Categories
شاعری

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے
دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا
خود کش حملوں کے خوف سے
اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے
خدا واحدِ حقیقی ہے
اسے کیا پڑی ہے
کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر
جوتوں اور کپڑوں کے ساتھ اِدھر اُدھر بکھر جائے

شاعروں اور دہشت گردوں نے
خدا کو اتنی کثرت سے استعمال کیا ہے
کہ تنگ آ کر
وہ نظموں اور دنیا سے غائب ہو گیا ہے
اور کائنات کے کسی ایسے گوشے کی طرف نکل گیا ہے
جہاں ان کی نظروں سے محفوظ رہ سکے
خدا اتنا بے بس کبھی نہیں تھا
جتنا اب ہے

خدا کائنات کا سب سے بڑا کلیشے ہے
جسے ترک نہیں کیا جا سکتا !
Image: Andrey Bobirs

Categories
شاعری

ابعادیت

ابعادیت
ایک ہی جانب چلتے چلتے
کتنی عمریں بیت گئی ہیں
دس جہتوں میں کون چلے گا
بُھر بُھر کرتی جسم کی مٹی
اس آوے میں کون جلے گا
کوئی محدؔب کوئی مجوؔف
کس چہرے میں عکس ڈھلے گا
کھڑکی کے اُس پار کا منظر
یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے
اب اُس خواب کی چنتا کیسی
آنکھیں جس کو دیکھ چکی ہیں
اس جیون کا اقلیدس کیا
سانسیں جس کو ریکھ چکی ہیں

Image: Barbara Licha

Categories
شاعری

عدالت کو کیا معلوم!

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عدالت کو کیا معلوم!

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہاں زندہ رہنے کی خواہش ایسی ہے
جیسی بے پر کی تتلی
اور موت کا پروانہ لینے کے لیے بھی
عدالت میں جانا پڑتا ہے
جو اپنے فیصلے کی بنیاد
گواہوں کے بیانات پر رکھتی ہے
عدالت کو کیا معلوم
کہ خدا دکھی لوگوں کی گواہی دینے
کبھی کبھی خود کٹہرے میں آ جاتا ہے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں سمجھتا تھا
کہ دنیا تمہارے بغیر چھوٹی سی ہے
تمہاری پروان چڑھتی زندگیوں کے درمیان
مجھے معلوم نہ تھا
کہ میں پانی کی طرح بہہ رہا ہوں
اور مٹی کی طرح اڑ رہا ہوں
اور کتنا زندہ ہوں
اور کتنا مر چکا ہوں
تم نے نہیں دیکھا
کہ سب کس طرح مجھ کو دیکھتے تھے
اور جانتے تھے
کہ میں یکتائی کی جنگ جیت نہیں سکتا
کیونکہ شاعری اور تم ایک ساتھ
میرے گوشت اور میری ہڈیوں کے گودے میں رچے بسے تھے
تم نے کبھی ان راستوں پر قدم نہیں رکھے
جن پر چلتے ہوئے
میرے پاؤں گِھس گئے
اور میں صفر اعشاریہ صفر ایک ملی میٹر سے
قامت کا مقابلہ ہار گیا
تم نے وہ آنسو بھی نہیں دیکھے
جو میری آنکھوں میں امنڈنے کے باوجود
تیزی سے یُوٹرن لے کر
دل کے اندر کی مٹی میں جذب ہوتے رہے
یہاں تک کہ اب وہاں
سیال دھاتوں اور گاڑھی کیچڑ کی دلدل نے
خون کی نالیوں کا راستہ روک لیا ہے
اپنی اپنی نیندوں کی آسودگیوں میں
تم نے خوابوں کی ان درزوں کو بھی نہیں دیکھا
جن سے گزرتے ہوئے
میرے جسم کی کھال اتر گئی
اور میری لہو ٹپکاتی ہوئی برہنہ پرچھائیں
بے وجودی کی تصویر بن گئی
اب میں زندگی کے کسی البم میں نظر نہیں آتا
اور گفٹ پیپر میں لپٹی ہوئی چیزوں کی طرح
ایک کونے میں پڑا سب کو دیکھتا رہتا ہوں!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

مَرے ہوؤں کی موت

youth-yell
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

مَرے ہوؤں کی موت

[/vc_column_text][vc_column_text]

جو پہلے سے مر چکے ہوں
ان کے مرنے کا اعلان عجیب لگتا ہے
لوگ لاشوں کے مر جانے پر سوگ مناتے ہیں
اور زندوں کو مار کر
بھنگڑے ڈالتے ہیں
فرشتوں کو ڈرانے کے لیے
ہوائی فائرنگ کرتے ہیں
اور خدا کو خوش رکھنے کے لیے
قربانی کرتے
اور لنگر بانٹتے ہیں

 

یوں تو ہر روز
کوئی نہ کوئی زندہ اٹھا لیا جاتا ہے
یا کسی نہ کسی مُردے کی موت ہوتی ہے
لیکن جب کسی ریا کار سیاست دان کی لاش مرتی ہے
تو جنازہ پڑھنے والوں کا ہجوم ہوتا ہے
ڈھانچے جوق در جوق تعزیت کے لیے آتے ہیں
اور کافور میں لتھڑی
اس کی بدبودار روح کو
دل ہی دل میں گالیاں دیتے ہوئے
خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں
مرنے والا اللہ کا نیک بندہ تھا!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ونڈو شاپنگ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ونڈو شاپنگ

[/vc_column_text][vc_column_text]

کبھی کبھی جب میرا دل
تنہائی سے بھر جاتا ہے
تو مَیں دنیا، تیری جانب
کچھ بھی لینے چل پڑتا ہوں
تیرے بازار میں دنیا
ریستوران ہیں، اونچے اونچے ہیبت ناک پلازے ہیں
سہ جہتی فلموں والے سنیما گھر ہیں
شاپنگ مال ہیں
شاپنگ مال جہاں پر
ایک ہی چھت کے نیچے
شیلفوں، ریکوں میں ہر چیز قرینے سے رکھی ہے
ہاتھ بڑھاؤ، لے لو
جو چاہو، جتنا چاہو
رکھ لو مال ٹرالی میں
جتنا جیب اجازت دیتی ہو

 

دنیا، تیرے دل میں پتھر کی آنکھیں ہیں
جو ان شیشوں سے، شو کیسوں سے جھانکتی رہتی ہیں
جن میں مجھ جیسوں کے خواب رکھے ہیں
جینے مرنے کے اسباب رکھے ہیں
مُلکوں اور زمینوں کی ہر جنس پڑی ہے
افلاک، ستارے، مہتاب رکھے ہیں
تیرے ظرفاب میں دنیا
نیلی، پیلی، سرخ، سنہری
کتنے رنگوں کی اسماک سجی ہیں
کتنے سورج زیرِ آب رکھے ہیں
کچھ چیزوں پر سیل لگی ہے
کچھ کی قیمت پوری ہے
لیکن ہر خواہش کی تکمیل ادھوری ہے

 

تیری “سٹاپ اینڈ شاپ” میں دنیا
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا! تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ٹائم کیپسول

[blockquote style=”3″]

نصیر احمد ناصر کی یہ نظم اس سے قبل ‘ہم سب‘ پر بھی شائع ہو چکی ہے۔ نصیر احمد ناصر کی اجازت سے یہ نظم لالٹین پر شائع کی جا رہی ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ٹائم کیپسول

[/vc_column_text][vc_column_text]

مجھے دبا دو
کہیں زمیں میں
کسی پلازے کی بیسمنٹ میں
کسی عمارت کے قاعدے میں
سمندروں میں بہا دو مجھ کو
کبھی زمان و مکاں کے ملبے سے
کوئی آئندگاں کا باسی
مجھے نکالے گا
مجھ کو سمجھے گا سنگوارہ
قدیم وقتوں کی ڈھیر ساری
عجیب چیزوں کے ساتھ میں بھی پڑا مِلوں گا
میں ایک برتن ہوں
خود میں مدفون
داستانوں، کہانیوں سے بھرا ہُوا ہوں
میں اِس زمیں کی نشانیوں سے بھرا ہُوا ہوں!

Image: Viswan Vinod
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بابے کی ہٹی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بابے کی ہٹی

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں جب چھوٹا بچہ تھا
بابے کی ہٹی پر
ایک پڑوپی گندم سے
مٹھی بھر نُگدی اور مکھانے مِل جاتے تھے
خوشیاں اتنی سستی تھیں
یونہی پڑی ہوتی تھیں
غم بھی جانے انجانے کسی بہانے مِل جاتے تھے
بابے کی اولاد سیانی نکلی
دُور دساور سے مال کمایا
واپس آ کر
ہٹی سے اسٹور بنایا
خوشیوں اور غموں کو
قیمت کا ٹیگ لگایا
میں اور میرے بچے اب
کریڈٹ کارڈ سے شاپنگ کرتے ہیں!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آخری لفظ کے بے کار ہونے تک لکھتے رہو

کبھی کبھی یوں لگتا ہے
جیسے دکھ اور بدی کے مقابلے میں
خوشی ناقابلِ حصول ہے
یہ سچ ہے کہ چاند اور ستارے اب روشنی کی امید نہیں،
شب کی علامتیں ہیں
جو کثرتِ استعمال سے کلیشے ہو چکی ہیں
وقت کے تاریک سمندر میں
سورج کے ابھرنے اور ڈوبنے سے بھی اب کوئی فرق نہیں پڑتا
لیکن آخری حرف کے طلوع ہونے کا انتطار تو کیا جا سکتا ہے

 

یہ زمین کائنات کا قبائلی علاقہ ہے،
ازلی گنہ گاروں کی آماجگاہ
جہاں جنت سے نکالے گئے مرد و زن رہتے ہیں
یہ ابھی آسمان کے مقابلے میں بہت پس ماندہ ہے
یہاں ہم اپنی مرضی سے
جینے یا مرنے کے حق میں ووٹ نہیں دے سکتے!

 

کتنی عجیب بات ہے
کہ زیادہ تر نظمیں اور کہانیاں
دلوں اور سرحدوں کے آس پاس
کسی قومیت کے بغیر جنم لیتی ہیں
اور سرحدیں پار کرتے ہوئے
غیر قانونی داخلے یا جاسوسی کے الزام میں دھر لی جاتی ہیں
ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لیے
بارش اور ہوا کو بھی ویزے سے استثنا حاصل نہیں
جنگل کے پھول بھی
پرمٹ کے بغیر اپنی خوشبو برآمد نہیں کر سکتے
پہاڑوں کی چوٹیاں
آمنے سامنے ہونے کے باوجود
ایک دوسری سے گلے نہیں مِل سکتیں
سرحدوں کے طرفین
اجازت ناموں کے لیے
بادل لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں
یہاں تک کہ پسینے میں شرابور ہو جاتے ہیں!

 

کسی دُور کے ستارے پر رہنے والوں کے لیے
یہ دنیا پیدا بھی نہیں ہوئی ہو گی
لیکن ہم اسے تباہ ہوتے ہوئے بے بسی سے دیکھ رہے ہیں
اور لکھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے
سچ ہے کہ شاعری دنیا کا نظام نہیں بدل سکتی
وہ تو داس کیپیٹل بھی نہیں بدل سکی
کیونکہ مارکس بھی
شاعری کے راستے سے اشتراکیت میں داخل ہوا تھا
تو پھر یہ کیا ہے جو باہم دگر ملا ہوا ہے؟
یہ کیسی جنگ ہے؟
بم کہیں اور گرتے ہیں
اور دھمک ہمارے دلوں تک آتی ہے
دیواریں کہیں اور ہلتی ہیں
اور شیشے ہماری کھڑکیوں کے ٹوٹتے ہیں
کہیں دُور کسی قلم سے خون بہتا ہے
اور یہاں ہماری نظمیں رونے لگتی ہیں!

 

تاریخ کے راستوں پر پسپا ہوتے ہوئے
کتابوں کی جلی ہوئی لاشوں کے پاس
زندگی کو افسردہ دیکھ کر
ہم اس کو دلاسا دینے بھی نہیں رک سکتے
جھلسے ہوئے متن کے گھمسان میں
پتا نہیں وہ کس لفظ کی محبوبہ تھی
جو راکھ اور دھویں کی لامختتم ضخامت میں
جانے کون سا معنی، کون سا تناظر ڈھونڈ رہی تھی
آہوں، کراہوں اور سسکیوں کے انبار میں
نظموں کے پیکر اور کہانیوں کے کردار کہیں نیچے دب جاتے ہیں

 

مسودوں اور عبارتوں کے جنک یارڈ میں
پھٹے پرانے کاغذوں
اور سیل میں خریدے ہوئے
کپڑوں اور جوتوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا
خلیہ در خلیہ ڈھیر ہوتی ہُوئی شاعری
وقت کا نامیاتی سلسلہ ہے
شاعرو! آخری لفظ کے بے کار ہونے تک لکھتے رہو
یہاں تک کہ سیاہی کا سارا محلول ختم ہو جائے
شاید روشنی
ہمارے ضیا ترس پہاڑ جیسے جسموں
اور جنگل جیسی گنجان روحوں کے آر پار جانے لگے!!
Categories
شاعری

نظم خدا نہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نظم خدا نہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

نظم جنگل نہیں
لیکن درختوں اور سایوں سے بھری ہوتی ہے
نظم پرندہ نہیں
لیکن چہکاروں سے گونجتی رہتی ہے
نظم محبوبہ نہیں
لیکن محبوبہ جیسی دلربائی رکھتی ہے
نظم بادل نہیں، بارش نہیں
لیکن پَل بھر میں بگھو دیتی ہے
نظم انسان نہیں
لیکن دھڑکتی، سانس لیتی ہے
نظم خدا نہیں
لیکن ہر جگہ موجود ہے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]