ پار کر کے دفن کر دیں اور خود منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گیا تاکہ بذریعہ ریل پاکپتن چلا جائے۔ ہیڈ عبور کرنے کے بعد مہاجرین،جن میں اب نہ غلام حیدر تھا اور نہ رفیق پاؤلی تھا،اِدھر اُدھر پناہ کے لیے بکھرنے لگے۔ ان سب مہاجرین کو اب آپ ہی آپ ایک سکون سا آ گیاتھا۔ گویا وہ اپنی قسمت پر اعتماد کر کے مطمئن ہو گئے ہوں۔ یہ ہزاروں خاندان،جنہیں شاید اب نہ کسی چھت کی ضرورت تھی،نہ پہننے کو کپڑا چاہیے تھا،نہ یہ کسی سواری کے محتاج تھے۔ ان گاؤں گاؤں اور قصبہ قصبہ چلنے والے لاکھوں زندگی اور موت کے درمیان،انسانوں اور جانوروں کے درمیان کی مخلوق کو بس کھانے کو روٹی کی ضرورت تھی۔ جو اِن کی عزت کے بدلے میں،جان کے بدلے میں یا کسی بھی چیز کے بدلے میں مل جاتی تو یہ جی سکتے تھے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ان لاکھوں خاندانوں میں بارش،بھوک اور مسلسل سفر کے دوران ہیضے اور گردن توڑ بخار کی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ یہ بیماریاں اتنی شدت سے پھوٹیں کہ جو کسی طرح کرپانوں کے لوہے سے بچ کر آ گئے تھے،وہ اِس قدرتی بوجھ تلے دب کر مرنے لگے اور یہ کیفیت صرف مسلمانوں کی طرف ہی نہ تھی بلکہ،
دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔

امیر سبحانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اکیلے ہی چلتا جا رہاتھا۔ اُس کی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی اور نہ دور نزدیک کوئی رشتہ دار تھا،نہ پُر سان حال۔ اُس کو یہ جلدی تھی کہ کسی طرح پاکپتن پہنچ جائے اور غلام حیدر کی ماں سے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کا اسباب لے لے۔ وہ یہ اسباب غلام حیدر کی ماں کو غلام حیدر کی موت کی خبر دے کر نیاز،درود اور قل ساتے کے کھانے سے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ غلام حیدر کی شہادت کی خبر سن کر اُس کی ماں اور بیوی بچوں کو جو صدمہ پہنچنا تھا،اُس کا اندازہ بھی اُس کو تھا،لیکن اُسے یہ بات بھی پوری طرح عیاں تھی کہ غلام حیدرکے ایصال ثواب کی نیازیں شروع ہونگی تو کم از کم سوا مہینہ تک جاری رہیں گی۔ اُس کے بعد خدا اور اسباب پیدا کر دے گا۔ اس کے علاوہ علاوہ امیر سبحانی نہ کسی پٹواری کو جانتا تھا اور نہ اس کا ربط ضبط کسی تحصیل دار یا قانون گو کے ساتھ تھا،جو اُس کو مہاجر تسلیم کر کے اُس کے نام چار ایکڑ زمین ہی لگا دے۔ اُسے تو یہ بھی خبر نہیں تھی کہ جس غیر ملک میں وہ آیا ہے،اِس میں اِس طرح کے محکمے بھی موجود ہیں؟ سکھوں اور ہندووں کو مارنے اور اُن کے مال پر قبضہ کرنے کی اُس میں ہمت نہیں تھی،جو اس علاقے میں ویسے ہی مر رہے تھے اور لٹ رہے تھے،جیسے ستلج کی دوسری طرف وہ مسلمانوں کو مرتا اور لٹتا دیکھ آیا تھا۔ گر تا پڑتا اپنے ایک بچے کو ہیضے سے مرنے کی وجہ سے رستے میں دفن کر کے بالآخر دو دن بعد امیر سبحانی منڈی ہیرا سنگھ پہنچ گیا،جہاں سے گاڑی پر بیٹھ کر وہ پاکپتن جا سکتا تھا۔

اسٹیشن پر ہزار ہا بچے،مرد،خواتین،بوڑھے،جوان،ناتوان اور ہٹے کٹے خیموں میں،بغیر خیموں کے،ادھر اُدھر گویا بکھرے پڑے تھے۔ ان میں مقامی لوگ پھر پھر کر ہندووں اور سکھوں کو ڈھونڈتے پھرتے اور اُن کا مال اساب چھینتے پھرتے تھے۔ امیر سبحانی اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ بیٹھا پاکپتن جانے والی گاڑی کے انتظار میں تھا،جس کے ٹائم ٹیبل کا اب کسی کو نہیں پتا تھا،نہ ہی کسی کو اُس کے دیر سے آنے کی شکایت رہ گئی تھی۔ بادل ابھی بھی گہرے چھائے ہوئے تھے اور بارش رہ رہ کر برس رہی تھی۔ منڈی ہیرا سنگھ کا اسٹیشن بالکل ویسا ہی چھوٹا سا تھا،جیسے قصبوں کے اسٹیشن ہوا کرتے ہیں۔ ایک ٹکٹ لینے دینے والوں کا کمرہ تھا،جس میں دو تین افراد کا عملہ۔ اِس کے علاوہ اسٹیشن پر سرخ اینٹوں کا فرش،جو ریل کی پٹڑی سے اِتنا ہی اُونچا تھا،جتنی اُونچی ریل کی آخری سیڑھی تھی۔ دونوں جانب کے فرش کے درمیان ایک بڑا سا نالہ بن جاتا تھا،جس میں ایک تو ریل چلتی تھی اور دوسرا بارش کا پانی،جو اُن دنوں شدت سے برس رہا تھا۔ منڈی ہیرا سنگھ کا یہ قصبہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بس ڈھائی تین سو گھر تھے اور وہ بھی بکھرے ہوئے۔ یہاں درخت بھی زیادہ نہیں تھے۔ ہاں مگر جگہ جگہ بیریوں کے پیڑ نظر آ جاتے تھے۔ الغرض منڈی ہیرا سنگھ ایک پُر سکون جگہ تھی۔ مگر جب سے تقسیم اور فسادات کا عمل شروع ہوا تو یہاں مشرقی اور وسطی پنجاب کے ہزاروں خاندانوں کا جھمگٹا سا ہو گیا تھا۔ اُدھر سے اِدھر آنے والوں کا اور اِدھر سے اُدھر جانے والواں کا۔ امیر سبحانی صبح دس بجے کے قریب پہنچا تھا۔ اب اُسے یہاں بیٹھے بیٹھے شام ہو گئی تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا،کاش وہ ہیڈ سے سیدھا پاکپتن ہی کا رخ کر لیتا تو کل تک پہنچ ہی جاتا۔ اب نہ جانے کب گاڑی آئے اور وہ اس جگہ کے عذاب سے نکلے۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے اسٹیشن پر ایک گاڑی براستہ قصور فیروزپور جانے والی کھڑی تھی،جو نجانے کیوں اتنی دیر سے وہاں موجود تھی۔ یہ ساری کی ساری گاڑی ہندووں اور سکھوں سے بھری ہوئی تھی۔ نہ صرف اندر سے پُر تھی بلکہ اس کی چھت پر بھی کھچاکھچ انسان تھے۔

عصر کے وقت امیر سبحانی نے اچانک ایک آدمی کو دیکھا،جو اردو اور عجیب غریب لہجے میں اسٹیشن پر کھڑے مسلمان مہاجروں اور مقامیوں کے ساتھ کچھ خطاب کر رہا تھا۔ امیر سبحانی کو یاد آیا،جب وہ غلام حیدر کے ساتھ نواب افتخار ممدوٹ کے لیے ووٹ مانگنے نکلا تھا،تو وہ بھی اسی طرح کے خطاب کرتے تھے۔ لیکن وہ تو پنجابی زبان میں صاف سمجھ آنے والا خطاب ہوتا تھا اور یہ تو کوئی فوجیوں والے لہجے کا تھا۔ وہ اُن سب لوگوں کو کہ رہا تھا،بھائیو،میرا نام محمد زمان خان ہے۔ ہم دہلی سے نکلے تھے،تو ستر افراد کا قبیلہ تھے لیکن ہمارا سارا خاندان ان کافروں اور مشرکوں نے راستے میں ہی مار دیا اور سارا سامان لوٹ لیا۔ اب میں اُن ستر افراد میں اکیلا بچا ہوں۔ میری مائیں،بہنیں اور بچے اُنہوں نے یا تو ماردیے ہیں یا اپنے گھروں میں لے گئے ہیں۔ مسلمانو !یہ مجھ اکیلے کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہندوستان سے ہر آنے والے کی یہی کہانی ہے۔ یہ کہہ کر زمان خان رونے لگا لیکن اِس گریہ وزاری کے درمیان بھی اُس نے اپنی کہانی اُسی درد ناک لہجے میں جاری رکھی۔ جسے سن کر تمام مجمع بھی رونے لگا۔ اُن سننے والوں میں سے بعض کی آنکھیں سُرخ ہو گئیں،چھاتیوں کے بال اکڑ گئے اور گنڈاسوں اور تلواروں پر ہاتھ سخت ہوگئے۔ زمان خان نے مجمع کی یہ حالت دیکھی تو سُرخ لوہے پر ایک اور ضرب لگائی،بھائیو،اِن بے غیرتوں نے،جو ہمارے ساتھ کیا،وہ تو الگ بات ہے لیکن مجھے ایک اور اندیشہ ہے کہ یہ لوگ،جو اِس گاڑی میں بیٹھے ہندوستان جا رہے ہیں اور تم انہیں دامادو ں کی طرح بڑی عزت سے وہاں بھیج رہے ہو۔ یہ جاتے ہی اُن شرنارتھیوں کے ساتھ مل جائیں گے اور تمھارے دوسرے مسلمان بھائیوں کا صفایا کر دیں گے۔

زمان کی آواز اتنی پُر اثر،مدلل اور رُندھا دینے والی تھی کہ تمام لوگوں کو غضب آ گیا۔ کیا مہاجر اور کیا مقامی،سب ایک دم اُس ریل پر گرہجوں کی طرح جھپٹ پڑے۔ امیر سبحانی کے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے گاڑی پر ہلہ بول دیا۔ اُن سب نے زمان خان کی ہدایات پر پہلے تمام ریل کے دروازے بند کر دیے اور چھتوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو نیچے اتار کر اُن سب کو نیزوں اور تلواروں کی لڑی میں پرویا۔ اُس کے بعد لوگ ریل کا ایک دروازہ کھول لیتے،اُ س میں موجود تمام سواریوں کو تہہ تیغ کر دیتے،پھر اگلے ڈبے کو کھول لیتے۔ اِس قتل و غارت میں ریل کی پٹڑی کا نالہ خون سے بہنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ماؤں کی گود میں موجود بچوں سے لے کر بڑوں تک،سب ایک گھنٹے کے اندر تلواروں کا رزق ہو گئے۔ اس عرصے میں سب لوگ اس قدر سہم گئے کہ کسی بچے تک کے رونے کی خبر نہیں آئی۔ اپنے پرائے سب قاتلوں کے سامنے بلی بن گئے۔ امیر سبحانی سارا منظر بیٹھا دیکھتا رہا۔ اُس کی ہمت نہ پڑی کہ وہ کسی کو روک لیتا۔ ابھی غارت گری رُکی ہی تھی کہ جانے کہاں سے میونسپل کمیٹی کے ٹرک آگئے۔ اُنہوں نے چند ساعتوں میں وہ لاشیں اُٹھا کر،پتا نہیں کہاں لے جا پھینکیں۔ البتہ اسٹیشن سے اُٹھا کر لے گئے۔ اِس کے بعد خدا کی قدرت،پھر وہی بارش شروع ہو گئی،جس نے اسٹیشن کو دھو کر ایسے صاف کر دیا جیسے،یہاں کچھ ہوا ہی نہیں۔ گویا قدرت بھی اِن سب کے ساتھ ساتھ اپنا فرض ادا کر رہی تھی۔ رات امیر سبحانی نے وہیں گزاری اور اگلے دن حویلی لکھا روانہ ہو گیا۔ یہاں سے اُس نے ارادہ کیا کہ پیدل ہی پاکپتن چلا جائے گا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – سولہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(۳۱)

 

غلام حیدر کو ڈپٹی پولیس آفیسر کی ملاقات کے لیے پیغام پہنچا توحویلی میں رنگ رنگ کے افسانے کھل گئے۔ ہفتہ پہلے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے بندوں کی گرفتاری اور مال کی ضبطی ہوئی۔ اِس کام نے غلام حیدر کی طاقت اور بڑے صاحب تک پہنچ کو سب پر روشن کر دیا تھا۔ اب اس بات میں کس کو شک تھا کہ پولیس کے بڑے افسر نے غلام حیدر کو دفتر میں بلا کر یہی کہنا تھا،بھائی ہم آپ کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اور حکم کے بندے ہیں، دوبارہ بڑے صاحب کی طرف مت جائیں۔ ہماری نوکریوں کے لیے خطرہ ہے۔

 

غلام حیدر کی حویلی میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں میں لگے انگریزی سرکار اور جھنڈو والا کی خبریں نون مرچ لگا کر اورایک دوسرے کو سنا کر آنے والے وقت کے متعلق فیصلے صادر کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ امیر سبحانی جوش میں تھا۔ امیر سبحانی بیس بائیس سال کا کوتاہ قامت مگر نہایت باتونی اور چرب زبان تھا۔ باتوں کی لشکر کشی ایسے کرتا کہ بڑے سے بڑا سیانا بھی قبول کر اُٹھتا۔ قصہ گوئی کا فطری مادہ اُس میں موجود تھا۔ وائسرائے کی بیٹی سے غلام حیدر کا ناطہ ثابت کرنے کے بعد اُس کی قدر میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ اِس لیے اُس کی باتوں پر پہلے سے زیادہ دھیان دیا جانے لگا۔ اُس کا اپنا علاقہ جلال آباد نہیں تھا۔ وہ فیروزپور شہر سے آوارہ گردی کرتے ہوئے یہاں پہنچا۔ اُس وقت اُس کی عمر پندرہ سال تھی۔ شیر حیدر نے اس کی چرب زبانی دیکھ کر اور لطیفہ گوئی سن کر یہیں رکھ لیا۔ کام وغیرہ کچھ نہیں لیا جاتا تھا۔ پچھلے چھ سات سال سے جلال آباد میں تھااور زبان کا کھٹیا کھا رہا تھا۔ اِس وقت بھی اپنے دیسی چمڑے کے جوتے کے تلووں سے لگی ہوئی مٹی ایک سخت تنکے سے کرید کرید کر جھاڑتا جاتا اور باتوں کے توتے مینا اُڑاتا جا رہا تھا۔

 

،یارو میری تو بات کو ہر ایک چوتڑوں میں دبا لیتا ہے اور سمجھتا ہے امیر سبحانی نے واہی بَک دی۔ حالانکہ میں نے پہلے دن سب کو خبردار کر دیا تھا کہ اپنے غلام حیدر کی منگ میں جب واسرائے کی چھوکری آ گئی ہے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ انگریز سرکار سودھا سنگھ کے دونو ں ہا تھ باندھ کے چکی کے پُڑوں کے نیچے دے دے گی اور اُس کی داڑھی کا رسہ وٹ کے سکھڑے کی ٹانگیں باندھ دے گی۔ اگر اب بھی میری بات کا یقین نہیں تو پھر کوڑھ مغزوں کے لیے بادام روغن کی ضرورت ہے،جو جلال آباد میں تو ملتے نہیں، کشمیر سے ہی منگواؤ تو منگواؤ۔

 

رشید ماچھی امیر سبحانی کی طرف رشک سے دیکھ کربولا،میاں سبحانی پہلے یہ بتا،کس لدھونے تیری بات کو چوتڑوں میں دبایا تھا اور یقین نہیں کیا تھا؟میں نے تو اُسی وقت کہہ دیا تھا،اگر خبر امیرے نے دی ہے تو پکی سمجھو ( آنکھ دبا کر خوشامد کرتے ہوئے) لیکن یار سبحانی اب تو بتا دے تجھے کیسے پتا چلا تھا کہ اپنے چوہدری غلام حیدر کے ساتھ وائسرائے کی بیٹی کا یارانہ ہے؟

 

لو اور سنو بھائی فیقے،امیر سبحانی نے رفیق پاؤلی کی طرف دیکھ کر کہا،او شیدے بونگے تُو بھی کٹوں سے دودھ نکالتا ہے۔ یہ باتیں کوئی پوچھنے کی ہیں؟ پھر اپنی چھدری کالی سیاہ داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے،یہ داڑھی کیا دھوپ میں سفید کی ہے؟ میاں،امیر سبحانی نے صرف کبوتر نہیں اُڑائے،لوگوں کے کانوں کے فیتے کاٹے ہیں فیتے۔ لیکن تجھے بتا بھی دوں تو سمجھ نہیں آئے گا،اِس لیے فائدہ نہیں۔

 

رفیق پاؤلی نے امیر سبحانی کی بات سُن کر کہا،سبحانی کچھ ہمیں بھی تو پتا چلنا چاہیے،اِس بات کی خبر تجھے کیسے ہوئی؟

 

بھائی کبھی آل انڈیا ریڈیو دیکھا؟ امیر سبحانی جوش اور غصے کی ملی جُلی کیفیت میں بولا،لیکن رفیق کے جواب دینے سے پہلے ہی،اچھا دیکھا تو خیر نہیں ہو گا کبھی نام بھی سنا ہے؟ جب تم نے نام بھی نہیں سنا تو تمھیں سمجھ خاک آئے گی۔ چاچا فیقے،یہ ایک جادو کا ڈبہ ہو تا ہے (ہاتھوں کے اشارے سے)اِتنا چوڑا اور اِتنا لمبا۔ اِس میں ایک جِن بیٹھا ہوتا ہے،جو غیب کی باتیں پڑھ پڑھ کے سناتا ہے۔ سننے والے حریان،پریشان دیکھتے ہیں یہ کیا ہے؟ مگر یہ بولتا جاتا ہے،بولتا جاتا ہے۔ بس میں نے بھی وائسرائے کی بیٹی اور غلام حیدر کی بات اِسی سے سُنی تھی۔ پر دیکھو یہ ڈبہ ہر ایک کو نہیں سناتا۔

 

امیر سبحانی کی بات سن کر سب ہکا بکا رہ گئے۔ جانی بولا،اچھا چل اس بات کو چھوڑ،اب یہ بتا ڈپٹی صاحب نے غلام حیدر کو اپنی سرکار میں کیوں بلایا ہے؟ ذرا قیاس کر کے بتا؟
امیرسبحانی نے اِتنی عزت افزائی دیکھی تو نئی نئی چھوڑنے لگا۔ اُس نے ایک دفعہ جوتے پاؤں سے اُتار کے زمین پہ پھینکے اور دونوں ٹانگیں چارپائی کے اُوپر رکھ کر بولا،لو جی اگر تم کو اتنی ہی بے چینی ہے تو سنو،یہ تو تمھیں پتا چل ہی گیا ہے چوہدری غلام حیدر کی اُوپر تک پہنچ کی وجہ سے کمشنر صاحب نے پولیس کے بڑے سنتری کے کان کھینچے ہیں،جس پر اُس نے مجبور ہو کر جھنڈو والا اور میگھا پور کی صفائی پھیری ہے۔ اب یہ بات تو سادھو کو بھی پتا چل جائے گی کہ بڑا سنتری چوہدری غلام حیدر سے یاری دوستی لگانا چاہتا ہے تاکہ چوہدری صاحب سے بڑی سرکاروں میں سفارش کروا کے نوکری میں ترقی کروا لے۔ او بھائی یہ انگریز بہادر بڑے سیانے ہوتے ہیں۔ بغیر مطبل کے کسی کے کام نہیں آتے۔ دیکھنا یہ بات نہ ہو تو میری داڑھی مونڈ دینا اِسی پتھورے پر۔

 

امیر سبحانی کا نیا انکشاف سُن کر سب عش عش کر اُٹھے۔ یہ بات تو کسی کو بھی نہیں سوجھی تھی کہ انگریز بہادر نے غلام حیدر سے ملاقات کیو ں کرنا چاہی ہے۔ واقعی امیر سبحانی کی وہاں تک سوچ جاتی تھی جہاں تک رفیق پاؤلی اتنا سیانا ہونے کے باوجود بھی نہیں پہنچ سکا تھا۔
سب حویلی کے صحن میں بیٹھے قیاس آرائیاں کرتے کرتے اصل نتیجے تک پہنچے ہی تھے،اِتنے میں غلام حیدر زنان خانے سے نکل کر حویلی کے بیرونی صحن میں آتا دکھائی دیا۔ اُس نے ریشمی لاچے کے ساتھ پاؤں میں اُونچی کنی والا دیسی کھسہ ڈال رکھا تھا جس کی چرر چرر کی آواز سے عجیب سُر نکل رہے تھے۔ اِسی طرح سفید لٹھے کا کُھلا کُرتا اور کاندھے پر وہی پکی ریفل جو سرداری کے مزاج کو اور بھی آسمان پر لے جاتی تھی۔ اُس پر قدم اُٹھانے کا انداز،سب کچھ بڑا شاندار لگ رہا تھا۔ غلام حیدر کودیکھ کر سب خاموش ہو گئے اور اُٹھ کرسلام لینے لگے۔ غلام حیدر نے سب کو ایک ہی سلام میں بھگتا کر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق کیا تحصیل جانے کی تیاری مکمل ہو گئی؟

 

جی تیاری تو مکمل ہے بس تمھارا ہی انتظار تھا،رفیق پاؤلی نے جواب دیا۔

 

تو چلیں؟ غلام حیدر بولا،اِس کے بعد بگھی کی طرف چل دیا،جو حویلی کے صحن میں دروازے کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ جب بگھی پر بیٹھ چکا تو دوسرے لوگ بھی اپنی اپنی سواری پر چھویوں اور ڈانگوں پر کسی کرپانوں کے ساتھ چڑھ گئے۔ پھر چند وقفوں کے بعد یہ سواریاں جلال آباد کی تحصیل میں پولیس کے بڑے صاحب کے دفتر کی طرف چل دیں،جو غلام حیدر کے مکان سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ رستے میں آگے پیچھے چلتی سواریاں اور سواریوں میں بیٹھے غلام حیدر کے آدمیوں کے چٹکلے اور ہنسی دور تک چلتے راہیوں کو رُکنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ لوگ غلام حیدر کی سواری کو دیکھ کر کچھ دیر کھڑے رہ جاتے۔ صبح دس بجے یہ سواریاں ڈی ایس پی لوئیس صاحب کے آفس کے سامنے جا کر رُک گئیں۔ لوئیس صاحب کے دفتر کی ساری عمارت پر پیلے رنگ کا چونا پھیرا گیا تھا۔ عمارت کے سامنے بڑا صحن تھا۔ جس کو ایک چھوٹے قد کی دیوار سے گھیر کر اُس میں لکڑی کا پھاٹک لگا دیا گیا تھا۔ صحن میں بڑے گراؤنڈ کے بیچ بڑی بڑی داڑھیوں والا آسمانی چھتری نما بوڑھ کا درخت عمارت کی شان و شوکت کا گواہ تھا۔ اس بوڑھ سے تھوڑا آگے ڈپٹی صاحب کے دفتر کی عمارت شروع ہوجاتی تھی۔ سب سے پہلے عمارت کا ہاتھی دروازہ اور اُس کی بڑی ڈاٹ کے سِرے پر بانس کے ڈنڈے کے ساتھ لہرا تا ہوا برطانوی سلطنت کا پھریرا سلطنت کی ہیبت کا مدعی تھا۔ غلام حیدر نے بگھی سے اُتر کر اپنی رائفل کاندھے سے اُتار کر رفیق پاولی کے حوالے کردی اور عمارت کی طرف بڑھ گیا۔ جبکہ اُس کے تمام بندے وہیں گراؤنڈ میں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ بڑے صاحب کے کمرے میں صرف غلام حیدر ہی کو جانے کی اجازت تھی اور یہ بات قدرتی طور پر ہی تمام ملازمین جانتے تھے۔

 

غلام حیدر پھریرے والے دروازے سے گذر کر عمارت میں داخل ہوا تو کئی راہداریوں نے اُس کا سامنا کیا،جنہیں نیلے اور لال رنگ سے پینٹ کیا گیا تھا۔ ایک حوالدار غلا م حیدر کے ساتھ تھا۔ وہ رہنمائی کرتا ہوا اُسے ایک کمرے میں لے گیا۔ یہ کمرہ ویٹنگ روم تھا۔ جس میں پہلے بھی کئی لوگ بیٹھے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک کُلے والے چوکیدار نے غلام حیدر کے نام کی آواز دے کر اُسے صاحب کی ملاقات کی اجازت دی۔ غلام حیدر اپنے کُھسے کی چرچراہٹ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تو لوئیس نے اُٹھ کر غلام حیدر سے ہاتھ ملایا اور اُسے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ غلام حیدر خوش دلی سے ڈی ایس پی لوئیس کا شکریہ ادا کر کے کُرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس کے ایک طرف ایک تھانیدار بیٹھا تھا،جس سے غلام حیدر بالکل ناواقف تھا۔ واقف تو وہ ڈی ایس پی صاحب سے بھی نہیں تھا لیکن ایک ہفتہ پہلے جو کارروائی جھنڈو والا اور میگھا پور میں لوئیس کی نگرانی میں ہوئی تھی اور اُس کی خبر پوری تحصیل میں ہوا کی طرح پھیل گئی تھی،اُس وجہ سے ڈی ایس پی لوئیس کا نام نہ صرف جھنڈووالا اور میگھا پور میں بلکہ غلام حیدر کی پوری رعیت کی زبان کا ورد ہو گیاتھا۔ صاحب بہادر نے جس طرح کارووائی کر کے جھنڈو والا کی تباہی پھیر کر سودھا سنگھ کی چوہلیں ہلائیں تھیں،اُس سے غلام حیدر کو ایک گونہ اطمنان سا ہو گیا تھا۔ اُسے جو انگریز سرکار سے شکایتیں تھیں،وہ بھی دور ہو گئیں۔ اِس کاروائی سے لوگوں کو ذرا بھی شک نہیں رہا تھا کہ غلام حیدر کے لاہور میں بڑی سرکاروں کے ساتھ رابطے ہے۔ ورنہ کہاں مہاراجہ پٹیالا کے وزیر کا چہیتا سودھا سنگھ اور کہاں ایک پڑھاکو لڑکا چوہدری غلام حیدر۔

 

چنانچہ جب غلام حیدر کو لوئیس صاحب کا پیغام ملا تو اِس میں شک نہ رہا کہ صاحب نے اُسے انصاف کی یقین دہانی کے لیے بُلایا ہے۔ حالانکہ ملک بہزاد نے غلام حیدر کو باور کرادیا تھا کہ انگریز افسر کے سامنے اُس وقت تک نہ جانا جب تک تمھاری جان کسی بھی جھگڑے سے بالکل پاک نہ ہو اور اُس میں بھی اپنے اسلحے کا خاص خیال رکھنا۔ یہ بات غلام حیدر کو یاد تھی لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ لوئیس صاحب،جس کے پاس ابھی تک غلام حیدر کے خلاف نہ کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی اُس نے قانون کی بساط سے قدم باہر اُٹھا یا تھا،وہ افسر غلام حیدر کے خلاف کچھ ناروا حکم دیتا۔ وہ لوئیس کے دفتر میں داخل ہوا تو اُس کے مشفقانہ رویے نے مزید اچھا اثر ڈالا۔ اِس سے متاثر ہو کر غلام حیدر نے کہا،سر جس طرح جناب نے مجرموں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے،اُس پر آپ کی نذر کرنے کو سوائے شکریے کے میری گرہ میں کچھ نہیں ہے۔
مسٹر غلام حید ر! لوئیس بولا،کیا کبھی ایسا ہوا ہے،لڑکا اپنے گھر میں پیدا ہو اور مبارک پڑوسیوں کودی جائے؟اِس میں گورنمنٹ کا شکریہ ادا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب جلال آباد میں سرکا ر برطانیہ کی ہے تو امن و امان کی ذمہ داری بھی اُسی کی ہے۔ آپ بے فکر رہیں اور گورنمنٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔ اِس میں شک نہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ جس میں کچھ شر پسندوں نے انگریزی قانون کو ہلکا سمجھ کر اُس کا مذاق اُڑایا ہے۔ اب اِس کا نتیجہ تو اُنہیں بہر حال بھگتنا تھا۔ اب آپ کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ دل سے تمام خدشے دور کر کے مکمل طور پر گورنمنٹ پر بھروسا رکھواور دل و دماغ سے دشمنی کی ہوا نکال کر صرف رعایا کی خبر گیری کی طرف دھیان دو۔

 

غلام حیدر نے لوئیس کی بات سُن کر تشکر آمیزلہجے میں کہا، ڈپٹی صاحب جب آپ جیسے آفیسر ہماری حفاظت کے لیے موجود ہیں تو تشویش کیسی؟آپ جس قسم کا تعاون چاہیں گے،وہ میری طرف سے حاضر ہے۔

 

لوئیس نے اب ایک لمحہ غلام حیدر کی طرف دیکھا،پولیس کیپ میز سے اُٹھا کر اپنے سر پر رکھی۔ اُس کے بعد اپنی بیددائیں ہاتھ میں لے کر اُٹھااور بولا،ویل غلام حیدر،ہمیں آپ سے یہی توقع تھی۔ آپ کو دفتر میں بلانے کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ بس یونہی کچھ امن و امان کے حوالے سے گزاراشات واضح کرنا تھیں۔ آپ اپنی رائفل اور اپنے آدمیوں کا تیز لوہا کم از کم تین ماہ کے لیے گورنمنٹ کو جمع کرا دو۔ تم اور تمھارے آدمی سوائے لکڑی کے کوئی چیز ہاتھ میں لے کر نہیں چل سکتے۔ فی الحال ہم آپ سے اس سے زیادہ نہیں چاہتے۔ میرا خیال ہے یہ بات آپ کے لیے زیادہ وزنی بھی نہیں ہے۔

 

سر یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟غلام حیدر لوئیس کا حکم سن کر حیران رہ گیا۔ اُسے یقین نہیں آ رہا تھا لوئیس،جو ابھی ابھی اتنا شفیق نظر آ رہا تھا،وہ اس قدر کڑوا حکم دے گا۔ چنانچہ اپنی کرسی سے اُٹھتے ہوئے بولا،آپ جانتے ہیں میری کس قدر خطرناک دشمنی پیدا ہو چکی ہے۔ میرے باپ کے مرنے کے بعد جلال آباد کا سایا بھی میرے لیے بھوت بن چکا ہے۔ میرے دو گاؤں پر حملہ ہوا،تین بندے قتل ہو گئے،مال کا نقصان الگ ہوا۔ پھر بھی گورنمنٹ پر بھروسا کرتے ہوئے قانون کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کی۔ لیکن حیرت ہے،ابھی گورنمنٹ کو مجھ پر بھروسا نہیں۔
ڈی ایس پی لوئیس صاحب نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر کہا،غلام حیدر گورنمنٹ کے پاس اتنا وقت نہیں وہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کر ے۔ آپ سے جو کہا گیا ہے وہ کرو۔ جھنڈووالا سے لے کر جودھا پورتک،سب کی مالک گورنمنٹ ہے۔ اِس لیے آپ کا اسلحہ تین ماہ تک ضبط کیا جاتا ہے۔ اِسے گورنمنٹ کو جمع کروا دیں۔

 

یہ کہ کر لوئیس صاحب کمرے سے نکلنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔ جبکہ غلام حیدر وہیں ہکا بکا کھڑا سوچنے لگا کہ صاحب نے کیسا گرگٹ کی طرح رنگ اور سانپ کی طرح کینچلی بدلی ہے۔ لوئیس صاحب نے دروازہ سے نکلنے سے پہلے ایک ثانیے کے لیے مڑ کر دوبارہ غلام حیدر کی طرف دیکھا اور بولا،مسٹر آپ کو یہ بات سمجھانے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہیے،جو بھی گورنمنٹ کے حکم کی سرتابی کرنے کی زحمت کرتا ہے،ہم اُس کی گردن باندھ دیتے ہیں۔
آخری فقرہ لوئیس نے اِس کٹیلے لہجے میں کہا کہ غلام حیدر کو کھڑے کھڑے پسینہ آ گیا۔

 

لوئیس غلام حیدر کا جواب سنے بغیر باہر نکل چکا تھا۔ ویسے بھی غلام حیدر میں جواب دینے کی سکت کہاں رہی تھی۔ اُس کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور محسوس ہوا کلیجہ مسوس دیا گیا ہے۔ پھراس سے پہلے کہ اُس کی طبیعت میں پھیلے انتشار کا کسی کو پتا چلتا،وہ خود بھی لوئیس کے کمرے سے نکل پڑا۔ اُس کے ساتھ ہی کمرے میں موجود تھانیدار بھی چل پڑا جو غالباًاُسی لیے وہاں بیٹھا تھا۔

 

غلام حیدر بھاری قدموں سے چلتا اپنی بگھی کے پاس پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اُس کے بندے بھی خالی ہاتھ ہو چکے تھے۔ پولیس نے اُن سب سے اسلحہ قبضے میں لے لیا تھا۔ اب اُس کا اندراج ایک حوالدار رجسٹر میں کر کے اور انگوٹھوں کے نشان لے کر اُن کے رسیدی ٹکڑے واپس کر رہا تھا۔ بہت سے سپاہی بندوقیں پکڑے اُن سب کو گھیرے میں لیے ہوئے تھے۔ غلام حیدر کی رفیق پاؤلی اور اپنے بندوں سے آنکھیں چار ہوئیں تو ہر دو طرف سے شرمساری کی پکھیوں نے اُن پر سایا کر دیا۔ اِسی اثنا میں ایک سپاہی نے،جس کے ہاتھ میں غلام حیدر کی رائفل تھی،جو اُس نے رفیق پاؤلی سے قبضے میں لی تھی،غلام حیدر کے سامنے دستخط کے لیے وہ رجسٹر آْگے کر دیا۔ جس میں اُس کی رائفل کا اندراج ہوا تھا۔ غلام حیدر مکمل طور پر بے بس ہو چکا تھا اور مزاحمت میں سوائے بے عزتی کے کچھ ہاتھ نہیں آ سکتا تھا۔ اِس لیے اُس نے آرام سے دستخط کر دیے۔ دستخط کے بعد اُسے بھی حوالدار نے رائفل کے بدلے ایک رسید تھما دی۔ اُس پر صاف لکھا تھا،غلام حیدر ولد شیر حیدر سکنہ شاہ پور جلال آباد سے اُن کی رائفل دفعہ تیس کے تحت تین ماہ کے لیے حکومت پنجاب اپنے قبضے میں لیتی ہے۔ رائفل ہذا تین ماہ بعد اُس کے وارث غلام حیدر ولد شیر حیدر کے حوالے کر دی جائے گی۔

 

اسلحہ کے ضبط ہونے کی کارروائی ختم ہو چکی تو غلام حیدر نے دوبارہ ایک نظر اپنے بندوں پر ڈالی اور ہلکی سی خجالت کی ہنسی ہنس کر اپنی بگھی کی طرف چل دیا۔ اُس کے پیچھے ہی رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے بھی۔

 

بگھی پر بیٹھتے ہوئے غلام حیدر کو شدت سے ملک بہزاد کی یاد آئی اور اُس کے وہ جملے،خبردار کسی بھی و قت انگریز بہادر کو اپنا دوست سمجھ کر اُس کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش مت کرنا۔ کیونکہ حکومت اگر اپنی رعایا کے ارادوں کی رعایت کرنے لگے گی تو ایک دن ضرور ذلت کا منہ دیکھے گی۔ اور اس کی توقع فرنگی سرکار سے نہ رکھنی چاہیے۔ کبھی اپنا اسلحہ لے کر انگریز بہادر کے سامنے نہ جانا۔

 

غلام حیدر کے دماغ پر شدید کوفت اور بیزاری کے جھکڑ چلنے لگے۔ اُس نے جان محمد بگھی کوچ کو حکم دیا،جان محمد سیدھے چک عالمکے چلو۔

 

اسلحہ چھن جانے کی وجہ سے سب کو پتا چل چکا تھا کہ غلام حیدر کی بڑے سنتری صاحب سے کوئی کھٹ بٹ ہو چکی ہے۔ اس لیے چوہدری صاحب کے موڈ اس وقت سخت خراب ہیں۔ لہذا کسی نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ اس وقت ملک بہزاد کے گاؤں کی طرف جانے کا کیا مقصد ہے۔ بغیر اسلحہ یہ قافلہ لوئیس صاحب کے دفتر سے نکلنے کے بعد سیدھاچک عالمکے کی طرف روانہ ہو گیا۔ گھوڑوں کے مسلسل دوڑنے کی آواز میں تمام لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراکر خموشی سے اپنی اپنی ذات کے ساتھ گفتگو کرنے لگے اور گھوڑے دوڑتے گئے۔ حتیٰ کہ سہ پہر تین بجے یہ قافلہ چک عالمکے میں ملک بہزاد کے ڈیرے میں داخل ہو رہا تھا۔

 

ملک بہزاد کا ڈیرہ عام ڈیروں ہی کی طرح تھا۔ اُس کے نہ تو احاطے کی دیواریں اُونچی اور پائیدار تھیں اور نہ ہی ڈیرے کے مکانوں میں کوئی خصوصیت تھی،جسے بیان کیا جائے۔ البتہ احاطہ کافی کُھلا اور پُرسکون تھا۔ اُس کے صحن میں سرکنڈوں کے بان کی پندرہ سولہ کھری چارپائیاں بچھی تھیں۔ اُن میں سے ایک چار پائی پر ملک بہزاد بیٹھا حقے کے ٹکارے لے رہا تھا۔

 

ارد گرد گاؤں کے لوگ بیٹھے ملک بہزاد سے اُس کے کارناموں کی کوئی داستان سُن رہے تھے،جو اُس نے اپنی جوانی کے دنوں میں سرانجام دی ہو گی۔ ملک بہزاد غلام حیدر کو ڈیرے میں داخل ہوتے دیکھ کر حیران ہوا اور فوراً اُٹھ کر استقبال کرنے کے لیے آگے بڑھا،او میرا بھتیجا غلام حیدر آیا،کہ کر باہیں پھیلا دیں۔ ملک بہزاد کے ساتھ دوسرے لوگ بھی اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور غلام حیدر کے بندوں سے سلام دعا لینے لگے۔ غلام حیدر کے ڈیرے میں داخل ہونے کی وجہ سے لوگوں کی تعداد دگنی ہو گئی تھی۔ اس لیے نوکر مزید چارپائیاں بچھانے میں مصروف ہو گئے۔ کچھ لوگ بڑھ بڑھ کر غلام حیدر سے سلام لینے کی کوشش کرنے لگے۔ اُنہوں نے اُس کا نام تو سنا تھا کہ چوہدری شیر حیدر کا مُنڈا بڑے اسکولوں میں پڑھتا ہے اور ولایت بھی گیا ہے لیکن اُنہیں کبھی توقع نہیں تھی کہ ولایت جا کر پڑھنے والا غلام حیدر کبھی اُن کے گاؤں بھی آئے گا۔ نیم کے بڑے سے درخت (جس کی اکثر ٹہنیاں سردی کے موسم میں چھانگی جاچکی تھیں ) کے نیچے چارپائیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ موسم گرم نہیں تھا،اس لیے سائے کی ضرورت نہیں تھی۔ ملک بہزاد نے اپنے ساتھ ہی ایک چارپائی غلام حیدر کے لیے رکھوا لی،جس کے پائینتی سفید کھدر کی دوہر اور سرہانے پھولوں کے ساتھ کڑھا ہوا ریشمی تکیہ تھا۔ تھوڑی دیر میں تمام آدمیوں کے لیے لسی بھی آگئی۔ پیتل کے بڑے بڑے گلاسوں میں بھری ہوئی سفید لسی جب منہ سے لگاتے تو اُس کی سفیدی مونچھوں کے کناروں پر جم جاتی۔ غلام حیدر کے لیے بھی لسی سامنے رکھ دی گئی۔ جس میں برف تو نایاب ہونے کی وجہ سے نہیں تھی لیکن کوری چاٹی اور سرد موسم کی ٹھنڈک نے اُسے اتنا مزیدار ضرور کر دیا تھا کہ غلام حیدر نہ چاہتے ہوئے بھی دو گلاس پی گیا۔ لسی پینے کے بعد کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ ملک بہزاد نے اتنا اندازہ کر لیا تھا کہ غلام حیدر کے ساتھ کوئی خیر نہیں ہے۔ کیونکہ اطلاع دیے بغیر اچانک اور بالکل ہتھل ہو کر آنا خیر سے خالی تھا۔ لیکن ملک بہزاد نے غلام حیدر سے بات پوچھنے میں جلدی نہیں کی۔ قریباً ایک گھنٹے تک وہ اسی طرح بیٹھے ادھر اُدھر کی ہانکتے رہے۔ پھر اچانک غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اُٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ دونوں اُٹھ کر ڈیرے کے ایک کمرے میں چلے گئے تاکہ تنہائی میں بات کر سکیں۔

 

کچھ دیر خاموش بیٹھے رہنے کے بعد غلام حیدر بولا،چاچا بہزاد سب عزت خاک میں مل گئی۔ کوئی کام توقع کے مطابق نہیں ہو رہا۔ مَیں انگریز سرکا ر پر اچانک اندھا بھروسا کر گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دم اپنے بندوں کے سامنے ذلیل ہو گیا۔ پھر غلام حیدر نے سر جھکا کر اپنے ساتھ ہونے والی پولیس کی تمام کارگزاری ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔

 

ملک بہزاد غلام حیدر کی داستان نہایت حوصلے اور تحمل سے سنتا رہا۔ درمیان سے اُس نے نہ تو ٹوکا اور نہ ہی بات بات پر اپنے تجربات کے افسانوں کے تڑکے لگائے۔ وہ جانتا تھا،غلام حیدر غلطی کر چکا ہے،جس پر اُسے پہلے سے خبر دار کیا گیا تھا۔ لیکن اب اُسے اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہے،جس کی وجہ سے وہ ڈپٹی کے دفترسے اپنے گھر نہیں گیا،سیدھا اُس کے پاس آیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے،وہ اعتراف کا طوق گلے میں لٹکائے ہوئے آیا ہے۔ لہذا غلطی جتانے سے سوائے بیزاری بڑھانے کے فائدہ نہیں۔ اِسی کے پیش نظر ملک بہزاد خاموش بیٹھا سوچتا رہا۔ با لآخر سفید کھچڑی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بولا،غلام حیدر ایک بات بتا،سُنا ہے تیری نواب افتخار کے ساتھ دوستی ہے،کیا یہ بات ٹھیک ہے؟

 

ہاں وہ دوست تو ہے،غلام حیدر نے جواب دیا،لیکن وہ لندن میں ہے۔ میں نے اُسے ساری صورت حال کے بارے میں خط لکھ دیا ہے۔ مگر اُس کا ابھی تک جواب نہیں آیا۔ بلکہ ابھی تو میرا خط بھی نہیں پہنچا ہو گا۔

 

ایسا کر تُو اُسے تار بھیج دے،ملک بہزاد نے آہستہ سے کہا، اور یہ کام لاہور جا کر وہاں سے کر۔ فیروزپور یا جلال آباد سے ہرگز نہیں۔ دوسرا کام یہ کر،تین مہینے کے لیے تسلی سے بیٹھ جا۔ حویلی سے باہر بھی نہ نکل اور ایک درخواست عدالت میں جمع کروا دے کہ مجھے دشمنوں سے اپنی زندگی کا خطرہ ہے۔ لہذا جو پولیس نے میرا اسلحہ ضبط کیا ہے،وہ گورنمنٹ مجھے واپس کرے۔ اس کے علاوہ یہ خبر جھنڈو والا اور عبدل گجر تک بھی مشہور کر دے کہ تیرا اسلحہ ضبط ہو چکا ہے۔

 

اِس کا کیا فائدہ ہوگا؟ غلام حیدر نے حیرانی سے پوچھا

 

اِس کا یہ فائدہ ہو گا کہ جب تجھے تین مہینے سے پہلے بطور مدعی عدالت میں طلب کیا جائے تو تم عدالت کو باور کرا سکتے ہو کہ مجھے دشمنوں سے خطرہ ہے اس لیے میں بغیر اسلحے کے کسی بھی جگہ آنے جانے سے قاصر ہوں۔ اِس سلسلے سے متعلق میں ایک درخواست بھی جناب میں پیش کر چکا ہوں۔ چنانچہ اِسی خطرے کی وجہ سے میں عدالت بھی حاضر نہیں ہو سکتا۔ تمھاری اِس معذوری کی بنا پر عدالت یا تیرا اسلحہ بازیاب کرائے گی یا تین مہینے تک تمھیں عدالت میں حاضر نہ ہونے سے معذور قرار دے گی۔ اِدھر اِس درخواست کی وجہ سے انگریزی پولیس آپ کی رائفل تین مہینے کے بعد تمھیں واپس کرنے کی پابند ہو گی اور مزید ضبطی کے آڈر جاری نہ کر سکے گی۔ کیونکہ اِن سابقہ تین ماہ میں آپ کا کردار بالکل صاف رہا ہو گا۔ رہا آپ کے ہتھل ہونے کی خبر سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ تک پہنچانے کا فائدہ،تو اِس سے یہ ہو گا،وہ تینوں بے خطر فیروزپور کی عدالت میں تاریخیں بھگتنے چلے آئیں گے۔ یہی وقت ہو گا ہماری کارروائی کرنے کا۔ تم اِس عرصے میں نواب افتخار کی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اُس کی کان و کان کسی کو خبر نہ ہو۔

 

غلام حیدر دل ہی دل میں ملک بہزاد کی عقل کو داد دینے لگا اور تہیہ کیا کہ کبھی ملک بہزاد کے مشورے کے خلاف نہیں کرے گا۔ پھر سوچ کر بولا،لیکن چاچا بہزاد آپ کو میرے ساتھ ہر معاملے میں چلنا ہو گا۔ خرچے کی کوئی بات نہیں۔ میں سب دینے کو تیار ہوں،جتنا بھی آئے گا۔ تم کل میرے ساتھ جلال آباد چلو اور یہ درخواست بازیوں کے معاملات کو سنبھالو۔ اگر مجھ پر چھوڑو گے تو میں یہ کام نہیں کر سکوں گا۔ اِس کے بعد غلام حیدر نے اپنے کُرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کے پانچ سو روپے کی ایک تھیلی نکالی اور ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔
ملک بہزاد نے وہ تھیلی پکڑ کر واپس غلام حیدر کی جھولی میں رکھ دی اور بولا،بھتیجے تُو فکر نہ کر۔ مَیں کل تیرے ساتھ چلتا ہوں اور عدالت میں وکیل اور دوسرے معاملات کو دیکھتا ہوں۔ یہ پیسے میرے پاس بہت ہیں۔ اللہ کا دیا بڑا فضل ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔

 

اس گفتگو کے بعد دونوں اُٹھ کر باہر آگئے۔ اُنہیں دیکھ کر سب ایک مر تبہ پھر اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ جب دونوں بیٹھے تو دوسرے بھی اپنی جگہ آرام سے بیٹھ گئے۔ شام کے سات بج گئے تھے۔ یہ وقت غلام حیدر کے جلال آباد جانے کا نہیں رہ گیا تھا۔ اِس لیے رات کے کھانے اور رات کے بسر کرنے کا سامان ہونے لگا۔ ملک بہزاد نے اُٹھ کر اپنے ملازموں کو حکم جاری کرنے شروع کر دیے۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چودہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(27)

 

ہیلے نے آہستگی سے سلور کی دھات کے بنے ہوئے نہایت نفیس اور خوبصورت سگار کیس سے ایک سگار نکالا،اُ س کو دو تین دفعہ ناک کے قریب لے جا کر ہلکے ہلکے اپنی سانس اوپر کھینچ کر پہلے سگار کے خوشبو دار تمباکو کا سرور لیا پھر اُسے لیمپ کی آگ دے کر جلا لیا۔ اس کے بعد دو تین چھوٹے چھوٹے کش لے کر میز کے دوسری طرف بیٹھے ولیم کو دیکھنے لگا۔ ولیم اس سارے عمل میں خاموش بیٹھا ہیلے کی فطرت کا جائزہ لیتا رہا۔ ہیلے کی عینک کے شیشے نہایت چمکدار اور باریک تھے۔ کمانیاں اور کمانیوں کی زنجیر سنہری دھات کی تھیں۔ اُن کے بارے میں ولیم فیصلہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ سونے کی ہیں یا محض سونے کے رنگ میں تیار ہوئی ہیں۔ نیلے رنگ کی ٹائی پر چھوٹے چھوٹے زرد پھول بنے تھے۔ کوٹ کے بٹن کُھلے ہو ئے تھے اس لیے ٹائی اُس کی ناف تک لٹکی ہوئی صاف نظر آ رہی تھی۔ شرٹ بھی ہلکے نیلے رنگ کی بہت ہی عمدہ کپڑے سے بنی تھی،جو ولیم کے قدرے اُبھرے ہوئے پیٹ پر کافی جچ رہی تھی۔ شرٹ کے اُوپر کوٹ سُرمئی رنگ کا تھا،جس پر ہاتھی دانت کے بڑے بڑے بٹن تھے۔ یہ بٹن کوٹ کے ساتھ سلے ہوئے نہیں تھے بلکہ الگ سے نتھی کیے گئے تھے تاکہ دوسرا کوٹ پہننا ہو تو اُتار کر اُس کے ساتھ لگا لیے جائیں۔ ہیلے کی مونچھیں اتنہائی سیاہ اور نوکدار تھیں مگر مونچھیں بھاری نہیں تھیں۔ منہ کا دہانہ کھلا ہوا اور چوڑا تھا اور آنکھیں خوفناک حد تک چمک دار تھیں۔ ایسی شخصیت جوانی میں زیادہ خوبصورت نہیں لگتی مگر اِس عمر میں،جس میں اب ہیلے پہنچ چکا تھا،کافی دیدہ زیب ہو جاتی ہے اور سامنے والے کو رعب میں دبا لیتی ہے۔ پچھلی ملاقات میں و لیم کو ہیلے کے چہرے میں ایک سادگی نظر آ ئی تھی۔ اُس کا تاثر اس دفعہ بدل رہا تھا۔ ہیلے کی آنکھوں اور ماتھے کی تیوریوں میں ایک کٹیلی عیاری اور اُس کے ساتھ اپنے جونیئر سے ایک قسم کی بے نیازی کاتاثر اُبھر رہا تھا۔ جس کا مطلب تھا ہیلے ولیم کو اپنے عہدے کی حیثیت سے خبردار کرنے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔ ولیم کواپنے باپ دادا کی سروس سے مشاہدہ تھا کہ ایک ضلع میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ اُسے یہ بھی خوب علم تھا کہ ہندوستانی سول سروس کے انگریزبرطانیہ میں موجود سول سروس کے لوگوں کے سامنے احساس کمتری کا شکار تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لاشعوری طور پرہر نئے آنے والے آفیسر کو اپنے سینئر ہونے کا باور کرانا ضروری سمجھتے۔ اس سلسلے میں اُن سے عجیب عجیب حرکات سر زد ہوتیں۔ کبھی ضرورت سے زیادہ نصیحتیں،کبھی ڈانٹ اور کبھی اپنی ضروری اور غیر ضروری معلومات کا وقت بے وقت اظہار۔ ہندوستانی سول سروس میں موجود دیسی لوگوں کی تو خیر اُن کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ تو افسر ہو کر بھی اُن کے غلام تھے اور انگریز افسر کی سینیارٹی کو ضرورت سے زیادہ قبول کر لیتے مگر نئے انگریز افسر یہاں آکر بھی برطانوی شہریوں جیسی حرکتیں کر تے۔ اِس کی وجہ سے ہندوستانی سول سروس کی نوکری میں بزرگ انگریز افسروں کو اپنی عزت اور وقار پر ضرب پڑتی محسوس ہوتی،جو برطانیہ میں افسری کرنے والوں پرممکن نہیں تھی۔ وہ مرکز میں ہونے کی وجہ سے فیصلے صادر کرنے والوں میں سے تھے اور اکثر شُرفا ہوتے جبکہ ہندوستان میں تو نچلی قوموں کے افسروں کی بہتات ہوچکی تھی اور اس بات کا اندازہ برطانیہ میں موجود بیوروکریسی کو تھا۔ بلکہ ہندوستانی بیوروکریسی کو بھی بخوبی تھا۔ ولیم کو ہیلے اب ویسا ہی احساس کمتری کا شکار آفیسر لگ رہا تھا اور یہ بات ولیم کے لیے خطرناک تھی۔ کیونکہ احساس کمتری میں مبتلا افسر کے ہاتھ سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ اب ولیم کو ہیلے سے کچھ کچھ ڈر محسوس ہونے لگا تھا۔ وہ اِس انتظار میں تھا کہ جلد از جلد ہیلے اپنا منہ کھولے اور بات سامنے آئے۔ اُسے اندیشہ تھا،اُسے جلال آباد میں امن وامان کے حوالے سے ضرور ڈانٹ پلائی جائے گی۔
ہیلے نے کچھ دیر کی خموشی کے بعد بالآخر مُہر توڑی اور بولا،نوجوان آپ فیلڈ میں آ کر کیا محسوس کر رہے ہیں ؟
بہت اچھا سر،مزا آرہا ہے کام کرنے کا،ولیم نے تحمل سے جواب دیا۔

 

میں نے آج تک آپ کی بھیجی گئی تمام فائلوں کا مطالعہ کیا ہے،ہیلے نے گفتگو میں اطمنان پیدا کرتے ہوئے کہا،ولیم آپ بہت تیز دوڑ رہے ہیں۔ اِس میں ساتھ دینے والے ہانپ جائیں گے یا شاید آپ کی ہی سانس اُکھڑ جائے،اس کے بعد اس نے میز کے ایک کونے پر پڑی تانبے کی

 

خوبصورت گھنٹی کا بٹن دبا دیا جس کے بعد فوراً ایک ہندو ملاز م اندر داخل ہوا،تحصل جلال آباد کی فائلیں لاؤ۔

 

ملازم ہیلے کا حکم سن کر باہر نکل گیا۔ ولیم نے سوچا ہیلے کا خاص جلال آباد تحصیل کا نام لینے کا مطلب یہ باور کرانا ہے کہ اُس کے ما تحت فیروز پور کی پوری پانچ تحصیلیں ہیں۔ جن میں سے ایک جلال آباد کی تحصیل بھی ہے۔ چناچہ ولیم سمجھ لے کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر میں بہت فرق ہے۔ ولیم انہی خیالات میں تھا کہ ہیلے کی دوبارہ آواز سُنائی دی،میں نے آپ کی تمام فائلوں کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ بہت عمدہ کام کر رہے ہیں لیکن ہمیں بہت سے کام ایک ہی وقت میں نہیں چھیڑدینے چاہییں۔

 

ولیم نے سر اُٹھا کر دیکھا تو جلال آباد سے بھیجی گئیں چاروں فائلیں میز پر پڑی تھیں،جنہیں ملازم چند ثانیے پہلے رکھ کر جا چکا تھا اور اُن پر ہیلے اب گفتگو کرنا چاہ رہا تھا۔ ولیم نے ایک لمحے کے لیے ہیلے کی طرف دیکھا اور اپنے لہجے میں تھوڑی سی خوشامد کانمک ڈال کر بولا،سر میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں تحصیل میں گورنمنٹ اور عوام کے جو مسائل موجود ہیں،اُن پر آپ کی توجہ مبذول کرا دوں۔ باقی تو جو آپ کہیں گے وہی ہو گا،میں تیز دوڑوں گا بھی تو تحصیل سے باہر نہیں جا سکتا۔

 

ہیلے ولیم کے اس جواب سے ہلکا سا مسکرا دیا اور دوبارہ بولا،ولیم جانتے ہو؟ مجھے اُس وقت اپنی خوشامد اچھی لگتی ہے جب کوئی میرا انگریز جونیر کرتا ہے ورنہ دیسی افسر تو بنے ہی خوشامد کے لیے ہیں۔ بہر حال یہ ایک بات تھی،ہم اپنے مقصد کی طرف آتے ہیں۔ آپ سرِ دست اپنی ترجیحا ت ایک یا دو کامو ں کو دو۔ ہم جانتے ہیں،اِن علاقوں میں اتنے مسائل ہیں جن پر برطانیہ حکومت اگر دو سو سال تک مسلسل کام کرے تو بھی وہ ان کے رنگ کی طرح صاف نہیں ہو سکتے لیکن یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ میں ایک فائل آپ کو دے رہا ہوں (ولیم کی طرف ایک فائل بڑھاتے ہوئے،جسے ولیم نے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا اور کھولنے لگا) اِس میں کچھ ہندو بنیوں کے نجی سود در سود کے نظام اور اُن کے ہاتھوں پنجاب کے غریب دیہاتیوں کے استحصال کی کار گزاریاں ہیں۔ یہ وہ لعنت ہے جس کی ہم نے سختی سے حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ یہ بنیے ناصرف پورے پنجاب کے غریب اور مالدار لوگوں کو رہن رکھے ہوئے ہیں بلکہ ہندوستان بھر میں اِن کی قینچیاں نوابوں سمیت ہر ایک کی جیب پر چل رہی ہیں۔ اس کے بعد ہیلے ولیم کی طرف جھکتے ہوئے بولا،میں یہ بات آپ کو نہ تو فائل پر لکھ کر دے سکتا ہوں اور نہ ہی کسی اور طرح سے سمجھا سکتا ہوں،صرف زبانی کہ سکتا ہوں۔ لیکن اس کو لکھے ہوئے احکام سے زیادہ اہم سمجھو۔ تمھیں یہاں بلانے کا سب سے اہم مقصد یہی تھا۔

 

ولیم ہیلے کی خوشامد والی طنز سے اتنا گھبرا گیا تھا کہ کچھ لمحے اُس کا دماغ بھی ٹھکانے پر نہیں رہا تھا لیکن جب ہیلے نے اپنی گفتگو آگے بڑھائی تو اُس کی خجالت جلد ہی صاف ہوگئی۔ اُسے اس گفتگو سے ایک گونہ اطمنان سا ہوا۔ وہ جس واقعے سے ڈر رہا تھا،اُس کے متعلق خوف رفع ہو گیا اور اب بغیر جھجھک کے بولا،سر عوام کا استحصال تو اور بھی کئی رنگ میں جاری ہے لیکن ان بنیوں پر ہی خاص توجہ دینے کی ایسی کون سی مجبوری لاحق ہو گئی۔

 

بہت سی،ہیلے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا،ان کی وجہ سے حکومت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ زمین داروں سے سود کی رقم ادا نہیں ہو پاتی،نتیجہ یہ کہ ان کا کیس عدالت میں آجاتا ہے اور عدالت قرضے کے عوض زمینداروں کے مالیاتی حقوق بنیوں کے نام کر دیتی ہے۔ بنیے خود زمین داری سے واقف نہیں۔ وہ سب کچھ مزارعوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ مزارع وہی ہوتے ہیں،جو ان بنیوں کے مقروض ہیں۔ چنانچہ یہی لوگ اُن زمینوں کی کاشت کرتے ہیں لیکن انہیں فصل سے بہت کم حصہ ملتا ہے اور اُن زمینوں میں مزارع دلچسپی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے علاقے میں کاشتکاری کانظام آگے پنپ نہیں رہا۔ دوسرا بڑا نقصان یہ کہ اِن کے نجی بنکاری نظام نے سرکاری بنکوں کے نظام میں خلل ڈال رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی بنکو ں کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔ اس عمل سے گائے کا دودھ بکری کے تھنوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

 

تو سر اس میں مَیں کس طرح اپنا وجود ثابت کر سکتا ہوں؟،ولیم سمجھ گیا تھا کہ عوام کا استحصال تو خیر ایک بات تھی۔ اصل مقصد تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے آخر میں بتایا لیکن اُس نے سوچا مُردے کی وراثت پانے والوں سے بچ کر مرنے والے کا اُسترا بھی گورکن کو مل جائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔

 

تم مالیات کے نظام میں پٹواری کے دخل اور زمین کی خریدو فروخت میں ٹیکس کو جتنا ہو سکے زیادہ فروغ دو۔ اگرچہ اِس کے نفاذ کے معاملے میں آپ کو تمام ہدایات تحریری ہی وصول ہوں گی۔ لیکن ایسا ہوتا ہے کہ لوگ باہر ہی باہر زمین فروخت کر دیتے ہیں،جس کا اندراج کاغذات میں نہیں ہوتا۔ ہوتا یہ ہے کہ نہری پانی کا مالیہ وہ ادا کرنا شروع کر دیتا ہے جس نے زمین مول لے لی ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ زمین خود بخود مالیہ ادا کرنے والے کے نام ہو جاتی ہے،جو عموماً بنیا ہوتا ہے۔ ہم اس نظام کو مشکل بنا رہے ہیں اور ہر حالت میں زمین خریدنے والے پر بھاری ٹیکس لگا رہے ہیں۔ وہ کسی بھی صورت میں بغیر گورنمنٹ کو ٹیکس دیے زمین اپنے نام نہیں کروا سکتا۔ دوسری طرف بہت سے فیصلے چونکہ تحصیل سطح پر آپ نے خود ہی کرنے ہیں۔ اِس لیے کوشش کرنا کہ بنیوں کو کم سے کم اُن فیصلو ں میں فائدہ پہنچے۔ باقی تمام معاملات اِس بارے میں مالی تحصیل دار کو پتا ہے۔ وہ آپ کو مشورے دیتا رہے گا۔

 

ولیم تھوڑی دیر کے لیے چُپ بیٹھا رہا پھر مسکرا کر بولا،سر ایک کافی کا کپ مزید مل جائے گا ؟

 

وائے ناٹ،ہیلے نے ایک بار پھر گھنٹی کا بٹن دباتے ہوئے کہا،اور ہاں ایک بات یاد آئی،آپ کوئی بھی کام براہِ راست خود کرنے کی کوشش نہ کیا کریں،مختلف کاموں کے لیے آپ کے پاس مختلف آفیسر ہیں بس انہی سے سروکار رکھیں اور زیادہ دوروں سے پر ہیز کریں۔ چوری ڈکیتی اور امن و امان پولیس کا کام ہے۔ آپ اُن کے لیے تمام ہدایات ڈی ایس پی کو دیا کریں۔ مَیں حیران ہوں یہ تمام چیزیں آپ کی ٹریننگ کا حصہ تھیں لیکن آپ پھر بھی جودھا پور اور جھنڈو والا کے چکر لگاتے پھرے۔ یہ پولیس کا کام ہے اُن کو کرنے دیں۔

 

ولیم کو ہیلے کے یہ جملے سُن کر ایک دفعہ پسینہ آ گیا اور اُسے لگا جیسے اصل میں اسی لیے بلایا گیا ہے،باقی سب باتیں بہانہ تھیں۔ لیکن یہ بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آیا ڈپٹی کمشنر صاحب ملزمان کی مدد کرنا چاہتے یا اُسے کسی نقصان سے بچانے کے پیش نظرسرزنش کر رہے ہیں۔ ولیم نے اس بات کو ذرا کھول دینا مناسب سمجھا اور کہا،سر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے،کچھ دنوں سے جلال آباد میں شرپسندوں نے قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ میں نے اُس کے لیے ڈی ایس پی لوئیس کو کچھ احکامات جاری کیے ہیں،جن میں سودھا سنگھ کے مال کو ضبط کرنے کے احکام بھی ہیں۔ اُن کے لیے آپ کی منظوری چاہیے،یہ کہ کر ولیم نے سودھا سنگھ کی فائل جو ڈی ایس پی لوئیس نے آج صبح ہی ولیم کے حوالے کی تھی،ہیلے صاحب کے آگے کر دی اورولیم اُس وقت حیران رہ گیا جب ہیلے نے اُس پر بلا تردد دستخط کر دیے،تو گویا ملزموں کی پشت خالی تھی۔

 

فائل پر دستخط کے بعد ولیم قدرے پُر سکون ہو گیا۔ اُس نے کافی کی چسکیوں کے ساتھ دوسرے مسائل پر گفتگو شروع کردی،جن میں دو مسئلے سب سے اہم تھے اور انہی پر ولیم اصل میں کام کرنا چاہتا تھا۔ اُن میں سے ایک تعلیم اور دوسرا جلال آباد میں نہری نظام کی مزید بہتری اور بڑے پیمانے پر کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے بنگلہ نہر کی تجویز۔ جسے ہیلے نے بہت سراہا اور اُس پر جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ چاہے گا،اسی ماہ کی چیف سیکرٹری صاحب سے ملاقات پر اُن سے اس کی منظوری لے لے۔ الغرض اِن مسائل پر ایک گھنٹے تک دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی،جو نہایت خوشگوار ماحول میں تھی۔ اُس کے بعد ولیم نے اجازت چاہی اور ابھی اُٹھنے ہی لگا تھا کہ ہیلے نے ولیم کو روک کر پھر ایک جملہ کہ دیا۔
ولیم کیا نام ہے اُس لڑکے کا،،غلام حیدر،،ہاں اُس کو انصاف ملنا چاہیے۔ لیکن اُس کی ریفل دو مہینے کے لیے قبضے میں لے لو اور اُس پر خاص نظر رکھو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملزموں کے ساتھ نرمی برتو۔ شر پسندوں کو سختی سے دبادو۔ یہ کہ کر ڈپٹی کمشنر صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی ولیم بھی اُٹھ گیا۔

 

اب بارہ بج گئے تھے اور کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ اس لیے دونوں کھانے کے کمرے کی طرف چل دیے۔ اِسی دوران ولیم سوچنے لگا کہ خدا کی پناہ ہیلے کتنا چالاک آدمی ہے۔ اُس نے ہر گز پتا نہیں چلنے دیا کہ اصل میں اُسے کس لیے بلایا گیاہے۔ تمام اہم مسائل پر اُس نے اس طرح گفتگو کی کہ وہ اُس کے اصل ارادوں سے بالکل بھی واقف نہیں ہو سکا۔

 

(28)

 

ٍڈی ایس پی لوئیس کی گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی جب اُنہوں نے جھنڈو والا پر یلغار کی۔ اس بات کا پولیس کو پتا تھا کہ دما کے قتل کی خبر سنتے ہی سردار سودھا سنگھ پٹیالہ جا چکا ہے اور فی الحال اُس کے گرفتار ہونے کے امکانات صفر ہیں۔ لیکن پرچے میں کچھ اور لوگوں کے نام بھی درج تھے اس کے علاوہ سردار سودھا سنگھ کا بھائی سردار نتھا سنگھ بھی وہیں موجود تھا،جس کی گرفتاری اِس کیس میں کافی کار آمد ثابت ہو سکتی تھی۔ علاوہ ازیں جھنڈووالا پر یہ چھاپہ اوربھی بہت سے عوامل کو سامنے لا سکتا تھا۔ اگر اس وقت بھی چھاپہ نہ مارا جاتا توپورے علاقے میں لا اینڈ آڈر کا خطرناک تاثر پیدا ہو جاتا اور کہا جاتا کہ پولیس سردار سودھا سنگھ پر ہاتھ ڈالنا تو ایک طرف جھنڈووالا میں وارنٹ گرفتاری لے کر داخل بھی نہ ہو سکی۔

 

لوئیس صاحب خود جیپ پر سوار تھے جن کے ساتھ انسپکٹر متھرا،انسپکٹر مدن لال اور تھانیدار بلرام تھا۔ اِن کے علاوہ چار تھانوں کے چالیس گھوڑ اسوار تھے،جن میں سب انسپیکٹر،حوالدار اور سپاہی سب شامل تھے۔ پولیس کے سپاہی گھوڑوں پر اسوار کچھ جھنڈو والا کے باہر ناکہ لگا کر کھڑے ہو گئے تاکہ ملزم بھاگ نہ سکیں اور باقی گاوں کے اندر گلیوں میں پھیل گئے۔ ڈی ایس پی لوئیس اور باقی تمام عملے نے سودھا سنگھ کی حویلی کا گھیراو کر لیا۔ جھنڈو والا میں اِس قدر انگریزی افسر اور دیسی پولیس لوگوں نے پوری زندگی تو کیا خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔

 

اِکا دُکا لوگ جاگ اُٹھے تھے،جو ادھر اُدھر کام میں اور اپنی فصلوں میں ہل وغیرہ جوتنے کے لیے نکل رہے تھے۔ اِن لوگوں میں سے کچھ اُٹھنے کے باوجود نیند کے خمار میں تھے۔ اُن کی آنکھیں ابھی پوری طرح نہیں کھلی تھیں۔ کچھ بیل ہنکا کر لے جا رہے تھے۔ کوئی کسئی اور درانتی لے کر اور گدھی پر واہنا رکھے آنکھیں ملتے سانجرے ہی سانجرے چارہ لینے جا رہا تھا۔ اِنہیں اِس ناگہانی آفت کا کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے ؟جب جاگنے والوں نے جیپ کی آواز اور گھوڑوں کی دڑ دڑ سُنی تو اُنہوں نے سونے والوں کو جلدی جلدی اُٹھایا اور سب لوگ باہر کی طرف بھاگنے لگے۔ باہر ہر طرف فرنگی پولیس کے پہرے اور کالی نال والی بندوقیں ہی بندوقیں تھیں۔ پولیس مخبروں کی دی ہوئی اطلاع کے مطابق کئی گھروں میں گھوڑوں سمیت داخل ہو رہی تھی اور بندوں کو گھسیٹ کر باہر نکال رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ بیتوں اور چابکوں سے اُن کی پٹائی بھی جاری تھی۔ اِن گرفتار ہونے والوں میں تھانیدار بلرام کے مطابق وہ لوگ تھے،جو جودھا پور کے چراغ دین کے قتل اور مونگی کی تباہی میں شامل تھے۔ اِن کے ناموں اور گھروں کی مخبری دیدار سنگھ کی رپورٹ کے مطابق جھنڈو والا ہی کے ایک شخص نے کی تھی۔
ملزموں کو نہایت بے دردی سے پیٹا بھی جا رہا تھاکہ اُن پر انگریزی قانون کی اچھی طرح سے دہشت طاری ہو جائے اور مکمل خوف و ہراس پھیل جائے۔ جھنڈو والا میں ایک طرح سے یک دم قیامت برپا ہو چکی تھی۔ حملے کی شدت اور خوف سے عورتوں نے اونچی اونچی چیخنا اور رونا دھونا شروع کر دیا۔ مرد ادھر اُدھر بھاگنے لگے لیکن اب پولیس بھی،جو ہاتھ میں آتا پکڑ پکڑ کر کوٹاپا پھیرنے لگی۔

 

اس سارے عمل کے دوران ڈی ایس پی لوئیس سودھا سنگھ کے گھر کے سامنے سات آٹھ افراد کے عملے کی حفاظت میں کھڑا آ رام سے اِس پورے منظر سے محظوظ ہو رہا تھا۔ جبکہ سنتری ملزموں کو پکڑ پکڑ کر اُس سے کچھ فاصلے پر ڈھیر کر رہے تھے۔ چھ سات سپاہی اور تھانیدارسودھا سنگھ کی حویلی میں داخل ہو چکے تھے تاکہ گھر کی مکمل تلاشی لی جائے۔ ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ سودھا سنگھ وہیں پر موجود ہو اور یہ ہوائی اُڑا دی گئی ہو کہ وہ پٹیالا چلا گیا ہے۔ یقیناً تھانیدار اکیلا آتا تو اُس کی جرات نہیں تھی کہ وہ سودھا سنگھ کی حویلی میں داخل ہو تا لیکن اب تو تحصیل کا سب سے بڑا انگریز پولیس افسر اُن کے ساتھ تھا۔ اِس لیے سپاہی،حوالدار اور تھانیدار سب ہی دلیر ہو گئے۔ وہ سودھا سنگھ کی حویلی کی چار پائیاں اور موڑھے اُلٹ پلٹ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں سودھا سنگھ کے بھائی نتھا سنگھ کو بھی ڈپٹی صاحب کے سامنے لا کر پھینک دیا،جس کا ڈیل ڈول یوں تو بھائی ہی کی طرح تھا لیکن شخصیت میں رعب خاک نہیں تھا۔ فقط داڑھی کی لمبائی اتنی تھی کہ سودھا سنگھ کی داڑھی اُس کے نصف میں ہو گی۔ نتھا سنگھ لوئیس کے قدموں میں اِس طرح پڑا تھا جیسے چھوٹا سا بچہ پیاس سے بلک رہا ہو اور یہ ایسی گستاخی تھی،جس کو دیکھ کر پورے گاؤں والوں کے پسینے چھوٹ گئے۔ اُن کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ انگریز سرکار اِتنے غصے میں ہو گی۔ ابھی لوئیس صاحب نتھا سنگھ کی طرف متوجہ ہی تھے کہ کچھ سپاہی پیت سنگھ کو بودیوں سے پکڑ کر لے آئے۔
اب دن کا سورج سامنے چمک رہا تھا اور پندرہ بندے ہاتھ بندھے لوئیس صاحب کے آگے پڑے تھے،جن پر ڈنڈوں اور چابکوں کی لگاتاربارش نے اُن کے جسم بھی اُدھیڑ کر رکھ دیے تھے۔ جھنڈو والا کے لوگوں کو یہ تو پتا تھا کہ پولیس کسی دن اُن پر ضرور چڑھائی کرے گی لیکن اُنہیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ معاملہ اِتنا سنجیدہ ہو جائے گا اور فرنگی اُن پر یوں لوہے کے گھوڑے اور آگ کے چابک لے کر چڑھ دوڑیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ اب ضرورت سے زیادہ حوصلہ چھوڑ بیٹھے۔ انگریز سرکار کی اتنی سختی دیکھ کر اُن کے اوسان جاتے رہے اور پیشاب خطا ہو گئے۔ سوائے رونے چیخنے اور واویلا کرنے کے اُنہیں اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
چھاپے کے شروع میں ایک دو عورتوں نے سپاہیوں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے کی کوشش بھی کی لیکن جب اُن پر بھی ڈنڈے چل گئے تو وہ بھی سہم کر چُپ ہو بیٹھیں۔ وہ سوچ رہے تھے،اچھا ہی ہوا سودھا سنگھ پٹیالا چلا گیا ورنہ آج اُس کی ساری عزت اور رعب فرنگی سرکار پاجامے کے رستے نکال دیتی پھر جھنڈو والا کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔ لوگ اگر کسی کی ذلت کی مثال دیتے تو وہ جھنڈو والا کا نام لیتے۔

 

پولیس کا چھاپہ انتہائی صبح کے وقت پڑا تھا،اس لیے کافی لوگ سوئے ہوئے اچانک دبوچے گئے۔ بعض کو پولیس کی اتنی زیادہ نفری کے سامنے بھاگنے کی بھی جرات نہیں ہوئی۔ وہ جتنا بھی تیز دوڑتے،گھوڑوں سے آگے نہیں نکل سکتے تھے اور ہاتھ آنے پر پولیس کا غصہ بر داشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ پھر وہ پٹائی ہوتی کہ گرو جی بھی دنگ رہ جاتے۔ اِس کے علاوہ پکے مجرم بھی سمجھ لیے جاتے۔ چنانچہ اُنہوں نے بھی نہ بھاگنے میں ہی مصلحت جانی۔

 

کافی دیر تک یوں ہی پکڑ دھکڑ جاری رہنے کے بعد جب گاؤں کے مرکز میں ایک مجمع لگ گیا تو لوئیس صاحب نے تھانیدار کو حکم دیا کہ سودھا سنگھ،جگبیر سنگھ اور دوسرے نامزد مجرموں کامال مویشی اور جو مخبری کے مطابق مشکوک مجرم ہاتھ نہیں آ سکے،اُن کا بھی مال آگے رکھ کے پھاٹک لے چلو۔ جو ملزم پکڑے گئے ہیں،اُن کا مال لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جب سب کچھ نپٹا لیا گیا تو لوئیس صاحب،جن کے سر پر پولیس کی ستارے والی ٹوپی اتنی بارعب ہو چکی تھی کہ اب اُسے بھنگی بھی پہن لیتا تو واہگرو سے زیادہ باعزت سمجھاجاتا،اُس نے اپنے دائیں پاؤں کے جوتے پر ہاتھ میں پکڑی ہوئی بیت سے ٹھوہکا لگاتے ہوئے گاؤں وا لوں کو مخاطب کر کے کہا،اہلیانِ جھنڈو والا،مَیں آپ کو دو دن کا وقت مزیددیتا ہوں،جن ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں،تھانیدار اُن کے نام آپ کو پڑھ کر سُنا رہا ہے۔ اگر اُنہوں نے دو دن تک اپنی گرفتاری نہ دی تو یاد رکھو،سرکار اُن کا مال لے کر جا رہی ہے۔ سرکار اُن کا یہ مال نیلام کرنے کی مجاز ہوگی اور اُس کی رقم اپنے خزانے میں داخل کرلے گی۔ اِس کے علاوہ اُن کے گھروں کو کھُدوا دیا جائے گا اوربیوی بچوں کو جلال آباد تھانے لے جا کر بند کر دیا جائے گا۔ یہ کہ کر لوئیس صاحب انسپیکڑ متھرا کی طرف مُڑے اور بولے،متھراصاحب آپ اِن سب کو اپنی نگرانی میں تھانے پہنچاؤ اور کل میٹنگ کے لیے تھانیدار کو ساتھ لے کر پہنچ جاؤ۔ ہم دیکھتے ہیں،کس طرح گورنمنٹ کے قانون کے ساتھ مذاق اُڑایا جاتا ہے اور سودھا سنگھ کتنا بڑا سورما ہے۔

 

اس کے بعدلوئیس صاحب جیپ پر بیٹھ گئے اور ڈرائیورنے انجن کی گراری کارسًہ کھینچ دیا اور پورے بارہ بجے پولیس مجرموں کے قافلے کے ساتھ جلال آباد روانہ ہو گئی۔

 

تمام مجرم ہاتھ بندھے ایک گڈ پر بٹھا لیے۔ جس کے آگے دو بیل جُتے ہوئے تھے،جو اُسی گاؤں سے لیے تھے۔ گَڈے کو بیس گھڑ سوار سپاہیوں کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ جن میں سے اکثر کے پاس لمبی نال والی توڑے دار بندوقیں تھیں۔ جب سپاہی فوجاسیو کے گھر کے سامنے سے گزرے تو فوجا سیو دروازے کے باہر کھڑا اُنہیں دیکھ رہا تھا۔ حقیقت میں اُنہیں اِس طرح قید میں بندھے ہوئے جاتے دیکھ کر فوجا سیو کا جی اندر سے زار زار رو رہا تھا۔ جیسے کہ رہا ہو دیکھا،میں نہ کہتا تھا اِس کا نتیجہ بہت بُرا ہو گا لیکن کیا کیا جائے۔ اگر سرداروں کو شراب پینے کے بعد کچھ ہوش بھی رہتا تو آج اِس گَڈ میں سرداروں کی بجائے فرنگی سوار ہوتے لیکن اب تو اِس کی حسرت ہی کی جا سکتی تھی۔ وقت گزر جائے تو سوائے سیاپے کی چوٹوں کے کچھ نہیں بچتا۔ اور حقیقت میں یہ مصیبت اُن پر جگبیر کی وجہ سے آئی تھی اور اب وہ حرامی سودھا سنگھ کے ساتھ پٹیالا میں بیٹھا مزے کر رہا تھا اور اِن غریبوں کو پھنسا دیا۔ پولیس مال مویشی اور ملزموں سمیت جھنڈو والا سے نکل گئی تو عورتوں کو رونے کا موقع مل گیا۔ اُنہوں نے بین کر کر کے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ بعض دو ہتھڑ پیٹنے لگیں۔ پورے گاؤں کی فضا انتہائی سوگوار ہو چکی تھی،جیسے سب گھروں میں ماتمی صفیں بچھ گئی ہو ں۔ یہ دیکھ کر فوجا سیو آہستہ آہستہ چلتا ہوا گاؤں کے اُسی مرکز میں آیا جہاں تھوڑی دیر پہلے سب سے بڑا پولیس والا فرنگی کھڑا تھا۔ فوجا سئیو کو دیکھتے ہی اُس کے گرد تمام گاؤں کا مجمع لگ گیا۔ خاص کر عورتیں پیٹ پیٹ کر اپنا بُرا حال کر رہی تھیں۔ باقی لوگ یا تو طرح طرح کے تبصرے کر رہے تھے یا بولنے والو ں کو فقط ٹک ٹک دیکھے جا رہے تھے۔ اس تمام صورت حال میں صرف فوجا سیو ہی تھا جس کے ہوش کچھ ٹھکانے پر تھے اور گاؤں والوں کے لیے دلاسے اور ڈھارس کی جگہ تھی۔ فوجا سیو نے جب دیکھا کہ سب اُسی کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ اب جو اُپا کرنا ہے،اُس کے بارے میں بتائے،تو فوجا سیو تمام متروں کی طرف دیکھ کر تلخی سے بولا،مترو،ہُن شیر بنو،جو کجھ تسیں کرنا سی،اوہ کر لیا،ہن تاں شریکاں دی واری آ،ہن واری دی سٹ مرد بن کے سہوو۔ پھر تھوڑی دیر چپ کرنے کے بعد دوبارہ بولا،بیرو گھبران دی کوئی گل نہیں۔ ہُن آپاں مرداں طرحاں مقابلہ کراں گے۔ اَتے جلد ہی اپنے متراں نوں فرنگیاں کولوں لے کے آجاں گے۔ مَیں اَج ہی سردار ہرے سنگھ نوں جا کے مل ناں۔ باقی مال تاں آن جان آلی شے آ۔ اوندا دکھ نئیں کرنا۔ اِس کے بعد سردار فوجا سئیو نے دیون سیو کو آواز دے کر کہا،دیون پُت میری گھوڑی تے ساز کس دے۔ مینوں ہُن فیروز پور جانا ای پے گیا۔ بھجیاں باہواں تاں سیاناں کیہیا وا گل نوں ای اوندیاں۔ اُس نے سکھ عورتوں کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا،کوئی گل نئیں دھیؤ جے سودھا سنگھ اَتے جگبیر تُہانوں مشکل وچ چھڈ کے پٹیالا نس گئے نے۔ مَیں تہاڈے باپو دی تھاں تہاڈے نال آں۔ سردار ہرے سنگھ کولوں اودوں ہی اُٹھاں گا۔ جَد مال تے بندے جھنڈو والا اپنے گھر آ جان گے،تسیں فکر ناں کرو۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – دوسری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(4)

 

ولیم کو انگلستان سے آئے ایک سال کے قریب ہوگیا لیکن ابھی تک اُسے خاص جگہ تعینات نہیں کیا گیا تھا۔ مختلف کمشنروں کے دفتروں میں ہی چھوٹے موٹے کاموں کی تربیت میں مصروف رکھا،تاکہ کام پر نکلے تو پورے حساب میں ہو۔ایک سال کے بعد جب اُس کے باقاعدہ پوسٹنگ آرڈر تیار ہوئے تو وہ فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں بطور اسسٹنٹ کمشنر کے تھے۔ ولیم نے بہت کوشش کی اُسے مشرقی پنجاب نہ بھیجا جائے مگر اِن دنوں چیف سیکرٹری صاحب کے موڈ اچھے نہیں تھے اور کمشنر جیمس ویسے ہی ولیم کے باپ سے خار کھائے بیٹھا تھا۔اس لیے وہ اُن سے کہنے کا رِسک نہیں لے سکتا تھا۔ جانسن نے پہلے ہی کہہ دیا تھا اِس معاملے میں کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ولیم کو فیروزپور میں بطورِ اسسٹنٹ کمشنر اپنی پوسٹنگ کے آرڈر لینے ہی پڑے، بجز اس کے چارہ نہیں تھا۔

 

ولیم فیروزپور میں ڈسڑکٹ آفس کے ریسٹ ہاؤس میں پہنچا تو رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ ایک تو رات کی تاریکی تھی دوسرا پہلے اس علاقے میں آیا بھی نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی شہر کے خط وخال اور رنگ ڈھنگ کو دیکھ نہ سکا۔علاقے کا تحصیلدار اور دوسرے کئی دیسی افسر ریلوے سٹیشن پر اُسے لینے کے لیے آئے۔ سرد رات کے اس پہر ولیم کے لیے اُن کی شکلیں بھوتوں کے سا ئے محسوس ہو رہے تھے۔اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی گیدڑوں کی ہاؤ ہُو اور کتوں کے بھونکنے کی آواز وں نے اُس کا استقبال کیا۔ ان کریہہ آوازوں نے ڈسٹرکٹ کمپلیکس تک اُس کو آزار پہنچایا۔اس کے سبب ولیم کی بیزاری مزیدبڑھ گئی۔ فیروز پور شہر جس قدر کھلا تھا اُسی قدر سنسان بھی تھا۔ جیپ سے اُترا تو اُس نے دیکھا ہر طرف سناٹے کا سماں ہے۔ پانچ چھ سکھ سنتری بندوقیں کاندھوں پر رکھے ستونوں کی طرح اٹینشن کھڑے تھے۔ غالباََ اُنہیں بتا دیا گیا تھا کہ نئے صاحب آ رہے ہیں۔ چوکیدار اور سنتریوں نے تیزی سے سلام کیااور ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ ولیم نے چاروں طرف غائر نظر ماری۔گیس کے ہُنڈے جل رہے تھے، جن کی پیلی روشنی ہلکی دھند میں مزید ٹھنڈی اور دھندلی ہو رہی تھی۔ گاہے گاہے دُور سے بھونکتے کتوں اور چیختے گیدڑوں کی آوازیں اِس دُھند میں اور زیادہ اُداسی پھیلا رہی تھیں۔ ایک افسر نے ولیم کا اٹیچی کیس پکڑ لیا۔ دوسرا عملہ چوکیدار کے ساتھ مل کر جیپ سے بقیہ سامان اُتارنے لگا۔اِسی اِثنا میں ولیم قدم بڑھاتا ہوا ریسٹ ہاؤس میں داخل ہوگیا۔ وہ کچھ دیر ٖضرور باہر کی ہوا دیکھتامگر سفر کی تھکاوٹ اور ٹھہرے ہوئے موسم نے اُسے اِس بات پر آمادہ نہ ہو نے دیا۔ جب سامان اندر آگیا اورتحصیلدار سمیت تمام عملہ سلام کر کے رخصت ہو چکا تو چوکیدار سامان کو ترتیب سے ایک طرف جمانے لگا۔ اس معاملے میں اس کی مدد ایک سب انسپیکٹرازخود کر رہا تھا۔ اِسی بہانے اُس نے ایک بار ولیم سے گفتگو کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ولیم اپنی ہدایات مسلسل چوکیدار ہی کو دیتا رہا۔ سامان پوری طرح ترتیب سے لگ گیا تو ولیم نے سب انسپیکٹر کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور آرام سے کرسی پر دراز ہو کر چوکیدار سے مخاطب ہوا۔

 

مسٹر آپ کا نام کیا ہے ؟

 

چوکیدار پورے جوش سے آگے بڑھتے ہوئے بولا، جی صاحب بہادر غلام کا نام نیاز دین ہے لیکن سب نجا کہتے ہیں۔ صاحب آپ حاکم ہیں، جس نام سے چاہیں بلا لیں۔

 

ولیم نے بغیر تاثر اور کیفیت پیدا کیے کہا، نو نو نیاز دین، ہم آپ کو نیاز دین ہی کہیں گے۔پھر فوراََ کرسی سے اُٹھ کر بولا، نیاز دین ہمارے نہانے کا بندوبست کرو۔ ہم جلدی آرام کرنا چاہتے ہیں۔

 

صاحب جی، پانی گرم ہے۔ مجھے پتہ تھا آپ آ رہے ہیں اس لیے مَیں نے آپ کے آرام کا پورا بندوبست کر دیا ہے۔ نیاز دین نے ایک کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ولیم کوداد طلب نظروں سے دیکھامگر ولیم کا چہرہ سپاٹ رہا۔ وہ بغیر کچھ کہے واش روم کی طرف مُڑ گیا۔ نیاز دین کو ولیم کے اس عمل سے تھوڑا سا دکھ ہوالیکن زیادہ تعجب نہ ہوا کیونکہ وہ اس ریسٹ ہاؤس میں کئی برسوں سے چوکیدارہونے کے سبب انگریز افسروں کے سپاٹ رویوں کا عادی ہوچکا تھا۔بلکہ وہ اس بات سے خوش تھا کہ ولیم نے اُس کے اصلی نام سے اُسے مخاطب کیا تھا۔

 

گرم پانی سے نہاکرولیم کی طبیعت میں تازگی کا احساس در آیا۔ ابھی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ نیاز دین نے یاد دلایا، کھانا تیار ہے۔ ولیم نیاز دین کی اس تیز رفتاری سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہامگر اپنے آپ کو جذبات سے باہر رکھتے ہوئے،جس کی تاکید سول افسر کو خاص طور پر دورانِ تربیت کی جاتی ہے،بولا،ویل ڈن نیاز دین اور کھانے کے کمرے میں چلا گیا۔کمرے کی اندرونی ترتیب کا اہتمام خاص طور پر آرائش سے لے کر کھانے تک انگریزی اور ہندوستانی امتزاج سے بہت عمدہ کیا گیا تھا۔ کھانے کے دوران نیاز دین اور باورچی ہاتھ باندھے خدمت کے لیے تیار ایک کونے میں کھڑے رہے۔ ولیم نے باورچی کو نہ تو آواز دی اور نہ ہی نام پوچھنے کی ضرورت محسوس کی۔ البتہ ایک دفعہ نیاز دین کو تھینکس ضرور کہا۔

 

چائے پینے کے بعد ولیم ایک دفعہ پھر ریسٹ ہاؤس کے صحن میں نکل آیا اور آدھ گھنٹہ ٹہلتا رہا تاکہ کھانا ہضم ہو جائے اور اب تھکا وٹ دوبارہ اثر دکھانے لگی تھی۔جس کی وجہ سے غنودگی طاری ہوگئی۔وہ بیڈ روم میں آگیااورلیٹتے ہی سو گیا۔

 

اگلے دن ولیم کی آنکھ کھلی تو اُس نے انگڑائی لیتے ہوئے سامنے کے دیوار گیر کلارک پر نظر ڈالی۔ صبح کے آٹھ بج رہے تھے جس کا مطلب تھا کہ وہ پورے نوگھنٹے سویا۔اس قدر سکون کی نیند اُسے شاید ہی کبھی آئی تھی۔ مختصر یہ کہ ناشتہ کرنے اور پوری طرح سے تیار ہونے کے بعد دس بجے کمرے سے نکلا۔دھوپ خوب چمک رہی تھی۔ باہر قدم رکھتے ہی اُس کی نظر بغیر کسی رکاوٹ کے دُور تک چلی گئی۔ باہر نہ تو کوئی دیکھنے کو منظر تھا اور نہ زندگی کے آثار۔ کچے میدان اور خاکستری آسمان کے درمیان فقط چند اُجاڑ درخت ایک دوسرے سے دُور اور روٹھے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔اُن ٹُنڈ مُنڈ پیڑوں پر نہ کوئی پرندہ تھا، نہ گلہریوں کے آثار۔ ریسٹ ہاؤس کے گرد دوچار کیکر، ایک برگد اور بے شمار عک کے پودے تھے۔ جن کے اندر غالباً چوہیاں دوڑ رہی تھیں۔ کیکر کے پیڑوں کے نیچے تُکلوں کی پھلیاں بکھری پڑی تھیں۔ایک جانب کچھ سرسوں کے کھیت اور دوسری طرف شہر کی اُجڑی عمارتیں تھیں۔بازاروں کو وہ دُور ہونے کی وجہ سے نہ دیکھ سکتا تھا۔لیکن اُسے یہ احساس ضرور ہوگیاکہ یہ شہر انسانوں سے زیادہ بھوتوں کا ہوگا۔اُسے یہ سب دیکھ کر تعجب ہوا۔ کیا فیروز پور انگریزی سرکار کے ماتحت نہیں کہ اس کی جمالیات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ؟یا پھر یہ شہر ہی منحوس ہے۔ تحصیلدار جوزف اور ایک دو دیسی افسر اسے ویلکم کہنے کو ریسٹ ہاوس کے باہر موجود تھے، جو صبح سات بجے ہی وہاں پہنچ گئے تھے اور تین گھنٹے تک ویٹنگ روم میں بیٹھے ولیم کے نکلنے کا انتظار کرتے رہے۔ ولیم نے اُن سے ہاتھ ملا کر ہیلو کہنے کے علاوہ کچھ خاص بات نہیں کی، اپنے اُنہی خیالوں میں گم چلتا گیا مگر پھر اُس نے یہ خیال جھٹک دیا کہ خواہ مخوادماغ کو ہلکان کرنے کا فائدہ نہیں تھا۔ کونسا اُس نے یہاں رہنا تھا، نہ ہرچیز ٹھیک کرنے کا اُس نے ٹھیکہ لیا تھا۔ اُس نے سوچا وہ کچھ وقت تک یہاں مہمان ہے۔ اُس کی بلا سے جائے جہنم میں۔ اُسے تو ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ہدایات وصول کرنا ہیں۔ وہ یہ کام جلد کر کے جلال آباد کی طرف نکل جانا چاہتا تھا، جہاں اُسے اپنے فرائض بطوراسسٹنٹ کمشنر ادا کرنے ہوں گے۔ لاہور سے جاتے ہوئے اُس نے خیال کیا تھا کہ دوچار دن کے لیے فیروز پور رُکے گالیکن یہاں آکر جلد ہی اکتاہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ یہاں اگر کوئی شے اِن میں جاندار تھی تو وہ نیاز دین تھا، جس نے اُسے کل شام سے کچھ تکلیف نہ ہونے دی، لیکن جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے،فیروز پور آنا ولیم کی غلطی نہیں مجبوری تھی۔ اس کے ساتھ ایک بات کا اُسے اطمینان بھی تھا کہ اُس کی پوسٹنگ ابھی فیروز پورہی میں ہوئی تھی، نہ کہ لدھیانہ یا راجستان میں، جس کا پہلے بہت امکان تھا اور اُن کے نام ہی سے وہ بیزار تھا۔پھر یہ بات اور بھی اطمینان بخش تھی کہ فیروز پور کی بجائے اُس کو تحصیل جلال آبادبھیجا جا رہا تھا،جو فیروزپورسے جنوب مغرب کی طرف ستر کلو میٹر پر تھی۔وہاں سے وسطی پنجاب محض پچاس کلومیٹر تھا، اُس کے خوابوں کا استھان۔

 

ولیم خیال کی انہی وادیوں سے گزرتا ہوا ڈپٹی کمشنرکے دفتر پہنچ گیا۔ نائب تحصیلدار وِکرم نے جیپ رُکتے ہی آگے بڑھ کر ولیم سے بریف کیس پکڑ لیا اور بڑے ادب سے ڈپٹی کمشنر کے کمرے کی طرف رہنمائی کرنے لگا۔ اُس نے دیکھا بہت سے کلرک اپنے کمروں کے کھلے دروازوں سے جھانک رہے ہیں۔اِن میں اکثر کی گول شیشے والی عینکیں میلی چکٹ ڈوریوں سے بندھی،اُن کی ناکوں پر ترچھی جمی اُسے گھو رہی تھیں۔کچھ کلرک اِن دھندلائے ہوئے شیشوں کے اُوپر سے دیکھنے کی کوشش میں تھے۔ ولیم کوسرسری نظر میں بھی اُن کی باہر نکلی ہوئی توندیں اور بغیر بالوں کی چُندھیائیں دِکھنے سے باز نہ رہ سکیں۔ وہ جانتا تھا،یہ سب اُس کے گزر جانے کے بعد اُس پر رائے زنی شروع کر دیں گے۔ جس کا نہ اُنھیں کچھ فائدہ ہو گا اور نہ انگریز سرکارکو۔مگر ہوا میں ضائع ہو جانے والے تبصرے وہ ہر حالت میں کریں گے۔ کلرکوں کے ایسے عمل سے اُسے شدید نفرت تھی مگر اِن کی مشترکہ عادات کو روکنا اُس کے بس کا روگ بھی نہیں تھا۔ وہ راہداریوں سے گزر کر جیسے ہی ڈپٹی صاحب کے دروازے پر پہنچا، ڈپٹی کمشنر ہیلے دروازے پر استقبال کرنے کے لیے موجود تھا۔

 

گڈمارننگ سَر’’ولیم نے ایک لمبا ڈگ بھرتے ہوئے ہیلے کی طرف ہاتھ بڑھا یا۔

 

گڈ مارننگ ینگ مین، ’’ہیلے نے ولیم کا ہاتھ گرم جوشی سے دبایا اور کمرے میں داخل ہونے کا اشارہ کیا۔
تحصیلدار جوزف کو ولیم نے باہر ہی سے رخصت کر دیا۔ نائب تحصیلدار وِکرم نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا اور اُس وقت تک دروازہ پکڑے کھڑا رہا جب تک دونوں کمرے میں داخل نہیں ہو گئے۔ہیلے نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہی سگار کا کش لیا اور ولیم کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کر دیا۔

 

چند ثانیوں بعد ایک شخص کافی اور بسکٹ رکھ کر چلا گیا۔پھر کچھ دیر خاموشی چھائی رہی،نہ ولیم کچھ بولااور نہ ہیلے۔دونوں شاید ایک دوسرے کے جسمانی خدو خال سے دماغ کی اندرونی کیفیت کا اندازہ لگاتے رہے۔ چند ثانیوں کے اس وقفے کے بعد ہیلے نے گفتگو کا آغاز کر دیا،برطانیہ سے کب آئے؟

 

ولیم نے کرسی پر ٹھیک سے پہلو درست کیااور جواب دیا،سر لندن سے آئے ایک سال سے اوپر ہو گیا لیکن آرام سے ایک دن نہیں بیٹھ سکا۔ آپ جانتے ہیں،اکیڈمیوں والے ایک کے بعد دوسری ٹریننگ کے چولہے میں جھونک دیتے ہیں اور سیکھا ہوا بار بار سکھاتے ہیں۔

 

اس باوجود بھی کچھ لوگ نہیں سیکھتے،ہیلے نے یہ جملہ چبھتے ہوئے انداز میں کہا،جسے ولیم محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا لیکن خاموش رہا۔

 

بات فوراًبدل کر اوروطن کی پوری محبت دل میں جمع کرتے ہوئے ہیلے دوبارہ بولا،لندن کیسا تھا؟

 

ولیم نے کاندھے اُچکاتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا،وہی پرانی برف،جو قیامت تک رہے گی۔

 

ہیلے کو ولیم کا جواب ناگوار لگا مگر وہ پی گیا اور گفتگو اپنے مطلب کی طرف لے آیا،فیروزپور کا سفر کیسے کٹا؟ میرا مطلب ہے کچھ تکلیف تو نہیں ہوئی ؟

 

ولیم نے کافی کا گھونٹ پیتے ہوئے جواب دیا، بہت عمدہ سر، ریسٹ ہاؤس کا ملازم اچھا تھا۔

 

باتیں کرنے کے ساتھ ولیم کمرے کا جائزہ بھی لیتا جا رہا۔ ہیلے کی میز اور کمرے کی اندرونی ہیئت واقعتاً برطانوی ایمپائر کی ہیبت کی عکاس تھی۔ دس فٹ لمبی اور چھ فٹ چوڑی میز کے ایک کونے پر رکھا ہوا گلوب کچھ معنی رکھتا تھا۔ کمرہ انتہائی کھلا اور آرائش میں پروقار چیزوں کی نشاندہی کر رہا تھا۔ پردوں سے لے کر صوفوں تک اور سامنے کی دیوار پر برطانیہ کی وسیع سلطنت کے پھیلے ہوئے نقشے کسی بھی ملاقاتی کے دل پر حکومت کی جلالت اور اس کے نمائندے کی ہیبت پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔

 

ینگ مین آپ کب تک جلال آباد جانا چاہتے ہیں؟ ہیلے جلد ہی مطلب پر آ گیا۔

 

ولیم،جسے حال ہی میں انگلستان میں آٹھ سال گزارنے پڑے تھے، جواب دینے کے معاملے میں اس کی طبیعت میں ایک ٹھہراو تھا۔کچھ دیر کافی کی چسکی لینے کے بعد کمرے کو چند ثانیے گھورتا رہا پھر اعتماد کے ساتھ بولا،سَر میں آج ہی یہاں سے روانہ ہونا چاہتا ہوں۔ لیٹر جلد مل جائے تو خوشی ہوگی۔

 

ہیلے نے کچھ دیر ولیم کی نیلی آنکھوں میں، جن میں ہلکا سبز رنگ بھی گُھلا تھا ’دیکھتے ہوئے ایک بھر پور خاموشی کا سوال کیا۔جس کا مطلب تھا، جواب وضاحت طلب ہے۔

 

ولیم نے وضاحت کی ’ سَر میری طبیعت یہاں اُکتاہٹ کا شکار ہو رہی ہے اس لیے اپنے کام پر جلد پہنچنا چاہتا ہوں۔
او کے، ہم آپ کو آج ہی رخصت کر دیں گے۔ ہیلے نے فیصلہ کن انداز میں جواب دیا، بس کچھ ضروری معلومات آپ کے گوش گزار کرنا ہیں۔ جن میں سے کچھ کا تعلق زبانی ہے اور کچھ تحریری۔

 

کیا زبانی معلومات ابھی نہیں مل سکتیں ؟ولیم نے اب کے بے چینی کا مظاہرہ کیا۔

 

یس مسٹر ولیم، ہیلے نے کرسی سے اُٹھتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔

 

آپ کے متعلق میرے پاس خاصی معلومات ہیں،جو ہندوستان میں رہنے والے ایک انگریز افسر کے لیے خطرناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آپ کمشنری کے لیے مناسب نہیں تھے۔اُن کا کہنا ہے آپ کے مزاج میں شوریدگی اور بعض شاعرانہ قباحتیں ہیں۔لیکن ہوم منسٹری نے آپ کے اجداد کی سابقہ خدمات کے پیش نظر اُس رپورٹ کو نظر انداز کردیا اور پوسٹنگ لیٹر دے کریہاں بھیج دیا۔ اب اُس رپورٹ کو غلط ثابت کرنا آپ کے ذمہ ہے۔

 

سر بات میری سمجھ میں نہیں آئی،ولیم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔

 

ولیم،ہیلے دوبارہ بولا،اسٹیج پر آنے کے بعد اسٹیج سے باعزت اُترنا زیادہ اہم ہے۔ آپ ایک ایسے ناٹک کی طرف جا رہے ہیں جس میں ایک سین ایک ہی بار شوٹ ہوتا ہے۔ ری ایکٹ کرنے کی گنجائش نہیں۔ چنانچہ پہلی ہی بار پرفیکٹ ہونا ضروری ہے۔جہاں ا سٹیج کے اصولوں کی خلاف ورزی کی، وہیں ذلت اُٹھاؤ گے۔ میرا خیال ہے، آپ ہوم منسٹری کی عزت رکھیں گے اور اپنے اجداد کی بھی۔

 

ولیم کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے ہیلے کی گفتگو سن رہا تھا۔ ہیلے کے چہرے کی سلوٹیں بھی غور سے دیکھ رہا تھا۔جن میں ہر اُس افسر کی طرح، جب وہ سروس میں کچھ عرصہ گزار لیتا ہے، بقراطیت جھلکنے لگتی ہے۔

 

ہیلے نے دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر آگے جھکتے ہوئے گفتگو دوبارہ شروع کی،ولیم، تم ایک انگریز ہو۔یہاں تمہاری حیثیت حاکم کی ہے۔ ہم یہاں کی زمین سے رومانس نہیں، حکومت کرنے آئے ہیں۔ جیسا کہ مجھے معلوم ہواہے، آپ کی شاعرانہ طبعیت آپ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ یہاں آپ کاوجود ایک برتر سطح پر ہے۔اس لیے آپ پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔جو انگریز نوجوان برٹش سول سروس کو جوائن نہیں کرتے وہ ان حدود اور ذمہ داریوں سے ماورا ہیں۔

 

ولیم حاکم اور محکوم میں ایک فاصلہ ہوتا ہے۔ اُسے قائم رکھنا حاکم کی ذمہ داری ہے۔ دیسی لوگوں کو انصاف فراہم کرو لیکن عدل کے دوران تمہارا ظالم اور مظلوم سے فاصلہ برابر ہونا چاہیے۔ اُن کے درمیان فیصلہ کر کے دونوں سے بے تعلق ہو جاؤ۔ اگر مقامی سے سو دفعہ ملو تو ہربار اجنبی کی طرح۔کیونکہ تمہاری قربت اُسے تمھاری ہیبت سے باہر کر دے گی اور یہ بات قانون کو چھوٹا کرنے کے لیے کافی ہے۔یہی قانون جو ہماری ایمپائرکاحقیقی ستون ہے۔ (ہیلے تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر سیدھا کھڑا ہوگیا اور گلوب کو دائیں ہاتھ کی انگلی سے گھماکر بات جاری رکھی )میرا خیال ہے ینگ مین،آپ میری بات کے سمجھنے میں مشکل محسوس نہیں کر رہے۔ ہندوستان ایک وسیع سمندر ہے جو انتہائی گہرا،تندوتیز موجوں سے بھرا ہوا ہے۔ حکومت یعنی ہم اس کی سطح پر ایک جہاز کی مانند تَیر رہے ہیں۔ہمیں اپنی بقا کے لیے ہر طرف سے ہوشیار اور متحرک رہنا ہے۔ اس کی ہولناکیوں پر قابو پانے کے لیے بے رحم طاقت چاہیے۔ جہاز کا ہر تختہ دوسرے سے بغیر فاصلے کے جُڑا ہو، ورنہ سمندر کا اپنا وجود مستعار نہیں۔ وہ اپنی زمین پر کھڑا ہے۔ہم اُسے اُٹھا کر نہیں لے جا سکتے۔اس کی موجوں کو طغیانی سے نہیں روک سکتے۔ مَیں جانتا ہوں، ہم نے جہاز پر اتنا کچھ لاد لیا ہے جس کی گراں باری تختوں کے چوکھٹے ہلا رہی ہے۔ چنانچہ اُس وقت تک موجوں کی سرکشی کوبادبانوں پر رکھوجب تک تمہاری کشتیاں ٹھنڈے ساحلوں پر لنگر نہیں گرا لیتیں۔ ولیم،ہم ان تختوں کے ساتھ ڈوبنا نہیں چاہتے۔

 

آپ میری باتیں سن رہے ہیں؟ہیلے نے اُسے دوبارہ مخاطب کیا۔

 

سَر آپ بات جاری ر کھیں، ولیم دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے بولا۔

 

گُڈ۔ تو میں کہہ رہا تھا (اسی اثنا میں ہیلے نے سگار کا بھر پور کش لیا) ہمیں یہاں اپنا وجود ثابت کرتے رہنا ہے، جب تک اس جگہ موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم،ہمارے مرکز میں کتنی طاقت ہے۔لیکن تمہارے ہیٹ کی چوڑائی پگڑی سے زیادہ ہونی چاہئے اور سگار کا دھواں حقے سے تلخ۔تم ان کی آنکھوں میں دھواں بھر تے رہو تاکہ یہ صاف نہ دیکھ پائیں۔ اُس کے بعدجو تمہاری عینک اِنہیں دکھائے، یہ وہی دیکھیں۔لیکن دھواں تمہاری اپنی آنکھوں کی طرف نہ آنا چاہیے۔

 

اس کے بعد ہیلے آرام سے کرسی پر بیٹھ کر کچھ دیر کے لیے خموش ہو گیا۔ اُس کی خموشی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ولیم نے کہا،سَر کیا آپ پسند کریں گے،مجھے جلال آباد کے متعلق سرسری معلومات مل جائیں؟

 

ولیم کے اس سوال نے ہیلے کو یاد دلایا کہ وہ اپنی پوسٹنگ سائیٹ میں دلچسپی رکھنے پر اکتفا کرے گا۔ہیلے مسکرایا، اُسے محسوس ہوا ولیم کچھ زیادہ بے چینی میں ہے۔

 

وائے ناٹ، مسٹر ولیم، یو وِل ورک انڈر می اور میں آپ کے کام کا ذمہ دار ہوں۔ غور سے سنو،ہندوستان میں پنجاب واحد ایسا علاقہ ہے جہاں انسان جانوروں کے ساتھ رہتے ہیں۔اس لیے اکثر پتا نہیں چلتا، دونوں میں اصل جانور کون ہے؟ ان لوگوں کے پاس بیل اور بھینسیں بہت ہیں۔یہ لوگ اطاعت کے وقت بھینس اور سرکشی کے وقت بیل بن جاتے ہیں۔چنانچہ ِانھیں دوہتے وقت تھپکی دینا اور سرکشی کریں تو سینگوں سے دور رہنا۔ شاید برکلے کا انجام تمھیں یاد ہو۔ قبروں پر چراغ جلانے میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ جلال آباد وسطی پنجاب کی سرحد پرفیروز پورکی آخری تحصیل ہے۔ اِن کے سینے دریاؤں کی طرح چوڑے اور مزاج اس کے بہاؤ کی طرح تیز ہیں۔جنھیں کناروں میں رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

 

یہاں دو قومیں ہروقت ایک دوسرے کے مقابلے پر رہتی ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے حریف سکھ اور پنجابی مسلمان ہیں۔ پنجابی مسلمان معقول اور بات کو جلد سمجھ لینے والے ہیں۔ جب کہ سکھ احمق اور ہر وقت اپنے ہی نقصان کے دَر پَے رہتے ہیں۔لیکن تمہارے لیے بہتر مدد گار سکھ ہوں گے۔کیونکہ مسلمانوں کے اندر سے نخوت اور منافقت ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ اپنے پرائے کو کسی بھی وقت دھوکا دے سکتے ہیں۔ مَیں یہ نہیں کہتا، سکھوں کو بلا جواز مدد دینا۔ یہ تمہارے لیے خطرناک ہوگا لیکن مشکل کے وقت انہی سے کام لینا۔ یہ لوگ ہر کام بغیر سوچے کر گزریں گے۔ جب کہ مسلمان تمھارے کاموں میں اپنی رائے داخل کریں گے اور وہ ناقص ہوگی۔بس یہی کچھ ہے جو میں زبانی آپ سے کہنا چاہ رہا تھا۔ اب آپ کچھ پوچھنا چاہیں تو مَیں بتانے کو بیٹھا ہوں۔

 

صرف ایک بات سر ’’ولیم نے دھیمے سے کہا‘‘

 

پوچھیے، ہیلے نے متوجہ ہوکر کہا۔

 

کسی معاملے میں اگر مَیں تنہا ہو جاؤں تو اس وقت آپ کی عینک کے شیشے سیاہ ہوں گے یا شفاف؟

 

دیکھو ولیم، ہیلے نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے جواب دیا،ہر انچارج ہمیشہ دو عینکیں رکھتا ہے، ایک شفاف ایک سیاہ۔ شفاف عینک اُس کے ضمیر کی ہوتی ہے اور سیاہ اپنے مفاد کی۔ اکثر ایسا ہو تا ہے سیاہ عینک لگانی پڑ جائے البتہ مَیں مدد سے گریز نہیں کرتا۔پھر بھی آپ احتیاط سے کام لیتے رہیں۔ اتنا کہہ کر ہیلے کرسی پر دوبارہ بیٹھ گیا اور گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا۔

 

ولیم نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔

 

اتنے میں ایک آدمی جس کے سَر کے بال تقریباََ اُڑ چکے تھے اور گول پاجامے سے پیٹ ڈھولکی کی طرح اتنا با ہر نکلاتھا کہ اُس میں پاجامے کی بیلٹ چھپ چکی تھی۔ وہ ایک بڑی بھاری فائل لے کر اندر داخل ہوا۔ ہیلے نے اُسے ولیم کی طرف اشارہ کر دیاجس کا مطلب تھا یہ فائل صاحب کو دے دی جائے۔ جب فائل ولیم کے سامنے آئی تو ہیلے نے کہا، مسٹر ولیم، اس گز یٹر میں آپ کو بہت کچھ مل جائے گا۔اور آخر میں ایک اور مگر سب سے اہم بات دھیان میں رہے۔یہ کہہ کر ہیلے اُٹھ کر میز کی دوسری طرف سے ہوتے ہوئے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ولیم ہیلے کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو گیا تو اُس نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا، ولیم تمھیں انگلستان کی برف ہندوستان کے گرم دریاؤں سے اور لندن کے سفید کوے آگرہ کے کبوتروں سے زیادہ عزیز ہونا چاہیئیں۔ بس اب آپ جا سکتے ہیں۔

 

ولیم نے ہیلے کے آخری جملے کی چبھن کو واضح محسوس کیا لیکن کچھ بولا نہیں، بلکہ اٹھنے کے لیے سلام کیا۔ ہیلے اُسے باہر تک چھوڑ نے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ دونوں پورے وقار کے ساتھ جیسے ہی دفتر کے مرکزی دروازے پر آئے دفتر کا پورا عملہ دورویہ قطار میں مقامی حیثیت کا اعلان کرنے کے لیے موجود تھا۔ جنہیں آگے بڑھ کر ہا تھ ملا نے کا حوصلہ تو نہیں تھا البتہ اپنے ہاتھ ماتھوں پر ضرور لے آئے اور نائب تحصیلدار وِکرم کو رشک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ کیسے اِترا اِترا کر ولیم کا بیگ پکڑے چل رہا تھا۔ موتی چند کے پاس سے گزراتو اُس نے کہنی مارکر بابوجلال سے کہا،بابوجی، یہ وِکرم بہت حرامی ہے۔ جلال آباد تک ولیم کے ساتھ جائے گااو ر رستے میں صاحب کو شیشے میں اُتار لے گا۔

 

بابو جلال دھیمے سے تائید میں سر ہلاتے ہوئے بولا،منشی جی یہ چپڑ قناتیا تحصیلدار ایسے ہی نہیں ہوا،موقعے کی تاڑ میں رہتا ہے۔بھلا یہ بتاؤ کِسے خبر تھی ولیم جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن کر آ رہا ہے؟ سوائے اس حرام خور کے۔
ولیم جیپ میں بیٹھ چکا،جس کا انجن کچھ دیر پہلے ہی رسہ گھما کر سٹارٹ کر دیا گیا تھا، تو وِکرم بیگ پکڑ کر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر سمٹ گیا،پھر نہایت اد ب سے بولا، سَراگر حکم ہو تو غلام آپ کو فیروز پور کی سیر کروا دے۔

 

وِکرم، مَیں فیروزپور نہیں دیکھنا چاہوں گا۔ولیم نے دو ٹوک اور سپاٹ انداز میں وکرم کی فرمائش کو رد کر دیا
اس کے بعد جیپ چل دی، جس کے پیچھے پولیس کی ایک جیپ مزید پروٹو کول کے لیے موجود تھی۔اس میں چھ سپاہی اور ایک تھانیدار تھا۔ پروٹوکول جیپ کو قانوناً ولیم کے آگے چلنا چاہیے تھا لیکن کچی سڑک پر گرد کی بہتات اور ولیم کو مٹی سے بچانے کے لیے یہ جیپ پیچھے ہی رکھی گئی۔

 

(5)

 

شیر حیدرکی خواہش تھی اُس کا بیٹا غلام حیدر کلکٹر بنے۔ اس سلسلے میں اسے میٹرک کے بعد لندن بھی بھیجا گیا مگر غلام حیدر نے وہاں خاص کامیابی حاصل نہ کی اور دو سال بعد ہی لوٹ آیا۔ویسے بھی ہندوستانیوں کا اِس معیار پر پورا اُترنا کچھ خالہ جی کا کھیل نہ تھا۔البتہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہا اور وہ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔اے کر گیا۔ شیر حیدر نے اپنی زندگی میں ہمیشہ کوشش کی کہ غلام حیدر جلال آباد سے دُور رہے۔ وہ اُسے کسی طرح اقتدار کی حویلیوں تک لے جانا چاہتا تھا۔جس کے لیے بڑے اور پڑھے لکھے لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کے آداب کچھ جلال آباد کے دیہاتوں سے دُور رہ کر ہی آ سکتے تھے۔اسی بات کے پیش نظر لاہور میں اس کے لیے ایک کوٹھی بنوا دی۔جہاں دو چار ملازم بھیج دیے گئے۔ اس طرح لاہور میں طویل قیام نے غلام حیدر کے مزاج میں ایک تہذیبی رچاؤ داخل کر دیا۔ پیسے کی کمی نہیں تھی جس کے سبب اعلیٰ سوسائٹی اور کلبوں میں آمدورفت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ انہی مشاغل میں بہت سے ایسے دوست نکل آئے جن کا تعلق اقتدار کے حلقوں سے تھا۔ ان میں خاص کر دو دوست میجر رچرڈ اور نواب افتخار غلام حیدر سے کچھ زیادہ ہی شیرو شکر ہو گئے۔میجر رچرڈ جو بعد میں کرنل بن گئے تھے،ایک دفعہ غلا م حیدر کے ساتھ سیر و شکار کے لیے جلال آباد بھی جا چکے تھے۔نواب افتخار کی زیادہ زمین بھی اِسی طرف تھی۔ اس لحاظ سے یہ ربط وضبط ایک ثلاثہ کی حیثیت اختیار کررہا تھا کہ اچانک نواب افتخار لندن چلا گیا اور چار سال تک اس کے واپس آنے کا امکان نہ رہا۔جبکہ کرنل رچرڈ کی پوسٹنگ بنارس ہو گئی۔ اس طرح یہ سلسلہ بیچ ہی میں رہ گیا البتہ اتنا ہوا کہ وہ جاتے جاتے ایک ولایتی بندوق بمعہ لائسنس غلام حیدر کو تحفے میں دے گیا۔ یہ بات اس لیے بھی اہم تھی کہ اُس وقت ایک تو ولایتی بندوق کا دیسی آدمی کو ملنا مشکل تھا،دوم یہ کہ اُس کا لائسنس اِ س سے بھی زیادہ ناممکن بات تھی اور یہ دونوں کام کرنل رچرڈ نے کسی نامعلوم طاقت ور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے غلام حیدر کے لیے کر دیے۔ جن کی اجازت کم از کم نواب سے نیچے کسی کو ملنا ممکن نہیں تھی۔

 

اب شیر حیدر کی دفعتاً موت واقع ہوئی تو اس کا اکلوتا وارث ہونے کی وجہ سے غلام حیدر پر کافی ذمہ داریاں آ گئیں۔ چار ہزار یکڑ رقبے کو سنبھالنا اور علاقے کے بُرے بھلے کی خبر رکھنا آسان کام نہ تھا۔ زمینداری اور زمینوں میں کام کرنے والی رعایا اور ان کے درمیان پیداہونے والے بیسیوں جھگڑوں کا بار بھی غلام حیدر کے سر آپڑا۔ عمومی طو رپر قتل اور ڈکیتی کی واردات کے علاوہ اتنے بڑے رقبے میں رہنے والی رعایا سے گورنمنٹ بے نیاز سی ہو جاتی۔ ویسے بھی بڑے زمیندار کچھ تو اپنی ذیلداری کا بھرم رکھنے کے لیے اور کچھ گورنمنٹ کی نظروں میں اعتبار پانے کی غرض سے اپنی رعایا کے فیصلے عام طور پر خود ہی عدل سے چکا دیتے۔اس لیے زیادہ تر ایسے علاقوں میں امن و امان ہی رہتا۔یااگر کسی کے ساتھ زور زیادتی ہوبھی جاتی تو وہ صبر کر لیتا اور گورنمنٹ تک بات کم پہنچتی۔ پھر بھی مکمل طور پر ہر ایک کی خبر گیری کرنا کسی طرح آسان نہیں تھا۔ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ غلام حیدر کو ان معاملات میں تجربہ کچھ نہیں تھا۔ اس کی زندگی کسی اور ہی تربیت کا نتیجہ تھی۔اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ سب کاروبار رفیق پاولی کو سونپ کر چند دنوں بعد لاہور چلا جائے گا۔ رفیق خود ہی مزارعوں کے ساتھ حساب کتاب کرتارہے گا۔ ویسے بھی شیر حیدر کی زندگی میں نوے فی صد کام رفیق پاولی نے اپنے ہی ذمے لے رکھے تھے اور اس سے زیادہ قابل اعتماد آدمی کوئی اور تھابھی نہیں۔ شیر حیدر اسے چھوٹے بھائیوں کی طرح رکھتا تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ رفیق پاولی نے کبھی اُس کے اعتماد کو ٹھیس بھی نہیں پہنچنے دی تھی۔

 

شیر حیدر کی وفات کودو دن گزر چکے تھے۔ تمام برادری، شیر حیدر کے یاردوست اور غلام حیدر کے کچھ دوست۔اس کے علاوہ اردر گرد کی رعایا۔ سینکڑوں لوگ حویلی میں جمع تھے۔

 

حویلی کیا تھی، ایک چھوٹا سا قلعہ تھا۔ جس کی چار دیواری پچیس فٹ اونچی ضرور ہو گی،جوچھوٹی سرخ اینٹوں سے تیار کی گئی تھی۔ اس پچیس فٹ اونچی اور تین فٹ چوڑی دیوارپر، جس پر گھوڑا بھی دوڑ سکتا تھا، جگہ جگہ برج بنے ہوئے تھے اور برجوں پر چھوٹی چھوٹی محرابیاں اور طاق تھے۔ جن میں رات کے وقت لالٹینیں روشن ہو جاتیں۔ مرکزی دروازے کے سامنے ڈیوڑھی سو فٹ لمبی اور چالیس فٹ چوڑی تھی۔ یہ پچیس فٹ اونچی چھت والی ڈیوڑھی بے شمار ڈاٹوں اور محرابوں کے سہاروں پر دور تک چلی گئی تھی۔ اسی طرح ڈاٹوں کے ساتھ بے شمار طاق اور محرابیں بنا دی گئیں۔ یہاں بھی یہ طاق زیادہ تر لالٹینیں جلانے کے کام آتے۔لالٹینوں کے متواتر اٹھتے ہوئے دھوئیں سے سیاہ رنگ کا دبیز پلستر ڈیوڑھی کی دیواروں پر چڑھ گیا تھا۔ ڈیوڑھی چھوٹی سرخ اینٹوں سے تیار کی گئی تھی۔ مگر اب نہ کوئی ان اینٹوں کا رنگ اور نہ ہی سائز بتا سکتا تھا۔ البتہ سیاہ دھوئیں نے اس آباد ڈیوڑھی کی ہیبت میں ایک طرح سے اضافہ ہی کیا تھا۔ ڈیوڑھی میں ہر وقت بیس چالیس لوگ بیٹھے رہتے۔ ان میں کچھ تو معذور اور بے گھر تھے۔ جن کا کام صرف تین وقت کھانا اور گپیں ہانکنا تھا۔باقی اِدھر اُدھر سے مسافر یا داستان گو آن پڑتے۔ ان سب کا روزانہ کا کھانا شیر حیدر کے ذمہ تھا۔ ایک دیگ صبح پک جاتی ایک شام اور اِن کا پیٹ بھر جاتا۔ کپڑا لتّا بھی عید بقرعید یہیں سے مل جاتا اور نہانے دھونے کو رہٹ وہاں جگہ جگہ تھے۔

 

ڈیوڑھی کے علاوہ دیوار کے ساتھ ساتھ چاروں طرف سو کے قریب کمرے تھے۔ان میں اجناس، غلہ اور ضرورت کی دوسری اشیاء بھری رہتیں۔ اسی احاطے کے درمیان سے ایک دیوار کھینچ دی گئی تھی، جس نے جنوبی سمت کے حصے کو پورے احاطے سے الگ کر دیا تھا۔اس کے اندر شیر حیدر کے اپنے رہنے کے مکان تھے۔ان مکانوں کی دیواریں بیرونی دیوار کی طرح مضبوط تو نہیں تھی البتہ آرائش کے اعتبار سے کہیں بہتر اور صاف تھیں۔

 

شیر حیدر کی عمومی مجلس زیادہ تر بیرونی احاطے میں رہتی۔ پیپل کے دو بڑے پیڑ حویلی کے بڑے صحن میں موجود تھے۔ اِن کا سایہ احاطے کے صحن کی آدھی جگہ گھیر لیتا۔ وہیں گرمیوں میں شیر حیدر کی پرانی چار پائی لگ جاتی۔ سینکڑوں مُوڈھے اور چار پائیاں سامنے پڑے رہتے۔ جن پر بیسیوں لوگ ہمہ وقت موجود خوش گپیوں میں اپنا وقت کاٹتے۔
یہ دن سردیوں کے تھے۔ اس لیے چارپائیاں پیپلوں سے کافی ہٹ کے مغربی دیوار کے ساتھ لگی تھیں اور احاطہ ایک ایکڑ کھلا تھا۔

 

آج شیر حیدر کے سوم کا ختم تھا۔ اس لیے مہمان سینکڑوں کی تعدادمیں جمع تھے۔اُن کی تواضع کے لیے پچاس کے قریب دیگیں حویلی کے باہر قطاروں میں چڑھی ہوئی تھیں اور صبح نو بجے ہی کا وقت تھا۔ دھوپ کی تمازت میں غلام حیدر چارپائی پر بیٹھا چاروں طرف سے پُرسہ دینے والوں میں گِھرا تھا۔سوم کے ختم کے بعد پگڑی باندھنے کی رسم تھی۔ جس کے لیے برادری والے سب دُور نزدیک سے اکٹھے ہو رہے تھے۔ اس پس منظر میں ایک ایسا ماحول بن گیا،جس کے پس پردہ توالم کی کیفیت تھی لیکن ظاہر ی طور پر شادی کی سی فضا بن چکی تھی۔ہرکوئی شیر حیدر کے سابقہ کارنامے گنوا رہاتھا۔ کسی کو اس کا عدل و انصاف یاد آنے لگا۔کوئی رو رو کر بتا رہا تھا کہ کس طرح بہشتی نے اُس کی بیٹی کے جہیز کا بندوبست کیا۔ غلام حیدر سب کچھ بیٹھا خموشی سے سنتا رہا۔ زنانہ حصے سے بین کی آوازیں بھی کچھ کچھ دیر بعد اُس کے کان میں پڑ جاتیں۔ یہ رونے والیاں گاؤں کی زیادہ تر وہ عورتیں تھیں،جو اُن کی رعایا میں شمار ہوتیں اور غلام حیدر کی والدہ کو خاوند کا پرسہ دینے آئی تھیں۔ سب کچھ دھیمے سے چل رہا تھا، اچانک رفیق پاؤلی تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا غلام حیدر کی طرف آیا۔ چہرے پر پریشانی اور سراسیمگی نمایاں تھی۔ آتے ہی اُس نے چپکے سے غلام حیدر کے کان میں کچھ کہا۔ پھر وہ دونوں پیپل کے دوسری طرف مشرقی دیوار کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ غلام حیدر کی زندگی میں چونکہ اس قسم کا پہلا تجربہ تھا اس لیے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا جواب دے اور ایسی صورت حال میں کس ردعمل کا مظاہرہ کرے۔اُس نے فیقے سے کہا۔

 

چاچا فیقے، اب آپ ہی بتاؤ، ایسے معاملے میں کیا کرنا چاہیے؟ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ بابا شیر حیدر اگر ہوتے تو وہ کیا کرتے؟ اس کے سارے کام تو آپ ہی کرتے رہے ہیں۔

 

رفیق پاؤلی کے لیے یہ ایک سٹپٹانے والی کیفیت تھی۔ شیر حیدر کے وقت اگر وہ اپنی مرضی سے کچھ فیصلے کر جاتا تھا تو فقط اس امید پر کہ مالک سر پر موجود ہے۔ کچھ غلط بھی ہو گیا تو سنبھال لیا جائے گا۔ یعنی اس کے بُرے بھلے کی ذمہ داری شیر حیدر پر ہی ہوتی لیکن اب معاملہ بالکل برعکس تھا۔ رفیق پاؤلی نے سوچا کہ اب اگر وہ کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے کر جائے اور اُس کا نتیجہ غلط نکل آیا تو پھر نہ جانے کیا ہوکیونکہ غلام حیدر ابھی ناتجربہ کار لڑکا ہی ہے۔وہ لاکھ شہر میں رہتے ہوئے تجربہ کار ہو گیا ہو مگر شیر حیدر کی بات تو پیدا نہیں ہو سکتی۔ ایسی صورت حال میں ظاہر ہے معاملے کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔چنانچہ کچھ دیر اُلجھن کے ساتھ سوچتا رہا۔

 

غلام حیدر معاملہ بہت گھمبیر ہو چکا ہے ’’رفیق پاؤلی نے بے کسی اور بے چینی کی ملی جلی کیفیت میں پگڑی ایک طرف کر کے سر کھجایا‘‘ سودھا سنگھ سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ اتنی اوچھی حرکت کرے گا۔ اس خنزیر نے عین پھوڑے کے اُوپر سٹ ماری ہے۔اِدھر سارا شریکا جمع ہے۔ اگر بات پھیلی تو لوگ پوچھ پوچھ کرکے کان کھا جائیں گے۔

 

چاچا رفیق اب تو اُس نے جو کرنا تھا کر دیا ’’غلام حیدر نے بے قراری سے کہا‘‘ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا جواب دینا مشکل ہے۔بیس ایکڑ مونگی کی تو خیر ہے لیکن چراغ دین کے قتل کا کیا کریں۔ وہ بچارا تو بڑا وفادار ملازم تھا۔ جلدی کوئی حل بتا۔میرا دماغ تپنے لگا ہے۔

 

کچھ کرتے ہیں سردار غلام حیدر ’’رفیق پاولی دوربارہ سر کھجاتے ہوئے بولا۔پھر شریف کو آواز دی جو مہمانوں کو لسی پانی پلانے میں مصروف تھا۔ اس نے لسی کے جگ، گلاس وہیں رکھے اور بھاگ کر رفیق پاولی اور غلام حیدر کے پاس آ گیا۔ رفیق نے اسے کہا کہ ایک چارپائی اٹھاکر یہاں لے آ اور دیکھ، نیاز حسین کو بھی یہیں پر بُلا لے۔ اُس سے کچھ بات کرنی ہے۔

 

شریف نے تھوڑی دیر میں چار پائی دہکتے ہوئے سُرخ کوئلوں کے پاس مشرقی دیوار کے ساتھ رکھ دی۔ غلام حیدر اور رفیق تسلّی سے اس پر بیٹھ کر معاملات پر غور کرنے لگے، اتنے میں نیاز حسین بھی آ گیا۔ غلام حیدر نے نیاز حسین سے کہا بیٹھ جا اور جو کچھ ہوا ہے اُس واقعے کی صاف صاف تفصیل بتا لیکن ایک بات نہ بُھولنا، تمہارے جھوٹ بولنے سے معاملہ خراب بھی ہو سکتا ہے۔ جو نقصان ہوا اور جس طرح چراغ دین کا قتل ہوا ہے، یہ بات بہت آگے تک بڑھے گی۔اس لیے ابتدا ہی میں اگر غلطی ہو گئی تو کیس خراب ہو جائے گا۔ لہٰذا جو کچھ ہوا اور جیسے ہوا ہے وہ چھپانا نہیں۔نہ ہی واقعے کو بڑھا چڑھا کر بتانے کی ضرورت ہے۔ہم نے تمہارے چشم دید قصے پر ہی کیس کی بنیاد رکھنی ہے۔

 

نیاز حسین نے حقے کے دو تین کش لیے جس کا پانی کچھ ہی دیر پہلے تبدیل کیا تھا اور چلم میں نیا تمباکو ڈال کر اُس میں تازہ کوئلے رکھے گئے تھے۔ اُسے تمباکو کی کڑواہٹ ایک سرور سا دے گئی۔ مزید دھواں پھیپھڑوں میں لے جانے کے لیے اس نے دو تین کش مزید لے کر حقے کی نَے ایک طرف کر دی۔

 

بات بھائی جی یہ ہے، نیاز حسین نے واقعہ سنانا شروع کر دیا ’’گیدڑوں اور سوئروں سے مونگی کی راکھی کے لیے مَیں اور چراغ دین روز کی طرح رات وہیں پر رُک گئے۔ سوئروں سے بچنے کے لیے کہ سوتے میں ہمیں پھاڑ ہی نہ کھائیں،چار بانس زمین میں گاڈ کر ہم نے اُس پر لکڑیاں باندھیں اور اُس کے اُوپر پرالی پھینک کر چھ فٹ اونچا چھپر سا بنا لیا۔ اِس پر چڑھ کر رکھوالی کے لیے لیٹ جاتے۔اِس میں ایک اور فائدہ بھی تھاکہ اونچا ہونے کی وجہ سے دور تک نظر جاتی تھی۔ میں پورے کھیت کا چکر لگا کر آگیاتھا۔پھرریگلے سے دو تین پٹاخے بھی مار دیے کہ گیدڑ ویدڑ بھاگ جائیں۔ رات کے دو پہر نکلے تھے۔ دُھند نے چاندنی ختم کر دی تھی۔ پٹاخے مارکر ابھی میں نے ریگلا چھپرکے بانس کے ساتھ لگایا ہی تھا کہ دُور سے ہمیں کچھ کُھسر پھسر سُنائی دی۔ یہ جانور نہیں تھے بلکہ انسانوں کی آوازیں تھیں۔ پہلے تو مجھے شک پڑا، کوئی راہ گیر ہیں مگر پھر جب تھوڑی ہی دیر بعداندھا دُھن مونگی کے کھیت میں دبڑ دبڑ ہونے لگی تو میں نے کہا،چراغ دین دشمن آ گئے۔ اسی لمحے بے شمار قدموں کی آواز آنا بھی شروع ہو گئی۔ایسے لگا مونگی میں درانتیاں چل رہی ہیں۔ ہم نے جلدی جلدی اپنی ڈانگوں پر چَھو یاں چڑھا لیں اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔ منظر کچھ واضح نہیں تھا۔پھر بھی سب کچھ نظر آ رہا تھا۔ بے شمار آدمی تھے۔ کچھ انّھے مُنہ مُونگی کاٹ رہے تھے،کچھ مونگی کے گٹھڑ اُٹھا کر گڈوں پر لاد رہے تھے۔ ہم حیران کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ چراغ دین نے کہا، نیازے اِن کو للکار مار۔ سچی بات تو یہ ہے مجھے اتنے بندوں کو دیکھ کر حوصلہ نہ ہوا۔ مَیں نے کہا، بھائی چراغ دین ہم دو ٹیٹرو کیا کر لیں گے مگر وہ نہ مانا، کہنے لگا، نیازے یہ نہیں ہو سکتا۔ کل ہی ہمارا مالک فوت ہوا ہے اور آج اس کی فصل اُجڑ جائے ہماری آنکھوں کے سامنے، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ساری عمر شیر حیدر کا نمک کھایا ہے۔ میں تو انھیں جیتے جی مونگی نہ لے جانے دوں گا۔ کل کو لوگ کیا کہیں گے، دیکھو شیر حیدر کا عمر بھر کھاتے رہے، آج موقع آیا تو نمک حرامی کر دی۔ مُنہ د کھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ کیا لوگوں کو بتائیں گے کہ ہم چوڑیاں پہن کے بیٹھے تھے؟

 

میں نے کہا، بھائی چراغ دین یہاں سوائے موت کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ یہ تو کوئی پچاس بندے ہیں۔ لیکن صاحب جی چراغ دین نہ مانااُس نے سرہانے سے اپنا صافا اُٹھا کر اُسے کس کے سر پر باندھا، چھَوی چڑھی ہوئی ڈانگ پکڑی اور للکارتے ہوئے دشمنوں کی طرف چھلانگ ماردی۔سردار غلام حیدر !میں سمجھ گیا تھا، چراغ دین کے دن پورے ہو چکے ہیں۔ اُس نے میری ایک نہیں سُنی۔جیسے ہی یہ بھاگ کر اُن کی طرف گیا، انہوں نے فوراً اُس پر بر چھیوں کا مینہ برسا دیا اور چراغ دین شوہدے پر لوہے کے پہاڑ گرنے لگے۔ بس ایک دو پَل میں ہی رَت کے پرنالے بہہ گئے۔ میرے تو ساہ سوکھ گئے اور میں بھاگ کے اُسی چھپر کے نیچے پڑی چارپائی، جو اس لیے رکھی تھی کہ بارش وارش ہو تو چھپر سے اُتر کر چارپائی پر لیٹ جائیں، مَیں اُسی کے نیچے چھپ گیا۔کچھ اندھیرا اور کچھ دُھند، اس لیے میرا اُن کو کچھ پتا نہ چلا۔ بس میں خوف کے مارے چار پائی کے نیچے لیٹا ساہ دبائے اُن کے واہگرو اور ست سری اکال کے نعرے سنتا رہا۔اسی طرح تین گھنٹے گزر گئے۔وہ میری آنکھوں کے سامنے مونگی کا اُجاڑا کرتے رہے اور گڈوں پر لادتے رہے۔ حتیٰ کہ صفایا کر کے چلتے بنے۔ میں گِن کے صحیح صحیح تو نہیں بتا سکتا مگر بیس چھکڑے ضرور تھے۔ اِدھر گڈے مونگی لے کر چلے، اُدھر میں چارپائی کے نیچے سے نکلا، بھاگ کر چراغ کے پاس آیا۔ بچارا اُلٹے مُنہ پڑا تھا۔ میں نے سیدھا کیا، دیکھا تو اُس کے ساہ پورے ہو چُکے تھے اور زمین پر خون کے نِگال جم گئے تھے۔ میں نے لاش کو ہاتھ نہیں لگایا اور فوراً چادر لپیٹ کر جو دھاپور سے نکل پڑا۔ چوہدری صاحب، بھاگم بھاگ یہاں آ گیا۔ خدا گواہ ہے بارہ میل کی راہ میں سانس تک نہیں لی۔ جودھا پور کے یار محمد کو بتا آیا ہوں۔ وہ بندے لے کر لاش کے پاس پہنچ گیاتھا۔ ایک بندہ تھانے اطلاع کے لیے بھیج دیا ہے۔ شاید پولیس بھی اب تک آگئی ہو۔

 

نیاز حسین جیسے جیسے کہانی سناتا گیا، غلام حیدر کے چہرے کارنگ کئی پرتوں میں بدلتا رہا اور شدید غصے سے کپکپاہٹ اس پر طاری ہوتی رہی۔ پھر ایک دم یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا، چاچا فیقے عصر تک یہ قل فاتحہ کو نپٹاؤ۔ اس سے زیادہ دیر نہ کرنا اُس کے بعد سودھا سنگھ کو ایک پیغام بھیج دو اور چراغ دین کے بچوں کے لیے پانچ سو روپیہ لیتے جاؤ۔ اُن کے سر پر ہاتھ رکھو۔ اِس طرح وارثوں کی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ عصر کے فوراً بعد جودھا پور روانہ ہو جاؤ اور سب خبریں خود لے کر آؤ۔ میں تحصیل جا کر کمشنر صاحب سے بات کرتا ہوں۔

 

سودھا سنگھ کو کیا پیغام دوں؟رفیق پاولی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا‘‘

 

یہی کہ سکھڑے اب واہگرو سے جو مدد مانگنا ہے مانگ لے کیونکہ موت اسے زیادہ مہلت نہیں دے گی۔غلام حیدر نے غصے سے شدید نفرت پیدا کرتے ہوئے کہا،جیسے کہہ رہا ہو کہ میں تیرے واہگرو کو بھی دیکھ لوں گا۔

 

رفیق پاولی ایسی صورت حال میں جلد بازی کا قائل نہیں تھا۔لیکن نیاز حسین نے میدان جنگ کا ایسا نقشہ کھینچا کہ غلام حیدر کے تیور جو تھوڑی دیر پہلے اعتدال پر تھے، بڑی حد تک بگڑ گئے۔ اس سے پہلے کہ رفیق غلام حیدر کو کچھ مشورہ دے وہ اٹھ کر جلدی سے حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا۔

 

تھوڑی ہی دیر میں اس واقعے کی خبر مہمانوں سے لے کر گاؤں کے ہر چھوٹے بڑے کو ہو گئی۔ ماحول میں دوبارہ ایک ماتمی کیفیت کا احساس در آیا اورلوگ شیر حیدر کی داستانوں کو چھوڑ کر تازہ صورت حال پر تبصرے کرنے لگے۔جس میں غلام حیدر کے رد عمل کا کوئی صحیح تعین نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ یہ طے تھا کہ حالات کسی برُی صورت کا رخ کرنے والے ہیں۔ ڈیوڑھی اور احاطے میں لوگوں کی تعداد،جو پہلے ہی کم نہ تھی، بڑھ کر دگنی ہو گئی۔ باتیں اس تسلسل میں گونجنے لگیں جیسے شہد کی مکھیوں کے غول اُڑ کر نکلے جا رہے ہوں اور ہر کام میں بے چینی در آئی۔ وہ تو خیر ہوئی چراغ دین کی لاش جودھا پور ہی میں تھی ورنہ وہ بھی سارے کا سارا گاؤں یہیں آ پڑتا۔ حویلی کے ہر کام میں ایک پُراسرار وحشت پیدا ہو گئی۔ نوکروں سے لے کر متعلقین تک کے قدموں میں بوجھل پن کی کیفیت تھی، جو اُن کے دلوں پر وزن بڑھا رہی تھی۔ خاص رفیق پاولی کی ذہنی حالت بہت تذبذب میں تھی۔ شیر حیدر کے ہوتے ہوئے اُسے اطمینان ہوتا کہ مشورے میں کجی بھی ہوئی تو فکر کی بات نہیں۔ کام غلط ہو جانے پر شیر حیدر سنبھال سکتا ہے مگر غلام حیدر کا معاملہ دوسرا تھا۔ وہ ابھی ان معاملات میں بالکل کورا تھا۔ اِس لیے رفیق پاولی کو اب اپنے کسی فیصلے پر اعتماد نہ تھا۔ شاید کچھ دن بعد وہ اعتماد لوٹ آتا مگر یہاں تو سر منڈلاتے ہی اولے پڑنے والی بات تھی۔ اِدھر وقت گزرنے کانام ہی نہیں لے رہا تھا۔ رفیق پاولی کی نظر دیوار کے سائے پر تھی،جو صدیوں سے رُکا کھڑا تھا۔ وہ سر جھکائے اسی سوچ میں غرق تھاکہ آخر اچانک سودھا سنگھ کو کیا سوجھی ؟کچھ دم بھی نہ لینے دیا۔ اُسے اس قدر فکر مندی میں دیکھ کر نیاز حسین نے کہا،فیقے بھائی آخر کیا ہوا ؟حوصلہ کر،ہمارے سر پر ابھی غُلام حیدر ہے نا۔کیا ہوا جو شیر حیدر زندہ نہیں۔غلام حیدر بھی تو اُسی کا بیٹا ہے۔ دیکھ لینا، سکھڑوں کو کیسا سبق دیتا ہے؟

 

نیاز حسین کی با ت سُن کر رفیق پاولی نے سر اُوپر اٹھایا اور بولا نیاجے، تو نہیں جانتا، اب بات یہاں رُکنے والی نہیں ہے۔ یہ تو سودھا سنگھ نے ابھی للکار دی ہے۔مَیں جانتا ہوں، اُس کے سینے میں کتنا کینہ بھرا ہوا ہے۔ اُسے د یکھ کر پتا نہیں کون کون سے سنپولیے سِریاں نکال لیں گے۔ مجھے تو غلام حیدر کی زندگی کی فکر پڑ گئی ہے۔ اتنا کہہ کر رفیق پاؤلی اٹھ کھڑا ہوا اور جانی چھینبے کوپاس بُلا کر سارا پروگرام سمجھا دیا کہ پگ بندی کے بعد انھیں جودھا پور جانا ہے اس لیے وہ تیاری کر لیں۔

 

نیاز حسین نے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، فیقے ہمت کر ہم تیرے پیچھے ہیں۔ جو گزرے گی، مولا کے سہارے بھگتیں گے۔

 

اِسی عالم میں دو بج گئے۔صحن میں دور تک دریاں اور چاندیاں بچھ گئیں۔ ختم نیاز کے لیے پھل اور چاولوں کی پراتیں الگ تھیں۔جنھیں کاڑھے ہوئے ریشمی غلافوں سے ڈھانک دیا گیا۔ مولوی صاحب بھی آ چکے تھے۔ غلام حیدر سامنے بیٹھ گیا تو مولوی نے سورہ الحمد سے تلاوت شروع کی۔ تمام خلقت جو کم سے کم چھ سو کے لگ بھگ تھی، چاندنیوں پر بیٹھ گئی۔ آیات کی تلاوت نے پوری خلقت اور خاص کر غلام حیدر کے دل میں سوز کی کیفیت پیدا کر دی۔ قرأت کچھ اِس ملائمت سے جاری تھی کہ فی الوقت تکدّر دُور ہو گیا۔ غلام حیدر سمیت تمام لوگ تازہ حادثے کو بھول گئے اور طبیعتوں میں ٹھہراؤ سا آ گیا۔ اسی عالم میں شام کے تین بج گئے۔ غلام حیدر کے سر پر پگڑی باندھ دی گئی۔ رعایا اور رشتے داروں نے آگے بڑھ کر وفاداری کے حلف دیے۔ رفیق پاولی اس سارے عمل کے دوران سرخوشی کے عالم میں کھڑا تھا۔ دوسری طرف لوگ نیاز کھانے میں مصروف تھے،جو کئی دیگوں پر مشتمل تھی۔چار بجے غلام حیدر اٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے دلاور کے ساتھ صبح ہی شاہ دین کو تھانہ گروہرسارپورٹ درج کروانے بھیج دیا تھا۔ لیکن یہ محض سرسری قانونی خانہ پری تھی جوغیر اہم ہونے کے ساتھ ا ہم بھی تھی۔

 

چار بجے ٹھیک رفیق پاولی شیدے، جانی چھینبے، سلام علی اور گامے کے ساتھ جودھا پور روانہ ہو گیا تاکہ معاملے کی پوری جانچ لے کر آئے اور چراغ دین کی بیوی کو غلام حیدر کی طرف سے پُرسہ بھی دے۔ اِدھر رفیق جودھا پور کی طرف روانہ ہوا،اُدھر غلام حیدر زنانے میں چلا گیاکیونکہ پانچ بج چکے تھے اور یہ تحصیل کا دفتری وقت نہیں تھا۔ اس کے علاوہ سارے دن کی کِلکِل اور شور شرابے سے دماغ بھی بوجھل ہو چکا تھا اور اب نیند کے جھولے آنے شروع ہو گئے تھے۔اس لیے تحصیل جانے کا پروگرام کل پر ملتوی کر دیا گیا۔

 

یہ خبر غلام حیدر کو آج ہوئی کہ چودھراہٹیں کرنی کتنی مشکل ہیں۔غلام حیدر گھر میں داخل ہوا تو رونے والیوں کا شور ایک دم بڑھ گیا۔ پہلے جو عورتیں غلام حیدر کی والدہ فاطمہ بانو کے گرد جمگھٹا کیے بیٹھی تھیں، اُٹھ کر غلام حیدر کے چوفیرے ہوگئیں۔کوئی اُسے روکردِکھانے لگی،کوئی سر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ کچھ ادھیڑ عمر اور بوڑھی عورتیں گلے لگ کر روئیں۔ عورتوں سے فارغ ہو کر وہ بڑی مشکل سے اپنی ماں کے پاس پہنچا،جو سفید چاندنی کے فرش پر سر تا پا سفید لباس میں سوگوار بیٹھی تھی۔ غلام حیدر ماں کے پاس بیٹھا تو وہ بھی بیٹے کے گلے لگ کے رونے لگی۔ لیکن یہ رونا دھونا چند ہی منٹ جاری رہا کیونکہ شیر حیدر کو فوت ہوئے آج تین روز ہو چکے تھے جس میں بہت کچھ غم ہلکا ہو گیا تھا۔ دوم بے شمار عورتوں کی مسلسل تعزیت اور پرُسہ داری نے فاطمہ بانو کو بھی تھکا دیا تھا۔چنانچہ غلام حیدر چند منٹ بیٹھنے کے بعد سونے کے کمرے میں آ گیا۔

 

اگلے دن صبح چھ بجے غلام حیدر کی آنکھ کھلی۔ وہ نہا دھو کر باہر نکلا تو طبیعت بحال ہو چکی تھی۔ حویلی میں مہمان کچھ آگ کے گرد بیٹھے حقہ پی رہے تھے،کچھ چائے کی پیالیوں سے چسکیاں لے رہے تھے۔ غلام حیدر کو دیکھ کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور آگے بڑھ کر سلام کرنے لگے۔ فیقا ابھی تک نظرنہیں آیا تھا۔غالباً وہ جودھا پور سے ابھی نہیں لوٹا تھا۔ غلا م حیدر نے ملازم سے کہا،چار پائی آگ کے پاس لے آئے جہاں لوگ حقہ پینے میں مصروف تھے۔ تھوڑی دیر میں غلام حیدر سب کے ساتھ گھل مل گیا اور سانحات کو بھول کر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا۔ جبکہ دوسرے آدمی اُسے اُس کے باپ کے واقعات سنانے لگے حتیٰ کہ آٹھ بج گئے اور فیقا اپنے ساتھیوں سمیت حویلی میں داخل ہو ا۔ اس کے بعد وہ، رفیق پاولی اور چھ سات خاص بندوں کو لے کر دوسرے کونے میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگا۔ تمام لوگ رفیق پاولی کے گرد جمع ہو گئے۔ ہر آدمی واقعے کو پہلے سے ہی جانتا تھا مگر رفیق پاولی کی حیثیت زیادہ معتبر تھی۔ اس لیے لوگ مزید نئی خبر کی توقع رکھتے تھے، جو رفیق اُن کے خیال میں ہر حالت میں لے کر آیا ہو گا۔ جب ہجوم بہت زیادہ اُن کے گرد اکٹھا ہو گیا تو رفیق پاولی نے سب کو جھڑک کر پیچھے کر دیا۔

 

کوئلوں پر ہاتھ تاپتے ہوئے رفیق نے حقے کا کش لیا اور بولا، سردارغلام حیدر ایک بات تو طے ہے کہ حملہ سودھا سنگھ کے آدمیوں ہی نے کیا ہے اور چھپ چھپا کر نہیں، کھلے عام کیا ہے۔ اتنے زیادہ چھکڑے اور آدمی، سب کے کُھرے جھنڈو والا کی طرف جاتے ہیں۔ میں نے کھیم نگر سے کھوجی بھی ساتھ لے لیے تھے۔ ہر ایک نے غور سے اور جانچ کر کے یہی نتیجہ نکالا کہ اِس کا ذِمہ دار سودھا سنگھ ہے۔چار بندوں کے پیروں کے نشان تو کھوجیوں نے پہچان بھی لیے،جو کئی جگہ چوری چکاری میں پکڑے گئے تھے۔ وہ خاص سودھا سنگھ کے ہی بندے ہیں۔ دمّا سنگھ، ہاسو وٹو، رنگا اور متھا سنگھ۔متھا سنگھ مَنّا پروَنّا بدمعاش ہے، جس کے کُھرے کھوجی نہیں بھول سکتے۔ یہ خاص سودھا سنگھ کا بندہ، علاقے کا سب سے بڑا غنڈہ ہے۔ پولیس اس پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی ہے۔ سودھا سنگھ ہر مشکل کام اسی سے لیتا ہے۔ سُنا ہے کئی بندوں کا قاتل ہے۔ ڈانگ سوٹے اور کرپان چلانے کا اتنا ماہر کہ اکیلے ہی دس دس بندوں کو پھٹڑ کر کے صاف نکل جاتا ہے۔ باقی کے تین بھی بہت خطرناک ہیں۔ سودھا سنگھ کسی کو سٹ پھینٹ بھی انہی سے لگواتا ہے اور تھانے کچہری میں اُن کے پیچھے امداد بھی اِسی کی ہوتی ہے۔ باقی تین میں رنگا سب سے خطرناک ہے۔ سٹ مارنے میں ڈھیل نہیں کرتا۔ کھوجی اس کے قدموں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ اگر مزید پوچھ گچھ کرنی ہو تو مَیں اُنھیں ساتھ ہی لے آیا ہوں۔ ڈیوڑھی میں بیٹھے ناشتہ کر رہے ہیں۔چاچا رفیق تم بھی ناشتہ کر لو ’’ غلام حیدرنے اٹھتے ہوئے کہا‘‘ تھوڑی دیر آرام کرو پھر ہم نے تحصیل جاکراسسٹنٹ کمشنر سے ملاقات کرنی ہے۔سنا ہے، کچھ ہی دن پہلے ایک اسسٹنٹ کمشنر نیا نیا آیا ہے۔ میرا خیال ہے، ابھی اُس کے کسی سے تعلقات نہیں ہوں گے۔ ہمیں ٹھیک دس بجے تحصیل پہنچ جانا چاہیے۔ یہ کہہ کر غلام حیدر اٹھ کر حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا۔

 

دس بجے تین بگھیوں کے ساتھ مزید پانچ گھوڑوں پر سوار یہ قافلہ جلال آبادتحصیل کمپلیکس کی طرف چل دیا۔ غلام حیدر کے پاس بندوق تھی۔ باقی سب کے پاس ڈانگوں کا اسلحہ وافر تھا۔ برچھیاں اور کُلہاڑیاں البتہ ساتھ نہ رکھ سکتے تھے کہ اُن ہتھیاروں کی ابھی تک کھلی اجازت نہیں تھی اور تحصیل کچہری میں تو بالکل بھی نہیں تھی۔ قافلہ جیسے ہی تحصیل کی طرف روانہ ہوا، ہر طرف جوش و خروش کی لہر پھیل گئی۔ گاؤں والے گویا اپنی یتیمی کے احساس کو نئے طاقت ور مالک کی آمد کے احساس میں دبا چکے تھے۔ وہ اس شان و شوکت کی سواری کوحویلی سے نکلتے دیکھ کر اپنے اندر ایک نئی طاقت محسوس کرنے لگے اور شیر حیدر کے دکھ کوفی الحال بھول سے گئے۔

 

(جاری ہے)