Categories
شاعری

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے
دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا
خود کش حملوں کے خوف سے
اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے
خدا واحدِ حقیقی ہے
اسے کیا پڑی ہے
کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر
جوتوں اور کپڑوں کے ساتھ اِدھر اُدھر بکھر جائے

شاعروں اور دہشت گردوں نے
خدا کو اتنی کثرت سے استعمال کیا ہے
کہ تنگ آ کر
وہ نظموں اور دنیا سے غائب ہو گیا ہے
اور کائنات کے کسی ایسے گوشے کی طرف نکل گیا ہے
جہاں ان کی نظروں سے محفوظ رہ سکے
خدا اتنا بے بس کبھی نہیں تھا
جتنا اب ہے

خدا کائنات کا سب سے بڑا کلیشے ہے
جسے ترک نہیں کیا جا سکتا !
Image: Andrey Bobirs

Categories
شاعری

جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے
اور ہم دیکھ سکتے ہیں
ایک دوسرے کو
دکھ میں
اور خوشی میں
اور مِل سکتے ہیں
شام کی چائے
یا ڈنر کے امکان پر
میں اُس وقت کا سوچتا ہوں
جب ہمارے درمیان
ایک رات بھی نہیں رہے گی
تب ہم کیا کریں گے؟
کہاں طلوع ہوں گے؟
Iamge: Eugenia loli

Categories
شاعری

ابدی کھیل (نصیر احمد ناصر)

وقت کے نورانیے میں
تہذیبیں زوال کی سیاہی اوڑھ لیتی ہیں
لیکن اکاس گنگا کے
اَن گنت اَن بُجھ ستارے
لُک چُھپ لُک چُھپ
کھیلتے رہتے ہیں!!
Image: Suzanne Wright Crain

Categories
شاعری

آزُوقہ

ایک زمیں کے ٹکڑے سے بھی
کیا کچھ حاصل ہو سکتا ہے!
گندم، چاول، دال، کماد
سبزی، پتے، ساگ، سلاد
چوکھر، بھوسہ، چارا، کھاد
جس کو روگ اناج کا لاگے
چین سے وہ پھر سوئے نہ جاگے
خواب، حقیقت سب کچھ تیاگے
چند نوالے حلق میں ڈالے
تَل تَل ناچے، پَگ پَگ بھاگے
پیٹ کی خاطر خوب اگاؤ
اپنے دیس کی شان بڑھاؤ
دھکے کھا کر، آنسو پی کر
درد کماؤ، دکھ بسراؤ
دُور دساور سے آتے ہیں
شہد، پنیر، کریکر، کافی
جیلی، جام، مربے، کیچپ
توتِ فرنگی، تونا مچھلی
سب کچھ کھاؤ، سب کچھ کھاؤ
ایک گلوب کے شہری سارے
بھوکے ننگے پیاس کے مارے
سرخ سیاست، زرد معیشت
ڈھلتی عمریں، چڑھتے بھاؤ
آنسو، آہیں، غم اور گھاؤ
ایک زمیں کے ٹکڑے سے بھی
کیا کچھ حاصل ہو سکتا ہے!!

Categories
شاعری

اب جان کر کیا کرو گے؟

سفر میں راستے کب طے ہوئے تھے
فاصلوں کے لاابد پھیلے گھماؤ میں
ازل سے وقت کا چلنا
دلوں کی دھڑکنوں سے مختلف کتنا ہے،
کس لاحاصلی کے جبر میں
بے عمر سانسوں کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے ،
کہاں تم سے ملے تھے،
کون سی منزل پہ ٹھہرے، کس پڑاؤ پر رکے تھے،
کون سے مرکز پہ آ کر
زندگی کی گردشیں تھمنے لگی ہیں،
جان کر اب کیا کرو گے؟

درد کی لَے میں
ہوا صدیوں پرانا گیت گاتی ہے
مسافر بادباں کھلنے لگے ہیں
ہجر سر پر ہے
تمہارے خواب کی کشتی
مِری آنکھوں کے آبی راستوں میں ڈولتی ہے
کن سوالوں کی گرہ مضبوط کرنے میں لگے ہو تم؟
مجھے اس نیند کے تیرہ بہاؤ میں
ذرا سا لمس اپنی روشنی کا دان کر دو گے
تو میں ساری مسافت کی تھکن کو بھول جاؤں گا
سفر میں راستے کب طے ہوئے تھے
جان کر اب کیا کرو گے؟
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

ایک بے ارادہ نظم

ریل کی سیٹی
ہوا کے پیٹ میں
سوراخ کرتی جا رہی ہے

الوداعی ہاتھ،
لہراتے ہوئے رومال،
وعدے،
لوٹ آنے کی دعائیں
اور لبوں پر
منجمد ہوتے ہوئے
بوسوں کے سورج

بے ارادہ
پانیوں سے
آنکھ بھرتی جا رہی ہے
ریل کی سیٹی
ہوا کے پیٹ میں
سوراخ کرتی جا رہی ہے!

Categories
شاعری

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو!

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے
ویرانیاں تاریخ کی
مقدونیہ کی سمت جاتے راستوں پر دھول اُڑتی ہے
مقدر کے سکندر جا چکے ہیں
قونیہ کی میخ کے چاروں طرف
کُنڈل بنائے
گھومتے قدموں کی چاپیں
اب کسی بے وقت لمحے کی صدائے جاں گُزا ہیں
اب کسی درویش کی ایڑی میں دَم باقی نہیں
روشن لکیریں بجھ چکی ہیں
محو ہوتے جا رہے ہیں
رقص کے سب سلسلے
بغداد پر چیلیں جھپٹتی ہیں
دمشقی دھات کے
پھل دار ہتھیاروں کی دھاریں کند ہیں !

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو !
اب تمہارے خواب کی گہرائیوں میں
دل دھڑکنے کے بجائے
بِس بھری آنکھوں کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں
کورِنتھی ستونوں سے بنی کہنہ عمارت میں
نئی دنیا کے دھاری دار سانپوں کا بسیرا ہے
طلسمی غار میں
خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں
سرخ سِکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے
Image: Pawel kuczynski

Categories
شاعری

خواب کے دروازے پر

سو جاؤ!
اے گلِ شب سو جاؤ!!
جب صبح ہو گی
میں یہیں کہیں ہوں گا
تمہارے آس پاس
تمہیں تمہاری مقدس تاریکیوں سے
طلوع ہوتے ہوئے دیکھوں گا

سو جاؤ ، سو جاؤ!!
رات طویل ہے
ہمارے انتظار سے بھی طویل
جب ہم طلوع ہوں گے
کائنات کے کسی دور دراز حصے میں
خدا تنہائی کی آخری حد سے گزر رہا ہو گا

اور میں تمہیں
خواب کے دروازے پر
اسی طرح جاگتا ہوا ملوں گا

آ جاؤ، آؤ
اندر آ جاؤ
کھلے دروازوں پہ رکا نہیں کرتے!!
Image: Christian Schloe

Categories
شاعری

ہم اپنے زمانے سے بچھڑے ہوئے ہیں

ہمیں کس نگر میں تلاشو گے
کن راستوں کی مسافت میں ڈھونڈو گے
کس رزم میں ہم کو جیتو گے، ہارو گے
کس بزم میں نام لے کر ہمارا پکارو گے
تاریخ کے کس ورق میں پڑھو گے
زمینوں زمانوں، مکینوں مکانوں کی حد سے پرے
کتنا آگے بڑھو گے
ہمیں کب، کہاں مِل سکو گے؟

Categories
شاعری

اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟

اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟
تھکے لگتے ہو
آنکھوں میں کئی صدیوں کی نیندیں جاگتی ہیں
فاصلوں کی گرد پلکوں پر جمی ہے
اجنبی، کیسی مسافت سے گزر کر آ رہے ہو
کون سے دیسوں کے قصے
درد کی خاموش لَے میں گا رہے ہو
دُور سے نزدیک آتے جا رہے ہو
اجنبی آؤ !
کسی اگلے سفر کی رات سے پہلے
ذرا آرام کر لو
پھر سنیں گے داستاں تم سے انوکھی سرزمینوں کی
ہوا میں تیرتے رنگیں مکانوں کی، مکینوں کی
پڑاؤ عمر بھر کا ہے
الاؤ تیز ہونے دو
محبت خیز ہونے دو
شناسا خواہشوں کی خوشبوئیں جلنے لگی ہیں
اجنبیت ۔۔۔۔۔ قربتوں کے لمس میں سرشار
گم گشتہ زمانے ڈھونڈتی ہے
زندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈتی ہے !!
Image: Gabriel Isak

Categories
شاعری

یکم اپریل 1954ء

آج کے دن
ماں نے ایک نظم کو جنم دیا
چوہے جتنی
چھوٹی سی نظم
جسے ایک جار میں بند کیا جا سکتا تھا
سب ہنستے تھے
اور کہتے تھے
نظم زندہ نہیں بچے گی

ماں نظم کو گود میں لیے بیٹھی رہتی
نظم کے ہاتھ چومتی
اور ایک الُوہی تیقن سے مسکرا دیتی
خدا کائنات کے آخری گوشے سے
شٹالے اور سرسوں کے پھول دیکھنے
ایک چھوٹے سے گاؤں میں آ جاتا

نظم بڑی ہوتے ہوتے
پورے چھ فٹ کا آدمی بن گئی!

Categories
شاعری

پھاگن چیتر کے آتے ہی

پھاگن چیتر کے آتے ہی
بیلیں رنگ برنگے پھولوں سے بھر جاتی ہیں
شام کی آنکھیں سپنوں سے
دن کے نتھنے
خوشبو کی لپٹوں سے
آنگن سایوں شکلوں سے
دیواریں چہروں اور دریچوں سے
دروازے درزوں سے
گلیاں باتوں سے
رستے قدموں سے
شاعر کا دل یادوں سے
سندر، شیتل نظموں سے
اور نظمیں لفظوں سے بھر جاتی ہیں
پھاگن چیتر کے آتے ہی
بیلیں رنگ برنگے پھولوں سے بھر جاتی ہیں!!
Image: Claude Monet

Categories
شاعری

سُنو، بلیک ہول جیسے آدمی!

مجھے تم دُور لگتے ہو
افق کی آخری قوسوں کے بیچوں بیچ
اک موہوم سے فلکی جسیمے کی طرح
خاموش اور تاریک
اپنی ہی کشش کے دائمی قیدی
کسی بھی دوسرے ذی روح کے
احساس سے عاری
بہت بھاری ۔۔۔۔!!
Image: Daniel Martin Diasz

Categories
شاعری

وقت کی بوطیقا

وقت کا اپنا کوئی وزن نہیں ہوتا

لیکن یہ جس کا ہو جائے

اُسے بھاری کر دیتا ہے

اور جس کا نہ ہو

اُسے بے وزن

 

وقت کی اپنی کوئی شکل بھی نہیں ہوتی

ہم ہی اس کا چہرہ ہیں

ہم ہی آنکھیں

اور ہم ہی اس کے پاؤں

لیکن کبھی کبھی یہ ہم سے آگے نکل جاتا ہے

یا ہم اس سے پیچھے رہ جاتے ہیں

متواتر اس کے ساتھ چلنا

دنیا کا مشکل ترین کام ہے

 

بعض لوگ وقت کو پہیے لگا لیتے ہیں یا پَر

اور دوڑنا یا اُڑنا شروع کر دیتے ہیں

یہاں تک کہ وقت کی

یا اُن کی اپنی حد ختم ہو جاتی ہے

وقت سدا دوڑ سکتا ہے نہ اُڑ سکتا ہے

اسے بس چلتے رہنے کے مَوڈ میں رکھا گیا ہے

اس کی اصل سائنس کیا ہے

اسے کب چلنا ہے

اور کب رک کر عظیم دائمی ٹھہراؤ کا حصہ بن جانا ہے

یہ کوئی نہیں جانتا!

Image: duy Huynh

Categories
شاعری

ایک وقت آتا ہے

ایک وقت آتا ہے
جب سب دروازے بند ہو جاتے ہیں
پاؤں چلنا چاہتے ہیں
لیکن راستہ نہیں ہوتا

یُو ٹیوب پر
کسی دُور دراز ملک کی
حُزنیہ موسیقی سنتے ہوئے
یا کوئی درد انگیز فلم دیکھتے ہوئے
آنکھیں بھیگنے لگتی ہیں

نئے مکان میں
پرانی کتابیں سمیٹتے ہوئے،
آبائی گھر کو یاد کرتے
یا کسی کو الوداع کہتے ہوئے
دل رُکنے لگتا ہے

دھوپ بھرے چبوتروں میں
خالی کرسیوں پر
اداسی آ کر بیٹھ جاتی ہے
اور ذرا ذرا سی بات پر
دھند اور بارش کا موسم چھا جاتا ہے

ایک وقت آتا ہے
جب آدمی
سب کے ہوتے ہوئے بھی تنہا رہ جاتا ہے!

Image: Garif Basyrov