Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(51)

یہ انیس سو پچھتر کے دسمبر کا آغاز تھا اور ملک کو وجود میں آئے اٹھائیس سال ہو گئے تھے۔ اِس عرصے میں ولیم مقامی لوگوں میں اِس طرح گھل مل گیا کہ رنگ اور آنکھوں کے سوا اُس میں ولائتیوں کی کوئی حرکت نہ رہی۔ اردو پہلے بھی روانی سے بول لیتا تھا،اب پنجابی میں بھی خاصا ہاتھ صاف کر لیتا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مرغے لڑانے،کبڈی کروانے اور قصے کہانیاں سننے کا شوق حدسے آگے نکل گیا۔ آئے دن نولکھی کوٹھی پر محفلیں جمنے لگیں۔ ولیم کے جاننے والے عشا کے بعد جمع ہو جاتے۔ کوئی نہ کوئی کہانی کہتا،جس میں رات کے گیارہ بج جاتے۔ محفل کے بعد ولیم کی طرف سے سب کو کبھی کھانا کھلایا جاتا اور کبھی صرف چائے پلائی جاتی۔ سب جانتے تھے،اُس کے پاس پیسے بہت زیادہ ہیں۔ اِس لیے وہ اُس کا احترام بھی ویسے ہی کرتے۔ مگر یہ سب لوگ غریب غربا اورمزارع قسم کے تھے۔ بیورو کریسی اور اُمرا کو ولیم نے بالکل نظر انداز کر دیا۔ بلکہ اُن کو اب ولیم کے بارے میں پتا بھی نہیں تھا کہ ایسا کوئی انگریز بھی یہاں موجود ہے۔ اِس معاملے میں اشرافیہ تو ایک طرف،مدت ہوئی،اُس کے اپنے بیوی بچوں نے بھی اُسے بالکل بھلا دیا تھا۔ پہلے پہل اُنہوں نے دو تین چکر لگائے اور ولیم کو بھی سرسری انگلستان جانے کا مشورہ دیا لیکن جب ولیم نے سختی سے اِس بات کو رد کر دیا تو وہ بھی آہستہ آہستہ اُسے بھولنے لگے اور اب نوبت یہاں تک آگئی کہ ولیم کے خطوں کا جواب بھی نہیں دیتے تھے۔ ایک آدھ بارجواب دیا بھی،تو وہ ایک دو سطر میں ایسا سرسری تھا،جسے خط کے نام پر مذاق کہہ لینا چاہیے۔ اُس کے بعد مکمل خا موشی طاری ہو گئی تھی۔ اُنہوں نے گھر بدل لیا تھا تو اُس کا پتا بھی نہیں بتایا اور پچھلے چھ سال سے ولیم کے کسی خط کا جواب بھی نہ دیا،نہ ٹیلی فون ہی کیا۔ بہت سے پرانے دوستوں کی وساطت سے ولیم نے اُن کا پتا بھی کرایا مگر کچھ خبر نہ ملی۔ ویسے بھی دوستوں نے اِس بارے میں زیادہ کھوج لگانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ولیم نے اُنہیں زیادہ تنگ کیا۔ کیونکہ اب یہ بھی اُن کے بغیر اِس طرح رہنے کا عادی ہو چکا تھا،جیسے اُس کا کوئی رشتے دارتھا ہی نہیں۔ ایسی بات نہیں تھی کہ اُسے اپنے رشتوں کا احساس نہیں تھا۔ شروع شروع میں جب اُس کے بیوی بچے گئے،تو وہ کئی سال مضطرب رہا اور بہت دفعہ،جب بھی اُنہیں ضرورت پڑی،ولیم نے اپنی بچی کھچی پونجی سے رقم بھیجنے میں تامل نہ کیا اور رشتوں کا درد رکھے رکھا۔ مگر اب اُس کے ہاتھ سے سارے رشتے ہی نکل چکے تھے،تووہ کیا کرتا۔ مچلز والے ابھی موجود تھے،جن کے ساتھ سلام دعا چل رہی تھی۔ لیکن وہ بھی لندن او ر اوکاڑہ کے درمیان معلق رہتے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ اِس آنے جانے میں اُنہوں نے اپنے رئیسانہ ٹھاٹھ کو برقراررکھا اور ولیم سے بہت زیادہ مختلف ہو چکے تھے۔ یا کہہ لیں کہ ولیم ہی اُن سے مختلف ہو گیا تھا۔ اِس لیے اُن کے اندر بھی اب دبی دبی سرد مہری موجود تھی،جسے ولیم نے بہت دیر پہلے بھانپ لیا تھا۔ مگر وہ شاید اُن میں گزری نشانیوں کے ریزے تلاش کرنے کے لیے تعلق کو ٹوٹنے نہیں دے رہا تھا اوربرابر وہاں پھیرا لگایا کرتا۔ بلکہ اُس وقت بھی،جب وہ لندن میں موجود ہوتے۔

زمانے کے گزرتے ماہ سال میں ولیم کو اِس پورے نقصان پر تاسف تو ہوا لیکن وہ اُس کو قبول کر چکا تھا۔ چنانچہ ایک عرصے سے اُس نے بھی اُنہیں یاد کرنا چھوڑ دیا۔ اگر یاد آتے بھی تو طبیعت کو جلد کسی اور طرف مائل کر کے مصروف ہو جاتا۔ زیادہ تر انگریزی ناولیں اور انگریزی شاعری کی کتابیں پڑھنے میں لگا رہتا،جو سینکڑوں کے حساب سے اُس کی کوٹھی میں موجود تھیں۔ اُن کے خریدنے میں اُس نے ایک خطیر رقم خرچ کی تھی۔ کتاب خوانی کے علاوہ قصہ سننے کی لت اُسے شدت سے لگ چکی تھی،جس کے لیے وہ عصر سے ہی تیاری کر نا شروع کر دیتا۔

اکثر ہاتھ میں چھڑی تھامے سرپر ہیٹ رکھے پیدل ہی نکل پڑتااور اِدھر اُدھر پھرتا رہتا۔ زیادہ تر کمپنی باغ اوکاڑہ میں،جو اُسی کی تجویز پر بنا تھا۔ کبھی دس کلومیٹر طے کر کے نہری کوٹھی چلا جاتا یاکسی اور جگہ۔ مگر زیادہ تر اُس کا سفر لمبا نہیں ہوتا تھا۔ اِسی طرح دیسی لوگوں کے ساتھ چلتے چلتے بات چیت کر لیتا۔ بگھی،ٹانگے پر ہوتا تو ایک آدھ سواری بھی ساتھ بٹھا لیتا۔ کافی عرصہ پہلے زمین پر سے اُس کا قبضہ اُٹھ گیا تھا۔ جب وہ باقاعدہ آہستہ آہستہ کر کے چند ہی سالوں میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسروں کے نام الاٹ ہوگئی۔ اِس لیے جو پیسہ ہاتھ میں تھا،وہ رفتہ رفتہ کنارے لگنے لگا۔ ولیم کو اب اُس کی زیادہ پروا بھی نہیں تھی۔ کیونکہ کوٹھی ابھی تک اُس کے پاس تھی اور آٹھ دس سال تک مزید ساتھ دینے والا پیسہ بھی تھا۔ اِس لیے بھی اُسے کوئی فکر نہیں تھی کہ دیسی لوگوں کی طرح اُس کے دس دس بچے نہیں تھے۔ اُس نے رینالہ،اوکاڑہ،گوگیرہ اور اُن کے مضافات میں اِس طرح اپنے آپ کو گم کر لیا،جیسے یہ سب علاقے اُس کی ملکیت ہوں۔ حالانکہ اب تمام زمینیں اور فارم ملٹری نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے،جو تقسیم سے پہلے گوروں کی ملکیت تھے۔ ولیم نے کئی طرح سے اثر رسوخ اختیار کر کے نولکھی کوٹھی پر اپنا قبضہ بر قرار ہی رکھا اور کچھ روپے سا لا نہ کے حساب سے اُس کا کرایہ اداکرتا رہا۔ جب اُس کی زمینوں پر قبضہ ہوا تھا تو وقتی طور پر ولیم انگلستان چلا گیا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد واپس آگیا تھااور نولکھی کوٹھی میں بطور کرایہ دار براجمان رہا۔ ویسے بھی یہ کوٹھی ایک جرنیل کے نام لیز پر تھی،جس میں اُسے رہنا تو نہیں تھا کیونکہ نہ تو یہ کوٹھی کسی بڑے شہر میں تھی اور نہ ہی اوکاڑہ شہر کے درمیان میں تھی۔ اوکاڑہ کے شمال مشرق میں نہر کے دوسری طرف تین کلومیٹر باہر تھی،جس میں کسی مقامی کو رہنے کی کیا ضرورت تھی،جبکہ ولیم اِس کا کرایہ بھی زیادہ دینے کو تیار تھا اور پچھلے کئی سال سے دیتا بھی رہا تھا۔ اِس لیے اُس کا یہ مسکن بر قرار رہا۔

کچھ دنوں سے اُس کی طبیعت میں ایک بے چینی پھر داخل ہو رہی تھی۔ وہ کون سی بات تھی،جس کے باعث یہ کیفیت تھی۔ اس بارے میں ابھی وہ خود بھی لا علم تھا۔ ایک شام اِسی طرح سب جمع تھے اورمیاں محبوب علی خاص لاہورسے داستان کہنے کے لیے آئے ہوئے تھے،جو پہلے بھی کئی دفعہ آ چکے تھے۔ کوٹھی کے دالان میں ولیم کی کرسی کے سامنے پہلے آٹھ دس کرسیاں اور اُس کے آگے تین تین چار پا ئیاں دو طرفہ لگی ہوئی تھیں،جن کے درمیان چھ فٹ کی کھلی جگہ تھی۔ ولیم کی کرسی سے آخری چار پائی تک کم از کم دس قدم کا فاصلہ تھا۔ اِس طرح کہ داستان گو موقع کے مطابق بیچ میں چہل قدمی کر سکے۔ جیسا کہ اکثر پنجابی داستان گو مجمعے کے بیچ چل پھر کر اور اداکاری کر کے کہانی سناتے ہوئے،بیچ میں کہیں کہیں لوک بولیوں،دوہروں اور ماہیوں کے ٹانکے لگاتے جاتے ہیں۔ اِس سے کہانی کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ ولیم کے ہاں اکثرکہانی کہنے والے پنجابی ہوتے تھے۔ اِس لیے اُس نے کوٹھی کے دالان میں بیٹھنے کی شکل اسی صورت میں ڈھال رکھی تھی۔ میاں محبوب علی در اصل نواب مظفر علی قزلباش کا ذاتی داستان گو تھا،جو ولیم کے اُن دِنوں کا دوست تھا،جب وہ ڈپٹی کمشنر تھا۔ اِسی دوستی کو وہ آج تک نبھائے چلا آ رہا تھا۔ یہ سردیوں کی رات تھی اورآٹھ بج چکے تھے۔ محبوب علی داستان شروع کرنے ہی والے تھے کہ چوہدری شفیع محمد بھی آن بیٹھا،جس کے ساتھ سترسال کا ایک بڈھا تھا۔ شفیع محمدکی ستگھرہ موڑ پردو مربعے زمین تھی اور ولیم کے ساتھ اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔ ولیم جب بھی سیرکو نکلتا،اکثر چوہدری شفیع محمد کے پاس جا بیٹھتا۔ اِس طرح شفیع محمد بھی اُس کے حاضر باشوں میں تھا اوریہ رشتہ برابری کی سطح پر ہی قائم تھا۔ آج شفیع محمد کے ساتھ یہ بڈھا البتہ نیا تھا۔ اُس کے سر پر سفید پگڑی تھی اور سفید ہی کھدر کا دُھوتی اورکُرتہ تھا۔ پاؤں میں چمڑے کے دیسی جوتے تھے،جس کو خریدے ہوئے غالباً کئی سال گزر چکے تھے۔

سلام دعا کے بعد سب بیٹھ گئے تو چوہدری شفیع نے ولیم سے مخاطب ہو کر کہا،صاحب بہادر،یہ امیر سبحانی ہے۔ آج ہی حویلی لکھا سے آیا ہے۔ میں کل وہاں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا۔ وہیں اپنے بہنوئی کے ہاں میری اِس سے ملاقات ہوئی۔ بہت عمدہ داستان کہتا ہے۔ جب میں نے اِس سے وہاں داستان سنی تو اِس کا شیدائی ہو گیا اورمنت کی کہ میرے ساتھ ایک دو دن اوکاڑہ چل۔ امیر سبحانی اُجاڑے سے پہلے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں رہتا تھا۔ اِس لحاظ سے میں نے سوچا،اِسے آپ سے ملانا اچھا رہے گا۔ کیونکہ آپ بھی کافی عرصہ جلال آباد میں رہے ہیں اوراُسے یاد بھی کرتے ہیں۔ یہ آپ کا ہم وطن بھی ہے اور داستان تو یہ ایسی کہتا ہے کہ ساری رات گزر جائے گی۔ مگر آپ کا جی چاہے گا،سنتے جائیں۔

شفیع محمد تعارف کرا چکا تو ولیم نے ایک نظر بھر کر امیر سبحانی کی طرف دیکھا،گویا وہ آئینہ ہو،جس میں ولیم اپنے ماضی کا چہرہ دیکھ رہاتھا۔ دل ہی دل میں ولیم نے پوری کائنات کی خاموشی سمیٹ کر اپنے اندر بھر لی اور چند لمحے اُسی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ لوگوں نے اُسے حقہ پیش کیا اور بیٹھنے کے لیے سامنے کی ایک کرسی خالی کر دی۔ اتنے میں ولیم اپنی سابقہ حالت میں لوٹ چکا تھا۔ اُس نے پورے مجمعے کی طرف دیکھا اور کہا،کوئی بات نہیں۔ چلو آج ہم امیر سبحانی سے سن لیتے ہیں۔ محبوب علی تو ایک دو دن ابھی یہاں ہی ہیں۔ کیوں امیر سبحانی ہمیں سناؤ گے؟

جیسی آپ کی رائے،(اور سوالیہ انداز میں چوہدر ی شفیع کی طرف دیکھا)

اُس نے کہا،بھائی امیر آپ کو لایا کس لیے ہوں؟یہ صاحب ہمارے لیے بڑالاڈلا ہے۔ آج اِسے ایسی داستان سناؤ کہ خوش ہو جائے۔
چوہدری صاحب کوشش کرتا ہوں۔ اِس کے بعد امیر سبحانی نے حقے کے دو چار لمبے لمبے تیز کش لیے،پھر اُٹھ کے چارپائیوں اورکرسیوں کے درمیان والی راہداری میں کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ بھر کا کڑھا ہوا رومال گلابی رنگ کا،جیب سے نکال کرہاتھ میں پکر لیا،جو داستان گووں کی تسکین کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ امیر سبحانی نے رومال کے چاروں کونے اکٹھے کر کے مٹھی میں دبا لیے اور ولیم کی طرف منہ کرکے بولا،صاحب اجازت ہے تو عرض کروں؟ پھر داستان شروع کر دی اور ہلکے ہلکے قدموں سے آگے پیچھے چلنے بھی لگا۔

اول حمد خدا وند باری، دوم پاک رسول
تیجا نام علی کاجاپوں،جس کی دو جگ دھوم
چوتھی پاک رسول کی بیٹی پانچواں حسن حسین
اِن کے بعد ہیں بارہ ہادی سید کُل کونین
غازی پاک عباس بہادر،لے کر اُس کا نام
قصہ ایک دلاور کا مَیں تم کو سناؤں تمام

امیر سبحانی تمہید کے بعد اصلی داستان کی طر ف اس طرح پلٹا کہ اچانک ولیم سمیت پورا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا اورکہانی سننے کے ساتھ ساتھ امیر سبحانی کی حرکات و سکنات کو بھی غورسے دیکھنے لگا۔

آنکھوں دیکھا حال ہے،نہیں سُنی گنی یہ بات
سب سچ کہانی بیلیوں،شاہد رب کی ذات
اک شہرجلال آباد تھا،اُس مشرق کے پنجاب
جسے چھوڑا وِچ فساد میں،سنو مرے احباب
اُس شہرجلال آبادمیں،تھا ایک جوان دلیر
بیٹا حیدرشیر کا تھا،دھرتی کا وہ شیر
نام غلام حیدر اُس کا،جانے سب سنسار
ہوا شہید وہ سورما،پَر دیے گورکھے مار

اِس کے بعد جیسے ہی امیر سبحانی نے داستان کا قد غلام حیدر کے ذکر کے ساتھ آگے بڑھایا اور قصے کی رمزیں کُھلنا شروع ہوئیں،ولیم کی آنکھیں کُھلنے لگیں۔ امیر سبحانی کی آواز میں ایسی تمکنت اور داستان کہنے میں ایسی دلآویزی تھی کہ سب مجمعے کے سروں پر گویا پرندے بیٹھے ہوں۔ مجال ہے،کسی کا دھیان ادھر اُدھر بھٹک جائے۔ ولیم کا معاملہ کچھ آگے کا تھا۔ جیسے جیسے داستان آگے بڑھ رہی تھی،اُس کی یاد داشت کے دریچوں کے پٹ ایک ایک کر کے وا ہوتے جا رہے تھے۔ اُسے یوں لگ رہا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن چکا ہے۔ امیر سبحانی چارپائیوں کے درمیان کی راہداری میں ایک ہاتھ میں جریب پکڑے،کبھی آگے اور کبھی پیچھے چلتا اور غلام حیدر کا قصہ نظم کی شکل میں بیچ بیچ نثرکے ٹوٹے جما کر یوں اُٹھاتا،جیسے آئتوں کے درمیان تفسیر کی وضاحتیں ہوں۔ اِس طرح کہانی میں ایک تو تا ثیر بڑھ جاتی تھی،دوسرا سمجھنے میں آسانی رہتی۔ کہانی کے اِس انداز سے یوں تو سارا مجمع ہی کہانی سننے کی بجائے دیکھ رہا تھا۔ مگر ولیم توگویا پچھلے زمانے میں پہنچ گیا تھااورنہیں چاہتا تھا کہ یہ قصہ ختم ہو۔ اُس کے لیے چالیس سال بعد یہ ایک ایسا منظر تھا،جو اگر نہ آتا تو شاید ولیم کی زندگی میں ایک ایسا خلا رہ جاتا،جو نہ تو کبھی پُر ہوتا اور نہ ہی ولیم کو پتا چلتا،وہ کون سا خلا ہے؟ داستان آگے بڑھتی گئی۔ سب سنتے گئے اور ولیم اُس کے ایک ایک منظر میں کھوتا گیا۔ حتیٰ کہ رات گیارہ بجے امیر سبحانی نے داستان دوسرے دن عشا کے وقت تک روک دی۔ اِس کے بعد سب مہمانوں کو کھانا پیش کیا گیا۔ کھاناکھا کر سب رخصت ہو گئے اور امیر سبحانی چوہدری شفیع کے ساتھ ٹانگے پر بیٹھ کر چلا گیا۔

لوگ تو داستان سن کر چلے گئے مگر ولیم کی رات سو سال کی ہو گئی۔ امیر سبحانی نے داستان شروع نہیں کی تھی،ولیم کی زندگی کا افسانہ چھیڑ دیا تھا۔ اگرچہ ِاس میں اُس کا اپنا ذکر تین چاردفعہ ہی آیا تھا۔ وہ بھی غلام حیدر کے ضمن میں مبالغے کے ساتھ،۔ مگر یہ مبالغہ بھی ولیم کو اچھا لگا۔ بلکہ عین سچ لگا اوروہ چاہ رہا تھا،یہ کہانی کبھی ختم نہ ہو۔ اِنہی سوچوں میں ولیم کی ساری رات نکل گئی اور اُس کی آنکھیں گویا یاقوت ہو گئیں۔ کبھی اُٹھ کے ٹہلنے لگتا،کبھی بستر پر جا پڑتا۔ حتیٰ کہ فجر کی اذان نے صبح کی سواری کا نقارہ بجا دیا۔ رات بھر ولیم کے دماغ میں جودھا پور،جھنڈو والا،غلام حیدراورجلال آباد کے مضافات کا وہ علاقہ پھرتا رہا،جہاں اُس نے اُن دنوں دورہ کیا تھا۔ وہ رہ رہ کر اُنہی مضافات میں چلا جاتا اور تڑپ تڑپ کے رہ جاتا۔ کہانی ابھی تک وہاں تک پہنچی تھی،جب غلام حیدرفیروز پور میں شیخ مبارک کے پاس ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بندوبست میں گیا تھا۔ لیکن وہ دلچپ اِتنی تھی کہ ولیم کو اپنے ساتھ غلام حیدر کے کردار سے بھی شدید دلچسپی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہو گیا کہ آخر اُس کے ساتھ کیا بنی؟ دن چڑھا تو اُس نے بادامی رنگ کی بید پکڑی اور سیر کو نکل کھڑا ہوا۔ یہ سیر اُن زمینوں اور باغوں کی تھی،جو اب اُس کی ملکیت میں نہیں تھیں۔ اُس کی عمر اتنی لمبی سیر کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔ پھر بھی وہ جوانوں سے کہیں زیادہ پھرتیلا اور پیدل چلنے والا تھا۔ وہ دوبارہ شام ہونے اور کہانی کے شروع ہونے کے انتظار میں کُڑھنے لگا اور خدا خدا کر کے پھر عشا کا وقت ہو گیا اور ولیم کی کوٹھی میں داستان کے پالان لگ گئے۔

یہ محفل دس دن بر پا رہی۔ امیر سبحانی نے اِس طرح اُس میں رنگ بھرا کہ محبوب علی بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ہر آدمی عش عش کر اُٹھا اور سب نے اُسے کچھ نہ کچھ ضرور دیا۔ ولیم نے دس ہزار روپے کے ساتھ کئی تحفے بھی دیے۔ اتنی بڑی رقم امیر سبحانی نے کبھی ایک دم نہیں دیکھی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں ولیم کے لیے تشکر کے آنسو آگئے۔ اب چونکہ ہر شخص پر کھل گیا تھا کہ جلال آباد کا اُس وقت کا اسسٹنٹ کمشنر ولیم تھا،اور یہ کہ ُاس نے غلام حیدر کے ساتھ زیادہ سخت رویہ اختیار بھی نہیں کیا تھا۔ اِس کے علاوہ یہ اِس داستان میں ایک بڑے متحرک کردار کی شکل میں سامنے رہا ہے اور سکھوں کی بانسری بجانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اِس لیے وہ سب ولیم کی محبت میں اور زیادہ مانوس ہو گئے۔ لیکن ولیم کہانی سننے کے بعد مزید اُداس رہنے لگا۔ اُسے وہ بھولی ہوئی تمام شامیں اور اُن شاموں میں جلنے والے قمقمے یاد آنے لگے،جو کسی بھی طرح سے خوش گوار تھے۔ اِس منظر میں اُسے پھر کیتھی اور بچوں کی یادیں ستانے لگیں،جو اگر چہ اب بچے نہ رہے تھے لیکن ولیم نے اُنہیں جس قدوقامت میں چھوڑا تھا،وہ اُسے اُسی قامت میں دِکھنے لگے اور مسلسل تڑپانے لگے۔ مگر اب اُن کا کوئی پتا نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،اگر ایک بار اُسے خط آ جائے تو وہ اُن سے ملنے کے لیے لندن ضرور جائے گا۔ وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا اور خط لکھنے لگا۔

بیڈ روم کی تمام چیزیں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ بلکہ کئی چیزیں تو استعمال کے قابل بھی نہیں رہی تھیں اور اُس نے نئی چیزیں نہ خریدنے کی قسم کھا لی تھی۔ کوٹھی بھی ولیم کی طرح بوسیدہ ہو چکی تھی۔ پھر بھی کوئی چیز اِس تنہائی میں دل کو سکون اور اطمنان بخشنے والی تھی،تو وہ یہی کوٹھی تھی،جو اُس کی اپنی تھی۔ ولیم نے کیتھی اور بچوں کو تسلی سے بیٹھ کر دوبارہ خط لکھا اور خود جا کر اوکاڑہ کچہری بازارکے تار گھر سے تار کیا۔ لیکن اُس کا کبھی جواب نہ آیا اور دن مزید گزرتے گئے۔ ولیم آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید امیر سبحانی سے کہانی سننے کے بعد وہ جلد بوڑھا ہونے لگا تھا۔ اُ س نے سوچا،کاش اُس کی امیر سبحانی سے ملا قات ہی نہ ہوتی اور وہ اتنا جلدی بوڑھا نہ ہوتا۔ یہ اُداسی کی حالت ولیم پر کئی مہینوں تک جاری رہی۔ سردیاں گزر گئیں،بہار نکل گئی،گرمیاں چلی گئیں،پھر سردیاں آگئیں۔ اِن بدلتے مہ و سال کے فاصلوں سے اُس کے زخم بھرنے لگے اور دو سال بعد اُس کی حالت پھر معمول پر آگئی۔ لیکن اب اُس کی شاہ خرچیاں ختم ہو گئی تھیں۔ کیونکہ جمع پونجی قریب قریب ٹھکانے لگ چکی تھی اور اُس کی زندگی کے شب و روز ارد گرد کے علاقوں میں گھومتے ہوئے،اُفق کی طرف جلدی سے سمٹتے جارہے تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – ستائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(46)

الیکشن میں دو ہفتے باقی تھے۔ کمپین کے لیے جلسے اور جلوس زوروں پر تھے۔ اِن جلسوں میں کانگرس اور یونینسٹ پارٹی کے اُمیدوار بھی کہیں کہیں تقریریں کرتے اور ووٹ مانگتے نظر آ رہے تھے۔ لیکن اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ غلام حیدر کے بندے اِس طرح سارے علاقے میں پھیل چکے تھے کہ اُن بچاروں کو جلسہ کرنے کی جگہ بھی نہیں ملتی تھی۔ جانی چھینبا اور امانت خاں نے بہت جگہ پر ڈانگ سوٹا چلا کر اُنہیں منتشر ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا،وہ بِدک گئے اور اِن کے سامنے آنے سے گریز کرنے لگے۔ خوش قسمتی سے اُسی طرح کا ایک ہجوم کانگرس پارٹی کا غلام حیدر کے ہجوم سے راستے میں ٹکرا گیا۔ یہ جگہ منڈی گرو ہرسا سے روہی کی طرف دس میل پر تھی۔ کانگرس کے اُمیدوار بھی وہاں چھوٹے چھوٹے گاؤں سے کہیں ووٹ مانگنے نکلے تھے۔ غلام حیدر نے اپنے بندوں کو حکم دیا،اِن کی ذرا اچھے طریقے سے دھلائی کر دو۔ اِنہیں جرات کیسے ہوئی،یہاں آ کر ووٹ مانگنے کی۔ غلام حیدر کا حکم سننا تھا کہ جتنا بھی اس کا گروہ تھا،سب کانگرسی لیڈروں پر ٹوٹ پڑا۔ یہ جگہ ایسی تھی،جہاں ریت کی وجہ سے اُن کی سواریاں زیادہ تر اونٹوں کی تھی۔ کانگرسی تعداد میں پچاس یا ساٹھ ہوں گے۔ اِدھر پورے تین سو کا مجمع،اور سب کے ہاتھوں میں گتکے اور ڈانگیں تھی۔ پل کی پل میں تڑ اتڑ ڈنڈے برسنے لگے۔ کسی کے سر پر،کسی کی ٹانگ پر اور کسی کے بازوپر۔ منٹوں میں ہنگامہ مچ گیااور رونا دھونا،چیخ چگاڑا شروع ہو گیا۔ کچھ نے اُونٹوں کو ڈنڈے مارنے شروع کر دیے،جس کی وجہ سے وہ اپنے سواروں کو بھی نیچے پھینک پھینک کر دوڑنے لگے۔ جس کا جدھر منہ آیا،نکل گیا اور لمحوں میں کانگرسی گروہ آفت کا شکار ہو کر بکھر گیا۔ اِسی ہنگامے میں کانگرسی لیڈرسری واستر جی کی جیپ بھی وہیں رہ گئی،جس کے ٹائروں سے ہوا نکال کر اُس کی پٹرول والی ٹینکی میں ریت ڈال دی۔ اِسی طرح ایک دفعہ غلام حیدر نے یونینسٹ پارٹی کے امیدوار سرور بہکاں والے کی مکھسر تحصیل کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چھترول کر دی۔ اِس دوران ڈیوٹی پر موجود تین چار پولیس والوں نے دخل اندازی کی،تو اُن کے چوتڑوں پر بھی دو دو ڈنڈے لگوا دیے۔
اِنہی واقعات کا نتیجہ تھا کہ وہاں مخالفین سہم گئے۔ ووٹ مانگنا تو ایک طرف،اُنہوں نے غلام حیدر کے اثر رسوخ والے علاقوں میں آناہی چھوڑ دیا۔ دوسری طرف غلام حیدر اور ملک بہزاد دونوں اپنے دو تین سو بندوں کے ساتھ گھوڑوں پر اور نواب افتخار ممدوٹ کی جیپ پر گاؤں گاؤں دوڑتے پھرتے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں مسلم لیگ کے جھنڈے،ڈنڈے،برچھیاں اور بندوقیں بھی تھیں۔ بنگلہ فاضلکا،جلال آباد،سری مکھسر،لکھو کے،گرو ہرسا،ابوہر،خپانوالی حتیٰ کہ فرید کوٹ تک کے علاقے کو اِس طرح روند ڈالاکہ ہر سمت مسلم لیگ کا پھریرا لہرانے لگا۔ ایک بڑا کام تو منصوبے کے مطابق پہلے ہی امیر سبحانی کے ریکارڈ نے کر دیا تھا،جو اب چھوٹی چھوٹی ڈھاریوں پر بھی بج رہا تھا۔
لوگ غلام حیدر کی جرات اور بہادری کے اِس قدر قائل ہو چکے تھے کہ وہ فیروزپور کے مسلمانوں کا بلا شرکت غیرے ہیرو بن گیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے،قہر خدا کا،انگریز بہادر کے دور میں کوئی کتے کو مار دے تو موت کی سزا پائے۔ غلام حیدر نے تو پورے پندرہ بندے بیچ دوپہر مارے تھے۔ اِس طرح کے سورمے گھر گھر تھوڑے پیدا ہوتے ہیں؟دوسرا غضب یہ کہ وائسرائے کی بیٹی تک تعلقات تھے۔ ورنہ اِس طرح اسلحہ لے کر کھلے عام کوئی پھر سکتا ہے؟ وہی خونی بندوق اب بھی اُس کے پاس ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ غلام حیدر کی جیپ جہاں بھی رکتی لوگ دیکھنے کے لیے دور دور سے دوڑے چلے آتے اور منٹوں میں سینکڑوں کا مجمع لگ جا تا۔ اِدھر لوگ اکٹھے ہوتے اُدھردس پندرہ منٹ امیر سبحانی کا ریکارڈ بجتا۔ اُس کے بعد ملک بہزاد سامنے آتا اور غلام حیدر کی دلیری اور نواب ممدوٹ کی مسلمانوں کے لیے دی گئی اُن قربانیوں کا واویلا مچاتا،جن کے بارے میں فیروز پور کے قریباً تما م لوگ بے خبر تھے۔ مگر وہ ملک بہزاد کی باتوں کا اعتبار کر رہے تھے۔ آٹھ دس منٹ نپٹانے کے بعد ملک بہزاد ایک طرف ہوجاتا اور غلام حیدر ر لاچا باندھے،ریفل کاندھے پر ڈالے جیپ کے بونٹ پر کھڑا ہوتا،دوچار نعرے مسلم لیگ،قائد اعظم اور نواب افتخار ممدوٹ کے حق میں لگواتا پھر تقریر کرنے لگتا۔

میرے فیروزپوری مسلمان بھائیو،جان لو مَیں وہ ہوں جس کی بندوق کی گولی
کی آواز نزدیک اور دور والے سب جانتے ہیں اورکافروں کے سینے اس کے
سیسے کی تپش خوب محسوس کرتے ہیں۔ یاد رکھو،یہ ہندو بنیے،جو تمھاری اگلی پچھلی
سب نسلوں کو بیاج کے عوض رہن رکھ چکے ہیں اور یہ گورے،جن کے جوتوں کی پالش
تمھارے پسینوں کے عرق سے تیار ہوتی ہے۔ یہ سب تمھارے ازلی دشمن ہیں۔
ان کی حکومت میں نہ تمھارا ایمان سلامت ہے،نہ تمھارے بال بچے۔ یہ سکھ،ہندو
اور فرنگی کبھی تمھاری روزی روٹی کی حالت ٹھیک نہیں ہونے دیں گے۔ تم یاد رکھو
اسی صورت بچ سکتے ہو،اگر ان کو اپنے سے دور کر دو گے۔ اور ان سے نجات حاصل
کر لوگے۔ نجات کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔ اپنی مسلم لیگ کو ووٹ دو،جس کا
فیروز پور میں بڑا رکن اپنا نواب افتخار ہے۔ یہ اپنا بھائی بھی ہے اور اپنا وڈا بھی۔ یاد رکھو
ٹُٹیاں باہواں گل نوں۔ ہم پھر بھی مسلمان ہیں۔ یہ سرور بہکاں والا غدار اور انگریز کا
پٹھو ہے۔ وہ چاہتا ہے،انگریز ہندوستان میں رہے اور تمھاری آنے والی نسلیں بھی
ان فرنگیوں کی غلامی کرتی رہیں اور بنیوں کو بیاج دیتی رہیں اور سکھڑوں کی زمینوں
میں ہل چلاتی رہیں۔ اِس لیے مسلم لیگ کو ووٹ پاؤاور سب سے جان چھڑاؤ

(47)

نصف مارچ گزر چکا تھا اور بہار کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ ولیم کو اوکاڑہ چھٹی پر آئے تین دن ہو چکے تھے۔ کل اُسے گُڑگاؤں جانا تھا۔ ذہن میں سینکڑوں خدشات اور آنے والے دنوں کی بدلتی صورت نے اُس کی طبیعت میں اتنی بیزاری بھر دی کہ اُسے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ خاص کر چیف سیکرٹری آفس سے وصول ہونے والے خط نے ولیم کے اعصاب کو بالکل معطل کردیا۔ اُسے خوب علم تھا،اُس کے ہاتھ کٹ چکے ہیں۔ ملٹری سے لے کر سول انتظامیہ تک ہر شعبے میں کالے لوگ سُرنگیں بنا کر نہ صرف داخل ہوچکے تھے۔ بلکہ نوے فیصد نظام اُنہی کے قلم دانوں میں چلا گیا تھا۔ اِس وقت جب تمام بیوروکریسی ایک ایک کر کے رخصت ہو چکی تھی،اُس کا اپنی سیٹ پر ٹکے رہنا بھی خو ش قسمتی تھی مگر کہاں تک؟ آخر اُسے بھی خط آ گیا کہ جون تک اپنا بوریا باندھ لو۔ ولیم اِسی پیچ و تاب میں غلطاں ہزاروں وسوسوں میں ڈوبا تھا۔

اب جبکہ ہزار کوشش کے باوجود وہ اپنی پوسٹنگ منٹگمری کروانے میں ناکام رہا تو اُسے انتہائی تکلیف ہو رہی تھی۔ اُس نے چیف سیکرٹری صاحب سے لاکھ طرح سے گزارش کی،کچھ دن کے لیے ہی سہی،اُس کو منٹگمری بھیج دے لیکن یہ درخواست اِس بے رحمی سے رد کر دی گئی کہ ولیم ٹوٹ کر رہ گیا۔ اُس کی بجائے وہاں ایک سکھ ڈپٹی کمشنر کو تعینات کر دیا گیا،جو انتہائی نامعقول بات تھی۔ اگر اُس جگہ ولیم کی پوسٹنگ کر دی جاتی تو چیف سیکرٹری کا کیا بگڑ جاتا۔ وہ کچھ عرصے کے لیے یا کم ازکم بہار کے دن ہی وہاں کاٹ لیتا۔ مگر بد قسمتی سے یہ نہ ہو سکا اور اب اُسے محسوس ہو رہا تھا،اُس کی یہ حسرت ہی رہ گئی۔ حتیٰ کہ انگریزوں کاہندوستان سے انخلامکمل ہو جائے گا۔ جس کا عمل پچھلے ایک سال سے خاموشی سے جاری تھا۔ اُس کے ہاتھ سے گُڑگاؤں بھی نکلنے والا تھا۔ شاید اِسی لیے دو دن بعد اُسے گورنر ہاؤس میٹنگ پر بلایا گیا تھا۔

ولیم کیتھی کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا اپنے ہی خیالوں میں گم سلائس پر جیم لگا رہا تھا۔ کیتھی اُسے بار بار اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ٹھوہکا دے کرچونکا نے کی کوشش کرتی مگر وہ ایک دو باتیں کرنے کے بعد پھر خاموش ہو کرواپس اپنی سوچوں میں گم ہو جاتا،جو پچھلے کئی مہینوں سے اُس پر غلبہ کیے ہوئے تھیں۔ پہلے پہل تو ولیم کسی طرح اُن سوچوں کو نظر انداز کرتا رہا لیکن اب اُن میں شدید طریقے سے اُلجھ گیا تھا۔ حالات روز بہ روز ولیم کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے تھے اور اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کرے؟اُسے کبھی عزت و آبرو کو تباہ کر دینے والی جنگ کے متعلق سوچنے پر کوفت ہوتی،جس نے پانچ سال میں ہر شے راکھ کر ڈالی تھی،کبھی ہندوستانیوں کی بے وفائی اور احسان فراموشی پر غصہ آتا،جنہیں تعلیم دینے سے لے کراور عقل سکھاکر جدید دور میں داخل کرنے تک صرف انگریز ہی کا کردار تھا۔ ورنہ یہ گنوار کے گنوار ہی رہتے۔ کل تک اُجڈ اور جاہل آج بم دھماکے کر رہے تھے،جلسے جلوس نکال کر ایجی ٹیشن پھیلارہے تھے اور انڈیا چھوڑ دو کے نعرے بلند کرتے تھے۔ جہاں ولیم ایک طرف ہندوستانیوں پر بھرا بیٹھا تھا،وہیں اپنی برٹش ایمپائر کے کرتا دھرتاؤں پر سخت غصہ میں تھا،جو آئے دن اختیارات ہندوستانیوں کو سونپتے رہے،اپنے ہاتھ کاٹتے رہے اورآج اُسی کے نتیجے میں ہندوستان کو چھوڑ دینے پرمجبور ہوتھے۔ ولیم سوچتا کہ چلو یہ برداشت کیا جا سکتا تھا،دیسی لوگوں کو حکومت میں حصہ دے دیا جائے اور اُن کو انگریزوں کے برابر مراعات بھی مل جائیں،جن پر اُسے پہلے دن سے ہی کوئی اعتراض نہیں تھا،مگر یہ کیا کہ مکمل طور پر اپنے گلے ہی کاٹ لیے گئے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑبرف پیدا کرنے والی زمینوں اور بغیر سورج کے نکلنے والے دنوں کے ملک میں چلے جائیں۔

ولیم کو اِس طرح فکر مند دیکھ کر کیتھی اُٹھی اور اُس کی پشت پر آ کر کھڑی ہوگئی۔ کچھ دیر خموشی سے چپ کھڑی رہنے کے بعدجب ولیم نے اُس کی طرف پھر بھی دھیان نہ دیا تو بو لی،ولیم ڈارلنگ میں جانتی ہوں،تم کئی دنوں سے پریشانی میں مبتلا ہو۔ تمھارے اختیارات سمٹتے جا رہے ہیں اور برٹش گورنمنٹ اپنے بادبان لپیٹ رہی ہے۔ مگر اب کیا کیا جا سکتاہے؟

ولیم نے گردن گھما کر کیتھی کی طرف دیکھا اور نصف کھایا ہوا سلائس وہیں رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا،کیتھی شاید وہ دن قریب آ رہے ہیں،جن کے لیے میں نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ دراصل مجھے اِس بارے میں سوچنے سے ہی وحشت ہوتی تھی لیکن اب اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد ولیم چند ثانیے خموش رہ کر دوبارہ بولا،کیتھی تمھیں پتہ ہے؟ مَیں ولیم اپنے خاندان میں سب سے زیادہ بد قسمت انسان ہوں۔ میراپردادا،میرا دادااور میرا باپ بڑے خوش قسمت تھے۔ بڑے ذی اقتدار تھے اور نہایت معزز تھے۔ نہ اُنہیں وقت نے دھوکا دیا،نہ اُنہوں نے وہ کرب محسوس کیا جو میرے حصے میں آیاہے۔ وہ سب اِسی ہندوستان کی مٹی میں اپنی مرضی سے رہے،اپنی مرضی سے یہیں دفن ہوئے۔ لیکن مَیں،جسے اُن سب سے زیادہ ہندوستان سے محبت ہے۔ اُن سب سے زیادہ مَیں اِس مٹی میں اپنی روح محسوس کرتا ہوں اور اُن سب سے زیادہ میری خواہش اِسی سرزمین پر اپنا اقتدار قائم رکھنے کی ہے،میرے ہی ہاتھ سے وقت سرکتا جا رہا ہے۔ اِس زمین کی مٹی میرے رنگ اور نسل کو اپنے سے علیحدہ کر کے مجھے باہر پھینکنے کی کوشش میں ہے۔ مجھے آئے دن ایسے احکامات وصول ہوتے ہیں،جو ہر اگلے لمحے ہندوستان سے میرا فاصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میرا باپ ایک سال پہلے اور میری ماں ڈیڑھ سال پہلے بغیر کچھ تکلیف اُٹھائے مر گئے اور یہیں دفن بھی ہوگئے مگر مجھے کہا جا رہا ہے کہ اپنا وجود یہاں سے سمیٹنا شروع کر دو ں،یہ ہماری سر زمین نہیں ہے۔ آخر یہ کیا حماقت ہے؟ کیا یہ لوگ نہیں سوچتے،اگر مَیں اِس زمین کا نہیں ہوں تو مجھے جو لوگ یہاں سے دھکیل دینا چاہتے ہیں،کیا وہ ایرانی تو رانی اپنی قبروں کی مٹی وسط ایشیا سے اُٹھا کر لائے تھے؟ مگر میری بات کوئی سنتا ہی نہیں۔ گویامَیں ایسی صورتوں سے مخاطب ہو ں،جو خواب میں نظر آتی ہیں اور ہاتھ لگانے پر غیب ہو جاتی ہیں۔ ہر آنے والے دن مجھے اگلے بدقسمت لمحے کی خبر دی جا رہی ہے۔ میرے تمام دوست یہاں سے جا چکے ہیں اور باقی جا رہے ہیں۔ جو جا چکے ہیں،اُن کے واپس آنے کا اِمکان نہیں۔ جو نہیں گئے،اُن کا ٹھہرے رہنے کا ارادہ نہیں۔ وہ جانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سفید لوگ اِس طرح حالات سے سمجھوتہ کر رہے ہیں،جیسے اُن کے اندر رُکنے کی طاقت بالکل نہیں رہی۔ رہی تمھاری بات،تو مجھے تمھارے معاملے میں ایسا ڈر کھائے جا رہا ہے،جس کا ظاہر ہو جانا ہمارے جگر کے ٹکڑے کر دے گا۔ تمھا ری کیفیت اُس بچے کی ہے،جو اپنے معمولی زخم کا خون بھی دیکھ لے تو چیخنا شروع کر دے۔ اِس لیے مَیں تمھیں اُن سوچوں میں شریک نہیں کر تا،جن کا حزن زندگی کی خوشیاں لپیٹ دینے کے لیے کا ہے اور اُس کا اندمال نہیں۔

کیتھی ولیم کے سامنے کُرسی پر دوبارہ بیٹھ گئی اور بولی،ولیم تم یہ بات جان جاؤ،مَیں ایک عرصے سے تمھارے خیالات میں خموش شرکت کر چکی ہوں۔ میں جانتی ہوں،تم ہندوستان چھوڑنا نہیں چاہتے۔ مگر یہ بھی سچ ہے،یہ سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تو کیا ہوا،ہم لندن میں جا کر اپنے آپ کو نئے سرے سے منظم کر لیں گے۔ کمشنری نہ سہی کوئی کاروبار،اور اگر یہ بھی نہ ہوا،تو ہمارے پاس اِتنے پیسے ہیں کہ آرام سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

کیتھی کی بات سُن کر ولیم اِنتہائی غصے سے میز پوش کو جھٹکتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا،کیتھی بس یہی بات مجھے پریشان کر رہی ہے اور اُ س کی واحد وجہ تم ہو۔ مَیں جن تسلیوں سے بچتا ہوں،تم بار بار مجھے وہی دیتی ہو۔ مَیں تمھاری نصیحتوں سے ڈرتا ہوں اور تمھارے مشوروں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا،جن کے بارے میں مجھے ایسے ہی وضاحت ہے،جیسے تمھارے خدوخال سے واقف ہوں۔ کیا تم نے کبھی دیکھا،مَیں نے روپے پیسے کو اہمیت دی ہو یا حساب کی جمع تفریق میں دلچسپی لی ہو؟ مَیں وہ ہوں جس کی دلچسپیاں جاننے اور سمجھنے کے لیے تمھیں وقت دینا چاہیے،جو بہت کم رہ گیا ہے۔ حالات قدموں کے نیچے سے کھسکتے جا رہے ہیں اور تم بار بار لند ن میں کاروبار کھولنے کی بات کرتی ہو۔ کیا مَیں وہاں برف کی آڑھت کر لوں یا ملاح گیری اپنالوں؟ میرے پاس اپنے باپ داد ا کی ڈیڑھ سو سال کی کمائی موجودہے۔ وہ اُس وقت سے کماتے آ رہے ہیں جب ایسٹ انڈیا کمپنی پیدا ہوئی تھی۔ کمپنی مر گئی مگر ہمارا منافع ابھی تک آ رہا ہے اور اِس سب کچھ کا میں اکیلا وارث ہوں۔ اِدھر تم سمجھتی ہو،مَیں اپنے روزگار سے پریشان ہوں۔

کیتھی نے ولیم کو اتنا غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ ولیم کے اِس انداز کو دیکھ کر گھبرا گئی اور ایک دم سہم کر چپ ہو گئی پھر کچھ دیر اِسی خموشی میں گزر گئی۔ شاید انتظار کر رہی تھی کہ ولیم مزید کچھ بولے مگر اُس نے اپنی بات مکمل کر لی تھی۔ اُدھر وہ کچھ اور کہنے سے ڈر رہی تھی اور پریشان تھی کہ ولیم اِتنا چڑچڑا کیوں ہو گیا ہے۔ کافی دیر اِسی طرح بیٹھے گزر گئی،تو ہمت کر کے دوبارہ بولی،ولیم آخر تم کیا چاہتے ہو؟مَیں نے کئی بار تم سے پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کون سی پریشانی ہے جس کی وجہ سے تم آج اِس قدر بلبلا اُٹھے ہو؟مَیں تمھاری بیوی ہوں۔ اگر مَیں نہیں سنوں گی اور تم کو تسلی نہیں دوں گی،تو وہ دوسرا کون ہے جس کے سامنے تم اپنے سوالات رکھو گے؟میں جاننا چاہتی ہوں،تم مسلسل کیا سوچ رہے ہو؟

ولیم نے محسوس کر لیا تھا کہ اُس کا لہجہ کچھ زیادہ تلخ ہو گیا ہے۔ لیکن وہ کب تک کیتھی کے بے کار،فرسودہ اور تھکا دینے والے سوالات کو برداشت کرتا۔ ولیم نے فیصلہ کیا،آج وہ اپنا مدعا کیتھی کے سامنے رکھ ہی دے۔ اُس نے نہایت تحمل سے ا پنی بات کا آغاز کر دیا۔ کیونکہ ِاس کے بعد جو شور بلندہونا تھا،اُس کی تلخی سینے کو کاٹ دینے والی تھی۔ اِس لیے ولیم نے سوچا،جس قیامت کو گزرنا ہے،وہ جلدی گزر جائے۔ ولیم تھوڑا سا آگے بڑھا،کیتھی کا ہاتھ پکڑا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،کیتھی کیا تم جانتی ہو،مَیں تم سے اپنی بات چوروں کی طرح چھپا رہا ہوں؟تم میری جس تکلیف کو سننے کا روز تقاضا کرتی ہو،جب مَیں نے اُسے تم پر ظاہر کر دیا تو وہ تکلیف تمھاری بن جائے گی اور تم اُس کے دردسے چیخ اُٹھو گی۔
کیتھی نے ولیم کا ہاتھ مضبوطی سے دباتے ہوئے کہا،ولیم تم بیان کرو۔

کیتھی،ولیم دو ٹوک بولنے لگا،مجھے پورے ہندوستان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مجھے کسی سے کوئی مطلب نہیں۔ بس اِس وقت جس جگہ تم اورمَیں کھڑے ہیں،مجھے اِسی سے مطلب ہے۔ یہ جگہ،یہ خطہ،یہ نولکھی کوٹھی،یہ نہریں،یہ باغات اور نہروں کی کچی کچی روشیں،کھیتوں میں اُگتے ہوئے آلو،مکئی،گندم،گنا اور برسن کے ٹھنڈے ٹھنڈے لمس،اِن باغات اور نہروں کے مضاف میں رہنے والے لوگ،اُن کے معصوم،سادہ اور عزت و آبرو بخشنے والے چہرے،یہ ہے میری زندگی۔ مَیں نے تمھیں پہلے کہا ہے،مجھے نہ کسی اور زمین سے غرض ہے،نہ میں نے کبھی دہلی،لکھنؤ،یا کلکتے کو پسند کیا۔ حتیٰ کہ آگرے کا تاج محل اِس نولکھی کوٹھی کے عوض حقارت سے ٹھکرا دوں۔ مجھے پورے پنجاب سے بھی کچھ مطلب نہیں۔ بس یہ میرا گھر میری سلطنت ہے۔ مَیں اپنی اِس سلطنت کو نہ لندن کے عوض بیچ سکتا ہوں اور نہ میں اِس کے مقابلے میں اپنے دوسرے محبوب کا گناہ معاف کر سکتا ہوں۔ کیتھی مَیں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ کبھی نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ لندن کی مٹی مجھے نہیں جانتی،نہ اُس کی سرد ہواؤں سے مجھے رغبت ہے۔ مَیں یہاں پیدا ہوا ہوں،یہیں مروں گا۔ اِس کے بعد ولیم نے کیتھی کا ہاتھ چھوڑ دیا اور دوبارہ بولا،یہ ہے میری تکلیف اور المیہ لیکن دیکھو اب مجھے نہ سمجھانے کی کوشش کرنا،نہ نصیحتوں کی انجیل پڑھانااور نہ ہی مجھے میرے اور اپنے بچوں کے واسطے دینا۔ یہ بچے جو مَیں نے اور آپ نے مل کر پیدا کیے ہیں۔

ولیم کی بات اتنی دو ٹوک اور فیصلہ کن تھی،کیتھی سوچتی رہ گئی کہ یہ کیا بن گیا ہے؟واقعی ولیم نے ایسا نقصان دینے والا فیصلہ سنایا تھا،جس کی تلافی نہ ہو سکنے والی تھی۔ وہ یہ تو جانتی تھی،ولیم برطانیہ کے مقابلے میں ہندوستان کو پسند کرتاہے اور لندن نہیں جانا چاہتا۔ لیکن وہ یہ بھی خیال کرتی تھی کہ ولیم کوبہر حال سب برطانیوں کی طرح یہاں سے نکلنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ وہ اکیلا تو کسی صورت یہاں رک نہیں سکتا۔ اِسی زعم میں یہ سمجھے بیٹھی تھی کہ وطن واپس جانے کے دن قریب آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی قسم کی تیاریاں کر رہی تھی اور طرح طرح کے منصوبے عمل میں لا رہی تھی،جس کا ولیم کو بھی پتا تھا۔ اب اُسے یاد آیا،وہ جب بھی ولیم سے اپنی تیاری کا ذکر کرتی،ولیم نہ صرف اُسے ٹال جا تا بلکہ بعض دفعہ جھنجھلاہٹ کا بھی شکار ہو جاتا تھا۔ پھر بات سنے بغیر یا تو اُٹھ جاتا یا بات بدل دیتا تھا۔ تو گویا وہ ایک ایسے سول سروس کے افسرکو اپنا چکی تھی،جو اپنی سرزمین واقعی بدل چکا تھا۔ اب و ہ ایک قوم کے ہوتے ہوئے دو الگ الگ خطوں کے باشندے تھے۔ کیتھی نے سوچا،کیا یہ اِتنا آسان ہے؟ وہ اپنے جگر کی طاقت جمع کرتے ہوئے ولیم کی طرف بڑھی اور دوبارہ بولی،ولیم کیا تم جانتے ہو،قدرت کے فیصلے طاقت سے نہیں بدلے جا سکتے۔ جب طوفان کی لہریں بادبانوں سے بلند ہو جائیں،اُس وقت کمپاس بیکار ہوجاتے ہیں۔ خود کو اُس وقت تک لہروں کی مرضی پر چھوڑ دینا پڑتا ہے،جب تک چاند اور ہوائیں پُرسکون ہو جائیں۔ تمھیں معلوم ہے،یہاں ایک سال بعد ایک بیرا تک تمھارا ہم جنس نہیں رہے گا اور یہ لوگ،جن کو اب تم اپنا کہ رہے ہو،یہ تمھارے چہرے کی سُرخ جھریوں پر ہنسیں گے اور تمھاری شکل کو بندروں سے تشبیہ دیں گے۔

مجھے اس کی پروا نہیں،ولیم نے کہا،مَیں اِن اصطبل کے گھوڑوں پر سیر کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں،کسی انگریز بیر ے سے مل کر بات چیت کرنے کو۔ یہ اصطبل،جس کو میرے باپ نے میرے لیے،اِس کوٹھی کے پچھواڑے بنایا ہے۔

کیتھی نے ولیم کے جواب میں چبھتے ہوئے لہجے میں کہا،ولیم تمھیں یقین ہے،یہ اصطبل جو اِس کوٹھی کے پچھواڑے میں ہے،جس میں موجود گھوڑوں کی نعل بندی اپنی نگرانی میں کرواتے ہو،تمھارے پاس رہے گا؟

شاید نہ رہے،مگر میں برطانیہ جانے کے لیے تیار نہیں ہوں،نہ اِس وقت تم سے زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔ تمھارے پاس وقت کم ہے،اپنا فیصلہ سنا سکتی ہو۔

ولیم،اگر تم اپنی حماقت پر قائم رہے،تو مَیں اپنے بچوں کو اِس جلا دینے والی زمین سے نکال کر لے جاؤں گی۔
اِس تلخ جملے کے بعد کیتھی اُٹھ گئی۔ جبکہ ولیم وہیں بیٹھا رہا،ایسے لگا جیسے کوئی جواری سب کچھ ہار جانے کے بعد پُرسکون ہوگیا ہو۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(33)

مولوی کرامت کی آنکھ کھلی تو ستارے اپنی ترتیب بدل رہے تھے لیکن کھتیاں صبح کاذب سے ابھی دور تھیں اور فجر کی اذان میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت عادت کے مطابق بہت ہی سانجرے اُٹھ جاتا تھا۔ اِس لیے حاجات ضروریہ وغیرہ کے لیے کھیتوں میں نکل جاتا،جو اکثر لوگوں کا معمول تھا۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گھروں میں جھاڑے پیشاب کے لیے جگہ بنائی جائے۔ کھیتوں میں منہ اندھیرے اِس کام کے لیے جانے سے تازہ ہوا اور لمبی سیر کے ساتھ ساتھ رفع حاجت کے کام سے بھی فارغ ہو جا تا۔ کئی لوگ تو اِس سلسلے میں چلتے چلتے تین چار کلو میٹر تک نکل جاتے۔ بہر حال اِس کے بعد مولوی کرامت سیدھا پاس کی چھوٹی مسجد کا رخ کرتا جس میں زیادہ تر غلام حیدر کی رعا یا اورچند ادھر اُدھر کے لوگ نماز پڑھنے آجاتے۔ مولوی مسجد میں پہنچ کرتہجد پڑھتا،پھر قرآن کھول لیتا اور جب تک نماز فجر کا وقت نہ ہو لیتا،اُسی کی تلاوت کرتا رہتا۔ اِس مسجد کا مولوی پہلے سے ایک موجود تھا،جو غلام حیدر کا خاندانی مولوی بھی تھا۔ اِس لیے مولوی کرامت کو اُس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑتی لیکن دل ہی دل میں اِس بات کا دکھ بھی تھا۔ اور خواہش تھی،کاش وہ اِس مسجد کا مولوی بن جائے۔ کبھی اُس کے جی میں خیال آتا،خدا کرے یہ مولوی مر جائے۔ پھر اُسی خیال میں اپنی امامت کے منصوبے بنانے لگتا۔ مگر تھوڑی دیر بعد جھر جھری لے کر اس سوچ کو جھٹک دیتا اور خدا سے توبہ کرتا۔ ایک دفعہ اُسے یہ خواب بھی آیا کہ پہلا مولوی مر گیا ہے اور وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے۔

اب اُسے جلال آباد میں آئے ہوئے اور سکول میں پڑھاتے کئی دن ہو گئے تھے۔ رہنے کے لیے چوہدری غلام حیدر کی حویلی میں انتظام بھی تھا۔ حویلی کی ڈیوڑھیوں میں سے ایک ڈیوڑھی کے چھوٹے سے کمرے میں چراغ دین کا رشتے دار ہونے کے ناطے بستر جمانے کی جگہ مل چکی تھی اور ناشتے کے علاوہ دو وقت کا کھانا بھی مل جاتا۔ ہیڈ منشی اُس کی کارکردگی سے کافی مطمئن تھا۔ سکول سے چھٹی کے بعد مولوی صاحب فارغ ہوتا۔ ان اوقات میں وہ جلال آباد اور اُس کے مضافات کی سیر کو نکل جاتا۔ اِس طرح کچھ ہی دنوں میں اُس نے یہ علاقہ بھی قریب قریب دیکھ لیا۔

جلال آباد کہنے کو تحصیل تھی لیکن اس کی آبادی بنگلہ فاضلکا سے بھی کم تھی۔ مشکل سے چارسو گھر کا شہر تھا۔ گویا ایک قصبہ تھا،جسے فیروز پور ضلع کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ جلال آباد میں تحصیل کمپلیکس کے علاوہ ایک چھوٹی سی غلہ منڈی تھی،جس کے زیادہ تر آڑھتی ہندو تھے اورکاروبار پر قابض تھے۔ منڈی میں جن اجناس کا لین دین تھا وہ بھی مخصوص تھیں۔ جیساکہ جَو،باجرہ،چنے اور گندم۔ ان کے علاوہ نہ ہی جلال آباد میں کوئی فصل تھی اور نہ بڑے پیمانے پر کسی اور شے کا کاروبار تھا۔ البتہ سُرخ مرچیں،پیاز،لہسن اور سستے پھل،جن میں سے اکثر سڑے ہوتے تھے،یہاں تھوڑے بہت دستیاب تھے۔ منڈی کے باہر بھی کچھ دوکانیں تھیں لیکن وہ دوکانیں جلال آباد کے بازار میں تھیں۔ بازار مشکل سے بیس پچیس دوکانوں پر مشتمل تھا۔ اِنہی میں ایک دو کپڑے کی بھی تھیں۔ اُن میں بھی کھدر اور سوتی کپڑے کے علاوہ دوسرا کپڑا نظر نہیں آتا تھا یا ہاتھ کے بنے ہوئے کھیس،چادریں اور رنگ برنگی لنگیاں تھیں۔ منڈی کے بر عکس یہاں کچھ سکھ دوکانداربھی نظر آ جاتے مگراُ ن کی حالت ہندو ؤں سے کافی پتلی تھی اور مسلمان تو سِرے سے نہیں تھا۔ دکانوں میں روزمرہ استعمال کی چیزیں اور چھوٹی موٹی کھانے کی اشیا مثلاً دیسی شکر،گُڑ،نمک،مسالہ جات،ٹانگر،میدے کی برفی اور کھانڈ کی چوسنے والی گولیا ں،چاول،دال اور اسی طرح کی دیگر چیزیں بوریوں میں کُھلے منہ پڑی رہتی تھیں۔ اکثر دکانداروں نے تیسرے درجے کی کھجوریں بھی رکھی تھیں،جن پر ہر وقت مکھیاں بھنبھناتی رہتیں اور گاہک مکھیوں سے بے پروا یہ سستی کھجوریں لے جاتے۔ کھجوریں اور ٹانگر عموماً دیہات سے آئے ہوئے لوگ ہی اپنے ساتھ لے کر جاتے۔ یہ چیزیں سستی ہونے کے ساتھ میٹھی اور مزیدار بھی لگتیں اور بچے اِنہیں کھا کے خوش ہو ہو کر اُچھلتے کودتے۔ اِن کے علاوہ ایک حلوائی تھا،جس کی دوکان تو نہیں تھی،بس ایک پھٹے پُرانے شامیانے کے نیچے دو چولہوں کے اُوپر دو کڑاہیاں رکھ کر ایک میں جلیبی اور دوسری میں پکوڑے تَل تَل کر پراتوں میں ڈھیر لگاتا جاتا۔ یہ حلوائی مسلمان تھا۔ بازار میں آنے والے ہر ایک نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا کہ وہ اِس سے پکوڑے اور جلیبی ضرور لے کر کھائے اور گھر لے جائے۔ ایک مدت ہو گئی تھی لیکن اِس کا یہ تھڑا دوکان میں نہیں بدلا تھا اور نہ اس نے کاروبار میں کچھ اضافہ کیا تھا۔ ان دکانوں اورمنڈی کے علاوہ جلال آباد میں ایک مسجد،ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی تھا اور یہ تینوں مذہبی عمارتیں اپنے اپنے مکینوں کے درمیان ہی تھیں۔ اِن کے علاوہ کوئی ایسی خاص چیز نہیں تھی جس کا ذکر کیا جائے۔ ہاں ریلوے اسٹیشن البتہ جلال آ باد کے شمال کی طرف تحصیل کمپلیکس کے بالکل ساتھ پڑتا تھا۔ یہ اُس وقت واحد سواری تھی،جو جلال آباد کے رہنے والوں کو دور دراز لے جاتی اور لے آتی۔ اکثر دیہاتی بھی اِسی ریل کے ذریعے جلال آباد آتے۔ کیو نکہ اُس وقت ریل اکثر بڑے بڑے دیہاتوں میں رُکتے ہوئے آتی تھی۔ کرایہ سستا ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی اشیاء بھی اِسی کے ذریعے منڈی میں لا کر بیچتے یا پھر یہاں سے فیروز پور لے جاتے۔ ریل کے علاوہ سواری اور باربرداری کے لیے جو ذرائع تھے،اُن میں زیادہ تر گدھے،اونٹ اور گَڈے تھے جسے آپ بیل گاڑی کہہ لیں۔ بعض لوگ گھوڑے کو بھی استعمال میں لاتے مگر یہ خال خال ہی تھا۔ کچھ بڑے زمینداروں یا پولیس کے پاس۔

محکمہ تعلیم کے طرف سے مولوی کرامت کو نیا حکم نامہ ملے تین دن ہو چکے تھے مگر ابھی تک اُس نے کام شروع نہیں کیا تھا۔ وہ اِسی شش پنج میں تھا کہ کیا کرے اور کس طرح لوگوں کو اُسی کام کے لیے تیار کرے؟ جس کے خلاف خود وہ یا اُس کے بھائی بند فتوے دے چکے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ جب تین دن اِسی سوچ بچار میں گزر گئے تو اُسے اچانک ایک ترکیب سوجھی اور آج مولوی نے اُس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ اُس نے تہیہ کر لیا کہ جلال آباد کی جامع مسجد سے اپنی ڈیوٹی شروع کر ے گا۔ مولوی کرامت نے بستر سے اُٹھ کر سر پر ا چھے طریقے سے پگڑی باندھی۔ اُس کے بعد بستہ بغل میں دبایا اور چھڑی پکڑ کر کمرے سے باہر نکل پڑا۔ باہر نکل کر اُس نے ایک دفعہ بستہ اور چھڑی زمین پر رکھ کر اپنے کمرے کو تالا لگاکر چابی ازار بند سے باندھی پھر بستہ اور چھڑی زمین سے دوبارہ اُٹھا ئی اور چل دیا۔ باہر اُس کی گدھی موجود تھی،جس کے آگے مولوی صاحب نے رات بہت ساری چاولوں کی پھک ڈال دی تھی۔ پھک ابھی تک کافی مقدار میں پڑی تھی،جسے مولوی کی گدھی وقفے وقفے سے کھا رہی تھی۔ یہ گدھی اُس نے سواری کے لیے جودھا پور سے پورے سات روپے کی لی تھی لیکن اُس پر سواری کرنے کا ابھی موقع نہیں ملا تھا کیونکہ سکول نزدیک تھا۔ مگر اب مولوی کو جو ڈیوٹی دی گئی تھی،اُس کے مطابق اُسے ارد گرد کے گاؤں میں بھی جانا پڑنا تھا۔ سفر طے کرنے کے لیے اُسے گدھی کا سہارا چاہیے تھا۔ لیکن اس وقت مولوی نے اُسے وہیں بندھا رہنے دیا کیونکہ جامع مسجد زیادہ دور نہیں تھی۔

ابھی اندھیرا تھا اور بہار کی ہوا ہولے ہولے چل رہی تھی۔ ہوا کے اندر سردی کا لمس بالکل ختم ہو چکا تھا کیونکہ فروری کب کا نکل گیا تھا اور مارچ اپنے آخری دن پورے کر رہا تھا۔ مولوی کرامت زمین پرچھڑی ٹکاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھنے لگا۔ اِدھر اُدھر لیٹے آوارہ کتوں نے مولوی کرامت پر اس طرح بھونکنا شروع کر دیا،جیسے اُن کی سلطنت میں ایک اور اُن کا شریک آگیا ہو۔ مولوی کرامت دور ہی سے کتوں کو چھڑی دکھاتاآگے بڑھتا گیا۔ ابھی وہ مسجد کے دروازے پر ہی تھا کہ موذن نے اذان دینا شروع کردی۔ مولوی کرامت نے جلال آباد کی مسجد میں قدم رکھا تو اُس کا دل ایک مرتبہ بالکل ڈگمگا سا گیا۔ کہاں تو اپنے گاؤں کی مسجد کا واحد مالک تھا،جو اُس کا ایک قسم کا گھر تھی۔ وہ اُس میں جب چاہتا اذان دیتا،جب چاہتا نماز کا وقت آگے پیچھے کر دیتا اور جیسے چاہتا مسجد کے درودیوار کے اور صفوں کے بار ے میں فیصلے صادر فرماتا۔ ایک یہ مسجد تھی جس کی ہر شے اجنبی تھی۔ یہاں نہ کسی نے اُس سے پوچھ کے اذان دینا تھی اور نہ دوسرے کسی معاملے میں کوئی مشورہ لینا تھا۔ اُسے محسوس ہوا جیسے روح گھٹتی جارہی ہو اور وہ ابھی مر جائے گا۔ عین ممکن تھا مولوی کرامت گھبرا کے واپس مڑ جاتا،اُسی وقت اُس نے اپنے پیچھے ایک شخص کے قدموں کی آواز سُنی جس کے سبب مولوی کرامت نے اپنے دل کو سنبھالا دیا اور مسجد کے صحن میں داخل ہو گیا۔ مسجد کے دائیں بائیں برآمدے تھے،جن میں صفیں بچھی ہوئی تھیں لیکن ان برآمدوں میں ایسے لگتا تھاجیسے مدت سے کسی نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ صفوں پر گرد او ر سفید سیم اُبھری ہوئی تھی،جو لال ٹین کی روشنی میں صاف نظر آ رہی تھیں۔ شاید سردی کی وجہ سے برآمدوں میں نماز نہ پڑھنے کے ساتھ اُن کی صفائی کا خیال بھی نہیں رکھا گیا تھا۔

مولوی کرامت نے اپنا بستہ اُتار کر وہیں برآمدے میں رکھا اور طہارت خانے کی طرف رُخ کیا۔ کچھ دیر میں حاجت سے فارغ ہو کر پہلے آرام سے وضو کیا پھر خاص مسجد میں آکر محراب کے پاس کھڑا ہو گیا تا کہ با جماعت فرض ادا کرنے سے پہلے نماز سُنت ادا کر لے۔ مولوی نے دیکھا،جس موذن نے اذان دی تھی،وہ بیٹھا تسبیح کے دانے گن رہا تھا۔ غالباً اُس نے اپنی نمازِ سُنت ادا کر لی تھی۔ مولوی کرامت نے اُسے سلام علیکم کہا اور جوا ب سُنے بغیر ہی نماز کے لیے اللہ اکبر کہ دیا۔

نماز با جماعت میں کم از کم ڈیڑھ سو آدمی جمع تھے اور یہی بات مولوی کرامت کے لیے خوشی کا باعث تھی۔ جب سب لوگ نماز پڑھ کر دعا مانگ چکے اور اُٹھ کر جانے لگے تو مولوی کرامت کھڑا ہو گیا اور بولا،بھائیو کچھ دیر کے لیے اگر بیٹھ جاؤ اور میری بات سُن لو تو تمھاری مہربانی ہو گی۔ لوگ مولوی کرامت کی بات سُن کر بیٹھ تو گئے لیکن ذرا بد دلی سے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے مولوی صاحب کچھ دیر تقریر کرنے کے بعد اپنی کسی ضرورت کے لیے چندہ مانگ لے گا جیسا کہ اکثر اس طرح کے ملاً حضرات کا معمول تھا۔ پھر بھی اُنہوں نے سوچا،کچھ دیر کے لیے سُن لینے میں کیا حرج ہے۔

سب لوگ بات سننے کو تیار ہو گئے تو مولوی کرامت نے بولنا شروع کر دیا۔ اِس تقریرکے لیے اُسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ جب سے ہوش سنبھالے تھے،مولوی کرامت نمازیوں کو باتیں ہی سناتا آیا تھا۔

میرے مسلمان بھائیو،مَیں جلال آباد کے اِس بڑے اسکول میں منشی بن کر آیا ہوں جو انگریز بہادر نے ہمارے بچوں کے لیے بنایا ہے۔ میرا ارادہ ہے مَیں تمھارے بچوں کو عربی،فارسی اور حساب کتاب پڑھاؤں تاکہ یہ بڑے ہو کر بابو بنیں۔ گورنمنٹ انگریز بہادر نے مجھے کچھ ہی دن پہلے اِس نوکری پر رکھا ہے لیکن جب میں نے دیکھا،اِس بڑے اسکول میں تو مسلمان بچے نام کو بھی نہیں۔ سارے بچے ہندو،سکھ اور چوہڑے ہیں تو میرا جی بہت دُکھا۔ اس لیے میں نے ارادہ کیا مَیں آپ کو خود آ کر گزارش کروں کہ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کراؤ۔
مولوی کرامت کی بات سُن کر سب لوگ حیران ہوئے۔ اُنہیں یہ خیال تک نہیں تھا کہ کوئی مولوی ہم سے چندے کے علاوہ اِس طرح کے سوال بھی کرنے آئے گا۔ یہ تو بالکل ہی انوکھا آدمی تھا،بلکہ اُن کی حیرت اِس لیے بھی زیادہ ہوگئی کہ اسکول میں داخلے کی بات ایک مولوی کر رہا ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں،اِن اسکولوں میں مسلمان بچوں کو نصاریٰ کی تعلیم دے کر کرسٹان بنایا جاتا ہے۔ اِسی لیے تو چوہڑوں کے پورے گاؤں کے گاؤں کرسٹان ہوئے ہیں۔

اُن کی حیرانی اور پریشانی دیکھ کر مولوی کرامت مزید بولا،بھائیو،میرے اور آپ کے رسول اور اللہ کے پیارے نبی محمدعربی نے فرمایا ہے،علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے لیکن کتنی بد بختی ہے ہمارے لیے کہ ہمارے نبی کے اس فرمان پر ہندو اور چوہڑے تو عمل کر رہے ہیں مگر ہم نافرمانی کر رہے ہیں۔ مجھے یہ بتاؤ ہم اپنے گھر کے پاس بننے والے اسکولوں میں ہی بچے نہیں بھیجتے،چین میں جانا تو دور کی بات ہے۔ میرا اور آپ کا نبی جانتا تھا،میری امت غریب ہے،ان کے پاس چین جانے کا خرچہ نہیں ہوگا اس لیے اُس نے کرسٹان،جو شروع دن سے ہی ہمارے نوکر اور ہمارے لیے کام کرنے والے رہے ہیں،اُن کو اس کام پر لگایا کہ وہ ہمارے لیے اِس طرح کے سکول اور مدرسے بنائیں جس طرح چین میں ہوتے ہیں۔ اب آپ ہی بتاؤ ہم چین جا سکتے تھے؟ نہیں جا سکتے تھے نا؟ تو بھائیو،اِس گورنمنٹ کا شکر کرو کہ جس نے چین لا کر جلال آباد میں اور فیروز پور میں رکھ دیا اور ہمیں دور نہیں جانا پڑا۔

مولوی کرامت کی بات سُن کر مسجد کے پیش امام نے فوراً ٹوکا،لیکن وہ تو مولوی صاحب،رسولِ پاک نے دین کے علم کی بات کی تھی کہ دین کا علم اگر تم کو چین میں جا کر حاصل کرنا پڑے تو اتنا لمبا بھی سفر کرنا مگر یہ انگریزی سکولوں میں تو کرسٹان کا علم ہے۔ ان سکولوں میں جا کر ہمارے بچے کرسٹا ن ہو جائیں گے اور دین خراب ہو جائے گا۔ تم نے فرنگی سرکار سے پیسے کھا لیے ہیں۔
مولوی کرامت کو اُس کی بات بہت بُری لگی۔ اُس نے سوچا اگر اِسی طرح یہ خبیث مولوی مجھے ٹوکتے رہے تو نوکری ضرور چلی جائے گی۔ اگر چہ اُس نے خود بھی ْقصور میں کئی باراِن اسکولوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور لوگوں کو روکا تھا کہ وہ ان اسکولوں میں نہ جائیں لیکن اب معاملہ وہ نہیں رہا تھا۔ اُس کے خیال میں اب گورنمنٹ نے بچوں کو کرسٹان بنانا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اِس جاہل مولوی کو کیا پتا سرکار کا نظریہ بدل چکا ہے۔

مولوی کرامت نے دیکھا کہ بات بگڑ سکتی ہے تو اُس نے بڑے تحمل سے ایک نئی چال چلی اور کہا،پہلی بات تو یہ ہے بھایؤ کہ اب گورنمنٹ سرکاری اسکولوں میں مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے مولویوں کو رکھ رہی ہے۔ سرکار نے اعلان کیا ہے،جو مولوی اچھی طرح سے دین اور عربی فارسی پڑھا ہو گا،اُسے سرکار اسکولوں میں تنخواہ پر مُنشی رکھے گی تا کہ وہ خود مسلمان بچوں کو پڑھائیں۔ اِس طرح کوئی خطرہ نہیں رہے گا اُن کے کرسٹان بننے کا۔ مجھے یہ مولوی صاحب ایک بات بتائیں،چین میں کون سے دین کی تعلیم دی جاتی تھی؟ ہمارا پیغمبر تو آیا عرب میں۔ اِس لیے دین اور اُس کا علم تو سارا وہاں تھا لیکن آپ نے یہ کیوں کہا،تم چین میں جانا؟ بتاؤ؟ (اپنی سفید ڈاڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے )اِس کا مطلب ہے،وہ کوئی اور علم تھا،جس کے لیے چین جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پھر چند لمحے رُک کراور پیش امام کی طرف رُخ کر کے،جس کے آگے مولوی کرامت نے گورنمنٹ کی نوکری کا لقمہ پھینک دیا تھا اور وہ ذہنی طور پر شکست تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہو چکا تھا،مجھے ایک بات بتاؤ مولوی صاحب ! جب بد ر کی جنگ ہوئی اور کافر پکڑے گئے تو اُن کو آزاد کر نے کی ہمارے نبی نے کون سی شرط لگائی تھی؟پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر،پوچھو اِس سے؟
ایک شخص جو اُن میں سب سے معزز نظر آ رہا تھا اور ہلکی سی ڈاڑھی بھی رکھتا تھا،ایسے محسوس ہوتا تھا،پیش امام کا زیادہ تر خرچہ اِسی کے گھر سے پورا ہوتا ہے۔ اُس نے پیش امام سے پوچھا،جی مولوی صاحب آپ بتائیں کس شرط پر ہمارے رسول نے اُن قیدیوں کو چھوڑا تھا؟

جب پیش امام نے چند لمحے تک کوئی جواب نہ دیا تو اُس شخص نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب آپ ہی بتائیں،وہ کون سی شرط تھی؟

اب مولوی کرامت کو اپنی فتح قریب نظر آرہی تھی۔ نوکری کی نوید سُن کر پیش امام نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ لہذا مولوی کرامت نے بولنا شروع کیا،ہوا یہ مومنو،جب نبی پاک اُن قیدیوں کو پکڑ کر مدینے لے آئے توآپ نے اعلان کیا،جو کا فر قیدی ہمارے دس مسلمان بچوں کو تعلیم دے گا اور اِنہیں پڑھنا لکھنا سکھائے گا،ہم اُس کو آزاد کر دیں گے۔ اِس حکم پر بیس قیدیوں نے مدینے کے پورے دوسو مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا اور ہمارے نبی پاک نے اُن کو شرط کے مطابق آزاد کر دیا اور پیسے بھی دیے۔

یہ کہ کر مولوی کرامت خموشی سے مسجد میں موجود لوگوں کی طرف دیکھنے لگا۔ جب چند ثانیے اسی طرح گذر گئے اور کسی نے اُس کی بات کو رد نہ کیا تو مولوی کرامت نے مزید اپنی بات کو پختہ کرنے کے لیے کہا،اب مسلمانو آپ ہی بتاؤ،وہ قیدی تو پکے کافر تھے۔ رسول تو رسول،خدا کو بھی نہیں مانتے تھے،پھر بھی رسول پاک نے مسلمان بچوں کو اُن سے پڑھانے سے گریز نہ کیا لیکن نصاریٰ تو پھر بھی خدا کو مانتے ہیں اور مفت میں آپ کے بچوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں تا کہ مسلمان خود حکومت کرنے کے قابل ہو جائیں۔ ہندوستان پر حکومت کرنا مسلمانوں کا حق ہے اور گورنمنٹ بہادر چاہتی ہے،ہم پڑھ لکھ جائیں تاکہ وہ ہماری امانت ہم کو سونپ کر چلے جائیں۔ یاد رکھو اگر تم اپنے بچوں کو ان گورنمنٹ کے اسکولوں میں نہیں پڑھاؤ گے تویہ ہنود اور چوہڑے اور سکھ،یہ سب فرنگی سرکار کے جانے کے بعد ہم پر حکومت کریں گے۔

او بھلے لوگو،تمھارے علاوہ یہ سب قومیں فٹا فٹ اِن اسکولوں میں جا کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہمارے بچے ایسے ہی ڈنگر کے ڈنگر بھیڑ بکریاں چرا رہے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ کیا تم نے نہیں دیکھا،عدالتوں اور کچہریوں میں سب ہندو لوگ ہیں جو فیصلے بھی ہمارے خلاف کرتے ہیں اور یہ بنیے جو چاہیں اپنے بھئی کھاتوں میں لکھ دیں۔ پھر تمھاری گردن پر ناخن رکھ کر جتنا چاہیں وصول کر لیں۔ تمھیں تو نہ پڑھنا آئے اور نہ اُن کھاتوں کے حساب کتاب کے دیکھنے کا طریقہ۔ اِسی لیے ہمارے قرضے بڑھتے جاتے ہیں اور پشتوں سے لے کر اب تک ادا نہیں ہوتے۔ یاد رکھو اگر ہمارے بچے نہیں پڑھیں گے تو پنجاب پھر سکھوں کے پاس چلا جائے گا۔ بھلا تمھیں پتا ہے؟مہاراجہ رنجیت نے کیا کیا تھا؟ اُس نے ہماری بادشاہی مسجد میں اپنی فوج کے گھوڑے باندھ کر اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ جہاں اُنہوں نے لید اور پیشاب کر کر کے اتنی بدبوپھیلائی اوراتنا گند مارا کہ بچارے گنبد اور میناروں کے کبوتر بھی ہجرت کر گئے۔ یہ انگریز بہادر ہی تھے،جنہوں نے وہ شاہی مسجد ان سے آزاد کرا کے ہمیں دی۔ اگر فرنگی سرکا ر مسلمانوں کی دشمن ہوتی تو اُس مسجد کو سکھوں سے آزاد کیو ں کراتی؟ پھر اُس جگہ اپنا گرجا بنا لیتی۔ اِسی دوران مولوی کرامت کو یاد آیا کہ جب فرنگیوں نے دہلی فتح کیا تھا،تو انہوں نے بھی جامع مسجد دہلی میں اپنے گھوڑے باندھ دیے تھے اور اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ مگر شکر ہے کہ اِس بات کا کسی کو بھی پتا نہیں تھا،ورنہ بات بگڑ جاتی۔ یا اگر پیش امام کو پتا بھی تھا،تو اب وہ نہیں بول سکتا تھا۔ کیو نکہ نوکری ملنے والی تھی۔ بہر حال مولوی کرامت نے اس بیہودہ خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی،مگر صدقے جاؤں اِس منصف اور عادل گورنمنٹ کے،جنہوں نے مسلمانوں کے لیے یہ سب کچھ کیا اور ہم ہیں کہ اپنے ہی دشمن۔ سکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں بھیجتے اور چوہڑے جو ہمارا گند صاف کرنے والے ہیں،وہ پڑھ پڑھ کر بابو بنتے جا رہے ہیں۔ یہی حالت رہی تو ایک دن آئے گا ہماری اولادیں اُن کا گند صاف کریں گی۔ جس سے سرکا ر ہمیں بچانا چاہ رہی ہے۔

مولوی صاحب یہ بات آپ نے پہلے ہمیں کیوں نہیں بتائی،ایک شخص جس کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی،اُس نے سر سے صافا اُتار کر گھٹنوں کے نیچے رکھا اور بولا،ہم تو خط پتر بھی نہیں پڑھ سکتے۔ کہیں سے شادی موت کا لفافہ آ جائے تو بیس دروازے بھونکتے ہیں،تب جا کر کوئی پڑھ کے سناتا ہے۔ وہ بھی سو سو نخرے کرتا ہے۔

مولوی کرامت نے اپنا وار کار گر ہوتے دیکھا تو مزید اُس پر جملہ کسا،تو اور کیا؟ پھر سو باتیں ایسی ہوتی ہیں کسی غیر کو نہیں بتانی ہوتیں،جس سے خط پڑھواتے ہیں وہ اُنہیں بھی جان جاتا ہے اور گھر کی بات خواہ مخواہ باہر نکل جاتی ہے۔ پھر یہ ہندو اور چوہڑے تو ہمارے ویسے بھی دشمن ہیں۔ بھائی تعلیم بہت ضروری ہے۔

اس کے بعد مولوی کرا مت نے اپنا بستہ کھولا اور اُس میں سے ہاتھ بھرلمبا اور آدھ ہاتھ چوڑا رجسڑ اور ایک قلم اور دوات نکال کر بیٹھ گیا اور کہا،جلدی سے اب اپنے اپنے بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے نام لکھواؤ۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چودہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(27)

 

ہیلے نے آہستگی سے سلور کی دھات کے بنے ہوئے نہایت نفیس اور خوبصورت سگار کیس سے ایک سگار نکالا،اُ س کو دو تین دفعہ ناک کے قریب لے جا کر ہلکے ہلکے اپنی سانس اوپر کھینچ کر پہلے سگار کے خوشبو دار تمباکو کا سرور لیا پھر اُسے لیمپ کی آگ دے کر جلا لیا۔ اس کے بعد دو تین چھوٹے چھوٹے کش لے کر میز کے دوسری طرف بیٹھے ولیم کو دیکھنے لگا۔ ولیم اس سارے عمل میں خاموش بیٹھا ہیلے کی فطرت کا جائزہ لیتا رہا۔ ہیلے کی عینک کے شیشے نہایت چمکدار اور باریک تھے۔ کمانیاں اور کمانیوں کی زنجیر سنہری دھات کی تھیں۔ اُن کے بارے میں ولیم فیصلہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ سونے کی ہیں یا محض سونے کے رنگ میں تیار ہوئی ہیں۔ نیلے رنگ کی ٹائی پر چھوٹے چھوٹے زرد پھول بنے تھے۔ کوٹ کے بٹن کُھلے ہو ئے تھے اس لیے ٹائی اُس کی ناف تک لٹکی ہوئی صاف نظر آ رہی تھی۔ شرٹ بھی ہلکے نیلے رنگ کی بہت ہی عمدہ کپڑے سے بنی تھی،جو ولیم کے قدرے اُبھرے ہوئے پیٹ پر کافی جچ رہی تھی۔ شرٹ کے اُوپر کوٹ سُرمئی رنگ کا تھا،جس پر ہاتھی دانت کے بڑے بڑے بٹن تھے۔ یہ بٹن کوٹ کے ساتھ سلے ہوئے نہیں تھے بلکہ الگ سے نتھی کیے گئے تھے تاکہ دوسرا کوٹ پہننا ہو تو اُتار کر اُس کے ساتھ لگا لیے جائیں۔ ہیلے کی مونچھیں اتنہائی سیاہ اور نوکدار تھیں مگر مونچھیں بھاری نہیں تھیں۔ منہ کا دہانہ کھلا ہوا اور چوڑا تھا اور آنکھیں خوفناک حد تک چمک دار تھیں۔ ایسی شخصیت جوانی میں زیادہ خوبصورت نہیں لگتی مگر اِس عمر میں،جس میں اب ہیلے پہنچ چکا تھا،کافی دیدہ زیب ہو جاتی ہے اور سامنے والے کو رعب میں دبا لیتی ہے۔ پچھلی ملاقات میں و لیم کو ہیلے کے چہرے میں ایک سادگی نظر آ ئی تھی۔ اُس کا تاثر اس دفعہ بدل رہا تھا۔ ہیلے کی آنکھوں اور ماتھے کی تیوریوں میں ایک کٹیلی عیاری اور اُس کے ساتھ اپنے جونیئر سے ایک قسم کی بے نیازی کاتاثر اُبھر رہا تھا۔ جس کا مطلب تھا ہیلے ولیم کو اپنے عہدے کی حیثیت سے خبردار کرنے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔ ولیم کواپنے باپ دادا کی سروس سے مشاہدہ تھا کہ ایک ضلع میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ اُسے یہ بھی خوب علم تھا کہ ہندوستانی سول سروس کے انگریزبرطانیہ میں موجود سول سروس کے لوگوں کے سامنے احساس کمتری کا شکار تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لاشعوری طور پرہر نئے آنے والے آفیسر کو اپنے سینئر ہونے کا باور کرانا ضروری سمجھتے۔ اس سلسلے میں اُن سے عجیب عجیب حرکات سر زد ہوتیں۔ کبھی ضرورت سے زیادہ نصیحتیں،کبھی ڈانٹ اور کبھی اپنی ضروری اور غیر ضروری معلومات کا وقت بے وقت اظہار۔ ہندوستانی سول سروس میں موجود دیسی لوگوں کی تو خیر اُن کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ تو افسر ہو کر بھی اُن کے غلام تھے اور انگریز افسر کی سینیارٹی کو ضرورت سے زیادہ قبول کر لیتے مگر نئے انگریز افسر یہاں آکر بھی برطانوی شہریوں جیسی حرکتیں کر تے۔ اِس کی وجہ سے ہندوستانی سول سروس کی نوکری میں بزرگ انگریز افسروں کو اپنی عزت اور وقار پر ضرب پڑتی محسوس ہوتی،جو برطانیہ میں افسری کرنے والوں پرممکن نہیں تھی۔ وہ مرکز میں ہونے کی وجہ سے فیصلے صادر کرنے والوں میں سے تھے اور اکثر شُرفا ہوتے جبکہ ہندوستان میں تو نچلی قوموں کے افسروں کی بہتات ہوچکی تھی اور اس بات کا اندازہ برطانیہ میں موجود بیوروکریسی کو تھا۔ بلکہ ہندوستانی بیوروکریسی کو بھی بخوبی تھا۔ ولیم کو ہیلے اب ویسا ہی احساس کمتری کا شکار آفیسر لگ رہا تھا اور یہ بات ولیم کے لیے خطرناک تھی۔ کیونکہ احساس کمتری میں مبتلا افسر کے ہاتھ سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ اب ولیم کو ہیلے سے کچھ کچھ ڈر محسوس ہونے لگا تھا۔ وہ اِس انتظار میں تھا کہ جلد از جلد ہیلے اپنا منہ کھولے اور بات سامنے آئے۔ اُسے اندیشہ تھا،اُسے جلال آباد میں امن وامان کے حوالے سے ضرور ڈانٹ پلائی جائے گی۔
ہیلے نے کچھ دیر کی خموشی کے بعد بالآخر مُہر توڑی اور بولا،نوجوان آپ فیلڈ میں آ کر کیا محسوس کر رہے ہیں ؟
بہت اچھا سر،مزا آرہا ہے کام کرنے کا،ولیم نے تحمل سے جواب دیا۔

 

میں نے آج تک آپ کی بھیجی گئی تمام فائلوں کا مطالعہ کیا ہے،ہیلے نے گفتگو میں اطمنان پیدا کرتے ہوئے کہا،ولیم آپ بہت تیز دوڑ رہے ہیں۔ اِس میں ساتھ دینے والے ہانپ جائیں گے یا شاید آپ کی ہی سانس اُکھڑ جائے،اس کے بعد اس نے میز کے ایک کونے پر پڑی تانبے کی

 

خوبصورت گھنٹی کا بٹن دبا دیا جس کے بعد فوراً ایک ہندو ملاز م اندر داخل ہوا،تحصل جلال آباد کی فائلیں لاؤ۔

 

ملازم ہیلے کا حکم سن کر باہر نکل گیا۔ ولیم نے سوچا ہیلے کا خاص جلال آباد تحصیل کا نام لینے کا مطلب یہ باور کرانا ہے کہ اُس کے ما تحت فیروز پور کی پوری پانچ تحصیلیں ہیں۔ جن میں سے ایک جلال آباد کی تحصیل بھی ہے۔ چناچہ ولیم سمجھ لے کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر میں بہت فرق ہے۔ ولیم انہی خیالات میں تھا کہ ہیلے کی دوبارہ آواز سُنائی دی،میں نے آپ کی تمام فائلوں کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ بہت عمدہ کام کر رہے ہیں لیکن ہمیں بہت سے کام ایک ہی وقت میں نہیں چھیڑدینے چاہییں۔

 

ولیم نے سر اُٹھا کر دیکھا تو جلال آباد سے بھیجی گئیں چاروں فائلیں میز پر پڑی تھیں،جنہیں ملازم چند ثانیے پہلے رکھ کر جا چکا تھا اور اُن پر ہیلے اب گفتگو کرنا چاہ رہا تھا۔ ولیم نے ایک لمحے کے لیے ہیلے کی طرف دیکھا اور اپنے لہجے میں تھوڑی سی خوشامد کانمک ڈال کر بولا،سر میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں تحصیل میں گورنمنٹ اور عوام کے جو مسائل موجود ہیں،اُن پر آپ کی توجہ مبذول کرا دوں۔ باقی تو جو آپ کہیں گے وہی ہو گا،میں تیز دوڑوں گا بھی تو تحصیل سے باہر نہیں جا سکتا۔

 

ہیلے ولیم کے اس جواب سے ہلکا سا مسکرا دیا اور دوبارہ بولا،ولیم جانتے ہو؟ مجھے اُس وقت اپنی خوشامد اچھی لگتی ہے جب کوئی میرا انگریز جونیر کرتا ہے ورنہ دیسی افسر تو بنے ہی خوشامد کے لیے ہیں۔ بہر حال یہ ایک بات تھی،ہم اپنے مقصد کی طرف آتے ہیں۔ آپ سرِ دست اپنی ترجیحا ت ایک یا دو کامو ں کو دو۔ ہم جانتے ہیں،اِن علاقوں میں اتنے مسائل ہیں جن پر برطانیہ حکومت اگر دو سو سال تک مسلسل کام کرے تو بھی وہ ان کے رنگ کی طرح صاف نہیں ہو سکتے لیکن یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ میں ایک فائل آپ کو دے رہا ہوں (ولیم کی طرف ایک فائل بڑھاتے ہوئے،جسے ولیم نے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا اور کھولنے لگا) اِس میں کچھ ہندو بنیوں کے نجی سود در سود کے نظام اور اُن کے ہاتھوں پنجاب کے غریب دیہاتیوں کے استحصال کی کار گزاریاں ہیں۔ یہ وہ لعنت ہے جس کی ہم نے سختی سے حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ یہ بنیے ناصرف پورے پنجاب کے غریب اور مالدار لوگوں کو رہن رکھے ہوئے ہیں بلکہ ہندوستان بھر میں اِن کی قینچیاں نوابوں سمیت ہر ایک کی جیب پر چل رہی ہیں۔ اس کے بعد ہیلے ولیم کی طرف جھکتے ہوئے بولا،میں یہ بات آپ کو نہ تو فائل پر لکھ کر دے سکتا ہوں اور نہ ہی کسی اور طرح سے سمجھا سکتا ہوں،صرف زبانی کہ سکتا ہوں۔ لیکن اس کو لکھے ہوئے احکام سے زیادہ اہم سمجھو۔ تمھیں یہاں بلانے کا سب سے اہم مقصد یہی تھا۔

 

ولیم ہیلے کی خوشامد والی طنز سے اتنا گھبرا گیا تھا کہ کچھ لمحے اُس کا دماغ بھی ٹھکانے پر نہیں رہا تھا لیکن جب ہیلے نے اپنی گفتگو آگے بڑھائی تو اُس کی خجالت جلد ہی صاف ہوگئی۔ اُسے اس گفتگو سے ایک گونہ اطمنان سا ہوا۔ وہ جس واقعے سے ڈر رہا تھا،اُس کے متعلق خوف رفع ہو گیا اور اب بغیر جھجھک کے بولا،سر عوام کا استحصال تو اور بھی کئی رنگ میں جاری ہے لیکن ان بنیوں پر ہی خاص توجہ دینے کی ایسی کون سی مجبوری لاحق ہو گئی۔

 

بہت سی،ہیلے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا،ان کی وجہ سے حکومت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ زمین داروں سے سود کی رقم ادا نہیں ہو پاتی،نتیجہ یہ کہ ان کا کیس عدالت میں آجاتا ہے اور عدالت قرضے کے عوض زمینداروں کے مالیاتی حقوق بنیوں کے نام کر دیتی ہے۔ بنیے خود زمین داری سے واقف نہیں۔ وہ سب کچھ مزارعوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ مزارع وہی ہوتے ہیں،جو ان بنیوں کے مقروض ہیں۔ چنانچہ یہی لوگ اُن زمینوں کی کاشت کرتے ہیں لیکن انہیں فصل سے بہت کم حصہ ملتا ہے اور اُن زمینوں میں مزارع دلچسپی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے علاقے میں کاشتکاری کانظام آگے پنپ نہیں رہا۔ دوسرا بڑا نقصان یہ کہ اِن کے نجی بنکاری نظام نے سرکاری بنکوں کے نظام میں خلل ڈال رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی بنکو ں کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔ اس عمل سے گائے کا دودھ بکری کے تھنوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

 

تو سر اس میں مَیں کس طرح اپنا وجود ثابت کر سکتا ہوں؟،ولیم سمجھ گیا تھا کہ عوام کا استحصال تو خیر ایک بات تھی۔ اصل مقصد تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے آخر میں بتایا لیکن اُس نے سوچا مُردے کی وراثت پانے والوں سے بچ کر مرنے والے کا اُسترا بھی گورکن کو مل جائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔

 

تم مالیات کے نظام میں پٹواری کے دخل اور زمین کی خریدو فروخت میں ٹیکس کو جتنا ہو سکے زیادہ فروغ دو۔ اگرچہ اِس کے نفاذ کے معاملے میں آپ کو تمام ہدایات تحریری ہی وصول ہوں گی۔ لیکن ایسا ہوتا ہے کہ لوگ باہر ہی باہر زمین فروخت کر دیتے ہیں،جس کا اندراج کاغذات میں نہیں ہوتا۔ ہوتا یہ ہے کہ نہری پانی کا مالیہ وہ ادا کرنا شروع کر دیتا ہے جس نے زمین مول لے لی ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ زمین خود بخود مالیہ ادا کرنے والے کے نام ہو جاتی ہے،جو عموماً بنیا ہوتا ہے۔ ہم اس نظام کو مشکل بنا رہے ہیں اور ہر حالت میں زمین خریدنے والے پر بھاری ٹیکس لگا رہے ہیں۔ وہ کسی بھی صورت میں بغیر گورنمنٹ کو ٹیکس دیے زمین اپنے نام نہیں کروا سکتا۔ دوسری طرف بہت سے فیصلے چونکہ تحصیل سطح پر آپ نے خود ہی کرنے ہیں۔ اِس لیے کوشش کرنا کہ بنیوں کو کم سے کم اُن فیصلو ں میں فائدہ پہنچے۔ باقی تمام معاملات اِس بارے میں مالی تحصیل دار کو پتا ہے۔ وہ آپ کو مشورے دیتا رہے گا۔

 

ولیم تھوڑی دیر کے لیے چُپ بیٹھا رہا پھر مسکرا کر بولا،سر ایک کافی کا کپ مزید مل جائے گا ؟

 

وائے ناٹ،ہیلے نے ایک بار پھر گھنٹی کا بٹن دباتے ہوئے کہا،اور ہاں ایک بات یاد آئی،آپ کوئی بھی کام براہِ راست خود کرنے کی کوشش نہ کیا کریں،مختلف کاموں کے لیے آپ کے پاس مختلف آفیسر ہیں بس انہی سے سروکار رکھیں اور زیادہ دوروں سے پر ہیز کریں۔ چوری ڈکیتی اور امن و امان پولیس کا کام ہے۔ آپ اُن کے لیے تمام ہدایات ڈی ایس پی کو دیا کریں۔ مَیں حیران ہوں یہ تمام چیزیں آپ کی ٹریننگ کا حصہ تھیں لیکن آپ پھر بھی جودھا پور اور جھنڈو والا کے چکر لگاتے پھرے۔ یہ پولیس کا کام ہے اُن کو کرنے دیں۔

 

ولیم کو ہیلے کے یہ جملے سُن کر ایک دفعہ پسینہ آ گیا اور اُسے لگا جیسے اصل میں اسی لیے بلایا گیا ہے،باقی سب باتیں بہانہ تھیں۔ لیکن یہ بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آیا ڈپٹی کمشنر صاحب ملزمان کی مدد کرنا چاہتے یا اُسے کسی نقصان سے بچانے کے پیش نظرسرزنش کر رہے ہیں۔ ولیم نے اس بات کو ذرا کھول دینا مناسب سمجھا اور کہا،سر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے،کچھ دنوں سے جلال آباد میں شرپسندوں نے قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ میں نے اُس کے لیے ڈی ایس پی لوئیس کو کچھ احکامات جاری کیے ہیں،جن میں سودھا سنگھ کے مال کو ضبط کرنے کے احکام بھی ہیں۔ اُن کے لیے آپ کی منظوری چاہیے،یہ کہ کر ولیم نے سودھا سنگھ کی فائل جو ڈی ایس پی لوئیس نے آج صبح ہی ولیم کے حوالے کی تھی،ہیلے صاحب کے آگے کر دی اورولیم اُس وقت حیران رہ گیا جب ہیلے نے اُس پر بلا تردد دستخط کر دیے،تو گویا ملزموں کی پشت خالی تھی۔

 

فائل پر دستخط کے بعد ولیم قدرے پُر سکون ہو گیا۔ اُس نے کافی کی چسکیوں کے ساتھ دوسرے مسائل پر گفتگو شروع کردی،جن میں دو مسئلے سب سے اہم تھے اور انہی پر ولیم اصل میں کام کرنا چاہتا تھا۔ اُن میں سے ایک تعلیم اور دوسرا جلال آباد میں نہری نظام کی مزید بہتری اور بڑے پیمانے پر کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے بنگلہ نہر کی تجویز۔ جسے ہیلے نے بہت سراہا اور اُس پر جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ چاہے گا،اسی ماہ کی چیف سیکرٹری صاحب سے ملاقات پر اُن سے اس کی منظوری لے لے۔ الغرض اِن مسائل پر ایک گھنٹے تک دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی،جو نہایت خوشگوار ماحول میں تھی۔ اُس کے بعد ولیم نے اجازت چاہی اور ابھی اُٹھنے ہی لگا تھا کہ ہیلے نے ولیم کو روک کر پھر ایک جملہ کہ دیا۔
ولیم کیا نام ہے اُس لڑکے کا،،غلام حیدر،،ہاں اُس کو انصاف ملنا چاہیے۔ لیکن اُس کی ریفل دو مہینے کے لیے قبضے میں لے لو اور اُس پر خاص نظر رکھو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملزموں کے ساتھ نرمی برتو۔ شر پسندوں کو سختی سے دبادو۔ یہ کہ کر ڈپٹی کمشنر صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی ولیم بھی اُٹھ گیا۔

 

اب بارہ بج گئے تھے اور کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ اس لیے دونوں کھانے کے کمرے کی طرف چل دیے۔ اِسی دوران ولیم سوچنے لگا کہ خدا کی پناہ ہیلے کتنا چالاک آدمی ہے۔ اُس نے ہر گز پتا نہیں چلنے دیا کہ اصل میں اُسے کس لیے بلایا گیاہے۔ تمام اہم مسائل پر اُس نے اس طرح گفتگو کی کہ وہ اُس کے اصل ارادوں سے بالکل بھی واقف نہیں ہو سکا۔

 

(28)

 

ٍڈی ایس پی لوئیس کی گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی جب اُنہوں نے جھنڈو والا پر یلغار کی۔ اس بات کا پولیس کو پتا تھا کہ دما کے قتل کی خبر سنتے ہی سردار سودھا سنگھ پٹیالہ جا چکا ہے اور فی الحال اُس کے گرفتار ہونے کے امکانات صفر ہیں۔ لیکن پرچے میں کچھ اور لوگوں کے نام بھی درج تھے اس کے علاوہ سردار سودھا سنگھ کا بھائی سردار نتھا سنگھ بھی وہیں موجود تھا،جس کی گرفتاری اِس کیس میں کافی کار آمد ثابت ہو سکتی تھی۔ علاوہ ازیں جھنڈووالا پر یہ چھاپہ اوربھی بہت سے عوامل کو سامنے لا سکتا تھا۔ اگر اس وقت بھی چھاپہ نہ مارا جاتا توپورے علاقے میں لا اینڈ آڈر کا خطرناک تاثر پیدا ہو جاتا اور کہا جاتا کہ پولیس سردار سودھا سنگھ پر ہاتھ ڈالنا تو ایک طرف جھنڈووالا میں وارنٹ گرفتاری لے کر داخل بھی نہ ہو سکی۔

 

لوئیس صاحب خود جیپ پر سوار تھے جن کے ساتھ انسپکٹر متھرا،انسپکٹر مدن لال اور تھانیدار بلرام تھا۔ اِن کے علاوہ چار تھانوں کے چالیس گھوڑ اسوار تھے،جن میں سب انسپیکٹر،حوالدار اور سپاہی سب شامل تھے۔ پولیس کے سپاہی گھوڑوں پر اسوار کچھ جھنڈو والا کے باہر ناکہ لگا کر کھڑے ہو گئے تاکہ ملزم بھاگ نہ سکیں اور باقی گاوں کے اندر گلیوں میں پھیل گئے۔ ڈی ایس پی لوئیس اور باقی تمام عملے نے سودھا سنگھ کی حویلی کا گھیراو کر لیا۔ جھنڈو والا میں اِس قدر انگریزی افسر اور دیسی پولیس لوگوں نے پوری زندگی تو کیا خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔

 

اِکا دُکا لوگ جاگ اُٹھے تھے،جو ادھر اُدھر کام میں اور اپنی فصلوں میں ہل وغیرہ جوتنے کے لیے نکل رہے تھے۔ اِن لوگوں میں سے کچھ اُٹھنے کے باوجود نیند کے خمار میں تھے۔ اُن کی آنکھیں ابھی پوری طرح نہیں کھلی تھیں۔ کچھ بیل ہنکا کر لے جا رہے تھے۔ کوئی کسئی اور درانتی لے کر اور گدھی پر واہنا رکھے آنکھیں ملتے سانجرے ہی سانجرے چارہ لینے جا رہا تھا۔ اِنہیں اِس ناگہانی آفت کا کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے ؟جب جاگنے والوں نے جیپ کی آواز اور گھوڑوں کی دڑ دڑ سُنی تو اُنہوں نے سونے والوں کو جلدی جلدی اُٹھایا اور سب لوگ باہر کی طرف بھاگنے لگے۔ باہر ہر طرف فرنگی پولیس کے پہرے اور کالی نال والی بندوقیں ہی بندوقیں تھیں۔ پولیس مخبروں کی دی ہوئی اطلاع کے مطابق کئی گھروں میں گھوڑوں سمیت داخل ہو رہی تھی اور بندوں کو گھسیٹ کر باہر نکال رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ بیتوں اور چابکوں سے اُن کی پٹائی بھی جاری تھی۔ اِن گرفتار ہونے والوں میں تھانیدار بلرام کے مطابق وہ لوگ تھے،جو جودھا پور کے چراغ دین کے قتل اور مونگی کی تباہی میں شامل تھے۔ اِن کے ناموں اور گھروں کی مخبری دیدار سنگھ کی رپورٹ کے مطابق جھنڈو والا ہی کے ایک شخص نے کی تھی۔
ملزموں کو نہایت بے دردی سے پیٹا بھی جا رہا تھاکہ اُن پر انگریزی قانون کی اچھی طرح سے دہشت طاری ہو جائے اور مکمل خوف و ہراس پھیل جائے۔ جھنڈو والا میں ایک طرح سے یک دم قیامت برپا ہو چکی تھی۔ حملے کی شدت اور خوف سے عورتوں نے اونچی اونچی چیخنا اور رونا دھونا شروع کر دیا۔ مرد ادھر اُدھر بھاگنے لگے لیکن اب پولیس بھی،جو ہاتھ میں آتا پکڑ پکڑ کر کوٹاپا پھیرنے لگی۔

 

اس سارے عمل کے دوران ڈی ایس پی لوئیس سودھا سنگھ کے گھر کے سامنے سات آٹھ افراد کے عملے کی حفاظت میں کھڑا آ رام سے اِس پورے منظر سے محظوظ ہو رہا تھا۔ جبکہ سنتری ملزموں کو پکڑ پکڑ کر اُس سے کچھ فاصلے پر ڈھیر کر رہے تھے۔ چھ سات سپاہی اور تھانیدارسودھا سنگھ کی حویلی میں داخل ہو چکے تھے تاکہ گھر کی مکمل تلاشی لی جائے۔ ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ سودھا سنگھ وہیں پر موجود ہو اور یہ ہوائی اُڑا دی گئی ہو کہ وہ پٹیالا چلا گیا ہے۔ یقیناً تھانیدار اکیلا آتا تو اُس کی جرات نہیں تھی کہ وہ سودھا سنگھ کی حویلی میں داخل ہو تا لیکن اب تو تحصیل کا سب سے بڑا انگریز پولیس افسر اُن کے ساتھ تھا۔ اِس لیے سپاہی،حوالدار اور تھانیدار سب ہی دلیر ہو گئے۔ وہ سودھا سنگھ کی حویلی کی چار پائیاں اور موڑھے اُلٹ پلٹ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں سودھا سنگھ کے بھائی نتھا سنگھ کو بھی ڈپٹی صاحب کے سامنے لا کر پھینک دیا،جس کا ڈیل ڈول یوں تو بھائی ہی کی طرح تھا لیکن شخصیت میں رعب خاک نہیں تھا۔ فقط داڑھی کی لمبائی اتنی تھی کہ سودھا سنگھ کی داڑھی اُس کے نصف میں ہو گی۔ نتھا سنگھ لوئیس کے قدموں میں اِس طرح پڑا تھا جیسے چھوٹا سا بچہ پیاس سے بلک رہا ہو اور یہ ایسی گستاخی تھی،جس کو دیکھ کر پورے گاؤں والوں کے پسینے چھوٹ گئے۔ اُن کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ انگریز سرکار اِتنے غصے میں ہو گی۔ ابھی لوئیس صاحب نتھا سنگھ کی طرف متوجہ ہی تھے کہ کچھ سپاہی پیت سنگھ کو بودیوں سے پکڑ کر لے آئے۔
اب دن کا سورج سامنے چمک رہا تھا اور پندرہ بندے ہاتھ بندھے لوئیس صاحب کے آگے پڑے تھے،جن پر ڈنڈوں اور چابکوں کی لگاتاربارش نے اُن کے جسم بھی اُدھیڑ کر رکھ دیے تھے۔ جھنڈو والا کے لوگوں کو یہ تو پتا تھا کہ پولیس کسی دن اُن پر ضرور چڑھائی کرے گی لیکن اُنہیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ معاملہ اِتنا سنجیدہ ہو جائے گا اور فرنگی اُن پر یوں لوہے کے گھوڑے اور آگ کے چابک لے کر چڑھ دوڑیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ اب ضرورت سے زیادہ حوصلہ چھوڑ بیٹھے۔ انگریز سرکار کی اتنی سختی دیکھ کر اُن کے اوسان جاتے رہے اور پیشاب خطا ہو گئے۔ سوائے رونے چیخنے اور واویلا کرنے کے اُنہیں اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
چھاپے کے شروع میں ایک دو عورتوں نے سپاہیوں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے کی کوشش بھی کی لیکن جب اُن پر بھی ڈنڈے چل گئے تو وہ بھی سہم کر چُپ ہو بیٹھیں۔ وہ سوچ رہے تھے،اچھا ہی ہوا سودھا سنگھ پٹیالا چلا گیا ورنہ آج اُس کی ساری عزت اور رعب فرنگی سرکار پاجامے کے رستے نکال دیتی پھر جھنڈو والا کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔ لوگ اگر کسی کی ذلت کی مثال دیتے تو وہ جھنڈو والا کا نام لیتے۔

 

پولیس کا چھاپہ انتہائی صبح کے وقت پڑا تھا،اس لیے کافی لوگ سوئے ہوئے اچانک دبوچے گئے۔ بعض کو پولیس کی اتنی زیادہ نفری کے سامنے بھاگنے کی بھی جرات نہیں ہوئی۔ وہ جتنا بھی تیز دوڑتے،گھوڑوں سے آگے نہیں نکل سکتے تھے اور ہاتھ آنے پر پولیس کا غصہ بر داشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ پھر وہ پٹائی ہوتی کہ گرو جی بھی دنگ رہ جاتے۔ اِس کے علاوہ پکے مجرم بھی سمجھ لیے جاتے۔ چنانچہ اُنہوں نے بھی نہ بھاگنے میں ہی مصلحت جانی۔

 

کافی دیر تک یوں ہی پکڑ دھکڑ جاری رہنے کے بعد جب گاؤں کے مرکز میں ایک مجمع لگ گیا تو لوئیس صاحب نے تھانیدار کو حکم دیا کہ سودھا سنگھ،جگبیر سنگھ اور دوسرے نامزد مجرموں کامال مویشی اور جو مخبری کے مطابق مشکوک مجرم ہاتھ نہیں آ سکے،اُن کا بھی مال آگے رکھ کے پھاٹک لے چلو۔ جو ملزم پکڑے گئے ہیں،اُن کا مال لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جب سب کچھ نپٹا لیا گیا تو لوئیس صاحب،جن کے سر پر پولیس کی ستارے والی ٹوپی اتنی بارعب ہو چکی تھی کہ اب اُسے بھنگی بھی پہن لیتا تو واہگرو سے زیادہ باعزت سمجھاجاتا،اُس نے اپنے دائیں پاؤں کے جوتے پر ہاتھ میں پکڑی ہوئی بیت سے ٹھوہکا لگاتے ہوئے گاؤں وا لوں کو مخاطب کر کے کہا،اہلیانِ جھنڈو والا،مَیں آپ کو دو دن کا وقت مزیددیتا ہوں،جن ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں،تھانیدار اُن کے نام آپ کو پڑھ کر سُنا رہا ہے۔ اگر اُنہوں نے دو دن تک اپنی گرفتاری نہ دی تو یاد رکھو،سرکار اُن کا مال لے کر جا رہی ہے۔ سرکار اُن کا یہ مال نیلام کرنے کی مجاز ہوگی اور اُس کی رقم اپنے خزانے میں داخل کرلے گی۔ اِس کے علاوہ اُن کے گھروں کو کھُدوا دیا جائے گا اوربیوی بچوں کو جلال آباد تھانے لے جا کر بند کر دیا جائے گا۔ یہ کہ کر لوئیس صاحب انسپیکڑ متھرا کی طرف مُڑے اور بولے،متھراصاحب آپ اِن سب کو اپنی نگرانی میں تھانے پہنچاؤ اور کل میٹنگ کے لیے تھانیدار کو ساتھ لے کر پہنچ جاؤ۔ ہم دیکھتے ہیں،کس طرح گورنمنٹ کے قانون کے ساتھ مذاق اُڑایا جاتا ہے اور سودھا سنگھ کتنا بڑا سورما ہے۔

 

اس کے بعدلوئیس صاحب جیپ پر بیٹھ گئے اور ڈرائیورنے انجن کی گراری کارسًہ کھینچ دیا اور پورے بارہ بجے پولیس مجرموں کے قافلے کے ساتھ جلال آباد روانہ ہو گئی۔

 

تمام مجرم ہاتھ بندھے ایک گڈ پر بٹھا لیے۔ جس کے آگے دو بیل جُتے ہوئے تھے،جو اُسی گاؤں سے لیے تھے۔ گَڈے کو بیس گھڑ سوار سپاہیوں کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ جن میں سے اکثر کے پاس لمبی نال والی توڑے دار بندوقیں تھیں۔ جب سپاہی فوجاسیو کے گھر کے سامنے سے گزرے تو فوجا سیو دروازے کے باہر کھڑا اُنہیں دیکھ رہا تھا۔ حقیقت میں اُنہیں اِس طرح قید میں بندھے ہوئے جاتے دیکھ کر فوجا سیو کا جی اندر سے زار زار رو رہا تھا۔ جیسے کہ رہا ہو دیکھا،میں نہ کہتا تھا اِس کا نتیجہ بہت بُرا ہو گا لیکن کیا کیا جائے۔ اگر سرداروں کو شراب پینے کے بعد کچھ ہوش بھی رہتا تو آج اِس گَڈ میں سرداروں کی بجائے فرنگی سوار ہوتے لیکن اب تو اِس کی حسرت ہی کی جا سکتی تھی۔ وقت گزر جائے تو سوائے سیاپے کی چوٹوں کے کچھ نہیں بچتا۔ اور حقیقت میں یہ مصیبت اُن پر جگبیر کی وجہ سے آئی تھی اور اب وہ حرامی سودھا سنگھ کے ساتھ پٹیالا میں بیٹھا مزے کر رہا تھا اور اِن غریبوں کو پھنسا دیا۔ پولیس مال مویشی اور ملزموں سمیت جھنڈو والا سے نکل گئی تو عورتوں کو رونے کا موقع مل گیا۔ اُنہوں نے بین کر کر کے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ بعض دو ہتھڑ پیٹنے لگیں۔ پورے گاؤں کی فضا انتہائی سوگوار ہو چکی تھی،جیسے سب گھروں میں ماتمی صفیں بچھ گئی ہو ں۔ یہ دیکھ کر فوجا سیو آہستہ آہستہ چلتا ہوا گاؤں کے اُسی مرکز میں آیا جہاں تھوڑی دیر پہلے سب سے بڑا پولیس والا فرنگی کھڑا تھا۔ فوجا سئیو کو دیکھتے ہی اُس کے گرد تمام گاؤں کا مجمع لگ گیا۔ خاص کر عورتیں پیٹ پیٹ کر اپنا بُرا حال کر رہی تھیں۔ باقی لوگ یا تو طرح طرح کے تبصرے کر رہے تھے یا بولنے والو ں کو فقط ٹک ٹک دیکھے جا رہے تھے۔ اس تمام صورت حال میں صرف فوجا سیو ہی تھا جس کے ہوش کچھ ٹھکانے پر تھے اور گاؤں والوں کے لیے دلاسے اور ڈھارس کی جگہ تھی۔ فوجا سیو نے جب دیکھا کہ سب اُسی کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ اب جو اُپا کرنا ہے،اُس کے بارے میں بتائے،تو فوجا سیو تمام متروں کی طرف دیکھ کر تلخی سے بولا،مترو،ہُن شیر بنو،جو کجھ تسیں کرنا سی،اوہ کر لیا،ہن تاں شریکاں دی واری آ،ہن واری دی سٹ مرد بن کے سہوو۔ پھر تھوڑی دیر چپ کرنے کے بعد دوبارہ بولا،بیرو گھبران دی کوئی گل نہیں۔ ہُن آپاں مرداں طرحاں مقابلہ کراں گے۔ اَتے جلد ہی اپنے متراں نوں فرنگیاں کولوں لے کے آجاں گے۔ مَیں اَج ہی سردار ہرے سنگھ نوں جا کے مل ناں۔ باقی مال تاں آن جان آلی شے آ۔ اوندا دکھ نئیں کرنا۔ اِس کے بعد سردار فوجا سئیو نے دیون سیو کو آواز دے کر کہا،دیون پُت میری گھوڑی تے ساز کس دے۔ مینوں ہُن فیروز پور جانا ای پے گیا۔ بھجیاں باہواں تاں سیاناں کیہیا وا گل نوں ای اوندیاں۔ اُس نے سکھ عورتوں کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا،کوئی گل نئیں دھیؤ جے سودھا سنگھ اَتے جگبیر تُہانوں مشکل وچ چھڈ کے پٹیالا نس گئے نے۔ مَیں تہاڈے باپو دی تھاں تہاڈے نال آں۔ سردار ہرے سنگھ کولوں اودوں ہی اُٹھاں گا۔ جَد مال تے بندے جھنڈو والا اپنے گھر آ جان گے،تسیں فکر ناں کرو۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – دسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(18)

 

سردار سودھا سنگھ سورج چڑھنے سے کافی دیر پہلے بیدار ہو گیا۔ پلنگ سے آہستہ سے اُٹھا اور رضائی آرام سے بینت کور کے اُوپر ڈال دی۔ اِس کے بعد اپنی پگڑی سر پر درست کی، کرپان باندھی اور منہ اندھیرے ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ باہر ڈیوڑھی میں رات کے جتنے پہرے دار تھے سب سو چکے تھے، البتہ چھدّو جاگ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ رات کو سردار سودھا سنگھ کے اٹھتے ہی اپنی چارپائی پر جا پڑتا تھا۔اس لیے صبح اُس کی آنکھ جلدی کھُل جاتی۔ اُس نے اشنان تو مہینوں بعد کرناہوتا تھا اس لیے سردی میں صبح کے وقت آگ جلانے کے سوا اُسے کوئی کام نہ تھا۔آج بھی اُس نے صبح گوردوارے کا گھنٹہ بجنے سے پہلے ہی آگ جلا لی تھی۔ سردار کو ڈیوڑھی کی طرف آتے دیکھ کر چھدّو فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پرنام کیا۔ سردار نے چھدّو کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، چھدّو ڈیوڑھی کا دروازہ کھولو۔ چھدّو کو سردار سودھا سنگھ کے معمول کا پتہ تھا، اس لیے سودھا سنگھ کے بولنے سے پہلے ہی دروازے کی بلیاں اُٹھانے لگااور آہستہ آہستہ پانچوں بلیاں اُٹھا دیں۔ دروازے کو دھکیلنے کے لیے تختوں کے نیچے لکڑی کے چھوٹے پہیے لگے ہوئے تھے۔پھر بھی اِس پہاڑ جیسے دروازے کو دھکیل کر ایک طرف کرتے ہوئے چھدّو کو بہت زور لگانا پڑا۔دروازہ اتنا بڑا اور بھاری تھا کہ اُس سے دو دو ہاتھی ایک وقت میں گزرنے کی راہ تھی۔ کالی سیاہ ٹاہلی کی موٹی موٹی چگاٹھوں پر تین انچ کے موٹے اور چھ ضرب دس فٹ کے چوڑے اور لمبے تختے تھے، جن پر کلو کلو بھرکے بے شمار لوہے اور تانبے کے کیل کڑے جَڑے ہوئے تھے۔ تختوں کے علاوہ لوہے کا وزن ہی کوئی تین چار من کے قریب ہو گا۔ سردار سودھا سنگھ نے آگے بڑھ کر چھدّو کا اس معاملے میں ہاتھ بٹایااور دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی سردار سودھا سنگھ باہر نکل گیا اورچھدو لنگڑاتا، ہانپتا دوبارہ آگ کے پاس آ بیٹھا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے گوردوارہ پہنچ کر سنت سے کہا کہ اُسے اشنان کرائے۔ حوض کے کنارے کھڑے ہو کر کپڑے اتارنے لگا۔حوض کا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔رات بھر پڑنے والے پوہ کے پالے اور ٹھنڈی ہوا سے پانی کے اُوپر برف کی کاغذی تہہ جم چکی تھی۔لیکن سردار سودھا سنگھ نے بچپن ہی سے کبھی گرم پانی اشنان کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔ اُس کے خیال میں پانی گرم کر کے نہانا زنانیوں کا کام تھا۔ اس طرح کے لچھن کرنے سے سردار وں کی مردانگی میں فرق آتا تھا۔ سودھا سنگھ کی کمر اور پورے جسم پر ریچھ کی طرح بالوں کے اتنے گچھے اُگے تھے کہ ماس کی ذرا بھی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ ان کھردرے بالوں میں چھپے جسم کونہلانے کے لیے سنت نے لسی کی بھری ہوئی گاگر رات کو ہی منگوا لی تھی۔ یہ اُس کا معمول تھا۔ سودھا سنگھ کے جسم کے اوپرکھٹی لسی گرا کر،جو کم از کم چوبیس گھنٹے پُرانی ہوتی،وہ دونوں ہاتھوں سے جسم کو رگڑتا۔پھر ٹھنڈے پانی کے کٹورے بھر بھر کراُس کے اوپر ڈالتا تو جسم کے بال کالے شیشوں کی طرح چمک اُٹھتے اور ایسے لگتا پورے جسم پرچھوٹے چھوٹے باریک سانپ اُگ آئے ہوں۔

 

سر دار سودھا سنگھ نے اشنان کرنے کے بعد آرام سے کپڑے پہنے اور پوجا پاٹ میں مصروف ہو گیاحتیٰ کہ سورج چڑھنے کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اُس کے بعد وہ گوردوارہ سے نکل کر کھیتوں کی طرف چل دیا۔ کھیتوں کی لمبی سیر نے سردار سودھا سنگھ کی طبیعت میں جوانوں کی سی تازگی بھر دی۔ رات بھر اوس پڑتے رہنے سے ہر طرف پھیلی ہوئی فصلوں پر سبزے پر اور پگڈنڈیوں پرٹھنڈک ہی ٹھنڈک اور تریل جمع ہو چکی تھی۔ بہت سارے لوگ ادھر اُدھر اپنے ہل جوتے ہوئے بیلوں کو ہانک رہے تھے۔اِن صبح سویرے ہلوں میں جُتے ہوئے بیلوں کی بجتی ہوئی گھنٹیاں سردار سودھا سنگھ کو گوردوارے کے گھنٹے کی آواز سے کہیں زیادہ مسحور کن لگنے لگیں۔ دُور تک دیسی سرسوں کے پیلے پھول،برسن کا چارہ اور گندم کے کھیت جن پر ابھی خوشے یا سٹے نہیں نکلے تھے، یہ سب اور ان کے درمیان جا بجا بہتا ہوا، کھالوں اور رہٹ کاپانی شیشے پر لڑھکتے ہوئے شفاف پارے کی طرح تیر رہا تھا۔ سردار سودھا سنگھ کبھی کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں اور کبھی کھال کے کناروں پر چلتا اور چھوٹے موٹے کھڈوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ کبھی کبھی دور سے کوئی واہگرو یا ست سری اکال کا نعرہ بلند کرتا تو سردار صاحب ہاتھ ہلا کر یا اُسی طرح نعرے کے ساتھ اُس کا جواب دے کر بغیر ٹھہرے آگے چلتا گیا۔ اسی طرح سردار سودھا سنگھ، ٹاہلیوں، کیکروں اور شرینہہ کے درختوں کا طواف کرتا، کھیتوں کی اوس اور لمس لیتا سورج کے منہ دکھانے کے ساتھ ہی دوبارہ حویلی کی ڈیوڑھی کے بڑے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو سب نے اٹھ کر سردار صاحب کو پرنام کیا۔ سردار سودھا سنگھ تھوڑی دیر وہاں رُکا، دو ایک لوگوں کے ساتھ ہلکی پھلکی چہل کی پھر زنانے میں چلا گیا۔ اس سیرسے سردار صاحب کی بھوک کافی چمک گئی تھی کیونکہ وہ کم از کم دو میل چلا تھا۔

 

زنانے میں داخل ہوتے ہی سردار سودھا سنگھ نے بینت کور کو آواز دی جو گرنتھ پڑھنے میں مصروف تھی، او بنتے جلدی نال بھوجن دے دے۔ ہُن بُھکھ بڑی لگ گئی آ۔ جد ویکھو گرنتھ پڑھ دی رہندی آ، پتا نئیں گروجی نال کوئی مُک مکا کر لیا وا۔

 

بینت کور نے بیٹھے بیٹھے ہی اجیت کور سے کہا “پت اجیتے چھیتی نال اپنے پِتاجی نوں ناشتہ کروا، میں تھوڑا جہیا رہ گیا، پڑھ لاں۔ اونی دیر وچ کِتے تیرے پِتا جی دی جان نہ نکل جاوے۔

 

اجیت کور، جلدی سے اُٹھ کر ناشتہ تیار کرنے لگی۔اتنی دیر میں چھماں نے دُور تک پھیلے صحن کے ایک کونے میں جہاں دھوپ خوب نکل کر سفید ہو گئی تھی، چار پائی لگا دی،جس پر سردار سودھا سنگھ چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ کرپان اتار کر اُس نے چارپائی کی ادوائین کی طرف رکھ دی۔ اس عرصے میں بینت کور بھی گرنتھ کو غلاف میں لپیٹ کر اونچے اورمحرابی نما طاق میں رکھ کر پاس آ بیٹھی۔ چند منٹوں میں اجیت کور نے ناشتہ تیار کر کے چھماں کو پکڑا دیا اور خود لسی جگ میں ڈالنے لگی۔ چھماں نے ناشتہ سردار سودھا سنگھ کر سامنے رکھ کر بڑا سا کپڑا اُس کے زانوؤں پر پھیلا دیا تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں۔ اسی اثنا میں اجیت کور لسیً لے کر آگئی اورسامنے تپائی پر ناشتہ رکھ دیا گیا۔ دیسی سرسوں کا مکھن میں گُھلا ہوا ساگ اور مکھن میں تیرتے ہوئے پراٹھوں نے،جن سے گرم گرم بھاپ کے لمس اُٹھ رہے تھے،سودھا سنگھ کی مزید بھوک بڑھا دی۔

 

پہلے سردار سودھا سنگھ نے سیر بھر کا پیتل کا گلاس جسے نئی قلعی کرائی گئی تھی، بھر کر گٹا گٹ کر کے پیا۔ ہلکے نمک والی لسی نے سردارجی کے کئی مسام کھول دیے۔ اگر کسی نے سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر صبح سویرے نمک والی لسی نہیں پی تو وہ نہیں جان سکتا کہ سردار سودھا سنگھ اِس وقت کتنی شرابوں سے مخمور تھا۔ لسی پینے کے بعد سردار صاحب نے ساگ کے ساتھ پراٹھے کا لقمہ لیا اور اُسے کھانے لگا۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کے تین سالہ بیٹے موہن سنگھ کو گود میں لے کر سامنے خموش بیٹھی تھی جبکہ چھماں جو گھر کی ملازمہ تھی،گھر کے بقیہ کام نمٹانے لگی اور اجیت کور نے چولہے پر رکھے دودھ کے نیچے پاتھیوں کی ہلکی آنچ رکھ دی۔ پاتھیوں کی ہلکی آنچ سے ایک تو دودھ برتن سے اُبل کر باہر نہیں گرتا دوسرا یہ کہ تھوڑی تھوڑی آگ کے دُھکنے سے دودھ خوب کڑھ بھی جاتاہے اور اُس پر موٹی با لائی آ جاتی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کرتے ہوئے بینت کور کو دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان نظر آ رہی تھی۔

 

خیر ہے بنتو کچھ کملائی لگتی ہو؟سودھا سنگھ نے بھاری مونچھوں اور گھنی داڑھی کے درمیان میں کہیں چُھپے ہوئے منہ کے دھانے کی طرف لُقمہ لیجاتے ہوئے پوچھا۔

 

بینت کور نے دھیمے سے، ہاں، میں سر ہلا دیا۔

 

پر ہوا کیا؟ کچھ تو پتا چلے “سردار سودھا سنگھ کھانے سے بغیر ہاتھ روکے بولا”

 

سردار جی مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ آج کل بُرے بُرے سپنے دیکھتی ہوں، بینت کور نے سر اُٹھا کے آخر سردار جی کو اپنی پریشانی بتانے کی کوشش کی۔
“ پھر بینت کور مزیدآگے ہو کر بولی” کنتا، جودھاں، بلّو اور دوسری کُڑیاں سو سو طریقے کی باتیں کرتی ہیں۔

 

سودھا سنگھ لا پروائی کے ساتھ ایک اور لسی کا گلاس چڑھاتے ہوئے بولا،اسی لیے دن رات گرنتھ اور پاٹھ پوجا کے دوالے رہتی ہو۔وہ کیا باتیں کرتی ہیں کچھ تو پتا چلے بنتے؟

 

بینت کور سرگوشی کے سے انداز میں بولنے لگی، وہ کہتی تھیں غلام حیدر کی وائسرائے کے ساتھ رشتے داری ہو گئی ہے۔ اُس کی کُڑی کے ساتھ اِس منڈے کا یرانہ ہے۔ اندر خانے شادی بیاہ کے قصے بھی چل رہے ہیں۔ سودھے مجھے فکر ہے اگر یہ باتیں ٹھیک ہیں تو پھر بڑے سیاپے پڑ جان گے۔ واہگرو نہ کرے،اگر سردار جی وائسرائے نے غلام حیدر کو اپنی کُڑی دے دی تو پھر،،،؟ بس مجھے یہی پریشانی ہے کہ ہمارا سیدھا سیدھا فرنگیوں سے وَیر پڑ جائے گا۔ مَیں تو کہتی ہوں ان فرنگی عیسائی اور مُسلوں کا اندر سے دھرم بھی ایک ہی ہے۔ دونوں ہی اپنے مُردوں کو گڑھوں میں دباتے ہیں اور کوئی پیغمبروں شغمبروں کو مانتے ہیں۔ ان کو وَیر صرف سرداروں سے ہی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کر کے ایک بڑا سا ڈکار لیا اور بینت کور کی بات سن کر ہلکا سا قہقہہ مارا،پھر مونچھوں سے لسی کی سفیدی صاف کرتے ہوئے بولا۔ بنتو! تُونے اتنی باتیں کہاں سے سیکھ لی ہیں؟ حوصلہ رکھ، یہ فرنگی کسی کے متر نہیں، جتنے سرداروں کے دشمن ہیں اتنے ہی مُسلوں کے بھی ہیں۔ پھر دشمنی تو مردوں کا گہنا ہوتی ہے، بنتو۔وَیر کے بغیر مرد ایسے ہی ہے جیسے اکھاڑوں میں ناچنے والا کُھسرا،جس کے سارے یار ہی یار ہوتے ہیں۔ غلام حیدر کل کا مُنڈا میراکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔چاہے ملکہ کے ساتھ بیاہیا جائے۔ اس مُسلے کی دُم تو اب چکی کے پَڑ نیچے آئی ہے۔ کل تک اُس کو سُر لگ جائے گی۔ ایہہ نہیں جانتا سرداروں کی چھوَیوں میں لوہا دیگی ہوتا ہے۔ پتھر کے سینے میں لگے تو خون نکال دے۔یہ تو پھر ایک پڑھاکو چھوہرا ہے۔

 

پھر بھی سودھا سنگھ “بینت کور دوبارہ بولی” سُنا ہے اُس کے پاس ایک پکی ریفل بھی ہے۔ سردار جی تُوں احتیاط ہی کر۔ باہر نکلے تو چار بندے بھی ساتھ لے لیا کر۔ اکیلا ہی نہ سیراں کو نکل جایا کر،تجھ پر گرو جی کی رکھ ہو، مجھے تورات ہَول پڑتے رہے۔ جب آنکھ بند کرتی تھی،میرے منہ میں سواہ، تجھے ہتھ کڑیوں میں دیکھتی تھی۔ات نیند نہیں آئی۔ میری مان سودھا سنگھ، غلام حیدر سے صلح کر لے، یہ فرنگی بڑے بُرے ہیں۔ ظالموں میں ذرا ترس نئیں۔ بڑے سے بڑے سردار سے نہیں ڈرتے۔ سنا نہیں؟ رنجیت سنگھ کی نسلوں تک کو ہتھ کڑیاں اور بیڑیاں لگاکر لے گئے۔سودھے مجھے تو بڑا ڈرا لگتا ہے۔

 

دیکھ بنتو “سردار سودھا سنگھ غصے سے بولا” تم مردوں کے بکھیڑے میں نہ پڑا کرو۔ساری رات سوتی ہو۔سُفنے کدھر سے دیکھتی ہو۔ خراٹے مار مار کے میری نیند حرام کر دیتی ہو۔( کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولا) تمہاری مت رونے دھونے سے آگے نہیں بڑھتی۔ اب یا تو غلام حیدر رہے گا یا سردار سودھا سنگھ۔ تُو دیکھتی جا،مَیں نے ڈپٹی کمشنر سے سفارش کابندوبست کر لیا ہے۔ بس تُوں اپنے کام کر اور کسی زنانی کی باتوں پر غور نہ کر۔ یہ ہمارے کرنے کے کام ہیں، ہم بہتر کر لیں گے۔اتنا کہ کر سودھا سنگھ نے کرپان کمر سے باندھی اور پگڑی سر پر رکھ کر بیرونی حویلی میں آ گیا،جہاں بہت سارے سردار جمع ہو ئے بیٹھے تھے۔ سردار سودھا سنگھ کو آتے دیکھ کر سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔سودھا سنگھ نے چار پائی پر بیٹھتے ہی جگبیر سنگھ کو بلایا۔ جب وہ پاس آ کر سامنے والی چار پائی پر بیٹھ گیا تو سردار نے کہا، جگبیراس سے پہلے کہ تھانیدار یہاں سنتری لے کر پہنچے، ہم اپنی اگلی گوٹی چل دیں۔کیا پورا بندوبست ہو گیا ہے؟

 

جگبیر نے کھنگھار کا گلہ صاف کیا اور بولا، سردار صاحب بس آپ کی اشیرواد چاہیے۔باقی تو ہر شے کی تیاری ہے۔ پیت سنگھ کو میں نے ساری بات سمجھا دی ہے۔ چھ گھوڑیاں تیار کھڑی ہیں شاہ پور کا مُلک لوٹنے کے لیے۔ آج شام گھنٹہ بجنے کے ساتھ ہی پیت سنگھ، پھجا سیؤ، ہرا سنگھ، دمّا سنگھ، چھندا سیؤ اور میں نکل جائیں گے۔ عبدل گجر کے چالیس بندے ہوں گے۔ واہگرو کی منشا ہوئی تو صبح چانن ہو جان گے۔

 

اس کے بعد سودھا سنگھ نے جگبیر کے کان کے پاس ہو کر ہَولے سے کہا، جگبیرے ایک آدھ بندہ ضرور پھڑک جانا چاہیے۔ کم سے کم عبدل گجر کی کَنڈ پر تین سو دو ضرور رکھ آنا۔ اس طرح معاملہ زیادہ گھمبیر ہو جائے گا اور غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکے گا۔

 

سردار جی آپ چنتا رکھیں،بندہ ایک نہیں دو دو لمکیں گے،جگبیر نے شرارت آمیز ہنسی بکھیرتے ہوئے جواب دیا۔

 

آخری بات کسی کو بھی سنائی نہ دی۔ البتہ ہر ایک یہ ضرور جان گیاکہ سردار سودھا سنگھ نے پتے کی بات جگبیر سے آخر ہی میں کی ہے، جس پر جگبیر نے ہنستے ہوئے آنکھ بھی ماری تھی۔ اس کے بعد کافی دیر تک دوسری باتیں ہوتی رہیں، جن کا غلام حیدر کے معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا۔یہاں تک کہ سورج چمک کر سامنے آگیا اور سب لوگ اپنے کام کاج کو نکل گئے۔ لوگوں کے جانے کے بعدحویلی دوبارہ چار چھ نوکروں کے علاوہ قریباً خالی ہو گئی اورسردار سودھا سنگھ بھی زنانے میں چلاگیا۔

 

(20)

 

عشا کی نماز پڑھنے کے بعد دس بارہ نمازی،جن میں اکثر بڈھے تھے، سب اپنے گھروں کو چلے گئے مگر مولوی کرامت وہیں بیٹھا رہا۔ اُس نے نہ تو کسی سے بات کی اور نہ ہی دعا مانگنے اور نماز پڑھانے میں طوالت اختیار کی تھی۔ وہ مسجد کی محراب میں بیٹھا اس طرح سوچ میں ڈوبا تھا جیسے صبح سب کچھ لٹنے والا ہو۔ اُس نے اسی مسجد کے احاطے میں ہوش سنبھالے تھے اور آج وہ پچپن کا ہو چکا تھا۔اُس نے وہیں اپنا پہلا سبق پڑھا تھا۔ اسی فرشِ خاک پر پیشانی رکھی تھی،تو یہی خاک اُس کے لیے خاک ِشفابن چکی تھی۔

 

مسجد نہایت چھوٹی، بوسیدہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی مگر مولوی کرامت کے لیے کعبۃاللہ سے کم نہیں تھی۔ اُسے مسجد کی ایک ایک شے سے محبت تھی۔یہی وجہ تھی کہ رات اِسی مسجد میں رہ گیا اور باہر جانے کو جی نہ چاہا۔ اُس کے لیے پُرانے طاقوں میں پڑے مٹی کے وہ چراغ جن میں اپنے ہاتھوں سے برس ہابرس تک تیل ڈال کر جلاتا رہا تھا۔ اُن کے اندر پڑے ہوئے روئی کے پھمبے، جوبیسیوں سال تیل اور آگ کے دھویں میں گُھل مل کر نہایت میلے کچیلے ہو گئے تھے۔ مسجد کی چھت کے برسوں پُرانے اور دھویں سے سیاہ ہوئے شہتیر اور آنکڑے، جن پر مکڑی کے سیاہ جالے لگے ہوئے تھے، دیواروں میں ٹیڑھے میڑھے طاق اور اُن میں بوسیدہ غلافوں میں لپٹے قرآن اور قاعدے سپارے، جن کی اپنی حالت بھی غلافوں سے کم نہیں تھی،۔کچے فرش پر بچھی کھجور کے پتوں کی چٹائیاں جو گھِس گھِس کر اتنی پرانی ہو چکی تھیں کہ اُن میں ملائمت اور چمک پیدا ہو گئی تھی۔اُن چٹائیوں کے دھاگے تو کب کے ریزہ ریزہ ہو چکے تھے مگر پتےٌ اپنی ترتیب میں فقط پیروں کے دباؤ کی وجہ سے ہی ایک دوسر ے کے ساتھ جُڑے رہ گئے تھے۔ ان کے علاوہ دیواروں میں جگہ جگہ تنگ روزن۔ اُن روزنوں اور روشندانوں میں بے شمار چڑیوں،فاختاؤں اورلقے کبوتروں کے گھونسلے اس طرح بنے تھے کہ اُن کی وجہ سے وہ بالکل بند ہو چکے تھے۔انہی روزنوں میں پھنسے پرندوں کے پر، تنکے،خس اور بِیٹوں نے سورج کی کرنوں اور ہواکا راستہ ایک عرصے سے روک رکھا تھا۔مسجد کی محراب جو ایک قسم سے مولوی کرامت کے جسم کا حصہ تھی۔اس چھوٹی سی چار فٹ چوڑی، پانچ فٹ لمبی اور آٹھ فٹ اونچی محر اب میں کئی چیزیں مثلاً لکڑی کا پرانا چار سیڑھیوں والا منبر،جس پر بیٹھ کر اُس کا دادا، باپ اور پھر وہ خود جمعہ کا خطبہ دیتے رہے یا کبھی کبھار وعظ کہتے رہے۔ جن میں چند بندھی ٹکی نصیحتوں کا اصرار تھا،جو گاؤں والوں کو کبھی کی ازبر ہو چکی تھیں، جیسے اُن کے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیاں۔اُس منبر کا رنگ اب کوئی نہیں بتا سکتاتھاکہ جب وہ نیاتھا تو کیا ہو گا۔ محراب کے اندرکاندھوں کے برابر تین چھوٹی چھوٹی محرابیوں والے طاق اور اُن میں رکھے چراغ۔ جن کے جلانے کی ڈیوٹی بچپن سے اُس کی اپنی ہی رہی۔ اُس کے علاوہ مسجد کے صحن کے مشرقی کونے میں وہ چبوترہ جس پر کھڑے ہو کر پانچ وقت اذان دیتا تھا۔الماریوں میں پڑی لکڑی کی رحلیں، میلاد النبیؐ کے دن مسجد کی چھت اور صحن میں باندھی جانے والی رنگ برنگی کپڑے کی جھنڈیاں، رمضان کے مہینے میں روزہ افطاری کااعلان کرنے والا نقارہ، حتیٰ کہ صحن کے ایک کونے میں پڑی ہوئی مُردوں کو لاد کر لے جانے والی چارپائی، وہ ایک ایک چیز کو غور سے دیکھتا گیا اور اُسے بوسے دیتا گیا۔ غرض صحن سمیت اس تیس فٹ لمبی اور بیس فٹ چوڑی مسجد کی ایک ایک شے مولوی کرامت کے وجود کاحصہ بن چکی تھی، جسے اگر اُس کے بس میں ہوتا تو اٹھا کر جلال آباد لے جاتا۔ کئی دفعہ ذہن میں آیا کہ نہ جائے مگر پھر اُسے فضل دین کا خیال آ جاتاجو محض روٹیاں اکٹھی کرنے اور جھڑکیاں کھانے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ اسی عالم میں اُسے صبح نے آ لیا۔

 

مسجد میں صبح کی نماز چھوڑ کر باقی چار وقتوں میں نمازیوں کی تعداد پندرہ بیس سے کبھی نہیں بڑھی تھی۔ صبح کے وقت چالیس پچاس فرد ہر صورت جمع ہو جاتے۔ یہ اصول اسی گاؤں کی مسجد کا نہیں تھا۔ پنجاب کے جتنے دیہات یا شہر ہیں، وہاں کے نمازیوں کی یہی حالت ہے۔ یہ لوگ صبح کی نماز کو عموماً ترجیح دیتے ہیں اور باقی کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔با لکل اُس نوکر کی طرح جس کا مالک اُسے کوئی کام بتا کر فوت ہو جائے اور وہ نوکر اُس کام کا ایک فی صد کر کے باقی اپنے مالک کے زندہ ہونے تک ملتوی کر دے۔صبح کی نماز پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اِن دیہاتی لوگوں کو ہمیشہ سے ہی رات کو جلد سو نے کی اور صبح جلد اُٹھنے کی عادت ہوتی ہے۔ چونکہ صبح کے وقت اٹھ کر کرنے کو کوئی اور کام نہیں ہوتااور نماز پڑھنے کے لیے ہاتھ منہ دھونا ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے صبح کی نماز گویا منہ ہاتھ دھونے کا بہانہ سمجھ لیں۔ اس کے علاوہ صبح کے وقت لوگ تازہ دم بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال آج فجر کی نماز میں معمول کے مطابق گاؤں کے قریباً سبھی سر کردہ لوگ جمع تھے جن کی تعداد ساٹھ تک تھی۔

 

نماز ختم ہوئی تو مولوی کرامت نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ گڑگڑا کر دُعا کی اور اس کو اتنا لمبا کھینچا کہ نمازی فکر مند ہو گئے۔ ہر ایک شخص کا نام لے کر، اُن کی ضروریات کی تمام چیزیں صحت، دولت اورا یمان تک مولوی صاحب نے اللہ سے مانگیں۔ اس کے بعد نمازیوں کی طرف منہ کر کے رُندھی ہوئی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔

 

گاؤں والو، خدا تم کو سلامت رکھے اور اس گاؤں پر کبھی کوئی مصیبت نہ آئے۔مجھے یہ کہتے ہوئے بہت دُکھ ہو رہاہے کہ میں آج یہاں سے ہجرت کر جاؤں گا۔ تم نے میری اور میرے باپ دادا کی بہت خدمت کی۔اس مٹی میں جنتا ہمارا رزق تھا،وہ ہم نے کھا لیا۔ اب آگے کا دانہ پانی اللہ نے کہیں اور لکھ دیا ہے۔اب دعاؤں کے ساتھ رخصت چاہتا ہوں۔

 

اتنا کہتے ہوئے مولوی کی آواز ایک دم بھرّا گئی۔ اُس سے آگے نہ بولا گیا اور ہچکی بندھ گئی َمولوی کو روتے دیکھ کر سب لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
سچ بات تو یہ تھی کہ آج تک مولوی کرامت کی کسی بھی شخص سے چپقلش نہ ہوئی تھی۔ سب کے گھروں میں آنا جانا کُھلا تھاَ ہر ایک کی ماں بہن کو مولوی کرامت نے اپنی ماں بہن سمجھا۔ کبھی نہ کسی شخص سے منہ بھر کے مانگااور نہ کم زیادہ ملنے پر بُڑبُڑ کی۔جو کسی نے دیا،رکھ لیا، نہ دیا تو خموش ہو گیا۔ گاؤں میں مولوی کی ایک انچ زمین نہ تھی َ۔گھر کا جو احاطہ رہنے کے لیے تھا وہ بھی چوہدری گلزار محمد نے دے رکھا تھا مگر مولوی کرامت گاؤں کی تمام زمین کو اپنی ملکیت ہی سمجھتا تھا۔ جس کھیت سے جی چاہا، ساگ اتار لائے۔ جہاں سے چاہا سبزی، مکئی کے بھٹے، گنا، لہسن، پیاز غرض ہر شے کسی کے بھی کھیت سے مولوی کرامت بغیر پوچھے کاٹ لاتے تھے۔ کسی نے آج تک منہ نہ پھٹکارا۔ کافی عرصہ پہلے ایک دو دفعہ مولوی کرامت کو شہر کی مسجدوں سے پیش امامت کی پیش کش بھی ہوئی۔مولوی صاحب نے انہی سہولیات کے باعث وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا مگر اب کے معاملہ الٹ تھا۔ایک تو انگریزی سرکار کی نوکری، اُس پر رحمت بی بی کی دس ایکڑ زمین کی سنبھال۔ مولوی کرامت نے سوچا اُسے چاہے تنگی ہو جائے، مگر فضل دین کا مستقبل ضرور سنور جائے گا۔ اب چونکہ مولوی کرامت کی پیدائش اسی گاؤں کی مٹی کے خون سے ہوئی تھی اس لیے آج گاؤں چھوڑنے پر دل بھر آنا فطری عمل تھا۔

 

جب دن کافی چڑھ آیا اور کُہر نے آنکھوں کا راستہ چھوڑ دیا تو چوہدری گلزار، الہٰ بخش، دین محمد اور دوسرے کئی لوگ مولوی کرامت کو رخصت کرنے کے لیے اُس کے گھر کے سامنے جمع ہوگئے۔ آج شام چار بجے کی ریل سے مولوی کرامت نے جلال آباد کا ٹکٹ لینا تھا۔ اس لیے چار سے پہلے اُسے سامان لے کر ریلوے اسٹیشن پر پہنچنا تھا۔ سامان کیاتھا، دو لکڑی اور ایک لوہے کاصندوق،جن میں پرانے کپڑے، پانچ دس کتابیں اور گھر کے چھوٹے موٹے برتن۔ اس کے علاوہ تین عدد بستر جن میں پرانی رضائیاں اور چٹائیاں تھیں اور باقی اللہ اللہ۔

 

یہ سارا سامان ایک گَڈ پر باندھ دیا گیا جو حسین محمد کا تھا۔ اُس نے اپنے نوکر سے کہا، وہ مولوی صاحب کا سامان ریلوے اسٹیشن پر چھوڑ آئے۔ اُس کے علاوہ دو تین لڑکے مزیدجو کبھی مولوی کرامت کے شاگرد رہ چکے تھے، وہ بھی ریلوے سٹیشن تک جانے کے لیے ساتھ ہو گئے۔ ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق اُس کی کچھ نہ کچھ خدمت کی۔ کوئی مولوی کرامت، اُس کی بیوی اور فضل دین کے لیے کپڑے لے آیا۔ کسی نے پیسے دیے۔کسی نے کچھ اور تحفہ۔یوں مولوی کرامت کے پاس ڈیڑھ سو روپیہ اور کپڑوں کے کئی جوڑے جمع ہو گئے۔

 

مولوی کرامت تمام لوگوں کے ساتھ گلے مل مل کر رویا۔ شریفاں بی بی کے گرد عورتوں کا مجمع الگ تھا،جو اُسے بڑی گلوگیری سے دعائیں دے رہی تھیں۔ فضل دین نے آج نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ اس سب کچھ سے بے نیاز نئی دنیا دیکھنے کے لیے بے تاب اور خوش خوش سفر کو آمادہ، جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ وہ ایسی جگہ جا رہاہے جہاں دن کا رنگ ہرا ہرا ہوتا ہے اور راتوں کو جگمگ کرتے تارے کوٹھوں کی چھتوں پر آجاتے ہیں۔ اُسے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ اُس جگہ پر رنگ برنگ کی میٹھی میٹھی برفی، ٹانگر، جلیبی اور کرارے پکوڑے بھی بہت سستے مل جائیں گے۔ اس لیے اب وہ جی بھر کر جلیبی اور پکوڑے کھایا کرے گا،جو ڈیڑھ سال پہلے پیر نتھو شاہ کے میلے میں اُس کے والد مولوی کرامت نے اُسے لے کر دیے تھے۔وہ جلیبی کیسی مزیدار تھی۔ مگر روٹیاں مانگنے کے لیے کہاں جائے گا ؟اس اہم معاملے میں ابھی تک اُس کا دماغ کچھ کام نہیں کر سکا تھا۔ پتا نہیں وہاں کی روٹیاں گھی والی ہوں گی یا سوکھی،خیر جیسی بھی ہوں گی لیکن اب وہ کسی کا کام نہیں کرے گا۔ جلد ہی روٹیاں اکٹھی کر کے گھر بھاگ آیا کرے گا۔ آج اُس نے جوتے نئے پہننے تھے،اس لیے پاؤں خود بخود ادھر اُدھر اٹھ رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی ہوا میں اڑ جائے گا۔ان نئے جوتوں کی وجہ سے اُسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ سب سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے۔

 

مولوی کرامت، رحمت بی بی اور فضل دین گڈ پر بیٹھ گئے۔ جس پر اُن کاسامان لد چکاتھا۔ اپنی بکری اور چارپائیاں مولوی نے وہیں پر بیچ دیں کہ اُنھیں کون اُٹھائے اُٹھائے پھرتا۔آخر رمدو نے بیلوں کو ہانک لگادی اور دو بجے سہہ پہریہ قافلہ چک راڑے سے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کی طرف رخصت ہو گیا، جو کم از کم سو میل قصور سے دُور تھااور اب
“جا نی دھیے راوی۔۔۔۔۔نہ کوئی آوی نہ کوئی جاوی”
والا معاملہ تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
نقطۂ نظر

دو قومی نظریہ اور تقسیم ہند: تقسیم در تقسیم کی نفسیات

دونوں ملکوں کی نفرت نے دو نسلوں کو نگل لیا ہے۔ اس نفرت نے خطے کی بھوک مٹانے کی بجائے، کھیت اور کھلیان جلانے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالی ہوئی ہے۔
سیاست میں تاثر (perception) کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ حقیقت کیا ہے، اس سے غرض نہیں ہوتی۔ غرض اس سے ہوتی ہے کہ پیش کیا گیا، تاثر کیا بنا۔ دو قومی نظریے پر ہم اسی تناظر میں بات کر رہے ہیں کہ جس تاثر کے ساتھ وہ عوام میں تقسیمِ ہند کے وقت پھیلا، یا پھیلایا گیا اور اب تک جیسا پڑھایا اور سکھایا جا رہا ہے۔ تحقیق سے اگر ثابت بھی ہو جائے کہ قائد اعظم یا مسلم لیگ کا نظریہ اس تاثر سے مختلف ہے جو ہمارے سامنے ہے تو بھی ہمارے لیے نتائج کے اعتبار سے اسی تاثر کی اہمیت ہے نا کہ اس نظریے کی جو قائد اعظم یا مسلم لیگ کے اذہان میں رہ گیا اور اس کی ترسیل نہ ہو سکی۔ جس تاثر نے یہ نتائج پیدا کئے ہمارے لیے وہی حقیقت ہے اور اسی پر بات کرنا ضروری ہے۔

 

سوال یہ ہے کہ اس پر با ت کرنا کیوں ضروری ہے؟ کیا یہ بے وقت کی راگنی ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ تقسیم ِ ہند کے اثرات اور نتائج کا سلسلہ 1947 سے لے کر آج تک لگاتار جاری ہے۔ دونوں ملکوں کی نفرت نے دو نسلوں کو نگل لیا ہے۔ اس نفرت نے خطے کی بھوک مٹانے کی بجائے، کھیت اور کھلیان جلانے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالی ہوئی ہے۔ وہ جوانیاں جو اپنی ذاتی اور ملکی ترقی کے کام آ سکتی تھیں، وہ جنگوں میں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کے کام آ رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کی قربانیوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ تقسیم کے وقت جو ٹرینیں لاشوں سے بھری ہوئی آتی تھیں آج بھی ان سے لاشیں اٹھا ئی جا رہی ہیں: پہلے وہ تلواروں اور بھالوں کی زد میں ہوتی تھیں، آج وہ بم دھماکو ں کا ہدف ہیں ۔تقسیم کا اشتعال آج بھی سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ کروا دیتا ہے۔ گیتا جیسی لڑکیوں کو 17 سال در در کے دھکے کھا کر اپنے ملک جانا نصیب ہوتا ہے، اور کتنے ایسے ہیں جن کو جانا نصیب ہی نہیں ہوتا، کتنے ہیں جو اپنوں سے ملنے کی آس لیے تہہ خاک چلے گئے۔ ابھی چند دن پہلے ہی ہندوستان سے ایک بہن 50 سال بعد اپنے بھائی سے ملنے پاکستان آئی تو بھائی اس خوشی سے ہی چل بسا۔ تقسیم کے دکھ ختم نہیں ہوئے۔ دونوں ملکوں کی نفرت نے تعلیم کو بھی تخریب کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سیلاب روکنے کے اقدامات سے زیادہ ان کے لیے ایٹم بم بنانا ضروری ہو گیا تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں! ہمارا مستقبل سخت خطرے میں ہے۔ اور اسی وجہ سے ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ نفرت کی بنیادوں کو سمجھیں اور اس کے خاتمے کاراستہ تلاش کریں۔ بنیاد کی غلطیوں کو درست کیے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ اور یہی ہماری کوشش ہے۔

 

ہندوستان اور پاکستان میں نفرت کی بنیاد تقسیمِ ہند ہے۔ اور تقسیمِ ہند کی بنیاد دو قومی نظریہ۔ دو قومی نظریہ جس تاثر کے ساتھ عوام میں پھیلایا گیا ہم اس پر بات کر رہے ہیں۔

 

دو قومی نظریہ پیدا کرنے اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے ہندو مسلم امتیازات کو خوب ہوا دی گئی۔ دونوں طرف کے چند انتہا پسندوں کی حرکتوں اور بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جیسے کہ اب بھی سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔
دو قومی نظریہ پیدا کرنے اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے ہندو مسلم امتیازات کو خوب ہوا دی گئی۔ دونوں طرف کے چند انتہا پسندوں کی حرکتوں اور بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جیسے کہ اب بھی سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔ جب یہ فصل خوب پک گئی، تو اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ مسلمانوں کو الگ ملک میں رہنا چاہیے، لیکن صرف جنوب مغربی ہندکے مسلمانوں کو۔ اس خیال کو ہندوستان میں رہنے والی مسلم اقلیت میں پذیرائی حاصل ہوگئی، اور اس کے ساتھ مسلم لیگ کو بھی، جسے اس واضح مقصد کے تعین سے پہلے مسلمانوں میں پذیرائی نہیں مل پا رہی تھی۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں مسلم اکثریت تھی، جو اب پاکستان میں شامل ہیں، وہاں کے مسلم عوام کو وہ مسائل درپیش ہی نہ تھے، جو ہندوستان کی مسلم اقلیت کو درپیش تھے اور جن کی بنا پر یہ مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ یہاں برعکس معاملہ ہوسکتا تھا کہ ہندو اقلیت کو مسلم اکثریت سے خطرات لاحق ہو سکتے تھے، مگر ایسا بھی کچھ نہ تھا۔ یہ علاقے اس لحاظ سے پرسکون تھے، اور اسی وجہ سے سیاسی طور پر کم بیدار بھی۔ اور اسی وجہ سے مسلم لیگ کو آخر وقت تک ان علاقوں سے ووٹ حاصل کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ساری تگ و دو کرنے کے بعد بھی 1945-46 کے انتخابات مین مسلم لیگ کو بنگال اور سندھ سے تو مکمل حمایت ملی، البتہ پنجاب میں اسے کل مسلم سیٹوں کا 87.2 فیصد ملا، جب کہ کل مسلم ووٹ کا 67.3 فیصد مل سکا۔ جب کہ خیبر پختون خواہ نے مسلم لیگ کے خلاف ووٹ دیا اگرچہ مذہب کے نام پر سب سے زیادہ اسی صوبے سے ووٹ مانگے گئے تھے، بلوچستان تو ان انتخابات میں شامل ہی نہ تھا۔

 

مسلم لیگ کی کامیابی یہ تھی کہ وہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر الگ ملک کی مکمل مصنوعی بھوک پیدا کرنے میں ناکام ہونے کے باوجود بھی اسے اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی، البتہ، اس میں کانگریس کی ناعاقبت اندیشی کا بڑا دخل تھا۔

 

دوسری طرف، جس مسلم اقلیت کو ہندو کے سیاسی، سماجی اور مذہبی غلبے سے ڈرا کر ووٹ لیے گئے تھے، یعنی ہندوستان کے ہندو اکثریت والے علاقوں کے مسلمان سے، ان کے لیے الگ ملک کا قیام ان کے مسائل کا حل تھا ہی نہیں، اس لیے کہ عملاً یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ سب کے سب ہجرت کر کے پاکستان میں چلے آتے۔1920 کی تحریکِ ہجرت میں وہ یہ ناکام تجربہ پہلے کر بھی چکے تھے۔ لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ کو الگ مسلم ریاست کے نام پر سب سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں ان سے ہی ملیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ لوگ ووٹ نہ دیتے تو پاکستان نہیں بن سکتا تھا۔

 

دوسری طرف، جس مسلم اقلیت کو ہندو کے سیاسی، سماجی اور مذہبی غلبے سے ڈرا کر ووٹ لیے گئے تھے، یعنی ہندوستان کے ہندو اکثریت والے علاقوں کے مسلمان سے، ان کے لیے الگ ملک کا قیام ان کے مسائل کا حل تھا ہی نہیں
دو قومی نظریہ ایک ایسا لالی پاپ تھا، جسے ہر طبقے کو اس کے پسندیدہ ذائقے اور رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔ ہندوستان کی مسلم اقلیت کو یہ بتایا گیا کہ الگ ملک ہوگا تو مسلمانوں کا مذہبی، اور ثقافتی تشخص محفوظ رہے گا ورنہ ہندوستان کی ہندو اکثریت میں ضم ہو کر کھو جائے گا۔ لیکن یہ پتا، مسلم اکثریتی علاقوں کے مسلمانوں کے ہاں نہیں چل سکتا تھا۔ چنانچہ، ان کو یہ بتایا گیا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد، جمہوریت کے نظام کی وجہ سے سیاست اور حکومت میں مسلمان اقلیت میں رہ جائیں گے، یہاں کے لوگ بھی ہندو اکثریت کے دست نگر بن جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کا الگ ملک ہو تاکہ وہ اس میں آزادی سے حکومت کر سکیں گے۔

 

تیسری طرف، مذہبی طبقے کو ساتھ ملانے کے لیے انہیں بتایا گیا کہ یہ درحقیقت اسلامی ریاست کا قیام عمل لایا جا رہا ہے، جس سے خلافت کی کمی پوری کی جا سکے گی، اسلام نافذ ہوگا اور قرونِ اولی کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ علامہ اقبال جیسی بلند قامت شخصیت اور ان کے عظمتِ رفتہ کی بحالی کی فکر اور شاعری نے مسلم لیگ کے مدعا کو مذہب کو مقدس جامہ پہنا دیا۔ مذہب کو شامل کرتے ہی، پاکستان اب ایک نظریہ سے بلند ہو کر عقیدہ بن گیا، ‘پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ’ کا نعرہ اس فکر کا ترجمان بن کر مقبول ہوگیا، اب جس کی مخالفت، کفر اور گمراہی قرار پائی۔ مسلم لیگ میں شامل ہونے والی مذہبی شخصیات کو فوراً ہی اس نظریے کے حق میں دلائل کے ساتھ ساتھ، مطلوبہ خواب اور غیبی بشارتیں بھی آنے لگیں۔ وہ مسلم لیگ کی قیادت، کے مغربی لباس کو تو تبدیل نہ کروا سکے، لیکن عالمِ رویا میں انہوں نے ان کو سبز چغے پہنا دئیے۔ البتہ، مخالف دھڑوں کی دینی شخصیات کے مختلف یا مخالف خواب، الہام، کشف اور فتوؤں کو انہوں نے نظر انداز کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ،حسبِ توقع وہ، قرآن سے بھی دو قومی نظریہ برآمد کر لائے۔

 

چوتھی طرف، لبرل، سیکولر اور غیر مسلم اقلیتوں کو یہ بتایا گیا کہ پاکستان میں ملائیت (Theocracy)نہیں ہوگی۔ تمام شہری بلا امتیازِ مذہب برابر ہوں گے۔ ‘وقت سے ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہیں گے ، اور مسلمان ، مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر’۔ چنانچہ یہ لبرل اور سیکولر طبقات بھی اس تحریک میں دامے درمے سخنے شامل ہو گئے۔

 

آج جو یہ سب طبقات دو قومی نظریے یا نظریہ پاکستان کی اتنی مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر ایک کو جو ورژن بتایا گیا، وہ اسی کا راگ الاپ رہا ہے۔

 

بدقسمتی دیکھیے کہ جس وقت دنیا شعوری بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فیڈریشن اور کنفیڈریشن کی طرف جا رہی تھی، ہندوستان کے رہنما انہیں تقسیم کا سبق پڑھا رہے تھے۔
بدقسمتی دیکھیے کہ جس وقت دنیا شعوری بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فیڈریشن اور کنفیڈریشن کی طرف جا رہی تھی، ہندوستان کے رہنما انہیں تقسیم کا سبق پڑھا رہے تھے۔ امریکہ کی 50 ریاستوں نے 1775 میں ساتھ مل کر رہنے کا معاہدہ کیا اور پهر وہ دنیا کا ایک طاقتور ترین ملک بن گئے۔ یورپ کے 28 ممالک نے مسلک اور نسل کی بنیادوں پر ہونے والی صدیوں کی طویل باہمی جنگوں سے سبق سیکھ کر یورپی یونین کی بنا ڈالی۔ اسی طرح دنیا کے دیگر سیاسی بالغ ممالک بھی باہمی تعاون سے رواداری سے رہنا سیکھ گئے، لیکن ہندوستان کے باشندے مذہب اور ثقافت کے نام پر ایک زمین، ایک تاریخ، ایک بڑی مشترکہ زبان (اردو اور ہندی)، ایک ادب، ایک جیسے فنون لطیفہ کے وارث ہو کر بھی ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔ ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ یکساں اور متخالف اقدار کا میزانیہ بنایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہماری مشترکہ یکساں اقدار اتنی زیادہ ہیں کہ مختلف یا متضاد اقدار بے ضرر بلکہ اختلاف حسن کا باعث ہیں۔ مگر سیاست دانوں کے سیاسی مفادات اور تعصبات، فرقہ باز مولویوں کی طرح ہمیں اتفاق سے زیادہ اختلاف کے پہلو نمایاں کر کے دکھاتے ہے۔

 

پھر یہ تقسیم کی نفسیات کہ اگر دو لوگ ایک دوسرے سے مختلف فکر اور تہذیب کے حامل ہیں تو انہیں الگ بھی ہو جانا چاہیے، ہمیں مزید تقسیم کرتی چلی گئی۔ تقسیمِ ہند کی کامیابی نے تقسیم کی اس نفسیات کو تقویت دی۔ چنانچہ، ملک کے اندر ہم آپس میں یہ دیکھنے لگے ہم میں سے کون ہم سے مختلف ہے، اور پهر اسے خود سے الگ کرنے کے لیے اسے خود سے الگ سمجھنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں پہلے مشرقی پاکستان کے لوگ ہم سے علیحدہ ہو گئے، محض اس بنا پر کہ چونکہ وہ ہم سے مختلف رنگ، زبان اور تہذیب رکھتے تھے، اس لیے ان کا علیحدہ ہونا بھی ضروری تھا۔ در حقیقت، وہ علیحدہ نہیں ہوئے تھے، ہم نے انہیں علیحدہ کیا تھا۔ یہ سلسلہ پھر چل نکلا، چنانچہ، ہم نے اپنے ملک کی سب سے بڑی اقلیت، مسیحی برادری کو خود سے الگ سمجھ لیا، ان کی بستیاں الگ بسائیں، معاشرتی طور پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک اپنایا، بات بات پر ان پر توہینِ مذہب کے الزام لگا کر ان کو ایک خوف زدہ اقلیت میں تبدیل کر دیا۔ ہم مسلسل ان کو الگ کئے جا رہے ہیں۔ اب دیکھیے وہ بھی کب ہم سے الگ ملک کا مطالبہ کر دیں، اور جب وہ یہ مطالبہ کریں گے، تو ہم ان پر الزام لگا دیں گے کہ وہ پاکستان کے وفادار نہیں، اس ملک کو تقسیم کر کے وہ غیرو ں کا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں۔ اور اگر وہ علیحدہ ہونے میں کامیاب ہو گئے تو ہم ان سے ہمیشہ کے لیے دشمنی پال لیں گے۔ یہ ہے وہ کہانی جو بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر ہم نے زبانوں کے مختلف ہونے کی بنیاد پر الگ صوبے بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ کراچی جیسے شہر میں مختلف قومیتوں والوں کے الگ الگ علاقے بن گئے۔ حتی کہ ملک میں اہلِ تشیع کو بھی الگ محلّے بنا کر رہنا پڑا۔

 

جن فسادات سے بچنے کے لیے ہم نے الگ ملک بنا تها ان فسادات نے ہمارا پیچھا پھر بھی نہ چھوڑا۔ ہمیں ہندو نہ ملے تو ہم نے اپنے ملک کے لوگوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔
جن فسادات سے بچنے کے لیے ہم نے الگ ملک بنایا تھا ان فسادات نے ہمارا پیچھا پھر بھی نہ چھوڑا۔ ہمیں ہندو نہ ملے تو ہم نے اپنے ملک کے لوگوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔ حقیقت میں مسئلہ ادیان کا نہیں، انسان کا تھا۔ یہ انسان تھا جو لڑنا چاہتا تھا۔ وہ مذہب کو بنیاد بنا کر لڑا، جب یہ بنیاد نہ ملی تو مسلک کو بنیاد بنا کر لڑا، مزید ورائٹی کے لیے زبان اور جلد کے رنگ کے اختلاف کو بنیاد بنا کر لڑا۔ ہم کب تک اور کہاں تک علیحدہ ہو تے چلے جائیں گے۔ ہم جتنے بھی اپنے جیسوں کے ساتھ علیحدہ ہوں گے، وہ بھی بہرحال انسان ہی ہوں گے۔ ہم انسان سے تو علیحدہ نہیں ہو سکتے۔ ہم اپنی اپنی اکائیوں میں بھی لڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی اختلاف ڈھونڈ لیں گے۔ تو اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ علیحدہ ہونا اس کا حل نہیں، وہ حل نکال کر ہم بھگت چکے۔ اس کا حل انسان کو انسان بنانے میں ہے۔ اس کی تعلیمی اور شعوری تربیت کرنے میں ہے کہ وہ انسانوں کے ساتھ انسانوں کی طرح رہنا سیکھ لے۔ یہی ایک حل ہے۔ تقسیم اس کا حل نہیں۔ تقسیم در تقسیم کی پهر کوئی حد نہیں۔

 

یہی بھارتی اور پاکستانی، ہیں جو باہر ممالک میں جب جاتے ہیں تو محض معاش کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ نہایت امن و سکون، بلکہ بھائی چارہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ پیٹ کے راستے آنے والی عقل بڑی پختہ ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب بھارت اور پاکستان کے عوام میں ہونے نہیں دیا جاتا۔ اگر باہر ممالک میں ایک ساتھ رہنے اور کھانے پینے سے ان کا مذہب اور دھرم، خراب اور بھرشٹ نہیں ہوتا تو اپنے ملک میں کیوں ہو جاتا ہے؟ وہاں ان کی ثقافت کو ایک دوسرے سے خطرہ لاحق نہیں ہوتا تو یہاں کیسے لاحق ہو جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطرات عوام کو نہیں ، سیاست دانوں کو لاحق ہوتے ہیں۔ جن کو مشترکہ حکومت میں اپنے ذاتی اقتدار کی آزادی نظر نہیں آتی اس لیے وہ تقسیم کو پسند کرتے ہیں تاکہ ایک الگ ٹکڑے میں بلا شرکتِ غیرے اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔ اس کے لیے نفرت کا پیدا کرنا اور نفرت کو قائم رکھنا ان کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ان کا حال فرقہ باز مولویوں سے بالکل مختلف نہیں ہے۔

 

دو ملک بن گئے مگر اجنبیت کا سفر جاری رہا، پھر اسی نفسیات نے بنگلہ دیش بنوا دیا، لیکن اجنبیت کا سفر پھر بھی نہ رکا، اب ملک میں اپنے مسلک مشرب، سیاسی اور ثقافتی اختلافات رکھنے والوں کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔
ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے انہی علاقوں میں ہندو مسلم بڑے سکون سے رہاکرتے تھے، بڑا میل جول ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ ان کے مذاہب پر مزاح بھی کرتے تھے لیکن ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں معاشرتی طور پر شامل بھی ہوا کرتے تھے۔ پھر سیاست آئی اور اس نے اچانک بتایا کہ تمہارے ساتھ رہنے والا مذہب اور ثقافت کے لحاظ سے تم سے مختلف ہے، اس لیے یہ تمہارا دوست نہیں ہے، اسے خود سے اجنبی بناؤ۔ پھر یہی ہوا اور اجنبیت بڑھتی چلی گی۔ دو ملک بن گئے مگر اجنبیت کا سفر جاری رہا، پھر اسی نفسیات نے بنگلہ دیش بنوا دیا، لیکن اجنبیت کا سفر پھر بھی نہ رکا، اب ملک میں اپنے مسلک مشرب، سیاسی اور ثقافتی اختلافات رکھنے والوں کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔ اب ملک کے بعض حصے الگ ملک تو نہ بن سکے مگر نو گو ایریاز بن گئے، علیحدگی کی نفسیات ہمیں اپنے جیسے انسانوں سے دور کرتی چلی جا رہی ہے۔

 

دونوں ملکوں کی عوام کو چاہیے کہ نفرت کے اس کھیل کو سمجھیں اور اپنے خرچے پر اپنی تباہی مت خریدیں۔ تقسیمِ ہند، تاریخ کا جبر تھا جو گیا۔ اب ہمارے مستقبل کا تحفظ اور فلاح، بالغ نظر ممالک کی طرح کنفیڈریشن بنا کر رہنے میں ہے۔ جہاں سرحدیں بس نام کی ہوں۔ ویزہ کی پابندی نہ ہو۔ جب ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہوگا تو معلوم ہوگا کہ دونوں طرف عام انسان بستے ہیں، جو اسی طرح سکون سے رہنا چاہتے ہیں، جیسے ہم رہنا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوگا کہ وہاں اور یہاں کا عام آدمی اس ‘عام آدمی’ سے بالکل مختلف ہے جو میڈیا کے کیمرے کی کانی آنکھ سے نظر آتا ہے۔