Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(48)

دھوپ اور گرمی کی وجہ سے پورا فیروز پور جہنم کی دیگ ہوگیا تھا۔ ہر چیز کر راکھ ہو رہی تھی۔ اگر کسی نے گرمی اور دھوپ کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کی ہو اور اُسے یقین نہ آرہا ہو کہ گرمی کا دوسرا نام وہ ذلت ہے،جس کے بعد سوچنے سمجھنے کی تمام قوتیں سلب ہو جاتی ہیں،تو اُسے لا کر فیروز پور کے جیٹھ ہاڑ میں ڈبو دینا چاہیے۔ لیکن اب کے معاملہ دوسرا تھا۔ لوگ اِس عقل سوز گرمی اور دھوپ کو بھول کر کسی اور دھیان میں لگے ہوئے تھے۔ ایک خاموشی،دبی دبی خاموشی،جس میں حواس باختہ کر دینے والا خوف اور بجھا بجھا ڈر تمام لوگوں پر چھایا ہو ا تھا۔ پوری آبادی میں نہائت خموشی اور لاشعوری تقسیم کا عمل جاری تھا۔ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے دو حصوں میں بٹنے لگے تھے۔ آپس کی اِس لاشعوری تقسیم میں اُن کی زبانوں پر ہر وقت ست سری اکال یا اللہ اکبر کی تکرار پہلے سے کئی گنا ہو گئی۔ وہ نہیں جانتے تھے،بغیر وقفے کے اِن مذہبی نعروں سے کیا حاصل کر رہے ہیں،لیکن اپنے کلمہ گو بھائی کو دیکھ کر ہر فرد نے اُن نعروں کو ادا کرنا اور اُن کاجواب دینا اپنے اوپر لازم کر لیا تھا۔ گویا دونوں گروہوں نے اپنے اپنے دیوتا میدان میں لا کھڑے کیے،جو ایک عرصہ تک غیر متحرک رہے تھے اور اب اُن کی طاقت کا مظاہرہ کسی وقت بھی ہو سکتا تھا۔ مگر ایک بات ابھی تک نہ جانے کیوں راز میں تھی کہ اِس میدان کو تیار کرنے والے ظاہراً نظر نہ آ رہے تھے۔ آخر وہ سب سے بڑا دیوتا کہاں تھا؟ جو دونوں بڑی طاقتوں کو خموشی سے بھڑا دینا چاہتا تھا لیکن اُس کی آگ کو وقت سے پہلے بالکل خموش رکھ رہا تھا۔ نہ اُس کی لکڑیاں دکھائی دیتی تھیں اور نہ اُس کے بندوبست میں لگے ہوئے چہروں کی کچھ خبر تھی۔ بس ہر ایک چیز اِس طر ح اپنے ہی آپ منظم اور اپنی اپنی صفوں میں درست ہو رہی تھی،جیسے پانی کا بہاؤ سوکھے ہوئے پاٹ میں پڑے تنکوں کو اِدھر اور اُدھر دونوں کنارے کے حوالے کرتا ہوا،آپ اکیلا سمندر کی جانب چلا جائے۔ اگرچہ یہ قضیہ سارے ہند وستان میں ایک ہی طرح سے چل رہا تھا لیکن تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور خاص فیروزپور میں معاملات اِس طرح پُر اسرار تھے کہ اِس بارے میں کوئی بھی دماغ کوشش کے باوجود اِن حالات کا پتا چلانے میں ناکام تھا۔ ہر شے میں نحوست اور بے وقعتی اور بد نیتی یو ں دبے قدموں چلی آئی تھی کہ اُس کے متعلق کوئی دعوہ نہیں کر سکتا تھا کہ اُس نے بدلتے ہوئے آسمان اور زمین کا مشاہدہ کر لیا ہے۔ ہاں ایک بات جو سب جانتے تھے اور ہر فرد اُس کے بارے میں وثوق سے اپنی آنکھ کا اعتبار پیدا کر سکتا تھا،وہ یہاں کے لوہاروں کی تپتی ہوئی بھٹیاں تھیں،جن میں اِتنا ایندھن جھونکا جا چکاتھا کہ اب سر کنڈوں کے تنکوں تک کی نوبت آ گئی تھی۔ لوہار وں کی دوکانیں،جن کی چھتیں،کھپریل،ٹوٹے پھوٹے بانسوں اور سخت جنتر کے سستے آنکڑوں سے بنی تھیں،بھٹی سے اُٹھنے والے دھویں اور آگ کی لپکوں نے،جو اُن کی واحد خوراک تھیں،پورے پورے علاقوں کو جلا دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ یہی وہ جگہیں تھیں،جن کا مالک کوئی سکھ لوہار تھا اور کوئی مسلمان۔ مگر لوہے کو سُرخ کرنے کی مہارت دونوں میں ایک ہی جیسی تھی۔ دونوں کے پاس آرہن،چھینی،ہتھوڑا اور چمٹا بھی ایک ہی طرح سے کام کرتا تھا۔ لوہے پر اُن دونوں کی ضربوں کی دھمک بھی ایک جیسی پڑتی تھی۔ حتیٰ کہ دونوں کے لوہا کوٹتے ہوئے بغلوں کا پسینہ اور پسینے کی بدبوسے ایک ہی طرح سے کراہت پید ہوتی تھی۔ اِس کے باوجود دونوں میں ایک ایسا ناقابل بیان فرق موجود تھا،جس کی وضاحت وہ خود بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اُس فرق سے وہ اِتنے وفادار تھے،جیسے اُس کے ساتھ زندگی کا لمس بندھا ہوتا ہے۔ اِن لو ہاروں کو کئی دنوں سے تلواریں،چھویاں،برچھیاں اور سنگینیں بنانے سے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی اور بھٹیوں کی چھتیں،جن پر پہلے ہی دھوپ،گرمی،دھویں اور اُڑتے ہوئے بگولوں سے گرد اور مٹی کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی تھیں،آگ کے تپاؤ میں کٹھالی کی طرح پک کر سیاہ اور چکی تھیں۔ یہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ نہ یہ سب تیاری سات سمندر پار اُن سفید لوگوں کے لیے تھی،جنہوں نے لال قلعہ سے لے کر جلیانوالا باغ تک،دونوں جگہ اپنے نقشے درست کیے تھے۔ نہ اُن لوگوں کے لیے،جو دیسی ہونے کے باوجود اُن کے درمیان نہ تھے،نہ اُن کی طرح کھاتے پیتے تھے اور نہ ہی اُن کی طرح بولتے تھے۔ یہ سب کچھ وہ اپنے لیے ہی کر رہے تھے۔ بلکہ یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ تیاری تھی بھی کہ نہیں۔ ہاں کچھ ہی دنوں بعد اتنی سمجھ اور آنے لگی تھی کہ یہ خموش نحوست اُس وقت شروع ہوئی،جب کسی نے اُسی ملک میں ایک مزیدملک بنانے کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ ملک کیا تھا؟کہاں بننا تھا؟ اور اس میں کن لوگوں نے رہنا تھا؟یہ ابھی طے نہیں ہوا تھا،مگر یہ طے تھا کہ اِس کی بنیادوں میں گاڑھے اور پتلے،سبھی قسم کے خون کا گارا او رکٹے ہوئے سروں کی اینٹیں استعمال ہونا تھیں،جس میں تیز دھار لوہے کا بہت زیادہ کام تھا۔ اور یہ بھی طے تھا کہ جس کے پاس جتنا زیادہ اور جتنا تیز لوہا ہو گا،وہی اپنی عمارت بلندتعمیر کرے گا۔ اس میں ست سری اکال اور اللہ اکبر کو بھی کردار ادا کرنا تھا۔ لیکن اُن کا عمل دخل صرف لوہے کے استعمال کے وقت تھا۔

چھ سات مہینے تو یہی حالت رہی لیکن اب کچھ دنوں سے اِس منحوس اور اُکتا دینے والی خموشی کا سکوت ٹوٹنے لگا تھا۔ سان پر چڑھی ہوئی بر چھیاں ڈانگوں پر چڑھنے لگیں۔ اَن کہی ٹولیاں تر تیب پانے لگیں اور اَن سُنی کہانیاں سُنی جانے لگیں۔ پُر امن گاؤں میں راتوں کو پہرے جمنے لگے۔ جوانوں نے مونچھوں کو تاؤ دینے شروع کر دیے لیکن کیوں؟ یہ ابھی بھی کسی کو پتا نہیں تھا۔ بس کہانیاں تھیں،کہ فلاں سکھڑے نے فلاں مسلے کو برچھی مار دی یا فلاں مُسلے نے فلاں سکھ کو تلوار سے کاٹ کر اُس کی انتڑیاں نکال دیں۔ مگر یہ سب دیکھا کسی نے نہیں تھا،سُن ضرور رہے تھے۔ یہ کہاں ہو رہا تھا؟یہ بھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔ ہاں اِتنا اور ہوا،چوہدریوں نے اپنے مزارعے بدل لیے اور مزارعوں نے چوہدری۔ مسلمان مسلمانوں کے ہاں چلے گئے اور سکھ سکھوں کے ہاں۔ پُرانے محلے داروں نے اپنے محلے اور گلیاں تک بدل لیں۔ گھر وں کے پُر سکون آنگنوں میں سونے والے کوٹھوں جا چڑھے اور ساری ساری رات جاگ کر پہرے داریوں میں لگ گئے۔ ڈھاریوں میں مال کی رکھوالی کرنے والے مال مویشی ہی گاؤں لے آئے۔ مزید دن گزرے تو سونے والے اچانک ڈر کرہڑ بڑا اُٹھتے اوراُٹھ اُٹھ کر بھاگنے لگے۔ پھر خبر ملتی کہ کچھ بھی نہ تھا۔ پھر کچھ دنوں بعد کچھ ہونے بھی لگا۔ واہریں اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ کبھی دائیں طرف سے بلوے کی خبر آتی،کبھی بائیں طرف سے۔ تھوڑی دیر میں واویلا اُٹھتا کہ سکھوں نے حملہ کر دیا۔ لوگ اللہ اکبر اور یا علی کے نعرے مارتے اپنی ڈانگیں اور برچھیاں لے کر چند لمحوں میں جمع ہو جاتے۔ وہ بر چھیاں،جو اُنہوں نے رات اپنے سرہانوں کے ساتھ رکھی تھیں۔ لیکن پتا چلتا،خبر جھوٹی تھی۔ دو ہفتے بعد یہ کھیل بھی ختم ہوا اور خبریں سچی ہونے لگیں۔ اِس لیے کہ نیا ملک بننے میں اب کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی،بلکہ وہ بن چکا تھا۔ لیکن وہاں نہیں،جہاں فیروز پور تھا۔ بلکہ ستلج کے اُس پار منٹگمری کی طرف۔ اچانک اُنہیں پتا چلا،یہ اُن کا وطن نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟اِس کا ابھی جواب نہیں تھا۔ وہ یہاں سے نکل کر کس مکان،کس دیہات یا کس شہر میں جائیں گے؟یہ سب نہ اُنہیں پوچھنے کی طاقت تھی اور نہ ہی اُنہیں کسی ایسے شخص کا پتا تھا،جو یہ سب کچھ اُن بتا سکتا ہو۔ ڈھاریاں،بستیاں،قصبے اور فیروز پور کے چھوٹے چھوٹے شہر وں کی آبادیاں،جن کی تعداد کم سے کم چار یا پانچ ہزار تھی،سب کے سب لوہے کے ہتھیاروں سے بھر گئے۔

پھر وہ دن جلد آگئے،جب لال آندھیوں،جھکڑوں،بگولوں کے اُٹھتے ہوئے طوفانوں اور خشک زمینوں سے د ھوپ کے اُڑتے ہوئے غباروں کے ساتھ دکن کی طرف سے سیاہ بادلوں کے پرے چڑھ آئے۔ یہ عذاب اکیلا نہ تھابلکہ دوسری طرف سے کرپانوں،گنڈاسوں،تلواروں اور چھویوں کے مینہ برسنے لگے۔ بیٹھے بیٹھے جانے کس غیب سے اشارہ ملا کہ لوہے کی تیز دھاریں ریشمی جسموں کی رگیں کاٹنے لگیں۔ واہگرو کی جَے،ست سری اکا ل اور اللہ اکبر کا آوازہ بلند چوراہوں،راہوں،نہر کی پٹڑیوں اور ہر اُس جگہ پر گونجنے لگا،جہاں کوئی بے دست و پا نظر آیا۔ انگریزی نظام کی تمام کڑیاں ایک ہی ہلے میں کٹ کر گر گئیں۔ پولیس معطل اور نظام ثقہ کا سکہ رائج ہو گیا۔

ہو سکتا تھا جلال آباد اور مکھسر میں حالات ویسے ہی مست چال چلتے رہتے اور کسی کو باور نہ ہوتا،کیا ہو رہا ہے۔ اُن کی تلواروں،کرپانوں اوربرچھیوں کو پڑے پڑے ساون کے پانی سے زنگ لگنا شروع ہو جاتا کہ ہریانہ،لدھیانہ اور دہلی سے لُٹے پٹے قافلے نمودار ہونے لگے۔ ۔ گڈے ہی گڈے،چھکڑے ہی چھکڑے،انسان،گدھے،بیل،بکریاں،اُونٹ،گائیں اور بھینسیں اور چیتھڑوں میں لپٹے،ننگے،سفید لٹھوں میں،ننگے پاؤں،ننگے سر،پگڑیاں باندھے،پیدل،سوار،گدھوں پر،گھوڑوں پر،بیمار ایک دوسرے کے کاندھوں پر،کفن کی ٹاکیوں میں لپٹے مُردے،ہزاروں انسانوں،لاکھوں انسانوں کے قافلے اور قافلوں کے تعاقب میں بھی قافلے۔ ڈانگوں والے،برچھیوں والے،داڑھیوں والے،مڑاسے مارے ہوئے،ننگے سر،اسوار،گھوڑوں پر۔ گویا انسانوں کی کھمبیا ں نکل آئیں تھیں،جن کی نہ کوئی پکار تھی،نہ پُرسش تھی اور نہ احساس تھا۔ بس نعرے تھے،بلوے تھے اور خون کے لمبے سلسلے،ہزاروں سال لمبے۔

غلام حیدر کو تشویش تو پہلے ہی بہت تھی لیکن جھنڈو والا کی خبر نے اُسے تڑپا کر رکھ دیا۔ ہوا یہ،آج صبح جب حویلی کے بیرونی صحن میں آیا تو اُسے ایک اجنبی نظر آیا،جسے اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ غلام حیدر چار پائی پر بیٹھ چکا تو اُس نے اُٹھ کر سلام کیا۔ غلام حیدر نے دیکھا،وہ لنگڑا کے چل رہاتھا۔ بہر حال اُس کے سلام کا جواب دیا اور پوچھا،وہ کون ہے؟

رفیق پاؤلی نے اُس شخص کے بولنے سے پہلے ہی کہا،چودھری غلام حیدر،یہ رشید عُرف چھدو ہے۔ جھنڈو والا سے آیا ہے۔ کہتا ہے،وہ بہت اہم خبر لایا ہے،جسے سوائے تمھارے کسی کو نہیں بتانا چاہتا۔

غلام حیدر نے کہا،چار پائی دور اُس کونے میں رکھ دو۔

جب غلام حیدر چھدو کو لے کر اکیلا بیٹھ گیا تو اُس نے جلدی سے بولنا شروع کر دیا،چودھری صاحب،میں خاص سودھا سنگھ کا ملازم تھا۔ اُس کے قتل کے بعد بھی اُسی کا نمک کھا رہا ہوں لیکن اِس وقت ایسی مجبوری آ پڑی ہے کہ تیری طرف آنا ضروری ہو گیا تھا۔ آخر مسلمان ہوں۔ اپنے آپ کو روک نہیں سکا۔ بات یہ ہے کہ جودھا پور کے مسلمان اِس وقت بہت خطرے میں ہیں۔ آج شام سے پہلے اُن سب کو سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ نے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور اِس کے لیے پوری تیاری ہو چکی ہے۔ جتنی جلدی ہوسکے،اپنے بندوں کو اسلحہ دے کر بھیج،تاکہ اُن کو نکال لائیں۔ خدا نخواستہ دیر ہو گئی تو سب کچھ تلپٹ ہو جائے گا۔ چھدو کی بات سُن کر غلام حیدر سُن ہو گیا۔ اُس کے دماغ میں جو خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی،آخر وہی کچھ ہوا تھا۔ سوچتے سوچتے اُس کا ذہن نچڑ کے رہ گیا،مگر سمجھ میں کچھ نہ آ رہا تھا۔ غلام حیدر کی رعایا تو ایک طرف،خود وہ نہیں جانتا تھا کہ حالات اِتنی تیزی سے بدلیں گے۔ پورے علاقے میں،جہاں اُس کی چند ہی دن پہلے ہیبت تھی اور اُس کا نام سُن کر سکھوں کو پسینے چھوٹ جاتے تھے،وہیں ہر شے اُس کے اثر سے اچانک اِس طرح نکل گئی،جیسے وہ ابھی پیدا ہی نہ ہوا ہو۔ کہاں تو ایک سال پہلے آدھے فیروز پور میں اُس نے الیکشن میں وہ کردار ادا کیا تھا،جس کی توقع نواب افتخار بھی نہیں کر رہا تھا۔ کانگرس اور یونینسٹ کو ووٹ ہی نہیں پڑنے دیے۔ اب اُسے اپنے اور اپنے بندوں کے جان و مال کے بھی لالے پڑ گئے تھے۔ آخر اُس نے ایک فیصلہ کر لیا پھر مطمئن ہو کر وہیں آ گیا،جہاں بہت سے آدمی جمع تھے۔

بادل اِتنے کالے اور گہرے تھے کہ اُن کے نہ برسنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہوا بالکل بند تھی،جس کی وجہ سے حبس صبح کے وقت ہی اتنا بڑھ گیا تھا کہ محسوس ہونے لگا،ابھی بارش ہو جائے گی۔ یہ بارش ہو جاتی تو ساون کی پہلی بارش تھی۔ دن کافی چڑھ آیا تھا۔ غلام حیدر کے بندے حقہ پینے میں مصروف تھے۔ اُسے پاس آتے دیکھ کر سب اُٹھنے لگے تو غلام حیدرنے اشارے سے سب کو بیٹھ جانے کے لیے کہا،پھر رفیق پاؤلی سے مخاطب ہوا،چاچا رفیق،جلدی سے ہمارے تمام بندوں کو جمع کر لو اور جو باہر نکلے ہوئے ہیں،اُن کو بھی بلا لو۔

رفیق پاؤلی نے غلام حیدر کو اِتنا گھبرائے ہوئے دیکھا تو وہ خود بھی پریشان ہو گیا۔ بولا،غلام حیدر خیر ہے،اتنی پریشانی کس لیے ہے؟ آدمی تو سارے ہی اِدھر ہیں۔

ہاں خیر ہی ہے،غلام حیدر نے تحمل سے جواب دیتے ہوئے کہا،تم سب میری ایک بات غور سے سُن لو۔ اب کوئی بندہ میرے پوچھے بغیر کہیں نہیں جائے گا۔ ایک بات طے ہے کہ فساد ہونے والا ہے۔ اِتنا بڑا فساد،جس کے آگے چراغ دین اور سودھا سنگھ کے قتل کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ سب کچھ تلپٹ ہونے والا ہے۔ اِس فساد میں کون کہاں جائے گا،اِس کی کسی کو خبر نہیں۔ اِس لیے کوشش کرو،ایک دوسرے سے الگ نہ ہو۔ کچھ دن پہلے میں نے جو محسوس کیا تھا۔ اُس کے پیش نظر اسلحہ تو ضرورت سے زیادہ جمع کر لیا تھا،لیکن اب سکھوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ اِس لیے مزید بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے لگ رہا ہے،جتنا کچھ احتیاطاً کیا گیا تھا،وہ اِس بند کے آگے تنکوں کا گھونسلا ہے۔ یہ بھی اچھی طرح سے جان لو کہ اب ہمیں بھی ستلج پار چلنا ہو گا۔
اور یہ گھر؟جانی چھینبا بولا،

یہ گھر،زندگی رہی تو واپس آ جائیں گے،غلام حیدر نے جانی کی بات کاٹتے ہوئے کہا،لیکن اِس وقت یہ حالات نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہم لٹتے ہوؤں کا تماشا دیکھتے رہیں۔ پھر خودبھی زنخوں کے ہاتھوں مر جائیں۔ مَیں نے دس دن پہلے فرید کوٹ کے نواب صاحب سے دس ریفلیں اور گولیاں منگوا لی تھیں۔ اُنہیں ملا کے اب ہمارے پاس چودہ رائفلیں اور چار سو کار توس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ میری پکی رائفل بھی ہے،جس کی مرے پاس پچاس گولیاں باقی ہیں۔ چاچا رفیق،سب بندوں سے کہہ دو،جن کے پاس کچھ نہیں ہے،وہ کچھ نہ کچھ ضرور اپنی بغل میں دبالیں۔ ہماری عورتوں کے پاس بھی چھُری کانٹا موجود ہونا چاہیے۔

یہ بات کہہ کر غلام حیدر کچھ دیرکے لیے چپ ہو گیا،جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔ پھر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق،تم ایسا کرو،جانی اور الطاف کو لے کر بیس مزید بندوں کے ساتھ بمع اسلحہ جودھا پور چلے جاؤ او ر جودھا پور والوں کو اپنی نگرانی میں جلال آباد لے آؤ۔ اِس وقت وہ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ دو بندے شاہ پور بھیج کر اُن کو خبر کر دو کہ جتنی جلدی ہو سکے،اپنا سامان باندھ کر بنگلہ فاضلکا کی طرف روانہ ہو جائیں اور وہیں بیٹھ کر ہمارا انتظار کریں۔ جب تک ہم نہ آ جائیں،آگے نہیں بڑھنا۔ وہاں سے اکٹھے ہیڈ پار کریں گے۔ یہ کام جلدی کرو،دیر اب نقصان کی طرف لے جائے گی۔

یہ حکم دے کر غلام حیدر جلدی سے واپس اندرونی صحن کی طرف چلا گیا۔ اِدھر رفیق پاؤلی نے ہوا کی تیزی سے اُس کی بات پر عمل شروع کر دیا۔ امیر سبحانی اور شیدے کو شاہ پور کی طرف بھیج کر آپ دس بجے سے پہلے ہی جودھا پور روانہ ہو گیا۔ رفیق پاؤلی کا جودھا پور کی طرف روانہ ہونا تھاکہ بادلوں نے گرجتے ہوئے برسنا شروع کر دیا۔ بارش ایسی شدید تھی کہ خدا کی پناہ۔ سیر سیر بھر کے تریڑے گرنے لگے۔ مگر رفیق پاؤلی نے اپنا سفر جاری رکھا کیونکہ معاملہ اب واقعی ہاتھ سے جاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اُس کا خیال تھا،بارشوں کی وجہ سے دیر کی گئی تو خون کی بارشیں شروع ہو جائیں گی۔ حالات کے مطابق یہاں سے اب جتنی جلدی ہوسکے،نکلنا ضروری ہو گیا تھا تاکہ اکٹھے سفر کیا جائے اور بغیرجانی اور مالی نقصان کے ستلج پا کر لیا جائے۔

اِدھر تو غلام حیدر یہ فیصلے کر رہا تھا،اُدھر جھنڈو والا میں الگ اپنے فیصلے ہو رہے تھے کہ جودھا پور وا لوں سے کیا سلوک کیا جائے؟سردار سودھا سنگھ کا بیٹا موہن سنگھ ابھی چھوٹا تھا۔ اِس لیے فیصلہ کرنے کا حق سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ کو دے دیا گیا۔ اُس نے کافی دنوں کی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ پورے جودھا پور میں کسی مرد کو زندہ نہ چھوڑا جا ئے۔ عورتوں کو آپس میں بانٹ لیا جائے اور بچوں کو نوکر بنا کر اُن سے بیگار لی جایا کرے،کہ اِن مُسلوں کی یہی سزا ہے۔ دوسری طرف جودھا پور میں یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ موت نے اُن پر نازل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اُنہوں نے بھی فی بندے کے حساب سے جو چیز لوہے کی ہاتھ آئی،اُسے سنبھال لیا۔ تمام عورتوں اور بچوں کو غلام حیدر کے جودھا پور والے مکان میں جمع کر دیا۔ اپنا اپنا سامان گٹھڑیوں میں باندھ کر ضروری چیزیں لے لیں اور باقی اندر رکھ کر مکانوں کو تالے لگا دیے کہ جب ٹھنڈ ٹھنڈار ہو گا تو اپنے گھروں میں دوبارہ آ بسیں گے۔ عورتوں نے یہ سوچ کر گھروں کے جندروں کی چابیاں اپنے گھگھروں کے ازاربندوں سے باندھ لیں۔ بھلا ایسے بھی کبھی ہوا،کسی کو کوئی زبر دستی اپنے گھروں سے نکال دے۔ آخر یہ دنگا فساد ایک دن تو ختم ہونا ہی تھا،جو نہ جانے کس شطونگڑے نے شروع کیا تھا اور بیٹھے بٹھا ئے گھروں سے بے گھر کر دیا۔ رحمت علی نے سب لوگوں کو حوصلہ دیا اور کہا،ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اب ہم مل کر ہی مریں گے اور مل کر جیئں گے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے سکھڑے زبردستی گاؤں کو آ گ لگا ئیں؟ وہ اچھی طرح جانتے ہیں،یہ گاؤں اُسی غلام حیدر کا ہے جس کی بندوق سے سکھڑے اِس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شیطان اعوذ بااللہ سے۔

جودھا پور میں کل مل ملا کے پچاسی مرد تھے،جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل جانے کے لیے پوری تیاری کر لی اور غلام حیدر کے مکان کو مورچہ بنا کر آنے والی آفت کا انتظار کرنے لگے۔ اِدھر ساون بھی اپنی جولانی پر تھا۔ سہ پہر چار بجے بادلوں کے کالے سایوں کے ساتھ موت کے زرد سائے بھی جودھا پورپر منڈلانے لگے۔ شمشیر سنگھ دو سوبندے لے کر،جو کرپانوں،چھویوں اور گنڈاسوں سے لیس تھے،جودھا پور کی طرف روانہ ہو گیا۔ اِس دفعہ اُس نے صرف کرپانوں پر بھروسا کرنے کی بجائے رائفلیں بھی ساتھ لے لیں،جن کی تعداد پانچ تھی۔ سردار سودھا سنگھ کے قتل کے بعد وہ صرف ڈانگ سوٹے پر بھروسا نہیں کر سکتے تھے۔ شمشیر سنگھ جانتا تھا،حالات جتنے بھی سکھوں کے حق میں ہوں،مُسلے بہر حال ایسے بچھو تھے جو کسی نئے طریقے سے بھی ڈنک مار سکتے تھے۔ ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ غلام حیدر نے اُن کے لیے کوئی انتظام نہ کیا ہو۔ شام چار بجے شمشیر سنگھ کے جتھے نے جودھا پور پہنچ کر پورے گاؤں کا محا صرہ کر لیا۔ اِدھر رحمت علی نے پہلے ہی اُن کے انتظام کے لیے سب کچھ سمیٹ کر غلام حیدر کے مکان پر جمع کر لیا تھا اور لڑنے کے لیے ہر طرح سے تیار وہا ں بیٹھے تھے۔ عورتیں اِس کے لیے ہرگز تیار نہیں تھیں۔ وہ کسی بھی طرح سے نہیں چاہتی تھیں،فساد ہو۔ اُن کے سننے میں ایسی بُری بُری خبریں پہنچتی تھیں،جن کو برتنے کا اُن میں یارا نہیں تھا۔ اُن عورتوں میں سے کچھ مسلسل نماز میں تھیں،۔ کچھ دعا اور درود کے ورد میں مصروف ایک انہونے خوف میں مبتلا تھیں۔ اُنہیں مرنے سے زیادہ اِس بات سے دہشت ہو رہی تھی کہ خدا نخواستہ اُن پر حملہ ہو گیا اور مرد لڑتے لڑتے مارے گئے تووہ لمبی داڑھیوں اور بد بو دار بغلوں والے نا پاک سکھڑوں کے ہاتھ ا ٓجائیں گی۔ وہ جو اُن سے سلوک کریں گے،اُس کا تصور ہی کپکپا دینے والا تھا۔ تمام بچے سہمے ہوئے اپنی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔ منہ اندھیرا ہورہا تھا۔ اِس عالم میں جوں جوں سکھوں کے حملے کی خبریں ملتیں،دہلا دینے والے ہول پڑتے اور شام کے سائے بھوتوں کی طرح جودھا پور میں چلتے پھرتے نظر آتے۔ اچانک بادل زور سے گرجنے لگے۔ ہوا کا زور بڑھا تو عورتوں نے چاروں قل اور آیہ کرسی کی تلاوتیں شروع کر دیں۔ پانچ بجے شام گھوڑوں کی ٹاپوں اور پیدل سکھوں کے قدموں کی دڑ دڑ شروع ہوئی تو عورتوں کے وظیفوں اور دعا ؤں کی گنگناہٹ اتنی تیز ہو گئی،جیسے شہد کی مکھیوں کے چھتے بکھررہے ہوں۔ رحمت علی کی ہدایات پر مردوں نے دو رائفلوں کے ساتھ پوری طرح حملے کا جواب دینے کے لیے اپنے نشانے سیدھے کر لیے۔ و ہ یہ تو جانتے تھے،اِتنے سکھوں کی یلغار کے سامنے مٹھی بھر لوگوں کا کیا بنے گا۔ مگرشایدیہی دن تھا،جب سب کے ایمان کا یقین ایک جیسا ہو گیا تھا،اور وہ مولا علی کو دل میں اور با آواز بلند بھی پکار رہے تھے۔

شمشیر سنگھ اور اُس کا جتھا جودھا پور میں داخل ہوا تووہ حیران رہ گئے۔ سارے گاؤں میں کوئی فرد بھی اُنہیں کسی گلی میں چلتا پھرتا نظر نہ آ یا۔ گویا کوئی دیو پھر گیا ہو۔ مکانوں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ بادلوں کے سیاہ پھریروں میں صرف درختوں کی شاخیں اور پتے تھے،جو لہرا لہرا کر اپنے ہونے کی گواہی دے رہے تھے۔ اِس ویرانی میں اُن کا ہلنا بھی گاؤں کی وحشت میں اضافہ کر رہا تھا۔ چند منٹوں کے لیے تو شمشیر سنگھ پریشان ہو گیا۔ لیکن جلد ہی اُسے پتا چل گیاکہ مُسلوں نے غلام حیدر کے بڑے احاطے میں پناہ لے رکھی ہے۔ گاؤں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اُنہیں ڈھونڈنے میں زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی۔ اُس نے سوچا،یہ اور بھی اچھا ہے،سارے ایک ہی جگہ پر قابو آ گئے ہیں۔ اُسی وقت اُس نے مکان پر حملے کا حکم دے دیا۔ اِس سے پہلے کہ شمشیر سنگھ کا جتھا حملہ آور ہوتا،رحمت علی نے فیصلہ کیا کہ سکھوں پر گولی چلا دی جائے۔ رحمت علی اور جودھا پور کے مر دمکان کی چھت پر ہونے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے اُن کی دسترس سے باہر تھے۔ بلکہ جب تک گولیاں ختم نہ ہو جاتیں سکھوں کا مکان میں داخل ہونا مشکل تھا۔ چنانچہ اِدھر شمشیر سنگھ کے لوگ حویلی کی طرف بڑھے،اُدھر ایک دم کوٹھے کے اُوپر تنی بندوقوں سے تین فائر نکل کرسیدھے سکھوں کے ہجوم میں گھس گئے۔ فائر کارتوسوں سے کیے گئے تھے،اِس لیے چھَرًے اِس طرح زور سے بکھرے،جیسے مینہ کے چھنٹے برس پڑے ہوں۔ بادل زور سے برس اور گرج رہے تھے۔ اِس قدر تیز بارش میں حملہ آوروں کا دھیان پہلے ہی بٹا ہوا تھا کہ ِان فائروں سے وہ اور زیادہ بوکھلا گئے۔ لیکن اب وہ بھاگنے کے لیے نہیں آئے تھے۔ اُن کے دو بندے گر گئے جس کی وجہ سے غصہ دو چند ہو گیا اور وہ اندھا دُھن مکان کے دروازے کی طرف دوڑ پڑے۔ کچھ نے چھت کی طرف گولیاں برسانی شروع کردیں۔ بہت سے سکھوں نے مل کر حویلی کے بڑے دروازے کو دھکا دیا تو وہ منٹوں میں زمین بوس ہو گیا۔ اُس کے ساتھ ہی تمام سکھڑے مکان کے صحن میں بھر گئے،جن پر کوٹھے کی چھت سے ایک اور فائر وں کی بوچھاڑ پڑی۔ اِس بوچھاڑ سے کئی سکھ مزید زخمی ہو کر گر پڑے۔ لیکن وہ مسلسل واہگرو اور ست سری اکال کے نعرے لگاتے ہوئے اور تلواریں،برچھیاں لہراتے ہوئے آ گے ہی چلے آ رہے تھے اور کوٹھے پر بھی فائر کرتے جاتے۔ اِس فائرنگ سے حمیداکمبو،دلاور عرف دُلا اور شرفو اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن سوائے اِس کے،کوئی رستہ نہیں تھا کہ لڑ مریں۔ چنانچہ وہ بھی چھت پر بیٹھے فائر پر فائر کرنے لگے۔ اِس مسلسل فائرنگ اور بارش کی وجہ سے شمشیر سنگھ کا جتھا کچھ دیر کے لیے کمروں کے دروازوں کی طرف بڑھنے سے رُک گیا،جہاں عورتیں چھُریاں اور دات تھامے اور خالی ہاتھ،بچے ماؤں کے پہلووں سے چمٹے سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ باہر کے شور شرابے اور مار دھاڑ میں ڈر اتنا غالب آ گیا کہ کچھ عورتیں دعاؤں کو چھوڑ کر رونا شروع ہو گئیں۔ اِسی باہر کے پٹاخوں اور نعروں کی اُونچی آوازوں سے گھبرا کر بچے مسلسل رو رہے تھے۔ رحمت علی نے محسوس کیا کہ سکھ کچھ ہی دیر میں کمروں کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہو جائیں گے اور سب کچھ برباد ہو جائے گا،تو اُس نے،جن لوگوں کے پاس رائفلیں تھیں،اُنہیں کہا کہ وہ چھت پر ہی رہیں اور سکھوں پر اُس وقت تک فائر کرتے جائیں جب تک کارتوس موجود ہیں یا جب تک ہم زندہ ہیں۔ باقی سب نیچے چھلانگیں مار کر دالان میں جمع سکھوں پر حملہ کر دو۔ ویسے بھی کئی سکھ صحن میں کھڑے ہوئے نیم کے بڑے درخت پر چڑھ چکے تھے۔ جس کی شاخیں مکانوں کی چھتوں سے بھی بلند تھیں۔ یہ سکھ یہاں سے چڑھ کر کوٹھوں پر بیٹھے لوگوں پر فائرنگ کرنے لگے۔ جس کی وجہ سے بندوں کا نقصان بڑھ گیا۔ اِن حالات کے پیش نظر آمنے سامنے سے بھی فائرنگ شروع ہو گئی۔ رحمت علی کی بات سُن کر سب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ،نیچے چھلانگیں مار دیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے دوبدو لڑائی شروع ہو گئی۔ چھویاں،ڈانگیں،کرپانیں اور بر چھیاں اِس طرح برسنے لگیں جیسے ساون کی بارش برس رہی تھی اور پانی کے ساتھ خون کے پرنالے بھی بہنا شروع ہو گئے۔ سکھ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اِس لیے نقصان مسلمانوں کا زیادہ ہو رہا تھا۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ سکھ مکمل طور پر محفوظ تھے۔ اگر دو بندے مسلمانوں کے گرتے تو ایک سکھوں کا بھی گر جاتا۔ کچھ ہی دیر میں لڑائی نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ کسی کو کسی کا ہوش نہ تھا۔ بس غلام حیدر کے مکان کا تین کنال کھلا صحن تھا،بارش کا شور تھا،خون اور پانی کے تریڑے تھے۔ یا پھریا علی مدد اور واہگرو کے نعروں کی گونج تھی۔ جن میں بچوں اور عورتوں کے رونے کی آواز دب کر رہ گئی تھی۔ جودھا پور والے اِس بے جگری سے لڑ رہے تھے کہ شمشیر سنگھ حیران رہ گیا۔ مکان چاروں طرف سے گھرا ہوا تھا۔ مرنے والے اور لڑنے والوں کے پاس اب نہ تو قائد اعظم تھا،نہ نواب افتخار اور نہ ہی گاندھی اور نہرو موجود تھے۔ وہ سب لیڈراپنے گھروں میں محفوظ،اِس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ہندوستان کے صوبے پنجاب کے ضلع فیروزپور کی تحصیل جلال آباد کے تھانے مکھسر کے ایک گاؤں جودھا پور میں اِس وقت خون اور پانی کی جنگ ہو رہی ہے۔ اُنہیں نہیں پتا تھا کہ ُاس کے نتیجے میں،جو مارے جارہے ہیں،اُن کا مقدمہ کس عدالت میں چلایا جاسکتا ہے؟یا اگر وہ جانور ہیں اور اُن کا خون بہا نہیں تو یہ اُنہیں پہلے کیوں نہ بتایا گیا۔ جہاں تک یا د پڑتا ہے،اُن کے کانوں نے تو کسی آزادی وغیرہ کا نام سنا تھا۔ اُن بڑے لیڈروں نے تو جودھا پور،شاہ پور اور جھنڈو والا کے نام بھی نہیں سُنے تھے،جو ہوائی جہازوں کے ذریعے سرحدیں پار کر رہے تھے،بمع سازو سامان اور اہل و عیال۔ ان بڑے بڑوں کو تو چھوڑیے،خود اِن جودھاپور اور جھنڈووالا کے لڑ کر مرنے والوں کو بھی نہیں پتا تھا،وہ کیوں لڑ اور مر رہے ہیں؟کیونکہ اِس لڑائی میں نہ گاندھی شامل تھا اور نہ محمد علی جناح،لیکن لڑائی جاری تھی اور لاشیں گر رہی تھیں،بارش ہو رہی تھی۔

اِسی دوران رفیق پاؤلی گاؤں میں اپنے بندوں کے ساتھ داخل ہو گیا اور جودھا پور پر اِتنے سارے حملہ آور سکھوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ جلد ہی ساری صوت حال کو سمجھ گیا تھا اور جی میں اِس بات پر خدا کا شکر کیا کہ غلام حیدر کے سامنے سرخ رو ہونے کے لیے عین موقعے پر پہنچ گیا تھا۔ رفیق پاؤلی نے فوراً اپنے آپ کو سنبھا لا اور اپنے بندوں کو سکھوں پر فائر کھولنے کا کہہ دیا۔ جس کے بعد ایک دم یا علی کے نعروں کے ساتھ سکھوں پر پانچ مزید رائفلوں سے گولیاں برسنا شروع ہو گئیں۔ شمشیرسنگھ اور اُس کے ساتھی اِس اچانک حملے سے گھبرا گئے۔ مگر جلد ہی اُس نے اپنے بندوں کو قابومیں کر کے رفیق پاؤلی پر بھی حملے کے لیے آگے کر دیا۔ رفیق پاؤلی کے آنے سے جودھا پوریوں کے حوصلے کئی گنا بڑھ گئے۔ اُس کی وجہ سے مکان کے اندر اور باہر،دونوں جگہ گھمسان کا رن پڑ گیا۔ رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے کھلی جگہ پر تھے۔ اِس لیے اندر کی لڑائی سے باہر کی لڑائی زیادہ تیز ہو گئی۔ اُدھر اندر والے بھی کئی لوگ بھاگ کر باہر آنے لگے۔ اُنہیں محسوس ہوا،غلام حیدر اپنے بندوں کے ساتھ مدد کو آگیا ہے۔ اِس افراتفری میں یہ ہوا کہ چند ہی لمحوں میں حویلی کا صحن سکھوں سے خالی ہو گیا اور باہر لڑائی کا زور پیدا ہو گیا۔ اب چھت پر بیٹھے ہوئے بندوق والوں کو کُھل کر فائر کرنے کا موقع مل گیا۔ لیکن کارتوس کم ہو گئے تھے۔ مگر اُس کا اندازہ خدا کا شکر ہے،شمشیر سنگھ کو نہیں تھا۔ باہر چونکہ لڑائی کا زور بہت بڑھ گیا تھا اور سب کا رخ رفیق پاؤلی اور اُ س کے بندوں کی طرف تھا،اِس لیے شمشیر سنگھ کی گولیوں اور کرپانوں کا تماشا بھی اُدھر ہی ہونے لگا۔ اُدھر جودھا پور والے،جو حویلی کے اندر لڑ رہے تھے،وہ بھی باہر نکل آئے۔ عورتیں اور بچے پھر کچھ دیر کے لیے محفوظ ہو گئے۔ لڑائی کا یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ جس میں ابھی تک کسی کو نہیں معلوم تھا کہ کتنے مسلمان مر گئے ہیں اور کتنے سکھ؟البتہ اِتنا ہو ا کہ رفیق پاؤلی کے آنے کی وجہ سے جودھا پور والوں کے حوصلے اور قوت میں اضافہ ہو گیا۔ اِس لیے وہ پہلے سے زیادہ بہادری سے لڑ نے لگے۔ اُن کے اِس طرح لڑنے سے سکھوں کے حوصلے اُٹھ سے گئے۔ وہ جس عظیم فتح کا گمان لے کے جھنڈو والا سے آئے تھے،اُس پر کچھ اوس پڑ تی نظر آ رہی تھی۔ نقصان ہر چند مسلمانوں کا ہی زیادہ تھا لیکن شمشیر سنگھ اور اُس کے متروں کو حملہ کرنے سے پہلے یہ توقع نہیں تھی کہ معاملہ اتنی مزاحمت اختیار کر جائے گا۔ اِدھر نہ جانے کہاں سے کاہنا سیؤ نے تاک کر ایک گولی ماری کہ سیدھی آکر رفیق پاؤلی کے دل پر لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اِس گولی کا لگنا تھا،مسلمانوں نے نعرہ بازی بلند کر دی۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ مر تو جانا ہے،کیوں نہ زیادہ سے زیادہ سکھوں کو لے کر مریں۔ یہ سوچ کر مسلمان اِس طرح سکھوں پر ٹوٹ پڑے جیسے سروں پر بارش کے تریڑے گر رہے تھے۔ اِس گھمسان کی وجہ سے لاشوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی اور بیسیوں بندے ادھر اُدھر بکھر گئے۔ گویا پانی پت کی لڑائی جاری ہو۔ بارش کے پانی کا زور،کیچڑ اور اُس میں زخمی ہو کرگرنے والوں کا خون،زخمیوں کی چیخیں اور ڈانگوں کے کھڑاک نے وہ ہنگامہ برپا کیا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ شمشیر سنگھ کو یہ دیکھ کر اپنی فتح کے آثار قریب نظر آنے لگے۔ وہ مزید زور زور سے ست سری اکال کے نعرے دہرانے لگا۔ اِس کی وجہ سے اپنے آپ سے بے خبر ہو گیا اور آگے پیچھے کی ہوش نہ رہی۔ اُسی وقت چھت پر سے ایک گولی شمشیر سنگھ کے ماتھے پر آکر لگی اور وہ گھوڑے سے سیدھا زمین آ پڑا۔ یہ دیکھ سکھوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ اُنہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ مسلمانوں نے اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی یلغار بڑھا دی اور بھاگتے ہووں کو مارنے لگے۔ یہی وہ وقت تھا،جب سکھوں نے جیتی ہوئی لڑائی کو شکست سمجھ لیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں اُن سے خالی ہو گیا۔ البتہ جاتے ہوئے اُنہوں نے شمشیر سنگھ کی لاش ضرور اُٹھا لی۔ باقی جو سکھ مر گئے تھے،اُن کو وہیں چھوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے جودھا پور والوں میں مزید خوشی دوڑ گئی اور وہ اُن کا تعاقب کرتے ہوئے ایک دو ایکڑ تک پیچھے بھاگے،پھر لوٹ آئے۔ لڑائی قریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی تھی۔ اِس لیے شام کے سائے برستے ہوئے بادلوں کے ساتھ مل کر گہرا اندھیرا کرنے لگے۔ لاشوں کا حساب شروع کیا تو جودھا پور کے چالیس بندے مر چکے تھے اور سولہ سکھ بھی وہیں ڈھیر ہوئے پڑے تھے۔ زخمیوں کی تعداد الگ تھی۔ اِس کے علاوہ رفیق پاؤلی اور اُس کے ساتھ آئے بیس میں سے پانچ بندے مزید مارے جا چکے تھے۔

بارش ابھی ہلکی ہلکی جاری تھی۔ کچی زمین ہونے کی وجہ سے کیچڑ،پانی اور کھوبے نے چلنے پھرنے میں مشکل پیدا کر دی۔ رفیق پاولی مارا جا چکا تھا،اِس لیے حالات کی ڈور جانی چھینبے اور رحمت علی نے سنبھا ل لی۔ شام کی اذان کا وقت ہو گیا تھا۔ جانی نے سب زندہ لوگوں،بچوں اور عورتوں کو اکٹھا کیا اور اُنہیں کہا،جو کچھ اُٹھا سکتے ہو،اُٹھا لواور جلدی یہاں سے نکلنے کی کرو۔ رحمت علی نے کچھ بندوں کو لے کر ایک گڑھا کھدوانا شروع کر دیا تاکہ لاشوں کو جلدی سے دفن کر دیا جائے۔ اب یہ طے تھا کہ اتنی جلدی یا کم از کم رات کے وقت سکھ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ مگر یہ ضرور تھا کہ اگلے دن وہ دوبارہ نئی طاقت سے چڑھ آئیں گے۔ اِس لیے رات ہی جودھا پور چھوڑ دینا ضروری تھا۔ عورتیں اپنے مرنے والوں پر رونے اور بین کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری میں مصروف ہو گئیں۔ وہ کبھی اپنے کپڑے سنبھالتیں اور کبھی بھائیوں،باپوں اور خاوندوں کے اُوپر گر گر کے دو ہتھڑ پیٹتیں اور بین کرتیں،جنہیں چند لمحوں بعد وہ خود چھوڑ جانے والی تھیں۔ اُنہیں رہ رہ کر اِن لاشوں کی تنہائی اور بے کسی کچوکے لگا رہی تھی۔ جن پر اب نہ وہ اگر بتی سلگا سکتی تھیں اور نہ اُن کی قبروں پر بیٹھ کے ماتم کر سکتی تھیں۔ اِسی عالم میں جو کپڑا لتا،اُن کے ہاتھ میں آیا،اُس کی گٹھڑی باندھ لی۔ گڑھا تیار ہو گیا توجودھا پور کے مولوی نے،جو خوش قسمتی سے بچ گیا تھا،جلدی سے اور مختصر ترین جنازہ پڑھا اور لاشوں کو دفنانے کا کہہ دیا۔ سکھوں کی لاشیں،جن سے اب وحشت ہو رہی تھی،اُنہیں ویسے ہی پڑا رہنے دیا۔ اِس دوران بارش بالکل رُک چکی تھی۔ گویا بارش ایک ایسا رجز تھی،جو اُس وقت تک جاری رہا،جب تک لاشیں گرتی رہیں۔

رات دس بجے کے قریب یہ بد نصیب قافلہ،جس کے آدھے مرد پل بھر میں لاشوں میں تبدیل ہو کر گڑھے میں جا چکے تھے،جلال آباد کی طرف چھکڑوں پر اور پیدل روانہ ہو گیا۔ عورتیں اور بچے خوش قسمتی سے بچ گئے تھے۔ قافلے کے ساتھ رفیق پاؤلی،حمیدا کمبوہ سمیت پانچ لاشیں،آٹھ زخمی،بین کرتی ہوئی عورتیں اور روتے ہوئے بچے تھے،جورات کے اندھیرے میں اپنے گھروں کو چھوڑتے ہوئے،اُن پر حسرت بھری نظر بھی نہ مار سکے اور اپنے گھروں کی دہلیزوں کو ڈر کے مارے پلٹ کر دیکھ بھی نہ سکے۔ بوڑھی عورتیں،بچے اور زخمی زیادہ تر چھکڑوں پر لادے گئے،جب کہ جوان عورتیں اور مرد پیدل چل دیے۔ بارش اِتنی شدید ہوئی تھی کہ ہر طرف جل تھل عام ہو گیا۔ سڑکیں پانی اور کیچڑ میں بدل جانے سے چھکڑوں اور گڈوں کا چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ چنانچہ اُن کو جتنا زیادہ ہلکا رکھا جا سکتا تھا،چھکڑوں میں جُتے ہوئے بیلوں کے لیے اتنا ہی بہتر تھا۔ یہ قافلہ رات بھر کراہتا ہوا چلتا رہا،جس کے پیچھے پیچھے ڈر بھی دوڑا چلا آرہا تھا،اس لیے وہ پل بھر کو کہیں آرام کرنے کے لیے ٹھہر بھی نہ سکااوردن نکلنے تک جلال آباد پہنچ گیا۔

قافلہ جس وقت جلال آباد پہنچا،صبح کے چھ بج رہے تھے۔ غلام حیدر فکر مندی سے اُن کے انتظار میں اِدھر اُدھر حویلی میں ٹہل رہا تھا۔ جیسے ہی اُس نے اِس لُٹے پُٹے قافلے کو دیکھا اور رفیق پاؤلی کی لاش پر نظر پڑی تو دل ایک جھٹکے کے ساتھ دہل گیا اور دم سینے میں اٹک سا گیا۔ غلام حیدر نے تمام لوگوں کی دلجوئی کی خاطر قافلے کو جلدی سے حویلی کے احاطے میں اُتارا اور عورتوں اور بچوں کو اندرونی صحن میں بھیج دیا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں اور بیوی موجود نہیں تھیں۔ اُنہیں غلام حیدر نے دس پندرہ دن پہلے ہی پاکپتن بھیج دیا تھا،جس کے بارے میں یقین تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہو جائے گا۔ اِس لیے اُنہیں دلاسا دینے کے لیے حویلی میں کوئی نہیں تھا۔ یہ عورتیں،جو اپنے تازہ مُردوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جودھا پور کے گڑھے میں چھوڑ آئی تھیں۔ یہ عورتیں،جنہیں لاشوں پر آرام سے بیٹھ کر رونا نصیب نہیں ہوا تھا اور نہ اُن کی قبروں اور چارپائیوں کے پایوں کو پکڑ کر بین کر سکیں تھیں۔ یہ سب غلام حیدر کی حویلی کے اندرونی صحن میں اِس طرح داخل ہو رہی تھیں،جیسے صحرائے سینا سے نکل آئی ہوں اور اب آرام سے بیٹھ کر اپنے نقصان کا تخمینہ لگا سکیں۔ رفیق پاؤلی،حمیدہ کمبوہ،دلاور،الہ داد اور شریف جلاہے کی لاشیں حویلی کے دالان میں پڑی غلام حیدر کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر رہی تھیں۔ جبکہ وہاں کھڑے ہو ئے تمام لوگ اُن کو ایسے دیکھ رہے تھے،جیسے خراج تحسین پیش کر رہے ہوں۔ باقی اِدھر اُدھر بیٹھ کر اُن کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،اب وہ اِن کا نہ تو بدلا لے سکے گا اور نہ مداوا کر سکے گا،۔ سوائے اِس کے کہ وہ اِن بچے کھچے اور اُجڑے پُجڑے لوگوں کو لے کر جتنی جلدی ہو سکے،ستلج پار کر جائے۔

ایک طرف تو غلام حیدر کے یہ مزارع اور رعایا تھی،جو اُس پر اپنا حق سمجھتے ہوئے یہاں آگئے تھے یا لائے گئے تھے۔ اِن کے علاوہ ارد گرد کے ہزاروں لوگ بھی حویلی کے آس پاس جمع ہو رہے تھے،جنہیں یا تو سکھوں کا ڈر تھا،یااُن کے پاس سفر کرنے کے لیے ضرورت کا تنکا تک نہ تھا۔ غلام حیدر کے پاس اِن لوگوں کا جمع ہو جا نا اُنہیں گویا اپنی حفاظت کا یقین دلاتا تھا۔ لوگ اتنے جمع ہو گئے تھے جن کا حویلی کے صحن میں پورا آنا مشکل ہو گیا۔ اِس لیے اُنہوں نے حویلی کے باہر ہی اپنے آسن جما لیے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،ایک دو دن تک تو یہاں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن زیادہ دیر تک وہ اِن لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔ اُس کا ڈر سکھوں پر ایک حد تک رہ سکتا تھا۔ اُس کے بعد معاملہ بگڑ جاتا۔ کیونکہ اطلاعیں ملنے لگی تھیں کہ دریا پار سے سکھوں کے کئی قافلے لُٹ پُٹ کر جلال آباد آرہے ہیں،جو شمالی اور جنوبی پنجاب کے مسلمانوں کے جہاد کی نظر ہو گئے ہیں۔ اب اُن کی آبادی لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی،جنہیں دیکھ کر جلال آباد اور مضافات کے عام اور شریف سکھوں کے بھڑک اُٹھنے کا بھی اندیشہ تھا۔ وہ کسی وقت بھی غلام حیدر کے ڈر کو نظر انداز کر سکتے تھے۔ جب غلام حیدر کو جانی چھینبا جودھا پور میں ہونیوالی لڑائی کا تمام ماجرا سنا چکا تو اُس نے ایک ٹھنڈی آ ہ کھینچی۔ جس کا مطلب غالباًیہ تھا کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ اِسی لیے اُٹھتے ہوئے بات فوراًکسی اور طرف پھیر دی اور بولا،جان محمد ایسا کرو،جلدی سے چاچے رفیق اور دوسرے شہیدوں کی لاشوں کا بندوبست کر کے انہیں دفناؤ،بادل پھر چڑھ آئے ہیں اور نہ جانے کب برسنا شروع ہو جائیں۔ اِس کے علاوہ ہمارے گودام میں جتنا غلہ ہے،اُس کے دروازے اِن اجنبی دیس میں جانے والے مسافروں پر کھول دو۔ بچارے جتنے دن یہاں ہیں،پیٹ بھر کر کھا لیں،پھر خدا جانے اِنہیں کبھی کھانا نصیب ہو،یا نہ ہو۔ اور جہاں یہ جا رہے ہیں،وہاں کوئی اِن کا پُر سان حال ہو گا بھی کہ نہیں۔ بادل پھر گرجنے لگے تھے اور اُن کی سیاہی کل سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جودھا پور کی لڑائی کو چار دن گزر چکے تھے۔ عورتوں کے بین رک تو گئے تھے لیکن اُنہیں رہ رہ کر اپنے مُردوں کی یاد آتی تو وہ پھر رونا شروع کر دیتیں۔ پھر یہ درد جلد ہی تھم جاتااور چُپ کر جاتیں۔ یہ قافلہ اِرد گرد کے بیس پچیس گاؤں کا تھا،جس کی تعداد کم از کم چھ ہزار ہو چکی تھی اور اِس کا نقیب غلام حیدر تھا۔ غلام حیدر کی جیپ (جو نواب افتخار نے اُسے الیکشن جیتنے کے بعد تحفے کے طور پر دی تھی)،کے ارد گرد تیس پینتیس گھڑ سوار بندوقوں اور برچھیوں سے لیس چل رہے تھے۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ بارش تھمنے کو نہیں آتی تھی۔ کچی سڑکیں کیچڑ سے اِس قدر بھر گئیں کہ دو قدم چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ بعض جگہ تو دُور تک گھُٹنوں گھٹنوں پانی کے تا لاب لگ گئے اور پیدل والوں کے لیے،جو قافلے کا ستر فی صد تھے،مصیبت ہو گیا۔ اُن کا حساب،کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا،والا تھا۔ لیکن غلام حیدر کسی کو بھی پیچھے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اِدھر سکھ بارش کی طرح،نہ جانے آسمان سے برس رہے تھے کہ زمین سے اُگ رہے تھے۔ اُن سکھوں میں سے بیشتر کی حالت بھی انتہائی ابتر تھی۔ اُن کے لُٹے پُٹے اور بے دست و پا چھوٹے چھوٹے گروہ جب غلام حیدر کے قافلے کے قریب سے گزرتے تو دونوں اطراف کی آنکھیں ایک دوسرے کی کسمپرسی پر شرمندگی سے جھک جاتی اور وہ بغیر ست سری اکال،یا واہگرو کا نعرہ مارے گزر جاتے۔ غلام حیدر جانتا تھا،یہ وہی لوگ ہیں،جن کی حالت جودھا پور والوں سے کم نہیں تھی۔ اب بارش اور تیز ہوا نے اتنا زور پکڑ لیا تھا کہ اگست کا مہینہ پوہ ماگھ سے آگے نکل گیا۔ اُ س پر ستم یہ کہ نہر بنگلہ کے کنارے فسادیوں نے توڑ کرپانی سڑکوں اور کھیتوں پر بہا دیا۔ جس کی وجہ سے اِنہیں مجبوراً نہر کی پٹڑی پر چلنا پڑا۔ چلتے چلتے ایک جگہ سے قافلہ گزرا تو دیکھ کر حیران رہ گئے،نہر بنگلہ،جسے ولیم کے نہری عملے نے بنایا تھا،کی پٹڑی پر چار کلو میٹر تک لاش کے ساتھ لاش جوڑ کر اِس طرح رکھی ہوئی تھیں کہ ایک مرد کی لاش،اُس کے بعد عورت کی لاش پھر مرد کی لاش تھی۔ کسی کا گَلا کٹا تھا،کسی کے جسم کا کوئی اور عضو کٹا تھا،خون اور مٹی میں لتھڑی ہوئی اِن کئی ہزار لاشوں کا سلسلہ دور تک اِسی طرح پھیلا ہوا تھا۔ خُدا جانے،آنے والے دنوں میں اِن کا بندوبست کون کرنے والا تھا۔ اُن کو دیکھ کر قافلے کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ سوچنے لگے،اگر غلام حیدر ساتھ نہ ہوتا،تو اُن کی بھی یہی حالت ہوتی۔ یہ سب لاشیں مسلمانوں کی تھیں،جن کے اُوپر پاؤں رکھ کراور اُن کو روند کر اِس قافلے نے چار کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ کیونکہ کھیتوں میں اور سڑکوں پر پانی اور کیچڑ نے چلنے کی سکت بالکل ختم کر دی تھی۔ لاشیں ایک دن پہلے کی تازہ ہی تھیں۔ بارش اُن گمنام شہیدوں پر برس برس کراپنی رحمتیں نچھاور کر رہی تھی۔ اِن مشکلوں کے باوجود قافلہ روز کے دس کلو میٹر طے کر رہا تھا۔ رستے میں کئی کئی شرنارتھیوں اور مقامی سکھوں کے لوٹ مار والے جتھوں سے ٹاکرا بھی ہو رہا تھا۔ لیکن غلام حیدر کے حفاظتی دستوں کو دیکھ کر اِدھر اُدھر ہو جاتا۔ البتہ دہلی،ہریانہ اور مشرقی پنجاب کے بالائی علاقوں سے آنے والے مہاجرین کو لوٹنے سے اُنہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ لوگ اِن کے ہاتھوں سے اِس طرح لٹ لٹ کر خالی ہو رہے تھے جیسے ببول کی شاخیں اُونٹ کے منہ میں آکر پتوں سے صاف ہو جاتی ہیں اور مسلمان اِس طرح کٹ رہے تھے،جیسے دھان کی فصلیں جالندھر کی درانتیوں سے کٹتی ہیں۔ بہر حال غلام حیدر کا قافلہ گپھایااور لکھے کی سے ہوتا ہواپانچ دن میں فاضلکا بنگلہ پہنچ گیا۔ قافلہ ہیڈ سلیمانکی کی بجائے لکھے کی سے ہی دریا پار کر کے وسطی پنجاب میں داخل ہو سکتا تھا۔ لیکن ُمون سُون کی بارشوں کی وجہ سے،جو پچھلے کئی دن سے ایک پل سکون نہیں لینے دے رہی تھی،دریا کا پاٹ بڑھ کر ایک کلو میٹر ہو گیا تھا اور گہرائی بھی معمول سے کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ بہت سے لوگوں نے،چاہے وہ سکھوں میں سے تھے یا مسلمانوں میں،براہ راست دریا کو پار کرنے کی کوشش بھی کی،لیکن اُن کی لاشیں ہی کناروں پر آئیں اور کئیوں کی تو لاشیں بھی نہیں ملیں۔ ا سِ لیے اُدھر کا راستہ مکمل بند ہو چکا تھا اور سلیمان کی ہیڈ سے پار کرنا ناگزیر تھا۔ بنگلہ میں ایک رات گزارنے کے بعد،جہاں شاہ پور والے اُن کا انتظار کر رہے تھے،سب مل کر ہیڈ سلیمانکی کو روانہ ہو گئے اور شام کے وقت ہیڈ پر پہنچ گئے۔ سلیمانکی ہیڈ پہنچ کر غلام حیدر حیران رہ گیا۔ دُور تک لوگ ہی لوگ تھے۔ جدھر نظر جاتی سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ غلام حیدر اتنے سارے لوگوں کو ہیڈ کے مضافات میں بیٹھے دیکھ کر پریشان ہو گیا اور یہاں پر رکے رہنے کا سبب معلوم کرنے لگا۔ کافی دیر تک تحقیق کرنے سے اُس پر جلد ہی کھل گیا کہ معاملہ کیا ہے؟ کئی لوگ پندرہ دن سے بیٹھے تھے۔ اِن میں سے وہ بھی تھے،جن پر رات کے وقت لوٹ مار کرنے والے کئی کئی بار شب خون مار چکے تھے،قتل کر چکے تھے،اسباب لوٹ کر لے جا چکے تھے اور عورتوں تک کو اُٹھا کر لے گئے تھے۔ بلکہ ایسے بھی تھے،جو ڈیڑھ دو دوسو میل سے بالکل مع اسباب سلامت آگئے تھے،مگر یہاں پر اُن کو لوٹ لیا گیا تھا۔ اِس کا سبب گورکھا فوج تھی،جو ہیڈ پر دونوں طرف کے لوگوں کو عبور کرانے پر متعین تھی۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ انتہائی بے رحمی کا سلوک کرتے ہوئے،اُن کو پچھلے پندرہ بیس دنوں سے ہیڈ پر ہی روکے بیٹھی تھی۔ جبکہ ہندؤوں اور سکھوں کو برابر ہیڈ کراس کرا رہی تھی۔ اُس کی کچھ وجہ تویہ تھی کہ ہیڈ کا پُل نہائت تنگ اور کافی لمبا تھا اور اُس کے دونوں سروں پر لاکھوں لوگ گزرنے کے لیے بیٹھے تھے،جن کے پاس مال مویشی،گڈے،چھکڑے اور دوسرا بے بہا مال اسباب بھی تھا۔ جبکہ وقت بہت کم تھا لیکن زیادہ دخل بد نیتی کا تھا۔ گور کھا فورس پاکستان مخالف تھی۔ اِس لیے اُن کا مسلمانوں کے ساتھ متعصب ہو جانا فطری تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کو مسلسل روکے کھڑی تھی اور دوسری طرف سے اپنے ہم مذہبوں کو بارڈر عبور کرا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان کئی دنوں سے یہاں بیٹھے بیماری سے مر رہے تھے،بھوک سے مر رہے تھے،بارشوں سے مر رہے تھے،اور رہے سہے بدمعاشوں کی لوٹ مار،قتل و غارت اور شب خون سے مر رہے تھے۔ غلام حیدر نے پورے دو دن تک تمام چیزوں کا جائزہ لیا،چل پھر کر لوگوں کے حالات معلوم کیے،پھر دل ہی دل میں ایک فیصلہ کرنے لگا۔

بڑی سوچ بچار کے بعد اُس نے ڈیوٹی پر موجود میجر صاحب سے ملاقات کی کوششیں شروع کر دیں۔ مگر ہزار کوشش کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔ غلام حیدر جلال آباد کے علاقے میں کتنا ہی معروف سورما رہا ہو،اب اُس کی حیثیت یہاں پر ایک عام آدمی ہی کی تھی۔ بالکل اُن بے شمار لوگوں کی طرح،جن کی اوقات اِس وقت گورکھا فورس کے سامنے بارش میں بھیگے ہوئے،خارش زدہ کتے کی تھی۔ ایسا کتا،جس کو کراہت،اور بیماری کے ڈر سے گھر کی دہلیز کے باہر سے ہی دھتکار دیا جاتا ہے۔ غلام حیدر میجر سے ملنے کے لیے اور اپنے مسائل بتانے کے لیے آگے تک چلا گیا اور فورس کے بار بار منع کرنے پر ضد کرنے لگا تو دو تین سپاہیوں نے غلام حیدر کو گالیوں کے ساتھ دو چار دھولیں جما دیں،جنہیں ہزاروں لو گوں نے دیکھا۔ اُن لوگوں نے بھی،جنہیں امیر سبحانی کے ریکارڈ ابھی تک یاد تھے۔ اُن سب لوگوں نے اُن گالیوں کو سنا،جو غلام حیدر کے ماں باپ کو دی گئی تھیں اور اُن دھولوں کو دیکھا،جو غلام حیدر کو پڑی تھیں۔ خود امیر سبحانی نے دیکھا،جس نے یہ ریکارڈ بھرے تھے اور اب وہ ریکارڈ اِس طرح یاد تھے،جیسے اپنے ہاتھوں کی پانچ انگلیاں۔ اِس حبس پیدا کر دینے والی اور سانس روک دینے والی بے عزتی کی وجہ سے غلام حیدر کا جی چاہا،وہ اِسی وقت دریا میں چھلانگ لگا دے۔ مگر غلام حیدر نے دریا میں چھلانگ نہیں لگائی،ایک سخت فیصلہ کر لیا،۔ وہ تھا گورکھا فورس سے بھِڑ جانے کا۔
غلام حیدر نے واپس اپنے قافلے میں آکر سب دوستوں کو جمع کیا۔ جوش اور جذبات سے بھری ہوئی رُندھا دینے والی آواز میں بولنے لگا،بھائیو،مَیں تمھارا بھائی غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ماں ابھی اُس پر رونے والی موجود ہے۔ جس کا ایک بیٹا اور بیوی اُس پر بین کرنے والی ابھی بیٹھی ہے۔ یاد رکھنا،میں نے کبھی تمھارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ نہ میں نے پیٹھ دکھائی اور تمھیں حقیر جانا۔ میں نہ تو قائد اعظم ہوں،جو اِس وقت دہلی میں بیٹھا ہے اور نہ نواب افتخار،جو لاہور نواب ولاز میں ہے۔ میں غلام حیدر ہوں،جس نے ہجرت کی۔ بارشوں میں تمھارے ساتھ،بیماری میں تمھارے ساتھ اور فساد میں تمھارے ساتھ۔ جسے رفیق پاؤلی کا دُکھ ہے،حمیدا کمبوہ کا دکھ ہے،چراغ دین کا دُکھ ہے اور اُن جودھا پور کے چالیس شہیدوں کا دکھ ہے،جو گڑھوں میں دفن ہو گئے۔ مَیں غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ذِلت آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ یہ ذلت مجھ غلام حیدر کی ہوئی،جسے جھنڈو والا جانتا ہے،میگھا پور جانتا ہے،پورا فیروز پور جانتا ہے۔ یہ ذلت میری نہیں،تم سب کی ہے۔ میں نہیں چاہتا،لوگ مجھ پر ہنسیں اور مزے لے کر میری رسوائی کی کہانیاں اپنی اولادوں کو سنائیں۔ میں امیر سبحانی کی زبان کو جھوٹا نہیں کر سکتا اور ذلت سے جی نہیں سکتا۔ تم میں سے جو میرے ساتھ جانا چاہتا ہے،آ جائے۔ میں آج فیصلہ کرنے والا ہوں،اپنے اور اِن حرامزادوں کے درمیان،جنہوں نے بزدلوں کی طرح مجھے ذلیل کیا ہے۔ مَیں اُن کے ساتھ دو ہاتھ کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ جس نے میرا ساتھ دینا ہے،آ جائے۔ ورنہ میں اکیلا ہی اِس آگ سے گزرنے کے لیے تیار ہوں۔ زندہ رہا تو تمھارے ساتھ ہیڈ پار کروں گا،مارا گیا توراستہ ضرور کھول جاؤں گا۔ یہ کہہ کر غلام حیدر نے اپنی جیپ پر پاؤں رکھ دیا۔ اُسے دیکھتے ہی جانی چھینبا،شادھا تیلی،شوکا ماچھی اور چھ مزید جوان غلام حیدر کے ساتھ چل پڑے۔ اِن سب کے پاس رائفلیں تھیں۔

غلام حیدر کو دُھولیں مارنے کے بعد گورکھا فورس کے جوان مزید اَکڑ میں آ گئے تھے۔ ہیڈ پر زیادہ سے زیادہ پچاس سپاہی اور چھ آٹھ افسر موجود تھے لیکن اسلحہ کافی تعداد میں تھا۔ سکھ،ہندو،اور دوسری قومیں۔ اُن کے گدھے،گھوڑے اور دیگر مال مویشی ہیڈ کو عبور کر کے اِدھر آ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے ہجوم حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ غلام حیدر اور اُس کے بندے جیسے ہی آگے بڑھ کر فورس کے سپاہیوں کے قریب ہوئے،اُنہوں نے جھٹ خطرے کو بھانپتے ہوئے رائفلیں تان لیں اور فوراً پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ یہ وقت سہ پہر کا تھا اور بارش کچھ دیر کے لیے رُکی ہوئی تھی۔ لیکن ہوا اور دریا کے پانی کا شور بہت تھا۔ جوانوں نے جیسے ہی رائفلیں سیدھی کر کے رُکنے کو کہا،غلام حیدر نے عاقبت سے بے نیازہو کرفائر کھول دیا۔ اُس کے ساتھ اُس کے بندوں نے بھی۔ دوسری طرف سے بھی گولیاں برسنی شروع ہوگئیں اور پُل پر بھگدڑ مچ گئی۔ پہلے ہی ہلے میں کئی سپاہی فائر لگنے سے گر گئے۔ غلام حیدر نے شوکے تیلی کو بھی گرتے دیکھ لیا تھا۔ گولی اُس کے سینے پر آ کرلگی تھی۔ گولیاں اتنی شدت سے برسنے لگیں کہ کسی کو یہ خیال نہ رہا،کس کو لگتی ہے اور کس کو نہیں۔ گولیوں کے ڈر سے کئی لوگ دریا میں کود کرپانی کو پیارے ہو گئے۔ غلام حیدر کا ڈرائیور جیپ کو جھٹ پٹ میں ہیڈ پر لے گیا،جہاں میجر صاحب موجود تھے۔ وہ اپنے کیبن میں بیٹھے تھے۔ لیکن کیبن زیادہ مضبوط نہ تھا۔ محض گھاس پھونس کا ایک جھونپڑا ہی تھا۔ گولیاں اب نہایت نزدیک سے اور دوُ بدُو چل رہی تھیں۔ جن کے تڑاکوں میں اتنی شدت آ گئی کہ دُور دُور تک مجمعے چھٹ گئے اور پُل چند ہی لمحوں میں اِس طرح صاف ہو گیا،جیسے جھاڑو پھر گیا ہو۔ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کوئی فرد نظر نہ آتا تھا۔ دھکم پیل میں زیادہ تعداد تو دریا میں ہی جا پڑی تھی۔ جس کی گہرائی کم از کم اِس پُل پر سے سو فٹ تھی۔ غلام حیدر عین پُل کے اُوپر پہنچ چکا تھا اور مسلسل گولیاں چلا رہا تھا۔ میجر صاحب کے کیبن کو گولیوں کے دھماکوں سے آگ لگ کر،گھاس پھونس کو اِس طرح جلا رہی تھی،جیسے چتا سے الاؤ اُٹھ رہے ہوں۔ یہ حالت دیکھ کر میجر کیبن سے باہر کی طرف بھاگ اُٹھا۔ اِنہی اوقات میں غلام حیدر نے تاک کر اُس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی،جن میں سے دو گولیاں اُس کے سر میں جا لگیں اور وہ وہیں لڑھک گئے۔ گورکھا سپاہیوں نے اپنے افسر کو یوں ڈھیر ہوتے دیکھا،تو وہ بوکھلا گئے۔ اِسی بوکھلاہٹ میں اُنہوں نے اندھا دھند فائرنگ برسا دی۔ اس دو طرفہ شدید فائرنگ میں دونوں طرف کے لڑنے والے اور دوسرے لوگ بیروں کی طرح گرنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں غلام حیدر بھی گولیوں کی بارش میں اپنے ساتھیوں سمیت،وہیں ہیڈ کے پل پر خون میں لت پت ہو گیا اور بارش کی رم جھم میں کچی سڑک پر منہ کے بل گر پڑالیکن ابھی جانی چھینبا بچا ہوا تھا۔ وہ اُس سنگِ میل کے پیچھے بیٹھا تھا،جس پر لکھا تھا،دہلی چار سواٹھارہ کلو میٹر۔ وہ سنگ میل کی آڑ لے کر مسلسل کار توس چلا رہا تھا،جس کی وجہ سے بچی کھچی گورکھا فورس اِدھر اُدھر بھاگ گئی اور چوکی بالکل خالی ہو گئی،جو میجر صاحب کے مرنے کی وجہ سے پہلے ہی تتر بتر ہوچکی تھی۔ اِسی بھاگم دوڑ میں جانی چھینبے کو بھی گولی لگ گئی۔ گولی اُس کی پسلیوں میں نجانے کدھر سے کچھ لمحے پہلے آ کر لگی تھی،لیکن اُس نے زخمی حالت میں ہی سنگ میل کی آڑ سے باہر آکر مسلمان قافلوں کو پکارنا شروع کر دیا۔ لوگ،جو موت جیسی حالت میں زندگی اور اُس ہیڈ سے اُکتائے بیٹھے تھے،وہ غلام حیدر کے غم کو بھول کر دریا کی طرح ہیڈ کی طرف بڑھے اور لمبے لوہے کے پُل پر چڑھ گئے۔ یہ پُل،جو اب بالکل خالی پڑا تھا۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ جس نے پُل خالی کرایا ہے،وہ کون ہے؟ اور اُس کی لاش کو اُٹھانا ضروری ہے کہ نہیں۔ غلام حیدر کی رعایاکے لوگ اور عورتیں اپنی اپنی لاشوں کے گرد اکٹھا ہو کر رونے پیٹنے لگیں مگر پھر اُنہوں نے بھی جلد ہی لاشوں کو اُٹھا کر چھکڑوں پر رکھ لیا اور دریا پار کرنے والوں کے ساتھ مل گئے۔ جبکہ جیپ اُس جگہ پر تنہا کھڑی رہ گئی،جس کی ہر چیز سلامت ہونے کے با وجود اُسے کوئی دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اُس کا مالک کون ہے؟جانی چھینبے کے لگا ہوا زخم تو جان لیوا نہیں تھا لیکن اُس کا خون اِتنا بہہ گیا کہ وہ بھی چند لمحوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملا۔

اب ہجوم اتنا زیادہ اور بے قابو ہو چکا تھا،اگر کوئی فورس آ بھی جاتی تو وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اُن خانہ خرابوں اور بھوکوں کے سیلاب نے جب پُل کے دوسری طرف جا کر ہندؤوں اور سکھو ں کی تھوڑی سی جمیعت کو دیکھا تو اُن پر بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ پھر تو نہ کسی کی ہدایت اُنہیں بچا سکی اور نہ قرآن و رسول کے واعظ کسی کام آئے۔ اس معاملے میں سب سے پیش پیش وہ ملا لوگ تھے،جو دہلی،ہریانہ،روہتک،گڑگاؤں اور حصار سے دھکے کھاتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔ وہ اُس وقت تک بیٹھے اور لُٹتے رہے جب تک غلام حیدر نہ آ پہنچا اور اب جو اُنہیں موقع ملا تو مُلا نے جہاد کے فتوے شروع کر دیے اور روہتکی مجاہد بن گئے۔
الغرض مسلمان پُل پار کرتے رہے اور مجاہد بنتے رہے۔ جبکہ جلال آباد،شاہ پور اور جودھا پور والے سب کو یہیں چھوڑ کر اپنی لاشوں کے ساتھ منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گئے۔ امیر سبحانی،جو غلام حیدر کے ملازموں میں واحد آدمی بچا تھا،وہ غلام حیدر کی لاش اُس کے وارثوں کے حوالے کرنے کے لیے پاکپتن جانا چاہتا تھا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں،بیوی اور اُس کا بیٹا انتظار میں بیٹھے تھے لیکن لاش خراب ہونے کے ڈر سے اُس نے غلام حیدر اور دوسرے ساتھیوں کی لاشیں وہیں ہیڈ پار کر کے دفن کر دیں اور خود منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گیا تاکہ بذریعہ ریل پاکپتن چلا جائے۔ ہیڈ عبور کرنے کے بعد مہاجرین،جن میں اب نہ غلام حیدر تھا اور نہ رفیق پاؤلی تھا،اِدھر اُدھر پناہ کے لیے بکھرنے لگے۔ ان سب مہاجرین کو اب آپ ہی آپ ایک سکون سا آ گیاتھا۔ گویا وہ اپنی قسمت پر اعتماد کر کے مطمئن ہو گئے ہوں۔ یہ ہزاروں خاندان،جنہیں شاید اب نہ کسی چھت کی ضرورت تھی،نہ پہننے کو کپڑا چاہیے تھا،نہ یہ کسی سواری کے محتاج تھے۔ ان گاؤں گاؤں اور قصبہ قصبہ چلنے والے لاکھوں زندگی اور موت کے درمیان،انسانوں اور جانوروں کے درمیان کی مخلوق کو بس کھانے کو روٹی کی ضرورت تھی۔ جو اِن کی عزت کے بدلے میں،جان کے بدلے میں یا کسی بھی چیز کے بدلے میں مل جاتی تو یہ جی سکتے تھے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ان لاکھوں خاندانوں میں بارش،بھوک اور مسلسل سفر کے دوران ہیضے اور گردن توڑ بخار کی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ یہ بیماریاں اتنی شدت سے پھوٹیں کہ جو کسی طرح کرپانوں کے لوہے سے بچ کر آ گئے تھے،وہ اِس قدرتی بوجھ تلے دب کر مرنے لگے اور یہ کیفیت صرف مسلمانوں کی طرف ہی نہ تھی بلکہ،
دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔

امیر سبحانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اکیلے ہی چلتا جا رہاتھا۔ اُس کی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی اور نہ دور نزدیک کوئی رشتہ دار تھا،نہ پُر سان حال۔ اُس کو یہ جلدی تھی کہ کسی طرح پاکپتن پہنچ جائے اور غلام حیدر کی ماں سے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کا اسباب لے لے۔ وہ یہ اسباب غلام حیدر کی ماں کو غلام حیدر کی موت کی خبر دے کر نیاز،درود اور قل ساتے کے کھانے سے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ غلام حیدر کی شہادت کی خبر سن کر اُس کی ماں اور بیوی بچوں کو جو صدمہ پہنچنا تھا،اُس کا اندازہ بھی اُس کو تھا،لیکن اُسے یہ بات بھی پوری طرح عیاں تھی کہ غلام حیدرکے ایصال ثواب کی نیازیں شروع ہونگی تو کم از کم سوا مہینہ تک جاری رہیں گی۔ اُس کے بعد خدا اور اسباب پیدا کر دے گا۔ اس کے علاوہ علاوہ امیر سبحانی نہ کسی پٹواری کو جانتا تھا اور نہ اس کا ربط ضبط کسی تحصیل دار یا قانون گو کے ساتھ تھا،جو اُس کو مہاجر تسلیم کر کے اُس کے نام چار ایکڑ زمین ہی لگا دے۔ اُسے تو یہ بھی خبر نہیں تھی کہ جس غیر ملک میں وہ آیا ہے،اِس میں اِس طرح کے محکمے بھی موجود ہیں؟ سکھوں اور ہندووں کو مارنے اور اُن کے مال پر قبضہ کرنے کی اُس میں ہمت نہیں تھی،جو اس علاقے میں ویسے ہی مر رہے تھے اور لٹ رہے تھے،جیسے ستلج کی دوسری طرف وہ مسلمانوں کو مرتا اور لٹتا دیکھ آیا تھا۔ گر تا پڑتا اپنے ایک بچے کو ہیضے سے مرنے کی وجہ سے رستے میں دفن کر کے بالآخر دو دن بعد امیر سبحانی منڈی ہیرا سنگھ پہنچ گیا،جہاں سے گاڑی پر بیٹھ کر وہ پاکپتن جا سکتا تھا۔

اسٹیشن پر ہزار ہا بچے،مرد،خواتین،بوڑھے،جوان،ناتوان اور ہٹے کٹے خیموں میں،بغیر خیموں کے،ادھر اُدھر گویا بکھرے پڑے تھے۔ ان میں مقامی لوگ پھر پھر کر ہندووں اور سکھوں کو ڈھونڈتے پھرتے اور اُن کا مال اساب چھینتے پھرتے تھے۔ امیر سبحانی اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ بیٹھا پاکپتن جانے والی گاڑی کے انتظار میں تھا،جس کے ٹائم ٹیبل کا اب کسی کو نہیں پتا تھا،نہ ہی کسی کو اُس کے دیر سے آنے کی شکایت رہ گئی تھی۔ بادل ابھی بھی گہرے چھائے ہوئے تھے اور بارش رہ رہ کر برس رہی تھی۔ منڈی ہیرا سنگھ کا اسٹیشن بالکل ویسا ہی چھوٹا سا تھا،جیسے قصبوں کے اسٹیشن ہوا کرتے ہیں۔ ایک ٹکٹ لینے دینے والوں کا کمرہ تھا،جس میں دو تین افراد کا عملہ۔ اِس کے علاوہ اسٹیشن پر سرخ اینٹوں کا فرش،جو ریل کی پٹڑی سے اِتنا ہی اُونچا تھا،جتنی اُونچی ریل کی آخری سیڑھی تھی۔ دونوں جانب کے فرش کے درمیان ایک بڑا سا نالہ بن جاتا تھا،جس میں ایک تو ریل چلتی تھی اور دوسرا بارش کا پانی،جو اُن دنوں شدت سے برس رہا تھا۔ منڈی ہیرا سنگھ کا یہ قصبہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بس ڈھائی تین سو گھر تھے اور وہ بھی بکھرے ہوئے۔ یہاں درخت بھی زیادہ نہیں تھے۔ ہاں مگر جگہ جگہ بیریوں کے پیڑ نظر آ جاتے تھے۔ الغرض منڈی ہیرا سنگھ ایک پُر سکون جگہ تھی۔ مگر جب سے تقسیم اور فسادات کا عمل شروع ہوا تو یہاں مشرقی اور وسطی پنجاب کے ہزاروں خاندانوں کا جھمگٹا سا ہو گیا تھا۔ اُدھر سے اِدھر آنے والوں کا اور اِدھر سے اُدھر جانے والواں کا۔ امیر سبحانی صبح دس بجے کے قریب پہنچا تھا۔ اب اُسے یہاں بیٹھے بیٹھے شام ہو گئی تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا،کاش وہ ہیڈ سے سیدھا پاکپتن ہی کا رخ کر لیتا تو کل تک پہنچ ہی جاتا۔ اب نہ جانے کب گاڑی آئے اور وہ اس جگہ کے عذاب سے نکلے۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے اسٹیشن پر ایک گاڑی براستہ قصور فیروزپور جانے والی کھڑی تھی،جو نجانے کیوں اتنی دیر سے وہاں موجود تھی۔ یہ ساری کی ساری گاڑی ہندووں اور سکھوں سے بھری ہوئی تھی۔ نہ صرف اندر سے پُر تھی بلکہ اس کی چھت پر بھی کھچاکھچ انسان تھے۔

عصر کے وقت امیر سبحانی نے اچانک ایک آدمی کو دیکھا،جو اردو اور عجیب غریب لہجے میں اسٹیشن پر کھڑے مسلمان مہاجروں اور مقامیوں کے ساتھ کچھ خطاب کر رہا تھا۔ امیر سبحانی کو یاد آیا،جب وہ غلام حیدر کے ساتھ نواب افتخار ممدوٹ کے لیے ووٹ مانگنے نکلا تھا،تو وہ بھی اسی طرح کے خطاب کرتے تھے۔ لیکن وہ تو پنجابی زبان میں صاف سمجھ آنے والا خطاب ہوتا تھا اور یہ تو کوئی فوجیوں والے لہجے کا تھا۔ وہ اُن سب لوگوں کو کہ رہا تھا،بھائیو،میرا نام محمد زمان خان ہے۔ ہم دہلی سے نکلے تھے،تو ستر افراد کا قبیلہ تھے لیکن ہمارا سارا خاندان ان کافروں اور مشرکوں نے راستے میں ہی مار دیا اور سارا سامان لوٹ لیا۔ اب میں اُن ستر افراد میں اکیلا بچا ہوں۔ میری مائیں،بہنیں اور بچے اُنہوں نے یا تو ماردیے ہیں یا اپنے گھروں میں لے گئے ہیں۔ مسلمانو !یہ مجھ اکیلے کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہندوستان سے ہر آنے والے کی یہی کہانی ہے۔ یہ کہہ کر زمان خان رونے لگا لیکن اِس گریہ وزاری کے درمیان بھی اُس نے اپنی کہانی اُسی درد ناک لہجے میں جاری رکھی۔ جسے سن کر تمام مجمع بھی رونے لگا۔ اُن سننے والوں میں سے بعض کی آنکھیں سُرخ ہو گئیں،چھاتیوں کے بال اکڑ گئے اور گنڈاسوں اور تلواروں پر ہاتھ سخت ہوگئے۔ زمان خان نے مجمع کی یہ حالت دیکھی تو سُرخ لوہے پر ایک اور ضرب لگائی،بھائیو،اِن بے غیرتوں نے،جو ہمارے ساتھ کیا،وہ تو الگ بات ہے لیکن مجھے ایک اور اندیشہ ہے کہ یہ لوگ،جو اِس گاڑی میں بیٹھے ہندوستان جا رہے ہیں اور تم انہیں دامادو ں کی طرح بڑی عزت سے وہاں بھیج رہے ہو۔ یہ جاتے ہی اُن شرنارتھیوں کے ساتھ مل جائیں گے اور تمھارے دوسرے مسلمان بھائیوں کا صفایا کر دیں گے۔

زمان کی آواز اتنی پُر اثر،مدلل اور رُندھا دینے والی تھی کہ تمام لوگوں کو غضب آ گیا۔ کیا مہاجر اور کیا مقامی،سب ایک دم اُس ریل پر گرہجوں کی طرح جھپٹ پڑے۔ امیر سبحانی کے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے گاڑی پر ہلہ بول دیا۔ اُن سب نے زمان خان کی ہدایات پر پہلے تمام ریل کے دروازے بند کر دیے اور چھتوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو نیچے اتار کر اُن سب کو نیزوں اور تلواروں کی لڑی میں پرویا۔ اُس کے بعد لوگ ریل کا ایک دروازہ کھول لیتے،اُ س میں موجود تمام سواریوں کو تہہ تیغ کر دیتے،پھر اگلے ڈبے کو کھول لیتے۔ اِس قتل و غارت میں ریل کی پٹڑی کا نالہ خون سے بہنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ماؤں کی گود میں موجود بچوں سے لے کر بڑوں تک،سب ایک گھنٹے کے اندر تلواروں کا رزق ہو گئے۔ اس عرصے میں سب لوگ اس قدر سہم گئے کہ کسی بچے تک کے رونے کی خبر نہیں آئی۔ اپنے پرائے سب قاتلوں کے سامنے بلی بن گئے۔ امیر سبحانی سارا منظر بیٹھا دیکھتا رہا۔ اُس کی ہمت نہ پڑی کہ وہ کسی کو روک لیتا۔ ابھی غارت گری رُکی ہی تھی کہ جانے کہاں سے میونسپل کمیٹی کے ٹرک آگئے۔ اُنہوں نے چند ساعتوں میں وہ لاشیں اُٹھا کر،پتا نہیں کہاں لے جا پھینکیں۔ البتہ اسٹیشن سے اُٹھا کر لے گئے۔ اِس کے بعد خدا کی قدرت،پھر وہی بارش شروع ہو گئی،جس نے اسٹیشن کو دھو کر ایسے صاف کر دیا جیسے،یہاں کچھ ہوا ہی نہیں۔ گویا قدرت بھی اِن سب کے ساتھ ساتھ اپنا فرض ادا کر رہی تھی۔ رات امیر سبحانی نے وہیں گزاری اور اگلے دن حویلی لکھا روانہ ہو گیا۔ یہاں سے اُس نے ارادہ کیا کہ پیدل ہی پاکپتن چلا جائے گا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چھبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(44)

غلام حیدر کو حویلی میں آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ اِس عرصے میں اُس نے تمام عزیزوں،دوستوں اور ملازموں کو اکٹھا کر کے نئے سرے سے چودھراہٹ کا کام شروع کر دیا۔ یہ چودھراہٹ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور ہیبت ناک تھی۔ چودھری غلام حیدر اب شاہ پور اورجودھا پور کا مالک ہی نہیں،پندرہ آدمیوں کا قاتل بھی تھا۔ اور یہ پندرہ لوگ کوئی ایسے ویسے نہیں تھے۔ علاقے کے سر چُنویں بدمعاش اور بڑے زمیندار تھے۔ اِسی لیے اب وہ پینتیس سال کا منجھا ہوا چودھری اور طاقتور سورما بن چکا تھا۔ صرف شیر حیدر کا ندان مُنڈا نہیں رہ گیا تھا۔ دوم،سردار سودھا سنگھ جیسے سورماؤں کو چت کر کے اور انگریز سرکار میں صاف بچ نکلنے کی وجہ سے اب بڑے بڑے بد معاش بھی اُس کا نام سُن کر نہ لرزتے اور سلام کے لیے حاضری نہ بھرتے تو کیا فائدہ تھا۔ یہی وجہ تھی،حویلی میں آکر بیٹھنے والے لوگوں کی تعداد پہلے سے دُگنی ہوگئی۔ ایک ہفتے بعد جب غلام حیدر نے محسوس کیا حویلی کا انتظام قدرے ٹھیک ہوگیا ہے،تو اُس نے ایک دعوت کا اہتمام کر دیا۔ الیکشن کا وقت قریب آرہا تھااور غلام حیدر کو نواب صاحب کے احسان کا پاس بھی رکھنا تھا۔ اِس لیے جلد ہی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا تھا،جس میں پورا فیروزپور نہ سہی،مکھسر اور جلال آباد تحصیل میں تو مسلم لیگ کا طوطی بول جائے۔ چنانچہ حویلی میں سینکڑوں لوگ مبارک سلامت کے لیے جمع ہو گئے۔ رفیق پاؤلی،جانی چھینبا،حاجی کمبو،امیر سبحانی تو خیر اُس کے اپنے آدمی تھے،جو غلام حیدر کی معافی کا سن کر دوسرے تیسرے روز ہی چلے آئے تھے۔ دعوت میں وہ لوگ بھی تھے،جن کا غلام حیدر سے دُور دُور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ وہ سب اہل و عیال سمیت حویلی میں جمع ہو گئے اورحویلی میں ایک دم گہما گہمی ہو گئی،جو پچھلے دس سال سے تقریباً بند پڑی تھی اوراُس کے صحنوں اور دیوار وں سے ویرانی سیم اور تھورکی شکل میں جھڑ جھڑ کر گرتی رہی اوروارثوں کی غریب الوطنی پر نوحے پڑھتی تھی۔ نیم اور پیپل کے درخت بدلتے موسموں کو بے آبرو ہوتے دیکھتے رہے اور زرد ہواؤں کے تھپیڑوں کو سہتے رہے۔ آج اُس حویلی میں ایسے رونق پیدا ہو گئی،جیسے دنیا نئے سرے سے بسی ہو۔ حویلی سے غلام حیدر کو نکلنے کا غم کم نہیں تھا۔ وہ واپس آ کر بہت زیادہ جذباتی ہو گیا تھا لیکن رفیق پاؤلی اور دوسرے ملازم اُس سے بھی زیادہ جذباتی تھے۔ سب خوشی سے اِدھر اُدھر بھاگتے ہوئے آپس میں مل کر رو بھی رہے تھے۔ اُنہیں یہ دوبارہ جنم ملے گا اورامیر سبحانی کی قصہ گوئی کی محفلیں جمیں گی،اِس طرح کا وہم بھی جی سے اُٹھ گیا تھا۔ کیونکہ غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل کے بعداُن سے ایسے ربط توڑا تھاجیسے وہ اِس دنیا میں موجود ہی نہ ہو۔ اِدھر یہ سب ملازم،نوکر،دوست یار گورنمنٹ کے ڈر سے حویلی تو ایک طرف فیروز پور ضلع بھی چھوڑ کردُور دُور جا بسے تھے اور خوف کے مارے غلام حیدر کا نام بھی منہ سے نہیں نکالتے تھے۔ مگر اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ رفیق پاؤلی لوگوں کو اِدھر اُدھر مختلف کاموں کے بارے میں حکم دیتا پھرتا تھا،تم یہ کرو،تم وہ کرو۔ گویا اُس کی نئے سرے سے اجارہ داری تسلیم کر لی گئی تھی۔ جس پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ ہر ایک نے اپنا اپنا کام بغیر کسی کے کہے سنبھال لیا جیسے یہ طے شدہ بات تھی۔ دعوت کی اِس تقریب میں شاہ پور اور جودھا پور کی رعایا بھی جلال آباد آگئی۔ بالکل وہی نقشہ بن گیا جو شیر حیدر کی موت کے وقت تھا۔ لیکن اُس میں اور اِس میں ایک فرق تھا کہ اِس رونق میں بھرپور جذباتی کیفیت کے ساتھ ایک بڑی فتح کی سر شاری بھی تھی۔ غلام حیدر نے ملک بہزاد اور امانت خاں کو بھی بلا لیا۔ وہ بھی لوگوں میں پھنسے بڑی بڑی ہانک رہے تھے،جس میں زیادہ تر اپنی بڑ ھکوں کی کہانیاں تھیں۔ سودھا سنگھ،عبدل گجر اور شریف بودلے کے قتل اور اُس کے بعد ان دس سالوں کے دوران ہونے والے تمام واقعات کے بیان کرنے میں اتنا وقت درکار تھا،جس میں غلام حیدر کی حالیہ دعوت کے برابر سو دعوتیں بھی ہوتیں تو ناکافی تھیں۔

غلام حیدر نے اپنے آنے کی خوشی میں کئی سو دیگیں گوشت اور چاولوں کی چڑھا دیں۔ اِن دیگوں کی منت اُس کی والدہ نے اُسی دن مانی تھی،جب غلام حیدر جلال آباد سے نکلا تھا۔ دیگوں کے دہانوں سے بُھنے ہوئے گوشت اور پکتے ہوئے باسمتی کے چاولوں کی بھاپ دماغوں میں چڑھ کر بھوک کی اشتہا کو مزید بڑھا رہی تھی۔ دیگوں کے نیچے جلانے کے لیے کلہاڑوں سے سوکھی لکڑیاں پھاڑی جا رہی تھیں اور آگ کے الاو مسلسل جل رہے تھے۔ غلام حیدر سب سے مل ملا کر ملک بہزاد کے پاس آبیٹھا۔ جہاں امانت خاں بھی بیٹھا تھا۔ ملک بہزاد کافی بوڑھا لگ رہا تھا۔ دس سال کی طویل مدت نے اُس کی صحت پر جو اثرات ڈالے تھے،وہ چہرے کی بڑھتی ہوئی جُھریوں اور چھلکتی ہوئی زردی میں بہت نمایاں تھے۔ مگر باتوں میں وہی دلیری اور سیانا پن اب بھی تھا۔ غلام حیدر جانتا تھا،اگر ملک بہزاد اُس وقت اُس کا ساتھ نہ دیتا تو شاید وہ بُرے طریقے سے ذلت کا منہ دیکھتا۔ پھر اُسے نواب افتخار کا خیال آ گیا،جس کی وجہ سے وہ پورے طور پر سرخ رو ہوا تھا۔ غلام حیدر نے سوچا،حقیقت یہ ہے کہ سب کے تعاون سے ہی سودھا سنگھ کی چتا کو آگ لگی ہے۔

غلام حیدر نے ماحول کے مطابق پورا پنجابی چوہدریوں کا لباس پہنا ہوا تھا۔ کھُسا،لمبے بَر والا سیمابی کڑھائی کا لاچا،سر پر پف والی کُلے دار پگڑی اور ہاتھ میں چھوٹا سا چاندی کا حقہ،جو غلام حیدر کو نواب افتخار کے ماموں سے تحفے میں ملا تھا۔ یہ شان و شوکت تو واقعی غلام حیدر کی ذات کو نوابوں سے کم نہیں دکھاتی تھی اوراِن سب سے بڑھ کر وہ رائفل جو اپنے کارنامے بھری دنیا کی انگریزی سرکار میں دکھا چکی تھی۔ غلام حیدر کے کاندھے پر لٹکی اُس کی چاندی جیسی نال تو ایک موت کی پری کی گردن تھی۔ غلام حیدر نے امانت خاں کی طرف دیکھ کر ملک بہزاد سے کہا،چاچا بہزاد،اصل میں تیرا یہ بھانجا اِس پورے قضیے کا سورما ہے۔ اُس دن یہ نہ ہوتا تو سکھڑے اِتنی آسانی سے قابو میں نہ آتے۔ (امانت خاں نے اپنی مونچھوں کو مزید مروڑا دیا،جو پہلے ہی کھسے کی نوک کی طرح اُوپر کو چڑھی ہوئی تھیں ) مجھے اِس پر فخر ہے۔ خدا نے موقع دیا تومَیں اس کا بدلا ضرور چکاؤں گا۔

ملک بہزاد بھتیجے کی طرف دیکھ کر بولا،غلام حیدر تمھیں پتا ہے،اِس نے پہلا بندہ کس عمر میں قتل کیا ہے؟اُس وقت اس کی عمر صرف تیرہ سال تھی،جب چودھری الہ بخش جندے کا سے اِس نے اپنے باپ کا بدلا لیا تھا اور کیو ں نہ لیتا،تربیت جو ( اپنے سینے پر ہاتھ مار کر ) ملک بہزاد نے کی تھی۔ آگے بھی یاد رکھ،لڑائی بھڑائی میں راہکوں اور مزارعوں سے کام نہیں لیا جاتا۔ بندہ مار کھا جاتا ہے۔

سینکڑوں آدمی اِدھر اُدھر چار پائیوں پر بیٹھے اپنی اپنی گپوں میں لگے تھے۔ اکثر امیر سبحانی سے غلام حیدر کے وائسرائے کے ساتھ گہرے تعلقات کی کہانی بڑی دلچسپی اور مزے لے کر سُن رہے تھے۔ غلام حیدر کو اُ س کی یہ ڈینگیں سُنائی دے رہی تھیں لیکن وہ اُسے اِن کے ہانکنے سے روکنا نہیں چاہتا تھا۔ بلکہ اب وہ چاہتا تھا،لوگوں پر اُس کی دلیری اور تعلقات کا جتنا بھی رعب پڑ جائے،اُسی قدر اچھا ہے اور وہ یہ رعب ملک بہزاد کے سامنے بھی رکھنا چاہتا تھا۔ ویسے بھی ملک بہزاد کو اُس کے تعلقات کا پتہ اُس کی سزا میں معافی اور نواب صاحب کی طرف سے اِتنے بڑے تعاون کے باعث چل ہی گیا تھا۔

چاچا بہزاد،غلام حیدر نے چارپائی پر ملک بہزاد کے پہلو میں آرام سے بیٹھنے کے بعد کہا،الیکشن بہت قریب ہیں۔ نواب افتخار پنجاب مسلم لیگ کے صدر ہیں۔ وہ خود ہمارے علاقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ نواب صاحب نے جو کچھ میرے لیے کیا ہے،اُس کا تقاضا ہے،ہم اُس کا ساتھ ووٹ دینے سے کچھ زیادہ کریں تاکہ اُس کی نمک حلالی کا پورا حق ادا ہو جائے۔ نواب کاجو میرے اُوپر احسان چڑھ گیا ہے،وہ تو شاید عمر بھر نہ اُترے لیکن کم از کم اس علاقے میں تو اُس کے خلاف کوئی بندہ پرچی نہ ڈال سکے۔ اِس کے لیے ہمیں چاہے کسی بھی قسم کی زبردستی کرنی پڑے،مسلم لیگ کو ہر حالت میں پورے علاقے سے الیکشن جتوانا ہے۔ کانگریس اور یونینسٹ کے اُمیدواروں کو پرچیاں دینا تو ایک طرف،جلسہ تک نہیں کرنے دینا۔ اِس کے لیے جتنا خرچہ اور اسلحہ چاہیے،وہ مَیں بندوبست کرنے کو تیار ہوں لیکن نواب صاحب اور جناح صاحب کے آگے ہماری بے عزتی نہ ہو جائے۔

ملک بہزاد غلام حیدر کی بات تحمل سے سنتا رہا، پھر حقے کی نَے کو ہاتھ سے پکڑ کر اُس پر اپنی ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے بولا،چوہدری غلام حیدر،بھلا مسلم لیگ کا ساتھ ہم نہ دیں گے تو کون دے گا؟ یہ کام سودھا سنگھ کی چتا سے زیادہ اوکھا تو نہیں لیکن اِس کے لیے ایک کام کرو،اگر وہ کام ہو گیا تو ہمیں زیادہ تردد کرنے کی ضرورت ہی نہیں،لوگ خود بخود مسلم لیگ کی طرف جھکتے جائیں گے۔
وہ کیا کام ہے؟ غلام حیدر نے پوچھا۔

ایک ریکاٹ لو،جس میں تمھاری دلیری کے سارے واقعے قصے کی شکل میں بھرے ہوں۔ اِس کام کے لیے امیر سبحانی بہت مناسب ہے۔ وہ ریکاٹ الیکشن سے پہلے پورے علاقے میں پہنچا دو اور اپنے خرچے پر سنوا دو۔ جب تیری بہادری،خدا ترسی اور بڑے گھروں تک پہنچ کے قصے لوگ سنیں گے تو وہ خود بخود ہماری طرف دوڑے چلے آئیں گے۔ کچھ تو پہلے ہی تیری بہادر ی کا گُڈا چڑھا ہوا ہے،رہتی سہتی کسر یہ رکاٹ نکال دے گا۔ ابھی دو مہینے الیکشن میں باقی ہیں،امیر سبحانی سے دو چار دن میں یہ کام کرا کے چار پانچ بندے ریکاٹ چلانے والے کرائے پر لے لیتے ہیں اور گاؤں گاؤں پھرا کر سنا دیتے ہیں۔ ویسے بھی لوگوں کو شغل کے لیے بہانہ چاہیے۔ وہ جب امیر سبحانی کی چٹخارے والی زبان سے یہ مزیدار قصہ سنیں گے تو تم خود بخود اُن کا سورما بن جاؤ گے۔ اُس کے بعد ہم دونوں اپنے بندوں کے ساتھ پورے علاقے کا دورہ کریں گے اور باقی کسر دورے میں نکال دیں گے۔ پھر بھی جس جگہ سے نواب کے خلاف ووٹ پڑنے کا خطرہ ہوا،وہاں پرنواب سے کہہ دینا،الیکشن والے دن وہ اپنے بندے ہمارے ساتھ کر دے،نگرانی ہم کریں گے اور وہ پرچیاں اپنے ہاتھوں سے نواب صاحب کی صندوقچی میں ڈالتے جائیں گے۔ جس نے بھی چوں چراں کی،چار متہریں چوتڑوں پر ماریں گے اور سیدھا کر دیں گے۔
بس یہ ٹھیک ہے،غلام حیدر بولا،ہم کل ہی اِس کا انتظام کر لیتے ہیں۔ پہلے ڈیڑھ مہینے میں امیر سبحانی والا ریکارڈچلواتے ہیں۔ آخری پندرہ دنوں میں علاقے کا دورہ شروع کریں گے اور پورے علاقے میں گھوڑے دوڑا کر نقارہ بجا دیں گے۔ کوئی شخص نواب افتخار کے علاوہ کسی کو ووٹ دینے کی جرات نہ کرے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ اپنا ذمہ دار خود ہو گا۔ ہمیں نواب صاحب کے گاؤوں میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو اُس کی ملکیت سے باہر کا علاقہ ہے،وہاں نواب کو چکر لگانے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے۔ اُس کے بعد غلام حیدر ملک بہزاد کو اُٹھا کر ڈیوڑھی میں لے گیا اور جیب سے چاندی کے روپوں کی ایک بھاری تھیلی نکال کر اُس کے حوالے کردی۔

چاچا بہزاد،یہ نواب صاحب کی طرف سے دو ہزار روپے ہیں،آپ یہ رکھ لو اور اِس میں سے کچھ امانت خاں کو دے دینا۔ مَیں اُسے روپے دیتا اچھا نہیں لگتا۔ اِس الیکشن میں سو طرح کے کام ہیں اور کئی طرح کے خرچے ہیں۔ اُن میں کام آئیں گے،مَیں نے تو نواب صاحب سے کہا تھا،اِن کی ضرورت نہیں لیکن اُس نے ضد کر کے ہمیں دے دیے ہیں۔ بہر حال اب نواب صاحب کو پتا چلنا چاہیے،اُس کے دوست حالات کا پھیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

ملک بہزاد جان گیا تھا،غلام حیدر کو نواب نے کوئی پیسے نہیں دیے مگراُس نے پیسوں کی تھیلی پکڑ لی کیونکہ اب اُسے بھی پیسوں کی ضرورت تھی،پھر روز روز مفت میں تو کام نہیں ہو سکتے تھے۔ اور یہ بات غلام حیدربھی جانتا تھا،شاید اب ملک بہزاد پیسوں کے بغیر بے دلی سے چلے،اسی لیے اُس نے یہ چال چل دی تھی۔ غلام حیدر اب زمانے کا پانی پی چکا تھااور جانتا تھا،مایا ایسا ہتھیار ہے،جو فساد کے علاوہ دلوں کی محبت میں اضافہ بھی کرتاہے۔

غلام حیدر اور ملک بہزاد ڈیوڑھی سے نکلے تو کھانا تیار تھا۔ وہ دونوں اور میاں امانت خاں،جانی چھینبا،رفیق پاؤلی اور غلام حیدر کے وہ ساتھی،جو سودھا سنگھ کو مارتے وقت ساتھ تھے،چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ گرم گرم گوشت اور چاولوں کی بھری ہوئی کنالیاں اُن کے سامنے آگئیں تھیں۔ وہ کھانے کے دوران اُس واقعے کو چٹخارے لے کر چُٹکلے بھی چھوڑ رہے تھے اور چاولوں کے مزے بھی۔ اِن کے علاوہ بھی حویلی کا پورا صحن آدمیوں سے بھرا کھانا کھانے اور باتیں کرنے میں مصروف تھا۔

(45)

فضل دین اب چوبیس سال کا سمجھ بوجھ والا ایسا سرکاری بابو بن چکا تھا،جو مولوی کرامت کی تربیت سے ہوتا ہوا جلال آباد،وہاں سے ایف سی کالج لاہور اور اب گورنر ہاؤس لاہور میں پچھلے چھ سال سے سرکار انگریز کا نوکر تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اِتنا سیانا ہو گیا کہ مولوی کرامت سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گیا۔ آنکھوں کو گول شیشوں کی عینک چڑھ گئی تھی،جس نے شخصیت کو اور بھی سنجیدہ کر دیا۔ گورنر ہاوس لاہور میں نوکری کے دو سال بعد ہی ا ُس نے لاہورمیں اپنی جگہ لے کر وہاں مکان بنا لیا۔ تنخواہ تو اتنی نہیں تھی کہ اُس سے گھر کا خرچ چلانے کے بعد مکان بھی خریدا جا سکتا مگرمولوی کرامت نے جلال آباد اپنی نوکری کے دوران مختلف حیلوں سے اِتنی پونجی جمع کر لی تھی جو دیر تک کام آ سکتی تھی۔ ولیم کی وجہ سے فضل دین کو مولوی کرامت کی وفات کے فوری بعد نوکری ملنے سے وہ رقم محفوظ رہی اور خرچ ہونے سے بچ گئی۔ وہ رقم اور کچھ تنخواہ سے بچا کر فضل دین نے لاہور میں مکان بنا لیا،جہاں اب وہ اپنی ماں شریفاں،ساس رحمت بی بی اور اپنی بیوی اور ایک دو سالہ بیٹے نوازالحق کے ساتھ رہنے لگا۔ اپنے باپ مولوی کرامت کی طرح فضل دین بھی کام اور عاجزی کا پیکر تھا۔ اِن خوبیوں کی وجہ سے تمام افسروں کا منظور نظر ہو گیا۔ جس نے جو بھی کام کہا،چاہے آدھی رات تک بیٹھنا پڑتا،فضل دین اُسے مکمل کر کے ہی دم لیتا۔ بلکہ بعض غیر متعلقہ کام بھی اُس کے ذمے لگا دیے جاتے تو وہ اُنہیں بھی ڈیوٹی سمجھ کر پورا کر دیتا۔ اِن سب باتوں کے علاوہ اُس نے اپنے کئی افسروں کو گھر کی بنی ہوئی دیسی گھی کی پنجیری پر لگا دیا،جو فضل دین کی ساس ایسی عمدہ بناتی کہ کسی نے کیا بنائی ہوگی۔ اُس نے ایک سائیکل بھی خرید لی،جس پر دفتر آنے جانے کے علاوہ فضل دین صبح سویرے افسروں کے گھر ناشتہ وغیرہ کا سامان بھی بازار سے خرید کر پہنچاآتا۔ جس کی فہرست اور پیسے فضل دین کو شام ہی دے دیے جاتے تھے۔ اِن کاموں سے فارغ ہو کر وہ سب سے پہلے دفتر میں داخل ہوتا۔ بعض اوقات تو چپڑاسی کے گیٹ کھولنے سے پہلے ہی باہر تھڑے پر بیٹھا ہوتا۔ فضل دین کی بیوی زینت ایسی ہشیار تھی کہ وہ فضل دین کا کھانا نماز پڑھ کے سورج نکلنے سے پہلے ہی تیار کر دیتی۔ فضل دین،جسے بچپن میں مولوی کرامت کی ڈانٹ نے سانجرے اُٹھنے کا خوگر بنا دیا تھا،جب تک نماز پڑھ کر فارغ ہوتا،کھانا تیار ہوتا۔ وہ کھانا کھاتا،سائیکل اُٹھاتا اور اپنے افسر کی دی ہوئی فہرست کے مطابق بازار سے سودا سلف خریدتا اور افسر کے گھر والوں کے اُٹھنے سے پہلے یہ سامان پہنچا دیتا۔ پھر وہیں سے اپنے دفتر آجاتا۔ دوپہر کا کھانا وہ سویرے گھر ہی سے لیے آتا اور شام یا رات کو گھر پر ہی جا کر کھاتا۔ آفس کے مسلمان افسروں اور کلرکوں کو ظہر اور عصر کی نماز بھی پڑھا دیتا۔ اِس لیے گورنرہاؤس میں رفتہ رفتہ مولوی فضل دین کے نام سے معروف ہو گیا۔ آفس کے اکثر لوگ اُس کی اِس وجہ سے بھی عزت کرتے تھے کہ جتنی آئتیں اور سورتیں اُسے یاد تھیں،کسی دوسرے کو اُن کا عشرِ عشیر بھی یاد نہیں تھا۔ اُس نے نماز کی قرات کے دوران لمبی لمبی سورتیں پڑھ کر سب کو مرعوب کردیا تھا۔ کئی دفعہ دفتر میں کام کرنے والے بابوؤں اور افسروں کے باپ دادا کے جنازے بھی پڑھا دیے۔ اُن کو گویا یہ ایک مفت کی سہولت مل گئی تھی کہ ایک تو مولوی ڈھونڈنا نہیں پڑتا تھا،دوسرا عام مولویوں سے فضل دین کا علم کہیں زیادہ تھا۔ بعض اوقات کئی لوگ خوش ہو کر اُسے کپڑے اور روپے پیسے بھی دے دیتے بلکہ رفتہ رفتہ اُس سے نکاح بھی پڑھوانے لگے۔ کئی دفتر والوں کو فضل دین کے علم کا پتا چلا تو اُنہوں نے اُس سے اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کا بھی کام لینا شروع کر دیا۔ اِس عمل میں فضل دین کو مزید آمدنی ہونے لگی۔ آمدنی کے اضافے نے فضل دین کے اندر ایک اور طرح کا جذبہ پیدا کر دیا۔ وہ سوچنے لگا،کسی طرح خود نہیں تو اپنے بیٹے کو ضرور افسر بنائے۔ کیونکہ افسروں کے ٹھاٹھ بابووں سے کہیں زیادہ تھے۔ چنانچہ فضل دین اِس کھوج میں لگ گیا کہ لوگ افسر کیسے بنتے ہیں اور چپکے چپکے ہر ایک سے معلومات لینے لگا۔ کسی نے فضل دین کو کچھ بتایا،کسی نے کچھ۔ پہلے پہل اُس کے ذہن میں یہ بات تھی،افسر صرف انگریز ہی بن سکتا ہے۔ لیکن جب آہستہ آہستہ اُسے پتا چلا،بہت سے مسلمان بھی افسر ہیں تو فضل دین نے اُس کی خبر لینا ضروری سمجھی۔ وہ بہت سے افسروں کے بچوں کو قرآن پڑھا رہا تھا،جس کی وجہ اُن کے والدین کے متعلق بہت سی معلومات اُس کے پاس جمع ہو رہی تھیں۔ اِن معلومات میں ایک بات اُس کی سمجھ میں آ گئی کہ افسر بننے کے لیے انگریزی میں بولنااور امیر بچوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں انگلستان بھی جانا پڑتا ہے،جس کے لیے بہت زیادہ پیسے چاہییں۔ اِس سب کے پیش نظر فضل دین نے بیٹے کے لیے میدان ہموار کرنا شروع کر دیا اور روپے پیسے کو کنجوسی کی حد تک احتیاط سے برتنے لگا۔ دفتر سے ملنے والی تنخواہ ساری کی ساری بچانے کے چکر میں فضل دین نے نماز،جنازے،نکاح،ختم دورد اور افسر کالونیوں میں قرآن پڑھا کر پیسے کمانے کی کاوشیں مزید تیز کر دیں۔ اِس سلسلے میں فضل دین کے گھر باہرسے ختم درود کا کھانا بھی آنے لگا اور ہانڈی کے پیسے مزید بچنے لگے۔ یہ سب کچھ اول تو فضل دین نے اپنے بیٹے کے لیے کیا تھا مگر آہستہ آہستہ اُس کی یہ عادت اپنے بچپن کی افتاد کو غالب کر گئی اور وہ بابو سے زیادہ دوبارہ مولوی بن گیا۔ لیکن دفتر کے کام میں کوتاہی پھر بھی کبھی نہ کرتا۔ البتہ اِتنا ہوا کہ جو دین کے کام وہ دفتر میں بغیر پیسوں کے کرتا تھا،اب پیسوں سے شروع کر دیے،جس میں اُسے کافی زیادہ ترقی ہوئی اور آمدنی میں کئی گنا اضافہ۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پچیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(43)

غلام حیدر اپنی روپوشی کے دن مستقل مزاجی سے گزار رہا تھا اور وطن واپسی کے لیے کسی معجزے کا منتظر تھا۔ اُسے جلال آباد سے نکلے دس سال ہو چکے تھے۔ اُس کے لیے اتنے طویل عرصہ کی روپوشی قید سے کم نہیں تھی مگر کیا کرتا؟ دوسری صورت میں تو فوراًسزائے موت تھی جبکہ غلام حیدر کو ابھی اپنی زندگی عزیز تھی۔ وہ بلاوجہ ریشمی رسہ گلے کی زینت نہیں بنانا چاہتا تھا۔ پہلے ایک دو سال اُسے جلال آبا د اور لاہور بہت یاد آتے رہے۔ اُس کے بعد دل کو ٹھہراؤ آنے لگا اور وہ روپوشی کی جگہ کو گھر تصور کرنے لگا۔ اُس کی اطلاع سوائے نواب ممدوٹ کے کسی کو نہ تھی۔ حتیٰ کہ غلام حیدر کے عزیز ترین رشتہ داروں کو بھی۔ اُس نے اپنی والدہ کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا،جس کے اصرار پر وہیں شادی بھی کر لی اور کچھ نواب صاحب کا خرچہ کچھ اپنی بچی کھچی دولت کو احتیاط سے برت رہا تھا،جو پان چھ کلو سونے اور ایک لاکھ چاندی کے روپوں کی شکل میں تھی۔ یہ دولت غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی ٹھکانے لگا دی تھی۔

یہ جگہ،جہاں غلام حیدر روپوش تھا،پنجاب سے باہر کشمیر کے دور دراز کے علاقے میں تھی۔ جہاں نہ تو سواری جاتی تھی اور نہ ہی پیدل کسی میں طاقت تھی۔ یہ ایسا دشوار گزار علاقہ تھا،جس کے شمال جنوب کی خود غلام حیدر کو بھی خبر نہ تھی۔ اُس رستے کو وہ خود اکیلا بھی طے نہ کر سکتا تھا۔ اُس کا یہ گھر دریا کے کنارے چھوٹی سی بستی میں تھا،جس کے مالکانہ حقوق نواب ممدوٹ کی ماں کے پاس تھے،جو اَب نواب ممدوٹ کو منتقل ہو چکے تھے۔ وہاں کی مقامی آبادی بھی ایک طرح سے نواب ممدوٹ کی رعیت ہی تھی۔ نواب صاحب سال بعد یہاں چکر لگا جاتے تھے اور غلام حیدر کو دلاسے کے ساتھ جلال آباد،غلام حیدر کی رعیت،کیس کی نوعیت اور علاقے کی پوری صورت حال کے بارے میں آگاہ کر جاتے تھے۔ سچ پوچھیں تو اِس تنگی کے پورے عرصے غلام حیدر کی دوستی کا نواب ممدوٹ نے حق ادا کر دیا تھا۔ خرچے پانی کے علاوہ کسی چڑیا کو بھی پتا نہیں چلنے دیا کہ غلام حیدر کہاں ہے۔ اس بات کا غلام حیدر کو دل ہی دل میں احساس تھا اور وہ چاہتا تھا،کسی طرح اِس احسان کا بدلہ اُتارے مگر وہ دن بھی نواب کی کوششوں کے بغیر نہیں آ سکتا تھا۔ زندگی کے دن گزرتے جا رہے تھے اور کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ اِدھر عدالت نے اُس کی غیر حاضری میں اُسے سزائے موت سنادی تھی۔ جس کی اپیل کا وقت بھی مدتیں ہوئیں گزر چکا تھا۔ اِس کے باوجود نواب ممدوٹ غلام حیدر کو مسلسل دلاسے دیے جا رہا تھا کہ وہ اُس کی معافی کی کوشش کر رہا ہے،جس کا وقت بہت قریب ہے۔ ان دلاسوں کی شدت پچھلے ایک سال سے کافی زیادہ ہو گئی تھی۔ غلام حیدر پہلے پہل تو یہی خیال کرتا رہا تھا کہ وہ کبھی جلال آباد واپس نہیں جا سکے گا۔ مگر نواب افتخار ممدوٹ نے جو کچھ صورت حال انگریزوں اور ہندوستان کی بتائی تھی،اُس سے ثابت ہوتا تھا،واقعی کچھ نہ کچھ خدا راہ نکالنے والا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو اُسے یقین ہونے لگتا کہ یہ انقلاب صرف اور صرف اُسی کے لیے برپا ہونے والا ہے۔ جس میں سرا سر دخل اُس کی ماں کی دن رات تہجد کی دعاوں کا ہے۔ اِسی عرصہ میں غلام حیدر کے دو بیٹے بھی پیدا ہو چکے تھے۔ جن میں سے ایک کی عمر چار سال تھی اور ایک دو سال کا تھا۔ رائفل اب بھی غلام حیدر کے پاس تھی،جو اُسے مسلسل وہ دن یاد دلاتی،جس دن اُس نے سردار سودھا سنگھ کا نقشہ برباد کیا تھا۔ وہ اُس واقعے کو یاد کر کے پُر سکون سا ہو جاتا۔ حالانکہ اُسے یہ بالکل خبر نہیں تھی کہ امیر سبحانی نے اُس کی بہادری پر ایک نہایت دلچسپ کمشری تیار لی تھی۔ جسے اُس نے جلال آباداور فیروز پور کے علاوہ دور نزدیک کی دوسری تحصیلوں کے دور دور گاؤں تک بھی پھیلا دیا تھا۔ وہ یہ قصہ لوگوں کو بڑے دلنشیں انداز میں سنا سنا کر اپنی روزی روٹی کا بھی سامان پیدا کرلیتا۔ اُس کمشری کی وجہ سے ہر گھر میں غلام حیدر کا تذکرہ ایک سورمے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ لوگ بڑے فخر سے اُسے اپنی بیٹھکوں اور چوپالوں میں سُنتے۔ غلام حیدر پنجاب کے ان لوگوں کے لیے ایک ایسا اسطیری ہیرو بن گیا،جس کی بندوق امیر حمزہ کی تلوار کی قائم مقام بن چکی تھی۔ اِدھر غلام حیدر سب کچھ سے بے خبر اِس کوہ قاف میں نواب صاحب کی آمد کا شدت سے منتظر رہنے لگا،جسے اب آئے ہوئے دس ماہ ہو چکے تھے۔ اُس کے علاوہ اس جگہ پر کسی دوسری خبر کا پہنچنا جوئے شیر کے پہنچنے سے کم نہیں تھا اور دن تھے کہ عمر کی طرح مسلسل نکلے جا رہے تھے۔ اِس بار اُسے اس لیے بھی انتظار زیادہ تھا کہ جب سے اُس کی آزادی کا گمان یقین میں بدلا تھا،بے چینی اور اضطراب بھی شدید ہو گیا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ خدا نا خواستہ خبر ملتی کہ روپوشی ختم نہیں ہو سکتی تو غلام حیدر اِس جگہ سے نکل کر کہیں اور جانے کی سوچ لیتا۔ بھلے اِس میں اُس کی زندگی کو خطرہ ہی ہو جاتا۔ وہ پنجاب کارخ ضرور کرتا،جہاں دشمن اُس کی بُو کتوں کی طرح اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی سونگھ رہے تھے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جناح صاحب کو نواب و لاز لاہور میں ٹھہرے دو روز ہو گئے تھے اور نواب افتخار صاحب ممدوٹ کی جرات نہیں ہو رہی تھی،وہ جناح کے ساتھ اِس مسئلے پر بات کرے۔ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا،اگر اب بھی جناح سے اس معاملے میں بات نہ کی،پھر یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا کہ اس معاملے میں تھوڑی سی بھی استقامت پیدا کرے،تو کچھ ہی دیر میں سب ٹھیک ہو سکتا تھا۔ چنانچہ آج نواب افتخار نے غلام حیدر کا معاملہ جناح صاحب کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ نواب نے سوچا،نتیجہ جو بھی نکلے،آج کا دن ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اِنہیں خیالوں کے ساتھ اپنی کوٹھی کے وسیع لان میں چہل قدمی میں مصروف تھا۔ دل ہی دل میں وسواس اور خدشوں کو اِدھر سے اُدھر دھکیل رہا تھا اور سوچ رہا تھا،اگر آج ابا جان زندہ ہوتے تو آسانی سے اُن کے ذریعے جناح صاحب کو کہلوا دیتا۔ صبح سفید روشنی دور تک پھیلی تھی۔ یہ ٹھنڈی روشنی اور سفید صبح کتنی حسین ہوجائے،اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

جناح صاحب کچھ ہی دیر میں ناشتہ کر کے باہر نکلنے والے تھے۔ اسی انتظار میں وہ آنے والی گھڑیوں کو دیکھ رہا تھا اور اِس معاملے پر دل ہی دل میں بدل بدل کر اُن سے مکالمہ کرتا،پھر خود ہی جناح کی طرف سے اپنی باتوں کا جواب دے کر مشق کرنے لگا۔ وہ خوب جانتا تھا،جناح کا معاملہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ اگر ایک دفعہ اُنہوں نے،نہیں،میں سر ہلا دیا تو ہر چیز گڑبڑ ہو جائے گی۔ پھر اُنہیں قیامت تک قائل نہیں کیا جا سکے گا۔ لہذا بات کرنے میں کہیں جھول نہ رہ جائے اور جواز جس قدر مضبوط بنا لیا جائے،بہتر ہے۔ اِسی وجہ سے نواب صاحب آج اذان کے وقت ہی اُٹھ کر ٹہلنے لگ گئے تھے اور اب تو دن صاف نکل آیا تھا۔ چنانچہ بات کے ہر پہلو پر غور کرتے ہوئے نواب افتخار اپنے ذہن میں ایک منصوبہ بنا کر تیار ہوچکا تھا اور اب بے چینی سے قائد کے باہر نکلنے کے منتظر تھا۔

یہ سردیوں کے عظیم اور مصروف دن تھے۔ ہلکی ہلکی دھوپ صحن میں پر پھیلا رہی تھی،ایسے محسوس ہو رہاتھا،دھوپ نواب کی منصوبہ بندی کو تقویت دینے میں کافی مفید ہو گی۔ سردی میں اِس طرح کی دھوپ بات کرنے کے جذبے کو بڑھاوا اور تاثیر دیتی ہے۔ نواب ولاز کے اُونچے اور لمبے چھتناروں کے رہائشی پرندے،اِس ساری کشمکش سے بے نیاز بوڑھے درختوں کی شاخوں پر اِدھر سے اُدھر پھدکتے اور پر چہلیں کرتے نظر آ رہے تھے۔ اُن کے پَروں کے بال دھوپ کی روشنی میں کبھی سنہری نظر آتے،کبھی دوسرا رنگ اختیار کر لیتے۔ کافی دیر بے چینی سے ٹہلنے کے بعدنواب صحن میں پڑی صندل کی لکڑی کی کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا اور دل میں منصوبے کی چوہلیں ہر طرح سے ٹھیک بٹھا لیں۔ اِسی طرح بیٹھے،اُنہیں دس منٹ گزر گئے۔ خدا خدا کر کے جناح صاحب باہر آتے دکھائی دیے۔ نواب نے دیکھا اُن کی صحت قدموں کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ لیکن چال میں ایسی طمطراقی موجود تھی،جس کے آگے نواب تو ایک طرف گورنر تک کی شخصیت ماند پڑ جاتی۔ سُرمئی رنگ کے انتہائی نفیس اور صاف ستھرے تھری پیس سوٹ میں دُبلا پتلا جسم پُر وقار چال کے ساتھ سامنے آرہا تھا۔ پاؤں میں سیاہ جوتے ایسے متوازن تسموں سے کَسے ہوئے،اِتنے چمکدار اورداغ دھبے سے مبرا تھے کہ اُن کی چمک میں اندھا بھی اپنا منہ دیکھ سکتا تھا۔ ایسا نہیں کہ جناح کے جوتے اور سوٹ خاص لندن سے بن کر آتے تھے،اِس لیے اُن میں اتنی نفاست تھی۔ بہت سے اُمرا اور لیڈر اپنے پہننے کا سامان خاص لندن ہی میں آڈر سے بنواتے تھے لیکن اُن میں اِس طرح کی نفاست کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی،اُن کے سامنے بڑے سے بڑا پھنے خاں بھی مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کا اندازہ غیر شعوری طور پر نواب ممدوٹ کو بھی تھا۔ جناح سے اُس کا تعلق ایک عرصے سے تھا۔ وہ اُس کا لحاظ بھی رکھتے تھے۔ لیکن اِس قربت کے باوجود نواب ممدوٹ کی جرات نہیں تھی،وہ جناح سے بے تکلف ہونے کی جسارت کرتا۔ یہ جسارت تو لیاقت علی خاں وغیرہ بھی نہیں کر سکتے تھے اور جنہوں نے کی تھی،وہ برصغیر کے مسلمانوں کی نظر میں اِس طرح بے وقار ہو کر رہ گئے گویا اُن کا وجود ہی نہ ہو۔

سگار کے ہلکے ہلکے کش لیتے ہوئے وہ کھلے لان کے مرکز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نواب کو اُن کے عینک کے شیشوں کے اندر سے پپوٹوں کی جھریاں صاف نظر آ رہی تھیں جو چہرے کو اُن کی نقاہت کے باوجود پر شکوہ کر رہی تھیں۔ جناح کو آتے دیکھ کر نواب فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیااور نہایت ادب سے اُن کے استقبال کو آگے بڑھا۔ لان کافی کھلا اور بڑا تھا،اس لیے نواب کو آٹھ دس قدم آگے جانا پڑا۔ جناح کے برابر پہنچا تو ہاتھ ملانے کی بجائے واپسی ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ جناح نے سگار کا دھواں ہوا کی آغوش کو سونپتے ہوئے نہائت آہستگی سے گُڈ مارننگ کہا اور بغیر قدم روکے کُرسیوں کی طرف بڑھتے چلا گیا۔ چند لمحوں بعد جناح نے کُرسی پر بیٹھ کر ایک ٹانگ دوسری کے اُوپر ر کھ لی۔ اِس طرح بیٹھنے سے اُن کے جوتوں کی چمک میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ کیونکہ دھوپ دھند اور غبار سے بے عیب تھی اور جوتے گرد سے۔ نواب افتخار ایسے ایک طرف کھڑا ہو گیا جیسے پریشانی کے آثار چہرے سے نظر آرہے ہوں۔ لیکن جناح نے نواب کے پریشان چہرے کی طرف کچھ توجہ نہیں دی۔ وہ خموشی سے سگار پیتے رہے اور چند لمحے اِسی طرح گزر گئے۔ نواب افتخار جناح کا منتظر تھا کہ کب وہ پنجاب کی صورت حال پر بات کرے اور یہ سُرخ لوہے پر ضرب لگائے۔ پنجاب مسلم لیگ کے لیے سب سے اہم صوبہ تھا،جس میں سکھوں اور ہندؤوں کی بڑی تعداد موجود ہونے کی وجہ سے پیچ در پیچ ہزاروں مسائل تھے۔ اُن کو حل کرنے کے لیے جس آدمی کی سب سے زیادہ اہمیت جناح کی نظر میں تھی،وہ نواب ہی تھا۔ لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ مسلم لیگ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے پنجاب کو نظر انداز کر جائیں اور اُس میں نواب کی مشاورت سے گریز کریں۔ کافی دیر خموش بیٹھے رہنے کے بعد جناح نے آخر سکوت توڑ دیا۔

افتخار،آپ کی طرف سے ابھی تک اپنے علاقے کے بارے میں کوئی صورت حال سامنے نہیں آئی،خموشی کیوں ہے؟
سر پنجاب میں ہر طرف حالات مسلم لیگ کے حق میں ہیں،جیسا کہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن مشرقی پنجاب کے کچھ علاقوں میں پوزیشن ٹھیک نظر نہیں آتی۔ اندیشہ ہے،تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور تحصیل فیروز پور سے ہم الیکشن ہار جائیں گے،مجھے یہی پریشانی اس وقت بھی ہے۔

ایسا کس لیے ہے؟،جناح نے نہایت اطمنان اور بغیر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا،اُن کا یہ رویہ نواب کے بنائے ہوئے منصوبے کے لیے بہتر نہیں تھا۔

فیروزپور کی انتظامیہ کانگرس کے ساتھ مل کر ہمیں شکست سے دوچار کرنا چاہتی ہے ( نواب نے اب کے اپنے چہرے پر ایک کرب ناک پریشانی طاری کرلی) پورے علاقے میں غیر تحریری طور پر ہمیں جلسے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ عوام پر ایک خفیہ دباؤ موجود ہے۔ کانگرس کچھ سکھ سرداروں کے ساتھ مل کر غنڈہ گردی کر رہی ہے۔ مسلمانوں کوبلا جواز ڈرایا جا رہا ہے۔ یہ عوام غریب غربا بے زمین لوگوں پر مشتمل ہیں اور زیادہ تعداد بالواسطہ طور پر سکھ زمینداروں کی رعایا ہیں۔ یہ لوگ ووٹ تو مسلم لیگ کو ہی دینا چاہتے ہیں،لیکن ڈر کی وجہ سے ہو سکتا ہے،الیکشن کے دن گھر وں سے ہی باہر نہ نکلیں۔ بلکہ جو لوگ سکھوں کے مزارع ہیں،اگر اُن پر دباؤ بڑھ گیا تو وہ ہمارے خلاف بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔ اِس لحاظ سے ہم مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

آپ نے پہلے آگاہ نہیں کیا؟ اب جناح نے قدرے بات کو سنجیدہ لیتے ہوئے پوچھا۔ البتہ چہرے پر پریشانی کے آثار پھر بھی ظاہر نہیں ہونے دیے،مگر نواب ایک عرصے کی رفاقت کے بعد سمجھ گیا تھا کہ اُن کے اندر ہل چل ہو چکی ہے۔

سر،کچھ فائدہ نہیں تھا۔ معاملات اور بھی زیادہ خراب ہو جاتے۔ انتظامیہ جس قدر عذراور تاویلات کی ماہر ہے،ہمارا کوئی بھی قدم اُس کے آگے غیر موثر ثابت ہو گا۔ نواب نے ایک اور ضرب لگائی۔

پھر بھی ہمیں اِس کا حل نکالنا ہے( جناح کا اطمنان گڑبڑا گیا تھالیکن وہ بات اب بھی بے پناہ تحمل کے ساتھ کر رہے تھا )وہاں تمھاری شکست کا مطلب مسلم لیگ کی پنجاب میں شکست ہے۔ ہمارے لوگ بددل ہو جائیں گے۔ فیروز پور میں ہر حالت اپنی پوزیشن بہتر کرو۔
جناح کا یہ جملہ ایسا تھا جو نواب افتخار کے لیے اپنی بات منوانے کی بنیاد فراہم کرتا تھا۔ لہذا نواب نے بغیر وقت ضائع کیے،جس کا انتظار وہ کئی مہینوں سے کر رہے تھے،اپنا مدعا سامنے ر کھ دیا،سر میرے کئی آدمیوں اور ذاتی دوستوں پر فیروزپورپولیس کی طرف سے ایک عرصے سے قتل اور ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں۔ جن کے پس پشت گورنمنٹ کی مسلم لیگ دشمنی کار فرما ہے،جو مشرقی پنجاب میں آج کل تو بہت فعال ہو چکی ہے۔ مَیں اُس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہوں۔ مثلاً؟ جناح نے وضاحت چاہی۔

مثلاًمیرا ایک دوست غلام حیدر ہے(نواب نے منصوبے کے مطابق اب کہانی شروع کی) جس نے میرے ساتھ ایچی سن کالج سے بی اے کیا ہے۔ وہ مسلم لیگ کا انتہائی سر گرم رکن ہے۔ اُس پر اُسی دن سے پورے پندرہ بندوں کے قتل کا مقدمہ درج ہے،جس دن اُس نے مسلم لیگ کی رکنیت اختیار کی۔ اِس کی وجہ سے وہ پچھلے دس سال سے روپوش ہے اور اپنے علاقے میں داخل نہیں ہو سکا۔ عدالت اُس کی غیر موجودگی میں اُسے سزائے موت سنا چکی ہے۔ بچاراپتہ نہیں کہاں جان بچاتا پھر رہا ہے۔ اُس کا مال اور جائداد ضبط کی جا چکی ہے۔ پڑھالکھا اور شریف زمیندار ہونے کے ساتھ علاقے میں اُس کی حیثیت ایک بااثر مسلم لیگ کے کار کن کی ہے۔ اُس کی شرافت اور ہر دل عزیزی کی وجہ سے ہزاروں ووٹ اُس کی جیب میں ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں،جب اِتنے اہم شخص کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو پھراُ ن کی کیا حیثیت ہے؟ اُس پر بلاجواز مقدمات درج کر کے فیروزپور میں مسلم لیگ کی تحریک کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سرور بہکاں والے کو مجھ پر سوار کرایا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے،جب تک میری گاڑی میں غلام حیدر نہیں بیٹھ جا تا اور میرے جلسوں میں شریک نہیں ہو جاتا،مجھے الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔ ورنہ ذلت سے دوچار ہونا پڑے گا۔

کیا غلام حیدر کے علاوہ یہ جگہ کوئی اور نہیں پُرکر سکتا؟ جناح نے سگار پینا مسلسل جاری رکھا۔

اول تو ایسا کوئی آدمی وہاں موجود نہیں ہے۔ اگر ہو بھی،تو اِن حالات میں،جبکہ ہم اُن کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کر سکتے،کوئی اور کیونکر رسک لے سکتا ہے؟ نواب نے اب بات فیصلہ کن انداز میں جناح صاحب کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی۔
اوکے دیکھتے ہیں،جناح نے اُٹھتے ہوئے کہا،تم الیکشن کی تیاری کرو،میری تین تاریخ کو مونٹ بیٹن سے ملا قات ہے۔
اتنا کہ کر جناح صاحب دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑے اور مزید ایک لفظ بھی کہنا گوارہ نہ کیا۔

نواب افتخار جناح کے اُٹھتے ہی خود بھی جلدی سے تکریم کے لیے کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور اُسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ جناح کا کہنا،تم الیکشن کی تیاری کرو،کا مطلب تھا،کام اسی فیصد تک ہو چکا ہے اور واقعی وہی کچھ ہوا دو ہفتے بعد ہی جلال آباد تحصیل میں غلام حیدر کی سزا کی معافی اور اُس کی تمام جائداد کی واپسی کا حکم پہنچ گیا۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا،جو فی الحال کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ اِتنے زیادہ قتل کا مقدمہ،جس میں غلام حیدر کے اشتہاری ہونے کے بعد اُس کو سزائے موت ہو چکی تھی،کا آسانی سے ختم ہوجانا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہ بھی انگریز سرکا ر میں۔ بعض لوگوں نے سمجھا،یہ حکومت کی چال ہے اور اُسے روپوشی سے باہر نکالنے کا ایک ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے ہی غلام حیدر سامنے آئے گا،اُسے دھر لیا جائے گا۔ لیکن جب غلام حیدر واقعی دس سال بعد جلال آباد اپنی حویلی میں آیا اور پولیس نے کوئی پوچھ گچھ نہ کی تو لوگوں کو یقین آ گیا کہ امیر سبحانی کی بات تو بھائی سچ ہے۔

ہوا یہ کہ جناح صاحب کو مونٹ بیٹن کے ساتھ ملاقات میں نواب افتخار کی تمام بات یاد تھی۔ اُنہوں نے اِس تشویش کا اظہار لارڈ صاحب سے کر دیا کہ گورنمنٹ پنجاب اُن کے خلاف سازش بُن رہی ہے۔ اِس بات کا لارڈ صاحب نے فوراً انکار کر دیا اور کہا اِس کا ثبوت دیں۔ جناح نے نواب افتخار کے حوالے سے غلام حیدر پر مقدمات کا ذکر کر دیا،جس کی تفصیل بعد میں اُنہوں نے خود معلوم کر لی تھی۔ مونٹ بیٹن نے غلام حیدر کی خوش بختی سے،وہیں بیٹھے جناح صاحب کی تشویش دور کرنے کے لیے گورنر صاحب کو فون کر مارا اور کسی لہر میں آ کر یہ بات کر دی،غلام حیدر پر سے تمام مقدمات فوری طور پر اُٹھا لیے جائیں۔ گورنمنٹ اُس کی سزائے موت معاف کرتے ہوئے اُسے بری کرتی ہے۔ لہذا غلام حیدر ولد شیر حیدر کی سزا کے متعلق فیصلے کی فائل بلا تاخیر اُنہیں دہلی رو انہ کر دی جائے۔ یہ تھی ساری کہانی،جس میں مونٹ بیٹن نے محض جناح صاحب کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے اپنی طرف سے یہ چھوٹا سا کام آناً فاناً کر دیا۔
غلام حیدر جلال آباد میں کچھ ایسی دھوم دھام سے داخل ہوا کہ اُس کے سامنے جلال آباد والوں کی نظر میں نواب افتخار کی کیا اہمیت تھی۔ سفارش کا یہ قدم شاید جناح صاحب کبھی نہ اُٹھا تے لیکن اُن کی نظر میں نواب افتخار کی بھی ایک اہمیت تھی۔ شروع دن سے ہی ممدوٹ خاندان محمد علی جناح کا دست وبازو تھا۔ وہ پنجاب میں سب سے زیادہ اعتبار اُنہیں پر کرتے۔ لاہور آتے تو ممدوٹ ولا زکے سوا کہیں قیام نہ فرماتے۔ حتیٰ کہ فاطمہ جناح بھی اُن کے ہمراہ ہوتیں تو وہ بھی ممدوٹ ولاز میں ٹھہرا کر تیں-انیس سو چھ میں سرشاہنواز خان ممدوٹ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی صدارت سنبھالی تھی اور مسلم لیگ کو مضبوط و فعال بنانے کے لئے انتھک کوششیں کیں اور اپنی دولت خرچ کی تھی۔ یہ اُنہی کی کاوشیں تھیں کہ قرار داد پاکستان ممدوٹ ولازکے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بنائی گئی- منٹوپارک کا جلسہ اور اُس کی کامیابی بھی سرشاہنواز خان ممدوٹ کے سرجاتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو جہاں دُشواری پیش آتی،نواب ممدوٹ اپنی تجوری کی چابیاں اُن کے حوالے کر دیتے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چوبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(42)

بہت دنوں سے ولیم سوچ رہا تھا کہ سرکاری نوکری پر لعنت بھیج دے۔ صرف اوکاڑہ میں رہ کر اپنا ذاتی فارم چلائے،جس پر کیتھی کسی طرح بھی راضی نہ ہو سکتی۔ شاید وہ اُسے بھی نظر انداز کر کے فیصلہ کر بیٹھتا کہ اچانک اُس کی خوش نصیبی سے برطانیہ پر ایک آفت ٹوٹ پڑی اور وہ تھی جنگ عظیم دوم۔ ہٹلر کی حکومت نے مشرقی یورپ میں ایک وسیع اور جدید سلطنت “لونگ اسپیس” (لیبن سروم) کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ اُس نے یہ خیال اپنے لوگوں پر واضح کیا تو جرمن لیڈروں نے یورپ پر جرمنی کے تسلط کیلئے جنگ کو ضروری قرار دے دیا۔ سویت یونین کی غیر جانبداری حاصل کرنے کے بعد جرمنی نے یکم ستمبرانیس سو انتالیس میں پولنڈ پر حملہ کرکے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کر دیا۔ اِس کھلم کھلا جارحیت کو روکنے کے لیے برطانیہ اور فرانس نے رد عمل کے طور پر تین ستمبر کو جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اُدھر ایک ماہ کے اندر جرمن نے سویت فوجوں کے اتحاد سے پولنڈ کو شکست دے دی۔ پولینڈ جرمنی اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب اِس سب کچھ سے لا تعلق ولیم پنجاب کے چیف سیکرٹری ہاؤس لاہور میں کُھڈے لائن لگا،فائلوں کے اُوپر سے مکھیاں اُڑا رہا تھا۔ وہ اِس جنگ کی خبریں تو مسلسل سُن رہا تھا لیکن ابھی جنگ کی آواز براہ راست ہندوستان نہیں پہنچی تھی۔ اِس لیے اُسے اس سب کچھ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ویسے بھی کچھ وقت تک عارضی سکون ہو چکا تھا،جونو اپریل انیس سو چالیس تک جاری رہا اور اُس وقت ختم ہوگیا،جب جرمن فوجوں نے پھر ایک دفعہ ناروے اور ڈنمارک پر حملہ کردیا۔ یہی وہ وقت تھا جب بر طانیہ کے کان پر دوبارہ جوں رینگی اور وہ اِس کھجلی پر چونکا۔ اُدھر جنگ کا آغاز ہو ااِدھر برطانوی کالونیوں میں انگریزوں اور مقامیوں کو افسریاں پلیٹوں میں بکنے لگیں۔ اِسی ریلے میں کئی معتوبوں کی غلطیاں بھی تھوڑی بہت سرزنش کے بعد بخش دی گئیں۔ چنانچہ ولیم کی بھی سنُ لی گئی اور اُس کی خدمات دہلی ڈویژن کے سپرد کر دیں۔ جہا ں انہیں بطور ڈپٹی کمشنر ضلع روہتک بھیج دیا۔

ولیم کا اتنی جلدی اچانک ڈپٹی کمشنر بن جانا نہایت اعزاز کا باعث تھا اور کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ کجا لاہورمیں پندرہ ماہ سے مکھیاں مارنے کاکام اور کجاایک دم پورے ضلع کا وائسرائے۔ آڈر ملنے کے بعد اُس نے فوراً کیتھی کو اطلاع دی اور کہا،محترمہ جلدی ضلع کی میم بننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ کیتھی نے یہ سنتے ہی اوکاڑہ میں اپنی نیابت کے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کر دی۔ سب سے پہلے اُس نے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر ملنے والے ملازمین کی لسٹ تیار کی۔ جس کی تعداد پینتیس کے لگ بھگ تھی۔ اِن میں خاص کر،سائیس،دھوبی،خانساماں،بھنگی،باورچی،مالی،گھسیارا،چڑی مار، قصاب، مچھیرا، ماشکی، مالشیا،حلوائی،سگ پرور،بٹیر باز،مرغ باز،اور اسی طرح کے نجانے کیا کیا الا بلا نوکروں کی پلٹنیں تھیں۔ یہ تو باقاعدہ نجی ملازم تھے۔ ورنہ تو اب پورا ضلع ملازم ہونے والا تھااور کسی کی کیا جرات کہ اُن کی مرضی کے خلاف پر بھی مارتا۔ ولیم اِسی خوشی میں نولکھی کوٹھی پر پہنچا اور سب دوستوں کو بلا کر ایک لمبی دعوت سے سر فراز کیا۔ جانسن صاحب نے (جو ایک سال پہلے ریٹائرڈ ہو چکے تھے) اپنے تجربات کی تھکادینے والی کہانیاں سنائیں اور ایسی ایسی نصیحتوں کی زنبیلیں کھولیں،جو اگرچہ بوسیدہ ہو چکیں تھیں،پھر بھی ولیم کو سننی پڑیں کہ یہ کچھ دیر کی کوفت اُس کے والد کے لیے طمانیت کاباعث تھی۔ جانسن کے لیے ویسے بھی یہ ایک ایسی خوشی تھی،جس کا نہ ملنا ایک طرح کی بے توقیری تھی،کہ پشت در پشت ملنے والی کمشنری اگر کسی جگہ رک جاتی تو خاندان کو بٹہ لگ جاتا۔ اِس لیے جانسن صاحب ولیم سے بھی زیادہ پُرجوش تھے اور دوستوں کو اپنے خاندان کے قصے لطف لے لے کر سنا رہے تھے۔ اگر ولیم کے ڈپٹی کمشنر بننے کی کہانی اندر سے کھولی جاتی تو کہیں جانسن صاحب کی بار آور کوششیں درمیان میں موجود تھیں۔ دعوت میں پادریوں سے لے کرڈپٹی کمشنروں تک سب جمع تھے،جنہیں جانسن صاحب کو اپنا نام و نامود دکھانا منظور تھا۔ دعوت کے بعد ولیم بلا تاخیر افسرانہ اعزاز کے ساتھ روہتک کی طرف روانہ ہوگیا اور سیدھا ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں جا کر دم لیے۔ جو چنددن پہلے اُس کے لیے خالی کر کے،اُس میں ولیم کا ذاتی سامان لگا دیا گیا تھا۔

یہ بنگلہ ایک طرح کا گورنر ہاؤس ہی تھا۔ وہ بڑی بڑی پیلے رنگوں کی دیواریں اور دیواروں کے اندر سفید انڈے کی طرح کا اونچا سا بنگلہ،جس کے بے شمار کمرے،مہمان خانے،ڈائیننگ روم،ڈرائینگ روم اور دوسرے کمرے تھے۔ اِن کے علاوہ کئی کئی چبوترے،سہ دریاں،بارہ دریاں اور شش دریاں سفید رنگوں میں ایک کے بعد ایک بنگلے کے کھلے صحنوں میں ہنس رہی تھیں۔ یہ سب تو ایک طرف،ولیم بنگلے میں اُترا تو اُس کا استقبال کرنے کے لیے آدھا شہر وہاں موجود تھا۔ دو ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،ضلع کی پانچوں تحصیلوں کے تحصیلدار،نائب تحصیلدار،پولیس کے افسر اور نہ جانے کس کس شعبے کے لوگ تھے۔ ان سرکاری لوگوں کے علاوہ شہر کے بڑے اور امیر لوگوں کی الگ کھیپ سلام کرنے کے لیے پہنچی ہوئی تھی۔ ولیم نے ان سینکڑوں افراد کے مجمعے کو دیکھا،جو اُسی کی خاطر کھڑے تھے،تو چند لمحوں کے لیے اُس کے اندر رعونت نے بھرپور پھریری لی۔ لیکن اِس طرح کے معمولات وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ دیکھ چکا تھا،اِس لیے زیادہ فرق نہ پڑا اور وہ پہلی حالت میں آ گیا۔ لوگ بہت زیادہ تھے لیکن ولیم نے ترتیب میں کھڑے ہوئے آٹھ دس سے ہی ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا۔ اسی طرح ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر جان میکن نے بھی چند لوگوں کا تعارف کرا کے باقی کو نظر انداز کر دیا۔ وہ جان گیا تھا،صاحب اِس وقت تھکے ہوئے ہیں اور جلد ی مجمع اپنے سے دور کر دینا چاہتے ہیں۔

روہتک میں کافی عرصے سے ڈپٹی کمشنر کی جگہ پر اسسٹنٹ کمشنر ہی کام کر رہا تھا۔ یہاں کسی کو اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی اور کام بخوبی چل رہا تھا لیکن اچانک جنگ کی وجہ سے ہنگامی حالات پیدا ہوئے تو اس آسامی کو پُر کرنے کا خیال آ گیا اور قرعہ ولیم کے نام نکل آیا۔

تعارف کے بعد ولیم نے جلد ہی سب کو رخصت کر دیا تاکہ دوسرے دن مکمل آزادی کے ساتھ اگلے اقدام کا بندوبست کیا جائے۔
دوسرے دن ولیم ڈپٹی کمشنر ہاؤس پہنچا تو عمارت کو اندازے کے مطابق نہایت پُر شکوہ پایا۔ دور تک بلندو بالا کمرے ہی کمرے اور کھلی راہداریاں۔ ولیم کا اپنا کمرہ جلال آباد والے سے دگنا تھا۔ انتظامیہ کا پروٹوکول بھی کمال تھا۔ مگر اِس کے باوجود ولیم کو یہاں کچھ خلا سا محسوس ہو رہا تھا۔ جس کی فی الحال نشان دہی تو نہیں ہو رہی تھی لیکن کچھ ایسا ضرور تھا،جسے ولیم سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ یہاں اُس کا،پی اے،ایک راجپوت رانا دھنپت رائے تھا،جو شائستہ اور صاف ستھرا پچاس سال کی عمر کے لگ بھگ کا شخص تھا۔ اُس کی مونچھیں ضرور تھیں لیکن ایسی،جس سے ولیم کو کسی قسم کی تکلیف پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ سر پر کُلے دار پگڑی نے مو نچھوں کو مزید بارعب بنا رکھا تھا۔ رائے دھنپت صاحب اردو کے ساتھ انگلش بھی اچھی طرح سمجھتا اور بولتا تھا۔ ولیم کو پہلے دن ہی اُس کی لیاقت کا اندازہ ہو گیا۔ اُس نے اُسے جتنی ہدایات دیں،اُن پر اس قدر پھرتی سے عمل کیا کہ خود ولیم بھی دنگ رہ گیا۔

ولیم نے دوسرے روز ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنرز اورتمام تحصیلداروں کا اجلاس طلب کیا اور کام کے آغاز کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے لگا۔ اُسے ایک بات کا اطمنان تھا کہ اب اُسے بہت سے کاموں میں آزادی ہوگی۔ وہ اُن کے بارے میں کسی کو جواب دہ نہیں ہو گا۔ وہ بے دھڑک اُن کو نبٹانے کی طرف توجہ دے گا اور جو کام اپروول کے محتاج ہوئے،وہ آہستہ آہستہ بھی آگے بڑھتے رہے تو مضائقہ نہیں۔ ولیم نے پہلے ہی اجلاس میں اپنی گزارشات کی وضاحت کردی اور تمام تحصیلوں کے ذمہ دار افسروں پر واضع کر دیا کہ اُسے صرف تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول تعلیم کے بہتر نتائج،دوم معاشی ذرائع کا پیدا کرنا اور سوم گورنمنٹ کے لیے خراج کے نظام کو مزید بہتر بنانا۔ یہ اُن کی پہلی ترجیحات ہیں۔ اِن کے علاوہ تمام کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضلعی گزٹ کے مطابق،جس کا مطالعہ کئی روز پہلے ولیم کر چکا تھا،روہتک میں امن و امان کے حوالے سے زیادہ خرابی نہیں تھی۔ لوگوں میں اکڑ پھکڑ کافی تھی لیکن بڑے پیمانے پر شر پسندی پھیلانے کی جرات ابھی تک پیدا نہ ہو سکی تھی،نہ ہی آگے توقع تھی۔ اس لیے ولیم نے اس معاملے پر بات کرنے کی زحمت نہیں کی اور ہدایات دے کر اجلاس ختم کر دیا۔ آفیسرز،جنہیں ابھی تک روہتک میں کسی ڈپٹی کمشنر نے ڈیل نہیں کیا تھا،کو بھی ولیم کے انداز گفتگوسے واضح ہو گیا کہ اب بڑے افسر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میٹنگ کے انجام پر اُنہوں نے بھی کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ولیم کو محسوس ہوا،وہ جو سوچ رہا تھا،اتنا آسان نہیں تھا۔ اب اور طرح کی مجبوریاں سامنے دکھائی دینے لگیں۔ اُسے اس بات کا ندازہ نہیں تھا کہ حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔ اچانک مسلم لیگ اور کانگرس کے جلسے چل نکلے تھے،جن سے اُسے پہلے ہی بہت زیادہ کوفت ہوتی تھی۔ وہ اُن کو روکنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا تھا۔ کئی بار دفعہ چوالیس کا نفاذ کر کے اس طرح کے جلسوں کا ناطقہ بند بھی کیا َلیکن صاحبانِ جلسہ کہیں اُوپر سے احکامات حاصل کر کے لے آتے اورآزادی کی بکواس شروع کر دیتے۔ ولیم کو بعض اوقات ان سے وحشت محسوس ہوتی۔ ولیم کو اس بات پر شدید غصہ آتا کہ ان کے بڑے اصل میں انگریزوں کو نکال کر اپنی حکومت چاہتے ہیں۔ اُس کے ذہن میں طرح طرح کے اندیشے آنے شروع ہو جاتے۔ وہ سوچتا،کیایہ ہندوستانی اُسے بھی نکال دیں گے؟ حالا نکہ اُن کے خاندان کو یہاں پورے ڈیڑھ سو سال ہوگئے ہیں۔ بعض اوقات ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے کہتا،یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ جو حکومت اتنی جدو جہد اور طاقت سے حاصل کی گئی ہے،اُسے انگریز اتنی آسانی سے اِن گنواروں کے سپرد نہیں کریں گے۔ جن کے پاس نہ تعلیم ہے اور نہ حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ وہ خیال کرتا،اصل میں یہ سب کچھ جنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان خیالات اور اندیشوں کے باوجود ولیم اپنے تئیں کچھ نہ کچھ کرنے میں جتا رہا اور کافی سارے نتائج حاصل بھی کر لیے مگر چند مہینوں میں حالات کے پیشِ نظر ولیم کو اندازہ ہو گیا کہ اُس کے جنگ کے متعلق اندازے ٹھیک نہیں تھے۔ وہ طول پکڑتی جارہی تھی۔ اِدھر اُس کے اختیار ات کی کڑیاں آہستہ آہستہ ٹوٹتی جا رہی تھیں۔ مقامی اور کالوں کی جراتیں بڑھ رہی تھیں اور بعض احکامات پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ عمل کر نے پر مجبور تھا،جو ہندوستان کی آزادی اور کالوں کے وافر حقوق کے متعلق ہوتے۔ ولیم نے حالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا تو اُسے لگا،اُوپر کی سطح پر کہیں گڑ بڑ ہو چکی ہے۔ اُس کی بھیجی ہوئی فائلیں یا تو بغیر اپروول کے واپس آ رہی تھیں یا اُن میں بلا وجہ کی تاخیر ہو رہی تھی۔ کبھی بجٹ کا بہانہ کر کے،کبھی کہ دیا جاتا،حکومت کی اِس کام میں ترجیح نہیں ہے۔ پھروہ جلد ہی بہت کچھ جان گیا اوراُسے پتا چل گیا کہ اس وقت پورے ہندوستان کی انتظامیہ اِسی طرح چل رہی ہے۔ جس میں اُس کا کام بھی عبوری سطح کا اور ہنگامی بنیادوں پر ہو گیا تھا۔ اس حالت میں اُسے ایک سال گزر گیا۔ اس دوران کام کی بڑھتی ہوئی یکسانیت نے اُس کی طبیعت کو تباہ کر دیا۔ اِن حالات میں کیتھی اُسے اِدھر اُدھر سے ہر وقت دلاسا دینے میں لگی رہتی اور پل پل کا خیال رکھتی۔ لیکن اسے کمشنری کی جتنی خوشی ہونی چاہیے تھی، وہ سب غارت ہو کے رہ گئی۔ اِس وقت کمشنر ی کے اختیارات اُس کے لیے ایک ایسا خواب ہو گئے تھے،جن میں مناظر تو نظر آتے ہیں لیکن خواب دیکھنے والا اُن مناظر کو نہ چھو سکتا ہے،نہ اُن سے لذت حاصل کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ ایسی گائے کا دودھ تھا،جو جنگ کی وجہ سے ہر کس و ناکس کو پلا دیا گیا۔ دوئم،اِس شاہانہ عہدے کے ساتھ کچھ ایسی ہدایات نتھی کردی گئیں،جو کسی طرح بھی ڈپٹی کمشنر جیسی پُر وقار ذات کے لیے جائزنہیں تھیں۔ بجائے اِس کے،کہ ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع میں بلا شرکتِ غیرے،جیسا کہ وہ سوچ رہا تھا، حکمرانی کرے، اُسے بریگیڈیروں اور جنرلوں کی ہدایات پہنچنا شروع ہو گئیں اور سخت سے سخت حکم وصول ہونے لگے۔ مثلاً ضلع سے جتنے جوان ہو سکیں،فوج میں بھرتی کے لیے بھیجے جائیں۔ غلہ کو ذخیرہ کر کے اُس کا حساب پہنچایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ خراج اور مالیہ وصول کیا جائے۔ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ بعض اوقات تو یہ حکم نامے کمشنر آفس سے آنے کے بجائے ڈائریکٹ ہی وصول ہونے لگے،جو ولیم کے لیے اس قدر آزار کا باعث تھے کہ اُسے اپنا یہ عہدہ ایک چپڑاسی سے بھی بد تر معلوم ہونے لگتا۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر وہ کس کے ماتحت ہے؟ آیا اپنے ڈویژن آفس کی سول انتظامیہ کا،جہاں سے اصولی طور پر اُسے تنخواہ ملتی ہے یا پھر میرٹھ چھاونی کا،جہاں کے فوجیوں کی حیثیت اُس کے سامنے ایک گنوار زبان استعمال کرنے والے جانوروں کی تھی۔ ولیم کبھی کبھی خیال کرتا،اِس سے تو بہتر اُس کے وہی دن تھے،جب وہ جلال آباد میں اسسٹنٹ کمشنر تھا اور ہیلے کا ماتحت تھا۔ اُسے ہیلے،اپنے باپ اور اُن ڈپٹی کمشنروں پر رشک آنے لگا،جووقار کو تباہ کردینے والی جنگ سے پہلے ریٹائر ہوکر عزت بچا چکے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے سوچتا کہ مصیبت کے دن تھوڑے ہی ہیں،گزر جائیں گے تو اُن کی افسری کی شان میں بھی پہلے والی چمک دمک آجائے گی۔ مگر اُسے پھر آزادی کے متوالوں کے بے ڈھنگے مطالبوں کی یاد آجاتی جو روز بروز بڑھ رہے تھے اور منظور بھی ہورہے تھے۔

ایک طرف درج بالا بکواسیات تھیں،دوسری طرف روہتک کا ماحول ولیم کے لیے انتہائی اذیت ناک تھا۔ اُسے روہتک میں ڈیڑھ سال کے قریب گزر چکا تھا۔ یہ عرصہ اُس کی طبیعت کو اچاٹ کر دینے کے لیے ہر دن نئی بیزاری لے کر آتا اور ولیم کی نحوست میں اضافہ کر دیتا۔ یہ ضلع دہلی کے مغرب میں چالیس یا پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خشک شہر تھا،جس کے مضافات میں مٹی کے ٹیلے،عک اور ببول کی جھاڑیاں حد نظر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ شہر کے ساتھ ساتھ پختہ اینٹیں بنانے والے بھٹوں کی کثرت تھی۔ اُن کی چمنیوں سے اُٹھنے والا دھواں ہر وقت شہر پر سایے بلند کیے رکھتا۔ اُن سایوں کے بیچ اُڑتی ہوئی چیلیں چکر کاٹتی رہتیں،کبھی بلندی پر اور کبھی بالکل چھتوں کے اُوپر۔ شہر کی عمارتیں زیادہ تر پکی اینٹوں کی اور پُرانے دور کی یاد دلانے والی تھیں۔ اُن پر کام اگرچہ بہت نفاست سے کیا گیا تھا لیکن اب وہ اکثر جگہ سے خراب ہو رہا تھا۔ شہر کی قریباً ساری آبادی نہ جانے کون سی زبان بولتی تھی اور کس کلچر سے تعلق رکھتی تھی۔ راجستان سے روز کی اُٹھنے والی آندھیوں نے اُس پر مزید کام دکھایا تھا۔ آئے دن شہر کے درو دیوار گرد و غبار کی تہوں میں دب جاتے۔ مضافات میں اُڑتی ہوئی ریت اور دھول نے ہر چیز کو مٹیالا بنا دیا تھا۔ لوگوں کے چہرے بھی اسی مٹی،خشکی اور دھول کے باعث اتنے بے رونق ہو چکے تھے کہ ولیم کو جلال آباد کے لوگ اِن کے مقابلے میں نہایت خوبصورت لگنے لگے۔ کڑوا تمباکو اِن کی مرغوب غذا تھی۔ آٹھوں پہر میں کوئی لمحہ ہو گا کہ اُن کے بوڑھے،جوان حتیٰ کہ بچے بھی اس لعنت میں گرفتار نہ ہوں۔ تمباکو کے کثیف اور مسلسل دھویں سے اُن کی مونچھیں اور داڑھیاں بھوری،زرد اور بدبو دار ہو چکی تھیں اور وہ اُسی ابکائی پیدا کر دینے والے رنگوں سے مانوس تھے۔ یہ لوگ نہایت سوکھے سڑے،لمبی مونچھوں،چھوٹی قامتوں،باریک آنکھوں اور چھوٹے چھوٹے پاؤں کے ساتھ دھوپ اُگاتی سڑکوں پر آتے جاتے نظر آ تے۔ بعض دفعہ ولیم اِن کے رنگ برنگے چیتھڑوں اور ٹاکیوں سے سیے گئے بستروں کے بارے میں غور کر کے کانپ جاتا،جو اُس نے دیکھے تو نہیں تھے،لیکن اِن لوگوں کی ظاہری حالت سے ہی اُن بستروں کی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ جن میں دوپہر کی گرمی نکلنے تک پڑے سوتے یہ لوگ پیٹ کی بودار کثیف ہوائیں چھوڑتے رہتے اور اُن کو خود ہی سونگھتے رہتے۔ ولیم کو اُن کی دھوتیوں پر ہرگز اعتراض نہ ہوتا،اگر وہ اصل میں دھوتیاں ہی ہوتیں۔ وہ تو محض بے کار چیتھڑے تھے،جو ہمیشہ اُن کے گھٹنوں سے اُوپر اُٹھے رہتے۔ اُن چیتھڑو ں کا ایک پلو نیچے سے کھینچ کر مزید پیچھے گانڈ کی طرف سے باندھ لیاجاتا،جو ایک کچھا سا بن کر رہ جاتا اور وہ رانگڑ اُسی کچھے میں ننگادندناتا پھرتا۔ بعض اوقات وہ کچھا اتنا چھوٹا ہوتا کہ اُس کے سُکڑے ہوئے سیاہ چوتڑ صاف نظر آتے۔ ولیم یقیناً اُن کا لباس،عادات اور زبان بدلنے پر قادر نہ تھا لیکن وہ چاہتا تھا،کم از کم جس سے بھی اُس کی ملاقات ناگزیر ہو،وہ انسانوں کی حالت میں اُس کے پاس آئے۔ ولیم نے اپنے عملے کو ملاقات کے لیے ضروری ہدایات جاری کر دیں کہ ملاقاتی اپنے لباس میں پاجامہ اور کُرتہ کا اہتمام کرے۔ اسی طرح دیسی چمڑے کے جوتوں کی بجائے انگلش جوتے پہن کر آئے یاکم از کم جوتوں کے اندر اُس کے پاؤں سرسوں کے تیل اور مٹی میں غچ غچ نہ ہوں،نہ جوتوں کے چمڑے سے چرر چرر کی آواز پیدا ہو۔

لوگوں کی بد شکلی کے علاوہ ولیم کو روہتک کے مضافات سے بھی وحشت آنے لگی۔ کوسوں تک سبزے کی ایک پتی بھی نہیں تھی۔ نہ کوئی نہر اور پانی کا انتظام نظر آ رہا تھا۔ کچھ تھا،تو تمباکو کی سر سر ی فصلیں،جو اِن لوگو ں کے رزق کا واحد سہارا تھیں۔ تمباکو کی اسی بہتات کی وجہ سے ہر شخص کے ہاتھ میں اپنا ایک حقہ تھا،جسے وہ ہر وقت گُڑ گڑاتا رہتا۔ شہر کی منڈی معمول کے مطابق ہندووں کے ہاتھ میں تھی۔ مسلمان یہاں بھی محض حقے پر گزارہ کیے ہوئے تھے۔ کلچر دونوں قوموں کا ایک ہی تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ جو مسلمان تھے،اُن میں مسلمانوں والی کوئی بات نہیں تھی،سوائے مفلسی اور غربت کے۔ جسے دور کرنا ولیم کے بس سے باہر تھا۔ یہاں اِتنے مسائل اور حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی دیکھ کر ولیم کا دل چھوٹ چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا،جتنی جلدی ہوسکے،اُس کو دہلی کے مضافات سے نکال کر جالندھر،لاہور یا ملتان ڈویژن کے حوالے کر دیا جائے مگر جو کام کرنے کے لیے اُسے یہاں تعینات کیا گیا تھا،اُس کا ٹارگٹ حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ جس کے لیے ولیم نے بہر حال اپنی سی کوشش ضرور کی اور اُس میں کامیاب بھی ہوا۔ سچ پوچھیں تو یہ ضلع اِس کام کے لیے ویسے بھی مناسب ترین تھا۔ وسطی پنجاب یا فیروز پور سے لوگوں کوبرطانوی فوج میں لے جانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہاں لوگوں کی روٹی پوری ہو رہی تھی۔ دریاؤں کے ارد گرد بیلے،چراگاہیں اور فصلیں اُن لوگوں کی زیادہ نہ سہی،بنیادی ضروریات پوری کر رہی تھیں۔ جبکہ روہتک اور راجستان جیسے علاقوں میں بھوک اور ریت کے بگولوں کے سوا کچھ نہیں تھا،یاپھر مونچھیں تھیں کہ اُگی چلی جاتی تھیں۔ چنانچہ ولیم کی طرف سے فوج میں بھرتی کے اعلان کے ساتھ ہی ہزاروں لوگ بھاگے چلے آئے۔ جنہوں نے انگریزی وقار کو میدانِ جنگ میں مزید برقرار رکھنے کے لیے اپنی مونچھوں کے تاؤ اور زیادہ کر دیے تھے۔ ایک ایک دن میں دو دوسو لوگوں کی بھرتی ہونے لگی اور چند مہینوں میں ہزاروں لوگوں کو انگریزی ٹوپیاں پہنا کر محاذوں پر بھیجنے کے لیے ریوڑوں کے ریوڑ تیار کر لیے گئے۔ یہ اتنی بڑی اور شاندار کامیابی صرف جہلم،روہتک یا راجستان ہی سے حاصل ہوئی تھی۔ باقی تمام اضلاع میں اتنی نفری کسی بھی علاقے سے نہیں مل سکی تھی۔

اِدھر ولیم کے یہ حالات تھے،اُدھرجرمنی کی حوصلہ افزائی پرسویت یونین نے جون انیس سو چالیس میں بالٹک ریاستوں پر قبضہ کرکے اُنہیں باقاعدہ طور پر اپنے ملک کا حصہ بنا لیا۔ اٹلی،جو اتحاد (جرمنی کے حلیف ممالک) کا رُکن تھا،وہ بھی اس جنگ میں شریک ہوگیا۔ تیرہ اگست سے اکتیس اکتوبرانیس سو چالیس تک جرمنی نے انگلستان کے خلاف ہوائی جنگ شروع کی اور اْس میں شکست کھائی۔ اِس جنگ کو بیٹل آف برٹن یعنی برطانیہ کی لڑائی کہا جاتا ہے۔

مئی انیس سو بیالیس میں جب ولیم روہتک سے ہندوستانی راجپوتوں کو فوجی بھرتی کروانے میں لگا ہوا تھا،برطانوی شاہی فضائیہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پہلی بار جرمنی کے اندرجنگ کرتے ہوئے ہزاروں بمبار جہازوں سے بمباری شروع کردی اور جرمنی کے بیشتر شہری علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ انیس سو بیالیس کے اختتام اور انیس سو تینتالیس کے شروع میں اتحادی فوجوں نے شمالی افریقہ میں سلسلہ وار زبردست فوجی کامیابیاں حاصل کیں۔ افریقہ میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ نفری پر مشتمل مخالف فوجوں کے اتحاد نے مئی انیس سو تینتالیس میں ہتھیار ڈال دیا۔

اِدھر ولیم کا تبادلہ کانگرا کر دیا گیا،جہاں اُسے با لکل اِنہی حالات کا سامنا ہوا جیسا روہتک میں چل رہے تھے۔ یہاں ولیم نے ایک سال گزارا اور اگلے سال اُسے ریاست کپور تھلہ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر متعین کر دیا۔ یہاں تک کہ اگست انیس سو پینتالیس میں برلن میں جرمنی کے ہتھیار ڈال دینے پر جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دن گنے جا چکے تھے۔ جس کا احساس ولیم کو ایک سال پہلے ہوگیا تھا مگر ابھی شاید اُسے یقین تھا کہ یہ کام کہیں اُس کی ریٹائر منٹ کے قریب جا کر ہو سکے گا۔ اُنہی دنوں ولیم کا تبادلہ بطور ڈپٹی کمشنرگُرداسپور کردیا گیا اور ہزار کوششوں کے باوجود اُسے منٹگمری نہیں بھیجا گیا۔ اِس بارے میں ولیم نے نہایت اہم سفارشیں بھی کروائیں۔ لیکن جب اُسے اس معاملے میں شدید ناکامی ہوئی تو وہ سوچنے لگا کہ منٹگمری میں اُس کی پوسٹنگ ایک خواب ہی ہو کر رہ جائے گی کیونکہ معاملات ہر دن مزید بگڑتے جا رہے تھے۔ ان حالات میں ولیم کی ذہنی کیفیت اتنی تبدیل ہو گئی کہ قریب کے جاننے والوں کو اُس پر شبہ ہونے لگا،کہیں پاگل نہ ہو جائے۔ بات بات پر اُلجھنا،احکام دیتے ہوئے تحمل کو چھوڑ بیٹھنا اور بعض اوقات سامنے والے کو گالی بھی دے دینا ولیم کی عادات میں شامل ہو رہا تھا۔ اِس بات کی سب سے زیادہ تشویش کیتھی کو تھی،جو سب سے زیادہ یہ عذاب جھیل رہی تھی مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اُسے اس بات کا شدید احساس تھا کہ یہ سب کچھ ولیم سے مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر ہو رہا ہے۔ ولیم کے ہاتھ سے اختیارات کی ڈور روز بروز نکلتی جا رہی تھی اورگورنمنٹ کی طرف سے وصول ہونے والے ہرنئے حکم پر اُس کے چڑچڑے پن میں اضافہ ہو جاتا،جو کئی دن تک بر قرار رہتا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا،ہٹلر نے گورنمنٹ بر طانیہ کی ہڈیوں کا تمام گودا کھینچ لیا ہے اور اب اُن کے پاس نو آبادیات میں اپنا اقتدار قائم رکھنے کی نہ طاقت ہے اور نہ ہی جواز۔ خاص کر ہندوستان کی حالت اس معاملے میں بہت مختلف تھی۔ اتنے بڑے اور وسیع خطے کو کنٹرول کرنے کے لیے اُن کے پاس وقت بھی نہیں بچا تھا اور نہ وسائل۔ کیونکہ سوسال میں اکٹھی کی گئی دولت پانچ ہی سالوں میں ٹھکانے لگ گئی تھی اور وہ اس ماشکی کی طرح خالی ہو گئے تھے،جس کی مشک میں چھید ہو گئے ہوں،کہ گہرے کنویں سے مشک کی لمبی رسی کھینچتے کھینچتے جس کے ہاتھ شل ہو جائیں مگر مشک کا سارا پانی اس عرصے میں دوبارہ اُسی کنویں میں بہ جائے۔ ان باتوں کے علاوہ جو مشکل سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اب ہندوستانی بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب یہ لوگ چالاکی اور عیاری میں گوروں کے بھی کان کاٹتے تھے اور اِس چکر میں تھے،کب انگریز یہاں سے نکلیں۔ ایسے میں انہیں آزاد نہ کرنا ایسے ہی تھا،جیسے بغیر ہتھیار کے بھیڑیے کے ساتھ رات گزاری جائے۔ اس ساری صورت حال میں ولیم نہ صرف یہ کہ ہند وستانیوں سے ناخوش تھا بلکہ انگریزوں سے اور اپنے آپ سے بھی ناراض تھا۔ وہ یہ سب کچھ ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اُس وقت تو اُسے اور بھی غضب آتا،جب وہ کسی انگریز کو ہندوستان چھوڑنے کے متعلق گفتگو کرتے دیکھتا،یا اُسے پتا چلتا،اُس کا فلاں دوست اپنا بوریا بستر سمیٹ کر انگلستان جا رہا ہے۔ ولیم کا اُس وقت خون کھولنے لگ جاتا گویا یہ سب اُس کے خلاف سازش تھی جس میں انگریز،مسلمان،ہندو سب شامل تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(40)

ولیم کو جلال آباد میں آج چارسال ہو چکے تھے۔ وہ بنگلے سے نکل کر پیدل ہی کمپلیکس کی طرف چلنے لگا۔ آج اُس نے جو کپڑے پہنے تھے،اُن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ کیتھی کا عمل دخل آخر کار اُس کی ذاتی پسندو ناپسند میں شامل ہو چکا ہے۔ کنٹوپ کی جگہ کیپ نے لے لی تھی اور شرٹ پر ہُڈ والے بٹنوں کی جگہ شیشے کے باریک ٹیکوں کے بٹن لگ چکے تھے۔ کوٹ بھی اب کُھلا ڈُھلا نہیں تھا،باقاعدہ سوٹ کے ساتھ فٹنس میں تھا۔ ولیم کا قد ویسے بھی لمبا تھا اور جسم کی ہڈی اکہری ہونے کی وجہ سے بہت سمارٹ بھی تھا۔ جوتے بھی ویسے ہی بارعب اور چمکدار جو کمشنروں کی شخصیت کے آئینہ ہوتے ہیں۔ اِس قدر روشن دن میں ولیم کی نیلی آنکھوں کے گھیراؤ میں سرخ و سفید چہرہ واقعی اپنی مثال آپ تھا۔ ہاتھ میں بید تو وہی پُرانی تھی لیکن آج اُس کی لچک پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ نہائت نپے تُلے قدم اُٹھاتا ہوا پُروقار چال چلنے لگا۔ ولیم کے بنگلے سے تحصیل کمپلیکس تک سڑک کے دونوں جانب بیس کے قریب سنتری کھڑے تھے۔ جب وہ دفتر آتا یا واپس بنگلے پر جاتا،یہ سنتر ی خاکی وردی پہنے ہر چالیس قدم کے فاصلے پر موجود صاحب کی نگہبانی کے لیے ایستادہ ہوجاتے۔ سنتریوں کی وردی شرٹ اور لمبی نیکروں پر منحصرتھی۔ سنتری سکھ،ہندو اور مسلمان سبھی قوموں سے تھے۔ اُن کی شرٹیں اور نیکریں بھی ایک جیسی تھیں لیکن سر پر پگڑی رکھنے کے لیے سکھوں کو استثنیٰ حاصل تھا۔ وہ سرکاری ٹوپی کی بجائے نیلے رنگ کی پگڑی پہن سکتے تھے۔ سنتریوں کے علاوہ بھی تین چار افسر ولیم کے استقبال کے لیے صبح اُس کے گھر کے سامنے پہنچ جاتے تاکہ وہیں سے صاحب کو پروٹوکول کے ساتھ دفتر میں لائیں مگر ولیم اِن چیزوں کا خیال کم ہی کرتا۔ اکثر اِن سب کو نظر انداز کرتا ہوا سیدھا پیدل ہی چل پڑتا۔ جیسا کہ آج سُرخ اینٹوں کی ٹھنڈی سڑک پر چہل قدمی کرتا ہوا چل رہا تھا۔ یہ سڑک ولیم کے جلال آباد آنے کے ایک سال بعد پکی کر دی گئی تھی۔ جس کی گرد پہلے محض ریت اور بھٹے کی کیری ڈال کربٹھائی تھی۔ اب اِس سڑک پر کمپلیکس تک دو رویہ پیپلوں کے درخت بھی لہلہا رہے تھے۔ یہ بھی ولیم کے جلال آباد تعیناتی کے بعد ہی لگے تھے۔ بلکہ ولیم نے خود لگوائے تھے۔ سردی کے وہی دن لوٹ آئے تھے،جب ولیم نے جلال آباد میں قد م رکھے تھے اور آج اُس کی تعیناتی کو چار سال ہو چکے تھے۔ اِس عرصے میں اُس نے جلال آباد تحصیل میں کئی انقلابی قدم اُٹھا ئے۔ تعلیم کا معیار پنجاب کی تمام تحصیلوں سے آگے نکل چکا تھا۔ اِسی طرح ایک نئی نہر اور دوسرے کئی چھوٹے چھوٹے رجواہے جاری کر دیے۔ جن کی وجہ سے تحصیل کے ہر گوشے میں پانی کی بہتات ہوگئی۔ گندم،چاول اور مکئی کی فصلیں کثرت سے پیدا ہونے لگیں اور لوگوں کے چہروں پر ایک قسم کی خوشحالی آنے لگی۔ ہر طرف درخت اورفصلوں کے سبز آئینے لہلہارہے تھے۔ اِس کے علاوہ سرکاری سر پرستی میں نجی سطح پر لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کروا دیے،جن میں جلال آباد کے مضاف میں لگا ئے گئے شہتوتوں کے باغ بھی شامل تھے۔

اب ولیم جلال آبا د سے اِس قدر مانوس ہو چکا تھا کہ اگر اُسے ساری عمر بھی یہاں رہنے کی اجازت دی جاتی تو وہ اس کے لیے بھی تیار تھا۔ سبب اِس کا یہی تھا کہ جلال آباد شہر سے لے کر اُس کے مضافات تک ولیم نے ہر جگہ کو اپنی ذاتی جمالیات کے آئینوں میں ڈھال لیا تھا۔ رہٹ،نالے،نہریں اور باغات جگہ جگہ پیدا ہو چکے تھے اور مزید کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ دوکانوں سے لے کر مکانوں تک،ہر شے میں ایک قسم کی نفاست جھلکنے لگی،جو ولیم کی ابتدائی کوششوں کے بعد خود بخود مقامی لوگوں میں ظاہر ہو رہی تھی۔ ولیم کے یہ چار سال گویا اُس کی زندگی کے حاصل تھے،جن میں اُس نے اس طرح دل جان سے کام کیا کہ یہ علاقہ بالکل بدل گیا۔ دریا کے ساتھ بھینسیں اور بھیڑ بکریاں پالنے والوں کے لیے باقاعدہ چراگاہوں کا قیام سرکاری کھاتوں میں کر دیا گیا اور اُن علاقوں میں چرواہوں کو پوری آزادی دے دی گئی۔ اِس عرصے میں اُس کا تبادلہ کئی دفعہ ہوتے ہوتے بچا،جس کو رکوانے میں اُس نے خود بھی چیف سیکرٹری تک تعلقات قائم کر لیے۔ اِن تعلقات میں اُس کے باپ کا کافی زیادہ دخل تھا کہ سیکرٹری صاحب اُن کے ذاتی دوستوں میں سے تھے،جنہیں دیسی گھی مکھن سے لے کر بھینسوں،بیلوں اور لڑاکا مرغوں تک کا چسکا پڑ گیا تھا۔ جس کی بنا پروہ یہاں چار سال نکالنے میں کامیاب ہو گیا ِ۔ اپنی مرضی سے بھرپور طریقے سے کام کیے اور جلال آباد میں برطانوی راج کے فوائد پورے طریقے سے عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اُسے اس معاملے میں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر وہ فائدے نچلی سطح تک لیجانے میں کامیاب ہو ہی گیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا نام جلال آباد اور اُس کے مضافات کے غریب غربا تک بھی پہچان میں آ چکا تھا۔ حتیٰ کہ اُس کی شکل بھی جلال آباد کے کئی عام لوگوں نے دیکھ لی تھی۔ امن و امان کے حوالے سے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ کے قتل کے بعد کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جو ولیم کے لیے پریشانی کا باعث بنتا۔ اگرچہ غلام حیدر لاکھ کوشش کے بعد بھی گرفتار نہیں ہو سکا تھا اور نہ ہی اُس نے دوسری کاروائی کی۔ گویا اپنا بدلا لے کر روپوش ہو چکا تھا۔ البتہ اُس کے اشتہاری ہونے کے بعد ولیم نے اُس کی زمین اُسی کی رعا یا میں بانٹ دی بلکہ اُن کے لیے بھی وہی سہولتیں جاری کر دیں،جو عام تحصیل میں تھیں لیکن ولیم نے اُس کا انتقال کسی وجہ سے غلام حیدر ہی کے نام رہنے دیا۔

مولوی کرامت نے جس قدر محنت اور تندہی سے کام کیا تھا،اُس کے عوض ولیم نے ذاتی دلچسپی لے کر اُس کی مالی اور سماجی حیثیت میں اتنا اضافہ کر دیاکہ اب وہ تحصیل جلال آبادکے معززین میں شمار ہونے لگا۔ بلکہ اُس کے بیٹے فضل دین کو دسویں درجے میں انتہائی اچھے نمبروں میں پاس ہونے کے بعد ذاتی خرچ پر اور کچھ وظیفہ دے کر لاہور ایف سی کالج میں پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔ اب فضل دین بھی وہ فضل دین نہیں رہا تھا،جوصرف روٹیاں مانگنے کا ماہر تھا۔ سکول میں تو ویسے ہی وہ دو دو درجے ایک ایک سال میں طے کر گیا تھا۔ مولوی کرامت کے بھی اتنے پر نکل آئے کہ کئی دفعہ صاحب بہادر سے خود ملاقات نکال کر اُن لوگوں کی شکایات بھی کیں،جو اُس کے کام میں حارج ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ غضب تو یہ کہ اُن شکایات کو سنابھی گیا تھا،جس کے بعد بیشتر لوگ بابووں سمیت مولوی کرامت کی چاپلوسی پر اُتر آ ئے تھے۔ کئی بابو اپنی سفارشیں بھی لے کر آتے،جنہیں مولوی کرامت ولیم تک پہنچانے کی جرات تو نہ کر سکتا تھا،لیکن وہ اُن سفارشی لوگوں کو کام ہونے کی اس طرح تسلی کروا دیتا جیسے یہ اُس کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ اِن سفارشوں کے عوض مولوی صاحب نے کسی سے پیسے تو نہیں پکڑے تھے،جس کا اُس وقت رواج بھی کم تھا۔ البتہ مختلف قسم کے تحفے تحائف ضرور وصول کر لیتا،جو بظاہر سفارشی حضرات اصرار کر کے مولوی صاحب کے حوالے کردیتے تھے۔ مولوی صاحب اُنہیں اِس لیے بھی قبول کر لیتے کہ اُنہوں نے یہ حدیث پڑھ رکھی تھی کہ ایک دوسرے کو تحفے لینے دینے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مولوی کرامت فی الحال اِس حدیث کے ایک حصے پر عمل کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ مولوی کرامت کے جلال آباد کے اکثر زمینداروں سے اتنے خو شگوار تعلقات پیدا ہو گئے کہ وہ اُسے شادی بیاہ اور موت،غمی سے آگے بڑھ کر اپنی رشتے داریوں کے متعلق بھی مشوروں میں شریک کرنے لگے اور چھوٹے موٹے فیصلوں کا ثالث بھی قرار دے لیتے۔ مولوی کرامت کی ثالثی اِس لیے بھی پائیدار تھی کہ سب جانتے تھے،مولوی صاحب کا کمشنر جلال آباد سے ذاتی تعلق ہے۔ اِس لیے وہ صاحب بہادر سے کہ کر کسی کا بھی چوبارہ گول کر سکتا ہے۔ اِن سب باتوں سے الگ اسکول منشی ہونے کے ساتھ مولوی کرامت نے اپنے لیے جامع مسجد جلال آباد کی امامت بھی حاصل کر لی تھی کہ تین سال پہلے مسجد کے سابقہ پیش امام کو منصوبے کے مطابق ملازمت دلوا کر منڈی گرو ہر سا بھیج کر اور اپنی تمام ذاتی قابلیتوں کے پیش نظر مسجد کی امامت کے فرائض سنبھال لیے تھے۔ جس سے اتنی آمدنی مزید ہو جاتی جتنی مولوی صاحب کی گورنمنٹ کی طرف سے تنخواہ تھی۔ مولوی کرامت کی خوشحالی کے ساتھ شریفاں کے اطوار بھی کافی بدل چکے تھے۔ چک راڑے میں تو کبھی کسی کی میت کے گھر پُرسہ دینے یا مُردہ عورت کو نہلانے اور کفن پہنانے کے سوا دوسرا کام نہیں کیا تھا لیکن جلال آباد میں باقاعدہ گھروں میں میلاداور دیگر بہت سی تقریبات میں مدعو ہونے لگی،جس میں اُسے مولوی کرامت کے برابر نہ سہی،گھر کے خرچے یعنی ہانڈی روٹی کی آمدن ہو ہی جاتی۔ بلکہ اُس نے کچھ نعتیں اور آئتیں رحمت بی بی کو بھی یاد کروا دیں۔ وہ بھی شریفاں کے ساتھ گھروں میں جا کر طرح طرح کی نذر نیاز کا سبق دینے لگی تھی۔ اِس طرح پورے جلال آباد میں مولوی کرامت کے گھر کے علم اور فتووں کی دھوم مچی ہوئی تھی اور کاروبار اِتنا ترقی کر گیا تھاکہ ضلع قصور کے چک راڑے میں تو اِس کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ اُدھر فضل دین کا لاہور کے کالج میں پڑھنے سے فضل دین اب بچپن میں ہی مولانا فضل دین بن چکا تھا۔ ایف سی کالج نے اُسے دھوتی کی بجائے پاجامہ پہنا دیا اور بابو بنا کر رکھ دیا۔ عربی فارسی تو اُسے پہلے ہی آتی تھی،کالج کے ماحول نے انگریزی کا اثر ڈالا تو مولانا فضل دین ایک ہی سال میں کئی باتیں انگریزی میں ہی بولنے لگا۔ چھُٹی پر جلال آباد آتا تو لوگ دیکھنے کے لیے آتے اور باتوں باتوں میں ایک دوسرے کو کہتے،بھائی مولوی کا بیٹا تو کوئی بڑا انگریز بنتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ اِس بات پر مولوی کرامت سے نا خوش بھی تھے کہ اُس نے اپنے بیٹے کا مذہب خراب کر دیا ہے۔ فضل دین کو باقاعدہ کرسٹان بنا کر مولوی کرامت نے دین کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر وہ مولوی کرامت کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتے تھے لیکن مولوی کے صاحب بہادر سے تعلقات کی بنا پر کھلے عا م مخالفت سے بھی ڈرتے تھے۔ مولوی کو بھی اُن کی کوئی پرواہ نہیں تھی کیو نکہ ایسے لوگ دیہاتوں میں تو کافی تھے لیکن شہر میں اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی کیونکہ مولوی کرامت کی پچھلے تین سال کی تبلیغ نے جلال آباد کو انگریز بہادر کا وفادار بنا ہی دیا تھا۔

الغرض ولیم نے مولوی کرامت کی حالت بدلنے سے لے کر فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کو تعلیمی،معاشی،اور سماجی سطح پر اتنی کچھ ترقی دے دی کہ اُسے محسوس ہی نہیں ہورہا تھا،وہ اپنی نولکھی کوٹھی میں رہ رہا ہے یا جلال آباد کے بنگلے میں۔ کیتھی شادی کے بعد ولیم کے ساتھ جلال آباد کے بنگلے میں تھی۔ بلکہ اب توان کا ایک بچہ بھی تھا،جس کی عمر ڈیڑھ سال ہو چکی تھی۔ کیتھی روزانہ نہیں تو ہر دوسرے دن گھوڑے پر بیٹھ کے جلال آباد کے مضافات میں سیر کو ضرور نکلتی،جس کے دائیں بائیں بیسیوں نوکر،مامائیں اور پولیس والے اٹین شین چلتے اور بھاگتے نظر آتے۔ میم صاحبہ نے یہاں آکر بھی عجب طرح کے پُرپرزے نکال لیے تھے۔ کچھ دن تو دیسی ملازمین کے ساتھ ملائمت سے بات کرتی رہی۔ یہ لوگ اُسے فرشتوں جیسے اور تابع فرمان لگتے تھے۔ اُس کے خیال میں اِن ہندوستانی کالوں کے اندرانتہائی سادگی اور معصومیت تھی کیونکہ اُن کا اپنا نہ کوئی تقاضا تھا اور نہ شکائت۔ یہی وہ لوگ تھے جو صرف صاحب بہادر،میم صاحبہ اور بابا لوگوں کے لیے جیتے اور اُن کی خدمت گزاری میں مرتے تھے۔ اِس لیے اُن کے ساتھ محبت اور شفقت کرنا گورے لوگوں کا فرض تھا۔ کیتھی بات بات پر اُنہیں انعامات سے نوازتی اور شاباش سے دل بڑھاتی۔ لیکن جیسے جیسے ولیم کے اختیارات کی وسعت اور اقتدار کا نشہ دیکھا،لہجے اور خیالات میں تبدیلی آتی گئی۔ حتیٰ کہ تین ہی سال کے اندر اُس نے ولیم کو بھی سرزنش کرنا شرع کر دی کہ وہ اِن دیسی لوگوں کو زیادہ رعایت دیتا ہے اور ملازموں کی غلطی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اب یہ لوگ اُسے گنوار،اُجڈ،بھکاری،کام چور،چاپلوس اور چغل خور نظر آنے لگے۔ وہ اِس بات کی سختی سے قائل ہو گئی کہ کالے ایک بد بخت نالائق اور منحوس قوم ہیں۔ اِن کے جسموں سے بدبو آتی ہے۔ نہاتے نہیں اور گوروں کے درمیان بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اِن کو پیار سے نہیں ذلًت اور رسوائی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ کیتھی کے اپنے شغل بھی ضرور یات سے آگے نکل کر تفریح میں بدلتے گئے،جن میں سے ایک اُسے اُونٹ پر سواری کرنے کا بھی شوق پیدا ہو گیا۔ اِس شوق کو پورا کرنے کے لیے کئی اونٹ خرید ے گئے اور اُن کی دیکھ بھال کے لیے آٹھ آٹھ ملازم رکھ لیے۔ کیتھی ولیم کو بھی اُونٹوں پر اپنے ساتھ سیر کرنے کا اصرار کرتی،جسے پورا کرنے کے لیے اُس نے کئی دفعہ یہ سواری بھی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب ولیم بھی اُونٹ کی سواری سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اُونٹوں کے علاوہ کیتھی کی کوششوں سے جلال آباد میں اوکا ڑہ کے مقابلے کا تو خیر نہیں،لیکن ایک چھوٹا سا مویشیوں کا فارم ضرور بن گیا۔ اِس فارم کے لیے نیلی کی عمدہ بھینسیں چُن کر دُگنے تگنے مول میں خرید لی گئیں۔ اِس کے علاوہ بنگلے کے پچھواڑے اچھا خاصا باغیچہ بنا دیا۔ اِس میں دُور تک درختوں کی قطاریں ہری چھاؤں کے ساتھ لہلہانے لگیں،جن پر توریوں،کدؤوں،اور کریلوں کی بیلیں چڑھ گئیں تھیں۔ بنگلے کے قُر ب و جوار میں درختوں کی عمر ابھی چار سال ہی تھی لیکن اُن کی حفاظت اِس اچھے طریقے سے ہوئی کہ وہ اب اچھا خاصا سایہ دینے لگے تھے۔

بیلوں کے چڑھ جانے سے اور بھی اچھے لگتے،جو سردیوں کے موسم میں عجیب بہار پیدا کر دیتیں۔ کیتھی نے اپنی بیٹی کے لیے بنگلے کے صحن میں ایک نوابی قسم کا جھولا بھی بنوالیا تھا۔ جھولے میں اپنی سائرز کو لٹا کر اُسے بعض اوقات اپنے ہاتھ سے جھولاتی۔ لیکن اکثر یہ کام ماما سر انجام دیتی اور کیتھی خود صحن میں بے شمار سفیدکبوتروں کو اُڑا اُڑا کر دانہ ڈالتی اور اُن کا تماشا دیکھتی۔ اِن کبوتروں کے صرف پھڑ پھڑانے کی آواز سننے کے لیے کیتھی نے یہ کبوتر آگرہ سے منگوائے تھے۔ کیتھی کے مسلسل جلال آباد میں ہی قیام کی وجہ سے اوکاڑہ میں کیتھلک چرچ اسکول کا کام معطل پڑا تھا۔ لیکن اب ولیم کو کیتھی کے ساتھ رہنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ اُسے ایک لمحے کے لیے اپنے سے دور نہیں رکھنا چاہتا تھا،نہ ہی یہ بات کیتھی کو منظور تھی کہ ولیم ڈیوٹی کے وقت کے علاوہ کسی کلب میں بھی اُس کے بغیر جائے یا دوستوں کے ساتھ گپ بازی کرے اور وہ گھر میں اکیلی بیٹھی رہے۔ ولیم سے دُور اوکاڑہ میں رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہاں وہ دونوں اوکاڑہ میں براستہ ہیڈ سلیمان کی ہر پندرہ دن میں دو دن کے لیے چکر ضرور لگاتے،کہ یہ فاصلہ جیپ کے آگے کچھ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ اب تو راستے میں کئی مقامی لوگوں کو بھی اُن کے معمول کے سفر کا علم ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی عرضیاں ولیم کے رستے میں پڑنے والی چوکیوں پر جمع کرادیتے،جس کا آڈر ولیم نے پولیس والوں کو بھی کر دیا تھا۔

اب کچھ دن سے ولیم کو ڈپٹی کمشنر رالف کی طرف سے دھڑکا لگا ہوا تھا۔ اُسے ولیم کا اِتنا عرصہ ایک ہی تحصیل میں رہنا گوارا نہیں تھا اور چیف سیکرٹری بیڈن صاحب بھی بدل چکے تھے۔ رالف کو فیروز پور میں آئے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ اُس نے ولیم کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار شروع کر دیا۔ اِدھر ولیم کو بھی پتا چل چکا تھا کہ اُس کے اب جلال آباد میں دن تھوڑے ہی رہ گئے ہیں۔ اُس نے کیتھی کو آگاہ کر دیا تھا کہ اب وہ جلال آباد سے اپنا بستر لپیٹنے کے لیے تیار ہو جائے کیونکہ پنجاب گورنمنٹ کسی وقت بھی اُسے اُٹھا کر کہیں بھی بھیج سکتی ہے اور آج وہی کچھ ہوا۔ ولیم آرام سے بیٹھ کر فائلوں کا جائزہ لینے لگا تو سب سے پہلے اُس نے جو فائل کھولی اُس میں ولیم کے ٹرانسفر آڈر پڑے تھے۔ ولیم کو مطلع کیا گیا تھا کہ اُس کے چار سالہ تجربے کے پیشِ نظرچیف سیکرٹری آفس لاہور کو اُس کی خدمات کی ضرورت ہے۔ لہذا وہ جتنی جلد ی ہو سکے اپنا چارج تحصیل دار مالیکم کو سونپ کر لا ہورچیف سیکرٹری آفس میں جوائننگ رپورٹ دے۔ ولیم نے آڈر دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر بیل دبا کر کرم دین سے کافی کا کپ بنانے کے لیے کہا۔ آڈر اتنے اچانک اور محتاط انداز میں تیار کئے گئے تھے کہ وقت سے پہلے اُن کی ہوا بھی باہر نکلنے نہیں دی گئی تھی۔ ولیم یہ تو جانتا تھا کہ وہ یہاں سے جانے والاہے لیکن اِتنا اچانک،اُس کے بھی گمان میں نہیں تھا۔ اس لیے اب ولیم نے کسی نئی سفارش کا بندوبست کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ ویسے بھی ذہنی طور پر اب وہ اپنے تبادلے کے لیے تیار ہو چکا تھا،جو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ اب چونکہ ولیم کو جلال آباد کے کسی کام میں قانونی تو پر دخل اندازی کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی وہ یہاں کسی چیز کا ذمہ دار رہا تھا،اس لیے اُس نے فوراً اپنے آپ کو ہلکا پُھلکا کر کے باقی تمام فائلوں کو ایک طرف کر دیا اور دل ہی دل میں رالف پر لعنت بھیج کر پچھلے چار سال میں پیش آنے والے تمام واقعات پر نظر دوڑانے لگا۔ جس میں طرح طرح کے بے شمار کردار ایک ایک کر کے اُس کی آنکھوں میں گھومنے لگے۔ پہلے دن فیروز پور میں ملنے والا باورچی نظام دین،اُس کے معتوب افسر،جن میں لوئیس اور وہ جو ایک دو لوگ ریٹائر ہو کر گھر بھی جاچکے تھے۔ ان کے علاوہ مدن لال ماسٹر،سردار سودھا سنگھ،غلام حیدر،رسہ گیر چوہدری،مولوی کرامت،تھانیداروں سے لے کر عوام تک اور پھر اُس کے ماتحت کام کرنے والی تحصیل انتظامیہ،سینکڑوں ہی طرح کے لوگوں سے اُسے واسطہ پڑا تھا۔ جن میں ایماندار بھی تھے،چاپلوس بھی،کام چور بھی اور کام کے ماہر مگر نکمے بھی۔ اِنہی میں وہ بھی تھے،جو دونوں طرف مخبری کا کام دیتے تھے اور نہایت ایمانداری سے۔ وہ بھی،جنہوں نے ہمیشہ منافقت اور کام چوری سے ربط رکھا۔ یہ سب کچھ ولیم کو یاد آرہا تھا۔ اُسے یہ بھی خبر تھی کہ آنے والا کوئی بھی افسر اس طرح جلال آباد میں کام نہیں کرے گا جس طرح اُس نے کیا ہے۔ وہ عوام کو اپنی رعایا نہیں غلام بنا کر رکھے گا،جیسے خود اُس کی بیگم کا اِن لوگوں کے ساتھ رویہ ہو گیا تھا،۔ اِس خیال کے آتے ہی ولیم ہلکا سا مسکرا دیا،گویا انگریز افسرعورت بن کر مقامی لوگوں کے ساتھ سلوک کرتے تھے،جس کا اُسے اس وقت قلق تو ہو رہا تھا لیکن اب کیا کیا جا سکتا تھا۔ ولیم نے سوچاجلا ل آباد کے لوگوں کو کیا پتا،اُن کی تحصیل میں ولیم کے تبادلے کا کتنا بڑا انقلاب آ چکا ہے۔ اُس نے خود بھی دل میں جلال آباد کو اپنا گھر تسلیم کر لیا تھا اور اُس کے لیے اُسی طرح کام کیا تھا جس طرح اپنے گھر کو بنانے میں کیا جاتا ہے۔ اِسی اثنا میں ولیم نے دوبارہ بیل بجا کر نجیب شاہ کو طلب کیا۔ نجیب شاہ جیسے ہی کمرے میں آیا،ولیم نے اُسے بنگلے میں موجود تمام سامان کو بحفاظت پیک کروانے کا حکم دے دیا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(33)

مولوی کرامت کی آنکھ کھلی تو ستارے اپنی ترتیب بدل رہے تھے لیکن کھتیاں صبح کاذب سے ابھی دور تھیں اور فجر کی اذان میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت عادت کے مطابق بہت ہی سانجرے اُٹھ جاتا تھا۔ اِس لیے حاجات ضروریہ وغیرہ کے لیے کھیتوں میں نکل جاتا،جو اکثر لوگوں کا معمول تھا۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گھروں میں جھاڑے پیشاب کے لیے جگہ بنائی جائے۔ کھیتوں میں منہ اندھیرے اِس کام کے لیے جانے سے تازہ ہوا اور لمبی سیر کے ساتھ ساتھ رفع حاجت کے کام سے بھی فارغ ہو جا تا۔ کئی لوگ تو اِس سلسلے میں چلتے چلتے تین چار کلو میٹر تک نکل جاتے۔ بہر حال اِس کے بعد مولوی کرامت سیدھا پاس کی چھوٹی مسجد کا رخ کرتا جس میں زیادہ تر غلام حیدر کی رعا یا اورچند ادھر اُدھر کے لوگ نماز پڑھنے آجاتے۔ مولوی مسجد میں پہنچ کرتہجد پڑھتا،پھر قرآن کھول لیتا اور جب تک نماز فجر کا وقت نہ ہو لیتا،اُسی کی تلاوت کرتا رہتا۔ اِس مسجد کا مولوی پہلے سے ایک موجود تھا،جو غلام حیدر کا خاندانی مولوی بھی تھا۔ اِس لیے مولوی کرامت کو اُس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑتی لیکن دل ہی دل میں اِس بات کا دکھ بھی تھا۔ اور خواہش تھی،کاش وہ اِس مسجد کا مولوی بن جائے۔ کبھی اُس کے جی میں خیال آتا،خدا کرے یہ مولوی مر جائے۔ پھر اُسی خیال میں اپنی امامت کے منصوبے بنانے لگتا۔ مگر تھوڑی دیر بعد جھر جھری لے کر اس سوچ کو جھٹک دیتا اور خدا سے توبہ کرتا۔ ایک دفعہ اُسے یہ خواب بھی آیا کہ پہلا مولوی مر گیا ہے اور وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے۔

اب اُسے جلال آباد میں آئے ہوئے اور سکول میں پڑھاتے کئی دن ہو گئے تھے۔ رہنے کے لیے چوہدری غلام حیدر کی حویلی میں انتظام بھی تھا۔ حویلی کی ڈیوڑھیوں میں سے ایک ڈیوڑھی کے چھوٹے سے کمرے میں چراغ دین کا رشتے دار ہونے کے ناطے بستر جمانے کی جگہ مل چکی تھی اور ناشتے کے علاوہ دو وقت کا کھانا بھی مل جاتا۔ ہیڈ منشی اُس کی کارکردگی سے کافی مطمئن تھا۔ سکول سے چھٹی کے بعد مولوی صاحب فارغ ہوتا۔ ان اوقات میں وہ جلال آباد اور اُس کے مضافات کی سیر کو نکل جاتا۔ اِس طرح کچھ ہی دنوں میں اُس نے یہ علاقہ بھی قریب قریب دیکھ لیا۔

جلال آباد کہنے کو تحصیل تھی لیکن اس کی آبادی بنگلہ فاضلکا سے بھی کم تھی۔ مشکل سے چارسو گھر کا شہر تھا۔ گویا ایک قصبہ تھا،جسے فیروز پور ضلع کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ جلال آباد میں تحصیل کمپلیکس کے علاوہ ایک چھوٹی سی غلہ منڈی تھی،جس کے زیادہ تر آڑھتی ہندو تھے اورکاروبار پر قابض تھے۔ منڈی میں جن اجناس کا لین دین تھا وہ بھی مخصوص تھیں۔ جیساکہ جَو،باجرہ،چنے اور گندم۔ ان کے علاوہ نہ ہی جلال آباد میں کوئی فصل تھی اور نہ بڑے پیمانے پر کسی اور شے کا کاروبار تھا۔ البتہ سُرخ مرچیں،پیاز،لہسن اور سستے پھل،جن میں سے اکثر سڑے ہوتے تھے،یہاں تھوڑے بہت دستیاب تھے۔ منڈی کے باہر بھی کچھ دوکانیں تھیں لیکن وہ دوکانیں جلال آباد کے بازار میں تھیں۔ بازار مشکل سے بیس پچیس دوکانوں پر مشتمل تھا۔ اِنہی میں ایک دو کپڑے کی بھی تھیں۔ اُن میں بھی کھدر اور سوتی کپڑے کے علاوہ دوسرا کپڑا نظر نہیں آتا تھا یا ہاتھ کے بنے ہوئے کھیس،چادریں اور رنگ برنگی لنگیاں تھیں۔ منڈی کے بر عکس یہاں کچھ سکھ دوکانداربھی نظر آ جاتے مگراُ ن کی حالت ہندو ؤں سے کافی پتلی تھی اور مسلمان تو سِرے سے نہیں تھا۔ دکانوں میں روزمرہ استعمال کی چیزیں اور چھوٹی موٹی کھانے کی اشیا مثلاً دیسی شکر،گُڑ،نمک،مسالہ جات،ٹانگر،میدے کی برفی اور کھانڈ کی چوسنے والی گولیا ں،چاول،دال اور اسی طرح کی دیگر چیزیں بوریوں میں کُھلے منہ پڑی رہتی تھیں۔ اکثر دکانداروں نے تیسرے درجے کی کھجوریں بھی رکھی تھیں،جن پر ہر وقت مکھیاں بھنبھناتی رہتیں اور گاہک مکھیوں سے بے پروا یہ سستی کھجوریں لے جاتے۔ کھجوریں اور ٹانگر عموماً دیہات سے آئے ہوئے لوگ ہی اپنے ساتھ لے کر جاتے۔ یہ چیزیں سستی ہونے کے ساتھ میٹھی اور مزیدار بھی لگتیں اور بچے اِنہیں کھا کے خوش ہو ہو کر اُچھلتے کودتے۔ اِن کے علاوہ ایک حلوائی تھا،جس کی دوکان تو نہیں تھی،بس ایک پھٹے پُرانے شامیانے کے نیچے دو چولہوں کے اُوپر دو کڑاہیاں رکھ کر ایک میں جلیبی اور دوسری میں پکوڑے تَل تَل کر پراتوں میں ڈھیر لگاتا جاتا۔ یہ حلوائی مسلمان تھا۔ بازار میں آنے والے ہر ایک نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا کہ وہ اِس سے پکوڑے اور جلیبی ضرور لے کر کھائے اور گھر لے جائے۔ ایک مدت ہو گئی تھی لیکن اِس کا یہ تھڑا دوکان میں نہیں بدلا تھا اور نہ اس نے کاروبار میں کچھ اضافہ کیا تھا۔ ان دکانوں اورمنڈی کے علاوہ جلال آباد میں ایک مسجد،ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی تھا اور یہ تینوں مذہبی عمارتیں اپنے اپنے مکینوں کے درمیان ہی تھیں۔ اِن کے علاوہ کوئی ایسی خاص چیز نہیں تھی جس کا ذکر کیا جائے۔ ہاں ریلوے اسٹیشن البتہ جلال آ باد کے شمال کی طرف تحصیل کمپلیکس کے بالکل ساتھ پڑتا تھا۔ یہ اُس وقت واحد سواری تھی،جو جلال آباد کے رہنے والوں کو دور دراز لے جاتی اور لے آتی۔ اکثر دیہاتی بھی اِسی ریل کے ذریعے جلال آباد آتے۔ کیو نکہ اُس وقت ریل اکثر بڑے بڑے دیہاتوں میں رُکتے ہوئے آتی تھی۔ کرایہ سستا ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی اشیاء بھی اِسی کے ذریعے منڈی میں لا کر بیچتے یا پھر یہاں سے فیروز پور لے جاتے۔ ریل کے علاوہ سواری اور باربرداری کے لیے جو ذرائع تھے،اُن میں زیادہ تر گدھے،اونٹ اور گَڈے تھے جسے آپ بیل گاڑی کہہ لیں۔ بعض لوگ گھوڑے کو بھی استعمال میں لاتے مگر یہ خال خال ہی تھا۔ کچھ بڑے زمینداروں یا پولیس کے پاس۔

محکمہ تعلیم کے طرف سے مولوی کرامت کو نیا حکم نامہ ملے تین دن ہو چکے تھے مگر ابھی تک اُس نے کام شروع نہیں کیا تھا۔ وہ اِسی شش پنج میں تھا کہ کیا کرے اور کس طرح لوگوں کو اُسی کام کے لیے تیار کرے؟ جس کے خلاف خود وہ یا اُس کے بھائی بند فتوے دے چکے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ جب تین دن اِسی سوچ بچار میں گزر گئے تو اُسے اچانک ایک ترکیب سوجھی اور آج مولوی نے اُس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ اُس نے تہیہ کر لیا کہ جلال آباد کی جامع مسجد سے اپنی ڈیوٹی شروع کر ے گا۔ مولوی کرامت نے بستر سے اُٹھ کر سر پر ا چھے طریقے سے پگڑی باندھی۔ اُس کے بعد بستہ بغل میں دبایا اور چھڑی پکڑ کر کمرے سے باہر نکل پڑا۔ باہر نکل کر اُس نے ایک دفعہ بستہ اور چھڑی زمین پر رکھ کر اپنے کمرے کو تالا لگاکر چابی ازار بند سے باندھی پھر بستہ اور چھڑی زمین سے دوبارہ اُٹھا ئی اور چل دیا۔ باہر اُس کی گدھی موجود تھی،جس کے آگے مولوی صاحب نے رات بہت ساری چاولوں کی پھک ڈال دی تھی۔ پھک ابھی تک کافی مقدار میں پڑی تھی،جسے مولوی کی گدھی وقفے وقفے سے کھا رہی تھی۔ یہ گدھی اُس نے سواری کے لیے جودھا پور سے پورے سات روپے کی لی تھی لیکن اُس پر سواری کرنے کا ابھی موقع نہیں ملا تھا کیونکہ سکول نزدیک تھا۔ مگر اب مولوی کو جو ڈیوٹی دی گئی تھی،اُس کے مطابق اُسے ارد گرد کے گاؤں میں بھی جانا پڑنا تھا۔ سفر طے کرنے کے لیے اُسے گدھی کا سہارا چاہیے تھا۔ لیکن اس وقت مولوی نے اُسے وہیں بندھا رہنے دیا کیونکہ جامع مسجد زیادہ دور نہیں تھی۔

ابھی اندھیرا تھا اور بہار کی ہوا ہولے ہولے چل رہی تھی۔ ہوا کے اندر سردی کا لمس بالکل ختم ہو چکا تھا کیونکہ فروری کب کا نکل گیا تھا اور مارچ اپنے آخری دن پورے کر رہا تھا۔ مولوی کرامت زمین پرچھڑی ٹکاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھنے لگا۔ اِدھر اُدھر لیٹے آوارہ کتوں نے مولوی کرامت پر اس طرح بھونکنا شروع کر دیا،جیسے اُن کی سلطنت میں ایک اور اُن کا شریک آگیا ہو۔ مولوی کرامت دور ہی سے کتوں کو چھڑی دکھاتاآگے بڑھتا گیا۔ ابھی وہ مسجد کے دروازے پر ہی تھا کہ موذن نے اذان دینا شروع کردی۔ مولوی کرامت نے جلال آباد کی مسجد میں قدم رکھا تو اُس کا دل ایک مرتبہ بالکل ڈگمگا سا گیا۔ کہاں تو اپنے گاؤں کی مسجد کا واحد مالک تھا،جو اُس کا ایک قسم کا گھر تھی۔ وہ اُس میں جب چاہتا اذان دیتا،جب چاہتا نماز کا وقت آگے پیچھے کر دیتا اور جیسے چاہتا مسجد کے درودیوار کے اور صفوں کے بار ے میں فیصلے صادر فرماتا۔ ایک یہ مسجد تھی جس کی ہر شے اجنبی تھی۔ یہاں نہ کسی نے اُس سے پوچھ کے اذان دینا تھی اور نہ دوسرے کسی معاملے میں کوئی مشورہ لینا تھا۔ اُسے محسوس ہوا جیسے روح گھٹتی جارہی ہو اور وہ ابھی مر جائے گا۔ عین ممکن تھا مولوی کرامت گھبرا کے واپس مڑ جاتا،اُسی وقت اُس نے اپنے پیچھے ایک شخص کے قدموں کی آواز سُنی جس کے سبب مولوی کرامت نے اپنے دل کو سنبھالا دیا اور مسجد کے صحن میں داخل ہو گیا۔ مسجد کے دائیں بائیں برآمدے تھے،جن میں صفیں بچھی ہوئی تھیں لیکن ان برآمدوں میں ایسے لگتا تھاجیسے مدت سے کسی نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ صفوں پر گرد او ر سفید سیم اُبھری ہوئی تھی،جو لال ٹین کی روشنی میں صاف نظر آ رہی تھیں۔ شاید سردی کی وجہ سے برآمدوں میں نماز نہ پڑھنے کے ساتھ اُن کی صفائی کا خیال بھی نہیں رکھا گیا تھا۔

مولوی کرامت نے اپنا بستہ اُتار کر وہیں برآمدے میں رکھا اور طہارت خانے کی طرف رُخ کیا۔ کچھ دیر میں حاجت سے فارغ ہو کر پہلے آرام سے وضو کیا پھر خاص مسجد میں آکر محراب کے پاس کھڑا ہو گیا تا کہ با جماعت فرض ادا کرنے سے پہلے نماز سُنت ادا کر لے۔ مولوی نے دیکھا،جس موذن نے اذان دی تھی،وہ بیٹھا تسبیح کے دانے گن رہا تھا۔ غالباً اُس نے اپنی نمازِ سُنت ادا کر لی تھی۔ مولوی کرامت نے اُسے سلام علیکم کہا اور جوا ب سُنے بغیر ہی نماز کے لیے اللہ اکبر کہ دیا۔

نماز با جماعت میں کم از کم ڈیڑھ سو آدمی جمع تھے اور یہی بات مولوی کرامت کے لیے خوشی کا باعث تھی۔ جب سب لوگ نماز پڑھ کر دعا مانگ چکے اور اُٹھ کر جانے لگے تو مولوی کرامت کھڑا ہو گیا اور بولا،بھائیو کچھ دیر کے لیے اگر بیٹھ جاؤ اور میری بات سُن لو تو تمھاری مہربانی ہو گی۔ لوگ مولوی کرامت کی بات سُن کر بیٹھ تو گئے لیکن ذرا بد دلی سے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے مولوی صاحب کچھ دیر تقریر کرنے کے بعد اپنی کسی ضرورت کے لیے چندہ مانگ لے گا جیسا کہ اکثر اس طرح کے ملاً حضرات کا معمول تھا۔ پھر بھی اُنہوں نے سوچا،کچھ دیر کے لیے سُن لینے میں کیا حرج ہے۔

سب لوگ بات سننے کو تیار ہو گئے تو مولوی کرامت نے بولنا شروع کر دیا۔ اِس تقریرکے لیے اُسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ جب سے ہوش سنبھالے تھے،مولوی کرامت نمازیوں کو باتیں ہی سناتا آیا تھا۔

میرے مسلمان بھائیو،مَیں جلال آباد کے اِس بڑے اسکول میں منشی بن کر آیا ہوں جو انگریز بہادر نے ہمارے بچوں کے لیے بنایا ہے۔ میرا ارادہ ہے مَیں تمھارے بچوں کو عربی،فارسی اور حساب کتاب پڑھاؤں تاکہ یہ بڑے ہو کر بابو بنیں۔ گورنمنٹ انگریز بہادر نے مجھے کچھ ہی دن پہلے اِس نوکری پر رکھا ہے لیکن جب میں نے دیکھا،اِس بڑے اسکول میں تو مسلمان بچے نام کو بھی نہیں۔ سارے بچے ہندو،سکھ اور چوہڑے ہیں تو میرا جی بہت دُکھا۔ اس لیے میں نے ارادہ کیا مَیں آپ کو خود آ کر گزارش کروں کہ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کراؤ۔
مولوی کرامت کی بات سُن کر سب لوگ حیران ہوئے۔ اُنہیں یہ خیال تک نہیں تھا کہ کوئی مولوی ہم سے چندے کے علاوہ اِس طرح کے سوال بھی کرنے آئے گا۔ یہ تو بالکل ہی انوکھا آدمی تھا،بلکہ اُن کی حیرت اِس لیے بھی زیادہ ہوگئی کہ اسکول میں داخلے کی بات ایک مولوی کر رہا ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں،اِن اسکولوں میں مسلمان بچوں کو نصاریٰ کی تعلیم دے کر کرسٹان بنایا جاتا ہے۔ اِسی لیے تو چوہڑوں کے پورے گاؤں کے گاؤں کرسٹان ہوئے ہیں۔

اُن کی حیرانی اور پریشانی دیکھ کر مولوی کرامت مزید بولا،بھائیو،میرے اور آپ کے رسول اور اللہ کے پیارے نبی محمدعربی نے فرمایا ہے،علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے لیکن کتنی بد بختی ہے ہمارے لیے کہ ہمارے نبی کے اس فرمان پر ہندو اور چوہڑے تو عمل کر رہے ہیں مگر ہم نافرمانی کر رہے ہیں۔ مجھے یہ بتاؤ ہم اپنے گھر کے پاس بننے والے اسکولوں میں ہی بچے نہیں بھیجتے،چین میں جانا تو دور کی بات ہے۔ میرا اور آپ کا نبی جانتا تھا،میری امت غریب ہے،ان کے پاس چین جانے کا خرچہ نہیں ہوگا اس لیے اُس نے کرسٹان،جو شروع دن سے ہی ہمارے نوکر اور ہمارے لیے کام کرنے والے رہے ہیں،اُن کو اس کام پر لگایا کہ وہ ہمارے لیے اِس طرح کے سکول اور مدرسے بنائیں جس طرح چین میں ہوتے ہیں۔ اب آپ ہی بتاؤ ہم چین جا سکتے تھے؟ نہیں جا سکتے تھے نا؟ تو بھائیو،اِس گورنمنٹ کا شکر کرو کہ جس نے چین لا کر جلال آباد میں اور فیروز پور میں رکھ دیا اور ہمیں دور نہیں جانا پڑا۔

مولوی کرامت کی بات سُن کر مسجد کے پیش امام نے فوراً ٹوکا،لیکن وہ تو مولوی صاحب،رسولِ پاک نے دین کے علم کی بات کی تھی کہ دین کا علم اگر تم کو چین میں جا کر حاصل کرنا پڑے تو اتنا لمبا بھی سفر کرنا مگر یہ انگریزی سکولوں میں تو کرسٹان کا علم ہے۔ ان سکولوں میں جا کر ہمارے بچے کرسٹا ن ہو جائیں گے اور دین خراب ہو جائے گا۔ تم نے فرنگی سرکار سے پیسے کھا لیے ہیں۔
مولوی کرامت کو اُس کی بات بہت بُری لگی۔ اُس نے سوچا اگر اِسی طرح یہ خبیث مولوی مجھے ٹوکتے رہے تو نوکری ضرور چلی جائے گی۔ اگر چہ اُس نے خود بھی ْقصور میں کئی باراِن اسکولوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور لوگوں کو روکا تھا کہ وہ ان اسکولوں میں نہ جائیں لیکن اب معاملہ وہ نہیں رہا تھا۔ اُس کے خیال میں اب گورنمنٹ نے بچوں کو کرسٹان بنانا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اِس جاہل مولوی کو کیا پتا سرکار کا نظریہ بدل چکا ہے۔

مولوی کرامت نے دیکھا کہ بات بگڑ سکتی ہے تو اُس نے بڑے تحمل سے ایک نئی چال چلی اور کہا،پہلی بات تو یہ ہے بھایؤ کہ اب گورنمنٹ سرکاری اسکولوں میں مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے مولویوں کو رکھ رہی ہے۔ سرکار نے اعلان کیا ہے،جو مولوی اچھی طرح سے دین اور عربی فارسی پڑھا ہو گا،اُسے سرکار اسکولوں میں تنخواہ پر مُنشی رکھے گی تا کہ وہ خود مسلمان بچوں کو پڑھائیں۔ اِس طرح کوئی خطرہ نہیں رہے گا اُن کے کرسٹان بننے کا۔ مجھے یہ مولوی صاحب ایک بات بتائیں،چین میں کون سے دین کی تعلیم دی جاتی تھی؟ ہمارا پیغمبر تو آیا عرب میں۔ اِس لیے دین اور اُس کا علم تو سارا وہاں تھا لیکن آپ نے یہ کیوں کہا،تم چین میں جانا؟ بتاؤ؟ (اپنی سفید ڈاڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے )اِس کا مطلب ہے،وہ کوئی اور علم تھا،جس کے لیے چین جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پھر چند لمحے رُک کراور پیش امام کی طرف رُخ کر کے،جس کے آگے مولوی کرامت نے گورنمنٹ کی نوکری کا لقمہ پھینک دیا تھا اور وہ ذہنی طور پر شکست تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہو چکا تھا،مجھے ایک بات بتاؤ مولوی صاحب ! جب بد ر کی جنگ ہوئی اور کافر پکڑے گئے تو اُن کو آزاد کر نے کی ہمارے نبی نے کون سی شرط لگائی تھی؟پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر،پوچھو اِس سے؟
ایک شخص جو اُن میں سب سے معزز نظر آ رہا تھا اور ہلکی سی ڈاڑھی بھی رکھتا تھا،ایسے محسوس ہوتا تھا،پیش امام کا زیادہ تر خرچہ اِسی کے گھر سے پورا ہوتا ہے۔ اُس نے پیش امام سے پوچھا،جی مولوی صاحب آپ بتائیں کس شرط پر ہمارے رسول نے اُن قیدیوں کو چھوڑا تھا؟

جب پیش امام نے چند لمحے تک کوئی جواب نہ دیا تو اُس شخص نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب آپ ہی بتائیں،وہ کون سی شرط تھی؟

اب مولوی کرامت کو اپنی فتح قریب نظر آرہی تھی۔ نوکری کی نوید سُن کر پیش امام نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ لہذا مولوی کرامت نے بولنا شروع کیا،ہوا یہ مومنو،جب نبی پاک اُن قیدیوں کو پکڑ کر مدینے لے آئے توآپ نے اعلان کیا،جو کا فر قیدی ہمارے دس مسلمان بچوں کو تعلیم دے گا اور اِنہیں پڑھنا لکھنا سکھائے گا،ہم اُس کو آزاد کر دیں گے۔ اِس حکم پر بیس قیدیوں نے مدینے کے پورے دوسو مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا اور ہمارے نبی پاک نے اُن کو شرط کے مطابق آزاد کر دیا اور پیسے بھی دیے۔

یہ کہ کر مولوی کرامت خموشی سے مسجد میں موجود لوگوں کی طرف دیکھنے لگا۔ جب چند ثانیے اسی طرح گذر گئے اور کسی نے اُس کی بات کو رد نہ کیا تو مولوی کرامت نے مزید اپنی بات کو پختہ کرنے کے لیے کہا،اب مسلمانو آپ ہی بتاؤ،وہ قیدی تو پکے کافر تھے۔ رسول تو رسول،خدا کو بھی نہیں مانتے تھے،پھر بھی رسول پاک نے مسلمان بچوں کو اُن سے پڑھانے سے گریز نہ کیا لیکن نصاریٰ تو پھر بھی خدا کو مانتے ہیں اور مفت میں آپ کے بچوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں تا کہ مسلمان خود حکومت کرنے کے قابل ہو جائیں۔ ہندوستان پر حکومت کرنا مسلمانوں کا حق ہے اور گورنمنٹ بہادر چاہتی ہے،ہم پڑھ لکھ جائیں تاکہ وہ ہماری امانت ہم کو سونپ کر چلے جائیں۔ یاد رکھو اگر تم اپنے بچوں کو ان گورنمنٹ کے اسکولوں میں نہیں پڑھاؤ گے تویہ ہنود اور چوہڑے اور سکھ،یہ سب فرنگی سرکار کے جانے کے بعد ہم پر حکومت کریں گے۔

او بھلے لوگو،تمھارے علاوہ یہ سب قومیں فٹا فٹ اِن اسکولوں میں جا کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہمارے بچے ایسے ہی ڈنگر کے ڈنگر بھیڑ بکریاں چرا رہے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ کیا تم نے نہیں دیکھا،عدالتوں اور کچہریوں میں سب ہندو لوگ ہیں جو فیصلے بھی ہمارے خلاف کرتے ہیں اور یہ بنیے جو چاہیں اپنے بھئی کھاتوں میں لکھ دیں۔ پھر تمھاری گردن پر ناخن رکھ کر جتنا چاہیں وصول کر لیں۔ تمھیں تو نہ پڑھنا آئے اور نہ اُن کھاتوں کے حساب کتاب کے دیکھنے کا طریقہ۔ اِسی لیے ہمارے قرضے بڑھتے جاتے ہیں اور پشتوں سے لے کر اب تک ادا نہیں ہوتے۔ یاد رکھو اگر ہمارے بچے نہیں پڑھیں گے تو پنجاب پھر سکھوں کے پاس چلا جائے گا۔ بھلا تمھیں پتا ہے؟مہاراجہ رنجیت نے کیا کیا تھا؟ اُس نے ہماری بادشاہی مسجد میں اپنی فوج کے گھوڑے باندھ کر اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ جہاں اُنہوں نے لید اور پیشاب کر کر کے اتنی بدبوپھیلائی اوراتنا گند مارا کہ بچارے گنبد اور میناروں کے کبوتر بھی ہجرت کر گئے۔ یہ انگریز بہادر ہی تھے،جنہوں نے وہ شاہی مسجد ان سے آزاد کرا کے ہمیں دی۔ اگر فرنگی سرکا ر مسلمانوں کی دشمن ہوتی تو اُس مسجد کو سکھوں سے آزاد کیو ں کراتی؟ پھر اُس جگہ اپنا گرجا بنا لیتی۔ اِسی دوران مولوی کرامت کو یاد آیا کہ جب فرنگیوں نے دہلی فتح کیا تھا،تو انہوں نے بھی جامع مسجد دہلی میں اپنے گھوڑے باندھ دیے تھے اور اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ مگر شکر ہے کہ اِس بات کا کسی کو بھی پتا نہیں تھا،ورنہ بات بگڑ جاتی۔ یا اگر پیش امام کو پتا بھی تھا،تو اب وہ نہیں بول سکتا تھا۔ کیو نکہ نوکری ملنے والی تھی۔ بہر حال مولوی کرامت نے اس بیہودہ خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی،مگر صدقے جاؤں اِس منصف اور عادل گورنمنٹ کے،جنہوں نے مسلمانوں کے لیے یہ سب کچھ کیا اور ہم ہیں کہ اپنے ہی دشمن۔ سکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں بھیجتے اور چوہڑے جو ہمارا گند صاف کرنے والے ہیں،وہ پڑھ پڑھ کر بابو بنتے جا رہے ہیں۔ یہی حالت رہی تو ایک دن آئے گا ہماری اولادیں اُن کا گند صاف کریں گی۔ جس سے سرکا ر ہمیں بچانا چاہ رہی ہے۔

مولوی صاحب یہ بات آپ نے پہلے ہمیں کیوں نہیں بتائی،ایک شخص جس کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی،اُس نے سر سے صافا اُتار کر گھٹنوں کے نیچے رکھا اور بولا،ہم تو خط پتر بھی نہیں پڑھ سکتے۔ کہیں سے شادی موت کا لفافہ آ جائے تو بیس دروازے بھونکتے ہیں،تب جا کر کوئی پڑھ کے سناتا ہے۔ وہ بھی سو سو نخرے کرتا ہے۔

مولوی کرامت نے اپنا وار کار گر ہوتے دیکھا تو مزید اُس پر جملہ کسا،تو اور کیا؟ پھر سو باتیں ایسی ہوتی ہیں کسی غیر کو نہیں بتانی ہوتیں،جس سے خط پڑھواتے ہیں وہ اُنہیں بھی جان جاتا ہے اور گھر کی بات خواہ مخواہ باہر نکل جاتی ہے۔ پھر یہ ہندو اور چوہڑے تو ہمارے ویسے بھی دشمن ہیں۔ بھائی تعلیم بہت ضروری ہے۔

اس کے بعد مولوی کرا مت نے اپنا بستہ کھولا اور اُس میں سے ہاتھ بھرلمبا اور آدھ ہاتھ چوڑا رجسڑ اور ایک قلم اور دوات نکال کر بیٹھ گیا اور کہا،جلدی سے اب اپنے اپنے بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے نام لکھواؤ۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پندرہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(29)

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے میں داخل ہوتے ہی اُس کی بلندو بالا سُرخ عمارت کی ہیبت میں دب کر کھڑا ہو گیا۔ سامنے پہاڑ جیسی سرخ عمارت بڑی بڑی حویلیوں کا سر نیچا کر رہی تھی۔ جس کے کئی کئی دالان اور بیسیوں کمرے اِدھر اُدھر پھیلتے چلے گئے تھے۔ دائیں بائیں کے کمروں کے اندر راہداریاں اور راہ داریوں میں بلند و بالا تیس درجے کی ڈاٹ والے در۔ اِن دروں کے ستون گول اور اونٹوں کی قامت سے دگنے تھے۔ واقعی انگریز سرکار نے بڑے پیسے خرچ کر کے یہ عمارت بنائی تھی۔ جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا گرجا بھی تھا۔ بڑے بڑے گھاس کے میدان اور اُن کے کناروں پر لگے ہوئے ٹاہلیو ں،نیم،پیپل اور شریہنہ کے درخت چھاؤں کیے ہوئے تھے۔ کچھ بچے قطار بنا کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ اُن سب نے ملیشیے کی سیاہ رنگ کی قمیضیں اور شلواریں پہن رکھی تھیں۔ بچوں کے سروں پر پگڑیاں تھیں۔ کچھ ٹوپیاں پہنے ہوئے۔ ایک دو بچے ننگے سر بھی نظر آئے۔ مولوی کرامت کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اب کس سے ملے اور کیا کرے ؟ وہ دیر تک گیٹ کے اندر داخل ہو کر سکول کے اُس چوکیدار کے پاس کھڑا رہا،جو گیٹ پر ڈیوٹی کے لیے بیٹھا تھا۔ چوکیدار اپنی ہی ذات میں مگن،سر نیچا کیے،کچھ منہ کے اندر ہی اندر گنگنا تا رہا اور نظر اُٹھا کر مولوی کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ یہ چوکیدارایک سکھ نوجوان لڑکا تھا،جس کے سر پر اتنی بڑی پگڑی تھی کہ پورے جسم کو دبا رہی تھی۔ جب اُس نے مولوی پر کچھ توجہ نہ دی تو مولوی کرامت نے ڈرتے ڈرتے پوچھا،سردار صاحب،ہیڈ منشی صاحب سے ملنا ہے اور جیب سے نکال کر وہ رقعہ دکھایا،جو تُلسی داس نے مولوی کرامت کو دیا تھا اور کہا تھا کہ جا کر منشی بھیم داس کو دکھا دینا۔ باقی وہ سب کچھ تمھیں سمجھا دے گا۔ چوکیدار نے مولوی کی آواز پر پہلی دفعہ سر اُٹھا کر غور سے دیکھااور اُس کے لباس،داڑھی،پگڑی اور چہرے کی سادگی اور نفاست سے متاثر ہو کر بولا، شاہ جی کیہ کہنا ہیڈ منشی نوں؟

 

مَیِں یہاں منشی بن کے آیا ہوں،اُسے رپورٹ کرنی ہے۔

 

یہ سُن کر وہ جلدی سے اُٹھا اور بِنا کچھ بولے مولوی کے آگے چل دیا۔ مولوی کرامت اُس نوجوان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا،یہاں تک کہ ایک کمرے کے سامنے جا کر،جس کی چھت پر دو جھنڈے لگے تھے۔ ایک برطانیہ سرکار کا اور دوسرا پنجاب ایجوکیشن منسٹری کے مونو گرام کا،وہاں پہنچ کر نوجوان نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب ہیڈ ماشٹر صاحب اندر بیٹھے آ۔
یہ کہ کر وہ وہیں سے اُلٹے قدموں واپس ہو گیا۔ جبکہ مولوی کرامت آگے بڑھ کر کمرے میں داخل ہو گیا اور جھٹ اسلام و علیکم کہ دیا۔ اندردوتین منشی اور بھی بیٹھے تھے لیکن مولوی کرامت نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ہیڈ منشی وہی ہے جو میز کی دوسری طرف بیٹھا ہے۔ کمرہ اندر سے کافی کھلا اور صاف ستھرا تھا۔ جس میں آٹھ دس لکڑی کی کرسیاں تھیں۔ ایسی کرسیاں وہ پہلے بھی ولیم کے دفتر میں دیکھ چکا تھا۔ سامنے ایک چوکور لکڑی کی ہی میز تھی،جس پر نیلے رنگ کا میز پوش بچھا تھا۔ اُسی میز کی دوسری طرف ہیڈ منشی صاحب بیٹھے تھے۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی،جن پر بڑے اور موٹے شیشوں کی عینک چڑھی تھی۔ رنگ سیاہی مائل مٹیا لااور سر پر سفید رنگ کی دوپًلی ٹوپی اِس طرح دبا کے جمائی تھی کہ پورا سر اُس میں چھپ گیا تھا۔ منشی صاحب خود بھی کرسی پر بیٹھے میز کے پیچھے گویا چھپے ہوئے تھے۔ صرف اُن کی گردن سے اُوپر کا حصہ ہی نظر آ رہا تھا۔ اُس کے اس طرح بیٹھے ہونے سے قامت کااندازہ بھی ہو رہا تھا کہ ساڑھے چار فٹ سے زیادہ نہیں ہو گا۔ لیکن آنکھوں سے اطمنان اور سکون صاف جھلکتا تھا۔ اِس بات سے ثابت ہو رہا تھا کہ ہیڈ منشی کو ہرطرف سے مکمل سکون ہے اوراُن کے خانگی اور روزی روٹی کے معاملات صحیح چل رہے تھے۔ مولوی کرامت نے سوچا کہ اب اُس کے حالات بھی جلد ہی اللہ نے چاہا تو اِسی منشی جیسے ہو جائیں گے۔

 

رقعہ ابھی تک مولوی کرامت کے ہاتھ ہی میں تھا۔ اِس سے پہلے کہ ہیڈ منشی صاحب سلام کا جواب دیتا،مولوی کرامت نے وہ رقعہ اُن کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ منشی نے رقعہ اُٹھا کر کھولااور جیسے ہی اُس کی تحریر پڑھی،اُٹھ کر مولوی کرامت سے ہاتھ ملایا اور کہا،بیٹھیں مولوی صاحب،آپ کے بارے میں مجھے دو دن پہلے اطلاع مل چکی تھی اور میں آپ کا انتظار ہی کر رہا تھا۔ پھر ایک کُرسی کی طرف اشارہ کر کے،مولوی صاحب تشریف رکھیں۔

 

مولوی کرامت ہیڈمنشی کا اشارہ پا کر ایک کُرسی پر بیٹھ گیا لیکن اضطراری طور پر اِس طرح بیٹھا جیسے جمعے کا خطبہ دینے کے لیے منبر پر بیٹھا ہو۔ ہیڈ منشی صاحب بڑے کائیاں تھے فوراً بھانپ گئے اور بولے،مولانا آپ کہیں پیش امام تھے؟

 

جی حضور،تین پشتوں سے ہم یہی کرتے ہیں،ضلع قصور کے ایک گاؤں راڑے میں پیش امامت کرتا ہوں۔

 

تعلیم کی سرکار میں کوئی واقف تھا،جس نے آپ کی سفارش کی ؟

 

بس سرکار خدا واقف تھا،یا ہماری سرکار انگریز بہادر کمشنر صاحب کی مہربانی تھی۔ ورنہ اس عاجز کو کون جانتا تھا۔

 

ہیڈ منشی سمجھا مولوی کرامت کی انکساری اصل میں اپنی سفارش کو چھپانے کے لیے ہے۔ ورنہ اسسٹنٹ کمشنر سے تو ملنا ہی ناممکن ہے۔ کجا وہ خود سردردی لے کر اُسے سرکار میں منشی رکھیں۔ اس کے پیچھے لازماًکسی نواب کا ہاتھ ہو گا یا کوئی چال ہے۔ بہر حال جو بھی ہے تلسی داس نے بھی خبردار کر دیا تھا کہ مولوی کرامت کا خیال رکھنا صاحب کا خاص آدمی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ تعاون ہی کیا جائے اور اسی کی مرضی کے مطابق کام بھی دیا جائے۔ کہیں شکایت کر کے ہماری نوکری کو ہی نہ لے ڈوبے۔

 

آپ کون سے درجے کو پڑھانا چاہیں گے ؟

 

حضور،میں تو نوکر ہوں۔ جہاں سے کہیں گے،بچوں کو پڑھا دوں گا۔ درجوں کا تو مجھے حساب نہیں۔ اِس معاملے میں صاف کورا ہوں۔

 

ٹھیک مولانا،آپ آٹھویں کے درجے کو فی الحال فارسی اور عربی گرائمر کی مبادیات کا درس دے دیا کریں۔

 

بہتر سرکار،مولوی کرامت نے بے چینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلو بدلا۔

 

ٹھیک ہے مولوی صاحب،آپ اب آرام سے گھر جائیں۔ کل اتوار کی چھٹی ہے۔ پرسوں تشریف لے آئیں،ذکاء اللہ صاحب ہمارے ایک عربی اور فارسی کے منشی ہیں،وہ آج چھٹی پر ہیں،پرسوں وہ بھی آ جائیں گے۔ وہ آپ کا تعارف بچوں سے کرا دیں گے اور پڑھانے کے طور طریقے بھی بتا دیں گے۔ آج سے آپ کی حاضری اور تنخواہ شروع ہوگئی ہے (ایک رجسٹر مولوی صاحب کے سامنے کرتے ہوئے ) اپنا نام مولوی صاحب اِس رجسٹر پر درج کر کے انگوٹھا بھی لگا دیں۔
مولوی کرامت نے ہیڈ منشی کے کہنے پر تمام کام نپٹا دیا،پھر کہا،حضور اب جاؤں ؟
جی مولوی صاحب لیکن پرسوں ضرور تشریف لے آئیں۔

 

جی سرکار،اور اُٹھ کھڑا ہوا لیکن گھبراہٹ میں گرتے گرتے بچا۔

 

مولوی کرامت سکول کے بڑے دروازے سے باہر نکلا تو اُسے محسوس ہوا کہ وہ گویا ایک جیل سے باہر نکلا ہے۔ ہیڈ منشی کے کمرے میں اُس کا دم گھُٹنے لگا تھا۔ پہلی بار سرکاری رجسٹر پر دستخط کرتے ہوئے اُسے لگ رہا تھا کہ شاید اپنی قید کے پروانے پر دستخط کر رہا ہے۔ اِسی وجہ سے گھبراہٹ شروع ہو گئی تھی۔ اب دروازے سے باہر نکلا تو گھبراہٹ کا تاثر فوراً ہی زائل ہو گیا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

مولوی کرامت نے سکول جانے کے لیے کھدر کا سفید کُرتہ،سفید ہی کھدر کی چادر پہن لی۔ کبھی شادی بیاہ یا ختم درود کے لیے مولوی کرامت کی بیوی نے اُس کے لیے بنا کر لکڑی کے صندوق میں رکھے ہوئے تھے لیکن سال ہا سال سے اُن کے استعمال کا وقت نہیں آیا تھا۔ یا یہ کہیں کہ استعمال کرنے کو جی نہیں چاہا تھا کہ پھر کون روز روز اس طرح کے کپڑے بنائے گا۔ ویسے بھی کسی نہ کسی کے ہاں سے سال میں ایک لُنگی اور کُرتا فوتگی یا شادی پر مل ہی جاتا تھا۔ اِتنے سال پڑے رہنے کے بعد کپڑوں کی تہیں اِتنی جم گئیں اور سلوٹیں اتنی سخت ہو گئیں تھیں،جو کسی استری سے بھی جلد نہیں نکل سکتی تھیں۔ جس کا وجود ویسے بھی وہاں نہیں تھا۔ بلکہ مولوی کرامت نے تو ابھی تک استری کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ اِن بے شمارسلوٹوں کے باوجود مولوی کے کُپڑوں میں صفائی اور نفاست موجود تھی۔ صافہ بھی بالکل نیا تھا،جو کل ہی جلال آباد کے بازار سے خریدا تھا۔ جوتے البتہ پُرانے ہی تھے۔ ویسے بھی جوتوں کو جب تک وہ نہ ٹوٹیں،کون پُرانا کہتا ہے۔ یہ جوتے انتہائی موٹے چمڑے کے تھے،جنہیں موچی نے سخت قسم کے دھاگے سے سیا تھا۔ تین سال گزرنے کے باوجود یہ نہ تو پھٹے تھے اور نہ ہی سلائی اُدھڑی تھی۔ پگڑی میں بھی کئی کئی پیچ دیے اور طرہ بھی چھوڑا۔ داڑھی ویسے بھی سفید ہوگئی تھی،جس کی وجہ سے سفید لباس اور بھی جچ رہا تھا۔ القصہ مولوی پہلے دن بن ٹھن کے سکول میں گیا کہ سب دیکھنے والے اُس کے لباس اور چال ڈھال سے بہت متاثر ہوئے۔

 

مولوی یوں تو فارسی،عربی اور اردو کے ابتدائی اور بنیادی گرائمر اور زبان کے بارے میں کافی سُدھ بدھ رکھتا تھا لیکن اُسے سکول میں بچے پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ہر چند وہ اپنی معلمی کے تمام کمالات فضل دین پر آزما کر اِس کام میں ماہر ہو چکا تھا لیکن دوسروں کے بچوں کو پڑھانے کا موقع پہلی ہی دفعہ ہی ملا تھا۔ اس لیے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا کہ خدا جانے کیا غضب ہو جائے۔ خاص کر اُسے سکول کے ہیڈ منشی سے انگریز افسر کی نسبت زیادہ خوف تھا۔ لیکن جب مولوی نے بچوں کو پڑھانا شروع کیا تو کام بہت آسان لگا۔ کیونکہ جو کتابیں مولوی کرامت کو بچوں کو پڑھانے کے لیے دی گئیں تھیں،وہ اِتنی آسان اور سادہ تھیں کہ اُنہیں فضل دین بھی پلک جھپکنے میں فر فر پڑھ جاتا۔ بلکہ پڑھانے پر بھی قادر تھا۔ یہ کتابیں عربی کے ابتدائی افعال اور گردانوں کے صیغوں پر مشتمل تھیں،جس میں چھوٹے چھوٹے جملوں کا استعمال تھا اور اُن کے اردو میں استعمال کے طریقے بتائے گئے تھے۔ مولوی کرامت کے سامنے فضل دین کی مثال موجود تھی۔ یہاں بھی وہی طریقہ لگاتے ہوئے سبق شروع کیا اور بچوں کو وہ وہ نقطے بتائے کہ وہیں بیٹھے بیٹھے اُنہیں پورا پورا سبق یاد ہو گیا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اُس کے منہ سے ایسی گالی نکل جاتی جس میں پنجابی کا ایک گُوڑا رچاہو ہوتا کہ بچے پڑھنے کے ساتھ محظوظ بھی ہوتے رہے۔ آہستہ آہستہ اِسی وقت کے دوران مولوی کرامت کی ایک تو جھجھک بھی دور ہو گئی،دوم آگے کے لیے رستہ صاف آسان ہو گیا۔ مولوی کرامت نے سوچا اگر یہی پڑھانا کہتے ہیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ چھٹی ہوئی تو مولوی اتنا خوش تھا کہ بغلیں بجاتا ہوا گھر تک گیا۔

 

(30)

 

ولیم کے کمرے میں تمام تحصیل کابینہ جمع تھی۔ پولیس آفیسر لوئیس،ایجوکیشن آفیسر تُلسی داس،محکمہ مال کے آفیسر،محکمہ نہر کے آفیسراور دوسرے آٹھ دس آفیسر مزید کرسیوں پر لکڑی کی لمبی میز کے دو طرفہ اپنی اپنی فائلوں کوسامنے رکھے مکمل تیاری کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ یوں تو یہ سب دیسی اور انگریزی افسر اپنے کام کو احسن طریقے سے سمجھتے تھے اور اُسے پورا کرنے کا تجربہ بھی کسی بڑے افسر سے کہیں زیادہ تھاکہ اگر اُن کو آزادی سے کام انجام دینے کی اجازت مل جائے تو منٹوں میں نپٹا دیں لیکن بیوروکریسی اِس با ت کو نہیں مانتی۔ عموماً تحصیل جلال آباد میں ایسے افسر آتے رہے جو خود تو خیر کام کو سمجھتے نہیں تھے،اگر ماتحت کام کرنے کی صلاحیت رکھتا بھی تھا تو اُسے ایسی پیچیدہ اور نافہم قسم کی ہدایات میں اُلجھا دیتے کہ ایک آسان سا کام بھی اقلیدسی قاعدوں اور کلیوں کا اچھا خاصا تماشا بن جاتا۔ پھر یا وہ کام فائلوں ہی میں دب کر مر جاتا ورنہ نہایت بے کار حالت میں انجام پاتا اور بالآخر اُس کمشنر کا تبادلہ کہیں اور ہو جاتا۔ اِس طرح تحصیل کی ترقی ہو تو رہی تھی لیکن کچھوے کی چال سے۔ مگر ولیم کا معاملہ اور تھا اور یہ بات پچھلے عرصے کے دوران تمام افسر بھی جان گئے تھے کہ اُن کو ہرن کی قلانچوں کے حساب سے دوڑنا پڑے گا ورنہ ولیم آگے نکل جائے گا،وہ پیچھے رہ جائیں گے اور ولیم سے پیچھے رہ جانے کا مطلب نوکری سے فارغ ہونا تھا،جو کسی طرح بھی گوارا نہ تھا۔ ابھی ولیم صاحب کمرے میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن افسروں پر اس طرح خاموشی چھائی تھی جیسے جنازے کی دعا میں بیٹھے ہوں۔ ہر ایک اپنی فائل پر نظریں جمائے ولیم کے انتظار میں متوقع سوالات کا جواب سوچنے میں مگن تھا۔ سب افسران کو بیٹھے ہوئے پندرہ منٹ ہوچکے تھے اور اب کچھ ہی دیر میں ولیم صاحب کمرے میں داخل ہونے والے تھے۔ پھرچند ثانیوں بعد وہ وقت آگیا جب نجیب شاہ نے باہر سے ولیم کے لیے دروازہ کھولا۔ اُس نے بڑے احترام سے دروازے کے ایک طرف کھڑے ہو کردائیں ہاتھ اُس کا ایک پٹ کھول دیا اور اُسی لمحے ولیم سُرمئی رنگ کے تھری پیس سوٹ میں اندر داخل ہو گیا۔ تمام افسر اُٹھ کر تعظیماً کھڑے ہو گئے۔ نجیب شاہ نے دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔ ولیم نے افسروں کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور دیر سے آنے پر سوری کرتے ہوئے لیڈنگ کُرسی پر بیٹھ گیا۔ یوں تو ولیم نے مسکراتے ہوئے اپنی دیر آید پر معذرت کی تھی لیکن سب جانتے تھے کہ یہ اُن وی آئی پی تکلفات میں سے ایک تکلف ہے جو ہر افسر کا اپنے جونیئر سے فرق واضح کرتا ہے۔ جس کا وہ خود بھی عملی طور پر اکثر مظاہرہ کرتے ہیں۔

 

ولیم کے کُرسی پر بیٹھنے سے پہلے ہی تمام لوگ اٹین شن ہوچکے تھے کیونکہ یہ ایک اہم میٹنگ تھی،جو فائلوں سے آگے عملی طور پر کام کرنے کے لیے بُلائی گئی تھی۔ اِس میٹنگ میں اصلاً وہی کام ڈسکس ہونے تھے،جن کے بارے میں ولیم ڈی سی صاحب سے بات کر چکا تھا۔ اُس نے لیڈنگ چیئر پر بیٹھ کر ایک دفعہ تمام آفیسر زپر ایک طائرانہ نظر ماری پھر سب سے پہلے ڈی ایس پی لوئیس سے مخاطب ہوا،لوئیس صاحب پہلے آپ بتایے،کیابنا سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے حوالے سے؟

 

سوال کے دوران ولیم کا لہجہ اتنا سپاٹ اور دو ٹوک تھا جس سے محسوس ہو رہا تھا کہ آج صاحب بہادر کا معذرت قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ لوئیس صاحب کی خو ش بختی تھی کہ اُس نے پچھلے تین دن میں اِس معاملے میں کافی کچھ کام کر لیا تھا۔ جس پر ولیم داد کے سوا کچھ کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا تھا۔

 

لوئیس نے فائل سے سر اُوپر اُٹھاکر ایک بار ولیم کو دیکھا اور بولا،سر مَیں نے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے لیے باقاعدہ پولیس کارروائی کو عملی جامہ پہنا کر کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جو گرفتار نہیں ہو سکے اُن کا مال بحق سرکار ضبط کر لیا گیا ہے۔ اِن گرفتار ہونے والوں میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو شاہ پور اور جودھا پور کے واقعات میں ملوث تھے۔ اُن کے ملوث ہونے کا ثبوت مخبروں اور دیگر ذرائع کی ہم آہنگی سے مہیا کیا گیا ہے۔ جس کے لیے سی آئی ڈی آفیسر متھرا اور تھانیدار بلرام کے علاوہ تین سب انسپیکٹر بھی شامل تھے۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ ملزموں نے اقرار جرم بھی کر لیا۔ جھنڈووالا میں مَیں خود پولیس کے ساتھ تھا جبکہ عبدل گجر کی طرف انسپیکٹر ڈیوس کو بھیجا گیا۔ اُس نے نہایت کامیابی سے آپریشن کیا ہے۔ فی الحال واقعات کے مرکزی ملزم سردار سودھا سنگھ،عبدل گجر اور شریف بودلہ گرفتار نہیں ہوسکے۔ اُمید ہے اُنہیں بھی جلد ہی قانون کے چاک پر بٹھا دیا جائے گا (پھر فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے )سر اِس فائل میں کیس کی تمام تفصیلات،گرفتار ملزمان اورمال کی ضبطی کے متعلق اہم معلومات موجود ہیں۔

 

لیکن لوئیس صاحب،ولیم نے فائل کو دیکھتے ہوئے کہا،اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہی مرکزی ملزم جنہیں آپ ابھی تک گرفتار نہیں کر سکے،وہ جلد ہی کوئی دوسری کارروائی نہ کریں گے ؟اگر اِسی طرح کی ایک اور کارروائی ہوگئی تو اِس کا مطلب ہے ہم اپنی جڑیں خود ہی کاٹ رہے ہیں۔

 

سر اب ایک اور کارروائی نہیں ہوگی،لوئیس نے انتہائی پُر اعتماد لہجے سے جواب دیتے ہوئے کہا،مزید کارروائی کے لیے نہ تو اُن کے پاس آدمی ہیں اور نہ ہی ہمت۔ تیسری ضر ب مَیں نے اُن پر اخلاقی بے توقیری کی لگائی ہے۔ میں نے اُن کو اِس طرح ذلیل کیا ہے کہ اب اُنہیں اپنے وقار کو سمیٹنے میں زمانے لگیں گے۔ (ولیم کے ہاتھ کے نیچے پڑی فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) سر اِس فائل میں کارروائی کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ آپ اِس کا آرام سے مطالعہ کر کے میرے لیے مزید جو حکم چھوڑیں گے،مَیں اُس پر عمل کرنے کا پابند ہوں گا۔
ولیم نے لوئیس کی کارروائی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا،گُڈ،مرکزی ملزم کب تک گرفتار ہوں گے؟

 

لوئیس نے اپنا دایاں کان کھجا کر ولیم کی طرف دوبارہ دیکھا اورکہا،سر اُس کے لیے میں نے مہاراجہ پٹیالا کو سردار سودھا سنگھ کے وارنٹ گرفتاری کے ساتھ خط بھیج دیا ہے۔ اب صورتِحال یہ ہے کہ مہاراجہ نے سودھا سنگھ کی گرفتاری نہ بھی دی،جس کی ہمیں عین توقع ہے،تو ہم اُس کا عدالت میں انتظار کریں گے۔ وہ لامحالہ عدالت سے اپنی عبوری ضمانت کروائے گا،جب ہم اُسے گرفتار تو نہ کر سکیں گے۔ لیکن اُس کے فرار کی راہیں بھی مسدود ہو جائیں گی۔ اِس طرح وہ عدالت میں حاضر ہونے کا پابند ہوگا۔ اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہوا تو مجرم قرار پا کر اشتہاری ہو جائے گا۔ اشتہاری ہونے کی وجہ سے مہاراجہ اُس کی کوئی مدد نہیں کر پائے گا لیکن بات یہاں تک نہیں پہنچے گی۔ عبوری ضمانت پر حاضری کے وقت اُس کی ضمانت منسوخ ہو جائے گی اور ہم اُسے گرفتار کر لیں گے۔ یہی کچھ عبدل گجر اور شریف بودلہ کا معاملہ ہے۔ ہم نے کچھ اُن کے بندے پکڑے ہیں۔ وہ خود اُن کے خلاف ثبوت ہیں۔ یہ لوگ بھی عبوری ضمانت کے بعد عدالت میں حاضر ہونے کے پابند ہیں۔ کیونکہ انہیں بھی مقدمے کا سامنا تو بہر حال کرنا ہے،جو چند ہی روز میں شروع ہو جائے گا۔ بھاگ یہ اِس لیے نہیں سکتے کہ یہاں ان کی زمین،گھر بار،اولاد اور رشتے داریاں ہیں۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی گنوانے کی حماقت نہیں کریں گے اور یہیں رہیں گے۔ (مسکرا کر ) زیادہ سے زیادہ حج پر چلے جائیں گے لیکن واپس یہیں آئیں گے۔

 

ویل ڈن مسٹر لوئیس،ولیم نے سنجیدہ لہجے میں لوئیس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر کچھ لمحے سوچنے کے بعد سوالیہ انداز میں پوچھا،غلام حیدر کی کیا خبر ہے آپ کے پاس ؟ میرا خیال ہے اُس پر ہمیں نظر رکھنی چا ہیے۔ یہ اُس پر دوسرا حملہ ہے اور ایسے میں کوئی شخص کچھ بھی غلط کارروائی کر سکتا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں اِس بارے میں ؟

 

سر آپ کی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،لوئیس تائید میں بولا،احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے،اُسے بھی عینک میں رکھا جائے۔ آپ جو بھی اُس کے بارے میں فرمائیں گے،اُس پر بھی غور ہو سکتا ہے۔

 

لوئیس،ولیم نے فائل کو بند کرتے ہوئے دو ٹوک کہا،غلام حیدر کے پاس سُنا ہے ایک ریفل ہے۔ آپ اُس سے وہ ریفل فوراً تین ماہ کے لیے قبضے میں لے لیں اور اُسے پیغام بھیج دیں،وہ اپنے آدمیوں کا اسلحہ بھی کچھ دنوں کے لیے گورنمنٹ کو جمع کروا دے۔

 

جی بہت بہتر،لوئیس پوری فرمانبرداری سے بولا،یہ ہو جائے گا سر۔

 

کوئی اور بات ؟ ولیم نے لوئیس سے بات قریباً ختم کرتے ہوئے پوچھا۔

 

نو سر،لوئیس نے جواب دیا

 

اوکے،لیکن اس کیس کے بارے میں جو بھی اہم پیشرفت ہو،آپ مجھے اُس سے مطلع کرنے کے پابند ہو ں گے،ولیم یہ کہ کر اب تحصیل ایجوکیشن تُ افسرتلسی داس کی طرف متوجہ ہوا،جو گول شیشوں کی عینک لگائے اپنی فائل کے اُوپر قریب قریب گرا ہوا تھا۔

 

تُلسی داس آپ بتائیں،آپ کی طرف سے کیا پرفارمنس ہوئی ؟ابھی تک،مجھے سب سے زیادہ تشویش آپ کے محکمے کی طرف سے ہے۔ جس کی کارکردگی خوردبین سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تُلسی داس نے فائل ولیم کی طرف سرکا کر اپنی عینک کو اُتارا اور بات شروع کی،سر میں نے آپ کے حکم کے مطابق ایک تعلیمی پالیسی اس طرح ترتیب دی ہے کہ جلال آباد کے جتنے گاؤں ہیں،اُن کو دس پر تقسیم کیا گیا ہے اور ہر دس گاؤں کا ایک مرکزی گاؤں بنا دیا ہے۔ جس میں ایک آٹھویں درجے کا اسکول ہو گا۔ اُس میں پورے دس گاؤں کے بچے آ کر پڑھا کریں گے۔ اِسی طرح ہر پانچ گاؤں کے لیے ایک پانچویں درجے کا اسکول بنایا جائے گا۔ یوں تحصیل میں آٹھویں درجے کے مزید تیس سکول بنیں گے اور پانچویں درجے کے ساٹھ اسکول ہوں گے۔ جن پر کل لاگت اوراسکولوں کے مقام کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے،جو اس فائل میں درج ہے۔ اِسی طر ح دسویں درجے کے اسکول کے بارے میں بھی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جن کی تعداد مزید چار تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تمام کام دو سال کے عرصے میں مکمل ہو سکتا ہے۔
گُڈ تُلسی داس،ولیم نے خوش ہو کر تُلسی داس کو شاباش دی،۔ ہم یقیناً اِس کے لیے اپنے پورے وسائل استعمال کریں گے اور جلد ہی گورنمنٹ سے اِس کے لیے فنڈ منظور کرا لیں گے۔ تم کام کرنے کے لیے تیار رہو۔ یہ بتاؤ مسلمان بچوں کی اسکول میں حاضری پوری کرنے کے لیے کیا حل نکالا ہے آپ نے ؟

 

سر یہ ایک ٹیڑھی کھیر ہے،تُلسی داس نے معذرت دارانہ لہجے میں اپنی وضاحت پیش کی،جب تک مسلمان مولوی راستے میں حائل ہے،یہ کام مشکل نظر آتا ہے۔ لوگ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ہم نے لاکھ طرح سے کوشش کر کے دیکھ لی ہے۔ آپ ہی کچھ اِس بارے میں حکم دیں یا پھر پولیس کے ذریعے جبر سے اُنہیں لایا جائے اور جرمانے یا سزا کا عمل دخل کیا جائے۔

 

اوں ! ولیم تھوڑی دیر کے لیے خموشی سے تُلسی داس کی بات پر غور کرنے لگا پھر سر اوپر اُٹھا کر بولا،تُلسی داس! مَیں نے آپ کے حوالے ایک مولوی صاحب کو کیا تھا،وہ کہاں ہے ؟
اُسے سر آپ کے حکم پر جلال آباد کے مرکزی ہائی اسکول میں فارسی اور عربی کا مُنشی رکھ لیا ہے تیس روپے ماہانہ پر۔

 

تُلسی داس،ولیم بولا،مولوی،کیا نام ہے اُ س کا؟
کرامت سر،تُلسی داس نے یاد دلایا

 

ہاں کرامت،مولوی کرامت۔ تُلسی داس اُسے آپ ٹارگٹ دو کہ سرکار کے اسکولوں میں مسلمان بچوں کو داخلے کے لیے لے کر آنا اُس کی ذمہ داری ہے۔ اُسے بتاؤ،وہ جس قدر مسلمان بچوں کی تعداد میں اضافہ کرے گا،سرکار اتنا ہی اُس کی تنخواہ میں اضافہ کرے گی۔ اِس لیے فی الحال اُس کا کام لوگوں کو اس بات پر تیار کرنا ہے۔ یقینایہ کام وہی کر سکتے ہیں۔ آپ اِس فارمولے کو آزماؤ۔ اِس کے علاوہ اِس طرح کے مزید پانچ مولوی جلال آباد تحصیل کے ہی رہنے والے ملازم رکھ لو اور اِس مولوی کو اُن کا ہیڈ بنا دو۔ میرا خیال ہے،اِس طرح سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

 

ولیم کی اِس انوکھی ترکیب پر تُلسی داس سمیت سب ہلکا سا مسکرا دیے۔ یہ ایک ایسا نکتہ تھا،جو ابھی تک کسی کو بھی نہ سوجھا تھا اور ولیم ہی کا خلاق ذہن تھا،جو ایسا بے ضرر اور زود اثر حل نکال سکتا تھا۔ مولویوں کو سرکاری اسکول کی ملازمت دے کر اور اُنہیں مسلمان بچوں کے داخلے پر نامزد کر کے حقیقت میں ایک تیر سے دو کام لیے جا سکتے تھے کہ جو روکنے والے تھے،وہ اب دعوت دینے والے ہوجاتے اور لوہے سے لوہا کا ٹنا نہایت ہی آسان ہو جاتا۔

 

تُلسی داس سے فارغ ہو کر ولیم نے تحصیل دار مالیکم کی طرف رخ کیا اور بولا،جی مالیکم صاحب آپ اور ڈیوڈ صاحب کا کام قریب قریب مشترک ہے۔ آپ کے کام میں کیا پیچیدگیاں ہیں؟ آخر جلال آباد میں ہر طرف اُڑتی ہوئی خاک اور گردو غبار کا کیا علاج ہے ؟ مجھے حیرت ہے آپ پچھلے دو سال سے یہاں موجود ہیں لیکن یہاں کی مٹی جم نہیں پائی اور خاکی میدانوں نے سبزی کا لباس نہیں پہنا۔ آج یہ طے ہو جائے کہ اس تحصیل کے چہرے پر کب رونق آئے گی۔

 

مالیکم صاحب،جو بے چینی سے میٹنگ کا دورانیہ لمبا ہوتے دیکھ رہے تھے،نے آگے کی طرف ہوتے ہوئے وضاحت کی،سر اصل میں ہندوستانیوں کی جہالت کا علاج مشکل ہے۔ ورنہ تو چھ ماہ میں ہی خربوزوں کے کھیت اور آموں کے باغ لہلہااُٹھیں۔

 

وہ کون سی جہالت ہے جس کا علاج نہیں ؟ولیم حیرانی سے بولا،اگر گورنمنٹ جہالت دور کرنے پر قادر نہیں تو ہمیں کوئی حق نہیں ملازمت کرنے کا۔ ہم آرام سے بستر سمیٹیں او ر برطانیہ کی سردی میں آگ تاپیں اور دُھند سے لطف اُٹھا ئیں۔

 

مالیکم ولیم کے اِس تُرش جواب سے گھبرا گیا اور شرمندگی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اُسے مشکل سے نکالنے کے لیے ڈیوڈ نے اپنی عینک اُتاری اور بات آگے بڑھائی،سر مالیکم کی بات کا مقصد ہے کہ عوام ساتھ نہیں دیتی۔ مثلاً بیلداروں اور نہری سُپر وائزروں نے ہمیں بتایا کہ لوگ نہر سے نکالے گئے کھالوں کے نگال میں مٹی اور کوڑا کرکٹ بھر دیتے ہیں اور نہر کا پانی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے۔ اُن کے خیال میں گورنمنٹ نے نہر کے پانی میں ایسی دوائی ملا رکھی ہے،جس سے فصلوں میں بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ جب اُس فصل کا غلہ لوگ استعمال کرتے ہیں تو وہ بیماری لوگوں میں پھیل جاتی ہے۔ یعنی انسان نامرد ہو جاتا ہے اور نسل آگے نہیں بڑھتی۔ اِس لیے یہ لوگ نہر کا پانی ہی فصلوں کو لگنے نہیں دیتے اور مکمل طور پر بارشوں کے سہارے رہتے ہیں۔

 

ڈیوڈ کی بات سے حوصلہ پا کر مالکم نے مزید وضاحت کی،سر ایک بات اور ہے۔ زمیندار سمجھتے ہیں گورنمنٹ اُن سے اِس پانی کا معاوضہ لے گی،جو اُن کی فصلوں کی قیمت سے بھی زیادہ ہو گا۔ اِسی ڈر سے ایک زمیندر نے اپنی بیسیوں ایکڑ کھڑی چاول کی فصل کاٹ کر اپنے مویشیوں کو کھلا دی تاکہ نہ ہو بانس نہ بجے بانسری۔ اب ایسے میں بتائیے کیا کیا جائے ؟
ولیم ان کی باتوں پر حیرانی کے ساتھ ہنس دیا،پھر تحمل سے بولا،مالیکم صاحب آپ مجھے بتایے اگر یہ قوم اتنی جاہل اور سادہ نہ ہوتی تو کیا ہم پندرہ بیس ہزار لوگ اِن کروڑوں گدھوں پر حکومت کر سکتے تھے ؟اِن کی یہی جہالت تو آپ کے لیے نعمت ثابت ہوئی۔ لیکن اب ہمی نے اِن کو تعلیم دینی ہے،اِنہیں سکھانا ہے۔ اِن کی معاشی اور ذہنی ترقی کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ میں نے نہری منصوبے کی فائل لاہور تک پہنچا دی ہے۔ جلد واپس آ جائے گی۔ چھ مہینے تک میں یہاں ایک مزید نہر دیکھنا چاہتا ہوں۔ اُس سے پہلے آپ پر ایک بھاری ذمہ داری یہ ہے کہ جن کا پانی منظور ہو چکا ہے،اُن کی ٖفصلوں تک پانی لے جانے کے ذمہ دار آپ دونوں ہیں۔ نہری پانی کے علاقوں کا دورہ کرو اور تمام زمینداروں کی حلقہ وار میٹنگ بلاؤ۔ انہیں بتاؤ،آیندہ کسی نے اپنا الاٹ شدہ پانی ضایع کیا تو اُس کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا اور سزا بھی دی جائے گی۔ اپنے مالی اور نہری پٹواریوں کو اِس کا بنیادی طور پر پابند بناؤ۔ وہ اپنے اپنے علاقے کے گوشوارے ہر مہینے آپ کو جمع کرائیں۔ جو کچھ مالیے یا خراج کا حساب ہو اُسے تحصیل میں آ کر کانو گووں سے پاس کروائیں۔ میں دو مہینے کے اندر یہ تمام کام درست دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں آئے چھٹا مہینہ ہے اور کارکردگی صفر ہے،جومجھے منظور نہیں( پھر لوئیس صاحب کی طرف منہ کر کے )لوئیس صاحب آپ اس معاملے میں جو کچھ مدد اِن کو در کار ہو،بلا چون و چرا دیجیے گا۔

 

لوئیس نے فقط،ہاں،میں سر ہلانے پر اکتفا کی۔ کچھ دیر توقف کے بعد ولیم دوبارہ بولا،مَیں چار روز کے لیے چھٹی پر جا رہا ہوں۔ آج سے پانچویں روز واپس آؤں گا۔ آپ اِس عرصے میں اپنی تمام بریفنگ تیار کر لیں۔ مَیں نہیں جانتا،مجھے کتنے دن تحصیل جلال آباد میں کام کرنے کا موقع ملے گا لیکن میں چاہتا ہوں،جب یہاں سے جاؤں،لوگ خوشحال ہو چکے ہوں اور گورنمنٹ کا خراج بیس گنا زیادہ ہو چکا ہو۔ اِس گفتگو کے بعد ولیم نے میٹنگ کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔