Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – ستائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(46)

الیکشن میں دو ہفتے باقی تھے۔ کمپین کے لیے جلسے اور جلوس زوروں پر تھے۔ اِن جلسوں میں کانگرس اور یونینسٹ پارٹی کے اُمیدوار بھی کہیں کہیں تقریریں کرتے اور ووٹ مانگتے نظر آ رہے تھے۔ لیکن اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ غلام حیدر کے بندے اِس طرح سارے علاقے میں پھیل چکے تھے کہ اُن بچاروں کو جلسہ کرنے کی جگہ بھی نہیں ملتی تھی۔ جانی چھینبا اور امانت خاں نے بہت جگہ پر ڈانگ سوٹا چلا کر اُنہیں منتشر ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا،وہ بِدک گئے اور اِن کے سامنے آنے سے گریز کرنے لگے۔ خوش قسمتی سے اُسی طرح کا ایک ہجوم کانگرس پارٹی کا غلام حیدر کے ہجوم سے راستے میں ٹکرا گیا۔ یہ جگہ منڈی گرو ہرسا سے روہی کی طرف دس میل پر تھی۔ کانگرس کے اُمیدوار بھی وہاں چھوٹے چھوٹے گاؤں سے کہیں ووٹ مانگنے نکلے تھے۔ غلام حیدر نے اپنے بندوں کو حکم دیا،اِن کی ذرا اچھے طریقے سے دھلائی کر دو۔ اِنہیں جرات کیسے ہوئی،یہاں آ کر ووٹ مانگنے کی۔ غلام حیدر کا حکم سننا تھا کہ جتنا بھی اس کا گروہ تھا،سب کانگرسی لیڈروں پر ٹوٹ پڑا۔ یہ جگہ ایسی تھی،جہاں ریت کی وجہ سے اُن کی سواریاں زیادہ تر اونٹوں کی تھی۔ کانگرسی تعداد میں پچاس یا ساٹھ ہوں گے۔ اِدھر پورے تین سو کا مجمع،اور سب کے ہاتھوں میں گتکے اور ڈانگیں تھی۔ پل کی پل میں تڑ اتڑ ڈنڈے برسنے لگے۔ کسی کے سر پر،کسی کی ٹانگ پر اور کسی کے بازوپر۔ منٹوں میں ہنگامہ مچ گیااور رونا دھونا،چیخ چگاڑا شروع ہو گیا۔ کچھ نے اُونٹوں کو ڈنڈے مارنے شروع کر دیے،جس کی وجہ سے وہ اپنے سواروں کو بھی نیچے پھینک پھینک کر دوڑنے لگے۔ جس کا جدھر منہ آیا،نکل گیا اور لمحوں میں کانگرسی گروہ آفت کا شکار ہو کر بکھر گیا۔ اِسی ہنگامے میں کانگرسی لیڈرسری واستر جی کی جیپ بھی وہیں رہ گئی،جس کے ٹائروں سے ہوا نکال کر اُس کی پٹرول والی ٹینکی میں ریت ڈال دی۔ اِسی طرح ایک دفعہ غلام حیدر نے یونینسٹ پارٹی کے امیدوار سرور بہکاں والے کی مکھسر تحصیل کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چھترول کر دی۔ اِس دوران ڈیوٹی پر موجود تین چار پولیس والوں نے دخل اندازی کی،تو اُن کے چوتڑوں پر بھی دو دو ڈنڈے لگوا دیے۔
اِنہی واقعات کا نتیجہ تھا کہ وہاں مخالفین سہم گئے۔ ووٹ مانگنا تو ایک طرف،اُنہوں نے غلام حیدر کے اثر رسوخ والے علاقوں میں آناہی چھوڑ دیا۔ دوسری طرف غلام حیدر اور ملک بہزاد دونوں اپنے دو تین سو بندوں کے ساتھ گھوڑوں پر اور نواب افتخار ممدوٹ کی جیپ پر گاؤں گاؤں دوڑتے پھرتے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں مسلم لیگ کے جھنڈے،ڈنڈے،برچھیاں اور بندوقیں بھی تھیں۔ بنگلہ فاضلکا،جلال آباد،سری مکھسر،لکھو کے،گرو ہرسا،ابوہر،خپانوالی حتیٰ کہ فرید کوٹ تک کے علاقے کو اِس طرح روند ڈالاکہ ہر سمت مسلم لیگ کا پھریرا لہرانے لگا۔ ایک بڑا کام تو منصوبے کے مطابق پہلے ہی امیر سبحانی کے ریکارڈ نے کر دیا تھا،جو اب چھوٹی چھوٹی ڈھاریوں پر بھی بج رہا تھا۔
لوگ غلام حیدر کی جرات اور بہادری کے اِس قدر قائل ہو چکے تھے کہ وہ فیروزپور کے مسلمانوں کا بلا شرکت غیرے ہیرو بن گیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے،قہر خدا کا،انگریز بہادر کے دور میں کوئی کتے کو مار دے تو موت کی سزا پائے۔ غلام حیدر نے تو پورے پندرہ بندے بیچ دوپہر مارے تھے۔ اِس طرح کے سورمے گھر گھر تھوڑے پیدا ہوتے ہیں؟دوسرا غضب یہ کہ وائسرائے کی بیٹی تک تعلقات تھے۔ ورنہ اِس طرح اسلحہ لے کر کھلے عام کوئی پھر سکتا ہے؟ وہی خونی بندوق اب بھی اُس کے پاس ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ غلام حیدر کی جیپ جہاں بھی رکتی لوگ دیکھنے کے لیے دور دور سے دوڑے چلے آتے اور منٹوں میں سینکڑوں کا مجمع لگ جا تا۔ اِدھر لوگ اکٹھے ہوتے اُدھردس پندرہ منٹ امیر سبحانی کا ریکارڈ بجتا۔ اُس کے بعد ملک بہزاد سامنے آتا اور غلام حیدر کی دلیری اور نواب ممدوٹ کی مسلمانوں کے لیے دی گئی اُن قربانیوں کا واویلا مچاتا،جن کے بارے میں فیروز پور کے قریباً تما م لوگ بے خبر تھے۔ مگر وہ ملک بہزاد کی باتوں کا اعتبار کر رہے تھے۔ آٹھ دس منٹ نپٹانے کے بعد ملک بہزاد ایک طرف ہوجاتا اور غلام حیدر ر لاچا باندھے،ریفل کاندھے پر ڈالے جیپ کے بونٹ پر کھڑا ہوتا،دوچار نعرے مسلم لیگ،قائد اعظم اور نواب افتخار ممدوٹ کے حق میں لگواتا پھر تقریر کرنے لگتا۔

میرے فیروزپوری مسلمان بھائیو،جان لو مَیں وہ ہوں جس کی بندوق کی گولی
کی آواز نزدیک اور دور والے سب جانتے ہیں اورکافروں کے سینے اس کے
سیسے کی تپش خوب محسوس کرتے ہیں۔ یاد رکھو،یہ ہندو بنیے،جو تمھاری اگلی پچھلی
سب نسلوں کو بیاج کے عوض رہن رکھ چکے ہیں اور یہ گورے،جن کے جوتوں کی پالش
تمھارے پسینوں کے عرق سے تیار ہوتی ہے۔ یہ سب تمھارے ازلی دشمن ہیں۔
ان کی حکومت میں نہ تمھارا ایمان سلامت ہے،نہ تمھارے بال بچے۔ یہ سکھ،ہندو
اور فرنگی کبھی تمھاری روزی روٹی کی حالت ٹھیک نہیں ہونے دیں گے۔ تم یاد رکھو
اسی صورت بچ سکتے ہو،اگر ان کو اپنے سے دور کر دو گے۔ اور ان سے نجات حاصل
کر لوگے۔ نجات کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔ اپنی مسلم لیگ کو ووٹ دو،جس کا
فیروز پور میں بڑا رکن اپنا نواب افتخار ہے۔ یہ اپنا بھائی بھی ہے اور اپنا وڈا بھی۔ یاد رکھو
ٹُٹیاں باہواں گل نوں۔ ہم پھر بھی مسلمان ہیں۔ یہ سرور بہکاں والا غدار اور انگریز کا
پٹھو ہے۔ وہ چاہتا ہے،انگریز ہندوستان میں رہے اور تمھاری آنے والی نسلیں بھی
ان فرنگیوں کی غلامی کرتی رہیں اور بنیوں کو بیاج دیتی رہیں اور سکھڑوں کی زمینوں
میں ہل چلاتی رہیں۔ اِس لیے مسلم لیگ کو ووٹ پاؤاور سب سے جان چھڑاؤ

(47)

نصف مارچ گزر چکا تھا اور بہار کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ ولیم کو اوکاڑہ چھٹی پر آئے تین دن ہو چکے تھے۔ کل اُسے گُڑگاؤں جانا تھا۔ ذہن میں سینکڑوں خدشات اور آنے والے دنوں کی بدلتی صورت نے اُس کی طبیعت میں اتنی بیزاری بھر دی کہ اُسے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ خاص کر چیف سیکرٹری آفس سے وصول ہونے والے خط نے ولیم کے اعصاب کو بالکل معطل کردیا۔ اُسے خوب علم تھا،اُس کے ہاتھ کٹ چکے ہیں۔ ملٹری سے لے کر سول انتظامیہ تک ہر شعبے میں کالے لوگ سُرنگیں بنا کر نہ صرف داخل ہوچکے تھے۔ بلکہ نوے فیصد نظام اُنہی کے قلم دانوں میں چلا گیا تھا۔ اِس وقت جب تمام بیوروکریسی ایک ایک کر کے رخصت ہو چکی تھی،اُس کا اپنی سیٹ پر ٹکے رہنا بھی خو ش قسمتی تھی مگر کہاں تک؟ آخر اُسے بھی خط آ گیا کہ جون تک اپنا بوریا باندھ لو۔ ولیم اِسی پیچ و تاب میں غلطاں ہزاروں وسوسوں میں ڈوبا تھا۔

اب جبکہ ہزار کوشش کے باوجود وہ اپنی پوسٹنگ منٹگمری کروانے میں ناکام رہا تو اُسے انتہائی تکلیف ہو رہی تھی۔ اُس نے چیف سیکرٹری صاحب سے لاکھ طرح سے گزارش کی،کچھ دن کے لیے ہی سہی،اُس کو منٹگمری بھیج دے لیکن یہ درخواست اِس بے رحمی سے رد کر دی گئی کہ ولیم ٹوٹ کر رہ گیا۔ اُس کی بجائے وہاں ایک سکھ ڈپٹی کمشنر کو تعینات کر دیا گیا،جو انتہائی نامعقول بات تھی۔ اگر اُس جگہ ولیم کی پوسٹنگ کر دی جاتی تو چیف سیکرٹری کا کیا بگڑ جاتا۔ وہ کچھ عرصے کے لیے یا کم ازکم بہار کے دن ہی وہاں کاٹ لیتا۔ مگر بد قسمتی سے یہ نہ ہو سکا اور اب اُسے محسوس ہو رہا تھا،اُس کی یہ حسرت ہی رہ گئی۔ حتیٰ کہ انگریزوں کاہندوستان سے انخلامکمل ہو جائے گا۔ جس کا عمل پچھلے ایک سال سے خاموشی سے جاری تھا۔ اُس کے ہاتھ سے گُڑگاؤں بھی نکلنے والا تھا۔ شاید اِسی لیے دو دن بعد اُسے گورنر ہاؤس میٹنگ پر بلایا گیا تھا۔

ولیم کیتھی کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا اپنے ہی خیالوں میں گم سلائس پر جیم لگا رہا تھا۔ کیتھی اُسے بار بار اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ٹھوہکا دے کرچونکا نے کی کوشش کرتی مگر وہ ایک دو باتیں کرنے کے بعد پھر خاموش ہو کرواپس اپنی سوچوں میں گم ہو جاتا،جو پچھلے کئی مہینوں سے اُس پر غلبہ کیے ہوئے تھیں۔ پہلے پہل تو ولیم کسی طرح اُن سوچوں کو نظر انداز کرتا رہا لیکن اب اُن میں شدید طریقے سے اُلجھ گیا تھا۔ حالات روز بہ روز ولیم کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے تھے اور اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کرے؟اُسے کبھی عزت و آبرو کو تباہ کر دینے والی جنگ کے متعلق سوچنے پر کوفت ہوتی،جس نے پانچ سال میں ہر شے راکھ کر ڈالی تھی،کبھی ہندوستانیوں کی بے وفائی اور احسان فراموشی پر غصہ آتا،جنہیں تعلیم دینے سے لے کراور عقل سکھاکر جدید دور میں داخل کرنے تک صرف انگریز ہی کا کردار تھا۔ ورنہ یہ گنوار کے گنوار ہی رہتے۔ کل تک اُجڈ اور جاہل آج بم دھماکے کر رہے تھے،جلسے جلوس نکال کر ایجی ٹیشن پھیلارہے تھے اور انڈیا چھوڑ دو کے نعرے بلند کرتے تھے۔ جہاں ولیم ایک طرف ہندوستانیوں پر بھرا بیٹھا تھا،وہیں اپنی برٹش ایمپائر کے کرتا دھرتاؤں پر سخت غصہ میں تھا،جو آئے دن اختیارات ہندوستانیوں کو سونپتے رہے،اپنے ہاتھ کاٹتے رہے اورآج اُسی کے نتیجے میں ہندوستان کو چھوڑ دینے پرمجبور ہوتھے۔ ولیم سوچتا کہ چلو یہ برداشت کیا جا سکتا تھا،دیسی لوگوں کو حکومت میں حصہ دے دیا جائے اور اُن کو انگریزوں کے برابر مراعات بھی مل جائیں،جن پر اُسے پہلے دن سے ہی کوئی اعتراض نہیں تھا،مگر یہ کیا کہ مکمل طور پر اپنے گلے ہی کاٹ لیے گئے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑبرف پیدا کرنے والی زمینوں اور بغیر سورج کے نکلنے والے دنوں کے ملک میں چلے جائیں۔

ولیم کو اِس طرح فکر مند دیکھ کر کیتھی اُٹھی اور اُس کی پشت پر آ کر کھڑی ہوگئی۔ کچھ دیر خموشی سے چپ کھڑی رہنے کے بعدجب ولیم نے اُس کی طرف پھر بھی دھیان نہ دیا تو بو لی،ولیم ڈارلنگ میں جانتی ہوں،تم کئی دنوں سے پریشانی میں مبتلا ہو۔ تمھارے اختیارات سمٹتے جا رہے ہیں اور برٹش گورنمنٹ اپنے بادبان لپیٹ رہی ہے۔ مگر اب کیا کیا جا سکتاہے؟

ولیم نے گردن گھما کر کیتھی کی طرف دیکھا اور نصف کھایا ہوا سلائس وہیں رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا،کیتھی شاید وہ دن قریب آ رہے ہیں،جن کے لیے میں نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ دراصل مجھے اِس بارے میں سوچنے سے ہی وحشت ہوتی تھی لیکن اب اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد ولیم چند ثانیے خموش رہ کر دوبارہ بولا،کیتھی تمھیں پتہ ہے؟ مَیں ولیم اپنے خاندان میں سب سے زیادہ بد قسمت انسان ہوں۔ میراپردادا،میرا دادااور میرا باپ بڑے خوش قسمت تھے۔ بڑے ذی اقتدار تھے اور نہایت معزز تھے۔ نہ اُنہیں وقت نے دھوکا دیا،نہ اُنہوں نے وہ کرب محسوس کیا جو میرے حصے میں آیاہے۔ وہ سب اِسی ہندوستان کی مٹی میں اپنی مرضی سے رہے،اپنی مرضی سے یہیں دفن ہوئے۔ لیکن مَیں،جسے اُن سب سے زیادہ ہندوستان سے محبت ہے۔ اُن سب سے زیادہ مَیں اِس مٹی میں اپنی روح محسوس کرتا ہوں اور اُن سب سے زیادہ میری خواہش اِسی سرزمین پر اپنا اقتدار قائم رکھنے کی ہے،میرے ہی ہاتھ سے وقت سرکتا جا رہا ہے۔ اِس زمین کی مٹی میرے رنگ اور نسل کو اپنے سے علیحدہ کر کے مجھے باہر پھینکنے کی کوشش میں ہے۔ مجھے آئے دن ایسے احکامات وصول ہوتے ہیں،جو ہر اگلے لمحے ہندوستان سے میرا فاصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میرا باپ ایک سال پہلے اور میری ماں ڈیڑھ سال پہلے بغیر کچھ تکلیف اُٹھائے مر گئے اور یہیں دفن بھی ہوگئے مگر مجھے کہا جا رہا ہے کہ اپنا وجود یہاں سے سمیٹنا شروع کر دو ں،یہ ہماری سر زمین نہیں ہے۔ آخر یہ کیا حماقت ہے؟ کیا یہ لوگ نہیں سوچتے،اگر مَیں اِس زمین کا نہیں ہوں تو مجھے جو لوگ یہاں سے دھکیل دینا چاہتے ہیں،کیا وہ ایرانی تو رانی اپنی قبروں کی مٹی وسط ایشیا سے اُٹھا کر لائے تھے؟ مگر میری بات کوئی سنتا ہی نہیں۔ گویامَیں ایسی صورتوں سے مخاطب ہو ں،جو خواب میں نظر آتی ہیں اور ہاتھ لگانے پر غیب ہو جاتی ہیں۔ ہر آنے والے دن مجھے اگلے بدقسمت لمحے کی خبر دی جا رہی ہے۔ میرے تمام دوست یہاں سے جا چکے ہیں اور باقی جا رہے ہیں۔ جو جا چکے ہیں،اُن کے واپس آنے کا اِمکان نہیں۔ جو نہیں گئے،اُن کا ٹھہرے رہنے کا ارادہ نہیں۔ وہ جانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سفید لوگ اِس طرح حالات سے سمجھوتہ کر رہے ہیں،جیسے اُن کے اندر رُکنے کی طاقت بالکل نہیں رہی۔ رہی تمھاری بات،تو مجھے تمھارے معاملے میں ایسا ڈر کھائے جا رہا ہے،جس کا ظاہر ہو جانا ہمارے جگر کے ٹکڑے کر دے گا۔ تمھا ری کیفیت اُس بچے کی ہے،جو اپنے معمولی زخم کا خون بھی دیکھ لے تو چیخنا شروع کر دے۔ اِس لیے مَیں تمھیں اُن سوچوں میں شریک نہیں کر تا،جن کا حزن زندگی کی خوشیاں لپیٹ دینے کے لیے کا ہے اور اُس کا اندمال نہیں۔

کیتھی ولیم کے سامنے کُرسی پر دوبارہ بیٹھ گئی اور بولی،ولیم تم یہ بات جان جاؤ،مَیں ایک عرصے سے تمھارے خیالات میں خموش شرکت کر چکی ہوں۔ میں جانتی ہوں،تم ہندوستان چھوڑنا نہیں چاہتے۔ مگر یہ بھی سچ ہے،یہ سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تو کیا ہوا،ہم لندن میں جا کر اپنے آپ کو نئے سرے سے منظم کر لیں گے۔ کمشنری نہ سہی کوئی کاروبار،اور اگر یہ بھی نہ ہوا،تو ہمارے پاس اِتنے پیسے ہیں کہ آرام سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

کیتھی کی بات سُن کر ولیم اِنتہائی غصے سے میز پوش کو جھٹکتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا،کیتھی بس یہی بات مجھے پریشان کر رہی ہے اور اُ س کی واحد وجہ تم ہو۔ مَیں جن تسلیوں سے بچتا ہوں،تم بار بار مجھے وہی دیتی ہو۔ مَیں تمھاری نصیحتوں سے ڈرتا ہوں اور تمھارے مشوروں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا،جن کے بارے میں مجھے ایسے ہی وضاحت ہے،جیسے تمھارے خدوخال سے واقف ہوں۔ کیا تم نے کبھی دیکھا،مَیں نے روپے پیسے کو اہمیت دی ہو یا حساب کی جمع تفریق میں دلچسپی لی ہو؟ مَیں وہ ہوں جس کی دلچسپیاں جاننے اور سمجھنے کے لیے تمھیں وقت دینا چاہیے،جو بہت کم رہ گیا ہے۔ حالات قدموں کے نیچے سے کھسکتے جا رہے ہیں اور تم بار بار لند ن میں کاروبار کھولنے کی بات کرتی ہو۔ کیا مَیں وہاں برف کی آڑھت کر لوں یا ملاح گیری اپنالوں؟ میرے پاس اپنے باپ داد ا کی ڈیڑھ سو سال کی کمائی موجودہے۔ وہ اُس وقت سے کماتے آ رہے ہیں جب ایسٹ انڈیا کمپنی پیدا ہوئی تھی۔ کمپنی مر گئی مگر ہمارا منافع ابھی تک آ رہا ہے اور اِس سب کچھ کا میں اکیلا وارث ہوں۔ اِدھر تم سمجھتی ہو،مَیں اپنے روزگار سے پریشان ہوں۔

کیتھی نے ولیم کو اتنا غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ ولیم کے اِس انداز کو دیکھ کر گھبرا گئی اور ایک دم سہم کر چپ ہو گئی پھر کچھ دیر اِسی خموشی میں گزر گئی۔ شاید انتظار کر رہی تھی کہ ولیم مزید کچھ بولے مگر اُس نے اپنی بات مکمل کر لی تھی۔ اُدھر وہ کچھ اور کہنے سے ڈر رہی تھی اور پریشان تھی کہ ولیم اِتنا چڑچڑا کیوں ہو گیا ہے۔ کافی دیر اِسی طرح بیٹھے گزر گئی،تو ہمت کر کے دوبارہ بولی،ولیم آخر تم کیا چاہتے ہو؟مَیں نے کئی بار تم سے پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کون سی پریشانی ہے جس کی وجہ سے تم آج اِس قدر بلبلا اُٹھے ہو؟مَیں تمھاری بیوی ہوں۔ اگر مَیں نہیں سنوں گی اور تم کو تسلی نہیں دوں گی،تو وہ دوسرا کون ہے جس کے سامنے تم اپنے سوالات رکھو گے؟میں جاننا چاہتی ہوں،تم مسلسل کیا سوچ رہے ہو؟

ولیم نے محسوس کر لیا تھا کہ اُس کا لہجہ کچھ زیادہ تلخ ہو گیا ہے۔ لیکن وہ کب تک کیتھی کے بے کار،فرسودہ اور تھکا دینے والے سوالات کو برداشت کرتا۔ ولیم نے فیصلہ کیا،آج وہ اپنا مدعا کیتھی کے سامنے رکھ ہی دے۔ اُس نے نہایت تحمل سے ا پنی بات کا آغاز کر دیا۔ کیونکہ ِاس کے بعد جو شور بلندہونا تھا،اُس کی تلخی سینے کو کاٹ دینے والی تھی۔ اِس لیے ولیم نے سوچا،جس قیامت کو گزرنا ہے،وہ جلدی گزر جائے۔ ولیم تھوڑا سا آگے بڑھا،کیتھی کا ہاتھ پکڑا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،کیتھی کیا تم جانتی ہو،مَیں تم سے اپنی بات چوروں کی طرح چھپا رہا ہوں؟تم میری جس تکلیف کو سننے کا روز تقاضا کرتی ہو،جب مَیں نے اُسے تم پر ظاہر کر دیا تو وہ تکلیف تمھاری بن جائے گی اور تم اُس کے دردسے چیخ اُٹھو گی۔
کیتھی نے ولیم کا ہاتھ مضبوطی سے دباتے ہوئے کہا،ولیم تم بیان کرو۔

کیتھی،ولیم دو ٹوک بولنے لگا،مجھے پورے ہندوستان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مجھے کسی سے کوئی مطلب نہیں۔ بس اِس وقت جس جگہ تم اورمَیں کھڑے ہیں،مجھے اِسی سے مطلب ہے۔ یہ جگہ،یہ خطہ،یہ نولکھی کوٹھی،یہ نہریں،یہ باغات اور نہروں کی کچی کچی روشیں،کھیتوں میں اُگتے ہوئے آلو،مکئی،گندم،گنا اور برسن کے ٹھنڈے ٹھنڈے لمس،اِن باغات اور نہروں کے مضاف میں رہنے والے لوگ،اُن کے معصوم،سادہ اور عزت و آبرو بخشنے والے چہرے،یہ ہے میری زندگی۔ مَیں نے تمھیں پہلے کہا ہے،مجھے نہ کسی اور زمین سے غرض ہے،نہ میں نے کبھی دہلی،لکھنؤ،یا کلکتے کو پسند کیا۔ حتیٰ کہ آگرے کا تاج محل اِس نولکھی کوٹھی کے عوض حقارت سے ٹھکرا دوں۔ مجھے پورے پنجاب سے بھی کچھ مطلب نہیں۔ بس یہ میرا گھر میری سلطنت ہے۔ مَیں اپنی اِس سلطنت کو نہ لندن کے عوض بیچ سکتا ہوں اور نہ میں اِس کے مقابلے میں اپنے دوسرے محبوب کا گناہ معاف کر سکتا ہوں۔ کیتھی مَیں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ کبھی نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ لندن کی مٹی مجھے نہیں جانتی،نہ اُس کی سرد ہواؤں سے مجھے رغبت ہے۔ مَیں یہاں پیدا ہوا ہوں،یہیں مروں گا۔ اِس کے بعد ولیم نے کیتھی کا ہاتھ چھوڑ دیا اور دوبارہ بولا،یہ ہے میری تکلیف اور المیہ لیکن دیکھو اب مجھے نہ سمجھانے کی کوشش کرنا،نہ نصیحتوں کی انجیل پڑھانااور نہ ہی مجھے میرے اور اپنے بچوں کے واسطے دینا۔ یہ بچے جو مَیں نے اور آپ نے مل کر پیدا کیے ہیں۔

ولیم کی بات اتنی دو ٹوک اور فیصلہ کن تھی،کیتھی سوچتی رہ گئی کہ یہ کیا بن گیا ہے؟واقعی ولیم نے ایسا نقصان دینے والا فیصلہ سنایا تھا،جس کی تلافی نہ ہو سکنے والی تھی۔ وہ یہ تو جانتی تھی،ولیم برطانیہ کے مقابلے میں ہندوستان کو پسند کرتاہے اور لندن نہیں جانا چاہتا۔ لیکن وہ یہ بھی خیال کرتی تھی کہ ولیم کوبہر حال سب برطانیوں کی طرح یہاں سے نکلنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ وہ اکیلا تو کسی صورت یہاں رک نہیں سکتا۔ اِسی زعم میں یہ سمجھے بیٹھی تھی کہ وطن واپس جانے کے دن قریب آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی قسم کی تیاریاں کر رہی تھی اور طرح طرح کے منصوبے عمل میں لا رہی تھی،جس کا ولیم کو بھی پتا تھا۔ اب اُسے یاد آیا،وہ جب بھی ولیم سے اپنی تیاری کا ذکر کرتی،ولیم نہ صرف اُسے ٹال جا تا بلکہ بعض دفعہ جھنجھلاہٹ کا بھی شکار ہو جاتا تھا۔ پھر بات سنے بغیر یا تو اُٹھ جاتا یا بات بدل دیتا تھا۔ تو گویا وہ ایک ایسے سول سروس کے افسرکو اپنا چکی تھی،جو اپنی سرزمین واقعی بدل چکا تھا۔ اب و ہ ایک قوم کے ہوتے ہوئے دو الگ الگ خطوں کے باشندے تھے۔ کیتھی نے سوچا،کیا یہ اِتنا آسان ہے؟ وہ اپنے جگر کی طاقت جمع کرتے ہوئے ولیم کی طرف بڑھی اور دوبارہ بولی،ولیم کیا تم جانتے ہو،قدرت کے فیصلے طاقت سے نہیں بدلے جا سکتے۔ جب طوفان کی لہریں بادبانوں سے بلند ہو جائیں،اُس وقت کمپاس بیکار ہوجاتے ہیں۔ خود کو اُس وقت تک لہروں کی مرضی پر چھوڑ دینا پڑتا ہے،جب تک چاند اور ہوائیں پُرسکون ہو جائیں۔ تمھیں معلوم ہے،یہاں ایک سال بعد ایک بیرا تک تمھارا ہم جنس نہیں رہے گا اور یہ لوگ،جن کو اب تم اپنا کہ رہے ہو،یہ تمھارے چہرے کی سُرخ جھریوں پر ہنسیں گے اور تمھاری شکل کو بندروں سے تشبیہ دیں گے۔

مجھے اس کی پروا نہیں،ولیم نے کہا،مَیں اِن اصطبل کے گھوڑوں پر سیر کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں،کسی انگریز بیر ے سے مل کر بات چیت کرنے کو۔ یہ اصطبل،جس کو میرے باپ نے میرے لیے،اِس کوٹھی کے پچھواڑے بنایا ہے۔

کیتھی نے ولیم کے جواب میں چبھتے ہوئے لہجے میں کہا،ولیم تمھیں یقین ہے،یہ اصطبل جو اِس کوٹھی کے پچھواڑے میں ہے،جس میں موجود گھوڑوں کی نعل بندی اپنی نگرانی میں کرواتے ہو،تمھارے پاس رہے گا؟

شاید نہ رہے،مگر میں برطانیہ جانے کے لیے تیار نہیں ہوں،نہ اِس وقت تم سے زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔ تمھارے پاس وقت کم ہے،اپنا فیصلہ سنا سکتی ہو۔

ولیم،اگر تم اپنی حماقت پر قائم رہے،تو مَیں اپنے بچوں کو اِس جلا دینے والی زمین سے نکال کر لے جاؤں گی۔
اِس تلخ جملے کے بعد کیتھی اُٹھ گئی۔ جبکہ ولیم وہیں بیٹھا رہا،ایسے لگا جیسے کوئی جواری سب کچھ ہار جانے کے بعد پُرسکون ہوگیا ہو۔

Categories
نقطۂ نظر

مقامی حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور عوامی شکوک و شبہات

بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ابھی بھی رائے عامہ واضح نہیں، لوگوں میں تاحال شکوک و شبہات ہیں اور کیوں نہ ہوں اس سے پہلے بھی دوبار پنجاب میں بلدیاتی انتخابات امیدواران کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد اس وقت ملتوی کر دیئے گئے جب انتخابی نشانات دیئے جانے تھے۔ وجہ کوئی بھی ہو بلدیاتی انتخابات کے باربار ملتوی ہونے سے عوام بہت کچھ سوچنے پر مجبورہو چکے ہیں۔ اسلام آباد اور گردونواح کے بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں بھی تبدیل کی جاتی رہی ہیں جس سے عوامی خدشات اور بھی بڑھے ہیں کہ کہیں سندھ اور پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی نہ ہوجائیں۔ حکومتی ترجمان اورکابینہ کے ایک اہم رکن وفاقی وزیر عابد شیر علی نے تو اس کا برملا اظہار بھی کیا کہ محرم الحرام کے بعد انتخابات کراونے سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ بھلا ہو اعلیٰ عدالتوں کا جنہوں نے مقامی حکومتوں کے قیام اور ملک میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے عوامی مفاد میں اہم فیصلے کیے۔ ان فیصلوں کی روشنی میں یہ انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ مگرحکومت کی اس بارے دلچسپی اورسنجیدگی ابھی بھی نظرنہیں آرہی اور اس میں الیکشن کمیشن بھی پوری طرح سے متحرک اورفعال دکھائی نہیں دیتا۔ الیکشن کمیشن کی عدم دلچسپی کا اظہار سندھ کے حوالے سے عدالت کو لکھے گئے خط سے بھی ہوتا ہے۔
محلے کی چوپال سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک یہی بحث ہورہی ہے کہ آیا بلدیاتی انتخابات ہوں گے یا نہیں۔غیریقینی کی یہ صورت حال اس لیے بھی ہے کہ تاحال سیاسی جماعتوں نے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لینے کےلیے اپنی ترجیحات اور حکمت عملی طے نہیں کی

 

حکومتیں کیوں مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے مخلص نہیں اس کی ایک وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ حکمران ٹولہ مقامی حکومتوں کے نظام کو اپنا متبادل سمجھتا ہے۔ حکمران اقتدار کی تقسیم اور وہ بھی گلی محلے کی سطح تک منتقلی کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ ہماری حکمران خانوادے اقتدار میں عام آدمی کی شراکت اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ دراصل ایسا جو بھی سوچتا اور سمجھتا ہے وہ ذہنی طور پرپسماندہ ہے۔ مقامی حکومتوں کے قیام اوراس مقصدکے لیے انتخابات کے انعقاد کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ہماری حکومتوں نے اس سے انکار کرکے آئین کی مسلسل خلاف ورزی کی ہےاور اعلیٰ عدالت کے فیصلوں کو نہ مان کر توہین عدالت کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔ تاہم اب جاری کیے جانے والے مرحلہ وار شیڈول کے آنے کے بعد سے اس پر عملدرآمدبھی ہورہا ہےمگر عوام پھر بھی اس حوالے سے بے یقینی کا شکار ہیں اور تاحال وہ روایتی گہما گہمی دکھائی نہیں دی جو ہمارے انتخابات کا خاصہ ہے۔

 

محلے کی چوپال سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک یہی بحث ہورہی ہے کہ آیا بلدیاتی انتخابات ہوں گے یا نہیں۔غیریقینی کی یہ صورت حال اس لیے بھی ہے کہ تاحال سیاسی جماعتوں نے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لینے کےلیے اپنی ترجیحات اور حکمت عملی طے نہیں کی۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کو اپنی پہلی ترجیح قرار نہیں دیا اور ان کے لیے سیاسی ایجنڈا پیش نہیں کیا۔ مقامی حکومتوں کے انتخابی دنگل میں سیاسی جماعتیں ابھی تک بھرپور طریقے سے داخل نہیں ہوئیں۔ سیاسی اکھاڑے میں سیاسی جماعتوں کی آمدبالکل کسی فلمی ہیروکی دبنگ انٹری کی طرح ہے جس کے نمودارہوتے ہی شائقین بے اختیار تالیاں پیٹتے ہیں اور خوشی سے سیٹیاں بجاتے ہیں۔ان انتخابات میں ابھی تک کسی سطح پر کسی کی طرف سے دبنگ انٹری نہیں ڈالی گئی۔عوامی دلچسپی کو بڑھانے کی خاطر بھی کچھ نہیں کیا جارہا۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں لوگوں کی دلچسپی بھی سیاسی جماعتوں کی دلچسپی سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ اس بار یہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہورہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے امیدواراپنی اپنی جماعت کے نشانات کے ساتھ انتخاب لڑیں گے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں جہاں پہلے مرحلے کے تحت انتخابات ہورہے ہیں وہاں امیدواروں کو نشانات دیئے جا چکے ہیں مگر یہاں سے کسی ایک امیدوار کوبھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کا نشان نہیں دیا گیا کیونکہ میاں برادران نے کسی کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ اب ایسی صورت حال کیوں پیدا ہوئی اس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ حکمران جماعت کی اس ضلع سے دلچسپی ہی نہیں تھی اور ضلعے کو کھلا چھوڑ دیا گیا ۔ مسلم لیگ (ن) نے مقامی سطح پر گروہ بندی ختم کرانے کی کوشش نہیں کی۔ ضلع میں مسلم لیگ ن کے تین سے زائد گروہ آزاد حیثیت میں انتخاب لڑرہے ہیں۔
انتخابی امیدواران میں صنفی عدم توازن افسوس ناک ہے چیئرمین، وائس چیئرمین اور عمومی نشستوں کے لیے خواتین امیدواروں کی تعدادپانچ فیصدسے بھی کم ہے جس سے لگتا ہے کہ ان انتخابات میں خواتین کی بھرپور شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

 

بلدیاتی انتخابات کے لیے تاحال رائے دہندگان کو متحرک کرنے اور ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے سرگرمیوں کاآغاز نہیں ہوسکا۔ انتخابی عمل کے بارے میں بھی عوام کو کچھ زیادہ آگاہی نہیں ہے۔الیکشن کے انعقاد میں سب سے زیادہ اہم کردار ریٹرننگ افسروں کا ہے لیکن ریٹرننگ افسران کے انتخاب اور ان کی تربیت کے حوالے سے بھی کوئی خیر خبر دستیاب نہیں۔ الیکشن کمیشن کے دفاتر عوام کی آسان پہنچ میں نہیں ہیں۔امیدواران کی سہولت، ان کی معاونت اور رہنمائی کے لیے کہیں ڈسک نہیں بنائے گئے۔ کچھ شہروں میں غیرسرکاری تنظیموں نے یہ کام کرنے کی کوشش کی ہے مگر انتظامیہ ان کے ساتھ تعاون کے بجائے ان کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، سرکاری انتظامیہ نہ خود سے کچھ کرتی ہے اور نہ کسی اور کو کچھ کرنے دیتی ہے۔

 

پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں عوام کی دلچسپی بتدریج کم ہو رہی ہے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق سابقہ شیڈول(منسوخ شدہ) کے مقابلے میں امیدواران کی تعداد پچاس فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ انتخابی امیدواران میں صنفی عدم توازن افسوس ناک ہے چیئرمین ،وائس چیئرمین اور عمومی نشستوں کے لیے خواتین امیدواروں کی تعدادپانچ فیصدسے بھی کم ہے جس سے لگتا ہے کہ ان انتخابات میں خواتین کی بھرپور شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دوسرے مرحلہ میں مخصوص نشستوں کے انتخابات کا شیڈول آئے گا۔اس میں بھی یہ بات طے شدہ ہے کہ خواتین کو مرکزی دھارے میں نہیں آنے دیا جائے گا۔ اگر خواتین کی نشستوں پر براہ راست انتخابات نہیں کرانے تھے تو بھی کم از کم یہ لازمی قرار دیا جاتا کہ سیاسی جماعتیں چیئرمین اوروائس چیئرمین کے لیے کم از کم 33 فیصد خواتین کو لازمی طور پر ٹکٹ دیں مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر براہ راست انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے نظرانداز شدہ مذہبی اقلیتیں سیاسی عمل سے مزید اجنبی ہو جائیں گی۔
Categories
نقطۂ نظر

قصہ قائد کے عقیدے کا

جب بھی پاکستان کا کوئی قومی تہوار آتا ہے تو قلم کے مزدور قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر اور ان کے عقیدے پر اپنی اپنی آراء ، تبصروں اور تشریحات کے تیشے تاریخ کے سینے پر چلانے لگتے ہیں ۔ بہت سے لکھاری اپنے قلمی لاؤڈ اسپیکروں پر ہر سال قائد اعظم کے عقیدے اور ان کی 11اگست کی تقریر کا حوالہ دے کرملک کو سیکولر جمہوری ریاست بنانے یا اسلام کا قلعہ ثابت کرنے کا کام شروع کر دیتے ہیں ۔ محمد علی جناح سے عقیدت اور فکری دیانت کا تقاضا ہے کہ بابائے قوم کے فرمودات و عقیدے کو اس زمانے کے سیاسی حالات کے تناظر میں سمجھا جائے۔ جناح ہرگز کوئی مذہبی شخصیت نہیں تھے اور نہ ہی وہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے ۔ بانی پاکستان نے امریکی پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ “پاکستان کی حکومت مذہبی حکومت یعنی تھیا کریسی نہیں ہو گی ۔نہ ہم ایسی خالص مذہبی حکومت پر یقین رکھتے ہیں “(گم گشتہ قوم صفحہ 283) جناح کی وفات کے فوراً بعد جناح کے تصور ریاست سے انحراف کا آغاز ہوگیا تھا۔ یہ ہی وہ وقت تھا جب اس نوزائیدہ ریاست کے کمزور جسم پر پر قراردادمقاصد کی مقدس چادر چڑھا کر پاکستان کو مشرف بہ اسلام کیا گیا۔ بعد کے حالات اس بات کی پوری غمازی کرتے ہیں کہ جو لوگ راستوں کے راہزن اور ڈاکو تھے انہوں نے جناح شناسی کا تاج اپنے سروں پر سجا کر قافلوں کی رہبری کا ٹھیکہ اُٹھا لیا۔
کبھی کسی نے سنا کہ بابائے قوم نے ہدایت کی ہو کہ ملک کا وزیر اعظم ، صدر اور فوج کا سپہ سالار صرف اور صرف مسلمان ہو بلکہ انہوں نے اپنے مختصر دورحکومت میں مذہب و مسلک سے بالا تر ہو کرصرف قابلیت کی بنیاد پر تقرریاں کیں
11اگست کو دستور ساز اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کے مندرجات سینسر کیے جانے کے باوجودان کی سیاست سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کے ذہن میں کیسا پاکستا ن تھا اوراس کے کیا خدو خال ہو سکتے ہیں؟ اگرچہ قائد اعظم ہمارے ساتھ بہت عرصے تک نہیں رہ پائے لیکن قیام پاکستان کے بعد کے واقعات اور اقدامات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ وہ کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے ۔ ان کے اقدامات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے اپنے ہر فیصلے کی بنیاد جمہوریت ، مذہبی رواداری اور ریاست اور مذہب کی علیحدگی پر رکھی تھی۔ انہوں نے اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم جیسے ٹھوس اور مضبوط اصولوں کو ہی پاکستان کی تعمیر کے لیے لازمی عنا صر قرار دیاتھا جو ایک فلاحی ریاست کے خدوخال کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں ۔انہوں نے جوگندر ناتھ منڈل کو وزارت دی اور سر ظفرا للہ خان کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا۔ان کے دلیرانہ اورحکیمانہ فیصلوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کس قسم کی جمہوری سوچ پروان چڑھانا چاہتے تھے ۔ کبھی کسی نے سنا کہ بابائے قوم نے ہدایت کی ہو کہ ملک کا وزیر اعظم ، صدر اور فوج کا سپہ سالار صرف اور صرف مسلمان ہو بلکہ انہوں نے اپنے مختصر دورحکومت میں مذہب و مسلک سے بالا تر ہو کرصرف قابلیت کی بنیاد پر تقرریاں کیں۔ انہوں نے کئی نامور عمائدین اور سیاست دانوں کو چھوڑ کربہترین نظم و نسق رکھنے والے باصلاحیت افراد کو اہم ترین وزارتوں کے قلمدان سونپےخواہ ان کا مذہب، عقیدہ یا مسلک کچھ بھی ہو۔جناح صاحب کو ایک مذہب پرست رہنما ثابت کرنے والے لوگ وہی ہیں جو ماضی میں قائد اور دیگر مسلم لیگ رہنماؤں پر غیر مسلم ہونےکے الزامات عائد کرتے رہے ہیں ۔
متحدہ ہندوستان کے عہد کاجو شر پسند ٹولہ قائد کے عقیدے اور مسلک کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا تھا وہ آج بھی ریاست میں انتشار ، بدنظمی اور تعصب پھیلانے کی خاطر مذہب کا سہارا لے رہاہے ۔
صاحب الرائے اور ذی شعور طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جناح صاحب کو متنازعہ بنانے کے لیے ان کا عقیدہ کون لوگ جاننا چاہتے تھے؟ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ آج بھی کسی کی سچائی ، دیانت اور صداقت کو الزام تراشی سے آلودہ کرنا ہو تواس کے عقیدے کو مشکوک بنادیا جاتا ہے۔ آج بھی سرکار ہر پاکستانی کے عقیدے کو اپنے میزانِ عدل میں تول کر ملک کی خدمت کا موقع دیتی ہے جس کا مظاہرہ 1974ء میں احمدیوں کے ساتھ کیا گیا۔ ان عالم فاضل اکابرین امت نے جناح کے بے داغ کردار پر طنزو تشنیع کے زہر میں ڈوبے الفاظ کے کوڑے برسائے ۔سر عام گالیوں سے نوازا گیا پھر بات نہیں بنی تو جناب کے عقیدے کے بارے میں ہرزہ سرائی کی گئی ۔ ستم ظریفی یہ کہ وہی طبقہ آج جناح کو مردمومن ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے جو کبھی انہیں مسلمان ماننے کو تیار نہیں تھا۔ متحدہ ہندوستان کے عہد کاجو شر پسند ٹولہ قائد کے عقیدے اور مسلک کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا تھا وہ آج بھی ریاست میں انتشار ، بدنظمی اور تعصب پھیلانے کی خاطر مذہب کا سہارا لے رہاہے ۔
کسی بھی سیاسی رہنما کے عقیدے سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ہر جائزوناجائز ہتھکنڈا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔احراری علماء مبینہ طورپر قائد اعظم کے بارے میں جھوٹ ، دروغ گوئی سے مسلسل کام لیتے رہے وہ یہاں تک کہتے تھے کہ قائد اعظم کو جب کلمہ طیبہ پڑھایا گیا تو انہوں نے کہا کہ

“I know Muhammad, i know Allah , but who is the Third Gentleman Rasoolallah”

(یعنی میں محمد اور اللہ کو تو جانتا ہوں لیکن یہ تیسرا شریف آدمی رسول اللہ کون ہے )۔تحریک پاکستان میں شامل جانثاروں اور وفاداروں کو بابائے قوم کے اعلی ٰ کردار سے متنفر کرنے کے لیے مذہب اور عقیدے کومتنازعہ بنانے جیساقبیح مگر آزمودہ حربہ استعمال کیا گیا۔اس وقت کے معروف عالم دین اور مفسر اسلام نے بانی پاکستا ن کے بارے کیا کیاگوہر افشانیاں کیں ان میں سے چند ایک کی مثالیں پیش خدمت ہیں۔مفسر اسلام ابوالاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں کہ
“محمد عل جناح جنت الحقماء (احمقوں کی جنت )کا بانی اور ااجل فاجر (گنہگار انسان )ہے ۔”(ترجمان القران فروری 1946ء صفحہ 153)
“مسلم لیگ کو ووٹ دینا حرام ہے “۔(ترجمان القران جلد نمبر 28صفحہ 145اشاعت پٹھان کوٹ)
“محمد علی جناح کا مقام مسندِ پیشوائی نہیں بلکہ بحیثیت غدار عدالت کا کٹہرا ہے ۔”(ترجمان القران ۔جلد نمبر 31۔صفحہ 62.۔اشاعت 1948ء)
محمد علی جناح کے عقیدے سے متعلق ہر دو طرح کے رحجانات پائے جاتے ہیں، کچھ انہیں غیر مسلم قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں اور کچھ انہیں مرد مومن ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ تا ریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بادشاہی مسجد کے خطیب جناب مولوی غلام مرشد صاحب نے قائد اعظم سے ملاقات کے بعد گواہی دے ڈالی کہ دوران گفتگو مولانا قائد اعظم نے ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیا ہے ۔ایک اور صاحب نے بھی قائد اعظم کی بر گزیدگی اور تقدس کی داستان تصنیف کرتے ہوئے لکھا کہ “حضرت قائد اعظم اور ان کا پورا خاندان سیدھے سادے عقائد رکھنے والے مسلمان تھے۔قائد اعظم نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور بہادر یار جنگ سے قرآن با تفسیر پڑھا ” (مقالہ : حضرت قائد اعظم اور اسلامی نظریہ جمہوریت ۔مطبوعہ روزنامہ نوائے وقت لاہور 30دسمبر 2005ء)۔یعنی ان لوگوں کا یہی مقصد تھا کہ کسی طرح سے مسٹر جناح کو” حضرت مولانا محمد علی جناح رحمتہ اللہ”بنا کر ہی دم لیاجائے ۔تاکہ آئندہ زمانوں میں ار ض پاک کے آئین و قانون کی تزئین و آرائش اور دستار بندی بھی ان کے ہاتھوں سر انجام پائے۔ دوسری جانب ایک طبقہ قائد کے عقیدے کو مسلکی اور فرقہ وارانہ رنگ بھی دیتا ہے۔ ان لوگوں کے خیال میں چونکہ بابائے قوم اہل تشیع تھے تو ہو سکتا ہے کہ قائد کے صاف و شفاف کردار کو طنزو تشنیع کے تیروں سے چھلنی کرنے والوں کے مضطرب دلوں میں یہ خوف اور خطرہ گھر کر گیاہوکہ کہیں بابائے قوم کی ہم مسلک اقلیت نوزائیدہ مملکت کی وارث نہ بن بیٹھے ۔
ان لوگوں کا یہی مقصد تھا کہ کسی طرح سے مسٹر جناح کو” حضرت مولانا محمد علی جناح رحمتہ اللہ”بنا کر ہی دم لیاجائے ۔تاکہ آئندہ زمانوں میں ار ض پاک کے آئین و قانون کی تزئین و آرائش اور دستار بندی بھی ان کے ہاتھوں سر انجام پائے
یہ امر افسوس ناک ہے کہ قائد اعظم کے عقیدے اور طرز ریاست کو اپنی سوچ اور زاویے کی طرف موڑنے والے آج بھی جناح کے عقیدے اور سیاست کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ قیام پاکستان کی مخالف اسی ملائیت کی وجہ سے آج دنیا بھر میں پاکستان دہشت گردوں کی پرورش گاہ کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔ آج جب فتویٰ فیکٹریوں کے دھوئیں نے پورے ملک کی پر امن فضا کو گھٹن زدہ بنا رکھا ہے تو اس کی صرف اور صرف یہی وجہ ہے کہ ان دھڑادھڑ چلنے والی فتویٰ فیکٹریوں کی بنیادیں اقبال اور قائد ہی کے عہد میں کھودی گئی تھیں ۔ان فتویٰ بازوں کی باقیات آج بھی قائد کے مزار پر دعائے خیر کرنے سے علی الاعلان انکاری ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی رہنماوں کے عقیدے کی بجائے ان کی سیاست کی بنیاد پر ان کی حمایت اور مخالف کی جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تاریخی شخصیات کو کسی مخصوص نظریے، عقیدے یا مسلک کے تحت رنگنے کی بجائے اس کے صحیح سیاق وسباق میں معروضی انداز میں سامنے لایا جائے۔