Categories
شاعری

شہر کا ماتم

شہر کا ماتم
اس بار چلیں گی سرد ہوائیں نیل بھری
سانسوں کا ملبہ بار کرے گا سینوں پر
اور دل کے پیادے رک جائیں گے زینوں پر
سنسان گھروں میں رقص کریں گی دوپہریں
ویران چھتوں پر رات اکھاڑا ڈالے گی
زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا

Image: Katrina Jurjans

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – دوسری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(4)

 

ولیم کو انگلستان سے آئے ایک سال کے قریب ہوگیا لیکن ابھی تک اُسے خاص جگہ تعینات نہیں کیا گیا تھا۔ مختلف کمشنروں کے دفتروں میں ہی چھوٹے موٹے کاموں کی تربیت میں مصروف رکھا،تاکہ کام پر نکلے تو پورے حساب میں ہو۔ایک سال کے بعد جب اُس کے باقاعدہ پوسٹنگ آرڈر تیار ہوئے تو وہ فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں بطور اسسٹنٹ کمشنر کے تھے۔ ولیم نے بہت کوشش کی اُسے مشرقی پنجاب نہ بھیجا جائے مگر اِن دنوں چیف سیکرٹری صاحب کے موڈ اچھے نہیں تھے اور کمشنر جیمس ویسے ہی ولیم کے باپ سے خار کھائے بیٹھا تھا۔اس لیے وہ اُن سے کہنے کا رِسک نہیں لے سکتا تھا۔ جانسن نے پہلے ہی کہہ دیا تھا اِس معاملے میں کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ولیم کو فیروزپور میں بطورِ اسسٹنٹ کمشنر اپنی پوسٹنگ کے آرڈر لینے ہی پڑے، بجز اس کے چارہ نہیں تھا۔

 

ولیم فیروزپور میں ڈسڑکٹ آفس کے ریسٹ ہاؤس میں پہنچا تو رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ ایک تو رات کی تاریکی تھی دوسرا پہلے اس علاقے میں آیا بھی نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی شہر کے خط وخال اور رنگ ڈھنگ کو دیکھ نہ سکا۔علاقے کا تحصیلدار اور دوسرے کئی دیسی افسر ریلوے سٹیشن پر اُسے لینے کے لیے آئے۔ سرد رات کے اس پہر ولیم کے لیے اُن کی شکلیں بھوتوں کے سا ئے محسوس ہو رہے تھے۔اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی گیدڑوں کی ہاؤ ہُو اور کتوں کے بھونکنے کی آواز وں نے اُس کا استقبال کیا۔ ان کریہہ آوازوں نے ڈسٹرکٹ کمپلیکس تک اُس کو آزار پہنچایا۔اس کے سبب ولیم کی بیزاری مزیدبڑھ گئی۔ فیروز پور شہر جس قدر کھلا تھا اُسی قدر سنسان بھی تھا۔ جیپ سے اُترا تو اُس نے دیکھا ہر طرف سناٹے کا سماں ہے۔ پانچ چھ سکھ سنتری بندوقیں کاندھوں پر رکھے ستونوں کی طرح اٹینشن کھڑے تھے۔ غالباََ اُنہیں بتا دیا گیا تھا کہ نئے صاحب آ رہے ہیں۔ چوکیدار اور سنتریوں نے تیزی سے سلام کیااور ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ ولیم نے چاروں طرف غائر نظر ماری۔گیس کے ہُنڈے جل رہے تھے، جن کی پیلی روشنی ہلکی دھند میں مزید ٹھنڈی اور دھندلی ہو رہی تھی۔ گاہے گاہے دُور سے بھونکتے کتوں اور چیختے گیدڑوں کی آوازیں اِس دُھند میں اور زیادہ اُداسی پھیلا رہی تھیں۔ ایک افسر نے ولیم کا اٹیچی کیس پکڑ لیا۔ دوسرا عملہ چوکیدار کے ساتھ مل کر جیپ سے بقیہ سامان اُتارنے لگا۔اِسی اِثنا میں ولیم قدم بڑھاتا ہوا ریسٹ ہاؤس میں داخل ہوگیا۔ وہ کچھ دیر ٖضرور باہر کی ہوا دیکھتامگر سفر کی تھکاوٹ اور ٹھہرے ہوئے موسم نے اُسے اِس بات پر آمادہ نہ ہو نے دیا۔ جب سامان اندر آگیا اورتحصیلدار سمیت تمام عملہ سلام کر کے رخصت ہو چکا تو چوکیدار سامان کو ترتیب سے ایک طرف جمانے لگا۔ اس معاملے میں اس کی مدد ایک سب انسپیکٹرازخود کر رہا تھا۔ اِسی بہانے اُس نے ایک بار ولیم سے گفتگو کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ولیم اپنی ہدایات مسلسل چوکیدار ہی کو دیتا رہا۔ سامان پوری طرح ترتیب سے لگ گیا تو ولیم نے سب انسپیکٹر کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور آرام سے کرسی پر دراز ہو کر چوکیدار سے مخاطب ہوا۔

 

مسٹر آپ کا نام کیا ہے ؟

 

چوکیدار پورے جوش سے آگے بڑھتے ہوئے بولا، جی صاحب بہادر غلام کا نام نیاز دین ہے لیکن سب نجا کہتے ہیں۔ صاحب آپ حاکم ہیں، جس نام سے چاہیں بلا لیں۔

 

ولیم نے بغیر تاثر اور کیفیت پیدا کیے کہا، نو نو نیاز دین، ہم آپ کو نیاز دین ہی کہیں گے۔پھر فوراََ کرسی سے اُٹھ کر بولا، نیاز دین ہمارے نہانے کا بندوبست کرو۔ ہم جلدی آرام کرنا چاہتے ہیں۔

 

صاحب جی، پانی گرم ہے۔ مجھے پتہ تھا آپ آ رہے ہیں اس لیے مَیں نے آپ کے آرام کا پورا بندوبست کر دیا ہے۔ نیاز دین نے ایک کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ولیم کوداد طلب نظروں سے دیکھامگر ولیم کا چہرہ سپاٹ رہا۔ وہ بغیر کچھ کہے واش روم کی طرف مُڑ گیا۔ نیاز دین کو ولیم کے اس عمل سے تھوڑا سا دکھ ہوالیکن زیادہ تعجب نہ ہوا کیونکہ وہ اس ریسٹ ہاؤس میں کئی برسوں سے چوکیدارہونے کے سبب انگریز افسروں کے سپاٹ رویوں کا عادی ہوچکا تھا۔بلکہ وہ اس بات سے خوش تھا کہ ولیم نے اُس کے اصلی نام سے اُسے مخاطب کیا تھا۔

 

گرم پانی سے نہاکرولیم کی طبیعت میں تازگی کا احساس در آیا۔ ابھی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ نیاز دین نے یاد دلایا، کھانا تیار ہے۔ ولیم نیاز دین کی اس تیز رفتاری سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہامگر اپنے آپ کو جذبات سے باہر رکھتے ہوئے،جس کی تاکید سول افسر کو خاص طور پر دورانِ تربیت کی جاتی ہے،بولا،ویل ڈن نیاز دین اور کھانے کے کمرے میں چلا گیا۔کمرے کی اندرونی ترتیب کا اہتمام خاص طور پر آرائش سے لے کر کھانے تک انگریزی اور ہندوستانی امتزاج سے بہت عمدہ کیا گیا تھا۔ کھانے کے دوران نیاز دین اور باورچی ہاتھ باندھے خدمت کے لیے تیار ایک کونے میں کھڑے رہے۔ ولیم نے باورچی کو نہ تو آواز دی اور نہ ہی نام پوچھنے کی ضرورت محسوس کی۔ البتہ ایک دفعہ نیاز دین کو تھینکس ضرور کہا۔

 

چائے پینے کے بعد ولیم ایک دفعہ پھر ریسٹ ہاؤس کے صحن میں نکل آیا اور آدھ گھنٹہ ٹہلتا رہا تاکہ کھانا ہضم ہو جائے اور اب تھکا وٹ دوبارہ اثر دکھانے لگی تھی۔جس کی وجہ سے غنودگی طاری ہوگئی۔وہ بیڈ روم میں آگیااورلیٹتے ہی سو گیا۔

 

اگلے دن ولیم کی آنکھ کھلی تو اُس نے انگڑائی لیتے ہوئے سامنے کے دیوار گیر کلارک پر نظر ڈالی۔ صبح کے آٹھ بج رہے تھے جس کا مطلب تھا کہ وہ پورے نوگھنٹے سویا۔اس قدر سکون کی نیند اُسے شاید ہی کبھی آئی تھی۔ مختصر یہ کہ ناشتہ کرنے اور پوری طرح سے تیار ہونے کے بعد دس بجے کمرے سے نکلا۔دھوپ خوب چمک رہی تھی۔ باہر قدم رکھتے ہی اُس کی نظر بغیر کسی رکاوٹ کے دُور تک چلی گئی۔ باہر نہ تو کوئی دیکھنے کو منظر تھا اور نہ زندگی کے آثار۔ کچے میدان اور خاکستری آسمان کے درمیان فقط چند اُجاڑ درخت ایک دوسرے سے دُور اور روٹھے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔اُن ٹُنڈ مُنڈ پیڑوں پر نہ کوئی پرندہ تھا، نہ گلہریوں کے آثار۔ ریسٹ ہاؤس کے گرد دوچار کیکر، ایک برگد اور بے شمار عک کے پودے تھے۔ جن کے اندر غالباً چوہیاں دوڑ رہی تھیں۔ کیکر کے پیڑوں کے نیچے تُکلوں کی پھلیاں بکھری پڑی تھیں۔ایک جانب کچھ سرسوں کے کھیت اور دوسری طرف شہر کی اُجڑی عمارتیں تھیں۔بازاروں کو وہ دُور ہونے کی وجہ سے نہ دیکھ سکتا تھا۔لیکن اُسے یہ احساس ضرور ہوگیاکہ یہ شہر انسانوں سے زیادہ بھوتوں کا ہوگا۔اُسے یہ سب دیکھ کر تعجب ہوا۔ کیا فیروز پور انگریزی سرکار کے ماتحت نہیں کہ اس کی جمالیات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ؟یا پھر یہ شہر ہی منحوس ہے۔ تحصیلدار جوزف اور ایک دو دیسی افسر اسے ویلکم کہنے کو ریسٹ ہاوس کے باہر موجود تھے، جو صبح سات بجے ہی وہاں پہنچ گئے تھے اور تین گھنٹے تک ویٹنگ روم میں بیٹھے ولیم کے نکلنے کا انتظار کرتے رہے۔ ولیم نے اُن سے ہاتھ ملا کر ہیلو کہنے کے علاوہ کچھ خاص بات نہیں کی، اپنے اُنہی خیالوں میں گم چلتا گیا مگر پھر اُس نے یہ خیال جھٹک دیا کہ خواہ مخوادماغ کو ہلکان کرنے کا فائدہ نہیں تھا۔ کونسا اُس نے یہاں رہنا تھا، نہ ہرچیز ٹھیک کرنے کا اُس نے ٹھیکہ لیا تھا۔ اُس نے سوچا وہ کچھ وقت تک یہاں مہمان ہے۔ اُس کی بلا سے جائے جہنم میں۔ اُسے تو ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ہدایات وصول کرنا ہیں۔ وہ یہ کام جلد کر کے جلال آباد کی طرف نکل جانا چاہتا تھا، جہاں اُسے اپنے فرائض بطوراسسٹنٹ کمشنر ادا کرنے ہوں گے۔ لاہور سے جاتے ہوئے اُس نے خیال کیا تھا کہ دوچار دن کے لیے فیروز پور رُکے گالیکن یہاں آکر جلد ہی اکتاہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ یہاں اگر کوئی شے اِن میں جاندار تھی تو وہ نیاز دین تھا، جس نے اُسے کل شام سے کچھ تکلیف نہ ہونے دی، لیکن جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے،فیروز پور آنا ولیم کی غلطی نہیں مجبوری تھی۔ اس کے ساتھ ایک بات کا اُسے اطمینان بھی تھا کہ اُس کی پوسٹنگ ابھی فیروز پورہی میں ہوئی تھی، نہ کہ لدھیانہ یا راجستان میں، جس کا پہلے بہت امکان تھا اور اُن کے نام ہی سے وہ بیزار تھا۔پھر یہ بات اور بھی اطمینان بخش تھی کہ فیروز پور کی بجائے اُس کو تحصیل جلال آبادبھیجا جا رہا تھا،جو فیروزپورسے جنوب مغرب کی طرف ستر کلو میٹر پر تھی۔وہاں سے وسطی پنجاب محض پچاس کلومیٹر تھا، اُس کے خوابوں کا استھان۔

 

ولیم خیال کی انہی وادیوں سے گزرتا ہوا ڈپٹی کمشنرکے دفتر پہنچ گیا۔ نائب تحصیلدار وِکرم نے جیپ رُکتے ہی آگے بڑھ کر ولیم سے بریف کیس پکڑ لیا اور بڑے ادب سے ڈپٹی کمشنر کے کمرے کی طرف رہنمائی کرنے لگا۔ اُس نے دیکھا بہت سے کلرک اپنے کمروں کے کھلے دروازوں سے جھانک رہے ہیں۔اِن میں اکثر کی گول شیشے والی عینکیں میلی چکٹ ڈوریوں سے بندھی،اُن کی ناکوں پر ترچھی جمی اُسے گھو رہی تھیں۔کچھ کلرک اِن دھندلائے ہوئے شیشوں کے اُوپر سے دیکھنے کی کوشش میں تھے۔ ولیم کوسرسری نظر میں بھی اُن کی باہر نکلی ہوئی توندیں اور بغیر بالوں کی چُندھیائیں دِکھنے سے باز نہ رہ سکیں۔ وہ جانتا تھا،یہ سب اُس کے گزر جانے کے بعد اُس پر رائے زنی شروع کر دیں گے۔ جس کا نہ اُنھیں کچھ فائدہ ہو گا اور نہ انگریز سرکارکو۔مگر ہوا میں ضائع ہو جانے والے تبصرے وہ ہر حالت میں کریں گے۔ کلرکوں کے ایسے عمل سے اُسے شدید نفرت تھی مگر اِن کی مشترکہ عادات کو روکنا اُس کے بس کا روگ بھی نہیں تھا۔ وہ راہداریوں سے گزر کر جیسے ہی ڈپٹی صاحب کے دروازے پر پہنچا، ڈپٹی کمشنر ہیلے دروازے پر استقبال کرنے کے لیے موجود تھا۔

 

گڈمارننگ سَر’’ولیم نے ایک لمبا ڈگ بھرتے ہوئے ہیلے کی طرف ہاتھ بڑھا یا۔

 

گڈ مارننگ ینگ مین، ’’ہیلے نے ولیم کا ہاتھ گرم جوشی سے دبایا اور کمرے میں داخل ہونے کا اشارہ کیا۔
تحصیلدار جوزف کو ولیم نے باہر ہی سے رخصت کر دیا۔ نائب تحصیلدار وِکرم نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا اور اُس وقت تک دروازہ پکڑے کھڑا رہا جب تک دونوں کمرے میں داخل نہیں ہو گئے۔ہیلے نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہی سگار کا کش لیا اور ولیم کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کر دیا۔

 

چند ثانیوں بعد ایک شخص کافی اور بسکٹ رکھ کر چلا گیا۔پھر کچھ دیر خاموشی چھائی رہی،نہ ولیم کچھ بولااور نہ ہیلے۔دونوں شاید ایک دوسرے کے جسمانی خدو خال سے دماغ کی اندرونی کیفیت کا اندازہ لگاتے رہے۔ چند ثانیوں کے اس وقفے کے بعد ہیلے نے گفتگو کا آغاز کر دیا،برطانیہ سے کب آئے؟

 

ولیم نے کرسی پر ٹھیک سے پہلو درست کیااور جواب دیا،سر لندن سے آئے ایک سال سے اوپر ہو گیا لیکن آرام سے ایک دن نہیں بیٹھ سکا۔ آپ جانتے ہیں،اکیڈمیوں والے ایک کے بعد دوسری ٹریننگ کے چولہے میں جھونک دیتے ہیں اور سیکھا ہوا بار بار سکھاتے ہیں۔

 

اس باوجود بھی کچھ لوگ نہیں سیکھتے،ہیلے نے یہ جملہ چبھتے ہوئے انداز میں کہا،جسے ولیم محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا لیکن خاموش رہا۔

 

بات فوراًبدل کر اوروطن کی پوری محبت دل میں جمع کرتے ہوئے ہیلے دوبارہ بولا،لندن کیسا تھا؟

 

ولیم نے کاندھے اُچکاتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا،وہی پرانی برف،جو قیامت تک رہے گی۔

 

ہیلے کو ولیم کا جواب ناگوار لگا مگر وہ پی گیا اور گفتگو اپنے مطلب کی طرف لے آیا،فیروزپور کا سفر کیسے کٹا؟ میرا مطلب ہے کچھ تکلیف تو نہیں ہوئی ؟

 

ولیم نے کافی کا گھونٹ پیتے ہوئے جواب دیا، بہت عمدہ سر، ریسٹ ہاؤس کا ملازم اچھا تھا۔

 

باتیں کرنے کے ساتھ ولیم کمرے کا جائزہ بھی لیتا جا رہا۔ ہیلے کی میز اور کمرے کی اندرونی ہیئت واقعتاً برطانوی ایمپائر کی ہیبت کی عکاس تھی۔ دس فٹ لمبی اور چھ فٹ چوڑی میز کے ایک کونے پر رکھا ہوا گلوب کچھ معنی رکھتا تھا۔ کمرہ انتہائی کھلا اور آرائش میں پروقار چیزوں کی نشاندہی کر رہا تھا۔ پردوں سے لے کر صوفوں تک اور سامنے کی دیوار پر برطانیہ کی وسیع سلطنت کے پھیلے ہوئے نقشے کسی بھی ملاقاتی کے دل پر حکومت کی جلالت اور اس کے نمائندے کی ہیبت پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔

 

ینگ مین آپ کب تک جلال آباد جانا چاہتے ہیں؟ ہیلے جلد ہی مطلب پر آ گیا۔

 

ولیم،جسے حال ہی میں انگلستان میں آٹھ سال گزارنے پڑے تھے، جواب دینے کے معاملے میں اس کی طبیعت میں ایک ٹھہراو تھا۔کچھ دیر کافی کی چسکی لینے کے بعد کمرے کو چند ثانیے گھورتا رہا پھر اعتماد کے ساتھ بولا،سَر میں آج ہی یہاں سے روانہ ہونا چاہتا ہوں۔ لیٹر جلد مل جائے تو خوشی ہوگی۔

 

ہیلے نے کچھ دیر ولیم کی نیلی آنکھوں میں، جن میں ہلکا سبز رنگ بھی گُھلا تھا ’دیکھتے ہوئے ایک بھر پور خاموشی کا سوال کیا۔جس کا مطلب تھا، جواب وضاحت طلب ہے۔

 

ولیم نے وضاحت کی ’ سَر میری طبیعت یہاں اُکتاہٹ کا شکار ہو رہی ہے اس لیے اپنے کام پر جلد پہنچنا چاہتا ہوں۔
او کے، ہم آپ کو آج ہی رخصت کر دیں گے۔ ہیلے نے فیصلہ کن انداز میں جواب دیا، بس کچھ ضروری معلومات آپ کے گوش گزار کرنا ہیں۔ جن میں سے کچھ کا تعلق زبانی ہے اور کچھ تحریری۔

 

کیا زبانی معلومات ابھی نہیں مل سکتیں ؟ولیم نے اب کے بے چینی کا مظاہرہ کیا۔

 

یس مسٹر ولیم، ہیلے نے کرسی سے اُٹھتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔

 

آپ کے متعلق میرے پاس خاصی معلومات ہیں،جو ہندوستان میں رہنے والے ایک انگریز افسر کے لیے خطرناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آپ کمشنری کے لیے مناسب نہیں تھے۔اُن کا کہنا ہے آپ کے مزاج میں شوریدگی اور بعض شاعرانہ قباحتیں ہیں۔لیکن ہوم منسٹری نے آپ کے اجداد کی سابقہ خدمات کے پیش نظر اُس رپورٹ کو نظر انداز کردیا اور پوسٹنگ لیٹر دے کریہاں بھیج دیا۔ اب اُس رپورٹ کو غلط ثابت کرنا آپ کے ذمہ ہے۔

 

سر بات میری سمجھ میں نہیں آئی،ولیم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔

 

ولیم،ہیلے دوبارہ بولا،اسٹیج پر آنے کے بعد اسٹیج سے باعزت اُترنا زیادہ اہم ہے۔ آپ ایک ایسے ناٹک کی طرف جا رہے ہیں جس میں ایک سین ایک ہی بار شوٹ ہوتا ہے۔ ری ایکٹ کرنے کی گنجائش نہیں۔ چنانچہ پہلی ہی بار پرفیکٹ ہونا ضروری ہے۔جہاں ا سٹیج کے اصولوں کی خلاف ورزی کی، وہیں ذلت اُٹھاؤ گے۔ میرا خیال ہے، آپ ہوم منسٹری کی عزت رکھیں گے اور اپنے اجداد کی بھی۔

 

ولیم کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے ہیلے کی گفتگو سن رہا تھا۔ ہیلے کے چہرے کی سلوٹیں بھی غور سے دیکھ رہا تھا۔جن میں ہر اُس افسر کی طرح، جب وہ سروس میں کچھ عرصہ گزار لیتا ہے، بقراطیت جھلکنے لگتی ہے۔

 

ہیلے نے دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر آگے جھکتے ہوئے گفتگو دوبارہ شروع کی،ولیم، تم ایک انگریز ہو۔یہاں تمہاری حیثیت حاکم کی ہے۔ ہم یہاں کی زمین سے رومانس نہیں، حکومت کرنے آئے ہیں۔ جیسا کہ مجھے معلوم ہواہے، آپ کی شاعرانہ طبعیت آپ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ یہاں آپ کاوجود ایک برتر سطح پر ہے۔اس لیے آپ پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔جو انگریز نوجوان برٹش سول سروس کو جوائن نہیں کرتے وہ ان حدود اور ذمہ داریوں سے ماورا ہیں۔

 

ولیم حاکم اور محکوم میں ایک فاصلہ ہوتا ہے۔ اُسے قائم رکھنا حاکم کی ذمہ داری ہے۔ دیسی لوگوں کو انصاف فراہم کرو لیکن عدل کے دوران تمہارا ظالم اور مظلوم سے فاصلہ برابر ہونا چاہیے۔ اُن کے درمیان فیصلہ کر کے دونوں سے بے تعلق ہو جاؤ۔ اگر مقامی سے سو دفعہ ملو تو ہربار اجنبی کی طرح۔کیونکہ تمہاری قربت اُسے تمھاری ہیبت سے باہر کر دے گی اور یہ بات قانون کو چھوٹا کرنے کے لیے کافی ہے۔یہی قانون جو ہماری ایمپائرکاحقیقی ستون ہے۔ (ہیلے تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر سیدھا کھڑا ہوگیا اور گلوب کو دائیں ہاتھ کی انگلی سے گھماکر بات جاری رکھی )میرا خیال ہے ینگ مین،آپ میری بات کے سمجھنے میں مشکل محسوس نہیں کر رہے۔ ہندوستان ایک وسیع سمندر ہے جو انتہائی گہرا،تندوتیز موجوں سے بھرا ہوا ہے۔ حکومت یعنی ہم اس کی سطح پر ایک جہاز کی مانند تَیر رہے ہیں۔ہمیں اپنی بقا کے لیے ہر طرف سے ہوشیار اور متحرک رہنا ہے۔ اس کی ہولناکیوں پر قابو پانے کے لیے بے رحم طاقت چاہیے۔ جہاز کا ہر تختہ دوسرے سے بغیر فاصلے کے جُڑا ہو، ورنہ سمندر کا اپنا وجود مستعار نہیں۔ وہ اپنی زمین پر کھڑا ہے۔ہم اُسے اُٹھا کر نہیں لے جا سکتے۔اس کی موجوں کو طغیانی سے نہیں روک سکتے۔ مَیں جانتا ہوں، ہم نے جہاز پر اتنا کچھ لاد لیا ہے جس کی گراں باری تختوں کے چوکھٹے ہلا رہی ہے۔ چنانچہ اُس وقت تک موجوں کی سرکشی کوبادبانوں پر رکھوجب تک تمہاری کشتیاں ٹھنڈے ساحلوں پر لنگر نہیں گرا لیتیں۔ ولیم،ہم ان تختوں کے ساتھ ڈوبنا نہیں چاہتے۔

 

آپ میری باتیں سن رہے ہیں؟ہیلے نے اُسے دوبارہ مخاطب کیا۔

 

سَر آپ بات جاری ر کھیں، ولیم دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے بولا۔

 

گُڈ۔ تو میں کہہ رہا تھا (اسی اثنا میں ہیلے نے سگار کا بھر پور کش لیا) ہمیں یہاں اپنا وجود ثابت کرتے رہنا ہے، جب تک اس جگہ موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم،ہمارے مرکز میں کتنی طاقت ہے۔لیکن تمہارے ہیٹ کی چوڑائی پگڑی سے زیادہ ہونی چاہئے اور سگار کا دھواں حقے سے تلخ۔تم ان کی آنکھوں میں دھواں بھر تے رہو تاکہ یہ صاف نہ دیکھ پائیں۔ اُس کے بعدجو تمہاری عینک اِنہیں دکھائے، یہ وہی دیکھیں۔لیکن دھواں تمہاری اپنی آنکھوں کی طرف نہ آنا چاہیے۔

 

اس کے بعد ہیلے آرام سے کرسی پر بیٹھ کر کچھ دیر کے لیے خموش ہو گیا۔ اُس کی خموشی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ولیم نے کہا،سَر کیا آپ پسند کریں گے،مجھے جلال آباد کے متعلق سرسری معلومات مل جائیں؟

 

ولیم کے اس سوال نے ہیلے کو یاد دلایا کہ وہ اپنی پوسٹنگ سائیٹ میں دلچسپی رکھنے پر اکتفا کرے گا۔ہیلے مسکرایا، اُسے محسوس ہوا ولیم کچھ زیادہ بے چینی میں ہے۔

 

وائے ناٹ، مسٹر ولیم، یو وِل ورک انڈر می اور میں آپ کے کام کا ذمہ دار ہوں۔ غور سے سنو،ہندوستان میں پنجاب واحد ایسا علاقہ ہے جہاں انسان جانوروں کے ساتھ رہتے ہیں۔اس لیے اکثر پتا نہیں چلتا، دونوں میں اصل جانور کون ہے؟ ان لوگوں کے پاس بیل اور بھینسیں بہت ہیں۔یہ لوگ اطاعت کے وقت بھینس اور سرکشی کے وقت بیل بن جاتے ہیں۔چنانچہ ِانھیں دوہتے وقت تھپکی دینا اور سرکشی کریں تو سینگوں سے دور رہنا۔ شاید برکلے کا انجام تمھیں یاد ہو۔ قبروں پر چراغ جلانے میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ جلال آباد وسطی پنجاب کی سرحد پرفیروز پورکی آخری تحصیل ہے۔ اِن کے سینے دریاؤں کی طرح چوڑے اور مزاج اس کے بہاؤ کی طرح تیز ہیں۔جنھیں کناروں میں رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

 

یہاں دو قومیں ہروقت ایک دوسرے کے مقابلے پر رہتی ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے حریف سکھ اور پنجابی مسلمان ہیں۔ پنجابی مسلمان معقول اور بات کو جلد سمجھ لینے والے ہیں۔ جب کہ سکھ احمق اور ہر وقت اپنے ہی نقصان کے دَر پَے رہتے ہیں۔لیکن تمہارے لیے بہتر مدد گار سکھ ہوں گے۔کیونکہ مسلمانوں کے اندر سے نخوت اور منافقت ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ اپنے پرائے کو کسی بھی وقت دھوکا دے سکتے ہیں۔ مَیں یہ نہیں کہتا، سکھوں کو بلا جواز مدد دینا۔ یہ تمہارے لیے خطرناک ہوگا لیکن مشکل کے وقت انہی سے کام لینا۔ یہ لوگ ہر کام بغیر سوچے کر گزریں گے۔ جب کہ مسلمان تمھارے کاموں میں اپنی رائے داخل کریں گے اور وہ ناقص ہوگی۔بس یہی کچھ ہے جو میں زبانی آپ سے کہنا چاہ رہا تھا۔ اب آپ کچھ پوچھنا چاہیں تو مَیں بتانے کو بیٹھا ہوں۔

 

صرف ایک بات سر ’’ولیم نے دھیمے سے کہا‘‘

 

پوچھیے، ہیلے نے متوجہ ہوکر کہا۔

 

کسی معاملے میں اگر مَیں تنہا ہو جاؤں تو اس وقت آپ کی عینک کے شیشے سیاہ ہوں گے یا شفاف؟

 

دیکھو ولیم، ہیلے نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے جواب دیا،ہر انچارج ہمیشہ دو عینکیں رکھتا ہے، ایک شفاف ایک سیاہ۔ شفاف عینک اُس کے ضمیر کی ہوتی ہے اور سیاہ اپنے مفاد کی۔ اکثر ایسا ہو تا ہے سیاہ عینک لگانی پڑ جائے البتہ مَیں مدد سے گریز نہیں کرتا۔پھر بھی آپ احتیاط سے کام لیتے رہیں۔ اتنا کہہ کر ہیلے کرسی پر دوبارہ بیٹھ گیا اور گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا۔

 

ولیم نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔

 

اتنے میں ایک آدمی جس کے سَر کے بال تقریباََ اُڑ چکے تھے اور گول پاجامے سے پیٹ ڈھولکی کی طرح اتنا با ہر نکلاتھا کہ اُس میں پاجامے کی بیلٹ چھپ چکی تھی۔ وہ ایک بڑی بھاری فائل لے کر اندر داخل ہوا۔ ہیلے نے اُسے ولیم کی طرف اشارہ کر دیاجس کا مطلب تھا یہ فائل صاحب کو دے دی جائے۔ جب فائل ولیم کے سامنے آئی تو ہیلے نے کہا، مسٹر ولیم، اس گز یٹر میں آپ کو بہت کچھ مل جائے گا۔اور آخر میں ایک اور مگر سب سے اہم بات دھیان میں رہے۔یہ کہہ کر ہیلے اُٹھ کر میز کی دوسری طرف سے ہوتے ہوئے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ولیم ہیلے کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو گیا تو اُس نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا، ولیم تمھیں انگلستان کی برف ہندوستان کے گرم دریاؤں سے اور لندن کے سفید کوے آگرہ کے کبوتروں سے زیادہ عزیز ہونا چاہیئیں۔ بس اب آپ جا سکتے ہیں۔

 

ولیم نے ہیلے کے آخری جملے کی چبھن کو واضح محسوس کیا لیکن کچھ بولا نہیں، بلکہ اٹھنے کے لیے سلام کیا۔ ہیلے اُسے باہر تک چھوڑ نے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ دونوں پورے وقار کے ساتھ جیسے ہی دفتر کے مرکزی دروازے پر آئے دفتر کا پورا عملہ دورویہ قطار میں مقامی حیثیت کا اعلان کرنے کے لیے موجود تھا۔ جنہیں آگے بڑھ کر ہا تھ ملا نے کا حوصلہ تو نہیں تھا البتہ اپنے ہاتھ ماتھوں پر ضرور لے آئے اور نائب تحصیلدار وِکرم کو رشک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ کیسے اِترا اِترا کر ولیم کا بیگ پکڑے چل رہا تھا۔ موتی چند کے پاس سے گزراتو اُس نے کہنی مارکر بابوجلال سے کہا،بابوجی، یہ وِکرم بہت حرامی ہے۔ جلال آباد تک ولیم کے ساتھ جائے گااو ر رستے میں صاحب کو شیشے میں اُتار لے گا۔

 

بابو جلال دھیمے سے تائید میں سر ہلاتے ہوئے بولا،منشی جی یہ چپڑ قناتیا تحصیلدار ایسے ہی نہیں ہوا،موقعے کی تاڑ میں رہتا ہے۔بھلا یہ بتاؤ کِسے خبر تھی ولیم جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن کر آ رہا ہے؟ سوائے اس حرام خور کے۔
ولیم جیپ میں بیٹھ چکا،جس کا انجن کچھ دیر پہلے ہی رسہ گھما کر سٹارٹ کر دیا گیا تھا، تو وِکرم بیگ پکڑ کر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر سمٹ گیا،پھر نہایت اد ب سے بولا، سَراگر حکم ہو تو غلام آپ کو فیروز پور کی سیر کروا دے۔

 

وِکرم، مَیں فیروزپور نہیں دیکھنا چاہوں گا۔ولیم نے دو ٹوک اور سپاٹ انداز میں وکرم کی فرمائش کو رد کر دیا
اس کے بعد جیپ چل دی، جس کے پیچھے پولیس کی ایک جیپ مزید پروٹو کول کے لیے موجود تھی۔اس میں چھ سپاہی اور ایک تھانیدار تھا۔ پروٹوکول جیپ کو قانوناً ولیم کے آگے چلنا چاہیے تھا لیکن کچی سڑک پر گرد کی بہتات اور ولیم کو مٹی سے بچانے کے لیے یہ جیپ پیچھے ہی رکھی گئی۔

 

(5)

 

شیر حیدرکی خواہش تھی اُس کا بیٹا غلام حیدر کلکٹر بنے۔ اس سلسلے میں اسے میٹرک کے بعد لندن بھی بھیجا گیا مگر غلام حیدر نے وہاں خاص کامیابی حاصل نہ کی اور دو سال بعد ہی لوٹ آیا۔ویسے بھی ہندوستانیوں کا اِس معیار پر پورا اُترنا کچھ خالہ جی کا کھیل نہ تھا۔البتہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہا اور وہ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔اے کر گیا۔ شیر حیدر نے اپنی زندگی میں ہمیشہ کوشش کی کہ غلام حیدر جلال آباد سے دُور رہے۔ وہ اُسے کسی طرح اقتدار کی حویلیوں تک لے جانا چاہتا تھا۔جس کے لیے بڑے اور پڑھے لکھے لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کے آداب کچھ جلال آباد کے دیہاتوں سے دُور رہ کر ہی آ سکتے تھے۔اسی بات کے پیش نظر لاہور میں اس کے لیے ایک کوٹھی بنوا دی۔جہاں دو چار ملازم بھیج دیے گئے۔ اس طرح لاہور میں طویل قیام نے غلام حیدر کے مزاج میں ایک تہذیبی رچاؤ داخل کر دیا۔ پیسے کی کمی نہیں تھی جس کے سبب اعلیٰ سوسائٹی اور کلبوں میں آمدورفت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ انہی مشاغل میں بہت سے ایسے دوست نکل آئے جن کا تعلق اقتدار کے حلقوں سے تھا۔ ان میں خاص کر دو دوست میجر رچرڈ اور نواب افتخار غلام حیدر سے کچھ زیادہ ہی شیرو شکر ہو گئے۔میجر رچرڈ جو بعد میں کرنل بن گئے تھے،ایک دفعہ غلا م حیدر کے ساتھ سیر و شکار کے لیے جلال آباد بھی جا چکے تھے۔نواب افتخار کی زیادہ زمین بھی اِسی طرف تھی۔ اس لحاظ سے یہ ربط وضبط ایک ثلاثہ کی حیثیت اختیار کررہا تھا کہ اچانک نواب افتخار لندن چلا گیا اور چار سال تک اس کے واپس آنے کا امکان نہ رہا۔جبکہ کرنل رچرڈ کی پوسٹنگ بنارس ہو گئی۔ اس طرح یہ سلسلہ بیچ ہی میں رہ گیا البتہ اتنا ہوا کہ وہ جاتے جاتے ایک ولایتی بندوق بمعہ لائسنس غلام حیدر کو تحفے میں دے گیا۔ یہ بات اس لیے بھی اہم تھی کہ اُس وقت ایک تو ولایتی بندوق کا دیسی آدمی کو ملنا مشکل تھا،دوم یہ کہ اُس کا لائسنس اِ س سے بھی زیادہ ناممکن بات تھی اور یہ دونوں کام کرنل رچرڈ نے کسی نامعلوم طاقت ور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے غلام حیدر کے لیے کر دیے۔ جن کی اجازت کم از کم نواب سے نیچے کسی کو ملنا ممکن نہیں تھی۔

 

اب شیر حیدر کی دفعتاً موت واقع ہوئی تو اس کا اکلوتا وارث ہونے کی وجہ سے غلام حیدر پر کافی ذمہ داریاں آ گئیں۔ چار ہزار یکڑ رقبے کو سنبھالنا اور علاقے کے بُرے بھلے کی خبر رکھنا آسان کام نہ تھا۔ زمینداری اور زمینوں میں کام کرنے والی رعایا اور ان کے درمیان پیداہونے والے بیسیوں جھگڑوں کا بار بھی غلام حیدر کے سر آپڑا۔ عمومی طو رپر قتل اور ڈکیتی کی واردات کے علاوہ اتنے بڑے رقبے میں رہنے والی رعایا سے گورنمنٹ بے نیاز سی ہو جاتی۔ ویسے بھی بڑے زمیندار کچھ تو اپنی ذیلداری کا بھرم رکھنے کے لیے اور کچھ گورنمنٹ کی نظروں میں اعتبار پانے کی غرض سے اپنی رعایا کے فیصلے عام طور پر خود ہی عدل سے چکا دیتے۔اس لیے زیادہ تر ایسے علاقوں میں امن و امان ہی رہتا۔یااگر کسی کے ساتھ زور زیادتی ہوبھی جاتی تو وہ صبر کر لیتا اور گورنمنٹ تک بات کم پہنچتی۔ پھر بھی مکمل طور پر ہر ایک کی خبر گیری کرنا کسی طرح آسان نہیں تھا۔ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ غلام حیدر کو ان معاملات میں تجربہ کچھ نہیں تھا۔ اس کی زندگی کسی اور ہی تربیت کا نتیجہ تھی۔اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ سب کاروبار رفیق پاولی کو سونپ کر چند دنوں بعد لاہور چلا جائے گا۔ رفیق خود ہی مزارعوں کے ساتھ حساب کتاب کرتارہے گا۔ ویسے بھی شیر حیدر کی زندگی میں نوے فی صد کام رفیق پاولی نے اپنے ہی ذمے لے رکھے تھے اور اس سے زیادہ قابل اعتماد آدمی کوئی اور تھابھی نہیں۔ شیر حیدر اسے چھوٹے بھائیوں کی طرح رکھتا تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ رفیق پاولی نے کبھی اُس کے اعتماد کو ٹھیس بھی نہیں پہنچنے دی تھی۔

 

شیر حیدر کی وفات کودو دن گزر چکے تھے۔ تمام برادری، شیر حیدر کے یاردوست اور غلام حیدر کے کچھ دوست۔اس کے علاوہ اردر گرد کی رعایا۔ سینکڑوں لوگ حویلی میں جمع تھے۔

 

حویلی کیا تھی، ایک چھوٹا سا قلعہ تھا۔ جس کی چار دیواری پچیس فٹ اونچی ضرور ہو گی،جوچھوٹی سرخ اینٹوں سے تیار کی گئی تھی۔ اس پچیس فٹ اونچی اور تین فٹ چوڑی دیوارپر، جس پر گھوڑا بھی دوڑ سکتا تھا، جگہ جگہ برج بنے ہوئے تھے اور برجوں پر چھوٹی چھوٹی محرابیاں اور طاق تھے۔ جن میں رات کے وقت لالٹینیں روشن ہو جاتیں۔ مرکزی دروازے کے سامنے ڈیوڑھی سو فٹ لمبی اور چالیس فٹ چوڑی تھی۔ یہ پچیس فٹ اونچی چھت والی ڈیوڑھی بے شمار ڈاٹوں اور محرابوں کے سہاروں پر دور تک چلی گئی تھی۔ اسی طرح ڈاٹوں کے ساتھ بے شمار طاق اور محرابیں بنا دی گئیں۔ یہاں بھی یہ طاق زیادہ تر لالٹینیں جلانے کے کام آتے۔لالٹینوں کے متواتر اٹھتے ہوئے دھوئیں سے سیاہ رنگ کا دبیز پلستر ڈیوڑھی کی دیواروں پر چڑھ گیا تھا۔ ڈیوڑھی چھوٹی سرخ اینٹوں سے تیار کی گئی تھی۔ مگر اب نہ کوئی ان اینٹوں کا رنگ اور نہ ہی سائز بتا سکتا تھا۔ البتہ سیاہ دھوئیں نے اس آباد ڈیوڑھی کی ہیبت میں ایک طرح سے اضافہ ہی کیا تھا۔ ڈیوڑھی میں ہر وقت بیس چالیس لوگ بیٹھے رہتے۔ ان میں کچھ تو معذور اور بے گھر تھے۔ جن کا کام صرف تین وقت کھانا اور گپیں ہانکنا تھا۔باقی اِدھر اُدھر سے مسافر یا داستان گو آن پڑتے۔ ان سب کا روزانہ کا کھانا شیر حیدر کے ذمہ تھا۔ ایک دیگ صبح پک جاتی ایک شام اور اِن کا پیٹ بھر جاتا۔ کپڑا لتّا بھی عید بقرعید یہیں سے مل جاتا اور نہانے دھونے کو رہٹ وہاں جگہ جگہ تھے۔

 

ڈیوڑھی کے علاوہ دیوار کے ساتھ ساتھ چاروں طرف سو کے قریب کمرے تھے۔ان میں اجناس، غلہ اور ضرورت کی دوسری اشیاء بھری رہتیں۔ اسی احاطے کے درمیان سے ایک دیوار کھینچ دی گئی تھی، جس نے جنوبی سمت کے حصے کو پورے احاطے سے الگ کر دیا تھا۔اس کے اندر شیر حیدر کے اپنے رہنے کے مکان تھے۔ان مکانوں کی دیواریں بیرونی دیوار کی طرح مضبوط تو نہیں تھی البتہ آرائش کے اعتبار سے کہیں بہتر اور صاف تھیں۔

 

شیر حیدر کی عمومی مجلس زیادہ تر بیرونی احاطے میں رہتی۔ پیپل کے دو بڑے پیڑ حویلی کے بڑے صحن میں موجود تھے۔ اِن کا سایہ احاطے کے صحن کی آدھی جگہ گھیر لیتا۔ وہیں گرمیوں میں شیر حیدر کی پرانی چار پائی لگ جاتی۔ سینکڑوں مُوڈھے اور چار پائیاں سامنے پڑے رہتے۔ جن پر بیسیوں لوگ ہمہ وقت موجود خوش گپیوں میں اپنا وقت کاٹتے۔
یہ دن سردیوں کے تھے۔ اس لیے چارپائیاں پیپلوں سے کافی ہٹ کے مغربی دیوار کے ساتھ لگی تھیں اور احاطہ ایک ایکڑ کھلا تھا۔

 

آج شیر حیدر کے سوم کا ختم تھا۔ اس لیے مہمان سینکڑوں کی تعدادمیں جمع تھے۔اُن کی تواضع کے لیے پچاس کے قریب دیگیں حویلی کے باہر قطاروں میں چڑھی ہوئی تھیں اور صبح نو بجے ہی کا وقت تھا۔ دھوپ کی تمازت میں غلام حیدر چارپائی پر بیٹھا چاروں طرف سے پُرسہ دینے والوں میں گِھرا تھا۔سوم کے ختم کے بعد پگڑی باندھنے کی رسم تھی۔ جس کے لیے برادری والے سب دُور نزدیک سے اکٹھے ہو رہے تھے۔ اس پس منظر میں ایک ایسا ماحول بن گیا،جس کے پس پردہ توالم کی کیفیت تھی لیکن ظاہر ی طور پر شادی کی سی فضا بن چکی تھی۔ہرکوئی شیر حیدر کے سابقہ کارنامے گنوا رہاتھا۔ کسی کو اس کا عدل و انصاف یاد آنے لگا۔کوئی رو رو کر بتا رہا تھا کہ کس طرح بہشتی نے اُس کی بیٹی کے جہیز کا بندوبست کیا۔ غلام حیدر سب کچھ بیٹھا خموشی سے سنتا رہا۔ زنانہ حصے سے بین کی آوازیں بھی کچھ کچھ دیر بعد اُس کے کان میں پڑ جاتیں۔ یہ رونے والیاں گاؤں کی زیادہ تر وہ عورتیں تھیں،جو اُن کی رعایا میں شمار ہوتیں اور غلام حیدر کی والدہ کو خاوند کا پرسہ دینے آئی تھیں۔ سب کچھ دھیمے سے چل رہا تھا، اچانک رفیق پاؤلی تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا غلام حیدر کی طرف آیا۔ چہرے پر پریشانی اور سراسیمگی نمایاں تھی۔ آتے ہی اُس نے چپکے سے غلام حیدر کے کان میں کچھ کہا۔ پھر وہ دونوں پیپل کے دوسری طرف مشرقی دیوار کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ غلام حیدر کی زندگی میں چونکہ اس قسم کا پہلا تجربہ تھا اس لیے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا جواب دے اور ایسی صورت حال میں کس ردعمل کا مظاہرہ کرے۔اُس نے فیقے سے کہا۔

 

چاچا فیقے، اب آپ ہی بتاؤ، ایسے معاملے میں کیا کرنا چاہیے؟ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ بابا شیر حیدر اگر ہوتے تو وہ کیا کرتے؟ اس کے سارے کام تو آپ ہی کرتے رہے ہیں۔

 

رفیق پاؤلی کے لیے یہ ایک سٹپٹانے والی کیفیت تھی۔ شیر حیدر کے وقت اگر وہ اپنی مرضی سے کچھ فیصلے کر جاتا تھا تو فقط اس امید پر کہ مالک سر پر موجود ہے۔ کچھ غلط بھی ہو گیا تو سنبھال لیا جائے گا۔ یعنی اس کے بُرے بھلے کی ذمہ داری شیر حیدر پر ہی ہوتی لیکن اب معاملہ بالکل برعکس تھا۔ رفیق پاؤلی نے سوچا کہ اب اگر وہ کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے کر جائے اور اُس کا نتیجہ غلط نکل آیا تو پھر نہ جانے کیا ہوکیونکہ غلام حیدر ابھی ناتجربہ کار لڑکا ہی ہے۔وہ لاکھ شہر میں رہتے ہوئے تجربہ کار ہو گیا ہو مگر شیر حیدر کی بات تو پیدا نہیں ہو سکتی۔ ایسی صورت حال میں ظاہر ہے معاملے کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔چنانچہ کچھ دیر اُلجھن کے ساتھ سوچتا رہا۔

 

غلام حیدر معاملہ بہت گھمبیر ہو چکا ہے ’’رفیق پاؤلی نے بے کسی اور بے چینی کی ملی جلی کیفیت میں پگڑی ایک طرف کر کے سر کھجایا‘‘ سودھا سنگھ سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ اتنی اوچھی حرکت کرے گا۔ اس خنزیر نے عین پھوڑے کے اُوپر سٹ ماری ہے۔اِدھر سارا شریکا جمع ہے۔ اگر بات پھیلی تو لوگ پوچھ پوچھ کرکے کان کھا جائیں گے۔

 

چاچا رفیق اب تو اُس نے جو کرنا تھا کر دیا ’’غلام حیدر نے بے قراری سے کہا‘‘ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا جواب دینا مشکل ہے۔بیس ایکڑ مونگی کی تو خیر ہے لیکن چراغ دین کے قتل کا کیا کریں۔ وہ بچارا تو بڑا وفادار ملازم تھا۔ جلدی کوئی حل بتا۔میرا دماغ تپنے لگا ہے۔

 

کچھ کرتے ہیں سردار غلام حیدر ’’رفیق پاولی دوربارہ سر کھجاتے ہوئے بولا۔پھر شریف کو آواز دی جو مہمانوں کو لسی پانی پلانے میں مصروف تھا۔ اس نے لسی کے جگ، گلاس وہیں رکھے اور بھاگ کر رفیق پاولی اور غلام حیدر کے پاس آ گیا۔ رفیق نے اسے کہا کہ ایک چارپائی اٹھاکر یہاں لے آ اور دیکھ، نیاز حسین کو بھی یہیں پر بُلا لے۔ اُس سے کچھ بات کرنی ہے۔

 

شریف نے تھوڑی دیر میں چار پائی دہکتے ہوئے سُرخ کوئلوں کے پاس مشرقی دیوار کے ساتھ رکھ دی۔ غلام حیدر اور رفیق تسلّی سے اس پر بیٹھ کر معاملات پر غور کرنے لگے، اتنے میں نیاز حسین بھی آ گیا۔ غلام حیدر نے نیاز حسین سے کہا بیٹھ جا اور جو کچھ ہوا ہے اُس واقعے کی صاف صاف تفصیل بتا لیکن ایک بات نہ بُھولنا، تمہارے جھوٹ بولنے سے معاملہ خراب بھی ہو سکتا ہے۔ جو نقصان ہوا اور جس طرح چراغ دین کا قتل ہوا ہے، یہ بات بہت آگے تک بڑھے گی۔اس لیے ابتدا ہی میں اگر غلطی ہو گئی تو کیس خراب ہو جائے گا۔ لہٰذا جو کچھ ہوا اور جیسے ہوا ہے وہ چھپانا نہیں۔نہ ہی واقعے کو بڑھا چڑھا کر بتانے کی ضرورت ہے۔ہم نے تمہارے چشم دید قصے پر ہی کیس کی بنیاد رکھنی ہے۔

 

نیاز حسین نے حقے کے دو تین کش لیے جس کا پانی کچھ ہی دیر پہلے تبدیل کیا تھا اور چلم میں نیا تمباکو ڈال کر اُس میں تازہ کوئلے رکھے گئے تھے۔ اُسے تمباکو کی کڑواہٹ ایک سرور سا دے گئی۔ مزید دھواں پھیپھڑوں میں لے جانے کے لیے اس نے دو تین کش مزید لے کر حقے کی نَے ایک طرف کر دی۔

 

بات بھائی جی یہ ہے، نیاز حسین نے واقعہ سنانا شروع کر دیا ’’گیدڑوں اور سوئروں سے مونگی کی راکھی کے لیے مَیں اور چراغ دین روز کی طرح رات وہیں پر رُک گئے۔ سوئروں سے بچنے کے لیے کہ سوتے میں ہمیں پھاڑ ہی نہ کھائیں،چار بانس زمین میں گاڈ کر ہم نے اُس پر لکڑیاں باندھیں اور اُس کے اُوپر پرالی پھینک کر چھ فٹ اونچا چھپر سا بنا لیا۔ اِس پر چڑھ کر رکھوالی کے لیے لیٹ جاتے۔اِس میں ایک اور فائدہ بھی تھاکہ اونچا ہونے کی وجہ سے دور تک نظر جاتی تھی۔ میں پورے کھیت کا چکر لگا کر آگیاتھا۔پھرریگلے سے دو تین پٹاخے بھی مار دیے کہ گیدڑ ویدڑ بھاگ جائیں۔ رات کے دو پہر نکلے تھے۔ دُھند نے چاندنی ختم کر دی تھی۔ پٹاخے مارکر ابھی میں نے ریگلا چھپرکے بانس کے ساتھ لگایا ہی تھا کہ دُور سے ہمیں کچھ کُھسر پھسر سُنائی دی۔ یہ جانور نہیں تھے بلکہ انسانوں کی آوازیں تھیں۔ پہلے تو مجھے شک پڑا، کوئی راہ گیر ہیں مگر پھر جب تھوڑی ہی دیر بعداندھا دُھن مونگی کے کھیت میں دبڑ دبڑ ہونے لگی تو میں نے کہا،چراغ دین دشمن آ گئے۔ اسی لمحے بے شمار قدموں کی آواز آنا بھی شروع ہو گئی۔ایسے لگا مونگی میں درانتیاں چل رہی ہیں۔ ہم نے جلدی جلدی اپنی ڈانگوں پر چَھو یاں چڑھا لیں اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔ منظر کچھ واضح نہیں تھا۔پھر بھی سب کچھ نظر آ رہا تھا۔ بے شمار آدمی تھے۔ کچھ انّھے مُنہ مُونگی کاٹ رہے تھے،کچھ مونگی کے گٹھڑ اُٹھا کر گڈوں پر لاد رہے تھے۔ ہم حیران کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ چراغ دین نے کہا، نیازے اِن کو للکار مار۔ سچی بات تو یہ ہے مجھے اتنے بندوں کو دیکھ کر حوصلہ نہ ہوا۔ مَیں نے کہا، بھائی چراغ دین ہم دو ٹیٹرو کیا کر لیں گے مگر وہ نہ مانا، کہنے لگا، نیازے یہ نہیں ہو سکتا۔ کل ہی ہمارا مالک فوت ہوا ہے اور آج اس کی فصل اُجڑ جائے ہماری آنکھوں کے سامنے، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ساری عمر شیر حیدر کا نمک کھایا ہے۔ میں تو انھیں جیتے جی مونگی نہ لے جانے دوں گا۔ کل کو لوگ کیا کہیں گے، دیکھو شیر حیدر کا عمر بھر کھاتے رہے، آج موقع آیا تو نمک حرامی کر دی۔ مُنہ د کھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ کیا لوگوں کو بتائیں گے کہ ہم چوڑیاں پہن کے بیٹھے تھے؟

 

میں نے کہا، بھائی چراغ دین یہاں سوائے موت کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ یہ تو کوئی پچاس بندے ہیں۔ لیکن صاحب جی چراغ دین نہ مانااُس نے سرہانے سے اپنا صافا اُٹھا کر اُسے کس کے سر پر باندھا، چھَوی چڑھی ہوئی ڈانگ پکڑی اور للکارتے ہوئے دشمنوں کی طرف چھلانگ ماردی۔سردار غلام حیدر !میں سمجھ گیا تھا، چراغ دین کے دن پورے ہو چکے ہیں۔ اُس نے میری ایک نہیں سُنی۔جیسے ہی یہ بھاگ کر اُن کی طرف گیا، انہوں نے فوراً اُس پر بر چھیوں کا مینہ برسا دیا اور چراغ دین شوہدے پر لوہے کے پہاڑ گرنے لگے۔ بس ایک دو پَل میں ہی رَت کے پرنالے بہہ گئے۔ میرے تو ساہ سوکھ گئے اور میں بھاگ کے اُسی چھپر کے نیچے پڑی چارپائی، جو اس لیے رکھی تھی کہ بارش وارش ہو تو چھپر سے اُتر کر چارپائی پر لیٹ جائیں، مَیں اُسی کے نیچے چھپ گیا۔کچھ اندھیرا اور کچھ دُھند، اس لیے میرا اُن کو کچھ پتا نہ چلا۔ بس میں خوف کے مارے چار پائی کے نیچے لیٹا ساہ دبائے اُن کے واہگرو اور ست سری اکال کے نعرے سنتا رہا۔اسی طرح تین گھنٹے گزر گئے۔وہ میری آنکھوں کے سامنے مونگی کا اُجاڑا کرتے رہے اور گڈوں پر لادتے رہے۔ حتیٰ کہ صفایا کر کے چلتے بنے۔ میں گِن کے صحیح صحیح تو نہیں بتا سکتا مگر بیس چھکڑے ضرور تھے۔ اِدھر گڈے مونگی لے کر چلے، اُدھر میں چارپائی کے نیچے سے نکلا، بھاگ کر چراغ کے پاس آیا۔ بچارا اُلٹے مُنہ پڑا تھا۔ میں نے سیدھا کیا، دیکھا تو اُس کے ساہ پورے ہو چُکے تھے اور زمین پر خون کے نِگال جم گئے تھے۔ میں نے لاش کو ہاتھ نہیں لگایا اور فوراً چادر لپیٹ کر جو دھاپور سے نکل پڑا۔ چوہدری صاحب، بھاگم بھاگ یہاں آ گیا۔ خدا گواہ ہے بارہ میل کی راہ میں سانس تک نہیں لی۔ جودھا پور کے یار محمد کو بتا آیا ہوں۔ وہ بندے لے کر لاش کے پاس پہنچ گیاتھا۔ ایک بندہ تھانے اطلاع کے لیے بھیج دیا ہے۔ شاید پولیس بھی اب تک آگئی ہو۔

 

نیاز حسین جیسے جیسے کہانی سناتا گیا، غلام حیدر کے چہرے کارنگ کئی پرتوں میں بدلتا رہا اور شدید غصے سے کپکپاہٹ اس پر طاری ہوتی رہی۔ پھر ایک دم یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا، چاچا فیقے عصر تک یہ قل فاتحہ کو نپٹاؤ۔ اس سے زیادہ دیر نہ کرنا اُس کے بعد سودھا سنگھ کو ایک پیغام بھیج دو اور چراغ دین کے بچوں کے لیے پانچ سو روپیہ لیتے جاؤ۔ اُن کے سر پر ہاتھ رکھو۔ اِس طرح وارثوں کی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ عصر کے فوراً بعد جودھا پور روانہ ہو جاؤ اور سب خبریں خود لے کر آؤ۔ میں تحصیل جا کر کمشنر صاحب سے بات کرتا ہوں۔

 

سودھا سنگھ کو کیا پیغام دوں؟رفیق پاولی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا‘‘

 

یہی کہ سکھڑے اب واہگرو سے جو مدد مانگنا ہے مانگ لے کیونکہ موت اسے زیادہ مہلت نہیں دے گی۔غلام حیدر نے غصے سے شدید نفرت پیدا کرتے ہوئے کہا،جیسے کہہ رہا ہو کہ میں تیرے واہگرو کو بھی دیکھ لوں گا۔

 

رفیق پاولی ایسی صورت حال میں جلد بازی کا قائل نہیں تھا۔لیکن نیاز حسین نے میدان جنگ کا ایسا نقشہ کھینچا کہ غلام حیدر کے تیور جو تھوڑی دیر پہلے اعتدال پر تھے، بڑی حد تک بگڑ گئے۔ اس سے پہلے کہ رفیق غلام حیدر کو کچھ مشورہ دے وہ اٹھ کر جلدی سے حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا۔

 

تھوڑی ہی دیر میں اس واقعے کی خبر مہمانوں سے لے کر گاؤں کے ہر چھوٹے بڑے کو ہو گئی۔ ماحول میں دوبارہ ایک ماتمی کیفیت کا احساس در آیا اورلوگ شیر حیدر کی داستانوں کو چھوڑ کر تازہ صورت حال پر تبصرے کرنے لگے۔جس میں غلام حیدر کے رد عمل کا کوئی صحیح تعین نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ یہ طے تھا کہ حالات کسی برُی صورت کا رخ کرنے والے ہیں۔ ڈیوڑھی اور احاطے میں لوگوں کی تعداد،جو پہلے ہی کم نہ تھی، بڑھ کر دگنی ہو گئی۔ باتیں اس تسلسل میں گونجنے لگیں جیسے شہد کی مکھیوں کے غول اُڑ کر نکلے جا رہے ہوں اور ہر کام میں بے چینی در آئی۔ وہ تو خیر ہوئی چراغ دین کی لاش جودھا پور ہی میں تھی ورنہ وہ بھی سارے کا سارا گاؤں یہیں آ پڑتا۔ حویلی کے ہر کام میں ایک پُراسرار وحشت پیدا ہو گئی۔ نوکروں سے لے کر متعلقین تک کے قدموں میں بوجھل پن کی کیفیت تھی، جو اُن کے دلوں پر وزن بڑھا رہی تھی۔ خاص رفیق پاولی کی ذہنی حالت بہت تذبذب میں تھی۔ شیر حیدر کے ہوتے ہوئے اُسے اطمینان ہوتا کہ مشورے میں کجی بھی ہوئی تو فکر کی بات نہیں۔ کام غلط ہو جانے پر شیر حیدر سنبھال سکتا ہے مگر غلام حیدر کا معاملہ دوسرا تھا۔ وہ ابھی ان معاملات میں بالکل کورا تھا۔ اِس لیے رفیق پاولی کو اب اپنے کسی فیصلے پر اعتماد نہ تھا۔ شاید کچھ دن بعد وہ اعتماد لوٹ آتا مگر یہاں تو سر منڈلاتے ہی اولے پڑنے والی بات تھی۔ اِدھر وقت گزرنے کانام ہی نہیں لے رہا تھا۔ رفیق پاولی کی نظر دیوار کے سائے پر تھی،جو صدیوں سے رُکا کھڑا تھا۔ وہ سر جھکائے اسی سوچ میں غرق تھاکہ آخر اچانک سودھا سنگھ کو کیا سوجھی ؟کچھ دم بھی نہ لینے دیا۔ اُسے اس قدر فکر مندی میں دیکھ کر نیاز حسین نے کہا،فیقے بھائی آخر کیا ہوا ؟حوصلہ کر،ہمارے سر پر ابھی غُلام حیدر ہے نا۔کیا ہوا جو شیر حیدر زندہ نہیں۔غلام حیدر بھی تو اُسی کا بیٹا ہے۔ دیکھ لینا، سکھڑوں کو کیسا سبق دیتا ہے؟

 

نیاز حسین کی با ت سُن کر رفیق پاولی نے سر اُوپر اٹھایا اور بولا نیاجے، تو نہیں جانتا، اب بات یہاں رُکنے والی نہیں ہے۔ یہ تو سودھا سنگھ نے ابھی للکار دی ہے۔مَیں جانتا ہوں، اُس کے سینے میں کتنا کینہ بھرا ہوا ہے۔ اُسے د یکھ کر پتا نہیں کون کون سے سنپولیے سِریاں نکال لیں گے۔ مجھے تو غلام حیدر کی زندگی کی فکر پڑ گئی ہے۔ اتنا کہہ کر رفیق پاؤلی اٹھ کھڑا ہوا اور جانی چھینبے کوپاس بُلا کر سارا پروگرام سمجھا دیا کہ پگ بندی کے بعد انھیں جودھا پور جانا ہے اس لیے وہ تیاری کر لیں۔

 

نیاز حسین نے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، فیقے ہمت کر ہم تیرے پیچھے ہیں۔ جو گزرے گی، مولا کے سہارے بھگتیں گے۔

 

اِسی عالم میں دو بج گئے۔صحن میں دور تک دریاں اور چاندیاں بچھ گئیں۔ ختم نیاز کے لیے پھل اور چاولوں کی پراتیں الگ تھیں۔جنھیں کاڑھے ہوئے ریشمی غلافوں سے ڈھانک دیا گیا۔ مولوی صاحب بھی آ چکے تھے۔ غلام حیدر سامنے بیٹھ گیا تو مولوی نے سورہ الحمد سے تلاوت شروع کی۔ تمام خلقت جو کم سے کم چھ سو کے لگ بھگ تھی، چاندنیوں پر بیٹھ گئی۔ آیات کی تلاوت نے پوری خلقت اور خاص کر غلام حیدر کے دل میں سوز کی کیفیت پیدا کر دی۔ قرأت کچھ اِس ملائمت سے جاری تھی کہ فی الوقت تکدّر دُور ہو گیا۔ غلام حیدر سمیت تمام لوگ تازہ حادثے کو بھول گئے اور طبیعتوں میں ٹھہراؤ سا آ گیا۔ اسی عالم میں شام کے تین بج گئے۔ غلام حیدر کے سر پر پگڑی باندھ دی گئی۔ رعایا اور رشتے داروں نے آگے بڑھ کر وفاداری کے حلف دیے۔ رفیق پاولی اس سارے عمل کے دوران سرخوشی کے عالم میں کھڑا تھا۔ دوسری طرف لوگ نیاز کھانے میں مصروف تھے،جو کئی دیگوں پر مشتمل تھی۔چار بجے غلام حیدر اٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے دلاور کے ساتھ صبح ہی شاہ دین کو تھانہ گروہرسارپورٹ درج کروانے بھیج دیا تھا۔ لیکن یہ محض سرسری قانونی خانہ پری تھی جوغیر اہم ہونے کے ساتھ ا ہم بھی تھی۔

 

چار بجے ٹھیک رفیق پاولی شیدے، جانی چھینبے، سلام علی اور گامے کے ساتھ جودھا پور روانہ ہو گیا تاکہ معاملے کی پوری جانچ لے کر آئے اور چراغ دین کی بیوی کو غلام حیدر کی طرف سے پُرسہ بھی دے۔ اِدھر رفیق جودھا پور کی طرف روانہ ہوا،اُدھر غلام حیدر زنانے میں چلا گیاکیونکہ پانچ بج چکے تھے اور یہ تحصیل کا دفتری وقت نہیں تھا۔ اس کے علاوہ سارے دن کی کِلکِل اور شور شرابے سے دماغ بھی بوجھل ہو چکا تھا اور اب نیند کے جھولے آنے شروع ہو گئے تھے۔اس لیے تحصیل جانے کا پروگرام کل پر ملتوی کر دیا گیا۔

 

یہ خبر غلام حیدر کو آج ہوئی کہ چودھراہٹیں کرنی کتنی مشکل ہیں۔غلام حیدر گھر میں داخل ہوا تو رونے والیوں کا شور ایک دم بڑھ گیا۔ پہلے جو عورتیں غلام حیدر کی والدہ فاطمہ بانو کے گرد جمگھٹا کیے بیٹھی تھیں، اُٹھ کر غلام حیدر کے چوفیرے ہوگئیں۔کوئی اُسے روکردِکھانے لگی،کوئی سر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ کچھ ادھیڑ عمر اور بوڑھی عورتیں گلے لگ کر روئیں۔ عورتوں سے فارغ ہو کر وہ بڑی مشکل سے اپنی ماں کے پاس پہنچا،جو سفید چاندنی کے فرش پر سر تا پا سفید لباس میں سوگوار بیٹھی تھی۔ غلام حیدر ماں کے پاس بیٹھا تو وہ بھی بیٹے کے گلے لگ کے رونے لگی۔ لیکن یہ رونا دھونا چند ہی منٹ جاری رہا کیونکہ شیر حیدر کو فوت ہوئے آج تین روز ہو چکے تھے جس میں بہت کچھ غم ہلکا ہو گیا تھا۔ دوم بے شمار عورتوں کی مسلسل تعزیت اور پرُسہ داری نے فاطمہ بانو کو بھی تھکا دیا تھا۔چنانچہ غلام حیدر چند منٹ بیٹھنے کے بعد سونے کے کمرے میں آ گیا۔

 

اگلے دن صبح چھ بجے غلام حیدر کی آنکھ کھلی۔ وہ نہا دھو کر باہر نکلا تو طبیعت بحال ہو چکی تھی۔ حویلی میں مہمان کچھ آگ کے گرد بیٹھے حقہ پی رہے تھے،کچھ چائے کی پیالیوں سے چسکیاں لے رہے تھے۔ غلام حیدر کو دیکھ کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور آگے بڑھ کر سلام کرنے لگے۔ فیقا ابھی تک نظرنہیں آیا تھا۔غالباً وہ جودھا پور سے ابھی نہیں لوٹا تھا۔ غلا م حیدر نے ملازم سے کہا،چار پائی آگ کے پاس لے آئے جہاں لوگ حقہ پینے میں مصروف تھے۔ تھوڑی دیر میں غلام حیدر سب کے ساتھ گھل مل گیا اور سانحات کو بھول کر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا۔ جبکہ دوسرے آدمی اُسے اُس کے باپ کے واقعات سنانے لگے حتیٰ کہ آٹھ بج گئے اور فیقا اپنے ساتھیوں سمیت حویلی میں داخل ہو ا۔ اس کے بعد وہ، رفیق پاولی اور چھ سات خاص بندوں کو لے کر دوسرے کونے میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگا۔ تمام لوگ رفیق پاولی کے گرد جمع ہو گئے۔ ہر آدمی واقعے کو پہلے سے ہی جانتا تھا مگر رفیق پاولی کی حیثیت زیادہ معتبر تھی۔ اس لیے لوگ مزید نئی خبر کی توقع رکھتے تھے، جو رفیق اُن کے خیال میں ہر حالت میں لے کر آیا ہو گا۔ جب ہجوم بہت زیادہ اُن کے گرد اکٹھا ہو گیا تو رفیق پاولی نے سب کو جھڑک کر پیچھے کر دیا۔

 

کوئلوں پر ہاتھ تاپتے ہوئے رفیق نے حقے کا کش لیا اور بولا، سردارغلام حیدر ایک بات تو طے ہے کہ حملہ سودھا سنگھ کے آدمیوں ہی نے کیا ہے اور چھپ چھپا کر نہیں، کھلے عام کیا ہے۔ اتنے زیادہ چھکڑے اور آدمی، سب کے کُھرے جھنڈو والا کی طرف جاتے ہیں۔ میں نے کھیم نگر سے کھوجی بھی ساتھ لے لیے تھے۔ ہر ایک نے غور سے اور جانچ کر کے یہی نتیجہ نکالا کہ اِس کا ذِمہ دار سودھا سنگھ ہے۔چار بندوں کے پیروں کے نشان تو کھوجیوں نے پہچان بھی لیے،جو کئی جگہ چوری چکاری میں پکڑے گئے تھے۔ وہ خاص سودھا سنگھ کے ہی بندے ہیں۔ دمّا سنگھ، ہاسو وٹو، رنگا اور متھا سنگھ۔متھا سنگھ مَنّا پروَنّا بدمعاش ہے، جس کے کُھرے کھوجی نہیں بھول سکتے۔ یہ خاص سودھا سنگھ کا بندہ، علاقے کا سب سے بڑا غنڈہ ہے۔ پولیس اس پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی ہے۔ سودھا سنگھ ہر مشکل کام اسی سے لیتا ہے۔ سُنا ہے کئی بندوں کا قاتل ہے۔ ڈانگ سوٹے اور کرپان چلانے کا اتنا ماہر کہ اکیلے ہی دس دس بندوں کو پھٹڑ کر کے صاف نکل جاتا ہے۔ باقی کے تین بھی بہت خطرناک ہیں۔ سودھا سنگھ کسی کو سٹ پھینٹ بھی انہی سے لگواتا ہے اور تھانے کچہری میں اُن کے پیچھے امداد بھی اِسی کی ہوتی ہے۔ باقی تین میں رنگا سب سے خطرناک ہے۔ سٹ مارنے میں ڈھیل نہیں کرتا۔ کھوجی اس کے قدموں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ اگر مزید پوچھ گچھ کرنی ہو تو مَیں اُنھیں ساتھ ہی لے آیا ہوں۔ ڈیوڑھی میں بیٹھے ناشتہ کر رہے ہیں۔چاچا رفیق تم بھی ناشتہ کر لو ’’ غلام حیدرنے اٹھتے ہوئے کہا‘‘ تھوڑی دیر آرام کرو پھر ہم نے تحصیل جاکراسسٹنٹ کمشنر سے ملاقات کرنی ہے۔سنا ہے، کچھ ہی دن پہلے ایک اسسٹنٹ کمشنر نیا نیا آیا ہے۔ میرا خیال ہے، ابھی اُس کے کسی سے تعلقات نہیں ہوں گے۔ ہمیں ٹھیک دس بجے تحصیل پہنچ جانا چاہیے۔ یہ کہہ کر غلام حیدر اٹھ کر حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا۔

 

دس بجے تین بگھیوں کے ساتھ مزید پانچ گھوڑوں پر سوار یہ قافلہ جلال آبادتحصیل کمپلیکس کی طرف چل دیا۔ غلام حیدر کے پاس بندوق تھی۔ باقی سب کے پاس ڈانگوں کا اسلحہ وافر تھا۔ برچھیاں اور کُلہاڑیاں البتہ ساتھ نہ رکھ سکتے تھے کہ اُن ہتھیاروں کی ابھی تک کھلی اجازت نہیں تھی اور تحصیل کچہری میں تو بالکل بھی نہیں تھی۔ قافلہ جیسے ہی تحصیل کی طرف روانہ ہوا، ہر طرف جوش و خروش کی لہر پھیل گئی۔ گاؤں والے گویا اپنی یتیمی کے احساس کو نئے طاقت ور مالک کی آمد کے احساس میں دبا چکے تھے۔ وہ اس شان و شوکت کی سواری کوحویلی سے نکلتے دیکھ کر اپنے اندر ایک نئی طاقت محسوس کرنے لگے اور شیر حیدر کے دکھ کوفی الحال بھول سے گئے۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پہلی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32 ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دور تک پھیلا سمندرمنظر سے خالی ویسا ہی بے لطف تھا، جیسا کئی دنوں کی مسافت میں اُس کا وہ بڑا حصہ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اُس کی وجہ سے وہ بیزار کر دینے والی تھکاوٹ میں مبتلا رہا۔ اب ساحل قریب آرہا تھا تو اُس پر جذباتی کیفیت طاری ہوگئی۔ آنکھوں کے پردوں پروسطی پنجاب کی یادیں تصویر یں بناتی چلی گئیں۔ مال روڈ پر موجود پُر آسائش بنگلہ، مامائیں، خادم اور دیگر ملازموں کی فوج ایک ایک کر کے یاد آنے لگی۔ آٹھ سال کا عرصہ کم نہیں تھا،جب وہ اپنے باپ،ماں اور گھر سے دور انگلستان کی اکتا دینے والی تعلیم اور ٹھٹھرا دینے والی سردی کے گھوروں میں بیٹھا انتظار کاٹتا رہا اور لڑکپن کی ہواؤں کو تصور میں لاتا رہا۔ مامائیں بابا لوگوں کو اپنے حصار میں لیے لارنس باغ میں آتیں۔ ایک ایک نخرے پر ہزار طرح سے جاں نثار ہوتیں۔ اُدھر جب بابا جان اورانگریزی سرکار کے افسر جیپوں پر دورے کو نکلتے تو دیسی لوگوں پر کیسی حسرت طاری ہوتی۔ وہ اُن کی تمکنت کو سڑک کنارے کھڑے پچکے ہوئے چہروں پر ٹکی اور بھنچی ہوئی بے نور آنکھوں سے تکتے رہ جاتے۔ یہاں تک کہ جیپ زنّاٹے سے اُن کے سروں پر خاک پھینکتی نکل جاتی۔ اُسے یاد آیا، جب وہ اپنے والد کے ساتھ اُن کے دفتر جاتا تو کس طرح آفس میں کام کرنے والا عملہ خوشامد کو آگے بڑھتا۔ چاکلیٹ اور عمدہ مٹھائیوں کے ڈھیر لگ جاتے۔ آدھا دفتر سب کام چھوڑ کر اسی فکر میں ہولیتا کہ بابا لوگ کی خوشی حاصل کرے۔ کیا عیاشیاں تھیں، ایسے ایسے پھل جن کی یورپ میں مہک تک نہیں پہنچی، بنگلے کے ڈرائنگ روم میں پڑے سوکھا کرتے۔ نہ کوئی فکر نہ فاقہ۔ ہر کام سے آزاد ایچی سن کالج کے برگدوں کی لمبی ٹہنیوں پر جھولا جھولتے سارا وقت کٹ جاتا۔ زندگی میں اُن دنوں سوائے مزے کے کچھ نہ تھا۔ پھر ایک دن جب بابا جان نے بتایا کہ اُسے اپنی تعلیم کے سلسلے میں انگلستان جانا ہے تو اُسے کتنا برا لگا۔ بہت رویا پیٹا لیکن بابا نے ضد کو پورا کیا۔ آج اُسے اُن کا فیصلہ ٹھیک نظر آرہا تھا۔ آٹھ سال کا عرصہ پلک جھپکتے گزر گیا تھا۔ اگرچہ سردی اور روکھی پھیکی زندگی نے اسے کئی دفعہ بیزارکیا اور وہ فوراً ہندوستان بھاگنے کو تیار بھی ہوا لیکن کیتھی نے اُسے اِس حرکت سے باز رکھنے میں بڑا کردار ادا کیااور آج جب وہ اسسٹنٹ کمشنربننے کے لیے امتحان پاس کر کے ہندوستان میں داخل ہو رہا تھا تو کیسا سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ اُس نے سوچا دیسی لوگوں پر حکومت کرنے میں کتنا مزہ ہے۔ اِدھر انگلینڈ میں میں تو کوئی تمیز ہی نہیں۔ سب کام اپنے ہاتھ سے کرنا پڑتے ہیں۔ کھٹ بھیّے اور بھنگی تک بات نہیں سنتے مگر جیسے ہی ہندوستان کی ہوا لگتی ہے، بندہ ایک دم نواب ہوجاتا ہے۔ زندگی کا لطف تو بس ہندوستان ہی میں ہے۔ اُس نے سوچا، اب میں کبھی انگلستان کا منہ نہیں دیکھوں گا۔ دوسال بعد کیتھی کوبھی بلا لوں گا پھر ساری عمر مزے سے کمشنری کریں گے۔

 

دادا ہالرائیڈ کے بعد اُس کا باپ ڈپٹی کمشنر بنا اور اب اُسے بطورِ اسسٹنٹ کمشنر، لاہورسے اپنی پوسٹنگ کے آرڈر لینا تھے،جس کے لیے ابھی ایک سال مزید بطور ٹرینی ادھر اُدھر کی نوکری کرنی تھی لیکن یہ ایسی کڑی شرط نہیں تھی،جسے پورا نہ کیا جا سکتا۔ یہ ولیم کے لیے سرشار کر دینے وا لا خوش کن منظر تھا۔ آٹھ سال بعد اُسی جگہ وہ حکومت کرنے جارہا تھا،جہاں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ پھر اُسے نہری کوٹھیوں میں گزرے ہوئے دن یاد آنے لگے۔ اُس وقت وہ ابھی چھ سال کا تھا۔ اکثر اپنے دوست ایشلے کے ساتھ کھیلتے کھیلتے لڑپڑتا۔ پھر آپ ہی آپ صلح ہو جاتی۔ وہ اکٹھے سکول بھی جانے لگے تھے اور ایک دوسرے کے بغیر اداس بھی ہو جاتے لیکن اب اُس نے کتنے برس ایشلے کے بغیر نکال لیے تھے۔ کیا موسم تھے، جب نہروں کے کنارے چھتنار درختوں کے سایوں میں مامائیں اُس کو لیے پھرتیں۔ برگد کے پیڑوں سے بندھے جھولوں پرپینگیں جھولاتیں۔ نہروں کا پانی، برگدوں سے لٹکے جھولے اور آموں کے باغوں سے پھوٹتی خوشبو اُسے کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔ جب دادا مقامی لوگوں کے ہاتھوں بلوے میں قتل ہواتو اُسے گوگیرہ چھوڑنا پڑا۔ گورنمنٹ نے اپنا ضلعی دفترگوگیرہ سے اُٹھا کر منٹگمری منتقل کر دیا۔ پھرجب تین سال بعد جانسن کو منٹگمری کا ڈپٹی کمشنر بنادیا گیاتو وہ اُسے اپنے ساتھ منٹگمری لے گیا اور وہاں چارسال تک رہا۔ اس عرصے میں جانسن کے ساتھ کئی بار گوگیرہ میں سیر کے واسطے آیا۔ یہاں آ کر اُسے سکون مل جاتا۔ گوگیرہ جو اُس کے پردادا ہی کے نام پر تھا، اپنی دل فریبی میں اُسے کبھی نہ بھولا۔ وہ جانسن کے ساتھ گوگیرہ آتا تو اکیلا ہی ڈاک بنگلے سے نکل کر مضافات کی سیر کو نکل جاتا۔ اُس وقت کتنا مزا آتا،جب دیسی ملازم اور گارڈ فکرمندی میں حفاظت کے لیے اُس کے ارد گرد بھاگتے پھرتے۔ اُس وقت شرارتاً وہ اپنے گھوڑے کو ہلکے ہلکے بھگا دیتا اور لمبی سنگینوں والی بھاری بندوقیں پکڑکر پیچھے بھاگتے ہوئے گارڈز کودیکھ کر لطف اُٹھاتا۔ اُن میں سے کئی ہانپتے ہانپتے گِرپڑتے تو وہ نظّارہ لوٹ پوٹ کر دینے والا ہوتا۔ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں بھی اُنھیں دیکھتیں اورہنس ہنس کر دوہری ہوجاتیں۔ آموں کا موسم تو اُسے کبھی فراموش نہیں ہوسکتا تھا،جس کے لیے اُس کے دادانے خاص انتظام کیا تھا۔ وہ اُس کا تصور کرتے ہوئے دل ہی دل میں کہنے لگا،کیا جنت کا منظر تھا۔ تین نہروں کے درمیان دو سو ایکڑ پر موجود آموں کے گھنے سیاہ باغ۔ اگست ستمبر کے دنوں میں اُس باغ میں کوئلوں اور پپیہوں کی جان نکال دینے والی بولیاں اور راگنیاں جو تیز بارشوں میں کچھ اور تیز ہو جاتی تھیں،اُس کے لیے ایک ہری بھری جادو نگری تھی۔ اس جادو کی نگری کے بیچوں بیچ دو ایکڑ رقبے پر ان کا وہ سُر خ انیٹوں سے کھڑا کیا ہوا شاندار بنگلہ۔

 

دادا کہا کرتے تھے، بھلے وقتوں میں اُس پر نو لاکھ خرچ آیا تھا۔ جیسی بنگلے کی شان تھی، خیال ہے، یہ بھی کم بتاتے تھے۔ اُنہوں نے اُس کا نام نو لکھی کوٹھی رکھ دیا تھا۔ دادا جان نے بڑی نہر سے ایک چھوٹی نہر کاٹ کر، جوسانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی جاتی تھی، بنگلے کے صحن سے گزارتے ہوئے ایک کلومیٹر پرلے جاکر پھر اُسی نہر میں ڈال دیا تھا۔ لوئس نے دادا کے مرنے کے بعد اُس بنگلے کے پندرہ لاکھ لگا دیے لیکن بابا نے بیچنے سے انکار کر دیا۔ سچ پوچھیں تو اُس کی بہت خوشی ہوئی۔ بنگلے میں ہوا کا ایسا نظام تھا کہ چاروں طرف کے برآمدوں میں گھومتی ہوئی کمروں میں داخل ہوتی، جن کی چھتیں پچیس فٹ تک بلند تھیں۔ اس لیے گرمی کا ذرا احساس نہ رہتا۔

 

انہی سوچوں میں وہ آموں کے ذائقے بھی محسوس کرنے لگا۔ آم کھانے میں جو رغبت تھی، اُسے بیان کرنے سے قاصر تھا۔ بس چاندی کے بڑے تھال آموں سے بھر کر برف ڈال دی جاتی۔ چند لمحوں بعد ٹھنڈے ہولیتے تو کیا میٹھے ذائقے زبان اور حلق سے ہوتے ہوئے سینے تک اُتر جاتے۔ لورین اور ماما تو اس موسم پر جان چھڑکتیں۔ آم کھا کر لسّی پی لیتیں پھر گھنٹوں سوتیں۔ ایسے میں کوئی اُنہیں انگلستان یاد دلاتا تو عجیب طرح سے منہ بسورتیں۔ خاص کر بابا اس وقت ضرور چھیڑتے کہ اگلے برس انگلستان چلے جائیں گے، تمہاری عادتیں خراب ہو رہی ہیں اور وہ آگے سے سو طرح کوستیں۔ انگلستان کو سرد جہنم اور نہ جانے کیا بُرے بُرے خطاب دیتیں،پھر شوخی میں آکر باباجان کو چمکاتیں کہ میں نہیں جاؤں گی۔ یہیں کسی نواب سے شادی کر لوں گی۔ اس پر بابا چمک کر ایک دم شٹ اَپ کہتے اور بڑھ کر ماما کا بوسہ لیتے۔ یہ منظر لورین اورمیرے لیے محظوظ کیفیت پیدا کر دیتا۔ ویسے یہ سب تو چھیڑ خانی تھی، ورنہ بابا ہندوستان کو کسی قیمت چھوڑنے پر راضی نہ تھے۔ خاص کر وسطی پنجاب کے سر سبز میدانوں کو،جہاں اُن کے نوابوں کے سے ٹھاٹ تھے۔ ہزاروں مرغ، بٹیر اور گھوڑے پال رکھے تھے۔ بٹیر لڑانے کا شوق تو دادا کو بھی بہت تھا۔ حقے کا لپکا بھی اُنہی سے لگا۔ لوگ بابا کے اس شوق کو دیکھتے ہوئے ایک سے بڑھ کر ایک چاندی کا حقہ تحفہ میں لے کر آتے۔ کئی لوگوں نے اُسی تحفے کے عوض بابا سے کئی کئی زمینیں الاٹ کروالیں۔ خود اُنہیں بھی زمین خرید کر باغات لگوانے کا بے پناہ شوق ہے۔ راوی کے کنارے ہزاروں ایکڑ اُن کی ملکیت ہوں گے۔ اُس نے سوچا، سب سے پہلے نو لکھی کوٹھی پر جاؤں گا۔ پھر کیتھی کے لیے بھی،جب وہ ہندوستان آ جائے گی، تو اُسی کوٹھی میں رہائش کا انتظام کروں گا۔ دوسرے ہی لمحے اُسے پھر ماما کا خیال آ گیا۔ وہ دل ہی دل میں ایشلے،لورین، ماما اور باپ سے آٹھ سال بعد ہونے والی ملاقات کا تصور کر کے مزا لینے لگا۔ لورین کی شادی کی اطلاع اُسے انگلستان میں مل گئی تھی، جو بمبے میں ایک مشہور وکیل جیک سے تین سال پہلے ہوئی تھی۔ دونوں کلکتہ میں دو سال ایک ہی کالج میں پڑھے اور ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے لیکن اُس کے ذہن میں لورین کی وہی صورت بیٹھی تھی۔ باغ میں ناچتے موروں کے پر چُننے والی اور کبوتر اڑا کر اُن کے درمیان دور تک بھاگنے والی پتلی اور نرم و نازک۔ پھر کچھ دیرولیم لورین کو تصور میں بھاگتے ہوئے دیکھنے لگا، سفید کپڑوں میں جیسے پری پھر رہی ہو۔

 

اِنہی خیالوں میں گم تھا کہ اُسے کپتان کی اناؤنسمنٹ سنائی دی،جو فاصلے، وقت اور جغرافیے کی معلومات دے رہا تھا۔ اعلان تو اُس نے غور سے نہیں سنا البتہ ماضی کی رَو سے چَونک اُٹھا۔ سورج غروب ہو رہا تھااور شام بالکل قریب تھی۔ اُسے احساس ہوا، وہ مسلسل تین گھنٹے عرشے پر کھڑا ماضی میں جھانکتا رہا،جس میں وقت گزرنے کا پتا نہ چلا تھا۔ پورے سمندر پرہولناک تاریکی چھا رہی تھی۔ پھر ایک دم بادل بھی چلے آئے اور بارش کا سامان بننے لگا۔ ہوا بھی تیز ہو چلی تھی۔ جہاز بمبے کی بندرگاہ کی طرف مسلسل بڑھ رہا تھا۔ وہ شاید کچھ دیر مزید عرشے پر کھڑا رہتا مگر سردی کی لہر تیز ہو چکی تھی اور بوندا باندی بھی۔ وہ آہستہ سے عرشے کے زینے اُترتا ہو ا کمرے میں آگیا۔ کیبن میں تین گھنٹے پہلے سِول سروس کے چھوکروں نے شراب پی کر جوہلڑ بازی مچا رکھی تھی، وہ اب ختم ہو چکی تھی۔ ہر ایک خاموشی سے ڈنر کی تیاری میں مصروف تھا۔ وہ اس سارے ماحول سے سخت بور ہو چکا تھامگر دو دن کا سفر تو اُسے بہرحال کرنا تھا کہ بمبئی ابھی دو دن کی مسافت پر تھا۔ وہ تھوڑی دیر کمرے میں بیٹھا پھر ڈنر کے لیے تیار ہونے لگا۔
2

 

مولوی کرامت گھر سے نکلا تو اُس کے قدم سیدھے نہیں پڑ رہے تھے۔ بار بار عصا پر دباؤ بڑھ جاتا۔ سَر میں شدید درد تھا۔ معدہ خالی ہونے کی وجہ سے اُس میں تبخیر پیدا ہو چکی تھی۔ اُسے رہ رہ کر فضل دین پرغصہ آ رہا تھا،جو ابھی تک روٹیاں لے کر نہیں آیا تھا۔ مولوی کرامت کو ڈر تھا، نماز پڑھاتے ہوئے گر نہ پڑے۔ صبح کے وقت ایک گلاس گُڑ والی لسی پی کر ظہر تک نبھانا بہت مشکل تھا۔ نماز کے دوران بھی پتہ نہیں وہ کیا پڑھتا رہا۔ تلاوت کرتے ہوئے کسی جگہ کی آیت دوسری جگہ پڑھ گیا تھا۔ وہ تو خیر تھی کہ ظہر کی نماز میں تلاوت بلند آواز سے نہیں پڑھی جاتی ورنہ بہت رسوائی ہوتی اور مقتدی مولوی کے دماغ پر شبہ کر لیتے۔ سجدے، رکوع اور قیام کے دوران مولوی کرامت نے فضل دین کو نہ جانے کتنی صلواتیں سنائیں اور اِن گاؤں والوں کو بھی، جو آرام سے پیچھے آ کر نماز تو پڑھ لیتے مگر یہ نہیں دیکھ سکتے تھے کہ وہ بھوکا ہے یا پیٹ بھرا۔ اسی خیال میں اُسے حدیث یاد آئی، اگر نماز اور کھانے کا وقت ایک ہو جائے ہو تو پہلے کھانا کھا لو،بھوکے پیٹ نماز نہیں ہوتی۔

 

مولوی کرامت پچھلے تیس سال سے اس چھوٹے سے گاؤں کی مسجد کا پیش امام تھا۔ گاؤں کیا؟یہی سو پچاس گھروں کی چھوٹی آبادی تھی۔ پہلے پہل مولوی کرامت کا پردادا خدا یار چندہ مانگنے اور گداگری کرتے ہوئے یہاں آیا تھا۔ تب یہ مسجد خالی پڑی تھی۔ اُس نے اسی احاطے میں اپنی گُدڑی جمادی اور نماز پڑھنے لگا۔ گاؤں والے اول اول ترس کھا کر اُسے دو وقت روٹی دے دیتے۔ پھر رفتہ رفتہ دو چار لوگ اور بھی وہاں اُس کی دیکھا دیکھی نماز پڑھنے لگے۔ خدا یار نے ایک سال کسی مدرسے میں لگایا تھا۔ اس وجہ سے کچھ قرآن کی سورتیں یاد ہو گئیں اور نماز بھی آتی تھی۔ اُسی کے سہارے امامت شروع کر دی اور خود بخود گاؤں کا مولوی بن بیٹھا اور مسجد کی عملی شکل ترتیب پانے لگی۔ اُس کے مرنے کے بعد مولوی کرامت کا باپ احمد دین جانشین بنا۔ وہ دن اور آج کا دن، یہ نسل در نسل یہیں کے رہ گئے۔ مولوی احمد دین نے عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے کرامت کو ابتدائی قاعدے سپارے پڑھا کر باقاعدہ قصور کے ایک مدرسے میں پڑھنے کے لیے بھیج دیا۔ یہاں مولوی کرامت نے چھ سال لگائے۔ پندرہ سال کی عمر کو پہنچنے تک عربی،فارسی اور اردو کاچنگا بھلا مولوی بن گیا۔ اسی ا ثنا میں مولوی کرامت کا باپ مولوی احمد دین ساٹھ سال کی عمر میں مر گیا۔ باپ کے مرنے کے بعد مولوی کرامت نے کہیں اور جانے کی بجاے اسی گاؤں کی مسجد کو امامت کے لیے تر جیح دی۔ اب وہ پورے پچپن کا ہو چکا تھا۔

 

گاؤں کے سو فیصد لوگ حقیقت میں ایک ہی جد کی اولاد تھے، جو وقت کے ساتھ مختلف خاندانوں میں بٹ گئے تھے۔ یہ سب اَن پڑھ اور سادہ لوح تھے۔ لوگوں کے پاس ملکیتی زمین دو دو یا چار چار ایکڑ سے زیادہ نہیں تھی،جس میں سبزیاں اور چھوٹی موٹی ضرورت کی چیزیں کاشت کرتے اور اُنہیں آٹھ میل پیدل،گدھیوں،گَڈوں یا چھکڑوں پر لاد کر قصور شہر میں بیچ آتے۔ ساری آبادی غریب افراد پر مشتمل تھی، جن کا گزارہ بھی مشکل ہی ہوتا۔ اس لیے مولوی کرامت کو پیسے کون دیتا؟اکثر اوقات اُس کی جیب خالی رہتی۔ البتہ عید کے روز قربانی کیے گئے جانوروں کی کھالیں، گاؤں کے مرنے والے بوڑھوں کے کپڑے، بستر اور چارپائیاں، شادی بیاہ میں نکاح کی فیس اور اِسی طرح سال کے سال گندم کی کٹائی پر تھوڑی بہت گندم ہر ایک اُن کو دے دیتا۔ مولوی کرامت یہ گندم شہر لے جاکر بیچ دیتااور کچھ پیسے کھرے کر لیتا۔ اس کے علاوہ روزانہ صبح اور شام کرامت کا لڑکا فضل دین، جو ابھی تیرہ چودہ سال کا تھا، پورے گاؤں سے روٹیاں اکٹھی کر لاتا۔ ہر گھر نے اپنے اوپر لازم کرلیا تھا کہ وہ ایک روٹی فضل دین کو ضرور دے گا۔ اس طرح روزانہ مولوی کرامت کے گھر تیس چالیس روٹیاں جمع ہوجاتیں۔ اتنی روٹیاں وہ کھا نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ مولوی کے سوا اس کا بیٹا فضل دین اور بیوی شریفاں، یہ تین افراد کہاں تک کھاتے۔ باقی روٹیوں کو دھوپ میں سُکھا لیا جاتا۔ مہینے بعد وہ سب اکٹھی کر کے بڑی بڑی بوریوں میں بھر کے شہرمیں کھل بنولہ والوں کے ہاں بیچ آتے۔ جس سے اُن کے لیے مہینہ بھر کا نقد خرچ نکل آتا۔

 

گاؤں والوں سے روٹیاں اکٹھی کرنے کا کام فضل دین کرتا تھا۔ مولوی کرامت کی اُسے تاکید تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ گھروں میں جایا کرے تاکہ روٹیاں بڑی مقدار میں اکٹھی ہو جائیں مگر سو گھر کچھ کم نہ تھے۔ فضل دین بمشکل چالیس پچاس گھر ہی پورے کر پاتا۔ ایک مصیبت فضل دین کے لیے یہ تھی کہ روٹیاں مانگنے جاتا تو لوگ اُس سے گھرکام کروانا شروع کر دیتے۔ کوئی عورت روٹیوں کا تھیلا رکھوا لیتی اور دوکان سے سودا لینے بھیج دیتی، کوئی گائے کو چاراڈلوانا شروع کر دیتی۔ اس وجہ سے اُسے گھر پہنچنے میں کافی دیر ہوجاتی۔ گھر جاتاتو مولوی کرامت سیخ پا ہوتا کہ اتنی دیر کہاں کر دی؟ بعض اوقات دو چار چپتیں بھی لگا دیتا۔ ہر دو طرف سے فضل دین پر ہی مصیبت گرتی لیکن یہ تو اب معمول بن چکا تھا۔ فضل دین اس سب کچھ میں کوئی تکلیف محسوس نہ کرتا بلکہ گھر گھر کے طرح طرح کے کھانے شاید ہی کسی کو نصیب ہوں کہ فضل دین کے لیے نعمت سے کم نہیں تھے۔ دو سرا فائدہ یہ تھا کہ فضل دین کا علمی ذخیرہ گاؤں کے کسی بھی فرد سے زیادہ تھا۔ پورے گاؤں کے حالات کی اُسے لمحہ بہ لمحہ خبر رہتی۔ لاشعوری طور پر وہ گھر گھر کی خبروں سے آگاہ ہو رہا تھا۔ کسی نے جو کچھ بھی گاؤں کے دوسرے فرد کے متعلق پوچھنا ہوتا،فضل دین کو بلا لیتا۔ کس کے گھر میں کون مہمان آیا ہے؟ کس نے کس کے اوپر کیا الزام لگایا ہے؟ اسی طرح کی اکثر باتیں اُس کو پتا ہوتیں۔ فضل دین کی وجہ سے مولوی کرامت کا تجربہ بھی بڑھ رہا تھا۔ اُسے پتہ چل جاتا کہ اس وقت احمد بخش کے گھر سے لہسن منگوایا جا سکتا ہے اور شیر محمد کے ہاں باسمتی کے چاول وافر پڑے ہیں اور یہ کہ ِاس وقت اُس کا موڈ بھی ٹھیک ہے، مانگنے سے ضرور مل جائے گی۔ علاوہ ازیں آج خیر دین نے اپنے بیوی کو جھونٹوں سے پکڑ کر وہ تانبی(مارا) لگائی ہے کہ اللہ جانتا ہے،چور کو پڑتی تو وہیں مر جاتا۔ یہ سب باتیں ایک طرف، فضل دین اب اپنے باپ کے سوا گاؤں کے کسی بھی فرد سے زیادہ پڑھا لکھا بھی تھا۔ کئی کئی آئتیں، سورتیں اور تعویذ گنڈے کی رمزیں اس عمر میں وہ سیکھ چکا تھا۔ پور ی نماز،تراویح،حتیٰ کہ نماز جنازہ کی بھی کئی کئی دعائیں، جو اکثر مولویوں کو بھی نہیں آتی تھیں،وہ اِسے یا د تھیں اور مزید ترقی کر رہا تھا۔

 

اتنا زیادہ علم حاصل کرنے کا سبب یہ تھاکہ گاؤں میں کسی بھی فرد نے اپنی اولاد کو مولوی صاحب سے پڑھانے کی زحمت گوارا نہ کی تھی۔ نہ ہی مولوی ایسی کسی بدعت کو رواج دینا چاہتا تھا۔ اس کے تمام علمی سرمائے کی منتقلی صرف فضل دین تک محدود تھی۔ کریماں، بوستان، گلستان، دیوانِ حافظ، عرفی و خاقانی کے قصیدے اور ان کے علاوہ عربی کی ابتدائی کتابیں،گرائمر و صیغہ جات۔ یہ سب آہستہ آہستہ فضل دین کی طرف منتقل ہو رہے تھے۔ مرغا ذبح کرنا، بچے کے کان میں اذان دینا تو فضل دین کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ مردے کو نہلانا، قبر، کفن اور جنازے کی معلومات بھی اب اُس کے لیے غیب کی باتیں نہ رہیں۔ مولوی کرامت نے جو کچھ اپنے باپ مولوی احمد دین سے پڑھا یا جو اُسے خود نہیں بھی آتا تھا، وہ بھی اُلٹا سیدھا امانت کی طر ح فضل دین کے سپرد کر رہا تھا، کہ اس خاندان کی بقا اسی پر تھی۔ ویسے بھی مولوی کرامت کا باپ کرامت سے اور کرامت کا دادا اُس کے باپ سے کم ہی پڑھے تھے اور ہر بعد میں آنے والا اُس علم میں اپنی ذاتی استعداد سے اضافہ کر رہا تھا۔

 

ہزار مشکل سے مولوی کرامت ظہر کی نماز پڑھا کر گھر آیا تو فضل دین روٹیاں لے کر آ چکا تھا۔ مولوی کا غصہ انتہاؤں پر تھا۔ تیزی سے عصا لے کر فضل دین پر ٹوٹ پڑا۔ فضل دین نے عصا اُٹھتے دیکھا توآگے بھاگ اُٹھا۔

 

ارے کم بخت کہاں جاتا ہے؟ ملعون صبح چھ بجے سے نکلا اور ظہر کر دی۔ خدا تجھے غارت کرے،تیرے جیسا حرام خور آج تک پیدا نہ ہوا’’ مولوی غصے سے بھاگتے ہوئے کانپ بھی رہا تھا”۔ تجھے خدا سمجھے یہاں گھر میں کچھ کھانے کو تھا؟ جو موت کے وقت واپس آیا۔

 

مولوی کو غصے میں دیکھ کر فضل دین سمٹ کردیوار سے لگ گیا اورتھر تھر کانپنے لگا۔ وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا،کیا جواب دے کہ عصا چھپاک سے فضل دین کے چوتڑوں پر لگا۔ شریفاں نے اُسے پٹتے دیکھا تو فوراََ دوسرا عصا پڑنے سے پہلے درمیان میں آگئی اور عصا ہاتھ سے کھینچ کر بولی،ہائے ہائے بد بخت بڈھے تیرے ہاتھ ٹوٹیں۔ خدا کوڑھی کر کے مارے، کیوں معصوم کی جان کا دشمن ہوگیا؟سارا دن گلی گلی پھر کر تیرا دوزخ بھرتا ہے، پھربھی تجھے صبر نہیں۔ مَیں جانتی ہوں، یہ لڑکا نہ ہوتا تو تُو بھوکا مرجاتا۔

 

شریفاں نے فضل دین کو بازو سے پکڑ کر اپنی بغل میں لے لیا، جو عصا کھا کر ہاتھ سے چوتڑ سہلا رہا تھا۔
ہاں ہاں مَیں بھوکا مر جاتا،مولوی تڑپ کر بولا، جب تُو نے اِسے نہیں جنا تھا، تب میں مٹی کھاتا تھا؟پورے پچاس سال اسی گاؤں سے مَیں نے روٹیاں اکٹھی کی ہیں اور اب اگر اِسے لوگ دیتے ہیں تو میری ہی وجہ سے۔ مَیں نہ ہوں تو ماں بیٹا دونوں کسی روڑی(کچرا) سے چن کر کھا رہے ہوتے بلکہ وہ بھی نہ ملتی اور کتوں کی طرح باولے ہو جاتے۔ مولوی کرامت بِڑبڑا تا ہو ا چارپائی پر بیٹھ گیا، جس کی ادوائین ایک طرف سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ چارپائی کا بان سرکنڈوں کی باریک مونج سے بٹا ہوا تھا۔ گرمیوں میں سرکنڈوں کا بان جسم کو جس قدر ر احت اور ٹھنڈک پہنچاتا ہے،اُس کی مثال نہیں۔ مولوی کو ٹھنڈا پڑتے دیکھ کرشریفاں فضل دین کی طرف پلٹی اور اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا،کیوں بے تُو اتنی دیر کہاں لگا دیتا ہے ؟تیر ااس طرح کام کر نا مجھے بالکل منظور نہیں۔ تیر ی نالائقی اور کام چوری کی وجہ سے ہم ایک دن ضرور دانے دانے کو ترسیں گے۔

 

اماں لوگ کام لینا شروع کر دیتے ہیں،فضل دین منہ بسورتے ہوئے بولا، میں کیا کروں؟ انکار کرتا ہوں تو روٹیوں کا تھیلا اُتار کر رکھ لیتے ہیں۔ تب مجھے بات مانتے ہی بنتی ہے۔

 

کون کون ایسا کرتا ہے ؟شریفاں نے فضل دین کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔

 

اماں ! ملک نظام کی بڈھی حاجن مجھے گھنٹہ گھنٹہ کام میں لگائے رکھتی ہے۔ یہ سب دیر اُسی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ وہ سارے گھر کے کام اکٹھے کر کے میرے انتظار میں رکھ چھوڑتی ہے، بس جاتے ہی کام پر لگا دیتی ہے۔ زیادہ دیر تووہیں ہوتی ہے۔

 

سن رہے ہوکرامت؟ لڑکا کیا کہہ رہا ہے؟ سارے گاؤں کی مزدوری اور تیری جھڑکیاں سب اسی کی گردن پر۔ خبردار جو آئندہ فضل دین کو کچھ کہا’’شریفاں کا پارہ مسلسل چڑھ رہا تھا‘‘ نظام کو صاف صاف کہہ دے، وہ حاجن کو سمجھا دے۔ ہم سے اُس کی ونگاریں (مفت کے کام) نہیں کی جاتیں۔ جتنا کام وہ لیتی ہے، اتنا فضل دین منڈی میں جا کر کرے تو روز کے دوروپے کمائے۔

 

مولوی کرامت اب بھیگی بلی کی طرح چارپائی پر سمٹا بیٹھا تھا، کسمسا کر خلا کی طرف گُھورتے ہوئے بولا، نیک بختے اب جانے بھی دے۔ میں ملک نظام سے بات کروں گالیکن یہ تو سمجھ، وہ گاؤں کا بڑاہے،سب اُس کی عزت کرتے ہیں، کوئی بندہ کُبندہ دیکھنا پڑتا ہے۔ ہم سو چیزیں اُن سے لیتے ہیں۔ خیر چھوڑ اِن باتوں کو، جلدی اب کھانا دے، سرگھوم رہا ہے۔ پھر فضل دین کی طرف دیکھتے ہوئے تڑخ کر بولا، چل اُٹھ فضلو سورہ یٰسین میں جتنے متکلم حاضر کے صیغے استعمال ہوئے ہیں، یہاں میرے پاس بیٹھ کے مجھے ابھی ان صیغوں کا پتہ چلا کے بتا۔ آج اگر تو صحیح صحیح نہ بتا سکا تو دیکھ،مَیں تیری کیسے چمڑی اُدھیڑتا ہوں۔ تین مہینے ہو گئے، ابھی تک چودہ صیغوں پہ اٹکا ہے۔ مَیں نے یہ کام صرف دو مہینوں میں کیا تھا۔

 

مولوی کرامت کی جھڑکیاں کھا کر فضل دین نے اُٹھ کر لوٹے میں پانی لیا،وضو کیا۔ اُس کے بعد کمرے سے جا کر ریشمی غلاف میں لپٹا ہوا ایک بڑی تقطیع کاقرآن پاک اُٹھا لایا اور مولوی کرامت کے سامنے ٹوٹی پھوٹی چوکی پر بیٹھ کرسورہ یٰسین نکال لی۔ اِتنے میں شریفاں نے روٹی لاکے مولوی کرامت کے سامنے رکھ دی۔ مولوی روٹی کھانے کے ساتھ ساتھ فضل دین سے صیغوں کے بارے میں پوچھتا جاتا تھا اور ڈانٹتا جاتا تھا۔ بیچ میں مزید معلومات کی بہت سی دوسری باتیں بھی بتاتا گیا۔ جہاں کہیں فضل دین غلطی کرتا،وہیں ہلکا سا عصا دا ئیں بائیں ٹکا دیتا۔
3

 

غلام حیدر گرو ہرسا ریلوے اسٹیشن پہنچا تو رفیق بگھی لیے وہاں موجود تھا۔ چراغ تیلی اورجانی چھینبا بھی اپنی چَھو یوں اورگنڈاسوں کے ساتھ پاس ہی کھڑے تھے۔ راستے میں دشمنوں کے گاؤں پڑتے تھے اس لیے رفیق نے انہیں ساتھ لے لیا تھا۔ غلام حیدر کے آنے کی خبرتو کسی کو نہیں تھی مگر یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے والد شیر حیدر کی اچانک موت پر ضرور آئے گا۔ اس لیے دشمن کچھ بھی اوچھی حرکت کر سکتے تھے،جس کے لیے بہت سے جوانوں کا ساتھ ہونا ضروری تھا۔ اِسی خطرے کے پیش نظر غلا م حیدر سے رفیق پاولی نے کہلا بھیجا تھا کہ وہ جلال آباد تک ریل میں آنے کی بجائے منڈی گرو ہرسا میں ہی اُتر جائے، ہم وہاں لینے کے لیے پہنچ جائیں گے تاکہ دشمن رستے میں ریل پر حملہ آور نہ ہو سکے۔ ریل بیسیوں گاؤں میں رُکتی ہوئی آتی تھی۔ دشمن کہیں بھی اُس میں سوار ہو کر نامناسب حرکت کر سکتے تھے، جس کے بعد پچھتاوے کے سوا کوئی تلافی نہ ہوتی۔ ریل سے نکلتے ہی غلام حیدر کو بیس افراد کے گروہ نے گھیر لیا۔ رفیق پاؤلی نے اُسے گود میں کھلایا تھا، غلام حیدر اُسے چاچاکہہ کر مخاطب کرتا۔ ملتے ہی دونوں کے آنسو نکل آئے۔ پُشتینی ملازم ہونے کے ناتے فیقے نے غلام حیدر کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دلاسا دیتے ہوئے کہا، پُتر صبر کر، یہ اللہ کے کام ہیں۔ شیر حیدر اللہ کی امانت تھا،وہ اُسے لے گیا،تُو حوصلہ رکھ، ہم تیرے ساتھ ہیں۔ پھر سب لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے،غلام حیدر گھبرا نا مت، یہ سب تیرے بازو ہیں۔ تیرے ایک اشارے پر مرنے کو تیار رہیں گے۔ اسی دوران بُوٹا تیلی غلام حیدر کی بندوق پکڑ کراُسے دیکھنے لگا۔ زندگی میں پہلی دفعہ بندوق کو ہاتھ لگایا تھا، اس لیے ہاتھ پھسلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد باری باری سب نے بندوق کو کاندھے پر رکھنے کی کوشش کی اور ہاتھوں میں تول تول کر وزن بھی ماپنے لگے۔ بالآخر رفیق پاولی نے بندوق اپنے کاندھے سے لٹکا لی۔ غلام حیدر نے آنسو ہتھیلی سے صاف کر کے پونچھ ڈالے اور بگھی پر سوار ہو گیا۔ اس کے بعد تینوں بگھیاں جلا ل آباد کی طرف دوڑنے لگیں،جن میں شیر حیدر کے اصطبل کے خاص گھوڑے جُتے ہوئے تھے۔

 

شیر حیدر جلال آباد کے تین گاؤں کا مالک تھا۔ جلال آباد میں اُس کی ذیلداری کسی بھی شک و شبے اور چیلنج سے بالاتر تھی۔ خاص تیس چالیس آدمی ہر وقت ڈانگ برچھی سے لیس اُس کے ڈیرے پر موجود رہتے لیکن عموماََ وہ لڑائی بھڑائی سے پرہیز ہی کرتا۔ کوشش یہی ہوتی کہ معاملہ صلح صفائی سے حل ہوجائے۔ ویسے بھی اتنی بڑی طاقت سے مخالفین دبکے رہتے اور بات آگے نہ بڑھ پاتی۔ اس کے علاوہ شیر حیدر کوانگریز سرکار سے جو ذیلدار ی کا پروانہ ملا ہوا تھا وہ بھی کم نہ تھا۔ بہت سے لوگ انگریز کا نام سن کر بھی گھورے میں چلے جاتے مگر شیر حیدر انگریزوں سے ربط ضبط ذرا کم ہی رکھتا۔ اُ س کے تعلقات کی حدود فیروز پور کے بڑے زمین داروں اور چھوٹے نوابوں تک تھی۔ علاقے میں بڑی زمینوں کے ما لک زیادہ تر سکھ ہی تھے۔ مسلمان یا تو مزارع تھے یا پھر بہت کم زمینوں کے مالک تھے۔ اگر کوئی بڑا زمیندار تھا،تو پھر وہ زیادہ ہی بڑا تھا،جیسے نواب افتخار ممدوٹ کا والد سر شاہنواز۔ ا لبتہ اِکا دُکا شیر حیدرجیسے بھی تھے،جو نواب تو نہیں لیکن مناسب درجے کے زمین دار ضرور تھے۔ اس طرح کے زمینداروں میں زیادہ کے پاس ذیلداری کا منصب بھی تھا،جو شیر حیدر کے پاس بھی تھا۔ شیر حیدر کا حریف مسلمانوں میں تو بالکل نہیں تھا،سوائے عبدل گجر کے، مگر وہ بھی زمیندار بہت چھوٹا تھا۔ اُس کے ساتھ اُس وقت رنجش پیدا ہوئی،جب وہ شیرحیدر سے بیلوں کی دوڑ ہارا۔ اس دوڑ میں عبدل گُجر شیر حیدر سے پچاس ایکڑ زمین ہار گیا۔

 

شیر حیدر کے زیادہ حریف سکھوں میں تھے لیکن وہ بھی کُھل کر سامنے نہیں آ سکتے تھے، سوائے سودھا سنگھ کے۔ وہی ایک شیر حیدر کا مرکزی حریف تھا، جس کے ساتھ اُس کی گہری دشمنی تھی۔ یہ دشمنی پچھلی دو نسلوں سے چلی آ رہی تھی، جب شیر حیدر کے والد سردار علی حسین بخش کے گاؤں شاہ پور اور سودھا سنگھ کے والد موہن سنگھ کے گاؤں جھنڈو والا کے درمیان کبڈی کا میچ ہوا۔ اس مقابلے میں اگرچہ سکھ مسلمان کھلاڑیوں کی کوئی تخصیص نہیں تھی،دونوں طرف ملے جلے پہلوان تھے مگر جب پھجا سنگھ کا گُھٹنا جمال خاں کے ہاتھوں کھیلتے ہوئے تڑخ گیا تو نعرہ بازی شروع ہو گئی۔ نعرہ بازی کے دوران لڑائی کا سماں بن گیا۔ اس کے بعد دونوں طرف سے برچھیاں اور ڈانگیں نکل آئیں۔ لڑائی میں موہن سنگھ کے گاؤں کا ایک بندہ مر گیا۔ پھردونوں طرف سے پرچے ہو گئے۔ چونکہ پورے پورے گاؤں لڑائی میں شامل تھے لہٰذا قتل ایسے ملوے میں بدل گیا جس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکا۔ دونوں گاؤں میں بہت عرصے تک مقدمے بازی کے بعد عارضی طور پر صلح ہو گئی مگر دلوں کے اندر کینے کی آگ جلتی رہی، جو مستقل دشمنی کی شکل اختیار کر گئی۔ اس دشمنی میں دونوں پارٹیاں گاہے گاہے ایک دوسرے کا تھوڑا بہت نقصان کرتی رہیں۔ وہی دشمنی سودھا سنگھ اور شیر حیدر کو وراثت میں ملی اور اب شیر حیدر کی وفات کے بعد غلام حیدر کے کھاتے میں پڑ گئی۔ سردار سودھا سنگھ کی زمین شیر حیدر سے زیادہ تھی لیکن دو تین دفعہ کی لڑائی میں پلڑا شیر حیدر کا ہی بھاری رہا۔ عدالت کچہری میں بھی سودھا سنگھ کو کچھ برتری حاصل نہ ہوسکی، اس لیے اُس کے اندر انتقام لینے کی کسک موجود رہی۔ اب جو اُس نے شیر حیدر کے مرنے کی خبر سنی تو باغ باغ ہو گیا۔ فوراََ جگبیر سنگھ، شام سنگھ، پیت سنگھ اور فوجا سیٔو کو بلا کر شراب کی محفل سجا دی۔ پورے دو گھنٹے شراب پیتے رہے اور بکرے بلاتے رہے۔ نشہ اُترا تو مستقبل کے صلاح مشورے شروع کر دیے۔

 

سورج نے نیزے کی اَنی چھوڑ دی تھی اور سائے نے مشرق کی طرف قد بڑھاناشروع کر دیا تھا۔ نیم کے پُرانے درخت نے احاطے کا سو فٹ قطر اپنے گھیرے میں لے کر دھوپ کو روک رکھا تھا۔ اس لیے چار پائیاں اور مُونڈھے مشرقی دیوار کے ساتھ لگ گئے کیونکہ وہاں ابھی دھوپ کافی تھی اور نیم کا سایہ دو گھنٹے تک وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔ احاطے کا صحن بہت بڑا تھا اور باریک انیٹوں سے سارے کا سارا فرش کیا گیا تھا۔ اس لمبے چوڑے صحن کے ایک کونے میں پانی کا بڑا گہرا کنواں بھی تھا،جو نہ صرف سودھا سنگھ کی حویلی کی ضروریات کو پورا کرتا بلکہ سب گاؤں والے بھی اس کنویں کو استعمال کرتے اور کسی کو روک ٹوک نہ تھی۔

 

سردار سودھا سنگھ متروں کے ساتھ سردی کی دھوپ میں بیٹھ کر معاملات پر غور ہونے لگا۔ حویلی کے سب دروازوں کی بَلیاں چڑھا دی گئیں۔ احاطے کی دیواریں پکی اینٹ سے چن کر بیس فٹ تک اونچی کی گئیں تھیں لیکن اُن پر کسی وجہ سے پلستر نہیں کیا گیا تھا۔ اینٹیں بارشوں اور زمانے کی ہواؤں کے سبب سیاہ ہو چلیں تھیں۔ دیواروں میں بھی پیپلوں کی شاخیں نکل آئی تھیں۔ ویسے بھی دیواروں کو آرائش یا پلستر کرنا عموماََ دیہاتوں میں ضروری نہیں سمجھا جاتا البتہ احاطے کے گیٹ یا مرکزی دروازے پر خاص توجہ دی جاتی ہے، وہ سردار سودھا سنگھ نے اپنی بساط کے مطابق اچھی خاصی دی تھی۔ شیشم کی پکی لکڑی کا دروازہ، جس کی رنگت پالش کے بغیر ہی اتنی سیاہ تھی کہ توّے کی طرح چمکتی تھی۔ چو گاٹھ ڈیڑھ فٹ مربع چوڑے تھے اور تختے تین تین انچ موٹے۔ تختوں پر پیتل کے دو دو انچ انچ موٹے سینکڑوں کیل اُس کی ہیبت میں اس طرح اضافہ کرتے کہ بیس فٹ اونچا اور بارہ فٹ چوڑا دروازہ اژدھے کی طرح نظر آرہا تھا۔ دروازے کی ڈیوڑھی کے اُوپردائیں بائیں دو بُرج تھے۔ اُن پرپتھر کے دو شیر منہ کھولے کھڑے تھے، جیسے ابھی کچھ ہڑپ کرنے والے ہوں۔ نئے آنے والے کو تو بالکل اصلی دکھائی دیتے اور وہ ایک دفعہ سہم جاتا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے اپنی مونچھوں کو رسی کی طرح بَل دے کر ہلکا سا جھٹکا دیا پھر فٹ بھر لمبی داڑھی کے اندر انگلیاں ڈال کر زور سے ٹھوڑی کھجائی اور سامنے پڑے مُونڈھے پر اپنی ٹانگیں پھیلاتے ہوئے چھدو کو آواز دے کر دروازوں کوپہرا بند کرنے کو کہا۔ اُدھر چھدو لنگڑاتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا،اِدھر سودھا سنگھ نے جگبیر سنگھ کو مخاطب کرکے اپنی بات شروع کی،جو پہلے ہی اس انتظارمیں تھا کہ کب سودھا سنگھ اس سے اصل بات کی طرف آتا ہے۔
جگبیرے واہگرو نے اس سے اچھا موقع نہیں دینا، شیر حیدر کا مُنڈا(لڑکا) ابھی ندان (کم عمر)ہے۔ تکڑے (ہمت کر کے) ہو کے اپنا وار کر دیں، آگے کی شرماں گرو جی رکُھو گے۔

 

جگبیر آگے کی طرف جھکتے ہوئے دھیمے دھیمے بولنے لگا، سردار جی میرا ایک مشورہ کبھی ضائع نہ کرنا،بانس کی کونپل زمین سے نکلتے ہی کاٹ دو ورنہ اُس کے نیزہ بننے میں دیر نہیں لگتی۔ چک جودھا پور میں آج ہی بندے بھیج کے غلام حیدر کی مونگی کی فصل وران(تباہ) کر دو۔ بیس ایکڑ مونگی کو پہلا دھکا ابھی لگا دو۔ جوگڈوں پر لاد کر لا سکتے ہیں،وہ لے آئیں،باقی کو آگ لگا دیں۔

 

پیت سنگھ،جس کے سَر کے بال گھنے ہونے کے ساتھ ڈب کھڑبے بھی ہو چکے تھے، اُس نے اپنے زانوؤ ں پر ہاتھ رکھ کر گفتگو میں حصہ لیا، سردارسودھا سنگھ! مُنڈے کو سر ہی نہ اُٹھانے دو۔ مَیں تو کہتا ہوں، دیر کرناگرو جی کے ویریوں کا کام ہے۔ میرے تو جی میں ساہ اُس وقت آئے گا،جب شیر حیدر کے مُنڈے کو فلانگ (تباہ) کر دیں گے۔

 

ابھی پیتا سنگھ بول ہی رہا تھا کہ بیچ سے بیداسنگھ نے اُس کی بات کاٹ کر کہا، سردارسودھا سنگھ! میری کرپان تو بڑے ورھوں سے پیاسی ہے۔ واہگرو جانتا ہے، مَیں نے اس دن کے لیے کتنی منتیں مانیں۔ روز اس کی دھار تیز کرتا ہوں۔ جب تک یہ کسی مُسلے کا لہو نہیں پی لیتی،واہگرو کی سونہہ ِاسے سہج نہیں ملے گی۔

 

فوجا سیؤ یہ باتیں آرام سے بیٹھا سنتا رہااور خاموشی سے داڑھی کھُجاتا رہا۔ سودھا سنگھ نے فوجا سیؤ کو مسلسل خموش بیٹھے دیکھا تو مخاطب کرکے تائید کی خواہش کی۔ فوجا سئیو نے پہلے بائیں ہاتھ سے اچھی طرح کان میں کھجلی کی اور ایک دفعہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ پھر چند منٹ خاموشی سے سودھا سنگھ کی طرف دیکھتا رہا اور آخر کارسہج سے بولا،سودھے آگے تیری مرضی، پر میری مانو تو یہ موقع ٹھیک نئیں۔ شیر حیدر کے بندے اس وقت زیادہ ہشیار ہوں گے۔ اگر وار اوچھا جا پڑا تو بڑی نموشی ہوگی۔ شیر حیدر کا مُنڈا ضرور ندان ہے پر فیقا اور اُس کے بیلی متر تو ندان نئیں۔ وہ تم سب سے زیادہ چاتر ہیں۔ ویسے بھی لوگ چنگا نئیں جانیں گے اور سرداری کو مِہنا آئے گا۔ تھوڑے دن ٹھہر کے حالات کی ٹوہ لے لو،پھر جو گرو جی کی منشا ہوگی، بڑے دن پڑے ہیں بدلہ لینے کو۔

 

پیت سنگھ بے صبری سے فوجا کی بات سن رہا تھا، ایک دم جوش میں آگیا، فوجے آج تک تُو نے بزدلی کے علاوہ کوئی مشورہ دیا ہے ؟ واہگرو کی سونہہ، ہم اب تیری بات نئیں مانیں گے۔ فیقا چاتر ہے تو ہووے، آخر وہ ہے تو پاولی کا پاولی۔ سرداروں کے مُوت کے برابر اُس کی عزت نہیں۔ اُس کی عقل اُس وقت تک کام کرتی تھی جب تک شیر حیدر کا سر پر ہاتھ تھا۔ کمی کمین خود کچھ نہیں ہوتا۔ اُس کی دلیری اُس کتے جیسی ہوتی ہے، جو مالک کی ہلا شیری کے بغیر گیدڑ سے بھی ہولا ہوتا ہے۔ کہو تو فیقے پاولی کو کل ہی بودیوں سے پکڑ کر سردار سودھا سنگھ کے آگے پھینک دوں؟ باقی رہا سرداری کو مِہنا،تو اُس کے لیے ایک بات دھیان میں رکھ،جنگ میں سب جائز ہے۔

 

اَو پیتے بیٹھا رہ تُو، فوجا سیؤ غصے سے بولا، پھر تُو تو ایک طرف ہو جائے گا، بھگتان تو سودھا سنگھ کو ہی دینا پڑے گا۔ تیرے سر میں بھیجا نہیں،بھوسا اور گوبر بھرا ہے۔ جب دیکھو ڈانگ برچھی اور کرپان کی باتیں کرتا ہے۔ کبھی چوہا تک نہیں مارا تو نے۔ دو گھونٹ کیا پی لیتے ہو،دُم پر کھڑے ہو جاتے ہو( سودھے کی طرف مخاطب ہو کر)دیکھ سردار سودھاسنگھ، مَیں تو تجھے یہ صلاح نہ دوں گا،آگے تیری مرضی۔

 

پیت سنگھ فوجے کا طعنہ سن کر سُرخ ہو گیا، فوراً کرپان کھینچ کر بولا،فوجے تجھے مَیں پِتا کے برابر جان کے لحاظ کرتا ہوں، پر تیری منشا عزت کروانے کی نہیں۔

 

او رہنے دے،فوجا دوبارہ بولا،تو نے اپنے پِتا کی عزت کبھی نہیں کی، میری کیا کرے گا۔ بے چارہ جیٹھ ہاڑ کی ننگی دوپہروں میں کنکاں گاہتے اور تتی زمین پرچوتڑ گھساتے سڑ سڑ کے مر گیا،تجھے تو دارو اور بوٹی کے سوا کوئی لہنا نہیں۔

 

فوجے مجھے غصہ نہ دلا ورنہ اسی وقت تیری رَت کے نگال بہادوں گا،پیت سنگھ ایک دم مونڈھے سے اُٹھا اور کرپان پکڑ لی۔

 

دونوں کو جھگڑتا دیکھ کر سودھا سنگھ نے بات کاٹ دی اور گرج کر پیت سنگھ کی طرف منہ کر کے بولا۔ ناں پر مَیں نے تمھیں آپس میں لڑائی کے لیے یہاں اکٹھا کیا ہے یا صلاح مشورے کے لیے؟ اپنی بکواس مکا کے غلام حیدر کا اُپا کرو بس۔

 

یہ کہہ کر سودھا سنگھ نے دوبارہ چھدو کو آواز دی، جو سودھا سنگھ کی سفید گھوڑی کو دانہ کھلانے میں مگن تھا۔ چھدو آواز سنتے ہی لنگڑاتا ہوا دوڑ کر سردارسودھا سنگھ کی چارپائی کے دائیں طرف آکھڑا ہوا۔ چھدّو کو پتا چل چکا تھا سردار جی کیا کہنا چاہتا ہے مگر وہ پوری ہدایت لینے کے لیے باادب کھڑا رہا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے اُسے متھا سنگھ کو بلا کر لانے کے لیے کہا تو اُس نے جلدی سے پیچھے مڑ کر دوڑ لگا دی اور باہر نکل گیا۔ اُس کے باہر نکلنے کے بعد پیت سنگھ نے اُٹھ کر پھر دروازے کی بَلّی گرا دی اور پورے منصوبے پر غور کرنے لگے مگر فوجا سیؤ ہوں ہاں کے سوا چپ بیٹھا رہا۔

 

(جاری ہے)
Categories
شاعری

عصا بیچنے والو

عصا بیچنے والو
عصا بیچنے والو آؤ مرے شہر آؤ
کہ لگتی ہے یاں پر عصاؤں کی منڈی
ہرے اور لچکیلے بانسوں کے، شیشم کی مضبوط لکڑی کے عمدہ
عصا بک رہے ہیں
مرے شہر کی ہر گلی، ہر محلے میں کھلنے لگی ہے عصاؤں کی دکاں
عصا، جن کے خم پر مڑھے زرد پترے
عصا بیچنے والو آؤ
مرا شہر بوڑھوں، خمیدہ کمر اُن ضعیفوں کی دنیا
جنہیں ہر قدم ٹھوکروں سے علاقہ
یہاں پر نہ سبزہ رُخوں کا نشاں ہے
نہ کوئی جواں سال مضبوط گٹھنوں کا مالک
فقط سن رسیدہ تبہ حال بوڑھے
لرزتے ہوئے ہاتھ
پا لڑکھڑاتے
عصا کے سہارے قدم دو قدم چل کے تھک جانے والے
کبھی سائے کی جستجو میں
عصا ٹیکتے ٹیکتے پشتِ دیوار سے لگ کے یوں بیٹھ جائیں
کہ جیسے سگِ سست رو کوئے خواجہ سرا میں
Categories
فکشن

تمغہ

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

افسانہ نگار: علی اکبر ناطق

 

ڈی آئی جی سمیت پولیس کے تمام افسران موجود تھے۔ لمبے چوڑے سُر خ قالینوں اور کُرسیوں پر لوگوں کی بڑی تعدا د جمع تھی۔ اسٹیج کو پولیس کے شہد ا کی تصویروں اور پھولوں سے سجا دیا گیا تھا۔ درجن بھر پولیس کے شہدا کے رنگین پوسٹر ہال کی پچھلی دیوار پر بھی چسپاں تھے تاکہ اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی نظر اُن پر بھی پڑ سکے۔ اناؤنسر نے مختصر تمہید کے بعد ڈی آئی جی شمس الحسن کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ ڈی آئی جی اسپیکرپر آئے تو ہال میں مکمل خاموشی طاری ہو گئی۔

 

حضرات!
آپ سب جانتے ہیں، پنجاب پولیس نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے جرائم پر قابو پایا ہے۔ ہم اپنے ان جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو معاشرے کے ان بدمعاش اور ناسور افراد کا مقابلہ دلیری سے کرتے ہوئے اُن کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ کی طرح آج ہمیں پھر اپنے ان دو جوانوں پر فخر ہے۔ جنہوں نے اپنی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال کر انسانیت کے دشمنوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ان میں ایک سب انسپیکڑ حمید سندھوصاحب ہیں جس کی کارکردگی پچھلے کئی سالوں سے پنجاب پولیس کو کامیابیوں سے ہمکنار کر رہی ہے اور دوسرے عابد بلال ہیں جس نے اس کے شانہ بشانہ کام کیا۔ میں ان دونوں کو اگلے اسٹیج پر ترقی دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر ڈی آ ئی جی صاحب ایک طرف ہو گئے اور اناونسر نے دوبارہ اسپیکر پر آ کر اعلان شروع کیا، حمید سندھو صاحب اسٹیج پر آکر اپنا تمغہ وصول کریں۔ (حمید سندھو تالیوں کے شور میں پُر اعتماد قدموں کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھتا ہے اور اپنا تمغہ وصول کرتا ہے۔ ڈی آئی جی صاحب اُس کے کاندھے پر بیجز بھی لگاتا ہے)
اب میرا نام پکارا جانا تھا جس کے تصور سے میرا جسم پسینے میں بھیگ گیا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور ٹانگوں میں لرزا طاری تھا۔ مجھے ڈر تھا، اُٹھتے ہوئے گر نہ پڑوں۔ میری ساری توجہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے پر تھی۔ ایک دفعہ خیال آیا، پیشاب کا بہانہ کر کے بھاگ جاؤں لیکن اب وقت بالکل نہیں تھا اور مجھے ہر حالت میں اسٹیج پر جا کر اپنا تمغہ وصول کرنا تھا۔ مگر تھوڑی دیر رُکیں، پہلے تمغے کا باعث بننے والے واقعے کا ذکر ہو جائے۔

 

میں بطور پولیس کمانڈو پچھلے تین سال سے اسی تھانے میں تھا۔ ہمیشہ سول وردی میں رہنے کی وجہ سے کم ہی لوگوں کو اس بات کا پتہ تھا کہ میں پولیس کا آدمی ہوں۔ شہر کے مشرق میں بیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریا ہے اور یہ علاقہ ایسا ہے جہاں دریا جب اپنی جولانی پر آتا ہے تو دور تک پر پھیلا دیتا ہے جس کی وجہ سے ادھر اُدھر جنگلات سے بن چکے ہیں۔ یہ جنگلات اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ باڈر قریب ہونے کی وجہ سے تمام علاقہ پاک رینجر کی حدود میں آ تا ہے اور وہ درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دیتی۔ دریاکے آس پاس ہزاروں کی تعداد میں زمیندار ہیں اور سب نے غنڈے پال رکھے ہیں۔ یہ غنڈے پورے علاقے میں مجرمانہ کارروائیاں کرنے کے بعد ان زمینداروں کے پاس پناہ لیتے ہیں۔ کسی زمیندار کو اپنے مخالف سے نپٹنا ہوتو اپنے غنڈے کے ذریعے ہی دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ گویا غنڈوں کو پناہ دینا علاقے کے زمینداروں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ میں کم وبیش ان سب زمینداروں اور اُن کے متعلقہ غنڈوں سے واقف تھا لیکن مجھے اپنی مرضی سے کارروائی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ویسے بھی میرا منصب محض ایک حوالدار کی حیثیت سے بڑوں کے کاموں میں دخل دینا یا تھانے کی پالیسی وضع کرنا نہیں تھا اور تھانے دار کو اُس کا مطلوبہ حصہ وقت پر پہنچ جاتا۔ چنانچہ پولیس اپنا اثر رسوخ عموماً شہری حدود میں برقرار رکھتی۔ گویا پولیس، زمینداروں اور غنڈوں کے درمیان یہ ایک خاموش معاہدہ تھا۔ البتہ گرجی مہر پچھلے دو سال سے اس معاہدے سے باہر ہو چکا تھا۔ وہ علاقے کے زمینداروں،غنڈوں،پولیس اور عوام، سب کے لیے خطرہ بن تھا۔ چنانچہ اُسے کوئی بھی پناہ دینے یا ہمدردی کے قابل نہ سمجھتا۔ میں نے اُسے پہلی دفعہ اڑھائی سال پہلے حاجی شمس خا ں کے ڈیرے پر دیکھا۔ اُس وقت وہ ایسا خطرناک نہیں تھا۔میں اپنے تھانیدار کے ساتھ وہاں کسی ملزم کے حوالے سے گیا تھا۔ کم وبیش ان علاقوں کے تمام تھانیداروں کا معمول ہے کہ وہ کسی قسم کی کارروائی کرنا چاہیں تو سیدھے اُن زمینداروں کے ہاں جاتے۔ اگر ملزم کو پولیس کے حوالے کرنا ناگزیر ہوتا تو وہ خود اُسے حوالے کر دیتے ورنہ ڈیرے پر ہی مک مکا کرا دیا جاتا۔ اُس دن سہ پہر کا وقت تھا اور موسم سخت روشنی کا تھا۔ حاجی شمس خاں وہاں موجود نہیں تھا۔ ڈیرے پر بہت سے لوگوں کے موجود ہونے کے باوجود مکمل سکوت طاری تھا۔ گرجی مہر ایک طرف سنجیدگی سے بیٹھا تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ قد میں بالکل کمزور سا شخص تھا۔ چھوٹی چھوٹی باریک سی مونچھیں، کاندھے اندر کو دھنسے ہوئے، چہرہ بے رونق لیکن گندمی اور بمشکل پچاس کلو وزن ہو گا۔ الغرض پہلی نظر دیکھنے سے کچھ بھی تا ثر نہیں بنتا تھا۔ حاجی شمس کا گاؤں جلال کوٹ کے نام سے معروف تھا جہاں اُس کی تین ہزار ایکڑ زمین تھی اور گرجی مہر کو اُسی کے ہاں پناہ بھی ملی ہوئی تھی۔ وہیں ساتھ والی چارپائی پر ایک پندرہ سولہ سال کا لڑکا پینٹ شرٹ پہنے، نہایت متفکر اندازمیں لیٹا آسمان کو گھور رہاتھا۔ مجھے خیال گزرا، لڑکا حاجی شمس خاں کا بھانجا یا بھتیجا ہے لیکن جیسا کہ پولیس والوں کی عادت ہے، تھانیدار نے اس پُر اسرار خموشی میں لڑکے کی موجودگی کی کُرید شروع کر دی اور بالآخر بات کھل گئی۔ لڑکا گرجی مہر کا واقف تھا اور لاہور سے لڑکی بھگا کر لایا تھا۔ لڑکے کی شکل انتہائی معصوم تھی۔ نرم رخساروں پرابھی سبزے کی آمد ہوئی تھی جسے دو چار دن پہلے ہی شیو کر کے صاف کیا گیا تھا کیونکہ سُرخ و سفید اور چکنے چہرے پر ہلکی ہلکی لویں دوبارہ نمودار ہو رہی تھیں جو اُس کے حسن کو مزید ابھار رہی تھیں۔ الغرض لڑکا خود بھی نرم و نازک، خوبصورت اور نسوانی حسن کے خدو خال رکھنے والا تھا۔ گرجی مہر سے خدا جانے اُس کا تعلق کیسے ہوا ؟ مجھے اس تمام صورت حال سے خوف سا آنے لگا اور میں لڑکے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہو گیا لیکن میں نے خود کو قابو میں رکھا اور لڑکے سے توجہ ہٹا لی۔بہر حال دو گھنٹے بیٹھے رہنے کے باوجود حاجی شمس گھر سے باہر نہ آیا اور نوکر کے ہاتھ پیغام بھیج دیا کہ دو دن کے بعد آ جائیں تو معاملہ طے کر لیں گے یا مطلوبہ شخص کو تھانے حاضر کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ہم واپس آ گئے لیکن دوسرے ہی دن ہمیں خبر ملی کہ گرجی مہر حاجی شمس کو قتل کر کے فرار ہو چکا ہے۔ واردات کی خبر ملتے ہی ہم پورے تھانے کی پولیس لے کر وہاں پہنچے۔ لاش اور موقع واردات کا ملاحظہ کیا تو معاملہ کھل کر سامنے آ گیا۔ ہوا یہ کہ حاجی شمس نے لڑکی پر قبضہ جما لیا تھا اور اُسے لڑکے کے حوالے کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔ حتیٰ کہ اُس نے گرجی مہر کی بھی نہ سنی اور لڑکی سے خود نکاح کرنے کا بندوبست کرنے لگا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر گرجی مہر نے لڑکے کو ساتھ لے کر حملہ کر دیا اور حاجی شمس سمیت تین بندوں کوقتل اور آٹھ لوگوں کو زخمی کرکے اور لڑکی کو لے کر فرار ہو گئے۔ لڑکا موٹر سائیکل چلانے کا ماہرتھا اس لیے کسی کے ہاتھ نہ آ سکے اورخدا جانے کہاں نکل گئے۔ اس واردات کے بعد اگرچہ پولیس نے اُن کو پکڑنے کی کئی مخلصانہ کارروائیاں کیں لیکن وہ ہر دفعہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے اور مزید کارروائیاں کرنے لگے اور کھل کھیلنے لگے۔ رفتہ رفتہ حوصلے اتنے بڑھے کہ بھرے مجمعوں میں اندھا دھند کارروائی کر جاتے۔ ان ڈکیتیوں میں کئی لوگوں کو قتل اور زخمی کیا۔ انہوں نے اپنا اپنا کام اس طرح سنبھالا کہ لڑکے نے موٹر سائیکل چلانے کا فریضہ ادا کرنا شروع کر دیا اور گرجی نے ڈکیتی اور قتل کرنے کا کام۔ اس طرح دو سال گزر گئے اور وہ قابو میں نہ آ سکے۔

 

اُس دن میں پورے ایک مہینے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ مَیں چار دن کی چھٹی لے کر سیدھا ریلوے اسٹیش کی طرف چل دیا۔ ان علاقوں میں لوکل ریل چلتی ہے، جو رائیونڈ سے بڑی لائن سے الگ ہو کر قصور، چونیاں، منڈی ہیرا سنگھ، بصیرپور، حویلی لکھا، پاکپتن اور عارف والا سے ہوتی ہوئی وہاڑی اور پھر دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں سے گزر کر دوبارہ بڑی لائن پر چڑھ جاتی ہے۔ میرا گھر راجہ جنگ میں تھا جو رائیونڈ سے قصور جانے والے لائن پر ہے۔ ریل سے جانے کا ایک فائدہ تھا کہ یہاں سے بیٹھتا اور سیدھا گھر کے سامنے اُتر جاتا۔ یہ دن کے دو بجے کا وقت تھا اور ریل بھی آنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا مگر میں یہ ایک گھنٹہ تھانے میں رہنے کی بجائے اسٹیشن ہی میں گزارنا چاہتا تھا۔ ابھی میں ریل کی پٹڑی پر چڑھا ہی تھا کہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ کا خوفناک شور برپا ہوا اور ایک ہی دم ہنگامہ سا پھیل گیا۔ شور سن کر میں ایک دم اچھلا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ آواز حاجی صداقت کی آڑھت کی طرف سے آئی تھی جو شہر کے اُس واحد ریلوے پھاٹک کے ساتھ تھی جس کا وجود عین شہر کی مرکزی سڑک پر تھا۔ لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اُس وقت بالکل نہتا ہونے کی وجہ سے عملی کارروائی کرنے سے پرہیز کرنا ہی میرے لیے بہتر تھا۔ جب میں آڑھت کے پاس آیا تو دو لاشیں خون میں لت پت پڑی میرا منہ چڑا رہی تھیں۔ اس ڈکیتی میں نامراد نے کھلے بازار میں گولیوں کا ایسے مینہ برسایا کہ راہگیر چوتڑوں کے بل گر گر پڑے۔ کس کا کلیجہ تھا جو پیچھا کرتا۔ بازار کے اگلے ہی موڑ پر لطیف کپڑے والے کے منہ میں کلاشنکوف کی نال ڈال کر پورا تین کلو سیسہ غریب کے پیٹ میں داخل کر دیا اور پیسوں کا غٖلہ بیگ میں اُلٹ لیا۔ لوٹ سے فارغ ہو کر جیسے ہی یہ موٹر سائیکل پر بیٹھا لڑکے نے موٹر سائیکل ایسے اُڑایا، جیسے آنکھوں کے آگے سے چھلاوہ نکل گیا ہو۔ پل کی پل میں دونوں شہر بھر کو تلپٹ کر کے یہ جا وہ جا، ہوا کی طرح اُڑ گئے۔ مَیں یہ سارا معاملہ ریل کی پٹڑی کے دائیں جانب کھڑا دیکھتا رہا۔ یہ چھوٹا سا شہر تھا۔ پولیس کو وہاں پہنچنے میں وقت نہیں لگا۔ پل میں افراتفری مچ گئی اور پورا شہر واقعے کی جگہوں پر سمٹ گیا۔

 

میں چونکہ کافی دنوں بعد گھر جا رہا تھااور اس ڈر سے کہ چھٹی کینسل نہ ہو جائے، فوراً نظریں بچا کر وہاں سے کھسکا اور اسٹیشن پر آ گیا اور جب ریل آئی تو فوراً بھاگ کر چڑھ گیا۔ لیکن میرے گھر پہنچنے سے پہلے ہی واقعے کی اطلاع پہنچ گئی اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ آپ کی چھٹی کینسل ہے، فوراً واپس پہنچو۔ مجھے اس حکم پر تکلیف تو بہت ہوئی مگر حکم حاکم۔ دوسرے ہی دن شام چار بجے کی ریل سے واپس ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔ پولیس اس نئی واردات سے ایسے حرکت میں آئی جیسے تلووں میں آگ لگی ہو۔ دوسری طرف گرجی مہر کے متعلق طرح طرح کی توہمات عوام میں مشہور ہونے لگیں۔ کسی کے مطابق وہ سب کچھ پولیس کی اشیر واد سے کر رہا تھا۔ کوئی اُسے انڈیا کی رینجر کا ایجنٹ قرار دینے لگا جو کارروائی کرنے کے بعد باڈر پار کر جاتا۔ اگرچہ ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا اور پولیس کے لیے ایک مستقل درد سر بن گیا۔ چنانچہ ایس ایس پی صاحب نے اعلان کروا دیے کہ مخبر کو دو لاکھ کا انعام ملے گا۔ ایگل فورس کے کئی دستے دو دو کی شکل میں ترتیب دے کر پورے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی۔ میری ڈیوٹی سب انسپیکڑ حمید سندھو کے ساتھ لگا دی گئی۔ حمید سندھوکو چھ سال پہلے ایلیٹ فورس میں بحیثیت کانسٹیبل شامل کیا گیا تھا۔ اس دوران اُس نے بیسیوں پولیس مقابلوں میں حصہ لیا اور درجنوں جرائم پیشہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔ دو دفعہ خود بھی گولی کا نشانہ بنا لیکن موت سے بچ نکلا۔ چھ فٹ قد اور جسامت کی سختی نے اُس کے اندر طاقت کا ایک احساس پیدا کر دیا تھا جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس نے صرف چھ ہی سال میں سب انسپیکڑ کا عہدہ حاصل کر لیا۔ سندھو کا تعلق ساہیوال ڈویزن کی ایگل فورس سے تھا لیکن پچھلے دوسال سے اُس کی تعیناتی سرگودھا ڈویزن میں تھی۔ اب جب کہ گرجی مہر نے بصیر پور کے حالات اس قدر خراب کر دیے تو ایس ایس پی اوکاڑہ نے اُسے سرگودھا ضلع سے طلب کر لیا۔ سندھو کی اس روز افزوں ترقی پر نہ صرف مجھے بلکہ تمام سکواڈ کو پرلے درجے کا حسد اور کینہ تھا۔ لیکن ہم اپنی پچھلے دو سال کی ناکامی اور خجالت کو کہاں لے جاتے، جس نے ہمیں شدید طریقے سے نہ کہ عملی طور پر بلکہ ذہنی شکست سے بھی دو چار کیا۔ اس لیے ہم سندھو کی اس عزت افزائی پر سوائے کُڑھنے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے اورخدا سے سچے دل سے دعا گو تھے کہ سندھو بھی کسی طرح ناکامی سے دوچار ہو۔ بہر حال ایس ایس پی چیمہ صاحب نے اُس کی تعیناتی بصیر پور میں فوری طور پر کر کے ضروری ہدایات جاری کر دیں اور میری ڈیوٹی اُس کے ساتھ لگا دی۔ عملی کاروائی کے لیے ہمیں جو علاقہ دیا گیا وہ بصیرپور سے لے کر سہاگ نہر، پھر وہاں سے دریا کو پار کر کے چک محمد پورہ سے ہوتے ہوئے باڈر تک چلا جاتا تھا۔ یہاں جنگلوں اور ویرانیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جہاں نہ آ سانی سے پولیس کی گاڑی جا سکتی ہے اور نہ دوسرے ذرائع ہی کام کرتے ہیں۔ اس لیے وہ پچھلے دو سال سے انہی علاقوں میں گھوم رہا تھا۔ میرا سابقہ ریکارڈ اس بات کا گواہ تھا کہ میں انتہائی متحمل مزاج اور سوچ سمجھ کر کارروائی کرنے کے ساتھ بہادر آدمی تھا۔ میرا خیال ہے، میرے بارے میں یہ بات اُس وقت بالکل صحیح ہے، جب میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں جبکہ سندھو کے ساتھ کام کرنے سے میری حیثیت دب جانے کا پورا امکان تھا کیونکہ مَیں بہر حال اُس جیسا مضبوط اعصاب کا مالک نہیں تھا۔ ایس پی صاحب نے انفارمیشن آلات سے لے کر ہتھیاروں تک کا تمام ضروری سامان ایگل فورس کے دستوں کے حوالے کر کے گرجی کو پکڑنے کے لیے دو ماہ کا وقت مقرر کر دیا۔ بہر حال میں اور سندھو سول کپڑوں میں اپنے علاقے کی چھان بین اور غیر متوقع کارروائی کے لیے کام کرنے لگے۔

 

یہ پورا علاقہ چونکہ بیلے، جنگل، نہریں اور چراگاہوں پر مشتمل ہے، اس لیے یہاں گائیں اور بھینسوں کی اس قدر کثرت ہے۔ لہذا ہم نے بھینسوں کے بیوپاری کا بھیس بدل لیا اور نئی 125 ہنڈا موٹر سائیکل پر جگہ جگہ کھوج مارنی شروع کر دی اور گرجی کے متعلق ہر قسم کی سُن گن لینے لگے۔ لباس کے لحاظ سے ہم مکمل دیہاتی اور بیوپاری نظر آتے تھے۔ مَیلے صافے، لنگی اور کُرتے پہنے، شیویں بڑھی ہوئی، ہاتھوں میں ڈنگوریاں پکڑی اور پاؤں میں مقامی موچی کے ہاتھوں تیار چمڑے کے جوتے۔ یوں پورا ڈیڑھ مہینہ ہم نے اس کام میں صرف کیا۔ اس دوران آٹھ بھینسیں بھی خرید کر آگے بیچ دیں۔ اس کام میں ہمیں واقعی اتنا منافع بھی ہو گیا کہ ایک دفعہ سندھونے مجھ سے مذاق میں کہا،کیوں نہ نوکری چھوڑ کر یہی کام کر لیں۔ سچ یہ ہے کہ اس ڈیڑھ مہینے میں ہمارا منافع چار تنخواہوں کے برابر نکل آیا۔

 

بہر حال وقت سمٹتا گیا اور ہم غیر محسوس طریقے سے اُن کے نزدیک ہوتے گئے۔ ہمارے پاس جو نقشہ تھا اُس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ علاقہ امیرا تیجے کا سے آگے نہر کی جھال کو عبور کر کے دریا کے ساتھ ساتھ جنگلوں کا تھا جہاں نہ تو پو لیس کی گاڑی جا سکتی تھی اور نہ آدم نہ آدم زاد۔ یہ تمام جگہ پانچ کلو میٹر مربع میں مکمل غیر آباد اور بارڈر تک چلی گئی ہے۔ ہم نے تین چار جگہ یہاں اپنے مورچے بنا لیے اور مسلسل رات چھپتے رہے۔ چھوٹی گنیں، پسٹل اور خنجروں کے علاوہ لوہے کی نوکیلی اور بھاری سلاخیں بھی ہمارے پاس تھیں۔ ہمیں پتا چلا، گرجی کسی بھی جگہ دو راتیں مسلسل نہیں گزارتا۔ متواتر ٹھکانا تبدیل کرتا ہے لیکن مطلوبہ علاقے میں کسی بھی جگہ مہینے میں ایک آدھ رات ضرور ٹھہرتا ہے۔ اس لیے ہم نے اسی خطے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا لیکن ہمارا اُس کا سامنا نہ ہو سکا۔ بات یہ تھی کہ وہ واردات کر نے کے بعد کم از کم دو تین مہینے روپوش ہو جاتا اور بالکل سامنے نہ آتا۔ لیکن ایک بات جو ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی، وہ یہ کہ اُسے ریڈیو پر بی بی سی کی خبریں سننے کا بہت شوق تھا اور لوگوں نے اُسے یہ کہتے سُنا، انشاء اللہ میرے قتل کی خبر بی بی سی پر چلے گی۔ لہذا ہم نے ایس ایس پی صاحب سے ریڈیو ریڈار سسٹم حاصل کر لیا اور ارد گرد کے پانچ کلو میٹر میں بی بی سی کی خبروں کے وقت ریڈیو کی لہریں کیچ کرنے لگے جس سے ہمیں اُس کی سمت اور فاصلے کا بھی پتا چلنے لگا۔ اس میں ہمارے ایک مخبر کا بہت زیادہ عمل دخل تھا جسے ہم نے زبردستی مخبر بنا لیا کیونکہ پچھلے دو مہینے کی محنت کے بعد اس بات کا پکا یقین ہو گیا کہ یہ شخص گرجی کا مخبر ہے اور اُسے علاقے کی صورت حال کے بارے میں مطلع کرتا ہے۔ جب زمین صاف دیکھتا ہے تو نئی کاروائی کا سگنل دے دیتا ہے۔ اس سلسلے میں بصیر پور کا ایک پی سی او والا بھی ملوث تھا جہاں سے یہ شخص گرجی کو فون کرتا۔ ہم نے یہ سارا کام نہایت خفیہ رکھا حتیٰ کہ اپنے تھانے اور ایس ایس پی تک کو بھی بتانا مناسب نہ سمجھا۔ ہم نے ان دونوں کو اغوا کر لیا اور اگلی کارروائی شروع کر دی۔ اس معاملے میں اگرچہ میں ساتھ تھا لیکن مجھے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہاں تک پہنچنے میں صرف اور صرف حمید سندھو کے دماغ کو دخل تھا لیکن اُس نے ہر قدم پر مجھے یہ باور کرایا کہ سب کچھ میری وجہ سے ٹھیک ہو رہا ہے اور میں اس کیس میں بہت اہم ثابت ہو رہا ہوں۔ میں تسلیم کرتا ہوں، یہ چیز اُس وقت میری ذات کو اور بھی پست کر رہی تھی اور میں لا شعوری طور پر اُس سے اتنا مرعوب ہو گیا کہ اُس کے کسی بھی حکم کی نافرمانی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ان دو مہینوں میں حمید سندھو نے میری ذات کو گویا ہپناٹائز کر دیا۔

 

یہ سردیوں کی ایک ٹھنڈی دوپہر تھی۔ دھند اتنی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم نے موٹر سائیکل چک لکھا کے قبرستان ہی میں رکھ دی کہ اُس کی آواز قرب و جوار میں دور تک جاتی۔ سراج دین عرف سراجے نے ہمیں بتایا، گرجی صبح چار بجے شاہد کے ساتھ دُلے کی بھینی پر پہنچا ہے۔ وہ ساری رات سفر میں رہا ہے اس لیے ابھی تک سویا ہو ا ہے۔ اگر ہم پیدل نہر کے ساتھ ساتھ جائیں تو ہمیں مشکل سے وہاں پہنچنے میں بیس منٹ لگیں گے۔ چنانچہ ٹھیک دو بجے ہم گرجی کے سر پر پہنچ گئے۔ وہ عک کے پودوں کے درمیان ایک پُرانی کوٹھڑی میں تھا جسے کسی زمانے میں کھوئے کی بھٹھیاں چلانے والوں نے بنایا تھا لیکن چار پانچ سال پہلے جو سیلاب آیا اُس میں یہ جگہ دریا کی لپیٹ میں آنے سے بے آباد ہو گئی، تب سے کسی نے اس پر توجہ نہ دی۔ بھٹھیاں تو بالکل ختم ہو گئیں لیکن یہ بے آباد کوٹھڑی پکی اینٹوں اور بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔ اس کے ارد گرد کیکروں کے بے شمار درخت بھی تھے۔ کوٹھڑی کا دروازہ اندر سے بند ہونے کی وجہ سے ہم اُنہیں دیکھ تو نہ سکے البتہ اُن کے موٹر سائیکل کے ٹائروں کے نشان واضع دکھائی دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ سانس لینے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ جب ہمیں ہر طرح سے یقین ہو گیا کہ وہ دونوں موٹر سائیکل سمیت اندر ہیں تو ہم ایکشن کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اب ہمارے سامنے دو ہی راستے تھے کہ باہر رُک کر اُن کا انتظار کیا جائے یا فوری حملہ کر دیا جائے۔ میری صلاح یہ تھی کہ پولیس کو اطلاع کر کے بلوا لیا جائے مگر سندھو نے اس بات کو سختی سے رد کر دیا اور فوری حملے کا پلان بنانے لگا۔ وہ موقعے کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ گرجی کا اس موسم سے فائدہ اُٹھا کر بھاگ نکلنے کا بہت اندیشہ تھا۔ دروازہ بہت حد تک بوسیدہ تھا اس لیے فیصلہ ہوا کہ زور کا دھکا دے کر اُسے گرا دیا جائے۔ سراجے کو ہم نے احتیاطاً ایک کیکر کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا تاکہ وقت پر دھوکا نہ دے سکے اور چار قدم پیچھے ہٹ کر پوری طاقت سے اپنے آپ کو دروازے سے ٹکرا دیا۔ دروازہ ایک دھماکے سے اپنے تختوں سمیت اندر جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے فائر کھول دیے۔ گولیاں اتنی تیزی اور شدت سے چلائیں کہ گرجی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا البتہ دونوں کی چیخیں ایک دو منٹ ضرور بلند ہوئیں۔ بھرپور فائرنگ کے بعد ہم نے دس منٹ تک انتظار کیا۔ جب کوئی حیل حجت نہ ہوئی تو حمید سندھو ٹارچ جلا کر کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ کمرے کا نقشہ ایک دم تلپٹ ہو چکا تھا۔ گرجی مہر چارپائی پر خون میں لت پت تھا جبکہ دوسری لاش دکھائی نہیں دی لیکن جیسے ہی دائیں طرف کے کونے میں لائٹ کی گئی تو ہمیں مٹی کی بنی ہوئی کُھرلی نظر آئی جو چھ فُٹ تک لمبی اور دو فٹ اونچی دیوار کے ساتھ بنی ہوئی تھی۔ وہاں شاہد خموشی سے زخمی حالت میں سُکڑا ہوا لیٹا تھا۔وہ اس قدر سہما اور ڈراتھا کہ مجھے اُس سے ایک دفعہ وحشت سی ہوئی۔ گولی اُس کے بائیں کاندھے پر لگی تھی جس سے خون رس رس کر کھرلی کی تہہ سے چپک رہا تھا۔ شاہد پر حمید کی نظر پڑی تو وہ ایک دم حیران رہا گیا۔ اس قدر خوبصورت لڑکا آج تک نظر سے نہیں گزرا تھا۔ اگرچہ وہ تکلیف سے کراہ رہا تھا اور چہرہ مسلسل سفید ہو رہا تھا لیکن اُس کی یہ حالت بھی اُس کی خوبصورتی میں کمی نہیں کر رہی تھی۔ سندھو کچھ لمحے اُسے دیکھتا رہا۔ پھر مَیں نے دیکھا، اچانک اُس کی آنکھوں میں ہوس تیرنے لگی۔ میں نے سندھوکی آنکھوں کی بدلتی کیفیت کو دیکھتے ہوئے فوراً کہا، سر اسے جلد یہاں سے اُٹھا کر ہاسپٹل پہنچانا چاہیے ورنہ لڑکا مر جائے گا لیکن اُس نے میری آواز کو گویا سُنا ہی نہیں اور مسلسل لڑکے کو جنسی بھیڑیے کی طرح گھورتا رہا۔ مجھے اس پورے منظر نامے سے ڈر لگنے لگا اور چاہتا تھا، کسی طرح سے لڑکے کو جلد یہاں سے نکال کر لے جاؤں۔ چند لمحوں کی شش و پنج کے بعد میں اُسے اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا تو سندھو نے مجھے خوفناک طریقے سے دیکھا۔ مجھے محسوس ہوا، اگر میں نے ذرا بھی زحمت کی تو یہ مجھے فائر مار دے گا۔ بالکل اُسی لمحے اُس نے مجھے دھکا دے کر کوٹھڑی سے باہر کر دیا اور تھوڑی دیر بعد لڑکے کی کراہوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ مَیں وہاں سے کھسک کر سراجے کے پاس آگیا تاکہ آواز میرے کانوں میں نہ پڑے اور گومگو کی اس حالت میں رہا کہ واقعے کے انجام تک پہنچنے کی خبر کے ساتھ لڑکے کی بابت پولیس کو مطلع کر دوں لیکن اُس وقت بزدلی نے مجھ پر ایسا شدید غلبہ کیاکہ مَیں کچھ بھی نہ کر سکا اور خاموشی سے بیٹھ گیا لیکن کمرے سے لڑکے کی آواز مزید بلند ہوتی گئی جس میں قیامت کا کرب تھاگویا کانوں کے پردے پھاڑ کر دل میں ضربیں لگا رہی ہو۔ اس حالت میں مَیں دماغ میں طرح طرح کے منصوبے بنا کر رد کرنے لگا۔ حتیٰ کہ اس عمل کو بیس منٹ سے زیادہ ہو گئے۔ یہ حالت میرے لیے نحوست کو بڑھا دینے والی تھی اور کراہت پیدا کر دینے کے ساتھ ایک ایک لمحہ صدیوں پر بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ غصے اور کراہت نے مجھ پر ایسا اُکتا دینے والا جذبہ پیدا کیا، مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی مر جاؤں گا۔ جس سے بچنے کے لیے میں نے نہایت غیر اضطراری طور پر اپنی رائفل کی نال کیکر سے بندھے سراجے کی طرف کر کے فائر کھول دیا۔ اگرچہ وہ پل بھر میں ڈھیر ہو گیا لیکن میں نے بار بار اپنی میگزین گولیوں سے بھر کر اُس پر خالی کی۔ گویا میں اپنی فطری بُزدلی کا حساب چکا رہا تھا۔ اس عمل کے کچھ ہی دیر بعد جس میں مجھے لڑکے کی کراہیں سننی بند ہو گئیں، حمید سندھو باہر آیا تو میں بھاگ کر کوٹھڑی میں داخل ہو گیا۔ لڑکے کا جسم بالکل برہنہ اور قریباً زرد ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ننگے جسم پر بے شمار نیل پڑ گئے۔ نبض کی رفتار تیزی سے سست ہو رہی تھی۔ مَیں نے جلدی سے اُس کا پاجامہ اوپر کر کے اُسے کاندھوں پر اُٹھا لیا لیکن اب سب کچھ فضول تھا۔ جسم سے خون اتنا بہہ چکا تھا کہ اُس کے بچنے کی امید صفر تھی۔ شاید اس بات کو حمید سندھو نے بھی محسوس کر لیاتھا اس لیے اب اُس نے مجھ سے مزاحمت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
پولیس آئی تو ہر طرف سکون ہو چکا تھا۔ پولیس نے تینوں کی لاشیں وین میں رکھیں اور چل دی۔

 

میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا ہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آ گیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔
Categories
شاعری

ہجومِ گریہ

نظم کا عنوان: ہجومِ گریہ
شاعر: علی اکبر ناطق

 

ہمیں بھی رو لے ہجومِ گریہ کہ پھر نہ آئیں گے غم کے موسم
ہمیں بھی رو لے کہ ہم رہے ہیں
جو آفتابوں کی بستیوں سے سراغ لائے تھے ان سویروں کا جن کو شبنم کے پہلے قطروں نے غسل بخشا
سفید رنگوں سے نورِ معنی نکال لیتے تھے اور چاندی اجالتے تھے
شفق پہ ٹھہرے سنہرے بادل سے زرد سونے کو ڈھالتے تھے
خنک ہواؤں میں خوشبوؤں کو ملا کے ان کو اڑانے والے
صبا کی پرتوں پہ شعر لکھ کر عدم کی شکلیں بنانے والے
دماغ رکھتے تھے لفظ و معنی کا اور دست ہنر کے مالک
وقار نور چراغ ہم تھے
ہمیں بھی رو لے ہجومِ گریہ
ہمیں بھی رو لے کہ ہم وہی ہیں
جو تیز آندھی میں صاف چہروں کو دیکھ لیتے تھے اور سانسوں کو بھانپتے تھے
فلک نشینوں سے گفتگوئیں تھیں اور پریوں سے کھیلتے تھے
کریم لوگوں کی صحبتوں میں کشادہ کوئے سخا کو دیکھا
کبھی نہ روکا تھا ہم کو سورج کے چوبداروں نے قصر بیضا کے داخلے سے
وہی تو ہم ہیں
وہی تو ہم ہیں جو لٹ چکے ہیں حفیظ راہوں پہ لٹنے والے
اسی فلک کی سیہ زمیں پر جہاں پہ لرزاں ہیں شور نالہ سے عادلوں کی سنہری کڑیاں
ہمیں بھی رو لے ہجومِ گریہ
ہمیں بھی رو لے کہ ان دنوں میں ہماری پشتوں پہ بار ہوتا ہے زخم تازہ کے سرخ پھولوں
کا اور گردن میں سرد آہن کی کہنہ لڑیاں
ہماری ضد میں سفید ناخن قلم بنانے میں دست قاتل کا ساتھ دیتے ہیں اور نیزے اچھالتے ہیں
ہوا کی لہروں نے ریگ صحرا کی تیز دھاروں سے رشتے جوڑے
شریر ہاتھوں سے کنکروں کی سیاہ بارش کے رابطے ہیں
ہماری ضد میں ہی ملکوں ملکوں کے شہر یاروں نے عہد باندھے
یہی کہ ہم کو دھوئیں سے باندھیں اور اب دھوئیں سے بندھے ہوئے ہیں

 

سو ہم پہ رونے کے نوحہ کرنے کے دن یہی ہیں ہجومِ گریہ
کہ مستعد ہیں ہمارے ماتم کو گہرے سایوں کی سرد شامیں
خزاں رسیدہ طویل شامیں
ہمیں بھی رو لے ہجومِ گریہ کہ پھر نہ آئیں گے غم کے موسم

Image: Hero Mourning the Dead Leander by Domenico Fetti

لالٹین پر یہ سلسلہ ‘نظم نماء’ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔
Categories
شاعری

مرے کچی رہ کے مسافرا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

مرے کچی رہ کے مسافرا

[/vc_column_text][vc_column_text]

مرے کچی رہ کے مسافرا
ترے دست و پا کو سلامتی
ترے جان و دل کو امان ہو
تری چرمِ نرم کی چھاگلیں ہرے پانیوں سے بھری رہیں
ترے راستوں کا غبار اَوس کی بارشوں سے جما رہے
ترے اُونٹ کے کھرے پیتلوں کی وہ گھنٹیاں
جنہیں گیت گانے سے کام ہے
جنہیں ہر قدم پہ سماعتوں سے کلام ہے
وہ صدائے نغمہ سے پُر رہیں

 

سرِ شام زردِ غروب میں چھُپے پنچھیوں کے نظارا بیں
بھرے بادلوں میں لہو پھری گھنی سُرخیوں کے مزاج داں
شفق آئینوں کی حجابیوں کے طلسم کھولتے سامری
تُو سرائے ابر عبور کر، پرِ نیلگوں سے خراج لے
تجھے منزلوں کی ہوا لگے
تجھے پربتوں کا خدا ملے
وہ خدا کہ جس کا نزول ہے بُتِ جاں کے حرف و کلام میں
وہ کلام ضامنِ رہروی جو سنائے نغمہء سرمدی
جو بجائے باجہء دلبری

 

مرے کچی رہ کے مسافرا
تری خورجیں میں بھری ہوئی ہیں حیاتِ سُرخ کی نیکیاں
ترے بازوؤں سے بندھی ہوئی ہیں ستونِ عرش کی ڈروریاں
رگِ پا کے زخم سنوارتی ہیں جہانِ قاف کی باندیاں
کسی بے نشان سرائے پر تجھے عیب وقفہ قیام کا
مرے کچی رہ کے مسافرا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

سُر منڈل کا راجا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

سُر منڈل کا راجا

[/vc_column_text][vc_column_text]

پتلے کانچ کی دیواروں پر بُن کر رات کے جالے
ٹھنڈے دلوں کے گاڑھے لہو پر پڑھ کر منتر کالے
میں جادوکے دیس چلا ہوں ،جس کے پار اُجالے
نیل سرا میں کھو جائیں گے مجھ کو ڈھونڈنے والے

 

چھونے والے پاس آئے تو پاس نہ آنے دوں گا
سِحر نگر میں پری محلہ ، پریوں پاس رہوں گا

 

آنکھ ہوا کی بھر آئے گی دھندلائیں گے تارے
راہِ سفر میں جاگ اُٹھیں گے ٹھہری نیند کے مارے
تیز اڑے گی جیت ہماری ،اُونگھنے والے ہارے
چھن چھن چھاجا چھنکائیں گے چھُپ بیٹھے ہنکارے

 

پورب پنچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا
نام ہمارے بجوائے گا سُرمنڈل کا راجا

 

آخری پربت کی برفوں پر پھول ازل کا نیلا
آب حیات رگوں میں جاری لیکن چہرہ پیلا
مُلک سراب کی جادو گرنی اور جادو کا ٹیلا
جوں جوں پربت پھیلتا جائے توں توں ماتھا گیلا
ڈوبنے والے نام پکاریں لیکن میں شرمیلا
آخر کھینچ لیا منتر نے، ایک چلا نہ حیلہ

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
Image: M. F. Hussein

Categories
شاعری

سُنو، زندہ گاوں کی بالیو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

سُنو، زندہ گاوں کی بالیو

[/vc_column_text][vc_column_text]

سُنو، زندہ گاوں کی بالیو
مرے چاند پانی میں جا گرے

 

چلی تہہ میں لَو کی نفیرنی
لگی کرنیں روح کی ڈولنے
اُنہیں ڈوبنے سے بچائے کون
اُنہیں ڈولنے سے ہٹائے کون

 

دُھلی دُھوپ دیس کی دیویو
کلی چھوئی موئی کنواریو
مرا ہاتھ ہکلے سنبھالیو
مَیں اُترنے والا ہوں تال میں
کھَرے آسماں کے شوال میں
نِرے نیل بن کے زوال میں
مرے چاند پانی میں جا گرے

 

مَیں اُٹھا لوں اُن کو شتاب سے
ٹھَرے پانیوں کی کتاب سے

 

ہرے گاوں والی ندانیو
کھِلے جوبنے کی سیانیو
یہیں پاس رکھ دو یہ گاگریں
بھری چاندنی کی یہ چھاگلیں
ذرا ہاتھ پہلو میں ڈالیو
مجھے ہولے ہولے سنبھالیو

 

اَری گھگرے اپنے بچائے کے
گجر جھانجروں کے بجائے کے
مری ناریو
گھنی روشنی میں اُتاریو
کرو حوصلے سے جُدا مجھے
مَیں اُٹھا لوں اُن کو خدا کرے
مرے چاند پانی میں جا گرے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]