Categories
شاعری

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو!

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے
ویرانیاں تاریخ کی
مقدونیہ کی سمت جاتے راستوں پر دھول اُڑتی ہے
مقدر کے سکندر جا چکے ہیں
قونیہ کی میخ کے چاروں طرف
کُنڈل بنائے
گھومتے قدموں کی چاپیں
اب کسی بے وقت لمحے کی صدائے جاں گُزا ہیں
اب کسی درویش کی ایڑی میں دَم باقی نہیں
روشن لکیریں بجھ چکی ہیں
محو ہوتے جا رہے ہیں
رقص کے سب سلسلے
بغداد پر چیلیں جھپٹتی ہیں
دمشقی دھات کے
پھل دار ہتھیاروں کی دھاریں کند ہیں !

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو !
اب تمہارے خواب کی گہرائیوں میں
دل دھڑکنے کے بجائے
بِس بھری آنکھوں کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں
کورِنتھی ستونوں سے بنی کہنہ عمارت میں
نئی دنیا کے دھاری دار سانپوں کا بسیرا ہے
طلسمی غار میں
خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں
سرخ سِکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے
Image: Pawel kuczynski

Categories
نقطۂ نظر

شامی خانہ جنگی: پسِ منظر سے پیش منظر تک- دوسری قسط

اس سلسلے کے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
دوسری قسط

 

شامی بحران میں شامی بعث پارٹی، علوی برادری اور اسد حکومت کا عمل دخل

 

بعث پارٹی شام کے ایک عیسائی دانشور مشیل عفلق نے 7 اپریل 1947ء کو قائم کی تھی۔ بعث پارٹی ‘مصنوعی سرحدوں’ میں منتشر عربوں کو قومیت، اشتراکیت اور سیکولرازم کی بنیاد پر یکجا کرنے اور منقسم عرب خطوں کی جغرافیائی وحدت کو عربوں کے لیے راہِ نجات قرار دیتی ہے۔ بعث پارٹی کو عراق اور شام میں فوجی انقلابات کے ذریعے اقتدار تو مل گیا لیکن عراق اور شام کی مقتدر بعث پارٹیاں بہت جلد قیادت کے حصول کی لڑائی میں پڑ گئیں اور یوں بعث ازم کے تحت عراق اور شام کے باہم الحاق سے ایک قوم پرست اشتراکیت پسند عرب جمہوریت کے قیام کی دو طرفہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

 

مشیل ایفلق
مشیل ایفلق
شام میں بعث پارٹی اور اسد حکومت کا پسِ منظر

 

حافظ الاسد نے اپنے تیس سالہ دور میں سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والی ایمرجنسی کو اُٹھانے کی بجائے حسبِ سابق من وعن شامیوں پر مسلط کیے رکھا۔
17 اپریل 1946ء کو فرانسیسی استعمار سے آزادی کے بعد سے مارچ 1971ء تک شام داخلی اور خارجی عوامل کی بنا پر پچیس برس تک سیاسی عدم استحکام اور معاشی انحطاط کا شکار رہا۔ اسرائیل سے تین جنگوں میں شکست، فلسطینی مہاجرین کی آمد، نااہل سیاسی قیادت، مصر سے الحاق اور علیحدگی، فوجی انقلابات اور قیادت کا فقدان اس سیاسی اور معاشی بحران کی وجہ بنے۔ اُسی زمانے میں مشرقی وسطیٰ اور گردونواح میں اشتراکیت پسندوں کا اثرورسوخ بھی بڑھ رہا تھا۔ ہمسایہ ممالک کے حالات سے شہہ ملنے پر شام کی مسلح افواج میں بعث پارٹی سے وابستہ عناصر نے 8 مارچ 1963ء کو فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ بعدازاں شام کے موجودہ صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد نے ’بعث پارٹی شام‘ کے اپنے حامی رہنماؤں اور شام کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے علوی عہدیداران کی ملی بھگت سے 1970ء میں شام کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

 

شام پر اسد خاندان کی حکومت بھی مشرقِ وسطیٰ میں دیگر بادشاہی اور خودرانی عرب حکومتوں کی طرح مطلق العنانیت، استبدادیت اور جبر کے بل پر قائم ہے۔ اس نظامِ حکومت میں بھی عوام کو ایمرجنسی، جاسوسی، خفیہ پولیس، سخت قوانین، ہولناک سزاؤں اور عقوبت خانوں کے خوف سے مطیع بنائے رکھا گیا ہے۔ حافظ الاسد نے اپنے تیس سالہ دور میں سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والی ایمرجنسی کو اُٹھانے کی بجائے حسبِ سابق من وعن شامیوں پر مسلط کیے رکھا۔ جس کی وجہ سے شامی قانوناً بنیادی انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور اظہارِ رائے کے حق سے محروم رہے۔ جس طرح مصر میں حسنی مبارک مذہبی عسکریت پسندوں کی جانب سے ملکی قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایمرجنسی کے بلاتعطل نفاذ کو ضروری قرار دیتے تھے، بالکل اسی طرح حافظ الاسد بھی شام میں ہنگامی حالت کے مسلسل نفاذ کے حق میں ایسی ہی پالیسی رکھتے تھے۔ اس حوالے سے اسد حکومت کے موقف کو تب وزن ملتا ہے جب شام میں بشارالاسد کی جانب سے 48 سالہ طویل ایمرجنسی اُٹھانے کے نتیجے میں اخوان المسلمین سمیت عسکریت پسند گروہوں کی زیرزمین سرگرمیاں سر اُٹھانے لگیں۔ یہ سرگرمیاں بالآخر موجودہ خانہ جنگی پر منتج ہوئیں۔ اگرچہ شام میں اسد حکومت نے اپنے شہریوں کو ضمیر کے مطابق مذہبی وظائف سرانجام دینے کی آزادی دیے رکھی ہے مگر حکومت کی جانب سے کسی شہری کا غیرمعمولی طور پر مذہبی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شک کی نظر سے دیکھاجاتا ہے چاہے وہ شہری شیعہ ہو یا سنی کیونکہ حکومت انتہاپسندی کو سماجی استحکام کے لیے تباہ کن گردانتی ہے۔

 

حافظ الاسد کی مقبولیت کیوں کم ہوئی؟

 

حافظ الاسد کے عہد میں شام کی حکومت، بعث پارٹی، سول بیوروکریسی اور مسلح افواج کے کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں کے محرکات مذہبی نہیں بلکہ ذاتی تھے۔
گو ابتداء میں حافظ الاسد کے انقلاب کو شامیوں کی جانب سے خوش آمدید کہا گیا لیکن 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد عوام میں حافظ الاسد کی حکومت کی مقبولیت کم ہوئی۔ جنگ کے دوران اسرائیل سے گولان کی پہاڑیوں کا قبضہ چھڑانے میں ناکامی سے عوام کی نظروں میں حافظ الاسد کی حکومت کا وقار کم ہوا۔ ملکی معیشت میں مندی پر’ملک اسرائیل کے خلاف حالت جنگ میں ہے‘ کا عذر پیش کیا گیا جس نے شامی عوام کو حافظ الاسد سے بہت جلد مایوس کر دیا اوریوں شام کی عوام میں حافظ الاسد کی مقبولیت کم ہوتی چلی گئی۔ اگرچہ مجموعی طور پر حافظ الاسد حکومت کی وجہ سے شام میں معاشی استحکام دیکھنے کو ملا اور عوام کے معیارِ زندگی میں نسبتاً بہتری بھی آئی لیکن اس ترقی کے ثمرات تمام طبقات تک نہیں پہنچے۔ حافظ الاسد کے دور میں مادی ترقی اور خوشحالی کے اعتبار سے پسماندہ علوی برادری نے باقی قومیتوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ترقی کی۔

 

گولان پہاڑیاں اسرائیل اور شام کے مابین تنازعے کی وجہ ہیں
گولان پہاڑیاں اسرائیل اور شام کے مابین تنازعے کی وجہ ہیں
حافظ الاسد کی علویوں سے پر نوازشات سے متعلق اکثر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حافظ الاسد کے عہد میں شام کی حکومت، بعث پارٹی، سول بیوروکریسی اور مسلح افواج کے کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں کے محرکات مذہبی نہیں بلکہ ذاتی تھے۔ چونکہ حافظ الاسد کا اقتدار محلاتی سازشوں کا نتیجہ تھا اِسی وجہ سے ان کے اقتدار کو جوابی محلاتی سازش کا کسی بھی وقت سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ جیسا کہ حافظ الاسد کو اپنے بھائی رفعت الاسد کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی محلاتی سازشوں کا بھی سامنا ہوا۔ لہٰذا اِن خطرات کا سدباب کرنے کے لیے انہوں نے کلیدی عہدوں پر اپنے آبائی علاقے اور خاندان سے تعلق رکھنے والے قابلِ اعتبار اور وفادار امیدواروں کو مقرر کیا۔ بالکل اِسی طرح جیسے عراق میں صدر صدام حسین نے بیشتر کلیدی عہدوں پر اپنے آبائی علاقے تکریت سے تعلق رکھنے والے بااعتماد اور وفادار افراد کا تقرر کیا تھا۔ حافظ الاسد کا خاندان اپنی نجی زندگی میں انتہائی لبرل ہے اور بعثی رجحانات کی وجہ سے وہ مذہب کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ حافظ الاسد کی بہو اور بشارالاسد کی اہلیہ اسماء اسد کا تعلق سُنی فیملی سے ہے۔ جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ علویوں کے کلیدی عہدوں پر تقرر کے پیچھے حافظ الاسد کے مسلکی محرکات نہیں بلکہ ذاتی مفادات تھے۔ لیکن کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں سے عوام میں حافظ الاسد حکومت کا امیج بعث پارٹی کی حکومت کی بجائے علوی حکومت کا بن گیا اور یوں شامی بعث پارٹی کا سیکولر تشخص علوی چھاپ کی نذر ہو گیا۔

 

اکثریت پر قلیت کی حکمرانی

 

اسد خاندان کے شام پر برسراقتدار آنے سے علوی بطورِ ایک برادری مقتدر سیاسی قوت اور سماجی اشرافیہ بن گئے جس کے نتیجے میں شام کی اکثریتی سنی المسلک اور کرد النسل عوام احساسِ محرومی کا شکار ہوگئے۔
علوی اور دروزی مسلمانوں کے ہی دو فرقے ہیں جو خود کو شیعہ مسلک کے ذیلی فرقے قرار دیتے ہیں۔ مگر تاریخ میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں علویوں اور دروزیوں کی تکفیر کرتے آئے ہیں۔ البتہ سیاسی مقاصد کے لیے اہل سنت میں پہلے مفتی اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی اور بعدازاں اہل تشیع میں سے ایرانی نژاد لبنانی عالم آیت اللہ موسیٰ الصدر نے انہیں مسلمان قرار دیا۔ ان علماء کا بنیادی مقصد خطے میں آبادی ی بنیاد پر یہودیوں اور میرونیائی عیسائیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی عددی اکثریت ظاہر کرنا تھا۔ اسد خاندان کے شام پر برسراقتدار آنے سے علوی بطورِ ایک برادری مقتدر سیاسی قوت اور سماجی اشرافیہ بن گئے جس کے نتیجے میں شام کی اکثریتی سنی المسلک اور کرد النسل عوام احساسِ محرومی کا شکار ہوگئے۔ چونکہ اسد خاندان کا اقتدار اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی تھی اس لیے شام کی عوام نے اِسے اپنے استحصال کے زمرے میں لیا جو کہ غلط نہ تھا۔ لہٰذا جس طرح بلحاظِ آبادی شیعہ اکثریتی عراق میں یک جماعتی نظام حکومت کے تحت برسراقتدار جماعت عراقی بعث پارٹی پر سنیوں کا غلبہ اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی تھی بالکل اِسی طرح سنی اکثریتی شام میں یک جماعتی نظام کی حکمران جماعت شامی بعث پارٹی پر علویوں کا غلبہ بھی اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی ہے۔

 

شام میں علوی آبادی اقلیت میں ہے
شام میں علوی آبادی اقلیت میں ہے
علوی برادری اسد حکومت سے دور ہو رہی ہے

 

علوی شام کی کل آبادی کا 12 فیصد ہیں۔ حافظ الاسد نے اپنے اقتدار کی بقاء کے لیے علویوں کو کلیدی عہدوں پر متعین کیا تاکہ علویوں کو احسانات تلے دبا کر اپنا وفادار بنایا جا سکے۔ حافظ الاسد شعوری طور پر علویوں کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ شام میں انہیں جو شان وشوکت اور ٹھاٹھ باٹھ حاصل ہے وہ صرف حافظ الاسد حکومت کی وجہ سے ہے۔ صدام حسین کی طرح حافظ الاسد نے بھی اپنے اقتدار کی بقاء اور طوالت کے لیے اکثریت کو دبائے رکھا اور اقرباء پروری کے ذریعے علویوں کو اپنا وفادار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب موجودہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو حکومت نے نے ایران اور حزب اللہ سے مدد مانگنے سے پہلے علوی کمیونٹی کو امن لشکروں کے ذریعے حکومت کی حمایت میں باغیوں کے خلاف مزاحمت پر مجبور کیا۔ یوں بہت جلد علویوں کو احساس ہوگیا کہ شام کی خانہ جنگی علویوں کی بطورِ گروہ ذاتی جنگ نہیں بلکہ اسد خاندان کی جنگ ہے جس میں وہ مفت میں مارے جا رہے ہیں۔ لہٰذا علوی برادری نے خود کو بشارالاسد سے دور کر لیا ہے۔ علوی برادری نہیں چاہتی کہ وہ بشارالاسد حکومت کے خاتمے کی صورت میں فاتحین کے انتقام کا نشانہ بنے۔ اس صورت حال سے اس نکتے کو تقویت ملتی ہے کہ شام میں جاری خآنہ جنگی فرقہ وارانہ نہیں بلکہ اقتدار کی سیاست کی مظہر ہے۔

 

(جاری ہے)

Image: www.panoramio.com

Categories
نقطۂ نظر

اے موجۂ فرات کہیں جا کے ڈوب مر

عراق و شام کا ہمارے تاریخی اور روحانی شعور پر بہت گہرا اثر ہے۔ صاحبانِ سلک و تصوف، صدیوں سے اپنے سینوں کو بغداد کیے ہوئے ہیں۔ رندوں کی محفل میں آبگینوں کی نازکی اور حلب کے میخانے لازم و ملزوم ہیں اور عزاخانوں میں کربلا اور نجف کی مٹی کو آنکھوں کا سرمہ کہا جاتا ہے۔ لیکن یہاں کی مٹی کرخت اور کنڈیاری ہے۔ حکایتوں میں آتا ہے کہ پہلے زمانے میں پیغمبروں کو صبر کی آزمائش کے لیے نینوا کے دشت سے گزارا جاتا تھا۔ یہاں کی مٹی نے ابھی تک اپنا مزاج نہیں بدلا ہے۔
قدیم ایزدی مذہب کے پیروکار کئی دن سے سوالِ بیعت پر مسلسل انکار کی وجہ سے بھوکے پیاسے محصور تھے۔ وہاں سے تازہ اطلاع ہے کہ ان کے سروں کی فصل کاٹے جانے کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔
پیغمبروں کو آزمانے والا عراق کئی سالوں سے خود آزمائش میں ہے، اور اس کے لیے تازہ آزمائش خلافت والے ہیں۔ موصل کا شہر مسیحیوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔ دِروز، زرتشتی، علوی، مفتوحہ علاقوں کے کسی مختلف عقیدے کے فرد کے لیے چھپنے کی کوئی جگہ باقی نہیں رکھی گئی۔ قدیم ایزدی مذہب کے پیروکار کئی دن سے سوالِ بیعت پر مسلسل انکار کی وجہ سے بھوکے پیاسے محصور تھے۔ وہاں سے تازہ اطلاع ہے کہ ان کے سروں کی فصل کاٹے جانے کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ پانی کی بندش سے ایک اصغرِ معصوم نہیں، چالیس بچے پیاس سے مرے۔ لیکن اب کے کسی حرمل کے ہاتھ سے کمان نہیں گری کہ پہلے کی طرح زمین کانپ اٹھی ہو۔ چھ ہزار سال سے معبودیت کی مسند پر بیٹھا ملک الطاؤس اپنے عبادت گزاروں کے اقلیت میں ہونے کی وجہ سے بوڑھا نہ ہو گیا ہوتا تو شاید ان کے خون ناحق کے زمین پر گرتے وقت بھی زمین کبھی سبزہ نہ اگانے کی دھمکی دیتی، یا آسمان کبھی بارش نہ برسانے کا ڈراوا دیتا۔ کون نوحہ خواں بتائے گا کہ محاصرے کی آخری رات ان کے سرخیل نے مور دیوتا کو آخری صبوحی سجدہ کیسے دیا ہو گا۔ کسی آٹھ ماہ کی حاملہ ناری نے دوپہر تک سوختنی ہو جانے والے خیمے کے باہر لٹکی زیتون کی شاخ کو کس یاس سے دیکھا ہو گا۔ کون جانے کتنے جوان رن میں اپنے مشکیزے، اپنے بازؤوں اور عَلم سمیت بچوں کی سیرابی پر وار آئے ہوں گے۔ سات ہزار شمر و زیاد کے نہتے پُور کی طرف مارچ کرتے ہوئے کتنے بالک زمین کی دھمک پر گہواروں سے زمین پر آ رہے ہوں گے۔ دجلہ و فرات کے ہم عمر خداوں کے معبد میں صبح کا آخری ناقوس بجتے ہی حریموں میں کیا کہرام مچا ہو گا۔ آگے سروں سے اتاری گئی چادریں، کنیز منڈیاں اور نیزوں پر مصحفِ ریشہ کی تلاوت کرتے ہوئے ایزدی سر۔ ہماری خبر گیری صرف اعداد و شمار کریں گے۔ بلوے میں بیعت خواہوں نے ۵۰۰ سے اوپر ایزدی مار دیے اور سیکڑوں ایزدی عورتوں کو لونڈیاں بنا کر لے گئے۔ ایزدی تھے ہی کتنے۔ میسوپوٹیمیا کے آنچل پر بابلی اور سریانی رنگوں کے کتنے بیل بوٹے تھے جو بچ گئے تھے۔ کیا عراق و شام کی تاریخ بھی ہماری تاریخ کی طرح اصل اسلامیوں کی آمد کے آگے سے شروع کی جائے گی۔ یونس نبی کا مقبرہ، الحصن کا قلعہ، حلب کا پرانا محرابی بازار۔ یہ کسے یاد رہیں گے۔ تب تک تو ان کا ملبہ بھی سمیٹا جا چکا ہو گا۔ وہاں بھی نیا ملی تشخص تعمیر ہو گا، تہذیب کے طرّۂ دستار کے بل پر نہیں بلکہ جھوٹی اناؤں کا اینٹ گارا لے کر۔
دور سے بیٹھ دیکھنے میں سب کچھ چھوٹا نظر آتا ہے لیکن نظارہ اور اس کا افق سب نظر میں آتے ہیں۔ خلافت کے وہ داعی اور موصل کی جامع مسجد بھی، جب ساڑھے بارہ سو سال پہلے یحییٰ عباسی نے گیارہ ہزار اہل موصل کو مسجد کے صحن میں امان دے کر نہتے تہ تیغ کیا تھا۔ خلافت کے یہ داعی بھی، اور آج کا موصل بھی۔ تب صدیوں پہلے جامع مسجد دمشق کا گھوڑوں کا اصطبل بنے رہنا بھی اور آج نشانے بازی کی مشقوں میں کھنڈر بننے والے مسجدِ حلب کے مینار بھی۔ پونے چودہ صدیاں پیچھے نیزوں پہ اٹھا شام لے جائے گئے سر، اور آج چوک پر لگے جنگلوں کے آہنی نیزوں پر تا حد نظر نمائش میں لگی تازہ کھوپڑیاں بھی۔
عراق و شام کو یہاں سے بہت دور نہ سمجھا جائے۔ جوزف کالونی کی آگ اور سوات کے خونی چوک پر آویزاں سر کٹے دھڑ، یہ ہماری قوم کے حالیہ تجربے ہیں۔ گوجرانوالہ میں اپنے مکانوں سمیت جل مرنے والی معصوم حرا اور کائنات، اسی عید سے ایک دن پہلے کی بات ہیں۔ پشاور میں جلنے والے کلیسا اور بازار، سندھ سے جوق در جوق ملک چھوڑتے ہندو۔ یہ موصل یا غزہ کے مناظر نہیں ہیں۔ بربریت کسی ایک وطن میں اگنے والا خار نہیں ہے۔ ہراسانی کے اس طوفان میں پھر ہم ایسے مسجدوں عزاخانوں سے بھاگے ہؤوں کو بھی کربلا یاد آ ہی جاتی ہے۔ دہشت کے اس زمانے میں کوئی نوحہ پرانا نہیں ہے، کوئی مرثیہ خارج از بحث نہیں ہے۔ کربلا ہر زمانے اور ہر تہذیب کے کلیجے کا زخم ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

داعش اور مسئلہ عراق

فٹ بال کے عالمی مقابلے اور شمالی وزیر ستان آپریشن نیز علامہ طاہر القا دری ایسی بلند قامت دیواروں کے پیچھے جو واقعہ ہماری نظروں سے مسلسل اوجھل ہو رہا ہے وہ ہے عراق کا بحران اور بین الاقو امی سیاسی منظر نامے میں اس کی غیر معمولی اہمیت۔ داعش کی برق رفتار فتوحات اور بغداد کے گرد ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ ہونے والا گھیرا یہ سمجھنے کو کافی ہے کہ عالمی سیاست کا دھارا اب مشرق وسطیٰ کا رخ کر چکا ہے۔ داعش بنیادی طور پر اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کا ایسا جتھہ ہے جو عراق ، شام ، لبنان اور بعد ازاں ترکی کے علاقوں پر مشتمل اسلامی خلافت کے قیام کے لئے لڑائی کر رہے ہیں۔2003 سے متحرک اس گروہ نے اس سال کے اوائل میں القا عدہ سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بعد اپنے طور پر سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس کے موجودہ امیر ابوبکر البغدادی ہیں جو عراق پر امریکی قبضے کے دوران قید میں بھی رہے۔ البغدادی نے بغداد یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے رکھی ہے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ جنگی حکمت کے مالک ہیں۔
داعش بنیادی طور پر اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کا ایسا جتھہ ہے جو عراق ، شام ، لبنان اور بعد ازاں ترکی کے علاقوں پر مشتمل اسلامی خلافت کے قیام کے لئے لڑائی کر رہے ہیں۔
داعش کو کچھ لوگ عراق کے طالبان سمجھتے ہیں جو میرے خیال میں کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ صدام حسین کی برطرفی کے بعد عراق میں دبے ہوۓ شیعہ سنی مسئلے کا ابھر آنا داعش کی سرگرمیوں کو بڑھاوا ملنے کی ایک اہم وجہ ہے جو پاکستانی طالبان کے معاملے میں نہیں ہے۔ عراق کے موجود وزیر اعظم المالکی پر لگنے والے الزامات کہ وہ سنی اقلیت کے ساتھ تعصب کا رویہ رکھتے ہیں اور انہیں حکومت میں مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ نیز عراق کے اندرونی معاملات میں ایران کا حد سے بڑھتا ہوا کردار بھی معاملے کو مزید گنجلک بنا دیتا ہے۔ چنانچہ عراقی سنی آبادی میں پائی جانی سیاسی محرومی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوۓ داعش ان سب کو حکومت مخالف محاذ میں اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اگرچہ سنی آبادی کا ایک معقول حصہ اب بھی داعش سے اشتراک کا قائل نہیں ہے مگر عراقی سرکاری افواج کی داعش سے مسلسل شکستوں کے بعد جب آیت اللہ سیستانی کی جانب سے شیعہ عوام سے یہ کہا گیا کہ وہ رضا کارانہ طور پر داعش کے خلاف لڑنے میں حکومت کا ساتھ دیں اور پھر مقتدیٰ الصدر کے فرمان پر مہدی آرمی کی بغداد میں فوجی پریڈ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے عراقی سنی عوام میں یہ خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ ان کی بقا داعش کے ساتھ ملنے میں ہے۔ عراقی کردستان میں بغداد سے آنے والے سنی مہاجرین نے ایک صحافی کو یہ بتایا کہ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس عراقی حکومت یا داعش کے علاوہ کوئی تیسرا امکان نہیں بچا۔ آپ اس بیان سے مسئلے کی پیچیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری اور شام اور اردن کی سرحدی چوکیوں کے بعد اب داعش بغداد سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر ہے اور شاید بغداد پر حملے سے بھی پہلے داعش حدیثیہ کے ڈیم پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گی اور ایسی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں عراق کی جنگ اپنے سنجیدہ اور خطرناک ترین حصے میں داخل ہو جاۓ گی۔
عراقی کردستان میں بغداد سے آنے والے سنی مہاجرین نے ایک صحافی کو یہ بتایا کہ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس عراقی حکومت یا داعش کے علاوہ کوئی تیسرا امکان نہیں بچا۔
کہا جاتا ہے کہ داعش میں صدام دور کے کئی فوجی افسران بھی شامل ہیں جنہوں سے بعث پارٹی کی حکومت کے دنوں میں سوویت یونین سے فوجی تربیت حاصل کی تھی اور داعش کی جنگی کامیابیوں میں ان افسران کا اہم کردار ہے۔ چند روسی تجزیہ کار اس امر کو فخریہ انداز میں جارجیا میں امریکی تربیت یافتہ افواج کی روسی فوج سے شکست کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ جو چیز عراقی بحران کو شام کے بحران سے جدا کرتی ہے وہ صدام دور میں حکومتی سطح پر غالب رہنے والا سنی مسلمانوں کا وہ طبقہ ہے جسے صدام کے بعد عراقی منظر نامے سے غائب کر دیا گیا تھا جبکہ شام میں طویل عرصے سے کوئی سنی حکومت رہی ہی نہیں۔ شام اور عراق کے مسئلے کو اس انداز میں بھی جدا جدا دیکھا جا سکتا ہے کہ عراق میں داعش کے خلاف امریکہ اب تک عراق کا ایک محتاط اتحادی ہے جبکہ شام میں یہی امریکہ داعش اور اس جیسے دیگر حکومت مخالف دھڑوں کی حمایت میں سرگرم ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے کانگریس سے 50 کروڑ ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے جو شام میں قابلِ اعتماد باغیوں کی مدد میں استعمال ہو گی۔ اس امر کے امکانات بہت کم ہیں کہ امداد کی یہ رقم شفاف طریقے سے تقسیم کی جاسکے گی۔ امریکی حکومت نے عراق کے بارہا مطالبے کے باوجود اب تک عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی کاروائی نہیں کی جبکہ شام کی جانب سے عراق میں داعش پر بمباری اور روس کی جانب سے عراقی حکومت کو جنگی طیاروں کی کھیپ دئیے جانے کا عندیہ داضح طور پر بتا رہا ہے کہ امریکہ عراق میں داعش کے خلاف کھل کر فوجی کاروائی نہیں کرے گا اور بشار الاسد اور روس کا دیرینہ اتحاد عراق میں المالکی حکومت اور ایران کے اتحاد سے مل کر داعش کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس صورت حال میں یہ واضح ہے کہ امریکہ شام کے بحران کے تناظر میں ہی عراق میں کاروائی کرے گا۔ ایران کا امریکہ سے عراقی مسئلے پر متوقع اشتراک ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے امریکہ مخالف بیان کی وجہ سے تقریباً کھٹائی میں پڑ چکا ہے۔ مگر آیت اللہ کا یہ بیان کوئی رسمی بیان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ المالکی کی جگہ عراق میں اپنی پٹھو حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ شاید ایران کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ عراق میں امریکہ کی کاروائی شام کے بحران کو سامنے رکھے بغیر ممکن نہیں جہاں امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ نیز ایران یہ بھی جان چکا ہے کہ عراق میں امریکہ کسی بھی کاروائی کو حکومت میں سنی نمائندگی سے مشروط رکھنا چاہے گا جو مستقبل میں عراق میں ایرانی مفادات کے حق میں نہیں ہے۔ بغداد میں القدس فورس کے چیف سمیت ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ ” تہران عالمِ مشرق کا جنیوا بننے” کا خواب تنہا پورا کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن ایران کی حالیہ پالیسی عراق میں شیعہ سنی مسئلے کو بڑھاوا ہی دیتی آئی ہے اور اب خبر ہے کہ ہندوستان سے بھی شیعہ رضاکار عراق کی جنگ کا حصہ بننے کا تیار ہیں۔
مسلم ممالک کو یہ جان لینا چائیے کہ جمہوریت کی کامیابی سیکولرازم اپناۓ بغیر ممکن نہیں ہے۔
ہمارے لئے اس تمام بحران میں جو شے سب سے زیادہ قابلِ غور ہے وہ مسلم ممالک میں جمہوریت کی مسلسل ناکامی اور اس کی بڑی وجہ حکومتوں کا مذہبی ہونا ہے۔ تباہ حال عراقی شہری یہ گلہ بھی کرتے ہیں کہ صدام کے دور میں کم ازکم سیکورٹی کے ایسے سنگین مسائل تو نہیں تھے جو امریکی حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جمہوریت میں ہیں۔ مسلم ممالک کو یہ جان لینا چائیے کہ جمہوریت کی کامیابی سیکولرازم اپناۓ بغیر ممکن نہیں ہے۔ جب عوام ہی حکومت کا چناؤ کرتے ہوں تو طاقت کا سر چشمہ بھی عوام کو ہی ہونا چائیے ناکہ کسی مذہبی عقیدے یا مافوق الفطرت خدا کو۔ عراق کا یہ مسئلہ کبھی پیدا ہی نہ ہوتا اگر عقیدے کی بنا پر عوام کو طبقات میں تقسیم نہ کیا گیا ہوتا۔ مسلم ممالک بشمول پاکستان میں ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ جمہوریت اور مذہب کو جوڑ کر حکومت چلانے کے تجربے اکثر اسی بنا پر ناکام ہوۓ ہیں کہ جمہوریت تمام شہریوں کو ان کی شہریت کی بنیاد پر مساوی سمجھتی ہے جب کہ مذہب عوام کی ایسی تقسیم کا قائل ہے جو عقیدے کی بنیاد پر ہو۔ یہ واضح تناقض مسلم جمہوریتوں کی ناکامی اور سیکورٹی مسائل نیز بار بار کے مارشل لا ء کی بڑی وجہ ہے۔