نولکھی کوٹھی — آخری قسط

علی اکبر ناطق: بہت سی چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ تم حالت نزع میں پڑے انسان کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرنے سے انکار کر دے۔
نولکھی کوٹھی — تیتیسویں قسط

علی اکبر ناطق: سب سے بڑھ کر یہ کہ مَیں اس ملک میں اِتنا اجنبی ہوں کہ میری پُرسش کو اِس وقت ایک چیونٹی تک نہیں آئے گی۔ پھر آپ یہ پولیس کس لیے لائے تھے؟
نولکھی کوٹھی — بتیسویں قسط

علی اکبر ناطق: شمس الحق نواز صاحب کی اِس بات پر مسکرا دیا۔ اُسے خوب علم تھا،اسسٹنٹ کمشنر نوازالحق نے اِس کام کے عوض اپنی ترقی کی سفارش کا معاوضہ طلب کیا ہے۔
نولکھی کوٹھی — اکتسویں قسط

علی اکبر ناطق: سب نے دیکھا،انہی خدمت گزاریوں کی وجہ سے وہ صرف دو سال میں ہی تحصیل دار ہو گیا۔ جبکہ ساتھ والے،جو ذرا خدمت گزاری میں کم تھے،ابھی تک اُنہی بوسیدہ میزوں پر بیٹھے مکھیاں مار رہے تھے۔
نولکھی کوٹھی — تیسویں قسط

علی کابر ناطق: زمانے کے گزرتے ماہ سال میں ولیم کو اِس پورے نقصان پر تاسف تو ہوا لیکن وہ اُس کو قبول کر چکا تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے اُس نے بھی اُنہیں یاد کرنا چھوڑ دیا۔
نولکھی کوٹھی — اٹھائیسویں قسط

علی اکبر ناطق: شمشیر سنگھ اور اُس کا جتھا جودھا پور میں داخل ہوا تووہ حیران رہ گئے۔ سارے گاؤں میں کوئی فرد بھی اُنہیں کسی گلی میں چلتا پھرتا نظر نہ آ یا۔ گویا کوئی دیو پھر گیا ہو۔ مکانوں کو تالے لگے ہوئے تھے۔
نولکھی کوٹھی — ستائیسویں قسط

علی اکبر ناطق: الیکشن میں دو ہفتے باقی تھے۔ کمپین کے لیے جلسے اور جلوس زوروں پر تھے۔ اِن جلسوں میں کانگرس اور یونینسٹ پارٹی کے اُمیدوار بھی کہیں کہیں تقریریں کرتے اور ووٹ مانگتے نظر آ رہے تھے۔ لیکن اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔
نولکھی کوٹھی — چھبیسویں قسط

علی اکبر ناطق: ملک بہزاد جان گیا تھا،غلام حیدر کو نواب نے کوئی پیسے نہیں دیے مگراُس نے پیسوں کی تھیلی پکڑ لی کیونکہ اب اُسے بھی پیسوں کی ضرورت تھی،پھر روز روز مفت میں تو کام نہیں ہو سکتے تھے۔
نولکھی کوٹھی — پچیسویں قسط

علی اکبر ناطق: نجاب میں ہر طرف حالات مسلم لیگ کے حق میں ہیں،جیسا کہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن مشرقی پنجاب کے کچھ علاقوں میں پوزیشن ٹھیک نظر نہیں آتی۔ اندیشہ ہے،تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور تحصیل فیروز پور سے ہم الیکشن ہار جائیں گے،مجھے یہی پریشانی اس وقت بھی ہے۔
نولکھی کوٹھی — چوبیسویں قسط

علی اکبر ناطق: جو مشکل سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اب ہندوستانی بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب یہ لوگ چالاکی اور عیاری میں گوروں کے بھی کان کاٹتے تھے اور اِس چکر میں تھے،کب انگریز یہاں سے نکلیں۔ ایسے میں انہیں آزاد نہ کرنا ایسے ہی تھا،جیسے بغیر ہتھیار کے بھیڑیے کے ساتھ رات گزاری جائے۔
نولکھی کوٹھی — بائیسویں قسط

علی اکبر ناطق: اب ولیم جلال آبا د سے اِس قدر مانوس ہو چکا تھا کہ اگر اُسے ساری عمر بھی یہاں رہنے کی اجازت دی جاتی تو وہ اس کے لیے بھی تیار تھا۔
نولکھی کوٹھی — انیسویں قسط

علی اکبر ناطق: پچھلی دو پیشیوں پر سردار سودھا سنگھ نے نہ جا کر سخت غلطی کی تھی۔ عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ آئندہ سردار صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو اُن کے خلاف عدالت سخت کارروائی کے حکم جاری کر دے گی۔
نولکھی کوٹھی — سترہویں قسط

علی اکبر ناطق: ایشلے جو اُس وقت بھی اُلٹی سیدھی نظمیں لکھ لکھ کر سناتا تھا اب بہت بڑا شاعر بن گیا تھا۔ یہ تمام زمین اُن کی اپنی ملکیت تھی لیکن رینالہ اور ستگھرہ اسٹیٹ کے درمیان اوکاڑہ کے پاس کلیانہ اسٹیٹ کی زمین اور آموں کے باغ میں گھری ہوئی نولکھی کوٹھی سے اُنہیں خاص اُنسیت تھی۔
نولکھی کوٹھی — دسویں قسط

نولکھی کوٹھی – تیسری قسط
