Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – آخری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(56)

اُس دن مَیں سکول سے بھاگ کر کمپنی باغ میں آگیا۔ یہ صرف میری بات نہیں تھی،جو لڑکا بھی سکول یا کالج سے بھاگتا،وہ یہیں آتا۔ اِس کی کئی وجوہات تھیں۔ اول یہ جگہ بالکل کالج اور اسکول کے سامنے پڑتی تھی۔ درخت اِتنے زیادہ اور گھنے تھے کہ اُن کی اوٹ سے آسمان کو دیکھنا کسی کے بس کا روگ نہیں تھا۔ اِن درختوں کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی ریل گاڑی کی پٹڑی تھی،جس پر صبح سے شام تک ایک ریل کچھوے کی چال چلتی رہتی اوربچوں اور بڑوں کو جھولے دیتی رہتی۔ اس کا ٹکٹ بہت ہی معمولی تھا،جو غریب سے غریب آدمی بھی برداشت کر سکتا تھا۔ ریل کا انجن کوئلوں سے چلتا تھا۔ یہ کوئلے اُس دور میں بہت سستے تھے۔ پارک انگریز ی دور میں انگریز فیملی کے لیے تیار کیا گیاتھا۔ اِس لیے اِس میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں،جو کسی بھی یورپین پارک میں ہو سکتی ہیں۔ درخت روشیں،جھولے،خوبصورت پرندے اور جانور،غرض ہر چیز میں ایک ترتیب اور حسن تھا۔ بہت سے والدین اپنے سکول کے بھگوڑے بچوں کو یہیں سے آن پکڑتے۔

اُس دن صبح کے ساڑھے نو بجے تھے اور مئی شروع ہو چکا تھا۔ ایک مہینہ پہلے گزرنے والی بہار نے اِتنا سبزہ پھیلا دیا تھا کہ آنکھوں میں سوائے سبزی کے کسی شے کا سامنا نہیں تھا۔ مَیں کمپنی باغ میں اِدھر اُدھر گھومتا رہا۔ کبھی ٹکٹ لے کر اُسی ریل پر چڑھ جاتا،جو پارک کے ایک کونے سے دوسرے کو نے تک چکر کاٹتی ہوئی نکل جاتی،پھر دس منٹ بعد وہیں آن کھڑی ہوتی۔ کبھی ریل کے ساتھ ساتھ اِدھر سے اُدھر بھاگتا جاتا،کبھی کسی درخت پر چڑھ جاتا،وہاں سے پھراُتر کر ریل پر چڑھ جاتا۔ اِسی طرح میں اِس ریل پر بیٹھا اِدھر اُدھر کے نظاروں میں گم جارہا تھا،اچانک ریل ایک جگہ رُک گئی۔ یہ جگہ ریل کے رُکنے کی نہیں تھی،اِس لیے مجھے حیرانی ہوئی۔ نیچے اُترا تو میری نظر ایک مجمعے پر پڑی،جو ایک بہت پُرانے پیپل کے درخت کے نیچے دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ لوگ آرے اور کلہاڑوں سے پیپل کے ارد گرد گڑھا کھود کر اُس کے تنے کو کاٹنے کے درپے تھے،جبکہ ایک بوڑھا انگریز اُس گڑھے میں بیٹھا،اُن کے کام میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔ دوآدمی اُسے کھینچ کر باہر نکالنے کی کوشش میں تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ دوسرے لوگ اِس کھینچا تانی کے عمل سے ارد گرد کھڑے محظوظ ہو رہے تھے۔ وہ نہ تو بڈھے کی طرف داری کر رہے تھے،نہ اُن دو آدمیوں کو روک رہے تھے،جو بوڑھے کو بے دردی سے باہر کھینچنے میں لگے تھے اور اُسے پنجابی میں سخت سست سنا بھی رہے تھے۔ لیکن اُس نے مضبوطی سے پیپل کی جڑوں کو پکڑا ہوا تھا اور کوشش کے باوجود اُن سے باہر نہیں نکل رہا تھا۔ اِس عمل میں اُس بوڑھے انگریز کا ہیٹ پاس ہی گیلی مٹی میں مُرا تُڑا پڑا تھا۔ ہیٹ کی حالت سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اُس پر کئی لوگوں کے پاؤں آئے ہیں اور اِس قابل نہیں رہا کہ دوبارہ سر پر رکھ لیا جاتا۔ بوڑھے کی رنگت بہت زیادہ سُرخ اور سفید تھی۔ لیکن یہ وہ سرخی نہیں تھی،جو خون اور جوان صحت کی نشانی ہوتی ہے۔ بلکہ یہ رنگت نسل اور قوم کا پتہ دینے والی تھی۔ رنگت اِس قدر سُرخ ہو چکی تھی،جو عمر کی زیادتی کی وجہ سے دیکھنے والوں کے لیے کراہت پیدا کر دیتی ہے اور سفید بوڑھوں کے چہرے بندر کی پشت کے رنگ سے مشابہ ہو جاتے ہیں۔ قد ایک تو ویسے بھی لمبا تھا،اُس پر لاغر پن نے اُس کی قامت کو مزید ہوا دی تھی،جس کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ لمبا نظر آ رہا تھا۔ پاؤں میں جوتے چمڑے کے تھے لیکن وہ اتنے بوسیدہ اور مٹی میں لتھڑ چکے تھے کہ اُن کا اصلی رنگ کوئی نہیں بتا سکتا تھا۔ عینک کی حالت بھی اُس کے جوتوں سے زیادہ اچھی نہیں تھی۔ عینک کی کمانیوں پر ٹاکیاں تو نہیں لپٹی تھیں لیکن اُن کمانیوں کا رنگ اِس طرح پھٹ گیا تھا کہ اُس سے عینک کی عمر کا بخوبی اندازہ ہو تاتھا۔ بوڑھا اِس زور آزمائی میں بہت زیادہ تھک چکا تھا اور قریب تھا بیہوش ہو جائے۔ لوگ اُس کی بے بسی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ہنس بھی رہے تھے۔ بوڑھا خود بھی پیپل کاٹنے والوں کو ہانپتے ہوئے،انگریزی میں گالیاں دے رہا تھا۔ یہ لڑائی شاید کافی دیر سے جاری تھی،اس لیے کلہاڑوں والے آدمی اب اُس پر سختی کرنے پر اُتر آئے تھے۔ مَیں جب سے وہاں کھڑا تھا،اُس کے ابتدائی لمحوں میں خود بھی لطف لیتا رہا لیکن جب مجھ پر اصل حقیقت کا انکشاف ہوا کہ بوڑھا اصل میں اُنہیں پیپل کے کاٹنے سے مانع ہو رہا ہے اور سب لوگوں میں دراصل یہی ایک انسان ہے،تو میری دلی ہمدردیاں اُس کے ساتھ ہو گئیں۔ لیکن مَیں اِس معاملے میں اُس کی مدد کرنے سے بالکل قاصر تھا۔ مجھے اِس سارے قضیے میں بوڑھے سے صرف ایک ہی گلہ تھا کہ وہ یہا ں کیا کر رہا ہے۔ ممکن تھا،وہ لوگ اُس بڈھے کو کھینچ کر کسی دوسرے درخت سے باندھ کر ا پنا کام کر لیتے کہ اُسی لمحے کمپنی باغ کا انچارج آگیا۔ اُس نے آتے ہی اُن آدمیوں کو اشارے سے پیچھے ہٹایااور خود اُس کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا،لیجیے ولیم صاحب،اب باہر آجایے،یہ پیپل نہیں کٹے گا۔ پھر اُن لوگوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے،جناب آپ اپنا معاہدہ کینسل سمجھیں۔ مَیں آپ کا بیانہ واپس کرتا ہوں۔ ہم اِس بارے میں دوبارہ کمیٹی بنائیں گے۔ اگر یہ درخت کاٹنے کا فیصلہ ہوا تو سب سے پہلے آپ ہی کو تر جیح دی جائے گی۔ اب قریب تھا،وہ انچارج کے ساتھ بھی اُلجھ پڑتے کہ تماشا دیکھنے والے سب لوگوں نے بھی اَنچارج اور اُس بوڑھے انگریز کی حمایت شروع کردی۔ جب معاملہ طے پا گیا اور یہ بھی طے ہو گیا کہ اِس کھودے گئے گڑھے کی مزدوری بھی ادا کردی جائے گی اور درخت نہیں کٹے گا،تو مجھے ایک گونا خوشی ہوئی۔ اِس کے بعد میں جلد ہی وہاں سے چلا آیا۔ البتہ میرے دماغ میں ایک ہلچل شروع ہو گئی کہ بوڑھا انگریز،جسے کمپنی باغ کا انچارج ولیم کے نام سے پکار رہا تھا،یہ آخر کون ہے؟یہاں کیا کرتا پھرتا ہے؟اِس کا اِن درختوں سے کیا تعلق ہے؟اِس سے بڑھ کر یہ کہ پارک کا انچارج اِسے کیسے جانتا ہے؟مَیں اِن سب سوالوں کے جواب چاہتا تھا،مگر میری ہزار جستجو کے بعد وہ بوڑھا اُس پارک میں دوبارہ دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ مَیں اب کمپنی باغ میں بلا ناغہ اِسی لیے چکر لگانے لگا تھا۔ جب کافی دنوں کی کوشش کے باوجود وہ نظر نہ آیا تو مَیں نے بھی اُسے بھلا دیا۔ البتہ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پیپل کے گرد کھودا جانے والاگڑھا اب پُر ہو چکا تھا اور پیپل کی شاخیں مزے سے ہلکورے لے رہیں تھیں اور پتے کھڑکھڑا رہے تھے۔

دن گزرتے رہے اور مَیں یہ تمام واقعہ فراموش کر گیا۔ اِس واقعے کے تین مہینے بعد میں اپنے دوست اور سکول فیلو احمد شہزاد کے ساتھ،جسے اُس کا اَبا بھی لالہ کہتا تھا،بڑی نہر کا بجلی گھر دیکھنے کے لیے رینالہ چلا گیا۔ جیسا کہ بہت دفعہ پہلے بتایا جا چکا ہے،رینالہ اوکاڑہ کے مضاف میں ہی کئی نہروں کے دامن میں ایک بہت دلفریب اور خوبصورت جگہ ہے۔ جہاں مچلز فروٹ فارم اور انگریزوں کے کئی بنگلے تھے۔ یہاں کی نہریں،باغات،بنگلے،بڑے بڑے اور گھنے درخت چھوٹے سے اساطیری شہر کا نقشہ پیش کرتے تھے۔ اِس جگہ جا کر واقعی ایسے لگتا ہے کہ انسان وکٹورین دور کے بھوت بنگلوں میں آ گیا ہے۔ ہم دونوں وہاں دیر تک سیر سپاٹا کرتے رہے اور نہر کے کناروں پر بیٹھ کر کنول کے پھولوں کے درمیان کُنڈیاں پھینک پھینک کر مچھلیاں پکڑنے کی ناکام کوشش میں لگے رہے۔ جب دو تین گھنٹوں کی مشقت کے بعد مچھلی کی بجائے ایک مینڈک کُنڈی میں پھنسا تو ہمیں بہت کوفت ہوئی۔ ہم نے اپنی کُنڈیاں وہیں پھینکیں اور نہروں کے دونوں پل پار کر کے دوسرے کنارے پر آ گئے۔ اِس جگہ ستگھرہ روڈ کے عین کنارے پر ایک دیسی آئس کریم بنانے والی چھوٹی سی فیکڑی سے دو آئس کریم خرید کر( جو اُس وقت نہائت عمدہ خالس دودھ کی بنتی تھیں اور سستی اتنی کہ ایک روپے کی دو آ جاتی تھیں) وہیں ساتھ والے بڑے برگد کے سائے میں بیٹھ کر کھانے لگے،جس کے نیچے سے ٹھنڈے پانی کی چھوٹی سی ندی گزرتی تھی،جو چھاؤں کو مزید ٹھنڈاکر رہی تھی اور اِس اگست کے مہینے میں برگد کا سا یہ شجر طوبیٰ کی مانند تھا۔ اِس ساری جگہ کا نام نہری کوٹھی سے موسوم تھا۔

نہری کوٹھی اصل میں پانچ چھ چھوٹی چھوٹی کوٹھیوں کا مجموعہ تھا۔ جن کی حیثیت نو لکھی کوٹھی کے سامنے تو کچھ نہیں تھی۔ لیکن موجودہ زمانے کی تمام عمارتوں کے اعتبار سے ابھی بھی جاہ و جلال کی آئینہ دار تھیں۔ یہی وہ جگہ تھی،جو رینالہ شہر کے بالکل سا تھ اور دونوں بڑی نہروں کے کنارے پر واقع تھی۔ اِس کے دوسری طرف مچلز کے وسیع باغات اور فیکڑی ابھی تک اپنے عروج پر تھیں۔ اِن کوٹھیوں کے ارد گرد جامن کے آٹھ نو سو درخت اِس علاقے کو جنت کا منظر بنا رہے تھے۔ البتہ کوٹھیاں مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ اِن میں مسلًی،چوہڑے اور نہائت غریب لوگ آ باد تھے۔ واپڈا نے اِن کی بجلی کے کنکشن بھی کاٹ دیے تھے کہ نہ یہ لوگ بل دینے کے قابل تھے اور نہ ہی اُنہیں بجلی کی خاص ضرورت تھی۔ مختصر یہ کہ ہم بیٹھے وہاں ندی کے پانی میں پاؤں ڈالے آئس کریم کھا رہے تھے کہ اچانک مجھے وہی انگریز بڈھا نظر آیا۔ بوسیدہ سی ہاف بازو کی شرٹ کے ساتھ ڈھیلا ڈھالا سا پاجامہ پہنے۔ سر پروہی ہیٹ تھا،جو غالباً اُس دن کے واقعے کے بعد دھو لیا گیا تھا۔ ہاتھ میں عام سی چھڑی تھی۔ عینک بھی نئی نئی لگ رہی تھی۔ یہ چلتا ہوا مجھے اِس دن سے بھی زیادہ لمبا تڑنگا لگا۔ بڈھے کو دیکھ کر میری پُرانی خواہش جاگ اُٹھی۔ مَیں اُٹھ کر فوراً اُس کی طرف بھاگا اور کچھ ہی قدموں پر اُسے جا لیا۔

اسلام علیکم بابا جی،مَیں نے پیچھے سے ہی اُسے بالکل اُجڈوں کی طرح سلام داغ دیا۔ میرے اِس طرح اچانک اُس کے پیچھے بھاگنے سے شہزاد لالہ کو حیرانی ہوئی۔ اِس سے پہلے کہ وہ میرے اِس عمل کی مجھ سے وضاحت طلب کرتا،مَیں بوڑھے ولیم کے سامنے جا چکا تھا۔ بوڑھامیرے سلام کے ایک دم کے حملے سے تھوڑا سا ٹھٹھک کر رُک گیا،پھر چند لمحے میری طرف دیکھ کر وعلیکم سلام کہا۔ ولیم کا یہ جواب اتنا ملائمت بھرا اور شائستہ تھا کہ مجھے اُس سے مزید بات کرنے کی جرات ہو ئی لیکن وہ سلام کا جواب دے کر رُکا نہیں،مسلسل اُن کوٹھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ مگر یہ رفتاراتنی سست تھی کہ مَیں آسانی سے اُس کا پیچھا کر سکتا تھا۔ میرا دوست،جو ابھی تک وہیں بیٹھا تھا،میری اِس حرکت پر زیادہ دیر غیر جانب دار نہ رہ سکا،اُٹھ کر ہمارے تعاقب میں تیز تیز قدم اُٹھاتا ہوا آگیا۔

بابا جی،آپ کہاں رہتے ہیں؟

شاید اُسے یہ توقع نہیں تھی،مَیں اُس سے مزید سوال کروں گا۔ لہذا اُس نے میرے اِس سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور چلتا رہا،لیکن مَیں خموش نہیں ہوا اور کہا،اُس دن آپ نے کمپنی باغ کا ایک پیپل کٹنے سے بچا کر بہت اچھا کیا۔ اتنا خوبصورت درخت پتا نہیں،وہ کیوں کاٹنا چاہ رہے تھے؟

میرے اِس جملے پر وہ ایک دم چلتے چلتے رُک گیا،پھر بھرپور نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ اِس لمحے مَیں نے دیکھا،اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی تھی۔ وہ کچھ دیر مجھے سر سے پاؤں تک دیکھنے کے بعد بولا،بیٹا وہاں اُس کوٹھی میں آؤ،جس کے صحن میں برگد کھڑا ہے،وہاں بیٹھتے ہیں۔ چند ثانیوں بعد ہم اُس ٹوٹے پھوٹے مکان میں پہنچ چکے تھے،جس کے صحن میں برگد اور جامنوں کے پتوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پتے اِتنے زیادہ بکھرے ہوئے تھے کہ فرش کی زمین اُس میں بالکل چُھُپ گئی تھی اور یہ پتے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے تھے۔ ایسے لگتا تھا،یہاں صدیوں سے کسی نے جھاڑو نہیں دیا،نہ اِس کوٹھی کی دیکھ بھال ہوئی ہے۔ کوٹھی قریب ایک کنال کے رقبے پر بنی تھی۔ اُس کی عمارت تو سات آٹھ مرلوں ہی میں تھی لیکن صحن کو ملا کر ایک کنال بن ہی گیا تھا۔ تمام عمارت انتہائی نفاست اور کاریگری کا عمدہ نمونہ تھی۔ اینٹوں پر پلستر نہیں تھالیکن کسی بھی پلستر شدہ عمارت سے بہتر تھی۔ سُرخ رنگ کی یہ اینٹیں ٹیپ کے ساتھ نہایت سیدھے جوڑوں میں درست کونوں کے ساتھ معماروں کی فنًی دسترس پر گواہ تھیں۔ کمروں کی چھتیں سب کی بیس فٹ اُونچی تھیں،لیکن درمیان میں ایک بڑا کمرا نظر آ رہا تھا،جو غالباً ڈرائنگ روم رہا ہو گا،اُس کی چھت دوسرے کمروں کی چھتوں سے بھی چار فٹ مزید بلند تھی۔ دروازے اور کھڑکیاں بھی سب کے سب ٹاہلی کی سیاہ لکڑی کے تھے لیکن اُن کے تختے بعض بالکل ٹوٹ چکے تھے اور جو نہیں ٹوٹے تھے،وہ اتنے بدحال ہو چکے تھے کہ کسی بھی وقت اپنی چوگاٹھوں سے الگ ہو سکتے تھے،مگر تھے ابھی تک وہ بھی اپنے شاندار ماضی کی گواہی ثبت کرنے والے۔ صحن میں ایک قینچی نما لکڑی کی کرسی اور ایک بوسیدہ سی میز پڑی تھی،جس کا رنگ قریب قریب مٹی کے رنگ سے مل گیا تھا۔ بوڑھا ولیم کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ بہت زیادہ تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ مجھے خواہش پیدا ہوئی،اندر جا کر کمروں کا جائزہ لوں لیکن فی الحال اِس عمل سے یہ سوچ کر باز آگیا کہ نجانے کیاسمجھے۔ چنانچہ ہم دونوں مَیں اور شہزاد اُسی تھڑے پر بیٹھ گئے،جو برگد کے تنے کے ارد گرد بنا تھا اورتنے کو اپنے گھیرے میں لیے تھا۔ جس کا قطر کم ازکم دس فٹ تھا۔ اُس کی جڑیں کئی کئی فٹ تک،کوٹھی کی چھت تک پھیلی ہوئی تھیں اور ڈر تھا،جڑیں چھت کو پھاڑ کر نیچے نہ اُتر جائیں۔ بوڑھا کچھ دیر آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔ گرمی بہت شدید تھی لیکن ہوا نہروں کے اُوپر سے گزرتے ہوئے پانی کا لمس لے کر کوٹھی کے احاطے میں داخل ہو رہی تھی اور اِس انتہائی گھنے برگد کی سیاہی مائل سبز شاخوں سے ٹکرا کر مزید ٹھنڈی ہو کر ولیم اور ہمیں چھو رہی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہم تینوں ایک پُر کیف اور سرور آور فضا میں گم ہوئے کچھ دیر چُپ بیٹھے رہے۔ ہوا کی سرسراہٹ کے ساتھ شاخوں کے لرزنے سے پرندوں کا چہچہانا بڑھ گیا تھا۔ ہوا اور پرندوں کے سوا وہاں ہر طرح کی چپ تھی۔ مجھے محسوس ہوا،بوڑھا ولیم دراصل آرام کرنے کے چکر میں ہے اور ہم خواہ مخوا اُس کو تنگ کرنے کے لیے آگئے ہیں۔ لالہ شہزاد بھی اس کیفیت سے اُکتانے لگا تھا۔ اِس حالت کو دیکھ کر مَیں نے لالے کو کَن اَکھیوں سے اُٹھنے کا اشارہ کر دیا۔ قریب تھا کہ ہم اُٹھ کر چل دیتے،اُسی لمحے وہ دوبارہ بولا،دوست کیا کرتے ہو؟

ہم پڑھتے ہیں۔

ہاں پڑھنا اچھی بات ہے لیکن پڑھ کر کلرک نہ بننا،کوئی ہنر سیکھ لینا۔
ہم افسر بنیں گے۔
مجھے تم سے ہمدردی ہے لیکن پاکستانی افسروں سے میری مراد کلر ک ہے۔ اِس خطے کے لوگ آئندہ تین سو سال تک افسر نہیں بن سکیں گے۔
مجھے بوڑھے کی اِن فلسفیانہ باتوں کی کوئی سمجھ نہ آئی۔ مَیں تو کسی اور چکر میں تھا کہ ُاس کے آگے پیچھے کا پتا چلاؤں۔ مگر یہ تو کچھ دوسری طرح کی باتیں کر رہا تھا۔

چائے پکا لیتے ہو؟
جی ہاں مَیں پکا لیتا ہوں،اب کہ شہزاد لالہ نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا۔
وہ بوڑھے میں دلچسپی لینے لگا تھا۔
دوست،وہ سامنے کچن میں دودھ پڑا ہے۔ چینی اور چائے بھی موجود ہے،اپنے اور میرے لیے چائے بنا لو۔
بوڑھے کی اِس پیشکش کے بعد شہزاد بھاگ کر اندر چلا گیا اور میں وہیں بیٹھا رہا۔
یہ لڑکا آپ کا دوسست ہے یا بھائی؟
دوست ہے،میں نے مختصر جواب دیا۔
آااہ،کبھی یہاں مَیں اور ایشلے اِسی جگہ دوستی کے مزے لیا کرتے تھے۔ بوڑھے نے لمبی آہ کھینچتے ہوئے کہا۔
مَیں بوڑھے کی بات،جس میں قیامت کا درد چھُپا تھا،کو کسی وجہ سے جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور سوال کیا،آپ مجھے انگریز لگ رہے ہیں۔ کیا آپ برطانیہ واپس نہیں گئے؟

نہیں،
ولیم کا جواب مختصر تھا۔ شایدوہ میرے سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیارنہیں تھا۔ زیادہ بولنے سے غالباً اُسے تکلیف ہو رہی تھی۔ اِس لیے اختصار سے کام لے رہا تھا۔
آپ یہیں رہتے ہیں؟
یقیناً اب یہیں رہتا ہوں۔
پہلے کہیں اور رہتے تھے؟
دو سال پہلے اوکاڑہ کی نولکھی کوٹھی میری تھی۔
واہ،وہ آپ کی تھی؟ تو آپ نے اتنی اچھی کوٹھی بیچ کیو ں دی؟

بہت سی چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ تم حالت نزع میں پڑے انسان کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرنے سے انکار کر دے۔

ولیم کے اِس جواب پر میں خاموش ہو گیااور سوچنے لگا،اگر نولکھی کوٹھی اِس بوڑھے کی تھی،پھر تو اِس کے پاس بہت پیسے ہوں گے۔ اِتنی بڑی کوٹھی کم سے کم پر بھی ایک کروڑ سے کم نہ بکی ہو گی۔ مگر یہ اتنی بُری جگہ پر کیوں رہ رہاہے؟

آپ یہاں اِس خراب کوٹھی میں کیو ں رہ رہے ہیں؟ کوئی اچھا سا مکان خرید لیتے۔
مجھے یہی جگہ اچھی لگتی ہے۔

یہ تو کوئی بھوت بنگلہ ہے،مَیں نے نہایت سادگی سے بولنا شروع کیا،آپ کو یہ پُرانی اور ٹوٹی پھوٹی جگہ کیوں اچھی لگتی ہے؟ نہ یہاں بجلی نظر آتی ہے،نہ رہنے کے لیے کسی دوسری سہولت کا نام و نشان ہے۔ یہاں تو رات کو اکیلا بندہ ڈر بھی جاتا ہو گا۔
یہاں میرا دوست ایشلے رہتا تھا،وہ شاعر بھی تھا۔ اگر اُس کا بھوت یہاں ہوتا،تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے مجھے اُس کا بھوت کبھی نظر نہیں آیا۔ اب مَیں یہاں اکیلا ہوں۔

وہ آ پ کا دوست کہاں ہے۔
وہ بیس سال پہلے مر چکا ہے۔ لندن میں۔ مَیں نے اُسے سمجھایا تھا،وہ اُدھر نہ جائے لیکن وہ چلا گیا،اور تین مہینے بعد اُس کے مرنے کی خبر آئی۔ ( کچھ دیر کی خاموشی کے بعد )وہ اِسی گھر میں رہتا تھا۔ (پھر کچھ دیر رک کر) غالباً اُسی بیڈ پر سوتا تھا،جہاں اب مَیں سوتا ہوں۔
بابا جی،آپ کے بیوی بچے نہیں ہیں؟

بوڑھا ولیم،جو آنکھیں مسلسل بند کیے کُرسی پر لیٹنے کی صورت بیٹھا ہوا تھا اور اُس کا ہیٹ جھک اُس کی آنکھوں پر آ گیا تھا،میرے اِس سوال پر اپنی سکون کی حالت سے تھوڑا سا اضطراب میں آیا۔ اُس نے آنکھیں کھولیں،ہیٹ آنکھوں سے ہٹا کر تھوڑا سا پیچھے کیا اور میری طرف دیکھ کر بولا،بچے کیتھی کے تھے،وہ اُنہیں لے کر چلی گئی،اب مَیں نہیں جانتا،وہ کہاں ہیں۔ مجھے لگتا ہے،کیتھی بھی مر چکی ہے لیکن بچوں کو زندہ رہنا چاہیے۔

آپ واپس کیوں نہیں گئے؟
کہاں؟
برطانیہ

اِس قسم کے سوالوں سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ برطانیہ سے میں واقف نہیں ہوں۔ مَیں اِسی علاقے میں پیدا ہوا تھا۔ آپ سے اور آپ کے باپ سے پہلے مَیں اِس جگہ کو جانتا ہوں۔ شاید آپ کا دادا بھی یہاں کا نہیں ہو گا۔ یہ جگہ اُس نے دیکھی بھی نہیں ہو گی۔ جب مَیں اِن سب سے یہاں کا پُرانا رہنے والا ہوں،تو یہاں سے کیوں جاؤں۔

اب مَیں نے اُس سے سوال کرنا بند کر دیا۔ کیوں کہ میری ذہنی استعداد یہیں ختم ہو گئی تھی۔ اتنے میں احمد شہزاد تین کپ چائے لے کر آگیا اور ہم تینوں چائے پینے لگے۔ ولیم نے چائے کا گھونٹ بھر کر مسکراتے ہوئے شہزاد لالے سے کہا،تم نے بہت اچھی چائے بنائی،مَیں تسلیم کرتا ہوں،مجھ سے ایسی چائے نہیں بن سکتی۔

چائے واقعی بہت اچھی تھی۔ چائے پینے کے بعد میری پھر خواہش جاگی کہ کمرں کا جائزہ لوں۔ مَیں نے ولیم سے کہا،بابا جی،میں اِن کمروں کو اندر سے دیکھ سکتا ہوں؟
تمھاری خواہش جائز ہے لیکن مایوسی ہوگی۔
وہ کیوں؟

ایشلے میرا دوست تھا،تمھارا نہیں۔ اُس وقت جب ہم اِن کمروں میں کھیلتے تھے،اُس کی عمر میرے برابر تھی۔ تب ہم آپ سے بہت چھوٹے تھے۔ اِس وقت جتنے آپ ہیں،بہر حال دیکھ لو۔

مَیں اُٹھ کر اندر داخل ہوا تو واقعی مایوس کن حالت تھی۔ سب کمرے بالکل خالی تھے۔ نہ کوئی الماری،نہ فرنیچر،نہ پُرانے وقتوں کی کوئی اور نشانی۔ سوائے ایک چارپائی اور تین چار کرسیوں کے،سب کمروں میں ایک تھکا دینے والا خالی پن تھا۔ سب کا فرش اُکھڑ کر اُن کی اینٹیں تھور اور سیم زدہ ہو رہی تھیں۔ یہ سیم شاید نہروں کے قریب ہونے کی وجہ سے تھی۔ ڈارائنگ روم سمیت اُن کی تعداد پانچ تھی اور ایک باتھ روم،جس میں پانی کے لیے لوہے کا ایک ٹب اور ایک لوٹا بھی موجود تھا۔ مجھے کمروں کی اِس قدر ویرانی دیکھ کر وحشت ہوئی اور مَیں بھاگ کر باہر آگیا۔

بابا جی،آپ کا کوئی سامان نہیں ہے ِ؟ باہر آ کر مَیں بے چینی سے بولا۔
بہت ہے لیکن وہ مَیں نولکھی کوٹھی میں چھوڑ آیا ہوں۔ یہاں خراب ہو جاتا۔
اگر انہوں نے ضائع کر دیا؟

یہاں اُس سے پہلے ضائع ہو جاتا۔ ویسے بھی اب مجھے اُن چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہمیں کافی دیر ہو گئی تھی،شہزاد بھی اُکتا رہا تھا۔ اِس لیے ہم اُٹھ کھڑے ہوئے اور چلنے کی اجازت لی۔ ولیم بھی ہمارے ساتھ کرسی سے اُٹھ پڑا۔ لیکن اب وہ صرف ہمیں رخصت کرنے کے لیے اُٹھا تھا۔

یہ میری ولیم سے پہلی تفصیلی ملاقات تھی۔ اِس کے بعد پھر مَیں جب بھی رینالہ گیا،میرا معمول بن گیا۔ اِدھر اُدھر آوارگی کرتا ہوا ولیم کو ڈھونڈ نکالتا۔ اِس عرصے میں وہ میرا بہت ہی قریبی دوست بن چکا تھا۔ اُس کا وہاں پر ایک اور دوست ایک ڈسپنسر تھا،جو بوڑھے ولیم کی دیکھ بھال کرتا۔ وہ اُس ڈسپنسری میں کام کرتا رہا تھا،جو اُسی دور میں بنائی گئی تھی،جب نہری کوٹھیوں کی آبادی قائم کی گئی تھی۔ ڈسپنسری اصل میں وہاں کے مقیم انگریز فیملیوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ ڈسپنسری کی عمارت بھی انتہائی پُر شکوہ تھی اور ابھی تک اُس کی حالت اچھی تھی۔ اُس میں اب باقاعدہ ڈاکڑ بیٹھتا تھا۔ ڈسپنسر عزیز احمد اِسی ڈسپنسری سے ریٹائرڈ ہوا تھا۔ اب اُس کی عمر بھی پینسٹھ سال سے اُوپر ہو گئی تھی لیکن صحت ابھی تک اچھی تھی۔ ولیم اُس کے ساتھ کافی مانوس تھا۔ یا یہ کہیں کہ ُاس کا سب سے پُرانا جاننے والا تھا اور اُس کی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ عزیز احمد کا گھر کافی کھلا اور بالکل ڈسپنسری کے ساتھ تھا۔ جس کے دائیں ہاتھ وہی آئس کریم کی چھوٹی سی فیکڑی تھی۔ جہاں سے آئس کریم خرید کر کھانا مَیں نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا۔ یہیں سے شاید ولیم اور ڈسپنسر عزیز بھی آئس کریم لے کر کھاتے ہوں۔ لیکن مَیں نے اُنہیں خود نہیں دیکھا۔ ولیم مجھے اکثر اُسی کے پاس ایک لکڑی کی کرسی پر بیٹھا ہوا ملا۔ وہ دونوں آپس میں کافی گفتگو کرتے تھے۔

ساون آیا تو جامن کے پھلوں کا بہت زور ہو گیا۔ چونکہ یہاں جامن کے درخت سیکڑوں کی تعداد میں تھے۔ اِس لیے اُن کا گورنمنٹ کی طرف سے ٹھیکہ ہوتا اور ٹھیکیدار بانسوں والی لمبی لمبی سیڑھیاں درختوں کی شاخوں پر ٹکا کر،ہر وقت پھل توڑنے میں مصروف رہتے۔ اِس طرح یہ ایک مہینہ خوب رونق رہی اور بارشوں نے بھی بڑا اودھم مچایا۔ مَیں بھی جامن کھانے کے لیے ہرروز وہاں جا نکلتا۔ کبھی اکیلا اور کبھی کسی دوست کے ساتھ۔ ولیم سے میری ملاقات بھی روز ہونے لگی۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ وہ روز بہ روز کمزور ہوتا جا رہاہے۔ اِس عرصے میں وہ مجھ سے کافی زیادہ کھل گیا اورمَیں قریب قریب سب کچھ اُس کے بارے میں جان گیا۔ کچھ اُس نے خود بتا یا،کچھ ڈاکڑعزیز احمد نے،باقی مَیں نے اِدھر اُدھر کے ذرائع سے معلوم کر لیا۔ مَیں یہ بھی جان گیا تھا،نولکھی کوٹھی ولیم نے بیچی نہیں،اُس سے چھینی گئی ہے۔ وہ بھی ایک ایسے شخص نے،جس کے خاندان کے بارے میں اب کوئی پردہ نہیں رہ گیا تھا۔ مجھے ولیم سے ہمدردی ہوگئی تھی۔ لیکن اُس کے لیے کچھ بھی کر نہیں سکتا تھا۔ ہاں ایک بار مَیں اور میرے دوست شہزاد لالہ نے اُس کے بھوت بنگلے کو صاف کرکے پتوں کو آگ لگا دی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ دسمبر کے آخری دن تھے۔ اُس دن کُہر یا دُھند تو نہیں تھی لیکن سردی ایسی کڑاکے کی،کہ ہاتھ چادر سے باہر نکالتے ہی برف کی طرح جم جاتے۔ اُس پر اُڑا دینے والی ہوا کے جھونکے تھے،جو نہر کے پانی کی سطح سے ہو کر اور بھی ٹھنڈے ہو جاتے اور منہ پر سرد تھپیڑے لگاتے ہوئے دوسری سمت کے درختوں اور مکانوں سے جا ٹکراتے۔ نہر کا پانی بھی اتنا صاف تھا کہ تہہ میں بیٹھی ہوئی ہر چیز نظر آرہی تھی۔ پانی کی سطح پر ہوا کے دباؤ سے لہریں بن بن کر تیرتی ہوئی نکل جاتیں،جو اِس قدر دلفریب تھیں کہ انسان دیکھتا رہ جائے۔ ایسے میں برگد کے سوا تمام درختوں کے زرد پتے نہر کی پٹڑی اور سڑکوں پر گر گر کے دوڑتے اور شور مچاتے ہوئے کبھی ایک طرف کو اور کبھی دوسری طرف کو سرکتے دور تک چلے جاتے۔ لوگوں نے سویٹر اور جرسیوں کے سا تھ اپنے اُوپر چادریں بھی لپیٹی ہوئی تھیں۔ ٹانگوں کا اڈا نہر کے پُل کے دائیں طرف تھا۔ وہاں ہر وقت تین چار ٹانگے کھڑے ہوتے تھے،جو شہر کی سواریاں ارد گرد کے گاؤں سے لاتے اور لے جاتے۔ ٹانگوں کے اڈے سے لے کر آئس کریم کی فیکڑی تک کہیں نہ کہیں آگ بھی جل رہی تھی اور دو دو چار چار لوگ اُسے بیٹھے سینک رہے تھے۔ خاص کر ٹانگے والے اپنے گھوڑوں کے آگے دانہ ڈال کر اور چادریں اوڑھ کر مسلسل کوئلے تاپ رہے تھے۔ اِس حالت میں کسی کو بھی اِس بات سے غرض نہیں تھی کہ موسم کی دلفریبی سے لطف لیا جائے۔ یہی موسم میرے لیے قیامت کی کشش رکھتا تھا۔ مَیں اِن تمام لوگوں اور کام میں مصروف یا آگ تاپنے والوں کو نظر انداز کر کے سیدھا نہر کے کنارے کنارے جامنوں کے درمیان کی روشوں پر چلتا چلا گیا اور تیزہواکے جھونکوں میں دوڑتے زردپتوں سے لطف اندوز ہوتا جا رہا تھا۔ یہ وقت ایک بجے کا ہو گا۔ کیونکہ نہر کے پہلے پُل کے دائیں کنارے پر موجود سفید رنگ کی چھوٹی مسجد والے موذن نے ابھی ابھی ظہر کی اذان دی تھی۔ میرے جسم پر اُون کی ایک بڑی اور موٹی چادر کے ساتھ نیچے ہاتھ کی بنی ہوئی اُونی سویٹر بھی تھی۔ یہ اُس وقت کا زمانہ ہے،جب ولیم کو نولکھی کوٹھی چھوڑکر نہری کوٹھی میں آباد ہوئے تین سال ہوچکے تھے۔ اُس سے میری متواتر ملاقاتوں کو بھی ایک سال ہو چلا تھا۔ اِس دوران مجھے اُس سے جو کچھ معلوم ہوا،مَیں اُسے اپنی یادداشت میں محفوظ کرتا گیا۔ میرے لیے یہ بات مسلسل گھبراہٹ کا سبب تھی کہ وہ تیزی سے کمزرو ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی اُس کی زندگی دنوں کی بات لگتی تھی لیکن اُس کی آوازمیں ابھی تک وہی جان تھی۔

یہ انیس سو نواسی کی سردیوں کا زمانہ تھا اور ولیم کم وبیش اسی سال کا ہو چکا تھا۔ اُس کو اِس دفعہ کی گرمی نے وہ ضرب لگائی تھی کہ اگست کے آخری دنوں میں اُسے لو لگ گئی،جس نے اُس کا کچومر نکال کے رکھ دیا۔ وہ تو بھلا ہوڈسپینسر عزیز احمد کا،جس نے بروقت علاج کر کے اُسے موت کے منہ سے نکالا۔ لیکن اِس دھچکے نے اُسے نڈھال کر دیا اور وہ حد سے زیادہ کمزور ہو گیا۔ ایک دن مَیں اُس کے اُسی بوسیدہ مکان پر پہنچا،جسے اب مکان کہنا وضع داری ہو سکتی تھی۔ صحن سے ہوتے ہوئے،جو پہلے کی طرح زرد پتوں اور چھوٹی چھوٹی سوکھی ہوئی شاخوں سے بھرا پڑاتھا،کمرے کے سامنے پہنچ گیا تھا۔ صحن کی ویرانی اور ہوا کی تیزی سے مَیں نے اندازہ لگالیا تھا کہ ولیم اندر بستر میں دُبکا پڑا ہو گا۔ مَیں نے ہلکا سا دروازے کو کھٹکھٹایا لیکن اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ دستک دی تو ایک نحیف سی آہ سنائی دی۔ مَیں دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ دیکھا تو ولیم چارپائی پر سیدھا لیٹاہوا ہے۔ اُس کے اُوپر کمبل تھا،لیکن وہ اِتنا گندا اور بدبودار تھا کہ مجھے ہاتھ لگانے سے بھی کراہت ہوئی۔ مَیں نے ایک بار سوچا،ایسے ہی پلٹ جاؤں،لیکن پھر کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد غیر ارادی طور آگے بڑھ کر ہلکا سا کمبل اُوپر اُٹھا دیا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ اِس لیے پہلے مرحلے میں ولیم کا چہرہ دکھائی نہ دیا۔ لیکن آہستہ آہستہ ہر چیز آنکھوں کے لیے مانوس ہونے لگی۔ اِس کمرے میں میری ولیم کے ساتھ اب کئی ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ اِس لیے مجھے معلوم تھا،لال ٹین کہاں ہے اور کچن یعنی چولہا کس جگہ ہے؟مَیں نے اندازے کے مطابق آگے بڑھ کر لالٹین ڈھونڈ نکالی اور اُسے جلانے کے لیے ماچس تلاش کرنے لگا۔ اُسی لمحے ولیم کی آوا ز سنائی دی،کیتلی کے ڈھکن کے اُوپر پڑی ہے۔ مجھے ولیم کی آواز سن کر ایک گونا سکون ہوا کہ ابھی نہ صرف زندہ ہے،بلکہ حواس بھی کام کر رہے ہیں۔ لال ٹین روشن کر کے ولیم کے پاس آیا،وہ بخار سے تپ رہا تھا۔ مَیں نے کچن کی طرف جا کر دیکھا،وہاں کیتلی میں کچھ دودھ اور ڈبل روٹی پڑی تھی۔ اُس کے پاس ہی کچھ دوائیاں بھی موجود تھیں۔ کچھ ہی دیر بعد مَیں دودھ گرم کر کے بریڈ کے ساتھ ولیم کے سامنے لے آیا۔ وہ میری طرف دیکھ کر آہستہ سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ دس پندرہ منٹ بعد مَیں نے اُسے صحن میں آگ جلا کر کرسی پر بٹھا دیا۔ ولیم آگ تاپنے لگا تو میں صحن سے باہر نکل کر سیدھا ڈسپنسر عزیز احمد کی طرف گیا اور اُسے تمام حالت کی خبر کی۔ عزیز احمد نے مجھے ساتھ لے کر دوبارہ ولیم کے پاس جانا چاہا لیکن نہ جانے کیوں میرا وہاں جانے کو جی نہ چاہا۔ میں نے کہا،ڈاکٹر صاحب،مجھے جلدی گھر جانا ہے،آپ جا کر اُسے دیکھ لیں۔ اِس واقعے کے بعد مَیں جان بوجھ کر کئی دن وہاں نہیں گیا۔ اِس کی وجہ مجھے بھی معلوم نہیں۔

آج مَیں پھراِن ٹھنڈی ہواؤں کا لطف لیتے ہوئے غیر ارادی طور پر اُس طرف بڑھ رہاتھا،مگر جیسے ہی اُس کوٹھی پر پہنچا وہاں اور ہی رنگ تھے۔ مسلًیوں کے بچے صحن میں اُچھل کود رہے تھے۔ ذرا غور کیا،تو پتا چلا وہاں کوئی اور ہی خاندان آباد ہے۔ مَیں نے جائزہ لینے کے لیے بھرپور نظر ماری لیکن مجھے ولیم نظر نہ آیا۔ بالآخر اُنہی میں سے ایک آدمی سے پوچھا،

‘یہاں ایک بوڑھا انگریز تھا،وہ کہاں ہے؟’

اُس نے انتہائی لاپروائی سے جواب دیا،کاکااُسے توفوت ہوئے بھی ہفتہ ہوگیا۔ پنج چک کے عیسائی اُسے اُٹھا کر لے گئے ہیں۔ وہیں کے گرجا گھر میں اُس کی قبر ہے۔

اُس کالے اور چیچک زدہ چہرے والے اَدھیڑ عمر آدمی کا جواب سن کر مَیں وہیں سے واپس ہو گیا۔ موسم خوبصورت اور ٹھنڈا تھا۔ میں نے اُس سے مزید بات کر کے لطف کو غارت کرنا مناسب نہ سمجھا اور نہر کے کنارے کنارے ہواؤں کے لمس لیتا ہوا پل پر آگیا۔ کچھ دیر اُنہی ٹانگے والوں کے پاس کھڑا رہا۔ وہاں چند لمحے رُکنے کے بعد واپس دیسی آئس کریم بنانے والی فیکٹری پر آیا۔ ایک آئس کریم لی اور بھری ٹھنڈ میں کھانے لگا۔ حالانکہ سردی کی وجہ سے میری ناک سُرخ ہو گئی تھی اور اُس سے پانی بہنے لگا تھا۔ آئس کریم بہت مزے کی تھی۔ دُور تک مکئی اور سرسوں کے وسیع کھیت آسمان تک پھیلے ہوئے تھے،نہروں کا پانی چل رہا تھا،جامنوں کی شاخیں ہل رہی تھیں،پیپلوں اور برگدوں کے بھاری پیڑمست ہاتھیوں کی طرح جھول رہے تھے اور درختوں سے زرد پتے مسلسل گر رہے تھے،جنہیں ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے سڑکوں پر اِدھر اُدھر دوڑا رہے تھے۔ ہر چیز ویسی ہی خوبصورت تھی،جیسی پہلے تھی۔ کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔

اگرچہ جرمن نے ہماری ہڈیوں سے گودا کھینچ لیا ہے لیکن ہمیں پھر بھی لنگڑانے کی اجازت نہیں۔ سبک روی سے چلنے میں تکلیف تو ہو گی،مگر آنے والے حادثوں کے پیش نظر اسی چال کو برقرار رکھنا ہے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیتیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(۵۵)
دسمبر کا آغاز ہو چکا تھا۔ جاڑے نے دُھند اور کُہر کے پر پھیلا کر ہر شے اپنے حصار میں لے لی۔ خاص کر نہروں کے درمیانی خطے میں یہ کُہر اتنا زیادہ تھا کہ کبھی تمام دن نکل جاتا،مگرسورج کو ایک لمحے کے لیے بھی منہ دکھانے کو راستہ نہ ملتا۔ بس دُھند کے غبار تھے،جو اُتر رہے تھے اور چڑھ رہے تھے اور انسانوں کی آنکھیں گویا سائبیریامیں جا پہنچیں تھیں،جو سفید سایوں کے سوا کچھ نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ ولیم ایسی حالت میں زیادہ سے زیادہ یہ کرتا کہ کمرے سے نکل کر کچھ دیر کے لیے کوٹھی کے صحن میں آجاتا،جو ایک ایکڑ تک پھیلا ہوا تھا۔ کبھی آموں کے باغ کا بھی ایک آدھ چکر لگا لیتا۔ یہ باغ اُسے اِتنی دھند میں نظرتو نہیں آتا لیکن محسوس ضرور ہوتاتھا۔ اِس کے علاوہ اُس کی آمدو رفت ہر جگہ بند ہو چکی تھی۔ آج دُھند تو موجود تھی لیکن اُس میں اتنی شدت نہیں تھی اور یہ پورے پندرہ دن بعد ہوا تھا۔ ولیم نے کمرے سے نکل کردیکھا،سورج سر پر آچکا تھا اور مدھم دھوپ ٹھنڈی گھاس کو ہلکے ہلکے تھپتھپا رہی تھی۔ لیکن گھاس ابھی گیلی تھی۔ ولیم اپنی کرسی صحن میں لگا کر بیٹھ گیا اور اُس اَندھی دھوپ کو غنیمت جان کر سینکنے لگا۔ کچھ عرصے سے اُس کے ہاتھ میں بید کی بجائے عصا آچکا تھا۔ اُس نے وہ عصا ایک طرف بینچ کے ساتھ لگا دیا۔ سر پر اُون کی ٹوپی جو اَب کافی میلی ہو چکی تھی،کے اُوپر چوڑے کناروں کا ہیٹ اچھی طرح سے جما لیا تھا۔ کرسی پر بیٹھ کر ولیم نے،جہاں تک نظر جا سکتی تھی،اِس دُھندلائے ہوئے منظر کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اُس کی نظر پہلے سے کہیں زیادہ کمزور تھی اور عینک کے شیشے بھی اِتنے پرانے ہوگئے تھے کہ اُن کو صاف کرکر کے گھسا دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے واضح اور صاف دکھائی نہ دیتا تھا۔ پھر بھی اُسے بہت ساری چیزیں ویسی ہی نظر آ رہی تھی،جیسی اُس کے بچپن میں تھیں۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا،وہی آموں کے باغ،وہی کوٹھی،وہی نہریں اور وہی دور تک آلو،مکئی اور کماد کے کھیتوں کا سلسلہ تھا۔ کوٹھی کے صحن کے ایک کنارے پر کھڑا پیپل کا درخت بھی ویسا ہی تروتازہ تھا،آلووں کی فصلیں اور بیلیں سخت دُھند سے بہت حد تک سڑ گئی تھیں۔ مگر یہ واقعہ بھی ہر سال اُسی طرح سے ہوتا تھا۔ اگر پورے منظر میں کوئی شے بدلی تھی تو وہ خود ولیم تھا۔ وہ مسلسل اورمزید تیزی سے بدل رہا تھا۔ نہ صرف یہ کہ بدل رہا تھا،بلکہ جیسے جیسے وقت آگے بڑھ رہا تھا،وہ اپنی ذات سے بے نیاز بھی ہوتا جارہا۔ حتیٰ کہ مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت اور قصہ خوانی کی محفلیں بھی ایک عرصہ ہواچھوڑ دیں تھیں۔ اِس حالت میں تمام نوکر بھی ایک ایک کر کے رخصت ہوچکے تھے۔ شاید اُنہوں نے اندازہ لگا لیا تھا،ولیم کی نقد پونجی اب اِس قابل نہیں رہ گئی کہ اُس پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ کیونکہ ذرائع آمدن تو کبھی کے ختم ہو چکے تھے۔ جب ذرائع نہ رہیں،تو دولت کے کنویں بھی ساتھ نہیں دیتے۔ یہی وجہ تھی،اُس کوٹھی کے صحن میں بڑی بڑی گھاس اور کمروں میں چیزیں گردسے اٹی جا رہی تھیں،جن کو صاف کرنے والا شاید اب کبھی نہیں آنا تھا۔ اِن چیزوں کے علاوہ ولیم نے بولنا اور بات کرنا بھی کم کردیا۔ پچھلے چھ مہینے سے مسلسل خاموشی نے اُسے اپنی ذات میں اِتنا داخل کر دیا کہ سب کی پروا کرنا چھوڑ دی۔ حتیٰ کہ اپنے جسم کی خارجی ہیئت کو بھی نظر انداز کر دیا۔ کئی کئی دن کپڑے نہ بدلتا۔ کئی کپڑے تو اب پانچ پانچ سال پُرانے ہو گئے تھے۔ یہ پرانے کپڑے پہلے دھوبی کے ہاں سے باقاعدہ دُھل کے آتے تھے مگر اب یہ تکلف بھی جاتا رہا تھا اور وہی میلے کچیلے کپڑے پہن کر ادھر اُدھر پھرتا رہتا۔ کبھی تو سارا سارا دن باہر ہی گزار دیتا اور آدھی رات کے وقت جاکر کوٹھی میں داخل ہوتا۔

اوکاڑہ شہر میں،رینالہ شہر اور اسی طرح دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پھرتا رہتا۔ ولیم کی اِس آوارہ گردی سے اِن علاقوں کا قریب قریب ہر شخص جان گیا تھا کہ یہ کون ہے۔ اِسی آوارگی میں ولیم کے کئی دوست بھی بن چکے تھے،جو اُسے چائے پلا دیتے،اگر رات رہنے کی کہیں ضرورت ہوتی،تو وہ چارپائی اور کھانے کا بندوبست بھی کر دیتے۔ اگر دور نکل جاتا تو وہ کئی دن کوٹھی پر واپس نہ آتا۔ مگر یہ باتیں گرمیوں کی تھیں۔ سردیوں میں عمر کے اِس حصے میں وہ یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے پچھلے ایک مہینے سے کلیانہ اسٹیٹ اور شہر سے باہر نہ نکلا کیونکہ بڑھاپا،نزلے،بخار اور دوسری چھوٹی موٹی بیماریوں کے ذریعے اپنے اثرات بھی دکھانے لگا تھا۔ پچھلی سردیوں کی بات ہے نمونیے سے مرتے مرتے بچا تھا۔ ناشتا اور کھانااکثر اوقات ولیم کے ایک پُرانے نوکر کے ہاں سے پک کر آجاتا،جو اَب اُس کا نو کر تو نہ رہا تھا لیکن مروت کا پُرانا رشتہ ابھی بھی قائم تھا اورولیم کی کوٹھی کے پچھواڑے ہی میں رہتا تھا۔ اُس نے کر کرا کے اپنی تین ایکڑ زمین بنا لی تھی اور کچھ زمین برگیڈئر صاحب کے منشی سے راہکی پر لے کر کاشت کرتا تھا۔ وہ اُس میں سبزیاں وغیرہ اُگاتا،پھر اُنہیں شہرمیں بیچ کر گھر کا گزارہ چلا رہاتھا۔

ولیم کُرسی پر کافی دیر اُسی طرح بیٹھا،اِس نکمی دھوپ میں اپنے آپ کو ٹھٹھراتا رہا کیونکہ مسلسل کمروں میں بند رہنے سے اُسے آج گھبراہٹ ہو گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر دو چار قدم تک چہل قدمی بھی کرلیتا۔ ولیم کو اس حالت میں دو گھنٹے ہوگئے۔ حتیٰ کہ سورج پھر دُھند کی دبیز تہوں میں دب گیا اور اندھیر سا چھا گیا۔ اب ولیم اُٹھ کر کوٹھی کے پچھواڑے فارم کی طرف چلا گیا،جو کبھی اُس کا اپنا تھا۔ اب اُس کا مالک ایک ریٹائرڈ برگیڈیئر تھا،جو خود تو وہاں نہ رہتا تھا۔ لیکن اُس کے مزارعوں کے گھر موجود تھے۔ اُن کے ولیم کے ساتھ اچھے مراسم بھی تھے،جن میں اُس کا وہی پُرانا ملازم بھی تھا۔ ولیم کو دیکھ کر ایک لڑکا بھاگ کر آگے بڑھا اور لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ جلانے لگا۔ دوسرے آدمی نے ایک چار پائی اُٹھا کر اُس آگ کے پاس رکھ دی۔ جب آگ کا الاؤ روشن ہو گیا تو ولیم چارپائی پر بیٹھ گیا اور جلتی ہوئی آگ سے ہاتھ تاپنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہی آدمی چائے اور روٹی اور روکھا سوکھا سالن،جو آلوؤں کی بُھجیاپر مشتمل تھا،لے کر آ گیا۔ ولیم نے عین پنجابیوں کی طرح چارپائی پر چوکڑی مار کر کھانا شروع کر دیا۔ اِس طرح کھانا کھلانے یا چائے پلانے میں اب مقامی لوگوں کے اندر لالچ کا کوئی مادہ نہیں تھا اور نہ کوئی احسان کا جذبہ کار فرما تھا۔ بلکہ یہ ایسی خدمت تھی،جس کا معاوضہ صرف شکریے پر ختم ہوجاتا،جو ولیم نے کبھی زبانی نہیں کیا تھا۔ شاید دل میں اُس کی گواہی موجود ہو۔ بعض اوقات ولیم کے لیے کئی گھروں سے اکٹھا چائے اور کھانا آجاتا،جسے وہ کبھی واپس نہ کرتا اور اُس وقت کے لیے ذخیرہ کر رکھتا جب کہیں سے نہ آتا۔ کیونکہ اِس طر ح کے مواقع اکثر پیش آ جاتے تھے۔ جب ہفتہ ہفتہ کسی کے گھر سے کچھ نہ آتا۔ کھانا کھا کر اور چائے پی کر ولیم بہت دیر تک وہیں بیٹھا آگ تاپتا رہا۔ اُسے یہ آگ اِتنا سکون دے رہی تھی،جیسے ولیم کی زندگی کی آخری اور پہلی خواہش یہی تھی،جو پوری ہو گئی تھی۔ پاس تین چار آدمی اور بھی بیٹھے آگ جلاتے رہے اور تاپتے رہے۔ اِس دوران وہ بہت سی باتیں فصلوں کے متعلق،اپنے کام کے متعلق،اپنی رشتہ داریوں کے متعلق،کچھ جگ بیتی غرض بہت کچھ کہتے رہے،جنہیں ولیم سنتا تو رہا لیکن بولا ایک لفظ بھی نہیں۔ ولیم کو اِن بے معنی اورمعصوم باتوں کے سننے کی عادت سی ہو گئی تھی،جن کا نہ اُسے کچھ فائدہ تھا اور نہ نقصان۔ ہاں اِن باتوں کے ذریعے سے اُن لوگوں کے گھریلو جھگڑے،شادی،غمی اور معاشی حالات سے بخوبی واقف ہوگیا تھا۔ ولیم کو اِسی حالت میں رات کے دس بج گئے اور وہ اُٹھ کر کوٹھی میں چلا گیا۔

اگلے دن ولیم ابھی اپنے بستر میں ہی تھا کہ باہر سے کچھ شور شرابے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ آوازیں بالکل قریب کوٹھی کے صحن سے آتی محسوس ہو رہی تھیں۔ ولیم حیران تھا کہ یہ کیا ہے؟رات جب وہ بستر پر گیا تھا،تو کوٹھی کے صحن کے سب دروازوں کو اُس نے اپنے ہاتھوں سے تالے لگائے تھے۔ پھر صبح سویرے صحن میں یہ کیا ہڑبونگ مچ رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے اپنی چھڑی پکڑی،سر پر اُونی ٹوپی جمائی اور بغیر چادر اوڑھے صحن میں آ گیا۔ دیکھا تو کئی آدمی ایک ٹریکڑٹرالی سے نیچے اُتر کر صحن میں گھوم رہے تھے۔ ارد گرد سے کوٹھی کا جائزہ لے رہے تھے اور شور شرابہ کر رہے تھے۔ پولیس کی ایک گاڑی میں چھ سات سپاہی بھی آئے تھے۔ ان کے علاوہ ایک دو کاریں تھیں لیکن اب تمام لوگ گاڑیوں سے باہر نکل کر صحن میں آگئے تھے۔ ولیم نزدیک پہنچا تو ایک شخص آہستہ رفتار سے آگے ہو کر اُس کی طرف بڑھا اور ایک فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،ولیم صاحب،میں یہاں کا علاقہ مجسٹریٹ ہوں،آپ اِن کاغذات پر دستخط کر دیں کہ یہ کوٹھی آپ ابھی خالی کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ پنجاب نے یہ کوٹھی جناب سید شمس الحق گیلانی کے نام الاٹ کر دی ہے۔ آپ اپنا جو کچھ سامان اُٹھا کر لے جانا چاہتے ہیں،اُس کی اجازت ہے۔

اُس شخص کے یہ الفاظ سن کر ولیم کے اوسان گویا بالکل جاتے رہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ جیسے کسی نے سر پر ایک زور دار ضرب لگائی ہو۔ اگرچہ اِن پہلے جملوں کے بعد بھی اُس نے ولیم کو دوچار باتیں کیں لیکن وہ اُس نے بالکل نہیں سنیں،بس مجسٹریٹ کے ہونٹ ہلتے دکھائی دے رہے تھے۔ ولیم پر یہ سکتہ کچھ ہی لمحوں تک جاری رہا۔ وہ فوراً اُس کیفیت میں داخل ہو گیا،جہاں ہر چیز نہ چاہتے ہوئے بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔

ولیم کے اوسان جب پہلے جھٹکے سے بحال ہوئے تواُس نے مجسٹریٹ کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے سوال کیا،کیا ایسا ہو سکتا ہے مجھے کچھ دِنوں کی مہلت دے دی جائے۔؟

سوری ولیم،وہ دوبارہ بولا،میری معلومات کے مطابق آپ کو تین بار اِس کے متعلق اطلاع دی جا چکی ہے۔ اِس لیے اب وقت نہیں۔
ولیم بخوبی سمجھ رہا تھا،یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اُسے اس معاملے میں مکمل بے خبر رکھا گیا تھا۔ اگر اس وقت مجسٹریٹ تین مرتبہ کے نوٹس کی بات کر رہا تھا تو کاغذات میں یہ خانہ پُری ضرور کر لی گئی ہو گی۔ اِس لیے اب اُس سے مزید تکرا ر بھی فضول تھی۔ اِدھر سردی اور کُہر کے ساتھ ہوا بھی چلنے لگی تھی۔ جس کی وجہ سے ولیم کا اِس حالت میں گرم چادر کے بغیر کھڑے رہنا خود کشی کے مترادف تھا۔ اُس نے جلدی سے ایک اور سوال کیا،میرا بہت سا سامان اِس وقت یہاں موجود ہے،جسے میں ابھی اُٹھانے سے قاصر ہوں۔ آپ اگر آج کا دن رُک جائیں یا فی الحال میرا سامان ان سردیوں تک یہیں پڑا رہنے دیں یا مجھے ایک بار شمس الحق سے ملاقات کر لینے دیں،پھر آپ جو کارروائی چاہیں، کریں۔

سردی کی شدت،ولیم کا بڑھاپا اور سب سے بڑھ کر بُرد باری سے پیش کی گئی زبانی درخواست نے مجسٹریٹ کو انتہائی متاثر کیا۔ اُسے توقع تھی،ولیم اِس حکم کو سنتے ہی آپے سے باہر ہو جائے گا۔ چیخ وپکار کے ساتھ واویلا شروع کر دے گا اور دیواروں سے لپٹ جائے گا۔ اُنہیں گالیاں دے گا۔ پنجاب حکومت،بیوروکرسی،سیاست دان اور پاکستانی عوام کو بُرا بھلا کہے گا۔ جس کی وجہ سے وہاں دیر تک بدمزگی پیدا ہو گی۔ نتیجے میں اُسے زبردستی اُٹھا کر باہر پھینکنا پڑے گا۔ لیکن جب یہ سب کچھ نہ ہوا تو مجسٹریٹ نے سب لوگوں کو حکم دیا،وہ کچھ دیر کے لیے باہر چلے جائیں۔ سب نکل کر سڑک پر کھڑے ہو گئے تو مجسٹریٹ ولیم کو کاندھے سے پکڑکر کوٹھی کے دالان کی طرف لے گیا۔ وہاں انتہائی بوسیدہ کرسیوں میں سے ایک پر ولیم کو بیٹھنے کے لیے کہا اور دوسری پر خود بیٹھ گیا۔ پھر کچھ لمحے خموشی سے گزر گئے۔ اِس کے بعد مجسٹریٹ بولا،ولیم صاحب ایک بات طے ہے،اب کوٹھی آپ کو چھوڑنا پڑے گی۔ اِس بارے میں دو رائے نہیں رہیں۔ رہا آپ کو وقت دینے کا معاملہ،وہ مَیں اپنی طرف سے آپ کی شرافت کی وجہ سے دودن کا دے سکتا ہوں۔ اُس کے بعد مَیں بے بس ہوں۔ میرا مشورہ یہ ہے،اپنے سامان کو اُٹھا کر کسی دوسری جگہ ٹھکانے لگانے کی کوشش کریں۔ کوٹھی نہ آپ سے اب بچ سکے گی،نہ آپ اِس میں وقت ضائع کریں۔ ابھی آپ ٹھنڈے دل سے اپنے گرم بستر میں جائیں،کچھ دیر لیٹ کر یہ سوچیں،آپ کو کہاں منتقل ہونا ہے اور سامان کہاں رکھنا ہے؟ مَیں جا رہا ہوں اور جمعہ کے روز بارہ بجے آؤں گا۔ اِتنا کہا کر مجسٹریٹ اُٹھ کھڑا ہوا اور جیسے ہی چلا،ولیم کی آواز سنائی دی،مسٹر سنیے۔
جی،مجسٹریٹ نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا۔

آپ دیکھ رہے ہیں،مَیں اتنا بوڑھا ہو گیا ہوں کہ اِس لکڑی کے بغیر چلنے میں میرے گھٹنے درد کر تے ہیں۔ کاندھے پر چادر پھیلانے کے لیے ہاتھ اُٹھاؤں تو بازؤوں کے سِرے کانپ اُٹھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مَیں اس ملک میں اِتنا اجنبی ہوں کہ میری پُرسش کو اِس وقت ایک چیونٹی تک نہیں آئے گی۔ پھر آپ یہ پولیس کس لیے لائے تھے؟

مجسٹریٹ ولیم کے اِس چبھتے ہوئے سوال پر لرز کے رہ گیا۔ بڈھے نے کتنی کڑواہٹ کے ساتھ اُس کی توہین کی تھی۔ اُ س کی سمجھ میں نہ آیا،وہ اس سوال کا کیا جواب دے۔ وہ تھوڑا سا آگے بڑھا اور ولیم کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا،ولیم آپ بہت معقول آدمی ہو۔ سول سروس میں رہے ہو۔ اگر میں آپ کے اس سوال کا جواب نہ بھی دوں تو مجھے معاف کرنا۔ یہ کہہ مجسٹریٹ جلدی سے باہر نکل گیا۔ اُس کے بعد تمام گاڑیاں اور لوگ رخصت ہونے لگے۔ سب کے بعد ٹریکٹر سٹارٹ ہوا،جس کی آواز نے دور تک ولیم کا پیچھا کیا۔ آج پہلی بار اُس نے محسوس کیا،کٹریکٹر کی آواز انتہائی کرخت اور شور پیدا کرنے والی ہے۔ وہ حیران تھا،اِس سے پہلے اُسے اس مشینری کی آواز اتنی بیہودہ کیوں نہیں لگی؟

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بتیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(54)

اوکاڑہ تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کے آتے ہی کمپلیکس میں تبدیلیاں رونما ہو نے لگیں۔ یہ شہر منٹگمری کی سب سے بڑی تحصیل تھی،جو ایک طرف ہیڈ سلیمان کی تک پھیلی تھی،تودوسری طرف اِس کا رقبہ قادر آباد تک تھا۔ جبکہ شمال میں دریائے راوی تک چلی جاتی تھی۔ جتنا زیادہ اِس کا رقبہ تھا،اُسی قدر آبادی اور زرعی لحاظ سے پنجاب کی تمام تحصیلوں کی نسبت خو شحال بھی تھا۔ ہر طرف بہتی نہریں اور چلتے پانیوں میں لہلہاتی فصلیں بہار آباد کا منظر پیش کرتی تھیں۔ شہر کی حالت بھی اس کے مضافات کی طرح اپنی مثال آپ تھی۔ پورا شہر ایک منصوبہ بندی کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ ایسا نہیں کہ جس نے جہاں چاہا اپنا جھونپڑا کھڑا کر لیا بلکہ بڑی اور کھلی سڑکیں بچھا کر اُن کے درمیان ترتیب کے ساتھ بلاک بنائے گئے تھے۔ شہر کے درمیان ایک بڑا گول چوک تھا۔ جس کے چاروں طرف پیپلوں کے درخت لگا کر سائے کا انتظام کیا گیا۔ اِسی طرح پورے شہر میں بھی سڑکوں کے دونوں جانب ہزاروں درخت،پیپل،برگد،نیم،شیشم اور جامنوں کے لگائے تھے۔ اِن کے علاوہ کمپنی باغ،پہلوانوں کا باغ،سائیں گھوڑے شاہ کا تکیہ،اور تلج ہائی سکول کے باغات بھی اپنی مثال آپ تھے۔ اِن باغات اور پارکوں کے علاوہ شہر کے درمیان،شمال اور مضافات میں بہنے والی نہریں اور نہروں کے کناروں پر بے شمار درختوں نے اِس کے حسن کو مزید دوچند کر دیا تھا۔ شہر کی سڑکوں پر اِتنا سایہ تھا کہ اُن میں سے ایک سڑک کا نام ہی ٹھنڈی سڑک رکھ دیا گیا۔ اِسی طرح تحصیل کمپلیکس بھی درختوں کی چھاؤں میں ایسے ڈھانپاجا چکا تھا کہ دھوپ کا نام و نشان نہیں تھا۔ بلکہ لوگوں کو سردی میں بہت تنگی ہوتی تھی۔ سردیوں کے دنوں میں آنے والے سائلین کو دھوپ میں بیٹھنے کو جگہ نہ ملتی۔ اگرچہ اِس شہر کی بہت سی چیزیں پاکستان بننے کے بعد برباد ہو چکی تھیں اور شہر کی آب و تاب ویسی نہ رہی تھی،جیسی برٹش دور میں تھی۔ پھر بھی ہاتھی لٹے گا بھی تو کہاں تک۔ کالج،کئی سکول،ہاسپیٹلز،ڈاکخانے،تار گھر،بلدیہ کمیٹی،پریس کلب،ہوٹلز اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری بہت سے دفتر اب بھی انگریزی دور کی طرح فعال تھے۔ البتہ نہروں،سڑکوں اور پارکوں کے بہت سے درخت کٹ چکے تھے۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر اب بھی موجود تھے۔ شہر کی اِنہی خوبیوں کی بنا پر کئی افسروں کی بڑی حد تک خواہش رہتی کہ اُس کا تبادلہ اِس شہر میں ہو جائے اور اب یہ قرعہ مسٹر نواز الحق کے نام نکل آیا تھا۔
نواز الحق صاحب پینتیس سال کا ایک نوجوان،پتلے خدو خال کا اسسٹنٹ کمشنر تھا،جو اول اول نائب تحصیل دار بھرتی ہوا لیکن بہت جلد تحصیل دار،پھر وہاں سے اسسٹنٹ کمشنر بن گیا۔ جس کی شاید خود تو خواہش اوکاڑہ میں تعیناتی کی نہیں تھی لیکن یہ اُن افسروں میں تھا،جنہیں جہاں بھیج دیا جائے،وہ اپنی نوکری کو بلند زینوں تک لے جانے کے لیے وقت کو سمیٹ لیتے ہیں۔ ملک کے ننانوے فی صد افسروں کی یہی کیفیت تھی۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں ہوتی،کہاں جا کر کیا کام کرنا ضروری ہیں؟یا فلاں علاقے میں کون سے کام ترجیحاتی بنیادوں پر کرنے چاہییں؟ یا کام کرنا بھی چاہیے کہ نہیں؟ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ یہاں کون سے ذرائع ہو سکتے ہیں،جن کو استعمال کرنے سے اُس کی اپنی ترقی ہو۔ نوازالحق صاحب ویسے بھی اب ان کاموں کے سلسلے میں ایک مکمل افسر تھے۔ یہی نہیں،چلنے اور بیٹھنے اُٹھنے میں طمطراق افسروں کا ہی تھا بلکہ اُن سے بھی قدم بھر آگے تھے۔ مشکل ہی سے کسی کے ساتھ سلام کو ہاتھ آگے بڑھاتے۔

جو لوگ پہلے ہی با خبر تھے کہ مسٹر نواز الحق تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے آ رہے ہیں،وہ اُسی دن سے مٹھائی کے ڈبے اور مختلف تحائف کے ساتھ اُن کے گھر پہنچ گئے تھے۔ اُن کا مقصد صرف تحائف دینا یا اپنی اے سی آر بہترلکھوانا ہی نہیں تھا،بلکہ اُنہوں نے صاحب پر یہ بات پوری طرح واضح کر دی تھی کہ اُنہیں صرف اور صرف صاحب کی عزت اور ترقی عزیز ہے،جس کے لیے وہ خود اپنا مستقبل قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اِس مختصر سی ملاقات میں فرداً فرداًصاحب کو اِس بات سے آگاہ کرنا بھی نہیں بھولے تھے کہ فلاں شخص بڑامغرورہے،آپ کو سلام بھی نہیں کرنے آئے گا،فلاں چغل خور ہے،اُسے کبھی اپنے راز نہ بتایے گا۔ کیونکہ وہ بڑے افسروں کا مخبر ہے۔ فلاں شخص کو تو نزدیک بھی نہ آنے دیجیے،وہ بالکل بھی بھروسے کے قابل نہیں۔ آپ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر سکتا ہے۔ اُس کو منہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بلکہ ہو سکے،تو آپ اُسے دور دراز کے قصبے میں پھینک دیں۔ کام کرنے کے لیے ہم آپ کے پاس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو اِس بات سے بھی باخبر کرنا ضروری سمجھا کہ فلاں فلاں جگہ کی الاٹمنٹ ابھی ہونا باقی ہے۔ آپ وہ اپنے رشتہ داروں،دوستوں اور سسرال والوں کے لیے آسانی سے الاٹ کروا سکتے ہیں۔ اور جو زمین نہر کے ساتھ چک تمبو یا کلیانہ اسٹیٹ میں پڑی ہے،اُسے آپ کو اپنے نام کروانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ تحصیل کے مالک ہیں،اِس لیے ویسے بھی یہ آپ کا اپنا حق بنتا ہے۔

اب وہ اپنی کرسی پر بیٹھے تو نئی تقرریوں اور تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیااور نواز الحق صاحب نے واقعی اُن تمام خیرخواہوں کے تحائف اور وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے اُن کواپنے ارد گرد اکٹھا کر کے ایک حصار قائم کر لیا۔ اُن میں سب سے پیش پیش مولوی حبیب اللہ صاحب تھے،جو اُن کے بقول نواز الحق صاحب کے خاندان کے پرانے معتقد تھے۔ اُنہوں نے صاحب کو یہ تک بتا دیا تھا کہ نواز صاحب کے دادا مولانا کرامت علی خان سے اُن کے باپ اور نواز صاحب کے باپ محکمہ مال کے کارمدار مولانا جناب فضل دین خاں سے خود اُن کے قریبی مراسم رہے ہیں۔ بلکہ وہ اُن کے ہاتھ پر بیعت بھی رہا ہے۔ اِس طرح اُس کے خاندان کی پشتوں سے اُن کے اوپر نوازشات رہی ہیں اور یہ کہ حبیب اللہ کا خاندان ہمیشہ سے نواز صاحب کے خاندان کا نمک خوار رہا ہے اور اُن کی صاحب بہادری کا اول دن سے ہی گواہ اور قصیدہ خواں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے سب سے پہلے مولوی حبیب اللہ کو اپنا پی اے بنا کر،خاص اُنہی لوگوں کی لسٹ تیار کروائی،جنہوں نے اُسے تقرری کی خبر سنتے ہی پل پل کی خبریں دیں اور بُرے بھلے سے خبردار کیا۔ یہ تما م لوگ ویسے بھی اپنے کام میں ماہر،پڑھے لکھے اور تجربہ کار تھے اور تحصیل کے کام کو چلانے میں اُس کے لیے مفید ثابت ہو سکتے تھے۔ تمام لوگوں کو اُن کی خواہش کے مطابق متعلقہ جگہوں پر تعنیات کرنے کے بعد مولوی حبیب اللہ کو سب کام سونپ دیے۔ یہ انتخاب اُن کی ذہانت کی سراسر دلیل تھا۔ مولوی حبیب اللہ ایک تو باریش اور صوم وصلوات کے پابند تھے۔ حج بھی تین تین کیے تھے اور شریعت کی حدود قیود میں رہتے ہوئے ہر کام انجام دینے کے ماہر بھی تھے۔ مجال ہے،اُن کی فائل پر کوئی اعتراض کرے یا انگلی رکھے۔ ہر چند ہر ایک بکواس کرتا تھا کہ مولوی صاحب پرلے درجے کے بے ایمان اور چاپلوس شخص ہیں۔ لیکن نواز صاحب کو اُن میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی تھی۔ بلکہ وہ اِن کاموں سے ہٹ کر نواز صاحب کے خاندان کی دیرینہ شان و شوکت کا بھی گواہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سب اُس کے کام اور تجربے سے حسد کرتے تھے۔ اور یہ بات اُسی وقت مولوی حبیب اللہ نے نواز صاحب کو بتا دی تھی۔ اگر اُن میں ایسی ویسی کوئی با ت ہوتی تو پہلے آنے والے اسسٹنٹ کمشنروں میں کوئی تو اُس کے خلاف لکھتا۔ اِس کے بر عکس ہر ایک نے اُس کی اے سی آر کو مثالی قرار دیاتھا اور وہ ایک تیسرے درجے کے کلرک سے اتنی جلدی پندھرویں سکیل میں آ گیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ ان مولوی صاحب کے ہوتے ہوئے نواز صاحب کے پروٹوکول میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا۔ یہ نہیں کہ ہر ایرا غیرا منہ اُٹھائے اُن کے کمرے میں جب چاہے،گھسا چلا آئے۔ حبیب اللہ نے عوام تو ایک طرف،تمام تحصیل افسروں کو بھی اس بات کا پابند بنا دیا تھا کہ وہ جب تک کمشنر صاحب سے ایک یا دودن پہلے وقت نہ لیں،اُس وقت تک ملاقات نہیں ہو سکتی۔ رہا سائل،تو اُس کو صاحب سے ملنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اُسے جو کام ہے،اُس کے لیے وہ اپنے متعلقہ افسر سے رجوع کر ے۔ اسسٹنٹ کمشنر اسسٹنت کمشنر ہو تا ہے۔ وہ کوئی پٹواری تھوڑا ہوتا ہے،جو وارابندیوں کا رجسٹر کھول کے بیٹھ جائے۔ اِن معاملات سے یہ ہوا کہ ایک تو نواز صاحب سے کام کا بوجھ کم ہو گیا۔ دوسرا اُسے اپنے نجی کام اور سیرو شکار کا وقت بھی مل گیا اور دفتر قریب قریب مولوی حبیب اللہ نے سنبھال لیا۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ کام اپنی مرضی سے انجام دینے لگا تھا۔ فائلوں پر دستخط لیتے وقت صاحب کو ہر فائل کے متعلق پور ی بریفنگ دیتا کہ کوئی بات صاحب سے پوشیدہ نہ رہے۔ اِس طرح چار پانچ مہینے میں ہر کام اپنے آپ ہی سیدھا ہو گیا اور کسی کو شکایت کی گنجائش نہ مل سکی۔ یہ اُس کی انتظامی صلاحیتوں کی دلیل تھی۔ اِس کے علاوہ اوکاڑہ تحصیل کے تمام بڑے زمین داروں اور قوم قبیلے کے معتبروں،جو سیاست میں بھی مقام رکھتے تھے،اُن سب سے مولوی حبیب اللہ نے صاحب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ لوگ تھے،جو کسی بھی افسر کی مزید ترقی میں با وقار سیڑھی کا کام دے سکتے تھے۔ مولوی صاحب نے اِن تمام زمینداروں سے اُن کی حیثیت کے مطابق صاحب کی دوستی کروا دی تھی۔ بعض زمینداروں کو نا جائز طور پر بہت کچھ دینا پڑا لیکن یہ ایسا سودا تھا،جس میں گھاٹا کچھ نہیں تھا۔ کیونکہ خرچ تو عوام کا ہوتا ہے اور فائدہ افسر اور سیاستدان کا۔ اِس لیے نواز صاحب نے جو کچھ بھی اُن کو دیا تھا،وہ احسان کے ساتھ ساتھ نقصان کے بغیر تھا۔

اوکاڑہ تحصیل کمپلیکس لائلپور روڈ پر واقع تھا،جس کے ارد گرد سرکاری افسروں کے مکانات،کلرکوں کے کوارٹر اور ججوں کی چھوٹے لان والی کوٹھیاں تھیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کی کوٹھی بھی کافی اچھی تھی لیکن ججز کی کوٹھیاں اُن سے بہر حال بہتر تھیں۔ یہ تمام عمارتیں انگریزی دور کی اور نہایت آرام دہ تھیں۔ جن کے ارد گرد برگد،پیپل،شیشم اور دوسری قسم کے بے شمار درخت اِس طرح سایہ کیے رہتے کہ گرمی کے دنوں میں دھوپ کی ایک رمق بھی اُن پر نہیں پڑتی تھی۔ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے عین سامنے ستلج ہائی سکول اور اُس کے ساتھ ہی ایک وسیع و عریض تھان کے سلسلے سے بندھا ہوا اصطبل تھا،جو انگریزی دور کی طرح آباد تو نہ تھا،لیکن ابھی بھی اُس میں کئی عمدہ نسل کے گھوڑے اور خچر موجود تھے،جو افسروں کے بھی کام آتے۔ یہ اِس لیے بھی خالی ہو چلا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز،جو گھوڑوں کے شوقین ہوتے،وہ اصطبل کے عملے سے مل ملا کر کسی اچھے سے گھوڑے کو ناکارہ لکھوا کر سستے داموں مول لے لیتے۔ اِسی طرح گوگیرہ میں موجوداوکاڑہ مویشی فارم میں عمدہ قسم کی گائیں اور بھینسیں بھی انتہائی سستی ہتھیا نے لگے تھے،جو انگریزی دور میں انگریز ڈپٹی کمشنر بھی آسانی سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ نہروں پر جگہ جگہ ڈاک بنگلوں کو ناکارہ سمجھ کر موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ شائد اُن کی ضلعی یا تحصیل انتظامیہ کو ضرورت نہیں تھی،کیونکہ نہری افسروں کو شہروں سے باہر نکل کر رہنا گوارا نہیں تھا۔ اسسٹنٹ کمشنرصاحب کی کوٹھی بھی ٹھنڈی سڑک پر آفیسر کالونی میں سب سے نمایاں تھیَ جہاں اب زیادہ تر بڑے زمینداروں کا آنا جاناتھا۔ اُنہی کے ساتھ وہ اکثر سیر کو نکل جاتے۔ اِن سیاستدانوں میں نواز صاحب کے ایک دوست شمس الحق گیلانی تھے۔ یہ شاہ صاحب حجرہ شاہ مقیم کے ایک رئیس خاندان کے فرد تھے۔ یہ وہ خاندان تھا،جس کا ملک کی سیاست میں بڑا اہم کردارتھا اور علاقے میں اُن کی طاقت کا لوہا سب مانتے تھے۔ بڑی زمینداری کے علاوہ اِن کے لاکھوں مرید پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے،جو پیر صاحب کے ایک اشا رے پر کٹ مرنے کو تیار رہتے۔ نواز صاحب اِن کی بہت عزت کرتے تھے اور اُنہوں نے ہدایت کی تھی کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں،شمس صاحب کا کوئی بھی پیغام آئے تو اُنہیں ضرور خبردار کیا جائے۔ ویسے بھی اِن نزاکتوں کو مولوی حبیب اللہ خوب سمجھتا تھا۔ بلکہ اِن چیزوں کے بارے میں اُسے نواز صاحب سے بھی زیادہ درک تھا۔

آج نواز صاحب اپنے دفتر میں آ کر بیٹھے ہی تھے کہ حبیب اللہ نے اطلاع دی،شمس صاحب تشریف لائے ہیں۔ نواز صاحب نے اُنہیں فوراً اندر بلا یااور دفتر سے منسلک ملاقات کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر کی گپ شپ کے بعد شمس الحق گیلانی نے اپنے مطلب کی طرف آتے ہوئے بات کا آغاز کیا،نواز صاحب آپ ہمارے لیے ایک کام کر دیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔

شاہ صاحب اگر مَیں آپ کے کسی کام آنے کا ہوا تو یہ میری خوش نصیبی کی بات ہے۔ آپ ہی تو ہماری دنیا اور آخرت ہیں۔ کام بتا یے؟

شمس صاحب نے اپنا سگریٹ ایش ٹرے کے کونے میں پھنسایا اور دیوار پر لگی سامنے قائد اعظم کی تصویر پر نظریں جماتے ہوئے بولے،نواز صاحب،پاکستان میں حکومت یا تو فوج کی ہے یا سرکاری افسروں کی۔ اِس لیے کام تو آپ کر سکتے ہیں،پھر یہ کوئی ناجائز کام بھی نہیں ہے۔

شمس صاحب آپ بجھارتیں کیوں بھجواتے ہیں۔ میری دسترس سے باہر بھی ہوا تو آپ کی خاطر کر کے ہی دم لیں گے۔ چاہے مجھے چیف سیکرٹر ی صاحب کے پاؤں پکڑنے پڑے۔
کمشنر صاحب،آپ کے اِس بڑی نہر کے دوسری طرف ایک نو لکھی کوٹھی خالی پڑی ہے،جس کے ساتھ کچھ زمین بھی ہے۔ اِس اسٹیٹ کی اکثر زمین تو فوجیوں کو الاٹ ہو چکی ہے۔ لیکن کوٹھی ابھی تک کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ آپ کسی طرح سے اُسے میرے نام کروا دیں۔ جو خرچہ ہوا،مَیں دینے کو تیا ر ہوں۔

نواز الحق کچھ دیر خموش بیٹھا سوچتا رہا پھر بولا،پیرصاحب،اُس کوٹھی میں ایسی کون سی بات ہے؟ بہر حال وہ خالی ہے توآپ فکر نہ کریں،مَیں اُسے آپ کے نام کروا دیتا ہوں۔ مَیں نے کوئی زیادہ اُس کے متعلق تحقیق تو نہیں کی لیکن سنا ہے،بہت بڑی کوٹھی ہے۔ میرا خیال ہے،اب کافی پُرانی ہو چکی ہے۔ شاید آپ کے لیے بے کار ہو۔

نواز صاحب،وہاں ایک بڈھا انگریز رہتا ہے۔ یہ کوٹھی اُسی کے باپ دادا نے وکٹوریہ دور میں بنوائی تھی،شمس الحق نے وضاحت کی،یہ واپس نہیں گیا۔ آج بھی اپنے آْپ کو کمشنر سمجھتا ہے۔

آپ کہیں گے تو اُسے اُٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں اور آپ وہاں اپنا بندوبست کر لیں۔ مگر آپ لاہور کو چھوڑ کر وہاں اتنی پرانی کوٹھی میں کیوں رہیں گے؟

شمس الحق نے دوبارہ سیگریٹ سُلگایا اور بولا،نواز صاحب،آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ ہمیں سیاست کرنی ہوتی ہے۔ وہ رہنے کے لیے تھوڑی الاٹ کروانی ہے؟وہاں ہمارے مال مویشی ہوں گے یا کچھ نوکر رہیں گے۔ کبھی کبھی ہم بھی وہاں آجایا کریں گے۔ اِس طرح علاقے میں وجود برقرار رہتا ہے۔ پھر اِن پرانی کوٹھیوں اور بنگلوں کی اپنی ایک دہشت اور اہمیت ہوتی ہے۔ آپ اِن باتوں کو چھوڑیں،ہمارا کام کریں بس۔

نواز الحق نے گرم جوشی سے اِس کام کی حامی بھرتے ہوئے انٹر کام پر حبیب اللہ کو طلب کیا۔ جب وہ کمرے میں کاغذقلم لے کر ایک طرف کھڑا ہو گیا،تو نواز صاحب نے بڑی محبت سے کہا،مولوی صاحب ستگھرہ روڈ پر ایک نولکھی کوٹھی ہے۔ آپ ذرا اُس کی تمام معلومات جمع کیجیے۔ وہ ہم نے پیر صاحب کے نام الاٹ کروانی ہے۔ شائد اِس میں ہماری آخرت کا ہی کچھ بھلا ہو جائے۔

سر،میں ابھی تمام ریکارڈ منگوا لیتا ہوں ( پیر شمس الحق صاحب کی طرف منہ کر کے حبیب اللہ انتہائی چاپلوسی سے )پیر صاحب،ویسے وہ کوٹھی آپ ہی کے لائق ہے۔ وہاں ایک بُڈھے انگریز کی وجہ سے نحوست پھیلی ہوئی ہے۔ پتا نہیں ابھی تک یہاں کیا کرتا پھر رہا ہے؟( ہنستے ہوئے ) بھلا بندہ پوچھے،تم نے یہاں سے امب لینے ہیں،جو ابھی تک اٹکے ہوئے ہو؟ اور پورے علاقے میں اپنے ناپاک قدموں سے مٹی پلید کرتے پھرتے ہو۔ سر،مجھے اُدھر ایک دو دفعہ جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ مَیں نے وہاں جب تک رہا،نماز بھی نہیں پڑھی کہ نجانے کس جگہ اُس نے پیشاب کیا ہو۔ آپ جتنی جلدی ہو سکے،وہ کوٹھی اُس منحوس بڈھے سے خالی کروا لیں۔ ہمارے شاہ صاحب کے قدم لگنے سے وہاں مٹی تو پاک ہو گی۔

حبیب اللہ کی بات سن کر دونوں ہنس پڑے۔ پھر نواز صاحب بولے،مولوی صاحب،آپ جس قدر جلد یہ کام مکمل کریں گے،ہم آپ کی خواہش اِتنی ہی جلدی پوری کر دیں گے۔ آپ ایک ہفتے کے اندر اِس کیس کی فائل تیار کر کے مجھ تک پہنچاؤ۔ ریوینیو بورڈ سے یہ فائل مَیں خودنکلوا لوں گا۔ بس آپ اس پر کام کریں۔

نواز صاحب کی بات سن کر مولوی حبیب اللہ باہر نکل گیا۔ پھر وہ دونوں باتیں کرنے لگے اور یہ ملاقات اتنی لمبی ہو گئی کہ ایک بجے کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ اِس عرصے میں جتنے لوگوں سے نواز صاحب کی ملاقات کا وقت مقرر تھا،اُنہیں مولوی حبیب اللہ یہ کہ کر ٹالتا گیا کہ آج صاحب کی اندر بہت اہم میٹنگ چل رہی ہے۔ اِس لیے باہر انتظار کریں بلکہ بہتر یہ ہے کہ کل آ جائیں۔

ایک بجے کا کھانا اسسٹنٹ کمشنر مسٹر نواز الحق کے ساتھ کھانے کے بعد سید شمس الحق گیلانی صاحب رخصت ہونے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کمشنر صاحب اُنہیں گاڑی تک باہر چھوڑنے آئے۔ گاڑی چلنے لگی تو نواز صاحب نے ہنستے ہوئے پیر صاحب سے کہا،سر اِس خادم کا بھی خیال رکھا کریں۔ آخر کب تک اسسٹنٹ کمشنر ی کرتا پھروں گا۔ آپ کی سلطنت میں کم از کم مجھے ڈپٹی کمشنر تو ہونا ہی چاہیے،ایک دفعہ بس ایک درجہ اور اُوپر لے جایے۔ پھر دیکھیے نوکر کس طرح اپنے شاہ صاحب کی خدمت کرتا ہے۔

شمس الحق نواز صاحب کی اِس بات پر مسکرا دیا۔ اُسے خوب علم تھا،اسسٹنٹ کمشنر نوازالحق نے اِس کام کے عوض اپنی ترقی کی سفارش کا معاوضہ طلب کیا ہے۔ شاہ صاحب کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ اُس نے جواب میں کہا،نواز صاحب،آپ فکر نہ کریں والدین کو اپنی اولاد کی ضروریات کا بخوبی احساس ہوتا ہے۔ بس اولاد فر مانبردار ہونی چاہیے۔ اِس کے بعد گیلانی صاحب کی گاڑی آہستہ سے آگے بڑھ گئی۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اکتسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(52)

نواز الحق مولانا فضل دین کی امیدوں پر اس طرح پورا اُتر رہا تھا کہ اِتنی توقع اُسے بھی نہیں تھی۔ لڑکا ایسا ذہین اور لائق نکلا کہ باپ دادا کے بھی کان کاٹنے لگا۔ بڑے بڑے جاگیرداروں،فوجیوں اور افسروں کے بیٹے اُس نے دوست بنالیے۔ اُنہی کی صحبت میں دن رات گزارنے سے اُسے وہ تمام معلومات اور طریقے حاصل ہو گئے تھے،جو سول سروس کا زینہ تھے اور خاندان کی کایا کلپ کر دینے کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے تھے۔ اِس کے علاوہ انگلش،عربی،فارسی،تا ریخ،غرض ہر شعبے میں کچھ نہ کچھ سُدھ بدھ حاصل کر لی تھی۔ لباس اور بات چیت میں بھی اِتنی نفاست پیدا کر لی کہ موقع کی مناسبت سے تمام جگہ اپنے آپ کو فِٹ کر لیتا۔ عربی اور اور فارسی کی لیاقت نے اُس کے اندر شعر سے لُطف لینے کا مادہ بھی پیدا کر دیا۔ لیکن یہ مادہ تھوڑا بہت شعر کو سُن کر،یا پڑھ کر یاد کر لینے کی حد تک تھا۔ شعر کی فنی جمالیات کو سمجھنے یا خود کسی مشق میں پڑنے کی اہلیت نہیں تھی۔ یہ بات بھی اُس کو کسی نے سمجھا دی تھی کہ پاکستان میں سول سروس کی نوکری حاصل کرنے کے لیے بندے کو تین چیزوں میں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک اُسے تھوڑا بہت اقبال کی شاعری اور اُس کی زندگی کے نیک نیک حالات ازبر ہوں۔ دوسرا انگریزی بول چال کی مہارت حاصل ہو اور تیسری اہم بات یہ کہ اپنے باس کی چاپلوسی کرنے کی تر بیت میں نُقص نہ ہو۔ اگر اِن میں انسان طاق ہو تو نوکری ملنے کے بعد اُس کی ترقی میں خدا بھی رکاوٹ کھڑی نہیں کر سکتا۔ بندہ اِس طرح بائیس سکیل کے زینے طے کرتا ہے،جیسے گہری نیند سوئے ہوئے پر صبح آجاتی ہے۔ نوازلحق نے اِن تینوں مضامین میں اپنی استعداد کو اِتنا بڑھایا کہ ایک تو اقبال کا ستر فی صد کلام اُسے یاد ہو گیا،دوم وہ انگریزی کو ایسے چاٹنے لگا کہ بعض اوقات اُس پر انگریز ہونے کا شبہ ہوتا۔ وہ تو غنیمت تھی رنگ زیادہ صاف نہ تھا۔ سوم افسر کی بات سے اتفاق کرنے کا ملکہ حاصل ہو گیا۔ نتیجہ یہ کہ نوازلحق پنجاب سول سروس کا امتحان پاس کر کے ڈائریکٹ نائب تحصیل دار بھرتی ہوگیا۔ لیکن اس پر وہ مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں گیا۔ بلکہ مزید ترقی کے لیے کوشاں رہا۔ جس میں اُس نے مولانا فضل دین کی جمع کی گئی بے شمار دولت کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ لاہور میں کوئی افسر ہو گا،جس کے ساتھ اُس نے تعلقات قائم نہیں کیے اور اُسے تحفے تحائف نہیں بھیجے۔ وہ اِس معاملے میں اپنے افسران کا اِس قدر وفادار تھا کہ اُن کی بیویوں تک سے ذاتی مراسم قائم کر لیے۔ کوئی نوازلحق صاحب کی بڑی بہن بن گئی اور کو ئی خالہ ہوگئی۔ کوئی اُس کے دوست کی والدہ تھی۔ اِس لحاظ سے نواز صاحب کی بھی والدہ بن گئی۔ اِن رشتوں کے بن جانے کی وجہ سے نواز کو عید بقر عید اور سالگرہوں پر تحفے بھی دینے ہوتے تھے اور وہ دل کھول کر دیتا۔ خاص کر اُسے یہ پتا چل گیا تھا کہ عورت ذات سونے کی بڑی لالچی ہوتی ہے۔ اِس لیے وہ جو بھی تحفہ دیتا،سونے ہی کا ہوتا۔ کیونکہ سونے کے بغیر چاہے ہزاروں تحفے ہوں،لوگ بھول جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسی دھات ہے،جس کا تحفہ ایک تو لینے والے کو احسان مند کر دیتا ہے اور دوسرا عمر بھر نہ لینے والے کو بھولتا ہے اور نہ دینے والے کو۔ اِس کے علاوہ جب ضرورت ہوتی،سودا سلف بھی خود بخود گھر بھجوا دیتا۔ اِن اطاعت شعاریوں سے یہ ہوا کہ کسی افسر کی جرات نہ ہوتی تھی،وہ نوازلحق کی اے،سی آر میں،اُس کے کردار اور کام کی پاکدامنی کی گواہی نہ ثبت کرے۔ اپنے باس کے گھر روزانہ جا کر اُن کی ضروریات کی خبر لے کر اُنہیں پورا کرنا تو نواز صاحب نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا۔ یہ فرض شناسی اِس حد تک تھی کہ ایک دن جب کمشنر صاحب کو ہلکا سا نزلہ ہوگیا تو نواز صاحب کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی۔ آپ اُس کی تیمارداری میں اِس طرح مگن ہو ئے کہ تین دن تک اپنے گھر نہیں آئے۔ وہیں اُن کی کوٹھی کے سرونٹ کوارٹر میں رہنے لگے۔ اگرچہ صاحب نے بہت کہا،کوئی بات نہیں نواز صاحب،آپ گھر چلے جائیں،مَیں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ لیکن یہ نہیں مانے،کہ جانے کب ضرورت پڑ جائے،پھر خدا نخواستہ آنے میں دیر ہوگئی تو آپ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اِسی فرض شناسی کی وجہ سے اُس کے دفتر والے نواز صاحب کا مذاق بھی اُڑاتے۔ ایک دن میٹنگ کے دوران جب کئی ماتحت بھی بیٹھے تھے،صاحب کا چھوٹا بیٹا ساتھ والی کرسی پر بیٹھا کھیل رہا تھا۔ اُس نے وہیں بیٹھے پیشاب کر دیا۔ نواز صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اُس کو غسل خانے میں لے جا کر پانی سے صاف کیا اور اُس کا پیشاب دھویا،جس کی وجہ سے اُس کا مذاق اُڑایا گیا۔ لیکن اُنہوں نے اِن احمقوں کی ذرا پروا نہیں کی اور سب نے دیکھا،انہی خدمت گزاریوں کی وجہ سے وہ صرف دو سال میں ہی تحصیل دار ہو گیا۔ جبکہ ساتھ والے،جو ذرا خدمت گزاری میں کم تھے،ابھی تک اُنہی بوسیدہ میزوں پر بیٹھے مکھیاں مار رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اُنہیں یہ کلیہ بھی کسی نے سمجھا دیا تھا کہ ریٹائرڈ افسر مردہ گھوڑے سے زیادہ اہم نہیں ہوتا۔ اِس لیے جتنی جلدی ہو سکے،اُس پر مٹی ڈال دینی چاہیے۔ کیونکہ جو وقت کو ضائع کرتا ہے،وقت اُسے ضا ئع کر دیتا ہے۔ ریٹائرڈ افسر کی بات ماننا یا اُسے ملنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے کبھی پلٹ کر بھی ایسے لوگوں کی طرف نہیں دیکھا تھا،جو سرکاری نوکری سے فارغ ہو چکے تھے۔

اُن کے تحصیل دار بننے کے کچھ عرصے بعد ملک میں فوج کی حکومت آگئی۔ نواز صاحب اُن دنوں خوش قسمتی سے ضلع راولپنڈی کے محکمہ مال میں تھے۔ یہ حکومت ہر لحاظ سے شرعی کہی جا سکتی تھی۔ تمام سزائیں شرعی ہو گئی تھیں۔ لباس شرعی ہو گیا۔ ٹوپیاں،تسبیاں،لوٹے اور چٹائیوں کی قیمتیں شریعت کے مطابق بڑھ گئیں۔ شلواریں گھٹنوں سے اُوپر۔ حتیٰ کہ سر کے بال اورڈارھیاں شرعیت کے مطابق ڈھل گئیں۔ گاؤں گاؤں میں مولویوں کے وظائف مقرر کر دیے گئے اور اُنہیں خطبے لکھے لکھائے آنے لگے تاکہ کسی بھی مولوی کو دماغ پر زور دینے کی زحمت نہ پڑے۔ ہزاروں چوہڑے بطور جلاد بھرتی کیے گئے،پھر بھی کوڑے مارنے والے کم پڑ جاتے تھے۔ عوام کا نماز روزے کی طرف اِتنا رجحان ہو گیا کہ سر زمین جنت نشان ہو گئی۔ ہر طرف امن و امان کی فضاقائم ہو گئی۔ تبلیغی مرکزوں میں،جہاں کبھی ویرانی ہونکتی تھی،اب کھوے سے کھوا چھلنے لگا۔ عدل انصاف کا اِس قدر بول بالا ہو ا کہ جرم کے شبے کی بنا پر بھی سزائے موت دی جانے لگی۔ اور اِس معاملے میں اتنی احتیاط تھی کہ چاہے مجرم وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو،تختے پر چڑھا دیا جاتا۔ دراصل عدالتوں نے پتا چلا لیا تھاکہ سوائے فوجی اور ایک خاص مکتبہ فکر کے مولوی کے،باقی لوگ کافر اور غدار ہیں۔ تمام بدعتی مذاہب اور مسالک کا قلعہ قمع کرنے کی ٹھان لی گئی اور صحابہ کے سچے پیرو کاروں اور خفیہ اداروں کو اجتماعی طور پر پورے اختیار دے دیے گئے کہ وہ آسانی سے نشاۃ اسلامیہ کے دشمنوں کی سرکوبی کر سکیں۔ یہی وہ دن تھے،جب نوازلحق صاحب پر صحیح دین کی سمجھ اور فوجی حکومت کی برکتوں کے پے بہ پے انکشافات ہوئے۔ اُنہوں نے نہ صرف خود،بلکہ لوگوں کی بھی اِس امر کی طرف توجہ دلانی شروع کر دی کہ امیرالمومنین جنرل صاحب اللہ کے ولی اور مجدد دین ہیں۔ اُن کے حکم کی سرتابی خدا سے بغاوت کے مترادف ہے اور یہ کہ جمہوریت مغرب کا پراپیگنڈہ ہے۔ اسلام ایسی کسی حکومت کو جائز قرار نہیں دیتا جس کی بنیاد غیر مذہبوں نے رکھی ہو۔ اُنہوں نے علی الاعلان یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ رافضی اور خانقاہی نظامِ،دین میں فساد کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ اُنہیں بالکل ختم کر دینا چاہیے۔ اِس عرصے میں نواز صاحب نے اپنی ڈاڑھی مزید بڑھا لی اور رضا کارانہ طور پر دفتر میں کام کرنے والوں کو نماز پڑھانے کے ساتھ دین کی صحیح سمجھ بوجھ دینا بھی شروع کر دی۔ جس کی اُس وقت اُن لوگوں کو سخت ضرورت تھی۔ جو آدمی نماز پڑھنے نہ آتا،اُسے دفتری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا نام دے کر وارننگ لیٹر جاری کرنے کا اہتمام بھی ہونے لگا۔ اِس میں بھی نواز صاحب سب سے زیادہ پیش پیش تھے۔ اِس کے ساتھ ہی فوجیوں سے مراسم اور لاہور کی نہایت شریف فیملی،جس پر جنرل صاحب کی برکات بے پایاں تھیں،کے درِ دولت پر دن رات حاضری کو اپنا ایمان اور کعبہ کی زیارت کے مترادف جان لیا۔ اور اُن نامرادوں کے نام اور کوائف دینے لگا،جو سرکاری یا غیر سرکار ی سطح پر فوج یا اسلام کے خلاف بات کرتے پائے جاتے تھے۔ نواز صاحب میں اِن سب خوبیوں اور اسلام کے سچے عاشق ہونے کی وجہ سے،یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ حساس اداروں کی نظرسے اُس کی وفادار ی اُوجھل رہ جاتی۔ بالآخر اُس کا نام اُن افراد کی فہرست میں شامل ہو گیا،جنہیں بلا شبہ غیر مشروطی طور پر حکومت کے وفاداروں میں شمار کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اُسی شریف فیملی کی غلام گردشوں میں پھرتے نواز صاحب نے اپنی ترقی کے ایک اور زینے کی راہ دیکھ لی۔ بالآخر پنجاب کی وزارت ِ خزانہ کی سفارش سے انُیس سو بیاسی میں اُس کی اسسٹنٹ کمشنری کے آڈر جاری ہو گئے۔ اُنہیں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جھنگ شہر کی افسری کا پروانہ دے دیا گیا،جہاں دیگر کاموں کے ساتھ بعض مسالک اور اُن کے عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا تھیں۔

(53)

اُنیس سو تراسی کاآدھا اکتوبر گزر چکا تھا۔ پنجاب میں اکتوبر کا مہینہ موسم کی کیفیت کو اِس قدر معمول پر لے آتا ہے کہ اُس وقت گرمی گرمی نہیں رہتی اور سردی ابھی تک نومبر کے پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ اُس وقت نہ تو گرمی تھی ہے اور نہ سردی۔ اِس ٹھہرے ہوئے موسم میں اُداس کر دینے والی ایسی خموش کیفیت تھی،جس کو بیان کرنے کی قدرت نہیں۔ یہ موسم بہار کانہیں ہوتا۔ لیکن اُس سے کہیں زیادہ طبیعت کو راس آنے والا ہوتا ہے۔ بہار ہر چیز میں ایک قسم کاہلکا سا شور،تحرک اور چہچہاہٹ پیدا کر دیتی ہے۔ حتیٰ کہ خوشبوئیں بھی بولتی ہیں۔ اِس کے بر عکس اکتوبر کے درمیان سے لے کر نومبر کے ابتدائی دس دنوں میں ہر شے خموش،چپ اور ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جس میں پوری فضا پر اُداس کر دینے والے غمگین سائے چھا جاتے ہیں۔ موسم کی اِن چپ چاپ سفیدیوں میں انسان بھی افسردہ ہو جاتا ہے۔ ماضی کی گونج عام حالات کی نسبت زیادہ سنائی دیتی ہے اور آج کل یہی کیفیت ولیم کی تھی۔ وہ اوکاڑہ کے مضافات اور نہری کوٹھی کے جامنوں،پھولوں اور گوگیرہ کی بستیوں میں اکیلا گھومتے پھرنے کے ساتھ ماضی کے ورقوں کو پرتالتا جاتا اور اُن میں لکھے افسانوں کی سطر یں بغور پڑھتا،مکرر پڑھتا،سہ بار پڑھتا،بار بار پڑھتا۔ روپے اُس کے پاس کم ہوتے جا رہے تھے۔ بلکہ اِس تیزی سے کم ہو رہے تھے،جیسے عمر کی منزلیں سمٹتی جا رہی تھیں۔ یوں بھی اُس کی عمر بہتر سال ہو چکی تھی لیکن کمر ابھی تک جھکی نہیں تھی،جیسا کہ عام اور مقامی ہندوستانیوں کے بوڑھے ہونے پر جھک جاتی ہیں۔ پاکستان کی بیوروکریسی سے اب اُسے کوئی سروکار نہیں تھا۔ سیاسی حالات کیا ہیں،؟ لوگوں کے رویے کتنے بدل چکے ہیں یا بیرونی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟برطانیہ امریکہ یا دوسرے مغربی ممالک کی کیا صورت ہے؟ ولیم اِس سب کچھ سے اس طرح بیگانہ ہو چکا تھا،جیسے اِن چیزوں کا وجود اساطیری دنیا میں ہو۔ جہاں صرف کہانیا ں جا سکتی تھیں۔ البتہ اوکاڑہ کے کیتھلک چرچ میں اتوار کے اتوار اُس کی حاضری اب لازمی ہو گئی تھی۔ یہ چرچ اُس کے دادا نے اپنے خرچے سے بنوایا تھا۔ جہاں یہ چرچ موجود تھا،اُس کے سامنے والے بازار کا نام بھی چرچ بازار رکھ دیا گیا تھا،جو ابھی تک اُسی نام سے تھا۔ یہ بازار جنوب کی طرف سے ریلوے پھاٹک نمبر دو سے لے کر سرور سوڈا چوک کو کراس کرتا ہوا شمال میں کمپنی باغ کے جنوب مشرقی کونے تک چلا جاتا تھا۔ ولیم اِس چرچ میں عبادت سے زیادہ اُن لوگوں کی پُرسش کے لیے جاتا،جن کے لیے خداوند خدا چرچ کی لال اینٹوں میں پھنسا ہوا ایک بے بس صلیب کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ جو دنیا میں تو اِن کالے عیسائیوں کے کچھ کام نہیں آ سکتا تھا۔ اگر کوئی آخرت تھی،تو وہاں ان کالوں کے لیے دودھ کی سفید نہروں اور میوہ کے باغوں کی دستیابی کا ذمہ دار تھا۔

آج وہ اسی اداس کر دینے والی فضا میں اتنا بوجھل ہو چکا تھا،جس میں دل کو سنبھال لینا ایرے غیرے کا کام نہیں تھا۔ ولیم کمرے سے نکل کر کوٹھی کے صحن میں آیا اور سامنے والی اُسی بنچ پر بیٹھ گیا،جس کو اس صحن میں لگے اب ساٹھ برس گزر چکے تھے۔ یہ کرسی ولیم کے دن رات بیٹھنے سے اِتنی چمکدار ہو گئی تھی کہ پالش کا گمان ہو تا۔ پرندے اِدھر اُدھر اڑے جاتے تھے،اگر کوئی چہچہا بھی رہا تھا،تو اُس کی چونچ ہلتی نظر آتی تھی مگر آواز سنائی نہ دیتی۔ سامنے کا پیپل بھی بالکل خموش اور حیرانی کی حالت میں تھا،جیسے ولیم کی تنہائی پر نوحہ کناں ہو۔ اُسے آنے والے لمحوں کا پتا چل چکا تھا۔ کبھی ایک آدھ چڑیا اُس کے پاس سے اُڑ کر نکل جاتی،پھر دورتک کھیتوں میں،کبھی ایک جگہ پر،کبھی دوسری جگہ پھدکتی ہوئی بیٹھتی۔ پھر اُسی طرح نظروں سے اوجھل ہو جاتی۔ ولیم کو جب کافی دیر اِسی حالت میں گزرگئی تو وہ اُٹھ کر دوبارہ کوٹھی میں چلا گیا اور اپنے بیڈ روم میں جا کر پُرانے سامان کو ٹٹولنے لگا،جو اَب زیادہ نہیں رہ گیا تھا۔ چندچیزیں تھیں،جو کیتھی کے ہاتھوں سے یا تحفہ دینے سے بچ گئی تھیں۔ یہ چیزیں بازار میں قیمت تو نہیں رکھتی تھیں لیکن ولیم کے لیے بہت زیادہ اہم تھیں۔ اِن میں ولیم کے دوستوں کی کچھ تصویریں،ولیم کے بچوں کی تصویریں،اُس کے ذاتی کاغذات،ملازمت کے دنوں کی فوٹو گراف،قلم،پینٹنگز،ایشلے کی شاعری کے کچھ مسودات،بے شمار کتابیں اور اِسی طرح کی یادگاریں تھیں۔ چیزوں کو دیکھتے ہوئے ولیم کے ہاتھ میں ایک ایسا کاغذ لگا،جو اُس کی اپنی ہینڈرائیٹنگ میں تھا۔ وہ ایشلے کی ایک نظم تھی،جو اُسے بہت پسند تھی۔ ولیم نے اپنے ہاتھ سے اُسے لکھ لیا تھا۔ نظم دیکھ کر ولیم کو ایشلے کی شدت سے یاد آنے لگی،جس کے مرنے کی اطلاع اُسے دس سال پہلے مل چکی تھی۔ وہ اُس کے مرنے کی خبر سُن کر اُس وقت بھی بہت افسردہ ہوا تھا اور بہت دنوں تک اپنے حواس میں نہ ر ہا تھا۔ جب کاغذات سے وہ نظم سامنے آئی تو ولیم کی آنکھوں میں پھر آنسووں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ وہ نظم لے کر اُسی بیڈ پر لیٹ گیا اور اُسے اپنے سینے پر رکھ کرآہستہ آہستہ نظم کو پڑھنے لگا اورگزری ہوئی ساعتیں یاد کر کے رونے لگا۔

نظم
کیا تم ایسی دھوپ دیکھنا چاہو گے
جو چمکتی ہے جلاتی نہیں
نہ اس کی روشنی میں آنکھیں چندھیاتی ہیں
نہ سفید عورتیں عرق آلود ہوتی ہیں
وہ دھوپ نومبر کی خاموش وادی میں ہے
نومبر کی دھوپ کو دیکھ سکتے ہو
نرم لباس کی طرح محسوس کر سکتے ہو
اُس میں تلخی نہیں
موت کے نزدیک لے جانے والی اُداسی ہے
اُداسی کو تم چھو نہیں سکتے
نہ فریب دے سکتے ہو
نہ اس سے بھاگ سکتے ہو
یہ ہجوم میں تنہا کر دیتی ہے
کیا پچھلے برس کا نومبر اُداس نہیں تھا؟
نومبر ہمیشہ اُداس ہوتا ہے
رُکا ہوا،مطمئن اور بے نیاز
اِس کی وادی میں صبح ہوتی ہے،دوپہر،سہ پہر
پھر شام آجاتی ہے
مگر دھوپ کا مزاج نہیں بدلتا
آسمان کی طرح پُر وقار بزرگی والا
زندگی نومبر کی طرح نہیں
زندگی بدلتی ہے،متواتر بدلتی ہے
وہ تجھے نومبر میں نہیں رہنے دے گی
دھوپ غبار آلود ہو جائے گی
صاف نظر آنے والی چیزیں دُھندلا جائیں گی
پھر سیاہ ہو جائیں گی
پھر اندھیرا کھا جائے گا
اُس وقت،جب میں نہیں ہوں گا
دوست کوشش کرنا،نومبر نہ گزرے
مگر یہ وہ کوشش ہے جس کا حاصل خسارا ہے
ولیم بار بار نظم پڑھتا رہا اور پرانے بیڈ کے بوسیدہ مگر صاف بسترپر لیٹا آنسووں کی بارش روکنے کی کوشش کرتارہا۔ اسی حالت میں وہ سو گیا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(51)

یہ انیس سو پچھتر کے دسمبر کا آغاز تھا اور ملک کو وجود میں آئے اٹھائیس سال ہو گئے تھے۔ اِس عرصے میں ولیم مقامی لوگوں میں اِس طرح گھل مل گیا کہ رنگ اور آنکھوں کے سوا اُس میں ولائتیوں کی کوئی حرکت نہ رہی۔ اردو پہلے بھی روانی سے بول لیتا تھا،اب پنجابی میں بھی خاصا ہاتھ صاف کر لیتا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مرغے لڑانے،کبڈی کروانے اور قصے کہانیاں سننے کا شوق حدسے آگے نکل گیا۔ آئے دن نولکھی کوٹھی پر محفلیں جمنے لگیں۔ ولیم کے جاننے والے عشا کے بعد جمع ہو جاتے۔ کوئی نہ کوئی کہانی کہتا،جس میں رات کے گیارہ بج جاتے۔ محفل کے بعد ولیم کی طرف سے سب کو کبھی کھانا کھلایا جاتا اور کبھی صرف چائے پلائی جاتی۔ سب جانتے تھے،اُس کے پاس پیسے بہت زیادہ ہیں۔ اِس لیے وہ اُس کا احترام بھی ویسے ہی کرتے۔ مگر یہ سب لوگ غریب غربا اورمزارع قسم کے تھے۔ بیورو کریسی اور اُمرا کو ولیم نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ بلکہ اُن کو اب ولیم کے بارے میں پتا بھی نہیں تھا کہ ایسا کوئی انگریز بھی یہاں موجود ہے۔ اِس معاملے میں اشرافیہ تو ایک طرف،مدت ہوئی،اُس کے اپنے بیوی بچوں نے بھی اُسے بالکل بھلا دیا تھا۔ پہلے پہل اُنہوں نے دو تین چکر لگائے اور ولیم کو بھی سرسری انگلستان جانے کا مشورہ دیا لیکن جب ولیم نے سختی سے اِس بات کو رد کر دیا تو وہ بھی آہستہ آہستہ اُسے بھولنے لگے اور اب نوبت یہاں تک آگئی کہ ولیم کے خطوں کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔ ایک آدھ بارجواب دیا بھی،تو وہ ایک دو سطر میں ایسا سرسری تھا،جسے خط کے نام پر مذاق کہہ لینا چاہیے۔ اُس کے بعد مکمل خا موشی طاری ہو گئی تھی۔ اُنہوں نے گھر بدل لیا تھا تو اُس کا پتا بھی نہیں بتایا اور پچھلے چھ سال سے ولیم کے کسی خط کا جواب بھی نہ دیا،نہ ٹیلی فون ہی کیا۔ بہت سے پرانے دوستوں کی وساطت سے ولیم نے اُن کا پتا بھی کرایا مگر کچھ خبر نہ ملی۔ ویسے بھی دوستوں نے اِس بارے میں زیادہ کھوج لگانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ولیم نے اُنہیں زیادہ تنگ کیا۔ کیونکہ اب یہ بھی اُن کے بغیر اِس طرح رہنے کا عادی ہو چکا تھا،جیسے اُس کا کوئی رشتے دارتھا ہی نہیں۔ ایسی بات نہیں تھی کہ اُسے اپنے رشتوں کا احساس نہیں تھا۔ شروع شروع میں جب اُس کے بیوی بچے گئے،تو وہ کئی سال مضطرب رہا اور بہت دفعہ،جب بھی اُنہیں ضرورت پڑی،ولیم نے اپنی بچی کھچی پونجی سے رقم بھیجنے میں تامل نہ کیا اور رشتوں کا درد رکھے رکھا۔ مگر اب اُس کے ہاتھ سے سارے رشتے ہی نکل چکے تھے،تووہ کیا کرتا۔ مچلز والے ابھی موجود تھے،جن کے ساتھ سلام دعا چل رہی تھی۔ لیکن وہ بھی لندن او ر اوکاڑہ کے درمیان معلق رہتے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ اِس آنے جانے میں اُنہوں نے اپنے رئیسانہ ٹھاٹھ کو برقراررکھا اور ولیم سے بہت زیادہ مختلف ہو چکے تھے۔ یا کہہ لیں کہ ولیم ہی اُن سے مختلف ہو گیا تھا۔ اِس لیے اُن کے اندر بھی اب دبی دبی سرد مہری موجود تھی،جسے ولیم نے بہت دیر پہلے بھانپ لیا تھا۔ مگر وہ شاید اُن میں گزری نشانیوں کے ریزے تلاش کرنے کے لیے تعلق کو ٹوٹنے نہیں دے رہا تھا اوربرابر وہاں پھیرا لگایا کرتا۔ بلکہ اُس وقت بھی،جب وہ لندن میں موجود ہوتے۔

زمانے کے گزرتے ماہ سال میں ولیم کو اِس پورے نقصان پر تاسف تو ہوا لیکن وہ اُس کو قبول کر چکا تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے اُس نے بھی اُنہیں یاد کرنا چھوڑ دیا۔ اگر یاد آتے بھی تو طبیعت کو جلد کسی اور طرف مائل کر کے مصروف ہو جاتا۔ زیادہ تر انگریزی ناولیں اور انگریزی شاعری کی کتابیں پڑھنے میں لگا رہتا،جو سینکڑوں کے حساب سے اُس کی کوٹھی میں موجود تھیں۔ اُن کے خریدنے میں اُس نے ایک خطیر رقم خرچ کی تھی۔ کتاب خوانی کے علاوہ قصہ سننے کی لت اُسے شدت سے لگ چکی تھی،جس کے لیے وہ عصر سے ہی تیاری کر نا شروع کر دیتا۔

اکثر ہاتھ میں چھڑی تھامے سرپر ہیٹ رکھے پیدل ہی نکل پڑتااور اِدھر اُدھر پھرتا رہتا۔ زیادہ تر کمپنی باغ اوکاڑہ میں،جو اُسی کی تجویز پر بنا تھا۔ کبھی دس کلومیٹر طے کر کے نہری کوٹھی چلا جاتا یاکسی اور جگہ۔ مگر زیادہ تر اُس کا سفر لمبا نہیں ہوتا تھا۔ اِسی طرح دیسی لوگوں کے ساتھ چلتے چلتے بات چیت کر لیتا۔ بگھی،ٹانگے پر ہوتا تو ایک آدھ سواری بھی ساتھ بٹھا لیتا۔ کافی عرصہ پہلے زمین پر سے اُس کا قبضہ اُٹھ گیا تھا۔ جب وہ باقاعدہ آہستہ آہستہ کر کے چند ہی سالوں میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسروں کے نام الاٹ ہوگئی۔ اِس لیے جو پیسہ ہاتھ میں تھا،وہ رفتہ رفتہ کنارے لگنے لگا۔ ولیم کو اب اُس کی زیادہ پروا بھی نہیں تھی۔ کیونکہ کوٹھی ابھی تک اُس کے پاس تھی اور آٹھ دس سال تک مزید ساتھ دینے والا پیسہ بھی تھا۔ اِس لیے بھی اُسے کوئی فکر نہیں تھی کہ دیسی لوگوں کی طرح اُس کے دس دس بچے نہیں تھے۔ اُس نے رینالہ،اوکاڑہ،گوگیرہ اور اُن کے مضافات میں اِس طرح اپنے آپ کو گم کر لیا،جیسے یہ سب علاقے اُس کی ملکیت ہوں۔ حالانکہ اب تمام زمینیں اور فارم ملٹری نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے،جو تقسیم سے پہلے گوروں کی ملکیت تھے۔ ولیم نے کئی طرح سے اثر رسوخ اختیار کر کے نولکھی کوٹھی پر اپنا قبضہ بر قرار ہی رکھا اور کچھ روپے سا لا نہ کے حساب سے اُس کا کرایہ اداکرتا رہا۔ جب اُس کی زمینوں پر قبضہ ہوا تھا تو وقتی طور پر ولیم انگلستان چلا گیا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد واپس آگیا تھااور نولکھی کوٹھی میں بطور کرایہ دار براجمان رہا۔ ویسے بھی یہ کوٹھی ایک جرنیل کے نام لیز پر تھی،جس میں اُسے رہنا تو نہیں تھا کیونکہ نہ تو یہ کوٹھی کسی بڑے شہر میں تھی اور نہ ہی اوکاڑہ شہر کے درمیان میں تھی۔ اوکاڑہ کے شمال مشرق میں نہر کے دوسری طرف تین کلومیٹر باہر تھی،جس میں کسی مقامی کو رہنے کی کیا ضرورت تھی،جبکہ ولیم اِس کا کرایہ بھی زیادہ دینے کو تیار تھا اور پچھلے کئی سال سے دیتا بھی رہا تھا۔ اِس لیے اُس کا یہ مسکن بر قرار رہا۔

کچھ دنوں سے اُس کی طبیعت میں ایک بے چینی پھر داخل ہو رہی تھی۔ وہ کون سی بات تھی،جس کے باعث یہ کیفیت تھی۔ اس بارے میں ابھی وہ خود بھی لا علم تھا۔ ایک شام اِسی طرح سب جمع تھے اورمیاں محبوب علی خاص لاہورسے داستان کہنے کے لیے آئے ہوئے تھے،جو پہلے بھی کئی دفعہ آ چکے تھے۔ کوٹھی کے دالان میں ولیم کی کرسی کے سامنے پہلے آٹھ دس کرسیاں اور اُس کے آگے تین تین چار پا ئیاں دو طرفہ لگی ہوئی تھیں،جن کے درمیان چھ فٹ کی کھلی جگہ تھی۔ ولیم کی کرسی سے آخری چار پائی تک کم از کم دس قدم کا فاصلہ تھا۔ اِس طرح کہ داستان گو موقع کے مطابق بیچ میں چہل قدمی کر سکے۔ جیسا کہ اکثر پنجابی داستان گو مجمعے کے بیچ چل پھر کر اور اداکاری کر کے کہانی سناتے ہوئے،بیچ میں کہیں کہیں لوک بولیوں،دوہروں اور ماہیوں کے ٹانکے لگاتے جاتے ہیں۔ اِس سے کہانی کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ ولیم کے ہاں اکثرکہانی کہنے والے پنجابی ہوتے تھے۔ اِس لیے اُس نے کوٹھی کے دالان میں بیٹھنے کی شکل اسی صورت میں ڈھال رکھی تھی۔ میاں محبوب علی در اصل نواب مظفر علی قزلباش کا ذاتی داستان گو تھا،جو ولیم کے اُن دِنوں کا دوست تھا،جب وہ ڈپٹی کمشنر تھا۔ اِسی دوستی کو وہ آج تک نبھائے چلا آ رہا تھا۔ یہ سردیوں کی رات تھی اورآٹھ بج چکے تھے۔ محبوب علی داستان شروع کرنے ہی والے تھے کہ چوہدری شفیع محمد بھی آن بیٹھا،جس کے ساتھ سترسال کا ایک بڈھا تھا۔ شفیع محمدکی ستگھرہ موڑ پردو مربعے زمین تھی اور ولیم کے ساتھ اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔ ولیم جب بھی سیرکو نکلتا،اکثر چوہدری شفیع محمد کے پاس جا بیٹھتا۔ اِس طرح شفیع محمد بھی اُس کے حاضر باشوں میں تھا اوریہ رشتہ برابری کی سطح پر ہی قائم تھا۔ آج شفیع محمد کے ساتھ یہ بڈھا البتہ نیا تھا۔ اُس کے سر پر سفید پگڑی تھی اور سفید ہی کھدر کا دُھوتی اورکُرتہ تھا۔ پاؤں میں چمڑے کے دیسی جوتے تھے،جس کو خریدے ہوئے غالباً کئی سال گزر چکے تھے۔

سلام دعا کے بعد سب بیٹھ گئے تو چوہدری شفیع نے ولیم سے مخاطب ہو کر کہا،صاحب بہادر،یہ امیر سبحانی ہے۔ آج ہی حویلی لکھا سے آیا ہے۔ میں کل وہاں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا۔ وہیں اپنے بہنوئی کے ہاں میری اِس سے ملاقات ہوئی۔ بہت عمدہ داستان کہتا ہے۔ جب میں نے اِس سے وہاں داستان سنی تو اِس کا شیدائی ہو گیا اورمنت کی کہ میرے ساتھ ایک دو دن اوکاڑہ چل۔ امیر سبحانی اُجاڑے سے پہلے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں رہتا تھا۔ اِس لحاظ سے میں نے سوچا،اِسے آپ سے ملانا اچھا رہے گا۔ کیونکہ آپ بھی کافی عرصہ جلال آباد میں رہے ہیں اوراُسے یاد بھی کرتے ہیں۔ یہ آپ کا ہم وطن بھی ہے اور داستان تو یہ ایسی کہتا ہے کہ ساری رات گزر جائے گی۔ مگر آپ کا جی چاہے گا،سنتے جائیں۔

شفیع محمد تعارف کرا چکا تو ولیم نے ایک نظر بھر کر امیر سبحانی کی طرف دیکھا،گویا وہ آئینہ ہو،جس میں ولیم اپنے ماضی کا چہرہ دیکھ رہاتھا۔ دل ہی دل میں ولیم نے پوری کائنات کی خاموشی سمیٹ کر اپنے اندر بھر لی اور چند لمحے اُسی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ لوگوں نے اُسے حقہ پیش کیا اور بیٹھنے کے لیے سامنے کی ایک کرسی خالی کر دی۔ اتنے میں ولیم اپنی سابقہ حالت میں لوٹ چکا تھا۔ اُس نے پورے مجمعے کی طرف دیکھا اور کہا،کوئی بات نہیں۔ چلو آج ہم امیر سبحانی سے سن لیتے ہیں۔ محبوب علی تو ایک دو دن ابھی یہاں ہی ہیں۔ کیوں امیر سبحانی ہمیں سناؤ گے؟

جیسی آپ کی رائے،(اور سوالیہ انداز میں چوہدر ی شفیع کی طرف دیکھا)

اُس نے کہا،بھائی امیر آپ کو لایا کس لیے ہوں؟یہ صاحب ہمارے لیے بڑالاڈلا ہے۔ آج اِسے ایسی داستان سناؤ کہ خوش ہو جائے۔
چوہدری صاحب کوشش کرتا ہوں۔ اِس کے بعد امیر سبحانی نے حقے کے دو چار لمبے لمبے تیز کش لیے،پھر اُٹھ کے چارپائیوں اورکرسیوں کے درمیان والی راہداری میں کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ بھر کا کڑھا ہوا رومال گلابی رنگ کا،جیب سے نکال کرہاتھ میں پکر لیا،جو داستان گووں کی تسکین کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ امیر سبحانی نے رومال کے چاروں کونے اکٹھے کر کے مٹھی میں دبا لیے اور ولیم کی طرف منہ کرکے بولا،صاحب اجازت ہے تو عرض کروں؟ پھر داستان شروع کر دی اور ہلکے ہلکے قدموں سے آگے پیچھے چلنے بھی لگا۔

اول حمد خدا وند باری، دوم پاک رسول
تیجا نام علی کاجاپوں،جس کی دو جگ دھوم
چوتھی پاک رسول کی بیٹی پانچواں حسن حسین
اِن کے بعد ہیں بارہ ہادی سید کُل کونین
غازی پاک عباس بہادر،لے کر اُس کا نام
قصہ ایک دلاور کا مَیں تم کو سناؤں تمام

امیر سبحانی تمہید کے بعد اصلی داستان کی طر ف اس طرح پلٹا کہ اچانک ولیم سمیت پورا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا اورکہانی سننے کے ساتھ ساتھ امیر سبحانی کی حرکات و سکنات کو بھی غورسے دیکھنے لگا۔

آنکھوں دیکھا حال ہے،نہیں سُنی گنی یہ بات
سب سچ کہانی بیلیوں،شاہد رب کی ذات
اک شہرجلال آباد تھا،اُس مشرق کے پنجاب
جسے چھوڑا وِچ فساد میں،سنو مرے احباب
اُس شہرجلال آبادمیں،تھا ایک جوان دلیر
بیٹا حیدرشیر کا تھا،دھرتی کا وہ شیر
نام غلام حیدر اُس کا،جانے سب سنسار
ہوا شہید وہ سورما،پَر دیے گورکھے مار

اِس کے بعد جیسے ہی امیر سبحانی نے داستان کا قد غلام حیدر کے ذکر کے ساتھ آگے بڑھایا اور قصے کی رمزیں کُھلنا شروع ہوئیں،ولیم کی آنکھیں کُھلنے لگیں۔ امیر سبحانی کی آواز میں ایسی تمکنت اور داستان کہنے میں ایسی دلآویزی تھی کہ سب مجمعے کے سروں پر گویا پرندے بیٹھے ہوں۔ مجال ہے،کسی کا دھیان ادھر اُدھر بھٹک جائے۔ ولیم کا معاملہ کچھ آگے کا تھا۔ جیسے جیسے داستان آگے بڑھ رہی تھی،اُس کی یاد داشت کے دریچوں کے پٹ ایک ایک کر کے وا ہوتے جا رہے تھے۔ اُسے یوں لگ رہا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن چکا ہے۔ امیر سبحانی چارپائیوں کے درمیان کی راہداری میں ایک ہاتھ میں جریب پکڑے،کبھی آگے اور کبھی پیچھے چلتا اور غلام حیدر کا قصہ نظم کی شکل میں بیچ بیچ نثرکے ٹوٹے جما کر یوں اُٹھاتا،جیسے آئتوں کے درمیان تفسیر کی وضاحتیں ہوں۔ اِس طرح کہانی میں ایک تو تا ثیر بڑھ جاتی تھی،دوسرا سمجھنے میں آسانی رہتی۔ کہانی کے اِس انداز سے یوں تو سارا مجمع ہی کہانی سننے کی بجائے دیکھ رہا تھا۔ مگر ولیم توگویا پچھلے زمانے میں پہنچ گیا تھااورنہیں چاہتا تھا کہ یہ قصہ ختم ہو۔ اُس کے لیے چالیس سال بعد یہ ایک ایسا منظر تھا،جو اگر نہ آتا تو شاید ولیم کی زندگی میں ایک ایسا خلا رہ جاتا،جو نہ تو کبھی پُر ہوتا اور نہ ہی ولیم کو پتا چلتا،وہ کون سا خلا ہے؟ داستان آگے بڑھتی گئی۔ سب سنتے گئے اور ولیم اُس کے ایک ایک منظر میں کھوتا گیا۔ حتیٰ کہ رات گیارہ بجے امیر سبحانی نے داستان دوسرے دن عشا کے وقت تک روک دی۔ اِس کے بعد سب مہمانوں کو کھانا پیش کیا گیا۔ کھاناکھا کر سب رخصت ہو گئے اور امیر سبحانی چوہدری شفیع کے ساتھ ٹانگے پر بیٹھ کر چلا گیا۔

لوگ تو داستان سن کر چلے گئے مگر ولیم کی رات سو سال کی ہو گئی۔ امیر سبحانی نے داستان شروع نہیں کی تھی،ولیم کی زندگی کا افسانہ چھیڑ دیا تھا۔ اگرچہ ِاس میں اُس کا اپنا ذکر تین چاردفعہ ہی آیا تھا۔ وہ بھی غلام حیدر کے ضمن میں مبالغے کے ساتھ،۔ مگر یہ مبالغہ بھی ولیم کو اچھا لگا۔ بلکہ عین سچ لگا اوروہ چاہ رہا تھا،یہ کہانی کبھی ختم نہ ہو۔ اِنہی سوچوں میں ولیم کی ساری رات نکل گئی اور اُس کی آنکھیں گویا یاقوت ہو گئیں۔ کبھی اُٹھ کے ٹہلنے لگتا،کبھی بستر پر جا پڑتا۔ حتیٰ کہ فجر کی اذان نے صبح کی سواری کا نقارہ بجا دیا۔ رات بھر ولیم کے دماغ میں جودھا پور،جھنڈو والا،غلام حیدراورجلال آباد کے مضافات کا وہ علاقہ پھرتا رہا،جہاں اُس نے اُن دنوں دورہ کیا تھا۔ وہ رہ رہ کر اُنہی مضافات میں چلا جاتا اور تڑپ تڑپ کے رہ جاتا۔ کہانی ابھی تک وہاں تک پہنچی تھی،جب غلام حیدرفیروز پور میں شیخ مبارک کے پاس ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بندوبست میں گیا تھا۔ لیکن وہ دلچپ اِتنی تھی کہ ولیم کو اپنے ساتھ غلام حیدر کے کردار سے بھی شدید دلچسپی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہو گیا کہ آخر اُس کے ساتھ کیا بنی؟ دن چڑھا تو اُس نے بادامی رنگ کی بید پکڑی اور سیر کو نکل کھڑا ہوا۔ یہ سیر اُن زمینوں اور باغوں کی تھی،جو اب اُس کی ملکیت میں نہیں تھیں۔ اُس کی عمر اتنی لمبی سیر کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔ پھر بھی وہ جوانوں سے کہیں زیادہ پھرتیلا اور پیدل چلنے والا تھا۔ وہ دوبارہ شام ہونے اور کہانی کے شروع ہونے کے انتظار میں کُڑھنے لگا اور خدا خدا کر کے پھر عشا کا وقت ہو گیا اور ولیم کی کوٹھی میں داستان کے پالان لگ گئے۔

یہ محفل دس دن بر پا رہی۔ امیر سبحانی نے اِس طرح اُس میں رنگ بھرا کہ محبوب علی بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ہر آدمی عش عش کر اُٹھا اور سب نے اُسے کچھ نہ کچھ ضرور دیا۔ ولیم نے دس ہزار روپے کے ساتھ کئی تحفے بھی دیے۔ اتنی بڑی رقم امیر سبحانی نے کبھی ایک دم نہیں دیکھی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں ولیم کے لیے تشکر کے آنسو آگئے۔ اب چونکہ ہر شخص پر کھل گیا تھا کہ جلال آباد کا اُس وقت کا اسسٹنٹ کمشنر ولیم تھا،اور یہ کہ ُاس نے غلام حیدر کے ساتھ زیادہ سخت رویہ اختیار بھی نہیں کیا تھا۔ اِس کے علاوہ یہ اِس داستان میں ایک بڑے متحرک کردار کی شکل میں سامنے رہا ہے اور سکھوں کی بانسری بجانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اِس لیے وہ سب ولیم کی محبت میں اور زیادہ مانوس ہو گئے۔ لیکن ولیم کہانی سننے کے بعد مزید اُداس رہنے لگا۔ اُسے وہ بھولی ہوئی تمام شامیں اور اُن شاموں میں جلنے والے قمقمے یاد آنے لگے،جو کسی بھی طرح سے خوش گوار تھے۔ اِس منظر میں اُسے پھر کیتھی اور بچوں کی یادیں ستانے لگیں،جو اگر چہ اب بچے نہ رہے تھے لیکن ولیم نے اُنہیں جس قدوقامت میں چھوڑا تھا،وہ اُسے اُسی قامت میں دِکھنے لگے اور مسلسل تڑپانے لگے۔ مگر اب اُن کا کوئی پتا نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،اگر ایک بار اُسے خط آ جائے تو وہ اُن سے ملنے کے لیے لندن ضرور جائے گا۔ وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا اور خط لکھنے لگا۔

بیڈ روم کی تمام چیزیں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ بلکہ کئی چیزیں تو استعمال کے قابل بھی نہیں رہی تھیں اور اُس نے نئی چیزیں نہ خریدنے کی قسم کھا لی تھی۔ کوٹھی بھی ولیم کی طرح بوسیدہ ہو چکی تھی۔ پھر بھی کوئی چیز اِس تنہائی میں دل کو سکون اور اطمنان بخشنے والی تھی،تو وہ یہی کوٹھی تھی،جو اُس کی اپنی تھی۔ ولیم نے کیتھی اور بچوں کو تسلی سے بیٹھ کر دوبارہ خط لکھا اور خود جا کر اوکاڑہ کچہری بازارکے تار گھر سے تار کیا۔ لیکن اُس کا کبھی جواب نہ آیا اور دن مزید گزرتے گئے۔ ولیم آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید امیر سبحانی سے کہانی سننے کے بعد وہ جلد بوڑھا ہونے لگا تھا۔ اُ س نے سوچا،کاش اُس کی امیر سبحانی سے ملا قات ہی نہ ہوتی اور وہ اتنا جلدی بوڑھا نہ ہوتا۔ یہ اُداسی کی حالت ولیم پر کئی مہینوں تک جاری رہی۔ سردیاں گزر گئیں،بہار نکل گئی،گرمیاں چلی گئیں،پھر سردیاں آگئیں۔ اِن بدلتے مہ و سال کے فاصلوں سے اُس کے زخم بھرنے لگے اور دو سال بعد اُس کی حالت پھر معمول پر آگئی۔ لیکن اب اُس کی شاہ خرچیاں ختم ہو گئی تھیں۔ کیونکہ جمع پونجی قریب قریب ٹھکانے لگ چکی تھی اور اُس کی زندگی کے شب و روز ارد گرد کے علاقوں میں گھومتے ہوئے،اُفق کی طرف جلدی سے سمٹتے جارہے تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چھبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(44)

غلام حیدر کو حویلی میں آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ اِس عرصے میں اُس نے تمام عزیزوں،دوستوں اور ملازموں کو اکٹھا کر کے نئے سرے سے چودھراہٹ کا کام شروع کر دیا۔ یہ چودھراہٹ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور ہیبت ناک تھی۔ چودھری غلام حیدر اب شاہ پور اورجودھا پور کا مالک ہی نہیں،پندرہ آدمیوں کا قاتل بھی تھا۔ اور یہ پندرہ لوگ کوئی ایسے ویسے نہیں تھے۔ علاقے کے سر چُنویں بدمعاش اور بڑے زمیندار تھے۔ اِسی لیے اب وہ پینتیس سال کا منجھا ہوا چودھری اور طاقتور سورما بن چکا تھا۔ صرف شیر حیدر کا ندان مُنڈا نہیں رہ گیا تھا۔ دوم،سردار سودھا سنگھ جیسے سورماؤں کو چت کر کے اور انگریز سرکار میں صاف بچ نکلنے کی وجہ سے اب بڑے بڑے بد معاش بھی اُس کا نام سُن کر نہ لرزتے اور سلام کے لیے حاضری نہ بھرتے تو کیا فائدہ تھا۔ یہی وجہ تھی،حویلی میں آکر بیٹھنے والے لوگوں کی تعداد پہلے سے دُگنی ہوگئی۔ ایک ہفتے بعد جب غلام حیدر نے محسوس کیا حویلی کا انتظام قدرے ٹھیک ہوگیا ہے،تو اُس نے ایک دعوت کا اہتمام کر دیا۔ الیکشن کا وقت قریب آرہا تھااور غلام حیدر کو نواب صاحب کے احسان کا پاس بھی رکھنا تھا۔ اِس لیے جلد ہی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا تھا،جس میں پورا فیروزپور نہ سہی،مکھسر اور جلال آباد تحصیل میں تو مسلم لیگ کا طوطی بول جائے۔ چنانچہ حویلی میں سینکڑوں لوگ مبارک سلامت کے لیے جمع ہو گئے۔ رفیق پاؤلی،جانی چھینبا،حاجی کمبو،امیر سبحانی تو خیر اُس کے اپنے آدمی تھے،جو غلام حیدر کی معافی کا سن کر دوسرے تیسرے روز ہی چلے آئے تھے۔ دعوت میں وہ لوگ بھی تھے،جن کا غلام حیدر سے دُور دُور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ وہ سب اہل و عیال سمیت حویلی میں جمع ہو گئے اورحویلی میں ایک دم گہما گہمی ہو گئی،جو پچھلے دس سال سے تقریباً بند پڑی تھی اوراُس کے صحنوں اور دیوار وں سے ویرانی سیم اور تھورکی شکل میں جھڑ جھڑ کر گرتی رہی اوروارثوں کی غریب الوطنی پر نوحے پڑھتی تھی۔ نیم اور پیپل کے درخت بدلتے موسموں کو بے آبرو ہوتے دیکھتے رہے اور زرد ہواؤں کے تھپیڑوں کو سہتے رہے۔ آج اُس حویلی میں ایسے رونق پیدا ہو گئی،جیسے دنیا نئے سرے سے بسی ہو۔ حویلی سے غلام حیدر کو نکلنے کا غم کم نہیں تھا۔ وہ واپس آ کر بہت زیادہ جذباتی ہو گیا تھا لیکن رفیق پاؤلی اور دوسرے ملازم اُس سے بھی زیادہ جذباتی تھے۔ سب خوشی سے اِدھر اُدھر بھاگتے ہوئے آپس میں مل کر رو بھی رہے تھے۔ اُنہیں یہ دوبارہ جنم ملے گا اورامیر سبحانی کی قصہ گوئی کی محفلیں جمیں گی،اِس طرح کا وہم بھی جی سے اُٹھ گیا تھا۔ کیونکہ غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل کے بعداُن سے ایسے ربط توڑا تھاجیسے وہ اِس دنیا میں موجود ہی نہ ہو۔ اِدھر یہ سب ملازم،نوکر،دوست یار گورنمنٹ کے ڈر سے حویلی تو ایک طرف فیروز پور ضلع بھی چھوڑ کردُور دُور جا بسے تھے اور خوف کے مارے غلام حیدر کا نام بھی منہ سے نہیں نکالتے تھے۔ مگر اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ رفیق پاؤلی لوگوں کو اِدھر اُدھر مختلف کاموں کے بارے میں حکم دیتا پھرتا تھا،تم یہ کرو،تم وہ کرو۔ گویا اُس کی نئے سرے سے اجارہ داری تسلیم کر لی گئی تھی۔ جس پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ ہر ایک نے اپنا اپنا کام بغیر کسی کے کہے سنبھال لیا جیسے یہ طے شدہ بات تھی۔ دعوت کی اِس تقریب میں شاہ پور اور جودھا پور کی رعایا بھی جلال آباد آگئی۔ بالکل وہی نقشہ بن گیا جو شیر حیدر کی موت کے وقت تھا۔ لیکن اُس میں اور اِس میں ایک فرق تھا کہ اِس رونق میں بھرپور جذباتی کیفیت کے ساتھ ایک بڑی فتح کی سر شاری بھی تھی۔ غلام حیدر نے ملک بہزاد اور امانت خاں کو بھی بلا لیا۔ وہ بھی لوگوں میں پھنسے بڑی بڑی ہانک رہے تھے،جس میں زیادہ تر اپنی بڑ ھکوں کی کہانیاں تھیں۔ سودھا سنگھ،عبدل گجر اور شریف بودلے کے قتل اور اُس کے بعد ان دس سالوں کے دوران ہونے والے تمام واقعات کے بیان کرنے میں اتنا وقت درکار تھا،جس میں غلام حیدر کی حالیہ دعوت کے برابر سو دعوتیں بھی ہوتیں تو ناکافی تھیں۔

غلام حیدر نے اپنے آنے کی خوشی میں کئی سو دیگیں گوشت اور چاولوں کی چڑھا دیں۔ اِن دیگوں کی منت اُس کی والدہ نے اُسی دن مانی تھی،جب غلام حیدر جلال آباد سے نکلا تھا۔ دیگوں کے دہانوں سے بُھنے ہوئے گوشت اور پکتے ہوئے باسمتی کے چاولوں کی بھاپ دماغوں میں چڑھ کر بھوک کی اشتہا کو مزید بڑھا رہی تھی۔ دیگوں کے نیچے جلانے کے لیے کلہاڑوں سے سوکھی لکڑیاں پھاڑی جا رہی تھیں اور آگ کے الاو مسلسل جل رہے تھے۔ غلام حیدر سب سے مل ملا کر ملک بہزاد کے پاس آبیٹھا۔ جہاں امانت خاں بھی بیٹھا تھا۔ ملک بہزاد کافی بوڑھا لگ رہا تھا۔ دس سال کی طویل مدت نے اُس کی صحت پر جو اثرات ڈالے تھے،وہ چہرے کی بڑھتی ہوئی جُھریوں اور چھلکتی ہوئی زردی میں بہت نمایاں تھے۔ مگر باتوں میں وہی دلیری اور سیانا پن اب بھی تھا۔ غلام حیدر جانتا تھا،اگر ملک بہزاد اُس وقت اُس کا ساتھ نہ دیتا تو شاید وہ بُرے طریقے سے ذلت کا منہ دیکھتا۔ پھر اُسے نواب افتخار کا خیال آ گیا،جس کی وجہ سے وہ پورے طور پر سرخ رو ہوا تھا۔ غلام حیدر نے سوچا،حقیقت یہ ہے کہ سب کے تعاون سے ہی سودھا سنگھ کی چتا کو آگ لگی ہے۔

غلام حیدر نے ماحول کے مطابق پورا پنجابی چوہدریوں کا لباس پہنا ہوا تھا۔ کھُسا،لمبے بَر والا سیمابی کڑھائی کا لاچا،سر پر پف والی کُلے دار پگڑی اور ہاتھ میں چھوٹا سا چاندی کا حقہ،جو غلام حیدر کو نواب افتخار کے ماموں سے تحفے میں ملا تھا۔ یہ شان و شوکت تو واقعی غلام حیدر کی ذات کو نوابوں سے کم نہیں دکھاتی تھی اوراِن سب سے بڑھ کر وہ رائفل جو اپنے کارنامے بھری دنیا کی انگریزی سرکار میں دکھا چکی تھی۔ غلام حیدر کے کاندھے پر لٹکی اُس کی چاندی جیسی نال تو ایک موت کی پری کی گردن تھی۔ غلام حیدر نے امانت خاں کی طرف دیکھ کر ملک بہزاد سے کہا،چاچا بہزاد،اصل میں تیرا یہ بھانجا اِس پورے قضیے کا سورما ہے۔ اُس دن یہ نہ ہوتا تو سکھڑے اِتنی آسانی سے قابو میں نہ آتے۔ (امانت خاں نے اپنی مونچھوں کو مزید مروڑا دیا،جو پہلے ہی کھسے کی نوک کی طرح اُوپر کو چڑھی ہوئی تھیں ) مجھے اِس پر فخر ہے۔ خدا نے موقع دیا تومَیں اس کا بدلا ضرور چکاؤں گا۔

ملک بہزاد بھتیجے کی طرف دیکھ کر بولا،غلام حیدر تمھیں پتا ہے،اِس نے پہلا بندہ کس عمر میں قتل کیا ہے؟اُس وقت اس کی عمر صرف تیرہ سال تھی،جب چودھری الہ بخش جندے کا سے اِس نے اپنے باپ کا بدلا لیا تھا اور کیو ں نہ لیتا،تربیت جو ( اپنے سینے پر ہاتھ مار کر ) ملک بہزاد نے کی تھی۔ آگے بھی یاد رکھ،لڑائی بھڑائی میں راہکوں اور مزارعوں سے کام نہیں لیا جاتا۔ بندہ مار کھا جاتا ہے۔

سینکڑوں آدمی اِدھر اُدھر چار پائیوں پر بیٹھے اپنی اپنی گپوں میں لگے تھے۔ اکثر امیر سبحانی سے غلام حیدر کے وائسرائے کے ساتھ گہرے تعلقات کی کہانی بڑی دلچسپی اور مزے لے کر سُن رہے تھے۔ غلام حیدر کو اُ س کی یہ ڈینگیں سُنائی دے رہی تھیں لیکن وہ اُسے اِن کے ہانکنے سے روکنا نہیں چاہتا تھا۔ بلکہ اب وہ چاہتا تھا،لوگوں پر اُس کی دلیری اور تعلقات کا جتنا بھی رعب پڑ جائے،اُسی قدر اچھا ہے اور وہ یہ رعب ملک بہزاد کے سامنے بھی رکھنا چاہتا تھا۔ ویسے بھی ملک بہزاد کو اُس کے تعلقات کا پتہ اُس کی سزا میں معافی اور نواب صاحب کی طرف سے اِتنے بڑے تعاون کے باعث چل ہی گیا تھا۔

چاچا بہزاد،غلام حیدر نے چارپائی پر ملک بہزاد کے پہلو میں آرام سے بیٹھنے کے بعد کہا،الیکشن بہت قریب ہیں۔ نواب افتخار پنجاب مسلم لیگ کے صدر ہیں۔ وہ خود ہمارے علاقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ نواب صاحب نے جو کچھ میرے لیے کیا ہے،اُس کا تقاضا ہے،ہم اُس کا ساتھ ووٹ دینے سے کچھ زیادہ کریں تاکہ اُس کی نمک حلالی کا پورا حق ادا ہو جائے۔ نواب کاجو میرے اُوپر احسان چڑھ گیا ہے،وہ تو شاید عمر بھر نہ اُترے لیکن کم از کم اس علاقے میں تو اُس کے خلاف کوئی بندہ پرچی نہ ڈال سکے۔ اِس کے لیے ہمیں چاہے کسی بھی قسم کی زبردستی کرنی پڑے،مسلم لیگ کو ہر حالت میں پورے علاقے سے الیکشن جتوانا ہے۔ کانگریس اور یونینسٹ کے اُمیدواروں کو پرچیاں دینا تو ایک طرف،جلسہ تک نہیں کرنے دینا۔ اِس کے لیے جتنا خرچہ اور اسلحہ چاہیے،وہ مَیں بندوبست کرنے کو تیار ہوں لیکن نواب صاحب اور جناح صاحب کے آگے ہماری بے عزتی نہ ہو جائے۔

ملک بہزاد غلام حیدر کی بات تحمل سے سنتا رہا، پھر حقے کی نَے کو ہاتھ سے پکڑ کر اُس پر اپنی ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے بولا،چوہدری غلام حیدر،بھلا مسلم لیگ کا ساتھ ہم نہ دیں گے تو کون دے گا؟ یہ کام سودھا سنگھ کی چتا سے زیادہ اوکھا تو نہیں لیکن اِس کے لیے ایک کام کرو،اگر وہ کام ہو گیا تو ہمیں زیادہ تردد کرنے کی ضرورت ہی نہیں،لوگ خود بخود مسلم لیگ کی طرف جھکتے جائیں گے۔
وہ کیا کام ہے؟ غلام حیدر نے پوچھا۔

ایک ریکاٹ لو،جس میں تمھاری دلیری کے سارے واقعے قصے کی شکل میں بھرے ہوں۔ اِس کام کے لیے امیر سبحانی بہت مناسب ہے۔ وہ ریکاٹ الیکشن سے پہلے پورے علاقے میں پہنچا دو اور اپنے خرچے پر سنوا دو۔ جب تیری بہادری،خدا ترسی اور بڑے گھروں تک پہنچ کے قصے لوگ سنیں گے تو وہ خود بخود ہماری طرف دوڑے چلے آئیں گے۔ کچھ تو پہلے ہی تیری بہادر ی کا گُڈا چڑھا ہوا ہے،رہتی سہتی کسر یہ رکاٹ نکال دے گا۔ ابھی دو مہینے الیکشن میں باقی ہیں،امیر سبحانی سے دو چار دن میں یہ کام کرا کے چار پانچ بندے ریکاٹ چلانے والے کرائے پر لے لیتے ہیں اور گاؤں گاؤں پھرا کر سنا دیتے ہیں۔ ویسے بھی لوگوں کو شغل کے لیے بہانہ چاہیے۔ وہ جب امیر سبحانی کی چٹخارے والی زبان سے یہ مزیدار قصہ سنیں گے تو تم خود بخود اُن کا سورما بن جاؤ گے۔ اُس کے بعد ہم دونوں اپنے بندوں کے ساتھ پورے علاقے کا دورہ کریں گے اور باقی کسر دورے میں نکال دیں گے۔ پھر بھی جس جگہ سے نواب کے خلاف ووٹ پڑنے کا خطرہ ہوا،وہاں پرنواب سے کہہ دینا،الیکشن والے دن وہ اپنے بندے ہمارے ساتھ کر دے،نگرانی ہم کریں گے اور وہ پرچیاں اپنے ہاتھوں سے نواب صاحب کی صندوقچی میں ڈالتے جائیں گے۔ جس نے بھی چوں چراں کی،چار متہریں چوتڑوں پر ماریں گے اور سیدھا کر دیں گے۔
بس یہ ٹھیک ہے،غلام حیدر بولا،ہم کل ہی اِس کا انتظام کر لیتے ہیں۔ پہلے ڈیڑھ مہینے میں امیر سبحانی والا ریکارڈچلواتے ہیں۔ آخری پندرہ دنوں میں علاقے کا دورہ شروع کریں گے اور پورے علاقے میں گھوڑے دوڑا کر نقارہ بجا دیں گے۔ کوئی شخص نواب افتخار کے علاوہ کسی کو ووٹ دینے کی جرات نہ کرے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ اپنا ذمہ دار خود ہو گا۔ ہمیں نواب صاحب کے گاؤوں میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو اُس کی ملکیت سے باہر کا علاقہ ہے،وہاں نواب کو چکر لگانے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے۔ اُس کے بعد غلام حیدر ملک بہزاد کو اُٹھا کر ڈیوڑھی میں لے گیا اور جیب سے چاندی کے روپوں کی ایک بھاری تھیلی نکال کر اُس کے حوالے کردی۔

چاچا بہزاد،یہ نواب صاحب کی طرف سے دو ہزار روپے ہیں،آپ یہ رکھ لو اور اِس میں سے کچھ امانت خاں کو دے دینا۔ مَیں اُسے روپے دیتا اچھا نہیں لگتا۔ اِس الیکشن میں سو طرح کے کام ہیں اور کئی طرح کے خرچے ہیں۔ اُن میں کام آئیں گے،مَیں نے تو نواب صاحب سے کہا تھا،اِن کی ضرورت نہیں لیکن اُس نے ضد کر کے ہمیں دے دیے ہیں۔ بہر حال اب نواب صاحب کو پتا چلنا چاہیے،اُس کے دوست حالات کا پھیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

ملک بہزاد جان گیا تھا،غلام حیدر کو نواب نے کوئی پیسے نہیں دیے مگراُس نے پیسوں کی تھیلی پکڑ لی کیونکہ اب اُسے بھی پیسوں کی ضرورت تھی،پھر روز روز مفت میں تو کام نہیں ہو سکتے تھے۔ اور یہ بات غلام حیدربھی جانتا تھا،شاید اب ملک بہزاد پیسوں کے بغیر بے دلی سے چلے،اسی لیے اُس نے یہ چال چل دی تھی۔ غلام حیدر اب زمانے کا پانی پی چکا تھااور جانتا تھا،مایا ایسا ہتھیار ہے،جو فساد کے علاوہ دلوں کی محبت میں اضافہ بھی کرتاہے۔

غلام حیدر اور ملک بہزاد ڈیوڑھی سے نکلے تو کھانا تیار تھا۔ وہ دونوں اور میاں امانت خاں،جانی چھینبا،رفیق پاؤلی اور غلام حیدر کے وہ ساتھی،جو سودھا سنگھ کو مارتے وقت ساتھ تھے،چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ گرم گرم گوشت اور چاولوں کی بھری ہوئی کنالیاں اُن کے سامنے آگئیں تھیں۔ وہ کھانے کے دوران اُس واقعے کو چٹخارے لے کر چُٹکلے بھی چھوڑ رہے تھے اور چاولوں کے مزے بھی۔ اِن کے علاوہ بھی حویلی کا پورا صحن آدمیوں سے بھرا کھانا کھانے اور باتیں کرنے میں مصروف تھا۔

(45)

فضل دین اب چوبیس سال کا سمجھ بوجھ والا ایسا سرکاری بابو بن چکا تھا،جو مولوی کرامت کی تربیت سے ہوتا ہوا جلال آباد،وہاں سے ایف سی کالج لاہور اور اب گورنر ہاؤس لاہور میں پچھلے چھ سال سے سرکار انگریز کا نوکر تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اِتنا سیانا ہو گیا کہ مولوی کرامت سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گیا۔ آنکھوں کو گول شیشوں کی عینک چڑھ گئی تھی،جس نے شخصیت کو اور بھی سنجیدہ کر دیا۔ گورنر ہاوس لاہور میں نوکری کے دو سال بعد ہی ا ُس نے لاہورمیں اپنی جگہ لے کر وہاں مکان بنا لیا۔ تنخواہ تو اتنی نہیں تھی کہ اُس سے گھر کا خرچ چلانے کے بعد مکان بھی خریدا جا سکتا مگرمولوی کرامت نے جلال آباد اپنی نوکری کے دوران مختلف حیلوں سے اِتنی پونجی جمع کر لی تھی جو دیر تک کام آ سکتی تھی۔ ولیم کی وجہ سے فضل دین کو مولوی کرامت کی وفات کے فوری بعد نوکری ملنے سے وہ رقم محفوظ رہی اور خرچ ہونے سے بچ گئی۔ وہ رقم اور کچھ تنخواہ سے بچا کر فضل دین نے لاہور میں مکان بنا لیا،جہاں اب وہ اپنی ماں شریفاں،ساس رحمت بی بی اور اپنی بیوی اور ایک دو سالہ بیٹے نوازالحق کے ساتھ رہنے لگا۔ اپنے باپ مولوی کرامت کی طرح فضل دین بھی کام اور عاجزی کا پیکر تھا۔ اِن خوبیوں کی وجہ سے تمام افسروں کا منظور نظر ہو گیا۔ جس نے جو بھی کام کہا،چاہے آدھی رات تک بیٹھنا پڑتا،فضل دین اُسے مکمل کر کے ہی دم لیتا۔ بلکہ بعض غیر متعلقہ کام بھی اُس کے ذمے لگا دیے جاتے تو وہ اُنہیں بھی ڈیوٹی سمجھ کر پورا کر دیتا۔ اِن سب باتوں کے علاوہ اُس نے اپنے کئی افسروں کو گھر کی بنی ہوئی دیسی گھی کی پنجیری پر لگا دیا،جو فضل دین کی ساس ایسی عمدہ بناتی کہ کسی نے کیا بنائی ہوگی۔ اُس نے ایک سائیکل بھی خرید لی،جس پر دفتر آنے جانے کے علاوہ فضل دین صبح سویرے افسروں کے گھر ناشتہ وغیرہ کا سامان بھی بازار سے خرید کر پہنچاآتا۔ جس کی فہرست اور پیسے فضل دین کو شام ہی دے دیے جاتے تھے۔ اِن کاموں سے فارغ ہو کر وہ سب سے پہلے دفتر میں داخل ہوتا۔ بعض اوقات تو چپڑاسی کے گیٹ کھولنے سے پہلے ہی باہر تھڑے پر بیٹھا ہوتا۔ فضل دین کی بیوی زینت ایسی ہشیار تھی کہ وہ فضل دین کا کھانا نماز پڑھ کے سورج نکلنے سے پہلے ہی تیار کر دیتی۔ فضل دین،جسے بچپن میں مولوی کرامت کی ڈانٹ نے سانجرے اُٹھنے کا خوگر بنا دیا تھا،جب تک نماز پڑھ کر فارغ ہوتا،کھانا تیار ہوتا۔ وہ کھانا کھاتا،سائیکل اُٹھاتا اور اپنے افسر کی دی ہوئی فہرست کے مطابق بازار سے سودا سلف خریدتا اور افسر کے گھر والوں کے اُٹھنے سے پہلے یہ سامان پہنچا دیتا۔ پھر وہیں سے اپنے دفتر آجاتا۔ دوپہر کا کھانا وہ سویرے گھر ہی سے لیے آتا اور شام یا رات کو گھر پر ہی جا کر کھاتا۔ آفس کے مسلمان افسروں اور کلرکوں کو ظہر اور عصر کی نماز بھی پڑھا دیتا۔ اِس لیے گورنرہاؤس میں رفتہ رفتہ مولوی فضل دین کے نام سے معروف ہو گیا۔ آفس کے اکثر لوگ اُس کی اِس وجہ سے بھی عزت کرتے تھے کہ جتنی آئتیں اور سورتیں اُسے یاد تھیں،کسی دوسرے کو اُن کا عشرِ عشیر بھی یاد نہیں تھا۔ اُس نے نماز کی قرات کے دوران لمبی لمبی سورتیں پڑھ کر سب کو مرعوب کردیا تھا۔ کئی دفعہ دفتر میں کام کرنے والے بابوؤں اور افسروں کے باپ دادا کے جنازے بھی پڑھا دیے۔ اُن کو گویا یہ ایک مفت کی سہولت مل گئی تھی کہ ایک تو مولوی ڈھونڈنا نہیں پڑتا تھا،دوسرا عام مولویوں سے فضل دین کا علم کہیں زیادہ تھا۔ بعض اوقات کئی لوگ خوش ہو کر اُسے کپڑے اور روپے پیسے بھی دے دیتے بلکہ رفتہ رفتہ اُس سے نکاح بھی پڑھوانے لگے۔ کئی دفتر والوں کو فضل دین کے علم کا پتا چلا تو اُنہوں نے اُس سے اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کا بھی کام لینا شروع کر دیا۔ اِس عمل میں فضل دین کو مزید آمدنی ہونے لگی۔ آمدنی کے اضافے نے فضل دین کے اندر ایک اور طرح کا جذبہ پیدا کر دیا۔ وہ سوچنے لگا،کسی طرح خود نہیں تو اپنے بیٹے کو ضرور افسر بنائے۔ کیونکہ افسروں کے ٹھاٹھ بابووں سے کہیں زیادہ تھے۔ چنانچہ فضل دین اِس کھوج میں لگ گیا کہ لوگ افسر کیسے بنتے ہیں اور چپکے چپکے ہر ایک سے معلومات لینے لگا۔ کسی نے فضل دین کو کچھ بتایا،کسی نے کچھ۔ پہلے پہل اُس کے ذہن میں یہ بات تھی،افسر صرف انگریز ہی بن سکتا ہے۔ لیکن جب آہستہ آہستہ اُسے پتا چلا،بہت سے مسلمان بھی افسر ہیں تو فضل دین نے اُس کی خبر لینا ضروری سمجھی۔ وہ بہت سے افسروں کے بچوں کو قرآن پڑھا رہا تھا،جس کی وجہ اُن کے والدین کے متعلق بہت سی معلومات اُس کے پاس جمع ہو رہی تھیں۔ اِن معلومات میں ایک بات اُس کی سمجھ میں آ گئی کہ افسر بننے کے لیے انگریزی میں بولنااور امیر بچوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں انگلستان بھی جانا پڑتا ہے،جس کے لیے بہت زیادہ پیسے چاہییں۔ اِس سب کے پیش نظر فضل دین نے بیٹے کے لیے میدان ہموار کرنا شروع کر دیا اور روپے پیسے کو کنجوسی کی حد تک احتیاط سے برتنے لگا۔ دفتر سے ملنے والی تنخواہ ساری کی ساری بچانے کے چکر میں فضل دین نے نماز،جنازے،نکاح،ختم دورد اور افسر کالونیوں میں قرآن پڑھا کر پیسے کمانے کی کاوشیں مزید تیز کر دیں۔ اِس سلسلے میں فضل دین کے گھر باہرسے ختم درود کا کھانا بھی آنے لگا اور ہانڈی کے پیسے مزید بچنے لگے۔ یہ سب کچھ اول تو فضل دین نے اپنے بیٹے کے لیے کیا تھا مگر آہستہ آہستہ اُس کی یہ عادت اپنے بچپن کی افتاد کو غالب کر گئی اور وہ بابو سے زیادہ دوبارہ مولوی بن گیا۔ لیکن دفتر کے کام میں کوتاہی پھر بھی کبھی نہ کرتا۔ البتہ اِتنا ہوا کہ جو دین کے کام وہ دفتر میں بغیر پیسوں کے کرتا تھا،اب پیسوں سے شروع کر دیے،جس میں اُسے کافی زیادہ ترقی ہوئی اور آمدنی میں کئی گنا اضافہ۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پچیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(43)

غلام حیدر اپنی روپوشی کے دن مستقل مزاجی سے گزار رہا تھا اور وطن واپسی کے لیے کسی معجزے کا منتظر تھا۔ اُسے جلال آباد سے نکلے دس سال ہو چکے تھے۔ اُس کے لیے اتنے طویل عرصہ کی روپوشی قید سے کم نہیں تھی مگر کیا کرتا؟ دوسری صورت میں تو فوراًسزائے موت تھی جبکہ غلام حیدر کو ابھی اپنی زندگی عزیز تھی۔ وہ بلاوجہ ریشمی رسہ گلے کی زینت نہیں بنانا چاہتا تھا۔ پہلے ایک دو سال اُسے جلال آبا د اور لاہور بہت یاد آتے رہے۔ اُس کے بعد دل کو ٹھہراؤ آنے لگا اور وہ روپوشی کی جگہ کو گھر تصور کرنے لگا۔ اُس کی اطلاع سوائے نواب ممدوٹ کے کسی کو نہ تھی۔ حتیٰ کہ غلام حیدر کے عزیز ترین رشتہ داروں کو بھی۔ اُس نے اپنی والدہ کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا،جس کے اصرار پر وہیں شادی بھی کر لی اور کچھ نواب صاحب کا خرچہ کچھ اپنی بچی کھچی دولت کو احتیاط سے برت رہا تھا،جو پان چھ کلو سونے اور ایک لاکھ چاندی کے روپوں کی شکل میں تھی۔ یہ دولت غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی ٹھکانے لگا دی تھی۔

یہ جگہ،جہاں غلام حیدر روپوش تھا،پنجاب سے باہر کشمیر کے دور دراز کے علاقے میں تھی۔ جہاں نہ تو سواری جاتی تھی اور نہ ہی پیدل کسی میں طاقت تھی۔ یہ ایسا دشوار گزار علاقہ تھا،جس کے شمال جنوب کی خود غلام حیدر کو بھی خبر نہ تھی۔ اُس رستے کو وہ خود اکیلا بھی طے نہ کر سکتا تھا۔ اُس کا یہ گھر دریا کے کنارے چھوٹی سی بستی میں تھا،جس کے مالکانہ حقوق نواب ممدوٹ کی ماں کے پاس تھے،جو اَب نواب ممدوٹ کو منتقل ہو چکے تھے۔ وہاں کی مقامی آبادی بھی ایک طرح سے نواب ممدوٹ کی رعیت ہی تھی۔ نواب صاحب سال بعد یہاں چکر لگا جاتے تھے اور غلام حیدر کو دلاسے کے ساتھ جلال آباد،غلام حیدر کی رعیت،کیس کی نوعیت اور علاقے کی پوری صورت حال کے بارے میں آگاہ کر جاتے تھے۔ سچ پوچھیں تو اِس تنگی کے پورے عرصے غلام حیدر کی دوستی کا نواب ممدوٹ نے حق ادا کر دیا تھا۔ خرچے پانی کے علاوہ کسی چڑیا کو بھی پتا نہیں چلنے دیا کہ غلام حیدر کہاں ہے۔ اس بات کا غلام حیدر کو دل ہی دل میں احساس تھا اور وہ چاہتا تھا،کسی طرح اِس احسان کا بدلہ اُتارے مگر وہ دن بھی نواب کی کوششوں کے بغیر نہیں آ سکتا تھا۔ زندگی کے دن گزرتے جا رہے تھے اور کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ اِدھر عدالت نے اُس کی غیر حاضری میں اُسے سزائے موت سنادی تھی۔ جس کی اپیل کا وقت بھی مدتیں ہوئیں گزر چکا تھا۔ اِس کے باوجود نواب ممدوٹ غلام حیدر کو مسلسل دلاسے دیے جا رہا تھا کہ وہ اُس کی معافی کی کوشش کر رہا ہے،جس کا وقت بہت قریب ہے۔ ان دلاسوں کی شدت پچھلے ایک سال سے کافی زیادہ ہو گئی تھی۔ غلام حیدر پہلے پہل تو یہی خیال کرتا رہا تھا کہ وہ کبھی جلال آباد واپس نہیں جا سکے گا۔ مگر نواب افتخار ممدوٹ نے جو کچھ صورت حال انگریزوں اور ہندوستان کی بتائی تھی،اُس سے ثابت ہوتا تھا،واقعی کچھ نہ کچھ خدا راہ نکالنے والا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو اُسے یقین ہونے لگتا کہ یہ انقلاب صرف اور صرف اُسی کے لیے برپا ہونے والا ہے۔ جس میں سرا سر دخل اُس کی ماں کی دن رات تہجد کی دعاوں کا ہے۔ اِسی عرصہ میں غلام حیدر کے دو بیٹے بھی پیدا ہو چکے تھے۔ جن میں سے ایک کی عمر چار سال تھی اور ایک دو سال کا تھا۔ رائفل اب بھی غلام حیدر کے پاس تھی،جو اُسے مسلسل وہ دن یاد دلاتی،جس دن اُس نے سردار سودھا سنگھ کا نقشہ برباد کیا تھا۔ وہ اُس واقعے کو یاد کر کے پُر سکون سا ہو جاتا۔ حالانکہ اُسے یہ بالکل خبر نہیں تھی کہ امیر سبحانی نے اُس کی بہادری پر ایک نہایت دلچسپ کمشری تیار لی تھی۔ جسے اُس نے جلال آباداور فیروز پور کے علاوہ دور نزدیک کی دوسری تحصیلوں کے دور دور گاؤں تک بھی پھیلا دیا تھا۔ وہ یہ قصہ لوگوں کو بڑے دلنشیں انداز میں سنا سنا کر اپنی روزی روٹی کا بھی سامان پیدا کرلیتا۔ اُس کمشری کی وجہ سے ہر گھر میں غلام حیدر کا تذکرہ ایک سورمے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ لوگ بڑے فخر سے اُسے اپنی بیٹھکوں اور چوپالوں میں سُنتے۔ غلام حیدر پنجاب کے ان لوگوں کے لیے ایک ایسا اسطیری ہیرو بن گیا،جس کی بندوق امیر حمزہ کی تلوار کی قائم مقام بن چکی تھی۔ اِدھر غلام حیدر سب کچھ سے بے خبر اِس کوہ قاف میں نواب صاحب کی آمد کا شدت سے منتظر رہنے لگا،جسے اب آئے ہوئے دس ماہ ہو چکے تھے۔ اُس کے علاوہ اس جگہ پر کسی دوسری خبر کا پہنچنا جوئے شیر کے پہنچنے سے کم نہیں تھا اور دن تھے کہ عمر کی طرح مسلسل نکلے جا رہے تھے۔ اِس بار اُسے اس لیے بھی انتظار زیادہ تھا کہ جب سے اُس کی آزادی کا گمان یقین میں بدلا تھا،بے چینی اور اضطراب بھی شدید ہو گیا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ خدا نا خواستہ خبر ملتی کہ روپوشی ختم نہیں ہو سکتی تو غلام حیدر اِس جگہ سے نکل کر کہیں اور جانے کی سوچ لیتا۔ بھلے اِس میں اُس کی زندگی کو خطرہ ہی ہو جاتا۔ وہ پنجاب کارخ ضرور کرتا،جہاں دشمن اُس کی بُو کتوں کی طرح اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی سونگھ رہے تھے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جناح صاحب کو نواب و لاز لاہور میں ٹھہرے دو روز ہو گئے تھے اور نواب افتخار صاحب ممدوٹ کی جرات نہیں ہو رہی تھی،وہ جناح کے ساتھ اِس مسئلے پر بات کرے۔ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا،اگر اب بھی جناح سے اس معاملے میں بات نہ کی،پھر یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا کہ اس معاملے میں تھوڑی سی بھی استقامت پیدا کرے،تو کچھ ہی دیر میں سب ٹھیک ہو سکتا تھا۔ چنانچہ آج نواب افتخار نے غلام حیدر کا معاملہ جناح صاحب کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ نواب نے سوچا،نتیجہ جو بھی نکلے،آج کا دن ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اِنہیں خیالوں کے ساتھ اپنی کوٹھی کے وسیع لان میں چہل قدمی میں مصروف تھا۔ دل ہی دل میں وسواس اور خدشوں کو اِدھر سے اُدھر دھکیل رہا تھا اور سوچ رہا تھا،اگر آج ابا جان زندہ ہوتے تو آسانی سے اُن کے ذریعے جناح صاحب کو کہلوا دیتا۔ صبح سفید روشنی دور تک پھیلی تھی۔ یہ ٹھنڈی روشنی اور سفید صبح کتنی حسین ہوجائے،اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

جناح صاحب کچھ ہی دیر میں ناشتہ کر کے باہر نکلنے والے تھے۔ اسی انتظار میں وہ آنے والی گھڑیوں کو دیکھ رہا تھا اور اِس معاملے پر دل ہی دل میں بدل بدل کر اُن سے مکالمہ کرتا،پھر خود ہی جناح کی طرف سے اپنی باتوں کا جواب دے کر مشق کرنے لگا۔ وہ خوب جانتا تھا،جناح کا معاملہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ اگر ایک دفعہ اُنہوں نے،نہیں،میں سر ہلا دیا تو ہر چیز گڑبڑ ہو جائے گی۔ پھر اُنہیں قیامت تک قائل نہیں کیا جا سکے گا۔ لہذا بات کرنے میں کہیں جھول نہ رہ جائے اور جواز جس قدر مضبوط بنا لیا جائے،بہتر ہے۔ اِسی وجہ سے نواب صاحب آج اذان کے وقت ہی اُٹھ کر ٹہلنے لگ گئے تھے اور اب تو دن صاف نکل آیا تھا۔ چنانچہ بات کے ہر پہلو پر غور کرتے ہوئے نواب افتخار اپنے ذہن میں ایک منصوبہ بنا کر تیار ہوچکا تھا اور اب بے چینی سے قائد کے باہر نکلنے کے منتظر تھا۔

یہ سردیوں کے عظیم اور مصروف دن تھے۔ ہلکی ہلکی دھوپ صحن میں پر پھیلا رہی تھی،ایسے محسوس ہو رہاتھا،دھوپ نواب کی منصوبہ بندی کو تقویت دینے میں کافی مفید ہو گی۔ سردی میں اِس طرح کی دھوپ بات کرنے کے جذبے کو بڑھاوا اور تاثیر دیتی ہے۔ نواب ولاز کے اُونچے اور لمبے چھتناروں کے رہائشی پرندے،اِس ساری کشمکش سے بے نیاز بوڑھے درختوں کی شاخوں پر اِدھر سے اُدھر پھدکتے اور پر چہلیں کرتے نظر آ رہے تھے۔ اُن کے پَروں کے بال دھوپ کی روشنی میں کبھی سنہری نظر آتے،کبھی دوسرا رنگ اختیار کر لیتے۔ کافی دیر بے چینی سے ٹہلنے کے بعدنواب صحن میں پڑی صندل کی لکڑی کی کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا اور دل میں منصوبے کی چوہلیں ہر طرح سے ٹھیک بٹھا لیں۔ اِسی طرح بیٹھے،اُنہیں دس منٹ گزر گئے۔ خدا خدا کر کے جناح صاحب باہر آتے دکھائی دیے۔ نواب نے دیکھا اُن کی صحت قدموں کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ لیکن چال میں ایسی طمطراقی موجود تھی،جس کے آگے نواب تو ایک طرف گورنر تک کی شخصیت ماند پڑ جاتی۔ سُرمئی رنگ کے انتہائی نفیس اور صاف ستھرے تھری پیس سوٹ میں دُبلا پتلا جسم پُر وقار چال کے ساتھ سامنے آرہا تھا۔ پاؤں میں سیاہ جوتے ایسے متوازن تسموں سے کَسے ہوئے،اِتنے چمکدار اورداغ دھبے سے مبرا تھے کہ اُن کی چمک میں اندھا بھی اپنا منہ دیکھ سکتا تھا۔ ایسا نہیں کہ جناح کے جوتے اور سوٹ خاص لندن سے بن کر آتے تھے،اِس لیے اُن میں اتنی نفاست تھی۔ بہت سے اُمرا اور لیڈر اپنے پہننے کا سامان خاص لندن ہی میں آڈر سے بنواتے تھے لیکن اُن میں اِس طرح کی نفاست کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی،اُن کے سامنے بڑے سے بڑا پھنے خاں بھی مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کا اندازہ غیر شعوری طور پر نواب ممدوٹ کو بھی تھا۔ جناح سے اُس کا تعلق ایک عرصے سے تھا۔ وہ اُس کا لحاظ بھی رکھتے تھے۔ لیکن اِس قربت کے باوجود نواب ممدوٹ کی جرات نہیں تھی،وہ جناح سے بے تکلف ہونے کی جسارت کرتا۔ یہ جسارت تو لیاقت علی خاں وغیرہ بھی نہیں کر سکتے تھے اور جنہوں نے کی تھی،وہ برصغیر کے مسلمانوں کی نظر میں اِس طرح بے وقار ہو کر رہ گئے گویا اُن کا وجود ہی نہ ہو۔

سگار کے ہلکے ہلکے کش لیتے ہوئے وہ کھلے لان کے مرکز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نواب کو اُن کے عینک کے شیشوں کے اندر سے پپوٹوں کی جھریاں صاف نظر آ رہی تھیں جو چہرے کو اُن کی نقاہت کے باوجود پر شکوہ کر رہی تھیں۔ جناح کو آتے دیکھ کر نواب فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیااور نہایت ادب سے اُن کے استقبال کو آگے بڑھا۔ لان کافی کھلا اور بڑا تھا،اس لیے نواب کو آٹھ دس قدم آگے جانا پڑا۔ جناح کے برابر پہنچا تو ہاتھ ملانے کی بجائے واپسی ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ جناح نے سگار کا دھواں ہوا کی آغوش کو سونپتے ہوئے نہائت آہستگی سے گُڈ مارننگ کہا اور بغیر قدم روکے کُرسیوں کی طرف بڑھتے چلا گیا۔ چند لمحوں بعد جناح نے کُرسی پر بیٹھ کر ایک ٹانگ دوسری کے اُوپر ر کھ لی۔ اِس طرح بیٹھنے سے اُن کے جوتوں کی چمک میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ کیونکہ دھوپ دھند اور غبار سے بے عیب تھی اور جوتے گرد سے۔ نواب افتخار ایسے ایک طرف کھڑا ہو گیا جیسے پریشانی کے آثار چہرے سے نظر آرہے ہوں۔ لیکن جناح نے نواب کے پریشان چہرے کی طرف کچھ توجہ نہیں دی۔ وہ خموشی سے سگار پیتے رہے اور چند لمحے اِسی طرح گزر گئے۔ نواب افتخار جناح کا منتظر تھا کہ کب وہ پنجاب کی صورت حال پر بات کرے اور یہ سُرخ لوہے پر ضرب لگائے۔ پنجاب مسلم لیگ کے لیے سب سے اہم صوبہ تھا،جس میں سکھوں اور ہندؤوں کی بڑی تعداد موجود ہونے کی وجہ سے پیچ در پیچ ہزاروں مسائل تھے۔ اُن کو حل کرنے کے لیے جس آدمی کی سب سے زیادہ اہمیت جناح کی نظر میں تھی،وہ نواب ہی تھا۔ لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ مسلم لیگ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے پنجاب کو نظر انداز کر جائیں اور اُس میں نواب کی مشاورت سے گریز کریں۔ کافی دیر خموش بیٹھے رہنے کے بعد جناح نے آخر سکوت توڑ دیا۔

افتخار،آپ کی طرف سے ابھی تک اپنے علاقے کے بارے میں کوئی صورت حال سامنے نہیں آئی،خموشی کیوں ہے؟
سر پنجاب میں ہر طرف حالات مسلم لیگ کے حق میں ہیں،جیسا کہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن مشرقی پنجاب کے کچھ علاقوں میں پوزیشن ٹھیک نظر نہیں آتی۔ اندیشہ ہے،تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور تحصیل فیروز پور سے ہم الیکشن ہار جائیں گے،مجھے یہی پریشانی اس وقت بھی ہے۔

ایسا کس لیے ہے؟،جناح نے نہایت اطمنان اور بغیر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا،اُن کا یہ رویہ نواب کے بنائے ہوئے منصوبے کے لیے بہتر نہیں تھا۔

فیروزپور کی انتظامیہ کانگرس کے ساتھ مل کر ہمیں شکست سے دوچار کرنا چاہتی ہے ( نواب نے اب کے اپنے چہرے پر ایک کرب ناک پریشانی طاری کرلی) پورے علاقے میں غیر تحریری طور پر ہمیں جلسے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ عوام پر ایک خفیہ دباؤ موجود ہے۔ کانگرس کچھ سکھ سرداروں کے ساتھ مل کر غنڈہ گردی کر رہی ہے۔ مسلمانوں کوبلا جواز ڈرایا جا رہا ہے۔ یہ عوام غریب غربا بے زمین لوگوں پر مشتمل ہیں اور زیادہ تعداد بالواسطہ طور پر سکھ زمینداروں کی رعایا ہیں۔ یہ لوگ ووٹ تو مسلم لیگ کو ہی دینا چاہتے ہیں،لیکن ڈر کی وجہ سے ہو سکتا ہے،الیکشن کے دن گھر وں سے ہی باہر نہ نکلیں۔ بلکہ جو لوگ سکھوں کے مزارع ہیں،اگر اُن پر دباؤ بڑھ گیا تو وہ ہمارے خلاف بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔ اِس لحاظ سے ہم مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

آپ نے پہلے آگاہ نہیں کیا؟ اب جناح نے قدرے بات کو سنجیدہ لیتے ہوئے پوچھا۔ البتہ چہرے پر پریشانی کے آثار پھر بھی ظاہر نہیں ہونے دیے،مگر نواب ایک عرصے کی رفاقت کے بعد سمجھ گیا تھا کہ اُن کے اندر ہل چل ہو چکی ہے۔

سر،کچھ فائدہ نہیں تھا۔ معاملات اور بھی زیادہ خراب ہو جاتے۔ انتظامیہ جس قدر عذراور تاویلات کی ماہر ہے،ہمارا کوئی بھی قدم اُس کے آگے غیر موثر ثابت ہو گا۔ نواب نے ایک اور ضرب لگائی۔

پھر بھی ہمیں اِس کا حل نکالنا ہے( جناح کا اطمنان گڑبڑا گیا تھالیکن وہ بات اب بھی بے پناہ تحمل کے ساتھ کر رہے تھا )وہاں تمھاری شکست کا مطلب مسلم لیگ کی پنجاب میں شکست ہے۔ ہمارے لوگ بددل ہو جائیں گے۔ فیروز پور میں ہر حالت اپنی پوزیشن بہتر کرو۔
جناح کا یہ جملہ ایسا تھا جو نواب افتخار کے لیے اپنی بات منوانے کی بنیاد فراہم کرتا تھا۔ لہذا نواب نے بغیر وقت ضائع کیے،جس کا انتظار وہ کئی مہینوں سے کر رہے تھے،اپنا مدعا سامنے ر کھ دیا،سر میرے کئی آدمیوں اور ذاتی دوستوں پر فیروزپورپولیس کی طرف سے ایک عرصے سے قتل اور ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں۔ جن کے پس پشت گورنمنٹ کی مسلم لیگ دشمنی کار فرما ہے،جو مشرقی پنجاب میں آج کل تو بہت فعال ہو چکی ہے۔ مَیں اُس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہوں۔ مثلاً؟ جناح نے وضاحت چاہی۔

مثلاًمیرا ایک دوست غلام حیدر ہے(نواب نے منصوبے کے مطابق اب کہانی شروع کی) جس نے میرے ساتھ ایچی سن کالج سے بی اے کیا ہے۔ وہ مسلم لیگ کا انتہائی سر گرم رکن ہے۔ اُس پر اُسی دن سے پورے پندرہ بندوں کے قتل کا مقدمہ درج ہے،جس دن اُس نے مسلم لیگ کی رکنیت اختیار کی۔ اِس کی وجہ سے وہ پچھلے دس سال سے روپوش ہے اور اپنے علاقے میں داخل نہیں ہو سکا۔ عدالت اُس کی غیر موجودگی میں اُسے سزائے موت سنا چکی ہے۔ بچاراپتہ نہیں کہاں جان بچاتا پھر رہا ہے۔ اُس کا مال اور جائداد ضبط کی جا چکی ہے۔ پڑھالکھا اور شریف زمیندار ہونے کے ساتھ علاقے میں اُس کی حیثیت ایک بااثر مسلم لیگ کے کار کن کی ہے۔ اُس کی شرافت اور ہر دل عزیزی کی وجہ سے ہزاروں ووٹ اُس کی جیب میں ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں،جب اِتنے اہم شخص کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو پھراُ ن کی کیا حیثیت ہے؟ اُس پر بلاجواز مقدمات درج کر کے فیروزپور میں مسلم لیگ کی تحریک کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سرور بہکاں والے کو مجھ پر سوار کرایا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے،جب تک میری گاڑی میں غلام حیدر نہیں بیٹھ جا تا اور میرے جلسوں میں شریک نہیں ہو جاتا،مجھے الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔ ورنہ ذلت سے دوچار ہونا پڑے گا۔

کیا غلام حیدر کے علاوہ یہ جگہ کوئی اور نہیں پُرکر سکتا؟ جناح نے سگار پینا مسلسل جاری رکھا۔

اول تو ایسا کوئی آدمی وہاں موجود نہیں ہے۔ اگر ہو بھی،تو اِن حالات میں،جبکہ ہم اُن کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کر سکتے،کوئی اور کیونکر رسک لے سکتا ہے؟ نواب نے اب بات فیصلہ کن انداز میں جناح صاحب کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی۔
اوکے دیکھتے ہیں،جناح نے اُٹھتے ہوئے کہا،تم الیکشن کی تیاری کرو،میری تین تاریخ کو مونٹ بیٹن سے ملا قات ہے۔
اتنا کہ کر جناح صاحب دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑے اور مزید ایک لفظ بھی کہنا گوارہ نہ کیا۔

نواب افتخار جناح کے اُٹھتے ہی خود بھی جلدی سے تکریم کے لیے کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور اُسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ جناح کا کہنا،تم الیکشن کی تیاری کرو،کا مطلب تھا،کام اسی فیصد تک ہو چکا ہے اور واقعی وہی کچھ ہوا دو ہفتے بعد ہی جلال آباد تحصیل میں غلام حیدر کی سزا کی معافی اور اُس کی تمام جائداد کی واپسی کا حکم پہنچ گیا۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا،جو فی الحال کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ اِتنے زیادہ قتل کا مقدمہ،جس میں غلام حیدر کے اشتہاری ہونے کے بعد اُس کو سزائے موت ہو چکی تھی،کا آسانی سے ختم ہوجانا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہ بھی انگریز سرکا ر میں۔ بعض لوگوں نے سمجھا،یہ حکومت کی چال ہے اور اُسے روپوشی سے باہر نکالنے کا ایک ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے ہی غلام حیدر سامنے آئے گا،اُسے دھر لیا جائے گا۔ لیکن جب غلام حیدر واقعی دس سال بعد جلال آباد اپنی حویلی میں آیا اور پولیس نے کوئی پوچھ گچھ نہ کی تو لوگوں کو یقین آ گیا کہ امیر سبحانی کی بات تو بھائی سچ ہے۔

ہوا یہ کہ جناح صاحب کو مونٹ بیٹن کے ساتھ ملاقات میں نواب افتخار کی تمام بات یاد تھی۔ اُنہوں نے اِس تشویش کا اظہار لارڈ صاحب سے کر دیا کہ گورنمنٹ پنجاب اُن کے خلاف سازش بُن رہی ہے۔ اِس بات کا لارڈ صاحب نے فوراً انکار کر دیا اور کہا اِس کا ثبوت دیں۔ جناح نے نواب افتخار کے حوالے سے غلام حیدر پر مقدمات کا ذکر کر دیا،جس کی تفصیل بعد میں اُنہوں نے خود معلوم کر لی تھی۔ مونٹ بیٹن نے غلام حیدر کی خوش بختی سے،وہیں بیٹھے جناح صاحب کی تشویش دور کرنے کے لیے گورنر صاحب کو فون کر مارا اور کسی لہر میں آ کر یہ بات کر دی،غلام حیدر پر سے تمام مقدمات فوری طور پر اُٹھا لیے جائیں۔ گورنمنٹ اُس کی سزائے موت معاف کرتے ہوئے اُسے بری کرتی ہے۔ لہذا غلام حیدر ولد شیر حیدر کی سزا کے متعلق فیصلے کی فائل بلا تاخیر اُنہیں دہلی رو انہ کر دی جائے۔ یہ تھی ساری کہانی،جس میں مونٹ بیٹن نے محض جناح صاحب کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے اپنی طرف سے یہ چھوٹا سا کام آناً فاناً کر دیا۔
غلام حیدر جلال آباد میں کچھ ایسی دھوم دھام سے داخل ہوا کہ اُس کے سامنے جلال آباد والوں کی نظر میں نواب افتخار کی کیا اہمیت تھی۔ سفارش کا یہ قدم شاید جناح صاحب کبھی نہ اُٹھا تے لیکن اُن کی نظر میں نواب افتخار کی بھی ایک اہمیت تھی۔ شروع دن سے ہی ممدوٹ خاندان محمد علی جناح کا دست وبازو تھا۔ وہ پنجاب میں سب سے زیادہ اعتبار اُنہیں پر کرتے۔ لاہور آتے تو ممدوٹ ولا زکے سوا کہیں قیام نہ فرماتے۔ حتیٰ کہ فاطمہ جناح بھی اُن کے ہمراہ ہوتیں تو وہ بھی ممدوٹ ولاز میں ٹھہرا کر تیں-انیس سو چھ میں سرشاہنواز خان ممدوٹ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی صدارت سنبھالی تھی اور مسلم لیگ کو مضبوط و فعال بنانے کے لئے انتھک کوششیں کیں اور اپنی دولت خرچ کی تھی۔ یہ اُنہی کی کاوشیں تھیں کہ قرار داد پاکستان ممدوٹ ولازکے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بنائی گئی- منٹوپارک کا جلسہ اور اُس کی کامیابی بھی سرشاہنواز خان ممدوٹ کے سرجاتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو جہاں دُشواری پیش آتی،نواب ممدوٹ اپنی تجوری کی چابیاں اُن کے حوالے کر دیتے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چوبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(42)

بہت دنوں سے ولیم سوچ رہا تھا کہ سرکاری نوکری پر لعنت بھیج دے۔ صرف اوکاڑہ میں رہ کر اپنا ذاتی فارم چلائے،جس پر کیتھی کسی طرح بھی راضی نہ ہو سکتی۔ شاید وہ اُسے بھی نظر انداز کر کے فیصلہ کر بیٹھتا کہ اچانک اُس کی خوش نصیبی سے برطانیہ پر ایک آفت ٹوٹ پڑی اور وہ تھی جنگ عظیم دوم۔ ہٹلر کی حکومت نے مشرقی یورپ میں ایک وسیع اور جدید سلطنت “لونگ اسپیس” (لیبن سروم) کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ اُس نے یہ خیال اپنے لوگوں پر واضح کیا تو جرمن لیڈروں نے یورپ پر جرمنی کے تسلط کیلئے جنگ کو ضروری قرار دے دیا۔ سویت یونین کی غیر جانبداری حاصل کرنے کے بعد جرمنی نے یکم ستمبرانیس سو انتالیس میں پولنڈ پر حملہ کرکے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کر دیا۔ اِس کھلم کھلا جارحیت کو روکنے کے لیے برطانیہ اور فرانس نے رد عمل کے طور پر تین ستمبر کو جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اُدھر ایک ماہ کے اندر جرمن نے سویت فوجوں کے اتحاد سے پولنڈ کو شکست دے دی۔ پولینڈ جرمنی اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب اِس سب کچھ سے لا تعلق ولیم پنجاب کے چیف سیکرٹری ہاؤس لاہور میں کُھڈے لائن لگا،فائلوں کے اُوپر سے مکھیاں اُڑا رہا تھا۔ وہ اِس جنگ کی خبریں تو مسلسل سُن رہا تھا لیکن ابھی جنگ کی آواز براہ راست ہندوستان نہیں پہنچی تھی۔ اِس لیے اُسے اس سب کچھ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ویسے بھی کچھ وقت تک عارضی سکون ہو چکا تھا،جونو اپریل انیس سو چالیس تک جاری رہا اور اُس وقت ختم ہوگیا،جب جرمن فوجوں نے پھر ایک دفعہ ناروے اور ڈنمارک پر حملہ کردیا۔ یہی وہ وقت تھا جب بر طانیہ کے کان پر دوبارہ جوں رینگی اور وہ اِس کھجلی پر چونکا۔ اُدھر جنگ کا آغاز ہو ااِدھر برطانوی کالونیوں میں انگریزوں اور مقامیوں کو افسریاں پلیٹوں میں بکنے لگیں۔ اِسی ریلے میں کئی معتوبوں کی غلطیاں بھی تھوڑی بہت سرزنش کے بعد بخش دی گئیں۔ چنانچہ ولیم کی بھی سنُ لی گئی اور اُس کی خدمات دہلی ڈویژن کے سپرد کر دیں۔ جہا ں انہیں بطور ڈپٹی کمشنر ضلع روہتک بھیج دیا۔

ولیم کا اتنی جلدی اچانک ڈپٹی کمشنر بن جانا نہایت اعزاز کا باعث تھا اور کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ کجا لاہورمیں پندرہ ماہ سے مکھیاں مارنے کاکام اور کجاایک دم پورے ضلع کا وائسرائے۔ آڈر ملنے کے بعد اُس نے فوراً کیتھی کو اطلاع دی اور کہا،محترمہ جلدی ضلع کی میم بننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ کیتھی نے یہ سنتے ہی اوکاڑہ میں اپنی نیابت کے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کر دی۔ سب سے پہلے اُس نے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر ملنے والے ملازمین کی لسٹ تیار کی۔ جس کی تعداد پینتیس کے لگ بھگ تھی۔ اِن میں خاص کر،سائیس،دھوبی،خانساماں،بھنگی،باورچی،مالی،گھسیارا،چڑی مار، قصاب، مچھیرا، ماشکی، مالشیا،حلوائی،سگ پرور،بٹیر باز،مرغ باز،اور اسی طرح کے نجانے کیا کیا الا بلا نوکروں کی پلٹنیں تھیں۔ یہ تو باقاعدہ نجی ملازم تھے۔ ورنہ تو اب پورا ضلع ملازم ہونے والا تھااور کسی کی کیا جرات کہ اُن کی مرضی کے خلاف پر بھی مارتا۔ ولیم اِسی خوشی میں نولکھی کوٹھی پر پہنچا اور سب دوستوں کو بلا کر ایک لمبی دعوت سے سر فراز کیا۔ جانسن صاحب نے (جو ایک سال پہلے ریٹائرڈ ہو چکے تھے) اپنے تجربات کی تھکادینے والی کہانیاں سنائیں اور ایسی ایسی نصیحتوں کی زنبیلیں کھولیں،جو اگرچہ بوسیدہ ہو چکیں تھیں،پھر بھی ولیم کو سننی پڑیں کہ یہ کچھ دیر کی کوفت اُس کے والد کے لیے طمانیت کاباعث تھی۔ جانسن کے لیے ویسے بھی یہ ایک ایسی خوشی تھی،جس کا نہ ملنا ایک طرح کی بے توقیری تھی،کہ پشت در پشت ملنے والی کمشنری اگر کسی جگہ رک جاتی تو خاندان کو بٹہ لگ جاتا۔ اِس لیے جانسن صاحب ولیم سے بھی زیادہ پُرجوش تھے اور دوستوں کو اپنے خاندان کے قصے لطف لے لے کر سنا رہے تھے۔ اگر ولیم کے ڈپٹی کمشنر بننے کی کہانی اندر سے کھولی جاتی تو کہیں جانسن صاحب کی بار آور کوششیں درمیان میں موجود تھیں۔ دعوت میں پادریوں سے لے کرڈپٹی کمشنروں تک سب جمع تھے،جنہیں جانسن صاحب کو اپنا نام و نامود دکھانا منظور تھا۔ دعوت کے بعد ولیم بلا تاخیر افسرانہ اعزاز کے ساتھ روہتک کی طرف روانہ ہوگیا اور سیدھا ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں جا کر دم لیے۔ جو چنددن پہلے اُس کے لیے خالی کر کے،اُس میں ولیم کا ذاتی سامان لگا دیا گیا تھا۔

یہ بنگلہ ایک طرح کا گورنر ہاؤس ہی تھا۔ وہ بڑی بڑی پیلے رنگوں کی دیواریں اور دیواروں کے اندر سفید انڈے کی طرح کا اونچا سا بنگلہ،جس کے بے شمار کمرے،مہمان خانے،ڈائیننگ روم،ڈرائینگ روم اور دوسرے کمرے تھے۔ اِن کے علاوہ کئی کئی چبوترے،سہ دریاں،بارہ دریاں اور شش دریاں سفید رنگوں میں ایک کے بعد ایک بنگلے کے کھلے صحنوں میں ہنس رہی تھیں۔ یہ سب تو ایک طرف،ولیم بنگلے میں اُترا تو اُس کا استقبال کرنے کے لیے آدھا شہر وہاں موجود تھا۔ دو ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،ضلع کی پانچوں تحصیلوں کے تحصیلدار،نائب تحصیلدار،پولیس کے افسر اور نہ جانے کس کس شعبے کے لوگ تھے۔ ان سرکاری لوگوں کے علاوہ شہر کے بڑے اور امیر لوگوں کی الگ کھیپ سلام کرنے کے لیے پہنچی ہوئی تھی۔ ولیم نے ان سینکڑوں افراد کے مجمعے کو دیکھا،جو اُسی کی خاطر کھڑے تھے،تو چند لمحوں کے لیے اُس کے اندر رعونت نے بھرپور پھریری لی۔ لیکن اِس طرح کے معمولات وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ دیکھ چکا تھا،اِس لیے زیادہ فرق نہ پڑا اور وہ پہلی حالت میں آ گیا۔ لوگ بہت زیادہ تھے لیکن ولیم نے ترتیب میں کھڑے ہوئے آٹھ دس سے ہی ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا۔ اسی طرح ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر جان میکن نے بھی چند لوگوں کا تعارف کرا کے باقی کو نظر انداز کر دیا۔ وہ جان گیا تھا،صاحب اِس وقت تھکے ہوئے ہیں اور جلد ی مجمع اپنے سے دور کر دینا چاہتے ہیں۔

روہتک میں کافی عرصے سے ڈپٹی کمشنر کی جگہ پر اسسٹنٹ کمشنر ہی کام کر رہا تھا۔ یہاں کسی کو اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی اور کام بخوبی چل رہا تھا لیکن اچانک جنگ کی وجہ سے ہنگامی حالات پیدا ہوئے تو اس آسامی کو پُر کرنے کا خیال آ گیا اور قرعہ ولیم کے نام نکل آیا۔

تعارف کے بعد ولیم نے جلد ہی سب کو رخصت کر دیا تاکہ دوسرے دن مکمل آزادی کے ساتھ اگلے اقدام کا بندوبست کیا جائے۔
دوسرے دن ولیم ڈپٹی کمشنر ہاؤس پہنچا تو عمارت کو اندازے کے مطابق نہایت پُر شکوہ پایا۔ دور تک بلندو بالا کمرے ہی کمرے اور کھلی راہداریاں۔ ولیم کا اپنا کمرہ جلال آباد والے سے دگنا تھا۔ انتظامیہ کا پروٹوکول بھی کمال تھا۔ مگر اِس کے باوجود ولیم کو یہاں کچھ خلا سا محسوس ہو رہا تھا۔ جس کی فی الحال نشان دہی تو نہیں ہو رہی تھی لیکن کچھ ایسا ضرور تھا،جسے ولیم سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ یہاں اُس کا،پی اے،ایک راجپوت رانا دھنپت رائے تھا،جو شائستہ اور صاف ستھرا پچاس سال کی عمر کے لگ بھگ کا شخص تھا۔ اُس کی مونچھیں ضرور تھیں لیکن ایسی،جس سے ولیم کو کسی قسم کی تکلیف پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ سر پر کُلے دار پگڑی نے مو نچھوں کو مزید بارعب بنا رکھا تھا۔ رائے دھنپت صاحب اردو کے ساتھ انگلش بھی اچھی طرح سمجھتا اور بولتا تھا۔ ولیم کو پہلے دن ہی اُس کی لیاقت کا اندازہ ہو گیا۔ اُس نے اُسے جتنی ہدایات دیں،اُن پر اس قدر پھرتی سے عمل کیا کہ خود ولیم بھی دنگ رہ گیا۔

ولیم نے دوسرے روز ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنرز اورتمام تحصیلداروں کا اجلاس طلب کیا اور کام کے آغاز کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے لگا۔ اُسے ایک بات کا اطمنان تھا کہ اب اُسے بہت سے کاموں میں آزادی ہوگی۔ وہ اُن کے بارے میں کسی کو جواب دہ نہیں ہو گا۔ وہ بے دھڑک اُن کو نبٹانے کی طرف توجہ دے گا اور جو کام اپروول کے محتاج ہوئے،وہ آہستہ آہستہ بھی آگے بڑھتے رہے تو مضائقہ نہیں۔ ولیم نے پہلے ہی اجلاس میں اپنی گزارشات کی وضاحت کردی اور تمام تحصیلوں کے ذمہ دار افسروں پر واضع کر دیا کہ اُسے صرف تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول تعلیم کے بہتر نتائج،دوم معاشی ذرائع کا پیدا کرنا اور سوم گورنمنٹ کے لیے خراج کے نظام کو مزید بہتر بنانا۔ یہ اُن کی پہلی ترجیحات ہیں۔ اِن کے علاوہ تمام کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضلعی گزٹ کے مطابق،جس کا مطالعہ کئی روز پہلے ولیم کر چکا تھا،روہتک میں امن و امان کے حوالے سے زیادہ خرابی نہیں تھی۔ لوگوں میں اکڑ پھکڑ کافی تھی لیکن بڑے پیمانے پر شر پسندی پھیلانے کی جرات ابھی تک پیدا نہ ہو سکی تھی،نہ ہی آگے توقع تھی۔ اس لیے ولیم نے اس معاملے پر بات کرنے کی زحمت نہیں کی اور ہدایات دے کر اجلاس ختم کر دیا۔ آفیسرز،جنہیں ابھی تک روہتک میں کسی ڈپٹی کمشنر نے ڈیل نہیں کیا تھا،کو بھی ولیم کے انداز گفتگوسے واضح ہو گیا کہ اب بڑے افسر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میٹنگ کے انجام پر اُنہوں نے بھی کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ولیم کو محسوس ہوا،وہ جو سوچ رہا تھا،اتنا آسان نہیں تھا۔ اب اور طرح کی مجبوریاں سامنے دکھائی دینے لگیں۔ اُسے اس بات کا ندازہ نہیں تھا کہ حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔ اچانک مسلم لیگ اور کانگرس کے جلسے چل نکلے تھے،جن سے اُسے پہلے ہی بہت زیادہ کوفت ہوتی تھی۔ وہ اُن کو روکنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا تھا۔ کئی بار دفعہ چوالیس کا نفاذ کر کے اس طرح کے جلسوں کا ناطقہ بند بھی کیا َلیکن صاحبانِ جلسہ کہیں اُوپر سے احکامات حاصل کر کے لے آتے اورآزادی کی بکواس شروع کر دیتے۔ ولیم کو بعض اوقات ان سے وحشت محسوس ہوتی۔ ولیم کو اس بات پر شدید غصہ آتا کہ ان کے بڑے اصل میں انگریزوں کو نکال کر اپنی حکومت چاہتے ہیں۔ اُس کے ذہن میں طرح طرح کے اندیشے آنے شروع ہو جاتے۔ وہ سوچتا،کیایہ ہندوستانی اُسے بھی نکال دیں گے؟ حالا نکہ اُن کے خاندان کو یہاں پورے ڈیڑھ سو سال ہوگئے ہیں۔ بعض اوقات ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے کہتا،یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ جو حکومت اتنی جدو جہد اور طاقت سے حاصل کی گئی ہے،اُسے انگریز اتنی آسانی سے اِن گنواروں کے سپرد نہیں کریں گے۔ جن کے پاس نہ تعلیم ہے اور نہ حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ وہ خیال کرتا،اصل میں یہ سب کچھ جنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان خیالات اور اندیشوں کے باوجود ولیم اپنے تئیں کچھ نہ کچھ کرنے میں جتا رہا اور کافی سارے نتائج حاصل بھی کر لیے مگر چند مہینوں میں حالات کے پیشِ نظر ولیم کو اندازہ ہو گیا کہ اُس کے جنگ کے متعلق اندازے ٹھیک نہیں تھے۔ وہ طول پکڑتی جارہی تھی۔ اِدھر اُس کے اختیار ات کی کڑیاں آہستہ آہستہ ٹوٹتی جا رہی تھیں۔ مقامی اور کالوں کی جراتیں بڑھ رہی تھیں اور بعض احکامات پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ عمل کر نے پر مجبور تھا،جو ہندوستان کی آزادی اور کالوں کے وافر حقوق کے متعلق ہوتے۔ ولیم نے حالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا تو اُسے لگا،اُوپر کی سطح پر کہیں گڑ بڑ ہو چکی ہے۔ اُس کی بھیجی ہوئی فائلیں یا تو بغیر اپروول کے واپس آ رہی تھیں یا اُن میں بلا وجہ کی تاخیر ہو رہی تھی۔ کبھی بجٹ کا بہانہ کر کے،کبھی کہ دیا جاتا،حکومت کی اِس کام میں ترجیح نہیں ہے۔ پھروہ جلد ہی بہت کچھ جان گیا اوراُسے پتا چل گیا کہ اس وقت پورے ہندوستان کی انتظامیہ اِسی طرح چل رہی ہے۔ جس میں اُس کا کام بھی عبوری سطح کا اور ہنگامی بنیادوں پر ہو گیا تھا۔ اس حالت میں اُسے ایک سال گزر گیا۔ اس دوران کام کی بڑھتی ہوئی یکسانیت نے اُس کی طبیعت کو تباہ کر دیا۔ اِن حالات میں کیتھی اُسے اِدھر اُدھر سے ہر وقت دلاسا دینے میں لگی رہتی اور پل پل کا خیال رکھتی۔ لیکن اسے کمشنری کی جتنی خوشی ہونی چاہیے تھی، وہ سب غارت ہو کے رہ گئی۔ اِس وقت کمشنر ی کے اختیارات اُس کے لیے ایک ایسا خواب ہو گئے تھے،جن میں مناظر تو نظر آتے ہیں لیکن خواب دیکھنے والا اُن مناظر کو نہ چھو سکتا ہے،نہ اُن سے لذت حاصل کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ ایسی گائے کا دودھ تھا،جو جنگ کی وجہ سے ہر کس و ناکس کو پلا دیا گیا۔ دوئم،اِس شاہانہ عہدے کے ساتھ کچھ ایسی ہدایات نتھی کردی گئیں،جو کسی طرح بھی ڈپٹی کمشنر جیسی پُر وقار ذات کے لیے جائزنہیں تھیں۔ بجائے اِس کے،کہ ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع میں بلا شرکتِ غیرے،جیسا کہ وہ سوچ رہا تھا، حکمرانی کرے، اُسے بریگیڈیروں اور جنرلوں کی ہدایات پہنچنا شروع ہو گئیں اور سخت سے سخت حکم وصول ہونے لگے۔ مثلاً ضلع سے جتنے جوان ہو سکیں،فوج میں بھرتی کے لیے بھیجے جائیں۔ غلہ کو ذخیرہ کر کے اُس کا حساب پہنچایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ خراج اور مالیہ وصول کیا جائے۔ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ بعض اوقات تو یہ حکم نامے کمشنر آفس سے آنے کے بجائے ڈائریکٹ ہی وصول ہونے لگے،جو ولیم کے لیے اس قدر آزار کا باعث تھے کہ اُسے اپنا یہ عہدہ ایک چپڑاسی سے بھی بد تر معلوم ہونے لگتا۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر وہ کس کے ماتحت ہے؟ آیا اپنے ڈویژن آفس کی سول انتظامیہ کا،جہاں سے اصولی طور پر اُسے تنخواہ ملتی ہے یا پھر میرٹھ چھاونی کا،جہاں کے فوجیوں کی حیثیت اُس کے سامنے ایک گنوار زبان استعمال کرنے والے جانوروں کی تھی۔ ولیم کبھی کبھی خیال کرتا،اِس سے تو بہتر اُس کے وہی دن تھے،جب وہ جلال آباد میں اسسٹنٹ کمشنر تھا اور ہیلے کا ماتحت تھا۔ اُسے ہیلے،اپنے باپ اور اُن ڈپٹی کمشنروں پر رشک آنے لگا،جووقار کو تباہ کردینے والی جنگ سے پہلے ریٹائر ہوکر عزت بچا چکے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے سوچتا کہ مصیبت کے دن تھوڑے ہی ہیں،گزر جائیں گے تو اُن کی افسری کی شان میں بھی پہلے والی چمک دمک آجائے گی۔ مگر اُسے پھر آزادی کے متوالوں کے بے ڈھنگے مطالبوں کی یاد آجاتی جو روز بروز بڑھ رہے تھے اور منظور بھی ہورہے تھے۔

ایک طرف درج بالا بکواسیات تھیں،دوسری طرف روہتک کا ماحول ولیم کے لیے انتہائی اذیت ناک تھا۔ اُسے روہتک میں ڈیڑھ سال کے قریب گزر چکا تھا۔ یہ عرصہ اُس کی طبیعت کو اچاٹ کر دینے کے لیے ہر دن نئی بیزاری لے کر آتا اور ولیم کی نحوست میں اضافہ کر دیتا۔ یہ ضلع دہلی کے مغرب میں چالیس یا پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خشک شہر تھا،جس کے مضافات میں مٹی کے ٹیلے،عک اور ببول کی جھاڑیاں حد نظر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ شہر کے ساتھ ساتھ پختہ اینٹیں بنانے والے بھٹوں کی کثرت تھی۔ اُن کی چمنیوں سے اُٹھنے والا دھواں ہر وقت شہر پر سایے بلند کیے رکھتا۔ اُن سایوں کے بیچ اُڑتی ہوئی چیلیں چکر کاٹتی رہتیں،کبھی بلندی پر اور کبھی بالکل چھتوں کے اُوپر۔ شہر کی عمارتیں زیادہ تر پکی اینٹوں کی اور پُرانے دور کی یاد دلانے والی تھیں۔ اُن پر کام اگرچہ بہت نفاست سے کیا گیا تھا لیکن اب وہ اکثر جگہ سے خراب ہو رہا تھا۔ شہر کی قریباً ساری آبادی نہ جانے کون سی زبان بولتی تھی اور کس کلچر سے تعلق رکھتی تھی۔ راجستان سے روز کی اُٹھنے والی آندھیوں نے اُس پر مزید کام دکھایا تھا۔ آئے دن شہر کے درو دیوار گرد و غبار کی تہوں میں دب جاتے۔ مضافات میں اُڑتی ہوئی ریت اور دھول نے ہر چیز کو مٹیالا بنا دیا تھا۔ لوگوں کے چہرے بھی اسی مٹی،خشکی اور دھول کے باعث اتنے بے رونق ہو چکے تھے کہ ولیم کو جلال آباد کے لوگ اِن کے مقابلے میں نہایت خوبصورت لگنے لگے۔ کڑوا تمباکو اِن کی مرغوب غذا تھی۔ آٹھوں پہر میں کوئی لمحہ ہو گا کہ اُن کے بوڑھے،جوان حتیٰ کہ بچے بھی اس لعنت میں گرفتار نہ ہوں۔ تمباکو کے کثیف اور مسلسل دھویں سے اُن کی مونچھیں اور داڑھیاں بھوری،زرد اور بدبو دار ہو چکی تھیں اور وہ اُسی ابکائی پیدا کر دینے والے رنگوں سے مانوس تھے۔ یہ لوگ نہایت سوکھے سڑے،لمبی مونچھوں،چھوٹی قامتوں،باریک آنکھوں اور چھوٹے چھوٹے پاؤں کے ساتھ دھوپ اُگاتی سڑکوں پر آتے جاتے نظر آ تے۔ بعض دفعہ ولیم اِن کے رنگ برنگے چیتھڑوں اور ٹاکیوں سے سیے گئے بستروں کے بارے میں غور کر کے کانپ جاتا،جو اُس نے دیکھے تو نہیں تھے،لیکن اِن لوگوں کی ظاہری حالت سے ہی اُن بستروں کی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ جن میں دوپہر کی گرمی نکلنے تک پڑے سوتے یہ لوگ پیٹ کی بودار کثیف ہوائیں چھوڑتے رہتے اور اُن کو خود ہی سونگھتے رہتے۔ ولیم کو اُن کی دھوتیوں پر ہرگز اعتراض نہ ہوتا،اگر وہ اصل میں دھوتیاں ہی ہوتیں۔ وہ تو محض بے کار چیتھڑے تھے،جو ہمیشہ اُن کے گھٹنوں سے اُوپر اُٹھے رہتے۔ اُن چیتھڑو ں کا ایک پلو نیچے سے کھینچ کر مزید پیچھے گانڈ کی طرف سے باندھ لیاجاتا،جو ایک کچھا سا بن کر رہ جاتا اور وہ رانگڑ اُسی کچھے میں ننگادندناتا پھرتا۔ بعض اوقات وہ کچھا اتنا چھوٹا ہوتا کہ اُس کے سُکڑے ہوئے سیاہ چوتڑ صاف نظر آتے۔ ولیم یقیناً اُن کا لباس،عادات اور زبان بدلنے پر قادر نہ تھا لیکن وہ چاہتا تھا،کم از کم جس سے بھی اُس کی ملاقات ناگزیر ہو،وہ انسانوں کی حالت میں اُس کے پاس آئے۔ ولیم نے اپنے عملے کو ملاقات کے لیے ضروری ہدایات جاری کر دیں کہ ملاقاتی اپنے لباس میں پاجامہ اور کُرتہ کا اہتمام کرے۔ اسی طرح دیسی چمڑے کے جوتوں کی بجائے انگلش جوتے پہن کر آئے یاکم از کم جوتوں کے اندر اُس کے پاؤں سرسوں کے تیل اور مٹی میں غچ غچ نہ ہوں،نہ جوتوں کے چمڑے سے چرر چرر کی آواز پیدا ہو۔

لوگوں کی بد شکلی کے علاوہ ولیم کو روہتک کے مضافات سے بھی وحشت آنے لگی۔ کوسوں تک سبزے کی ایک پتی بھی نہیں تھی۔ نہ کوئی نہر اور پانی کا انتظام نظر آ رہا تھا۔ کچھ تھا،تو تمباکو کی سر سر ی فصلیں،جو اِن لوگو ں کے رزق کا واحد سہارا تھیں۔ تمباکو کی اسی بہتات کی وجہ سے ہر شخص کے ہاتھ میں اپنا ایک حقہ تھا،جسے وہ ہر وقت گُڑ گڑاتا رہتا۔ شہر کی منڈی معمول کے مطابق ہندووں کے ہاتھ میں تھی۔ مسلمان یہاں بھی محض حقے پر گزارہ کیے ہوئے تھے۔ کلچر دونوں قوموں کا ایک ہی تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ جو مسلمان تھے،اُن میں مسلمانوں والی کوئی بات نہیں تھی،سوائے مفلسی اور غربت کے۔ جسے دور کرنا ولیم کے بس سے باہر تھا۔ یہاں اِتنے مسائل اور حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی دیکھ کر ولیم کا دل چھوٹ چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا،جتنی جلدی ہوسکے،اُس کو دہلی کے مضافات سے نکال کر جالندھر،لاہور یا ملتان ڈویژن کے حوالے کر دیا جائے مگر جو کام کرنے کے لیے اُسے یہاں تعینات کیا گیا تھا،اُس کا ٹارگٹ حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ جس کے لیے ولیم نے بہر حال اپنی سی کوشش ضرور کی اور اُس میں کامیاب بھی ہوا۔ سچ پوچھیں تو یہ ضلع اِس کام کے لیے ویسے بھی مناسب ترین تھا۔ وسطی پنجاب یا فیروز پور سے لوگوں کوبرطانوی فوج میں لے جانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہاں لوگوں کی روٹی پوری ہو رہی تھی۔ دریاؤں کے ارد گرد بیلے،چراگاہیں اور فصلیں اُن لوگوں کی زیادہ نہ سہی،بنیادی ضروریات پوری کر رہی تھیں۔ جبکہ روہتک اور راجستان جیسے علاقوں میں بھوک اور ریت کے بگولوں کے سوا کچھ نہیں تھا،یاپھر مونچھیں تھیں کہ اُگی چلی جاتی تھیں۔ چنانچہ ولیم کی طرف سے فوج میں بھرتی کے اعلان کے ساتھ ہی ہزاروں لوگ بھاگے چلے آئے۔ جنہوں نے انگریزی وقار کو میدانِ جنگ میں مزید برقرار رکھنے کے لیے اپنی مونچھوں کے تاؤ اور زیادہ کر دیے تھے۔ ایک ایک دن میں دو دوسو لوگوں کی بھرتی ہونے لگی اور چند مہینوں میں ہزاروں لوگوں کو انگریزی ٹوپیاں پہنا کر محاذوں پر بھیجنے کے لیے ریوڑوں کے ریوڑ تیار کر لیے گئے۔ یہ اتنی بڑی اور شاندار کامیابی صرف جہلم،روہتک یا راجستان ہی سے حاصل ہوئی تھی۔ باقی تمام اضلاع میں اتنی نفری کسی بھی علاقے سے نہیں مل سکی تھی۔

اِدھر ولیم کے یہ حالات تھے،اُدھرجرمنی کی حوصلہ افزائی پرسویت یونین نے جون انیس سو چالیس میں بالٹک ریاستوں پر قبضہ کرکے اُنہیں باقاعدہ طور پر اپنے ملک کا حصہ بنا لیا۔ اٹلی،جو اتحاد (جرمنی کے حلیف ممالک) کا رُکن تھا،وہ بھی اس جنگ میں شریک ہوگیا۔ تیرہ اگست سے اکتیس اکتوبرانیس سو چالیس تک جرمنی نے انگلستان کے خلاف ہوائی جنگ شروع کی اور اْس میں شکست کھائی۔ اِس جنگ کو بیٹل آف برٹن یعنی برطانیہ کی لڑائی کہا جاتا ہے۔

مئی انیس سو بیالیس میں جب ولیم روہتک سے ہندوستانی راجپوتوں کو فوجی بھرتی کروانے میں لگا ہوا تھا،برطانوی شاہی فضائیہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پہلی بار جرمنی کے اندرجنگ کرتے ہوئے ہزاروں بمبار جہازوں سے بمباری شروع کردی اور جرمنی کے بیشتر شہری علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ انیس سو بیالیس کے اختتام اور انیس سو تینتالیس کے شروع میں اتحادی فوجوں نے شمالی افریقہ میں سلسلہ وار زبردست فوجی کامیابیاں حاصل کیں۔ افریقہ میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ نفری پر مشتمل مخالف فوجوں کے اتحاد نے مئی انیس سو تینتالیس میں ہتھیار ڈال دیا۔

اِدھر ولیم کا تبادلہ کانگرا کر دیا گیا،جہاں اُسے با لکل اِنہی حالات کا سامنا ہوا جیسا روہتک میں چل رہے تھے۔ یہاں ولیم نے ایک سال گزارا اور اگلے سال اُسے ریاست کپور تھلہ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر متعین کر دیا۔ یہاں تک کہ اگست انیس سو پینتالیس میں برلن میں جرمنی کے ہتھیار ڈال دینے پر جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دن گنے جا چکے تھے۔ جس کا احساس ولیم کو ایک سال پہلے ہوگیا تھا مگر ابھی شاید اُسے یقین تھا کہ یہ کام کہیں اُس کی ریٹائر منٹ کے قریب جا کر ہو سکے گا۔ اُنہی دنوں ولیم کا تبادلہ بطور ڈپٹی کمشنرگُرداسپور کردیا گیا اور ہزار کوششوں کے باوجود اُسے منٹگمری نہیں بھیجا گیا۔ اِس بارے میں ولیم نے نہایت اہم سفارشیں بھی کروائیں۔ لیکن جب اُسے اس معاملے میں شدید ناکامی ہوئی تو وہ سوچنے لگا کہ منٹگمری میں اُس کی پوسٹنگ ایک خواب ہی ہو کر رہ جائے گی کیونکہ معاملات ہر دن مزید بگڑتے جا رہے تھے۔ ان حالات میں ولیم کی ذہنی کیفیت اتنی تبدیل ہو گئی کہ قریب کے جاننے والوں کو اُس پر شبہ ہونے لگا،کہیں پاگل نہ ہو جائے۔ بات بات پر اُلجھنا،احکام دیتے ہوئے تحمل کو چھوڑ بیٹھنا اور بعض اوقات سامنے والے کو گالی بھی دے دینا ولیم کی عادات میں شامل ہو رہا تھا۔ اِس بات کی سب سے زیادہ تشویش کیتھی کو تھی،جو سب سے زیادہ یہ عذاب جھیل رہی تھی مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اُسے اس بات کا شدید احساس تھا کہ یہ سب کچھ ولیم سے مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر ہو رہا ہے۔ ولیم کے ہاتھ سے اختیارات کی ڈور روز بروز نکلتی جا رہی تھی اورگورنمنٹ کی طرف سے وصول ہونے والے ہرنئے حکم پر اُس کے چڑچڑے پن میں اضافہ ہو جاتا،جو کئی دن تک بر قرار رہتا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا،ہٹلر نے گورنمنٹ بر طانیہ کی ہڈیوں کا تمام گودا کھینچ لیا ہے اور اب اُن کے پاس نو آبادیات میں اپنا اقتدار قائم رکھنے کی نہ طاقت ہے اور نہ ہی جواز۔ خاص کر ہندوستان کی حالت اس معاملے میں بہت مختلف تھی۔ اتنے بڑے اور وسیع خطے کو کنٹرول کرنے کے لیے اُن کے پاس وقت بھی نہیں بچا تھا اور نہ وسائل۔ کیونکہ سوسال میں اکٹھی کی گئی دولت پانچ ہی سالوں میں ٹھکانے لگ گئی تھی اور وہ اس ماشکی کی طرح خالی ہو گئے تھے،جس کی مشک میں چھید ہو گئے ہوں،کہ گہرے کنویں سے مشک کی لمبی رسی کھینچتے کھینچتے جس کے ہاتھ شل ہو جائیں مگر مشک کا سارا پانی اس عرصے میں دوبارہ اُسی کنویں میں بہ جائے۔ ان باتوں کے علاوہ جو مشکل سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اب ہندوستانی بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب یہ لوگ چالاکی اور عیاری میں گوروں کے بھی کان کاٹتے تھے اور اِس چکر میں تھے،کب انگریز یہاں سے نکلیں۔ ایسے میں انہیں آزاد نہ کرنا ایسے ہی تھا،جیسے بغیر ہتھیار کے بھیڑیے کے ساتھ رات گزاری جائے۔ اس ساری صورت حال میں ولیم نہ صرف یہ کہ ہند وستانیوں سے ناخوش تھا بلکہ انگریزوں سے اور اپنے آپ سے بھی ناراض تھا۔ وہ یہ سب کچھ ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اُس وقت تو اُسے اور بھی غضب آتا،جب وہ کسی انگریز کو ہندوستان چھوڑنے کے متعلق گفتگو کرتے دیکھتا،یا اُسے پتا چلتا،اُس کا فلاں دوست اپنا بوریا بستر سمیٹ کر انگلستان جا رہا ہے۔ ولیم کا اُس وقت خون کھولنے لگ جاتا گویا یہ سب اُس کے خلاف سازش تھی جس میں انگریز،مسلمان،ہندو سب شامل تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(40)

ولیم کو جلال آباد میں آج چارسال ہو چکے تھے۔ وہ بنگلے سے نکل کر پیدل ہی کمپلیکس کی طرف چلنے لگا۔ آج اُس نے جو کپڑے پہنے تھے،اُن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ کیتھی کا عمل دخل آخر کار اُس کی ذاتی پسندو ناپسند میں شامل ہو چکا ہے۔ کنٹوپ کی جگہ کیپ نے لے لی تھی اور شرٹ پر ہُڈ والے بٹنوں کی جگہ شیشے کے باریک ٹیکوں کے بٹن لگ چکے تھے۔ کوٹ بھی اب کُھلا ڈُھلا نہیں تھا،باقاعدہ سوٹ کے ساتھ فٹنس میں تھا۔ ولیم کا قد ویسے بھی لمبا تھا اور جسم کی ہڈی اکہری ہونے کی وجہ سے بہت سمارٹ بھی تھا۔ جوتے بھی ویسے ہی بارعب اور چمکدار جو کمشنروں کی شخصیت کے آئینہ ہوتے ہیں۔ اِس قدر روشن دن میں ولیم کی نیلی آنکھوں کے گھیراؤ میں سرخ و سفید چہرہ واقعی اپنی مثال آپ تھا۔ ہاتھ میں بید تو وہی پُرانی تھی لیکن آج اُس کی لچک پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ نہائت نپے تُلے قدم اُٹھاتا ہوا پُروقار چال چلنے لگا۔ ولیم کے بنگلے سے تحصیل کمپلیکس تک سڑک کے دونوں جانب بیس کے قریب سنتری کھڑے تھے۔ جب وہ دفتر آتا یا واپس بنگلے پر جاتا،یہ سنتر ی خاکی وردی پہنے ہر چالیس قدم کے فاصلے پر موجود صاحب کی نگہبانی کے لیے ایستادہ ہوجاتے۔ سنتریوں کی وردی شرٹ اور لمبی نیکروں پر منحصرتھی۔ سنتری سکھ،ہندو اور مسلمان سبھی قوموں سے تھے۔ اُن کی شرٹیں اور نیکریں بھی ایک جیسی تھیں لیکن سر پر پگڑی رکھنے کے لیے سکھوں کو استثنیٰ حاصل تھا۔ وہ سرکاری ٹوپی کی بجائے نیلے رنگ کی پگڑی پہن سکتے تھے۔ سنتریوں کے علاوہ بھی تین چار افسر ولیم کے استقبال کے لیے صبح اُس کے گھر کے سامنے پہنچ جاتے تاکہ وہیں سے صاحب کو پروٹوکول کے ساتھ دفتر میں لائیں مگر ولیم اِن چیزوں کا خیال کم ہی کرتا۔ اکثر اِن سب کو نظر انداز کرتا ہوا سیدھا پیدل ہی چل پڑتا۔ جیسا کہ آج سُرخ اینٹوں کی ٹھنڈی سڑک پر چہل قدمی کرتا ہوا چل رہا تھا۔ یہ سڑک ولیم کے جلال آباد آنے کے ایک سال بعد پکی کر دی گئی تھی۔ جس کی گرد پہلے محض ریت اور بھٹے کی کیری ڈال کربٹھائی تھی۔ اب اِس سڑک پر کمپلیکس تک دو رویہ پیپلوں کے درخت بھی لہلہا رہے تھے۔ یہ بھی ولیم کے جلال آباد تعیناتی کے بعد ہی لگے تھے۔ بلکہ ولیم نے خود لگوائے تھے۔ سردی کے وہی دن لوٹ آئے تھے،جب ولیم نے جلال آباد میں قد م رکھے تھے اور آج اُس کی تعیناتی کو چار سال ہو چکے تھے۔ اِس عرصے میں اُس نے جلال آباد تحصیل میں کئی انقلابی قدم اُٹھا ئے۔ تعلیم کا معیار پنجاب کی تمام تحصیلوں سے آگے نکل چکا تھا۔ اِسی طرح ایک نئی نہر اور دوسرے کئی چھوٹے چھوٹے رجواہے جاری کر دیے۔ جن کی وجہ سے تحصیل کے ہر گوشے میں پانی کی بہتات ہوگئی۔ گندم،چاول اور مکئی کی فصلیں کثرت سے پیدا ہونے لگیں اور لوگوں کے چہروں پر ایک قسم کی خوشحالی آنے لگی۔ ہر طرف درخت اورفصلوں کے سبز آئینے لہلہارہے تھے۔ اِس کے علاوہ سرکاری سر پرستی میں نجی سطح پر لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کروا دیے،جن میں جلال آباد کے مضاف میں لگا ئے گئے شہتوتوں کے باغ بھی شامل تھے۔

اب ولیم جلال آبا د سے اِس قدر مانوس ہو چکا تھا کہ اگر اُسے ساری عمر بھی یہاں رہنے کی اجازت دی جاتی تو وہ اس کے لیے بھی تیار تھا۔ سبب اِس کا یہی تھا کہ جلال آباد شہر سے لے کر اُس کے مضافات تک ولیم نے ہر جگہ کو اپنی ذاتی جمالیات کے آئینوں میں ڈھال لیا تھا۔ رہٹ،نالے،نہریں اور باغات جگہ جگہ پیدا ہو چکے تھے اور مزید کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ دوکانوں سے لے کر مکانوں تک،ہر شے میں ایک قسم کی نفاست جھلکنے لگی،جو ولیم کی ابتدائی کوششوں کے بعد خود بخود مقامی لوگوں میں ظاہر ہو رہی تھی۔ ولیم کے یہ چار سال گویا اُس کی زندگی کے حاصل تھے،جن میں اُس نے اس طرح دل جان سے کام کیا کہ یہ علاقہ بالکل بدل گیا۔ دریا کے ساتھ بھینسیں اور بھیڑ بکریاں پالنے والوں کے لیے باقاعدہ چراگاہوں کا قیام سرکاری کھاتوں میں کر دیا گیا اور اُن علاقوں میں چرواہوں کو پوری آزادی دے دی گئی۔ اِس عرصے میں اُس کا تبادلہ کئی دفعہ ہوتے ہوتے بچا،جس کو رکوانے میں اُس نے خود بھی چیف سیکرٹری تک تعلقات قائم کر لیے۔ اِن تعلقات میں اُس کے باپ کا کافی زیادہ دخل تھا کہ سیکرٹری صاحب اُن کے ذاتی دوستوں میں سے تھے،جنہیں دیسی گھی مکھن سے لے کر بھینسوں،بیلوں اور لڑاکا مرغوں تک کا چسکا پڑ گیا تھا۔ جس کی بنا پروہ یہاں چار سال نکالنے میں کامیاب ہو گیا ِ۔ اپنی مرضی سے بھرپور طریقے سے کام کیے اور جلال آباد میں برطانوی راج کے فوائد پورے طریقے سے عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اُسے اس معاملے میں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر وہ فائدے نچلی سطح تک لیجانے میں کامیاب ہو ہی گیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا نام جلال آباد اور اُس کے مضافات کے غریب غربا تک بھی پہچان میں آ چکا تھا۔ حتیٰ کہ اُس کی شکل بھی جلال آباد کے کئی عام لوگوں نے دیکھ لی تھی۔ امن و امان کے حوالے سے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ کے قتل کے بعد کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جو ولیم کے لیے پریشانی کا باعث بنتا۔ اگرچہ غلام حیدر لاکھ کوشش کے بعد بھی گرفتار نہیں ہو سکا تھا اور نہ ہی اُس نے دوسری کاروائی کی۔ گویا اپنا بدلا لے کر روپوش ہو چکا تھا۔ البتہ اُس کے اشتہاری ہونے کے بعد ولیم نے اُس کی زمین اُسی کی رعا یا میں بانٹ دی بلکہ اُن کے لیے بھی وہی سہولتیں جاری کر دیں،جو عام تحصیل میں تھیں لیکن ولیم نے اُس کا انتقال کسی وجہ سے غلام حیدر ہی کے نام رہنے دیا۔

مولوی کرامت نے جس قدر محنت اور تندہی سے کام کیا تھا،اُس کے عوض ولیم نے ذاتی دلچسپی لے کر اُس کی مالی اور سماجی حیثیت میں اتنا اضافہ کر دیاکہ اب وہ تحصیل جلال آبادکے معززین میں شمار ہونے لگا۔ بلکہ اُس کے بیٹے فضل دین کو دسویں درجے میں انتہائی اچھے نمبروں میں پاس ہونے کے بعد ذاتی خرچ پر اور کچھ وظیفہ دے کر لاہور ایف سی کالج میں پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔ اب فضل دین بھی وہ فضل دین نہیں رہا تھا،جوصرف روٹیاں مانگنے کا ماہر تھا۔ سکول میں تو ویسے ہی وہ دو دو درجے ایک ایک سال میں طے کر گیا تھا۔ مولوی کرامت کے بھی اتنے پر نکل آئے کہ کئی دفعہ صاحب بہادر سے خود ملاقات نکال کر اُن لوگوں کی شکایات بھی کیں،جو اُس کے کام میں حارج ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ غضب تو یہ کہ اُن شکایات کو سنابھی گیا تھا،جس کے بعد بیشتر لوگ بابووں سمیت مولوی کرامت کی چاپلوسی پر اُتر آ ئے تھے۔ کئی بابو اپنی سفارشیں بھی لے کر آتے،جنہیں مولوی کرامت ولیم تک پہنچانے کی جرات تو نہ کر سکتا تھا،لیکن وہ اُن سفارشی لوگوں کو کام ہونے کی اس طرح تسلی کروا دیتا جیسے یہ اُس کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ اِن سفارشوں کے عوض مولوی صاحب نے کسی سے پیسے تو نہیں پکڑے تھے،جس کا اُس وقت رواج بھی کم تھا۔ البتہ مختلف قسم کے تحفے تحائف ضرور وصول کر لیتا،جو بظاہر سفارشی حضرات اصرار کر کے مولوی صاحب کے حوالے کردیتے تھے۔ مولوی صاحب اُنہیں اِس لیے بھی قبول کر لیتے کہ اُنہوں نے یہ حدیث پڑھ رکھی تھی کہ ایک دوسرے کو تحفے لینے دینے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مولوی کرامت فی الحال اِس حدیث کے ایک حصے پر عمل کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ مولوی کرامت کے جلال آباد کے اکثر زمینداروں سے اتنے خو شگوار تعلقات پیدا ہو گئے کہ وہ اُسے شادی بیاہ اور موت،غمی سے آگے بڑھ کر اپنی رشتے داریوں کے متعلق بھی مشوروں میں شریک کرنے لگے اور چھوٹے موٹے فیصلوں کا ثالث بھی قرار دے لیتے۔ مولوی کرامت کی ثالثی اِس لیے بھی پائیدار تھی کہ سب جانتے تھے،مولوی صاحب کا کمشنر جلال آباد سے ذاتی تعلق ہے۔ اِس لیے وہ صاحب بہادر سے کہ کر کسی کا بھی چوبارہ گول کر سکتا ہے۔ اِن سب باتوں سے الگ اسکول منشی ہونے کے ساتھ مولوی کرامت نے اپنے لیے جامع مسجد جلال آباد کی امامت بھی حاصل کر لی تھی کہ تین سال پہلے مسجد کے سابقہ پیش امام کو منصوبے کے مطابق ملازمت دلوا کر منڈی گرو ہر سا بھیج کر اور اپنی تمام ذاتی قابلیتوں کے پیش نظر مسجد کی امامت کے فرائض سنبھال لیے تھے۔ جس سے اتنی آمدنی مزید ہو جاتی جتنی مولوی صاحب کی گورنمنٹ کی طرف سے تنخواہ تھی۔ مولوی کرامت کی خوشحالی کے ساتھ شریفاں کے اطوار بھی کافی بدل چکے تھے۔ چک راڑے میں تو کبھی کسی کی میت کے گھر پُرسہ دینے یا مُردہ عورت کو نہلانے اور کفن پہنانے کے سوا دوسرا کام نہیں کیا تھا لیکن جلال آباد میں باقاعدہ گھروں میں میلاداور دیگر بہت سی تقریبات میں مدعو ہونے لگی،جس میں اُسے مولوی کرامت کے برابر نہ سہی،گھر کے خرچے یعنی ہانڈی روٹی کی آمدن ہو ہی جاتی۔ بلکہ اُس نے کچھ نعتیں اور آئتیں رحمت بی بی کو بھی یاد کروا دیں۔ وہ بھی شریفاں کے ساتھ گھروں میں جا کر طرح طرح کی نذر نیاز کا سبق دینے لگی تھی۔ اِس طرح پورے جلال آباد میں مولوی کرامت کے گھر کے علم اور فتووں کی دھوم مچی ہوئی تھی اور کاروبار اِتنا ترقی کر گیا تھاکہ ضلع قصور کے چک راڑے میں تو اِس کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ اُدھر فضل دین کا لاہور کے کالج میں پڑھنے سے فضل دین اب بچپن میں ہی مولانا فضل دین بن چکا تھا۔ ایف سی کالج نے اُسے دھوتی کی بجائے پاجامہ پہنا دیا اور بابو بنا کر رکھ دیا۔ عربی فارسی تو اُسے پہلے ہی آتی تھی،کالج کے ماحول نے انگریزی کا اثر ڈالا تو مولانا فضل دین ایک ہی سال میں کئی باتیں انگریزی میں ہی بولنے لگا۔ چھُٹی پر جلال آباد آتا تو لوگ دیکھنے کے لیے آتے اور باتوں باتوں میں ایک دوسرے کو کہتے،بھائی مولوی کا بیٹا تو کوئی بڑا انگریز بنتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ اِس بات پر مولوی کرامت سے نا خوش بھی تھے کہ اُس نے اپنے بیٹے کا مذہب خراب کر دیا ہے۔ فضل دین کو باقاعدہ کرسٹان بنا کر مولوی کرامت نے دین کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر وہ مولوی کرامت کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتے تھے لیکن مولوی کے صاحب بہادر سے تعلقات کی بنا پر کھلے عا م مخالفت سے بھی ڈرتے تھے۔ مولوی کو بھی اُن کی کوئی پرواہ نہیں تھی کیو نکہ ایسے لوگ دیہاتوں میں تو کافی تھے لیکن شہر میں اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی کیونکہ مولوی کرامت کی پچھلے تین سال کی تبلیغ نے جلال آباد کو انگریز بہادر کا وفادار بنا ہی دیا تھا۔

الغرض ولیم نے مولوی کرامت کی حالت بدلنے سے لے کر فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کو تعلیمی،معاشی،اور سماجی سطح پر اتنی کچھ ترقی دے دی کہ اُسے محسوس ہی نہیں ہورہا تھا،وہ اپنی نولکھی کوٹھی میں رہ رہا ہے یا جلال آباد کے بنگلے میں۔ کیتھی شادی کے بعد ولیم کے ساتھ جلال آباد کے بنگلے میں تھی۔ بلکہ اب توان کا ایک بچہ بھی تھا،جس کی عمر ڈیڑھ سال ہو چکی تھی۔ کیتھی روزانہ نہیں تو ہر دوسرے دن گھوڑے پر بیٹھ کے جلال آباد کے مضافات میں سیر کو ضرور نکلتی،جس کے دائیں بائیں بیسیوں نوکر،مامائیں اور پولیس والے اٹین شین چلتے اور بھاگتے نظر آتے۔ میم صاحبہ نے یہاں آکر بھی عجب طرح کے پُرپرزے نکال لیے تھے۔ کچھ دن تو دیسی ملازمین کے ساتھ ملائمت سے بات کرتی رہی۔ یہ لوگ اُسے فرشتوں جیسے اور تابع فرمان لگتے تھے۔ اُس کے خیال میں اِن ہندوستانی کالوں کے اندرانتہائی سادگی اور معصومیت تھی کیونکہ اُن کا اپنا نہ کوئی تقاضا تھا اور نہ شکائت۔ یہی وہ لوگ تھے جو صرف صاحب بہادر،میم صاحبہ اور بابا لوگوں کے لیے جیتے اور اُن کی خدمت گزاری میں مرتے تھے۔ اِس لیے اُن کے ساتھ محبت اور شفقت کرنا گورے لوگوں کا فرض تھا۔ کیتھی بات بات پر اُنہیں انعامات سے نوازتی اور شاباش سے دل بڑھاتی۔ لیکن جیسے جیسے ولیم کے اختیارات کی وسعت اور اقتدار کا نشہ دیکھا،لہجے اور خیالات میں تبدیلی آتی گئی۔ حتیٰ کہ تین ہی سال کے اندر اُس نے ولیم کو بھی سرزنش کرنا شرع کر دی کہ وہ اِن دیسی لوگوں کو زیادہ رعایت دیتا ہے اور ملازموں کی غلطی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اب یہ لوگ اُسے گنوار،اُجڈ،بھکاری،کام چور،چاپلوس اور چغل خور نظر آنے لگے۔ وہ اِس بات کی سختی سے قائل ہو گئی کہ کالے ایک بد بخت نالائق اور منحوس قوم ہیں۔ اِن کے جسموں سے بدبو آتی ہے۔ نہاتے نہیں اور گوروں کے درمیان بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اِن کو پیار سے نہیں ذلًت اور رسوائی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ کیتھی کے اپنے شغل بھی ضرور یات سے آگے نکل کر تفریح میں بدلتے گئے،جن میں سے ایک اُسے اُونٹ پر سواری کرنے کا بھی شوق پیدا ہو گیا۔ اِس شوق کو پورا کرنے کے لیے کئی اونٹ خرید ے گئے اور اُن کی دیکھ بھال کے لیے آٹھ آٹھ ملازم رکھ لیے۔ کیتھی ولیم کو بھی اُونٹوں پر اپنے ساتھ سیر کرنے کا اصرار کرتی،جسے پورا کرنے کے لیے اُس نے کئی دفعہ یہ سواری بھی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب ولیم بھی اُونٹ کی سواری سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اُونٹوں کے علاوہ کیتھی کی کوششوں سے جلال آباد میں اوکا ڑہ کے مقابلے کا تو خیر نہیں،لیکن ایک چھوٹا سا مویشیوں کا فارم ضرور بن گیا۔ اِس فارم کے لیے نیلی کی عمدہ بھینسیں چُن کر دُگنے تگنے مول میں خرید لی گئیں۔ اِس کے علاوہ بنگلے کے پچھواڑے اچھا خاصا باغیچہ بنا دیا۔ اِس میں دُور تک درختوں کی قطاریں ہری چھاؤں کے ساتھ لہلہانے لگیں،جن پر توریوں،کدؤوں،اور کریلوں کی بیلیں چڑھ گئیں تھیں۔ بنگلے کے قُر ب و جوار میں درختوں کی عمر ابھی چار سال ہی تھی لیکن اُن کی حفاظت اِس اچھے طریقے سے ہوئی کہ وہ اب اچھا خاصا سایہ دینے لگے تھے۔

بیلوں کے چڑھ جانے سے اور بھی اچھے لگتے،جو سردیوں کے موسم میں عجیب بہار پیدا کر دیتیں۔ کیتھی نے اپنی بیٹی کے لیے بنگلے کے صحن میں ایک نوابی قسم کا جھولا بھی بنوالیا تھا۔ جھولے میں اپنی سائرز کو لٹا کر اُسے بعض اوقات اپنے ہاتھ سے جھولاتی۔ لیکن اکثر یہ کام ماما سر انجام دیتی اور کیتھی خود صحن میں بے شمار سفیدکبوتروں کو اُڑا اُڑا کر دانہ ڈالتی اور اُن کا تماشا دیکھتی۔ اِن کبوتروں کے صرف پھڑ پھڑانے کی آواز سننے کے لیے کیتھی نے یہ کبوتر آگرہ سے منگوائے تھے۔ کیتھی کے مسلسل جلال آباد میں ہی قیام کی وجہ سے اوکاڑہ میں کیتھلک چرچ اسکول کا کام معطل پڑا تھا۔ لیکن اب ولیم کو کیتھی کے ساتھ رہنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ اُسے ایک لمحے کے لیے اپنے سے دور نہیں رکھنا چاہتا تھا،نہ ہی یہ بات کیتھی کو منظور تھی کہ ولیم ڈیوٹی کے وقت کے علاوہ کسی کلب میں بھی اُس کے بغیر جائے یا دوستوں کے ساتھ گپ بازی کرے اور وہ گھر میں اکیلی بیٹھی رہے۔ ولیم سے دُور اوکاڑہ میں رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہاں وہ دونوں اوکاڑہ میں براستہ ہیڈ سلیمان کی ہر پندرہ دن میں دو دن کے لیے چکر ضرور لگاتے،کہ یہ فاصلہ جیپ کے آگے کچھ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ اب تو راستے میں کئی مقامی لوگوں کو بھی اُن کے معمول کے سفر کا علم ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی عرضیاں ولیم کے رستے میں پڑنے والی چوکیوں پر جمع کرادیتے،جس کا آڈر ولیم نے پولیس والوں کو بھی کر دیا تھا۔

اب کچھ دن سے ولیم کو ڈپٹی کمشنر رالف کی طرف سے دھڑکا لگا ہوا تھا۔ اُسے ولیم کا اِتنا عرصہ ایک ہی تحصیل میں رہنا گوارا نہیں تھا اور چیف سیکرٹری بیڈن صاحب بھی بدل چکے تھے۔ رالف کو فیروز پور میں آئے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ اُس نے ولیم کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار شروع کر دیا۔ اِدھر ولیم کو بھی پتا چل چکا تھا کہ اُس کے اب جلال آباد میں دن تھوڑے ہی رہ گئے ہیں۔ اُس نے کیتھی کو آگاہ کر دیا تھا کہ اب وہ جلال آباد سے اپنا بستر لپیٹنے کے لیے تیار ہو جائے کیونکہ پنجاب گورنمنٹ کسی وقت بھی اُسے اُٹھا کر کہیں بھی بھیج سکتی ہے اور آج وہی کچھ ہوا۔ ولیم آرام سے بیٹھ کر فائلوں کا جائزہ لینے لگا تو سب سے پہلے اُس نے جو فائل کھولی اُس میں ولیم کے ٹرانسفر آڈر پڑے تھے۔ ولیم کو مطلع کیا گیا تھا کہ اُس کے چار سالہ تجربے کے پیشِ نظرچیف سیکرٹری آفس لاہور کو اُس کی خدمات کی ضرورت ہے۔ لہذا وہ جتنی جلد ی ہو سکے اپنا چارج تحصیل دار مالیکم کو سونپ کر لا ہورچیف سیکرٹری آفس میں جوائننگ رپورٹ دے۔ ولیم نے آڈر دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر بیل دبا کر کرم دین سے کافی کا کپ بنانے کے لیے کہا۔ آڈر اتنے اچانک اور محتاط انداز میں تیار کئے گئے تھے کہ وقت سے پہلے اُن کی ہوا بھی باہر نکلنے نہیں دی گئی تھی۔ ولیم یہ تو جانتا تھا کہ وہ یہاں سے جانے والاہے لیکن اِتنا اچانک،اُس کے بھی گمان میں نہیں تھا۔ اس لیے اب ولیم نے کسی نئی سفارش کا بندوبست کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ ویسے بھی ذہنی طور پر اب وہ اپنے تبادلے کے لیے تیار ہو چکا تھا،جو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ اب چونکہ ولیم کو جلال آباد کے کسی کام میں قانونی تو پر دخل اندازی کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی وہ یہاں کسی چیز کا ذمہ دار رہا تھا،اس لیے اُس نے فوراً اپنے آپ کو ہلکا پُھلکا کر کے باقی تمام فائلوں کو ایک طرف کر دیا اور دل ہی دل میں رالف پر لعنت بھیج کر پچھلے چار سال میں پیش آنے والے تمام واقعات پر نظر دوڑانے لگا۔ جس میں طرح طرح کے بے شمار کردار ایک ایک کر کے اُس کی آنکھوں میں گھومنے لگے۔ پہلے دن فیروز پور میں ملنے والا باورچی نظام دین،اُس کے معتوب افسر،جن میں لوئیس اور وہ جو ایک دو لوگ ریٹائر ہو کر گھر بھی جاچکے تھے۔ ان کے علاوہ مدن لال ماسٹر،سردار سودھا سنگھ،غلام حیدر،رسہ گیر چوہدری،مولوی کرامت،تھانیداروں سے لے کر عوام تک اور پھر اُس کے ماتحت کام کرنے والی تحصیل انتظامیہ،سینکڑوں ہی طرح کے لوگوں سے اُسے واسطہ پڑا تھا۔ جن میں ایماندار بھی تھے،چاپلوس بھی،کام چور بھی اور کام کے ماہر مگر نکمے بھی۔ اِنہی میں وہ بھی تھے،جو دونوں طرف مخبری کا کام دیتے تھے اور نہایت ایمانداری سے۔ وہ بھی،جنہوں نے ہمیشہ منافقت اور کام چوری سے ربط رکھا۔ یہ سب کچھ ولیم کو یاد آرہا تھا۔ اُسے یہ بھی خبر تھی کہ آنے والا کوئی بھی افسر اس طرح جلال آباد میں کام نہیں کرے گا جس طرح اُس نے کیا ہے۔ وہ عوام کو اپنی رعایا نہیں غلام بنا کر رکھے گا،جیسے خود اُس کی بیگم کا اِن لوگوں کے ساتھ رویہ ہو گیا تھا،۔ اِس خیال کے آتے ہی ولیم ہلکا سا مسکرا دیا،گویا انگریز افسرعورت بن کر مقامی لوگوں کے ساتھ سلوک کرتے تھے،جس کا اُسے اس وقت قلق تو ہو رہا تھا لیکن اب کیا کیا جا سکتا تھا۔ ولیم نے سوچاجلا ل آباد کے لوگوں کو کیا پتا،اُن کی تحصیل میں ولیم کے تبادلے کا کتنا بڑا انقلاب آ چکا ہے۔ اُس نے خود بھی دل میں جلال آباد کو اپنا گھر تسلیم کر لیا تھا اور اُس کے لیے اُسی طرح کام کیا تھا جس طرح اپنے گھر کو بنانے میں کیا جاتا ہے۔ اِسی اثنا میں ولیم نے دوبارہ بیل بجا کر نجیب شاہ کو طلب کیا۔ نجیب شاہ جیسے ہی کمرے میں آیا،ولیم نے اُسے بنگلے میں موجود تمام سامان کو بحفاظت پیک کروانے کا حکم دے دیا۔

Categories
فکشن

نام بختاور سنگھ

روز کی طرح آج بھی ماسٹر بدری ناتھ صاحب تشنہ کی بیٹھک پر ان کے شاگرد اور دیگر اہلِ محلہ جمع تھے اوران کے کلامِ تازہ اور حُقے سے لُطف اندوز ہو رہے تھے کہ دارا پٹھان گانجا فروش آدھمکا؛

‘‘اُستاد صاحب! سُنتے ہو؟ آج آپ کے شاگرد خسرو طلعت کی سگائی کی رسم میں اُن کے سُسر اورمیر مُلا میں خوب ٹھنی، تلواریں کھنچ گئیں، خیر گزری کہ چلی نہیں’’

‘‘کیوں؟ کس لئے بچے کی سگائی بے مزہ کر دی میر مُلا نے؟’’

‘‘میر مُلا نے کہاں بد مزہ کی، میرزا عماد الدین نے میر خسرو سے اپنی بیٹی بیاہنے سے ہی انکار کر دیا ہے’’

‘‘جنم جنم کے کم بخت، نام بختاور سنگھ۔۔۔ بے چارہ میر خُسرو طلعت۔۔۔’’

اُستاد صاحب نے کہا تو سامعین مسکرائے۔

‘‘یہ صاحبزادہ جس روز مدرسے داخل ہوا تھا، اس روز مدرسے کی چھت گر گئی تھی’’

اُستاد نے اپنا ٹیڑھا ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا تو سامعین محفل نے یوں بے ساختہ قہقہہ لگایا گویا یہ واقعہ بھی پہلی بار سُن رہے ہوں۔ میر خُسرو کا تو نام ہی بختاور سنگھ پڑگیا، بعد میں فقط ‘بختو’ رہ گئے۔

میر صاحب دلی کے محلہ سیدواڑہ میں جمعدار میر ابوالمعالی مہابت جنگ کے ہاں پیدا ہوئے جوکہ محبوب علی خاں نظام دکن کے توپ خانے میں بڑے یگانہ روزگار اور نام ورتوپچی تھے۔ جمعدار صاحب ان کے اوائلِ عمر ہی میں وفات پاگئے تو میر بختو اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی ننھیال آرہے جو کہ دریبے میں تھی۔ یہاں ماموں میر مُلا کے ہاں پروان چڑھے جو کہ اپنے زہد و تقویٰ ، نجابت اور بددماغی کی وجہ سے بڑے معزز تھے۔ میر بختُو مدرسے کی عُمر کو پہنچے تو دریبے کے سب سے اچھے مدرسے میں داخل کروائے گئے لیکن جس روز مدرسے میں قدم رکھا، اتفاق سے مدرسے کی چھت آن گری۔ اسے بد شگونی قرار دے کر دوسرے مدرسے میں جابٹھایا تو سؤ اتفاق کہ پہلے ہی روز اس میں وہ آگ لگی کہ مدرسہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ کسی دشمن نے کہ دیا کہ میر خسرو طلعت اپنے نام کے بر عکس واقع ہوئے ہیں، میرصاحب کی ماں نے بات دل پر لے لی اور پھر انہیں کبھی مدرسے نہ بھیجا، لیکن پڑھی لکھی خاتون تھیں، گھر میں مدرسے سے اچھی تعلیم دی۔

میر صاحب کو بچپن سے ایک ہی سودا سوار تھا ۔ اقارب سے اپنے والد مرحوم کے کمال و ہنر کا تو سُن رکھا تھا، والد سے انس بھی انہیں بے حد تھا ، پھر پیشۂ آبأ کسے نہیں بھاتا، ٹھان لی کہ والد معظم جمعدار میر ابوالمعالی کے سے اوجِ کمال کو پہنچیں گے۔ بچپن میں اپنے نانا کی جریب تھامے ، بندوق بنائے اپنے ہم سنوں کو ڈراتے پھرتے تھے اور لڑکپن میں تو لکڑی کی ایسی کھلونا توپ بنائی کہ اصل دِکھتی تھی جسے میِر مُلا سمیت سبھی نے بے حد سراہا اوررسالدار تفضل حسین خاں بہادر نے تو ایک رُپیہ انعام بھی کیا۔ سولہ سال سے کچھ اوپر کے ہوئے تو میر صاحب کی منگنی قرار پائی لیکن شومئی قسمت کہ منگنی کی شب لڑکی کے سرسام کا ایسا تھپییڑا لگا کہ جاں بر نہ ہو سکی۔ ایک سال بعد کہیں میرزا عماد الدین کی صاحب زادی سے نسبت طے پائی لیکن کسی دُشمن نے وہ کان بھرے کہ وہمی میرزا عمادالدین نے عین موقع پر میر صاحب کی کُنڈلی نکلوانے کا حُکم دے دیا۔ میر مُلا اس ہندوانہ چلن پر سخت سیخ پأ ہوئے اور شدید بد مزگی ہو گئی۔ قصہ مختصر میرزا عماد نے انکار کر دیا اور میر بختو کی والدہ نے وہ صدمہ دل پر لیا کہ چند ہی ماہ میں عدم سدھار گئیں۔

اب میر بختو کی زندگی کو ایک تکلیف دہ جمود کا سامنا تھا ، کوئی کام کرسکتے نہ کہیں دل لگتا۔ میر مُلا سمیت کئی رشتہ داروں کے مزاج بدل گئے اور میر صاحب تنہائی کے گرداب میں پھنس گئے۔ غم غلط کرنے کو ماسٹر بدری ناتھ صاحب المتخلص تشنہ کے ہاں شاعری میں شاگرد ہو گئے۔ طبع بھی موزں تھی لیکن شعر نہ کہہ سکے۔ خُدا اپنے بے یارومونس لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ قدرت نے رسالدار تفضل حسین خاں بہادر کی لڑکی رخشندہ بانو کے دل میں میر صاحب کے لئے مہرومحبت کے لالہ و گل اُگا دیئے۔ اگرچہ میر صاحب واجبی سی شکل و صورت رکھتے تھے، ننھالیوں کی طرح لمبے اور گورے چٹے لیکن دُبلے پتلے سے تھے۔ ہنستے تو گالوں پر دو لمبی جھریاں پڑ جاتیں جنہیں وہ نہرِ ذقن کہہ کر خوش ہو لیتے۔ رخشندہ بانو نے ان کے ولولوں اور مزاج کی گمشدہ رعنائیوں کو ازسرِ نو زندہ کردیا۔ تب میر صاحب نے پہلی بار کوئی ایسی غزل کہی کہ ماسٹر صاحب سُن کر پھڑک اُٹھے ، فرمایا:

‘‘دیکھو اب رعنائیِ خیال تمہارے کلام میں عود کر آئی ہے، کس شخص کا تصور در آیا ہے؟’’

میر مُسکرائے؛ ‘‘بس اُستادِ معظم، ایک بنتِ حوا ہے جو ابنِ مریم بن کر آئی ہے’’

ماسٹر جی بھی ہنس دیئے کہ لونڈا صنائع بھی سیکھنے برتنے لگا ہے۔ اب تک میر صاحب کا دل کاروبارِ حیات سے ایسا اُٹھ چکا تھا کہ انہیں اپنا سپہ گری کا شوق بھی پہلے کی طرح بے چین نہ کرتا تھا لیکن اس ‘رسالدار زادی’ نے جہاں میر صاحب کو نئی زندگی دی ، وہاںان کے شوق کو بھی زندہ کر دیا ۔ اُسی کے کہنے پر ہی میر صاحب اپنا شجرۂ نسب اور والد کے کاغذات لے کر دکن کے انگریز کپتان صاحب سے بھرتی کی سفارش حاصل کرنے روانہ ہوئے جو کہ میر ابوالمعالی کے واقف کار تھے۔ قدرت کو اب کچھ اور ہی منظور تھا کہ جس روز میر صاحب دکن پہنچے، کپتان برنابی صاحب بہادر ملکِ سندھ کی کسی ولائیت کو جا چکے تھے۔ میر دلگیر واپس آئے اور بہت آزردہ ہوئے۔ رخشندہ بانو نے حوصلہ افزائی کا خط بھیجا اوران سے وعدہ لیا کہ اب ہرگز رنجیدہ نہ ہوں گے، اور اب کے دلی چھوڑیں گے تو پھر میر ابوالمعالی مرحوم کی طرح نامور سپاہی بن کر لوٹیں گے، رخشندہ بانو عمر بھر ان کا انتظار کرے گی۔

کئی دن گزرے تھے کہ میر صاحب گھر کے چھجے میں بیٹھے ، قلم تھامے، کاغذ پسارے، غزل کہنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن بات مطلع سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی؛

ہرروز سنور بن کے ترا یاں سے گزرنا
ٹُک دیکھ ہمارا بھی کبھو جاں سے گزرنا

بہت دیر سوچا کئے لیکن جب کچھ نہ بن پڑا تو ناگواری سے کاغذ مروڑ ا اور چھجے سے نیچے پھینک دیا۔ اتفاق کہیئے یا میر صاحب کی بد بختی، کہ گلی میں ماسٹر بدری ناتھ کی لڑکی کاویری اپنی ہمجولیوں کے ساتھ حسبِ معمول بن ٹھن کر پوجا پاٹ کیلئے جا رہی تھی ۔ مطلع کاویری کے سامنے آ کر گرا تو اُس نے اُٹھا کر پڑھا، انہی قدموں پر واپس لوٹی اور مطلع باپ کے حوالے کردیا اور لگی پھسر پھسررونے۔ کاویری شریف لڑکی تھی اور لاڈلی بھی۔ ماسٹر صاحب تو وہ آگ بگولا ہوئے کہ لٹھ سنبھالی اور آدھمکے میر صاحب کے گھر۔ نیچے بُلوا کر میر بختو کی وہ خبر لی کہ کھال اُدھیڑ کر رکھ دی۔ میر صاحب حماقت کی حد تک نیازمند تھے، اپنی صفائی بھی بخوبی پیش نہ کر سکے ، شکا یت میر مُلا تک پہنچی تو آؤ دیکھا نہ تاؤ، گویا پہلے سے ہی عذر کی تلاش میں تھے، فوراً میر بختو کو گھر سے نکال دیا۔

گھنشام بابو میر صاحب کا بچپن کا یار تھا، انگریزی جانتا تھا جس وجہ سے ‘بابُو ’ مشہور تھا اور لاہور میں نوکر تھا۔ میر صاحب کی بے دخلی کی خبر سُنی تو گھنشام بابو نے انہیں ساتھ لیا اور لاہور روانہ ہو گئے۔ پورے سفر میں میر صاحب کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے رہے، جلا وطنی کے دکھ میں نہیں بلکہ اُس آخری پیغام پر جو رخشندہ بانو نے یہ خبر سُنتے ہی بھیجا تھا:

‘خُسرو طلعت! آپ بد بخت تو مشہور تھے ہی، لیکن بد نیت بھی ہیں، اس کی ہمیں خبر نہ تھی۔ شائد کاویری جی ہی آپ کے لائق تھیں،یہ باندی نہیں۔۔۔’

گھنشام بابو نے بہتیرا سمجھایا ، بہلانے کے حیلے کئے لیکن میر صاحب بجائے سلجھنے کے، اُلجھتے ہی جا رہے تھے۔ بات شکررنجی تک پہنچی تو لاہور سے پہلے ہی کسی ہالٹ پر ریل سے اُتر گئے۔ مغرب سے آنے والی کیس گاڑی میں سوار ہو ئے اور مُلکِ حیدرآباد کا قصد کیا۔حیدر آباد میں ایک سرائے میں آٹھہرے اور کچھ دنوں بعد یہاں سے میر صاحب نے گھنشام بابو کو خط لکھا اور معافی مانگی کہ ناحق دوست سے خفا ہوا۔ گھنشام بابو کا جواب آیا کہ رخشندہ بانو کے بیاہ کی خبریں ہیں اور وہ ہاپُڑ جانے والی ہے۔ انہیں بجا طور پر افسوس تھا کہ رخشندہ بانو نے انہیں کس عجلت سے ہرجائی سمجھ لیا تھا۔میر صاحب اور دلگرفتہ ہوئے۔

وہ حیدرآباد میں جس مہمان سرائے کے برآمدے میں پناہ گزین تھے، وہاں کسی نے انہیں بتایا کہ اورنگ آباد میں کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر نے چند ماہ کیلئےتو پ خانے کی تربیت کی پلٹن کھڑی کی ہے اور رنگروٹ تیار کرکے ریاستی توپ خانوں میں بھیجیں گے۔ میر صاحب کو امید کی ایک کرن نظر آ ئی کہ شائد بھرتی کی کوئی راہ نکل آئے کیونکہ صاحب موصوف میر ابوالمعالی کے رفیق کار بھی تھے اور دوست دار بھی۔ میر ابوالمعالی اس دور کے توپ خانہ جمعدار تھے جب دیسی سپاہیوں میں کم ہی لوگ توپ خانے کے ماہر تھے اور اس صیغہ پر انگریز کا براہِ راست اختیار تھا۔ دراصل ۱۸۵۷ کے بعد دیسی سپاہیوں اور بالخصوص مسلمانوں کو حتی الوسع اس صیغے سے دور رکھا گیا تھا۔ کپتان برنابی اور میر ابوالمعالی میں خوب گاڑھی چھنتی تھی اور باہم تحائف کا تبادلہ بھی رہتا تھا۔ کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر شعرو سخن کا ذوق بھی رکھتے تھے اور توپ خانہ سے انہیں عشق تھا۔ ہندوستانیوں سے کمال شفقت سے پیش آتے تھے لیکن انگریزوں میں غیر مقبول ہی رہے۔ سارجنٹ سے صاحب بنے تھے اور حال ہی میں فوجی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے۔ اورنگ آباد میں پلٹن کھڑی کرنے کا مقصد صرف اپنا دل لگائے رکھنا اور فراغت کا مشغلہ بنائے رکھنا تھا۔ ان کے ہاں اولاد نہ تھی لیکن میم صاحب اس ڈھلتی عمر میں بھی بے حد محبت روا رکھتی تھیں۔

میر صاحب کا بچپن کا شوق ایک بار پھر سے جوان ہو گیا اور وہ کپتان برنابی صاحب سے امیدیں وابستہ کئے اورنگ آباد روانہ ہو گئے۔ اُمید نے وہ سرشاری بخشی کہ گزشتہ تلخیاں بھی وقتی طور پر ذہن سے اُتر گئیں۔ اورنگ آباد پہنچ کر پہلے اُستاد چُغری خاں سے مُلاقات ہوئی جو میر صاحب کے والد مرحوم کے ہم پیشہ و ہم جلیس تھے۔ اُستاد چُغری خاں جو آج کل کپتان برنابی صاحب کے ایجٹن تھے، میر صاحب کو کپتان صاحب کے بنگلے پر لے گئے جہاں صاحب بہادر اور میم صاحب باغیچے میں بیٹھے شطرنج کھیل رہے تھے۔ اُستاد چغری خاں نے کپتان صاحب سے میر صاحب کا تعارف کرایا تو کپتان صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور میر صاحب کو گلےلگا لیا۔ چند جملے انگریزی میں اپنی میم صاحب کے گوش گزار کر کے دیر تک میر صاحب سے باتیں کرتے رہے۔

‘‘خُسرو طلعت ! تُم پیدا ہوئے تھے، تب ہم لفٹین تھے، اب تُم نوجوان۔۔۔ہم کپتان! ہاہاہا!’’ کپتان صاحب کا یوں ہنس کر اور اس اپنائیت سے ملنا میر صاحب کو بہت اچھا لگا۔

‘‘پیارا بچہ ہائے۔۔۔’’ میم صاحب نے بھی میر صاحب کو دیکھا اور کہا۔

کپتان چارلس برنابی صاحب بہادر کے ہاں بھی قریب قریب صلہ داری نظام کے تحت پلٹن کا کاروبار تھا، یعنی رنگروٹوں کو اپنی وردی اور رہائش کا خرچ خود کرنا ہوتا تھا لیکن میر خُسرو کو جنہیں کوئی بھی یہاں میر بختو نہیں کہتا تھا، کوئی مسئلہ درپیش نہ آیا۔ میر خسرو اپنے نئے اُستاد ، جمعدار ایجوٹنٹ چغری خاں کے ساتھ رہتے تھے۔ چغری خاں عمر رسیدہ فارسی بان توپچی تھا اور اپنی زبان کی طرح اخلاق بھی شیریں رکھتا تھا۔ میر صاحب کو وہ کمال شفقت سے موچی کے ہاں چھوڑ آیا اور ان کے لئے ان کے ناپ کا فوجی بُوٹ، کمر بند اور نیام بنانے کا حُکم دیا۔

‘دِلی کے ہو جوان؟’ موچی نے میر صاحب کو سرتاپا دیکھ کر سوال کیا تو میر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا نام بتایا۔

‘آئیے قبلہ۔۔۔ میرا نام ولائیت حُسین ہے اور میں بھی دِلی سے ہوں!’ ولائیت حسین دراصل موچی نہ تھا بلکہ غدر کے وقت میرٹھ کے ویلی بازار کا نامی طبلہ نواز تھا اور نتھُو پکھاوجی کے نام سے مشہور تھا۔ جب اہلِ کمال کو چُن چُن کر قتل کیا جانے لگا، جبکہ نتھوُ کی بھی ہندوؤں سے عداوت چل رہی تھی، تو رسالدار بہرام سنگھ نے اسے وہاں سے نکالا اور یہ ہمیشہ کیلئے اورنگ آباد کا ہو رہا ۔ اپنے ہم پیشہ لوگوں کے قتل کے بعد طبلہ پھینک کر چرم چمڑے کا کام اپنایا جو اس کے باپ کا پیشہ تھا۔ اس سے بھی میر صاحب کو خُوب ربط بن گیا۔

کپتان صاحب کبھی کبھار میر خسرو کو شام کے کھانے پر بلاتے تھے اور اُستاد چُغری خاں سے ان کا خاص خیال رکھنے کو کہتے۔ اب میر خُسرو نے اُمید باندھی کہ یہاں سے وہ ایک دن نامور توپچی بن کر نکلیں گے اور ضرور مہابت جنگ جیسا کوئی لقب پائیں گے۔ اُنہوں نے ٹھان لی کہ اب ان کی زندگی میں بندوق اور توپ کے سوا کوئی‘ مؤنث’ نہیں ہو گی۔

تربیت کے باقاعدہ آغاز سے قبل میر خُسرو کو بتایا گیا کہ پہلے وہ بندوق کے استعمال میں مہارت حاصل کریں گے، پھر توپچی کی تربیت پائیں گے۔ اس پلٹن کے پاس درجن بھر بندوقیں ہوں گی اور تین توپیں۔ یہ بندوقیں اور توپیں لگ بھگ تیس سال پُرانی تھیں اور کسی ہندُو راجہ سے کپتان صاحب نے سستے داموں خریدی تھیں۔ ذیادہ تر بندوقیں دیسی ساختہ تھیں اور نالی سے بھری جاتی تھیں۔ ولائیت کی انفیلڈ کی بنی بندوقیں بھی بھرنے میں ایسی تھیں لیکن ہزار گز تک گولی پھینکتی تھیں ۔ البتہ ان کا بارود اور کارتوس کم یاب تھا اور محدود مقدار میں دستیاب تھا اسی لئے تربیت کے کچھ اسباق خالی بندوقوں سے پڑھائے جاتے۔ ہفتہ میں تین روز اُستاد بندوق سر کرنا، توپ بھرنا اور ہر دو کی دیکھ بھال اور صفائی وغیرہ سکھاتا تھا۔ ہر اتوار کی شام کپتان صاحب خوُد آتے تھے اور ہر رنگروٹ اُن کی موجودگی میں بندوق سر کرتا۔

میر خسرو طلعت کی تربیت کا آغاز ہوا۔ پہلے تین ہفتے بندوق اور توپ کی دیکھ بھال اور صفائی سیکھی، بندوق سر کرنا سیکھی اور پھر جا کے اتوار کے ملاحظے میں حاضر ہوئے۔ کپتان برنابی صاحب نے میر صاحب کو رنگروٹوں کی قطار میں دیکھا تو زیرِلب مسکرائے، اُستاد چُغری خاں نے بھی ان کے جواب میں باچھیں پھیلائیں۔ کپتان صاحب ہمراہ جے صاحب (جمعدار ایجوٹنٹ صاحب) اور دبیر سنگھ توپچی کے، میدانِ مشق میں کھڑی رنگروٹوں کی قطار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک گئے، باری باری ہر رنگروٹ کے پاس آکھڑے ہوتے، رنگروٹ بندوق بھرتا، سر کرتا ، پھر سے بھرتا، دوبارہ گولی داغتا اور پھر ہوشیار کھڑا ہو جاتا۔ کپتان صاحب اپنی رائے سے نوازتے اور اگلے رنگروٹ کی طرف بڑھ جاتے۔ میر خسرو طلعت پُر جوش بھی تھے اور متذبذب بھی۔ ہتھیلیوں پر پسینہ آرہا تھا اور دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ کپتان صاحب ان کے پاس آئے تو میر صاحب نے فوجی سلام کیا، کپتان صاحب مسکرائے ، احوال پرسی کی اوربندوق بھرنے کا حُکم دیا۔ فرطِ جوش سے میر صاحب کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ بارود بھرنے لگے تو بہت سا گرا ڈالا۔ پھر بندوق چلائی تو ٹُھس کی آواز کے ساتھ کارتوس میر صاحب کے سامنے ہی گر گیا۔ کپتان صاحب نے اُستاد چُغری خاں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا، اُستاد نے میر صاحب کی طرف دیکھا اور میر صاحب نے نظریں جھکا لیں کپتان برنابی صاحب نے کندھے اچکائے اور آگے چل دیئے۔ میر بےحد اداس ہوئے لیکن استاد چُغری خاں نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور تشفی دی کہ ایک رنگروٹ سے یہ بعید نہیں ، پھر جھوٹ موٹ ایک ایسا قصہ میر ابوالمعالی مرحوم کی بابت بھی سُنا ڈالا۔ میر صاحب بھانپ تو گئے لیکن خاموش رہے اور سنبھل گئے۔ تربیت میں تیغ زنی اور بانک بنوٹ کے فن بھی شامل تھے لیکن میر صاحب کی دُبلی جسامت اور ان کے توپ و تفنگ کے شوق نے انہیں اس طرف ذیادہ نہ آنے دیا۔

ایک بار پھر استاد چغری خاں نے انہیں اتوار کی مشق میں لا کھڑا کیا کہ اب کی بار ہمت کیجئے اور خوب نشانہ باندھیں۔ میر صاحب میدانِ مشق میں کھڑے بار بار گتے کے کارتوس کو مٹھی میں بھینچے اُس سمت دیکھ رہے تھے جس طرف سے کپتان برنابی نے آنا تھا ۔ وقتِ مقررہ پر کپتان صاحب آئے، اُستاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ توپچی نے اُن کا استقبال کیا ، میر صاحب نےاپنی باری آنے سے قبل کارتوس کا ایک بار پھر جائزہ لیا جو شائد پُرانا تھا کہ نرم پڑ چکا تھا لیکن میر صاحب کا خیال تھا کہ خوب چلے گا۔ ان کی باری آئی تو کارتوس کو دانت سے کاٹا، بندوق میں بھرا اور بندوق چلا دی۔ شومئی قسمت کہ بارود پرانا تھا، اب کے بار رنجک چاٹ گئی اور بندوق سر نہ ہو سکی۔ کپتان صاحب کچھ دیر سر جھکا کر سوچتے رہے، اور مونچھ کو تاؤ دیتے رہے۔ اس دوران اُستاد چغری خاں اور دبیر سنگھ پر خاموشی طاری رہی۔ ‘‘اُستاذ! مشق کی ضرورت ہے!’’ کپتان صاحب نے کہا اور رخصت ہو گئے۔ میر صاحب نے بندوق پرے پھینکی اور زمین پر بیٹھ گئے۔ اس رات کھانا بھی نہ کھایا اور رات دیر تک بے قراری کے عالم میں جاگتے رہے۔ کبھی والد مرحوم کو یاد کر کے بہت روئے تو کسی دم والدہ مرحومہ کو۔ اپنی بدبختی کو کوستے اورسسکیاں لیتے خُدا جانے رات کے کس پہر آنکھ لگی۔ اگلی صبح اُستاد چُغری خاں نے میر صاحب کی آنکھوں سے ہی اندازہ لگا لیا کہ صاحبزادے نے معاملہ دل پر لے لیا ہے۔ کپتان صاحب سے ملاقات ہوئی تو استاد نے سرِ راہے بتا دیا کہ صاحب بہادر کا لاڈلا اداس ہے۔ کپتان صاحب نے حکم دیا کہ میر صاحب شام کا کھانا ان کے ہمراہ کھائیں گے۔ کپتان صاحب اکثر ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے کہ عشق اور سپہ گری کسی کا رنگ ، مذہب اور نسل نہیں دیکھتے۔ کم سن میر صاحب سے انس شائد فقط بے اولادی کی وجہ سے ہی نہیں، سپہ گری کے پیشے کی دین بھی تھا کہ میر ابوالمعالی کا بھی کپتان صاحب ایک اچھے اور کہنہ سال سپاہی ہونے کی وجہ سے از حد احترام کرتے تھے۔ میر صاحب جب کپتان برنابی صاحب کے ہاں گئے تو کپتان صاحب نے ان کی آزردگی کی وجہ پوچھی اور پھر دیر تک ان کی ہمت بڑھاتے اور غم غلط کرنے کی باتیں کرتے رہے۔ لطائف اورشعر و سخن کا تبادلہ بھی ہوا اور میر صاحب کی طبیعت ایک بار پھر ہلکی پھلکی ہوگئی۔

کپتان برنابی صاحب کی حوصلہ افزائی نے میر صاحب کو پھر سے تربیت پر آمادہ کیا تو وہ ایک بار پھر میدان کی مشق میں آکھڑے ہوئے۔ اب کی بار میر صاحب کو سب سے پہلی باری دی گئی تھی۔ان کے ساتھی بڑے تجسس سے دیکھ رہے تھے کہ کپتا ن صاحب بہادر کا چہیتا کیوں کر بندوق سر کرتا ہے ۔ آج انہیں ولائیتی انفیلڈوالی بندوق دی گئی جس کا کارتوس بھی اچھا تھا۔ یہ بندوقیں ۱۸۵۷ کے بعد اب آکر کپتان برنابی صاحب نے استعمال کی تھیں جبکہ باقاعدہ افواج میں ان کے متنازعہ ہو جانے کی وجہ سے ان کا استعمال قریباً ختم ہو چکا تھا اور ان کی جگہ اب مارٹینی ہنری اور سنائیڈر کی بندوق نے لے لی تھی۔ میر صاحب نے پورے اعتماد کے ساتھ بندوق بھری، نشست باندھ کر لبلبی دبا دی لیکن گھوڑے نے چلنے سے انکار کر دیا۔ اس مردود پرزے نے عین وقت پر بے وفائی کی تو میر صاحب گھبرا گئے۔ اسی لمحے اُستاد چغری خاں نے آگے بڑھ کر بندوق تھام لی جبکہ کپتان صاحب انگریزی میں کچھ بڑبڑانے لگے۔ اس سے پہلے کہ استاد ٹھونک بجا کر بندوق کے نقص کا اندازہ لگاتے، بندوق استاد کے ہاتھ میں ازخود چل گئی اوردبیر سنگھ توپچی کا، جو کہ لپک کر اُستاد کے پاس آگیا تھا اور بندوق کی نال کے سامنے کھڑا تھا، بایاں پاؤں زخمی کر گئی۔ کپتان برنابی نے جو یہ منظردیکھا تو پہلے بے ساختہ ہنس پڑے، پھر سنجیدہ ہو کر واپس چلے گئے۔ میر صاحب دیر تک یہی سوچتے رہے کہ کپتان صاحب نے قہقہہ لگا کر اُن کی نحوست اور بدبختی کی داد دی ہے۔ بہت خفا ہوئے، رات دیر تک شہر سے ہٹ کر ایک مندر کے پچھواڑے میں، ندی کنارے بیٹھے رہے۔ رات بھی چاندنی تھی اوردل بھی اداس ۔ بڑی مدت کے بعد آج میر صاحب کو رخشندہ بانو کا خلوص یاد آیا۔ اس کی بہت کمی محسوس کی لیکن جب اس کا ترکِ تعلق یاد آیا تو ہر تلخ و شیریں یاد کو ذہن سے جھٹک کر اُٹھ آئے۔ میر صاحب اگر اس قدر حساس نہ ہوتے تو شائد قدرت بھی ان کے ساتھ اتنی چھیڑ چھاڑ نہ کرتی۔ میر صاحب کی رنجیدگی اور دلگرفتگی کا قصہ پھر کپتان صاحب تک پہنچا تو وہ میم صاحب کے ہمراہ خود ہی اُستاد چُغری خاں کے ہاں چلے آئے۔ میر صاحب کو پاس بٹھایا اور کہا؛

‘‘میر صاحب، تُم فقط تھوڑے سے بدقسمت واقع ہوئے ہو ورنہ سپہ گری میں تُم ہرگز نالائق نہیں ہو، لیکن بہادر بنو!’’

میم صاحب نے فرمایا: ‘میر، ٹُوم جس دن نظام کی فوج میں بھرتی ہو گا، میں ٹُومارا شادی بناؤں گی’ میر صاحب مسکرا کر چپ ہو رہے۔
میم صاحب نے سفارش کی کہ میر خسرو کو توپ کی تربیت دی جائے، شائد اسے ہماری پلٹن کی بندوق راس نہیں ہے۔ کپتان صاحب نے سفارش مان لی ۔ پلٹن میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ، بلکہ کچھ لوگوں نے تو شرطیں بدنا بھی شروع کر دیں کہ میر خسرو کیسے توپ چلائے گا۔ اب استاد چغری خاں نے میر صاحب پر سخت محنت شروع کر دی اور کئی روز مشق اور قواعد کے بعد کپتان صاحب سے اجازت طلب کی کہ میر صاحب کو مشق کروائی جائے کہ وہ توپ چلا کر دکھائیں۔ کپتان صاحب نے پلٹن کی سب سے چھوٹی توپ (توپک) میر صاحب کے لئے نکلوائی ۔ یہ توپ پیندے سے بھری جاتی تھی جس میں گولہ ڈال کر دندانے دار بیلن کا پیندا گھما کر کس دیا جاتا تھا۔ بہت ہلکی توپ تھی اور استاد قالی خاں نے بیجا پور میں پہاڑی توپ خانےکیلئے ڈھالی تھی۔جب سے یہ توپ استاد قالی خاں نے کپتان صاحب کو تحفہ کی تھی، یہ توپ کم ہی چلی تھی۔ مقررہ روز جب میر صاحب نے مشق کے میدان میں توپ چلانا تھی ، اس روز استاد چغری خاں اچانک بیمار پڑ گئے، جس وجہ سے کپتان صاحب کے ہمراہ دبیر سنگھ توپچی کو آنا پڑا جس کا پاؤں ہنوز زخمی تھا۔ وقت مقررہ پر کپتان صاحب کی موجودگی میں جب میر صاحب نے توپ بھری، تمام پلٹن دیکھ رہی تھی، سب نے میر صاحب کے ماہرانہ انداز کی داد دی اور کپتان صاحب بھی دیکھ کر خوش ہوئے۔ میر صاحب نے بڑے اعتماد سے توپ میں سلامی کا گولہ ڈالا اور دبیر سنگھ کے، جو کہ چند قدم پیچھے کھڑا تھا، اشارہ کرنے پر مہتابی دکھا دی۔ چھوٹا سا دھماکا ہوا اور پیندے کا دندانے دار بیلن (بریچ) ٹوٹ کر کسی پٹاخے کی طرح پھٹ گیا جس کا ایک ٹکڑا دبیر سنگھ کی دائیں ٹانگ پر لگا جبکہ دوسرا اپنی پوری شدت سے عقب میں ایک درخت میں پیوست ہو گیا۔ آگ کے شعلے سے میر صاحب کی بھنویں اور سر کے بال بھی کچھ جھلس گئے۔ دراصل کسی نے غور نہیں کیا کہ پیندے کے بیلن میں پرانا پڑ جانے کی وجہ سے بال کے برابر دراڑ پڑ گئی تھی۔ یہ تو خیر گزری کہ سلامی کا گولہ ڈالا گیا تھا ورنہ اُلٹی توپ چلنے سے بہت نقصان ہوتا تھا۔ کپتا ن بے حد خفا ہو کر وہاں سے چل دیے۔ تمام لوگوں نے اسے دبیر سنگھ کی نااہلی قرار دیا لیکن کپتان صاحب ناروا میر خسرو سے ناراض ہو گئے ۔ اسی شام کپتان صاحب دبیر سنگھ کی عیادت کے بعد استاد چغری خاں کی عیادت کو بھی آن پہنچے تو میر صاحب سے بھی سامنا ہوا لیکن بات نہ کی۔ استاد نے میر کی وکالت کرنے کی کوشش کی تو کپتان برنابی صاحب آگ بگولہ ہو گئے؛

‘‘اُستاذ، من ہرگز باور نکنم کہ اُو خلفِ ابوالمعالی است’’ کپتان صاحب نے سخت غصے میں کہا اور چلے گئے۔ میر صاحب نے بھی سُن لیا اور سخت بُرا مان گئے اور اسی شب اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اورنگ آباد سے روانہ ہو گئے۔ جاتے ہوئے استاد چغری خاں سے کہا؛ ‘‘اُستادِ من، ہم سپہ گری پر تین حرف بھیج چکے، اب جاتے ہیں اجمیر، خواجہ کی درگاہ میں ٹھکانہ کرنے ’’ استاد سن کر پریشان سے ہوگئے ، ‘‘میر خسرو طلعت! خدارا دل میلا نہ کیجو، ابھی تو آپ رنگروٹ ہیں!’’ استاد نے ملتجیانہ کہا لیکن میر صاحب ، کپتان صاحب کی بات دل پر لے چکے تھے، ہرگز نہ رُکے اور اجمیر روانہ ہو گئے۔ اگلے روز جب کپتان صاحب کو واقعہ کا علم ہوا تو پہلے سخت برہم ہوئے، لیکن استاد چُغری خاں اور دبیر سنگھ کے سمجھانے پر انہیں احساس ہوا کہ اُنہوں نے ناروا غُصے سے کام لیا ہے۔ توپ کی خرابی کی ذمہ داری سنگھ نے اپنے سر لے لی اور معقول بات بھی یہی تھی۔ کپتان برنابی نے اگلے ہی روز ایک جوان کو میر صاحب کے نام کا ایک رقعہ دے کر اجمیر روانہ کردیا ۔ اس نامہ بر کو بصد مشکل میر صاحب ملے تو کپتان صاحب کا رقعہ میر صاحب کے حوالے ہوا، لکھا تھا؛

‘‘سیدزادے! کیوں خفا رہ کر گنہ گار کرتے ہو؟ اب تھوکو غصہ اور آبھی چکو، دیکھو بہت نادم ہوں اور میم صاحب بھی افسردہ ہیں’’

میر صاحب تیوری چڑھا کر بولے، ‘‘ایک فرنگی کاہے کو ہمارے تئیں اس لائق گردانے؟ یہ تحریر استاد چغری خاں کی ہے’’ قاصد نے جا کر کپتان صاحب کو بتایا تو وہ بھی ناراض ہوئے مگر استاد چغری خاں کے مشورے پر اُنہوں نے گھنشام بابو کو خط لکھا جس چغری خاں خوب جاننے لگے تھے۔ میر صاحب گھنشام بابو کی بات ٹالنے والے نہ تھے، لہٰذا اس کے ہمراہ ہی اورنگ آباد آگئے ۔ آنے سے پہلے درگاہ میں خوب دعائیں مانگ کر آئے، راہ میں گھنشام بابو نے کسی جوتشی سے میر صاحب کی پریشانی بیان کی تو اس نے فقط اتنا کہا؛ ‘‘میر صاحب کے ہاتھ میں تفنگ ضرور چلے گی!’’ گھنشام بابو کو تو میر صاحب کی بپتا پر ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا تاوقتیکہ اورنگ آباد پہنچ کر کپتان صاحب کی پلٹن سے سُن نہ لی۔ گھنشام بابو کے ساتھ میر صاحب نے ریاست میں چند روز خوب سیر کی، یوں ان کا مزاج اچھا ہوا اور وہ معمول پر آگئے۔

یہ ۱۸۸۲ کی کوئی تاریخ تھی جب کپتان برنابی صاحب بہادر اور میم صاحب کے دیرینہ دوست اور بے حد محبوب رشتہ دار کرنیل گورڈن صاحب بہادر کی خبر ملی کہ تل الکبیر کے معرکے میں مارے گئے ہیں، یعنی ایک دھاوے میں گھوڑے سے زخمی ہو کر گرے اور رسالے بھر کی ٹاپوں نے روند دیا۔ پلٹن میں سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔ پلٹن کے پرانے لوگ آنجہانی کرنیل صاحب کا بے حد احترام کرتے تھے۔ کرنیل صاحب کبھی کپتان صاحب کے مہمان ہوتے تو پلٹن کا دورہ بھی کرتے۔ آخری بار میر صاحب کے آنے سے کچھ قبل دورہ کیا ہوگا لیکن میر صاحب نے ان کی سپاہیانہ وجاہت اور ہیبت کے قصے سُن رکھے تھے۔کپتان برنابی صاحب بہادر نے پلٹن میں دربار لگایا اور کرنیل صاحب کے پرانے دوست اور شاعر میرزا محی السنت احقر کو بلوا کر ان سے مرثیہ کہلوایا۔ استاد چغری خاں نے فارسی میں قطعۂ تاریخ کہا جبکہ ایک شعر میر خسرو طلعت نے بھی اہلِ دربار کے گوش گزار کیا؛

جنگ جوئے قہر ساماں پر یہ قہرِ واژگوں
تفو تجھ پر، حیف تجھ پر اے سپہرِ واژگوں!

کپتان صاحب چونکے۔ ‘‘میر صاحب! سپہر ِ واژگوں نے جو قہر میرے مرحوم دوست پر ڈھایا، یہ قہرِ واژگوں کیسے ہو گیا؟’’ کپتان صاحب کے سوال پر میر صاحب کا جواب بھی خوب تھا؛ ‘‘حضور، صاحب بہادر خُلد آشیانی کے قہر سے بھی تو فلکِ پیر کانپ اُٹھتا تھا!’’

کپتان برنابی بہت خوش ہوئے اور اپنی کارتوس بھری قرابین وہیں میر صاحب کو انعام کر دی۔ میر صاحب نے بصد شکریہ قرابین کمربند میں اُڑس لی اور خوش خوش واپس آگئے۔

اگلے روز شور ہوا، ‘میر صاحب کی قرابین چلی ہے!’ ‘میر صاحب نے قرابین سے گولی داغی ہے!’ جو سچ تھا، جلد ہی سب کو پتہ چل گیا ۔ میر صاحب نے جو قرابین جامے میں اُڑس لی تھی، وہ کسی لمحے اُن کا ہاتھ پڑ جانے سے از خود چل گئی اور گولی ان کی ران پہ لگی ۔ بمشکل ایک رات جان بر رہ سکے، خون ذیادہ بہہ جانے کی وجہ سے پہلے بے ہوشی ہوئی، پھر دم توڑ دیا۔ دمِ مرگ وصیت کر گئے تھے لہٰذا پلٹن کی لین میں دفن ہوئے۔

قبر پر مٹی پھینکی جارہی تھی، ضابطے مطابق سپاہ کی گارد نے سلامی کی بندوقیں سر کیں تو اپنی جھونپڑی میں بیٹھے ولائیت حسین موچی کے شاگرد کا ہاتھ رک گیا۔ پاس بیٹھے کسی بچے نے کہا، ‘‘پلٹن میں کوئی سنتری مر گیا ہے، سپاہی لوگ اُسے دفنا رہے ہیں’’

‘‘بالآخر اس کا بھی بخت جاگا۔۔۔’’ نوجوان موچی نے کہا، بچے نے کچھ جواب نہیں دیا۔ ‘‘اچھا ہی ہوا، فرنگی کے احسانوں کے بار سے آزاد ہوا اور عدم کے ملک میں اپنا ایمان سلامت لیے جا بسا ہے، خُدا بخشے۔۔۔’’

بگل کی آواز پر دیر تک ‘لاسٹ پوسٹ’ کی دُھن بجتی رہی اور موچی کا ہاتھ اسی روانی سے کپتان برنابی کے گھڑسواری کے بوٹ سینے میں مشغول ہو گیا۔۔۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اکیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(38)

جھنڈووالا میں سردار سودھا سنگھ سمیت ایک دم دس لاشیں پہنچیں تو اندھا کر دینے والا حبس چھا گیا۔ لاشیں دو گَڈوں پر لادی ہوئی تھیں۔ گولیوں سے چھلنی اور خون سے لت پت گو یا مَسلی جا چکی تھیں۔ لاشوں سے مسلسل رِستے ہوئے خون کی وجہ سے گَڈوں کی حالت بھی لاشوں سے بد تر تھی اورگَڈوں کے اُوپر جُڑے ہوئے تختوں کے فرش سے لے کر لکڑی کے پہیوں تک خون میں نہا چکے تھے۔ بہت ساخون تختوں پر جم کر سیاہ ہو چکا تھا۔ لاشیں اگرچہ تازہ تھیں اور قتل ہوئے مشکل سے ہی پانچ یا چھ گھنٹے ہوئے تھے لیکن شدید گرمی کی وجہ سے اُن کی حالت بہت ہی خوفناک اور بدبو پیدا کر دینے والی تھی۔ اُن کو دیکھنا تو الگ بات،قریب جانا بھی اذیت ناک تھا۔ لاشیں پولیس کی نگرانی میں جھنڈووالا پہنچی تھیں،اِس لیے پولیس کی بھی کافی نفر ی وہاں موجود تھی لیکن وہ اب لا تعلق سی ایک طرف کھڑی تھی،جیسے اُنہیں اس بات سے صرف اتنی غرض ہو کہ جتنی جلدی ہو سکے ان کا کریا کرم ہو جائے اور اس بدبو،پسینے،اور شور شرابے سے جان چھوٹے۔ جھنڈووالا کے مرد تو ایک طرف بینت کور سمیت وہاں کی تمام عورتیں لاشوں کے اُوپر گری پڑی تھیں اور ایسے ایسے بین اُٹھا رہی تھیں کہ خدا پناہ۔ سر کے بال بکھیر کر اوراُن میں راکھ ڈال کر اپنے آپ کودوہتھڑ پیٹ رہی تھیں،جیسے چڑیلیں بن گئی ہوں۔ بیہوش ہو کر کبھی نیچے گرتیں کبھی اُوپر اُٹھ کر گڈے پر چڑھنے کی کوشش کرتیں۔ کسی کو جرات نہ تھی،اُن کے قریب جا کر دلاسا ہی دے۔ سب سے بُری حالت بینت کور کی تھی۔ لوگوں کی بھی زیادہ تر ہمدردیاں سردار سودھا سنگھ اور بینت کور ہی کے ساتھ تھیں۔ لاشیں کافی دیر اسی طرح گڈوں پر پڑی رہیں۔ مردوں اور عورتوں نے جی بھر کر ماتم اور رونا پیٹنا مچایا۔ مرنے والوں کے ا قربا غش کھا کھا کر گرتے تھے جبکہ لوگ بھاگ بھاگ کر اُن کے منہ میں پانی ڈالتے تھے۔ پانی پلانے والے کم تھے اور رونے پیٹنے والے زیادہ کیونکہ پوری دس لاشیں تھیں۔ وہ بھی ساری کی ساری جھنڈووالا کی۔ یہ سب قتل ہونے والے پورے گاؤں کے کسی نہ کسی طرح قریبی رشتہ دار تھے۔ جو آدمی بھی لاشوں کو دیکھتا اور اُن کی بُری حالت پر نظر کرتا تو کلیجہ پھٹ کے رہ جاتا۔ وہیں لاشوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا۔ تھوڑی دیر پہلے صبح کے وقت اچھے بھلے شینہہ جوان اور سوہنے سنکھنے تھے اور اب گڈوں پر اس طرح لیٹے تھے جیسے کبھی دھرتی پر چلے پھرے ہی نہ ہوں۔ پولیس نے دیر تک اُنہیں یونہی اُن کے حال پر چھوڑے رکھا اور الگ بیٹھی رہی لیکن جب رونے دھونے اور پیٹ پٹہیے کے عذاب کودو گھنٹے گزر گئے تو اُنہوں نے مداخلت کر کے لاشیں گڈوں سے اُتارنا شروع کر دیں۔ بینت کور اور دو تین خواتین ویسے بھی روتے پیٹتے غش کھا کر اپنے حواس سے بیگانہ ہو چکی تھیں۔ مردوں کو پیچھے کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ ایک ایک کر کے تمام لاشیں گڈوں سے اُتار کر سودھا سنگھ کی حویلی میں لائی گئیں اور اُنہیں چارپائیوں پر لٹا دیا گیا۔ سودھا سنگھ کو اُسی چار پائی پر لٹایا گیا جو اُس نے خاص اپنے لیے بنوائی تھی اور اُس پر کسی دوسرے کو بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ جب تک لاشیں اُتاری گئیں،بینت کور کو دوبارہ ہوش آچکا تھا۔ وہ بھاگ کر پھر لاش سے لپٹ گئی۔ سودھا سنگھ کی شکل خوفناک حد تک مسخ ہوچکی تھی اور دیکھنے سے کراہت محسوس ہوتی لیکن بینت کور اُسے اُسی طرح چوم رہی تھی جیسے اُس میں خوبصورتی کے شعلے دہک رہے ہوں۔ پورا دو تین سو بندہ حویلی میں جمع ہو تھا۔ اُن کے علاوہ ارد گرد گاؤں کے لوگ بھی اس ہیبت ناک خبر کو سن کر وہاں آگئے۔ اِس طرح جھنڈو والا میں لوگوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ پہنچ گئی۔ زیادہ تر لوگ لاشوں سے دور حویلی کے باہر ہی مختلف ٹولیوں میں ادھر اُدھر بیٹھے اور کھڑے،اِس واقعے پر طرح طرح کے تبصرے بکھیر رہے تھے۔ اُنہیں اِس سانحے پر دُکھ سے زیادہ تعجب اور غلام حیدر کی جرات پر حیرانی تھی۔ اُن میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن کو لاشیں دیکھنے سے دلچسپی نہیں تھی،نہ ہی وہ چاہتے تھے،اُن کا نام گواہی کے طور پر استعمال ہو۔ فقط تماشا دیکھنے میں اُن کی طبیعت کو ایک قسم کا سکون ملتا تھا۔ جھنڈووالا میں اب سکھ،مسلمان سب ہی جمع ہو چکے تھے۔ مسلمان بظاہر مرنے والوں کے لیے چہروں کو سنجیدہ بنا کر پھر رہے تھے لیکن دل ہی دل میں اُن کا ایمان انہیں غلام حیدر کو داد دینے پر اُکسا رہا تھا۔ وہ جی میں بغلیں بجا رہے تھے اور غلام حیدر کی بہادری پر اُن کے سینے فخر سے پھولے ہوئے تھے۔ بعض چپکے چپکے آپس میں اِس بات کر اظہار بھی کر رہے تھے کہ بھائی مُنڈے نے اپنے اُوپر نیودرا نہیں رکھا۔ بدلے کا حساب پورا پورا کھول کے چکایا ہے۔ غلام حیدر آخر شیر حیدر کا بیٹا تھا۔ یہی کچھ ہونا تھا۔ لوہے کی گولیاں مار مار کے بچاروں کے حلیے ہی بگاڑ دیے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے ظلم کی انتہا بُری ہوتی ہے۔ پھر بھی جیسا بھی تھا،میاں سودھا سنگھ تھا اچھا آدمی۔ اپنی رعایا پر بچارا بڑا مہربان تھا۔ غلام حیدر کو حوصلے سے کام لینا چاہیے تھا۔ معاف کر دیتا تو زیادہ اچھا تھا،پرغصہ بُری چیز ہے،بھائی ہوا بُرا۔ بچارے سودھا سنگھ کو کیا پتا تھا،اُس کے دن گنے جا چکے ہیں؟ چلو مولا بھلی کرے،اب بچاروں کی لاشیں خراب ہو رہی ہیں۔ جتنی جلدی ہو سکے،ان کی ہوا کوآگ دے دینی چاہیے۔ غرض یہ کہ مسلمان،جو اِس وقت جھنڈووالا میں کھڑے تھے،وہ بظاہر تو ہمدردی کے کلمات کہہ رہے تھے لیکن دل میں ایک مسلمان کی بہادری پر خوش ہو رہے تھے۔ اُدھر سکھوں کی حالت واقعی قابلِ رحم تھی،وہ یا تو کچھ بول نہیں رہے تھے اور زبانوں پر مہر یں لگی ہوئی تھیں یا وہ رو رہے تھے،بولیں تو کیا؟ کہ ایک مُسلے نے دس سرداروں کی ایک وقت میں چتا کی راکھ اُڑا دی۔

تھانہ گرو ہر سا کی پولیس حادثے کے فوراً بعد ہی وہاں پہنچ گئی تھی حتیٰ کہ جھنڈووالا کے لوگوں سے بھی پہلے۔ تھانیدار ضمیر شاہ نے وقوعے کی تمام رپورٹ درج کرکے گواہوں کے بیانات قلم بند کرلیے۔ جس کے مطابق سودھا سنگھ اور اُس کے بندوں پر حملہ کرنے والے صرف دو ہی آدمی تھے،جن کے پاس پکی رائفلیں تھیں اور وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔ مگر اُن کے چہروں پر منڈاسا ہونے کی وجہ سے وہ پہچانے نہیں جاسکے۔ البتہ سودھا سنگھ کے بھاگے ہوئے بندوں کے مطابق،اُن دو کے علاوہ اور بھی کافی سارے آدمی تھے،جن کے پاس ڈانگیں اور برچھیاں تھیں اور وہ بھی گھوڑوں پر سوار تھے۔ اُنہیں یہ بھی شبہ تھا،کہ رائفلوں والے جو دو آمی تھے۔ اُن میں سے ایک غلام حیدر تھا،مگر اُن کی یہ بات پولیس کی سمجھ سے باہر تھی۔ اگر سودھاسنگھ کے اُن گواہوں کے بیانات کو مان لیا جائے،تو مسلۂ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی مرنے والے اور زخمی ہونے والے یا بھاگنے والے پر تیز دھار لوہے کا ایک بھی زخم موجود نہیں تھا۔ نہ ہی اُن لوگوں کا نام نشان وہاں موجود تھا،جن کے پاس ڈانگیں یا برچھیاں تھیں۔ یااُن میں سے کیوں کوئی بھی آدمی سودھا سنگھ کے ہاتھوں زخمی نہیں ہوا۔ یہ تمام باتیں جزیات کے ساتھ تھانیدار ضمیر شاہ نے اپنے نقشے اور پہلی انکوائیری میں درج کر لیں۔ باقی پورے کیس کی بنیاد اِسی پہلی انکوائیری پر تھی۔ عصر تک تھانیدار نے واقعے کے شاہدین،جگہ کا نقشہ اور وقوعے کی رپورٹ تیار کر کے لاشیں چھوٹے تھانیدار دیوان سنگھ اور حوالدار چندن لعل سمیت چھ سپاہیوں کی نگرانی میں جھنڈووالا کی طرف روانہ کر دیں اور خود ڈی ایس پی لوئیس صاحب کو رپورٹ کرنے کے لیے جلال آباد روانہ ہو گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گھوڑے دلکی چال چل رہے تھے۔ غلام حیدر براستہ سلیمانکی حویلی لکھا پہنچا،تو رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ گرمیوں کی راتیں مختصر اور نہایت گرم ہونے کی وجہ سے لوگ اتنی جلدی چارپائیوں پر کم ہی جاتے ہیں۔ غلام حیدر کے اس پورے علاقے میں کئی رشتے دار اور دوست پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن وہ کہیں بھی قیام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا،واقعے کے فوری بعد مشرقی اور وسطی پنجاب کے تمام تھانوں میں اُس کے متعلق اطلاع کر دی گئی ہو گی۔ اِس لیے وہ کوئی بھی خطرہ فی الحال مول نہیں لینا چاہتا تھااور کسی بھی ایسی جگہ نہیں رکنا چاہتا تھا،جہاں اُس کی رشتہ داری یا دوستی کا لوگوں کو کچھ پتا تھا۔ غلام حیدر نے چلتے چلتے امانت خاں سے کہا،میاں امانت،تم نے جو آج میرے لیے کیا ہے،اُس کی قیمت تو میں کسی بھی طرح ادا نہیں کر سکتا لیکن میں چاہتا ہوں،اِس دوستی کے عوض تم سے کچھ نہ کچھ ضرور سلوک کرو ں۔ مجھے نہیں پتا،کتنا عرصہ اب مسافرت میں گزارنا پڑے لیکن میرا وعدہ ہے،اِس غربت کے بعد میں تمھیں اپنا سگا بھائی بنا کر رکھوں گا۔ مگر اس وقت میرا خیال ہے،ہمیں اکٹھے نہیں رہنا چاہیے اور الگ الگ ہو جائیں۔ یہ کہ کر غلام حیدر نے اپنی کمر سے بندھی ہوئی ایک بھاری تھیلی کھولی اور چلتے چلتے ہی اُسے امانت خاں کی طرف بڑھا دیا اور کہا،اِس میں ایک پاؤ سونا ہے۔ یہ میری طرف سے تحفہ سمجھو اور اِسی وقت سیدھے اپنے علاقے میں چلے جاؤ۔

امانت خاں نے تھیلی غلام حیدر سے پکڑ لی اور کہا،چوہدری غلام حیدر،میں تیرے ساتھ اِن پیسوں کے لالچ میں نہیں آیا تھا لیکن یہ سونا مَیں ضرور اپنے پاس رکھوں گا،اُس وقت تک جب تم دوبارہ نہیں ملتے۔ یہ سونا میرے پاس تمھاری امانت ہے۔ اگر مشکل پڑی اور اِن کی ضرورت ہوئی تو اپنی امانت مجھ سے آ کر لے لینا۔ ملک بہزاد،میرا ماماہے اور اُس کے مجھ پر ہزاروں احسان ہیں۔ مَیں یہ کام پیسوں کے لیے نہیں کرتا،۔ اِس کے بعد دونوں گلے ملے اور دونوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں مخالف سمت میں موڑ دیں۔ غلام حیدر نے اپنا گھوڑا نواب سرفراز کی حویلی کی طرف دوڑا دیا،جہاں کچھ دن آرام کرنے کے بعد منصوبے کے مطابق اُسے نواب افتخار کے ماموں کے پاس کشمیر جا کر پتا نہیں کتنے برس تک روپوش ہونا تھا۔ تاکہ وقت کا انتظار کیا جا سکے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گرمی کی وجہ سے لاشوں کو زیادہ دیر تک نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ ویسے بھی تمام قانونی کارروائی مکمل کی جا چکی تھی۔ اِس لیے پولیس چاہتی تھی کہ لاشوں کو اپنی نگرانی میں ٹھکانے لگا دے تاکہ لاشیں خراب ہو کر بدبو نہ مارنے لگ جائیں۔ اب رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ اِس سخت گرمی میں اِتنا وقت بہت زیادہ تھا۔ ورنہ مزید کوفت پھیل جاتی۔ خون،بد بو اور لوگوں کا ہجوم اس میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ لوگوں نے ایک ہی وقت میں اتنی لاشیں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں،نہ اِس طرح کا قہر پہلے نازل ہوا تھا۔ اِس لیے ہر کوئی دور دور سے بھاگا ہوا آیا اور یہاں جمع ہو گیا تھا۔ سردارسودھا سنگھ کے رشتے داروں کے بھی سینکڑوں لوگ تھے،جو لاشوں کو دیکھ کر جذباتی ہو رہے تھے۔ اِس ساری آنے والی خرابی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اپنا کردار شروع کر دیا اور فیصلہ کیا کہ اب چتاؤں کو آگ دینے اور راکھ بنانے میں دیر نہ کی جائے۔ چنانچہ رات آٹھ بجے کے قریب سردار سودھا سنگھ،دما سنگھ،جگبیر،پیت سنگھ،بیدا سنگھ،ہرے سنگھ،کڑے مان،لہنگا سئیواور دوسرے متروں کی لاشوں کو شمشان گھاٹ میں لے جا کے آگ اور لکڑیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ سردار سودھا سنگھ کا تین سالہ بیٹا سرداو جیوا سنگھ،جسے ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا تھا کہ کون سی قیامت اُس کے سر سے گزر چکی ہے،کے ہاتھ میں جلتی ہوئی لام دے دی گئی تاکہ وہ سردار سودھا سنگھ کے گولیوں سے چھلنی بدن کو دکھا دے،جو سوکھی لکڑیوں کے درمیان بے خبر پڑا تھا۔

اِدھر سردار سودھا سنگھ کی لاش کا کریاکرم ہونے لگا،اُدھر لوئیس صاحب پولیس کو لے کر اپنی کارروائی کرنے کے لیے جلال آباد میں چوہدری غلام حیدر کی حویلی پر چڑھ دوڑا۔ چالیس سنتریوں اور تھانیداروں سمیت گھوڑوں نے پوری حویلی کو گھیرے میں لے کر اُس کا اپریشن شروع کر دیا۔ مگر وہاں دو ملازموں کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا،جو حویلی کا دروازہ بند کرنے اور کھولنے کے لیے موجود تھے۔ لوئیس نے دونوں ملازم حراست میں لے کر کونے کونے کی تلاشی شروع کر دی۔ لیکن وہاں کچھ ہوتا تو ملتا۔ رات بارہ بجے تک لالٹینوں کی روشنی میں تلاشی جاری رہی۔ مگر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ بالآخر لوئیس صاحب نے وہاں دو سنتری متعین کر کے اور دونوں ملازموں کو،جنہیں خود بھی کسی بات کا پتا نہیں تھا،اُنہیں اٹھا کر اپنے دفتر لے آیااور باقی کارروائی اگلے دن پر ڈال دی۔

لوئیس صاحب کے لیے معاملہ بہت گھمبیر ہو چکا تھا۔ اُسے یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ غلام حیدر اتنا بڑا قدم اُٹھا لے گا اور اِس میں اپنے نفع نقصان کو بالائے طاق رکھ دے گا۔ اِدھر اُسے ولیم صاحب سے انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسے اُس نے مطمئن رہنے کا سرٹیفیکیٹ عطا کر دیا تھا۔ اب مجرم موجود نہیں تھا،جسے گرفتار کر لیا جاتا۔ جبکہ اُس کے تمام آدمی تھانہ گرو ہرسا کی حوالات میں ناجائزاسلحہ کے جرم میں بند پڑے تھے۔ اُن کا موقعہ واردات پر موجود ہونا ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ پورا تھانہ گواہی دے رہا تھا کہ ِانہیں دو دن پہلے ناجائز اسلحے اور ایک دوسرے گروہ کے ساتھ دنگا کرنے کے جرم میں گرفتار کر کے فیروز پور عدالت میں پیش کرنے کے لیے چالان تیار کیا جا چکا ہے اور واقعہ کے عین روز اُنہیں پولیس کی حراست میں عدالت لے جایا جا رہا تھا کہ سردار سودھا سنگھ،شریف بودلہ،عبدل گجر اور دوسرے کئی آدمیوں کا قتل ہو گیا۔ لوئیس صاحب کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی۔ ضمیر شاہ کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ایک یا دو بندے کس طرح اِتنے قتل اِس قدر قلیل وقت میں کر سکتے ہیں؟ مگروہ اُن بندوں کو وہاں کیسے ثابت کرے؟ جن کی خبر سردار سودھا سنگھ کے بھاگنے والے بندے دے چکے تھے۔ دوسری طرف سردار دیوے کھوہ کے مالک کے بیان کے مطابق بھی دو بندے تھے،جن کو وہ نہیں پہچانتا تھا۔ اُس نے بس اتنا دیکھا تھا کہ اُنہی دونوں نے ریفلوں سے فائرنگ کر کے اِن سب کو قتل کیا تھا اور اُن کے چہرے کپڑوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ اِس لیے پہچانے نہیں گئے۔ اِس بات کی تصدیق اِس سے بھی ہوتی تھی کہ عبدل گجر اور شریف بودلے کے قتل کے گواہوں نے بھی دو بندوں ہی کی تصدیق کی تھی۔ لوئیس صاحب جانتا تھا،کہیں دال میں کالا ضرور ہے۔ لیکن اتنی جلدی پتہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔ مگر اُسے پوری تحقیق کرنے کے لیے وقت بھی ملتا ہے کہ نہیں؟ اب اِس کا خطرہ موجود تھا۔ کیونکہ ولیم اب کسی بھی طرح کا رسک لینے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اُس کے خلاف کاروائی کر دے گا۔

تفتیش کو تیسرا دن تھا۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ اُدھر ولیم شادی میں مصروف تھا۔ اور اِس وقت اُسے اِن کاموں میں اُلجھانا نامناسب ہی نہیں،اصولوں کے بھی خلاف تھا۔ اگرچہ لوئیس صاحب نے فیروزپور جا کر ساری بات ضلع پولیس افسر کے سامنے رکھ دی تھی اور اپنی پوزیشن واضح کر دی تھی۔ لیکن معاملہ اُلجھتا ہی جا رہا تھا۔ البتہ غلام حیدر کی پوری زمین اور جائداد قبضہ میں لے لی گئی اور تمام لوگوں کو خبردار کر دیا کہ جو اِس معاملے میں ملوث ہے،وہ خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دے ورنہ گورنمنٹ انتہائی سخت ایکشن لے گی۔ لیکن اِس کی نوبت نہیں آئی۔ کیونکہ اِس ہولناک واقعہ کی اطلاع جب ولیم صاحب کو پہنچی تو اُنہوں نے ڈپٹی کمشنرصاحب کو صاف لکھ دیا کہ یہ پولیس افسراُسے نہیں چاہیے۔ یوں ولیم کے تقاضے پر ڈی ایس پی جلال آباد مسٹر لوئیس صاحب کو دس دن کے اندر ہی تبدیل کر کے لدھیانے بھیج دیا گیا اور اُن کی جگہ لاہور سے تحصیل پولیس آفیسر مسٹر جان میلکم کو جلال آباد تعینات کر دیا گیا۔ جس کی سفارش کچھ دن پہلے سر شاہنواز نواب ممدوٹ نے بھی کی تھی۔ جان میلکم کے آنے کے بعد کیس کی تحقیق نئے سرے سے شروع ہو گئی۔ اُنہوں نے چند دنوں میں سودھا سنگھ کے قتل کے متعلق اپنی پچاس صفحات کی رپورٹ تیار کرلی۔ اُس کا خلاصہ کچھ یوں تھا۔

سودھا سنگھ اور شیر حیدر کے درمیان دیرینہ دشمنی چلی آرہی تھی،جودونوں طرف سے ایک دوسرے کے معمولی نقصان کرنے پرمنحصر تھی۔ یہاں تک کہ شیر حیدرفوت ہو گیا۔ اُس کا بیٹا غلام حیدر تعلیم کے سلسلے میں اکثر لاہور میں رہتا تھا اور اُس کے وہاں کافی بااثر دوست تھے،جن میں کچھ انگریز بھی تھے اور کچھ نواب حضرات۔ اِن لوگوں میں اُٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اُس کے اندر ایک قسم کی خود سری پیداہو گئی۔ جس کو ہوا اُس وقت ملی جب سودھا سنگھ نے شیر حیدر کے مرنے کے بعد فور اُس کی زمینوں پر حملہ کر کے ایک بندہ قتل کر دیا اور بیس ایکڑ مونگی کی فصل تباہ کر دی۔ اِس حملے کے بعد پولیس کی سُستی نے سودھاسنگھ کی مزید ہمت بندھائی۔ اُس نے شیر حیدر کے مزید دو دشمنوں عبدل گجر اور شریف بودلہ کے ساتھ مل کر ایک اور حملہ شاہ پور پر کر دیا،جو غلام حیدر کاآبائی گاؤں تھا۔ اِس میں غلام حیدر کے مزید تین بندے مارے گئے اور بہت سی بھینسیں لوٹ کر لے گئے۔ اسی بنا پرغلام حیدر نے جوابی حملے کا منصوبہ تیار کیا،جو انتہائی کامیاب رہا۔ لیکن اُس میں غلام حیدر نے اپنے بندوں کو استعمال نہیں کیا بلکہ ایک اور آدمی کا سہارا لیا،جس کا ابھی تک کوئی نام ونشان نہیں ملا۔ اُس کا پتا صرف غلام حیدر سے چل سکتا ہے لیکن وہ تا حال فرار ہے۔ پولیس اُسے گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اُمید کی جاتی ہے جلدگرفتارکرلیاجائے گا۔ لیکن بعض اطلاعات کے مطابق وہ ایران نکل گیا ہے۔

(39)

مولوی کرامت پچھلے دو ڈھائی مہینوں سے اپنی گدھی پر گاؤں گاؤں اور بستی بستی پھرتا رہا۔ اِس سفر اور سفر میں مختلف لوگوں سے ملاقات میں مولوی کرامت کو بات چیت کرنے اور کام کرنے میں بہت تجربہ حاصل ہو گیا۔ اُس کی گدھی ایسی سواری تھی،جسے بغیر کسی خرچے کے جہاں چاہتا،لے کر نکل جاتا۔ راستے میں کسی نہ کسی کھیت سے اُس کے لیے مفت میں چارا بھی حاصل کر لیتا۔ کبھی تین تین دن واپس نہ پلٹتا،جہاں رات پڑتی سو جاتا اور لوگوں کو تعلیم کے فوائد سمجھانے اور اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرنے کے متعلق ایسی ایسی دلیلیں پیش کرتا کہ وہ فوراً تیار ہو جاتے۔ حتیٰ کہ اب ان بچوں کی تعداد ہندو اور سکھوں کے بچوں کے نزدیک پہنچنے لگی تھی۔ مولوی کرامت نے سوچ لیا تھا،اگراُسے کچھ عرصہ اسی طرح کام کرنے دیا جائے تو وہ یہ تعداد آیندہ سال تک اِن سب سے زیادہ کر دے گا۔ اس کام میں مولوی کرامت کو سہولت بھی بہت تھی۔ نہ کوئی ڈیوٹی کا مقررہ وقت تھا اور نہ کسی کی پابندی تھی۔ کام کے سلسلے میں بات یہاں تک پہنچ گئی کہ جلال آباد سے دس دس میل دور سے بھی لڑکے سکول آنے کے لیے تیار ہو گئے۔

آج مولوی کرامت نے سکول میں حاضری دینا تھی۔ ایک ہفتے میں مولوی کرامت جتنے بچوں کو سکول میں داخل کرواتا تھا،ہفتے کے آخری دن اُنہیں سکول میں لا کر پکا اندراج کروا دیتا۔ اُس کے بعد وہ پڑھنا شروع کر دیتے۔ آج مولوی کرامت کے بستی جنڈوکا کے سولہ بچے ساتھ لے کر آیا تھا،جن کی عمر آٹھ سال سے لے کر بارہ سال تک تھی۔ مولوی کرامت انہیں نائب ہیڈ منشی کے حوالے کر کے،جب ہیڈ منشی کو سلام کرنے اُن کے کمرے میں پہنچا،تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھا۔ البتہ اُس کے بابو نے مولوی کرامت کو اطلاع دی کہ اُسے تعلیم افسرتُلسی داس اپنے دفتر میں یاد فرماتے ہیں۔ مولوی کرامت اُسی گدھی پر سوار ہو کرڈرتے ڈرتے تحصیل ایجوکیشن افسر کے دفترپہنچا کہ نجانے حاکموں نے اُسے کیوں بلایا ہے؟ اللہ جانے وہ اُس کی خدمت سے خوش ہوئے ہیں کہ ناراض۔ اوراب نوکری برقرار رہ سکے گی کہ نہیں؟ پچھلے تین مہینے کی تنخواہ مولوی صاحب کو مل چکی تھی،جسے وہ جودھا پور میں اپنی بیوی شریفاں کے حوالے کر آیا تھا۔ بلکہ اب جلال آباد میں گھر کے لیے اپنی جگہ بھی مول لینے کی سوچ رہا تھا۔ وہ پہلا مہینہ غلام حیدر کی حویلی میں عزت سے رہ رہا تھا لیکن وہاں انتہائی خوف میں مبتلا تھا۔ بڑی بڑی مونچھوں اور سُرخ انگارہ آنکھوں والے گبرو جوانوں سے حویلی بھری رہتی تھی،جن کو دیکھنے ہی سے اوسان خطا ہو جاتے۔ اس کے ساتھ،ہر طرف ڈانگوں،برچھیوں اور تلواروں کا معاملہ تھا اور لڑائی بھڑائی کی باتیں،جن سے مولوی کرامت کوسوں دور بھاگتا۔ وہ سوچتا تھا،جانے کس وقت حملہ ہو جائے اور وہ اپنے ثالے کی طرح مفت میں مارا جائے۔ اس کے علاوہ نہ کسی کو نماز روزے سے غرض تھی اور نہ اس بات سے کہ اُن کے درمیان ایک مولوی رہ رہا ہے۔ چنانچہ وہ پہلی تنخواہ ملنے کے فوراً بعد وہاں سے اُٹھ کر چار روہے کرایہ کے ایک کمرے میں اُٹھ آیا تھااور شکر خدا کا یہ جگہ اُس نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی تبدیل کر لی تھی ورنہ مفت میں مارا جاتا۔ اب ایک مصیبت جو سب سے اہم تھی،مولوی کرامت اپنی بیوی شریفاں کے بغیر آج تک کہیں ایک رات بھی نہیں رہا تھااور اب اُسے پورے تین مہینے ہو گئے تھے۔ مولوی نے سوچا تھا،اُس کی تین مہینوں کی تنخواہ اور جو قصور سے آتے ہوئے کچھ پیسے جمع ہوگئے تھے،اُن سب کو ملا کر جلال آباد کے اندر نہ سہی،شہر کے مضاف میں تو پانچ چھ مرلے کی جگہ مل ہی سکتی ہے۔ جہاں باقی روپوں کا ایک دو کمرے کا مکان بن جاتا۔ اُس کے لیے مولوی کرامت نے سوچ رکھا تھا،کچھ پیسے وہ رحمت بی بی سے لے گا۔ لیکن اب اس کھتری افسر نے اُسے کیوں بلایاتھا؟اگر اُس نے نوکری ختم کردی تو سارا معاملہ ہی چوپٹ ہو جائے گا۔ اُدھر راڑے والوں نے بھی کوئی نہ کوئی مولوی رکھ لیا ہو گا۔ ہاتھ سے مسجد بھی جائے گی،حالانکہ وہ کام تو اپنی بساط سے زیادہ ہی کر رہا تھا۔ اُس کے لیے اُسے دوسرے ملاؤں اور مسلمانوں سے غدار،کرسٹان اور کس کس قسم کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ مولوی کرامت نے سوچا،کیا ہی اچھا ہو،اگر گورنمنٹ اُسے آرام سے تنخواہ دیے جائے اور وہ کام کیے جائے۔ لیکن یہ بیچ میں جو بابو لوگ ہیں،یہ بہت چالاک ہوتے ہیں۔ بُری بُری باتیں کر کے افسروں کا دماغ خراب کر ہی دیتے ہیں اور یہ افسر بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں،جو بابووں کی ایسی ویسی باتوں میں آکر غریبوں کی نوکری چھین لیتے ہیں۔ اس سے تو اچھا ہے،پہلے نوکری ہی نہ دیں۔ مولوی کر امت کسی انجانے خوف میں یہ سوچتا جاتا تھا اور چلا جاتا تھا۔

سچ بات تو یہ تھی،مولوی کرامت کو صرٖ ف اب تحصیل کے سب سے بڑے فرنگی افسر ولیم صاحب سے ہی ملنا اچھا لگتا تھا۔ کتنا نیک دل افسر ہے،جس نے بغیر سفارش کے،اُسے اتنی بڑی نوکری دے دی لیکن نجانے وہ ایک دفعہ اُسے نوکری دے کر بھول کیوں گیا تھا؟دوبارہ کبھی بلایا ہی نہیں اور نہ کوئی حساب کتاب لیا۔ مولوی کرامت جانتا تھا،دوسرے منشی اور تعلیم کا تحصیل افسر اُس کے کام سے جلتے تھے اور کسی بھی وقت اُسے نوکری سے نکلواسکتے تھے۔ اِسی اندیشے کے تحت اُس نے پہلے بھی ایک دو دفعہ بڑے صاحب سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن اُسے صاحب کے کمرے میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ بلکہ ایک مرتبہ جب صاحب اپنے دفتر سے نکل کر بنگلے کی طرف جا رہا تھا اور وہ صاحب کو اپنا چہرہ دکھانے کے لیے دو پہر سے دفترکی راہ داری کے باہر کھڑا تھا۔ اُس وقت بھی نہ صاحب نے اُس پر توجہ دی تھی اور نہ ہی کسی نے اُسے آگے ہونے کے لیے رستہ دیا تھا۔ سارے بابوؤں اور پولیس والوں نے رستہ ہی روک لیا۔ پھر بھی اُسے صاحب کی نیک دلی پر پورا یقین تھا لیکن تعلیم افسر تو ایک کھتری ہی تھا،جو شکل ہی سے مسلمانوں کا دشمن نظر آتا تھا۔

یہ سب سوچتا ہوا مولوی کرامت تُلسی داس کے کمرے کے باہر پہنچا تو تھر تھر کانپ رہا تھا۔ وہ باہر ایک بنچ پر ہی بیٹھ گیا،یہاں تک کہ اپنے آنے کا اندر پیغام بھی نہ بھیجا۔ نہ ہی کسی نے مولوی کرامت سے پوچھا،کہ وہ کس لیے آیا ہے؟ مولوی کرامت کو بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہو گئی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا تو ایک بابو نے بالآخر مولوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ کون ہے اور کس لیے آیا ہے؟ اُس کے جواب نے مولوی کرامت نے وہ رقعہ نکال کر بابو کو تھما دیا،جو اُسے صبح سکول میں حاضری کے وقت نائب ہیڈ منشی ہری چند نے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خط تعلیم افسر کے دفتر سے آیا ہے اور آپ کو حاضر ہونے کو کہا ہے۔ بابو نے رقعہ دیکھ کر اپنی عینک،جو ایک میلی ڈوری سے باندھ کر گلے سے لٹکائی ہوئی تھی،اُٹھا کر آنکھوں پر لگائی اور رقعہ پڑھنے لگا۔ رقعہ پڑھ کر ایک نظر اُس نے مولوی کرامت کو دیکھا اور بولا،مولوی صاحب،کچھ دیر یہیں بیٹھو۔ وہ رقعہ لے کر تُلسی داس کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ مولوی کرامت دوبارہ اُسی بنچ پر بیٹھ گیا۔ اس گرمی کے موسم میں صبح سے دوپہر تک مولوی کرامت کا بھوکا پیا سا بیٹھنا ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات والا معاملہ تھا۔ ابھی مولوی کرامت سوچ رہا تھا،خدا جانے کب اِس ہندو کھتری کے ہاں پیشی ہو گی کہ اُسی بابو کی آواز مولوی کرامت کے کان میں پڑی،مولوی صاحب،اندر چلو صاحب نے بلایا ہے۔ مولوی کرامت اُٹھا اور جلدی سے سورہ الناس پڑھتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔ سورہ پڑھ کر دل ہی دل میں میز کی دوسری طرف بیٹھے تلسی داس کے اُوپر پھونک مار دی۔ مولوی کو دیکھتے ہی تُلسی داس ہلکے سے مسکرایا اور ایک کُرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،آؤ مولوی کرامت بیٹھو۔

مولوی کرامت جھجکتے ہوئے کُرسی پر بیٹھ گیا اور ٹک ٹک تُلسی داس کی طرف دیکھنے لگا،لیکن منہ سے کچھ نہیں بولافقط سلام کیا۔ سلام کے جواب میں تلسی داس نے رام رام کہا اور بولا،مولوی صاحب کیسا چل رہا ہے کام؟

جی سرکار کی مہربانی سے میں تو اپنی محنت کر رہا ہوں،باقی اللہ مالک ہے،مولوی کرامت بولا،سو بچوں کو سکول میں داخل کروا چکا ہوں،صرف دو مہینوں میں۔ میں تو جی مسجدوں میں جا کر اور لو گو ں کے گھر گھر جا کر بڑی محنت سے کام کر رہا ہوں۔ لوگ حجتیں بہت کرتے ہیں۔ پر مَیں بھی اُن کو حدیثیں سنا سنا کر قائل کر ہی لیتا ہوں۔

مولوی صاحب،آپ کو زیادہ مشکل تو نہیں پیش آتی اس معاملے میں؟ تُلسی داس نے مولوی کرامت کی طرف دیکھ کر اور اپنی چُندیا پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مربیانہ سے انداز میں پوچھا۔

مہاراج،آپ کی دیا سے کچھ مشکل نہیں،مولوی نے داڑھی کھجاتے ہوئے جواب دیا،اگر سرکار تنخواہ دیتی ہے تو کام تو ایمانداری سے کرنا چاہیے۔ بس یہاں ابھی اکیلا ہوں۔ جودھا پور روز روز جایا نہیں جاتا،سوچتا ہوں کسی طرح بال بچوں کو یہا ں لے ہی آؤں پھر بے فکری سے کام کروں۔

تُلسی داس نے مولوی کرامت کی بات سن کر کہا،مولوی صاحب کمشنر صاحب کو آپ کے کام کی رپورٹ کردی گئی تھی۔ وہ آپ کے کام سے بہت خوش ہیں۔ اسی خوشی میں آپ کے لیے ایک حکم فرمایا ہے،جس کے تحت تحصیل کمپلیکس میں آپ کے رہنے کے لیے ایک گھر دے دیا جائے گا،جہاں تم اپنے بیوی بچوں کو لا سکتے ہو۔ اب تم گورنمنٹ کے پکے ملازم ہو اور بے فکری سے کام کرو۔ مکان تم کو جب تک دیا جائے گا،جب تک گورنمنٹ کے ملازم رہو گے۔ اُس میں ہر سہولت موجود ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی تم پر ایک ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔

وہ کیا سرکار؟مولوی کرامت خوشی سے کانپتے ہوئے بولا،مہاراج آپ جو کام بھی دیں گے, میں حاضر ہوں۔ سرکار مجھ پر اتنی مہربان ہے تو میں کیسے اُن کے کہے پر عمل نہ کروں گا۔

مولوی صاحب،اب آپ تین دن سکول میں پڑھائیں گے اور تین دن جلال آباد سے باہر جا کر دوسرے گاؤں کے لوگوں کو اس کام پر اُکسائیں گے۔ اس کام کے لیے آپ مزید چارایسے مولوی ڈھونڈیں،جن کو گورنمنٹ آپ ہی کی طرح تنخواہ دے گی،لیکن اُن کی نگرانی تم خود کرو گے اور ہمیں رپورٹ کیا کرو گے۔ اس معاملے میں تم کو اختیار ہے،جو مولوی مناسب سمجھو،انہیں گورنمنٹ میں ملازمت دلوا سکتے ہو،لیکن یہ کام جلدی ہونا چاہیے۔ ان چھ مہینوں میں ہم سکولوں کی تعداد دُگنی کر رہے ہیں۔ جس کے لیے کم ازکم مسلمان بچوں کی تعداد تین سو ہو جانی چاہیے۔ اس کے بعد تُلسی داس نے اُسی بابو کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا،میکا رام،یہ مولوی صاحب وہی ہیں،جن کے لیے مکان کا بندوبست کیا گیا ہے۔ آپ اُس کی کنجیاں مولوی صاحب کو دے دیں۔ اِس کے بعد تُلسی داس نے اُٹھ کر مولوی کرامت کو ہاتھ جوڑکر رام رام کہا۔ جس کا مطلب تھا کہ مولوی کرامت اب جا سکتا ہے۔

میکا رام نے کہا،آئیے مولوی صاحب اور آگے چل دیا۔ باہر نکل کر اُس نے میز کی دراز سے کچھ چابیاں نکالیں اور ایک چوکیدار کو آواز دی،جو تیس سال کا مسلمان لڑکا ہی تھا۔ اُسے کچھ سمجھاتے ہوئے کہا،میاں دُلًے،یہ کنجیاں لے جاو اور کونے والے سیتا رام کے سامنے والا گھر مولوی صاحب کو دکھا آؤ۔ اُس کے بعد مولوی صاحب سے کہا،جائیے مولوی صاحب،یہ آپ کو گھر دکھا آتا ہے۔ پھر مسکرا کر آنکھ دباتے ہوئے دوبارہ بولا،کوئی بڑی سفارش ڈھونڈی ہے مولوی جی آپ نے۔ کبھی ہما ری بھی سفارش کروا دیں۔

مولوی کو اپنے اُو پر گورنمنٹ کی اتنی نوازشات کی سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔ اُسے بس اتنا پتا تھا،اُس نے کوئی بہت بڑا نیکی کا کام کر دیا ہے،جس کا خدا اُس کو یہ صلہ دے رہا ہے۔ وہ بھی کرسٹان اور ہندوبنیے کے ہاتھوں۔ مولوی کرامت نے سوچا،ایساتو پہلے بھی ہوا ہے،خدا اپنے بندوں کو دشمنوں کے ہاتھوں سے ہی فایدہ دلواتا ہے۔ جس کی مثال موسیٰ اور فرعون کے باب میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ مکان اور ترقی حاصل ہونے کی اتنی بڑی خوشی مولوی صاحب کے قدموں کو اُڑا اُڑا رہی تھی۔ اُس کا جی چاہ رہا تھا،ابھی جودھا پور پہنچ کر یہ خبر شریفاں کو دے۔ لیکن جودھا پور جلال آباد سے پورے اَٹھارہ کوس ہونے کی وجہ سے وہاں جانے سے قاصر تھا۔ جبکہ جلال آباد میں مولوی کرامت کاکوئی رشتے دار نہیں تھا،جس کو یہ خبر سناتا۔

کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد ایک چوڑی سی گلی کے آخری کونے پر پہنچ کر،جہاں سے آگے یہ گلی بند ہو جاتی تھی،ایک مکان کے سامنے دُلا چپڑاسی رُک گیا اور بولا،لایے مولوی صاحب،پانچ روپے مٹھا ئی کے اور یہ کنجیاں لے کر دروازہ کھول لیں۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ گھر کو دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ اِتنا اچھا اور پکا گھر تو اُس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا لیکن پانچ روپے کا سُن کر مولوی کو غصہ آ گیا۔ مولوی کرامت نے کہا،بھائی پانچ روپے کس بات کے،؟ مجھے تو بڑے بابو صاحب نے کہا تھا کہ گھر مفت ملے گا۔
دُلًے نے عورتوں کی سی طعنہ زنی کرتے ہوئے کہا،واہ مولوی صاحب بھلا اس گھر کی قیمت پانچ روپے ہے؟ یہ پانچ روپے تو مٹھائی کی قیمت ہے۔ گھر تو آپ کو مفت ہی ملا ہے،میکا رام نے کہا تھا،مولوی صاحب سے مٹھا ئی کے پانچ روپے لیے بغیر گھر کی کنجیاں نہیں دینی۔ یہ پیسے کوئی میں نے تو نہیں رکھنے۔ آپ شکر کریں،آپ کو گھر مل رہا ہے۔ باقی بھلا کسی کو اس طرح کبھی گھر ملا ہے؟ کنجیاں تو تب ہی ملیں گی جب پانچ روپے دو گے،ورنہ اور بہت سے لوگ اس گھر کو لینے والے موجود ہیں،جو پچاس پچاس دینے کو بھی تیار ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ بڑے افسر کے پاس بڑی سفارش پہنچ جائے اور وہ یہ گھر کسی دوسرے کے نام جاری کرنے کا حکم فرما دے۔ پھر آپ منہ دیکھتے رہ جاؤ گے۔ وہ تو میں نے بھی اپنے تُلسی داس صاحب سے آپ کی سفارش کی تھی،جس کی وجہ سے یہ مکان آپ کے نام الاٹ ہو گیا۔ اگر آپ کی نہیں مرضی تو واپس چلے چلتے ہیں۔ جا کر میکا رام کو کہ دوں گا،مولوی صاحب کو آپ کی شرط منظور نہیں۔

مولوی کرامت دُلے کی بات سُن کر خاموش سا ہو گیا اور سوچنے لگا،اگر مَیں نے پیسے نہ دیے تو شاید یہ گھر نہ ملے۔ کیوں کہ جب نوکری ملی تھی تب بھی پانچ روپے مٹھا ئی کے دیے ہی تھے پھر مَیں فایدے میں ہی رہا۔ جب مَیں وہ پانچ روپے مٹھا ئی کے بھول چکا ہوں تو یہ پانچ روپے بھی دے ہی دو ں۔ کہیں بڑے صاحب کے سامنے میری بُرائی کر کے یہ بھی نہ لینے دیں۔ یہ سوچتے ہوئے مولوی صاحب نے اپنی ناف سے بندھی روپوں کی تھیلی کھولی اور گن کے پورے پانچ روپے کے سکے دُلے کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اتنے زیادہ پیسے دیکھ کر دُلے کی آنکھیں چمک گئیں،تیر عین نشانے پر بیٹھا تھا۔ اُس نے جلدی سے چابیاں نکال کر مولوی کے ہاتھ پر رکھ دیں۔

گھر ملنے کے دوسرے دن بعد ہی مولوی کرامت جودھا پور گیا۔ پھر تیسرے دن ہی جو کچھ مال اسباب تھا،لپیٹا،شریفاں،فضل دین،رحمت بی بی اور اُس کی یتیم بیٹی کو لے کر جلال آباد کے نئے گھر میں آن داخل ہوا۔ مولوی کرامت کی صرف تین مہینوں کی محنت نے یہ رنگ نکالا تھا کہ جلال آبادکے مرکزی اسکول میں ہی مسلمان بچوں کی تعداد پندرہ سے بڑھ کر ایک سو دس ہو گئی تھی۔ جس کا صلہ مولوی صاحب کو یہ ملا کہ اُسے اسسٹنٹ کمشنر ولیم کی منظوری سے جلال آباد تحصیل کمپلیکس میں ہی ایک تین کمروں کا کوارٹر رہنے کو مل گیا۔ جس میں اور تو اور پانی کا نلکا بھی لگا ہوا تھا اور گھر بھی پورے کا پورا پکی اینٹوں سے بنا تھا اور کرایہ اُس کا صرف تین روپے ماہانہ تنخواہ سے کٹنا تھا۔ گھر کے سامنے ایک ٹاہلی کا درخت بھی تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ گھر پکا ہونے کی وجہ سے مولوی کرامت کی بیوی کو روز روز بھوسے میں گُندھی ہوئی مٹی سے اُس کی دیواروں اور چھت کو لیپنا نہیں پڑنا تھا،جو کچی اینٹوں اور مٹی گارے سے بنے گھروں میں روز روز کا سیاپا تھا۔ اس طرح کے کچے گھر بارشوں کے موسم میں مصیبت بن جاتے ہیں۔ یہ پہلا رعب تھا،جو حقیقت میں مولوی کرامت شریفاں پر ڈالنے کے لائق ہوا تھا۔ شریفاں کے ساتھ اب اُس کی نند رحمت بی بی اور رحمت بی بی کی یتیم بیٹی بھی تھی۔ اِن کے علاوہ فضل دین تو موجود ہی تھا۔ رحمت بی بی سے نہ مولوی کرامت اور نہ ہی شریفاں نے کوئی بات کی تھی لیکن یہ قصہ خموشی سے طے ہو چکا تھا کہ رحمت بی بی کی بیٹی کا فضل دین سے اب نکاح ہونا لازمی قرار پا چکا ہے،جس کا بس اشارہ ہی رحمت بی بی کے لیے کافی تھا۔ اُس کے لیے اِس سے بڑھ کر اب کون سی بات تھی کہ جب چراغ دین قتل ہوا تو اُن ماں بیٹی کا دور دور تک کوئی پُرسان حال نہیں تھا۔ یہ مولوی کرامت ہی تھا،جس نے آخری وقت پر اُن کو سہارا دیا۔ یہاں تک کہ وہ اُنہیں جودھا پور کے اکیلے پن سے نکال کر تحصیل جلال آباد اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ لہذا رحمت بی بی جس قدر بھی مولوی کرامت کی شکر گزار ہوتی،وہ کم تھا۔

تحصیل کمپلیکس عین ریلوے اسٹیشن کے قریب تھا،جس میں مولوی صاحب اور اُس کی فیملی کو ولیم کی برکت سے رہنے کو اب ایک مکان بھی مل گیا تھا۔ کمروں میں اینٹوں کا فرش بھی لگا ہوا تھا۔ اب اُنہیں کہیں اور سے پانی ڈھونے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ مولوی یا اُس کی بیوی جب چاہتے وضو کر سکتے تھے،نہا سکتے تھے اور وہی پانی پی بھی سکتے تھے۔ مولوی کرامت،فضل دین اور دونوں عورتوں نے مل کر اونٹ گاڑی سے سامان اُتارااور اُسے ترتیب سے گھر میں رکھتے گئے۔ گھر دیکھ کرشریفاں کے دیدے کھلے ہوئے تھے،جو اَب گھر کی مالکن ہونے کے ناتے ہدایات بھی دے رہی تھی کہ فلاں چیز اِدھر رکھو،فلاں چیز اُدھر رکھو۔ چیزیں کیاتھیں،تین چارپائیاں کچھ بسترے،کھانے کے چند ایک برتن،دو لکڑی کے صندوق،جن میں سلوٹوں سے بھر ے ہوئے کپڑے اور کچھ شادی کے وقت کی باقیات جمع تھیں اور بس۔ یہی کچھ دونوں گھروں کا اثاثہ تھا،جو ایک ہی گھر میں جمع ہو کر بھی اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ اس گھر میں تین کمروں کے علاوہ اچھا خاصا صحن بھی تھا۔ موسم گرمیوں کا تھا۔ اِس لیے چارپائیاں رات کو صحن میں ہی بچھائی جانی تھیں۔ البتہ دن کے وقت اُنہیں کمروں میں منتقل کیا جاسکتا تھا۔ گھر میں موجود ٹاہلی کے درخت نے یہ مشکل بھی دور کر دی۔ سورج کی گرمی سے بچنے کے لیے دن کو چارپائیاں ٹاہلی کے سائے میں بچھائی جا سکتی تھیں۔ صحن کچا تھااور اُس میں گھاس پھونس اتنا اُگا تھا کہ گرد غبار بالکل نہیں تھا۔ گھاس کاٹنے کی ضرورت تھی،جو فضل دین آرام سے کر سکتا تھا۔ مولوی کرامت نے سامان اُتروا کر اونٹ گاڑی والے کو پیسے دے کر رخصت کیا۔ کچھ دیر بیٹھ کر آرام کیااور عصر کے وقت جب گرمی کا کچھ زور تھما تو دونوں عورتوں کو گھر پر چھوڑفضل دین کو لے کر جلال آباد کے بازار میں چلا آیا تاکہ کھانے پکانے کے لیے دال،چاول،آٹا اور گھی وغیرہ خرید لے۔ بازار جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے،کوئی خاص نہیں تھا۔ ٖفضل دین نے تو خیر کبھی نہیں،البتہ مولوی کرامت نے تو قصور کابازار دیکھا ہی تھا۔ وہ اِس سے کہیں بڑا تھا۔ پورے جلال آباد میں ایک ہی بازار تھا۔ کوئی دو سو گز لمبی اور بارہ گز چوڑی سڑک تھی۔ جس کے دونوں طرف کچی پکی اور لکڑی کے بڑے تختوں والی چند ایک کھلی کھلی دکانیں تھیں۔ دکانوں کے بنیروں کے اُوپر دورویہ بانس کی لکڑیاں ڈال کراُن کو رسیوں سے باندھ دیا گیا اور اُوپر کٹی پھٹی ترپالیں بچھا دی گئیں تاکہ بازار سے گزرنے والوں پر دھوپ نہ پڑے جو مئی،جون،جولائی میں اتنی بڑھ جاتی کہ ننگے سر والوں کی چیں بول جائے۔ تر پالیں دوکانداروں نے خود ہی اپنے خرچے سے ڈال کر بازار میں چھاؤں بنا رکھی تھی۔ اِس میں دوکانداروں کی یہ حکمت بھی تھی کہ زیادہ تر سودادوکان سے باہر ہی پڑا ہوتا تھا۔ ایک تو اُس پر سایہ ضروری تھا۔ دوسرا اُس سودے کو آکر دیکھنے یا خریدنے والادھوپ کی شدت سے بچ کر آرام سے سودے کو ملاحظہ کر سکتا تھا۔ اگر گاہک کو مسلسل دھوپ تنگ کر رہی ہو،تووہ جلد ہی کھسکنے کی کرتا ہے اور دوسری دوکان میں داخل ہو جاتا ہے۔ دکاندار،جس قدر زیادہ امیر ہوتا،اُس کی دکان کے اُوپر ترپال اتنی ہی اچھی ہوتی۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ پورے بازار کا ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک چکر لگا یا۔ فضل دین کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ بازار میں کس لیے آئے تھے کیونکہ نہ تو اُس نے پچھلے دو تین مہینوں سے روٹیاں اکٹھی کی تھیں،جو بیچنا ہو اور نہ ہی فضل دین کے خیال کے مطابق مولوی کرامت کے پاس پیسے تھے،کہ ٹانگر یا کھجوریں خریدنی ہوں۔ وہ حسرت بھری نگاہوں سے دوکانوں کو دیکھتا جاتا۔ جہاں سے اکثر سکھ،ہندو اور مُسلے کچھ نہ کچھ خریداری کر رہے تھے یا بیچ رہے تھے۔ بازار میں زیادہ تر عورتیں تھی۔ بوڑھی،جوان،سبھی قسم کی۔ اِن میں سکھ اور مسلمان عورتوں کے لباس گفتگو اور چال ڈھال میں کچھ فرق نہیں تھا۔ اکثر عورتوں نے لہنگے اور کگھرے پہنے ہوئے تھے اور اُن کگھروں کے آزار بندوں کے ساتھ اُن کے گھروں کے صندوقوں اور کمروں کی چابیاں لٹکی چھن چھن بجتی جا رہی تھیں اور بازار میں اِن عورتوں کے چلنے سے ایک قسم کے ساز میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ بازار کے آخری کونے پر جا کر جہاں اب سوائے دھوپ کے آگے کوئی شے نظر نہیں تھی،مولوی کرامت واپس پلٹا اور ایک کھتری کی دوکان پر رُک گیا۔ وہ ضرور کسی مسلمان کی دوکان پر رُکتالیکن وہاں مسلمان کی دوکان تو ایک طرف،کسی مسلمان نے چھابڑی تک نہیں لگائی تھی۔ دکانوں کے مالک اکثر ہندو تھے،۔ چھابڑیاں سکھوں نے لگا رکھی تھیں۔ چھابڑیوں میں بھی زیادہ تر چِبڑ، رینڈیاں، تربوز، تریں اور اِسی طرح کی سستی اشیا آنے کی تین کلو بکنے والی تھیں۔ پھل تو کسی کے پاس نہیں تھا۔ البتہ سڑے ہوئے دیسی آم اور کچے پکے کیڑوں والے امرودوں کی الگ بات تھی۔ جنہیں دیکھ کر مولوی کرامت نے سوچ لیا کہ جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ اِن اَمرودوں اور کھجوروں میں سے رحمت بی بی اور شریفاں کے لیے لے جائے گا۔ قصہ مختصر اُس نے کھتری سے ایک آنے کا دیسی گھی،دو آنے کی دال اور اِسی طرح کچھ دوسری چیزیں خرید کر دو روپیہ کا پورا گٹو بھر کے فضل دین کے سر پر رکھ دیا۔ تھوڑی دُور چل کر مولوی کرامت کے دل میں خیال آیا،وہ پیچھے مُڑا اور ایک آنے کا ٹانگر،امرود اور کھجوریں بھی خرید لیں۔ اُس میں سے تھوڑا سا ٹانگر مولوی کرامت نے فضل دین کو بھی دے دیا،جسے پا کر اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ گٹو سر پر اُٹھائے ٹانگر چبانے لگا اور مولوی کرامت کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ۔ مولوی کرامت اب سر پر کُلے دار پگڑی رکھے اور ہاتھ میں عصا تھامے بازار کے بیچوں بیچ بڑی طمطراقی سے چل رہا تھا۔ خشک چمڑے کی جُوتی میں آواز تو پیدا نہیں ہو رہی تھی لیکن اُس کی کھدر کی سفید چادر اور کُرتے کے نیچے جوتی کا ہونا ہی اِس بات کی دلیل تھی کہ اب وہ عوام سے نکل کر اَشراف میں داخل ہو رہا تھا۔ عوام میں تو اکثر کے پاس جوتی نہیں تھی یا چادر کی بجائے ڈیڑھ گز کی دھوتی ہوتی تھی اور گلے میں قمیض کے بدلے میں فقط جانگیہ ہوتا،جس کے ہاتھ بھر کے سلوکے ہوتے۔ اَصل میں مولوی کرامت کی زندگی میں یہ پہلا دن تھا،جب اُس نے بازار سے پیسوں کے ذریعے خریدار ی کی تھی۔ ورنہ اُسے کبھی اِس طرح کی شاہانہ کاروائی کا موقع نہیں ملا تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتاتھا،جو لوگ بازار سے خریداری کرتے ہیں،وہ یا تو ذیلدار ہوتے ہیں یا بابو لوگ۔ اُسے یہ تصور ہی نہیں تھا،ایک دن وہ خود منشی بن جائے گا اور جلال آباد کے بازار سے گھر کے لیے سودا سلف خریدا کرے گا۔ اور اب تو یہ موقع اُسے ہر روز یا جب چاہے مل جایا کرے گا۔ کیونکہ اب وہ بھی ایسی سرکار کا نوکرتھا جو بہت امیر تھی۔ سرکار اُسے اُس کی تنخواہ ہر ماہ اب ضرور ہی دے دیا کرے گی،جس میں وہ زیادہ پیسے بچا کر رکھ لیا کرے گا اور کچھ کا سودا سلف خرید لیا کرے گا۔ اِسی رو میں اُس کا دماغ کہیں کا کہیں جا نکلا۔ جامع مسجد جلال آباد کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک خیال پیدا ہوا،اگراُسے منشی گیری کے ساتھ اِس مسجد میں امامت کا کام بھی مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہو جائے گا۔ اِس طرح آمدنی بھی دگنی ہو جائے گی اور مسجد میں پُرانی خدمت بھی بحال ہو جائے گی۔ لیکن اِس کے لیے اُسے اِس مسجد کے پہلے امام کا کوئی بندوبست کرنا ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ اُسے منشی بنوا کر منڈی گرو ہر سا بھجوا دوں اور یہاں کی امامت خود لے لوں۔ مگر پہلے اچھی طرح سے یہاں کے نمازیوں کے ساتھ علیک سلیک بڑھانی ہوگی۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ دو چار مہینوں کے لیے مفت میں کچھ لیے دیے بغیر ہی لوگوں کے مُردوں کو نہلا دیا کروں یا اُن کی قبروں پر جا کر فاتح خوانی کر آیا کروں،یا کبھی صبح اور عشا کی اذان دے دی جائے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ خود ہی اُس کی طرف رجوع کر لیں گے۔ جب لوگ اُس پر مکمل اعتماد کر لیں تو اِس امام کو گورنمنٹ سے نوکری دلوا کر کہیں اور بھجوا دوں گا۔ اِس طرح کسی کو محسوس بھی نہ ہو گا اور مسجد بھی ہاتھ میں آ جائے گی۔ اِس کے بعد فضل دین کی شادی رحمتے کی بیٹی ہاجرہ سے ہو جائے تو چراغ دین کے نام،جو غلام حیدر نے دس ایکڑ زمین نام کروائی ہے،وہ بھی اُنہیں مل جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتاہے،وہ خود رحمت بی بی سے نکاح کر لے،توسارا معاملہ بالکل ہی سیدھا ہو جائے لیکن اُسے فوراً شریفاں کا غصے سے سُرخ ہوتا ہوا چہرا دکھنے لگا۔ اُس نے ایک جھر جھری لے کر یہ خیال جلد ہی دماغ سے جھٹک دیا اور بازار سے گزرتے ہوئے لوگوں کو سلام علیکم کہنے لگا۔ اب تھوڑی دیر میں مولوی صاحب کا گھر آنے والا تھا۔ اُس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا دِلوں کے بھید کسی دوسرے پر نہیں کھولتا۔ ورنہ اگر آج اُس کے رحمتے سے شادی والے خیال کو شریفاں جان جائے تو ابھی گھر میں صفِ ماتم بچھ جائے بلکہ وہ گھر میں داخل ہی نہ ہو سکے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(36)

معاملات تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جن کی نہج کے بارے میں نہ غلام حیدر کو پتا تھا اور نہ ہی ملک بہزاد جانتا تھا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ البتہ غلام حیدر کی نواب افتخار حسین سے تار پر ہونے والی بات اور نواب افتخار کے والد نواب سر شاہنوازسے ملاقات کے بعد کام کافی آسان ہو گیا تھا۔ بلکہ اتنا آسان کہ اب غلام حیدر کو خود پر غصہ آ رہا تھا کہ اُسے پہلے ہی یہ بات کیوں نہ سوجھی،اور وہ ممدوٹ ولا زمیں جا کر سر شاہنواز سے کیوں نہ ملا؟ جو غلام حیدر کو اپنے بیٹے نواب افتخار کا دوست ہونے کے ناتے اچھی طرح نہ صرف جانتا تھا بلکہ کہہ بھی چکا تھا،بیٹا افتخار لندن جا رہا ہے تو یہ نہ ہو،تم اپنے چچا کو ملنے ہی نہ آؤ۔ گاہے گاہے آتے رہنا۔ اگر مجھ تک کام ہو تو بلا جھجھک کہہ دینا۔ مگر غلام حیدر کو آپا دھاپی میں یہ خیال ہی نہ آیا کہ سر شاہنواز سے مل کر اُسے اپنی ساری کتھا سنا دے۔ بہر حال دیر آید درست آید۔ نواب صاحب نے تھوڑی بہت ردوکد کے بعد غلام حیدر کی بات مشروطی طور پر مان لی،جس کا سارا منصوبہ ملک بہزاد نے تیار کیا تھا۔ اب جب کہ نواب صاحب نے تھانیدار ضمیر شاہ کو بلا کر اُسے غلام حیدر کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد کرنے کا حکم دے دیا تومزید دیر کرنے کی تُک نہیں تھی۔ غلام حیدر نے نواب صاحب سے ملنے کے بعد گھر آ کرتین چار دن میں اپنا سارا کام نپٹا یا اور سیدھا ملک بہزاد کے گاؤں کا رُخ کیا،۔ اُسے ساری تفصیل سے آگاہ کر کے اُس کی عملی شکل تیار کرنے کی کارروائی کی طرف متوجہ ہوا۔ ملک بہزاد غلام حیدر کی نواب صاحب کے بنگلے سے واپسی کا بے چینی سے منتظر تھا۔ اُسے خوف تھا،نواب صاحب کہیں انکار نہ کر دیں۔ لیکن جو قیمت ملک بہزاد نے غلام حیدر کو اس کام کے عوض ادا کرنے کا کہا تھا،اُس پر اُسے یقین تھا کہ نواب صاحب ضرور مان جائیں گے اور وہی ہوا۔ اب اگلی پیشی بالکل قریب تھی،جس پر سردار سودھا سنگھ کا پیش ہونا قرین قیاس تھا،تومزید دیرکام میں بھنگ ڈال سکتی تھی۔ پندرہ دن پہلے غلام حیدر کو اپنی رائفل اور دوسرا ضبط شدہ اسلحہ واپس مل چکا تھا لیکن اُ س کی ملک بہزاد کے مشورے کے مطابق ہوا بھی باہر نہیں نکالی تھی۔ لوگوں کی نظرمیں رائفل اور دوسرا اسلحہ ابھی تک گورنمنٹ کے قبضے میں تھا۔

غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اپنے معاملات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا،چاچا بہزاد،اماں جان کو میں نے پاکپتن کی بجائے کہیں اور بھیج دیا ہے۔ اس کے علاوہ مال کافی سارا بیچ کر بقیہ نواب صاحب کی فرید کوٹ والی حویلی میں منتقل کر دیا ہے۔ نواب صاحب پوری طرح دوستی کا حق ادا کرنے کو تیا ر ہیں۔ اِس سلسلے میں اُنہوں نے مجھے اپنی ایک جیپ بھی ڈرائیور سمیت بھیج دی ہے،جو نواب صاحب کی گرو ہرسا والی حویلی میں موجود ہے۔ اگر اُس کی ضرورت پڑی تو استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ گرو ہر سا کے تھانیدار کو بلا کر منصوبے پر عمل کروانے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ تھانیدار نے کہا ہے،اگرمیں کارروائی کر کے دوگھنٹوں کے اندر دوبارہ تھانہ گرو ہرسا کی حوالات میں پہنچ جاوں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ پھر ساری بات وہ سنبھال لے گا۔ وہ مجھے ناجائیز اسلحہ رکھنے کے عوض حوالات میں بند کر کے عین واردات کے وقت باہر نکال دے گا۔ میں اور میرے بندے کارروائی کر کے دوبارہ وہیں پہنچ جا ئیں گے۔ اِس طرح یہ کارروائی مکمل ہو جائے گی لیکن مجھے اِس میں خطرہ ہے کہ کام صرف سودھا سنگھ کا ہی ہو گا،دوسرے دونوں بچ جائیں گے۔ کیونکہ اُس کے لیے وقت نہیں ہو گا۔

ملک بہزاد نے غلام حیدر کی بات سُن کر ایک لمبی،ہوں،کی پھر حقے کی نَے ہاتھ سے رکھ کر بولا،غلام حیدر اُن دونوں کی باکل پروا نہ کر۔ ہم ایک ہی ہلے میں یہ دونوں قصے پاک کر دیں گے بلکہ یہ اور بھی اچھا ہوا نواب صاحب نے اپنی جیپ عنایت کر دی جس سے کوسوں کا پینڈا چھپاکوں میں نکل جائے گا لیکن ایک بات یاد رکھنا جیپ تجھے پھنسا بھی سکتی ہے۔ اس لیے اُس کا استعمال اُس وقت ہی کرنا جب کوئی چارانہ رہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات کہ تُو کبھی بھی اپنے آپ کو حوالات میں بند نہ کروانا۔ نہ کام کرنے کے بعد تھانے کا رخ کرنا۔ اگر تھانیدار پر انگریز سرکار کا دباؤ بڑھا تو تھانیدار یہ وزن نہیں اُٹھا سکے گا۔ پھر تجھے ریشمی رسے میں سر دینا پڑے گا۔ ہاں اپنے بندو ں کو اِس پیشی سے کم از کم دو دن پہلے گرو ہرسا تھانے میں بند کروا دینا۔ اُنہیں عین وقت پر تھانے سے نکلوانا اور کاروائی کرتے وقت اپنی پشت پر رکھنا۔ مَیں نے دریا پار چک ڈھبی سے اپنے بھانجے امانت خاں وٹو کو بلا لیا ہے۔ اُس کے پاس اپنی رائفل بھی ہے۔ وہ اس معاملے میں تیرا صحیح جوڑ ثابت ہو گا۔ کاروائی مکمل کر کے تُواور امانت خاں وٹو ہر صورت فرار ہو جانا اورتیرے بندے اس کے بعد آرام سے اُسی تھانے میں جا بیٹھیں۔ اس طرح سودھا سنگھ کا صفایا کرنے کے بعد چک میگھا جانے کا اور پھر وہاں سے کسی بھی طرف فرار ہونے کا تیرے پاس بہت وقت ہو گا۔ جیسا کہ نواب صاحب نے حامی بھری ہے وہ تجھے پناہ دے سکتا ہے۔ یہی بات اُس سے پکی کر کہ تُو کاروائی کرنے کے بعدحوالات میں نہیں جائے گا۔ خود کو حوالات میں بند کروا لینا ایسے ہی ہے کہ اپنے ہاتھ پہلے ہی کاٹ کے دے دینا۔ اگر کسی انگریز افسر کو شک بھی پڑ گیا تو تھانیدار کی تو صرف نوکری جائے گی یا تھوڑی بہت سزا ہو جائے گی لیکن تیری گردن لازمی کنویں کے تختے پر کسی جائے گی۔ قانونی طور پر تھانے میں حاضری ہو نے کی وجہ سے تیرے بندوں پرشک کم ہو گا۔ اگر وہ شک کی بنا پر پکڑے بھی گئے تو بمشکل دو یا تین سال کی سزا ہو گی۔ کیونکہ سودھا سنگھ کے وارث ہر حالت میں تجھے ہی نامزد ملزم قرار دیں گے۔ امانت خاں وٹو تیری اُمید پر پورا اُترے گا،اُسے یہاں کوئی پہچانتا بھی نہیں،وہ کام کر کے واپس چلا جائے گا۔ انشاء اللہ کل تک یہاں پہنچ جائے گا اور پرسوں ہم مل کر سب پروگرام مکمل کر لیں گے۔ سودھا سنگھ اس دفعہ جیسے بھی اور جدھر سے بھی جائے گا،اُس کی ایک ایک لمحے کی خبر ہمیں ملے گی۔ میں نے ایک بندہ وہاں،خاص،اسی کام پر لگا دیا ہے۔ اور وہ ہے اُن کے گاؤں کا لوہار نندا،جو جگبیر کا بڑا یار ہے۔ کل وہ ایک خبر دے گیا ہے۔ ہم اُسی کے مطابق اگلا پروگرام بنائیں گے لیکن،ملک بہزاد وضاحت کرتے ہوئے بولا،اِس کام میں اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اُس کے لیے بھی تیار رہو۔ ضروری نہیں ہر کام منصوبے کے عین مطابق ہی ہو۔

چاچا بہزاد اُس کے لیے میں بالکل تیار ہوں،غلام حیدر نے پورے جوش اور دلیری سے جواب دیا،نواب صاحب ایسی حالت میں بھی اُس وقت تک پناہ دیں گے،جب تک بہتر صورت پیدا نہیں ہو جاتی۔ اس کے لیے چاہے کئی سال ہی کیوں نہ لگ جائیں۔ اُنہوں نے یہ بھی ذمہ داری لی ہے کہ وہ میری زمین کی ضبطی بھی نہیں ہونے دیں گے۔ میرے تمام آدمی اُس کو اُسی طرح کاشت کرتے رہیں گے جیسے وہ کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں صاف بتا دیا ہے کہ میں یہ کام کیے بغیر نہیں ٹلوں گا۔ لہذانواب صاحب کی طرف سے آپ بے فکر ہو جائیں اور اپنا پروگرام بتائیں۔ میرا تو یہی خیال ہے،اِس دفعہ بھی سودھا سنگھ فیروزپور نہیں آئے گا۔ اُسے ہماری طرف سے اب بھی ڈر موجود ہے۔ میں نے اپنی تیاری ہر طرح سے مکمل کرلی ہے۔ اب ہمارے پاس چار سانڈنیاں اور پچیس گھوڑے،ایک جیپ اوردو ریفلیں ہیں،مگرمیدان لگتا دکھائی نہیں دیتا۔

بس ٹھیک ہے غلام حیدر،ہم اِس دفعہ بھی پچھلی بار کی طرح منصوبہ بنائیں گے،ملک بہزاد نے مشورہ دیتے ہوئے کہا،مجھے سب سے زیادہ فکر نواب صاحب کی طرف سے تھی،وہ تمھارا ساتھ دیتا ہے کہ نہیں؟ اب میدان ضرور لگے گا،یہ مجھے پکا یقین ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کارروائی کر جائیں۔ اس دن کا مجھے عرصے سے ا نتظار تھا۔

لیکن چاچا بہزاد،چوہا بِل سے باہر نکلے تو کڑَکًی میں آْئے،غلام حیدر غصے سے بولا،اتنا عرصہ ہو چکا ہے اور مَیں کچھ نہیں کر سکا۔ رعایا میرے منہ کو آ رہی ہے۔ میں جانتا ہوں،لوگ میرے منہ پر کچھ نہیں کہتے لیکن میری غیبت میں مجھے ضرور بزدل کہتے ہیں۔ مَیں اتنا عرصہ انہیں باتوں میں لگا کر لے آیا ہوں۔ اب اُن کی پکی ضمانتوں نے تو اُنہیں اور بھی شیر کر دیا ہے۔ اِدھر مَیں مرنے والوں کے وارثوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔

ملک بہزاد غلام حیدر کا شکوہ سن کر بولا،میں جانتا ہوں غلام حیدر یہ صبر کے گھونٹ تیرے لیے زہر کے اچھو ہیں لیکن مجھے پکا یقین ہے،اِس دفعہ چوہا کڑکی میں آ ہی جائے گا۔ میرے مخبر کی رپورٹ کچی نہیں ہو سکتی۔ خدا کے ہر کام میں مصلحت ہے۔ اب دیکھ،اگر تیرا اور اُس کا ٹاکرا تیری رائفل کی ضبطی اوربغیرمنصوبہ بندی کے ہو جاتا تومعاملہ خراب ہو سکتا تھا۔ ڈانگ سوٹے کی لڑائیوں میں اکثر وار اوچھے پڑتے ہیں۔ پھر مجھے تیرے بندوں پر بھی اعتبار نہیں۔ غریب آدمی کے ہاتھ چوہدریوں پر اُٹھتے ہوتے کانپ جاتے ہیں۔ سودھا سنگھ کے علاوہ تُو سارے جھنڈو والا کو قتل کر دے تو کوئی فایدہ نہیں۔ یاد رکھ،سودھا سنگھ کا قتل ہوا نہیں،اُدھر جھنڈو والا تیرے قدموں میں ہو گا اور سارے علاقے کے بدمعاش تیری ذات سے خدا کی پناہ ڈھونڈتے پھریں گے۔ رہا تجھ پر پُلس اور مقدمہ،اُس کی حالت گواہوں اور ثبوت کے بغیر وہی ہو گی،جو اِس وقت ہمارے مقدمے کی ہے۔

لیکن چاچا،اگر تُو نہ روکتا تو مَیں عبدل گجر اور شریف بودلہ کا تو کب کا گھونٹ بھر دیتا۔ کچھ تو دل کو تسلی ہوتی۔

بھتیجے میری بات سمجھ،ملک بہزاد کہنے لگا،پھر اس کے بعد کیا ہوتا؟ دیکھ،ہم جس کو بھی قتل کرتے،اُس کے بعد ہمارے پاس آزادی کا کوئی دن نہ ہوتا۔ نہ ہی دوسری کارروائی کے لیے ہمیں سکون ملتا اور نہ وقت۔ بلکہ ہم خود پولیس سے بھاگتے اور چھپتے پھرتے۔ ہمارے قابو میں سودھا سنگھ نہیں آ سکتا تھا۔ اِن دونوں حرامیوں،عبدل اور شریف کو تو ہم جاہی پہنچیں گے۔ یہ تو ہمارے لیے گھڑے کی مچھلی ہیں۔ جس کے لیے اگر وقت کم ہوا تو نواب افتخار کی جیپ بھی تمھارے کام آ سکتی ہے،جو اِن میں سے کسی کے پاس نہیں۔ مگر میرا خیال ہے اُس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سارا کام اُس کے بغیر ہی ہو جائے گا۔ ہم سودھا سنگھ سے فارغ ہو کر سیدھا چک میگھا جا نکلیں گے۔ جہاں عبدل گجر صبح ایک پہر دن نکلے سے لے کر شام ڈیگر تک نیم کی گہری چھاؤں میں دُلے ماچھی سے ٹانگیں دبواتا ہے اور پندرہ بیس گیدڑوں کے ساتھ بیٹھا سارا دن ڈیگیں سنتا ہے۔ وہیں منجی پر بیٹھے بٹھائے سُلا دیں گے۔
اور تاریخ پر پیشی؟ غلام حیدر نے پوچھا:

ہماری پیشی اب دو جگہ پر ہو گی،ملک بہزاد نے منصوبے کی وضاحت کی،ایک گرو ہر سا اسٹیشن پر دوسری چک میگھا۔ چک میگھا عبدل گجر اور شریف بودلہ کو ہم چار تاریخ دوپہر ملیں گے لیکن پہلے سودھا سنگھ کی بار گاہ میں۔

اگر سودھا سنگھ نے واصل کے سے جا کر ریل پکڑی اور ہم گرو ہر سا ہی بیٹھے رہ گئے،تو؟ پھر ساری پلاننگ خاک میں مل جائے گی،غلام حیدر نے شُبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

واصلکے اسٹیشن سے وہ دو وجہ سے نہیں چڑھے گا،ملک بہزا د نے داڑھی کو انگلیوں سے کھرچتے ہوئے اپنا فلسفہ بیان کیا،ایک تو یہ،وہ اتنا نادان نہیں کہ اپنے آپ کو خود موت کے چونبے میں جھونک دے۔ اُسے سراسر پتا ہے،واصلکے غلام حیدر کا علاقہ ہے۔ دوم اُسے اگرچہ گرو ہرسا سے ریل پر بیٹھ کر فیروزپور جانے میں لمبا چکر کاٹنا پڑے گا لیکن اُس کو جھنڈو والا سے گرو ہر سا تک بہت کم گھوڑوں پر طے کرنا پڑے گا۔ جبکہ واصلکے آتے آتے اُس کے جانوروں کی اس گرمی میں تباہی بول جائے گی اور سفر بھی محفوظ نہیں ہے۔ اِس لیے اُسے کسی کتے نے نہیں کاٹاکہ گرو ہر سا کو چھوڑ کر واصلکے کی طرف آئے۔ ہمارے مخبر کی پکی اطلاع بھی یہی ہے لہذا ہم اُسے گرو ہرسا پر ہی ملیں گے اور اگر بالفرض ایک فیصدوہ واصلکے سے گیا بھی،تو ہمارے آدمی سانڈنیوں پر مٹی تو نہیں چاٹنے کے لیے بیٹھے ہوں گے؟ وہ ہم کو آ کر فوراً بتا دیں گے،پھر جیپ پر کوئی دیر نہیں لگے گی اور وہ کوئی بڈاوے نہیں کہ غائب ہو جائیں گے۔

اِس کے بعد ملک بہزاد نے غلام حیدر کو تمام منصوبہ سمجھا دیا اور منصوبے کے ہر پائے کی چوہلیں اچھی طرح سے ٹھونک بجا کر سیدھی کر لیں۔ جس میں غلام حیدر اور ملک بہزاد کا بھانجا امانت خاں وٹومنصوبے کے مرکزی کردار نبھانے والے تھے۔ منصوبے کے دو حصے تھے۔ پہلے حصے کے مطابق کل صبح برچھیوں،کرپانوں اور چھویوں سمیت گرو ہرسا تھانے کے سامنے جا کر دو پارٹیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ دنگا شروع کر نا تھا۔ جس میں ایک دو بندے بھی پھٹڑہونا تھے۔ اِن دو پارٹیوں میں ایک پارٹی غلام حیدر کے بندوں کی تھی اور دوسری ملک بہزاد کی۔ اِس لڑائی کے بعد تھانیدار ضمیرشاہ کا کام اُن سب کو،سا ت اکیاون،میں حوالات میں بند کرنا تھا۔ اِس کے بعد اگلا کام غلام حیدر اور میاں امانت خاں کاتھا،جو بصیرپور کا منًا پرونًا رائفل چلانے والا تھا۔ اِن دونوں کے ساتھ وقتی طور پر حوالات میں بیٹھے ہوئے سب لوگ عین وقت پر شامل ہونا تھے لیکن لڑائی میں حصہ اُنہیں نہیں لینا تھا۔ کیونکہ تمام کام رائفلوں کے ذریعے ہونا تھا۔ کارروائی کرنے کے فوراً بعد ہی اُنہیں دوبارہ آ کر حوالات میں بیٹھ جانا تھا۔ جبکہ غلام حیدر اور امانت خاں نے فرار اختیار کرنا تھی۔

(37)

جولائی کی گرمی نے آسمان کو تانبے کا کڑاہا بنا رکھا تھا۔ بادلوں کا تو کہیں مہینو ں تک بھی نام نشان نہیں تھا اور ہَوا ایسی گرم جیسے دوزخ کی بھٹی سے آگ کی لپکیں پھیلتی جارہی ہوں،جو ہٹ ہٹ کر یوں تھپیڑے مارتی تھیں کہ انسان تو کیا صحرا بوندلا جائیں۔ دور تک کوئی ذی روح اول تو نظر نہ آتا تھا،اگر کوئی تھا،تو کفن کے چار کپڑوں میں لپٹا ہوا۔ دھوپ ایسی روشن اور تیز کہ پسینہ بھی بوکھلا گیاتھا۔ جو بار بار پیدا ہوتا اور اُسی کی وجہ سے سوکھتا بھی جاتا۔ گرمی اور دھوپ کے یہی حرارے بھوتوں کی طرح گھوم گھوم کو آسمان کو چڑھ رہے تھے۔ چری اور گاچے کی فصلیں تو خیر ویسے ہی اپنی نزاکت کی وجہ سے کب کی جھلس چکی تھیں،اس گرمی میں برگد اور پیپل تک مرجھا گئے۔ الغرض جانور وں سے لے کر پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں،سب نے گویا فیروزپور ضلع سے فرار کی راہ اختیار کر لی۔ ایالی اور چرواہوں کے علاوہ ہر ایک اپنے ہی گھر کا مہمان بن چکا تھا۔ گرمی کیا تھی خدا نے مخلوقات کو عذاب دینے کا جولائی ایک بہانہ گھڑا تھا۔

سورج طلوع ہوتے ہی اِس قدر جوش میں اُٹھتا جیسے ہر شے کو بھون کے کھا جائے گا۔ ایک پہر گزرنے کے بعد تو اُس کی جولانی آنکھیں دیکھ نہیں سکتی تھیں۔ دھوپ کی لپٹوں سے دھندلا کے رہ جاتیں۔ اِس شدید گرمی میں سردار سودھاسنگھ نے اپنے سفر میں تھوڑی سی مزید ترمیم کر لی۔ ایک تو اُس نے تمام حالات کے پیش نظر اسٹیشن گرو ہر سا پر پہنچنے کا وقت دو بجے کر لیا اور دوسرا تیس بندوں کی بجائے اُن کی تعداد پندر ہ کر دی۔ سردار سودھا سنگھ نے اپنی اِس تر میم کی اطلاع ہرے سنگھ کو رات ہی چھدو کو بھیج کر سمجھا دی تھی اور فیصلہ کر لیا گیاتھا کہ دن چڑھتے ہی اسٹیشن گرو ہر سا پہنچ کرریل کے آنے تک نتھا سنگھ کے پاس،اُس کے ڈیرے پر آرام کریں گے اور چاربجے ریل پر سوار ہو جائیں گے۔ فیروز پور ایک دن کی بجائے تین دن رہیں گے۔ پھر کسی بھی وقت وہاں سے جھنڈوو الا آپس آجائیں گے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سردار سودھا سنگھ رات کے تیسرے پہر اُٹھ کر گردوارہ چلا گیا۔ وہاں اشنان کرنے کے بعد دیرتک گرنتھ پڑھتا رہا اور دل میں واہگرو سے وعدہ کرتا رہا کہ آج کا دن سلامت نکل جائے۔ اُس کی دشمنوں اور مقدمے سے جان چھوٹ جائے تو وہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرے گا۔ ویسے بھی اُس کے دل میں شیر حیدر کے خلاف جو ایک کسک تھی،وہ اب دور ہو چکی تھی۔ گرنتھ پڑھنے کے بعد سودھا سنگھ نے سَنت کو چاندی کے دس روپے دیے اور باہر نکل آیا۔ واپس حویلی پہنچا تو دروازے پر ہرے سنگھ،جگبیر سنگھ اور بیدا سنگھ دوسرے بندوں کے ساتھ انتظار میں کھڑے تھے۔ سردار سودھا سنگھ کو دیکھ کر سب نے ست سری اکال کا نعرہ مارا،جس کا سودھا سنگھ نے بھی واہگرو کے نعرے سے جواب دیا اور حویلی کے زنانہ حصے میں داخل ہو گیا۔ سردار سودھاسنگھ کو دیکھ کربینت کورگرنتھ ہاتھ میں لے کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ سات چکر سر پر سے وارے،پھر اُسے طاق میں رکھ کر سردار صاحب کے پاس آگئی۔ سردار سودھا سنگھ نے بینت کور کے گالوں کو چومتے ہوئے کہا،بنتو چھیتی نال روٹی دے دے،سفرلمبا ہے اور دھپ دا کڑاہا تپ دا جاندا۔

بینت کو ر نے آج پہلی دفعہ کامی کو آواز نہیں دی۔ بھاگ کر خود روٹی کا سامان کرنے لگی۔ بینت کور کی اِس قدر محبت اور چاہت دیکھ کر سردار سودھا سنگھ کی آنکھوں میں بینت کور کے لیے جذبے سے بھرپور محبت غالب آگئی۔ وہ اُسے چپکے سے دیکھنے لگا۔ بینت کور اپنے ہاتھوں سے لقمے توڑ کر سردار سودھا سنگھ کو کھلانے پر مصر ہو ئی تو سودھا سنگھ منع نہ کر سکا۔ وہ اُسی کے ہاتھ سے کھانے لگا اور کہا،بنتو آج تو نے مجھے کل کا مُنڈا بنا دیا ہے۔

بینت کور سودھا سنگھ کی بات سُن کر مسکرائی اور بولی،سردار جی تسیں لوکاں واسطے وڈے سردار ہون گے۔ میرے واسطے تاں کل دے مُنڈے ای جے۔

کھانا کھانے کے بعد سردار سودھا سنگھ بینت کورکے ساتھ کم سے کم دو گھنٹے تک پیار محبت کی باتیں کرتا رہا۔ اُس وقت تک دن کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔ تب سردار سودھا سنگھ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بینت کور نے سودھا سنگھ کو اپنے ہاتھ سے پانچوں ہتھیار باندھے۔ جُوڑے لپیٹ کر پگڑی درست کی،پھر گرنتھ کو سات دفعہ سر پر سے دوبارہ پھیرے دیے۔ اُس کے بعد حویلی کے اندرونی دروازے تک رخصت کرنے آئی۔ جب تک سردار سودھا سنگھ بگھی پر قدم رکھ کے آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گیا،بینت کور وہیں کھڑی دیکھتی رہی اور اُس کے اوجھل ہوتے ہی اپنے سینے کو پکڑ کر دروازے پر ہی بیٹھ گئی۔ بنت کور کو اِس طرح بیٹھے دیکھ کر،شماں اور اجیت بھاگی ہوئی آئیں اور اُسے اُٹھانے لگیں۔ ساتھ ہی اونچی اونچی رونا شروع کر دیا۔ سودھا سنگھ بگھی پر بیٹھ کر جھنڈووالا کی گلیوں سے نکلا تو دس بجے کا سورج سامنے آ چکا تھا۔ گاؤں والے بعض لوگوں نے واہگرو کی سرکار میں،اُس کی رکھ کے لیے جی سے دعا کی پھر اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔

سودھا سنگھ کی بگھی اور اُس کے متروں کے گھوڑے گرو ہر سا کی طرف دوڑنے لگے۔ سڑک کچی گرد غبار سے اِس قدر بھری تھی کہ گھوڑوں کی ایک ایک ٹاپ سے دو دو کلو گرد کا میدہ اُٹھ اُٹھ کر منہ کو آتا،جو نتھنوں سے ہوتا ہوا تلی تک چلا جاتا۔ یہ گرد اِس لیے بھی زیادہ تھی کہ ایک تو پورے چھ ماہ سے بارش کا قطرہ نہیں گرا تھا،دوسرا ہر وقت لکڑی کے پہیوں والے گڈے چلنے اور چاراڈھونے والی گدھیوں اور بیلوں کے کُھروں سے پس پس کر اتنا باریک ہو گیا کہ اُسے مٹی کا میدہ ہی کہ لیجیے۔ سڑک کے دونوں طرف سر کنڈوں کے کَت والے اُونچے جھاڑ او رکیکر کے سیاہ پیڑسردار سودھا سنگھ کی بگھی کے اُلٹی سمت بھاگتے جاتے تھے۔ دھوپ اتنی زیادہ تھی کہ اُس سے کیکروں کے سائے بھی ڈر کر کہیں روپوش ہو گئے تھے۔ خشک ٹہنیوں پر بیجٹروں کے آہلنے لٹکتے ہوئے ایسے ہلتے جیسے اُن کے اند ربھوت ہونکتے ہوں۔ کبھی کبھی سرمئی فاختہ یا بِجڑا سامنے سے ایک دم پھڑ پھڑا کر اُڑتا اور دور تک دھوپ میں غائب ہو جاتا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد جھاڑیوں سے چوہے،کِرلے اور گلہریاں بھی ایک طرف سے نکل کر دوسری طرف کو بھاگ اُٹھتیں۔ جن کی پروا نہ گھوڑوں کوتھی اور نہ ہی اسواروں کو۔ سودھاسنگھ کو پٹیالے سے آئے ایک مہینہ ہوگیا تھا لیکن وہ ابھی تک جھنڈو والاسے باہر نہیں نکلا تھا۔ جس کی ایک وجہ تو دشمنی تھی لیکن اصل میں اِس بار گرمی بھی اتنی تھی کہ گھر سے باہر نکلنا بھٹی میں سر دینے کے برابر تھا۔ گرو ہر سا جھنڈووالاسے پندرہ میل تھا،جو بگھی اور گھوڑوں کے لیے زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ لیکن لُو کے تھپیڑوں اور دھوپ کے غبار سے جانوروں کو بخار سا چڑھ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اُنہیں تیز دوڑانا بھی درست نہیں تھا۔ لہذا وہ دُلکی چال چلتے گئے۔ ریل میں ابھی کافی دیر تھی۔ ادھر اُدھر خطرے والی کوئی بات نظر نہیں آرہی تھی۔ اِس لیے جانوروں کو دوڑانے کی ضرورت نہیں تھی۔ گھوڑے چلتے چلتے جب بارہ میل کے فاصلے پر دیوے کھوہ پہنچے،تو سردار سودھا سنگھ نے کہا،مترو کچھ دیر کے لیے سواریاں روک دو اور جانوروں کو پانی پلا لو۔ خود بھی آرام کر لو۔

دیوے کھوہ کی یہ جگہ سردار دیوے سنگھ کی ملکیت تھی،جو سودھا سنگھ کے والد کا بڑا ہی گہرا متر تھا اور اب اُس پر اُس کے بیٹے سردار ٹہل سنگھ کا قبضہ تھا۔ یہاں ایک بڑے سے بوڑھ کے سائے والی ٹھنڈی جگہ تھی۔ جس کے نیچے ایک ٹھنڈے پانی کا رہٹ بھی چل رہا تھا۔ ہریاول پینے والے اور بھنگ کوٹنے والے سارا دن اِس کھوہ پر بیٹھے باتوں کے طوطے اُڑاتے اور نشے میں غین ہوئے لیٹے رہتے اور سارے جہان کی خبریں یہیں بیٹھے لیتے دیتے۔ اکثر راہی پاندھیوں کا بھی یہی ٹھکانا تھا۔ سردار سودھا سنگھ گرو ہر سا منڈی آتے جاتے یہاں آرام کر کے بوڑھ کی چھاؤں سے لطف لیا کرتا۔ یہ بات ہر کوئی جانتا تھا کہ سردار صاحب کو اِس بوڑھ سے خاص رغبت تھی۔ آج بھی سودھا سنگھ یہاں پہنچا تو اُس کا بوڑھ کو دیکھ کر جی للچا گیا۔ اُس نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر رُکنے پر ہی اکتفا کیا۔ اگرچہ یہ قیام منصوبے میں شامل نہیں تھا اور منڈی گرو ہر سا بھی اب تین میل ہی رہ گیا تھا۔ سردار ہرے سنگھ نے سودھا سنگھ کو ایک دفعہ نہ رکنے کا ہلکا ساکہا بھی،لیکن سردار سودھا سنگھ نے کہا،ہرے سنگھ بہہ جا،کجھ دیر آرام کر لے،جانور گرمی سے بوندلا گئے ہیں۔

سردار سودھا سنگھ کو دیکھ کر ٹہل سنگھ اور دوسرے تمام لوگوں نے اُٹھ کرپرنام کیا،پھربھاگ کر مونڈھے اور چارپائیاں اکٹھی کرنے لگے تاکہ سب بیٹھ جائیں۔ سردار سودھا سنگھ نے ہر ایک کو الگ الگ پرنام کا جواب دیااورایک بڑی سی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا،لو بئی،مترو کسی نے اشنان کرناہے تو کر لو اور جانوروں کو بھی پانی وانی پلا کے تازہ دم کر لو۔ (پھر ٹہل سنگھ کی طرف منہ کر کے )او بھلیا لوکا،سب متروں کو اور مجھے لسی پلا،گرمی نے تو پورے ہڈوں سے پانی کھینچ لیا۔ اِتنا کہ کر سردار سودھا سنگھ اُسی چار پائی پر لیٹ گیا۔ اِسی اثنا میں ایک پاندھی جو وہاں بیٹھا آرام کر رہا تھا،اُٹھااور اپنی سانڈنی پر سوار ہو گیا،جو تھوڑے فاصلے پر بیٹھی جگالی میں مصروف تھی۔ ٹہل سنگھ لسی لینے کے لیے اپنی حویلی کی طرف روانہ ہو گیا اور سودھا سنگھ کے بندے گرمی کے مارے رہٹ کے ٹھنڈے پانی میں نہانے کے لیے لنگوٹ کسنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں تیس فٹ لمبے چوڑے کھاڈے میں داخل ہو گئے۔ اِتنے میں سانڈنی سوار نظروں سے اوجھل ہو گیا،جس کی کسی نے بھی پروا نہ کی۔

برگد کا تنا کم سے کم بھی بیس فٹ قطر کا تھااور اُس کے بڑے بڑے ٹاہنوں کاپھیر قریب چار کنال میں تھا۔ بوڑھ کی شاخوں پر چوڑے پتوں کی سبز چادریں،سینکڑوں پرندوں کی سریلی آوازیں اور پھریریاں لیتی اُن کی اُڈاریاں،اُن کے بار بار ایک شا خ سے دوسری شاخ پر پھدکنے اور چہچہانے کے ساتھ رہٹ کی ٹینڈوں سے نالیوں میں بہتے شفاف اور ٹھنڈئے پانی کے تریڑے موسم کی حدت کو اتنا کم کر رہے تھے کہ سردار سودھا سنگھ کو نیند آنے لگی۔ مگر اُسے خوب پتا تھا کہ ریل کا وقت اُس کی اپنی ملکیت میں نہیں،جسے تبدیل کر کے دو گھنٹے مزید بڑھا دیا جاتا۔ پھر بھی دوبجنے میں کافی دیر تھی کیونکہ ابھی تک بارہ ہوئے تھے۔ اِس لیے کچھ دیر آرام کر لینے میں کوئی حرج بھی نہیں تھا۔ سودھا سنگھ آرام سے چارپائی پر لیٹ گیا تو ٹھنڈی چھاؤں نے اتنا سرور دیا کہ اُس نے ارادہ کیا،اب نتھا سنگھ کی حویلی میں جا کر آرام کرنے کی بجائے یہیں پر ٹکتے ہیں۔ ریل جانے میں ایک گھنٹا رہ جائے گا،تو یہیں سے اُٹھ کر بھاگ چڑھیں گے۔ کون سا اب منڈی گرو ہرسا دور رہ گیا ہے۔

تھوڑی دیر گزری تھی،ٹہل سنگھ لسی کے دو دونے بھر لایا۔ لسی کافی گاڑھی تھی،اِس لیے اُس نے اُس میں رہٹ کا ٹھنڈا پانی بھی ڈال دیا۔ پھرپیتل کے قلعی شدہ چھَنًے بھر بھر کے سب کو پلانے لگا۔ پیت سنگھ،جگبیر،بیدا سنگھ وغیرہ کو نہاتے ہوئے دیکھ کر ہرے سنگھ کا بھی دل کر رہا تھا کہ وہ بھی کپڑے اُتار کر پانی کے کھڈے میں اُتر جائے لیکن وہ لسی پی کر وہیں بیٹھ گیا۔

سودھا سنگھ لسی پی کر دوبارہ چار پائی پر لیٹ چکا تھا بلکہ اب اُس کے خراٹے بھی شروع ہو گئے تھے۔ اُدھر سب متر کھاڈے سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ اُ ن کے گنڈاسے،چھویاں اور کرپانیں چارپائیوں پر پڑی اُونگھ رہی تھیں۔ حتیٰ کہ پیپل نے اپنا تمام سایہ مغرب کی طرف سے کھینچ کر شاخوں کے نیچے کر لیا اوردوپہر ایک بجے کا طبل بجا دیا۔ ہرے سنگھ پہلے تو اس ساری کیفیت سے اُکتا رہا تھا لیکن جب اُسے بھی بیٹھے بیٹھے بہت دیرہوگئی تو اُس نے بھی چند لمحے لیٹ کر آرام کرنے کی ٹھانی۔ ہرے سنگھ سر سے پگڑی اُتار کر ابھی سیدھا ہی ہوا تھا کہ اُسے دُور سے دھوپ کی چندھیا دینے والی سفیدی میں گہرا گرد غبار اُٹھتا دکھائی دیا۔ ہرے سنگھ کے دل میں جو چھپا ہوا ڈر اور ہول تھا،وہ اب بالکل سامنے آنے لگا۔ اُس نے جلدی سے پگڑی دوبارہ سر پر رکھی،برچھی پکڑی اور اُٹھ کر سودھا سنگھ کو سختی سے جھنجھوڑ ا۔ سودھا سنگھ اُٹھ کر آنکھیں ملنے لگا مگر اُسے ابھی تک کچھ سجھائی نہ دیا۔ ہرے سنگھ نے نہانے والوں کو بھی اضطراب انگیز آواز میں پکارا،جسے سُن کر سب ایک مرتبہ دہل گئے۔ کچھ نہا کر پہلے ہی نکل چکے تھے۔ جو نہا رہے تھے وہ ہرے سنگھ کی آواز سُن کر پٹکے باندھے کھاڈے سے باہرچھلانگیں مارنے لگے لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ سچ پوچھیں تو سردار ہرے سنگھ کے سوا کوئی بھی اِس اچانک موقع کے لیے تیار نہ تھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ سنبھلتے،چوہدری غلام حیدر اُن کے سر پر آن پہنچا اور چند قدم کے فاصلے پر رک کر چنگھاڑتے ہوئے ایک بلند آہنگ نعرہ مارا اور گولیوں سے بھری ہوئی ولائتی رائفل سیدھی کر لی،جس کا گھوڑا پہلے ہی چڑھا ہوا تھا۔ غلام حیدر کے علاوہ امانت خاں کے ہاتھوں میں بھی رائفل تھی۔ باقی سب کے ہاتھوں میں برچھیاں اورڈانگوں پر چڑھی ہوئی چھویاں چمک رہی تھیں۔ جن کی تعداد پینتیس کے قریب تھی۔ وہ سب بھی نعرے مارنے لگے اور ہتھیار کس کے دس بندوں نے آناً فاناًبرگد کے پیڑ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تاکہ کوئی بھاگنے نہ پائے۔ دوسرے پچیس آدمی ہر طرح سے مسلح غلام حیدر کی پشت پر جم گئے۔

ہرے سنگھ،جو سودھا سنگھ کے باقی بندوں کی نسبت لڑنے کے لیے بالکل تیار تھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھ کر وار کرتا،امانت خاں وٹونے پہلے سیدھا اُسی پر فائر کھو ل دیا۔ گولی ہرے سنگھ کے سینے میں لگی اور وہ لڑکھڑا گیا۔ اِس کے باوجود اُس نے آگے بڑھ کر انتہائی بہادری کے ساتھ واہگرو کا نعرہ مارااور امانت خاں کے اُوپر برچھی کا ایک بھرپور وار کیا،جو امانت خاں کے گھوڑے پر بیٹھے ہونے کی وجہ سے دائیں ٹانگ پر لگا اور اُس کی ٹانگ شدید زخمی ہو گئی۔ پھر اِس سے پہلے کہ ہرے سنگھ دوسرا وار کرتا،امانت خاں رائفل میں کار توس دوبارہ بھر چکا تھا،اُس نے رائفل کی نال ہرے سنگھ کے سینے پر رکھ کر دوسرا فائر کر دیا۔ اِس فائر کے لگتے ہی ہرے سنگھ کی آنکھیں بے نور ہوگئیں اور وہ ایک ہی دم لڑکھڑا کر نیچے گر گیا۔ اِسی اثنا میں غلام حیدر بھی اپنی میگزین سودھا سنگھ کے بندوں پر خالی کر چکا تھا۔ اچانک اِن بلاؤں کو دیکھ کر سودھا سنگھ کے بندوں نے ہتھیار تو سنبھال لیے تھے مگروہ جم کر مقابلہ کرنے سے قاصر تھے اور سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ چوہدری غلام حیدر اور امانت خاں کی رائفلوں کا اپنی ڈانگوں کے ساتھ کیسے مقابلہ کریں؟ دوسری طرف غلام حیدر کے ڈانگوں اور برچھیوں والے ساتھی بھی اِن سے دگنی تعداد میں وہاں کھڑے تھے۔ اِس لیے بجائے اِس کے کہ آگے بڑھ کر حملے کا جواب دیتے،گولیوں سے بچنے کے لیے ادھر اُدھر اوٹوں کا سہارا لینے لگے۔ لیکن غلام حیدر نے اُن کو اس طرح گھیر لیا کہ ہر طرف سے اُن کی پشتیں خالی ہو گئیں۔ اِس سوڑ کو دیکھتے ہوئے آخر جگبیر اور پیت سنگھ نے واہگرو کا نعرہ مار ااور شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے ہجوم میں داخل ہو گئے۔ مگر اُن کو بھی اپنے جوہر دکھانے کی مہلت نہیں ملی۔ گولیوں نے اُنہیں بھی ہرے سنگھ کی طرح اوٹ سے نکلتے ہی زمین بوس کر دیا۔ غلام حیدر کی رائفل ولایتی ہونے کی وجہ سے اُس کی میگزین میں چھ گولیاں موجود تھیں،جنہیں وہ ایک ایک کر کے لگاتار چلا رہا تھا۔ ایک میگزین ختم ہو جاتی تو وہ اُسے اُتار کر اپنے پیچھے کھڑے جانی چھینبے کی طرف بڑھا دیتا اور بھری ہوئی میگزین اُس سے پکڑ لیتا۔ جانی اگلی میگزین خالی ہونے تک پہلی میگزین میں گولیاں بھر دیتا۔ اِس افراتفری میں سودھا سنگھ کو سنبھلنا تو ایک طرف چارپائی سے بھی اُٹھنے کا موقع نہ مل سکا۔ چارپائی پر بیٹھے ہی غلام حیدر اور امانت خاں کے فائروں اور اپنے بندوں کو گرتے دیکھتا رہا۔ سودھا سنگھ کی چارپائی کو غلام حیدر کے بندے گھیر چکے تھے اور اُس کو اُٹھنے کی نوبت نہیں دی۔ فائر سودھاسنگھ کے کئی بندوں کو لگے،جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گر کر لوٹنیاں لینے لگے۔ فائر بہت نزدیک سے کیے گئے تھے۔ اِس لیے بہت موئثر ہوئے۔ جب تک غلام حیدر کی رائفل سے گولیاں نکلتی رہتیں،امانت خاں اپنے بندوں کی اوٹ میں جا کر بندوق میں نیا کارتوس بھر لیتا اور گھوڑا دوڑا سودھا سنگھ کے بندوں میں سے کسی ایک کو تاک کر نشانہ مارتا۔ سودھا سنگھ کے بندے بھاگنے لگے تو غلام حیدر نے بھی اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور پیچھے بھاگ کر اُن پر فائر کرنے لگا۔ نعروں کی گونج اور گولیوں کی آگ میں اِتنا شور بلند ہوا کہ انسان تو کیا،برگد کی شاخوں میں پھدکنے والے پرندے بھی ایک ہی دم اُڑ کردھوپ کی پناہ میں چلے گئے اور دہکتی سفید فضا میں اُڑنے اور شور مچانے لگے۔ اِن پے بہ پے دو رائفلوں کے فائروں میں سودھا سنگھ کے بندے ایک طرف،خود غلام حیدر کے بندوں کو بھی ڈانگ برچھی کے جوہر دکھانے کا موقع نہ مل سکا۔ اِتنا ضرور ہوا غلام حیدر کے بندے دُگنے ہونے کی وجہ سے سودھا سنگھ کے لوگوں کو آگے بڑھنے کی ذرا بھی جرات نہ ہوئی۔ اِس مار دھاڑ میں سودھا سنگھ کے جگرے والے آدمی ہرے سنگھ،جگبیر،بیدا سنگھ اور پیت سنگھ تو پہلے ہی گر چکے تھے۔ باقی کوبھی غلام حیدر اورامانت خاں آگے بڑھ کر اور اُنہیں گھیر گھیر کا فائر مار رہے تھے۔ سودھا سنگھ چارپائی پر صدمے سے گرا ہوا تھااور اُسے جانی چھینبے نے جُوڑوں سے پکڑ رکھا تھا۔ آپا دھاپی اتنی بڑھی،کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا اور سودھا سنگھ کے دس بندے وہیں ڈھیر ہوگئے۔ دو بندے بھنگ پینے والے بھی اسی فائرنگ میں چل بسے۔ باقی کے پانچ چھ بندے گھوڑوں پر چڑھ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ غلام حیدر نے اُن کا پیچھا کرنا مناسب نہ سمجھا اور واپس بوڑھ کے نیچے سردارسودھا سنگھ کی چارپائی کے پاس آگیا۔ سودھا سنگھ کا جُوڑا کھل چکا تھا اور چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ لیکن ابھی ہوش حواس ضایع نہیں ہوئے تھے۔ غلام حیدر نے سودھا سنگھ کو جُوڑوں سے پکڑ کر سیدھا کیا اور کہا،سودھے مجھے پہچان،مَیں ہوں شیر حیدر کا بیٹا غلام حیدر،جس کی ملاقات کا تجھے بڑا شوق تھا اور جس کے بندوں کو تو نے ناجائزمار دیا۔ تجھے اپنے ہرے سنگھ،جگبیرے اور دمے پر بڑا مان تھا۔ وہ دیکھ مَیں نے اُن کی چھاتیاں کھول دی ہیں۔ کہاں گئے اُن کی دیگی لوہے والی بر چھیاں اور گنڈاسے؟اب تُو سمجھ لے،غلام حیدر نے اسی برگد کے نیچے تجھے سزائے موت سنا دی ہے۔ اب چل تو بھی اِنہی کے پا س۔ مگر تیرا اور اُن کا ٹھکانا ایک جگہ پر نہیں ہو گا۔ سودھا سنگھ نے آنکھیں اُوپر کر کے غلام حیدر کی طرف دیکھا،جو موت کا فرشتہ بن کر اُس کے سامنے کھڑا تھا۔ غلام حیدر کا لمبے بَر والا لال رنگ کا لاچا،سفید کُرتہ اور سنہری تلے والا کھُسہ،سودھا سنگھ کی آنکھوں میں تیر بن کر لگا۔ غلام حیدر کی آنکھیں سُرخ انگارا تھیں اور اُن میں خون چڑھا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ میں رائفل،جس کی نال سے بارود کی بُو دھواں بن کر نکل رہی تھی اور سودھا سنگھ کی ناک کو چڑھ رہی تھی۔ سودھا سنگھ نے غلام حیدر کو آج سے بارہ تیرہ سال پہلے جب وہ یہی دس سال کا ہو گا،اپنے باپ شیر حیدر کے ساتھ تحصیل مکھسرمیں ایک پنچایت میں دیکھا تھا۔ اُس وقت تو یہ لڑکیوں کی طرح چٹا گورا،ایک بچونگڑا سا لگتا تھا،مگر اب کتنا بڑا قاتل ہو گیا تھا۔ سودھا سنگھ نے اِسی حالت میں سوچا،بنتو سچ کہتی تھی،یہ مُسلے بڑے بگھیاڑ ہوتے ہیں۔ اِن کے بچے بھی بگھیاڑ ہوتے ہیں،آخر یہ غلام حیدر مجھے کھا ہی گیا۔ جب سودھا سنگھ کوبچنے کا گمان نہ رہا،تو اُسے پھر بنتو یاد آئی،اُس نے آنکھیں بند کر لیں اور بینت کور کو دو ہتھڑزور زور سے پیٹتے اور بین کر تے دیکھنے لگا۔ اِسی اثنا میں اُس نے دوبارہ غلام حیدر کی آواز سنی،سودھے،یہ نہ کہنا،مَیں تیری ہی موت بن کر آیا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد عبدل گجر اور شریف بودلہ بھی تیرے ساتھ آ ملیں گے۔ مَیں نے فیصلہ کر لیا تھا،اِس دفعہ کی پیشیاں فیروز پور کی عدالت کی بجائے تحصیل جلال آباد میں ہی لگا دی جائیں۔ میرے پاس بار بار فیروز پور جا کر تا ریخیں بھگتنے کا وقت نہیں۔ اِس لیے میں نے یہیں عدالت لگا کر فیصلہ کر دیا۔ سودھا سنگھ نے غلام حیدر کی بات سنی،تو ایک دم تڑک کر بولا،غلام حیدر،کوئی گل نئیں،سودھا سنگھ مردہے،زنانی نہیں کہ تیرے آگے بینتی کر ے گا،مار دے گولی۔ پَر گولی سینے پر مارنا اور یاد رکھنا،کسی مرد کو مارا تھا۔ غلام حیدر نے سردار سودھا سنگھ کے دل پر رائفل کی نال رکھ کرگھوڑا دبا دیا۔ غلام حیدر نے میگزین ایک دفعہ پھر بھر لی تھی۔ اِس لیے وہ پوری کی پوری سودھا سنگھ پر خالی کر دی۔ اِس فائر کے چلنے کے ساتھ ہی خون کے تیز فوارے نے پوری چار پائی لال کر دی۔

سودھا سنگھ کو مارنے کے بعد غلام حیدر نے کچھ دیر تک تمام لاشوں کا جائزہ لیا۔ پھر اپنے گھوڑے پر بیٹھ گیا اور سب ساتھیوں سے کہا،بھائیو،امانت خاں کے علاوہ تم سب سیدھے تھانے گرو ہر سا جا کر حوالات میں بیٹھ جاؤ اور یہ برچھیاں اور ڈانگیں وہیں تھانے میں جمع کرا دو اور سمجھ لو،تم ہمارے ساتھ آئے ہی نہیں(پھرامانت خاں کی طرف منہ کر کے )مَیں اور امانت،اللہ نے چاہا تو جلد ہی چک میگھا پہنچتے ہیں۔ پھرگھوڑے کو ایڑ لگا دی۔ غلام حیدر کے تمام بندوں نے تڑپتی ہوئی لاشوں کو وہیں چھوڑا،جن میں اب کوئی بھی زندہ نہیں رہا تھا،اور سیدھے تھانہ گرو ہر سا کی طرف سانڈنیوں اور گھوڑوں پر چڑھ کرچل پڑے۔

ایک گھنٹے بعد جب چک میگھا ایک میل رہ گیا تو غلام حیدر نے کہا،میاں امانت،تھوڑی دیر کے لیے گھوڑوں کو آرام دے لیں تاکہ تازہ دم ہو جائیں۔ آگے ہمیں اِس قہر کی گر می میں مسلسل بھاگنا پڑے گا۔ دونوں شرینہہ کے سائے میں ا پنے گھوڑوں کو ٹھہرا کر نیچے اُترے۔ گھوڑوں کوشرینہہ کے نیچے کھڑے ہوئے نلکے سے پانی پلا یا،خود پیا،پھر گھوڑوں کو سانس دلانے لگے۔ غلام حیدر نے،کہاامانت خاں گھبرانا نہیں،اپنی رائفل کی نال کو اچھی طرح صاف کر لے۔ مجھے پکا یقین ہے،ابھی سودھا سنگھ کے مرنے کی خبر چک میگھا نہیں پہنچی۔ البتہ تھانہ گرو ہر سا اِس خبر سے گونج گیا ہو گا۔

امانت خاں بڑی بڑی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہنس پڑا اور کہنے لگا،چوہدری غلام حیدر،گھبرانا نامردوں کے حصے میں لکھا گیا ہے۔ مَیں تو پیدا ہوا ہوں تو اِنہی چکروں میں پڑگیا تھا۔ یہ میری پہلی لڑائی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگرمنڈی گرو ہرسا میں خبر پہنچ گئی تو مجھے پکا یقین ہے،فرنگیوں کی جیپیں ہمارے کُھرے میں ہوں گی۔ لیکن خطر ے امانت کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اِتنا کہہ کر امانت خاں اُٹھ کر گھوڑے کو کھولنے لگا۔ غلام حیدر نے بھی اپنے گھوڑے کی لگام شرینہہ کے تنے سے کھول لی۔ اُس کے بعد دونوں چھلانگیں مار کر پر چڑھ گئے او ر رائفلیں کاندھوں پر رکھ کر چک میگھا کی طرف چل پڑے۔

چک میگھا تین سو نفر کی آبادی کا چھوٹا سا گاؤ ں تھا۔ جس میں زیادہ بڑے زمیندار نہیں تھے۔ لوگوں کے پاس پچاس پچاس یا سو سو ایکڑ کے قریب رقبہ تھا۔ اُس میں وہ گندم اور چاراکاشت کرتے۔ اِس کے علاوہ ایک دو سیؤ بیریوں کے باغ بھی تھے۔ چک میگھا کے مغرب کی طرف سے ایک نہر حکومت نے کافی پہلے نکال دی تھی،جو قصور کے مقام سے دریاے ستلج سے نکال کر فیروز پور کو کاٹتی ہوئی بنگلہ فاضلکاتک چلی جاتی۔ چک میگھا کی زمینوں کو اِسی نہر کا پانی سیراب کرتا اور لوگ قدرے خوش حال تھے۔ گاؤں کے چھوٹے چھوٹے زمین داروں میں عبدل گجر اور شریف بودلہ ہی کچھ بڑے تھے،جن کی زمین ڈھائی تین تین سو کے لگ بھگ تھی۔ یہ زمین غلام حیدر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی لیکن اِن دونوں میں خود سری اِنہیں کسی نہ کسی دشمنی میں ضرور اُلجھائے رکھتی اور گاؤں میں بھی اُن کا فساد اپنے سے چھوٹے زمینداروں کے ساتھ چلتا رہتا۔ ا کثر کو یہ دونوں مل کر دبائے رکھتے۔ ڈیرہ کافی کھلا تھا۔ جس کے اندر نیم کے دو پیڑ انتہائی گہرا سایہ کیے ہوئے تھے۔ اس سائے میں پانچ چھ چارپایؤ ں پر کچھ لوگ بیٹھے اِدھر اُدھر کی ہانک رہے تھے،جن میں عبدل گجر اور شریف بودلہ صاف نظر آ رہے تھے۔ گھوڑوں کے رُکتے ہی لوگوں میں ایک ہڑبونگ مچ گیا۔ وہ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے لیکن ڈیرے سے باہر نکل کر بھاگنے کی جرات کسی کوبھی نہیں ہو رہی تھی کیونکہ دروازے پر غلام حیدر اورامانت خاں رائفلیں لیے کھڑے تھے۔ غلام حیدر نے عبدل گجر کو مخاطب کر کے کہا،او حرامی تیار ہو جا،غلام حیدر نیودرا ڈالنے آگیا ہے۔ یہ بھی جان لے،تیرے باپ سودھاسنگھ کو اُس کے گرو جی کے حوالے کر آیا ہوں لیکن افسوس کہ تو اُس کی چتا کی آگ نہ سیک سکے گا،وہ بچارا بھی تیرے سیاپے اور تیری چارپائی کو کندھا دینے جوگا نہیں رہا۔

موت کو اتنا سامنے دیکھ کر عبدل اور شریف کے ایک بار اوسان تو خطا ہو گئے لیکن اُنہوں نے پھر بھی ہمت کر کے اپنے بندوں کو کہا،دُلے کیا دیکھتے ہو؟پکڑو اِس کو اور ڈانگوں سے کچل دو۔ عبدل کی آواز سُن کر کچھ لوگ فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے لیکن اتنا وقت کہاں تھا،دونوں نے فائر کھول دیا اور لگاتار گولیاں برسانے لگے۔ جس سے تین چار بندے گر گئے۔ کافی سارے چارپائیوں کے نیچے گھس گئے۔ اِسی اثنا میں موقع پا کر عبدل گجر بھاگنے لگا،اِتنے میں غلام حیدراور امانت خاں رائفل میں دوبارہ گولیاں بھر چکے تھے۔ اُنہوں نے دوبارہ تاک تاک کے فائر کرنے شروع کر دیے،جو عبدل گجر اور شریف بودلے کے جسموں کو چھیدتے ہوئے نکل گئے اور ڈیرے کا ویہڑا منٹو ں میں لہولہان ہو گیا۔ ہر طرف لاشیں اور خون ہی خون پھیل گیا۔ نیم کے درختوں سے پرندے اُڑ اُڑ کر شاخوں کو چھوڑنے لگے۔ باقی لوگ یا تو بھاگ گئے یا چارپائیوں کے نیچے گھسے ہوئے تھے اور کسی کی جرات نہیں تھی کہ سامنے آجائے۔ اِس کے بعد غلام حیدر اور امانت خاں گھوڑے آگے بڑھا کر لاشوں کے قریب آئے اور دوبارہ عبدل اور شریف پر ایک دو دو فائر کیے پھر واپس چل دیے۔ باہر نکلتے ہی دونوں نے گھوڑوں کو ایڑیاں لگا دیں۔ اِدھر چک میگھا میں ہر طرف چیخ چنگھاڑا اور ماتم شروع ہو گئے۔ عبدل گجر اور شریف بودلے کے ساتھ تین اور لاشیں بھی اُوندھے منہ زمین پر پڑی ہوئی تھیں۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا،جیسے لوگوں پر ایک خواب کا سماں گزرا ہو۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(33)

مولوی کرامت کی آنکھ کھلی تو ستارے اپنی ترتیب بدل رہے تھے لیکن کھتیاں صبح کاذب سے ابھی دور تھیں اور فجر کی اذان میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت عادت کے مطابق بہت ہی سانجرے اُٹھ جاتا تھا۔ اِس لیے حاجات ضروریہ وغیرہ کے لیے کھیتوں میں نکل جاتا،جو اکثر لوگوں کا معمول تھا۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گھروں میں جھاڑے پیشاب کے لیے جگہ بنائی جائے۔ کھیتوں میں منہ اندھیرے اِس کام کے لیے جانے سے تازہ ہوا اور لمبی سیر کے ساتھ ساتھ رفع حاجت کے کام سے بھی فارغ ہو جا تا۔ کئی لوگ تو اِس سلسلے میں چلتے چلتے تین چار کلو میٹر تک نکل جاتے۔ بہر حال اِس کے بعد مولوی کرامت سیدھا پاس کی چھوٹی مسجد کا رخ کرتا جس میں زیادہ تر غلام حیدر کی رعا یا اورچند ادھر اُدھر کے لوگ نماز پڑھنے آجاتے۔ مولوی مسجد میں پہنچ کرتہجد پڑھتا،پھر قرآن کھول لیتا اور جب تک نماز فجر کا وقت نہ ہو لیتا،اُسی کی تلاوت کرتا رہتا۔ اِس مسجد کا مولوی پہلے سے ایک موجود تھا،جو غلام حیدر کا خاندانی مولوی بھی تھا۔ اِس لیے مولوی کرامت کو اُس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑتی لیکن دل ہی دل میں اِس بات کا دکھ بھی تھا۔ اور خواہش تھی،کاش وہ اِس مسجد کا مولوی بن جائے۔ کبھی اُس کے جی میں خیال آتا،خدا کرے یہ مولوی مر جائے۔ پھر اُسی خیال میں اپنی امامت کے منصوبے بنانے لگتا۔ مگر تھوڑی دیر بعد جھر جھری لے کر اس سوچ کو جھٹک دیتا اور خدا سے توبہ کرتا۔ ایک دفعہ اُسے یہ خواب بھی آیا کہ پہلا مولوی مر گیا ہے اور وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے۔

اب اُسے جلال آباد میں آئے ہوئے اور سکول میں پڑھاتے کئی دن ہو گئے تھے۔ رہنے کے لیے چوہدری غلام حیدر کی حویلی میں انتظام بھی تھا۔ حویلی کی ڈیوڑھیوں میں سے ایک ڈیوڑھی کے چھوٹے سے کمرے میں چراغ دین کا رشتے دار ہونے کے ناطے بستر جمانے کی جگہ مل چکی تھی اور ناشتے کے علاوہ دو وقت کا کھانا بھی مل جاتا۔ ہیڈ منشی اُس کی کارکردگی سے کافی مطمئن تھا۔ سکول سے چھٹی کے بعد مولوی صاحب فارغ ہوتا۔ ان اوقات میں وہ جلال آباد اور اُس کے مضافات کی سیر کو نکل جاتا۔ اِس طرح کچھ ہی دنوں میں اُس نے یہ علاقہ بھی قریب قریب دیکھ لیا۔

جلال آباد کہنے کو تحصیل تھی لیکن اس کی آبادی بنگلہ فاضلکا سے بھی کم تھی۔ مشکل سے چارسو گھر کا شہر تھا۔ گویا ایک قصبہ تھا،جسے فیروز پور ضلع کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ جلال آباد میں تحصیل کمپلیکس کے علاوہ ایک چھوٹی سی غلہ منڈی تھی،جس کے زیادہ تر آڑھتی ہندو تھے اورکاروبار پر قابض تھے۔ منڈی میں جن اجناس کا لین دین تھا وہ بھی مخصوص تھیں۔ جیساکہ جَو،باجرہ،چنے اور گندم۔ ان کے علاوہ نہ ہی جلال آباد میں کوئی فصل تھی اور نہ بڑے پیمانے پر کسی اور شے کا کاروبار تھا۔ البتہ سُرخ مرچیں،پیاز،لہسن اور سستے پھل،جن میں سے اکثر سڑے ہوتے تھے،یہاں تھوڑے بہت دستیاب تھے۔ منڈی کے باہر بھی کچھ دوکانیں تھیں لیکن وہ دوکانیں جلال آباد کے بازار میں تھیں۔ بازار مشکل سے بیس پچیس دوکانوں پر مشتمل تھا۔ اِنہی میں ایک دو کپڑے کی بھی تھیں۔ اُن میں بھی کھدر اور سوتی کپڑے کے علاوہ دوسرا کپڑا نظر نہیں آتا تھا یا ہاتھ کے بنے ہوئے کھیس،چادریں اور رنگ برنگی لنگیاں تھیں۔ منڈی کے بر عکس یہاں کچھ سکھ دوکانداربھی نظر آ جاتے مگراُ ن کی حالت ہندو ؤں سے کافی پتلی تھی اور مسلمان تو سِرے سے نہیں تھا۔ دکانوں میں روزمرہ استعمال کی چیزیں اور چھوٹی موٹی کھانے کی اشیا مثلاً دیسی شکر،گُڑ،نمک،مسالہ جات،ٹانگر،میدے کی برفی اور کھانڈ کی چوسنے والی گولیا ں،چاول،دال اور اسی طرح کی دیگر چیزیں بوریوں میں کُھلے منہ پڑی رہتی تھیں۔ اکثر دکانداروں نے تیسرے درجے کی کھجوریں بھی رکھی تھیں،جن پر ہر وقت مکھیاں بھنبھناتی رہتیں اور گاہک مکھیوں سے بے پروا یہ سستی کھجوریں لے جاتے۔ کھجوریں اور ٹانگر عموماً دیہات سے آئے ہوئے لوگ ہی اپنے ساتھ لے کر جاتے۔ یہ چیزیں سستی ہونے کے ساتھ میٹھی اور مزیدار بھی لگتیں اور بچے اِنہیں کھا کے خوش ہو ہو کر اُچھلتے کودتے۔ اِن کے علاوہ ایک حلوائی تھا،جس کی دوکان تو نہیں تھی،بس ایک پھٹے پُرانے شامیانے کے نیچے دو چولہوں کے اُوپر دو کڑاہیاں رکھ کر ایک میں جلیبی اور دوسری میں پکوڑے تَل تَل کر پراتوں میں ڈھیر لگاتا جاتا۔ یہ حلوائی مسلمان تھا۔ بازار میں آنے والے ہر ایک نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا کہ وہ اِس سے پکوڑے اور جلیبی ضرور لے کر کھائے اور گھر لے جائے۔ ایک مدت ہو گئی تھی لیکن اِس کا یہ تھڑا دوکان میں نہیں بدلا تھا اور نہ اس نے کاروبار میں کچھ اضافہ کیا تھا۔ ان دکانوں اورمنڈی کے علاوہ جلال آباد میں ایک مسجد،ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی تھا اور یہ تینوں مذہبی عمارتیں اپنے اپنے مکینوں کے درمیان ہی تھیں۔ اِن کے علاوہ کوئی ایسی خاص چیز نہیں تھی جس کا ذکر کیا جائے۔ ہاں ریلوے اسٹیشن البتہ جلال آ باد کے شمال کی طرف تحصیل کمپلیکس کے بالکل ساتھ پڑتا تھا۔ یہ اُس وقت واحد سواری تھی،جو جلال آباد کے رہنے والوں کو دور دراز لے جاتی اور لے آتی۔ اکثر دیہاتی بھی اِسی ریل کے ذریعے جلال آباد آتے۔ کیو نکہ اُس وقت ریل اکثر بڑے بڑے دیہاتوں میں رُکتے ہوئے آتی تھی۔ کرایہ سستا ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی اشیاء بھی اِسی کے ذریعے منڈی میں لا کر بیچتے یا پھر یہاں سے فیروز پور لے جاتے۔ ریل کے علاوہ سواری اور باربرداری کے لیے جو ذرائع تھے،اُن میں زیادہ تر گدھے،اونٹ اور گَڈے تھے جسے آپ بیل گاڑی کہہ لیں۔ بعض لوگ گھوڑے کو بھی استعمال میں لاتے مگر یہ خال خال ہی تھا۔ کچھ بڑے زمینداروں یا پولیس کے پاس۔

محکمہ تعلیم کے طرف سے مولوی کرامت کو نیا حکم نامہ ملے تین دن ہو چکے تھے مگر ابھی تک اُس نے کام شروع نہیں کیا تھا۔ وہ اِسی شش پنج میں تھا کہ کیا کرے اور کس طرح لوگوں کو اُسی کام کے لیے تیار کرے؟ جس کے خلاف خود وہ یا اُس کے بھائی بند فتوے دے چکے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ جب تین دن اِسی سوچ بچار میں گزر گئے تو اُسے اچانک ایک ترکیب سوجھی اور آج مولوی نے اُس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ اُس نے تہیہ کر لیا کہ جلال آباد کی جامع مسجد سے اپنی ڈیوٹی شروع کر ے گا۔ مولوی کرامت نے بستر سے اُٹھ کر سر پر ا چھے طریقے سے پگڑی باندھی۔ اُس کے بعد بستہ بغل میں دبایا اور چھڑی پکڑ کر کمرے سے باہر نکل پڑا۔ باہر نکل کر اُس نے ایک دفعہ بستہ اور چھڑی زمین پر رکھ کر اپنے کمرے کو تالا لگاکر چابی ازار بند سے باندھی پھر بستہ اور چھڑی زمین سے دوبارہ اُٹھا ئی اور چل دیا۔ باہر اُس کی گدھی موجود تھی،جس کے آگے مولوی صاحب نے رات بہت ساری چاولوں کی پھک ڈال دی تھی۔ پھک ابھی تک کافی مقدار میں پڑی تھی،جسے مولوی کی گدھی وقفے وقفے سے کھا رہی تھی۔ یہ گدھی اُس نے سواری کے لیے جودھا پور سے پورے سات روپے کی لی تھی لیکن اُس پر سواری کرنے کا ابھی موقع نہیں ملا تھا کیونکہ سکول نزدیک تھا۔ مگر اب مولوی کو جو ڈیوٹی دی گئی تھی،اُس کے مطابق اُسے ارد گرد کے گاؤں میں بھی جانا پڑنا تھا۔ سفر طے کرنے کے لیے اُسے گدھی کا سہارا چاہیے تھا۔ لیکن اس وقت مولوی نے اُسے وہیں بندھا رہنے دیا کیونکہ جامع مسجد زیادہ دور نہیں تھی۔

ابھی اندھیرا تھا اور بہار کی ہوا ہولے ہولے چل رہی تھی۔ ہوا کے اندر سردی کا لمس بالکل ختم ہو چکا تھا کیونکہ فروری کب کا نکل گیا تھا اور مارچ اپنے آخری دن پورے کر رہا تھا۔ مولوی کرامت زمین پرچھڑی ٹکاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھنے لگا۔ اِدھر اُدھر لیٹے آوارہ کتوں نے مولوی کرامت پر اس طرح بھونکنا شروع کر دیا،جیسے اُن کی سلطنت میں ایک اور اُن کا شریک آگیا ہو۔ مولوی کرامت دور ہی سے کتوں کو چھڑی دکھاتاآگے بڑھتا گیا۔ ابھی وہ مسجد کے دروازے پر ہی تھا کہ موذن نے اذان دینا شروع کردی۔ مولوی کرامت نے جلال آباد کی مسجد میں قدم رکھا تو اُس کا دل ایک مرتبہ بالکل ڈگمگا سا گیا۔ کہاں تو اپنے گاؤں کی مسجد کا واحد مالک تھا،جو اُس کا ایک قسم کا گھر تھی۔ وہ اُس میں جب چاہتا اذان دیتا،جب چاہتا نماز کا وقت آگے پیچھے کر دیتا اور جیسے چاہتا مسجد کے درودیوار کے اور صفوں کے بار ے میں فیصلے صادر فرماتا۔ ایک یہ مسجد تھی جس کی ہر شے اجنبی تھی۔ یہاں نہ کسی نے اُس سے پوچھ کے اذان دینا تھی اور نہ دوسرے کسی معاملے میں کوئی مشورہ لینا تھا۔ اُسے محسوس ہوا جیسے روح گھٹتی جارہی ہو اور وہ ابھی مر جائے گا۔ عین ممکن تھا مولوی کرامت گھبرا کے واپس مڑ جاتا،اُسی وقت اُس نے اپنے پیچھے ایک شخص کے قدموں کی آواز سُنی جس کے سبب مولوی کرامت نے اپنے دل کو سنبھالا دیا اور مسجد کے صحن میں داخل ہو گیا۔ مسجد کے دائیں بائیں برآمدے تھے،جن میں صفیں بچھی ہوئی تھیں لیکن ان برآمدوں میں ایسے لگتا تھاجیسے مدت سے کسی نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ صفوں پر گرد او ر سفید سیم اُبھری ہوئی تھی،جو لال ٹین کی روشنی میں صاف نظر آ رہی تھیں۔ شاید سردی کی وجہ سے برآمدوں میں نماز نہ پڑھنے کے ساتھ اُن کی صفائی کا خیال بھی نہیں رکھا گیا تھا۔

مولوی کرامت نے اپنا بستہ اُتار کر وہیں برآمدے میں رکھا اور طہارت خانے کی طرف رُخ کیا۔ کچھ دیر میں حاجت سے فارغ ہو کر پہلے آرام سے وضو کیا پھر خاص مسجد میں آکر محراب کے پاس کھڑا ہو گیا تا کہ با جماعت فرض ادا کرنے سے پہلے نماز سُنت ادا کر لے۔ مولوی نے دیکھا،جس موذن نے اذان دی تھی،وہ بیٹھا تسبیح کے دانے گن رہا تھا۔ غالباً اُس نے اپنی نمازِ سُنت ادا کر لی تھی۔ مولوی کرامت نے اُسے سلام علیکم کہا اور جوا ب سُنے بغیر ہی نماز کے لیے اللہ اکبر کہ دیا۔

نماز با جماعت میں کم از کم ڈیڑھ سو آدمی جمع تھے اور یہی بات مولوی کرامت کے لیے خوشی کا باعث تھی۔ جب سب لوگ نماز پڑھ کر دعا مانگ چکے اور اُٹھ کر جانے لگے تو مولوی کرامت کھڑا ہو گیا اور بولا،بھائیو کچھ دیر کے لیے اگر بیٹھ جاؤ اور میری بات سُن لو تو تمھاری مہربانی ہو گی۔ لوگ مولوی کرامت کی بات سُن کر بیٹھ تو گئے لیکن ذرا بد دلی سے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے مولوی صاحب کچھ دیر تقریر کرنے کے بعد اپنی کسی ضرورت کے لیے چندہ مانگ لے گا جیسا کہ اکثر اس طرح کے ملاً حضرات کا معمول تھا۔ پھر بھی اُنہوں نے سوچا،کچھ دیر کے لیے سُن لینے میں کیا حرج ہے۔

سب لوگ بات سننے کو تیار ہو گئے تو مولوی کرامت نے بولنا شروع کر دیا۔ اِس تقریرکے لیے اُسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ جب سے ہوش سنبھالے تھے،مولوی کرامت نمازیوں کو باتیں ہی سناتا آیا تھا۔

میرے مسلمان بھائیو،مَیں جلال آباد کے اِس بڑے اسکول میں منشی بن کر آیا ہوں جو انگریز بہادر نے ہمارے بچوں کے لیے بنایا ہے۔ میرا ارادہ ہے مَیں تمھارے بچوں کو عربی،فارسی اور حساب کتاب پڑھاؤں تاکہ یہ بڑے ہو کر بابو بنیں۔ گورنمنٹ انگریز بہادر نے مجھے کچھ ہی دن پہلے اِس نوکری پر رکھا ہے لیکن جب میں نے دیکھا،اِس بڑے اسکول میں تو مسلمان بچے نام کو بھی نہیں۔ سارے بچے ہندو،سکھ اور چوہڑے ہیں تو میرا جی بہت دُکھا۔ اس لیے میں نے ارادہ کیا مَیں آپ کو خود آ کر گزارش کروں کہ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کراؤ۔
مولوی کرامت کی بات سُن کر سب لوگ حیران ہوئے۔ اُنہیں یہ خیال تک نہیں تھا کہ کوئی مولوی ہم سے چندے کے علاوہ اِس طرح کے سوال بھی کرنے آئے گا۔ یہ تو بالکل ہی انوکھا آدمی تھا،بلکہ اُن کی حیرت اِس لیے بھی زیادہ ہوگئی کہ اسکول میں داخلے کی بات ایک مولوی کر رہا ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں،اِن اسکولوں میں مسلمان بچوں کو نصاریٰ کی تعلیم دے کر کرسٹان بنایا جاتا ہے۔ اِسی لیے تو چوہڑوں کے پورے گاؤں کے گاؤں کرسٹان ہوئے ہیں۔

اُن کی حیرانی اور پریشانی دیکھ کر مولوی کرامت مزید بولا،بھائیو،میرے اور آپ کے رسول اور اللہ کے پیارے نبی محمدعربی نے فرمایا ہے،علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے لیکن کتنی بد بختی ہے ہمارے لیے کہ ہمارے نبی کے اس فرمان پر ہندو اور چوہڑے تو عمل کر رہے ہیں مگر ہم نافرمانی کر رہے ہیں۔ مجھے یہ بتاؤ ہم اپنے گھر کے پاس بننے والے اسکولوں میں ہی بچے نہیں بھیجتے،چین میں جانا تو دور کی بات ہے۔ میرا اور آپ کا نبی جانتا تھا،میری امت غریب ہے،ان کے پاس چین جانے کا خرچہ نہیں ہوگا اس لیے اُس نے کرسٹان،جو شروع دن سے ہی ہمارے نوکر اور ہمارے لیے کام کرنے والے رہے ہیں،اُن کو اس کام پر لگایا کہ وہ ہمارے لیے اِس طرح کے سکول اور مدرسے بنائیں جس طرح چین میں ہوتے ہیں۔ اب آپ ہی بتاؤ ہم چین جا سکتے تھے؟ نہیں جا سکتے تھے نا؟ تو بھائیو،اِس گورنمنٹ کا شکر کرو کہ جس نے چین لا کر جلال آباد میں اور فیروز پور میں رکھ دیا اور ہمیں دور نہیں جانا پڑا۔

مولوی کرامت کی بات سُن کر مسجد کے پیش امام نے فوراً ٹوکا،لیکن وہ تو مولوی صاحب،رسولِ پاک نے دین کے علم کی بات کی تھی کہ دین کا علم اگر تم کو چین میں جا کر حاصل کرنا پڑے تو اتنا لمبا بھی سفر کرنا مگر یہ انگریزی سکولوں میں تو کرسٹان کا علم ہے۔ ان سکولوں میں جا کر ہمارے بچے کرسٹا ن ہو جائیں گے اور دین خراب ہو جائے گا۔ تم نے فرنگی سرکار سے پیسے کھا لیے ہیں۔
مولوی کرامت کو اُس کی بات بہت بُری لگی۔ اُس نے سوچا اگر اِسی طرح یہ خبیث مولوی مجھے ٹوکتے رہے تو نوکری ضرور چلی جائے گی۔ اگر چہ اُس نے خود بھی ْقصور میں کئی باراِن اسکولوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور لوگوں کو روکا تھا کہ وہ ان اسکولوں میں نہ جائیں لیکن اب معاملہ وہ نہیں رہا تھا۔ اُس کے خیال میں اب گورنمنٹ نے بچوں کو کرسٹان بنانا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اِس جاہل مولوی کو کیا پتا سرکار کا نظریہ بدل چکا ہے۔

مولوی کرامت نے دیکھا کہ بات بگڑ سکتی ہے تو اُس نے بڑے تحمل سے ایک نئی چال چلی اور کہا،پہلی بات تو یہ ہے بھایؤ کہ اب گورنمنٹ سرکاری اسکولوں میں مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے مولویوں کو رکھ رہی ہے۔ سرکار نے اعلان کیا ہے،جو مولوی اچھی طرح سے دین اور عربی فارسی پڑھا ہو گا،اُسے سرکار اسکولوں میں تنخواہ پر مُنشی رکھے گی تا کہ وہ خود مسلمان بچوں کو پڑھائیں۔ اِس طرح کوئی خطرہ نہیں رہے گا اُن کے کرسٹان بننے کا۔ مجھے یہ مولوی صاحب ایک بات بتائیں،چین میں کون سے دین کی تعلیم دی جاتی تھی؟ ہمارا پیغمبر تو آیا عرب میں۔ اِس لیے دین اور اُس کا علم تو سارا وہاں تھا لیکن آپ نے یہ کیوں کہا،تم چین میں جانا؟ بتاؤ؟ (اپنی سفید ڈاڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے )اِس کا مطلب ہے،وہ کوئی اور علم تھا،جس کے لیے چین جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پھر چند لمحے رُک کراور پیش امام کی طرف رُخ کر کے،جس کے آگے مولوی کرامت نے گورنمنٹ کی نوکری کا لقمہ پھینک دیا تھا اور وہ ذہنی طور پر شکست تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہو چکا تھا،مجھے ایک بات بتاؤ مولوی صاحب ! جب بد ر کی جنگ ہوئی اور کافر پکڑے گئے تو اُن کو آزاد کر نے کی ہمارے نبی نے کون سی شرط لگائی تھی؟پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر،پوچھو اِس سے؟
ایک شخص جو اُن میں سب سے معزز نظر آ رہا تھا اور ہلکی سی ڈاڑھی بھی رکھتا تھا،ایسے محسوس ہوتا تھا،پیش امام کا زیادہ تر خرچہ اِسی کے گھر سے پورا ہوتا ہے۔ اُس نے پیش امام سے پوچھا،جی مولوی صاحب آپ بتائیں کس شرط پر ہمارے رسول نے اُن قیدیوں کو چھوڑا تھا؟

جب پیش امام نے چند لمحے تک کوئی جواب نہ دیا تو اُس شخص نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب آپ ہی بتائیں،وہ کون سی شرط تھی؟

اب مولوی کرامت کو اپنی فتح قریب نظر آرہی تھی۔ نوکری کی نوید سُن کر پیش امام نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ لہذا مولوی کرامت نے بولنا شروع کیا،ہوا یہ مومنو،جب نبی پاک اُن قیدیوں کو پکڑ کر مدینے لے آئے توآپ نے اعلان کیا،جو کا فر قیدی ہمارے دس مسلمان بچوں کو تعلیم دے گا اور اِنہیں پڑھنا لکھنا سکھائے گا،ہم اُس کو آزاد کر دیں گے۔ اِس حکم پر بیس قیدیوں نے مدینے کے پورے دوسو مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا اور ہمارے نبی پاک نے اُن کو شرط کے مطابق آزاد کر دیا اور پیسے بھی دیے۔

یہ کہ کر مولوی کرامت خموشی سے مسجد میں موجود لوگوں کی طرف دیکھنے لگا۔ جب چند ثانیے اسی طرح گذر گئے اور کسی نے اُس کی بات کو رد نہ کیا تو مولوی کرامت نے مزید اپنی بات کو پختہ کرنے کے لیے کہا،اب مسلمانو آپ ہی بتاؤ،وہ قیدی تو پکے کافر تھے۔ رسول تو رسول،خدا کو بھی نہیں مانتے تھے،پھر بھی رسول پاک نے مسلمان بچوں کو اُن سے پڑھانے سے گریز نہ کیا لیکن نصاریٰ تو پھر بھی خدا کو مانتے ہیں اور مفت میں آپ کے بچوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں تا کہ مسلمان خود حکومت کرنے کے قابل ہو جائیں۔ ہندوستان پر حکومت کرنا مسلمانوں کا حق ہے اور گورنمنٹ بہادر چاہتی ہے،ہم پڑھ لکھ جائیں تاکہ وہ ہماری امانت ہم کو سونپ کر چلے جائیں۔ یاد رکھو اگر تم اپنے بچوں کو ان گورنمنٹ کے اسکولوں میں نہیں پڑھاؤ گے تویہ ہنود اور چوہڑے اور سکھ،یہ سب فرنگی سرکار کے جانے کے بعد ہم پر حکومت کریں گے۔

او بھلے لوگو،تمھارے علاوہ یہ سب قومیں فٹا فٹ اِن اسکولوں میں جا کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہمارے بچے ایسے ہی ڈنگر کے ڈنگر بھیڑ بکریاں چرا رہے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ کیا تم نے نہیں دیکھا،عدالتوں اور کچہریوں میں سب ہندو لوگ ہیں جو فیصلے بھی ہمارے خلاف کرتے ہیں اور یہ بنیے جو چاہیں اپنے بھئی کھاتوں میں لکھ دیں۔ پھر تمھاری گردن پر ناخن رکھ کر جتنا چاہیں وصول کر لیں۔ تمھیں تو نہ پڑھنا آئے اور نہ اُن کھاتوں کے حساب کتاب کے دیکھنے کا طریقہ۔ اِسی لیے ہمارے قرضے بڑھتے جاتے ہیں اور پشتوں سے لے کر اب تک ادا نہیں ہوتے۔ یاد رکھو اگر ہمارے بچے نہیں پڑھیں گے تو پنجاب پھر سکھوں کے پاس چلا جائے گا۔ بھلا تمھیں پتا ہے؟مہاراجہ رنجیت نے کیا کیا تھا؟ اُس نے ہماری بادشاہی مسجد میں اپنی فوج کے گھوڑے باندھ کر اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ جہاں اُنہوں نے لید اور پیشاب کر کر کے اتنی بدبوپھیلائی اوراتنا گند مارا کہ بچارے گنبد اور میناروں کے کبوتر بھی ہجرت کر گئے۔ یہ انگریز بہادر ہی تھے،جنہوں نے وہ شاہی مسجد ان سے آزاد کرا کے ہمیں دی۔ اگر فرنگی سرکا ر مسلمانوں کی دشمن ہوتی تو اُس مسجد کو سکھوں سے آزاد کیو ں کراتی؟ پھر اُس جگہ اپنا گرجا بنا لیتی۔ اِسی دوران مولوی کرامت کو یاد آیا کہ جب فرنگیوں نے دہلی فتح کیا تھا،تو انہوں نے بھی جامع مسجد دہلی میں اپنے گھوڑے باندھ دیے تھے اور اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ مگر شکر ہے کہ اِس بات کا کسی کو بھی پتا نہیں تھا،ورنہ بات بگڑ جاتی۔ یا اگر پیش امام کو پتا بھی تھا،تو اب وہ نہیں بول سکتا تھا۔ کیو نکہ نوکری ملنے والی تھی۔ بہر حال مولوی کرامت نے اس بیہودہ خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی،مگر صدقے جاؤں اِس منصف اور عادل گورنمنٹ کے،جنہوں نے مسلمانوں کے لیے یہ سب کچھ کیا اور ہم ہیں کہ اپنے ہی دشمن۔ سکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں بھیجتے اور چوہڑے جو ہمارا گند صاف کرنے والے ہیں،وہ پڑھ پڑھ کر بابو بنتے جا رہے ہیں۔ یہی حالت رہی تو ایک دن آئے گا ہماری اولادیں اُن کا گند صاف کریں گی۔ جس سے سرکا ر ہمیں بچانا چاہ رہی ہے۔

مولوی صاحب یہ بات آپ نے پہلے ہمیں کیوں نہیں بتائی،ایک شخص جس کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی،اُس نے سر سے صافا اُتار کر گھٹنوں کے نیچے رکھا اور بولا،ہم تو خط پتر بھی نہیں پڑھ سکتے۔ کہیں سے شادی موت کا لفافہ آ جائے تو بیس دروازے بھونکتے ہیں،تب جا کر کوئی پڑھ کے سناتا ہے۔ وہ بھی سو سو نخرے کرتا ہے۔

مولوی کرامت نے اپنا وار کار گر ہوتے دیکھا تو مزید اُس پر جملہ کسا،تو اور کیا؟ پھر سو باتیں ایسی ہوتی ہیں کسی غیر کو نہیں بتانی ہوتیں،جس سے خط پڑھواتے ہیں وہ اُنہیں بھی جان جاتا ہے اور گھر کی بات خواہ مخواہ باہر نکل جاتی ہے۔ پھر یہ ہندو اور چوہڑے تو ہمارے ویسے بھی دشمن ہیں۔ بھائی تعلیم بہت ضروری ہے۔

اس کے بعد مولوی کرا مت نے اپنا بستہ کھولا اور اُس میں سے ہاتھ بھرلمبا اور آدھ ہاتھ چوڑا رجسڑ اور ایک قلم اور دوات نکال کر بیٹھ گیا اور کہا،جلدی سے اب اپنے اپنے بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے نام لکھواؤ۔