Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – آخری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(56)

اُس دن مَیں سکول سے بھاگ کر کمپنی باغ میں آگیا۔ یہ صرف میری بات نہیں تھی،جو لڑکا بھی سکول یا کالج سے بھاگتا،وہ یہیں آتا۔ اِس کی کئی وجوہات تھیں۔ اول یہ جگہ بالکل کالج اور اسکول کے سامنے پڑتی تھی۔ درخت اِتنے زیادہ اور گھنے تھے کہ اُن کی اوٹ سے آسمان کو دیکھنا کسی کے بس کا روگ نہیں تھا۔ اِن درختوں کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی ریل گاڑی کی پٹڑی تھی،جس پر صبح سے شام تک ایک ریل کچھوے کی چال چلتی رہتی اوربچوں اور بڑوں کو جھولے دیتی رہتی۔ اس کا ٹکٹ بہت ہی معمولی تھا،جو غریب سے غریب آدمی بھی برداشت کر سکتا تھا۔ ریل کا انجن کوئلوں سے چلتا تھا۔ یہ کوئلے اُس دور میں بہت سستے تھے۔ پارک انگریز ی دور میں انگریز فیملی کے لیے تیار کیا گیاتھا۔ اِس لیے اِس میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں،جو کسی بھی یورپین پارک میں ہو سکتی ہیں۔ درخت روشیں،جھولے،خوبصورت پرندے اور جانور،غرض ہر چیز میں ایک ترتیب اور حسن تھا۔ بہت سے والدین اپنے سکول کے بھگوڑے بچوں کو یہیں سے آن پکڑتے۔

اُس دن صبح کے ساڑھے نو بجے تھے اور مئی شروع ہو چکا تھا۔ ایک مہینہ پہلے گزرنے والی بہار نے اِتنا سبزہ پھیلا دیا تھا کہ آنکھوں میں سوائے سبزی کے کسی شے کا سامنا نہیں تھا۔ مَیں کمپنی باغ میں اِدھر اُدھر گھومتا رہا۔ کبھی ٹکٹ لے کر اُسی ریل پر چڑھ جاتا،جو پارک کے ایک کونے سے دوسرے کو نے تک چکر کاٹتی ہوئی نکل جاتی،پھر دس منٹ بعد وہیں آن کھڑی ہوتی۔ کبھی ریل کے ساتھ ساتھ اِدھر سے اُدھر بھاگتا جاتا،کبھی کسی درخت پر چڑھ جاتا،وہاں سے پھراُتر کر ریل پر چڑھ جاتا۔ اِسی طرح میں اِس ریل پر بیٹھا اِدھر اُدھر کے نظاروں میں گم جارہا تھا،اچانک ریل ایک جگہ رُک گئی۔ یہ جگہ ریل کے رُکنے کی نہیں تھی،اِس لیے مجھے حیرانی ہوئی۔ نیچے اُترا تو میری نظر ایک مجمعے پر پڑی،جو ایک بہت پُرانے پیپل کے درخت کے نیچے دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ لوگ آرے اور کلہاڑوں سے پیپل کے ارد گرد گڑھا کھود کر اُس کے تنے کو کاٹنے کے درپے تھے،جبکہ ایک بوڑھا انگریز اُس گڑھے میں بیٹھا،اُن کے کام میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔ دوآدمی اُسے کھینچ کر باہر نکالنے کی کوشش میں تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ دوسرے لوگ اِس کھینچا تانی کے عمل سے ارد گرد کھڑے محظوظ ہو رہے تھے۔ وہ نہ تو بڈھے کی طرف داری کر رہے تھے،نہ اُن دو آدمیوں کو روک رہے تھے،جو بوڑھے کو بے دردی سے باہر کھینچنے میں لگے تھے اور اُسے پنجابی میں سخت سست سنا بھی رہے تھے۔ لیکن اُس نے مضبوطی سے پیپل کی جڑوں کو پکڑا ہوا تھا اور کوشش کے باوجود اُن سے باہر نہیں نکل رہا تھا۔ اِس عمل میں اُس بوڑھے انگریز کا ہیٹ پاس ہی گیلی مٹی میں مُرا تُڑا پڑا تھا۔ ہیٹ کی حالت سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اُس پر کئی لوگوں کے پاؤں آئے ہیں اور اِس قابل نہیں رہا کہ دوبارہ سر پر رکھ لیا جاتا۔ بوڑھے کی رنگت بہت زیادہ سُرخ اور سفید تھی۔ لیکن یہ وہ سرخی نہیں تھی،جو خون اور جوان صحت کی نشانی ہوتی ہے۔ بلکہ یہ رنگت نسل اور قوم کا پتہ دینے والی تھی۔ رنگت اِس قدر سُرخ ہو چکی تھی،جو عمر کی زیادتی کی وجہ سے دیکھنے والوں کے لیے کراہت پیدا کر دیتی ہے اور سفید بوڑھوں کے چہرے بندر کی پشت کے رنگ سے مشابہ ہو جاتے ہیں۔ قد ایک تو ویسے بھی لمبا تھا،اُس پر لاغر پن نے اُس کی قامت کو مزید ہوا دی تھی،جس کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ لمبا نظر آ رہا تھا۔ پاؤں میں جوتے چمڑے کے تھے لیکن وہ اتنے بوسیدہ اور مٹی میں لتھڑ چکے تھے کہ اُن کا اصلی رنگ کوئی نہیں بتا سکتا تھا۔ عینک کی حالت بھی اُس کے جوتوں سے زیادہ اچھی نہیں تھی۔ عینک کی کمانیوں پر ٹاکیاں تو نہیں لپٹی تھیں لیکن اُن کمانیوں کا رنگ اِس طرح پھٹ گیا تھا کہ اُس سے عینک کی عمر کا بخوبی اندازہ ہو تاتھا۔ بوڑھا اِس زور آزمائی میں بہت زیادہ تھک چکا تھا اور قریب تھا بیہوش ہو جائے۔ لوگ اُس کی بے بسی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ہنس بھی رہے تھے۔ بوڑھا خود بھی پیپل کاٹنے والوں کو ہانپتے ہوئے،انگریزی میں گالیاں دے رہا تھا۔ یہ لڑائی شاید کافی دیر سے جاری تھی،اس لیے کلہاڑوں والے آدمی اب اُس پر سختی کرنے پر اُتر آئے تھے۔ مَیں جب سے وہاں کھڑا تھا،اُس کے ابتدائی لمحوں میں خود بھی لطف لیتا رہا لیکن جب مجھ پر اصل حقیقت کا انکشاف ہوا کہ بوڑھا اصل میں اُنہیں پیپل کے کاٹنے سے مانع ہو رہا ہے اور سب لوگوں میں دراصل یہی ایک انسان ہے،تو میری دلی ہمدردیاں اُس کے ساتھ ہو گئیں۔ لیکن مَیں اِس معاملے میں اُس کی مدد کرنے سے بالکل قاصر تھا۔ مجھے اِس سارے قضیے میں بوڑھے سے صرف ایک ہی گلہ تھا کہ وہ یہا ں کیا کر رہا ہے۔ ممکن تھا،وہ لوگ اُس بڈھے کو کھینچ کر کسی دوسرے درخت سے باندھ کر ا پنا کام کر لیتے کہ اُسی لمحے کمپنی باغ کا انچارج آگیا۔ اُس نے آتے ہی اُن آدمیوں کو اشارے سے پیچھے ہٹایااور خود اُس کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا،لیجیے ولیم صاحب،اب باہر آجایے،یہ پیپل نہیں کٹے گا۔ پھر اُن لوگوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے،جناب آپ اپنا معاہدہ کینسل سمجھیں۔ مَیں آپ کا بیانہ واپس کرتا ہوں۔ ہم اِس بارے میں دوبارہ کمیٹی بنائیں گے۔ اگر یہ درخت کاٹنے کا فیصلہ ہوا تو سب سے پہلے آپ ہی کو تر جیح دی جائے گی۔ اب قریب تھا،وہ انچارج کے ساتھ بھی اُلجھ پڑتے کہ تماشا دیکھنے والے سب لوگوں نے بھی اَنچارج اور اُس بوڑھے انگریز کی حمایت شروع کردی۔ جب معاملہ طے پا گیا اور یہ بھی طے ہو گیا کہ اِس کھودے گئے گڑھے کی مزدوری بھی ادا کردی جائے گی اور درخت نہیں کٹے گا،تو مجھے ایک گونا خوشی ہوئی۔ اِس کے بعد میں جلد ہی وہاں سے چلا آیا۔ البتہ میرے دماغ میں ایک ہلچل شروع ہو گئی کہ بوڑھا انگریز،جسے کمپنی باغ کا انچارج ولیم کے نام سے پکار رہا تھا،یہ آخر کون ہے؟یہاں کیا کرتا پھرتا ہے؟اِس کا اِن درختوں سے کیا تعلق ہے؟اِس سے بڑھ کر یہ کہ پارک کا انچارج اِسے کیسے جانتا ہے؟مَیں اِن سب سوالوں کے جواب چاہتا تھا،مگر میری ہزار جستجو کے بعد وہ بوڑھا اُس پارک میں دوبارہ دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ مَیں اب کمپنی باغ میں بلا ناغہ اِسی لیے چکر لگانے لگا تھا۔ جب کافی دنوں کی کوشش کے باوجود وہ نظر نہ آیا تو مَیں نے بھی اُسے بھلا دیا۔ البتہ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پیپل کے گرد کھودا جانے والاگڑھا اب پُر ہو چکا تھا اور پیپل کی شاخیں مزے سے ہلکورے لے رہیں تھیں اور پتے کھڑکھڑا رہے تھے۔

دن گزرتے رہے اور مَیں یہ تمام واقعہ فراموش کر گیا۔ اِس واقعے کے تین مہینے بعد میں اپنے دوست اور سکول فیلو احمد شہزاد کے ساتھ،جسے اُس کا اَبا بھی لالہ کہتا تھا،بڑی نہر کا بجلی گھر دیکھنے کے لیے رینالہ چلا گیا۔ جیسا کہ بہت دفعہ پہلے بتایا جا چکا ہے،رینالہ اوکاڑہ کے مضاف میں ہی کئی نہروں کے دامن میں ایک بہت دلفریب اور خوبصورت جگہ ہے۔ جہاں مچلز فروٹ فارم اور انگریزوں کے کئی بنگلے تھے۔ یہاں کی نہریں،باغات،بنگلے،بڑے بڑے اور گھنے درخت چھوٹے سے اساطیری شہر کا نقشہ پیش کرتے تھے۔ اِس جگہ جا کر واقعی ایسے لگتا ہے کہ انسان وکٹورین دور کے بھوت بنگلوں میں آ گیا ہے۔ ہم دونوں وہاں دیر تک سیر سپاٹا کرتے رہے اور نہر کے کناروں پر بیٹھ کر کنول کے پھولوں کے درمیان کُنڈیاں پھینک پھینک کر مچھلیاں پکڑنے کی ناکام کوشش میں لگے رہے۔ جب دو تین گھنٹوں کی مشقت کے بعد مچھلی کی بجائے ایک مینڈک کُنڈی میں پھنسا تو ہمیں بہت کوفت ہوئی۔ ہم نے اپنی کُنڈیاں وہیں پھینکیں اور نہروں کے دونوں پل پار کر کے دوسرے کنارے پر آ گئے۔ اِس جگہ ستگھرہ روڈ کے عین کنارے پر ایک دیسی آئس کریم بنانے والی چھوٹی سی فیکڑی سے دو آئس کریم خرید کر( جو اُس وقت نہائت عمدہ خالس دودھ کی بنتی تھیں اور سستی اتنی کہ ایک روپے کی دو آ جاتی تھیں) وہیں ساتھ والے بڑے برگد کے سائے میں بیٹھ کر کھانے لگے،جس کے نیچے سے ٹھنڈے پانی کی چھوٹی سی ندی گزرتی تھی،جو چھاؤں کو مزید ٹھنڈاکر رہی تھی اور اِس اگست کے مہینے میں برگد کا سا یہ شجر طوبیٰ کی مانند تھا۔ اِس ساری جگہ کا نام نہری کوٹھی سے موسوم تھا۔

نہری کوٹھی اصل میں پانچ چھ چھوٹی چھوٹی کوٹھیوں کا مجموعہ تھا۔ جن کی حیثیت نو لکھی کوٹھی کے سامنے تو کچھ نہیں تھی۔ لیکن موجودہ زمانے کی تمام عمارتوں کے اعتبار سے ابھی بھی جاہ و جلال کی آئینہ دار تھیں۔ یہی وہ جگہ تھی،جو رینالہ شہر کے بالکل سا تھ اور دونوں بڑی نہروں کے کنارے پر واقع تھی۔ اِس کے دوسری طرف مچلز کے وسیع باغات اور فیکڑی ابھی تک اپنے عروج پر تھیں۔ اِن کوٹھیوں کے ارد گرد جامن کے آٹھ نو سو درخت اِس علاقے کو جنت کا منظر بنا رہے تھے۔ البتہ کوٹھیاں مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ اِن میں مسلًی،چوہڑے اور نہائت غریب لوگ آ باد تھے۔ واپڈا نے اِن کی بجلی کے کنکشن بھی کاٹ دیے تھے کہ نہ یہ لوگ بل دینے کے قابل تھے اور نہ ہی اُنہیں بجلی کی خاص ضرورت تھی۔ مختصر یہ کہ ہم بیٹھے وہاں ندی کے پانی میں پاؤں ڈالے آئس کریم کھا رہے تھے کہ اچانک مجھے وہی انگریز بڈھا نظر آیا۔ بوسیدہ سی ہاف بازو کی شرٹ کے ساتھ ڈھیلا ڈھالا سا پاجامہ پہنے۔ سر پروہی ہیٹ تھا،جو غالباً اُس دن کے واقعے کے بعد دھو لیا گیا تھا۔ ہاتھ میں عام سی چھڑی تھی۔ عینک بھی نئی نئی لگ رہی تھی۔ یہ چلتا ہوا مجھے اِس دن سے بھی زیادہ لمبا تڑنگا لگا۔ بڈھے کو دیکھ کر میری پُرانی خواہش جاگ اُٹھی۔ مَیں اُٹھ کر فوراً اُس کی طرف بھاگا اور کچھ ہی قدموں پر اُسے جا لیا۔

اسلام علیکم بابا جی،مَیں نے پیچھے سے ہی اُسے بالکل اُجڈوں کی طرح سلام داغ دیا۔ میرے اِس طرح اچانک اُس کے پیچھے بھاگنے سے شہزاد لالہ کو حیرانی ہوئی۔ اِس سے پہلے کہ وہ میرے اِس عمل کی مجھ سے وضاحت طلب کرتا،مَیں بوڑھے ولیم کے سامنے جا چکا تھا۔ بوڑھامیرے سلام کے ایک دم کے حملے سے تھوڑا سا ٹھٹھک کر رُک گیا،پھر چند لمحے میری طرف دیکھ کر وعلیکم سلام کہا۔ ولیم کا یہ جواب اتنا ملائمت بھرا اور شائستہ تھا کہ مجھے اُس سے مزید بات کرنے کی جرات ہو ئی لیکن وہ سلام کا جواب دے کر رُکا نہیں،مسلسل اُن کوٹھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ مگر یہ رفتاراتنی سست تھی کہ مَیں آسانی سے اُس کا پیچھا کر سکتا تھا۔ میرا دوست،جو ابھی تک وہیں بیٹھا تھا،میری اِس حرکت پر زیادہ دیر غیر جانب دار نہ رہ سکا،اُٹھ کر ہمارے تعاقب میں تیز تیز قدم اُٹھاتا ہوا آگیا۔

بابا جی،آپ کہاں رہتے ہیں؟

شاید اُسے یہ توقع نہیں تھی،مَیں اُس سے مزید سوال کروں گا۔ لہذا اُس نے میرے اِس سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور چلتا رہا،لیکن مَیں خموش نہیں ہوا اور کہا،اُس دن آپ نے کمپنی باغ کا ایک پیپل کٹنے سے بچا کر بہت اچھا کیا۔ اتنا خوبصورت درخت پتا نہیں،وہ کیوں کاٹنا چاہ رہے تھے؟

میرے اِس جملے پر وہ ایک دم چلتے چلتے رُک گیا،پھر بھرپور نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ اِس لمحے مَیں نے دیکھا،اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی تھی۔ وہ کچھ دیر مجھے سر سے پاؤں تک دیکھنے کے بعد بولا،بیٹا وہاں اُس کوٹھی میں آؤ،جس کے صحن میں برگد کھڑا ہے،وہاں بیٹھتے ہیں۔ چند ثانیوں بعد ہم اُس ٹوٹے پھوٹے مکان میں پہنچ چکے تھے،جس کے صحن میں برگد اور جامنوں کے پتوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پتے اِتنے زیادہ بکھرے ہوئے تھے کہ فرش کی زمین اُس میں بالکل چُھُپ گئی تھی اور یہ پتے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے تھے۔ ایسے لگتا تھا،یہاں صدیوں سے کسی نے جھاڑو نہیں دیا،نہ اِس کوٹھی کی دیکھ بھال ہوئی ہے۔ کوٹھی قریب ایک کنال کے رقبے پر بنی تھی۔ اُس کی عمارت تو سات آٹھ مرلوں ہی میں تھی لیکن صحن کو ملا کر ایک کنال بن ہی گیا تھا۔ تمام عمارت انتہائی نفاست اور کاریگری کا عمدہ نمونہ تھی۔ اینٹوں پر پلستر نہیں تھالیکن کسی بھی پلستر شدہ عمارت سے بہتر تھی۔ سُرخ رنگ کی یہ اینٹیں ٹیپ کے ساتھ نہایت سیدھے جوڑوں میں درست کونوں کے ساتھ معماروں کی فنًی دسترس پر گواہ تھیں۔ کمروں کی چھتیں سب کی بیس فٹ اُونچی تھیں،لیکن درمیان میں ایک بڑا کمرا نظر آ رہا تھا،جو غالباً ڈرائنگ روم رہا ہو گا،اُس کی چھت دوسرے کمروں کی چھتوں سے بھی چار فٹ مزید بلند تھی۔ دروازے اور کھڑکیاں بھی سب کے سب ٹاہلی کی سیاہ لکڑی کے تھے لیکن اُن کے تختے بعض بالکل ٹوٹ چکے تھے اور جو نہیں ٹوٹے تھے،وہ اتنے بدحال ہو چکے تھے کہ کسی بھی وقت اپنی چوگاٹھوں سے الگ ہو سکتے تھے،مگر تھے ابھی تک وہ بھی اپنے شاندار ماضی کی گواہی ثبت کرنے والے۔ صحن میں ایک قینچی نما لکڑی کی کرسی اور ایک بوسیدہ سی میز پڑی تھی،جس کا رنگ قریب قریب مٹی کے رنگ سے مل گیا تھا۔ بوڑھا ولیم کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ بہت زیادہ تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ مجھے خواہش پیدا ہوئی،اندر جا کر کمروں کا جائزہ لوں لیکن فی الحال اِس عمل سے یہ سوچ کر باز آگیا کہ نجانے کیاسمجھے۔ چنانچہ ہم دونوں مَیں اور شہزاد اُسی تھڑے پر بیٹھ گئے،جو برگد کے تنے کے ارد گرد بنا تھا اورتنے کو اپنے گھیرے میں لیے تھا۔ جس کا قطر کم ازکم دس فٹ تھا۔ اُس کی جڑیں کئی کئی فٹ تک،کوٹھی کی چھت تک پھیلی ہوئی تھیں اور ڈر تھا،جڑیں چھت کو پھاڑ کر نیچے نہ اُتر جائیں۔ بوڑھا کچھ دیر آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔ گرمی بہت شدید تھی لیکن ہوا نہروں کے اُوپر سے گزرتے ہوئے پانی کا لمس لے کر کوٹھی کے احاطے میں داخل ہو رہی تھی اور اِس انتہائی گھنے برگد کی سیاہی مائل سبز شاخوں سے ٹکرا کر مزید ٹھنڈی ہو کر ولیم اور ہمیں چھو رہی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہم تینوں ایک پُر کیف اور سرور آور فضا میں گم ہوئے کچھ دیر چُپ بیٹھے رہے۔ ہوا کی سرسراہٹ کے ساتھ شاخوں کے لرزنے سے پرندوں کا چہچہانا بڑھ گیا تھا۔ ہوا اور پرندوں کے سوا وہاں ہر طرح کی چپ تھی۔ مجھے محسوس ہوا،بوڑھا ولیم دراصل آرام کرنے کے چکر میں ہے اور ہم خواہ مخوا اُس کو تنگ کرنے کے لیے آگئے ہیں۔ لالہ شہزاد بھی اس کیفیت سے اُکتانے لگا تھا۔ اِس حالت کو دیکھ کر مَیں نے لالے کو کَن اَکھیوں سے اُٹھنے کا اشارہ کر دیا۔ قریب تھا کہ ہم اُٹھ کر چل دیتے،اُسی لمحے وہ دوبارہ بولا،دوست کیا کرتے ہو؟

ہم پڑھتے ہیں۔

ہاں پڑھنا اچھی بات ہے لیکن پڑھ کر کلرک نہ بننا،کوئی ہنر سیکھ لینا۔
ہم افسر بنیں گے۔
مجھے تم سے ہمدردی ہے لیکن پاکستانی افسروں سے میری مراد کلر ک ہے۔ اِس خطے کے لوگ آئندہ تین سو سال تک افسر نہیں بن سکیں گے۔
مجھے بوڑھے کی اِن فلسفیانہ باتوں کی کوئی سمجھ نہ آئی۔ مَیں تو کسی اور چکر میں تھا کہ ُاس کے آگے پیچھے کا پتا چلاؤں۔ مگر یہ تو کچھ دوسری طرح کی باتیں کر رہا تھا۔

چائے پکا لیتے ہو؟
جی ہاں مَیں پکا لیتا ہوں،اب کہ شہزاد لالہ نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا۔
وہ بوڑھے میں دلچسپی لینے لگا تھا۔
دوست،وہ سامنے کچن میں دودھ پڑا ہے۔ چینی اور چائے بھی موجود ہے،اپنے اور میرے لیے چائے بنا لو۔
بوڑھے کی اِس پیشکش کے بعد شہزاد بھاگ کر اندر چلا گیا اور میں وہیں بیٹھا رہا۔
یہ لڑکا آپ کا دوسست ہے یا بھائی؟
دوست ہے،میں نے مختصر جواب دیا۔
آااہ،کبھی یہاں مَیں اور ایشلے اِسی جگہ دوستی کے مزے لیا کرتے تھے۔ بوڑھے نے لمبی آہ کھینچتے ہوئے کہا۔
مَیں بوڑھے کی بات،جس میں قیامت کا درد چھُپا تھا،کو کسی وجہ سے جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور سوال کیا،آپ مجھے انگریز لگ رہے ہیں۔ کیا آپ برطانیہ واپس نہیں گئے؟

نہیں،
ولیم کا جواب مختصر تھا۔ شایدوہ میرے سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیارنہیں تھا۔ زیادہ بولنے سے غالباً اُسے تکلیف ہو رہی تھی۔ اِس لیے اختصار سے کام لے رہا تھا۔
آپ یہیں رہتے ہیں؟
یقیناً اب یہیں رہتا ہوں۔
پہلے کہیں اور رہتے تھے؟
دو سال پہلے اوکاڑہ کی نولکھی کوٹھی میری تھی۔
واہ،وہ آپ کی تھی؟ تو آپ نے اتنی اچھی کوٹھی بیچ کیو ں دی؟

بہت سی چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ تم حالت نزع میں پڑے انسان کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرنے سے انکار کر دے۔

ولیم کے اِس جواب پر میں خاموش ہو گیااور سوچنے لگا،اگر نولکھی کوٹھی اِس بوڑھے کی تھی،پھر تو اِس کے پاس بہت پیسے ہوں گے۔ اِتنی بڑی کوٹھی کم سے کم پر بھی ایک کروڑ سے کم نہ بکی ہو گی۔ مگر یہ اتنی بُری جگہ پر کیوں رہ رہاہے؟

آپ یہاں اِس خراب کوٹھی میں کیو ں رہ رہے ہیں؟ کوئی اچھا سا مکان خرید لیتے۔
مجھے یہی جگہ اچھی لگتی ہے۔

یہ تو کوئی بھوت بنگلہ ہے،مَیں نے نہایت سادگی سے بولنا شروع کیا،آپ کو یہ پُرانی اور ٹوٹی پھوٹی جگہ کیوں اچھی لگتی ہے؟ نہ یہاں بجلی نظر آتی ہے،نہ رہنے کے لیے کسی دوسری سہولت کا نام و نشان ہے۔ یہاں تو رات کو اکیلا بندہ ڈر بھی جاتا ہو گا۔
یہاں میرا دوست ایشلے رہتا تھا،وہ شاعر بھی تھا۔ اگر اُس کا بھوت یہاں ہوتا،تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے مجھے اُس کا بھوت کبھی نظر نہیں آیا۔ اب مَیں یہاں اکیلا ہوں۔

وہ آ پ کا دوست کہاں ہے۔
وہ بیس سال پہلے مر چکا ہے۔ لندن میں۔ مَیں نے اُسے سمجھایا تھا،وہ اُدھر نہ جائے لیکن وہ چلا گیا،اور تین مہینے بعد اُس کے مرنے کی خبر آئی۔ ( کچھ دیر کی خاموشی کے بعد )وہ اِسی گھر میں رہتا تھا۔ (پھر کچھ دیر رک کر) غالباً اُسی بیڈ پر سوتا تھا،جہاں اب مَیں سوتا ہوں۔
بابا جی،آپ کے بیوی بچے نہیں ہیں؟

بوڑھا ولیم،جو آنکھیں مسلسل بند کیے کُرسی پر لیٹنے کی صورت بیٹھا ہوا تھا اور اُس کا ہیٹ جھک اُس کی آنکھوں پر آ گیا تھا،میرے اِس سوال پر اپنی سکون کی حالت سے تھوڑا سا اضطراب میں آیا۔ اُس نے آنکھیں کھولیں،ہیٹ آنکھوں سے ہٹا کر تھوڑا سا پیچھے کیا اور میری طرف دیکھ کر بولا،بچے کیتھی کے تھے،وہ اُنہیں لے کر چلی گئی،اب مَیں نہیں جانتا،وہ کہاں ہیں۔ مجھے لگتا ہے،کیتھی بھی مر چکی ہے لیکن بچوں کو زندہ رہنا چاہیے۔

آپ واپس کیوں نہیں گئے؟
کہاں؟
برطانیہ

اِس قسم کے سوالوں سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ برطانیہ سے میں واقف نہیں ہوں۔ مَیں اِسی علاقے میں پیدا ہوا تھا۔ آپ سے اور آپ کے باپ سے پہلے مَیں اِس جگہ کو جانتا ہوں۔ شاید آپ کا دادا بھی یہاں کا نہیں ہو گا۔ یہ جگہ اُس نے دیکھی بھی نہیں ہو گی۔ جب مَیں اِن سب سے یہاں کا پُرانا رہنے والا ہوں،تو یہاں سے کیوں جاؤں۔

اب مَیں نے اُس سے سوال کرنا بند کر دیا۔ کیوں کہ میری ذہنی استعداد یہیں ختم ہو گئی تھی۔ اتنے میں احمد شہزاد تین کپ چائے لے کر آگیا اور ہم تینوں چائے پینے لگے۔ ولیم نے چائے کا گھونٹ بھر کر مسکراتے ہوئے شہزاد لالے سے کہا،تم نے بہت اچھی چائے بنائی،مَیں تسلیم کرتا ہوں،مجھ سے ایسی چائے نہیں بن سکتی۔

چائے واقعی بہت اچھی تھی۔ چائے پینے کے بعد میری پھر خواہش جاگی کہ کمرں کا جائزہ لوں۔ مَیں نے ولیم سے کہا،بابا جی،میں اِن کمروں کو اندر سے دیکھ سکتا ہوں؟
تمھاری خواہش جائز ہے لیکن مایوسی ہوگی۔
وہ کیوں؟

ایشلے میرا دوست تھا،تمھارا نہیں۔ اُس وقت جب ہم اِن کمروں میں کھیلتے تھے،اُس کی عمر میرے برابر تھی۔ تب ہم آپ سے بہت چھوٹے تھے۔ اِس وقت جتنے آپ ہیں،بہر حال دیکھ لو۔

مَیں اُٹھ کر اندر داخل ہوا تو واقعی مایوس کن حالت تھی۔ سب کمرے بالکل خالی تھے۔ نہ کوئی الماری،نہ فرنیچر،نہ پُرانے وقتوں کی کوئی اور نشانی۔ سوائے ایک چارپائی اور تین چار کرسیوں کے،سب کمروں میں ایک تھکا دینے والا خالی پن تھا۔ سب کا فرش اُکھڑ کر اُن کی اینٹیں تھور اور سیم زدہ ہو رہی تھیں۔ یہ سیم شاید نہروں کے قریب ہونے کی وجہ سے تھی۔ ڈارائنگ روم سمیت اُن کی تعداد پانچ تھی اور ایک باتھ روم،جس میں پانی کے لیے لوہے کا ایک ٹب اور ایک لوٹا بھی موجود تھا۔ مجھے کمروں کی اِس قدر ویرانی دیکھ کر وحشت ہوئی اور مَیں بھاگ کر باہر آگیا۔

بابا جی،آپ کا کوئی سامان نہیں ہے ِ؟ باہر آ کر مَیں بے چینی سے بولا۔
بہت ہے لیکن وہ مَیں نولکھی کوٹھی میں چھوڑ آیا ہوں۔ یہاں خراب ہو جاتا۔
اگر انہوں نے ضائع کر دیا؟

یہاں اُس سے پہلے ضائع ہو جاتا۔ ویسے بھی اب مجھے اُن چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہمیں کافی دیر ہو گئی تھی،شہزاد بھی اُکتا رہا تھا۔ اِس لیے ہم اُٹھ کھڑے ہوئے اور چلنے کی اجازت لی۔ ولیم بھی ہمارے ساتھ کرسی سے اُٹھ پڑا۔ لیکن اب وہ صرف ہمیں رخصت کرنے کے لیے اُٹھا تھا۔

یہ میری ولیم سے پہلی تفصیلی ملاقات تھی۔ اِس کے بعد پھر مَیں جب بھی رینالہ گیا،میرا معمول بن گیا۔ اِدھر اُدھر آوارگی کرتا ہوا ولیم کو ڈھونڈ نکالتا۔ اِس عرصے میں وہ میرا بہت ہی قریبی دوست بن چکا تھا۔ اُس کا وہاں پر ایک اور دوست ایک ڈسپنسر تھا،جو بوڑھے ولیم کی دیکھ بھال کرتا۔ وہ اُس ڈسپنسری میں کام کرتا رہا تھا،جو اُسی دور میں بنائی گئی تھی،جب نہری کوٹھیوں کی آبادی قائم کی گئی تھی۔ ڈسپنسری اصل میں وہاں کے مقیم انگریز فیملیوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ ڈسپنسری کی عمارت بھی انتہائی پُر شکوہ تھی اور ابھی تک اُس کی حالت اچھی تھی۔ اُس میں اب باقاعدہ ڈاکڑ بیٹھتا تھا۔ ڈسپنسر عزیز احمد اِسی ڈسپنسری سے ریٹائرڈ ہوا تھا۔ اب اُس کی عمر بھی پینسٹھ سال سے اُوپر ہو گئی تھی لیکن صحت ابھی تک اچھی تھی۔ ولیم اُس کے ساتھ کافی مانوس تھا۔ یا یہ کہیں کہ ُاس کا سب سے پُرانا جاننے والا تھا اور اُس کی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ عزیز احمد کا گھر کافی کھلا اور بالکل ڈسپنسری کے ساتھ تھا۔ جس کے دائیں ہاتھ وہی آئس کریم کی چھوٹی سی فیکڑی تھی۔ جہاں سے آئس کریم خرید کر کھانا مَیں نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا۔ یہیں سے شاید ولیم اور ڈسپنسر عزیز بھی آئس کریم لے کر کھاتے ہوں۔ لیکن مَیں نے اُنہیں خود نہیں دیکھا۔ ولیم مجھے اکثر اُسی کے پاس ایک لکڑی کی کرسی پر بیٹھا ہوا ملا۔ وہ دونوں آپس میں کافی گفتگو کرتے تھے۔

ساون آیا تو جامن کے پھلوں کا بہت زور ہو گیا۔ چونکہ یہاں جامن کے درخت سیکڑوں کی تعداد میں تھے۔ اِس لیے اُن کا گورنمنٹ کی طرف سے ٹھیکہ ہوتا اور ٹھیکیدار بانسوں والی لمبی لمبی سیڑھیاں درختوں کی شاخوں پر ٹکا کر،ہر وقت پھل توڑنے میں مصروف رہتے۔ اِس طرح یہ ایک مہینہ خوب رونق رہی اور بارشوں نے بھی بڑا اودھم مچایا۔ مَیں بھی جامن کھانے کے لیے ہرروز وہاں جا نکلتا۔ کبھی اکیلا اور کبھی کسی دوست کے ساتھ۔ ولیم سے میری ملاقات بھی روز ہونے لگی۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ وہ روز بہ روز کمزور ہوتا جا رہاہے۔ اِس عرصے میں وہ مجھ سے کافی زیادہ کھل گیا اورمَیں قریب قریب سب کچھ اُس کے بارے میں جان گیا۔ کچھ اُس نے خود بتا یا،کچھ ڈاکڑعزیز احمد نے،باقی مَیں نے اِدھر اُدھر کے ذرائع سے معلوم کر لیا۔ مَیں یہ بھی جان گیا تھا،نولکھی کوٹھی ولیم نے بیچی نہیں،اُس سے چھینی گئی ہے۔ وہ بھی ایک ایسے شخص نے،جس کے خاندان کے بارے میں اب کوئی پردہ نہیں رہ گیا تھا۔ مجھے ولیم سے ہمدردی ہوگئی تھی۔ لیکن اُس کے لیے کچھ بھی کر نہیں سکتا تھا۔ ہاں ایک بار مَیں اور میرے دوست شہزاد لالہ نے اُس کے بھوت بنگلے کو صاف کرکے پتوں کو آگ لگا دی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ دسمبر کے آخری دن تھے۔ اُس دن کُہر یا دُھند تو نہیں تھی لیکن سردی ایسی کڑاکے کی،کہ ہاتھ چادر سے باہر نکالتے ہی برف کی طرح جم جاتے۔ اُس پر اُڑا دینے والی ہوا کے جھونکے تھے،جو نہر کے پانی کی سطح سے ہو کر اور بھی ٹھنڈے ہو جاتے اور منہ پر سرد تھپیڑے لگاتے ہوئے دوسری سمت کے درختوں اور مکانوں سے جا ٹکراتے۔ نہر کا پانی بھی اتنا صاف تھا کہ تہہ میں بیٹھی ہوئی ہر چیز نظر آرہی تھی۔ پانی کی سطح پر ہوا کے دباؤ سے لہریں بن بن کر تیرتی ہوئی نکل جاتیں،جو اِس قدر دلفریب تھیں کہ انسان دیکھتا رہ جائے۔ ایسے میں برگد کے سوا تمام درختوں کے زرد پتے نہر کی پٹڑی اور سڑکوں پر گر گر کے دوڑتے اور شور مچاتے ہوئے کبھی ایک طرف کو اور کبھی دوسری طرف کو سرکتے دور تک چلے جاتے۔ لوگوں نے سویٹر اور جرسیوں کے سا تھ اپنے اُوپر چادریں بھی لپیٹی ہوئی تھیں۔ ٹانگوں کا اڈا نہر کے پُل کے دائیں طرف تھا۔ وہاں ہر وقت تین چار ٹانگے کھڑے ہوتے تھے،جو شہر کی سواریاں ارد گرد کے گاؤں سے لاتے اور لے جاتے۔ ٹانگوں کے اڈے سے لے کر آئس کریم کی فیکڑی تک کہیں نہ کہیں آگ بھی جل رہی تھی اور دو دو چار چار لوگ اُسے بیٹھے سینک رہے تھے۔ خاص کر ٹانگے والے اپنے گھوڑوں کے آگے دانہ ڈال کر اور چادریں اوڑھ کر مسلسل کوئلے تاپ رہے تھے۔ اِس حالت میں کسی کو بھی اِس بات سے غرض نہیں تھی کہ موسم کی دلفریبی سے لطف لیا جائے۔ یہی موسم میرے لیے قیامت کی کشش رکھتا تھا۔ مَیں اِن تمام لوگوں اور کام میں مصروف یا آگ تاپنے والوں کو نظر انداز کر کے سیدھا نہر کے کنارے کنارے جامنوں کے درمیان کی روشوں پر چلتا چلا گیا اور تیزہواکے جھونکوں میں دوڑتے زردپتوں سے لطف اندوز ہوتا جا رہا تھا۔ یہ وقت ایک بجے کا ہو گا۔ کیونکہ نہر کے پہلے پُل کے دائیں کنارے پر موجود سفید رنگ کی چھوٹی مسجد والے موذن نے ابھی ابھی ظہر کی اذان دی تھی۔ میرے جسم پر اُون کی ایک بڑی اور موٹی چادر کے ساتھ نیچے ہاتھ کی بنی ہوئی اُونی سویٹر بھی تھی۔ یہ اُس وقت کا زمانہ ہے،جب ولیم کو نولکھی کوٹھی چھوڑکر نہری کوٹھی میں آباد ہوئے تین سال ہوچکے تھے۔ اُس سے میری متواتر ملاقاتوں کو بھی ایک سال ہو چلا تھا۔ اِس دوران مجھے اُس سے جو کچھ معلوم ہوا،مَیں اُسے اپنی یادداشت میں محفوظ کرتا گیا۔ میرے لیے یہ بات مسلسل گھبراہٹ کا سبب تھی کہ وہ تیزی سے کمزرو ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی اُس کی زندگی دنوں کی بات لگتی تھی لیکن اُس کی آوازمیں ابھی تک وہی جان تھی۔

یہ انیس سو نواسی کی سردیوں کا زمانہ تھا اور ولیم کم وبیش اسی سال کا ہو چکا تھا۔ اُس کو اِس دفعہ کی گرمی نے وہ ضرب لگائی تھی کہ اگست کے آخری دنوں میں اُسے لو لگ گئی،جس نے اُس کا کچومر نکال کے رکھ دیا۔ وہ تو بھلا ہوڈسپینسر عزیز احمد کا،جس نے بروقت علاج کر کے اُسے موت کے منہ سے نکالا۔ لیکن اِس دھچکے نے اُسے نڈھال کر دیا اور وہ حد سے زیادہ کمزور ہو گیا۔ ایک دن مَیں اُس کے اُسی بوسیدہ مکان پر پہنچا،جسے اب مکان کہنا وضع داری ہو سکتی تھی۔ صحن سے ہوتے ہوئے،جو پہلے کی طرح زرد پتوں اور چھوٹی چھوٹی سوکھی ہوئی شاخوں سے بھرا پڑاتھا،کمرے کے سامنے پہنچ گیا تھا۔ صحن کی ویرانی اور ہوا کی تیزی سے مَیں نے اندازہ لگالیا تھا کہ ولیم اندر بستر میں دُبکا پڑا ہو گا۔ مَیں نے ہلکا سا دروازے کو کھٹکھٹایا لیکن اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ دستک دی تو ایک نحیف سی آہ سنائی دی۔ مَیں دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ دیکھا تو ولیم چارپائی پر سیدھا لیٹاہوا ہے۔ اُس کے اُوپر کمبل تھا،لیکن وہ اِتنا گندا اور بدبودار تھا کہ مجھے ہاتھ لگانے سے بھی کراہت ہوئی۔ مَیں نے ایک بار سوچا،ایسے ہی پلٹ جاؤں،لیکن پھر کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد غیر ارادی طور آگے بڑھ کر ہلکا سا کمبل اُوپر اُٹھا دیا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ اِس لیے پہلے مرحلے میں ولیم کا چہرہ دکھائی نہ دیا۔ لیکن آہستہ آہستہ ہر چیز آنکھوں کے لیے مانوس ہونے لگی۔ اِس کمرے میں میری ولیم کے ساتھ اب کئی ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ اِس لیے مجھے معلوم تھا،لال ٹین کہاں ہے اور کچن یعنی چولہا کس جگہ ہے؟مَیں نے اندازے کے مطابق آگے بڑھ کر لالٹین ڈھونڈ نکالی اور اُسے جلانے کے لیے ماچس تلاش کرنے لگا۔ اُسی لمحے ولیم کی آوا ز سنائی دی،کیتلی کے ڈھکن کے اُوپر پڑی ہے۔ مجھے ولیم کی آواز سن کر ایک گونا سکون ہوا کہ ابھی نہ صرف زندہ ہے،بلکہ حواس بھی کام کر رہے ہیں۔ لال ٹین روشن کر کے ولیم کے پاس آیا،وہ بخار سے تپ رہا تھا۔ مَیں نے کچن کی طرف جا کر دیکھا،وہاں کیتلی میں کچھ دودھ اور ڈبل روٹی پڑی تھی۔ اُس کے پاس ہی کچھ دوائیاں بھی موجود تھیں۔ کچھ ہی دیر بعد مَیں دودھ گرم کر کے بریڈ کے ساتھ ولیم کے سامنے لے آیا۔ وہ میری طرف دیکھ کر آہستہ سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ دس پندرہ منٹ بعد مَیں نے اُسے صحن میں آگ جلا کر کرسی پر بٹھا دیا۔ ولیم آگ تاپنے لگا تو میں صحن سے باہر نکل کر سیدھا ڈسپنسر عزیز احمد کی طرف گیا اور اُسے تمام حالت کی خبر کی۔ عزیز احمد نے مجھے ساتھ لے کر دوبارہ ولیم کے پاس جانا چاہا لیکن نہ جانے کیوں میرا وہاں جانے کو جی نہ چاہا۔ میں نے کہا،ڈاکٹر صاحب،مجھے جلدی گھر جانا ہے،آپ جا کر اُسے دیکھ لیں۔ اِس واقعے کے بعد مَیں جان بوجھ کر کئی دن وہاں نہیں گیا۔ اِس کی وجہ مجھے بھی معلوم نہیں۔

آج مَیں پھراِن ٹھنڈی ہواؤں کا لطف لیتے ہوئے غیر ارادی طور پر اُس طرف بڑھ رہاتھا،مگر جیسے ہی اُس کوٹھی پر پہنچا وہاں اور ہی رنگ تھے۔ مسلًیوں کے بچے صحن میں اُچھل کود رہے تھے۔ ذرا غور کیا،تو پتا چلا وہاں کوئی اور ہی خاندان آباد ہے۔ مَیں نے جائزہ لینے کے لیے بھرپور نظر ماری لیکن مجھے ولیم نظر نہ آیا۔ بالآخر اُنہی میں سے ایک آدمی سے پوچھا،

‘یہاں ایک بوڑھا انگریز تھا،وہ کہاں ہے؟’

اُس نے انتہائی لاپروائی سے جواب دیا،کاکااُسے توفوت ہوئے بھی ہفتہ ہوگیا۔ پنج چک کے عیسائی اُسے اُٹھا کر لے گئے ہیں۔ وہیں کے گرجا گھر میں اُس کی قبر ہے۔

اُس کالے اور چیچک زدہ چہرے والے اَدھیڑ عمر آدمی کا جواب سن کر مَیں وہیں سے واپس ہو گیا۔ موسم خوبصورت اور ٹھنڈا تھا۔ میں نے اُس سے مزید بات کر کے لطف کو غارت کرنا مناسب نہ سمجھا اور نہر کے کنارے کنارے ہواؤں کے لمس لیتا ہوا پل پر آگیا۔ کچھ دیر اُنہی ٹانگے والوں کے پاس کھڑا رہا۔ وہاں چند لمحے رُکنے کے بعد واپس دیسی آئس کریم بنانے والی فیکٹری پر آیا۔ ایک آئس کریم لی اور بھری ٹھنڈ میں کھانے لگا۔ حالانکہ سردی کی وجہ سے میری ناک سُرخ ہو گئی تھی اور اُس سے پانی بہنے لگا تھا۔ آئس کریم بہت مزے کی تھی۔ دُور تک مکئی اور سرسوں کے وسیع کھیت آسمان تک پھیلے ہوئے تھے،نہروں کا پانی چل رہا تھا،جامنوں کی شاخیں ہل رہی تھیں،پیپلوں اور برگدوں کے بھاری پیڑمست ہاتھیوں کی طرح جھول رہے تھے اور درختوں سے زرد پتے مسلسل گر رہے تھے،جنہیں ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے سڑکوں پر اِدھر اُدھر دوڑا رہے تھے۔ ہر چیز ویسی ہی خوبصورت تھی،جیسی پہلے تھی۔ کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔

اگرچہ جرمن نے ہماری ہڈیوں سے گودا کھینچ لیا ہے لیکن ہمیں پھر بھی لنگڑانے کی اجازت نہیں۔ سبک روی سے چلنے میں تکلیف تو ہو گی،مگر آنے والے حادثوں کے پیش نظر اسی چال کو برقرار رکھنا ہے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیتیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(۵۵)
دسمبر کا آغاز ہو چکا تھا۔ جاڑے نے دُھند اور کُہر کے پر پھیلا کر ہر شے اپنے حصار میں لے لی۔ خاص کر نہروں کے درمیانی خطے میں یہ کُہر اتنا زیادہ تھا کہ کبھی تمام دن نکل جاتا،مگرسورج کو ایک لمحے کے لیے بھی منہ دکھانے کو راستہ نہ ملتا۔ بس دُھند کے غبار تھے،جو اُتر رہے تھے اور چڑھ رہے تھے اور انسانوں کی آنکھیں گویا سائبیریامیں جا پہنچیں تھیں،جو سفید سایوں کے سوا کچھ نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ ولیم ایسی حالت میں زیادہ سے زیادہ یہ کرتا کہ کمرے سے نکل کر کچھ دیر کے لیے کوٹھی کے صحن میں آجاتا،جو ایک ایکڑ تک پھیلا ہوا تھا۔ کبھی آموں کے باغ کا بھی ایک آدھ چکر لگا لیتا۔ یہ باغ اُسے اِتنی دھند میں نظرتو نہیں آتا لیکن محسوس ضرور ہوتاتھا۔ اِس کے علاوہ اُس کی آمدو رفت ہر جگہ بند ہو چکی تھی۔ آج دُھند تو موجود تھی لیکن اُس میں اتنی شدت نہیں تھی اور یہ پورے پندرہ دن بعد ہوا تھا۔ ولیم نے کمرے سے نکل کردیکھا،سورج سر پر آچکا تھا اور مدھم دھوپ ٹھنڈی گھاس کو ہلکے ہلکے تھپتھپا رہی تھی۔ لیکن گھاس ابھی گیلی تھی۔ ولیم اپنی کرسی صحن میں لگا کر بیٹھ گیا اور اُس اَندھی دھوپ کو غنیمت جان کر سینکنے لگا۔ کچھ عرصے سے اُس کے ہاتھ میں بید کی بجائے عصا آچکا تھا۔ اُس نے وہ عصا ایک طرف بینچ کے ساتھ لگا دیا۔ سر پر اُون کی ٹوپی جو اَب کافی میلی ہو چکی تھی،کے اُوپر چوڑے کناروں کا ہیٹ اچھی طرح سے جما لیا تھا۔ کرسی پر بیٹھ کر ولیم نے،جہاں تک نظر جا سکتی تھی،اِس دُھندلائے ہوئے منظر کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اُس کی نظر پہلے سے کہیں زیادہ کمزور تھی اور عینک کے شیشے بھی اِتنے پرانے ہوگئے تھے کہ اُن کو صاف کرکر کے گھسا دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے واضح اور صاف دکھائی نہ دیتا تھا۔ پھر بھی اُسے بہت ساری چیزیں ویسی ہی نظر آ رہی تھی،جیسی اُس کے بچپن میں تھیں۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا،وہی آموں کے باغ،وہی کوٹھی،وہی نہریں اور وہی دور تک آلو،مکئی اور کماد کے کھیتوں کا سلسلہ تھا۔ کوٹھی کے صحن کے ایک کنارے پر کھڑا پیپل کا درخت بھی ویسا ہی تروتازہ تھا،آلووں کی فصلیں اور بیلیں سخت دُھند سے بہت حد تک سڑ گئی تھیں۔ مگر یہ واقعہ بھی ہر سال اُسی طرح سے ہوتا تھا۔ اگر پورے منظر میں کوئی شے بدلی تھی تو وہ خود ولیم تھا۔ وہ مسلسل اورمزید تیزی سے بدل رہا تھا۔ نہ صرف یہ کہ بدل رہا تھا،بلکہ جیسے جیسے وقت آگے بڑھ رہا تھا،وہ اپنی ذات سے بے نیاز بھی ہوتا جارہا۔ حتیٰ کہ مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت اور قصہ خوانی کی محفلیں بھی ایک عرصہ ہواچھوڑ دیں تھیں۔ اِس حالت میں تمام نوکر بھی ایک ایک کر کے رخصت ہوچکے تھے۔ شاید اُنہوں نے اندازہ لگا لیا تھا،ولیم کی نقد پونجی اب اِس قابل نہیں رہ گئی کہ اُس پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ کیونکہ ذرائع آمدن تو کبھی کے ختم ہو چکے تھے۔ جب ذرائع نہ رہیں،تو دولت کے کنویں بھی ساتھ نہیں دیتے۔ یہی وجہ تھی،اُس کوٹھی کے صحن میں بڑی بڑی گھاس اور کمروں میں چیزیں گردسے اٹی جا رہی تھیں،جن کو صاف کرنے والا شاید اب کبھی نہیں آنا تھا۔ اِن چیزوں کے علاوہ ولیم نے بولنا اور بات کرنا بھی کم کردیا۔ پچھلے چھ مہینے سے مسلسل خاموشی نے اُسے اپنی ذات میں اِتنا داخل کر دیا کہ سب کی پروا کرنا چھوڑ دی۔ حتیٰ کہ اپنے جسم کی خارجی ہیئت کو بھی نظر انداز کر دیا۔ کئی کئی دن کپڑے نہ بدلتا۔ کئی کپڑے تو اب پانچ پانچ سال پُرانے ہو گئے تھے۔ یہ پرانے کپڑے پہلے دھوبی کے ہاں سے باقاعدہ دُھل کے آتے تھے مگر اب یہ تکلف بھی جاتا رہا تھا اور وہی میلے کچیلے کپڑے پہن کر ادھر اُدھر پھرتا رہتا۔ کبھی تو سارا سارا دن باہر ہی گزار دیتا اور آدھی رات کے وقت جاکر کوٹھی میں داخل ہوتا۔

اوکاڑہ شہر میں،رینالہ شہر اور اسی طرح دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پھرتا رہتا۔ ولیم کی اِس آوارہ گردی سے اِن علاقوں کا قریب قریب ہر شخص جان گیا تھا کہ یہ کون ہے۔ اِسی آوارگی میں ولیم کے کئی دوست بھی بن چکے تھے،جو اُسے چائے پلا دیتے،اگر رات رہنے کی کہیں ضرورت ہوتی،تو وہ چارپائی اور کھانے کا بندوبست بھی کر دیتے۔ اگر دور نکل جاتا تو وہ کئی دن کوٹھی پر واپس نہ آتا۔ مگر یہ باتیں گرمیوں کی تھیں۔ سردیوں میں عمر کے اِس حصے میں وہ یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے پچھلے ایک مہینے سے کلیانہ اسٹیٹ اور شہر سے باہر نہ نکلا کیونکہ بڑھاپا،نزلے،بخار اور دوسری چھوٹی موٹی بیماریوں کے ذریعے اپنے اثرات بھی دکھانے لگا تھا۔ پچھلی سردیوں کی بات ہے نمونیے سے مرتے مرتے بچا تھا۔ ناشتا اور کھانااکثر اوقات ولیم کے ایک پُرانے نوکر کے ہاں سے پک کر آجاتا،جو اَب اُس کا نو کر تو نہ رہا تھا لیکن مروت کا پُرانا رشتہ ابھی بھی قائم تھا اورولیم کی کوٹھی کے پچھواڑے ہی میں رہتا تھا۔ اُس نے کر کرا کے اپنی تین ایکڑ زمین بنا لی تھی اور کچھ زمین برگیڈئر صاحب کے منشی سے راہکی پر لے کر کاشت کرتا تھا۔ وہ اُس میں سبزیاں وغیرہ اُگاتا،پھر اُنہیں شہرمیں بیچ کر گھر کا گزارہ چلا رہاتھا۔

ولیم کُرسی پر کافی دیر اُسی طرح بیٹھا،اِس نکمی دھوپ میں اپنے آپ کو ٹھٹھراتا رہا کیونکہ مسلسل کمروں میں بند رہنے سے اُسے آج گھبراہٹ ہو گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر دو چار قدم تک چہل قدمی بھی کرلیتا۔ ولیم کو اس حالت میں دو گھنٹے ہوگئے۔ حتیٰ کہ سورج پھر دُھند کی دبیز تہوں میں دب گیا اور اندھیر سا چھا گیا۔ اب ولیم اُٹھ کر کوٹھی کے پچھواڑے فارم کی طرف چلا گیا،جو کبھی اُس کا اپنا تھا۔ اب اُس کا مالک ایک ریٹائرڈ برگیڈیئر تھا،جو خود تو وہاں نہ رہتا تھا۔ لیکن اُس کے مزارعوں کے گھر موجود تھے۔ اُن کے ولیم کے ساتھ اچھے مراسم بھی تھے،جن میں اُس کا وہی پُرانا ملازم بھی تھا۔ ولیم کو دیکھ کر ایک لڑکا بھاگ کر آگے بڑھا اور لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ جلانے لگا۔ دوسرے آدمی نے ایک چار پائی اُٹھا کر اُس آگ کے پاس رکھ دی۔ جب آگ کا الاؤ روشن ہو گیا تو ولیم چارپائی پر بیٹھ گیا اور جلتی ہوئی آگ سے ہاتھ تاپنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہی آدمی چائے اور روٹی اور روکھا سوکھا سالن،جو آلوؤں کی بُھجیاپر مشتمل تھا،لے کر آ گیا۔ ولیم نے عین پنجابیوں کی طرح چارپائی پر چوکڑی مار کر کھانا شروع کر دیا۔ اِس طرح کھانا کھلانے یا چائے پلانے میں اب مقامی لوگوں کے اندر لالچ کا کوئی مادہ نہیں تھا اور نہ کوئی احسان کا جذبہ کار فرما تھا۔ بلکہ یہ ایسی خدمت تھی،جس کا معاوضہ صرف شکریے پر ختم ہوجاتا،جو ولیم نے کبھی زبانی نہیں کیا تھا۔ شاید دل میں اُس کی گواہی موجود ہو۔ بعض اوقات ولیم کے لیے کئی گھروں سے اکٹھا چائے اور کھانا آجاتا،جسے وہ کبھی واپس نہ کرتا اور اُس وقت کے لیے ذخیرہ کر رکھتا جب کہیں سے نہ آتا۔ کیونکہ اِس طر ح کے مواقع اکثر پیش آ جاتے تھے۔ جب ہفتہ ہفتہ کسی کے گھر سے کچھ نہ آتا۔ کھانا کھا کر اور چائے پی کر ولیم بہت دیر تک وہیں بیٹھا آگ تاپتا رہا۔ اُسے یہ آگ اِتنا سکون دے رہی تھی،جیسے ولیم کی زندگی کی آخری اور پہلی خواہش یہی تھی،جو پوری ہو گئی تھی۔ پاس تین چار آدمی اور بھی بیٹھے آگ جلاتے رہے اور تاپتے رہے۔ اِس دوران وہ بہت سی باتیں فصلوں کے متعلق،اپنے کام کے متعلق،اپنی رشتہ داریوں کے متعلق،کچھ جگ بیتی غرض بہت کچھ کہتے رہے،جنہیں ولیم سنتا تو رہا لیکن بولا ایک لفظ بھی نہیں۔ ولیم کو اِن بے معنی اورمعصوم باتوں کے سننے کی عادت سی ہو گئی تھی،جن کا نہ اُسے کچھ فائدہ تھا اور نہ نقصان۔ ہاں اِن باتوں کے ذریعے سے اُن لوگوں کے گھریلو جھگڑے،شادی،غمی اور معاشی حالات سے بخوبی واقف ہوگیا تھا۔ ولیم کو اِسی حالت میں رات کے دس بج گئے اور وہ اُٹھ کر کوٹھی میں چلا گیا۔

اگلے دن ولیم ابھی اپنے بستر میں ہی تھا کہ باہر سے کچھ شور شرابے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ آوازیں بالکل قریب کوٹھی کے صحن سے آتی محسوس ہو رہی تھیں۔ ولیم حیران تھا کہ یہ کیا ہے؟رات جب وہ بستر پر گیا تھا،تو کوٹھی کے صحن کے سب دروازوں کو اُس نے اپنے ہاتھوں سے تالے لگائے تھے۔ پھر صبح سویرے صحن میں یہ کیا ہڑبونگ مچ رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے اپنی چھڑی پکڑی،سر پر اُونی ٹوپی جمائی اور بغیر چادر اوڑھے صحن میں آ گیا۔ دیکھا تو کئی آدمی ایک ٹریکڑٹرالی سے نیچے اُتر کر صحن میں گھوم رہے تھے۔ ارد گرد سے کوٹھی کا جائزہ لے رہے تھے اور شور شرابہ کر رہے تھے۔ پولیس کی ایک گاڑی میں چھ سات سپاہی بھی آئے تھے۔ ان کے علاوہ ایک دو کاریں تھیں لیکن اب تمام لوگ گاڑیوں سے باہر نکل کر صحن میں آگئے تھے۔ ولیم نزدیک پہنچا تو ایک شخص آہستہ رفتار سے آگے ہو کر اُس کی طرف بڑھا اور ایک فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،ولیم صاحب،میں یہاں کا علاقہ مجسٹریٹ ہوں،آپ اِن کاغذات پر دستخط کر دیں کہ یہ کوٹھی آپ ابھی خالی کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ پنجاب نے یہ کوٹھی جناب سید شمس الحق گیلانی کے نام الاٹ کر دی ہے۔ آپ اپنا جو کچھ سامان اُٹھا کر لے جانا چاہتے ہیں،اُس کی اجازت ہے۔

اُس شخص کے یہ الفاظ سن کر ولیم کے اوسان گویا بالکل جاتے رہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ جیسے کسی نے سر پر ایک زور دار ضرب لگائی ہو۔ اگرچہ اِن پہلے جملوں کے بعد بھی اُس نے ولیم کو دوچار باتیں کیں لیکن وہ اُس نے بالکل نہیں سنیں،بس مجسٹریٹ کے ہونٹ ہلتے دکھائی دے رہے تھے۔ ولیم پر یہ سکتہ کچھ ہی لمحوں تک جاری رہا۔ وہ فوراً اُس کیفیت میں داخل ہو گیا،جہاں ہر چیز نہ چاہتے ہوئے بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔

ولیم کے اوسان جب پہلے جھٹکے سے بحال ہوئے تواُس نے مجسٹریٹ کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے سوال کیا،کیا ایسا ہو سکتا ہے مجھے کچھ دِنوں کی مہلت دے دی جائے۔؟

سوری ولیم،وہ دوبارہ بولا،میری معلومات کے مطابق آپ کو تین بار اِس کے متعلق اطلاع دی جا چکی ہے۔ اِس لیے اب وقت نہیں۔
ولیم بخوبی سمجھ رہا تھا،یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اُسے اس معاملے میں مکمل بے خبر رکھا گیا تھا۔ اگر اس وقت مجسٹریٹ تین مرتبہ کے نوٹس کی بات کر رہا تھا تو کاغذات میں یہ خانہ پُری ضرور کر لی گئی ہو گی۔ اِس لیے اب اُس سے مزید تکرا ر بھی فضول تھی۔ اِدھر سردی اور کُہر کے ساتھ ہوا بھی چلنے لگی تھی۔ جس کی وجہ سے ولیم کا اِس حالت میں گرم چادر کے بغیر کھڑے رہنا خود کشی کے مترادف تھا۔ اُس نے جلدی سے ایک اور سوال کیا،میرا بہت سا سامان اِس وقت یہاں موجود ہے،جسے میں ابھی اُٹھانے سے قاصر ہوں۔ آپ اگر آج کا دن رُک جائیں یا فی الحال میرا سامان ان سردیوں تک یہیں پڑا رہنے دیں یا مجھے ایک بار شمس الحق سے ملاقات کر لینے دیں،پھر آپ جو کارروائی چاہیں، کریں۔

سردی کی شدت،ولیم کا بڑھاپا اور سب سے بڑھ کر بُرد باری سے پیش کی گئی زبانی درخواست نے مجسٹریٹ کو انتہائی متاثر کیا۔ اُسے توقع تھی،ولیم اِس حکم کو سنتے ہی آپے سے باہر ہو جائے گا۔ چیخ وپکار کے ساتھ واویلا شروع کر دے گا اور دیواروں سے لپٹ جائے گا۔ اُنہیں گالیاں دے گا۔ پنجاب حکومت،بیوروکرسی،سیاست دان اور پاکستانی عوام کو بُرا بھلا کہے گا۔ جس کی وجہ سے وہاں دیر تک بدمزگی پیدا ہو گی۔ نتیجے میں اُسے زبردستی اُٹھا کر باہر پھینکنا پڑے گا۔ لیکن جب یہ سب کچھ نہ ہوا تو مجسٹریٹ نے سب لوگوں کو حکم دیا،وہ کچھ دیر کے لیے باہر چلے جائیں۔ سب نکل کر سڑک پر کھڑے ہو گئے تو مجسٹریٹ ولیم کو کاندھے سے پکڑکر کوٹھی کے دالان کی طرف لے گیا۔ وہاں انتہائی بوسیدہ کرسیوں میں سے ایک پر ولیم کو بیٹھنے کے لیے کہا اور دوسری پر خود بیٹھ گیا۔ پھر کچھ لمحے خموشی سے گزر گئے۔ اِس کے بعد مجسٹریٹ بولا،ولیم صاحب ایک بات طے ہے،اب کوٹھی آپ کو چھوڑنا پڑے گی۔ اِس بارے میں دو رائے نہیں رہیں۔ رہا آپ کو وقت دینے کا معاملہ،وہ مَیں اپنی طرف سے آپ کی شرافت کی وجہ سے دودن کا دے سکتا ہوں۔ اُس کے بعد مَیں بے بس ہوں۔ میرا مشورہ یہ ہے،اپنے سامان کو اُٹھا کر کسی دوسری جگہ ٹھکانے لگانے کی کوشش کریں۔ کوٹھی نہ آپ سے اب بچ سکے گی،نہ آپ اِس میں وقت ضائع کریں۔ ابھی آپ ٹھنڈے دل سے اپنے گرم بستر میں جائیں،کچھ دیر لیٹ کر یہ سوچیں،آپ کو کہاں منتقل ہونا ہے اور سامان کہاں رکھنا ہے؟ مَیں جا رہا ہوں اور جمعہ کے روز بارہ بجے آؤں گا۔ اِتنا کہا کر مجسٹریٹ اُٹھ کھڑا ہوا اور جیسے ہی چلا،ولیم کی آواز سنائی دی،مسٹر سنیے۔
جی،مجسٹریٹ نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا۔

آپ دیکھ رہے ہیں،مَیں اتنا بوڑھا ہو گیا ہوں کہ اِس لکڑی کے بغیر چلنے میں میرے گھٹنے درد کر تے ہیں۔ کاندھے پر چادر پھیلانے کے لیے ہاتھ اُٹھاؤں تو بازؤوں کے سِرے کانپ اُٹھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مَیں اس ملک میں اِتنا اجنبی ہوں کہ میری پُرسش کو اِس وقت ایک چیونٹی تک نہیں آئے گی۔ پھر آپ یہ پولیس کس لیے لائے تھے؟

مجسٹریٹ ولیم کے اِس چبھتے ہوئے سوال پر لرز کے رہ گیا۔ بڈھے نے کتنی کڑواہٹ کے ساتھ اُس کی توہین کی تھی۔ اُ س کی سمجھ میں نہ آیا،وہ اس سوال کا کیا جواب دے۔ وہ تھوڑا سا آگے بڑھا اور ولیم کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا،ولیم آپ بہت معقول آدمی ہو۔ سول سروس میں رہے ہو۔ اگر میں آپ کے اس سوال کا جواب نہ بھی دوں تو مجھے معاف کرنا۔ یہ کہہ مجسٹریٹ جلدی سے باہر نکل گیا۔ اُس کے بعد تمام گاڑیاں اور لوگ رخصت ہونے لگے۔ سب کے بعد ٹریکٹر سٹارٹ ہوا،جس کی آواز نے دور تک ولیم کا پیچھا کیا۔ آج پہلی بار اُس نے محسوس کیا،کٹریکٹر کی آواز انتہائی کرخت اور شور پیدا کرنے والی ہے۔ وہ حیران تھا،اِس سے پہلے اُسے اس مشینری کی آواز اتنی بیہودہ کیوں نہیں لگی؟

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بتیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(54)

اوکاڑہ تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کے آتے ہی کمپلیکس میں تبدیلیاں رونما ہو نے لگیں۔ یہ شہر منٹگمری کی سب سے بڑی تحصیل تھی،جو ایک طرف ہیڈ سلیمان کی تک پھیلی تھی،تودوسری طرف اِس کا رقبہ قادر آباد تک تھا۔ جبکہ شمال میں دریائے راوی تک چلی جاتی تھی۔ جتنا زیادہ اِس کا رقبہ تھا،اُسی قدر آبادی اور زرعی لحاظ سے پنجاب کی تمام تحصیلوں کی نسبت خو شحال بھی تھا۔ ہر طرف بہتی نہریں اور چلتے پانیوں میں لہلہاتی فصلیں بہار آباد کا منظر پیش کرتی تھیں۔ شہر کی حالت بھی اس کے مضافات کی طرح اپنی مثال آپ تھی۔ پورا شہر ایک منصوبہ بندی کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ ایسا نہیں کہ جس نے جہاں چاہا اپنا جھونپڑا کھڑا کر لیا بلکہ بڑی اور کھلی سڑکیں بچھا کر اُن کے درمیان ترتیب کے ساتھ بلاک بنائے گئے تھے۔ شہر کے درمیان ایک بڑا گول چوک تھا۔ جس کے چاروں طرف پیپلوں کے درخت لگا کر سائے کا انتظام کیا گیا۔ اِسی طرح پورے شہر میں بھی سڑکوں کے دونوں جانب ہزاروں درخت،پیپل،برگد،نیم،شیشم اور جامنوں کے لگائے تھے۔ اِن کے علاوہ کمپنی باغ،پہلوانوں کا باغ،سائیں گھوڑے شاہ کا تکیہ،اور تلج ہائی سکول کے باغات بھی اپنی مثال آپ تھے۔ اِن باغات اور پارکوں کے علاوہ شہر کے درمیان،شمال اور مضافات میں بہنے والی نہریں اور نہروں کے کناروں پر بے شمار درختوں نے اِس کے حسن کو مزید دوچند کر دیا تھا۔ شہر کی سڑکوں پر اِتنا سایہ تھا کہ اُن میں سے ایک سڑک کا نام ہی ٹھنڈی سڑک رکھ دیا گیا۔ اِسی طرح تحصیل کمپلیکس بھی درختوں کی چھاؤں میں ایسے ڈھانپاجا چکا تھا کہ دھوپ کا نام و نشان نہیں تھا۔ بلکہ لوگوں کو سردی میں بہت تنگی ہوتی تھی۔ سردیوں کے دنوں میں آنے والے سائلین کو دھوپ میں بیٹھنے کو جگہ نہ ملتی۔ اگرچہ اِس شہر کی بہت سی چیزیں پاکستان بننے کے بعد برباد ہو چکی تھیں اور شہر کی آب و تاب ویسی نہ رہی تھی،جیسی برٹش دور میں تھی۔ پھر بھی ہاتھی لٹے گا بھی تو کہاں تک۔ کالج،کئی سکول،ہاسپیٹلز،ڈاکخانے،تار گھر،بلدیہ کمیٹی،پریس کلب،ہوٹلز اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری بہت سے دفتر اب بھی انگریزی دور کی طرح فعال تھے۔ البتہ نہروں،سڑکوں اور پارکوں کے بہت سے درخت کٹ چکے تھے۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر اب بھی موجود تھے۔ شہر کی اِنہی خوبیوں کی بنا پر کئی افسروں کی بڑی حد تک خواہش رہتی کہ اُس کا تبادلہ اِس شہر میں ہو جائے اور اب یہ قرعہ مسٹر نواز الحق کے نام نکل آیا تھا۔
نواز الحق صاحب پینتیس سال کا ایک نوجوان،پتلے خدو خال کا اسسٹنٹ کمشنر تھا،جو اول اول نائب تحصیل دار بھرتی ہوا لیکن بہت جلد تحصیل دار،پھر وہاں سے اسسٹنٹ کمشنر بن گیا۔ جس کی شاید خود تو خواہش اوکاڑہ میں تعیناتی کی نہیں تھی لیکن یہ اُن افسروں میں تھا،جنہیں جہاں بھیج دیا جائے،وہ اپنی نوکری کو بلند زینوں تک لے جانے کے لیے وقت کو سمیٹ لیتے ہیں۔ ملک کے ننانوے فی صد افسروں کی یہی کیفیت تھی۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں ہوتی،کہاں جا کر کیا کام کرنا ضروری ہیں؟یا فلاں علاقے میں کون سے کام ترجیحاتی بنیادوں پر کرنے چاہییں؟ یا کام کرنا بھی چاہیے کہ نہیں؟ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ یہاں کون سے ذرائع ہو سکتے ہیں،جن کو استعمال کرنے سے اُس کی اپنی ترقی ہو۔ نوازالحق صاحب ویسے بھی اب ان کاموں کے سلسلے میں ایک مکمل افسر تھے۔ یہی نہیں،چلنے اور بیٹھنے اُٹھنے میں طمطراق افسروں کا ہی تھا بلکہ اُن سے بھی قدم بھر آگے تھے۔ مشکل ہی سے کسی کے ساتھ سلام کو ہاتھ آگے بڑھاتے۔

جو لوگ پہلے ہی با خبر تھے کہ مسٹر نواز الحق تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے آ رہے ہیں،وہ اُسی دن سے مٹھائی کے ڈبے اور مختلف تحائف کے ساتھ اُن کے گھر پہنچ گئے تھے۔ اُن کا مقصد صرف تحائف دینا یا اپنی اے سی آر بہترلکھوانا ہی نہیں تھا،بلکہ اُنہوں نے صاحب پر یہ بات پوری طرح واضح کر دی تھی کہ اُنہیں صرف اور صرف صاحب کی عزت اور ترقی عزیز ہے،جس کے لیے وہ خود اپنا مستقبل قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اِس مختصر سی ملاقات میں فرداً فرداًصاحب کو اِس بات سے آگاہ کرنا بھی نہیں بھولے تھے کہ فلاں شخص بڑامغرورہے،آپ کو سلام بھی نہیں کرنے آئے گا،فلاں چغل خور ہے،اُسے کبھی اپنے راز نہ بتایے گا۔ کیونکہ وہ بڑے افسروں کا مخبر ہے۔ فلاں شخص کو تو نزدیک بھی نہ آنے دیجیے،وہ بالکل بھی بھروسے کے قابل نہیں۔ آپ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر سکتا ہے۔ اُس کو منہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بلکہ ہو سکے،تو آپ اُسے دور دراز کے قصبے میں پھینک دیں۔ کام کرنے کے لیے ہم آپ کے پاس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو اِس بات سے بھی باخبر کرنا ضروری سمجھا کہ فلاں فلاں جگہ کی الاٹمنٹ ابھی ہونا باقی ہے۔ آپ وہ اپنے رشتہ داروں،دوستوں اور سسرال والوں کے لیے آسانی سے الاٹ کروا سکتے ہیں۔ اور جو زمین نہر کے ساتھ چک تمبو یا کلیانہ اسٹیٹ میں پڑی ہے،اُسے آپ کو اپنے نام کروانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ تحصیل کے مالک ہیں،اِس لیے ویسے بھی یہ آپ کا اپنا حق بنتا ہے۔

اب وہ اپنی کرسی پر بیٹھے تو نئی تقرریوں اور تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیااور نواز الحق صاحب نے واقعی اُن تمام خیرخواہوں کے تحائف اور وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے اُن کواپنے ارد گرد اکٹھا کر کے ایک حصار قائم کر لیا۔ اُن میں سب سے پیش پیش مولوی حبیب اللہ صاحب تھے،جو اُن کے بقول نواز الحق صاحب کے خاندان کے پرانے معتقد تھے۔ اُنہوں نے صاحب کو یہ تک بتا دیا تھا کہ نواز صاحب کے دادا مولانا کرامت علی خان سے اُن کے باپ اور نواز صاحب کے باپ محکمہ مال کے کارمدار مولانا جناب فضل دین خاں سے خود اُن کے قریبی مراسم رہے ہیں۔ بلکہ وہ اُن کے ہاتھ پر بیعت بھی رہا ہے۔ اِس طرح اُس کے خاندان کی پشتوں سے اُن کے اوپر نوازشات رہی ہیں اور یہ کہ حبیب اللہ کا خاندان ہمیشہ سے نواز صاحب کے خاندان کا نمک خوار رہا ہے اور اُن کی صاحب بہادری کا اول دن سے ہی گواہ اور قصیدہ خواں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے سب سے پہلے مولوی حبیب اللہ کو اپنا پی اے بنا کر،خاص اُنہی لوگوں کی لسٹ تیار کروائی،جنہوں نے اُسے تقرری کی خبر سنتے ہی پل پل کی خبریں دیں اور بُرے بھلے سے خبردار کیا۔ یہ تما م لوگ ویسے بھی اپنے کام میں ماہر،پڑھے لکھے اور تجربہ کار تھے اور تحصیل کے کام کو چلانے میں اُس کے لیے مفید ثابت ہو سکتے تھے۔ تمام لوگوں کو اُن کی خواہش کے مطابق متعلقہ جگہوں پر تعنیات کرنے کے بعد مولوی حبیب اللہ کو سب کام سونپ دیے۔ یہ انتخاب اُن کی ذہانت کی سراسر دلیل تھا۔ مولوی حبیب اللہ ایک تو باریش اور صوم وصلوات کے پابند تھے۔ حج بھی تین تین کیے تھے اور شریعت کی حدود قیود میں رہتے ہوئے ہر کام انجام دینے کے ماہر بھی تھے۔ مجال ہے،اُن کی فائل پر کوئی اعتراض کرے یا انگلی رکھے۔ ہر چند ہر ایک بکواس کرتا تھا کہ مولوی صاحب پرلے درجے کے بے ایمان اور چاپلوس شخص ہیں۔ لیکن نواز صاحب کو اُن میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی تھی۔ بلکہ وہ اِن کاموں سے ہٹ کر نواز صاحب کے خاندان کی دیرینہ شان و شوکت کا بھی گواہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سب اُس کے کام اور تجربے سے حسد کرتے تھے۔ اور یہ بات اُسی وقت مولوی حبیب اللہ نے نواز صاحب کو بتا دی تھی۔ اگر اُن میں ایسی ویسی کوئی با ت ہوتی تو پہلے آنے والے اسسٹنٹ کمشنروں میں کوئی تو اُس کے خلاف لکھتا۔ اِس کے بر عکس ہر ایک نے اُس کی اے سی آر کو مثالی قرار دیاتھا اور وہ ایک تیسرے درجے کے کلرک سے اتنی جلدی پندھرویں سکیل میں آ گیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ ان مولوی صاحب کے ہوتے ہوئے نواز صاحب کے پروٹوکول میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا۔ یہ نہیں کہ ہر ایرا غیرا منہ اُٹھائے اُن کے کمرے میں جب چاہے،گھسا چلا آئے۔ حبیب اللہ نے عوام تو ایک طرف،تمام تحصیل افسروں کو بھی اس بات کا پابند بنا دیا تھا کہ وہ جب تک کمشنر صاحب سے ایک یا دودن پہلے وقت نہ لیں،اُس وقت تک ملاقات نہیں ہو سکتی۔ رہا سائل،تو اُس کو صاحب سے ملنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اُسے جو کام ہے،اُس کے لیے وہ اپنے متعلقہ افسر سے رجوع کر ے۔ اسسٹنٹ کمشنر اسسٹنت کمشنر ہو تا ہے۔ وہ کوئی پٹواری تھوڑا ہوتا ہے،جو وارابندیوں کا رجسٹر کھول کے بیٹھ جائے۔ اِن معاملات سے یہ ہوا کہ ایک تو نواز صاحب سے کام کا بوجھ کم ہو گیا۔ دوسرا اُسے اپنے نجی کام اور سیرو شکار کا وقت بھی مل گیا اور دفتر قریب قریب مولوی حبیب اللہ نے سنبھال لیا۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ کام اپنی مرضی سے انجام دینے لگا تھا۔ فائلوں پر دستخط لیتے وقت صاحب کو ہر فائل کے متعلق پور ی بریفنگ دیتا کہ کوئی بات صاحب سے پوشیدہ نہ رہے۔ اِس طرح چار پانچ مہینے میں ہر کام اپنے آپ ہی سیدھا ہو گیا اور کسی کو شکایت کی گنجائش نہ مل سکی۔ یہ اُس کی انتظامی صلاحیتوں کی دلیل تھی۔ اِس کے علاوہ اوکاڑہ تحصیل کے تمام بڑے زمین داروں اور قوم قبیلے کے معتبروں،جو سیاست میں بھی مقام رکھتے تھے،اُن سب سے مولوی حبیب اللہ نے صاحب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ لوگ تھے،جو کسی بھی افسر کی مزید ترقی میں با وقار سیڑھی کا کام دے سکتے تھے۔ مولوی صاحب نے اِن تمام زمینداروں سے اُن کی حیثیت کے مطابق صاحب کی دوستی کروا دی تھی۔ بعض زمینداروں کو نا جائز طور پر بہت کچھ دینا پڑا لیکن یہ ایسا سودا تھا،جس میں گھاٹا کچھ نہیں تھا۔ کیونکہ خرچ تو عوام کا ہوتا ہے اور فائدہ افسر اور سیاستدان کا۔ اِس لیے نواز صاحب نے جو کچھ بھی اُن کو دیا تھا،وہ احسان کے ساتھ ساتھ نقصان کے بغیر تھا۔

اوکاڑہ تحصیل کمپلیکس لائلپور روڈ پر واقع تھا،جس کے ارد گرد سرکاری افسروں کے مکانات،کلرکوں کے کوارٹر اور ججوں کی چھوٹے لان والی کوٹھیاں تھیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کی کوٹھی بھی کافی اچھی تھی لیکن ججز کی کوٹھیاں اُن سے بہر حال بہتر تھیں۔ یہ تمام عمارتیں انگریزی دور کی اور نہایت آرام دہ تھیں۔ جن کے ارد گرد برگد،پیپل،شیشم اور دوسری قسم کے بے شمار درخت اِس طرح سایہ کیے رہتے کہ گرمی کے دنوں میں دھوپ کی ایک رمق بھی اُن پر نہیں پڑتی تھی۔ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے عین سامنے ستلج ہائی سکول اور اُس کے ساتھ ہی ایک وسیع و عریض تھان کے سلسلے سے بندھا ہوا اصطبل تھا،جو انگریزی دور کی طرح آباد تو نہ تھا،لیکن ابھی بھی اُس میں کئی عمدہ نسل کے گھوڑے اور خچر موجود تھے،جو افسروں کے بھی کام آتے۔ یہ اِس لیے بھی خالی ہو چلا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز،جو گھوڑوں کے شوقین ہوتے،وہ اصطبل کے عملے سے مل ملا کر کسی اچھے سے گھوڑے کو ناکارہ لکھوا کر سستے داموں مول لے لیتے۔ اِسی طرح گوگیرہ میں موجوداوکاڑہ مویشی فارم میں عمدہ قسم کی گائیں اور بھینسیں بھی انتہائی سستی ہتھیا نے لگے تھے،جو انگریزی دور میں انگریز ڈپٹی کمشنر بھی آسانی سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ نہروں پر جگہ جگہ ڈاک بنگلوں کو ناکارہ سمجھ کر موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ شائد اُن کی ضلعی یا تحصیل انتظامیہ کو ضرورت نہیں تھی،کیونکہ نہری افسروں کو شہروں سے باہر نکل کر رہنا گوارا نہیں تھا۔ اسسٹنٹ کمشنرصاحب کی کوٹھی بھی ٹھنڈی سڑک پر آفیسر کالونی میں سب سے نمایاں تھیَ جہاں اب زیادہ تر بڑے زمینداروں کا آنا جاناتھا۔ اُنہی کے ساتھ وہ اکثر سیر کو نکل جاتے۔ اِن سیاستدانوں میں نواز صاحب کے ایک دوست شمس الحق گیلانی تھے۔ یہ شاہ صاحب حجرہ شاہ مقیم کے ایک رئیس خاندان کے فرد تھے۔ یہ وہ خاندان تھا،جس کا ملک کی سیاست میں بڑا اہم کردارتھا اور علاقے میں اُن کی طاقت کا لوہا سب مانتے تھے۔ بڑی زمینداری کے علاوہ اِن کے لاکھوں مرید پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے،جو پیر صاحب کے ایک اشا رے پر کٹ مرنے کو تیار رہتے۔ نواز صاحب اِن کی بہت عزت کرتے تھے اور اُنہوں نے ہدایت کی تھی کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں،شمس صاحب کا کوئی بھی پیغام آئے تو اُنہیں ضرور خبردار کیا جائے۔ ویسے بھی اِن نزاکتوں کو مولوی حبیب اللہ خوب سمجھتا تھا۔ بلکہ اِن چیزوں کے بارے میں اُسے نواز صاحب سے بھی زیادہ درک تھا۔

آج نواز صاحب اپنے دفتر میں آ کر بیٹھے ہی تھے کہ حبیب اللہ نے اطلاع دی،شمس صاحب تشریف لائے ہیں۔ نواز صاحب نے اُنہیں فوراً اندر بلا یااور دفتر سے منسلک ملاقات کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر کی گپ شپ کے بعد شمس الحق گیلانی نے اپنے مطلب کی طرف آتے ہوئے بات کا آغاز کیا،نواز صاحب آپ ہمارے لیے ایک کام کر دیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔

شاہ صاحب اگر مَیں آپ کے کسی کام آنے کا ہوا تو یہ میری خوش نصیبی کی بات ہے۔ آپ ہی تو ہماری دنیا اور آخرت ہیں۔ کام بتا یے؟

شمس صاحب نے اپنا سگریٹ ایش ٹرے کے کونے میں پھنسایا اور دیوار پر لگی سامنے قائد اعظم کی تصویر پر نظریں جماتے ہوئے بولے،نواز صاحب،پاکستان میں حکومت یا تو فوج کی ہے یا سرکاری افسروں کی۔ اِس لیے کام تو آپ کر سکتے ہیں،پھر یہ کوئی ناجائز کام بھی نہیں ہے۔

شمس صاحب آپ بجھارتیں کیوں بھجواتے ہیں۔ میری دسترس سے باہر بھی ہوا تو آپ کی خاطر کر کے ہی دم لیں گے۔ چاہے مجھے چیف سیکرٹر ی صاحب کے پاؤں پکڑنے پڑے۔
کمشنر صاحب،آپ کے اِس بڑی نہر کے دوسری طرف ایک نو لکھی کوٹھی خالی پڑی ہے،جس کے ساتھ کچھ زمین بھی ہے۔ اِس اسٹیٹ کی اکثر زمین تو فوجیوں کو الاٹ ہو چکی ہے۔ لیکن کوٹھی ابھی تک کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ آپ کسی طرح سے اُسے میرے نام کروا دیں۔ جو خرچہ ہوا،مَیں دینے کو تیا ر ہوں۔

نواز الحق کچھ دیر خموش بیٹھا سوچتا رہا پھر بولا،پیرصاحب،اُس کوٹھی میں ایسی کون سی بات ہے؟ بہر حال وہ خالی ہے توآپ فکر نہ کریں،مَیں اُسے آپ کے نام کروا دیتا ہوں۔ مَیں نے کوئی زیادہ اُس کے متعلق تحقیق تو نہیں کی لیکن سنا ہے،بہت بڑی کوٹھی ہے۔ میرا خیال ہے،اب کافی پُرانی ہو چکی ہے۔ شاید آپ کے لیے بے کار ہو۔

نواز صاحب،وہاں ایک بڈھا انگریز رہتا ہے۔ یہ کوٹھی اُسی کے باپ دادا نے وکٹوریہ دور میں بنوائی تھی،شمس الحق نے وضاحت کی،یہ واپس نہیں گیا۔ آج بھی اپنے آْپ کو کمشنر سمجھتا ہے۔

آپ کہیں گے تو اُسے اُٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں اور آپ وہاں اپنا بندوبست کر لیں۔ مگر آپ لاہور کو چھوڑ کر وہاں اتنی پرانی کوٹھی میں کیوں رہیں گے؟

شمس الحق نے دوبارہ سیگریٹ سُلگایا اور بولا،نواز صاحب،آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ ہمیں سیاست کرنی ہوتی ہے۔ وہ رہنے کے لیے تھوڑی الاٹ کروانی ہے؟وہاں ہمارے مال مویشی ہوں گے یا کچھ نوکر رہیں گے۔ کبھی کبھی ہم بھی وہاں آجایا کریں گے۔ اِس طرح علاقے میں وجود برقرار رہتا ہے۔ پھر اِن پرانی کوٹھیوں اور بنگلوں کی اپنی ایک دہشت اور اہمیت ہوتی ہے۔ آپ اِن باتوں کو چھوڑیں،ہمارا کام کریں بس۔

نواز الحق نے گرم جوشی سے اِس کام کی حامی بھرتے ہوئے انٹر کام پر حبیب اللہ کو طلب کیا۔ جب وہ کمرے میں کاغذقلم لے کر ایک طرف کھڑا ہو گیا،تو نواز صاحب نے بڑی محبت سے کہا،مولوی صاحب ستگھرہ روڈ پر ایک نولکھی کوٹھی ہے۔ آپ ذرا اُس کی تمام معلومات جمع کیجیے۔ وہ ہم نے پیر صاحب کے نام الاٹ کروانی ہے۔ شائد اِس میں ہماری آخرت کا ہی کچھ بھلا ہو جائے۔

سر،میں ابھی تمام ریکارڈ منگوا لیتا ہوں ( پیر شمس الحق صاحب کی طرف منہ کر کے حبیب اللہ انتہائی چاپلوسی سے )پیر صاحب،ویسے وہ کوٹھی آپ ہی کے لائق ہے۔ وہاں ایک بُڈھے انگریز کی وجہ سے نحوست پھیلی ہوئی ہے۔ پتا نہیں ابھی تک یہاں کیا کرتا پھر رہا ہے؟( ہنستے ہوئے ) بھلا بندہ پوچھے،تم نے یہاں سے امب لینے ہیں،جو ابھی تک اٹکے ہوئے ہو؟ اور پورے علاقے میں اپنے ناپاک قدموں سے مٹی پلید کرتے پھرتے ہو۔ سر،مجھے اُدھر ایک دو دفعہ جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ مَیں نے وہاں جب تک رہا،نماز بھی نہیں پڑھی کہ نجانے کس جگہ اُس نے پیشاب کیا ہو۔ آپ جتنی جلدی ہو سکے،وہ کوٹھی اُس منحوس بڈھے سے خالی کروا لیں۔ ہمارے شاہ صاحب کے قدم لگنے سے وہاں مٹی تو پاک ہو گی۔

حبیب اللہ کی بات سن کر دونوں ہنس پڑے۔ پھر نواز صاحب بولے،مولوی صاحب،آپ جس قدر جلد یہ کام مکمل کریں گے،ہم آپ کی خواہش اِتنی ہی جلدی پوری کر دیں گے۔ آپ ایک ہفتے کے اندر اِس کیس کی فائل تیار کر کے مجھ تک پہنچاؤ۔ ریوینیو بورڈ سے یہ فائل مَیں خودنکلوا لوں گا۔ بس آپ اس پر کام کریں۔

نواز صاحب کی بات سن کر مولوی حبیب اللہ باہر نکل گیا۔ پھر وہ دونوں باتیں کرنے لگے اور یہ ملاقات اتنی لمبی ہو گئی کہ ایک بجے کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ اِس عرصے میں جتنے لوگوں سے نواز صاحب کی ملاقات کا وقت مقرر تھا،اُنہیں مولوی حبیب اللہ یہ کہ کر ٹالتا گیا کہ آج صاحب کی اندر بہت اہم میٹنگ چل رہی ہے۔ اِس لیے باہر انتظار کریں بلکہ بہتر یہ ہے کہ کل آ جائیں۔

ایک بجے کا کھانا اسسٹنٹ کمشنر مسٹر نواز الحق کے ساتھ کھانے کے بعد سید شمس الحق گیلانی صاحب رخصت ہونے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کمشنر صاحب اُنہیں گاڑی تک باہر چھوڑنے آئے۔ گاڑی چلنے لگی تو نواز صاحب نے ہنستے ہوئے پیر صاحب سے کہا،سر اِس خادم کا بھی خیال رکھا کریں۔ آخر کب تک اسسٹنٹ کمشنر ی کرتا پھروں گا۔ آپ کی سلطنت میں کم از کم مجھے ڈپٹی کمشنر تو ہونا ہی چاہیے،ایک دفعہ بس ایک درجہ اور اُوپر لے جایے۔ پھر دیکھیے نوکر کس طرح اپنے شاہ صاحب کی خدمت کرتا ہے۔

شمس الحق نواز صاحب کی اِس بات پر مسکرا دیا۔ اُسے خوب علم تھا،اسسٹنٹ کمشنر نوازالحق نے اِس کام کے عوض اپنی ترقی کی سفارش کا معاوضہ طلب کیا ہے۔ شاہ صاحب کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ اُس نے جواب میں کہا،نواز صاحب،آپ فکر نہ کریں والدین کو اپنی اولاد کی ضروریات کا بخوبی احساس ہوتا ہے۔ بس اولاد فر مانبردار ہونی چاہیے۔ اِس کے بعد گیلانی صاحب کی گاڑی آہستہ سے آگے بڑھ گئی۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اکتسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(52)

نواز الحق مولانا فضل دین کی امیدوں پر اس طرح پورا اُتر رہا تھا کہ اِتنی توقع اُسے بھی نہیں تھی۔ لڑکا ایسا ذہین اور لائق نکلا کہ باپ دادا کے بھی کان کاٹنے لگا۔ بڑے بڑے جاگیرداروں،فوجیوں اور افسروں کے بیٹے اُس نے دوست بنالیے۔ اُنہی کی صحبت میں دن رات گزارنے سے اُسے وہ تمام معلومات اور طریقے حاصل ہو گئے تھے،جو سول سروس کا زینہ تھے اور خاندان کی کایا کلپ کر دینے کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے تھے۔ اِس کے علاوہ انگلش،عربی،فارسی،تا ریخ،غرض ہر شعبے میں کچھ نہ کچھ سُدھ بدھ حاصل کر لی تھی۔ لباس اور بات چیت میں بھی اِتنی نفاست پیدا کر لی کہ موقع کی مناسبت سے تمام جگہ اپنے آپ کو فِٹ کر لیتا۔ عربی اور اور فارسی کی لیاقت نے اُس کے اندر شعر سے لُطف لینے کا مادہ بھی پیدا کر دیا۔ لیکن یہ مادہ تھوڑا بہت شعر کو سُن کر،یا پڑھ کر یاد کر لینے کی حد تک تھا۔ شعر کی فنی جمالیات کو سمجھنے یا خود کسی مشق میں پڑنے کی اہلیت نہیں تھی۔ یہ بات بھی اُس کو کسی نے سمجھا دی تھی کہ پاکستان میں سول سروس کی نوکری حاصل کرنے کے لیے بندے کو تین چیزوں میں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک اُسے تھوڑا بہت اقبال کی شاعری اور اُس کی زندگی کے نیک نیک حالات ازبر ہوں۔ دوسرا انگریزی بول چال کی مہارت حاصل ہو اور تیسری اہم بات یہ کہ اپنے باس کی چاپلوسی کرنے کی تر بیت میں نُقص نہ ہو۔ اگر اِن میں انسان طاق ہو تو نوکری ملنے کے بعد اُس کی ترقی میں خدا بھی رکاوٹ کھڑی نہیں کر سکتا۔ بندہ اِس طرح بائیس سکیل کے زینے طے کرتا ہے،جیسے گہری نیند سوئے ہوئے پر صبح آجاتی ہے۔ نوازلحق نے اِن تینوں مضامین میں اپنی استعداد کو اِتنا بڑھایا کہ ایک تو اقبال کا ستر فی صد کلام اُسے یاد ہو گیا،دوم وہ انگریزی کو ایسے چاٹنے لگا کہ بعض اوقات اُس پر انگریز ہونے کا شبہ ہوتا۔ وہ تو غنیمت تھی رنگ زیادہ صاف نہ تھا۔ سوم افسر کی بات سے اتفاق کرنے کا ملکہ حاصل ہو گیا۔ نتیجہ یہ کہ نوازلحق پنجاب سول سروس کا امتحان پاس کر کے ڈائریکٹ نائب تحصیل دار بھرتی ہوگیا۔ لیکن اس پر وہ مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں گیا۔ بلکہ مزید ترقی کے لیے کوشاں رہا۔ جس میں اُس نے مولانا فضل دین کی جمع کی گئی بے شمار دولت کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ لاہور میں کوئی افسر ہو گا،جس کے ساتھ اُس نے تعلقات قائم نہیں کیے اور اُسے تحفے تحائف نہیں بھیجے۔ وہ اِس معاملے میں اپنے افسران کا اِس قدر وفادار تھا کہ اُن کی بیویوں تک سے ذاتی مراسم قائم کر لیے۔ کوئی نوازلحق صاحب کی بڑی بہن بن گئی اور کو ئی خالہ ہوگئی۔ کوئی اُس کے دوست کی والدہ تھی۔ اِس لحاظ سے نواز صاحب کی بھی والدہ بن گئی۔ اِن رشتوں کے بن جانے کی وجہ سے نواز کو عید بقر عید اور سالگرہوں پر تحفے بھی دینے ہوتے تھے اور وہ دل کھول کر دیتا۔ خاص کر اُسے یہ پتا چل گیا تھا کہ عورت ذات سونے کی بڑی لالچی ہوتی ہے۔ اِس لیے وہ جو بھی تحفہ دیتا،سونے ہی کا ہوتا۔ کیونکہ سونے کے بغیر چاہے ہزاروں تحفے ہوں،لوگ بھول جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسی دھات ہے،جس کا تحفہ ایک تو لینے والے کو احسان مند کر دیتا ہے اور دوسرا عمر بھر نہ لینے والے کو بھولتا ہے اور نہ دینے والے کو۔ اِس کے علاوہ جب ضرورت ہوتی،سودا سلف بھی خود بخود گھر بھجوا دیتا۔ اِن اطاعت شعاریوں سے یہ ہوا کہ کسی افسر کی جرات نہ ہوتی تھی،وہ نوازلحق کی اے،سی آر میں،اُس کے کردار اور کام کی پاکدامنی کی گواہی نہ ثبت کرے۔ اپنے باس کے گھر روزانہ جا کر اُن کی ضروریات کی خبر لے کر اُنہیں پورا کرنا تو نواز صاحب نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا۔ یہ فرض شناسی اِس حد تک تھی کہ ایک دن جب کمشنر صاحب کو ہلکا سا نزلہ ہوگیا تو نواز صاحب کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی۔ آپ اُس کی تیمارداری میں اِس طرح مگن ہو ئے کہ تین دن تک اپنے گھر نہیں آئے۔ وہیں اُن کی کوٹھی کے سرونٹ کوارٹر میں رہنے لگے۔ اگرچہ صاحب نے بہت کہا،کوئی بات نہیں نواز صاحب،آپ گھر چلے جائیں،مَیں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ لیکن یہ نہیں مانے،کہ جانے کب ضرورت پڑ جائے،پھر خدا نخواستہ آنے میں دیر ہوگئی تو آپ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اِسی فرض شناسی کی وجہ سے اُس کے دفتر والے نواز صاحب کا مذاق بھی اُڑاتے۔ ایک دن میٹنگ کے دوران جب کئی ماتحت بھی بیٹھے تھے،صاحب کا چھوٹا بیٹا ساتھ والی کرسی پر بیٹھا کھیل رہا تھا۔ اُس نے وہیں بیٹھے پیشاب کر دیا۔ نواز صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اُس کو غسل خانے میں لے جا کر پانی سے صاف کیا اور اُس کا پیشاب دھویا،جس کی وجہ سے اُس کا مذاق اُڑایا گیا۔ لیکن اُنہوں نے اِن احمقوں کی ذرا پروا نہیں کی اور سب نے دیکھا،انہی خدمت گزاریوں کی وجہ سے وہ صرف دو سال میں ہی تحصیل دار ہو گیا۔ جبکہ ساتھ والے،جو ذرا خدمت گزاری میں کم تھے،ابھی تک اُنہی بوسیدہ میزوں پر بیٹھے مکھیاں مار رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اُنہیں یہ کلیہ بھی کسی نے سمجھا دیا تھا کہ ریٹائرڈ افسر مردہ گھوڑے سے زیادہ اہم نہیں ہوتا۔ اِس لیے جتنی جلدی ہو سکے،اُس پر مٹی ڈال دینی چاہیے۔ کیونکہ جو وقت کو ضائع کرتا ہے،وقت اُسے ضا ئع کر دیتا ہے۔ ریٹائرڈ افسر کی بات ماننا یا اُسے ملنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے کبھی پلٹ کر بھی ایسے لوگوں کی طرف نہیں دیکھا تھا،جو سرکاری نوکری سے فارغ ہو چکے تھے۔

اُن کے تحصیل دار بننے کے کچھ عرصے بعد ملک میں فوج کی حکومت آگئی۔ نواز صاحب اُن دنوں خوش قسمتی سے ضلع راولپنڈی کے محکمہ مال میں تھے۔ یہ حکومت ہر لحاظ سے شرعی کہی جا سکتی تھی۔ تمام سزائیں شرعی ہو گئی تھیں۔ لباس شرعی ہو گیا۔ ٹوپیاں،تسبیاں،لوٹے اور چٹائیوں کی قیمتیں شریعت کے مطابق بڑھ گئیں۔ شلواریں گھٹنوں سے اُوپر۔ حتیٰ کہ سر کے بال اورڈارھیاں شرعیت کے مطابق ڈھل گئیں۔ گاؤں گاؤں میں مولویوں کے وظائف مقرر کر دیے گئے اور اُنہیں خطبے لکھے لکھائے آنے لگے تاکہ کسی بھی مولوی کو دماغ پر زور دینے کی زحمت نہ پڑے۔ ہزاروں چوہڑے بطور جلاد بھرتی کیے گئے،پھر بھی کوڑے مارنے والے کم پڑ جاتے تھے۔ عوام کا نماز روزے کی طرف اِتنا رجحان ہو گیا کہ سر زمین جنت نشان ہو گئی۔ ہر طرف امن و امان کی فضاقائم ہو گئی۔ تبلیغی مرکزوں میں،جہاں کبھی ویرانی ہونکتی تھی،اب کھوے سے کھوا چھلنے لگا۔ عدل انصاف کا اِس قدر بول بالا ہو ا کہ جرم کے شبے کی بنا پر بھی سزائے موت دی جانے لگی۔ اور اِس معاملے میں اتنی احتیاط تھی کہ چاہے مجرم وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو،تختے پر چڑھا دیا جاتا۔ دراصل عدالتوں نے پتا چلا لیا تھاکہ سوائے فوجی اور ایک خاص مکتبہ فکر کے مولوی کے،باقی لوگ کافر اور غدار ہیں۔ تمام بدعتی مذاہب اور مسالک کا قلعہ قمع کرنے کی ٹھان لی گئی اور صحابہ کے سچے پیرو کاروں اور خفیہ اداروں کو اجتماعی طور پر پورے اختیار دے دیے گئے کہ وہ آسانی سے نشاۃ اسلامیہ کے دشمنوں کی سرکوبی کر سکیں۔ یہی وہ دن تھے،جب نوازلحق صاحب پر صحیح دین کی سمجھ اور فوجی حکومت کی برکتوں کے پے بہ پے انکشافات ہوئے۔ اُنہوں نے نہ صرف خود،بلکہ لوگوں کی بھی اِس امر کی طرف توجہ دلانی شروع کر دی کہ امیرالمومنین جنرل صاحب اللہ کے ولی اور مجدد دین ہیں۔ اُن کے حکم کی سرتابی خدا سے بغاوت کے مترادف ہے اور یہ کہ جمہوریت مغرب کا پراپیگنڈہ ہے۔ اسلام ایسی کسی حکومت کو جائز قرار نہیں دیتا جس کی بنیاد غیر مذہبوں نے رکھی ہو۔ اُنہوں نے علی الاعلان یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ رافضی اور خانقاہی نظامِ،دین میں فساد کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ اُنہیں بالکل ختم کر دینا چاہیے۔ اِس عرصے میں نواز صاحب نے اپنی ڈاڑھی مزید بڑھا لی اور رضا کارانہ طور پر دفتر میں کام کرنے والوں کو نماز پڑھانے کے ساتھ دین کی صحیح سمجھ بوجھ دینا بھی شروع کر دی۔ جس کی اُس وقت اُن لوگوں کو سخت ضرورت تھی۔ جو آدمی نماز پڑھنے نہ آتا،اُسے دفتری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا نام دے کر وارننگ لیٹر جاری کرنے کا اہتمام بھی ہونے لگا۔ اِس میں بھی نواز صاحب سب سے زیادہ پیش پیش تھے۔ اِس کے ساتھ ہی فوجیوں سے مراسم اور لاہور کی نہایت شریف فیملی،جس پر جنرل صاحب کی برکات بے پایاں تھیں،کے درِ دولت پر دن رات حاضری کو اپنا ایمان اور کعبہ کی زیارت کے مترادف جان لیا۔ اور اُن نامرادوں کے نام اور کوائف دینے لگا،جو سرکاری یا غیر سرکار ی سطح پر فوج یا اسلام کے خلاف بات کرتے پائے جاتے تھے۔ نواز صاحب میں اِن سب خوبیوں اور اسلام کے سچے عاشق ہونے کی وجہ سے،یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ حساس اداروں کی نظرسے اُس کی وفادار ی اُوجھل رہ جاتی۔ بالآخر اُس کا نام اُن افراد کی فہرست میں شامل ہو گیا،جنہیں بلا شبہ غیر مشروطی طور پر حکومت کے وفاداروں میں شمار کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اُسی شریف فیملی کی غلام گردشوں میں پھرتے نواز صاحب نے اپنی ترقی کے ایک اور زینے کی راہ دیکھ لی۔ بالآخر پنجاب کی وزارت ِ خزانہ کی سفارش سے انُیس سو بیاسی میں اُس کی اسسٹنٹ کمشنری کے آڈر جاری ہو گئے۔ اُنہیں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جھنگ شہر کی افسری کا پروانہ دے دیا گیا،جہاں دیگر کاموں کے ساتھ بعض مسالک اور اُن کے عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا تھیں۔

(53)

اُنیس سو تراسی کاآدھا اکتوبر گزر چکا تھا۔ پنجاب میں اکتوبر کا مہینہ موسم کی کیفیت کو اِس قدر معمول پر لے آتا ہے کہ اُس وقت گرمی گرمی نہیں رہتی اور سردی ابھی تک نومبر کے پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ اُس وقت نہ تو گرمی تھی ہے اور نہ سردی۔ اِس ٹھہرے ہوئے موسم میں اُداس کر دینے والی ایسی خموش کیفیت تھی،جس کو بیان کرنے کی قدرت نہیں۔ یہ موسم بہار کانہیں ہوتا۔ لیکن اُس سے کہیں زیادہ طبیعت کو راس آنے والا ہوتا ہے۔ بہار ہر چیز میں ایک قسم کاہلکا سا شور،تحرک اور چہچہاہٹ پیدا کر دیتی ہے۔ حتیٰ کہ خوشبوئیں بھی بولتی ہیں۔ اِس کے بر عکس اکتوبر کے درمیان سے لے کر نومبر کے ابتدائی دس دنوں میں ہر شے خموش،چپ اور ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جس میں پوری فضا پر اُداس کر دینے والے غمگین سائے چھا جاتے ہیں۔ موسم کی اِن چپ چاپ سفیدیوں میں انسان بھی افسردہ ہو جاتا ہے۔ ماضی کی گونج عام حالات کی نسبت زیادہ سنائی دیتی ہے اور آج کل یہی کیفیت ولیم کی تھی۔ وہ اوکاڑہ کے مضافات اور نہری کوٹھی کے جامنوں،پھولوں اور گوگیرہ کی بستیوں میں اکیلا گھومتے پھرنے کے ساتھ ماضی کے ورقوں کو پرتالتا جاتا اور اُن میں لکھے افسانوں کی سطر یں بغور پڑھتا،مکرر پڑھتا،سہ بار پڑھتا،بار بار پڑھتا۔ روپے اُس کے پاس کم ہوتے جا رہے تھے۔ بلکہ اِس تیزی سے کم ہو رہے تھے،جیسے عمر کی منزلیں سمٹتی جا رہی تھیں۔ یوں بھی اُس کی عمر بہتر سال ہو چکی تھی لیکن کمر ابھی تک جھکی نہیں تھی،جیسا کہ عام اور مقامی ہندوستانیوں کے بوڑھے ہونے پر جھک جاتی ہیں۔ پاکستان کی بیوروکریسی سے اب اُسے کوئی سروکار نہیں تھا۔ سیاسی حالات کیا ہیں،؟ لوگوں کے رویے کتنے بدل چکے ہیں یا بیرونی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟برطانیہ امریکہ یا دوسرے مغربی ممالک کی کیا صورت ہے؟ ولیم اِس سب کچھ سے اس طرح بیگانہ ہو چکا تھا،جیسے اِن چیزوں کا وجود اساطیری دنیا میں ہو۔ جہاں صرف کہانیا ں جا سکتی تھیں۔ البتہ اوکاڑہ کے کیتھلک چرچ میں اتوار کے اتوار اُس کی حاضری اب لازمی ہو گئی تھی۔ یہ چرچ اُس کے دادا نے اپنے خرچے سے بنوایا تھا۔ جہاں یہ چرچ موجود تھا،اُس کے سامنے والے بازار کا نام بھی چرچ بازار رکھ دیا گیا تھا،جو ابھی تک اُسی نام سے تھا۔ یہ بازار جنوب کی طرف سے ریلوے پھاٹک نمبر دو سے لے کر سرور سوڈا چوک کو کراس کرتا ہوا شمال میں کمپنی باغ کے جنوب مشرقی کونے تک چلا جاتا تھا۔ ولیم اِس چرچ میں عبادت سے زیادہ اُن لوگوں کی پُرسش کے لیے جاتا،جن کے لیے خداوند خدا چرچ کی لال اینٹوں میں پھنسا ہوا ایک بے بس صلیب کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ جو دنیا میں تو اِن کالے عیسائیوں کے کچھ کام نہیں آ سکتا تھا۔ اگر کوئی آخرت تھی،تو وہاں ان کالوں کے لیے دودھ کی سفید نہروں اور میوہ کے باغوں کی دستیابی کا ذمہ دار تھا۔

آج وہ اسی اداس کر دینے والی فضا میں اتنا بوجھل ہو چکا تھا،جس میں دل کو سنبھال لینا ایرے غیرے کا کام نہیں تھا۔ ولیم کمرے سے نکل کر کوٹھی کے صحن میں آیا اور سامنے والی اُسی بنچ پر بیٹھ گیا،جس کو اس صحن میں لگے اب ساٹھ برس گزر چکے تھے۔ یہ کرسی ولیم کے دن رات بیٹھنے سے اِتنی چمکدار ہو گئی تھی کہ پالش کا گمان ہو تا۔ پرندے اِدھر اُدھر اڑے جاتے تھے،اگر کوئی چہچہا بھی رہا تھا،تو اُس کی چونچ ہلتی نظر آتی تھی مگر آواز سنائی نہ دیتی۔ سامنے کا پیپل بھی بالکل خموش اور حیرانی کی حالت میں تھا،جیسے ولیم کی تنہائی پر نوحہ کناں ہو۔ اُسے آنے والے لمحوں کا پتا چل چکا تھا۔ کبھی ایک آدھ چڑیا اُس کے پاس سے اُڑ کر نکل جاتی،پھر دورتک کھیتوں میں،کبھی ایک جگہ پر،کبھی دوسری جگہ پھدکتی ہوئی بیٹھتی۔ پھر اُسی طرح نظروں سے اوجھل ہو جاتی۔ ولیم کو جب کافی دیر اِسی حالت میں گزرگئی تو وہ اُٹھ کر دوبارہ کوٹھی میں چلا گیا اور اپنے بیڈ روم میں جا کر پُرانے سامان کو ٹٹولنے لگا،جو اَب زیادہ نہیں رہ گیا تھا۔ چندچیزیں تھیں،جو کیتھی کے ہاتھوں سے یا تحفہ دینے سے بچ گئی تھیں۔ یہ چیزیں بازار میں قیمت تو نہیں رکھتی تھیں لیکن ولیم کے لیے بہت زیادہ اہم تھیں۔ اِن میں ولیم کے دوستوں کی کچھ تصویریں،ولیم کے بچوں کی تصویریں،اُس کے ذاتی کاغذات،ملازمت کے دنوں کی فوٹو گراف،قلم،پینٹنگز،ایشلے کی شاعری کے کچھ مسودات،بے شمار کتابیں اور اِسی طرح کی یادگاریں تھیں۔ چیزوں کو دیکھتے ہوئے ولیم کے ہاتھ میں ایک ایسا کاغذ لگا،جو اُس کی اپنی ہینڈرائیٹنگ میں تھا۔ وہ ایشلے کی ایک نظم تھی،جو اُسے بہت پسند تھی۔ ولیم نے اپنے ہاتھ سے اُسے لکھ لیا تھا۔ نظم دیکھ کر ولیم کو ایشلے کی شدت سے یاد آنے لگی،جس کے مرنے کی اطلاع اُسے دس سال پہلے مل چکی تھی۔ وہ اُس کے مرنے کی خبر سُن کر اُس وقت بھی بہت افسردہ ہوا تھا اور بہت دنوں تک اپنے حواس میں نہ ر ہا تھا۔ جب کاغذات سے وہ نظم سامنے آئی تو ولیم کی آنکھوں میں پھر آنسووں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ وہ نظم لے کر اُسی بیڈ پر لیٹ گیا اور اُسے اپنے سینے پر رکھ کرآہستہ آہستہ نظم کو پڑھنے لگا اورگزری ہوئی ساعتیں یاد کر کے رونے لگا۔

نظم
کیا تم ایسی دھوپ دیکھنا چاہو گے
جو چمکتی ہے جلاتی نہیں
نہ اس کی روشنی میں آنکھیں چندھیاتی ہیں
نہ سفید عورتیں عرق آلود ہوتی ہیں
وہ دھوپ نومبر کی خاموش وادی میں ہے
نومبر کی دھوپ کو دیکھ سکتے ہو
نرم لباس کی طرح محسوس کر سکتے ہو
اُس میں تلخی نہیں
موت کے نزدیک لے جانے والی اُداسی ہے
اُداسی کو تم چھو نہیں سکتے
نہ فریب دے سکتے ہو
نہ اس سے بھاگ سکتے ہو
یہ ہجوم میں تنہا کر دیتی ہے
کیا پچھلے برس کا نومبر اُداس نہیں تھا؟
نومبر ہمیشہ اُداس ہوتا ہے
رُکا ہوا،مطمئن اور بے نیاز
اِس کی وادی میں صبح ہوتی ہے،دوپہر،سہ پہر
پھر شام آجاتی ہے
مگر دھوپ کا مزاج نہیں بدلتا
آسمان کی طرح پُر وقار بزرگی والا
زندگی نومبر کی طرح نہیں
زندگی بدلتی ہے،متواتر بدلتی ہے
وہ تجھے نومبر میں نہیں رہنے دے گی
دھوپ غبار آلود ہو جائے گی
صاف نظر آنے والی چیزیں دُھندلا جائیں گی
پھر سیاہ ہو جائیں گی
پھر اندھیرا کھا جائے گا
اُس وقت،جب میں نہیں ہوں گا
دوست کوشش کرنا،نومبر نہ گزرے
مگر یہ وہ کوشش ہے جس کا حاصل خسارا ہے
ولیم بار بار نظم پڑھتا رہا اور پرانے بیڈ کے بوسیدہ مگر صاف بسترپر لیٹا آنسووں کی بارش روکنے کی کوشش کرتارہا۔ اسی حالت میں وہ سو گیا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(51)

یہ انیس سو پچھتر کے دسمبر کا آغاز تھا اور ملک کو وجود میں آئے اٹھائیس سال ہو گئے تھے۔ اِس عرصے میں ولیم مقامی لوگوں میں اِس طرح گھل مل گیا کہ رنگ اور آنکھوں کے سوا اُس میں ولائتیوں کی کوئی حرکت نہ رہی۔ اردو پہلے بھی روانی سے بول لیتا تھا،اب پنجابی میں بھی خاصا ہاتھ صاف کر لیتا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مرغے لڑانے،کبڈی کروانے اور قصے کہانیاں سننے کا شوق حدسے آگے نکل گیا۔ آئے دن نولکھی کوٹھی پر محفلیں جمنے لگیں۔ ولیم کے جاننے والے عشا کے بعد جمع ہو جاتے۔ کوئی نہ کوئی کہانی کہتا،جس میں رات کے گیارہ بج جاتے۔ محفل کے بعد ولیم کی طرف سے سب کو کبھی کھانا کھلایا جاتا اور کبھی صرف چائے پلائی جاتی۔ سب جانتے تھے،اُس کے پاس پیسے بہت زیادہ ہیں۔ اِس لیے وہ اُس کا احترام بھی ویسے ہی کرتے۔ مگر یہ سب لوگ غریب غربا اورمزارع قسم کے تھے۔ بیورو کریسی اور اُمرا کو ولیم نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ بلکہ اُن کو اب ولیم کے بارے میں پتا بھی نہیں تھا کہ ایسا کوئی انگریز بھی یہاں موجود ہے۔ اِس معاملے میں اشرافیہ تو ایک طرف،مدت ہوئی،اُس کے اپنے بیوی بچوں نے بھی اُسے بالکل بھلا دیا تھا۔ پہلے پہل اُنہوں نے دو تین چکر لگائے اور ولیم کو بھی سرسری انگلستان جانے کا مشورہ دیا لیکن جب ولیم نے سختی سے اِس بات کو رد کر دیا تو وہ بھی آہستہ آہستہ اُسے بھولنے لگے اور اب نوبت یہاں تک آگئی کہ ولیم کے خطوں کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔ ایک آدھ بارجواب دیا بھی،تو وہ ایک دو سطر میں ایسا سرسری تھا،جسے خط کے نام پر مذاق کہہ لینا چاہیے۔ اُس کے بعد مکمل خا موشی طاری ہو گئی تھی۔ اُنہوں نے گھر بدل لیا تھا تو اُس کا پتا بھی نہیں بتایا اور پچھلے چھ سال سے ولیم کے کسی خط کا جواب بھی نہ دیا،نہ ٹیلی فون ہی کیا۔ بہت سے پرانے دوستوں کی وساطت سے ولیم نے اُن کا پتا بھی کرایا مگر کچھ خبر نہ ملی۔ ویسے بھی دوستوں نے اِس بارے میں زیادہ کھوج لگانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ولیم نے اُنہیں زیادہ تنگ کیا۔ کیونکہ اب یہ بھی اُن کے بغیر اِس طرح رہنے کا عادی ہو چکا تھا،جیسے اُس کا کوئی رشتے دارتھا ہی نہیں۔ ایسی بات نہیں تھی کہ اُسے اپنے رشتوں کا احساس نہیں تھا۔ شروع شروع میں جب اُس کے بیوی بچے گئے،تو وہ کئی سال مضطرب رہا اور بہت دفعہ،جب بھی اُنہیں ضرورت پڑی،ولیم نے اپنی بچی کھچی پونجی سے رقم بھیجنے میں تامل نہ کیا اور رشتوں کا درد رکھے رکھا۔ مگر اب اُس کے ہاتھ سے سارے رشتے ہی نکل چکے تھے،تووہ کیا کرتا۔ مچلز والے ابھی موجود تھے،جن کے ساتھ سلام دعا چل رہی تھی۔ لیکن وہ بھی لندن او ر اوکاڑہ کے درمیان معلق رہتے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ اِس آنے جانے میں اُنہوں نے اپنے رئیسانہ ٹھاٹھ کو برقراررکھا اور ولیم سے بہت زیادہ مختلف ہو چکے تھے۔ یا کہہ لیں کہ ولیم ہی اُن سے مختلف ہو گیا تھا۔ اِس لیے اُن کے اندر بھی اب دبی دبی سرد مہری موجود تھی،جسے ولیم نے بہت دیر پہلے بھانپ لیا تھا۔ مگر وہ شاید اُن میں گزری نشانیوں کے ریزے تلاش کرنے کے لیے تعلق کو ٹوٹنے نہیں دے رہا تھا اوربرابر وہاں پھیرا لگایا کرتا۔ بلکہ اُس وقت بھی،جب وہ لندن میں موجود ہوتے۔

زمانے کے گزرتے ماہ سال میں ولیم کو اِس پورے نقصان پر تاسف تو ہوا لیکن وہ اُس کو قبول کر چکا تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے اُس نے بھی اُنہیں یاد کرنا چھوڑ دیا۔ اگر یاد آتے بھی تو طبیعت کو جلد کسی اور طرف مائل کر کے مصروف ہو جاتا۔ زیادہ تر انگریزی ناولیں اور انگریزی شاعری کی کتابیں پڑھنے میں لگا رہتا،جو سینکڑوں کے حساب سے اُس کی کوٹھی میں موجود تھیں۔ اُن کے خریدنے میں اُس نے ایک خطیر رقم خرچ کی تھی۔ کتاب خوانی کے علاوہ قصہ سننے کی لت اُسے شدت سے لگ چکی تھی،جس کے لیے وہ عصر سے ہی تیاری کر نا شروع کر دیتا۔

اکثر ہاتھ میں چھڑی تھامے سرپر ہیٹ رکھے پیدل ہی نکل پڑتااور اِدھر اُدھر پھرتا رہتا۔ زیادہ تر کمپنی باغ اوکاڑہ میں،جو اُسی کی تجویز پر بنا تھا۔ کبھی دس کلومیٹر طے کر کے نہری کوٹھی چلا جاتا یاکسی اور جگہ۔ مگر زیادہ تر اُس کا سفر لمبا نہیں ہوتا تھا۔ اِسی طرح دیسی لوگوں کے ساتھ چلتے چلتے بات چیت کر لیتا۔ بگھی،ٹانگے پر ہوتا تو ایک آدھ سواری بھی ساتھ بٹھا لیتا۔ کافی عرصہ پہلے زمین پر سے اُس کا قبضہ اُٹھ گیا تھا۔ جب وہ باقاعدہ آہستہ آہستہ کر کے چند ہی سالوں میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسروں کے نام الاٹ ہوگئی۔ اِس لیے جو پیسہ ہاتھ میں تھا،وہ رفتہ رفتہ کنارے لگنے لگا۔ ولیم کو اب اُس کی زیادہ پروا بھی نہیں تھی۔ کیونکہ کوٹھی ابھی تک اُس کے پاس تھی اور آٹھ دس سال تک مزید ساتھ دینے والا پیسہ بھی تھا۔ اِس لیے بھی اُسے کوئی فکر نہیں تھی کہ دیسی لوگوں کی طرح اُس کے دس دس بچے نہیں تھے۔ اُس نے رینالہ،اوکاڑہ،گوگیرہ اور اُن کے مضافات میں اِس طرح اپنے آپ کو گم کر لیا،جیسے یہ سب علاقے اُس کی ملکیت ہوں۔ حالانکہ اب تمام زمینیں اور فارم ملٹری نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے،جو تقسیم سے پہلے گوروں کی ملکیت تھے۔ ولیم نے کئی طرح سے اثر رسوخ اختیار کر کے نولکھی کوٹھی پر اپنا قبضہ بر قرار ہی رکھا اور کچھ روپے سا لا نہ کے حساب سے اُس کا کرایہ اداکرتا رہا۔ جب اُس کی زمینوں پر قبضہ ہوا تھا تو وقتی طور پر ولیم انگلستان چلا گیا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد واپس آگیا تھااور نولکھی کوٹھی میں بطور کرایہ دار براجمان رہا۔ ویسے بھی یہ کوٹھی ایک جرنیل کے نام لیز پر تھی،جس میں اُسے رہنا تو نہیں تھا کیونکہ نہ تو یہ کوٹھی کسی بڑے شہر میں تھی اور نہ ہی اوکاڑہ شہر کے درمیان میں تھی۔ اوکاڑہ کے شمال مشرق میں نہر کے دوسری طرف تین کلومیٹر باہر تھی،جس میں کسی مقامی کو رہنے کی کیا ضرورت تھی،جبکہ ولیم اِس کا کرایہ بھی زیادہ دینے کو تیار تھا اور پچھلے کئی سال سے دیتا بھی رہا تھا۔ اِس لیے اُس کا یہ مسکن بر قرار رہا۔

کچھ دنوں سے اُس کی طبیعت میں ایک بے چینی پھر داخل ہو رہی تھی۔ وہ کون سی بات تھی،جس کے باعث یہ کیفیت تھی۔ اس بارے میں ابھی وہ خود بھی لا علم تھا۔ ایک شام اِسی طرح سب جمع تھے اورمیاں محبوب علی خاص لاہورسے داستان کہنے کے لیے آئے ہوئے تھے،جو پہلے بھی کئی دفعہ آ چکے تھے۔ کوٹھی کے دالان میں ولیم کی کرسی کے سامنے پہلے آٹھ دس کرسیاں اور اُس کے آگے تین تین چار پا ئیاں دو طرفہ لگی ہوئی تھیں،جن کے درمیان چھ فٹ کی کھلی جگہ تھی۔ ولیم کی کرسی سے آخری چار پائی تک کم از کم دس قدم کا فاصلہ تھا۔ اِس طرح کہ داستان گو موقع کے مطابق بیچ میں چہل قدمی کر سکے۔ جیسا کہ اکثر پنجابی داستان گو مجمعے کے بیچ چل پھر کر اور اداکاری کر کے کہانی سناتے ہوئے،بیچ میں کہیں کہیں لوک بولیوں،دوہروں اور ماہیوں کے ٹانکے لگاتے جاتے ہیں۔ اِس سے کہانی کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ ولیم کے ہاں اکثرکہانی کہنے والے پنجابی ہوتے تھے۔ اِس لیے اُس نے کوٹھی کے دالان میں بیٹھنے کی شکل اسی صورت میں ڈھال رکھی تھی۔ میاں محبوب علی در اصل نواب مظفر علی قزلباش کا ذاتی داستان گو تھا،جو ولیم کے اُن دِنوں کا دوست تھا،جب وہ ڈپٹی کمشنر تھا۔ اِسی دوستی کو وہ آج تک نبھائے چلا آ رہا تھا۔ یہ سردیوں کی رات تھی اورآٹھ بج چکے تھے۔ محبوب علی داستان شروع کرنے ہی والے تھے کہ چوہدری شفیع محمد بھی آن بیٹھا،جس کے ساتھ سترسال کا ایک بڈھا تھا۔ شفیع محمدکی ستگھرہ موڑ پردو مربعے زمین تھی اور ولیم کے ساتھ اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔ ولیم جب بھی سیرکو نکلتا،اکثر چوہدری شفیع محمد کے پاس جا بیٹھتا۔ اِس طرح شفیع محمد بھی اُس کے حاضر باشوں میں تھا اوریہ رشتہ برابری کی سطح پر ہی قائم تھا۔ آج شفیع محمد کے ساتھ یہ بڈھا البتہ نیا تھا۔ اُس کے سر پر سفید پگڑی تھی اور سفید ہی کھدر کا دُھوتی اورکُرتہ تھا۔ پاؤں میں چمڑے کے دیسی جوتے تھے،جس کو خریدے ہوئے غالباً کئی سال گزر چکے تھے۔

سلام دعا کے بعد سب بیٹھ گئے تو چوہدری شفیع نے ولیم سے مخاطب ہو کر کہا،صاحب بہادر،یہ امیر سبحانی ہے۔ آج ہی حویلی لکھا سے آیا ہے۔ میں کل وہاں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا۔ وہیں اپنے بہنوئی کے ہاں میری اِس سے ملاقات ہوئی۔ بہت عمدہ داستان کہتا ہے۔ جب میں نے اِس سے وہاں داستان سنی تو اِس کا شیدائی ہو گیا اورمنت کی کہ میرے ساتھ ایک دو دن اوکاڑہ چل۔ امیر سبحانی اُجاڑے سے پہلے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں رہتا تھا۔ اِس لحاظ سے میں نے سوچا،اِسے آپ سے ملانا اچھا رہے گا۔ کیونکہ آپ بھی کافی عرصہ جلال آباد میں رہے ہیں اوراُسے یاد بھی کرتے ہیں۔ یہ آپ کا ہم وطن بھی ہے اور داستان تو یہ ایسی کہتا ہے کہ ساری رات گزر جائے گی۔ مگر آپ کا جی چاہے گا،سنتے جائیں۔

شفیع محمد تعارف کرا چکا تو ولیم نے ایک نظر بھر کر امیر سبحانی کی طرف دیکھا،گویا وہ آئینہ ہو،جس میں ولیم اپنے ماضی کا چہرہ دیکھ رہاتھا۔ دل ہی دل میں ولیم نے پوری کائنات کی خاموشی سمیٹ کر اپنے اندر بھر لی اور چند لمحے اُسی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ لوگوں نے اُسے حقہ پیش کیا اور بیٹھنے کے لیے سامنے کی ایک کرسی خالی کر دی۔ اتنے میں ولیم اپنی سابقہ حالت میں لوٹ چکا تھا۔ اُس نے پورے مجمعے کی طرف دیکھا اور کہا،کوئی بات نہیں۔ چلو آج ہم امیر سبحانی سے سن لیتے ہیں۔ محبوب علی تو ایک دو دن ابھی یہاں ہی ہیں۔ کیوں امیر سبحانی ہمیں سناؤ گے؟

جیسی آپ کی رائے،(اور سوالیہ انداز میں چوہدر ی شفیع کی طرف دیکھا)

اُس نے کہا،بھائی امیر آپ کو لایا کس لیے ہوں؟یہ صاحب ہمارے لیے بڑالاڈلا ہے۔ آج اِسے ایسی داستان سناؤ کہ خوش ہو جائے۔
چوہدری صاحب کوشش کرتا ہوں۔ اِس کے بعد امیر سبحانی نے حقے کے دو چار لمبے لمبے تیز کش لیے،پھر اُٹھ کے چارپائیوں اورکرسیوں کے درمیان والی راہداری میں کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ بھر کا کڑھا ہوا رومال گلابی رنگ کا،جیب سے نکال کرہاتھ میں پکر لیا،جو داستان گووں کی تسکین کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ امیر سبحانی نے رومال کے چاروں کونے اکٹھے کر کے مٹھی میں دبا لیے اور ولیم کی طرف منہ کرکے بولا،صاحب اجازت ہے تو عرض کروں؟ پھر داستان شروع کر دی اور ہلکے ہلکے قدموں سے آگے پیچھے چلنے بھی لگا۔

اول حمد خدا وند باری، دوم پاک رسول
تیجا نام علی کاجاپوں،جس کی دو جگ دھوم
چوتھی پاک رسول کی بیٹی پانچواں حسن حسین
اِن کے بعد ہیں بارہ ہادی سید کُل کونین
غازی پاک عباس بہادر،لے کر اُس کا نام
قصہ ایک دلاور کا مَیں تم کو سناؤں تمام

امیر سبحانی تمہید کے بعد اصلی داستان کی طر ف اس طرح پلٹا کہ اچانک ولیم سمیت پورا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا اورکہانی سننے کے ساتھ ساتھ امیر سبحانی کی حرکات و سکنات کو بھی غورسے دیکھنے لگا۔

آنکھوں دیکھا حال ہے،نہیں سُنی گنی یہ بات
سب سچ کہانی بیلیوں،شاہد رب کی ذات
اک شہرجلال آباد تھا،اُس مشرق کے پنجاب
جسے چھوڑا وِچ فساد میں،سنو مرے احباب
اُس شہرجلال آبادمیں،تھا ایک جوان دلیر
بیٹا حیدرشیر کا تھا،دھرتی کا وہ شیر
نام غلام حیدر اُس کا،جانے سب سنسار
ہوا شہید وہ سورما،پَر دیے گورکھے مار

اِس کے بعد جیسے ہی امیر سبحانی نے داستان کا قد غلام حیدر کے ذکر کے ساتھ آگے بڑھایا اور قصے کی رمزیں کُھلنا شروع ہوئیں،ولیم کی آنکھیں کُھلنے لگیں۔ امیر سبحانی کی آواز میں ایسی تمکنت اور داستان کہنے میں ایسی دلآویزی تھی کہ سب مجمعے کے سروں پر گویا پرندے بیٹھے ہوں۔ مجال ہے،کسی کا دھیان ادھر اُدھر بھٹک جائے۔ ولیم کا معاملہ کچھ آگے کا تھا۔ جیسے جیسے داستان آگے بڑھ رہی تھی،اُس کی یاد داشت کے دریچوں کے پٹ ایک ایک کر کے وا ہوتے جا رہے تھے۔ اُسے یوں لگ رہا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن چکا ہے۔ امیر سبحانی چارپائیوں کے درمیان کی راہداری میں ایک ہاتھ میں جریب پکڑے،کبھی آگے اور کبھی پیچھے چلتا اور غلام حیدر کا قصہ نظم کی شکل میں بیچ بیچ نثرکے ٹوٹے جما کر یوں اُٹھاتا،جیسے آئتوں کے درمیان تفسیر کی وضاحتیں ہوں۔ اِس طرح کہانی میں ایک تو تا ثیر بڑھ جاتی تھی،دوسرا سمجھنے میں آسانی رہتی۔ کہانی کے اِس انداز سے یوں تو سارا مجمع ہی کہانی سننے کی بجائے دیکھ رہا تھا۔ مگر ولیم توگویا پچھلے زمانے میں پہنچ گیا تھااورنہیں چاہتا تھا کہ یہ قصہ ختم ہو۔ اُس کے لیے چالیس سال بعد یہ ایک ایسا منظر تھا،جو اگر نہ آتا تو شاید ولیم کی زندگی میں ایک ایسا خلا رہ جاتا،جو نہ تو کبھی پُر ہوتا اور نہ ہی ولیم کو پتا چلتا،وہ کون سا خلا ہے؟ داستان آگے بڑھتی گئی۔ سب سنتے گئے اور ولیم اُس کے ایک ایک منظر میں کھوتا گیا۔ حتیٰ کہ رات گیارہ بجے امیر سبحانی نے داستان دوسرے دن عشا کے وقت تک روک دی۔ اِس کے بعد سب مہمانوں کو کھانا پیش کیا گیا۔ کھاناکھا کر سب رخصت ہو گئے اور امیر سبحانی چوہدری شفیع کے ساتھ ٹانگے پر بیٹھ کر چلا گیا۔

لوگ تو داستان سن کر چلے گئے مگر ولیم کی رات سو سال کی ہو گئی۔ امیر سبحانی نے داستان شروع نہیں کی تھی،ولیم کی زندگی کا افسانہ چھیڑ دیا تھا۔ اگرچہ ِاس میں اُس کا اپنا ذکر تین چاردفعہ ہی آیا تھا۔ وہ بھی غلام حیدر کے ضمن میں مبالغے کے ساتھ،۔ مگر یہ مبالغہ بھی ولیم کو اچھا لگا۔ بلکہ عین سچ لگا اوروہ چاہ رہا تھا،یہ کہانی کبھی ختم نہ ہو۔ اِنہی سوچوں میں ولیم کی ساری رات نکل گئی اور اُس کی آنکھیں گویا یاقوت ہو گئیں۔ کبھی اُٹھ کے ٹہلنے لگتا،کبھی بستر پر جا پڑتا۔ حتیٰ کہ فجر کی اذان نے صبح کی سواری کا نقارہ بجا دیا۔ رات بھر ولیم کے دماغ میں جودھا پور،جھنڈو والا،غلام حیدراورجلال آباد کے مضافات کا وہ علاقہ پھرتا رہا،جہاں اُس نے اُن دنوں دورہ کیا تھا۔ وہ رہ رہ کر اُنہی مضافات میں چلا جاتا اور تڑپ تڑپ کے رہ جاتا۔ کہانی ابھی تک وہاں تک پہنچی تھی،جب غلام حیدرفیروز پور میں شیخ مبارک کے پاس ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بندوبست میں گیا تھا۔ لیکن وہ دلچپ اِتنی تھی کہ ولیم کو اپنے ساتھ غلام حیدر کے کردار سے بھی شدید دلچسپی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہو گیا کہ آخر اُس کے ساتھ کیا بنی؟ دن چڑھا تو اُس نے بادامی رنگ کی بید پکڑی اور سیر کو نکل کھڑا ہوا۔ یہ سیر اُن زمینوں اور باغوں کی تھی،جو اب اُس کی ملکیت میں نہیں تھیں۔ اُس کی عمر اتنی لمبی سیر کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔ پھر بھی وہ جوانوں سے کہیں زیادہ پھرتیلا اور پیدل چلنے والا تھا۔ وہ دوبارہ شام ہونے اور کہانی کے شروع ہونے کے انتظار میں کُڑھنے لگا اور خدا خدا کر کے پھر عشا کا وقت ہو گیا اور ولیم کی کوٹھی میں داستان کے پالان لگ گئے۔

یہ محفل دس دن بر پا رہی۔ امیر سبحانی نے اِس طرح اُس میں رنگ بھرا کہ محبوب علی بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ہر آدمی عش عش کر اُٹھا اور سب نے اُسے کچھ نہ کچھ ضرور دیا۔ ولیم نے دس ہزار روپے کے ساتھ کئی تحفے بھی دیے۔ اتنی بڑی رقم امیر سبحانی نے کبھی ایک دم نہیں دیکھی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں ولیم کے لیے تشکر کے آنسو آگئے۔ اب چونکہ ہر شخص پر کھل گیا تھا کہ جلال آباد کا اُس وقت کا اسسٹنٹ کمشنر ولیم تھا،اور یہ کہ ُاس نے غلام حیدر کے ساتھ زیادہ سخت رویہ اختیار بھی نہیں کیا تھا۔ اِس کے علاوہ یہ اِس داستان میں ایک بڑے متحرک کردار کی شکل میں سامنے رہا ہے اور سکھوں کی بانسری بجانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اِس لیے وہ سب ولیم کی محبت میں اور زیادہ مانوس ہو گئے۔ لیکن ولیم کہانی سننے کے بعد مزید اُداس رہنے لگا۔ اُسے وہ بھولی ہوئی تمام شامیں اور اُن شاموں میں جلنے والے قمقمے یاد آنے لگے،جو کسی بھی طرح سے خوش گوار تھے۔ اِس منظر میں اُسے پھر کیتھی اور بچوں کی یادیں ستانے لگیں،جو اگر چہ اب بچے نہ رہے تھے لیکن ولیم نے اُنہیں جس قدوقامت میں چھوڑا تھا،وہ اُسے اُسی قامت میں دِکھنے لگے اور مسلسل تڑپانے لگے۔ مگر اب اُن کا کوئی پتا نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،اگر ایک بار اُسے خط آ جائے تو وہ اُن سے ملنے کے لیے لندن ضرور جائے گا۔ وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا اور خط لکھنے لگا۔

بیڈ روم کی تمام چیزیں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ بلکہ کئی چیزیں تو استعمال کے قابل بھی نہیں رہی تھیں اور اُس نے نئی چیزیں نہ خریدنے کی قسم کھا لی تھی۔ کوٹھی بھی ولیم کی طرح بوسیدہ ہو چکی تھی۔ پھر بھی کوئی چیز اِس تنہائی میں دل کو سکون اور اطمنان بخشنے والی تھی،تو وہ یہی کوٹھی تھی،جو اُس کی اپنی تھی۔ ولیم نے کیتھی اور بچوں کو تسلی سے بیٹھ کر دوبارہ خط لکھا اور خود جا کر اوکاڑہ کچہری بازارکے تار گھر سے تار کیا۔ لیکن اُس کا کبھی جواب نہ آیا اور دن مزید گزرتے گئے۔ ولیم آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید امیر سبحانی سے کہانی سننے کے بعد وہ جلد بوڑھا ہونے لگا تھا۔ اُ س نے سوچا،کاش اُس کی امیر سبحانی سے ملا قات ہی نہ ہوتی اور وہ اتنا جلدی بوڑھا نہ ہوتا۔ یہ اُداسی کی حالت ولیم پر کئی مہینوں تک جاری رہی۔ سردیاں گزر گئیں،بہار نکل گئی،گرمیاں چلی گئیں،پھر سردیاں آگئیں۔ اِن بدلتے مہ و سال کے فاصلوں سے اُس کے زخم بھرنے لگے اور دو سال بعد اُس کی حالت پھر معمول پر آگئی۔ لیکن اب اُس کی شاہ خرچیاں ختم ہو گئی تھیں۔ کیونکہ جمع پونجی قریب قریب ٹھکانے لگ چکی تھی اور اُس کی زندگی کے شب و روز ارد گرد کے علاقوں میں گھومتے ہوئے،اُفق کی طرف جلدی سے سمٹتے جارہے تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(48)

دھوپ اور گرمی کی وجہ سے پورا فیروز پور جہنم کی دیگ ہوگیا تھا۔ ہر چیز کر راکھ ہو رہی تھی۔ اگر کسی نے گرمی اور دھوپ کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کی ہو اور اُسے یقین نہ آرہا ہو کہ گرمی کا دوسرا نام وہ ذلت ہے،جس کے بعد سوچنے سمجھنے کی تمام قوتیں سلب ہو جاتی ہیں،تو اُسے لا کر فیروز پور کے جیٹھ ہاڑ میں ڈبو دینا چاہیے۔ لیکن اب کے معاملہ دوسرا تھا۔ لوگ اِس عقل سوز گرمی اور دھوپ کو بھول کر کسی اور دھیان میں لگے ہوئے تھے۔ ایک خاموشی،دبی دبی خاموشی،جس میں حواس باختہ کر دینے والا خوف اور بجھا بجھا ڈر تمام لوگوں پر چھایا ہو ا تھا۔ پوری آبادی میں نہائت خموشی اور لاشعوری تقسیم کا عمل جاری تھا۔ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے دو حصوں میں بٹنے لگے تھے۔ آپس کی اِس لاشعوری تقسیم میں اُن کی زبانوں پر ہر وقت ست سری اکال یا اللہ اکبر کی تکرار پہلے سے کئی گنا ہو گئی۔ وہ نہیں جانتے تھے،بغیر وقفے کے اِن مذہبی نعروں سے کیا حاصل کر رہے ہیں،لیکن اپنے کلمہ گو بھائی کو دیکھ کر ہر فرد نے اُن نعروں کو ادا کرنا اور اُن کاجواب دینا اپنے اوپر لازم کر لیا تھا۔ گویا دونوں گروہوں نے اپنے اپنے دیوتا میدان میں لا کھڑے کیے،جو ایک عرصہ تک غیر متحرک رہے تھے اور اب اُن کی طاقت کا مظاہرہ کسی وقت بھی ہو سکتا تھا۔ مگر ایک بات ابھی تک نہ جانے کیوں راز میں تھی کہ اِس میدان کو تیار کرنے والے ظاہراً نظر نہ آ رہے تھے۔ آخر وہ سب سے بڑا دیوتا کہاں تھا؟ جو دونوں بڑی طاقتوں کو خموشی سے بھڑا دینا چاہتا تھا لیکن اُس کی آگ کو وقت سے پہلے بالکل خموش رکھ رہا تھا۔ نہ اُس کی لکڑیاں دکھائی دیتی تھیں اور نہ اُس کے بندوبست میں لگے ہوئے چہروں کی کچھ خبر تھی۔ بس ہر ایک چیز اِس طر ح اپنے ہی آپ منظم اور اپنی اپنی صفوں میں درست ہو رہی تھی،جیسے پانی کا بہاؤ سوکھے ہوئے پاٹ میں پڑے تنکوں کو اِدھر اور اُدھر دونوں کنارے کے حوالے کرتا ہوا،آپ اکیلا سمندر کی جانب چلا جائے۔ اگرچہ یہ قضیہ سارے ہند وستان میں ایک ہی طرح سے چل رہا تھا لیکن تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور خاص فیروزپور میں معاملات اِس طرح پُر اسرار تھے کہ اِس بارے میں کوئی بھی دماغ کوشش کے باوجود اِن حالات کا پتا چلانے میں ناکام تھا۔ ہر شے میں نحوست اور بے وقعتی اور بد نیتی یو ں دبے قدموں چلی آئی تھی کہ اُس کے متعلق کوئی دعوہ نہیں کر سکتا تھا کہ اُس نے بدلتے ہوئے آسمان اور زمین کا مشاہدہ کر لیا ہے۔ ہاں ایک بات جو سب جانتے تھے اور ہر فرد اُس کے بارے میں وثوق سے اپنی آنکھ کا اعتبار پیدا کر سکتا تھا،وہ یہاں کے لوہاروں کی تپتی ہوئی بھٹیاں تھیں،جن میں اِتنا ایندھن جھونکا جا چکاتھا کہ اب سر کنڈوں کے تنکوں تک کی نوبت آ گئی تھی۔ لوہار وں کی دوکانیں،جن کی چھتیں،کھپریل،ٹوٹے پھوٹے بانسوں اور سخت جنتر کے سستے آنکڑوں سے بنی تھیں،بھٹی سے اُٹھنے والے دھویں اور آگ کی لپکوں نے،جو اُن کی واحد خوراک تھیں،پورے پورے علاقوں کو جلا دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ یہی وہ جگہیں تھیں،جن کا مالک کوئی سکھ لوہار تھا اور کوئی مسلمان۔ مگر لوہے کو سُرخ کرنے کی مہارت دونوں میں ایک ہی جیسی تھی۔ دونوں کے پاس آرہن،چھینی،ہتھوڑا اور چمٹا بھی ایک ہی طرح سے کام کرتا تھا۔ لوہے پر اُن دونوں کی ضربوں کی دھمک بھی ایک جیسی پڑتی تھی۔ حتیٰ کہ دونوں کے لوہا کوٹتے ہوئے بغلوں کا پسینہ اور پسینے کی بدبوسے ایک ہی طرح سے کراہت پید ہوتی تھی۔ اِس کے باوجود دونوں میں ایک ایسا ناقابل بیان فرق موجود تھا،جس کی وضاحت وہ خود بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اُس فرق سے وہ اِتنے وفادار تھے،جیسے اُس کے ساتھ زندگی کا لمس بندھا ہوتا ہے۔ اِن لو ہاروں کو کئی دنوں سے تلواریں،چھویاں،برچھیاں اور سنگینیں بنانے سے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی اور بھٹیوں کی چھتیں،جن پر پہلے ہی دھوپ،گرمی،دھویں اور اُڑتے ہوئے بگولوں سے گرد اور مٹی کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی تھیں،آگ کے تپاؤ میں کٹھالی کی طرح پک کر سیاہ اور چکی تھیں۔ یہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ نہ یہ سب تیاری سات سمندر پار اُن سفید لوگوں کے لیے تھی،جنہوں نے لال قلعہ سے لے کر جلیانوالا باغ تک،دونوں جگہ اپنے نقشے درست کیے تھے۔ نہ اُن لوگوں کے لیے،جو دیسی ہونے کے باوجود اُن کے درمیان نہ تھے،نہ اُن کی طرح کھاتے پیتے تھے اور نہ ہی اُن کی طرح بولتے تھے۔ یہ سب کچھ وہ اپنے لیے ہی کر رہے تھے۔ بلکہ یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ تیاری تھی بھی کہ نہیں۔ ہاں کچھ ہی دنوں بعد اتنی سمجھ اور آنے لگی تھی کہ یہ خموش نحوست اُس وقت شروع ہوئی،جب کسی نے اُسی ملک میں ایک مزیدملک بنانے کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ ملک کیا تھا؟کہاں بننا تھا؟ اور اس میں کن لوگوں نے رہنا تھا؟یہ ابھی طے نہیں ہوا تھا،مگر یہ طے تھا کہ اِس کی بنیادوں میں گاڑھے اور پتلے،سبھی قسم کے خون کا گارا او رکٹے ہوئے سروں کی اینٹیں استعمال ہونا تھیں،جس میں تیز دھار لوہے کا بہت زیادہ کام تھا۔ اور یہ بھی طے تھا کہ جس کے پاس جتنا زیادہ اور جتنا تیز لوہا ہو گا،وہی اپنی عمارت بلندتعمیر کرے گا۔ اس میں ست سری اکال اور اللہ اکبر کو بھی کردار ادا کرنا تھا۔ لیکن اُن کا عمل دخل صرف لوہے کے استعمال کے وقت تھا۔

چھ سات مہینے تو یہی حالت رہی لیکن اب کچھ دنوں سے اِس منحوس اور اُکتا دینے والی خموشی کا سکوت ٹوٹنے لگا تھا۔ سان پر چڑھی ہوئی بر چھیاں ڈانگوں پر چڑھنے لگیں۔ اَن کہی ٹولیاں تر تیب پانے لگیں اور اَن سُنی کہانیاں سُنی جانے لگیں۔ پُر امن گاؤں میں راتوں کو پہرے جمنے لگے۔ جوانوں نے مونچھوں کو تاؤ دینے شروع کر دیے لیکن کیوں؟ یہ ابھی بھی کسی کو پتا نہیں تھا۔ بس کہانیاں تھیں،کہ فلاں سکھڑے نے فلاں مسلے کو برچھی مار دی یا فلاں مُسلے نے فلاں سکھ کو تلوار سے کاٹ کر اُس کی انتڑیاں نکال دیں۔ مگر یہ سب دیکھا کسی نے نہیں تھا،سُن ضرور رہے تھے۔ یہ کہاں ہو رہا تھا؟یہ بھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔ ہاں اِتنا اور ہوا،چوہدریوں نے اپنے مزارعے بدل لیے اور مزارعوں نے چوہدری۔ مسلمان مسلمانوں کے ہاں چلے گئے اور سکھ سکھوں کے ہاں۔ پُرانے محلے داروں نے اپنے محلے اور گلیاں تک بدل لیں۔ گھر وں کے پُر سکون آنگنوں میں سونے والے کوٹھوں جا چڑھے اور ساری ساری رات جاگ کر پہرے داریوں میں لگ گئے۔ ڈھاریوں میں مال کی رکھوالی کرنے والے مال مویشی ہی گاؤں لے آئے۔ مزید دن گزرے تو سونے والے اچانک ڈر کرہڑ بڑا اُٹھتے اوراُٹھ اُٹھ کر بھاگنے لگے۔ پھر خبر ملتی کہ کچھ بھی نہ تھا۔ پھر کچھ دنوں بعد کچھ ہونے بھی لگا۔ واہریں اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ کبھی دائیں طرف سے بلوے کی خبر آتی،کبھی بائیں طرف سے۔ تھوڑی دیر میں واویلا اُٹھتا کہ سکھوں نے حملہ کر دیا۔ لوگ اللہ اکبر اور یا علی کے نعرے مارتے اپنی ڈانگیں اور برچھیاں لے کر چند لمحوں میں جمع ہو جاتے۔ وہ بر چھیاں،جو اُنہوں نے رات اپنے سرہانوں کے ساتھ رکھی تھیں۔ لیکن پتا چلتا،خبر جھوٹی تھی۔ دو ہفتے بعد یہ کھیل بھی ختم ہوا اور خبریں سچی ہونے لگیں۔ اِس لیے کہ نیا ملک بننے میں اب کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی،بلکہ وہ بن چکا تھا۔ لیکن وہاں نہیں،جہاں فیروز پور تھا۔ بلکہ ستلج کے اُس پار منٹگمری کی طرف۔ اچانک اُنہیں پتا چلا،یہ اُن کا وطن نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟اِس کا ابھی جواب نہیں تھا۔ وہ یہاں سے نکل کر کس مکان،کس دیہات یا کس شہر میں جائیں گے؟یہ سب نہ اُنہیں پوچھنے کی طاقت تھی اور نہ ہی اُنہیں کسی ایسے شخص کا پتا تھا،جو یہ سب کچھ اُن بتا سکتا ہو۔ ڈھاریاں،بستیاں،قصبے اور فیروز پور کے چھوٹے چھوٹے شہر وں کی آبادیاں،جن کی تعداد کم سے کم چار یا پانچ ہزار تھی،سب کے سب لوہے کے ہتھیاروں سے بھر گئے۔

پھر وہ دن جلد آگئے،جب لال آندھیوں،جھکڑوں،بگولوں کے اُٹھتے ہوئے طوفانوں اور خشک زمینوں سے د ھوپ کے اُڑتے ہوئے غباروں کے ساتھ دکن کی طرف سے سیاہ بادلوں کے پرے چڑھ آئے۔ یہ عذاب اکیلا نہ تھابلکہ دوسری طرف سے کرپانوں،گنڈاسوں،تلواروں اور چھویوں کے مینہ برسنے لگے۔ بیٹھے بیٹھے جانے کس غیب سے اشارہ ملا کہ لوہے کی تیز دھاریں ریشمی جسموں کی رگیں کاٹنے لگیں۔ واہگرو کی جَے،ست سری اکا ل اور اللہ اکبر کا آوازہ بلند چوراہوں،راہوں،نہر کی پٹڑیوں اور ہر اُس جگہ پر گونجنے لگا،جہاں کوئی بے دست و پا نظر آیا۔ انگریزی نظام کی تمام کڑیاں ایک ہی ہلے میں کٹ کر گر گئیں۔ پولیس معطل اور نظام ثقہ کا سکہ رائج ہو گیا۔

ہو سکتا تھا جلال آباد اور مکھسر میں حالات ویسے ہی مست چال چلتے رہتے اور کسی کو باور نہ ہوتا،کیا ہو رہا ہے۔ اُن کی تلواروں،کرپانوں اوربرچھیوں کو پڑے پڑے ساون کے پانی سے زنگ لگنا شروع ہو جاتا کہ ہریانہ،لدھیانہ اور دہلی سے لُٹے پٹے قافلے نمودار ہونے لگے۔ ۔ گڈے ہی گڈے،چھکڑے ہی چھکڑے،انسان،گدھے،بیل،بکریاں،اُونٹ،گائیں اور بھینسیں اور چیتھڑوں میں لپٹے،ننگے،سفید لٹھوں میں،ننگے پاؤں،ننگے سر،پگڑیاں باندھے،پیدل،سوار،گدھوں پر،گھوڑوں پر،بیمار ایک دوسرے کے کاندھوں پر،کفن کی ٹاکیوں میں لپٹے مُردے،ہزاروں انسانوں،لاکھوں انسانوں کے قافلے اور قافلوں کے تعاقب میں بھی قافلے۔ ڈانگوں والے،برچھیوں والے،داڑھیوں والے،مڑاسے مارے ہوئے،ننگے سر،اسوار،گھوڑوں پر۔ گویا انسانوں کی کھمبیا ں نکل آئیں تھیں،جن کی نہ کوئی پکار تھی،نہ پُرسش تھی اور نہ احساس تھا۔ بس نعرے تھے،بلوے تھے اور خون کے لمبے سلسلے،ہزاروں سال لمبے۔

غلام حیدر کو تشویش تو پہلے ہی بہت تھی لیکن جھنڈو والا کی خبر نے اُسے تڑپا کر رکھ دیا۔ ہوا یہ،آج صبح جب حویلی کے بیرونی صحن میں آیا تو اُسے ایک اجنبی نظر آیا،جسے اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ غلام حیدر چار پائی پر بیٹھ چکا تو اُس نے اُٹھ کر سلام کیا۔ غلام حیدر نے دیکھا،وہ لنگڑا کے چل رہاتھا۔ بہر حال اُس کے سلام کا جواب دیا اور پوچھا،وہ کون ہے؟

رفیق پاؤلی نے اُس شخص کے بولنے سے پہلے ہی کہا،چودھری غلام حیدر،یہ رشید عُرف چھدو ہے۔ جھنڈو والا سے آیا ہے۔ کہتا ہے،وہ بہت اہم خبر لایا ہے،جسے سوائے تمھارے کسی کو نہیں بتانا چاہتا۔

غلام حیدر نے کہا،چار پائی دور اُس کونے میں رکھ دو۔

جب غلام حیدر چھدو کو لے کر اکیلا بیٹھ گیا تو اُس نے جلدی سے بولنا شروع کر دیا،چودھری صاحب،میں خاص سودھا سنگھ کا ملازم تھا۔ اُس کے قتل کے بعد بھی اُسی کا نمک کھا رہا ہوں لیکن اِس وقت ایسی مجبوری آ پڑی ہے کہ تیری طرف آنا ضروری ہو گیا تھا۔ آخر مسلمان ہوں۔ اپنے آپ کو روک نہیں سکا۔ بات یہ ہے کہ جودھا پور کے مسلمان اِس وقت بہت خطرے میں ہیں۔ آج شام سے پہلے اُن سب کو سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ نے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور اِس کے لیے پوری تیاری ہو چکی ہے۔ جتنی جلدی ہوسکے،اپنے بندوں کو اسلحہ دے کر بھیج،تاکہ اُن کو نکال لائیں۔ خدا نخواستہ دیر ہو گئی تو سب کچھ تلپٹ ہو جائے گا۔ چھدو کی بات سُن کر غلام حیدر سُن ہو گیا۔ اُس کے دماغ میں جو خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی،آخر وہی کچھ ہوا تھا۔ سوچتے سوچتے اُس کا ذہن نچڑ کے رہ گیا،مگر سمجھ میں کچھ نہ آ رہا تھا۔ غلام حیدر کی رعایا تو ایک طرف،خود وہ نہیں جانتا تھا کہ حالات اِتنی تیزی سے بدلیں گے۔ پورے علاقے میں،جہاں اُس کی چند ہی دن پہلے ہیبت تھی اور اُس کا نام سُن کر سکھوں کو پسینے چھوٹ جاتے تھے،وہیں ہر شے اُس کے اثر سے اچانک اِس طرح نکل گئی،جیسے وہ ابھی پیدا ہی نہ ہوا ہو۔ کہاں تو ایک سال پہلے آدھے فیروز پور میں اُس نے الیکشن میں وہ کردار ادا کیا تھا،جس کی توقع نواب افتخار بھی نہیں کر رہا تھا۔ کانگرس اور یونینسٹ کو ووٹ ہی نہیں پڑنے دیے۔ اب اُسے اپنے اور اپنے بندوں کے جان و مال کے بھی لالے پڑ گئے تھے۔ آخر اُس نے ایک فیصلہ کر لیا پھر مطمئن ہو کر وہیں آ گیا،جہاں بہت سے آدمی جمع تھے۔

بادل اِتنے کالے اور گہرے تھے کہ اُن کے نہ برسنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہوا بالکل بند تھی،جس کی وجہ سے حبس صبح کے وقت ہی اتنا بڑھ گیا تھا کہ محسوس ہونے لگا،ابھی بارش ہو جائے گی۔ یہ بارش ہو جاتی تو ساون کی پہلی بارش تھی۔ دن کافی چڑھ آیا تھا۔ غلام حیدر کے بندے حقہ پینے میں مصروف تھے۔ اُسے پاس آتے دیکھ کر سب اُٹھنے لگے تو غلام حیدرنے اشارے سے سب کو بیٹھ جانے کے لیے کہا،پھر رفیق پاؤلی سے مخاطب ہوا،چاچا رفیق،جلدی سے ہمارے تمام بندوں کو جمع کر لو اور جو باہر نکلے ہوئے ہیں،اُن کو بھی بلا لو۔

رفیق پاؤلی نے غلام حیدر کو اِتنا گھبرائے ہوئے دیکھا تو وہ خود بھی پریشان ہو گیا۔ بولا،غلام حیدر خیر ہے،اتنی پریشانی کس لیے ہے؟ آدمی تو سارے ہی اِدھر ہیں۔

ہاں خیر ہی ہے،غلام حیدر نے تحمل سے جواب دیتے ہوئے کہا،تم سب میری ایک بات غور سے سُن لو۔ اب کوئی بندہ میرے پوچھے بغیر کہیں نہیں جائے گا۔ ایک بات طے ہے کہ فساد ہونے والا ہے۔ اِتنا بڑا فساد،جس کے آگے چراغ دین اور سودھا سنگھ کے قتل کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ سب کچھ تلپٹ ہونے والا ہے۔ اِس فساد میں کون کہاں جائے گا،اِس کی کسی کو خبر نہیں۔ اِس لیے کوشش کرو،ایک دوسرے سے الگ نہ ہو۔ کچھ دن پہلے میں نے جو محسوس کیا تھا۔ اُس کے پیش نظر اسلحہ تو ضرورت سے زیادہ جمع کر لیا تھا،لیکن اب سکھوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ اِس لیے مزید بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے لگ رہا ہے،جتنا کچھ احتیاطاً کیا گیا تھا،وہ اِس بند کے آگے تنکوں کا گھونسلا ہے۔ یہ بھی اچھی طرح سے جان لو کہ اب ہمیں بھی ستلج پار چلنا ہو گا۔
اور یہ گھر؟جانی چھینبا بولا،

یہ گھر،زندگی رہی تو واپس آ جائیں گے،غلام حیدر نے جانی کی بات کاٹتے ہوئے کہا،لیکن اِس وقت یہ حالات نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہم لٹتے ہوؤں کا تماشا دیکھتے رہیں۔ پھر خودبھی زنخوں کے ہاتھوں مر جائیں۔ مَیں نے دس دن پہلے فرید کوٹ کے نواب صاحب سے دس ریفلیں اور گولیاں منگوا لی تھیں۔ اُنہیں ملا کے اب ہمارے پاس چودہ رائفلیں اور چار سو کار توس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ میری پکی رائفل بھی ہے،جس کی مرے پاس پچاس گولیاں باقی ہیں۔ چاچا رفیق،سب بندوں سے کہہ دو،جن کے پاس کچھ نہیں ہے،وہ کچھ نہ کچھ ضرور اپنی بغل میں دبالیں۔ ہماری عورتوں کے پاس بھی چھُری کانٹا موجود ہونا چاہیے۔

یہ بات کہہ کر غلام حیدر کچھ دیرکے لیے چپ ہو گیا،جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔ پھر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق،تم ایسا کرو،جانی اور الطاف کو لے کر بیس مزید بندوں کے ساتھ بمع اسلحہ جودھا پور چلے جاؤ او ر جودھا پور والوں کو اپنی نگرانی میں جلال آباد لے آؤ۔ اِس وقت وہ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ دو بندے شاہ پور بھیج کر اُن کو خبر کر دو کہ جتنی جلدی ہو سکے،اپنا سامان باندھ کر بنگلہ فاضلکا کی طرف روانہ ہو جائیں اور وہیں بیٹھ کر ہمارا انتظار کریں۔ جب تک ہم نہ آ جائیں،آگے نہیں بڑھنا۔ وہاں سے اکٹھے ہیڈ پار کریں گے۔ یہ کام جلدی کرو،دیر اب نقصان کی طرف لے جائے گی۔

یہ حکم دے کر غلام حیدر جلدی سے واپس اندرونی صحن کی طرف چلا گیا۔ اِدھر رفیق پاؤلی نے ہوا کی تیزی سے اُس کی بات پر عمل شروع کر دیا۔ امیر سبحانی اور شیدے کو شاہ پور کی طرف بھیج کر آپ دس بجے سے پہلے ہی جودھا پور روانہ ہو گیا۔ رفیق پاؤلی کا جودھا پور کی طرف روانہ ہونا تھاکہ بادلوں نے گرجتے ہوئے برسنا شروع کر دیا۔ بارش ایسی شدید تھی کہ خدا کی پناہ۔ سیر سیر بھر کے تریڑے گرنے لگے۔ مگر رفیق پاؤلی نے اپنا سفر جاری رکھا کیونکہ معاملہ اب واقعی ہاتھ سے جاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اُس کا خیال تھا،بارشوں کی وجہ سے دیر کی گئی تو خون کی بارشیں شروع ہو جائیں گی۔ حالات کے مطابق یہاں سے اب جتنی جلدی ہوسکے،نکلنا ضروری ہو گیا تھا تاکہ اکٹھے سفر کیا جائے اور بغیرجانی اور مالی نقصان کے ستلج پا کر لیا جائے۔

اِدھر تو غلام حیدر یہ فیصلے کر رہا تھا،اُدھر جھنڈو والا میں الگ اپنے فیصلے ہو رہے تھے کہ جودھا پور وا لوں سے کیا سلوک کیا جائے؟سردار سودھا سنگھ کا بیٹا موہن سنگھ ابھی چھوٹا تھا۔ اِس لیے فیصلہ کرنے کا حق سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ کو دے دیا گیا۔ اُس نے کافی دنوں کی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ پورے جودھا پور میں کسی مرد کو زندہ نہ چھوڑا جا ئے۔ عورتوں کو آپس میں بانٹ لیا جائے اور بچوں کو نوکر بنا کر اُن سے بیگار لی جایا کرے،کہ اِن مُسلوں کی یہی سزا ہے۔ دوسری طرف جودھا پور میں یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ موت نے اُن پر نازل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اُنہوں نے بھی فی بندے کے حساب سے جو چیز لوہے کی ہاتھ آئی،اُسے سنبھال لیا۔ تمام عورتوں اور بچوں کو غلام حیدر کے جودھا پور والے مکان میں جمع کر دیا۔ اپنا اپنا سامان گٹھڑیوں میں باندھ کر ضروری چیزیں لے لیں اور باقی اندر رکھ کر مکانوں کو تالے لگا دیے کہ جب ٹھنڈ ٹھنڈار ہو گا تو اپنے گھروں میں دوبارہ آ بسیں گے۔ عورتوں نے یہ سوچ کر گھروں کے جندروں کی چابیاں اپنے گھگھروں کے ازاربندوں سے باندھ لیں۔ بھلا ایسے بھی کبھی ہوا،کسی کو کوئی زبر دستی اپنے گھروں سے نکال دے۔ آخر یہ دنگا فساد ایک دن تو ختم ہونا ہی تھا،جو نہ جانے کس شطونگڑے نے شروع کیا تھا اور بیٹھے بٹھا ئے گھروں سے بے گھر کر دیا۔ رحمت علی نے سب لوگوں کو حوصلہ دیا اور کہا،ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اب ہم مل کر ہی مریں گے اور مل کر جیئں گے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے سکھڑے زبردستی گاؤں کو آ گ لگا ئیں؟ وہ اچھی طرح جانتے ہیں،یہ گاؤں اُسی غلام حیدر کا ہے جس کی بندوق سے سکھڑے اِس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شیطان اعوذ بااللہ سے۔

جودھا پور میں کل مل ملا کے پچاسی مرد تھے،جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل جانے کے لیے پوری تیاری کر لی اور غلام حیدر کے مکان کو مورچہ بنا کر آنے والی آفت کا انتظار کرنے لگے۔ اِدھر ساون بھی اپنی جولانی پر تھا۔ سہ پہر چار بجے بادلوں کے کالے سایوں کے ساتھ موت کے زرد سائے بھی جودھا پورپر منڈلانے لگے۔ شمشیر سنگھ دو سوبندے لے کر،جو کرپانوں،چھویوں اور گنڈاسوں سے لیس تھے،جودھا پور کی طرف روانہ ہو گیا۔ اِس دفعہ اُس نے صرف کرپانوں پر بھروسا کرنے کی بجائے رائفلیں بھی ساتھ لے لیں،جن کی تعداد پانچ تھی۔ سردار سودھا سنگھ کے قتل کے بعد وہ صرف ڈانگ سوٹے پر بھروسا نہیں کر سکتے تھے۔ شمشیر سنگھ جانتا تھا،حالات جتنے بھی سکھوں کے حق میں ہوں،مُسلے بہر حال ایسے بچھو تھے جو کسی نئے طریقے سے بھی ڈنک مار سکتے تھے۔ ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ غلام حیدر نے اُن کے لیے کوئی انتظام نہ کیا ہو۔ شام چار بجے شمشیر سنگھ کے جتھے نے جودھا پور پہنچ کر پورے گاؤں کا محا صرہ کر لیا۔ اِدھر رحمت علی نے پہلے ہی اُن کے انتظام کے لیے سب کچھ سمیٹ کر غلام حیدر کے مکان پر جمع کر لیا تھا اور لڑنے کے لیے ہر طرح سے تیار وہا ں بیٹھے تھے۔ عورتیں اِس کے لیے ہرگز تیار نہیں تھیں۔ وہ کسی بھی طرح سے نہیں چاہتی تھیں،فساد ہو۔ اُن کے سننے میں ایسی بُری بُری خبریں پہنچتی تھیں،جن کو برتنے کا اُن میں یارا نہیں تھا۔ اُن عورتوں میں سے کچھ مسلسل نماز میں تھیں،۔ کچھ دعا اور درود کے ورد میں مصروف ایک انہونے خوف میں مبتلا تھیں۔ اُنہیں مرنے سے زیادہ اِس بات سے دہشت ہو رہی تھی کہ خدا نخواستہ اُن پر حملہ ہو گیا اور مرد لڑتے لڑتے مارے گئے تووہ لمبی داڑھیوں اور بد بو دار بغلوں والے نا پاک سکھڑوں کے ہاتھ ا ٓجائیں گی۔ وہ جو اُن سے سلوک کریں گے،اُس کا تصور ہی کپکپا دینے والا تھا۔ تمام بچے سہمے ہوئے اپنی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔ منہ اندھیرا ہورہا تھا۔ اِس عالم میں جوں جوں سکھوں کے حملے کی خبریں ملتیں،دہلا دینے والے ہول پڑتے اور شام کے سائے بھوتوں کی طرح جودھا پور میں چلتے پھرتے نظر آتے۔ اچانک بادل زور سے گرجنے لگے۔ ہوا کا زور بڑھا تو عورتوں نے چاروں قل اور آیہ کرسی کی تلاوتیں شروع کر دیں۔ پانچ بجے شام گھوڑوں کی ٹاپوں اور پیدل سکھوں کے قدموں کی دڑ دڑ شروع ہوئی تو عورتوں کے وظیفوں اور دعا ؤں کی گنگناہٹ اتنی تیز ہو گئی،جیسے شہد کی مکھیوں کے چھتے بکھررہے ہوں۔ رحمت علی کی ہدایات پر مردوں نے دو رائفلوں کے ساتھ پوری طرح حملے کا جواب دینے کے لیے اپنے نشانے سیدھے کر لیے۔ و ہ یہ تو جانتے تھے،اِتنے سکھوں کی یلغار کے سامنے مٹھی بھر لوگوں کا کیا بنے گا۔ مگرشایدیہی دن تھا،جب سب کے ایمان کا یقین ایک جیسا ہو گیا تھا،اور وہ مولا علی کو دل میں اور با آواز بلند بھی پکار رہے تھے۔

شمشیر سنگھ اور اُس کا جتھا جودھا پور میں داخل ہوا تووہ حیران رہ گئے۔ سارے گاؤں میں کوئی فرد بھی اُنہیں کسی گلی میں چلتا پھرتا نظر نہ آ یا۔ گویا کوئی دیو پھر گیا ہو۔ مکانوں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ بادلوں کے سیاہ پھریروں میں صرف درختوں کی شاخیں اور پتے تھے،جو لہرا لہرا کر اپنے ہونے کی گواہی دے رہے تھے۔ اِس ویرانی میں اُن کا ہلنا بھی گاؤں کی وحشت میں اضافہ کر رہا تھا۔ چند منٹوں کے لیے تو شمشیر سنگھ پریشان ہو گیا۔ لیکن جلد ہی اُسے پتا چل گیاکہ مُسلوں نے غلام حیدر کے بڑے احاطے میں پناہ لے رکھی ہے۔ گاؤں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اُنہیں ڈھونڈنے میں زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی۔ اُس نے سوچا،یہ اور بھی اچھا ہے،سارے ایک ہی جگہ پر قابو آ گئے ہیں۔ اُسی وقت اُس نے مکان پر حملے کا حکم دے دیا۔ اِس سے پہلے کہ شمشیر سنگھ کا جتھا حملہ آور ہوتا،رحمت علی نے فیصلہ کیا کہ سکھوں پر گولی چلا دی جائے۔ رحمت علی اور جودھا پور کے مر دمکان کی چھت پر ہونے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے اُن کی دسترس سے باہر تھے۔ بلکہ جب تک گولیاں ختم نہ ہو جاتیں سکھوں کا مکان میں داخل ہونا مشکل تھا۔ چنانچہ اِدھر شمشیر سنگھ کے لوگ حویلی کی طرف بڑھے،اُدھر ایک دم کوٹھے کے اُوپر تنی بندوقوں سے تین فائر نکل کرسیدھے سکھوں کے ہجوم میں گھس گئے۔ فائر کارتوسوں سے کیے گئے تھے،اِس لیے چھَرًے اِس طرح زور سے بکھرے،جیسے مینہ کے چھنٹے برس پڑے ہوں۔ بادل زور سے برس اور گرج رہے تھے۔ اِس قدر تیز بارش میں حملہ آوروں کا دھیان پہلے ہی بٹا ہوا تھا کہ ِان فائروں سے وہ اور زیادہ بوکھلا گئے۔ لیکن اب وہ بھاگنے کے لیے نہیں آئے تھے۔ اُن کے دو بندے گر گئے جس کی وجہ سے غصہ دو چند ہو گیا اور وہ اندھا دُھن مکان کے دروازے کی طرف دوڑ پڑے۔ کچھ نے چھت کی طرف گولیاں برسانی شروع کردیں۔ بہت سے سکھوں نے مل کر حویلی کے بڑے دروازے کو دھکا دیا تو وہ منٹوں میں زمین بوس ہو گیا۔ اُس کے ساتھ ہی تمام سکھڑے مکان کے صحن میں بھر گئے،جن پر کوٹھے کی چھت سے ایک اور فائر وں کی بوچھاڑ پڑی۔ اِس بوچھاڑ سے کئی سکھ مزید زخمی ہو کر گر پڑے۔ لیکن وہ مسلسل واہگرو اور ست سری اکال کے نعرے لگاتے ہوئے اور تلواریں،برچھیاں لہراتے ہوئے آ گے ہی چلے آ رہے تھے اور کوٹھے پر بھی فائر کرتے جاتے۔ اِس فائرنگ سے حمیداکمبو،دلاور عرف دُلا اور شرفو اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن سوائے اِس کے،کوئی رستہ نہیں تھا کہ لڑ مریں۔ چنانچہ وہ بھی چھت پر بیٹھے فائر پر فائر کرنے لگے۔ اِس مسلسل فائرنگ اور بارش کی وجہ سے شمشیر سنگھ کا جتھا کچھ دیر کے لیے کمروں کے دروازوں کی طرف بڑھنے سے رُک گیا،جہاں عورتیں چھُریاں اور دات تھامے اور خالی ہاتھ،بچے ماؤں کے پہلووں سے چمٹے سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ باہر کے شور شرابے اور مار دھاڑ میں ڈر اتنا غالب آ گیا کہ کچھ عورتیں دعاؤں کو چھوڑ کر رونا شروع ہو گئیں۔ اِسی باہر کے پٹاخوں اور نعروں کی اُونچی آوازوں سے گھبرا کر بچے مسلسل رو رہے تھے۔ رحمت علی نے محسوس کیا کہ سکھ کچھ ہی دیر میں کمروں کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہو جائیں گے اور سب کچھ برباد ہو جائے گا،تو اُس نے،جن لوگوں کے پاس رائفلیں تھیں،اُنہیں کہا کہ وہ چھت پر ہی رہیں اور سکھوں پر اُس وقت تک فائر کرتے جائیں جب تک کارتوس موجود ہیں یا جب تک ہم زندہ ہیں۔ باقی سب نیچے چھلانگیں مار کر دالان میں جمع سکھوں پر حملہ کر دو۔ ویسے بھی کئی سکھ صحن میں کھڑے ہوئے نیم کے بڑے درخت پر چڑھ چکے تھے۔ جس کی شاخیں مکانوں کی چھتوں سے بھی بلند تھیں۔ یہ سکھ یہاں سے چڑھ کر کوٹھوں پر بیٹھے لوگوں پر فائرنگ کرنے لگے۔ جس کی وجہ سے بندوں کا نقصان بڑھ گیا۔ اِن حالات کے پیش نظر آمنے سامنے سے بھی فائرنگ شروع ہو گئی۔ رحمت علی کی بات سُن کر سب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ،نیچے چھلانگیں مار دیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے دوبدو لڑائی شروع ہو گئی۔ چھویاں،ڈانگیں،کرپانیں اور بر چھیاں اِس طرح برسنے لگیں جیسے ساون کی بارش برس رہی تھی اور پانی کے ساتھ خون کے پرنالے بھی بہنا شروع ہو گئے۔ سکھ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اِس لیے نقصان مسلمانوں کا زیادہ ہو رہا تھا۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ سکھ مکمل طور پر محفوظ تھے۔ اگر دو بندے مسلمانوں کے گرتے تو ایک سکھوں کا بھی گر جاتا۔ کچھ ہی دیر میں لڑائی نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ کسی کو کسی کا ہوش نہ تھا۔ بس غلام حیدر کے مکان کا تین کنال کھلا صحن تھا،بارش کا شور تھا،خون اور پانی کے تریڑے تھے۔ یا پھریا علی مدد اور واہگرو کے نعروں کی گونج تھی۔ جن میں بچوں اور عورتوں کے رونے کی آواز دب کر رہ گئی تھی۔ جودھا پور والے اِس بے جگری سے لڑ رہے تھے کہ شمشیر سنگھ حیران رہ گیا۔ مکان چاروں طرف سے گھرا ہوا تھا۔ مرنے والے اور لڑنے والوں کے پاس اب نہ تو قائد اعظم تھا،نہ نواب افتخار اور نہ ہی گاندھی اور نہرو موجود تھے۔ وہ سب لیڈراپنے گھروں میں محفوظ،اِس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ہندوستان کے صوبے پنجاب کے ضلع فیروزپور کی تحصیل جلال آباد کے تھانے مکھسر کے ایک گاؤں جودھا پور میں اِس وقت خون اور پانی کی جنگ ہو رہی ہے۔ اُنہیں نہیں پتا تھا کہ ُاس کے نتیجے میں،جو مارے جارہے ہیں،اُن کا مقدمہ کس عدالت میں چلایا جاسکتا ہے؟یا اگر وہ جانور ہیں اور اُن کا خون بہا نہیں تو یہ اُنہیں پہلے کیوں نہ بتایا گیا۔ جہاں تک یا د پڑتا ہے،اُن کے کانوں نے تو کسی آزادی وغیرہ کا نام سنا تھا۔ اُن بڑے لیڈروں نے تو جودھا پور،شاہ پور اور جھنڈو والا کے نام بھی نہیں سُنے تھے،جو ہوائی جہازوں کے ذریعے سرحدیں پار کر رہے تھے،بمع سازو سامان اور اہل و عیال۔ ان بڑے بڑوں کو تو چھوڑیے،خود اِن جودھاپور اور جھنڈووالا کے لڑ کر مرنے والوں کو بھی نہیں پتا تھا،وہ کیوں لڑ اور مر رہے ہیں؟کیونکہ اِس لڑائی میں نہ گاندھی شامل تھا اور نہ محمد علی جناح،لیکن لڑائی جاری تھی اور لاشیں گر رہی تھیں،بارش ہو رہی تھی۔

اِسی دوران رفیق پاؤلی گاؤں میں اپنے بندوں کے ساتھ داخل ہو گیا اور جودھا پور پر اِتنے سارے حملہ آور سکھوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ جلد ہی ساری صوت حال کو سمجھ گیا تھا اور جی میں اِس بات پر خدا کا شکر کیا کہ غلام حیدر کے سامنے سرخ رو ہونے کے لیے عین موقعے پر پہنچ گیا تھا۔ رفیق پاؤلی نے فوراً اپنے آپ کو سنبھا لا اور اپنے بندوں کو سکھوں پر فائر کھولنے کا کہہ دیا۔ جس کے بعد ایک دم یا علی کے نعروں کے ساتھ سکھوں پر پانچ مزید رائفلوں سے گولیاں برسنا شروع ہو گئیں۔ شمشیرسنگھ اور اُس کے ساتھی اِس اچانک حملے سے گھبرا گئے۔ مگر جلد ہی اُس نے اپنے بندوں کو قابومیں کر کے رفیق پاؤلی پر بھی حملے کے لیے آگے کر دیا۔ رفیق پاؤلی کے آنے سے جودھا پوریوں کے حوصلے کئی گنا بڑھ گئے۔ اُس کی وجہ سے مکان کے اندر اور باہر،دونوں جگہ گھمسان کا رن پڑ گیا۔ رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے کھلی جگہ پر تھے۔ اِس لیے اندر کی لڑائی سے باہر کی لڑائی زیادہ تیز ہو گئی۔ اُدھر اندر والے بھی کئی لوگ بھاگ کر باہر آنے لگے۔ اُنہیں محسوس ہوا،غلام حیدر اپنے بندوں کے ساتھ مدد کو آگیا ہے۔ اِس افراتفری میں یہ ہوا کہ چند ہی لمحوں میں حویلی کا صحن سکھوں سے خالی ہو گیا اور باہر لڑائی کا زور پیدا ہو گیا۔ اب چھت پر بیٹھے ہوئے بندوق والوں کو کُھل کر فائر کرنے کا موقع مل گیا۔ لیکن کارتوس کم ہو گئے تھے۔ مگر اُس کا اندازہ خدا کا شکر ہے،شمشیر سنگھ کو نہیں تھا۔ باہر چونکہ لڑائی کا زور بہت بڑھ گیا تھا اور سب کا رخ رفیق پاؤلی اور اُ س کے بندوں کی طرف تھا،اِس لیے شمشیر سنگھ کی گولیوں اور کرپانوں کا تماشا بھی اُدھر ہی ہونے لگا۔ اُدھر جودھا پور والے،جو حویلی کے اندر لڑ رہے تھے،وہ بھی باہر نکل آئے۔ عورتیں اور بچے پھر کچھ دیر کے لیے محفوظ ہو گئے۔ لڑائی کا یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ جس میں ابھی تک کسی کو نہیں معلوم تھا کہ کتنے مسلمان مر گئے ہیں اور کتنے سکھ؟البتہ اِتنا ہو ا کہ رفیق پاؤلی کے آنے کی وجہ سے جودھا پور والوں کے حوصلے اور قوت میں اضافہ ہو گیا۔ اِس لیے وہ پہلے سے زیادہ بہادری سے لڑ نے لگے۔ اُن کے اِس طرح لڑنے سے سکھوں کے حوصلے اُٹھ سے گئے۔ وہ جس عظیم فتح کا گمان لے کے جھنڈو والا سے آئے تھے،اُس پر کچھ اوس پڑ تی نظر آ رہی تھی۔ نقصان ہر چند مسلمانوں کا ہی زیادہ تھا لیکن شمشیر سنگھ اور اُس کے متروں کو حملہ کرنے سے پہلے یہ توقع نہیں تھی کہ معاملہ اتنی مزاحمت اختیار کر جائے گا۔ اِدھر نہ جانے کہاں سے کاہنا سیؤ نے تاک کر ایک گولی ماری کہ سیدھی آکر رفیق پاؤلی کے دل پر لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اِس گولی کا لگنا تھا،مسلمانوں نے نعرہ بازی بلند کر دی۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ مر تو جانا ہے،کیوں نہ زیادہ سے زیادہ سکھوں کو لے کر مریں۔ یہ سوچ کر مسلمان اِس طرح سکھوں پر ٹوٹ پڑے جیسے سروں پر بارش کے تریڑے گر رہے تھے۔ اِس گھمسان کی وجہ سے لاشوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی اور بیسیوں بندے ادھر اُدھر بکھر گئے۔ گویا پانی پت کی لڑائی جاری ہو۔ بارش کے پانی کا زور،کیچڑ اور اُس میں زخمی ہو کرگرنے والوں کا خون،زخمیوں کی چیخیں اور ڈانگوں کے کھڑاک نے وہ ہنگامہ برپا کیا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ شمشیر سنگھ کو یہ دیکھ کر اپنی فتح کے آثار قریب نظر آنے لگے۔ وہ مزید زور زور سے ست سری اکال کے نعرے دہرانے لگا۔ اِس کی وجہ سے اپنے آپ سے بے خبر ہو گیا اور آگے پیچھے کی ہوش نہ رہی۔ اُسی وقت چھت پر سے ایک گولی شمشیر سنگھ کے ماتھے پر آکر لگی اور وہ گھوڑے سے سیدھا زمین آ پڑا۔ یہ دیکھ سکھوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ اُنہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ مسلمانوں نے اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی یلغار بڑھا دی اور بھاگتے ہووں کو مارنے لگے۔ یہی وہ وقت تھا،جب سکھوں نے جیتی ہوئی لڑائی کو شکست سمجھ لیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں اُن سے خالی ہو گیا۔ البتہ جاتے ہوئے اُنہوں نے شمشیر سنگھ کی لاش ضرور اُٹھا لی۔ باقی جو سکھ مر گئے تھے،اُن کو وہیں چھوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے جودھا پور والوں میں مزید خوشی دوڑ گئی اور وہ اُن کا تعاقب کرتے ہوئے ایک دو ایکڑ تک پیچھے بھاگے،پھر لوٹ آئے۔ لڑائی قریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی تھی۔ اِس لیے شام کے سائے برستے ہوئے بادلوں کے ساتھ مل کر گہرا اندھیرا کرنے لگے۔ لاشوں کا حساب شروع کیا تو جودھا پور کے چالیس بندے مر چکے تھے اور سولہ سکھ بھی وہیں ڈھیر ہوئے پڑے تھے۔ زخمیوں کی تعداد الگ تھی۔ اِس کے علاوہ رفیق پاؤلی اور اُس کے ساتھ آئے بیس میں سے پانچ بندے مزید مارے جا چکے تھے۔

بارش ابھی ہلکی ہلکی جاری تھی۔ کچی زمین ہونے کی وجہ سے کیچڑ،پانی اور کھوبے نے چلنے پھرنے میں مشکل پیدا کر دی۔ رفیق پاولی مارا جا چکا تھا،اِس لیے حالات کی ڈور جانی چھینبے اور رحمت علی نے سنبھا ل لی۔ شام کی اذان کا وقت ہو گیا تھا۔ جانی نے سب زندہ لوگوں،بچوں اور عورتوں کو اکٹھا کیا اور اُنہیں کہا،جو کچھ اُٹھا سکتے ہو،اُٹھا لواور جلدی یہاں سے نکلنے کی کرو۔ رحمت علی نے کچھ بندوں کو لے کر ایک گڑھا کھدوانا شروع کر دیا تاکہ لاشوں کو جلدی سے دفن کر دیا جائے۔ اب یہ طے تھا کہ اتنی جلدی یا کم از کم رات کے وقت سکھ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ مگر یہ ضرور تھا کہ اگلے دن وہ دوبارہ نئی طاقت سے چڑھ آئیں گے۔ اِس لیے رات ہی جودھا پور چھوڑ دینا ضروری تھا۔ عورتیں اپنے مرنے والوں پر رونے اور بین کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری میں مصروف ہو گئیں۔ وہ کبھی اپنے کپڑے سنبھالتیں اور کبھی بھائیوں،باپوں اور خاوندوں کے اُوپر گر گر کے دو ہتھڑ پیٹتیں اور بین کرتیں،جنہیں چند لمحوں بعد وہ خود چھوڑ جانے والی تھیں۔ اُنہیں رہ رہ کر اِن لاشوں کی تنہائی اور بے کسی کچوکے لگا رہی تھی۔ جن پر اب نہ وہ اگر بتی سلگا سکتی تھیں اور نہ اُن کی قبروں پر بیٹھ کے ماتم کر سکتی تھیں۔ اِسی عالم میں جو کپڑا لتا،اُن کے ہاتھ میں آیا،اُس کی گٹھڑی باندھ لی۔ گڑھا تیار ہو گیا توجودھا پور کے مولوی نے،جو خوش قسمتی سے بچ گیا تھا،جلدی سے اور مختصر ترین جنازہ پڑھا اور لاشوں کو دفنانے کا کہہ دیا۔ سکھوں کی لاشیں،جن سے اب وحشت ہو رہی تھی،اُنہیں ویسے ہی پڑا رہنے دیا۔ اِس دوران بارش بالکل رُک چکی تھی۔ گویا بارش ایک ایسا رجز تھی،جو اُس وقت تک جاری رہا،جب تک لاشیں گرتی رہیں۔

رات دس بجے کے قریب یہ بد نصیب قافلہ،جس کے آدھے مرد پل بھر میں لاشوں میں تبدیل ہو کر گڑھے میں جا چکے تھے،جلال آباد کی طرف چھکڑوں پر اور پیدل روانہ ہو گیا۔ عورتیں اور بچے خوش قسمتی سے بچ گئے تھے۔ قافلے کے ساتھ رفیق پاؤلی،حمیدا کمبوہ سمیت پانچ لاشیں،آٹھ زخمی،بین کرتی ہوئی عورتیں اور روتے ہوئے بچے تھے،جورات کے اندھیرے میں اپنے گھروں کو چھوڑتے ہوئے،اُن پر حسرت بھری نظر بھی نہ مار سکے اور اپنے گھروں کی دہلیزوں کو ڈر کے مارے پلٹ کر دیکھ بھی نہ سکے۔ بوڑھی عورتیں،بچے اور زخمی زیادہ تر چھکڑوں پر لادے گئے،جب کہ جوان عورتیں اور مرد پیدل چل دیے۔ بارش اِتنی شدید ہوئی تھی کہ ہر طرف جل تھل عام ہو گیا۔ سڑکیں پانی اور کیچڑ میں بدل جانے سے چھکڑوں اور گڈوں کا چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ چنانچہ اُن کو جتنا زیادہ ہلکا رکھا جا سکتا تھا،چھکڑوں میں جُتے ہوئے بیلوں کے لیے اتنا ہی بہتر تھا۔ یہ قافلہ رات بھر کراہتا ہوا چلتا رہا،جس کے پیچھے پیچھے ڈر بھی دوڑا چلا آرہا تھا،اس لیے وہ پل بھر کو کہیں آرام کرنے کے لیے ٹھہر بھی نہ سکااوردن نکلنے تک جلال آباد پہنچ گیا۔

قافلہ جس وقت جلال آباد پہنچا،صبح کے چھ بج رہے تھے۔ غلام حیدر فکر مندی سے اُن کے انتظار میں اِدھر اُدھر حویلی میں ٹہل رہا تھا۔ جیسے ہی اُس نے اِس لُٹے پُٹے قافلے کو دیکھا اور رفیق پاؤلی کی لاش پر نظر پڑی تو دل ایک جھٹکے کے ساتھ دہل گیا اور دم سینے میں اٹک سا گیا۔ غلام حیدر نے تمام لوگوں کی دلجوئی کی خاطر قافلے کو جلدی سے حویلی کے احاطے میں اُتارا اور عورتوں اور بچوں کو اندرونی صحن میں بھیج دیا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں اور بیوی موجود نہیں تھیں۔ اُنہیں غلام حیدر نے دس پندرہ دن پہلے ہی پاکپتن بھیج دیا تھا،جس کے بارے میں یقین تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہو جائے گا۔ اِس لیے اُنہیں دلاسا دینے کے لیے حویلی میں کوئی نہیں تھا۔ یہ عورتیں،جو اپنے تازہ مُردوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جودھا پور کے گڑھے میں چھوڑ آئی تھیں۔ یہ عورتیں،جنہیں لاشوں پر آرام سے بیٹھ کر رونا نصیب نہیں ہوا تھا اور نہ اُن کی قبروں اور چارپائیوں کے پایوں کو پکڑ کر بین کر سکیں تھیں۔ یہ سب غلام حیدر کی حویلی کے اندرونی صحن میں اِس طرح داخل ہو رہی تھیں،جیسے صحرائے سینا سے نکل آئی ہوں اور اب آرام سے بیٹھ کر اپنے نقصان کا تخمینہ لگا سکیں۔ رفیق پاؤلی،حمیدہ کمبوہ،دلاور،الہ داد اور شریف جلاہے کی لاشیں حویلی کے دالان میں پڑی غلام حیدر کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر رہی تھیں۔ جبکہ وہاں کھڑے ہو ئے تمام لوگ اُن کو ایسے دیکھ رہے تھے،جیسے خراج تحسین پیش کر رہے ہوں۔ باقی اِدھر اُدھر بیٹھ کر اُن کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،اب وہ اِن کا نہ تو بدلا لے سکے گا اور نہ مداوا کر سکے گا،۔ سوائے اِس کے کہ وہ اِن بچے کھچے اور اُجڑے پُجڑے لوگوں کو لے کر جتنی جلدی ہو سکے،ستلج پار کر جائے۔

ایک طرف تو غلام حیدر کے یہ مزارع اور رعایا تھی،جو اُس پر اپنا حق سمجھتے ہوئے یہاں آگئے تھے یا لائے گئے تھے۔ اِن کے علاوہ ارد گرد کے ہزاروں لوگ بھی حویلی کے آس پاس جمع ہو رہے تھے،جنہیں یا تو سکھوں کا ڈر تھا،یااُن کے پاس سفر کرنے کے لیے ضرورت کا تنکا تک نہ تھا۔ غلام حیدر کے پاس اِن لوگوں کا جمع ہو جا نا اُنہیں گویا اپنی حفاظت کا یقین دلاتا تھا۔ لوگ اتنے جمع ہو گئے تھے جن کا حویلی کے صحن میں پورا آنا مشکل ہو گیا۔ اِس لیے اُنہوں نے حویلی کے باہر ہی اپنے آسن جما لیے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،ایک دو دن تک تو یہاں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن زیادہ دیر تک وہ اِن لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔ اُس کا ڈر سکھوں پر ایک حد تک رہ سکتا تھا۔ اُس کے بعد معاملہ بگڑ جاتا۔ کیونکہ اطلاعیں ملنے لگی تھیں کہ دریا پار سے سکھوں کے کئی قافلے لُٹ پُٹ کر جلال آباد آرہے ہیں،جو شمالی اور جنوبی پنجاب کے مسلمانوں کے جہاد کی نظر ہو گئے ہیں۔ اب اُن کی آبادی لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی،جنہیں دیکھ کر جلال آباد اور مضافات کے عام اور شریف سکھوں کے بھڑک اُٹھنے کا بھی اندیشہ تھا۔ وہ کسی وقت بھی غلام حیدر کے ڈر کو نظر انداز کر سکتے تھے۔ جب غلام حیدر کو جانی چھینبا جودھا پور میں ہونیوالی لڑائی کا تمام ماجرا سنا چکا تو اُس نے ایک ٹھنڈی آ ہ کھینچی۔ جس کا مطلب غالباًیہ تھا کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ اِسی لیے اُٹھتے ہوئے بات فوراًکسی اور طرف پھیر دی اور بولا،جان محمد ایسا کرو،جلدی سے چاچے رفیق اور دوسرے شہیدوں کی لاشوں کا بندوبست کر کے انہیں دفناؤ،بادل پھر چڑھ آئے ہیں اور نہ جانے کب برسنا شروع ہو جائیں۔ اِس کے علاوہ ہمارے گودام میں جتنا غلہ ہے،اُس کے دروازے اِن اجنبی دیس میں جانے والے مسافروں پر کھول دو۔ بچارے جتنے دن یہاں ہیں،پیٹ بھر کر کھا لیں،پھر خدا جانے اِنہیں کبھی کھانا نصیب ہو،یا نہ ہو۔ اور جہاں یہ جا رہے ہیں،وہاں کوئی اِن کا پُر سان حال ہو گا بھی کہ نہیں۔ بادل پھر گرجنے لگے تھے اور اُن کی سیاہی کل سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جودھا پور کی لڑائی کو چار دن گزر چکے تھے۔ عورتوں کے بین رک تو گئے تھے لیکن اُنہیں رہ رہ کر اپنے مُردوں کی یاد آتی تو وہ پھر رونا شروع کر دیتیں۔ پھر یہ درد جلد ہی تھم جاتااور چُپ کر جاتیں۔ یہ قافلہ اِرد گرد کے بیس پچیس گاؤں کا تھا،جس کی تعداد کم از کم چھ ہزار ہو چکی تھی اور اِس کا نقیب غلام حیدر تھا۔ غلام حیدر کی جیپ (جو نواب افتخار نے اُسے الیکشن جیتنے کے بعد تحفے کے طور پر دی تھی)،کے ارد گرد تیس پینتیس گھڑ سوار بندوقوں اور برچھیوں سے لیس چل رہے تھے۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ بارش تھمنے کو نہیں آتی تھی۔ کچی سڑکیں کیچڑ سے اِس قدر بھر گئیں کہ دو قدم چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ بعض جگہ تو دُور تک گھُٹنوں گھٹنوں پانی کے تا لاب لگ گئے اور پیدل والوں کے لیے،جو قافلے کا ستر فی صد تھے،مصیبت ہو گیا۔ اُن کا حساب،کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا،والا تھا۔ لیکن غلام حیدر کسی کو بھی پیچھے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اِدھر سکھ بارش کی طرح،نہ جانے آسمان سے برس رہے تھے کہ زمین سے اُگ رہے تھے۔ اُن سکھوں میں سے بیشتر کی حالت بھی انتہائی ابتر تھی۔ اُن کے لُٹے پُٹے اور بے دست و پا چھوٹے چھوٹے گروہ جب غلام حیدر کے قافلے کے قریب سے گزرتے تو دونوں اطراف کی آنکھیں ایک دوسرے کی کسمپرسی پر شرمندگی سے جھک جاتی اور وہ بغیر ست سری اکال،یا واہگرو کا نعرہ مارے گزر جاتے۔ غلام حیدر جانتا تھا،یہ وہی لوگ ہیں،جن کی حالت جودھا پور والوں سے کم نہیں تھی۔ اب بارش اور تیز ہوا نے اتنا زور پکڑ لیا تھا کہ اگست کا مہینہ پوہ ماگھ سے آگے نکل گیا۔ اُ س پر ستم یہ کہ نہر بنگلہ کے کنارے فسادیوں نے توڑ کرپانی سڑکوں اور کھیتوں پر بہا دیا۔ جس کی وجہ سے اِنہیں مجبوراً نہر کی پٹڑی پر چلنا پڑا۔ چلتے چلتے ایک جگہ سے قافلہ گزرا تو دیکھ کر حیران رہ گئے،نہر بنگلہ،جسے ولیم کے نہری عملے نے بنایا تھا،کی پٹڑی پر چار کلو میٹر تک لاش کے ساتھ لاش جوڑ کر اِس طرح رکھی ہوئی تھیں کہ ایک مرد کی لاش،اُس کے بعد عورت کی لاش پھر مرد کی لاش تھی۔ کسی کا گَلا کٹا تھا،کسی کے جسم کا کوئی اور عضو کٹا تھا،خون اور مٹی میں لتھڑی ہوئی اِن کئی ہزار لاشوں کا سلسلہ دور تک اِسی طرح پھیلا ہوا تھا۔ خُدا جانے،آنے والے دنوں میں اِن کا بندوبست کون کرنے والا تھا۔ اُن کو دیکھ کر قافلے کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ سوچنے لگے،اگر غلام حیدر ساتھ نہ ہوتا،تو اُن کی بھی یہی حالت ہوتی۔ یہ سب لاشیں مسلمانوں کی تھیں،جن کے اُوپر پاؤں رکھ کراور اُن کو روند کر اِس قافلے نے چار کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ کیونکہ کھیتوں میں اور سڑکوں پر پانی اور کیچڑ نے چلنے کی سکت بالکل ختم کر دی تھی۔ لاشیں ایک دن پہلے کی تازہ ہی تھیں۔ بارش اُن گمنام شہیدوں پر برس برس کراپنی رحمتیں نچھاور کر رہی تھی۔ اِن مشکلوں کے باوجود قافلہ روز کے دس کلو میٹر طے کر رہا تھا۔ رستے میں کئی کئی شرنارتھیوں اور مقامی سکھوں کے لوٹ مار والے جتھوں سے ٹاکرا بھی ہو رہا تھا۔ لیکن غلام حیدر کے حفاظتی دستوں کو دیکھ کر اِدھر اُدھر ہو جاتا۔ البتہ دہلی،ہریانہ اور مشرقی پنجاب کے بالائی علاقوں سے آنے والے مہاجرین کو لوٹنے سے اُنہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ لوگ اِن کے ہاتھوں سے اِس طرح لٹ لٹ کر خالی ہو رہے تھے جیسے ببول کی شاخیں اُونٹ کے منہ میں آکر پتوں سے صاف ہو جاتی ہیں اور مسلمان اِس طرح کٹ رہے تھے،جیسے دھان کی فصلیں جالندھر کی درانتیوں سے کٹتی ہیں۔ بہر حال غلام حیدر کا قافلہ گپھایااور لکھے کی سے ہوتا ہواپانچ دن میں فاضلکا بنگلہ پہنچ گیا۔ قافلہ ہیڈ سلیمانکی کی بجائے لکھے کی سے ہی دریا پار کر کے وسطی پنجاب میں داخل ہو سکتا تھا۔ لیکن ُمون سُون کی بارشوں کی وجہ سے،جو پچھلے کئی دن سے ایک پل سکون نہیں لینے دے رہی تھی،دریا کا پاٹ بڑھ کر ایک کلو میٹر ہو گیا تھا اور گہرائی بھی معمول سے کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ بہت سے لوگوں نے،چاہے وہ سکھوں میں سے تھے یا مسلمانوں میں،براہ راست دریا کو پار کرنے کی کوشش بھی کی،لیکن اُن کی لاشیں ہی کناروں پر آئیں اور کئیوں کی تو لاشیں بھی نہیں ملیں۔ ا سِ لیے اُدھر کا راستہ مکمل بند ہو چکا تھا اور سلیمان کی ہیڈ سے پار کرنا ناگزیر تھا۔ بنگلہ میں ایک رات گزارنے کے بعد،جہاں شاہ پور والے اُن کا انتظار کر رہے تھے،سب مل کر ہیڈ سلیمانکی کو روانہ ہو گئے اور شام کے وقت ہیڈ پر پہنچ گئے۔ سلیمانکی ہیڈ پہنچ کر غلام حیدر حیران رہ گیا۔ دُور تک لوگ ہی لوگ تھے۔ جدھر نظر جاتی سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ غلام حیدر اتنے سارے لوگوں کو ہیڈ کے مضافات میں بیٹھے دیکھ کر پریشان ہو گیا اور یہاں پر رکے رہنے کا سبب معلوم کرنے لگا۔ کافی دیر تک تحقیق کرنے سے اُس پر جلد ہی کھل گیا کہ معاملہ کیا ہے؟ کئی لوگ پندرہ دن سے بیٹھے تھے۔ اِن میں سے وہ بھی تھے،جن پر رات کے وقت لوٹ مار کرنے والے کئی کئی بار شب خون مار چکے تھے،قتل کر چکے تھے،اسباب لوٹ کر لے جا چکے تھے اور عورتوں تک کو اُٹھا کر لے گئے تھے۔ بلکہ ایسے بھی تھے،جو ڈیڑھ دو دوسو میل سے بالکل مع اسباب سلامت آگئے تھے،مگر یہاں پر اُن کو لوٹ لیا گیا تھا۔ اِس کا سبب گورکھا فوج تھی،جو ہیڈ پر دونوں طرف کے لوگوں کو عبور کرانے پر متعین تھی۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ انتہائی بے رحمی کا سلوک کرتے ہوئے،اُن کو پچھلے پندرہ بیس دنوں سے ہیڈ پر ہی روکے بیٹھی تھی۔ جبکہ ہندؤوں اور سکھوں کو برابر ہیڈ کراس کرا رہی تھی۔ اُس کی کچھ وجہ تویہ تھی کہ ہیڈ کا پُل نہائت تنگ اور کافی لمبا تھا اور اُس کے دونوں سروں پر لاکھوں لوگ گزرنے کے لیے بیٹھے تھے،جن کے پاس مال مویشی،گڈے،چھکڑے اور دوسرا بے بہا مال اسباب بھی تھا۔ جبکہ وقت بہت کم تھا لیکن زیادہ دخل بد نیتی کا تھا۔ گور کھا فورس پاکستان مخالف تھی۔ اِس لیے اُن کا مسلمانوں کے ساتھ متعصب ہو جانا فطری تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کو مسلسل روکے کھڑی تھی اور دوسری طرف سے اپنے ہم مذہبوں کو بارڈر عبور کرا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان کئی دنوں سے یہاں بیٹھے بیماری سے مر رہے تھے،بھوک سے مر رہے تھے،بارشوں سے مر رہے تھے،اور رہے سہے بدمعاشوں کی لوٹ مار،قتل و غارت اور شب خون سے مر رہے تھے۔ غلام حیدر نے پورے دو دن تک تمام چیزوں کا جائزہ لیا،چل پھر کر لوگوں کے حالات معلوم کیے،پھر دل ہی دل میں ایک فیصلہ کرنے لگا۔

بڑی سوچ بچار کے بعد اُس نے ڈیوٹی پر موجود میجر صاحب سے ملاقات کی کوششیں شروع کر دیں۔ مگر ہزار کوشش کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔ غلام حیدر جلال آباد کے علاقے میں کتنا ہی معروف سورما رہا ہو،اب اُس کی حیثیت یہاں پر ایک عام آدمی ہی کی تھی۔ بالکل اُن بے شمار لوگوں کی طرح،جن کی اوقات اِس وقت گورکھا فورس کے سامنے بارش میں بھیگے ہوئے،خارش زدہ کتے کی تھی۔ ایسا کتا،جس کو کراہت،اور بیماری کے ڈر سے گھر کی دہلیز کے باہر سے ہی دھتکار دیا جاتا ہے۔ غلام حیدر میجر سے ملنے کے لیے اور اپنے مسائل بتانے کے لیے آگے تک چلا گیا اور فورس کے بار بار منع کرنے پر ضد کرنے لگا تو دو تین سپاہیوں نے غلام حیدر کو گالیوں کے ساتھ دو چار دھولیں جما دیں،جنہیں ہزاروں لو گوں نے دیکھا۔ اُن لوگوں نے بھی،جنہیں امیر سبحانی کے ریکارڈ ابھی تک یاد تھے۔ اُن سب لوگوں نے اُن گالیوں کو سنا،جو غلام حیدر کے ماں باپ کو دی گئی تھیں اور اُن دھولوں کو دیکھا،جو غلام حیدر کو پڑی تھیں۔ خود امیر سبحانی نے دیکھا،جس نے یہ ریکارڈ بھرے تھے اور اب وہ ریکارڈ اِس طرح یاد تھے،جیسے اپنے ہاتھوں کی پانچ انگلیاں۔ اِس حبس پیدا کر دینے والی اور سانس روک دینے والی بے عزتی کی وجہ سے غلام حیدر کا جی چاہا،وہ اِسی وقت دریا میں چھلانگ لگا دے۔ مگر غلام حیدر نے دریا میں چھلانگ نہیں لگائی،ایک سخت فیصلہ کر لیا،۔ وہ تھا گورکھا فورس سے بھِڑ جانے کا۔
غلام حیدر نے واپس اپنے قافلے میں آکر سب دوستوں کو جمع کیا۔ جوش اور جذبات سے بھری ہوئی رُندھا دینے والی آواز میں بولنے لگا،بھائیو،مَیں تمھارا بھائی غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ماں ابھی اُس پر رونے والی موجود ہے۔ جس کا ایک بیٹا اور بیوی اُس پر بین کرنے والی ابھی بیٹھی ہے۔ یاد رکھنا،میں نے کبھی تمھارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ نہ میں نے پیٹھ دکھائی اور تمھیں حقیر جانا۔ میں نہ تو قائد اعظم ہوں،جو اِس وقت دہلی میں بیٹھا ہے اور نہ نواب افتخار،جو لاہور نواب ولاز میں ہے۔ میں غلام حیدر ہوں،جس نے ہجرت کی۔ بارشوں میں تمھارے ساتھ،بیماری میں تمھارے ساتھ اور فساد میں تمھارے ساتھ۔ جسے رفیق پاؤلی کا دُکھ ہے،حمیدا کمبوہ کا دکھ ہے،چراغ دین کا دُکھ ہے اور اُن جودھا پور کے چالیس شہیدوں کا دکھ ہے،جو گڑھوں میں دفن ہو گئے۔ مَیں غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ذِلت آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ یہ ذلت مجھ غلام حیدر کی ہوئی،جسے جھنڈو والا جانتا ہے،میگھا پور جانتا ہے،پورا فیروز پور جانتا ہے۔ یہ ذلت میری نہیں،تم سب کی ہے۔ میں نہیں چاہتا،لوگ مجھ پر ہنسیں اور مزے لے کر میری رسوائی کی کہانیاں اپنی اولادوں کو سنائیں۔ میں امیر سبحانی کی زبان کو جھوٹا نہیں کر سکتا اور ذلت سے جی نہیں سکتا۔ تم میں سے جو میرے ساتھ جانا چاہتا ہے،آ جائے۔ میں آج فیصلہ کرنے والا ہوں،اپنے اور اِن حرامزادوں کے درمیان،جنہوں نے بزدلوں کی طرح مجھے ذلیل کیا ہے۔ مَیں اُن کے ساتھ دو ہاتھ کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ جس نے میرا ساتھ دینا ہے،آ جائے۔ ورنہ میں اکیلا ہی اِس آگ سے گزرنے کے لیے تیار ہوں۔ زندہ رہا تو تمھارے ساتھ ہیڈ پار کروں گا،مارا گیا توراستہ ضرور کھول جاؤں گا۔ یہ کہہ کر غلام حیدر نے اپنی جیپ پر پاؤں رکھ دیا۔ اُسے دیکھتے ہی جانی چھینبا،شادھا تیلی،شوکا ماچھی اور چھ مزید جوان غلام حیدر کے ساتھ چل پڑے۔ اِن سب کے پاس رائفلیں تھیں۔

غلام حیدر کو دُھولیں مارنے کے بعد گورکھا فورس کے جوان مزید اَکڑ میں آ گئے تھے۔ ہیڈ پر زیادہ سے زیادہ پچاس سپاہی اور چھ آٹھ افسر موجود تھے لیکن اسلحہ کافی تعداد میں تھا۔ سکھ،ہندو،اور دوسری قومیں۔ اُن کے گدھے،گھوڑے اور دیگر مال مویشی ہیڈ کو عبور کر کے اِدھر آ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے ہجوم حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ غلام حیدر اور اُس کے بندے جیسے ہی آگے بڑھ کر فورس کے سپاہیوں کے قریب ہوئے،اُنہوں نے جھٹ خطرے کو بھانپتے ہوئے رائفلیں تان لیں اور فوراً پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ یہ وقت سہ پہر کا تھا اور بارش کچھ دیر کے لیے رُکی ہوئی تھی۔ لیکن ہوا اور دریا کے پانی کا شور بہت تھا۔ جوانوں نے جیسے ہی رائفلیں سیدھی کر کے رُکنے کو کہا،غلام حیدر نے عاقبت سے بے نیازہو کرفائر کھول دیا۔ اُس کے ساتھ اُس کے بندوں نے بھی۔ دوسری طرف سے بھی گولیاں برسنی شروع ہوگئیں اور پُل پر بھگدڑ مچ گئی۔ پہلے ہی ہلے میں کئی سپاہی فائر لگنے سے گر گئے۔ غلام حیدر نے شوکے تیلی کو بھی گرتے دیکھ لیا تھا۔ گولی اُس کے سینے پر آ کرلگی تھی۔ گولیاں اتنی شدت سے برسنے لگیں کہ کسی کو یہ خیال نہ رہا،کس کو لگتی ہے اور کس کو نہیں۔ گولیوں کے ڈر سے کئی لوگ دریا میں کود کرپانی کو پیارے ہو گئے۔ غلام حیدر کا ڈرائیور جیپ کو جھٹ پٹ میں ہیڈ پر لے گیا،جہاں میجر صاحب موجود تھے۔ وہ اپنے کیبن میں بیٹھے تھے۔ لیکن کیبن زیادہ مضبوط نہ تھا۔ محض گھاس پھونس کا ایک جھونپڑا ہی تھا۔ گولیاں اب نہایت نزدیک سے اور دوُ بدُو چل رہی تھیں۔ جن کے تڑاکوں میں اتنی شدت آ گئی کہ دُور دُور تک مجمعے چھٹ گئے اور پُل چند ہی لمحوں میں اِس طرح صاف ہو گیا،جیسے جھاڑو پھر گیا ہو۔ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کوئی فرد نظر نہ آتا تھا۔ دھکم پیل میں زیادہ تعداد تو دریا میں ہی جا پڑی تھی۔ جس کی گہرائی کم از کم اِس پُل پر سے سو فٹ تھی۔ غلام حیدر عین پُل کے اُوپر پہنچ چکا تھا اور مسلسل گولیاں چلا رہا تھا۔ میجر صاحب کے کیبن کو گولیوں کے دھماکوں سے آگ لگ کر،گھاس پھونس کو اِس طرح جلا رہی تھی،جیسے چتا سے الاؤ اُٹھ رہے ہوں۔ یہ حالت دیکھ کر میجر کیبن سے باہر کی طرف بھاگ اُٹھا۔ اِنہی اوقات میں غلام حیدر نے تاک کر اُس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی،جن میں سے دو گولیاں اُس کے سر میں جا لگیں اور وہ وہیں لڑھک گئے۔ گورکھا سپاہیوں نے اپنے افسر کو یوں ڈھیر ہوتے دیکھا،تو وہ بوکھلا گئے۔ اِسی بوکھلاہٹ میں اُنہوں نے اندھا دھند فائرنگ برسا دی۔ اس دو طرفہ شدید فائرنگ میں دونوں طرف کے لڑنے والے اور دوسرے لوگ بیروں کی طرح گرنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں غلام حیدر بھی گولیوں کی بارش میں اپنے ساتھیوں سمیت،وہیں ہیڈ کے پل پر خون میں لت پت ہو گیا اور بارش کی رم جھم میں کچی سڑک پر منہ کے بل گر پڑالیکن ابھی جانی چھینبا بچا ہوا تھا۔ وہ اُس سنگِ میل کے پیچھے بیٹھا تھا،جس پر لکھا تھا،دہلی چار سواٹھارہ کلو میٹر۔ وہ سنگ میل کی آڑ لے کر مسلسل کار توس چلا رہا تھا،جس کی وجہ سے بچی کھچی گورکھا فورس اِدھر اُدھر بھاگ گئی اور چوکی بالکل خالی ہو گئی،جو میجر صاحب کے مرنے کی وجہ سے پہلے ہی تتر بتر ہوچکی تھی۔ اِسی بھاگم دوڑ میں جانی چھینبے کو بھی گولی لگ گئی۔ گولی اُس کی پسلیوں میں نجانے کدھر سے کچھ لمحے پہلے آ کر لگی تھی،لیکن اُس نے زخمی حالت میں ہی سنگ میل کی آڑ سے باہر آکر مسلمان قافلوں کو پکارنا شروع کر دیا۔ لوگ،جو موت جیسی حالت میں زندگی اور اُس ہیڈ سے اُکتائے بیٹھے تھے،وہ غلام حیدر کے غم کو بھول کر دریا کی طرح ہیڈ کی طرف بڑھے اور لمبے لوہے کے پُل پر چڑھ گئے۔ یہ پُل،جو اب بالکل خالی پڑا تھا۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ جس نے پُل خالی کرایا ہے،وہ کون ہے؟ اور اُس کی لاش کو اُٹھانا ضروری ہے کہ نہیں۔ غلام حیدر کی رعایاکے لوگ اور عورتیں اپنی اپنی لاشوں کے گرد اکٹھا ہو کر رونے پیٹنے لگیں مگر پھر اُنہوں نے بھی جلد ہی لاشوں کو اُٹھا کر چھکڑوں پر رکھ لیا اور دریا پار کرنے والوں کے ساتھ مل گئے۔ جبکہ جیپ اُس جگہ پر تنہا کھڑی رہ گئی،جس کی ہر چیز سلامت ہونے کے با وجود اُسے کوئی دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اُس کا مالک کون ہے؟جانی چھینبے کے لگا ہوا زخم تو جان لیوا نہیں تھا لیکن اُس کا خون اِتنا بہہ گیا کہ وہ بھی چند لمحوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملا۔

اب ہجوم اتنا زیادہ اور بے قابو ہو چکا تھا،اگر کوئی فورس آ بھی جاتی تو وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اُن خانہ خرابوں اور بھوکوں کے سیلاب نے جب پُل کے دوسری طرف جا کر ہندؤوں اور سکھو ں کی تھوڑی سی جمیعت کو دیکھا تو اُن پر بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ پھر تو نہ کسی کی ہدایت اُنہیں بچا سکی اور نہ قرآن و رسول کے واعظ کسی کام آئے۔ اس معاملے میں سب سے پیش پیش وہ ملا لوگ تھے،جو دہلی،ہریانہ،روہتک،گڑگاؤں اور حصار سے دھکے کھاتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔ وہ اُس وقت تک بیٹھے اور لُٹتے رہے جب تک غلام حیدر نہ آ پہنچا اور اب جو اُنہیں موقع ملا تو مُلا نے جہاد کے فتوے شروع کر دیے اور روہتکی مجاہد بن گئے۔
الغرض مسلمان پُل پار کرتے رہے اور مجاہد بنتے رہے۔ جبکہ جلال آباد،شاہ پور اور جودھا پور والے سب کو یہیں چھوڑ کر اپنی لاشوں کے ساتھ منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گئے۔ امیر سبحانی،جو غلام حیدر کے ملازموں میں واحد آدمی بچا تھا،وہ غلام حیدر کی لاش اُس کے وارثوں کے حوالے کرنے کے لیے پاکپتن جانا چاہتا تھا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں،بیوی اور اُس کا بیٹا انتظار میں بیٹھے تھے لیکن لاش خراب ہونے کے ڈر سے اُس نے غلام حیدر اور دوسرے ساتھیوں کی لاشیں وہیں ہیڈ پار کر کے دفن کر دیں اور خود منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گیا تاکہ بذریعہ ریل پاکپتن چلا جائے۔ ہیڈ عبور کرنے کے بعد مہاجرین،جن میں اب نہ غلام حیدر تھا اور نہ رفیق پاؤلی تھا،اِدھر اُدھر پناہ کے لیے بکھرنے لگے۔ ان سب مہاجرین کو اب آپ ہی آپ ایک سکون سا آ گیاتھا۔ گویا وہ اپنی قسمت پر اعتماد کر کے مطمئن ہو گئے ہوں۔ یہ ہزاروں خاندان،جنہیں شاید اب نہ کسی چھت کی ضرورت تھی،نہ پہننے کو کپڑا چاہیے تھا،نہ یہ کسی سواری کے محتاج تھے۔ ان گاؤں گاؤں اور قصبہ قصبہ چلنے والے لاکھوں زندگی اور موت کے درمیان،انسانوں اور جانوروں کے درمیان کی مخلوق کو بس کھانے کو روٹی کی ضرورت تھی۔ جو اِن کی عزت کے بدلے میں،جان کے بدلے میں یا کسی بھی چیز کے بدلے میں مل جاتی تو یہ جی سکتے تھے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ان لاکھوں خاندانوں میں بارش،بھوک اور مسلسل سفر کے دوران ہیضے اور گردن توڑ بخار کی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ یہ بیماریاں اتنی شدت سے پھوٹیں کہ جو کسی طرح کرپانوں کے لوہے سے بچ کر آ گئے تھے،وہ اِس قدرتی بوجھ تلے دب کر مرنے لگے اور یہ کیفیت صرف مسلمانوں کی طرف ہی نہ تھی بلکہ،
دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔

امیر سبحانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اکیلے ہی چلتا جا رہاتھا۔ اُس کی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی اور نہ دور نزدیک کوئی رشتہ دار تھا،نہ پُر سان حال۔ اُس کو یہ جلدی تھی کہ کسی طرح پاکپتن پہنچ جائے اور غلام حیدر کی ماں سے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کا اسباب لے لے۔ وہ یہ اسباب غلام حیدر کی ماں کو غلام حیدر کی موت کی خبر دے کر نیاز،درود اور قل ساتے کے کھانے سے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ غلام حیدر کی شہادت کی خبر سن کر اُس کی ماں اور بیوی بچوں کو جو صدمہ پہنچنا تھا،اُس کا اندازہ بھی اُس کو تھا،لیکن اُسے یہ بات بھی پوری طرح عیاں تھی کہ غلام حیدرکے ایصال ثواب کی نیازیں شروع ہونگی تو کم از کم سوا مہینہ تک جاری رہیں گی۔ اُس کے بعد خدا اور اسباب پیدا کر دے گا۔ اس کے علاوہ علاوہ امیر سبحانی نہ کسی پٹواری کو جانتا تھا اور نہ اس کا ربط ضبط کسی تحصیل دار یا قانون گو کے ساتھ تھا،جو اُس کو مہاجر تسلیم کر کے اُس کے نام چار ایکڑ زمین ہی لگا دے۔ اُسے تو یہ بھی خبر نہیں تھی کہ جس غیر ملک میں وہ آیا ہے،اِس میں اِس طرح کے محکمے بھی موجود ہیں؟ سکھوں اور ہندووں کو مارنے اور اُن کے مال پر قبضہ کرنے کی اُس میں ہمت نہیں تھی،جو اس علاقے میں ویسے ہی مر رہے تھے اور لٹ رہے تھے،جیسے ستلج کی دوسری طرف وہ مسلمانوں کو مرتا اور لٹتا دیکھ آیا تھا۔ گر تا پڑتا اپنے ایک بچے کو ہیضے سے مرنے کی وجہ سے رستے میں دفن کر کے بالآخر دو دن بعد امیر سبحانی منڈی ہیرا سنگھ پہنچ گیا،جہاں سے گاڑی پر بیٹھ کر وہ پاکپتن جا سکتا تھا۔

اسٹیشن پر ہزار ہا بچے،مرد،خواتین،بوڑھے،جوان،ناتوان اور ہٹے کٹے خیموں میں،بغیر خیموں کے،ادھر اُدھر گویا بکھرے پڑے تھے۔ ان میں مقامی لوگ پھر پھر کر ہندووں اور سکھوں کو ڈھونڈتے پھرتے اور اُن کا مال اساب چھینتے پھرتے تھے۔ امیر سبحانی اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ بیٹھا پاکپتن جانے والی گاڑی کے انتظار میں تھا،جس کے ٹائم ٹیبل کا اب کسی کو نہیں پتا تھا،نہ ہی کسی کو اُس کے دیر سے آنے کی شکایت رہ گئی تھی۔ بادل ابھی بھی گہرے چھائے ہوئے تھے اور بارش رہ رہ کر برس رہی تھی۔ منڈی ہیرا سنگھ کا اسٹیشن بالکل ویسا ہی چھوٹا سا تھا،جیسے قصبوں کے اسٹیشن ہوا کرتے ہیں۔ ایک ٹکٹ لینے دینے والوں کا کمرہ تھا،جس میں دو تین افراد کا عملہ۔ اِس کے علاوہ اسٹیشن پر سرخ اینٹوں کا فرش،جو ریل کی پٹڑی سے اِتنا ہی اُونچا تھا،جتنی اُونچی ریل کی آخری سیڑھی تھی۔ دونوں جانب کے فرش کے درمیان ایک بڑا سا نالہ بن جاتا تھا،جس میں ایک تو ریل چلتی تھی اور دوسرا بارش کا پانی،جو اُن دنوں شدت سے برس رہا تھا۔ منڈی ہیرا سنگھ کا یہ قصبہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بس ڈھائی تین سو گھر تھے اور وہ بھی بکھرے ہوئے۔ یہاں درخت بھی زیادہ نہیں تھے۔ ہاں مگر جگہ جگہ بیریوں کے پیڑ نظر آ جاتے تھے۔ الغرض منڈی ہیرا سنگھ ایک پُر سکون جگہ تھی۔ مگر جب سے تقسیم اور فسادات کا عمل شروع ہوا تو یہاں مشرقی اور وسطی پنجاب کے ہزاروں خاندانوں کا جھمگٹا سا ہو گیا تھا۔ اُدھر سے اِدھر آنے والوں کا اور اِدھر سے اُدھر جانے والواں کا۔ امیر سبحانی صبح دس بجے کے قریب پہنچا تھا۔ اب اُسے یہاں بیٹھے بیٹھے شام ہو گئی تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا،کاش وہ ہیڈ سے سیدھا پاکپتن ہی کا رخ کر لیتا تو کل تک پہنچ ہی جاتا۔ اب نہ جانے کب گاڑی آئے اور وہ اس جگہ کے عذاب سے نکلے۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے اسٹیشن پر ایک گاڑی براستہ قصور فیروزپور جانے والی کھڑی تھی،جو نجانے کیوں اتنی دیر سے وہاں موجود تھی۔ یہ ساری کی ساری گاڑی ہندووں اور سکھوں سے بھری ہوئی تھی۔ نہ صرف اندر سے پُر تھی بلکہ اس کی چھت پر بھی کھچاکھچ انسان تھے۔

عصر کے وقت امیر سبحانی نے اچانک ایک آدمی کو دیکھا،جو اردو اور عجیب غریب لہجے میں اسٹیشن پر کھڑے مسلمان مہاجروں اور مقامیوں کے ساتھ کچھ خطاب کر رہا تھا۔ امیر سبحانی کو یاد آیا،جب وہ غلام حیدر کے ساتھ نواب افتخار ممدوٹ کے لیے ووٹ مانگنے نکلا تھا،تو وہ بھی اسی طرح کے خطاب کرتے تھے۔ لیکن وہ تو پنجابی زبان میں صاف سمجھ آنے والا خطاب ہوتا تھا اور یہ تو کوئی فوجیوں والے لہجے کا تھا۔ وہ اُن سب لوگوں کو کہ رہا تھا،بھائیو،میرا نام محمد زمان خان ہے۔ ہم دہلی سے نکلے تھے،تو ستر افراد کا قبیلہ تھے لیکن ہمارا سارا خاندان ان کافروں اور مشرکوں نے راستے میں ہی مار دیا اور سارا سامان لوٹ لیا۔ اب میں اُن ستر افراد میں اکیلا بچا ہوں۔ میری مائیں،بہنیں اور بچے اُنہوں نے یا تو ماردیے ہیں یا اپنے گھروں میں لے گئے ہیں۔ مسلمانو !یہ مجھ اکیلے کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہندوستان سے ہر آنے والے کی یہی کہانی ہے۔ یہ کہہ کر زمان خان رونے لگا لیکن اِس گریہ وزاری کے درمیان بھی اُس نے اپنی کہانی اُسی درد ناک لہجے میں جاری رکھی۔ جسے سن کر تمام مجمع بھی رونے لگا۔ اُن سننے والوں میں سے بعض کی آنکھیں سُرخ ہو گئیں،چھاتیوں کے بال اکڑ گئے اور گنڈاسوں اور تلواروں پر ہاتھ سخت ہوگئے۔ زمان خان نے مجمع کی یہ حالت دیکھی تو سُرخ لوہے پر ایک اور ضرب لگائی،بھائیو،اِن بے غیرتوں نے،جو ہمارے ساتھ کیا،وہ تو الگ بات ہے لیکن مجھے ایک اور اندیشہ ہے کہ یہ لوگ،جو اِس گاڑی میں بیٹھے ہندوستان جا رہے ہیں اور تم انہیں دامادو ں کی طرح بڑی عزت سے وہاں بھیج رہے ہو۔ یہ جاتے ہی اُن شرنارتھیوں کے ساتھ مل جائیں گے اور تمھارے دوسرے مسلمان بھائیوں کا صفایا کر دیں گے۔

زمان کی آواز اتنی پُر اثر،مدلل اور رُندھا دینے والی تھی کہ تمام لوگوں کو غضب آ گیا۔ کیا مہاجر اور کیا مقامی،سب ایک دم اُس ریل پر گرہجوں کی طرح جھپٹ پڑے۔ امیر سبحانی کے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے گاڑی پر ہلہ بول دیا۔ اُن سب نے زمان خان کی ہدایات پر پہلے تمام ریل کے دروازے بند کر دیے اور چھتوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو نیچے اتار کر اُن سب کو نیزوں اور تلواروں کی لڑی میں پرویا۔ اُس کے بعد لوگ ریل کا ایک دروازہ کھول لیتے،اُ س میں موجود تمام سواریوں کو تہہ تیغ کر دیتے،پھر اگلے ڈبے کو کھول لیتے۔ اِس قتل و غارت میں ریل کی پٹڑی کا نالہ خون سے بہنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ماؤں کی گود میں موجود بچوں سے لے کر بڑوں تک،سب ایک گھنٹے کے اندر تلواروں کا رزق ہو گئے۔ اس عرصے میں سب لوگ اس قدر سہم گئے کہ کسی بچے تک کے رونے کی خبر نہیں آئی۔ اپنے پرائے سب قاتلوں کے سامنے بلی بن گئے۔ امیر سبحانی سارا منظر بیٹھا دیکھتا رہا۔ اُس کی ہمت نہ پڑی کہ وہ کسی کو روک لیتا۔ ابھی غارت گری رُکی ہی تھی کہ جانے کہاں سے میونسپل کمیٹی کے ٹرک آگئے۔ اُنہوں نے چند ساعتوں میں وہ لاشیں اُٹھا کر،پتا نہیں کہاں لے جا پھینکیں۔ البتہ اسٹیشن سے اُٹھا کر لے گئے۔ اِس کے بعد خدا کی قدرت،پھر وہی بارش شروع ہو گئی،جس نے اسٹیشن کو دھو کر ایسے صاف کر دیا جیسے،یہاں کچھ ہوا ہی نہیں۔ گویا قدرت بھی اِن سب کے ساتھ ساتھ اپنا فرض ادا کر رہی تھی۔ رات امیر سبحانی نے وہیں گزاری اور اگلے دن حویلی لکھا روانہ ہو گیا۔ یہاں سے اُس نے ارادہ کیا کہ پیدل ہی پاکپتن چلا جائے گا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – ستائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(46)

الیکشن میں دو ہفتے باقی تھے۔ کمپین کے لیے جلسے اور جلوس زوروں پر تھے۔ اِن جلسوں میں کانگرس اور یونینسٹ پارٹی کے اُمیدوار بھی کہیں کہیں تقریریں کرتے اور ووٹ مانگتے نظر آ رہے تھے۔ لیکن اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ غلام حیدر کے بندے اِس طرح سارے علاقے میں پھیل چکے تھے کہ اُن بچاروں کو جلسہ کرنے کی جگہ بھی نہیں ملتی تھی۔ جانی چھینبا اور امانت خاں نے بہت جگہ پر ڈانگ سوٹا چلا کر اُنہیں منتشر ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا،وہ بِدک گئے اور اِن کے سامنے آنے سے گریز کرنے لگے۔ خوش قسمتی سے اُسی طرح کا ایک ہجوم کانگرس پارٹی کا غلام حیدر کے ہجوم سے راستے میں ٹکرا گیا۔ یہ جگہ منڈی گرو ہرسا سے روہی کی طرف دس میل پر تھی۔ کانگرس کے اُمیدوار بھی وہاں چھوٹے چھوٹے گاؤں سے کہیں ووٹ مانگنے نکلے تھے۔ غلام حیدر نے اپنے بندوں کو حکم دیا،اِن کی ذرا اچھے طریقے سے دھلائی کر دو۔ اِنہیں جرات کیسے ہوئی،یہاں آ کر ووٹ مانگنے کی۔ غلام حیدر کا حکم سننا تھا کہ جتنا بھی اس کا گروہ تھا،سب کانگرسی لیڈروں پر ٹوٹ پڑا۔ یہ جگہ ایسی تھی،جہاں ریت کی وجہ سے اُن کی سواریاں زیادہ تر اونٹوں کی تھی۔ کانگرسی تعداد میں پچاس یا ساٹھ ہوں گے۔ اِدھر پورے تین سو کا مجمع،اور سب کے ہاتھوں میں گتکے اور ڈانگیں تھی۔ پل کی پل میں تڑ اتڑ ڈنڈے برسنے لگے۔ کسی کے سر پر،کسی کی ٹانگ پر اور کسی کے بازوپر۔ منٹوں میں ہنگامہ مچ گیااور رونا دھونا،چیخ چگاڑا شروع ہو گیا۔ کچھ نے اُونٹوں کو ڈنڈے مارنے شروع کر دیے،جس کی وجہ سے وہ اپنے سواروں کو بھی نیچے پھینک پھینک کر دوڑنے لگے۔ جس کا جدھر منہ آیا،نکل گیا اور لمحوں میں کانگرسی گروہ آفت کا شکار ہو کر بکھر گیا۔ اِسی ہنگامے میں کانگرسی لیڈرسری واستر جی کی جیپ بھی وہیں رہ گئی،جس کے ٹائروں سے ہوا نکال کر اُس کی پٹرول والی ٹینکی میں ریت ڈال دی۔ اِسی طرح ایک دفعہ غلام حیدر نے یونینسٹ پارٹی کے امیدوار سرور بہکاں والے کی مکھسر تحصیل کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چھترول کر دی۔ اِس دوران ڈیوٹی پر موجود تین چار پولیس والوں نے دخل اندازی کی،تو اُن کے چوتڑوں پر بھی دو دو ڈنڈے لگوا دیے۔
اِنہی واقعات کا نتیجہ تھا کہ وہاں مخالفین سہم گئے۔ ووٹ مانگنا تو ایک طرف،اُنہوں نے غلام حیدر کے اثر رسوخ والے علاقوں میں آناہی چھوڑ دیا۔ دوسری طرف غلام حیدر اور ملک بہزاد دونوں اپنے دو تین سو بندوں کے ساتھ گھوڑوں پر اور نواب افتخار ممدوٹ کی جیپ پر گاؤں گاؤں دوڑتے پھرتے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں مسلم لیگ کے جھنڈے،ڈنڈے،برچھیاں اور بندوقیں بھی تھیں۔ بنگلہ فاضلکا،جلال آباد،سری مکھسر،لکھو کے،گرو ہرسا،ابوہر،خپانوالی حتیٰ کہ فرید کوٹ تک کے علاقے کو اِس طرح روند ڈالاکہ ہر سمت مسلم لیگ کا پھریرا لہرانے لگا۔ ایک بڑا کام تو منصوبے کے مطابق پہلے ہی امیر سبحانی کے ریکارڈ نے کر دیا تھا،جو اب چھوٹی چھوٹی ڈھاریوں پر بھی بج رہا تھا۔
لوگ غلام حیدر کی جرات اور بہادری کے اِس قدر قائل ہو چکے تھے کہ وہ فیروزپور کے مسلمانوں کا بلا شرکت غیرے ہیرو بن گیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے،قہر خدا کا،انگریز بہادر کے دور میں کوئی کتے کو مار دے تو موت کی سزا پائے۔ غلام حیدر نے تو پورے پندرہ بندے بیچ دوپہر مارے تھے۔ اِس طرح کے سورمے گھر گھر تھوڑے پیدا ہوتے ہیں؟دوسرا غضب یہ کہ وائسرائے کی بیٹی تک تعلقات تھے۔ ورنہ اِس طرح اسلحہ لے کر کھلے عام کوئی پھر سکتا ہے؟ وہی خونی بندوق اب بھی اُس کے پاس ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ غلام حیدر کی جیپ جہاں بھی رکتی لوگ دیکھنے کے لیے دور دور سے دوڑے چلے آتے اور منٹوں میں سینکڑوں کا مجمع لگ جا تا۔ اِدھر لوگ اکٹھے ہوتے اُدھردس پندرہ منٹ امیر سبحانی کا ریکارڈ بجتا۔ اُس کے بعد ملک بہزاد سامنے آتا اور غلام حیدر کی دلیری اور نواب ممدوٹ کی مسلمانوں کے لیے دی گئی اُن قربانیوں کا واویلا مچاتا،جن کے بارے میں فیروز پور کے قریباً تما م لوگ بے خبر تھے۔ مگر وہ ملک بہزاد کی باتوں کا اعتبار کر رہے تھے۔ آٹھ دس منٹ نپٹانے کے بعد ملک بہزاد ایک طرف ہوجاتا اور غلام حیدر ر لاچا باندھے،ریفل کاندھے پر ڈالے جیپ کے بونٹ پر کھڑا ہوتا،دوچار نعرے مسلم لیگ،قائد اعظم اور نواب افتخار ممدوٹ کے حق میں لگواتا پھر تقریر کرنے لگتا۔

میرے فیروزپوری مسلمان بھائیو،جان لو مَیں وہ ہوں جس کی بندوق کی گولی
کی آواز نزدیک اور دور والے سب جانتے ہیں اورکافروں کے سینے اس کے
سیسے کی تپش خوب محسوس کرتے ہیں۔ یاد رکھو،یہ ہندو بنیے،جو تمھاری اگلی پچھلی
سب نسلوں کو بیاج کے عوض رہن رکھ چکے ہیں اور یہ گورے،جن کے جوتوں کی پالش
تمھارے پسینوں کے عرق سے تیار ہوتی ہے۔ یہ سب تمھارے ازلی دشمن ہیں۔
ان کی حکومت میں نہ تمھارا ایمان سلامت ہے،نہ تمھارے بال بچے۔ یہ سکھ،ہندو
اور فرنگی کبھی تمھاری روزی روٹی کی حالت ٹھیک نہیں ہونے دیں گے۔ تم یاد رکھو
اسی صورت بچ سکتے ہو،اگر ان کو اپنے سے دور کر دو گے۔ اور ان سے نجات حاصل
کر لوگے۔ نجات کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔ اپنی مسلم لیگ کو ووٹ دو،جس کا
فیروز پور میں بڑا رکن اپنا نواب افتخار ہے۔ یہ اپنا بھائی بھی ہے اور اپنا وڈا بھی۔ یاد رکھو
ٹُٹیاں باہواں گل نوں۔ ہم پھر بھی مسلمان ہیں۔ یہ سرور بہکاں والا غدار اور انگریز کا
پٹھو ہے۔ وہ چاہتا ہے،انگریز ہندوستان میں رہے اور تمھاری آنے والی نسلیں بھی
ان فرنگیوں کی غلامی کرتی رہیں اور بنیوں کو بیاج دیتی رہیں اور سکھڑوں کی زمینوں
میں ہل چلاتی رہیں۔ اِس لیے مسلم لیگ کو ووٹ پاؤاور سب سے جان چھڑاؤ

(47)

نصف مارچ گزر چکا تھا اور بہار کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ ولیم کو اوکاڑہ چھٹی پر آئے تین دن ہو چکے تھے۔ کل اُسے گُڑگاؤں جانا تھا۔ ذہن میں سینکڑوں خدشات اور آنے والے دنوں کی بدلتی صورت نے اُس کی طبیعت میں اتنی بیزاری بھر دی کہ اُسے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ خاص کر چیف سیکرٹری آفس سے وصول ہونے والے خط نے ولیم کے اعصاب کو بالکل معطل کردیا۔ اُسے خوب علم تھا،اُس کے ہاتھ کٹ چکے ہیں۔ ملٹری سے لے کر سول انتظامیہ تک ہر شعبے میں کالے لوگ سُرنگیں بنا کر نہ صرف داخل ہوچکے تھے۔ بلکہ نوے فیصد نظام اُنہی کے قلم دانوں میں چلا گیا تھا۔ اِس وقت جب تمام بیوروکریسی ایک ایک کر کے رخصت ہو چکی تھی،اُس کا اپنی سیٹ پر ٹکے رہنا بھی خو ش قسمتی تھی مگر کہاں تک؟ آخر اُسے بھی خط آ گیا کہ جون تک اپنا بوریا باندھ لو۔ ولیم اِسی پیچ و تاب میں غلطاں ہزاروں وسوسوں میں ڈوبا تھا۔

اب جبکہ ہزار کوشش کے باوجود وہ اپنی پوسٹنگ منٹگمری کروانے میں ناکام رہا تو اُسے انتہائی تکلیف ہو رہی تھی۔ اُس نے چیف سیکرٹری صاحب سے لاکھ طرح سے گزارش کی،کچھ دن کے لیے ہی سہی،اُس کو منٹگمری بھیج دے لیکن یہ درخواست اِس بے رحمی سے رد کر دی گئی کہ ولیم ٹوٹ کر رہ گیا۔ اُس کی بجائے وہاں ایک سکھ ڈپٹی کمشنر کو تعینات کر دیا گیا،جو انتہائی نامعقول بات تھی۔ اگر اُس جگہ ولیم کی پوسٹنگ کر دی جاتی تو چیف سیکرٹری کا کیا بگڑ جاتا۔ وہ کچھ عرصے کے لیے یا کم ازکم بہار کے دن ہی وہاں کاٹ لیتا۔ مگر بد قسمتی سے یہ نہ ہو سکا اور اب اُسے محسوس ہو رہا تھا،اُس کی یہ حسرت ہی رہ گئی۔ حتیٰ کہ انگریزوں کاہندوستان سے انخلامکمل ہو جائے گا۔ جس کا عمل پچھلے ایک سال سے خاموشی سے جاری تھا۔ اُس کے ہاتھ سے گُڑگاؤں بھی نکلنے والا تھا۔ شاید اِسی لیے دو دن بعد اُسے گورنر ہاؤس میٹنگ پر بلایا گیا تھا۔

ولیم کیتھی کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا اپنے ہی خیالوں میں گم سلائس پر جیم لگا رہا تھا۔ کیتھی اُسے بار بار اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ٹھوہکا دے کرچونکا نے کی کوشش کرتی مگر وہ ایک دو باتیں کرنے کے بعد پھر خاموش ہو کرواپس اپنی سوچوں میں گم ہو جاتا،جو پچھلے کئی مہینوں سے اُس پر غلبہ کیے ہوئے تھیں۔ پہلے پہل تو ولیم کسی طرح اُن سوچوں کو نظر انداز کرتا رہا لیکن اب اُن میں شدید طریقے سے اُلجھ گیا تھا۔ حالات روز بہ روز ولیم کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے تھے اور اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کرے؟اُسے کبھی عزت و آبرو کو تباہ کر دینے والی جنگ کے متعلق سوچنے پر کوفت ہوتی،جس نے پانچ سال میں ہر شے راکھ کر ڈالی تھی،کبھی ہندوستانیوں کی بے وفائی اور احسان فراموشی پر غصہ آتا،جنہیں تعلیم دینے سے لے کراور عقل سکھاکر جدید دور میں داخل کرنے تک صرف انگریز ہی کا کردار تھا۔ ورنہ یہ گنوار کے گنوار ہی رہتے۔ کل تک اُجڈ اور جاہل آج بم دھماکے کر رہے تھے،جلسے جلوس نکال کر ایجی ٹیشن پھیلارہے تھے اور انڈیا چھوڑ دو کے نعرے بلند کرتے تھے۔ جہاں ولیم ایک طرف ہندوستانیوں پر بھرا بیٹھا تھا،وہیں اپنی برٹش ایمپائر کے کرتا دھرتاؤں پر سخت غصہ میں تھا،جو آئے دن اختیارات ہندوستانیوں کو سونپتے رہے،اپنے ہاتھ کاٹتے رہے اورآج اُسی کے نتیجے میں ہندوستان کو چھوڑ دینے پرمجبور ہوتھے۔ ولیم سوچتا کہ چلو یہ برداشت کیا جا سکتا تھا،دیسی لوگوں کو حکومت میں حصہ دے دیا جائے اور اُن کو انگریزوں کے برابر مراعات بھی مل جائیں،جن پر اُسے پہلے دن سے ہی کوئی اعتراض نہیں تھا،مگر یہ کیا کہ مکمل طور پر اپنے گلے ہی کاٹ لیے گئے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑبرف پیدا کرنے والی زمینوں اور بغیر سورج کے نکلنے والے دنوں کے ملک میں چلے جائیں۔

ولیم کو اِس طرح فکر مند دیکھ کر کیتھی اُٹھی اور اُس کی پشت پر آ کر کھڑی ہوگئی۔ کچھ دیر خموشی سے چپ کھڑی رہنے کے بعدجب ولیم نے اُس کی طرف پھر بھی دھیان نہ دیا تو بو لی،ولیم ڈارلنگ میں جانتی ہوں،تم کئی دنوں سے پریشانی میں مبتلا ہو۔ تمھارے اختیارات سمٹتے جا رہے ہیں اور برٹش گورنمنٹ اپنے بادبان لپیٹ رہی ہے۔ مگر اب کیا کیا جا سکتاہے؟

ولیم نے گردن گھما کر کیتھی کی طرف دیکھا اور نصف کھایا ہوا سلائس وہیں رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا،کیتھی شاید وہ دن قریب آ رہے ہیں،جن کے لیے میں نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ دراصل مجھے اِس بارے میں سوچنے سے ہی وحشت ہوتی تھی لیکن اب اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد ولیم چند ثانیے خموش رہ کر دوبارہ بولا،کیتھی تمھیں پتہ ہے؟ مَیں ولیم اپنے خاندان میں سب سے زیادہ بد قسمت انسان ہوں۔ میراپردادا،میرا دادااور میرا باپ بڑے خوش قسمت تھے۔ بڑے ذی اقتدار تھے اور نہایت معزز تھے۔ نہ اُنہیں وقت نے دھوکا دیا،نہ اُنہوں نے وہ کرب محسوس کیا جو میرے حصے میں آیاہے۔ وہ سب اِسی ہندوستان کی مٹی میں اپنی مرضی سے رہے،اپنی مرضی سے یہیں دفن ہوئے۔ لیکن مَیں،جسے اُن سب سے زیادہ ہندوستان سے محبت ہے۔ اُن سب سے زیادہ مَیں اِس مٹی میں اپنی روح محسوس کرتا ہوں اور اُن سب سے زیادہ میری خواہش اِسی سرزمین پر اپنا اقتدار قائم رکھنے کی ہے،میرے ہی ہاتھ سے وقت سرکتا جا رہا ہے۔ اِس زمین کی مٹی میرے رنگ اور نسل کو اپنے سے علیحدہ کر کے مجھے باہر پھینکنے کی کوشش میں ہے۔ مجھے آئے دن ایسے احکامات وصول ہوتے ہیں،جو ہر اگلے لمحے ہندوستان سے میرا فاصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میرا باپ ایک سال پہلے اور میری ماں ڈیڑھ سال پہلے بغیر کچھ تکلیف اُٹھائے مر گئے اور یہیں دفن بھی ہوگئے مگر مجھے کہا جا رہا ہے کہ اپنا وجود یہاں سے سمیٹنا شروع کر دو ں،یہ ہماری سر زمین نہیں ہے۔ آخر یہ کیا حماقت ہے؟ کیا یہ لوگ نہیں سوچتے،اگر مَیں اِس زمین کا نہیں ہوں تو مجھے جو لوگ یہاں سے دھکیل دینا چاہتے ہیں،کیا وہ ایرانی تو رانی اپنی قبروں کی مٹی وسط ایشیا سے اُٹھا کر لائے تھے؟ مگر میری بات کوئی سنتا ہی نہیں۔ گویامَیں ایسی صورتوں سے مخاطب ہو ں،جو خواب میں نظر آتی ہیں اور ہاتھ لگانے پر غیب ہو جاتی ہیں۔ ہر آنے والے دن مجھے اگلے بدقسمت لمحے کی خبر دی جا رہی ہے۔ میرے تمام دوست یہاں سے جا چکے ہیں اور باقی جا رہے ہیں۔ جو جا چکے ہیں،اُن کے واپس آنے کا اِمکان نہیں۔ جو نہیں گئے،اُن کا ٹھہرے رہنے کا ارادہ نہیں۔ وہ جانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سفید لوگ اِس طرح حالات سے سمجھوتہ کر رہے ہیں،جیسے اُن کے اندر رُکنے کی طاقت بالکل نہیں رہی۔ رہی تمھاری بات،تو مجھے تمھارے معاملے میں ایسا ڈر کھائے جا رہا ہے،جس کا ظاہر ہو جانا ہمارے جگر کے ٹکڑے کر دے گا۔ تمھا ری کیفیت اُس بچے کی ہے،جو اپنے معمولی زخم کا خون بھی دیکھ لے تو چیخنا شروع کر دے۔ اِس لیے مَیں تمھیں اُن سوچوں میں شریک نہیں کر تا،جن کا حزن زندگی کی خوشیاں لپیٹ دینے کے لیے کا ہے اور اُس کا اندمال نہیں۔

کیتھی ولیم کے سامنے کُرسی پر دوبارہ بیٹھ گئی اور بولی،ولیم تم یہ بات جان جاؤ،مَیں ایک عرصے سے تمھارے خیالات میں خموش شرکت کر چکی ہوں۔ میں جانتی ہوں،تم ہندوستان چھوڑنا نہیں چاہتے۔ مگر یہ بھی سچ ہے،یہ سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تو کیا ہوا،ہم لندن میں جا کر اپنے آپ کو نئے سرے سے منظم کر لیں گے۔ کمشنری نہ سہی کوئی کاروبار،اور اگر یہ بھی نہ ہوا،تو ہمارے پاس اِتنے پیسے ہیں کہ آرام سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

کیتھی کی بات سُن کر ولیم اِنتہائی غصے سے میز پوش کو جھٹکتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا،کیتھی بس یہی بات مجھے پریشان کر رہی ہے اور اُ س کی واحد وجہ تم ہو۔ مَیں جن تسلیوں سے بچتا ہوں،تم بار بار مجھے وہی دیتی ہو۔ مَیں تمھاری نصیحتوں سے ڈرتا ہوں اور تمھارے مشوروں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا،جن کے بارے میں مجھے ایسے ہی وضاحت ہے،جیسے تمھارے خدوخال سے واقف ہوں۔ کیا تم نے کبھی دیکھا،مَیں نے روپے پیسے کو اہمیت دی ہو یا حساب کی جمع تفریق میں دلچسپی لی ہو؟ مَیں وہ ہوں جس کی دلچسپیاں جاننے اور سمجھنے کے لیے تمھیں وقت دینا چاہیے،جو بہت کم رہ گیا ہے۔ حالات قدموں کے نیچے سے کھسکتے جا رہے ہیں اور تم بار بار لند ن میں کاروبار کھولنے کی بات کرتی ہو۔ کیا مَیں وہاں برف کی آڑھت کر لوں یا ملاح گیری اپنالوں؟ میرے پاس اپنے باپ داد ا کی ڈیڑھ سو سال کی کمائی موجودہے۔ وہ اُس وقت سے کماتے آ رہے ہیں جب ایسٹ انڈیا کمپنی پیدا ہوئی تھی۔ کمپنی مر گئی مگر ہمارا منافع ابھی تک آ رہا ہے اور اِس سب کچھ کا میں اکیلا وارث ہوں۔ اِدھر تم سمجھتی ہو،مَیں اپنے روزگار سے پریشان ہوں۔

کیتھی نے ولیم کو اتنا غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ ولیم کے اِس انداز کو دیکھ کر گھبرا گئی اور ایک دم سہم کر چپ ہو گئی پھر کچھ دیر اِسی خموشی میں گزر گئی۔ شاید انتظار کر رہی تھی کہ ولیم مزید کچھ بولے مگر اُس نے اپنی بات مکمل کر لی تھی۔ اُدھر وہ کچھ اور کہنے سے ڈر رہی تھی اور پریشان تھی کہ ولیم اِتنا چڑچڑا کیوں ہو گیا ہے۔ کافی دیر اِسی طرح بیٹھے گزر گئی،تو ہمت کر کے دوبارہ بولی،ولیم آخر تم کیا چاہتے ہو؟مَیں نے کئی بار تم سے پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کون سی پریشانی ہے جس کی وجہ سے تم آج اِس قدر بلبلا اُٹھے ہو؟مَیں تمھاری بیوی ہوں۔ اگر مَیں نہیں سنوں گی اور تم کو تسلی نہیں دوں گی،تو وہ دوسرا کون ہے جس کے سامنے تم اپنے سوالات رکھو گے؟میں جاننا چاہتی ہوں،تم مسلسل کیا سوچ رہے ہو؟

ولیم نے محسوس کر لیا تھا کہ اُس کا لہجہ کچھ زیادہ تلخ ہو گیا ہے۔ لیکن وہ کب تک کیتھی کے بے کار،فرسودہ اور تھکا دینے والے سوالات کو برداشت کرتا۔ ولیم نے فیصلہ کیا،آج وہ اپنا مدعا کیتھی کے سامنے رکھ ہی دے۔ اُس نے نہایت تحمل سے ا پنی بات کا آغاز کر دیا۔ کیونکہ ِاس کے بعد جو شور بلندہونا تھا،اُس کی تلخی سینے کو کاٹ دینے والی تھی۔ اِس لیے ولیم نے سوچا،جس قیامت کو گزرنا ہے،وہ جلدی گزر جائے۔ ولیم تھوڑا سا آگے بڑھا،کیتھی کا ہاتھ پکڑا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،کیتھی کیا تم جانتی ہو،مَیں تم سے اپنی بات چوروں کی طرح چھپا رہا ہوں؟تم میری جس تکلیف کو سننے کا روز تقاضا کرتی ہو،جب مَیں نے اُسے تم پر ظاہر کر دیا تو وہ تکلیف تمھاری بن جائے گی اور تم اُس کے دردسے چیخ اُٹھو گی۔
کیتھی نے ولیم کا ہاتھ مضبوطی سے دباتے ہوئے کہا،ولیم تم بیان کرو۔

کیتھی،ولیم دو ٹوک بولنے لگا،مجھے پورے ہندوستان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مجھے کسی سے کوئی مطلب نہیں۔ بس اِس وقت جس جگہ تم اورمَیں کھڑے ہیں،مجھے اِسی سے مطلب ہے۔ یہ جگہ،یہ خطہ،یہ نولکھی کوٹھی،یہ نہریں،یہ باغات اور نہروں کی کچی کچی روشیں،کھیتوں میں اُگتے ہوئے آلو،مکئی،گندم،گنا اور برسن کے ٹھنڈے ٹھنڈے لمس،اِن باغات اور نہروں کے مضاف میں رہنے والے لوگ،اُن کے معصوم،سادہ اور عزت و آبرو بخشنے والے چہرے،یہ ہے میری زندگی۔ مَیں نے تمھیں پہلے کہا ہے،مجھے نہ کسی اور زمین سے غرض ہے،نہ میں نے کبھی دہلی،لکھنؤ،یا کلکتے کو پسند کیا۔ حتیٰ کہ آگرے کا تاج محل اِس نولکھی کوٹھی کے عوض حقارت سے ٹھکرا دوں۔ مجھے پورے پنجاب سے بھی کچھ مطلب نہیں۔ بس یہ میرا گھر میری سلطنت ہے۔ مَیں اپنی اِس سلطنت کو نہ لندن کے عوض بیچ سکتا ہوں اور نہ میں اِس کے مقابلے میں اپنے دوسرے محبوب کا گناہ معاف کر سکتا ہوں۔ کیتھی مَیں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ کبھی نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ لندن کی مٹی مجھے نہیں جانتی،نہ اُس کی سرد ہواؤں سے مجھے رغبت ہے۔ مَیں یہاں پیدا ہوا ہوں،یہیں مروں گا۔ اِس کے بعد ولیم نے کیتھی کا ہاتھ چھوڑ دیا اور دوبارہ بولا،یہ ہے میری تکلیف اور المیہ لیکن دیکھو اب مجھے نہ سمجھانے کی کوشش کرنا،نہ نصیحتوں کی انجیل پڑھانااور نہ ہی مجھے میرے اور اپنے بچوں کے واسطے دینا۔ یہ بچے جو مَیں نے اور آپ نے مل کر پیدا کیے ہیں۔

ولیم کی بات اتنی دو ٹوک اور فیصلہ کن تھی،کیتھی سوچتی رہ گئی کہ یہ کیا بن گیا ہے؟واقعی ولیم نے ایسا نقصان دینے والا فیصلہ سنایا تھا،جس کی تلافی نہ ہو سکنے والی تھی۔ وہ یہ تو جانتی تھی،ولیم برطانیہ کے مقابلے میں ہندوستان کو پسند کرتاہے اور لندن نہیں جانا چاہتا۔ لیکن وہ یہ بھی خیال کرتی تھی کہ ولیم کوبہر حال سب برطانیوں کی طرح یہاں سے نکلنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ وہ اکیلا تو کسی صورت یہاں رک نہیں سکتا۔ اِسی زعم میں یہ سمجھے بیٹھی تھی کہ وطن واپس جانے کے دن قریب آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی قسم کی تیاریاں کر رہی تھی اور طرح طرح کے منصوبے عمل میں لا رہی تھی،جس کا ولیم کو بھی پتا تھا۔ اب اُسے یاد آیا،وہ جب بھی ولیم سے اپنی تیاری کا ذکر کرتی،ولیم نہ صرف اُسے ٹال جا تا بلکہ بعض دفعہ جھنجھلاہٹ کا بھی شکار ہو جاتا تھا۔ پھر بات سنے بغیر یا تو اُٹھ جاتا یا بات بدل دیتا تھا۔ تو گویا وہ ایک ایسے سول سروس کے افسرکو اپنا چکی تھی،جو اپنی سرزمین واقعی بدل چکا تھا۔ اب و ہ ایک قوم کے ہوتے ہوئے دو الگ الگ خطوں کے باشندے تھے۔ کیتھی نے سوچا،کیا یہ اِتنا آسان ہے؟ وہ اپنے جگر کی طاقت جمع کرتے ہوئے ولیم کی طرف بڑھی اور دوبارہ بولی،ولیم کیا تم جانتے ہو،قدرت کے فیصلے طاقت سے نہیں بدلے جا سکتے۔ جب طوفان کی لہریں بادبانوں سے بلند ہو جائیں،اُس وقت کمپاس بیکار ہوجاتے ہیں۔ خود کو اُس وقت تک لہروں کی مرضی پر چھوڑ دینا پڑتا ہے،جب تک چاند اور ہوائیں پُرسکون ہو جائیں۔ تمھیں معلوم ہے،یہاں ایک سال بعد ایک بیرا تک تمھارا ہم جنس نہیں رہے گا اور یہ لوگ،جن کو اب تم اپنا کہ رہے ہو،یہ تمھارے چہرے کی سُرخ جھریوں پر ہنسیں گے اور تمھاری شکل کو بندروں سے تشبیہ دیں گے۔

مجھے اس کی پروا نہیں،ولیم نے کہا،مَیں اِن اصطبل کے گھوڑوں پر سیر کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں،کسی انگریز بیر ے سے مل کر بات چیت کرنے کو۔ یہ اصطبل،جس کو میرے باپ نے میرے لیے،اِس کوٹھی کے پچھواڑے بنایا ہے۔

کیتھی نے ولیم کے جواب میں چبھتے ہوئے لہجے میں کہا،ولیم تمھیں یقین ہے،یہ اصطبل جو اِس کوٹھی کے پچھواڑے میں ہے،جس میں موجود گھوڑوں کی نعل بندی اپنی نگرانی میں کرواتے ہو،تمھارے پاس رہے گا؟

شاید نہ رہے،مگر میں برطانیہ جانے کے لیے تیار نہیں ہوں،نہ اِس وقت تم سے زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔ تمھارے پاس وقت کم ہے،اپنا فیصلہ سنا سکتی ہو۔

ولیم،اگر تم اپنی حماقت پر قائم رہے،تو مَیں اپنے بچوں کو اِس جلا دینے والی زمین سے نکال کر لے جاؤں گی۔
اِس تلخ جملے کے بعد کیتھی اُٹھ گئی۔ جبکہ ولیم وہیں بیٹھا رہا،ایسے لگا جیسے کوئی جواری سب کچھ ہار جانے کے بعد پُرسکون ہوگیا ہو۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چھبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(44)

غلام حیدر کو حویلی میں آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ اِس عرصے میں اُس نے تمام عزیزوں،دوستوں اور ملازموں کو اکٹھا کر کے نئے سرے سے چودھراہٹ کا کام شروع کر دیا۔ یہ چودھراہٹ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور ہیبت ناک تھی۔ چودھری غلام حیدر اب شاہ پور اورجودھا پور کا مالک ہی نہیں،پندرہ آدمیوں کا قاتل بھی تھا۔ اور یہ پندرہ لوگ کوئی ایسے ویسے نہیں تھے۔ علاقے کے سر چُنویں بدمعاش اور بڑے زمیندار تھے۔ اِسی لیے اب وہ پینتیس سال کا منجھا ہوا چودھری اور طاقتور سورما بن چکا تھا۔ صرف شیر حیدر کا ندان مُنڈا نہیں رہ گیا تھا۔ دوم،سردار سودھا سنگھ جیسے سورماؤں کو چت کر کے اور انگریز سرکار میں صاف بچ نکلنے کی وجہ سے اب بڑے بڑے بد معاش بھی اُس کا نام سُن کر نہ لرزتے اور سلام کے لیے حاضری نہ بھرتے تو کیا فائدہ تھا۔ یہی وجہ تھی،حویلی میں آکر بیٹھنے والے لوگوں کی تعداد پہلے سے دُگنی ہوگئی۔ ایک ہفتے بعد جب غلام حیدر نے محسوس کیا حویلی کا انتظام قدرے ٹھیک ہوگیا ہے،تو اُس نے ایک دعوت کا اہتمام کر دیا۔ الیکشن کا وقت قریب آرہا تھااور غلام حیدر کو نواب صاحب کے احسان کا پاس بھی رکھنا تھا۔ اِس لیے جلد ہی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا تھا،جس میں پورا فیروزپور نہ سہی،مکھسر اور جلال آباد تحصیل میں تو مسلم لیگ کا طوطی بول جائے۔ چنانچہ حویلی میں سینکڑوں لوگ مبارک سلامت کے لیے جمع ہو گئے۔ رفیق پاؤلی،جانی چھینبا،حاجی کمبو،امیر سبحانی تو خیر اُس کے اپنے آدمی تھے،جو غلام حیدر کی معافی کا سن کر دوسرے تیسرے روز ہی چلے آئے تھے۔ دعوت میں وہ لوگ بھی تھے،جن کا غلام حیدر سے دُور دُور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ وہ سب اہل و عیال سمیت حویلی میں جمع ہو گئے اورحویلی میں ایک دم گہما گہمی ہو گئی،جو پچھلے دس سال سے تقریباً بند پڑی تھی اوراُس کے صحنوں اور دیوار وں سے ویرانی سیم اور تھورکی شکل میں جھڑ جھڑ کر گرتی رہی اوروارثوں کی غریب الوطنی پر نوحے پڑھتی تھی۔ نیم اور پیپل کے درخت بدلتے موسموں کو بے آبرو ہوتے دیکھتے رہے اور زرد ہواؤں کے تھپیڑوں کو سہتے رہے۔ آج اُس حویلی میں ایسے رونق پیدا ہو گئی،جیسے دنیا نئے سرے سے بسی ہو۔ حویلی سے غلام حیدر کو نکلنے کا غم کم نہیں تھا۔ وہ واپس آ کر بہت زیادہ جذباتی ہو گیا تھا لیکن رفیق پاؤلی اور دوسرے ملازم اُس سے بھی زیادہ جذباتی تھے۔ سب خوشی سے اِدھر اُدھر بھاگتے ہوئے آپس میں مل کر رو بھی رہے تھے۔ اُنہیں یہ دوبارہ جنم ملے گا اورامیر سبحانی کی قصہ گوئی کی محفلیں جمیں گی،اِس طرح کا وہم بھی جی سے اُٹھ گیا تھا۔ کیونکہ غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل کے بعداُن سے ایسے ربط توڑا تھاجیسے وہ اِس دنیا میں موجود ہی نہ ہو۔ اِدھر یہ سب ملازم،نوکر،دوست یار گورنمنٹ کے ڈر سے حویلی تو ایک طرف فیروز پور ضلع بھی چھوڑ کردُور دُور جا بسے تھے اور خوف کے مارے غلام حیدر کا نام بھی منہ سے نہیں نکالتے تھے۔ مگر اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ رفیق پاؤلی لوگوں کو اِدھر اُدھر مختلف کاموں کے بارے میں حکم دیتا پھرتا تھا،تم یہ کرو،تم وہ کرو۔ گویا اُس کی نئے سرے سے اجارہ داری تسلیم کر لی گئی تھی۔ جس پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ ہر ایک نے اپنا اپنا کام بغیر کسی کے کہے سنبھال لیا جیسے یہ طے شدہ بات تھی۔ دعوت کی اِس تقریب میں شاہ پور اور جودھا پور کی رعایا بھی جلال آباد آگئی۔ بالکل وہی نقشہ بن گیا جو شیر حیدر کی موت کے وقت تھا۔ لیکن اُس میں اور اِس میں ایک فرق تھا کہ اِس رونق میں بھرپور جذباتی کیفیت کے ساتھ ایک بڑی فتح کی سر شاری بھی تھی۔ غلام حیدر نے ملک بہزاد اور امانت خاں کو بھی بلا لیا۔ وہ بھی لوگوں میں پھنسے بڑی بڑی ہانک رہے تھے،جس میں زیادہ تر اپنی بڑ ھکوں کی کہانیاں تھیں۔ سودھا سنگھ،عبدل گجر اور شریف بودلے کے قتل اور اُس کے بعد ان دس سالوں کے دوران ہونے والے تمام واقعات کے بیان کرنے میں اتنا وقت درکار تھا،جس میں غلام حیدر کی حالیہ دعوت کے برابر سو دعوتیں بھی ہوتیں تو ناکافی تھیں۔

غلام حیدر نے اپنے آنے کی خوشی میں کئی سو دیگیں گوشت اور چاولوں کی چڑھا دیں۔ اِن دیگوں کی منت اُس کی والدہ نے اُسی دن مانی تھی،جب غلام حیدر جلال آباد سے نکلا تھا۔ دیگوں کے دہانوں سے بُھنے ہوئے گوشت اور پکتے ہوئے باسمتی کے چاولوں کی بھاپ دماغوں میں چڑھ کر بھوک کی اشتہا کو مزید بڑھا رہی تھی۔ دیگوں کے نیچے جلانے کے لیے کلہاڑوں سے سوکھی لکڑیاں پھاڑی جا رہی تھیں اور آگ کے الاو مسلسل جل رہے تھے۔ غلام حیدر سب سے مل ملا کر ملک بہزاد کے پاس آبیٹھا۔ جہاں امانت خاں بھی بیٹھا تھا۔ ملک بہزاد کافی بوڑھا لگ رہا تھا۔ دس سال کی طویل مدت نے اُس کی صحت پر جو اثرات ڈالے تھے،وہ چہرے کی بڑھتی ہوئی جُھریوں اور چھلکتی ہوئی زردی میں بہت نمایاں تھے۔ مگر باتوں میں وہی دلیری اور سیانا پن اب بھی تھا۔ غلام حیدر جانتا تھا،اگر ملک بہزاد اُس وقت اُس کا ساتھ نہ دیتا تو شاید وہ بُرے طریقے سے ذلت کا منہ دیکھتا۔ پھر اُسے نواب افتخار کا خیال آ گیا،جس کی وجہ سے وہ پورے طور پر سرخ رو ہوا تھا۔ غلام حیدر نے سوچا،حقیقت یہ ہے کہ سب کے تعاون سے ہی سودھا سنگھ کی چتا کو آگ لگی ہے۔

غلام حیدر نے ماحول کے مطابق پورا پنجابی چوہدریوں کا لباس پہنا ہوا تھا۔ کھُسا،لمبے بَر والا سیمابی کڑھائی کا لاچا،سر پر پف والی کُلے دار پگڑی اور ہاتھ میں چھوٹا سا چاندی کا حقہ،جو غلام حیدر کو نواب افتخار کے ماموں سے تحفے میں ملا تھا۔ یہ شان و شوکت تو واقعی غلام حیدر کی ذات کو نوابوں سے کم نہیں دکھاتی تھی اوراِن سب سے بڑھ کر وہ رائفل جو اپنے کارنامے بھری دنیا کی انگریزی سرکار میں دکھا چکی تھی۔ غلام حیدر کے کاندھے پر لٹکی اُس کی چاندی جیسی نال تو ایک موت کی پری کی گردن تھی۔ غلام حیدر نے امانت خاں کی طرف دیکھ کر ملک بہزاد سے کہا،چاچا بہزاد،اصل میں تیرا یہ بھانجا اِس پورے قضیے کا سورما ہے۔ اُس دن یہ نہ ہوتا تو سکھڑے اِتنی آسانی سے قابو میں نہ آتے۔ (امانت خاں نے اپنی مونچھوں کو مزید مروڑا دیا،جو پہلے ہی کھسے کی نوک کی طرح اُوپر کو چڑھی ہوئی تھیں ) مجھے اِس پر فخر ہے۔ خدا نے موقع دیا تومَیں اس کا بدلا ضرور چکاؤں گا۔

ملک بہزاد بھتیجے کی طرف دیکھ کر بولا،غلام حیدر تمھیں پتا ہے،اِس نے پہلا بندہ کس عمر میں قتل کیا ہے؟اُس وقت اس کی عمر صرف تیرہ سال تھی،جب چودھری الہ بخش جندے کا سے اِس نے اپنے باپ کا بدلا لیا تھا اور کیو ں نہ لیتا،تربیت جو ( اپنے سینے پر ہاتھ مار کر ) ملک بہزاد نے کی تھی۔ آگے بھی یاد رکھ،لڑائی بھڑائی میں راہکوں اور مزارعوں سے کام نہیں لیا جاتا۔ بندہ مار کھا جاتا ہے۔

سینکڑوں آدمی اِدھر اُدھر چار پائیوں پر بیٹھے اپنی اپنی گپوں میں لگے تھے۔ اکثر امیر سبحانی سے غلام حیدر کے وائسرائے کے ساتھ گہرے تعلقات کی کہانی بڑی دلچسپی اور مزے لے کر سُن رہے تھے۔ غلام حیدر کو اُ س کی یہ ڈینگیں سُنائی دے رہی تھیں لیکن وہ اُسے اِن کے ہانکنے سے روکنا نہیں چاہتا تھا۔ بلکہ اب وہ چاہتا تھا،لوگوں پر اُس کی دلیری اور تعلقات کا جتنا بھی رعب پڑ جائے،اُسی قدر اچھا ہے اور وہ یہ رعب ملک بہزاد کے سامنے بھی رکھنا چاہتا تھا۔ ویسے بھی ملک بہزاد کو اُس کے تعلقات کا پتہ اُس کی سزا میں معافی اور نواب صاحب کی طرف سے اِتنے بڑے تعاون کے باعث چل ہی گیا تھا۔

چاچا بہزاد،غلام حیدر نے چارپائی پر ملک بہزاد کے پہلو میں آرام سے بیٹھنے کے بعد کہا،الیکشن بہت قریب ہیں۔ نواب افتخار پنجاب مسلم لیگ کے صدر ہیں۔ وہ خود ہمارے علاقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ نواب صاحب نے جو کچھ میرے لیے کیا ہے،اُس کا تقاضا ہے،ہم اُس کا ساتھ ووٹ دینے سے کچھ زیادہ کریں تاکہ اُس کی نمک حلالی کا پورا حق ادا ہو جائے۔ نواب کاجو میرے اُوپر احسان چڑھ گیا ہے،وہ تو شاید عمر بھر نہ اُترے لیکن کم از کم اس علاقے میں تو اُس کے خلاف کوئی بندہ پرچی نہ ڈال سکے۔ اِس کے لیے ہمیں چاہے کسی بھی قسم کی زبردستی کرنی پڑے،مسلم لیگ کو ہر حالت میں پورے علاقے سے الیکشن جتوانا ہے۔ کانگریس اور یونینسٹ کے اُمیدواروں کو پرچیاں دینا تو ایک طرف،جلسہ تک نہیں کرنے دینا۔ اِس کے لیے جتنا خرچہ اور اسلحہ چاہیے،وہ مَیں بندوبست کرنے کو تیار ہوں لیکن نواب صاحب اور جناح صاحب کے آگے ہماری بے عزتی نہ ہو جائے۔

ملک بہزاد غلام حیدر کی بات تحمل سے سنتا رہا، پھر حقے کی نَے کو ہاتھ سے پکڑ کر اُس پر اپنی ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے بولا،چوہدری غلام حیدر،بھلا مسلم لیگ کا ساتھ ہم نہ دیں گے تو کون دے گا؟ یہ کام سودھا سنگھ کی چتا سے زیادہ اوکھا تو نہیں لیکن اِس کے لیے ایک کام کرو،اگر وہ کام ہو گیا تو ہمیں زیادہ تردد کرنے کی ضرورت ہی نہیں،لوگ خود بخود مسلم لیگ کی طرف جھکتے جائیں گے۔
وہ کیا کام ہے؟ غلام حیدر نے پوچھا۔

ایک ریکاٹ لو،جس میں تمھاری دلیری کے سارے واقعے قصے کی شکل میں بھرے ہوں۔ اِس کام کے لیے امیر سبحانی بہت مناسب ہے۔ وہ ریکاٹ الیکشن سے پہلے پورے علاقے میں پہنچا دو اور اپنے خرچے پر سنوا دو۔ جب تیری بہادری،خدا ترسی اور بڑے گھروں تک پہنچ کے قصے لوگ سنیں گے تو وہ خود بخود ہماری طرف دوڑے چلے آئیں گے۔ کچھ تو پہلے ہی تیری بہادر ی کا گُڈا چڑھا ہوا ہے،رہتی سہتی کسر یہ رکاٹ نکال دے گا۔ ابھی دو مہینے الیکشن میں باقی ہیں،امیر سبحانی سے دو چار دن میں یہ کام کرا کے چار پانچ بندے ریکاٹ چلانے والے کرائے پر لے لیتے ہیں اور گاؤں گاؤں پھرا کر سنا دیتے ہیں۔ ویسے بھی لوگوں کو شغل کے لیے بہانہ چاہیے۔ وہ جب امیر سبحانی کی چٹخارے والی زبان سے یہ مزیدار قصہ سنیں گے تو تم خود بخود اُن کا سورما بن جاؤ گے۔ اُس کے بعد ہم دونوں اپنے بندوں کے ساتھ پورے علاقے کا دورہ کریں گے اور باقی کسر دورے میں نکال دیں گے۔ پھر بھی جس جگہ سے نواب کے خلاف ووٹ پڑنے کا خطرہ ہوا،وہاں پرنواب سے کہہ دینا،الیکشن والے دن وہ اپنے بندے ہمارے ساتھ کر دے،نگرانی ہم کریں گے اور وہ پرچیاں اپنے ہاتھوں سے نواب صاحب کی صندوقچی میں ڈالتے جائیں گے۔ جس نے بھی چوں چراں کی،چار متہریں چوتڑوں پر ماریں گے اور سیدھا کر دیں گے۔
بس یہ ٹھیک ہے،غلام حیدر بولا،ہم کل ہی اِس کا انتظام کر لیتے ہیں۔ پہلے ڈیڑھ مہینے میں امیر سبحانی والا ریکارڈچلواتے ہیں۔ آخری پندرہ دنوں میں علاقے کا دورہ شروع کریں گے اور پورے علاقے میں گھوڑے دوڑا کر نقارہ بجا دیں گے۔ کوئی شخص نواب افتخار کے علاوہ کسی کو ووٹ دینے کی جرات نہ کرے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ اپنا ذمہ دار خود ہو گا۔ ہمیں نواب صاحب کے گاؤوں میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو اُس کی ملکیت سے باہر کا علاقہ ہے،وہاں نواب کو چکر لگانے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے۔ اُس کے بعد غلام حیدر ملک بہزاد کو اُٹھا کر ڈیوڑھی میں لے گیا اور جیب سے چاندی کے روپوں کی ایک بھاری تھیلی نکال کر اُس کے حوالے کردی۔

چاچا بہزاد،یہ نواب صاحب کی طرف سے دو ہزار روپے ہیں،آپ یہ رکھ لو اور اِس میں سے کچھ امانت خاں کو دے دینا۔ مَیں اُسے روپے دیتا اچھا نہیں لگتا۔ اِس الیکشن میں سو طرح کے کام ہیں اور کئی طرح کے خرچے ہیں۔ اُن میں کام آئیں گے،مَیں نے تو نواب صاحب سے کہا تھا،اِن کی ضرورت نہیں لیکن اُس نے ضد کر کے ہمیں دے دیے ہیں۔ بہر حال اب نواب صاحب کو پتا چلنا چاہیے،اُس کے دوست حالات کا پھیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

ملک بہزاد جان گیا تھا،غلام حیدر کو نواب نے کوئی پیسے نہیں دیے مگراُس نے پیسوں کی تھیلی پکڑ لی کیونکہ اب اُسے بھی پیسوں کی ضرورت تھی،پھر روز روز مفت میں تو کام نہیں ہو سکتے تھے۔ اور یہ بات غلام حیدربھی جانتا تھا،شاید اب ملک بہزاد پیسوں کے بغیر بے دلی سے چلے،اسی لیے اُس نے یہ چال چل دی تھی۔ غلام حیدر اب زمانے کا پانی پی چکا تھااور جانتا تھا،مایا ایسا ہتھیار ہے،جو فساد کے علاوہ دلوں کی محبت میں اضافہ بھی کرتاہے۔

غلام حیدر اور ملک بہزاد ڈیوڑھی سے نکلے تو کھانا تیار تھا۔ وہ دونوں اور میاں امانت خاں،جانی چھینبا،رفیق پاؤلی اور غلام حیدر کے وہ ساتھی،جو سودھا سنگھ کو مارتے وقت ساتھ تھے،چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ گرم گرم گوشت اور چاولوں کی بھری ہوئی کنالیاں اُن کے سامنے آگئیں تھیں۔ وہ کھانے کے دوران اُس واقعے کو چٹخارے لے کر چُٹکلے بھی چھوڑ رہے تھے اور چاولوں کے مزے بھی۔ اِن کے علاوہ بھی حویلی کا پورا صحن آدمیوں سے بھرا کھانا کھانے اور باتیں کرنے میں مصروف تھا۔

(45)

فضل دین اب چوبیس سال کا سمجھ بوجھ والا ایسا سرکاری بابو بن چکا تھا،جو مولوی کرامت کی تربیت سے ہوتا ہوا جلال آباد،وہاں سے ایف سی کالج لاہور اور اب گورنر ہاؤس لاہور میں پچھلے چھ سال سے سرکار انگریز کا نوکر تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اِتنا سیانا ہو گیا کہ مولوی کرامت سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گیا۔ آنکھوں کو گول شیشوں کی عینک چڑھ گئی تھی،جس نے شخصیت کو اور بھی سنجیدہ کر دیا۔ گورنر ہاوس لاہور میں نوکری کے دو سال بعد ہی ا ُس نے لاہورمیں اپنی جگہ لے کر وہاں مکان بنا لیا۔ تنخواہ تو اتنی نہیں تھی کہ اُس سے گھر کا خرچ چلانے کے بعد مکان بھی خریدا جا سکتا مگرمولوی کرامت نے جلال آباد اپنی نوکری کے دوران مختلف حیلوں سے اِتنی پونجی جمع کر لی تھی جو دیر تک کام آ سکتی تھی۔ ولیم کی وجہ سے فضل دین کو مولوی کرامت کی وفات کے فوری بعد نوکری ملنے سے وہ رقم محفوظ رہی اور خرچ ہونے سے بچ گئی۔ وہ رقم اور کچھ تنخواہ سے بچا کر فضل دین نے لاہور میں مکان بنا لیا،جہاں اب وہ اپنی ماں شریفاں،ساس رحمت بی بی اور اپنی بیوی اور ایک دو سالہ بیٹے نوازالحق کے ساتھ رہنے لگا۔ اپنے باپ مولوی کرامت کی طرح فضل دین بھی کام اور عاجزی کا پیکر تھا۔ اِن خوبیوں کی وجہ سے تمام افسروں کا منظور نظر ہو گیا۔ جس نے جو بھی کام کہا،چاہے آدھی رات تک بیٹھنا پڑتا،فضل دین اُسے مکمل کر کے ہی دم لیتا۔ بلکہ بعض غیر متعلقہ کام بھی اُس کے ذمے لگا دیے جاتے تو وہ اُنہیں بھی ڈیوٹی سمجھ کر پورا کر دیتا۔ اِن سب باتوں کے علاوہ اُس نے اپنے کئی افسروں کو گھر کی بنی ہوئی دیسی گھی کی پنجیری پر لگا دیا،جو فضل دین کی ساس ایسی عمدہ بناتی کہ کسی نے کیا بنائی ہوگی۔ اُس نے ایک سائیکل بھی خرید لی،جس پر دفتر آنے جانے کے علاوہ فضل دین صبح سویرے افسروں کے گھر ناشتہ وغیرہ کا سامان بھی بازار سے خرید کر پہنچاآتا۔ جس کی فہرست اور پیسے فضل دین کو شام ہی دے دیے جاتے تھے۔ اِن کاموں سے فارغ ہو کر وہ سب سے پہلے دفتر میں داخل ہوتا۔ بعض اوقات تو چپڑاسی کے گیٹ کھولنے سے پہلے ہی باہر تھڑے پر بیٹھا ہوتا۔ فضل دین کی بیوی زینت ایسی ہشیار تھی کہ وہ فضل دین کا کھانا نماز پڑھ کے سورج نکلنے سے پہلے ہی تیار کر دیتی۔ فضل دین،جسے بچپن میں مولوی کرامت کی ڈانٹ نے سانجرے اُٹھنے کا خوگر بنا دیا تھا،جب تک نماز پڑھ کر فارغ ہوتا،کھانا تیار ہوتا۔ وہ کھانا کھاتا،سائیکل اُٹھاتا اور اپنے افسر کی دی ہوئی فہرست کے مطابق بازار سے سودا سلف خریدتا اور افسر کے گھر والوں کے اُٹھنے سے پہلے یہ سامان پہنچا دیتا۔ پھر وہیں سے اپنے دفتر آجاتا۔ دوپہر کا کھانا وہ سویرے گھر ہی سے لیے آتا اور شام یا رات کو گھر پر ہی جا کر کھاتا۔ آفس کے مسلمان افسروں اور کلرکوں کو ظہر اور عصر کی نماز بھی پڑھا دیتا۔ اِس لیے گورنرہاؤس میں رفتہ رفتہ مولوی فضل دین کے نام سے معروف ہو گیا۔ آفس کے اکثر لوگ اُس کی اِس وجہ سے بھی عزت کرتے تھے کہ جتنی آئتیں اور سورتیں اُسے یاد تھیں،کسی دوسرے کو اُن کا عشرِ عشیر بھی یاد نہیں تھا۔ اُس نے نماز کی قرات کے دوران لمبی لمبی سورتیں پڑھ کر سب کو مرعوب کردیا تھا۔ کئی دفعہ دفتر میں کام کرنے والے بابوؤں اور افسروں کے باپ دادا کے جنازے بھی پڑھا دیے۔ اُن کو گویا یہ ایک مفت کی سہولت مل گئی تھی کہ ایک تو مولوی ڈھونڈنا نہیں پڑتا تھا،دوسرا عام مولویوں سے فضل دین کا علم کہیں زیادہ تھا۔ بعض اوقات کئی لوگ خوش ہو کر اُسے کپڑے اور روپے پیسے بھی دے دیتے بلکہ رفتہ رفتہ اُس سے نکاح بھی پڑھوانے لگے۔ کئی دفتر والوں کو فضل دین کے علم کا پتا چلا تو اُنہوں نے اُس سے اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کا بھی کام لینا شروع کر دیا۔ اِس عمل میں فضل دین کو مزید آمدنی ہونے لگی۔ آمدنی کے اضافے نے فضل دین کے اندر ایک اور طرح کا جذبہ پیدا کر دیا۔ وہ سوچنے لگا،کسی طرح خود نہیں تو اپنے بیٹے کو ضرور افسر بنائے۔ کیونکہ افسروں کے ٹھاٹھ بابووں سے کہیں زیادہ تھے۔ چنانچہ فضل دین اِس کھوج میں لگ گیا کہ لوگ افسر کیسے بنتے ہیں اور چپکے چپکے ہر ایک سے معلومات لینے لگا۔ کسی نے فضل دین کو کچھ بتایا،کسی نے کچھ۔ پہلے پہل اُس کے ذہن میں یہ بات تھی،افسر صرف انگریز ہی بن سکتا ہے۔ لیکن جب آہستہ آہستہ اُسے پتا چلا،بہت سے مسلمان بھی افسر ہیں تو فضل دین نے اُس کی خبر لینا ضروری سمجھی۔ وہ بہت سے افسروں کے بچوں کو قرآن پڑھا رہا تھا،جس کی وجہ اُن کے والدین کے متعلق بہت سی معلومات اُس کے پاس جمع ہو رہی تھیں۔ اِن معلومات میں ایک بات اُس کی سمجھ میں آ گئی کہ افسر بننے کے لیے انگریزی میں بولنااور امیر بچوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں انگلستان بھی جانا پڑتا ہے،جس کے لیے بہت زیادہ پیسے چاہییں۔ اِس سب کے پیش نظر فضل دین نے بیٹے کے لیے میدان ہموار کرنا شروع کر دیا اور روپے پیسے کو کنجوسی کی حد تک احتیاط سے برتنے لگا۔ دفتر سے ملنے والی تنخواہ ساری کی ساری بچانے کے چکر میں فضل دین نے نماز،جنازے،نکاح،ختم دورد اور افسر کالونیوں میں قرآن پڑھا کر پیسے کمانے کی کاوشیں مزید تیز کر دیں۔ اِس سلسلے میں فضل دین کے گھر باہرسے ختم درود کا کھانا بھی آنے لگا اور ہانڈی کے پیسے مزید بچنے لگے۔ یہ سب کچھ اول تو فضل دین نے اپنے بیٹے کے لیے کیا تھا مگر آہستہ آہستہ اُس کی یہ عادت اپنے بچپن کی افتاد کو غالب کر گئی اور وہ بابو سے زیادہ دوبارہ مولوی بن گیا۔ لیکن دفتر کے کام میں کوتاہی پھر بھی کبھی نہ کرتا۔ البتہ اِتنا ہوا کہ جو دین کے کام وہ دفتر میں بغیر پیسوں کے کرتا تھا،اب پیسوں سے شروع کر دیے،جس میں اُسے کافی زیادہ ترقی ہوئی اور آمدنی میں کئی گنا اضافہ۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پچیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(43)

غلام حیدر اپنی روپوشی کے دن مستقل مزاجی سے گزار رہا تھا اور وطن واپسی کے لیے کسی معجزے کا منتظر تھا۔ اُسے جلال آباد سے نکلے دس سال ہو چکے تھے۔ اُس کے لیے اتنے طویل عرصہ کی روپوشی قید سے کم نہیں تھی مگر کیا کرتا؟ دوسری صورت میں تو فوراًسزائے موت تھی جبکہ غلام حیدر کو ابھی اپنی زندگی عزیز تھی۔ وہ بلاوجہ ریشمی رسہ گلے کی زینت نہیں بنانا چاہتا تھا۔ پہلے ایک دو سال اُسے جلال آبا د اور لاہور بہت یاد آتے رہے۔ اُس کے بعد دل کو ٹھہراؤ آنے لگا اور وہ روپوشی کی جگہ کو گھر تصور کرنے لگا۔ اُس کی اطلاع سوائے نواب ممدوٹ کے کسی کو نہ تھی۔ حتیٰ کہ غلام حیدر کے عزیز ترین رشتہ داروں کو بھی۔ اُس نے اپنی والدہ کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا،جس کے اصرار پر وہیں شادی بھی کر لی اور کچھ نواب صاحب کا خرچہ کچھ اپنی بچی کھچی دولت کو احتیاط سے برت رہا تھا،جو پان چھ کلو سونے اور ایک لاکھ چاندی کے روپوں کی شکل میں تھی۔ یہ دولت غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی ٹھکانے لگا دی تھی۔

یہ جگہ،جہاں غلام حیدر روپوش تھا،پنجاب سے باہر کشمیر کے دور دراز کے علاقے میں تھی۔ جہاں نہ تو سواری جاتی تھی اور نہ ہی پیدل کسی میں طاقت تھی۔ یہ ایسا دشوار گزار علاقہ تھا،جس کے شمال جنوب کی خود غلام حیدر کو بھی خبر نہ تھی۔ اُس رستے کو وہ خود اکیلا بھی طے نہ کر سکتا تھا۔ اُس کا یہ گھر دریا کے کنارے چھوٹی سی بستی میں تھا،جس کے مالکانہ حقوق نواب ممدوٹ کی ماں کے پاس تھے،جو اَب نواب ممدوٹ کو منتقل ہو چکے تھے۔ وہاں کی مقامی آبادی بھی ایک طرح سے نواب ممدوٹ کی رعیت ہی تھی۔ نواب صاحب سال بعد یہاں چکر لگا جاتے تھے اور غلام حیدر کو دلاسے کے ساتھ جلال آباد،غلام حیدر کی رعیت،کیس کی نوعیت اور علاقے کی پوری صورت حال کے بارے میں آگاہ کر جاتے تھے۔ سچ پوچھیں تو اِس تنگی کے پورے عرصے غلام حیدر کی دوستی کا نواب ممدوٹ نے حق ادا کر دیا تھا۔ خرچے پانی کے علاوہ کسی چڑیا کو بھی پتا نہیں چلنے دیا کہ غلام حیدر کہاں ہے۔ اس بات کا غلام حیدر کو دل ہی دل میں احساس تھا اور وہ چاہتا تھا،کسی طرح اِس احسان کا بدلہ اُتارے مگر وہ دن بھی نواب کی کوششوں کے بغیر نہیں آ سکتا تھا۔ زندگی کے دن گزرتے جا رہے تھے اور کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ اِدھر عدالت نے اُس کی غیر حاضری میں اُسے سزائے موت سنادی تھی۔ جس کی اپیل کا وقت بھی مدتیں ہوئیں گزر چکا تھا۔ اِس کے باوجود نواب ممدوٹ غلام حیدر کو مسلسل دلاسے دیے جا رہا تھا کہ وہ اُس کی معافی کی کوشش کر رہا ہے،جس کا وقت بہت قریب ہے۔ ان دلاسوں کی شدت پچھلے ایک سال سے کافی زیادہ ہو گئی تھی۔ غلام حیدر پہلے پہل تو یہی خیال کرتا رہا تھا کہ وہ کبھی جلال آباد واپس نہیں جا سکے گا۔ مگر نواب افتخار ممدوٹ نے جو کچھ صورت حال انگریزوں اور ہندوستان کی بتائی تھی،اُس سے ثابت ہوتا تھا،واقعی کچھ نہ کچھ خدا راہ نکالنے والا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو اُسے یقین ہونے لگتا کہ یہ انقلاب صرف اور صرف اُسی کے لیے برپا ہونے والا ہے۔ جس میں سرا سر دخل اُس کی ماں کی دن رات تہجد کی دعاوں کا ہے۔ اِسی عرصہ میں غلام حیدر کے دو بیٹے بھی پیدا ہو چکے تھے۔ جن میں سے ایک کی عمر چار سال تھی اور ایک دو سال کا تھا۔ رائفل اب بھی غلام حیدر کے پاس تھی،جو اُسے مسلسل وہ دن یاد دلاتی،جس دن اُس نے سردار سودھا سنگھ کا نقشہ برباد کیا تھا۔ وہ اُس واقعے کو یاد کر کے پُر سکون سا ہو جاتا۔ حالانکہ اُسے یہ بالکل خبر نہیں تھی کہ امیر سبحانی نے اُس کی بہادری پر ایک نہایت دلچسپ کمشری تیار لی تھی۔ جسے اُس نے جلال آباداور فیروز پور کے علاوہ دور نزدیک کی دوسری تحصیلوں کے دور دور گاؤں تک بھی پھیلا دیا تھا۔ وہ یہ قصہ لوگوں کو بڑے دلنشیں انداز میں سنا سنا کر اپنی روزی روٹی کا بھی سامان پیدا کرلیتا۔ اُس کمشری کی وجہ سے ہر گھر میں غلام حیدر کا تذکرہ ایک سورمے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ لوگ بڑے فخر سے اُسے اپنی بیٹھکوں اور چوپالوں میں سُنتے۔ غلام حیدر پنجاب کے ان لوگوں کے لیے ایک ایسا اسطیری ہیرو بن گیا،جس کی بندوق امیر حمزہ کی تلوار کی قائم مقام بن چکی تھی۔ اِدھر غلام حیدر سب کچھ سے بے خبر اِس کوہ قاف میں نواب صاحب کی آمد کا شدت سے منتظر رہنے لگا،جسے اب آئے ہوئے دس ماہ ہو چکے تھے۔ اُس کے علاوہ اس جگہ پر کسی دوسری خبر کا پہنچنا جوئے شیر کے پہنچنے سے کم نہیں تھا اور دن تھے کہ عمر کی طرح مسلسل نکلے جا رہے تھے۔ اِس بار اُسے اس لیے بھی انتظار زیادہ تھا کہ جب سے اُس کی آزادی کا گمان یقین میں بدلا تھا،بے چینی اور اضطراب بھی شدید ہو گیا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ خدا نا خواستہ خبر ملتی کہ روپوشی ختم نہیں ہو سکتی تو غلام حیدر اِس جگہ سے نکل کر کہیں اور جانے کی سوچ لیتا۔ بھلے اِس میں اُس کی زندگی کو خطرہ ہی ہو جاتا۔ وہ پنجاب کارخ ضرور کرتا،جہاں دشمن اُس کی بُو کتوں کی طرح اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی سونگھ رہے تھے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جناح صاحب کو نواب و لاز لاہور میں ٹھہرے دو روز ہو گئے تھے اور نواب افتخار صاحب ممدوٹ کی جرات نہیں ہو رہی تھی،وہ جناح کے ساتھ اِس مسئلے پر بات کرے۔ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا،اگر اب بھی جناح سے اس معاملے میں بات نہ کی،پھر یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا کہ اس معاملے میں تھوڑی سی بھی استقامت پیدا کرے،تو کچھ ہی دیر میں سب ٹھیک ہو سکتا تھا۔ چنانچہ آج نواب افتخار نے غلام حیدر کا معاملہ جناح صاحب کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ نواب نے سوچا،نتیجہ جو بھی نکلے،آج کا دن ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اِنہیں خیالوں کے ساتھ اپنی کوٹھی کے وسیع لان میں چہل قدمی میں مصروف تھا۔ دل ہی دل میں وسواس اور خدشوں کو اِدھر سے اُدھر دھکیل رہا تھا اور سوچ رہا تھا،اگر آج ابا جان زندہ ہوتے تو آسانی سے اُن کے ذریعے جناح صاحب کو کہلوا دیتا۔ صبح سفید روشنی دور تک پھیلی تھی۔ یہ ٹھنڈی روشنی اور سفید صبح کتنی حسین ہوجائے،اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

جناح صاحب کچھ ہی دیر میں ناشتہ کر کے باہر نکلنے والے تھے۔ اسی انتظار میں وہ آنے والی گھڑیوں کو دیکھ رہا تھا اور اِس معاملے پر دل ہی دل میں بدل بدل کر اُن سے مکالمہ کرتا،پھر خود ہی جناح کی طرف سے اپنی باتوں کا جواب دے کر مشق کرنے لگا۔ وہ خوب جانتا تھا،جناح کا معاملہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ اگر ایک دفعہ اُنہوں نے،نہیں،میں سر ہلا دیا تو ہر چیز گڑبڑ ہو جائے گی۔ پھر اُنہیں قیامت تک قائل نہیں کیا جا سکے گا۔ لہذا بات کرنے میں کہیں جھول نہ رہ جائے اور جواز جس قدر مضبوط بنا لیا جائے،بہتر ہے۔ اِسی وجہ سے نواب صاحب آج اذان کے وقت ہی اُٹھ کر ٹہلنے لگ گئے تھے اور اب تو دن صاف نکل آیا تھا۔ چنانچہ بات کے ہر پہلو پر غور کرتے ہوئے نواب افتخار اپنے ذہن میں ایک منصوبہ بنا کر تیار ہوچکا تھا اور اب بے چینی سے قائد کے باہر نکلنے کے منتظر تھا۔

یہ سردیوں کے عظیم اور مصروف دن تھے۔ ہلکی ہلکی دھوپ صحن میں پر پھیلا رہی تھی،ایسے محسوس ہو رہاتھا،دھوپ نواب کی منصوبہ بندی کو تقویت دینے میں کافی مفید ہو گی۔ سردی میں اِس طرح کی دھوپ بات کرنے کے جذبے کو بڑھاوا اور تاثیر دیتی ہے۔ نواب ولاز کے اُونچے اور لمبے چھتناروں کے رہائشی پرندے،اِس ساری کشمکش سے بے نیاز بوڑھے درختوں کی شاخوں پر اِدھر سے اُدھر پھدکتے اور پر چہلیں کرتے نظر آ رہے تھے۔ اُن کے پَروں کے بال دھوپ کی روشنی میں کبھی سنہری نظر آتے،کبھی دوسرا رنگ اختیار کر لیتے۔ کافی دیر بے چینی سے ٹہلنے کے بعدنواب صحن میں پڑی صندل کی لکڑی کی کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا اور دل میں منصوبے کی چوہلیں ہر طرح سے ٹھیک بٹھا لیں۔ اِسی طرح بیٹھے،اُنہیں دس منٹ گزر گئے۔ خدا خدا کر کے جناح صاحب باہر آتے دکھائی دیے۔ نواب نے دیکھا اُن کی صحت قدموں کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ لیکن چال میں ایسی طمطراقی موجود تھی،جس کے آگے نواب تو ایک طرف گورنر تک کی شخصیت ماند پڑ جاتی۔ سُرمئی رنگ کے انتہائی نفیس اور صاف ستھرے تھری پیس سوٹ میں دُبلا پتلا جسم پُر وقار چال کے ساتھ سامنے آرہا تھا۔ پاؤں میں سیاہ جوتے ایسے متوازن تسموں سے کَسے ہوئے،اِتنے چمکدار اورداغ دھبے سے مبرا تھے کہ اُن کی چمک میں اندھا بھی اپنا منہ دیکھ سکتا تھا۔ ایسا نہیں کہ جناح کے جوتے اور سوٹ خاص لندن سے بن کر آتے تھے،اِس لیے اُن میں اتنی نفاست تھی۔ بہت سے اُمرا اور لیڈر اپنے پہننے کا سامان خاص لندن ہی میں آڈر سے بنواتے تھے لیکن اُن میں اِس طرح کی نفاست کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی،اُن کے سامنے بڑے سے بڑا پھنے خاں بھی مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کا اندازہ غیر شعوری طور پر نواب ممدوٹ کو بھی تھا۔ جناح سے اُس کا تعلق ایک عرصے سے تھا۔ وہ اُس کا لحاظ بھی رکھتے تھے۔ لیکن اِس قربت کے باوجود نواب ممدوٹ کی جرات نہیں تھی،وہ جناح سے بے تکلف ہونے کی جسارت کرتا۔ یہ جسارت تو لیاقت علی خاں وغیرہ بھی نہیں کر سکتے تھے اور جنہوں نے کی تھی،وہ برصغیر کے مسلمانوں کی نظر میں اِس طرح بے وقار ہو کر رہ گئے گویا اُن کا وجود ہی نہ ہو۔

سگار کے ہلکے ہلکے کش لیتے ہوئے وہ کھلے لان کے مرکز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نواب کو اُن کے عینک کے شیشوں کے اندر سے پپوٹوں کی جھریاں صاف نظر آ رہی تھیں جو چہرے کو اُن کی نقاہت کے باوجود پر شکوہ کر رہی تھیں۔ جناح کو آتے دیکھ کر نواب فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیااور نہایت ادب سے اُن کے استقبال کو آگے بڑھا۔ لان کافی کھلا اور بڑا تھا،اس لیے نواب کو آٹھ دس قدم آگے جانا پڑا۔ جناح کے برابر پہنچا تو ہاتھ ملانے کی بجائے واپسی ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ جناح نے سگار کا دھواں ہوا کی آغوش کو سونپتے ہوئے نہائت آہستگی سے گُڈ مارننگ کہا اور بغیر قدم روکے کُرسیوں کی طرف بڑھتے چلا گیا۔ چند لمحوں بعد جناح نے کُرسی پر بیٹھ کر ایک ٹانگ دوسری کے اُوپر ر کھ لی۔ اِس طرح بیٹھنے سے اُن کے جوتوں کی چمک میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ کیونکہ دھوپ دھند اور غبار سے بے عیب تھی اور جوتے گرد سے۔ نواب افتخار ایسے ایک طرف کھڑا ہو گیا جیسے پریشانی کے آثار چہرے سے نظر آرہے ہوں۔ لیکن جناح نے نواب کے پریشان چہرے کی طرف کچھ توجہ نہیں دی۔ وہ خموشی سے سگار پیتے رہے اور چند لمحے اِسی طرح گزر گئے۔ نواب افتخار جناح کا منتظر تھا کہ کب وہ پنجاب کی صورت حال پر بات کرے اور یہ سُرخ لوہے پر ضرب لگائے۔ پنجاب مسلم لیگ کے لیے سب سے اہم صوبہ تھا،جس میں سکھوں اور ہندؤوں کی بڑی تعداد موجود ہونے کی وجہ سے پیچ در پیچ ہزاروں مسائل تھے۔ اُن کو حل کرنے کے لیے جس آدمی کی سب سے زیادہ اہمیت جناح کی نظر میں تھی،وہ نواب ہی تھا۔ لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ مسلم لیگ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے پنجاب کو نظر انداز کر جائیں اور اُس میں نواب کی مشاورت سے گریز کریں۔ کافی دیر خموش بیٹھے رہنے کے بعد جناح نے آخر سکوت توڑ دیا۔

افتخار،آپ کی طرف سے ابھی تک اپنے علاقے کے بارے میں کوئی صورت حال سامنے نہیں آئی،خموشی کیوں ہے؟
سر پنجاب میں ہر طرف حالات مسلم لیگ کے حق میں ہیں،جیسا کہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن مشرقی پنجاب کے کچھ علاقوں میں پوزیشن ٹھیک نظر نہیں آتی۔ اندیشہ ہے،تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور تحصیل فیروز پور سے ہم الیکشن ہار جائیں گے،مجھے یہی پریشانی اس وقت بھی ہے۔

ایسا کس لیے ہے؟،جناح نے نہایت اطمنان اور بغیر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا،اُن کا یہ رویہ نواب کے بنائے ہوئے منصوبے کے لیے بہتر نہیں تھا۔

فیروزپور کی انتظامیہ کانگرس کے ساتھ مل کر ہمیں شکست سے دوچار کرنا چاہتی ہے ( نواب نے اب کے اپنے چہرے پر ایک کرب ناک پریشانی طاری کرلی) پورے علاقے میں غیر تحریری طور پر ہمیں جلسے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ عوام پر ایک خفیہ دباؤ موجود ہے۔ کانگرس کچھ سکھ سرداروں کے ساتھ مل کر غنڈہ گردی کر رہی ہے۔ مسلمانوں کوبلا جواز ڈرایا جا رہا ہے۔ یہ عوام غریب غربا بے زمین لوگوں پر مشتمل ہیں اور زیادہ تعداد بالواسطہ طور پر سکھ زمینداروں کی رعایا ہیں۔ یہ لوگ ووٹ تو مسلم لیگ کو ہی دینا چاہتے ہیں،لیکن ڈر کی وجہ سے ہو سکتا ہے،الیکشن کے دن گھر وں سے ہی باہر نہ نکلیں۔ بلکہ جو لوگ سکھوں کے مزارع ہیں،اگر اُن پر دباؤ بڑھ گیا تو وہ ہمارے خلاف بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔ اِس لحاظ سے ہم مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

آپ نے پہلے آگاہ نہیں کیا؟ اب جناح نے قدرے بات کو سنجیدہ لیتے ہوئے پوچھا۔ البتہ چہرے پر پریشانی کے آثار پھر بھی ظاہر نہیں ہونے دیے،مگر نواب ایک عرصے کی رفاقت کے بعد سمجھ گیا تھا کہ اُن کے اندر ہل چل ہو چکی ہے۔

سر،کچھ فائدہ نہیں تھا۔ معاملات اور بھی زیادہ خراب ہو جاتے۔ انتظامیہ جس قدر عذراور تاویلات کی ماہر ہے،ہمارا کوئی بھی قدم اُس کے آگے غیر موثر ثابت ہو گا۔ نواب نے ایک اور ضرب لگائی۔

پھر بھی ہمیں اِس کا حل نکالنا ہے( جناح کا اطمنان گڑبڑا گیا تھالیکن وہ بات اب بھی بے پناہ تحمل کے ساتھ کر رہے تھا )وہاں تمھاری شکست کا مطلب مسلم لیگ کی پنجاب میں شکست ہے۔ ہمارے لوگ بددل ہو جائیں گے۔ فیروز پور میں ہر حالت اپنی پوزیشن بہتر کرو۔
جناح کا یہ جملہ ایسا تھا جو نواب افتخار کے لیے اپنی بات منوانے کی بنیاد فراہم کرتا تھا۔ لہذا نواب نے بغیر وقت ضائع کیے،جس کا انتظار وہ کئی مہینوں سے کر رہے تھے،اپنا مدعا سامنے ر کھ دیا،سر میرے کئی آدمیوں اور ذاتی دوستوں پر فیروزپورپولیس کی طرف سے ایک عرصے سے قتل اور ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں۔ جن کے پس پشت گورنمنٹ کی مسلم لیگ دشمنی کار فرما ہے،جو مشرقی پنجاب میں آج کل تو بہت فعال ہو چکی ہے۔ مَیں اُس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہوں۔ مثلاً؟ جناح نے وضاحت چاہی۔

مثلاًمیرا ایک دوست غلام حیدر ہے(نواب نے منصوبے کے مطابق اب کہانی شروع کی) جس نے میرے ساتھ ایچی سن کالج سے بی اے کیا ہے۔ وہ مسلم لیگ کا انتہائی سر گرم رکن ہے۔ اُس پر اُسی دن سے پورے پندرہ بندوں کے قتل کا مقدمہ درج ہے،جس دن اُس نے مسلم لیگ کی رکنیت اختیار کی۔ اِس کی وجہ سے وہ پچھلے دس سال سے روپوش ہے اور اپنے علاقے میں داخل نہیں ہو سکا۔ عدالت اُس کی غیر موجودگی میں اُسے سزائے موت سنا چکی ہے۔ بچاراپتہ نہیں کہاں جان بچاتا پھر رہا ہے۔ اُس کا مال اور جائداد ضبط کی جا چکی ہے۔ پڑھالکھا اور شریف زمیندار ہونے کے ساتھ علاقے میں اُس کی حیثیت ایک بااثر مسلم لیگ کے کار کن کی ہے۔ اُس کی شرافت اور ہر دل عزیزی کی وجہ سے ہزاروں ووٹ اُس کی جیب میں ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں،جب اِتنے اہم شخص کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو پھراُ ن کی کیا حیثیت ہے؟ اُس پر بلاجواز مقدمات درج کر کے فیروزپور میں مسلم لیگ کی تحریک کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سرور بہکاں والے کو مجھ پر سوار کرایا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے،جب تک میری گاڑی میں غلام حیدر نہیں بیٹھ جا تا اور میرے جلسوں میں شریک نہیں ہو جاتا،مجھے الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔ ورنہ ذلت سے دوچار ہونا پڑے گا۔

کیا غلام حیدر کے علاوہ یہ جگہ کوئی اور نہیں پُرکر سکتا؟ جناح نے سگار پینا مسلسل جاری رکھا۔

اول تو ایسا کوئی آدمی وہاں موجود نہیں ہے۔ اگر ہو بھی،تو اِن حالات میں،جبکہ ہم اُن کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کر سکتے،کوئی اور کیونکر رسک لے سکتا ہے؟ نواب نے اب بات فیصلہ کن انداز میں جناح صاحب کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی۔
اوکے دیکھتے ہیں،جناح نے اُٹھتے ہوئے کہا،تم الیکشن کی تیاری کرو،میری تین تاریخ کو مونٹ بیٹن سے ملا قات ہے۔
اتنا کہ کر جناح صاحب دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑے اور مزید ایک لفظ بھی کہنا گوارہ نہ کیا۔

نواب افتخار جناح کے اُٹھتے ہی خود بھی جلدی سے تکریم کے لیے کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور اُسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ جناح کا کہنا،تم الیکشن کی تیاری کرو،کا مطلب تھا،کام اسی فیصد تک ہو چکا ہے اور واقعی وہی کچھ ہوا دو ہفتے بعد ہی جلال آباد تحصیل میں غلام حیدر کی سزا کی معافی اور اُس کی تمام جائداد کی واپسی کا حکم پہنچ گیا۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا،جو فی الحال کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ اِتنے زیادہ قتل کا مقدمہ،جس میں غلام حیدر کے اشتہاری ہونے کے بعد اُس کو سزائے موت ہو چکی تھی،کا آسانی سے ختم ہوجانا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہ بھی انگریز سرکا ر میں۔ بعض لوگوں نے سمجھا،یہ حکومت کی چال ہے اور اُسے روپوشی سے باہر نکالنے کا ایک ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے ہی غلام حیدر سامنے آئے گا،اُسے دھر لیا جائے گا۔ لیکن جب غلام حیدر واقعی دس سال بعد جلال آباد اپنی حویلی میں آیا اور پولیس نے کوئی پوچھ گچھ نہ کی تو لوگوں کو یقین آ گیا کہ امیر سبحانی کی بات تو بھائی سچ ہے۔

ہوا یہ کہ جناح صاحب کو مونٹ بیٹن کے ساتھ ملاقات میں نواب افتخار کی تمام بات یاد تھی۔ اُنہوں نے اِس تشویش کا اظہار لارڈ صاحب سے کر دیا کہ گورنمنٹ پنجاب اُن کے خلاف سازش بُن رہی ہے۔ اِس بات کا لارڈ صاحب نے فوراً انکار کر دیا اور کہا اِس کا ثبوت دیں۔ جناح نے نواب افتخار کے حوالے سے غلام حیدر پر مقدمات کا ذکر کر دیا،جس کی تفصیل بعد میں اُنہوں نے خود معلوم کر لی تھی۔ مونٹ بیٹن نے غلام حیدر کی خوش بختی سے،وہیں بیٹھے جناح صاحب کی تشویش دور کرنے کے لیے گورنر صاحب کو فون کر مارا اور کسی لہر میں آ کر یہ بات کر دی،غلام حیدر پر سے تمام مقدمات فوری طور پر اُٹھا لیے جائیں۔ گورنمنٹ اُس کی سزائے موت معاف کرتے ہوئے اُسے بری کرتی ہے۔ لہذا غلام حیدر ولد شیر حیدر کی سزا کے متعلق فیصلے کی فائل بلا تاخیر اُنہیں دہلی رو انہ کر دی جائے۔ یہ تھی ساری کہانی،جس میں مونٹ بیٹن نے محض جناح صاحب کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے اپنی طرف سے یہ چھوٹا سا کام آناً فاناً کر دیا۔
غلام حیدر جلال آباد میں کچھ ایسی دھوم دھام سے داخل ہوا کہ اُس کے سامنے جلال آباد والوں کی نظر میں نواب افتخار کی کیا اہمیت تھی۔ سفارش کا یہ قدم شاید جناح صاحب کبھی نہ اُٹھا تے لیکن اُن کی نظر میں نواب افتخار کی بھی ایک اہمیت تھی۔ شروع دن سے ہی ممدوٹ خاندان محمد علی جناح کا دست وبازو تھا۔ وہ پنجاب میں سب سے زیادہ اعتبار اُنہیں پر کرتے۔ لاہور آتے تو ممدوٹ ولا زکے سوا کہیں قیام نہ فرماتے۔ حتیٰ کہ فاطمہ جناح بھی اُن کے ہمراہ ہوتیں تو وہ بھی ممدوٹ ولاز میں ٹھہرا کر تیں-انیس سو چھ میں سرشاہنواز خان ممدوٹ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی صدارت سنبھالی تھی اور مسلم لیگ کو مضبوط و فعال بنانے کے لئے انتھک کوششیں کیں اور اپنی دولت خرچ کی تھی۔ یہ اُنہی کی کاوشیں تھیں کہ قرار داد پاکستان ممدوٹ ولازکے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بنائی گئی- منٹوپارک کا جلسہ اور اُس کی کامیابی بھی سرشاہنواز خان ممدوٹ کے سرجاتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو جہاں دُشواری پیش آتی،نواب ممدوٹ اپنی تجوری کی چابیاں اُن کے حوالے کر دیتے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چوبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(42)

بہت دنوں سے ولیم سوچ رہا تھا کہ سرکاری نوکری پر لعنت بھیج دے۔ صرف اوکاڑہ میں رہ کر اپنا ذاتی فارم چلائے،جس پر کیتھی کسی طرح بھی راضی نہ ہو سکتی۔ شاید وہ اُسے بھی نظر انداز کر کے فیصلہ کر بیٹھتا کہ اچانک اُس کی خوش نصیبی سے برطانیہ پر ایک آفت ٹوٹ پڑی اور وہ تھی جنگ عظیم دوم۔ ہٹلر کی حکومت نے مشرقی یورپ میں ایک وسیع اور جدید سلطنت “لونگ اسپیس” (لیبن سروم) کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ اُس نے یہ خیال اپنے لوگوں پر واضح کیا تو جرمن لیڈروں نے یورپ پر جرمنی کے تسلط کیلئے جنگ کو ضروری قرار دے دیا۔ سویت یونین کی غیر جانبداری حاصل کرنے کے بعد جرمنی نے یکم ستمبرانیس سو انتالیس میں پولنڈ پر حملہ کرکے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کر دیا۔ اِس کھلم کھلا جارحیت کو روکنے کے لیے برطانیہ اور فرانس نے رد عمل کے طور پر تین ستمبر کو جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اُدھر ایک ماہ کے اندر جرمن نے سویت فوجوں کے اتحاد سے پولنڈ کو شکست دے دی۔ پولینڈ جرمنی اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب اِس سب کچھ سے لا تعلق ولیم پنجاب کے چیف سیکرٹری ہاؤس لاہور میں کُھڈے لائن لگا،فائلوں کے اُوپر سے مکھیاں اُڑا رہا تھا۔ وہ اِس جنگ کی خبریں تو مسلسل سُن رہا تھا لیکن ابھی جنگ کی آواز براہ راست ہندوستان نہیں پہنچی تھی۔ اِس لیے اُسے اس سب کچھ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ویسے بھی کچھ وقت تک عارضی سکون ہو چکا تھا،جونو اپریل انیس سو چالیس تک جاری رہا اور اُس وقت ختم ہوگیا،جب جرمن فوجوں نے پھر ایک دفعہ ناروے اور ڈنمارک پر حملہ کردیا۔ یہی وہ وقت تھا جب بر طانیہ کے کان پر دوبارہ جوں رینگی اور وہ اِس کھجلی پر چونکا۔ اُدھر جنگ کا آغاز ہو ااِدھر برطانوی کالونیوں میں انگریزوں اور مقامیوں کو افسریاں پلیٹوں میں بکنے لگیں۔ اِسی ریلے میں کئی معتوبوں کی غلطیاں بھی تھوڑی بہت سرزنش کے بعد بخش دی گئیں۔ چنانچہ ولیم کی بھی سنُ لی گئی اور اُس کی خدمات دہلی ڈویژن کے سپرد کر دیں۔ جہا ں انہیں بطور ڈپٹی کمشنر ضلع روہتک بھیج دیا۔

ولیم کا اتنی جلدی اچانک ڈپٹی کمشنر بن جانا نہایت اعزاز کا باعث تھا اور کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ کجا لاہورمیں پندرہ ماہ سے مکھیاں مارنے کاکام اور کجاایک دم پورے ضلع کا وائسرائے۔ آڈر ملنے کے بعد اُس نے فوراً کیتھی کو اطلاع دی اور کہا،محترمہ جلدی ضلع کی میم بننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ کیتھی نے یہ سنتے ہی اوکاڑہ میں اپنی نیابت کے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کر دی۔ سب سے پہلے اُس نے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر ملنے والے ملازمین کی لسٹ تیار کی۔ جس کی تعداد پینتیس کے لگ بھگ تھی۔ اِن میں خاص کر،سائیس،دھوبی،خانساماں،بھنگی،باورچی،مالی،گھسیارا،چڑی مار، قصاب، مچھیرا، ماشکی، مالشیا،حلوائی،سگ پرور،بٹیر باز،مرغ باز،اور اسی طرح کے نجانے کیا کیا الا بلا نوکروں کی پلٹنیں تھیں۔ یہ تو باقاعدہ نجی ملازم تھے۔ ورنہ تو اب پورا ضلع ملازم ہونے والا تھااور کسی کی کیا جرات کہ اُن کی مرضی کے خلاف پر بھی مارتا۔ ولیم اِسی خوشی میں نولکھی کوٹھی پر پہنچا اور سب دوستوں کو بلا کر ایک لمبی دعوت سے سر فراز کیا۔ جانسن صاحب نے (جو ایک سال پہلے ریٹائرڈ ہو چکے تھے) اپنے تجربات کی تھکادینے والی کہانیاں سنائیں اور ایسی ایسی نصیحتوں کی زنبیلیں کھولیں،جو اگرچہ بوسیدہ ہو چکیں تھیں،پھر بھی ولیم کو سننی پڑیں کہ یہ کچھ دیر کی کوفت اُس کے والد کے لیے طمانیت کاباعث تھی۔ جانسن کے لیے ویسے بھی یہ ایک ایسی خوشی تھی،جس کا نہ ملنا ایک طرح کی بے توقیری تھی،کہ پشت در پشت ملنے والی کمشنری اگر کسی جگہ رک جاتی تو خاندان کو بٹہ لگ جاتا۔ اِس لیے جانسن صاحب ولیم سے بھی زیادہ پُرجوش تھے اور دوستوں کو اپنے خاندان کے قصے لطف لے لے کر سنا رہے تھے۔ اگر ولیم کے ڈپٹی کمشنر بننے کی کہانی اندر سے کھولی جاتی تو کہیں جانسن صاحب کی بار آور کوششیں درمیان میں موجود تھیں۔ دعوت میں پادریوں سے لے کرڈپٹی کمشنروں تک سب جمع تھے،جنہیں جانسن صاحب کو اپنا نام و نامود دکھانا منظور تھا۔ دعوت کے بعد ولیم بلا تاخیر افسرانہ اعزاز کے ساتھ روہتک کی طرف روانہ ہوگیا اور سیدھا ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں جا کر دم لیے۔ جو چنددن پہلے اُس کے لیے خالی کر کے،اُس میں ولیم کا ذاتی سامان لگا دیا گیا تھا۔

یہ بنگلہ ایک طرح کا گورنر ہاؤس ہی تھا۔ وہ بڑی بڑی پیلے رنگوں کی دیواریں اور دیواروں کے اندر سفید انڈے کی طرح کا اونچا سا بنگلہ،جس کے بے شمار کمرے،مہمان خانے،ڈائیننگ روم،ڈرائینگ روم اور دوسرے کمرے تھے۔ اِن کے علاوہ کئی کئی چبوترے،سہ دریاں،بارہ دریاں اور شش دریاں سفید رنگوں میں ایک کے بعد ایک بنگلے کے کھلے صحنوں میں ہنس رہی تھیں۔ یہ سب تو ایک طرف،ولیم بنگلے میں اُترا تو اُس کا استقبال کرنے کے لیے آدھا شہر وہاں موجود تھا۔ دو ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،ضلع کی پانچوں تحصیلوں کے تحصیلدار،نائب تحصیلدار،پولیس کے افسر اور نہ جانے کس کس شعبے کے لوگ تھے۔ ان سرکاری لوگوں کے علاوہ شہر کے بڑے اور امیر لوگوں کی الگ کھیپ سلام کرنے کے لیے پہنچی ہوئی تھی۔ ولیم نے ان سینکڑوں افراد کے مجمعے کو دیکھا،جو اُسی کی خاطر کھڑے تھے،تو چند لمحوں کے لیے اُس کے اندر رعونت نے بھرپور پھریری لی۔ لیکن اِس طرح کے معمولات وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ دیکھ چکا تھا،اِس لیے زیادہ فرق نہ پڑا اور وہ پہلی حالت میں آ گیا۔ لوگ بہت زیادہ تھے لیکن ولیم نے ترتیب میں کھڑے ہوئے آٹھ دس سے ہی ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا۔ اسی طرح ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر جان میکن نے بھی چند لوگوں کا تعارف کرا کے باقی کو نظر انداز کر دیا۔ وہ جان گیا تھا،صاحب اِس وقت تھکے ہوئے ہیں اور جلد ی مجمع اپنے سے دور کر دینا چاہتے ہیں۔

روہتک میں کافی عرصے سے ڈپٹی کمشنر کی جگہ پر اسسٹنٹ کمشنر ہی کام کر رہا تھا۔ یہاں کسی کو اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی اور کام بخوبی چل رہا تھا لیکن اچانک جنگ کی وجہ سے ہنگامی حالات پیدا ہوئے تو اس آسامی کو پُر کرنے کا خیال آ گیا اور قرعہ ولیم کے نام نکل آیا۔

تعارف کے بعد ولیم نے جلد ہی سب کو رخصت کر دیا تاکہ دوسرے دن مکمل آزادی کے ساتھ اگلے اقدام کا بندوبست کیا جائے۔
دوسرے دن ولیم ڈپٹی کمشنر ہاؤس پہنچا تو عمارت کو اندازے کے مطابق نہایت پُر شکوہ پایا۔ دور تک بلندو بالا کمرے ہی کمرے اور کھلی راہداریاں۔ ولیم کا اپنا کمرہ جلال آباد والے سے دگنا تھا۔ انتظامیہ کا پروٹوکول بھی کمال تھا۔ مگر اِس کے باوجود ولیم کو یہاں کچھ خلا سا محسوس ہو رہا تھا۔ جس کی فی الحال نشان دہی تو نہیں ہو رہی تھی لیکن کچھ ایسا ضرور تھا،جسے ولیم سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ یہاں اُس کا،پی اے،ایک راجپوت رانا دھنپت رائے تھا،جو شائستہ اور صاف ستھرا پچاس سال کی عمر کے لگ بھگ کا شخص تھا۔ اُس کی مونچھیں ضرور تھیں لیکن ایسی،جس سے ولیم کو کسی قسم کی تکلیف پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ سر پر کُلے دار پگڑی نے مو نچھوں کو مزید بارعب بنا رکھا تھا۔ رائے دھنپت صاحب اردو کے ساتھ انگلش بھی اچھی طرح سمجھتا اور بولتا تھا۔ ولیم کو پہلے دن ہی اُس کی لیاقت کا اندازہ ہو گیا۔ اُس نے اُسے جتنی ہدایات دیں،اُن پر اس قدر پھرتی سے عمل کیا کہ خود ولیم بھی دنگ رہ گیا۔

ولیم نے دوسرے روز ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنرز اورتمام تحصیلداروں کا اجلاس طلب کیا اور کام کے آغاز کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے لگا۔ اُسے ایک بات کا اطمنان تھا کہ اب اُسے بہت سے کاموں میں آزادی ہوگی۔ وہ اُن کے بارے میں کسی کو جواب دہ نہیں ہو گا۔ وہ بے دھڑک اُن کو نبٹانے کی طرف توجہ دے گا اور جو کام اپروول کے محتاج ہوئے،وہ آہستہ آہستہ بھی آگے بڑھتے رہے تو مضائقہ نہیں۔ ولیم نے پہلے ہی اجلاس میں اپنی گزارشات کی وضاحت کردی اور تمام تحصیلوں کے ذمہ دار افسروں پر واضع کر دیا کہ اُسے صرف تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول تعلیم کے بہتر نتائج،دوم معاشی ذرائع کا پیدا کرنا اور سوم گورنمنٹ کے لیے خراج کے نظام کو مزید بہتر بنانا۔ یہ اُن کی پہلی ترجیحات ہیں۔ اِن کے علاوہ تمام کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضلعی گزٹ کے مطابق،جس کا مطالعہ کئی روز پہلے ولیم کر چکا تھا،روہتک میں امن و امان کے حوالے سے زیادہ خرابی نہیں تھی۔ لوگوں میں اکڑ پھکڑ کافی تھی لیکن بڑے پیمانے پر شر پسندی پھیلانے کی جرات ابھی تک پیدا نہ ہو سکی تھی،نہ ہی آگے توقع تھی۔ اس لیے ولیم نے اس معاملے پر بات کرنے کی زحمت نہیں کی اور ہدایات دے کر اجلاس ختم کر دیا۔ آفیسرز،جنہیں ابھی تک روہتک میں کسی ڈپٹی کمشنر نے ڈیل نہیں کیا تھا،کو بھی ولیم کے انداز گفتگوسے واضح ہو گیا کہ اب بڑے افسر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میٹنگ کے انجام پر اُنہوں نے بھی کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ولیم کو محسوس ہوا،وہ جو سوچ رہا تھا،اتنا آسان نہیں تھا۔ اب اور طرح کی مجبوریاں سامنے دکھائی دینے لگیں۔ اُسے اس بات کا ندازہ نہیں تھا کہ حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔ اچانک مسلم لیگ اور کانگرس کے جلسے چل نکلے تھے،جن سے اُسے پہلے ہی بہت زیادہ کوفت ہوتی تھی۔ وہ اُن کو روکنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا تھا۔ کئی بار دفعہ چوالیس کا نفاذ کر کے اس طرح کے جلسوں کا ناطقہ بند بھی کیا َلیکن صاحبانِ جلسہ کہیں اُوپر سے احکامات حاصل کر کے لے آتے اورآزادی کی بکواس شروع کر دیتے۔ ولیم کو بعض اوقات ان سے وحشت محسوس ہوتی۔ ولیم کو اس بات پر شدید غصہ آتا کہ ان کے بڑے اصل میں انگریزوں کو نکال کر اپنی حکومت چاہتے ہیں۔ اُس کے ذہن میں طرح طرح کے اندیشے آنے شروع ہو جاتے۔ وہ سوچتا،کیایہ ہندوستانی اُسے بھی نکال دیں گے؟ حالا نکہ اُن کے خاندان کو یہاں پورے ڈیڑھ سو سال ہوگئے ہیں۔ بعض اوقات ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے کہتا،یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ جو حکومت اتنی جدو جہد اور طاقت سے حاصل کی گئی ہے،اُسے انگریز اتنی آسانی سے اِن گنواروں کے سپرد نہیں کریں گے۔ جن کے پاس نہ تعلیم ہے اور نہ حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ وہ خیال کرتا،اصل میں یہ سب کچھ جنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان خیالات اور اندیشوں کے باوجود ولیم اپنے تئیں کچھ نہ کچھ کرنے میں جتا رہا اور کافی سارے نتائج حاصل بھی کر لیے مگر چند مہینوں میں حالات کے پیشِ نظر ولیم کو اندازہ ہو گیا کہ اُس کے جنگ کے متعلق اندازے ٹھیک نہیں تھے۔ وہ طول پکڑتی جارہی تھی۔ اِدھر اُس کے اختیار ات کی کڑیاں آہستہ آہستہ ٹوٹتی جا رہی تھیں۔ مقامی اور کالوں کی جراتیں بڑھ رہی تھیں اور بعض احکامات پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ عمل کر نے پر مجبور تھا،جو ہندوستان کی آزادی اور کالوں کے وافر حقوق کے متعلق ہوتے۔ ولیم نے حالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا تو اُسے لگا،اُوپر کی سطح پر کہیں گڑ بڑ ہو چکی ہے۔ اُس کی بھیجی ہوئی فائلیں یا تو بغیر اپروول کے واپس آ رہی تھیں یا اُن میں بلا وجہ کی تاخیر ہو رہی تھی۔ کبھی بجٹ کا بہانہ کر کے،کبھی کہ دیا جاتا،حکومت کی اِس کام میں ترجیح نہیں ہے۔ پھروہ جلد ہی بہت کچھ جان گیا اوراُسے پتا چل گیا کہ اس وقت پورے ہندوستان کی انتظامیہ اِسی طرح چل رہی ہے۔ جس میں اُس کا کام بھی عبوری سطح کا اور ہنگامی بنیادوں پر ہو گیا تھا۔ اس حالت میں اُسے ایک سال گزر گیا۔ اس دوران کام کی بڑھتی ہوئی یکسانیت نے اُس کی طبیعت کو تباہ کر دیا۔ اِن حالات میں کیتھی اُسے اِدھر اُدھر سے ہر وقت دلاسا دینے میں لگی رہتی اور پل پل کا خیال رکھتی۔ لیکن اسے کمشنری کی جتنی خوشی ہونی چاہیے تھی، وہ سب غارت ہو کے رہ گئی۔ اِس وقت کمشنر ی کے اختیارات اُس کے لیے ایک ایسا خواب ہو گئے تھے،جن میں مناظر تو نظر آتے ہیں لیکن خواب دیکھنے والا اُن مناظر کو نہ چھو سکتا ہے،نہ اُن سے لذت حاصل کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ ایسی گائے کا دودھ تھا،جو جنگ کی وجہ سے ہر کس و ناکس کو پلا دیا گیا۔ دوئم،اِس شاہانہ عہدے کے ساتھ کچھ ایسی ہدایات نتھی کردی گئیں،جو کسی طرح بھی ڈپٹی کمشنر جیسی پُر وقار ذات کے لیے جائزنہیں تھیں۔ بجائے اِس کے،کہ ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع میں بلا شرکتِ غیرے،جیسا کہ وہ سوچ رہا تھا، حکمرانی کرے، اُسے بریگیڈیروں اور جنرلوں کی ہدایات پہنچنا شروع ہو گئیں اور سخت سے سخت حکم وصول ہونے لگے۔ مثلاً ضلع سے جتنے جوان ہو سکیں،فوج میں بھرتی کے لیے بھیجے جائیں۔ غلہ کو ذخیرہ کر کے اُس کا حساب پہنچایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ خراج اور مالیہ وصول کیا جائے۔ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ بعض اوقات تو یہ حکم نامے کمشنر آفس سے آنے کے بجائے ڈائریکٹ ہی وصول ہونے لگے،جو ولیم کے لیے اس قدر آزار کا باعث تھے کہ اُسے اپنا یہ عہدہ ایک چپڑاسی سے بھی بد تر معلوم ہونے لگتا۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر وہ کس کے ماتحت ہے؟ آیا اپنے ڈویژن آفس کی سول انتظامیہ کا،جہاں سے اصولی طور پر اُسے تنخواہ ملتی ہے یا پھر میرٹھ چھاونی کا،جہاں کے فوجیوں کی حیثیت اُس کے سامنے ایک گنوار زبان استعمال کرنے والے جانوروں کی تھی۔ ولیم کبھی کبھی خیال کرتا،اِس سے تو بہتر اُس کے وہی دن تھے،جب وہ جلال آباد میں اسسٹنٹ کمشنر تھا اور ہیلے کا ماتحت تھا۔ اُسے ہیلے،اپنے باپ اور اُن ڈپٹی کمشنروں پر رشک آنے لگا،جووقار کو تباہ کردینے والی جنگ سے پہلے ریٹائر ہوکر عزت بچا چکے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے سوچتا کہ مصیبت کے دن تھوڑے ہی ہیں،گزر جائیں گے تو اُن کی افسری کی شان میں بھی پہلے والی چمک دمک آجائے گی۔ مگر اُسے پھر آزادی کے متوالوں کے بے ڈھنگے مطالبوں کی یاد آجاتی جو روز بروز بڑھ رہے تھے اور منظور بھی ہورہے تھے۔

ایک طرف درج بالا بکواسیات تھیں،دوسری طرف روہتک کا ماحول ولیم کے لیے انتہائی اذیت ناک تھا۔ اُسے روہتک میں ڈیڑھ سال کے قریب گزر چکا تھا۔ یہ عرصہ اُس کی طبیعت کو اچاٹ کر دینے کے لیے ہر دن نئی بیزاری لے کر آتا اور ولیم کی نحوست میں اضافہ کر دیتا۔ یہ ضلع دہلی کے مغرب میں چالیس یا پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خشک شہر تھا،جس کے مضافات میں مٹی کے ٹیلے،عک اور ببول کی جھاڑیاں حد نظر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ شہر کے ساتھ ساتھ پختہ اینٹیں بنانے والے بھٹوں کی کثرت تھی۔ اُن کی چمنیوں سے اُٹھنے والا دھواں ہر وقت شہر پر سایے بلند کیے رکھتا۔ اُن سایوں کے بیچ اُڑتی ہوئی چیلیں چکر کاٹتی رہتیں،کبھی بلندی پر اور کبھی بالکل چھتوں کے اُوپر۔ شہر کی عمارتیں زیادہ تر پکی اینٹوں کی اور پُرانے دور کی یاد دلانے والی تھیں۔ اُن پر کام اگرچہ بہت نفاست سے کیا گیا تھا لیکن اب وہ اکثر جگہ سے خراب ہو رہا تھا۔ شہر کی قریباً ساری آبادی نہ جانے کون سی زبان بولتی تھی اور کس کلچر سے تعلق رکھتی تھی۔ راجستان سے روز کی اُٹھنے والی آندھیوں نے اُس پر مزید کام دکھایا تھا۔ آئے دن شہر کے درو دیوار گرد و غبار کی تہوں میں دب جاتے۔ مضافات میں اُڑتی ہوئی ریت اور دھول نے ہر چیز کو مٹیالا بنا دیا تھا۔ لوگوں کے چہرے بھی اسی مٹی،خشکی اور دھول کے باعث اتنے بے رونق ہو چکے تھے کہ ولیم کو جلال آباد کے لوگ اِن کے مقابلے میں نہایت خوبصورت لگنے لگے۔ کڑوا تمباکو اِن کی مرغوب غذا تھی۔ آٹھوں پہر میں کوئی لمحہ ہو گا کہ اُن کے بوڑھے،جوان حتیٰ کہ بچے بھی اس لعنت میں گرفتار نہ ہوں۔ تمباکو کے کثیف اور مسلسل دھویں سے اُن کی مونچھیں اور داڑھیاں بھوری،زرد اور بدبو دار ہو چکی تھیں اور وہ اُسی ابکائی پیدا کر دینے والے رنگوں سے مانوس تھے۔ یہ لوگ نہایت سوکھے سڑے،لمبی مونچھوں،چھوٹی قامتوں،باریک آنکھوں اور چھوٹے چھوٹے پاؤں کے ساتھ دھوپ اُگاتی سڑکوں پر آتے جاتے نظر آ تے۔ بعض دفعہ ولیم اِن کے رنگ برنگے چیتھڑوں اور ٹاکیوں سے سیے گئے بستروں کے بارے میں غور کر کے کانپ جاتا،جو اُس نے دیکھے تو نہیں تھے،لیکن اِن لوگوں کی ظاہری حالت سے ہی اُن بستروں کی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ جن میں دوپہر کی گرمی نکلنے تک پڑے سوتے یہ لوگ پیٹ کی بودار کثیف ہوائیں چھوڑتے رہتے اور اُن کو خود ہی سونگھتے رہتے۔ ولیم کو اُن کی دھوتیوں پر ہرگز اعتراض نہ ہوتا،اگر وہ اصل میں دھوتیاں ہی ہوتیں۔ وہ تو محض بے کار چیتھڑے تھے،جو ہمیشہ اُن کے گھٹنوں سے اُوپر اُٹھے رہتے۔ اُن چیتھڑو ں کا ایک پلو نیچے سے کھینچ کر مزید پیچھے گانڈ کی طرف سے باندھ لیاجاتا،جو ایک کچھا سا بن کر رہ جاتا اور وہ رانگڑ اُسی کچھے میں ننگادندناتا پھرتا۔ بعض اوقات وہ کچھا اتنا چھوٹا ہوتا کہ اُس کے سُکڑے ہوئے سیاہ چوتڑ صاف نظر آتے۔ ولیم یقیناً اُن کا لباس،عادات اور زبان بدلنے پر قادر نہ تھا لیکن وہ چاہتا تھا،کم از کم جس سے بھی اُس کی ملاقات ناگزیر ہو،وہ انسانوں کی حالت میں اُس کے پاس آئے۔ ولیم نے اپنے عملے کو ملاقات کے لیے ضروری ہدایات جاری کر دیں کہ ملاقاتی اپنے لباس میں پاجامہ اور کُرتہ کا اہتمام کرے۔ اسی طرح دیسی چمڑے کے جوتوں کی بجائے انگلش جوتے پہن کر آئے یاکم از کم جوتوں کے اندر اُس کے پاؤں سرسوں کے تیل اور مٹی میں غچ غچ نہ ہوں،نہ جوتوں کے چمڑے سے چرر چرر کی آواز پیدا ہو۔

لوگوں کی بد شکلی کے علاوہ ولیم کو روہتک کے مضافات سے بھی وحشت آنے لگی۔ کوسوں تک سبزے کی ایک پتی بھی نہیں تھی۔ نہ کوئی نہر اور پانی کا انتظام نظر آ رہا تھا۔ کچھ تھا،تو تمباکو کی سر سر ی فصلیں،جو اِن لوگو ں کے رزق کا واحد سہارا تھیں۔ تمباکو کی اسی بہتات کی وجہ سے ہر شخص کے ہاتھ میں اپنا ایک حقہ تھا،جسے وہ ہر وقت گُڑ گڑاتا رہتا۔ شہر کی منڈی معمول کے مطابق ہندووں کے ہاتھ میں تھی۔ مسلمان یہاں بھی محض حقے پر گزارہ کیے ہوئے تھے۔ کلچر دونوں قوموں کا ایک ہی تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ جو مسلمان تھے،اُن میں مسلمانوں والی کوئی بات نہیں تھی،سوائے مفلسی اور غربت کے۔ جسے دور کرنا ولیم کے بس سے باہر تھا۔ یہاں اِتنے مسائل اور حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی دیکھ کر ولیم کا دل چھوٹ چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا،جتنی جلدی ہوسکے،اُس کو دہلی کے مضافات سے نکال کر جالندھر،لاہور یا ملتان ڈویژن کے حوالے کر دیا جائے مگر جو کام کرنے کے لیے اُسے یہاں تعینات کیا گیا تھا،اُس کا ٹارگٹ حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ جس کے لیے ولیم نے بہر حال اپنی سی کوشش ضرور کی اور اُس میں کامیاب بھی ہوا۔ سچ پوچھیں تو یہ ضلع اِس کام کے لیے ویسے بھی مناسب ترین تھا۔ وسطی پنجاب یا فیروز پور سے لوگوں کوبرطانوی فوج میں لے جانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہاں لوگوں کی روٹی پوری ہو رہی تھی۔ دریاؤں کے ارد گرد بیلے،چراگاہیں اور فصلیں اُن لوگوں کی زیادہ نہ سہی،بنیادی ضروریات پوری کر رہی تھیں۔ جبکہ روہتک اور راجستان جیسے علاقوں میں بھوک اور ریت کے بگولوں کے سوا کچھ نہیں تھا،یاپھر مونچھیں تھیں کہ اُگی چلی جاتی تھیں۔ چنانچہ ولیم کی طرف سے فوج میں بھرتی کے اعلان کے ساتھ ہی ہزاروں لوگ بھاگے چلے آئے۔ جنہوں نے انگریزی وقار کو میدانِ جنگ میں مزید برقرار رکھنے کے لیے اپنی مونچھوں کے تاؤ اور زیادہ کر دیے تھے۔ ایک ایک دن میں دو دوسو لوگوں کی بھرتی ہونے لگی اور چند مہینوں میں ہزاروں لوگوں کو انگریزی ٹوپیاں پہنا کر محاذوں پر بھیجنے کے لیے ریوڑوں کے ریوڑ تیار کر لیے گئے۔ یہ اتنی بڑی اور شاندار کامیابی صرف جہلم،روہتک یا راجستان ہی سے حاصل ہوئی تھی۔ باقی تمام اضلاع میں اتنی نفری کسی بھی علاقے سے نہیں مل سکی تھی۔

اِدھر ولیم کے یہ حالات تھے،اُدھرجرمنی کی حوصلہ افزائی پرسویت یونین نے جون انیس سو چالیس میں بالٹک ریاستوں پر قبضہ کرکے اُنہیں باقاعدہ طور پر اپنے ملک کا حصہ بنا لیا۔ اٹلی،جو اتحاد (جرمنی کے حلیف ممالک) کا رُکن تھا،وہ بھی اس جنگ میں شریک ہوگیا۔ تیرہ اگست سے اکتیس اکتوبرانیس سو چالیس تک جرمنی نے انگلستان کے خلاف ہوائی جنگ شروع کی اور اْس میں شکست کھائی۔ اِس جنگ کو بیٹل آف برٹن یعنی برطانیہ کی لڑائی کہا جاتا ہے۔

مئی انیس سو بیالیس میں جب ولیم روہتک سے ہندوستانی راجپوتوں کو فوجی بھرتی کروانے میں لگا ہوا تھا،برطانوی شاہی فضائیہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پہلی بار جرمنی کے اندرجنگ کرتے ہوئے ہزاروں بمبار جہازوں سے بمباری شروع کردی اور جرمنی کے بیشتر شہری علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ انیس سو بیالیس کے اختتام اور انیس سو تینتالیس کے شروع میں اتحادی فوجوں نے شمالی افریقہ میں سلسلہ وار زبردست فوجی کامیابیاں حاصل کیں۔ افریقہ میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ نفری پر مشتمل مخالف فوجوں کے اتحاد نے مئی انیس سو تینتالیس میں ہتھیار ڈال دیا۔

اِدھر ولیم کا تبادلہ کانگرا کر دیا گیا،جہاں اُسے با لکل اِنہی حالات کا سامنا ہوا جیسا روہتک میں چل رہے تھے۔ یہاں ولیم نے ایک سال گزارا اور اگلے سال اُسے ریاست کپور تھلہ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر متعین کر دیا۔ یہاں تک کہ اگست انیس سو پینتالیس میں برلن میں جرمنی کے ہتھیار ڈال دینے پر جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دن گنے جا چکے تھے۔ جس کا احساس ولیم کو ایک سال پہلے ہوگیا تھا مگر ابھی شاید اُسے یقین تھا کہ یہ کام کہیں اُس کی ریٹائر منٹ کے قریب جا کر ہو سکے گا۔ اُنہی دنوں ولیم کا تبادلہ بطور ڈپٹی کمشنرگُرداسپور کردیا گیا اور ہزار کوششوں کے باوجود اُسے منٹگمری نہیں بھیجا گیا۔ اِس بارے میں ولیم نے نہایت اہم سفارشیں بھی کروائیں۔ لیکن جب اُسے اس معاملے میں شدید ناکامی ہوئی تو وہ سوچنے لگا کہ منٹگمری میں اُس کی پوسٹنگ ایک خواب ہی ہو کر رہ جائے گی کیونکہ معاملات ہر دن مزید بگڑتے جا رہے تھے۔ ان حالات میں ولیم کی ذہنی کیفیت اتنی تبدیل ہو گئی کہ قریب کے جاننے والوں کو اُس پر شبہ ہونے لگا،کہیں پاگل نہ ہو جائے۔ بات بات پر اُلجھنا،احکام دیتے ہوئے تحمل کو چھوڑ بیٹھنا اور بعض اوقات سامنے والے کو گالی بھی دے دینا ولیم کی عادات میں شامل ہو رہا تھا۔ اِس بات کی سب سے زیادہ تشویش کیتھی کو تھی،جو سب سے زیادہ یہ عذاب جھیل رہی تھی مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اُسے اس بات کا شدید احساس تھا کہ یہ سب کچھ ولیم سے مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر ہو رہا ہے۔ ولیم کے ہاتھ سے اختیارات کی ڈور روز بروز نکلتی جا رہی تھی اورگورنمنٹ کی طرف سے وصول ہونے والے ہرنئے حکم پر اُس کے چڑچڑے پن میں اضافہ ہو جاتا،جو کئی دن تک بر قرار رہتا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا،ہٹلر نے گورنمنٹ بر طانیہ کی ہڈیوں کا تمام گودا کھینچ لیا ہے اور اب اُن کے پاس نو آبادیات میں اپنا اقتدار قائم رکھنے کی نہ طاقت ہے اور نہ ہی جواز۔ خاص کر ہندوستان کی حالت اس معاملے میں بہت مختلف تھی۔ اتنے بڑے اور وسیع خطے کو کنٹرول کرنے کے لیے اُن کے پاس وقت بھی نہیں بچا تھا اور نہ وسائل۔ کیونکہ سوسال میں اکٹھی کی گئی دولت پانچ ہی سالوں میں ٹھکانے لگ گئی تھی اور وہ اس ماشکی کی طرح خالی ہو گئے تھے،جس کی مشک میں چھید ہو گئے ہوں،کہ گہرے کنویں سے مشک کی لمبی رسی کھینچتے کھینچتے جس کے ہاتھ شل ہو جائیں مگر مشک کا سارا پانی اس عرصے میں دوبارہ اُسی کنویں میں بہ جائے۔ ان باتوں کے علاوہ جو مشکل سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اب ہندوستانی بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب یہ لوگ چالاکی اور عیاری میں گوروں کے بھی کان کاٹتے تھے اور اِس چکر میں تھے،کب انگریز یہاں سے نکلیں۔ ایسے میں انہیں آزاد نہ کرنا ایسے ہی تھا،جیسے بغیر ہتھیار کے بھیڑیے کے ساتھ رات گزاری جائے۔ اس ساری صورت حال میں ولیم نہ صرف یہ کہ ہند وستانیوں سے ناخوش تھا بلکہ انگریزوں سے اور اپنے آپ سے بھی ناراض تھا۔ وہ یہ سب کچھ ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اُس وقت تو اُسے اور بھی غضب آتا،جب وہ کسی انگریز کو ہندوستان چھوڑنے کے متعلق گفتگو کرتے دیکھتا،یا اُسے پتا چلتا،اُس کا فلاں دوست اپنا بوریا بستر سمیٹ کر انگلستان جا رہا ہے۔ ولیم کا اُس وقت خون کھولنے لگ جاتا گویا یہ سب اُس کے خلاف سازش تھی جس میں انگریز،مسلمان،ہندو سب شامل تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(40)

ولیم کو جلال آباد میں آج چارسال ہو چکے تھے۔ وہ بنگلے سے نکل کر پیدل ہی کمپلیکس کی طرف چلنے لگا۔ آج اُس نے جو کپڑے پہنے تھے،اُن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ کیتھی کا عمل دخل آخر کار اُس کی ذاتی پسندو ناپسند میں شامل ہو چکا ہے۔ کنٹوپ کی جگہ کیپ نے لے لی تھی اور شرٹ پر ہُڈ والے بٹنوں کی جگہ شیشے کے باریک ٹیکوں کے بٹن لگ چکے تھے۔ کوٹ بھی اب کُھلا ڈُھلا نہیں تھا،باقاعدہ سوٹ کے ساتھ فٹنس میں تھا۔ ولیم کا قد ویسے بھی لمبا تھا اور جسم کی ہڈی اکہری ہونے کی وجہ سے بہت سمارٹ بھی تھا۔ جوتے بھی ویسے ہی بارعب اور چمکدار جو کمشنروں کی شخصیت کے آئینہ ہوتے ہیں۔ اِس قدر روشن دن میں ولیم کی نیلی آنکھوں کے گھیراؤ میں سرخ و سفید چہرہ واقعی اپنی مثال آپ تھا۔ ہاتھ میں بید تو وہی پُرانی تھی لیکن آج اُس کی لچک پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ نہائت نپے تُلے قدم اُٹھاتا ہوا پُروقار چال چلنے لگا۔ ولیم کے بنگلے سے تحصیل کمپلیکس تک سڑک کے دونوں جانب بیس کے قریب سنتری کھڑے تھے۔ جب وہ دفتر آتا یا واپس بنگلے پر جاتا،یہ سنتر ی خاکی وردی پہنے ہر چالیس قدم کے فاصلے پر موجود صاحب کی نگہبانی کے لیے ایستادہ ہوجاتے۔ سنتریوں کی وردی شرٹ اور لمبی نیکروں پر منحصرتھی۔ سنتری سکھ،ہندو اور مسلمان سبھی قوموں سے تھے۔ اُن کی شرٹیں اور نیکریں بھی ایک جیسی تھیں لیکن سر پر پگڑی رکھنے کے لیے سکھوں کو استثنیٰ حاصل تھا۔ وہ سرکاری ٹوپی کی بجائے نیلے رنگ کی پگڑی پہن سکتے تھے۔ سنتریوں کے علاوہ بھی تین چار افسر ولیم کے استقبال کے لیے صبح اُس کے گھر کے سامنے پہنچ جاتے تاکہ وہیں سے صاحب کو پروٹوکول کے ساتھ دفتر میں لائیں مگر ولیم اِن چیزوں کا خیال کم ہی کرتا۔ اکثر اِن سب کو نظر انداز کرتا ہوا سیدھا پیدل ہی چل پڑتا۔ جیسا کہ آج سُرخ اینٹوں کی ٹھنڈی سڑک پر چہل قدمی کرتا ہوا چل رہا تھا۔ یہ سڑک ولیم کے جلال آباد آنے کے ایک سال بعد پکی کر دی گئی تھی۔ جس کی گرد پہلے محض ریت اور بھٹے کی کیری ڈال کربٹھائی تھی۔ اب اِس سڑک پر کمپلیکس تک دو رویہ پیپلوں کے درخت بھی لہلہا رہے تھے۔ یہ بھی ولیم کے جلال آباد تعیناتی کے بعد ہی لگے تھے۔ بلکہ ولیم نے خود لگوائے تھے۔ سردی کے وہی دن لوٹ آئے تھے،جب ولیم نے جلال آباد میں قد م رکھے تھے اور آج اُس کی تعیناتی کو چار سال ہو چکے تھے۔ اِس عرصے میں اُس نے جلال آباد تحصیل میں کئی انقلابی قدم اُٹھا ئے۔ تعلیم کا معیار پنجاب کی تمام تحصیلوں سے آگے نکل چکا تھا۔ اِسی طرح ایک نئی نہر اور دوسرے کئی چھوٹے چھوٹے رجواہے جاری کر دیے۔ جن کی وجہ سے تحصیل کے ہر گوشے میں پانی کی بہتات ہوگئی۔ گندم،چاول اور مکئی کی فصلیں کثرت سے پیدا ہونے لگیں اور لوگوں کے چہروں پر ایک قسم کی خوشحالی آنے لگی۔ ہر طرف درخت اورفصلوں کے سبز آئینے لہلہارہے تھے۔ اِس کے علاوہ سرکاری سر پرستی میں نجی سطح پر لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کروا دیے،جن میں جلال آباد کے مضاف میں لگا ئے گئے شہتوتوں کے باغ بھی شامل تھے۔

اب ولیم جلال آبا د سے اِس قدر مانوس ہو چکا تھا کہ اگر اُسے ساری عمر بھی یہاں رہنے کی اجازت دی جاتی تو وہ اس کے لیے بھی تیار تھا۔ سبب اِس کا یہی تھا کہ جلال آباد شہر سے لے کر اُس کے مضافات تک ولیم نے ہر جگہ کو اپنی ذاتی جمالیات کے آئینوں میں ڈھال لیا تھا۔ رہٹ،نالے،نہریں اور باغات جگہ جگہ پیدا ہو چکے تھے اور مزید کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ دوکانوں سے لے کر مکانوں تک،ہر شے میں ایک قسم کی نفاست جھلکنے لگی،جو ولیم کی ابتدائی کوششوں کے بعد خود بخود مقامی لوگوں میں ظاہر ہو رہی تھی۔ ولیم کے یہ چار سال گویا اُس کی زندگی کے حاصل تھے،جن میں اُس نے اس طرح دل جان سے کام کیا کہ یہ علاقہ بالکل بدل گیا۔ دریا کے ساتھ بھینسیں اور بھیڑ بکریاں پالنے والوں کے لیے باقاعدہ چراگاہوں کا قیام سرکاری کھاتوں میں کر دیا گیا اور اُن علاقوں میں چرواہوں کو پوری آزادی دے دی گئی۔ اِس عرصے میں اُس کا تبادلہ کئی دفعہ ہوتے ہوتے بچا،جس کو رکوانے میں اُس نے خود بھی چیف سیکرٹری تک تعلقات قائم کر لیے۔ اِن تعلقات میں اُس کے باپ کا کافی زیادہ دخل تھا کہ سیکرٹری صاحب اُن کے ذاتی دوستوں میں سے تھے،جنہیں دیسی گھی مکھن سے لے کر بھینسوں،بیلوں اور لڑاکا مرغوں تک کا چسکا پڑ گیا تھا۔ جس کی بنا پروہ یہاں چار سال نکالنے میں کامیاب ہو گیا ِ۔ اپنی مرضی سے بھرپور طریقے سے کام کیے اور جلال آباد میں برطانوی راج کے فوائد پورے طریقے سے عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اُسے اس معاملے میں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر وہ فائدے نچلی سطح تک لیجانے میں کامیاب ہو ہی گیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا نام جلال آباد اور اُس کے مضافات کے غریب غربا تک بھی پہچان میں آ چکا تھا۔ حتیٰ کہ اُس کی شکل بھی جلال آباد کے کئی عام لوگوں نے دیکھ لی تھی۔ امن و امان کے حوالے سے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ کے قتل کے بعد کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جو ولیم کے لیے پریشانی کا باعث بنتا۔ اگرچہ غلام حیدر لاکھ کوشش کے بعد بھی گرفتار نہیں ہو سکا تھا اور نہ ہی اُس نے دوسری کاروائی کی۔ گویا اپنا بدلا لے کر روپوش ہو چکا تھا۔ البتہ اُس کے اشتہاری ہونے کے بعد ولیم نے اُس کی زمین اُسی کی رعا یا میں بانٹ دی بلکہ اُن کے لیے بھی وہی سہولتیں جاری کر دیں،جو عام تحصیل میں تھیں لیکن ولیم نے اُس کا انتقال کسی وجہ سے غلام حیدر ہی کے نام رہنے دیا۔

مولوی کرامت نے جس قدر محنت اور تندہی سے کام کیا تھا،اُس کے عوض ولیم نے ذاتی دلچسپی لے کر اُس کی مالی اور سماجی حیثیت میں اتنا اضافہ کر دیاکہ اب وہ تحصیل جلال آبادکے معززین میں شمار ہونے لگا۔ بلکہ اُس کے بیٹے فضل دین کو دسویں درجے میں انتہائی اچھے نمبروں میں پاس ہونے کے بعد ذاتی خرچ پر اور کچھ وظیفہ دے کر لاہور ایف سی کالج میں پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔ اب فضل دین بھی وہ فضل دین نہیں رہا تھا،جوصرف روٹیاں مانگنے کا ماہر تھا۔ سکول میں تو ویسے ہی وہ دو دو درجے ایک ایک سال میں طے کر گیا تھا۔ مولوی کرامت کے بھی اتنے پر نکل آئے کہ کئی دفعہ صاحب بہادر سے خود ملاقات نکال کر اُن لوگوں کی شکایات بھی کیں،جو اُس کے کام میں حارج ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ غضب تو یہ کہ اُن شکایات کو سنابھی گیا تھا،جس کے بعد بیشتر لوگ بابووں سمیت مولوی کرامت کی چاپلوسی پر اُتر آ ئے تھے۔ کئی بابو اپنی سفارشیں بھی لے کر آتے،جنہیں مولوی کرامت ولیم تک پہنچانے کی جرات تو نہ کر سکتا تھا،لیکن وہ اُن سفارشی لوگوں کو کام ہونے کی اس طرح تسلی کروا دیتا جیسے یہ اُس کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ اِن سفارشوں کے عوض مولوی صاحب نے کسی سے پیسے تو نہیں پکڑے تھے،جس کا اُس وقت رواج بھی کم تھا۔ البتہ مختلف قسم کے تحفے تحائف ضرور وصول کر لیتا،جو بظاہر سفارشی حضرات اصرار کر کے مولوی صاحب کے حوالے کردیتے تھے۔ مولوی صاحب اُنہیں اِس لیے بھی قبول کر لیتے کہ اُنہوں نے یہ حدیث پڑھ رکھی تھی کہ ایک دوسرے کو تحفے لینے دینے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مولوی کرامت فی الحال اِس حدیث کے ایک حصے پر عمل کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ مولوی کرامت کے جلال آباد کے اکثر زمینداروں سے اتنے خو شگوار تعلقات پیدا ہو گئے کہ وہ اُسے شادی بیاہ اور موت،غمی سے آگے بڑھ کر اپنی رشتے داریوں کے متعلق بھی مشوروں میں شریک کرنے لگے اور چھوٹے موٹے فیصلوں کا ثالث بھی قرار دے لیتے۔ مولوی کرامت کی ثالثی اِس لیے بھی پائیدار تھی کہ سب جانتے تھے،مولوی صاحب کا کمشنر جلال آباد سے ذاتی تعلق ہے۔ اِس لیے وہ صاحب بہادر سے کہ کر کسی کا بھی چوبارہ گول کر سکتا ہے۔ اِن سب باتوں سے الگ اسکول منشی ہونے کے ساتھ مولوی کرامت نے اپنے لیے جامع مسجد جلال آباد کی امامت بھی حاصل کر لی تھی کہ تین سال پہلے مسجد کے سابقہ پیش امام کو منصوبے کے مطابق ملازمت دلوا کر منڈی گرو ہر سا بھیج کر اور اپنی تمام ذاتی قابلیتوں کے پیش نظر مسجد کی امامت کے فرائض سنبھال لیے تھے۔ جس سے اتنی آمدنی مزید ہو جاتی جتنی مولوی صاحب کی گورنمنٹ کی طرف سے تنخواہ تھی۔ مولوی کرامت کی خوشحالی کے ساتھ شریفاں کے اطوار بھی کافی بدل چکے تھے۔ چک راڑے میں تو کبھی کسی کی میت کے گھر پُرسہ دینے یا مُردہ عورت کو نہلانے اور کفن پہنانے کے سوا دوسرا کام نہیں کیا تھا لیکن جلال آباد میں باقاعدہ گھروں میں میلاداور دیگر بہت سی تقریبات میں مدعو ہونے لگی،جس میں اُسے مولوی کرامت کے برابر نہ سہی،گھر کے خرچے یعنی ہانڈی روٹی کی آمدن ہو ہی جاتی۔ بلکہ اُس نے کچھ نعتیں اور آئتیں رحمت بی بی کو بھی یاد کروا دیں۔ وہ بھی شریفاں کے ساتھ گھروں میں جا کر طرح طرح کی نذر نیاز کا سبق دینے لگی تھی۔ اِس طرح پورے جلال آباد میں مولوی کرامت کے گھر کے علم اور فتووں کی دھوم مچی ہوئی تھی اور کاروبار اِتنا ترقی کر گیا تھاکہ ضلع قصور کے چک راڑے میں تو اِس کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ اُدھر فضل دین کا لاہور کے کالج میں پڑھنے سے فضل دین اب بچپن میں ہی مولانا فضل دین بن چکا تھا۔ ایف سی کالج نے اُسے دھوتی کی بجائے پاجامہ پہنا دیا اور بابو بنا کر رکھ دیا۔ عربی فارسی تو اُسے پہلے ہی آتی تھی،کالج کے ماحول نے انگریزی کا اثر ڈالا تو مولانا فضل دین ایک ہی سال میں کئی باتیں انگریزی میں ہی بولنے لگا۔ چھُٹی پر جلال آباد آتا تو لوگ دیکھنے کے لیے آتے اور باتوں باتوں میں ایک دوسرے کو کہتے،بھائی مولوی کا بیٹا تو کوئی بڑا انگریز بنتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ اِس بات پر مولوی کرامت سے نا خوش بھی تھے کہ اُس نے اپنے بیٹے کا مذہب خراب کر دیا ہے۔ فضل دین کو باقاعدہ کرسٹان بنا کر مولوی کرامت نے دین کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر وہ مولوی کرامت کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتے تھے لیکن مولوی کے صاحب بہادر سے تعلقات کی بنا پر کھلے عا م مخالفت سے بھی ڈرتے تھے۔ مولوی کو بھی اُن کی کوئی پرواہ نہیں تھی کیو نکہ ایسے لوگ دیہاتوں میں تو کافی تھے لیکن شہر میں اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی کیونکہ مولوی کرامت کی پچھلے تین سال کی تبلیغ نے جلال آباد کو انگریز بہادر کا وفادار بنا ہی دیا تھا۔

الغرض ولیم نے مولوی کرامت کی حالت بدلنے سے لے کر فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کو تعلیمی،معاشی،اور سماجی سطح پر اتنی کچھ ترقی دے دی کہ اُسے محسوس ہی نہیں ہورہا تھا،وہ اپنی نولکھی کوٹھی میں رہ رہا ہے یا جلال آباد کے بنگلے میں۔ کیتھی شادی کے بعد ولیم کے ساتھ جلال آباد کے بنگلے میں تھی۔ بلکہ اب توان کا ایک بچہ بھی تھا،جس کی عمر ڈیڑھ سال ہو چکی تھی۔ کیتھی روزانہ نہیں تو ہر دوسرے دن گھوڑے پر بیٹھ کے جلال آباد کے مضافات میں سیر کو ضرور نکلتی،جس کے دائیں بائیں بیسیوں نوکر،مامائیں اور پولیس والے اٹین شین چلتے اور بھاگتے نظر آتے۔ میم صاحبہ نے یہاں آکر بھی عجب طرح کے پُرپرزے نکال لیے تھے۔ کچھ دن تو دیسی ملازمین کے ساتھ ملائمت سے بات کرتی رہی۔ یہ لوگ اُسے فرشتوں جیسے اور تابع فرمان لگتے تھے۔ اُس کے خیال میں اِن ہندوستانی کالوں کے اندرانتہائی سادگی اور معصومیت تھی کیونکہ اُن کا اپنا نہ کوئی تقاضا تھا اور نہ شکائت۔ یہی وہ لوگ تھے جو صرف صاحب بہادر،میم صاحبہ اور بابا لوگوں کے لیے جیتے اور اُن کی خدمت گزاری میں مرتے تھے۔ اِس لیے اُن کے ساتھ محبت اور شفقت کرنا گورے لوگوں کا فرض تھا۔ کیتھی بات بات پر اُنہیں انعامات سے نوازتی اور شاباش سے دل بڑھاتی۔ لیکن جیسے جیسے ولیم کے اختیارات کی وسعت اور اقتدار کا نشہ دیکھا،لہجے اور خیالات میں تبدیلی آتی گئی۔ حتیٰ کہ تین ہی سال کے اندر اُس نے ولیم کو بھی سرزنش کرنا شرع کر دی کہ وہ اِن دیسی لوگوں کو زیادہ رعایت دیتا ہے اور ملازموں کی غلطی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اب یہ لوگ اُسے گنوار،اُجڈ،بھکاری،کام چور،چاپلوس اور چغل خور نظر آنے لگے۔ وہ اِس بات کی سختی سے قائل ہو گئی کہ کالے ایک بد بخت نالائق اور منحوس قوم ہیں۔ اِن کے جسموں سے بدبو آتی ہے۔ نہاتے نہیں اور گوروں کے درمیان بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اِن کو پیار سے نہیں ذلًت اور رسوائی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ کیتھی کے اپنے شغل بھی ضرور یات سے آگے نکل کر تفریح میں بدلتے گئے،جن میں سے ایک اُسے اُونٹ پر سواری کرنے کا بھی شوق پیدا ہو گیا۔ اِس شوق کو پورا کرنے کے لیے کئی اونٹ خرید ے گئے اور اُن کی دیکھ بھال کے لیے آٹھ آٹھ ملازم رکھ لیے۔ کیتھی ولیم کو بھی اُونٹوں پر اپنے ساتھ سیر کرنے کا اصرار کرتی،جسے پورا کرنے کے لیے اُس نے کئی دفعہ یہ سواری بھی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب ولیم بھی اُونٹ کی سواری سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اُونٹوں کے علاوہ کیتھی کی کوششوں سے جلال آباد میں اوکا ڑہ کے مقابلے کا تو خیر نہیں،لیکن ایک چھوٹا سا مویشیوں کا فارم ضرور بن گیا۔ اِس فارم کے لیے نیلی کی عمدہ بھینسیں چُن کر دُگنے تگنے مول میں خرید لی گئیں۔ اِس کے علاوہ بنگلے کے پچھواڑے اچھا خاصا باغیچہ بنا دیا۔ اِس میں دُور تک درختوں کی قطاریں ہری چھاؤں کے ساتھ لہلہانے لگیں،جن پر توریوں،کدؤوں،اور کریلوں کی بیلیں چڑھ گئیں تھیں۔ بنگلے کے قُر ب و جوار میں درختوں کی عمر ابھی چار سال ہی تھی لیکن اُن کی حفاظت اِس اچھے طریقے سے ہوئی کہ وہ اب اچھا خاصا سایہ دینے لگے تھے۔

بیلوں کے چڑھ جانے سے اور بھی اچھے لگتے،جو سردیوں کے موسم میں عجیب بہار پیدا کر دیتیں۔ کیتھی نے اپنی بیٹی کے لیے بنگلے کے صحن میں ایک نوابی قسم کا جھولا بھی بنوالیا تھا۔ جھولے میں اپنی سائرز کو لٹا کر اُسے بعض اوقات اپنے ہاتھ سے جھولاتی۔ لیکن اکثر یہ کام ماما سر انجام دیتی اور کیتھی خود صحن میں بے شمار سفیدکبوتروں کو اُڑا اُڑا کر دانہ ڈالتی اور اُن کا تماشا دیکھتی۔ اِن کبوتروں کے صرف پھڑ پھڑانے کی آواز سننے کے لیے کیتھی نے یہ کبوتر آگرہ سے منگوائے تھے۔ کیتھی کے مسلسل جلال آباد میں ہی قیام کی وجہ سے اوکاڑہ میں کیتھلک چرچ اسکول کا کام معطل پڑا تھا۔ لیکن اب ولیم کو کیتھی کے ساتھ رہنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ اُسے ایک لمحے کے لیے اپنے سے دور نہیں رکھنا چاہتا تھا،نہ ہی یہ بات کیتھی کو منظور تھی کہ ولیم ڈیوٹی کے وقت کے علاوہ کسی کلب میں بھی اُس کے بغیر جائے یا دوستوں کے ساتھ گپ بازی کرے اور وہ گھر میں اکیلی بیٹھی رہے۔ ولیم سے دُور اوکاڑہ میں رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہاں وہ دونوں اوکاڑہ میں براستہ ہیڈ سلیمان کی ہر پندرہ دن میں دو دن کے لیے چکر ضرور لگاتے،کہ یہ فاصلہ جیپ کے آگے کچھ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ اب تو راستے میں کئی مقامی لوگوں کو بھی اُن کے معمول کے سفر کا علم ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی عرضیاں ولیم کے رستے میں پڑنے والی چوکیوں پر جمع کرادیتے،جس کا آڈر ولیم نے پولیس والوں کو بھی کر دیا تھا۔

اب کچھ دن سے ولیم کو ڈپٹی کمشنر رالف کی طرف سے دھڑکا لگا ہوا تھا۔ اُسے ولیم کا اِتنا عرصہ ایک ہی تحصیل میں رہنا گوارا نہیں تھا اور چیف سیکرٹری بیڈن صاحب بھی بدل چکے تھے۔ رالف کو فیروز پور میں آئے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ اُس نے ولیم کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار شروع کر دیا۔ اِدھر ولیم کو بھی پتا چل چکا تھا کہ اُس کے اب جلال آباد میں دن تھوڑے ہی رہ گئے ہیں۔ اُس نے کیتھی کو آگاہ کر دیا تھا کہ اب وہ جلال آباد سے اپنا بستر لپیٹنے کے لیے تیار ہو جائے کیونکہ پنجاب گورنمنٹ کسی وقت بھی اُسے اُٹھا کر کہیں بھی بھیج سکتی ہے اور آج وہی کچھ ہوا۔ ولیم آرام سے بیٹھ کر فائلوں کا جائزہ لینے لگا تو سب سے پہلے اُس نے جو فائل کھولی اُس میں ولیم کے ٹرانسفر آڈر پڑے تھے۔ ولیم کو مطلع کیا گیا تھا کہ اُس کے چار سالہ تجربے کے پیشِ نظرچیف سیکرٹری آفس لاہور کو اُس کی خدمات کی ضرورت ہے۔ لہذا وہ جتنی جلد ی ہو سکے اپنا چارج تحصیل دار مالیکم کو سونپ کر لا ہورچیف سیکرٹری آفس میں جوائننگ رپورٹ دے۔ ولیم نے آڈر دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر بیل دبا کر کرم دین سے کافی کا کپ بنانے کے لیے کہا۔ آڈر اتنے اچانک اور محتاط انداز میں تیار کئے گئے تھے کہ وقت سے پہلے اُن کی ہوا بھی باہر نکلنے نہیں دی گئی تھی۔ ولیم یہ تو جانتا تھا کہ وہ یہاں سے جانے والاہے لیکن اِتنا اچانک،اُس کے بھی گمان میں نہیں تھا۔ اس لیے اب ولیم نے کسی نئی سفارش کا بندوبست کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ ویسے بھی ذہنی طور پر اب وہ اپنے تبادلے کے لیے تیار ہو چکا تھا،جو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ اب چونکہ ولیم کو جلال آباد کے کسی کام میں قانونی تو پر دخل اندازی کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی وہ یہاں کسی چیز کا ذمہ دار رہا تھا،اس لیے اُس نے فوراً اپنے آپ کو ہلکا پُھلکا کر کے باقی تمام فائلوں کو ایک طرف کر دیا اور دل ہی دل میں رالف پر لعنت بھیج کر پچھلے چار سال میں پیش آنے والے تمام واقعات پر نظر دوڑانے لگا۔ جس میں طرح طرح کے بے شمار کردار ایک ایک کر کے اُس کی آنکھوں میں گھومنے لگے۔ پہلے دن فیروز پور میں ملنے والا باورچی نظام دین،اُس کے معتوب افسر،جن میں لوئیس اور وہ جو ایک دو لوگ ریٹائر ہو کر گھر بھی جاچکے تھے۔ ان کے علاوہ مدن لال ماسٹر،سردار سودھا سنگھ،غلام حیدر،رسہ گیر چوہدری،مولوی کرامت،تھانیداروں سے لے کر عوام تک اور پھر اُس کے ماتحت کام کرنے والی تحصیل انتظامیہ،سینکڑوں ہی طرح کے لوگوں سے اُسے واسطہ پڑا تھا۔ جن میں ایماندار بھی تھے،چاپلوس بھی،کام چور بھی اور کام کے ماہر مگر نکمے بھی۔ اِنہی میں وہ بھی تھے،جو دونوں طرف مخبری کا کام دیتے تھے اور نہایت ایمانداری سے۔ وہ بھی،جنہوں نے ہمیشہ منافقت اور کام چوری سے ربط رکھا۔ یہ سب کچھ ولیم کو یاد آرہا تھا۔ اُسے یہ بھی خبر تھی کہ آنے والا کوئی بھی افسر اس طرح جلال آباد میں کام نہیں کرے گا جس طرح اُس نے کیا ہے۔ وہ عوام کو اپنی رعایا نہیں غلام بنا کر رکھے گا،جیسے خود اُس کی بیگم کا اِن لوگوں کے ساتھ رویہ ہو گیا تھا،۔ اِس خیال کے آتے ہی ولیم ہلکا سا مسکرا دیا،گویا انگریز افسرعورت بن کر مقامی لوگوں کے ساتھ سلوک کرتے تھے،جس کا اُسے اس وقت قلق تو ہو رہا تھا لیکن اب کیا کیا جا سکتا تھا۔ ولیم نے سوچاجلا ل آباد کے لوگوں کو کیا پتا،اُن کی تحصیل میں ولیم کے تبادلے کا کتنا بڑا انقلاب آ چکا ہے۔ اُس نے خود بھی دل میں جلال آباد کو اپنا گھر تسلیم کر لیا تھا اور اُس کے لیے اُسی طرح کام کیا تھا جس طرح اپنے گھر کو بنانے میں کیا جاتا ہے۔ اِسی اثنا میں ولیم نے دوبارہ بیل بجا کر نجیب شاہ کو طلب کیا۔ نجیب شاہ جیسے ہی کمرے میں آیا،ولیم نے اُسے بنگلے میں موجود تمام سامان کو بحفاظت پیک کروانے کا حکم دے دیا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – انیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(34)

پچھلی دو پیشیوں پر سردار سودھا سنگھ نے نہ جا کر سخت غلطی کی تھی۔ جس کے نتائج نہایت غلط برآمد ہو رہے تھے اور عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ آئندہ سردار صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو اُن کے خلاف عدالت سخت کارروائی کے حکم جاری کر دے گی۔ جس میں کسی طرح بھی رو رعایت نہیں رکھی جائے گی۔ اگر سردار سودھا سنگھ واقعی بیمار ہے اورحاضر نہیں ہوسکتا،تو اُس کے معائنے کے لیے باقاعدہ عدالت ایک ڈاکڑبھیج دیتی ہے۔ وہ رپورٹ کرے گا۔ اس کے بعد اُس کا میڈیکل سر ٹیفیکیٹ قبول کیا جائے گا۔ کیونکہ عدالت اُس کی بیماری کے متعلق جاننا چاہتی ہے۔ عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ مقدمے کوزیادہ عرصہ روکے رکھے۔ اُدھر عبدل گجر اور شریف بودلہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنے اُوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کامیابی سے کر رہے تھے۔ اُن کے علاوہ وکیلوں نے بھی سردار سودھا سنگھ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ غلام حیدر کا کیس بہت کمزور ہے۔ ا ُس نے ایف آئی آر میں آپ کا نام دے کر سخت غلطی کی ہے۔ وہ کسی بھی طرح ثابت نہیں کر سکے گاکہ آپ حملے میں با قاعد ہ ساتھ تھے اور چراغ دین آپ ہی کے ہاتھوں سے قتل ہوا ہے۔ لہذا چار چھ تاریخوں میں ہی آپ باعزت بری ہو جائیں گے۔ لیکن عدالت میں حاضر نہ ہونے کا مقصد ہے،آپ پر لگائے گئے الزامات سچ ہیں۔ دوسر ی طرف مہاراجہ پٹیالا تو صرف اتنا ہی کر سکتا تھا،اُس نے آپ کے عدالت میں حاضر ہوئے بغیر ہی عبوری ضمانت کے بعد پکی ضمانت بھی کروا دی،لیکن اب کیس تو بہر حال آپ کو لڑنا ہی پڑے گا۔ جس کے لیے مہاراجہ کچھ نہیں کر سکتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ آپ عدالت جائیں گے تو بری ہوں گے۔ گھر بیٹھے تو سزا کی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔ رہی بات غلام حیدر کی،تو اُس میں اتنا زور نہیں کہ ڈانگ سوٹے کی لڑائی لڑ سکے۔ اُس کی رائفل پچھلے تین ماہ سے پولیس نے ضبط کی ہوئی ہے۔ ویسے بھی رائفلیں چلاناپڑھاکووں کا کام تھوڑا ہی ہے؟اس کے لیے جگرے والے لڑاکو چاہییں۔ اگر اُس کے گٹوں میں پانی ہوتا تو وہ آج سے چار مہینے پہلے ہی کچھ کر دیتا۔ مان لیا ملک بہزاد اُس کا ساتھ دے رہا رہے مگر بوڑھا شیر تو سردار جی بھیڑ سے بھی سستا ہو تا ہے۔ اُس کے لڑنے مرنے کے دن اب گئے۔ ویسے بھی پرائی آگ میں کون جلتا ہے۔ اِس لیے اُس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ قانونی نکتے بتانے کے سوا اب کچھ نہیں کرسکتا۔ البتہ سنا ہے،نواب افتخار ممدوٹ غلام حیدرکے ساتھ اُدھر لاہور کے ملک میں پڑھتا رہا ہے اور دونوں متر ہیں۔ مگر مہاراجہ کی طاقت کے سامنے اُس کی کیا حیثیت ہے؟ جب عبدل گجر اور شریف بودلے کا کچھ نہیں کر سکا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ دیدہ دلیری سے کوٹ کچہری میں آتے جاتے ہیں تو پھر آپ تو سردار سودھا سنگھ ہیں۔ جس کے سائے سے پوری تحصیل کانپتی ہے۔

اِن تمام نکتوں کو دیکھتے ہوئے سردار سودھا سنگھ نے بالآخر اِس پیشی پر جانے کا فیصلہ کر ہی لیا اور اِس کا انتظام سردار صاحب نے ہرے سنگھ کے ہاتھ میں دے دیا۔ سردار ہرے سنگھ سودھا سنگھ کا خاص مِتر رنگا کے بعد لڑائی بھڑائی کے علاوہ عدالت کچہری سے بھی پوری طرح واقف تھا اور دس برچھیوں والے بندوں کا اکیلا مقابلہ کرنے میں ہر طرح سے طاق۔ ایک بنیے کی ٹانگیں توڑنے کے سلسلے میں کچھ عرصہ کے لیے جیل جانا پڑا۔ چراغ دین کاقتل اور شاہ پور پر حملہ کے دنوں میں یہ منٹگمری جیل میں تھا۔ ہرے سنگھ جیل سے نکلا تو سردار سودھا سنگھ میں نئے سرے سے جان پیدا ہو گئی۔ کیونکہ رنگا کے مارے جانے کی وجہ سے سودھا سنگھ کی طاقت آدھی رہ گئی تھی۔ اِس بار پیشی پر جانے کے لیے تیار ہوجانااصل میں سردار ہرے سنگھ ہی کی و جہ سے بھی تھا لیکن ابھی یہ طے نہیں ہو پایا تھا کہ فیروز پور جانے کے لیے کون سی سواری اختیار کی جائے۔ سردار سودھا سنگھ نے سب متروں کو جمع کر کے صلاح کے لیے بلا لیا،جس میں فوجا سیؤ نے آنے سے انکار کر دیا۔ اُس کی اب ویسے بھی کسی کو پروا نہیں تھی کہ پچھلے ایک دو واقعات کی وجہ سے وہ سردار سودھا سنگھ کی نظروں سے گِر چکا تھا۔ اب بھی اگر اُسے بلایا تھا تو مروتاً اور اگر وہ نہیں آیا تھا تو اچھا ہی ہوا کیونکہ ہر بار کوئی نہ کوئی بُزدلی کا مشورہ دیتا۔ بیدا سنگھ،رتا سنگھ،پیت سنگھ،جگبیر،ہرے سنگھ اورسودھا سنگھ کا سگا بھتیجا شمشیر سنگھ الغر ض فوجا سیؤ کو چھوڑ کر باقی سب ہی لوگ حویلی میں موجود تھے اور تین دن بعد والی پیشی پر جانے کے لیے غور ہونے لگا۔ بیدا سنگھ نے کرپان کا پٹا دائیں پہلو کی طرف موڑتے ہوئے،اُس کا کڑا سیدھا کیا اور کہا،سردار صاحب،یہ بات سچ ہے کہ غلام حیدر ایک نا تجربہ کار منڈاہے پَر مُسلے کاکوئی اعتبار نئیں۔ اپنی حفاظت کرنا گرو جی نے لازم قرار دیا ہے۔ اس لیے فیروز پور عدالت میں حاضری دینے کا پرو گرام اِس طرح بناؤ کہ دشمن دانتوں سے انگلی نہ نکال سکے۔ اِس کے ساتھ یہ بھی طے کر لوکہ فیروزپور میں رہنے اور وہاں سے واپسی کا کیا پروگرام ہونا چاہیے کہ دشمن کسی طرح کا وار نہ کر سکے۔ بیدا سنگھ اِتنی ہی بات کر کے بیٹھ گیا۔ اُس کے بعد جگبیر سنگھ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اپنی بڑی بڑی مونچھوں کے درمیان سے بولا،سردار سودھا سنگھ،سب سے بڑا خطرہ غلام حیدر کی طرف سے نہیں عدالت سے ہے۔ مُسلے میں اِتنی جان نہیں آپ پر ہاتھ اُٹھائے۔ ہم تیس بندے ڈانگوں اور برچھیوں سے لد کر نکلیں گے تو غلام حیدر کے بندوں کے پد نکل جائیں گے۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس ہر طرح سے اسلحہ ساتھ بنھ لو اور واہگرو کو یاد کر کے چل پڑو۔ یہ کہ کر جگبیر سنگھ بھی بیٹھ گیا پھر دو تین متروں نے مزید اپنی صلا ح دی۔ جب سب لوگ مشورہ دے چکے تو آخر ہرے سنگھ بولا،سردار جی میری صلاح ہے کہ ہم فیروز پور چار تاریخ کو پیشی پر جانے کی بجائے پرسوں ہی نکل جاتے ہیں اور ریل کے ذریعے ہی جاتے ہیں۔ منڈی گرو ہرسا سے دوبجے گاڑی نکلتی ہے۔ ہم اگر جھنڈووالا سے صبح دس بجے نکلیں تو آرام سے ساڑھے بارہ بجے اسٹیشن پر پہنچ جائیں گے۔ وہاں سے سیدھا صادق والا کے راستے سے فیروز پور جا پہنچیں۔ یہ رستہ محفوظ بھی ہے اور غلام حیدر کی جونہہ سے بھی دور پڑتا ہے۔ اگرچہ لمبا کاٹ کے آنا پڑتا ہے مگر ہے یہی رستہ مناسب۔ اِس راہ سے ہم پانچ بجے شام تک فیروز پور میں داخل ہو جائیں گے اور بھائی پھجا سئیوں کے ڈیرے پر جا کر آرام کریں گے۔ پھر اگلے دن سویرے ہی عدالت کی چوکی پر جا بیٹھیں گے۔ کرپانیں ہماری ڈھبوں میں ہوں گی اور ڈانگیں ہاتھوں میں۔ اگر ذرا بھی خطرہ نظر آیا تو فوراً نکال کر ڈانگوں پر چوڑیاں کس لیں گے۔ پر میرا خیال ہے،یہ نوبت نہیں آئے گی۔ کیونکہ غلام حیدر کی ریفل فرنگیوں نے اپنے قبضے میں کی ہوئی ہے،جو میری اطلاع کے مطابق ابھی تک اُسے واپس نہیں ملی اور اُس کا اصل ہتھیار ہے۔ ڈانگ سوٹا وہ چلانا نہیں جانتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ غلام حیدر عدالت میں حملہ کرنے کی حماقت نہیں کرے گا۔ اِس صورت میں موقع پر ہی پکڑا جائے گا۔ اگر اُس نے یہ پاگل پن کر ہی دیا تو سردار جی واہگروکے صدقے سے ہم چھویاں چلانا جانتے ہیں۔ پھر مُسلوں کے ساتھ میدان کے بیچ اُسی عدالت میں جپھا ڈال دیں گے ُ۔ سرداروں کے سینے بھی مجھًوں کے جگرے لے کے پیداہوتے ہیں۔ میرا تو یہی مشورہ ہے۔ سردار جی،اِسی طرح واپسی بھی اِسی رستے سے پیشی کے اگلے دن کریں گے۔ پیشی والے دن فیروز پور ہی رہیں لیکن واپسی میں گرو ہرسا تک جانے کی بجائے پہلے ہی ورکاں خورد اسٹیشن پر اُتر جائیں۔ جہاں ہمارے بندے اسواریاں لے کے کھڑے ہوں گے۔ یہاں سے جھنڈو والا تک فاصلہ کچھ زیادہ طے کرنا پڑے گالیکن یہی مناسب ہو گا۔ باقی گرو جی شرماں رکھو۔

اُس پروگرام میں ہر ایک نے اپنی اپنی صلاح مزید پیش کی اور بیدا سنگھ نے ریل کے سفر سے اجتناب کرنے کا کہااور بجائے گرو ہرسا کے فرید کوٹ کی طرف سے فیروز پور جانے کا مشورہ دیا مگر یہ ناممکن تھا۔ گرمی زیادہ تھی اور جانور وں کے لیے ساٹھ ستر میل کا سفر طے کرنا ممکن نہیں تھا۔ اِس لیے ریل کے ذریعے ہی فیروزپور جانے کا پرو گرام بنا۔ البتہ بیس بندوں کی بجائے اُن کی تعداد تیس کر لی گئی،جو ہر قسم کی ڈانگوں اور برچھیوں سے لیس سردار سودھا سنگھ کے ساتھ ہوں۔ اُن کی کمان ہرے سنگھ کے ہاتھ میں دینے کا فیصلہ ہوا۔ اِس کے بعد سب متروں کو اپنی اپنی تیاری کرنے کا کہ کرسردار سودھا سنگھ حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا،جہاں بینت کور اُس کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کو دیکھتے ہی اُٹھ کر کھڑی ہو ئی اور بھاگ کرقریب آگئی۔ سودھا سنگھ اُس کی طرف دیکھ کر فقط مسکرا دیا لیکن بولا کچھ نہیں۔ مسکراہٹ سودھاسنگھ کے دل سے نہیں نکلی تھی۔ اُس میں ایک طرح سے اُکتاہٹ کا رنگ نمایاں تھا،جسے بینت کور محسوس کیے بغیر نہ رہ سکی۔ سردار سودھا سنگھ آگے بڑھ کر پلنگ پر پاؤں لٹکا کر بیٹھا تو بینت کور سردار صاحب کے پاؤں سے کھسًہ اُتارنے لگی۔

رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ سودھا سنگھ پر نیند کے کہیں آثار نہیں تھے۔ گرمی کی وجہ سے پلنگ کمرے کی بجائے صحن میں موجود تھے اور صحن بھی کافی کھُلا تھا۔ جس میں بینت کو ر اور سردار سودھا سنگھ کے پلنگوں کے علاوہ کوئی دوسری چارپائی نہیں تھی۔ ہوا چل رہی تھی مگر سودھا سنگھ کو اپنی سانس گھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ بینت کو ر سردار جی کے جوتے اُتار چکی تو سودھاسنگھ کو بینت کور پر ایک دم پیار آگیا۔ سردار نے اُسے بازووں سے پکڑ کر سینے پر لٹا لیا اور اُ س کا منہ چومنے لگا۔ اِس رویے سے مغلوب ہو کر بینت کور مکمل طور پر سردار جی کے پہلو میں دبک گئی اور لیٹے ہی لیٹے سردار جی کی پگڑی اُتار کر جُوڑے کے بل کھولتے ہوئے بولی،سودھے،کیا ایسا نہیں ہو سکتا تُو پیشی پر نہ جائے؟

بینت کورنے التجا کچھ ایسے غمگین لہجے میں کی کہ سردار سودھا سنگھ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ بولا،بنتو دل تو میرا بھی یہی کرتا ہے کہ نہ جاؤں،پر کیا کروں یہ فرنگی نہیں مانتے۔ سچ پوچھو تو اب میرا دل یہی کرتا ہے حویلی ہی سے باہر نہ نکلوں۔

بینت کور سردار جی کے جُوڑوں میں ہاتھ پھیرتے ہو ئے دوبارہ بولی،سردارا،آج تیرے آنے سے تھوڑی دیر پہلے میری کچھ دیر کے لیے آنکھ لگ گئی تھی اور میں خواب دیکھ کر ڈر گئی۔ کیا دیکھتی ہوں،تیرے جُوڑے کھُلے ہوئے ہیں اورتجھے کوئی بگھیاڑ کھینچ کے لے جا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر میں چیخ مار کے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ سودھے،اگر تو نے فیروز پور جانا ہی ہے تو مجھے ساتھ لیتا جا ور نہ نہ جا۔

سردار سودھا سنگھ کا دل بنتو کا خواب سُن کا کانپ گیا،لیکن جی کو سنبھالا دیتے ہوئے بولا،او کملیے حوصلہ رکھ،واہگرو شرماں رکھے گا،تو اُدھر کیا کرے گی؟ میرے ساتھ میرے بڑے متر ہیں۔ گامے (غلام حیدر) دی اینی تڑ نہیں کہ وہ مجھ پر حملہ کرے۔ ہرے سنگھ، جگبیر، بیدا سنگھ اور دوسرے سب مِتر میرے ساتھ ہیں نا۔

سردار جی تسُیں ناراض نہ ہو تو میں ایک بینتی کرتی ہوں،بینت کور نے اب کے سردار جی کی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
دس بنتو،سردار بولا۔

سردار جی،میں کہتی ہوں،یہ لڑائی بھڑائی اب چھوڑ ہی دے۔ دیکھ،کیکروں کے تُکلے دوبارہ گرنے والے ہو گئے،پَر اپنی اولکھ نہیں گئی۔ آرام سے بیٹھ کے بستے ہیں اور یہ جو من من روٹیاں کھانے والے تیرے متر ہیں نا،ان کو کہہ دے،اب اُن کا اور تیرا کوئی لین دین نہیں ہے اور غلام حیدر سے صلح کر لے۔ یہ مُسلے مَر جانے بڑے بُرے اور چیڑ پھاڑ کر کھا جانے والے کُتے ہوتے ہیں۔ سُنا ہے دشمنی اورلڑائی بھڑائی میں اِن کا کوئی مقابلہ نہیں۔

سودھا سنگھ کو بینت کور کی یہ بات بُری لگی لیکن آج وہ کسی بھی طرح سے بنتو کو کڑوا بول نہیں کہنا چاہتا تھا۔ وہ غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا،بنتو،ایسی بات نہ کیا کر جس سے مجھے غصہ آتا ہے۔ غلام حیدر سے صلح کرنے کا مطبل اُس سے معافی مانگنا ہے اور یہ بات سرداروں کو مِہنا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ایک بار اِس رولے سے جان چھوٹ جائے تو بنتو تیرے سر کی سونہہ دوبارہ کسے نوں تنگ نہیں کروں گا۔ یہ کہ کر سردار سودھا سنگھ نے ایک ہاتھ سے پاس ہی تپائی پر جلتی ہوئی لالٹین کی بتی مروڑ کر اندھیرا کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے بینت کور کی شلوار کا ازار بند کھینچ دیا۔

(35)

جون کا آغاز ہو چکا تھا،سخت گرمی اور دھوپ نے تمام کام معطل کردیے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم نے بہت سی چیزوں کو اس طرح منضبط کردیا کہ اکثر تحصیل میں شروغ کیے گئے کام چل رہے تھے۔ ولیم کے دماغ میں ایک بات بڑی شدت سے چکر کھا رہی تھی۔ مون سون کی بارشوں کا زمانہ قریب تھا،جس میں قریباً سارے پنجاب میں ہر طرف پانی کے غبارے چھوٹ پڑتے تھے اور یہ سارا پانی بے کا ر ہی چلا جاتا۔ ولیم اِس پانی سے کچھ کام لینا چاہتا تھا،جس کے لیے اُس نے ایک ترکیب سوچی تھی۔ جلال آباد کے مضافات میں وہ تمام زمین جو ابھی تک زیرِ کاشت نہیں تھی اور گورنمنٹ کے حساب میں پڑی ہوئی تھی۔ اُسے پہلے مرحلے میں جلال آباد کے کم ازکم ایک ہزار خاندان میں تقسیم کرنے کا فرمان جاری کرنا تھا،جس کے لیے صرف اُن خاندانوں کا انتخاب کرنا تھا،جو بے زمین ہوں اور کاشت کاری میں بھی تجربہ رکھتے ہوں۔ اِس منصوبے پر ولیم پچھلے تین مہینوں سے خفیہ طور پر کام کر رہا تھا اوراب جا کر اُس کی منظوری ہوئی تھی۔ وہ یہ تقسیم اپنی نگرانی میں کروانا چاہتا تھا تاکہ منصوبہ فیل نہ ہو۔ اُسے خاندانوں کے کوائف اور اُن کی صلاحیتوں کو جاننے میں گزٹ نے بڑی سہولت فراہم کی تھی لیکن مختلف اوقات میں لوگوں کو بلا کر بات چیت کرنے سے بھی کئی باتیں سمجھ میں آئی تھیں۔ اِس سلسلے میں اُس نے کسی سفارش اور رعایت کوا ستعمال نہ ہونے دینے پرارادہ کر رکھا تھا۔ اسی لیے آج اُس نے محکمہ مال کے تمام افسروں کا اجلاس طلب کیا ہواتھا اور صبح سے اُس پر عمل کرانے کے سلسلے میں صلاح مشورہ جاری تھا۔ دراصل ولیم نے اوکاڑہ چھٹی گزار کر آنے کے بعد بہت ہی گرم جوشی سے فرائض انجام دینے کی طرف دھیان دیا اور تحصیل کی معاشی ترقی کے لیے خاص کر متوجہ ہوا۔ جس میں کچھ کام کی طرف تو اُس نے آتے ہی دماغ لڑا دیا تھا۔ ان کے علاوہ ولیم کو آٹھ نو ماہ یہاں گزارنے کے بعد احساس ہو رہا تھا کہ تحصیل کی اکثر عوام ایسی ہے جن کے پاس نہ زمین ہے اور نہ ہی ایسا کاروبار،جو اُن کے دال پانی کا سہارا بن سکے۔ وہ محض بڑے زمین داروں کے باجگزار ہی بن کر رہ گئے تھے۔ اِس کی وجہ سے اپنے آپ کو چوری اور ڈکیتی میں بھی ملوث کر کے جرائم کا سبب بنتے تھے۔ اِن کا موں میں خاص کر ضلع فیروزپور مشہور ہو چکا تھا اور اُس میں بھی تحصیل جلال آباد سرِ فہرست تھی۔ گزٹ کی تمام رپورٹ میں یہ بات واضح تھی کہ تحصیل جلال آباد میں ایک طرح سے انگریزی قانون نافذ العمل نہیں ہے۔ ستلج کے قریبی جنگلات اِن مجرمانہ کاروائیوں کے لیے بڑی محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ جہاں پولیس کو کارروائی کرنے میں نہ صرف مشکل پیش آتی بلکہ اُن کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا۔ اس لیے پولیس اِن علاقوں میں جانے سے گریز کرتی۔ چور اور ٹھگ وغیرہ اکثر اسی بات سے فائدہ اُٹھاتے۔ یہی وجہ تھی کہ مال مویشی کی چوریاں معمول بن چکی تھیں۔ آئے دن گورنمنٹ کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے اور چوری کا پیشہ نہایت ترقی کر گیا۔ بار بار کی تنبیہ اور سرزنش کے باوجود جب معاملہ بڑھتا ہی گیا تو ولیم نے خاص کر پندرہ بیس اُن زمینداروں کو دفتر میں طلب کر لیا جن کے متعلق خاص کر رپورٹیں تھیں کہ وہ رسہ گیری کرتے ہیں اور چوروں کو پناہ دیتے ہیں۔ بلکہ غریب اور بے روزگار لوگوں کو چوری اور ڈکیتی پر یہی لوگ لگاتے ہیں۔ یہ زمین دار زیادہ تر اِٹھاڑ کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے،جن پر ہاتھ ڈالنا پولیس کے لیے سر دردی کا باعث تھا۔ دو پہر کی گرمی میں تحصیل کمپیلیکس کے لان میں موجود برگد کے نیچے یہ زمیندار آج صبح آٹھ بجے ہی آ کر بیٹھ گئے تھے۔ ان کی سفید پگڑیوں پر پفیں لگی تھیں اور پگڑیوں کے کنارے اس طرح ہوا میں لہرا رہے تھے،جیسے سانپوں کے پھن جھول رہے ہوں۔ یہ سب چوہدری اپنے اپنے علاقے کے وائسرائے تھے لیکن برگد کے پیڑ تلے بیٹھے طویل انتظار کے باوجود ان کو کسی قسم کی اُکتاہٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ انہیں نہ صرف خود بلکہ ان کے عزیزو اقربا کو بھی احساس تھا کہ یہ اُن کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب کسی انگریز افسر نے انہیں اپنے دربار میں بلا کر ملاقات کا شرف بخشا تھا۔ اب جتنی دیر تک زندہ رہیں گے،یہ فخر اُن کے ساتھ چلے گا۔ اِس لیے انگریز بہادر کا اتنا انتظار کروانا اُن کے لیے زیادہ تکلیف کا باعث نہیں تھا۔ پھر ایک ہی تو دن کی بات تھی۔ اِن میں زیادہ تر زمیندار وٹو،بودلے،بھٹی راجپوت اور کھرل قبیلوں سے تھے اور سب کے سب مسلمان تھے۔ ویسے بھی ایک دوسرے کے واقف ہونے کی وجہ سے اِن کا آپس میں کھل کر باتیں کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی۔ یہ سب چودھری برگد کی ٹھنڈ ی چھاوں میں لکڑی کی بنچوں پر بیٹھے حقوں کی گڑگڑاہٹ سے کسیلے دھویں کی لہریں چھوڑ رہے تھے۔ اِن کے حقے نہایت شاندار اور بڑی بڑی چلموں اور پیندوں والے تھے۔ جن کی نڑیاں نوکروں نے تھامی ہوئی تھیں۔ زمین دار اپنے ساتھ یہ چرب زبان نوکر اِس لیے لائے تھے کہ حقہ پکڑنے کے ساتھ دوسروں کو اپنے مالک کے سچے جھوٹے قصے بھی نون مرچ لگا کر سنائیں۔ یہ فریضہ وہ اچھے طریقے سے ادا کر رہے تھے اور ایسی دور دور کی ہانک رہے تھے کہ خدا کی پناہ۔ ہر ایک نوکر اپنے مالک زمین دار کو دوسرے پر فوقیت دینے میں ایسی لمبی چھوڑتا کہ اگلے نوکر کے لیے مشکل پیدا کر دیتا مگر جب دوسرا بات شروع کرتا تو وہ بھی اِس مشکل کو عبور کر کے اپنی زبان دانی اور چرب زبانی کا ثبوت مہیا کر ہی دیتا۔ اِن گپوں اور زبان کے چٹخاروں میں کسی کو کچھ پتا نہ چلا کتنا وقت نکل گیا ہے۔ اِسی طرح ان کو گیارہ کا وقت ہو گیا۔ اِدھر تو یہ بیٹھے ان شغلوں میں تھے اُدھر ولیم مال افسروں کے ساتھ منصوبہ بندی میں مشغول تھا۔ میٹنگ کے دوران ہی اچانک ولیم نے اپنے منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے نجیب شاہ کوکمرے میں طلب کیا اور پوچھا،نجیب شاہ کیا اِٹھاڑ کے سب لوگ آ گئے ہیں؟

نجیب شاہ نے جواب دیا،سر وہ تو صبح آٹھ بجے سے سرکار کے دفتر میں حاضری کے لیے برگد کی چھاؤں میں بیٹھے ہیں۔ اگر حکم ہو تو میں اُن کو حاضر کر دوں؟

نہیں اندر بلانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اُن سے وہیں جا کر بات کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد ولیم اُٹھ کر کمرے سے باہر نکلا اور کمپلیکس کے لان میں اُسی طرف چل پڑا جہاں یہ سب بیٹھے تھے۔ اُس کے پیچھے نجیب شاہ اور چار پانچ پولیس سنتری بھی تھے۔

انگریز سرکار کو اپنی طرف آتے دیکھ کر سب اپنی بنچوں سے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے لیکن ولیم نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے بیٹھے رہنے کے لیے کہا اور خود وہیں کھڑا ہو گیا۔ سب بیٹھ گئے تو ولیم نے ایک ایک سے اُس کا نام اور علاقہ پوچھا اور وہ جواب دیتے گئے۔ چند لمحے اسی تعارف میں گزرنے کے بعد ولیم نے اُن کی طرف ایک بھرپور نظر ماری اور بولا،حضرات شاید تم کو یہ نہیں بتایا گیاکہ تمھیں یہاں کس لیے زحمت دی گئی ہے اور گورنمنٹ تم لوگوں سے کیا چاہتی ہے؟ میں تم کو زیادہ دیر اِس جگہ بے زاری اور تجسس کی حالت میں نہیں رکھنا چاہتا۔ نہ ہی مَیں ایسی فرصت کی حالت میں ہوں کہ تم سے لمبی چوڑی گفتگو کے لیے وقت نکال سکوں۔ تم سب لوگ اپنے کانوں سے پگڑیوں کے کونے اُٹھا کر میری بات سُن لو۔ مَیں جلال آباد میں امن و امان اور خوش حالی چاہتا ہوں۔ مجھے تم سب کی کارگزاریوں کی مکمل رپوٹ ہے،جو حوصلہ افزا نہیں۔ تم جانتے ہو،تمھارے علاقوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں عروج پر ہیں۔ جو عوام اور گورنمنٹ کے لیے مستقل پریشانی کا باعث ہے۔ گورنمنٹ آپ کی رسہ گیریوں سے خوش نہیں ہے اور چاہتی ہے آپ اُس کا ساتھ دیں (اس کے بعد ولیم مزید آگے ہوا اور اپنا ہیٹ سر سے اُتار کر سخت لہجے میں بولا ) اگر آئندہ مجھے پتا چلا کہ مویشی چوروں پر تمھاری شفقت ابھی تک موجود ہے تو میں تمھاری گردنیں اِنہی پگڑیوں سے باندھ دوں گا،جن کو پان دینے پر اتنا خرچہ آتا ہے جتنا تمھارے سال بھر کے آٹے پر۔ یہ کہ کر ولیم واپس مُڑا اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ نہ تو اُس نے کسی کی بات سنی اور نہ مزید کچھ کہا۔ انگریز افسر کو اِس طرح آتے اور جاتے دیکھ کر تمام زمینداروں اور چوہدریوں کے سر گھوم گئے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ملاقات اتنی مختصر اور تلخ ہو گی۔ اب وہ ایک دوسرے سے نظریں بھی ملانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ ادھر ولیم اُن کو سرزنش کرنے کے بعد ایک پل میں یہ جا وہ جا۔ دفتر کی راہداریوں سے ہوتا ہوا کمرے میں غائب ہو گیا۔ اُس کے پیچھے دفتر کا دوسرا عملہ بھی غائب ہو چکا تھا۔ اِدھر ِاٹھاڑ کے زمیندار اپنا سا منہ لے کر لکڑی کے بنچوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کپڑے جھاڑ کا آہستہ آہستہ باہر کی طرف نکلنے لگے،جہاں اُن کے گھو ڑے بندھے تھے۔ اب اُنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بھی کوئی بات نہیں کی اور آرام سے نکل گئے۔ اُن کو اپنے آپ پر تو غصہ آہی رہا تھا مگر اپنے سے زیادہ اُن نوکروں پر تھا جو اس رسوائی پر خوامخواہ موقع کے گواہ بن گئے تھے۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا،سوائے اِس کے،کہ اُن نوکروں کو ایک دوسرے سے جدا ہو کر تنبیہ کرتے کہ علاقے میں جا کر اِس بات کو مشتہر نہ کریں۔ بلکہ ہو سکے تو اُن کی انگریز بہادر کے ساتھ آبرومندانہ گفتگو کے جھوٹے واقعات سنائیں۔ مگر ہر ایک یہ بھی جانتا تھا کہ اُس کے متعلق دوسرا اپنے علاقے میں جا کر سارا پول کھول دے گا۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ ولیم کی طبیعت میں شاعرانہ قباحتیں موجود تھیں لیکن یہی وہ قباحتیں تھیں جو بعض اوقات کام کے سلسلے میں مفید ثابت ہوتی تھیں۔ اُن کی وجہ سے وہ اپنی مرضی سے کیے گئے کاموں میں زیادہ پائدار ثابت ہوتا تھا۔ اِسی کے تحت اُس نے جلال آباد کو ایک طرح سے برطانیہ کا ایک قصبہ بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ جس کے لیے اُس کے ذہن میں عجیب عجیب ترکیبیں ایجاد ہونے لگیں۔ اِس سلسلے میں ولیم نے اپنی طرف سے کچھ دفتری حکم نامے جاری کیے۔ مثلاً ہر ایک پر لازم کر دیا گیاکہ وہ اپنے گھروں کے صحنوں اور بازاروں اور جلال آباد کے مضافات میں شہتوت کے پودے لگائے۔ اِس کے علاوہ کمپلیکس سے ایک کلو میٹر دورپچیس ایکڑ رقبہ کی جگہ کا انتخاب کیا گیا،جہاں شہتوت کے پودوں کی کاشت کا بندوبست کیا جاناتھا تاکہ جلال آباد تحصیل میں ریشم کے کیڑوں کا کاروبار چلایا جا سکے۔ اِس کی تر کیب ولیم کے ذہن میں اُس وقت آئی جب اُسے فاضل کا بنگلہ جاتے ہوئے ایک جگہ پر بہت سے شہتوت کے درخت دکھائی دیے۔ اِس مقصد کے لیے ولیم نے بدر دین کی ڈیوٹی لگا دی اور فنڈ مختص کر دیا،جو اِس سے پہلے بھی نجی سطح پر یہی کام کرتا تھا۔ علاوہ ازیں جلال آباد کی گلیوں اور بازاروں کی نئی سکیم تیار کر کے اُن کی تعمیر کا حکم جاری کیا گیا اور بلدیہ کو شہر کی توسیع کے لیے ایک نیا منصوبہ بنانے کا حکم جاری کیا۔ اِس سلسلے میں تحصیل کے بڑے زمین داروں سے رابطہ کر کے اُنہیں شہر میں اپنے گھر تعمیر کرنے کی طرف متوجہ کیا اور تاجرپیشہ لوگوں کو،جو زیادہ تر ہندو تھے،اِس بات پر اُکسایا کہ وہ اپنا سرمایہ یا پیسہ کپڑے،قالین بافی یا زرعی پیداوار کی خریدو فروخت پر لگائیں۔ جس کے لیے گور نمنٹ اُنہیں آسانیاں فراہم کرے گی۔ اگرچہ ولیم نے جانسن صاحب کی ہدایات کے مطابق اپنے رویے میں احتیاط کو بہت دخل دینا شروع کر دیا تھالیکن جن کاموں کو وہ کسی طرح سے شروع کر بیٹھا تھا،اُن کی انجام دہی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ خاص کر تعلیم اور نہری نظام کے سلسلے میں کسی قسم کی رو رعایت سے کام نہ لیا۔ جو کام اُس نے انتہائی پھرتی سے مکمل کروا دیے اور کسی کو اُن کاموں پر اعتراض بھی نہیں ہو سکتا تھا،اُن میں سب سے پہلے ولیم نے تحصیل کمپلیکس میں دو تین رہٹ لگوا کر پانی کا انتظام کروا کے کمپلیکس کی راہداریوں اور ارد گرد دور تک ہزاروں ہی درخت لگوا دیے،جو پھل دار بھی تھے اور اور سایہ دار بھی۔ سایہ دار درختوں میں ولیم کو برگد،پیپل اور نیم کے درخت بہت پسند تھے۔ اس لیے اُنہی کے پودے ہر طرٖف فروری کے مہینے میں ہی لگوا ئے تاکہ بہار اور پھر مون سون کے موسموں میں اُن کی نمو کا عمل جاری رہے۔ اِس کے علاوہ تمام مالی اور نہری پٹواریوں سے زمینوں کے گوشوارے منگوا کر مال افسروں کے ذریعے زمین داروں تک ہدایات پہنچا دی گئیں کہ اگر اُنہوں نے دیے گئے ٹارگٹ کے تحت اپنی زمینوں میں فصل کی کاشت اور شجرکاری نہ کی تو اُن کو جرمانے اور زمینوں کی ضبطی کی سزا دی جائے گی۔ اِن احکام کا خاطر خواہ نتیجہ جلد ہی سامنے آنے لگا۔

حکم کے مطابق ایک دو زمینداروں کی جب زمین واقعی ضبط کر لی گئی تو دوسروں نے ہدایات پر پورا پورا عمل کرنے کی طرف توجہ دی۔ ولیم نے بذات خود کئی جگہ کا دورہ کر کے حالات کا جایزہ لیا،جس پر تحصیل کے تمام عملے کو کان ہو گئے۔ ایک اور بات جو ولیم کے کہے ہوئے کام کو پورا کرنے کے لیے مفیدہو رہی تھی،وہ اُس کی یادداشت تھی۔ ولیم ایک دفعہ جو کام کہ دیتا پھر اُسے بھولتا نہیں تھااور گاہے گاہے اُس کے متعلق پوچھتا رہتا۔ محکمہ تعلیم کے بارے میں مولوی کرامت کی خدمات پر بھی ولیم کی تلسی داس سے بات ہو چکی تھی۔ مسلمان بچوں کی تعداد بڑھانے میں مولوی کرامت نے معجزانہ طور پر کردار ادا کیا تھا۔ اُس نے صرف دو ماہ کے اندر سو بچوں میں اضافہ کر دیا۔ مولوی کی اس کامیابی پر ولیم نے تلسی داس کو مولوی کرامت کا خاص خیال رکھنے کا بھی کہا اور ہدایت کی کہ اُسے ایک رہائشی مکان تحصیل کمپلیکس میں الاٹ کر دیا جائے اور اسی طرح کے چار مولو ی مزید بطور منشی رکھ کر اُن سے بھی یہی کام لیا جائے۔ لڑکوں کے لیے نئے اسکولوں کے قیام،بچیوں کے لیے بھی کچھ اسکول کھولنا اور نئے منشیوں کی بھرتی کے علاوہ بنگلہ نہر کے بارے میں جو کیس تیار کر کے ولیم نے اسٹبلشمنٹ کو بھجوائے تھے،اُن پر بھی اپروول آ چکی تھی اور اُن پر کام کروانے میں ولیم کاکسی بھی قسم کی نرمی کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اُن پر انتہائی تیزی سے کام شروع ہو چکا تھا۔ ڈپٹی کمشنر ہیلے بھی ولیم سے اس بارے میں مکمل تعاون کر رہا تھا جس کے متعلق پہلے پہل ولیم کو بعض اندیشے تھے لیکن اب وہ اندیشے بھی ختم ہو چکے تھے۔ البتہ امن و امان کے حوالے سے اپنے آپ کو ثانوی حیثیت میں رکھ کر یہ کام لوئیس صاحب کے حوالے ہی رکھا اور کبھی زیادہ پوچھ گچھ کی ضرورت محسوس نہ کی۔ لوئیس صاحب غلام حیدر اور سودھا سنگھ کے بارے میں ضروری معلومات ولیم صاحب تک پہنچاتا رہا جس میں غلام حیدر سے اسلحہ کی ضبطی سے لے کر سردار سودھا سنگھ کی ضمانت کے متعلق تمام خبریں شامل تھیں۔ ولیم کو ہر چند سودھا سنگھ کی پکی ضمانت ہو جانا کافی گراں گزرا لیکن اب وہ عدالتی نظام میں مہاراجاؤں کی دخل اندازیوں کا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اِس لیے ولیم نے لوئیس کی زبانی یہ خبر سُن کر فقط سر ہلا دیا اور کہا،لوئیس،اب تمھاری ذمہ داری ہے کہ اِس طرح کے ناخوشگوار واقعے دوبارہ اس تحصیل میں جنم نہیں لینے چاہیئں۔

لوئیس نے ولیم کو اطمنان دلاتے ہوئے کہا،سر آپ آئندہ سکون رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی لوئیس نے ولیم کے سامنے ایک فائل رکھ کر بتا دیا کہ عدالت نے غلام حیدر سے ضبط کیا گیا اسلحہ اُسے واپس کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جس پر اُن کے دستخط ہونا ضروری ہیں۔ ویسے بھی قانون کے مطابق اسلحے کی ضبطی کو تین مہینے ہوچکے تھے اور غلام حیدر کے ذاتی ریکارڈ کے حوالے سے بھی یہ رپورٹ اطمنان بخش تھی۔ ولیم نے اُس فائل پر دستخط کر کے غلام حیدر کی رائفل لوٹانے کی اجازت دے دی۔

ولیم نے کیتھی کو جانسن صاحب کے حکم کے مطابق اُسی دن ہی تار بھجوا دیا تھا،جس کے جواب میں کیتھی نے جولائی کے مہینے میں ہندوستان آنے کی خوشخبری سنا ئی تھی۔ ویسے بھی ولیم سے شادی کرنا کیتھی کے لیے کسی پرنس کا ہاتھ آجانے سے کم نہ تھا۔ جس کا خواب انگلستان کی اکثر لڑکیاں وہاں دیکھتی رہ جاتیں۔ ہندوستانی سول سروس میں کسی انگریز کے ساتھ بیاہ کرنا ایسے ہی تھا جیسے شاہی خاندان کی بہو بن جانا ہو۔ اِس لیے انگلستان میں رہنے والی نو عمر لڑکیاں اِس تاک میں رہتیں کہ کسی طرح سی ایس ایس کرنے والے لڑکے کو پھانس لیا جا ئے۔ ایک دفعہ ایسا لڑکا ہاتھ میں آجاتا تو اُس کی زندگی سنور جاتی۔ پھر وہ ہندوستان پہنچ کر ایک دم میم بن جاتی اور واپس اپنی سہیلیوں کو یہاں کے واقعات اور عیش و عشرت کی زندگی کے عجب عجب قصے لکھ کر بھیجتیں،جن کو پڑھ کر اُن کے کلیجوں میں سیخیں لگتیں۔ چنانچہ کیتھی کسی طرح اِس موقعے کو ضایع نہیں کر سکتی تھی۔ اُس نے فوراً ہی لکھ بھیجا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ولیم کے پاس ہندوستان آ رہی ہے۔ کیتھی کے ٹکٹ کا انتظام ہوائی کمپنی ہی کے ذریعے کر دیا گیا تھا۔ اب وہ بیس جولائی یعنی دس دن بعددہلی پہنچ رہی تھی۔ ولیم کا اُسے وہاں سے خود جا کر وصول کرنے کا ارادہ تھا۔ جس کے لیے اُس نے اپنے قریبی دوست جان لیور کو پیغام بھیج دیا کہ وہ اگلے پیر کو دہلی آرہا ہے۔ یہ سفر اُس نے ریل پر ہی کرنے کا ارادہ کیا تاکہ کیتھی کو لے کر سیدھا لاہور چلا جائے،جہاں تمام رسوم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مال روڈ کے کیتھڈرل چرچ میں نکاح پڑھ لے۔ اُس کے بعد دوستوں کو غیر رسمی دعوت پر بلا کر معاملہ جلد نپٹا دے۔ اِس سلسلے میں ولیم نے ایک ماہ کی چھٹیوں سمیت چند مزید انتظامات کر لیے کہ اپنی نولکھی کوٹھی کی کافی آرائش کروا دی،جو پہلے بھی کسی طرح کم نہیں تھی۔ اِس بات کا بھی خیال رکھا کہ اگر اُسے چھٹیوں کے بعد جلال آباد منتقل ہوناپڑے تو اُس لحاظ سے بنگلے کی بھی درستی کر دی جائے۔ جس پر کام جاری تھا۔ اِس کے علاوہ ولیم نے اوکاڑہ میں چرچ روڈ پر ایک کرسٹان مشنری سکول کی بنیاد رکھنے کا بھی منصوبہ بنا لیا اور اُس کا انتظام اپنے دوست ڈینی کے ہاتھ میں دے دیا۔ اِس کو چلانے کے لیے رقم کا بندوبست بھی دونوں دوستوں نے مل کر کرنا تھا لیکن سرِدست کیتھی سے شادی کرنا سب سے اہم معاملہ تھا اور اُس کا موقع انتہائی قریب تھا جس کا خیال ہی ولیم کو سرشار کر دینے کے لیے کافی تھا۔ غرض یہ کہ پچھلے دس دن کے دوران ولیم نے اپنے ماتحت تمام تحصیل کی سطح کے انتظامی شعبوں کا فرداً فرداً جائزہ لیا اور اُن پرمختلف ہدایات جاری کیں۔ جس کی تفصیلی رپورٹ اُسے چھٹی کے دوران بھی پہنچانے کا پابند بنایا تا کہ کام تعطل کا شکار نہ ہوں۔ اِس طرح اپنا کام نپٹا کر اور ہر طرح سے دفتری امور سے مطمئن ہو کر ولیم پانچ بجے اپنے کمرے سے نکلا۔ شام کا وقت قریب آگیا تھا لیکن گرمی میں ابھی بھی اتنی شدت تھی کہ جلد جھلس جانے کا اندیشہ ہو رہا تھا۔ ولیم کو لگا ابھی لو لگ جائے گی لیکن آج اُسے اس طرح کی گرمی کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ کیتھی کا خیال ہی اُس کی طبیعت میں بہار پیدا کر دینے کے لیے کافی تھا۔ ولیم آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے بنگلے پر آیا اور دہلی کے لیے اپنے ملازموں کو ہدایات دیں۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – سترہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(32)

ولیم کو جلال آباد سے چھٹی پر لاہور آئے دودن ہو گئے تھے۔ اگلے دو دن نولکھی کوٹھی پر گزارنے تھے۔ جس کے لیے اُس نے اپنی ماما اور بہن لورین کو بھی تیار کر لیا۔ لورین ممبئی سے لاہور اپنی ماما کو ملنے کے لیے آئی تھی اورپچھلے دس دن سے یہیں تھی۔ اب جو ولیم آیا تو لورین کو بھی اپنی جنم بھومی یا د آ گئی۔ جہاں بگھیوں پر بیٹھ کر وہ دونوں رینالہ کی نہری کوٹھی اور مچلز کے باغوں میں جامنوں اور پاپلر کے پیڑوں کی گنگناتی لوریاں سنتے تھے۔ پھر وہاں سے محافظوں کی پلتنوں میں خراماں خراماں نولکھی کوٹھی آجاتے۔ اس سیر میں اُن کے دوست ایشلے،سمتھ اور ڈینی اکثر اُن کے ساتھ ہوتے۔ ایشلے جو اُس وقت بھی اُلٹی سیدھی نظمیں لکھ لکھ کر سناتا تھا اب بہت بڑا شاعر بن گیا تھا۔ یہ تمام زمین اُن کی اپنی ملکیت تھی لیکن رینالہ اور ستگھرہ اسٹیٹ کے درمیان اوکاڑہ کے پاس کلیانہ اسٹیٹ کی زمین اور آموں کے باغ میں گھری ہوئی نولکھی کوٹھی سے اُنہیں خاص اُنسیت تھی۔ کیونکہ اِسی کوٹھی میں وہ پیدا ہوا تھا۔ بڑی نہر جسے دوآبہ کہتے ہیں،کے دونوں کناروں پر دور تک پیپلوں کے اُونچے اُونچے درختوں نے نہر کے صاٖ ف پانی پر اپنی چھتریوں کا سایہ کر کے اُسے جنت سے نکالی گئی نہروں سے ٹھنڈا اور بہشت آفرین بنا دیا تھا۔ پیپلوں سے ہٹ کر نہر کے دونوں طرف کی زمین پر آموں کے باغ اگر ایک طرف سے مچلز کو چھوتے تھے تو دوسری طرف اوکاڑہ کینال بنگلوں کے ساتھ جا لگتے تھے۔ نہر لوئر باری دوآب،جس کا پاٹ اور پانی کا بہاؤ دریاوں کی ناک کاٹتا تھا،کے دونوں کناروں پر کھڑے گھنے درختوں کی چھاؤں کے نیچے چوڑی اور سخت پٹڑی پر چلتی ہوئی بگھی کی روانی پانی کی روانی سے کم نہ تھی۔ مارچ کا آغاز تھا اور یہ دن لاہور میں غارت کرنے کا اُس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اِس کے ساتھ اُسے اپنی والدہ اور لورین کے ساتھ کچھ وقت صرف کرنے کی بھی خواہش تھی۔ کیونکہ کافی عرصے سے آبائی گھر میں پورے خاندان کو مل کر بیٹھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ ولیم آٹھ سال لندن رہا۔ اُس کی غیر حاضری میں ہی لورین بیاہ کر ممبئی جا پہنچی۔ جبکہ جانسن صاحب کا لاہور تبادلہ ہونے کی وجہ سے اُس کی والدہ بھی وہیں منتقل ہو گئی۔ اس طرح نولکھی کوٹھی،نہری کوٹھی،آموں کے وسیع باغ اورنہر کے آس پاس دور تک لہلہاتی سرسبز فصلیں اپنے مالکوں کا منہ دیکھنے کو ترس گئی تھیں۔ ولیم نے اپنی ماں اور باپ جانسن صاحب کو بھی تیار کر لیا کہ چھیٹوں کے دو دن اوکاڑہ گھر میں گزار لیں۔ لورین تو پہلے ہی بے تاب تھی۔ اب جانسن صاحب نے بھی تیاری پکڑ لی۔ اس طرح یہ چار افراد کا قافلہ سرکاری جیپوں پر لاہور سے اوکاڑہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ قافلے کی نگرانی اور پروٹو کول کے لیے دو مزید جیپیں ساتھ تھیں۔ جن پر حفاظتی پولیس اور دیگر عملہ سوار تھا۔ نولکھی کوٹھی پر پچیس تیس ملازم جانسن کی غیر حاضری میں بھی ہر وقت موجود رہتے تاکہ مویشی فارم،اصطبل،کوٹھی اور باغ کی حفاظت رہے۔ لیکن اُن کے کوٹھی پر جانے سے ملازم کم پڑ سکتے تھے۔ اس لیے جانسن نے ڈپٹی کمشنر منٹگمری کو اپنے آنے کی اطلاع کر دی۔ اُسے کہہ دیا کہ کچھ ملازم بھی وہاں بھیج دیے جائیں۔ چنانچہ رات ہی اُن کے استقبال کے لیے پچاس ساٹھ افراد مزید نو لکھی کوٹھی پر پہنچ گئے تھے۔ موسم کافی خوشگوار تھا اور ولیم بھی بہت دنوں کے بعد جارہا تھا۔ اس لیے اُسے کچھ زیادہ ہی لطف محسوس ہو رہا تھا۔ ہلکی ہوا کے جھونکوں اور روشن دن میں ولیم اور اُس کی فیملی نولکھی کوٹھی پہنچی تو دن کے دس بج رہے تھے۔ ادھر اُدھر بندوقیں تھامیں سنتری اور محافظ اِس طرح پھیلے تھے جیسے وائسرائے کا دورہ ہو۔ ان کے علاوہ دیسی عوام اور کاشت کار ستگھرہ روڈ پر دور تک سڑک کے کنارے سلامی کو حاضر ہوئے تھے۔ اِن میں نوئے فی صد تو وہ تھے جو جانسن صاحب کی زمین کی دیکھ بھا ل اور کاشت کرتے تھے۔ باقی کے بھی بالواسطہ انہی کے دامن سے بندھے اپنی روٹی پیدا کرتے تھے اور خوش اس لیے تھے کہ مقامی مالکان کی نسبت جانسن صاحب کا رویہ ان مزارعین کے ساتھ کافی بہتر تھا۔ نولکھی کوٹھی ایک فرلانگ رہ گئی تو ولیم نے خواہش ظاہر کی کہ وہ گاڑی سے اُتر کر اپنے گھر جائے۔ ولیم کی اس تجویز پر اُس کی والدہ،لورین اور بذاتِ خود جانسن صاحب بھی گاڑی سے اُتر گئے۔ اِن کو دیکھتے ہوئے باقی عملہ بھی احتراماً جیپوں سے اُتر گیا اور پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ولیم فیملی کے ساتھ آہستہ آہستہ گھر کے باغات کے درمیان چھوٹی نہر پر بچھی صاف سڑک پر جا رہا تھا۔ جبکہ مقامی چودھری،سرداراور سیاستدان کلے دار پگڑیاں سروں پر باندھے اور مزارع لوگ دھوتیاں،جانگیے پہنے،ہاتھ باندھے،استقبال میں چپ چاپ ولیم اور اُن کے خاندان کو گزرتے دیکھ رہے تھے۔ ان مقامیوں کے سیاہ رنگ کے چہرے،گال پچکے ہوئے اور سکڑی ہوئی کالی ٹانگیں بتا رہی تھیں کہ غلاموں کی حقیقی تصویر انہی لباسوں میں بنتی ہے۔ انہیں دیکھ کرولیم نے ایک لمحے کے لیے خدا وند یسوع مسیح کا شکر ادا کیا کہ اُس کی رگوں میں بہر حال انگریزی خون دوڑتا ہے۔ لیکن پھراُن کی دل جوئی کے لیے اچانک ولیم نے اپنا ہاتھ اُوپر کر کے اُن مقامی مزارعوں کو سلام کر دیا۔ ولیم کے اِس عمل کو دیکھ کر سارے کا سارا عملہ،اُس کا باپ جانسن،ولیم کی والدہ،ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،تحصیلدار صاحب حتیٰ کہ دوسرا تمام عملہ بھی سکتے میں آگیا۔ ولیم نے مقامیوں کو سلام کر کے پورے انگریزی وقار کو ہی داؤ پر نہیں لگایا تھا بلکہ اپنی ملازمت سے بھی کھیل گیا تھا۔ اُس کے اس عمل سے دیسی لوگ بہت خوش ہوئے لیکن معاملہ بہر حال خطر ناک تھا۔ جسے ولیم بھی فوراً ہی بھانپ گیا اور اپنے آپ میں شرمندہ ہونے لگا۔ ایک اضطراب انگیز خاموشی میں چلتے ہوئے نولکھی کوٹھی کے صحن میں پہنچ گئے۔ صحن میں پہنچ کر جانسن صاحب نے جلدی سے سب کو رخصت کیا اور کوٹھی کے اندر داخل ہو گیا۔ ولیم جانسن صاحب کے اندر اُٹھنے والے طوفان کو جانتا تھا کہ وہ اُس کے اس عمل پر کتنا پریشان ہو گیا تھا۔ اُسے معلوم تھا،اگر یہ رپورٹ کمشنر صاحب کو پہنچ گئی تو ولیم کے لیے کیا خرابی پیش آ سکتی ہے۔ جانسن کو اُس وقت ہر گز کوئی پریشانی نہ ہو تی،اگر یہ کام ولیم کی بجائے کوئی دوسرا انگریز افسر کرتا۔ ولیم اُس کا بیٹا تھا اور یہ بات ولیم بھی جانتا تھا کہ اُس کا باپ ڈپٹی کمشنر ہوتے ہوئے اس عمل کو کتنا ناگوار سمجھ رہا ہے۔ اب گھر میں خلوت کے دوران اُس کی سرزنش ہونے کا وقت قریب تھا۔ اِس کے باوجود اسے یہ حوصلہ تھا کہ ابھی اُسے اپنے ہی باپ سے واسطہ تھا،جو سر زنش کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتا تھا۔ اُسے اس بات پر بھی حیرت ہو رہی تھی کہ آخر اُس سے اچانک یہ غیر معمولی حرکت سر زد کیسے ہو گئی تھی۔

کوٹھی کے ڈرائنگ روم میں داخل ہو کر صوفوں اور کرسیوں پر بیٹھ چکے تو ولیم اپنے باپ کی زبان سے شکوہ سننے کو تیار ہو گیا۔ وہ مدت کے بعد نولکھی کوٹھی میں داخل ہوا تھا اور نہیں چاہتا تھا اُس کا باپ ایسی بات کرے جو سارے مزے کو کر کرا کر دے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ اُسے اپنے باپ سے نصیحتوں کا باب سنتے ہی بننی تھی۔ اِس کے بر عکس جانسن نے ولیم کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی بیگم کو مخاطب کیا اور بولا،حنا باورچی سے کہو چائے کا سامان لگائے،اِتنے میں میں نہا لوں۔ یہ کہ کر جانسن باتھ روم میں داخل ہو گیا۔ ولیم وہیں بیٹھا لورین سے باتیں کرنے لگا۔ ولیم جانتا تھا جانسن صاحب نے نصیحت فی الحال معطل کی ہے بھلائی نہیں۔ لیکن فی الوقت تو جان چھٹی۔ حِنًانے باورچی کو چائے لگانے کے لیے آواز دی۔ پھر بیٹے اور بیٹی کے پاس آ بیٹھی۔ ولیم نے بھر پور نظر سے ماں کی طرف دیکھا اور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ حِنًا کی عمر پچاس سے تجاوز کر چکی تھی لیکن اُس کے جسم میں ابھی اتنی جازبیت اور کشش تھی جو کسی بھی مرد کو ایک دفعہ چونکا دینے کے لیے کافی تھی۔ وہ ایک لحظے کے لیے باپ کی قسمت پر رشک کرنے لگا۔ لیکن چند ثانیوں بعد ہی ایک لرزش سی لے کر اُس نے یہ خیال جھٹک دیا اور لورین سے بولا،لورین کیوں نہ ہم آج ایشلے،سمتھ اور ڈینی کو بھی یہیں بُلا لیں،مل کر فلاش کھیلیں اور ایشلے سے شاعری سنیں؟

لورین نے نہایت جوش میں آکر ولیم کی بات سے اتفاق کیا اور کہا،ولیم یہ آئیڈیا آپ نے بہت عمدہ پیش کیا ہے لیکن اِس کے ساتھ ایک اورکام بھی ہو جائے،آج رات طوفانی قسم کی چاندی ہو گی۔ کیوں نہ نہر دواب کے بہتے پانی میں تختے بچھا کر رات وہاں پر ہی چاندنی کا نظارہ کیا جائے،وہیں پر فلیش کھیلی جائے اور ایشلے سے شاعری سنی جائے؟

لورین کیا دن یاد کرا دیے،ولیم نے بالکل لڑکپن کا سا انداز اپناتے ہوئے لورین کے شانے پر ہاتھ مارا۔
دونوں کی گرم جوشیاں دیکھ کر حِنًا بھی گفتگو میں شریک ہو گئی اور بولی،تم دونوں اپنے باپ پر بالکل نہیں گئے۔ عین میرا دماغ پایا ہے،مکمل عیاش اور بے تکا،لیکن پیارو یہی زندگی ہے۔

حِنًا کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ جانسن صاحب باتھ روم سے وارد ہوگئے۔ انہوں نے حنا کی قریباً پوری بات سُن لی تھی۔ مسکراتے ہوئے بولے،ڈارلنگ حِنًا عیاشیاں تو ہم نے آپ کو کرائی ہیں۔ یاد کرو جب تم لندن چھوڑنے پر آمادہ ہی نہیں تھی اور ہم کتنی مشکل سے آپ کو بہلا پھسلا کر یہاں کھینچ لائے۔ اب ہمیں اتنا بھی خشک نہ جانو۔ یہ سب کچھ آپ کو اور آپ کے بچوں کو ہمیں نے سکھایا۔ یہ میرا پردادا مارٹن ہی تھا،جو سوتی کپڑا لینے آیا اور کمپنی کا داماد بن گیا۔ پھر ایک دنیا نکل گئی لیکن ہم نے دیکھ لیا تھا کہ اصل میں ملٹن کی جنت گم گشتہ یہی ہے۔ جو اب ہماری پشتوں میں چلے گی۔ اِس لیے ہم نہ نکلے اور دانتوں سے ہندوستان کی ریشمی گرہ پکڑلی۔ اِسی کا نتیجہ ہے کہ تم باغوں میں بیٹھی ہو۔ ورنہ کئی انگریز تو ابھی بھی ممبئی میں ٹین کے ڈِبوں میں بیٹھے ہیں اور دن رات بدبو اور پسینے سے کھیلتے ہیں۔

جانسن صاحب کی بات سن کر حِنًا سمیت سب ہنس دیے۔ اتنے میں باورچی چائے لگا کر ہاتھ باندھے ایک طرف کھڑا ہو گیا تھا۔ جانسن صاحب سیدھے چائے کی میز ہی کی طرف لپکے اور ایک نشست پر بیٹھ گئے۔ اُن کے بعد حنا،ولیم اور لورین بھی میز کی طرف بڑھے۔ اِس وقت سب کا موڈ خوش گوار تھا،اسلیے کھل کر باتیں ہونے لگیں۔ لورین نے جانسن صاحب سے کہا،پاپا آج ہمارا پروگرام فلیش اور شاعری کا بنا ہے۔ وہ بھی نہر دواب کے بہتے پانی پر تخت بچھا کر کینال بنگلہ کے پاس پیپلوں کی چھاؤں میں۔ کیسا رہے گا؟

بھئی آپ نے خیال تو کمال کا سوچا ہے،جانسن صاحب نے کہا،میرا خیال ہے یہ منصوبہ بھی برخوردار اسسٹنٹ کمشنر جناب ولیم صاحب کی اختراع ہے۔ یہ ہمارا شاعر مزاج بیٹا کچھ نہ کچھ کر کے رہے گا۔
نو پاپا،ولیم بولا،یہ شاعرانہ اختراع آپ کی بیٹی کی ہے،ولیم شاید جانسن کی طرف سے اس منصوبے کی ذمہ داری قبول کر لیتا لیکن وہ جانتا تھا دراصل جانسن صاحب نے ولیم پر چوٹ کی تھی۔ جو اُس نے اپنے مزارعین کو سلام کرنے کی ایجاد کی تھی۔
جی،لورین نے مُکا لہراتے ہوئے کہا،پاپا یہ منصوبہ میرے دماغ کا سرمایہ ہے،جو میں نے جناب میں گزار اہے۔
حِنًابولی،لوبھئی اب تو سارا گھر ہی شاعر ہو گیا ہے۔ ایشلے کی صحبت میں کچھ تو ہونا ہی تھا۔

جبکہ سارا گھر نواب پہلے ہی تھا۔ اب لکھنؤ لُٹنے میں کیا کسر باقی رہ گئی؟ جانسن صاحب نے لقمہ دیا،اس کے بعد ایک اور قہقہ لگا۔
چائے ختم ہو چکی تو جانسن صاحب نے نائب تحصیل دار کو طلب کیا جس کی ڈیوٹی جانسن صاحب اور اُس کی فیملی کے اوکاڑہ میں قیام تک اُن کے ساتھ لگ چکی تھی۔ نائب تحصیلدار جانسن صاحب کا بلاوا سنتے ہی بھاگتا ہوا اندر داخل ہواور حکم سننے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ جانسن کے چہرے پر نہایت سنجیدہ افسرانہ تمکنت سمٹ آئی،جو ایک ڈپٹی کمشنر کی طبیعت کواِس وقت لازم تھی۔ مسٹر،لورین جوکچھ کہتی ہے،وہ غور سے سنو اور اُس پر جلدی عمل کرو۔ اب جانسن صاحب نے لورین کی طرف دیکھا جس کا مطلب تھا کہ وہ اپنی بات تحصیل دار کو سمجھادے۔ لورین نے تحصیل دار کو وہ تمام ہدایات جاری کردیں جس کا آئیڈیاپہلے وہ بیان کر چکی تھی۔ تحصیل دار ہدایات سن کر جیسے ہی مڑا ولیم نے اُسے دوبارہ آواز دی،سنیے مسٹر،رینالہ سے ایشلے اورڈینی کو اطلاع کر دو،اُن کے دوست ولیم اور لورین نولکھی کوٹھی پہنچ گئے ہیں اور آپ کو یاد کر رہے ہیں۔ سہ پہر تک آ جائیں ہم کھانا اُن کے ساتھ کھائیں گے۔ اس کے علاوہ کچھ بٹیروں اورمر غابیوں کے گوشت کا بندوبست بھی کرا دو۔

جی بہتر سر،تحصیل دار نے فرمانبرداری سے حکم سنا۔

حکم دینے کے بعد جانسن پھر حِنًاکی طرف متوجہ ہو گیا اوراُس کے ساتھ دوبارہ بات کرنے لگا،اس کا مطلب تھا کہ تحصیل دار صاحب جا سکتا ہے۔ اُس نے ہلکاسا ہاتھ اُٹھا کر ماتھے پر رکھا اور صحن سے باہر نکل گیا۔

اس وقت تک ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔ اب جانسن نے اپنے خاص منشی تفضل شاہ کو بلانے کا ارادہ کیا،جو جانسن کی تمام زمینوں کا ذمہ دار تھا اور مزارعین کے ساتھ سارے حساب کتاب کا کھاتہ بھی اُسی کے پاس تھا۔ خانساماں نے کچھ ہی دیر بعد تفضل شاہ کو بلا لیا۔ تفضل شاہ پچاس پچپن سال کا نہایت شستہ آدمی تھا۔ وہ جانسن کے سامنے اپنے سادات پن کا وقار بر قرار رکھنے کے لیے جھکنے سے گریز ہی کرتا،جس کا احساس جانسن کو بھی تھا۔ اورجانسن کو شاہ صاحب کا اتنا سا نخرہ اُن کی ایمانداری کی وجہ سے قبول تھا۔ ویسے بھی ہندوستان میں سادات کا جو احترام تھا،جانسن اُس سے خوب واقف تھا۔ اِدھر جانسن شاہ صاحب سے زمینوں کے حساب کتاب میں جُت گئے اُدھر ولیم،لورین اور اُن کی والدہ حِنًا مویشی فارم کا دورہ کرنے کے لیے چل پڑے،جو صرف دو سو قدم کے فاصلے پر نولکھی کوٹھی کے پچھواڑے واقع تھا۔ اِس فارم میں اعلی قسم کی ساہیوال نسل کی گائیں اور نیلی کی سینکڑوں بھینسیں تھیں۔ ان گائیں اور بھینسوں کا دودھ اور مکھن سارا سال ہندوستان کے انگریز دوست احباب کے علاوہ انگلنڈ تک بھی جاتا۔ اکثر دفعہ نوابوں اور مہاراجاؤں کی خدمت میں بھی مکھن مہر بستہ بھیجا جاتا۔ جس کے عوض داد اور صلے حاصل کیے جاتے۔ فارم میں گائیں اور بھینسوں کے علاوہ شرطوں پر دوڑنے والے بیل اور گھوڑے بھی تھے۔ جن میں میم صاحبہ کی تو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ وہ جانسن کے شوق تھے اور بھرپور شوق تھے۔ فارم اور اُس کے مضافات میں پھیلی ہوئی تمام چیزیں باور کراتی تھیں کہ صاحب نوابوں سے کسی طرح بھی کم نہ تھے۔ بہت سے انگریز افسروں کو اس فیملی کے یہ نخرے اور نوابی انداز کھٹکتے تھے لیکن جانسن صاحب اور اُس کا باپ اور دادا ایسے چالاک تھے کہ جس افسر کی طرف سے اُنہیں حسد اور نقصان کا اندیشہ ہوتا اُسے اتنے زیادہ تحفے اور گھی مکھن بھیج دیتے کہ اُس بچارے کو مروتاً خاموش ہونا ہی پڑ جاتا۔ ایک دو دفعہ تو انتہائی مہنگے قسم کے دو گھوڑے بھی گورنر لاہور کی نذر کیے گئے۔ اصل پوچھو تو اسی کی وجہ سے جانسن صاحب اتنی جلدی اس اہم عہدے پر جا کر کھڑے ہو گئے تھے اور انہیں اُن کی مرضی کے بغیر کہیں ہلایا بھی نہیں گیاتھا۔

تینوں برٹش ماں،بیٹا اور بیٹی فارم کا دورہ کرتے جا رہے تھے جبکہ ملازم اُن کے ادھر اُدھر دوڑتے ہوئے ایک ایک مویشی کے متعلق معلومات دیتے جاتے۔ لیکن وہ ان سے ذرا فاصلے پر ہی چلتے،مبادا بدبو یا کسی دوسری حرکت سے میم صاحب اور ولیم صاحب ناراض نہ ہو جائیں۔ نیم اور پیپلوں کے لا تعداد درختوں کے سائے میں نہر کے کنارے کنارے یہ فارم ایک مثالی حیثیت رکھتا تھا۔ جس کو دوسری طرف دور تک آموں،مالٹے،امرود اور جامنوں کے باغوں نے اپنی پناہ میں لے رکھا تھا۔ اِن باغوں کے درمیان سے لہریں لیتی صاف پانی کی ایک چھوٹی سی نہر تھی۔ جس کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔ اُس کے کناروں پر بھی نیم اور پاپلر کے اُونچے پیڑوں کی سبز چھاؤں نے نہر کا دماغ نہر شداد کے پلے تک پہنچا رکھاتھا۔ یہی وجہ تھی ولیم اپنی زندگی کے فسانے انہی بستیوں کے حوالے رکھنا چاہتا تھا۔ فارم کے تمام مویشی انتہائی صحت مند تھے۔ نہ تو کسی کی ہڈیاں نظر آ رہی تھیں اور نہ ہی کسی جانور کے جسم پر میل کچیل تھا۔ ہر ایک مویشی لکڑی کی بنی ہوئی کُھرلیوں میں منہ دیے چارہ کھانے میں اور لمبی پوچھلیں ادھر اُدھر چلانے میں مگن تھا۔ اِسی طرح چھوٹے کٹوں اور بچھڑوں کی کُھرلیاں الگ تھیں۔ جن پر یہ اگرچہ بندھے تھے لیکن بندھے ہوئے بھی دڑنگے مارنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اس طرح یہ اور بھی زیادہ بھلے لگتے تھے۔ بھینسوں کے جسم اتنے کالے اور شفاف تھے،چاہے تو منہ دیکھ لو۔ جبکہ گائیں گلابی رنگ کی بڑی بڑی ہرنیاں لگتی تھیں۔ لورین چلتے چلتے کسی جانور کی دم کو ہاتھ لگاتی تو وہ ایک دم اچھل پڑتا مگر اتنے میں لورین شرارت کر کے پیچھے ہٹ چکی ہوتی۔ دور کھڑے ملازمین کے لیے ہر چند یہ معمولی بات تھی لیکن وہ محض لورین کو خوش کرنے کے لیے ایک بڑاسا قہقہ لگا دیتے۔ جیسے اُس نے کوئی بڑاکارنامہ سر انجام دے دیا ہو۔

فارم کو عبور کر کے ولیم،لورین اور حنا نہر کے دامن میں چلنے لگے تو ایسے لگا جیسے تین گلابی سرو باغوں کے سائے سائے چلے جاتے ہوں۔ مقامی وہیں رک گئے تھے کہ وہ اِس سیر میں ہم قدمی کے قابل نہیں تھے۔ یہ بات ولیم اور دیسی سب ہی جانتے تھے۔
ولیم کے ذہن میں بچپن ہی سے ایک خیال تھا لیکن اُس پر واضح نہیں ہو رہاتھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے اور جو سوچ رہا ہے وہ ٹھیک بھی ہے کہ نہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ گاہے گاہے کرتا بھی رہا ہے۔ اِسی ذہنی کیفیت کے تحت یا مقامی لوگوں کے چہروں کو دیکھتے ہوئے اُس نے چلتے چلتے حناًسے ایک سوال کر ہی دیا،ماما کیا ایسا نہیں ہو سکتا اِن دیسی لوگوں کے لیے ایک انگریزی سکول قائم کر دیں،جہاں اِن کی جاہل اولاد یں کچھ پڑھ لکھ کر اپنی حالت سیدھی کر لیں؟ پھر حناًکے جواب دینے سے پہلے ہی خود دوبارہ بولا،میرا مطلب ہے اُس کی نگرانی ہم کیتھی کے حوالے کر دیں،کہ وہ یہاں آکر فارغ تو نہیں بیٹھے گی،گویا ثابت کرنا تھا کہ دراصل وہ یہ مقامیوں کے لیے نہیں کیتھی کے لیے کرنا چاہتا ہے۔

حنا نے ایک نظر ولیم کی آنکھوں میں جھانکا اور بولی،ولیم میرا خیال ہے تمھیں کیتھی سے زیادہ ان کالوں فکر ہے۔ تم ان کے بارے میں حاکم بن کر کیوں نہیں سوچتے؟خدا وند یسوع مسیح نے تم پر ایک برکت ناز ل کر کے کمشنر بنا دیا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو وہ اپنی برکت واپس لے لے اور تم انہی کالوں کے ساتھ عذاب میں گرفتار ہو جاؤ۔ کیونکہ اِنہیں ایسی حالت میں ہم نے نہیں خدا وند یسوع مسیح نے رکھا ہے۔ اب اِن کو نہ یسوع مسیح جانتا ہے اور نہ یہ اُس کو جانتے ہیں۔ اس لیے ان سے دور رہو اور خدا برکتوں کو ضائع نہ کرو۔ جانسن صاحب تمھارے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔ وہ کہ رہے تھے فیروز پور سے بھی ان کی رپورٹس اچھی نہیں آ رہیں اور یہ کہ ولیم گورنمنٹ سے زیادہ رعایا کا وفادار ہے۔ اِس بات کے اثرات اِس کی ملازمت پر بُرے پڑیں گے۔

ولیم کو اپنی ماں کی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے یسوع مسیح غریبوں اور ناداروں کا ساتھ دینے کے خلاف ہو۔ اگر یہ بات ٹھیک تھی تو پھر ہندوستان کے جتنے شودر اور دلت ہیں،یسوع مسیح کو مان کر اُن کی حالت کیوں ٹھیک نہیں ہوئی؟ وہ تو اِن مسلمانوں اور سکھوں سے کہیں زیادہ بدترحالت میں ہیں۔ اور یہ ہندوستان کے نوابین،جن کی حالت ہم سے بھی کہیں بہتر ہے،یہ کس یسوع مسیح کو مانتے ہیں؟لیکن یہ وہ باتیں تھیں،جن کے سمجھنے کی حناً صاحبہ کو ضرورت نہیں تھی۔ اِس لیے ولیم نے اپنی ماں کی بجائے چلتے چلتے ایک لمحے کے لیے لورین کی طرف دیکھا اور بولا،لورین میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر پورا ہندوستان اِسی طرح کا ہو جائے،جس طرح ہمارا یہ فارم اور زمینیں اور باغات ہیں تو گورنمنٹ کا کیا نقصان ہو گا۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں اُس کے خراج اور مالیے میں اضافہ ہو گا۔ اور جہاں برطانیہ میں آج یہاں سے دس روپے جاتے ہیں،وہاں اسے سو پونڈ جانے لگیں گے۔

لورین نے ولیم کی اس بات پر غیر استفہامی انداز میں سر جھٹکا اور بولی،ولیم مجھے ایسی باتیں سمجھ نہیں آتی۔ تم یہ بتاؤ کیتھی کو کب یہاں لا رہے ہو؟ اب وہ بے چاری کب تک سردی میں ٹھٹھرتی رہے گی۔ میں چاہتی ہوں اُسے ان آموں کے موسم تک بیاہ کر لے ہی آؤ۔
ولیم نے کاندھے اُچکائے اور حِنًا کی طرف دیکھا اور بولا،یہ بات تو ماما ہی طے کریں گی،اُسے کب لانا ہے؟ پھر مسکراتے ہوئے،میں نے تو اپنا کام مکمل کر دیا ہے۔

حنا نے ولیم کی طرف دیکھا اور بولی،ولیم تمھارے اشارے کی بات ہے۔ مَیں کمشنر صاحب سے ابھی بات کر لیتی ہوں لیکن پہلے یہ طے کرو اُس کے لیے کون سی قیام گاہ آپ کے حوالے کی جائے؟

ماما میرا تو خیال ہے اِس جگہ سے بہتر کوئی ٹھکانہ نہیں۔ وہ یہاں بہت خوش رہے گی۔ میں چاہتا ہوں میں اُس کے لیے یہاں ایک جدید اسکول قائم کر دوں،جہاں چھوٹے پیمانے پر مقامی عیسائی اور مسلمان بچوں کی تعلیم کا انتظام ہو جائے۔ وہ ویسے بھی اس کام کو پسند کرتی ہے۔

اوکے،جیسے آپ کی مرضی،لیکن میرا خیال ہے آپ پہلے اُسے بیاہ لاؤ۔ اُس کے بعد دوسرے منصوبوں پر عمل کر لینا،حنا نے ولیم کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔

نہر اب مالٹوں کے باغ سے آموں کے باغ کی طرف نکل گئی تھی۔ اِس لیے ولیم،لورین اور حنا نے اپنا راستہ بدل کر شرینہہ کے بڑے بڑے درختوں کے درمیان سے دوبارہ نولکھی کوٹھی کی طرف پھیر لیا۔ بہار شروع ہورہی تھی۔ شرینہہ کی شاخوں پر پھوٹتی ہوئی تازہ پتوں کی کونپلیں ایسی میٹھی خوشبو چھوڑ رہیں تھیں،جن کے آگے سارے جہان کے پرفیوم ماند تھے۔ ولیم اور لورین اِن دھیمی خوشبووں کے درمیان لمبے لمبے سانس لینے لگے اور سینہ پھلا کر آکسیجن اندر کھینچنے لگے۔ آہستہ آہستہ اِسی طرح سیر کرتے ہوئے وہ سرسوں اور برسن کے کھیتوں میں کھڑے ہوئے میٹھے کے پیڑوں کے بیچ سے نولکھی کوٹھی میں آ نکلے۔ جہاں میٹھے کے پیڑ کے تیز خوشبو والے سفید سفید پھول لورین کو اتنے بھائے کہ اُس نے مٹھی بھر پھول توڑ کر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیے اور نولکھی کوٹھی کے صحن میں پڑی خوبصورت لکڑی کی کرسیوں پر ایک دم گر کے بیٹھ گئی۔ اِسی صحن میں کچھ فاصلے پر جانسن صاحب تفضل شاہ سے حساب کتاب کر کے ابھی ابھی فارغ ہوئے تھے اور اب وہ اُٹھ رہے تھے۔ ڈیڑھ بج چکا تھا اور بھوک بھی خوب چمک گئی تھی،جس پر فارم کے بیچوں بیچ لمبی سَیر نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ لورین نے وہیں باورچی کو طلب کر کے لنچ کے بارے میں پوچھا،باورچی نے نہایت ادب سے جواب دیا،میم صاحبہ آپ کا ہی انتظار ہے،لنچ تو کافی دیر کا لگ چکا ہے۔ باورچی کی طرف سے کھانے کا سن کر سب ایک ہی دفعہ کوٹھی کے وسیع ڈائیننگ ہال کی طرف اُٹھ کھڑے ہوئے۔

ڈائیننگ ہال کم از کم تیس فٹ لمبا اٹھارہ فٹ چوڑا اور پچیس فٹ اُونچی چھت پر محیط تھا۔ دیواروں کے ساتھ بڑے بڑے طاق اور طاقوں میں سجے ہوئے فانوس،جھاڑ اورآتش دان لگے تھے۔ آتش دان کی خاص ضرورت تو نہیں تھی۔ کبھی کبھی ہی سخت سردی میں جلتا تھا لیکن انگریزی طرز تعمیر کے مطابق اُس کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ کمرے کے درمیان میں ایک بڑی اور صندلی ٹیبل،جس پر ریشمی دسترخوان اِس طرح بچھا تھا کہ اُس کے کنارے نیچے پاؤں تک چُھوتے تھے۔ چھت پر لٹکے ہوئے فانوس اور اُن کے درمیان بجلی کے پنکھے ڈائیننگ ہال کو ایک نوابی شان سے دو چار کرتے تھے،بجلی رینالہ بجلی گھر بن جانے سے کافی مقدار میں دستیاب تھی۔ اِس لیے بعض اور بھی چیزیں بجلی پر چلنے والی مہیا کی گئیں۔ جن میں سے اکثر اِسی ڈائیننگ ہال اور ڈرائنگ روم میں موجود تھیں۔ مثلاًگراموں فون،ریکارڈر سسٹم،بھاپ دان،کھانا پکانے کے لیے ہیٹر اور اِسی طرح کی بیشتر چیزیں۔ ڈائننگ ہال میں بچھا ہوا قالین بھی اپنی مثال آپ تھا،جو سپیشل نواب صاحب آف بہاولپور نے جانسن صاحب کو اُن کی بہاولپورریاست میں تعیناتی پر تحفہ دیا تھا۔ اِس کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں مختلف جگہوں سے تحفہ میں آئی ہوئی ڈائننگ ہال اور ڈرائنگ روم میں موجود تھیں۔ اِن سب چیزوں کو انہی دو کمروں میں رکھنے سے جانسن صاحب کے نوابوں اور مہاراجوں سے تعلقات اپنے شریکے کے انگریزوں پر اچھی طرح کھل جاتے تھے۔ جن کی بعض انگریز افسر حسرت ہی کر کے رہ جاتے۔ کھانا میز پر دور تک چینی،کانچ اور سٹیل کے برتنوں میں سجا تھا۔ دوپہر کا یہ کھانا دودھ،مکھن،جیم،اچار،پلاؤ،روغنی روٹیاں،کھیر،جوس اور دو تین قسم کے گوشت پر منحصر تھا۔ سوئر کا گوشت اِس خاندان نے عرصہ پہلے چھوڑ رکھا تھا۔ اِس لیے اُس کا میز پر کوئی انتظام نہیں تھا۔ اِس معاملے میں جانسن اور ولیم کے اُن انگریز دوستوں کو کوفت ہوتی تھی جنہیں یہ گاہے بگاہے کھانے پر بلاتے لیکن باقی چیزیں کافی مزیدار ہوتیں اور کھانا بد مزانہ ہو پاتا اور سوئر کے بغیر بھی اُن کا گزارا چل ہی جاتا۔ ویسے بھی نولکھی کوٹھی پر اکثر اُن کے رینالہ اسٹیٹ،ستگھرہ اسٹیٹ اور مچلز والے انگریز مہمان ہی آتے تھے،جو خود بھی دیسی کھانوں میں رچ بس گئے تھے۔

کھانے کی میز پر بھی کافی گپ شپ رہی لیکن یہاں بھی جانسن صاحب نے ولیم سے اُس کی جلال آباد میں تعیناتی اور ملازمت کے تجربات سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا۔ اِس پر ولیم حیران تھا لیکن خوش بھی تھا کہ ایسے خوشگوار ماحول میں اِس طرح کی گفتگونامناسب تھی۔

دس پندرہ منٹ میں ہلکی وائین کے ساتھ مزیدار کھانا کھا کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے کیونکہ چار بجے رینالہ سے ولیم کے بچپن کے دوست ایشلے کے آ جانے پر اُس کا استقبال بھی کرنا تھا۔ جس سے پچھلے سات سال سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔ لندن سے آنے کے بعد ولیم کو مسلسل نوکری کے بکھیڑوں میں اتنا وقت ہی نہ مل سکا کہ وہ دوستوں کے ساتھ مل کر کچھ دیر گپ شپ کی چہلیں کر لے اور ایشلے سے اُس کی شاعری سن لے،جو بچپن کے وقت تو محض دل بہلانے کی ہوتی تھی لیکن بعد میں جب اُس نے ولیم کو اپنی نظمیں لندن بھیجیں تو وہ بہت عمدہ تھیں۔ آج ایشلے سے ہونے والی ملاقات کے تصور میں اُسے عجب سرشاری کا لطف محسوس ہو رہا تھا۔ لندن میں اُسے کیتھی نے کسی بھی قسم کی کمی محسوس نہ ہونے دی تھی لیکن ایشلے کی بات ہی کچھ اور تھی۔ اِنہی احساسات میں اُسے اپنے اور ایشلے کے ساتھ گزارے ہوئے ایسے وقت کی جھلکیاں یاد آنے لگیں،جنہیں یاد کر کے وہ کچھ شرما سا گیا لیکن وہی جھلکیاں اُسے مزید لطف اندوز کرنے لگیں اور وہ ایشلے کی ملاقات کے لیے بے چین سا ہو گیا۔ لندن سے آنے کے بعد اُس سے ملاقات اس لیے بھی نہ ہو سکی تھی کہ وہ جب ہندوستان آیا تو ایشلے کلکتے میں ایک کالج میں بطور پروفیسر تقرری کے لیے اپنے آڈر لینے جا چکا تھا۔ اُس کے بعد ولیم لاہور سے فیروز پور چلا گیا۔ یوں اب تک دونوں میں دوری بر قرار رہی تھی لیکن خوش قسمتی سے اب دونوں ہی اوکاڑہ میں موجود تھے اور ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کے لیے بے چین تھے،جو چند لمحو ں کے بعد ہونے والی تھی۔ جانسن صاحب قیلولے کے لیے جاچکے تھے لیکن ولیم باہر نکل کر صحن میں ٹہلنے لگا۔ ،تھوڑی دیر ٹہلتے ٹہلتے اُس نے باورچی کو آواز دے کر کافی بنانے کے لیے کہا اور پھر اُسی طرح ٹہلنے لگ گیا۔ اگرچہ اُس کا چہل قدمی کرنے کو دل نہیں چاہ تھا لیکن اُسے بس ایشلے سے ملنے کی بے چینی لگی ہوئی تھی۔ اِسی کیفیت میں ولیم کو پندرہ منٹ گزرگئے۔ اتنے میں باورچی کافی بنا کر لے آیا اوروہ کوٹھی کے وسیع لان میں پڑی ہوئی کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ کر کافی کی چسکیاں لینے لگا۔ ابھی اُس نے دو ہی گھونٹ لیے تھے کہ دور سے گاڑی کے ا ٓنے کی آواز سنائی دی۔ ولیم کافی کا کپ وہیں رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور آموں کے باغ کے دوسری طرف سے آنے والی گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔ چند ہی لمحوں میں اُسے ایشلے اور ڈینی کے چہرے نظر آ گئے جنہیں اِتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پہچاننے میں دقت نہیں ہوئی۔ اُس نے دور ہی سے دونوں کی شکلوں میں واضع فرق کو محسوس کر لیا تھا۔ جیسے ہی جیپ پیپل کے درخت کے نیچے پکی انیٹوں کی سڑک پر آکر رُکی،ولیم ملنے کے لیے تیز ی سے اُس طرف چل پڑا۔ اُدھر سے ایشلے اور ڈینی بھی گاڑی سے چھلانگ مارکر ولیم کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اِس تیزی میں ڈینی کا کنٹوپ سر سے گرتے گرتے بچا۔ اِس اشتیاق میں سب نے ملازموں کے سامنے اپنے پورے انگریزی وقار کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ دیا اور ایک دوسرے کو بے انتہا جوش کے ساتھ گلے ملنے لگے۔ رہ رہ کر لپٹنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کے بوسے بھی لے لیے۔ ان کے اس انداز کو دیکھ کر ملازم حیران رہ گئے۔ اُن کی نظر میں یہ فعل انتہائی غیر اخلاقی اور تعجب انگیز تھا اور یہ بات راسخ کر دینے کے لیے کافی تھا کہ فرنگی قوم بہت زیادہ فحاشی پھیلانے والی ہے۔ کچھ دیر وہیں کھڑے اپنے اشتیاق کو کم کرنے کے بعد تینوں اسی جگہ لان میں بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے۔ اِس جذباتی ملاقات میں ولیم کو یہ بھی نہ یاد رہا کہ دوستوں کو چائے ہی پوچھ لے۔ کچھ دیر چہلیں کرنے کے بعد اُس کو خیال آہی گیااور اُس نے ملازم کو آواز دے کر کافی بنانے کے لیے کہا۔ ایشلے جو ولیم کا اصل میں جی کا دوست تھا،کچھ دیر جی بھر کے ولیم کی طرف دیکھتے ہوئے بچپن کے نظاروں میں کھو گیا پھر بولا،دوست میں نے تو خیال کیا تھا،آپ لندن کے ہو کر رہ گئے،ہندوستان نہیں لوٹو گے اور یہاں ہم آپ کی روح ہی تلاش کریں گے۔

ولیم ایشلے کی سبزی مائل نیلی آنکھوں میں دیکھ کر بولا،ڈیئر میں آپ کو ایک بات بتا دوں،آپ صر ف شاعری کرتے ہیں لیکن اُس پر عمل مَیں کرتا ہوں۔ دیکھنا ایک روز آئے گا آپ میری روح ہندوستان کی خوشبووں میں ڈھونڈو گے (پھر آموں کے باغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )اِن درختوں کے پتوں کی رگوں میں میری سانس چلتی ہے۔

ڈینی ولیم کو جذباتی ہوتے دیکھ کر بولا،چھوڑ یار آپ تو شاعری میں بات کرنا شروع کر دیتے ہو۔ یہ کام ایشلے کے لیے رہنے دے۔ تم نے ایک سال سول سروس میں گزار لیا ہے۔ کوئی اُن تجربوں کا حال سنا،کیسا لگا اِس نوکری میں آنا آپ کو؟ ولیم نے ڈینی کی بات کامزالیتے ہوئے ایشلے کی طرف دیکھا اور بولا،ایشلے،یہ ڈینی عجیب آدمی ہے،کوئی موضوع چھیڑو،یہ بات دوسری طرف گھمانے کی کرتا ہے۔ اچھی بھلی بچپن کی محفل جمنے لگی ہے تو یہ چاہتا ہے،مَیں ملازمت کے کریہہ پیشے کی الف لیلیٰ چھیڑ دوں۔ دوست یہ ایک ایسی ملازمت ہے جس میں اپنی طرف سے صر ف ڈانس کر سکتے ہو۔ ہدایات کہیں اور سے ملتی ہیں۔ تم اِس ساری بکواس کو ایک طرف رکھو اور میری سنو،لورین بھی آئی ہوئی ہے۔ ہمارا پروگرام آج نہر کے پانی پر تخت بچھا کر رات کی سفید چاندنی میں فلاش کھیلنے اور ایشلے سے شاعری سننے کا ہے۔ یہ وہی نہر ہے ایشلے،جس میں آپ آٹھ سال کی عمر میں یسوع مسیح کے حوالے ہونے لگے تھے۔ پھر میری چیخ نے ایک ملازم کو چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اِسی نہر میں آج رات ہم لکڑی کے تختوں پر جھولا جھولیں گے۔ یہ آئیڈیا لورین نے پیش کیا ہے۔ بتاؤکیسا رہے گا؟

ایشلے اُچھلتے ہوئے کھڑا ہو گیا اور بولا،ارے کمال ہے ولیم،لورین کے آنے کی خبر دے کر آپ نے صحرا ئے دل میں شبنم بھر دی۔ بہتی ہوئی نہر کے درمیان بیٹھ کر لورین سے باتیں کرنے کا لطف تو خوب آئے گا۔ لیکن یہ بتاؤ،اُس کا خاوند تو ساتھ نہیں ہے؟پھر باتیں کھل کر نہیں ہو سکیں گی( چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے )لیکن وہ نظر نہیں آرہی۔
اِس وقت سو رہی ہے۔ تھکی ہوئی تھی۔ ولیم نے وضاحت کی،اُس کاخاوند اُسے کچھ دنوں کے لیے یہاں چھوڑ کر بنارس گیا ہے کسی نواب کے کیس کی تاریخ پر عدالتی معاملے میں۔ اور ہاں آپ کو اگر نہانا دھونا ہے اور آرام کر نا ہے تو کر لیں۔ ابھی ساڑھے تین ہوئے ہیں،رات آٹھ بجے ہم وہاں جائیں گے۔

آرام کی ضرورت نہیں ہے جناب کمشنر صاحب،ایشلے نے ولیم کو طنز کرتے ہوئے کہا،اِس طرح کے چونچلے سول سروس والوں کے ہوتے ہیں۔ ہم تو ٹھہرے مست شاعر۔ رات کی تنہائیوں میں پہروں پھرنے والے اور خوبصورت شکلوں پر نغمے کہنے والے۔ یاد ہے ناآپ کو؟ آپ پر اور لورین پر بھی کئی کئی نظمیں کہ رکھی ہیں۔ کیا لورین ویسی ہی ہے؟ مجھے تو اُس کو دیکھے بھی تین سال ہو گئے۔ ممبئی کیا گئی ہماری ذات ہی بھول گئی۔
ہاں ہاں ویسی ہی ہے،ولیم نے زور دے کر کہا۔

تینوں دوست کوٹھی کے صحن میں بیٹھے کافی کے ساتھ باتوں کے طوطے اُڑاتے رہے۔ بیچ بیچ میں ایشلے اپنی نظمیں بھی سناتا رہا،جن میں یورپ اور ہندوستانی فضاؤں کا امتزاج تھا۔ اِتنے میں دور سے آوازے لگاتی ہوئی لورین بھاگی آئی اور ایشلے کے آتے ہی گلے لگ گئی۔ اُس کے بعد ڈینی کو ملی اور بیٹھتے ہی ایشلے سے بولی،ایشلے آپ بہت یاد آتے ہو،ممبئی میں آپ کی نظمیں اکثر گنگناتی ہوں۔

ایشلے نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا،لیجیے ایک اور جھوٹ سن لیں۔ ایک خط تک لکھا نہیں اور لگیں مجھے یاد کرنے۔
لورین نے ڈینی کی ایک چٹکی لیتے ہوئے کہا،ڈینی،یہ ایشلے نرا شاعر ہے،احمق شاعر۔ ہم سے شادی کر لیتا،شاعری کے لیے اِسے دوسرے موضوع کی تلاش نہ کرنی پڑتی۔ جتنی چاہتا ہم پر نظمیں کہہ لیتا۔

لورین کے اس چھیڑخانی والے جملے پر سب نے بلند قہقہ لگا یا۔ اِس کے بعد لورین نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا،ولیم،ایشلے سے ذرا وہ کبوتروں والی نظم سنیے،بہت عمدہ ہے۔ جب آپ لندن میں تھے اِس نے مجھے سنائی تھی۔

ارے ایشلے کوئی ایسی نظم بھی لکھی ہے جو لورین کو بھی پسند آگئی؟،ذرا سنیں تو سہی،ڈینی نے ایشلے سے کہا۔
ایشلے نے اپنا ہیٹ اُتار کر میز پر رکھا اور شاعرانہ انداز سے ایک طرف پہلو بدلتے ہوئے نظم شروع کردی۔ ڈینی،لورین اور ولیم ہمہ تن گوش ہو گئے۔

اپریل کا آسمان بلند ہے
ایک بڑے زمرًد کے انڈے کی طرح
نیلا اور شفاف
اس کی پہنائیوں میں اُڑتے کبوتروں کا
سفید رنگ سفید ہی نظر آتا ہے
اور پنجوں کے ناخن گلابی
مجھے اپنی آنکھوں پر کبھی اعتبار نہیں رہا
مگر میں اپریل کے آسمان سے دھوکا نہیں کھا سکتا
میں نے اسے پچیس بہاروں میں دیکھا
اُس وقت جب پرندے اُڑتے ہیں
اور پریاں ہواؤں میں پَر پھیلاتی ہیں
تمھیں خبر ہے،مَیں اِسے کبوتروں والا آسمان کہتا ہوں
چراگاہوں میں چرتے مویشوں کے درمیان دیکھتا ہوں
جب وہ چرتے چرتے اپنامنہ سبز چارے سے اُوپر اٹھا کر
خدا کو دیکھتے ہیں
کبوتروں کی پرواز کو دیکھتے ہیں
یہ کبوترہمیشہ اُڑتے رہیں گے
اُس وقت بھی جب میں نہیں ہوں گا
میرا یقین اعلان کرتا ہے
بڑے آسمان کے کبوتر ہی خدا ہیں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اب شام کے پانچ بج چکے تھے اورشفق کا سورج لال روشنی چھوڑ رہا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی لان کے سبزے میں سیاہ مچھر تیرنے لگے جو اُڑ اُڑ کر آنکھوں کو آتے تھے لیکن ہوا ایسی خوشگوار اور رومان پرور تھی کہ ہر ایک کو غش آرہا تھا۔ اتنے میں جانسن صاحب بھی باہر نکل آئے۔ اُن کے ساتھ حنا بھی تھیں۔ جانسن کے لان میں آتے ہی تمام لوگ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ڈینی اور ایشلے نے آگے بڑھ کر جانسن صاحب کو سلام کیا اور ہاتھ ملایا،۔ جانسن نے اُنہیں مربیانہ انداز میں سلام کا جواب دیا اور کہا،لڑکو ! آپ کے لیے نہر پر تخت بچھا دیے گئے ہیں۔ مَیں اور حَنًا بھی ڈنر آپ کے ساتھ ہی نہر پر کریں گے۔ اِس لیے تیار ہو جاؤ۔ اِتنا کہ کر جانسن صاحب نے آگے قدم بڑھائے اور مالٹوں کے سفید چمکتے ہوئے پھولوں کی طرف بڑھ گئے جبکہ باقی دوبارہ وہیں بیٹھ گئے۔ اُن کے ساتھ حَنًابھی وہیں بیٹھ گئی،پھر دوبارہ باتیں اور شاعری شروع ہو گئی۔ مدتوں کے بعد ولیم کو اس طرح کی محفل پہلی دفعہ میسر آئی تھی۔ اِس لیے وقت گزرنے کا اندازہ ہی نہ ہوا۔ حتیٰ کہ جانسن صاحب جو کچھ دیر ہی پہلے مالٹوں کے باغ میں نکل گئے تھے،دوبارہ نمودار ہوئے اور بولے،آپ ابھی تک یہیں بیٹھے ہیں؟ بھلے آدمیو اب تو ساڑے چھ بج چکے ہیں۔ جانسن صاحب کے ہوش دلانے پر سب ایک ہی دم کھڑے ہو گئے۔ دیکھا تو صحن کے باہر خادمان اور مامائیں اور انتظامیہ کا عملہ اُن کے انتظار میں کھڑا تھا۔ ایشلے نے جانسن صاحب کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا،سر،ہم آپ کے غصہ سے مستثنیٰ ہیں کہ شاعر ہونے کے ناتے اتنا تو حق رکھتے ہیں (پھر ولیم کی طرف دیکھ کر) جناب کمشنر صاحب،کیا ہم آپ کی اجازت سے نہا کر کپڑے بدل لیں۔

ولیم نے سر سے ہیٹ اُتار کر جواب دیتے ہوئے سر جھکایا اور کہا،مہاراج اب جلدی کریں ورنہ میں آپ کی اسٹیٹ ضبط کر لوں گا۔ سول سروس آپ کے خیال میں مذاق ہے؟اس فقرے پر سب ہنس دیے۔

اسکے بعد ولیم،جانسن،ڈینی اور لورین تیار ہونے کے لیے کوٹھی میں چلے گئے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

رات کے دو بجے تک نہر کے چلتے پانی پر چاندنی رات میں شراب،بٹیروں اور مرغابیوں کے کباب،فلیش اور شاعری کرتے اور گاہے گاہے ہندوستان اور یورپ کی زندگی کا جائزہ لیتے سب ہی اتنا تھک چکے تھے کہ صبح گیارہ بجے آنکھ کھلی۔ البتہ جانسن صاحب صبح چھ ہی بجے دوبارہ جاگ گئے تھے اور فارم کی سیر کرتے ہوئے دور تک نکل گئے۔ گیارہ بجے اُٹھ کر سب نے نہایا اور کافی لی۔ حتیٰ کہ لنچ کا وقت ہو گیا۔ لنچ کے بعد ولیم نے اعلان کیا،دوستومیں نے ابھی براستہ ہیڈ سلیمان کی جلال آباد نکلنا ہے،اِس لیے میری رخصت کا وقت آرہا ہے۔ انشاء اللہ اگلے سینچر دوبارہ ملاقات ہو گی۔ آپ چاہیں تو یہاں رہیں اور چاہیں تو رینالہ جائیں۔ یہ کہ کر تیاری میں مصروف ہو گیا۔ دو بجے کے قریب جب ولیم بالکل تیار ہو گیااور ڈینی اور ایشلے کو ملنے کے لیے باہر نکلا تو وہ دو نوں بھی پیپل کے سائے تلے کھڑی اپنی گاڑی کے پاس رینالہ جانے کے لیے تیار تھے۔ ولیم دوستوں کے پاس جا کھڑا ہوگیا،جہاں لورین پہلے ہی موجود تھی۔ جانسن صاحب نے ولیم کو مخاطب کر کے کہا،ولیم دوستوں کو رخصت کر کے ذرا اندر آئیں۔

ولیم ڈرائینگ روم میں پہنچا تو جانسن صاحب اور حَنًا دونوں بیٹھے اُس کا انتظار کررہے تھے۔ ولیم ہیٹ اُتار کر سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا اور جانسن کی بات سننے کے لیے تیار ہو گیا۔

جانسن نے بلا کسی تمہید کے بات شروع کی،ولیم یہ ڈرانئگ روم میں جتنی تصویریں دیکھ رہے ہو،یہ سب آپ کے اجداد کی ہیں۔ اِن میں سے کوئی ایسانہیں جس کی خدمات خاندان اور گورنمنٹ کے لیے یکساں فخر کا باعث نہ ہو۔ یہ ہندوستان،جس کے رومان میں آپ مبتلا ہو،یہ ہمیں بھی اتنا ہی اپنی طرف کھینچتا ہے جتنا آپ کو،لیکن اِس کی محبت کے کچھ آداب ہیں اور وہ آداب تمھارے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔ تمھیں معلوم ہونا چاہیے،کالے اور سفید لوگوں کے درمیان ایک لکیر ہے۔ اُسے جب بھی عبور کیا جائے گا،اُسی وقت یہ زمین اپنے گلے سے ہمارے اقتدار کی رسی کاٹ دے گی۔ میں بھی اِس حق میں ہوں کہ کالوں کی غربت اور جہالت ختم ہونی چاہیے۔ اُسے بہت حد تک ہم نے ختم کیا بھی ہے،لیکن کیا آپ اِس بات کو بھول گئے کہ ہماری اِن پر حکومت کا سبب اِن کی یہی جہالت ہے۔ چنانچہ اُسے ایک حد تک ان پر مسلط رکھنا ضروری ہے۔

ولیم نے جانسن کی بات سنتے سنتے اپنا پہلو بدلا، جسے دیکھ کر جانسن نے بات جاری رکھی،آپ کے جانے کا وقت ہو رہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک دو باتیں اس وقت آپ کو بتا دینا بہت ضروری ہیں۔ ہم کچھ کام میں آزاد ہیں اور کچھ میں مجبور۔ یہ فارم اور یہاں جگہ جگہ ہماری نشانیاں،جو ہم نے اِس زمین پر ثبت کی ہیں،ہم چاہتے ہیں وہ ہمارے نام پر برقرار رہیں۔ حالات کے فیصلے ضروری نہیں ہمارے فیصلوں سے اتفاق کریں مگر ہم اپنی کوشش جاری رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم خود اپنے پاؤں کاٹناشروع کر دیں،جیسا کہ آپ کی طرح انسانیت کا درد رکھنے والے کئی انگریزافسر کر رہے ہیں،تو ہمیں اپنی قسمتوں پر شکوہ نہیں کر نا چاہیے۔ مجھے آپ کے متعلق کمشنر ہاؤس سے کچھ شکایات وصول ہوئی ہیں،جو بہت خطرناک ہیں۔ اپنے پیروں کی زمین دیکھ کر قدم اُٹھاو۔ ایسا نہ ہو اگلے قدم پر زمین ختم ہو جائے۔ تمھارا کام اِس وقت صرف نوکری کرنا ہے۔ فیصلے کرنا گورنمنٹ کے بڑوں کا کام ہے۔ میں چاہتا ہوں،آپ بڑوں میں شامل ہو جاؤ لیکن اُس وقت کا انتظار کرو۔ جو آپ کے پاس موجود ہے،اُس کو بچاؤ۔ میری نوکری تین سال رہ گئی ہے۔ اُس کے بعد مَیں بھی تمھارے رحم و کرم پر ہوں۔ اِس سے آگے میں آپ کو کچھ نہیں سمجھا سکتا۔ (پھر بات بدلتے ہوئے ) میں یہ چاہتا ہوں،کیتھرین کو جلد بیاہ لیا جائے۔ یہ کوٹھی آپ کی ہے۔ آپ اس کے وارث ہو۔ جب چاہو،اُسے یہاں اُتار سکتے ہو۔ جلال آباد جاکر پہلا کام اُسے تار بھیج کر بُلانے کا کرو۔ میں اگست تک اُسے یہاں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اِتنا کہ کر جانسن اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس کے بعد ولیم بھی باہر نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا،جو سفر کے لیے تیار کھڑی تھی۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – دسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(18)

 

سردار سودھا سنگھ سورج چڑھنے سے کافی دیر پہلے بیدار ہو گیا۔ پلنگ سے آہستہ سے اُٹھا اور رضائی آرام سے بینت کور کے اُوپر ڈال دی۔ اِس کے بعد اپنی پگڑی سر پر درست کی، کرپان باندھی اور منہ اندھیرے ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ باہر ڈیوڑھی میں رات کے جتنے پہرے دار تھے سب سو چکے تھے، البتہ چھدّو جاگ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ رات کو سردار سودھا سنگھ کے اٹھتے ہی اپنی چارپائی پر جا پڑتا تھا۔اس لیے صبح اُس کی آنکھ جلدی کھُل جاتی۔ اُس نے اشنان تو مہینوں بعد کرناہوتا تھا اس لیے سردی میں صبح کے وقت آگ جلانے کے سوا اُسے کوئی کام نہ تھا۔آج بھی اُس نے صبح گوردوارے کا گھنٹہ بجنے سے پہلے ہی آگ جلا لی تھی۔ سردار کو ڈیوڑھی کی طرف آتے دیکھ کر چھدّو فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پرنام کیا۔ سردار نے چھدّو کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، چھدّو ڈیوڑھی کا دروازہ کھولو۔ چھدّو کو سردار سودھا سنگھ کے معمول کا پتہ تھا، اس لیے سودھا سنگھ کے بولنے سے پہلے ہی دروازے کی بلیاں اُٹھانے لگااور آہستہ آہستہ پانچوں بلیاں اُٹھا دیں۔ دروازے کو دھکیلنے کے لیے تختوں کے نیچے لکڑی کے چھوٹے پہیے لگے ہوئے تھے۔پھر بھی اِس پہاڑ جیسے دروازے کو دھکیل کر ایک طرف کرتے ہوئے چھدّو کو بہت زور لگانا پڑا۔دروازہ اتنا بڑا اور بھاری تھا کہ اُس سے دو دو ہاتھی ایک وقت میں گزرنے کی راہ تھی۔ کالی سیاہ ٹاہلی کی موٹی موٹی چگاٹھوں پر تین انچ کے موٹے اور چھ ضرب دس فٹ کے چوڑے اور لمبے تختے تھے، جن پر کلو کلو بھرکے بے شمار لوہے اور تانبے کے کیل کڑے جَڑے ہوئے تھے۔ تختوں کے علاوہ لوہے کا وزن ہی کوئی تین چار من کے قریب ہو گا۔ سردار سودھا سنگھ نے آگے بڑھ کر چھدّو کا اس معاملے میں ہاتھ بٹایااور دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی سردار سودھا سنگھ باہر نکل گیا اورچھدو لنگڑاتا، ہانپتا دوبارہ آگ کے پاس آ بیٹھا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے گوردوارہ پہنچ کر سنت سے کہا کہ اُسے اشنان کرائے۔ حوض کے کنارے کھڑے ہو کر کپڑے اتارنے لگا۔حوض کا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔رات بھر پڑنے والے پوہ کے پالے اور ٹھنڈی ہوا سے پانی کے اُوپر برف کی کاغذی تہہ جم چکی تھی۔لیکن سردار سودھا سنگھ نے بچپن ہی سے کبھی گرم پانی اشنان کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔ اُس کے خیال میں پانی گرم کر کے نہانا زنانیوں کا کام تھا۔ اس طرح کے لچھن کرنے سے سردار وں کی مردانگی میں فرق آتا تھا۔ سودھا سنگھ کی کمر اور پورے جسم پر ریچھ کی طرح بالوں کے اتنے گچھے اُگے تھے کہ ماس کی ذرا بھی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ ان کھردرے بالوں میں چھپے جسم کونہلانے کے لیے سنت نے لسی کی بھری ہوئی گاگر رات کو ہی منگوا لی تھی۔ یہ اُس کا معمول تھا۔ سودھا سنگھ کے جسم کے اوپرکھٹی لسی گرا کر،جو کم از کم چوبیس گھنٹے پُرانی ہوتی،وہ دونوں ہاتھوں سے جسم کو رگڑتا۔پھر ٹھنڈے پانی کے کٹورے بھر بھر کراُس کے اوپر ڈالتا تو جسم کے بال کالے شیشوں کی طرح چمک اُٹھتے اور ایسے لگتا پورے جسم پرچھوٹے چھوٹے باریک سانپ اُگ آئے ہوں۔

 

سر دار سودھا سنگھ نے اشنان کرنے کے بعد آرام سے کپڑے پہنے اور پوجا پاٹ میں مصروف ہو گیاحتیٰ کہ سورج چڑھنے کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اُس کے بعد وہ گوردوارہ سے نکل کر کھیتوں کی طرف چل دیا۔ کھیتوں کی لمبی سیر نے سردار سودھا سنگھ کی طبیعت میں جوانوں کی سی تازگی بھر دی۔ رات بھر اوس پڑتے رہنے سے ہر طرف پھیلی ہوئی فصلوں پر سبزے پر اور پگڈنڈیوں پرٹھنڈک ہی ٹھنڈک اور تریل جمع ہو چکی تھی۔ بہت سارے لوگ ادھر اُدھر اپنے ہل جوتے ہوئے بیلوں کو ہانک رہے تھے۔اِن صبح سویرے ہلوں میں جُتے ہوئے بیلوں کی بجتی ہوئی گھنٹیاں سردار سودھا سنگھ کو گوردوارے کے گھنٹے کی آواز سے کہیں زیادہ مسحور کن لگنے لگیں۔ دُور تک دیسی سرسوں کے پیلے پھول،برسن کا چارہ اور گندم کے کھیت جن پر ابھی خوشے یا سٹے نہیں نکلے تھے، یہ سب اور ان کے درمیان جا بجا بہتا ہوا، کھالوں اور رہٹ کاپانی شیشے پر لڑھکتے ہوئے شفاف پارے کی طرح تیر رہا تھا۔ سردار سودھا سنگھ کبھی کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں اور کبھی کھال کے کناروں پر چلتا اور چھوٹے موٹے کھڈوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ کبھی کبھی دور سے کوئی واہگرو یا ست سری اکال کا نعرہ بلند کرتا تو سردار صاحب ہاتھ ہلا کر یا اُسی طرح نعرے کے ساتھ اُس کا جواب دے کر بغیر ٹھہرے آگے چلتا گیا۔ اسی طرح سردار سودھا سنگھ، ٹاہلیوں، کیکروں اور شرینہہ کے درختوں کا طواف کرتا، کھیتوں کی اوس اور لمس لیتا سورج کے منہ دکھانے کے ساتھ ہی دوبارہ حویلی کی ڈیوڑھی کے بڑے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو سب نے اٹھ کر سردار صاحب کو پرنام کیا۔ سردار سودھا سنگھ تھوڑی دیر وہاں رُکا، دو ایک لوگوں کے ساتھ ہلکی پھلکی چہل کی پھر زنانے میں چلا گیا۔ اس سیرسے سردار صاحب کی بھوک کافی چمک گئی تھی کیونکہ وہ کم از کم دو میل چلا تھا۔

 

زنانے میں داخل ہوتے ہی سردار سودھا سنگھ نے بینت کور کو آواز دی جو گرنتھ پڑھنے میں مصروف تھی، او بنتے جلدی نال بھوجن دے دے۔ ہُن بُھکھ بڑی لگ گئی آ۔ جد ویکھو گرنتھ پڑھ دی رہندی آ، پتا نئیں گروجی نال کوئی مُک مکا کر لیا وا۔

 

بینت کور نے بیٹھے بیٹھے ہی اجیت کور سے کہا “پت اجیتے چھیتی نال اپنے پِتاجی نوں ناشتہ کروا، میں تھوڑا جہیا رہ گیا، پڑھ لاں۔ اونی دیر وچ کِتے تیرے پِتا جی دی جان نہ نکل جاوے۔

 

اجیت کور، جلدی سے اُٹھ کر ناشتہ تیار کرنے لگی۔اتنی دیر میں چھماں نے دُور تک پھیلے صحن کے ایک کونے میں جہاں دھوپ خوب نکل کر سفید ہو گئی تھی، چار پائی لگا دی،جس پر سردار سودھا سنگھ چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ کرپان اتار کر اُس نے چارپائی کی ادوائین کی طرف رکھ دی۔ اس عرصے میں بینت کور بھی گرنتھ کو غلاف میں لپیٹ کر اونچے اورمحرابی نما طاق میں رکھ کر پاس آ بیٹھی۔ چند منٹوں میں اجیت کور نے ناشتہ تیار کر کے چھماں کو پکڑا دیا اور خود لسی جگ میں ڈالنے لگی۔ چھماں نے ناشتہ سردار سودھا سنگھ کر سامنے رکھ کر بڑا سا کپڑا اُس کے زانوؤں پر پھیلا دیا تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں۔ اسی اثنا میں اجیت کور لسیً لے کر آگئی اورسامنے تپائی پر ناشتہ رکھ دیا گیا۔ دیسی سرسوں کا مکھن میں گُھلا ہوا ساگ اور مکھن میں تیرتے ہوئے پراٹھوں نے،جن سے گرم گرم بھاپ کے لمس اُٹھ رہے تھے،سودھا سنگھ کی مزید بھوک بڑھا دی۔

 

پہلے سردار سودھا سنگھ نے سیر بھر کا پیتل کا گلاس جسے نئی قلعی کرائی گئی تھی، بھر کر گٹا گٹ کر کے پیا۔ ہلکے نمک والی لسی نے سردارجی کے کئی مسام کھول دیے۔ اگر کسی نے سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر صبح سویرے نمک والی لسی نہیں پی تو وہ نہیں جان سکتا کہ سردار سودھا سنگھ اِس وقت کتنی شرابوں سے مخمور تھا۔ لسی پینے کے بعد سردار صاحب نے ساگ کے ساتھ پراٹھے کا لقمہ لیا اور اُسے کھانے لگا۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کے تین سالہ بیٹے موہن سنگھ کو گود میں لے کر سامنے خموش بیٹھی تھی جبکہ چھماں جو گھر کی ملازمہ تھی،گھر کے بقیہ کام نمٹانے لگی اور اجیت کور نے چولہے پر رکھے دودھ کے نیچے پاتھیوں کی ہلکی آنچ رکھ دی۔ پاتھیوں کی ہلکی آنچ سے ایک تو دودھ برتن سے اُبل کر باہر نہیں گرتا دوسرا یہ کہ تھوڑی تھوڑی آگ کے دُھکنے سے دودھ خوب کڑھ بھی جاتاہے اور اُس پر موٹی با لائی آ جاتی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کرتے ہوئے بینت کور کو دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان نظر آ رہی تھی۔

 

خیر ہے بنتو کچھ کملائی لگتی ہو؟سودھا سنگھ نے بھاری مونچھوں اور گھنی داڑھی کے درمیان میں کہیں چُھپے ہوئے منہ کے دھانے کی طرف لُقمہ لیجاتے ہوئے پوچھا۔

 

بینت کور نے دھیمے سے، ہاں، میں سر ہلا دیا۔

 

پر ہوا کیا؟ کچھ تو پتا چلے “سردار سودھا سنگھ کھانے سے بغیر ہاتھ روکے بولا”

 

سردار جی مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ آج کل بُرے بُرے سپنے دیکھتی ہوں، بینت کور نے سر اُٹھا کے آخر سردار جی کو اپنی پریشانی بتانے کی کوشش کی۔
“ پھر بینت کور مزیدآگے ہو کر بولی” کنتا، جودھاں، بلّو اور دوسری کُڑیاں سو سو طریقے کی باتیں کرتی ہیں۔

 

سودھا سنگھ لا پروائی کے ساتھ ایک اور لسی کا گلاس چڑھاتے ہوئے بولا،اسی لیے دن رات گرنتھ اور پاٹھ پوجا کے دوالے رہتی ہو۔وہ کیا باتیں کرتی ہیں کچھ تو پتا چلے بنتے؟

 

بینت کور سرگوشی کے سے انداز میں بولنے لگی، وہ کہتی تھیں غلام حیدر کی وائسرائے کے ساتھ رشتے داری ہو گئی ہے۔ اُس کی کُڑی کے ساتھ اِس منڈے کا یرانہ ہے۔ اندر خانے شادی بیاہ کے قصے بھی چل رہے ہیں۔ سودھے مجھے فکر ہے اگر یہ باتیں ٹھیک ہیں تو پھر بڑے سیاپے پڑ جان گے۔ واہگرو نہ کرے،اگر سردار جی وائسرائے نے غلام حیدر کو اپنی کُڑی دے دی تو پھر،،،؟ بس مجھے یہی پریشانی ہے کہ ہمارا سیدھا سیدھا فرنگیوں سے وَیر پڑ جائے گا۔ مَیں تو کہتی ہوں ان فرنگی عیسائی اور مُسلوں کا اندر سے دھرم بھی ایک ہی ہے۔ دونوں ہی اپنے مُردوں کو گڑھوں میں دباتے ہیں اور کوئی پیغمبروں شغمبروں کو مانتے ہیں۔ ان کو وَیر صرف سرداروں سے ہی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کر کے ایک بڑا سا ڈکار لیا اور بینت کور کی بات سن کر ہلکا سا قہقہہ مارا،پھر مونچھوں سے لسی کی سفیدی صاف کرتے ہوئے بولا۔ بنتو! تُونے اتنی باتیں کہاں سے سیکھ لی ہیں؟ حوصلہ رکھ، یہ فرنگی کسی کے متر نہیں، جتنے سرداروں کے دشمن ہیں اتنے ہی مُسلوں کے بھی ہیں۔ پھر دشمنی تو مردوں کا گہنا ہوتی ہے، بنتو۔وَیر کے بغیر مرد ایسے ہی ہے جیسے اکھاڑوں میں ناچنے والا کُھسرا،جس کے سارے یار ہی یار ہوتے ہیں۔ غلام حیدر کل کا مُنڈا میراکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔چاہے ملکہ کے ساتھ بیاہیا جائے۔ اس مُسلے کی دُم تو اب چکی کے پَڑ نیچے آئی ہے۔ کل تک اُس کو سُر لگ جائے گی۔ ایہہ نہیں جانتا سرداروں کی چھوَیوں میں لوہا دیگی ہوتا ہے۔ پتھر کے سینے میں لگے تو خون نکال دے۔یہ تو پھر ایک پڑھاکو چھوہرا ہے۔

 

پھر بھی سودھا سنگھ “بینت کور دوبارہ بولی” سُنا ہے اُس کے پاس ایک پکی ریفل بھی ہے۔ سردار جی تُوں احتیاط ہی کر۔ باہر نکلے تو چار بندے بھی ساتھ لے لیا کر۔ اکیلا ہی نہ سیراں کو نکل جایا کر،تجھ پر گرو جی کی رکھ ہو، مجھے تورات ہَول پڑتے رہے۔ جب آنکھ بند کرتی تھی،میرے منہ میں سواہ، تجھے ہتھ کڑیوں میں دیکھتی تھی۔ات نیند نہیں آئی۔ میری مان سودھا سنگھ، غلام حیدر سے صلح کر لے، یہ فرنگی بڑے بُرے ہیں۔ ظالموں میں ذرا ترس نئیں۔ بڑے سے بڑے سردار سے نہیں ڈرتے۔ سنا نہیں؟ رنجیت سنگھ کی نسلوں تک کو ہتھ کڑیاں اور بیڑیاں لگاکر لے گئے۔سودھے مجھے تو بڑا ڈرا لگتا ہے۔

 

دیکھ بنتو “سردار سودھا سنگھ غصے سے بولا” تم مردوں کے بکھیڑے میں نہ پڑا کرو۔ساری رات سوتی ہو۔سُفنے کدھر سے دیکھتی ہو۔ خراٹے مار مار کے میری نیند حرام کر دیتی ہو۔( کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولا) تمہاری مت رونے دھونے سے آگے نہیں بڑھتی۔ اب یا تو غلام حیدر رہے گا یا سردار سودھا سنگھ۔ تُو دیکھتی جا،مَیں نے ڈپٹی کمشنر سے سفارش کابندوبست کر لیا ہے۔ بس تُوں اپنے کام کر اور کسی زنانی کی باتوں پر غور نہ کر۔ یہ ہمارے کرنے کے کام ہیں، ہم بہتر کر لیں گے۔اتنا کہ کر سودھا سنگھ نے کرپان کمر سے باندھی اور پگڑی سر پر رکھ کر بیرونی حویلی میں آ گیا،جہاں بہت سارے سردار جمع ہو ئے بیٹھے تھے۔ سردار سودھا سنگھ کو آتے دیکھ کر سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔سودھا سنگھ نے چار پائی پر بیٹھتے ہی جگبیر سنگھ کو بلایا۔ جب وہ پاس آ کر سامنے والی چار پائی پر بیٹھ گیا تو سردار نے کہا، جگبیراس سے پہلے کہ تھانیدار یہاں سنتری لے کر پہنچے، ہم اپنی اگلی گوٹی چل دیں۔کیا پورا بندوبست ہو گیا ہے؟

 

جگبیر نے کھنگھار کا گلہ صاف کیا اور بولا، سردار صاحب بس آپ کی اشیرواد چاہیے۔باقی تو ہر شے کی تیاری ہے۔ پیت سنگھ کو میں نے ساری بات سمجھا دی ہے۔ چھ گھوڑیاں تیار کھڑی ہیں شاہ پور کا مُلک لوٹنے کے لیے۔ آج شام گھنٹہ بجنے کے ساتھ ہی پیت سنگھ، پھجا سیؤ، ہرا سنگھ، دمّا سنگھ، چھندا سیؤ اور میں نکل جائیں گے۔ عبدل گجر کے چالیس بندے ہوں گے۔ واہگرو کی منشا ہوئی تو صبح چانن ہو جان گے۔

 

اس کے بعد سودھا سنگھ نے جگبیر کے کان کے پاس ہو کر ہَولے سے کہا، جگبیرے ایک آدھ بندہ ضرور پھڑک جانا چاہیے۔ کم سے کم عبدل گجر کی کَنڈ پر تین سو دو ضرور رکھ آنا۔ اس طرح معاملہ زیادہ گھمبیر ہو جائے گا اور غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکے گا۔

 

سردار جی آپ چنتا رکھیں،بندہ ایک نہیں دو دو لمکیں گے،جگبیر نے شرارت آمیز ہنسی بکھیرتے ہوئے جواب دیا۔

 

آخری بات کسی کو بھی سنائی نہ دی۔ البتہ ہر ایک یہ ضرور جان گیاکہ سردار سودھا سنگھ نے پتے کی بات جگبیر سے آخر ہی میں کی ہے، جس پر جگبیر نے ہنستے ہوئے آنکھ بھی ماری تھی۔ اس کے بعد کافی دیر تک دوسری باتیں ہوتی رہیں، جن کا غلام حیدر کے معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا۔یہاں تک کہ سورج چمک کر سامنے آگیا اور سب لوگ اپنے کام کاج کو نکل گئے۔ لوگوں کے جانے کے بعدحویلی دوبارہ چار چھ نوکروں کے علاوہ قریباً خالی ہو گئی اورسردار سودھا سنگھ بھی زنانے میں چلاگیا۔

 

(20)

 

عشا کی نماز پڑھنے کے بعد دس بارہ نمازی،جن میں اکثر بڈھے تھے، سب اپنے گھروں کو چلے گئے مگر مولوی کرامت وہیں بیٹھا رہا۔ اُس نے نہ تو کسی سے بات کی اور نہ ہی دعا مانگنے اور نماز پڑھانے میں طوالت اختیار کی تھی۔ وہ مسجد کی محراب میں بیٹھا اس طرح سوچ میں ڈوبا تھا جیسے صبح سب کچھ لٹنے والا ہو۔ اُس نے اسی مسجد کے احاطے میں ہوش سنبھالے تھے اور آج وہ پچپن کا ہو چکا تھا۔اُس نے وہیں اپنا پہلا سبق پڑھا تھا۔ اسی فرشِ خاک پر پیشانی رکھی تھی،تو یہی خاک اُس کے لیے خاک ِشفابن چکی تھی۔

 

مسجد نہایت چھوٹی، بوسیدہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی مگر مولوی کرامت کے لیے کعبۃاللہ سے کم نہیں تھی۔ اُسے مسجد کی ایک ایک شے سے محبت تھی۔یہی وجہ تھی کہ رات اِسی مسجد میں رہ گیا اور باہر جانے کو جی نہ چاہا۔ اُس کے لیے پُرانے طاقوں میں پڑے مٹی کے وہ چراغ جن میں اپنے ہاتھوں سے برس ہابرس تک تیل ڈال کر جلاتا رہا تھا۔ اُن کے اندر پڑے ہوئے روئی کے پھمبے، جوبیسیوں سال تیل اور آگ کے دھویں میں گُھل مل کر نہایت میلے کچیلے ہو گئے تھے۔ مسجد کی چھت کے برسوں پُرانے اور دھویں سے سیاہ ہوئے شہتیر اور آنکڑے، جن پر مکڑی کے سیاہ جالے لگے ہوئے تھے، دیواروں میں ٹیڑھے میڑھے طاق اور اُن میں بوسیدہ غلافوں میں لپٹے قرآن اور قاعدے سپارے، جن کی اپنی حالت بھی غلافوں سے کم نہیں تھی،۔کچے فرش پر بچھی کھجور کے پتوں کی چٹائیاں جو گھِس گھِس کر اتنی پرانی ہو چکی تھیں کہ اُن میں ملائمت اور چمک پیدا ہو گئی تھی۔اُن چٹائیوں کے دھاگے تو کب کے ریزہ ریزہ ہو چکے تھے مگر پتےٌ اپنی ترتیب میں فقط پیروں کے دباؤ کی وجہ سے ہی ایک دوسر ے کے ساتھ جُڑے رہ گئے تھے۔ ان کے علاوہ دیواروں میں جگہ جگہ تنگ روزن۔ اُن روزنوں اور روشندانوں میں بے شمار چڑیوں،فاختاؤں اورلقے کبوتروں کے گھونسلے اس طرح بنے تھے کہ اُن کی وجہ سے وہ بالکل بند ہو چکے تھے۔انہی روزنوں میں پھنسے پرندوں کے پر، تنکے،خس اور بِیٹوں نے سورج کی کرنوں اور ہواکا راستہ ایک عرصے سے روک رکھا تھا۔مسجد کی محراب جو ایک قسم سے مولوی کرامت کے جسم کا حصہ تھی۔اس چھوٹی سی چار فٹ چوڑی، پانچ فٹ لمبی اور آٹھ فٹ اونچی محر اب میں کئی چیزیں مثلاً لکڑی کا پرانا چار سیڑھیوں والا منبر،جس پر بیٹھ کر اُس کا دادا، باپ اور پھر وہ خود جمعہ کا خطبہ دیتے رہے یا کبھی کبھار وعظ کہتے رہے۔ جن میں چند بندھی ٹکی نصیحتوں کا اصرار تھا،جو گاؤں والوں کو کبھی کی ازبر ہو چکی تھیں، جیسے اُن کے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیاں۔اُس منبر کا رنگ اب کوئی نہیں بتا سکتاتھاکہ جب وہ نیاتھا تو کیا ہو گا۔ محراب کے اندرکاندھوں کے برابر تین چھوٹی چھوٹی محرابیوں والے طاق اور اُن میں رکھے چراغ۔ جن کے جلانے کی ڈیوٹی بچپن سے اُس کی اپنی ہی رہی۔ اُس کے علاوہ مسجد کے صحن کے مشرقی کونے میں وہ چبوترہ جس پر کھڑے ہو کر پانچ وقت اذان دیتا تھا۔الماریوں میں پڑی لکڑی کی رحلیں، میلاد النبیؐ کے دن مسجد کی چھت اور صحن میں باندھی جانے والی رنگ برنگی کپڑے کی جھنڈیاں، رمضان کے مہینے میں روزہ افطاری کااعلان کرنے والا نقارہ، حتیٰ کہ صحن کے ایک کونے میں پڑی ہوئی مُردوں کو لاد کر لے جانے والی چارپائی، وہ ایک ایک چیز کو غور سے دیکھتا گیا اور اُسے بوسے دیتا گیا۔ غرض صحن سمیت اس تیس فٹ لمبی اور بیس فٹ چوڑی مسجد کی ایک ایک شے مولوی کرامت کے وجود کاحصہ بن چکی تھی، جسے اگر اُس کے بس میں ہوتا تو اٹھا کر جلال آباد لے جاتا۔ کئی دفعہ ذہن میں آیا کہ نہ جائے مگر پھر اُسے فضل دین کا خیال آ جاتاجو محض روٹیاں اکٹھی کرنے اور جھڑکیاں کھانے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ اسی عالم میں اُسے صبح نے آ لیا۔

 

مسجد میں صبح کی نماز چھوڑ کر باقی چار وقتوں میں نمازیوں کی تعداد پندرہ بیس سے کبھی نہیں بڑھی تھی۔ صبح کے وقت چالیس پچاس فرد ہر صورت جمع ہو جاتے۔ یہ اصول اسی گاؤں کی مسجد کا نہیں تھا۔ پنجاب کے جتنے دیہات یا شہر ہیں، وہاں کے نمازیوں کی یہی حالت ہے۔ یہ لوگ صبح کی نماز کو عموماً ترجیح دیتے ہیں اور باقی کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔با لکل اُس نوکر کی طرح جس کا مالک اُسے کوئی کام بتا کر فوت ہو جائے اور وہ نوکر اُس کام کا ایک فی صد کر کے باقی اپنے مالک کے زندہ ہونے تک ملتوی کر دے۔صبح کی نماز پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اِن دیہاتی لوگوں کو ہمیشہ سے ہی رات کو جلد سو نے کی اور صبح جلد اُٹھنے کی عادت ہوتی ہے۔ چونکہ صبح کے وقت اٹھ کر کرنے کو کوئی اور کام نہیں ہوتااور نماز پڑھنے کے لیے ہاتھ منہ دھونا ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے صبح کی نماز گویا منہ ہاتھ دھونے کا بہانہ سمجھ لیں۔ اس کے علاوہ صبح کے وقت لوگ تازہ دم بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال آج فجر کی نماز میں معمول کے مطابق گاؤں کے قریباً سبھی سر کردہ لوگ جمع تھے جن کی تعداد ساٹھ تک تھی۔

 

نماز ختم ہوئی تو مولوی کرامت نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ گڑگڑا کر دُعا کی اور اس کو اتنا لمبا کھینچا کہ نمازی فکر مند ہو گئے۔ ہر ایک شخص کا نام لے کر، اُن کی ضروریات کی تمام چیزیں صحت، دولت اورا یمان تک مولوی صاحب نے اللہ سے مانگیں۔ اس کے بعد نمازیوں کی طرف منہ کر کے رُندھی ہوئی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔

 

گاؤں والو، خدا تم کو سلامت رکھے اور اس گاؤں پر کبھی کوئی مصیبت نہ آئے۔مجھے یہ کہتے ہوئے بہت دُکھ ہو رہاہے کہ میں آج یہاں سے ہجرت کر جاؤں گا۔ تم نے میری اور میرے باپ دادا کی بہت خدمت کی۔اس مٹی میں جنتا ہمارا رزق تھا،وہ ہم نے کھا لیا۔ اب آگے کا دانہ پانی اللہ نے کہیں اور لکھ دیا ہے۔اب دعاؤں کے ساتھ رخصت چاہتا ہوں۔

 

اتنا کہتے ہوئے مولوی کی آواز ایک دم بھرّا گئی۔ اُس سے آگے نہ بولا گیا اور ہچکی بندھ گئی َمولوی کو روتے دیکھ کر سب لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
سچ بات تو یہ تھی کہ آج تک مولوی کرامت کی کسی بھی شخص سے چپقلش نہ ہوئی تھی۔ سب کے گھروں میں آنا جانا کُھلا تھاَ ہر ایک کی ماں بہن کو مولوی کرامت نے اپنی ماں بہن سمجھا۔ کبھی نہ کسی شخص سے منہ بھر کے مانگااور نہ کم زیادہ ملنے پر بُڑبُڑ کی۔جو کسی نے دیا،رکھ لیا، نہ دیا تو خموش ہو گیا۔ گاؤں میں مولوی کی ایک انچ زمین نہ تھی َ۔گھر کا جو احاطہ رہنے کے لیے تھا وہ بھی چوہدری گلزار محمد نے دے رکھا تھا مگر مولوی کرامت گاؤں کی تمام زمین کو اپنی ملکیت ہی سمجھتا تھا۔ جس کھیت سے جی چاہا، ساگ اتار لائے۔ جہاں سے چاہا سبزی، مکئی کے بھٹے، گنا، لہسن، پیاز غرض ہر شے کسی کے بھی کھیت سے مولوی کرامت بغیر پوچھے کاٹ لاتے تھے۔ کسی نے آج تک منہ نہ پھٹکارا۔ کافی عرصہ پہلے ایک دو دفعہ مولوی کرامت کو شہر کی مسجدوں سے پیش امامت کی پیش کش بھی ہوئی۔مولوی صاحب نے انہی سہولیات کے باعث وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا مگر اب کے معاملہ الٹ تھا۔ایک تو انگریزی سرکار کی نوکری، اُس پر رحمت بی بی کی دس ایکڑ زمین کی سنبھال۔ مولوی کرامت نے سوچا اُسے چاہے تنگی ہو جائے، مگر فضل دین کا مستقبل ضرور سنور جائے گا۔ اب چونکہ مولوی کرامت کی پیدائش اسی گاؤں کی مٹی کے خون سے ہوئی تھی اس لیے آج گاؤں چھوڑنے پر دل بھر آنا فطری عمل تھا۔

 

جب دن کافی چڑھ آیا اور کُہر نے آنکھوں کا راستہ چھوڑ دیا تو چوہدری گلزار، الہٰ بخش، دین محمد اور دوسرے کئی لوگ مولوی کرامت کو رخصت کرنے کے لیے اُس کے گھر کے سامنے جمع ہوگئے۔ آج شام چار بجے کی ریل سے مولوی کرامت نے جلال آباد کا ٹکٹ لینا تھا۔ اس لیے چار سے پہلے اُسے سامان لے کر ریلوے اسٹیشن پر پہنچنا تھا۔ سامان کیاتھا، دو لکڑی اور ایک لوہے کاصندوق،جن میں پرانے کپڑے، پانچ دس کتابیں اور گھر کے چھوٹے موٹے برتن۔ اس کے علاوہ تین عدد بستر جن میں پرانی رضائیاں اور چٹائیاں تھیں اور باقی اللہ اللہ۔

 

یہ سارا سامان ایک گَڈ پر باندھ دیا گیا جو حسین محمد کا تھا۔ اُس نے اپنے نوکر سے کہا، وہ مولوی صاحب کا سامان ریلوے اسٹیشن پر چھوڑ آئے۔ اُس کے علاوہ دو تین لڑکے مزیدجو کبھی مولوی کرامت کے شاگرد رہ چکے تھے، وہ بھی ریلوے سٹیشن تک جانے کے لیے ساتھ ہو گئے۔ ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق اُس کی کچھ نہ کچھ خدمت کی۔ کوئی مولوی کرامت، اُس کی بیوی اور فضل دین کے لیے کپڑے لے آیا۔ کسی نے پیسے دیے۔کسی نے کچھ اور تحفہ۔یوں مولوی کرامت کے پاس ڈیڑھ سو روپیہ اور کپڑوں کے کئی جوڑے جمع ہو گئے۔

 

مولوی کرامت تمام لوگوں کے ساتھ گلے مل مل کر رویا۔ شریفاں بی بی کے گرد عورتوں کا مجمع الگ تھا،جو اُسے بڑی گلوگیری سے دعائیں دے رہی تھیں۔ فضل دین نے آج نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ اس سب کچھ سے بے نیاز نئی دنیا دیکھنے کے لیے بے تاب اور خوش خوش سفر کو آمادہ، جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ وہ ایسی جگہ جا رہاہے جہاں دن کا رنگ ہرا ہرا ہوتا ہے اور راتوں کو جگمگ کرتے تارے کوٹھوں کی چھتوں پر آجاتے ہیں۔ اُسے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ اُس جگہ پر رنگ برنگ کی میٹھی میٹھی برفی، ٹانگر، جلیبی اور کرارے پکوڑے بھی بہت سستے مل جائیں گے۔ اس لیے اب وہ جی بھر کر جلیبی اور پکوڑے کھایا کرے گا،جو ڈیڑھ سال پہلے پیر نتھو شاہ کے میلے میں اُس کے والد مولوی کرامت نے اُسے لے کر دیے تھے۔وہ جلیبی کیسی مزیدار تھی۔ مگر روٹیاں مانگنے کے لیے کہاں جائے گا ؟اس اہم معاملے میں ابھی تک اُس کا دماغ کچھ کام نہیں کر سکا تھا۔ پتا نہیں وہاں کی روٹیاں گھی والی ہوں گی یا سوکھی،خیر جیسی بھی ہوں گی لیکن اب وہ کسی کا کام نہیں کرے گا۔ جلد ہی روٹیاں اکٹھی کر کے گھر بھاگ آیا کرے گا۔ آج اُس نے جوتے نئے پہننے تھے،اس لیے پاؤں خود بخود ادھر اُدھر اٹھ رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی ہوا میں اڑ جائے گا۔ان نئے جوتوں کی وجہ سے اُسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ سب سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے۔

 

مولوی کرامت، رحمت بی بی اور فضل دین گڈ پر بیٹھ گئے۔ جس پر اُن کاسامان لد چکاتھا۔ اپنی بکری اور چارپائیاں مولوی نے وہیں پر بیچ دیں کہ اُنھیں کون اُٹھائے اُٹھائے پھرتا۔آخر رمدو نے بیلوں کو ہانک لگادی اور دو بجے سہہ پہریہ قافلہ چک راڑے سے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کی طرف رخصت ہو گیا، جو کم از کم سو میل قصور سے دُور تھااور اب
“جا نی دھیے راوی۔۔۔۔۔نہ کوئی آوی نہ کوئی جاوی”
والا معاملہ تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(6)

 

سر چھوٹے چوہدری صاحب حاضر ہونا چاہتے ہیں۔’’ نجیب شاہ نے گول شیشوں کی عینک پاجامے سے رگڑتے ہوئے ولیم کو مطلع کیا‘‘

 

ولیم کی آنکھیں نجیب شاہ کی عینک کے فریم پر جم گئیں جس کی ناک اور کانوں والی جگہ پر کپڑے کی دھجیاں لپیٹ رکھی تھیں۔اُن دھجیوں کو مَیل کی ایک دبیز تہہ نے مضبوطی سے جکڑ لیا تھا۔ ولیم کو اس طرح کی عینکوں سے سخت چڑ تھی مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کم و بیش پندرہ بیس سال کے پرانے کلرکوں کے حُلیے اور عینکیں ایک ہی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ آدھے سر سے گنجے، توند نکلی ہوئی، عینک کے شیشے موٹے اور دھندلائے ہوئے، کان لمبے، زیادہ تر نیچے کی طرف لٹکے ہوئے۔چہرے کا ماس مسلسل اُسترے کے استعمال کی وجہ سے کراہت کی حد تک بے رونق اوربے جان جھُریوں میں تبدیل ہوااور نتھنوں سے باہر نکلے ہوئے غلیظ بال۔ اکثر فائلوں کے کیڑے مگر ان کا مطالعہ ہمیشہ عینک کے شیشوں سے اوپر کی طرف سے کرتے ہیں۔کند ذہن اور پرلے درجے کے کمینے۔کام روکے رکھنے کے ماہر اورصاحب بہادروں سے زیادہ چھوٹے اور بڑے چوہدریوں کے وفادار۔ لیکن وہ اُن کی یہ ہیئت اور عادات بدلنے پر قادر بھی نہیں تھا۔ اُسے اِن کو اِسی حالت میں برداشت کرنا تھا۔ مگراِس طرح بھی نہیں کہ اُنھیں اُن کی عادات کا، جو پختہ ہو چکی تھیں احساس بھی نہ دِلایا جائے۔ ولیم نے فیصلہ کر لیا کہ وہ حتی الامکان اِنھیں اِس بدہیتی کا احساس دلاتا رہے گا۔

 

مسٹر نجیب میں نہیں جانتا، جلال آباد میں کون چھوٹے اور کون بڑے چوہدری ہیں۔میرے باپ نے میرا نام اِس لیے رکھا تھا کہ پہچاننے میں آسانی رہے، ولیم نے صاف لہجے میں کہا۔

 

سر وہ شیر حیدر کا بیٹا غلام حیدر’’ نجیب شاہ اپنے ہاتھوں کی لرزش کو چھپانے کے لیے اُنھیں پاجامے پررگڑنے لگا‘سرکار سے ملاقات کے لیے آیا ہے۔ میں نے آج صبح آٹھ بجے ہی آپ سے اُس کے لیے ملاقات کا وقت لیا تھاسر۔

 

ٹھیک ہے انھیں بلا لو’’ولیم نے نہایت بے پروائی سے جواب دیا‘‘ لیکن جیسے ہی نجیب شاہ واپس ہوا، ولیم نے کہا، اپنی عینک اور ہاتھوں کا پسینہ اندر آنے سے پہلے صاف کر لیا کرو چاہے اپنے پاجامے سے ہی۔

 

نجیب شاہ ولیم کے اس رویے سے بہت دل برداشتہ ہوا، مگر کیا کر سکتا تھا،فقط بے دلانہ سی مسکراہٹ دے کر باہر نکل گیا۔

 

ولیم نجیب شاہ کا مذاق اُڑانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اصل میں ولیم کو غصہ تو جلال آباد پوسٹنگ پر تھا، جس پر وہ ذرا خوش نہیں تھا۔ مگر اپنی بے بسی کا بدلہ اُس عملے سے پوری طرح چکانا چاہتا تھاجو سال ہا سال سے انہی بوسیدہ فائلوں میں گِھس گِھس کر بوڑھے ہو رہے تھے۔ اس کے علاوہ آفس کی ہر چیز سے ایسی وحشت ٹپکتی تھی،جسے دیکھ کر ولیم کو گِھن آنے لگی۔ میزیں، کرسیاں، قلم دان، پردے حتیٰ کہ دروازوں کی کیلیں تک زنگ آلودہو چکی تھیں۔جنھیں آتے ہی اُس نے بدل دینے کا مکمل ارادہ کر لیا۔ مگر وہ اِن کلرکوں کا کیا کرتا،جن کے چہروں پر آفس کی کھڑکیوں سے زیادہ جالے پڑے تھے۔ وہ یہاں کچھ نیا نیا دیکھنا چاہتا تھا۔

 

پچھلے ڈیڑھ مہینے میں اُسے کسی شادابی کا سامنا نہیں ہوا تھا۔ مسلسل چھوٹے بڑے چوہدریوں، جمعداروں اور ذیلداروں کی ملاقاتیں اور ان کی بیہودہ گفتگوئیں محض بیزاری میں اضافہ کرتی چلی جاتی تھیں، جو بغیر کسی کام کے اپنی مونچھوں کی چوڑائی اور پگڑیوں کا کلف دکھانے چلے آتے لیکن اُسے یہ سب خوشدلی سے برداشت کرنا تھا۔ کیونکہ اُس کی اِسی کارکردگی میں افسران بالا کے لیے اطمینان تھا۔مگر اِس سب کے باوجود ولیم نے اپنے ذہن میں ایک فیصلہ کر لیا کہ وہ کچھ اپنے اصول اور ضابطے الگ سے بنائے گا چاہے وہ ضابطے انگریزی حکومت کو خوش نہ بھی آئیں۔ اُسے لمبی اور گھنی داڑھیوں سے آنے والی چھاچھ کی بُو بہت نا گوار محسوس ہوتی اور اُس سے بھی بڑھ کر اُن کی بغلوں کے نیچے سے کپڑے کی تہہ پر جما ہوا گاڑھا زرد پسینہ اکثر اُبکائی کا باعث بنتا۔

 

اُس کے ساتھ ساتھ ولیم نے تحصیل کے کام پر تیزی سے توجہ دینا شروع کردی اور آتے ہی تیسرے دن تمام نہری پٹواریوں اور زمینداروں کی میٹنگ بلوا کر اُنھیں باغات اور شجرکاری کے احکامات جاری کر دیے تھے۔ لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اول تو یہ لوگ گندم کی سالانہ کاشت کے سوا کچھ کرنا نہیں چاہیں گے اور اگر کسی طرح اس پر سختی سے عمل شروع بھی ہوا تو ہزارہا عذر کے پنڈورے کھل جائیں گے اوراس عرصے میں اس کی نئی پوسٹنگ کے آرڈر آ جائیں گے۔ پھر بھی اُس نے اپنی سی کوشش کرنے کا پورا ارادہ کر لیا تھا کہ جیسے بھی ہو، وہ جلال آباد میں اڑتے ہوئے بگولوں اور پھیلتی ہوئی ویرانی کو چھتنار درختوں کی چادروں سے کچھ نہ کچھ ڈھکنے کی کوشش کرے گا۔ اِسی منصوبے کومدِ نظر رکھتے ہوئے جو بھی چوہدری یا سردار اُسے ملنے کے لیے آرہا تھا، ولیم اُسے دبے لفظوں میں یہ بات جتائے دے رہا تھا کہ اس کی خوشنودی چوہدری صاحب کو باغات لگانے کی صورت میں حاصل ہو جائے گی ورنہ صاحب بہادری اور سرداری میں فاصلہ برقرار رہے گا۔

 

غلام حیدر کمرے میں داخل ہوا تو ایک دفعہ ٹھٹھک سا گیا۔ یہ تو کوئی بالکل لڑکا سا اسسٹنٹ کمشنر ہو کر آگیاتھا۔ جو ایک سنہری حسن کا رچاؤ اور خوداری کی ملی جلی کیفیت ولیم میں نظر آ رہی تھی، غلام حیدر کو اپنے آپ میں کم محسوس ہوئی۔ اِدھر کم و بیش ولیم میں بھی تحیر کی ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔اُسے اُمید نہیں تھی کہ یہ چھوٹا چوہدری اِس قدر نفیس ہو گا۔یہ توشکل سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔ سفید بوسکی کی قمیض اور لٹھے کی تنگ گھیرے والی شلوار، پاؤں میں کُھسے کی بجائے کلکتہ شُو کمپنی کے لیدر والے بند جوتے، نہ سر پہ پگڑی نہ کاندھے پہ صافہ۔ ولیم نے سوچا،یہ تو بالکل اُلٹ ہوا۔ اُسے اِس طرح کے چھوٹے چوہدری سے پہلا واسطہ پڑا تھا،جس کے لباس کی وضع قطع سے لے کرکمرے میں داخل ہونے کے عمل تک میں نفاست کا طور موجود تھا۔ولیم کو جب اپنے قائم کردہ تصور کے ٹوٹنے کا صدمہ ہوا تو اُس نے احتجاجاً غلام حیدر کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا فیصلہ کر لیا جو وہ پہلے سوچے بیٹھا تھا، اس کا پہلا اظہار اُس نے یہ کیا کہ کرسی سے اُٹھے بغیر ہی بے دلی سے مصافحے کو ہاتھ بڑھا دیا، جسے دیکھ کر غلام حیدر کو تعجب تو ہوا مگر فی الحال وہ اُسے نظرانداز کر گیا۔

 

مسٹر حیدر تشریف رکھیں،میز کی دوسری طرف سے ولیم نے سامنے کی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔یہ میزاتنی لمبی اور چوڑی تھی جس کے درمیان میں پڑا گلوب اور میز پر بچھا برطانوی سلطنت کا وسیع و عریض نقشہ اُس کی لمبائی چوڑائی میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ اُس کی وجہ سے اسسٹنٹ کمشنر اور میز کی دوسری طرف بیٹھے مقامی چوہدری کا فاصلہ مزید بڑھ جاتا تھا۔

 

شکریہ جناب! غلام حیدر نے کرسی پرتسلی سے بیٹھ کر اپنے کُرتے کو زانووں پر درست کیا۔ سر کیسا لگا آپ کو جلال آباد؟ سنا ہے آپ کو یہاں آئے ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے۔

 

مسٹر حیدر مجھے یہاں آئے ایک دن بھی ہوا ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، ولیم اُسی بے نیازی سے مخاطب ہوا، کوئی اپنے گھر میں پہلی دفعہ جا کر بھی گھر سے اجنبی نہیں ہوتا۔وہ اُس کا مالک ہوتا ہے۔نیا نہیں ہوتا۔
چھوڑیے سر آپ تو غصہ کر بیٹھے،غلام حیدر نے اپنے پہلے سوال کی سُبکی پر شرم سار ہوتے ہوئے کہا، میں تو آپ سے یہ بات رسمی طور پر پوچھ بیٹھا۔

 

حیدر،اگر مقابل والا آدمی ہم پایہ ہو تو ایسے جملے رسماً پوچھنے میں کوئی حرج نہیں۔خیر مجھے اپنے فرائض کے سلسلے میں رہنا ہے۔ اس میں اچھے بُرے کو دخل نہیں،ولیم نے اپنے وقار پر سمجھوتا کیے بغیر جواب دیا۔
نہیں۔

 

ولیم کے”ہم پایہ” والے جملے سے غلام حیدر کا موڈ بالکل خراب ہو گیا تھا، ٓٓ۔ غلام حیدر کو ولیم کے رویے کی آنچ نے فاصلے کی حد سمجھا دی اس لیے وہ بات کو اپنے مقصد کی طرف گریز دیتے ہوئے بولا، صاحب، تین دن پہلے میرا باپ فوت ہوا ہے کل چاربجے اس کا

 

آپ کے باپ کے مرنے کاا فسوس ہوا لیکن حکومت سے اس معاملے میں آپ کو کیا شکایت ہو سکتی ہے؟ یقیناً اس میں میرا دخل نہیں اور میں اُن کو جانتا بھی نہیں تھا، ولیم نے لاپرواہی میں ایک اور گھاؤ لگا دیا

 

کمشنر صاحب یہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو آپ کو نہیں جانتے مگر آج اگر آپ مر جائیں تو ان میں سے اکثر کے لیے آپ کو جاننا ضروری ہو جائے گا، غلام حیدر نے اب حالات کی بالکل پروا کیے بغیر ایک ایسا طنز کا نشتر رکھاجس کی چُبھن ولیم نے دل تک محسوس کی لیکن غلام حیدر نے اپنی بات جاری رکھی، رات تین بجے میرا ملازم چراغ دین قتل کر کے بیس ایکڑ مونگی کی فصل لوٹ لی گئی۔ غالباً جودھا پور کا یہ سنگیں واقعہ جلال آباد میں آپ کی پو سٹگ کا مجھے پہلا تحفہ ہے۔ اگرچہ اس میں بھی آپ کا دخل نہیں مگر اس کے متعلق جاننا آپ کے لیے بہت ضروری ہے۔ جودھا پور میرے باپ شیر حیدر کا گاؤں ہے جو تین دن پہلے فوت ہو گیا۔جسے آپ نہیں جانتے اور اُس کے فوت ہونے کے تیسرے ہی دن یہ واقعہ پیش آ گیا۔

 

ولیم کو آج صبح یہ اطلاع مل چکی تھی لیکن نہ جانے کس نیم خوابی میں اُس نے یہ اطلاع سنی تھی کہ وہ بھول گیاتھا۔حالانکہ اُسے اُس کے متعلق جلد ہی کچھ ہدایات دینا تھی، جو وہ ابھی تک نہ دے سکا تھا۔ اب اُسے یاد آیا کہ نجیب شاہ نے غلام حیدر کی ملاقات کا جب ذکر کیا تھا تو اِس واقعے کو منسلک کر کے بات کی تھی۔ ولیم نے غلام حیدر کے ساتھ آتے ہی سرد مہری کا رویہ اختیار کیا تو یہ ایک سخت غلطی تھی مگر کیاکیّا جائے، تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اب کسی بھی قسم کی معذرت یا وضاحت حکومت کے وقار کے خلاف تھی۔ اس لیے ولیم اسی بے نیازی کو اختیار کرنے پر مجبور تھا۔ حالانکہ دل میں اب وہ پوری طرح معاملے کی نزاکت کو سمجھ چکا تھا۔

 

مجھے آج صبح اطلاع مل چکی ہے۔ آپ اس معاملے میں بے فکر ہو جائیں۔ مَیں ابھی پولیس کو ضروری احکام جاری کردوں گا۔گورنمنٹ پورا انصاف برتے گی۔ حیدر صاحب، آپ جتنی جلدی ہو سکے، ایف آئی آر درج کروائیں۔ مَیں اس کیس کو اپنی نگرانی میں دیکھوں گا،ولیم نے معاملے کو جلدی قابو میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

 

سَر اب میرا اِس کمرے میں شاید مزید کام نہیں رہ گیا’’ غلام حیدر نے اُٹھ کر اپنی بوسکی کی قمیض کو درست کیا اور مصافحہ کو ہاتھ بڑھا دیا۔

 

ولیم کے لیے غلام حیدر کا یہ رویہ قطعاً غیر یقینی تھا۔ اُسے یہ احساس نہیں تھا کہ دیسی لوگوں میں بھی اچانک کچھ ایسے نکل آئیں گے، جن کے لہجے میں فولاد کی سختی اور سردی موجود ہو گی۔ پچھلے ڈیڑھ مہینے تک اُسے ایسے کسی شخص کا سامنا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی بچپن میں ایسا واقعہ رونما ہوا جس میں اُس نے دیسی لوگوں کی خوشامدانہ عادات کے علاوہ کوئی عادت دیکھی ہو۔ غلام حیدر سے اس سرسری ملاقات کے بعد اُسے فوراً ہیلے کی وہ نصیحت یاد آ گئی کہ اِن کے سینگوں سے ہمیشہ دُور رہنا۔ اُسے یہ سوچ کر جُھرجھری سی آگئی۔ اِسی کے ساتھ ولیم نے عارضی طور پر غلام حیدر کے بارے میں یہ تصور بھی کر لیا کہ بہرحال یہ ابھی لڑکا ہے۔جیسے جیسے سر پر ذمہ داریاں پڑیں گی اور عمرزیادہ ہوتی جائے گی،ویسے ویسے یہ بھی دوسرے چوہدریوں کی طرح ٹھنڈا ہوتا جائے گا۔ انہی خیالات کی رَو میں تھاکہ اُسے احساس ہوا، وہ کمرے میں اکیلا ہے۔وہ کرسی سے اُٹھااور کمرے میں چہل قدمی کرنے لگا۔ گفتگو انتہائی سرد مہری میں ہوئی تھی۔ جس کااثر ولیم پر گہرا ہو رہا تھا۔جس کی و جہ سے غلام حیدر کے لیے اُس کا احساسِ ہمدردی جاگنے لگا۔یہ اِس لیے نہیں تھا کہ ولیم غلام حیدر سے ڈر گیا ہو یا کسی طرح کا لالچ شامل ہو بلکہ اِسے ولیم کی شرافت کہہ سکتے ہیں۔ انگریز میں چاپلوسی کو دخل تو ہے لیکن بات مختصر اور صاف ہو تو انگریز اپنی توہین کو ثانوی حیثیت دینے میں وقت نہیں لیتا۔ یہی اس وقت ہوا تھا۔

 

غلام حیدر کے جانے کے کچھ دیر بعد ولیم نے نجیب شاہ کو کمرے میں طلب کر لیا۔ اِس بار وہ عینک کی صفائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتاتھااور ولیم کو یہ بات اچھی لگی۔وہ پچھلی سرزنش جلد بھول جانے کا عادی نہیں تھا۔یہی بات نجیب شا ہ اور ولیم دونوں کے لیے بہتر تھی۔ نجیب شاہ نوٹ بک اور قلم لے کر میز کے دائیں پہلو کھڑا ہو گیا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا، ولیم اُسے کمرے میں بلا کر جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا ہے۔ اس دوران اُس نے اپنے تیس فٹ لمبے اور بیس فٹ کھلے کمرے میں شرقاً غرباً پانچ چکر لگا لیے۔بالآخراِسی رفتار میں چلتے ہوئے بولا،نجیب شاہ مجھے غلام حیدر کے بار ے میں کل تک پوری معلومات مل جائیں۔اِس کے علاوہ علاقے کے تھانیدار کو جلدی بلواؤ،ڈی ایس پی صاحب میرا خیال ہے، چھٹی پر ہے۔ اُس کی غیر حاضری میں یہ معاملہ بگڑ نہ جائے۔میں اس معاملے میں دیر نہیں چاہتا۔
نجیب شاہ پر جو کچھ ولیم کا دبدبہ قائم ہو چکا تھا،اُس کے پیشِ نظر یہ قطعی تھا کہ اس سلسلے میں کوتاہی نہیں کرے گا۔

 

(7)

 

بگھیاں جونہی جودھاپور پہنچیں، بڑوں چھوٹوں کی ٹولیاں بندھ بندھ کر اکٹھی ہونے لگیں۔ یہ گاؤں بمشکل تین سو افراد کی آبادی پر مشتمل تھا، جوغلام حیدر کی ماں کو اپنے باپ کی وراثت میں ملا تھا۔ دس بیس گھروں کو چھوڑ کر باقی آبادی غلام حیدر کی رعایا تھی۔ کہنے کو تو یہ گاؤں تھا مگر اصل میں ساری آبادی چھوٹے موٹے کچے گھروں کا جمگھٹا ساتھی۔ لوگوں کی معاشی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ مکمل اور آزادانہ زندگی گزار سکتے اور عمدہ مکان بنا لیتے۔ مگر یہ ضرور تھا کہ سارا گاؤں دو وقت کی روٹی آسانی سے کھا سکتا تھا۔جتنے لوگ یہاں رہتے تھے، سب کو شیرحیدر نے اپنا رقبہ برابر بانٹ رکھا تھا۔ جسے وہ کاشت کرتے اور مالکانہ کا تیسرا حصہ شیر حیدر کو پہنچا دیتے۔ کسی کو مجبوری پڑ جاتی اور وہ نہ دے سکتا تو شیر حیدر زیادہ سختی نہ کرتا۔ مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ ہر ایک اپنی مرضی کرے۔منشی پورا حساب رکھتا تھا۔جس کے سامنے کوئی دونمبری کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

 

گاؤں کی گلیاں بہت تنگ تھیں، جو کچی ہونے کے ساتھ ساتھ کہیں کھائی اور کہیں سے ٹیلے کی طرح تھیں۔ ویسے بھی گلیوں کی کوخاص ترتیب نہیں تھی۔اِدھر اُدھر مُڑتی ہوئی بھول بھلیوں کی سی شکل اختیار کر لیتیں۔ بارش کے وقت جن میں گزرنا ایک ناممکن سا عمل ہوتا۔البتہ ہر گھر میں ایک آدھ درخت ضرور تھا۔ جن میں زیادہ تعداد لسوڑوں کی تھی۔ گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ اُن میں کسی درخت کا ہونا مشکل تھا۔البتہ پورا گاؤں ٹاہلیوں کے جنگل کے درمیان گھرا تھا،جن کے نیچے گاؤں والے مال مویشی اور بھیڑ بکریاں باندھ لیتے۔ اِکا دُکا گدھے بھی تھے۔اُن پر چارا لاد کر لایا جاتا۔ گا ؤں کی واحد سہولت وہاں کی چھوٹی سی مسجد تھی، جہاں بچوں کو قاعدہ سپارہ پڑھا دیا جاتا۔ اس کے علاوہ نہ کوئی مدرسہ نہ سکول اور نہ ماسٹر تھا۔ تھانے کچہری میں آج تک انھیں نہ کام پڑاتھا،نہ وہ گئے۔ اگر چھوٹا موٹا جھگڑا ہو بھی جاتا تو اس کا فیصلہ شیر حیدر کر دیا کرتا کہ سب کو اُس کا منظور کرنا لازمی ٹھہر جاتا۔ مگر اس بار چراغ دین کے قتل اوربیس ایکڑ مونگی کی فصل کی بربادی نے پورے گاؤں کو ہراساں کر دیا تھا۔ ہر طرف ایک خاموشی طاری تھی۔ شیر حیدر زندہ نہیں تھا اور غلام حیدر سے یہ لوگ کچھ زیادہ واقف نہیں تھے۔چنانچہ اپنے آپ کو تنہا اور لاوارث سا محسوس کرنے لگے۔ چراغ دین کے قتل کو آج چوتھا دن تھا۔ تھانیدار موقع واردات اور باقی تفصیلات کا جائزہ لے کر اُسی دن چلا گیا تھا۔کچھ لوگوں نے بیانات بھی دے دیے تھے لیکن ابھی تک کسی کو تسلی نہیں تھی کہ ِاس ظلم کا کوئی جواب دیا جا سکے گا۔لوگ اس لیے بھی ڈرے ہوئے تھے کہ سب کو سودھا سنگھ کی طاقت اور بدمعاشی کا علم تھا۔ اب ہر ایک نے غلام حیدر کو وہاں آئے دیکھا تو اُن کی جان میں ایک قسم کا دم آیا کہ وہ کسی اپنے کے پاس کھڑے ہیں۔ خاص کر جب لوگوں نے غلام حیدر کے کاندھے پر لٹکتی رائفل کو دیکھا تو انھیں بہت ہی حوصلہ ہوا کیونکہ ابھی تک دُور دُور کسی سردار کے پاس ریفل نہیں تھی۔ غلام حیدر کے ساتھ چھوّیوں اور برچھیوں سے لیس جوان بھی رعب اور دبدبے میں کم نہیں تھے مگر رائفل کی اپنی ہی شان تھی۔

 

لوگوں نے چارپائیاں جلدی سے نکال کر چوک میں مسجد کے سامنے ہی بچھا دیں۔ اس گاؤں میں بھی غلام حیدر کی اپنی چھوٹی سی حویلی تھی، جس میں ایک دو ملازم اور منشی الہُ داد نے رہائش رکھی ہوئی تھی۔وہ جودھاپور کی فصلوں کا حساب کتاب کرتا۔ غلام حیدر نے اپنی حویلی تک جانے کی بجائے چوک ہی میں بیٹھنے کو ترجیح د ی لیکن اُس سے بھی پہلے وہ چراغ دین کے گھر کی طرف چلا گیاباقی لوگ کچھ ساتھ رہے اور کچھ وہیں کھڑے رہے۔ جیسے ہی وہ دہلیز سے اندر داخل ہوا، چرا غ دین کی بیوی رحمت بی بی اس سے لپٹ گئی اوراونچی اونچی بین کر کے رونے لگی۔ اُسے دیکھ کر چراغ دین کی بیٹی بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، جس کے پاؤں میں نہ تو جوتے تھے اور نہ ہی سر پر دوپٹہ۔ چراغ دین کا گھر بھی کیا تھا،محض ایک کمرہ اور چھوٹا سا کچا صحن، جس کے دائیں پہلو چھوٹی سی کچی دیوار کے ساتھ مٹی کا چولہا تھا۔ اس کی سرد راکھ اور گھر کی ویرانی اور اُس پر چراغ دین کی خستہ حال بیوی اور بچی کو دیکھ کر غلا م حیدر کے نہ چاہتے ہوئے بھی آنسو نکل آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ اُسے اِس منظر کے دیکھنے سے پہلے واقعے کی سنجیدگی کا احساس تو تھا مگر اس قدر غم کی شدت نہ تھی۔ رحمت بی بی بچیوں کی طرح رو رہی تھی۔ غلام حیدر نے ایک اضطراری کیفیت کے تحت اُس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور بچی کو گود میں اُٹھا لیا۔ عمر کے اعتبار سے غلام حیدر رحمت بی بی سے کہیں چھوٹا تھا،پھر بھی اُس کا رحمت بی بی کے سر پر ہاتھ رکھنا کسی کو عجیب نہ لگا بلکہ پورے لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں اور دلوں کے اندر جو ہراس اورخوف بیٹھ چکا تھا،وہ حوصلے میں بدل گیا۔ ہر ایک کے دل میں غلام حیدر کے لیے ایک خاموش جذبہ محبت اُبھر آیا۔ گویا احساس ہو گیا ہو کہ ُان کے غم کا مداوا ہو چکا ہے۔ اِس اپنائیت سے حوصلہ لیتے ہوئے کئی بوڑھی عورتوں نے غلام حیدر کے سر پر ہاتھ پھیر کر اُسے دعا بھی دی۔ مگر اُس نے اُنھیں نظر انداز کرتے ہوئے پانچ سو روپیہ کی تھیلی جیب سے نکال کر رحمت بی بی کی مٹھی میں دے دی۔حالانکہ اِس سے پہلے پانچ سو روپے وہ رفیق پاؤلی کے ہاتھ پہلے ہی بھیج چکا تھا۔ پیسے دے غلام حیدر نے کہا، چاچی صبر کر، چاچے چراغ دین کو تو میں لا نہیں سکتا لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ اُس کا قاتل نہیں بچے گا۔ اس سے آگے غلام حیدر بول نہ سکا مگر لہجے میں اِس قدر اعتماد تھا کہ اس سے پہلے نظر نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد وہ چراغ دین کے گھر سے نکل کر چوک میں آ گیا۔ جہاں پورا گاؤں اکٹھا ہوا بیٹھا تھا۔

 

غلام حیدر کو دیکھتے ہی سب کھڑے ہو گئے۔ جب وہ چار پائی پر بیٹھ چکا تو دوسرے لوگ بھی بیٹھ گئے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا شیر حیدر نئے روپ میں ان کے درمیان بیٹھاہے۔بلکہ اُس سے بڑھ کر ایک نئی طاقت ہے کہ شیر حیدر کے پاس رائفل نہیں تھی جبکہ غلام حیدر کی رائفل اُس کی پائنتی کے ساتھ پڑی لشکارے مار رہی تھی۔ کچھ دیر خاموشی طاری رہی پھر اچانک غلام حیدر بولنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

شیر حیدر کا کبھی یہ وطیرہ نہیں رہا تھا کہ وہ لوگوں سے کھڑے ہو کر بات کرے مگر اس کے برخلاف غلام حیدر نے تخاطب کا طریقہ اس طرح اپنایا کہ ہر شخص آواز سننے کے ساتھ اُسے دیکھ بھی لے۔ حالانکہ یہ مجمع اتنا بڑا نہیں تھا۔

 

“بھائیو”شیر حیدر کی آواز گونجی چراغ دین مارا گیا حالانکہ اس کا کوئی جرم نہیں تھا۔ سکھڑوں نے اُس کی بیوی کو بیوہ اور بچی کو یتیم کر دیا۔ یہ حملہ اس گاؤں پر نہیں، شیر حیدر کی قبر پر ہوا ہے۔ سودھا سنگھ نے ہماری پیٹھ میں چُھرا گھونپا۔ قل اور ساتویں کا انتظاربھی نہیں کیا۔ دشمن نے کسی اصول اور دین دھرم کا لحاظ نہیں کیا۔( پھر کچھ دیر رُک کر) ٹھیک ہے اُس نے اپنا وار کر دیا (رفیق پاولی جو حقہ پی رہا تھا، نے حقے کی نَے ایک طرف کر کے رکھ دی) مگر وہ یہ نہ سمجھے کہ ہمارے گاؤں کوئی چری کی فصلیں ہیں،جنہیں جب چاہے گدھے آکر اُجاڑ دیں۔ سودھا سنگھ نے مونگی نہیں اُجاڑی،بارود میں آگ لگائی ہے، چراغ دین کو قتل نہیں کیا، شیر حیدر کی لاش کا مُثلہ کیّا ہے اور سودھا سنگھ نے جودھا پور پر حملہ نہیں کیا، اپنی چتا کو آگ لگائی ہے۔

 

غلام حیدر کی آواز میں درد کے ساتھ اس قدر رعب در آیا کہ پورا مجمع مبہوت سنتا رہا۔ اس کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ لڑکے بالے اپنی اچھل کود چھوڑ کر وہیں کھنچے چلے آئے۔پندرہ منٹ تک غلا م حیدر پوری طاقت سے بولتا رہا۔ سردی کے دن تھے مگر اُسے پسینہ آ گیا۔ گفتگو ختم کر کے جیسے ہی بیٹھا تو لوگوں کے دلوں سے بوجھ اتر چُکا تھا۔
غلام حیدر کے بیٹھنے کے بعد جمال دین آگے بڑھ کر کانپتی ہوئی آواز میں بولا،غلام حیدر اِن سکھڑوں نے سمجھا تھا شیر حیدر کے مرنے کے ساتھ اُس کے تینوں گاؤں بھی مر گئے۔ خدا کی قسم یہ ان کی بھول تھی۔ ان کو وہ حساب دینا پڑے گا کہ اگلی نسلیں کانپ جائیں گی۔(پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)پتر غلام حیدر ہمیں حکم کر ہم سودھا سنگھ کے گاؤں کو آگ لگا دیں گے۔ تُو بس اشارہ کر،سکھوں کے بچے کو لہو میں پیس دیں گے۔

 

رفیق پاولی نے جمال کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا بابا تسلی رکھ۔ حکم تو اب آپ نے کرنا ہے اور عمل ہم کریں گے۔ تم بس ایک کام کرو، اپنے جوانوں کی دس ٹولیاں بناؤ۔ ہر ٹولی میں دس جوان ہوں،جو گاؤں کے گرد گھیرے میں رات پہرا دیا کریں تاکہ سودھا سنگھ نئی چال نہ چل سکے۔اگلے کام ہم جانیں اور ہمارا خدا۔ اب یہی میدان ہے اور یہیں گھوڑے۔

 

اس کے بعد مختلف تجویزیں پیش ہوئیں جن میں حالات کا پورا جائزہ لیا گیا۔ ظہر کے وقت بگھیاں گروہرسا کی طرف چل پڑیں۔ پچاس جوانوں کا قافلہ جن میں سے کچھ بگھیوں پر سوار تھے اور کچھ گھوڑوں پر۔

 

غلام حیدر نے بوسکی کا کریم رنگ کا کُرتہ پہنا تھا اور سرمئی رنگ کی موٹی اُون کی چادر کاندھوں پر رکھے ہوئے تھا جس کا بر تین گز تو ضرور ہو گا۔ دائیں کاندھے پر رائفل، جس کی نال سر سے اوپر تک نکلی ہوئی عجب شان پیدا کر رہی تھی۔ اِس کے علاوہ جتنے جوان تھے، سب کے پاس برچھیاں اور چُوڑی چڑھیں ڈانگیں تھیں۔ اکثر نے مونچھوں کو اتنا تیل پلا رکھا تھا کہ اُنھیں دیکھ کر خوف آتا۔ بگھیاں جونہی راجباہ کے پُل کو پار کر کے تھانے کے قریب پہنچیں، پہرے پر سنتریوں میں ہلچل پڑ گئی۔ ایک سنتری بھاگ کر تھانے میں داخل ہو اکہ تھانیدار کو اطلاع کرے۔ بگھیاں تھانے کے باہر کھڑے برگد کے پیڑ کے نیچے کھڑی ہو گئیں۔ اتنے میں تھانے دار دیدار سنگھ کچھ اور سنتریوں کے ساتھ تھانے کے دیوہیکل بیرونی دروازے پر آکر کھڑا ہو گیا۔دروازے کا گیٹ لوہے کی موٹی چادر کا تھا، جس پر لال اور پیلا رنگ کر دیا گیا تھا۔ اِس ڈیوڑھی نما دروازے سے آگے صحن کو چھوڑ چاروں طرف کمرے اور حوالاتیں تھیں۔ان سب کا رنگ بھی سُرخ اور بوجھل کر دینے والے ماحول سے مشابہ تھا۔دروازے کی چوٹی پر دو جھنڈے لہرا رہے تھے۔ ایک سلطنت برطانیہ کا اور دوسرا پولیس کا۔

 

غلام حیدر بگھی سے اترا توجوانوں کا پورا دستہ اس کی پشت پر کھڑا ہو گیا۔ آگے بڑھا تو ایک پر اسرار رعب اس کے ساتھ تھا۔ بوسکی کاکرتہ، اون کی چادراور کاندھے پر ولایتی رائفل،اس سے بڑھ کر ریشمی لاچا جس کے کنارے دُور تک زمین پر گھسٹتے آتے تھے۔ اَن کے علاوہ قدم اُٹھاتے ہی طلائی کھسہ چرر چرر کی آواز اٹھاتا۔ ان سب چیزوں نے مل جل کر اس کی شخصیت میں ہیبت پیدا کر دی تھی۔

 

غلام حیدر نپے تلے قدم اُٹھاتا تھانیدار کے قریب پہنچا تو دیدار سنگھ کے کندھے رعب سے جُھک گئے۔ اُس نے غلام حیدر سے مصافحہ کیا اور آگے بڑھنے کے لیے رستہ دیا۔

 

صحن میں دو چارپائیاں بچھا دی گئیں،جن میں سے ایک پر غلام حیدر بیٹھ گیا اور دوسری پر تھانیدار دیدار سنگھ۔ دیدار سنگھ کی توند نکلی ہوئی تھی۔داڑھی مروڑ کر پگڑی کے نیچے کس دی گئی تھی۔ لیکن وزن اتنا تھا کہ چارپائی چرمرا کر رہ گئی۔ غلام حیدر کے سامنے تھانیدار کی شخصیت بالکل غیر متاثر کن تھی۔نوجوان خون اور اُس کے پیچھے بڑی زمینداری۔سب سے بڑھ کر تعلیم کا اپنا رعب، کہ سینکڑوں میل تک بی اے پاس کا نام و نشان نہ تھا۔ پھر بھی گورنمنٹ کی نوکری میں اتنی ہیبت ضرور تھی کہ غلام حیدر کے ساتھ آیا ہوا جوانوں کا دستہ تھانیدار کے آگے با ادب ہوہی گیا۔ یہ رعب ان پر دیسی ملازمت کا نہیں بلکہ انگریز سرکار کا تھا۔ جس کا ایک پیادہ گاؤں میں چلا جاتا تو پورا گاؤں خوف کے مارے چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھس جاتا۔ لوگ کئی کئی دن تک تذکرہ کرتے کہ گاؤں میں سپاہی آیا تھا اور فلاں کو وارنٹ جاری کر گیا۔ بعض دفعہ تو ایسا ہوتا کہ ایک ہی سپاہی آ کر کئی آدمیوں کو گھیر لے جاتا۔ کسی کی مجال نہ تھی، اوں آں کرے۔

 

غلام حیدر نے گفتگو کا آغاز کیا اور ہلکے طنز کے ساتھ کہا:،تھانیدار صاحب! چراغ دین کا مدعی مَیں ہوں، پرچہ کٹوانے آیا ہوں ( آگے کی طرف جھکتے ہوئے) سودھا سنگھ کے خلاف۔

 

چوہدری صاحب’تھانے دار بولا، اس طرح تو قتل کا کیس خراب ہو جائے گا۔ میرا مطبل ہے کہ یہ سودھا سنگھ پر سیدھا الزام ہے جو عدالت میں ثابت نہیں ہو گا۔ خوامخواہ قتل ضائع ہو جائے گا۔ویسے بھی قتل والی رات سودھا سنگھ شیخوپورہ گیا ہوا تھا۔(داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے) مَیں قتل کے اگلے دن سے ہی سارے معاملے کی تحقیق کر رہا ہوں۔ واہگرو کی سونہہ ایک لمحہ بھی سکون سے نہیں بیٹھا۔

 

دیکھیں سردار جی ’’غلام حیدر نے زور دیتے ہوئے کہا‘‘ عصر کا وقت ہو گیا ہے اور میں دشمن داری والا بندہ ہوں۔وقت بالکل نہیں ہے۔ کیس خراب ہو گا تو میرا ہو گا۔ عدالت میں ثابت نہیں ہو گا تو نقصان ہمارا ہو گا لیکن میرا ملزم سردار سودھا سنگھ ہے آپ پرچہ کاٹیں۔

 

چوہدری صاحب آپ چنتا رکھیں اور حوصلے سے کام لیں۔ ایک آدھ دن اور سوچ لیں۔ سب کام ٹھیک ہو جان گے۔(ایک بار پھر داڑھی کُھجاتے ہوئے )آپ جذباتی نہ ہوں۔

 

دیدار سنگھ نے غلام حیدر کو دلاسے کی شکل میں بات سمجھانے کی کوشش کی مگر یہ جملے سن کر غلام حیدر کے تیور بگڑنے لگے اور وہ تلخی سے بولا،سردار جی آپ کی داڑھی کی مٹی مَیں نکال دوں گا، میرے پاس بہت بندے ہیں، وہ ساری جھاڑ پونچھ کر دیں گے۔ جو کام تمہارے کرنے کے ہیں وہ تم کرو۔ اگر تم پرچہ نہیں کاٹو گے تو آج کے بعد میں تھانے نہیں آؤں گا۔ رشوت کی بھینسیں سودھا سنگھ نے آپ کوبھیجی ہیں مجھے نہیں۔ یاد رکھو پرچہ کٹے گا تو سودھا سنگھ پرورنہ میں لاہور تک جاؤں گا اور یہ دونوں پھول تارے وردی پر نہیں رہیں گے۔ چراغ دین کا قتل اندھا نہیں ہے کہ کوئی تھانیدار بھی پی جائے۔

 

دیدار سنگھ غلام حید ر کا لہجہ دیکھ کر دہل گیا۔ آج تک اس حوصلے اور جگرے سے کسی نے بھی گورنمنٹ کے دو پھولوں والے تھانے دار سے بات کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ دیدار سنگھ یہ بھی جانتا تھا کہ غلام حید ر کے رابطے دُور تک نہ ہوتے تو وہ اس طرح بولنے کی جرأت نہ کرتا۔ اُس نے محسوس کیا یہ لڑکا جذباتی ہے کچھ بھی کر گزرے گا۔ اسسٹنٹ کمشنر تک تو وہ پہلے ہی جا چکا تھا۔چنانچہ مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت۔وہ جانتا تھا یہ کیس اتنا پتلا بھی نہیں۔اس لیے بیٹھے بٹھائے وردی سے ہاتھ نہ دھونے پڑ جائیں۔سب کچھ سوچ کر تھانے دار غصے کو پی گیا۔ اُس نے جلدی سے منشی کو طلب کر کے سودھا سنگھ کے خلاف چراغ دین کے قتل اور بیس ایکڑ مونگی کی فصل کے اُجاڑے کا پرچہ کاٹ دیا جس کا مدعی غلا م حیدر خود تھا۔

 

غلام حیدر نے پرچے کی مثل پکڑی، دیدار سنگھ کو ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا اور بگھی پر آ بیٹھا۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔ غلام حیدر کی کوشش تھی جلد سے جلد جلال آباد پہنچے کیونکہ حالات اس کی حمایت میں نظر نہیں آ رہے تھے۔ پہلے دن جب غلام حیدر فیروز پور کے اسٹیشن پر اترا تھا اُس وقت سے لے کر اب تک اس کے اندر ایک عجیب طرح کی کایا کلپ ہو چکی تھی۔ لباس سے لے کر اندازِگفتگو تک، ہر شے اتنی جلدی بدل رہی تھی کہ رفیق پاولی جس نے اُسے گودی میں کھلایا تھا، حیران رہ گیا۔ جیسے ہی بگھی جلال آباد کی طرف روانہ ہوئی،وہ اُس سے بات کیے بغیر نہ رہ سکا۔
غلام حیدر مجھے تم پر بڑا فخر ہے۔ آخرشیروں کے بچے شیر ہی ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہو گیا غلام حیدر رعایا بے وارثی نہیں رہے گی۔

 

چاچا فیقے، نظام دین بولا، چوہدری غلام حیدر کو دیکھ کر اپنے دیدار سنگھ کا تو پاجامہ ہی ڈھیلا ہو گیا۔چوہدری غلام حیدر نے اس کی دھون پر اپناکھسہ جو رکھ دیا۔ سکھڑا پرچہ کیسے نہ کاٹتا۔

 

اِدھر بگھیاں جلال آباد کی طرف دڑ دڑ بھاگی جاتی تھیں اُدھر یہ گپیں چل رہی تھیں۔ جس سے سب کے مزاج خوش گوار ہوگئے۔

 

رفیق پاولی نے کہا، او نظامے تین سو دو کا پرچہ سہہ جانے کے لیے بھینسوں کے جگرے چاہیئیں۔

 

چاچا فیقے مجھے پتا ہے یہ تین سو دو تو ایسی بُری بَلا ہے،درخت پر لکھ دو تو درخت سوکھ جائے، بندہ کیا چیز ہے۔ اب سودھا سنگھ تو گیا کام سے، یہ شامت اس کے گھر سے نہیں نکلے گی۔

 

چاچا رفیق! غلام حیدر بولا‘ اب یہ اس کے گھر سے نکلے نہ نکلے۔ سودھا سنگھ کے گلے میں پھندا ڈلے نہ ڈلے، میں نے تو ایک ہی بات سوچی ہے اور وہ یہ کہ مَیں سودھا سنگھ کی رَت کا رنگ دیکھنا چاہتا ہوں۔

 

غلام حیدر کی اتنی بڑی پُراعتماد بات سُن کر ایک دفعہ تو سب خاموش ہو گئے۔
(جاری ہے)