Categories
شاعری

ہائے عرفان خان (علی اکبر ناطق)

قسم ہے مجھے اپنی آنکھوں کی
جو بہت برکت والی تھیں
اِن میں حزن و ملال کے سیراب بھر گئے ہیں
یہ آنکھیں دیکھنے میں بہت ہنرمند اور سمجھنے میں جلد باز تھیں
یہ غم سے بھر گئی ہیں
کیا تم نہیں جانتے غم کتنا بے رحم دیوتا ہے
ایسی آنکھوں میں یاس کے کنکر ڈال دیتا ہے
جن کی اذیت خدا سے بڑی ہوتی ہے
خدا بے رحم نہیں مگر کیا وہ زندہ آنکھوں والوں کو مرنے سے روک نہیں سکتا
کیا وہ موت کے دیوتا پر اپنا دُرہ نہیں چلا سکتا
کیا خدا اُن لوگوں کو اکیلے چھوڑ دینے پر افسردہ نہیں ہوتا
جو دوسروں کے لیے اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں
اے عرفان خان
اگر مَیں خدا ہوتا تو تمھیں کچھ وقت کے لیے موت سے مستثنیٰ قرار دےدیتا
اگر مَیں غم ہوتا تو تمھاری آنکھوں میں قینچیاں نہ پھیرتا
مگر اب تو مَیں اِن دونوں میں سے ایک بھی نہیں
فقط نوحہ کہنے پر اختیار رکھنے والا شاعر ہوں
اب تُو اِسی پر قناعت کر

By علی اکبر ناطق

علی اکبر ناطق ایک نامور شاعر، افسانہ و ناول نگار اور لکھاری ہیں۔ اس وقت وہ اوکاڑہ، پنجاب کی ایک نجی یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ ان کی کتابیں "یاقوت کے ورق"، "بے یقین بستیوں میں" اور "نولکھی کوٹھی" نقادوں اور قارئین سے پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *