Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – آخری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(56)

اُس دن مَیں سکول سے بھاگ کر کمپنی باغ میں آگیا۔ یہ صرف میری بات نہیں تھی،جو لڑکا بھی سکول یا کالج سے بھاگتا،وہ یہیں آتا۔ اِس کی کئی وجوہات تھیں۔ اول یہ جگہ بالکل کالج اور اسکول کے سامنے پڑتی تھی۔ درخت اِتنے زیادہ اور گھنے تھے کہ اُن کی اوٹ سے آسمان کو دیکھنا کسی کے بس کا روگ نہیں تھا۔ اِن درختوں کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی ریل گاڑی کی پٹڑی تھی،جس پر صبح سے شام تک ایک ریل کچھوے کی چال چلتی رہتی اوربچوں اور بڑوں کو جھولے دیتی رہتی۔ اس کا ٹکٹ بہت ہی معمولی تھا،جو غریب سے غریب آدمی بھی برداشت کر سکتا تھا۔ ریل کا انجن کوئلوں سے چلتا تھا۔ یہ کوئلے اُس دور میں بہت سستے تھے۔ پارک انگریز ی دور میں انگریز فیملی کے لیے تیار کیا گیاتھا۔ اِس لیے اِس میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں،جو کسی بھی یورپین پارک میں ہو سکتی ہیں۔ درخت روشیں،جھولے،خوبصورت پرندے اور جانور،غرض ہر چیز میں ایک ترتیب اور حسن تھا۔ بہت سے والدین اپنے سکول کے بھگوڑے بچوں کو یہیں سے آن پکڑتے۔

اُس دن صبح کے ساڑھے نو بجے تھے اور مئی شروع ہو چکا تھا۔ ایک مہینہ پہلے گزرنے والی بہار نے اِتنا سبزہ پھیلا دیا تھا کہ آنکھوں میں سوائے سبزی کے کسی شے کا سامنا نہیں تھا۔ مَیں کمپنی باغ میں اِدھر اُدھر گھومتا رہا۔ کبھی ٹکٹ لے کر اُسی ریل پر چڑھ جاتا،جو پارک کے ایک کونے سے دوسرے کو نے تک چکر کاٹتی ہوئی نکل جاتی،پھر دس منٹ بعد وہیں آن کھڑی ہوتی۔ کبھی ریل کے ساتھ ساتھ اِدھر سے اُدھر بھاگتا جاتا،کبھی کسی درخت پر چڑھ جاتا،وہاں سے پھراُتر کر ریل پر چڑھ جاتا۔ اِسی طرح میں اِس ریل پر بیٹھا اِدھر اُدھر کے نظاروں میں گم جارہا تھا،اچانک ریل ایک جگہ رُک گئی۔ یہ جگہ ریل کے رُکنے کی نہیں تھی،اِس لیے مجھے حیرانی ہوئی۔ نیچے اُترا تو میری نظر ایک مجمعے پر پڑی،جو ایک بہت پُرانے پیپل کے درخت کے نیچے دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ لوگ آرے اور کلہاڑوں سے پیپل کے ارد گرد گڑھا کھود کر اُس کے تنے کو کاٹنے کے درپے تھے،جبکہ ایک بوڑھا انگریز اُس گڑھے میں بیٹھا،اُن کے کام میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔ دوآدمی اُسے کھینچ کر باہر نکالنے کی کوشش میں تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ دوسرے لوگ اِس کھینچا تانی کے عمل سے ارد گرد کھڑے محظوظ ہو رہے تھے۔ وہ نہ تو بڈھے کی طرف داری کر رہے تھے،نہ اُن دو آدمیوں کو روک رہے تھے،جو بوڑھے کو بے دردی سے باہر کھینچنے میں لگے تھے اور اُسے پنجابی میں سخت سست سنا بھی رہے تھے۔ لیکن اُس نے مضبوطی سے پیپل کی جڑوں کو پکڑا ہوا تھا اور کوشش کے باوجود اُن سے باہر نہیں نکل رہا تھا۔ اِس عمل میں اُس بوڑھے انگریز کا ہیٹ پاس ہی گیلی مٹی میں مُرا تُڑا پڑا تھا۔ ہیٹ کی حالت سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اُس پر کئی لوگوں کے پاؤں آئے ہیں اور اِس قابل نہیں رہا کہ دوبارہ سر پر رکھ لیا جاتا۔ بوڑھے کی رنگت بہت زیادہ سُرخ اور سفید تھی۔ لیکن یہ وہ سرخی نہیں تھی،جو خون اور جوان صحت کی نشانی ہوتی ہے۔ بلکہ یہ رنگت نسل اور قوم کا پتہ دینے والی تھی۔ رنگت اِس قدر سُرخ ہو چکی تھی،جو عمر کی زیادتی کی وجہ سے دیکھنے والوں کے لیے کراہت پیدا کر دیتی ہے اور سفید بوڑھوں کے چہرے بندر کی پشت کے رنگ سے مشابہ ہو جاتے ہیں۔ قد ایک تو ویسے بھی لمبا تھا،اُس پر لاغر پن نے اُس کی قامت کو مزید ہوا دی تھی،جس کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ لمبا نظر آ رہا تھا۔ پاؤں میں جوتے چمڑے کے تھے لیکن وہ اتنے بوسیدہ اور مٹی میں لتھڑ چکے تھے کہ اُن کا اصلی رنگ کوئی نہیں بتا سکتا تھا۔ عینک کی حالت بھی اُس کے جوتوں سے زیادہ اچھی نہیں تھی۔ عینک کی کمانیوں پر ٹاکیاں تو نہیں لپٹی تھیں لیکن اُن کمانیوں کا رنگ اِس طرح پھٹ گیا تھا کہ اُس سے عینک کی عمر کا بخوبی اندازہ ہو تاتھا۔ بوڑھا اِس زور آزمائی میں بہت زیادہ تھک چکا تھا اور قریب تھا بیہوش ہو جائے۔ لوگ اُس کی بے بسی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ہنس بھی رہے تھے۔ بوڑھا خود بھی پیپل کاٹنے والوں کو ہانپتے ہوئے،انگریزی میں گالیاں دے رہا تھا۔ یہ لڑائی شاید کافی دیر سے جاری تھی،اس لیے کلہاڑوں والے آدمی اب اُس پر سختی کرنے پر اُتر آئے تھے۔ مَیں جب سے وہاں کھڑا تھا،اُس کے ابتدائی لمحوں میں خود بھی لطف لیتا رہا لیکن جب مجھ پر اصل حقیقت کا انکشاف ہوا کہ بوڑھا اصل میں اُنہیں پیپل کے کاٹنے سے مانع ہو رہا ہے اور سب لوگوں میں دراصل یہی ایک انسان ہے،تو میری دلی ہمدردیاں اُس کے ساتھ ہو گئیں۔ لیکن مَیں اِس معاملے میں اُس کی مدد کرنے سے بالکل قاصر تھا۔ مجھے اِس سارے قضیے میں بوڑھے سے صرف ایک ہی گلہ تھا کہ وہ یہا ں کیا کر رہا ہے۔ ممکن تھا،وہ لوگ اُس بڈھے کو کھینچ کر کسی دوسرے درخت سے باندھ کر ا پنا کام کر لیتے کہ اُسی لمحے کمپنی باغ کا انچارج آگیا۔ اُس نے آتے ہی اُن آدمیوں کو اشارے سے پیچھے ہٹایااور خود اُس کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا،لیجیے ولیم صاحب،اب باہر آجایے،یہ پیپل نہیں کٹے گا۔ پھر اُن لوگوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے،جناب آپ اپنا معاہدہ کینسل سمجھیں۔ مَیں آپ کا بیانہ واپس کرتا ہوں۔ ہم اِس بارے میں دوبارہ کمیٹی بنائیں گے۔ اگر یہ درخت کاٹنے کا فیصلہ ہوا تو سب سے پہلے آپ ہی کو تر جیح دی جائے گی۔ اب قریب تھا،وہ انچارج کے ساتھ بھی اُلجھ پڑتے کہ تماشا دیکھنے والے سب لوگوں نے بھی اَنچارج اور اُس بوڑھے انگریز کی حمایت شروع کردی۔ جب معاملہ طے پا گیا اور یہ بھی طے ہو گیا کہ اِس کھودے گئے گڑھے کی مزدوری بھی ادا کردی جائے گی اور درخت نہیں کٹے گا،تو مجھے ایک گونا خوشی ہوئی۔ اِس کے بعد میں جلد ہی وہاں سے چلا آیا۔ البتہ میرے دماغ میں ایک ہلچل شروع ہو گئی کہ بوڑھا انگریز،جسے کمپنی باغ کا انچارج ولیم کے نام سے پکار رہا تھا،یہ آخر کون ہے؟یہاں کیا کرتا پھرتا ہے؟اِس کا اِن درختوں سے کیا تعلق ہے؟اِس سے بڑھ کر یہ کہ پارک کا انچارج اِسے کیسے جانتا ہے؟مَیں اِن سب سوالوں کے جواب چاہتا تھا،مگر میری ہزار جستجو کے بعد وہ بوڑھا اُس پارک میں دوبارہ دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ مَیں اب کمپنی باغ میں بلا ناغہ اِسی لیے چکر لگانے لگا تھا۔ جب کافی دنوں کی کوشش کے باوجود وہ نظر نہ آیا تو مَیں نے بھی اُسے بھلا دیا۔ البتہ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پیپل کے گرد کھودا جانے والاگڑھا اب پُر ہو چکا تھا اور پیپل کی شاخیں مزے سے ہلکورے لے رہیں تھیں اور پتے کھڑکھڑا رہے تھے۔

دن گزرتے رہے اور مَیں یہ تمام واقعہ فراموش کر گیا۔ اِس واقعے کے تین مہینے بعد میں اپنے دوست اور سکول فیلو احمد شہزاد کے ساتھ،جسے اُس کا اَبا بھی لالہ کہتا تھا،بڑی نہر کا بجلی گھر دیکھنے کے لیے رینالہ چلا گیا۔ جیسا کہ بہت دفعہ پہلے بتایا جا چکا ہے،رینالہ اوکاڑہ کے مضاف میں ہی کئی نہروں کے دامن میں ایک بہت دلفریب اور خوبصورت جگہ ہے۔ جہاں مچلز فروٹ فارم اور انگریزوں کے کئی بنگلے تھے۔ یہاں کی نہریں،باغات،بنگلے،بڑے بڑے اور گھنے درخت چھوٹے سے اساطیری شہر کا نقشہ پیش کرتے تھے۔ اِس جگہ جا کر واقعی ایسے لگتا ہے کہ انسان وکٹورین دور کے بھوت بنگلوں میں آ گیا ہے۔ ہم دونوں وہاں دیر تک سیر سپاٹا کرتے رہے اور نہر کے کناروں پر بیٹھ کر کنول کے پھولوں کے درمیان کُنڈیاں پھینک پھینک کر مچھلیاں پکڑنے کی ناکام کوشش میں لگے رہے۔ جب دو تین گھنٹوں کی مشقت کے بعد مچھلی کی بجائے ایک مینڈک کُنڈی میں پھنسا تو ہمیں بہت کوفت ہوئی۔ ہم نے اپنی کُنڈیاں وہیں پھینکیں اور نہروں کے دونوں پل پار کر کے دوسرے کنارے پر آ گئے۔ اِس جگہ ستگھرہ روڈ کے عین کنارے پر ایک دیسی آئس کریم بنانے والی چھوٹی سی فیکڑی سے دو آئس کریم خرید کر( جو اُس وقت نہائت عمدہ خالس دودھ کی بنتی تھیں اور سستی اتنی کہ ایک روپے کی دو آ جاتی تھیں) وہیں ساتھ والے بڑے برگد کے سائے میں بیٹھ کر کھانے لگے،جس کے نیچے سے ٹھنڈے پانی کی چھوٹی سی ندی گزرتی تھی،جو چھاؤں کو مزید ٹھنڈاکر رہی تھی اور اِس اگست کے مہینے میں برگد کا سا یہ شجر طوبیٰ کی مانند تھا۔ اِس ساری جگہ کا نام نہری کوٹھی سے موسوم تھا۔

نہری کوٹھی اصل میں پانچ چھ چھوٹی چھوٹی کوٹھیوں کا مجموعہ تھا۔ جن کی حیثیت نو لکھی کوٹھی کے سامنے تو کچھ نہیں تھی۔ لیکن موجودہ زمانے کی تمام عمارتوں کے اعتبار سے ابھی بھی جاہ و جلال کی آئینہ دار تھیں۔ یہی وہ جگہ تھی،جو رینالہ شہر کے بالکل سا تھ اور دونوں بڑی نہروں کے کنارے پر واقع تھی۔ اِس کے دوسری طرف مچلز کے وسیع باغات اور فیکڑی ابھی تک اپنے عروج پر تھیں۔ اِن کوٹھیوں کے ارد گرد جامن کے آٹھ نو سو درخت اِس علاقے کو جنت کا منظر بنا رہے تھے۔ البتہ کوٹھیاں مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ اِن میں مسلًی،چوہڑے اور نہائت غریب لوگ آ باد تھے۔ واپڈا نے اِن کی بجلی کے کنکشن بھی کاٹ دیے تھے کہ نہ یہ لوگ بل دینے کے قابل تھے اور نہ ہی اُنہیں بجلی کی خاص ضرورت تھی۔ مختصر یہ کہ ہم بیٹھے وہاں ندی کے پانی میں پاؤں ڈالے آئس کریم کھا رہے تھے کہ اچانک مجھے وہی انگریز بڈھا نظر آیا۔ بوسیدہ سی ہاف بازو کی شرٹ کے ساتھ ڈھیلا ڈھالا سا پاجامہ پہنے۔ سر پروہی ہیٹ تھا،جو غالباً اُس دن کے واقعے کے بعد دھو لیا گیا تھا۔ ہاتھ میں عام سی چھڑی تھی۔ عینک بھی نئی نئی لگ رہی تھی۔ یہ چلتا ہوا مجھے اِس دن سے بھی زیادہ لمبا تڑنگا لگا۔ بڈھے کو دیکھ کر میری پُرانی خواہش جاگ اُٹھی۔ مَیں اُٹھ کر فوراً اُس کی طرف بھاگا اور کچھ ہی قدموں پر اُسے جا لیا۔

اسلام علیکم بابا جی،مَیں نے پیچھے سے ہی اُسے بالکل اُجڈوں کی طرح سلام داغ دیا۔ میرے اِس طرح اچانک اُس کے پیچھے بھاگنے سے شہزاد لالہ کو حیرانی ہوئی۔ اِس سے پہلے کہ وہ میرے اِس عمل کی مجھ سے وضاحت طلب کرتا،مَیں بوڑھے ولیم کے سامنے جا چکا تھا۔ بوڑھامیرے سلام کے ایک دم کے حملے سے تھوڑا سا ٹھٹھک کر رُک گیا،پھر چند لمحے میری طرف دیکھ کر وعلیکم سلام کہا۔ ولیم کا یہ جواب اتنا ملائمت بھرا اور شائستہ تھا کہ مجھے اُس سے مزید بات کرنے کی جرات ہو ئی لیکن وہ سلام کا جواب دے کر رُکا نہیں،مسلسل اُن کوٹھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ مگر یہ رفتاراتنی سست تھی کہ مَیں آسانی سے اُس کا پیچھا کر سکتا تھا۔ میرا دوست،جو ابھی تک وہیں بیٹھا تھا،میری اِس حرکت پر زیادہ دیر غیر جانب دار نہ رہ سکا،اُٹھ کر ہمارے تعاقب میں تیز تیز قدم اُٹھاتا ہوا آگیا۔

بابا جی،آپ کہاں رہتے ہیں؟

شاید اُسے یہ توقع نہیں تھی،مَیں اُس سے مزید سوال کروں گا۔ لہذا اُس نے میرے اِس سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور چلتا رہا،لیکن مَیں خموش نہیں ہوا اور کہا،اُس دن آپ نے کمپنی باغ کا ایک پیپل کٹنے سے بچا کر بہت اچھا کیا۔ اتنا خوبصورت درخت پتا نہیں،وہ کیوں کاٹنا چاہ رہے تھے؟

میرے اِس جملے پر وہ ایک دم چلتے چلتے رُک گیا،پھر بھرپور نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ اِس لمحے مَیں نے دیکھا،اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی تھی۔ وہ کچھ دیر مجھے سر سے پاؤں تک دیکھنے کے بعد بولا،بیٹا وہاں اُس کوٹھی میں آؤ،جس کے صحن میں برگد کھڑا ہے،وہاں بیٹھتے ہیں۔ چند ثانیوں بعد ہم اُس ٹوٹے پھوٹے مکان میں پہنچ چکے تھے،جس کے صحن میں برگد اور جامنوں کے پتوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پتے اِتنے زیادہ بکھرے ہوئے تھے کہ فرش کی زمین اُس میں بالکل چُھُپ گئی تھی اور یہ پتے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے تھے۔ ایسے لگتا تھا،یہاں صدیوں سے کسی نے جھاڑو نہیں دیا،نہ اِس کوٹھی کی دیکھ بھال ہوئی ہے۔ کوٹھی قریب ایک کنال کے رقبے پر بنی تھی۔ اُس کی عمارت تو سات آٹھ مرلوں ہی میں تھی لیکن صحن کو ملا کر ایک کنال بن ہی گیا تھا۔ تمام عمارت انتہائی نفاست اور کاریگری کا عمدہ نمونہ تھی۔ اینٹوں پر پلستر نہیں تھالیکن کسی بھی پلستر شدہ عمارت سے بہتر تھی۔ سُرخ رنگ کی یہ اینٹیں ٹیپ کے ساتھ نہایت سیدھے جوڑوں میں درست کونوں کے ساتھ معماروں کی فنًی دسترس پر گواہ تھیں۔ کمروں کی چھتیں سب کی بیس فٹ اُونچی تھیں،لیکن درمیان میں ایک بڑا کمرا نظر آ رہا تھا،جو غالباً ڈرائنگ روم رہا ہو گا،اُس کی چھت دوسرے کمروں کی چھتوں سے بھی چار فٹ مزید بلند تھی۔ دروازے اور کھڑکیاں بھی سب کے سب ٹاہلی کی سیاہ لکڑی کے تھے لیکن اُن کے تختے بعض بالکل ٹوٹ چکے تھے اور جو نہیں ٹوٹے تھے،وہ اتنے بدحال ہو چکے تھے کہ کسی بھی وقت اپنی چوگاٹھوں سے الگ ہو سکتے تھے،مگر تھے ابھی تک وہ بھی اپنے شاندار ماضی کی گواہی ثبت کرنے والے۔ صحن میں ایک قینچی نما لکڑی کی کرسی اور ایک بوسیدہ سی میز پڑی تھی،جس کا رنگ قریب قریب مٹی کے رنگ سے مل گیا تھا۔ بوڑھا ولیم کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ بہت زیادہ تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ مجھے خواہش پیدا ہوئی،اندر جا کر کمروں کا جائزہ لوں لیکن فی الحال اِس عمل سے یہ سوچ کر باز آگیا کہ نجانے کیاسمجھے۔ چنانچہ ہم دونوں مَیں اور شہزاد اُسی تھڑے پر بیٹھ گئے،جو برگد کے تنے کے ارد گرد بنا تھا اورتنے کو اپنے گھیرے میں لیے تھا۔ جس کا قطر کم ازکم دس فٹ تھا۔ اُس کی جڑیں کئی کئی فٹ تک،کوٹھی کی چھت تک پھیلی ہوئی تھیں اور ڈر تھا،جڑیں چھت کو پھاڑ کر نیچے نہ اُتر جائیں۔ بوڑھا کچھ دیر آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔ گرمی بہت شدید تھی لیکن ہوا نہروں کے اُوپر سے گزرتے ہوئے پانی کا لمس لے کر کوٹھی کے احاطے میں داخل ہو رہی تھی اور اِس انتہائی گھنے برگد کی سیاہی مائل سبز شاخوں سے ٹکرا کر مزید ٹھنڈی ہو کر ولیم اور ہمیں چھو رہی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہم تینوں ایک پُر کیف اور سرور آور فضا میں گم ہوئے کچھ دیر چُپ بیٹھے رہے۔ ہوا کی سرسراہٹ کے ساتھ شاخوں کے لرزنے سے پرندوں کا چہچہانا بڑھ گیا تھا۔ ہوا اور پرندوں کے سوا وہاں ہر طرح کی چپ تھی۔ مجھے محسوس ہوا،بوڑھا ولیم دراصل آرام کرنے کے چکر میں ہے اور ہم خواہ مخوا اُس کو تنگ کرنے کے لیے آگئے ہیں۔ لالہ شہزاد بھی اس کیفیت سے اُکتانے لگا تھا۔ اِس حالت کو دیکھ کر مَیں نے لالے کو کَن اَکھیوں سے اُٹھنے کا اشارہ کر دیا۔ قریب تھا کہ ہم اُٹھ کر چل دیتے،اُسی لمحے وہ دوبارہ بولا،دوست کیا کرتے ہو؟

ہم پڑھتے ہیں۔

ہاں پڑھنا اچھی بات ہے لیکن پڑھ کر کلرک نہ بننا،کوئی ہنر سیکھ لینا۔
ہم افسر بنیں گے۔
مجھے تم سے ہمدردی ہے لیکن پاکستانی افسروں سے میری مراد کلر ک ہے۔ اِس خطے کے لوگ آئندہ تین سو سال تک افسر نہیں بن سکیں گے۔
مجھے بوڑھے کی اِن فلسفیانہ باتوں کی کوئی سمجھ نہ آئی۔ مَیں تو کسی اور چکر میں تھا کہ ُاس کے آگے پیچھے کا پتا چلاؤں۔ مگر یہ تو کچھ دوسری طرح کی باتیں کر رہا تھا۔

چائے پکا لیتے ہو؟
جی ہاں مَیں پکا لیتا ہوں،اب کہ شہزاد لالہ نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا۔
وہ بوڑھے میں دلچسپی لینے لگا تھا۔
دوست،وہ سامنے کچن میں دودھ پڑا ہے۔ چینی اور چائے بھی موجود ہے،اپنے اور میرے لیے چائے بنا لو۔
بوڑھے کی اِس پیشکش کے بعد شہزاد بھاگ کر اندر چلا گیا اور میں وہیں بیٹھا رہا۔
یہ لڑکا آپ کا دوسست ہے یا بھائی؟
دوست ہے،میں نے مختصر جواب دیا۔
آااہ،کبھی یہاں مَیں اور ایشلے اِسی جگہ دوستی کے مزے لیا کرتے تھے۔ بوڑھے نے لمبی آہ کھینچتے ہوئے کہا۔
مَیں بوڑھے کی بات،جس میں قیامت کا درد چھُپا تھا،کو کسی وجہ سے جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور سوال کیا،آپ مجھے انگریز لگ رہے ہیں۔ کیا آپ برطانیہ واپس نہیں گئے؟

نہیں،
ولیم کا جواب مختصر تھا۔ شایدوہ میرے سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیارنہیں تھا۔ زیادہ بولنے سے غالباً اُسے تکلیف ہو رہی تھی۔ اِس لیے اختصار سے کام لے رہا تھا۔
آپ یہیں رہتے ہیں؟
یقیناً اب یہیں رہتا ہوں۔
پہلے کہیں اور رہتے تھے؟
دو سال پہلے اوکاڑہ کی نولکھی کوٹھی میری تھی۔
واہ،وہ آپ کی تھی؟ تو آپ نے اتنی اچھی کوٹھی بیچ کیو ں دی؟

بہت سی چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ تم حالت نزع میں پڑے انسان کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرنے سے انکار کر دے۔

ولیم کے اِس جواب پر میں خاموش ہو گیااور سوچنے لگا،اگر نولکھی کوٹھی اِس بوڑھے کی تھی،پھر تو اِس کے پاس بہت پیسے ہوں گے۔ اِتنی بڑی کوٹھی کم سے کم پر بھی ایک کروڑ سے کم نہ بکی ہو گی۔ مگر یہ اتنی بُری جگہ پر کیوں رہ رہاہے؟

آپ یہاں اِس خراب کوٹھی میں کیو ں رہ رہے ہیں؟ کوئی اچھا سا مکان خرید لیتے۔
مجھے یہی جگہ اچھی لگتی ہے۔

یہ تو کوئی بھوت بنگلہ ہے،مَیں نے نہایت سادگی سے بولنا شروع کیا،آپ کو یہ پُرانی اور ٹوٹی پھوٹی جگہ کیوں اچھی لگتی ہے؟ نہ یہاں بجلی نظر آتی ہے،نہ رہنے کے لیے کسی دوسری سہولت کا نام و نشان ہے۔ یہاں تو رات کو اکیلا بندہ ڈر بھی جاتا ہو گا۔
یہاں میرا دوست ایشلے رہتا تھا،وہ شاعر بھی تھا۔ اگر اُس کا بھوت یہاں ہوتا،تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے مجھے اُس کا بھوت کبھی نظر نہیں آیا۔ اب مَیں یہاں اکیلا ہوں۔

وہ آ پ کا دوست کہاں ہے۔
وہ بیس سال پہلے مر چکا ہے۔ لندن میں۔ مَیں نے اُسے سمجھایا تھا،وہ اُدھر نہ جائے لیکن وہ چلا گیا،اور تین مہینے بعد اُس کے مرنے کی خبر آئی۔ ( کچھ دیر کی خاموشی کے بعد )وہ اِسی گھر میں رہتا تھا۔ (پھر کچھ دیر رک کر) غالباً اُسی بیڈ پر سوتا تھا،جہاں اب مَیں سوتا ہوں۔
بابا جی،آپ کے بیوی بچے نہیں ہیں؟

بوڑھا ولیم،جو آنکھیں مسلسل بند کیے کُرسی پر لیٹنے کی صورت بیٹھا ہوا تھا اور اُس کا ہیٹ جھک اُس کی آنکھوں پر آ گیا تھا،میرے اِس سوال پر اپنی سکون کی حالت سے تھوڑا سا اضطراب میں آیا۔ اُس نے آنکھیں کھولیں،ہیٹ آنکھوں سے ہٹا کر تھوڑا سا پیچھے کیا اور میری طرف دیکھ کر بولا،بچے کیتھی کے تھے،وہ اُنہیں لے کر چلی گئی،اب مَیں نہیں جانتا،وہ کہاں ہیں۔ مجھے لگتا ہے،کیتھی بھی مر چکی ہے لیکن بچوں کو زندہ رہنا چاہیے۔

آپ واپس کیوں نہیں گئے؟
کہاں؟
برطانیہ

اِس قسم کے سوالوں سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ برطانیہ سے میں واقف نہیں ہوں۔ مَیں اِسی علاقے میں پیدا ہوا تھا۔ آپ سے اور آپ کے باپ سے پہلے مَیں اِس جگہ کو جانتا ہوں۔ شاید آپ کا دادا بھی یہاں کا نہیں ہو گا۔ یہ جگہ اُس نے دیکھی بھی نہیں ہو گی۔ جب مَیں اِن سب سے یہاں کا پُرانا رہنے والا ہوں،تو یہاں سے کیوں جاؤں۔

اب مَیں نے اُس سے سوال کرنا بند کر دیا۔ کیوں کہ میری ذہنی استعداد یہیں ختم ہو گئی تھی۔ اتنے میں احمد شہزاد تین کپ چائے لے کر آگیا اور ہم تینوں چائے پینے لگے۔ ولیم نے چائے کا گھونٹ بھر کر مسکراتے ہوئے شہزاد لالے سے کہا،تم نے بہت اچھی چائے بنائی،مَیں تسلیم کرتا ہوں،مجھ سے ایسی چائے نہیں بن سکتی۔

چائے واقعی بہت اچھی تھی۔ چائے پینے کے بعد میری پھر خواہش جاگی کہ کمرں کا جائزہ لوں۔ مَیں نے ولیم سے کہا،بابا جی،میں اِن کمروں کو اندر سے دیکھ سکتا ہوں؟
تمھاری خواہش جائز ہے لیکن مایوسی ہوگی۔
وہ کیوں؟

ایشلے میرا دوست تھا،تمھارا نہیں۔ اُس وقت جب ہم اِن کمروں میں کھیلتے تھے،اُس کی عمر میرے برابر تھی۔ تب ہم آپ سے بہت چھوٹے تھے۔ اِس وقت جتنے آپ ہیں،بہر حال دیکھ لو۔

مَیں اُٹھ کر اندر داخل ہوا تو واقعی مایوس کن حالت تھی۔ سب کمرے بالکل خالی تھے۔ نہ کوئی الماری،نہ فرنیچر،نہ پُرانے وقتوں کی کوئی اور نشانی۔ سوائے ایک چارپائی اور تین چار کرسیوں کے،سب کمروں میں ایک تھکا دینے والا خالی پن تھا۔ سب کا فرش اُکھڑ کر اُن کی اینٹیں تھور اور سیم زدہ ہو رہی تھیں۔ یہ سیم شاید نہروں کے قریب ہونے کی وجہ سے تھی۔ ڈارائنگ روم سمیت اُن کی تعداد پانچ تھی اور ایک باتھ روم،جس میں پانی کے لیے لوہے کا ایک ٹب اور ایک لوٹا بھی موجود تھا۔ مجھے کمروں کی اِس قدر ویرانی دیکھ کر وحشت ہوئی اور مَیں بھاگ کر باہر آگیا۔

بابا جی،آپ کا کوئی سامان نہیں ہے ِ؟ باہر آ کر مَیں بے چینی سے بولا۔
بہت ہے لیکن وہ مَیں نولکھی کوٹھی میں چھوڑ آیا ہوں۔ یہاں خراب ہو جاتا۔
اگر انہوں نے ضائع کر دیا؟

یہاں اُس سے پہلے ضائع ہو جاتا۔ ویسے بھی اب مجھے اُن چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہمیں کافی دیر ہو گئی تھی،شہزاد بھی اُکتا رہا تھا۔ اِس لیے ہم اُٹھ کھڑے ہوئے اور چلنے کی اجازت لی۔ ولیم بھی ہمارے ساتھ کرسی سے اُٹھ پڑا۔ لیکن اب وہ صرف ہمیں رخصت کرنے کے لیے اُٹھا تھا۔

یہ میری ولیم سے پہلی تفصیلی ملاقات تھی۔ اِس کے بعد پھر مَیں جب بھی رینالہ گیا،میرا معمول بن گیا۔ اِدھر اُدھر آوارگی کرتا ہوا ولیم کو ڈھونڈ نکالتا۔ اِس عرصے میں وہ میرا بہت ہی قریبی دوست بن چکا تھا۔ اُس کا وہاں پر ایک اور دوست ایک ڈسپنسر تھا،جو بوڑھے ولیم کی دیکھ بھال کرتا۔ وہ اُس ڈسپنسری میں کام کرتا رہا تھا،جو اُسی دور میں بنائی گئی تھی،جب نہری کوٹھیوں کی آبادی قائم کی گئی تھی۔ ڈسپنسری اصل میں وہاں کے مقیم انگریز فیملیوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ ڈسپنسری کی عمارت بھی انتہائی پُر شکوہ تھی اور ابھی تک اُس کی حالت اچھی تھی۔ اُس میں اب باقاعدہ ڈاکڑ بیٹھتا تھا۔ ڈسپنسر عزیز احمد اِسی ڈسپنسری سے ریٹائرڈ ہوا تھا۔ اب اُس کی عمر بھی پینسٹھ سال سے اُوپر ہو گئی تھی لیکن صحت ابھی تک اچھی تھی۔ ولیم اُس کے ساتھ کافی مانوس تھا۔ یا یہ کہیں کہ ُاس کا سب سے پُرانا جاننے والا تھا اور اُس کی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ عزیز احمد کا گھر کافی کھلا اور بالکل ڈسپنسری کے ساتھ تھا۔ جس کے دائیں ہاتھ وہی آئس کریم کی چھوٹی سی فیکڑی تھی۔ جہاں سے آئس کریم خرید کر کھانا مَیں نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا۔ یہیں سے شاید ولیم اور ڈسپنسر عزیز بھی آئس کریم لے کر کھاتے ہوں۔ لیکن مَیں نے اُنہیں خود نہیں دیکھا۔ ولیم مجھے اکثر اُسی کے پاس ایک لکڑی کی کرسی پر بیٹھا ہوا ملا۔ وہ دونوں آپس میں کافی گفتگو کرتے تھے۔

ساون آیا تو جامن کے پھلوں کا بہت زور ہو گیا۔ چونکہ یہاں جامن کے درخت سیکڑوں کی تعداد میں تھے۔ اِس لیے اُن کا گورنمنٹ کی طرف سے ٹھیکہ ہوتا اور ٹھیکیدار بانسوں والی لمبی لمبی سیڑھیاں درختوں کی شاخوں پر ٹکا کر،ہر وقت پھل توڑنے میں مصروف رہتے۔ اِس طرح یہ ایک مہینہ خوب رونق رہی اور بارشوں نے بھی بڑا اودھم مچایا۔ مَیں بھی جامن کھانے کے لیے ہرروز وہاں جا نکلتا۔ کبھی اکیلا اور کبھی کسی دوست کے ساتھ۔ ولیم سے میری ملاقات بھی روز ہونے لگی۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ وہ روز بہ روز کمزور ہوتا جا رہاہے۔ اِس عرصے میں وہ مجھ سے کافی زیادہ کھل گیا اورمَیں قریب قریب سب کچھ اُس کے بارے میں جان گیا۔ کچھ اُس نے خود بتا یا،کچھ ڈاکڑعزیز احمد نے،باقی مَیں نے اِدھر اُدھر کے ذرائع سے معلوم کر لیا۔ مَیں یہ بھی جان گیا تھا،نولکھی کوٹھی ولیم نے بیچی نہیں،اُس سے چھینی گئی ہے۔ وہ بھی ایک ایسے شخص نے،جس کے خاندان کے بارے میں اب کوئی پردہ نہیں رہ گیا تھا۔ مجھے ولیم سے ہمدردی ہوگئی تھی۔ لیکن اُس کے لیے کچھ بھی کر نہیں سکتا تھا۔ ہاں ایک بار مَیں اور میرے دوست شہزاد لالہ نے اُس کے بھوت بنگلے کو صاف کرکے پتوں کو آگ لگا دی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ دسمبر کے آخری دن تھے۔ اُس دن کُہر یا دُھند تو نہیں تھی لیکن سردی ایسی کڑاکے کی،کہ ہاتھ چادر سے باہر نکالتے ہی برف کی طرح جم جاتے۔ اُس پر اُڑا دینے والی ہوا کے جھونکے تھے،جو نہر کے پانی کی سطح سے ہو کر اور بھی ٹھنڈے ہو جاتے اور منہ پر سرد تھپیڑے لگاتے ہوئے دوسری سمت کے درختوں اور مکانوں سے جا ٹکراتے۔ نہر کا پانی بھی اتنا صاف تھا کہ تہہ میں بیٹھی ہوئی ہر چیز نظر آرہی تھی۔ پانی کی سطح پر ہوا کے دباؤ سے لہریں بن بن کر تیرتی ہوئی نکل جاتیں،جو اِس قدر دلفریب تھیں کہ انسان دیکھتا رہ جائے۔ ایسے میں برگد کے سوا تمام درختوں کے زرد پتے نہر کی پٹڑی اور سڑکوں پر گر گر کے دوڑتے اور شور مچاتے ہوئے کبھی ایک طرف کو اور کبھی دوسری طرف کو سرکتے دور تک چلے جاتے۔ لوگوں نے سویٹر اور جرسیوں کے سا تھ اپنے اُوپر چادریں بھی لپیٹی ہوئی تھیں۔ ٹانگوں کا اڈا نہر کے پُل کے دائیں طرف تھا۔ وہاں ہر وقت تین چار ٹانگے کھڑے ہوتے تھے،جو شہر کی سواریاں ارد گرد کے گاؤں سے لاتے اور لے جاتے۔ ٹانگوں کے اڈے سے لے کر آئس کریم کی فیکڑی تک کہیں نہ کہیں آگ بھی جل رہی تھی اور دو دو چار چار لوگ اُسے بیٹھے سینک رہے تھے۔ خاص کر ٹانگے والے اپنے گھوڑوں کے آگے دانہ ڈال کر اور چادریں اوڑھ کر مسلسل کوئلے تاپ رہے تھے۔ اِس حالت میں کسی کو بھی اِس بات سے غرض نہیں تھی کہ موسم کی دلفریبی سے لطف لیا جائے۔ یہی موسم میرے لیے قیامت کی کشش رکھتا تھا۔ مَیں اِن تمام لوگوں اور کام میں مصروف یا آگ تاپنے والوں کو نظر انداز کر کے سیدھا نہر کے کنارے کنارے جامنوں کے درمیان کی روشوں پر چلتا چلا گیا اور تیزہواکے جھونکوں میں دوڑتے زردپتوں سے لطف اندوز ہوتا جا رہا تھا۔ یہ وقت ایک بجے کا ہو گا۔ کیونکہ نہر کے پہلے پُل کے دائیں کنارے پر موجود سفید رنگ کی چھوٹی مسجد والے موذن نے ابھی ابھی ظہر کی اذان دی تھی۔ میرے جسم پر اُون کی ایک بڑی اور موٹی چادر کے ساتھ نیچے ہاتھ کی بنی ہوئی اُونی سویٹر بھی تھی۔ یہ اُس وقت کا زمانہ ہے،جب ولیم کو نولکھی کوٹھی چھوڑکر نہری کوٹھی میں آباد ہوئے تین سال ہوچکے تھے۔ اُس سے میری متواتر ملاقاتوں کو بھی ایک سال ہو چلا تھا۔ اِس دوران مجھے اُس سے جو کچھ معلوم ہوا،مَیں اُسے اپنی یادداشت میں محفوظ کرتا گیا۔ میرے لیے یہ بات مسلسل گھبراہٹ کا سبب تھی کہ وہ تیزی سے کمزرو ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی اُس کی زندگی دنوں کی بات لگتی تھی لیکن اُس کی آوازمیں ابھی تک وہی جان تھی۔

یہ انیس سو نواسی کی سردیوں کا زمانہ تھا اور ولیم کم وبیش اسی سال کا ہو چکا تھا۔ اُس کو اِس دفعہ کی گرمی نے وہ ضرب لگائی تھی کہ اگست کے آخری دنوں میں اُسے لو لگ گئی،جس نے اُس کا کچومر نکال کے رکھ دیا۔ وہ تو بھلا ہوڈسپینسر عزیز احمد کا،جس نے بروقت علاج کر کے اُسے موت کے منہ سے نکالا۔ لیکن اِس دھچکے نے اُسے نڈھال کر دیا اور وہ حد سے زیادہ کمزور ہو گیا۔ ایک دن مَیں اُس کے اُسی بوسیدہ مکان پر پہنچا،جسے اب مکان کہنا وضع داری ہو سکتی تھی۔ صحن سے ہوتے ہوئے،جو پہلے کی طرح زرد پتوں اور چھوٹی چھوٹی سوکھی ہوئی شاخوں سے بھرا پڑاتھا،کمرے کے سامنے پہنچ گیا تھا۔ صحن کی ویرانی اور ہوا کی تیزی سے مَیں نے اندازہ لگالیا تھا کہ ولیم اندر بستر میں دُبکا پڑا ہو گا۔ مَیں نے ہلکا سا دروازے کو کھٹکھٹایا لیکن اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ دستک دی تو ایک نحیف سی آہ سنائی دی۔ مَیں دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ دیکھا تو ولیم چارپائی پر سیدھا لیٹاہوا ہے۔ اُس کے اُوپر کمبل تھا،لیکن وہ اِتنا گندا اور بدبودار تھا کہ مجھے ہاتھ لگانے سے بھی کراہت ہوئی۔ مَیں نے ایک بار سوچا،ایسے ہی پلٹ جاؤں،لیکن پھر کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد غیر ارادی طور آگے بڑھ کر ہلکا سا کمبل اُوپر اُٹھا دیا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ اِس لیے پہلے مرحلے میں ولیم کا چہرہ دکھائی نہ دیا۔ لیکن آہستہ آہستہ ہر چیز آنکھوں کے لیے مانوس ہونے لگی۔ اِس کمرے میں میری ولیم کے ساتھ اب کئی ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ اِس لیے مجھے معلوم تھا،لال ٹین کہاں ہے اور کچن یعنی چولہا کس جگہ ہے؟مَیں نے اندازے کے مطابق آگے بڑھ کر لالٹین ڈھونڈ نکالی اور اُسے جلانے کے لیے ماچس تلاش کرنے لگا۔ اُسی لمحے ولیم کی آوا ز سنائی دی،کیتلی کے ڈھکن کے اُوپر پڑی ہے۔ مجھے ولیم کی آواز سن کر ایک گونا سکون ہوا کہ ابھی نہ صرف زندہ ہے،بلکہ حواس بھی کام کر رہے ہیں۔ لال ٹین روشن کر کے ولیم کے پاس آیا،وہ بخار سے تپ رہا تھا۔ مَیں نے کچن کی طرف جا کر دیکھا،وہاں کیتلی میں کچھ دودھ اور ڈبل روٹی پڑی تھی۔ اُس کے پاس ہی کچھ دوائیاں بھی موجود تھیں۔ کچھ ہی دیر بعد مَیں دودھ گرم کر کے بریڈ کے ساتھ ولیم کے سامنے لے آیا۔ وہ میری طرف دیکھ کر آہستہ سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ دس پندرہ منٹ بعد مَیں نے اُسے صحن میں آگ جلا کر کرسی پر بٹھا دیا۔ ولیم آگ تاپنے لگا تو میں صحن سے باہر نکل کر سیدھا ڈسپنسر عزیز احمد کی طرف گیا اور اُسے تمام حالت کی خبر کی۔ عزیز احمد نے مجھے ساتھ لے کر دوبارہ ولیم کے پاس جانا چاہا لیکن نہ جانے کیوں میرا وہاں جانے کو جی نہ چاہا۔ میں نے کہا،ڈاکٹر صاحب،مجھے جلدی گھر جانا ہے،آپ جا کر اُسے دیکھ لیں۔ اِس واقعے کے بعد مَیں جان بوجھ کر کئی دن وہاں نہیں گیا۔ اِس کی وجہ مجھے بھی معلوم نہیں۔

آج مَیں پھراِن ٹھنڈی ہواؤں کا لطف لیتے ہوئے غیر ارادی طور پر اُس طرف بڑھ رہاتھا،مگر جیسے ہی اُس کوٹھی پر پہنچا وہاں اور ہی رنگ تھے۔ مسلًیوں کے بچے صحن میں اُچھل کود رہے تھے۔ ذرا غور کیا،تو پتا چلا وہاں کوئی اور ہی خاندان آباد ہے۔ مَیں نے جائزہ لینے کے لیے بھرپور نظر ماری لیکن مجھے ولیم نظر نہ آیا۔ بالآخر اُنہی میں سے ایک آدمی سے پوچھا،

‘یہاں ایک بوڑھا انگریز تھا،وہ کہاں ہے؟’

اُس نے انتہائی لاپروائی سے جواب دیا،کاکااُسے توفوت ہوئے بھی ہفتہ ہوگیا۔ پنج چک کے عیسائی اُسے اُٹھا کر لے گئے ہیں۔ وہیں کے گرجا گھر میں اُس کی قبر ہے۔

اُس کالے اور چیچک زدہ چہرے والے اَدھیڑ عمر آدمی کا جواب سن کر مَیں وہیں سے واپس ہو گیا۔ موسم خوبصورت اور ٹھنڈا تھا۔ میں نے اُس سے مزید بات کر کے لطف کو غارت کرنا مناسب نہ سمجھا اور نہر کے کنارے کنارے ہواؤں کے لمس لیتا ہوا پل پر آگیا۔ کچھ دیر اُنہی ٹانگے والوں کے پاس کھڑا رہا۔ وہاں چند لمحے رُکنے کے بعد واپس دیسی آئس کریم بنانے والی فیکٹری پر آیا۔ ایک آئس کریم لی اور بھری ٹھنڈ میں کھانے لگا۔ حالانکہ سردی کی وجہ سے میری ناک سُرخ ہو گئی تھی اور اُس سے پانی بہنے لگا تھا۔ آئس کریم بہت مزے کی تھی۔ دُور تک مکئی اور سرسوں کے وسیع کھیت آسمان تک پھیلے ہوئے تھے،نہروں کا پانی چل رہا تھا،جامنوں کی شاخیں ہل رہی تھیں،پیپلوں اور برگدوں کے بھاری پیڑمست ہاتھیوں کی طرح جھول رہے تھے اور درختوں سے زرد پتے مسلسل گر رہے تھے،جنہیں ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے سڑکوں پر اِدھر اُدھر دوڑا رہے تھے۔ ہر چیز ویسی ہی خوبصورت تھی،جیسی پہلے تھی۔ کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔

اگرچہ جرمن نے ہماری ہڈیوں سے گودا کھینچ لیا ہے لیکن ہمیں پھر بھی لنگڑانے کی اجازت نہیں۔ سبک روی سے چلنے میں تکلیف تو ہو گی،مگر آنے والے حادثوں کے پیش نظر اسی چال کو برقرار رکھنا ہے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیتیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(۵۵)
دسمبر کا آغاز ہو چکا تھا۔ جاڑے نے دُھند اور کُہر کے پر پھیلا کر ہر شے اپنے حصار میں لے لی۔ خاص کر نہروں کے درمیانی خطے میں یہ کُہر اتنا زیادہ تھا کہ کبھی تمام دن نکل جاتا،مگرسورج کو ایک لمحے کے لیے بھی منہ دکھانے کو راستہ نہ ملتا۔ بس دُھند کے غبار تھے،جو اُتر رہے تھے اور چڑھ رہے تھے اور انسانوں کی آنکھیں گویا سائبیریامیں جا پہنچیں تھیں،جو سفید سایوں کے سوا کچھ نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ ولیم ایسی حالت میں زیادہ سے زیادہ یہ کرتا کہ کمرے سے نکل کر کچھ دیر کے لیے کوٹھی کے صحن میں آجاتا،جو ایک ایکڑ تک پھیلا ہوا تھا۔ کبھی آموں کے باغ کا بھی ایک آدھ چکر لگا لیتا۔ یہ باغ اُسے اِتنی دھند میں نظرتو نہیں آتا لیکن محسوس ضرور ہوتاتھا۔ اِس کے علاوہ اُس کی آمدو رفت ہر جگہ بند ہو چکی تھی۔ آج دُھند تو موجود تھی لیکن اُس میں اتنی شدت نہیں تھی اور یہ پورے پندرہ دن بعد ہوا تھا۔ ولیم نے کمرے سے نکل کردیکھا،سورج سر پر آچکا تھا اور مدھم دھوپ ٹھنڈی گھاس کو ہلکے ہلکے تھپتھپا رہی تھی۔ لیکن گھاس ابھی گیلی تھی۔ ولیم اپنی کرسی صحن میں لگا کر بیٹھ گیا اور اُس اَندھی دھوپ کو غنیمت جان کر سینکنے لگا۔ کچھ عرصے سے اُس کے ہاتھ میں بید کی بجائے عصا آچکا تھا۔ اُس نے وہ عصا ایک طرف بینچ کے ساتھ لگا دیا۔ سر پر اُون کی ٹوپی جو اَب کافی میلی ہو چکی تھی،کے اُوپر چوڑے کناروں کا ہیٹ اچھی طرح سے جما لیا تھا۔ کرسی پر بیٹھ کر ولیم نے،جہاں تک نظر جا سکتی تھی،اِس دُھندلائے ہوئے منظر کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اُس کی نظر پہلے سے کہیں زیادہ کمزور تھی اور عینک کے شیشے بھی اِتنے پرانے ہوگئے تھے کہ اُن کو صاف کرکر کے گھسا دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے واضح اور صاف دکھائی نہ دیتا تھا۔ پھر بھی اُسے بہت ساری چیزیں ویسی ہی نظر آ رہی تھی،جیسی اُس کے بچپن میں تھیں۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا،وہی آموں کے باغ،وہی کوٹھی،وہی نہریں اور وہی دور تک آلو،مکئی اور کماد کے کھیتوں کا سلسلہ تھا۔ کوٹھی کے صحن کے ایک کنارے پر کھڑا پیپل کا درخت بھی ویسا ہی تروتازہ تھا،آلووں کی فصلیں اور بیلیں سخت دُھند سے بہت حد تک سڑ گئی تھیں۔ مگر یہ واقعہ بھی ہر سال اُسی طرح سے ہوتا تھا۔ اگر پورے منظر میں کوئی شے بدلی تھی تو وہ خود ولیم تھا۔ وہ مسلسل اورمزید تیزی سے بدل رہا تھا۔ نہ صرف یہ کہ بدل رہا تھا،بلکہ جیسے جیسے وقت آگے بڑھ رہا تھا،وہ اپنی ذات سے بے نیاز بھی ہوتا جارہا۔ حتیٰ کہ مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت اور قصہ خوانی کی محفلیں بھی ایک عرصہ ہواچھوڑ دیں تھیں۔ اِس حالت میں تمام نوکر بھی ایک ایک کر کے رخصت ہوچکے تھے۔ شاید اُنہوں نے اندازہ لگا لیا تھا،ولیم کی نقد پونجی اب اِس قابل نہیں رہ گئی کہ اُس پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ کیونکہ ذرائع آمدن تو کبھی کے ختم ہو چکے تھے۔ جب ذرائع نہ رہیں،تو دولت کے کنویں بھی ساتھ نہیں دیتے۔ یہی وجہ تھی،اُس کوٹھی کے صحن میں بڑی بڑی گھاس اور کمروں میں چیزیں گردسے اٹی جا رہی تھیں،جن کو صاف کرنے والا شاید اب کبھی نہیں آنا تھا۔ اِن چیزوں کے علاوہ ولیم نے بولنا اور بات کرنا بھی کم کردیا۔ پچھلے چھ مہینے سے مسلسل خاموشی نے اُسے اپنی ذات میں اِتنا داخل کر دیا کہ سب کی پروا کرنا چھوڑ دی۔ حتیٰ کہ اپنے جسم کی خارجی ہیئت کو بھی نظر انداز کر دیا۔ کئی کئی دن کپڑے نہ بدلتا۔ کئی کپڑے تو اب پانچ پانچ سال پُرانے ہو گئے تھے۔ یہ پرانے کپڑے پہلے دھوبی کے ہاں سے باقاعدہ دُھل کے آتے تھے مگر اب یہ تکلف بھی جاتا رہا تھا اور وہی میلے کچیلے کپڑے پہن کر ادھر اُدھر پھرتا رہتا۔ کبھی تو سارا سارا دن باہر ہی گزار دیتا اور آدھی رات کے وقت جاکر کوٹھی میں داخل ہوتا۔

اوکاڑہ شہر میں،رینالہ شہر اور اسی طرح دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پھرتا رہتا۔ ولیم کی اِس آوارہ گردی سے اِن علاقوں کا قریب قریب ہر شخص جان گیا تھا کہ یہ کون ہے۔ اِسی آوارگی میں ولیم کے کئی دوست بھی بن چکے تھے،جو اُسے چائے پلا دیتے،اگر رات رہنے کی کہیں ضرورت ہوتی،تو وہ چارپائی اور کھانے کا بندوبست بھی کر دیتے۔ اگر دور نکل جاتا تو وہ کئی دن کوٹھی پر واپس نہ آتا۔ مگر یہ باتیں گرمیوں کی تھیں۔ سردیوں میں عمر کے اِس حصے میں وہ یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے پچھلے ایک مہینے سے کلیانہ اسٹیٹ اور شہر سے باہر نہ نکلا کیونکہ بڑھاپا،نزلے،بخار اور دوسری چھوٹی موٹی بیماریوں کے ذریعے اپنے اثرات بھی دکھانے لگا تھا۔ پچھلی سردیوں کی بات ہے نمونیے سے مرتے مرتے بچا تھا۔ ناشتا اور کھانااکثر اوقات ولیم کے ایک پُرانے نوکر کے ہاں سے پک کر آجاتا،جو اَب اُس کا نو کر تو نہ رہا تھا لیکن مروت کا پُرانا رشتہ ابھی بھی قائم تھا اورولیم کی کوٹھی کے پچھواڑے ہی میں رہتا تھا۔ اُس نے کر کرا کے اپنی تین ایکڑ زمین بنا لی تھی اور کچھ زمین برگیڈئر صاحب کے منشی سے راہکی پر لے کر کاشت کرتا تھا۔ وہ اُس میں سبزیاں وغیرہ اُگاتا،پھر اُنہیں شہرمیں بیچ کر گھر کا گزارہ چلا رہاتھا۔

ولیم کُرسی پر کافی دیر اُسی طرح بیٹھا،اِس نکمی دھوپ میں اپنے آپ کو ٹھٹھراتا رہا کیونکہ مسلسل کمروں میں بند رہنے سے اُسے آج گھبراہٹ ہو گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر دو چار قدم تک چہل قدمی بھی کرلیتا۔ ولیم کو اس حالت میں دو گھنٹے ہوگئے۔ حتیٰ کہ سورج پھر دُھند کی دبیز تہوں میں دب گیا اور اندھیر سا چھا گیا۔ اب ولیم اُٹھ کر کوٹھی کے پچھواڑے فارم کی طرف چلا گیا،جو کبھی اُس کا اپنا تھا۔ اب اُس کا مالک ایک ریٹائرڈ برگیڈیئر تھا،جو خود تو وہاں نہ رہتا تھا۔ لیکن اُس کے مزارعوں کے گھر موجود تھے۔ اُن کے ولیم کے ساتھ اچھے مراسم بھی تھے،جن میں اُس کا وہی پُرانا ملازم بھی تھا۔ ولیم کو دیکھ کر ایک لڑکا بھاگ کر آگے بڑھا اور لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ جلانے لگا۔ دوسرے آدمی نے ایک چار پائی اُٹھا کر اُس آگ کے پاس رکھ دی۔ جب آگ کا الاؤ روشن ہو گیا تو ولیم چارپائی پر بیٹھ گیا اور جلتی ہوئی آگ سے ہاتھ تاپنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہی آدمی چائے اور روٹی اور روکھا سوکھا سالن،جو آلوؤں کی بُھجیاپر مشتمل تھا،لے کر آ گیا۔ ولیم نے عین پنجابیوں کی طرح چارپائی پر چوکڑی مار کر کھانا شروع کر دیا۔ اِس طرح کھانا کھلانے یا چائے پلانے میں اب مقامی لوگوں کے اندر لالچ کا کوئی مادہ نہیں تھا اور نہ کوئی احسان کا جذبہ کار فرما تھا۔ بلکہ یہ ایسی خدمت تھی،جس کا معاوضہ صرف شکریے پر ختم ہوجاتا،جو ولیم نے کبھی زبانی نہیں کیا تھا۔ شاید دل میں اُس کی گواہی موجود ہو۔ بعض اوقات ولیم کے لیے کئی گھروں سے اکٹھا چائے اور کھانا آجاتا،جسے وہ کبھی واپس نہ کرتا اور اُس وقت کے لیے ذخیرہ کر رکھتا جب کہیں سے نہ آتا۔ کیونکہ اِس طر ح کے مواقع اکثر پیش آ جاتے تھے۔ جب ہفتہ ہفتہ کسی کے گھر سے کچھ نہ آتا۔ کھانا کھا کر اور چائے پی کر ولیم بہت دیر تک وہیں بیٹھا آگ تاپتا رہا۔ اُسے یہ آگ اِتنا سکون دے رہی تھی،جیسے ولیم کی زندگی کی آخری اور پہلی خواہش یہی تھی،جو پوری ہو گئی تھی۔ پاس تین چار آدمی اور بھی بیٹھے آگ جلاتے رہے اور تاپتے رہے۔ اِس دوران وہ بہت سی باتیں فصلوں کے متعلق،اپنے کام کے متعلق،اپنی رشتہ داریوں کے متعلق،کچھ جگ بیتی غرض بہت کچھ کہتے رہے،جنہیں ولیم سنتا تو رہا لیکن بولا ایک لفظ بھی نہیں۔ ولیم کو اِن بے معنی اورمعصوم باتوں کے سننے کی عادت سی ہو گئی تھی،جن کا نہ اُسے کچھ فائدہ تھا اور نہ نقصان۔ ہاں اِن باتوں کے ذریعے سے اُن لوگوں کے گھریلو جھگڑے،شادی،غمی اور معاشی حالات سے بخوبی واقف ہوگیا تھا۔ ولیم کو اِسی حالت میں رات کے دس بج گئے اور وہ اُٹھ کر کوٹھی میں چلا گیا۔

اگلے دن ولیم ابھی اپنے بستر میں ہی تھا کہ باہر سے کچھ شور شرابے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ آوازیں بالکل قریب کوٹھی کے صحن سے آتی محسوس ہو رہی تھیں۔ ولیم حیران تھا کہ یہ کیا ہے؟رات جب وہ بستر پر گیا تھا،تو کوٹھی کے صحن کے سب دروازوں کو اُس نے اپنے ہاتھوں سے تالے لگائے تھے۔ پھر صبح سویرے صحن میں یہ کیا ہڑبونگ مچ رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے اپنی چھڑی پکڑی،سر پر اُونی ٹوپی جمائی اور بغیر چادر اوڑھے صحن میں آ گیا۔ دیکھا تو کئی آدمی ایک ٹریکڑٹرالی سے نیچے اُتر کر صحن میں گھوم رہے تھے۔ ارد گرد سے کوٹھی کا جائزہ لے رہے تھے اور شور شرابہ کر رہے تھے۔ پولیس کی ایک گاڑی میں چھ سات سپاہی بھی آئے تھے۔ ان کے علاوہ ایک دو کاریں تھیں لیکن اب تمام لوگ گاڑیوں سے باہر نکل کر صحن میں آگئے تھے۔ ولیم نزدیک پہنچا تو ایک شخص آہستہ رفتار سے آگے ہو کر اُس کی طرف بڑھا اور ایک فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،ولیم صاحب،میں یہاں کا علاقہ مجسٹریٹ ہوں،آپ اِن کاغذات پر دستخط کر دیں کہ یہ کوٹھی آپ ابھی خالی کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ پنجاب نے یہ کوٹھی جناب سید شمس الحق گیلانی کے نام الاٹ کر دی ہے۔ آپ اپنا جو کچھ سامان اُٹھا کر لے جانا چاہتے ہیں،اُس کی اجازت ہے۔

اُس شخص کے یہ الفاظ سن کر ولیم کے اوسان گویا بالکل جاتے رہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ جیسے کسی نے سر پر ایک زور دار ضرب لگائی ہو۔ اگرچہ اِن پہلے جملوں کے بعد بھی اُس نے ولیم کو دوچار باتیں کیں لیکن وہ اُس نے بالکل نہیں سنیں،بس مجسٹریٹ کے ہونٹ ہلتے دکھائی دے رہے تھے۔ ولیم پر یہ سکتہ کچھ ہی لمحوں تک جاری رہا۔ وہ فوراً اُس کیفیت میں داخل ہو گیا،جہاں ہر چیز نہ چاہتے ہوئے بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔

ولیم کے اوسان جب پہلے جھٹکے سے بحال ہوئے تواُس نے مجسٹریٹ کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے سوال کیا،کیا ایسا ہو سکتا ہے مجھے کچھ دِنوں کی مہلت دے دی جائے۔؟

سوری ولیم،وہ دوبارہ بولا،میری معلومات کے مطابق آپ کو تین بار اِس کے متعلق اطلاع دی جا چکی ہے۔ اِس لیے اب وقت نہیں۔
ولیم بخوبی سمجھ رہا تھا،یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اُسے اس معاملے میں مکمل بے خبر رکھا گیا تھا۔ اگر اس وقت مجسٹریٹ تین مرتبہ کے نوٹس کی بات کر رہا تھا تو کاغذات میں یہ خانہ پُری ضرور کر لی گئی ہو گی۔ اِس لیے اب اُس سے مزید تکرا ر بھی فضول تھی۔ اِدھر سردی اور کُہر کے ساتھ ہوا بھی چلنے لگی تھی۔ جس کی وجہ سے ولیم کا اِس حالت میں گرم چادر کے بغیر کھڑے رہنا خود کشی کے مترادف تھا۔ اُس نے جلدی سے ایک اور سوال کیا،میرا بہت سا سامان اِس وقت یہاں موجود ہے،جسے میں ابھی اُٹھانے سے قاصر ہوں۔ آپ اگر آج کا دن رُک جائیں یا فی الحال میرا سامان ان سردیوں تک یہیں پڑا رہنے دیں یا مجھے ایک بار شمس الحق سے ملاقات کر لینے دیں،پھر آپ جو کارروائی چاہیں، کریں۔

سردی کی شدت،ولیم کا بڑھاپا اور سب سے بڑھ کر بُرد باری سے پیش کی گئی زبانی درخواست نے مجسٹریٹ کو انتہائی متاثر کیا۔ اُسے توقع تھی،ولیم اِس حکم کو سنتے ہی آپے سے باہر ہو جائے گا۔ چیخ وپکار کے ساتھ واویلا شروع کر دے گا اور دیواروں سے لپٹ جائے گا۔ اُنہیں گالیاں دے گا۔ پنجاب حکومت،بیوروکرسی،سیاست دان اور پاکستانی عوام کو بُرا بھلا کہے گا۔ جس کی وجہ سے وہاں دیر تک بدمزگی پیدا ہو گی۔ نتیجے میں اُسے زبردستی اُٹھا کر باہر پھینکنا پڑے گا۔ لیکن جب یہ سب کچھ نہ ہوا تو مجسٹریٹ نے سب لوگوں کو حکم دیا،وہ کچھ دیر کے لیے باہر چلے جائیں۔ سب نکل کر سڑک پر کھڑے ہو گئے تو مجسٹریٹ ولیم کو کاندھے سے پکڑکر کوٹھی کے دالان کی طرف لے گیا۔ وہاں انتہائی بوسیدہ کرسیوں میں سے ایک پر ولیم کو بیٹھنے کے لیے کہا اور دوسری پر خود بیٹھ گیا۔ پھر کچھ لمحے خموشی سے گزر گئے۔ اِس کے بعد مجسٹریٹ بولا،ولیم صاحب ایک بات طے ہے،اب کوٹھی آپ کو چھوڑنا پڑے گی۔ اِس بارے میں دو رائے نہیں رہیں۔ رہا آپ کو وقت دینے کا معاملہ،وہ مَیں اپنی طرف سے آپ کی شرافت کی وجہ سے دودن کا دے سکتا ہوں۔ اُس کے بعد مَیں بے بس ہوں۔ میرا مشورہ یہ ہے،اپنے سامان کو اُٹھا کر کسی دوسری جگہ ٹھکانے لگانے کی کوشش کریں۔ کوٹھی نہ آپ سے اب بچ سکے گی،نہ آپ اِس میں وقت ضائع کریں۔ ابھی آپ ٹھنڈے دل سے اپنے گرم بستر میں جائیں،کچھ دیر لیٹ کر یہ سوچیں،آپ کو کہاں منتقل ہونا ہے اور سامان کہاں رکھنا ہے؟ مَیں جا رہا ہوں اور جمعہ کے روز بارہ بجے آؤں گا۔ اِتنا کہا کر مجسٹریٹ اُٹھ کھڑا ہوا اور جیسے ہی چلا،ولیم کی آواز سنائی دی،مسٹر سنیے۔
جی،مجسٹریٹ نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا۔

آپ دیکھ رہے ہیں،مَیں اتنا بوڑھا ہو گیا ہوں کہ اِس لکڑی کے بغیر چلنے میں میرے گھٹنے درد کر تے ہیں۔ کاندھے پر چادر پھیلانے کے لیے ہاتھ اُٹھاؤں تو بازؤوں کے سِرے کانپ اُٹھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مَیں اس ملک میں اِتنا اجنبی ہوں کہ میری پُرسش کو اِس وقت ایک چیونٹی تک نہیں آئے گی۔ پھر آپ یہ پولیس کس لیے لائے تھے؟

مجسٹریٹ ولیم کے اِس چبھتے ہوئے سوال پر لرز کے رہ گیا۔ بڈھے نے کتنی کڑواہٹ کے ساتھ اُس کی توہین کی تھی۔ اُ س کی سمجھ میں نہ آیا،وہ اس سوال کا کیا جواب دے۔ وہ تھوڑا سا آگے بڑھا اور ولیم کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا،ولیم آپ بہت معقول آدمی ہو۔ سول سروس میں رہے ہو۔ اگر میں آپ کے اس سوال کا جواب نہ بھی دوں تو مجھے معاف کرنا۔ یہ کہہ مجسٹریٹ جلدی سے باہر نکل گیا۔ اُس کے بعد تمام گاڑیاں اور لوگ رخصت ہونے لگے۔ سب کے بعد ٹریکٹر سٹارٹ ہوا،جس کی آواز نے دور تک ولیم کا پیچھا کیا۔ آج پہلی بار اُس نے محسوس کیا،کٹریکٹر کی آواز انتہائی کرخت اور شور پیدا کرنے والی ہے۔ وہ حیران تھا،اِس سے پہلے اُسے اس مشینری کی آواز اتنی بیہودہ کیوں نہیں لگی؟

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بتیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(54)

اوکاڑہ تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کے آتے ہی کمپلیکس میں تبدیلیاں رونما ہو نے لگیں۔ یہ شہر منٹگمری کی سب سے بڑی تحصیل تھی،جو ایک طرف ہیڈ سلیمان کی تک پھیلی تھی،تودوسری طرف اِس کا رقبہ قادر آباد تک تھا۔ جبکہ شمال میں دریائے راوی تک چلی جاتی تھی۔ جتنا زیادہ اِس کا رقبہ تھا،اُسی قدر آبادی اور زرعی لحاظ سے پنجاب کی تمام تحصیلوں کی نسبت خو شحال بھی تھا۔ ہر طرف بہتی نہریں اور چلتے پانیوں میں لہلہاتی فصلیں بہار آباد کا منظر پیش کرتی تھیں۔ شہر کی حالت بھی اس کے مضافات کی طرح اپنی مثال آپ تھی۔ پورا شہر ایک منصوبہ بندی کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ ایسا نہیں کہ جس نے جہاں چاہا اپنا جھونپڑا کھڑا کر لیا بلکہ بڑی اور کھلی سڑکیں بچھا کر اُن کے درمیان ترتیب کے ساتھ بلاک بنائے گئے تھے۔ شہر کے درمیان ایک بڑا گول چوک تھا۔ جس کے چاروں طرف پیپلوں کے درخت لگا کر سائے کا انتظام کیا گیا۔ اِسی طرح پورے شہر میں بھی سڑکوں کے دونوں جانب ہزاروں درخت،پیپل،برگد،نیم،شیشم اور جامنوں کے لگائے تھے۔ اِن کے علاوہ کمپنی باغ،پہلوانوں کا باغ،سائیں گھوڑے شاہ کا تکیہ،اور تلج ہائی سکول کے باغات بھی اپنی مثال آپ تھے۔ اِن باغات اور پارکوں کے علاوہ شہر کے درمیان،شمال اور مضافات میں بہنے والی نہریں اور نہروں کے کناروں پر بے شمار درختوں نے اِس کے حسن کو مزید دوچند کر دیا تھا۔ شہر کی سڑکوں پر اِتنا سایہ تھا کہ اُن میں سے ایک سڑک کا نام ہی ٹھنڈی سڑک رکھ دیا گیا۔ اِسی طرح تحصیل کمپلیکس بھی درختوں کی چھاؤں میں ایسے ڈھانپاجا چکا تھا کہ دھوپ کا نام و نشان نہیں تھا۔ بلکہ لوگوں کو سردی میں بہت تنگی ہوتی تھی۔ سردیوں کے دنوں میں آنے والے سائلین کو دھوپ میں بیٹھنے کو جگہ نہ ملتی۔ اگرچہ اِس شہر کی بہت سی چیزیں پاکستان بننے کے بعد برباد ہو چکی تھیں اور شہر کی آب و تاب ویسی نہ رہی تھی،جیسی برٹش دور میں تھی۔ پھر بھی ہاتھی لٹے گا بھی تو کہاں تک۔ کالج،کئی سکول،ہاسپیٹلز،ڈاکخانے،تار گھر،بلدیہ کمیٹی،پریس کلب،ہوٹلز اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری بہت سے دفتر اب بھی انگریزی دور کی طرح فعال تھے۔ البتہ نہروں،سڑکوں اور پارکوں کے بہت سے درخت کٹ چکے تھے۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر اب بھی موجود تھے۔ شہر کی اِنہی خوبیوں کی بنا پر کئی افسروں کی بڑی حد تک خواہش رہتی کہ اُس کا تبادلہ اِس شہر میں ہو جائے اور اب یہ قرعہ مسٹر نواز الحق کے نام نکل آیا تھا۔
نواز الحق صاحب پینتیس سال کا ایک نوجوان،پتلے خدو خال کا اسسٹنٹ کمشنر تھا،جو اول اول نائب تحصیل دار بھرتی ہوا لیکن بہت جلد تحصیل دار،پھر وہاں سے اسسٹنٹ کمشنر بن گیا۔ جس کی شاید خود تو خواہش اوکاڑہ میں تعیناتی کی نہیں تھی لیکن یہ اُن افسروں میں تھا،جنہیں جہاں بھیج دیا جائے،وہ اپنی نوکری کو بلند زینوں تک لے جانے کے لیے وقت کو سمیٹ لیتے ہیں۔ ملک کے ننانوے فی صد افسروں کی یہی کیفیت تھی۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں ہوتی،کہاں جا کر کیا کام کرنا ضروری ہیں؟یا فلاں علاقے میں کون سے کام ترجیحاتی بنیادوں پر کرنے چاہییں؟ یا کام کرنا بھی چاہیے کہ نہیں؟ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ یہاں کون سے ذرائع ہو سکتے ہیں،جن کو استعمال کرنے سے اُس کی اپنی ترقی ہو۔ نوازالحق صاحب ویسے بھی اب ان کاموں کے سلسلے میں ایک مکمل افسر تھے۔ یہی نہیں،چلنے اور بیٹھنے اُٹھنے میں طمطراق افسروں کا ہی تھا بلکہ اُن سے بھی قدم بھر آگے تھے۔ مشکل ہی سے کسی کے ساتھ سلام کو ہاتھ آگے بڑھاتے۔

جو لوگ پہلے ہی با خبر تھے کہ مسٹر نواز الحق تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے آ رہے ہیں،وہ اُسی دن سے مٹھائی کے ڈبے اور مختلف تحائف کے ساتھ اُن کے گھر پہنچ گئے تھے۔ اُن کا مقصد صرف تحائف دینا یا اپنی اے سی آر بہترلکھوانا ہی نہیں تھا،بلکہ اُنہوں نے صاحب پر یہ بات پوری طرح واضح کر دی تھی کہ اُنہیں صرف اور صرف صاحب کی عزت اور ترقی عزیز ہے،جس کے لیے وہ خود اپنا مستقبل قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اِس مختصر سی ملاقات میں فرداً فرداًصاحب کو اِس بات سے آگاہ کرنا بھی نہیں بھولے تھے کہ فلاں شخص بڑامغرورہے،آپ کو سلام بھی نہیں کرنے آئے گا،فلاں چغل خور ہے،اُسے کبھی اپنے راز نہ بتایے گا۔ کیونکہ وہ بڑے افسروں کا مخبر ہے۔ فلاں شخص کو تو نزدیک بھی نہ آنے دیجیے،وہ بالکل بھی بھروسے کے قابل نہیں۔ آپ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر سکتا ہے۔ اُس کو منہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بلکہ ہو سکے،تو آپ اُسے دور دراز کے قصبے میں پھینک دیں۔ کام کرنے کے لیے ہم آپ کے پاس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو اِس بات سے بھی باخبر کرنا ضروری سمجھا کہ فلاں فلاں جگہ کی الاٹمنٹ ابھی ہونا باقی ہے۔ آپ وہ اپنے رشتہ داروں،دوستوں اور سسرال والوں کے لیے آسانی سے الاٹ کروا سکتے ہیں۔ اور جو زمین نہر کے ساتھ چک تمبو یا کلیانہ اسٹیٹ میں پڑی ہے،اُسے آپ کو اپنے نام کروانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ تحصیل کے مالک ہیں،اِس لیے ویسے بھی یہ آپ کا اپنا حق بنتا ہے۔

اب وہ اپنی کرسی پر بیٹھے تو نئی تقرریوں اور تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیااور نواز الحق صاحب نے واقعی اُن تمام خیرخواہوں کے تحائف اور وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے اُن کواپنے ارد گرد اکٹھا کر کے ایک حصار قائم کر لیا۔ اُن میں سب سے پیش پیش مولوی حبیب اللہ صاحب تھے،جو اُن کے بقول نواز الحق صاحب کے خاندان کے پرانے معتقد تھے۔ اُنہوں نے صاحب کو یہ تک بتا دیا تھا کہ نواز صاحب کے دادا مولانا کرامت علی خان سے اُن کے باپ اور نواز صاحب کے باپ محکمہ مال کے کارمدار مولانا جناب فضل دین خاں سے خود اُن کے قریبی مراسم رہے ہیں۔ بلکہ وہ اُن کے ہاتھ پر بیعت بھی رہا ہے۔ اِس طرح اُس کے خاندان کی پشتوں سے اُن کے اوپر نوازشات رہی ہیں اور یہ کہ حبیب اللہ کا خاندان ہمیشہ سے نواز صاحب کے خاندان کا نمک خوار رہا ہے اور اُن کی صاحب بہادری کا اول دن سے ہی گواہ اور قصیدہ خواں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے سب سے پہلے مولوی حبیب اللہ کو اپنا پی اے بنا کر،خاص اُنہی لوگوں کی لسٹ تیار کروائی،جنہوں نے اُسے تقرری کی خبر سنتے ہی پل پل کی خبریں دیں اور بُرے بھلے سے خبردار کیا۔ یہ تما م لوگ ویسے بھی اپنے کام میں ماہر،پڑھے لکھے اور تجربہ کار تھے اور تحصیل کے کام کو چلانے میں اُس کے لیے مفید ثابت ہو سکتے تھے۔ تمام لوگوں کو اُن کی خواہش کے مطابق متعلقہ جگہوں پر تعنیات کرنے کے بعد مولوی حبیب اللہ کو سب کام سونپ دیے۔ یہ انتخاب اُن کی ذہانت کی سراسر دلیل تھا۔ مولوی حبیب اللہ ایک تو باریش اور صوم وصلوات کے پابند تھے۔ حج بھی تین تین کیے تھے اور شریعت کی حدود قیود میں رہتے ہوئے ہر کام انجام دینے کے ماہر بھی تھے۔ مجال ہے،اُن کی فائل پر کوئی اعتراض کرے یا انگلی رکھے۔ ہر چند ہر ایک بکواس کرتا تھا کہ مولوی صاحب پرلے درجے کے بے ایمان اور چاپلوس شخص ہیں۔ لیکن نواز صاحب کو اُن میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی تھی۔ بلکہ وہ اِن کاموں سے ہٹ کر نواز صاحب کے خاندان کی دیرینہ شان و شوکت کا بھی گواہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سب اُس کے کام اور تجربے سے حسد کرتے تھے۔ اور یہ بات اُسی وقت مولوی حبیب اللہ نے نواز صاحب کو بتا دی تھی۔ اگر اُن میں ایسی ویسی کوئی با ت ہوتی تو پہلے آنے والے اسسٹنٹ کمشنروں میں کوئی تو اُس کے خلاف لکھتا۔ اِس کے بر عکس ہر ایک نے اُس کی اے سی آر کو مثالی قرار دیاتھا اور وہ ایک تیسرے درجے کے کلرک سے اتنی جلدی پندھرویں سکیل میں آ گیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ ان مولوی صاحب کے ہوتے ہوئے نواز صاحب کے پروٹوکول میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا۔ یہ نہیں کہ ہر ایرا غیرا منہ اُٹھائے اُن کے کمرے میں جب چاہے،گھسا چلا آئے۔ حبیب اللہ نے عوام تو ایک طرف،تمام تحصیل افسروں کو بھی اس بات کا پابند بنا دیا تھا کہ وہ جب تک کمشنر صاحب سے ایک یا دودن پہلے وقت نہ لیں،اُس وقت تک ملاقات نہیں ہو سکتی۔ رہا سائل،تو اُس کو صاحب سے ملنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اُسے جو کام ہے،اُس کے لیے وہ اپنے متعلقہ افسر سے رجوع کر ے۔ اسسٹنٹ کمشنر اسسٹنت کمشنر ہو تا ہے۔ وہ کوئی پٹواری تھوڑا ہوتا ہے،جو وارابندیوں کا رجسٹر کھول کے بیٹھ جائے۔ اِن معاملات سے یہ ہوا کہ ایک تو نواز صاحب سے کام کا بوجھ کم ہو گیا۔ دوسرا اُسے اپنے نجی کام اور سیرو شکار کا وقت بھی مل گیا اور دفتر قریب قریب مولوی حبیب اللہ نے سنبھال لیا۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ کام اپنی مرضی سے انجام دینے لگا تھا۔ فائلوں پر دستخط لیتے وقت صاحب کو ہر فائل کے متعلق پور ی بریفنگ دیتا کہ کوئی بات صاحب سے پوشیدہ نہ رہے۔ اِس طرح چار پانچ مہینے میں ہر کام اپنے آپ ہی سیدھا ہو گیا اور کسی کو شکایت کی گنجائش نہ مل سکی۔ یہ اُس کی انتظامی صلاحیتوں کی دلیل تھی۔ اِس کے علاوہ اوکاڑہ تحصیل کے تمام بڑے زمین داروں اور قوم قبیلے کے معتبروں،جو سیاست میں بھی مقام رکھتے تھے،اُن سب سے مولوی حبیب اللہ نے صاحب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ لوگ تھے،جو کسی بھی افسر کی مزید ترقی میں با وقار سیڑھی کا کام دے سکتے تھے۔ مولوی صاحب نے اِن تمام زمینداروں سے اُن کی حیثیت کے مطابق صاحب کی دوستی کروا دی تھی۔ بعض زمینداروں کو نا جائز طور پر بہت کچھ دینا پڑا لیکن یہ ایسا سودا تھا،جس میں گھاٹا کچھ نہیں تھا۔ کیونکہ خرچ تو عوام کا ہوتا ہے اور فائدہ افسر اور سیاستدان کا۔ اِس لیے نواز صاحب نے جو کچھ بھی اُن کو دیا تھا،وہ احسان کے ساتھ ساتھ نقصان کے بغیر تھا۔

اوکاڑہ تحصیل کمپلیکس لائلپور روڈ پر واقع تھا،جس کے ارد گرد سرکاری افسروں کے مکانات،کلرکوں کے کوارٹر اور ججوں کی چھوٹے لان والی کوٹھیاں تھیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کی کوٹھی بھی کافی اچھی تھی لیکن ججز کی کوٹھیاں اُن سے بہر حال بہتر تھیں۔ یہ تمام عمارتیں انگریزی دور کی اور نہایت آرام دہ تھیں۔ جن کے ارد گرد برگد،پیپل،شیشم اور دوسری قسم کے بے شمار درخت اِس طرح سایہ کیے رہتے کہ گرمی کے دنوں میں دھوپ کی ایک رمق بھی اُن پر نہیں پڑتی تھی۔ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے عین سامنے ستلج ہائی سکول اور اُس کے ساتھ ہی ایک وسیع و عریض تھان کے سلسلے سے بندھا ہوا اصطبل تھا،جو انگریزی دور کی طرح آباد تو نہ تھا،لیکن ابھی بھی اُس میں کئی عمدہ نسل کے گھوڑے اور خچر موجود تھے،جو افسروں کے بھی کام آتے۔ یہ اِس لیے بھی خالی ہو چلا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز،جو گھوڑوں کے شوقین ہوتے،وہ اصطبل کے عملے سے مل ملا کر کسی اچھے سے گھوڑے کو ناکارہ لکھوا کر سستے داموں مول لے لیتے۔ اِسی طرح گوگیرہ میں موجوداوکاڑہ مویشی فارم میں عمدہ قسم کی گائیں اور بھینسیں بھی انتہائی سستی ہتھیا نے لگے تھے،جو انگریزی دور میں انگریز ڈپٹی کمشنر بھی آسانی سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ نہروں پر جگہ جگہ ڈاک بنگلوں کو ناکارہ سمجھ کر موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ شائد اُن کی ضلعی یا تحصیل انتظامیہ کو ضرورت نہیں تھی،کیونکہ نہری افسروں کو شہروں سے باہر نکل کر رہنا گوارا نہیں تھا۔ اسسٹنٹ کمشنرصاحب کی کوٹھی بھی ٹھنڈی سڑک پر آفیسر کالونی میں سب سے نمایاں تھیَ جہاں اب زیادہ تر بڑے زمینداروں کا آنا جاناتھا۔ اُنہی کے ساتھ وہ اکثر سیر کو نکل جاتے۔ اِن سیاستدانوں میں نواز صاحب کے ایک دوست شمس الحق گیلانی تھے۔ یہ شاہ صاحب حجرہ شاہ مقیم کے ایک رئیس خاندان کے فرد تھے۔ یہ وہ خاندان تھا،جس کا ملک کی سیاست میں بڑا اہم کردارتھا اور علاقے میں اُن کی طاقت کا لوہا سب مانتے تھے۔ بڑی زمینداری کے علاوہ اِن کے لاکھوں مرید پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے،جو پیر صاحب کے ایک اشا رے پر کٹ مرنے کو تیار رہتے۔ نواز صاحب اِن کی بہت عزت کرتے تھے اور اُنہوں نے ہدایت کی تھی کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں،شمس صاحب کا کوئی بھی پیغام آئے تو اُنہیں ضرور خبردار کیا جائے۔ ویسے بھی اِن نزاکتوں کو مولوی حبیب اللہ خوب سمجھتا تھا۔ بلکہ اِن چیزوں کے بارے میں اُسے نواز صاحب سے بھی زیادہ درک تھا۔

آج نواز صاحب اپنے دفتر میں آ کر بیٹھے ہی تھے کہ حبیب اللہ نے اطلاع دی،شمس صاحب تشریف لائے ہیں۔ نواز صاحب نے اُنہیں فوراً اندر بلا یااور دفتر سے منسلک ملاقات کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر کی گپ شپ کے بعد شمس الحق گیلانی نے اپنے مطلب کی طرف آتے ہوئے بات کا آغاز کیا،نواز صاحب آپ ہمارے لیے ایک کام کر دیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔

شاہ صاحب اگر مَیں آپ کے کسی کام آنے کا ہوا تو یہ میری خوش نصیبی کی بات ہے۔ آپ ہی تو ہماری دنیا اور آخرت ہیں۔ کام بتا یے؟

شمس صاحب نے اپنا سگریٹ ایش ٹرے کے کونے میں پھنسایا اور دیوار پر لگی سامنے قائد اعظم کی تصویر پر نظریں جماتے ہوئے بولے،نواز صاحب،پاکستان میں حکومت یا تو فوج کی ہے یا سرکاری افسروں کی۔ اِس لیے کام تو آپ کر سکتے ہیں،پھر یہ کوئی ناجائز کام بھی نہیں ہے۔

شمس صاحب آپ بجھارتیں کیوں بھجواتے ہیں۔ میری دسترس سے باہر بھی ہوا تو آپ کی خاطر کر کے ہی دم لیں گے۔ چاہے مجھے چیف سیکرٹر ی صاحب کے پاؤں پکڑنے پڑے۔
کمشنر صاحب،آپ کے اِس بڑی نہر کے دوسری طرف ایک نو لکھی کوٹھی خالی پڑی ہے،جس کے ساتھ کچھ زمین بھی ہے۔ اِس اسٹیٹ کی اکثر زمین تو فوجیوں کو الاٹ ہو چکی ہے۔ لیکن کوٹھی ابھی تک کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ آپ کسی طرح سے اُسے میرے نام کروا دیں۔ جو خرچہ ہوا،مَیں دینے کو تیا ر ہوں۔

نواز الحق کچھ دیر خموش بیٹھا سوچتا رہا پھر بولا،پیرصاحب،اُس کوٹھی میں ایسی کون سی بات ہے؟ بہر حال وہ خالی ہے توآپ فکر نہ کریں،مَیں اُسے آپ کے نام کروا دیتا ہوں۔ مَیں نے کوئی زیادہ اُس کے متعلق تحقیق تو نہیں کی لیکن سنا ہے،بہت بڑی کوٹھی ہے۔ میرا خیال ہے،اب کافی پُرانی ہو چکی ہے۔ شاید آپ کے لیے بے کار ہو۔

نواز صاحب،وہاں ایک بڈھا انگریز رہتا ہے۔ یہ کوٹھی اُسی کے باپ دادا نے وکٹوریہ دور میں بنوائی تھی،شمس الحق نے وضاحت کی،یہ واپس نہیں گیا۔ آج بھی اپنے آْپ کو کمشنر سمجھتا ہے۔

آپ کہیں گے تو اُسے اُٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں اور آپ وہاں اپنا بندوبست کر لیں۔ مگر آپ لاہور کو چھوڑ کر وہاں اتنی پرانی کوٹھی میں کیوں رہیں گے؟

شمس الحق نے دوبارہ سیگریٹ سُلگایا اور بولا،نواز صاحب،آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ ہمیں سیاست کرنی ہوتی ہے۔ وہ رہنے کے لیے تھوڑی الاٹ کروانی ہے؟وہاں ہمارے مال مویشی ہوں گے یا کچھ نوکر رہیں گے۔ کبھی کبھی ہم بھی وہاں آجایا کریں گے۔ اِس طرح علاقے میں وجود برقرار رہتا ہے۔ پھر اِن پرانی کوٹھیوں اور بنگلوں کی اپنی ایک دہشت اور اہمیت ہوتی ہے۔ آپ اِن باتوں کو چھوڑیں،ہمارا کام کریں بس۔

نواز الحق نے گرم جوشی سے اِس کام کی حامی بھرتے ہوئے انٹر کام پر حبیب اللہ کو طلب کیا۔ جب وہ کمرے میں کاغذقلم لے کر ایک طرف کھڑا ہو گیا،تو نواز صاحب نے بڑی محبت سے کہا،مولوی صاحب ستگھرہ روڈ پر ایک نولکھی کوٹھی ہے۔ آپ ذرا اُس کی تمام معلومات جمع کیجیے۔ وہ ہم نے پیر صاحب کے نام الاٹ کروانی ہے۔ شائد اِس میں ہماری آخرت کا ہی کچھ بھلا ہو جائے۔

سر،میں ابھی تمام ریکارڈ منگوا لیتا ہوں ( پیر شمس الحق صاحب کی طرف منہ کر کے حبیب اللہ انتہائی چاپلوسی سے )پیر صاحب،ویسے وہ کوٹھی آپ ہی کے لائق ہے۔ وہاں ایک بُڈھے انگریز کی وجہ سے نحوست پھیلی ہوئی ہے۔ پتا نہیں ابھی تک یہاں کیا کرتا پھر رہا ہے؟( ہنستے ہوئے ) بھلا بندہ پوچھے،تم نے یہاں سے امب لینے ہیں،جو ابھی تک اٹکے ہوئے ہو؟ اور پورے علاقے میں اپنے ناپاک قدموں سے مٹی پلید کرتے پھرتے ہو۔ سر،مجھے اُدھر ایک دو دفعہ جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ مَیں نے وہاں جب تک رہا،نماز بھی نہیں پڑھی کہ نجانے کس جگہ اُس نے پیشاب کیا ہو۔ آپ جتنی جلدی ہو سکے،وہ کوٹھی اُس منحوس بڈھے سے خالی کروا لیں۔ ہمارے شاہ صاحب کے قدم لگنے سے وہاں مٹی تو پاک ہو گی۔

حبیب اللہ کی بات سن کر دونوں ہنس پڑے۔ پھر نواز صاحب بولے،مولوی صاحب،آپ جس قدر جلد یہ کام مکمل کریں گے،ہم آپ کی خواہش اِتنی ہی جلدی پوری کر دیں گے۔ آپ ایک ہفتے کے اندر اِس کیس کی فائل تیار کر کے مجھ تک پہنچاؤ۔ ریوینیو بورڈ سے یہ فائل مَیں خودنکلوا لوں گا۔ بس آپ اس پر کام کریں۔

نواز صاحب کی بات سن کر مولوی حبیب اللہ باہر نکل گیا۔ پھر وہ دونوں باتیں کرنے لگے اور یہ ملاقات اتنی لمبی ہو گئی کہ ایک بجے کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ اِس عرصے میں جتنے لوگوں سے نواز صاحب کی ملاقات کا وقت مقرر تھا،اُنہیں مولوی حبیب اللہ یہ کہ کر ٹالتا گیا کہ آج صاحب کی اندر بہت اہم میٹنگ چل رہی ہے۔ اِس لیے باہر انتظار کریں بلکہ بہتر یہ ہے کہ کل آ جائیں۔

ایک بجے کا کھانا اسسٹنٹ کمشنر مسٹر نواز الحق کے ساتھ کھانے کے بعد سید شمس الحق گیلانی صاحب رخصت ہونے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کمشنر صاحب اُنہیں گاڑی تک باہر چھوڑنے آئے۔ گاڑی چلنے لگی تو نواز صاحب نے ہنستے ہوئے پیر صاحب سے کہا،سر اِس خادم کا بھی خیال رکھا کریں۔ آخر کب تک اسسٹنٹ کمشنر ی کرتا پھروں گا۔ آپ کی سلطنت میں کم از کم مجھے ڈپٹی کمشنر تو ہونا ہی چاہیے،ایک دفعہ بس ایک درجہ اور اُوپر لے جایے۔ پھر دیکھیے نوکر کس طرح اپنے شاہ صاحب کی خدمت کرتا ہے۔

شمس الحق نواز صاحب کی اِس بات پر مسکرا دیا۔ اُسے خوب علم تھا،اسسٹنٹ کمشنر نوازالحق نے اِس کام کے عوض اپنی ترقی کی سفارش کا معاوضہ طلب کیا ہے۔ شاہ صاحب کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ اُس نے جواب میں کہا،نواز صاحب،آپ فکر نہ کریں والدین کو اپنی اولاد کی ضروریات کا بخوبی احساس ہوتا ہے۔ بس اولاد فر مانبردار ہونی چاہیے۔ اِس کے بعد گیلانی صاحب کی گاڑی آہستہ سے آگے بڑھ گئی۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اکتسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(52)

نواز الحق مولانا فضل دین کی امیدوں پر اس طرح پورا اُتر رہا تھا کہ اِتنی توقع اُسے بھی نہیں تھی۔ لڑکا ایسا ذہین اور لائق نکلا کہ باپ دادا کے بھی کان کاٹنے لگا۔ بڑے بڑے جاگیرداروں،فوجیوں اور افسروں کے بیٹے اُس نے دوست بنالیے۔ اُنہی کی صحبت میں دن رات گزارنے سے اُسے وہ تمام معلومات اور طریقے حاصل ہو گئے تھے،جو سول سروس کا زینہ تھے اور خاندان کی کایا کلپ کر دینے کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے تھے۔ اِس کے علاوہ انگلش،عربی،فارسی،تا ریخ،غرض ہر شعبے میں کچھ نہ کچھ سُدھ بدھ حاصل کر لی تھی۔ لباس اور بات چیت میں بھی اِتنی نفاست پیدا کر لی کہ موقع کی مناسبت سے تمام جگہ اپنے آپ کو فِٹ کر لیتا۔ عربی اور اور فارسی کی لیاقت نے اُس کے اندر شعر سے لُطف لینے کا مادہ بھی پیدا کر دیا۔ لیکن یہ مادہ تھوڑا بہت شعر کو سُن کر،یا پڑھ کر یاد کر لینے کی حد تک تھا۔ شعر کی فنی جمالیات کو سمجھنے یا خود کسی مشق میں پڑنے کی اہلیت نہیں تھی۔ یہ بات بھی اُس کو کسی نے سمجھا دی تھی کہ پاکستان میں سول سروس کی نوکری حاصل کرنے کے لیے بندے کو تین چیزوں میں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک اُسے تھوڑا بہت اقبال کی شاعری اور اُس کی زندگی کے نیک نیک حالات ازبر ہوں۔ دوسرا انگریزی بول چال کی مہارت حاصل ہو اور تیسری اہم بات یہ کہ اپنے باس کی چاپلوسی کرنے کی تر بیت میں نُقص نہ ہو۔ اگر اِن میں انسان طاق ہو تو نوکری ملنے کے بعد اُس کی ترقی میں خدا بھی رکاوٹ کھڑی نہیں کر سکتا۔ بندہ اِس طرح بائیس سکیل کے زینے طے کرتا ہے،جیسے گہری نیند سوئے ہوئے پر صبح آجاتی ہے۔ نوازلحق نے اِن تینوں مضامین میں اپنی استعداد کو اِتنا بڑھایا کہ ایک تو اقبال کا ستر فی صد کلام اُسے یاد ہو گیا،دوم وہ انگریزی کو ایسے چاٹنے لگا کہ بعض اوقات اُس پر انگریز ہونے کا شبہ ہوتا۔ وہ تو غنیمت تھی رنگ زیادہ صاف نہ تھا۔ سوم افسر کی بات سے اتفاق کرنے کا ملکہ حاصل ہو گیا۔ نتیجہ یہ کہ نوازلحق پنجاب سول سروس کا امتحان پاس کر کے ڈائریکٹ نائب تحصیل دار بھرتی ہوگیا۔ لیکن اس پر وہ مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں گیا۔ بلکہ مزید ترقی کے لیے کوشاں رہا۔ جس میں اُس نے مولانا فضل دین کی جمع کی گئی بے شمار دولت کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ لاہور میں کوئی افسر ہو گا،جس کے ساتھ اُس نے تعلقات قائم نہیں کیے اور اُسے تحفے تحائف نہیں بھیجے۔ وہ اِس معاملے میں اپنے افسران کا اِس قدر وفادار تھا کہ اُن کی بیویوں تک سے ذاتی مراسم قائم کر لیے۔ کوئی نوازلحق صاحب کی بڑی بہن بن گئی اور کو ئی خالہ ہوگئی۔ کوئی اُس کے دوست کی والدہ تھی۔ اِس لحاظ سے نواز صاحب کی بھی والدہ بن گئی۔ اِن رشتوں کے بن جانے کی وجہ سے نواز کو عید بقر عید اور سالگرہوں پر تحفے بھی دینے ہوتے تھے اور وہ دل کھول کر دیتا۔ خاص کر اُسے یہ پتا چل گیا تھا کہ عورت ذات سونے کی بڑی لالچی ہوتی ہے۔ اِس لیے وہ جو بھی تحفہ دیتا،سونے ہی کا ہوتا۔ کیونکہ سونے کے بغیر چاہے ہزاروں تحفے ہوں،لوگ بھول جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسی دھات ہے،جس کا تحفہ ایک تو لینے والے کو احسان مند کر دیتا ہے اور دوسرا عمر بھر نہ لینے والے کو بھولتا ہے اور نہ دینے والے کو۔ اِس کے علاوہ جب ضرورت ہوتی،سودا سلف بھی خود بخود گھر بھجوا دیتا۔ اِن اطاعت شعاریوں سے یہ ہوا کہ کسی افسر کی جرات نہ ہوتی تھی،وہ نوازلحق کی اے،سی آر میں،اُس کے کردار اور کام کی پاکدامنی کی گواہی نہ ثبت کرے۔ اپنے باس کے گھر روزانہ جا کر اُن کی ضروریات کی خبر لے کر اُنہیں پورا کرنا تو نواز صاحب نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا۔ یہ فرض شناسی اِس حد تک تھی کہ ایک دن جب کمشنر صاحب کو ہلکا سا نزلہ ہوگیا تو نواز صاحب کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی۔ آپ اُس کی تیمارداری میں اِس طرح مگن ہو ئے کہ تین دن تک اپنے گھر نہیں آئے۔ وہیں اُن کی کوٹھی کے سرونٹ کوارٹر میں رہنے لگے۔ اگرچہ صاحب نے بہت کہا،کوئی بات نہیں نواز صاحب،آپ گھر چلے جائیں،مَیں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ لیکن یہ نہیں مانے،کہ جانے کب ضرورت پڑ جائے،پھر خدا نخواستہ آنے میں دیر ہوگئی تو آپ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اِسی فرض شناسی کی وجہ سے اُس کے دفتر والے نواز صاحب کا مذاق بھی اُڑاتے۔ ایک دن میٹنگ کے دوران جب کئی ماتحت بھی بیٹھے تھے،صاحب کا چھوٹا بیٹا ساتھ والی کرسی پر بیٹھا کھیل رہا تھا۔ اُس نے وہیں بیٹھے پیشاب کر دیا۔ نواز صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اُس کو غسل خانے میں لے جا کر پانی سے صاف کیا اور اُس کا پیشاب دھویا،جس کی وجہ سے اُس کا مذاق اُڑایا گیا۔ لیکن اُنہوں نے اِن احمقوں کی ذرا پروا نہیں کی اور سب نے دیکھا،انہی خدمت گزاریوں کی وجہ سے وہ صرف دو سال میں ہی تحصیل دار ہو گیا۔ جبکہ ساتھ والے،جو ذرا خدمت گزاری میں کم تھے،ابھی تک اُنہی بوسیدہ میزوں پر بیٹھے مکھیاں مار رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اُنہیں یہ کلیہ بھی کسی نے سمجھا دیا تھا کہ ریٹائرڈ افسر مردہ گھوڑے سے زیادہ اہم نہیں ہوتا۔ اِس لیے جتنی جلدی ہو سکے،اُس پر مٹی ڈال دینی چاہیے۔ کیونکہ جو وقت کو ضائع کرتا ہے،وقت اُسے ضا ئع کر دیتا ہے۔ ریٹائرڈ افسر کی بات ماننا یا اُسے ملنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے کبھی پلٹ کر بھی ایسے لوگوں کی طرف نہیں دیکھا تھا،جو سرکاری نوکری سے فارغ ہو چکے تھے۔

اُن کے تحصیل دار بننے کے کچھ عرصے بعد ملک میں فوج کی حکومت آگئی۔ نواز صاحب اُن دنوں خوش قسمتی سے ضلع راولپنڈی کے محکمہ مال میں تھے۔ یہ حکومت ہر لحاظ سے شرعی کہی جا سکتی تھی۔ تمام سزائیں شرعی ہو گئی تھیں۔ لباس شرعی ہو گیا۔ ٹوپیاں،تسبیاں،لوٹے اور چٹائیوں کی قیمتیں شریعت کے مطابق بڑھ گئیں۔ شلواریں گھٹنوں سے اُوپر۔ حتیٰ کہ سر کے بال اورڈارھیاں شرعیت کے مطابق ڈھل گئیں۔ گاؤں گاؤں میں مولویوں کے وظائف مقرر کر دیے گئے اور اُنہیں خطبے لکھے لکھائے آنے لگے تاکہ کسی بھی مولوی کو دماغ پر زور دینے کی زحمت نہ پڑے۔ ہزاروں چوہڑے بطور جلاد بھرتی کیے گئے،پھر بھی کوڑے مارنے والے کم پڑ جاتے تھے۔ عوام کا نماز روزے کی طرف اِتنا رجحان ہو گیا کہ سر زمین جنت نشان ہو گئی۔ ہر طرف امن و امان کی فضاقائم ہو گئی۔ تبلیغی مرکزوں میں،جہاں کبھی ویرانی ہونکتی تھی،اب کھوے سے کھوا چھلنے لگا۔ عدل انصاف کا اِس قدر بول بالا ہو ا کہ جرم کے شبے کی بنا پر بھی سزائے موت دی جانے لگی۔ اور اِس معاملے میں اتنی احتیاط تھی کہ چاہے مجرم وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو،تختے پر چڑھا دیا جاتا۔ دراصل عدالتوں نے پتا چلا لیا تھاکہ سوائے فوجی اور ایک خاص مکتبہ فکر کے مولوی کے،باقی لوگ کافر اور غدار ہیں۔ تمام بدعتی مذاہب اور مسالک کا قلعہ قمع کرنے کی ٹھان لی گئی اور صحابہ کے سچے پیرو کاروں اور خفیہ اداروں کو اجتماعی طور پر پورے اختیار دے دیے گئے کہ وہ آسانی سے نشاۃ اسلامیہ کے دشمنوں کی سرکوبی کر سکیں۔ یہی وہ دن تھے،جب نوازلحق صاحب پر صحیح دین کی سمجھ اور فوجی حکومت کی برکتوں کے پے بہ پے انکشافات ہوئے۔ اُنہوں نے نہ صرف خود،بلکہ لوگوں کی بھی اِس امر کی طرف توجہ دلانی شروع کر دی کہ امیرالمومنین جنرل صاحب اللہ کے ولی اور مجدد دین ہیں۔ اُن کے حکم کی سرتابی خدا سے بغاوت کے مترادف ہے اور یہ کہ جمہوریت مغرب کا پراپیگنڈہ ہے۔ اسلام ایسی کسی حکومت کو جائز قرار نہیں دیتا جس کی بنیاد غیر مذہبوں نے رکھی ہو۔ اُنہوں نے علی الاعلان یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ رافضی اور خانقاہی نظامِ،دین میں فساد کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ اُنہیں بالکل ختم کر دینا چاہیے۔ اِس عرصے میں نواز صاحب نے اپنی ڈاڑھی مزید بڑھا لی اور رضا کارانہ طور پر دفتر میں کام کرنے والوں کو نماز پڑھانے کے ساتھ دین کی صحیح سمجھ بوجھ دینا بھی شروع کر دی۔ جس کی اُس وقت اُن لوگوں کو سخت ضرورت تھی۔ جو آدمی نماز پڑھنے نہ آتا،اُسے دفتری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا نام دے کر وارننگ لیٹر جاری کرنے کا اہتمام بھی ہونے لگا۔ اِس میں بھی نواز صاحب سب سے زیادہ پیش پیش تھے۔ اِس کے ساتھ ہی فوجیوں سے مراسم اور لاہور کی نہایت شریف فیملی،جس پر جنرل صاحب کی برکات بے پایاں تھیں،کے درِ دولت پر دن رات حاضری کو اپنا ایمان اور کعبہ کی زیارت کے مترادف جان لیا۔ اور اُن نامرادوں کے نام اور کوائف دینے لگا،جو سرکاری یا غیر سرکار ی سطح پر فوج یا اسلام کے خلاف بات کرتے پائے جاتے تھے۔ نواز صاحب میں اِن سب خوبیوں اور اسلام کے سچے عاشق ہونے کی وجہ سے،یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ حساس اداروں کی نظرسے اُس کی وفادار ی اُوجھل رہ جاتی۔ بالآخر اُس کا نام اُن افراد کی فہرست میں شامل ہو گیا،جنہیں بلا شبہ غیر مشروطی طور پر حکومت کے وفاداروں میں شمار کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اُسی شریف فیملی کی غلام گردشوں میں پھرتے نواز صاحب نے اپنی ترقی کے ایک اور زینے کی راہ دیکھ لی۔ بالآخر پنجاب کی وزارت ِ خزانہ کی سفارش سے انُیس سو بیاسی میں اُس کی اسسٹنٹ کمشنری کے آڈر جاری ہو گئے۔ اُنہیں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جھنگ شہر کی افسری کا پروانہ دے دیا گیا،جہاں دیگر کاموں کے ساتھ بعض مسالک اور اُن کے عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا تھیں۔

(53)

اُنیس سو تراسی کاآدھا اکتوبر گزر چکا تھا۔ پنجاب میں اکتوبر کا مہینہ موسم کی کیفیت کو اِس قدر معمول پر لے آتا ہے کہ اُس وقت گرمی گرمی نہیں رہتی اور سردی ابھی تک نومبر کے پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ اُس وقت نہ تو گرمی تھی ہے اور نہ سردی۔ اِس ٹھہرے ہوئے موسم میں اُداس کر دینے والی ایسی خموش کیفیت تھی،جس کو بیان کرنے کی قدرت نہیں۔ یہ موسم بہار کانہیں ہوتا۔ لیکن اُس سے کہیں زیادہ طبیعت کو راس آنے والا ہوتا ہے۔ بہار ہر چیز میں ایک قسم کاہلکا سا شور،تحرک اور چہچہاہٹ پیدا کر دیتی ہے۔ حتیٰ کہ خوشبوئیں بھی بولتی ہیں۔ اِس کے بر عکس اکتوبر کے درمیان سے لے کر نومبر کے ابتدائی دس دنوں میں ہر شے خموش،چپ اور ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جس میں پوری فضا پر اُداس کر دینے والے غمگین سائے چھا جاتے ہیں۔ موسم کی اِن چپ چاپ سفیدیوں میں انسان بھی افسردہ ہو جاتا ہے۔ ماضی کی گونج عام حالات کی نسبت زیادہ سنائی دیتی ہے اور آج کل یہی کیفیت ولیم کی تھی۔ وہ اوکاڑہ کے مضافات اور نہری کوٹھی کے جامنوں،پھولوں اور گوگیرہ کی بستیوں میں اکیلا گھومتے پھرنے کے ساتھ ماضی کے ورقوں کو پرتالتا جاتا اور اُن میں لکھے افسانوں کی سطر یں بغور پڑھتا،مکرر پڑھتا،سہ بار پڑھتا،بار بار پڑھتا۔ روپے اُس کے پاس کم ہوتے جا رہے تھے۔ بلکہ اِس تیزی سے کم ہو رہے تھے،جیسے عمر کی منزلیں سمٹتی جا رہی تھیں۔ یوں بھی اُس کی عمر بہتر سال ہو چکی تھی لیکن کمر ابھی تک جھکی نہیں تھی،جیسا کہ عام اور مقامی ہندوستانیوں کے بوڑھے ہونے پر جھک جاتی ہیں۔ پاکستان کی بیوروکریسی سے اب اُسے کوئی سروکار نہیں تھا۔ سیاسی حالات کیا ہیں،؟ لوگوں کے رویے کتنے بدل چکے ہیں یا بیرونی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟برطانیہ امریکہ یا دوسرے مغربی ممالک کی کیا صورت ہے؟ ولیم اِس سب کچھ سے اس طرح بیگانہ ہو چکا تھا،جیسے اِن چیزوں کا وجود اساطیری دنیا میں ہو۔ جہاں صرف کہانیا ں جا سکتی تھیں۔ البتہ اوکاڑہ کے کیتھلک چرچ میں اتوار کے اتوار اُس کی حاضری اب لازمی ہو گئی تھی۔ یہ چرچ اُس کے دادا نے اپنے خرچے سے بنوایا تھا۔ جہاں یہ چرچ موجود تھا،اُس کے سامنے والے بازار کا نام بھی چرچ بازار رکھ دیا گیا تھا،جو ابھی تک اُسی نام سے تھا۔ یہ بازار جنوب کی طرف سے ریلوے پھاٹک نمبر دو سے لے کر سرور سوڈا چوک کو کراس کرتا ہوا شمال میں کمپنی باغ کے جنوب مشرقی کونے تک چلا جاتا تھا۔ ولیم اِس چرچ میں عبادت سے زیادہ اُن لوگوں کی پُرسش کے لیے جاتا،جن کے لیے خداوند خدا چرچ کی لال اینٹوں میں پھنسا ہوا ایک بے بس صلیب کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ جو دنیا میں تو اِن کالے عیسائیوں کے کچھ کام نہیں آ سکتا تھا۔ اگر کوئی آخرت تھی،تو وہاں ان کالوں کے لیے دودھ کی سفید نہروں اور میوہ کے باغوں کی دستیابی کا ذمہ دار تھا۔

آج وہ اسی اداس کر دینے والی فضا میں اتنا بوجھل ہو چکا تھا،جس میں دل کو سنبھال لینا ایرے غیرے کا کام نہیں تھا۔ ولیم کمرے سے نکل کر کوٹھی کے صحن میں آیا اور سامنے والی اُسی بنچ پر بیٹھ گیا،جس کو اس صحن میں لگے اب ساٹھ برس گزر چکے تھے۔ یہ کرسی ولیم کے دن رات بیٹھنے سے اِتنی چمکدار ہو گئی تھی کہ پالش کا گمان ہو تا۔ پرندے اِدھر اُدھر اڑے جاتے تھے،اگر کوئی چہچہا بھی رہا تھا،تو اُس کی چونچ ہلتی نظر آتی تھی مگر آواز سنائی نہ دیتی۔ سامنے کا پیپل بھی بالکل خموش اور حیرانی کی حالت میں تھا،جیسے ولیم کی تنہائی پر نوحہ کناں ہو۔ اُسے آنے والے لمحوں کا پتا چل چکا تھا۔ کبھی ایک آدھ چڑیا اُس کے پاس سے اُڑ کر نکل جاتی،پھر دورتک کھیتوں میں،کبھی ایک جگہ پر،کبھی دوسری جگہ پھدکتی ہوئی بیٹھتی۔ پھر اُسی طرح نظروں سے اوجھل ہو جاتی۔ ولیم کو جب کافی دیر اِسی حالت میں گزرگئی تو وہ اُٹھ کر دوبارہ کوٹھی میں چلا گیا اور اپنے بیڈ روم میں جا کر پُرانے سامان کو ٹٹولنے لگا،جو اَب زیادہ نہیں رہ گیا تھا۔ چندچیزیں تھیں،جو کیتھی کے ہاتھوں سے یا تحفہ دینے سے بچ گئی تھیں۔ یہ چیزیں بازار میں قیمت تو نہیں رکھتی تھیں لیکن ولیم کے لیے بہت زیادہ اہم تھیں۔ اِن میں ولیم کے دوستوں کی کچھ تصویریں،ولیم کے بچوں کی تصویریں،اُس کے ذاتی کاغذات،ملازمت کے دنوں کی فوٹو گراف،قلم،پینٹنگز،ایشلے کی شاعری کے کچھ مسودات،بے شمار کتابیں اور اِسی طرح کی یادگاریں تھیں۔ چیزوں کو دیکھتے ہوئے ولیم کے ہاتھ میں ایک ایسا کاغذ لگا،جو اُس کی اپنی ہینڈرائیٹنگ میں تھا۔ وہ ایشلے کی ایک نظم تھی،جو اُسے بہت پسند تھی۔ ولیم نے اپنے ہاتھ سے اُسے لکھ لیا تھا۔ نظم دیکھ کر ولیم کو ایشلے کی شدت سے یاد آنے لگی،جس کے مرنے کی اطلاع اُسے دس سال پہلے مل چکی تھی۔ وہ اُس کے مرنے کی خبر سُن کر اُس وقت بھی بہت افسردہ ہوا تھا اور بہت دنوں تک اپنے حواس میں نہ ر ہا تھا۔ جب کاغذات سے وہ نظم سامنے آئی تو ولیم کی آنکھوں میں پھر آنسووں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ وہ نظم لے کر اُسی بیڈ پر لیٹ گیا اور اُسے اپنے سینے پر رکھ کرآہستہ آہستہ نظم کو پڑھنے لگا اورگزری ہوئی ساعتیں یاد کر کے رونے لگا۔

نظم
کیا تم ایسی دھوپ دیکھنا چاہو گے
جو چمکتی ہے جلاتی نہیں
نہ اس کی روشنی میں آنکھیں چندھیاتی ہیں
نہ سفید عورتیں عرق آلود ہوتی ہیں
وہ دھوپ نومبر کی خاموش وادی میں ہے
نومبر کی دھوپ کو دیکھ سکتے ہو
نرم لباس کی طرح محسوس کر سکتے ہو
اُس میں تلخی نہیں
موت کے نزدیک لے جانے والی اُداسی ہے
اُداسی کو تم چھو نہیں سکتے
نہ فریب دے سکتے ہو
نہ اس سے بھاگ سکتے ہو
یہ ہجوم میں تنہا کر دیتی ہے
کیا پچھلے برس کا نومبر اُداس نہیں تھا؟
نومبر ہمیشہ اُداس ہوتا ہے
رُکا ہوا،مطمئن اور بے نیاز
اِس کی وادی میں صبح ہوتی ہے،دوپہر،سہ پہر
پھر شام آجاتی ہے
مگر دھوپ کا مزاج نہیں بدلتا
آسمان کی طرح پُر وقار بزرگی والا
زندگی نومبر کی طرح نہیں
زندگی بدلتی ہے،متواتر بدلتی ہے
وہ تجھے نومبر میں نہیں رہنے دے گی
دھوپ غبار آلود ہو جائے گی
صاف نظر آنے والی چیزیں دُھندلا جائیں گی
پھر سیاہ ہو جائیں گی
پھر اندھیرا کھا جائے گا
اُس وقت،جب میں نہیں ہوں گا
دوست کوشش کرنا،نومبر نہ گزرے
مگر یہ وہ کوشش ہے جس کا حاصل خسارا ہے
ولیم بار بار نظم پڑھتا رہا اور پرانے بیڈ کے بوسیدہ مگر صاف بسترپر لیٹا آنسووں کی بارش روکنے کی کوشش کرتارہا۔ اسی حالت میں وہ سو گیا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(51)

یہ انیس سو پچھتر کے دسمبر کا آغاز تھا اور ملک کو وجود میں آئے اٹھائیس سال ہو گئے تھے۔ اِس عرصے میں ولیم مقامی لوگوں میں اِس طرح گھل مل گیا کہ رنگ اور آنکھوں کے سوا اُس میں ولائتیوں کی کوئی حرکت نہ رہی۔ اردو پہلے بھی روانی سے بول لیتا تھا،اب پنجابی میں بھی خاصا ہاتھ صاف کر لیتا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مرغے لڑانے،کبڈی کروانے اور قصے کہانیاں سننے کا شوق حدسے آگے نکل گیا۔ آئے دن نولکھی کوٹھی پر محفلیں جمنے لگیں۔ ولیم کے جاننے والے عشا کے بعد جمع ہو جاتے۔ کوئی نہ کوئی کہانی کہتا،جس میں رات کے گیارہ بج جاتے۔ محفل کے بعد ولیم کی طرف سے سب کو کبھی کھانا کھلایا جاتا اور کبھی صرف چائے پلائی جاتی۔ سب جانتے تھے،اُس کے پاس پیسے بہت زیادہ ہیں۔ اِس لیے وہ اُس کا احترام بھی ویسے ہی کرتے۔ مگر یہ سب لوگ غریب غربا اورمزارع قسم کے تھے۔ بیورو کریسی اور اُمرا کو ولیم نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ بلکہ اُن کو اب ولیم کے بارے میں پتا بھی نہیں تھا کہ ایسا کوئی انگریز بھی یہاں موجود ہے۔ اِس معاملے میں اشرافیہ تو ایک طرف،مدت ہوئی،اُس کے اپنے بیوی بچوں نے بھی اُسے بالکل بھلا دیا تھا۔ پہلے پہل اُنہوں نے دو تین چکر لگائے اور ولیم کو بھی سرسری انگلستان جانے کا مشورہ دیا لیکن جب ولیم نے سختی سے اِس بات کو رد کر دیا تو وہ بھی آہستہ آہستہ اُسے بھولنے لگے اور اب نوبت یہاں تک آگئی کہ ولیم کے خطوں کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔ ایک آدھ بارجواب دیا بھی،تو وہ ایک دو سطر میں ایسا سرسری تھا،جسے خط کے نام پر مذاق کہہ لینا چاہیے۔ اُس کے بعد مکمل خا موشی طاری ہو گئی تھی۔ اُنہوں نے گھر بدل لیا تھا تو اُس کا پتا بھی نہیں بتایا اور پچھلے چھ سال سے ولیم کے کسی خط کا جواب بھی نہ دیا،نہ ٹیلی فون ہی کیا۔ بہت سے پرانے دوستوں کی وساطت سے ولیم نے اُن کا پتا بھی کرایا مگر کچھ خبر نہ ملی۔ ویسے بھی دوستوں نے اِس بارے میں زیادہ کھوج لگانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ولیم نے اُنہیں زیادہ تنگ کیا۔ کیونکہ اب یہ بھی اُن کے بغیر اِس طرح رہنے کا عادی ہو چکا تھا،جیسے اُس کا کوئی رشتے دارتھا ہی نہیں۔ ایسی بات نہیں تھی کہ اُسے اپنے رشتوں کا احساس نہیں تھا۔ شروع شروع میں جب اُس کے بیوی بچے گئے،تو وہ کئی سال مضطرب رہا اور بہت دفعہ،جب بھی اُنہیں ضرورت پڑی،ولیم نے اپنی بچی کھچی پونجی سے رقم بھیجنے میں تامل نہ کیا اور رشتوں کا درد رکھے رکھا۔ مگر اب اُس کے ہاتھ سے سارے رشتے ہی نکل چکے تھے،تووہ کیا کرتا۔ مچلز والے ابھی موجود تھے،جن کے ساتھ سلام دعا چل رہی تھی۔ لیکن وہ بھی لندن او ر اوکاڑہ کے درمیان معلق رہتے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ اِس آنے جانے میں اُنہوں نے اپنے رئیسانہ ٹھاٹھ کو برقراررکھا اور ولیم سے بہت زیادہ مختلف ہو چکے تھے۔ یا کہہ لیں کہ ولیم ہی اُن سے مختلف ہو گیا تھا۔ اِس لیے اُن کے اندر بھی اب دبی دبی سرد مہری موجود تھی،جسے ولیم نے بہت دیر پہلے بھانپ لیا تھا۔ مگر وہ شاید اُن میں گزری نشانیوں کے ریزے تلاش کرنے کے لیے تعلق کو ٹوٹنے نہیں دے رہا تھا اوربرابر وہاں پھیرا لگایا کرتا۔ بلکہ اُس وقت بھی،جب وہ لندن میں موجود ہوتے۔

زمانے کے گزرتے ماہ سال میں ولیم کو اِس پورے نقصان پر تاسف تو ہوا لیکن وہ اُس کو قبول کر چکا تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے اُس نے بھی اُنہیں یاد کرنا چھوڑ دیا۔ اگر یاد آتے بھی تو طبیعت کو جلد کسی اور طرف مائل کر کے مصروف ہو جاتا۔ زیادہ تر انگریزی ناولیں اور انگریزی شاعری کی کتابیں پڑھنے میں لگا رہتا،جو سینکڑوں کے حساب سے اُس کی کوٹھی میں موجود تھیں۔ اُن کے خریدنے میں اُس نے ایک خطیر رقم خرچ کی تھی۔ کتاب خوانی کے علاوہ قصہ سننے کی لت اُسے شدت سے لگ چکی تھی،جس کے لیے وہ عصر سے ہی تیاری کر نا شروع کر دیتا۔

اکثر ہاتھ میں چھڑی تھامے سرپر ہیٹ رکھے پیدل ہی نکل پڑتااور اِدھر اُدھر پھرتا رہتا۔ زیادہ تر کمپنی باغ اوکاڑہ میں،جو اُسی کی تجویز پر بنا تھا۔ کبھی دس کلومیٹر طے کر کے نہری کوٹھی چلا جاتا یاکسی اور جگہ۔ مگر زیادہ تر اُس کا سفر لمبا نہیں ہوتا تھا۔ اِسی طرح دیسی لوگوں کے ساتھ چلتے چلتے بات چیت کر لیتا۔ بگھی،ٹانگے پر ہوتا تو ایک آدھ سواری بھی ساتھ بٹھا لیتا۔ کافی عرصہ پہلے زمین پر سے اُس کا قبضہ اُٹھ گیا تھا۔ جب وہ باقاعدہ آہستہ آہستہ کر کے چند ہی سالوں میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسروں کے نام الاٹ ہوگئی۔ اِس لیے جو پیسہ ہاتھ میں تھا،وہ رفتہ رفتہ کنارے لگنے لگا۔ ولیم کو اب اُس کی زیادہ پروا بھی نہیں تھی۔ کیونکہ کوٹھی ابھی تک اُس کے پاس تھی اور آٹھ دس سال تک مزید ساتھ دینے والا پیسہ بھی تھا۔ اِس لیے بھی اُسے کوئی فکر نہیں تھی کہ دیسی لوگوں کی طرح اُس کے دس دس بچے نہیں تھے۔ اُس نے رینالہ،اوکاڑہ،گوگیرہ اور اُن کے مضافات میں اِس طرح اپنے آپ کو گم کر لیا،جیسے یہ سب علاقے اُس کی ملکیت ہوں۔ حالانکہ اب تمام زمینیں اور فارم ملٹری نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے،جو تقسیم سے پہلے گوروں کی ملکیت تھے۔ ولیم نے کئی طرح سے اثر رسوخ اختیار کر کے نولکھی کوٹھی پر اپنا قبضہ بر قرار ہی رکھا اور کچھ روپے سا لا نہ کے حساب سے اُس کا کرایہ اداکرتا رہا۔ جب اُس کی زمینوں پر قبضہ ہوا تھا تو وقتی طور پر ولیم انگلستان چلا گیا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد واپس آگیا تھااور نولکھی کوٹھی میں بطور کرایہ دار براجمان رہا۔ ویسے بھی یہ کوٹھی ایک جرنیل کے نام لیز پر تھی،جس میں اُسے رہنا تو نہیں تھا کیونکہ نہ تو یہ کوٹھی کسی بڑے شہر میں تھی اور نہ ہی اوکاڑہ شہر کے درمیان میں تھی۔ اوکاڑہ کے شمال مشرق میں نہر کے دوسری طرف تین کلومیٹر باہر تھی،جس میں کسی مقامی کو رہنے کی کیا ضرورت تھی،جبکہ ولیم اِس کا کرایہ بھی زیادہ دینے کو تیار تھا اور پچھلے کئی سال سے دیتا بھی رہا تھا۔ اِس لیے اُس کا یہ مسکن بر قرار رہا۔

کچھ دنوں سے اُس کی طبیعت میں ایک بے چینی پھر داخل ہو رہی تھی۔ وہ کون سی بات تھی،جس کے باعث یہ کیفیت تھی۔ اس بارے میں ابھی وہ خود بھی لا علم تھا۔ ایک شام اِسی طرح سب جمع تھے اورمیاں محبوب علی خاص لاہورسے داستان کہنے کے لیے آئے ہوئے تھے،جو پہلے بھی کئی دفعہ آ چکے تھے۔ کوٹھی کے دالان میں ولیم کی کرسی کے سامنے پہلے آٹھ دس کرسیاں اور اُس کے آگے تین تین چار پا ئیاں دو طرفہ لگی ہوئی تھیں،جن کے درمیان چھ فٹ کی کھلی جگہ تھی۔ ولیم کی کرسی سے آخری چار پائی تک کم از کم دس قدم کا فاصلہ تھا۔ اِس طرح کہ داستان گو موقع کے مطابق بیچ میں چہل قدمی کر سکے۔ جیسا کہ اکثر پنجابی داستان گو مجمعے کے بیچ چل پھر کر اور اداکاری کر کے کہانی سناتے ہوئے،بیچ میں کہیں کہیں لوک بولیوں،دوہروں اور ماہیوں کے ٹانکے لگاتے جاتے ہیں۔ اِس سے کہانی کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ ولیم کے ہاں اکثرکہانی کہنے والے پنجابی ہوتے تھے۔ اِس لیے اُس نے کوٹھی کے دالان میں بیٹھنے کی شکل اسی صورت میں ڈھال رکھی تھی۔ میاں محبوب علی در اصل نواب مظفر علی قزلباش کا ذاتی داستان گو تھا،جو ولیم کے اُن دِنوں کا دوست تھا،جب وہ ڈپٹی کمشنر تھا۔ اِسی دوستی کو وہ آج تک نبھائے چلا آ رہا تھا۔ یہ سردیوں کی رات تھی اورآٹھ بج چکے تھے۔ محبوب علی داستان شروع کرنے ہی والے تھے کہ چوہدری شفیع محمد بھی آن بیٹھا،جس کے ساتھ سترسال کا ایک بڈھا تھا۔ شفیع محمدکی ستگھرہ موڑ پردو مربعے زمین تھی اور ولیم کے ساتھ اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔ ولیم جب بھی سیرکو نکلتا،اکثر چوہدری شفیع محمد کے پاس جا بیٹھتا۔ اِس طرح شفیع محمد بھی اُس کے حاضر باشوں میں تھا اوریہ رشتہ برابری کی سطح پر ہی قائم تھا۔ آج شفیع محمد کے ساتھ یہ بڈھا البتہ نیا تھا۔ اُس کے سر پر سفید پگڑی تھی اور سفید ہی کھدر کا دُھوتی اورکُرتہ تھا۔ پاؤں میں چمڑے کے دیسی جوتے تھے،جس کو خریدے ہوئے غالباً کئی سال گزر چکے تھے۔

سلام دعا کے بعد سب بیٹھ گئے تو چوہدری شفیع نے ولیم سے مخاطب ہو کر کہا،صاحب بہادر،یہ امیر سبحانی ہے۔ آج ہی حویلی لکھا سے آیا ہے۔ میں کل وہاں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا۔ وہیں اپنے بہنوئی کے ہاں میری اِس سے ملاقات ہوئی۔ بہت عمدہ داستان کہتا ہے۔ جب میں نے اِس سے وہاں داستان سنی تو اِس کا شیدائی ہو گیا اورمنت کی کہ میرے ساتھ ایک دو دن اوکاڑہ چل۔ امیر سبحانی اُجاڑے سے پہلے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں رہتا تھا۔ اِس لحاظ سے میں نے سوچا،اِسے آپ سے ملانا اچھا رہے گا۔ کیونکہ آپ بھی کافی عرصہ جلال آباد میں رہے ہیں اوراُسے یاد بھی کرتے ہیں۔ یہ آپ کا ہم وطن بھی ہے اور داستان تو یہ ایسی کہتا ہے کہ ساری رات گزر جائے گی۔ مگر آپ کا جی چاہے گا،سنتے جائیں۔

شفیع محمد تعارف کرا چکا تو ولیم نے ایک نظر بھر کر امیر سبحانی کی طرف دیکھا،گویا وہ آئینہ ہو،جس میں ولیم اپنے ماضی کا چہرہ دیکھ رہاتھا۔ دل ہی دل میں ولیم نے پوری کائنات کی خاموشی سمیٹ کر اپنے اندر بھر لی اور چند لمحے اُسی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ لوگوں نے اُسے حقہ پیش کیا اور بیٹھنے کے لیے سامنے کی ایک کرسی خالی کر دی۔ اتنے میں ولیم اپنی سابقہ حالت میں لوٹ چکا تھا۔ اُس نے پورے مجمعے کی طرف دیکھا اور کہا،کوئی بات نہیں۔ چلو آج ہم امیر سبحانی سے سن لیتے ہیں۔ محبوب علی تو ایک دو دن ابھی یہاں ہی ہیں۔ کیوں امیر سبحانی ہمیں سناؤ گے؟

جیسی آپ کی رائے،(اور سوالیہ انداز میں چوہدر ی شفیع کی طرف دیکھا)

اُس نے کہا،بھائی امیر آپ کو لایا کس لیے ہوں؟یہ صاحب ہمارے لیے بڑالاڈلا ہے۔ آج اِسے ایسی داستان سناؤ کہ خوش ہو جائے۔
چوہدری صاحب کوشش کرتا ہوں۔ اِس کے بعد امیر سبحانی نے حقے کے دو چار لمبے لمبے تیز کش لیے،پھر اُٹھ کے چارپائیوں اورکرسیوں کے درمیان والی راہداری میں کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ بھر کا کڑھا ہوا رومال گلابی رنگ کا،جیب سے نکال کرہاتھ میں پکر لیا،جو داستان گووں کی تسکین کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ امیر سبحانی نے رومال کے چاروں کونے اکٹھے کر کے مٹھی میں دبا لیے اور ولیم کی طرف منہ کرکے بولا،صاحب اجازت ہے تو عرض کروں؟ پھر داستان شروع کر دی اور ہلکے ہلکے قدموں سے آگے پیچھے چلنے بھی لگا۔

اول حمد خدا وند باری، دوم پاک رسول
تیجا نام علی کاجاپوں،جس کی دو جگ دھوم
چوتھی پاک رسول کی بیٹی پانچواں حسن حسین
اِن کے بعد ہیں بارہ ہادی سید کُل کونین
غازی پاک عباس بہادر،لے کر اُس کا نام
قصہ ایک دلاور کا مَیں تم کو سناؤں تمام

امیر سبحانی تمہید کے بعد اصلی داستان کی طر ف اس طرح پلٹا کہ اچانک ولیم سمیت پورا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا اورکہانی سننے کے ساتھ ساتھ امیر سبحانی کی حرکات و سکنات کو بھی غورسے دیکھنے لگا۔

آنکھوں دیکھا حال ہے،نہیں سُنی گنی یہ بات
سب سچ کہانی بیلیوں،شاہد رب کی ذات
اک شہرجلال آباد تھا،اُس مشرق کے پنجاب
جسے چھوڑا وِچ فساد میں،سنو مرے احباب
اُس شہرجلال آبادمیں،تھا ایک جوان دلیر
بیٹا حیدرشیر کا تھا،دھرتی کا وہ شیر
نام غلام حیدر اُس کا،جانے سب سنسار
ہوا شہید وہ سورما،پَر دیے گورکھے مار

اِس کے بعد جیسے ہی امیر سبحانی نے داستان کا قد غلام حیدر کے ذکر کے ساتھ آگے بڑھایا اور قصے کی رمزیں کُھلنا شروع ہوئیں،ولیم کی آنکھیں کُھلنے لگیں۔ امیر سبحانی کی آواز میں ایسی تمکنت اور داستان کہنے میں ایسی دلآویزی تھی کہ سب مجمعے کے سروں پر گویا پرندے بیٹھے ہوں۔ مجال ہے،کسی کا دھیان ادھر اُدھر بھٹک جائے۔ ولیم کا معاملہ کچھ آگے کا تھا۔ جیسے جیسے داستان آگے بڑھ رہی تھی،اُس کی یاد داشت کے دریچوں کے پٹ ایک ایک کر کے وا ہوتے جا رہے تھے۔ اُسے یوں لگ رہا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن چکا ہے۔ امیر سبحانی چارپائیوں کے درمیان کی راہداری میں ایک ہاتھ میں جریب پکڑے،کبھی آگے اور کبھی پیچھے چلتا اور غلام حیدر کا قصہ نظم کی شکل میں بیچ بیچ نثرکے ٹوٹے جما کر یوں اُٹھاتا،جیسے آئتوں کے درمیان تفسیر کی وضاحتیں ہوں۔ اِس طرح کہانی میں ایک تو تا ثیر بڑھ جاتی تھی،دوسرا سمجھنے میں آسانی رہتی۔ کہانی کے اِس انداز سے یوں تو سارا مجمع ہی کہانی سننے کی بجائے دیکھ رہا تھا۔ مگر ولیم توگویا پچھلے زمانے میں پہنچ گیا تھااورنہیں چاہتا تھا کہ یہ قصہ ختم ہو۔ اُس کے لیے چالیس سال بعد یہ ایک ایسا منظر تھا،جو اگر نہ آتا تو شاید ولیم کی زندگی میں ایک ایسا خلا رہ جاتا،جو نہ تو کبھی پُر ہوتا اور نہ ہی ولیم کو پتا چلتا،وہ کون سا خلا ہے؟ داستان آگے بڑھتی گئی۔ سب سنتے گئے اور ولیم اُس کے ایک ایک منظر میں کھوتا گیا۔ حتیٰ کہ رات گیارہ بجے امیر سبحانی نے داستان دوسرے دن عشا کے وقت تک روک دی۔ اِس کے بعد سب مہمانوں کو کھانا پیش کیا گیا۔ کھاناکھا کر سب رخصت ہو گئے اور امیر سبحانی چوہدری شفیع کے ساتھ ٹانگے پر بیٹھ کر چلا گیا۔

لوگ تو داستان سن کر چلے گئے مگر ولیم کی رات سو سال کی ہو گئی۔ امیر سبحانی نے داستان شروع نہیں کی تھی،ولیم کی زندگی کا افسانہ چھیڑ دیا تھا۔ اگرچہ ِاس میں اُس کا اپنا ذکر تین چاردفعہ ہی آیا تھا۔ وہ بھی غلام حیدر کے ضمن میں مبالغے کے ساتھ،۔ مگر یہ مبالغہ بھی ولیم کو اچھا لگا۔ بلکہ عین سچ لگا اوروہ چاہ رہا تھا،یہ کہانی کبھی ختم نہ ہو۔ اِنہی سوچوں میں ولیم کی ساری رات نکل گئی اور اُس کی آنکھیں گویا یاقوت ہو گئیں۔ کبھی اُٹھ کے ٹہلنے لگتا،کبھی بستر پر جا پڑتا۔ حتیٰ کہ فجر کی اذان نے صبح کی سواری کا نقارہ بجا دیا۔ رات بھر ولیم کے دماغ میں جودھا پور،جھنڈو والا،غلام حیدراورجلال آباد کے مضافات کا وہ علاقہ پھرتا رہا،جہاں اُس نے اُن دنوں دورہ کیا تھا۔ وہ رہ رہ کر اُنہی مضافات میں چلا جاتا اور تڑپ تڑپ کے رہ جاتا۔ کہانی ابھی تک وہاں تک پہنچی تھی،جب غلام حیدرفیروز پور میں شیخ مبارک کے پاس ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بندوبست میں گیا تھا۔ لیکن وہ دلچپ اِتنی تھی کہ ولیم کو اپنے ساتھ غلام حیدر کے کردار سے بھی شدید دلچسپی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہو گیا کہ آخر اُس کے ساتھ کیا بنی؟ دن چڑھا تو اُس نے بادامی رنگ کی بید پکڑی اور سیر کو نکل کھڑا ہوا۔ یہ سیر اُن زمینوں اور باغوں کی تھی،جو اب اُس کی ملکیت میں نہیں تھیں۔ اُس کی عمر اتنی لمبی سیر کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔ پھر بھی وہ جوانوں سے کہیں زیادہ پھرتیلا اور پیدل چلنے والا تھا۔ وہ دوبارہ شام ہونے اور کہانی کے شروع ہونے کے انتظار میں کُڑھنے لگا اور خدا خدا کر کے پھر عشا کا وقت ہو گیا اور ولیم کی کوٹھی میں داستان کے پالان لگ گئے۔

یہ محفل دس دن بر پا رہی۔ امیر سبحانی نے اِس طرح اُس میں رنگ بھرا کہ محبوب علی بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ہر آدمی عش عش کر اُٹھا اور سب نے اُسے کچھ نہ کچھ ضرور دیا۔ ولیم نے دس ہزار روپے کے ساتھ کئی تحفے بھی دیے۔ اتنی بڑی رقم امیر سبحانی نے کبھی ایک دم نہیں دیکھی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں ولیم کے لیے تشکر کے آنسو آگئے۔ اب چونکہ ہر شخص پر کھل گیا تھا کہ جلال آباد کا اُس وقت کا اسسٹنٹ کمشنر ولیم تھا،اور یہ کہ ُاس نے غلام حیدر کے ساتھ زیادہ سخت رویہ اختیار بھی نہیں کیا تھا۔ اِس کے علاوہ یہ اِس داستان میں ایک بڑے متحرک کردار کی شکل میں سامنے رہا ہے اور سکھوں کی بانسری بجانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اِس لیے وہ سب ولیم کی محبت میں اور زیادہ مانوس ہو گئے۔ لیکن ولیم کہانی سننے کے بعد مزید اُداس رہنے لگا۔ اُسے وہ بھولی ہوئی تمام شامیں اور اُن شاموں میں جلنے والے قمقمے یاد آنے لگے،جو کسی بھی طرح سے خوش گوار تھے۔ اِس منظر میں اُسے پھر کیتھی اور بچوں کی یادیں ستانے لگیں،جو اگر چہ اب بچے نہ رہے تھے لیکن ولیم نے اُنہیں جس قدوقامت میں چھوڑا تھا،وہ اُسے اُسی قامت میں دِکھنے لگے اور مسلسل تڑپانے لگے۔ مگر اب اُن کا کوئی پتا نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،اگر ایک بار اُسے خط آ جائے تو وہ اُن سے ملنے کے لیے لندن ضرور جائے گا۔ وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا اور خط لکھنے لگا۔

بیڈ روم کی تمام چیزیں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ بلکہ کئی چیزیں تو استعمال کے قابل بھی نہیں رہی تھیں اور اُس نے نئی چیزیں نہ خریدنے کی قسم کھا لی تھی۔ کوٹھی بھی ولیم کی طرح بوسیدہ ہو چکی تھی۔ پھر بھی کوئی چیز اِس تنہائی میں دل کو سکون اور اطمنان بخشنے والی تھی،تو وہ یہی کوٹھی تھی،جو اُس کی اپنی تھی۔ ولیم نے کیتھی اور بچوں کو تسلی سے بیٹھ کر دوبارہ خط لکھا اور خود جا کر اوکاڑہ کچہری بازارکے تار گھر سے تار کیا۔ لیکن اُس کا کبھی جواب نہ آیا اور دن مزید گزرتے گئے۔ ولیم آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید امیر سبحانی سے کہانی سننے کے بعد وہ جلد بوڑھا ہونے لگا تھا۔ اُ س نے سوچا،کاش اُس کی امیر سبحانی سے ملا قات ہی نہ ہوتی اور وہ اتنا جلدی بوڑھا نہ ہوتا۔ یہ اُداسی کی حالت ولیم پر کئی مہینوں تک جاری رہی۔ سردیاں گزر گئیں،بہار نکل گئی،گرمیاں چلی گئیں،پھر سردیاں آگئیں۔ اِن بدلتے مہ و سال کے فاصلوں سے اُس کے زخم بھرنے لگے اور دو سال بعد اُس کی حالت پھر معمول پر آگئی۔ لیکن اب اُس کی شاہ خرچیاں ختم ہو گئی تھیں۔ کیونکہ جمع پونجی قریب قریب ٹھکانے لگ چکی تھی اور اُس کی زندگی کے شب و روز ارد گرد کے علاقوں میں گھومتے ہوئے،اُفق کی طرف جلدی سے سمٹتے جارہے تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چوبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(42)

بہت دنوں سے ولیم سوچ رہا تھا کہ سرکاری نوکری پر لعنت بھیج دے۔ صرف اوکاڑہ میں رہ کر اپنا ذاتی فارم چلائے،جس پر کیتھی کسی طرح بھی راضی نہ ہو سکتی۔ شاید وہ اُسے بھی نظر انداز کر کے فیصلہ کر بیٹھتا کہ اچانک اُس کی خوش نصیبی سے برطانیہ پر ایک آفت ٹوٹ پڑی اور وہ تھی جنگ عظیم دوم۔ ہٹلر کی حکومت نے مشرقی یورپ میں ایک وسیع اور جدید سلطنت “لونگ اسپیس” (لیبن سروم) کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ اُس نے یہ خیال اپنے لوگوں پر واضح کیا تو جرمن لیڈروں نے یورپ پر جرمنی کے تسلط کیلئے جنگ کو ضروری قرار دے دیا۔ سویت یونین کی غیر جانبداری حاصل کرنے کے بعد جرمنی نے یکم ستمبرانیس سو انتالیس میں پولنڈ پر حملہ کرکے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کر دیا۔ اِس کھلم کھلا جارحیت کو روکنے کے لیے برطانیہ اور فرانس نے رد عمل کے طور پر تین ستمبر کو جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اُدھر ایک ماہ کے اندر جرمن نے سویت فوجوں کے اتحاد سے پولنڈ کو شکست دے دی۔ پولینڈ جرمنی اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب اِس سب کچھ سے لا تعلق ولیم پنجاب کے چیف سیکرٹری ہاؤس لاہور میں کُھڈے لائن لگا،فائلوں کے اُوپر سے مکھیاں اُڑا رہا تھا۔ وہ اِس جنگ کی خبریں تو مسلسل سُن رہا تھا لیکن ابھی جنگ کی آواز براہ راست ہندوستان نہیں پہنچی تھی۔ اِس لیے اُسے اس سب کچھ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ویسے بھی کچھ وقت تک عارضی سکون ہو چکا تھا،جونو اپریل انیس سو چالیس تک جاری رہا اور اُس وقت ختم ہوگیا،جب جرمن فوجوں نے پھر ایک دفعہ ناروے اور ڈنمارک پر حملہ کردیا۔ یہی وہ وقت تھا جب بر طانیہ کے کان پر دوبارہ جوں رینگی اور وہ اِس کھجلی پر چونکا۔ اُدھر جنگ کا آغاز ہو ااِدھر برطانوی کالونیوں میں انگریزوں اور مقامیوں کو افسریاں پلیٹوں میں بکنے لگیں۔ اِسی ریلے میں کئی معتوبوں کی غلطیاں بھی تھوڑی بہت سرزنش کے بعد بخش دی گئیں۔ چنانچہ ولیم کی بھی سنُ لی گئی اور اُس کی خدمات دہلی ڈویژن کے سپرد کر دیں۔ جہا ں انہیں بطور ڈپٹی کمشنر ضلع روہتک بھیج دیا۔

ولیم کا اتنی جلدی اچانک ڈپٹی کمشنر بن جانا نہایت اعزاز کا باعث تھا اور کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ کجا لاہورمیں پندرہ ماہ سے مکھیاں مارنے کاکام اور کجاایک دم پورے ضلع کا وائسرائے۔ آڈر ملنے کے بعد اُس نے فوراً کیتھی کو اطلاع دی اور کہا،محترمہ جلدی ضلع کی میم بننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ کیتھی نے یہ سنتے ہی اوکاڑہ میں اپنی نیابت کے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کر دی۔ سب سے پہلے اُس نے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر ملنے والے ملازمین کی لسٹ تیار کی۔ جس کی تعداد پینتیس کے لگ بھگ تھی۔ اِن میں خاص کر،سائیس،دھوبی،خانساماں،بھنگی،باورچی،مالی،گھسیارا،چڑی مار، قصاب، مچھیرا، ماشکی، مالشیا،حلوائی،سگ پرور،بٹیر باز،مرغ باز،اور اسی طرح کے نجانے کیا کیا الا بلا نوکروں کی پلٹنیں تھیں۔ یہ تو باقاعدہ نجی ملازم تھے۔ ورنہ تو اب پورا ضلع ملازم ہونے والا تھااور کسی کی کیا جرات کہ اُن کی مرضی کے خلاف پر بھی مارتا۔ ولیم اِسی خوشی میں نولکھی کوٹھی پر پہنچا اور سب دوستوں کو بلا کر ایک لمبی دعوت سے سر فراز کیا۔ جانسن صاحب نے (جو ایک سال پہلے ریٹائرڈ ہو چکے تھے) اپنے تجربات کی تھکادینے والی کہانیاں سنائیں اور ایسی ایسی نصیحتوں کی زنبیلیں کھولیں،جو اگرچہ بوسیدہ ہو چکیں تھیں،پھر بھی ولیم کو سننی پڑیں کہ یہ کچھ دیر کی کوفت اُس کے والد کے لیے طمانیت کاباعث تھی۔ جانسن کے لیے ویسے بھی یہ ایک ایسی خوشی تھی،جس کا نہ ملنا ایک طرح کی بے توقیری تھی،کہ پشت در پشت ملنے والی کمشنری اگر کسی جگہ رک جاتی تو خاندان کو بٹہ لگ جاتا۔ اِس لیے جانسن صاحب ولیم سے بھی زیادہ پُرجوش تھے اور دوستوں کو اپنے خاندان کے قصے لطف لے لے کر سنا رہے تھے۔ اگر ولیم کے ڈپٹی کمشنر بننے کی کہانی اندر سے کھولی جاتی تو کہیں جانسن صاحب کی بار آور کوششیں درمیان میں موجود تھیں۔ دعوت میں پادریوں سے لے کرڈپٹی کمشنروں تک سب جمع تھے،جنہیں جانسن صاحب کو اپنا نام و نامود دکھانا منظور تھا۔ دعوت کے بعد ولیم بلا تاخیر افسرانہ اعزاز کے ساتھ روہتک کی طرف روانہ ہوگیا اور سیدھا ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں جا کر دم لیے۔ جو چنددن پہلے اُس کے لیے خالی کر کے،اُس میں ولیم کا ذاتی سامان لگا دیا گیا تھا۔

یہ بنگلہ ایک طرح کا گورنر ہاؤس ہی تھا۔ وہ بڑی بڑی پیلے رنگوں کی دیواریں اور دیواروں کے اندر سفید انڈے کی طرح کا اونچا سا بنگلہ،جس کے بے شمار کمرے،مہمان خانے،ڈائیننگ روم،ڈرائینگ روم اور دوسرے کمرے تھے۔ اِن کے علاوہ کئی کئی چبوترے،سہ دریاں،بارہ دریاں اور شش دریاں سفید رنگوں میں ایک کے بعد ایک بنگلے کے کھلے صحنوں میں ہنس رہی تھیں۔ یہ سب تو ایک طرف،ولیم بنگلے میں اُترا تو اُس کا استقبال کرنے کے لیے آدھا شہر وہاں موجود تھا۔ دو ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،ضلع کی پانچوں تحصیلوں کے تحصیلدار،نائب تحصیلدار،پولیس کے افسر اور نہ جانے کس کس شعبے کے لوگ تھے۔ ان سرکاری لوگوں کے علاوہ شہر کے بڑے اور امیر لوگوں کی الگ کھیپ سلام کرنے کے لیے پہنچی ہوئی تھی۔ ولیم نے ان سینکڑوں افراد کے مجمعے کو دیکھا،جو اُسی کی خاطر کھڑے تھے،تو چند لمحوں کے لیے اُس کے اندر رعونت نے بھرپور پھریری لی۔ لیکن اِس طرح کے معمولات وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ دیکھ چکا تھا،اِس لیے زیادہ فرق نہ پڑا اور وہ پہلی حالت میں آ گیا۔ لوگ بہت زیادہ تھے لیکن ولیم نے ترتیب میں کھڑے ہوئے آٹھ دس سے ہی ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا۔ اسی طرح ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر جان میکن نے بھی چند لوگوں کا تعارف کرا کے باقی کو نظر انداز کر دیا۔ وہ جان گیا تھا،صاحب اِس وقت تھکے ہوئے ہیں اور جلد ی مجمع اپنے سے دور کر دینا چاہتے ہیں۔

روہتک میں کافی عرصے سے ڈپٹی کمشنر کی جگہ پر اسسٹنٹ کمشنر ہی کام کر رہا تھا۔ یہاں کسی کو اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی اور کام بخوبی چل رہا تھا لیکن اچانک جنگ کی وجہ سے ہنگامی حالات پیدا ہوئے تو اس آسامی کو پُر کرنے کا خیال آ گیا اور قرعہ ولیم کے نام نکل آیا۔

تعارف کے بعد ولیم نے جلد ہی سب کو رخصت کر دیا تاکہ دوسرے دن مکمل آزادی کے ساتھ اگلے اقدام کا بندوبست کیا جائے۔
دوسرے دن ولیم ڈپٹی کمشنر ہاؤس پہنچا تو عمارت کو اندازے کے مطابق نہایت پُر شکوہ پایا۔ دور تک بلندو بالا کمرے ہی کمرے اور کھلی راہداریاں۔ ولیم کا اپنا کمرہ جلال آباد والے سے دگنا تھا۔ انتظامیہ کا پروٹوکول بھی کمال تھا۔ مگر اِس کے باوجود ولیم کو یہاں کچھ خلا سا محسوس ہو رہا تھا۔ جس کی فی الحال نشان دہی تو نہیں ہو رہی تھی لیکن کچھ ایسا ضرور تھا،جسے ولیم سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ یہاں اُس کا،پی اے،ایک راجپوت رانا دھنپت رائے تھا،جو شائستہ اور صاف ستھرا پچاس سال کی عمر کے لگ بھگ کا شخص تھا۔ اُس کی مونچھیں ضرور تھیں لیکن ایسی،جس سے ولیم کو کسی قسم کی تکلیف پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ سر پر کُلے دار پگڑی نے مو نچھوں کو مزید بارعب بنا رکھا تھا۔ رائے دھنپت صاحب اردو کے ساتھ انگلش بھی اچھی طرح سمجھتا اور بولتا تھا۔ ولیم کو پہلے دن ہی اُس کی لیاقت کا اندازہ ہو گیا۔ اُس نے اُسے جتنی ہدایات دیں،اُن پر اس قدر پھرتی سے عمل کیا کہ خود ولیم بھی دنگ رہ گیا۔

ولیم نے دوسرے روز ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنرز اورتمام تحصیلداروں کا اجلاس طلب کیا اور کام کے آغاز کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے لگا۔ اُسے ایک بات کا اطمنان تھا کہ اب اُسے بہت سے کاموں میں آزادی ہوگی۔ وہ اُن کے بارے میں کسی کو جواب دہ نہیں ہو گا۔ وہ بے دھڑک اُن کو نبٹانے کی طرف توجہ دے گا اور جو کام اپروول کے محتاج ہوئے،وہ آہستہ آہستہ بھی آگے بڑھتے رہے تو مضائقہ نہیں۔ ولیم نے پہلے ہی اجلاس میں اپنی گزارشات کی وضاحت کردی اور تمام تحصیلوں کے ذمہ دار افسروں پر واضع کر دیا کہ اُسے صرف تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول تعلیم کے بہتر نتائج،دوم معاشی ذرائع کا پیدا کرنا اور سوم گورنمنٹ کے لیے خراج کے نظام کو مزید بہتر بنانا۔ یہ اُن کی پہلی ترجیحات ہیں۔ اِن کے علاوہ تمام کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضلعی گزٹ کے مطابق،جس کا مطالعہ کئی روز پہلے ولیم کر چکا تھا،روہتک میں امن و امان کے حوالے سے زیادہ خرابی نہیں تھی۔ لوگوں میں اکڑ پھکڑ کافی تھی لیکن بڑے پیمانے پر شر پسندی پھیلانے کی جرات ابھی تک پیدا نہ ہو سکی تھی،نہ ہی آگے توقع تھی۔ اس لیے ولیم نے اس معاملے پر بات کرنے کی زحمت نہیں کی اور ہدایات دے کر اجلاس ختم کر دیا۔ آفیسرز،جنہیں ابھی تک روہتک میں کسی ڈپٹی کمشنر نے ڈیل نہیں کیا تھا،کو بھی ولیم کے انداز گفتگوسے واضح ہو گیا کہ اب بڑے افسر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میٹنگ کے انجام پر اُنہوں نے بھی کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ولیم کو محسوس ہوا،وہ جو سوچ رہا تھا،اتنا آسان نہیں تھا۔ اب اور طرح کی مجبوریاں سامنے دکھائی دینے لگیں۔ اُسے اس بات کا ندازہ نہیں تھا کہ حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔ اچانک مسلم لیگ اور کانگرس کے جلسے چل نکلے تھے،جن سے اُسے پہلے ہی بہت زیادہ کوفت ہوتی تھی۔ وہ اُن کو روکنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا تھا۔ کئی بار دفعہ چوالیس کا نفاذ کر کے اس طرح کے جلسوں کا ناطقہ بند بھی کیا َلیکن صاحبانِ جلسہ کہیں اُوپر سے احکامات حاصل کر کے لے آتے اورآزادی کی بکواس شروع کر دیتے۔ ولیم کو بعض اوقات ان سے وحشت محسوس ہوتی۔ ولیم کو اس بات پر شدید غصہ آتا کہ ان کے بڑے اصل میں انگریزوں کو نکال کر اپنی حکومت چاہتے ہیں۔ اُس کے ذہن میں طرح طرح کے اندیشے آنے شروع ہو جاتے۔ وہ سوچتا،کیایہ ہندوستانی اُسے بھی نکال دیں گے؟ حالا نکہ اُن کے خاندان کو یہاں پورے ڈیڑھ سو سال ہوگئے ہیں۔ بعض اوقات ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے کہتا،یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ جو حکومت اتنی جدو جہد اور طاقت سے حاصل کی گئی ہے،اُسے انگریز اتنی آسانی سے اِن گنواروں کے سپرد نہیں کریں گے۔ جن کے پاس نہ تعلیم ہے اور نہ حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ وہ خیال کرتا،اصل میں یہ سب کچھ جنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان خیالات اور اندیشوں کے باوجود ولیم اپنے تئیں کچھ نہ کچھ کرنے میں جتا رہا اور کافی سارے نتائج حاصل بھی کر لیے مگر چند مہینوں میں حالات کے پیشِ نظر ولیم کو اندازہ ہو گیا کہ اُس کے جنگ کے متعلق اندازے ٹھیک نہیں تھے۔ وہ طول پکڑتی جارہی تھی۔ اِدھر اُس کے اختیار ات کی کڑیاں آہستہ آہستہ ٹوٹتی جا رہی تھیں۔ مقامی اور کالوں کی جراتیں بڑھ رہی تھیں اور بعض احکامات پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ عمل کر نے پر مجبور تھا،جو ہندوستان کی آزادی اور کالوں کے وافر حقوق کے متعلق ہوتے۔ ولیم نے حالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا تو اُسے لگا،اُوپر کی سطح پر کہیں گڑ بڑ ہو چکی ہے۔ اُس کی بھیجی ہوئی فائلیں یا تو بغیر اپروول کے واپس آ رہی تھیں یا اُن میں بلا وجہ کی تاخیر ہو رہی تھی۔ کبھی بجٹ کا بہانہ کر کے،کبھی کہ دیا جاتا،حکومت کی اِس کام میں ترجیح نہیں ہے۔ پھروہ جلد ہی بہت کچھ جان گیا اوراُسے پتا چل گیا کہ اس وقت پورے ہندوستان کی انتظامیہ اِسی طرح چل رہی ہے۔ جس میں اُس کا کام بھی عبوری سطح کا اور ہنگامی بنیادوں پر ہو گیا تھا۔ اس حالت میں اُسے ایک سال گزر گیا۔ اس دوران کام کی بڑھتی ہوئی یکسانیت نے اُس کی طبیعت کو تباہ کر دیا۔ اِن حالات میں کیتھی اُسے اِدھر اُدھر سے ہر وقت دلاسا دینے میں لگی رہتی اور پل پل کا خیال رکھتی۔ لیکن اسے کمشنری کی جتنی خوشی ہونی چاہیے تھی، وہ سب غارت ہو کے رہ گئی۔ اِس وقت کمشنر ی کے اختیارات اُس کے لیے ایک ایسا خواب ہو گئے تھے،جن میں مناظر تو نظر آتے ہیں لیکن خواب دیکھنے والا اُن مناظر کو نہ چھو سکتا ہے،نہ اُن سے لذت حاصل کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ ایسی گائے کا دودھ تھا،جو جنگ کی وجہ سے ہر کس و ناکس کو پلا دیا گیا۔ دوئم،اِس شاہانہ عہدے کے ساتھ کچھ ایسی ہدایات نتھی کردی گئیں،جو کسی طرح بھی ڈپٹی کمشنر جیسی پُر وقار ذات کے لیے جائزنہیں تھیں۔ بجائے اِس کے،کہ ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع میں بلا شرکتِ غیرے،جیسا کہ وہ سوچ رہا تھا، حکمرانی کرے، اُسے بریگیڈیروں اور جنرلوں کی ہدایات پہنچنا شروع ہو گئیں اور سخت سے سخت حکم وصول ہونے لگے۔ مثلاً ضلع سے جتنے جوان ہو سکیں،فوج میں بھرتی کے لیے بھیجے جائیں۔ غلہ کو ذخیرہ کر کے اُس کا حساب پہنچایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ خراج اور مالیہ وصول کیا جائے۔ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ بعض اوقات تو یہ حکم نامے کمشنر آفس سے آنے کے بجائے ڈائریکٹ ہی وصول ہونے لگے،جو ولیم کے لیے اس قدر آزار کا باعث تھے کہ اُسے اپنا یہ عہدہ ایک چپڑاسی سے بھی بد تر معلوم ہونے لگتا۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر وہ کس کے ماتحت ہے؟ آیا اپنے ڈویژن آفس کی سول انتظامیہ کا،جہاں سے اصولی طور پر اُسے تنخواہ ملتی ہے یا پھر میرٹھ چھاونی کا،جہاں کے فوجیوں کی حیثیت اُس کے سامنے ایک گنوار زبان استعمال کرنے والے جانوروں کی تھی۔ ولیم کبھی کبھی خیال کرتا،اِس سے تو بہتر اُس کے وہی دن تھے،جب وہ جلال آباد میں اسسٹنٹ کمشنر تھا اور ہیلے کا ماتحت تھا۔ اُسے ہیلے،اپنے باپ اور اُن ڈپٹی کمشنروں پر رشک آنے لگا،جووقار کو تباہ کردینے والی جنگ سے پہلے ریٹائر ہوکر عزت بچا چکے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے سوچتا کہ مصیبت کے دن تھوڑے ہی ہیں،گزر جائیں گے تو اُن کی افسری کی شان میں بھی پہلے والی چمک دمک آجائے گی۔ مگر اُسے پھر آزادی کے متوالوں کے بے ڈھنگے مطالبوں کی یاد آجاتی جو روز بروز بڑھ رہے تھے اور منظور بھی ہورہے تھے۔

ایک طرف درج بالا بکواسیات تھیں،دوسری طرف روہتک کا ماحول ولیم کے لیے انتہائی اذیت ناک تھا۔ اُسے روہتک میں ڈیڑھ سال کے قریب گزر چکا تھا۔ یہ عرصہ اُس کی طبیعت کو اچاٹ کر دینے کے لیے ہر دن نئی بیزاری لے کر آتا اور ولیم کی نحوست میں اضافہ کر دیتا۔ یہ ضلع دہلی کے مغرب میں چالیس یا پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خشک شہر تھا،جس کے مضافات میں مٹی کے ٹیلے،عک اور ببول کی جھاڑیاں حد نظر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ شہر کے ساتھ ساتھ پختہ اینٹیں بنانے والے بھٹوں کی کثرت تھی۔ اُن کی چمنیوں سے اُٹھنے والا دھواں ہر وقت شہر پر سایے بلند کیے رکھتا۔ اُن سایوں کے بیچ اُڑتی ہوئی چیلیں چکر کاٹتی رہتیں،کبھی بلندی پر اور کبھی بالکل چھتوں کے اُوپر۔ شہر کی عمارتیں زیادہ تر پکی اینٹوں کی اور پُرانے دور کی یاد دلانے والی تھیں۔ اُن پر کام اگرچہ بہت نفاست سے کیا گیا تھا لیکن اب وہ اکثر جگہ سے خراب ہو رہا تھا۔ شہر کی قریباً ساری آبادی نہ جانے کون سی زبان بولتی تھی اور کس کلچر سے تعلق رکھتی تھی۔ راجستان سے روز کی اُٹھنے والی آندھیوں نے اُس پر مزید کام دکھایا تھا۔ آئے دن شہر کے درو دیوار گرد و غبار کی تہوں میں دب جاتے۔ مضافات میں اُڑتی ہوئی ریت اور دھول نے ہر چیز کو مٹیالا بنا دیا تھا۔ لوگوں کے چہرے بھی اسی مٹی،خشکی اور دھول کے باعث اتنے بے رونق ہو چکے تھے کہ ولیم کو جلال آباد کے لوگ اِن کے مقابلے میں نہایت خوبصورت لگنے لگے۔ کڑوا تمباکو اِن کی مرغوب غذا تھی۔ آٹھوں پہر میں کوئی لمحہ ہو گا کہ اُن کے بوڑھے،جوان حتیٰ کہ بچے بھی اس لعنت میں گرفتار نہ ہوں۔ تمباکو کے کثیف اور مسلسل دھویں سے اُن کی مونچھیں اور داڑھیاں بھوری،زرد اور بدبو دار ہو چکی تھیں اور وہ اُسی ابکائی پیدا کر دینے والے رنگوں سے مانوس تھے۔ یہ لوگ نہایت سوکھے سڑے،لمبی مونچھوں،چھوٹی قامتوں،باریک آنکھوں اور چھوٹے چھوٹے پاؤں کے ساتھ دھوپ اُگاتی سڑکوں پر آتے جاتے نظر آ تے۔ بعض دفعہ ولیم اِن کے رنگ برنگے چیتھڑوں اور ٹاکیوں سے سیے گئے بستروں کے بارے میں غور کر کے کانپ جاتا،جو اُس نے دیکھے تو نہیں تھے،لیکن اِن لوگوں کی ظاہری حالت سے ہی اُن بستروں کی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ جن میں دوپہر کی گرمی نکلنے تک پڑے سوتے یہ لوگ پیٹ کی بودار کثیف ہوائیں چھوڑتے رہتے اور اُن کو خود ہی سونگھتے رہتے۔ ولیم کو اُن کی دھوتیوں پر ہرگز اعتراض نہ ہوتا،اگر وہ اصل میں دھوتیاں ہی ہوتیں۔ وہ تو محض بے کار چیتھڑے تھے،جو ہمیشہ اُن کے گھٹنوں سے اُوپر اُٹھے رہتے۔ اُن چیتھڑو ں کا ایک پلو نیچے سے کھینچ کر مزید پیچھے گانڈ کی طرف سے باندھ لیاجاتا،جو ایک کچھا سا بن کر رہ جاتا اور وہ رانگڑ اُسی کچھے میں ننگادندناتا پھرتا۔ بعض اوقات وہ کچھا اتنا چھوٹا ہوتا کہ اُس کے سُکڑے ہوئے سیاہ چوتڑ صاف نظر آتے۔ ولیم یقیناً اُن کا لباس،عادات اور زبان بدلنے پر قادر نہ تھا لیکن وہ چاہتا تھا،کم از کم جس سے بھی اُس کی ملاقات ناگزیر ہو،وہ انسانوں کی حالت میں اُس کے پاس آئے۔ ولیم نے اپنے عملے کو ملاقات کے لیے ضروری ہدایات جاری کر دیں کہ ملاقاتی اپنے لباس میں پاجامہ اور کُرتہ کا اہتمام کرے۔ اسی طرح دیسی چمڑے کے جوتوں کی بجائے انگلش جوتے پہن کر آئے یاکم از کم جوتوں کے اندر اُس کے پاؤں سرسوں کے تیل اور مٹی میں غچ غچ نہ ہوں،نہ جوتوں کے چمڑے سے چرر چرر کی آواز پیدا ہو۔

لوگوں کی بد شکلی کے علاوہ ولیم کو روہتک کے مضافات سے بھی وحشت آنے لگی۔ کوسوں تک سبزے کی ایک پتی بھی نہیں تھی۔ نہ کوئی نہر اور پانی کا انتظام نظر آ رہا تھا۔ کچھ تھا،تو تمباکو کی سر سر ی فصلیں،جو اِن لوگو ں کے رزق کا واحد سہارا تھیں۔ تمباکو کی اسی بہتات کی وجہ سے ہر شخص کے ہاتھ میں اپنا ایک حقہ تھا،جسے وہ ہر وقت گُڑ گڑاتا رہتا۔ شہر کی منڈی معمول کے مطابق ہندووں کے ہاتھ میں تھی۔ مسلمان یہاں بھی محض حقے پر گزارہ کیے ہوئے تھے۔ کلچر دونوں قوموں کا ایک ہی تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ جو مسلمان تھے،اُن میں مسلمانوں والی کوئی بات نہیں تھی،سوائے مفلسی اور غربت کے۔ جسے دور کرنا ولیم کے بس سے باہر تھا۔ یہاں اِتنے مسائل اور حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی دیکھ کر ولیم کا دل چھوٹ چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا،جتنی جلدی ہوسکے،اُس کو دہلی کے مضافات سے نکال کر جالندھر،لاہور یا ملتان ڈویژن کے حوالے کر دیا جائے مگر جو کام کرنے کے لیے اُسے یہاں تعینات کیا گیا تھا،اُس کا ٹارگٹ حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ جس کے لیے ولیم نے بہر حال اپنی سی کوشش ضرور کی اور اُس میں کامیاب بھی ہوا۔ سچ پوچھیں تو یہ ضلع اِس کام کے لیے ویسے بھی مناسب ترین تھا۔ وسطی پنجاب یا فیروز پور سے لوگوں کوبرطانوی فوج میں لے جانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہاں لوگوں کی روٹی پوری ہو رہی تھی۔ دریاؤں کے ارد گرد بیلے،چراگاہیں اور فصلیں اُن لوگوں کی زیادہ نہ سہی،بنیادی ضروریات پوری کر رہی تھیں۔ جبکہ روہتک اور راجستان جیسے علاقوں میں بھوک اور ریت کے بگولوں کے سوا کچھ نہیں تھا،یاپھر مونچھیں تھیں کہ اُگی چلی جاتی تھیں۔ چنانچہ ولیم کی طرف سے فوج میں بھرتی کے اعلان کے ساتھ ہی ہزاروں لوگ بھاگے چلے آئے۔ جنہوں نے انگریزی وقار کو میدانِ جنگ میں مزید برقرار رکھنے کے لیے اپنی مونچھوں کے تاؤ اور زیادہ کر دیے تھے۔ ایک ایک دن میں دو دوسو لوگوں کی بھرتی ہونے لگی اور چند مہینوں میں ہزاروں لوگوں کو انگریزی ٹوپیاں پہنا کر محاذوں پر بھیجنے کے لیے ریوڑوں کے ریوڑ تیار کر لیے گئے۔ یہ اتنی بڑی اور شاندار کامیابی صرف جہلم،روہتک یا راجستان ہی سے حاصل ہوئی تھی۔ باقی تمام اضلاع میں اتنی نفری کسی بھی علاقے سے نہیں مل سکی تھی۔

اِدھر ولیم کے یہ حالات تھے،اُدھرجرمنی کی حوصلہ افزائی پرسویت یونین نے جون انیس سو چالیس میں بالٹک ریاستوں پر قبضہ کرکے اُنہیں باقاعدہ طور پر اپنے ملک کا حصہ بنا لیا۔ اٹلی،جو اتحاد (جرمنی کے حلیف ممالک) کا رُکن تھا،وہ بھی اس جنگ میں شریک ہوگیا۔ تیرہ اگست سے اکتیس اکتوبرانیس سو چالیس تک جرمنی نے انگلستان کے خلاف ہوائی جنگ شروع کی اور اْس میں شکست کھائی۔ اِس جنگ کو بیٹل آف برٹن یعنی برطانیہ کی لڑائی کہا جاتا ہے۔

مئی انیس سو بیالیس میں جب ولیم روہتک سے ہندوستانی راجپوتوں کو فوجی بھرتی کروانے میں لگا ہوا تھا،برطانوی شاہی فضائیہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پہلی بار جرمنی کے اندرجنگ کرتے ہوئے ہزاروں بمبار جہازوں سے بمباری شروع کردی اور جرمنی کے بیشتر شہری علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ انیس سو بیالیس کے اختتام اور انیس سو تینتالیس کے شروع میں اتحادی فوجوں نے شمالی افریقہ میں سلسلہ وار زبردست فوجی کامیابیاں حاصل کیں۔ افریقہ میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ نفری پر مشتمل مخالف فوجوں کے اتحاد نے مئی انیس سو تینتالیس میں ہتھیار ڈال دیا۔

اِدھر ولیم کا تبادلہ کانگرا کر دیا گیا،جہاں اُسے با لکل اِنہی حالات کا سامنا ہوا جیسا روہتک میں چل رہے تھے۔ یہاں ولیم نے ایک سال گزارا اور اگلے سال اُسے ریاست کپور تھلہ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر متعین کر دیا۔ یہاں تک کہ اگست انیس سو پینتالیس میں برلن میں جرمنی کے ہتھیار ڈال دینے پر جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دن گنے جا چکے تھے۔ جس کا احساس ولیم کو ایک سال پہلے ہوگیا تھا مگر ابھی شاید اُسے یقین تھا کہ یہ کام کہیں اُس کی ریٹائر منٹ کے قریب جا کر ہو سکے گا۔ اُنہی دنوں ولیم کا تبادلہ بطور ڈپٹی کمشنرگُرداسپور کردیا گیا اور ہزار کوششوں کے باوجود اُسے منٹگمری نہیں بھیجا گیا۔ اِس بارے میں ولیم نے نہایت اہم سفارشیں بھی کروائیں۔ لیکن جب اُسے اس معاملے میں شدید ناکامی ہوئی تو وہ سوچنے لگا کہ منٹگمری میں اُس کی پوسٹنگ ایک خواب ہی ہو کر رہ جائے گی کیونکہ معاملات ہر دن مزید بگڑتے جا رہے تھے۔ ان حالات میں ولیم کی ذہنی کیفیت اتنی تبدیل ہو گئی کہ قریب کے جاننے والوں کو اُس پر شبہ ہونے لگا،کہیں پاگل نہ ہو جائے۔ بات بات پر اُلجھنا،احکام دیتے ہوئے تحمل کو چھوڑ بیٹھنا اور بعض اوقات سامنے والے کو گالی بھی دے دینا ولیم کی عادات میں شامل ہو رہا تھا۔ اِس بات کی سب سے زیادہ تشویش کیتھی کو تھی،جو سب سے زیادہ یہ عذاب جھیل رہی تھی مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اُسے اس بات کا شدید احساس تھا کہ یہ سب کچھ ولیم سے مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر ہو رہا ہے۔ ولیم کے ہاتھ سے اختیارات کی ڈور روز بروز نکلتی جا رہی تھی اورگورنمنٹ کی طرف سے وصول ہونے والے ہرنئے حکم پر اُس کے چڑچڑے پن میں اضافہ ہو جاتا،جو کئی دن تک بر قرار رہتا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا،ہٹلر نے گورنمنٹ بر طانیہ کی ہڈیوں کا تمام گودا کھینچ لیا ہے اور اب اُن کے پاس نو آبادیات میں اپنا اقتدار قائم رکھنے کی نہ طاقت ہے اور نہ ہی جواز۔ خاص کر ہندوستان کی حالت اس معاملے میں بہت مختلف تھی۔ اتنے بڑے اور وسیع خطے کو کنٹرول کرنے کے لیے اُن کے پاس وقت بھی نہیں بچا تھا اور نہ وسائل۔ کیونکہ سوسال میں اکٹھی کی گئی دولت پانچ ہی سالوں میں ٹھکانے لگ گئی تھی اور وہ اس ماشکی کی طرح خالی ہو گئے تھے،جس کی مشک میں چھید ہو گئے ہوں،کہ گہرے کنویں سے مشک کی لمبی رسی کھینچتے کھینچتے جس کے ہاتھ شل ہو جائیں مگر مشک کا سارا پانی اس عرصے میں دوبارہ اُسی کنویں میں بہ جائے۔ ان باتوں کے علاوہ جو مشکل سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اب ہندوستانی بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب یہ لوگ چالاکی اور عیاری میں گوروں کے بھی کان کاٹتے تھے اور اِس چکر میں تھے،کب انگریز یہاں سے نکلیں۔ ایسے میں انہیں آزاد نہ کرنا ایسے ہی تھا،جیسے بغیر ہتھیار کے بھیڑیے کے ساتھ رات گزاری جائے۔ اس ساری صورت حال میں ولیم نہ صرف یہ کہ ہند وستانیوں سے ناخوش تھا بلکہ انگریزوں سے اور اپنے آپ سے بھی ناراض تھا۔ وہ یہ سب کچھ ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اُس وقت تو اُسے اور بھی غضب آتا،جب وہ کسی انگریز کو ہندوستان چھوڑنے کے متعلق گفتگو کرتے دیکھتا،یا اُسے پتا چلتا،اُس کا فلاں دوست اپنا بوریا بستر سمیٹ کر انگلستان جا رہا ہے۔ ولیم کا اُس وقت خون کھولنے لگ جاتا گویا یہ سب اُس کے خلاف سازش تھی جس میں انگریز،مسلمان،ہندو سب شامل تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(40)

ولیم کو جلال آباد میں آج چارسال ہو چکے تھے۔ وہ بنگلے سے نکل کر پیدل ہی کمپلیکس کی طرف چلنے لگا۔ آج اُس نے جو کپڑے پہنے تھے،اُن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ کیتھی کا عمل دخل آخر کار اُس کی ذاتی پسندو ناپسند میں شامل ہو چکا ہے۔ کنٹوپ کی جگہ کیپ نے لے لی تھی اور شرٹ پر ہُڈ والے بٹنوں کی جگہ شیشے کے باریک ٹیکوں کے بٹن لگ چکے تھے۔ کوٹ بھی اب کُھلا ڈُھلا نہیں تھا،باقاعدہ سوٹ کے ساتھ فٹنس میں تھا۔ ولیم کا قد ویسے بھی لمبا تھا اور جسم کی ہڈی اکہری ہونے کی وجہ سے بہت سمارٹ بھی تھا۔ جوتے بھی ویسے ہی بارعب اور چمکدار جو کمشنروں کی شخصیت کے آئینہ ہوتے ہیں۔ اِس قدر روشن دن میں ولیم کی نیلی آنکھوں کے گھیراؤ میں سرخ و سفید چہرہ واقعی اپنی مثال آپ تھا۔ ہاتھ میں بید تو وہی پُرانی تھی لیکن آج اُس کی لچک پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ نہائت نپے تُلے قدم اُٹھاتا ہوا پُروقار چال چلنے لگا۔ ولیم کے بنگلے سے تحصیل کمپلیکس تک سڑک کے دونوں جانب بیس کے قریب سنتری کھڑے تھے۔ جب وہ دفتر آتا یا واپس بنگلے پر جاتا،یہ سنتر ی خاکی وردی پہنے ہر چالیس قدم کے فاصلے پر موجود صاحب کی نگہبانی کے لیے ایستادہ ہوجاتے۔ سنتریوں کی وردی شرٹ اور لمبی نیکروں پر منحصرتھی۔ سنتری سکھ،ہندو اور مسلمان سبھی قوموں سے تھے۔ اُن کی شرٹیں اور نیکریں بھی ایک جیسی تھیں لیکن سر پر پگڑی رکھنے کے لیے سکھوں کو استثنیٰ حاصل تھا۔ وہ سرکاری ٹوپی کی بجائے نیلے رنگ کی پگڑی پہن سکتے تھے۔ سنتریوں کے علاوہ بھی تین چار افسر ولیم کے استقبال کے لیے صبح اُس کے گھر کے سامنے پہنچ جاتے تاکہ وہیں سے صاحب کو پروٹوکول کے ساتھ دفتر میں لائیں مگر ولیم اِن چیزوں کا خیال کم ہی کرتا۔ اکثر اِن سب کو نظر انداز کرتا ہوا سیدھا پیدل ہی چل پڑتا۔ جیسا کہ آج سُرخ اینٹوں کی ٹھنڈی سڑک پر چہل قدمی کرتا ہوا چل رہا تھا۔ یہ سڑک ولیم کے جلال آباد آنے کے ایک سال بعد پکی کر دی گئی تھی۔ جس کی گرد پہلے محض ریت اور بھٹے کی کیری ڈال کربٹھائی تھی۔ اب اِس سڑک پر کمپلیکس تک دو رویہ پیپلوں کے درخت بھی لہلہا رہے تھے۔ یہ بھی ولیم کے جلال آباد تعیناتی کے بعد ہی لگے تھے۔ بلکہ ولیم نے خود لگوائے تھے۔ سردی کے وہی دن لوٹ آئے تھے،جب ولیم نے جلال آباد میں قد م رکھے تھے اور آج اُس کی تعیناتی کو چار سال ہو چکے تھے۔ اِس عرصے میں اُس نے جلال آباد تحصیل میں کئی انقلابی قدم اُٹھا ئے۔ تعلیم کا معیار پنجاب کی تمام تحصیلوں سے آگے نکل چکا تھا۔ اِسی طرح ایک نئی نہر اور دوسرے کئی چھوٹے چھوٹے رجواہے جاری کر دیے۔ جن کی وجہ سے تحصیل کے ہر گوشے میں پانی کی بہتات ہوگئی۔ گندم،چاول اور مکئی کی فصلیں کثرت سے پیدا ہونے لگیں اور لوگوں کے چہروں پر ایک قسم کی خوشحالی آنے لگی۔ ہر طرف درخت اورفصلوں کے سبز آئینے لہلہارہے تھے۔ اِس کے علاوہ سرکاری سر پرستی میں نجی سطح پر لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کروا دیے،جن میں جلال آباد کے مضاف میں لگا ئے گئے شہتوتوں کے باغ بھی شامل تھے۔

اب ولیم جلال آبا د سے اِس قدر مانوس ہو چکا تھا کہ اگر اُسے ساری عمر بھی یہاں رہنے کی اجازت دی جاتی تو وہ اس کے لیے بھی تیار تھا۔ سبب اِس کا یہی تھا کہ جلال آباد شہر سے لے کر اُس کے مضافات تک ولیم نے ہر جگہ کو اپنی ذاتی جمالیات کے آئینوں میں ڈھال لیا تھا۔ رہٹ،نالے،نہریں اور باغات جگہ جگہ پیدا ہو چکے تھے اور مزید کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ دوکانوں سے لے کر مکانوں تک،ہر شے میں ایک قسم کی نفاست جھلکنے لگی،جو ولیم کی ابتدائی کوششوں کے بعد خود بخود مقامی لوگوں میں ظاہر ہو رہی تھی۔ ولیم کے یہ چار سال گویا اُس کی زندگی کے حاصل تھے،جن میں اُس نے اس طرح دل جان سے کام کیا کہ یہ علاقہ بالکل بدل گیا۔ دریا کے ساتھ بھینسیں اور بھیڑ بکریاں پالنے والوں کے لیے باقاعدہ چراگاہوں کا قیام سرکاری کھاتوں میں کر دیا گیا اور اُن علاقوں میں چرواہوں کو پوری آزادی دے دی گئی۔ اِس عرصے میں اُس کا تبادلہ کئی دفعہ ہوتے ہوتے بچا،جس کو رکوانے میں اُس نے خود بھی چیف سیکرٹری تک تعلقات قائم کر لیے۔ اِن تعلقات میں اُس کے باپ کا کافی زیادہ دخل تھا کہ سیکرٹری صاحب اُن کے ذاتی دوستوں میں سے تھے،جنہیں دیسی گھی مکھن سے لے کر بھینسوں،بیلوں اور لڑاکا مرغوں تک کا چسکا پڑ گیا تھا۔ جس کی بنا پروہ یہاں چار سال نکالنے میں کامیاب ہو گیا ِ۔ اپنی مرضی سے بھرپور طریقے سے کام کیے اور جلال آباد میں برطانوی راج کے فوائد پورے طریقے سے عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اُسے اس معاملے میں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر وہ فائدے نچلی سطح تک لیجانے میں کامیاب ہو ہی گیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا نام جلال آباد اور اُس کے مضافات کے غریب غربا تک بھی پہچان میں آ چکا تھا۔ حتیٰ کہ اُس کی شکل بھی جلال آباد کے کئی عام لوگوں نے دیکھ لی تھی۔ امن و امان کے حوالے سے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ کے قتل کے بعد کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جو ولیم کے لیے پریشانی کا باعث بنتا۔ اگرچہ غلام حیدر لاکھ کوشش کے بعد بھی گرفتار نہیں ہو سکا تھا اور نہ ہی اُس نے دوسری کاروائی کی۔ گویا اپنا بدلا لے کر روپوش ہو چکا تھا۔ البتہ اُس کے اشتہاری ہونے کے بعد ولیم نے اُس کی زمین اُسی کی رعا یا میں بانٹ دی بلکہ اُن کے لیے بھی وہی سہولتیں جاری کر دیں،جو عام تحصیل میں تھیں لیکن ولیم نے اُس کا انتقال کسی وجہ سے غلام حیدر ہی کے نام رہنے دیا۔

مولوی کرامت نے جس قدر محنت اور تندہی سے کام کیا تھا،اُس کے عوض ولیم نے ذاتی دلچسپی لے کر اُس کی مالی اور سماجی حیثیت میں اتنا اضافہ کر دیاکہ اب وہ تحصیل جلال آبادکے معززین میں شمار ہونے لگا۔ بلکہ اُس کے بیٹے فضل دین کو دسویں درجے میں انتہائی اچھے نمبروں میں پاس ہونے کے بعد ذاتی خرچ پر اور کچھ وظیفہ دے کر لاہور ایف سی کالج میں پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔ اب فضل دین بھی وہ فضل دین نہیں رہا تھا،جوصرف روٹیاں مانگنے کا ماہر تھا۔ سکول میں تو ویسے ہی وہ دو دو درجے ایک ایک سال میں طے کر گیا تھا۔ مولوی کرامت کے بھی اتنے پر نکل آئے کہ کئی دفعہ صاحب بہادر سے خود ملاقات نکال کر اُن لوگوں کی شکایات بھی کیں،جو اُس کے کام میں حارج ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ غضب تو یہ کہ اُن شکایات کو سنابھی گیا تھا،جس کے بعد بیشتر لوگ بابووں سمیت مولوی کرامت کی چاپلوسی پر اُتر آ ئے تھے۔ کئی بابو اپنی سفارشیں بھی لے کر آتے،جنہیں مولوی کرامت ولیم تک پہنچانے کی جرات تو نہ کر سکتا تھا،لیکن وہ اُن سفارشی لوگوں کو کام ہونے کی اس طرح تسلی کروا دیتا جیسے یہ اُس کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ اِن سفارشوں کے عوض مولوی صاحب نے کسی سے پیسے تو نہیں پکڑے تھے،جس کا اُس وقت رواج بھی کم تھا۔ البتہ مختلف قسم کے تحفے تحائف ضرور وصول کر لیتا،جو بظاہر سفارشی حضرات اصرار کر کے مولوی صاحب کے حوالے کردیتے تھے۔ مولوی صاحب اُنہیں اِس لیے بھی قبول کر لیتے کہ اُنہوں نے یہ حدیث پڑھ رکھی تھی کہ ایک دوسرے کو تحفے لینے دینے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مولوی کرامت فی الحال اِس حدیث کے ایک حصے پر عمل کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ مولوی کرامت کے جلال آباد کے اکثر زمینداروں سے اتنے خو شگوار تعلقات پیدا ہو گئے کہ وہ اُسے شادی بیاہ اور موت،غمی سے آگے بڑھ کر اپنی رشتے داریوں کے متعلق بھی مشوروں میں شریک کرنے لگے اور چھوٹے موٹے فیصلوں کا ثالث بھی قرار دے لیتے۔ مولوی کرامت کی ثالثی اِس لیے بھی پائیدار تھی کہ سب جانتے تھے،مولوی صاحب کا کمشنر جلال آباد سے ذاتی تعلق ہے۔ اِس لیے وہ صاحب بہادر سے کہ کر کسی کا بھی چوبارہ گول کر سکتا ہے۔ اِن سب باتوں سے الگ اسکول منشی ہونے کے ساتھ مولوی کرامت نے اپنے لیے جامع مسجد جلال آباد کی امامت بھی حاصل کر لی تھی کہ تین سال پہلے مسجد کے سابقہ پیش امام کو منصوبے کے مطابق ملازمت دلوا کر منڈی گرو ہر سا بھیج کر اور اپنی تمام ذاتی قابلیتوں کے پیش نظر مسجد کی امامت کے فرائض سنبھال لیے تھے۔ جس سے اتنی آمدنی مزید ہو جاتی جتنی مولوی صاحب کی گورنمنٹ کی طرف سے تنخواہ تھی۔ مولوی کرامت کی خوشحالی کے ساتھ شریفاں کے اطوار بھی کافی بدل چکے تھے۔ چک راڑے میں تو کبھی کسی کی میت کے گھر پُرسہ دینے یا مُردہ عورت کو نہلانے اور کفن پہنانے کے سوا دوسرا کام نہیں کیا تھا لیکن جلال آباد میں باقاعدہ گھروں میں میلاداور دیگر بہت سی تقریبات میں مدعو ہونے لگی،جس میں اُسے مولوی کرامت کے برابر نہ سہی،گھر کے خرچے یعنی ہانڈی روٹی کی آمدن ہو ہی جاتی۔ بلکہ اُس نے کچھ نعتیں اور آئتیں رحمت بی بی کو بھی یاد کروا دیں۔ وہ بھی شریفاں کے ساتھ گھروں میں جا کر طرح طرح کی نذر نیاز کا سبق دینے لگی تھی۔ اِس طرح پورے جلال آباد میں مولوی کرامت کے گھر کے علم اور فتووں کی دھوم مچی ہوئی تھی اور کاروبار اِتنا ترقی کر گیا تھاکہ ضلع قصور کے چک راڑے میں تو اِس کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ اُدھر فضل دین کا لاہور کے کالج میں پڑھنے سے فضل دین اب بچپن میں ہی مولانا فضل دین بن چکا تھا۔ ایف سی کالج نے اُسے دھوتی کی بجائے پاجامہ پہنا دیا اور بابو بنا کر رکھ دیا۔ عربی فارسی تو اُسے پہلے ہی آتی تھی،کالج کے ماحول نے انگریزی کا اثر ڈالا تو مولانا فضل دین ایک ہی سال میں کئی باتیں انگریزی میں ہی بولنے لگا۔ چھُٹی پر جلال آباد آتا تو لوگ دیکھنے کے لیے آتے اور باتوں باتوں میں ایک دوسرے کو کہتے،بھائی مولوی کا بیٹا تو کوئی بڑا انگریز بنتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ اِس بات پر مولوی کرامت سے نا خوش بھی تھے کہ اُس نے اپنے بیٹے کا مذہب خراب کر دیا ہے۔ فضل دین کو باقاعدہ کرسٹان بنا کر مولوی کرامت نے دین کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر وہ مولوی کرامت کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتے تھے لیکن مولوی کے صاحب بہادر سے تعلقات کی بنا پر کھلے عا م مخالفت سے بھی ڈرتے تھے۔ مولوی کو بھی اُن کی کوئی پرواہ نہیں تھی کیو نکہ ایسے لوگ دیہاتوں میں تو کافی تھے لیکن شہر میں اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی کیونکہ مولوی کرامت کی پچھلے تین سال کی تبلیغ نے جلال آباد کو انگریز بہادر کا وفادار بنا ہی دیا تھا۔

الغرض ولیم نے مولوی کرامت کی حالت بدلنے سے لے کر فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کو تعلیمی،معاشی،اور سماجی سطح پر اتنی کچھ ترقی دے دی کہ اُسے محسوس ہی نہیں ہورہا تھا،وہ اپنی نولکھی کوٹھی میں رہ رہا ہے یا جلال آباد کے بنگلے میں۔ کیتھی شادی کے بعد ولیم کے ساتھ جلال آباد کے بنگلے میں تھی۔ بلکہ اب توان کا ایک بچہ بھی تھا،جس کی عمر ڈیڑھ سال ہو چکی تھی۔ کیتھی روزانہ نہیں تو ہر دوسرے دن گھوڑے پر بیٹھ کے جلال آباد کے مضافات میں سیر کو ضرور نکلتی،جس کے دائیں بائیں بیسیوں نوکر،مامائیں اور پولیس والے اٹین شین چلتے اور بھاگتے نظر آتے۔ میم صاحبہ نے یہاں آکر بھی عجب طرح کے پُرپرزے نکال لیے تھے۔ کچھ دن تو دیسی ملازمین کے ساتھ ملائمت سے بات کرتی رہی۔ یہ لوگ اُسے فرشتوں جیسے اور تابع فرمان لگتے تھے۔ اُس کے خیال میں اِن ہندوستانی کالوں کے اندرانتہائی سادگی اور معصومیت تھی کیونکہ اُن کا اپنا نہ کوئی تقاضا تھا اور نہ شکائت۔ یہی وہ لوگ تھے جو صرف صاحب بہادر،میم صاحبہ اور بابا لوگوں کے لیے جیتے اور اُن کی خدمت گزاری میں مرتے تھے۔ اِس لیے اُن کے ساتھ محبت اور شفقت کرنا گورے لوگوں کا فرض تھا۔ کیتھی بات بات پر اُنہیں انعامات سے نوازتی اور شاباش سے دل بڑھاتی۔ لیکن جیسے جیسے ولیم کے اختیارات کی وسعت اور اقتدار کا نشہ دیکھا،لہجے اور خیالات میں تبدیلی آتی گئی۔ حتیٰ کہ تین ہی سال کے اندر اُس نے ولیم کو بھی سرزنش کرنا شرع کر دی کہ وہ اِن دیسی لوگوں کو زیادہ رعایت دیتا ہے اور ملازموں کی غلطی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اب یہ لوگ اُسے گنوار،اُجڈ،بھکاری،کام چور،چاپلوس اور چغل خور نظر آنے لگے۔ وہ اِس بات کی سختی سے قائل ہو گئی کہ کالے ایک بد بخت نالائق اور منحوس قوم ہیں۔ اِن کے جسموں سے بدبو آتی ہے۔ نہاتے نہیں اور گوروں کے درمیان بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اِن کو پیار سے نہیں ذلًت اور رسوائی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ کیتھی کے اپنے شغل بھی ضرور یات سے آگے نکل کر تفریح میں بدلتے گئے،جن میں سے ایک اُسے اُونٹ پر سواری کرنے کا بھی شوق پیدا ہو گیا۔ اِس شوق کو پورا کرنے کے لیے کئی اونٹ خرید ے گئے اور اُن کی دیکھ بھال کے لیے آٹھ آٹھ ملازم رکھ لیے۔ کیتھی ولیم کو بھی اُونٹوں پر اپنے ساتھ سیر کرنے کا اصرار کرتی،جسے پورا کرنے کے لیے اُس نے کئی دفعہ یہ سواری بھی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب ولیم بھی اُونٹ کی سواری سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اُونٹوں کے علاوہ کیتھی کی کوششوں سے جلال آباد میں اوکا ڑہ کے مقابلے کا تو خیر نہیں،لیکن ایک چھوٹا سا مویشیوں کا فارم ضرور بن گیا۔ اِس فارم کے لیے نیلی کی عمدہ بھینسیں چُن کر دُگنے تگنے مول میں خرید لی گئیں۔ اِس کے علاوہ بنگلے کے پچھواڑے اچھا خاصا باغیچہ بنا دیا۔ اِس میں دُور تک درختوں کی قطاریں ہری چھاؤں کے ساتھ لہلہانے لگیں،جن پر توریوں،کدؤوں،اور کریلوں کی بیلیں چڑھ گئیں تھیں۔ بنگلے کے قُر ب و جوار میں درختوں کی عمر ابھی چار سال ہی تھی لیکن اُن کی حفاظت اِس اچھے طریقے سے ہوئی کہ وہ اب اچھا خاصا سایہ دینے لگے تھے۔

بیلوں کے چڑھ جانے سے اور بھی اچھے لگتے،جو سردیوں کے موسم میں عجیب بہار پیدا کر دیتیں۔ کیتھی نے اپنی بیٹی کے لیے بنگلے کے صحن میں ایک نوابی قسم کا جھولا بھی بنوالیا تھا۔ جھولے میں اپنی سائرز کو لٹا کر اُسے بعض اوقات اپنے ہاتھ سے جھولاتی۔ لیکن اکثر یہ کام ماما سر انجام دیتی اور کیتھی خود صحن میں بے شمار سفیدکبوتروں کو اُڑا اُڑا کر دانہ ڈالتی اور اُن کا تماشا دیکھتی۔ اِن کبوتروں کے صرف پھڑ پھڑانے کی آواز سننے کے لیے کیتھی نے یہ کبوتر آگرہ سے منگوائے تھے۔ کیتھی کے مسلسل جلال آباد میں ہی قیام کی وجہ سے اوکاڑہ میں کیتھلک چرچ اسکول کا کام معطل پڑا تھا۔ لیکن اب ولیم کو کیتھی کے ساتھ رہنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ اُسے ایک لمحے کے لیے اپنے سے دور نہیں رکھنا چاہتا تھا،نہ ہی یہ بات کیتھی کو منظور تھی کہ ولیم ڈیوٹی کے وقت کے علاوہ کسی کلب میں بھی اُس کے بغیر جائے یا دوستوں کے ساتھ گپ بازی کرے اور وہ گھر میں اکیلی بیٹھی رہے۔ ولیم سے دُور اوکاڑہ میں رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہاں وہ دونوں اوکاڑہ میں براستہ ہیڈ سلیمان کی ہر پندرہ دن میں دو دن کے لیے چکر ضرور لگاتے،کہ یہ فاصلہ جیپ کے آگے کچھ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ اب تو راستے میں کئی مقامی لوگوں کو بھی اُن کے معمول کے سفر کا علم ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی عرضیاں ولیم کے رستے میں پڑنے والی چوکیوں پر جمع کرادیتے،جس کا آڈر ولیم نے پولیس والوں کو بھی کر دیا تھا۔

اب کچھ دن سے ولیم کو ڈپٹی کمشنر رالف کی طرف سے دھڑکا لگا ہوا تھا۔ اُسے ولیم کا اِتنا عرصہ ایک ہی تحصیل میں رہنا گوارا نہیں تھا اور چیف سیکرٹری بیڈن صاحب بھی بدل چکے تھے۔ رالف کو فیروز پور میں آئے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ اُس نے ولیم کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار شروع کر دیا۔ اِدھر ولیم کو بھی پتا چل چکا تھا کہ اُس کے اب جلال آباد میں دن تھوڑے ہی رہ گئے ہیں۔ اُس نے کیتھی کو آگاہ کر دیا تھا کہ اب وہ جلال آباد سے اپنا بستر لپیٹنے کے لیے تیار ہو جائے کیونکہ پنجاب گورنمنٹ کسی وقت بھی اُسے اُٹھا کر کہیں بھی بھیج سکتی ہے اور آج وہی کچھ ہوا۔ ولیم آرام سے بیٹھ کر فائلوں کا جائزہ لینے لگا تو سب سے پہلے اُس نے جو فائل کھولی اُس میں ولیم کے ٹرانسفر آڈر پڑے تھے۔ ولیم کو مطلع کیا گیا تھا کہ اُس کے چار سالہ تجربے کے پیشِ نظرچیف سیکرٹری آفس لاہور کو اُس کی خدمات کی ضرورت ہے۔ لہذا وہ جتنی جلد ی ہو سکے اپنا چارج تحصیل دار مالیکم کو سونپ کر لا ہورچیف سیکرٹری آفس میں جوائننگ رپورٹ دے۔ ولیم نے آڈر دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر بیل دبا کر کرم دین سے کافی کا کپ بنانے کے لیے کہا۔ آڈر اتنے اچانک اور محتاط انداز میں تیار کئے گئے تھے کہ وقت سے پہلے اُن کی ہوا بھی باہر نکلنے نہیں دی گئی تھی۔ ولیم یہ تو جانتا تھا کہ وہ یہاں سے جانے والاہے لیکن اِتنا اچانک،اُس کے بھی گمان میں نہیں تھا۔ اس لیے اب ولیم نے کسی نئی سفارش کا بندوبست کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ ویسے بھی ذہنی طور پر اب وہ اپنے تبادلے کے لیے تیار ہو چکا تھا،جو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ اب چونکہ ولیم کو جلال آباد کے کسی کام میں قانونی تو پر دخل اندازی کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی وہ یہاں کسی چیز کا ذمہ دار رہا تھا،اس لیے اُس نے فوراً اپنے آپ کو ہلکا پُھلکا کر کے باقی تمام فائلوں کو ایک طرف کر دیا اور دل ہی دل میں رالف پر لعنت بھیج کر پچھلے چار سال میں پیش آنے والے تمام واقعات پر نظر دوڑانے لگا۔ جس میں طرح طرح کے بے شمار کردار ایک ایک کر کے اُس کی آنکھوں میں گھومنے لگے۔ پہلے دن فیروز پور میں ملنے والا باورچی نظام دین،اُس کے معتوب افسر،جن میں لوئیس اور وہ جو ایک دو لوگ ریٹائر ہو کر گھر بھی جاچکے تھے۔ ان کے علاوہ مدن لال ماسٹر،سردار سودھا سنگھ،غلام حیدر،رسہ گیر چوہدری،مولوی کرامت،تھانیداروں سے لے کر عوام تک اور پھر اُس کے ماتحت کام کرنے والی تحصیل انتظامیہ،سینکڑوں ہی طرح کے لوگوں سے اُسے واسطہ پڑا تھا۔ جن میں ایماندار بھی تھے،چاپلوس بھی،کام چور بھی اور کام کے ماہر مگر نکمے بھی۔ اِنہی میں وہ بھی تھے،جو دونوں طرف مخبری کا کام دیتے تھے اور نہایت ایمانداری سے۔ وہ بھی،جنہوں نے ہمیشہ منافقت اور کام چوری سے ربط رکھا۔ یہ سب کچھ ولیم کو یاد آرہا تھا۔ اُسے یہ بھی خبر تھی کہ آنے والا کوئی بھی افسر اس طرح جلال آباد میں کام نہیں کرے گا جس طرح اُس نے کیا ہے۔ وہ عوام کو اپنی رعایا نہیں غلام بنا کر رکھے گا،جیسے خود اُس کی بیگم کا اِن لوگوں کے ساتھ رویہ ہو گیا تھا،۔ اِس خیال کے آتے ہی ولیم ہلکا سا مسکرا دیا،گویا انگریز افسرعورت بن کر مقامی لوگوں کے ساتھ سلوک کرتے تھے،جس کا اُسے اس وقت قلق تو ہو رہا تھا لیکن اب کیا کیا جا سکتا تھا۔ ولیم نے سوچاجلا ل آباد کے لوگوں کو کیا پتا،اُن کی تحصیل میں ولیم کے تبادلے کا کتنا بڑا انقلاب آ چکا ہے۔ اُس نے خود بھی دل میں جلال آباد کو اپنا گھر تسلیم کر لیا تھا اور اُس کے لیے اُسی طرح کام کیا تھا جس طرح اپنے گھر کو بنانے میں کیا جاتا ہے۔ اِسی اثنا میں ولیم نے دوبارہ بیل بجا کر نجیب شاہ کو طلب کیا۔ نجیب شاہ جیسے ہی کمرے میں آیا،ولیم نے اُسے بنگلے میں موجود تمام سامان کو بحفاظت پیک کروانے کا حکم دے دیا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اکیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(38)

جھنڈووالا میں سردار سودھا سنگھ سمیت ایک دم دس لاشیں پہنچیں تو اندھا کر دینے والا حبس چھا گیا۔ لاشیں دو گَڈوں پر لادی ہوئی تھیں۔ گولیوں سے چھلنی اور خون سے لت پت گو یا مَسلی جا چکی تھیں۔ لاشوں سے مسلسل رِستے ہوئے خون کی وجہ سے گَڈوں کی حالت بھی لاشوں سے بد تر تھی اورگَڈوں کے اُوپر جُڑے ہوئے تختوں کے فرش سے لے کر لکڑی کے پہیوں تک خون میں نہا چکے تھے۔ بہت ساخون تختوں پر جم کر سیاہ ہو چکا تھا۔ لاشیں اگرچہ تازہ تھیں اور قتل ہوئے مشکل سے ہی پانچ یا چھ گھنٹے ہوئے تھے لیکن شدید گرمی کی وجہ سے اُن کی حالت بہت ہی خوفناک اور بدبو پیدا کر دینے والی تھی۔ اُن کو دیکھنا تو الگ بات،قریب جانا بھی اذیت ناک تھا۔ لاشیں پولیس کی نگرانی میں جھنڈووالا پہنچی تھیں،اِس لیے پولیس کی بھی کافی نفر ی وہاں موجود تھی لیکن وہ اب لا تعلق سی ایک طرف کھڑی تھی،جیسے اُنہیں اس بات سے صرف اتنی غرض ہو کہ جتنی جلدی ہو سکے ان کا کریا کرم ہو جائے اور اس بدبو،پسینے،اور شور شرابے سے جان چھوٹے۔ جھنڈووالا کے مرد تو ایک طرف بینت کور سمیت وہاں کی تمام عورتیں لاشوں کے اُوپر گری پڑی تھیں اور ایسے ایسے بین اُٹھا رہی تھیں کہ خدا پناہ۔ سر کے بال بکھیر کر اوراُن میں راکھ ڈال کر اپنے آپ کودوہتھڑ پیٹ رہی تھیں،جیسے چڑیلیں بن گئی ہوں۔ بیہوش ہو کر کبھی نیچے گرتیں کبھی اُوپر اُٹھ کر گڈے پر چڑھنے کی کوشش کرتیں۔ کسی کو جرات نہ تھی،اُن کے قریب جا کر دلاسا ہی دے۔ سب سے بُری حالت بینت کور کی تھی۔ لوگوں کی بھی زیادہ تر ہمدردیاں سردار سودھا سنگھ اور بینت کور ہی کے ساتھ تھیں۔ لاشیں کافی دیر اسی طرح گڈوں پر پڑی رہیں۔ مردوں اور عورتوں نے جی بھر کر ماتم اور رونا پیٹنا مچایا۔ مرنے والوں کے ا قربا غش کھا کھا کر گرتے تھے جبکہ لوگ بھاگ بھاگ کر اُن کے منہ میں پانی ڈالتے تھے۔ پانی پلانے والے کم تھے اور رونے پیٹنے والے زیادہ کیونکہ پوری دس لاشیں تھیں۔ وہ بھی ساری کی ساری جھنڈووالا کی۔ یہ سب قتل ہونے والے پورے گاؤں کے کسی نہ کسی طرح قریبی رشتہ دار تھے۔ جو آدمی بھی لاشوں کو دیکھتا اور اُن کی بُری حالت پر نظر کرتا تو کلیجہ پھٹ کے رہ جاتا۔ وہیں لاشوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا۔ تھوڑی دیر پہلے صبح کے وقت اچھے بھلے شینہہ جوان اور سوہنے سنکھنے تھے اور اب گڈوں پر اس طرح لیٹے تھے جیسے کبھی دھرتی پر چلے پھرے ہی نہ ہوں۔ پولیس نے دیر تک اُنہیں یونہی اُن کے حال پر چھوڑے رکھا اور الگ بیٹھی رہی لیکن جب رونے دھونے اور پیٹ پٹہیے کے عذاب کودو گھنٹے گزر گئے تو اُنہوں نے مداخلت کر کے لاشیں گڈوں سے اُتارنا شروع کر دیں۔ بینت کور اور دو تین خواتین ویسے بھی روتے پیٹتے غش کھا کر اپنے حواس سے بیگانہ ہو چکی تھیں۔ مردوں کو پیچھے کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ ایک ایک کر کے تمام لاشیں گڈوں سے اُتار کر سودھا سنگھ کی حویلی میں لائی گئیں اور اُنہیں چارپائیوں پر لٹا دیا گیا۔ سودھا سنگھ کو اُسی چار پائی پر لٹایا گیا جو اُس نے خاص اپنے لیے بنوائی تھی اور اُس پر کسی دوسرے کو بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ جب تک لاشیں اُتاری گئیں،بینت کور کو دوبارہ ہوش آچکا تھا۔ وہ بھاگ کر پھر لاش سے لپٹ گئی۔ سودھا سنگھ کی شکل خوفناک حد تک مسخ ہوچکی تھی اور دیکھنے سے کراہت محسوس ہوتی لیکن بینت کور اُسے اُسی طرح چوم رہی تھی جیسے اُس میں خوبصورتی کے شعلے دہک رہے ہوں۔ پورا دو تین سو بندہ حویلی میں جمع ہو تھا۔ اُن کے علاوہ ارد گرد گاؤں کے لوگ بھی اس ہیبت ناک خبر کو سن کر وہاں آگئے۔ اِس طرح جھنڈو والا میں لوگوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ پہنچ گئی۔ زیادہ تر لوگ لاشوں سے دور حویلی کے باہر ہی مختلف ٹولیوں میں ادھر اُدھر بیٹھے اور کھڑے،اِس واقعے پر طرح طرح کے تبصرے بکھیر رہے تھے۔ اُنہیں اِس سانحے پر دُکھ سے زیادہ تعجب اور غلام حیدر کی جرات پر حیرانی تھی۔ اُن میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن کو لاشیں دیکھنے سے دلچسپی نہیں تھی،نہ ہی وہ چاہتے تھے،اُن کا نام گواہی کے طور پر استعمال ہو۔ فقط تماشا دیکھنے میں اُن کی طبیعت کو ایک قسم کا سکون ملتا تھا۔ جھنڈووالا میں اب سکھ،مسلمان سب ہی جمع ہو چکے تھے۔ مسلمان بظاہر مرنے والوں کے لیے چہروں کو سنجیدہ بنا کر پھر رہے تھے لیکن دل ہی دل میں اُن کا ایمان انہیں غلام حیدر کو داد دینے پر اُکسا رہا تھا۔ وہ جی میں بغلیں بجا رہے تھے اور غلام حیدر کی بہادری پر اُن کے سینے فخر سے پھولے ہوئے تھے۔ بعض چپکے چپکے آپس میں اِس بات کر اظہار بھی کر رہے تھے کہ بھائی مُنڈے نے اپنے اُوپر نیودرا نہیں رکھا۔ بدلے کا حساب پورا پورا کھول کے چکایا ہے۔ غلام حیدر آخر شیر حیدر کا بیٹا تھا۔ یہی کچھ ہونا تھا۔ لوہے کی گولیاں مار مار کے بچاروں کے حلیے ہی بگاڑ دیے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے ظلم کی انتہا بُری ہوتی ہے۔ پھر بھی جیسا بھی تھا،میاں سودھا سنگھ تھا اچھا آدمی۔ اپنی رعایا پر بچارا بڑا مہربان تھا۔ غلام حیدر کو حوصلے سے کام لینا چاہیے تھا۔ معاف کر دیتا تو زیادہ اچھا تھا،پرغصہ بُری چیز ہے،بھائی ہوا بُرا۔ بچارے سودھا سنگھ کو کیا پتا تھا،اُس کے دن گنے جا چکے ہیں؟ چلو مولا بھلی کرے،اب بچاروں کی لاشیں خراب ہو رہی ہیں۔ جتنی جلدی ہو سکے،ان کی ہوا کوآگ دے دینی چاہیے۔ غرض یہ کہ مسلمان،جو اِس وقت جھنڈووالا میں کھڑے تھے،وہ بظاہر تو ہمدردی کے کلمات کہہ رہے تھے لیکن دل میں ایک مسلمان کی بہادری پر خوش ہو رہے تھے۔ اُدھر سکھوں کی حالت واقعی قابلِ رحم تھی،وہ یا تو کچھ بول نہیں رہے تھے اور زبانوں پر مہر یں لگی ہوئی تھیں یا وہ رو رہے تھے،بولیں تو کیا؟ کہ ایک مُسلے نے دس سرداروں کی ایک وقت میں چتا کی راکھ اُڑا دی۔

تھانہ گرو ہر سا کی پولیس حادثے کے فوراً بعد ہی وہاں پہنچ گئی تھی حتیٰ کہ جھنڈووالا کے لوگوں سے بھی پہلے۔ تھانیدار ضمیر شاہ نے وقوعے کی تمام رپورٹ درج کرکے گواہوں کے بیانات قلم بند کرلیے۔ جس کے مطابق سودھا سنگھ اور اُس کے بندوں پر حملہ کرنے والے صرف دو ہی آدمی تھے،جن کے پاس پکی رائفلیں تھیں اور وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔ مگر اُن کے چہروں پر منڈاسا ہونے کی وجہ سے وہ پہچانے نہیں جاسکے۔ البتہ سودھا سنگھ کے بھاگے ہوئے بندوں کے مطابق،اُن دو کے علاوہ اور بھی کافی سارے آدمی تھے،جن کے پاس ڈانگیں اور برچھیاں تھیں اور وہ بھی گھوڑوں پر سوار تھے۔ اُنہیں یہ بھی شبہ تھا،کہ رائفلوں والے جو دو آمی تھے۔ اُن میں سے ایک غلام حیدر تھا،مگر اُن کی یہ بات پولیس کی سمجھ سے باہر تھی۔ اگر سودھاسنگھ کے اُن گواہوں کے بیانات کو مان لیا جائے،تو مسلۂ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی مرنے والے اور زخمی ہونے والے یا بھاگنے والے پر تیز دھار لوہے کا ایک بھی زخم موجود نہیں تھا۔ نہ ہی اُن لوگوں کا نام نشان وہاں موجود تھا،جن کے پاس ڈانگیں یا برچھیاں تھیں۔ یااُن میں سے کیوں کوئی بھی آدمی سودھا سنگھ کے ہاتھوں زخمی نہیں ہوا۔ یہ تمام باتیں جزیات کے ساتھ تھانیدار ضمیر شاہ نے اپنے نقشے اور پہلی انکوائیری میں درج کر لیں۔ باقی پورے کیس کی بنیاد اِسی پہلی انکوائیری پر تھی۔ عصر تک تھانیدار نے واقعے کے شاہدین،جگہ کا نقشہ اور وقوعے کی رپورٹ تیار کر کے لاشیں چھوٹے تھانیدار دیوان سنگھ اور حوالدار چندن لعل سمیت چھ سپاہیوں کی نگرانی میں جھنڈووالا کی طرف روانہ کر دیں اور خود ڈی ایس پی لوئیس صاحب کو رپورٹ کرنے کے لیے جلال آباد روانہ ہو گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گھوڑے دلکی چال چل رہے تھے۔ غلام حیدر براستہ سلیمانکی حویلی لکھا پہنچا،تو رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ گرمیوں کی راتیں مختصر اور نہایت گرم ہونے کی وجہ سے لوگ اتنی جلدی چارپائیوں پر کم ہی جاتے ہیں۔ غلام حیدر کے اس پورے علاقے میں کئی رشتے دار اور دوست پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن وہ کہیں بھی قیام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا،واقعے کے فوری بعد مشرقی اور وسطی پنجاب کے تمام تھانوں میں اُس کے متعلق اطلاع کر دی گئی ہو گی۔ اِس لیے وہ کوئی بھی خطرہ فی الحال مول نہیں لینا چاہتا تھااور کسی بھی ایسی جگہ نہیں رکنا چاہتا تھا،جہاں اُس کی رشتہ داری یا دوستی کا لوگوں کو کچھ پتا تھا۔ غلام حیدر نے چلتے چلتے امانت خاں سے کہا،میاں امانت،تم نے جو آج میرے لیے کیا ہے،اُس کی قیمت تو میں کسی بھی طرح ادا نہیں کر سکتا لیکن میں چاہتا ہوں،اِس دوستی کے عوض تم سے کچھ نہ کچھ ضرور سلوک کرو ں۔ مجھے نہیں پتا،کتنا عرصہ اب مسافرت میں گزارنا پڑے لیکن میرا وعدہ ہے،اِس غربت کے بعد میں تمھیں اپنا سگا بھائی بنا کر رکھوں گا۔ مگر اس وقت میرا خیال ہے،ہمیں اکٹھے نہیں رہنا چاہیے اور الگ الگ ہو جائیں۔ یہ کہ کر غلام حیدر نے اپنی کمر سے بندھی ہوئی ایک بھاری تھیلی کھولی اور چلتے چلتے ہی اُسے امانت خاں کی طرف بڑھا دیا اور کہا،اِس میں ایک پاؤ سونا ہے۔ یہ میری طرف سے تحفہ سمجھو اور اِسی وقت سیدھے اپنے علاقے میں چلے جاؤ۔

امانت خاں نے تھیلی غلام حیدر سے پکڑ لی اور کہا،چوہدری غلام حیدر،میں تیرے ساتھ اِن پیسوں کے لالچ میں نہیں آیا تھا لیکن یہ سونا مَیں ضرور اپنے پاس رکھوں گا،اُس وقت تک جب تم دوبارہ نہیں ملتے۔ یہ سونا میرے پاس تمھاری امانت ہے۔ اگر مشکل پڑی اور اِن کی ضرورت ہوئی تو اپنی امانت مجھ سے آ کر لے لینا۔ ملک بہزاد،میرا ماماہے اور اُس کے مجھ پر ہزاروں احسان ہیں۔ مَیں یہ کام پیسوں کے لیے نہیں کرتا،۔ اِس کے بعد دونوں گلے ملے اور دونوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں مخالف سمت میں موڑ دیں۔ غلام حیدر نے اپنا گھوڑا نواب سرفراز کی حویلی کی طرف دوڑا دیا،جہاں کچھ دن آرام کرنے کے بعد منصوبے کے مطابق اُسے نواب افتخار کے ماموں کے پاس کشمیر جا کر پتا نہیں کتنے برس تک روپوش ہونا تھا۔ تاکہ وقت کا انتظار کیا جا سکے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گرمی کی وجہ سے لاشوں کو زیادہ دیر تک نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ ویسے بھی تمام قانونی کارروائی مکمل کی جا چکی تھی۔ اِس لیے پولیس چاہتی تھی کہ لاشوں کو اپنی نگرانی میں ٹھکانے لگا دے تاکہ لاشیں خراب ہو کر بدبو نہ مارنے لگ جائیں۔ اب رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ اِس سخت گرمی میں اِتنا وقت بہت زیادہ تھا۔ ورنہ مزید کوفت پھیل جاتی۔ خون،بد بو اور لوگوں کا ہجوم اس میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ لوگوں نے ایک ہی وقت میں اتنی لاشیں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں،نہ اِس طرح کا قہر پہلے نازل ہوا تھا۔ اِس لیے ہر کوئی دور دور سے بھاگا ہوا آیا اور یہاں جمع ہو گیا تھا۔ سردارسودھا سنگھ کے رشتے داروں کے بھی سینکڑوں لوگ تھے،جو لاشوں کو دیکھ کر جذباتی ہو رہے تھے۔ اِس ساری آنے والی خرابی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اپنا کردار شروع کر دیا اور فیصلہ کیا کہ اب چتاؤں کو آگ دینے اور راکھ بنانے میں دیر نہ کی جائے۔ چنانچہ رات آٹھ بجے کے قریب سردار سودھا سنگھ،دما سنگھ،جگبیر،پیت سنگھ،بیدا سنگھ،ہرے سنگھ،کڑے مان،لہنگا سئیواور دوسرے متروں کی لاشوں کو شمشان گھاٹ میں لے جا کے آگ اور لکڑیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ سردار سودھا سنگھ کا تین سالہ بیٹا سرداو جیوا سنگھ،جسے ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا تھا کہ کون سی قیامت اُس کے سر سے گزر چکی ہے،کے ہاتھ میں جلتی ہوئی لام دے دی گئی تاکہ وہ سردار سودھا سنگھ کے گولیوں سے چھلنی بدن کو دکھا دے،جو سوکھی لکڑیوں کے درمیان بے خبر پڑا تھا۔

اِدھر سردار سودھا سنگھ کی لاش کا کریاکرم ہونے لگا،اُدھر لوئیس صاحب پولیس کو لے کر اپنی کارروائی کرنے کے لیے جلال آباد میں چوہدری غلام حیدر کی حویلی پر چڑھ دوڑا۔ چالیس سنتریوں اور تھانیداروں سمیت گھوڑوں نے پوری حویلی کو گھیرے میں لے کر اُس کا اپریشن شروع کر دیا۔ مگر وہاں دو ملازموں کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا،جو حویلی کا دروازہ بند کرنے اور کھولنے کے لیے موجود تھے۔ لوئیس نے دونوں ملازم حراست میں لے کر کونے کونے کی تلاشی شروع کر دی۔ لیکن وہاں کچھ ہوتا تو ملتا۔ رات بارہ بجے تک لالٹینوں کی روشنی میں تلاشی جاری رہی۔ مگر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ بالآخر لوئیس صاحب نے وہاں دو سنتری متعین کر کے اور دونوں ملازموں کو،جنہیں خود بھی کسی بات کا پتا نہیں تھا،اُنہیں اٹھا کر اپنے دفتر لے آیااور باقی کارروائی اگلے دن پر ڈال دی۔

لوئیس صاحب کے لیے معاملہ بہت گھمبیر ہو چکا تھا۔ اُسے یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ غلام حیدر اتنا بڑا قدم اُٹھا لے گا اور اِس میں اپنے نفع نقصان کو بالائے طاق رکھ دے گا۔ اِدھر اُسے ولیم صاحب سے انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسے اُس نے مطمئن رہنے کا سرٹیفیکیٹ عطا کر دیا تھا۔ اب مجرم موجود نہیں تھا،جسے گرفتار کر لیا جاتا۔ جبکہ اُس کے تمام آدمی تھانہ گرو ہرسا کی حوالات میں ناجائزاسلحہ کے جرم میں بند پڑے تھے۔ اُن کا موقعہ واردات پر موجود ہونا ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ پورا تھانہ گواہی دے رہا تھا کہ ِانہیں دو دن پہلے ناجائز اسلحے اور ایک دوسرے گروہ کے ساتھ دنگا کرنے کے جرم میں گرفتار کر کے فیروز پور عدالت میں پیش کرنے کے لیے چالان تیار کیا جا چکا ہے اور واقعہ کے عین روز اُنہیں پولیس کی حراست میں عدالت لے جایا جا رہا تھا کہ سردار سودھا سنگھ،شریف بودلہ،عبدل گجر اور دوسرے کئی آدمیوں کا قتل ہو گیا۔ لوئیس صاحب کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی۔ ضمیر شاہ کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ایک یا دو بندے کس طرح اِتنے قتل اِس قدر قلیل وقت میں کر سکتے ہیں؟ مگروہ اُن بندوں کو وہاں کیسے ثابت کرے؟ جن کی خبر سردار سودھا سنگھ کے بھاگنے والے بندے دے چکے تھے۔ دوسری طرف سردار دیوے کھوہ کے مالک کے بیان کے مطابق بھی دو بندے تھے،جن کو وہ نہیں پہچانتا تھا۔ اُس نے بس اتنا دیکھا تھا کہ اُنہی دونوں نے ریفلوں سے فائرنگ کر کے اِن سب کو قتل کیا تھا اور اُن کے چہرے کپڑوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ اِس لیے پہچانے نہیں گئے۔ اِس بات کی تصدیق اِس سے بھی ہوتی تھی کہ عبدل گجر اور شریف بودلے کے قتل کے گواہوں نے بھی دو بندوں ہی کی تصدیق کی تھی۔ لوئیس صاحب جانتا تھا،کہیں دال میں کالا ضرور ہے۔ لیکن اتنی جلدی پتہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔ مگر اُسے پوری تحقیق کرنے کے لیے وقت بھی ملتا ہے کہ نہیں؟ اب اِس کا خطرہ موجود تھا۔ کیونکہ ولیم اب کسی بھی طرح کا رسک لینے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اُس کے خلاف کاروائی کر دے گا۔

تفتیش کو تیسرا دن تھا۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ اُدھر ولیم شادی میں مصروف تھا۔ اور اِس وقت اُسے اِن کاموں میں اُلجھانا نامناسب ہی نہیں،اصولوں کے بھی خلاف تھا۔ اگرچہ لوئیس صاحب نے فیروزپور جا کر ساری بات ضلع پولیس افسر کے سامنے رکھ دی تھی اور اپنی پوزیشن واضح کر دی تھی۔ لیکن معاملہ اُلجھتا ہی جا رہا تھا۔ البتہ غلام حیدر کی پوری زمین اور جائداد قبضہ میں لے لی گئی اور تمام لوگوں کو خبردار کر دیا کہ جو اِس معاملے میں ملوث ہے،وہ خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دے ورنہ گورنمنٹ انتہائی سخت ایکشن لے گی۔ لیکن اِس کی نوبت نہیں آئی۔ کیونکہ اِس ہولناک واقعہ کی اطلاع جب ولیم صاحب کو پہنچی تو اُنہوں نے ڈپٹی کمشنرصاحب کو صاف لکھ دیا کہ یہ پولیس افسراُسے نہیں چاہیے۔ یوں ولیم کے تقاضے پر ڈی ایس پی جلال آباد مسٹر لوئیس صاحب کو دس دن کے اندر ہی تبدیل کر کے لدھیانے بھیج دیا گیا اور اُن کی جگہ لاہور سے تحصیل پولیس آفیسر مسٹر جان میلکم کو جلال آباد تعینات کر دیا گیا۔ جس کی سفارش کچھ دن پہلے سر شاہنواز نواب ممدوٹ نے بھی کی تھی۔ جان میلکم کے آنے کے بعد کیس کی تحقیق نئے سرے سے شروع ہو گئی۔ اُنہوں نے چند دنوں میں سودھا سنگھ کے قتل کے متعلق اپنی پچاس صفحات کی رپورٹ تیار کرلی۔ اُس کا خلاصہ کچھ یوں تھا۔

سودھا سنگھ اور شیر حیدر کے درمیان دیرینہ دشمنی چلی آرہی تھی،جودونوں طرف سے ایک دوسرے کے معمولی نقصان کرنے پرمنحصر تھی۔ یہاں تک کہ شیر حیدرفوت ہو گیا۔ اُس کا بیٹا غلام حیدر تعلیم کے سلسلے میں اکثر لاہور میں رہتا تھا اور اُس کے وہاں کافی بااثر دوست تھے،جن میں کچھ انگریز بھی تھے اور کچھ نواب حضرات۔ اِن لوگوں میں اُٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اُس کے اندر ایک قسم کی خود سری پیداہو گئی۔ جس کو ہوا اُس وقت ملی جب سودھا سنگھ نے شیر حیدر کے مرنے کے بعد فور اُس کی زمینوں پر حملہ کر کے ایک بندہ قتل کر دیا اور بیس ایکڑ مونگی کی فصل تباہ کر دی۔ اِس حملے کے بعد پولیس کی سُستی نے سودھاسنگھ کی مزید ہمت بندھائی۔ اُس نے شیر حیدر کے مزید دو دشمنوں عبدل گجر اور شریف بودلہ کے ساتھ مل کر ایک اور حملہ شاہ پور پر کر دیا،جو غلام حیدر کاآبائی گاؤں تھا۔ اِس میں غلام حیدر کے مزید تین بندے مارے گئے اور بہت سی بھینسیں لوٹ کر لے گئے۔ اسی بنا پرغلام حیدر نے جوابی حملے کا منصوبہ تیار کیا،جو انتہائی کامیاب رہا۔ لیکن اُس میں غلام حیدر نے اپنے بندوں کو استعمال نہیں کیا بلکہ ایک اور آدمی کا سہارا لیا،جس کا ابھی تک کوئی نام ونشان نہیں ملا۔ اُس کا پتا صرف غلام حیدر سے چل سکتا ہے لیکن وہ تا حال فرار ہے۔ پولیس اُسے گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اُمید کی جاتی ہے جلدگرفتارکرلیاجائے گا۔ لیکن بعض اطلاعات کے مطابق وہ ایران نکل گیا ہے۔

(39)

مولوی کرامت پچھلے دو ڈھائی مہینوں سے اپنی گدھی پر گاؤں گاؤں اور بستی بستی پھرتا رہا۔ اِس سفر اور سفر میں مختلف لوگوں سے ملاقات میں مولوی کرامت کو بات چیت کرنے اور کام کرنے میں بہت تجربہ حاصل ہو گیا۔ اُس کی گدھی ایسی سواری تھی،جسے بغیر کسی خرچے کے جہاں چاہتا،لے کر نکل جاتا۔ راستے میں کسی نہ کسی کھیت سے اُس کے لیے مفت میں چارا بھی حاصل کر لیتا۔ کبھی تین تین دن واپس نہ پلٹتا،جہاں رات پڑتی سو جاتا اور لوگوں کو تعلیم کے فوائد سمجھانے اور اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرنے کے متعلق ایسی ایسی دلیلیں پیش کرتا کہ وہ فوراً تیار ہو جاتے۔ حتیٰ کہ اب ان بچوں کی تعداد ہندو اور سکھوں کے بچوں کے نزدیک پہنچنے لگی تھی۔ مولوی کرامت نے سوچ لیا تھا،اگراُسے کچھ عرصہ اسی طرح کام کرنے دیا جائے تو وہ یہ تعداد آیندہ سال تک اِن سب سے زیادہ کر دے گا۔ اس کام میں مولوی کرامت کو سہولت بھی بہت تھی۔ نہ کوئی ڈیوٹی کا مقررہ وقت تھا اور نہ کسی کی پابندی تھی۔ کام کے سلسلے میں بات یہاں تک پہنچ گئی کہ جلال آباد سے دس دس میل دور سے بھی لڑکے سکول آنے کے لیے تیار ہو گئے۔

آج مولوی کرامت نے سکول میں حاضری دینا تھی۔ ایک ہفتے میں مولوی کرامت جتنے بچوں کو سکول میں داخل کرواتا تھا،ہفتے کے آخری دن اُنہیں سکول میں لا کر پکا اندراج کروا دیتا۔ اُس کے بعد وہ پڑھنا شروع کر دیتے۔ آج مولوی کرامت کے بستی جنڈوکا کے سولہ بچے ساتھ لے کر آیا تھا،جن کی عمر آٹھ سال سے لے کر بارہ سال تک تھی۔ مولوی کرامت انہیں نائب ہیڈ منشی کے حوالے کر کے،جب ہیڈ منشی کو سلام کرنے اُن کے کمرے میں پہنچا،تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھا۔ البتہ اُس کے بابو نے مولوی کرامت کو اطلاع دی کہ اُسے تعلیم افسرتُلسی داس اپنے دفتر میں یاد فرماتے ہیں۔ مولوی کرامت اُسی گدھی پر سوار ہو کرڈرتے ڈرتے تحصیل ایجوکیشن افسر کے دفترپہنچا کہ نجانے حاکموں نے اُسے کیوں بلایا ہے؟ اللہ جانے وہ اُس کی خدمت سے خوش ہوئے ہیں کہ ناراض۔ اوراب نوکری برقرار رہ سکے گی کہ نہیں؟ پچھلے تین مہینے کی تنخواہ مولوی صاحب کو مل چکی تھی،جسے وہ جودھا پور میں اپنی بیوی شریفاں کے حوالے کر آیا تھا۔ بلکہ اب جلال آباد میں گھر کے لیے اپنی جگہ بھی مول لینے کی سوچ رہا تھا۔ وہ پہلا مہینہ غلام حیدر کی حویلی میں عزت سے رہ رہا تھا لیکن وہاں انتہائی خوف میں مبتلا تھا۔ بڑی بڑی مونچھوں اور سُرخ انگارہ آنکھوں والے گبرو جوانوں سے حویلی بھری رہتی تھی،جن کو دیکھنے ہی سے اوسان خطا ہو جاتے۔ اس کے ساتھ،ہر طرف ڈانگوں،برچھیوں اور تلواروں کا معاملہ تھا اور لڑائی بھڑائی کی باتیں،جن سے مولوی کرامت کوسوں دور بھاگتا۔ وہ سوچتا تھا،جانے کس وقت حملہ ہو جائے اور وہ اپنے ثالے کی طرح مفت میں مارا جائے۔ اس کے علاوہ نہ کسی کو نماز روزے سے غرض تھی اور نہ اس بات سے کہ اُن کے درمیان ایک مولوی رہ رہا ہے۔ چنانچہ وہ پہلی تنخواہ ملنے کے فوراً بعد وہاں سے اُٹھ کر چار روہے کرایہ کے ایک کمرے میں اُٹھ آیا تھااور شکر خدا کا یہ جگہ اُس نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی تبدیل کر لی تھی ورنہ مفت میں مارا جاتا۔ اب ایک مصیبت جو سب سے اہم تھی،مولوی کرامت اپنی بیوی شریفاں کے بغیر آج تک کہیں ایک رات بھی نہیں رہا تھااور اب اُسے پورے تین مہینے ہو گئے تھے۔ مولوی نے سوچا تھا،اُس کی تین مہینوں کی تنخواہ اور جو قصور سے آتے ہوئے کچھ پیسے جمع ہوگئے تھے،اُن سب کو ملا کر جلال آباد کے اندر نہ سہی،شہر کے مضاف میں تو پانچ چھ مرلے کی جگہ مل ہی سکتی ہے۔ جہاں باقی روپوں کا ایک دو کمرے کا مکان بن جاتا۔ اُس کے لیے مولوی کرامت نے سوچ رکھا تھا،کچھ پیسے وہ رحمت بی بی سے لے گا۔ لیکن اب اس کھتری افسر نے اُسے کیوں بلایاتھا؟اگر اُس نے نوکری ختم کردی تو سارا معاملہ ہی چوپٹ ہو جائے گا۔ اُدھر راڑے والوں نے بھی کوئی نہ کوئی مولوی رکھ لیا ہو گا۔ ہاتھ سے مسجد بھی جائے گی،حالانکہ وہ کام تو اپنی بساط سے زیادہ ہی کر رہا تھا۔ اُس کے لیے اُسے دوسرے ملاؤں اور مسلمانوں سے غدار،کرسٹان اور کس کس قسم کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ مولوی کرامت نے سوچا،کیا ہی اچھا ہو،اگر گورنمنٹ اُسے آرام سے تنخواہ دیے جائے اور وہ کام کیے جائے۔ لیکن یہ بیچ میں جو بابو لوگ ہیں،یہ بہت چالاک ہوتے ہیں۔ بُری بُری باتیں کر کے افسروں کا دماغ خراب کر ہی دیتے ہیں اور یہ افسر بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں،جو بابووں کی ایسی ویسی باتوں میں آکر غریبوں کی نوکری چھین لیتے ہیں۔ اس سے تو اچھا ہے،پہلے نوکری ہی نہ دیں۔ مولوی کر امت کسی انجانے خوف میں یہ سوچتا جاتا تھا اور چلا جاتا تھا۔

سچ بات تو یہ تھی،مولوی کرامت کو صرٖ ف اب تحصیل کے سب سے بڑے فرنگی افسر ولیم صاحب سے ہی ملنا اچھا لگتا تھا۔ کتنا نیک دل افسر ہے،جس نے بغیر سفارش کے،اُسے اتنی بڑی نوکری دے دی لیکن نجانے وہ ایک دفعہ اُسے نوکری دے کر بھول کیوں گیا تھا؟دوبارہ کبھی بلایا ہی نہیں اور نہ کوئی حساب کتاب لیا۔ مولوی کرامت جانتا تھا،دوسرے منشی اور تعلیم کا تحصیل افسر اُس کے کام سے جلتے تھے اور کسی بھی وقت اُسے نوکری سے نکلواسکتے تھے۔ اِسی اندیشے کے تحت اُس نے پہلے بھی ایک دو دفعہ بڑے صاحب سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن اُسے صاحب کے کمرے میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ بلکہ ایک مرتبہ جب صاحب اپنے دفتر سے نکل کر بنگلے کی طرف جا رہا تھا اور وہ صاحب کو اپنا چہرہ دکھانے کے لیے دو پہر سے دفترکی راہ داری کے باہر کھڑا تھا۔ اُس وقت بھی نہ صاحب نے اُس پر توجہ دی تھی اور نہ ہی کسی نے اُسے آگے ہونے کے لیے رستہ دیا تھا۔ سارے بابوؤں اور پولیس والوں نے رستہ ہی روک لیا۔ پھر بھی اُسے صاحب کی نیک دلی پر پورا یقین تھا لیکن تعلیم افسر تو ایک کھتری ہی تھا،جو شکل ہی سے مسلمانوں کا دشمن نظر آتا تھا۔

یہ سب سوچتا ہوا مولوی کرامت تُلسی داس کے کمرے کے باہر پہنچا تو تھر تھر کانپ رہا تھا۔ وہ باہر ایک بنچ پر ہی بیٹھ گیا،یہاں تک کہ اپنے آنے کا اندر پیغام بھی نہ بھیجا۔ نہ ہی کسی نے مولوی کرامت سے پوچھا،کہ وہ کس لیے آیا ہے؟ مولوی کرامت کو بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہو گئی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا تو ایک بابو نے بالآخر مولوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ کون ہے اور کس لیے آیا ہے؟ اُس کے جواب نے مولوی کرامت نے وہ رقعہ نکال کر بابو کو تھما دیا،جو اُسے صبح سکول میں حاضری کے وقت نائب ہیڈ منشی ہری چند نے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خط تعلیم افسر کے دفتر سے آیا ہے اور آپ کو حاضر ہونے کو کہا ہے۔ بابو نے رقعہ دیکھ کر اپنی عینک،جو ایک میلی ڈوری سے باندھ کر گلے سے لٹکائی ہوئی تھی،اُٹھا کر آنکھوں پر لگائی اور رقعہ پڑھنے لگا۔ رقعہ پڑھ کر ایک نظر اُس نے مولوی کرامت کو دیکھا اور بولا،مولوی صاحب،کچھ دیر یہیں بیٹھو۔ وہ رقعہ لے کر تُلسی داس کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ مولوی کرامت دوبارہ اُسی بنچ پر بیٹھ گیا۔ اس گرمی کے موسم میں صبح سے دوپہر تک مولوی کرامت کا بھوکا پیا سا بیٹھنا ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات والا معاملہ تھا۔ ابھی مولوی کرامت سوچ رہا تھا،خدا جانے کب اِس ہندو کھتری کے ہاں پیشی ہو گی کہ اُسی بابو کی آواز مولوی کرامت کے کان میں پڑی،مولوی صاحب،اندر چلو صاحب نے بلایا ہے۔ مولوی کرامت اُٹھا اور جلدی سے سورہ الناس پڑھتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔ سورہ پڑھ کر دل ہی دل میں میز کی دوسری طرف بیٹھے تلسی داس کے اُوپر پھونک مار دی۔ مولوی کو دیکھتے ہی تُلسی داس ہلکے سے مسکرایا اور ایک کُرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،آؤ مولوی کرامت بیٹھو۔

مولوی کرامت جھجکتے ہوئے کُرسی پر بیٹھ گیا اور ٹک ٹک تُلسی داس کی طرف دیکھنے لگا،لیکن منہ سے کچھ نہیں بولافقط سلام کیا۔ سلام کے جواب میں تلسی داس نے رام رام کہا اور بولا،مولوی صاحب کیسا چل رہا ہے کام؟

جی سرکار کی مہربانی سے میں تو اپنی محنت کر رہا ہوں،باقی اللہ مالک ہے،مولوی کرامت بولا،سو بچوں کو سکول میں داخل کروا چکا ہوں،صرف دو مہینوں میں۔ میں تو جی مسجدوں میں جا کر اور لو گو ں کے گھر گھر جا کر بڑی محنت سے کام کر رہا ہوں۔ لوگ حجتیں بہت کرتے ہیں۔ پر مَیں بھی اُن کو حدیثیں سنا سنا کر قائل کر ہی لیتا ہوں۔

مولوی صاحب،آپ کو زیادہ مشکل تو نہیں پیش آتی اس معاملے میں؟ تُلسی داس نے مولوی کرامت کی طرف دیکھ کر اور اپنی چُندیا پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مربیانہ سے انداز میں پوچھا۔

مہاراج،آپ کی دیا سے کچھ مشکل نہیں،مولوی نے داڑھی کھجاتے ہوئے جواب دیا،اگر سرکار تنخواہ دیتی ہے تو کام تو ایمانداری سے کرنا چاہیے۔ بس یہاں ابھی اکیلا ہوں۔ جودھا پور روز روز جایا نہیں جاتا،سوچتا ہوں کسی طرح بال بچوں کو یہا ں لے ہی آؤں پھر بے فکری سے کام کروں۔

تُلسی داس نے مولوی کرامت کی بات سن کر کہا،مولوی صاحب کمشنر صاحب کو آپ کے کام کی رپورٹ کردی گئی تھی۔ وہ آپ کے کام سے بہت خوش ہیں۔ اسی خوشی میں آپ کے لیے ایک حکم فرمایا ہے،جس کے تحت تحصیل کمپلیکس میں آپ کے رہنے کے لیے ایک گھر دے دیا جائے گا،جہاں تم اپنے بیوی بچوں کو لا سکتے ہو۔ اب تم گورنمنٹ کے پکے ملازم ہو اور بے فکری سے کام کرو۔ مکان تم کو جب تک دیا جائے گا،جب تک گورنمنٹ کے ملازم رہو گے۔ اُس میں ہر سہولت موجود ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی تم پر ایک ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔

وہ کیا سرکار؟مولوی کرامت خوشی سے کانپتے ہوئے بولا،مہاراج آپ جو کام بھی دیں گے, میں حاضر ہوں۔ سرکار مجھ پر اتنی مہربان ہے تو میں کیسے اُن کے کہے پر عمل نہ کروں گا۔

مولوی صاحب،اب آپ تین دن سکول میں پڑھائیں گے اور تین دن جلال آباد سے باہر جا کر دوسرے گاؤں کے لوگوں کو اس کام پر اُکسائیں گے۔ اس کام کے لیے آپ مزید چارایسے مولوی ڈھونڈیں،جن کو گورنمنٹ آپ ہی کی طرح تنخواہ دے گی،لیکن اُن کی نگرانی تم خود کرو گے اور ہمیں رپورٹ کیا کرو گے۔ اس معاملے میں تم کو اختیار ہے،جو مولوی مناسب سمجھو،انہیں گورنمنٹ میں ملازمت دلوا سکتے ہو،لیکن یہ کام جلدی ہونا چاہیے۔ ان چھ مہینوں میں ہم سکولوں کی تعداد دُگنی کر رہے ہیں۔ جس کے لیے کم ازکم مسلمان بچوں کی تعداد تین سو ہو جانی چاہیے۔ اس کے بعد تُلسی داس نے اُسی بابو کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا،میکا رام،یہ مولوی صاحب وہی ہیں،جن کے لیے مکان کا بندوبست کیا گیا ہے۔ آپ اُس کی کنجیاں مولوی صاحب کو دے دیں۔ اِس کے بعد تُلسی داس نے اُٹھ کر مولوی کرامت کو ہاتھ جوڑکر رام رام کہا۔ جس کا مطلب تھا کہ مولوی کرامت اب جا سکتا ہے۔

میکا رام نے کہا،آئیے مولوی صاحب اور آگے چل دیا۔ باہر نکل کر اُس نے میز کی دراز سے کچھ چابیاں نکالیں اور ایک چوکیدار کو آواز دی،جو تیس سال کا مسلمان لڑکا ہی تھا۔ اُسے کچھ سمجھاتے ہوئے کہا،میاں دُلًے،یہ کنجیاں لے جاو اور کونے والے سیتا رام کے سامنے والا گھر مولوی صاحب کو دکھا آؤ۔ اُس کے بعد مولوی صاحب سے کہا،جائیے مولوی صاحب،یہ آپ کو گھر دکھا آتا ہے۔ پھر مسکرا کر آنکھ دباتے ہوئے دوبارہ بولا،کوئی بڑی سفارش ڈھونڈی ہے مولوی جی آپ نے۔ کبھی ہما ری بھی سفارش کروا دیں۔

مولوی کو اپنے اُو پر گورنمنٹ کی اتنی نوازشات کی سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔ اُسے بس اتنا پتا تھا،اُس نے کوئی بہت بڑا نیکی کا کام کر دیا ہے،جس کا خدا اُس کو یہ صلہ دے رہا ہے۔ وہ بھی کرسٹان اور ہندوبنیے کے ہاتھوں۔ مولوی کرامت نے سوچا،ایساتو پہلے بھی ہوا ہے،خدا اپنے بندوں کو دشمنوں کے ہاتھوں سے ہی فایدہ دلواتا ہے۔ جس کی مثال موسیٰ اور فرعون کے باب میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ مکان اور ترقی حاصل ہونے کی اتنی بڑی خوشی مولوی صاحب کے قدموں کو اُڑا اُڑا رہی تھی۔ اُس کا جی چاہ رہا تھا،ابھی جودھا پور پہنچ کر یہ خبر شریفاں کو دے۔ لیکن جودھا پور جلال آباد سے پورے اَٹھارہ کوس ہونے کی وجہ سے وہاں جانے سے قاصر تھا۔ جبکہ جلال آباد میں مولوی کرامت کاکوئی رشتے دار نہیں تھا،جس کو یہ خبر سناتا۔

کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد ایک چوڑی سی گلی کے آخری کونے پر پہنچ کر،جہاں سے آگے یہ گلی بند ہو جاتی تھی،ایک مکان کے سامنے دُلا چپڑاسی رُک گیا اور بولا،لایے مولوی صاحب،پانچ روپے مٹھا ئی کے اور یہ کنجیاں لے کر دروازہ کھول لیں۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ گھر کو دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ اِتنا اچھا اور پکا گھر تو اُس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا لیکن پانچ روپے کا سُن کر مولوی کو غصہ آ گیا۔ مولوی کرامت نے کہا،بھائی پانچ روپے کس بات کے،؟ مجھے تو بڑے بابو صاحب نے کہا تھا کہ گھر مفت ملے گا۔
دُلًے نے عورتوں کی سی طعنہ زنی کرتے ہوئے کہا،واہ مولوی صاحب بھلا اس گھر کی قیمت پانچ روپے ہے؟ یہ پانچ روپے تو مٹھائی کی قیمت ہے۔ گھر تو آپ کو مفت ہی ملا ہے،میکا رام نے کہا تھا،مولوی صاحب سے مٹھا ئی کے پانچ روپے لیے بغیر گھر کی کنجیاں نہیں دینی۔ یہ پیسے کوئی میں نے تو نہیں رکھنے۔ آپ شکر کریں،آپ کو گھر مل رہا ہے۔ باقی بھلا کسی کو اس طرح کبھی گھر ملا ہے؟ کنجیاں تو تب ہی ملیں گی جب پانچ روپے دو گے،ورنہ اور بہت سے لوگ اس گھر کو لینے والے موجود ہیں،جو پچاس پچاس دینے کو بھی تیار ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ بڑے افسر کے پاس بڑی سفارش پہنچ جائے اور وہ یہ گھر کسی دوسرے کے نام جاری کرنے کا حکم فرما دے۔ پھر آپ منہ دیکھتے رہ جاؤ گے۔ وہ تو میں نے بھی اپنے تُلسی داس صاحب سے آپ کی سفارش کی تھی،جس کی وجہ سے یہ مکان آپ کے نام الاٹ ہو گیا۔ اگر آپ کی نہیں مرضی تو واپس چلے چلتے ہیں۔ جا کر میکا رام کو کہ دوں گا،مولوی صاحب کو آپ کی شرط منظور نہیں۔

مولوی کرامت دُلے کی بات سُن کر خاموش سا ہو گیا اور سوچنے لگا،اگر مَیں نے پیسے نہ دیے تو شاید یہ گھر نہ ملے۔ کیوں کہ جب نوکری ملی تھی تب بھی پانچ روپے مٹھا ئی کے دیے ہی تھے پھر مَیں فایدے میں ہی رہا۔ جب مَیں وہ پانچ روپے مٹھا ئی کے بھول چکا ہوں تو یہ پانچ روپے بھی دے ہی دو ں۔ کہیں بڑے صاحب کے سامنے میری بُرائی کر کے یہ بھی نہ لینے دیں۔ یہ سوچتے ہوئے مولوی صاحب نے اپنی ناف سے بندھی روپوں کی تھیلی کھولی اور گن کے پورے پانچ روپے کے سکے دُلے کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اتنے زیادہ پیسے دیکھ کر دُلے کی آنکھیں چمک گئیں،تیر عین نشانے پر بیٹھا تھا۔ اُس نے جلدی سے چابیاں نکال کر مولوی کے ہاتھ پر رکھ دیں۔

گھر ملنے کے دوسرے دن بعد ہی مولوی کرامت جودھا پور گیا۔ پھر تیسرے دن ہی جو کچھ مال اسباب تھا،لپیٹا،شریفاں،فضل دین،رحمت بی بی اور اُس کی یتیم بیٹی کو لے کر جلال آباد کے نئے گھر میں آن داخل ہوا۔ مولوی کرامت کی صرف تین مہینوں کی محنت نے یہ رنگ نکالا تھا کہ جلال آبادکے مرکزی اسکول میں ہی مسلمان بچوں کی تعداد پندرہ سے بڑھ کر ایک سو دس ہو گئی تھی۔ جس کا صلہ مولوی صاحب کو یہ ملا کہ اُسے اسسٹنٹ کمشنر ولیم کی منظوری سے جلال آباد تحصیل کمپلیکس میں ہی ایک تین کمروں کا کوارٹر رہنے کو مل گیا۔ جس میں اور تو اور پانی کا نلکا بھی لگا ہوا تھا اور گھر بھی پورے کا پورا پکی اینٹوں سے بنا تھا اور کرایہ اُس کا صرف تین روپے ماہانہ تنخواہ سے کٹنا تھا۔ گھر کے سامنے ایک ٹاہلی کا درخت بھی تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ گھر پکا ہونے کی وجہ سے مولوی کرامت کی بیوی کو روز روز بھوسے میں گُندھی ہوئی مٹی سے اُس کی دیواروں اور چھت کو لیپنا نہیں پڑنا تھا،جو کچی اینٹوں اور مٹی گارے سے بنے گھروں میں روز روز کا سیاپا تھا۔ اس طرح کے کچے گھر بارشوں کے موسم میں مصیبت بن جاتے ہیں۔ یہ پہلا رعب تھا،جو حقیقت میں مولوی کرامت شریفاں پر ڈالنے کے لائق ہوا تھا۔ شریفاں کے ساتھ اب اُس کی نند رحمت بی بی اور رحمت بی بی کی یتیم بیٹی بھی تھی۔ اِن کے علاوہ فضل دین تو موجود ہی تھا۔ رحمت بی بی سے نہ مولوی کرامت اور نہ ہی شریفاں نے کوئی بات کی تھی لیکن یہ قصہ خموشی سے طے ہو چکا تھا کہ رحمت بی بی کی بیٹی کا فضل دین سے اب نکاح ہونا لازمی قرار پا چکا ہے،جس کا بس اشارہ ہی رحمت بی بی کے لیے کافی تھا۔ اُس کے لیے اِس سے بڑھ کر اب کون سی بات تھی کہ جب چراغ دین قتل ہوا تو اُن ماں بیٹی کا دور دور تک کوئی پُرسان حال نہیں تھا۔ یہ مولوی کرامت ہی تھا،جس نے آخری وقت پر اُن کو سہارا دیا۔ یہاں تک کہ وہ اُنہیں جودھا پور کے اکیلے پن سے نکال کر تحصیل جلال آباد اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ لہذا رحمت بی بی جس قدر بھی مولوی کرامت کی شکر گزار ہوتی،وہ کم تھا۔

تحصیل کمپلیکس عین ریلوے اسٹیشن کے قریب تھا،جس میں مولوی صاحب اور اُس کی فیملی کو ولیم کی برکت سے رہنے کو اب ایک مکان بھی مل گیا تھا۔ کمروں میں اینٹوں کا فرش بھی لگا ہوا تھا۔ اب اُنہیں کہیں اور سے پانی ڈھونے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ مولوی یا اُس کی بیوی جب چاہتے وضو کر سکتے تھے،نہا سکتے تھے اور وہی پانی پی بھی سکتے تھے۔ مولوی کرامت،فضل دین اور دونوں عورتوں نے مل کر اونٹ گاڑی سے سامان اُتارااور اُسے ترتیب سے گھر میں رکھتے گئے۔ گھر دیکھ کرشریفاں کے دیدے کھلے ہوئے تھے،جو اَب گھر کی مالکن ہونے کے ناتے ہدایات بھی دے رہی تھی کہ فلاں چیز اِدھر رکھو،فلاں چیز اُدھر رکھو۔ چیزیں کیاتھیں،تین چارپائیاں کچھ بسترے،کھانے کے چند ایک برتن،دو لکڑی کے صندوق،جن میں سلوٹوں سے بھر ے ہوئے کپڑے اور کچھ شادی کے وقت کی باقیات جمع تھیں اور بس۔ یہی کچھ دونوں گھروں کا اثاثہ تھا،جو ایک ہی گھر میں جمع ہو کر بھی اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ اس گھر میں تین کمروں کے علاوہ اچھا خاصا صحن بھی تھا۔ موسم گرمیوں کا تھا۔ اِس لیے چارپائیاں رات کو صحن میں ہی بچھائی جانی تھیں۔ البتہ دن کے وقت اُنہیں کمروں میں منتقل کیا جاسکتا تھا۔ گھر میں موجود ٹاہلی کے درخت نے یہ مشکل بھی دور کر دی۔ سورج کی گرمی سے بچنے کے لیے دن کو چارپائیاں ٹاہلی کے سائے میں بچھائی جا سکتی تھیں۔ صحن کچا تھااور اُس میں گھاس پھونس اتنا اُگا تھا کہ گرد غبار بالکل نہیں تھا۔ گھاس کاٹنے کی ضرورت تھی،جو فضل دین آرام سے کر سکتا تھا۔ مولوی کرامت نے سامان اُتروا کر اونٹ گاڑی والے کو پیسے دے کر رخصت کیا۔ کچھ دیر بیٹھ کر آرام کیااور عصر کے وقت جب گرمی کا کچھ زور تھما تو دونوں عورتوں کو گھر پر چھوڑفضل دین کو لے کر جلال آباد کے بازار میں چلا آیا تاکہ کھانے پکانے کے لیے دال،چاول،آٹا اور گھی وغیرہ خرید لے۔ بازار جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے،کوئی خاص نہیں تھا۔ ٖفضل دین نے تو خیر کبھی نہیں،البتہ مولوی کرامت نے تو قصور کابازار دیکھا ہی تھا۔ وہ اِس سے کہیں بڑا تھا۔ پورے جلال آباد میں ایک ہی بازار تھا۔ کوئی دو سو گز لمبی اور بارہ گز چوڑی سڑک تھی۔ جس کے دونوں طرف کچی پکی اور لکڑی کے بڑے تختوں والی چند ایک کھلی کھلی دکانیں تھیں۔ دکانوں کے بنیروں کے اُوپر دورویہ بانس کی لکڑیاں ڈال کراُن کو رسیوں سے باندھ دیا گیا اور اُوپر کٹی پھٹی ترپالیں بچھا دی گئیں تاکہ بازار سے گزرنے والوں پر دھوپ نہ پڑے جو مئی،جون،جولائی میں اتنی بڑھ جاتی کہ ننگے سر والوں کی چیں بول جائے۔ تر پالیں دوکانداروں نے خود ہی اپنے خرچے سے ڈال کر بازار میں چھاؤں بنا رکھی تھی۔ اِس میں دوکانداروں کی یہ حکمت بھی تھی کہ زیادہ تر سودادوکان سے باہر ہی پڑا ہوتا تھا۔ ایک تو اُس پر سایہ ضروری تھا۔ دوسرا اُس سودے کو آکر دیکھنے یا خریدنے والادھوپ کی شدت سے بچ کر آرام سے سودے کو ملاحظہ کر سکتا تھا۔ اگر گاہک کو مسلسل دھوپ تنگ کر رہی ہو،تووہ جلد ہی کھسکنے کی کرتا ہے اور دوسری دوکان میں داخل ہو جاتا ہے۔ دکاندار،جس قدر زیادہ امیر ہوتا،اُس کی دکان کے اُوپر ترپال اتنی ہی اچھی ہوتی۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ پورے بازار کا ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک چکر لگا یا۔ فضل دین کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ بازار میں کس لیے آئے تھے کیونکہ نہ تو اُس نے پچھلے دو تین مہینوں سے روٹیاں اکٹھی کی تھیں،جو بیچنا ہو اور نہ ہی فضل دین کے خیال کے مطابق مولوی کرامت کے پاس پیسے تھے،کہ ٹانگر یا کھجوریں خریدنی ہوں۔ وہ حسرت بھری نگاہوں سے دوکانوں کو دیکھتا جاتا۔ جہاں سے اکثر سکھ،ہندو اور مُسلے کچھ نہ کچھ خریداری کر رہے تھے یا بیچ رہے تھے۔ بازار میں زیادہ تر عورتیں تھی۔ بوڑھی،جوان،سبھی قسم کی۔ اِن میں سکھ اور مسلمان عورتوں کے لباس گفتگو اور چال ڈھال میں کچھ فرق نہیں تھا۔ اکثر عورتوں نے لہنگے اور کگھرے پہنے ہوئے تھے اور اُن کگھروں کے آزار بندوں کے ساتھ اُن کے گھروں کے صندوقوں اور کمروں کی چابیاں لٹکی چھن چھن بجتی جا رہی تھیں اور بازار میں اِن عورتوں کے چلنے سے ایک قسم کے ساز میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ بازار کے آخری کونے پر جا کر جہاں اب سوائے دھوپ کے آگے کوئی شے نظر نہیں تھی،مولوی کرامت واپس پلٹا اور ایک کھتری کی دوکان پر رُک گیا۔ وہ ضرور کسی مسلمان کی دوکان پر رُکتالیکن وہاں مسلمان کی دوکان تو ایک طرف،کسی مسلمان نے چھابڑی تک نہیں لگائی تھی۔ دکانوں کے مالک اکثر ہندو تھے،۔ چھابڑیاں سکھوں نے لگا رکھی تھیں۔ چھابڑیوں میں بھی زیادہ تر چِبڑ، رینڈیاں، تربوز، تریں اور اِسی طرح کی سستی اشیا آنے کی تین کلو بکنے والی تھیں۔ پھل تو کسی کے پاس نہیں تھا۔ البتہ سڑے ہوئے دیسی آم اور کچے پکے کیڑوں والے امرودوں کی الگ بات تھی۔ جنہیں دیکھ کر مولوی کرامت نے سوچ لیا کہ جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ اِن اَمرودوں اور کھجوروں میں سے رحمت بی بی اور شریفاں کے لیے لے جائے گا۔ قصہ مختصر اُس نے کھتری سے ایک آنے کا دیسی گھی،دو آنے کی دال اور اِسی طرح کچھ دوسری چیزیں خرید کر دو روپیہ کا پورا گٹو بھر کے فضل دین کے سر پر رکھ دیا۔ تھوڑی دُور چل کر مولوی کرامت کے دل میں خیال آیا،وہ پیچھے مُڑا اور ایک آنے کا ٹانگر،امرود اور کھجوریں بھی خرید لیں۔ اُس میں سے تھوڑا سا ٹانگر مولوی کرامت نے فضل دین کو بھی دے دیا،جسے پا کر اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ گٹو سر پر اُٹھائے ٹانگر چبانے لگا اور مولوی کرامت کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ۔ مولوی کرامت اب سر پر کُلے دار پگڑی رکھے اور ہاتھ میں عصا تھامے بازار کے بیچوں بیچ بڑی طمطراقی سے چل رہا تھا۔ خشک چمڑے کی جُوتی میں آواز تو پیدا نہیں ہو رہی تھی لیکن اُس کی کھدر کی سفید چادر اور کُرتے کے نیچے جوتی کا ہونا ہی اِس بات کی دلیل تھی کہ اب وہ عوام سے نکل کر اَشراف میں داخل ہو رہا تھا۔ عوام میں تو اکثر کے پاس جوتی نہیں تھی یا چادر کی بجائے ڈیڑھ گز کی دھوتی ہوتی تھی اور گلے میں قمیض کے بدلے میں فقط جانگیہ ہوتا،جس کے ہاتھ بھر کے سلوکے ہوتے۔ اَصل میں مولوی کرامت کی زندگی میں یہ پہلا دن تھا،جب اُس نے بازار سے پیسوں کے ذریعے خریدار ی کی تھی۔ ورنہ اُسے کبھی اِس طرح کی شاہانہ کاروائی کا موقع نہیں ملا تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتاتھا،جو لوگ بازار سے خریداری کرتے ہیں،وہ یا تو ذیلدار ہوتے ہیں یا بابو لوگ۔ اُسے یہ تصور ہی نہیں تھا،ایک دن وہ خود منشی بن جائے گا اور جلال آباد کے بازار سے گھر کے لیے سودا سلف خریدا کرے گا۔ اور اب تو یہ موقع اُسے ہر روز یا جب چاہے مل جایا کرے گا۔ کیونکہ اب وہ بھی ایسی سرکار کا نوکرتھا جو بہت امیر تھی۔ سرکار اُسے اُس کی تنخواہ ہر ماہ اب ضرور ہی دے دیا کرے گی،جس میں وہ زیادہ پیسے بچا کر رکھ لیا کرے گا اور کچھ کا سودا سلف خرید لیا کرے گا۔ اِسی رو میں اُس کا دماغ کہیں کا کہیں جا نکلا۔ جامع مسجد جلال آباد کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک خیال پیدا ہوا،اگراُسے منشی گیری کے ساتھ اِس مسجد میں امامت کا کام بھی مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہو جائے گا۔ اِس طرح آمدنی بھی دگنی ہو جائے گی اور مسجد میں پُرانی خدمت بھی بحال ہو جائے گی۔ لیکن اِس کے لیے اُسے اِس مسجد کے پہلے امام کا کوئی بندوبست کرنا ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ اُسے منشی بنوا کر منڈی گرو ہر سا بھجوا دوں اور یہاں کی امامت خود لے لوں۔ مگر پہلے اچھی طرح سے یہاں کے نمازیوں کے ساتھ علیک سلیک بڑھانی ہوگی۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ دو چار مہینوں کے لیے مفت میں کچھ لیے دیے بغیر ہی لوگوں کے مُردوں کو نہلا دیا کروں یا اُن کی قبروں پر جا کر فاتح خوانی کر آیا کروں،یا کبھی صبح اور عشا کی اذان دے دی جائے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ خود ہی اُس کی طرف رجوع کر لیں گے۔ جب لوگ اُس پر مکمل اعتماد کر لیں تو اِس امام کو گورنمنٹ سے نوکری دلوا کر کہیں اور بھجوا دوں گا۔ اِس طرح کسی کو محسوس بھی نہ ہو گا اور مسجد بھی ہاتھ میں آ جائے گی۔ اِس کے بعد فضل دین کی شادی رحمتے کی بیٹی ہاجرہ سے ہو جائے تو چراغ دین کے نام،جو غلام حیدر نے دس ایکڑ زمین نام کروائی ہے،وہ بھی اُنہیں مل جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتاہے،وہ خود رحمت بی بی سے نکاح کر لے،توسارا معاملہ بالکل ہی سیدھا ہو جائے لیکن اُسے فوراً شریفاں کا غصے سے سُرخ ہوتا ہوا چہرا دکھنے لگا۔ اُس نے ایک جھر جھری لے کر یہ خیال جلد ہی دماغ سے جھٹک دیا اور بازار سے گزرتے ہوئے لوگوں کو سلام علیکم کہنے لگا۔ اب تھوڑی دیر میں مولوی صاحب کا گھر آنے والا تھا۔ اُس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا دِلوں کے بھید کسی دوسرے پر نہیں کھولتا۔ ورنہ اگر آج اُس کے رحمتے سے شادی والے خیال کو شریفاں جان جائے تو ابھی گھر میں صفِ ماتم بچھ جائے بلکہ وہ گھر میں داخل ہی نہ ہو سکے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – انیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(34)

پچھلی دو پیشیوں پر سردار سودھا سنگھ نے نہ جا کر سخت غلطی کی تھی۔ جس کے نتائج نہایت غلط برآمد ہو رہے تھے اور عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ آئندہ سردار صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو اُن کے خلاف عدالت سخت کارروائی کے حکم جاری کر دے گی۔ جس میں کسی طرح بھی رو رعایت نہیں رکھی جائے گی۔ اگر سردار سودھا سنگھ واقعی بیمار ہے اورحاضر نہیں ہوسکتا،تو اُس کے معائنے کے لیے باقاعدہ عدالت ایک ڈاکڑبھیج دیتی ہے۔ وہ رپورٹ کرے گا۔ اس کے بعد اُس کا میڈیکل سر ٹیفیکیٹ قبول کیا جائے گا۔ کیونکہ عدالت اُس کی بیماری کے متعلق جاننا چاہتی ہے۔ عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ مقدمے کوزیادہ عرصہ روکے رکھے۔ اُدھر عبدل گجر اور شریف بودلہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنے اُوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کامیابی سے کر رہے تھے۔ اُن کے علاوہ وکیلوں نے بھی سردار سودھا سنگھ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ غلام حیدر کا کیس بہت کمزور ہے۔ ا ُس نے ایف آئی آر میں آپ کا نام دے کر سخت غلطی کی ہے۔ وہ کسی بھی طرح ثابت نہیں کر سکے گاکہ آپ حملے میں با قاعد ہ ساتھ تھے اور چراغ دین آپ ہی کے ہاتھوں سے قتل ہوا ہے۔ لہذا چار چھ تاریخوں میں ہی آپ باعزت بری ہو جائیں گے۔ لیکن عدالت میں حاضر نہ ہونے کا مقصد ہے،آپ پر لگائے گئے الزامات سچ ہیں۔ دوسر ی طرف مہاراجہ پٹیالا تو صرف اتنا ہی کر سکتا تھا،اُس نے آپ کے عدالت میں حاضر ہوئے بغیر ہی عبوری ضمانت کے بعد پکی ضمانت بھی کروا دی،لیکن اب کیس تو بہر حال آپ کو لڑنا ہی پڑے گا۔ جس کے لیے مہاراجہ کچھ نہیں کر سکتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ آپ عدالت جائیں گے تو بری ہوں گے۔ گھر بیٹھے تو سزا کی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔ رہی بات غلام حیدر کی،تو اُس میں اتنا زور نہیں کہ ڈانگ سوٹے کی لڑائی لڑ سکے۔ اُس کی رائفل پچھلے تین ماہ سے پولیس نے ضبط کی ہوئی ہے۔ ویسے بھی رائفلیں چلاناپڑھاکووں کا کام تھوڑا ہی ہے؟اس کے لیے جگرے والے لڑاکو چاہییں۔ اگر اُس کے گٹوں میں پانی ہوتا تو وہ آج سے چار مہینے پہلے ہی کچھ کر دیتا۔ مان لیا ملک بہزاد اُس کا ساتھ دے رہا رہے مگر بوڑھا شیر تو سردار جی بھیڑ سے بھی سستا ہو تا ہے۔ اُس کے لڑنے مرنے کے دن اب گئے۔ ویسے بھی پرائی آگ میں کون جلتا ہے۔ اِس لیے اُس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ قانونی نکتے بتانے کے سوا اب کچھ نہیں کرسکتا۔ البتہ سنا ہے،نواب افتخار ممدوٹ غلام حیدرکے ساتھ اُدھر لاہور کے ملک میں پڑھتا رہا ہے اور دونوں متر ہیں۔ مگر مہاراجہ کی طاقت کے سامنے اُس کی کیا حیثیت ہے؟ جب عبدل گجر اور شریف بودلے کا کچھ نہیں کر سکا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ دیدہ دلیری سے کوٹ کچہری میں آتے جاتے ہیں تو پھر آپ تو سردار سودھا سنگھ ہیں۔ جس کے سائے سے پوری تحصیل کانپتی ہے۔

اِن تمام نکتوں کو دیکھتے ہوئے سردار سودھا سنگھ نے بالآخر اِس پیشی پر جانے کا فیصلہ کر ہی لیا اور اِس کا انتظام سردار صاحب نے ہرے سنگھ کے ہاتھ میں دے دیا۔ سردار ہرے سنگھ سودھا سنگھ کا خاص مِتر رنگا کے بعد لڑائی بھڑائی کے علاوہ عدالت کچہری سے بھی پوری طرح واقف تھا اور دس برچھیوں والے بندوں کا اکیلا مقابلہ کرنے میں ہر طرح سے طاق۔ ایک بنیے کی ٹانگیں توڑنے کے سلسلے میں کچھ عرصہ کے لیے جیل جانا پڑا۔ چراغ دین کاقتل اور شاہ پور پر حملہ کے دنوں میں یہ منٹگمری جیل میں تھا۔ ہرے سنگھ جیل سے نکلا تو سردار سودھا سنگھ میں نئے سرے سے جان پیدا ہو گئی۔ کیونکہ رنگا کے مارے جانے کی وجہ سے سودھا سنگھ کی طاقت آدھی رہ گئی تھی۔ اِس بار پیشی پر جانے کے لیے تیار ہوجانااصل میں سردار ہرے سنگھ ہی کی و جہ سے بھی تھا لیکن ابھی یہ طے نہیں ہو پایا تھا کہ فیروز پور جانے کے لیے کون سی سواری اختیار کی جائے۔ سردار سودھا سنگھ نے سب متروں کو جمع کر کے صلاح کے لیے بلا لیا،جس میں فوجا سیؤ نے آنے سے انکار کر دیا۔ اُس کی اب ویسے بھی کسی کو پروا نہیں تھی کہ پچھلے ایک دو واقعات کی وجہ سے وہ سردار سودھا سنگھ کی نظروں سے گِر چکا تھا۔ اب بھی اگر اُسے بلایا تھا تو مروتاً اور اگر وہ نہیں آیا تھا تو اچھا ہی ہوا کیونکہ ہر بار کوئی نہ کوئی بُزدلی کا مشورہ دیتا۔ بیدا سنگھ،رتا سنگھ،پیت سنگھ،جگبیر،ہرے سنگھ اورسودھا سنگھ کا سگا بھتیجا شمشیر سنگھ الغر ض فوجا سیؤ کو چھوڑ کر باقی سب ہی لوگ حویلی میں موجود تھے اور تین دن بعد والی پیشی پر جانے کے لیے غور ہونے لگا۔ بیدا سنگھ نے کرپان کا پٹا دائیں پہلو کی طرف موڑتے ہوئے،اُس کا کڑا سیدھا کیا اور کہا،سردار صاحب،یہ بات سچ ہے کہ غلام حیدر ایک نا تجربہ کار منڈاہے پَر مُسلے کاکوئی اعتبار نئیں۔ اپنی حفاظت کرنا گرو جی نے لازم قرار دیا ہے۔ اس لیے فیروز پور عدالت میں حاضری دینے کا پرو گرام اِس طرح بناؤ کہ دشمن دانتوں سے انگلی نہ نکال سکے۔ اِس کے ساتھ یہ بھی طے کر لوکہ فیروزپور میں رہنے اور وہاں سے واپسی کا کیا پروگرام ہونا چاہیے کہ دشمن کسی طرح کا وار نہ کر سکے۔ بیدا سنگھ اِتنی ہی بات کر کے بیٹھ گیا۔ اُس کے بعد جگبیر سنگھ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اپنی بڑی بڑی مونچھوں کے درمیان سے بولا،سردار سودھا سنگھ،سب سے بڑا خطرہ غلام حیدر کی طرف سے نہیں عدالت سے ہے۔ مُسلے میں اِتنی جان نہیں آپ پر ہاتھ اُٹھائے۔ ہم تیس بندے ڈانگوں اور برچھیوں سے لد کر نکلیں گے تو غلام حیدر کے بندوں کے پد نکل جائیں گے۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس ہر طرح سے اسلحہ ساتھ بنھ لو اور واہگرو کو یاد کر کے چل پڑو۔ یہ کہ کر جگبیر سنگھ بھی بیٹھ گیا پھر دو تین متروں نے مزید اپنی صلا ح دی۔ جب سب لوگ مشورہ دے چکے تو آخر ہرے سنگھ بولا،سردار جی میری صلاح ہے کہ ہم فیروز پور چار تاریخ کو پیشی پر جانے کی بجائے پرسوں ہی نکل جاتے ہیں اور ریل کے ذریعے ہی جاتے ہیں۔ منڈی گرو ہرسا سے دوبجے گاڑی نکلتی ہے۔ ہم اگر جھنڈووالا سے صبح دس بجے نکلیں تو آرام سے ساڑھے بارہ بجے اسٹیشن پر پہنچ جائیں گے۔ وہاں سے سیدھا صادق والا کے راستے سے فیروز پور جا پہنچیں۔ یہ رستہ محفوظ بھی ہے اور غلام حیدر کی جونہہ سے بھی دور پڑتا ہے۔ اگرچہ لمبا کاٹ کے آنا پڑتا ہے مگر ہے یہی رستہ مناسب۔ اِس راہ سے ہم پانچ بجے شام تک فیروز پور میں داخل ہو جائیں گے اور بھائی پھجا سئیوں کے ڈیرے پر جا کر آرام کریں گے۔ پھر اگلے دن سویرے ہی عدالت کی چوکی پر جا بیٹھیں گے۔ کرپانیں ہماری ڈھبوں میں ہوں گی اور ڈانگیں ہاتھوں میں۔ اگر ذرا بھی خطرہ نظر آیا تو فوراً نکال کر ڈانگوں پر چوڑیاں کس لیں گے۔ پر میرا خیال ہے،یہ نوبت نہیں آئے گی۔ کیونکہ غلام حیدر کی ریفل فرنگیوں نے اپنے قبضے میں کی ہوئی ہے،جو میری اطلاع کے مطابق ابھی تک اُسے واپس نہیں ملی اور اُس کا اصل ہتھیار ہے۔ ڈانگ سوٹا وہ چلانا نہیں جانتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ غلام حیدر عدالت میں حملہ کرنے کی حماقت نہیں کرے گا۔ اِس صورت میں موقع پر ہی پکڑا جائے گا۔ اگر اُس نے یہ پاگل پن کر ہی دیا تو سردار جی واہگروکے صدقے سے ہم چھویاں چلانا جانتے ہیں۔ پھر مُسلوں کے ساتھ میدان کے بیچ اُسی عدالت میں جپھا ڈال دیں گے ُ۔ سرداروں کے سینے بھی مجھًوں کے جگرے لے کے پیداہوتے ہیں۔ میرا تو یہی مشورہ ہے۔ سردار جی،اِسی طرح واپسی بھی اِسی رستے سے پیشی کے اگلے دن کریں گے۔ پیشی والے دن فیروز پور ہی رہیں لیکن واپسی میں گرو ہرسا تک جانے کی بجائے پہلے ہی ورکاں خورد اسٹیشن پر اُتر جائیں۔ جہاں ہمارے بندے اسواریاں لے کے کھڑے ہوں گے۔ یہاں سے جھنڈو والا تک فاصلہ کچھ زیادہ طے کرنا پڑے گالیکن یہی مناسب ہو گا۔ باقی گرو جی شرماں رکھو۔

اُس پروگرام میں ہر ایک نے اپنی اپنی صلاح مزید پیش کی اور بیدا سنگھ نے ریل کے سفر سے اجتناب کرنے کا کہااور بجائے گرو ہرسا کے فرید کوٹ کی طرف سے فیروز پور جانے کا مشورہ دیا مگر یہ ناممکن تھا۔ گرمی زیادہ تھی اور جانور وں کے لیے ساٹھ ستر میل کا سفر طے کرنا ممکن نہیں تھا۔ اِس لیے ریل کے ذریعے ہی فیروزپور جانے کا پرو گرام بنا۔ البتہ بیس بندوں کی بجائے اُن کی تعداد تیس کر لی گئی،جو ہر قسم کی ڈانگوں اور برچھیوں سے لیس سردار سودھا سنگھ کے ساتھ ہوں۔ اُن کی کمان ہرے سنگھ کے ہاتھ میں دینے کا فیصلہ ہوا۔ اِس کے بعد سب متروں کو اپنی اپنی تیاری کرنے کا کہ کرسردار سودھا سنگھ حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا،جہاں بینت کور اُس کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کو دیکھتے ہی اُٹھ کر کھڑی ہو ئی اور بھاگ کرقریب آگئی۔ سودھا سنگھ اُس کی طرف دیکھ کر فقط مسکرا دیا لیکن بولا کچھ نہیں۔ مسکراہٹ سودھاسنگھ کے دل سے نہیں نکلی تھی۔ اُس میں ایک طرح سے اُکتاہٹ کا رنگ نمایاں تھا،جسے بینت کور محسوس کیے بغیر نہ رہ سکی۔ سردار سودھا سنگھ آگے بڑھ کر پلنگ پر پاؤں لٹکا کر بیٹھا تو بینت کور سردار صاحب کے پاؤں سے کھسًہ اُتارنے لگی۔

رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ سودھا سنگھ پر نیند کے کہیں آثار نہیں تھے۔ گرمی کی وجہ سے پلنگ کمرے کی بجائے صحن میں موجود تھے اور صحن بھی کافی کھُلا تھا۔ جس میں بینت کو ر اور سردار سودھا سنگھ کے پلنگوں کے علاوہ کوئی دوسری چارپائی نہیں تھی۔ ہوا چل رہی تھی مگر سودھا سنگھ کو اپنی سانس گھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ بینت کو ر سردار جی کے جوتے اُتار چکی تو سودھاسنگھ کو بینت کور پر ایک دم پیار آگیا۔ سردار نے اُسے بازووں سے پکڑ کر سینے پر لٹا لیا اور اُ س کا منہ چومنے لگا۔ اِس رویے سے مغلوب ہو کر بینت کور مکمل طور پر سردار جی کے پہلو میں دبک گئی اور لیٹے ہی لیٹے سردار جی کی پگڑی اُتار کر جُوڑے کے بل کھولتے ہوئے بولی،سودھے،کیا ایسا نہیں ہو سکتا تُو پیشی پر نہ جائے؟

بینت کورنے التجا کچھ ایسے غمگین لہجے میں کی کہ سردار سودھا سنگھ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ بولا،بنتو دل تو میرا بھی یہی کرتا ہے کہ نہ جاؤں،پر کیا کروں یہ فرنگی نہیں مانتے۔ سچ پوچھو تو اب میرا دل یہی کرتا ہے حویلی ہی سے باہر نہ نکلوں۔

بینت کور سردار جی کے جُوڑوں میں ہاتھ پھیرتے ہو ئے دوبارہ بولی،سردارا،آج تیرے آنے سے تھوڑی دیر پہلے میری کچھ دیر کے لیے آنکھ لگ گئی تھی اور میں خواب دیکھ کر ڈر گئی۔ کیا دیکھتی ہوں،تیرے جُوڑے کھُلے ہوئے ہیں اورتجھے کوئی بگھیاڑ کھینچ کے لے جا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر میں چیخ مار کے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ سودھے،اگر تو نے فیروز پور جانا ہی ہے تو مجھے ساتھ لیتا جا ور نہ نہ جا۔

سردار سودھا سنگھ کا دل بنتو کا خواب سُن کا کانپ گیا،لیکن جی کو سنبھالا دیتے ہوئے بولا،او کملیے حوصلہ رکھ،واہگرو شرماں رکھے گا،تو اُدھر کیا کرے گی؟ میرے ساتھ میرے بڑے متر ہیں۔ گامے (غلام حیدر) دی اینی تڑ نہیں کہ وہ مجھ پر حملہ کرے۔ ہرے سنگھ، جگبیر، بیدا سنگھ اور دوسرے سب مِتر میرے ساتھ ہیں نا۔

سردار جی تسُیں ناراض نہ ہو تو میں ایک بینتی کرتی ہوں،بینت کور نے اب کے سردار جی کی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
دس بنتو،سردار بولا۔

سردار جی،میں کہتی ہوں،یہ لڑائی بھڑائی اب چھوڑ ہی دے۔ دیکھ،کیکروں کے تُکلے دوبارہ گرنے والے ہو گئے،پَر اپنی اولکھ نہیں گئی۔ آرام سے بیٹھ کے بستے ہیں اور یہ جو من من روٹیاں کھانے والے تیرے متر ہیں نا،ان کو کہہ دے،اب اُن کا اور تیرا کوئی لین دین نہیں ہے اور غلام حیدر سے صلح کر لے۔ یہ مُسلے مَر جانے بڑے بُرے اور چیڑ پھاڑ کر کھا جانے والے کُتے ہوتے ہیں۔ سُنا ہے دشمنی اورلڑائی بھڑائی میں اِن کا کوئی مقابلہ نہیں۔

سودھا سنگھ کو بینت کور کی یہ بات بُری لگی لیکن آج وہ کسی بھی طرح سے بنتو کو کڑوا بول نہیں کہنا چاہتا تھا۔ وہ غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا،بنتو،ایسی بات نہ کیا کر جس سے مجھے غصہ آتا ہے۔ غلام حیدر سے صلح کرنے کا مطبل اُس سے معافی مانگنا ہے اور یہ بات سرداروں کو مِہنا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ایک بار اِس رولے سے جان چھوٹ جائے تو بنتو تیرے سر کی سونہہ دوبارہ کسے نوں تنگ نہیں کروں گا۔ یہ کہ کر سردار سودھا سنگھ نے ایک ہاتھ سے پاس ہی تپائی پر جلتی ہوئی لالٹین کی بتی مروڑ کر اندھیرا کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے بینت کور کی شلوار کا ازار بند کھینچ دیا۔

(35)

جون کا آغاز ہو چکا تھا،سخت گرمی اور دھوپ نے تمام کام معطل کردیے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم نے بہت سی چیزوں کو اس طرح منضبط کردیا کہ اکثر تحصیل میں شروغ کیے گئے کام چل رہے تھے۔ ولیم کے دماغ میں ایک بات بڑی شدت سے چکر کھا رہی تھی۔ مون سون کی بارشوں کا زمانہ قریب تھا،جس میں قریباً سارے پنجاب میں ہر طرف پانی کے غبارے چھوٹ پڑتے تھے اور یہ سارا پانی بے کا ر ہی چلا جاتا۔ ولیم اِس پانی سے کچھ کام لینا چاہتا تھا،جس کے لیے اُس نے ایک ترکیب سوچی تھی۔ جلال آباد کے مضافات میں وہ تمام زمین جو ابھی تک زیرِ کاشت نہیں تھی اور گورنمنٹ کے حساب میں پڑی ہوئی تھی۔ اُسے پہلے مرحلے میں جلال آباد کے کم ازکم ایک ہزار خاندان میں تقسیم کرنے کا فرمان جاری کرنا تھا،جس کے لیے صرف اُن خاندانوں کا انتخاب کرنا تھا،جو بے زمین ہوں اور کاشت کاری میں بھی تجربہ رکھتے ہوں۔ اِس منصوبے پر ولیم پچھلے تین مہینوں سے خفیہ طور پر کام کر رہا تھا اوراب جا کر اُس کی منظوری ہوئی تھی۔ وہ یہ تقسیم اپنی نگرانی میں کروانا چاہتا تھا تاکہ منصوبہ فیل نہ ہو۔ اُسے خاندانوں کے کوائف اور اُن کی صلاحیتوں کو جاننے میں گزٹ نے بڑی سہولت فراہم کی تھی لیکن مختلف اوقات میں لوگوں کو بلا کر بات چیت کرنے سے بھی کئی باتیں سمجھ میں آئی تھیں۔ اِس سلسلے میں اُس نے کسی سفارش اور رعایت کوا ستعمال نہ ہونے دینے پرارادہ کر رکھا تھا۔ اسی لیے آج اُس نے محکمہ مال کے تمام افسروں کا اجلاس طلب کیا ہواتھا اور صبح سے اُس پر عمل کرانے کے سلسلے میں صلاح مشورہ جاری تھا۔ دراصل ولیم نے اوکاڑہ چھٹی گزار کر آنے کے بعد بہت ہی گرم جوشی سے فرائض انجام دینے کی طرف دھیان دیا اور تحصیل کی معاشی ترقی کے لیے خاص کر متوجہ ہوا۔ جس میں کچھ کام کی طرف تو اُس نے آتے ہی دماغ لڑا دیا تھا۔ ان کے علاوہ ولیم کو آٹھ نو ماہ یہاں گزارنے کے بعد احساس ہو رہا تھا کہ تحصیل کی اکثر عوام ایسی ہے جن کے پاس نہ زمین ہے اور نہ ہی ایسا کاروبار،جو اُن کے دال پانی کا سہارا بن سکے۔ وہ محض بڑے زمین داروں کے باجگزار ہی بن کر رہ گئے تھے۔ اِس کی وجہ سے اپنے آپ کو چوری اور ڈکیتی میں بھی ملوث کر کے جرائم کا سبب بنتے تھے۔ اِن کا موں میں خاص کر ضلع فیروزپور مشہور ہو چکا تھا اور اُس میں بھی تحصیل جلال آباد سرِ فہرست تھی۔ گزٹ کی تمام رپورٹ میں یہ بات واضح تھی کہ تحصیل جلال آباد میں ایک طرح سے انگریزی قانون نافذ العمل نہیں ہے۔ ستلج کے قریبی جنگلات اِن مجرمانہ کاروائیوں کے لیے بڑی محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ جہاں پولیس کو کارروائی کرنے میں نہ صرف مشکل پیش آتی بلکہ اُن کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا۔ اس لیے پولیس اِن علاقوں میں جانے سے گریز کرتی۔ چور اور ٹھگ وغیرہ اکثر اسی بات سے فائدہ اُٹھاتے۔ یہی وجہ تھی کہ مال مویشی کی چوریاں معمول بن چکی تھیں۔ آئے دن گورنمنٹ کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے اور چوری کا پیشہ نہایت ترقی کر گیا۔ بار بار کی تنبیہ اور سرزنش کے باوجود جب معاملہ بڑھتا ہی گیا تو ولیم نے خاص کر پندرہ بیس اُن زمینداروں کو دفتر میں طلب کر لیا جن کے متعلق خاص کر رپورٹیں تھیں کہ وہ رسہ گیری کرتے ہیں اور چوروں کو پناہ دیتے ہیں۔ بلکہ غریب اور بے روزگار لوگوں کو چوری اور ڈکیتی پر یہی لوگ لگاتے ہیں۔ یہ زمین دار زیادہ تر اِٹھاڑ کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے،جن پر ہاتھ ڈالنا پولیس کے لیے سر دردی کا باعث تھا۔ دو پہر کی گرمی میں تحصیل کمپیلیکس کے لان میں موجود برگد کے نیچے یہ زمیندار آج صبح آٹھ بجے ہی آ کر بیٹھ گئے تھے۔ ان کی سفید پگڑیوں پر پفیں لگی تھیں اور پگڑیوں کے کنارے اس طرح ہوا میں لہرا رہے تھے،جیسے سانپوں کے پھن جھول رہے ہوں۔ یہ سب چوہدری اپنے اپنے علاقے کے وائسرائے تھے لیکن برگد کے پیڑ تلے بیٹھے طویل انتظار کے باوجود ان کو کسی قسم کی اُکتاہٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ انہیں نہ صرف خود بلکہ ان کے عزیزو اقربا کو بھی احساس تھا کہ یہ اُن کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب کسی انگریز افسر نے انہیں اپنے دربار میں بلا کر ملاقات کا شرف بخشا تھا۔ اب جتنی دیر تک زندہ رہیں گے،یہ فخر اُن کے ساتھ چلے گا۔ اِس لیے انگریز بہادر کا اتنا انتظار کروانا اُن کے لیے زیادہ تکلیف کا باعث نہیں تھا۔ پھر ایک ہی تو دن کی بات تھی۔ اِن میں زیادہ تر زمیندار وٹو،بودلے،بھٹی راجپوت اور کھرل قبیلوں سے تھے اور سب کے سب مسلمان تھے۔ ویسے بھی ایک دوسرے کے واقف ہونے کی وجہ سے اِن کا آپس میں کھل کر باتیں کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی۔ یہ سب چودھری برگد کی ٹھنڈ ی چھاوں میں لکڑی کی بنچوں پر بیٹھے حقوں کی گڑگڑاہٹ سے کسیلے دھویں کی لہریں چھوڑ رہے تھے۔ اِن کے حقے نہایت شاندار اور بڑی بڑی چلموں اور پیندوں والے تھے۔ جن کی نڑیاں نوکروں نے تھامی ہوئی تھیں۔ زمین دار اپنے ساتھ یہ چرب زبان نوکر اِس لیے لائے تھے کہ حقہ پکڑنے کے ساتھ دوسروں کو اپنے مالک کے سچے جھوٹے قصے بھی نون مرچ لگا کر سنائیں۔ یہ فریضہ وہ اچھے طریقے سے ادا کر رہے تھے اور ایسی دور دور کی ہانک رہے تھے کہ خدا کی پناہ۔ ہر ایک نوکر اپنے مالک زمین دار کو دوسرے پر فوقیت دینے میں ایسی لمبی چھوڑتا کہ اگلے نوکر کے لیے مشکل پیدا کر دیتا مگر جب دوسرا بات شروع کرتا تو وہ بھی اِس مشکل کو عبور کر کے اپنی زبان دانی اور چرب زبانی کا ثبوت مہیا کر ہی دیتا۔ اِن گپوں اور زبان کے چٹخاروں میں کسی کو کچھ پتا نہ چلا کتنا وقت نکل گیا ہے۔ اِسی طرح ان کو گیارہ کا وقت ہو گیا۔ اِدھر تو یہ بیٹھے ان شغلوں میں تھے اُدھر ولیم مال افسروں کے ساتھ منصوبہ بندی میں مشغول تھا۔ میٹنگ کے دوران ہی اچانک ولیم نے اپنے منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے نجیب شاہ کوکمرے میں طلب کیا اور پوچھا،نجیب شاہ کیا اِٹھاڑ کے سب لوگ آ گئے ہیں؟

نجیب شاہ نے جواب دیا،سر وہ تو صبح آٹھ بجے سے سرکار کے دفتر میں حاضری کے لیے برگد کی چھاؤں میں بیٹھے ہیں۔ اگر حکم ہو تو میں اُن کو حاضر کر دوں؟

نہیں اندر بلانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اُن سے وہیں جا کر بات کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد ولیم اُٹھ کر کمرے سے باہر نکلا اور کمپلیکس کے لان میں اُسی طرف چل پڑا جہاں یہ سب بیٹھے تھے۔ اُس کے پیچھے نجیب شاہ اور چار پانچ پولیس سنتری بھی تھے۔

انگریز سرکار کو اپنی طرف آتے دیکھ کر سب اپنی بنچوں سے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے لیکن ولیم نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے بیٹھے رہنے کے لیے کہا اور خود وہیں کھڑا ہو گیا۔ سب بیٹھ گئے تو ولیم نے ایک ایک سے اُس کا نام اور علاقہ پوچھا اور وہ جواب دیتے گئے۔ چند لمحے اسی تعارف میں گزرنے کے بعد ولیم نے اُن کی طرف ایک بھرپور نظر ماری اور بولا،حضرات شاید تم کو یہ نہیں بتایا گیاکہ تمھیں یہاں کس لیے زحمت دی گئی ہے اور گورنمنٹ تم لوگوں سے کیا چاہتی ہے؟ میں تم کو زیادہ دیر اِس جگہ بے زاری اور تجسس کی حالت میں نہیں رکھنا چاہتا۔ نہ ہی مَیں ایسی فرصت کی حالت میں ہوں کہ تم سے لمبی چوڑی گفتگو کے لیے وقت نکال سکوں۔ تم سب لوگ اپنے کانوں سے پگڑیوں کے کونے اُٹھا کر میری بات سُن لو۔ مَیں جلال آباد میں امن و امان اور خوش حالی چاہتا ہوں۔ مجھے تم سب کی کارگزاریوں کی مکمل رپوٹ ہے،جو حوصلہ افزا نہیں۔ تم جانتے ہو،تمھارے علاقوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں عروج پر ہیں۔ جو عوام اور گورنمنٹ کے لیے مستقل پریشانی کا باعث ہے۔ گورنمنٹ آپ کی رسہ گیریوں سے خوش نہیں ہے اور چاہتی ہے آپ اُس کا ساتھ دیں (اس کے بعد ولیم مزید آگے ہوا اور اپنا ہیٹ سر سے اُتار کر سخت لہجے میں بولا ) اگر آئندہ مجھے پتا چلا کہ مویشی چوروں پر تمھاری شفقت ابھی تک موجود ہے تو میں تمھاری گردنیں اِنہی پگڑیوں سے باندھ دوں گا،جن کو پان دینے پر اتنا خرچہ آتا ہے جتنا تمھارے سال بھر کے آٹے پر۔ یہ کہ کر ولیم واپس مُڑا اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ نہ تو اُس نے کسی کی بات سنی اور نہ مزید کچھ کہا۔ انگریز افسر کو اِس طرح آتے اور جاتے دیکھ کر تمام زمینداروں اور چوہدریوں کے سر گھوم گئے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ملاقات اتنی مختصر اور تلخ ہو گی۔ اب وہ ایک دوسرے سے نظریں بھی ملانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ ادھر ولیم اُن کو سرزنش کرنے کے بعد ایک پل میں یہ جا وہ جا۔ دفتر کی راہداریوں سے ہوتا ہوا کمرے میں غائب ہو گیا۔ اُس کے پیچھے دفتر کا دوسرا عملہ بھی غائب ہو چکا تھا۔ اِدھر ِاٹھاڑ کے زمیندار اپنا سا منہ لے کر لکڑی کے بنچوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کپڑے جھاڑ کا آہستہ آہستہ باہر کی طرف نکلنے لگے،جہاں اُن کے گھو ڑے بندھے تھے۔ اب اُنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بھی کوئی بات نہیں کی اور آرام سے نکل گئے۔ اُن کو اپنے آپ پر تو غصہ آہی رہا تھا مگر اپنے سے زیادہ اُن نوکروں پر تھا جو اس رسوائی پر خوامخواہ موقع کے گواہ بن گئے تھے۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا،سوائے اِس کے،کہ اُن نوکروں کو ایک دوسرے سے جدا ہو کر تنبیہ کرتے کہ علاقے میں جا کر اِس بات کو مشتہر نہ کریں۔ بلکہ ہو سکے تو اُن کی انگریز بہادر کے ساتھ آبرومندانہ گفتگو کے جھوٹے واقعات سنائیں۔ مگر ہر ایک یہ بھی جانتا تھا کہ اُس کے متعلق دوسرا اپنے علاقے میں جا کر سارا پول کھول دے گا۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ ولیم کی طبیعت میں شاعرانہ قباحتیں موجود تھیں لیکن یہی وہ قباحتیں تھیں جو بعض اوقات کام کے سلسلے میں مفید ثابت ہوتی تھیں۔ اُن کی وجہ سے وہ اپنی مرضی سے کیے گئے کاموں میں زیادہ پائدار ثابت ہوتا تھا۔ اِسی کے تحت اُس نے جلال آباد کو ایک طرح سے برطانیہ کا ایک قصبہ بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ جس کے لیے اُس کے ذہن میں عجیب عجیب ترکیبیں ایجاد ہونے لگیں۔ اِس سلسلے میں ولیم نے اپنی طرف سے کچھ دفتری حکم نامے جاری کیے۔ مثلاً ہر ایک پر لازم کر دیا گیاکہ وہ اپنے گھروں کے صحنوں اور بازاروں اور جلال آباد کے مضافات میں شہتوت کے پودے لگائے۔ اِس کے علاوہ کمپلیکس سے ایک کلو میٹر دورپچیس ایکڑ رقبہ کی جگہ کا انتخاب کیا گیا،جہاں شہتوت کے پودوں کی کاشت کا بندوبست کیا جاناتھا تاکہ جلال آباد تحصیل میں ریشم کے کیڑوں کا کاروبار چلایا جا سکے۔ اِس کی تر کیب ولیم کے ذہن میں اُس وقت آئی جب اُسے فاضل کا بنگلہ جاتے ہوئے ایک جگہ پر بہت سے شہتوت کے درخت دکھائی دیے۔ اِس مقصد کے لیے ولیم نے بدر دین کی ڈیوٹی لگا دی اور فنڈ مختص کر دیا،جو اِس سے پہلے بھی نجی سطح پر یہی کام کرتا تھا۔ علاوہ ازیں جلال آباد کی گلیوں اور بازاروں کی نئی سکیم تیار کر کے اُن کی تعمیر کا حکم جاری کیا گیا اور بلدیہ کو شہر کی توسیع کے لیے ایک نیا منصوبہ بنانے کا حکم جاری کیا۔ اِس سلسلے میں تحصیل کے بڑے زمین داروں سے رابطہ کر کے اُنہیں شہر میں اپنے گھر تعمیر کرنے کی طرف متوجہ کیا اور تاجرپیشہ لوگوں کو،جو زیادہ تر ہندو تھے،اِس بات پر اُکسایا کہ وہ اپنا سرمایہ یا پیسہ کپڑے،قالین بافی یا زرعی پیداوار کی خریدو فروخت پر لگائیں۔ جس کے لیے گور نمنٹ اُنہیں آسانیاں فراہم کرے گی۔ اگرچہ ولیم نے جانسن صاحب کی ہدایات کے مطابق اپنے رویے میں احتیاط کو بہت دخل دینا شروع کر دیا تھالیکن جن کاموں کو وہ کسی طرح سے شروع کر بیٹھا تھا،اُن کی انجام دہی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ خاص کر تعلیم اور نہری نظام کے سلسلے میں کسی قسم کی رو رعایت سے کام نہ لیا۔ جو کام اُس نے انتہائی پھرتی سے مکمل کروا دیے اور کسی کو اُن کاموں پر اعتراض بھی نہیں ہو سکتا تھا،اُن میں سب سے پہلے ولیم نے تحصیل کمپلیکس میں دو تین رہٹ لگوا کر پانی کا انتظام کروا کے کمپلیکس کی راہداریوں اور ارد گرد دور تک ہزاروں ہی درخت لگوا دیے،جو پھل دار بھی تھے اور اور سایہ دار بھی۔ سایہ دار درختوں میں ولیم کو برگد،پیپل اور نیم کے درخت بہت پسند تھے۔ اس لیے اُنہی کے پودے ہر طرٖف فروری کے مہینے میں ہی لگوا ئے تاکہ بہار اور پھر مون سون کے موسموں میں اُن کی نمو کا عمل جاری رہے۔ اِس کے علاوہ تمام مالی اور نہری پٹواریوں سے زمینوں کے گوشوارے منگوا کر مال افسروں کے ذریعے زمین داروں تک ہدایات پہنچا دی گئیں کہ اگر اُنہوں نے دیے گئے ٹارگٹ کے تحت اپنی زمینوں میں فصل کی کاشت اور شجرکاری نہ کی تو اُن کو جرمانے اور زمینوں کی ضبطی کی سزا دی جائے گی۔ اِن احکام کا خاطر خواہ نتیجہ جلد ہی سامنے آنے لگا۔

حکم کے مطابق ایک دو زمینداروں کی جب زمین واقعی ضبط کر لی گئی تو دوسروں نے ہدایات پر پورا پورا عمل کرنے کی طرف توجہ دی۔ ولیم نے بذات خود کئی جگہ کا دورہ کر کے حالات کا جایزہ لیا،جس پر تحصیل کے تمام عملے کو کان ہو گئے۔ ایک اور بات جو ولیم کے کہے ہوئے کام کو پورا کرنے کے لیے مفیدہو رہی تھی،وہ اُس کی یادداشت تھی۔ ولیم ایک دفعہ جو کام کہ دیتا پھر اُسے بھولتا نہیں تھااور گاہے گاہے اُس کے متعلق پوچھتا رہتا۔ محکمہ تعلیم کے بارے میں مولوی کرامت کی خدمات پر بھی ولیم کی تلسی داس سے بات ہو چکی تھی۔ مسلمان بچوں کی تعداد بڑھانے میں مولوی کرامت نے معجزانہ طور پر کردار ادا کیا تھا۔ اُس نے صرف دو ماہ کے اندر سو بچوں میں اضافہ کر دیا۔ مولوی کی اس کامیابی پر ولیم نے تلسی داس کو مولوی کرامت کا خاص خیال رکھنے کا بھی کہا اور ہدایت کی کہ اُسے ایک رہائشی مکان تحصیل کمپلیکس میں الاٹ کر دیا جائے اور اسی طرح کے چار مولو ی مزید بطور منشی رکھ کر اُن سے بھی یہی کام لیا جائے۔ لڑکوں کے لیے نئے اسکولوں کے قیام،بچیوں کے لیے بھی کچھ اسکول کھولنا اور نئے منشیوں کی بھرتی کے علاوہ بنگلہ نہر کے بارے میں جو کیس تیار کر کے ولیم نے اسٹبلشمنٹ کو بھجوائے تھے،اُن پر بھی اپروول آ چکی تھی اور اُن پر کام کروانے میں ولیم کاکسی بھی قسم کی نرمی کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اُن پر انتہائی تیزی سے کام شروع ہو چکا تھا۔ ڈپٹی کمشنر ہیلے بھی ولیم سے اس بارے میں مکمل تعاون کر رہا تھا جس کے متعلق پہلے پہل ولیم کو بعض اندیشے تھے لیکن اب وہ اندیشے بھی ختم ہو چکے تھے۔ البتہ امن و امان کے حوالے سے اپنے آپ کو ثانوی حیثیت میں رکھ کر یہ کام لوئیس صاحب کے حوالے ہی رکھا اور کبھی زیادہ پوچھ گچھ کی ضرورت محسوس نہ کی۔ لوئیس صاحب غلام حیدر اور سودھا سنگھ کے بارے میں ضروری معلومات ولیم صاحب تک پہنچاتا رہا جس میں غلام حیدر سے اسلحہ کی ضبطی سے لے کر سردار سودھا سنگھ کی ضمانت کے متعلق تمام خبریں شامل تھیں۔ ولیم کو ہر چند سودھا سنگھ کی پکی ضمانت ہو جانا کافی گراں گزرا لیکن اب وہ عدالتی نظام میں مہاراجاؤں کی دخل اندازیوں کا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اِس لیے ولیم نے لوئیس کی زبانی یہ خبر سُن کر فقط سر ہلا دیا اور کہا،لوئیس،اب تمھاری ذمہ داری ہے کہ اِس طرح کے ناخوشگوار واقعے دوبارہ اس تحصیل میں جنم نہیں لینے چاہیئں۔

لوئیس نے ولیم کو اطمنان دلاتے ہوئے کہا،سر آپ آئندہ سکون رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی لوئیس نے ولیم کے سامنے ایک فائل رکھ کر بتا دیا کہ عدالت نے غلام حیدر سے ضبط کیا گیا اسلحہ اُسے واپس کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جس پر اُن کے دستخط ہونا ضروری ہیں۔ ویسے بھی قانون کے مطابق اسلحے کی ضبطی کو تین مہینے ہوچکے تھے اور غلام حیدر کے ذاتی ریکارڈ کے حوالے سے بھی یہ رپورٹ اطمنان بخش تھی۔ ولیم نے اُس فائل پر دستخط کر کے غلام حیدر کی رائفل لوٹانے کی اجازت دے دی۔

ولیم نے کیتھی کو جانسن صاحب کے حکم کے مطابق اُسی دن ہی تار بھجوا دیا تھا،جس کے جواب میں کیتھی نے جولائی کے مہینے میں ہندوستان آنے کی خوشخبری سنا ئی تھی۔ ویسے بھی ولیم سے شادی کرنا کیتھی کے لیے کسی پرنس کا ہاتھ آجانے سے کم نہ تھا۔ جس کا خواب انگلستان کی اکثر لڑکیاں وہاں دیکھتی رہ جاتیں۔ ہندوستانی سول سروس میں کسی انگریز کے ساتھ بیاہ کرنا ایسے ہی تھا جیسے شاہی خاندان کی بہو بن جانا ہو۔ اِس لیے انگلستان میں رہنے والی نو عمر لڑکیاں اِس تاک میں رہتیں کہ کسی طرح سی ایس ایس کرنے والے لڑکے کو پھانس لیا جا ئے۔ ایک دفعہ ایسا لڑکا ہاتھ میں آجاتا تو اُس کی زندگی سنور جاتی۔ پھر وہ ہندوستان پہنچ کر ایک دم میم بن جاتی اور واپس اپنی سہیلیوں کو یہاں کے واقعات اور عیش و عشرت کی زندگی کے عجب عجب قصے لکھ کر بھیجتیں،جن کو پڑھ کر اُن کے کلیجوں میں سیخیں لگتیں۔ چنانچہ کیتھی کسی طرح اِس موقعے کو ضایع نہیں کر سکتی تھی۔ اُس نے فوراً ہی لکھ بھیجا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ولیم کے پاس ہندوستان آ رہی ہے۔ کیتھی کے ٹکٹ کا انتظام ہوائی کمپنی ہی کے ذریعے کر دیا گیا تھا۔ اب وہ بیس جولائی یعنی دس دن بعددہلی پہنچ رہی تھی۔ ولیم کا اُسے وہاں سے خود جا کر وصول کرنے کا ارادہ تھا۔ جس کے لیے اُس نے اپنے قریبی دوست جان لیور کو پیغام بھیج دیا کہ وہ اگلے پیر کو دہلی آرہا ہے۔ یہ سفر اُس نے ریل پر ہی کرنے کا ارادہ کیا تاکہ کیتھی کو لے کر سیدھا لاہور چلا جائے،جہاں تمام رسوم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مال روڈ کے کیتھڈرل چرچ میں نکاح پڑھ لے۔ اُس کے بعد دوستوں کو غیر رسمی دعوت پر بلا کر معاملہ جلد نپٹا دے۔ اِس سلسلے میں ولیم نے ایک ماہ کی چھٹیوں سمیت چند مزید انتظامات کر لیے کہ اپنی نولکھی کوٹھی کی کافی آرائش کروا دی،جو پہلے بھی کسی طرح کم نہیں تھی۔ اِس بات کا بھی خیال رکھا کہ اگر اُسے چھٹیوں کے بعد جلال آباد منتقل ہوناپڑے تو اُس لحاظ سے بنگلے کی بھی درستی کر دی جائے۔ جس پر کام جاری تھا۔ اِس کے علاوہ ولیم نے اوکاڑہ میں چرچ روڈ پر ایک کرسٹان مشنری سکول کی بنیاد رکھنے کا بھی منصوبہ بنا لیا اور اُس کا انتظام اپنے دوست ڈینی کے ہاتھ میں دے دیا۔ اِس کو چلانے کے لیے رقم کا بندوبست بھی دونوں دوستوں نے مل کر کرنا تھا لیکن سرِدست کیتھی سے شادی کرنا سب سے اہم معاملہ تھا اور اُس کا موقع انتہائی قریب تھا جس کا خیال ہی ولیم کو سرشار کر دینے کے لیے کافی تھا۔ غرض یہ کہ پچھلے دس دن کے دوران ولیم نے اپنے ماتحت تمام تحصیل کی سطح کے انتظامی شعبوں کا فرداً فرداً جائزہ لیا اور اُن پرمختلف ہدایات جاری کیں۔ جس کی تفصیلی رپورٹ اُسے چھٹی کے دوران بھی پہنچانے کا پابند بنایا تا کہ کام تعطل کا شکار نہ ہوں۔ اِس طرح اپنا کام نپٹا کر اور ہر طرح سے دفتری امور سے مطمئن ہو کر ولیم پانچ بجے اپنے کمرے سے نکلا۔ شام کا وقت قریب آگیا تھا لیکن گرمی میں ابھی بھی اتنی شدت تھی کہ جلد جھلس جانے کا اندیشہ ہو رہا تھا۔ ولیم کو لگا ابھی لو لگ جائے گی لیکن آج اُسے اس طرح کی گرمی کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ کیتھی کا خیال ہی اُس کی طبیعت میں بہار پیدا کر دینے کے لیے کافی تھا۔ ولیم آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے بنگلے پر آیا اور دہلی کے لیے اپنے ملازموں کو ہدایات دیں۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – سولہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(۳۱)

 

غلام حیدر کو ڈپٹی پولیس آفیسر کی ملاقات کے لیے پیغام پہنچا توحویلی میں رنگ رنگ کے افسانے کھل گئے۔ ہفتہ پہلے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے بندوں کی گرفتاری اور مال کی ضبطی ہوئی۔ اِس کام نے غلام حیدر کی طاقت اور بڑے صاحب تک پہنچ کو سب پر روشن کر دیا تھا۔ اب اس بات میں کس کو شک تھا کہ پولیس کے بڑے افسر نے غلام حیدر کو دفتر میں بلا کر یہی کہنا تھا،بھائی ہم آپ کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اور حکم کے بندے ہیں، دوبارہ بڑے صاحب کی طرف مت جائیں۔ ہماری نوکریوں کے لیے خطرہ ہے۔

 

غلام حیدر کی حویلی میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں میں لگے انگریزی سرکار اور جھنڈو والا کی خبریں نون مرچ لگا کر اورایک دوسرے کو سنا کر آنے والے وقت کے متعلق فیصلے صادر کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ امیر سبحانی جوش میں تھا۔ امیر سبحانی بیس بائیس سال کا کوتاہ قامت مگر نہایت باتونی اور چرب زبان تھا۔ باتوں کی لشکر کشی ایسے کرتا کہ بڑے سے بڑا سیانا بھی قبول کر اُٹھتا۔ قصہ گوئی کا فطری مادہ اُس میں موجود تھا۔ وائسرائے کی بیٹی سے غلام حیدر کا ناطہ ثابت کرنے کے بعد اُس کی قدر میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ اِس لیے اُس کی باتوں پر پہلے سے زیادہ دھیان دیا جانے لگا۔ اُس کا اپنا علاقہ جلال آباد نہیں تھا۔ وہ فیروزپور شہر سے آوارہ گردی کرتے ہوئے یہاں پہنچا۔ اُس وقت اُس کی عمر پندرہ سال تھی۔ شیر حیدر نے اس کی چرب زبانی دیکھ کر اور لطیفہ گوئی سن کر یہیں رکھ لیا۔ کام وغیرہ کچھ نہیں لیا جاتا تھا۔ پچھلے چھ سات سال سے جلال آباد میں تھااور زبان کا کھٹیا کھا رہا تھا۔ اِس وقت بھی اپنے دیسی چمڑے کے جوتے کے تلووں سے لگی ہوئی مٹی ایک سخت تنکے سے کرید کرید کر جھاڑتا جاتا اور باتوں کے توتے مینا اُڑاتا جا رہا تھا۔

 

،یارو میری تو بات کو ہر ایک چوتڑوں میں دبا لیتا ہے اور سمجھتا ہے امیر سبحانی نے واہی بَک دی۔ حالانکہ میں نے پہلے دن سب کو خبردار کر دیا تھا کہ اپنے غلام حیدر کی منگ میں جب واسرائے کی چھوکری آ گئی ہے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ انگریز سرکار سودھا سنگھ کے دونو ں ہا تھ باندھ کے چکی کے پُڑوں کے نیچے دے دے گی اور اُس کی داڑھی کا رسہ وٹ کے سکھڑے کی ٹانگیں باندھ دے گی۔ اگر اب بھی میری بات کا یقین نہیں تو پھر کوڑھ مغزوں کے لیے بادام روغن کی ضرورت ہے،جو جلال آباد میں تو ملتے نہیں، کشمیر سے ہی منگواؤ تو منگواؤ۔

 

رشید ماچھی امیر سبحانی کی طرف رشک سے دیکھ کربولا،میاں سبحانی پہلے یہ بتا،کس لدھونے تیری بات کو چوتڑوں میں دبایا تھا اور یقین نہیں کیا تھا؟میں نے تو اُسی وقت کہہ دیا تھا،اگر خبر امیرے نے دی ہے تو پکی سمجھو ( آنکھ دبا کر خوشامد کرتے ہوئے) لیکن یار سبحانی اب تو بتا دے تجھے کیسے پتا چلا تھا کہ اپنے چوہدری غلام حیدر کے ساتھ وائسرائے کی بیٹی کا یارانہ ہے؟

 

لو اور سنو بھائی فیقے،امیر سبحانی نے رفیق پاؤلی کی طرف دیکھ کر کہا،او شیدے بونگے تُو بھی کٹوں سے دودھ نکالتا ہے۔ یہ باتیں کوئی پوچھنے کی ہیں؟ پھر اپنی چھدری کالی سیاہ داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے،یہ داڑھی کیا دھوپ میں سفید کی ہے؟ میاں،امیر سبحانی نے صرف کبوتر نہیں اُڑائے،لوگوں کے کانوں کے فیتے کاٹے ہیں فیتے۔ لیکن تجھے بتا بھی دوں تو سمجھ نہیں آئے گا،اِس لیے فائدہ نہیں۔

 

رفیق پاؤلی نے امیر سبحانی کی بات سُن کر کہا،سبحانی کچھ ہمیں بھی تو پتا چلنا چاہیے،اِس بات کی خبر تجھے کیسے ہوئی؟

 

بھائی کبھی آل انڈیا ریڈیو دیکھا؟ امیر سبحانی جوش اور غصے کی ملی جُلی کیفیت میں بولا،لیکن رفیق کے جواب دینے سے پہلے ہی،اچھا دیکھا تو خیر نہیں ہو گا کبھی نام بھی سنا ہے؟ جب تم نے نام بھی نہیں سنا تو تمھیں سمجھ خاک آئے گی۔ چاچا فیقے،یہ ایک جادو کا ڈبہ ہو تا ہے (ہاتھوں کے اشارے سے)اِتنا چوڑا اور اِتنا لمبا۔ اِس میں ایک جِن بیٹھا ہوتا ہے،جو غیب کی باتیں پڑھ پڑھ کے سناتا ہے۔ سننے والے حریان،پریشان دیکھتے ہیں یہ کیا ہے؟ مگر یہ بولتا جاتا ہے،بولتا جاتا ہے۔ بس میں نے بھی وائسرائے کی بیٹی اور غلام حیدر کی بات اِسی سے سُنی تھی۔ پر دیکھو یہ ڈبہ ہر ایک کو نہیں سناتا۔

 

امیر سبحانی کی بات سن کر سب ہکا بکا رہ گئے۔ جانی بولا،اچھا چل اس بات کو چھوڑ،اب یہ بتا ڈپٹی صاحب نے غلام حیدر کو اپنی سرکار میں کیوں بلایا ہے؟ ذرا قیاس کر کے بتا؟
امیرسبحانی نے اِتنی عزت افزائی دیکھی تو نئی نئی چھوڑنے لگا۔ اُس نے ایک دفعہ جوتے پاؤں سے اُتار کے زمین پہ پھینکے اور دونوں ٹانگیں چارپائی کے اُوپر رکھ کر بولا،لو جی اگر تم کو اتنی ہی بے چینی ہے تو سنو،یہ تو تمھیں پتا چل ہی گیا ہے چوہدری غلام حیدر کی اُوپر تک پہنچ کی وجہ سے کمشنر صاحب نے پولیس کے بڑے سنتری کے کان کھینچے ہیں،جس پر اُس نے مجبور ہو کر جھنڈو والا اور میگھا پور کی صفائی پھیری ہے۔ اب یہ بات تو سادھو کو بھی پتا چل جائے گی کہ بڑا سنتری چوہدری غلام حیدر سے یاری دوستی لگانا چاہتا ہے تاکہ چوہدری صاحب سے بڑی سرکاروں میں سفارش کروا کے نوکری میں ترقی کروا لے۔ او بھائی یہ انگریز بہادر بڑے سیانے ہوتے ہیں۔ بغیر مطبل کے کسی کے کام نہیں آتے۔ دیکھنا یہ بات نہ ہو تو میری داڑھی مونڈ دینا اِسی پتھورے پر۔

 

امیر سبحانی کا نیا انکشاف سُن کر سب عش عش کر اُٹھے۔ یہ بات تو کسی کو بھی نہیں سوجھی تھی کہ انگریز بہادر نے غلام حیدر سے ملاقات کیو ں کرنا چاہی ہے۔ واقعی امیر سبحانی کی وہاں تک سوچ جاتی تھی جہاں تک رفیق پاؤلی اتنا سیانا ہونے کے باوجود بھی نہیں پہنچ سکا تھا۔
سب حویلی کے صحن میں بیٹھے قیاس آرائیاں کرتے کرتے اصل نتیجے تک پہنچے ہی تھے،اِتنے میں غلام حیدر زنان خانے سے نکل کر حویلی کے بیرونی صحن میں آتا دکھائی دیا۔ اُس نے ریشمی لاچے کے ساتھ پاؤں میں اُونچی کنی والا دیسی کھسہ ڈال رکھا تھا جس کی چرر چرر کی آواز سے عجیب سُر نکل رہے تھے۔ اِسی طرح سفید لٹھے کا کُھلا کُرتا اور کاندھے پر وہی پکی ریفل جو سرداری کے مزاج کو اور بھی آسمان پر لے جاتی تھی۔ اُس پر قدم اُٹھانے کا انداز،سب کچھ بڑا شاندار لگ رہا تھا۔ غلام حیدر کودیکھ کر سب خاموش ہو گئے اور اُٹھ کرسلام لینے لگے۔ غلام حیدر نے سب کو ایک ہی سلام میں بھگتا کر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق کیا تحصیل جانے کی تیاری مکمل ہو گئی؟

 

جی تیاری تو مکمل ہے بس تمھارا ہی انتظار تھا،رفیق پاؤلی نے جواب دیا۔

 

تو چلیں؟ غلام حیدر بولا،اِس کے بعد بگھی کی طرف چل دیا،جو حویلی کے صحن میں دروازے کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ جب بگھی پر بیٹھ چکا تو دوسرے لوگ بھی اپنی اپنی سواری پر چھویوں اور ڈانگوں پر کسی کرپانوں کے ساتھ چڑھ گئے۔ پھر چند وقفوں کے بعد یہ سواریاں جلال آباد کی تحصیل میں پولیس کے بڑے صاحب کے دفتر کی طرف چل دیں،جو غلام حیدر کے مکان سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ رستے میں آگے پیچھے چلتی سواریاں اور سواریوں میں بیٹھے غلام حیدر کے آدمیوں کے چٹکلے اور ہنسی دور تک چلتے راہیوں کو رُکنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ لوگ غلام حیدر کی سواری کو دیکھ کر کچھ دیر کھڑے رہ جاتے۔ صبح دس بجے یہ سواریاں ڈی ایس پی لوئیس صاحب کے آفس کے سامنے جا کر رُک گئیں۔ لوئیس صاحب کے دفتر کی ساری عمارت پر پیلے رنگ کا چونا پھیرا گیا تھا۔ عمارت کے سامنے بڑا صحن تھا۔ جس کو ایک چھوٹے قد کی دیوار سے گھیر کر اُس میں لکڑی کا پھاٹک لگا دیا گیا تھا۔ صحن میں بڑے گراؤنڈ کے بیچ بڑی بڑی داڑھیوں والا آسمانی چھتری نما بوڑھ کا درخت عمارت کی شان و شوکت کا گواہ تھا۔ اس بوڑھ سے تھوڑا آگے ڈپٹی صاحب کے دفتر کی عمارت شروع ہوجاتی تھی۔ سب سے پہلے عمارت کا ہاتھی دروازہ اور اُس کی بڑی ڈاٹ کے سِرے پر بانس کے ڈنڈے کے ساتھ لہرا تا ہوا برطانوی سلطنت کا پھریرا سلطنت کی ہیبت کا مدعی تھا۔ غلام حیدر نے بگھی سے اُتر کر اپنی رائفل کاندھے سے اُتار کر رفیق پاولی کے حوالے کردی اور عمارت کی طرف بڑھ گیا۔ جبکہ اُس کے تمام بندے وہیں گراؤنڈ میں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ بڑے صاحب کے کمرے میں صرف غلام حیدر ہی کو جانے کی اجازت تھی اور یہ بات قدرتی طور پر ہی تمام ملازمین جانتے تھے۔

 

غلام حیدر پھریرے والے دروازے سے گذر کر عمارت میں داخل ہوا تو کئی راہداریوں نے اُس کا سامنا کیا،جنہیں نیلے اور لال رنگ سے پینٹ کیا گیا تھا۔ ایک حوالدار غلا م حیدر کے ساتھ تھا۔ وہ رہنمائی کرتا ہوا اُسے ایک کمرے میں لے گیا۔ یہ کمرہ ویٹنگ روم تھا۔ جس میں پہلے بھی کئی لوگ بیٹھے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک کُلے والے چوکیدار نے غلام حیدر کے نام کی آواز دے کر اُسے صاحب کی ملاقات کی اجازت دی۔ غلام حیدر اپنے کُھسے کی چرچراہٹ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تو لوئیس نے اُٹھ کر غلام حیدر سے ہاتھ ملایا اور اُسے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ غلام حیدر خوش دلی سے ڈی ایس پی لوئیس کا شکریہ ادا کر کے کُرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس کے ایک طرف ایک تھانیدار بیٹھا تھا،جس سے غلام حیدر بالکل ناواقف تھا۔ واقف تو وہ ڈی ایس پی صاحب سے بھی نہیں تھا لیکن ایک ہفتہ پہلے جو کارروائی جھنڈو والا اور میگھا پور میں لوئیس کی نگرانی میں ہوئی تھی اور اُس کی خبر پوری تحصیل میں ہوا کی طرح پھیل گئی تھی،اُس وجہ سے ڈی ایس پی لوئیس کا نام نہ صرف جھنڈووالا اور میگھا پور میں بلکہ غلام حیدر کی پوری رعیت کی زبان کا ورد ہو گیاتھا۔ صاحب بہادر نے جس طرح کارووائی کر کے جھنڈو والا کی تباہی پھیر کر سودھا سنگھ کی چوہلیں ہلائیں تھیں،اُس سے غلام حیدر کو ایک گونہ اطمنان سا ہو گیا تھا۔ اُسے جو انگریز سرکار سے شکایتیں تھیں،وہ بھی دور ہو گئیں۔ اِس کاروائی سے لوگوں کو ذرا بھی شک نہیں رہا تھا کہ غلام حیدر کے لاہور میں بڑی سرکاروں کے ساتھ رابطے ہے۔ ورنہ کہاں مہاراجہ پٹیالا کے وزیر کا چہیتا سودھا سنگھ اور کہاں ایک پڑھاکو لڑکا چوہدری غلام حیدر۔

 

چنانچہ جب غلام حیدر کو لوئیس صاحب کا پیغام ملا تو اِس میں شک نہ رہا کہ صاحب نے اُسے انصاف کی یقین دہانی کے لیے بُلایا ہے۔ حالانکہ ملک بہزاد نے غلام حیدر کو باور کرادیا تھا کہ انگریز افسر کے سامنے اُس وقت تک نہ جانا جب تک تمھاری جان کسی بھی جھگڑے سے بالکل پاک نہ ہو اور اُس میں بھی اپنے اسلحے کا خاص خیال رکھنا۔ یہ بات غلام حیدر کو یاد تھی لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ لوئیس صاحب،جس کے پاس ابھی تک غلام حیدر کے خلاف نہ کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی اُس نے قانون کی بساط سے قدم باہر اُٹھا یا تھا،وہ افسر غلام حیدر کے خلاف کچھ ناروا حکم دیتا۔ وہ لوئیس کے دفتر میں داخل ہوا تو اُس کے مشفقانہ رویے نے مزید اچھا اثر ڈالا۔ اِس سے متاثر ہو کر غلام حیدر نے کہا،سر جس طرح جناب نے مجرموں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے،اُس پر آپ کی نذر کرنے کو سوائے شکریے کے میری گرہ میں کچھ نہیں ہے۔
مسٹر غلام حید ر! لوئیس بولا،کیا کبھی ایسا ہوا ہے،لڑکا اپنے گھر میں پیدا ہو اور مبارک پڑوسیوں کودی جائے؟اِس میں گورنمنٹ کا شکریہ ادا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب جلال آباد میں سرکا ر برطانیہ کی ہے تو امن و امان کی ذمہ داری بھی اُسی کی ہے۔ آپ بے فکر رہیں اور گورنمنٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔ اِس میں شک نہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ جس میں کچھ شر پسندوں نے انگریزی قانون کو ہلکا سمجھ کر اُس کا مذاق اُڑایا ہے۔ اب اِس کا نتیجہ تو اُنہیں بہر حال بھگتنا تھا۔ اب آپ کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ دل سے تمام خدشے دور کر کے مکمل طور پر گورنمنٹ پر بھروسا رکھواور دل و دماغ سے دشمنی کی ہوا نکال کر صرف رعایا کی خبر گیری کی طرف دھیان دو۔

 

غلام حیدر نے لوئیس کی بات سُن کر تشکر آمیزلہجے میں کہا، ڈپٹی صاحب جب آپ جیسے آفیسر ہماری حفاظت کے لیے موجود ہیں تو تشویش کیسی؟آپ جس قسم کا تعاون چاہیں گے،وہ میری طرف سے حاضر ہے۔

 

لوئیس نے اب ایک لمحہ غلام حیدر کی طرف دیکھا،پولیس کیپ میز سے اُٹھا کر اپنے سر پر رکھی۔ اُس کے بعد اپنی بیددائیں ہاتھ میں لے کر اُٹھااور بولا،ویل غلام حیدر،ہمیں آپ سے یہی توقع تھی۔ آپ کو دفتر میں بلانے کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ بس یونہی کچھ امن و امان کے حوالے سے گزاراشات واضح کرنا تھیں۔ آپ اپنی رائفل اور اپنے آدمیوں کا تیز لوہا کم از کم تین ماہ کے لیے گورنمنٹ کو جمع کرا دو۔ تم اور تمھارے آدمی سوائے لکڑی کے کوئی چیز ہاتھ میں لے کر نہیں چل سکتے۔ فی الحال ہم آپ سے اس سے زیادہ نہیں چاہتے۔ میرا خیال ہے یہ بات آپ کے لیے زیادہ وزنی بھی نہیں ہے۔

 

سر یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟غلام حیدر لوئیس کا حکم سن کر حیران رہ گیا۔ اُسے یقین نہیں آ رہا تھا لوئیس،جو ابھی ابھی اتنا شفیق نظر آ رہا تھا،وہ اس قدر کڑوا حکم دے گا۔ چنانچہ اپنی کرسی سے اُٹھتے ہوئے بولا،آپ جانتے ہیں میری کس قدر خطرناک دشمنی پیدا ہو چکی ہے۔ میرے باپ کے مرنے کے بعد جلال آباد کا سایا بھی میرے لیے بھوت بن چکا ہے۔ میرے دو گاؤں پر حملہ ہوا،تین بندے قتل ہو گئے،مال کا نقصان الگ ہوا۔ پھر بھی گورنمنٹ پر بھروسا کرتے ہوئے قانون کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کی۔ لیکن حیرت ہے،ابھی گورنمنٹ کو مجھ پر بھروسا نہیں۔
ڈی ایس پی لوئیس صاحب نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر کہا،غلام حیدر گورنمنٹ کے پاس اتنا وقت نہیں وہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کر ے۔ آپ سے جو کہا گیا ہے وہ کرو۔ جھنڈووالا سے لے کر جودھا پورتک،سب کی مالک گورنمنٹ ہے۔ اِس لیے آپ کا اسلحہ تین ماہ تک ضبط کیا جاتا ہے۔ اِسے گورنمنٹ کو جمع کروا دیں۔

 

یہ کہ کر لوئیس صاحب کمرے سے نکلنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔ جبکہ غلام حیدر وہیں ہکا بکا کھڑا سوچنے لگا کہ صاحب نے کیسا گرگٹ کی طرح رنگ اور سانپ کی طرح کینچلی بدلی ہے۔ لوئیس صاحب نے دروازہ سے نکلنے سے پہلے ایک ثانیے کے لیے مڑ کر دوبارہ غلام حیدر کی طرف دیکھا اور بولا،مسٹر آپ کو یہ بات سمجھانے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہیے،جو بھی گورنمنٹ کے حکم کی سرتابی کرنے کی زحمت کرتا ہے،ہم اُس کی گردن باندھ دیتے ہیں۔
آخری فقرہ لوئیس نے اِس کٹیلے لہجے میں کہا کہ غلام حیدر کو کھڑے کھڑے پسینہ آ گیا۔

 

لوئیس غلام حیدر کا جواب سنے بغیر باہر نکل چکا تھا۔ ویسے بھی غلام حیدر میں جواب دینے کی سکت کہاں رہی تھی۔ اُس کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور محسوس ہوا کلیجہ مسوس دیا گیا ہے۔ پھراس سے پہلے کہ اُس کی طبیعت میں پھیلے انتشار کا کسی کو پتا چلتا،وہ خود بھی لوئیس کے کمرے سے نکل پڑا۔ اُس کے ساتھ ہی کمرے میں موجود تھانیدار بھی چل پڑا جو غالباًاُسی لیے وہاں بیٹھا تھا۔

 

غلام حیدر بھاری قدموں سے چلتا اپنی بگھی کے پاس پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اُس کے بندے بھی خالی ہاتھ ہو چکے تھے۔ پولیس نے اُن سب سے اسلحہ قبضے میں لے لیا تھا۔ اب اُس کا اندراج ایک حوالدار رجسٹر میں کر کے اور انگوٹھوں کے نشان لے کر اُن کے رسیدی ٹکڑے واپس کر رہا تھا۔ بہت سے سپاہی بندوقیں پکڑے اُن سب کو گھیرے میں لیے ہوئے تھے۔ غلام حیدر کی رفیق پاؤلی اور اپنے بندوں سے آنکھیں چار ہوئیں تو ہر دو طرف سے شرمساری کی پکھیوں نے اُن پر سایا کر دیا۔ اِسی اثنا میں ایک سپاہی نے،جس کے ہاتھ میں غلام حیدر کی رائفل تھی،جو اُس نے رفیق پاؤلی سے قبضے میں لی تھی،غلام حیدر کے سامنے دستخط کے لیے وہ رجسٹر آْگے کر دیا۔ جس میں اُس کی رائفل کا اندراج ہوا تھا۔ غلام حیدر مکمل طور پر بے بس ہو چکا تھا اور مزاحمت میں سوائے بے عزتی کے کچھ ہاتھ نہیں آ سکتا تھا۔ اِس لیے اُس نے آرام سے دستخط کر دیے۔ دستخط کے بعد اُسے بھی حوالدار نے رائفل کے بدلے ایک رسید تھما دی۔ اُس پر صاف لکھا تھا،غلام حیدر ولد شیر حیدر سکنہ شاہ پور جلال آباد سے اُن کی رائفل دفعہ تیس کے تحت تین ماہ کے لیے حکومت پنجاب اپنے قبضے میں لیتی ہے۔ رائفل ہذا تین ماہ بعد اُس کے وارث غلام حیدر ولد شیر حیدر کے حوالے کر دی جائے گی۔

 

اسلحہ کے ضبط ہونے کی کارروائی ختم ہو چکی تو غلام حیدر نے دوبارہ ایک نظر اپنے بندوں پر ڈالی اور ہلکی سی خجالت کی ہنسی ہنس کر اپنی بگھی کی طرف چل دیا۔ اُس کے پیچھے ہی رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے بھی۔

 

بگھی پر بیٹھتے ہوئے غلام حیدر کو شدت سے ملک بہزاد کی یاد آئی اور اُس کے وہ جملے،خبردار کسی بھی و قت انگریز بہادر کو اپنا دوست سمجھ کر اُس کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش مت کرنا۔ کیونکہ حکومت اگر اپنی رعایا کے ارادوں کی رعایت کرنے لگے گی تو ایک دن ضرور ذلت کا منہ دیکھے گی۔ اور اس کی توقع فرنگی سرکار سے نہ رکھنی چاہیے۔ کبھی اپنا اسلحہ لے کر انگریز بہادر کے سامنے نہ جانا۔

 

غلام حیدر کے دماغ پر شدید کوفت اور بیزاری کے جھکڑ چلنے لگے۔ اُس نے جان محمد بگھی کوچ کو حکم دیا،جان محمد سیدھے چک عالمکے چلو۔

 

اسلحہ چھن جانے کی وجہ سے سب کو پتا چل چکا تھا کہ غلام حیدر کی بڑے سنتری صاحب سے کوئی کھٹ بٹ ہو چکی ہے۔ اس لیے چوہدری صاحب کے موڈ اس وقت سخت خراب ہیں۔ لہذا کسی نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ اس وقت ملک بہزاد کے گاؤں کی طرف جانے کا کیا مقصد ہے۔ بغیر اسلحہ یہ قافلہ لوئیس صاحب کے دفتر سے نکلنے کے بعد سیدھاچک عالمکے کی طرف روانہ ہو گیا۔ گھوڑوں کے مسلسل دوڑنے کی آواز میں تمام لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراکر خموشی سے اپنی اپنی ذات کے ساتھ گفتگو کرنے لگے اور گھوڑے دوڑتے گئے۔ حتیٰ کہ سہ پہر تین بجے یہ قافلہ چک عالمکے میں ملک بہزاد کے ڈیرے میں داخل ہو رہا تھا۔

 

ملک بہزاد کا ڈیرہ عام ڈیروں ہی کی طرح تھا۔ اُس کے نہ تو احاطے کی دیواریں اُونچی اور پائیدار تھیں اور نہ ہی ڈیرے کے مکانوں میں کوئی خصوصیت تھی،جسے بیان کیا جائے۔ البتہ احاطہ کافی کُھلا اور پُرسکون تھا۔ اُس کے صحن میں سرکنڈوں کے بان کی پندرہ سولہ کھری چارپائیاں بچھی تھیں۔ اُن میں سے ایک چار پائی پر ملک بہزاد بیٹھا حقے کے ٹکارے لے رہا تھا۔

 

ارد گرد گاؤں کے لوگ بیٹھے ملک بہزاد سے اُس کے کارناموں کی کوئی داستان سُن رہے تھے،جو اُس نے اپنی جوانی کے دنوں میں سرانجام دی ہو گی۔ ملک بہزاد غلام حیدر کو ڈیرے میں داخل ہوتے دیکھ کر حیران ہوا اور فوراً اُٹھ کر استقبال کرنے کے لیے آگے بڑھا،او میرا بھتیجا غلام حیدر آیا،کہ کر باہیں پھیلا دیں۔ ملک بہزاد کے ساتھ دوسرے لوگ بھی اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور غلام حیدر کے بندوں سے سلام دعا لینے لگے۔ غلام حیدر کے ڈیرے میں داخل ہونے کی وجہ سے لوگوں کی تعداد دگنی ہو گئی تھی۔ اس لیے نوکر مزید چارپائیاں بچھانے میں مصروف ہو گئے۔ کچھ لوگ بڑھ بڑھ کر غلام حیدر سے سلام لینے کی کوشش کرنے لگے۔ اُنہوں نے اُس کا نام تو سنا تھا کہ چوہدری شیر حیدر کا مُنڈا بڑے اسکولوں میں پڑھتا ہے اور ولایت بھی گیا ہے لیکن اُنہیں کبھی توقع نہیں تھی کہ ولایت جا کر پڑھنے والا غلام حیدر کبھی اُن کے گاؤں بھی آئے گا۔ نیم کے بڑے سے درخت (جس کی اکثر ٹہنیاں سردی کے موسم میں چھانگی جاچکی تھیں ) کے نیچے چارپائیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ موسم گرم نہیں تھا،اس لیے سائے کی ضرورت نہیں تھی۔ ملک بہزاد نے اپنے ساتھ ہی ایک چارپائی غلام حیدر کے لیے رکھوا لی،جس کے پائینتی سفید کھدر کی دوہر اور سرہانے پھولوں کے ساتھ کڑھا ہوا ریشمی تکیہ تھا۔ تھوڑی دیر میں تمام آدمیوں کے لیے لسی بھی آگئی۔ پیتل کے بڑے بڑے گلاسوں میں بھری ہوئی سفید لسی جب منہ سے لگاتے تو اُس کی سفیدی مونچھوں کے کناروں پر جم جاتی۔ غلام حیدر کے لیے بھی لسی سامنے رکھ دی گئی۔ جس میں برف تو نایاب ہونے کی وجہ سے نہیں تھی لیکن کوری چاٹی اور سرد موسم کی ٹھنڈک نے اُسے اتنا مزیدار ضرور کر دیا تھا کہ غلام حیدر نہ چاہتے ہوئے بھی دو گلاس پی گیا۔ لسی پینے کے بعد کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ ملک بہزاد نے اتنا اندازہ کر لیا تھا کہ غلام حیدر کے ساتھ کوئی خیر نہیں ہے۔ کیونکہ اطلاع دیے بغیر اچانک اور بالکل ہتھل ہو کر آنا خیر سے خالی تھا۔ لیکن ملک بہزاد نے غلام حیدر سے بات پوچھنے میں جلدی نہیں کی۔ قریباً ایک گھنٹے تک وہ اسی طرح بیٹھے ادھر اُدھر کی ہانکتے رہے۔ پھر اچانک غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اُٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ دونوں اُٹھ کر ڈیرے کے ایک کمرے میں چلے گئے تاکہ تنہائی میں بات کر سکیں۔

 

کچھ دیر خاموش بیٹھے رہنے کے بعد غلام حیدر بولا،چاچا بہزاد سب عزت خاک میں مل گئی۔ کوئی کام توقع کے مطابق نہیں ہو رہا۔ مَیں انگریز سرکا ر پر اچانک اندھا بھروسا کر گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دم اپنے بندوں کے سامنے ذلیل ہو گیا۔ پھر غلام حیدر نے سر جھکا کر اپنے ساتھ ہونے والی پولیس کی تمام کارگزاری ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔

 

ملک بہزاد غلام حیدر کی داستان نہایت حوصلے اور تحمل سے سنتا رہا۔ درمیان سے اُس نے نہ تو ٹوکا اور نہ ہی بات بات پر اپنے تجربات کے افسانوں کے تڑکے لگائے۔ وہ جانتا تھا،غلام حیدر غلطی کر چکا ہے،جس پر اُسے پہلے سے خبر دار کیا گیا تھا۔ لیکن اب اُسے اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہے،جس کی وجہ سے وہ ڈپٹی کے دفترسے اپنے گھر نہیں گیا،سیدھا اُس کے پاس آیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے،وہ اعتراف کا طوق گلے میں لٹکائے ہوئے آیا ہے۔ لہذا غلطی جتانے سے سوائے بیزاری بڑھانے کے فائدہ نہیں۔ اِسی کے پیش نظر ملک بہزاد خاموش بیٹھا سوچتا رہا۔ با لآخر سفید کھچڑی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بولا،غلام حیدر ایک بات بتا،سُنا ہے تیری نواب افتخار کے ساتھ دوستی ہے،کیا یہ بات ٹھیک ہے؟

 

ہاں وہ دوست تو ہے،غلام حیدر نے جواب دیا،لیکن وہ لندن میں ہے۔ میں نے اُسے ساری صورت حال کے بارے میں خط لکھ دیا ہے۔ مگر اُس کا ابھی تک جواب نہیں آیا۔ بلکہ ابھی تو میرا خط بھی نہیں پہنچا ہو گا۔

 

ایسا کر تُو اُسے تار بھیج دے،ملک بہزاد نے آہستہ سے کہا، اور یہ کام لاہور جا کر وہاں سے کر۔ فیروزپور یا جلال آباد سے ہرگز نہیں۔ دوسرا کام یہ کر،تین مہینے کے لیے تسلی سے بیٹھ جا۔ حویلی سے باہر بھی نہ نکل اور ایک درخواست عدالت میں جمع کروا دے کہ مجھے دشمنوں سے اپنی زندگی کا خطرہ ہے۔ لہذا جو پولیس نے میرا اسلحہ ضبط کیا ہے،وہ گورنمنٹ مجھے واپس کرے۔ اس کے علاوہ یہ خبر جھنڈو والا اور عبدل گجر تک بھی مشہور کر دے کہ تیرا اسلحہ ضبط ہو چکا ہے۔

 

اِس کا کیا فائدہ ہوگا؟ غلام حیدر نے حیرانی سے پوچھا

 

اِس کا یہ فائدہ ہو گا کہ جب تجھے تین مہینے سے پہلے بطور مدعی عدالت میں طلب کیا جائے تو تم عدالت کو باور کرا سکتے ہو کہ مجھے دشمنوں سے خطرہ ہے اس لیے میں بغیر اسلحے کے کسی بھی جگہ آنے جانے سے قاصر ہوں۔ اِس سلسلے سے متعلق میں ایک درخواست بھی جناب میں پیش کر چکا ہوں۔ چنانچہ اِسی خطرے کی وجہ سے میں عدالت بھی حاضر نہیں ہو سکتا۔ تمھاری اِس معذوری کی بنا پر عدالت یا تیرا اسلحہ بازیاب کرائے گی یا تین مہینے تک تمھیں عدالت میں حاضر نہ ہونے سے معذور قرار دے گی۔ اِدھر اِس درخواست کی وجہ سے انگریزی پولیس آپ کی رائفل تین مہینے کے بعد تمھیں واپس کرنے کی پابند ہو گی اور مزید ضبطی کے آڈر جاری نہ کر سکے گی۔ کیونکہ اِن سابقہ تین ماہ میں آپ کا کردار بالکل صاف رہا ہو گا۔ رہا آپ کے ہتھل ہونے کی خبر سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ تک پہنچانے کا فائدہ،تو اِس سے یہ ہو گا،وہ تینوں بے خطر فیروزپور کی عدالت میں تاریخیں بھگتنے چلے آئیں گے۔ یہی وقت ہو گا ہماری کارروائی کرنے کا۔ تم اِس عرصے میں نواب افتخار کی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اُس کی کان و کان کسی کو خبر نہ ہو۔

 

غلام حیدر دل ہی دل میں ملک بہزاد کی عقل کو داد دینے لگا اور تہیہ کیا کہ کبھی ملک بہزاد کے مشورے کے خلاف نہیں کرے گا۔ پھر سوچ کر بولا،لیکن چاچا بہزاد آپ کو میرے ساتھ ہر معاملے میں چلنا ہو گا۔ خرچے کی کوئی بات نہیں۔ میں سب دینے کو تیار ہوں،جتنا بھی آئے گا۔ تم کل میرے ساتھ جلال آباد چلو اور یہ درخواست بازیوں کے معاملات کو سنبھالو۔ اگر مجھ پر چھوڑو گے تو میں یہ کام نہیں کر سکوں گا۔ اِس کے بعد غلام حیدر نے اپنے کُرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کے پانچ سو روپے کی ایک تھیلی نکالی اور ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔
ملک بہزاد نے وہ تھیلی پکڑ کر واپس غلام حیدر کی جھولی میں رکھ دی اور بولا،بھتیجے تُو فکر نہ کر۔ مَیں کل تیرے ساتھ چلتا ہوں اور عدالت میں وکیل اور دوسرے معاملات کو دیکھتا ہوں۔ یہ پیسے میرے پاس بہت ہیں۔ اللہ کا دیا بڑا فضل ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔

 

اس گفتگو کے بعد دونوں اُٹھ کر باہر آگئے۔ اُنہیں دیکھ کر سب ایک مر تبہ پھر اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ جب دونوں بیٹھے تو دوسرے بھی اپنی جگہ آرام سے بیٹھ گئے۔ شام کے سات بج گئے تھے۔ یہ وقت غلام حیدر کے جلال آباد جانے کا نہیں رہ گیا تھا۔ اِس لیے رات کے کھانے اور رات کے بسر کرنے کا سامان ہونے لگا۔ ملک بہزاد نے اُٹھ کر اپنے ملازموں کو حکم جاری کرنے شروع کر دیے۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چودہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(27)

 

ہیلے نے آہستگی سے سلور کی دھات کے بنے ہوئے نہایت نفیس اور خوبصورت سگار کیس سے ایک سگار نکالا،اُ س کو دو تین دفعہ ناک کے قریب لے جا کر ہلکے ہلکے اپنی سانس اوپر کھینچ کر پہلے سگار کے خوشبو دار تمباکو کا سرور لیا پھر اُسے لیمپ کی آگ دے کر جلا لیا۔ اس کے بعد دو تین چھوٹے چھوٹے کش لے کر میز کے دوسری طرف بیٹھے ولیم کو دیکھنے لگا۔ ولیم اس سارے عمل میں خاموش بیٹھا ہیلے کی فطرت کا جائزہ لیتا رہا۔ ہیلے کی عینک کے شیشے نہایت چمکدار اور باریک تھے۔ کمانیاں اور کمانیوں کی زنجیر سنہری دھات کی تھیں۔ اُن کے بارے میں ولیم فیصلہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ سونے کی ہیں یا محض سونے کے رنگ میں تیار ہوئی ہیں۔ نیلے رنگ کی ٹائی پر چھوٹے چھوٹے زرد پھول بنے تھے۔ کوٹ کے بٹن کُھلے ہو ئے تھے اس لیے ٹائی اُس کی ناف تک لٹکی ہوئی صاف نظر آ رہی تھی۔ شرٹ بھی ہلکے نیلے رنگ کی بہت ہی عمدہ کپڑے سے بنی تھی،جو ولیم کے قدرے اُبھرے ہوئے پیٹ پر کافی جچ رہی تھی۔ شرٹ کے اُوپر کوٹ سُرمئی رنگ کا تھا،جس پر ہاتھی دانت کے بڑے بڑے بٹن تھے۔ یہ بٹن کوٹ کے ساتھ سلے ہوئے نہیں تھے بلکہ الگ سے نتھی کیے گئے تھے تاکہ دوسرا کوٹ پہننا ہو تو اُتار کر اُس کے ساتھ لگا لیے جائیں۔ ہیلے کی مونچھیں اتنہائی سیاہ اور نوکدار تھیں مگر مونچھیں بھاری نہیں تھیں۔ منہ کا دہانہ کھلا ہوا اور چوڑا تھا اور آنکھیں خوفناک حد تک چمک دار تھیں۔ ایسی شخصیت جوانی میں زیادہ خوبصورت نہیں لگتی مگر اِس عمر میں،جس میں اب ہیلے پہنچ چکا تھا،کافی دیدہ زیب ہو جاتی ہے اور سامنے والے کو رعب میں دبا لیتی ہے۔ پچھلی ملاقات میں و لیم کو ہیلے کے چہرے میں ایک سادگی نظر آ ئی تھی۔ اُس کا تاثر اس دفعہ بدل رہا تھا۔ ہیلے کی آنکھوں اور ماتھے کی تیوریوں میں ایک کٹیلی عیاری اور اُس کے ساتھ اپنے جونیئر سے ایک قسم کی بے نیازی کاتاثر اُبھر رہا تھا۔ جس کا مطلب تھا ہیلے ولیم کو اپنے عہدے کی حیثیت سے خبردار کرنے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔ ولیم کواپنے باپ دادا کی سروس سے مشاہدہ تھا کہ ایک ضلع میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ اُسے یہ بھی خوب علم تھا کہ ہندوستانی سول سروس کے انگریزبرطانیہ میں موجود سول سروس کے لوگوں کے سامنے احساس کمتری کا شکار تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لاشعوری طور پرہر نئے آنے والے آفیسر کو اپنے سینئر ہونے کا باور کرانا ضروری سمجھتے۔ اس سلسلے میں اُن سے عجیب عجیب حرکات سر زد ہوتیں۔ کبھی ضرورت سے زیادہ نصیحتیں،کبھی ڈانٹ اور کبھی اپنی ضروری اور غیر ضروری معلومات کا وقت بے وقت اظہار۔ ہندوستانی سول سروس میں موجود دیسی لوگوں کی تو خیر اُن کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ تو افسر ہو کر بھی اُن کے غلام تھے اور انگریز افسر کی سینیارٹی کو ضرورت سے زیادہ قبول کر لیتے مگر نئے انگریز افسر یہاں آکر بھی برطانوی شہریوں جیسی حرکتیں کر تے۔ اِس کی وجہ سے ہندوستانی سول سروس کی نوکری میں بزرگ انگریز افسروں کو اپنی عزت اور وقار پر ضرب پڑتی محسوس ہوتی،جو برطانیہ میں افسری کرنے والوں پرممکن نہیں تھی۔ وہ مرکز میں ہونے کی وجہ سے فیصلے صادر کرنے والوں میں سے تھے اور اکثر شُرفا ہوتے جبکہ ہندوستان میں تو نچلی قوموں کے افسروں کی بہتات ہوچکی تھی اور اس بات کا اندازہ برطانیہ میں موجود بیوروکریسی کو تھا۔ بلکہ ہندوستانی بیوروکریسی کو بھی بخوبی تھا۔ ولیم کو ہیلے اب ویسا ہی احساس کمتری کا شکار آفیسر لگ رہا تھا اور یہ بات ولیم کے لیے خطرناک تھی۔ کیونکہ احساس کمتری میں مبتلا افسر کے ہاتھ سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ اب ولیم کو ہیلے سے کچھ کچھ ڈر محسوس ہونے لگا تھا۔ وہ اِس انتظار میں تھا کہ جلد از جلد ہیلے اپنا منہ کھولے اور بات سامنے آئے۔ اُسے اندیشہ تھا،اُسے جلال آباد میں امن وامان کے حوالے سے ضرور ڈانٹ پلائی جائے گی۔
ہیلے نے کچھ دیر کی خموشی کے بعد بالآخر مُہر توڑی اور بولا،نوجوان آپ فیلڈ میں آ کر کیا محسوس کر رہے ہیں ؟
بہت اچھا سر،مزا آرہا ہے کام کرنے کا،ولیم نے تحمل سے جواب دیا۔

 

میں نے آج تک آپ کی بھیجی گئی تمام فائلوں کا مطالعہ کیا ہے،ہیلے نے گفتگو میں اطمنان پیدا کرتے ہوئے کہا،ولیم آپ بہت تیز دوڑ رہے ہیں۔ اِس میں ساتھ دینے والے ہانپ جائیں گے یا شاید آپ کی ہی سانس اُکھڑ جائے،اس کے بعد اس نے میز کے ایک کونے پر پڑی تانبے کی

 

خوبصورت گھنٹی کا بٹن دبا دیا جس کے بعد فوراً ایک ہندو ملاز م اندر داخل ہوا،تحصل جلال آباد کی فائلیں لاؤ۔

 

ملازم ہیلے کا حکم سن کر باہر نکل گیا۔ ولیم نے سوچا ہیلے کا خاص جلال آباد تحصیل کا نام لینے کا مطلب یہ باور کرانا ہے کہ اُس کے ما تحت فیروز پور کی پوری پانچ تحصیلیں ہیں۔ جن میں سے ایک جلال آباد کی تحصیل بھی ہے۔ چناچہ ولیم سمجھ لے کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر میں بہت فرق ہے۔ ولیم انہی خیالات میں تھا کہ ہیلے کی دوبارہ آواز سُنائی دی،میں نے آپ کی تمام فائلوں کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ بہت عمدہ کام کر رہے ہیں لیکن ہمیں بہت سے کام ایک ہی وقت میں نہیں چھیڑدینے چاہییں۔

 

ولیم نے سر اُٹھا کر دیکھا تو جلال آباد سے بھیجی گئیں چاروں فائلیں میز پر پڑی تھیں،جنہیں ملازم چند ثانیے پہلے رکھ کر جا چکا تھا اور اُن پر ہیلے اب گفتگو کرنا چاہ رہا تھا۔ ولیم نے ایک لمحے کے لیے ہیلے کی طرف دیکھا اور اپنے لہجے میں تھوڑی سی خوشامد کانمک ڈال کر بولا،سر میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں تحصیل میں گورنمنٹ اور عوام کے جو مسائل موجود ہیں،اُن پر آپ کی توجہ مبذول کرا دوں۔ باقی تو جو آپ کہیں گے وہی ہو گا،میں تیز دوڑوں گا بھی تو تحصیل سے باہر نہیں جا سکتا۔

 

ہیلے ولیم کے اس جواب سے ہلکا سا مسکرا دیا اور دوبارہ بولا،ولیم جانتے ہو؟ مجھے اُس وقت اپنی خوشامد اچھی لگتی ہے جب کوئی میرا انگریز جونیر کرتا ہے ورنہ دیسی افسر تو بنے ہی خوشامد کے لیے ہیں۔ بہر حال یہ ایک بات تھی،ہم اپنے مقصد کی طرف آتے ہیں۔ آپ سرِ دست اپنی ترجیحا ت ایک یا دو کامو ں کو دو۔ ہم جانتے ہیں،اِن علاقوں میں اتنے مسائل ہیں جن پر برطانیہ حکومت اگر دو سو سال تک مسلسل کام کرے تو بھی وہ ان کے رنگ کی طرح صاف نہیں ہو سکتے لیکن یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ میں ایک فائل آپ کو دے رہا ہوں (ولیم کی طرف ایک فائل بڑھاتے ہوئے،جسے ولیم نے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا اور کھولنے لگا) اِس میں کچھ ہندو بنیوں کے نجی سود در سود کے نظام اور اُن کے ہاتھوں پنجاب کے غریب دیہاتیوں کے استحصال کی کار گزاریاں ہیں۔ یہ وہ لعنت ہے جس کی ہم نے سختی سے حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ یہ بنیے ناصرف پورے پنجاب کے غریب اور مالدار لوگوں کو رہن رکھے ہوئے ہیں بلکہ ہندوستان بھر میں اِن کی قینچیاں نوابوں سمیت ہر ایک کی جیب پر چل رہی ہیں۔ اس کے بعد ہیلے ولیم کی طرف جھکتے ہوئے بولا،میں یہ بات آپ کو نہ تو فائل پر لکھ کر دے سکتا ہوں اور نہ ہی کسی اور طرح سے سمجھا سکتا ہوں،صرف زبانی کہ سکتا ہوں۔ لیکن اس کو لکھے ہوئے احکام سے زیادہ اہم سمجھو۔ تمھیں یہاں بلانے کا سب سے اہم مقصد یہی تھا۔

 

ولیم ہیلے کی خوشامد والی طنز سے اتنا گھبرا گیا تھا کہ کچھ لمحے اُس کا دماغ بھی ٹھکانے پر نہیں رہا تھا لیکن جب ہیلے نے اپنی گفتگو آگے بڑھائی تو اُس کی خجالت جلد ہی صاف ہوگئی۔ اُسے اس گفتگو سے ایک گونہ اطمنان سا ہوا۔ وہ جس واقعے سے ڈر رہا تھا،اُس کے متعلق خوف رفع ہو گیا اور اب بغیر جھجھک کے بولا،سر عوام کا استحصال تو اور بھی کئی رنگ میں جاری ہے لیکن ان بنیوں پر ہی خاص توجہ دینے کی ایسی کون سی مجبوری لاحق ہو گئی۔

 

بہت سی،ہیلے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا،ان کی وجہ سے حکومت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ زمین داروں سے سود کی رقم ادا نہیں ہو پاتی،نتیجہ یہ کہ ان کا کیس عدالت میں آجاتا ہے اور عدالت قرضے کے عوض زمینداروں کے مالیاتی حقوق بنیوں کے نام کر دیتی ہے۔ بنیے خود زمین داری سے واقف نہیں۔ وہ سب کچھ مزارعوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ مزارع وہی ہوتے ہیں،جو ان بنیوں کے مقروض ہیں۔ چنانچہ یہی لوگ اُن زمینوں کی کاشت کرتے ہیں لیکن انہیں فصل سے بہت کم حصہ ملتا ہے اور اُن زمینوں میں مزارع دلچسپی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے علاقے میں کاشتکاری کانظام آگے پنپ نہیں رہا۔ دوسرا بڑا نقصان یہ کہ اِن کے نجی بنکاری نظام نے سرکاری بنکوں کے نظام میں خلل ڈال رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی بنکو ں کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔ اس عمل سے گائے کا دودھ بکری کے تھنوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

 

تو سر اس میں مَیں کس طرح اپنا وجود ثابت کر سکتا ہوں؟،ولیم سمجھ گیا تھا کہ عوام کا استحصال تو خیر ایک بات تھی۔ اصل مقصد تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے آخر میں بتایا لیکن اُس نے سوچا مُردے کی وراثت پانے والوں سے بچ کر مرنے والے کا اُسترا بھی گورکن کو مل جائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔

 

تم مالیات کے نظام میں پٹواری کے دخل اور زمین کی خریدو فروخت میں ٹیکس کو جتنا ہو سکے زیادہ فروغ دو۔ اگرچہ اِس کے نفاذ کے معاملے میں آپ کو تمام ہدایات تحریری ہی وصول ہوں گی۔ لیکن ایسا ہوتا ہے کہ لوگ باہر ہی باہر زمین فروخت کر دیتے ہیں،جس کا اندراج کاغذات میں نہیں ہوتا۔ ہوتا یہ ہے کہ نہری پانی کا مالیہ وہ ادا کرنا شروع کر دیتا ہے جس نے زمین مول لے لی ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ زمین خود بخود مالیہ ادا کرنے والے کے نام ہو جاتی ہے،جو عموماً بنیا ہوتا ہے۔ ہم اس نظام کو مشکل بنا رہے ہیں اور ہر حالت میں زمین خریدنے والے پر بھاری ٹیکس لگا رہے ہیں۔ وہ کسی بھی صورت میں بغیر گورنمنٹ کو ٹیکس دیے زمین اپنے نام نہیں کروا سکتا۔ دوسری طرف بہت سے فیصلے چونکہ تحصیل سطح پر آپ نے خود ہی کرنے ہیں۔ اِس لیے کوشش کرنا کہ بنیوں کو کم سے کم اُن فیصلو ں میں فائدہ پہنچے۔ باقی تمام معاملات اِس بارے میں مالی تحصیل دار کو پتا ہے۔ وہ آپ کو مشورے دیتا رہے گا۔

 

ولیم تھوڑی دیر کے لیے چُپ بیٹھا رہا پھر مسکرا کر بولا،سر ایک کافی کا کپ مزید مل جائے گا ؟

 

وائے ناٹ،ہیلے نے ایک بار پھر گھنٹی کا بٹن دباتے ہوئے کہا،اور ہاں ایک بات یاد آئی،آپ کوئی بھی کام براہِ راست خود کرنے کی کوشش نہ کیا کریں،مختلف کاموں کے لیے آپ کے پاس مختلف آفیسر ہیں بس انہی سے سروکار رکھیں اور زیادہ دوروں سے پر ہیز کریں۔ چوری ڈکیتی اور امن و امان پولیس کا کام ہے۔ آپ اُن کے لیے تمام ہدایات ڈی ایس پی کو دیا کریں۔ مَیں حیران ہوں یہ تمام چیزیں آپ کی ٹریننگ کا حصہ تھیں لیکن آپ پھر بھی جودھا پور اور جھنڈو والا کے چکر لگاتے پھرے۔ یہ پولیس کا کام ہے اُن کو کرنے دیں۔

 

ولیم کو ہیلے کے یہ جملے سُن کر ایک دفعہ پسینہ آ گیا اور اُسے لگا جیسے اصل میں اسی لیے بلایا گیا ہے،باقی سب باتیں بہانہ تھیں۔ لیکن یہ بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آیا ڈپٹی کمشنر صاحب ملزمان کی مدد کرنا چاہتے یا اُسے کسی نقصان سے بچانے کے پیش نظرسرزنش کر رہے ہیں۔ ولیم نے اس بات کو ذرا کھول دینا مناسب سمجھا اور کہا،سر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے،کچھ دنوں سے جلال آباد میں شرپسندوں نے قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ میں نے اُس کے لیے ڈی ایس پی لوئیس کو کچھ احکامات جاری کیے ہیں،جن میں سودھا سنگھ کے مال کو ضبط کرنے کے احکام بھی ہیں۔ اُن کے لیے آپ کی منظوری چاہیے،یہ کہ کر ولیم نے سودھا سنگھ کی فائل جو ڈی ایس پی لوئیس نے آج صبح ہی ولیم کے حوالے کی تھی،ہیلے صاحب کے آگے کر دی اورولیم اُس وقت حیران رہ گیا جب ہیلے نے اُس پر بلا تردد دستخط کر دیے،تو گویا ملزموں کی پشت خالی تھی۔

 

فائل پر دستخط کے بعد ولیم قدرے پُر سکون ہو گیا۔ اُس نے کافی کی چسکیوں کے ساتھ دوسرے مسائل پر گفتگو شروع کردی،جن میں دو مسئلے سب سے اہم تھے اور انہی پر ولیم اصل میں کام کرنا چاہتا تھا۔ اُن میں سے ایک تعلیم اور دوسرا جلال آباد میں نہری نظام کی مزید بہتری اور بڑے پیمانے پر کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے بنگلہ نہر کی تجویز۔ جسے ہیلے نے بہت سراہا اور اُس پر جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ چاہے گا،اسی ماہ کی چیف سیکرٹری صاحب سے ملاقات پر اُن سے اس کی منظوری لے لے۔ الغرض اِن مسائل پر ایک گھنٹے تک دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی،جو نہایت خوشگوار ماحول میں تھی۔ اُس کے بعد ولیم نے اجازت چاہی اور ابھی اُٹھنے ہی لگا تھا کہ ہیلے نے ولیم کو روک کر پھر ایک جملہ کہ دیا۔
ولیم کیا نام ہے اُس لڑکے کا،،غلام حیدر،،ہاں اُس کو انصاف ملنا چاہیے۔ لیکن اُس کی ریفل دو مہینے کے لیے قبضے میں لے لو اور اُس پر خاص نظر رکھو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملزموں کے ساتھ نرمی برتو۔ شر پسندوں کو سختی سے دبادو۔ یہ کہ کر ڈپٹی کمشنر صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی ولیم بھی اُٹھ گیا۔

 

اب بارہ بج گئے تھے اور کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ اس لیے دونوں کھانے کے کمرے کی طرف چل دیے۔ اِسی دوران ولیم سوچنے لگا کہ خدا کی پناہ ہیلے کتنا چالاک آدمی ہے۔ اُس نے ہر گز پتا نہیں چلنے دیا کہ اصل میں اُسے کس لیے بلایا گیاہے۔ تمام اہم مسائل پر اُس نے اس طرح گفتگو کی کہ وہ اُس کے اصل ارادوں سے بالکل بھی واقف نہیں ہو سکا۔

 

(28)

 

ٍڈی ایس پی لوئیس کی گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی جب اُنہوں نے جھنڈو والا پر یلغار کی۔ اس بات کا پولیس کو پتا تھا کہ دما کے قتل کی خبر سنتے ہی سردار سودھا سنگھ پٹیالہ جا چکا ہے اور فی الحال اُس کے گرفتار ہونے کے امکانات صفر ہیں۔ لیکن پرچے میں کچھ اور لوگوں کے نام بھی درج تھے اس کے علاوہ سردار سودھا سنگھ کا بھائی سردار نتھا سنگھ بھی وہیں موجود تھا،جس کی گرفتاری اِس کیس میں کافی کار آمد ثابت ہو سکتی تھی۔ علاوہ ازیں جھنڈووالا پر یہ چھاپہ اوربھی بہت سے عوامل کو سامنے لا سکتا تھا۔ اگر اس وقت بھی چھاپہ نہ مارا جاتا توپورے علاقے میں لا اینڈ آڈر کا خطرناک تاثر پیدا ہو جاتا اور کہا جاتا کہ پولیس سردار سودھا سنگھ پر ہاتھ ڈالنا تو ایک طرف جھنڈووالا میں وارنٹ گرفتاری لے کر داخل بھی نہ ہو سکی۔

 

لوئیس صاحب خود جیپ پر سوار تھے جن کے ساتھ انسپکٹر متھرا،انسپکٹر مدن لال اور تھانیدار بلرام تھا۔ اِن کے علاوہ چار تھانوں کے چالیس گھوڑ اسوار تھے،جن میں سب انسپیکٹر،حوالدار اور سپاہی سب شامل تھے۔ پولیس کے سپاہی گھوڑوں پر اسوار کچھ جھنڈو والا کے باہر ناکہ لگا کر کھڑے ہو گئے تاکہ ملزم بھاگ نہ سکیں اور باقی گاوں کے اندر گلیوں میں پھیل گئے۔ ڈی ایس پی لوئیس اور باقی تمام عملے نے سودھا سنگھ کی حویلی کا گھیراو کر لیا۔ جھنڈو والا میں اِس قدر انگریزی افسر اور دیسی پولیس لوگوں نے پوری زندگی تو کیا خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔

 

اِکا دُکا لوگ جاگ اُٹھے تھے،جو ادھر اُدھر کام میں اور اپنی فصلوں میں ہل وغیرہ جوتنے کے لیے نکل رہے تھے۔ اِن لوگوں میں سے کچھ اُٹھنے کے باوجود نیند کے خمار میں تھے۔ اُن کی آنکھیں ابھی پوری طرح نہیں کھلی تھیں۔ کچھ بیل ہنکا کر لے جا رہے تھے۔ کوئی کسئی اور درانتی لے کر اور گدھی پر واہنا رکھے آنکھیں ملتے سانجرے ہی سانجرے چارہ لینے جا رہا تھا۔ اِنہیں اِس ناگہانی آفت کا کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے ؟جب جاگنے والوں نے جیپ کی آواز اور گھوڑوں کی دڑ دڑ سُنی تو اُنہوں نے سونے والوں کو جلدی جلدی اُٹھایا اور سب لوگ باہر کی طرف بھاگنے لگے۔ باہر ہر طرف فرنگی پولیس کے پہرے اور کالی نال والی بندوقیں ہی بندوقیں تھیں۔ پولیس مخبروں کی دی ہوئی اطلاع کے مطابق کئی گھروں میں گھوڑوں سمیت داخل ہو رہی تھی اور بندوں کو گھسیٹ کر باہر نکال رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ بیتوں اور چابکوں سے اُن کی پٹائی بھی جاری تھی۔ اِن گرفتار ہونے والوں میں تھانیدار بلرام کے مطابق وہ لوگ تھے،جو جودھا پور کے چراغ دین کے قتل اور مونگی کی تباہی میں شامل تھے۔ اِن کے ناموں اور گھروں کی مخبری دیدار سنگھ کی رپورٹ کے مطابق جھنڈو والا ہی کے ایک شخص نے کی تھی۔
ملزموں کو نہایت بے دردی سے پیٹا بھی جا رہا تھاکہ اُن پر انگریزی قانون کی اچھی طرح سے دہشت طاری ہو جائے اور مکمل خوف و ہراس پھیل جائے۔ جھنڈو والا میں ایک طرح سے یک دم قیامت برپا ہو چکی تھی۔ حملے کی شدت اور خوف سے عورتوں نے اونچی اونچی چیخنا اور رونا دھونا شروع کر دیا۔ مرد ادھر اُدھر بھاگنے لگے لیکن اب پولیس بھی،جو ہاتھ میں آتا پکڑ پکڑ کر کوٹاپا پھیرنے لگی۔

 

اس سارے عمل کے دوران ڈی ایس پی لوئیس سودھا سنگھ کے گھر کے سامنے سات آٹھ افراد کے عملے کی حفاظت میں کھڑا آ رام سے اِس پورے منظر سے محظوظ ہو رہا تھا۔ جبکہ سنتری ملزموں کو پکڑ پکڑ کر اُس سے کچھ فاصلے پر ڈھیر کر رہے تھے۔ چھ سات سپاہی اور تھانیدارسودھا سنگھ کی حویلی میں داخل ہو چکے تھے تاکہ گھر کی مکمل تلاشی لی جائے۔ ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ سودھا سنگھ وہیں پر موجود ہو اور یہ ہوائی اُڑا دی گئی ہو کہ وہ پٹیالا چلا گیا ہے۔ یقیناً تھانیدار اکیلا آتا تو اُس کی جرات نہیں تھی کہ وہ سودھا سنگھ کی حویلی میں داخل ہو تا لیکن اب تو تحصیل کا سب سے بڑا انگریز پولیس افسر اُن کے ساتھ تھا۔ اِس لیے سپاہی،حوالدار اور تھانیدار سب ہی دلیر ہو گئے۔ وہ سودھا سنگھ کی حویلی کی چار پائیاں اور موڑھے اُلٹ پلٹ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں سودھا سنگھ کے بھائی نتھا سنگھ کو بھی ڈپٹی صاحب کے سامنے لا کر پھینک دیا،جس کا ڈیل ڈول یوں تو بھائی ہی کی طرح تھا لیکن شخصیت میں رعب خاک نہیں تھا۔ فقط داڑھی کی لمبائی اتنی تھی کہ سودھا سنگھ کی داڑھی اُس کے نصف میں ہو گی۔ نتھا سنگھ لوئیس کے قدموں میں اِس طرح پڑا تھا جیسے چھوٹا سا بچہ پیاس سے بلک رہا ہو اور یہ ایسی گستاخی تھی،جس کو دیکھ کر پورے گاؤں والوں کے پسینے چھوٹ گئے۔ اُن کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ انگریز سرکار اِتنے غصے میں ہو گی۔ ابھی لوئیس صاحب نتھا سنگھ کی طرف متوجہ ہی تھے کہ کچھ سپاہی پیت سنگھ کو بودیوں سے پکڑ کر لے آئے۔
اب دن کا سورج سامنے چمک رہا تھا اور پندرہ بندے ہاتھ بندھے لوئیس صاحب کے آگے پڑے تھے،جن پر ڈنڈوں اور چابکوں کی لگاتاربارش نے اُن کے جسم بھی اُدھیڑ کر رکھ دیے تھے۔ جھنڈو والا کے لوگوں کو یہ تو پتا تھا کہ پولیس کسی دن اُن پر ضرور چڑھائی کرے گی لیکن اُنہیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ معاملہ اِتنا سنجیدہ ہو جائے گا اور فرنگی اُن پر یوں لوہے کے گھوڑے اور آگ کے چابک لے کر چڑھ دوڑیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ اب ضرورت سے زیادہ حوصلہ چھوڑ بیٹھے۔ انگریز سرکار کی اتنی سختی دیکھ کر اُن کے اوسان جاتے رہے اور پیشاب خطا ہو گئے۔ سوائے رونے چیخنے اور واویلا کرنے کے اُنہیں اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
چھاپے کے شروع میں ایک دو عورتوں نے سپاہیوں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے کی کوشش بھی کی لیکن جب اُن پر بھی ڈنڈے چل گئے تو وہ بھی سہم کر چُپ ہو بیٹھیں۔ وہ سوچ رہے تھے،اچھا ہی ہوا سودھا سنگھ پٹیالا چلا گیا ورنہ آج اُس کی ساری عزت اور رعب فرنگی سرکار پاجامے کے رستے نکال دیتی پھر جھنڈو والا کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔ لوگ اگر کسی کی ذلت کی مثال دیتے تو وہ جھنڈو والا کا نام لیتے۔

 

پولیس کا چھاپہ انتہائی صبح کے وقت پڑا تھا،اس لیے کافی لوگ سوئے ہوئے اچانک دبوچے گئے۔ بعض کو پولیس کی اتنی زیادہ نفری کے سامنے بھاگنے کی بھی جرات نہیں ہوئی۔ وہ جتنا بھی تیز دوڑتے،گھوڑوں سے آگے نہیں نکل سکتے تھے اور ہاتھ آنے پر پولیس کا غصہ بر داشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ پھر وہ پٹائی ہوتی کہ گرو جی بھی دنگ رہ جاتے۔ اِس کے علاوہ پکے مجرم بھی سمجھ لیے جاتے۔ چنانچہ اُنہوں نے بھی نہ بھاگنے میں ہی مصلحت جانی۔

 

کافی دیر تک یوں ہی پکڑ دھکڑ جاری رہنے کے بعد جب گاؤں کے مرکز میں ایک مجمع لگ گیا تو لوئیس صاحب نے تھانیدار کو حکم دیا کہ سودھا سنگھ،جگبیر سنگھ اور دوسرے نامزد مجرموں کامال مویشی اور جو مخبری کے مطابق مشکوک مجرم ہاتھ نہیں آ سکے،اُن کا بھی مال آگے رکھ کے پھاٹک لے چلو۔ جو ملزم پکڑے گئے ہیں،اُن کا مال لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جب سب کچھ نپٹا لیا گیا تو لوئیس صاحب،جن کے سر پر پولیس کی ستارے والی ٹوپی اتنی بارعب ہو چکی تھی کہ اب اُسے بھنگی بھی پہن لیتا تو واہگرو سے زیادہ باعزت سمجھاجاتا،اُس نے اپنے دائیں پاؤں کے جوتے پر ہاتھ میں پکڑی ہوئی بیت سے ٹھوہکا لگاتے ہوئے گاؤں وا لوں کو مخاطب کر کے کہا،اہلیانِ جھنڈو والا،مَیں آپ کو دو دن کا وقت مزیددیتا ہوں،جن ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں،تھانیدار اُن کے نام آپ کو پڑھ کر سُنا رہا ہے۔ اگر اُنہوں نے دو دن تک اپنی گرفتاری نہ دی تو یاد رکھو،سرکار اُن کا مال لے کر جا رہی ہے۔ سرکار اُن کا یہ مال نیلام کرنے کی مجاز ہوگی اور اُس کی رقم اپنے خزانے میں داخل کرلے گی۔ اِس کے علاوہ اُن کے گھروں کو کھُدوا دیا جائے گا اوربیوی بچوں کو جلال آباد تھانے لے جا کر بند کر دیا جائے گا۔ یہ کہ کر لوئیس صاحب انسپیکڑ متھرا کی طرف مُڑے اور بولے،متھراصاحب آپ اِن سب کو اپنی نگرانی میں تھانے پہنچاؤ اور کل میٹنگ کے لیے تھانیدار کو ساتھ لے کر پہنچ جاؤ۔ ہم دیکھتے ہیں،کس طرح گورنمنٹ کے قانون کے ساتھ مذاق اُڑایا جاتا ہے اور سودھا سنگھ کتنا بڑا سورما ہے۔

 

اس کے بعدلوئیس صاحب جیپ پر بیٹھ گئے اور ڈرائیورنے انجن کی گراری کارسًہ کھینچ دیا اور پورے بارہ بجے پولیس مجرموں کے قافلے کے ساتھ جلال آباد روانہ ہو گئی۔

 

تمام مجرم ہاتھ بندھے ایک گڈ پر بٹھا لیے۔ جس کے آگے دو بیل جُتے ہوئے تھے،جو اُسی گاؤں سے لیے تھے۔ گَڈے کو بیس گھڑ سوار سپاہیوں کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ جن میں سے اکثر کے پاس لمبی نال والی توڑے دار بندوقیں تھیں۔ جب سپاہی فوجاسیو کے گھر کے سامنے سے گزرے تو فوجا سیو دروازے کے باہر کھڑا اُنہیں دیکھ رہا تھا۔ حقیقت میں اُنہیں اِس طرح قید میں بندھے ہوئے جاتے دیکھ کر فوجا سیو کا جی اندر سے زار زار رو رہا تھا۔ جیسے کہ رہا ہو دیکھا،میں نہ کہتا تھا اِس کا نتیجہ بہت بُرا ہو گا لیکن کیا کیا جائے۔ اگر سرداروں کو شراب پینے کے بعد کچھ ہوش بھی رہتا تو آج اِس گَڈ میں سرداروں کی بجائے فرنگی سوار ہوتے لیکن اب تو اِس کی حسرت ہی کی جا سکتی تھی۔ وقت گزر جائے تو سوائے سیاپے کی چوٹوں کے کچھ نہیں بچتا۔ اور حقیقت میں یہ مصیبت اُن پر جگبیر کی وجہ سے آئی تھی اور اب وہ حرامی سودھا سنگھ کے ساتھ پٹیالا میں بیٹھا مزے کر رہا تھا اور اِن غریبوں کو پھنسا دیا۔ پولیس مال مویشی اور ملزموں سمیت جھنڈو والا سے نکل گئی تو عورتوں کو رونے کا موقع مل گیا۔ اُنہوں نے بین کر کر کے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ بعض دو ہتھڑ پیٹنے لگیں۔ پورے گاؤں کی فضا انتہائی سوگوار ہو چکی تھی،جیسے سب گھروں میں ماتمی صفیں بچھ گئی ہو ں۔ یہ دیکھ کر فوجا سیو آہستہ آہستہ چلتا ہوا گاؤں کے اُسی مرکز میں آیا جہاں تھوڑی دیر پہلے سب سے بڑا پولیس والا فرنگی کھڑا تھا۔ فوجا سئیو کو دیکھتے ہی اُس کے گرد تمام گاؤں کا مجمع لگ گیا۔ خاص کر عورتیں پیٹ پیٹ کر اپنا بُرا حال کر رہی تھیں۔ باقی لوگ یا تو طرح طرح کے تبصرے کر رہے تھے یا بولنے والو ں کو فقط ٹک ٹک دیکھے جا رہے تھے۔ اس تمام صورت حال میں صرف فوجا سیو ہی تھا جس کے ہوش کچھ ٹھکانے پر تھے اور گاؤں والوں کے لیے دلاسے اور ڈھارس کی جگہ تھی۔ فوجا سیو نے جب دیکھا کہ سب اُسی کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ اب جو اُپا کرنا ہے،اُس کے بارے میں بتائے،تو فوجا سیو تمام متروں کی طرف دیکھ کر تلخی سے بولا،مترو،ہُن شیر بنو،جو کجھ تسیں کرنا سی،اوہ کر لیا،ہن تاں شریکاں دی واری آ،ہن واری دی سٹ مرد بن کے سہوو۔ پھر تھوڑی دیر چپ کرنے کے بعد دوبارہ بولا،بیرو گھبران دی کوئی گل نہیں۔ ہُن آپاں مرداں طرحاں مقابلہ کراں گے۔ اَتے جلد ہی اپنے متراں نوں فرنگیاں کولوں لے کے آجاں گے۔ مَیں اَج ہی سردار ہرے سنگھ نوں جا کے مل ناں۔ باقی مال تاں آن جان آلی شے آ۔ اوندا دکھ نئیں کرنا۔ اِس کے بعد سردار فوجا سئیو نے دیون سیو کو آواز دے کر کہا،دیون پُت میری گھوڑی تے ساز کس دے۔ مینوں ہُن فیروز پور جانا ای پے گیا۔ بھجیاں باہواں تاں سیاناں کیہیا وا گل نوں ای اوندیاں۔ اُس نے سکھ عورتوں کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا،کوئی گل نئیں دھیؤ جے سودھا سنگھ اَتے جگبیر تُہانوں مشکل وچ چھڈ کے پٹیالا نس گئے نے۔ مَیں تہاڈے باپو دی تھاں تہاڈے نال آں۔ سردار ہرے سنگھ کولوں اودوں ہی اُٹھاں گا۔ جَد مال تے بندے جھنڈو والا اپنے گھر آ جان گے،تسیں فکر ناں کرو۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(20)

 

شیح صاحب مَیں اس معاملے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ ڈپٹی کمشنر نے فائل کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد تحمل سے بولنا شروع کیا۔ قتل اور لوٹ مار کی ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔ کیانام ہے آپ کا مسٹر………… حیدر( غلام حیدر کی طرف منہ کرتے ہوئے) آپ خود پرچہ کے مدعی بن چکے ہیں۔ سودھا سنگھ نامزد ملزم قرار دیا جا چکاہے اور سب سے اہم بات یہ کہ خود ولیم دلچسپی لے رہا ہے۔ غالباً کچھ دن پہلے اُس نے مجھ سے اس بارے میں سرسری گفتگو بھی کی تھی۔ میرا خیال ہے، وہ اس قصے کو جلد ہینڈل کر لے گا۔ آپ اس بارے میں پریشان نہ ہوں۔

 

شیخ مبارک علی نے مزید گزارش کے سے انداز میں کہا، حضورہمیں گورنمنٹ کے انصاف سے کچھ اندیشہ نہیں مگرصاحب نئے نئے آئے ہیں۔ سُنا ہے ابھی مزاج کے کھُردرے ہیں۔ آپ اس بارے میں ذاتی طور پر کمشنر صاحب کو ہدایات پھر بھی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ ڈر ہے اگر دیر ہو گئی تو خدانحواستہ کچھ مزید خرابی نہ ہو جائے۔ آپ تو جانتے ہیں سکھ آخر سکھ ہوتاہے سمجھنے میں دیر کرتاہے۔

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے صاحب نے اپنی کُرسی کو ایک دم مکمل گھما کر سیدھا کیا اور شیخ صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،شیخ صاحب مجھے تو اپنے تجربے سے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ مسلمان اور سکھ الگ الگ دماغ کے مالک ہیں۔بس داڑھیوں کی لمبائی میں فرق ہے۔ آپ فکر نہ کریں، دونوں عقل کے ایک ہی قبیلے سے منسلک ہیں۔

 

شیخ مبارک ڈپٹی کمشنر کی بھرپور طنز کو محسوس تو کر گیا پھر بھی چہرے پر خوشگواری کا تاثر لاتے ہوئے دوبارہ بولا، سر آپ میری بات کہیں اور ہی لے گئے۔ بہر حال آپ ہمارے حاکم ہیں۔اگر ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے ؟ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ اپنی بات عرض گزار کر دیں۔ اگر حکم ہو تو یہ غلام حیدر،شیر حیدر کا بیٹا اپنی درخواست آپ کے حضور سنانے آیا ہے ( پھر غلام حیدر سے مخاطب ہو کر) بیٹا آپ صاحب بہادر کو بتاؤ۔جو آپ کی صاحب سے ملاقات ہوئی ( پھر ڈپٹی کمشنر سے ) سر ذرا سن لیں ایک بار۔

 

غلام حیدر نے اشارہ پاتے ہی اپنی ولیم کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو مِن و عن ڈپٹی کمشنر کے گوش گزار کر دی، جسے اُس نے نہایت غور اور تحمل سے سُنا پھر سکون سے بولا،لیکن مجھے تو یہ رپورٹ ہے کہ ولیم سراسر مسٹرحیدر کی طرف داری کر رہاہے۔ کل ہی ولیم نے انتہائی قریب سے واقعات کا جائیزہ لینے کے لیے موقعہ واردات پر جا کر خود حالات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تھانیدار کو بُلا کر سرزنش کی۔ اس سب کے باوجود میں کیسے اُسے مزید ہدایات دے سکتاہوں۔

 

پھر تمام رپورٹس کا خلاصہ شیخ صاحب اور غلام حیدر کو سنا دیا۔ جسے سُن کر شیخ مبارک حسین تو شرمندہ اور کھسیانا سا ہوا مگر غلام حیدر کو حیرانی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت نے گھیرلیا۔

 

اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیاہے۔ وہ ڈپٹی کمشنر کی بات پر یقین کرے یا ولیم صاحب اور تھانیدار کے رویے کو سامنے رکھے۔ ایک بات اُسے مطمئن بھی کر رہی تھی۔اور وہ تھی ڈپٹی کمشنر کی معلومات، جو اس کیس کے بارے میں اتنی جلدی اُس تک پہنچ گئیں تھیں۔ اُس نے سوچا،اگر یہ سچ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر ولیم تک میرے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتے ہیں تو کیوں سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے تھانیدار پر دباؤ نہیں ڈال رہے ؟جبکہ آج اس واردات اور قتل کو آٹھ دن گزر چکے ہیں۔ غلام حیدر یہ سوچتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے مخاطب ہوا،مگر سر سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے کون سی مشکل ہے کہ ابھی تک وہ حوالات میں نظر نہیں آتا۔ آپ کی سرکار میں پہلے تو کبھی ایسی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔ میری خبرکے مطابق وہ ابھی آرام سے نہیں بیٹھا، نہ بیٹھے گا، مزید کوئی نہ کوئی فساد پیدا کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے بسکٹ کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہوئے کاندھے اُچکائے،پھر شیخ مبارک حسین کو مخاطب کرتے ہوئے بولا،شیخ صاحب، برخوردار کو سمجھائیں اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھے۔ گورنمنٹ کے کام کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ویسے بھی یہ چھوٹے موٹے کام پولیس انتظامیہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ کمشنروں کے کرنے کو اور بہت کچھ ہے ہیں۔ کچھ اصول اور قاعدہ ہوتاہے۔

 

ہمیں معلوم ہے اس معاملے میں تاخیر ہوئی ہے یانہیں۔ سودھا سنگھ جلد گرفتار ہو جائے گا۔ اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو میں ولیم سے تاکید کر دیتاہوں۔یہ کہہ کر اُ س نے شیخ مبارک حسین کی طرف الوداعی سلام کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ اس کامطلب تھا کہ میٹنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ مبارک حسین نے اشارے کو سمجھتے ہوئے فوراً اٹھ جانے میں بہتری خیال کی اور ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا کیونکہ مزید بولنا صاحب کا موڈ خراب کرنے کے مترادف تھا۔ جس کا اشارہ اُُس کے آخری رویے سے مل چکا تھا۔ شیخ مبارک کو دیکھ کر غلام حیدر بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے بھی صاحب کے ساتھ بے دلی سے ہاتھ ملایا اور کمرے سے باہر نکلنے کے لیے مڑا۔اسی اثنا میں ڈپٹی کمشنر کی آواز دوبارہ سنائی دی، جس کا تخاطب تو شیخ مبارک حسین تھا مگر غلام حیدر نے بھی مڑ کر ڈپٹی کمشنر کی طرف دیکھا،

 

شیخ صاحب ایک بات آپ کے فائدے کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ حیدر کو سمجھائیں قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریزکرے۔مجھے افسوس ہوا ہے کہ سودھا سنگھ نے قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ جس کا اُسے خمیازہ بھگتنا ہے مگر ایسا نہ ہو کہ اُس کی دیکھا دیکھی ہمارا دوست بھی جھنڈو والا کو میدان جنگ بنادے (پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)مسٹر آپ پڑھے لکھے ہیں۔ ذرا آہستہ اورسمجھ داری سے چلیں اور قانون کاساتھ دیتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ولیم آپ کے حق میں بُرا نہیں ہے۔کل یا پرسوں آپ کو بہت اچھی خبر ملے گی۔ گڈ بائے

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے کے یہ آخری جملے ایسے تھے جنھوں نے چلتے چلتے شیخ مبارک حسین اور غلام حیدر کی ڈھارس بندھا دی۔ خاص کر یہ جملے شیخ صاحب کو بہت ہی پسند آئے جو بڑی دیر سے اپنی خجالت محسوس کر رہاتھا اور سوچ رہاتھاکہ اُس نے ناحق غلام حیدر کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے پاس آکراپنا بھرم گنوا لیا۔ اب کمشنر صاحب کی اِن باتوں نے شیخ صاحب کی کچھ نہ کچھ عزت رکھ لی تھی۔ غالباً کمشنر صاحب نے آخری وقت میں محسوس کر لیاتھاکہ اُس کے ہاتھوں سے شیخ صاحب کی ذلت ہو گئی ہے۔ شاید اسی لیے اس نے یہ چند کلمات ادا کر کے تکدر دُور کرنے کی کوشش کی تھی۔

 

(21)

 

ایس ڈی او جنتا مان نقشے پر درج شدہ تمام معلومات جب ولیم کے گوش گزار کر چکاتو ولیم اُٹھ کر خود دیوار پر آویزاں اُس دس فٹ لمبے اور آٹھ فٹ چوڑے کپڑے پر بنے نقشے کے قریب کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیرخاموشی سے اُس کا جائزہ لینے کے بعد بولا، جنتا مان، جلال آباد کے اِس سارے حدود اربعے میں جو بات مجھے سمجھ آئی ہے، وہ یہاں کا ناقص نہری نظام ہے۔یقیناً یہاں کام چوری اور بددیانتی کے سواکچھ پیدا نہیں ہوتا۔(چھڑی سے مختلف مقامات کی نشاندھی کرتے ہوئے) کیاآپ دیکھ رہے ہیں کہ روہی کا تمام علاقہ زیریں اور اپّر اور بنگلہ سے اُوپر کا علاقہ، یہ تمام کا تمام آب پاشی سے یکسر خالی ہے۔ حالانکہ اس پورے علاقے کی زمین نشیبی ہے اور پانی کا بہاؤ نہایت آسانی سے اپنی تہیں بچھا سکتا ہے۔ کیا ہمیں اِس بہت بڑے علاقے کی ضرورت کااحساس نہیں ہونا چاہیے؟ جبکہ آپ کے پاس وسطی پنجاب کی حد پر بہتے ہوئے ستلج کا چوڑا پاٹ اپنی کشادہ پیشانی سے دعوت دے رہاہے۔ کیا ہمارا اس سے فائدہ اٹھانا فرنچ کو ناگوار گزرتا ہے جن کا وجود کم ازکم میری معلومات کے مطابق یہاں نہیں ہے؟ ہم اِس بنگلہ سے جلال آباد تک آنے والے برساتی نالے کو اِس کام کے لیے استعمال کر کے اُسے میٹھے پانی کی بہتی ہوئی نہر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔جبکہ ایک ہیڈ برج پہلے سے سُلیمانکی پر موجود ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی سر دردی اور زحمت گوارا کریں،جو اس قدر ضروری ہے جس قدر ہمارا اپنا وجود، تو یہ خاکستری زمینیں سبز رنگوں میں بدل جائیں۔ ولیم نے معنی خیز انداز میں جتنا مان کی طرف دیکھ کر پوچھا، کیا خیال ہے آپ کا جنتا مان؟

 

سرآپ کی یہ حکمت تو واقعی ایک اہم قدم ہے جلال آباد تحصیل کے لیے،جنتا مان بولا “مگر میں سرکار کی خدمت میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس ہیڈ سے نہر پہلے نکل چکی ہے۔ یہ آپ کی چھڑی کے اُوپر اُسی کی لائن جا رہی ہے لیکن اس کا پانی گورنمنٹ نے ریاست بہاونگر کو سیراب کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ہم دوسری نہر یہاں سے کیسے نکال سکتے ہیں؟
اسی سے، ولیم نے نقشے پر نہر والی جگہ کو چھڑی سے ٹھوہکا دیتے ہوئے کہا، اِسی نہر سے جنتا مان، ہم ایک دوسری نہر نکال سکتے ہیں،جو جلا ل آباد کے زیریں اور روہی کے پورے علاقے کو سیراب کرے گی۔

 

نہر کا تمام عملہ جو میٹنگ میں موجود تھا ولیم کی اس بات پر متعجب ہوا۔وہ جانتے تھے ولیم جو کہ رہا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اِس کام کے لیے لاکھوں روپے کا فنڈ اور منصوبہ بندی درکار تھی۔ جس کے لیے کم از کم گور نمنٹ اُن کی سروس کے دوران تو اجازت دینے پر ر ضامند نہ ہو گی اور اگر ہو بھی گئی تومنصوبہ بناتے ہوئے کئی برس بیت جائیں گے،لیکن خاموش رہے اور ولیم بولتا چلا گیا۔

 

دیکھیں ہم اس ہیڈ کی گیج کو بڑھا کر دُگنا کر دیں گے اور تین در مزید کھول دیں گے۔ اِسی طرح اِس نہر کا پاٹ بھی دُگنا کر دیں گے۔جو ہیڈ سے لے کر چار کلو میٹر تک چلے گا اور یہاں گونا پور کے مقام پر ہم اپنی نہر کا رُخ روہی کے زیریں علاقے کی طرف موڑ دیں گے۔ یعنی جتنا پانی ہم نے ہیڈ سے ریاست کی نہر کو دیا ہو گا، وہ پانی ہم جلال آباد کی تحصیل کے لیے اس طرف موڑ لیں گے۔ جس کے لیے ہمیں اُس نہر کی ضرورت ہے، جو ابھی تک ہم نے نہیں کھودی۔ یہ نہر روہی کے ساتھ ساتھ فاضلکا بنگلہ کے بالائی حصوں اور اُن علاقوں کو پانی دیتی ہوئی، تارے والی، سے اس برساتی نالے میں گر کر جلال آباد اور سری مکھسر کے درمیان تک پہنچ جائے گی۔پھر جلال آباد شہر کو چُھو لے گی۔ اس نہر کا پاٹ پچاس فٹ ہو گا اور گہرائی آٹھ فٹ۔ جہاں سے ہم ریاست کی نہر کو الگ کریں گے، وہاں ایک گیج لگادیں گے تاکہ اپنا پانی بغیر خیانت کے حاصل کر لیں۔

 

بیر داس، جو تمام گفتگو بہت تحمل سے سن رہاتھا اور نہری سپر وائزر تھا “بولا” سر اس کے لیے بہت بڑے بجٹ کی اور وقت کی ضرورت ہے۔ میں جانتاہوں، اس کام میں کتنا خرچہ اُٹھے گا اور کتنا وقت لگے گا اور کتنے لوگوں کی ضرورت ہو گی۔

 

ولیم مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آیا اور اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولا “ بیر داس مسائل اور مصیبتوں کے آگے صبر اور حرکت کی ڈھال باندھی جاتی ہے۔گھبرایے نہیں۔رہی بات تمھارے سب کچھ جاننے کی تو یہ بہت عمدہ بات ہے۔ ہمیں آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے،جو اس طرح کی معلومات رکھتے ہوں۔ سرِ دست میں آپ کی ایک کمیٹی بنا رہاہوں، جس کے سربراہ جنتامان ہوں گے۔ آپ کے پاس ایک ماہ ہو گا۔اس عرصے میں سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھو، تمام علاقے کی پیمائش کرو اور اخراجات سے لے کر ممکنہ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی فائل کو تیار کرو۔ آپ کی مدد کے لیے میں ڈیوڈ صاحب کو آپ کے ساتھ کر دیتاہوں۔یہ نہر کے تیار کرنے میں اتھارٹی کادرجہ رکھتے ہیں۔ تمام لوگ اِن سے ہر طرح کی مدد لے سکتے ہیں۔ ہم ایک مہینے کے اندر یہ تیار شدہ رپورٹ حکومت کو پیش کر دیں اور اُنھیں میرا خیال ہے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔لیکن پہلا کام جو نہایت محنت طلب اور جانفشانی کا ہے، وہ آپ کریں گے،جس کے لیے میں ابھی سے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اِس کے بعد ولیم بیر داس سے مخاطب ہو کر بولا، بیرداس آپ نہر کے فوائد اور اِس میں گورنمنٹ کو جو کچھ خرچ کے بعد حاصل ہو گا،اُس کا بھی پورا حساب کیجیے گا۔ یہ رپورٹ کسی بھی طرف سے ناقص نہیں رہنی چاہیے۔ کیامیری بات آپ کی سمجھ میں آچکی ہے؟

 

جی سر،جنتا مان نے نہایت گرم جوشی سے جواب دیا۔

 

گُڈ، اب ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں، ولیم نے میٹنگ ختم کر تے ہوئے کہا لیکن جنتا مان، آپ، بیرداس، ڈیوڈ اور میں کل اس سلسلے میں دورہ کر رہے ہیں۔ ہم یہاں سے بنگلہ، وہاں سے ہیڈ سلیمانکی اور واپسی پر نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گونا پور،جہاں سے ہماری اصلی نہر کی بنیاد شروع ہو گی، سے روہی کی طرف مڑ جائیں گے۔پھر روہی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جلال آباد واپس آئیں گے۔ میرا خیال ہے صبح آٹھ بجے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ رات ہیڈ سلیمانکی پر بسر کریں گے۔ وہاں مسٹر میتھیو ہماری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں گے۔
یہ کہتے ہوئے ولیم دروازے سے نکل کر راہداری سے ہوتا ہوا چائے کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔جبکہ نجیب شاہ رہنمائی کرتے ہوئے ساتھ چل رہاتھا۔ اُن دونوں کے پیچھے نہر اور مال کا پورا عملہ بھی اُس کمرے سے باہر نکل آیا،جو پچیس افراد پر مشتمل تھا۔

 

چائے کاکمرہ تیس فٹ لمبا اور پندرہ فٹ چوڑا تھا۔ ایک قسم کا کانفرنس ہال کہہ سکتے ہیں لیکن اس کام کے لیے شاید کبھی استعمال نہیں ہو سکا تھا۔ یہاں نہ تو اس قسم کی کرسیاں تھیں اور نہ ہی کانفرنس کے باقی لوازمات، لاؤڈ سپیکر یا اسٹیج وغیرہ۔ ایک لمبی میز ضرور تھی، جس پر چائے کا سامان پڑا ہوا تھا۔ میز پر سفید رنگ کا نہایت نفیس کپڑا اور خوبصورت چائے کے برتن نجیب شاہ کی انتظامی نفاست کی غمازی کر رہے تھے۔ کمرے کی دیوار پر سفید قلعی تھی۔ لیکن دیواروں پر داغ دھبا نظر نہ آنے کے باوجود محسوس ہو رہاتھاکہ کمرے کو بناتے وقت جو رنگ کیاگیا تھا، اُس پر دوبارہ قلعی کرنے کی نوبت ابھی تک نہیں آئی تھی۔ایسے لگتا تھا کہ کمرہ اکثر بند ہی رہتا ہے اور جب زیادہ چائے پینے والے ہوں تو اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب تو نجیب شاہ کو محسوس ہو گیا تھا کہ یہ اکثر کھولنا پڑے گا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں میں ثابت ہو گیا تھا کہ ولیم روایتی اسسٹنٹ کمشنروں کی طرح کا نہیں ہے جو محض افسری کرنے آتے ہیں۔ویسے بھی ولیم سے پہلے زیادہ تر تحصیلدار ہی جلال آباد میں پوسٹ ہوتے رہے تھے، جو اکثردیسی لوگ ہی ہوا کرتے تھے۔ گورنمنٹ یا عوام کے لیے کام کرنے کو وہ غالباً ثانوی حیثیت پر ہی رکھتے تھے۔ اُن کا اصل کام تو ہندوستانیوں کو یہ جتلانا تھا کہ وہ اُن کے حاکم بنا دیے گئے ہیں اور وہ اُن کی رعایا ہیں۔اِسی وجہ سے اس کمرے کے کھولنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

 

نجیب شاہ نے سوچا، ولیم کا آئے دن علاقے کا دورے کرنے کا سلسلہ بڑھا تو کام کی شدت خود بخود بڑھ جائے گی۔ کیونکہ یہ دورے نہ تو سؤروں کے شکار کے سلسلے میں تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں کی عادات وخصائل سے محظوظ ہونے کے لیے۔ جس کا پہلے والے افسروں میں بہت زیادہ رواج تھا۔ چائے کے دوران پندرہ منٹ تک ادھر اُدھر کی گپ بازی کے بعد ولیم اپنے کمرے میں چار پانچ انگریز افسروں کو لے کر آ گیا۔ باقی لوگوں کو اپنی میزوں پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان افسروں میں، ڈیوڈ، انجینئر جوزف، ایکسئین سٹیورٹ، مالیکم تحصیل دار اور براہم میتھیومحکمہ مال کا انسپکشن افسر شامل تھے۔

 

جب چاروں سامنے بیٹھ چکے تو ولیم نے سب کو مخاطب کر کے ایک بھرپور تقریر کی۔ اس تقریر سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ دلی جذبات کے ساتھ کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اُس نے اپنے باپ اور دادا کو ماتحت افسروں سے مخاطب ہوتے دیکھا تھا۔ اس لیے کچھ وہ تجربہ اور کچھ ذاتی جوش و خروش نے ایسے الفاظ کا رُخ ڈھال لیا کہ آفیسرز ولیم کا کام کے سلسلے میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔اُس نے نے اپناہیٹ میز پر رکھا اور بولا،

 

ڈیئر آفیسرز، میں جانتا ہوں کہ میں جلال پور میں ایک اجنبی، ناتجربہ کار اور نو آموز داخل ہوا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے آپ کا تجربہ، آپ کا علم اور علاقے کے متعلق آپ کی شناسائی میرا ذاتی سرمایہ ثابت ہو گی۔ اس سلسلے میں آپ میرے پیش رو، مجھے طاقت دینے والے اور کام پر اُکسانے والوں میں سے ہوں گے۔ میرے دوستو، میں آپ ہی کی طرح حکومت سے تنخواہ لینے والا اُس کا ملازم ہوں تاکہ علاقے میں اُس کے قوانین کی عملداری کا فریضہ انجام دوں۔حکومت کے لیے خراج اور مالیہ جمع کروں، نظم و ضبط اور خیر خواہی کا فرض ادا کروں، یہاں کے اَن پڑھ اور گنواروں کو تعلیم، تہذیب اور سماجی معاشرتی اور معاشی اقدار سے آگاہ کروں، جس سے یہ لوگ ایسے ہی دور ہیں جیسے یورپ اِن سے دور ہے۔ لیکن اس کے ساتھ میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہوں گاکہ یہ سب کام تب ہی اچھے طریقے سے انجام پا سکتے ہیں جب عوام کی خوشحالی اور اُن کے جان و مال کی حفاظت اور اُن کے روزگار کے مسائل درست ہوں گے۔ آپ مجھے جتنا بھی اِن لوگوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے میں لیکچر دیں، مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود صرف اس لیے اپنے سابقہ آقاؤں کے کام نہ آ سکے کہ اِنہیں ہر معاملے میں مکمل طور پر بانجھ رکھا گیا تھا۔چنا نچہ ہمیں پہلے یہاں کے عوام کی فلاح کے لیے اقدام کرنے ہوں گے،بطور حاکم یہ ہما را پہلا کام ہے۔ یاد رکھو،یہاں جگہ جگہ پر اُگی ہوئی خود رو جڑی بوٹیاں اور سرکنڈے اگر عوام کے لیے مُضر ہیں تو ہمارے لیے بھی مُضر ہیں۔ یہاں کی پبلک بھوکی مرے گی تو ہم بھی زیادہ دیر گائے کے تازہ دودھ نہیں پی سکتے۔ گورنمنٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جس مٹی سے تم سو روپیہ نکالو اُس میں سے بیس روپے اُسی مٹی پر ضرور خرچ کرو تاکہ مزید سو روپیہ حاصل کر سکو۔ یہ طریقہ اُسی مرغی کی مثال ہے جسے آپ ایک دمڑی کا دانہ دے کر درجن انڈے لیتے ہیں۔ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ہندوستان ایسی مرغی نہیں جو کُڑک ہو اور ہمیں انڈا دینے سے انکار کر دے۔ ہمارا سابقہ تجربہ بتاتاہے،جس نے اس کی مٹی کے حلق میں پانی کے چند قطرے انڈیلے، اِس کے پستانوں نے اُس کے کٹورے میٹھے دودھ سے بھر دیے،۔عوام کی خوشحالی، حکومت کی عزت اور وقار کا پروانہ ہوتی ہے اور اس کی مفلسی بادشاہ کو بے وقار کر دیتی ہے۔ کوئی بھی حاکم زیادہ دیر تک اپنی رعایا کا گوشت نہیں کھا سکتا،۔ یاد رکھو بیمار رعایا کا گوشت بھی بیمار ہوتا ہے، جس سے کینسر پھوٹتے ہیں اور جو اندر ہی اند ر ہی بادشاہ کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی رعایا کو صحت مند اور باوقار دیکھنا ہے تاکہ ہم خود باوقار نظر آئیں۔ مسٹر جوزف مَیں یہ نہیں کہتا کہ میں افسری کرنا پسند نہیں کرتا اور کام کامجھے بہت شوق ہے۔ یقیناً مجھے اسسٹٹ کمشنر ہونا پسند ہے۔ اگر میں بطور افسر یہاں نہ آتا تو شاید مجھے بھی عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔مگر میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اب اپنی مصروفیت کا مرکز سیر وشکار کو بنا لوں اور کام بالکل نہ کروں۔ میں یہاں ہر صورت کام کروں گا جس کے لیے مجھے مدد گار اور دوست چاہییں۔ میں نہیں جانتا کہ میں یہاں کتنے دن رہوں گا، مگر جتنے دن رہوں گا، زمینوں کو آباد کرنا اور لوگوں کو تعلیم دینا میری اولین ترجیح ہو گی اور آپ کو اس سلسلے میں میرا ساتھ دینا ہو گا۔ میں دیسی لوگوں پر انحصار نہیں کرتا۔ ان کے اندر کام کی بجائے چاپلوسی اور کام چوری کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

 

مسٹر ڈیوڈ، یہاں کی زمینوں اور لندن کی مٹی میں یہ فرق ہے، اگر یہاں بیج بو کر پانی دو گے تو ہرابھرا پودا سر نکالے گا مگر وہاں بیزار کر دینے والی سردی اُسے برف میں بدل دے گی۔اور وہ مسلسل کی بارش اُسے گلا دے گی جو تمہاری رگوں تک اُتر ی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس عقل ہے اور ہندوستان کے پاس وسائل۔یہی ہماری اور ہندوستان کی خوش قسمتی ہے۔ اس لیے جو ذمہ داری مجھ پر ہے، مَیں اپنے حصے کی پوری کروں گا، آپ اس کے لیے مجھے طاقت اور بازو دیں گے۔ کل میرے ساتھ دورے پر چلو۔ہم اِن تمام معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے دو دن میں واپس آ جائیں گے۔

 

ولیم ہیٹ دوبارہ سر پر رکھتے ہوئے کرسی سے اُٹھا اور بولا، مسٹر مالیکم آپ کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ آپ اس معاملے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟
مالیکم جو اڑتالیس سال کی عمر کا پختہ تحصیل دار تھا اور پچھلے تین سال سے یہیں پر تھا، نہایت تحمل سے بولا،سر کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی افسر کی خواہش پر اُس کے ماتحت نے کام کرنے سے انکار کیا ہو؟ماتحت کا کام عمل درآمد کرنا ہے۔ افسرجس قدر اپنے حکم میں مخلص ہو گا، ماتحت اُسی اخلاص سے عمل کرے گا۔ ہمیں آپ کی خواہش معلوم ہو گئی، آپ کی محکم رائے کا اندازہ ہو گیا اور حکم کے اخلاص پر یقین آ گیا ہے۔ اب آپ جو چاہیں گے ہم اُسے ہر حالت میں ممکن بنائیں گے۔

 

ولیم خوشی اور مسرت سے اٹھتے ہوئے بولا، بہت خوب مالیکم صاحب، بہت خوب، ہم کل بنگلہ فاضلکا میں جا کر باقی معاملات پر بات کریں گے کیونکہ نقشہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ اب آپ جا سکتے ہیں گڈ بائے۔

 

افسروں کے کمرے سے جانے کے بعد ولیم اپنی کرسی پر دراز ہو کر دیر تک خالی الذہن آنکھیں بند کیے سکون سے پڑا رہا۔ آج اُس نے بہت سے کام نپٹائے تھے۔ تین انتہائی اہم میٹنگز میں دماغ کی حالت بچہ پیدا کرنے والی عورت کی سی ہو چکی تھی۔اس لیے وہ دفتر کے کسی بھی معاملے پر آج کے دن مزید غور کرنے سے کترا رہاتھا۔ولیم نے آنکھیں بند کر لیں اور ان فرصت کے لمحوں میں اُسے کیتھی یاد آنے لگی۔

 

وہ اُس کے ساتھ لندن کے مضافات میں گزارے گئے مسحور کن لمحات میں کھو گیا۔ کیتھی کی نیلی آنکھوں میں بلوریں چمک، ماتھے پر گہرے سنہری بال اور یاقوت کے ریزوں میں گُندھے اور پنکھڑیوں میں تِرشے ہوئے باریک ہونٹ ولیم کی آنکھوں میں چاقو کی سی تیز دھار کے چرکے لگا رہے تھے۔بالائی ہونٹ کے اوپر سُرمئی تِل ولیم کے سامنے تصویریں بن کر گھومنے لگا۔

 

یونیورسٹی کے صحن میں چھو ٹے سے پہاڑی ٹیلے پر جمی ہوئی برف کے اُوپر جب گرتے گرتے وہ اُس کی باہوں میں جھول گئی اور پھر دونوں لڑھکتے ہوئے نیچے تک آ گئے تھے، جس دوران اُس کے بازو کی ہڈی بھی تڑخ گئی۔ اُس وقت کیتھی کا کرب اور تکلیف سے سونے میں گھُلا ہوا چہرہ اور بھی اچھا لگاتھا۔ ولیم کو یاد آیا کہ کرسمس کی رات تو قیامت برپا کر دینے والی تھی، جب لہروں میں گھومتی ہوئی سرد شام کی دُھند میں وہ دونوں لندن کے جنوبی مضافات میں موجو د تاریخی گرجا گھر (ایس ٹی سوویئر )میں گئے تھے۔ جسے بُردت خاندان نے ۱۶۲۲ میں اپنے ذاتی فارم ہاؤس میں بنایا تھا اور اُس خاندان کی بہت سی یادگار بھی اس کے اندر موجود تھیں۔اُس شام چناروں کے زرد پتوٌ ں کے گرتے ہوئے شور اور کھڑکھڑاہٹ میں ہر چیز کس قدر رومان انگیز ہو گئی تھی۔ اُس رومان پرور ماحول میں بھورے آسمان سے اُترتی ہوئی دُھند اور کُہر نے اُن دونو ں کے چہرے اس طرح بھگو دیے تھے جیسے دو فرشتوں کو دُھلا ہوا سفید نور اپنی ٹھنڈک کے حصار میں لے لے اور پھر اُنہیں اُڑائے اُڑائے سفید خو شبو کی وادیوں کی سیر کراتا پھرے۔ گرجا سے واپسی پر وہ اور کیتھی ایک دوسرے کی بانہوں میں جھولتے ہوئے بہت دیر چناروں کے باجتے پتوں کی سر سراہٹ میں دور تک چلتے رہے تھے۔ پھر بگھی پربیٹھ کر اپنے کمرے میں آئے تھے۔اُس وقت کیتھی کا چہرہ کتنا سُر خ اور سبزی گھُلی ہوئی سفید یوں میں دہک رہا تھا۔گرم کمرے میں سُرخ کوئلوں سے اُٹھتی ہوئی حرارت کے پاس چند منٹ تک بیٹھے رہنے کے بعد اُس نے کیتھی کا بوسہ لیااورپھر وہ بیڈ پر لیٹ گئے۔ اُس وقت پہلی دفعہ اُس نے کیتھی کے سنہرے بالوں سے انگلیوں میں خلال کرتے ہوئے سینے پر کَسی ہوئی شرٹ سے اُبھاروں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں ہلکا ہلکا دبایا اور ساتھ ہی اُس کی شرٹ کے عنابی بٹن بالترتیب کھولتا گیا۔ جس کے نیچے دودھیا لمس اور دوبلوریں آئینے اور اُن آئینوں کے درمیان حشر خیز سفید اور نرم و ملائم نشیب تڑپ رہا تھا۔آئینوں پر ہاتھ رکھ کر اُس نے جب اپنے ہونٹ اُس نشیب پر رکھے تو کیتھی کس طرح دوہری ہو ہو کر گرتی تھی۔ ایسے میں اُس کا سینہ اُبھر ُابھر کر ولیم سے لپٹ لپٹ جاتا تھا۔اسی حالت میں کیتھی کی سانسیں تیز تیز حرکت کرنے لگیں تو اُس نے کیتھی کی بلاؤز کے تمام بٹن کھول کر دودھ میں نہائے ہوئے پستانوں کی نرمی اور ناف کے ہیرے میں چمکتی ہوئی بالی کی حدت کو محسوس کیا تھا۔، تب کیتھی کیسے پیار اور شہوت کے ملے جلے جذبے کے ہاتھوں بے قابو ہو کر دوہری ہونے لگی تھی اور اُس کے گرد اپنی بانہوں کو اس سختی سے جکڑ جکڑ لیتی تھی جیسے ابھی مر جاے گی۔وہ وقت تو عین فتنہ تھا، جب اُس نے کیتھی کی سکرٹ اُتار کر یکدم اپنے ہونٹ اُس کی سرین کے اندر پیوست کر دیے تھے۔ تب تو وہ یوں بے حال ہو کر اُس کے ساتھ گھوم گئی تھی جیسے توری کی بیل شیشم کی ٹہنیوں سے لپٹ جائے۔پھر ولیم اُس منظر کو یاد کر کے تھوڑا سا مسکرا دیا جس میں اُس نے بالآخر کیتھی کی ناف کے اُو پر بیٹھ کر اپنی پینٹ کی بیلٹ بھی بٹن سمیت جلد ہی کھول دی تھی۔جبکہ کیتھی انتہائی بے چینی سے اُس کی شرٹ قریب قریب پھاڑ رہی تھی۔ یہ وہ آخری لمحے تھے جب اُس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی ہلکی روشنی بھی آف کر کے دو دودھیا جسموں کونورانی اندھیروں کے حوالے کر دیا تھا۔ جس کے بعدوہ دونوں خوابوں کی دنیا میں چَلے گئے تھے۔ پھر ولیم تمام اُن بعد میں مسلسل آنے والے لمحات کو یاد کرنے لگا۔جس میں اُس نے کیتھی کی نیلی رگوں میں سُرخی بھر دی تھی، مگر وہ پہلی رات کا منظر تو کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔

 

کرسی پر آرام سے پڑے پڑے وہ کتنی ہی دیر اُن یادوں میں کھویا رہا پھر اچانک سیدھا ہو کر بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔کرم دین اندر آیا تو ولیم نے اُسے کہا، کافی کا ایک کپ لاؤ اور نجیب شاہ کو اندر بھیجو۔

 

کرم دین پھُرتی سے باہر نکل گیا۔چند لمحوں بعدنجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اُسے ہدا یات دینا شروع کر دیں،نجیب شاہ اِسی وقت لند ن میں ایک تار بھیج دو، میں ابھی پانچ منٹ میں آپ کو ایک لیٹر دے رہاہوں، دوسری بات یہ کہ ہمارے کل کے دورے کے لیے کیا بندوبست کیاہے؟

 

سر تین جیپیں تیار ہیں،نجیب شاہ بتانے لگا، جن آفیسرز کے نام آپ نے بتائے ہیں وہ اور ڈی ایس پی لوئیس صاحب بھی چھٹی سے واپس آچکے ہیں،اگر آپ حکم دیں تو انہیں بھی پیغام بھیج دیتا ہوں۔ ان کے علاوہ انسپکٹررام داس اور چھ سنتری مزیدہیں۔میں نے ضرورت کی تمام چیزیں بھی بالکل تیار کروا دی ہیں جو سفر میں کام آ سکتی ہیں۔

 

گُڈ، ولیم نے مسکراتے ہوئے اظہارِ مسرت کیا پھر ایک کاغذ پر کچھ لکھتے ہوئے اُسے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ اتنے میں کرم دین کافی لے کر آ گیا۔ کافی کی گرم گرم اٹھتی ہوئی بھاپ نے ولیم کی اشتہا بڑھا دی،۔وہ کافی کی چسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ کیتھی کو خط لکھنے لگا۔
پیاری کیتھی تمھیں خط لکھے بہت دن ہو گئے۔ آج سے چار دن پہلے تمھاراخط ملا تو میں پڑھنے کے بعد دیر تک اُسے چومتا رہا پھر سینے پر رکھ کر سو گیا۔ خواب میں تم ملیں اور مَیں نے دیکھا تم میرے سینے پر لیٹی ہوئی ہو۔پیاری کیتھی اب تمھیں یہ کہنا بالکل واہیات لگتا ہے کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ اب تو ہم محبت کی خندقیں پاٹ کر کے اشتہاؤں کے قلعے کی فصیلوں کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ جس میں ہم تیسری قوت کا مقابلہ ایک جسم بن کر کریں گے۔ ہم محلوں میں رہیں گے، تکیوں کے درمیان لیٹیں گے اور ریشمی گدٌوں پر بیٹھ کر فانوسوں کی رونق میں چہلیں کریں گے جس میں کوئی تیسرا مخل نہ ہو۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں،تمھارے خواب کی تکمیل میں جُتا ہوا ہوں اور سخت محنت کر رہا ہو ں تاکہ تمھاری خوابگاہ تیار کرنے کا خواب پورا کر سکوں۔ یہاں دفتر میں کام بہت بڑھ گیا ہے۔تم جانتی ہو، تمہارا ولیم اب ایک عام اور کھنڈرا لڑکا نہیں رہا۔میں جانتا ہوں تمھیں یقین نہیں آ رہا ہو گا مگر یہ سچ ہے میں اب بڑے بڑے کام کرنے لگا ہوں۔ جیسا کہ کمشنروں کی بہت سی سنجیدہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، میری بھی ویسی ہی سنجیدہ ذمہ داریاں ہیں۔ یقین مانو میں یہاں بڑی بڑی میٹنگیں کر رہا ہوں جن میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ دیسی لوگ تو ایک طرف،یہاں کے انگریز افسر بھی مجھے سلام کرتے ہیں۔ میں نے تمھیں کہا تھا،ایک دن تم ایک بڑے کمشنر کی بیوی ہو گی جو ہندوستان کی کھلی سڑکوں اور شاداب وادیوں کی سیر کو نکلا کرے گی۔ بس وہ دن قریب آ گئے ہیں۔ میں یہاں کچھ اہم کام نپٹا لوں اُس کے بعد چند ماہ میں ہی تمھیں بیاہ کر ہندوستان لے آؤں گا۔ بس چند ماہ اور انتظار میری جان۔ سرِ دست میں یہاں اپنا وجود ثابت کرنا چاہ رہاہوں اور مجھے یقین ہے وہ جلد ہی ہو جائے گا، اُس کے بعد ہم تم ہوں گے اور ہندوستان پر ہمارا اقتدار اور تمہاری نوکرانیوں اور ملازماؤں کے گروہ کے گروہ ہوں گے، ہمارے دو پیارے پیارے تمہارے جیسے بچے ہوں گے۔ اب ایک بوسہ دو

 

تمہارا اور تمہارا ولیم

 

ولیم نے کافی کی آخری چُسکی کے ساتھ ہی خط کی تحریر کو انجام دیا پھر نجیب شاہ کو طلب کر کے خط اُس کے حوالے کیا اور کہا،اِسے ابھی بذریعہ تار کیتھی کو روانہ کردے۔ نجیب شاہ کے کمرہ سے نکلنے کے بعد ولیم نے کلارک کی طرف دیکھا، وہاں چار بج رہے تھے۔ اُس نے سوچا کہ آج تو وقت نکلنے کا احساس ہی نہیں ہوا اور اگر دفتر کی مصروفیات اسی طرح رہیں تو زندگی کے نکلنے کا بھی پتا نہیں چلے گا۔ ایک دو منٹ آج کے گزرے واقعات پر دوبارہ نظر دوڑانے کے بعد وہ کرسی سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر سامنے ہی کلرکوں کے کمروں کے درمیان والی ساٹھ فٹ لمبی اور دس فٹ چوڑی راہداری عبور کرکے باہر کی چوکی پر پہنچا تو اُسے اپنی پُشت پر کئی آفیسرز اور کلرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ غالباً وہ اسی انتظار میں تھے کہ کب صاحب کمرے سے باہر نکلے اور اُن کی آج کے دن سے جان چُھٹے۔ ولیم نے سب پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ طائرانہ سی نظر ماری اور آگے بڑھ گیا۔کسی کی جُرات نہیں ہوئی آگے بڑھ کر ولیم سے سلام لے یا اُسی کی طرح مسکرا کر جواب دے۔وہ سب فقط ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور جب ولیم آگے بڑھ گیا تو دو آفیسر بھی اُس کی تائید میں پیچھے پیچھے بنگلے کی طرف پیدل ہی چل پڑے جو دفتر کی عمارت سے زیادہ سے زیادہ دو سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ افسروں کے ساتھ چار سنتری بنگلے تک آئے۔ اس پیدل واک کے دوران ولیم نے کسی سے کوئی بات نہیں کی البتہ بنگلے کے گیٹ کے اس طرف ہونے کے بعد انھیں تھینکس ضرور کہا۔

 

(22)

 

دلبیر سنگھ صبح سات بجے ہی جیپ اسٹارٹ کر کے ولیم کے بنگلے پر آگیا تھا باقی کا بھی تمام عملہ پونے آٹھ بجے تک پہنچ گیا اور پورے آٹھ بجے ولیم اپنے بنگلے سے باہر نکل آیا۔ مالیکم کے ساتھ ہاتھ ملا کر باقی سب کو گڈ مارننگ پر ہی اکتفا کیا اور آگے بڑھ کر جیپ میں بیٹھ گیا۔ ولیم کے بعد دوسرے بھی جیپوں کی طرف بڑھے اور سوا آٹھ بجے ولیم جلال آباد سے نکل پڑا۔

 

یہ دن فروری کے آغاز کے تھے۔ بنگلے کے دائیں طرف کھڑے پیپل کے پتے مسلسل گرتے رہنے سے سڑک پر زردی بکھر چُکی تھی۔سڑک کچی تھی لیکن اُس پر اینٹوں کے بھٹے سے بچ جانے والی پکی اینٹوں کی ملی جُلی کیری اور ریت پوری سڑک پر دور تک پھینکی گئی تھی تا کہ گرد نہ اٹھ سکے۔ یہ سُرخ رنگ کی کیری کمپلیکس سمیت جلال آباد شہر کی قریباًتمام سڑکوں پربھی ڈال دی گئی تھی جو وافر مقدار سے بھٹوں سے مل جاتی تھی۔ روز کی روز اُن پر ماشکی چھڑکاؤ بھی کر دیتے۔جس کی وجہ سے مٹی بیٹھ جاتی۔ اس سڑک پر بھی صبح ہی ماشکی چھڑکاؤ کر کے جا چکا تھا۔ بلکہ تحصیل کا بڑا صاحب ہونے کی وجہ سے ولیم کے گھر کو جانے والی سڑک پر چھڑکاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا۔ آج ہوا قدرے تیز اورٹھنڈی چل رہی تھی۔ اس لیے ولیم نے نکلتے وقت گلے میں مفلر بھی لپیٹ لیا۔ جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑا تو مضافات میں کچھ کچھ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وسطی پنجاب کے بر عکس یہاں درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لیے نظر دُور تک چلی جاتی تھی اور جیسے ہی جیپیں جلال آباد سے دور ہونا شر وع ہوئیں۔ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت بھی کم ہونا شروع ہو گئے۔جب جلال آباد چار میل پیچھے رہ گیا تو ہر طرف ویرانی ہی ویرانی نظر آنے لگی۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کے بجائے دو رویہ سرکنڈوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ تھے۔ جن سے کبھی خرگوش اور کبھی گیدڑ یا سؤر جیپوں کے شور سے اچانک نکل کر بھاگ اُٹھتا اور کبھی کانٹوں والی سیہہ سڑک پر جیپ کے آگے آگے تھوڑی دُور تک دوڑ کر دوسری طرف غائب ہو جاتا۔ سورج جیسے جیسے بلند ہو تا جا رہا تھا، سڑک کی گرد جو رات میں پڑنے والی اوس سے جم چکی تھی،وہ غبار بن کر اُٹھنے لگی۔ حتیٰ کہ جیپوں کے پیچھے دھویں اور گردو غبار کے بادل سے چڑ ھ جاتے اور پیچھے کی طرف دیکھنے سے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ قافلہ ٹوٹیانوالہ،بدھو کے اور جمالکے سے ہوتا ہوا آگے فاضلکا بنگلہ کی طرف بڑھتاگیا۔

 

ولیم بڑی گہری نظروں سے اِس پورے علاقے کا جائزہ لیتا ہوا جا رہاتھا۔ سڑک پر ریت اور مٹی کی ملی جُلی گرد تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس پورے علاقے پر دریا کا کافی اثر تھا۔ اِس وجہ سے کہیں کہیں کیکر اور بہت زیادہ عک، کریر اور ون کے درخت تھے۔ان کیکروں اور جھاڑیوں کے علاقے میں جگہ جگہ چرواہے اپنی بھیڑوں اور بکریوں کے ساتھ بکثرت نظر آ رہے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں کاپے اور کاندھوں پر کلہاڑیاں تھیں۔ان کے ذریعے وہ بلند کیکروں کی شاخیں کاٹ کر اُتارتے۔ جن سے ان کی بکریاں تمام پتے اور نرم کونپلیں اس طرح صاف کر جاتیں جیسے کسی مرغی کی کھال کھینچ لی گئی ہو۔ ان چرواہوں کی سادگی اور اپنے حال میں مست رہنے کی کیفیت دیکھ کر ولیم متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ پاؤں میں عموماً چمڑے کے پھٹے پُرانے جوتے اور سر پر ایک چھوٹا سا پٹکا نظر آتا تھا۔ یہ چرواہے اور ان کی بھیڑ بکریاں تھوڑی دیر تک ولیم کی جیپ کو حیرانی سے کھڑے دیکھتے رہتے،اُس وقت تک جب تک وہ اُن کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔بکریوں کی حیرانی دو چند ہوتی تھی کہ اُن کے منہ میں گھاس یا شاخ کی پتی بھی وہیں رک جاتی اور منہ اور آنکھیں دیر تک کھلی رہتیں۔ ظاہری ہیئت سے پتا چلتا تھا کہ یہ چرواہے زیادہ تر مسلمان تھے۔ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ایک ایک یا دو دو میل کے بعد نظر آ رہی تھیں۔ ان آبادیوں کے لوگ بھی کہیں ننگ دھڑنگ بچے، کہیں عورتیں یا مرد جیپوں کو پاس سے گزرتا دیکھ کر حیرت سے تکنے لگ جاتے۔ کوئی بھی آبادی چالیس یاپچاس گھروں سے زیادہ نہیں تھی بلکہ اکثر اس سے بھی کم پانچ دس جھونپڑوں پر ہی مشتمل تھیں۔ ولیم اس پورے ویران اور غیر سبز علاقے کو دیکھتا اور سوچتا جا رہا تھا کہ یہ لوگ کیا کماتے اور کیا کھاتے ہوں گے۔ اُسے ان غریب آبادیوں پر ترس آنے کے ساتھ ساتھ وحشت ہو رہی تھی،جنھیں کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کس حکومت کی رعایا ہیں اور اُن کے کیا حقوق ہیں اور کتنے فرائض ہیں۔ کبھی کبھی اس ویرانی میں دو چار سبز کھیت بھی نظر آ جاتے تھے،جو رہٹ یا بارش کے لطف کا نتیجہ تھے اور حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ سکول اور مدرسے کا تو دُور دُور تک نام ونشان نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،کاش حکومت برطانیہ دولت سمیٹنے کے علاوہ بھی کچھ کام کر سکتی۔ اُسے اِس علاقے کا بنجر پن دیکھ کر وحشت ہونے لگی۔ وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا اور یہاں کے سابقہ ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو کوسنے لگا،جنھوں نے کبھی یا تو اپنے دفتر سے نکل کر دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی یا اگر دیکھا بھی تھا تو وہ کسی بھی احساس سے عاری تھے۔ انہوں نے ان لوگوں کی حالت پر کبھی غور نہیں کیا تھابلکہ ان کے لیے کچھ کرنا تو دُور کی بات تھی،سوچا بھی نہیں ہو گا۔

 

ولیم خیالات کی اسی رو میں گم تھا کہ اُسے ایک ٹیلے پر قصبہ نما گاؤں دکھائی دیا جس کی طرف دو تین گَڈے بھوسے اور چارے سے لدے جارہے تھے۔جن کے آگے بیل جُتے ہوئے تھے۔ان گَڈوں کی خصوصیات یہ تھیں کہ پہیوں سے لے کر ہر چیز لکڑی کی تھی۔لکڑی کے بڑے بڑے پہیے چلتے ہوئے ایسی آواز پیدا کر رہے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کو کھینچنے کے لیے کسی دیو کا کلیجہ چاہیے۔جنہیں بچارے بیل محض اپنے جانور پن کی وجہ سے کھینچے لیے جا رہے تھے۔یہ سراسر جانوروں کے ساتھ ظلم تھا لیکن یہ گڈے ہی وہاں کی مقبول ترین اور مقامی ترکھانوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی بار برداری کی سستی شے تھی۔ اسے چلانے کے لیے صرف دوبیل اور ایک کسان چاہیے ہوتا۔جس کے لیے ضروری نہیں تھا کہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہو۔ بلکہ اُسے ایک چار سال کا بچہ بھی بغیرتجربے کے ہانک کر لے جا سکتا تھا۔ بس وہ گڈے پر بیٹھ سکتا ہو۔ ولیم نے دلبیر سے کہا، دلبیر سنگھ اس قصبے میں جیپ روک دو۔ دلبیر سنگھ نے گاؤں میں داخل ہونے سے چند قدم دُور ہی جیپ روک دی۔ولیم کی جیپ کے پیچھے دوسری دونوں جیپیں بھی آ کر رُک گئیں۔ گاؤں کے ارد گرد ہرے بھرے کھیت لہلہا رہے تھے، جن میں زیادہ تر مکئی، باجرا، گوارہ اور چنے کی فصلیں تھیں۔ ان فصلوں کو دیکھ کر ولیم کو ایک گونہ مسرت اور حوصلہ ہوا۔

 

مالیکم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا، سر اس گاؤں کا نام تارے والا ہے۔ قدرے بڑی آبادی ہے اور زراعت میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تیس فیصد مسلمان ہیں، چالیس فیصد کے قریب سکھ ہیں، بیس فی صد ہندو اور باقی چوہڑے ہیں۔ یہاں پر ایک پرائمری سکول بھی موجود ہے۔
گڈ، ولیم بولا، ہم کچھ دیر اس گاؤں کو دیکھنا چاہیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم گاؤں کی طرف چل دیا۔ کچھ لوگ جیپوں کے رُکتے ہی جمع ہو گئے تھے۔ مگر اب تماشا دیکھنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ خاص کر بچوں کا جوش اور حیرانی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔گاؤں کے مکان زیادہ کچے ہی تھے۔ دو چار پکے مکان بھی تھے مگر وہ بھی ایسے خاص پکے نہ تھے۔ ولیم اور دس دوسرے ملازمین جیسے ہی گاؤں کی طرف بڑھے، مرد، خواتین اور بچے گاؤں کی چوڑی اور کھلی گلیوں میں دو رویہ کھڑے ہو گئے۔ بعض کھسر پھُسر کر کے ایک دوسرے کو سوال بھی کرنے لگے۔ کچھ ڈرے اور سہمے ہوئے بھی تھے۔ غالباً پولیس افسر اور سنتریوں کی وجہ سے یہ کیفیت تھی۔ ولیم کو گاؤں والوں کی حیرانی اور ہیجانی کیفیت سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ اِس سے پہلے انگریز افسروں نے کبھی گاؤں میں قدم رکھا بھی ہو گا تو صرف اُن کی گوشمالی کے پیش نظر، اسی لیے اکثر ڈرے ہوئے تھے۔ گلیاں اس قدر کھلی تھیں کہ پچاس فٹ کی ضرور تھیں۔ انہی گلیوں میں جگہ جگہ پر گدھے اور بھینسیں بندھی تھیں جن کے آگے چارہ بغیر کُترے،لمبے لمبے مکئی، چری اور باجرے کے ٹانڈوں کی شکل میں اکثر چبایا ہوا پڑا تھا۔ بعض جانور اُنہی چبائے ہوئے ٹانڈوں کو بار بار چبا رہے تھے۔ اُس کے پتے وہ کھا چکے تھے۔گدَھوں کے سامنے چاولوں کے باریک چھلکے ڈھیر ہوئے پڑے تھے، جنھیں وہ شوق سے کھا رہے تھے۔ ولیم گزرتے ہوئے ایک گدھے کے پاس پہنچا تو وہ اچانک ہینکنے لگا، جس سے ولیم ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹا۔ اُسے ڈرتے ہوئے دیکھ کر بچے ہنس دیے اور وہ کھسیانا سا ہو کر آگے بڑھ گیا۔ پورا گاؤں کھیتوں کی نسبت بلندی اور ریتلی زمین پر تھا۔اس وجہ سے نہ تو وہاں بارش کے پانی کے آثار تھے اور نہ ہی گندگی نظر آئی۔البتہ درختوں کی یہاں بھی کمی تھی۔ کہیں کہیں کسی گھر کے صحن میں ٹاہلی یا نیم کا پیڑ ضرور نظر آ رہا تھا۔ مالیکم ولیم کو اس گاؤں کے متعلق اپنی معلومات دے رہاتھاجس کا مطلب تھا وہ یہاں پہلے بھی آچکا ہے۔

 

سر، یہاں ایک مسجد، ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی ہے، یہ گاؤں اصل میں نواب سر شاہنواز ممدوٹ کی ملکیت ہے اور انھی چوراسی گاؤں میں سے ایک ہے جو اُن کی ملکیت ہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر محنتی اور جفاکش ہیں۔ ان کو تحصیل جلال آباد ہی لگتی ہے مگر ان کی آمدورفت اور خرید و فروخت تحصیل مکھسر میں رہتی ہے۔ نواب صاحب یہاں کبھی کبھار آتے ہیں۔ یہ جو کچھ اُسے حصہ دیتے ہیں،وہ لے کر چلتا بنتا ہے۔ ادھر اُدھرکھیتوں میں جو رہٹ لگے ہوئے ہیں،یہ سب اُسی نے لگوا کر دیے ہیں۔ گورنمنٹ ان علاقوں پر توجہ اس لیے نہیں دیتی کہ ان کے ذمہ دار نواب صاحب ہیں اور وہ خود دلچسپی کم لیتے ہیں۔ یہاں کے سکول میں بچوں کی تعداد تیس ہے۔

 

مالیکم اس طرح معلومات دیے جا رہا تھا جیسے یہ کوئی نیا ملک تھا جس پر انگریز سرکار حملے کا منصوبہ ترتیب دے رہی ہو۔

 

لوگوں کی تعداد میں تماشائیوں کی صورت کا فی اضافہ ہو چکا تھا جن میں اب مردوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔مردو ں کی طرح اکثر عورتوں نے بھی دھوتیاں باندھی ہوئی تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سی بڑی بوڑھیوں کے کگھرے بھی بندھے تھے، جن کے گھیرکا پھیلاؤ کم از کم تین گز تک تھا۔اُنہیں دیکھ کر ولیم کے ذہن میں ایسے ہی ایک خیال آیا کہ اتنے کپڑے سے تو دومیموں کا لباس بن جائے۔یہ بوڑھیاں کتنا کپڑا ضائع کرتی ہیں۔

 

ولیم گاؤں کے چوک میں پہنچا تو عجیب سرشاری میں چلا گیا۔چوک بہت ہی بڑا سو مربع میٹر میں پھیلا ہوا تھا۔جس کے عین درمیان میں غلہ پیسنے والا خراس تھا۔ پتھر کے اُوپر نیچے دو بڑے بڑ ے بھاری پُڑ گھرر گھرر کرتے گھوم رہے تھے۔ اتنے بھاری خراس کو چلانے کے لیے ایک اونٹ مسلسل دائرے میں چل رہاتھا، جس کے کوہان کے ساتھ خراس کے آنکڑے بندھے تھے اور آنکڑے کے آخری سرے پر چوڑی تختی پر ایک آدمی بیٹھا اُونٹ کو ہانکتا جاتاتھا۔ اس طرح اونٹ کے دائرے میں گھومنے سے پتھر کے پُڑ گھومتے تھے۔ بالائی پتھر میں ایک سوراخ تھا جس میں غلہ یا گندم متواتر تھوڑی تھوڑی کر کے ڈالی جا رہی تھی، جو آٹا بن بن کر نیچے بوریوں میں گرتا جاتا۔ولیم نے ایسا منظر پہلی دفعہ دیکھا تھا، اس لیے دلچسپی سے دیکھنے کے لیے وہاں کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر اُس منظر کو دیکھنے کے بعد ولیم آگے چل دیا۔ اس چوک میں دو چار درخت بھی،بیری اور ٹاہلی کے کھڑے سایہ دے رہے تھے۔ یہ دن سردیوں کے تھے اس لیے کسی نے بھی اُن کے سایے کی طرف دھیان نہیں دیا۔ چوک کے مشرقی کونے میں مسجد تھی۔اُسے ولیم نے دُور ہی سے دیکھنے پر اکتفا کیا۔ مغرب کی طرف ذرا ایک دوسری گلی میں گوردوارہ بھی تھا۔ مندر کہیں دکھائی نہ دیا۔ اب آگے آگے ولیم چل رہا تھا، اُس کے پیچھے ماتحت عملہ اور اُن کے پیچھے تماشا دیکھنے والے چھوٹے بڑے لوگوں کا پورا مجمع تھا۔ اُن کا ڈر مکمل طور پر دور ہو چکا تھا۔ اس لیے پیچھے پیچھے آنے والوں کی آوازیں اب شور کی صورت اختیار کرتی جارہی تھیں۔ بچوں کا کوئی بھی مخصوص لباس نہیں تھا۔کچھ نے محض نیکریں پہنیں ہوئیں تھیں۔ بعض دھوتی قمیض میں تھے اورکچھ ویسے ہی الف ننگے چھڑنگیں مارتے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔نہ اُنہیں سردی کی پرواہ اور نہ ہی اُن پر سردی گرمی کے موسموں کا اثر تھا۔ یہ سب ولیم سے دُور دُور ہی تھے۔ ولیم نے پاس ہی کھڑے ایک شخص سے سکول کے بارے میں پوچھا تو اُس نے گاؤں کے دوسرے کونے کی طرف اشارہ کیا اور بھاگ کر پُھرتی سے آگے آگے چل دیا۔ گویا وہ انھیں وہاں تک پہنچانے کا پابند ہو گیا ہو۔

 

وہ شخص اُنھیں ایک بہت چوڑی گلی سے گزارتے ہوئے ایک جگہ لے گیا جہاں تین چار درخت ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔ اُن سے تھوڑا ہٹ کے چار ٹولیوں میں تیس پینتیس کے قریب لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک بڑا سا کمرہ تھا اور بس۔ اِس کے علاوہ وہاں نہ کوئی دوسرا کمرہ تھا نہ کہیں چار دیواری کے نشان تھے اور نہ ہی اُستاد نظر آ رہا تھا۔ ولیم پاس پہنچا تو سب بچے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اکثر بچوں نے پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ یہ سب زمین پر بغیر ٹاٹ یا کپڑا بچھائے بیٹھے تھے۔ اُسی شخص نے آگے بڑھ کر ایک بچے سے پوچھا،پُتر، ماشٹر موتی لال کدھر ہے؟ بچے یک زبان بول اُٹھے، وہ ہگنے گیا ہے۔ ولیم جب اُن کے جوا ب کو سمجھنے سے قاصر رہا تو اُسی دیہاتی شخص نے ولیم کوسمجھاتے ہوئے کہا، صاحب بہادر،ماسٹر جی جھاڑا کرنے گئے ہیں۔ ولیم پھر بھی کچھ نہ سمجھا تو اُس نے کچھ اور وضاحت کی،جی میرا مطبل ہے مُنشی جی جنگل کرنے گیا۔یہ بات ولیم کے لیے مزید پیچیدہ ہو گئی کہ سکول کی بجائے وہ جنگل میں کیا کرنے گیا ہے۔اس کشمکش کو دیکھتے ہوئے بیر داس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا،سر یہ کہہ رہا ہے،ماسٹر موتی لال لیٹرین میں گیا ہے۔ ولیم یہ جان کر مسکرا دیا۔

 

ولیم پڑھنے والے بچوں اور سکول کی حالت دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گیا کہ یہ بچے بھی کیا پڑھتے ہوں گے؟ اُس نے بیرداس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بیرداس کیا آپ بھی اسی طرح کے سکولوں میں پڑھتے رہے ہیں؟

 

سر وہ ذرا اِن سے بہتر تھے، مگر کچھ اسی طرح کے تھے، بیر داس نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔

 

اتنے میں ایک شخص بھاگتاہوا کھیتوں کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ اُسے دیکھ کر بچے ایک دم بول اُٹھے، وہ آگئے ماشٹر جی، آگئے۔

 

بیرداس نے سب بچوں کو بیٹھنے کا کہا۔ اتنے میں ماسٹر موتی لعل دھوتی اور پگڑی دُرست کرتا اور ہانپتاہوا پاس آ یا اور دونوں ہاتھ باندھ کر ولیم کو سلام کرکے کھڑا ہو گیا۔اُسے ولیم کے عہدے اور اتھارٹی کا تو با لکل پتا نہیں تھا۔ البتہ اتنا ضرور باور ہو گیا کہ فرنگی ہے تو کوئی بڑا افسر ہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری روزی روٹی کا بھی اختیار ہو گا۔ بچے بالکل سہمے ہوئے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ کیونکہ جس قدر اُن کا ماسٹر ڈرا ہوا تھا اُس سے بچوں کو معلوم ہوا کہ کوئی بہت ہی بڑا افسر آیا ہے۔ ولیم نے آگے بڑھ کر موتی لعل سے کہا :موتی لعل، یہاں کتنے اُستاد ہیں؟

 

موتی لعل ہاتھ باندھے ہوئے “سرکار میں ایک ہی ہوں”۔
بچے کتنے ہیں؟
سرکار چالیس ہیں
اور بھاگ کر کمرے سے ایک رجسٹر لے آیا۔ پھراُس کو کھول کر ولیم کے سامنے کر دیا۔
یہ سب بچے اسی گاؤں کے ہیں؟

 

ناں سرکار، اس گاؤں کے تو صرف بارہ بچے ہیں۔باقی ادھر اُدھر کے گاؤں سے آتے ہیں۔
کیوں؟ اس گاؤں میں صرف بارہ ہی بچے ہیں۔ گاؤں تو کافی بڑا نظر آتاہے۔
(سہمے ہوئے انداز میں) صاحب بہادر،مسلمان اپنے بچوں کو یہاں پڑھنے نہیں بھیجتے۔
وہ کیوں؟ ولیم نے حیرانی سے پوچھا۔

 

ولیم کے اس سوال پر موتی لعل گھبرا گیا او ر مزید بولنے سے کترانے لگاکیونکہ مسلمانوں کا ایک بڑا مجمع تماشائیوں کی شکل میں سامنے کھڑا تھا۔ اُس بچارے کی ہمت نہیں تھی، اُن کے سامنے کوئی چغلی کی بات کرتا۔ اُسے جھجکتا ہوا دیکھ کر مالیکم آگے بڑھ کر بولا،سر اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے دیہاتوں میں ایسے مولوی کثرت سے ہیں، جو جگہ جگہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے سکولوں میں مت بھیجو کیونکہ پڑھانے والے اکثر ہندو اور سکھ ہیں اور تعلیم نصاریٰ کی ہے۔ وہ انھیں ڈراتے ہیں کہ ان سکولوں میں پڑھنے سے مسلمانوں کے بچے یا تو ہندو اور سکھ ہو جائیں گے یا عیسائی۔ اسی لیے ہمارے سکولوں میں مسلمان بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

“ہوں……” ولیم معنی خیز انداز میں ہنکارا اور اگر سکول ہیں بھی تو اسی طرح کے۔ مگر مالیکم آپ نے یہ بات پہلے مجھے نہیں بتائی۔یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تُلسی داس نے بھی سرسری پہلے اسی طرح کی کوئی بات کی تھی۔ ہم کیوں ان بچوں کے لیے مسلمان ٹیچر کا بندوبست نہیں کرتے۔ فوراً تلسی داس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کرو، خیر اس معاملے پر بعد میں بات کرتے ہیں اور یہ کیا ہے؟ ولیم کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

 

سرکار یہ گورنمنٹ کے سکول کی عمارت ہے، موتی لعل نے پہلو میں چلتے ہوئے کہا۔
ولیم کمرے میں داخل ہوا تو چکرا سا گیا۔ وہاں صرف خالی دیواروں پر نہائت بوسیدہ چھت تھی،جو بجائے آنکڑوں کے،سرکنڈوں کے گٹھوں سے تیار کی گئی تھی اور اب اُس میں بھی جگہ جگہ چھید نظر آرہے تھے۔کمرے کو ایک دروازہ لگا ہوا تھا۔اس کے سوا نہ وہاں ڈیسکیں تھیں، نہ کرسی، نہ میز اور نہ خدا کی بھری پُری کائنات میں سے کچھ اور چیز،جو اُس تیس ضرب پندرہ فٹ چار دیواری میں موجود ہوتی۔

 

ولیم نے اس طرح کے سکول کب دیکھے تھے اور نہ ایسے سکول ماسٹر جن کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ تھا اور نہ کوئی شکایت۔ ولیم کو شک ہوا کہ شاید اُسے تنخواہ بھی ملتی ہے کہ نہیں۔ اس شبے کو دُور کرنے کے لیے اُس نے آخر موتی لعل سے پوچھ لیا،موتی لعل آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟

 

موتی لعل بولا، حضور آپ کے سایہ اقبال سے پچیس روپے ماہ بہ ماہ مل جاتے ہیں۔
اور ان بچوں کو پڑھاتے کیا ہو؟ ولیم کو حوصلہ ہوا کہ چلو خیر سے ایک کام تو ہو رہاہے۔
سرکار سب ہی کچھ پڑھاتاہوں، موتی لعل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ریاضی، ابتدائی انگریزی، اردو، فارسی، تاریخ اور تھوڑا بہت جغرافیہ۔ بس سرکار پانچویں تک یہی کچھ ہے۔ آپ کچھ بھی اِن بچوں سے پوچھ سکتے ہیں سرکار۔

 

ٹھیک ہے موتی لعل،ہمیں آپ پر اعتماد ہے اور کمرے سے باہر آتے ہوئے مالیکم سے مخاطب ہو کر، مسٹر مالیکم میرا خیال ہے،یہ مسئلہ آب پاشی کے نظام سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ کیا آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں؟ہمیں اس مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔
یہ کہتے ہوئے ولیم واپس مُڑا۔ولیم کے واپس ہوتے ہی مجمع ایسے چھٹ گیا جیسے کسی نے دھویں کا شیل مارا ہو۔پلک جھپکتے میں راستہ صاف ہو گیا اور ولیم اُسی راستے چلتا ہوا اپنی جیپ تک آگیا۔

 

سچ بات تو یہ تھی کہ ولیم کو ایسے تعلیمی نظام کا بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر بہت رنج ہوا۔ اُس پر ایک بددلی کی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ جلدی سے پلٹ کر اپنی جیپ کے پاس آیا۔ دلبیر سنگھ نے رولر پر رسا پہلے ہی چڑھا رکھا تھا۔ اُس نے ایک ہی جھٹکے سے رسا کھینچ کر جیپ کو اسٹارٹ کر دیا۔ اُس کے فوراً بعد ہی دوسری دونوں جیپوں کے رسے بھی با لترتیب کھینچ دیے گئے۔اور یکے بعد دیگرے جیپیں روانہ ہو گئیں۔ گاؤں کے تماش بین وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔انُھیں اتنے افسروں کا اس گاؤں میں آنے اور اُسی طرح خالی ہاتھ چلے جانے پر تعجب ہو رہا تھا۔ نہ کسی کی سرزنش ہوئی، نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی لگان،ٹیکس یا کسی اور قسم کا مطالبہ یا فوج میں بھرتی کا اعلان ہوا۔اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کس قسم کا انگریز تھا ا ور انگریز پولیس کا دورہ تھا۔

 

اُنھیں اسی حیرانی میں چھوڑ کر ولیم اور اس کا عملہ آگے بڑھ گیا۔ گاؤں میں کافی وقت صرف ہو گیاتھا اور اب گیارہ بج چکے تھے۔ جیپ کچی سڑک پر دوڑتی جا رہی تھی۔ اُس کے ٹائروں کی موٹی گُڈیاں گرد اُٹھا اُٹھا کر پیچھے آنے والی جیپوں پر پھینک رہی تھیں۔جن میں پولیس کے تھانیدار، سنتری اور دفتر کا دیسی عملہ آ رہا تھا۔ جیپ کی رفتار کے ساتھ ساتھ ولیم کا دماغ بھی دوڑ رہا تھا۔ اب اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس کے کاندھوں پر کِس قدر بھاری ذمہ داری تھی۔ پورے علاقے کی معا شی اور تعلیمی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور اُس پر لڑائی فساد اور ڈکیتی کے کئی واقعات، سینکڑوں مسائل تھے۔ خاص کر دیہاتی علاقوں کی کسمپرسی دل دہلا دینے والی تھی۔ کرنے کے بہت سے کام تھے اور وسائل کم۔لیکن اگر وہ ان سب کو نظر انداز کر کے سابقہ افسروں کی طرح دفتر میں بند ہو جائے تو سب کچھ خود بخود آسان تھا۔ یہ سوچ کر اُس نے جُھرجھری لی، یہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ اب تو ہندوستان اُس کا اپنا ملک تھا۔ پچھلی چار نسلوں سے اُس کا خاندان اِسی کی مٹی سے اپنا رزق اٹھاتا رہا اور اب تو اُس کی رگوں میں دوڑنے والا خون یہیں کے پانی اور سبزے سے تیار ہوا تھا۔ اُسے لندن سے صرف اتنی ہمدردی تھی جتنی ڈیڑھ سو سال کے مہاجرین کی نسلوں کو اپنے سابقہ وطن سے ہو سکتی ہے۔ ولیم نے اپنی زندگی کے بیشتر سال لاہور کے مال روڈ اور منٹگمری کی نہروں کے کناروں پر دوڑتے ہوئے گزارے تھے۔ اُس نے سوچا اُس کا دادا یہیں پیدا ہوا، باپ نے یہیں پر جنم لیا اور وہ خود اسی مٹی سے پھوٹا۔اب کون ہے، جو اُسے کہے کہ ہندوستان اُس کا اپنا ملک نہیں ہے۔وہ ہر حالت میں یہیں رہے گا اور انہی لوگوں کے لیے کام کرے گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

 

جیپ کے مسلسل دوڑتے چلے جانے سے اُس کے خیالات میں بھی تسلسل پیدا ہو گیا۔ دل ہی دل میں بہت سے منصوبے بنانے لگا، تعلیم، زرعی سٹرکچر، سڑکیں،پُل،عدل و انصاف اور شہری آبادیوں کا قیام۔ انہی خیالی منصوبوں کے دوران وہ جلال آباد کی تحصیل کو ہرے بھرے کھیت، باغات، خوشحال گاؤں اور ان کے اندر جگہ جگہ تعلیمی مرکزوں کو دیکھنے لگا۔شاید وہ بنگلہ فاضل کے پہنچنے تک اسی رَو میں بہا جاتا مگر اچانک جیپ کے بریک لگے اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ چونک گیا۔

 

دلبیر سنکھ نے جیپ روکتے ہی چھلانگ لگائی۔ اُس کے ساتھ ہی ڈیوڈ اور جوزف بھی نیچے اُتر کر سڑک کے دائیں کونے پر لیٹے ہوئے سؤر کو دیکھنے لگے، جو اچانک مکئی کے کھیت سے نکل کر اور سرکنڈوں کی باڑ عبور کر کے سڑک پر آتے ہی جیپ سے ٹکرا گیا تھا اور اب مرنے کے لیے ہونک ہونک کر سانس لے رہا تھا۔ اتنے میں پچھلی دونوں جیپوں کے سوار بھی اُتر کر وہیں آ کھڑے ہوئے۔

 

سؤر کی ٹانگ کو ہلاتے ہوئے دلبیر سنگھ بولا، صاحب جی ذرا دیکھیں مِرگی پینا کیسے ادھوانے کی طرح پھولا ہوا ہے؟ گُلیاں کھا کھا کے چربی چڑھی ہوئی ہے۔ پورے دو من گوشت ہو گا۔
اتنے میں تحصیدار مالیکم بھی پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اُسے دیکھنے لگا۔ ڈیوڈ، جوزف، مالیکم سب جی ہی جی میں خوش ہونے لگے کہ غیب سے کیا عمدہ گوشت مفت ہاتھ آ گیا ہے۔ جوزف سنتریوں کو کچھ حکم دینے ہی لگا تھا کہ ولیم نے آگے بڑھ کر دلبیر کو مخاطب کیا، دلبیر! اسے اُٹھا کر اُدھر پھینک دو اور آگے بڑھو۔

 

ٍولیم کے اس حکم کو سن کر تمام سنتری اور انگریز آفیسر حیران رہ گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ کوئی بولتا، ولیم نے غصے سے دلبیر کی طرف دیکھا جو تذبذب میں کھڑا دوسرے افسروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ولیم کو اِس طرح اپنی طرف دیکھتے ہوئے دلبیر سنگھ مٹی اور گرد میں اَٹے اور ہونکتے ہوئے سؤر کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچے لگا،جِسے دیکھ کر ایک سنتری اور آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اتنا موٹا تازہ گوشت ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کر مالیکم سے نہ رہا گیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا، سر آپ کیا کرتے ہیں؟یہ سؤر ہے،آپ اسے پھینک رہے ہیں۔ ہم اسے جیپ میں ڈال کر بنگلہ فاضلکا میں لے چلتے ہیں۔وہاں مزے سے رات کٹے گی۔
ولیم نے بے پروائی سے اپنی جیپ کی طرف مڑتے ہوئے کہا، لیکن مجھے اس کا گوشت پسند نہیں۔

 

تو سر آپ نہ کھائیں ہم کھا لیں گے،مالیکم نے زور دیتے ہوئے کہا،پھر دلبیر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے” دلبیر اِسے پچھلی جیپ میں رکھ دو۔

 

اس سے پہلے کہ دلبیر سنگھ اور معاون سنتری مالیکم کا حکم مانتے، ولیم نے ڈانٹ کر دلبیر کو حکم دیا، دلبیر سنگھ میں نے کہا ہے اِسے پھینکو اور آکر جیپ میں بیٹھو (پھر مالیکم کی طرف منہ کر کے) مالیکم صاحب،میں جانتا ہوں،آپ لوگوں کو سؤر بہت پسند ہے لیکن آج تو بہرحال میں آپ کو یہ نہیں کھانے دوں گا۔ مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔ جب اکیلے ہوں تو شوق سے کھایئے گا۔آپ جلدی سے جیپ میں بیٹھیں، میں آپ کو بنگلہ میں جا کر اپنی طرف سے بھیڑ کا گوشت کھلاؤں گا۔ فی الحال جلدی کریں،ہمیں بہت سے کام نپٹانے ہیں۔ ولیم کے اس دو ٹوک فیصلے پر مالیکم کو تھوڑی سی کوفت ضرور ہوئی مگر وہ پھر ہلکا سا مسکرا کر جیپ میں ولیم کے پہلو میں آ بیٹھا اور دلبیر سنگھ نے جیپ دوبارہ گیئرمیں ڈال کر اُسے سرپٹ دوڑانا شروع کر دیا۔

 

ولیم نہایت سنجیدگی سے بیٹھا ہوا ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف منصوبوں پر غور بھی کر رہا تھا۔ ولیم کی اس قسم کی سنجیدگی کی وجہ سے مالیکم، جوزف اور ڈیوڈ نے اپنا رویہ نہایت محتاط کر لیا۔جیپیں چک پکھی کو کراس کر گئیں اور اب اُن کا رُخ فاضلکا میلوٹ روڈکی طرف تھا۔ مالیکم اب کی بار زیادہ گفتگو کرنے کی بجائے صرف مختلف جگہوں کے نام بتاتا گیا۔چک پکھی سے آگے کی ڈھاریاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آنے لگیں اور ولیم کو یہ دیکھ کر کچھ حوصلہ بھی ہوا کہ یہاں کے علاقے کافی حد تک سر سبز تھے۔ آتے جاتے راہگیر جو زیادہ تر گدھوں اور گَڈوں پر چارہ اور غلہ وغیرہ لادے چل رہے تھے، اُن کی حالت بھی کچھ بہتر تھی۔ سامی والا سے بناں والی اور وہاں سے عامی والا کو پیچھے چھوڑتی ہوئی جیپیں جیسے ہی شیخ سبحان میں داخل ہوئیں تو ولیم کو گاؤں کے مغربی کونے پر باغ کے کنارے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ ولیم نے دلبیر سنگھ کو حکم دیا، دلبیر یہاں جیپ کو روک دو۔

 

اس گاؤں کا منظر ولیم کو انتہائی دلکش لگا۔ گاؤں بہت ہی چھوٹا تھا مگر سر سبز فصلوں اور درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ دلبیر سنگھ نے جیسے ہی باغ کے پاس جا کر جیپ روکی، لوگوں کی توجہ فوراً جیپوں کی طرف ہو گئی۔ وہ سب حیرت سے انھیں دیکھنے لگے۔ ولیم کے ساتھ دوسرا تمام عملہ بھی جیپوں سے اُتر کر مجمعے کی طرف بڑھنے لگا۔ پولیس اور انگریزی اور دیسی افسروں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر لوگ گھبرا گئے۔ وہ ڈر کر تتر بتر ہونے لگے اور بھاگ بھاگ کر چھپنے کا بندوبست کرنے لگے۔کچھ بھاگ کر باغ میں چلے گئے۔ باغ امرود اور مالٹے کے ملے جلے پودوں سے نہایت ہرا بھرا اور پھلوں سے لدا پھندا بہاریں دے رہا تھا۔ ساتھ ہی دو رہٹ چل رہے تھے جنھیں بیلوں کی جوڑیاں چلا رہی تھیں۔ بیلوں کے مسلسل دائرے میں گھومنے سے کاریز کی ٹینڈیں کنویں سے صاف اور شفاف پانی بھر بھر کر نالیوں میں انڈیلتی جاتیں، پھر یہ پانی چنے اور گندم کی فصلوں کے درمیان سے ہوتا ہوا باغ کی کیاریوں میں بچھا جاتا۔ ولیم یہ سارا منظر دیکھ کر ایک دفعہ تو پچھلی تمام کوفتیں بھول گیا۔ اُسے فروری کے سرد دنوں میں مشرقی پنجاب میں ایسی کسی جگہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ وہ اس سارے منظر کو دیکھتا ہوا جب بھاگے ہوئے مجمعے میں سے اُن چند لوگوں کے قریب آیا جو یا تو بھاگنے سے معذور تھے یا اُنہیں کسی قسم کا ڈر نہیں تھا، تو اُس پر کھلا کہ دراصل کچھ لوگ بانک اور پلتھاکھیلنے میں مصروف تھے۔ باقی سب لوگ اُن کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ مجمعے میں زیادہ تر سکھ اور مسلمان شامل تھے۔ ولیم کو دیکھ کر پلتھا بازوں نے کھیل رو ک دیا۔ انھیں ڈر ہوا شاید انگریز صاحب بہادر کو اُن کا یہ کھیل حکومت کے خلاف ایک سازش لگا ہے اور وہ یہاں چھاپا مارنے آیا ہے۔ انہوں نے جلدی سے اپنی ڈانگیں اور گتکے چھپادیے تھے۔ اُنھیں اس قدر گھبرایا دیکھ کر ولیم نے بیر داس سے کہا، بیر داس انھیں مطمئن کرو کہ ہم ان کا کھیل دیکھنے کے لیے رُکے ہیں۔وہ اپناکھیل جاری رکھیں، ہم انھیں انعام دیں گے۔

 

ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔ہم بنگلہ فاضل کا جار ہے ہیں۔ تمہارے بانک اور پلتھا بازی کا کھیل دیکھنے اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے یہاں ٹھہریں گے، تم اپنا کھیل جاری رکھو۔ صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی اچھے کھیل کا نظارادے گا، صاحب اُسے اپنے ہاتھ سے انعام بھی دیں گے۔

 

سنتری کا اعلان سُن کر لوگوں اور پلتھا بازوں کی ڈھارس بندھی۔وہ دوبارہ اکٹھا ہونے لگے،۔اس کے بعد دلبیر سنگھ نے کہا، مترو اپنے گھروں سے صاحب کے بیٹھنے کے لیے دوچار منجیاں لاؤ۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم اور دیگر عملہ چار پائیوں پر آرام سے بیٹھ گیا۔ بھاگتے ہوئے لوگ بھی واپس لوٹ آئے اور کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔دو دو سکھ اور مسلمان پلتھے باز جوان میدان میں آ کر اپنی پُھرتیاں دکھانے لگے۔ گتکوں اور ڈنڈوں کے کھڑاک، ٹھکا ٹھک ہونے لگے۔ دوسری طرف دلبیر سنگھ اور دوسرے سنتری کافی اور کھانے کا سامان جیپوں سے نکال کر ولیم اور افسروں کے لیے تیار کرنے لگے۔ پلتھے بازی کے اس کھیل میں ڈنڈوں کی کھڑاک اور اُن کے تیزی سے گھوم کر ایک دوسرے پر پینترے بدل بدل کر وار کرنے سے ولیم محظوظ ہونے کے ساتھ لرز بھی رہا تھا۔ کھیل انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ خطرناک بھی تھا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے واروں کی کاریگری کے متعلق ولیم کسی قسم کا علم تو نہیں رکھتا تھا۔البتہ سکھوں کے ایک دم واہگرو اور مسلمانوں کے یا علی مدد کے نعروں سے اُسے یہ پتہ ضرور چل رہا تھا کہ اس جوڑ میں دراصل کِس کا پلہ بھاری رہا۔ لوگوں کا شور شرابہ اور جوش و خروش اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جب ایک جوڑ کا مقابلہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ ہر جوڑ کو لڑنے کے لیے دس فٹ اونچی لکڑی کے دو انچ سایہ ڈھلنے کا وقت دیا جاتا،جس میں وہ اپنے گتکے عجب عجب انداز کے مطابق ٹانگوں اور بازؤوں اور بغلوں کے اوپر نیچے سے نکال نکال کر چلاتے۔ ہر جوڑ کا مقابلہ ختم ہونے پر دو سکھ سردا ر اور دو مسلمان پلتھے کی سمجھ رکھنے والے اپنا فیصلہ کسی ایک کے حق میں سنا دیتے جس میں اختلاف بالکل پیدا نہ ہونے پاتا۔
ولیم، ڈیوڈ، جوزف، مالیکم یہ کھیل انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ لوگ جو بھاگ کر باغ یا گاؤں میں گُھس گئے تھے اب وہ بھی پلٹ کر آ چکے تھے۔ دلبیر سنگھ نے اسی دوران کھانا اور کافی وغیرہ ولیم اور دوسرے افسروں کے سامنے رکھ دیا۔ اُن کے لیے یہ ایک عمدہ پکنک بن گئی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ کھیل جاری رہا۔ جس میں آٹھ جوڑوں کے مقابلے ہوئے۔ ان میں ایک مقابلہ برابر اور باقی سات میں چارسکھ جوان اور تین مسلمان جوانوں نے جیتے۔ کھیل کے اختتام پر ولیم نے اعلان کیا کہ وہ اس میں شریک تمام جوانوں کو ابھی نقد انعام دینا چاہتا ہے۔ جیتنے والے کو دس روپے اور ہارنے والے کو پانچ روپے اور جو برابر رہے اُنھیں بھی دس دس روپے۔ ولیم کے اس اعلان پر تمام لوگوں نے نعرے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ہر طرف واہگرو اور یا علی مدد کا شور بلند ہونے لگا۔ ولیم حیران تھا کہ یہ دونوں شخص کون ہیں۔ انعام خود اُس نے دیا ہے۔ کھیل میں مختلف ناموں والے حصے لے رہے تھے اور نعرے یا تو واہگرو کے لگ رہے ہیں یا پھر علی مدد کے۔حالاں کہ یہ دونوں یہاں موجود نہیں۔ واہگرو کے بارے میں تو اُسے کچھ معلومات تھیں لیکن یا علی سے آشنائی پہلی بار ہو رہی تھی۔بہرحال کسی سے پوچھے بغیر ہی ولیم نے خیال کیا کہ یہ بزرگ بھی واہگرو کے مقابلے کا کوئی جواں مرد ہوگا۔ولیم نے انعام دینا شروع کیا تو اُس کے نقش قدم پر جوزف، ڈیوڈ، براہم اور مالیکم نے بھی اپنی لاج رکھنے کے لیے جیتنے والوں کو اپنی طرف سے پانچ پانچ روپے دینے کا اعلان کر دیا۔جس کی وجہ سے ایک دفعہ پھر بھرپور نعرہ بازی ہوئی۔ اب ایک دو نعرے انگریز سرکار زندہ باد کے بھی لگا دیے گئے۔جن کو سُن کر ولیم اور انگریز افسروں کو ایک گُونہ مسرت ہوئی مگر اپنے انگریزی وقار کے پیش نظر اُس کا اظہار نہ کرنا ہی بہترخیال کیا۔

 

ساڑھے چار بج چکے تھے اور بنگلہ فاضل کا کافی دور تھا۔ اس لیے یہ صلاح ٹھہری کہ آگے کا سفر مختصر کر کے جلدی سے “بنگلہ فاضل کا” پہنچا جائے۔لہٰذا بستی شیخ سبحان ہی سے دلبیر سنگھ نے جیپ کو دائیں ہاتھ موڑ کر اُس کا رُخ سیدھا بنگلے کی طرف کر دیا۔ جس کا مطلب تھا کہ روہی کے علاقے کا دورہ کل پر ملتوی کر دیا گیا ہے، جو بستی شیخ سبحان سے جنوب میں ریاست بہاول نگر تک اور مغرب میں راجستھان کے ساتھ جا کر ملا ہوا تھا۔ اب شام ہونے میں کچھ ہی دیر تھی اور امید تھی کہ چھ بجے تک وہ بنگلہ پہنچ جائیں گے۔ جہاں ریسٹ ہاؤس میں دن کی تھکن دور کر کے اگلے دن ہیڈ اور نہر کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُس کے بعد اگلا فیصلہ کیا جائے گا کہ دورہ مختصر کرنا ہے یا علاقے میں مزید حالات کو دیکھنے کے لیے سیر کرنے کی ضرورت ہے۔البتہ ولیم کے خیال میں کسی علاقے کا دورہ اُس علاقے کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – دسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(18)

 

سردار سودھا سنگھ سورج چڑھنے سے کافی دیر پہلے بیدار ہو گیا۔ پلنگ سے آہستہ سے اُٹھا اور رضائی آرام سے بینت کور کے اُوپر ڈال دی۔ اِس کے بعد اپنی پگڑی سر پر درست کی، کرپان باندھی اور منہ اندھیرے ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ باہر ڈیوڑھی میں رات کے جتنے پہرے دار تھے سب سو چکے تھے، البتہ چھدّو جاگ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ رات کو سردار سودھا سنگھ کے اٹھتے ہی اپنی چارپائی پر جا پڑتا تھا۔اس لیے صبح اُس کی آنکھ جلدی کھُل جاتی۔ اُس نے اشنان تو مہینوں بعد کرناہوتا تھا اس لیے سردی میں صبح کے وقت آگ جلانے کے سوا اُسے کوئی کام نہ تھا۔آج بھی اُس نے صبح گوردوارے کا گھنٹہ بجنے سے پہلے ہی آگ جلا لی تھی۔ سردار کو ڈیوڑھی کی طرف آتے دیکھ کر چھدّو فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پرنام کیا۔ سردار نے چھدّو کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، چھدّو ڈیوڑھی کا دروازہ کھولو۔ چھدّو کو سردار سودھا سنگھ کے معمول کا پتہ تھا، اس لیے سودھا سنگھ کے بولنے سے پہلے ہی دروازے کی بلیاں اُٹھانے لگااور آہستہ آہستہ پانچوں بلیاں اُٹھا دیں۔ دروازے کو دھکیلنے کے لیے تختوں کے نیچے لکڑی کے چھوٹے پہیے لگے ہوئے تھے۔پھر بھی اِس پہاڑ جیسے دروازے کو دھکیل کر ایک طرف کرتے ہوئے چھدّو کو بہت زور لگانا پڑا۔دروازہ اتنا بڑا اور بھاری تھا کہ اُس سے دو دو ہاتھی ایک وقت میں گزرنے کی راہ تھی۔ کالی سیاہ ٹاہلی کی موٹی موٹی چگاٹھوں پر تین انچ کے موٹے اور چھ ضرب دس فٹ کے چوڑے اور لمبے تختے تھے، جن پر کلو کلو بھرکے بے شمار لوہے اور تانبے کے کیل کڑے جَڑے ہوئے تھے۔ تختوں کے علاوہ لوہے کا وزن ہی کوئی تین چار من کے قریب ہو گا۔ سردار سودھا سنگھ نے آگے بڑھ کر چھدّو کا اس معاملے میں ہاتھ بٹایااور دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی سردار سودھا سنگھ باہر نکل گیا اورچھدو لنگڑاتا، ہانپتا دوبارہ آگ کے پاس آ بیٹھا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے گوردوارہ پہنچ کر سنت سے کہا کہ اُسے اشنان کرائے۔ حوض کے کنارے کھڑے ہو کر کپڑے اتارنے لگا۔حوض کا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔رات بھر پڑنے والے پوہ کے پالے اور ٹھنڈی ہوا سے پانی کے اُوپر برف کی کاغذی تہہ جم چکی تھی۔لیکن سردار سودھا سنگھ نے بچپن ہی سے کبھی گرم پانی اشنان کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔ اُس کے خیال میں پانی گرم کر کے نہانا زنانیوں کا کام تھا۔ اس طرح کے لچھن کرنے سے سردار وں کی مردانگی میں فرق آتا تھا۔ سودھا سنگھ کی کمر اور پورے جسم پر ریچھ کی طرح بالوں کے اتنے گچھے اُگے تھے کہ ماس کی ذرا بھی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ ان کھردرے بالوں میں چھپے جسم کونہلانے کے لیے سنت نے لسی کی بھری ہوئی گاگر رات کو ہی منگوا لی تھی۔ یہ اُس کا معمول تھا۔ سودھا سنگھ کے جسم کے اوپرکھٹی لسی گرا کر،جو کم از کم چوبیس گھنٹے پُرانی ہوتی،وہ دونوں ہاتھوں سے جسم کو رگڑتا۔پھر ٹھنڈے پانی کے کٹورے بھر بھر کراُس کے اوپر ڈالتا تو جسم کے بال کالے شیشوں کی طرح چمک اُٹھتے اور ایسے لگتا پورے جسم پرچھوٹے چھوٹے باریک سانپ اُگ آئے ہوں۔

 

سر دار سودھا سنگھ نے اشنان کرنے کے بعد آرام سے کپڑے پہنے اور پوجا پاٹ میں مصروف ہو گیاحتیٰ کہ سورج چڑھنے کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اُس کے بعد وہ گوردوارہ سے نکل کر کھیتوں کی طرف چل دیا۔ کھیتوں کی لمبی سیر نے سردار سودھا سنگھ کی طبیعت میں جوانوں کی سی تازگی بھر دی۔ رات بھر اوس پڑتے رہنے سے ہر طرف پھیلی ہوئی فصلوں پر سبزے پر اور پگڈنڈیوں پرٹھنڈک ہی ٹھنڈک اور تریل جمع ہو چکی تھی۔ بہت سارے لوگ ادھر اُدھر اپنے ہل جوتے ہوئے بیلوں کو ہانک رہے تھے۔اِن صبح سویرے ہلوں میں جُتے ہوئے بیلوں کی بجتی ہوئی گھنٹیاں سردار سودھا سنگھ کو گوردوارے کے گھنٹے کی آواز سے کہیں زیادہ مسحور کن لگنے لگیں۔ دُور تک دیسی سرسوں کے پیلے پھول،برسن کا چارہ اور گندم کے کھیت جن پر ابھی خوشے یا سٹے نہیں نکلے تھے، یہ سب اور ان کے درمیان جا بجا بہتا ہوا، کھالوں اور رہٹ کاپانی شیشے پر لڑھکتے ہوئے شفاف پارے کی طرح تیر رہا تھا۔ سردار سودھا سنگھ کبھی کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں اور کبھی کھال کے کناروں پر چلتا اور چھوٹے موٹے کھڈوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ کبھی کبھی دور سے کوئی واہگرو یا ست سری اکال کا نعرہ بلند کرتا تو سردار صاحب ہاتھ ہلا کر یا اُسی طرح نعرے کے ساتھ اُس کا جواب دے کر بغیر ٹھہرے آگے چلتا گیا۔ اسی طرح سردار سودھا سنگھ، ٹاہلیوں، کیکروں اور شرینہہ کے درختوں کا طواف کرتا، کھیتوں کی اوس اور لمس لیتا سورج کے منہ دکھانے کے ساتھ ہی دوبارہ حویلی کی ڈیوڑھی کے بڑے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو سب نے اٹھ کر سردار صاحب کو پرنام کیا۔ سردار سودھا سنگھ تھوڑی دیر وہاں رُکا، دو ایک لوگوں کے ساتھ ہلکی پھلکی چہل کی پھر زنانے میں چلا گیا۔ اس سیرسے سردار صاحب کی بھوک کافی چمک گئی تھی کیونکہ وہ کم از کم دو میل چلا تھا۔

 

زنانے میں داخل ہوتے ہی سردار سودھا سنگھ نے بینت کور کو آواز دی جو گرنتھ پڑھنے میں مصروف تھی، او بنتے جلدی نال بھوجن دے دے۔ ہُن بُھکھ بڑی لگ گئی آ۔ جد ویکھو گرنتھ پڑھ دی رہندی آ، پتا نئیں گروجی نال کوئی مُک مکا کر لیا وا۔

 

بینت کور نے بیٹھے بیٹھے ہی اجیت کور سے کہا “پت اجیتے چھیتی نال اپنے پِتاجی نوں ناشتہ کروا، میں تھوڑا جہیا رہ گیا، پڑھ لاں۔ اونی دیر وچ کِتے تیرے پِتا جی دی جان نہ نکل جاوے۔

 

اجیت کور، جلدی سے اُٹھ کر ناشتہ تیار کرنے لگی۔اتنی دیر میں چھماں نے دُور تک پھیلے صحن کے ایک کونے میں جہاں دھوپ خوب نکل کر سفید ہو گئی تھی، چار پائی لگا دی،جس پر سردار سودھا سنگھ چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ کرپان اتار کر اُس نے چارپائی کی ادوائین کی طرف رکھ دی۔ اس عرصے میں بینت کور بھی گرنتھ کو غلاف میں لپیٹ کر اونچے اورمحرابی نما طاق میں رکھ کر پاس آ بیٹھی۔ چند منٹوں میں اجیت کور نے ناشتہ تیار کر کے چھماں کو پکڑا دیا اور خود لسی جگ میں ڈالنے لگی۔ چھماں نے ناشتہ سردار سودھا سنگھ کر سامنے رکھ کر بڑا سا کپڑا اُس کے زانوؤں پر پھیلا دیا تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں۔ اسی اثنا میں اجیت کور لسیً لے کر آگئی اورسامنے تپائی پر ناشتہ رکھ دیا گیا۔ دیسی سرسوں کا مکھن میں گُھلا ہوا ساگ اور مکھن میں تیرتے ہوئے پراٹھوں نے،جن سے گرم گرم بھاپ کے لمس اُٹھ رہے تھے،سودھا سنگھ کی مزید بھوک بڑھا دی۔

 

پہلے سردار سودھا سنگھ نے سیر بھر کا پیتل کا گلاس جسے نئی قلعی کرائی گئی تھی، بھر کر گٹا گٹ کر کے پیا۔ ہلکے نمک والی لسی نے سردارجی کے کئی مسام کھول دیے۔ اگر کسی نے سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر صبح سویرے نمک والی لسی نہیں پی تو وہ نہیں جان سکتا کہ سردار سودھا سنگھ اِس وقت کتنی شرابوں سے مخمور تھا۔ لسی پینے کے بعد سردار صاحب نے ساگ کے ساتھ پراٹھے کا لقمہ لیا اور اُسے کھانے لگا۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کے تین سالہ بیٹے موہن سنگھ کو گود میں لے کر سامنے خموش بیٹھی تھی جبکہ چھماں جو گھر کی ملازمہ تھی،گھر کے بقیہ کام نمٹانے لگی اور اجیت کور نے چولہے پر رکھے دودھ کے نیچے پاتھیوں کی ہلکی آنچ رکھ دی۔ پاتھیوں کی ہلکی آنچ سے ایک تو دودھ برتن سے اُبل کر باہر نہیں گرتا دوسرا یہ کہ تھوڑی تھوڑی آگ کے دُھکنے سے دودھ خوب کڑھ بھی جاتاہے اور اُس پر موٹی با لائی آ جاتی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کرتے ہوئے بینت کور کو دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان نظر آ رہی تھی۔

 

خیر ہے بنتو کچھ کملائی لگتی ہو؟سودھا سنگھ نے بھاری مونچھوں اور گھنی داڑھی کے درمیان میں کہیں چُھپے ہوئے منہ کے دھانے کی طرف لُقمہ لیجاتے ہوئے پوچھا۔

 

بینت کور نے دھیمے سے، ہاں، میں سر ہلا دیا۔

 

پر ہوا کیا؟ کچھ تو پتا چلے “سردار سودھا سنگھ کھانے سے بغیر ہاتھ روکے بولا”

 

سردار جی مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ آج کل بُرے بُرے سپنے دیکھتی ہوں، بینت کور نے سر اُٹھا کے آخر سردار جی کو اپنی پریشانی بتانے کی کوشش کی۔
“ پھر بینت کور مزیدآگے ہو کر بولی” کنتا، جودھاں، بلّو اور دوسری کُڑیاں سو سو طریقے کی باتیں کرتی ہیں۔

 

سودھا سنگھ لا پروائی کے ساتھ ایک اور لسی کا گلاس چڑھاتے ہوئے بولا،اسی لیے دن رات گرنتھ اور پاٹھ پوجا کے دوالے رہتی ہو۔وہ کیا باتیں کرتی ہیں کچھ تو پتا چلے بنتے؟

 

بینت کور سرگوشی کے سے انداز میں بولنے لگی، وہ کہتی تھیں غلام حیدر کی وائسرائے کے ساتھ رشتے داری ہو گئی ہے۔ اُس کی کُڑی کے ساتھ اِس منڈے کا یرانہ ہے۔ اندر خانے شادی بیاہ کے قصے بھی چل رہے ہیں۔ سودھے مجھے فکر ہے اگر یہ باتیں ٹھیک ہیں تو پھر بڑے سیاپے پڑ جان گے۔ واہگرو نہ کرے،اگر سردار جی وائسرائے نے غلام حیدر کو اپنی کُڑی دے دی تو پھر،،،؟ بس مجھے یہی پریشانی ہے کہ ہمارا سیدھا سیدھا فرنگیوں سے وَیر پڑ جائے گا۔ مَیں تو کہتی ہوں ان فرنگی عیسائی اور مُسلوں کا اندر سے دھرم بھی ایک ہی ہے۔ دونوں ہی اپنے مُردوں کو گڑھوں میں دباتے ہیں اور کوئی پیغمبروں شغمبروں کو مانتے ہیں۔ ان کو وَیر صرف سرداروں سے ہی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کر کے ایک بڑا سا ڈکار لیا اور بینت کور کی بات سن کر ہلکا سا قہقہہ مارا،پھر مونچھوں سے لسی کی سفیدی صاف کرتے ہوئے بولا۔ بنتو! تُونے اتنی باتیں کہاں سے سیکھ لی ہیں؟ حوصلہ رکھ، یہ فرنگی کسی کے متر نہیں، جتنے سرداروں کے دشمن ہیں اتنے ہی مُسلوں کے بھی ہیں۔ پھر دشمنی تو مردوں کا گہنا ہوتی ہے، بنتو۔وَیر کے بغیر مرد ایسے ہی ہے جیسے اکھاڑوں میں ناچنے والا کُھسرا،جس کے سارے یار ہی یار ہوتے ہیں۔ غلام حیدر کل کا مُنڈا میراکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔چاہے ملکہ کے ساتھ بیاہیا جائے۔ اس مُسلے کی دُم تو اب چکی کے پَڑ نیچے آئی ہے۔ کل تک اُس کو سُر لگ جائے گی۔ ایہہ نہیں جانتا سرداروں کی چھوَیوں میں لوہا دیگی ہوتا ہے۔ پتھر کے سینے میں لگے تو خون نکال دے۔یہ تو پھر ایک پڑھاکو چھوہرا ہے۔

 

پھر بھی سودھا سنگھ “بینت کور دوبارہ بولی” سُنا ہے اُس کے پاس ایک پکی ریفل بھی ہے۔ سردار جی تُوں احتیاط ہی کر۔ باہر نکلے تو چار بندے بھی ساتھ لے لیا کر۔ اکیلا ہی نہ سیراں کو نکل جایا کر،تجھ پر گرو جی کی رکھ ہو، مجھے تورات ہَول پڑتے رہے۔ جب آنکھ بند کرتی تھی،میرے منہ میں سواہ، تجھے ہتھ کڑیوں میں دیکھتی تھی۔ات نیند نہیں آئی۔ میری مان سودھا سنگھ، غلام حیدر سے صلح کر لے، یہ فرنگی بڑے بُرے ہیں۔ ظالموں میں ذرا ترس نئیں۔ بڑے سے بڑے سردار سے نہیں ڈرتے۔ سنا نہیں؟ رنجیت سنگھ کی نسلوں تک کو ہتھ کڑیاں اور بیڑیاں لگاکر لے گئے۔سودھے مجھے تو بڑا ڈرا لگتا ہے۔

 

دیکھ بنتو “سردار سودھا سنگھ غصے سے بولا” تم مردوں کے بکھیڑے میں نہ پڑا کرو۔ساری رات سوتی ہو۔سُفنے کدھر سے دیکھتی ہو۔ خراٹے مار مار کے میری نیند حرام کر دیتی ہو۔( کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولا) تمہاری مت رونے دھونے سے آگے نہیں بڑھتی۔ اب یا تو غلام حیدر رہے گا یا سردار سودھا سنگھ۔ تُو دیکھتی جا،مَیں نے ڈپٹی کمشنر سے سفارش کابندوبست کر لیا ہے۔ بس تُوں اپنے کام کر اور کسی زنانی کی باتوں پر غور نہ کر۔ یہ ہمارے کرنے کے کام ہیں، ہم بہتر کر لیں گے۔اتنا کہ کر سودھا سنگھ نے کرپان کمر سے باندھی اور پگڑی سر پر رکھ کر بیرونی حویلی میں آ گیا،جہاں بہت سارے سردار جمع ہو ئے بیٹھے تھے۔ سردار سودھا سنگھ کو آتے دیکھ کر سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔سودھا سنگھ نے چار پائی پر بیٹھتے ہی جگبیر سنگھ کو بلایا۔ جب وہ پاس آ کر سامنے والی چار پائی پر بیٹھ گیا تو سردار نے کہا، جگبیراس سے پہلے کہ تھانیدار یہاں سنتری لے کر پہنچے، ہم اپنی اگلی گوٹی چل دیں۔کیا پورا بندوبست ہو گیا ہے؟

 

جگبیر نے کھنگھار کا گلہ صاف کیا اور بولا، سردار صاحب بس آپ کی اشیرواد چاہیے۔باقی تو ہر شے کی تیاری ہے۔ پیت سنگھ کو میں نے ساری بات سمجھا دی ہے۔ چھ گھوڑیاں تیار کھڑی ہیں شاہ پور کا مُلک لوٹنے کے لیے۔ آج شام گھنٹہ بجنے کے ساتھ ہی پیت سنگھ، پھجا سیؤ، ہرا سنگھ، دمّا سنگھ، چھندا سیؤ اور میں نکل جائیں گے۔ عبدل گجر کے چالیس بندے ہوں گے۔ واہگرو کی منشا ہوئی تو صبح چانن ہو جان گے۔

 

اس کے بعد سودھا سنگھ نے جگبیر کے کان کے پاس ہو کر ہَولے سے کہا، جگبیرے ایک آدھ بندہ ضرور پھڑک جانا چاہیے۔ کم سے کم عبدل گجر کی کَنڈ پر تین سو دو ضرور رکھ آنا۔ اس طرح معاملہ زیادہ گھمبیر ہو جائے گا اور غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکے گا۔

 

سردار جی آپ چنتا رکھیں،بندہ ایک نہیں دو دو لمکیں گے،جگبیر نے شرارت آمیز ہنسی بکھیرتے ہوئے جواب دیا۔

 

آخری بات کسی کو بھی سنائی نہ دی۔ البتہ ہر ایک یہ ضرور جان گیاکہ سردار سودھا سنگھ نے پتے کی بات جگبیر سے آخر ہی میں کی ہے، جس پر جگبیر نے ہنستے ہوئے آنکھ بھی ماری تھی۔ اس کے بعد کافی دیر تک دوسری باتیں ہوتی رہیں، جن کا غلام حیدر کے معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا۔یہاں تک کہ سورج چمک کر سامنے آگیا اور سب لوگ اپنے کام کاج کو نکل گئے۔ لوگوں کے جانے کے بعدحویلی دوبارہ چار چھ نوکروں کے علاوہ قریباً خالی ہو گئی اورسردار سودھا سنگھ بھی زنانے میں چلاگیا۔

 

(20)

 

عشا کی نماز پڑھنے کے بعد دس بارہ نمازی،جن میں اکثر بڈھے تھے، سب اپنے گھروں کو چلے گئے مگر مولوی کرامت وہیں بیٹھا رہا۔ اُس نے نہ تو کسی سے بات کی اور نہ ہی دعا مانگنے اور نماز پڑھانے میں طوالت اختیار کی تھی۔ وہ مسجد کی محراب میں بیٹھا اس طرح سوچ میں ڈوبا تھا جیسے صبح سب کچھ لٹنے والا ہو۔ اُس نے اسی مسجد کے احاطے میں ہوش سنبھالے تھے اور آج وہ پچپن کا ہو چکا تھا۔اُس نے وہیں اپنا پہلا سبق پڑھا تھا۔ اسی فرشِ خاک پر پیشانی رکھی تھی،تو یہی خاک اُس کے لیے خاک ِشفابن چکی تھی۔

 

مسجد نہایت چھوٹی، بوسیدہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی مگر مولوی کرامت کے لیے کعبۃاللہ سے کم نہیں تھی۔ اُسے مسجد کی ایک ایک شے سے محبت تھی۔یہی وجہ تھی کہ رات اِسی مسجد میں رہ گیا اور باہر جانے کو جی نہ چاہا۔ اُس کے لیے پُرانے طاقوں میں پڑے مٹی کے وہ چراغ جن میں اپنے ہاتھوں سے برس ہابرس تک تیل ڈال کر جلاتا رہا تھا۔ اُن کے اندر پڑے ہوئے روئی کے پھمبے، جوبیسیوں سال تیل اور آگ کے دھویں میں گُھل مل کر نہایت میلے کچیلے ہو گئے تھے۔ مسجد کی چھت کے برسوں پُرانے اور دھویں سے سیاہ ہوئے شہتیر اور آنکڑے، جن پر مکڑی کے سیاہ جالے لگے ہوئے تھے، دیواروں میں ٹیڑھے میڑھے طاق اور اُن میں بوسیدہ غلافوں میں لپٹے قرآن اور قاعدے سپارے، جن کی اپنی حالت بھی غلافوں سے کم نہیں تھی،۔کچے فرش پر بچھی کھجور کے پتوں کی چٹائیاں جو گھِس گھِس کر اتنی پرانی ہو چکی تھیں کہ اُن میں ملائمت اور چمک پیدا ہو گئی تھی۔اُن چٹائیوں کے دھاگے تو کب کے ریزہ ریزہ ہو چکے تھے مگر پتےٌ اپنی ترتیب میں فقط پیروں کے دباؤ کی وجہ سے ہی ایک دوسر ے کے ساتھ جُڑے رہ گئے تھے۔ ان کے علاوہ دیواروں میں جگہ جگہ تنگ روزن۔ اُن روزنوں اور روشندانوں میں بے شمار چڑیوں،فاختاؤں اورلقے کبوتروں کے گھونسلے اس طرح بنے تھے کہ اُن کی وجہ سے وہ بالکل بند ہو چکے تھے۔انہی روزنوں میں پھنسے پرندوں کے پر، تنکے،خس اور بِیٹوں نے سورج کی کرنوں اور ہواکا راستہ ایک عرصے سے روک رکھا تھا۔مسجد کی محراب جو ایک قسم سے مولوی کرامت کے جسم کا حصہ تھی۔اس چھوٹی سی چار فٹ چوڑی، پانچ فٹ لمبی اور آٹھ فٹ اونچی محر اب میں کئی چیزیں مثلاً لکڑی کا پرانا چار سیڑھیوں والا منبر،جس پر بیٹھ کر اُس کا دادا، باپ اور پھر وہ خود جمعہ کا خطبہ دیتے رہے یا کبھی کبھار وعظ کہتے رہے۔ جن میں چند بندھی ٹکی نصیحتوں کا اصرار تھا،جو گاؤں والوں کو کبھی کی ازبر ہو چکی تھیں، جیسے اُن کے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیاں۔اُس منبر کا رنگ اب کوئی نہیں بتا سکتاتھاکہ جب وہ نیاتھا تو کیا ہو گا۔ محراب کے اندرکاندھوں کے برابر تین چھوٹی چھوٹی محرابیوں والے طاق اور اُن میں رکھے چراغ۔ جن کے جلانے کی ڈیوٹی بچپن سے اُس کی اپنی ہی رہی۔ اُس کے علاوہ مسجد کے صحن کے مشرقی کونے میں وہ چبوترہ جس پر کھڑے ہو کر پانچ وقت اذان دیتا تھا۔الماریوں میں پڑی لکڑی کی رحلیں، میلاد النبیؐ کے دن مسجد کی چھت اور صحن میں باندھی جانے والی رنگ برنگی کپڑے کی جھنڈیاں، رمضان کے مہینے میں روزہ افطاری کااعلان کرنے والا نقارہ، حتیٰ کہ صحن کے ایک کونے میں پڑی ہوئی مُردوں کو لاد کر لے جانے والی چارپائی، وہ ایک ایک چیز کو غور سے دیکھتا گیا اور اُسے بوسے دیتا گیا۔ غرض صحن سمیت اس تیس فٹ لمبی اور بیس فٹ چوڑی مسجد کی ایک ایک شے مولوی کرامت کے وجود کاحصہ بن چکی تھی، جسے اگر اُس کے بس میں ہوتا تو اٹھا کر جلال آباد لے جاتا۔ کئی دفعہ ذہن میں آیا کہ نہ جائے مگر پھر اُسے فضل دین کا خیال آ جاتاجو محض روٹیاں اکٹھی کرنے اور جھڑکیاں کھانے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ اسی عالم میں اُسے صبح نے آ لیا۔

 

مسجد میں صبح کی نماز چھوڑ کر باقی چار وقتوں میں نمازیوں کی تعداد پندرہ بیس سے کبھی نہیں بڑھی تھی۔ صبح کے وقت چالیس پچاس فرد ہر صورت جمع ہو جاتے۔ یہ اصول اسی گاؤں کی مسجد کا نہیں تھا۔ پنجاب کے جتنے دیہات یا شہر ہیں، وہاں کے نمازیوں کی یہی حالت ہے۔ یہ لوگ صبح کی نماز کو عموماً ترجیح دیتے ہیں اور باقی کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔با لکل اُس نوکر کی طرح جس کا مالک اُسے کوئی کام بتا کر فوت ہو جائے اور وہ نوکر اُس کام کا ایک فی صد کر کے باقی اپنے مالک کے زندہ ہونے تک ملتوی کر دے۔صبح کی نماز پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اِن دیہاتی لوگوں کو ہمیشہ سے ہی رات کو جلد سو نے کی اور صبح جلد اُٹھنے کی عادت ہوتی ہے۔ چونکہ صبح کے وقت اٹھ کر کرنے کو کوئی اور کام نہیں ہوتااور نماز پڑھنے کے لیے ہاتھ منہ دھونا ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے صبح کی نماز گویا منہ ہاتھ دھونے کا بہانہ سمجھ لیں۔ اس کے علاوہ صبح کے وقت لوگ تازہ دم بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال آج فجر کی نماز میں معمول کے مطابق گاؤں کے قریباً سبھی سر کردہ لوگ جمع تھے جن کی تعداد ساٹھ تک تھی۔

 

نماز ختم ہوئی تو مولوی کرامت نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ گڑگڑا کر دُعا کی اور اس کو اتنا لمبا کھینچا کہ نمازی فکر مند ہو گئے۔ ہر ایک شخص کا نام لے کر، اُن کی ضروریات کی تمام چیزیں صحت، دولت اورا یمان تک مولوی صاحب نے اللہ سے مانگیں۔ اس کے بعد نمازیوں کی طرف منہ کر کے رُندھی ہوئی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔

 

گاؤں والو، خدا تم کو سلامت رکھے اور اس گاؤں پر کبھی کوئی مصیبت نہ آئے۔مجھے یہ کہتے ہوئے بہت دُکھ ہو رہاہے کہ میں آج یہاں سے ہجرت کر جاؤں گا۔ تم نے میری اور میرے باپ دادا کی بہت خدمت کی۔اس مٹی میں جنتا ہمارا رزق تھا،وہ ہم نے کھا لیا۔ اب آگے کا دانہ پانی اللہ نے کہیں اور لکھ دیا ہے۔اب دعاؤں کے ساتھ رخصت چاہتا ہوں۔

 

اتنا کہتے ہوئے مولوی کی آواز ایک دم بھرّا گئی۔ اُس سے آگے نہ بولا گیا اور ہچکی بندھ گئی َمولوی کو روتے دیکھ کر سب لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
سچ بات تو یہ تھی کہ آج تک مولوی کرامت کی کسی بھی شخص سے چپقلش نہ ہوئی تھی۔ سب کے گھروں میں آنا جانا کُھلا تھاَ ہر ایک کی ماں بہن کو مولوی کرامت نے اپنی ماں بہن سمجھا۔ کبھی نہ کسی شخص سے منہ بھر کے مانگااور نہ کم زیادہ ملنے پر بُڑبُڑ کی۔جو کسی نے دیا،رکھ لیا، نہ دیا تو خموش ہو گیا۔ گاؤں میں مولوی کی ایک انچ زمین نہ تھی َ۔گھر کا جو احاطہ رہنے کے لیے تھا وہ بھی چوہدری گلزار محمد نے دے رکھا تھا مگر مولوی کرامت گاؤں کی تمام زمین کو اپنی ملکیت ہی سمجھتا تھا۔ جس کھیت سے جی چاہا، ساگ اتار لائے۔ جہاں سے چاہا سبزی، مکئی کے بھٹے، گنا، لہسن، پیاز غرض ہر شے کسی کے بھی کھیت سے مولوی کرامت بغیر پوچھے کاٹ لاتے تھے۔ کسی نے آج تک منہ نہ پھٹکارا۔ کافی عرصہ پہلے ایک دو دفعہ مولوی کرامت کو شہر کی مسجدوں سے پیش امامت کی پیش کش بھی ہوئی۔مولوی صاحب نے انہی سہولیات کے باعث وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا مگر اب کے معاملہ الٹ تھا۔ایک تو انگریزی سرکار کی نوکری، اُس پر رحمت بی بی کی دس ایکڑ زمین کی سنبھال۔ مولوی کرامت نے سوچا اُسے چاہے تنگی ہو جائے، مگر فضل دین کا مستقبل ضرور سنور جائے گا۔ اب چونکہ مولوی کرامت کی پیدائش اسی گاؤں کی مٹی کے خون سے ہوئی تھی اس لیے آج گاؤں چھوڑنے پر دل بھر آنا فطری عمل تھا۔

 

جب دن کافی چڑھ آیا اور کُہر نے آنکھوں کا راستہ چھوڑ دیا تو چوہدری گلزار، الہٰ بخش، دین محمد اور دوسرے کئی لوگ مولوی کرامت کو رخصت کرنے کے لیے اُس کے گھر کے سامنے جمع ہوگئے۔ آج شام چار بجے کی ریل سے مولوی کرامت نے جلال آباد کا ٹکٹ لینا تھا۔ اس لیے چار سے پہلے اُسے سامان لے کر ریلوے اسٹیشن پر پہنچنا تھا۔ سامان کیاتھا، دو لکڑی اور ایک لوہے کاصندوق،جن میں پرانے کپڑے، پانچ دس کتابیں اور گھر کے چھوٹے موٹے برتن۔ اس کے علاوہ تین عدد بستر جن میں پرانی رضائیاں اور چٹائیاں تھیں اور باقی اللہ اللہ۔

 

یہ سارا سامان ایک گَڈ پر باندھ دیا گیا جو حسین محمد کا تھا۔ اُس نے اپنے نوکر سے کہا، وہ مولوی صاحب کا سامان ریلوے اسٹیشن پر چھوڑ آئے۔ اُس کے علاوہ دو تین لڑکے مزیدجو کبھی مولوی کرامت کے شاگرد رہ چکے تھے، وہ بھی ریلوے سٹیشن تک جانے کے لیے ساتھ ہو گئے۔ ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق اُس کی کچھ نہ کچھ خدمت کی۔ کوئی مولوی کرامت، اُس کی بیوی اور فضل دین کے لیے کپڑے لے آیا۔ کسی نے پیسے دیے۔کسی نے کچھ اور تحفہ۔یوں مولوی کرامت کے پاس ڈیڑھ سو روپیہ اور کپڑوں کے کئی جوڑے جمع ہو گئے۔

 

مولوی کرامت تمام لوگوں کے ساتھ گلے مل مل کر رویا۔ شریفاں بی بی کے گرد عورتوں کا مجمع الگ تھا،جو اُسے بڑی گلوگیری سے دعائیں دے رہی تھیں۔ فضل دین نے آج نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ اس سب کچھ سے بے نیاز نئی دنیا دیکھنے کے لیے بے تاب اور خوش خوش سفر کو آمادہ، جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ وہ ایسی جگہ جا رہاہے جہاں دن کا رنگ ہرا ہرا ہوتا ہے اور راتوں کو جگمگ کرتے تارے کوٹھوں کی چھتوں پر آجاتے ہیں۔ اُسے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ اُس جگہ پر رنگ برنگ کی میٹھی میٹھی برفی، ٹانگر، جلیبی اور کرارے پکوڑے بھی بہت سستے مل جائیں گے۔ اس لیے اب وہ جی بھر کر جلیبی اور پکوڑے کھایا کرے گا،جو ڈیڑھ سال پہلے پیر نتھو شاہ کے میلے میں اُس کے والد مولوی کرامت نے اُسے لے کر دیے تھے۔وہ جلیبی کیسی مزیدار تھی۔ مگر روٹیاں مانگنے کے لیے کہاں جائے گا ؟اس اہم معاملے میں ابھی تک اُس کا دماغ کچھ کام نہیں کر سکا تھا۔ پتا نہیں وہاں کی روٹیاں گھی والی ہوں گی یا سوکھی،خیر جیسی بھی ہوں گی لیکن اب وہ کسی کا کام نہیں کرے گا۔ جلد ہی روٹیاں اکٹھی کر کے گھر بھاگ آیا کرے گا۔ آج اُس نے جوتے نئے پہننے تھے،اس لیے پاؤں خود بخود ادھر اُدھر اٹھ رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی ہوا میں اڑ جائے گا۔ان نئے جوتوں کی وجہ سے اُسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ سب سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے۔

 

مولوی کرامت، رحمت بی بی اور فضل دین گڈ پر بیٹھ گئے۔ جس پر اُن کاسامان لد چکاتھا۔ اپنی بکری اور چارپائیاں مولوی نے وہیں پر بیچ دیں کہ اُنھیں کون اُٹھائے اُٹھائے پھرتا۔آخر رمدو نے بیلوں کو ہانک لگادی اور دو بجے سہہ پہریہ قافلہ چک راڑے سے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کی طرف رخصت ہو گیا، جو کم از کم سو میل قصور سے دُور تھااور اب
“جا نی دھیے راوی۔۔۔۔۔نہ کوئی آوی نہ کوئی جاوی”
والا معاملہ تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – آٹھویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سردار سودھا سنگھ مجبوراً ولیم کو رخصت کرنے کے لیے جیپ تک آیا اور اُس کو سوار ہوتے دیکھتا رہا۔ جیپ جب تک رخصت نہیں ہوئی، وہیں کھڑا رہا۔ کسی نے کوئی بات بھی نہ کی۔ دلبیر سنگھ نے گاڑی کواسٹارٹ کر کے اُ سے گئیر میں ڈال دیا اور وہ رفتہ رفتہ گاؤں والوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔جیپ کے گاؤں سے نکل جانے کے بعد سودھا سنگھ نہایت بے چینی سے حویلی کی طرف مڑا۔ مجمع جو چند لمحوں میں قریب دو سو نفوس پر مشتمل ہو گیا تھا، وہ بھی سودھا سنگھ کی حویلی کی طرف چل دیا تاکہ پتہ چلے فرنگی گورنمنٹ کیسے آئی تھی اور سردار سودھا سنگھ کے ساتھ کیا بات چیت ہوئی مگر فوجا سیؤ نے سب لوگوں کو جھڑک کر پیچھے کر دیا۔

 

حویلی میں داخل ہو کر فوجا سیؤ نے پھاٹک بند کروا دیا۔پھر دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ آخر سودھا سنگھ نے سکوت توڑا اور فوجا سیؤ کی طرف مخاطب ہو کر بولا، فوجے لگتا ہے معاملہ کچھ گھمبیر ہو گیا ہے۔ اس کلکٹر کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔

 

فوجا سیؤ خاموشی سے کان کھجاتا رہا اور سودھے سنگھ کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ دیر کے لیے پھر خاموشی چھا گئی۔ حویلی کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ کسی دوسرے کے بولنے کی ہمت اس لیے نہیں تھی کہ سودھا سنگھ غصے سے بھرا بیٹھا تھا۔ نہ جانے کیا ہنگامہ کھڑا کر دیتا۔ آخر جگبیر نے ہمت کی اور بولا، سردار جی واہگرو جی شرماں رکھُو، ہمت سے کام لے۔ غلام حیدر یا انگریز کے پاس کوئی ثبوت تو ہے نہیں۔ کلکٹر آگیا ہے تو کوئی قہر نہیں ٹوٹ پڑا، دیکھی جائے گی۔

 

فوجا سیؤ جو پہلے ہی کلکٹر کی طرف سے کی گئی توہین سے سخت برہم تھا اور جودھا پور پر حملہ بھی اس کے مشورے کے برخلاف ہوا تھا۔جس میں جگبیرنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، جگبیر کے ان جملوں پر ایک دم بھڑک اٹھا اور بولا۔

 

جگبیرے تیرے جیسے بارہ تالیے شراب کے چوہے ہوتے ہیں، جو دوگھونٹ چڑھا کر اپنی دُم پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور شیر کو للکار دینا ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ تم ہی تھے جنھوں نے سودھا سنگھ کو الٹی مت دی ہے اور جودھا پور پر دھاوا بول دیا۔اسی وجہ سے فرنگی کو ہمت ہوئی کہ وہ میری اور سردار سودھا سنگھ کی بے عزتی میں ہاتھ ڈبو کر چلا گیا ہے۔ اُس وقت سے ڈر جب چراغ دین مُسلے کا پھندا سودھا سنگھ کے گلے میں فٹ ہو جائے۔ مگر تجھے کیا، تو کوئی اور کڑاھا ڈھونڈ لے گا جہاں پرانے گُڑ کی پت چڑھی ہو گی۔ مسئلہ تو ہمارا ہے کہ جینا مرنا سودھا سنگھ کے ساتھ ہے۔

 

جبگیر نے فوجا سیؤ کے آگ لگا دینے والے جملے سنے تو کرپان کھینچ کر فوراً اُٹھ کھڑا ہوا۔ غصے سے نتھنے پھڑکنے لگے اور چہرہ انگارے کی طرح دہک گیا۔
تیری تو میں دو گز لمبی زبان کھینچ لوں گا۔ واہگرو کی سونہہ تیرا قتل نہ کروں تو سمجھ لینا میری ماں پھیروں پر رہی ہے۔ بڈھا پاگل ہو گیا ہے۔ اِسے کسی نے سمجھایا نہیں کہ جگبیر سے بات کن محاوروں میں کی جاتی ہے۔

 

جگبیر کو مشتعل ہوتے دیکھ کر سب اٹھ کھڑے ہوئے اورپیت سنگھ نے آگے بڑھ کر جگبیر کو جپھا ڈال لیا۔ بیدا سنگھ نے اس کے ہاتھ سے کرپان پکڑ لی۔
مگر اسی اثنا میں جما سنگھ بھڑک اٹھا۔ پیتے چھوڑ دے اس سورمے کو، میں اس کی وراچھیں چیر دوں گا۔ خنزیر چاچے فوجے کو للکارتا ہے۔حرامی کیا یہ نہیں جانتا سردار فوجا سئیو کون ہے؟

 

اس کے ساتھ ہی تلوار کھینچ لی اور بیدا سنگھ کی طرف بھاگا۔ساتھ گالیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ا ِدھر نکل رانی خاں کے سالے تیری ایسی تیسی پھیر دوں گا۔تو نے سمجھا تھا یہاں جھانجھروں والے بیٹھے ہیں۔ لیکن دو تین جوانوں نے اُٹھ کر فوراً جما سنگھ کو پکڑ لیا۔

 

مگر اُدھر سے للکار سُن کر جگبیر دوبارہ پلٹا،چھوڑ دے بیدے مجھے۔یہاں آج لہو کی چکیاں چل ہی لینے دے۔ لاف سرداروں کو مہنا ہے۔ لیکن لوگوں نے جگبیر کو مضبوطی سے پکڑے رکھا۔ اس دنگے میں شور اور واویلا اتنا بلند ہوا کہ باہر کھڑا مجمع حواس باختہ ہو کر حویلی کا پھاٹک پیٹنے لگا۔ سودھا سنگھ یہ تماشا دیکھ کر انتہائی کرب اور بے بسی سے چیخا۔ مترو واہگرو کا خوف کرو۔یہ کیا اودھم مچا دیا تم نے۔ کیا جھنڈو والا میں آگ لگ گئی؟ سودھا سنگھ کی آواز میں اس قدر غیظ تھا کہ تمام لوگ حویلی کے اندر اور باہر والے سب ایک ہی دفعہ خاموش ہو گئے۔ اس خموشی سے سودھا سنگھ کو ذرا سکون ملا۔ وہ دوبارہ قدرے دھیمے لہجے میں بولا، فوجے اب لڑنے اور طعنے مہنے دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو ہوا سو ہوا۔ کیے پر پچھتانا مورکھوں کا شیوہ ہے۔ بس آگے کی سوچو۔

 

فوجا سیؤ نے جب دیکھا کہ سودھا سنگھ بالکل ہی ہتھیار پھینک چکا ہے تو وہ قدرے سکون سے بولا۔ دیکھ بھئی سردار سودھا سنگھ اب میں تب بولوں گا جب میرا مشورہ جڑ سے پرامبلوں تک مانو گے۔ ورنہ(طنز سے جگبیر کو دیکھتے ہوئے ) تیری اور اِن سورموں کی اپنی راہ اور میری اپنی راہ۔

 

سودھا سنگھ نے بڑے سکون سے پگڑی کو درست کیا اور سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہو گیا۔پھرفوجا سیؤ نے آگے جھک کر اپنی بات شروع کی۔

 

سردار سودھا سنگھ میری دو باتیں غور سے سن اور اس کو پلے باندھ لے۔ ایک یہ کہ اب جھنڈو والا سے باہر قدم نہ نکالنا، چاہے قیامت آ جائے۔کچھ سمے تک یہ حویلی ہی تیرا مرن جیون رہنا چاہیے۔اس کے علاوہ جتنی جلدی ہو سکتا ہے، مہاراجہ پٹیالہ کے دربار سے کسی سفارش کا بندوبست کر بلکہ میں تو کہتا ہوں دو چار مہینوں کے لیے وہیں پٹیالہ چلا جا اور اُدھر ہی بیٹھ کے سارا مقدمہ لڑ۔دوسری صلاح میری یہ ہے کہ ڈُلھے بیروں کا کچھ نہیں گیا،عبدل گجر کی طرف فوراً بندہ بھیج کے انھیں شاہ پور پر حملے سے روک دے۔

 

فوجا سیؤ کی بات سن کر جگبیر اور پیت سنگھ نے منھ بسورا لیکن کچھ بولے نہیں مگر سودھا سنگھ نے تحمل سے سوال کیا، اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اتنی بزدلی کا ثبوت دیں؟

 

فوجا سیؤ دوبارہ بولا،وجہ یہ ہے سردار سودھا سنگھ اس دفعہ دو کام ایسے ہوئے ہیں جو آج تک نہیں ہوئے تھے۔ اُن کا شگون اچھا نہیں۔ ایک یہ کہ تیری کمر پر غلام حیدر نے قتل کا پرچہ رکھ دیا ہے۔ دوسرا کلکٹر ایسا آ گیا ہے جس کے تیور شینہہ کی طرح خونخوار ہیں۔ وہ سمجھ چکا ہے کہ یہ سب کیا دھرا تیرا ہی ہے۔ ورنہ وہ جھنڈو والا کبھی نہ آتا۔ اب شاہ پور پر حملہ ہوا تو اس میں چاہے تو جتنا بھی پلہ چھڑائے باٹوں کی جگہ تجھے ہی رکھا جائے گا۔ ادھر انگریز راج میں قتل معاف نہیں ہو سکتا۔ رہی غلام حیدر کی بات، وہ بھوکے شیر کی طرح باولا ہوا ہے۔تھانیدار نے جو حالت اس کی بتائی ہے،اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسے پرچے ورچے سے کچھ غرض نہیں۔ وہ تو بس تیرا سامنا چاہتا ہے اور یہ اچھی بات نہیں۔

 

تو کیا بزدلوں کی طرح چوڑیاں پہن لوں؟ سودھا سنگھ ذرا تپ کر بولا۔

 

میں نے کب کہا ہے چوڑیاں پہن لے۔ بس ذرا کوئلوں کو سیاہ ہونے دے اور حالات کا رخ دیکھ۔

 

واہ حالات کا رخ دیکھ “اب کے پیت سنگھ بولا”تاکہ پُلس آرام سے آکر سودھا سنگھ کو بیل کی طرح نتھ ڈال کر لے جائے اور پھر جیل میں چکی پر جوت دے۔
اس کا ایک حل ہے، فوجا سیؤ اسی تحمل سے بولا۔

 

وہ کیا؟ سودھا سنگھ نے پوچھا۔

 

دیکھ سردار سودھا سنگھ معاملہ ابھی زیادہ بگڑا نہیں ہے۔ایک قتل کی بات سنبھالی جا سکتی ہے اور مونگی کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اِس سے تھوڑا سا بھی آگے بڑھے تو سمجھ لو دودھ کا چھنا گوبر میں جا گرے گا۔( پھر تھوڑی دیر رُک کر )میری مان غلام حیدر سے صلح کر لیں اور چراغ دین کا قصاص دے دیں۔ فوجا سیؤ نے لجائے ہوئے لہجے میں کہا۔

 

فوجے سیؤ کی بات سن کر تمام لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ فوجا سیؤ اتنی بزدلی کی بات کرے گا۔ خاص کر جگبیر کے تو گویا سر پر فوجے نے راب کی اُبلی اُبلی دیگ ڈال دی۔ ادھر سودھا سنگھ اور پیت سنگھ بھی غصے سے سرخ اور لال پیلے ہو گئے لیکن ان کے جواب دینے سے پہلے ہی فوجا سیؤ اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ اُسے پتہ تھا کہ وہ جو جواب دیں گے، وہ اس سے سنا نہیں جائے گا۔اس لیے بہتر ہے حویلی سے نکل جائے اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دے۔

 

فوجا سیؤ کے ساتھ ہی جما بھی حویلی سے نکل گیا۔ اگرچہ فوجا سیؤ کا سردار سودھا سنگھ کو یوں بات سُنے بغیر چھوڑ کے جانا اچھا فیصلہ نہیں تھا۔ مگر سودھے سنگھ کو بھی فوجا سیؤ کی یہ بات بہت گھٹیا اور شوہدی لگی۔ یہ بزدلی کی حد تھی جو فوجا سیؤ نے کی تھی۔ اس لیے سودھا سنگھ نے اسے روکنے کی ذرا بھی کوشش نہ کی۔ اُس نے سوچاجگبیر سنگھ اور پیتا ٹھیک کہتے ہیں۔ ابھی کون سی قیامت آگئی ہے کہ مُسلوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ خاص کر کل کے چھوکرے کے آگے،جو ابھی سکول کا مُنڈا ہے۔ پوری سکھ برادری میں نا ک کٹ جائے گی اور شریکے میں کیا منہ دکھائیں گے۔ بَیر اور لڑائی توجوانوں کا سنگھار ہے ورنہ مر تو وہ بھی جاتے ہیں جو ساری عمر اکھاڑے میں ناچتے ہیں اور کیکر کا نٹاچبھنے سے بیہوش ہو جاتے ہیں۔پھر سودھا سنگھ جگبیر کی طرف منہ کر کے بولا،، جگبیرے اب تیرا مشورہ ہی چلے گا۔ بول واہگرو کے نام سے کیا کہتا ہے۔ فوجا سیؤ نے تو زنخوں والی بات کی ہے،، میرے لیے تو دما،رنگا اور آپ ہی اب سب کچھ ہو۔
جگبیرنے جو ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں سودھاسنگھ کو فوجا سیٔو کے بھرے مجعمے سے اٹھ کر جانے کا افسوس نہ ہوا ہو،،سودھا سنگھ کی طرف سے حوصلہ پا کر کہا،سردار سودھا سنگھ پندرہ جوان میرے ساتھ کر دے اور عبدل گجر کو پیغام بھیج کر پوچھ،اگر وہ کل تک شاہ پور پر حملہ کرتا ہے تو ٹھیک ورنہ یہ کام بھی میں ہی کرتا ہوں۔ وہ راضی ہو جائے تو میں اس کی فوج میں شامل ہو جاتا ہوں۔ کل رات ہی ہم اور گجر مل کر یہ کام کر دیں تو یہ انگریزی بابو اور غلام حیدر دونوں پاگل ہو جائیں گے اوربول کی جھاگ کی طرح نہ بیٹھ جائیں تو مجھے کہنا۔

 

سودھا نے پیت سنگھ کی طرف دیکھا تو وہ بولا،سردار صاحب، دیکھ شاہ پور پر حملہ اس وقت بڑا مفید ہے۔ جگبیرے نے بڑی ٹھیک صلاح دی ہے۔ شاہ پور میں میرا یار فضلو میو موجود ہے۔بندہ بھیج کر اُسے بلا لے۔ سو روپیہ دے کر سب مخبری لے لیتے ہیں۔

 

سودھا سنگھ کو پیت سنگھ کی بات پسند آئی۔ ہرے سنگھ کو آواز دے کر سودھے نے پاس بلایا اور اسے فوراً شاہ پور جانے کے لیے کہا کہ جا کر عشا تک فضلو کو لے آئے۔ دوسری طرف نتھا سنگھ کو ہدایات بھیج کر عبدل کی طرف روانہ کر دیا کہ ان کو سودھے کے فیصلے سے آگاہ کر دے اور جو کچھ بھی وہ کہیں وہ آ کر خبر دے لیکن انھیں کہہ دے کہ حملہ ہر صورت کل ہونا چاہیے۔

 

(14)

 

مولوی کرامت کو جودھا پور میں تیسرا دن تھا۔ چراغ دین کے ساتے کو دو دن گزر چکے تھے۔ اُسے فضل دین کی فکر کھائے جا رہی تھی، جسے اکیلا پیچھے چھوڑ آیا تھا۔مگر اب وہ کمشنر صاحب سے ملے بغیر واپس نہیں جا سکتا تھا۔ دوسری طرف رحمتے اور اس کی بیٹی جودھا پور میں بالکل اکیلی تھیں۔تیسری طرف غلام حیدر نے دس ایکڑ زمین چراغ دین کی بیوی کے نام کرنے کا اعلان کر کے ایک عجیب کشمکش پیدا کر دی تھی۔ شریفاں رحمت بی بی اور اُس کی بچی کے ساتھ چولہے کی انگنائی میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔مولوی کرامت دو قدم دور بان کی چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اُس کے ذہن میں سہ طرفہ تفکرات کی آندھی چل رہی تھی۔ خدا جانے صاحب کمشنر اُسے تحصیل بلا کر کیا کہنا چاہتا تھا۔ اُس نے کوئی ایسی ویسی بات تو کی نہیں تھی جس سے صاحب کو کچھ شک پیدا ہوا ہو۔ شاید انگریز بہادر اُس سے چراغ کی کسی خفیہ دشمن داری کی بابت سوال کرنا چاہتا تھا ؟ کچھ چیز سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ اس نے تنگ آکر سر جھٹک دیا اور دس ایکڑ زمین پر غور کرنے لگا، جو رحمتے کے نام ہونے والی تھی۔ لیکن رحمتے اس زمین کو کیا کرے گی۔ چراغ دین تو مر چکا تھا جبکہ وہ اتنی دور قصور میں رہ کر اُسے کیسے کاشت کر سکتا تھا۔ بہرحال یہ بعد کی باتیں تھیں۔ اول تو اُسے کل ہر حالت تحصیل جانا تھا۔ خیر دین ٹانگے والے سے اُس نے بات کر لی تھی۔ جو روزانہ جودھا پور سے جلال آبادسواریاں لے کر جاتا تھا۔ اُس نے کرایہ زیادہ مانگا تھا۔ پو رے ایک روپیہ وصول کر رہا تھا۔مگر پندرہ کوس پیدل طے کرنا بھی تو مشکل تھا۔ سارا دن سفر میں کٹ جاتا۔ اس طرح ایک روپے کا نقصان تو ہو جاتا مگر خیر دین کا ٹانگا اُسے دن نکلتے ہی جلال آباد پہنچا سکتا تھا۔ اگر صبح کاذب سے پہلے چل نکلتا۔ وہ انہی نے سوچوں میں گم تھا کہ رحمت بی بی نے مولوی کرامت کو مخاطب کر کے کہا۔

 

بھائی کرامت کچھ پتا ہے کہ سرکار بہادرنے تمہیں کیوں تحصیل بلایا ہے؟ مجھے تو لگتا ہے سرکار صلح کرانا چاہتی ہے، تمہیں بیچ میں ڈال کے۔

 

مولوی کرامت نے داڑھی کھجاتے ہوئے کہا، دیکھ رحمتے، سرکار کا اُس وقت تک کوئی پتا نہیں چلتا جب تک بات کھل کر نہ کرے۔ میرا خیال ہے سرکار کو اتنی خبر تو ہو گئی ہو گی کہ یہ قتل سودھا سنگھ نے ہی کرایا ہے۔ اب رہی صلح کی بات،وہ تیری مرضی کے بغیر کیسے ہو سکتی ہے ؟پھر میں نے سنا ہے کہ پرچے کا مدعی غلام حیدر خود بنا ہے اور آج کی خبر یہ ہے کہ وہ فیروز پور بڑے صاحب کو ملنے گیا ہے۔

 

رحمت بی بی نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا، بھائی کرامت سنا ہے، وائسرا ئے کی بیٹی کا غلام حیدر سے یارا نہ ہے۔ آج مجھے فاتاں اور شیداں نے بتایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے سودھا سنگھ کو فکر پڑگئی ہے کہ غلام حیدر بدلہ لے کے رہے گا۔ اس لیے وہ صلح کی کوشش کر رہاہے۔ میرا تو خیال ہے چھوٹے صاحب نے سکھوں سے رشوت کھا لی ہے۔وہ تم کو بلا کر دھونس دھاندلی سے سودھا سنگھ کے ساتھ صلح کروا دے گا۔

 

“مولوی کرامت نے فکر مند ہوتے ہوئے سر ہلایا۔

 

“شریفاں رحمت بی بی کی بات سن کر ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولی” ہائے ہائے کیا زمانہ ہے بہن رحمتے۔ یہ تو تم نے بڑی ناہونی سنائی۔ پر وائسرائے کی دھی غلام حیدر سے ملی کہاں؟ نا پر وائسرائے کو پتا ہے اس کہانی کا؟

 

رحمت بی بی چولہے میں جلتی لکڑیوں کو پھونک مارتے ہوئے بولی”اے ہے شریفاں اب بھلا مجھے اس کا کیا پتا؟” بڑے لوگوں کے ملن ملاپ کوئی ہم غریبوں سے پوچھ کر ہوتے ہیں۔ سنا ہے، اُدھر لاہور میں اونچے اونچے بنگلوں میں دونوں کی ملاقاتیں ہوئیں۔ فاتاں کہتی تھی، وائسرائے کی بیٹی بے حد چٹی گوری اور سوہنی سنکھنی ہے۔ یونہی آنکھ سے دیکھے میلی ہو جائے۔ ایسی کُڑی تو پورے ولایت میں نہیں۔

 

شریفاں نے فوراً رحمتے کی بات کاٹ کر لقمہ دیا، پر دیکھ رحمتے،اپنا غلام حیدر بھی تو چاند کا ٹکڑا ہے۔ اس جیسا گبھرو اُسے بھلا پورے ولایت میں ملے گا؟ آنکھوں سے خداسلامت رکھے خون چھوٹتا ہے اور رنگ مکھنوں پلے کا گلابوں میں ڈھلتا ہے۔

 

رحمت علی چپکے بیٹھا دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے حقے کی نَے ایک طرف کی اور اُٹھ کردروازے کی کُنڈی کھول دی۔ سامنے خیر دین کھڑا تھا ہاتھ میں چابک لیے۔ مولوی کرامت نے پیچھے مڑ کر رحمتے اور شریفاں سے رخصت لی۔ اپنی پگڑی درست کر کے باندھی اور باہر نکل آیا۔دونوں عورتیں دروازے پر آ کر مولوی کرامت کو تانگے پر بیٹھتے ہوئے دیکھ کر دعائیں دینے لگیں کہ خیر سلامت سے واپس لوٹے۔ مولوی کرامت کے بیٹھتے ہی تانگا چل پڑا۔

 

(15)

 

ولیم نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی ہیٹ اتار کر کھونٹی پر رکھا اور فوراً گھنٹی دی۔ گھنٹی سنتے ہی کرم دین اندر داخل ہو کر باادب کھڑا ہو گیا۔
نجیب شاہ کو بلاؤ، ولیم نے کرم دین کی طرف دیکھے بغیر نہایت سپاٹ لہجے میں حکم دیا۔

 

کرم دین کے باہر نکلتے ہی چند ثانیوں بعد نجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا اور ابھی اُس نے سانس بھی نہ لی تھی کہ ولیم نے ہدایات دینا شروع کر دیں،جنھیں نجیب شاہ کھڑے کھڑے نوٹ بک پر اُتارنے لگا۔

 

نجیب شاہ،تحصیل جلال آباد میں جس قدر سکول ہیں، اُن کا تمام ریکارڈ مجھے جلد از جلد چاہیے۔وہاں پر اساتذہ کی تعداد سے لے کر طلبااور اُن کی تعلیم کے معیار سے متعلق ہر چیز تحصیل ایجوکیشن افسرسے کہو، دو گھنٹے کے اندر لے کر میرے پاس میٹنگ کے لیے پہنچے۔ اِس کے علاوہ انسپکٹر متھرا داس اور منڈی گرو ہرسا کے تھانیدار کو بلواؤ اور غلا م حیدر کے معاملے کی فائل میز پر پہنچا دو۔

 

نجیب شاہ نے ہدایات نوٹ کیں اور پچھلے قدموں پُھرتی سے ُمڑا۔

 

اور سنو! ولیم دوبارہ بولا،آج ایک شخص مولوی کرامت کسی وقت آئے گا، اُسے مجھ سے ملے بغیر نہیں لوٹنا چاہیے۔

 

جی سر جیسے ہی آیا،اُسے سرکار میں حاضر کر دوں گا۔ اِس کے بعد نجیب شاہ نے نہایت ادب سے سلام کیا اور باہر نکل گیا۔

 

نجیب شاہ کے باہر نکلنے کے بعد کمرے میں پھر سناٹا چھا گیا۔ اس خموشی میں ولیم کا دماغ ایک دفعہ پھر سودھا سنگھ اور غلام حیدر کے بارے میں الجھ گیا۔ ولیم کو اس کیس پر کام کرتے چوتھا دن تھا۔ وہ تمام حاصل شدہ حقائق اور معلومات سامنے رکھتے ہوئے ایک نتیجے پر یقین سے پہنچ چکا تھا۔ چراغ دین کا قتل اور مونگی کے کھیت کی تباہی کا ذمہ دار سودھا سنگھ ہی تھا۔چنانچہ اُس کی گرفتاری بہت ضروری تھی۔ ولیم کمرے میں ٹہلنے لگا اور معاملات کے نشیب و فراز پر مزید غور کرنے لگا۔اسی اثنا میں کمرے کی دیواروں پر اُس کی نظر پڑی،جہاں سابقہ تحصیلداروں اور ایک اسسٹنٹ کمشنر زکی تصاویر آویزاں تھیں،جو یکے بعد دیگرے جلال آبادمیں پوسٹ کیے گئے تھے۔ولیم نے پہلے دن جب اس کمرے میں قدم رکھا تو ان تصویروں پر اُس کی نظر پڑی تھی لیکن وہ نہ جانے کیوں انھیں کمرے کی فالتو چیز سمجھ کر نظر انداز کر گیا تھا۔ اب اُس نے خیال کیا آخر ایسا کیوں ہوا۔ اُس نے ان تصاویر پر کیوں توجہ نہیں دی؟ شاید پہلی پوسٹنگ کی وجہ سے اُسے یہ گمان نہ گزرا ہو کہ اب وہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ اُس نے سوچا شاید نئے افسروں کے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے، انھیں کافی عرصہ تک باور نہیں آتا کہ وہ افسر بن چکے ہیں۔ اسی لمحے اُسے خیال آیا اُس کی اپنی تصویر پر بھی اب یہاں آویزاں ہو جانی چاہیے۔یہ خیال آتے ہی وہ ہلکا سا مسکرادیاپھر آگے بڑھ کر گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا۔ گھنٹی سن کر کرم دین دوبارہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اس کی طرف دیکھے بغیر کافی کا آرڈر دیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ کرم دین نے کمرے سے نکلنے سے پہلے ایک چٹ سامنے رکھ دی، جس پر مولوی کرامت لکھا تھا۔

 

ہاں اس کو اندر بھیجو۔ ولیم نے چٹ کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا۔

 

کرم دین کے جانے کے ایک منٹ بعد ہی مولوی کرامت کمرے میں داخل ہو ااور سلام کر کے کھڑا ہو گیا۔ جیسے نماز میں قیام کی صورت ہو۔ ولیم نے مولوی کرامت کو سامنے بیٹھنے کا حکم دیا پھر کچھ دیر خموشی چھائی رہی۔ اس دوران ولیم نے محسوس کیا کہ مولوی کرامت اندر سے سہما اور ڈرا ڈرا تھا۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے اُبھر آئے تھے۔اُنہیں حدِ ادب کی وجہ سے صاف کرنے سے گریز کر رہا تھا۔علاوہ ازیں ولیم سے آنکھیں بھی نہیں ملا رہا تھا اور نہ ہی پورے کمرے کو دیکھنے کی جرات کر سکا۔مولوی کرامت نے اپنی آنکھوں کو صرف اتنی اجازت دی تھی کہ وہ کسی شے سے ٹھوکر نہ کھا سکے۔اُس نے اُن کا دائرہ اپنے قدموں سے لے کر ولیم کی میز تک رکھا۔ کمرے میں میز اور ولیم کے سوا کیا کچھ تھا؟ یہ سب کچھ مولوی کرامت نہیں دیکھ سکا۔اِدھر سفید لٹھے کا سوٹ اور سفید پگڑی کی شفافیت نے ولیم کو ایک دفعہ پھر متاثر کیا۔ اسی اثنا میں کرم دین کافی کاکپ رکھ کر چلا گیا، جس کی ولیم چسکیاں لینے لگا۔ ولیم کی احساس تھا کہ اُس کی خموشی مولوی کرامت کے اضطراب کو بڑھا رہی ہے مگر وہ جان بوجھ کر اس عمل سے لطف لے رہا تھا، جو کچھ دیر تک مزید جاری رہا۔ جب ولیم نے کا فی کے گھونٹ کے ساتھ چھ سات چُسکیاں مزید لے لیں اور مولوی صاحب کی بے چینی بھی کافی بڑھ گئی، تو اُس نے بات کا آغاز کر ہی دیا۔
مولوی صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کچھ لکھ پڑھ سکتے ہیں؟

 

حضور، غلام کچھ کچھ عربی اور فارسی کی سُدھ بُدھ رکھتا ہے۔ عرفی کے قصیدے اور حافظ کی کئی غزلیں بھی یاد ہیں۔ اس کے علاوہ سعدی کی گلستان،بوستاں اور اُردو کے میر تقی اور غالب کے کچھ شعر اور انیس کے دو مرثیے بھی یاد ہیں۔ ہیر وارث شاہ اور بابا بلھے شاہ کی ساری شاعری تو الف سے یے تک سب زبانی یاد ہے۔ بس انگریزی سے بے بہرا ہوں۔ سرکاریہ مجھے نہیں آتی حضور۔

 

عربی، فارسی اور اردو کیا لکھ بھی لیتے ہو یا صرف پڑھنا ہی جانتے ہو؟ ولیم نے دوبارہ کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔

 

مولوی کی جھجھک اب کچھ دور ہو چکی تھی اس لیے کھل کر تیزی سے بولا،سرکار فَرفَر پانی کی طرح لکھتا ہوں۔ آپ کا غلام مولوی کرامت یہ کام تو بڑے ڈھنگ سے کر سکتا ہے اور سرکار میری خوش خطی کی دھوم توقصور شہر تک ہے۔دو قُرآ ن میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔ بہشتی والد نے نستعلیق، نسخ، خطِ کوفی، ہر طرح کی اِملا سکھا دی تھی۔

 

اگر ہم چاہیں کہ آپ انگریزی سیکھو تو کتنے مہینے لگیں گے؟ ولیم نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

 

مولوی کرامت ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور بولا، صا حب بہادر آپ مہینوں کی بات کرتے ہیں، میں کوئی بوند لایا ہوا تھوڑی ہوں۔ تھوڑا بہت لکھنے پڑھنے کا تو دنوں میں کر لوں گا۔لیکن سرکار آخر انگریزی بادشاہوں کی زبان ہے اورسب زبانوں کی بادشاہ ہے۔اس کو سیکھنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ مَیں اگر اِس عمر میں لکھنے پڑھنے لگ گیا تو بچوں کو کیا کھِلاؤں گا؟

 

اُس کی پرواہ نہ کرو۔ اُسی کا بندوبست ہم آپ کے لیے کرنے والے ہیں،ولیم نے کہا

 

پھر تو حضور بندہ دنوں میں ہی یہ سب کچھ سیکھ جائے گا،،مولوی کرامت انتہائی بے تابی سے بولا،، اور جو کچھ سرکار کی طرف سے کام ملے گا،وہ پورا پورا منشا کے مطابق ہو گا۔

 

او کے مولوی “ولیم نے کہا” ہم تم کو یہاں جلال آباد میں ایک ہیڈ منشی رکھتے ہیں۔تم بچوں کو اردو، فارسی اور عربی پڑھا یا کرو۔ اس جلال آباد کے بڑے سکول میں تمھاری پوسٹینگ کے آرڈر کروا دیتا ہوں۔ ہم نے تمھیں اسی لیے یہاں بلایا کہ تم سرکار کی نوکری میں آجاؤ۔ ہم تمہارا چالیس روپے مہینہ مقرر کروا دیتے ہیں۔
مولوی کرامت ولیم کی بات سن کر حیرانی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے کانپنے لگا اور اُٹھ کر دونوں ہاتھ جوڑ کر ولیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُس کی درازی ٔ عمر کی دعا میں مصروف ہو گیا،سرکار بہادر آپ کا احسان میری نسلوں کے ساتھ چلے گا۔ یہ آپ نے مجھ ناچیز پر ایسی عنایت کی ہے،جس کا صلہ خدا وند مسیح آپ کو دے گا اور میرا خدا آپ پر برکتیں نازل کرے۔ حضور برطانیہ کا سایہ ہندوستان پر تاقیامت رہے۔

 

ولیم نے ہاتھ کے اشارے سے مولوی کرامت کو خاموش ہو جانے کے لیے کہا پھر نجیب شاہ کو کمرے میں بلا کر حکم دیا، نجیب شاہ جب تک ٹی ای او نہیں آتا، مولوی کو باہر بٹھاؤ۔

 

مولوی کرامت کے جانے کے بعد ولیم نے نجیب شاہ کو کچھ اور بھی ہدایات دیں اور اُس کی طرف سے پیش کی گئی بقیہ فائلوں کا ایک ایک کر کے مطالعہ کرنے لگا۔ ان فائلوں میں محکمہ مال، فوجداری،نہری اور تحصیل کے انتظامی معاملات کے متعلق بہت معلومات افزا چیزیں تھیں، جن کا مطالعہ کرنے میں ولیم کو کم ازکم ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔اس عرصے میں، ٹی ای او، تلسی داس خاکی رنگ کی بڑی بڑی جیبوں اور نصف بازؤوں والی شرٹ اور سفید رنگ کا بغیر بیلٹ کے پاجامہ پہنے تحصیل کے ایجوکیشن ریکارڈ کی فائل بغل میں دابے آچکا تھا۔ لیکن اُسے ولیم کے کمرے میں اُس وقت تک جانے کی ہمت نہیں تھی،جب تک صاحب خود دوبارہ یاد نہ فرماتے۔ وہ سر پر دو پلی ٹوپی رکھے،نجیب شاہ کے کمرے ہی میں بیٹھ کر صاحب کے مکرر بُلاوے کا انتظار کرنے لگا۔نجیب شاہ کے کمرے کے باہر مولوی کرامت بھی چپڑاسیوں کی بینچ پر بیٹھا ہوا تھا۔جس کو ولیم کے حکم کے مطابق باہر بٹھا تو رکھا تھا لیکن اُس کے بارے میں نجیب شاہ کو ابھی کوئی ہدایت نہیں ملی تھی۔ کافی دیر بیٹھنے کے بعد اندر سے بیل کی گھنٹی بجی تو تُلسی داس کی سانس میں سانس آئی کہ صاحب کو یاد تو آیا۔گھنٹی بجنے کے فوراًبعد نجیب شاہ کمرے میں داخل ہو گیا جبکہ تُلسی داس نے پہلے تو اپنی عینک اُتار کر اُس کے شیشوں کو اچھی طرح اپنی شرٹ کی جیب میں اڑسے ہوئے رومال سے صاف کیا۔پھر اُسے آنکھوں پر چڑھا لیا۔اُس کے بعد قمیض کے کالر درست کر کے اُٹھ کھڑا ہوا اور فائل کو کھول کر اُس پر ایک سرسری نظر مارنے لگا۔ اتنے میں نجیب شاہ باہر آ گیا۔ اُس سے پہلے کہ تُلسی داس آگے بڑھ کر اندر جانے کی کوشش کرتا،نجیب شاہ نے اُسے بڑی سنجیدگی سے صاحب کا اگلا حکم سنا دیا،،صاحب کہتے ہیں میٹنگ لنچ کے بعد ہو گی۔پھر انتہائی بے نیازی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

 

صاحب کا حکم سن کر تُلسی داس دوبارہ اپنے آفس کی طرف چلا گیااورسب عملے نے بوسیدہ میزوں کی درازوں سے اپنے اپنے کھانے کے برتن اور گھی سے لپڑے ہوئے رومالوں میں بندھی روٹیاں نکال لیں اور کھانے میں مصروف ہو گئے۔ جبکہ مولوی کرامت وہیں بنچ پر بیٹھا اُن کو دیکھتا رہا، جس سے تمام لوگ اس طرح بے نیاز ہو چکے تھے جیسے وہ مولوی کرامت نہیں بلکہ صاحب کے آفس میں آج ہی کسی نے لکڑی کا پُتلا لا کر رکھ دیا ہو۔کرم دین چپڑاسی نے ایک رومال میں بندھا ہوا اپنا کھانا کھول لیا،جو محض دو سوکھی روٹیوں پر مشتمل تھا۔ اُن کے اُوپر پِسی ہو ئی لال مرچیں رکھی تھیں۔ کرم دین اپنا کھانا لے کر مولوی کرامت کے پاس آ بیٹھا اور اُسے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دے دی۔مولوی کرامت بھوکا تو تھا ہی،اشارہ پاتے ہی شریک ہو گیا۔ دونوں نے ایک ایک روٹی کھا کر خدا کا شُکر ادا کیا اور مٹی کے گھڑے سے پانی پی کر دوبارہ ایک طر ف ہو کر بیٹھ گئے۔ دو بجے نجیب شاہ کو دوبارہ بُلاوا آ گیا۔ نجیب شاہ نے باہر آ کر تُلسی داس کو اندر جانے کا اشارہ کر دیا جولنچ کے بعد آ کر بیس منٹ سے نجیب شاہ کمے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔تُلسی داس نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا اور بڑے احترام کے ساتھ ولیم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ فائل اُس نے اپنے سینے کے ساتھ لگا رکھی تھی۔ولیم نے اُسے کچھ دیر تک خموشی سے دیکھا، پھر آنکھ کے اشارے سے بیٹھنے کا حکم دیا۔

 

ولیم نے تُلسی داس کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد آخر گفتگو کا آغاز کر ہی دیا،،مسٹر تُلسی مجھے کچھ سوالوں کے جواب جلداور بہت مختصر چاہییں۔
، جی سر، تُلسی داس نے ولیم کی طبیعت کو بھانپتے ہوئے کہا۔

 

جلال آباد میں پرائمری، مڈل اور اپر درجے کے کتنے اسکول ہیں؟ وہاں کے طلبا اور مُنشیوں کی تعداد اور حالات کے بارے میں مجھے بتاؤ،،ولیم نے دو ٹوک لہجہ اپناتے ہوئے سوال کیا۔

 

سرتحصیل جلال آباد میں اس وقت ایک سو ستر پرائمری کے درجے کے، آٹھ مڈل اور دو اپر درجے کے اسکول ہیں۔ جن میں مُنشیوں اور طلبا کی تعداد(فائل کھول کر اُس کا مطلوبہ صفحہ آگے بڑھاتے ہوئے)اِس میں تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ اِس کے علاوہ بورڈنگ ہاؤس،لائبریریزاوراور دوسری بہت سی معلومات سر اس فائل میں صحیح اندراج کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔

 

ولیم فائل سامنے رکھ کر اُس کا غور سے مطالعہ کرنے لگا۔ اس عرصے میں تُلسی داس غالباً ولیم کے اگلے سوالوں کا دل ہی دل میں اندازہ لگانے میں مصروف ہو گیا۔اسی کیفیت میں پندرہ منٹ گزر گئے۔حتیٰ کہ ولیم نے سر اوپر اُٹھا یااور بولا

 

تُلسی داس اِن اسکولوں میں مسلمان طُلبا اور مُنشیوں کی تعدادتشویشناک حد تک کم ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟کیا سرکار کی طرف سے اُن کے لیے کوئی رُکاوٹ ہے؟

 

حضور،سرکار کی طرف سے اُن کے لیے کوئی رُکاوٹ نہیں۔خود اُنہی کی طرف سے رُکاوٹ ہے۔

 

مثلاً؟ ولیم نے مختصر پوچھا۔

 

اب تُلسی داس نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا،،مسلمانوں کے مُلا وں نے انہیں روک رکھا ہے کہ گورنمنٹ کے اسکولوں میں نصاریٰ کی تعلیم دی جاتی ہے اور بچوں کو زبردستی عیسائی بنا دیا جاتا ہے۔وہ اسی لیے مسلمان اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے اسکولوں میں بھیجنے سے کتراتے ہیں۔

 

لیکن وہ یہ پراپیگنڈہ اتنے وسیع پیمانے پر کس طر ح کر سکتے ہیں؟،ولیم نے فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،آپ کی اس رپورٹ کے مطابق پوری تحصیل میں مسلمان طلبا کی تعداد محض ایک سو پینتیس ہے، جن میں اپر درجے کے صرف اٹھارہ بچے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے ؟

 

تُلسی داس نے سیاہ ڈوری سے بندھی ہوئی اپنی عینک آنکھوں سے اُتار کر گلے میں لٹکائی لی اور دانشوارانہ انداز میں جواب دیا،،سر،گورنمنٹ کے اسکولوں میں مسلمان طلباکی یہ حالت اسی تحصیل میں نہیں بلکہ ہر جگہ یہی کیفیت ہے۔اُن کے مُلا کے وسیع پرپیگنڈاہ کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہر گاؤں میں ایک مسجد ہوتی ہے، جس میں ایک دن میں پانچ بار یہ لوگ جمع ہو کر نماز پڑھتے ہیں اور جمعہ کے روز تو ہر شخص نماز کے لیے وہاں حاضر ہوتا ہے۔ جہاں یہ اپنے مولویوں کے خطبے سنتے ہیں۔اُن خطبوں میں اِسی طرح کے درس دیے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ اَن پڑھ ہوتے ہیں لہذا وہ اپنے مولویوں کی بات کو سچ مان کر اُس پر پورا پورا عمل کرتے ہیں اور حکومت کی بار بار تاکید کے باوجود اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے۔

 

اوں وووہوں، ولیم فکرمندی سے ہنکارہ بھرتے ہوئے بولا، اوکے مسٹر داس، ہمیں اس پر غور کر کے اس کا کوئی حل نکالنا ہے۔

 

اس کے بعد کچھ دیر خموشی چھا گئی اور ولیم اپنی کرسی سے اُٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، جسے دیکھ کر تلسی داس بھی احتراماًاُٹھ کھڑا ہوا۔ پھر چند ثانیوں کے بعد ولیم دوبارہ بولا، تُلسی داس ابھی آپ جا سکتے ہواور یہ فائل یہیں چھوڑ دو۔

 

تُلسی داس سلام کر کے کمرے سے نکلنے لگا تو ولیم اُسے دوبارہ مخاطب کر کے بولا،اور سنو
تُلسی داس آواز سُنتے ہی واپس مڑا،حکم سر

 

باہر ایک مُلا بیٹھا ہو گا نجیب شاہ کے پاس۔اُسے جلال آباد ہائی سکول میں مُنشی کی حیثیت سے نوکر کر لو،چالیس روپے ماہوار پر،،ولیم نے اپنا حکم دوٹوک سناتے ہوئے کہا، اور آج ہی اُس کا لیٹرجاری کر کے میرے پاس لاؤ۔کسی فارسی دان سے کہنا،اُس کا انٹرویو بھی کرلے۔

 

جی بہتر سر، تُلسی داس سلام کر کے کمرے سے نکل گیا
Categories
نقطۂ نظر

سید احمد (شہید) کی تحریک جہاد: ایک مطالعہ

سید احمد (شہید) کی تحریک جہاد عملی طور پر 1826سے شروع ہوئی اور 1831 میں آپ کی ہلاکت پر اختتام پذیر ہوئی۔ تاہم غیر منظم طور پر یہ 1857 کے بعد بھی مسلح جہاد کی صورت میں چلتی رہی۔ اس تحریک نے اور بھی بہت سے تحاریکِ جہاد کو جنم دیا، جو اسی انجام کو پہنچی جو اس تحریک کو پیش آیا، مثلاً بنگا ل میں تیتو میر کی تحریک، تحریک ریشمی رومال اور صادق پور پٹنہ کا مرکزِ جہاد، جہادِ شاملی وغیرہ۔
گزشتہ صدی میں ابو الحسن ندوی، مولانا غلام رسول مہر وغیرہ کی تحقیقات اور تصنیفات نے اس تحریک کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ خصوصاً ابو الحسن ندوی کی سیرتِ سید احمد شہید پڑھ کر ایک عام قاری کا یہ تاثر ہوتا ہے کہ اگر کوئی دین کی حقیقی خدمت کرنا چاہتا ہے تو یا تو خود کوئی تحریکِ جہاد اٹھا دے اگر اس قابل ہے یا پہلے سے موجود کسی جہادی تنظیم کا حصہ بن کر اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان دے کر سرخرو ہو جائے۔ یہ کتب طالبان جیسی تحریکوں کو مسلسل افرادی قوت مہیا کرنے کا مستقل ذریعہ ہیں۔
جمیعت علمائے ہند نے، ہندوستان کے نئے سیاسی منظر نامے کے معروضی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ، مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے نظریے سے دستبردار ہو کر مشترکہ قومیت اور جمہوریت کے اندر سیکولر ازم کے ذریعے مذہبی آزادی کے خیالات کو اپنا لیا لیکن جمیعت علمائے اسلام ،سید احمدصاحب کے نظریے سے زیادہ قریب رہی
سید صاحب کی تحریک کا نظریاتی اور حکمتِ عملی کا جامع تجزیہ کرنے کی آج بھی ضرورت ہے، کیونک آج بھی یہ تحریک سیاسی دینی تحریکات کے لیے، خصوصًا برّصغیر میں، سب سے بڑے محرک کی حیثیت رکھتی ہے۔ سید صاحب کی تحریک شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز کے نظریات سے مولود ہوئی۔ برصغیر کے بعد پوری دنیا میں غلبہءاسلام اس کا مطمعِ نظر تھا ۔ پنجاب میں سکھوں کے ظلم وستم کا استیصال اس کا اولین ہدف تھا ۔ بالاکوٹ میں سید صاحب اور آپ کے قریبی احباب کی ہلاکت کے بعد بھی بہت عرصہ مسلح جدوجہد جاری رہی۔ تاہم،1857 کے بعد یہ تعلیمی جدوجہد میں تبدیل ہوئی اور مدرسہ دارالعلوم دیوبند، سہارنپور، ندوۃ العلماء ، اہلِ حدیث کے مدارس وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہوئی جو اپنے طلباء میں جہاد کی آبیاری کرتے رہے۔
کانگریس کے قیام کے بعد یہ تحریک سیاسی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔ پہلے جمیعت علمائے ہند اور پھر جمیعت علمائے اسلام کی صورت میں اس تحریک کے لواحقین دو الگ راستوں کے راہی بنے۔ جمیعت علمائے ہند نے، ہندوستان کے نئے سیاسی منظر نامے کے معروضی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ، مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے نظریے سے دستبردار ہو کر مشترکہ قومیت اور جمہوریت کے اندر سیکولر ازم کے ذریعے مذہبی آزادی کے خیالات کو اپنا لیا لیکن جمیعت علمائے اسلام ،سید احمدصاحب کے نظریے سے زیادہ قریب رہی۔ اس نے مسلم لیگ کے الگ وطن کی جدوجہد میں اسلامی سلطنت کا خواب پھر سے استوار ہوتے دیکھا تو اس میں شامل ہوگئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد، حکومتوں کے اسلام ‘نافذ’ کرنے سے گریز کی روش کی وجہ سے یہ تحریک آئینی جدجہد میں تبدیل ہو گئی۔ پھر یہ بتدریج جارحانہ ہوتی چلی گئی۔ تحریکِ نفاذِ نظامِ مصطفی سے یہ احتجاج میں تبدیل ہوئی اور تحریک نفاذِ شریعت اور طالبان کی صورت میں پھر سے مسلح ہوگئی۔ یوں دیکھئے تو سید صاحب کی تحریک تاریخ کا چکر کاٹ کر پھر اسی نقطہ پر کھڑی ہوگئی جہاں سے چلی تھی۔
سید صاحب کی تحریک کی بنیاد حکومتِ الہیہ کے قیام، نجی جہاد، امامت اور شاہ عبد العزیز کے دارالحرب کے فتوی پر تھی ۔ سید صاحب کے نزدیک، شاہ ولی اللہ کے تعلیمات کی روشنی میں، قیامِ خلافت یا اسلام کا سیاسی غلبہ واجباتِ دین میں سے ہے۔ ہندوستان میں غیر مسلموں کے بڑھتے اقتدار کے نتیجے میں شاہ عبد العزیز کے فتوی کی رُو سے ہندوستان دارالحرب بن چکا تھا۔ اسلامی سیاسی غلبہ کے لیے جہاد فرض تھا اور چونکہ کوئی مسلم حکمران اس کے لیے تیار نہ تھا تو چند لوگوں نے اس کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے نجی طور پر شروع کرنا ضروری سمجھا۔ اس کے لیے دستیاب امام سید احمد شہید تھے۔
جہاد کی اجازت اور احکامات ہجرتِ مدینہ کے بعد نازل کیے گئے ہیں اس لیے جہاد و قتال سے متعلق تمام آیات کو ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد کے تناظر میں دیکھنا چاہیئے
راقم الحروف کے مطابق، سید صاحب کی تحریک کی یہ نظریاتی بنیادیں اسلام کی غلط تعبیرات سے پیدا ہوئیں، یہی تعبیرات ہمارے دور تک چلی آ رہی ہیں اور بےشمار تحاریکِ جہاد کو جنم دے چکی ہیں۔ راقم کے نزدیک، مسلمانوں کے لیے حالتِ اقتدار میں تو شریعت کے اجتماعی احکامات و قانون کا اختیار کرنا واجب ہے، لیکن ان کے نفاذ کےلیے حصولِ ریاست فرض یا واجب نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے صاحبِ مال کے لیے ادائیگیِ زکوۃ فرض ہے لیکن ادائیگیِ زکوۃ کے لیے کسبِ مال فرض یا واجب نہیں ۔ شریعت کے تمام احکامات کا یہی اصول ہے کہ و ہ افراد کے حالات کے تناظر میں لاگو ہوتے ہیں۔ اقتدار سے تہی مسلمانوں کو اقتدار کے حصول کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ ا ن پر ان کے حالات میں اسلام کے احکامات پر مقدور بھر عمل کرنا ضروری ہے۔تاہم، اگر وہ اقتدار میں ہوں تو اسلام کے اجتماعی احکامات پر عمل درآمدکا مطالبہ ان کے کیا جائے گا۔
نجی جہاد کا کوئی تصور اسلام میں نہیں، جہاد امامت اور ریاست کے تحت ہی کیا جاسکتا ہے۔ جہاد کی اجازت اور احکامات ہجرتِ مدینہ کے بعد نازل کیے گئے ہیں اس لیے جہاد و قتال سے متعلق تمام آیات کو ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد کے تناظر میں دیکھنا چاہیئے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ حکومت کی کوتاہی سے اگر حدود کا نفاذ نجی شعبہ کے حوالے نہیں کیا جا سکتا تو جہاد کو کیوں کر نجی شعبہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک دارالحرب کے فتوی کا تعلق ہے تو کسی جگہ کا دارالحرب قرار پا جانے کے بعد پہلا تقاضا ہجرت ہوتاہے ، نہ کہ جہاد۔ لیکن ہمیں شاہ عبد العزیز یا سید احمد کی طرف سے ہندوستان کے مسلمانوں یا کم از کم پنجاب کے مسلمانوں، جو راجہ رنجیت سنگھ کے مظالم ک شکار تھے، سے اس کا مطالبہ نظر نہیں آتا۔ لاکھوں مسلمانوں میں سے زیادہ سے زیادہ پندرہ سو مسلمانوں نے سید صاحب کے ساتھ ہجرت کی تھی ،جو کہ انتہائی ناکافی تعداد ہے۔
اسلامی خلافت کا قیام دین کا کوئی ایسا واجب تقاضا نہیں کہ اس کی خاطر مہمیں چلائی جائیں اور قیمتی جانیں قربان کی جائیں
سید صاحب کے طریقہ کار میں نوٹ کیا گیا کہ آپ نے جہاد پہلے شروع کیا (اکوڑہ کا شب خون)، بیعتِ امامت بعد میں لی (جب دیکھا کہ مقامی مجاہدین جنگ کی بجائے مالِ غنیمت لے کر چلتے بنے اور اس کی شرعی تقسیم پر آمادہ نہ ہوئے)، اس کے بعد ریاست کے حصول کی کوشش کی اور اس کے بعد لوگوں پر شریعت کا نفاذ کرنے کی کوشش کی جو اس کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ ترتیب رسول ﷺ کی سنت کے بالکل برعکس ہے۔ آپؐ کو مدینہ کے لوگوں نے اپنا امام پہلے تسلیم کیا، پھر خود سے ریاست مہیا کردی، آپؐ نے ان کی مرضی سےان پر شریعت نافذ کی ، اور جہاد سب سے آخر میں کیا گیا۔ اس کے علاوہ سید صاحب نے دشمن کے مقابلے میں عددی قوت کےفرق کو نظر انداز کیا۔آپ کے پاس قابلِ بھروسہ جنگجوؤں کی تعداد 1500 سے زیادہ نہ تھی، جو پوری طرح مسلح بھی نہ تھے اور بنیادی ضروریات کی تکمیل سے بھی تہی تھے ۔ جب کہ سکھوں کی صرف سرحدی فوج 8000 سے 10،000 تک تھی۔ جو پوری طرح مسلح اور اپنے وقت کی بہترین فوجی قوت تھی۔
اسلامی خلافت کا قیام دین کا کوئی ایسا واجب تقاضا نہیں کہ اس کی خاطر مہمیں چلائی جائیں اور قیمتی جانیں قربان کی جائیں ۔ مسلمانوں پر صرف یہ فرض ہے کہ وہ جب بھی پرامن طریقہ سے اقتدار میں آئیں، خواہ مطلق حیثیت سے یا مخلوط حکومت میں، تو مسلم معاشرے کے مسلم افراد کے لیے اسلام کے اجتماعی احکامات پر عملدرآمد کے لیے ضروری آسانیاں پیدا کردیں۔ اس سے زیادہ کو کوئی مطالبہ خدا نے ان سے نہیں کیا۔ ریاست کے حصول کا کوئی حکم قرآن میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ جہاں تک تعلق ہے رسولﷺ اور آپؐ کے صحابہ کے غلبے کا تو وہ ایک خدائی قانون کے تحت تھا کہ اللہ نے یہ طےفرما دیا تھا کہ حق کی نشانی کے طور پر انہیں غلبہ لازمًا ملنا تھا۔ مثلاً درج ذیل آیات ملاحظہ کیجئے:

58_21

ترجمہ: اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑے زور والا اور بڑا زبردست ہے۔
خدا کا یہی وعدہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ، بنی اسماعیل ؑ کے ساتھ بھی تھا۔:

24_55

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک میں اقتدار بخشے گا جیسا کہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو متمکن کرے گا جس کو ان کے لیے پسندیدہ ٹھہرایا اور ان کی اس خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کریں گے تو درحقیقت وہی لوگ نافرمان ہیں۔

24_54

ترجمہ: کیا یہ (اہلِ کتاب) لوگوں (بنی اسماعیلؑ) سے اللہ کی اُس عنایت پر حسد کر رہے ہیں جو اُس نے اُن پر کی ہے؟ (یہی بات ہے تو سن لیں کہ) ہم نے تو اولاد ابراہیم (کی اِس شاخ) کو اپنی شریعت اور اپنی حکمت بخش دی اور اُنھیں ایک عظیم بادشاہی عطا فرما دی ہے.
ملاحظہ کیجئے ان آیات کا بیان خدائی وعدے اور خدائی فیصلہ کا اعلان ہے۔ اسے کسی شرعی حکم کے طور پر بیان نہیں کیا گیا کہ مسلمانو ں پر اب حصولِ ریاست اور حکومت فرض یا واجب قرار دے دیا گیا ہو۔رہا یہ سوال کہ پھر اس آیت کا کیا مصداق ہے:

9_33

تو اس آیت کا مصداق ‘و لو کرہ المشرکون’ سے خود طے ہو رہا ہے، یعنی یہ غلبہء دین، عرب اور اس کے نواحی علاقوں کے ادیان پر ہونا تھا تاکہ اتمامِ حجت کے بعدخدا اور اس کے رسول کی صداقت کا محسوس نشان مسلمانوں کے غلبے کی صورت میں قائم ہو جائے۔ لیکن کہیں بھی یہ حکم کی شکل میں موجود نہیں کہ ایسا کرنا مسلمانوں پر واجب ہے۔ مسلمانوں پر تو جس حال میں بھی ہوں، اقتدار میں یا اقتدار سے باہر، اللہ کے دین پر عمل کرنا واجب ہے۔ ہر دو حالتوں کے احکامات موجود ہیں۔ تاہم، غلبہء اسلام کاحکم چونکہ سرے سےموجود ہی نہیں، اس لیے مسلمانوں کے غلبے کو دینی حکم سمجھ کرمسلم افراد کا نجی طور پر یا مسلم حکومتوں کا حکومتی سطح پر اس کے لیے جتھے بندی کرنا اور پر امن غیر مسلم افراد اور ممالک پر جنگ مسلط کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ تاہم، ظلم و ستم کے استیصال اور دفاع کے فطری حق کے لیے لڑنا تو بدیہات میں سے ہے اور اسلام اس کی حمایت کرتا ہے لیکن لازمی نہیں کہ یہ لڑائی ہتھیار بند مزاحمت کی ہی صورت میں ہو۔ زمانے کے مروجہ سیاسی نظام کے تحت اپنا دفاع کرنا اور اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش ایک سیاسی معاملہ ہے اور اس کے لیے سیاسی جدوجہد کی جاسکتی ہے۔
مگر انہی غیر واجب باتوں کو واجب قرار دے کر سید احمد (شہید)نے جو تحریک برپا کی گئی تھی وہ آج بھی طالبان کی صورت میں زندہ ہے۔ یہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم پہلے فریق (سید احمد شہید) کو درست قرار دیتے ہیں تو اس دوسرے فریق (طالبان) کو غلط نہیں کہہ سکتے۔اگر دوسرا غلط ہے تو پہلے کی تغلیط کی ہمت بهی لامحالہ کرنی ہوگی۔ ہمیں اس دوغلے پن سے براءت کا اعلان کرنا ہوگا۔ سید صاحب کی اس پراثر تحریک کا درست تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مستقبل کے اولوالعزم مسلمان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے۔