Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بتیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(54)

اوکاڑہ تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کے آتے ہی کمپلیکس میں تبدیلیاں رونما ہو نے لگیں۔ یہ شہر منٹگمری کی سب سے بڑی تحصیل تھی،جو ایک طرف ہیڈ سلیمان کی تک پھیلی تھی،تودوسری طرف اِس کا رقبہ قادر آباد تک تھا۔ جبکہ شمال میں دریائے راوی تک چلی جاتی تھی۔ جتنا زیادہ اِس کا رقبہ تھا،اُسی قدر آبادی اور زرعی لحاظ سے پنجاب کی تمام تحصیلوں کی نسبت خو شحال بھی تھا۔ ہر طرف بہتی نہریں اور چلتے پانیوں میں لہلہاتی فصلیں بہار آباد کا منظر پیش کرتی تھیں۔ شہر کی حالت بھی اس کے مضافات کی طرح اپنی مثال آپ تھی۔ پورا شہر ایک منصوبہ بندی کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ ایسا نہیں کہ جس نے جہاں چاہا اپنا جھونپڑا کھڑا کر لیا بلکہ بڑی اور کھلی سڑکیں بچھا کر اُن کے درمیان ترتیب کے ساتھ بلاک بنائے گئے تھے۔ شہر کے درمیان ایک بڑا گول چوک تھا۔ جس کے چاروں طرف پیپلوں کے درخت لگا کر سائے کا انتظام کیا گیا۔ اِسی طرح پورے شہر میں بھی سڑکوں کے دونوں جانب ہزاروں درخت،پیپل،برگد،نیم،شیشم اور جامنوں کے لگائے تھے۔ اِن کے علاوہ کمپنی باغ،پہلوانوں کا باغ،سائیں گھوڑے شاہ کا تکیہ،اور تلج ہائی سکول کے باغات بھی اپنی مثال آپ تھے۔ اِن باغات اور پارکوں کے علاوہ شہر کے درمیان،شمال اور مضافات میں بہنے والی نہریں اور نہروں کے کناروں پر بے شمار درختوں نے اِس کے حسن کو مزید دوچند کر دیا تھا۔ شہر کی سڑکوں پر اِتنا سایہ تھا کہ اُن میں سے ایک سڑک کا نام ہی ٹھنڈی سڑک رکھ دیا گیا۔ اِسی طرح تحصیل کمپلیکس بھی درختوں کی چھاؤں میں ایسے ڈھانپاجا چکا تھا کہ دھوپ کا نام و نشان نہیں تھا۔ بلکہ لوگوں کو سردی میں بہت تنگی ہوتی تھی۔ سردیوں کے دنوں میں آنے والے سائلین کو دھوپ میں بیٹھنے کو جگہ نہ ملتی۔ اگرچہ اِس شہر کی بہت سی چیزیں پاکستان بننے کے بعد برباد ہو چکی تھیں اور شہر کی آب و تاب ویسی نہ رہی تھی،جیسی برٹش دور میں تھی۔ پھر بھی ہاتھی لٹے گا بھی تو کہاں تک۔ کالج،کئی سکول،ہاسپیٹلز،ڈاکخانے،تار گھر،بلدیہ کمیٹی،پریس کلب،ہوٹلز اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری بہت سے دفتر اب بھی انگریزی دور کی طرح فعال تھے۔ البتہ نہروں،سڑکوں اور پارکوں کے بہت سے درخت کٹ چکے تھے۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر اب بھی موجود تھے۔ شہر کی اِنہی خوبیوں کی بنا پر کئی افسروں کی بڑی حد تک خواہش رہتی کہ اُس کا تبادلہ اِس شہر میں ہو جائے اور اب یہ قرعہ مسٹر نواز الحق کے نام نکل آیا تھا۔
نواز الحق صاحب پینتیس سال کا ایک نوجوان،پتلے خدو خال کا اسسٹنٹ کمشنر تھا،جو اول اول نائب تحصیل دار بھرتی ہوا لیکن بہت جلد تحصیل دار،پھر وہاں سے اسسٹنٹ کمشنر بن گیا۔ جس کی شاید خود تو خواہش اوکاڑہ میں تعیناتی کی نہیں تھی لیکن یہ اُن افسروں میں تھا،جنہیں جہاں بھیج دیا جائے،وہ اپنی نوکری کو بلند زینوں تک لے جانے کے لیے وقت کو سمیٹ لیتے ہیں۔ ملک کے ننانوے فی صد افسروں کی یہی کیفیت تھی۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں ہوتی،کہاں جا کر کیا کام کرنا ضروری ہیں؟یا فلاں علاقے میں کون سے کام ترجیحاتی بنیادوں پر کرنے چاہییں؟ یا کام کرنا بھی چاہیے کہ نہیں؟ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ یہاں کون سے ذرائع ہو سکتے ہیں،جن کو استعمال کرنے سے اُس کی اپنی ترقی ہو۔ نوازالحق صاحب ویسے بھی اب ان کاموں کے سلسلے میں ایک مکمل افسر تھے۔ یہی نہیں،چلنے اور بیٹھنے اُٹھنے میں طمطراق افسروں کا ہی تھا بلکہ اُن سے بھی قدم بھر آگے تھے۔ مشکل ہی سے کسی کے ساتھ سلام کو ہاتھ آگے بڑھاتے۔

جو لوگ پہلے ہی با خبر تھے کہ مسٹر نواز الحق تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے آ رہے ہیں،وہ اُسی دن سے مٹھائی کے ڈبے اور مختلف تحائف کے ساتھ اُن کے گھر پہنچ گئے تھے۔ اُن کا مقصد صرف تحائف دینا یا اپنی اے سی آر بہترلکھوانا ہی نہیں تھا،بلکہ اُنہوں نے صاحب پر یہ بات پوری طرح واضح کر دی تھی کہ اُنہیں صرف اور صرف صاحب کی عزت اور ترقی عزیز ہے،جس کے لیے وہ خود اپنا مستقبل قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اِس مختصر سی ملاقات میں فرداً فرداًصاحب کو اِس بات سے آگاہ کرنا بھی نہیں بھولے تھے کہ فلاں شخص بڑامغرورہے،آپ کو سلام بھی نہیں کرنے آئے گا،فلاں چغل خور ہے،اُسے کبھی اپنے راز نہ بتایے گا۔ کیونکہ وہ بڑے افسروں کا مخبر ہے۔ فلاں شخص کو تو نزدیک بھی نہ آنے دیجیے،وہ بالکل بھی بھروسے کے قابل نہیں۔ آپ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر سکتا ہے۔ اُس کو منہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بلکہ ہو سکے،تو آپ اُسے دور دراز کے قصبے میں پھینک دیں۔ کام کرنے کے لیے ہم آپ کے پاس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو اِس بات سے بھی باخبر کرنا ضروری سمجھا کہ فلاں فلاں جگہ کی الاٹمنٹ ابھی ہونا باقی ہے۔ آپ وہ اپنے رشتہ داروں،دوستوں اور سسرال والوں کے لیے آسانی سے الاٹ کروا سکتے ہیں۔ اور جو زمین نہر کے ساتھ چک تمبو یا کلیانہ اسٹیٹ میں پڑی ہے،اُسے آپ کو اپنے نام کروانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ تحصیل کے مالک ہیں،اِس لیے ویسے بھی یہ آپ کا اپنا حق بنتا ہے۔

اب وہ اپنی کرسی پر بیٹھے تو نئی تقرریوں اور تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیااور نواز الحق صاحب نے واقعی اُن تمام خیرخواہوں کے تحائف اور وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے اُن کواپنے ارد گرد اکٹھا کر کے ایک حصار قائم کر لیا۔ اُن میں سب سے پیش پیش مولوی حبیب اللہ صاحب تھے،جو اُن کے بقول نواز الحق صاحب کے خاندان کے پرانے معتقد تھے۔ اُنہوں نے صاحب کو یہ تک بتا دیا تھا کہ نواز صاحب کے دادا مولانا کرامت علی خان سے اُن کے باپ اور نواز صاحب کے باپ محکمہ مال کے کارمدار مولانا جناب فضل دین خاں سے خود اُن کے قریبی مراسم رہے ہیں۔ بلکہ وہ اُن کے ہاتھ پر بیعت بھی رہا ہے۔ اِس طرح اُس کے خاندان کی پشتوں سے اُن کے اوپر نوازشات رہی ہیں اور یہ کہ حبیب اللہ کا خاندان ہمیشہ سے نواز صاحب کے خاندان کا نمک خوار رہا ہے اور اُن کی صاحب بہادری کا اول دن سے ہی گواہ اور قصیدہ خواں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے سب سے پہلے مولوی حبیب اللہ کو اپنا پی اے بنا کر،خاص اُنہی لوگوں کی لسٹ تیار کروائی،جنہوں نے اُسے تقرری کی خبر سنتے ہی پل پل کی خبریں دیں اور بُرے بھلے سے خبردار کیا۔ یہ تما م لوگ ویسے بھی اپنے کام میں ماہر،پڑھے لکھے اور تجربہ کار تھے اور تحصیل کے کام کو چلانے میں اُس کے لیے مفید ثابت ہو سکتے تھے۔ تمام لوگوں کو اُن کی خواہش کے مطابق متعلقہ جگہوں پر تعنیات کرنے کے بعد مولوی حبیب اللہ کو سب کام سونپ دیے۔ یہ انتخاب اُن کی ذہانت کی سراسر دلیل تھا۔ مولوی حبیب اللہ ایک تو باریش اور صوم وصلوات کے پابند تھے۔ حج بھی تین تین کیے تھے اور شریعت کی حدود قیود میں رہتے ہوئے ہر کام انجام دینے کے ماہر بھی تھے۔ مجال ہے،اُن کی فائل پر کوئی اعتراض کرے یا انگلی رکھے۔ ہر چند ہر ایک بکواس کرتا تھا کہ مولوی صاحب پرلے درجے کے بے ایمان اور چاپلوس شخص ہیں۔ لیکن نواز صاحب کو اُن میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی تھی۔ بلکہ وہ اِن کاموں سے ہٹ کر نواز صاحب کے خاندان کی دیرینہ شان و شوکت کا بھی گواہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سب اُس کے کام اور تجربے سے حسد کرتے تھے۔ اور یہ بات اُسی وقت مولوی حبیب اللہ نے نواز صاحب کو بتا دی تھی۔ اگر اُن میں ایسی ویسی کوئی با ت ہوتی تو پہلے آنے والے اسسٹنٹ کمشنروں میں کوئی تو اُس کے خلاف لکھتا۔ اِس کے بر عکس ہر ایک نے اُس کی اے سی آر کو مثالی قرار دیاتھا اور وہ ایک تیسرے درجے کے کلرک سے اتنی جلدی پندھرویں سکیل میں آ گیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ ان مولوی صاحب کے ہوتے ہوئے نواز صاحب کے پروٹوکول میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا۔ یہ نہیں کہ ہر ایرا غیرا منہ اُٹھائے اُن کے کمرے میں جب چاہے،گھسا چلا آئے۔ حبیب اللہ نے عوام تو ایک طرف،تمام تحصیل افسروں کو بھی اس بات کا پابند بنا دیا تھا کہ وہ جب تک کمشنر صاحب سے ایک یا دودن پہلے وقت نہ لیں،اُس وقت تک ملاقات نہیں ہو سکتی۔ رہا سائل،تو اُس کو صاحب سے ملنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اُسے جو کام ہے،اُس کے لیے وہ اپنے متعلقہ افسر سے رجوع کر ے۔ اسسٹنٹ کمشنر اسسٹنت کمشنر ہو تا ہے۔ وہ کوئی پٹواری تھوڑا ہوتا ہے،جو وارابندیوں کا رجسٹر کھول کے بیٹھ جائے۔ اِن معاملات سے یہ ہوا کہ ایک تو نواز صاحب سے کام کا بوجھ کم ہو گیا۔ دوسرا اُسے اپنے نجی کام اور سیرو شکار کا وقت بھی مل گیا اور دفتر قریب قریب مولوی حبیب اللہ نے سنبھال لیا۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ کام اپنی مرضی سے انجام دینے لگا تھا۔ فائلوں پر دستخط لیتے وقت صاحب کو ہر فائل کے متعلق پور ی بریفنگ دیتا کہ کوئی بات صاحب سے پوشیدہ نہ رہے۔ اِس طرح چار پانچ مہینے میں ہر کام اپنے آپ ہی سیدھا ہو گیا اور کسی کو شکایت کی گنجائش نہ مل سکی۔ یہ اُس کی انتظامی صلاحیتوں کی دلیل تھی۔ اِس کے علاوہ اوکاڑہ تحصیل کے تمام بڑے زمین داروں اور قوم قبیلے کے معتبروں،جو سیاست میں بھی مقام رکھتے تھے،اُن سب سے مولوی حبیب اللہ نے صاحب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ لوگ تھے،جو کسی بھی افسر کی مزید ترقی میں با وقار سیڑھی کا کام دے سکتے تھے۔ مولوی صاحب نے اِن تمام زمینداروں سے اُن کی حیثیت کے مطابق صاحب کی دوستی کروا دی تھی۔ بعض زمینداروں کو نا جائز طور پر بہت کچھ دینا پڑا لیکن یہ ایسا سودا تھا،جس میں گھاٹا کچھ نہیں تھا۔ کیونکہ خرچ تو عوام کا ہوتا ہے اور فائدہ افسر اور سیاستدان کا۔ اِس لیے نواز صاحب نے جو کچھ بھی اُن کو دیا تھا،وہ احسان کے ساتھ ساتھ نقصان کے بغیر تھا۔

اوکاڑہ تحصیل کمپلیکس لائلپور روڈ پر واقع تھا،جس کے ارد گرد سرکاری افسروں کے مکانات،کلرکوں کے کوارٹر اور ججوں کی چھوٹے لان والی کوٹھیاں تھیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کی کوٹھی بھی کافی اچھی تھی لیکن ججز کی کوٹھیاں اُن سے بہر حال بہتر تھیں۔ یہ تمام عمارتیں انگریزی دور کی اور نہایت آرام دہ تھیں۔ جن کے ارد گرد برگد،پیپل،شیشم اور دوسری قسم کے بے شمار درخت اِس طرح سایہ کیے رہتے کہ گرمی کے دنوں میں دھوپ کی ایک رمق بھی اُن پر نہیں پڑتی تھی۔ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے عین سامنے ستلج ہائی سکول اور اُس کے ساتھ ہی ایک وسیع و عریض تھان کے سلسلے سے بندھا ہوا اصطبل تھا،جو انگریزی دور کی طرح آباد تو نہ تھا،لیکن ابھی بھی اُس میں کئی عمدہ نسل کے گھوڑے اور خچر موجود تھے،جو افسروں کے بھی کام آتے۔ یہ اِس لیے بھی خالی ہو چلا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز،جو گھوڑوں کے شوقین ہوتے،وہ اصطبل کے عملے سے مل ملا کر کسی اچھے سے گھوڑے کو ناکارہ لکھوا کر سستے داموں مول لے لیتے۔ اِسی طرح گوگیرہ میں موجوداوکاڑہ مویشی فارم میں عمدہ قسم کی گائیں اور بھینسیں بھی انتہائی سستی ہتھیا نے لگے تھے،جو انگریزی دور میں انگریز ڈپٹی کمشنر بھی آسانی سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ نہروں پر جگہ جگہ ڈاک بنگلوں کو ناکارہ سمجھ کر موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ شائد اُن کی ضلعی یا تحصیل انتظامیہ کو ضرورت نہیں تھی،کیونکہ نہری افسروں کو شہروں سے باہر نکل کر رہنا گوارا نہیں تھا۔ اسسٹنٹ کمشنرصاحب کی کوٹھی بھی ٹھنڈی سڑک پر آفیسر کالونی میں سب سے نمایاں تھیَ جہاں اب زیادہ تر بڑے زمینداروں کا آنا جاناتھا۔ اُنہی کے ساتھ وہ اکثر سیر کو نکل جاتے۔ اِن سیاستدانوں میں نواز صاحب کے ایک دوست شمس الحق گیلانی تھے۔ یہ شاہ صاحب حجرہ شاہ مقیم کے ایک رئیس خاندان کے فرد تھے۔ یہ وہ خاندان تھا،جس کا ملک کی سیاست میں بڑا اہم کردارتھا اور علاقے میں اُن کی طاقت کا لوہا سب مانتے تھے۔ بڑی زمینداری کے علاوہ اِن کے لاکھوں مرید پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے،جو پیر صاحب کے ایک اشا رے پر کٹ مرنے کو تیار رہتے۔ نواز صاحب اِن کی بہت عزت کرتے تھے اور اُنہوں نے ہدایت کی تھی کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں،شمس صاحب کا کوئی بھی پیغام آئے تو اُنہیں ضرور خبردار کیا جائے۔ ویسے بھی اِن نزاکتوں کو مولوی حبیب اللہ خوب سمجھتا تھا۔ بلکہ اِن چیزوں کے بارے میں اُسے نواز صاحب سے بھی زیادہ درک تھا۔

آج نواز صاحب اپنے دفتر میں آ کر بیٹھے ہی تھے کہ حبیب اللہ نے اطلاع دی،شمس صاحب تشریف لائے ہیں۔ نواز صاحب نے اُنہیں فوراً اندر بلا یااور دفتر سے منسلک ملاقات کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر کی گپ شپ کے بعد شمس الحق گیلانی نے اپنے مطلب کی طرف آتے ہوئے بات کا آغاز کیا،نواز صاحب آپ ہمارے لیے ایک کام کر دیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔

شاہ صاحب اگر مَیں آپ کے کسی کام آنے کا ہوا تو یہ میری خوش نصیبی کی بات ہے۔ آپ ہی تو ہماری دنیا اور آخرت ہیں۔ کام بتا یے؟

شمس صاحب نے اپنا سگریٹ ایش ٹرے کے کونے میں پھنسایا اور دیوار پر لگی سامنے قائد اعظم کی تصویر پر نظریں جماتے ہوئے بولے،نواز صاحب،پاکستان میں حکومت یا تو فوج کی ہے یا سرکاری افسروں کی۔ اِس لیے کام تو آپ کر سکتے ہیں،پھر یہ کوئی ناجائز کام بھی نہیں ہے۔

شمس صاحب آپ بجھارتیں کیوں بھجواتے ہیں۔ میری دسترس سے باہر بھی ہوا تو آپ کی خاطر کر کے ہی دم لیں گے۔ چاہے مجھے چیف سیکرٹر ی صاحب کے پاؤں پکڑنے پڑے۔
کمشنر صاحب،آپ کے اِس بڑی نہر کے دوسری طرف ایک نو لکھی کوٹھی خالی پڑی ہے،جس کے ساتھ کچھ زمین بھی ہے۔ اِس اسٹیٹ کی اکثر زمین تو فوجیوں کو الاٹ ہو چکی ہے۔ لیکن کوٹھی ابھی تک کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ آپ کسی طرح سے اُسے میرے نام کروا دیں۔ جو خرچہ ہوا،مَیں دینے کو تیا ر ہوں۔

نواز الحق کچھ دیر خموش بیٹھا سوچتا رہا پھر بولا،پیرصاحب،اُس کوٹھی میں ایسی کون سی بات ہے؟ بہر حال وہ خالی ہے توآپ فکر نہ کریں،مَیں اُسے آپ کے نام کروا دیتا ہوں۔ مَیں نے کوئی زیادہ اُس کے متعلق تحقیق تو نہیں کی لیکن سنا ہے،بہت بڑی کوٹھی ہے۔ میرا خیال ہے،اب کافی پُرانی ہو چکی ہے۔ شاید آپ کے لیے بے کار ہو۔

نواز صاحب،وہاں ایک بڈھا انگریز رہتا ہے۔ یہ کوٹھی اُسی کے باپ دادا نے وکٹوریہ دور میں بنوائی تھی،شمس الحق نے وضاحت کی،یہ واپس نہیں گیا۔ آج بھی اپنے آْپ کو کمشنر سمجھتا ہے۔

آپ کہیں گے تو اُسے اُٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں اور آپ وہاں اپنا بندوبست کر لیں۔ مگر آپ لاہور کو چھوڑ کر وہاں اتنی پرانی کوٹھی میں کیوں رہیں گے؟

شمس الحق نے دوبارہ سیگریٹ سُلگایا اور بولا،نواز صاحب،آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ ہمیں سیاست کرنی ہوتی ہے۔ وہ رہنے کے لیے تھوڑی الاٹ کروانی ہے؟وہاں ہمارے مال مویشی ہوں گے یا کچھ نوکر رہیں گے۔ کبھی کبھی ہم بھی وہاں آجایا کریں گے۔ اِس طرح علاقے میں وجود برقرار رہتا ہے۔ پھر اِن پرانی کوٹھیوں اور بنگلوں کی اپنی ایک دہشت اور اہمیت ہوتی ہے۔ آپ اِن باتوں کو چھوڑیں،ہمارا کام کریں بس۔

نواز الحق نے گرم جوشی سے اِس کام کی حامی بھرتے ہوئے انٹر کام پر حبیب اللہ کو طلب کیا۔ جب وہ کمرے میں کاغذقلم لے کر ایک طرف کھڑا ہو گیا،تو نواز صاحب نے بڑی محبت سے کہا،مولوی صاحب ستگھرہ روڈ پر ایک نولکھی کوٹھی ہے۔ آپ ذرا اُس کی تمام معلومات جمع کیجیے۔ وہ ہم نے پیر صاحب کے نام الاٹ کروانی ہے۔ شائد اِس میں ہماری آخرت کا ہی کچھ بھلا ہو جائے۔

سر،میں ابھی تمام ریکارڈ منگوا لیتا ہوں ( پیر شمس الحق صاحب کی طرف منہ کر کے حبیب اللہ انتہائی چاپلوسی سے )پیر صاحب،ویسے وہ کوٹھی آپ ہی کے لائق ہے۔ وہاں ایک بُڈھے انگریز کی وجہ سے نحوست پھیلی ہوئی ہے۔ پتا نہیں ابھی تک یہاں کیا کرتا پھر رہا ہے؟( ہنستے ہوئے ) بھلا بندہ پوچھے،تم نے یہاں سے امب لینے ہیں،جو ابھی تک اٹکے ہوئے ہو؟ اور پورے علاقے میں اپنے ناپاک قدموں سے مٹی پلید کرتے پھرتے ہو۔ سر،مجھے اُدھر ایک دو دفعہ جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ مَیں نے وہاں جب تک رہا،نماز بھی نہیں پڑھی کہ نجانے کس جگہ اُس نے پیشاب کیا ہو۔ آپ جتنی جلدی ہو سکے،وہ کوٹھی اُس منحوس بڈھے سے خالی کروا لیں۔ ہمارے شاہ صاحب کے قدم لگنے سے وہاں مٹی تو پاک ہو گی۔

حبیب اللہ کی بات سن کر دونوں ہنس پڑے۔ پھر نواز صاحب بولے،مولوی صاحب،آپ جس قدر جلد یہ کام مکمل کریں گے،ہم آپ کی خواہش اِتنی ہی جلدی پوری کر دیں گے۔ آپ ایک ہفتے کے اندر اِس کیس کی فائل تیار کر کے مجھ تک پہنچاؤ۔ ریوینیو بورڈ سے یہ فائل مَیں خودنکلوا لوں گا۔ بس آپ اس پر کام کریں۔

نواز صاحب کی بات سن کر مولوی حبیب اللہ باہر نکل گیا۔ پھر وہ دونوں باتیں کرنے لگے اور یہ ملاقات اتنی لمبی ہو گئی کہ ایک بجے کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ اِس عرصے میں جتنے لوگوں سے نواز صاحب کی ملاقات کا وقت مقرر تھا،اُنہیں مولوی حبیب اللہ یہ کہ کر ٹالتا گیا کہ آج صاحب کی اندر بہت اہم میٹنگ چل رہی ہے۔ اِس لیے باہر انتظار کریں بلکہ بہتر یہ ہے کہ کل آ جائیں۔

ایک بجے کا کھانا اسسٹنٹ کمشنر مسٹر نواز الحق کے ساتھ کھانے کے بعد سید شمس الحق گیلانی صاحب رخصت ہونے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کمشنر صاحب اُنہیں گاڑی تک باہر چھوڑنے آئے۔ گاڑی چلنے لگی تو نواز صاحب نے ہنستے ہوئے پیر صاحب سے کہا،سر اِس خادم کا بھی خیال رکھا کریں۔ آخر کب تک اسسٹنٹ کمشنر ی کرتا پھروں گا۔ آپ کی سلطنت میں کم از کم مجھے ڈپٹی کمشنر تو ہونا ہی چاہیے،ایک دفعہ بس ایک درجہ اور اُوپر لے جایے۔ پھر دیکھیے نوکر کس طرح اپنے شاہ صاحب کی خدمت کرتا ہے۔

شمس الحق نواز صاحب کی اِس بات پر مسکرا دیا۔ اُسے خوب علم تھا،اسسٹنٹ کمشنر نوازالحق نے اِس کام کے عوض اپنی ترقی کی سفارش کا معاوضہ طلب کیا ہے۔ شاہ صاحب کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ اُس نے جواب میں کہا،نواز صاحب،آپ فکر نہ کریں والدین کو اپنی اولاد کی ضروریات کا بخوبی احساس ہوتا ہے۔ بس اولاد فر مانبردار ہونی چاہیے۔ اِس کے بعد گیلانی صاحب کی گاڑی آہستہ سے آگے بڑھ گئی۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اکتسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(52)

نواز الحق مولانا فضل دین کی امیدوں پر اس طرح پورا اُتر رہا تھا کہ اِتنی توقع اُسے بھی نہیں تھی۔ لڑکا ایسا ذہین اور لائق نکلا کہ باپ دادا کے بھی کان کاٹنے لگا۔ بڑے بڑے جاگیرداروں،فوجیوں اور افسروں کے بیٹے اُس نے دوست بنالیے۔ اُنہی کی صحبت میں دن رات گزارنے سے اُسے وہ تمام معلومات اور طریقے حاصل ہو گئے تھے،جو سول سروس کا زینہ تھے اور خاندان کی کایا کلپ کر دینے کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے تھے۔ اِس کے علاوہ انگلش،عربی،فارسی،تا ریخ،غرض ہر شعبے میں کچھ نہ کچھ سُدھ بدھ حاصل کر لی تھی۔ لباس اور بات چیت میں بھی اِتنی نفاست پیدا کر لی کہ موقع کی مناسبت سے تمام جگہ اپنے آپ کو فِٹ کر لیتا۔ عربی اور اور فارسی کی لیاقت نے اُس کے اندر شعر سے لُطف لینے کا مادہ بھی پیدا کر دیا۔ لیکن یہ مادہ تھوڑا بہت شعر کو سُن کر،یا پڑھ کر یاد کر لینے کی حد تک تھا۔ شعر کی فنی جمالیات کو سمجھنے یا خود کسی مشق میں پڑنے کی اہلیت نہیں تھی۔ یہ بات بھی اُس کو کسی نے سمجھا دی تھی کہ پاکستان میں سول سروس کی نوکری حاصل کرنے کے لیے بندے کو تین چیزوں میں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک اُسے تھوڑا بہت اقبال کی شاعری اور اُس کی زندگی کے نیک نیک حالات ازبر ہوں۔ دوسرا انگریزی بول چال کی مہارت حاصل ہو اور تیسری اہم بات یہ کہ اپنے باس کی چاپلوسی کرنے کی تر بیت میں نُقص نہ ہو۔ اگر اِن میں انسان طاق ہو تو نوکری ملنے کے بعد اُس کی ترقی میں خدا بھی رکاوٹ کھڑی نہیں کر سکتا۔ بندہ اِس طرح بائیس سکیل کے زینے طے کرتا ہے،جیسے گہری نیند سوئے ہوئے پر صبح آجاتی ہے۔ نوازلحق نے اِن تینوں مضامین میں اپنی استعداد کو اِتنا بڑھایا کہ ایک تو اقبال کا ستر فی صد کلام اُسے یاد ہو گیا،دوم وہ انگریزی کو ایسے چاٹنے لگا کہ بعض اوقات اُس پر انگریز ہونے کا شبہ ہوتا۔ وہ تو غنیمت تھی رنگ زیادہ صاف نہ تھا۔ سوم افسر کی بات سے اتفاق کرنے کا ملکہ حاصل ہو گیا۔ نتیجہ یہ کہ نوازلحق پنجاب سول سروس کا امتحان پاس کر کے ڈائریکٹ نائب تحصیل دار بھرتی ہوگیا۔ لیکن اس پر وہ مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں گیا۔ بلکہ مزید ترقی کے لیے کوشاں رہا۔ جس میں اُس نے مولانا فضل دین کی جمع کی گئی بے شمار دولت کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ لاہور میں کوئی افسر ہو گا،جس کے ساتھ اُس نے تعلقات قائم نہیں کیے اور اُسے تحفے تحائف نہیں بھیجے۔ وہ اِس معاملے میں اپنے افسران کا اِس قدر وفادار تھا کہ اُن کی بیویوں تک سے ذاتی مراسم قائم کر لیے۔ کوئی نوازلحق صاحب کی بڑی بہن بن گئی اور کو ئی خالہ ہوگئی۔ کوئی اُس کے دوست کی والدہ تھی۔ اِس لحاظ سے نواز صاحب کی بھی والدہ بن گئی۔ اِن رشتوں کے بن جانے کی وجہ سے نواز کو عید بقر عید اور سالگرہوں پر تحفے بھی دینے ہوتے تھے اور وہ دل کھول کر دیتا۔ خاص کر اُسے یہ پتا چل گیا تھا کہ عورت ذات سونے کی بڑی لالچی ہوتی ہے۔ اِس لیے وہ جو بھی تحفہ دیتا،سونے ہی کا ہوتا۔ کیونکہ سونے کے بغیر چاہے ہزاروں تحفے ہوں،لوگ بھول جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسی دھات ہے،جس کا تحفہ ایک تو لینے والے کو احسان مند کر دیتا ہے اور دوسرا عمر بھر نہ لینے والے کو بھولتا ہے اور نہ دینے والے کو۔ اِس کے علاوہ جب ضرورت ہوتی،سودا سلف بھی خود بخود گھر بھجوا دیتا۔ اِن اطاعت شعاریوں سے یہ ہوا کہ کسی افسر کی جرات نہ ہوتی تھی،وہ نوازلحق کی اے،سی آر میں،اُس کے کردار اور کام کی پاکدامنی کی گواہی نہ ثبت کرے۔ اپنے باس کے گھر روزانہ جا کر اُن کی ضروریات کی خبر لے کر اُنہیں پورا کرنا تو نواز صاحب نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا۔ یہ فرض شناسی اِس حد تک تھی کہ ایک دن جب کمشنر صاحب کو ہلکا سا نزلہ ہوگیا تو نواز صاحب کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی۔ آپ اُس کی تیمارداری میں اِس طرح مگن ہو ئے کہ تین دن تک اپنے گھر نہیں آئے۔ وہیں اُن کی کوٹھی کے سرونٹ کوارٹر میں رہنے لگے۔ اگرچہ صاحب نے بہت کہا،کوئی بات نہیں نواز صاحب،آپ گھر چلے جائیں،مَیں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ لیکن یہ نہیں مانے،کہ جانے کب ضرورت پڑ جائے،پھر خدا نخواستہ آنے میں دیر ہوگئی تو آپ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اِسی فرض شناسی کی وجہ سے اُس کے دفتر والے نواز صاحب کا مذاق بھی اُڑاتے۔ ایک دن میٹنگ کے دوران جب کئی ماتحت بھی بیٹھے تھے،صاحب کا چھوٹا بیٹا ساتھ والی کرسی پر بیٹھا کھیل رہا تھا۔ اُس نے وہیں بیٹھے پیشاب کر دیا۔ نواز صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اُس کو غسل خانے میں لے جا کر پانی سے صاف کیا اور اُس کا پیشاب دھویا،جس کی وجہ سے اُس کا مذاق اُڑایا گیا۔ لیکن اُنہوں نے اِن احمقوں کی ذرا پروا نہیں کی اور سب نے دیکھا،انہی خدمت گزاریوں کی وجہ سے وہ صرف دو سال میں ہی تحصیل دار ہو گیا۔ جبکہ ساتھ والے،جو ذرا خدمت گزاری میں کم تھے،ابھی تک اُنہی بوسیدہ میزوں پر بیٹھے مکھیاں مار رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اُنہیں یہ کلیہ بھی کسی نے سمجھا دیا تھا کہ ریٹائرڈ افسر مردہ گھوڑے سے زیادہ اہم نہیں ہوتا۔ اِس لیے جتنی جلدی ہو سکے،اُس پر مٹی ڈال دینی چاہیے۔ کیونکہ جو وقت کو ضائع کرتا ہے،وقت اُسے ضا ئع کر دیتا ہے۔ ریٹائرڈ افسر کی بات ماننا یا اُسے ملنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے کبھی پلٹ کر بھی ایسے لوگوں کی طرف نہیں دیکھا تھا،جو سرکاری نوکری سے فارغ ہو چکے تھے۔

اُن کے تحصیل دار بننے کے کچھ عرصے بعد ملک میں فوج کی حکومت آگئی۔ نواز صاحب اُن دنوں خوش قسمتی سے ضلع راولپنڈی کے محکمہ مال میں تھے۔ یہ حکومت ہر لحاظ سے شرعی کہی جا سکتی تھی۔ تمام سزائیں شرعی ہو گئی تھیں۔ لباس شرعی ہو گیا۔ ٹوپیاں،تسبیاں،لوٹے اور چٹائیوں کی قیمتیں شریعت کے مطابق بڑھ گئیں۔ شلواریں گھٹنوں سے اُوپر۔ حتیٰ کہ سر کے بال اورڈارھیاں شرعیت کے مطابق ڈھل گئیں۔ گاؤں گاؤں میں مولویوں کے وظائف مقرر کر دیے گئے اور اُنہیں خطبے لکھے لکھائے آنے لگے تاکہ کسی بھی مولوی کو دماغ پر زور دینے کی زحمت نہ پڑے۔ ہزاروں چوہڑے بطور جلاد بھرتی کیے گئے،پھر بھی کوڑے مارنے والے کم پڑ جاتے تھے۔ عوام کا نماز روزے کی طرف اِتنا رجحان ہو گیا کہ سر زمین جنت نشان ہو گئی۔ ہر طرف امن و امان کی فضاقائم ہو گئی۔ تبلیغی مرکزوں میں،جہاں کبھی ویرانی ہونکتی تھی،اب کھوے سے کھوا چھلنے لگا۔ عدل انصاف کا اِس قدر بول بالا ہو ا کہ جرم کے شبے کی بنا پر بھی سزائے موت دی جانے لگی۔ اور اِس معاملے میں اتنی احتیاط تھی کہ چاہے مجرم وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو،تختے پر چڑھا دیا جاتا۔ دراصل عدالتوں نے پتا چلا لیا تھاکہ سوائے فوجی اور ایک خاص مکتبہ فکر کے مولوی کے،باقی لوگ کافر اور غدار ہیں۔ تمام بدعتی مذاہب اور مسالک کا قلعہ قمع کرنے کی ٹھان لی گئی اور صحابہ کے سچے پیرو کاروں اور خفیہ اداروں کو اجتماعی طور پر پورے اختیار دے دیے گئے کہ وہ آسانی سے نشاۃ اسلامیہ کے دشمنوں کی سرکوبی کر سکیں۔ یہی وہ دن تھے،جب نوازلحق صاحب پر صحیح دین کی سمجھ اور فوجی حکومت کی برکتوں کے پے بہ پے انکشافات ہوئے۔ اُنہوں نے نہ صرف خود،بلکہ لوگوں کی بھی اِس امر کی طرف توجہ دلانی شروع کر دی کہ امیرالمومنین جنرل صاحب اللہ کے ولی اور مجدد دین ہیں۔ اُن کے حکم کی سرتابی خدا سے بغاوت کے مترادف ہے اور یہ کہ جمہوریت مغرب کا پراپیگنڈہ ہے۔ اسلام ایسی کسی حکومت کو جائز قرار نہیں دیتا جس کی بنیاد غیر مذہبوں نے رکھی ہو۔ اُنہوں نے علی الاعلان یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ رافضی اور خانقاہی نظامِ،دین میں فساد کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ اُنہیں بالکل ختم کر دینا چاہیے۔ اِس عرصے میں نواز صاحب نے اپنی ڈاڑھی مزید بڑھا لی اور رضا کارانہ طور پر دفتر میں کام کرنے والوں کو نماز پڑھانے کے ساتھ دین کی صحیح سمجھ بوجھ دینا بھی شروع کر دی۔ جس کی اُس وقت اُن لوگوں کو سخت ضرورت تھی۔ جو آدمی نماز پڑھنے نہ آتا،اُسے دفتری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا نام دے کر وارننگ لیٹر جاری کرنے کا اہتمام بھی ہونے لگا۔ اِس میں بھی نواز صاحب سب سے زیادہ پیش پیش تھے۔ اِس کے ساتھ ہی فوجیوں سے مراسم اور لاہور کی نہایت شریف فیملی،جس پر جنرل صاحب کی برکات بے پایاں تھیں،کے درِ دولت پر دن رات حاضری کو اپنا ایمان اور کعبہ کی زیارت کے مترادف جان لیا۔ اور اُن نامرادوں کے نام اور کوائف دینے لگا،جو سرکاری یا غیر سرکار ی سطح پر فوج یا اسلام کے خلاف بات کرتے پائے جاتے تھے۔ نواز صاحب میں اِن سب خوبیوں اور اسلام کے سچے عاشق ہونے کی وجہ سے،یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ حساس اداروں کی نظرسے اُس کی وفادار ی اُوجھل رہ جاتی۔ بالآخر اُس کا نام اُن افراد کی فہرست میں شامل ہو گیا،جنہیں بلا شبہ غیر مشروطی طور پر حکومت کے وفاداروں میں شمار کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اُسی شریف فیملی کی غلام گردشوں میں پھرتے نواز صاحب نے اپنی ترقی کے ایک اور زینے کی راہ دیکھ لی۔ بالآخر پنجاب کی وزارت ِ خزانہ کی سفارش سے انُیس سو بیاسی میں اُس کی اسسٹنٹ کمشنری کے آڈر جاری ہو گئے۔ اُنہیں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جھنگ شہر کی افسری کا پروانہ دے دیا گیا،جہاں دیگر کاموں کے ساتھ بعض مسالک اور اُن کے عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا تھیں۔

(53)

اُنیس سو تراسی کاآدھا اکتوبر گزر چکا تھا۔ پنجاب میں اکتوبر کا مہینہ موسم کی کیفیت کو اِس قدر معمول پر لے آتا ہے کہ اُس وقت گرمی گرمی نہیں رہتی اور سردی ابھی تک نومبر کے پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ اُس وقت نہ تو گرمی تھی ہے اور نہ سردی۔ اِس ٹھہرے ہوئے موسم میں اُداس کر دینے والی ایسی خموش کیفیت تھی،جس کو بیان کرنے کی قدرت نہیں۔ یہ موسم بہار کانہیں ہوتا۔ لیکن اُس سے کہیں زیادہ طبیعت کو راس آنے والا ہوتا ہے۔ بہار ہر چیز میں ایک قسم کاہلکا سا شور،تحرک اور چہچہاہٹ پیدا کر دیتی ہے۔ حتیٰ کہ خوشبوئیں بھی بولتی ہیں۔ اِس کے بر عکس اکتوبر کے درمیان سے لے کر نومبر کے ابتدائی دس دنوں میں ہر شے خموش،چپ اور ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جس میں پوری فضا پر اُداس کر دینے والے غمگین سائے چھا جاتے ہیں۔ موسم کی اِن چپ چاپ سفیدیوں میں انسان بھی افسردہ ہو جاتا ہے۔ ماضی کی گونج عام حالات کی نسبت زیادہ سنائی دیتی ہے اور آج کل یہی کیفیت ولیم کی تھی۔ وہ اوکاڑہ کے مضافات اور نہری کوٹھی کے جامنوں،پھولوں اور گوگیرہ کی بستیوں میں اکیلا گھومتے پھرنے کے ساتھ ماضی کے ورقوں کو پرتالتا جاتا اور اُن میں لکھے افسانوں کی سطر یں بغور پڑھتا،مکرر پڑھتا،سہ بار پڑھتا،بار بار پڑھتا۔ روپے اُس کے پاس کم ہوتے جا رہے تھے۔ بلکہ اِس تیزی سے کم ہو رہے تھے،جیسے عمر کی منزلیں سمٹتی جا رہی تھیں۔ یوں بھی اُس کی عمر بہتر سال ہو چکی تھی لیکن کمر ابھی تک جھکی نہیں تھی،جیسا کہ عام اور مقامی ہندوستانیوں کے بوڑھے ہونے پر جھک جاتی ہیں۔ پاکستان کی بیوروکریسی سے اب اُسے کوئی سروکار نہیں تھا۔ سیاسی حالات کیا ہیں،؟ لوگوں کے رویے کتنے بدل چکے ہیں یا بیرونی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟برطانیہ امریکہ یا دوسرے مغربی ممالک کی کیا صورت ہے؟ ولیم اِس سب کچھ سے اس طرح بیگانہ ہو چکا تھا،جیسے اِن چیزوں کا وجود اساطیری دنیا میں ہو۔ جہاں صرف کہانیا ں جا سکتی تھیں۔ البتہ اوکاڑہ کے کیتھلک چرچ میں اتوار کے اتوار اُس کی حاضری اب لازمی ہو گئی تھی۔ یہ چرچ اُس کے دادا نے اپنے خرچے سے بنوایا تھا۔ جہاں یہ چرچ موجود تھا،اُس کے سامنے والے بازار کا نام بھی چرچ بازار رکھ دیا گیا تھا،جو ابھی تک اُسی نام سے تھا۔ یہ بازار جنوب کی طرف سے ریلوے پھاٹک نمبر دو سے لے کر سرور سوڈا چوک کو کراس کرتا ہوا شمال میں کمپنی باغ کے جنوب مشرقی کونے تک چلا جاتا تھا۔ ولیم اِس چرچ میں عبادت سے زیادہ اُن لوگوں کی پُرسش کے لیے جاتا،جن کے لیے خداوند خدا چرچ کی لال اینٹوں میں پھنسا ہوا ایک بے بس صلیب کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ جو دنیا میں تو اِن کالے عیسائیوں کے کچھ کام نہیں آ سکتا تھا۔ اگر کوئی آخرت تھی،تو وہاں ان کالوں کے لیے دودھ کی سفید نہروں اور میوہ کے باغوں کی دستیابی کا ذمہ دار تھا۔

آج وہ اسی اداس کر دینے والی فضا میں اتنا بوجھل ہو چکا تھا،جس میں دل کو سنبھال لینا ایرے غیرے کا کام نہیں تھا۔ ولیم کمرے سے نکل کر کوٹھی کے صحن میں آیا اور سامنے والی اُسی بنچ پر بیٹھ گیا،جس کو اس صحن میں لگے اب ساٹھ برس گزر چکے تھے۔ یہ کرسی ولیم کے دن رات بیٹھنے سے اِتنی چمکدار ہو گئی تھی کہ پالش کا گمان ہو تا۔ پرندے اِدھر اُدھر اڑے جاتے تھے،اگر کوئی چہچہا بھی رہا تھا،تو اُس کی چونچ ہلتی نظر آتی تھی مگر آواز سنائی نہ دیتی۔ سامنے کا پیپل بھی بالکل خموش اور حیرانی کی حالت میں تھا،جیسے ولیم کی تنہائی پر نوحہ کناں ہو۔ اُسے آنے والے لمحوں کا پتا چل چکا تھا۔ کبھی ایک آدھ چڑیا اُس کے پاس سے اُڑ کر نکل جاتی،پھر دورتک کھیتوں میں،کبھی ایک جگہ پر،کبھی دوسری جگہ پھدکتی ہوئی بیٹھتی۔ پھر اُسی طرح نظروں سے اوجھل ہو جاتی۔ ولیم کو جب کافی دیر اِسی حالت میں گزرگئی تو وہ اُٹھ کر دوبارہ کوٹھی میں چلا گیا اور اپنے بیڈ روم میں جا کر پُرانے سامان کو ٹٹولنے لگا،جو اَب زیادہ نہیں رہ گیا تھا۔ چندچیزیں تھیں،جو کیتھی کے ہاتھوں سے یا تحفہ دینے سے بچ گئی تھیں۔ یہ چیزیں بازار میں قیمت تو نہیں رکھتی تھیں لیکن ولیم کے لیے بہت زیادہ اہم تھیں۔ اِن میں ولیم کے دوستوں کی کچھ تصویریں،ولیم کے بچوں کی تصویریں،اُس کے ذاتی کاغذات،ملازمت کے دنوں کی فوٹو گراف،قلم،پینٹنگز،ایشلے کی شاعری کے کچھ مسودات،بے شمار کتابیں اور اِسی طرح کی یادگاریں تھیں۔ چیزوں کو دیکھتے ہوئے ولیم کے ہاتھ میں ایک ایسا کاغذ لگا،جو اُس کی اپنی ہینڈرائیٹنگ میں تھا۔ وہ ایشلے کی ایک نظم تھی،جو اُسے بہت پسند تھی۔ ولیم نے اپنے ہاتھ سے اُسے لکھ لیا تھا۔ نظم دیکھ کر ولیم کو ایشلے کی شدت سے یاد آنے لگی،جس کے مرنے کی اطلاع اُسے دس سال پہلے مل چکی تھی۔ وہ اُس کے مرنے کی خبر سُن کر اُس وقت بھی بہت افسردہ ہوا تھا اور بہت دنوں تک اپنے حواس میں نہ ر ہا تھا۔ جب کاغذات سے وہ نظم سامنے آئی تو ولیم کی آنکھوں میں پھر آنسووں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ وہ نظم لے کر اُسی بیڈ پر لیٹ گیا اور اُسے اپنے سینے پر رکھ کرآہستہ آہستہ نظم کو پڑھنے لگا اورگزری ہوئی ساعتیں یاد کر کے رونے لگا۔

نظم
کیا تم ایسی دھوپ دیکھنا چاہو گے
جو چمکتی ہے جلاتی نہیں
نہ اس کی روشنی میں آنکھیں چندھیاتی ہیں
نہ سفید عورتیں عرق آلود ہوتی ہیں
وہ دھوپ نومبر کی خاموش وادی میں ہے
نومبر کی دھوپ کو دیکھ سکتے ہو
نرم لباس کی طرح محسوس کر سکتے ہو
اُس میں تلخی نہیں
موت کے نزدیک لے جانے والی اُداسی ہے
اُداسی کو تم چھو نہیں سکتے
نہ فریب دے سکتے ہو
نہ اس سے بھاگ سکتے ہو
یہ ہجوم میں تنہا کر دیتی ہے
کیا پچھلے برس کا نومبر اُداس نہیں تھا؟
نومبر ہمیشہ اُداس ہوتا ہے
رُکا ہوا،مطمئن اور بے نیاز
اِس کی وادی میں صبح ہوتی ہے،دوپہر،سہ پہر
پھر شام آجاتی ہے
مگر دھوپ کا مزاج نہیں بدلتا
آسمان کی طرح پُر وقار بزرگی والا
زندگی نومبر کی طرح نہیں
زندگی بدلتی ہے،متواتر بدلتی ہے
وہ تجھے نومبر میں نہیں رہنے دے گی
دھوپ غبار آلود ہو جائے گی
صاف نظر آنے والی چیزیں دُھندلا جائیں گی
پھر سیاہ ہو جائیں گی
پھر اندھیرا کھا جائے گا
اُس وقت،جب میں نہیں ہوں گا
دوست کوشش کرنا،نومبر نہ گزرے
مگر یہ وہ کوشش ہے جس کا حاصل خسارا ہے
ولیم بار بار نظم پڑھتا رہا اور پرانے بیڈ کے بوسیدہ مگر صاف بسترپر لیٹا آنسووں کی بارش روکنے کی کوشش کرتارہا۔ اسی حالت میں وہ سو گیا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(51)

یہ انیس سو پچھتر کے دسمبر کا آغاز تھا اور ملک کو وجود میں آئے اٹھائیس سال ہو گئے تھے۔ اِس عرصے میں ولیم مقامی لوگوں میں اِس طرح گھل مل گیا کہ رنگ اور آنکھوں کے سوا اُس میں ولائتیوں کی کوئی حرکت نہ رہی۔ اردو پہلے بھی روانی سے بول لیتا تھا،اب پنجابی میں بھی خاصا ہاتھ صاف کر لیتا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مرغے لڑانے،کبڈی کروانے اور قصے کہانیاں سننے کا شوق حدسے آگے نکل گیا۔ آئے دن نولکھی کوٹھی پر محفلیں جمنے لگیں۔ ولیم کے جاننے والے عشا کے بعد جمع ہو جاتے۔ کوئی نہ کوئی کہانی کہتا،جس میں رات کے گیارہ بج جاتے۔ محفل کے بعد ولیم کی طرف سے سب کو کبھی کھانا کھلایا جاتا اور کبھی صرف چائے پلائی جاتی۔ سب جانتے تھے،اُس کے پاس پیسے بہت زیادہ ہیں۔ اِس لیے وہ اُس کا احترام بھی ویسے ہی کرتے۔ مگر یہ سب لوگ غریب غربا اورمزارع قسم کے تھے۔ بیورو کریسی اور اُمرا کو ولیم نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ بلکہ اُن کو اب ولیم کے بارے میں پتا بھی نہیں تھا کہ ایسا کوئی انگریز بھی یہاں موجود ہے۔ اِس معاملے میں اشرافیہ تو ایک طرف،مدت ہوئی،اُس کے اپنے بیوی بچوں نے بھی اُسے بالکل بھلا دیا تھا۔ پہلے پہل اُنہوں نے دو تین چکر لگائے اور ولیم کو بھی سرسری انگلستان جانے کا مشورہ دیا لیکن جب ولیم نے سختی سے اِس بات کو رد کر دیا تو وہ بھی آہستہ آہستہ اُسے بھولنے لگے اور اب نوبت یہاں تک آگئی کہ ولیم کے خطوں کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔ ایک آدھ بارجواب دیا بھی،تو وہ ایک دو سطر میں ایسا سرسری تھا،جسے خط کے نام پر مذاق کہہ لینا چاہیے۔ اُس کے بعد مکمل خا موشی طاری ہو گئی تھی۔ اُنہوں نے گھر بدل لیا تھا تو اُس کا پتا بھی نہیں بتایا اور پچھلے چھ سال سے ولیم کے کسی خط کا جواب بھی نہ دیا،نہ ٹیلی فون ہی کیا۔ بہت سے پرانے دوستوں کی وساطت سے ولیم نے اُن کا پتا بھی کرایا مگر کچھ خبر نہ ملی۔ ویسے بھی دوستوں نے اِس بارے میں زیادہ کھوج لگانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ولیم نے اُنہیں زیادہ تنگ کیا۔ کیونکہ اب یہ بھی اُن کے بغیر اِس طرح رہنے کا عادی ہو چکا تھا،جیسے اُس کا کوئی رشتے دارتھا ہی نہیں۔ ایسی بات نہیں تھی کہ اُسے اپنے رشتوں کا احساس نہیں تھا۔ شروع شروع میں جب اُس کے بیوی بچے گئے،تو وہ کئی سال مضطرب رہا اور بہت دفعہ،جب بھی اُنہیں ضرورت پڑی،ولیم نے اپنی بچی کھچی پونجی سے رقم بھیجنے میں تامل نہ کیا اور رشتوں کا درد رکھے رکھا۔ مگر اب اُس کے ہاتھ سے سارے رشتے ہی نکل چکے تھے،تووہ کیا کرتا۔ مچلز والے ابھی موجود تھے،جن کے ساتھ سلام دعا چل رہی تھی۔ لیکن وہ بھی لندن او ر اوکاڑہ کے درمیان معلق رہتے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ اِس آنے جانے میں اُنہوں نے اپنے رئیسانہ ٹھاٹھ کو برقراررکھا اور ولیم سے بہت زیادہ مختلف ہو چکے تھے۔ یا کہہ لیں کہ ولیم ہی اُن سے مختلف ہو گیا تھا۔ اِس لیے اُن کے اندر بھی اب دبی دبی سرد مہری موجود تھی،جسے ولیم نے بہت دیر پہلے بھانپ لیا تھا۔ مگر وہ شاید اُن میں گزری نشانیوں کے ریزے تلاش کرنے کے لیے تعلق کو ٹوٹنے نہیں دے رہا تھا اوربرابر وہاں پھیرا لگایا کرتا۔ بلکہ اُس وقت بھی،جب وہ لندن میں موجود ہوتے۔

زمانے کے گزرتے ماہ سال میں ولیم کو اِس پورے نقصان پر تاسف تو ہوا لیکن وہ اُس کو قبول کر چکا تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے اُس نے بھی اُنہیں یاد کرنا چھوڑ دیا۔ اگر یاد آتے بھی تو طبیعت کو جلد کسی اور طرف مائل کر کے مصروف ہو جاتا۔ زیادہ تر انگریزی ناولیں اور انگریزی شاعری کی کتابیں پڑھنے میں لگا رہتا،جو سینکڑوں کے حساب سے اُس کی کوٹھی میں موجود تھیں۔ اُن کے خریدنے میں اُس نے ایک خطیر رقم خرچ کی تھی۔ کتاب خوانی کے علاوہ قصہ سننے کی لت اُسے شدت سے لگ چکی تھی،جس کے لیے وہ عصر سے ہی تیاری کر نا شروع کر دیتا۔

اکثر ہاتھ میں چھڑی تھامے سرپر ہیٹ رکھے پیدل ہی نکل پڑتااور اِدھر اُدھر پھرتا رہتا۔ زیادہ تر کمپنی باغ اوکاڑہ میں،جو اُسی کی تجویز پر بنا تھا۔ کبھی دس کلومیٹر طے کر کے نہری کوٹھی چلا جاتا یاکسی اور جگہ۔ مگر زیادہ تر اُس کا سفر لمبا نہیں ہوتا تھا۔ اِسی طرح دیسی لوگوں کے ساتھ چلتے چلتے بات چیت کر لیتا۔ بگھی،ٹانگے پر ہوتا تو ایک آدھ سواری بھی ساتھ بٹھا لیتا۔ کافی عرصہ پہلے زمین پر سے اُس کا قبضہ اُٹھ گیا تھا۔ جب وہ باقاعدہ آہستہ آہستہ کر کے چند ہی سالوں میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسروں کے نام الاٹ ہوگئی۔ اِس لیے جو پیسہ ہاتھ میں تھا،وہ رفتہ رفتہ کنارے لگنے لگا۔ ولیم کو اب اُس کی زیادہ پروا بھی نہیں تھی۔ کیونکہ کوٹھی ابھی تک اُس کے پاس تھی اور آٹھ دس سال تک مزید ساتھ دینے والا پیسہ بھی تھا۔ اِس لیے بھی اُسے کوئی فکر نہیں تھی کہ دیسی لوگوں کی طرح اُس کے دس دس بچے نہیں تھے۔ اُس نے رینالہ،اوکاڑہ،گوگیرہ اور اُن کے مضافات میں اِس طرح اپنے آپ کو گم کر لیا،جیسے یہ سب علاقے اُس کی ملکیت ہوں۔ حالانکہ اب تمام زمینیں اور فارم ملٹری نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے،جو تقسیم سے پہلے گوروں کی ملکیت تھے۔ ولیم نے کئی طرح سے اثر رسوخ اختیار کر کے نولکھی کوٹھی پر اپنا قبضہ بر قرار ہی رکھا اور کچھ روپے سا لا نہ کے حساب سے اُس کا کرایہ اداکرتا رہا۔ جب اُس کی زمینوں پر قبضہ ہوا تھا تو وقتی طور پر ولیم انگلستان چلا گیا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد واپس آگیا تھااور نولکھی کوٹھی میں بطور کرایہ دار براجمان رہا۔ ویسے بھی یہ کوٹھی ایک جرنیل کے نام لیز پر تھی،جس میں اُسے رہنا تو نہیں تھا کیونکہ نہ تو یہ کوٹھی کسی بڑے شہر میں تھی اور نہ ہی اوکاڑہ شہر کے درمیان میں تھی۔ اوکاڑہ کے شمال مشرق میں نہر کے دوسری طرف تین کلومیٹر باہر تھی،جس میں کسی مقامی کو رہنے کی کیا ضرورت تھی،جبکہ ولیم اِس کا کرایہ بھی زیادہ دینے کو تیار تھا اور پچھلے کئی سال سے دیتا بھی رہا تھا۔ اِس لیے اُس کا یہ مسکن بر قرار رہا۔

کچھ دنوں سے اُس کی طبیعت میں ایک بے چینی پھر داخل ہو رہی تھی۔ وہ کون سی بات تھی،جس کے باعث یہ کیفیت تھی۔ اس بارے میں ابھی وہ خود بھی لا علم تھا۔ ایک شام اِسی طرح سب جمع تھے اورمیاں محبوب علی خاص لاہورسے داستان کہنے کے لیے آئے ہوئے تھے،جو پہلے بھی کئی دفعہ آ چکے تھے۔ کوٹھی کے دالان میں ولیم کی کرسی کے سامنے پہلے آٹھ دس کرسیاں اور اُس کے آگے تین تین چار پا ئیاں دو طرفہ لگی ہوئی تھیں،جن کے درمیان چھ فٹ کی کھلی جگہ تھی۔ ولیم کی کرسی سے آخری چار پائی تک کم از کم دس قدم کا فاصلہ تھا۔ اِس طرح کہ داستان گو موقع کے مطابق بیچ میں چہل قدمی کر سکے۔ جیسا کہ اکثر پنجابی داستان گو مجمعے کے بیچ چل پھر کر اور اداکاری کر کے کہانی سناتے ہوئے،بیچ میں کہیں کہیں لوک بولیوں،دوہروں اور ماہیوں کے ٹانکے لگاتے جاتے ہیں۔ اِس سے کہانی کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ ولیم کے ہاں اکثرکہانی کہنے والے پنجابی ہوتے تھے۔ اِس لیے اُس نے کوٹھی کے دالان میں بیٹھنے کی شکل اسی صورت میں ڈھال رکھی تھی۔ میاں محبوب علی در اصل نواب مظفر علی قزلباش کا ذاتی داستان گو تھا،جو ولیم کے اُن دِنوں کا دوست تھا،جب وہ ڈپٹی کمشنر تھا۔ اِسی دوستی کو وہ آج تک نبھائے چلا آ رہا تھا۔ یہ سردیوں کی رات تھی اورآٹھ بج چکے تھے۔ محبوب علی داستان شروع کرنے ہی والے تھے کہ چوہدری شفیع محمد بھی آن بیٹھا،جس کے ساتھ سترسال کا ایک بڈھا تھا۔ شفیع محمدکی ستگھرہ موڑ پردو مربعے زمین تھی اور ولیم کے ساتھ اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔ ولیم جب بھی سیرکو نکلتا،اکثر چوہدری شفیع محمد کے پاس جا بیٹھتا۔ اِس طرح شفیع محمد بھی اُس کے حاضر باشوں میں تھا اوریہ رشتہ برابری کی سطح پر ہی قائم تھا۔ آج شفیع محمد کے ساتھ یہ بڈھا البتہ نیا تھا۔ اُس کے سر پر سفید پگڑی تھی اور سفید ہی کھدر کا دُھوتی اورکُرتہ تھا۔ پاؤں میں چمڑے کے دیسی جوتے تھے،جس کو خریدے ہوئے غالباً کئی سال گزر چکے تھے۔

سلام دعا کے بعد سب بیٹھ گئے تو چوہدری شفیع نے ولیم سے مخاطب ہو کر کہا،صاحب بہادر،یہ امیر سبحانی ہے۔ آج ہی حویلی لکھا سے آیا ہے۔ میں کل وہاں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا۔ وہیں اپنے بہنوئی کے ہاں میری اِس سے ملاقات ہوئی۔ بہت عمدہ داستان کہتا ہے۔ جب میں نے اِس سے وہاں داستان سنی تو اِس کا شیدائی ہو گیا اورمنت کی کہ میرے ساتھ ایک دو دن اوکاڑہ چل۔ امیر سبحانی اُجاڑے سے پہلے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں رہتا تھا۔ اِس لحاظ سے میں نے سوچا،اِسے آپ سے ملانا اچھا رہے گا۔ کیونکہ آپ بھی کافی عرصہ جلال آباد میں رہے ہیں اوراُسے یاد بھی کرتے ہیں۔ یہ آپ کا ہم وطن بھی ہے اور داستان تو یہ ایسی کہتا ہے کہ ساری رات گزر جائے گی۔ مگر آپ کا جی چاہے گا،سنتے جائیں۔

شفیع محمد تعارف کرا چکا تو ولیم نے ایک نظر بھر کر امیر سبحانی کی طرف دیکھا،گویا وہ آئینہ ہو،جس میں ولیم اپنے ماضی کا چہرہ دیکھ رہاتھا۔ دل ہی دل میں ولیم نے پوری کائنات کی خاموشی سمیٹ کر اپنے اندر بھر لی اور چند لمحے اُسی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ لوگوں نے اُسے حقہ پیش کیا اور بیٹھنے کے لیے سامنے کی ایک کرسی خالی کر دی۔ اتنے میں ولیم اپنی سابقہ حالت میں لوٹ چکا تھا۔ اُس نے پورے مجمعے کی طرف دیکھا اور کہا،کوئی بات نہیں۔ چلو آج ہم امیر سبحانی سے سن لیتے ہیں۔ محبوب علی تو ایک دو دن ابھی یہاں ہی ہیں۔ کیوں امیر سبحانی ہمیں سناؤ گے؟

جیسی آپ کی رائے،(اور سوالیہ انداز میں چوہدر ی شفیع کی طرف دیکھا)

اُس نے کہا،بھائی امیر آپ کو لایا کس لیے ہوں؟یہ صاحب ہمارے لیے بڑالاڈلا ہے۔ آج اِسے ایسی داستان سناؤ کہ خوش ہو جائے۔
چوہدری صاحب کوشش کرتا ہوں۔ اِس کے بعد امیر سبحانی نے حقے کے دو چار لمبے لمبے تیز کش لیے،پھر اُٹھ کے چارپائیوں اورکرسیوں کے درمیان والی راہداری میں کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ بھر کا کڑھا ہوا رومال گلابی رنگ کا،جیب سے نکال کرہاتھ میں پکر لیا،جو داستان گووں کی تسکین کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ امیر سبحانی نے رومال کے چاروں کونے اکٹھے کر کے مٹھی میں دبا لیے اور ولیم کی طرف منہ کرکے بولا،صاحب اجازت ہے تو عرض کروں؟ پھر داستان شروع کر دی اور ہلکے ہلکے قدموں سے آگے پیچھے چلنے بھی لگا۔

اول حمد خدا وند باری، دوم پاک رسول
تیجا نام علی کاجاپوں،جس کی دو جگ دھوم
چوتھی پاک رسول کی بیٹی پانچواں حسن حسین
اِن کے بعد ہیں بارہ ہادی سید کُل کونین
غازی پاک عباس بہادر،لے کر اُس کا نام
قصہ ایک دلاور کا مَیں تم کو سناؤں تمام

امیر سبحانی تمہید کے بعد اصلی داستان کی طر ف اس طرح پلٹا کہ اچانک ولیم سمیت پورا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا اورکہانی سننے کے ساتھ ساتھ امیر سبحانی کی حرکات و سکنات کو بھی غورسے دیکھنے لگا۔

آنکھوں دیکھا حال ہے،نہیں سُنی گنی یہ بات
سب سچ کہانی بیلیوں،شاہد رب کی ذات
اک شہرجلال آباد تھا،اُس مشرق کے پنجاب
جسے چھوڑا وِچ فساد میں،سنو مرے احباب
اُس شہرجلال آبادمیں،تھا ایک جوان دلیر
بیٹا حیدرشیر کا تھا،دھرتی کا وہ شیر
نام غلام حیدر اُس کا،جانے سب سنسار
ہوا شہید وہ سورما،پَر دیے گورکھے مار

اِس کے بعد جیسے ہی امیر سبحانی نے داستان کا قد غلام حیدر کے ذکر کے ساتھ آگے بڑھایا اور قصے کی رمزیں کُھلنا شروع ہوئیں،ولیم کی آنکھیں کُھلنے لگیں۔ امیر سبحانی کی آواز میں ایسی تمکنت اور داستان کہنے میں ایسی دلآویزی تھی کہ سب مجمعے کے سروں پر گویا پرندے بیٹھے ہوں۔ مجال ہے،کسی کا دھیان ادھر اُدھر بھٹک جائے۔ ولیم کا معاملہ کچھ آگے کا تھا۔ جیسے جیسے داستان آگے بڑھ رہی تھی،اُس کی یاد داشت کے دریچوں کے پٹ ایک ایک کر کے وا ہوتے جا رہے تھے۔ اُسے یوں لگ رہا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن چکا ہے۔ امیر سبحانی چارپائیوں کے درمیان کی راہداری میں ایک ہاتھ میں جریب پکڑے،کبھی آگے اور کبھی پیچھے چلتا اور غلام حیدر کا قصہ نظم کی شکل میں بیچ بیچ نثرکے ٹوٹے جما کر یوں اُٹھاتا،جیسے آئتوں کے درمیان تفسیر کی وضاحتیں ہوں۔ اِس طرح کہانی میں ایک تو تا ثیر بڑھ جاتی تھی،دوسرا سمجھنے میں آسانی رہتی۔ کہانی کے اِس انداز سے یوں تو سارا مجمع ہی کہانی سننے کی بجائے دیکھ رہا تھا۔ مگر ولیم توگویا پچھلے زمانے میں پہنچ گیا تھااورنہیں چاہتا تھا کہ یہ قصہ ختم ہو۔ اُس کے لیے چالیس سال بعد یہ ایک ایسا منظر تھا،جو اگر نہ آتا تو شاید ولیم کی زندگی میں ایک ایسا خلا رہ جاتا،جو نہ تو کبھی پُر ہوتا اور نہ ہی ولیم کو پتا چلتا،وہ کون سا خلا ہے؟ داستان آگے بڑھتی گئی۔ سب سنتے گئے اور ولیم اُس کے ایک ایک منظر میں کھوتا گیا۔ حتیٰ کہ رات گیارہ بجے امیر سبحانی نے داستان دوسرے دن عشا کے وقت تک روک دی۔ اِس کے بعد سب مہمانوں کو کھانا پیش کیا گیا۔ کھاناکھا کر سب رخصت ہو گئے اور امیر سبحانی چوہدری شفیع کے ساتھ ٹانگے پر بیٹھ کر چلا گیا۔

لوگ تو داستان سن کر چلے گئے مگر ولیم کی رات سو سال کی ہو گئی۔ امیر سبحانی نے داستان شروع نہیں کی تھی،ولیم کی زندگی کا افسانہ چھیڑ دیا تھا۔ اگرچہ ِاس میں اُس کا اپنا ذکر تین چاردفعہ ہی آیا تھا۔ وہ بھی غلام حیدر کے ضمن میں مبالغے کے ساتھ،۔ مگر یہ مبالغہ بھی ولیم کو اچھا لگا۔ بلکہ عین سچ لگا اوروہ چاہ رہا تھا،یہ کہانی کبھی ختم نہ ہو۔ اِنہی سوچوں میں ولیم کی ساری رات نکل گئی اور اُس کی آنکھیں گویا یاقوت ہو گئیں۔ کبھی اُٹھ کے ٹہلنے لگتا،کبھی بستر پر جا پڑتا۔ حتیٰ کہ فجر کی اذان نے صبح کی سواری کا نقارہ بجا دیا۔ رات بھر ولیم کے دماغ میں جودھا پور،جھنڈو والا،غلام حیدراورجلال آباد کے مضافات کا وہ علاقہ پھرتا رہا،جہاں اُس نے اُن دنوں دورہ کیا تھا۔ وہ رہ رہ کر اُنہی مضافات میں چلا جاتا اور تڑپ تڑپ کے رہ جاتا۔ کہانی ابھی تک وہاں تک پہنچی تھی،جب غلام حیدرفیروز پور میں شیخ مبارک کے پاس ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بندوبست میں گیا تھا۔ لیکن وہ دلچپ اِتنی تھی کہ ولیم کو اپنے ساتھ غلام حیدر کے کردار سے بھی شدید دلچسپی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہو گیا کہ آخر اُس کے ساتھ کیا بنی؟ دن چڑھا تو اُس نے بادامی رنگ کی بید پکڑی اور سیر کو نکل کھڑا ہوا۔ یہ سیر اُن زمینوں اور باغوں کی تھی،جو اب اُس کی ملکیت میں نہیں تھیں۔ اُس کی عمر اتنی لمبی سیر کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔ پھر بھی وہ جوانوں سے کہیں زیادہ پھرتیلا اور پیدل چلنے والا تھا۔ وہ دوبارہ شام ہونے اور کہانی کے شروع ہونے کے انتظار میں کُڑھنے لگا اور خدا خدا کر کے پھر عشا کا وقت ہو گیا اور ولیم کی کوٹھی میں داستان کے پالان لگ گئے۔

یہ محفل دس دن بر پا رہی۔ امیر سبحانی نے اِس طرح اُس میں رنگ بھرا کہ محبوب علی بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ہر آدمی عش عش کر اُٹھا اور سب نے اُسے کچھ نہ کچھ ضرور دیا۔ ولیم نے دس ہزار روپے کے ساتھ کئی تحفے بھی دیے۔ اتنی بڑی رقم امیر سبحانی نے کبھی ایک دم نہیں دیکھی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں ولیم کے لیے تشکر کے آنسو آگئے۔ اب چونکہ ہر شخص پر کھل گیا تھا کہ جلال آباد کا اُس وقت کا اسسٹنٹ کمشنر ولیم تھا،اور یہ کہ ُاس نے غلام حیدر کے ساتھ زیادہ سخت رویہ اختیار بھی نہیں کیا تھا۔ اِس کے علاوہ یہ اِس داستان میں ایک بڑے متحرک کردار کی شکل میں سامنے رہا ہے اور سکھوں کی بانسری بجانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اِس لیے وہ سب ولیم کی محبت میں اور زیادہ مانوس ہو گئے۔ لیکن ولیم کہانی سننے کے بعد مزید اُداس رہنے لگا۔ اُسے وہ بھولی ہوئی تمام شامیں اور اُن شاموں میں جلنے والے قمقمے یاد آنے لگے،جو کسی بھی طرح سے خوش گوار تھے۔ اِس منظر میں اُسے پھر کیتھی اور بچوں کی یادیں ستانے لگیں،جو اگر چہ اب بچے نہ رہے تھے لیکن ولیم نے اُنہیں جس قدوقامت میں چھوڑا تھا،وہ اُسے اُسی قامت میں دِکھنے لگے اور مسلسل تڑپانے لگے۔ مگر اب اُن کا کوئی پتا نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،اگر ایک بار اُسے خط آ جائے تو وہ اُن سے ملنے کے لیے لندن ضرور جائے گا۔ وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا اور خط لکھنے لگا۔

بیڈ روم کی تمام چیزیں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ بلکہ کئی چیزیں تو استعمال کے قابل بھی نہیں رہی تھیں اور اُس نے نئی چیزیں نہ خریدنے کی قسم کھا لی تھی۔ کوٹھی بھی ولیم کی طرح بوسیدہ ہو چکی تھی۔ پھر بھی کوئی چیز اِس تنہائی میں دل کو سکون اور اطمنان بخشنے والی تھی،تو وہ یہی کوٹھی تھی،جو اُس کی اپنی تھی۔ ولیم نے کیتھی اور بچوں کو تسلی سے بیٹھ کر دوبارہ خط لکھا اور خود جا کر اوکاڑہ کچہری بازارکے تار گھر سے تار کیا۔ لیکن اُس کا کبھی جواب نہ آیا اور دن مزید گزرتے گئے۔ ولیم آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید امیر سبحانی سے کہانی سننے کے بعد وہ جلد بوڑھا ہونے لگا تھا۔ اُ س نے سوچا،کاش اُس کی امیر سبحانی سے ملا قات ہی نہ ہوتی اور وہ اتنا جلدی بوڑھا نہ ہوتا۔ یہ اُداسی کی حالت ولیم پر کئی مہینوں تک جاری رہی۔ سردیاں گزر گئیں،بہار نکل گئی،گرمیاں چلی گئیں،پھر سردیاں آگئیں۔ اِن بدلتے مہ و سال کے فاصلوں سے اُس کے زخم بھرنے لگے اور دو سال بعد اُس کی حالت پھر معمول پر آگئی۔ لیکن اب اُس کی شاہ خرچیاں ختم ہو گئی تھیں۔ کیونکہ جمع پونجی قریب قریب ٹھکانے لگ چکی تھی اور اُس کی زندگی کے شب و روز ارد گرد کے علاقوں میں گھومتے ہوئے،اُفق کی طرف جلدی سے سمٹتے جارہے تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – سولہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(۳۱)

 

غلام حیدر کو ڈپٹی پولیس آفیسر کی ملاقات کے لیے پیغام پہنچا توحویلی میں رنگ رنگ کے افسانے کھل گئے۔ ہفتہ پہلے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے بندوں کی گرفتاری اور مال کی ضبطی ہوئی۔ اِس کام نے غلام حیدر کی طاقت اور بڑے صاحب تک پہنچ کو سب پر روشن کر دیا تھا۔ اب اس بات میں کس کو شک تھا کہ پولیس کے بڑے افسر نے غلام حیدر کو دفتر میں بلا کر یہی کہنا تھا،بھائی ہم آپ کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اور حکم کے بندے ہیں، دوبارہ بڑے صاحب کی طرف مت جائیں۔ ہماری نوکریوں کے لیے خطرہ ہے۔

 

غلام حیدر کی حویلی میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں میں لگے انگریزی سرکار اور جھنڈو والا کی خبریں نون مرچ لگا کر اورایک دوسرے کو سنا کر آنے والے وقت کے متعلق فیصلے صادر کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ امیر سبحانی جوش میں تھا۔ امیر سبحانی بیس بائیس سال کا کوتاہ قامت مگر نہایت باتونی اور چرب زبان تھا۔ باتوں کی لشکر کشی ایسے کرتا کہ بڑے سے بڑا سیانا بھی قبول کر اُٹھتا۔ قصہ گوئی کا فطری مادہ اُس میں موجود تھا۔ وائسرائے کی بیٹی سے غلام حیدر کا ناطہ ثابت کرنے کے بعد اُس کی قدر میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ اِس لیے اُس کی باتوں پر پہلے سے زیادہ دھیان دیا جانے لگا۔ اُس کا اپنا علاقہ جلال آباد نہیں تھا۔ وہ فیروزپور شہر سے آوارہ گردی کرتے ہوئے یہاں پہنچا۔ اُس وقت اُس کی عمر پندرہ سال تھی۔ شیر حیدر نے اس کی چرب زبانی دیکھ کر اور لطیفہ گوئی سن کر یہیں رکھ لیا۔ کام وغیرہ کچھ نہیں لیا جاتا تھا۔ پچھلے چھ سات سال سے جلال آباد میں تھااور زبان کا کھٹیا کھا رہا تھا۔ اِس وقت بھی اپنے دیسی چمڑے کے جوتے کے تلووں سے لگی ہوئی مٹی ایک سخت تنکے سے کرید کرید کر جھاڑتا جاتا اور باتوں کے توتے مینا اُڑاتا جا رہا تھا۔

 

،یارو میری تو بات کو ہر ایک چوتڑوں میں دبا لیتا ہے اور سمجھتا ہے امیر سبحانی نے واہی بَک دی۔ حالانکہ میں نے پہلے دن سب کو خبردار کر دیا تھا کہ اپنے غلام حیدر کی منگ میں جب واسرائے کی چھوکری آ گئی ہے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ انگریز سرکار سودھا سنگھ کے دونو ں ہا تھ باندھ کے چکی کے پُڑوں کے نیچے دے دے گی اور اُس کی داڑھی کا رسہ وٹ کے سکھڑے کی ٹانگیں باندھ دے گی۔ اگر اب بھی میری بات کا یقین نہیں تو پھر کوڑھ مغزوں کے لیے بادام روغن کی ضرورت ہے،جو جلال آباد میں تو ملتے نہیں، کشمیر سے ہی منگواؤ تو منگواؤ۔

 

رشید ماچھی امیر سبحانی کی طرف رشک سے دیکھ کربولا،میاں سبحانی پہلے یہ بتا،کس لدھونے تیری بات کو چوتڑوں میں دبایا تھا اور یقین نہیں کیا تھا؟میں نے تو اُسی وقت کہہ دیا تھا،اگر خبر امیرے نے دی ہے تو پکی سمجھو ( آنکھ دبا کر خوشامد کرتے ہوئے) لیکن یار سبحانی اب تو بتا دے تجھے کیسے پتا چلا تھا کہ اپنے چوہدری غلام حیدر کے ساتھ وائسرائے کی بیٹی کا یارانہ ہے؟

 

لو اور سنو بھائی فیقے،امیر سبحانی نے رفیق پاؤلی کی طرف دیکھ کر کہا،او شیدے بونگے تُو بھی کٹوں سے دودھ نکالتا ہے۔ یہ باتیں کوئی پوچھنے کی ہیں؟ پھر اپنی چھدری کالی سیاہ داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے،یہ داڑھی کیا دھوپ میں سفید کی ہے؟ میاں،امیر سبحانی نے صرف کبوتر نہیں اُڑائے،لوگوں کے کانوں کے فیتے کاٹے ہیں فیتے۔ لیکن تجھے بتا بھی دوں تو سمجھ نہیں آئے گا،اِس لیے فائدہ نہیں۔

 

رفیق پاؤلی نے امیر سبحانی کی بات سُن کر کہا،سبحانی کچھ ہمیں بھی تو پتا چلنا چاہیے،اِس بات کی خبر تجھے کیسے ہوئی؟

 

بھائی کبھی آل انڈیا ریڈیو دیکھا؟ امیر سبحانی جوش اور غصے کی ملی جُلی کیفیت میں بولا،لیکن رفیق کے جواب دینے سے پہلے ہی،اچھا دیکھا تو خیر نہیں ہو گا کبھی نام بھی سنا ہے؟ جب تم نے نام بھی نہیں سنا تو تمھیں سمجھ خاک آئے گی۔ چاچا فیقے،یہ ایک جادو کا ڈبہ ہو تا ہے (ہاتھوں کے اشارے سے)اِتنا چوڑا اور اِتنا لمبا۔ اِس میں ایک جِن بیٹھا ہوتا ہے،جو غیب کی باتیں پڑھ پڑھ کے سناتا ہے۔ سننے والے حریان،پریشان دیکھتے ہیں یہ کیا ہے؟ مگر یہ بولتا جاتا ہے،بولتا جاتا ہے۔ بس میں نے بھی وائسرائے کی بیٹی اور غلام حیدر کی بات اِسی سے سُنی تھی۔ پر دیکھو یہ ڈبہ ہر ایک کو نہیں سناتا۔

 

امیر سبحانی کی بات سن کر سب ہکا بکا رہ گئے۔ جانی بولا،اچھا چل اس بات کو چھوڑ،اب یہ بتا ڈپٹی صاحب نے غلام حیدر کو اپنی سرکار میں کیوں بلایا ہے؟ ذرا قیاس کر کے بتا؟
امیرسبحانی نے اِتنی عزت افزائی دیکھی تو نئی نئی چھوڑنے لگا۔ اُس نے ایک دفعہ جوتے پاؤں سے اُتار کے زمین پہ پھینکے اور دونوں ٹانگیں چارپائی کے اُوپر رکھ کر بولا،لو جی اگر تم کو اتنی ہی بے چینی ہے تو سنو،یہ تو تمھیں پتا چل ہی گیا ہے چوہدری غلام حیدر کی اُوپر تک پہنچ کی وجہ سے کمشنر صاحب نے پولیس کے بڑے سنتری کے کان کھینچے ہیں،جس پر اُس نے مجبور ہو کر جھنڈو والا اور میگھا پور کی صفائی پھیری ہے۔ اب یہ بات تو سادھو کو بھی پتا چل جائے گی کہ بڑا سنتری چوہدری غلام حیدر سے یاری دوستی لگانا چاہتا ہے تاکہ چوہدری صاحب سے بڑی سرکاروں میں سفارش کروا کے نوکری میں ترقی کروا لے۔ او بھائی یہ انگریز بہادر بڑے سیانے ہوتے ہیں۔ بغیر مطبل کے کسی کے کام نہیں آتے۔ دیکھنا یہ بات نہ ہو تو میری داڑھی مونڈ دینا اِسی پتھورے پر۔

 

امیر سبحانی کا نیا انکشاف سُن کر سب عش عش کر اُٹھے۔ یہ بات تو کسی کو بھی نہیں سوجھی تھی کہ انگریز بہادر نے غلام حیدر سے ملاقات کیو ں کرنا چاہی ہے۔ واقعی امیر سبحانی کی وہاں تک سوچ جاتی تھی جہاں تک رفیق پاؤلی اتنا سیانا ہونے کے باوجود بھی نہیں پہنچ سکا تھا۔
سب حویلی کے صحن میں بیٹھے قیاس آرائیاں کرتے کرتے اصل نتیجے تک پہنچے ہی تھے،اِتنے میں غلام حیدر زنان خانے سے نکل کر حویلی کے بیرونی صحن میں آتا دکھائی دیا۔ اُس نے ریشمی لاچے کے ساتھ پاؤں میں اُونچی کنی والا دیسی کھسہ ڈال رکھا تھا جس کی چرر چرر کی آواز سے عجیب سُر نکل رہے تھے۔ اِسی طرح سفید لٹھے کا کُھلا کُرتا اور کاندھے پر وہی پکی ریفل جو سرداری کے مزاج کو اور بھی آسمان پر لے جاتی تھی۔ اُس پر قدم اُٹھانے کا انداز،سب کچھ بڑا شاندار لگ رہا تھا۔ غلام حیدر کودیکھ کر سب خاموش ہو گئے اور اُٹھ کرسلام لینے لگے۔ غلام حیدر نے سب کو ایک ہی سلام میں بھگتا کر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق کیا تحصیل جانے کی تیاری مکمل ہو گئی؟

 

جی تیاری تو مکمل ہے بس تمھارا ہی انتظار تھا،رفیق پاؤلی نے جواب دیا۔

 

تو چلیں؟ غلام حیدر بولا،اِس کے بعد بگھی کی طرف چل دیا،جو حویلی کے صحن میں دروازے کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ جب بگھی پر بیٹھ چکا تو دوسرے لوگ بھی اپنی اپنی سواری پر چھویوں اور ڈانگوں پر کسی کرپانوں کے ساتھ چڑھ گئے۔ پھر چند وقفوں کے بعد یہ سواریاں جلال آباد کی تحصیل میں پولیس کے بڑے صاحب کے دفتر کی طرف چل دیں،جو غلام حیدر کے مکان سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ رستے میں آگے پیچھے چلتی سواریاں اور سواریوں میں بیٹھے غلام حیدر کے آدمیوں کے چٹکلے اور ہنسی دور تک چلتے راہیوں کو رُکنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ لوگ غلام حیدر کی سواری کو دیکھ کر کچھ دیر کھڑے رہ جاتے۔ صبح دس بجے یہ سواریاں ڈی ایس پی لوئیس صاحب کے آفس کے سامنے جا کر رُک گئیں۔ لوئیس صاحب کے دفتر کی ساری عمارت پر پیلے رنگ کا چونا پھیرا گیا تھا۔ عمارت کے سامنے بڑا صحن تھا۔ جس کو ایک چھوٹے قد کی دیوار سے گھیر کر اُس میں لکڑی کا پھاٹک لگا دیا گیا تھا۔ صحن میں بڑے گراؤنڈ کے بیچ بڑی بڑی داڑھیوں والا آسمانی چھتری نما بوڑھ کا درخت عمارت کی شان و شوکت کا گواہ تھا۔ اس بوڑھ سے تھوڑا آگے ڈپٹی صاحب کے دفتر کی عمارت شروع ہوجاتی تھی۔ سب سے پہلے عمارت کا ہاتھی دروازہ اور اُس کی بڑی ڈاٹ کے سِرے پر بانس کے ڈنڈے کے ساتھ لہرا تا ہوا برطانوی سلطنت کا پھریرا سلطنت کی ہیبت کا مدعی تھا۔ غلام حیدر نے بگھی سے اُتر کر اپنی رائفل کاندھے سے اُتار کر رفیق پاولی کے حوالے کردی اور عمارت کی طرف بڑھ گیا۔ جبکہ اُس کے تمام بندے وہیں گراؤنڈ میں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ بڑے صاحب کے کمرے میں صرف غلام حیدر ہی کو جانے کی اجازت تھی اور یہ بات قدرتی طور پر ہی تمام ملازمین جانتے تھے۔

 

غلام حیدر پھریرے والے دروازے سے گذر کر عمارت میں داخل ہوا تو کئی راہداریوں نے اُس کا سامنا کیا،جنہیں نیلے اور لال رنگ سے پینٹ کیا گیا تھا۔ ایک حوالدار غلا م حیدر کے ساتھ تھا۔ وہ رہنمائی کرتا ہوا اُسے ایک کمرے میں لے گیا۔ یہ کمرہ ویٹنگ روم تھا۔ جس میں پہلے بھی کئی لوگ بیٹھے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک کُلے والے چوکیدار نے غلام حیدر کے نام کی آواز دے کر اُسے صاحب کی ملاقات کی اجازت دی۔ غلام حیدر اپنے کُھسے کی چرچراہٹ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تو لوئیس نے اُٹھ کر غلام حیدر سے ہاتھ ملایا اور اُسے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ غلام حیدر خوش دلی سے ڈی ایس پی لوئیس کا شکریہ ادا کر کے کُرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس کے ایک طرف ایک تھانیدار بیٹھا تھا،جس سے غلام حیدر بالکل ناواقف تھا۔ واقف تو وہ ڈی ایس پی صاحب سے بھی نہیں تھا لیکن ایک ہفتہ پہلے جو کارروائی جھنڈو والا اور میگھا پور میں لوئیس کی نگرانی میں ہوئی تھی اور اُس کی خبر پوری تحصیل میں ہوا کی طرح پھیل گئی تھی،اُس وجہ سے ڈی ایس پی لوئیس کا نام نہ صرف جھنڈووالا اور میگھا پور میں بلکہ غلام حیدر کی پوری رعیت کی زبان کا ورد ہو گیاتھا۔ صاحب بہادر نے جس طرح کارووائی کر کے جھنڈو والا کی تباہی پھیر کر سودھا سنگھ کی چوہلیں ہلائیں تھیں،اُس سے غلام حیدر کو ایک گونہ اطمنان سا ہو گیا تھا۔ اُسے جو انگریز سرکار سے شکایتیں تھیں،وہ بھی دور ہو گئیں۔ اِس کاروائی سے لوگوں کو ذرا بھی شک نہیں رہا تھا کہ غلام حیدر کے لاہور میں بڑی سرکاروں کے ساتھ رابطے ہے۔ ورنہ کہاں مہاراجہ پٹیالا کے وزیر کا چہیتا سودھا سنگھ اور کہاں ایک پڑھاکو لڑکا چوہدری غلام حیدر۔

 

چنانچہ جب غلام حیدر کو لوئیس صاحب کا پیغام ملا تو اِس میں شک نہ رہا کہ صاحب نے اُسے انصاف کی یقین دہانی کے لیے بُلایا ہے۔ حالانکہ ملک بہزاد نے غلام حیدر کو باور کرادیا تھا کہ انگریز افسر کے سامنے اُس وقت تک نہ جانا جب تک تمھاری جان کسی بھی جھگڑے سے بالکل پاک نہ ہو اور اُس میں بھی اپنے اسلحے کا خاص خیال رکھنا۔ یہ بات غلام حیدر کو یاد تھی لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ لوئیس صاحب،جس کے پاس ابھی تک غلام حیدر کے خلاف نہ کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی اُس نے قانون کی بساط سے قدم باہر اُٹھا یا تھا،وہ افسر غلام حیدر کے خلاف کچھ ناروا حکم دیتا۔ وہ لوئیس کے دفتر میں داخل ہوا تو اُس کے مشفقانہ رویے نے مزید اچھا اثر ڈالا۔ اِس سے متاثر ہو کر غلام حیدر نے کہا،سر جس طرح جناب نے مجرموں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے،اُس پر آپ کی نذر کرنے کو سوائے شکریے کے میری گرہ میں کچھ نہیں ہے۔
مسٹر غلام حید ر! لوئیس بولا،کیا کبھی ایسا ہوا ہے،لڑکا اپنے گھر میں پیدا ہو اور مبارک پڑوسیوں کودی جائے؟اِس میں گورنمنٹ کا شکریہ ادا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب جلال آباد میں سرکا ر برطانیہ کی ہے تو امن و امان کی ذمہ داری بھی اُسی کی ہے۔ آپ بے فکر رہیں اور گورنمنٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔ اِس میں شک نہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ جس میں کچھ شر پسندوں نے انگریزی قانون کو ہلکا سمجھ کر اُس کا مذاق اُڑایا ہے۔ اب اِس کا نتیجہ تو اُنہیں بہر حال بھگتنا تھا۔ اب آپ کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ دل سے تمام خدشے دور کر کے مکمل طور پر گورنمنٹ پر بھروسا رکھواور دل و دماغ سے دشمنی کی ہوا نکال کر صرف رعایا کی خبر گیری کی طرف دھیان دو۔

 

غلام حیدر نے لوئیس کی بات سُن کر تشکر آمیزلہجے میں کہا، ڈپٹی صاحب جب آپ جیسے آفیسر ہماری حفاظت کے لیے موجود ہیں تو تشویش کیسی؟آپ جس قسم کا تعاون چاہیں گے،وہ میری طرف سے حاضر ہے۔

 

لوئیس نے اب ایک لمحہ غلام حیدر کی طرف دیکھا،پولیس کیپ میز سے اُٹھا کر اپنے سر پر رکھی۔ اُس کے بعد اپنی بیددائیں ہاتھ میں لے کر اُٹھااور بولا،ویل غلام حیدر،ہمیں آپ سے یہی توقع تھی۔ آپ کو دفتر میں بلانے کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ بس یونہی کچھ امن و امان کے حوالے سے گزاراشات واضح کرنا تھیں۔ آپ اپنی رائفل اور اپنے آدمیوں کا تیز لوہا کم از کم تین ماہ کے لیے گورنمنٹ کو جمع کرا دو۔ تم اور تمھارے آدمی سوائے لکڑی کے کوئی چیز ہاتھ میں لے کر نہیں چل سکتے۔ فی الحال ہم آپ سے اس سے زیادہ نہیں چاہتے۔ میرا خیال ہے یہ بات آپ کے لیے زیادہ وزنی بھی نہیں ہے۔

 

سر یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟غلام حیدر لوئیس کا حکم سن کر حیران رہ گیا۔ اُسے یقین نہیں آ رہا تھا لوئیس،جو ابھی ابھی اتنا شفیق نظر آ رہا تھا،وہ اس قدر کڑوا حکم دے گا۔ چنانچہ اپنی کرسی سے اُٹھتے ہوئے بولا،آپ جانتے ہیں میری کس قدر خطرناک دشمنی پیدا ہو چکی ہے۔ میرے باپ کے مرنے کے بعد جلال آباد کا سایا بھی میرے لیے بھوت بن چکا ہے۔ میرے دو گاؤں پر حملہ ہوا،تین بندے قتل ہو گئے،مال کا نقصان الگ ہوا۔ پھر بھی گورنمنٹ پر بھروسا کرتے ہوئے قانون کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کی۔ لیکن حیرت ہے،ابھی گورنمنٹ کو مجھ پر بھروسا نہیں۔
ڈی ایس پی لوئیس صاحب نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر کہا،غلام حیدر گورنمنٹ کے پاس اتنا وقت نہیں وہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کر ے۔ آپ سے جو کہا گیا ہے وہ کرو۔ جھنڈووالا سے لے کر جودھا پورتک،سب کی مالک گورنمنٹ ہے۔ اِس لیے آپ کا اسلحہ تین ماہ تک ضبط کیا جاتا ہے۔ اِسے گورنمنٹ کو جمع کروا دیں۔

 

یہ کہ کر لوئیس صاحب کمرے سے نکلنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔ جبکہ غلام حیدر وہیں ہکا بکا کھڑا سوچنے لگا کہ صاحب نے کیسا گرگٹ کی طرح رنگ اور سانپ کی طرح کینچلی بدلی ہے۔ لوئیس صاحب نے دروازہ سے نکلنے سے پہلے ایک ثانیے کے لیے مڑ کر دوبارہ غلام حیدر کی طرف دیکھا اور بولا،مسٹر آپ کو یہ بات سمجھانے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہیے،جو بھی گورنمنٹ کے حکم کی سرتابی کرنے کی زحمت کرتا ہے،ہم اُس کی گردن باندھ دیتے ہیں۔
آخری فقرہ لوئیس نے اِس کٹیلے لہجے میں کہا کہ غلام حیدر کو کھڑے کھڑے پسینہ آ گیا۔

 

لوئیس غلام حیدر کا جواب سنے بغیر باہر نکل چکا تھا۔ ویسے بھی غلام حیدر میں جواب دینے کی سکت کہاں رہی تھی۔ اُس کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور محسوس ہوا کلیجہ مسوس دیا گیا ہے۔ پھراس سے پہلے کہ اُس کی طبیعت میں پھیلے انتشار کا کسی کو پتا چلتا،وہ خود بھی لوئیس کے کمرے سے نکل پڑا۔ اُس کے ساتھ ہی کمرے میں موجود تھانیدار بھی چل پڑا جو غالباًاُسی لیے وہاں بیٹھا تھا۔

 

غلام حیدر بھاری قدموں سے چلتا اپنی بگھی کے پاس پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اُس کے بندے بھی خالی ہاتھ ہو چکے تھے۔ پولیس نے اُن سب سے اسلحہ قبضے میں لے لیا تھا۔ اب اُس کا اندراج ایک حوالدار رجسٹر میں کر کے اور انگوٹھوں کے نشان لے کر اُن کے رسیدی ٹکڑے واپس کر رہا تھا۔ بہت سے سپاہی بندوقیں پکڑے اُن سب کو گھیرے میں لیے ہوئے تھے۔ غلام حیدر کی رفیق پاؤلی اور اپنے بندوں سے آنکھیں چار ہوئیں تو ہر دو طرف سے شرمساری کی پکھیوں نے اُن پر سایا کر دیا۔ اِسی اثنا میں ایک سپاہی نے،جس کے ہاتھ میں غلام حیدر کی رائفل تھی،جو اُس نے رفیق پاؤلی سے قبضے میں لی تھی،غلام حیدر کے سامنے دستخط کے لیے وہ رجسٹر آْگے کر دیا۔ جس میں اُس کی رائفل کا اندراج ہوا تھا۔ غلام حیدر مکمل طور پر بے بس ہو چکا تھا اور مزاحمت میں سوائے بے عزتی کے کچھ ہاتھ نہیں آ سکتا تھا۔ اِس لیے اُس نے آرام سے دستخط کر دیے۔ دستخط کے بعد اُسے بھی حوالدار نے رائفل کے بدلے ایک رسید تھما دی۔ اُس پر صاف لکھا تھا،غلام حیدر ولد شیر حیدر سکنہ شاہ پور جلال آباد سے اُن کی رائفل دفعہ تیس کے تحت تین ماہ کے لیے حکومت پنجاب اپنے قبضے میں لیتی ہے۔ رائفل ہذا تین ماہ بعد اُس کے وارث غلام حیدر ولد شیر حیدر کے حوالے کر دی جائے گی۔

 

اسلحہ کے ضبط ہونے کی کارروائی ختم ہو چکی تو غلام حیدر نے دوبارہ ایک نظر اپنے بندوں پر ڈالی اور ہلکی سی خجالت کی ہنسی ہنس کر اپنی بگھی کی طرف چل دیا۔ اُس کے پیچھے ہی رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے بھی۔

 

بگھی پر بیٹھتے ہوئے غلام حیدر کو شدت سے ملک بہزاد کی یاد آئی اور اُس کے وہ جملے،خبردار کسی بھی و قت انگریز بہادر کو اپنا دوست سمجھ کر اُس کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش مت کرنا۔ کیونکہ حکومت اگر اپنی رعایا کے ارادوں کی رعایت کرنے لگے گی تو ایک دن ضرور ذلت کا منہ دیکھے گی۔ اور اس کی توقع فرنگی سرکار سے نہ رکھنی چاہیے۔ کبھی اپنا اسلحہ لے کر انگریز بہادر کے سامنے نہ جانا۔

 

غلام حیدر کے دماغ پر شدید کوفت اور بیزاری کے جھکڑ چلنے لگے۔ اُس نے جان محمد بگھی کوچ کو حکم دیا،جان محمد سیدھے چک عالمکے چلو۔

 

اسلحہ چھن جانے کی وجہ سے سب کو پتا چل چکا تھا کہ غلام حیدر کی بڑے سنتری صاحب سے کوئی کھٹ بٹ ہو چکی ہے۔ اس لیے چوہدری صاحب کے موڈ اس وقت سخت خراب ہیں۔ لہذا کسی نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ اس وقت ملک بہزاد کے گاؤں کی طرف جانے کا کیا مقصد ہے۔ بغیر اسلحہ یہ قافلہ لوئیس صاحب کے دفتر سے نکلنے کے بعد سیدھاچک عالمکے کی طرف روانہ ہو گیا۔ گھوڑوں کے مسلسل دوڑنے کی آواز میں تمام لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراکر خموشی سے اپنی اپنی ذات کے ساتھ گفتگو کرنے لگے اور گھوڑے دوڑتے گئے۔ حتیٰ کہ سہ پہر تین بجے یہ قافلہ چک عالمکے میں ملک بہزاد کے ڈیرے میں داخل ہو رہا تھا۔

 

ملک بہزاد کا ڈیرہ عام ڈیروں ہی کی طرح تھا۔ اُس کے نہ تو احاطے کی دیواریں اُونچی اور پائیدار تھیں اور نہ ہی ڈیرے کے مکانوں میں کوئی خصوصیت تھی،جسے بیان کیا جائے۔ البتہ احاطہ کافی کُھلا اور پُرسکون تھا۔ اُس کے صحن میں سرکنڈوں کے بان کی پندرہ سولہ کھری چارپائیاں بچھی تھیں۔ اُن میں سے ایک چار پائی پر ملک بہزاد بیٹھا حقے کے ٹکارے لے رہا تھا۔

 

ارد گرد گاؤں کے لوگ بیٹھے ملک بہزاد سے اُس کے کارناموں کی کوئی داستان سُن رہے تھے،جو اُس نے اپنی جوانی کے دنوں میں سرانجام دی ہو گی۔ ملک بہزاد غلام حیدر کو ڈیرے میں داخل ہوتے دیکھ کر حیران ہوا اور فوراً اُٹھ کر استقبال کرنے کے لیے آگے بڑھا،او میرا بھتیجا غلام حیدر آیا،کہ کر باہیں پھیلا دیں۔ ملک بہزاد کے ساتھ دوسرے لوگ بھی اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور غلام حیدر کے بندوں سے سلام دعا لینے لگے۔ غلام حیدر کے ڈیرے میں داخل ہونے کی وجہ سے لوگوں کی تعداد دگنی ہو گئی تھی۔ اس لیے نوکر مزید چارپائیاں بچھانے میں مصروف ہو گئے۔ کچھ لوگ بڑھ بڑھ کر غلام حیدر سے سلام لینے کی کوشش کرنے لگے۔ اُنہوں نے اُس کا نام تو سنا تھا کہ چوہدری شیر حیدر کا مُنڈا بڑے اسکولوں میں پڑھتا ہے اور ولایت بھی گیا ہے لیکن اُنہیں کبھی توقع نہیں تھی کہ ولایت جا کر پڑھنے والا غلام حیدر کبھی اُن کے گاؤں بھی آئے گا۔ نیم کے بڑے سے درخت (جس کی اکثر ٹہنیاں سردی کے موسم میں چھانگی جاچکی تھیں ) کے نیچے چارپائیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ موسم گرم نہیں تھا،اس لیے سائے کی ضرورت نہیں تھی۔ ملک بہزاد نے اپنے ساتھ ہی ایک چارپائی غلام حیدر کے لیے رکھوا لی،جس کے پائینتی سفید کھدر کی دوہر اور سرہانے پھولوں کے ساتھ کڑھا ہوا ریشمی تکیہ تھا۔ تھوڑی دیر میں تمام آدمیوں کے لیے لسی بھی آگئی۔ پیتل کے بڑے بڑے گلاسوں میں بھری ہوئی سفید لسی جب منہ سے لگاتے تو اُس کی سفیدی مونچھوں کے کناروں پر جم جاتی۔ غلام حیدر کے لیے بھی لسی سامنے رکھ دی گئی۔ جس میں برف تو نایاب ہونے کی وجہ سے نہیں تھی لیکن کوری چاٹی اور سرد موسم کی ٹھنڈک نے اُسے اتنا مزیدار ضرور کر دیا تھا کہ غلام حیدر نہ چاہتے ہوئے بھی دو گلاس پی گیا۔ لسی پینے کے بعد کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ ملک بہزاد نے اتنا اندازہ کر لیا تھا کہ غلام حیدر کے ساتھ کوئی خیر نہیں ہے۔ کیونکہ اطلاع دیے بغیر اچانک اور بالکل ہتھل ہو کر آنا خیر سے خالی تھا۔ لیکن ملک بہزاد نے غلام حیدر سے بات پوچھنے میں جلدی نہیں کی۔ قریباً ایک گھنٹے تک وہ اسی طرح بیٹھے ادھر اُدھر کی ہانکتے رہے۔ پھر اچانک غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اُٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ دونوں اُٹھ کر ڈیرے کے ایک کمرے میں چلے گئے تاکہ تنہائی میں بات کر سکیں۔

 

کچھ دیر خاموش بیٹھے رہنے کے بعد غلام حیدر بولا،چاچا بہزاد سب عزت خاک میں مل گئی۔ کوئی کام توقع کے مطابق نہیں ہو رہا۔ مَیں انگریز سرکا ر پر اچانک اندھا بھروسا کر گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دم اپنے بندوں کے سامنے ذلیل ہو گیا۔ پھر غلام حیدر نے سر جھکا کر اپنے ساتھ ہونے والی پولیس کی تمام کارگزاری ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔

 

ملک بہزاد غلام حیدر کی داستان نہایت حوصلے اور تحمل سے سنتا رہا۔ درمیان سے اُس نے نہ تو ٹوکا اور نہ ہی بات بات پر اپنے تجربات کے افسانوں کے تڑکے لگائے۔ وہ جانتا تھا،غلام حیدر غلطی کر چکا ہے،جس پر اُسے پہلے سے خبر دار کیا گیا تھا۔ لیکن اب اُسے اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہے،جس کی وجہ سے وہ ڈپٹی کے دفترسے اپنے گھر نہیں گیا،سیدھا اُس کے پاس آیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے،وہ اعتراف کا طوق گلے میں لٹکائے ہوئے آیا ہے۔ لہذا غلطی جتانے سے سوائے بیزاری بڑھانے کے فائدہ نہیں۔ اِسی کے پیش نظر ملک بہزاد خاموش بیٹھا سوچتا رہا۔ با لآخر سفید کھچڑی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بولا،غلام حیدر ایک بات بتا،سُنا ہے تیری نواب افتخار کے ساتھ دوستی ہے،کیا یہ بات ٹھیک ہے؟

 

ہاں وہ دوست تو ہے،غلام حیدر نے جواب دیا،لیکن وہ لندن میں ہے۔ میں نے اُسے ساری صورت حال کے بارے میں خط لکھ دیا ہے۔ مگر اُس کا ابھی تک جواب نہیں آیا۔ بلکہ ابھی تو میرا خط بھی نہیں پہنچا ہو گا۔

 

ایسا کر تُو اُسے تار بھیج دے،ملک بہزاد نے آہستہ سے کہا، اور یہ کام لاہور جا کر وہاں سے کر۔ فیروزپور یا جلال آباد سے ہرگز نہیں۔ دوسرا کام یہ کر،تین مہینے کے لیے تسلی سے بیٹھ جا۔ حویلی سے باہر بھی نہ نکل اور ایک درخواست عدالت میں جمع کروا دے کہ مجھے دشمنوں سے اپنی زندگی کا خطرہ ہے۔ لہذا جو پولیس نے میرا اسلحہ ضبط کیا ہے،وہ گورنمنٹ مجھے واپس کرے۔ اس کے علاوہ یہ خبر جھنڈو والا اور عبدل گجر تک بھی مشہور کر دے کہ تیرا اسلحہ ضبط ہو چکا ہے۔

 

اِس کا کیا فائدہ ہوگا؟ غلام حیدر نے حیرانی سے پوچھا

 

اِس کا یہ فائدہ ہو گا کہ جب تجھے تین مہینے سے پہلے بطور مدعی عدالت میں طلب کیا جائے تو تم عدالت کو باور کرا سکتے ہو کہ مجھے دشمنوں سے خطرہ ہے اس لیے میں بغیر اسلحے کے کسی بھی جگہ آنے جانے سے قاصر ہوں۔ اِس سلسلے سے متعلق میں ایک درخواست بھی جناب میں پیش کر چکا ہوں۔ چنانچہ اِسی خطرے کی وجہ سے میں عدالت بھی حاضر نہیں ہو سکتا۔ تمھاری اِس معذوری کی بنا پر عدالت یا تیرا اسلحہ بازیاب کرائے گی یا تین مہینے تک تمھیں عدالت میں حاضر نہ ہونے سے معذور قرار دے گی۔ اِدھر اِس درخواست کی وجہ سے انگریزی پولیس آپ کی رائفل تین مہینے کے بعد تمھیں واپس کرنے کی پابند ہو گی اور مزید ضبطی کے آڈر جاری نہ کر سکے گی۔ کیونکہ اِن سابقہ تین ماہ میں آپ کا کردار بالکل صاف رہا ہو گا۔ رہا آپ کے ہتھل ہونے کی خبر سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ تک پہنچانے کا فائدہ،تو اِس سے یہ ہو گا،وہ تینوں بے خطر فیروزپور کی عدالت میں تاریخیں بھگتنے چلے آئیں گے۔ یہی وقت ہو گا ہماری کارروائی کرنے کا۔ تم اِس عرصے میں نواب افتخار کی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اُس کی کان و کان کسی کو خبر نہ ہو۔

 

غلام حیدر دل ہی دل میں ملک بہزاد کی عقل کو داد دینے لگا اور تہیہ کیا کہ کبھی ملک بہزاد کے مشورے کے خلاف نہیں کرے گا۔ پھر سوچ کر بولا،لیکن چاچا بہزاد آپ کو میرے ساتھ ہر معاملے میں چلنا ہو گا۔ خرچے کی کوئی بات نہیں۔ میں سب دینے کو تیار ہوں،جتنا بھی آئے گا۔ تم کل میرے ساتھ جلال آباد چلو اور یہ درخواست بازیوں کے معاملات کو سنبھالو۔ اگر مجھ پر چھوڑو گے تو میں یہ کام نہیں کر سکوں گا۔ اِس کے بعد غلام حیدر نے اپنے کُرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کے پانچ سو روپے کی ایک تھیلی نکالی اور ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔
ملک بہزاد نے وہ تھیلی پکڑ کر واپس غلام حیدر کی جھولی میں رکھ دی اور بولا،بھتیجے تُو فکر نہ کر۔ مَیں کل تیرے ساتھ چلتا ہوں اور عدالت میں وکیل اور دوسرے معاملات کو دیکھتا ہوں۔ یہ پیسے میرے پاس بہت ہیں۔ اللہ کا دیا بڑا فضل ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔

 

اس گفتگو کے بعد دونوں اُٹھ کر باہر آگئے۔ اُنہیں دیکھ کر سب ایک مر تبہ پھر اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ جب دونوں بیٹھے تو دوسرے بھی اپنی جگہ آرام سے بیٹھ گئے۔ شام کے سات بج گئے تھے۔ یہ وقت غلام حیدر کے جلال آباد جانے کا نہیں رہ گیا تھا۔ اِس لیے رات کے کھانے اور رات کے بسر کرنے کا سامان ہونے لگا۔ ملک بہزاد نے اُٹھ کر اپنے ملازموں کو حکم جاری کرنے شروع کر دیے۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(23)

 

ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بعد غلام حیدر اگر بہت زیادہ مطمئن نہیں تھا تو غیر مطمئن بھی نہیں تھا۔ کیونکہ پچھلے تین دن سے اُسے ایک تو اپنے سکول کے دوست کے ساتھ رہنے کا موقع مل گیا۔ جسے وہ پچھلے دو سال سے نہیں ملا تھا۔ یہ رفاقت اُسے گزری رُتوں میں لے گئی اور وہ دونوں بچپن کے دنوں کو دہراتے رہے۔ اگرچہ ابھی جوان تھے مگر بچپن کی یاد کچھ اپنا ہی مزا رکھتی ہے۔ نجم سے ملنے کے سبب غلام حیدر کے دل سے بار کچھ ہلکا ہو گیا اور وہ ایک بڑے سردار کی ذمہ داری سے کچھ وقت کے لیے کٹ گیا۔ دوسرا شیخ مبارک حسین کی صحبت نے اُسے باپ کی شفقت کا سا کام دیا۔ شیخ مبارک نے سمجھایا کہ جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔ عقل اور سمجھداری سے کام لو، رعایا کو سنبھالنا تمہاری ذمہ داری ہے لیکن اس طرح نہیں کہ عین انہی کی خواہش کو تکمیل تک پہنچاؤ۔ اپنے حساب سے کام کرو۔ رعایا تو چاہتی ہے،نتیجہ ایک دم نکل کے سامنے آ جائے اور دشمن سے فوراًبھڑ جاؤ۔ تو کیا تم اُن کی خواہش کو پورا کرنے پر قادر ہو گے ؟تم یا تمہاری رعایا جو کچھ بھی کرو گے،اُس کی ذمہ داری کا بوجھ صرف تمھی اُٹھاؤ گے۔ جو نتیجہ نکلا اُس کے مٖفید ثمرات میں تو رعا یا تمھاری شریک ہو گی لیکن اُن کی کڑواہٹ صرف تمھارے حصے میں آئے گی۔اس لیے خودکو سنبھالو اور رعایا کے ہاتھوں میں کھلونا مت بنو۔کیونکہ آج تم اپنی رعایا کی ایک بات مانو گے تو کل وہ دوسری کی خواہش کر دیں گے۔وہ تمھیں یہ تک ثابت کر دیں گے کہ تم وائسرائے سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تو کیا تم اُسی سمجھ بوجھ سے کام لو گے ؟بیٹا میری ایک صلاح ہے، اُسے پلّے سے باندھ لو۔انگریزی قانون ایک بم ہے۔ اسے جس گدھے نے دولتی ماری، اُس کے پرخچے اُڑ گئے۔تم نہیں جانتے مگر میرا تجربہ بتاتا ہے کہ انگریز اپنے قانون میں کسی کی مداخلت جائز سمجھ لیتا تو ہندوستان میں ایک لمحے کے لیے راج نہ کر سکتا۔ سردار سودھا سنگھ تو دو ٹکے کا نہیں۔ یہاں نوابوں کی نہیں چلتی۔ غلام حیدر بات ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ سودھا سنگھ پر قتل اور ڈکیتی کا پرچہ کٹ چکا ہے۔ اُسے نہیں پتا کہ اُس پر کتنا بڑا وزن گِر گیا ہے۔ دیکھ لینا،دو چار دن میں جب اُس پر راستے تنگ ہو جائیں گے تو بلبلا اُٹھے گااور گردن بچاتا پھرے گا۔ تم ابھی حوصلہ رکھو۔ آخر وہ اس قتل کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ حکومت کو اس کا کُھرا تو نکالنا ہے۔ اب تم آرام سے جلال آبادمیں جا کر حالات کا جائزہ لو اور رعایا کو کسی بھی طریقے سے لگام میں رکھو۔ میرا خیال ہے، جلد معاملہ آگے بڑھے گا۔ ریل میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں اپنے ڈرائیور ہاشم کو کہتا ہوں، وہ تمھیں جلال آباد چھوڑ آتا ہے۔ جیپ دو گھنٹے میں پہنچ جائے گی، باقی اگر کچھ مسئلہ پیدا ہوا تو میں حاضر ہوں لیکن اُس وقت تک، جب تک تم قانون کے دائرے میں ہو۔ اگر تم نے خود اپنے فیصلے قانون کے متوازی شروع کر دیے تو بیٹا میرے لیے مشکل ہو جائے گی۔ میں ایک کاروباری آدمی ہوں، زیادہ مسائل میں میرا دماغ نہیں چلتا۔ تم مجھے نجم علی کی طرح ہو اس لیے میں نہیں چاہتا،تمھارا کچھ نقصان ہو۔

 

غلام حیدر کے دل پر شیخ مبارک کی باتوں کا کافی اثر ہوا۔ اُس نے فیصلہ کیا، واقعی اُسے جلدی نہیں دکھانی چاہیے۔ اس کے علاوہ غلام حیدر کے دل میں ایک اور بات بھی تھی کہ اُسے نواب افتخار کو ایک دفعہ ضرور تار دینی چاہیے لیکن فی الحال آرام سے شیخ مبارک کے مشورے کے مطابق چار چھ دن اور انتظار کر لینے میں کوئی ہرج نہیں تھا۔ ویسے بھی اُسے یہ اطلاع تو مل چکی تھی کہ ولیم اپنی طرف سے معاملے کو سنجیدہ لے کر تفتیش کر رہا ہے۔ بلکہ پہلی دفعہ کسی انگریز نے خود جا کر گاؤں میں پوچھ گچھ کی تھی۔ غلام حیدر نے سوچا، ہو سکتا ہے ڈپٹی کمشنر ٹھیک کہتا ہو کہ ولیم میری طرف داری میں ہے اور مجھے کسی وجہ سے ولیم کے ساتھ پہلی ملاقات میں غلط فہمی ہوئی۔ بہرحال اب اُسے جلد ازجلد جلال آباد پہنچنا چاہیے کہ اس حالت میں اتنے دن باہر رہنا زیادہ ٹھیک نہیں تھا۔ ویسے بھی اُس نے جو کچھ کرناتھا اُس حد تک تو کر لیا تھا۔:

 

ٹھیک بارہ بجے وہ شیخ مبارک کی جیپ میں بیٹھ چکا تھا۔ ہاشم علی نے دو اور دوست بھی اپنے ساتھ لے لیے کہ رستے میں کوئی مسئلہ بھی پیش آ سکتا تھا،پھر اکیلا آدمی بہت خجل ہوتا ہے۔
نجم علی نے نہایت تپاک سے غلام حیدر کو رخصت کیا۔ جیپ کی گراری کا رسہ کھینچا گیا۔اُس کے شور سے بازار میں چلنے والے ایک تانگے کا گھوڑا بدک گیا۔ بارہ بجے جیپ فیروز پور سے نکل پڑی۔ غلام حیدر اپنی ر ائفل بائیں کاندھے پر لٹکاکر ہاشم علی کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ پف لگی پگڑی،جو چار دن سے اتا رکر رکھی ہوئی تھی، وہ بھی سر پر رکھ لی۔ اب اُسے اپنے علاقے میں ایک بڑے چوہدری کی حیثیت سے ہی داخل ہونا تھا۔ غلام حیدر سر پر پگڑی باندھے، بائیں کاندھے پر رائفل رکھے،ہاشم علی ڈرائیور کے دائیں پہلو میں بیٹھا،رعب داب کی ایک نئی تصویر پیش کر رہاتھا۔ غلام حیدر کو اسلحہ لے کر اور پگڑی باندھ کر جیپ میں بیٹھنا اچھا لگا۔ اُس نے دل ہی دل میں خیال کیا، اب اُسے بھی اپنی ایک جیپ خرید لینی چاہیے۔جیپ کی سواری ایک تو تیز ہے،دوسرا اس دور میں بگھی کی نسبت رعب بھی ذرا زیادہ ہے۔ غلام حیدرکے پیچھے بیٹھے ہوئے ہاشم علی کے دوست مسلسل باتیں کرتے جا رہے تھے۔ جس کی وجہ سے غلام حیدر بار بار اپنے خیالات سے باہر نکل آتا۔ بالآخر اُس نے سیٹ کے ساتھ سر ٹکا لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ ہی دیر بعد جیپ کے جھولوں میں نیند کے جھولاٹے اُسے اپنی پناہ میں لے گئے۔پھر جو آنکھ کھلی تو وہ جلال آبا دمیں تھا۔

 

جیپ حویلی کے دروازے پر پہنچی تو ایک اور ہی سماں تھا۔ سینکڑوں لوگ حویلی کے باہر کھڑے تھے۔ غلام حیدر جیپ سے نیچے اُتر کر آگے بڑھا تو سب اُس کے گرد جلد بھاگ کر اکٹھے ہونے لگے۔ وہ حیران تھا کہ آخر انھیں کیا ہو گیا ہے۔ اِن کو میری ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی خبر لینے کی ایسی کیا جلدی ہے مگر ساتھ ہی تمام لوگوں کے چہروں پر تفکرات کی جُھریاں دیکھ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اُس کے دل میں خدشات کے جھکڑ چلنے شروع ہو گئے۔ حویلی میں داخل ہواتو وہاں اور بھی بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔لوگ غلام حیدر کو دیکھ کر فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے۔ خدابخش نے آگے بڑھ کر غلام حیدر کے پہلو میں چلتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر پھر چپ ہو گیا۔ اتنے میں وہ ایک بڑے موڈھے پر بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی پوچھا،چاچا بخشے چاچا رفیق کدھر ہے، نظر نہیں آ رہا اور دوسرے بھی دکھائی نہیں دے رہے؟
خدا بخش فوراً اپنی سفید داڑھی کو مٹھی سے آزاد کرتے ہوئے بولا، سردار غلام حیدر وہ تو اسٹیشن پر تمھیں لینے کے لیے پہنچا ہے۔ اُسے کیا پتا تھا تم جیپ پر آ جاؤ گے۔

 

غلام حیدر نے اپنی خالص اُون کی سرمئی چادر اُتا رکرساتھ کے خالی موڈھے پر رکھی اور کہا، خدا بخش فوراً بندہ بھیج کر اُنھیں واپس بلا لو اور یہ اتنے لوگ یہاں کس لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور سب کے چہرے کیوں مرجھائے ہوئے ہیں؟ اس کے ساتھ ہی غلام حیدر کی نظر غلام رسول پر پڑگئی۔

 

غلام رسول پچاس کے پیٹے میں ادھیڑ عمر کا مگر منجھا ہوا شخص تھا۔ ہلکی سفید داڑھی جس میں کچھ بال ابھی تک سیاہ تھے۔ چہرے کی ہڈیاں چوڑی اور کُھلے کُھلے ہڈ کاٹھ۔ چرخے پر کاتے گئے دھاگے سے بُنا ہوا کھدر کا کھیس کاندھے پر تھا۔جس کاایک پلُو اُس نے دائیں بغل سے نکال کر بائیں کاندھے پر ڈال لیا تھا۔اس طرح کھیس کاندھے پر رکھنے کا رواج پنجاب کے اکثر بڈھوں میں تھا۔ کھیس کے دونوں کنارے لال رنگ کے سوتی دھاگے سے بُنے ہوئے تھے۔جو دیکھنے والے کی آنکھوں کو بھلے لگتے۔پاؤں میں دیسی طرز کے جوتے بظاہر سادہ لیکن مضبوط چمڑے کے تھے اور گاؤں کے ہی موچی سے بنوائے ہوئے تھے۔ غلام رسو ل شاہ پور گاؤں میں شیر حیدر کا ہیڈ مُنشی تھا۔ جو شاہ پور کی زمینوں کا حساب کتاب رکھتا۔اس کے ساتھ ہی رعایا کے معاملات کی خبر گیری کا کام بھی اس کے ذمے تھا۔ شاہ پور کے لوگوں کے چھوٹے موٹے جھگڑے چُکا دینا بھی اُس کے دائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ نہایت ایماندار اور بھلا آدمی تھا اور شاہ پور میں بھی اُس سے کسی کو کچھ شکایت یا گلہ کم ہی پیدا ہوا تھا۔پچھلے تیس سال سے شیر حیدر کا اہم ملازم تھا۔

 

غلام حیدر نے غلام رسول کو اچانک دیکھا تو مضطرب سا ہو گیا اور غلام رسول کی طرف منہ کرکے پوچھا،چاچا غلام رسول تم شاہ پور سے کب یہاں پہنچے؟

 

غلام رسول کا جواب سننے سے پہلے ہی غلام حیدر نے پہلی دفعہ لوگوں پر غور سے نظر ڈالی۔ اُسے اور بھی کئی چہرے شاہ پور کے نظر آئے۔ غلام حیدر کا دل دھڑکنے لگا، اُس نے سوچا، کوئی بات ہو گئی۔ اتنے میں غلام رسول بولنے لگا، اُس کا ایک ہاتھ حقے کی نَے پر ہی رہا۔
چوہدری غلام حیدر، “غلام رسول نے نہایت کرب کے ساتھ بولنا شروع کیا” ہم آج گیارہ بجے جلال آباد پہنچے ہیں۔

 

اس دوران تمام لوگ بالکل ساکت وصامت بیٹھے اور کھڑے غلام رسول کی بات سننے کے لیے تیار تھے۔

 

غلام رسول نے اب ہمت کر کے بات سنانا شروع کی”غلام حیدر خیر ہی تو نہیں ہے۔شاہ پور پر رات قیامت ٹوٹ گئی، دشمنوں نے حملہ کر دیا ہے، شاہ پور کاباڑہ اُجڑ گیا، پورے پچاس بندوں نے حملہ کیااور آدھی رات اچانک باڑے میں برچھیوں اور چھوّیوں کا مینہ برسنے لگا۔خدا جانے ویریوں میں اتنا کروہد کس لیے آ گیا؟

 

غلام حیدر ہکا بکا ہو کر غلام رسول کی باتیں سُننے لگا۔ اچانک اُس نے محسوس کیا کہ اتنے بھرے مجمعے میں اُسے کچھ نہیں پوچھنا چاہیے۔ اُس نے ہاتھ کے اشارے سے غلام رسول کو چپ کرا دیا۔پھر خدا بخش سے کہا، خدا بخش تم ایسا کرو جلدی سے شیخ صاحب کے بندوں کے لیے کھانے کابندوبست کرو، اور رفیق کو اسٹیشن سے بلانے کے لیے کوئی بندہ بھیجو۔
خدا بخش نے ہولے سے کہا، فیقے کی طرف تو حبیب کو بھیج دیا ہے چوہدری صاحب۔

 

اتنا کہہ کر خدا بخش وہاں سے اُٹھ کر حویلی کے زنانہ حصے کی طرف چل دیا۔
خدا بخش اور اُس کی بیوی جوانی کے دنوں سے ہی شیرحیدر کے ملازم ہو گئے تھے۔ گھر کے اندر خدا بخش کی بیوی فاتاں کے پاس باورچی خانہ اورنجی قسم کے چھوٹے چھوٹے معاملات کا بندوبست تھا۔جبکہ باہر کی میزبانی کا بار خدا بخش کے ہاتھ میں تھا۔اولاد کوئی نہیں تھی اور دونوں کی عمریں سڑسٹھ سال کے لگ بھگ ہو چکی تھیں۔ میاں بیوی حویلی کے وفادار ملازموں میں سے تھے۔ غلام حیدر کی ماں اور پورا خاند ان ان پر بھروسا کرتے تھے۔ غلام حیدر کے ملازموں میں بھی ہر دلعزیز ہونے کی وجہ سے نوکروں کی چھوٹی موٹی شکایات کو اُوپر ہی اُوپر نپٹا دیتے اوراُن کی رشتے داریوں میں بھی پوری طرح دخیل تھے۔غلام حیدر نے خدا بخش سے فارغ ہو کر غلام رسول اور اُس کے ساتھ آئے ہوئے بندوں کو ڈیوڑھی کے ایک کمرے میں اُس کے پیچھے آنے کو کہا۔ وہ اُٹھ کر اُس کے پیچھے چل دیے،باقی سب وہیں بیٹھے رہ گئے۔

 

غلام حیدر کو پتا تھا کہ غلام رسول سب لوگوں کو کہانی پہلے ہی بتا چکا ہے اور یہ بات کوئی راز نہیں رہ گئی پھر بھی کچھ ایسی بات ہوتی ہے جس کا سب کے سامنے وضاحت کر کے اور کھُول کر بیان کرناٹھیک نہیں ہوتا۔اس لیے یہ قصہ اِن سب کے سامنے نہ ہی دہرایا جائے تو اچھا ہے۔ ڈیوڑھی کے کمرے میں داخل ہو کر غلام حیدر نے وہاں پڑی ہوئی چار پائیوں پر اُن سے بیٹھنے کو کہا اور خود بھی ایک چارپائی پر بیٹھ کر بولا، غلام رسول اب سارا قصہ سناؤ۔

 

غلام رسول نے بات دوبارہ شروع کر دی، اس دوران دوسرے تمام لوگ خاموش بیٹھے سنتے رہے۔
چوہدری غلام حیدر “غلام رسول بولا”یہ آج رات دس بجے کی بات ہے۔ آپ کو تو پتا ہے، پچھلے دس سال سے سارے شاہ پور کا مال مویشی اُسی باڑے میں اکٹھا بندھتا ہے جو شیر حیدر نے بنوا کر دیا تھا۔ اُس باڑے کی پہرے داری روزانہ دس بندے کرتے ہیں۔ جب سے سودھا سنگھ نے جودھا پور پر حملہ کیا، ہم نے یہ پہرہ اور بھی سخت کر دیا تھا بلکہ تیری ہدایت کے مطابق ڈانگ سوٹے کی پوری تیاری بھی وہاں کر کے رکھی ہوئی تھی۔ مگر پتا نہیں تھا کہ دشمن اتنی جلدی ایسی بے شرمی کی چال کھیلے گا۔ یہ آج رات دس بجے کی بات ہے، باڑے میں سارے بندے جاگ رہے تھے اور نذیر بھیکو قصہ شاہ داؤد سنا رہاتھا۔ ہم سوکھا گووہا اکٹھا کر کے آگ جلا کر سارے اُس کے گردبیٹھے ہوئے تھے۔ دُھند کچھ زیادہ نہیں تھی اور تارے چمک رہے تھے اتنے میں ہمیں کچھ لوگوں کے قدموں کی آواز سنائی دی، ہشیار تو ہم پہلے ہی سے تھے۔میں نے فوراً اُٹھ کر حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی،کیا دیکھتا ہوں کچھ لوگ گھوڑوں پر اور بہت سے پیدل، باڑے کے چاروں طرف بندے ہی بندے سر نکالے کھڑے تھے۔ میں فوراًپیچھے ہٹا اور بیلیوں کو کہا کہ تکڑے ہو جاؤ دشمن چڑھ آٗئے ہیں۔ہم نے بھی فٹا فٹ اٹھ کر اپنی ڈانگیں اور چھّویاں کَس کے دشمن کو للکار دیااور دھویں کی آگ پر راکھ ڈال کر اُسے بجھا دیا۔

 

چوہدری صاحب باڑے کی دیوار دو ہاتھ سے زیادہ نہیں۔ منٹوں میں سارے بندے چھلانگیں مارکر اندر آ گئے۔اللہ مولاجانتا ہے، پورا پچاس بندہ تھا۔ پَر میں نے شادھے خاں کو کہا، بھائی شادھے آ ج علی کا نام لے کر پلتھے کے کرتب دکھا دے۔ بس پھر آدھے بندے شادھے خاں کی پشت پر تھے اور آدھے خان دلاور کی چوکی میں کر دیے۔ اس کے بعد بغلوں کے وار چلنے لگے۔ پھٹیت میں تو میرا وار بھی ہلکا نہیں تھا۔ پَر رات شمّے کے دیگی لوہے والی برچھی نہ پورا بھرم رکھا۔ لو جی چودھری صاحب، پچاس بندوں نے ہمیں گھیر لیا،باقی مال کھولنے میں لگ گئے۔ ادھر میں نے للکارا مارا تا کہ جو گاؤں میں سو رہے ہیں وہ بھی آجائیں۔ہم نے کہا مرناتو ایک دن ہے ہی۔کیوں نہ آج مردوں کی طرح جان دے دیں۔ چوہدری جی لوہے پر لوہا ایسے گرتا تھا جیسے فرنگی توپیں چلتی ہیں۔ یہ مندرے( پاس بیٹھے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس نے نوک دار مونچھوں کو وٹ دے کر اوپر کی طرف موڑی تھیں اور آنکھیں انگارے کی طرح سرخ تھی )نے بھی کمال کر دیا۔ ہم صرف دس بندے تھے اور دشمن کی تعداد ہم سے سات گُنا زیادہ تھی۔

 

جس کی وجہ سے لڑائی کے شروع میں ہمارے دو بندے گر گئے لیکن اس کے بعد ہم نے باندر کِلًے کی طرح دائرہ باندھ لیا تاکہ کنڈیں بچی رہیں اور کوئی پیچھے سے وار نہ کرے۔ چھوّیوں اور ڈانگوں کااتنا کھڑکا تھا، جس کی آواز فوراً ہی گاؤں والوں نے بھی سُن لی اور تھوڑے ہی وقت میں وہ بھی ڈانگیں پکڑے آ گئے۔دشمنوں کو اتنی امید نہیں تھی کہ ہم اس طرح اُن کا مقابلہ کریں گے۔ جب انھوں نے گاؤں والوں کی للکاریں سنیں تو اُن کے جی چھوٹ گئے اور انھوں نے بھاگنے کاارادہ کر لیا۔ اس وقت مَیں نے شادھے کو کہا، شادھے خاں یہی وقت ہے اِن کے بندے گرانے کا۔عین اُسی وقت میراسامنا بِلّے کمبوہ سے ہو گیا۔ اُس کا مڑاسا گرگیا تھا۔تب میری آنکھیں کُھلیں۔ میں نے کہا رسُولے یہ کیا ہوگیا؟یہ تو عبدل گُجر کا خاص بندہ ہے۔ اتنے میں گاؤں والے سارے باڑے میں داخل ہو چکے تھے۔ بِلاٌ شاید بھاگ ہی جاتا مگر نذیرے بھیکو نے آگے سے رستہ روک لیا اور ایک برچھی کا الٹا ہاتھ بِلُّے کے سر پر مارا۔ سَر تو اُس نے ایک طرف کر کے بچا لیا مگر برچھی دائیں موڈھے میں اُتر گئی اوربِلُّا گر پڑا۔اتنے میں شادھے نے دماسنگھ کو گرا لیا۔

 

اب میں نے ساری کہانی سمجھی۔ چوہدری غلام حیدر، ہم پر سودھا سنگھ اور عبدل گجر دونوں نے مل کر سٹ ماری کیونکہ دَما تو خاص سودھا سنگھ کا بندہ تھا۔ شادھیا کا وار دما سنگھ کی چوٹی پر سیدھا پڑا تو وہ نیچے بیٹھتا ہی چلا گیا۔ اُوپر سے میں نے دووار کرکے اپنے لوہے کو گرم کیا۔ شادھا تو بِلے کو بھی مارنے لگا تھا پر میں نے کہا،فی الحال اِسے پکڑ لو۔کوئی ثبوت تو پاس ہو۔پھر یہ مسلمان بھی ہے۔ اس طرح ایک بندہ ہم نے مار دیا جو سودھا سنگھ کا تھا اور ایک بندہ زخمی پکڑ لیا ہے۔اِس کے بعد غلام رسول نے سر نیچا کر کے کہا، لیکن چوہدری صاحب ہمارے تین بندے لطیف کمھار، دُلّا آرائیں اورباہلی شیر گڑھیا بھی اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اور چار بندے پھٹٹر ہو گئے۔ ان بندوں کے علاوہ پندرہ بھینسیں بھی لے گئے۔( آہ بھر کر )چوہدری، زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر مرنے والے تینوں ہی بڑی بے جگری سے لڑے ہیں۔

 

اُس وقت ذرا اندھیرا تھا اور وہ دونوں شادھے کی ٹولی میں تھے۔ مجھے تو بعد میں پتا چلا کہ سودھا سنگھ کے اور بھی بندے شامل تھے۔نیک علی نے مجھے بتایاہے۔ لطیف پر جس نے وار کیا وہ متھا سنگھ تھا اور شادھے نے رنگا کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ باقی تو کئی بندے پچھانے گئے جو عبدل گجر کے تھے۔ لڑائی کے دوران ہم مال مویشی پر توجہ نہیں دے سکے اس لیے جب تک لڑائی ختم ہوئی وہ بہت دور لے کر نکل چکے تھے۔ جب مجھے تھوڑا سا ہوش ملا تو میں نے کہا کہ جلدی سے لاھد کراؤ،یوں ہمارے دس پندرہ بندے اُن کے پیچھے لاھد کرتے ہوئے بھاگے۔اس میں اتنا ہوا کہ وہ آدھا مال چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ لاھد ہونے کی وجہ سے وہ انھیں تیز ہنکا نہیں سکتے تھے۔ پھر بھی نقصان کافی زیادہ ہو گیا ہے۔کم از کم پندرہ بھینسیں چلی گئیں ہیں۔ چوہدری صاحب یہ قصہ ہے، جو آپ کے شاہ پور میں ہوا۔ ہمارے تین بندوں کا نقصان تو ہو گیا ہے پر رب نے شرم رکھ لی۔ اس واقعے کے بعد مَیں تو اطلاع دینے کے لیے صبح ہی اِدھر آ گیا، باقی گاؤں والے سارے اُدھر ہی ہیں۔ زخمیوں کو ہلدی اور دودھ پلایا جا رہا ہے، پٹیاں باندھ دی گئی ہیں۔اُن میں سے خدا کا شکر ہے کسی کی جان کو خطرہ نہیں۔ اب تک پولیس بھی آگئی ہو گی۔ اب ہمارے پاس اُن کے دو بندے ایک سودھا سنگھ کا حقہ بردار اور دوسرا عبدل گجر کا بندہ بِلّاکمبوہ ثبوت کے طور پر ہیں۔ میں نے ساری کہانی چاچے فیقے کو آپ کے آنے سے پہلے ہی بتا دی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا،آپ فیروز پور ڈپٹی صاحب بہادر سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے ہیں اور آج واپس آنا ہے۔space:

 

غلام رسول اپنی رَو میں کہانی سنا گیا جبکہ غلام حیدر کا سر چکرا رہا تھا۔ اُسے ہرگز یہ گمان نہیں تھا کہ کل کے خارش زدہ کتے اُس پر بھیڑیوں کی طرح پل پڑیں گے۔ سودھا سنگھ تو خیر پھر بھی ایک حیثیت کا مالک تھا مگر عبدل گجر کی یہ جرأت ہو گی، یہ اُسے اندازہ نہیں تھا۔ اس نے اپنے بِل سے باہر نکل کر اتنا زبردست حملہ کیا تھاکہ سچ بات تو یہ ہے، غلام حیدر کے اوسان ٹھکانے پر نہیں رہے تھے اور اُسے غلام رسول کی بات سن کر کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔البتہ یہ حوصلہ ضرور ہوا کہ اس کے بندوں نے کسی بھی محاذ پر پیٹھ نہیں دکھائی تھی۔ یہی بات غلام حیدر کی ہمت بندھانے والی تھی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ ڈیوڑھی سے باہر نکل آیااور کہا، غلام رسول گھبراؤ ناں،دیکھ مَیں اب کیسے سودھا سنگھ اور عبدل گجر کی ایسی کی تیسی پھیرتا ہوں۔

 

اتنے میں رفیق پاولی بھی حویلی میں داخل ہو گیا۔رفیق پاولی غلام حیدر کے ساتھ سلام لے کر چپ چاپ کھڑا ہو گیا۔ اس کے پیچھے باقی بندے بھی خموش کھڑے تھے۔

 

تھوڑی دیر خموش کھڑا رہنے کے بعد غلام حیدر نے رفیق کو مخاطب کر کے کہا، چاچا فیقے جلدی سے شاہ پور چلنے کی تیاری کرو۔ اتنا کہہ کر وہ حویلی کے زنانہ حصے کی طرف بڑھا اور اندر داخل ہو گیا۔ غلام حیدر گھر میں داخل ہوا تو اس کی ماں فاطمہ بانو دوڑ کر بیٹے کے گلے لگ گئی اور ر ونے لگی۔ غلام حیدر کچھ دیر کھڑا ماں کا روناسنتا رہا۔حویلی میں اس تازہ واقعے کی خبر سن کر بہت عورتیں اکٹھی ہو چکی تھیں۔ وہ بھی اُٹھ کر غلام حیدر کے گرد جمع ہو گئیں۔ غلام حیدر نے سب عورتوں سے کہا کہ آپ سب فی الحال اپنے گھروں کو چلی جاؤ۔ پھر وہ اپنی والدہ کو لے کر صحن کے ایک کونے میں بیٹھ گیاجہاں دھوپ کافی چمک رہی تھی۔ فاطمہ بانو نے چارپائی پر بیٹھتے ہی کہا، پتر حیدر میں تجھے خدا کا واسطہ دیتی ہوں تُوشہر واپس چلا جا اور لاہور والے گھر میں ہی رہ۔دشمن اپنی آئی پر آیا ہوا ہے۔ دیکھ، تُوچار دن فیروز پور رہا اور میری جان سوئی پر اٹکی رہی،۔خدا نہ خواستہ تیرے دشمنوں کو کچھ ہو گیا تو میں زندہ مر جاؤں گی۔ میرا تیرے بغیر اب کوئی سہارا نہیں۔

 

فاطمہ بانو کی اس قدر آہ زاری اور سیاپا سُن کر غلام حیدر بولا، لیکن اماں یہ بتا میں اتنی زمینوں اور اتنے لوگوں کو بے سہارا چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں؟ سودھا سنگھ اور عبدل گجر میری رعیت کی بوٹیاں نوچ کھائیں گے۔ تمھیں نہیں پتا، میرے باپ کی عزت اور مال داؤ پر لگا ہوا ہے؟

 

فاطمہ بانو نے غلام حیدر کا جواب سنا تو تڑپ کر بولی،پتر آگ لگے اِن زمینوں کو۔ ہمیں یہ نہیں چاہئیں،مجھے تو تیری جان عزیز ہے۔ تمھیں نہیں پتا، جتنی دیر تم حویلی سے باہر ہوتے ہو مَیں انگاروں پر بیٹھی ہوتی ہوں۔( پھر نزدیک ہو کر اپنے پلُو سے غلام حیدر کی چادر پر پڑی گرد کو جھاڑتے ہوئے)دیکھ میرا پتر، یہ ساری زمین رعایا میں بانٹ یا اِس کو تھوڑے بہت ٹھیکے پر دے دے اور لاہور چلا چل۔ مَیں بھی ترے ساتھ وہیں چلی جاؤں گی۔ اب تو یہ حویلی مجھے کاٹ کھاتی ہے۔ زندہ رہیں گے تو عزت بھی آ جائے گی۔ رعیت کا اللہ وارث ہے، جس نے پیدا کیا ہے، وہ اِن کو رزق بھی دے گا اور اِن کی حفاظت بھی کرے گا۔

 

غلام حیدر نے دیکھا کہ اُس کی ماں بہت زیادہ ڈری اور سہمی ہوئی ہے اوراس کی سب سے بڑی وجہ یہ عورتیں ہیں،جو رتی بھر کو سیر کر کے دکھاتی ہیں۔ لیکن فی الحال اُس نے عورتوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا بلکہ اپنی ماں کا دل رکھنے کے لیے کہہ دیا،ٹھیک ہے اماں جیسے تُو چاہتی ہے ویسے ہی کریں گے۔ہم بہت جلد لاہور چلے جائیں گے لیکن ا ِس وقت تو جو مصیبت آئی ہے،کسی طرح اُس کا اُپا کریں۔ پھر دوچار دن میں سارا کچھ فیقے پاولی کو سونپ کر ہم یہاں سے نکل جائیں گے۔ بس تو حوصلہ رکھ۔ اتنا کہہ کر غلام حیدر جیسے ہی باہر نکلنے کے لیے اُٹھا، فاطمہ بانو نے غلام حیدر کا بازو پکڑ کر کہا، بیٹا ایک بات تو بتا؟یہ وائسرائے کی بیٹی والا کیا قصہ ہے؟ کہیں یہ سب کچھ اِسی غصے میں سرکار ہی تو تیرے ساتھ نہیں کرا رہی؟ بیٹا مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ یہ ساری مصیبتیں اُسی کی وجہ سے آ رہی ہیں۔ دیکھ پتر ہم کتنے ہی زمینوں والے کیوں نہ ہوں، حکومتوں سے مقابلے نہیں ہوتے۔

 

غلام حیدر اپنی ماں کی یہ بات سن کر حیران رہ گیا۔ وہ ہکا بکا ماں کو دیکھنے لگا۔کون سا وائسرائے اور کہاں کی بیٹی؟ غلام حیدر کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ کیا معاملہ ہے اور یہ کون سا نیا قصہ کھل گیا ہے؟ اُس نے حیران ہوکر پوچھا، اماں یہ کیا بجھارتیں کہتی ہو ؟سیدھی بات کرو۔

 

لو بیٹا، اب ماں سے چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں، فاطمہ بانو نے غلام حیدر کے منہ پر پیار سے ایک چپت مارتے ہوئے کہا، دیکھ بیٹامَیں ایک سے ایک اچھا رشتہ تیرے لیے ڈھونڈ نکالوں گی۔تُوبس فرنگی کی بیٹی کا پیچھا چھوڑ دے۔ مجھے تیری زندگی چاہیے ورنہ یہ فرنگی تیرے پیچھے پتا نہیں اور کتنے کُتے لگائے گا۔

 

غلام حیدر نے جھنجھلاکر کہا، مگر اماں کون سی فرنگی کی بیٹی ؟مجھے تو کچھ خبر بھی نہیں، یہ کیا اشقلے چھوڑ رہی ہو؟

 

تو کیا یہ ساری عورتیں جھوٹ کہتی ہیں کہ تیرے ساتھ وائسرائے کی بیٹی کے تعلق ہیں؟ اور وہ اپنے باپ کی مرضی کے خلاف تیرے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے۔

 

غلام حیدر نے غصے سے اٹھتے ہوئے کہا، لاحولا قوۃ، اماں یہ کیا بکواس اور جھوٹ ہے۔ میں نے تو آج تک اُسے دیکھا بھی نہیں(عورتوں کی طرف دیکھتے ہوئے جو دور بیٹھی ماں بیٹے کی گفتگو تو خیر نہیں سن سکتی تھیں مگر دیکھ رہی تھیں)اماں سارے فساد کی جڑ یہ پھپا کُٹنیاں ہیں۔ تُو ان کی باتوں پر دھیان نہ دیا کر۔ اتنا کہہ کر غلام حیدر اٹھ کھڑا ہوا اور چلنے سے پہلے کہا، اماں دیکھ میں شاہ پور جا رہا ہوں۔ آج رات شاید واپس نہ آ سکوں اس لیے بجائے رونے پیٹنے کے میرے لیے دعا کر۔

 

بیٹا، کیا یہ نہیں ہو سکتا، تو شاہ پور فیقے کو بھیج دے اور خود نہ جا۔
یہ جملہ فاطمہ بانو نے ایسی ملتجیانہ نظروں سے دیکھ کر کہا کہ غلام حیدر کا دل بھر آیا۔ اس نے ماں کو گلے سے لگا کر کہا،اماں حوصلہ رکھ کچھ نہیں ہو گا، دشمن تیرے بیٹے کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ اِتنا کہہ کر غلام حیدر باہر نکل آیا ہے حالانکہ جانتا تھا کہ اس بات سے ماں کی ڈھارس نہیں بندھے گی۔

 

سارے جوان بگھیوں پر تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ غلام حیدر کے بگھی پر قدم ر کھتے ہی گھوڑے دوڑ پڑے اور قافلہ شاہ پور کی طرف روانہ ہو گیا۔ اب کے ہر ایک پر خموشی طاری تھی۔ دشمن کے تازہ حملے نے سب پر ایک قسم کا سکتہ کر دیا تھا اور کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہاتھا کہ اب کیا ہوگا۔ رفیق پاولی کا ذہن تو بالکل ہی ماؤف ہو چکا تھا۔ اُس کی زندگی میں ابھی تک ایسی پے در پے چوٹیں کبھی نہیں لگی تھیں۔

 

بگھیاں شاہ پور پہنچیں تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔ ایک تو وقت ایسا تھا، اُوپر سے شاہ پور میں تین قتل اور مال کا نقصان الگ۔ہر طرف ایک ماتمی اور سوگوار کیفیت نظر آ رہی تھی۔شاہ پور کے لوگ تو ایک طرف، ایسا محسوس ہو رہا تھاجیسے درخت اور جانور بھی چپ سادھے ہوں۔ فروری کا مہینہ تھا، اس لیے ہوا کی سرسراہٹیں اور پتوں کے مسلسل گرنے نے اُس پر مزید اُداسی پیدا کر دی تھی۔ غلام حیدر فوراً باڑے میں پہنچا جہاں یہ سارا واقعہ پیش آیا تھا۔ لاشیں ابھی تک وہیں پڑی تھیں۔جن پر اُن کے بیوی بچوں کے بین جاری تھے۔جب انھوں نے غلام حیدر کو دیکھا تو بین اور بلند ہو گئے۔ عورتیں اُٹھ کر دوہتھڑ پیٹنے لگیں جو پہلے ہی رو رو کر تھک چکی تھیں۔ غلام حیدر تھوڑی دیر لاشوں کے پاس کھڑا رہا۔ تھانیدار دیدار سنگھ اور کچھ سنتری بھی وہیں پر غلام حیدر کے آنے سے پہلے پہنچ چکے تھے۔وہ لاشوں کا اچھی طرح سے معائنہ اور وقوعے کا جائزہ لے رہے تھے۔ گاؤں والوں نے صبح ہی کھوجی بلا کر پیروں کے نشان محفوظ کرنے کی عقلمندی بھی کر لی تھی۔ تھانیدار کے ساتھ جیسے ہی غلام حیدر کی آنکھیں ملیں، اُس کی آنکھیں خود بخود نیچی ہو گئیں۔وہ جانتا تھا کہ اب عذر خواہی کا وقت گزر گیا۔

 

سودھا سنگھ ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکاتھا،جس کی وجہ سے یہ دوسری کارروائی ہو گئی تھی۔ اِس میں زیادہ کردار اگرچہ عبدل گجر کا تھا مگر کُھرے واضح طور پر سودھا سنگھ کی حویلی تک بھی جاتے تھے۔ لوگ جو پہلے کسی حد تک تھانیدار سے سہمے ہوئے دور کھڑے تھے، اب غلام حیدر کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ غلام حیدر نے فی الحال تھانیدار کو نظر انداز کر کے گاؤں والوں کی طرف توجہ دی، جو بہت زیادہ بے بس اور ڈرے ہوئے تھے۔وہ اس طرح غلام حیدر کو دیکھ رہے تھے،جیسے پوچھتے ہوں کہ اب کیا ہو گا۔

 

عورتوں اور بچوں کے رونے کی آوازیں اور گاؤں والوں کی حسرت آمیز آنکھیں غلام حیدر کے دل پر چُھرے چلانے لگیں۔ وہ ایک چارپائی منگوا کر اُس پر بیٹھ گیا۔ اُس نے اپنی رائفل کاندھے سے اُتار کر پائنتی رکھنے کی بجائے اپنی جھولی میں ہی رکھ لی اور اُس کی نال پر ہولے ہولے ہاتھ پھیرنے لگا۔ اُس نے نہ تو کسی سے سوال کیا اور نہ ہی کسی نے واقعے کی تفصیل بتانے کی کوشش کی۔البتہ عورتوں کے اُٹھتے ہوئے بین،جن کے اندر ساری کہانی موجود ہ تھی، وہ سنتا رہا۔تھوڑی دیر بعد تھانیدار دیدار سنگھ بھی اس کے سامنے چارپائی پر بیٹھ گیا اور بولا،غلام حیدر مجھے واہگرو کی سونہہ اِس حادثے پر بہت افسوس ہوا ہے۔ میں نے وقوعے کا سارا جائزہ لیا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا عبدل گجر اور سودھا سنگھ اتنے گِر جائیں گے۔بس اب آپ چنتا رکھیں۔ میں دونوں کو اُن کے بندوں سمیت گرفتار کروں گا۔ چاہے خون کے چھجے بہہ جائیں۔مَیں نے گورنمنٹ سے اُس کی گرفتاری کے وارنٹ حاصل کر لیے ہیں۔ اِس سے پہلے کہ سودھا سنگھ پٹیالے چلا جائے، مَیں اُسے ٹوکرے کے نیچے سے ہی دبوچ لوں گا۔ مجھے مخبری ہوئی ہے کہ سودھا سنگھ مہاراجہ پٹیالے کے ساتھ رابطے میں ہے اور عبدل گجر منٹگمری میں اپنے رشتے داروں کے پاس جانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ وقوعے کی ساری تفصیل اور بِلًے اور دماسنگھ کی موجودگی بتاتی ہے کہ یہ کام اُن دونوں کی ہلا شیری سے ہوا ہے۔ میں کل ہی جھنڈو والا میں جاتا ہوں،سودھا سنگھ کی گرفتاری کے ساتھ اُس کا سارا مال بحق سرکار ضبط کر کے لے آؤں گا اور عبدل گجر کی طرف حوالدار شاد علی کو بھیجتاہوں۔ بس تُوحوصلہ رکھ گرفتاری جرور ہو گی۔سودھا سنگھ ابھی پٹیالا نہیں جائے گا کیونکہ ولیم کمشنر بہادر جلال آبا دنے اُس پر پابندی لگائی ہے کہ وہ جھنڈو والا سے باہر نہ جائے۔ اُسے پتا ہے اگر اُس نے صاحب بہادر کے حکم پر عمل نہ کیا تو پکا مجرم ظاہر ہو جائے گا۔ آپ کل یا آج ہی آ کر تھانے گروہرسا اِس واقعے کی ایف آئی آرکٹوا دیں پھر دیکھیں میں کیا کرتاہوں۔

 

غلام حیدر تحمل سے بیٹھا تھانے دار دیدار سنگھ کی باتیں سنتا رہا۔ غلام حیدر کو مسلسل خاموش دیکھ کر تھانیدار گھبراہٹ کا شکار ہو رہا تھا۔ شاید اِسی گھبراہٹ میں وہ کچھ اور بھی بول جاتا کہ اُسی لمحے رفیق پاولی نے تھانیدار کو مخاطب کر کے کہا، تھانیدار صاحب، آپ نے کیا کرناہے ؟بس یہ دیکھیں کہ اگلا حملہ ہم پر کب ہوتا ہے۔اُس کے بعد پھر ایک وقوعے کا معائنہ کرنے آ جانا۔ آپ کا کام ختم ہو جائے گا۔

 

رفیق پاؤلی کے یہ جملے تھانیدار کی چھاتی پر لگے۔اگر معاملہ اتنا سنجیدہ نہ ہوتا جتنا ہو چکا تھا تو وہ پاؤلی کے بچے کو اِس بدتمیزی پر یہیں پر لمبا کر لیتااور اُسے سمجھ آ جاتی کہ انگریزی سرکار کے تھانیدار کے سامنے کیسے بولا جاتا ہے۔ اِدھر جب رفیق پاؤلی کچھ اور بولنے لگا تو غلام حیدر نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا، چاچا فیقے رہنے دے، کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بھلا تھانیدار کا اس میں کیا گناہ ہے؟( پھر تھانیدار کی طرف منہ کر کے )تھانیدار صاحب مَیں کل سانجرے تھانہ گروہرسا پہنچ جاؤں گا ایف آئی آر درج کروانے۔ اگر آپ نے حالات اور وقوعے کا جائزہ لے لیا ہے تو جا سکتے ہیں۔ غلام حیدر کی بات سن کر تھانیدار اُٹھ کھڑا ہوا اور گھوڑی پر بیٹھتے ہوئے کہا،سردار غلام حیدر آپ لاشوں کو دفنا سکتے ہیں۔ مَیں کل سانجرے آپ کا تھانہ گرو ہرسا میں انتظار کروں گا۔

 

تھانیدار رخصت ہوا تو غلام حیدر نے رفیق پاولی سے کہا، چاچا رفیق اِن تینوں لاشوں کو قبرستان میں دفن کرنے کی بجائے شاہ پور کے چوک میں دفن کردیں۔میں اِن شہیدوں کا جب تک بدلہ نہ لوں گا، میرے سینے کی آگ ٹھنڈی نہ ہوگی۔

 

مگر چوہدری غلام حیدر تم نے تھانیدار کو کچھ نہیں کہا ؟یہ سب کیا دھرا اِسی پیٹو حرامی کا ہے، فیقے نے کہا، یہ سانحہ کبھی پیش نہ آتا اگر یہ سکھڑا سودھا سنگھ کو گرفتار کر لیتا۔ اب حرامی کا پُتر کہہ رہا ہے اُس کے مہاراجہ پٹیالہ کے ساتھ رابطے ہیں۔ میرا توخیال ہے یہ اُس سے ملا ہوا ہے اور اُسی نے اِس کو مشورہ دیا ہے پٹیالہ جانے کا۔

 

غلام حیدر نے تحمل مزاجی سے آہ بھرتے ہوئے کہا، چاچا فیقے اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تھانیدار بچارا تو اُس کے آگے بلی ہے۔ جن کی راجے مہاراجے میزبانیاں کریں وہاں بچارے دیدار سنگھ کو کون پوچھتا ہے ؟لیکن اب یہ نوکری اور عزت بچانے کے لیے ضرور اپنا زور لگائے گا۔ اِس لیے اِسے خلاف کرنے کی ضرورت نہیں بس دیکھتے جاؤ کیا ہوتا ہے۔

 

دلبیر علی جو غلام رسول کا بڑا بیٹا اور ذرا زبان کا تیز تھا، پاس بیٹھا یہ باتیں سن رہاتھا، وہ ہمت کر کے بولا، مگر چوہدری غلام حیدر ہم کب تک بیٹھے منہ دیکھتے رہیں گے؟ہمیں خود آگے بڑھ کے سودھا سنگھ اور اور عبدل گجر پر حملہ کر دینا چاہیے۔

 

دلبیر علی اپنے حواس کو ٹھیک کرو، غلام حیدر نے اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا، کیا تم چاہتے ہو مَیں بندے لے جا کر اِن کے گاؤں پر حملہ کر کے اسی طرح اوچھا وار کروں جس طرح اُنھوں نے کیا ہے؟، اس طرح سودھا سنگھ اور عبدل گجر کا تو کچھ نہیں بگڑے گا البتہ ہم ضرور مجرم بن جائیں گے اور وہ خوشی سے بغلیں بجاتے پھریں گے۔

 

پھر چوہدری صاحب آپ ہی بتاؤ کیا کریں؟ “دلبیر علی نے دوبارہ دھیمے لہجے میں سوال کیا” کل وہ سؤر کے پُتر تم پر حملہ کر دیں گے۔پھر خدا نہ کرے تیرے دشمنوں کا بال بیکا بھی ہوا تو ہم جیتے جی مر جائیں گے۔

 

غلام حیدر نے دلبیر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا، دلبیر اب اِس کی نوبت نہیں آئے گی۔خدا نے چا ہا تو ہم پہلے ہی نپٹ لیں گے اِن دونوں خنزیروں کو۔ اس کے بعد غلام حیدر رفیق پاولی سے مخاطب ہوا، چاچا فیقے، تم کل منہ اندھیرے ہی چک عالمکے چلے جاؤاورملک بہزاد خان کو لے کر بارہ بجے سے پہلے جلال آباد حویلی پر آ جاؤ۔ مَیں بھی جنازہ پڑھ کے اور اِن لاشوں کو دفنا کے تھانہ گروہرسا پرچہ کٹوا کر بارہ سے پہلے ہی حویلی پہنچ جاؤں گا۔

 

اُس کے بعد تمام لوگ ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔بہت ساری پاتھیوں اور لکڑیوں کو آگ لگا کر اُن کے گرد بیٹھ گئے۔ غلام حیدر سب لوگوں کے درمیان یونہی بیٹھا رہا۔ دونوں لاشیں اُٹھا کر ان کے گھر پہنچا دی گئیں جن پر ساری رات اُن کے بیوی بچے اور رشتے دار رو رو کر بے حال ہوتے رہے۔ شاہ پور کا کوئی فرد ہی ہو گا جو رات سویا ہو۔ لاشوں کو دوسرا دن ہو گیا تھا، مگر سردیوں کی وجہ سے خراب ہونے کا خطرہ نہیں تھا۔ ارد گرد سے بھی بہت سے لوگ، چوہدری اور جاننے والے،جو شیر حیدر اور غلام حیدر کے واقف کار تھے، اکٹھے ہوئے بیٹھے تھے۔ اسی طرح ساری رات گزر گئی۔ دوسرے دن صبح کی اذان سے پہلے ہی فیقا رات کے طے شدہ پروگرام کے مطابق چار بندوں کو لے کر چک عالمکے چلا گیا۔ مولوی اللہ دتہ نے آٹھ بجے ہی جنازہ پڑھ دیا اور نو بجے تک لاشوں کو شاہ پور گاؤں کے چوک میں دفن کر دیا۔لاشیں دفنانے کے فوراً بعد باقی بندوں کے ساتھ غلام حیدر تھانہ گروہرسا پرچہ کٹوانے کے لیے روانہ ہو گیا۔

 

(24)

 

ولیم کی آنکھ صبح چھ بجے ہی کھل گئی۔اُٹھتے ہی اُس نے بوٹ اور جرسی پہنی اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ سب لوگ آرام سے سو رہے تھے۔ دن نکلنے میں پون گھنٹہ باقی تھا مگر پرندے،خاص کر کوؤں کی کائیں کائیں اور چڑیوں کے چہکنے کی آوازیں آنے لگیں۔ولیم کمرے سے نکل کر ڈاک بنگلے کے صحن میں آیا۔وہاں ملازم اور سنتری آگ کے گرد جھرمٹ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے،جو ولیم سے بھی ایک گھنٹہ پہلے جاگ گئے تھے۔ ڈاک بنگلے کا صحن دو ایکڑ کے قریب تھا۔جس میں ایک طرف مالٹے اور امرود کے اور دوسری طرف ٹاہلیوں اور پیپل کے درخت کھڑے تھے۔گیٹ کے پاس ایک برگد کا بہت ہی بڑا پیڑ تھا۔ اُس کی شاخوں سے داڑھیاں نکل کر زمین میں دور دور تک دوبارہ پیوست ہو کر اُن میں سے بھی شاخیں نکل آئی تھیں۔جس کی وجہ سے مرکزی تنے کے ساتھ کئی ذیلی تنے بن گئے تھے۔ برگد پر پرندوں کی اتنی بہتات اور شور تھا کہ کان پھٹتے جا رہے تھے۔ صبح سے پہلے کی سرمئی خموشی او پرندوں کی چہکار سے ولیم ایک وجد کی حالت میں چلا گیا کہ اُسے کچھ دیر کے لیے سب کچھ بھول گیا۔ وہ ڈاک بنگلے کی مسحور کن فضا میں گم ہو کر رہ گیا اور سوچنے لگا کہ خدا انسان پر اپنی رحمتیں کن کن رنگوں میں نازل کرتا ہے۔ولیم کو دیکھ کر سنتری اور دوسرے ملازم فوراً با ادب ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ڈر کے مارے اُنہیں کچھ نہ سوجھا کہ کیا کریں؟ صرف ریفلیں پکڑ کر جلدی جلدی ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ ولیم نے اُن کے اِس اضطراری عمل کو نظر اندازکرتے ہوئے سب ا نسپیکڑ کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔سب انسپیکڑ رام لال جو پہلے آگ کے پاس بیٹھا مسواک کر رہاتھا اور ولیم کو دیکھ اُس کی مسواک ہاتھ سے گر چکی تھی، پُھرتی سے آگے بڑھا، تو ولیم نے نرم مزاجی سے کہا،رام لال اپنے ساتھ تین سنتری لے کر میرے پیچھے آ جاؤ، باقی آرام سے بیٹھو۔یہ کہہ کر چل پڑا۔

 

ولیم بنگلے سے باہر نکلا تو ہرے بھرے کھیتوں نے خوش نگاہی سے اُس کا استقبال کیا۔ جب وہ ڈاک بنگلے پہنچا تھا تو شام کا دھندلکا تھا۔اِس کی وجہ سے صاف نہیں دکھائی دیا تھا۔لیکن آج صبح کے روشن اندھیرے میں اُسے اپنی آنکھوں کی بینائی میں طراوت اُترتی محسوس ہو رہی تھی۔ ایک دفعہ اُس کے جی میں آئی کاش جلال آباد کی تحصیل “بنگلہ فاضل کا،میں ہوتی۔ وہ آگے بڑھتا گیا۔اُس کے پیچھے تین سنتری اوررام لال چلنے لگے۔

 

تو ریے، برسن، مکئی اور گندم کی فصلیں دور تک پھیلی تھیں۔ولیم نے دل میں تہیہ کیا کہ وہ پورے جلال آباد کو ایسا ہی سرسبز کر کے رہے گا۔ اسی رو میں ندی نالے اور ہری بھری فصلوں کے قالینوں پر چلتا گیا۔ چلتے چلتے بغیر پیچھے مڑ کر دیکھے رام لال سے سوال کیا،رام لال، یہاں سے ہیڈ سلمیان کی کتنے فاصلے پر ہے؟

 

رام لال نے تھوڑا سا تیز قدم اٹھاکرولیم کے برابر سے قدرے پیچھے ہو کر جواب دیا،سر ویسے تو کاغذوں میں دو میل ہی لکھا ہے مگر فاصلہ پانچ میل سے کم نہیں ہے۔میں ایک دو دفعہ پہلے بھی یہاں آیا ہوں۔

 

گڈ ہم وہیں پر جا رہے ہیں، ولیم نے مسکراتے ہوئے رام لال کی طرف دیکھا،آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوگی؟

 

صاحب جی فاصلہ زیادہ ہے، آپ تھک نہ جائیں،رام لال نے حیران ہوتے ہوئے جواب دیا، اگر حکم ہو تو میں دلبیر کو جیپ نکالنے کا حکم دے دوں اور دوسرے سب افسروں کو بھی خبردار کردوں ؟

 

ولیم نے رُک کررام لال کی طرف دیکھا اور کہا، ہم ان سنتریوں کے ساتھ پیدل ہیڈ سلیمانکی کی طرف چلتے ہیں۔ تم دلبیر سے کہو وہ ناشتہ وغیرہ کر کے آرام سے جیپ لے کر وہاں آ جائے، باقی لوگوں کو بھی اطلاع کر دو، وہ بھی وہیں آ جائیں۔میں ذرا چہل قدمی کر لوں۔
جیسے آپ کا حکم سرکار،”رام لال نے سر نیچے کرتے ہوئے کہا”۔ اُس کے بعد سنتریوں کی طرف مخاطب ہوکر آہستہ سے کہا، مترو ذرا سنبھل کر کے، صاحب نال ہے گے نے” نئیں تاں بُھگتان پے جُو، اور پیچھے کی طرف دوڑ لگا دی تا کہ اُن کو جلدی سے بتا کر واپس آملے
ولیم نے آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ قدموں میں پہلے کی نسبت تیزی آ گئی۔ سڑک کچی اور گرد سے اٹی ہوئی تھی جس پر رات بھر اوس پڑنے سے مٹی نم زدہ ہو گئی تھی۔ ولیم کے بوٹ گرد سے اَٹ گئے لیکن وہ چلتا گیا۔ پندرہ منٹ بعد دن کے آثار بہت قریب آ گئے۔ اب لوگ بھی اِکا دُکا فصلوں میں نظر آنے لگے۔ کوئی گڈے میں بیل جوتے کچی سڑک پر رواں دواں تھااورگڈے کے بھاری پہیوں جو لکڑی کے تھے، سے آوازیں چیں چیں بن کر آتیں۔ کوئی کسان فصلوں میں چارا کاٹ رہاتھا، کسی نے کاندھے پر ٹوکی رکھی تھی اور گدھی پر واہنا رکھے ڈھچکو ڈھچکو چلا جاتا تھا۔ وہ کچھ دیر کے لیے ولیم کو حیرانی سے کھڑے ہو کر دیکھتے اور چل پڑتے۔ ولیم نے سوچا اِن بے چاروں کو کیا پتا، اس وقت جلال آبا دکا سب سے بڑا افسر یہاں اکیلا تین سنتریوں کے ساتھ پھر رہاہے جس کی ملاقات کرنے کے لیے بڑے بڑے جاگیرداروں اور چوہدریوں کو وقت لینا پڑتا ہے۔ اب وہ بالکل اُن کے پاس سے گزر رہا ہے بغیر کسی روک ٹوک کے۔ اگر وہ چاہیں اور اُن کو پتا چل جائے تو وہ بغیر وقت لیے اُسے اپنی فریاد یہیں سُنا سکتے ہیں۔

 

ولیم کے پیدل چلنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ سنتریوں اور چھوٹے تھانیدار کو وقفے وقفے سے بھاگنا پڑتا۔جب اُن کا اور ولیم کا فاصلہ بہت کم رہ جاتا،پھر چلنا شروع کر دیتے لیکن دو ہی منٹ بعد ولیم اُن سے پھر کافی آگے بڑھ چکا ہوتا۔ فاصلہ زیادہ ہونے پر پھر دوڑ پڑتے۔ اسی طرح یہ کھیل جاری تھا اور وہ بچارے ہانپ رہے تھے۔ولیم پورا نوجوان، تازہ خون اور خالی ہاتھ تھا۔اِدھر یہ بچارے ادھیڑ عمر سنتری، بال بچوں والے، کچھ پیٹ بھی بڑھے ہوئے، اُوپر سے ستم یہ کہ بھاری بندوقیں کاندھوں پر، جان پر عذاب ہو گیا۔دل ہی دل میں ولیم کو کوسنے دینے لگے اور سوچتے جاتے تھے کہ آج تک ایسا کمشنر نہ دیکھا نہ سنا۔ جدھر جی چاہتا ہے، منہ اُٹھا کر اُٹھ دوڑتا ہے، مجال ہے ڈر اور جھجک اس کی رگوں میں آئے۔

 

رستے میں کئی چھوٹی چھوٹی بستیاں اور ڈھاریاں آئیں جن کے باہر ہی سے گزر جانا ولیم نے مناسب سمجھا۔ کھیت اور سبزہ ہر طرف تھا۔ درخت بھی کافی تھے۔ پگڈنڈیوں اور کھالوں کے کناروں پر ہری ہری گھاس اُگی تھی۔ فصلوں، گھاس اور درخت، ہر شے پر رات کو پڑنے والی اوس کا پانی موتیوں کی طرح بکھرا ہوا عجب دلنشینی اور ٹھنڈک کا احساس پیدا کر رہا تھا۔
اب سورج نکل چکا تھا لیکن اُس کی شعاعوں میں وہ تیزی نہیں تھی، جو گرمیوں کے پیدائشی سورج میں ہوتی ہے۔البتہ ولیم، اور سنتری تیز چلنے کی صورت میں پسینے میں آ گئے تھے۔ خاص کر سنتریوں کے دل ڈوبنے کا سامان بن رہاتھا مگر ولیم اِس صورت حال سے بے نیاز فقط بڑھتا اور چلتا ہی جاتا تھا۔ اچانک ولیم کو ایک کھیت میں گُڑ بنانے والا بیلنا نظر آ گیاجس کے اِدھر اُدھر بہت سے گنے کے کھیت تھے۔ تازہ گڑ بننے کی گرم گرم اور میٹھی خوشبو کے تیز لمس نے ولیم کو مسحور کر دیا۔

 

خوشبو بہت ہی مانوس اور منفرد تھی جس نے ولیم کو بچپن کے دن یاد دلا دیے جو اس نے وسطی پنجاب میں گزارے تھے۔ ولیم نے ایک دفعہ کھڑے ہو کر کھینچ کھینچ کر دوچار سانس لیے۔ اُدھر سنتری دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہے تھے کہ وہ کچھ دیر کے لیے یہاں رُک ہی جائے تو اچھا ہے ورنہ جان نکلنے کے قریب تھی۔بالآخر اُن کی سُنی گئی اور ولیم نے بیلنے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ کسان جن میں دو عورتیں اور چار پانچ مرد تھے، فرنگی افسر اور سنتریوں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر حیرانی سے کھڑے ہو گئے۔ یہ سب کے سب سکھ تھے جو کماد کے گنوں کا گڑ اور شکر بنا رہے تھے۔یہ پاس پہنچے توسب ادب سے کھڑے ہو گئے۔ ولیم نے آگے بڑھ کر ایک سکھ، جو اُن میں کچھ سیانا نظر آ رہا تھا، سے کہا، باباجی آپ اپنا کام جاری رکھو۔ مَیں تھوڑی دیر کے لیے دیکھنا چاہتا ہوں، گڑ کیسے بنتا ہے۔

 

ولیم کے رویے کو دیکھ کر ایک بڈھی عورت جس نے گھگھرا پہن رکھا تھا، نے آگے بڑھ کر اپنے میلے ہاتھوں سے ولیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولی آ پُت بیٹھ۔ گُڑکھا، روہ پی، لسی وی ہیگی آ۔ لُون والی آ، مٹھی وی مل جاؤو۔ گرو دی رکھ آ پُت، گڑ شکر بہت آ۔ مینوں لگدا پُت تُوں وڈا تھانیدار آ۔ سویرے سویرے کہنو پھڑن چلے آ؟ لگدا کسے وڈے باغی نوں کن پھڑاون دا ارادہ کیتا( پھر سنتریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) پُت تُسیں وی بہہ جاؤ، جو کجھ کھانا وا، کھاؤ۔

 

ولیم کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بوڑھی کیا کہ رہی ہے۔اِس طرح کی گُوڑھی بنجابی سیکھنے کا ابھی اُسے اتفاق نہیں ہوا تھا اور نہ کوشش کے باوجود پنجابی کی کوئی گرائمر کی کتاب اُس کے ہاتھ لگی تھی۔ لیکن وہ یہ ضرور سمجھ رہا تھا کہ بوڑھی اُنہیں دعا دینے کے ساتھ ساتھ کچھ کھانے پلانے کے چکر میں بھی ہے۔ولیم پر کافی عرصے کے تجربات سے یہ بات تو ثابت ہو چکی تھی کہ عام پنجابیوں یا ہندوستانیوں کو،چاہے وہ سکھ تھے یا مسلمان،اس سے کچھ غرض نہیں تھی کہ اُن پر کون حکومت کر رہا ہے او ر یہ کہ حکومت کرنے والے کا مذہب کیا ہے اور وہ کس نسل سے ہے ؟اُسے تو ان عام لوگوں سے امن اور محبت ہی کی خوشبو آئی تھی۔

 

وہی محبت اس بوڑھی خاتون اور گُڑ بنانے والے اُس کے بیٹوں میں نظر آ رہی تھی۔یہ سوچ کر ولیم کو وہ ہندو،مسلمان اور سکھ اشرافیہ کا خیال آگیا جو اِن سادہ لوحوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اُسی طرح اِن کا استحصال کرتے ہیں جس طرح غیر ملکی ان کا خون نچوڑتے ہیں۔ اِدھر یہ بڈھی ولیم اور سنتریوں کی آؤ بھگت کو لگ گئی، اُدھر دوسرے لوگوں نے اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا۔ بیلنے پر ایک سکھ بیٹھا مسلسل گراریوں کے درمیان گنے ڈال رہاتھا۔گنے کی ایک طرف سے روہ (جوس) بہہ کر پیپوں میں جا رہی تھی اور دوسری طرف سے گنے کا پیڑھ نکل کر اکٹھا ہو رہاتھا۔دو بیل بیلنے کی گراریوں کو گھمانے کے لیے پنجالی میں جُتے ہوئے مسلسل ایک چکر میں گھوم رہے تھے۔ انھیں وقفے وقفے سے ایک آدمی چھڑی مار کر ہنکاتا جاتا۔ ایک آدمی چُونبے کے کنارے بیٹھا کُڈھن سے اُس میں پیڑھ پھینک رہا تھا، جس کی تیز آگ کڑاھے میں پڑی ہوئی پت کو پکا رہی تھی۔ چھاننی اور کڑچھے سے اُسے بار بار ہلایا بھی جا رہا تھا۔ گنڈ میں پکی ہوئی راب سے ایک سکھڑا رنبی کی مدد سے گُڑ کی ڈلیاں کاٹ کاٹ کر بنانے لگا۔ یہ پورا منظر ولیم کے لیے انتہائی پر کشش تھا۔ دونوں سنتری بیٹھے لسی پینے کے ساتھ گُڑ بھی کھانے لگے۔

 

ولیم نے ایک سکھ سے کہا کہ وہ اُسے گنے کا جوس صاف کر کے دے۔ سکھ نے ولیم کا اشارہ پاتے ہی اُسی بڈھی سے کہا “بے بے، صاحب واسطے چھنا دھو دے، پھر ایک لڑکے کو آواز دے کر، جو بیلوں کو ہنکانے پر معمور تھاکہا،پُت بھج کے جا، دھیر سنگھ دے بوٹیاں توں دو کینو لَے آ۔ لڑکاحکم سنتے ہی بھاگ اُٹھا۔ بھاگنے کے دوران اُس کی بودیاں کھل گئیں۔ ولیم نے دیکھا کہ دُور ایک کھیت کے کنارے پر پانچ دس مالٹے کے پودے کھڑے تھے۔ لڑکا غالباً اُسی طرف گیا تھا۔ولیم کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ تین چا رکینو لے کر آ گیا۔

 

اُس سردار نے اُن میں سے دو کینو ایک صاف ستھرے گنے کے ساتھ ملا کر بیلنے کی گراریوں میں دے دیے اور چھنا نال کے سامنے رکھ دیا۔ کچھ ہی دیر میں سیر بھر کا چھنا گنے اور مالٹے کے جوس سے بھر گیا۔ اُسی بوڑھی عورت نے وہ چھنا ولیم کے ہاتھوں میں دے دیا۔ ولیم نے ڈرتے ڈرتے کہ خدا جانے یہ جوس کیسا ہو گا؟جب ایک گھونٹ لیا تو ایک کیف آفریں لطف اُس کے گلے سے ہوتا ہوا سینے میں اٰترتا چلا گیا۔اُس نے آج تک اِس طرح کا تازہ اور مزے کا شربت نہیں پیا تھا۔ولیم نے دل ہی دل میں سوچا کہ دنیا کی کوئی وہسکی اِس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس پورے قضیے میں اُن کو یہاں پر آدھ گھنٹہ گزر گیااور سنتریوں نے خوب آرام کر لیا۔چلتے ہوئے ایک سنتری نے اُسی بوڑھے سکھ سے پوچھا، بابا جی “ہیڈ سلیمانکی” یہاں سے کتنی دور ہے۔ بوڑھے نے بغیر غور وفکر کے فوراً جواب دیا، کچھ زیادہ نہیں پُت ایہا بس دو میل ہو گا۔ ایہہ بیلا پار کرو گے، تاں ہیڈ آ جاؤو۔

 

ولیم بہت حیرا ن ہوا۔ کم از کم چار میل کا سفر وہ طے کر آئے تھے اور بوڑھا ابھی دو میل کہہ رہاتھا، جبکہ نقشے پر “فاضل کا بنگلہ” کا ہیڈ سے فاصلہ محض دو میل درج تھا۔ ولیم نے سوچا یہ کس قسم کے نقشے تھے، جن کا ایک ایک میل چھ چھ کلو میٹر کا ہے۔ اب قریباً ساڑھے آٹھ کا وقت ہو چلا تھا۔ ولیم کو تو ایسا کوئی فرق نہیں پڑتا تھا البتہ سنتریوں نے دو میل مزید کا سن کر دل چھوڑ دیا لیکن چلنا تو بہرحال تھا۔ولیم نے جیسے ہی دوبارہ چلنا شروع کیا اُسی وقت سنتری بھی تیز قدموں سے دوڑ پڑے۔ وہ جانتے تھے کہ ولیم کچھ دیر رُکنے کے بعد بالکل تازہ دم ہو چکا ہے اور اب اُس کا ساتھ دینا مزید مشکل ہو جائے گا لیکن ابھی وہ کھیت سے نکل کر کچی سڑک پر پہنچے ہی تھے کہ ُانہیں دور سے جیپیں گرد اُڑاتی اپنی طرف آتی دکھائی دیں۔ سنتریوں نے جیسے ہی جیپوں کو اپنی طرف آتے دیکھا،بھگوان کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنے لگے۔کیونکہ ولیم کو تو اُن پر رحم نہیں آ رہا تھا لیکن واہگرو نے اُن کی سُن لی۔

 

جیپیں دس قدم دور ہی آ کر رُک گئیں تاکہ کمشنر صاحب بہادر پر گرد نہ پڑے۔
جیپ رکتے ہی مالیکم چھلانگ مار کر نیچے اُترا اور سلام کے لیے ہاتھ بڑھا تے ہوئے بولا، سر آپ بھی کمال نکلے،ہمیں بھی خبر کر دیتے تو آپ کی ہم رکابی میں کچھ چہل قدمی ہم بھی کر لیتے۔

 

ولیم مسکراکر بولا،مسٹر مالیکم ہماری ہم رکابی جنہوں نے کی ہے پہلے اُن کی حالت کا اندازہ تو کر لیجیے، خیر کوئی بات نہیں دوبارہ موقع آ جائے گا۔

 

مالیکم نے خوشگواری کے تاثر کو کم کر تے ہوئے قدرے سنجیدگی سے کہا، سر ابھی جلال آباد سے ایک خبرآئی ہے ذیلدار متوفی شیر حیدر کے گاؤں شاہ پور پر کچھ شر پسندوں نے بلوا کر دیا۔جس میں تین بندے شاہ پور والوں کے مارے گئے اور ایک حملہ آوروں کی طرف سے مر گیا۔ حملہ کل رات دس بجے کیا گیا۔

 

ولیم خبر سُن کر ایک دم بے لطف ہو گیا۔گویا سارے دورے کا مقصد فنا ہو گیا ہو۔ کچھ دیر کی خموشی کے بعد بے دلی سے جیپ کی طرف بڑھتے ہوئے بولا، مالیکم دورے کو مختصر کرو اور ہیڈ سے ہو کر آج عصر تک جلال آباد پہنچو اور ڈی ایس پی لوئس صاحب کو اطلاع کر دو کہ وہ حلقے کے تھا نیدار کے ساتھ آفس پہنچ جائے اور ہمارے جلال آباد پہنچنے سے پہلے تمام معاملات کی رپورٹ جمع کر لے۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی-پانچویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(10)

 

جنوری کا جاڑا پنجاب میں خوشگوار قسم کی خوشبو لیے ہوتا ہے۔ ہر طرف دھند ہی دھند تھی مگر ولیم کو یہ کُہر لندن کے جاڑے سے کہیں زیادہ اچھی لگ رہی تھی۔ آج اتوار تھا۔ اس موسم میں اتوارانگریز افسروں کے لیے نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ دیر تک گرم بستر میں لیٹے رہنا، اُس کے بعد مچھلی کے ساتھ ہلکی شراب کا اہتمام اپنے اندر بڑی کشش رکھتا ہے۔ مگر ولیم نے باورچی کو حکم دیا کہ اس کی کرسی بنگلے کے کھلے صحن میں لگا دے۔ باورچی کرسی اور میز دہلیز کے سامنے لگا چکا تو ولیم نے اُسے کہا کافی بنا لاؤ۔

 

ولیم کا بنگلہ کم از کم چار کنال کے رقبے میں تھا۔ انگریز نے برطانیہ کے تنگ رقبے اور لندن کے چھوٹے چھوٹے فلیٹس کا غصہ ہندوستان کی دور تک پھیلی ہوئی ہموار زمینوں پر نکالا تھا۔ تنگ گلیوں اور کوارٹروں سے نکلنے کے بعد جب اُس نے اتنی کھلی زمینیں اور رقبے بے مصرف پڑے دیکھے جس کا تصور بھی یورپ نہیں کر سکتا تھا، تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔اُنھوں نے وہ سارا احساس محرومی یہاں نکالا۔ کئی کئی ایکڑ پر بنگلے اور دسٹرکٹ کمپلیکس بنا دیے۔ جن کے تیار کرنے میں اُنھیں باہر سے کچھ بھی نہ خرچ کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح ولیم کو ملنے والا بنگلہ بھی اپنی نوعیت کا شاہکار تھا۔ پورے چار کنال رقبے کو گھیرے ہوئے سرخ اینٹوں کی آٹھ فٹ اونچی دیوار اور اس کے سروں پر لوہنے کی نوکدار سلاخیں مستزاد تھیں۔ دیوار کے سا تھ تین ا طراف سے پچاس فٹ چھوڑ کر درمیان میں بنگلے کی سرخ عمارت تھی۔ تمام عمارت میں سرخ اینٹیں اس صفائی اور مہارت سے استعمال کی گئیں کہ پلستر کی ضرورت نہیں رہی تھی۔عمارت کے سامنے بڑا وسیع صحن تھا۔ دیوار کے چاروں طرف اور صحن کے سامنے والی دیوار کے ساتھ پیپل کے دس پندرہ درخت تھے، جن کے زرد پتے بکھر رہے تھے۔ عمارت میں چھ سات کمرے لکڑی کے دروازوں کی جلالت کے ساتھ بنگلے اور بنگلے میں رہنے والے کے وقار کے ذمہ دار بھی تھے۔ اسی کی مناسبت سے لکڑی کا بڑا گیٹ تھا۔ جس میں سے برابر دو جیپیں اندرونی عمارت کی دہلیز تک چلی جاتیں۔ عمارت سے کچھ دور کمپلیکس کے دوسرے ٓافیسرز کے گھروں کی عمارتیں تھیں۔جو اتنی شاندار تو نہ تھیں جتنی ولیم کی کوٹھی تھی۔ پھر بھی ان میں مقامی عمارتوں کی نسبت ایک قسم کا دبدبہ ضرور تھا۔ ان سب عمارتوں کی دیواریں اٹھارہ انچ موٹائی میں بیس فٹ تک اونچی چلی گئیں تھیں۔ جن کے سامنے اور ارد گردبھاری درختوں کے سلسلے عمارتوں کی وجاہت کے مزید گواہ تھے۔

 

ولیم نے ایک دفعہ چاہا کہ نجیب شاہ کو بلا بھیجے مگر افسرانہ تمکنت زیب نہ دیتی تھی کہ اُسے دفتر کے علاوہ گھر پر بھی ملے۔ یہ بات انگریزی آدابِ افسری کے سراسر خلاف تھی۔ نجیب شاہ نے کل ہی بتا دیا تھا کہ رپورٹ تیار ہو چکی ہے جس میں غلام حیدر کی فائل اور سردار سودھا سنگھ کے متعلق تمام ضروری معلومات موجود تھیں۔ لیکن وہ اُسے دفتر میں دیکھ نہیں سکا تھا کیونکہ فوراً میٹنگ کے لیے فیروز پور نکلنا تھا۔البتہ اُس نے یہ فائل ساتھ لے لی تھی کہ اس کا مطالعہ کر لے۔ جیسے جیسے وہ فائل کا مطالعہ کرتا گیا غلام حیدر کے لیے فکر مند ہوتا گیا۔ دفتر میں غلام حیدر کے ساتھ پہلی ملاقات میں ولیم سے جو غلطی سرزد ہوئی تھی، اُس کے پیش نظر اُس نے سوچا کہ غلام حیدر کوئی بھی غلط فیصلہ کر سکتا ہے۔ جبکہ ولیم فائل کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ دوسری صورت میں غلام حیدر کے جوابی حملہ کرنے پر حالات اُسے مجرم بنا سکتے تھے۔ لیکن کل اُسے وقت ہی نہ مل سکا کہ نجیب شاہ کے ساتھ بات کر کے اس مسئلے پر سنجیدہ قدم اٹھا سکے۔ ہاں ڈپٹی کمشنر کو ولیم نے اس بارے تھوڑا سا بریف کر دیا تھا۔ میٹنگ میں یہ مسئلہ زیر بحث طے نہ تھا، پھر بھی ولیم نے ضروری سمجھا تھا کہ معاملہ ڈپٹی صاحب کے کانوں تک پہنچ جائے۔ رات وہ دیر سے جلال آباد لوٹا تھا اور آج اتوار کی وجہ سے چھٹی تھی مگر ولیم کو کسی وجہ سے چین نہیں آ رہا تھا۔ اس نے بار بار رپورٹ کا مطالعہ کیا جو نجیب شاہ نے تین دن کے اندر سرکاری کارندوں کی معلومات سے تیار کی تھی۔اس فائل میں زیادہ تر شیرحیدر اور غلام حیدر کی زندگی کے کوائف جمع کیے گئے تھے۔ واردات کے متعلق رپورٹ تیار کرنا فی الحال نجیب شاہ کے بس کا کام نہیں تھا۔ اس طرح کی رپورٹ پولیس کا کام تھا۔پھر بھی اپنی حد تک واقعہ کے نشیب و فراز کا تھوڑا بہت جائزہ ضرور لیا گیا تھا اور اہم معلومات دے دی گئیں تھیں،جو انھوں نے مو قع واردات پر پہنچ کر حتیٰ کہ سودھا سنگھ اور غلام حیدر کی حویلیوں میں جا کر فراہم کی تھیں۔

 

ولیم ایک گھنٹہ تک وہیں بنگلے کے صحن میں بیٹھا کافی پینے کے ساتھ فائل کا مطالعہ کرتا رہا۔ آخر بے چینی سے اٹھ کھڑا ہوا اور ملازم کو آواز دی۔

 

گل دین بھاگتا ہوا کچھ فاصلے پرآ کر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔

 

ڈرائیور کو بلاؤ ہم کہیں جانا چاہتے ہیں “ولیم نے کھردے لہجے میں گل دین کو بغیر نظریں اٹھائے حکم دیا” اور سنو ہمارا اوورکوٹ لے آؤ

 

گل دین حکم ملتے ہی اُلٹے قدموں بھاگا۔ اُس کے جانے کے چندثانیوں بعد ہی دلبیر سنگھ ڈرائیور پگڑی باندھے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ ولیم نے اُسے دیکھ کر کہا، دلبیر سنگھ، انسپکٹر متھرا سے کہو کہ ہم نے کہیں جانا ہے۔ وہ جلدی سے آ جائے اور تم بھی چلنے کی تیاری کرو،یہ کہہ کر ولیم اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تاکہ چلنے کے لیے ضروری سامان لے لیا جائے۔

 

ٹھیک بیس منٹ بعد ولیم اوروکوٹ پہنے باہر نکلا تو پورا عملہ انتظار میں کھڑا تھا۔ سی آئی ڈی مِتھرا صاحب، دس عدد سنتری او ر ان کے علاوہ بھی دس بارہ لوگ جو قریب ہی رہائش پذیر تھے۔دلبیر سنگھ باہر جیپ اسٹارٹ کیے کھڑا تھا۔ ولیم نے متھرا کے ساتھ ہاتھ ملایا اور باقی کو دور ہی سے سلام کا اشارہ کر دیا۔جیپ کے پاس آ کر ولیم نے متھراسے مخاطب ہوکر کہا، متھرا صاحب چھ سنتری لے کر جیپ میں بیٹھ جاؤ اور دوسرے سب اپنے گھروں میں چلے جاؤ۔
جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑاتو ولیم نے ڈرائیور کو حکم دیا، دلبیر سنگھ ہمیں کچھ دیر جودھا پور رُک کر جھنڈو والا کی طرف چلنا ہے۔

 

دلبیر سنگھ نے سر جھکاتے ہوئے جیپ کواگلے گیئر میں ڈال دیا۔جیب کی رفتار کے ہموار ہوتے ہی ولیم نے انسپیکٹر متھرا کے ساتھ گفتگو شروع کردی

 

متھرا صاحب “کیا میں سمجھوں کہ سودھا سنگھ کا غلام حیدر کے گاؤں پر حملہ کرنا سکھ مسلمان لڑائی ہے یا چودھراہٹ کا معاملہ ہے‘ ولیم نے بغیر متھرا کی طرف دیکھے بغیر سوال کیا۔

 

سر پہلے تو لڑائی ذاتی عناد اور فرد کے مفاد سے شروع ہوتی ہے۔ مگر سکھ اور مسلمان دونوں عقل سے زیادہ جذبات میں پلتے ہیں۔ اس لیے یہ لڑائی فوراً کسی ایک نعرے کی بنیاد پر مذہبی روپ لے لیتی ہے۔

 

متھرا صاحب کو اپنا فلسفہ پیش کرنے کا موقع مل چکا تھا،اس لیے اُس نے بات مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا‘ سر یہ علاقہ جسے آپ فیروز پور کہتے ہیں، یہاں گیہوں سے زیادہ برچھیاں اُگتی ہیں اور معززپیشہ چوری ہے۔ بلاشبہ جالندھر کے بدمعاش پر فیروز پور کے مولوی کوفضیلت ہے۔

 

متھرا صاحب کیا بات ہے تم سکھوں کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہو،کیا اُن کے سَنت واقعی جالندھر کے بدمعاش کے مقابلے میں سنت ہی ہیں؟

 

ولیم کے اس بھرپور طنز پر انسپیکڑمتھرا ایک دم جھنیب گیا۔ اُسے اپنی لا گدار گفتگو کا احساس فوراً ہو گیا چنانچہ الفاظ کو احتیاط کی شکل دینے لگا اور بولا، سر ایسی بات نہیں ہے۔ سنت اور مولوی سے میری مراد ایک ہی ہے۔ دونوں ہی خون کی تیز گردش میں خدا اور گروجی کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔

 

میں نے سنا ہے، شیر حید ر کا یہاں کافی اثر ورسوخ تھا “ولیم نے بات فوراً اور اچانک اپنے مطلب کی طرف موڑی جس میں متھرا صاحب کو داخل ہونے میں کچھ وقت لگا، پھر بھی اُسے اس امر کی تصدیق کرنا پڑی۔

 

انسپکٹر متھرا نے جواب دیا “جی سر” شیر حیدر تو پورے علاقے کا جمعدار بنا ہوا تھا۔جب تک زندہ رہا،پتا نہیں کھڑکنے دیتا تھا۔

 

متھرا مَیں جتنی بات پوچھتا ہوں مجھے اتنا ہی جواب چاہیے۔ ولیم نے دانت پیستے ہوئے کہا، عہدے بانٹنا گورنمنٹ کا کام ہے۔ مقامیوں کو اس میں دخل نہیں۔

 

متھرا کو ولیم کے خاص کر اس جملے نے سنجیدہ رہنے اور فاصلے کا مطلب سمجھادیا تھا۔اس کے بعد کچھ دیر دونوں طرف سے خموشی رہی اور جیپ دوڑتی رہی لیکن انسپیکٹر متھرا نے گھبرا کر سہمے ہوئے انداز میں کہا، جی سر
ولیم کی اس تنبیہ پر اب یہ بات اُسے معلوم ہو چکی تھی کہ ولیم کے آگے جھوٹ بولنا اور جانب داری سے کام لینا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا۔ متھرا نے طرح طرح کے بڑے افسروں کو دیکھا تھا۔ اس لیے تجربے کی بنا پر اُسے فوراً محسوس ہو گیا کہ ولیم کا معاملہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ لہٰذا جھوٹ بولنے کا فائدہ نہیں۔

 

شیر حیدر رسہ گیری اور قتل وغیرہ میں کبھی ملوث رہا ہے؟ ولیم نے دو ٹوک پوچھنا شروع کر دیا۔

 

بالکل نہیں سر، متھرا نے اب کے مختصر جواب میں ہی عافیت سمجھی۔

 

رعایا کے ساتھ کیسا رویہ تھا؟ ولیم نے پوچھا

 

انسپکٹر متھرداس بولا،،سراس معاملے میں مَیں بے خبر ہوں۔ میرا واسطہ نہیں پڑالیکن سر ایک بات ایسی ہے کہ ارد گرد کے مسلمان چودھری بھی اُسکے خلاف تھے۔شاید وہ ان کی عزت نہیں کرتا تھا۔

 

اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ اپنی رعایا کی عزت بھی نہیں کرتا تھا۔ “ولیم نے متھرا کو دوبارہ پٹری پر لا نے کی کوشش کی”

 

جی سر، متھر داس نے گھبرا کر مختصر جواب پر اکتفا کیا۔

 

“ولیم نے فوراً اگلا سوال کر دیا”گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات کیسے تھے؟

 

کوئی شکایت سننے میں نہیں آئی،ا نسپکٹر متھرا نے بغیر وضاحت کے کہا،لیکن ولیم متھرا کے جواب میں چھپے نشتر کو مسلسل محسوس کر رہا تھا۔ متھرا بڑی چالاکی سے کام لے کر ولیم کو باور کرانا چاہتا تھا کہ شیر حیدر گورنمنٹ کے دربار میں گویا حاضر باشوں میں نہ تھا۔

 

سی آئی ڈی انسپکٹر متھرا کے ساتھ اس گفتگو میں ایک بات ولیم پر واضح ہو چکی تھی کہ غلا م حیدر کسی بھی وقت مشکل میں گرفتار ہو سکتا تھا۔ اُس کے باپ کے خلاف بغض دیسی چودھریوں سے لے کر سرکاری افسروں تک بھرا ہوا تھا۔ اس کی واحد وجہ شاید یہ تھی کہ شیر حیدر نے اپنے معاملات اپنے ہی ہاتھ میں رکھے تھے اور وہ فیصلے بھی صحیح وقت میں کرتا رہا تھا۔ انسپکٹر متھرا داس کے ساتھ ولیم کی گفتگو بیس منٹ جاری رہی۔ اس عرصے میں جیپ جلال آباد سے شمال مشرق کی طرف کچی سڑک پر دوڑتی رہی، جس کے دائیں طرف نہر تھی اور بائیں ہاتھ کھیتوں کا سلسلہ۔ دُھند باقی تھی، اِس لیے دور کا منظر صاف دکھائی نہ دیتا تھا۔البتہ پاس کی نظر میں غیر واضح سے مناظر تھے۔ کھیت کچھ زیادہ نہیں تھے۔ کہیں چارے کی فصلیں، چری اور مکئی وغیرہ اور کہیں خالی زمین تھی۔ جس میں بھکھڑا، اِٹ سٹ، عک اور دوسری کانٹے دار جڑی بوٹیاں اُگی ہوئی تھیں۔ کیکر، جنڈ اور کریر کے درخت بھی کہیں کہیں نظر آ رہے تھے لیکن اِن کی تعداد ویرانی کے اعتبار سے بہت کم تھی۔ پوری سڑک سرکنڈوں کے بے پناہ جمگھٹوں کے درمیان میدے کی طرح پسی ہوئی گرد سے اٹی پڑی تھی جو بارش ہونے کی وجہ سے اب کیچڑ میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اگر رات بارش نہ ہوئی ہوتی تو لازماًجیپ گزرنے کے بعدغبار اِس طرح اُٹھتا جیسے دھویں کے مرغولے چڑھتے ہیں۔ اِن زمینوں کی ویرانی سے صاف پتاچلتا تھا کہ لوگوں کو اپنی معاش کی پروا نہیں۔وہ کھیتی باڑی سے زیادہ چوری چکاری کو اولیت دیتے ہیں۔ دوسری طرف نہر کے کنارے پر مسلسل کیکر وں اور سرکنڈوں کے بے شمار جھنڈ تھے، جو ختم ہونے میں نہیں آتے تھے۔ سرکنڈوں کے بیچ کہیں ٹاہلی یا اسی طرح کا مقامی پیڑ نظر آ جاتا مگر اُن کی حیثیت آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اِکادُکّا لوگ بھی نظر آئے جو کچھ دیر تک کھڑے ہو کر حیرانی سے جیپ کو دیکھتے پھر اپنے رستے چل دیتے۔ ولیم کو یہ سب دیکھ کر شدید کوفت کا احساس ہو رہا تھا۔ اُسے دل ہی دل میں اُن سابقہ اسسٹنٹ کمشنروں پر غصہ آ رہا تھا،جنھوں نے علاقے میں ذرا بھی ترقی کا کام کرنے یا لوگوں کو کام پر اکسانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اُسے محسوس ہوا کہ وہ آفیسر محض یہاں افسری کرنے کے لیے آتے رہے تھے۔جیسے پورے جلال آباد کو شکار گاہ بنانا چاہتے ہوں۔جہاں اُن کے کُتے خرگوش اور سؤروں کے پیچھے لمبی دوڑیں بھاگ سکیں۔ اُس نے سوچا اگرچہ ِاس کوتاہی میں مقامی لوگوں کا بھی نقصان ہے مگر حقیقتاً گورنمنٹ کا نقصان بڑے پیمانے پر تھا۔ کیونکہ علاقہ جس قدر غیر آباد ہوتا،حکومت کو خراج اور مالیے کا نقصان اُتنا ہی زیادہ تھا۔ ولیم کا یہ علاقے کا پہلا بے قاعدہ دورہ تھا۔وہ سب کچھ ڈائری میں نوٹ کرتا جا رہا تھا۔ انہی خیالوں میں تھا کہ جیپ آہستہ سے ایک جگہ پر رُک گئی۔ولیم نے چونک کر پوچھا،کیا بات ہے رُک کیوں گئے؟۔

 

سر ہم جودھا پور پہنچ گئے ہیں، دلبیر سنگھ نے جیپ کو گیئر سے نکالتے ہوئے خبردار کیا۔

 

دلبیر کی آواز سن کر ولیم خیالوں سے باہر آیا۔ اس نے ایک طائرانہ سی نظر پورے گاؤں پر ڈالی جو بمشکل پچاس گھروں پر مشتمل تھااور آبادی زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی سو افراد ہوگی۔ جیپ سے تھوڑے فاصلے پر چھوٹی مسجد تھی۔جس کے دائیں پہلو بڑا پیپل کا درخت لہریں لے رہا تھا۔ مکان سب کچے تھے اور اُن میں سے اکثر کی مٹی سیم اور تھور کی وجہ سے مسلسل گررہی تھی۔ بعض مکانوں کی دیواریں پاتھیوں کے بیل بوٹوں سے بھر ی ہوئی تھیں۔جن میں سے کچھ سو کھ کر نیچے گر ی پڑی تھیں۔ رات کو غالباً بارش ہوئی تھی اس لیے گلیاں جو پہلے ہی تنگ اورنا ہموار تھیں، کیچڑ اور بارش کے پانی سے بھر گئیں۔اِکا دُکا بچے مسجد کے پاس کی قدرے بلند اور خشک زمین پر بانٹے کھیل رہے تھے۔ اُن کے پاس ہی دو بڈھے چار پائی بچھائے کھیل دیکھنے کے ساتھ اپنی باتیں کر رہے تھے،جو بچوں کی سمجھ سے بالا تر تھیں۔دونوں نے ہاتھ سے بُنے ہوئے کھدر کے کھیس اوڑھ رکھے تھے، جن کے کناروں پر سُرخ اور سوت ہی کے دھاگے کی نیلی ڈوریاں بندھی تھیں۔اُن ڈوریوں کی وجہ سے کھیسوں کی شوکت میں اضافہ ہو گیا تھا۔ جب کھیلتے کھیلتے بچوں میں اختلاف پیدا ہوجاتا تو یہ بڈھے بہت آسانی سے اُن کے درمیان منصفی کا فریضہ بھی ادا کرتے جاتے۔

 

ولیم کی جیپ جیسے ہی وہاں رُکی، سب نے اپنے کام چھوڑ کر اُسی طرف دھیان کر لیا۔ مگر کچھ سہمے سہمے انداز میں۔ دونوں بڈھے بھی چادریں سمیٹتے ہوئے چار پائی سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک بوڑھے کی اسی جلدی میں سر سے پگڑی گِر گئی، جسے افراتفری کی حالت میں تیزی سے اُٹھا کر وہ سرپر باندھنے لگا۔

 

ولیم نیچے اُتر کر آہستہ روی سے چلتا ہوا بڈھوں کے قریب آ کر رک گیا جبکہ سنتری بندوقیں تھامیں وہیں الرٹ کھڑے رہے۔ اسی طرح انسپکٹر متھرا ولیم کے پیچھے تمیز سے کھڑا ہو گیا۔ اس گاؤں میں غالباً پہلی دفعہ کسی گورے کی آمد ہوئی تھی اس لیے کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ حتیٰ کہ اُنھیں یہ تک پتہ نہیں تھا کہ فرنگی سے ڈرنے کا طریقہ کیا ہے۔ بس بِڑبِڑ اُسے دیکھنے لگے۔ کچھ بچے ڈر کر گھروں کو بھاگ گئے اور کچھ دور جا کھڑے ہوگئے۔ جیسے محفوظ جگہ پر بیٹھ کر تماشا دیکھنا چاہتے ہوں۔ولیم نے چند لمحوں ہی میں پورے گاؤں کا جائزہ لے لیا تھا۔ سامنے کے گھر میں ایک کیکر کا درخت بھی تھا۔جس پر زرد پھولوں کی اتنی بہتات تھی کہ وہ پیڑ ہی سونے کا لگتا تھا۔ اسی کیکر پر ایک کبوتر اُڑانے والی چھتری پر کبوتر بھی بیٹھا ہوا تھا۔یہ سب ولیم کو اتنا دلکش لگا کہ وہ چند لمحے ہر ایک چیز سے بے نیاز اُسی خوبصورت منظر میں کھو گیا۔

 

ولیم نے آگے بڑھ کر اسلام علیکم کہا اور کھڑے ہو کر گاؤں پر ایک بھرپور نظر ڈالنے لگا۔ اُس کے اس عمل کے دوران وہاں لوگ جمع ہونے لگے مگر اکثر دور ہی اپنے دروازوں سے جھانکا تانی میں لگ گئے کہ نہ جانے ابھی کونسی قیامت آ جائے۔ ولیم کچھ دیر کھڑا رہاپھر آگے بڑھ کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اپنی اسٹک اُس نے چارپائی کے سرہانے سے لگا دی۔اس دوران جودس بارہ لوگ وہاں آن کھڑے تھے، اُن میں سے ایک بڈھے سے مخاطب ہو کر بولا، بابا ہم نے سنا ہے اِس گاؤں کا آدمی قتل ہوا ہے؟

 

بڈھا نہایت تمیزسے آگے ہو کر کھڑا ہوا اور بولنے لگا، حضور چراغ دین بالکل بے گناہ مارا گیا۔(ہاتھ باندھ کر جو ہلکے رعشہ سے کانپ رہے تھے) سرکار سکھوں نے مار دیا۔ بے چارے کی ایک یتیم بیٹی ہے اور بیوی رحمت بی بی بیوہ ہو گئی۔

 

ہم اس کی بیوی سے ملنا چاہتے ہیں،ولیم نے سپاٹ انداز میں کہا۔

 

سرکار وہ چالیس دن تک گھر سے باہر نہیں نکل سکتی’بڈھے نے وضاحت کی” اب وہ چالیس دن تک پردے میں رہے گی۔ بچاری کا خاوند جو نہ رہا۔

 

تو کیا اُن کا کوئی اور رشتہ دار نہیں؟اگر کوئی رشتہ دار ہے تو اُسے بلا لو، ہم اُسی سے بات کر لیں گیِ، ولیم نے تحمل سے پوچھا۔

 

حضور کل ہی قصور سے اس کا بہنوئی مولوی کرامت اور چراغ دین کی بہن شریفاں آئی ہے۔ بچاری پیٹتے پیٹتے بیہوش ہوئی جاتی تھی۔ کرماں والی کا ایک ہی بھائی تھا۔سکھوں نے مار دیا۔ سرکار ظلم ہو گیا آپ کی سرکار میں۔ سودھا سنگھ نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے۔صاحب بہادر اُس نے سارے انگریزی قانون فیل کر دیے۔

 

ولیم نے دیکھا کہ بڈھا زیادہ ہی بولنے لگا ہے، دراصل اُس کے نرم رویے نے اِسے کچھ زیادہ ہی حوصلہ دے دیا تھا۔اس لیے وہ عرض و معروض سے بڑھ کر سرکار کی طنز پر اُتر آیا تھا۔ یہ بات حکومت کے وقار کے خلاف تھی۔اُسے اس طرح بولتے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی آہستہ آہستہ مجمعے کی شکل میں اُن کے گِرد اکٹھے ہو گئے۔ ولیم کو یہ بات ناگوار گزری۔ وہ انصاف کا قائل تو تھا لیکن مقامی لوگوں کے ساتھ فاصلے کی کمی منظور نہ تھی۔چنانچہ سٹپٹا کر بولا،بڈھے زیادہ باتیں مت بناؤ جاؤ مولوی کرامت کو بلاؤ۔ سرکاراس قتل کا پورا انصاف کرے گی۔

 

ولیم کے اس سپاٹ اوردو ٹوک رویے نے بڈھے کو دوبارہ اپنی اوقات میں کر دیا۔ وہ اس اچانک سرد مہری پر بوکھلا گیا اور کھسیانا سا ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس صورت حال میں اس کا رعشہ مزید بڑھ گیا۔ بڈھے کو پیچھے ہٹتے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی جلدی سے پیچھے سر ک گئے، جو چند لمحے پہلے ولیم پر سایہ کیے کھڑے تھے۔اِسی اثنا میں ایک لڑکا بھاگتا ہوا مولوی کرامت کوبُلا لایا۔ مولوی کرامت سہمے ہوئے انداز میں لوگوں کو نظر انداز کرکے ولیم کی طرف جانے لگا۔ مجمع اب چھٹ چُکا تھابلکہ اکثر لوگ اپنے گھروں کے دروازوں پر جا کر کھڑے ہو گئے۔ اس عرصے میں ولیم ایک تمکنت سے اپنی بیت کو چارپائی کے پائے سے آہستہ آہستہ مارتا رہا۔ مولوی کرامت نے دو قدم دُور ہی سے سلام کیا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ غالباً اُسے لڑکے نے بڈھے کو صاحب کی طرف سے پلائی جانے والی ڈانٹ کی اطلاع بھی کر دی تھی۔ اِس لیے وہ کچھ زیادہ ہی محتاط نظر آ رہا تھا اور صاحب کے بولنے کا انتظار کرنے لگا۔ ویسے بھی مولوی کرامت اس گاؤں کے لوگوں سے زیادہ معاملے کی اونچ نیچ سمجھنے والا تھاکیونکہ تھوڑے بہت کتابی علم نے اُسے معاملہ فہمی کا ادراک دے دیا تھا۔اسی لیے وہ پچھلی تین پشتوں سے قصورمیں اپنی امامت بچائے ہوئے تھا۔ جیسے ہی مولوی کرامت نزدیک پہنچا،ولیم نے اُسے مخاطب کیا۔

 

خوب آپ مولوی کرامت ہیں؟ ولیم نے اس کے انکسار سے متاثر ہو کر گفتگو کا آغاز کیا۔

 

آپ کا غلام اور انگریز سرکار کا نام لیوا کرامت ہی ہوں۔مولوی کرامت نے سارے جسم کی عاجزی چہرے پر سمیٹتے ہوئے جواب دیا

 

تم چراغ دین کے کیا لگتے ہو؟ ولیم نے اسی بے نیازی سے پوچھا۔

 

غلام اُس کا بہنوئی ہے۔ مولوی کرامت کے جواب دینے میں ایسی انکساری تھی جو اگرچہ ولیم کی نظر میں چاپلوسی تھی مگر اُسے پسند آئی لہذااُس نے مولوی میں دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا،تم کہاں رہتے ہو؟ ولیم کی تمکنت برقرار تھی البتہ لہجے میں ہلکی ملائمت درآئی۔

 

صاحب جی، بندہ تحصیل قصور کی باجگزاری میں ہے اور پیش امامت پیشہ ہے۔ کل شام ہی پہنچا ہوں،مولوی نے اُسی انکسار سے جواب دیا۔

 

آپ کو اطلاع کب ہوئی چراغ دین کے قتل کی، ولیم نے پوچھا۔

 

سرکار صبح فضل دین کو معلقہ کا سبق دے کے اور کریماں کا آخری دور ختم کراکے روٹیاں لینے بھیج دیا اورمَیں تھوڑی دیر چارپائی پر آرام کر نے کے لیے لیٹ گیا۔ سردیوں کے دن ہیں۔سر پر آفتاب چمکا توآنکھ کھلی۔ مسجد میں پہنچا تھا کہ ظہر کی اذان کی تیاری کروں،اُسی وقت راج محمد چراغ دین کی خبر لے کر پہنچ گیا۔یہ بدھ کادن تھا، کہنے لگا چراغ دین کو سودھا سنگھ کے بندوں نے برچھیوں سے مار دیا اور مونگی کی فصل جو لے جا سکے، لے گئے باقی کو آگ لگا دی۔ وہ بارہ بجے دن کے وقت پہنچا میرے پاس۔ ہم شام کی ریل سے بیٹھے۔ جلال آباد تو سرگی ہی پہنچ گئے تھے لیکن جودھا پورجمعرات دوپہر آئے اور آج جمعہ ہے۔ مولوی کرامت نے مختصر جوا ب میں پوری تفصیل بتا دی۔
ولیم نے دیکھا کہ مولوی کرامت نے کتنی ہشیاری سے پورا ملبہ سودھا سنگھ پر ڈال دیا ہے حالانکہ اُس نے ملزم کے متعلق کچھ نہیں پوچھا تھا۔

 

تمہیں اتنی دیر کیوں لگی جودھا پور آنے میں؟ولیم نے سوال کا سلسلہ جاری رکھا۔

 

حضور راڑے سے قصور کا دس کوس اور پھر جلال پور سے جودھا پور کا بیس کوس پیدا کیا۔ اس میں دیر ہو گئی لیکن کل ساتے کے ختم پر پہنچ گیا تھا۔

 

چراغ دین کتنے عرصے سے شیر حیدر کا ملازم تھا؟ولیم نے پوچھا

 

سرکار پینتیس سال سے وہ انہی کا نمک خوار تھا، مولوی نے اب مختصر جواب دینے شروع کر دیے۔

 

غلام حیدر جودھا پور کب پہنچا؟ اب ولیم نے دوبارہ گاؤں کے لوگوں کو مخاطب کیالیکن لہجے کی سختی برقرار تھی۔
اب ایک اور بوڑھے کو حوصلہ ہوا کہ وہ آگے بڑھ کر جواب دے۔ یہ بوڑھا سر تا پا سفید لٹھے میں تھا۔مگر ہاتھ میں عصا نہیں تھا اور کمر بھی جھکی نہ تھی لیکن عمر کے اس حصے میں ضرور تھا جب جسم کی کمزوری طاقت میں کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی۔

 

صاحب بہادرجی غلام حیدر منگل کے دن آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ وہ اس خون کو ضائع نہیں جانے دے گا۔ حضور غلام حیدر کو آپ پر بہت بھروسا ہے اور وہ آپ کے انصاف کی بہت تعریف کر رہا تھا۔ کہتا تھا،وہ انگریزی سرکارکے پاس جا کر سودھا سنگھ سے چراغ دین کے قتل کا پورا حساب لے گا۔

 

ولیم کو بڈھے کی اِس بات پر کوفت ہوئی کیونکہ بڈھا یقیناً جھوٹ بول رہا تھاکہ غلام حیدر کو سرکار پر بھروسا ہے۔ وہ سمجھ گیا تھایہ محض اس کی چاپلوسی کی جا رہی ہے مگر اس کی یہ بات ضرور سچ تھی کہ غلام حیدر منگل سے پہلے جودھا پور نہیں آیا تھا بلکہ وہ پچھلے چار سال سے جودھا پورہی داخل نہیں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ولیم نے گاؤں والوں سے اور بھی کئی سوال کیے جس سے اُسے صاف پتا چل گیا کہ چراغ دین کا قتل اور مونگی کی فصل کا اُجاڑا سودھا سنگھ کے خلاف کوئی سازش نہیں تھی جیسا کہ پہلے اُس کے ذہن کے ایک گوشے میں ہلکا سا اندیشہ تھا۔ اِن سوال و جواب سے فارغ ہو کر ولیم اُٹھ کھڑا ہوا اور جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ لوگ فوراً پچھلے قدموں ہٹ گئے جو دوبارہ مجمعے کی شکل میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ ولیم جب تک گاؤں والوں سے بات چیت میں مصروف رہا، انسپکٹر متھرا اور دیگر عملہ ماتحتی بھول کر گفتگو میں دوسرے سامعین کی طرح دلچسپی لے رہے تھے مگر ولیم کے اُٹھتے ہی انھیں اپنی اوقات کا احساس ہو گیا۔ وہ فوراً الرٹ ہو گئے اور ولیم کے احترام میں ایک طرف تعظیم سے کھڑے ہو گئے تا آنکہ ولیم آہستگی سے چلتا ہوا جیپ کی طرف بڑھا اور سوار ہو گیا۔ بعد ازاں سنتری اور متھرا بھی پھرتی سے جیپ میں سوار ہو گئے۔ دلبیر سنگھ نے جیپ اسٹارٹ کر دی۔قبل اِس کے کہ وہ اُسے گیئر میں ڈالتا، ولیم نے مولوی کرامت کو اشارے سے اپنی طرف بلایا۔ مولوی کرامت بھاگ کر قریب آیا تو ولیم نے نرمی سے کہا،مولوی! کل تمہیں جلال آباد آنا ہے۔ تحصیل میں آ کر مجھ سے ملو۔

 

مولوی کرامت نے ہاتھ باندھ کر سر ہلایا پھر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کر دیا۔

 

اس کے بعد جیپ چل دی جس کا رخ جھنڈو والا کی طرف تھا۔ صبح کے دس بج چکے تھے اور جھنڈووالا محض پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ سودھا سنگھ کا گاؤں۔

 

جیسے ہی جیپ گاؤں سے نکلی،لوگ تین گنا بڑھ گئے۔ عورتیں بھی گھروں سے نکل آئیں اور ولیم کی آمد پر تبصرے ہونے لگے۔ ان کی زندگی کا پہلا موقع تھا کہ وہ کسی انگریز کو دیکھ سکے۔ اس لیے سب بہت پُرجوش اوربھرے بھرے لگ رہے تھے۔ ان کے خیال میں جودھا پور میں ایک انگریز بڑے افسر کا آنا غلام حیدر کے اثر و رسوخ کا نتیجہ تھا۔جس نے لاہور میں رہ کر اپنے تعلقات وائسرائے تک بڑے بڑے افسروں سے پیدا کر لیے تھے۔ ورنہ کہاں جودھا پور اور کہاں انگریز سرکار کا کلکٹر۔

 

ایک شخص نے کہا،بھائی میراں بخش دیکھا تم نے اپنے غلام حیدر کا زور؟کلکٹر صاحب جودھا پور میں ایسے ہی نہیں آیا۔ غلام حیدر کی مار تو لاہور میں بڑے گھر تک ہے۔

 

“رشید ماچھی جو گنّے کے چھلکے سے زمین پر لکیریں کھینچ رہا تھا، فوراً اٹھ کھڑا ہو اور بولا،،میاں رنگو‘ میں تو پہلے دن سے ہی سوچے بیٹھا تھا کہ اب سکھڑوں کی خیر نہیں۔ اپنا غلام حیدر شیر ہے شیر۔ انگریز سرکارکا عدل تو اب جودھا پور پہنچے ہی پہنچے۔ سنا ہے تھانیدار کو حکم مل گیاہے کہ سودھا سنگھ کو ہتھ کڑی لگا کے گھسیٹتا ہوا تھانے لے کے آئے۔

 

’میراں بخش جو چارپائی پر بیٹھ کر حقے کے کئی کش لگا چکا تھا،بڑی سوچ بچار کے بعد مخاطب ہوا‘ بیلیو تم خود ہی سوچو، غلام حیدر کس باپ کا سپوت ہے۔ کیا تم بھول گئے ہو جب اُس نے کہا تھا کہ سودھا سنگھ کو اس ناحق خون کا حساب دینا پڑے گا۔

 

اس کے بعد ایک دو چار پائیاں اور بھی نکل آئیں۔سردی کی دھوپ سینکنے کے لیے اُن کے پاس یہ ایک ایسا موضوع ہاتھ آگیا جس کا ایک سرا وائسرائے اور دوسرا جودھا پور سے ملتا تھا۔ اُن کے لیے چوری چکاری اور دیسی قصے کہانیاں اچانک دقیانوسی ہو گئیں۔ چراغ دین کا قتل اور مونگی کی فصل ایسا عظیم واقعہ تھا جس نے انگریز سرکار اور غلام حیدر کی طاقت کے درمیان حدِ فاصل کو ختم کر دیا تھا۔یہ تو سب کو پہلے سے ہی پتا تھا کہ غلام حیدر بڑے شہروں میں بڑے بڑے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے جہاں اور بھی بڑے راج والے اور پُلس والے کپتان جمع ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا تھا، غلام حیدر جب تمھیں کوئی مصیبت پڑے تو ہمیں خبر کر دینا۔ تیرے دشمنوں کو باندھ کر تیرے آگے پھینک دیں گے۔ ایک فوج کے سب سے بڑے افسر کو تو انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔جب وہ غلام حیدر کے ساتھ شکار کھیلتے جودھا پور کچھ دیر رُکے تھے۔

 

ایک بوڑھی خاتون جس کا گھگھرا ایک مرلے کے گھیر میں پھیلا ہوا تھا، آگے بڑھ کر بولی، وے میراں، ہُن تے جودھا پور نُوں ستے خیراں نے۔ ہُن تے غلام حیدر دا سکھ دی سری تے پیر آ گیا اِے۔

 

جودھا پور والوں کی نظر میں اب غلام حیدر کے ساتھ سودھا سنگھ کا نام لینا بھی غلام حیدر کی توہین تھی۔اُن کی نظر میں اب سودھا سنگھ محض ایک دیسی بدمعاش اور دو ٹکے کا غنڈہ تھا۔ جبکہ غلام حیدر کے تعلقات نئی دلی سے لے کر ملکہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ مولوی کرامت بڑی خاموشی سے اُن کی باتیں سنتا رہا۔ اُس نے نہ تو پہلے کبھی غلام حیدر کو دیکھا تھا اور نہ ہی جودھاپور والوں سے کچھ زیادہ واقف تھا۔البتہ اس بات پر دل ہی دل میں خوش تھا کہ اُسے کمشنر صاحب نے تحصیل حاضر ہونے کو کہا ہے۔ اُس نے سوچا، گاؤں والوں کی نسبت وہ اُس سے زیادہ متأثر ہوا تھا۔لوگ اُسے رشک کی نظر سے دیکھ رہے تھے لیکن کسی قسم کا تاثر نہیں دے رہے تھے کہ مولوی کرامت جو دوسرے ضلع کا ہے، کہیں اپنی برتری نہ سمجھ لے اور جو دھا پور والوں کی توہین نہ ہو۔ بہر طور ہر ایک نے آج اپنے کام کو التو ا میں ڈال دیا اور وہاں آکر جم گیا۔ جو صبح سویرے چارہ وغیرہ لینے گئے تھے،وہ بھی لوٹ آئے۔ سردیوں کی اس دھوپ میں بیٹھ کر ولیم کی آمد پر طرح طرح سے خیالات کا اظہار کرنے لگے اور جب انھیں یہ پتا چلا کہ ولیم جودھا پور سے سیدھا جھنڈو والا کی طرف گیا ہے تو ان میں مزید گرم جوشی پیدا ہوئی۔ میراں بخش نے فوراً ایک آدمی کا انتخاب کیا کہ وہ پتہ چلائے، ولیم جھنڈو والا میں سودھا سنگھ سے کیا پوچھ گچھ کرتا ہے۔ اس کام کے لیے رحمت علی چھینبے کا قرعہ نکلا، جسے گھوڑی کے ذریعے جھنڈو والا کی حدود میں چھوڑ کر آنے کا کام الہٰ بخش کو سونپا گیا تاکہ وہ جلدی جھنڈو والا پہنچ جائے۔ اگر حدود میں پہنچ گیا تو آگے گاؤں تک پیدل ایک ہی کلو میٹر طے کرنا پڑتا ہے۔گاؤں تک گھوڑی پر جانے کا مطلب مشکوک ہونے کے سواکچھ نہیں تھا۔ یوں بھی اب یہ کام خطرے سے خالی نہیں تھا کہ دونوں گاؤں کی اب باقاعدہ دشمنی ہو چکی تھی۔

 

رحمت علی رخصت ہوا تو میراں بخش نے داڑھی کو انگلیوں سے خلال کیا پھر حقے کے دوچار گہرے کش لیے اور سب لوگوں پر بھرپور نظر ڈالی گویا یہ ثابت کر رہا ہو کہ اس کی یہ کارروائی اس قتل میں اہم کام ہو گی اور یہ کام اسی کو سُوجھا ہے۔ اس کے ِاس عمل سے ایک گُونہ مولوی کرامت کی اہمیت میں کمی بھی واقع ہو گئی جو چند لمحے پہلے گاؤں کو احساس کمتری میں مبتلا کیے ہوئے تھی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(6)

 

سر چھوٹے چوہدری صاحب حاضر ہونا چاہتے ہیں۔’’ نجیب شاہ نے گول شیشوں کی عینک پاجامے سے رگڑتے ہوئے ولیم کو مطلع کیا‘‘

 

ولیم کی آنکھیں نجیب شاہ کی عینک کے فریم پر جم گئیں جس کی ناک اور کانوں والی جگہ پر کپڑے کی دھجیاں لپیٹ رکھی تھیں۔اُن دھجیوں کو مَیل کی ایک دبیز تہہ نے مضبوطی سے جکڑ لیا تھا۔ ولیم کو اس طرح کی عینکوں سے سخت چڑ تھی مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کم و بیش پندرہ بیس سال کے پرانے کلرکوں کے حُلیے اور عینکیں ایک ہی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ آدھے سر سے گنجے، توند نکلی ہوئی، عینک کے شیشے موٹے اور دھندلائے ہوئے، کان لمبے، زیادہ تر نیچے کی طرف لٹکے ہوئے۔چہرے کا ماس مسلسل اُسترے کے استعمال کی وجہ سے کراہت کی حد تک بے رونق اوربے جان جھُریوں میں تبدیل ہوااور نتھنوں سے باہر نکلے ہوئے غلیظ بال۔ اکثر فائلوں کے کیڑے مگر ان کا مطالعہ ہمیشہ عینک کے شیشوں سے اوپر کی طرف سے کرتے ہیں۔کند ذہن اور پرلے درجے کے کمینے۔کام روکے رکھنے کے ماہر اورصاحب بہادروں سے زیادہ چھوٹے اور بڑے چوہدریوں کے وفادار۔ لیکن وہ اُن کی یہ ہیئت اور عادات بدلنے پر قادر بھی نہیں تھا۔ اُسے اِن کو اِسی حالت میں برداشت کرنا تھا۔ مگراِس طرح بھی نہیں کہ اُنھیں اُن کی عادات کا، جو پختہ ہو چکی تھیں احساس بھی نہ دِلایا جائے۔ ولیم نے فیصلہ کر لیا کہ وہ حتی الامکان اِنھیں اِس بدہیتی کا احساس دلاتا رہے گا۔

 

مسٹر نجیب میں نہیں جانتا، جلال آباد میں کون چھوٹے اور کون بڑے چوہدری ہیں۔میرے باپ نے میرا نام اِس لیے رکھا تھا کہ پہچاننے میں آسانی رہے، ولیم نے صاف لہجے میں کہا۔

 

سر وہ شیر حیدر کا بیٹا غلام حیدر’’ نجیب شاہ اپنے ہاتھوں کی لرزش کو چھپانے کے لیے اُنھیں پاجامے پررگڑنے لگا‘سرکار سے ملاقات کے لیے آیا ہے۔ میں نے آج صبح آٹھ بجے ہی آپ سے اُس کے لیے ملاقات کا وقت لیا تھاسر۔

 

ٹھیک ہے انھیں بلا لو’’ولیم نے نہایت بے پروائی سے جواب دیا‘‘ لیکن جیسے ہی نجیب شاہ واپس ہوا، ولیم نے کہا، اپنی عینک اور ہاتھوں کا پسینہ اندر آنے سے پہلے صاف کر لیا کرو چاہے اپنے پاجامے سے ہی۔

 

نجیب شاہ ولیم کے اس رویے سے بہت دل برداشتہ ہوا، مگر کیا کر سکتا تھا،فقط بے دلانہ سی مسکراہٹ دے کر باہر نکل گیا۔

 

ولیم نجیب شاہ کا مذاق اُڑانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اصل میں ولیم کو غصہ تو جلال آباد پوسٹنگ پر تھا، جس پر وہ ذرا خوش نہیں تھا۔ مگر اپنی بے بسی کا بدلہ اُس عملے سے پوری طرح چکانا چاہتا تھاجو سال ہا سال سے انہی بوسیدہ فائلوں میں گِھس گِھس کر بوڑھے ہو رہے تھے۔ اس کے علاوہ آفس کی ہر چیز سے ایسی وحشت ٹپکتی تھی،جسے دیکھ کر ولیم کو گِھن آنے لگی۔ میزیں، کرسیاں، قلم دان، پردے حتیٰ کہ دروازوں کی کیلیں تک زنگ آلودہو چکی تھیں۔جنھیں آتے ہی اُس نے بدل دینے کا مکمل ارادہ کر لیا۔ مگر وہ اِن کلرکوں کا کیا کرتا،جن کے چہروں پر آفس کی کھڑکیوں سے زیادہ جالے پڑے تھے۔ وہ یہاں کچھ نیا نیا دیکھنا چاہتا تھا۔

 

پچھلے ڈیڑھ مہینے میں اُسے کسی شادابی کا سامنا نہیں ہوا تھا۔ مسلسل چھوٹے بڑے چوہدریوں، جمعداروں اور ذیلداروں کی ملاقاتیں اور ان کی بیہودہ گفتگوئیں محض بیزاری میں اضافہ کرتی چلی جاتی تھیں، جو بغیر کسی کام کے اپنی مونچھوں کی چوڑائی اور پگڑیوں کا کلف دکھانے چلے آتے لیکن اُسے یہ سب خوشدلی سے برداشت کرنا تھا۔ کیونکہ اُس کی اِسی کارکردگی میں افسران بالا کے لیے اطمینان تھا۔مگر اِس سب کے باوجود ولیم نے اپنے ذہن میں ایک فیصلہ کر لیا کہ وہ کچھ اپنے اصول اور ضابطے الگ سے بنائے گا چاہے وہ ضابطے انگریزی حکومت کو خوش نہ بھی آئیں۔ اُسے لمبی اور گھنی داڑھیوں سے آنے والی چھاچھ کی بُو بہت نا گوار محسوس ہوتی اور اُس سے بھی بڑھ کر اُن کی بغلوں کے نیچے سے کپڑے کی تہہ پر جما ہوا گاڑھا زرد پسینہ اکثر اُبکائی کا باعث بنتا۔

 

اُس کے ساتھ ساتھ ولیم نے تحصیل کے کام پر تیزی سے توجہ دینا شروع کردی اور آتے ہی تیسرے دن تمام نہری پٹواریوں اور زمینداروں کی میٹنگ بلوا کر اُنھیں باغات اور شجرکاری کے احکامات جاری کر دیے تھے۔ لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اول تو یہ لوگ گندم کی سالانہ کاشت کے سوا کچھ کرنا نہیں چاہیں گے اور اگر کسی طرح اس پر سختی سے عمل شروع بھی ہوا تو ہزارہا عذر کے پنڈورے کھل جائیں گے اوراس عرصے میں اس کی نئی پوسٹنگ کے آرڈر آ جائیں گے۔ پھر بھی اُس نے اپنی سی کوشش کرنے کا پورا ارادہ کر لیا تھا کہ جیسے بھی ہو، وہ جلال آباد میں اڑتے ہوئے بگولوں اور پھیلتی ہوئی ویرانی کو چھتنار درختوں کی چادروں سے کچھ نہ کچھ ڈھکنے کی کوشش کرے گا۔ اِسی منصوبے کومدِ نظر رکھتے ہوئے جو بھی چوہدری یا سردار اُسے ملنے کے لیے آرہا تھا، ولیم اُسے دبے لفظوں میں یہ بات جتائے دے رہا تھا کہ اس کی خوشنودی چوہدری صاحب کو باغات لگانے کی صورت میں حاصل ہو جائے گی ورنہ صاحب بہادری اور سرداری میں فاصلہ برقرار رہے گا۔

 

غلام حیدر کمرے میں داخل ہوا تو ایک دفعہ ٹھٹھک سا گیا۔ یہ تو کوئی بالکل لڑکا سا اسسٹنٹ کمشنر ہو کر آگیاتھا۔ جو ایک سنہری حسن کا رچاؤ اور خوداری کی ملی جلی کیفیت ولیم میں نظر آ رہی تھی، غلام حیدر کو اپنے آپ میں کم محسوس ہوئی۔ اِدھر کم و بیش ولیم میں بھی تحیر کی ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔اُسے اُمید نہیں تھی کہ یہ چھوٹا چوہدری اِس قدر نفیس ہو گا۔یہ توشکل سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔ سفید بوسکی کی قمیض اور لٹھے کی تنگ گھیرے والی شلوار، پاؤں میں کُھسے کی بجائے کلکتہ شُو کمپنی کے لیدر والے بند جوتے، نہ سر پہ پگڑی نہ کاندھے پہ صافہ۔ ولیم نے سوچا،یہ تو بالکل اُلٹ ہوا۔ اُسے اِس طرح کے چھوٹے چوہدری سے پہلا واسطہ پڑا تھا،جس کے لباس کی وضع قطع سے لے کرکمرے میں داخل ہونے کے عمل تک میں نفاست کا طور موجود تھا۔ولیم کو جب اپنے قائم کردہ تصور کے ٹوٹنے کا صدمہ ہوا تو اُس نے احتجاجاً غلام حیدر کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا فیصلہ کر لیا جو وہ پہلے سوچے بیٹھا تھا، اس کا پہلا اظہار اُس نے یہ کیا کہ کرسی سے اُٹھے بغیر ہی بے دلی سے مصافحے کو ہاتھ بڑھا دیا، جسے دیکھ کر غلام حیدر کو تعجب تو ہوا مگر فی الحال وہ اُسے نظرانداز کر گیا۔

 

مسٹر حیدر تشریف رکھیں،میز کی دوسری طرف سے ولیم نے سامنے کی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔یہ میزاتنی لمبی اور چوڑی تھی جس کے درمیان میں پڑا گلوب اور میز پر بچھا برطانوی سلطنت کا وسیع و عریض نقشہ اُس کی لمبائی چوڑائی میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ اُس کی وجہ سے اسسٹنٹ کمشنر اور میز کی دوسری طرف بیٹھے مقامی چوہدری کا فاصلہ مزید بڑھ جاتا تھا۔

 

شکریہ جناب! غلام حیدر نے کرسی پرتسلی سے بیٹھ کر اپنے کُرتے کو زانووں پر درست کیا۔ سر کیسا لگا آپ کو جلال آباد؟ سنا ہے آپ کو یہاں آئے ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے۔

 

مسٹر حیدر مجھے یہاں آئے ایک دن بھی ہوا ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، ولیم اُسی بے نیازی سے مخاطب ہوا، کوئی اپنے گھر میں پہلی دفعہ جا کر بھی گھر سے اجنبی نہیں ہوتا۔وہ اُس کا مالک ہوتا ہے۔نیا نہیں ہوتا۔
چھوڑیے سر آپ تو غصہ کر بیٹھے،غلام حیدر نے اپنے پہلے سوال کی سُبکی پر شرم سار ہوتے ہوئے کہا، میں تو آپ سے یہ بات رسمی طور پر پوچھ بیٹھا۔

 

حیدر،اگر مقابل والا آدمی ہم پایہ ہو تو ایسے جملے رسماً پوچھنے میں کوئی حرج نہیں۔خیر مجھے اپنے فرائض کے سلسلے میں رہنا ہے۔ اس میں اچھے بُرے کو دخل نہیں،ولیم نے اپنے وقار پر سمجھوتا کیے بغیر جواب دیا۔
نہیں۔

 

ولیم کے”ہم پایہ” والے جملے سے غلام حیدر کا موڈ بالکل خراب ہو گیا تھا، ٓٓ۔ غلام حیدر کو ولیم کے رویے کی آنچ نے فاصلے کی حد سمجھا دی اس لیے وہ بات کو اپنے مقصد کی طرف گریز دیتے ہوئے بولا، صاحب، تین دن پہلے میرا باپ فوت ہوا ہے کل چاربجے اس کا

 

آپ کے باپ کے مرنے کاا فسوس ہوا لیکن حکومت سے اس معاملے میں آپ کو کیا شکایت ہو سکتی ہے؟ یقیناً اس میں میرا دخل نہیں اور میں اُن کو جانتا بھی نہیں تھا، ولیم نے لاپرواہی میں ایک اور گھاؤ لگا دیا

 

کمشنر صاحب یہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو آپ کو نہیں جانتے مگر آج اگر آپ مر جائیں تو ان میں سے اکثر کے لیے آپ کو جاننا ضروری ہو جائے گا، غلام حیدر نے اب حالات کی بالکل پروا کیے بغیر ایک ایسا طنز کا نشتر رکھاجس کی چُبھن ولیم نے دل تک محسوس کی لیکن غلام حیدر نے اپنی بات جاری رکھی، رات تین بجے میرا ملازم چراغ دین قتل کر کے بیس ایکڑ مونگی کی فصل لوٹ لی گئی۔ غالباً جودھا پور کا یہ سنگیں واقعہ جلال آباد میں آپ کی پو سٹگ کا مجھے پہلا تحفہ ہے۔ اگرچہ اس میں بھی آپ کا دخل نہیں مگر اس کے متعلق جاننا آپ کے لیے بہت ضروری ہے۔ جودھا پور میرے باپ شیر حیدر کا گاؤں ہے جو تین دن پہلے فوت ہو گیا۔جسے آپ نہیں جانتے اور اُس کے فوت ہونے کے تیسرے ہی دن یہ واقعہ پیش آ گیا۔

 

ولیم کو آج صبح یہ اطلاع مل چکی تھی لیکن نہ جانے کس نیم خوابی میں اُس نے یہ اطلاع سنی تھی کہ وہ بھول گیاتھا۔حالانکہ اُسے اُس کے متعلق جلد ہی کچھ ہدایات دینا تھی، جو وہ ابھی تک نہ دے سکا تھا۔ اب اُسے یاد آیا کہ نجیب شاہ نے غلام حیدر کی ملاقات کا جب ذکر کیا تھا تو اِس واقعے کو منسلک کر کے بات کی تھی۔ ولیم نے غلام حیدر کے ساتھ آتے ہی سرد مہری کا رویہ اختیار کیا تو یہ ایک سخت غلطی تھی مگر کیاکیّا جائے، تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اب کسی بھی قسم کی معذرت یا وضاحت حکومت کے وقار کے خلاف تھی۔ اس لیے ولیم اسی بے نیازی کو اختیار کرنے پر مجبور تھا۔ حالانکہ دل میں اب وہ پوری طرح معاملے کی نزاکت کو سمجھ چکا تھا۔

 

مجھے آج صبح اطلاع مل چکی ہے۔ آپ اس معاملے میں بے فکر ہو جائیں۔ مَیں ابھی پولیس کو ضروری احکام جاری کردوں گا۔گورنمنٹ پورا انصاف برتے گی۔ حیدر صاحب، آپ جتنی جلدی ہو سکے، ایف آئی آر درج کروائیں۔ مَیں اس کیس کو اپنی نگرانی میں دیکھوں گا،ولیم نے معاملے کو جلدی قابو میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

 

سَر اب میرا اِس کمرے میں شاید مزید کام نہیں رہ گیا’’ غلام حیدر نے اُٹھ کر اپنی بوسکی کی قمیض کو درست کیا اور مصافحہ کو ہاتھ بڑھا دیا۔

 

ولیم کے لیے غلام حیدر کا یہ رویہ قطعاً غیر یقینی تھا۔ اُسے یہ احساس نہیں تھا کہ دیسی لوگوں میں بھی اچانک کچھ ایسے نکل آئیں گے، جن کے لہجے میں فولاد کی سختی اور سردی موجود ہو گی۔ پچھلے ڈیڑھ مہینے تک اُسے ایسے کسی شخص کا سامنا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی بچپن میں ایسا واقعہ رونما ہوا جس میں اُس نے دیسی لوگوں کی خوشامدانہ عادات کے علاوہ کوئی عادت دیکھی ہو۔ غلام حیدر سے اس سرسری ملاقات کے بعد اُسے فوراً ہیلے کی وہ نصیحت یاد آ گئی کہ اِن کے سینگوں سے ہمیشہ دُور رہنا۔ اُسے یہ سوچ کر جُھرجھری سی آگئی۔ اِسی کے ساتھ ولیم نے عارضی طور پر غلام حیدر کے بارے میں یہ تصور بھی کر لیا کہ بہرحال یہ ابھی لڑکا ہے۔جیسے جیسے سر پر ذمہ داریاں پڑیں گی اور عمرزیادہ ہوتی جائے گی،ویسے ویسے یہ بھی دوسرے چوہدریوں کی طرح ٹھنڈا ہوتا جائے گا۔ انہی خیالات کی رَو میں تھاکہ اُسے احساس ہوا، وہ کمرے میں اکیلا ہے۔وہ کرسی سے اُٹھااور کمرے میں چہل قدمی کرنے لگا۔ گفتگو انتہائی سرد مہری میں ہوئی تھی۔ جس کااثر ولیم پر گہرا ہو رہا تھا۔جس کی و جہ سے غلام حیدر کے لیے اُس کا احساسِ ہمدردی جاگنے لگا۔یہ اِس لیے نہیں تھا کہ ولیم غلام حیدر سے ڈر گیا ہو یا کسی طرح کا لالچ شامل ہو بلکہ اِسے ولیم کی شرافت کہہ سکتے ہیں۔ انگریز میں چاپلوسی کو دخل تو ہے لیکن بات مختصر اور صاف ہو تو انگریز اپنی توہین کو ثانوی حیثیت دینے میں وقت نہیں لیتا۔ یہی اس وقت ہوا تھا۔

 

غلام حیدر کے جانے کے کچھ دیر بعد ولیم نے نجیب شاہ کو کمرے میں طلب کر لیا۔ اِس بار وہ عینک کی صفائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتاتھااور ولیم کو یہ بات اچھی لگی۔وہ پچھلی سرزنش جلد بھول جانے کا عادی نہیں تھا۔یہی بات نجیب شا ہ اور ولیم دونوں کے لیے بہتر تھی۔ نجیب شاہ نوٹ بک اور قلم لے کر میز کے دائیں پہلو کھڑا ہو گیا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا، ولیم اُسے کمرے میں بلا کر جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا ہے۔ اس دوران اُس نے اپنے تیس فٹ لمبے اور بیس فٹ کھلے کمرے میں شرقاً غرباً پانچ چکر لگا لیے۔بالآخراِسی رفتار میں چلتے ہوئے بولا،نجیب شاہ مجھے غلام حیدر کے بار ے میں کل تک پوری معلومات مل جائیں۔اِس کے علاوہ علاقے کے تھانیدار کو جلدی بلواؤ،ڈی ایس پی صاحب میرا خیال ہے، چھٹی پر ہے۔ اُس کی غیر حاضری میں یہ معاملہ بگڑ نہ جائے۔میں اس معاملے میں دیر نہیں چاہتا۔
نجیب شاہ پر جو کچھ ولیم کا دبدبہ قائم ہو چکا تھا،اُس کے پیشِ نظر یہ قطعی تھا کہ اس سلسلے میں کوتاہی نہیں کرے گا۔

 

(7)

 

بگھیاں جونہی جودھاپور پہنچیں، بڑوں چھوٹوں کی ٹولیاں بندھ بندھ کر اکٹھی ہونے لگیں۔ یہ گاؤں بمشکل تین سو افراد کی آبادی پر مشتمل تھا، جوغلام حیدر کی ماں کو اپنے باپ کی وراثت میں ملا تھا۔ دس بیس گھروں کو چھوڑ کر باقی آبادی غلام حیدر کی رعایا تھی۔ کہنے کو تو یہ گاؤں تھا مگر اصل میں ساری آبادی چھوٹے موٹے کچے گھروں کا جمگھٹا ساتھی۔ لوگوں کی معاشی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ مکمل اور آزادانہ زندگی گزار سکتے اور عمدہ مکان بنا لیتے۔ مگر یہ ضرور تھا کہ سارا گاؤں دو وقت کی روٹی آسانی سے کھا سکتا تھا۔جتنے لوگ یہاں رہتے تھے، سب کو شیرحیدر نے اپنا رقبہ برابر بانٹ رکھا تھا۔ جسے وہ کاشت کرتے اور مالکانہ کا تیسرا حصہ شیر حیدر کو پہنچا دیتے۔ کسی کو مجبوری پڑ جاتی اور وہ نہ دے سکتا تو شیر حیدر زیادہ سختی نہ کرتا۔ مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ ہر ایک اپنی مرضی کرے۔منشی پورا حساب رکھتا تھا۔جس کے سامنے کوئی دونمبری کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

 

گاؤں کی گلیاں بہت تنگ تھیں، جو کچی ہونے کے ساتھ ساتھ کہیں کھائی اور کہیں سے ٹیلے کی طرح تھیں۔ ویسے بھی گلیوں کی کوخاص ترتیب نہیں تھی۔اِدھر اُدھر مُڑتی ہوئی بھول بھلیوں کی سی شکل اختیار کر لیتیں۔ بارش کے وقت جن میں گزرنا ایک ناممکن سا عمل ہوتا۔البتہ ہر گھر میں ایک آدھ درخت ضرور تھا۔ جن میں زیادہ تعداد لسوڑوں کی تھی۔ گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ اُن میں کسی درخت کا ہونا مشکل تھا۔البتہ پورا گاؤں ٹاہلیوں کے جنگل کے درمیان گھرا تھا،جن کے نیچے گاؤں والے مال مویشی اور بھیڑ بکریاں باندھ لیتے۔ اِکا دُکا گدھے بھی تھے۔اُن پر چارا لاد کر لایا جاتا۔ گا ؤں کی واحد سہولت وہاں کی چھوٹی سی مسجد تھی، جہاں بچوں کو قاعدہ سپارہ پڑھا دیا جاتا۔ اس کے علاوہ نہ کوئی مدرسہ نہ سکول اور نہ ماسٹر تھا۔ تھانے کچہری میں آج تک انھیں نہ کام پڑاتھا،نہ وہ گئے۔ اگر چھوٹا موٹا جھگڑا ہو بھی جاتا تو اس کا فیصلہ شیر حیدر کر دیا کرتا کہ سب کو اُس کا منظور کرنا لازمی ٹھہر جاتا۔ مگر اس بار چراغ دین کے قتل اوربیس ایکڑ مونگی کی فصل کی بربادی نے پورے گاؤں کو ہراساں کر دیا تھا۔ ہر طرف ایک خاموشی طاری تھی۔ شیر حیدر زندہ نہیں تھا اور غلام حیدر سے یہ لوگ کچھ زیادہ واقف نہیں تھے۔چنانچہ اپنے آپ کو تنہا اور لاوارث سا محسوس کرنے لگے۔ چراغ دین کے قتل کو آج چوتھا دن تھا۔ تھانیدار موقع واردات اور باقی تفصیلات کا جائزہ لے کر اُسی دن چلا گیا تھا۔کچھ لوگوں نے بیانات بھی دے دیے تھے لیکن ابھی تک کسی کو تسلی نہیں تھی کہ ِاس ظلم کا کوئی جواب دیا جا سکے گا۔لوگ اس لیے بھی ڈرے ہوئے تھے کہ سب کو سودھا سنگھ کی طاقت اور بدمعاشی کا علم تھا۔ اب ہر ایک نے غلام حیدر کو وہاں آئے دیکھا تو اُن کی جان میں ایک قسم کا دم آیا کہ وہ کسی اپنے کے پاس کھڑے ہیں۔ خاص کر جب لوگوں نے غلام حیدر کے کاندھے پر لٹکتی رائفل کو دیکھا تو انھیں بہت ہی حوصلہ ہوا کیونکہ ابھی تک دُور دُور کسی سردار کے پاس ریفل نہیں تھی۔ غلام حیدر کے ساتھ چھوّیوں اور برچھیوں سے لیس جوان بھی رعب اور دبدبے میں کم نہیں تھے مگر رائفل کی اپنی ہی شان تھی۔

 

لوگوں نے چارپائیاں جلدی سے نکال کر چوک میں مسجد کے سامنے ہی بچھا دیں۔ اس گاؤں میں بھی غلام حیدر کی اپنی چھوٹی سی حویلی تھی، جس میں ایک دو ملازم اور منشی الہُ داد نے رہائش رکھی ہوئی تھی۔وہ جودھاپور کی فصلوں کا حساب کتاب کرتا۔ غلام حیدر نے اپنی حویلی تک جانے کی بجائے چوک ہی میں بیٹھنے کو ترجیح د ی لیکن اُس سے بھی پہلے وہ چراغ دین کے گھر کی طرف چلا گیاباقی لوگ کچھ ساتھ رہے اور کچھ وہیں کھڑے رہے۔ جیسے ہی وہ دہلیز سے اندر داخل ہوا، چرا غ دین کی بیوی رحمت بی بی اس سے لپٹ گئی اوراونچی اونچی بین کر کے رونے لگی۔ اُسے دیکھ کر چراغ دین کی بیٹی بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، جس کے پاؤں میں نہ تو جوتے تھے اور نہ ہی سر پر دوپٹہ۔ چراغ دین کا گھر بھی کیا تھا،محض ایک کمرہ اور چھوٹا سا کچا صحن، جس کے دائیں پہلو چھوٹی سی کچی دیوار کے ساتھ مٹی کا چولہا تھا۔ اس کی سرد راکھ اور گھر کی ویرانی اور اُس پر چراغ دین کی خستہ حال بیوی اور بچی کو دیکھ کر غلا م حیدر کے نہ چاہتے ہوئے بھی آنسو نکل آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ اُسے اِس منظر کے دیکھنے سے پہلے واقعے کی سنجیدگی کا احساس تو تھا مگر اس قدر غم کی شدت نہ تھی۔ رحمت بی بی بچیوں کی طرح رو رہی تھی۔ غلام حیدر نے ایک اضطراری کیفیت کے تحت اُس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور بچی کو گود میں اُٹھا لیا۔ عمر کے اعتبار سے غلام حیدر رحمت بی بی سے کہیں چھوٹا تھا،پھر بھی اُس کا رحمت بی بی کے سر پر ہاتھ رکھنا کسی کو عجیب نہ لگا بلکہ پورے لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں اور دلوں کے اندر جو ہراس اورخوف بیٹھ چکا تھا،وہ حوصلے میں بدل گیا۔ ہر ایک کے دل میں غلام حیدر کے لیے ایک خاموش جذبہ محبت اُبھر آیا۔ گویا احساس ہو گیا ہو کہ ُان کے غم کا مداوا ہو چکا ہے۔ اِس اپنائیت سے حوصلہ لیتے ہوئے کئی بوڑھی عورتوں نے غلام حیدر کے سر پر ہاتھ پھیر کر اُسے دعا بھی دی۔ مگر اُس نے اُنھیں نظر انداز کرتے ہوئے پانچ سو روپیہ کی تھیلی جیب سے نکال کر رحمت بی بی کی مٹھی میں دے دی۔حالانکہ اِس سے پہلے پانچ سو روپے وہ رفیق پاؤلی کے ہاتھ پہلے ہی بھیج چکا تھا۔ پیسے دے غلام حیدر نے کہا، چاچی صبر کر، چاچے چراغ دین کو تو میں لا نہیں سکتا لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ اُس کا قاتل نہیں بچے گا۔ اس سے آگے غلام حیدر بول نہ سکا مگر لہجے میں اِس قدر اعتماد تھا کہ اس سے پہلے نظر نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد وہ چراغ دین کے گھر سے نکل کر چوک میں آ گیا۔ جہاں پورا گاؤں اکٹھا ہوا بیٹھا تھا۔

 

غلام حیدر کو دیکھتے ہی سب کھڑے ہو گئے۔ جب وہ چار پائی پر بیٹھ چکا تو دوسرے لوگ بھی بیٹھ گئے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا شیر حیدر نئے روپ میں ان کے درمیان بیٹھاہے۔بلکہ اُس سے بڑھ کر ایک نئی طاقت ہے کہ شیر حیدر کے پاس رائفل نہیں تھی جبکہ غلام حیدر کی رائفل اُس کی پائنتی کے ساتھ پڑی لشکارے مار رہی تھی۔ کچھ دیر خاموشی طاری رہی پھر اچانک غلام حیدر بولنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

شیر حیدر کا کبھی یہ وطیرہ نہیں رہا تھا کہ وہ لوگوں سے کھڑے ہو کر بات کرے مگر اس کے برخلاف غلام حیدر نے تخاطب کا طریقہ اس طرح اپنایا کہ ہر شخص آواز سننے کے ساتھ اُسے دیکھ بھی لے۔ حالانکہ یہ مجمع اتنا بڑا نہیں تھا۔

 

“بھائیو”شیر حیدر کی آواز گونجی چراغ دین مارا گیا حالانکہ اس کا کوئی جرم نہیں تھا۔ سکھڑوں نے اُس کی بیوی کو بیوہ اور بچی کو یتیم کر دیا۔ یہ حملہ اس گاؤں پر نہیں، شیر حیدر کی قبر پر ہوا ہے۔ سودھا سنگھ نے ہماری پیٹھ میں چُھرا گھونپا۔ قل اور ساتویں کا انتظاربھی نہیں کیا۔ دشمن نے کسی اصول اور دین دھرم کا لحاظ نہیں کیا۔( پھر کچھ دیر رُک کر) ٹھیک ہے اُس نے اپنا وار کر دیا (رفیق پاولی جو حقہ پی رہا تھا، نے حقے کی نَے ایک طرف کر کے رکھ دی) مگر وہ یہ نہ سمجھے کہ ہمارے گاؤں کوئی چری کی فصلیں ہیں،جنہیں جب چاہے گدھے آکر اُجاڑ دیں۔ سودھا سنگھ نے مونگی نہیں اُجاڑی،بارود میں آگ لگائی ہے، چراغ دین کو قتل نہیں کیا، شیر حیدر کی لاش کا مُثلہ کیّا ہے اور سودھا سنگھ نے جودھا پور پر حملہ نہیں کیا، اپنی چتا کو آگ لگائی ہے۔

 

غلام حیدر کی آواز میں درد کے ساتھ اس قدر رعب در آیا کہ پورا مجمع مبہوت سنتا رہا۔ اس کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ لڑکے بالے اپنی اچھل کود چھوڑ کر وہیں کھنچے چلے آئے۔پندرہ منٹ تک غلا م حیدر پوری طاقت سے بولتا رہا۔ سردی کے دن تھے مگر اُسے پسینہ آ گیا۔ گفتگو ختم کر کے جیسے ہی بیٹھا تو لوگوں کے دلوں سے بوجھ اتر چُکا تھا۔
غلام حیدر کے بیٹھنے کے بعد جمال دین آگے بڑھ کر کانپتی ہوئی آواز میں بولا،غلام حیدر اِن سکھڑوں نے سمجھا تھا شیر حیدر کے مرنے کے ساتھ اُس کے تینوں گاؤں بھی مر گئے۔ خدا کی قسم یہ ان کی بھول تھی۔ ان کو وہ حساب دینا پڑے گا کہ اگلی نسلیں کانپ جائیں گی۔(پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)پتر غلام حیدر ہمیں حکم کر ہم سودھا سنگھ کے گاؤں کو آگ لگا دیں گے۔ تُو بس اشارہ کر،سکھوں کے بچے کو لہو میں پیس دیں گے۔

 

رفیق پاولی نے جمال کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا بابا تسلی رکھ۔ حکم تو اب آپ نے کرنا ہے اور عمل ہم کریں گے۔ تم بس ایک کام کرو، اپنے جوانوں کی دس ٹولیاں بناؤ۔ ہر ٹولی میں دس جوان ہوں،جو گاؤں کے گرد گھیرے میں رات پہرا دیا کریں تاکہ سودھا سنگھ نئی چال نہ چل سکے۔اگلے کام ہم جانیں اور ہمارا خدا۔ اب یہی میدان ہے اور یہیں گھوڑے۔

 

اس کے بعد مختلف تجویزیں پیش ہوئیں جن میں حالات کا پورا جائزہ لیا گیا۔ ظہر کے وقت بگھیاں گروہرسا کی طرف چل پڑیں۔ پچاس جوانوں کا قافلہ جن میں سے کچھ بگھیوں پر سوار تھے اور کچھ گھوڑوں پر۔

 

غلام حیدر نے بوسکی کا کریم رنگ کا کُرتہ پہنا تھا اور سرمئی رنگ کی موٹی اُون کی چادر کاندھوں پر رکھے ہوئے تھا جس کا بر تین گز تو ضرور ہو گا۔ دائیں کاندھے پر رائفل، جس کی نال سر سے اوپر تک نکلی ہوئی عجب شان پیدا کر رہی تھی۔ اِس کے علاوہ جتنے جوان تھے، سب کے پاس برچھیاں اور چُوڑی چڑھیں ڈانگیں تھیں۔ اکثر نے مونچھوں کو اتنا تیل پلا رکھا تھا کہ اُنھیں دیکھ کر خوف آتا۔ بگھیاں جونہی راجباہ کے پُل کو پار کر کے تھانے کے قریب پہنچیں، پہرے پر سنتریوں میں ہلچل پڑ گئی۔ ایک سنتری بھاگ کر تھانے میں داخل ہو اکہ تھانیدار کو اطلاع کرے۔ بگھیاں تھانے کے باہر کھڑے برگد کے پیڑ کے نیچے کھڑی ہو گئیں۔ اتنے میں تھانے دار دیدار سنگھ کچھ اور سنتریوں کے ساتھ تھانے کے دیوہیکل بیرونی دروازے پر آکر کھڑا ہو گیا۔دروازے کا گیٹ لوہے کی موٹی چادر کا تھا، جس پر لال اور پیلا رنگ کر دیا گیا تھا۔ اِس ڈیوڑھی نما دروازے سے آگے صحن کو چھوڑ چاروں طرف کمرے اور حوالاتیں تھیں۔ان سب کا رنگ بھی سُرخ اور بوجھل کر دینے والے ماحول سے مشابہ تھا۔دروازے کی چوٹی پر دو جھنڈے لہرا رہے تھے۔ ایک سلطنت برطانیہ کا اور دوسرا پولیس کا۔

 

غلام حیدر بگھی سے اترا توجوانوں کا پورا دستہ اس کی پشت پر کھڑا ہو گیا۔ آگے بڑھا تو ایک پر اسرار رعب اس کے ساتھ تھا۔ بوسکی کاکرتہ، اون کی چادراور کاندھے پر ولایتی رائفل،اس سے بڑھ کر ریشمی لاچا جس کے کنارے دُور تک زمین پر گھسٹتے آتے تھے۔ اَن کے علاوہ قدم اُٹھاتے ہی طلائی کھسہ چرر چرر کی آواز اٹھاتا۔ ان سب چیزوں نے مل جل کر اس کی شخصیت میں ہیبت پیدا کر دی تھی۔

 

غلام حیدر نپے تلے قدم اُٹھاتا تھانیدار کے قریب پہنچا تو دیدار سنگھ کے کندھے رعب سے جُھک گئے۔ اُس نے غلام حیدر سے مصافحہ کیا اور آگے بڑھنے کے لیے رستہ دیا۔

 

صحن میں دو چارپائیاں بچھا دی گئیں،جن میں سے ایک پر غلام حیدر بیٹھ گیا اور دوسری پر تھانیدار دیدار سنگھ۔ دیدار سنگھ کی توند نکلی ہوئی تھی۔داڑھی مروڑ کر پگڑی کے نیچے کس دی گئی تھی۔ لیکن وزن اتنا تھا کہ چارپائی چرمرا کر رہ گئی۔ غلام حیدر کے سامنے تھانیدار کی شخصیت بالکل غیر متاثر کن تھی۔نوجوان خون اور اُس کے پیچھے بڑی زمینداری۔سب سے بڑھ کر تعلیم کا اپنا رعب، کہ سینکڑوں میل تک بی اے پاس کا نام و نشان نہ تھا۔ پھر بھی گورنمنٹ کی نوکری میں اتنی ہیبت ضرور تھی کہ غلام حیدر کے ساتھ آیا ہوا جوانوں کا دستہ تھانیدار کے آگے با ادب ہوہی گیا۔ یہ رعب ان پر دیسی ملازمت کا نہیں بلکہ انگریز سرکار کا تھا۔ جس کا ایک پیادہ گاؤں میں چلا جاتا تو پورا گاؤں خوف کے مارے چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھس جاتا۔ لوگ کئی کئی دن تک تذکرہ کرتے کہ گاؤں میں سپاہی آیا تھا اور فلاں کو وارنٹ جاری کر گیا۔ بعض دفعہ تو ایسا ہوتا کہ ایک ہی سپاہی آ کر کئی آدمیوں کو گھیر لے جاتا۔ کسی کی مجال نہ تھی، اوں آں کرے۔

 

غلام حیدر نے گفتگو کا آغاز کیا اور ہلکے طنز کے ساتھ کہا:،تھانیدار صاحب! چراغ دین کا مدعی مَیں ہوں، پرچہ کٹوانے آیا ہوں ( آگے کی طرف جھکتے ہوئے) سودھا سنگھ کے خلاف۔

 

چوہدری صاحب’تھانے دار بولا، اس طرح تو قتل کا کیس خراب ہو جائے گا۔ میرا مطبل ہے کہ یہ سودھا سنگھ پر سیدھا الزام ہے جو عدالت میں ثابت نہیں ہو گا۔ خوامخواہ قتل ضائع ہو جائے گا۔ویسے بھی قتل والی رات سودھا سنگھ شیخوپورہ گیا ہوا تھا۔(داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے) مَیں قتل کے اگلے دن سے ہی سارے معاملے کی تحقیق کر رہا ہوں۔ واہگرو کی سونہہ ایک لمحہ بھی سکون سے نہیں بیٹھا۔

 

دیکھیں سردار جی ’’غلام حیدر نے زور دیتے ہوئے کہا‘‘ عصر کا وقت ہو گیا ہے اور میں دشمن داری والا بندہ ہوں۔وقت بالکل نہیں ہے۔ کیس خراب ہو گا تو میرا ہو گا۔ عدالت میں ثابت نہیں ہو گا تو نقصان ہمارا ہو گا لیکن میرا ملزم سردار سودھا سنگھ ہے آپ پرچہ کاٹیں۔

 

چوہدری صاحب آپ چنتا رکھیں اور حوصلے سے کام لیں۔ ایک آدھ دن اور سوچ لیں۔ سب کام ٹھیک ہو جان گے۔(ایک بار پھر داڑھی کُھجاتے ہوئے )آپ جذباتی نہ ہوں۔

 

دیدار سنگھ نے غلام حیدر کو دلاسے کی شکل میں بات سمجھانے کی کوشش کی مگر یہ جملے سن کر غلام حیدر کے تیور بگڑنے لگے اور وہ تلخی سے بولا،سردار جی آپ کی داڑھی کی مٹی مَیں نکال دوں گا، میرے پاس بہت بندے ہیں، وہ ساری جھاڑ پونچھ کر دیں گے۔ جو کام تمہارے کرنے کے ہیں وہ تم کرو۔ اگر تم پرچہ نہیں کاٹو گے تو آج کے بعد میں تھانے نہیں آؤں گا۔ رشوت کی بھینسیں سودھا سنگھ نے آپ کوبھیجی ہیں مجھے نہیں۔ یاد رکھو پرچہ کٹے گا تو سودھا سنگھ پرورنہ میں لاہور تک جاؤں گا اور یہ دونوں پھول تارے وردی پر نہیں رہیں گے۔ چراغ دین کا قتل اندھا نہیں ہے کہ کوئی تھانیدار بھی پی جائے۔

 

دیدار سنگھ غلام حید ر کا لہجہ دیکھ کر دہل گیا۔ آج تک اس حوصلے اور جگرے سے کسی نے بھی گورنمنٹ کے دو پھولوں والے تھانے دار سے بات کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ دیدار سنگھ یہ بھی جانتا تھا کہ غلام حید ر کے رابطے دُور تک نہ ہوتے تو وہ اس طرح بولنے کی جرأت نہ کرتا۔ اُس نے محسوس کیا یہ لڑکا جذباتی ہے کچھ بھی کر گزرے گا۔ اسسٹنٹ کمشنر تک تو وہ پہلے ہی جا چکا تھا۔چنانچہ مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت۔وہ جانتا تھا یہ کیس اتنا پتلا بھی نہیں۔اس لیے بیٹھے بٹھائے وردی سے ہاتھ نہ دھونے پڑ جائیں۔سب کچھ سوچ کر تھانے دار غصے کو پی گیا۔ اُس نے جلدی سے منشی کو طلب کر کے سودھا سنگھ کے خلاف چراغ دین کے قتل اور بیس ایکڑ مونگی کی فصل کے اُجاڑے کا پرچہ کاٹ دیا جس کا مدعی غلا م حیدر خود تھا۔

 

غلام حیدر نے پرچے کی مثل پکڑی، دیدار سنگھ کو ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا اور بگھی پر آ بیٹھا۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔ غلام حیدر کی کوشش تھی جلد سے جلد جلال آباد پہنچے کیونکہ حالات اس کی حمایت میں نظر نہیں آ رہے تھے۔ پہلے دن جب غلام حیدر فیروز پور کے اسٹیشن پر اترا تھا اُس وقت سے لے کر اب تک اس کے اندر ایک عجیب طرح کی کایا کلپ ہو چکی تھی۔ لباس سے لے کر اندازِگفتگو تک، ہر شے اتنی جلدی بدل رہی تھی کہ رفیق پاولی جس نے اُسے گودی میں کھلایا تھا، حیران رہ گیا۔ جیسے ہی بگھی جلال آباد کی طرف روانہ ہوئی،وہ اُس سے بات کیے بغیر نہ رہ سکا۔
غلام حیدر مجھے تم پر بڑا فخر ہے۔ آخرشیروں کے بچے شیر ہی ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہو گیا غلام حیدر رعایا بے وارثی نہیں رہے گی۔

 

چاچا فیقے، نظام دین بولا، چوہدری غلام حیدر کو دیکھ کر اپنے دیدار سنگھ کا تو پاجامہ ہی ڈھیلا ہو گیا۔چوہدری غلام حیدر نے اس کی دھون پر اپناکھسہ جو رکھ دیا۔ سکھڑا پرچہ کیسے نہ کاٹتا۔

 

اِدھر بگھیاں جلال آباد کی طرف دڑ دڑ بھاگی جاتی تھیں اُدھر یہ گپیں چل رہی تھیں۔ جس سے سب کے مزاج خوش گوار ہوگئے۔

 

رفیق پاولی نے کہا، او نظامے تین سو دو کا پرچہ سہہ جانے کے لیے بھینسوں کے جگرے چاہیئیں۔

 

چاچا فیقے مجھے پتا ہے یہ تین سو دو تو ایسی بُری بَلا ہے،درخت پر لکھ دو تو درخت سوکھ جائے، بندہ کیا چیز ہے۔ اب سودھا سنگھ تو گیا کام سے، یہ شامت اس کے گھر سے نہیں نکلے گی۔

 

چاچا رفیق! غلام حیدر بولا‘ اب یہ اس کے گھر سے نکلے نہ نکلے۔ سودھا سنگھ کے گلے میں پھندا ڈلے نہ ڈلے، میں نے تو ایک ہی بات سوچی ہے اور وہ یہ کہ مَیں سودھا سنگھ کی رَت کا رنگ دیکھنا چاہتا ہوں۔

 

غلام حیدر کی اتنی بڑی پُراعتماد بات سُن کر ایک دفعہ تو سب خاموش ہو گئے۔
(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پہلی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32 ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دور تک پھیلا سمندرمنظر سے خالی ویسا ہی بے لطف تھا، جیسا کئی دنوں کی مسافت میں اُس کا وہ بڑا حصہ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اُس کی وجہ سے وہ بیزار کر دینے والی تھکاوٹ میں مبتلا رہا۔ اب ساحل قریب آرہا تھا تو اُس پر جذباتی کیفیت طاری ہوگئی۔ آنکھوں کے پردوں پروسطی پنجاب کی یادیں تصویر یں بناتی چلی گئیں۔ مال روڈ پر موجود پُر آسائش بنگلہ، مامائیں، خادم اور دیگر ملازموں کی فوج ایک ایک کر کے یاد آنے لگی۔ آٹھ سال کا عرصہ کم نہیں تھا،جب وہ اپنے باپ،ماں اور گھر سے دور انگلستان کی اکتا دینے والی تعلیم اور ٹھٹھرا دینے والی سردی کے گھوروں میں بیٹھا انتظار کاٹتا رہا اور لڑکپن کی ہواؤں کو تصور میں لاتا رہا۔ مامائیں بابا لوگوں کو اپنے حصار میں لیے لارنس باغ میں آتیں۔ ایک ایک نخرے پر ہزار طرح سے جاں نثار ہوتیں۔ اُدھر جب بابا جان اورانگریزی سرکار کے افسر جیپوں پر دورے کو نکلتے تو دیسی لوگوں پر کیسی حسرت طاری ہوتی۔ وہ اُن کی تمکنت کو سڑک کنارے کھڑے پچکے ہوئے چہروں پر ٹکی اور بھنچی ہوئی بے نور آنکھوں سے تکتے رہ جاتے۔ یہاں تک کہ جیپ زنّاٹے سے اُن کے سروں پر خاک پھینکتی نکل جاتی۔ اُسے یاد آیا، جب وہ اپنے والد کے ساتھ اُن کے دفتر جاتا تو کس طرح آفس میں کام کرنے والا عملہ خوشامد کو آگے بڑھتا۔ چاکلیٹ اور عمدہ مٹھائیوں کے ڈھیر لگ جاتے۔ آدھا دفتر سب کام چھوڑ کر اسی فکر میں ہولیتا کہ بابا لوگ کی خوشی حاصل کرے۔ کیا عیاشیاں تھیں، ایسے ایسے پھل جن کی یورپ میں مہک تک نہیں پہنچی، بنگلے کے ڈرائنگ روم میں پڑے سوکھا کرتے۔ نہ کوئی فکر نہ فاقہ۔ ہر کام سے آزاد ایچی سن کالج کے برگدوں کی لمبی ٹہنیوں پر جھولا جھولتے سارا وقت کٹ جاتا۔ زندگی میں اُن دنوں سوائے مزے کے کچھ نہ تھا۔ پھر ایک دن جب بابا جان نے بتایا کہ اُسے اپنی تعلیم کے سلسلے میں انگلستان جانا ہے تو اُسے کتنا برا لگا۔ بہت رویا پیٹا لیکن بابا نے ضد کو پورا کیا۔ آج اُسے اُن کا فیصلہ ٹھیک نظر آرہا تھا۔ آٹھ سال کا عرصہ پلک جھپکتے گزر گیا تھا۔ اگرچہ سردی اور روکھی پھیکی زندگی نے اسے کئی دفعہ بیزارکیا اور وہ فوراً ہندوستان بھاگنے کو تیار بھی ہوا لیکن کیتھی نے اُسے اِس حرکت سے باز رکھنے میں بڑا کردار ادا کیااور آج جب وہ اسسٹنٹ کمشنربننے کے لیے امتحان پاس کر کے ہندوستان میں داخل ہو رہا تھا تو کیسا سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ اُس نے سوچا دیسی لوگوں پر حکومت کرنے میں کتنا مزہ ہے۔ اِدھر انگلینڈ میں میں تو کوئی تمیز ہی نہیں۔ سب کام اپنے ہاتھ سے کرنا پڑتے ہیں۔ کھٹ بھیّے اور بھنگی تک بات نہیں سنتے مگر جیسے ہی ہندوستان کی ہوا لگتی ہے، بندہ ایک دم نواب ہوجاتا ہے۔ زندگی کا لطف تو بس ہندوستان ہی میں ہے۔ اُس نے سوچا، اب میں کبھی انگلستان کا منہ نہیں دیکھوں گا۔ دوسال بعد کیتھی کوبھی بلا لوں گا پھر ساری عمر مزے سے کمشنری کریں گے۔

 

دادا ہالرائیڈ کے بعد اُس کا باپ ڈپٹی کمشنر بنا اور اب اُسے بطورِ اسسٹنٹ کمشنر، لاہورسے اپنی پوسٹنگ کے آرڈر لینا تھے،جس کے لیے ابھی ایک سال مزید بطور ٹرینی ادھر اُدھر کی نوکری کرنی تھی لیکن یہ ایسی کڑی شرط نہیں تھی،جسے پورا نہ کیا جا سکتا۔ یہ ولیم کے لیے سرشار کر دینے وا لا خوش کن منظر تھا۔ آٹھ سال بعد اُسی جگہ وہ حکومت کرنے جارہا تھا،جہاں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ پھر اُسے نہری کوٹھیوں میں گزرے ہوئے دن یاد آنے لگے۔ اُس وقت وہ ابھی چھ سال کا تھا۔ اکثر اپنے دوست ایشلے کے ساتھ کھیلتے کھیلتے لڑپڑتا۔ پھر آپ ہی آپ صلح ہو جاتی۔ وہ اکٹھے سکول بھی جانے لگے تھے اور ایک دوسرے کے بغیر اداس بھی ہو جاتے لیکن اب اُس نے کتنے برس ایشلے کے بغیر نکال لیے تھے۔ کیا موسم تھے، جب نہروں کے کنارے چھتنار درختوں کے سایوں میں مامائیں اُس کو لیے پھرتیں۔ برگد کے پیڑوں سے بندھے جھولوں پرپینگیں جھولاتیں۔ نہروں کا پانی، برگدوں سے لٹکے جھولے اور آموں کے باغوں سے پھوٹتی خوشبو اُسے کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔ جب دادا مقامی لوگوں کے ہاتھوں بلوے میں قتل ہواتو اُسے گوگیرہ چھوڑنا پڑا۔ گورنمنٹ نے اپنا ضلعی دفترگوگیرہ سے اُٹھا کر منٹگمری منتقل کر دیا۔ پھرجب تین سال بعد جانسن کو منٹگمری کا ڈپٹی کمشنر بنادیا گیاتو وہ اُسے اپنے ساتھ منٹگمری لے گیا اور وہاں چارسال تک رہا۔ اس عرصے میں جانسن کے ساتھ کئی بار گوگیرہ میں سیر کے واسطے آیا۔ یہاں آ کر اُسے سکون مل جاتا۔ گوگیرہ جو اُس کے پردادا ہی کے نام پر تھا، اپنی دل فریبی میں اُسے کبھی نہ بھولا۔ وہ جانسن کے ساتھ گوگیرہ آتا تو اکیلا ہی ڈاک بنگلے سے نکل کر مضافات کی سیر کو نکل جاتا۔ اُس وقت کتنا مزا آتا،جب دیسی ملازم اور گارڈ فکرمندی میں حفاظت کے لیے اُس کے ارد گرد بھاگتے پھرتے۔ اُس وقت شرارتاً وہ اپنے گھوڑے کو ہلکے ہلکے بھگا دیتا اور لمبی سنگینوں والی بھاری بندوقیں پکڑکر پیچھے بھاگتے ہوئے گارڈز کودیکھ کر لطف اُٹھاتا۔ اُن میں سے کئی ہانپتے ہانپتے گِرپڑتے تو وہ نظّارہ لوٹ پوٹ کر دینے والا ہوتا۔ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں بھی اُنھیں دیکھتیں اورہنس ہنس کر دوہری ہوجاتیں۔ آموں کا موسم تو اُسے کبھی فراموش نہیں ہوسکتا تھا،جس کے لیے اُس کے دادانے خاص انتظام کیا تھا۔ وہ اُس کا تصور کرتے ہوئے دل ہی دل میں کہنے لگا،کیا جنت کا منظر تھا۔ تین نہروں کے درمیان دو سو ایکڑ پر موجود آموں کے گھنے سیاہ باغ۔ اگست ستمبر کے دنوں میں اُس باغ میں کوئلوں اور پپیہوں کی جان نکال دینے والی بولیاں اور راگنیاں جو تیز بارشوں میں کچھ اور تیز ہو جاتی تھیں،اُس کے لیے ایک ہری بھری جادو نگری تھی۔ اس جادو کی نگری کے بیچوں بیچ دو ایکڑ رقبے پر ان کا وہ سُر خ انیٹوں سے کھڑا کیا ہوا شاندار بنگلہ۔

 

دادا کہا کرتے تھے، بھلے وقتوں میں اُس پر نو لاکھ خرچ آیا تھا۔ جیسی بنگلے کی شان تھی، خیال ہے، یہ بھی کم بتاتے تھے۔ اُنہوں نے اُس کا نام نو لکھی کوٹھی رکھ دیا تھا۔ دادا جان نے بڑی نہر سے ایک چھوٹی نہر کاٹ کر، جوسانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی جاتی تھی، بنگلے کے صحن سے گزارتے ہوئے ایک کلومیٹر پرلے جاکر پھر اُسی نہر میں ڈال دیا تھا۔ لوئس نے دادا کے مرنے کے بعد اُس بنگلے کے پندرہ لاکھ لگا دیے لیکن بابا نے بیچنے سے انکار کر دیا۔ سچ پوچھیں تو اُس کی بہت خوشی ہوئی۔ بنگلے میں ہوا کا ایسا نظام تھا کہ چاروں طرف کے برآمدوں میں گھومتی ہوئی کمروں میں داخل ہوتی، جن کی چھتیں پچیس فٹ تک بلند تھیں۔ اس لیے گرمی کا ذرا احساس نہ رہتا۔

 

انہی سوچوں میں وہ آموں کے ذائقے بھی محسوس کرنے لگا۔ آم کھانے میں جو رغبت تھی، اُسے بیان کرنے سے قاصر تھا۔ بس چاندی کے بڑے تھال آموں سے بھر کر برف ڈال دی جاتی۔ چند لمحوں بعد ٹھنڈے ہولیتے تو کیا میٹھے ذائقے زبان اور حلق سے ہوتے ہوئے سینے تک اُتر جاتے۔ لورین اور ماما تو اس موسم پر جان چھڑکتیں۔ آم کھا کر لسّی پی لیتیں پھر گھنٹوں سوتیں۔ ایسے میں کوئی اُنہیں انگلستان یاد دلاتا تو عجیب طرح سے منہ بسورتیں۔ خاص کر بابا اس وقت ضرور چھیڑتے کہ اگلے برس انگلستان چلے جائیں گے، تمہاری عادتیں خراب ہو رہی ہیں اور وہ آگے سے سو طرح کوستیں۔ انگلستان کو سرد جہنم اور نہ جانے کیا بُرے بُرے خطاب دیتیں،پھر شوخی میں آکر باباجان کو چمکاتیں کہ میں نہیں جاؤں گی۔ یہیں کسی نواب سے شادی کر لوں گی۔ اس پر بابا چمک کر ایک دم شٹ اَپ کہتے اور بڑھ کر ماما کا بوسہ لیتے۔ یہ منظر لورین اورمیرے لیے محظوظ کیفیت پیدا کر دیتا۔ ویسے یہ سب تو چھیڑ خانی تھی، ورنہ بابا ہندوستان کو کسی قیمت چھوڑنے پر راضی نہ تھے۔ خاص کر وسطی پنجاب کے سر سبز میدانوں کو،جہاں اُن کے نوابوں کے سے ٹھاٹ تھے۔ ہزاروں مرغ، بٹیر اور گھوڑے پال رکھے تھے۔ بٹیر لڑانے کا شوق تو دادا کو بھی بہت تھا۔ حقے کا لپکا بھی اُنہی سے لگا۔ لوگ بابا کے اس شوق کو دیکھتے ہوئے ایک سے بڑھ کر ایک چاندی کا حقہ تحفہ میں لے کر آتے۔ کئی لوگوں نے اُسی تحفے کے عوض بابا سے کئی کئی زمینیں الاٹ کروالیں۔ خود اُنہیں بھی زمین خرید کر باغات لگوانے کا بے پناہ شوق ہے۔ راوی کے کنارے ہزاروں ایکڑ اُن کی ملکیت ہوں گے۔ اُس نے سوچا، سب سے پہلے نو لکھی کوٹھی پر جاؤں گا۔ پھر کیتھی کے لیے بھی،جب وہ ہندوستان آ جائے گی، تو اُسی کوٹھی میں رہائش کا انتظام کروں گا۔ دوسرے ہی لمحے اُسے پھر ماما کا خیال آ گیا۔ وہ دل ہی دل میں ایشلے،لورین، ماما اور باپ سے آٹھ سال بعد ہونے والی ملاقات کا تصور کر کے مزا لینے لگا۔ لورین کی شادی کی اطلاع اُسے انگلستان میں مل گئی تھی، جو بمبے میں ایک مشہور وکیل جیک سے تین سال پہلے ہوئی تھی۔ دونوں کلکتہ میں دو سال ایک ہی کالج میں پڑھے اور ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے لیکن اُس کے ذہن میں لورین کی وہی صورت بیٹھی تھی۔ باغ میں ناچتے موروں کے پر چُننے والی اور کبوتر اڑا کر اُن کے درمیان دور تک بھاگنے والی پتلی اور نرم و نازک۔ پھر کچھ دیرولیم لورین کو تصور میں بھاگتے ہوئے دیکھنے لگا، سفید کپڑوں میں جیسے پری پھر رہی ہو۔

 

اِنہی خیالوں میں گم تھا کہ اُسے کپتان کی اناؤنسمنٹ سنائی دی،جو فاصلے، وقت اور جغرافیے کی معلومات دے رہا تھا۔ اعلان تو اُس نے غور سے نہیں سنا البتہ ماضی کی رَو سے چَونک اُٹھا۔ سورج غروب ہو رہا تھااور شام بالکل قریب تھی۔ اُسے احساس ہوا، وہ مسلسل تین گھنٹے عرشے پر کھڑا ماضی میں جھانکتا رہا،جس میں وقت گزرنے کا پتا نہ چلا تھا۔ پورے سمندر پرہولناک تاریکی چھا رہی تھی۔ پھر ایک دم بادل بھی چلے آئے اور بارش کا سامان بننے لگا۔ ہوا بھی تیز ہو چلی تھی۔ جہاز بمبے کی بندرگاہ کی طرف مسلسل بڑھ رہا تھا۔ وہ شاید کچھ دیر مزید عرشے پر کھڑا رہتا مگر سردی کی لہر تیز ہو چکی تھی اور بوندا باندی بھی۔ وہ آہستہ سے عرشے کے زینے اُترتا ہو ا کمرے میں آگیا۔ کیبن میں تین گھنٹے پہلے سِول سروس کے چھوکروں نے شراب پی کر جوہلڑ بازی مچا رکھی تھی، وہ اب ختم ہو چکی تھی۔ ہر ایک خاموشی سے ڈنر کی تیاری میں مصروف تھا۔ وہ اس سارے ماحول سے سخت بور ہو چکا تھامگر دو دن کا سفر تو اُسے بہرحال کرنا تھا کہ بمبئی ابھی دو دن کی مسافت پر تھا۔ وہ تھوڑی دیر کمرے میں بیٹھا پھر ڈنر کے لیے تیار ہونے لگا۔
2

 

مولوی کرامت گھر سے نکلا تو اُس کے قدم سیدھے نہیں پڑ رہے تھے۔ بار بار عصا پر دباؤ بڑھ جاتا۔ سَر میں شدید درد تھا۔ معدہ خالی ہونے کی وجہ سے اُس میں تبخیر پیدا ہو چکی تھی۔ اُسے رہ رہ کر فضل دین پرغصہ آ رہا تھا،جو ابھی تک روٹیاں لے کر نہیں آیا تھا۔ مولوی کرامت کو ڈر تھا، نماز پڑھاتے ہوئے گر نہ پڑے۔ صبح کے وقت ایک گلاس گُڑ والی لسی پی کر ظہر تک نبھانا بہت مشکل تھا۔ نماز کے دوران بھی پتہ نہیں وہ کیا پڑھتا رہا۔ تلاوت کرتے ہوئے کسی جگہ کی آیت دوسری جگہ پڑھ گیا تھا۔ وہ تو خیر تھی کہ ظہر کی نماز میں تلاوت بلند آواز سے نہیں پڑھی جاتی ورنہ بہت رسوائی ہوتی اور مقتدی مولوی کے دماغ پر شبہ کر لیتے۔ سجدے، رکوع اور قیام کے دوران مولوی کرامت نے فضل دین کو نہ جانے کتنی صلواتیں سنائیں اور اِن گاؤں والوں کو بھی، جو آرام سے پیچھے آ کر نماز تو پڑھ لیتے مگر یہ نہیں دیکھ سکتے تھے کہ وہ بھوکا ہے یا پیٹ بھرا۔ اسی خیال میں اُسے حدیث یاد آئی، اگر نماز اور کھانے کا وقت ایک ہو جائے ہو تو پہلے کھانا کھا لو،بھوکے پیٹ نماز نہیں ہوتی۔

 

مولوی کرامت پچھلے تیس سال سے اس چھوٹے سے گاؤں کی مسجد کا پیش امام تھا۔ گاؤں کیا؟یہی سو پچاس گھروں کی چھوٹی آبادی تھی۔ پہلے پہل مولوی کرامت کا پردادا خدا یار چندہ مانگنے اور گداگری کرتے ہوئے یہاں آیا تھا۔ تب یہ مسجد خالی پڑی تھی۔ اُس نے اسی احاطے میں اپنی گُدڑی جمادی اور نماز پڑھنے لگا۔ گاؤں والے اول اول ترس کھا کر اُسے دو وقت روٹی دے دیتے۔ پھر رفتہ رفتہ دو چار لوگ اور بھی وہاں اُس کی دیکھا دیکھی نماز پڑھنے لگے۔ خدا یار نے ایک سال کسی مدرسے میں لگایا تھا۔ اس وجہ سے کچھ قرآن کی سورتیں یاد ہو گئیں اور نماز بھی آتی تھی۔ اُسی کے سہارے امامت شروع کر دی اور خود بخود گاؤں کا مولوی بن بیٹھا اور مسجد کی عملی شکل ترتیب پانے لگی۔ اُس کے مرنے کے بعد مولوی کرامت کا باپ احمد دین جانشین بنا۔ وہ دن اور آج کا دن، یہ نسل در نسل یہیں کے رہ گئے۔ مولوی احمد دین نے عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے کرامت کو ابتدائی قاعدے سپارے پڑھا کر باقاعدہ قصور کے ایک مدرسے میں پڑھنے کے لیے بھیج دیا۔ یہاں مولوی کرامت نے چھ سال لگائے۔ پندرہ سال کی عمر کو پہنچنے تک عربی،فارسی اور اردو کاچنگا بھلا مولوی بن گیا۔ اسی ا ثنا میں مولوی کرامت کا باپ مولوی احمد دین ساٹھ سال کی عمر میں مر گیا۔ باپ کے مرنے کے بعد مولوی کرامت نے کہیں اور جانے کی بجاے اسی گاؤں کی مسجد کو امامت کے لیے تر جیح دی۔ اب وہ پورے پچپن کا ہو چکا تھا۔

 

گاؤں کے سو فیصد لوگ حقیقت میں ایک ہی جد کی اولاد تھے، جو وقت کے ساتھ مختلف خاندانوں میں بٹ گئے تھے۔ یہ سب اَن پڑھ اور سادہ لوح تھے۔ لوگوں کے پاس ملکیتی زمین دو دو یا چار چار ایکڑ سے زیادہ نہیں تھی،جس میں سبزیاں اور چھوٹی موٹی ضرورت کی چیزیں کاشت کرتے اور اُنہیں آٹھ میل پیدل،گدھیوں،گَڈوں یا چھکڑوں پر لاد کر قصور شہر میں بیچ آتے۔ ساری آبادی غریب افراد پر مشتمل تھی، جن کا گزارہ بھی مشکل ہی ہوتا۔ اس لیے مولوی کرامت کو پیسے کون دیتا؟اکثر اوقات اُس کی جیب خالی رہتی۔ البتہ عید کے روز قربانی کیے گئے جانوروں کی کھالیں، گاؤں کے مرنے والے بوڑھوں کے کپڑے، بستر اور چارپائیاں، شادی بیاہ میں نکاح کی فیس اور اِسی طرح سال کے سال گندم کی کٹائی پر تھوڑی بہت گندم ہر ایک اُن کو دے دیتا۔ مولوی کرامت یہ گندم شہر لے جاکر بیچ دیتااور کچھ پیسے کھرے کر لیتا۔ اس کے علاوہ روزانہ صبح اور شام کرامت کا لڑکا فضل دین، جو ابھی تیرہ چودہ سال کا تھا، پورے گاؤں سے روٹیاں اکٹھی کر لاتا۔ ہر گھر نے اپنے اوپر لازم کرلیا تھا کہ وہ ایک روٹی فضل دین کو ضرور دے گا۔ اس طرح روزانہ مولوی کرامت کے گھر تیس چالیس روٹیاں جمع ہوجاتیں۔ اتنی روٹیاں وہ کھا نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ مولوی کے سوا اس کا بیٹا فضل دین اور بیوی شریفاں، یہ تین افراد کہاں تک کھاتے۔ باقی روٹیوں کو دھوپ میں سُکھا لیا جاتا۔ مہینے بعد وہ سب اکٹھی کر کے بڑی بڑی بوریوں میں بھر کے شہرمیں کھل بنولہ والوں کے ہاں بیچ آتے۔ جس سے اُن کے لیے مہینہ بھر کا نقد خرچ نکل آتا۔

 

گاؤں والوں سے روٹیاں اکٹھی کرنے کا کام فضل دین کرتا تھا۔ مولوی کرامت کی اُسے تاکید تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ گھروں میں جایا کرے تاکہ روٹیاں بڑی مقدار میں اکٹھی ہو جائیں مگر سو گھر کچھ کم نہ تھے۔ فضل دین بمشکل چالیس پچاس گھر ہی پورے کر پاتا۔ ایک مصیبت فضل دین کے لیے یہ تھی کہ روٹیاں مانگنے جاتا تو لوگ اُس سے گھرکام کروانا شروع کر دیتے۔ کوئی عورت روٹیوں کا تھیلا رکھوا لیتی اور دوکان سے سودا لینے بھیج دیتی، کوئی گائے کو چاراڈلوانا شروع کر دیتی۔ اس وجہ سے اُسے گھر پہنچنے میں کافی دیر ہوجاتی۔ گھر جاتاتو مولوی کرامت سیخ پا ہوتا کہ اتنی دیر کہاں کر دی؟ بعض اوقات دو چار چپتیں بھی لگا دیتا۔ ہر دو طرف سے فضل دین پر ہی مصیبت گرتی لیکن یہ تو اب معمول بن چکا تھا۔ فضل دین اس سب کچھ میں کوئی تکلیف محسوس نہ کرتا بلکہ گھر گھر کے طرح طرح کے کھانے شاید ہی کسی کو نصیب ہوں کہ فضل دین کے لیے نعمت سے کم نہیں تھے۔ دو سرا فائدہ یہ تھا کہ فضل دین کا علمی ذخیرہ گاؤں کے کسی بھی فرد سے زیادہ تھا۔ پورے گاؤں کے حالات کی اُسے لمحہ بہ لمحہ خبر رہتی۔ لاشعوری طور پر وہ گھر گھر کی خبروں سے آگاہ ہو رہا تھا۔ کسی نے جو کچھ بھی گاؤں کے دوسرے فرد کے متعلق پوچھنا ہوتا،فضل دین کو بلا لیتا۔ کس کے گھر میں کون مہمان آیا ہے؟ کس نے کس کے اوپر کیا الزام لگایا ہے؟ اسی طرح کی اکثر باتیں اُس کو پتا ہوتیں۔ فضل دین کی وجہ سے مولوی کرامت کا تجربہ بھی بڑھ رہا تھا۔ اُسے پتہ چل جاتا کہ اس وقت احمد بخش کے گھر سے لہسن منگوایا جا سکتا ہے اور شیر محمد کے ہاں باسمتی کے چاول وافر پڑے ہیں اور یہ کہ ِاس وقت اُس کا موڈ بھی ٹھیک ہے، مانگنے سے ضرور مل جائے گی۔ علاوہ ازیں آج خیر دین نے اپنے بیوی کو جھونٹوں سے پکڑ کر وہ تانبی(مارا) لگائی ہے کہ اللہ جانتا ہے،چور کو پڑتی تو وہیں مر جاتا۔ یہ سب باتیں ایک طرف، فضل دین اب اپنے باپ کے سوا گاؤں کے کسی بھی فرد سے زیادہ پڑھا لکھا بھی تھا۔ کئی کئی آئتیں، سورتیں اور تعویذ گنڈے کی رمزیں اس عمر میں وہ سیکھ چکا تھا۔ پور ی نماز،تراویح،حتیٰ کہ نماز جنازہ کی بھی کئی کئی دعائیں، جو اکثر مولویوں کو بھی نہیں آتی تھیں،وہ اِسے یا د تھیں اور مزید ترقی کر رہا تھا۔

 

اتنا زیادہ علم حاصل کرنے کا سبب یہ تھاکہ گاؤں میں کسی بھی فرد نے اپنی اولاد کو مولوی صاحب سے پڑھانے کی زحمت گوارا نہ کی تھی۔ نہ ہی مولوی ایسی کسی بدعت کو رواج دینا چاہتا تھا۔ اس کے تمام علمی سرمائے کی منتقلی صرف فضل دین تک محدود تھی۔ کریماں، بوستان، گلستان، دیوانِ حافظ، عرفی و خاقانی کے قصیدے اور ان کے علاوہ عربی کی ابتدائی کتابیں،گرائمر و صیغہ جات۔ یہ سب آہستہ آہستہ فضل دین کی طرف منتقل ہو رہے تھے۔ مرغا ذبح کرنا، بچے کے کان میں اذان دینا تو فضل دین کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ مردے کو نہلانا، قبر، کفن اور جنازے کی معلومات بھی اب اُس کے لیے غیب کی باتیں نہ رہیں۔ مولوی کرامت نے جو کچھ اپنے باپ مولوی احمد دین سے پڑھا یا جو اُسے خود نہیں بھی آتا تھا، وہ بھی اُلٹا سیدھا امانت کی طر ح فضل دین کے سپرد کر رہا تھا، کہ اس خاندان کی بقا اسی پر تھی۔ ویسے بھی مولوی کرامت کا باپ کرامت سے اور کرامت کا دادا اُس کے باپ سے کم ہی پڑھے تھے اور ہر بعد میں آنے والا اُس علم میں اپنی ذاتی استعداد سے اضافہ کر رہا تھا۔

 

ہزار مشکل سے مولوی کرامت ظہر کی نماز پڑھا کر گھر آیا تو فضل دین روٹیاں لے کر آ چکا تھا۔ مولوی کا غصہ انتہاؤں پر تھا۔ تیزی سے عصا لے کر فضل دین پر ٹوٹ پڑا۔ فضل دین نے عصا اُٹھتے دیکھا توآگے بھاگ اُٹھا۔

 

ارے کم بخت کہاں جاتا ہے؟ ملعون صبح چھ بجے سے نکلا اور ظہر کر دی۔ خدا تجھے غارت کرے،تیرے جیسا حرام خور آج تک پیدا نہ ہوا’’ مولوی غصے سے بھاگتے ہوئے کانپ بھی رہا تھا”۔ تجھے خدا سمجھے یہاں گھر میں کچھ کھانے کو تھا؟ جو موت کے وقت واپس آیا۔

 

مولوی کو غصے میں دیکھ کر فضل دین سمٹ کردیوار سے لگ گیا اورتھر تھر کانپنے لگا۔ وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا،کیا جواب دے کہ عصا چھپاک سے فضل دین کے چوتڑوں پر لگا۔ شریفاں نے اُسے پٹتے دیکھا تو فوراََ دوسرا عصا پڑنے سے پہلے درمیان میں آگئی اور عصا ہاتھ سے کھینچ کر بولی،ہائے ہائے بد بخت بڈھے تیرے ہاتھ ٹوٹیں۔ خدا کوڑھی کر کے مارے، کیوں معصوم کی جان کا دشمن ہوگیا؟سارا دن گلی گلی پھر کر تیرا دوزخ بھرتا ہے، پھربھی تجھے صبر نہیں۔ مَیں جانتی ہوں، یہ لڑکا نہ ہوتا تو تُو بھوکا مرجاتا۔

 

شریفاں نے فضل دین کو بازو سے پکڑ کر اپنی بغل میں لے لیا، جو عصا کھا کر ہاتھ سے چوتڑ سہلا رہا تھا۔
ہاں ہاں مَیں بھوکا مر جاتا،مولوی تڑپ کر بولا، جب تُو نے اِسے نہیں جنا تھا، تب میں مٹی کھاتا تھا؟پورے پچاس سال اسی گاؤں سے مَیں نے روٹیاں اکٹھی کی ہیں اور اب اگر اِسے لوگ دیتے ہیں تو میری ہی وجہ سے۔ مَیں نہ ہوں تو ماں بیٹا دونوں کسی روڑی(کچرا) سے چن کر کھا رہے ہوتے بلکہ وہ بھی نہ ملتی اور کتوں کی طرح باولے ہو جاتے۔ مولوی کرامت بِڑبڑا تا ہو ا چارپائی پر بیٹھ گیا، جس کی ادوائین ایک طرف سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ چارپائی کا بان سرکنڈوں کی باریک مونج سے بٹا ہوا تھا۔ گرمیوں میں سرکنڈوں کا بان جسم کو جس قدر ر احت اور ٹھنڈک پہنچاتا ہے،اُس کی مثال نہیں۔ مولوی کو ٹھنڈا پڑتے دیکھ کرشریفاں فضل دین کی طرف پلٹی اور اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا،کیوں بے تُو اتنی دیر کہاں لگا دیتا ہے ؟تیر ااس طرح کام کر نا مجھے بالکل منظور نہیں۔ تیر ی نالائقی اور کام چوری کی وجہ سے ہم ایک دن ضرور دانے دانے کو ترسیں گے۔

 

اماں لوگ کام لینا شروع کر دیتے ہیں،فضل دین منہ بسورتے ہوئے بولا، میں کیا کروں؟ انکار کرتا ہوں تو روٹیوں کا تھیلا اُتار کر رکھ لیتے ہیں۔ تب مجھے بات مانتے ہی بنتی ہے۔

 

کون کون ایسا کرتا ہے ؟شریفاں نے فضل دین کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔

 

اماں ! ملک نظام کی بڈھی حاجن مجھے گھنٹہ گھنٹہ کام میں لگائے رکھتی ہے۔ یہ سب دیر اُسی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ وہ سارے گھر کے کام اکٹھے کر کے میرے انتظار میں رکھ چھوڑتی ہے، بس جاتے ہی کام پر لگا دیتی ہے۔ زیادہ دیر تووہیں ہوتی ہے۔

 

سن رہے ہوکرامت؟ لڑکا کیا کہہ رہا ہے؟ سارے گاؤں کی مزدوری اور تیری جھڑکیاں سب اسی کی گردن پر۔ خبردار جو آئندہ فضل دین کو کچھ کہا’’شریفاں کا پارہ مسلسل چڑھ رہا تھا‘‘ نظام کو صاف صاف کہہ دے، وہ حاجن کو سمجھا دے۔ ہم سے اُس کی ونگاریں (مفت کے کام) نہیں کی جاتیں۔ جتنا کام وہ لیتی ہے، اتنا فضل دین منڈی میں جا کر کرے تو روز کے دوروپے کمائے۔

 

مولوی کرامت اب بھیگی بلی کی طرح چارپائی پر سمٹا بیٹھا تھا، کسمسا کر خلا کی طرف گُھورتے ہوئے بولا، نیک بختے اب جانے بھی دے۔ میں ملک نظام سے بات کروں گالیکن یہ تو سمجھ، وہ گاؤں کا بڑاہے،سب اُس کی عزت کرتے ہیں، کوئی بندہ کُبندہ دیکھنا پڑتا ہے۔ ہم سو چیزیں اُن سے لیتے ہیں۔ خیر چھوڑ اِن باتوں کو، جلدی اب کھانا دے، سرگھوم رہا ہے۔ پھر فضل دین کی طرف دیکھتے ہوئے تڑخ کر بولا، چل اُٹھ فضلو سورہ یٰسین میں جتنے متکلم حاضر کے صیغے استعمال ہوئے ہیں، یہاں میرے پاس بیٹھ کے مجھے ابھی ان صیغوں کا پتہ چلا کے بتا۔ آج اگر تو صحیح صحیح نہ بتا سکا تو دیکھ،مَیں تیری کیسے چمڑی اُدھیڑتا ہوں۔ تین مہینے ہو گئے، ابھی تک چودہ صیغوں پہ اٹکا ہے۔ مَیں نے یہ کام صرف دو مہینوں میں کیا تھا۔

 

مولوی کرامت کی جھڑکیاں کھا کر فضل دین نے اُٹھ کر لوٹے میں پانی لیا،وضو کیا۔ اُس کے بعد کمرے سے جا کر ریشمی غلاف میں لپٹا ہوا ایک بڑی تقطیع کاقرآن پاک اُٹھا لایا اور مولوی کرامت کے سامنے ٹوٹی پھوٹی چوکی پر بیٹھ کرسورہ یٰسین نکال لی۔ اِتنے میں شریفاں نے روٹی لاکے مولوی کرامت کے سامنے رکھ دی۔ مولوی روٹی کھانے کے ساتھ ساتھ فضل دین سے صیغوں کے بارے میں پوچھتا جاتا تھا اور ڈانٹتا جاتا تھا۔ بیچ میں مزید معلومات کی بہت سی دوسری باتیں بھی بتاتا گیا۔ جہاں کہیں فضل دین غلطی کرتا،وہیں ہلکا سا عصا دا ئیں بائیں ٹکا دیتا۔
3

 

غلام حیدر گرو ہرسا ریلوے اسٹیشن پہنچا تو رفیق بگھی لیے وہاں موجود تھا۔ چراغ تیلی اورجانی چھینبا بھی اپنی چَھو یوں اورگنڈاسوں کے ساتھ پاس ہی کھڑے تھے۔ راستے میں دشمنوں کے گاؤں پڑتے تھے اس لیے رفیق نے انہیں ساتھ لے لیا تھا۔ غلام حیدر کے آنے کی خبرتو کسی کو نہیں تھی مگر یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے والد شیر حیدر کی اچانک موت پر ضرور آئے گا۔ اس لیے دشمن کچھ بھی اوچھی حرکت کر سکتے تھے،جس کے لیے بہت سے جوانوں کا ساتھ ہونا ضروری تھا۔ اِسی خطرے کے پیش نظر غلا م حیدر سے رفیق پاولی نے کہلا بھیجا تھا کہ وہ جلال آباد تک ریل میں آنے کی بجائے منڈی گرو ہرسا میں ہی اُتر جائے، ہم وہاں لینے کے لیے پہنچ جائیں گے تاکہ دشمن رستے میں ریل پر حملہ آور نہ ہو سکے۔ ریل بیسیوں گاؤں میں رُکتی ہوئی آتی تھی۔ دشمن کہیں بھی اُس میں سوار ہو کر نامناسب حرکت کر سکتے تھے، جس کے بعد پچھتاوے کے سوا کوئی تلافی نہ ہوتی۔ ریل سے نکلتے ہی غلام حیدر کو بیس افراد کے گروہ نے گھیر لیا۔ رفیق پاؤلی نے اُسے گود میں کھلایا تھا، غلام حیدر اُسے چاچاکہہ کر مخاطب کرتا۔ ملتے ہی دونوں کے آنسو نکل آئے۔ پُشتینی ملازم ہونے کے ناتے فیقے نے غلام حیدر کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دلاسا دیتے ہوئے کہا، پُتر صبر کر، یہ اللہ کے کام ہیں۔ شیر حیدر اللہ کی امانت تھا،وہ اُسے لے گیا،تُو حوصلہ رکھ، ہم تیرے ساتھ ہیں۔ پھر سب لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے،غلام حیدر گھبرا نا مت، یہ سب تیرے بازو ہیں۔ تیرے ایک اشارے پر مرنے کو تیار رہیں گے۔ اسی دوران بُوٹا تیلی غلام حیدر کی بندوق پکڑ کراُسے دیکھنے لگا۔ زندگی میں پہلی دفعہ بندوق کو ہاتھ لگایا تھا، اس لیے ہاتھ پھسلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد باری باری سب نے بندوق کو کاندھے پر رکھنے کی کوشش کی اور ہاتھوں میں تول تول کر وزن بھی ماپنے لگے۔ بالآخر رفیق پاولی نے بندوق اپنے کاندھے سے لٹکا لی۔ غلام حیدر نے آنسو ہتھیلی سے صاف کر کے پونچھ ڈالے اور بگھی پر سوار ہو گیا۔ اس کے بعد تینوں بگھیاں جلا ل آباد کی طرف دوڑنے لگیں،جن میں شیر حیدر کے اصطبل کے خاص گھوڑے جُتے ہوئے تھے۔

 

شیر حیدر جلال آباد کے تین گاؤں کا مالک تھا۔ جلال آباد میں اُس کی ذیلداری کسی بھی شک و شبے اور چیلنج سے بالاتر تھی۔ خاص تیس چالیس آدمی ہر وقت ڈانگ برچھی سے لیس اُس کے ڈیرے پر موجود رہتے لیکن عموماََ وہ لڑائی بھڑائی سے پرہیز ہی کرتا۔ کوشش یہی ہوتی کہ معاملہ صلح صفائی سے حل ہوجائے۔ ویسے بھی اتنی بڑی طاقت سے مخالفین دبکے رہتے اور بات آگے نہ بڑھ پاتی۔ اس کے علاوہ شیر حیدر کوانگریز سرکار سے جو ذیلدار ی کا پروانہ ملا ہوا تھا وہ بھی کم نہ تھا۔ بہت سے لوگ انگریز کا نام سن کر بھی گھورے میں چلے جاتے مگر شیر حیدر انگریزوں سے ربط ضبط ذرا کم ہی رکھتا۔ اُ س کے تعلقات کی حدود فیروز پور کے بڑے زمین داروں اور چھوٹے نوابوں تک تھی۔ علاقے میں بڑی زمینوں کے ما لک زیادہ تر سکھ ہی تھے۔ مسلمان یا تو مزارع تھے یا پھر بہت کم زمینوں کے مالک تھے۔ اگر کوئی بڑا زمیندار تھا،تو پھر وہ زیادہ ہی بڑا تھا،جیسے نواب افتخار ممدوٹ کا والد سر شاہنواز۔ ا لبتہ اِکا دُکا شیر حیدرجیسے بھی تھے،جو نواب تو نہیں لیکن مناسب درجے کے زمین دار ضرور تھے۔ اس طرح کے زمینداروں میں زیادہ کے پاس ذیلداری کا منصب بھی تھا،جو شیر حیدر کے پاس بھی تھا۔ شیر حیدر کا حریف مسلمانوں میں تو بالکل نہیں تھا،سوائے عبدل گجر کے، مگر وہ بھی زمیندار بہت چھوٹا تھا۔ اُس کے ساتھ اُس وقت رنجش پیدا ہوئی،جب وہ شیرحیدر سے بیلوں کی دوڑ ہارا۔ اس دوڑ میں عبدل گُجر شیر حیدر سے پچاس ایکڑ زمین ہار گیا۔

 

شیر حیدر کے زیادہ حریف سکھوں میں تھے لیکن وہ بھی کُھل کر سامنے نہیں آ سکتے تھے، سوائے سودھا سنگھ کے۔ وہی ایک شیر حیدر کا مرکزی حریف تھا، جس کے ساتھ اُس کی گہری دشمنی تھی۔ یہ دشمنی پچھلی دو نسلوں سے چلی آ رہی تھی، جب شیر حیدر کے والد سردار علی حسین بخش کے گاؤں شاہ پور اور سودھا سنگھ کے والد موہن سنگھ کے گاؤں جھنڈو والا کے درمیان کبڈی کا میچ ہوا۔ اس مقابلے میں اگرچہ سکھ مسلمان کھلاڑیوں کی کوئی تخصیص نہیں تھی،دونوں طرف ملے جلے پہلوان تھے مگر جب پھجا سنگھ کا گُھٹنا جمال خاں کے ہاتھوں کھیلتے ہوئے تڑخ گیا تو نعرہ بازی شروع ہو گئی۔ نعرہ بازی کے دوران لڑائی کا سماں بن گیا۔ اس کے بعد دونوں طرف سے برچھیاں اور ڈانگیں نکل آئیں۔ لڑائی میں موہن سنگھ کے گاؤں کا ایک بندہ مر گیا۔ پھردونوں طرف سے پرچے ہو گئے۔ چونکہ پورے پورے گاؤں لڑائی میں شامل تھے لہٰذا قتل ایسے ملوے میں بدل گیا جس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکا۔ دونوں گاؤں میں بہت عرصے تک مقدمے بازی کے بعد عارضی طور پر صلح ہو گئی مگر دلوں کے اندر کینے کی آگ جلتی رہی، جو مستقل دشمنی کی شکل اختیار کر گئی۔ اس دشمنی میں دونوں پارٹیاں گاہے گاہے ایک دوسرے کا تھوڑا بہت نقصان کرتی رہیں۔ وہی دشمنی سودھا سنگھ اور شیر حیدر کو وراثت میں ملی اور اب شیر حیدر کی وفات کے بعد غلام حیدر کے کھاتے میں پڑ گئی۔ سردار سودھا سنگھ کی زمین شیر حیدر سے زیادہ تھی لیکن دو تین دفعہ کی لڑائی میں پلڑا شیر حیدر کا ہی بھاری رہا۔ عدالت کچہری میں بھی سودھا سنگھ کو کچھ برتری حاصل نہ ہوسکی، اس لیے اُس کے اندر انتقام لینے کی کسک موجود رہی۔ اب جو اُس نے شیر حیدر کے مرنے کی خبر سنی تو باغ باغ ہو گیا۔ فوراََ جگبیر سنگھ، شام سنگھ، پیت سنگھ اور فوجا سیٔو کو بلا کر شراب کی محفل سجا دی۔ پورے دو گھنٹے شراب پیتے رہے اور بکرے بلاتے رہے۔ نشہ اُترا تو مستقبل کے صلاح مشورے شروع کر دیے۔

 

سورج نے نیزے کی اَنی چھوڑ دی تھی اور سائے نے مشرق کی طرف قد بڑھاناشروع کر دیا تھا۔ نیم کے پُرانے درخت نے احاطے کا سو فٹ قطر اپنے گھیرے میں لے کر دھوپ کو روک رکھا تھا۔ اس لیے چار پائیاں اور مُونڈھے مشرقی دیوار کے ساتھ لگ گئے کیونکہ وہاں ابھی دھوپ کافی تھی اور نیم کا سایہ دو گھنٹے تک وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔ احاطے کا صحن بہت بڑا تھا اور باریک انیٹوں سے سارے کا سارا فرش کیا گیا تھا۔ اس لمبے چوڑے صحن کے ایک کونے میں پانی کا بڑا گہرا کنواں بھی تھا،جو نہ صرف سودھا سنگھ کی حویلی کی ضروریات کو پورا کرتا بلکہ سب گاؤں والے بھی اس کنویں کو استعمال کرتے اور کسی کو روک ٹوک نہ تھی۔

 

سردار سودھا سنگھ متروں کے ساتھ سردی کی دھوپ میں بیٹھ کر معاملات پر غور ہونے لگا۔ حویلی کے سب دروازوں کی بَلیاں چڑھا دی گئیں۔ احاطے کی دیواریں پکی اینٹ سے چن کر بیس فٹ تک اونچی کی گئیں تھیں لیکن اُن پر کسی وجہ سے پلستر نہیں کیا گیا تھا۔ اینٹیں بارشوں اور زمانے کی ہواؤں کے سبب سیاہ ہو چلیں تھیں۔ دیواروں میں بھی پیپلوں کی شاخیں نکل آئی تھیں۔ ویسے بھی دیواروں کو آرائش یا پلستر کرنا عموماََ دیہاتوں میں ضروری نہیں سمجھا جاتا البتہ احاطے کے گیٹ یا مرکزی دروازے پر خاص توجہ دی جاتی ہے، وہ سردار سودھا سنگھ نے اپنی بساط کے مطابق اچھی خاصی دی تھی۔ شیشم کی پکی لکڑی کا دروازہ، جس کی رنگت پالش کے بغیر ہی اتنی سیاہ تھی کہ توّے کی طرح چمکتی تھی۔ چو گاٹھ ڈیڑھ فٹ مربع چوڑے تھے اور تختے تین تین انچ موٹے۔ تختوں پر پیتل کے دو دو انچ انچ موٹے سینکڑوں کیل اُس کی ہیبت میں اس طرح اضافہ کرتے کہ بیس فٹ اونچا اور بارہ فٹ چوڑا دروازہ اژدھے کی طرح نظر آرہا تھا۔ دروازے کی ڈیوڑھی کے اُوپردائیں بائیں دو بُرج تھے۔ اُن پرپتھر کے دو شیر منہ کھولے کھڑے تھے، جیسے ابھی کچھ ہڑپ کرنے والے ہوں۔ نئے آنے والے کو تو بالکل اصلی دکھائی دیتے اور وہ ایک دفعہ سہم جاتا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے اپنی مونچھوں کو رسی کی طرح بَل دے کر ہلکا سا جھٹکا دیا پھر فٹ بھر لمبی داڑھی کے اندر انگلیاں ڈال کر زور سے ٹھوڑی کھجائی اور سامنے پڑے مُونڈھے پر اپنی ٹانگیں پھیلاتے ہوئے چھدو کو آواز دے کر دروازوں کوپہرا بند کرنے کو کہا۔ اُدھر چھدو لنگڑاتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا،اِدھر سودھا سنگھ نے جگبیر سنگھ کو مخاطب کرکے اپنی بات شروع کی،جو پہلے ہی اس انتظارمیں تھا کہ کب سودھا سنگھ اس سے اصل بات کی طرف آتا ہے۔
جگبیرے واہگرو نے اس سے اچھا موقع نہیں دینا، شیر حیدر کا مُنڈا(لڑکا) ابھی ندان (کم عمر)ہے۔ تکڑے (ہمت کر کے) ہو کے اپنا وار کر دیں، آگے کی شرماں گرو جی رکُھو گے۔

 

جگبیر آگے کی طرف جھکتے ہوئے دھیمے دھیمے بولنے لگا، سردار جی میرا ایک مشورہ کبھی ضائع نہ کرنا،بانس کی کونپل زمین سے نکلتے ہی کاٹ دو ورنہ اُس کے نیزہ بننے میں دیر نہیں لگتی۔ چک جودھا پور میں آج ہی بندے بھیج کے غلام حیدر کی مونگی کی فصل وران(تباہ) کر دو۔ بیس ایکڑ مونگی کو پہلا دھکا ابھی لگا دو۔ جوگڈوں پر لاد کر لا سکتے ہیں،وہ لے آئیں،باقی کو آگ لگا دیں۔

 

پیت سنگھ،جس کے سَر کے بال گھنے ہونے کے ساتھ ڈب کھڑبے بھی ہو چکے تھے، اُس نے اپنے زانوؤ ں پر ہاتھ رکھ کر گفتگو میں حصہ لیا، سردارسودھا سنگھ! مُنڈے کو سر ہی نہ اُٹھانے دو۔ مَیں تو کہتا ہوں، دیر کرناگرو جی کے ویریوں کا کام ہے۔ میرے تو جی میں ساہ اُس وقت آئے گا،جب شیر حیدر کے مُنڈے کو فلانگ (تباہ) کر دیں گے۔

 

ابھی پیتا سنگھ بول ہی رہا تھا کہ بیچ سے بیداسنگھ نے اُس کی بات کاٹ کر کہا، سردارسودھا سنگھ! میری کرپان تو بڑے ورھوں سے پیاسی ہے۔ واہگرو جانتا ہے، مَیں نے اس دن کے لیے کتنی منتیں مانیں۔ روز اس کی دھار تیز کرتا ہوں۔ جب تک یہ کسی مُسلے کا لہو نہیں پی لیتی،واہگرو کی سونہہ ِاسے سہج نہیں ملے گی۔

 

فوجا سیؤ یہ باتیں آرام سے بیٹھا سنتا رہااور خاموشی سے داڑھی کھُجاتا رہا۔ سودھا سنگھ نے فوجا سیؤ کو مسلسل خموش بیٹھے دیکھا تو مخاطب کرکے تائید کی خواہش کی۔ فوجا سئیو نے پہلے بائیں ہاتھ سے اچھی طرح کان میں کھجلی کی اور ایک دفعہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ پھر چند منٹ خاموشی سے سودھا سنگھ کی طرف دیکھتا رہا اور آخر کارسہج سے بولا،سودھے آگے تیری مرضی، پر میری مانو تو یہ موقع ٹھیک نئیں۔ شیر حیدر کے بندے اس وقت زیادہ ہشیار ہوں گے۔ اگر وار اوچھا جا پڑا تو بڑی نموشی ہوگی۔ شیر حیدر کا مُنڈا ضرور ندان ہے پر فیقا اور اُس کے بیلی متر تو ندان نئیں۔ وہ تم سب سے زیادہ چاتر ہیں۔ ویسے بھی لوگ چنگا نئیں جانیں گے اور سرداری کو مِہنا آئے گا۔ تھوڑے دن ٹھہر کے حالات کی ٹوہ لے لو،پھر جو گرو جی کی منشا ہوگی، بڑے دن پڑے ہیں بدلہ لینے کو۔

 

پیت سنگھ بے صبری سے فوجا کی بات سن رہا تھا، ایک دم جوش میں آگیا، فوجے آج تک تُو نے بزدلی کے علاوہ کوئی مشورہ دیا ہے ؟ واہگرو کی سونہہ، ہم اب تیری بات نئیں مانیں گے۔ فیقا چاتر ہے تو ہووے، آخر وہ ہے تو پاولی کا پاولی۔ سرداروں کے مُوت کے برابر اُس کی عزت نہیں۔ اُس کی عقل اُس وقت تک کام کرتی تھی جب تک شیر حیدر کا سر پر ہاتھ تھا۔ کمی کمین خود کچھ نہیں ہوتا۔ اُس کی دلیری اُس کتے جیسی ہوتی ہے، جو مالک کی ہلا شیری کے بغیر گیدڑ سے بھی ہولا ہوتا ہے۔ کہو تو فیقے پاولی کو کل ہی بودیوں سے پکڑ کر سردار سودھا سنگھ کے آگے پھینک دوں؟ باقی رہا سرداری کو مِہنا،تو اُس کے لیے ایک بات دھیان میں رکھ،جنگ میں سب جائز ہے۔

 

اَو پیتے بیٹھا رہ تُو، فوجا سیؤ غصے سے بولا، پھر تُو تو ایک طرف ہو جائے گا، بھگتان تو سودھا سنگھ کو ہی دینا پڑے گا۔ تیرے سر میں بھیجا نہیں،بھوسا اور گوبر بھرا ہے۔ جب دیکھو ڈانگ برچھی اور کرپان کی باتیں کرتا ہے۔ کبھی چوہا تک نہیں مارا تو نے۔ دو گھونٹ کیا پی لیتے ہو،دُم پر کھڑے ہو جاتے ہو( سودھے کی طرف مخاطب ہو کر)دیکھ سردار سودھاسنگھ، مَیں تو تجھے یہ صلاح نہ دوں گا،آگے تیری مرضی۔

 

پیت سنگھ فوجے کا طعنہ سن کر سُرخ ہو گیا، فوراً کرپان کھینچ کر بولا،فوجے تجھے مَیں پِتا کے برابر جان کے لحاظ کرتا ہوں، پر تیری منشا عزت کروانے کی نہیں۔

 

او رہنے دے،فوجا دوبارہ بولا،تو نے اپنے پِتا کی عزت کبھی نہیں کی، میری کیا کرے گا۔ بے چارہ جیٹھ ہاڑ کی ننگی دوپہروں میں کنکاں گاہتے اور تتی زمین پرچوتڑ گھساتے سڑ سڑ کے مر گیا،تجھے تو دارو اور بوٹی کے سوا کوئی لہنا نہیں۔

 

فوجے مجھے غصہ نہ دلا ورنہ اسی وقت تیری رَت کے نگال بہادوں گا،پیت سنگھ ایک دم مونڈھے سے اُٹھا اور کرپان پکڑ لی۔

 

دونوں کو جھگڑتا دیکھ کر سودھا سنگھ نے بات کاٹ دی اور گرج کر پیت سنگھ کی طرف منہ کر کے بولا۔ ناں پر مَیں نے تمھیں آپس میں لڑائی کے لیے یہاں اکٹھا کیا ہے یا صلاح مشورے کے لیے؟ اپنی بکواس مکا کے غلام حیدر کا اُپا کرو بس۔

 

یہ کہہ کر سودھا سنگھ نے دوبارہ چھدو کو آواز دی، جو سودھا سنگھ کی سفید گھوڑی کو دانہ کھلانے میں مگن تھا۔ چھدو آواز سنتے ہی لنگڑاتا ہوا دوڑ کر سردارسودھا سنگھ کی چارپائی کے دائیں طرف آکھڑا ہوا۔ چھدّو کو پتا چل چکا تھا سردار جی کیا کہنا چاہتا ہے مگر وہ پوری ہدایت لینے کے لیے باادب کھڑا رہا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے اُسے متھا سنگھ کو بلا کر لانے کے لیے کہا تو اُس نے جلدی سے پیچھے مڑ کر دوڑ لگا دی اور باہر نکل گیا۔ اُس کے باہر نکلنے کے بعد پیت سنگھ نے اُٹھ کر پھر دروازے کی بَلّی گرا دی اور پورے منصوبے پر غور کرنے لگے مگر فوجا سیؤ ہوں ہاں کے سوا چپ بیٹھا رہا۔

 

(جاری ہے)