Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پچیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(43)

غلام حیدر اپنی روپوشی کے دن مستقل مزاجی سے گزار رہا تھا اور وطن واپسی کے لیے کسی معجزے کا منتظر تھا۔ اُسے جلال آباد سے نکلے دس سال ہو چکے تھے۔ اُس کے لیے اتنے طویل عرصہ کی روپوشی قید سے کم نہیں تھی مگر کیا کرتا؟ دوسری صورت میں تو فوراًسزائے موت تھی جبکہ غلام حیدر کو ابھی اپنی زندگی عزیز تھی۔ وہ بلاوجہ ریشمی رسہ گلے کی زینت نہیں بنانا چاہتا تھا۔ پہلے ایک دو سال اُسے جلال آبا د اور لاہور بہت یاد آتے رہے۔ اُس کے بعد دل کو ٹھہراؤ آنے لگا اور وہ روپوشی کی جگہ کو گھر تصور کرنے لگا۔ اُس کی اطلاع سوائے نواب ممدوٹ کے کسی کو نہ تھی۔ حتیٰ کہ غلام حیدر کے عزیز ترین رشتہ داروں کو بھی۔ اُس نے اپنی والدہ کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا،جس کے اصرار پر وہیں شادی بھی کر لی اور کچھ نواب صاحب کا خرچہ کچھ اپنی بچی کھچی دولت کو احتیاط سے برت رہا تھا،جو پان چھ کلو سونے اور ایک لاکھ چاندی کے روپوں کی شکل میں تھی۔ یہ دولت غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی ٹھکانے لگا دی تھی۔

یہ جگہ،جہاں غلام حیدر روپوش تھا،پنجاب سے باہر کشمیر کے دور دراز کے علاقے میں تھی۔ جہاں نہ تو سواری جاتی تھی اور نہ ہی پیدل کسی میں طاقت تھی۔ یہ ایسا دشوار گزار علاقہ تھا،جس کے شمال جنوب کی خود غلام حیدر کو بھی خبر نہ تھی۔ اُس رستے کو وہ خود اکیلا بھی طے نہ کر سکتا تھا۔ اُس کا یہ گھر دریا کے کنارے چھوٹی سی بستی میں تھا،جس کے مالکانہ حقوق نواب ممدوٹ کی ماں کے پاس تھے،جو اَب نواب ممدوٹ کو منتقل ہو چکے تھے۔ وہاں کی مقامی آبادی بھی ایک طرح سے نواب ممدوٹ کی رعیت ہی تھی۔ نواب صاحب سال بعد یہاں چکر لگا جاتے تھے اور غلام حیدر کو دلاسے کے ساتھ جلال آباد،غلام حیدر کی رعیت،کیس کی نوعیت اور علاقے کی پوری صورت حال کے بارے میں آگاہ کر جاتے تھے۔ سچ پوچھیں تو اِس تنگی کے پورے عرصے غلام حیدر کی دوستی کا نواب ممدوٹ نے حق ادا کر دیا تھا۔ خرچے پانی کے علاوہ کسی چڑیا کو بھی پتا نہیں چلنے دیا کہ غلام حیدر کہاں ہے۔ اس بات کا غلام حیدر کو دل ہی دل میں احساس تھا اور وہ چاہتا تھا،کسی طرح اِس احسان کا بدلہ اُتارے مگر وہ دن بھی نواب کی کوششوں کے بغیر نہیں آ سکتا تھا۔ زندگی کے دن گزرتے جا رہے تھے اور کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ اِدھر عدالت نے اُس کی غیر حاضری میں اُسے سزائے موت سنادی تھی۔ جس کی اپیل کا وقت بھی مدتیں ہوئیں گزر چکا تھا۔ اِس کے باوجود نواب ممدوٹ غلام حیدر کو مسلسل دلاسے دیے جا رہا تھا کہ وہ اُس کی معافی کی کوشش کر رہا ہے،جس کا وقت بہت قریب ہے۔ ان دلاسوں کی شدت پچھلے ایک سال سے کافی زیادہ ہو گئی تھی۔ غلام حیدر پہلے پہل تو یہی خیال کرتا رہا تھا کہ وہ کبھی جلال آباد واپس نہیں جا سکے گا۔ مگر نواب افتخار ممدوٹ نے جو کچھ صورت حال انگریزوں اور ہندوستان کی بتائی تھی،اُس سے ثابت ہوتا تھا،واقعی کچھ نہ کچھ خدا راہ نکالنے والا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو اُسے یقین ہونے لگتا کہ یہ انقلاب صرف اور صرف اُسی کے لیے برپا ہونے والا ہے۔ جس میں سرا سر دخل اُس کی ماں کی دن رات تہجد کی دعاوں کا ہے۔ اِسی عرصہ میں غلام حیدر کے دو بیٹے بھی پیدا ہو چکے تھے۔ جن میں سے ایک کی عمر چار سال تھی اور ایک دو سال کا تھا۔ رائفل اب بھی غلام حیدر کے پاس تھی،جو اُسے مسلسل وہ دن یاد دلاتی،جس دن اُس نے سردار سودھا سنگھ کا نقشہ برباد کیا تھا۔ وہ اُس واقعے کو یاد کر کے پُر سکون سا ہو جاتا۔ حالانکہ اُسے یہ بالکل خبر نہیں تھی کہ امیر سبحانی نے اُس کی بہادری پر ایک نہایت دلچسپ کمشری تیار لی تھی۔ جسے اُس نے جلال آباداور فیروز پور کے علاوہ دور نزدیک کی دوسری تحصیلوں کے دور دور گاؤں تک بھی پھیلا دیا تھا۔ وہ یہ قصہ لوگوں کو بڑے دلنشیں انداز میں سنا سنا کر اپنی روزی روٹی کا بھی سامان پیدا کرلیتا۔ اُس کمشری کی وجہ سے ہر گھر میں غلام حیدر کا تذکرہ ایک سورمے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ لوگ بڑے فخر سے اُسے اپنی بیٹھکوں اور چوپالوں میں سُنتے۔ غلام حیدر پنجاب کے ان لوگوں کے لیے ایک ایسا اسطیری ہیرو بن گیا،جس کی بندوق امیر حمزہ کی تلوار کی قائم مقام بن چکی تھی۔ اِدھر غلام حیدر سب کچھ سے بے خبر اِس کوہ قاف میں نواب صاحب کی آمد کا شدت سے منتظر رہنے لگا،جسے اب آئے ہوئے دس ماہ ہو چکے تھے۔ اُس کے علاوہ اس جگہ پر کسی دوسری خبر کا پہنچنا جوئے شیر کے پہنچنے سے کم نہیں تھا اور دن تھے کہ عمر کی طرح مسلسل نکلے جا رہے تھے۔ اِس بار اُسے اس لیے بھی انتظار زیادہ تھا کہ جب سے اُس کی آزادی کا گمان یقین میں بدلا تھا،بے چینی اور اضطراب بھی شدید ہو گیا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ خدا نا خواستہ خبر ملتی کہ روپوشی ختم نہیں ہو سکتی تو غلام حیدر اِس جگہ سے نکل کر کہیں اور جانے کی سوچ لیتا۔ بھلے اِس میں اُس کی زندگی کو خطرہ ہی ہو جاتا۔ وہ پنجاب کارخ ضرور کرتا،جہاں دشمن اُس کی بُو کتوں کی طرح اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی سونگھ رہے تھے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جناح صاحب کو نواب و لاز لاہور میں ٹھہرے دو روز ہو گئے تھے اور نواب افتخار صاحب ممدوٹ کی جرات نہیں ہو رہی تھی،وہ جناح کے ساتھ اِس مسئلے پر بات کرے۔ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا،اگر اب بھی جناح سے اس معاملے میں بات نہ کی،پھر یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا کہ اس معاملے میں تھوڑی سی بھی استقامت پیدا کرے،تو کچھ ہی دیر میں سب ٹھیک ہو سکتا تھا۔ چنانچہ آج نواب افتخار نے غلام حیدر کا معاملہ جناح صاحب کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ نواب نے سوچا،نتیجہ جو بھی نکلے،آج کا دن ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اِنہیں خیالوں کے ساتھ اپنی کوٹھی کے وسیع لان میں چہل قدمی میں مصروف تھا۔ دل ہی دل میں وسواس اور خدشوں کو اِدھر سے اُدھر دھکیل رہا تھا اور سوچ رہا تھا،اگر آج ابا جان زندہ ہوتے تو آسانی سے اُن کے ذریعے جناح صاحب کو کہلوا دیتا۔ صبح سفید روشنی دور تک پھیلی تھی۔ یہ ٹھنڈی روشنی اور سفید صبح کتنی حسین ہوجائے،اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

جناح صاحب کچھ ہی دیر میں ناشتہ کر کے باہر نکلنے والے تھے۔ اسی انتظار میں وہ آنے والی گھڑیوں کو دیکھ رہا تھا اور اِس معاملے پر دل ہی دل میں بدل بدل کر اُن سے مکالمہ کرتا،پھر خود ہی جناح کی طرف سے اپنی باتوں کا جواب دے کر مشق کرنے لگا۔ وہ خوب جانتا تھا،جناح کا معاملہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ اگر ایک دفعہ اُنہوں نے،نہیں،میں سر ہلا دیا تو ہر چیز گڑبڑ ہو جائے گی۔ پھر اُنہیں قیامت تک قائل نہیں کیا جا سکے گا۔ لہذا بات کرنے میں کہیں جھول نہ رہ جائے اور جواز جس قدر مضبوط بنا لیا جائے،بہتر ہے۔ اِسی وجہ سے نواب صاحب آج اذان کے وقت ہی اُٹھ کر ٹہلنے لگ گئے تھے اور اب تو دن صاف نکل آیا تھا۔ چنانچہ بات کے ہر پہلو پر غور کرتے ہوئے نواب افتخار اپنے ذہن میں ایک منصوبہ بنا کر تیار ہوچکا تھا اور اب بے چینی سے قائد کے باہر نکلنے کے منتظر تھا۔

یہ سردیوں کے عظیم اور مصروف دن تھے۔ ہلکی ہلکی دھوپ صحن میں پر پھیلا رہی تھی،ایسے محسوس ہو رہاتھا،دھوپ نواب کی منصوبہ بندی کو تقویت دینے میں کافی مفید ہو گی۔ سردی میں اِس طرح کی دھوپ بات کرنے کے جذبے کو بڑھاوا اور تاثیر دیتی ہے۔ نواب ولاز کے اُونچے اور لمبے چھتناروں کے رہائشی پرندے،اِس ساری کشمکش سے بے نیاز بوڑھے درختوں کی شاخوں پر اِدھر سے اُدھر پھدکتے اور پر چہلیں کرتے نظر آ رہے تھے۔ اُن کے پَروں کے بال دھوپ کی روشنی میں کبھی سنہری نظر آتے،کبھی دوسرا رنگ اختیار کر لیتے۔ کافی دیر بے چینی سے ٹہلنے کے بعدنواب صحن میں پڑی صندل کی لکڑی کی کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا اور دل میں منصوبے کی چوہلیں ہر طرح سے ٹھیک بٹھا لیں۔ اِسی طرح بیٹھے،اُنہیں دس منٹ گزر گئے۔ خدا خدا کر کے جناح صاحب باہر آتے دکھائی دیے۔ نواب نے دیکھا اُن کی صحت قدموں کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ لیکن چال میں ایسی طمطراقی موجود تھی،جس کے آگے نواب تو ایک طرف گورنر تک کی شخصیت ماند پڑ جاتی۔ سُرمئی رنگ کے انتہائی نفیس اور صاف ستھرے تھری پیس سوٹ میں دُبلا پتلا جسم پُر وقار چال کے ساتھ سامنے آرہا تھا۔ پاؤں میں سیاہ جوتے ایسے متوازن تسموں سے کَسے ہوئے،اِتنے چمکدار اورداغ دھبے سے مبرا تھے کہ اُن کی چمک میں اندھا بھی اپنا منہ دیکھ سکتا تھا۔ ایسا نہیں کہ جناح کے جوتے اور سوٹ خاص لندن سے بن کر آتے تھے،اِس لیے اُن میں اتنی نفاست تھی۔ بہت سے اُمرا اور لیڈر اپنے پہننے کا سامان خاص لندن ہی میں آڈر سے بنواتے تھے لیکن اُن میں اِس طرح کی نفاست کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی،اُن کے سامنے بڑے سے بڑا پھنے خاں بھی مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کا اندازہ غیر شعوری طور پر نواب ممدوٹ کو بھی تھا۔ جناح سے اُس کا تعلق ایک عرصے سے تھا۔ وہ اُس کا لحاظ بھی رکھتے تھے۔ لیکن اِس قربت کے باوجود نواب ممدوٹ کی جرات نہیں تھی،وہ جناح سے بے تکلف ہونے کی جسارت کرتا۔ یہ جسارت تو لیاقت علی خاں وغیرہ بھی نہیں کر سکتے تھے اور جنہوں نے کی تھی،وہ برصغیر کے مسلمانوں کی نظر میں اِس طرح بے وقار ہو کر رہ گئے گویا اُن کا وجود ہی نہ ہو۔

سگار کے ہلکے ہلکے کش لیتے ہوئے وہ کھلے لان کے مرکز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نواب کو اُن کے عینک کے شیشوں کے اندر سے پپوٹوں کی جھریاں صاف نظر آ رہی تھیں جو چہرے کو اُن کی نقاہت کے باوجود پر شکوہ کر رہی تھیں۔ جناح کو آتے دیکھ کر نواب فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیااور نہایت ادب سے اُن کے استقبال کو آگے بڑھا۔ لان کافی کھلا اور بڑا تھا،اس لیے نواب کو آٹھ دس قدم آگے جانا پڑا۔ جناح کے برابر پہنچا تو ہاتھ ملانے کی بجائے واپسی ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ جناح نے سگار کا دھواں ہوا کی آغوش کو سونپتے ہوئے نہائت آہستگی سے گُڈ مارننگ کہا اور بغیر قدم روکے کُرسیوں کی طرف بڑھتے چلا گیا۔ چند لمحوں بعد جناح نے کُرسی پر بیٹھ کر ایک ٹانگ دوسری کے اُوپر ر کھ لی۔ اِس طرح بیٹھنے سے اُن کے جوتوں کی چمک میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ کیونکہ دھوپ دھند اور غبار سے بے عیب تھی اور جوتے گرد سے۔ نواب افتخار ایسے ایک طرف کھڑا ہو گیا جیسے پریشانی کے آثار چہرے سے نظر آرہے ہوں۔ لیکن جناح نے نواب کے پریشان چہرے کی طرف کچھ توجہ نہیں دی۔ وہ خموشی سے سگار پیتے رہے اور چند لمحے اِسی طرح گزر گئے۔ نواب افتخار جناح کا منتظر تھا کہ کب وہ پنجاب کی صورت حال پر بات کرے اور یہ سُرخ لوہے پر ضرب لگائے۔ پنجاب مسلم لیگ کے لیے سب سے اہم صوبہ تھا،جس میں سکھوں اور ہندؤوں کی بڑی تعداد موجود ہونے کی وجہ سے پیچ در پیچ ہزاروں مسائل تھے۔ اُن کو حل کرنے کے لیے جس آدمی کی سب سے زیادہ اہمیت جناح کی نظر میں تھی،وہ نواب ہی تھا۔ لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ مسلم لیگ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے پنجاب کو نظر انداز کر جائیں اور اُس میں نواب کی مشاورت سے گریز کریں۔ کافی دیر خموش بیٹھے رہنے کے بعد جناح نے آخر سکوت توڑ دیا۔

افتخار،آپ کی طرف سے ابھی تک اپنے علاقے کے بارے میں کوئی صورت حال سامنے نہیں آئی،خموشی کیوں ہے؟
سر پنجاب میں ہر طرف حالات مسلم لیگ کے حق میں ہیں،جیسا کہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن مشرقی پنجاب کے کچھ علاقوں میں پوزیشن ٹھیک نظر نہیں آتی۔ اندیشہ ہے،تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور تحصیل فیروز پور سے ہم الیکشن ہار جائیں گے،مجھے یہی پریشانی اس وقت بھی ہے۔

ایسا کس لیے ہے؟،جناح نے نہایت اطمنان اور بغیر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا،اُن کا یہ رویہ نواب کے بنائے ہوئے منصوبے کے لیے بہتر نہیں تھا۔

فیروزپور کی انتظامیہ کانگرس کے ساتھ مل کر ہمیں شکست سے دوچار کرنا چاہتی ہے ( نواب نے اب کے اپنے چہرے پر ایک کرب ناک پریشانی طاری کرلی) پورے علاقے میں غیر تحریری طور پر ہمیں جلسے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ عوام پر ایک خفیہ دباؤ موجود ہے۔ کانگرس کچھ سکھ سرداروں کے ساتھ مل کر غنڈہ گردی کر رہی ہے۔ مسلمانوں کوبلا جواز ڈرایا جا رہا ہے۔ یہ عوام غریب غربا بے زمین لوگوں پر مشتمل ہیں اور زیادہ تعداد بالواسطہ طور پر سکھ زمینداروں کی رعایا ہیں۔ یہ لوگ ووٹ تو مسلم لیگ کو ہی دینا چاہتے ہیں،لیکن ڈر کی وجہ سے ہو سکتا ہے،الیکشن کے دن گھر وں سے ہی باہر نہ نکلیں۔ بلکہ جو لوگ سکھوں کے مزارع ہیں،اگر اُن پر دباؤ بڑھ گیا تو وہ ہمارے خلاف بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔ اِس لحاظ سے ہم مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

آپ نے پہلے آگاہ نہیں کیا؟ اب جناح نے قدرے بات کو سنجیدہ لیتے ہوئے پوچھا۔ البتہ چہرے پر پریشانی کے آثار پھر بھی ظاہر نہیں ہونے دیے،مگر نواب ایک عرصے کی رفاقت کے بعد سمجھ گیا تھا کہ اُن کے اندر ہل چل ہو چکی ہے۔

سر،کچھ فائدہ نہیں تھا۔ معاملات اور بھی زیادہ خراب ہو جاتے۔ انتظامیہ جس قدر عذراور تاویلات کی ماہر ہے،ہمارا کوئی بھی قدم اُس کے آگے غیر موثر ثابت ہو گا۔ نواب نے ایک اور ضرب لگائی۔

پھر بھی ہمیں اِس کا حل نکالنا ہے( جناح کا اطمنان گڑبڑا گیا تھالیکن وہ بات اب بھی بے پناہ تحمل کے ساتھ کر رہے تھا )وہاں تمھاری شکست کا مطلب مسلم لیگ کی پنجاب میں شکست ہے۔ ہمارے لوگ بددل ہو جائیں گے۔ فیروز پور میں ہر حالت اپنی پوزیشن بہتر کرو۔
جناح کا یہ جملہ ایسا تھا جو نواب افتخار کے لیے اپنی بات منوانے کی بنیاد فراہم کرتا تھا۔ لہذا نواب نے بغیر وقت ضائع کیے،جس کا انتظار وہ کئی مہینوں سے کر رہے تھے،اپنا مدعا سامنے ر کھ دیا،سر میرے کئی آدمیوں اور ذاتی دوستوں پر فیروزپورپولیس کی طرف سے ایک عرصے سے قتل اور ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں۔ جن کے پس پشت گورنمنٹ کی مسلم لیگ دشمنی کار فرما ہے،جو مشرقی پنجاب میں آج کل تو بہت فعال ہو چکی ہے۔ مَیں اُس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہوں۔ مثلاً؟ جناح نے وضاحت چاہی۔

مثلاًمیرا ایک دوست غلام حیدر ہے(نواب نے منصوبے کے مطابق اب کہانی شروع کی) جس نے میرے ساتھ ایچی سن کالج سے بی اے کیا ہے۔ وہ مسلم لیگ کا انتہائی سر گرم رکن ہے۔ اُس پر اُسی دن سے پورے پندرہ بندوں کے قتل کا مقدمہ درج ہے،جس دن اُس نے مسلم لیگ کی رکنیت اختیار کی۔ اِس کی وجہ سے وہ پچھلے دس سال سے روپوش ہے اور اپنے علاقے میں داخل نہیں ہو سکا۔ عدالت اُس کی غیر موجودگی میں اُسے سزائے موت سنا چکی ہے۔ بچاراپتہ نہیں کہاں جان بچاتا پھر رہا ہے۔ اُس کا مال اور جائداد ضبط کی جا چکی ہے۔ پڑھالکھا اور شریف زمیندار ہونے کے ساتھ علاقے میں اُس کی حیثیت ایک بااثر مسلم لیگ کے کار کن کی ہے۔ اُس کی شرافت اور ہر دل عزیزی کی وجہ سے ہزاروں ووٹ اُس کی جیب میں ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں،جب اِتنے اہم شخص کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو پھراُ ن کی کیا حیثیت ہے؟ اُس پر بلاجواز مقدمات درج کر کے فیروزپور میں مسلم لیگ کی تحریک کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سرور بہکاں والے کو مجھ پر سوار کرایا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے،جب تک میری گاڑی میں غلام حیدر نہیں بیٹھ جا تا اور میرے جلسوں میں شریک نہیں ہو جاتا،مجھے الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔ ورنہ ذلت سے دوچار ہونا پڑے گا۔

کیا غلام حیدر کے علاوہ یہ جگہ کوئی اور نہیں پُرکر سکتا؟ جناح نے سگار پینا مسلسل جاری رکھا۔

اول تو ایسا کوئی آدمی وہاں موجود نہیں ہے۔ اگر ہو بھی،تو اِن حالات میں،جبکہ ہم اُن کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کر سکتے،کوئی اور کیونکر رسک لے سکتا ہے؟ نواب نے اب بات فیصلہ کن انداز میں جناح صاحب کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی۔
اوکے دیکھتے ہیں،جناح نے اُٹھتے ہوئے کہا،تم الیکشن کی تیاری کرو،میری تین تاریخ کو مونٹ بیٹن سے ملا قات ہے۔
اتنا کہ کر جناح صاحب دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑے اور مزید ایک لفظ بھی کہنا گوارہ نہ کیا۔

نواب افتخار جناح کے اُٹھتے ہی خود بھی جلدی سے تکریم کے لیے کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور اُسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ جناح کا کہنا،تم الیکشن کی تیاری کرو،کا مطلب تھا،کام اسی فیصد تک ہو چکا ہے اور واقعی وہی کچھ ہوا دو ہفتے بعد ہی جلال آباد تحصیل میں غلام حیدر کی سزا کی معافی اور اُس کی تمام جائداد کی واپسی کا حکم پہنچ گیا۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا،جو فی الحال کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ اِتنے زیادہ قتل کا مقدمہ،جس میں غلام حیدر کے اشتہاری ہونے کے بعد اُس کو سزائے موت ہو چکی تھی،کا آسانی سے ختم ہوجانا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہ بھی انگریز سرکا ر میں۔ بعض لوگوں نے سمجھا،یہ حکومت کی چال ہے اور اُسے روپوشی سے باہر نکالنے کا ایک ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے ہی غلام حیدر سامنے آئے گا،اُسے دھر لیا جائے گا۔ لیکن جب غلام حیدر واقعی دس سال بعد جلال آباد اپنی حویلی میں آیا اور پولیس نے کوئی پوچھ گچھ نہ کی تو لوگوں کو یقین آ گیا کہ امیر سبحانی کی بات تو بھائی سچ ہے۔

ہوا یہ کہ جناح صاحب کو مونٹ بیٹن کے ساتھ ملاقات میں نواب افتخار کی تمام بات یاد تھی۔ اُنہوں نے اِس تشویش کا اظہار لارڈ صاحب سے کر دیا کہ گورنمنٹ پنجاب اُن کے خلاف سازش بُن رہی ہے۔ اِس بات کا لارڈ صاحب نے فوراً انکار کر دیا اور کہا اِس کا ثبوت دیں۔ جناح نے نواب افتخار کے حوالے سے غلام حیدر پر مقدمات کا ذکر کر دیا،جس کی تفصیل بعد میں اُنہوں نے خود معلوم کر لی تھی۔ مونٹ بیٹن نے غلام حیدر کی خوش بختی سے،وہیں بیٹھے جناح صاحب کی تشویش دور کرنے کے لیے گورنر صاحب کو فون کر مارا اور کسی لہر میں آ کر یہ بات کر دی،غلام حیدر پر سے تمام مقدمات فوری طور پر اُٹھا لیے جائیں۔ گورنمنٹ اُس کی سزائے موت معاف کرتے ہوئے اُسے بری کرتی ہے۔ لہذا غلام حیدر ولد شیر حیدر کی سزا کے متعلق فیصلے کی فائل بلا تاخیر اُنہیں دہلی رو انہ کر دی جائے۔ یہ تھی ساری کہانی،جس میں مونٹ بیٹن نے محض جناح صاحب کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے اپنی طرف سے یہ چھوٹا سا کام آناً فاناً کر دیا۔
غلام حیدر جلال آباد میں کچھ ایسی دھوم دھام سے داخل ہوا کہ اُس کے سامنے جلال آباد والوں کی نظر میں نواب افتخار کی کیا اہمیت تھی۔ سفارش کا یہ قدم شاید جناح صاحب کبھی نہ اُٹھا تے لیکن اُن کی نظر میں نواب افتخار کی بھی ایک اہمیت تھی۔ شروع دن سے ہی ممدوٹ خاندان محمد علی جناح کا دست وبازو تھا۔ وہ پنجاب میں سب سے زیادہ اعتبار اُنہیں پر کرتے۔ لاہور آتے تو ممدوٹ ولا زکے سوا کہیں قیام نہ فرماتے۔ حتیٰ کہ فاطمہ جناح بھی اُن کے ہمراہ ہوتیں تو وہ بھی ممدوٹ ولاز میں ٹھہرا کر تیں-انیس سو چھ میں سرشاہنواز خان ممدوٹ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی صدارت سنبھالی تھی اور مسلم لیگ کو مضبوط و فعال بنانے کے لئے انتھک کوششیں کیں اور اپنی دولت خرچ کی تھی۔ یہ اُنہی کی کاوشیں تھیں کہ قرار داد پاکستان ممدوٹ ولازکے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بنائی گئی- منٹوپارک کا جلسہ اور اُس کی کامیابی بھی سرشاہنواز خان ممدوٹ کے سرجاتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو جہاں دُشواری پیش آتی،نواب ممدوٹ اپنی تجوری کی چابیاں اُن کے حوالے کر دیتے۔

Categories
نقطۂ نظر

دو قومی نظریہ اور دو تنازعات

youth-yell-featured

اگر جناح چند سال مزید زندہ رہتے تو پاکستان کاپہلا قومی ترانہ جو جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا ہم آج بھی سکولوں میں گاتے اور آج ہم اس بات پر نہ لڑ رہے ہوتے کہ جناح سیکولر جمہوریت کے خواہاں تھے یا ایک مذہبی ریاست چاہتے تھے
اگرجناح ایک سال بعد ہم سے جدا نہ ہوتے اور مزید کچھ برس زندہ رہتے تو کیا ہوتا؟ تو پھر پورا برصغیر 15اگست کو یو م آزادی مناتا اور غالب خیال ہے کہ یہ دونوں نو آزاد قومیں جشن آزادی اکٹھے منایا کرتیں ۔ اگرجناح زندہ رہتے تو وہ بمبئی میں اپنے گھر واپس جایا کرتے جہاں رہنے کی انہیں خواہش تھی۔ اگر جناح چند سال اور زندہ رہتے تو لیاقت علی خان کی بجائے کوئی اور رہنما جو قابلیت پر یقین رکھتا اور زیادہ موزوں ہوتا سامنے آتا۔ ایک ایسا رہنما جو “بیک ڈور لابنگ” پر یقین نہ رکھتا، حسین شہید سہروردی اور مجیب الرحمان کو تخریب کار نہ کہتا اور بنگالیوں کے جائز مقام اور حق کے تحفظ کےلیے اسمبلی سے ایک متفقہ آئین منظور کراتا۔ کیوں کہ آخری دنوں میں جناح صاحب کے تعلقات لیاقت علی خان سے شدید کشیدہ تھے جس کا انہوں نے کھل کر اظہار اپنی بہن فاطمہ جناح سے کیا بھی تھا۔
اگر جناح چند سال مزید زندہ رہتے تو پاکستان کاپہلا قومی ترانہ جو جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا ہم آج بھی سکولوں میں گاتے اور آج ہم اس بات پر نہ لڑ رہے ہوتے کہ جناح سیکولر جمہوریت کے خواہاں تھے یا ایک مذہبی ریاست چاہتے تھے۔ وہ اپنے مقررہ وقت پر ہم سے جدا ہو گئے ۔وہ صحیح کہتے تھے کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ وقت نے ثابت بھی کیا کہ ان کے سارے ساتھی کھوٹے سکے تھے جن کی وجہ سے ملک لسانی تعصب میں بٹ کر ٹوٹ گیا۔ اگر جناح مزید کچھ عرصہ زندہ رہتے تو ہندوستان کے ساتھ تعلقات دشمنی کی اس نہج تک نہ پہنچتے اور شاید آج پشاور کا پٹھان صبح ناشتے کے بعد امرتسر براستہ لاہور ویزے کے بغیر آ جا سکتا اور شام کا کھانا اجمیر شریف کھاتا۔ مشرقی پنجاب سے آنے والوں کو روپیہ تبدیل کرانے کا جھنجھٹ نہ کرنا پڑتا۔ جناح صاحب کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو نہ دوقومی نظریہ ہوتا اور نہ اس کے نام پر جنگ کا بازار گرم ہوتا۔
لیکن جیت کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ہار کو ہضم کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ بہادری پر نشان حیدر اور دوسرے انعامات عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ناکامی پر فوجی جرنیلوں کااحتساب بھی ضروری ہے
دوقومی نظریے سے پیدا ہونے والا سب سے بڑا تنازع یہ ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا۔ اسلام کی بنیاد پر پاکستان کی تشکیل کے مبلغین کے افکار سے تو لگتا ہے کہ آزادی کا مقصد روزاول سے ہی ہندوستان کے ساتھ دشمنی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کرنا تھا۔اس کا مقصد اپنے آپ کو نرگسیت کے مرض میں مبتلا کرنا تھا کہ ہم دنیا میں بہترین قوم ہیں اور کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ اس مقصد کے لیے اگر تاریخ کو توڑ مروڑ کر بھی پیش کیا جائے تو یہ غلط نہیں۔ غلط اور حقائق سے بہت دور سرکاری تاریخ میں اگرجھوٹ کو سچ کے غلیظ پردوں میں بھی چھپانا پڑے تو قبول ہے۔ یہ لوگ ایسا کرتے ہوئے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو نئے اور جدید انداز میں دہرا تی ہے اور غلط تاریخ پڑھانے والوں کو تاریخ ہی غلط ثابت کر تی ہے۔ نرگسیت کے اس غبارے میں مطالعہ پاکستان کے سرکاری طور پر منظور شدہ مضامین کی ہوا بھری گئی ہے جو وقت کے ساتھ نکلتی رہتی ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ 65 کی جنگ کس نے جیتی تھی؟ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ مشرقی سرحد پر مکار دشمن نے رات کے اندھیرے میں پاکستانی سرحدی شہر لاہور پر حملہ کر دیا اور ایک جنگ چھڑ گئی۔ درسی کتب میں 65 کی جنگ سے متعلق اسباق کے آخر میں لکھا ہوتا ہے کہ یہ جنگ ہم نے جیتی اور دشمن کو شدید مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ پانچویں جماعت سے لے کر ڈگری کی سطح تک یہ اوراس طرح کے درجنوں جملوں سے ہمارے دیس کے طلبہ کو واسطہ پڑ تا ہے۔ ہر سال 6 ستمبر کے موقع پر سیاستدان بڑے بڑے اخباری اشتہارات میں اپنی رنگین تصاویر چھپوا کر قوم کو یوم دفاع کی مبارک باد دیتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی سچائی کا سامنا کرنے کوتیار نہیں۔ ہر سال اس دن ہماری افواج کنٹونمنٹ کے علاقوں میں واقع میدانوں میں ٹینکوں اور مختلف جنگی سامان کی نمائش کا اہتمام کرتی ہیں تاکہ آنے والی نسل اس جھوٹ کو سچ سمجھنے لگ جائے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے بھی طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم کی طرح نعرہ تکبیر بلند کر کے ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی تھی۔ ہم یہ بتانے کو تیار نہیں کہ زیادہ تر کشمیریوں اور کشمیری قیادت نے آپریشن جبرالٹر اور 65 کی جنگ سے خود کو علیحدہ رکھا۔ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ جنگ دراصل ہماری وجہ سے شروع ہوئی تھی جب اگست کے مہینے میں ہم نے ہزاروں تربیت یافتہ فوجی اور گوریلےلائن آف کنٹرول کے اس پار بھجوائے تھے لیکن اس مہم جوئی کا نتیجہ بہت برا نکلا۔ جنگ کے بعد جنرل محمود احمد نے ایک ضخیم دستاویز تیا رکی تھی لیکن اسے قومی مفا د کے تحت ناقابل اشاعت قرار دے دیا گیا اور مورال بلند رکھنے کے لیے کھیم کرن پر کامیابی کو جنگ میں جیت قرار دے دیا گیا۔ اس وجہ سے ہمیں اپنی کمزوریوں کا علم نہیں ہو سکا۔
برا وقت اور جنگیں قوموں کی زندگی میں آتے ہیں اور جنگوں میں ہار جیت بھی ہوتی ہے لیکن جیت کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ہار کو ہضم کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ بہادری پر نشان حیدر اور دوسرے انعامات عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ناکامی پر فوجی جرنیلوں کااحتساب بھی ضروری ہے۔ اگر یہ سچ ہے کہ ہم نے اگست کے مہینے میں کشمیر میں ہندوستانی افواج کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کی تھی تو پھر کوئی دفاعی تجزیہ نگار ہی بتا سکتا ہے کہ جنگ جیتنا اور ہارنا کسے کہتے ہے؟ اور اس جنگ میں ہماری حیثیت فاتح کی ہے یا نہیں؟ ہم 6ستمبر یوم دفاع کے طور پر منائیں یا حملے کی یادگار کے طورپر؟ ان سب سوالات کے جواب دینا بہت ضروری ہو چکا ہے کیوں کہ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے میں اور مجھ ایسے ہزاروں طلبہ گو مگو کی کیفیت سے دوچار ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

قصہ قائد کے عقیدے کا

جب بھی پاکستان کا کوئی قومی تہوار آتا ہے تو قلم کے مزدور قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر اور ان کے عقیدے پر اپنی اپنی آراء ، تبصروں اور تشریحات کے تیشے تاریخ کے سینے پر چلانے لگتے ہیں ۔ بہت سے لکھاری اپنے قلمی لاؤڈ اسپیکروں پر ہر سال قائد اعظم کے عقیدے اور ان کی 11اگست کی تقریر کا حوالہ دے کرملک کو سیکولر جمہوری ریاست بنانے یا اسلام کا قلعہ ثابت کرنے کا کام شروع کر دیتے ہیں ۔ محمد علی جناح سے عقیدت اور فکری دیانت کا تقاضا ہے کہ بابائے قوم کے فرمودات و عقیدے کو اس زمانے کے سیاسی حالات کے تناظر میں سمجھا جائے۔ جناح ہرگز کوئی مذہبی شخصیت نہیں تھے اور نہ ہی وہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے ۔ بانی پاکستان نے امریکی پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ “پاکستان کی حکومت مذہبی حکومت یعنی تھیا کریسی نہیں ہو گی ۔نہ ہم ایسی خالص مذہبی حکومت پر یقین رکھتے ہیں “(گم گشتہ قوم صفحہ 283) جناح کی وفات کے فوراً بعد جناح کے تصور ریاست سے انحراف کا آغاز ہوگیا تھا۔ یہ ہی وہ وقت تھا جب اس نوزائیدہ ریاست کے کمزور جسم پر پر قراردادمقاصد کی مقدس چادر چڑھا کر پاکستان کو مشرف بہ اسلام کیا گیا۔ بعد کے حالات اس بات کی پوری غمازی کرتے ہیں کہ جو لوگ راستوں کے راہزن اور ڈاکو تھے انہوں نے جناح شناسی کا تاج اپنے سروں پر سجا کر قافلوں کی رہبری کا ٹھیکہ اُٹھا لیا۔
کبھی کسی نے سنا کہ بابائے قوم نے ہدایت کی ہو کہ ملک کا وزیر اعظم ، صدر اور فوج کا سپہ سالار صرف اور صرف مسلمان ہو بلکہ انہوں نے اپنے مختصر دورحکومت میں مذہب و مسلک سے بالا تر ہو کرصرف قابلیت کی بنیاد پر تقرریاں کیں
11اگست کو دستور ساز اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کے مندرجات سینسر کیے جانے کے باوجودان کی سیاست سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کے ذہن میں کیسا پاکستا ن تھا اوراس کے کیا خدو خال ہو سکتے ہیں؟ اگرچہ قائد اعظم ہمارے ساتھ بہت عرصے تک نہیں رہ پائے لیکن قیام پاکستان کے بعد کے واقعات اور اقدامات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ وہ کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے ۔ ان کے اقدامات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے اپنے ہر فیصلے کی بنیاد جمہوریت ، مذہبی رواداری اور ریاست اور مذہب کی علیحدگی پر رکھی تھی۔ انہوں نے اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم جیسے ٹھوس اور مضبوط اصولوں کو ہی پاکستان کی تعمیر کے لیے لازمی عنا صر قرار دیاتھا جو ایک فلاحی ریاست کے خدوخال کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں ۔انہوں نے جوگندر ناتھ منڈل کو وزارت دی اور سر ظفرا للہ خان کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا۔ان کے دلیرانہ اورحکیمانہ فیصلوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کس قسم کی جمہوری سوچ پروان چڑھانا چاہتے تھے ۔ کبھی کسی نے سنا کہ بابائے قوم نے ہدایت کی ہو کہ ملک کا وزیر اعظم ، صدر اور فوج کا سپہ سالار صرف اور صرف مسلمان ہو بلکہ انہوں نے اپنے مختصر دورحکومت میں مذہب و مسلک سے بالا تر ہو کرصرف قابلیت کی بنیاد پر تقرریاں کیں۔ انہوں نے کئی نامور عمائدین اور سیاست دانوں کو چھوڑ کربہترین نظم و نسق رکھنے والے باصلاحیت افراد کو اہم ترین وزارتوں کے قلمدان سونپےخواہ ان کا مذہب، عقیدہ یا مسلک کچھ بھی ہو۔جناح صاحب کو ایک مذہب پرست رہنما ثابت کرنے والے لوگ وہی ہیں جو ماضی میں قائد اور دیگر مسلم لیگ رہنماؤں پر غیر مسلم ہونےکے الزامات عائد کرتے رہے ہیں ۔
متحدہ ہندوستان کے عہد کاجو شر پسند ٹولہ قائد کے عقیدے اور مسلک کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا تھا وہ آج بھی ریاست میں انتشار ، بدنظمی اور تعصب پھیلانے کی خاطر مذہب کا سہارا لے رہاہے ۔
صاحب الرائے اور ذی شعور طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جناح صاحب کو متنازعہ بنانے کے لیے ان کا عقیدہ کون لوگ جاننا چاہتے تھے؟ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ آج بھی کسی کی سچائی ، دیانت اور صداقت کو الزام تراشی سے آلودہ کرنا ہو تواس کے عقیدے کو مشکوک بنادیا جاتا ہے۔ آج بھی سرکار ہر پاکستانی کے عقیدے کو اپنے میزانِ عدل میں تول کر ملک کی خدمت کا موقع دیتی ہے جس کا مظاہرہ 1974ء میں احمدیوں کے ساتھ کیا گیا۔ ان عالم فاضل اکابرین امت نے جناح کے بے داغ کردار پر طنزو تشنیع کے زہر میں ڈوبے الفاظ کے کوڑے برسائے ۔سر عام گالیوں سے نوازا گیا پھر بات نہیں بنی تو جناب کے عقیدے کے بارے میں ہرزہ سرائی کی گئی ۔ ستم ظریفی یہ کہ وہی طبقہ آج جناح کو مردمومن ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے جو کبھی انہیں مسلمان ماننے کو تیار نہیں تھا۔ متحدہ ہندوستان کے عہد کاجو شر پسند ٹولہ قائد کے عقیدے اور مسلک کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا تھا وہ آج بھی ریاست میں انتشار ، بدنظمی اور تعصب پھیلانے کی خاطر مذہب کا سہارا لے رہاہے ۔
کسی بھی سیاسی رہنما کے عقیدے سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ہر جائزوناجائز ہتھکنڈا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔احراری علماء مبینہ طورپر قائد اعظم کے بارے میں جھوٹ ، دروغ گوئی سے مسلسل کام لیتے رہے وہ یہاں تک کہتے تھے کہ قائد اعظم کو جب کلمہ طیبہ پڑھایا گیا تو انہوں نے کہا کہ

“I know Muhammad, i know Allah , but who is the Third Gentleman Rasoolallah”

(یعنی میں محمد اور اللہ کو تو جانتا ہوں لیکن یہ تیسرا شریف آدمی رسول اللہ کون ہے )۔تحریک پاکستان میں شامل جانثاروں اور وفاداروں کو بابائے قوم کے اعلی ٰ کردار سے متنفر کرنے کے لیے مذہب اور عقیدے کومتنازعہ بنانے جیساقبیح مگر آزمودہ حربہ استعمال کیا گیا۔اس وقت کے معروف عالم دین اور مفسر اسلام نے بانی پاکستا ن کے بارے کیا کیاگوہر افشانیاں کیں ان میں سے چند ایک کی مثالیں پیش خدمت ہیں۔مفسر اسلام ابوالاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں کہ
“محمد عل جناح جنت الحقماء (احمقوں کی جنت )کا بانی اور ااجل فاجر (گنہگار انسان )ہے ۔”(ترجمان القران فروری 1946ء صفحہ 153)
“مسلم لیگ کو ووٹ دینا حرام ہے “۔(ترجمان القران جلد نمبر 28صفحہ 145اشاعت پٹھان کوٹ)
“محمد علی جناح کا مقام مسندِ پیشوائی نہیں بلکہ بحیثیت غدار عدالت کا کٹہرا ہے ۔”(ترجمان القران ۔جلد نمبر 31۔صفحہ 62.۔اشاعت 1948ء)
محمد علی جناح کے عقیدے سے متعلق ہر دو طرح کے رحجانات پائے جاتے ہیں، کچھ انہیں غیر مسلم قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں اور کچھ انہیں مرد مومن ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ تا ریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بادشاہی مسجد کے خطیب جناب مولوی غلام مرشد صاحب نے قائد اعظم سے ملاقات کے بعد گواہی دے ڈالی کہ دوران گفتگو مولانا قائد اعظم نے ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیا ہے ۔ایک اور صاحب نے بھی قائد اعظم کی بر گزیدگی اور تقدس کی داستان تصنیف کرتے ہوئے لکھا کہ “حضرت قائد اعظم اور ان کا پورا خاندان سیدھے سادے عقائد رکھنے والے مسلمان تھے۔قائد اعظم نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور بہادر یار جنگ سے قرآن با تفسیر پڑھا ” (مقالہ : حضرت قائد اعظم اور اسلامی نظریہ جمہوریت ۔مطبوعہ روزنامہ نوائے وقت لاہور 30دسمبر 2005ء)۔یعنی ان لوگوں کا یہی مقصد تھا کہ کسی طرح سے مسٹر جناح کو” حضرت مولانا محمد علی جناح رحمتہ اللہ”بنا کر ہی دم لیاجائے ۔تاکہ آئندہ زمانوں میں ار ض پاک کے آئین و قانون کی تزئین و آرائش اور دستار بندی بھی ان کے ہاتھوں سر انجام پائے۔ دوسری جانب ایک طبقہ قائد کے عقیدے کو مسلکی اور فرقہ وارانہ رنگ بھی دیتا ہے۔ ان لوگوں کے خیال میں چونکہ بابائے قوم اہل تشیع تھے تو ہو سکتا ہے کہ قائد کے صاف و شفاف کردار کو طنزو تشنیع کے تیروں سے چھلنی کرنے والوں کے مضطرب دلوں میں یہ خوف اور خطرہ گھر کر گیاہوکہ کہیں بابائے قوم کی ہم مسلک اقلیت نوزائیدہ مملکت کی وارث نہ بن بیٹھے ۔
ان لوگوں کا یہی مقصد تھا کہ کسی طرح سے مسٹر جناح کو” حضرت مولانا محمد علی جناح رحمتہ اللہ”بنا کر ہی دم لیاجائے ۔تاکہ آئندہ زمانوں میں ار ض پاک کے آئین و قانون کی تزئین و آرائش اور دستار بندی بھی ان کے ہاتھوں سر انجام پائے
یہ امر افسوس ناک ہے کہ قائد اعظم کے عقیدے اور طرز ریاست کو اپنی سوچ اور زاویے کی طرف موڑنے والے آج بھی جناح کے عقیدے اور سیاست کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ قیام پاکستان کی مخالف اسی ملائیت کی وجہ سے آج دنیا بھر میں پاکستان دہشت گردوں کی پرورش گاہ کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔ آج جب فتویٰ فیکٹریوں کے دھوئیں نے پورے ملک کی پر امن فضا کو گھٹن زدہ بنا رکھا ہے تو اس کی صرف اور صرف یہی وجہ ہے کہ ان دھڑادھڑ چلنے والی فتویٰ فیکٹریوں کی بنیادیں اقبال اور قائد ہی کے عہد میں کھودی گئی تھیں ۔ان فتویٰ بازوں کی باقیات آج بھی قائد کے مزار پر دعائے خیر کرنے سے علی الاعلان انکاری ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی رہنماوں کے عقیدے کی بجائے ان کی سیاست کی بنیاد پر ان کی حمایت اور مخالف کی جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تاریخی شخصیات کو کسی مخصوص نظریے، عقیدے یا مسلک کے تحت رنگنے کی بجائے اس کے صحیح سیاق وسباق میں معروضی انداز میں سامنے لایا جائے۔