Categories
شاعری

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے
دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا
خود کش حملوں کے خوف سے
اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے
خدا واحدِ حقیقی ہے
اسے کیا پڑی ہے
کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر
جوتوں اور کپڑوں کے ساتھ اِدھر اُدھر بکھر جائے

شاعروں اور دہشت گردوں نے
خدا کو اتنی کثرت سے استعمال کیا ہے
کہ تنگ آ کر
وہ نظموں اور دنیا سے غائب ہو گیا ہے
اور کائنات کے کسی ایسے گوشے کی طرف نکل گیا ہے
جہاں ان کی نظروں سے محفوظ رہ سکے
خدا اتنا بے بس کبھی نہیں تھا
جتنا اب ہے

خدا کائنات کا سب سے بڑا کلیشے ہے
جسے ترک نہیں کیا جا سکتا !
Image: Andrey Bobirs

Categories
نقطۂ نظر

میں نے مذہب کیوں چھوڑا؟

فیض کی پنجابی نظم، ربا سچیا توں تے آکھیا سی (اے سچے رب، تو نے وعدہ کیا تھا) ٹینا ثانی کی آواز میں گاڑی کے سپیکر سے نمودار ہو رہی تھی اور میں خیالات کے گردباد میں ڈوبتا جا رہا تھا۔فیض خدا سے مکالمے کے دوران جب کہتا ہے کہ اے خدا اگر تو میری بات نہیں مان سکتا تو کیا پھر میں کوئی اور رب ڈھونڈ لوں، اس موقعے پر گویا دماغ کےاندر کوئی شےچٹخ گئ۔ کیا انسان کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ ایک نیا خدا ڈھونڈ لے، یا کم ازکم پرانے سے چھٹکارا حاصل کر لے؟ اس سوال کا جواب ہر ذی شعور انسان نے اپنی بساط کے مطابق دینا ہے۔ صدیوں پرانے خیالات، معاشرتی روایات اور گھریلو ذہن سازی جیسی طاقتوں سے ٹکر لینا سہل نہیں ہوتا۔ ایک ایسے نظریے سے نجات پانا جو آپ کی زندگی کا بڑا حصہ ہو، اذیت طلب کام ہے۔ انکار مشکل اور تقلید آسان ہوتی ہے۔ کبھی ایسے بھٹکے ہوئے اور بھٹکانے والے خیالات دماغ میں آئیں تو عربی زبان میں کچھ پڑھ کر پھونک دینے سے وقتی طور پر ایسے جھنجھٹ سے بچا جا سکتا ہے، لیکن یہ نسخہ ہمیشہ بارآور نہیں ہوتا۔ تشکیک کا مرض موزی ہے، انسان کو اعتقاد کی دنیا سے کوچ کرواتا ہے اور فکری تنہائی کے کنویں میں پھینک دیتا ہے۔ ناپختہ اذہان کے لئے اس کیفیت کو سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اچھے بچے اور بچیاں بغاوت نہیں کرتے، چپ چاپ روایت کے بلی چڑھ جاتے ہیں۔ مینڈک جب اپنے کنویں سے باہر نکلتا ہے تو باقی دنیا اجنبی دکھائی دیتی ہے۔ عقائد کے کھونٹوں سے بندھ کر جو اطمینان نصیب ہوتا ہے وہ انکار اور تشکیک کے بیابانوں میں بھٹکنے کی آزادی سے اجتناب کی بڑی وجہ ہے۔

بچپن پنجاب کے ایک چھوٹے شہر میں مذہبی ماحول میں گزرا۔والد صاحب حافظ تھے، تو برخوردار کو بھی اس راہ پر لگانے کی کوشش کی گئی۔ برخوردار نماز روزے کے معاملے میں سستی نہیں کرتا تھا لیکن روایتی تعلیم سے مدرسےتک کا سفر کٹھن تھا لہٰذا جلد ہی مزاہمت کا راستہ اپنایا اور روایتی تعلیم کا سلسلہ بحال ہوا۔ فجر کی نماز کے معاملے میں کوتاہی پر پہلی دفعہ مار پڑی اور مختصر دورانیے کے لئے گھر بدری برداشت کرنی پڑی۔ اس روز تہیہ کر لیا کہ زور زبردستی سے مذہب پر عمل نہیں کرنا۔ لڑکپن میں رضاکارانہ طور پر گھر چھوڑا تو مزید مذہبی ماحول میں پہنچ گیا۔ہاسٹل میں بھی نماز کی سختی تھی۔ وہاں مذہب سے فائدہ اٹھایا۔ موذن بننے کی کوشش کی اور کئ سال کچھ دوستوں سے مقابلہ رہا کہ کون نماز سے قبل مسجد پہنچ کر آذان دے گا اور پہلی صف کا حصہ بنے گا۔ اس مقابلے میں خاکسار کثرت سے اول آتا رہا۔ اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی مذہب کی بدولت امتیاز حاصل کیا کیونکہ سینکڑوں کے ہجوم میں نمایاں ہونا آسان نہیں تھا۔ قریبی دوست تبلیغی جماعت میں تھے لہٰذا خاکسار بھی ان کے ساتھ “بیان” میں بیٹھنے لگا اور ایک آدھ مرتبہ “فضائل اعمال” سے پڑھنے کا موقعہ بھی ملا۔مخصوص دنوں میں مغرب کے بعد “گشت” منعقد ہوتا تو اس میں بھی شریک ہوتا۔ کالج پہنچا تو ہاسٹل میں باقاعدہ مسجد نہیں تھی لیکن ایک جگہ مختص تھی۔ وہاں مغرب کی نماز کی امامت خاکسار کے ذمے تھی۔ اس دوران ذہن میں بہت سے سوال تھے جن کے جوابات تلاش کرنے کی لگن عمر گزرنے کے ساتھ بڑھتی گئی۔

یہ بات سمجھ آئی کہ مذہب، عقل اور منطق کی بجائے جذبات اور اعتقاد سے سمجھ آتا ہے۔ سوال کا کیڑا عقیدت کی عمارت چاٹ جاتا ہے۔ سوال اٹھے تو پہلے ماخذات کا رخ کیا، بخاری شریف پڑھنی شروع کی، نام نہاد علماٴ سے سوالات کئے، اسرار احمد کے راستے غامدی تک آئے اور پھر مذہب اور سیاست کی ملاوٹ اور اس کے موذی اثرات کے باعث مذہبی عقائد کو خیر باد کہا۔ بیرون ملک جانے کا موقعہ ملا تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ مذہب کے بغیر خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ مذہب کے بغیر سانس لینا بھی گوارا نہیں۔جس چیز پر مذہب یا عقیدت کا ملمع چڑھے، اس پر تنقید محال۔اور یہ حال ظاہری طور پر پڑھے لکھوں کا ہے، کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ بے چارے یوں ہی بدنام ہیں۔

مذہب کے نام پر دہشت گردی شروع ہوئی تو اپنے نظریات پر نظر ثانی کی۔ سلمان تاثیر کی شہادت نے گویا اونٹ کی کمر پر آخری تنکے کا کردار ادا کیا۔ سلمان تاثیر، شہباز بھٹی، ڈاکٹر علی حیدر، مفتی سرفراز نعیمی اور کئی ہزار بے گناہ ہم وطنوں کی ہلاکت نے جھنجوڑ کے رکھ دیا۔ سوالات بڑھتے گئے۔ اگر اسلام امن کا مذہب ہے تو اسلام کے ماننے والے اپنے مذہب کا نام لینے والے دہشت گردوں کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ مرنے والے اور مارنے والے دونوں کلمہ گو ہیں تو قصوروار کون ہے؟ سلمان تاثیر واقعے کے بعد مقامی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کرنے گیا اور فرض نماز کے بعد نمازیوں سے گزارش کی کہ اس واقعے کی مذمت کی جائے۔سنت ادا کر کے باہر نکل رہا تھا تو تین نمازیوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ میرا موقف کیا ہے۔ ان کے مطابق سلمان تاثیر کے ساتھ جو ہوا، بالکل ٹھیک تھا۔ کچھ دیر ان سے بحث کی لیکن ان کا موقف عقلیت کی بجائے عقیدت پر مبنی تھا لہٰذا بحث بے معنی تھی۔ اس رات ایک دوست کی طرف گیا تو اس کی وکیل والدہ کے خیال میں بھی سلمان تاثیر کے قتل کا قانونی جواز موجود تھا۔ اس دن مجھے اپنے بہت سے سوالات کا جواب مل گیا مگر کچھ سوالات کی پتنگیں تجربے اور مشاہدے کی بجائے تحقیق اور تخیل کے آسمان پر اڑانے کو تھیں۔

جون ایلیا کو پڑھا۔ کوئی رہتا ہے آسماں میں کیا؟ ہم تو وہ ہیں جو خدا کو بھول گئے، تو مری جاں کس گمان میں ہے؟ علی عباس جلالپوری کی تصنیف شدہ مذاہب کی تاریخ اور فکری مغالطے پڑھنے کا موقعہ ملا۔ خدا کی وحدانیت کا نظریہ یہودیوں نے پہلی بار کب اپنایا؟ کعبہ اور اللہ کو نام نہاد “دور جاہلیہ” میں کیا مقام حاصل تھا؟ تمام بڑے مذاہب میں خدا کا تصور ایک جیسا کیوں ہے؟ کیا مذاہب ایک دوسرے کا چربہ ہیں؟ پیٹریشیا کرون کو پڑھا۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ کے متعلق صرف عرب، مسلمان تاریخ نویسوں پر ہی کیوں بھروسہ کیا جائے؟ رابرٹ ہوئلینڈ کو پڑھا۔ اسلام بطور مذہب اور عرب سامراج کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ کیا اسلام نے عرب سامراج کے پھیلاوٴ میں کردار ادا کیا یا سامراج نے سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو جنم دیا؟ لسانیات کے موضوع سے استفادہ کیا۔ انگریزی میں جہنم کا لفظ سکینڈینیون زبانوں سے آیا ہے اور اس کا مطلب ہے برف سے بھرپور جگہ۔ عربی والوں کی جہنم آ گ سے بنی ہے۔ علم آثار قدیمہ پر نظر ڈالی۔ جدید تحقیق کے مطابق عربی زبان کی جس شکل میں قرآن موجود ہے ، مکہ اور مدینہ میں وہ زبان کبھی بولی ہی نہیں جاتی تھی۔ جس علاقے میں اس زبان کے آثار ملے ہیں وہ حجاز سے کئی سو میل شمال میں ہے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اگر مذہبی کتب میں سب سوالوں کے جواب موجود ہیں تو نت نئ ایجادات کے متعلق کیا کہا جائے؟ سائنس کی ترقی کے بعد “معجزے” ہونا بند کیوں ہو گئے؟ الہامی کتب میں جو تاریخی اور منطقی سقم ہیں، ان کا کیا جواز ہے؟ تاریخ کے ایک استاد کہتے تھے کہ مذاہب اپنے ادوار کے انقلابات تھے۔ مذاہب جس دور میں ظہورپذیر ہوئے اس دور میں بغاوت کہلائے۔ کیا زمانہٴ حال میں مذہب سے روگردانی ہی مذہب بن جائے گی یہ تو ابھی نہیں کہا جا سکتا مگر ایک بات طے ہے کہ اب زیادہ دیر تک لوگوں کو موت کے مذہبی کنووں میں عقیدت کے موٹر سائیکل چلانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جلد یا بدیر یہ سرکس بھی لپیٹ لیا جائے گا اور یہ قصے بھی بھلا دئیے جائیں گے یا عجائب گھروں میں نمائش کو رکھ دیئے جا ئیں گے۔

 

خادم حسین

Categories
نان فکشن

کبھی تصویر بھی حرام تھی

ہمارے مذہبی طبقے کا بلا استثناء کسی مسلک و جماعت یہ المیہ رہا ہے کہ ہر دور میں جدید مسائل سے نا واقفیت کے باوجود اپنی من چاہی سمجھ کو عین خدا و رسول کی منشاء و حکم باور کرواتے ہیں اور جو ان سے اختلاف کرے اسے گمراہ و کافر کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ ہر نئی آنے والی چیز پہلے حرام قرار پاتی ہے اور پھر درجہ با درجہ ترقی کرتے ہوئے مکروہ سے مباح اور پھر عین شرعی ضرورت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ چھاپہ خانہ سے لے کر تصویر اور لاؤڈ اسپیکر سے لے کر ٹیلی ویژن تک ہر چیز کا شرعی حکم زمانے کے ساتھ اسی طرح بدلا ہے۔

ہمارے علماء کرام انتہائی مہارت سے قرآن و حدیث کی انہی آیات و روایات سے انہی چیزوں کی حلت نکال لیتے ہیں جو اس سے پہلے عین حرام قرار پاتی تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بعد میں بھرپور ڈھٹائی سے اس بات کا انکار بھی کیا جاتا ہے کہ پہلے کبھی ان چیزوں کا شرعی حکم یہی علماء کرام کچھ اور بیان کرتے آئے ہیں۔

ایسا ہی ایک معرکۃ الآراء مسئلہ تصویر کا بھی ہے جس کی شدید حرمت پر تمام مسالک کا بھرپور اتفاق موجود تھا اور یہ حرمت ہر طرح کی تصاویر کو شامل تھی چاہے وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا کسی کیمرے سے۔ مگر آج یہ حرمت خود مذہبی رہنماؤں اور علماء کرام کے ہاتھوں رخصت ہو چکی کیونکہ اب یہ حلال ہو چکی ہے۔ اب یہ تصویر وہ تصویر ہی نہیں رہی جو حرام تھی بلکہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ علماء کرام جن تصویروں کو حرام کہتے تھے وہ صرف ہاتھ سے بنائی جانے والی تصاویر تھیں اور کیمرے سے بنائی گئی تصاویر اس حرمت میں کبھی شامل ہی نہیں سمجھی گئیں۔ یہ بات سراسر حقائق کو جھٹلانے اور دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیونکہ تمام کے تمام مسالک کے علماء ہر طرح کی تصاویر کو حرام سمجھتے تھے اور کیمرے کی تصاویر پر بھی شرعی وعیدوں کا اطلاق فرماتے تھے۔ اس مسئلہ میں شاید ہی کسی مسلک کے جید علماء میں سے کسی نے پہلے اختلاف کیا ہو لیکن آج جب تصویریں بنانا خود ان کی اپنی ضرورت بھی بن گیا تو تصویر اور فوٹو کا شرعی حکم بھی بدل دیا گیا۔

اس سلسلے میں تصویر اور فوٹو کی شدید حرمت کے بارے تمام مشہور مسالک و جماعتوں کے جید و معتبر علماء کرام کے شرعی فتاویٰ پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں۔ یاد رہے کہ تمام فتاویٰ صرف وہی پیش کئے گئے ہیں جو کیمرے سے بنی ہوئے تصاویر کے بارے پوچھے گئے سوالات پر دیے گئے تھے۔ اکثر فتاویٰ میں خود اس بات کی وضاحت بھی موجود ہے۔

بریلوی علماء

☆ بریلوی جماعت کے مرکزی دارالافتاء بریلی سے جاری ہونے والے فتویٰ میں کہا گیا: “کہیں بھی کسی بھی ذی روح کی تصویر کھینچنا کھنچوانا سخت حرام اور بد انجام ہے۔” (فتاویٰ بریلی، ص201)

☆ بریلوی جماعت کے مفتی اعظم ہالینڈ حضرت مولانا مفتی عبدالواجد قادری لکھتے ہیں: “تصاویر کھینچنے اور کھینچانے کی حرمت احادیث مشہورہ و متواترہ سے ثابت ہے اور نصوصِ ممانعت کے ہوتے ہوئے بغیر عذر شرعی کے اس کی اباحت کی کوئی صورت نہیں بنتی ہے۔ لہٰذا جن نام نہاد اسلامی ممالک کے سربراہوں نے اپنی رضا سے تصویریں کھینچوائیں اور انہیں عام کیا وہ سب اس حرام کے مرتکب ہوئے۔ ہاں اگر وہ اس کی اباحت کے بھی قائل ہوں تو اس کا حکم نہایت سنگین ہو گا۔ العیاذ باللہ تعالیٰ” (فتاویٰ یورپ، ص259-260)

☆ بریلوی اعلیٰ حضرت کے صاحبزادہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا قادری فتویٰ دیتے ہیں: “جاندار کا فوٹو کھینچنا کھینچوانا حرام ہے۔” (فتاویٰ مصطفویہ، ص449)

☆ بریلوی جماعت کے مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقار الدین قادری چھپی ہوئی تصویروں کے بارے فتویٰ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: “تصویر بنانا بہرحال حرام ہے۔ وہ کعبہ میں ہوں یا کہیں اور۔ اور تصویر کو اعزاز کے ساتھ رکھنا اور لٹکانا بھی حرام ہے۔” (وقار الفتاویٰ، ج2 ص509)

مزید ایک جگہ لکھتے ہیں: “جاندار کی تصویر کھینچنا اور کھچوانا حرام ہے۔ کوئی عالم کھنچوائے یا غیر عالم، سب کے لئے ایک ہی حکم ہے۔” (وقار الفتاویٰ، ج2 ص513)

دیوبندی علماء

☆ سوال کیا جاتا ہے کہ “زید عالم ہے، وہ کہتا ہے کہ تصویر دستی یعنی قلم (سے ہاتھ) کی بنی ہوئی کا بنوانا یا مکان میں رکھنا حرام ہے لیکن فوٹو کا لیا جانا اور مکان میں رکھنا حرام نہیں، بدیں دلیل کہ فوٹو آئینہ عکس ہے۔”

اس کے جواب میں دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:

“زید کا قول بالکل غلط ہے اور یہ قیاس مع الفارق ہے۔ آئینہ کے اندر کوئی انتقاش باقی نہیں رہتا، زوال محاذہ کے بعد وہ عکس بھی زائل ہو جاتا ہے، بخلاف فوٹو کے اور یہ بالکل ظاہر ہے اور پھر صنعت کے واسطے سے ہے، اس لئے بالکل مثل دستی تصویر کے ہے۔” (امداد الفتاویٰ، ج4 ص253-254)

☆ اسی طرح بائسکوپ وغیرہ پر متحرک فلم چلانے اور دیکھنے کے بارے فتویٰ دیتے ہوئے حضرت تھانوی صاحب فرماتے ہیں: “شریعت اسلامیہ میں جاندار کی تصویر بنانا مطلقاً معصیت ہے، خواہ وہ کسی کی تصویر ہو اور خواہ مجسمہ ہو یا غیر مجسمہ۔” (امداد الفتاویٰ، ج4 ص258)

☆ مشہور دیوبندی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے مولانا سمیع الحق کی زیر نگرانی شائع ہونے والے مجموعہ فتاویٰ میں بیان کیا گیا ہے کہ “ذی روح اشیاء کی فوٹو گرافی کرنا یا شبیہ بنانا تخلیق خداوندی کے مترادف ہے جو کہ گناہ کبیرہ ہے، اس لئے جاندار اشیاء کی تصاویر بنانا شرعاً حرام و ناجائز ہے۔” (فتاویٰ حقانیہ، ج2 ص428)

☆ مفتی رشید احمد لدھیانوی فتویٰ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: “تصویر کھنچوانا باجماع امت حرام ہے۔۔۔۔ عوام کے مقابلہ میں کسی عالم یا مفتی کا تصویر کھنچوانا کئی وجوہ سے زیادہ شنیع اور قبیح ہے۔” (احسن الفتاویٰ، ج8 ص191)

☆ تصویر کی حرمت علماء کس قدر شدید سمجھتے تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ کرایہ پر جو سائیکل ملتی ہے اس پر تصویریں لگی ہوتی ہیں تو کیا ایسی سائیکل کا استعمال جائز ہے؟ اس پر مفتی رشید احمد لدھیانوی لکھتے ہیں:

“ایسی سائیکل پر سوار ہونا جائز نہیں، اگر بغیر تصویر سائیکل نہ ملتی ہو اور ضرورت شدیدہ ہو تو گنجائش ہے مگر تصویر کو کسی چیز سے چھپا دے، یہ بھی نہ ہو سکے تو تصویر سے حتی المقدور اغماض واجب ہے۔” (احسن الفتاویٰ، ج8 ص196)

☆ ٹیلی ویژن دیکھنے کو حرام قرار دینے کی ایک علت تصویر کو ہی قرار دیتے ہوئے مفتی صاحب فرماتے ہیں: “ٹی وی دیکھنا بہرحال وجوہ ذیل کی بنا پر حرام ہے۔۔۔۔ اس میں عموماً اصل کی بجائے فلم آتی ہے جو تصویر ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور جس مجلس میں تصویر ہو وہاں جانا بھی حرام ہے۔ حدیث میں تصویر والوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، جہاں تصویر ہوتی ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔” (احسن الفتاویٰ، ج8 ص191-200)

اہلِ حدیث علماء

☆ نماز وغیرہ سیکھنے سکھانے کے لئے فوٹو لے کر رسالہ شائع کرنے کی اجازت پوچھنے پر مشہور اہل حدیث عالم فقیہ العصر محدث عبداللہ روپڑی نے لکھا:

“تصویر کا بنانا تو کسی صورت درست نہیں اور (پہلے سے) بنی ہوئی کا استعمال دو شرطوں سے درست ہے ایک یہ کہ مستقل نہ ہو، کپڑے وغیرہ میں نقش ہو۔ دوم نیچے رہے بلند نہ لٹکائی جائے۔” (فتاویٰ اہلحدیث، ج3 ص345)

☆ جماعت اہل حدیث کے محدث العصر شیخ محب اللہ شاہ راشدی فرماتے ہیں: “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاندار کی تصویر بنانے سے منع فرمایا ہے اور جو ایسا کرتا ہے اس پر لعنت فرمائی ہے اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ تصویر بنانے والے اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ ہیں۔۔۔۔ اور یہ عمل کبیرہ تباہ کرنے والا گناہ ہے اگرچہ یہ آج پورے عالم اسلام میں بھی پھیلا ہوا ہے۔” (فتاویٰ راشدیہ، ص495، نعمانی کتب خانہ لاہور)

☆ مشہور اہل حدیث مفتی مبشر احمد ربانی لکھتے ہیں: “یہ بات درست ہے کہ شریعت اسلامیہ نے جاندار اشیاء کی تصاویر کو حرام قرار دیا ہے۔ تصاویر کو مٹانے کے حکم کے ساتھ جاندار اشیاء کی تصاویر بنانے والے پر لعنت کی گئی ہے اور قیامت کے دن کے سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔۔۔۔” (احکام و مسائل، ص625، دارالاندلس لاہور)

☆ سوال کیا جاتا ہے کہ “تصویر کے بارے میں شریعت نے سختی سے روکا ہے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس جدید دور میں جو تصویر کیمرہ کے ساتھ لی جاتی ہے وہ اس ضمن میں نہیں آتی بلکہ یہ ممانعت ان تصاویر کے بارہ میں ہے جو ہاتھ سے بنائی جاتی ہیں اور کیمرہ کی تصویر تو ایک عکس ہے۔ لہٰذا یہ جائز ہے؟”

اس کے جواب میں جماعت اہل حدیث کے نامور شیخ الحدیث و مفتی حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب فرماتے ہیں: “اسلام میں بلااستثناء ہر ذی روح کی تصویر حرام ہے۔ چاہے جونسی بھی صورت میں تصویر کشی کی جائے۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ سائے دار یا غیر سائے دار ہر طرح کی تصویر حرام ہے۔ کیمرہ سے بنی ہو یا غیر کیمرہ سے۔” (فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ، ج1 ص533، دارالارشاد لاہور)

☆ نامور اہل حدیث عالم و مفتی حافظ عبدالمنان نور پوری فرماتے ہیں: “ٹی وی، وی سی آر اور فلموں کا کاروبار شرعاً درست نہیں کیونکہ ان میں جاندار کی تصویر بنتی ہے اور تصویر کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بالکل واضح ہیں کہ تصویروں والے روزِ قیامت عذاب دیے جائیں گے۔” (احکام و مسائل، ج1 ص377، المکتبۃ الکریمیہ لاہور)

مزید ایک جگہ حافظ نورپوری لکھتے ہیں: “ہر ذی روح کی تصویر خواہ ہاتھ سے بنائی گئی ہو خواہ کیمرہ سے ممنوع تصویر میں شامل ہے۔” (احکام و مسائل، ج2 ص771)

☆ جماعت اہل حدیث کے معتبر مفتی شیخ عبدالستار الحماد لکھتے ہیں: “شریعت میں تصویر کشی حرام ہے، اس بنا پر فوٹوگرافی کا پیشہ اختیار کرنا بھی حرام ہے، حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سنگین عذاب تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔” (فتاویٰ اصحاب الحدیث، ج3 ص470، مکتبہ اسلامیہ لاہور)

مزید ایک جگہ لکھتے ہیں: “آج امت مسلمہ جن فتنوں میں بڑی شدت سے مبتلا ہے، ان میں ایک فتنہ تصویر بھی ہے حالانکہ دینِ اسلام میں تصویر کشی کی بہت حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ صورت مسئولہ میں سیاسی راہنماؤں کی قد آور تصاویر آویزاں کرنا انتہائی گھناؤنا فعل ہے، علماء حضرات بھی اس فتنہ میں پوری طرح ملوث ہیں، اضطراری و مجبوری کی بات زیربحث نہیں کیوں کہ بوقت ضروت تو خنزیر اور مردار بھی کھایا جا سکتا ہے، اگرچہ اس کی بھی حدود و قیود ہیں، تاہم پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور کرنسی نوٹوں کی آڑ میں شوقیہ تصاویر کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔” (فتاویٰ اصحاب الحدیث، ج1 ص450)

سعودی علماء

☆ سعودی عرب میں شیخ عبدالعزیز بن باز، شیخ محمد بن صالح عثیمین اور شیخ عبداللہ الجبرین جیسے کبار علماء پر مشتمل و زیر نگرانی کام کرنے والی فتویٰ کمیٹی “اللجنۃ الدائمۃ للافتاء والارشاد” نے لکھا:

“ہر جاندار کی تصویر حرام ہے خواہ وہ انسان ہو یا حیوان اور تصویر خواہ برش سے بنائی جائے یا بُن کر یا رنگ سے یا کیمرہ سے یا کسی اور چیز سے اور خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم۔ تصویر ہر طرح حرام ہے، کیونکہ تصویر کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث کے عموم سے یہی ثابت ہے۔” (فتاویٰ اسلامیہ، ج4 ص384، دارالسلام ریاض)

☆ یہ فتویٰ کمیٹی مزید ایک جگہ لکھتی ہے: “جس طرح دلائل تصویریں بنانے والوں پر لعنت اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کی وعید کے بارے میں ہیں، اسی طرح یہ تمام دلائل اس شخص کے لئے بھی ہیں جو اپنے آپ کو تصویر بنوانے کے لئے پیش کرے۔” (فتاویٰ اسلامیہ، ج4 ص384)

ان تمام فتاویٰ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان سب مسالک و جماعتوں کے ہاں بالاتفاق کسی جاندار کی ہر طرح کی تصاویر بشمول کیمرہ سے کھینچی گئی فوٹوز حرام تھیں اور ایسی تصاویر کے کھینچنے کھنچوانے والوں پر لعنت کا استعمال بھی وافر مقدار میں کیا جاتا تھا۔ مگر آج آہستہ آہستہ یہ سب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

جہاں آج کے علماء اپنی ضرورت بننے پر اس فہم تک آ پہنچے ہیں کہ یہ تصویر وہ نہیں جو حرام ہے اور جس پر لعنت و وعید کی بشارتیں سنائی جاتی تھیں تو امید کی جانی چاہئے کہ آنے والے دور میں موسیقی، رقص اور سُود کی کچھ شکلیں بھی ‘گنجائش’ پا جائیں گی کہ موجودہ موسیقی، رقص یا سود بھی وہ نہیں جو حرام تھا۔ حرام سے حلال کے اس سفر کی علت تو ایک ہی ہے بس دیکھئے کہ ہمارے علماء اس حد تک جانے میں اور کتنا وقت لیتے ہیں۔

Categories
نان فکشن

ملاحدہ دور حاضر کے نقطہ نظر سے

[blockquote style=”3″]

پاکستان میں ہمیں جس مذہبی جبر کا سامنا ہے وہ بہت حد تک مذہب سے ایک غیر علمی اور غیر محققانہ تعلق کی پیداوار ہے۔ مسلمانوں بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کا اپنے مذہب سے تعلق مقدس شخصیات، عبادات اور عقائد سے جذباتی لگاؤ اور اندھے اعتقاد تک محدود ہے۔ اس غیر عالمانہ مذہبیت کے باعث سوال کرنے، تحقیق کرنے اور اختلاف کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سید امجد حسین کی ترتیب دی کتاب “کب کا ترک اسلام کیا” لالٹین پر قسط وار شائع کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ایسی آوازوں کو توانائی بخشنا ہے جو مذہب پر تنقید، اعتراض اور اختلاف کو آزادی اظہارِ رائے کا جزو سمجھتی ہیں۔ اس سلسلے کا مقصد مذہبی افراد کی دل آزاری نہیں بلکہ تنقید و تحقیق جیسے بنیادی علمی فریضے کی انجام دہی ہے۔ اس کتاب میں شامل مضامین بہت سے قارئین کے لئے ناگوار یا ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں، ایسے قارئین ان مضامین پر تنقید کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ لالٹین کے صفحات اختلافی آراء کے لئے بھی کھلے ہیں۔

[/blockquote]

مصنف: علامہ نیاز فتح پوری
حوالہ:
[”من و یزداں“، حلقہ نیاز و نگار، کراچی، طبع دوم،۱۹۹۴]

مذہب کی حقیقت

علم و مذہب کی جنگ کوئی نئی چیز نہیں، کیوں کہ مذہب کا مطالبہ یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے اسے بغیر چون و چرا تسلیم کرلینا چاہیے اور اہل علم کی حجت یہ ہے کہ جب تک کوئی بات سمجھ میں نہ آجائے ، اس پر یقین لانا ممکن نہیں۔ اہل مذاہب اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ عقل انسانی بہت ناقص ہے اور اس سے یہ توقع نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی کامل شے کا تصور کر سکے۔ فریق ثانی کہتا ہے کہ جس چیز کو تم ”شے کامل“ سے تعبیر کرتے ہو، اسی کا ثبوت تمھارے پاس کیا ہے کہ ہماری عقل ناقص کو اس کے سمجھنے سے باز رکھتے ہو۔ الغرض اہل علم و مذاہب کا یہ نزاع بہت قدیم چیز ہے اور باختلاف نوعیت اب بھی اسی طرح بلکہ زیادہ شدت کے ساتھ نظر آتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ پہلے حکومت و مذہب دونوں ایک چیز تھی، اور اس لیے اہل مذاہب بزور شمشیر اپنے مخالفین کو خاموش کرسکتے تھے ، اب ایسا نہیں کرسکتے اور معاندین مذہب کی جماعت بڑھتی جارہی ہے۔ یورپ اور خصوصیت کے ساتھ امریکہ میں جہاں خدائے قادر مطلق کے بجائے Almighty Dollar کی پرستش کی جاتی ہے، الحاد نہایت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اہل کلیسا حیران ہیں کہ ”آسمانی بادشاہت“ کے وجود کو کیوں کر قائم رکھ سکیں گے۔

ہندوستان میں بھی یہ رو کافی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور یہاں کے حلقہ ہائے مسجد و خانقاہ میں بھی ان کی کفر سامانیوں کو نہایت تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے لیکن اس وقت تک کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس طوفان سے بچنے کی صورت کیا ہے؟

اہل مذاہب کی طرف سے جو تدبیر دفاع اختیار کی جاتی ہے، وہ زیادہ تر اس لیے بے اثر رہتی ہے کہ انھیں یہ معلوم نہیں کہ ملاحدہ کہتے کیا ہیں اور وہ کن دلائل کی بنا پر خدا اور مذہب سے انکار کرتے ہیں۔ امریکہ وغیرہ میں تو اہل مذہب ان کے لٹریچر کو شاید کبھی پڑھ لیتے ہوں لیکن ہندوستان میں تو اس کا دیکھنا ہی گناہ سمجھا جاتا ہے اور اس لیے یہاں کے اہل مذاہب قطعاً ناواقف ہیں کہ اس زمانہ کا الحاد کس قسم کا الحاد ہے اور اس کے مقابلے کے کن نئی تیاریوں کی ضرورت ہے؟

مسلمانوں میں اس وقت صرف دو چار رسائل ایسے ہیں جنھوں نے اپنا مقصود الحاد کی مخالفت اور اسلام کی حمایت قرار دے رکھا ہے لیکن حقیقتاً ان میں کوئی ایک رسالہ بھی ایسا نہیں ہے جو اس بیسویں صدی کے منکرین خدا کو خاموش کرسکے اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ جو راہ انھوں نے خدمت اسلام کی اختیار کی ہے، وہ نہ صرف یہ کہ بالکل غلط ہے بلکہ اور زیادہ دہریت پھیلانے والی ہے، کیوں کہ اگر ہم کسی کی بات نہ سنیں اور اپنی ہی کہے جائیں تو ظاہر ہے کہ ہم کو بہرا ہی کہا جائے گا۔ پھر چونکہ پیروان اسلام اپنے مذہب کو سب سے زیادہ مکمل اور عین فطرت کے مطابق کہتے ہیں ، اس لیے ان کی طرف سے جب اس نوع کی جاہلانہ کوششٰیں دیکھتا ہوں تو مجھے سخت حیرت ہوتی ہے۔علمائے اہل اسلام کی طرف سے ایک عام طریقہ جواب کا یہ اختیار کیا جاتا ہے کہ مذہب کے خلاف جو اعتراض کیے جارہے ہیں ، وہ نئے نہیں ہیں بلکہ بہت پرانے ہیں اور ان کا جواب دیا جا چکا ہے۔ اول تو مجھے اس میں کلام ہے کہ ان پر انے اعتراضات کا کبھی رد کیا گیا ہے یا نہیں اور اگر اسے مان بھی لیں تو انھوں نے یہ کیوں کر جان لیا کہ موجودہ ذہنی انقلاب وہی ہے جو اس سے پہلے پایا جاتا تھا اور اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

اگر اہل مذاہب واقعی الحاد کا سد باب کرنا چاہتے ہیں تو ان کا فرض یہ ہے کہ پہلے ملحدین کے بیانات کو نہیں، بغیر کسی جذبہ غیظ و انتقام کے ٹھنڈے دل سے سنیں اور پھر غور کریں کہ ان کے دلائل کا کوئی مسکت جواب ان سے ممکن ہے یا نہیں، صرف گالیاں یا بددعائیں دینے سے کام نہیں چلتا ۔ چنانچہ میں ایک لامذہب (ملحد)کے پانچ مقالے سلسلہ وار پیش کررہا ہوں تاکہ اہل مذہب کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں الحاد پیدا ہونے کے اسباب کیا ہیں اور پھر اگر ممکن ہو تو اس کا علاج سوچا جائے۔

مذہب کیا ہے؟

خدا ہی نے تمام چیزیں پیدا کی ہیں اور وہی ان کا مدبر ہے، اس لیے مخلوق کافرض ہے کہ وہ اپنے خالق کی مطیع رہے، یعنی اگر اس کی طرف سے کوئی حکم نافذ کیا جائے تو اس کی تعمیل کرنا ہر شخص پر لازم ہے۔

یہ ہے اصل مفہوم مذہب کا جو صدیوں سے رائج چلا آتا ہے اور تمام قوموں نے اسی اعتقاد کے تحت یقین کرلیا کہ خدا ہم سے قربانیاں چاہتا ہے۔ چنانچہ اول اول لوگوں نے اپنی اولاد تک بھینٹ چڑھانے سے عذر نہ کیا، اور پھر صرف بیل، بھیڑ، بکری کے خون سے خدا کو راضی رکھنے کی کوشش کی گئی، کیوں کہ وہ اگر ایسا نہ کرتے تو خدا ان کی فصلیں خراب کردیتا، پانی برسانا بند کردیتا، بیماریاں پھیلاتا، زلزلے لاتا اور قحط و وبا کی مصیبت میں مبتلا کردیتا۔ اس اعتقاد قربانی کی آخری جھلک عیسوی مذہب میں بھی پائی جاتی ہے اور اسلام میں بھی۔ وہاں خدا اپنے بیٹے کی قربانی قبول کر کے ہمیشہ کے لیے چین سے بیٹھ گیا، اور یہاں ابراہیم خلیل اللہ کے تہیہ قربانی سے خوش ہو کر آئندہ کے لیے؛ صرف جانوروں کی قربانی پر راضی ہوگیا۔

اہل مذاہب کا یہ اعتقاد بھی بہت قدیم ہے کہ خدا ہماری التجائیں سنتا اور ان کو پورا کرتا ہے، اس لیے ان اعتقادات کے پیش نظر قدرتاً چند سوال پیدا ہوتے ہیں جو اصل بنیاد ہیں لا مذہبیت کے، اور چونکہ اس وقت تک اہل مذہب کو نئی تشفی بخش جواب نہیں دے سکے ہیں ، اس لیے ملحدین خود ہی اس سے ایک نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں اور اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ شبہات ملاحظہ ہوں:

کیا مذہب کی بنیاد کسی حقیقت معلومہ پر قائم ہے؟
کیا واقعی کوئی ایسی ہستی پائی جاتی ہے جسے خدا کہتے ہیں؟
کیا واقعی خدا سب کا خالق ہے؟
کیا واقعی اس نے کبھی ہماری دعاؤں کو سنا ہے؟
کیا واقعی قربانیوں سے خوش ہو کر اس نے کسی قوم کے ساتھ کوئی خاص رعایت روا رکھی ہے؟

(۱) اگر واقعی اسی نے انسان پیدا کیا ہے تو کیوں ایسے افراد اس نے پیدا کیے جو مسخ و قبیح ہیں، مفلوج و محتاج ہیں اور ذہنی حیثیت سے حددرجہ پست؟ مجرموں، دیوانوں اور بے عقل لوگوں کو پیدا کرنے میں اس کی کیا مصلحت تھی، کیا کوئی ایسی قوت کی طرف سے جسے فراست کل اور قوت مطلق کہتے ہیں، ان نقائص تخلیق کی کوئی معقول توجیہہ پیش کی جا سکتی ہے؟
(۲) اگر خدا تمام امور عالم کا مدبر و منظم ہے تو کیا وہ ان بادشاہوں کے افعال کا ذمہ دار نہیں ہے جنھوں نے دنیا میں سوا ظلم کے اور کچھ نہیں کیا؟ کیا وہ ان تمام لڑائیوں کا ذمہ دار نہیں ہے جن میں لاکھوں بے گناہوں کا خون بہایا جاتا ہے؟
(۳) کیا وہ دور غلامی اس کی مرضی کے موافق نہ تھا جب صدیوں تک ہزاروں بے گناہ انسانوں سے ان کے بلکتے ہوئے بچے جدا کرکے قتل و زبح کرادیے گئے؟
(۴) کیا وہ ان مذہبی تعذیبات کا ذمہ دار نہیں جو بے گناہ انسان کے ناخنوں میں کیلیں ٹھونک دینے اور شکنجے میں تان تان کر ایک ایک جوڑ علیحدہ کردینے پر مشتمل تھے؟
(۵) خدا نے کیوں ظالموں اور بدکرداروں کو مہلت دی کہ وہ بہادروں اور نیک کرداروں کو پامال کریں؟
(۶) خدا نے کیوں کافروں کو اس کا موقع دیا کہ اس کے خاص بندوں کو عذاب میں مبتلا کریں۔ اگر ایک رحم و کرم والا خدا واقعی کائنات کا مدبر ہے تو یہ آئے دن کے طوفانوں، زلزلوں ، وباؤں اور خشک سالیوں کی کیا توجیہ ہوسکتی ہے؟ سل و دق، سرطان و خناق اور اسی طرح کی سیکڑوں بیماریاں پیدا کرنے کا کیا سبب ہوسکتا ہے جس سے نہ معصوم بچے جانبر ہوسکتے ہیں ، نہ زاہد و مرتاض انسان؟
(۷) درندوں کا انسانوں کو پھاڑ کر کھاتے رہنا، زہریلے سانپوں کا لوگوں کو ڈستے رہنا اور خدا کا کچھ نہ کہنا عجیب معمہ ہے۔کیا اس نے ناخن و چنگال اسی لیے پیدا کیے کہ وہ گوشت کے ریشے جدا کرتے رہیں، کیا اس نے پر و بال اسی لیے بنائے ہیں کہ معذور و بے کس آسانی سے گرفت میں آ سکیں ، کیا اس نے جراثیم اسی لیے پیدا کیے ہیں کہ وہ انسانوں کو اندھا، کوڑھی، مسلول و مدقوق بنا کر اپنی بھوک مٹائیں؟
(۸) کیا کائنات کی تنظیم اسی طرح ممکن تھی کہ ایک جاندار کی زندگی دوسرے جاندار کے گوشت و خون پر منحصر ہو اور کیا تدبیر عالم آہ و کراہ کا ہنگامہ پیدا کیے بغیر محال تھی؟ پھر ان واقعات و حالات پر غور کرو اور سمجھو کہ مذہب کیا ہے؟
(۹) دراصل وہ نام ہے صرف ایک بے بنیاد خوف کا، جو خود ہی ایک قربان گاہ بناتا ہے اور خود ہی اس پر قربانیاں چڑھاتا ہے، خود ہی ایک معبد تیار کرتا ہے اور خود ہی وہاں جھک جاتا ہے۔
(۱۰) مذہب ہمیں وہی باتیں سکھاتا ہے جو صرف غلام ہی کے لیے موزوں ہیں، یعنی اطاعت، فرمانبرداری، نفس کشی، صبر و تحمل، عدم مقادمت اور اپنے آپ کو مٹادینا۔
(۱۱) خود مختاری، سرفرازی، خود اعتمادی، جرأت و اقدام کا وہاں کوسوں پتہ نہیں۔ مذہب کہتا ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا غلام، لیکن مالک چاہے کتنا ہی بڑا ہو ، غلام کو خوشگوار نہیں بنا سکتا۔ اگر خدا کا وجود ہے تو ہم کیوں کر جان سکتے ہیں کہ وہ رحم وکرم والا بھی ہے، وہ دیکھتا ہے کہ لاکھوں کروڑوں غریب و جفا کش، انسان ہل چلا رہے ہیں، کھیتیاں بو رہے ہیں اور ان کی زندگی کا انحصار صرف اسی محنت پر ہے لیکن وہ پانی نہیں برساتا، کھیتیاں مرجھا رہی ہیں لیکن پانی کا ایک قطرہ نہیں گراتا، کروڑوں انسان اپنی مایوس و منتظر آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن سوا جھلسا دینے والے آفتاب کے بادل کا ایک ٹکڑا بھی انھیں کسی جگہ نظر نہیں آتا۔ خدا ان کے دل کے اضطراب کو دیکھتا ہے اور رحم نہیں کھاتا، ان کی اشک آلود آنکھوں کو دیکھتا ہے اور خاموش ہے۔ بچے ماؤں کی خشک چھاتیوں سے لگے ہوئے بلک رہے ہیں اور دودھ نہیں پاتے، مائیں آنچل پھیلا پھیلا کر اپنے بھوکے بچوں کا واسطہ دے دے کر دعائیں مانگ رہی ہیں، لیکن کوئی سننے والا نہیں۔ پھر کیا خدا کا رحم و کرم ثابت کرنے کے لیے باد سموم کے ان جھونکوں کو پیش کیا جائے گا، جو بستیوں کی بستیاں تباہ کرجاتے ہیں اور میدانوں کو لاشوں سے بھر دیتے ہیں؟ کیا اس کی شفقت و محبت کی ثبوت میں زلزلوں کو پیش کیا جا سکتا ہے جب زمین ہزاروں انسانوں کو نگل جاتی ہے؟ کیا آتش فشاں پہاڑوں کو پیش کیا جا سکتا ہے جن کے شعلے بچے بوڑھے کی بھی تمیز نہیں کرتے؟

کیا اگر یہ تباہ کاریاں نہ پائی جائیں تو ہم کو یہ شک کرنے کا موقع ملے گا کہ خدا اپنے بندوں کی طرف سے غافل ہے ؟ کیا اگر زلزلہ و طوفان، قحط و وبا کی مصیبتیں نازل نہ ہوں تو ہم کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ خدا مہربان نہیں ہے؟

الہٰیات والے کہتے ہیں کہ خدا نے تمام انسانوں کو یکساں پیدا نہیں کیا۔ اس نے قد وقامت ، رنگ و صورت، ذہن و فراست کے لحاظ سے قوموں کو ایک دوسرے سے متمایز کردیا ہے، تو کیا بلندقوموں کو خدا کا شکر نہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انھیں پست نہیں بنایا۔ یقینا شکر کی بات ہے لیکن اس صورت میں کیا پست قومیں اس بات کا شکریہ ادا کریں گی کہ خدا نے انھیں جانور نہیں بنایا؟

جب خدا نے بلند و پست قوموں کو بنایا تھا تو کیا یہ بات اس کے علم میں نہ تھی کہ بلند قومیں پست قوموں کو اپنا غلام بنائیں گی، ان کو ایذا پہنچائیں گی اور تباہ و برباد کردیں گی؟کیا وہ نہ جانتا تھا کہ یہ بلند و پست کا امتیاز دنیا میں کتنا خون بہائے گا؟ نوع انسانی کو کن کن مصائب میں مبتلا کرے گا، کتنے میدان لاشوں سے پاٹ دے گا، کتنے غلاموں کے جسم کا گوشت کوڑوں کی ضرب سے پارہ پارہ کرے گا، کتنی ماؤں کے دل ان کے بچوں کو جدا کرکر کے تڑپائے گا؟ پھر اگر یہ سب کچھ اس کے علم میں تھا تو کیا اس کا رحم و کرم اس سے زیادہ دلدوز مناظر کا منتظر تھا؟

وہ قید خانے، جن کی سنگین دیواروں سے سرٹکرا کر دنیا کے بہت سے بلند اخلاق والے انسانوں نے اپنی جانیں دے دیں، وہ سولیاں جو مقدس انسانوں کے خون سے رنگین بنائے جانے کے لیے نصب کی گئیں، وہ غلاموں کی جماعتیں جن کی پیٹھ کے زخموں کو خشک ہونے کا کبھی موقع نہیں دیا گیا، وہ مقدس ہستیاں جن کا ایک ایک جوڑ شکنجہ تان تان کر علیحدہ کیا گیا، جن کی کھالیں کھنچوا کھنچوا کر بھس بھر وایا گیا، وہ بے شمار انسان جو قحط و وبا کا شکار ہوئے ، جن کو زمین نے نگل کر ڈکار تک نہ لی، جن کو سانپوں نے ڈسا، آتش فشاں پہاڑوں نے جھلسایا اور لاتعداد بدکار ظالم انسان جنھوں نے دنیا میں مظالم توڑے اور کامیاب زندگیاں بسر کیں، کیا یہ اور اسی طرح کے تمام سمجھ میں نہ آنے واقعات ، رحم و کرم والے خدا کے علم سے باہر تھے؟ اور یہ سب کچھ بغیر اس کی مرضی کے ہوا؟

انسان نے ہمیشہ کسی نہ کسی مافوق الفطرت ہستی کا دامن پکڑنا پسند کیا۔ اگر اس نے پتھر کو پوجنا چھوڑا تو ایک اور غیر معلوم قوت کے سامنے جھک گیا جس کو وہ صحیح راہ دکھانے والا باور کرتا ہے لیکن حقیقت کیا ہے؟

انسان فطرتاً اقدام پسند واقع ہوا ہے، وہ ہمیشہ آگے قدم بڑھاتا ہے اور تجربات اس کو بتاتے ہیں کہ اس نے جو قدم اٹھایا تھا وہ صحیح تھا یا غلط۔

ایک آدمی کسی جگہ کا ارادہ کرکے چل پڑتا ہے۔ وہ ایک ایسی جگہ پہنچتا ہے جہاں دو راستے پھٹتے ہیں، وہ بایاں راستہ اختیار کرلیتا ہے لیکن اسے کچھ دور چل کر معلوم ہوتا ہے یہ راستہ غلط تھا، وہ واپس آتا ہے اور داہنے ہاتھ کا راستہ اختیار کر کے منزل تک پہنچ جاتا ہے، اس کے بعد وہ اس جگہ پہنچنے میں غلطی نہیں کرتا اور ہمیشہ سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے۔ تو کیا یہ رہنمائی خود اس کی جستجو کا نتیجہ نہ تھی؟

ایک بچہ شعلہ کی چمک دیکھ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے اور جل جاتا ہے، اس کے بعد پھر یہ جرأت وہ کبھی نہیں کرتا۔ تو کیا یہ سبق اس کو اس قوت نے دیا یا خود اس کے تجربہ نے؟

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تجربات میں خود وہ قوت پنہاں ہے جو صحیح راستہ بتانے والی ہے، یہ قوت و ادراک و ارادہ سے بالکل معرا ہے اور اس کا نام ہے تجربہ۔

بہت سے لوگ ضمیر اور احساس اخلاق کے وجود کو وجود خدا کی دلیل بتاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان فطرتاً تمدن پسند واقع ہوا ہے اور خانوادوں، قوموں اور قبیلوں کی صورت میں ہمیشہ زندگی بسر کرتا چلا آیا ہے، پھر قبیلہ کے جن افراد نے خاندانی و عائلی مسرتوں میں اضافہ کیا، وہ اس کے اچھے اعضا شمار کیے گئے اور جنھوں نے تکلیفیں پہنچائیں، انھیں برا سمجھا گیا اور یہیں سے اخلاق کے اچھے برے ہونے کا معیار قائم ہوا۔

وحشی قوموں میں ہمیشہ فوری نتائج پر غور کیا جاتا ہے لیکن ترقی یافتہ قوموں نے میں نتائج بعیدہ کو سامنے رکھا جاتا ہے اور اس طرح اخلاق کا معیار بلند تر اور فرض شناسی کا احساس قوی تر ہوتا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں کسی مافوق الفطرت قوت کا کوئی دخل نہیں ہے۔

مذہب کیا ہے؟ انگرسول عیسوی مذہب کو سامنے رکھ کر پوچھتا ہے کہ عیسویت نے دنیا کو کیا فائدہ پہنچایا؟ جب اس کا اقتدار قائم کیا تھا تو کیا اس نے انسان کو زیادہ بہتر انسان بنا دیا؟ اس کا اثر اطالیہ، اسپین، پرتگال اور آئر لینڈ پر کیا ہوا؟ ہنگری اور آسٹریا کو کیا فائدہ اس سے حاصل ہوا؟ انگلستان، امریکہ، ہالینڈ اور اسکاٹ لینڈ نے کیا تمتع اس سے حاصل کیا؟ اگر عیسویت کے سوا وہ کسی اور مذہب کے پیرو ہوتے تو کیا وہ اس سے زیادہ خراب ہوجاتے؟

کیا ٹورکسٹمد، زرتشتی مذہب کا پابند ہوتا تو کیا اور زیادہ خراب انسان ہوجاتا؟ کیا کالون اور زیادہ خونخوار بن جاتا ، اگر وہ یہودی ہوتا؟ کیا ڈچ اور زیادہ احمق ثابت ہوتے اگر وہ تثلیث مسیحیت کے قائل نہ ہوتے؟ کیا جان ناکس اور زیادہ برے اخلاق کا ہوجاتا، اگر بجائے مسیح کے وہ کنفوشش کا ماننے والا ہوتا؟

مذہب کا ہر زمانہ اور ہر ملک میں بہت کافی تجربہ ہوچکا ہے اور اب اس ناکامی پر مزید حجت پیش کرنے کے لیے کسی اور جدید تجربہ کی ضرورت نہیں ہے۔

مذہب کبھی انسان کے دل میں جذبٔہ رافت والفت پیدا نہیں کر سکا اور اس کے ثبوت میں مذہبی تاریخ کے دو اوراق پیش کیے جا سکتے ہیں جن کا ایک ایک حرف خون سے رنگین ہے۔

مذہب علم و تحقیق کا ہمیشہ دشمن رہا ہے اور اس نے کبھی ذہنی آزادی کا ساتھ نہیں دیا۔
مذہب کبھی انسان کو محنتی، جفا کش اور ایمان دار بنانے میں کامیاب نہیں ہوا، چنانچہ وحشی اقوام کی برائیوں کا سبب صرف ان کی مذہبی واہمہ پرستی ہے۔

وہ لوگ جو فطرت کی یکسانیت کے قائل ہیں، ان کے لیے مذہب کا خیال کسی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

کیا انسان ؛ فطرت اور صفات مادہ کو اپنی دعاؤں سے متاثر کرسکتا ہے، کیا ہم طوفان کو پوجا پاٹ کے ذریعہ سے کم و بیش کرسکتے ہیں، کیا ہم قربانیاں پیش کرکے ہواؤں کارخ بدل سکتے ہیں، کیا ہم آہ وزاری سے بیماری کا علاج کرسکتے ہیں، کیا عزت و سربلندی ہمیں بھیک مانگنے سے مل سکتی ہے؟

وہ چیز جسے نفس کہتے ہیں، کیا وہ قانون قدرت کا اسی طرح پابند نہیں جس طرح ہمارا جسم؟

مذہب کی بنیاد اس خیال پر قائم ہے کہ عالم فطرت کا کوئی ایک مالک ہے، خود دعاؤں کو سنتا ہے، اپنی تعریف سے خوش ہوتا ہے اور جزا و سزا دیتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ واقعات کی دنیا میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی جس سے ہمیں ان اعتقادات کی تصدیق ہوسکے۔
جب ہم کوئی نظریہ قائم کرتے ہیں تو اس کے لیے کوئی نہ کوئی بنیادی حقیقت ضرور ہوا کرتی ہے، محض وہم و قیاس پر کوئی اصول مرتب نہیں ہوسکتا، اس لیے اگر ہم لا مذہبیت کا نظریہ پیش کرتے ہیں تو اس کے لیے چند بنیادی حقائق بھی اپنے پاس رکھتے ہیں۔

مثلاً یہ کہ مادہ وقوت فنا نہیں ہو سکتے، دوسرے یہ کہ مادہ و قوت ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہو سکتے، تیسرے یہ کہ جو چیز غیر فانی ہے وہ غیر مخلوق ہے، قدیم ہے۔

دنیا میں ذہانت و ذکاوت کا وجود صرف قوت کی وجہ سے ہے اور قوت بغیر مادہ کے ممکن نہیں، اس لیے معلوم ہوا کہ ذکاوت صرف قوت و مادہ کی ممنون ہے اور اس باب میں کسی ایسی مافوق الفطرت ہستی کے تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے جسے مدبر کائنات کہا جائے۔
اگر مادہ و قوت ازلی و ابدی ہیں تو جو کچھ ممکنات میں تھا، وہ واقع ہوا۔ جو ممکنات میں ہے ، وہ ظاہر ہو رہا ہے اور آئندہ بھی رونما ہوتا رہے گا۔ کائنات میں اتفاق کوئی چیز نہیں ، جو کچھ ہوتا ہے اس کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور پایا جاتا ہے۔ جس چیز کو ہم حال کہتے ہیں ، وہ ماضی کی پیداوار ہے اور جس کا نام مستقبل ہے وہ نتیجہ ہوگا حال کا۔ انسان سے لے کر رینگنے والے کیڑے کی حرکت تک سب اسی قانون کے جکڑے ہوئے ہیں اور اس کے خلاف کسی بات کا ظاہر ہونا ناممکن ہے۔

ہزاروں سال سے دنیا کی اصلاح کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسی غرض کے لیے دیوتا، دیویاں، بہشت، دوزخ، الہامات و معجزات ، کلیسا و خانقاہ، قیدخانے اور شکنجے، سیکڑوں چیزیں پیدا کی گئیں۔ ایک بادشاہ کو تخت سے اتار کر دوسرے کو بٹھایا ، ایک ملکہ کی گردن مار کر دوسری کو تخت نشین کیا، آدمیوں کو زندہ جلایا۔ فوج کشیاں کی گئیں، دعائیں مانگی گئیں ، ڈرایا گیا، لالچ دی گئی۔ الغرض مذہب نے سبھی کچھ کیا لیکن مقصد آج تک پورا نہ ہوا۔ کیوں کہ مذہب غلامی ہے ذہن و دماغ کی، اور جب تک انسان کا ذہن آزاد و بیدار نہ ہو، نوع انسان کی فلاح مجموعی حیثیت سے ناممکن ہے۔

یہ ہیں وہ خیالات اس زمانے کے ملحد و لامذہب کے جو اخباروں، رسالوں اور لکچروں کے ذریعہ سے تمام دنیا میں اشاعت پا رہے ہیں اور ہندوستان کے جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں بھی مقبول ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم دہریت و الحاد کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمارا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ ہم دنیا کی اس ذہنی تشویش و تذبذب کو دور کریں۔ پھر اس کی تدبیر یہ نہیں ہے کہ ہم منطق و فلسفہ کی پیچیدہ باتوں میں الجھا کر فریق مخالف کو خاموش کرنے کی کوشش کریں، کیوں کہ اس طرح اس کی زبان تو بند ہوسکتی ہے لیکن دل مطمئن نہیں ہوسکتا؛ بلکہ ضرورت ہے اس مذہبی روح کی تلقین کی جو ظاہری شعائر و مراسم سے بے نیاز ہے اور جس میں سوا بلند تعلیم اخلاق کے کوئی اور چیز ایسی نہیں پائی جاتی جو ہمیں الہام و معجزات، بہشت و دوزخ، حشر و نشر، قیامت و آخرت کے تسلیم کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ یہی وہ تنگ نظری تھی جس نے اہل مذاہب کو ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رکھا اور یہی وہ چیز ہے جو مذہب کے اقتدار کو مٹا کر رہے گی۔ دنیا میں اب کوئی ایسا مذہب نہیں چل سکتا جو تمدنی ضروریات، بین الاقوامی تعلقات، اقتصادی مشکلات، اخلاقی اصول عامہ کو پس پشت ڈال کر صرف ”امید فردا“ پر اپنی کارگاہ تبلیغ قائم کرے۔ وہ وقت گذر گیا جب مذہب کسی ایک قوم کے لیے مخصوص ہوا کرتا تھا، اب کہ کرئہ زمین کی ۴۲ ہزار میل کی وسعت کو انسان چند دن میں طے کرلیتا ہے، تخصیص نسل و جغرافیہ کا سوال بالکل لایعنی چیز ہے، اور مذہب کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ کوئی ایسا لائحہ عمل پیش کرے جو تمام آبادی کو کسی ایک مشترک پلیٹ فارم پر جمع کرسکتا ہو اور یہ ممکن نہیں جب تک مذہب کے اعتقادی حصہ کو علیحدہ کر کے اسے ہیئت اجتماعی کے اصول پر صرف ”سوشل آرگنائزیشن“ کی حیثیت نہ دی جائے۔

صراط مستقیم

ہمارے سامنے دو راستے ہیں، ایک وہ جو فطرت اور عالم اسباب کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے، اور دوسرا وہ جو مافوق الفطرت باتوں کی جانب مائل کرتا ہے۔ یعنی ایک وہ ہے جو ہمیں تحقیق و جستجو ، اکتشافات و اختراع، سعی و کاوش اور رشتہ علت و معلول کی طرف متوجہ کر کے راحت و آسائش، امن و سکون کے ساتھ زندگی بسرکرنا سکھاتا ہے اور دوسرا وہ جو ہمیں بتاتا ہے کہ اصل دنیا یہ نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہے اور اسی غیر معلوم دنیا کے لیے بلا حیلہ و حجت ہم کو قربانیاں ، دعائیں اور عبادتیں کرتے رہنا چاہیے۔
ان دونوں راستوں میں اور کیا فرق ہے؟

ایک بتاتا ہے کہ زندگی نام ہے اپنے اور دیگر ابنائے جنس کے ساتھ ہمدردی رکھے اور ان کے لیے اسباب راحت و سکون فراہم کرنے کا، دوسرا کہتا ہے کہ حیات انسانی کا مقصد خداؤں اور دیوتاؤ ں کی پرستش ہے جو دوسری دنیا میں ہمارے اس تمام عجز و انکسار کا ابدی معاوضہ دیں گے۔ ایک عقل و حقائق پر اعتماد کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور دوسرا صرف عقائد پر بھروسہ کرنے کی۔ ایک کہتا ہے کہ اپنے حواس و ادراک کی اس روشنی سے کام لو جو خود تمھارے اندر پائی جاتی ہے، دوسرا کہتا ہے کہ اس مقدس روشنی کو گل کردو۔

اس میں شک نہیں کہ ہمارے اسلاف نے جو کچھ کیا، وہ اس سے زاید کچھ نہ کرسکتے تھے۔ وہ ایک مافوق الفطرت قوت پر یقین رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر وہ طاعت و عبادت، دعا و قربانی نہ کریں گے تو نہ بارش وقت پر ہوگی اور نہ ان کی کھیتیاں بار آور ہوں گی۔ وہ یقین کرتے تھے کہ خدا ایک مستبد بادشاہ ہے جس کو ذرا ذرا سی بات ناگوار ہوجاتی ہے اور جو برہم ہو کر سزا دینے پر اتر آتا ہے۔ وہ خدائے خیر کے ساتھ خدائے شر کے بھی قائل تھے اورانھی دو خداؤں کے درمیان بیم و رجا کی ”رعشہ براندام“ زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ ان کی حیات کا کوئی لمحہ خوف سے خالی نہ گذرتا تھا اور ہر وقت وہ اسی ڈر سے کانپتے رہتے تھے کہ مبادا کوئی ان سے خفیف سی خفیف گستاخی سرزد ہوجائے اور خدا ناراض ہو کر انھیں بڑی سے بڑی سزا کا مستوجب قرار دے۔

طوفان آتا تھا تو وہ سمجھتے تھے کہ یہ نتیجہ ہے انھیں کی بد اعمالیوں کا، زلزلہ آتا تھا تو وہ یقین کرتے تھے کہ خدا ان پر برہم ہورہا ہے۔ وبائی بیماریاں پھیلتی تھیں تو وہ اسے بھی اپنی گناہوں کا پاداش سمجھتے تھے، اور جب چاند سوچ کر گرہن لگتا تھاتو اسے بھی اپنی خطاؤں کا نتیجہ باور کرتے تھے ، تمام فضا انھی فرشتوں اور روحوں سے معمور نظر آتی تھی، اور شب و روز صرف لیے آہ وزاری کیا کرتے تھے کہ خدا ان سے خفا ہو کر تباہ و برباد نہ کردے ، قدرت ان کے نزدیک گویا ایک سوتیلی ماں تھی جو پیشانی پر شکنیں ڈالے ہوئے ہر وقت انھیں خونچکاں آنکھوں سے دیکھتی رہتی تھی۔

آخر کار ایک زمانہ آیا جب بعض افراد سوچنے والا دماغ لے کرپیدا ہوئے اور انھوں نے تما م حوادث و واقعات پر غور کرنا شروع کیا۔ انھوں نے سمجھا کہ طوفانوں اور زلزلوں کے اسباب طبعی کچھ اور ہیں۔ سورج گرہن کے لیے ایک زمانہ معین ہے اور پہلے سے اس کے وقوع کی پیشین گوئی کی جا سکتی ہے، اسی طرح رفتہ رفتہ سیاروں کی گردش، کرئہ زمین کے جغرافی حالات، آب و آتش کے خواص، مظاہر فطرت کے اسباب، حیات انسانی کی خصوصیات، اعضائے جسم کے وظائف معلوم کیے گئے اور واہمہ پرستی کی زنجیر کی کچھ کڑیاں ٹوٹیں۔ اس کے بعد کچھ زمانہ اور گذرا ، یہاں تک کہ مدارس کی بنیادیں پڑیں۔ کتابیں تصنیف کی گئیں، مفکرین کی تعداد روز بروز بڑھنے لگی۔ علمی اکتشافات نے انسان کے دماغ کو منور کرنا شروع کیا، فکر و خیال کی آزادی بڑھی اور مافوق الفطرت کی جگہ فطرت اور اصول فطرت نے لے لی۔ پھر روح کے اس احساس آزادی کا جو نتیجہ ہونا چاہیے تھا وہ ظاہر ہو کر رہا، یعنی اختراع و ایجاد کے دروازے کھل گئے اور ارباب مذہب اپنی اور اپنے اعتقادات کی کمزوریوں کو بری طرح محسوس کرنے لگے۔

ظاہر ہے کہ مفکرین کے مقابلہ میں ”معتقدین“ کوئی علمی و عقلی دلیل تو پیش کر نہ سکتے تھے، کیوں کہ یہی ایک چیز ان کے دسترس سے دور تھی۔ اس لیے وہ اہل علم کے خلاف ملک میں نہایت مکروہ پروپیگنڈا کی اشاعت پر اتر آئے اور واہمہ پرستی کے پاس جہل و تعصب کے جتنے گندے حربے موجود ہیں، ان سب کا استعمال بیک وقت شروع کردیا گیا، ان کو ذریات شیطان بتایا گیا، خدا کا دشمن ظاہر کیا گیا۔ ان کو مٹادینے کا نام مذہبی جہاد قرار پایا، اور استعمال آتش و زنجیر اور تعذیب و تذلیل کی جتنی مہیب صورتیں ہیں وہ سب بروئے کار لائی گئیں۔
پھر یہ سب کچھ چند دن کا ہنگامہ نہ تھا، بلکہ یہ خون آشامیاں صدیوں تک جاری رہیں اور اس سلسلہ میں کوئی جرم ایسا نہ تھا جس کا ارتکاب مذہب کے نام پر جائز و مستحسن نہ قرار دیا گیا ہو۔ ایک فریق کہتا تھا کہ جذبات انسانی کو فنا کردو اور ضروریات زندگی کو کم، اپنے آپ کو معذور سمجھو اور آسمانی قوت پر اعتماد کامل رکھ کر تمام کام اسی پر چھوڑ دو، دوسری جماعت کہتی تھی کہ جذبات انسانی اسی لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ مناسب حدود میں ان کو تسکین پہنچائی جائے اور ضروریات زندگی کو بڑھانا بھی لازم ہے، کیوں کہ بغیر ان کے انسانوں کو اپنی قوتوں کا علم نہیں ہوسکتا اور دنیا میں کوئی ایجاد و اختراع معرض ظہور میں نہیں آسکتی۔

ایک فریق کا فلسفہ حیات یہ تھا کہ مال و دولت کو ٹھکرا دیا جائے اور اسباب راحت سے نفرت کی جائے، یہ لوگ فنون لطیفہ کے دشمن تھے؛ اچھی غذا، اچھے لباس، اچھے مکانوں سے متنفر تھے، گویا یوں سمجھیے کہ یہ حکما تھے؛ غربت و افلاس کے، تشنگی و گرسنگی کے، جھونپڑوں کے، چیتھڑوں کے، برہنہ پائی کے اور ایک ایسے آہستہ ردعمل خود کشکی کے جو دفعتاً نہیں بلکہ تدریجاً قوم کی قوم ہلاک کردینے والا ہے۔ ان کو اس دنیا میں سوا عذاب و مصیبت کے کچھ نظر نہ آتا تھا اور دوسری دنیا ہر قسم کے اسباب نشاط و راحت سے معمور نظر آتی تھی، وہ امرا اصحاب ثروت سے اور تمام ان لوگوں سے جو اپنی قوت بازو کی مدد سے راحت و آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں ، نفرت کرتے تھے اور جنت میں سوا گداگروں اور بھکاریوں کے کسی اور کا درخور محال سمجھتے تھے۔ الغرض یہ تھے وہ لوگ جنھوں نے دنیا کو ویران و غیر دلچسپ رکھنے کے سیکڑوں سال تک جہاد کیا اور کچھ زمانہ تک انھیں کامیابی بھی حاصل رہی، لیکن ذہنی و عقلی آزادی بجائے خود ایسی زبردست لذت ہے کہ ایک بار چکھ لینے کے بعد اسے چھوڑنا محال ہے، اس لیے اس کا ذوق رفتہ رفتہ عام ہوتا گیا اور ذہن و خیال کی دنیا ہی بالکل بدل گئی۔

چنانچہ اب انسان اس جسم متحرک کا نام نہیں ہے جو ایک وقت معین تک حرکت کرتے رہنے کے بعد فنا ہوجاتا ہے بلکہ انسان نام ہے قوائے عقل و دماغ کی ترقی کا، حرکت و عمل کا، تحقیق و جستجو کا، اعتماد ذاتی کا اور آسمان سے لے کر زمین تک تمام مناظر قدرت پر چھا جانے کا۔ اب وہ اس کا قئل نہیں کہ طاعت و عبادت بجائے خود کوئی تقدس و پاکیزگی ہے اور انعام خداوندی کی مستحق، اب وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ جزا و سزا مافوق الفطرت سے متعلق ہے بلکہ وہ تقدس کا مفہوم صرف حرکت و عمل کو قرار دیتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ انسان کی دوزخ و جنت خود اسی کے اندر اور اسی دنیا میں موجود ہے اور اسے اختیار حاصل ہے ، خواہ وہ مجہول و بے کار زندگی بسر کر کے جہنم میں چلا جائے ، خواہ سعی و محنت سے کام لے کر فردوس حاصل کرے۔

یہ اعتقاد کہ بادشاہ کو خدا، بادشاہ بنا کر بھیجتا ہے اور رعایا کا کام صرف اس کی اطاعت ہے، اب ختم ہوگیا ۔ یہ عقیدہ کے مذہب خدا کی بنائی ہوئی چیز ہے اور اس کے بتائے ہوئے اصول و عقائد کو بغیر چون و چرا تسلیم کرنا ہمارا فرض ہے، بہت کچھ مٹ گیا ہے۔ خدا کے بھیجے ہوئے بادشاہ بھی رفتہ رفتہ فنا ہورہے ہیں اور مذہبی حکومتیں بھی محو ہوتی جارہی ہیں۔

انگلستان میں بجائے خدا کے اب پارلیمنٹ کی حکومت ہے اور امریکہ میں مذہبی اقتدار کی جگہ رائے عامہ نے لے لی ہے۔ فرانس اپنی آبادی کے سوا کسی اور مافوق الفطرت قوت کو حکومت میں دخل دینے کا مستحق قرار نہیں دیتا اور روس میں سب سے بڑا جرم خدا اور مذہب کا نام لینا ہے۔ یورپ میں صرف ایک قیصر ولیم (شاہ جرمنی) ایسا بادشاہ تھا جو اپنے آپ کو فرستادئہ خدا سمجھتا تھا ، سو گذشتہ جنگ میں وہ بھی ختم ہوگیا۔

انسان آزادیٔ کامل کی اس منزل تک سخت صعوبتیں اٹھانے کے بعد پہنچا ہے اور استعمال عقل کے استحقاق کو اب اس سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔ جس وقت تک وہ اپنی فہم و فراست کو مشعل راہ بنانے سے باز رکھا گیا، بے شک وہ کہہ سکتا تھا کہ اصل نیکی صرف خوف جہنم سے کانپتے رہنا ہے اور حصول نجات کے لیے یہی کافی ہے لیکن جب اس نے دیکھا کہ تنہا یہ عقیدہ نہ اس کے لیے روزی فراہم کرسکتا ہے، نہ تن پوشی کے لیے لباس تو اس کی نگاہیں آسمان کی طرف سے زمین کی جانب مائل ہوئیں اور وہ یہ دیکھ کر متعجب ہوا کہ جو لوگ اپنے آپ کو مذہب کا پابند کہتے ہیں ، وہ بھی اسی کی طرح جرم و معصیت کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ سقراط کو جس نے زہر کا پیالہ دیا ، وہ بھی مذہبی انسان تھا اور عیسیٰ کو جنھوں نے سولی پر چڑھایا ، وہ بھی خدا ہی کے ماننے والے تھے؛ اس لیے اس کی روح میں بغاوت پیدا ہوئی اور اس طرح سب سے پہلا جذبٔہ انتقاد جو مذہب کے خلاف رونما ہوا، وہ خود اہل مذہب ہی کا پیدا کیا ہوا تھا۔

آپ کسی مذہب والے سے دریافت کیجیے، وہ اپنے سوا تمام دنیا کو گمراہ بتائے گا اور اسی خدا کو قابل پرستش قرار دے گا جو اس نے وضع کیا ہے، دوسرے مذاہب واقوام کے خداؤں کو وہ جھوٹا بتائے گا۔ وہ سوا اپنے معبد کے کسی اور کی عبادت گاہ کی عزت نہ کرے گا۔ سو اپنے طریق عبادت کے وہ کسی اصول بندگی کا احترام نہ کرے گا، وہ اپنی قربانیوں کے مقابلے میں دوسرے مذہب کی قربانیوں کو لغو و بیکار بتائے گا۔ گویا اسی کا خدا ، خدا ہے اور اسی کا پیغمبر ، پیغمبر ، اسی کی کتاب الہامی صحیفہ ہے اور اسی کی دعائیں مقبول۔

اب خدا کے اس تصور کو دیکھیے جو الہامی مذاہب نے پیش کیا ہے، خدا کو قادر مطلق ، بے نیاز اور کسی چیز سے متاثر نہ ہو سکنے والا بتایا جاتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ کتب مقدسہ کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو غصہ بھی آتا ہے، وہ انتقام بھی لیتا ہے اور اپنے بندوں میں سے ایک کے ساتھ رعایت اور دوسرے کے ساتھ ظلم بھی کرسکتا ہے۔

عدن میں آدم و حوا کو خود ہی پیدا کرتا ہے اور نافرمانی و سرکشی نہیں بلکہ معمولی سی غلطی پر خود ہی اس قدر برہم ہوجاتا ہے کہ عدن سے انھیں اٹھا کر زمین پر پھینک دیتا ہے اور نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کی اولاد کے لیے بھی تمام عمر غم وغصہ میں مبتلا رہنا مقسوم کردیتا ہے۔ خدا اور اتنا غصہ، خالق اور اپنی مخلوق پر اتنی برہمی! اگر وہ جانتا تھا کہ ان سے یہ غلطی سرزد ہوگی تو پیدا کرنے ہی کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر پیدا کیا تھا تو کیا اس کے اختیار میں نہ تھا کہ وہ غلطی نہ کرسکنے والی مخلوق پیدا کرتا، خود ہی ان کو پیدا کیا، خودہی برہم ہو کر انھیں مبتلائے آلام کردیا، عجیب تماشہ ہے۔

الہامی صحائف خدا کے غصے اور جنگ و قتال کے احکام سے بھرے پڑے ہیں ، قوموں کو اس نے برباد کیا، بستیوں کو اس نے ویران کیا، وبائیں اس نے مسلط کیں، آسمانی عذاب اس نے نازل کیے۔ حالاں کہ انسان کی سرکشی یا نافرمانی بھی اسی کی پیدا کی ہوئی چیز تھی اور خود اس کی مرضی تھی کہ وہ ایسا کرے ، پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ جب انسان کو (جن میں عورتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے) تباہ کرنا ہی مقصود تھا تو ان کے پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی اور پیدا کیا تھا تو کیا اس کے اختیار میں نہ تھا کہ انھیں معصوم پیدا کرتا۔
ایک بار ساری دنیا کو سوائے آٹھ آدمیوں کے طوفان میں غرق کردیتا ہے اور تمام زمین کو لاشوں سے پاٹ دیتا ہے ، اس کے بعد وہ صرف یہودیوں کو لطف و کرم کا مستحق سمجھتا ہے اور باقی تمام مخلوق کو بغیر کسی سبب کے مردود قرار دیتا ہے، نہ وہ اہل مصر کی طرف متوجہ ہوتا ہے، نہ اہل ایران کی طرف، نہ اسیریوں کو قابل اعتنا خیال کرتا ہے ، نہ یونانیوں کو (حالاں کہ ان سب کا خالق بھی وہی تھا) اور صدیوں تک صرف ایک فرقہ کا خدا بنا رہتا ہے؛ کیوں؟

خدا ایک قوم کو حکم دیتا ہے کہ وہ دوسری قوم سے جنگ کر کے ان کے مردوں ، عورتوں اور بچوں کو ہلاک کرے اور جو زندہ ہاتھ آجائیں ، انھیں لونڈی غلام بنائے۔ اس کے علاوہ وہ ادارئہ غلامی قائم رکھنے کے لیے ان کی خرید و فروخت کی بھی اجازت دیتا ہے۔ بادشاہوں کے جرائم کے عوض میں رعایا کو ہلاک کرنا مناسب سمجھتا ہے اور وہ بغیر کسی وجہ کے اپنے بندوں میں سے کسی ایک جماعت سے خوش ہوجاتا ہے اور دوسرے سے برہم؛ اس کا سبب؟

حقائق عالم کے لحاظ سے صحف مقدسہ نے جو معلومات انسان کے سامنے پیش کی ہیں، ان کا ذکر ہی فضول ہے۔ زمین کا چپٹا و مسطح بتانا، طبقات الارض کا انتہائی درس ہے اور تاروں کو آسمان میں جڑا ہوا ظاہر کرنا فلکیات کا بلند ترین نظریہ۔

صحت و امراض کے متعلق دو نظریے دنیا میں رائج ہیں؛ ایک مذہبی ، دوسرا علمی۔ مذہبی نظریہ یہ ہے کہ بیماریاں ارواح خبیثہ سے پیدا ہوتی ہیں جو جسم انسانی میں حلول کرجاتی ہیں اور ان ارواح خبیثہ کو مذہب کے نفوس مقدسہ ہی دور کرسکتے ہیں۔
جب تک مسیح زندہ رہے، ان کی عمر شیاطین اور ارواح خبیثہ کے دور کرنے میں بسر ہوئی اور بعد کو ان کے مقدس راہبوں نے صدیوں تک یہ خدمت انجام دی، چنانچہ از منہ وسطیٰ میں لاکھوں کروڑوں شیاطین اسی طرح بھگائے جاتے رہے اور امراض کا علاج جھاڑ پھونک ، دعا تعویذ اور گنڈوں سے سے ہوتا رہا۔ امراض کے طبعی اسباب کا کوئی علم نہ تھا۔ مقدس اہل مذاہب دعاؤں کے بہانے سے ہزاروں روپے کماتے تھے (فقیروں کی روزی کا مدار اسی پر ہے)۔

آخر کار جب علم بڑھا تو آہستہ آہستہ امراض کے طبیعی اسباب کا بھی علم ہوا اور ان کے دور کرنے کی طبیعی تدابیر بھی رائج ہوئیں ، چنانچہ اس وقت سوائے جاہل ممالک کے جن میں ہندوستان کا مرتبہ سب سے بلند ہے،جنات یا شیاطین یا ارواح خبیثہ کا عقیدہ بالکل اٹھ گیا ہے اور جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو بجائے دعا تعویذ کے علاج کی طرف توجہ کی جاتی ہے ۔

مذاہب عالم اور کتب مقدسہ کے متعلق بھی دو خیال ہیں۔ ایک جماعت (اہل مذہب) کہتی ہے کہ وہ بالکل الہامی ہیں اور انسانی فکر کو ان میں دخل نہیں اور دوسری جماعت کہتی ہے کہ صحف مقدسہ سب انسانوں کے دماغ کا نتیجہ ہیں اور مذہب رونما ہوا ہے صرف اس جذبٔہ خوف سے جو حوادث طبیعی و مظاہر قدرت کو دیکھ دیکھ کر انسان کے دل میں پیدا ہوتا تھا ، چنانچہ دنیا میں کوئی قدیم قوم ایسی نہ تھی جس کا کوئی مذہب نہ رہا ہو اور طاعت و عبادت کو اس نے اپنی حفاظت و نجات کا ذریعہ خیال نہ کیا ہو لیکن رفتہ رفتہ یہ واہمہ پرستی کم ہوتی گئی ، یہاں تک کہ اب ہر ذی فہم انسان جانتا ہے کہ دنیا میں ہر واقعہ کا ایک فطری سبب ہوا کرتا ہے اور قدرت بغیر اس خیال کے کہ انسان کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں، اپنے کام میں مصروف ہے۔

اب مفکرین اچھی طرح واقف ہیں کہ دنیا کے تمام مذاہب خود انسانوں نے وضع کیے تھے اور خدا و الہام خداوندی سے انھیں کوئی تعلق نہ تھا ۔ جن کتابوں کو وہ الہامی کہتے ہیں ، وہ بھی انسان ہی کے دماغ کا نتیجہ تھیں اور اسی لیے ہر قوم و زمانہ کے لحاظ سے ان میں مختلف خیالات و تعلیمات پائی جاتی ہیں، نہ خدا کو طاعت و عبادت کی ضرورت ہے اور نہ وہ کسی کی دعا سنتا ہے۔ اہل دنیا پر ہزاروں مرتبہ قحط و وبا، طوفان و سیلاب کی مصیبتیں نازل ہوئیں اور کوئی دعا انھیں دو ر نہ کرسکی، زلزلے آتے رہے، جوالا مکھی آگ برساتے رہے، ہزاروں معصوم نفوس فنا ہوتے رہے اور انسان کی کسی گریہ وزاری نے خدا کو اس ہلاکت باری سے باز نہ رکھا، کھیتیاں سوکھتی رہیں اور انسان کی دعائیں ایک قطرہ پانی کا نہ حاصل کرسکیں، وبائیں پھیلتی رہیں اور خدا کے نام پر لکھے ہوئے تعویذ کسی ایک متنفس کو بھی ہلاکت سے بہ بچا سکے، غلاموں کی پیٹھ کوڑوں سے لہولہان ہوتی رہی ، عورتوں کی عصمت دری کو علی الاعلان جائز رکھا گیا، شیر خوار بچے ماؤں کی آغوش سے چھین چھین کر بازاروں میں فروخت کیے گئے اور ان کی فریاد، آہ و زاری ایک لمحہ کے لیے خدا کو متوجہ نہ کرسکی کہ وہ ظالم بادشاہوں کی حکومت کی بجائے آسمانی بادشاہت قائم کرتا۔

اخلاقیات کے باب میں اہل مذہب کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا نے جس فعل سے باز رکھا ہے، وہی برا ہے اور جس کے کرنے کا حکم دیا ہے ، وہ اچھا ہے۔ خود بندہ کو اس کا کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ خود کسی فعل کے مستحسن یا قبیح ہونے پر رائے زنی کرے ، گویا مذہبی انسان کسی اچھے کام کو خود اچھا سمجھ کر انجام نہیں دیتا بلکہ فرمان خداوندی کی تعمیل سمجھ کر اس کو اختیار کرتا اور صرف اس خوف سے کہ مبادا خدا برہم ہوجائے اور اسے عذاب میں مبتلا کرے ۔

تقریباً تمام اہل مذہب کا عقیدہ ہے کہ ایک انسان اچھے اخلاق کا ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ وجود خدا کا قائل نہ ہوا ور اگر کسی میں یہ صفت پائی بھی جائے تو بغیر خدا کو مانے ہوئے وہ بالکل بے کار ہے۔

علمائے اخلاقیات کا نظریہ یہ ہے کہ نیکی و بدی اشیا کی فطرت میں موجود ہے، بعض افعال ایسے ہیں جو انسانی مسرت کا باعث ہوتے ہیں اور بعض آزار و مصائب کا سبب بن جاتے ہیں، چنانچہ اول الذکر افعال کو ہم اخلاق حسنہ کہتے ہیں اور موخر الذکر کو افعال قبیحہ یا معصیت سے تعبیر کرتے ہیں۔

اخلاق انسانی کا تعلق اسی دنیا سے ہے اور یہیں ان کے نتائج دیکھ کر ان کے برے یا اچھے ہونے کا اصول قائم کیا گیا ہے۔ نہ خدا ان سے متاثر ہوتا ہے اور نہ دوسری دنیا میں ان کا محاسبہ کر کے جزا و سزا دینے کی ضرورت۔ چوری کو برا سمجھنے کے لیے کسی الہام کی ضرورت نہ تھی۔ انسان کے تجربہ نے اس کے نقصانات دیکھ کر خود اسے برا قرار دیا، تمام وہ جرائم جو انسان کو جسمانی ، اقتصادی و عمرانی نقصان پہنچاتے ہیں ، ان سے اپنے آپ کو محفوظ رہنے کا احساس ہر شخص میں فطری طور پر پایا جاتا ہے اور یہی وہ احساس تھا جس نے اسے بتایا کہ نیکی کسے کہتے ہیں اور بدی کس کو۔

پھر جو چیز اس لحاظ سے بری ہے، وہ یقینا بری سمجھی جائے گی ، خواہ مذہب کے نزدیک اچھی ہو، واقعات و تاثرات کو کوئی قوت بدل نہیں سکتی جس طرح قدرت ایک مربع کو دائرہ ثابت کرنے سے عاجز ہے، اسی طرح وہ کسی بری بات کو اچھی اور اچھی کو بری نہیں بنا سکتی۔
الغرض اہل مذہب نے جو نظریہ اخلاق قائم کیا ہے،ا س پر ایک انسان کبھی فخر نہیں کرسکتا۔ ایک شخص نیک کام کرتا ہے، صرف اس ڈر سے کہ خدا کا حکم ہے اور اس طمع سے کہ اس کا انعام دوسری دنیا میں ملے گا۔ دوسرا اچھے اخلاق اختیار کرتا ہے صرف اس بنا پر کہ یہ اس کا انسانی فرض ہے اور نیکی آپ اپنی جزا ہے؛ دونوں کے فرق کو ہرشخص بآسانی سمجھ سکتا ہے۔

الغرض اس وقت دو راستے ہمارے سامنے ہیں۔ ایک وہ جو مذہب کی طرف ہم کو لے جاتا ہے اور دوسرا وہ جو عقل کی طرف رہبری کرتا ہے۔ سو اول الذکر کا تجربہ بہت کافی ہوچکا ہے اور ہمیشہ اس کا نتیجہ ایک ہی نکلا ہے۔

فلسطین میں اس کا تجربہ کیا گیا لیکن اہل فلسطین کی مذہبیت ان کو تباہ و برباد ہونے سے نہ بچا سکی، وہ مفتوح و مغلوب ہو کر خارج البلد کی گئی، صدیوں تک امداد خداوندی کا انتظار کرتے رہے اور اس توقع پر زندہ رہے کہ خدا انھیں پھر مجتمع کرے گا۔ ان کی بستیوں، ان کے معبدوں اور قربان گاہوں کو از سر نو تعمیر کرے گا۔ لیکن صدیاں پر صدیاں گذرتی گئیں اور ان کی یہ تمنا پوری نہ ہوئی۔

اس کا تجربہ سوئزلینڈ میں کیا گیا لیکن وہاں بھی سوا غلامی کے اور کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوا۔ ترقی کی تمام راہیں مسدود کردی گئیں اور صرف انھیں لوگوں کو آزادی کے ساتھ بولنے کا حق رہا جو صاحب جاہ و ثروت تھے، عوام سے ان کی معصوم مسرتیں چھین لی گئیں، ان کے لیے ہنسنا ممنوع قرار پایا اور سوائے رنج غلامی کے کچھ نہ ملا۔ ان لوگوں نے اور وظائف، روزہ صلوة، وعظ و پند کو بھی آزما کر دیکھ لیا، لیکن کوئی چیز انھیں مسرت و راحت سے آشنا نہ کرسکی۔

اسکاٹ لینڈ میں بھی مذہب کا تجربہ ہوا اور نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی ماننے والی تمام آبادی کو خوش قسمت لیکن ظالم کرکوں کا غلام بن کر ہنا پڑا۔ پادری ہر خاندان میں گھس جاتے تھے، اور خوف و واہمہ پرستی پھیلا پھیلا کر لوگوں کی عقلیں سلب کررہے تھے، وہ اپنی ہدایات کو الہام ربانی کہتے تھے اور ان سے انحراف کرنے والے عذاب خداوندی کا مستوجب قرار دیتے تھے، پھر اس مذہبی حکومت میں بھی وہی ہوا جو ہونا چاہیے۔ انسان غلام تھا اور غلامی کے ناقابل برداشت بار سے اس کی پیٹھ جھکی جارہی تھی۔

انگلستان میں مذہبی حکومت نے جو گل کھلائے، وہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔ اس زمانہ کے قانون ، اس کے زمانہ کے اوہام و تعصبات اس قدر سخت تھے کہ خدا کی پناہ، پادری خدا کے بیٹے بنے ہوئے آسمان و زمین کی ملکیت کا دعویٰ کررہے تھے۔ بہشت و دوزخ کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں تھیں اور جس کو جہاں جی چاہتا تھا دھکیل دیتے تھے؛ نہ ان کے دلوں میں رحم تھا، نہ آنکھوں میں مروت۔ ادنیٰ ادنیٰ سی غلطیوں پر خارج البلد کردینا، کوڑے لگوانا اور قید و بند میں ڈال دینا معمولی بات تھی۔

از منٔہ مظلمہ میں مذہبی زندگی کا جو نتیجہ ہوا ، وہ اور زیادہ ہادم انسانیت تھا۔ ہزاروں سولیاں ہر وقت خون سے تر رہتی تھیں اور بے شمار تلواریں انسانی سینے میں پیوست۔ قید خانے کھچا کھچ بھرے رہتے تھے اور سیکڑوں انسان دہکتی ہوئی آگ کے اندر پڑے ہوئے تڑپا کرتے تھے۔ کوئی ظلم ایسا نہ تھا جو خدا کے نام پر روا نہ رکھا گیا ہو اور کوئی معصیت ایسی نہ تھی جس کا ارتکاب مذہب کے پردہ میں نہ ہوتا ہو۔ الغرض یہ تھا مذہبی حکومتوں کا رنگ جو اہل مذہب نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔

اب اس کے مقابلے میں اس راستہ کو دیکھو جس کی رہنمائی عقل نے کی ہے، کیسا صاف و ہموار راستہ ہے۔ کیسی کھلی ہوئی فضا ہے، کیسی پر بہار زمین ہے۔ ہر شخص دوسرے کا بوجھ ہلکا کرنے کی فکر میں ہے اور ہر دماغ اس فکر میں کہ بنی نوع انسان کی راحت و مسرت کا سامان بہم پہنچائے۔ نہ وہاں سولیاں ہیں، نہ قید خانے، نہ جہنم کے اژدہے ہیں نہ فرشتوں کے کوڑے ۔ قدرت کی وسیع فضا ہے جس سے ہر شخص یکساں فائدہ اٹھا رہا ہے۔ عقل و فراست کا ایک آفتا ہے جو سب کے برابر مستغیض کرنا چاہتا ہے۔ انسانیت کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں، غلامی کا داغ اشرف المخلوقات کی پیشانی سے ہٹ چکا ہے، ذہنی آزادی نے مختلف قسم کے چمن کھلا رکھے ہیں اور ہر فرد دوسرے سے ہم آغوش و بغلگیر نظر آتا ہے۔

جس وقت میں تاریک ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو میرا ریشہ ریشہ کانپ اٹھتا ہے ۔ سب سے پہلے مجھے وہ تنگ و تاریک غار نظر آتے ہیں جہاں مقدس اژدہے کنڈلیاں مارے ہوئے قربانیوں کا انتظار کررہے ہیں۔ ان کے جبڑے کھلے ہوئے ہیں۔ ان کی زبانیں باہر نکلی ہوئی ہیں۔ آنکھیں چمک رہی ہیں اور زہریلے دانت خون آلود ہیں۔ جاہل ماں باپ اپنے معصوم بچوں کو اس افعی دیوتا کے حضور میں پیش کرتے ہیں، وہ اس چیختے تڑپتے ہوئے بچہ کو اپنے بل میں لپیٹ کر پیس ڈالتا ہے اور بے رحم والدین اس ہدیہ کے قبول ہونے پر خوش خوش واپس جاتے ہیں۔ اس کے بعد مجھے وہ عبادت گاہیں نظر آتی ہیں جن کو بڑے بڑے پتھروں سے تیار کیا گیا ہے لیکن یہاں ان کی قربان گاہیں بھی خون سے رنگین ہیں اور مقدس پجاریوں کے خنجر معصوم لڑکیوں کے سینوں میں یہاں بھی پیوست نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ اور معبد سامنے آتے ہیں جہاں مقدس آگ کی روشنی کو انسانی گوشت و خون سے قائم رکھا جاتا ہے ، پھر چند عبادت گاہیں اور دکھائی دیتی ہیں جن کی قربان گاہیں بیلوں اور بھیڑوں کے خون سے تر ہیں ، اس کے بعد مجھے کچھ اور معبد، کچھ اور پجاری ، کچھ اور قربان گاہیں نظر آتی ہیں جہاں انسانی آزادی کی بھینٹ چڑھائی جاتی ہے۔ خدا کے معبد تو نہایت عظیم الشان ہیں لیکن کسانوں کے پاس جھونپڑا تک نہیں۔ پجاریوں اور بادشاہوں کے جسم زرکار عباؤں سے آراستہ ہیں لیکن رعایا کے پاس جسم ڈھانکنے کو بوسیدہ سا چیتھڑا بھی نہیں۔ اور کیا دیکھتا ہوں، یہ کہ قید خانے انسانوں سے بھرے ہوئے ہیں، خارج البلد خانماں برباد بوڑھے، بچے، عورتیں پہاڑوں اور صحراؤں میں سر ٹکرا رہی ہیں۔ آفات تعذیب حرکت میں آر ہے ہیں اور لاکھوں انسانوں کی چیخ سے خانقاہیں گونج رہی ہیں۔ اف، وہ تاریک قید خانے، وہ زنجیر کی جھنکار، وہ آگ کے بلند شعلے، وہ جھلسے ہوئے سیاہ چہرے، وہ اینٹھتے ہوئے اعضا، وہ شکنجوں میں کسے ہوئے ہزاروں معصوم انسان اور وہ ان رگوں کے ٹوٹنے کی آوازیں۔ اس کے بعد جو میری گناہ اٹھتی ہے تو افق میں مجھے ایک نئی روشنی نظر آتی ہے۔ انسانی جسموں کے راکھ کے ڈھیر سے ایک نیا آفتاب طلوع کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے یعنی عقل و مذہب آزادی، اب غلامی کی زنجیریں آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہیں۔ قربان گاہیں فنا ہوتی جاتی ہیں، عبادت گاہیں مسمار ہورہی ہیں۔ زبان کی بندشیں اٹھتی جاتی ہیں اور ذہن و عقل کے قفل ٹوٹتے جارہے ہیں۔ اب میں پھر دیکھتا ہوں لیکن ماضی کی طرف نہیں بلکہ مستقبل کی طرف اور فرط مسرت سے اچھل پڑتا ہوں۔ اس وقت مجھے کیا کیا نظر آتا ہے، یہ کہ پجاری اور بادشاہ ختم ہوچکے ہیں۔ قربان گاہیں اور تخت و تاج خاک میں مل چکے ہیں۔ امارتیں نیست و نابود ہوچکی ہیں اور تمام دیوتا مفقود۔ ان کی جگہ ایک نیا مذہب رونما ہوا ہے، جس کا نام آزادیٔ ضمیر ہے اور ایک نئی سلطنت قائم ہوئی ہے جس کی ملکہ حریت فکر و رائے اور جس کی رعایا اخوت عامہ ہے۔ ہر جگہ امن و سکون ہے، اور ہر شخص مطمئن ، نہ کوئی قید خانہ ہے نہ بیمارستان، نہ عدالت گاہیں ہیں نہ جرم و معاصی کی داستان۔ ایک ایسی دنیا ہے جہاں سوا صداقت کے کسی چیز کا گذر نہیں۔ سوا حسن و جمال کے کوئی شے پیش نظر نہیں۔ جدھر دیکھو نور کی بارش ہے اور انسانی دماغ کی کھیتیاں لہلہا رہی ہیں۔ عقبیٰ کا خوف دنیا کی مسرتوں میں تبدیل ہوچکا ہے اور خدا کا ڈر انسانیت کے محبت میں۔

مذہب کا مستقبل

اس وقت دنیا مذہب کی طرف سے کافی بدگمان ہوچکی ہے اور اس کا مستقبل بہت تاریک نظر آتا ہے لیکن یہ خیال کرنا کہ یہ مغرب کے اسی عہد کی برکت ہے، درست نہیں۔ مذہب کی طرف سے انحراف کب اور کیوں کر شروع ہوا، اس کا سراغ لگانے کے لیے ہم کو یورپ کی ذہنی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

اس دور میں جس کو ہم دور نشاة ثانیہ یا یورپ میں تہذیب و تمدن کی دوبارہ پیدائش کے نام سے یاد کرتے ہیں، زندگی کے مختلف مسائل پر بحث کرنا ایک عام تفریح ہوگئی تھی۔ اس زمانہ میں، علمی تحقیق و تجسس کا وہ جوش وولولہ پایا جاتا تھا جو یورپ میں روم کی قیصریت کے فنا ہونے کے بعد پھر کبھی نہیں دیکھا گیا۔ لوگوں کو اس وقت یہ پتہ چلا کہ دنیا میں ایسے بھی مسائل پائے جاتے ہیں جن کا نہ انجیل میں تذکرہ ہے اور نہ جن کے متعلق پادریوں کی زبانیں کھلتی ہیں، چنانچہ ایسے ہی مسائل زندگی پر لوگ اکثر آپس میں بحث کیا کرتے تھے۔ اس چیز کی ابتدا سب سے پہلے اٹلی میں ہوئی اور پھر یہ مباحث انگلستان اور فرانس تک پھیل گئے۔

اٹلی کا ایک مشہور اور سابق پادری گیارڈ نو برونو (Giordano Bruno) جب تک قتل ہونے سے محفوظ رہا، برابر پادریوں اور ان کی مہمل تعلیمات پر اعتراض کرتا رہا اور پھر اس نے لندن کو اپنا مستقل قیام گاہ بنا لیا۔ یہاں اس نے اور سر فلپ سڈنی نے (جسے انگلستان میں ایک ”بے داغ ہستی“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) مفکرین کا ایک ایسا حلقہ بنا لیا جو انسان اور کائنات پر بحث کیا کرتا تھا۔

چونکہ اس دور کے اکثر افراد ملحدانہ خیالات کے بھی حامل تھے، اس لیے وہ مذہب کے مستقبل پر بھی بحث کیا کرتے تھے، ان میں سے مشہور ڈراما نویس کرسٹو فر مارلو اور ملکہ الزبتھ کا مشہور درباری سر والٹر ریلے ایک قسم کاکلب بنائے ہوئے تھے جہاں مذہب کے مستقبل پر انتقاد و تبصرہ ہوا کرتا تھا۔ ان میں سے اکثر لوگوں کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ مذہب عیسوی باطل ہے، کیوں کہ علمی و تاریخی تحقیقات عیسویت کے افسانوں کو جھٹلارہی تھیں، جہاز راں ایسے ممالک دریافت کررہے تھے جو کبھی عیسیٰ کے خوب میں بھی نہ آئے تھے۔ منجم کائنات کے بارے میں ایسے انکشافات کررہے تھے جو عقل انسانی کی محدود چہاردیواری کی بنیادوں کو متزلزل کیے دے رہے تھے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ تحقیق و جستجو صرف ان لوگوں تک محدود تھی جن کے پاس فرصت تھی، دولت تھی اور جو تمام دنیاوی علائق سے بے نیاز ہو کر اپنا سارا وقت اسی قسم کی تحقیق و تجسس میں صرف کرتے، ورنہ قوم کے زیادہ افراد جاہل تھے، وہ مطلق نہیں جانتے تھے کہ تحقیق جدید کیا ہے اور جب کسی بے دین یا ملحد کو زندہ جلتے ہوئے دیکھتے تھے، تو خوش ہوتے تھے، بالفرض تعلیم یافتہ لوگ تو مذہب کو ناپسند کرتے تھے اور اس کے اصول سے انھیں اختلاف تھا لیکن قومی مصالح کی خاطر انھیں اپنے مذہب پر قائم رہنا پڑتا تھا۔

مگر ان تمام مباحث کے دوران ایک چیز کا فقدان تھا ور وہ ارتقا کا خیال تھا ۔ کسی کو یہ تصور بھی نہیں تھا نظام معاشرت کسی وقت بدل جائے گا ، حتیٰ کہ جب سر ٹامس مور نے اپنی مشہور کتاب ”یو ٹوپیا“ لکھی تو بھی اسے ”باغی“ نہیں سمجھا گیا، کیوں کہ اس کتاب کے تجویز کردہ نظام معاشرت کے قوانین بالکل بعید از قیاس سمجھے گئے، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے انگریزی میں وہی چیز لکھی تھی جو اٹھارہ صدی قبل یونانی زبان میں افلاطون لکھ گیا تھا۔ تہذیب جدید کے نئے قوانین لوح آسمان پر لکھے جاچکے تھے مگر انسان کی آنکھیں اتنی ضعیف تھین کہ وہ انھیں نہیں دیکھ پاتی تھیں اور اوہام پرستی کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔

لیکن اب ہماری نگاہوں میں زیادہ بصیرت پیدا ہوگئی ہے اور ہم ان مسائل کو ایسی صداقت کے معیار پر پرکھتے ہیں جس سے پہلے لاعلم تھے، اب ”قانون وقت“ یا ”حقیقت“ لفظ ”ترقی“ (Progress) میں مضمر ہے۔

اگر واقعی نظام اشیا کا کوئی قانون ابدی ہوسکتا ہے تو صرف یہ کہ ایک نظام کو دوسرے نظام میں تبدیل ہونا پڑے گا جیسے رات دن میں تبدیل ہوتی ہے۔ بہار خزاں سے بدلتی ہے اور بچپن جوانی سے بدل جاتا ہے۔ ابھی تک ہم اپنے ”بزرگوں کی عقل“ کی مثالیں پیش کیا کرتے تھے مگر موجودہ زمانہ میں اس فقرہ کو جو استعمال کرے، اسے بالکل احمق سمجھنا چاہیے۔ ہمارے آبا و اجداد نہ ہوائی جہاز بنا سکتے تھے ، نہ ریل چلا سکتے اور نہ موٹر؛ تو پھر ہم انھیں اپنے سے زیادہ عقل مند کیوں تسلیم کریں؟

بہرحال مذہب کو بھی بدلنا ہے اور نصف سے زیادہ دنیا اس کو تسلیم کرچکی ہے، وہ لوگ جن میں غور کرنے کی استعداد و صلاحیت موجود ہے اور ہمارے زمانے کے وہ تعلیم یافتہ مرد و خواتین جن کو پڑھنے اور تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کا موقع ملتا ہے، ان میں سے اکثریت کو اس امر کا یقین ہوچکا ہے کہ مذہب مٹ جائے گا۔ اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ انسانی آرا کی دوسری منزل کیا ہوگی؟

وہ پیشین گوئیاں جو ادبیات کی کتابوں میں بھری پڑی ہیں، قابل تسلیم نہیں۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں بالمیز (Balmes) نے کہا تھا کہ پروٹسٹنٹ تہذیب (جرمنی ،ہالینڈ وغیرہ) ختم ہو رہی ہے، دنیا کے لیے پروٹسٹنٹ مصلحین کا پیغام بے اثر ثابت ہوا ہے اور کیتھولک سلطنتیں مثلاً فرانس، اسپین، پرتگال، آسٹریا وغیرہ دراصل دنیا کی حکمراں بن رہی ہیں مگر اس پیشین گوئی کے نصف صدی بعد یہ دیکھا گیا کہ کیتھولک ممالک تنزل پذیر ہیں ، یا یہ کہ وہ اپنے سابقہ مذہب کو ترک کرچکے ہیں۔ عوام نے یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ پیس ثانی (Pius II) آخری پاپائے رومہ ہے، اس کے نصف صدی بعد لارڈ میکالے نے لکھا کہ پاپائے روم کا جھنڈا اڑتا ہی رہے گا۔ آج سے بیس برس قبل ایک پیشین گوئی یہ کی گئی کہ کیتھولک مذہب سب سے پہلے نیست و نابود ہوگا۔ اس کے بعد ایچ۔جی۔ولس نے یہ کہا کہ آج سے ایک ہزار برس کے بعد جدید شہروں میں بھی پیادہ پا راہب چلتے ہوئے دکھائی پڑیں گے۔

لہٰذا اس قسم کی پیشین گوئیوں کو سچا تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ گذشتہ عہد کی پیشین گوئیاں سیاسی یا فوجی نقل و حرکات اور تحریکات کی وجہ سے غلط ثابت ہوچکی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے اب جو پیشین گوئی کی جائے ، وہ بھی غلط ثابت نہ ہو۔ مذہب کے بارے میں آج یہی نظریہ ٹوکیو میں بھی پایا جاتا ہے اور پیکنگ میں بھی، بمبئی میں بھی اور قاہرہ میں بھی، قسطنطنیہ میں بھی اور میکسیکو میں بھی۔

غرضیکہ مقامی حالات کچھ ہوں، اقوام عالم ان مسائل پر اس وقت تک رائے زنی کرتی رہیں گی جب تک ان کا منطقی حل نہ معلوم ہوجائے مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ اس منطقی حل کو معلوم کرنے کے شرائط ہر دس برس کے بعد بدل جاتے ہیں اور ان میں سب سے بڑی شرط ”علم“ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر عہد میں ایک الحاد پسند قلیل اقلیت یونان، روم، قرطبہ، فلورنس اور تقریباً ہر مقام پر پائی گئی اور آخر میں اقلیت کا خاتمہ ہوگیا لیکن یہ نتیجہ تھا اس امر کا کہ ”کلچر“ صرف اعلیٰ طبقوں تک محدود تھا اور اب یہ ”کلچر“ جمہوری ہے۔ آج۵۰ کروڑ انسان پڑھ سکتے ہیں اور ۵۰ برس کے بعد ان کی تعداد دو چند ہوجائے گی۔

پھر یہ تو درست ہے کہ دنیا ہمیشہ مذہب کے بارے میں بحث کرتی رہے گی لیکن یہی کیوں فرض کر لیا جائے کہ ان مباحث کا منطقی نتیجہ الحاد و بے دینی کی صورت میں ظاہر ہوگا اور یہ کہ کیا یہ چیز ان پیشین گوئی کرنے والوں کا رسمی ”فریب“ (Fallacy) نہیں ہے۔

ہر پیشین گوئی کی سب سے بڑی کمزوری پیشین گوئی کی خودسری ہے، وہ اپنے آپ کو اتنا عقل مند تصور کرلیتا ہے کہ جو کچھ اس کے خیالات ہیں، آنے والی نسل ان کو بے چون و چرا قبول کرلے گی، خصوصاً سیاسی و اقتصادی نظریات کی دنیا میں کہ کتابوں اور واعظوں کے لکچروں کو جب کوئی شخص دیکھتا اور سنتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ کیتھولک کو یہ یقین رہتا ہے کہ ساری دنیا اسی کی ہم خیال بن جائے گی، موحد کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے جب وحدانیت تمام عالم کا ایمان بن جائے گا لیکن جب جارج برنارڈ شا آتا ہے تو وہ ان سب خیالات کو ٹھکرا کر ایک نئی بات کہتا ہے کہ مستقبل کا مذہب کیا ہوگا؟

الغرض ان معاملات میں صورت حال یکساں ہوتی ہے، پیشین گو کے دلائل بہت سادہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ حقیقت و صداقت سے میں ہی آشنا ہوں اور چونکہ تمام دنیا میری ہی طرح صداقت پرست ہونے والی ہے، لہٰذا میری بتائی ہوئی صداقت کو ضرور تسلیم کیا جائے گا۔
مگر اپنے نظریہ کو اس طرح نہیں ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ میرا خیال یہ ہے کہ مذہب اپنی ہر شکل میں ایک دھوکا ہے، ایک وہم ہے اور میرا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی زندگی اور انسانی فطرت کے پاس وہ ذرائع و اختیارات موجود ہیں جن کو مذاہب عالم نے ہم میں بڑھنے سے روکا ہے اور جب یہ تمام مظالم اور تمام دھوکے ختم ہوجائیں گے اور جب انسان کو اپنی صحیح طاقت کا اندازہ ہوجائے گا تو ایک ایسا نظام تیار ہوگا جو موجودہ نظام سے کہیں زیادہ خوشگوار اور دلکش ہوگا۔

میں یہ اس وجہ سے نہیں کہتا کہ میرا یہ عقیدہ مجھے اصل ”صداقت“ یا حقیقت معلوم ہوتا ہے بلکہ میں یہ اس واسطے کہتا ہوں کہ دنیا اسی سمت جارہی ہے، آگے چل کر میں ”مذہب“ کی داستان مختصر الفاظ میں بیان کروں گا۔

تجربٔہ سابق

مذہب کی داستان کئی ہزار برس کی پرانی داستان ہے اور مذہب کی ابتدا تلاش کرنے کے لیے ہم کو ”عہد حجری“ سے بھی قدیم تر زمانہ کی طرف نظر دوڑانی پڑتی ہے لیکن یہان کسی مدت پر بحث کرنا مقصود نہیں بلکہ مدعا صرف یہ کہنا ہے کہ اپنے ابتدائی دور ہی سے مذہبی خیالات میں تدریجی ارتقا ہوتا رہا ہے۔ اس ارتقا میں کوئی تحریک جذبات نہ شامل تھی بلکہ تفکر و واقعات کا ایک منطقی تسلسل تھا یا جیسا کہ اعتدال پسند مذہبی لوگ کہتے ہیں، یہ ارتقا کسی بیرونی قوت کی طرف سے کوئی ”الہام“ نہیں ہے اور اقوام عالم کی معیار عقل کے مطابق خدا نے اپنے آپ کو مختلف شکلوں میں ظاہر کیا ہے لیکن واقعات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذہب پہلے ایک مضرت رساں خیال تھا اور رفتہ رفتہ وہ بدتر ہوتا گیا۔

اگر تمام نسل انسانی برابر رفتار سے چلتی تو آج ہم مذہب کی ابتدا اور اس کے ارتقا کے بارے میں کچھ نہ جانتے ہوتے مگر انسان نے اپنے تجربات صرف پانچ چھ ہزار برس پیشتر سے محفوظ رکھنا شروع کیے، یہاں تک کہ فرضی داستانیں (Legends) بھی بہت پرانی نہیں ہیں لیکن انسانوں کی یہ داستان ہر واقعہ سے اتنا متاثر ہوئی ہے کہ نسل انسانی کے مختلف حصوں نے عام ارتقا میں ہر منزل پر ترقی نہیں کی۔ بہرحال آج ہم دو انسانی سلسلے (Series) شمار کراسکتے ہیں۔ ایک تو ان قبل تاریخ (Pre-Historic) قوموں کا سلسلہ جو لاکھوں برس پہلے گذررہی ہیں۔ دوسرے وحشیوں کا زمانہ، یہ دونوں مدتیں تقریباً یکساں ہیں، کیوں کہ دونوں زمانہ قبل تاریخ میں گذری ہیں، اور ان قوموں کے خیالات سے تفکر انسانی کے ارتقا کے گذشتہ منازل ہم کو معلوم ہوسکتے ہیں ، اس کے بعد تہذیب قدیم کے مذہب کا پرانی عمارتوں سے پتہ چلتا ہے اور پھر ادبیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب کے بارے میں لوگوں کے کیا خیالات تھے۔ ادب سے گذشتہ تین ہزار برس قبل کے مذہبی ارتقا کا حال معلوم ہوتا ہے جو مختلف مذہبی مرکزوں مثلاً چین، ہندوستان، ایران، یونان، روم اور مصر وغیرہ میں عیسائیت کے قبل پایا جاتا تھا اور جو سبق اس سے ہم کو ملتا ہے، وہ اس کے بالکل مطابق ہے جو اس وقت سے اس وقت تک ہوتا رہا اور اب بھی ہورہا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ہر قسم کی آب و ہوا اور ہر قسم کی اقتصادی حالت میں مذہب کا ارتقا اتنا یک رنگ و یکساں رہا ہے کہ خود ایک مذہبی آدمی اس کا مستقبل دیکھ سکتا ہے۔ جن واقعات نے انسانی ترقی کو (ایسے ممالک میں جہاں ترقی کے وسائل تھے) روک دیا، وہ لڑائیاں یا ایسی غلطیاں تھیں جو ہمیشہ تہذیب کو مٹاتی رہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ الحاد اسی زمانہ میں پھیلا جب تہذیب اپنے انتہائی عروج پر ہوئی اور جب تخریبی قوتوں نے علم کو مٹادیا اور جہالت کا دور دورہ ہوا تو الحاد کا بھی خاتمہ ہوگیا ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب علم کی ترقی ہوتی ہے تو مذہب کی بنیادیں کمزور ہوجاتی ہیں اور جو تہذیب مٹنے لگتی ہے تو اس میں پھر قوت آجاتی ہے۔

مذہب اور فطرت انسانی

میری رائے میں مذہب کی ابتدا کا حال بالکل ایسا ہے جیسے پرانے زمانے کے حبشی کا تصور اپنے سایہ کے بارے میں، میں نے دیکھا ہے کہ اگر کسی کتے کی عمر میں پہلی بار ژالہ باری سے سابقہ پڑے تو وہ بے انتہا حیرت زدہ ہوجاتا ہے یا گر کوئی بلی پہلی مرتبہ کسی کچھوے کو رینگتے ہوئے دیکھتی ہے تو وہ بہت متعجب ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح زمانٔہ قدیم کے انسان میں ممکن ہے ایسے ردعمل ہوتے ہوں مگر ان کا مذہب سے اس وقت تک کوئی تعلق نہیں ہوا جب تک وہ یہ خیال کرنے لگا کہ جو چیز ان کا باعث ہے، وہ ایک غیبی طاقت ہے۔

اسی طرح یہ نظریہ بھی غلط ہے کہ انسان نے پہلے ایک مبہم طاقت کا تصور کیا اور پھر یہی چیز شخصی روحوں (Souls) میں تبدیل ہوگئی۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ روح کا سب سے پرانا نام ”سایہ“ (Shadow) ہے اور جب ہم اپنے آپ کو ایک قدیم وحشی کی جگہ دیکھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ غالباً سایہ کا حیرت انگیز وجود پر غوروفکر پہلی چیز تھی جس نے قدیم انسان کے دماغ میں تصور کی جھلک پیدا کی۔ اب سے سو برس قبل جب مشنریوں اور سیاحوں نے وحشیوں کے خیالات کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے کسی کے خیالات اخلاق پر مبنی نہیں ہیں اور بعض کے تو مذہبی خیالات بھی نہیں، بعض ”ہمزاد“ یا ”سایہ“ پر یقین کرتے ہیں اور بعض انسان کے ”دوسرے حصے“ پر جو موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے، کامل اعتقاد رکھتا ہے۔

دوسری منزل یا حیات بعد الموت کا خیال بھی تمام دنیا میں متوازی نظر آتا ہے، یعنی کہ مردوں کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور ان کی سرگرمیاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں ، نیز یہ کہ ارواح بہت رنجیدہ اور خشک مزاج ہوتی ہیں ، گویا زندگی ترک کرنے سے ان کو تکلیف پہنچی ہے ، اس کا اظہار وہ خشونت سے کرتی ہیں یا یہ کہ چونکہ اب وہ کسی کو نظر نہیں آتیں، اس لیے وہ ایسے کام کرنے لگتی ہیں جو پہلے گوشت پوست کی زندگی میں راز کھل جانے کے ڈر سے نہ کرسکتی تھیں۔ بہرحال وجہ کچھ بھی ہو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذہب نے ایک وحشی کی زندگی کو کچھ عرصہ بعد تکلیف دہ بنانا شروع کردیا تھا۔ ان ارواح کو تمام بیماریوں اور مصیبتوں کا ذمہ دار سمجھا جانے لگا اور چونکہ ہر آدمی کے مرنے کے بعد ایک خبیث روح بڑھتی ہے، لہٰذا انسانی آبادیاں انھیں ارواح سے معمور نظر آنے لگیں۔ بعد کو وہ زمانہ آیا جب ان ارواح کے لیے خاص جگہیں (مثلاً آسمان یا زمین) میں مقرر کردی گئیں، ان میں سے بعض ایسی بھی سمجھی جانے لگیں جو آدمیوں کی مدد کرتی ہیں لیکن عام نظریہ یہی تھا کہ وہ عموماً شر ہوتی ہیں۔

مذہبی ”مقدسین “ کا ظہور

مذہب کے اس ابتدائی دور میں زیادہ اظہار خیال کی حالت میں گریز کرے گا، جب کہ وہ عیسائی مذہب کو نہیں پسند کرتا۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے اور دوسرا کہہ سکتا ہے کہ اس کا خدا پر کوئی اعتقاد نہیں مگر پھر بھی ایک عالمگیر قوت کا دونوں کو احساس ہوسکتا ہے۔ ایک آدمی مختلف علوم کا ماہر ہوسکتا ہے مگر اس کا بھی امکان ہے کہ اس نے مذہب پر کبھی غور نہ کیا ہو۔
بہرحال یہ طے شدہ امر ہے کہ مذہب بحیثیت ایک مجموعٔہ عقائد کے تعلیم یافتہ طبقہ سے اپنا اثر زائل کرتا جارہا ہے اور چونکہ آج تعلیم عام ہوچلی ہے، اس لیے یہ بھی صحیح ہے کہ گویا عوام پر سے اس کا اثر زائل ہورہا ہے، یہ مسئلہ مذہب میں اصلاح کرنے کا نہیں ہے، کیوں کہ اگر اس نظریہ کو مان لیا جائے تو پیغمبروں پر حرف آتا ہے ، نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصول مذہب سے انکار کر کے صرف اخلاقیات کو مانا جائے ، کیوں کہ اس نظریہ کو ایک قلیل اقلیت کے علاوہ اور کوئی نہ تسلیم کرے گا ۔ اور ان سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذہب کا زوال یقینی ہے۔
اسی کے ساتھ واقعات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا پرستی کا زوال بھی لازمی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ گذشتہ پچاس برس سے وحدانیت کس طرح اپنی جگہ پر قائم ہے اور الحاد کتنا پھیل رہا ہے ، لہٰذا اب جب کہ علم عام ہورہا ہے ، مستقبل کا حال ظاہر ہے۔ خدا کے خیال کو ، خواہ کتنا ہی پاکیزہ کیوں نہ بنایا جائے، مگر اب وہ باقی نہیں رہ سکتا۔

گذشتہ نصف صدی میں کئی مذاہب پیدا ہوئے اور ان کے معتقدین کی تعداد بڑھانے کی کوشش کی گئی مگر پھر بھی ان کے پیروؤں کی تعداد میں بیس لاکھ سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔ حالاں کہ ۲۰ کروڑ آدمی ایسے ہوگئے ہیں جو مذہب سے بالکل بے پروا ہیں، در آنحالیکہ ہمارے نصاب تعلیم میں مذہب پر خاص زور دیا جاتا ہے، بہرحال مذہب کا خاتمہ اب کچھ مدت کی بات ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذرا صور ت حال پر نظر ڈالیے کہ (صرف عیسائی) ممالک میں مبلغین مذہب کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ ہے اور ان کے مقابلے میں بے دینی پھیلانے والے ۵۰۰ کے تناسب سے زیادہ نہیں، اس پر طرہ یہ کہ مذہب کی طرف سے کروڑوں روپیہ بھی ہر سال خرچ ہوتا ہے ، کیا اس حالت پر غور کرنے کے بعد بھی مذہب کے مستقبل کے متعلق کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ ممالک میں تو مذہب تقریباً ختم ہوگیا ہے ، البتہ جاہل ملکوں میں اکثریت مذہب کی پابند ہے مگر وہ بھی اس وقت تک اسے مانتی رہے گی جب تک وہاں تعلیم عام نہیں ہوتی، بہرحال کچھ بھی ہو اس صدی کے آخر میں اگر کہیں مذہب قائم بھی رہا تو وہ انتہائی نفرت خیز چیز ہوگی۔

یاد رکھیے کہ مذہب کا خاتمہ وہ مبارک گھڑی ہوگی جب ہم مردہ انسانوں سے مدد مانگنے کے بجائے اپنی عقل سے امداد کے طالب ہوں گے اور ہم میں ایک ایسی زندگی پیدا ہوجائے گی جو تمام زندگیوں سے لطیف تر، خوش گوار تر اور مرغوب تر ہوگی۔

روایت و معجزہ کی حقیقت

زندگی کا صحیح مقصد حصول مسرت ہے اور ذہن انسانی مجبور ہے کہ وہ مسرت کے واقعی اسباب و شرائط معلوم کرے۔ واضح رہے کہ مسرت سے مراد میری صر ف کھانا پینا نہیں، محض جسمانی راحت و آسائش نہیں بلکہ بلند قسم کی وہ مسرت ہے جو ادائے فرائض کے بعد حاصل ہوتی ہے، جو لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے کے بعد محسوس ہوتی ہے جو فطرت کے مطالعہ اور حسن مجرد کے احساس سے پیدا ہوتی ہے اور جو آزادیٔ ذہن و ضمیر کی پیداوار ہے۔

لیکن آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو مسرت کی خواہش کو ٹھکراتا ہے جو حریت فکر و رائے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جس نے عقل انسانی کو شل کردینا ہی اپنی مقصود زندگی قرار دے رکھا ہے، یہ گروہ اپنے آپ کو اہل مذہب اور روحانیت پرست کہتا ہے۔ یہ گروہ وہ ہے جو احساسات مسرت کو وسوسٔہ شیطانی کہتا ہے، یہ اس دنیا کی زندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کی تمام خواہشات کا تعلق کسی دوسری دنیا سے ہے ، جس کا اصطلاحی نام اس نے ”حیات بعدالموت“ رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خدا نے اس کو اپنی ”تسبیح و تہلیل“ کے لیے منتخب کرلیا ہے، پیام ربانی کے لیے اس کی زبان مخصوص ہے اور صداقت و حقیقت کا نام ہے صرف اس چیز کا جو اس کے دل و دماغ سے پیدا ہو۔

اس جماعت نے ہمیشہ عقل و علم سے دشمنی کی، ”ذہن انسانی“ کو اس نے ہمیشہ کند رکھنا چاہا اور اس نے علم و یقین کا ماخذ ہمیشہ غیر فطری کرامات و معجزات کو قرار دیا ہے، اس لیے دنیا میں صرف نفرت، تعصب اور خوف کی اشاعت کی۔ اس نے مفکرین کو ہمیشہ اپنا دشمن سمجھا ، اس نے محنت و عمل سے ہمیشہ جی چرایا اور اسی کو برگزیدہ قوم سمجھا جس کے لیے غیب سے من و سلویٰ نازل ہوسکتا ہے۔

یہ جماعت اپنا ایک لٹریچر بھی رکھتی ہے جسے مختلف ناموں سے مختلف قوموں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور اس لٹریچر میں وہ سب کچھ ہے جسے عقل انسانی کبھی تسلیم نہیں کرسکتی۔ اس میں تخلیق کائنات کا بھی ذکر ہے اور آفرنیش انسان کا بھی۔ اس میں تاریخ قدیم کے ٹکڑے بھی نظر آتے ہیں اور اخلاق کے درس بھی لیکن بایں ہمہ یہ محض روایت و داستان ہے جس کو حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں یا پھر ان ہدایات کا مجموعہ ہے جو محض تعصب و تنگ نظری کی پیداوار ہیں۔

انھوں نے ہمیشہ خدا کا ڈر دکھا کر اپنا اثر قائم کیا۔ انھوں نے ہمیشہ دنیا کو یہی یقین دلایا کہ اگر ان کی دعائیں شامل حال نہ ہوں تو بارش بند ہوجائے۔ کھیتیاں برباد ہوجائیں، دنیا قحط و وبا سے فنا ہوجائے اور جب کبھی کوئی مصیبت نوع انسانی پر نازل تو انھوں نے اس کو اپنی ہی بددعاؤں کا نتیجہ بتایا۔ پھر انھوں نے صرف یہی نہیں کیا بلکہ جب کبھی انھیں اقتدار حاصل ہوا؛ علم کو روندا گیا۔ عقل پامال کی گئی ، آزادی کو مٹایا گیا۔ مفکرین عالم کو قید میں ڈالا گیا۔ ارباب فضل و کمال کو ذبح کیا گیا اورخدا کے نام پر وہ سب کچھ کیا گیا جسے شیطان بھی گوارا نہ کرسکتا تھا۔

لیکن مذاہب کا ظہور، مذہبی کتابوں کی پیداوار، خانقاہوں کی تعمیر اور اہل خانقاہ کا وجود، کوئی غیر فطری بات نہ تھی، بلکہ عہد وحشت کے غاروں سے لے کر موجودہ دور تہذیب تک انسان نے جو تدریجی ترقی کی ہے، اسی کے یہ لازمی مظاہر تھے۔ دنیا کی تاریخ میں اتفاق کوئی چیز نہیں ہے، نہ اس میں معجزہ و خرق عادات کو کوئی دخل ہے اور نہ غیبی مداخلت کو ہر شے اور ہر حالت و اقعات سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے اگر ہمارے اسلاف کے دلوں میں مذہب و روحانیت کا خیال پیدا ہوا تو وہ بالکل فطری خیال تھا، کیوں کہ ان کی عقل زیادہ سے زیادہ یہیں تک پہنچ سکتی تھی اور وہ اس کو سچ سمجھ کر پیش کرتے تھے۔

تمام زمانوں میں انسان نے اپنے اور اپنے ماحول کے سمجھنے کی کوشش کی ہے، وہ دیکھتا تھا اور تعجب کرتا تھا کہ پانی کیوں برستا ہے، درختوں کا نشوو نما کیوں ہوتا ہے، بادل کیوں کر معلق فضا میں اڑتے ہیں، ستاروں کی چمک کہاں سے آتی ہے، چاند سورج کو کون اِدھر سے اُدھر لے جاتا ہے۔ وہ سوچتا تھا کہ زندگی کے بعد موت کا سکون کیا۔ بیداری کے بعد نیند کیسی، روشنی کے ساتھ تاریکی کیا معنی۔ بجلی اور کڑک کو دیکھ کر وہ سہم جاتا تھا۔ زلزلوں اور پہاڑوں کی آتش فشانیاں دیکھ کر وہ لرزہ براندام ہو جاتا تھا اور چونکہ وہ ان کے طبعی حدوث کے اسباب سے ناواقف تھا ، اس لیے وہ سمجھتا تھا کہ ان تما م حوادث کے پیچھے کوئی عظیم الشان، ذی حیات ہستی ضرور ایسی موجود ہے جو ان تمام مناظر و مظاہر کی پیدا کرنے والی ہے اور انھیں کو وہ دیوتا یا دیوی سمجھ کر ان سے ڈرنے لگا اور ان کی پوجا کرنے لگا۔
طلوع صباح کو وہ سمجھنے لگا کہ یہ کوئی نہایت ہی حسین و جمیل دیوی ہے، آفتا ب کو اس نے ایک جنگجو عاشق مزاج دیوتا فرض کر لیا۔ رات کو اس نے سانپ یا ناگ سمجھ لیا اور ہوا کو مغنی، جاڑے کو اس نے ایک ایذا رساں درندے سے تعبیر کیا اور خزاں کو ایسی دیوی سے جو دنیا کے سب پھول چن کر لے جاتی ہے، الغرض اس طرح کی سیکڑوں تعبیریں، ہزاروں تفسیریں، اس نے مناظر فطرت اور حوادث طبعی کی اپنی ذہانت سے پیدا کیں اور ان کو حقیقت جان کر پھیلانا شروع کیا۔ اقوام عالم کی روایات مذہبی یا ”اساطیر الاولین“ پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی بنیاد یکسر انھیں شاعرانہ تعبیروں اور اسی قسم کی قیاسات ضعیفہ پر قائم ہے ، چنانچہ باغ عدن کی روایت کو دیکھیے کہ وہ دنیا کی ہر قوم میں پائی جاتی ہے، کیوں کہ جب وہ مصائب سے گھبرا اٹھی تو اپنی تسکین کے لیے اس نے ایک ایسی دنیا کا تخیل پیدا کیا جہاں راحت ہی راحت ہے۔

اسی طرح طوفانوں کی روایت، ایشیا و یورپ کے تمام قدیم قوموں میں پائی جاتی ہے، انھوں نے گھونگھے، سیپیاں اور لہروں کے نشانات، پہاڑوں ، وادیوں اور میدانوں میں دیکھ کر خیال کیا کہ کسی وقت ضرور ساری دنیا پر طوفان آیا تھا جس سے سوا چند مقبول بندوں کے کوئی جانبر نہ ہوسکا۔ توریت، انجیل اور کلام مجید کے علاوہ ہندوں میں بھی یہ روایت موجود ہے کہ منو نے ایک بار گنگا میں کوئی ظرف ڈبو کر پانی لیا ، اس میں ایک مچھلی بھی آگئی۔ مچھلی نے التجا کی کہ مجھے پھر پانی میں چھوڑ دیجیے۔ منونے رحم کھا کر اسے چھوڑ دیا لیکن مچھلی نے اس احسان کے عوض میں ان کو بتایا کہ ایک بڑا زبردست طوفان آنے والا ہے۔ آپ ایک کشتی بنا کر اس میں اپنے ساتھیوں کو معہ مویشیوں کے بٹھا لیجیے۔ میں بروقت پہنچ کر آپ کی مدد کروں گی، چنانچہ منو نے اس کی تعمیل کی اور جب طوفان آیا تو مچھلی حاضر ہوئی لیکن اب وہ بڑی مچھلی ہوگئی تھی جس کے سر پر ایک سینگ بھی نکلا ہوا تھا۔ منو نے ایک رسی اس کے سینگ سے باندھ کر کشتی میں اٹکا دی اور وہ طوفان سے کشتی کو بچا کر ایک پہاڑ کی چوٹی پر لے گئی اور طوفان کے ختم ہونے تک منوجی یہیں ٹھہرے رہے۔ ان تمام روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے زندگی اور موت کے اسرار کو کس کس طرح سمجھنے کی کوشش کی اور ان کوششوں میں اس کے کتنے اندیشے، کتنی امیدیں، کتنی مسکراہٹیں اور کتنے آنسو شامل تھے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا اولین مذہب ”آفتاب پرستی“ تھا اور یہ بالکل فطری بات تھی، کیوں کہ روشنی ہی زندگی ہے اور اسی سے زندگی میں حرارت قائم رہتی ہے۔ اپالو بھی سورج تھا جو رات کے ناگ کو شکست دے کر بھگا دیتا تھا۔ اگنی بھی سورج تھا جو انسان کے ہر ہر جھونپڑے کی حفاظت کرتا تھا۔ کرشن بھی سورج ہی تھے کہ ان کی ولادت کے وقت تمام درخت ہرے بھرے ہوگئے، ہرقلس بھی سورج دیوتا تھا، جونا (یونس) بھی وہی تھا اور یہ سب کے سب ۲۵ دسمبر ہی کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ سب نے چالیس دن کا روزہ رکھا۔ سب غیر طبعی موت سے مرے اور پھر زندہ ہوئے۔ اب مسیح کے حالات کا ان روایات سے موازنہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ وہاں بھی سب کچھ یہی ہے، ۲۵ دسمبر کو ایک غار میں پیداہوئے، ہیروڈ نے بہت سے بچوں کو ان کے دھوکے میں ہلاک کیا۔ چالیس دن (چالیس کا عدد مذاہب عالم کی تاریخ میں بہت نظر آتا ہے۔ طوفان سے پہلے چالیس دن بارش ہوتی رہی، موسیٰ چالیس دن کوہ سینا پر رہے۔ چالیس سال تک بنی اسرائیل صحراؤں میں پھرتے رہے) کا روزہ رکھا ۔ غیر طبعی موت سے مرے اور پھر زندہ ہوئے۔ عیسیٰ بھی سورج دیوتا تھے ، اور یقینا تمام مذاہب کی ابتدا آفتاب پرستی ہی سے ہوئی ، چنانچہ اس وقت بھی عبادت کے وقت لوگوںکا آنکھیں بند کر لینا اسی زمانہ کی یادگار ہے، کیوں کہ وہ سورج کو نہ دیکھ سکتے تھے اور آنکھیں بند ہوجاتی تھیں۔

اس کے علاوہ جب ہم امم سابقہ کی دیگر مذہبی روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کے مذاہب میں کوئی نئی بات نہیں پائی جاتی۔ ان کے تمام مراسم و عبادات کا رشتہ عہد قدیم کے مذاہب ہی سے جا کر مل جاتا ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ عیسائیوں میں بپتسمہ یا اصطباغ کی رسم پائی جاتی ہے، لیکن یہ عیسویت سے بہت پہلے کی چیز ہے۔ ہندوؤں، مصریوں، یونانیوں اور رومیوں میں بھی مقدس پانی کا وجود پایا جاتا تھا۔ صلیب کا خیال بھی نہایت قدیم خیال ہے ۔ یہ علامت تھی غیر فانی ہونے کی؛ زندگی کی، اگنی کی۔ قبر انسانی کی، اٹلی کی قدیم آبادی (رومیوں سے بہت پہلے کی) قبروں پر صلیب ہی کا نشان قائم کرتی تھی۔ وسطی امریکہ کے قدیم معبدوں میں صلیبی نشان کثرت سے دریافت ہوئے ہیں۔ بابل کی سرزمین سے جو اسطوانے یا نلکے دریافت ہوئے ہیں، ان پر بھی صلیب کا نشان موجود ہے۔ اسی طرح تثلیث کا خیال بھی بہت پرانا ہے اور قدیم مصر میں پایا جاتا تھا۔

ہم کو سمجھ لینا چاہیے کہ اساطیر و معجزات میں بہت فرق ہے۔ اساطیر نام ہے کسی بات کی خیالی تصویر پیش کرنے کا اور معجزہ کہتے ہیں کوئی بات گھڑ کر بیان کرنے کو۔ اگر تم کسی سے کہو کہ دوہزار سال قبل مردے زندہ ہوگئے تھے، وہ غالباً کہے گا ؛ ہاں ہوا ہوگا۔ اگر تم اس سے کہو کہ ایک لاکھ سال بعد تمام مردے زندہ ہوجائیں گے تو وہ کہے گا ، دیکھو کیا ہوتا ہے۔ لیکن اگر تم یہ کہوگے کہ کیا تم نے خود قبر کے اندر سے کسی مردے کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا ؛ تو وہ تمھیں دیوانہ سمجھ کر کوئی جواب نہ دے گا۔

مذہبی کتابیں اسی قسم کے بیانات سے معمور ہیں۔ خدا نے یہودیوں کے لیے جتنے معجزات سے کام لیا، وہ سب کو معلوم ہیں۔ ان کو غلامی سے آزاد کرانا بھی معجزوں ہی کے ذریعے سے ہوا۔ جب وہ مصر سے باہر نکلے ہیں تو دن کو بادل اور رات کو روشنی کا ایک ستون آگے آگے رہنمائی کے لیے ہوتا تھا۔ دریائے نیل ان کے لیے شق کیا گیا ، من و سلویٰ ان کے لیے آسمان سے نازل کیا گیا لیکن یہودیوں نے ان میں سے کسی معجزہ کی پروا نہیں کی اور جب تک بچھڑا بنا کر پوج نہیں لیا، انھیں چین نہ آیا۔

اسی طرح مسیح نے بہت سے معجزے پیش کیے لیکن بالکل بے نتیجہ۔ وہی مردے جن کو انھوں نے زندہ کیا، وہی اندھے جن کو انکھیارا بنایا اور وہی کوڑھی جنھیں اچھا کیا، ان پر ایمان نہ لائے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس کا کیا سبب تھا۔ صرف یہ کہ معجزے کبھی ظاہر نہیں ہوئے بلکہ یہ سب داستانیں ہیں جو صدیوں بعد گھڑی گئیں۔

پانی کو شراب بنادینا، سیکڑوں آدمیوں کو صرف ایک روٹی سے سیر کردینا، اندھے کو مٹی لگا کر بینا بنا دینا، طوفان کو خاموش کردینا، پانی پر چلنا؛ یہ سب باتیں ہیں جنھیں انسان سوچتا تھا، جن کے پورا ہونے کی تمنائیں رکھتا تھا اور انھیں کی تکمیل کو سب سے بڑی نعمت سمجھ کر اظہار عظمت و تقدس کے لیے اس نے پیغمبروں سے منسوب کردیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا جہل و خوف سے معمور تھی اور اپنی ہر مشکل میں مافوق الفطرت ہستی سے امداد کی توقع رکھتی تھی، چنانچہ انھوں نے ان مفروضہ غیر انسانی ہستیوں کو خوش کرنے کے لیے مندر بنائے، قربان گاہیں تیار کیں۔ ان کے سامنے رگڑی قربانیاں چڑھائیں اور وہ سب کچھ کیا جس سے وہ خود خوش ہوسکتے تھے لیکن ان آسمانی قوتوں نے ایک نہ سنی۔ ان میں سے کوئی انسان کی فریاد کو نہ پہنچا۔ طوفان بھی آئے، کھیتیاں بھی برباد ہوئیں، وبائیں بھی پھیلیں، جن کو برے حال جینا تھا، وہ برے حال ہی جیے اور جنھیں مرنا تھا وہ مرہی گئے۔

انسان یہ سمجھتا تھا اور اب بھی مذہبی انسان یہی سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ پیدا ہوا ہے وہ اسی کے لیے ہے۔ اسی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کائنات وجود میں آئی ، چنانچہ وہ ہر چیز پر قابض ہونا چاہتا تھا اور جب ناکام رہتا تھا تو سمجھتا تھا کہ خدا ضرور اس کی مد د کرے گا، حالاں کہ اگر دنیا میں ایک انسان نہ ہوتا تو بھی سورج کا یہی طلوع و غروب ہوتا۔ یہی بہار و خزاں ہوتی، گلاب اسی طرح کھلتا۔ انگور کی بیلیں اسی طرح پھل لاتیں۔ وہی سمندر کا مدو جزر ہوتا اور وہی رات دن، وہی طوفانی ہوائیں ہوتیں اور وہی رعد و برق۔ جب ایک زمانہ، ایک غیر محدود زمانہ انسان پر اسی جہل و بے بصری کی حالت میں گذر گیا تو کچھ لوگ سوچنے والے پیدا ہوئے اور انھوں نے ان روایات و معجزات کو شک کی نگاہوں سے دیکھنا شروع کیا۔ انھوں نے غور کیا کہ کسوف و خسوف کیوں مقررہ وقفہ کے بعد ہوتا ہے اور آخر کار انھوں نے اس کی وجہ معلوم کر کے سمجھ لیا کہ اجرام فلکی کی گردش اولاد آدم سے بالکل بے نیاز ہے اور انسان خود بھی مظاہر طبیعی کا ایک معمولی مظہر ہے۔

گلیلیو ، کوپر نکس اور کپلر نے مذہب کی بتائی ہوئی ہیئت کو درہم برہم کردیا، زمیں چپٹی ہونے کے بجائے گول اور ساکن ہونے کے بجائے متحرک ہوگئی۔ آسمان بجائے ٹھوس ہونے کے خلا محض بن گیا اور سارا بنا بنایا کھیل مذہب والوں کا بگڑ گیا۔

ظاہر ہے کہ مذہب اپنی روایات کی اس تکذیب و توہین کی برداشت نہ کرسکتا تھا ، وہ تاریکی جو زمانٔہ معلوم سے دماغوں پر مسلط تھی، یوں آسانی سے دور نہ ہوسکتی تھی۔ آخر کار جہل نے علم کے خلاف ایک محاذ جنگ قائم کیا، اور مذہب کے درندہ نے جس کے پنجے ہمیشہ خون سے رنگیں رہے ہیں، برونو کے خلاف اپنا چنگل بڑھایا اور محض اس خطا پر کہ وہ اس کرہ کے علاوہ اور کروں کا بھی قائل تھا۔ اسے کافر و ملحد قرار دے کر سات سال کے لیے قید کرلیا گیا کہ اگر وہ اپنے الحاد سے باز آجائے تو رہا کیا جا سکتا ہے لیکن اس نے کہا کہ ایک حق بات سے انکار کیوں کر ممکن ہے اور آخر کار پا بہ زنجیر اسے قصاص گاہ میں لے گئے اور بہت سی لکڑیاں جمع کر کے چتا میں آگ لگا دی گئی اور وہ جل کر راکھ ہوگیا۔ الغرض مذہب نے عقل و علم کو شکست دینے کی ہر امکانی کوشش کی لیکن جہل کے پاؤں جب ایک بار اکھڑ جاتے ہیں تو پھر مشکل سے جمتے ہیں۔ عقل کی روشنی پھیلتی رہی اور مذہب کی تاریکی سمٹتی رہی۔

جانباز ان علم اٹھے اور انھوں نے سمندروں، پہاڑوں اور وادیوں میں جانیں دے دے کر وہ وہ باتیں دریافت کیں جو مذہب کی دسترس سے باہر تھیں۔ انھوں نے بخار و برق کی قوت سے دریافت کرکے انسان کو دیوتا بنا دیا، لیکن اہل مذہب بدستور دیوتاؤں کے غلام ہی بنے رہے۔ مذہب والے مفروضۂ معجزہ ہی بیان کرتے رہے اور انھوں نے انھیں پورا کرکے دکھادیا، یعنی انسان کی جن تمناؤں کو دیوتا پورا نہ کرسکے تھے، اسے علم و عقل نے پورا کردیا۔

سائنس بتاتی ہے کہ نہ تخلیق کوئی چیز ہے ، نہ فنا کوئی چیز، ایک لامحدود ہستی کا وجود، ایک لامحدود استحالٔہ عقلی ہے، کائنات کے تمام مظاہر و مآثر اسباب و نتیجہ سے وابستہ ہیں اور اشیا کے اسی فطری رابطہ کو ایک نے نہ سمجھا اور مذہب بن گیا، دوسرے سے سمجھ لیا اور علم کہلایا۔

مذہب کا تجربہ انسان نے ہزاروں سال کیا لیکن کوئی آسمانی مدد اسے نہ پہنچی، خدا کا رحم حاصل کرنے کے لیے ماؤں نے اپنے بچوں کی قربانیاں پیش کیں لیکن اسے ان پر رحم نہ آیا۔ برہنہ وحشی انسان کو لاکھوں کی تعداد میں درندوں نے کھایا، سانپوں نے ڈسا، طوفانوں نے ڈبویا، زلزلوں نے تباہ کیا لیکن خدا نے اپنا اصول کار نہ بدلا۔ انسان نے لاکھوں مندر بنائے، رات دن اس کی پوجا کی لیکن ظالموں کا ظلم بدستور قائم رہا اور غلاموں کی پیٹھ پر جو کوڑے پڑا کرتے تھے، بدستور پڑتے رہے؛ یہاں تک کہ انسان نے لاکھوں سال کے تلخ تجربات کے بعد سمجھا کہ خدا انسانی معاملات میں دخل نہیں دیتا اور اس کے نزدیک گھاس کی پتی اور انسان سب برابر ہیں، اس لیے اس کی ترقی کا انحصار صرف ا س کی محنت و کاوش اور رہبریٔ عقل پر ہے۔ آخر کار رفتہ رفتہ معجزات کا زمانہ گذرگیا، روایات مذہبی کا دور ختم ہوگیا؛ اور اب انسان اس کے لیے تیار نہیں کہ وہ مذہب کے بتائے ہوئے اصول نجات پر یقین رکھ کر اپنی دنیا کو تباہ کردے اور بے وقوف کہلائے۔

مذاہب عالم کی تاریکیاں

ترقی کرنا انسان کا فطری حق ہے لیکن ترقی کا حقیقی مفہوم کیا ہے، اس کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ اس باب میں دو متضاد رائیں پائی جاتی ہیں ، کیوں کہ وہی ایک حالت ہے ، جسے ایک جماعت ترقی تہذہب سے تعبیر کرتی ہے اور دوسری وحشت و جہل سے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ ہر وہ چیز جو قدیم ہے، پرانی ہے ، قابل احترام ہے گویا جب تک کسی چیز کے جھاڑنے سے صدیوں کی جمی ہوئی خاک نہ اڑے قابل اعتنا نہیں ۔ ان کے نزدیک حکومتیں وہی تھیں جو ختم ہو گئیں، فرماں روا وہی تھے جو گذر گئے۔ سچے مصلح وہی تھے جو مرگئے۔ نہ ویسے شاعر اب پیدا ہوتے ہیں، نہ ویسے ادیب ، نہ ویسے سیاست داں اب نظر آتے ہیں، نہ ویسے حکما و فلاسفہ۔

دوسرا گروہ قدیم و قدامت کا دشمن ہے اور موجودہ زمانہ کا مداح۔ ان کے نزدیک زمانٔہ قدیم میں کوئی بات معقول تھی ہی نہیں اور قدرت نے اپنے تمام برکات زمانٔہ حال ہی کے لیے وقف کردیے ہیں۔ میری رائے میں دونوں غلطی پر ہیں ؛ نہ قدیم زمانہ کی ہر چیز بری تھی ، نہ زمانٔہ حال کی ہر بات اچھی، صداقت ہمیشہ ایک ہی رہی ہے اور اسے ہم قدیم و جدید نہیں کہہ سکتے۔ وہ ہر زمانہ میں یکساں رہی اور ہمیشہ اس کی جستجو کرنا چاہیے۔

اگر ہم اصولاً اس بات کو تسلیم کرلیں کہ ”فکر و عمل“ ہی ملک کی ترقی و مسرت کی بنیاد ہے اور یہ عمومی مسرت ہی فی الحقیقت فطری صداقت ہے تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ ماننا پڑے گا کہ دنیا کے ”فکر و عمل“ کو بالکل آزاد ہونا چاہیے۔ آپ اس عہد قدیم کو نہ دیکھیے جب ایشیا ترتیب تاریک سے پہلے بھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنا ہوا تھا بلکہ عہد وسطیٰ کو لیجیے اور غور کیجیے کہ اس وقت یورپ کی (جو اس وقت سب سے بڑا مدعی تہذیب و آزادی ہے) کیا حالت تھی، طبقہ عمال کو جانوروں سے بدتر سمجھا جاتا تھا۔ جہل کی تاریکی ہر طرف چھائی ہوئی تھی اور فکر انسانی نام تھا صرف اوہام پرستی کا۔ فضا میں ہر طرف ملائکہ و عفاریت چھائے ہوئے تھے اور ہر سمجھ میں نہ آنے والی بات معجزۂ خداوندی قرار دی جاتی تھی۔ اعتقادات نے عقل انسانی کو بے کار کر رکھا تھا اور مذاہب نے غور و فکر کو انسا ن کے لیے وجہ امتیاز صرف اس لیے قرار دیا تھا کہ یا تو وہ سپاہی ہو یا پادری، یعنی سوائے لڑنے اور جھوٹ بولنے کے لیے اور کوئی صورت انسانیت کی موجود نہ تھی۔ صنعت و حرفت کو ذلیل سمجھا جاتا تھا اور اس ذریعہ سے ایک شخص بھی اپنا پیٹ آسانی سے نہ بھر سکتا تھا۔ قومیں خریدو فروخت کے ذریعہ سے ضروریات زندگی حاصل نہ کرتی تھیں بلکہ لوٹ مار سے اور ہر مسیحی ملک غیر مسیحی قوم کے مال کو لوٹ لینا ثواب جانتا تھا ۔ لکھنا پڑھنا نہایت خطرناک بات سمجھی جاتی تھی اور اگر کوئی شخص بدقسمتی سے سیکھ لیتا تھا تو اسے ساحر یا کافر سمجھا جاتا تھا ۔ اس وقت تقریباً بالکل ناممکن ہے کہ ہم اس زمانہ کی جہالت ، واہمہ پرستی اور کور دماغی کا صحیح اندازہ کرسکیں۔ اس وقت انسان کے جسم و دماغ دونوں مقید تھے، ایک کے لیے لوہے کی زنجیریں تھیں اور دوسرے کے لیے وہم پرستی کی اور اس غلامی سے آزاد ہونے کی صورت سوا موت کے اور کوئی نہ تھی۔

پندرھویں صدی میں انگلستان کا قانون یہ تھا کہ اگر کوئی شخص انجیل مقدس کا مطالعہ اپنی مادری زبان میں کرے گا تو اس کی جائداد اور اس کے مویشی ہمیشہ کے لیے ضبط ہوجائیں گے اور وہ حکومت کا باغی قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ اس قانون کے نفاذ کے بعد ایک دن۳۹ آدمی پھانسی پر لٹکائے گئے اور ان کی لاشیں سر بازار جلائی گئیں ، پھر یہ جہل صرف انگلستان ہی تک محدود نہ تھا بلکہ یورپ کے ہر حصہ میں پایا جاتا تھا۔ چنانچہ سولھویں صدی میں فرانس کی حکومت نے ایک شخص کو اس خطا پر آگ میں تڑپا تڑپا کر ہلاک کر ڈالا کہ وہ راہبوں کے ایک جلوس کے سامنے دو زانو نہ ہوا تھا۔ اب آئیے اس اجمال کی ذرا تفصیل سن لیجیے:

عہد وسطیٰ کے تمام انسان جاہل و عالم، آقا و غلام، پادری و غیر پادری سب کے سب جادو ٹونا اور ٹوٹکے کے قائل تھے، انھیں یقین تھا کہ شیطان نہ صرف انسان بلکہ جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے اندر بھی حلول کرجاتا ہے اور چونکہ شیطان کا مقابلہ ایک مقدس فریضہ تھا۔ اس لیے کسی ایسے شخص کو جس کے متعلق خیال ہوتا تھا کہ وہ شیطان کا ہمراز و ندیم ہے، مارڈالنا یا زندہ جلادینا بہت معمولی بات تھی ۔ جس حد تک حقیقت یا واقعیت کا تعلق ہے، ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ مہمل عقیدہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ کسی انسان کے اندر شیطان حلول کرجائے اور وہ اسے نجس و ناپاک افعال پر مجبور کرے لیکن اس عقیدہ کی مذہبی گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ لوگ جو اس جرم میں گرفتار کیے جاتے تھے جن کے خلاف عدالت گاہوں میں مقدمے چلائے جاتے تھے اور جن سے دنیا نفرت کرتی تھی، خود بھی یقین رکھتے تھے کہ واقعی ان پر شیطان سوار ہے اور وہ اس کا اعتراف کرلیتے تھے۔

جیمس اول کے زمانہ میں ایک شخص اسکاٹ لینڈ کا رہنے والا اس جرم میں جلایا گیا کہ وہ شاہی خاندان کو ڈبو دینے کے لیے سمندر میں طوفان پیدا کررہا تھا۔

ایک بار سر میتھو ہیل کے سامنے جو انگلستان کا مشہور قانون داں جج تھا، ایک عورت پیش کی گئی کہ یہ بچوں سے سوئیوں کی قے کراتی ہے اور شیطان سے ساز باز رکھتی ہے۔ چنانچہ جج صاحب نے اس کو مجرم قرار دے کر زندہ جلوادیا اور فیصلہ میں لکھا کہ یہ جادوگرنی ہے اور جادو کا از روئے مذہب حق ہونا ثابت ہے۔ عام عقیدہ ایک یہ بھی تھا کہ بعض آسیب زدہ انسان بھیڑیے کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی شخص پر بھیڑیے نے حملہ کردیا، اس نے مقابلہ کر کے اس کا ایک پنجہ کاٹ لیا اور جیب میں رکھ کر گھر پہنچا ، دیکھا کہ اس کی بیوی کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے اور اس کے خون نکل رہا ہے۔ اس سے یہ یقین کیا گیا کہ اس کی بیوی بھیڑیا بن کر گئی تھی، چنانچہ اس نے اقرار کیا اور جلادی گئی۔

اس طرح لوگوں پر یہ الزام بھی لگایا جاتا تھا کہ وہ گرمیوں میں پالا گراتے ہیں، اولے برسا کر فصلیں تباہ کرتے ہیں، شرابیں ترش کردیتے ہیں اور گایوں کو بانجھ کردیتے ہیں ، اس زمانہ میں کسی کی زندگی محفوظ نہ تھی۔ کسی کا اپنے دشمن کے متعلق یہ کہہ دینا کہ ساحر ہے کافی تھا اور اس الزام کی تحقیق کوئی نہ کرتا تھا ۔ پھر طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ الزام صرف انسانوں ہی ہر عائد نہ کیا جاتا تھا بلکہ جانور بھی اس سے محفوظ نہ تھے۔ ۴۷۴۱ءمیں ایک مرغ پر یہ الزام قائم کیا گیا کہ اس نے انڈا دیا ہے اور چونکہ مرغ عام طور پر انڈا نہیں دیتا ، اس لیے یقینا اس میں شیطان حلول کرگیا ہے۔ چنانچہ یہ مرغ مع انڈے کے عدالت گاہ میں پیش کیا گیا اور اس کو سر راہ جلا دیے جانے کا حکم صادر ہوا۔ اسی طرح ایک سور پر یہ الزام قائم کیا گیا کہ اس نے آدمی کو مار کر کھالیا ہے اور اسے بھی جلا دیا گیا۔ ایک گائے پر بھی آسیب زدہ ہونے کا الزام قائم کر کے اسے سزا دی گئی۔ جانوروں کو بطور شاہد کے طلب کرنا بھی اس وقت کا دستور تھا۔

ایک وقت میں یورپ کا قانون تھا کہ اگر کسی کے گھر میں کوئی شخص رات کو داخل ہوا اور وہ اسے قزاق سمجھ کر مار ڈالے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس سلسلہ میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے کوئی شخص کسی بہانہ سے کسی کو بلا کر مار ڈالے اور اس طرح سزا سے بچ جائے۔ اس بنا پر قانون میں ترمیم کی گئی کہ مالک مکان اس وقت تک بے گناہ نہیں سمجھا جائے گا جب تک وہ گھر کے کتے، بلی یا دوسرے جانور کو پیش نہ کرے جس کے سامنے اس نے مارا ہے۔ پھر یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا تھا تو گھر والے کو کوئی پلاہوا جانور پیش کر کے اس کے سامنے اپنی بے گناہی کی قسم کھانا پڑتی تھی ، عقیدہ تھا کہ اگر وہ جھوٹ بولے گا تو ضرور کسی نہ کسی طرح جانور اس کا اظہار کردے گا۔

یہ بھی انگلستان کا قانون تھا کہ اگر کوئی شخص جرم کرے تو وہ اس متبرک پارئہ نان و پنیر سے اپیل کرے جو اس مقصد کے لیے الگ کردیا جاتا تھا یعنی مجرم اس روٹی کے ٹکڑے کو لے کر کہتا تھا کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا کرے میرے حلق میں پھنس جائے۔
پانی اور آگ کے ذریعہ سے بھی گناہ و بے گناہی کی جانچ ہوتی تھی یعنی مجرم آگ میں تپایا ہوا سرخ لوہا ہاتھ میں لیتا تھا اور عقیدہ یہ تھا کہ اگر وہ گناہگار نہیں ہے تو اس کو کوئی ضرر نہ پہنچے گا (ہندوستان کے بھی بعض سید خاندان مدعی ہیں کہ آگ ان پر اثر نہیں کرسکتی کیوں کہ وہ معصوم ہیں، یہ جاہلانہ عقیدہ بھی اسی نوع کی مذہبی تاریکی کا نتیجہ ہے) ۔ اسی طرح مجرم کے ہاتھ پاؤں باندھ کر پانی میں ڈال دیا جاتا تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ اگر وہ بے گناہ ہے تو ڈوبے گا نہیں۔

ان مثالوں کے دینے سے مدعا یہ ظاہر کرنا ہے کہ ان قوموں میں جو مذہب کی جاہلانہ گرفت میں مبتلا تھیں یا ہیں، کیا کیا بدتمیزیاں پائی جاتی ہیں اور عقل انسانی کا خون کرنے میں معتقدات مذہبی نے کتنا حصہ لیا۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذاہب کی اس لعنت میں صرف جاہل انسان ہی مبتلا نہ تھا بلکہ پڑھے لکھے، ذی فہم و ذی ہوش افراد بھی مبتلا نظر آتے تھے۔

کپلر دنیا کے مشہور بڑے آدمیوں میں سے تھا اور ہیئت دانی میں تو اس کا نظیر نہ تھا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس احمقانہ عقیدہ میں بھی مبتلا تھا کہ ستاروں کو دیکھ کر ایک شخص کے مستقبل کا حال معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ عقیدہ اس کے دل میں مذہبی بنیاد رکھتا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ ایسے ہی ماحول میں اس کی تربیت ہوئی تھی۔ تیخو براہی بڑ ا زبردست ہیئت داں تھا، یہ بہت سے مہمل الفاظ ایک جگہ لکھ کر پیشین گوئیاں کیا کرتا تھا اور ان کے پورا ہونے کا منتظر رہتا تھا۔

لوتھر کو یقین تھا کہ اس کی ملاقات شیطان سے ہوئی تھی اور بعض مذہبی مسائل پر اس سے مباحثہ بھی ہوا تھا۔ چارلس پنجم شہنشاہ جرمنی کے زمانہ میں اسٹو فلر بڑا مشہور ہیئت داں گذرا ہے، اس نے ایک بار ستاروں کو دیکھ کر حکم لگایا کہ ایک بہت بڑا طوفان آنے والا ہے اور اس کا اتنا یقین ہوگیا کہ ہزاروں آدمیوں نے جو نشیبی علاقہ زمین میں رہتے تھے، ترک وطن کردیا اور خانماں برباد ہوگئے۔ فرانس میں تو لوگوں نے دوسری کشتی نوح تیار کرلی اور ذخائر سے اسے بھردیا تاکہ طوفان میں کام آسکے لیکن طوفان نہ آنا تھا، نہ آیا۔

ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذہن انسانی کس درجہ غلامی میں مبتلا تھا اور مذہب کا مفہوم سوائے شیطان کی پرستش کے اور کچھ نہ تھا۔
الغرض ان کی مذہبی روایات اسی طرح کی لغو باتوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسانی معلومات کا ذریعہ صرف مذہبی ادارے تھے اور جن لوگوں کے ہاتھ میں یہ ادارے تھے وہ قصداً جھوٹ بولتے تھے اور ارادتاً خلاف عقل باتیں گھڑ لیتے تھے تاکہ لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں اور وہ اس کے جواب میں معجزات و کرامات وغیرہ بیان کر کے عوام کو مرعوب کرلیں اور اپنا اقتدار جمائیں۔

پھر جہل و ظلمت کا یہ اثر کسی ایک شعبہ تک محدود نہ تھا بلکہ تمام انسانی معلومات پر چھایا ہوا تھا۔ اس سلسلہ میں آپ زبان ہی کے مسئلہ کو لیجیے تو عجیب و غریب حقائق کا انکشاف ہوگا۔ اول اول عام طور پر یقین کیاجاتا تھا کہ عبرانی ہی اصل زبان ہے اور تمام زبانیں اسی سے نکلی ہیں (عربی کو بھی ام السنہ اسی لیے کہتے ہیں) بعد کو یہی دعویٰ اور زبانوں نے بھی کیا، اینڈرے کمپ نے ۱۵۶۱ءمیں ایک کتاب شائع کی جس کا مقصودیہ بتانا تھا کہ بہشت کی زبان کیا ہے، چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ خدانے آدم سے سویڈن کی زبان میں باتیں کیں۔ آدم نے ڈنمارک کی زبان میں جواب دیا اور سانپ نے حواسے فرانسیسی میں باتیں کیں۔

ایرو نے اپنی کتاب میں جو میڈرڈ میں شائع ہوئی تھی، ظاہر کیا ہے کہ جنت عدن میں بکائی زبان (شمالی ہسپانیہ کی) بولی جاتی ہے۔ ۱۵۸۰ءمیں گردپیس نے ایک کتاب لکھی کہ یہ سب غلط ہے، بہشت میں تو ڈچ زبان بولی جاتی ہے۔

اب جغرافیہ کو لیجیے کہ اس میں کیا کیا گل کھلائے گئے، چھٹی صدی میں ایک راہب نے جس کا نام کاسماس تھا، ایک کتاب ہیئت و جغرافیہ کی ملی جلی لکھی اور ظاہر کیا کہ بائبل میں جو کچھ پایا جاتا ہے وہی بالکل صحیح ہے یعنی دنیا مشتمل تھی ایک مسطح قطعٔہ زمین اور اس کے بعد دائرہ دار ٹکڑوں پر ، یہ قطعٔہ زمین چاروں طرف پانی سے بھرا ہوا تھا جسے سمندر کہتے ہیں اور پانی کے اس حصہ سے آگے ایک اور حلقہ خشکی کا تھا اور طوفان سے قبل یہیں انسانی آبادی پائی جاتی تھی۔ یہیں ایک بلند پہاڑ تھا جس کے گرد سورج چاند طواف کرتے تھے اور جب سورج اس پہاڑ کے پیچھے چلا جاتا تھا تو رات ہوجاتی تھی اور سامنے آجاتا تو دن ہوجاتا تھا۔ اس راہب نے یہ بھی بتلایا کہ بیرونی دائرہ خشکی کے کنارہ سے آسمان بندھا ہوا تھا اور وہ کسی ٹھوس چیز کا بنا ہوا تھا، اور زمین کو ایک کڑھائی کی طرح ڈھکے ہوئے تھا۔
ان بیانات کے ساتھ ہی اس کا بھی اہتمام تھا کہ بائبل میں کائنات کے متعلق یہ لکھا ہے کہ اس کے خلاف کوئی شخص کچھ نہ کہے نہ سمجھے ورنہ وہ کافر و بے دین قرار دیا جائے گا۔

علم کے خلاف مذہب کی اس جنگ کا یہ حال تھا کہ لکھنا پڑھنا ممنوع تھا اور جو کوئی ایسا کرتا تھا، اسے طرح طرح کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ اگر کسی کے منھ سے نکل گیا کہ زمین ایک کرہ ہے تو اسے پکڑ کرجلادیا گیا۔ اگر کسی نے دعویٰ کیا کہ آفتاب نظام شمسی کا مرکز ہے تو اسے جلاوطن کردیا گیا۔ ایک عورت کو صرف اس لیے سولی پر چڑھا دیا کہ وہ بخار کی تکلیف کو گا گا کر کم کررہی تھی۔
مگر چونکہ یہ عقیدہ عام تھا کہ انسان اپنی روح کا مالک نہیں ہے، اس لیے ساتھ ہی ساتھ یہ خیال بھی مرتسم ہوگیا کہ وہ اپنے جسم کا بھی مالک نہیں ہے اور اس طرح غلامی کی بنیاد قائم ہوئی۔ پھر جنھوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے، ان سے مخفی نہیں کہ یونان و رومہ، فرانس وجرمنی وغیرہ میں غلامی کے کتنے وسیع و مہیب ادارے قائم تھے اور انسانوں کو جانور بنانے میں انھوں نے کتنا بڑا حصہ لیا۔

الغرض مذہب کے تاریک دور میں انسان کو جسم و ذہن دونوں انتہائی ذلیل غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور انسانیت کا مستقبل سخت تاریکی میں مبتلا تھا، لیکن چونکہ حقیقت و صداقت کو عرصہ تک دبایا نہیں جا سکتا اور فراست انسانی وہ چنگاری نہیں جو کسی نہ کسی وقت بھڑک نہ اٹھے؛ اس لیے رفتہ رفتہ ایک زمانہ آیا کہ علم کی روشنی پھیلی۔ مذہب نے اس کے لیے جگہ چھوڑی اور اس طرح انسانیت جو ہزاروں سال سے وحشت و درندگی کے بوجھ کے نیچے پڑی کراہ رہی تھی، آزاد ہوئی۔ پرانے جغرافیے بدلے، تاریخ بدلی، معتقدات بدلے اور آخر کار انسان مذہب کی گرفت سے چھٹ کر آزاد ہوگیا۔ علم وفن کسی کی ملکیت نہ رہا۔ سوچنے سمجھنے کا ہر شخص کو مجاز ہوگیا۔ غور و تدبر ہر شخص کا فطری حق قرار پایا۔ اختراعات و ایجادات کا دروازہ کھل گیا۔ آزادی فکر و رائے کے لیے کوئی مانع حائل نہ رہا اور انسان کو اس طرح سب سے پہلے ترک مذہب ہی کے بعد معلوم ہوا کہ وہ خلیفتہ اللہ فی الارض ہے۔

ترقی کا مفہوم کیا ہے، اس سوال کا مطالعہ آپ مذہبی نقطۂ نظر سے بھی کیجیے اور مذہب سے علیحدہ ہو کر بھی؛ آپ کو بالکل دو مختلف جواب ملیں گے۔ مذہب کے نزدیک ترقی کا مفہوم اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے جہاں دنیاوی افعال و اعمال کے نتائج سے واسطہ پڑے گا اور عمل کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے۔ پھر کیا یہ امر حیرت ناک نہیں کہ جس عالم کے کردار سے مذہب نے جزا و سزا کو متعلق بتایا ہے، اسی کو اندھوں کی طرح بسر کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

اب ذرا مذہب کی پابندیوں سے ہٹ کر انسانیت کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں کتنی وسعت ہے، جدوجہد کا کتنا پھیلاؤ ہے اور اس کے مقاصد کتنے بلند ہیں، سب سے بڑی چیز جس پر انسان فخر کرسکتا ہے، وسعت نظر ہے اور اس کا پتہ عالم اخلاق میں چل سکتا ہے۔ پھر دیکھیے کہ اخلاقی حیثیت کس کی زیادہ بلند ہے۔ ایک مذہب کاپابند، خواہ وہ کتنا ہی بلند نظریہ اخلاق کا رکھتا ہو، دوسرے مذاہب والے کو تحقیر و استحقاق کی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہے۔ یہ خیال کہ صرف میں راہ راست پر ہوں اور دوسرا گمراہ ہے، قدرتاً ایک شخص کے جذبٔہ تفوق کو پیدا کر کے دوسرے کو حقیر و ذلیل ٹھہرائے گا اور یہی وہ ایک جذبہ تھا جو ہمیشہ دنیا میں فساد و خوں ریزی کا باعث ہوا۔
یوں تو مذہب نے ہمیشہ یہی دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا میں امن و سکون پھیلانے آیا ہے لیکن عمل سے وہ اس دعویٰ کو کبھی صحیح ثابت نہ کرسکا اور اس لیے اگر واقعی ترقی کی راہوں پر غور کرنا ہے تو مذہب سے علیحدہ ہو کر غور کرنا چاہیے اور انسانیت کے کلی مفہوم کو سامنے رکھ کر شاہراہ عمل متعین کرنا چاہیے۔

Categories
نان فکشن

عالمی مذاہب میں تصوف کے رجحانات

روحانیت کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی مذہب کی تاریخ ہے۔ روحانیت کی کوئی حتمی اور متعین تعریف کرنا تو بہت مشکل ہے مگر عام طور پر اس سے مراد مقدس ہستیوں یا تصورات سے وابستگی،عقل اور حواس سے ماوریٰ روحانی تجربات و مشاہدات، مراقبہ، ترک دنیا، زہد و ریاضت اور ضبط نفس پر مبنی زندگی رہی ہے۔ زمانہ قدیم میں روحانیت مذہب اور تصوف کے ملاپ سے وجود میں آتی تھی۔ یہودیت، مسیحیت اور اسلام جیسے آسمانی مذاہب کے علاوہ ہندو مت، بدھ مت اور جین مت جیسے مذاہب میں اس ملاپ سے پیدا ہونے والی روحانیت کی اساس بہت مضبوط رہی ہیں۔ ان مذاہب کے روحانی لوگوں کی مشترکہ اقدار وہی ہوتی تھیں جو اوپر بیان ہوئی ہیں، البتہ اپنے اپنے مذاہب کے زیر اثر مقدس شخصیات، زہد و عبادت کے طریقے اور روحانی تجربات کی نوعیت میں کچھ تبدیلی ہوتی رہتی تھی۔مگر ہر ایک کا مقصود مذہب کے قانونی پہلووں اور ظاہری مراسم سے بلند ہو کر اپنی ذات میں ڈوب کر دل کا سکون تلاش کرنا ہوتا تھا۔تاہم دور جدید میں جب مذہب اور عقیدے کو انسان کی زندگی میں مرکزی مقام حاصل نہیں رہا ہے، روحانیت کی ایک نئی قسم عام ہو چکی ہے جسے غیر مذہبی روحانیت یا Non-Religious Spiritualityکہا جاتا ہے۔ ایک پہلو سے یہ دور جدید کے انسان کا نیا مذہب ہے جو مذہبی عقیدے، ظاہری شناخت، مراسم عبودیت سے ہٹ کر انسانیت کی اعلی اقدار جیسے محبت، ہمدردی، رہم، در گز ر اور باطنی اور ظاہری پہلووں سے انسان کو سکون اور آرام پہنچانے کا نام ہے۔ یہ رنگ و نسل سے بلند ہو کر کائناتی اور آفاقی انسانوں کی تشکیل پر مبنی مذہب ہے۔(1)

باہم رواداری اور مروت کے ساتھ زندہ رہو اور زندہ رہنے دو یہ زندگی کا قانون ہے، یہ سبق میں نے قرآن،انجیل، زند اوستا، اور گیتا سے سیکھا ہے۔(2)

مذہب کے لغوی معنی ہیں راہ یا راستہ جس کو دوسرے لفظوں میں مشرب، طریق، نظریہ اور دین بھی کہا جاتا ہے۔ جب ہم عالمی مذاہب کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں زندگی جینے کے وہ طریقے جو ایک خاص نظریہ کے تحت ہم کو سکھائے گئے ان کا اجتمائی تصور۔عالمی مذاہب میں عام طور پر ہم صرف ایسے چند ایک مشارب کو ہی شمار کرتے ہیں،کیوں کہ پوری دنیا میں عقائد و نظر یات کی جتنی بہتات ہے اس کے پیش نظر اگر دنیا بھر کے مذاہب کا شمار عالمی مذاہب کی فہرست میں کیا جانے لگے تو یہ سلسلہ بہت طول پکڑ جائے گا۔ ان چند ایک میں عام طور سے عیسائیت، اسلام، ہندو ازم، یہودیت، بدھ مت اور جین مت وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے بالمقابل یہاں اس بات کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ دنیا جہاں میں پائے جانے والے ان عظیم مذاہب کے علاوہ مشارب کو ماننے والوں کی بھی کچھ کمی نہیں ہے۔ امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں ہی ایسے سیکڑوں نظریات و عقائد ہیں جن کو مختلف مقامات پر عوام الناس میں کافی مقبولیت نصیب ہے۔ ان چند ایک مذاہب جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ان کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ وہ مذاہب ہیں جن سے دنیا بھر کے مذاہب کے عقائد کسی نہ کسی طور جڑے ہوئے ہیں، ساتھ ہی یہ تمام مذاہب اتنےقدیم ہیں کہ ان کی رسومات و رورایات سے دنیا کے مختلف مذاہب نے اکتساب فیض کیا ہے۔ ہندو دھرم، یہودیت اور عیسائیت ان مذاہب کی جڑین دنیا کی قدیم تہذیبوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ہندو دھر کی بعض روایات جن میں مورتی پوجا، تصور بھگوان اور مختلف طاقتوں کے Supreme ہونے کا نظریہ وغیرہ اتنے قدیم ہیں کہ مصر، بابل و نینوا وغیرہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات کسی طور نہیں کہی جا سکتی کہ Egyptian یا Mesopotamianمذاہب نے ہندو دھرم سے کسی طور استفادہ کیا تھا، یہ تصور اس لئے خام ہے کیوں کہ متذکرہ بالا دونوں علاقوں کی مذہبی تاریخ ہندو دھرم سے قدیم ہے، لہذا اس جملے کے معنی یہ ہیں کہ ہندو دھرم میں ان قدیم مذاہب کی رسومات و روایات کی وہ جھلکیاں اب تک محفوظ ہیں جو اب یکسر معدوم ہو چکی ہیں۔ اسی طرح یہودیت اور عیسائیت کا معاملہ ہے کہ اسلام جیسے عظیم مذہب کی تعلیمات ان سے مشتق ہیں۔ یہ اور اسی نوع کی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ان مذاہب کو عالمی مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے۔

دنیا بھر کے مذاہب میں تصوف یا صوفی ازم کے رجحان کی بات کرنے سے قبل یہ بات بھی جان لینا اشد ضروری ہے کہ آخر کار تصوف سے ہم یہاں کیا کچھ مراد لے رہے ہیں۔ یہ لفظ تصوف جیسے انگریزی میں mysticismیا spiritualism کہتے ہیں اپنے آپ میں اتنا متنازعہ ہے کہ اس کے یک رخی معنی پر اکتفا کر لینا اس کے وسعت کی تحدید کر دینے کے مترادف ہے۔ یہ لفظ یک مذہبی اور یک نظری نہ ہوتے ہوئے کثیر مذہبی اور کثیر مشربی ہے۔ لہذا اس کی تعریف بھی وسعت نظر کی متقاضی ہے۔ اس لفظ کے متعلق کسی ایک مذہب کے ایسے کسی بھی ماننے والے کی کوئی تعریف قابل قبول نہیں ہو سکتی جو اپنے مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کی تعلیمات کو قدر و منزل کی نگاہ سے نہ دیکھتا ہو۔ پھر خواہ وہ اپنے مذہب کی تعلیمات میں کتنا ہی زیادہ ماہر کیوں نہ ہو۔ اس کی تعریف اس مذہب کے ماننے والوں کے لئے تو قابل قبول ہو سکتی ہے،پر بین المذاہبی سطح پر اس کو کچھ خاص اہمیت حاصل نہیں ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کے چند علما کا یہ خیال ہے کہ”شریعت محمدی ہی طریقہ تصوف ہے۔ “لہذا اس کو ماننے میں کوئی عذر نہیں پر یہ صرف مسلمانوں کی جماعت کے لئے قابل قبول ہو سکتا ہے نہ کہ عالمی مذاہب میں اس کی قبولیت کو وہ درجہ حاصل ہوگا جو امت مسلمہ کے مابین حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے بر عکس تصوف کی یہ تعریف ملاحظہ کریں :

اقوام عالم کے صوفیانہ ادب اور صوفیوں کے اقوال کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ اپنی ماہئیت کے اعتبار سے تصوف اس اشتیاق کا نام ہے جو ایک صوفی کے دل و دماغ میں خدا سے ملنے کے لئے اس شدت کے ساتھ موجزن ہوتا ہے کہ اس کی پوری عقلی اور جذباتی زندگی پر غالب آ جاتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صوفی اسی (خدا) کو اپنا مقصود حیات بنا لیتا ہے، گفتگو کرتا ہے تو اسی کی، خیال کرتا ہے تو اسی کا، یاد کر تا ہے تو اسی کو، کلمہ پڑھتا ہے تو اسی کا، شفق کی سر خی میں، دریا کی روانی میں، پھولوں کی مہک میں، بلبل کی آواز میں، تاروں کی چمک میں، صحرا کی وسعت میں، باغ کی شادابی میں غرض کے تمام مظاہر فطرت اور مناظر قدر میں اسے خدا ہی کا جلوہ نظر آتا ہے۔ (3)

یہ تعریف ایسی ہے جس کو ایک حد تک تمام وہ مذاہب جن میں خدا کا ایک واضح تصور پایا جا تا ہے ان میں قبول عام حاصل ہو سکتی ہے۔لہذا ایسی ہی تعریفات کو عالمی مذاہب میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حالاں کہ تصوف صرف خدا کا اثبات، پندو نصاح، اخلاق و کردار اور خدمت خلق نہیں ہے بلکہ اس کو ایک ایسا لازمہ زندگی قرار دیا جا سکتا ہے جس میں ان تمام امور کو ایک خاص طریقہ حیات کے تحت قبولیت نصیب ہوتی ہے۔ اس لئے تصوف صرف ان میں سے کچھ ایک ہونے کے بجائے ان تمام افعال کا آمیزہ قرار دیا جا سکتا ہے جس کی بنیاد اخلاص پر استوار ہے۔

تصوف کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے اثرات نہایت قدیم ہیں۔ یونانیوں کے یہاں تصوف کا رجحان موجود تھا اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ انگریزی لفظ Mysticismیونانی زبان سے ہی آیا ہے۔ اس کا تذکرہ ڈاکٹر ہریندر چند ر پول نے اپنی کتاب Jalal-ul-deen Roomi and Tasawwufکے Sufism and its Exponentsکے باب کی ابتدا میں کیا ہے۔وہ تصوف کی تعریف بیان کرتے ہوئےpsychology of religious mysticismکے حوالے سے لکھتے ہیں :

The term ‘mysticism’ comes from Greek word which designated those who had been initiated into the esoteric rite of the Greek religion. The following definitions, selected from a large number of the same tenor, indicate that this use of the term is in substantial agreement with the generally accepted understanding of it in Protestantism: ‘Mysticism is deification of man’: it is ‘a merging of the individual with the Universal will’; ‘a consciousness of immediate relation with the Divine’: and an intuitive certainty of contact with the super sensual world’: etc.(4)

باطنیت اور روحانیت سے متعلق نظریات کی ایک لمبی تاریخ ہے،جس زمانے میں یونانی روحانیت کے مختلف النوع نظریات کی اخترا ع کر رہے تھے اس عہد میں مصری تصوف اور چینی تصوف کی جڑیں تقریبان مضبوط ہو چکی تھیں اور بعد کے عہد میں ہندوستان، روم اور عرب میں بھی اس کے اثرات مختلف انداز میں مرتب ہوئے۔ الہیات سے متعلق جتنے نظر یات قدیم دنیا میں پائے جاتے ہیں ان سب میں اگرکوئی ایک مشترک پہلو نظر آتا ہے تو وہ تصوف اور احسان ہی ہے۔ ورنہ ان تمام مذاہب کی رسومات ایک دوسرے سے یکسر جدا ہیں۔بقول پروفیسریوسف سلیم چشتی :

ہر مذہب ہر قوم، ہر ملک اور ہر دور کا تصوف کا طریقہ کار ایک ہی رہا ہے۔یعنی عشق،اگر خدا محبوب ہے اور انسان محب ہے تو لا محالہ محبوب کے حصول کا طریقہ محبت (عشق) ہی قرار پا سکتا ہے۔ دوسرا کوئی طریقہ نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ (الخ)۔ تصوف کے اصول اور مبادی ہر قوم میں یکساں رہے ہیں۔ ہر صوفی در اصل عاشق ہوتا ہے اس لئے ہر قوم اور ہر ملک کے تصوف کا دار و مدار عشق و محبت ہی پر ہے۔ فرق جو کچھ نظر آتا ہے وہ صرف ظاہری اوضاع و روسوم میں ہے۔ مثلا ً جب عید کے دن کسی شہر کے مسلمان عید گاہ کی طرف جاتے ہیں تو ایک آدمی پیدل عید گاہ جاتا ہے تو دوسرا بیل گاڑی میں،تیسرافٹن میں، چوتھا موٹر میں۔ ان کی وضع ظاہری اور رفتار میں تو فرق نظر آتا ہے مگر منزل مقصود چاروں کی ایک ہی ہے اور جذبہ محرکہ (داعیہ باطنی )ایک ہی ہے۔ (5)

یہاں یہ دو بنیادی سوال قائم ہوتے ہیں کہ آخر یہ عشق کیا ہے ؟ اور ظاہری اوضاع سے عالمی مذاہب کے تناظر میں کیا کچھ مراد لیا جا سکتا ہے۔ اول الذکر کے تعلق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عشق سے مراد یہاں دنیا اور مالک دنیا سے ہر طرح کی وابستگی عشق کے مترادف ہے۔ خدمت خلق میں خود کو اس حد تک وقف کر دینا کہ کسی نوع کے اختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے اور راہ خدا میں اتنا مگن ہو جانا کہ راہوں کی تفریق کا خیال مٹ جائے یہ دو نوں باتیں عشق کے ذیل میں آتی ہیں۔ ظاہری اوضاع سے مراد وہ تمام ثقافتی علامتیں ہیں جو انسانی تاریخ نے کسی ایک مذہب سے وابستہ کر دی ہیں، جن میں رہنے سہنے، اوڑھنے، پہننے، کھانے پینے اور عبادت کرنے کے طریقوں وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں تصوف کے تناظر میں ایسا کوئی اصول نہیں جس سے عشق کے تقاضوں کی تحدید کی جا سکے۔ خدا اور بندہ خدا سے محبت ایک ایسا لازمہ ہے جس پر ایک صوفی کا مشرب قائم ہوتا ہے، لہذا کفر و ایمان کی کوئی بحث اپنے،( جوکہ ہر معاشرے میں اپنے معروف معنوں کے ساتھ رائج ہے) اس کا یہاں کچھ گزر نہیں۔

عالمی مذاہب میں تصوف کی بحث کے تحت ایک سب سے بڑا مسئلہ مقدس کتابوں کے اثبات کا ہے کہ مختلف مذاہب کی جو مقدس کتابیں پوری دنیا کے مختلف النوع مذاہب کے ماننے والوں کے پاس موجود ہیں ان کی حقیقت کو کیوں کر تسلیم کیا جائے۔ ایک صوفی کا یہ تشخص ہے کہ وہ مذہب سے متعلق تمام آسمانی کتب کا اعتراف کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کسی ایک مذہب کو ماننا یہ عدم صوفی ہونے کی علامت نہیں ہے،بلکہ کسی بھی مذہب کا انکار کرنا غیر صوفی ہونے کی نشانی ہے۔ مرزا مظہر جان جاناں نے اپنے ایک خط میں ہندو مذہب کی تعلیمات کا جس طور اثبات کیا ہے اس سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔ بہر کیف عالمی مذاہب میں ایسے بہت سے رجحانات ہے جو تصوف کی سطح پر آ کر ایک ایسا نظام زندگی مرتب کرتے ہیں جہاں دوئی کے جھگڑے کی یکسر تکذیب ہوتی ہے۔میں یہاں چند ایک مقدس کتابوں کے حوالے سے مختلف مذاہب کی تعلیمات کی ایک جھلک پیش کر رہی ہوں، جس سے عالمی مذاہب میں تصوف کے رجحانات کا علم ہوتا ہے کہ کس طرح تصوف کے علمی اور عملی کردار سے کئی ایک پیمانوں پر الگ الگ مذاہب کے ماننے والے ایک سطح پر نظر آتے ہیں۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی کرتی چلوں کہ دنیا بھر کے مذاہب کو عام طور پر دو خانوں میں بانٹا جاتا ہے۔ایک سامی مذاہب اور دوسرا غیر سامی مذاہب۔ سامی مذاہب میں یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا شمار ہوتا ہے اور غیر سامی مذاہب میں ہندو دھرم، زرتشتیت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت وغیرہ شامل ہیں۔

غیر سامی مذاہب :

یہ بات اظہر من شمس ہے کہ ہندو دھرم کی مقدس کتابوں میں وید کو بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس مذہب کی بنیادیں ویدوں کی تعلیمات پر ہی استوار ہیں۔ ہر وید کو ہندودھرم کے بڑے گیانیوں، پنڈتوں اور اچاریوں نے بنیادی طور پر تین خانوں میں بانٹا ہے۔ جس کا سب سے آخری حصہ اپنشد کہلاتا ہے۔ اپنشد کو ہندوستان کے قدیم تعلیمی نظام کا ایک بڑا ماخذبھی تصور کیا جاتا ہے، لہذا اس کی تعلیمات سے کوئی وہ شخص صرف نظر نہیں کر سکتا جو قدیم ہندوستانی تاریخ کے مطالعے کا ذوق رکھتا ہو۔ اپنشدوں میں تصوف کی تعلیمات بھری پڑی ہیں، اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ یہ اپنشد جس عہد میں ہندوستان میں رقم کئے گئے اس زمانے میں یہاں مذہبی تعلیمات کا بڑا زور تھا اور تصوف چونکہ رواداری اور انکساری کے ساتھ فروغ دین کا کام انجام دیتا ہے اس لئے اس طریق کو گیانیوں، پنڈتوں اور ناتھ پنتھیوں نے ہمیشہ سے بہت اہمیت دی ہے۔ اپنشدوں میں ویسے توبہت سی اور مختلف النوع تعلیمات تصوف ملتی ہیں، لیکن سب سے زیادہ جس قسم کی تعلیمات کا زور اس میں نظر آتا ہے وہ بے ثباتی دہر کی تعلیم ہے۔ دنیا اور آخرت کی تعلیم کا بہت واضح تصور اس میں پیش کیا گیا ہے اور تصوف کی خاص اصطلاحات کے ذریعہ عوام الناس میں تصور تارک الدنیا کو عام کیا گیا ہے۔ لیکن اس کی ایک خاص بات یہ بھی نظر آتی ہے کہ تارک الدنیا ہونے سےاپنشد نے جو مراد لیا ہے وہ اس قوم کے مترادف ہے کہ ” دنیا ایسے کماو کہ ہاتھ تک آئے دل تک نہ پہنچے۔” لہذا اس کی تعلیمات اس حوالے اور زیادہ قابل قبول گردانی گئیں۔ اپنشدوں کو مسلم صوفیہ نے بھی بہت قدر و منزل کی نگاہ سے دیکھا،اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ ارونگ زیب کے بڑے بھائی داراشکوہ جنہوں مغل دور حکومت کے عہد عروج میں تصوف کے کار ہائے نمایاں انجام دئے اور سیر الاولیا جیسی تصوف کی معرکۃ آرا کتاب تصنیف کی، انہوں نے 56اپنشدوں کا اس عہد میں فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور اس کی تعلیمات کا اثبات کرتے ہوئے اس کی ہر حوالے سے تشہیر کی۔ بہر کیف یہاں میں اپنشدوں کی انہی تعلیمات تصوف میں سےچند ایک کو یہاں پیش کر رہی ہوں، جس سےاپنشدوں کی تعلیمات کے صوفیانہ مزاج کا علم ہوتا ہے۔

اپنشدوں کی صوفیانہ تعلیمات:

1۔ دنیا میں رہو مگر اس سے دل مت لگاو۔ ویرا گ (تبتل یا انقطاع عن ماسو ی اللہ) بہترین طرز حیات ہے۔
2۔ دنیا کی نعمتوں سے تمتع جائز ہے۔ مگر انہیں مقصود حیات بنانا نا جائز ہے، کیوں کہ جو شخص فانی چیزوں سے دل لگاتا ہے وہ خود بھی فنا ہو جاتا ہے۔

3۔ انسان کے حقیقی دشمن باہر نہیں ہیں،بلکہ اندر ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں۔
• کام (شہوت)
• کرودھ (غضب)
• موہ (حرص)
• لوبھ (طمع)
• اہنکار(عجب)
4۔ جب تک ان دشمنوں (اور نفس امارہ انہیں کے مجموعے کا نام ہے۔) کو مغلوب نہیں کرو گے۔ عرفان (برہم گیان ) حاصل نہیں ہو سکتا۔
5۔ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو اس میں یہ چار صفات پیدا ہو جاتی ہے۔
• اطمنان
• ہمت
• طاعت
• خدمت خلق
پھر وہ دسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے جیتا ہے۔
6۔ ایشور صرف انہیں کو در شن دیتا ہے جو اس کے دیدار کے لئے بیتاب ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لئے سراپا جستجو ہوں۔ اس کو پانے کی شرائط حسب ذیل ہیں :
• دم (ضبط نفس)
• دان (ایثار)
• دیا (شفقت)
• جاپ(ذکر)
• تپ(مجاہدہ)
• دھیان (مراقبہ)

7۔ فانی سے دل لگانا سب سے بڑی نادانی ہے۔
8۔ حق تعالی متحرک بھی ہے، غیر متحرک بھی ہے۔ چلتا بھی ہے، ساکن بھی ہے، دور بھی ہے، قریب بھی ہے۔ اندر بھی ہے باہر بھی ہے۔(6)

اپنشدو کی مانند ہندو دھرم میں شری مد بھگوت گیتا کو بھی بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ کتاب بھگوان کرشن کے ان احکامات پر مبنی ہے جو انہوں نے ارجن کو دیئے تھے۔ اس میں کل اٹھارہ ادھیائے ہیں اور ان اٹھارہ ادھیاوں میں بھگوان کرشن نے ارجن کو حق و باطل کی جو تعلم دی ہے اس سے تصوف کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ حالاں کہ گیتا ہندو دھرم کی آسمانی کتاب کبھی تصور نہیں گئی اور ویدوں کی طرح ہندودھر کے اعلی تعلیم یافتہ طبقے میں اسے وہ مقام نہیں حاصل جو اپنشدوں کا حاصل ہے، پر یہ کتاب ویدوں سے کہیں زیادہ عوام و خواص میں مقبول رہی ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ البیرونی نے آج سے ایک ہزار برس پہلے جب ہندوستان کا سفر کیا تھا اور اس سفر کی داستان کتاب الہند کے نام سے لکھی تھی تو اس میں انہوں نے گیتا کے حوالے سے یہ جملے رقم کئے تھے کہ” یہاں کے باشندے ایک کتاب کو بہت زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ان کی مذہبی مقدس کتب میں شمار ہوتی ہے اور اس کتاب کا نام گیتا ہے۔ ” گیتا میری ناقص رائے میں تصوف کی بہت اہم کتاب متصور کی جا سکتی ہے، اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اس میں زندگی کو جس طرح جینے اور اس کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کا سبق دیا گیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ کرشن ایک مرشد کامل کی مانند اپنے مرید کو راہ سلوک کی منازل طے کرنے کا طریق سکھا رہے ہیں۔ اس میں اتنا زیادہ تصوف ہے کہ اس کے کسی ایک ادھیائے کے ایک اقتباس پیش کرنے سے اس کی مکمل عکاسی ممکن نہیں،بہر کیف میں یہاں اس کے دو، ایک اقتباس پیش کر رہی ہوں تاکہ ان تعلیمات کی ایک جھلک نظر آ جائے۔
شری مد بھگوت گیتا میں تصوف:

o بھگوت گیتا جو کہ برہم ودیا یعنی فلسفہ بھی ہے اور یوگ شاستر یونی تصوف بھی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ انسان اس تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔ خدا تک پہنچے کے تین راستے بتائے ہیں :
• جنان مارگ (طریق علم )
• بھگتی مارگ (طرق عشق )
• کرم مارگ (طریق عمل )۔ (الخ)

o گیتا میں ویدانتی تصوف کے تمام اسرار و رموز بالوضاحت بیان کر دئے گئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:
خدا کو اپنا مقصود بناو۔

• اس سے محبت کرو تاکہ اسے حاصل کر سکو۔
• خدا اپنے عاشقوں کے دلوں میں رہتا ہے۔
• جو اسے چاہتا ہے وہ اسے ضرور درشن دیتا ہے۔
• ساری زندگی اس کے لئے بسر کرو۔
• نیک اعمال بجا لاو، مگر نیت یہ ہو کہ خدا مجھ سے خوش ہو۔
• سب انسانوں سے محبت کرو۔
• یہ دنیا خدا کی جلوہ گاہ ہے۔ ہر شئے مظہر خدا ہے۔
یہی تصوف کی روح اور یہ ہی گیتا کا اپدیش ہے۔(7)

گوتم بدھ ایک صوفی تھے۔ ایک کامل صوفی۔ جنہوں نے پوری زندگی زہد و تقوی اور عبادت و ریاضت میں گزار دی۔ حالاں کہ ان کے نام سے ساتھ لفظ صوفی استعمال کرنے پر کافی متبازعہ ہوا ہے۔ لیکن اگر ہم بدھ مت کی تعلیمات اور گوتھ بدھ کی زندگی حالات و واقعات کا مطالعہ کریں تو علم ہوتا ہے کہ ان کے لئے لفظ صوفی سے زیادہ بہتر کوئی لفظ نہیں۔ نروان اور ترک دنیا کی تعلیمات جس عہد میں انہوں عام کی اس عہد میں عوا م میں اس کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا۔ صوفی تعلیمات میں بعد کے عہد میں جو کچھ تصرفات ہوئے ان میں گوتم بدھ کی تعلیمات کا خاصہ حصہ پایا جاتا ہے۔ گوتم بدھ کی تیس سالہ زندگی چونکہ عام انسانی زندگی ہے اور بچپن سے لے کر عنفوان شباب تک کے حالات کچھ بہت زیادہ متاثر کن نہیں ہیں۔پھر بھی تیس سال کی عمر کے بعد ان کی ذہنی بیداری کو محسوس کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ جس عہد میں پیدا ہوئے تھے، اس عہد کی ایک مشہور بزرگ ہستی نے ان کو دیکھتے ہوئے اس بات کا افسوس ظاہر کیا تھا کہ ان کی پیغمبرانہ اور صوفیانہ تعلیمات سے دنیا بیدار ہوگی لیکن میں اس کو دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہوں گا۔ گوتم بدھ کی ذات واحد ایک صوفی نما ہوتے ہوئے کسی کرامت کا مظاہرہ کرتی نظر نہیں آتی ہے۔ ان کی کرامت ان کی اپنی تعلیمات ہیں جس سےدنیا و آخرت کا ادراک حاصل ہوتا ہے۔ان کی صوفیانہ ذات کا اعتراف ان تعلیمات سے ہوتا ہے جو بدھ مت کی مذہبی کتب میں درج ہیں، لہذا اس سے تصوف کی قدامت اور بالا دستی کا احساس بھی قوی ہوتا ہے کہ دنیا کے کتنے عظیم رہ نماوں نے اس طریق کو اپنا کر اس دنیا میں امن و آتشی، انسان دوستی اور خدا ترسی کا سبق عام کیا۔میں یہاں ان کی صوفیانہ تعلیمات کا ایک نمونہ پیش کر رہی ہوں جس سے بدھ مت کی صوفیانہ مزاجی کا علم ہوتا ہے۔
گوتم بدھ کی صوفیانہ تعلیمات:

o اس شخص کی تنہائی کس قدر پر مسرت ہے جو مکمل خوشی ہے بہریاب ہے، جس کو حق کی معرفت حاصل ہو چکی ہے۔ جو حق کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ باعث مسرت ہے۔ بغض و نفرت چھٹکارا پا لینا اور تمام مخلوقات کے سلسلے میں ضبظ نفس کا حامل ہونا باعث خوشی ہے، نفس پروری سے رہائی حاصل کر لیانا، تمام خواہشات کے پار ہو جانا۔ اس تکبر کو “جو میں ہوں “کے تصور سے پیدا ہوتا ہے ایک طرف اٹھا کہ رکھ دینا یہ ہی اعلی ترین مسرت ہے۔

o میں نے تمام دشمنوں پر فتح پا لی ہے۔ میں دانا ترین ہر صورت میں عیب سے پاک ہوں۔ میں ہر چیز کو ترک کر چکا ہوں اور خواہشات کو فنا کر کے نجات حاصل کر چکا ہوں۔ خود اپنی کوشش سے معرفت حاصل کرنے کے بعد۔ اب میں کس کو اپنا استاد کہوں۔ کوئی میرا ہم پلہ انسانوں اور دیوتاوں میں کوئی میرا جنس نہیں۔ اس دنیا میں میں ہی مقدس ترین ہوں۔ میں ہی عظیم ترین استاد ہوں اور اکیلا میں ہی عارف مطلق ہوں۔ میں نے جذبات اور خواہشات کی آگ بجھا کر ٹھنڈک پا لی ہے اور نروان حاصل کر لیا ہے۔(8)

مدھ مت کی طرح جین مت میں بھی تصوف کی تعلیمات کے اثرات بڑے پیمانے پر دیکھنے کو ملتے ہیں :

جین مت میں چونکہ نجات کا دار و مدار کسی غیبی طاقت کے فیصلے یا دیوتاوں کی مر ضی کے بر خلاف سر تا سر انسان کے ذاتی سعی و کوشش پہ مبنی ہیں اس لئے اس مذہب میں ایک بہت تفصیلی لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف نوعیت کے قوانین، اصولوں اور ضابطوں کی متعدد فہرستیں ہیں جو جین مت کے مطابق ہر نجا ت خواہش مند کے لئے لازمی ہیں یہ اصول و ضوابط تعدا د میں اتنے زیادہ اور ہمہ گیر ہیں کہ فرد کی ذاتی و سماجی زندگی کا کوئی گوشہ ان کے دائرے سے باہر نہیں رہ گیا ہے۔ (9)
مندرجہ ذیل اقتباسات جین مت کی صوفیانہ تعلیمات پر مبنی ہیں۔ اس سے جین مت میں تصوف کس نوع سے اپنی شناخت قائم کر تا ہے اس کو بحسن و خوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
جین دھرم کی تعلیمات تصوف :

o نجات حاصل کرنے کے للائحہ عمل کو جین مت نے تین بڑے حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔جو جین مت میں تری رتن (جواہر ثلاثہ کہلاتے ہیں )۔ جین مت کے یہ جواہر ثلاثہ مندرجہ ذیل ہیں :
• سُمیک درشن (صحیح عقیدہ)
• سُمیک گیان(صحیح علم)
• سُمیک چرتر(صحیح عمل)

جین مت کی اخلاقی تعلیمات میں سب سے بنیادی اہمیت ان پانچ ورتوں (واحد : ورت)ہے۔ جن پر ہر جینی کو تا زندگی عمل کرنے کا عہد کرنا پڑتاہے اور وہ بنیادی عہد یہ ہیں :
• اہنسا (عدم تشدد)
• ستیہ (راست گفتاری)
• استیہ (چوری نہ کرنا)
• براہم چریہ(پاک بازی)
• اپری گرہ (دنیا سے بے رغبتی )۔(الخ)

o ان پانچ بنیادی عہدوں کے علاوہ جو کہ تمام جینیوں کے لئے لازم ہیں گرہست جینیوں کو سات مزید فروعی عہد کرنے ہوتے ہیں جوکہ جین مت کے تصور میں ان کو بنیادی عہدوں آنے جانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ فروعی عہد اس طرح ہیں :

• دگ ورت
• دیش ورت
• انرتھ ڈنڈ ورت
• سامائکا
• پردشادھو پادسا
• اپابھوگ، پری بھوگ،پری مان
• اتی سمو بھاگ

o مندرجہ بالا قوانین اور ان جیسے اور دوسرے اعمال کے علاوہ جو کہ جین مت میں گرہست جینیوں کی روحانی ترقی کے لئے تجویز کئے گئے ہیں۔ گرہست جینیوں کے روحانی ارتقا اور موکش سے ان کی درجہ بدرجہ قربت کو ایک اور اسکیم کے ذریعہ متعین کیا گیا ہے، جو کہ گیارہ پریتمائیں یا روحانی زندگی کے گیارہ مدارج کہلاتے ہیں۔ ان پریتماوں کے ذریعہ گرہست درجہ بدرجہ روحانی ترقی کرتا ہوا وہ ہی فوائد حاصل کر سکتا ہے جو کہ ایک جین سادھو کو اپنے سنیاس کے درجہ کمال میں حاصل ہوتے ہیں۔(10)

زرتشتیت کی مقدس کتاب اوستا مختلف طرح کی تحریرات میں پر مشتمل ہے۔ (الخ)۔ یہ امیشا اسپنٹا (نورانی ابدی ہستیاں )، وہومنا (نیک خیال)، آشا (راستی، الوہی قانون)، خشتر (سلطان الہی )، آرا میتی (عقیدت یا جذبہ الہی)ہور ویتات (کمال اور بے عیبی)، امیریتات (بقائے دوام )ہیں۔ دوسری طرف گاتھاوں میں انسان کے لئے برائی اور بھلائی میں انتخاب کی آزادی کے ساتھ ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا تصور بھی بہت پر زور طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔(11)

زرتشیت کی تعلیمات تصوف :

• وہی تجھ سے مل سکتے ہیں اے اہورا جو اپنے اعمال راستی اور نیک خیال کے الفاظ اور زبان کے ذریعہ جس کا کہ تو اولین رہ نما ہے اے مزد تیرے آقا ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔
• محنت کش انسان جس کا عمل انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔ جو دانائی اور روحانی حکمت سے بھرا ہوا لیکن خاک سار ہوتا ہے۔ جو بلند کردار پیغمبر کا وفا دار ہے، وہی چستی یعنی اپنی معرفت و حکمت کے سبب دنیا کا بادشاہ ہو جائے گا۔
• کائنات کی بنیادی حقیقت یہ دو ہیں۔ ایک خیر ایک شر کائنات کی حکومت ان دونوں میں تقسیم ہے اور دونوں ایک ازلی لڑائی میں مصروف ہیں۔ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ خدائے خیر کے ساتھ تعاون کریں جس کو بالآخر فتح ہونا ہے۔(12)

سامی مذاہب :

یہودیت، عیسائیت، اسلام اورتصوف :

یہودیت، عیسائیت اور اسلام ان تینوں مذاہب کی چونکہ اساس ایک ہے، اس لئے ان تینوں مذاہب کی صوفیانہ تعلیمات بھی تقریباً ایک جیسی ہیں۔ لیکن خالص مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے کہ چونکہ ان تینوں مذاہب کا شرعی نظام مختلف ہے اور اس کے ادوارمیں بھی خاصہ بعد ہے اس لئے تعلیمات تصوف میں بھی یک گنا تبدل نظر آتا ہے۔ اسلام میں تصوف کی روایت خود عہد محمد ﷺ سے ایک صدی بعد مستحکم ہونا شروع ہوئی لہذا عیسائیت اور یہودیت میں اس کی جڑیں ویسی کیوں کر نظر آ سکتی ہیں جیسا کہ بعد از اسلام کے تصوف میں نظر آتی ہیں۔ عیسا ئیت میں جس نوع کی صوفیانہ روایت پائی جاتی ہے اس سے ہمارے عہد کے بڑے محققین کو یہ گمان گزرا ہے کہ تصوف کی اصل مذہب عیسوی ہی ہے۔ لیکن یہ خیال خالص مستشرقین کا ہے، جبکہ اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی اور عیسائی تصوف میں شرعی بعد کی وجہ سے خاصہ فرق پایا جاتا ہے۔ بہر کیف یہ خالص علمی بحث ہے کہ دینے عیسوی میں علم لطائف اور اذکار وظائف، مراقبہ و مشاہدہ اور وجود باری تعالی کے وہ مباحث کیوں کر نظر نہیں آتے جو کہ اسلامی تصوف کے عروج کے بعد زیر بحث آئے۔ خود توحید کی جس بحث کو احمد بن روئم کے عہد میں چھیڑا گیا اور توحید کے نقطہ کمال تک تصوف کے کاملین نےاعلی نوع کے مباحث قائم کئے وہ عیسائیت کے کسی بھی دور میں نظر نہیں آتا۔ عیسائیت میں روح القدس کا تصور ایسا ہے جس کو عیسی ؑ کے ایک سو بچاس برس بعد زیر بحث لایا گیا اور اس پر ان عیسوی علما نے جم کے بحثیں کیں جن کو بعد از اسلام کے صوفیہ سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یوحنا کے ترتیب انجیل کے بعد ان مباحث میں مزید اضافہ ہوا۔ بہر کیف یہودیت کا معاملہ اس سے ذرا مختلف ہے۔ مثلا ً زبور اورعہد نامہ قدیم یا توریت کا ظہور جب ہوا اس زمانے میں توحید کے صوفیانہ مباحث کا رواج نہیں تھا۔ اسی طرح تصوف کے وہ زیادہ تر رجحانات اس عہد میں اس مقام پر مفقود تھے جہاں زبور یاتوریت نازل ہوئی۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اذکار و اودار کے پیش نظر زبورکی اچھی خاصی آیات کا مزاج قران سے میل کھاتا ہے۔ سورۃ فاتحہ جس کو اسلامی تصوف کو فروغ دینے والے عظیم صوفیہ نے بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا اور اذکار میں اس کی اہمیت کے بہت فضائل بیان کئے ہیں، اس قسم کی آیات زبور میں بھی نظر آتی ہیں۔ اس سے تصوف کا برائے راست یہ تعلق ہے کہ وہ ایک سالک کے لئے ان راست بازیوں کا سامان مہیا کرتا ہے جس سے سلوک کی منازل طے کرنے میں سالک کو معاونت حاصل ہوتی ہے۔ صراط المستقیم کی خواہش اور اس پر بنے رہنے کے توسط سے سورۃ فاتحہ میں جو کلمات موجود ہیں اس کی شرح سے بعض شارحین نے تصوف کے پورے نظام کا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے۔اس میں ایک صوفی کا ذکر نہیں کہ دمشق، روم، ایران، ایراق، اصفہان، شیراز، بخارا، بلخ، چشت، مازندان، عرب، آذر بائجان اور ہندوستان کے بعض قدیم صوفیا تک اس میں شمار ہوتے ہیں۔ میں زبور کی ایک دعا کو یہاں پیش کر رہی ہوں جس سے اس کا علم ہوتا ہے کہ قران اور زبور کی تعلیمات کا مزاج کتنا ملتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ سے مشابہ آیات کا نزول قبل از اسلام بھی ہوتا رہا جس سے یہودیت اور عیسائیت کے نظام معاشرت میں خدا ترسی، راست راہی، اخلاق اورامن وآتشی کی روایت قائم ہوئی۔
اے خدا میرا انصاف کر کیوں کہ میں راستی سے چلتا رہا ہوں۔

اور میں نے خداوند پر بے لغزش تو کل کیا ہے۔
اے خدا وند مجھے جانچ اور آزما۔
میرے دل و دماغ کو پرکھ۔
کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سا منے ہے۔
اور میں تیری سچائی کی راہ پر چلتا رہا ہوں۔
میں بیہودہ لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھا۔
میں ریا کاروں کے ساتھ کہیں نہیں جاوں گا۔
بد کرداروں کی جماعت سے مجھے نفرت ہے۔
میں شریروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔
میں بے گناہی میں اپنے ہاتھ دھووں گا۔
اور اے خداوند ! میں تیرے مذبح کا طواف کروں گا
تاکہ شکر گزاری کی آواز بلند کروں
اور تیرے سب عجیب کا موں کو بیان کروں۔
اے خداوند ! میں تیری سکونت گاہ
اور تیرے جلال کے خیمہ کو عزیز رکھتا ہوں۔
میری جان کو گنہگاروں کے ساتھ
اوری میری زندگی کو خونی آدمیوں کے ساتھ نہ ملا۔(13)

یہ وہ دعا ہے جس میں ایسی صوفیانہ بو قلمونی پائی جاتی ہے جس میں خلوص دل سے اپنے خدا سے وابستگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ حالاں کہ براہ راست تو ان دعاوں میں کوئی بڑی بات نظر نہیں آتی مگر علم الطائف اور اذکار و اوراد کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اصل اہمیت کیا ہے۔ ایک صوفی جس کی پوری زندگی علم ادراک میں صرف ہوتی ہے اور جس کو دیدار خدا وندی میں تگ ودو کرنا عرفان ذات سے عرفان خدا تک پہنچا سب سے زیادہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے وہ صفائے قلب کے لئے ان دعاوں کا کل وقتی ورد کرتے ہیں۔ یہودیت،عیسائیت اور اسلام کی عالمی سطح پر تصوف کے حوالے سے ایک سب سے الگ شناخت یہ بھی ہے کہ اس میں دعاوں کا ایک ایسا نظام ہے جو غیر سامی مباحث میں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کو ہم صوفیانہ ارتقا سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں مثلا قدیم غیر سامی مذاہب کی دعاوں سے اگر ہم یہود و نصاری کی دعاوں کا تقابل کریں تو اس کا علم ہمیں بخوبی ہو جا تا ہے۔ مثلا ً بابل و نینوا کی تہذیب کے قدیم مذاہب میں ایک دعا رائج تھی جو کہ دانت کے درد کی تھی۔ اس دعا کو ملاحظہ کیجیے:

انو نے سب نے پہلے آسمان پیدا کیا
تب آسمان نے زمین کو پیدا کیا
اور زمین نے دریاوں کو پیدا کیا
اور دریاوں نے نہروں کو پیدا کیا
اور نہروں نے دلدل کو پیدا کیا
اور دلدل نے کیڑوں کو پیدا کیا (14)

یہ انو بھگوان کے لئے ہے جو آسمان کا دیوتا تھا۔ اس دعا کو اس عہد میں کچھ بھی اہمیت حاصل رہی ہو پر اس کا اس عہد دانت کے درد سے کوئی وابستہ معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا کوئی منطقی جواز نظر آتا ہے، جبکہ زبور کی مندرجہ بالا دعا یا قران کی سورۃ فاتحہ ایسی دعائیں ہیں جن کا منطقی جواز ہزاروں سال سے موجود ہے اور جن کی منطقی تحلیل بھی بہت آسانی سے ہوتی نظر آتی ہے۔ اسی لئے سامی مذاہب کے صوفیہ کے اوراد و وظائف کو غیر سامی مذاہب کے ماننے والوں سے زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
عیسائیت اور اسلام تک آتے آتے تصوف کی تعلیمات بہت زیادہ واضح اور کثیر ہو تی نظر آتی ہیں۔عیسائی مذہب کی بنیادی کتاب بائبل ہے جبکہ مسلمانوں کا سر چشمہ مذہب قرآن ہے۔ بائبل کی تعلیمات سے تصوف کے جو سوتے تھوٹتے ہیں اس کے تعلق سے کچھ کہنے سے قبل میں یہ بتا دوں کہ بائبل جس کو اردو میں کلام مقدس کہا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے جس میں سے ایک کو عہد نامہ قدیم کہا جاتا ہے اور دوسرے کو عہد نامہ جدید، بائبل کوئی آسمانی لفظ نہیں ہے بلکہ یہ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہوتے ہیں مجموعہ کتب، اس کو اسی لئے بائبل کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ بنیادی طور پر کئی کتب کا مجموعہ ہے۔ اس میں عہد نامہ قدیم میں پروٹسٹنٹ کے نزد یک انتالیس کتابیں ہیں اور کیتھولک کے نزدیک جھیالیس کتابیں ہیں،ان میں بھی سات کتب ایسی ہیں جن پر پروٹسٹینٹ اور کیتھولکس میں یہ بحث ہے کہ یہ الہامی ہیں یا الحاقی۔اس کے بر عکس قرآن مکمل الہامی کتاب ہے جس میں تیس پارے ہیں اور اس میں کسی بھی نو ع یہ الہامی یا الحاقی بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔

اس مختصر سی معلومات کو یہاں درج کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تصوف کی جو تعلیمات بائبل کے حوالے سے ہم تک پہنچتی ہیں ان پر خواہ عالمی مذہبی الہام کے تناظر میں کسی طرح کی بحث ہو مگر قرآن میں احسان کا جو تصور ہے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا اور ایک خاص زمانی بعد کے لحاظ سے عیسائیت سے زیادہ احسان کا ایک واضح تصور یہاں نظر آتا ہے۔ عیسی ؑ کی زندگی اور ان کی تعلیمات میں ایثار و قر بانی کا جو رویہ نظر آتا ہے وہ تصوف کی بنیادی تعلیم ہے۔ یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ صوفی ازم کی بہت سے شقیں ایسی ہیں جن کو عیسائی مذہب سے جلا ملی ہے۔ ایک مشہور قول عیسی ؑ جس کی تشہر ہندوستان میں مہاتما گاندھی نے ایک عرصے تک کی وہ یہ ہے کہ” کوئی اگر تمہارے ایک گال پر تمانچہ مارے تو تم اس کے سامنے دوسرا گال پیش کر دو۔ “امن و آتشی، تحمل، عدم تشدد، ایثار اور خداترسی کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر دنیا کے کسی بھی مذہب میں ملنا مشکل ہے۔ تصوف کے جو توحیدی مباحث ہے، جن کو اسلامی تصوف نے بہت زیادہ عروج تک پہنچا یا اور وحدت الوجود اور وحدت شہود جیسے مباحث نے یہاں سر ابھارا، اگر ہم ان کو نظر انداز کر دیں تو عیسائیت کی اس نوع کی تعلیمات سے تصوف کو سب سے زیادہ قوی ہوتا پائیں گے۔ تصوف جس طرز اندگی کا نام ہے، اس طرز زندگی میں عیسوی Life style کو ایک مکمل اسلوب زندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ ان کی عدم تشدد کی تعلیمات ہیں۔ تصوف اگر عیسوی نقطہ نظر سے کہیں مجروح ہوتا دکھائی دیتا ہے تو وہ صر عیسائیت کا وہ نقطہ توحید ہے جو ایک مثلث کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ ذات باری تعالی، حضرت عیسی اور روح القدس کے تصور کو عالمی پیمانے پر جو مقبولیت حاصل ہے اس سے قطع نظر تصوف کا جو ایک توحیدی نظام ہے اور جو سن عیسوی کے بعد ایک نوع کی منطق کے تحت قابل قبول گردانا گیا، اس کے پیش نظر اس تثلیث نے عیسوی تعلیمات تصوف کو مجروح کیا۔

تصوف کے تناظر میں یہ کوئی اتنا غیر اہم مسئلہ نہیں کہ ایثار و قربانی تو زندگی کے ہر شعبہ میں بہت اہم رہی ہے اور جس طرح کی انسانی ترقی نے دنیا کے عظیم معرکوں کو فتح کیا ہے اس میں وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت جیسے صوفیانہ مباحث کو بہت قدر و منزل کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ بائبل کی وہ تعلیمات جن میں تصوف کے بنیادی مباحث کی جھلکیاں ملتی ہیں وہ اگر اقتباس اند اقتباس یہاں پیش کی جائیں تو ان کا ڈھیر لگ جائے گا۔ کیوں کہ عیسی ؑ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ نمونہ تصوف کی بازیافت کرتا نظر آتا ہے۔ لہذا تصوف کے حوالے عیسائی مذہب کا جو کمزور ترین پہلو ہے میں نے اس پر یہاں زور دینا زیادہ اہم سمجھا۔ اس کمزور پہلو کو نئے زمانی نظام کے تحت اسلامی تھیوری سے مزید تقویت اس طرح ملتی ہے کہ ہم توحید کے نقطہ عروج کی ایک جھلک اسلامی تصوف کے تناظر میں دیکھیں، لہذا میں یہاں اس نقطہ توحید کی ایک جھلک کے طور پر اسلامی تصوف سے متعلق ایک بڑے صوفی کا اقتباس پیش کر رہی ہوں، جس سے توحید کے نقطہ عروج کا علم ہوتا ہے۔

توحید کی تعریف:” توحید یہ ہے کہ جس نے توحید کے بارے میں کوئی تصور باندھا،مشاہدہ معانی کیا،علم الاسماء پر عبور حاصل کیا،اسماء الہیٰ کی اللہ کی طرف نسبت کی اور صفات کو اس سے منسوب کیا اس نے تو حید کی بو تک بھی نہیں سونکھی،مگر جس نے یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی اسے منفی کردیا وہی موحد ہے مگر رسمی طور پر حقیقتاًنہیں۔” (15)

اسلامی تصوف کی یہ ہی وہ خاصیت ہے جس علمی سطح سے بلند ہو کر تصوف علمی مباحث نے اتنا زیادہ عروج حاصل کیا کہ اس سے قبل اس تصور بھی کہیں نظر نہیں آتا تھا۔

اسلامی تصوف کی ابتدا تو رسول اکرم ﷺ سے ہی ہو جاتی ہے، لیکن اس کو مسلم صوفیانہ بنی کے بعد حضرت علی اور ابو بکر صدیق ان دو صحابہ کے حوالے سے زیادہ اعتبار بخشا ہے۔ ان دونوں صحابہ کی صوفیانہ تعلیمات اور طرز زندگی سے استفادہ کرتے ہوئے بعد کے صوفیہ نے اسلامی تصوف کا ایک پختہ لائحہ عمل ترتیب دیا۔ اسلام میں تصوف کی روایت حالاں کہ پندرہ سو سال پرانی ہے، لیکن پہلے صوفی کا اطلا ق ابوہاشم پر ہوتا ہے جو کہ 763 عیسوی میں فوت ہوئے۔ اسی طرح تصوف کی پہلی کتاب ابو نصر سراج علیہ رحمہ کی کتاب اللمع کہی جاتی ہے۔ اسلام میں تصوف کے کئی ایک سلاسل ہیں۔ جن میں قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ اور نقشبندیہ وغیرہ کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان تمام سلاسل کے صوفیہ نے تذکیہ نفس، تذکیہ باطن اور صفائے قلب کی تعلیم کو پوری زندی عام کیا۔امام جنید بغدادی، منصور حلاج، شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ بہاو الدین نقشبندی، خواجہ معین الدین چشتی، خواجہ نظام الدین اولیا، شیخ احمد سرہندی، عبدالحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ اور شاہ وارث علی وغیرہ چند ایک مشہور و معروف صوفیہ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی صوفیہ کی تعداد ہزاروں میں ہے جن سے دنیا بھر میں سلوک و معرفت کی تعلیمات عام ہوئی ہیں۔
اسلامی تصوف کیا ہے اس کی مثال سب سے بہتر انداز میں اس اقتباس سے سمجھ میں آ جاتی ہے کہ :

تصوف ابن آدم کی سرشت کا گراں مایہ راز سر بستہ ہے جس کا حصول مادیت اور ظاہری چکا چوند کو شکست دینے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی سائنس و فلسفہ نہیں ہے جس کی تعبیریں اور مفہوم زمانے نشیب و فراز کے ساتھ بدلتے رہیں۔ محسن انسانیت، انسان کامل محمد ﷺ کے عہد مباک میں بھی اس کی وہی تعریف جو آج ہے، وہ ایک مکمل طرز حیات اور نا قابل تردید حقیقت ہے، جس سے ہمارے قول و فعل کا تضاد ختم ہوتا ہے اور ہم جیسے ہوتے ہیں ویسے نظر آتے ہیں۔ وہ سراپا صدق و حقیقت اور سعی و عمل نیز سر تاپا جدوجہد ہے۔(16)

اسلامی تصوف کی اس سے بہتر کوئی تعریف ممکن نہیں۔ واقعتاً یہ انسانی زندگی میں فکر و عمل کے تضاد کو ختم کرنے کے لئے سب سے بہتر طرز عمل ہے۔ جس ہزاروں برس کی مسافت طے کرتا ہوا، اسلامی تعلیمات سے جلا پا کر اس صورت میں ڈھلا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی:
1۔ جدید روحانیت اور اجنبی اسلام، ابو یحیی،انظار ڈاٹ اورگ
2۔ ص: 13، مذہب اور دھرم، مہاتما گاندھی، انجمن ترقی اور، علی گڑھ
3۔ ص: 21، مقدمہ، تاریخ تصوف، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز
4.Psychology of religious mysticism (Ref by) P. 102, Harenrdchandr paul, Jalal-ud-deen Roomi and Tasawwuf, M.I.G Housing Estate.
5۔ ص: 29،مقدمہ، تاریخ تصوف، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز
6۔ ص:39، 40، 41، 46، اپنشدوں کی تعلیمات، تاریخ تصوف،پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز
7۔ ص:72، 77، 78، شری مد بھگوت گیتا میں تصوف،تاریخ تصوف،پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز
8۔ ص : 377، 378، بدھ مذہب کی مقدس کتابوں سے اقتباس،دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
9۔ ص: 132،اخلاقی تعلیمات، جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
10۔ ص: 136، 137، 138، اخلاقی تعلیمات، جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
11۔ ص: 383،زرتشتیت کی تعلیمات،جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
12۔ ص: 384، 385، زرتشتیت کی تعلیمات،جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
13۔ زبور، پہلی کتاب، داود کامزمور 26
14۔ ص: 109،سبط حسن، ماضی کے مزار،سہمت پبلیکشنز
15۔ ص: 108،احمد بن رویم،حیات و تعلیمات، العرفان پبلیکیشنز
16۔ ص: 21، موجودہ دور میں تصوف اور خانقاہوں کی ضرورت، پروفیسر مسعود انور علوی، اکیسویں صدی میں تصوف :عالمی بحران کے حل کی تلاش

Categories
نقطۂ نظر

اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ دوم

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

[/blockquote]

تبلیغی جماعت

 

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

میرے علمی و عقلی سفر کا اگلا مرحلہ دیوبندیت سے تعارف تھا۔ دیوبندیوں کی باتیں, ان کے دلائل بڑی حد تک درست معلوم ہو رہے تھے۔ دیوبندی ہوئے ہی تھے کہ تبلیغی جماعت والے ہمیں لے اڑے۔ ان کی سادہ نفسی اور عمل پر اصرار اچھا معلوم ہوا۔ تبلیغی جماعت نے دین داری پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، بہت سے لوگ، جو بڑے بڑے جرائم اور غلط کاموں میں پڑے ہوئے تھے، جن سے دین کی بات کرنا تک کسی کو گوارا نہ تھا، تبلیغی جماعت کی کاوشوں سے تائب ہو کر دین دار ہوئے۔

 

لیکن دوسری طرف، تبلیغی جماعت میں زہد نما رہبانیت اور علم سے بیزاری کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ ان کے ہاں علم سے ایک کِد سی پائی پائی جاتی ہے۔ کوئی عالم تبلیغی بھی ہو جائے تو آسانی سے اس کو معتبر تبلیغی نہیں سمجھتے۔ علما کے لیے وقت بھی زیادہ لگانا تجویز کر رکھا ہے۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں تو جواب ملا کہ علما کا علم ان کا حجاب ہے، جسے توڑنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے۔ اسی وجہ سے کم علم خطبا ان کے ہاں زیادہ پذیرائی پا جاتے ہیں۔

 

ان کے ہان توکل کا مطلب وسائل پر عدم بھروسہ ہی نہیں، معاملہ ترک وسائل تک چاپہنچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ تبلیغ کریں، اللہ آپ کے کاموں کا ذمہ خود اٹھا لے گا، فرشتے خود آئیں گے اور آٹا دال آپ کے گھر پہنچا آئیں گے۔ علما یہاں بھی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو درست بات سمجھا سکیں، لیکن علم سے ایک اکتاہٹ سی جو یہاں پائی ہے، اس وجہ سے ایسی باتیں موثر کم ہوتی ہیں۔ امریکہ سے آئے ہوئے ایک تبلیغی ساتھ کے ساتھ تشکیل ہوئی۔ میں چھری سے سبزی کاٹ رہا تھا۔ فرمانے لگے، ‘اسباب سے کچھ نہیں ہوتا سب اللہ سے ہوتا ہے۔ یہ چھری خود سے نہیں کاٹ رہی، اللہ کے حکم سے کاٹ رہی ہے۔ اس بات پر اگر پختہ یقین ہو تو آپ چاہے چھری چلائیں، وہ نہیں کاٹے گی۔’ میرا دل چاہا کہ کہوں کہ چھری کو اسی یقین کے ساتھ ذرا اپنے پیٹ میں مار کر دیکھیں ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ لیکن مروت آڑے آ گئی۔

 

یہ تو درست ہے کہ ہر چیز اپنی تاثیر دکھانے میں اللہ کے حکم کے تابع ہے، لیکن اس سب کی کنجی اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔ ان معاملات کو اپنے ایمان و یقین کے تابع سمجھنا، گویا خود کو خدا کی جگہ رکھ لینا ہے کہ میری سوچ سے اسباب اپنی تاثیر بدل ڈالیں گے۔ پھر جس کا ایمان ایسا نہ ہو، جو اسباب پر اثر انداز ہو سکتا ہو، اور یقینًا ایسا ایمان ہو ہی نہیں سکتا، تو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا مومن ہی نہیں۔ میں نے ایک بار پوچھا بھی کہ کیا ایسا ایک بھی مومن تبلیغی جماعت نے تیار کیا ہے جس کا ایسا ایمان ہو کہ اسباب کی تاثیر پر اثر انداز ہو سکے، جواب ملا، نہیں، تو پوچھا کہ پھر اس جماعت کو کامیاب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے جو ایک بھی ایسا مومن تیار نہ کر سکی؟

 

اس قسم کے افکار کی وجہ سے تبلیغی حضرات کے ہاں اپنے گھریلو ذمہ داریوں سے لا پرواہی عام ہے۔ اس کی افسوس ناک مثالیں معاشرے میں دیکھی گئی ہیں۔ ہمارے سامنے ایک تبلیغی کی لاپرواہی کی وجہ سے اس کی بیوی عدم توجہ اور بر وقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے دھیرے دھیرے موت کے منہ میں چلی گئی، اس کو بہت سمجھایا گیا، اس کے گھر والوں سے اسے مارا پیٹآ بھی، لیکن تبلیغ کے آگے وہ ہر چیز قربان کر دینے پر تیار تھا۔ یہ اس کے نزدیک عزیمت کا سفر تھا۔ بیوی کے مرنے کے بعد اس نے ایصال ثواب کے لیے مدرسے میں پیسے دییے اور پھر کچھ ماہ بعد مولوی صاحب سے درخواست کی کہ اس کے لیے کوئی رشتہ تلاش کیا جائے۔

 

سال سال بھر یہ حضرات گھروں سے دور رہتے ہیں، اور ان کے گھر والے، بیوی اور بچے ان کی توجہ سے محروم، دین سے دور ہو جاتے ہیں۔ دین داری کا ایسا منفی رویہ یہ پیش کرتے ہیں جوان کی زبانی دعوت سے زیادہ بلند آہنگ ہوتا ہے۔ ان کی بیویاں اپنے بچوں کے ایسا تبلیغی بننے سے پناہ مانگتی ہیں۔ شوہروں کی اتنی طویل غیر حاضری بیویوں کے لیے کتنی آزمائش کا سبب ہوتی ہے، معلوم ہی ہے۔ اسی بات کا احساس کرتے ہوئے خلیفہ دوم، حضرت عمر نے جہاد پر جانے والوں کے لیے ہر چار ماہ بعد گھر واپس آنا لازم قرار دیا تھا، انہوں نے ایک خاتون جس کا شوہر طویل مدت سے جہاد پر تھا، اشعار میں یہ کہتے سنا تھا، کہ اگر خدا کا ڈر نہ ہوتا تو اس چارپائی کے پائے ہل گئے ہوتے۔ معلوم نہیں، کہ تبلیغی جماعت میں سال سال بھر کے دعوتی دورے، کس اصول کی رو سے درست سمجھے گیے ہیں۔ اس پر مزید ستم یہ کہ جیسے ہی کوئی تبلیغی دورے سے واپس آتا ہے، اسے ترغیب دی جاتی ہے کہ گھر نہ جانا، یہیں سے پھر اللہ کے راستے میں نکل کھڑے ہو، اس پر یہ زبان زد عام فقرہ بولا جاتا ہے کہ ‘جو گھر گیا وہ گھِر گیا۔”

 

کہا جاتا ہے کہ لوگ کسب معاش کے لیے بھی تو سالوں اپنے گھر نہیں جاتے، ہم تو اللہ کے راستے میں نکلے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو کسب معاش کے لیے جاتے ہیں، ان کا گھر سے اتنا دور رہنا کون سا درست عمل ہے۔ کوئی مجبوری سے گھر سے دور ہے تو الگ بات ہے لیکن اپنے اختیار سے یہ عمل کیسے درست ہو سکتا ہے، جب کہ آپ اسے دین کے نام پر کر رہے ہیں، اور دین نے ایسی کوئی مجبوری آپ پر لادی بھی نہیں ہے۔ اپنے لیے طوق و سلاسل خود کیوں ایجاد کرتے ہو اور وہ بھی دین کے نام پر۔ یہ سب تبلیغی حضرات کے اہل علم اور غیر اہل علم ذمہ داران کی ہدایات کی روشنی میں ہو رہا ہے۔ تبلیغی مساعی سے دین اتنا نہیں پھیلتا جتنا اس طرح غلط حکمت عملی کی وجہ سے منفی تاثر پھیلتا ہے اور تبلیغی جماعت سے لوگوں کو متنفر کرتا ہے۔

 

دنیا سے بے رغبتی سکھاتے سکھاتے، یہ رہبانیت کی طرف نکل گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا کی قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، خدا کو اگر دنیا کی اتنی بھی قدر ہوتی، تو کسی کافر کو پانی کا ایک قطرہ نہ پینے دیتا۔ ظاہر ہے کہ کافر سے مراد، ان کے نزدیک ہر غیر مسلم ہوتا ہے، چاہے اس نے اسلام کی دعوت کا شعوری طور پر انکار کیا ہو یا بے جانے بوجھے، بہرحال وہ بھی کافر ہے۔ اس سے دنیا اور خدا کا جو تصور سامنے آتا ہے وہ ایسا نہیں کہ اس سے کوئی اچھا تاثر لیا جا سکے۔ دوسری طرف قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا نے دنیا ہی نہیں، اس کی زینتیں اور خوب صورتیاں بھی اپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں، کون ہے جس نے ان کو حرام کرنے کی جرات کی ہے:

 

اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو،وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدانے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔ (سورہ اعراف، 7:32)

 

غور کیجیے، صرف دنیا ہی حلال نہیں، بلکہ دنیا کی زینتیں بھی ہمارے ہی لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اور یہ زینتیں تو ایک طرف، دنیا ہی کے ترک کی طرف لیے جا رہے ہیں۔

 

دنیا سے اسی بے رغبتی کا نتیجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے متعلقین کی دنیوی ضرورتوں اور ان کے پورا کرنے کے لیے وقت اور توانائی صرف کرنے کو عبث یا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی دنیوی ترقی اور خوشحالی سے لا پرواہ ہو جاتے ہیں، بلکہ جس محکمے میں کام کرتے ہیں، جو کاروبار یہ کرتے ہیں، اس کو بھی تبلیغ کے نام پر قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ دنیا کے بارے میں انہیں تصورات کی وجہ سے یہ فلاحی کاموں میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہیں اس قسم کے دنیوی کاموں میں مشغولیت بھی غیر دینی محسوس ہوتی ہے۔
جس طرح بریلویت میں عشق رسولؐ، اعمال اور سیرت میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا، اسی طرح، تبلیغی جماعت میں بھی دین، نماز، روزہ اور دعوت جیسے چند اعمال کے ساتھ ہی شروع ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو تبلغی مراکز میں خطبات تک ارشاد فرماتے ہیں لیکن اپنے کلچر کے مطابق بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے روادار نہیں۔

 

یہ بھی عام تاثر ہے کہ کسی بھی محکمے میں کوئی تبلیغی اہل کار ہوگا تو وہ اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں کوتاہ ہو گا، اسے ہر وقت دعوت دینے کی فکر رہتی ہے، اور کام پر توجہ کما حقہ نہیں ہوتی۔ تبلیغی لوگ، اپنے لیے تبلیغی ملازم رکھنے سے گھبراتے ہیں۔

 

سرمایہ دار تبلیغی الگ فینامینن ہے۔ یہ لوگ اپنے کاروبار کبھی متاثر نہیں کرتے۔ پورے انتظامات کر کے تبلیغ پر نکلتے ہیں۔ ان کی تبلیغ ان کے سرمایہ دارانہ اخلاقیات پر ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اپنے ملازمین کا قانونی اور غیر قانونی استحصال بڑے اطمینان قلب سے کرتے ہیں۔ ایک ملازم کے لیے تبلیغی مالک اور غیر تبلیغی مالک میں سوائے داڑھی، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور نماز روزے کی پابندی کے اور کوئی فرق نہیں ہے۔

 

تبلیغی حضرات میں ایک عجیب اور دلچسپ خصوصیت پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ ان کا اخلاص بھی بہت پروفیشنل ہوتا ہے۔ اخلاق اور اخلاص کا مظاہرہ وہیں کرتے ہیں جہاں دعوت دینا ہو اور تبلیغی جماعت کے دائرے میں لانا مقصود ہو, ، بالکل اس سیلز مین کی طرح جو اپنی پراڈکٹ پیچنے کے لیے پیشہ ورانہ خوش اخلاقی اور آپ سے اپنے اخلاص کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ اس جماعت کے ماحول سے بننے والا عمومی مزاج ہے، اس سے انکار نہیں کہ اس سے مختلف لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی اچھی تربیت انہیں ہر جگہ اچھائی کا مظاہرہ کرنے پر ابھارتی ہے۔

 

تبلیغ والے، اپنی جماعت کو واحد جماعت قرار دیتے ہیں جو حق پر ہے، جس کا منہج واحد منہجِ ہے جو حق پر ہے، باقی سب لوگ ان کے نزدیک اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ تعصب کا حال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ فتوی اور مسئلہ فقط تبلیغی عالم سے پوچھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغی جماعت ایک فرقہ بن چکی ہے۔

 

اصلاح احوال کی کچھ کوشش اہل علم اپنے تئیں کرنے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن جو تربیت ہو گئی ہے، اسی ریورس کرنا بہت مشکل ہے، بلکہ ان کے ہاں کہ کم علم تبلیغی حضرات، علما کی طرف سے کی جانے والی اصلاحی کوششوں کو ایک طرح کی مداہنت یا رخصت سمجھتے ہیں اور اپنے لیے عزیمت کے نام پر یہی انتہا پسند طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

اٹھتے ہیں حجاب آخر-پہلا حصہ

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے اور اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوسلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے اور علم و فہم اور شعور کے بساط بھر حصول کے بعد اب یہ حال ہے کہ جب کسی بڑے آدمی سے ملتا ہوں یا کسی بڑی شخصیت کی تحریر پڑھتا ہوں اور کوئی نئی بات سننے اور سیکھنے کو ملتی ہے تو فکر کی تحسین کرنے کے باوجود، فوراً کوئی رد عمل دینے کے بجائے کئی دن شعوری اور لا شعوری طور پر اس پر غور و فکر کرنے میں گزرتے ہیں، کیونکہ شعور کے ساتھ، تحت الشعور اور لاشعور بھی کسی بات کی درست تفہیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پھر ہم خیال اور غیر ہم خیال اہل علم دوستوں سے تذکرہ چلتا ہے، اور پھر اگر بات سمجھ میں آ جائے تو تسلیم کر لیتا ہوں۔ نہ سمجھ آئے تو موقوف یا مسترد کر دیتا ہوں۔ کسی بات کے تسلیم کرنے یا رد کرنے میں شخصیت کی عظمت اب شاید بالکل حائل نہیں ہوتی۔ میں نے اپنی یہ تربیت خود کی لیکن یہ میرے آسان نہ تھی۔ میں اصل میں اس سے بہت حد تک برعکس واقع ہوا تھا۔

 

ہمارے معاشرے میں فکری جبر تو بچپن سے ہی شروع ہو جاتا ہے، سوال پر پابندی، سوالوں کو شیطانی وساوس قرار دے کر، بنا جواب دییے ان کو دبا دینا عام وتیرہ ہے۔ دینی مدرسہ ہو یا جدید تعلیم کی یونیورسٹیاں اور تحقیق کے اعلی مراکز، سب کا حال یہ ہے کہ ان میں حصول علم کے لیے داخلے اور حصول ملازمت کی پہلی شرط ہی یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنی مرضی کا نظریہ اور عقیدہ نہیں رکھ سکتے۔ آپ کے لیے اپنے ادارے کا اختیار کردہ یا اس ادارے پر تسلط رکھنے والے مسلکی اور جماعتی نظریہ اور عقیدہ رکھنا بھی شرط ہے، ورنہ آپ کو داخلہ اور ملازمت، اوّل تو کوئی دے گا نہیں، اور اگر قسمت سے ایسا ہو بھی جائے تو جلد ہی نکال باہر کیا جائے گا، یا آپ سے مسلسل اچھوتوں جیسا سلوک ہوگا، امتیازی رویہ برتا جائے گا، آپ کو بار بار تنبیہ اور سرزنش کی جاتی رہے گی یہاں تک کہ آپ اپنے ضمیر کا گلہ گھونٹ کر اتھارٹی کے ہمنوا بن جائیں یا ملازمت قربان کر دیں یا ادارہ بدری قبول کر لیں۔

 

لا اکراہ فی الدین کے پرچارکوں کا یہ رویہ مسیحؑ کے وقت کے متعصب فریسیوں اور فقہیوں سے بالکل بھی مختلف نہیں، جنھوں نے اپنی علمی آمریت کی سان پر مسیحؑ کو اپنی طرف سے قربان کر دینے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ ابھی ہمارے معاشرے سے ازمنہ مظلمہ کا دور لدا نہیں۔ ذہنی اور شعوری طور پر ابھی ہم ایک نابالغ قوم ہیں اور اس پر ہمارے یہاں شرمندگی کی بجائے جاہلانہ فخر بھی پایا جاتا ہے۔ مزید المیہ یہ ہے کہ تعلیمی ادارے، خواہ دینی ہوں یا جدید تعلیم کے، اس نابالغ پن کی ترویج پوری شد و مد سے کرتے ہیں، کہیں کوئی شعوری جراثیم محسوس ہو جائیں، اس طالب علم کو نکّو بنا کر رکھ دیا جاتا ہے، اسے غدار، بے دین، گستاخ، ایجنٹ اور نہ جانے کیا کچھ قرار دے دیا جاتا ہے، امتحانات میں اس سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ بلکہ ایسا طالب علم بھی اس رویے کا شکار ہوتا ہے جو اپنے استاد کی علمی اور ذہنی استعداد سے بلند سوال پوچھنے کی جرات کرے یا اس سے مختلف بات اس کے دلائل کے باوجود اپنائے رکھے۔

 

اپنے مسلک کے دائرے میں محدود رہنا، اپنے زیرِ قبضہ اداروں کو اپنے مسلک اور جماعت کے نظرے کے حصار میں رکھنا دراصل ایک بے اعتماد اور خوف زدہ نفسیات کی علامت ہے۔ ذکی کیفی نے کیا خوب کہا تھا:

 

نہ ہو کفر مقابل تو لطف ایماں کیا

 

لیکن یہاں حال یہ ہے کہ اختلاف کی ہلکی پھلکی پھونکوں سے ‘چراغ حق’ ٹمٹانے لگتے ہیں، اور ابراہیمؑ مخالف پروہتوں والی چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے کہ“اگر کچھ کرنے کا ارادہ ہے تو اِس کو آگ میں جلا دو اور اپنے ‘معبودوں’ کی مدد کرو۔”

 

شخصیت پرستی ہمارا قومی وطیرہ ہے اور المیہ بھی۔ میرا علمی سفر بھی شخصیت پرستی سے ہی شروع ہوا تھا۔ میرا ہر استاد میرا ہیرو تھا، گُرو تھا، عقیدت کا مرکز تھا، جس کی زبان، حق ترجمان تھی، حرفِ آخر تھی، لیکن پھر رفتہ رفتہ ایک ایک کر کے ان کی علمیت اور عظمت کے بت ان کی علمی اور اخلاقی کمزوریوں اور میرے لگاتار کے غور و فکر کی عادت کی وجہ سے ایک ایک کر کے ٹوٹتے چلے گئے۔

 

اسی زمانے میں میں نے یہ ٹوٹا پھوٹا شعر کہا تھا:
کتنے عظمت کے مینارے میرے سامنے ٹوٹ گئے
جو کبھی دکھتے تھے مجھ کو آسمانوں کی طرح

 

دین ایمان اور عمل کا معیار اور بنیاد اگر کوئی شخصیت ہو تو اس شخصیت سے بھروسہ اٹھتے ہی آدمی دین و ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

 

شخصیات کے بتوں کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوئی تو میں نے احمقانہ تاویلات کر کر کے خود کو کچھ عرصہ بے وقوف بنانے کی کوشش بھی کی لیکن آخر کب تک۔ آخر میں نے اپنے ایمان اور عمل کی بنیاد شخصیت کو بنانے کی بجائے دلیل کو بنا لیا اور شخصیات کو خیر باد کہ دیا۔ میں اپنے فہم کے مطابق دلیل کے ساتھ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
شخصیات کی طرح ہی موٹی موٹی اصطلاحات کو بھی میں نے بت ہی پایا جو فہم میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، اور حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔ درست استدلال اور درست فہم کے لیے مجھے بہت کچھ علم بھلانا بھی پڑا۔ وہ کہتے ہیں نا:

 

True Learning is unlearning

 

چناچہ بہت کچھ علم کو دامن سے جھاڑا، بہت سے اصولوں اور مسلمات کی بھاری بھرکم گھٹڑیاں سر سے اتاریں کہ علم و عقل کو آزادی سے سوچنے کا راستہ مل سکے۔

 

لیکن یہ سب آسان نہیں تھا۔ اس سفر میں ایسی بہت سی باتیں، ایسے بہت سے اصول اور ایسی بہت سی شخصیات تھیں جو مجھے بے حد عزیز تھے، جن کی محبت اور تاثر میں میں نے اپنی عمر کے رومانوی دور کے حسین پل بتائے تھے۔ ان سب کو چھوڑنا، ان سب میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرنا ان کی باتوں اور اقدامات کو بھی تنقید کی چھلنی سے گزارنا آسان نہیں تھا۔ بڑی تکلیف سے گزرنا پڑا۔ ایسا لگتا تھا جیسے صحرا میں اکیلا بے سہارا کھڑا رہ گیا ہوں۔ سر سے سایہ اور پاؤں سے زمین چھن گئی تھی۔ خود کو علمی اور فکری طور پر یتیم محسوس کرتا تھا۔

 

بہرحال، سہاروں کی بیساکھیاں تج دینے کے بعد، جب علم و فہم کے نئے سفر پر نکلا تو اس بار تہیہ یہ کیا کہ صرف عقل و فہم اور دلیل کا زاد راہ ساتھ رکھوں گا تاکہ اگر ٹھوکر بھی کھائی تو الزام کسی اور کو نہیں خود ہی کو دوں گا۔ ارادہ کیا کہ بات وہی تسلیم کروں گا جس کی دلیل درست معلوم ہوگی۔

 

ہم سب کے انگلی پکڑ کر چلنے کی ایک عمر ہوتی ہے۔ کون کب انگلی چھوڑ کر اپنے قدموں پر چلنا شروع کر دے، اس کا انحصار ہر انسان کے اپنے اوپر ہے، لیکن یہاں کوئی انگلی چھوڑتا ہے نہ کوئی چھوڑنے دیتا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگوں کی ساری عمر میں بلوغت کا یہ مرحلہ کبھی آتا ہی نہیں۔

 

1۔ بریلویت

 

میرا سفر بریلویت کے سادہ اور پرجوش ماحول سے شروع ہوا، جہاں عوام کا جذبہ ایمانی ایک پر لطف چیز ہوا کرتا تھا۔ آج بھی میرا حال یہ ہے کہ علمی طور پر بریلویت سے بہت دور ہو جانے کے بعد بھی، کسی بریلوی مسجد میں نماز پڑھوں تو سکون کی کیفیت زیادہ پاتا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں عوامی سطح پر عقیدت کے نام پر عقل و فہم کی قربانی پہلا مطالبہ ہے، اور علمی سطح پر عقائد اور بدعات کے معاملے میں منطقی داؤ پیچ اور محتمل اور کمزور روایات سے استدلال مبلغ علم ہے۔ کم علم متصوفین کی مضبوط روایت کے زیرِ اثر یہاں دین ایک تخیلاتی چیز بن کر رہ گیا ہے، ایک دیو مالا ہے، جو دلچسپ افسانون کا مجوعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو معراج سے واپس تشریف لے آئے تھے، لیکن یہ اپنے گمان اور بیان میں وہیں رہ گئے ہیں، سیرت نبوی کے بیان کا مطلب محض معجزات کا، مافوق الفطرت واقعات کا بیان ہے۔ اس مذہب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قابل تقلید نمونہ نہیں رہتے، ایک ایسی ہستی بن جاتے ہیں جن سے صرف عقیدت رکھی جا سکتی ہے، ان کے اسوہ پر عمل کرنے کی جرات نہیں کی جا سکتی۔ محض ان کی محبت و عشق دنیا و آخرت کی فلاح اور نجات کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، یعنی عشقِ رسول کے دعوی کے بعد کوئی گناہ، کوئی بد اخلاقی ایسی نہیں جو آپ کی نجات کی راہ میں حائل ہو سکے۔ شریعت، مسائل، اعمال و اخلاق کی حیثیت ثانوی ہی نہیں بلکہ محض اضافی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس خاص تصورِ عشق کی ترجمانی علما سے زیادہ کم علم خطبا اور خانقاہی سجادہ نشینوں کے ہاتھ میں ہے۔ عشقِ رسول کے زور پر اب لوگوں کے ایمان اور کفر کے فیصلے ہونے لگے ہیں، ان کے واجب القتل کے فتوے جاری ہونے لگے ہیں۔ لوگوں کی تقاریر اور تحاریر سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر الفاظ نکال کر ان پر گستاخی کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔ اس نازک معاملے کو گلی بازاروں اور چوک اور چوراہوں پر طے کیا جا رہا ہے۔ علما کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئی ہے۔ بریلویت ان کے علما کے ہاتھوں سے مکمل طور پر نکل چکی ہے اور یہ صورت حال بہت تشویش ناک ہے۔

 

بریلویت میں خدا کی حیثیت ثانونی ہے، اصل مرکز و محور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے، جس کے لیے یہ سارا کارخانہء عالم وجود میں لایا گیا۔ لیکن قرآن مجید دیکھیے ہوں، تو وہ اس قسم کے تخیلات اور اس سے پیدا ہونے والے مزاج سے بالکل خالی ہے۔ قرآن مجید کا مرکز و محور محض خدا ہے۔ ہر چیز اسی کے لیے ہے اور اسی کے گرد گھومتی ہے۔ خدا کے لیے اس کا دین سب سے اہم ہے، جس کی تبلیغ اور جس پر عمل کرنے میں کسی نبی اور رسول کے لیے بھی کسی قسم کی بالفرض کمی اور کوتاہی قابل تحمل نہیں، بلکہ ایسے کسی امکان پر انہیں سخت وعید اور تنبیہ سنائی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں خدا کا لب و لہجہ دیکھیے۔ مثلاً، خدا کہتا ہے کہ رسول دین کے معاملے میں اگر اپنی طرف سے کچھ کہتا تو ہم اس کی رگِ جاں کاٹ ڈالتے۔ رسول کو کہا گیا کہ اگر تم نے دین کی کوئی ایک بات بھی لوگوں تک نہ پہنچائی تو تم نے کارِ رسالت گویا ادا ہی نہیں کیا۔ درحقیقت، رسول، خدا کا بندہ ہے، جسے تبلیغِ دین کی خاص ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے اور وہ اپنے کاموں کے لیے خدا کو جواب دہ ہے۔ میری دانست میں قرآن مجید کا تصور خدا اور رسول، بریلویت کے تصور خدا اور رسول سے مطابقت نہیں رکھتا، اور اسی وجہ سے اندازِ بندگی بھی وہ نہیں جو قرآن کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی بجائے، دامن رسول سے وابستہ ہو کر، ان کی شفاعت کے زعم میں شریعت کی پابندیوں سے آزادی کا بہانہ تلاش لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت کی پابندی کرانے کی علما کی کوششیں بار آور ہو کر نہیں دیتیں، کیونکہ تحت الشعور میں یہ بات چل رہی ہوتی ہے کہ گناہ گار تو سارے نبی کے ذمے ہیں جن کی بخشش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا سے کروا کر ہی چھوڑیں گے۔ میری دانست میں قرآن تو ایسی شفاعت کے تصور سے بھی خالی ہے۔ وہ تو بتاتا ہے کہ سفارش بھی ان کی ہی کی جا سکے گی، جو سفارش کے مستحق ہوں گے، اور خدا ان کے لیے سفارش کی اجازت دے گا، یہ نہیں کہ ہر گناہ گار کی سفارش کی جا سکے گی۔ ان باتوں کا احساس، بریلویت کے سنجیدہ اہل علم کو بھی ہے، اور عوام کو باور کرانے کی اپنی سی کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن معاملہ ان کے ہاتھ سے کب کا نکل چکا ہے۔

 

بریلوی مدارس میں تمام علمِ دین کا مقصد و منتہا دیوبندییت کا رد ہے۔ یہی مقصدِ وحید ان کا جینا مرنا ہے۔ سارے مذہب، سارے علم کا مرکز و محور چند اختلافی اعتقادی مسائل ہیں۔ آپ ان کے مولوی سے جدید مسائل کے بارے میں پوچھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا جواب ملتا ہے، وہ ان مسائل سے مکمل طور لا علم ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی حلقوں میں پایا جانے والا یہ رویہ سیکولرازم ہی ہے۔ بلکہ ان کا سیکولرازم عام سیکولرازم سے بھی زیادہ سیکولر ہے۔ سیکولرزم تو یہ کہتا ہے کہ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن یہاں تو مذھب، فرد کے ذاتی معاملات سے بھی بے دخل ہے۔ دین کو مسجد، نعت، نعروں اور جلوسوں میں محدود کر دیا گیا، اس سے زیادہ دین کی مداخلت اپنے ذاتی معامالات میں کسی کو گوارا نہیں۔

 

یہاں، عوام کے اخلاق و اعمال کی اصلاح زیرِ بحث ہی نہیں، جو کہ درحقیقت، دین کا مطمح نظر تھا۔ افسوس کہ منبر رسول جیسے طاقت ور اور مؤثر فورم کو بہت پست چیزوں میں ضائع کر دیا گیا ہے۔

 

(جاری ہے)
Categories
نقطۂ نظر

صرف ’جہاد‘ ہی کیوں، قرآن کی دیگر آیات کیوں نہیں؟

[blockquote style=”3″]

Institute of Islamic Studies, Mumbai کے جرنل Islam and Modern Age کے ۱۰؍اکتوبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں اصغر علی انجینئر کا مضمون JIHAD? BUT WHAT ABOUT OTHER VERSES IN QUR’AN? شائع ہوا ہے۔ ’جہاد‘ کی جو تعبیر ان مسلمانوں کے ذہن میں ہے جنھیں ایک انتہائی سوچی سمجھی پالیسی کے تحت دنیا کی بڑی اور ظالم طاقتوں نے بالواسطہ طور پر دہشت گردی کی ڈگر پر ڈال دیا ہے اور اسی کے نتیجے میں جہاد اور اسلام کے بارے میں دنیا بھر میں دانستہ اور نادانستہ جو غلط فہمیاں پھیلائی اور پھیلتی جارہی ہیں وہ صحیح سوچ رکھنے والے ہر مذہب اور مسلک کے لوگوں کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں اس لیے کہ اس سے بین الاقوامی سطح پر انسانی رشتوں کے مکدّر ہونے کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ اس اعتبار سے اصغر علی انجینئر کا یہ مضمون وقت کی ایک اہم ضرورت کے طور پر ہمارے سامنے آیا ہے۔ اصغر علی انجینئر پچھلی تقریباً چار دہائیوں سے انسانی حقوق اور انسان دوستی کے محاذ پر جان کے خطرات مول لیتے ہوئے خالص رضاکارانہ طور پر سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کے مذکورہ بالا مضمون کا اردو ترجمہ’ اسلام اور موڈرن ایج‘ کے شکریے کے ساتھ یہاں شائع کیا جارہاہے۔

[/blockquote]

اصغرعلی انجینئر
انگریزی سے ترجمہ: اسلم پرویز

 

ہندوستان اور باہر کے ممالک میں دہشت گردانہ حملوں نے یہ تاثر قائم کردیا ہے جیسے ’جہاد‘ کو قرآنی تعلیم میں مرکزیت حاصل ہے۔ پہلی بات تو یہ جس کا کہ ہم باربار اعادہ کرتے رہے ہیں، قرآن میں جہاد سے مراد جنگ نہیں، اس لیے کہ جنگ کے لیے تو قرآن میں قِتال اور حرب جیسے دوسرے الفاظ ہیں۔ ’جہاد‘ کا لفظ قرآن میں اپنے بنیادی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی سخت کوشش کرنا اور سماج کی بہتری کے لیے سخت کوشش کرنا، نیکی پھیلانا، جسے ’معروف‘ کہا گیا ہے اور برائی کو روکنا جسے ’مُنکَر‘ کہا گیا ہے۔

 

’جہاد‘ کا لفظ قرآن میں اپنے بنیادی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی سخت کوشش کرنا اور سماج کی بہتری کے لیے سخت کوشش کرنا، نیکی پھیلانا، جسے ’معروف‘ کہا گیا ہے اور برائی کو روکنا جسے ’مُنکَر‘ کہا گیا ہے۔
لیکن اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ جہاد کے معنی جنگ ہیں جیساکہ بہت سے نادان مسلمان اور خاص طور پر وہ لوگ جو ’جہاد‘ کو اپنے سیاسی اجنڈے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو بھی قرآنی تعلیمات میں جہاد کو مرکزیت حاصل نہیں۔ جہاد کا لفظ قرآن میں اکتالیس بار استعمال ہوا ہے جب کہ کسی ایک بھی آیت میں یہ جنگ کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ قرآن میں اقدار کی نمائندگی کرنے والے اور کئی کلیدی الفاظ ہیں۔ قرآن میں چار اہم بنیادی اقدار کا ذکر کیا گیا ہے یعنی عدل، احسان، رحمت اورحکمت۔ قرآن میں ان الفاظ کا ذکر اللہ کے ناموں کی حیثیت سے بھی کیا گیا ہے یعنی اللہ عادل ہے، اللہ محسن ہے، اللہ رحیم ہے، اللہ حکیم ہے۔ اس اعتبار سے قرآن ان اقدار کی دستاویز ہے اور ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام چیزوں پر ان اقدار کو فوقیت دیتے ہوئے ان پر عمل پیرا ہو۔ اور جو شخص بھی ان اقدار کو برتنے میں ناکام ہے وہ سچا مسلمان ہونے کا دعوا نہیں کرسکتا۔ حتیٰ کہ اسلامی اصولِ قانون کی رو سے جہاد لازم نہیں ہے جب کہ یہ چہار اقدار ایک مسلم کردار کی شناخت ہیں اور اس لیے بہت اہم ہیں۔ قرآن میں رحمت کو کسی قدر مرکزیت حاصل ہے اور اللہ کے دو نام رحمان اور رحیم سب سے زیادہ اہم ناموں میں سے ہیں۔ ایک مسلمان ’مرد یا عورت‘ اللہ کے ان دونوں ناموں رحمان اور رحیم کا ورد کرتے ہوئے اپنا کوئی کام شروع کرتا ہے۔ لہٰذا غور کرنے کی بات یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات میں رحم کو سب سے زیادہ مرکزیت حاصل ہے چناں چہ رحم و کرم کے الفاظ اپنی مختلف شکلوں میں قرآن میں تین سو پینتیس (335) بار آئے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں ’جہاد‘ کا ذکر قرآن میں صرف اکتالیس (41) بار ملتا ہے۔

 

لفظ ’احسان‘ یعنی دوسروں کے ساتھ نیکی قرآن میں ایک سو چورانوے (194) بار آیا ہے۔ یہ تعداد بھی لفظ ’جہاد‘ کے اکتالیس (41) بار سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح لفظ ’حکمت‘ اور اس کے مشتقات کا تذکرہ بھی قرآن میں ایک سو ایک (101) بار ہوا ہے۔ قرآن ’حکمت‘ پر بھی بے پناہ زور دیتا ہے اس لیے کہ ایک اعتبار سے ’حکمت‘ کو حُجّت پر فوقیت حاصل ہے۔ حجّت کو بھی اگرچہ اہمیت حاصل ہے لیکن بسااوقات نوعِ بشر کے ذریعے اس کا غلط استعمال بھی کیا جاسکتا ہے جب کہ ’حکمت‘ حجّت اور اقدار دونوں کا احاطہ کرتی ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کو باربار ’حکمت‘ کے استعمال کی تاکید کی ہے۔ قرآن مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ کا واسطہ بھی ’حکمت‘ کے ساتھ دیں نہ کہ دھمکیوں اور طاقت سے۔ ہم کسی کو اللہ کے راستے پر آنے کی دعوت دھمکیوں اور زور زبردستی سے نہیں بلکہ حکمت اور شیریں گفتاری کے ساتھ ہی دے سکتے ہیں۔

 

قرآن میں اس بات پر بھی بہت زور دیا گیا ہے کہ ہم تمام سماجی اور سیاسی امور میں عدل کا دامن ہاتھ سے نہ دیں۔ قرآن میں انصاف کے لیے تین لفظ استعمال کیے گئے ہیں یعنی عدل، قسط (داد) اور ’حکمت‘ اور قرآن میں یہ تینوں الفاظ مجموعی طور پر دوسو چوالیس (244) بار استعمال ہوئے ہیں۔ لہٰذا اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ تمام لوگوں کے ساتھ انصاف انتہائی ضروری ہے جس کا صاف طور پر یہ مطلب ہے کہ کسی بھی بے گناہ شخص کو کسی حالت میں سزا نہیں دی جائے گی۔

 

قرآن میں چار اہم بنیادی اقدار کا ذکر کیا گیا ہے یعنی عدل، احسان، رحمت اورحکمت۔ قرآن میں ان الفاظ کا ذکر اللہ کے ناموں کی حیثیت سے بھی کیا گیا ہے یعنی اللہ عادل ہے، اللہ محسن ہے، اللہ رحیم ہے، اللہ حکیم ہے۔
قرآن میں تینتیس (33) بار اللہ کو غفورالرحیم کہا گیا ہے یعنی معاف کردینے والا، رحم فرمانے والا، بدلہ لینے والا نہیں۔ بدلہ لینے کی خواہش انسانی کمزوری ہے کردار کی طاقت نہیں۔ لہٰذا ایک دین دار مسلمان میں خدا کی طرح معاف کردینے کا مادّہ ہوتا ہے اس طرح خدا اپنے ان بندوں کو معاف کردیتا ہے جو اپنی خطا پر نادم ہوتے ہیں۔ دہشت گردانہ حملوں کی شکل میں ’جہاد‘ کرنے والے دراصل بدلہ لینے پر تُلے ہوتے ہیں جب کہ ایک اچھا مسلمان اسی طرح معاف کردینے کو تیار رہتا ہے جیسے اللہ معاف کردیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اللہ ظالموں کو سزا دیتا ہے لیکن کسی ایسے فرد یا افراد کے گروہ کو جسے کسی فرقے یا ریاست کی نمائندگی حاصل نہ ہو، سزا دینے کا کوئی حق نہیں۔

 

یہی وجہ ہے کہ اسلامی اصولِ قانون یعنی شریعت کی رو سے ’جہاد‘ کے اعلان کا حق یا تو صرف ریاست کو ہے یا ان لوگوں کو جنھیں ریاست کی طرف سے اس کا استحقاق حاصل ہو، کسی اور کو نہیں۔ اس کے برعکس دہشت گردانہ حملے منصوبہ بند طریقے سے ایسے افراد کی جانب سے کیے جاتے ہیں جنھیں کسی ریاست یا ریاستی ادارے کی نمائندگی حاصل نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان کے حملوں کو اسلامی شریعت کی رو سے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسے معصوم لوگوں کے قتل کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ ’جہاد‘ کے اسلامی قوانین کی رو سے بھی کسی بھی ناآمادۂ جنگ پر حملہ نہیں کیا جاسکتا اور عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر تو اور بھی نہیں اور ایسی کسی بھی شہری املاک کو برباد نہیں کیا جاسکتا تاآنکہ وہ فوجی مقاصد یا جنگ کے مقصد کے لیے استعمال نہ کی جارہی ہو۔

 

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جنگ کے اسلامی قوانین جنگ کے جدید قوانین یا جنیوا کنونشن سے کسی بھی طرح مختلف نہیں ہیں۔ دہشت گردانہ حملے اسلامی قوانین کے سراسر منافی ہیں اور ان حملوں کو کسی بھی طرح ’جہاد‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ میڈیا ان دہشت گردوں کو جہادیوں کا نام دیتا ہے۔ یہ بھی لفظ ’جہاد‘ کا انتہائی غلط استعمال ہے اس لیے کہ عربی زبان میں ’جہادی‘ جیسی کوئی اصطلاح یا لفظ قطعی نہیں ہے۔ دراصل ایک لفظ ’مجاہد‘ ہے اور مجاہد کا لفظ بطورِ تحسین ایسے فرد کے لیے استعمال ہوتا ہے جس نے اپنی زندگی سماجی برائیوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے وقف کررکھی ہو۔ بسااوقات ’مجاہد‘ لفظ کا استعمال ایسے بہادر سورما کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو نہ صرف نڈر ہوتا ہے بلکہ جو صرف حق کے لیے جنگ کرتا ہے اور صرف محاذِ جنگ پر ہی لڑتا ہے وہ مارا اور بھاگ لیے (hit and run) قسم کا سپاہی نہیں ہوتا۔

 

اسلامی اصولِ قانون یعنی شریعت کی رو سے ’جہاد‘ کے اعلان کا حق یا تو صرف ریاست کو ہے یا ان لوگوں کو جنھیں ریاست کی طرف سے اس کا استحقاق حاصل ہو، کسی اور کو نہیں۔
میں یہاں اس امر پر بھی کچھ روشنی ڈالنا چاہوں گا کہ اسلامی ادب میں جہاد کی کیاتشریح کی گئی ہے اور اسے کس طرح سمجھا گیا ہے۔ اگر مذکورہ قرآنی اقدار کی کوئی اہمیت ہے جو بلاشبہ ہے تو اصل ’جہاد‘ تو تن دہی کے ساتھ اِن اقدار کی نشوونما اور فروغ ہے اور صوفیوں اور ولیوں نے اصل جہاد اسی کو سمجھا ہے۔ بالآخر اسلام تو پیغمبرِ اسلامؐ کے ذریعے دنیا میں ان تمام سماجی برائیوں کے خلاف لڑنے ہی کے لیے آیا تھا جو تمام عرب سماج میں بالعموم اور مکہ میں بالخصوص پھیلی ہوئی تھیں۔ چوں کہ قرآنی تعلیمات میں بنیادی اہمیت انھی (صالح) اقدار کی ہے اس لیے ایک سچا مسلمان مرد یا عورت وہی ہے جو خود کو اُن تمام برائیوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے وقف کردے جو برائیاں ان اقدار کی نفی ہیں۔ حضورؐ کی تمام زندگی انھی اقدار کو برتنے اور ان کو فروغ دینے میں گزری۔ اسی لیے آپؐ کو بجاطور پر قرآن میں رحمت للعالمین کہا گیا ہے یعنی تمام عالموں کے لیے رحمت، کیوں کہ بدی کے مکمل خاتمے پر ہی دنیا میں رحمت کے دوردورے کا دار و مدار ہے۔

 

پیغمبر اسلامؐ کے دورِ حیات میں اسلامی تاریخ کو اس کے دو اہم ادوار میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حضرت محمدؐ کی رسالت کے پہلے تیرہ سالوں کا اس کا مکّی دور اور دوسرا ان کی ہجرت کے بعد کا دس سالہ مدنی دور۔۔۔ مکّی دور میں پیغمبر اسلامؐ اور ان کے پیرو ایک دبی کچلی ہوئی اقلیت تھے لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے پیرو کاروں کو کسی بھی طرح کے تشدد کی تلقین نہیں کی، اس کے برعکس قرآن نے پیغمبرؐ اور ان کے ماننے والوں کو متواتر اس امر کی صلاح دی کہ وہ تمام سختیوں کو صبر کے ساتھ جھیلیں ا ور مایوسی کا شکار نہ ہوں۔

 

پیغمبرؐ نے انتہائی صبر کے ساتھ تمام سختیاں جھیلیں یہاں تک کہ وہ بے حرمتی اور ذلتوں کا بھی شکار ہوئے لیکن وہ اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں لگے رہے۔ ان کے پیروکاروں کو انتہائی سخت کوشیوں میں مبتلا کیا گیا، پیغمبرؐ نے انھیں صبر سے کام لینے اور سختیاں جھیلنے کی ہدایت کی۔ اس لیے حضورؐ نے مسلمانوں کی رہ نمائی کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ ایسے نامساعد حالات میں ان کا رویّہ کیا ہونا چاہیے اور ان تمام سخت کوشیوں کے باوجود وہ کس طرح امن بحال رکھیں۔ لیکن جب حالات ناقابلِ برداشت ہوگئے تو انھوں نے اپنے بعض پیرووں کو ای تھوپیا ہجرت کرجانے کو کہا اور اس کے بعد وہ خود بھی اپنے کچھ پیرووں کے ساتھ مدینہ ہجرت کرگئے۔

 

قرآن میں حکمت یعنی دانش پر انتہائی زور ہے اس لیے انسانوں کو اپنے رویے میں حکمت سے کام لیتے ہوئے اپنی بقا کے لیے ایک موزوں لائحۂ عمل وضع کرنا چاہیے نا کہ یہ کہ وہ تشدد کی منجدھار میں چھلانگ لگاکر اپنے لیے خطرات مول لے لیں۔
اسلام کا مکّی ماڈل ان مسلمانوں کے لیے بہت کارآمد ہوسکتا ہے جن کو دنیا میں اسی قسم کے حالات کا سامنا ہے۔ جیساکہ قرآن میں حکمت یعنی دانش پر انتہائی زور ہے اس لیے انسانوں کو اپنے رویے میں حکمت سے کام لیتے ہوئے اپنی بقا کے لیے ایک موزوں لائحۂ عمل وضع کرنا چاہیے نا کہ یہ کہ وہ تشدد کی منجدھار میں چھلانگ لگا کر اپنے لیے خطرات مول لے لیں۔ قرآن مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے … ’اور مت کرو تم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان اور بھلائی کرو دوسروں کے ساتھ بیشک اللہ نیکوکاروں سے محبت کرتا ہے’ (پارہ۲: آیت ۱۹۵ء)۔ (وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلیٰ التَّہْلُکَۃِ وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ)۔

 

آج بھی اس طرح کے حالات میں قرآن کی یہ ہدایت اہم ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان مت کرو۔ دیکھیے نیویارک کے ٹریڈ ٹاور پر 9/11کے حملے کا کیا نتیجہ نکلا۔ کیا القاعدہ نے تمام اسلامی دنیا پر اور خصوصاً افغانستان اور عراق پر ایک عظیم تباہی کو دعوت نہیں دے دی۔ کیا انھوں نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے خود کو جہنم کے عذاب میں نہیں جھونک دیا۔ اس حملے کا کسی کو کیا فائدہ پہنچا۔ کیا اس وحشیانہ اور ظالمانہ حملے کے پیچھے کوئی عقل و دانش کارفرما تھی۔

 

قرآن نے باربار مسلمانوں کو عقل سے کام لینے کی تاکید کی ہے۔ کیا نیویارک کے ٹریڈ ٹاور پر کیا گیا حملہ کسی عقل مندی کا ثبوت تھا؟ زندگی کے ہر شعبے میں قرآن کی تقلید کے بغیر کیا کوئی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ اس طرح کے بے سوچے سمجھے حملے مسلمانوں اور اسلام کے لیے مہلک ہی ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے برخلاف قرآن مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غارت گری کے مرتکب ہونے کے بجائے دوسروں کے ساتھ نیکی کریں۔

 

قرآن نے باربار مسلمانوں کو عقل سے کام لینے کی تاکید کی ہے۔ کیا نیویارک کے ٹریڈ ٹاور پر کیا گیا حملہ کسی عقل مندی کا ثبوت تھا؟
قرآن واضح طور پر مسلمانوں کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ نیکی کرکے ان کے دل جیتیں تاکہ ان کے دلوں سے (تمھاری طرف سے) برائی دور ہوجائے۔ صلح حُدیبیہ کے امن معاہدے اور فتحِ مکہ کے بعد حضورؐ کا (مفتوحین کے ساتھ) سلوک ایک عظیم اور فراخ دل لیڈر کے مثالی کردار کی روشن دلیل ہے۔ قرآن نے اسی معنی میں رسولؐ کے کردار کی تعبیر اُسوۂ حَسنہ کی اصطلاح میں کی یعنی تمام بنی نوعِ انسان کے لیے ایک رول ماڈل۔

 

فتح کے بعد حُدیبیہ اور مکّہ میں رسولؐ نے اپنے دشمنوں پر فرمان نازل کرنے یا ان سے انتقام لینے کے بجائے ان کے ساتھ بے پناہ فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور ان کے دل جیت لیے۔ حُدیبیہ کے محاذ پر رسولؐ کے پاس اتنی طاقت تھی کہ وہ کفارِ مکّہ کے ساتھ اپنی شرائط پر معاملہ کرسکتے تھے لیکن اس کے بجائے انھوں نے خود ان کی بعض ایسی شرائط مان لیں جو ان کے کسرِ شان تھیں۔ بالآخر مسلمانوں کو اس معاہدے کا فائدہ ہوا۔ لیکن اس طرح کے معاہدے کے لیے پیغمبر اسلامؐ جیسی حکمت کی ضرورت تھی۔ ایک ایسا معاہدہ جو بظاہر ان کے کسرِ شان تھا لیکن جو بعد میں ان کے شایانِ شان ثابت ہوا۔

 

اسی طرح فتحِ مکہ کے بعد پیغمبر اسلامؐ نے اپنے ان بدترین دشمنوں کو بھی معاف کردیا جنھوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی اور ان کے ماننے والوں پر انتہائی غیر انسانی طریقے پر ظلم و ستم ڈھائے تھے۔ اس طرح انھوں نے اپنے بدترین دشمنوں پر فتح پائی اور ان سب نے اسلام قبول کرلیا۔ اگر عربوں کی روایتی فطرت کے مطابق انھوں نے بدلہ لینے کی ٹھانی ہوتی تو ایک بار اور خون کی ندیاں بہتیں اور اتنے سارے حامیانِ اسلام نہ پیدا ہوئے ہوتے۔ گویا اخلاقی فتح کا درجہ بدلہ لینے سے کہیں بلند ہے۔ بدلے سے صرف ہماری انا کو طمانیت حاصل ہوتی ہے اور دشمن کی انا مجروح ہوتی ہے اور اس طرح پرخاش کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

 

دہشت گرد جو کچھ کررہے ہیں وہ دراصل بدلے ہی کی کارروائی ہے اور وہ بھی ایک کمزور مورچے پر۔ چناں چہ ہر حملہ خود ان کے لیے اور دوسروں کے لیے بھی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں لاتا۔ اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے بدلہ لیتے ہیں۔
دہشت گرد جو کچھ کررہے ہیں وہ دراصل بدلے ہی کی کارروائی ہے اور وہ بھی ایک کمزور مورچے پر۔ چناں چہ ہر حملہ خود ان کے لیے اور دوسروں کے لیے بھی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں لاتا۔ اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے بدلہ لیتے ہیں۔ امّت کے معاملات کو دانش مندی کے ساتھ سلجھانا مسلمانوں کے لیے بحیثیت مجموعی زیادہ سودمند ہوگا۔ تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ظالم طاقتوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے جائیں۔ لیکن انصاف کی لڑائی کس طرح لڑی جائے یہ مجموعی فراست کے ذریعے ہی طے کیا جائے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو کم سے کم خطرہ لاحق ہو۔

 

ایک سوال قرآن کی تفسیر کے طریقۂ کار کا بھی ہے۔ قرآن حضورؐ پر تیس برس کی مدت میں نازل ہوا اور اس کی بیشتر آیات کسی مخصوص صورتِ حال کے تناظر میں اتریں لہٰذا قرآن کی کسی بھی مخصوص سورت کو اس کے سیاق میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر متن کا کوئی نہ کوئی سیاق و سباق ہوتا ہے اور یہ سیاق و سباق ہی متن کو سمجھنے میں ہماری رہ نمائی کرتا ہے اور متن کو سمجھنے کے لیے یہ بھی سوچنا ضروری ہے کہ کہیں وہ سیاق و سباق تو نہیں بدل گیا ہے یاوہی حالات اب بھی ہیں۔

 

قرآن کی بیشتر آیات کو جن میں ’جہاد‘ کا جواز پیش کیاگیا، انھیں قرآن کے نظام اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے، محض ان کے لغوی معنی میں لے لیاگیا ہے۔ قرآن کی کسی بھی آیت کے ذریعے جو بھی احکام نازل ہوا اس کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے قرآن کے نظام اقدار کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس سیاق کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو معاملے سے تعلق رکھتا ہو۔ جس وقت قرآن نازل ہورہا تھا تو قرآن کا یہ نزول اللہ کی جانب سے تھا اور یہ قرآن نازل ہورہا تھا رسول اللہؐ پر۔ چناں چہ اللہ اور اس کا رسولؐ دونوں ہی قرآن کے نظامِ اقدار سے پوری طرح باخبر تھے لہٰذا وہ جانتے تھے کہ کب جنگ قطعی طور پر ضروری ہے۔

 

یہ بالکل ایک جانی بوجھی حقیقت ہے کہ چاہے وہ اسامہ بن لادن کی القاعدہ ہو یا کوئی دوسری دہشت گرد تنظیم، وہ نہ تو کسی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ کسی بڑی مسلم تنظیم کی۔
لیکن پیغمبر اسلامؐ کے علاوہ جب کبھی بھی دوسرے انسان قرآنی احکام کی پیروی کرتے ہیں تو اس کی صورت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ عام مسلمان نہ تو غلطی سے پاک ہوتے اور نہ ہی وہ اسلامی اقدار میں پوری طرح شرابور ہوتے ہیں اس لیے کہ پیغمبرؐ کے مصداق اُسوۂ حَسنہ کے حامل کوئی رول ماڈل نہیں ہوتا اور جب کبھی بھی کوئی شخص اُمّہ کی صلاح کے بغیر کسی بھی معاملے پر ان احکام کا اطلاق کرتا ہے تو وہ سراسر ناقابلِ قبول ہوتا ہے اور دہشت گرد یہی کام کررہے ہیں۔
یہ بالکل ایک جانی بوجھی حقیقت ہے کہ چاہے وہ اسامہ بن لادن کی القاعدہ ہو یا کوئی دوسری دہشت گرد تنظیم، وہ نہ تو کسی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ کسی بڑی مسلم تنظیم کی۔ وہ بعض ایسے مشتعل نوجوانوں کو تحریک دلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جن میں نہ سمجھ ہوتی ہے اور نہ عقل، اور وہ صرف اسلام کے نام پہ دلائے گئے جوش سے مغلوب ہوکر دہشت گردانہ حملے کرتے ہیں اور بہت سے بے گناہ انسانوں کی جانیں لے لیتے ہیں۔ یہ حملے تمام قرآنی احکام کی خلاف ورزی ہیں۔

 

اس کے علاوہ ساتویں عیسوی کے عرب کے حالات کا موازنہ عصری دنیا کے حالات سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس زمانے میں تشدد کا جواب تشدد ہی تھا۔ عرب قبیلوں کی زندگی میں ’قصاص‘ یعنی جان کا بدلہ جان کی پرانی روایت چلی آرہی تھی اور قرآن نے معاملات کے سیاق میں قصاص کی اجازت سختی سے اس شرط پر دی تھی کہ انصاف کی رو سے اس پر برابری کی سطح پر عمل درآمد ہوگا لیکن ساتھ ہی یہ بھی صلاح دی گئی تھی کہ اگر تم معاف کردو تو یہ بہتر ہوگا۔

 

اس زمانے میں دوسرے کوئی ادارے موجود نہیں تھے اور قرآن نے صرف دفاعی جنگ کی اجازت دی تھی اور دشمن تک کے خلاف تشدد پر پابندی تھی۔ اور جیساکہ حُدیبیہ کے امن معاہدے سے ظاہر ہے ’جہاں کہیں بھی ممکن ہو جنگ سے گریز کیا جائے خواہ دشمن ہی کی شرائط پر کیوں نہ ہو‘ اور مکّے کی مثال سے یہ واضح ہے کہ ’دشمن کا دل جیتنے کے لیے قصاص کے بجائے اسے معاف کردینا بہتر ہے۔‘ یہ دونوں ماڈل پیغمبرِ اسلامؐ کی سنّت کا جزو ہیں اور مسلمانوں کو پیغمبرؐ کی سنّت پر عمل کرنا چاہیے۔

 

آج بیچ بچاؤ، صلح صفائی اور تنازعے ختم کرانے کے لیے دنیا میں بہت سے ادارے موجود ہیں۔ تمام مسلم ممالک اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں اور کسی بھی بین الاقوامی تنازعے کو اقوامِ متحدہ کی تنظیم سے رجوع کیے بنا کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔
اور آج کی دنیا تو ساتویں صدی عیسوی کے عرب سے سراسر مختلف ہے اور ہم کو آج جنگ کے قوانین کے بجائے قرآنی اخلاقیات کی پیروی کرنی چاہیے۔ آج بیچ بچاؤ، صلح صفائی اور تنازعے ختم کرانے کے لیے دنیا میں بہت سے ادارے موجود ہیں۔ تمام مسلم ممالک اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں اور کسی بھی بین الاقوامی تنازعے کو اقوامِ متحدہ کی تنظیم سے رجوع کیے بنا کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔ انتہا پسند تنظیمیں کہہ سکتی ہیں کہ ’بجا سہی لیکن یو این او (UNO) پر امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کا غلبہ ہے اس لیے وہاں سے ہمیں انصاف نہیں مل سکتا‘۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے لیکن پھر اس حقیقت کا بھی برابر پردہ فاش کیا جانا چاہیے تاکہ دنیا کو یہ پتا چل سکے کہ کس طرح یو این او امریکہ کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ نے عراق کے خلاف تشدد کا رویہ اپنایا جب کہ یو این او نے امریکہ کو عراق کے خلاف جنگی کارروائی کی ممانعت کی تھی۔ اس سے امریکہ کا چہرہ کھل کر سامنے آگیا اور بڑے پیمانے پر آج دنیا یہ جانتی ہے کہ یو این او امریکہ جیسی طاقتوں کے سامنے کتنی بے بس ہے۔

 

اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر آپ فی الحقیقت مسئلے کا پُرامن حل چاہتے ہیں تو پھر تشدد کی کارروائی سے نہ صرف آپ کے مقصد کو نقصان پہنچے گا بلکہ دنیا کی رائے بھی آپ کے خلاف ہوجائے گی۔ آج کی دنیا میں کسی مقصد کی سب سے بڑی طاقت رائے عامہ کا آپ کے حق میں ہونا ہے۔ اس لیے رائے عامہ کو جیتنے کی کوشش کی جانی چاہیے، پُرتشدد کارروائی کے مقابلے عدم تشدد کے ذریعے رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنا زیادہ ممکن ہے۔ دہشت گردی کے ساتھ بے قصور لوگوں کے قتل کا اقدام انتہائی طاقتور دشمن کے خلاف موثر نہیں ثابت ہوسکتا۔ اور اس سے رائے عامہ بھی آپ کے خلاف ہوجاتی ہے۔

 

آج رائے عامہ کو ہموار کرنے میں میڈیا بڑا طاقت ور کردار ادا کر رہا ہے اور عدمِ تشدد کا لائحۂ عمل یقیناً میڈیا کے لوگوں پر اثر انداز ہوگا۔ بدقسمتی سے آج کا نوجوان جمہوری طریقۂ کار کا متحمل نہیں رہا ہے چناں چہ قرآنی روایات کی پیروی کے وہم میں مبتلا ہوتے ہوئے وہ ’جہاد‘ کا نام نہاد راستہ اپنا رہا ہے اور اپنے بارے میں دنیا کی رائے کو خراب کررہا ہے اور یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ اس کے اس منفی رویّے کے نتائج دوسرے مسلمانوں اور مسلم ممالک کے حق میں کیسے ثابت ہوں گے۔

 

تشدد کا یہ بے سوچا سمجھا راستہ جو پاکستان کے القاعدہ اور دوسرے دہشت پسند گروہوں نے اختیار کیا ہے اسلام کو ایک دہشت پسند مذہب کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے
تشدد کا یہ بے سوچا سمجھا راستہ جو پاکستان کے القاعدہ اور دوسرے دہشت پسند گروہوں نے اختیار کیا ہے اسلام کو ایک دہشت پسند مذہب کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے جیسے کہ اسلام ’جہاد‘ ہی کا مذہب ہو جب کہ اسلام کا نظام اقدار انسانی زندگی اور وقار کے ساتھ دردمندی اور احترام کی مثال پیش کرتا ہے۔ آج صورت یہ ہے کہ بجا طور پر بدھ مت کو دردمندی اور عیسائیت کو محبت اور حق کے مساوی قرار دیا جاتا ہے لیکن اسلام کو ’جہاد‘ اور ’تشدد‘ کی علامت قرار دے دیا گیا ہے۔ کیا (دہشت گردی میں مبتلا ہونے والے) یہ مسلمان نوجوان اپنے گریبان میں منہ ڈال کر یہ نہیں دیکھ سکتے کہ انھوں نے اسلام کی تصویر کتنی مسخ کرکے رکھ دی ہے۔ بعض مفاد پرست طاقتوں کے ہاتھوں ان نوجوانوں کے دماغ اتنے مختل کردیے گئے ہیں کہ وہ سمجھنے لگے ہیں کہ ’جہاد‘ مسلمانوں کے لیے لازمی ہوگیا ہے اور یہ کہ ’جہاد‘ کے علاوہ اور کوئی دوسرا چارۂ کار ہی نہیں۔ یہ نوجوان اسلامی نظام اقدار سے یکسر بے بہرہ اور ہتھیاروں کی برتری پر اخلاقی برتری کی فوقیت سے نابلد ہیں۔ حُدیبیہ اور مکّے کی پُرامن فتح کی مثالوں سے یہ حقیقت روشن ہے کہ اخلاقی برتری ہی بالآخر فیصلہ کن ہوتی ہے اخلاقی موقف کی طاقت کے سامنے انتہائی زبردست مخالف بھی ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ ہمارے دور میں گاندھی جی نے سچ اور عدم تشدد کی پُرتاثیر طاقت کا مظاہرہ کیا۔ برطانیہ جس کے راج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اس کو گاندھی جی نے سچ اور عدم تشدد کی طاقت سے نیچا دکھایا۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عدم تشدد ایک بزدلانہ رویّہ ہے جو کمزوری کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ یہ بڑا غلط نظریہ ہے۔ عدم تشدد کا راستہ انتہائی جرأت مند اور سچا انسان ہی عمل میں لاتا ہے۔ تشدد کا جنم غصے اور انتقام سے ہوتا ہے نہ کہ سچائی کے موقف سے۔

 

پیغمبرِاسلامؐ نے ایک بار ’جہاد‘ کی تعبیر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جہاد نام ہے ظالم حکمراں کے روبرو سچ بولنے کا‘۔ ظالم حکمراں کے روبرو سچ بولنے کے لیے بے پناہ جرأت درکار ہے اور ایک بزدل تو صرف ظالم کے حضور گھٹنوں کے بل کھڑا ہی ہوسکتا ہے۔ سچ جسے قرآن نے ’حق‘ کہا ہے اس کا ماننے والا انتہائی جرأت مندی کے ساتھ اس کی پاس داری کرے گا اور تمام سختیوں کو صبر کے ساتھ جھیلے گا۔ اسلام کے مکّی دور میں مسلمانوں نے انتہائی صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ ناقابلِ تصور سختیاں جھیلیں، ان کے اندر کبھی بھی کسی تشدد آمیز اقدام کی آگ نہیں بھڑکی۔

 

مکّہ کے مسلمان انتہائی نامساعد حالات میں سختیاں جھیلنے کی بہترین مثال ہیں۔ آج دنیا میں کتنے ہی مسلم اکثریت والے ممالک ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو اپنے اپنے ملکوں کے حکمرانوں پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ ایک ساتھ مل کر ان ناانصافیوں کے خلاف لڑیں جو ان کے ساتھ امریکہ اور دوسری طاقتوں نے روا رکھی ہوئی ہیں۔ اگر یہ حکمراں امریکہ دوست ہیں اور کوئی اقدام نہیں کرتے تو پھر ان کے خلاف پُرامن طریقے سے پبلک احتجاج کریں۔ اس سے ان حکمرانوں کا پردہ فاش ہوگا جو امتِ مسلمہ کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کی پروا کرتے ہیں۔ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کے احتجاجوں سے کوئی فوری نتائج برآمد نہیں ہوتے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کا اثر حکمراں طبقے پر کیا ہوگا۔ یہ دلیل جزوی طور پر درست ہے۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردانہ حملے کتنے موثر ہیں؟ کیا وہ مطلوبہ مقاصد کو پورا کرنے میں کامیاب ہیں؟ ایسی کوئی مثال سامنے نہیں۔ اور پھر سوال یہ ہے کہ تشدد کس کے خلاف؟ ابھی تک ایسی کوئی مثال سامنے نہیں آئی کہ امریکہ یا کسی دوسری طاقت نے ایسے تشدد آمیز حملوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہوں۔ اس سے اور بھی بڑا جوابی تشدد جنم لیتا ہے اور اس طرح ایک چکرویو سا بن جاتا ہے۔ عراق میں، افغانستان میں، پاکستان میں اور اب ہندوستان میں سینکڑوں بے گناہ موت کا شکار ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد جاری ہے۔

 

اگر امریکہ نے عراق اور افغانستان پر حملہ کیا تو ان ملکوں کی فوجوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا کہ وہ اپنا دفاع کریں یا شکست کی صورت میں کوئی دوسری تدابیر اختیار کریں۔ یہ صورتِ حال کسی بھی گروپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کریں۔
یہ لڑائی کسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ محض انا کی لڑائی ہوکر رہ جاتی ہے۔ حکمت، جو مقدس قرآن کی سب سے اہم قدر ہے، اس بات کی متقاضی ہے کہ کوئی بھی لائحۂ عمل اختیار کرنے سے پہلے صورتِ حال کا تفصیل کے ساتھ اور معروضی ڈھنگ سے جائزہ لے لیا جائے۔ جو لوگ دہشت گرد قسم کے تشدد کا طریقۂ کار اختیار کررہے ہیں ان کا ان مغربی ملکوں کی زبردست طاقتوں یا ملکوں کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں جن کے خلاف وہ لڑ رہے ہیں۔ اور ہتھیاروں کی لڑائی میں وہ عوام کو اپنے ساتھ لے کر نہیں چل سکتے۔ دوسری طرف تشدد پر آمادہ گروہوں کے بے سوچے سمجھے حملے انھی پُرتشدد اقدامات کی بدولت ان کے اور عوام الناس کے درمیان ایک خلیج پیدا کردیتے ہیں۔ لہٰذا عقل مندی اسی میں ہے کہ رائے عامہ کی حمایت حاصل کرتے ہوئے لڑائی جمہوری طرز پر لڑی جائے۔ اس اعتبار سے اسلام کا مکّی ماڈل کسی بھی دوسرے ماڈل کے مقابلے میں سودمند ہوگا۔ جنگ سے متعلق قرآنی آیات کا نزول مدینہ میں ہوا تھا اس لیے کہ مکّے کے کفاروں (اسلام نہ قبول کرنے والوں) کے حملے ان پر ان دنوں لگاتار جاری رہتے تھے اور مسلمانوں کے پاس سوائے دفاعی تدابیر اختیار کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ اسلامی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ پیغمبرِ اسلامؐ نے جتنی بھی جنگیں لڑیں وہ تمام کی تمام دفاعی نوعیت کی تھیں۔

 

اور اگر امریکہ نے عراق اور افغانستان پر حملہ کیا تو ان ملکوں کی فوجوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا کہ وہ اپنا دفاع کریں یا شکست کی صورت میں کوئی دوسری تدابیر اختیار کریں۔ یہ صورتِ حال کسی بھی گروپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کریں۔ اور ان گروپوں کو کسی بھی طرح یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے ہی ملکوں کے معصوم شہریوں کو اپنا نشانہ بنائیں۔

 

جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے ان دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے کسی انتقامی جذبے کے تحت بازاروں میں چلتے پھرتے معصوم ہندوؤں اور مسلمانوں پر کوئی فرقہ وارانہ تشدد برپا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ویسا ہی گناہ ہے جس کی مرتکب فرقہ وارانہ طاقتیں مسلمانوں کے خلاف ہوئی تھیں۔ دانش مندی کا تقاضا ہے کہ صبر و سکون کے ساتھ جمہوری انداز میں رائے عامہ کو ہموار کرتے ہوئے عام ہندوؤں کے دل جیتے جائیں کہ وہ پبلک کے سامنے فرقہ وارانہ فاشسٹ طاقتوں کا پردہ فاش کریں۔

 

امید کی جاتی ہے کہ وہ گمراہ مسلم نوجوان جو اس طرح کی پُرتشدد کارگزاریوں پر آمادہ ہیں وہ دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں اس حقیقت کو باور کریں گے کہ وہ بے اثر ہیں اور اس طرح کے مجرمانہ اور گنہ گارانہ اقدام سے پرہیز کریں گے اور اس کے بجائے اس بات پر توجہ دیں گے کہ اعلا اخلاقی کردار میں اپنی شخصیتوں کو ڈھالیں تاکہ وہ صحیح معنوں میں برتر قرآنی اخلاقیات کی پیروی کرسکیں۔ یاد کیجیے پیغمبرؐ نے کہا تھا، اسکالر کے قلم کی روشنائی کا مرتبہ شہید کے خون سے بلند ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام تشویش کے ساتھ

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میرے ہمسائے!
معاف کرنا، تمہیں پچھلا خط محبت کے ساتھ لکھا تھا مگر یہ خط تشویش کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ آج کل تمہاری جانب سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں آتی، پہلے یہ مسئلہ صرف ہمارے ساتھ تحا کہ کبھی کوئی اچھی خبر سنائی نہیں دیتی تھی۔ میری حالت اس مریض جیسی ہے جو کسی مہلک باور لاعلاج یماری میں مبتلا ہو اور اس کا کوئی قریبی عزیز، دوست یا شناسا بھی اسی بیماری کا شکار ہوجائے تو نہ وہ کچھ کرسکتا ہے، نہ تسلی دے سکتا ہے اورنہ دعا کرسکتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔ کل پڑھا کہ تمہاری طرف کسی محمد اخلاق کو گھر سے گھسیٹ کر اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ دم توڑ گیا۔ مجھے یوں لگا کہ تمہاری طرف بھی جوزف کالونی آباد ہو گئی ہے۔ یہ بھی سنا کہ کشمیر میں سوسال پرانے قانون کے تحت اب گائے ذبح کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر سے بھی یہی خبریں آئی ہیں کہ گائے کا گوشت کھانے پر سزا ہو گی۔ یقین جانو وہ دن یاد آ گئے جب مال روڈ سے شراب خانے اور پی آئی اے کی پروازوں سے شراب ہٹا لی گئی۔ ایسے لگنے لگا ہے جیسے مطالعہ پاکستان میں لکھی باتیں سچ ہونے لگی ہیں اور مسلمانوں کو واقعی گائے کا گوشت کھانے کے لیے علیحدہ وطن بنانا پڑاتھا۔ مجھے لگتا ہے مودی صاحب ایک ایسا ہندوستان بنانا چاہتے ہیں جیسا ہماری تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے۔ وہ اپنے آباء کی مذہبی رواداری، وضع داری اور برداشت کی تعلیمات بھلا دینا چاہتے ہیں۔
ایسے لگنے لگا ہے جیسے مطالعہ پاکستان میں لکھی باتیں سچ ہونے لگی ہیں اور مسلمانوں کو واقعی گائے کا گوشت کھانے کے لیے علیحدہ وطن بنانا پڑاتھا۔
یہ جان کر پہلے تو ہنسی آئی اور پھر رونا آیا کہ تمہارے پردھان منتری جی نے اعضاء کی پیوندکاری کو دیدوں سے ثابت کیا ہے اور تمہاری طرف کے وگیانک اب طیارے کی ایجاد سے لے کر کائنات کے اسرارورموز تک سبھی کچھ اپنی مذہبی کتابوں سے برآمد کررہے ہیں۔ مجھے مودی صاحب کی باتوں میں ضیاءالحق کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ہمارے ہاں جنات سے بجلی پیدا کرنے اور نمازوں کا ثواب ماپنے کے کلیے بنانے والوں نے اپنی دکانیں تمہارے دیس میں بھی کھول لی ہیں۔ لگ رہا ہے کہ اب چن چن کر تمہاری کتابوں سے بھی ناپسندیدہ تاریخ ویسے ہی نکال دی جائے گی جیسے ہماری کتابوں میں سے وہ سب حقائق نتھار لیے گئے تھے جو کسی بھی برح یہاں کی مذہبی اکثریت کو ناگوار گزر سکتے تھے۔ مجھے ڈر ہے کہ تمہاری طرف بھی مسلمان بچوں کو اسی طرح وید پڑھائے جائیں گے جیسے ہمارے ہاں غیر مسلم بچوں کو اسلام سکھایا جاتا ہے۔
یقین جانو مجھے تو ڈر آنے لگا ہے کہ کہیں تمہاری طرف کے حافظ سعید اور لشکر طیبہ تمہارے ہی گلے کاٹنے پر نہ اتر آئیں۔ یہ سوچ کر ہی وحشت ہوتی ہے کہ تمہاری طرف بھی یہ بحث شروع ہوجائے کہ جمہوریت ہونی چاہیئے یا مذہبی حکومت۔ کل کلاں کو تمہار ے ہاں بھی عورت کو مرد کی دسترس میں دینے کی مذہبی تبلیغ شروع ہوجائے۔ تمہارے ہاں بھی تنقید اور اختلاف رائے ہمارے ہاں کی طرح جرم نہ قرار دے دی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری طرف بسنے والی مذہبی اقلیتیں بھی ہمارے ہاں کی اقلیتوں کی طرح غیر محفوظ ہو جائیں ۔ ڈر ہے کہیں مودی صاحب ہندوستان کے لیے بھی ایک قرارداد مقاصد نہ منظور کروا لیں جس کے بعد تمہاری ریاست بھی مذہب کے پھندے سے لٹک کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائے۔
ڈر ہے کہیں مودی صاحب ہندوستان کے لیے بھی ایک قرارداد مقاصد نہ منظور کروا لیں جس کے بعد تمہاری ریاست بھی مذہب کے پھندے سے لٹک کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائے۔
سنا ہے مودی صاحب نے دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے انکار کردیا ہے اور اب وہ ہماری غلطیاں دہرانے کے موڈ میں ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران دی گئی چار تجاویز ماننا بھی گوارا نہیں کیا۔ہمارے وزیراعظم جتنے بھی برے سہی مگر ان کے آنے سے یہ امید ہو چلی تھی کہ اجمیر شریف کی زیارت کو جاسکوں گا ۔ بنارسی ساڑھی منگانا آسان ہو جائے گا۔ کرکٹ بھی کھیلا کریں گے اور کبڈی بھی ہو گی، تم سری پائے کھانے یہاں آسکو گے اور میں حیدرآبادی دال کھانےوہاں جاسکوں گا۔ تمہیں انارکلی اور مجھے چاندنی چوک آوازیں دیتا ہے۔ مگر تمہاری جانب سے کوئی اچھی خبر نہیں آرہی، یوں سمجھو کہ ڈر آنے لگا ہے کہ تم بھی وہی غلطیاں دہرانے والے ہو جو ہم نے کی تھیں اور پھر تم بھی اتنا ہی پچھتاو گے جتنا ہم پچھتا رہے ہیں۔
سنو بھائی ویسے تو میں تمہیں نصیحت کرنے کا استحقاق نہیں رکھتا مگرپھر بھی جان لو کہ ایک بار مذہب کا اونٹ ریاست کے خیمے میں گھس جائے تو پھر کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ ایک بار یہ انتہا پسند کھل کر کھیلنے لگے تو پھر کوئی بھی سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہے گا، ایک مرتبہ یہ بنیاد پرست دندنانے لگے تو پھر کسی کو بولنے نہیں دیں گے، مذہب کے نام پر اکٹھے ہونے والے ہمیشہ خون بہاتے ہیں، مجھ سے سیکھو مجھ سے عبرت پکڑو۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اس ناسور کو پھیلنے سے روک لو ورنہ دیر ہو گئی تو کچھ نہیں بچے گا۔۔۔۔
فقط
تمہارا پاکستانی ہمسایہ
Categories
نقطۂ نظر

مذہبی ٹھیکیدار اور اقلیتیں

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں تین احمدیوں کے قتل کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا ہر دوسرا شہری مذہب کا ٹھیکیدار اور مقدس شخصیات کے تقدس کا محافظ ہے۔ مذہبی شعائر اور مقدس شخصیات کے تقدس کے تحفظ کی خاطر یہ ٹھیکیدار امن پسند مذہب اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر علاقے میں موجود یہ ٹھیکیدار بوقتِ ضرورت اپنی مذہبی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے سچے عاشقانِ دین ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اورغیر مسلموں کو سزا دیکر جنت میں اپنا دو کنال کا بنگلہ پکا کرواتے ہیں۔
غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔
ان خود ساختہ دینی ٹھیکیداروں کو کسی بھی عقیدے یا مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے نہ تو قانون کا خوف ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ۔ ماضی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر قتال کے موقع پر قانون نافذ کرنے والے تماشبین بن کر اپنے حصّے کا ثواب سمیٹتے ہیں اوراس کارِ خیر میں گواہ بننے کا کردار نبھاتے ہیں۔
کیا ہوا کہ گجرانوالہ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مرنے والی خواتین تھیں یا بچے، ان کا (آئینی طور پر)غیر مسلم ہونا اور مبینہ طور پر گستاخ ہونا ہی ان کے قتل کئے جانے کے لئے کافی تھا کیوں کہ غیر مسلم مرد، عورت، بچہ بوڑھا یا انسان نہیں ہوتا، صرف اور صرف غیر مسلم ہوتا ہے جس کا انجام صرف موت ہے۔ جس طرح عدالتیں مُجرم کو موت کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا دیتی ہیں، بالکل اسی طرح یہ مذہبی ٹھیکیدار خدائی فوجدار ہونے کے ناطے “انصاف”کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سزائے موت کے ساتھ ساتھ جرمانے کے طور پر ناصرف ملزم کا گھر بلکہ متعلقہ کمیونٹی کے گھروں کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بناتے ہیں۔
گجرانوالہ میں بھی مشتعل ہجوم نے فوری انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایسا ہی کیا اور تین انسانوں (معذرت کے ساتھ، احمدیوں) کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے آٹھ لوگوں کو زخمی کیا، پانچ گھر اور ایک گودام جلایا اور درجنوں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا۔
یہ ایک ایسا فوری”طریقہِ انصاف” ہے جس میں ججوں کی تعداد سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے اوریہ منصفین موقع پر ہی تحقیقات کئے بغیر علاقائی مولوی کی آشیرباد کے ساتھ پہلے سزا کا تعین کرتے ہیں) جو کسی بھی طرح موت سے کم نہیں ہوتی( اور پھر بنا کسی تاخیرکے اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں۔
مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
مذہبی تقدس کے تحفظ کے نام پر بننے والی تنظیموں کی جانب سے اقلیتوں پر عائد کردہ توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت سنائی گئی اس عوامی سزا پر عملدرآمد کے لئے کسی تارا مسیح کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جج خود ہی انصاف کے فوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے “مجرموں” کو موقع پر ہی ان کے اہل خانہ سمیت موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس سفاک عمل کے دوران الزامات کی تصدیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اس فوری عوامی انصاف میں سزا سنانے والے، سزا دینے والے اور پھر سزا دے کر اس کا جشن منانے والے سب کے سب وہی لوگ ہوتے ہیں جو شروع سے آخر تک اس نیک کام میں شامل ہوتے ہیں اور”مذہبی رواداری” کی بہترین عملی مثال پیش کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں پورے علاقے کے مکینوں کے مابین ایک ایسا مذہبی جوش و جذبہ اجاگر ہوتا ہے جو کسی بھی دوسرے موقع پر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بیشک دو ہمسائے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں مگر گستاخوں اور مذہبی اقلیتوں کو سزا دینے کے عمل میں ایک ہمسایہ اپنے دشمن ہمسائے کے ساتھ ملکر مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے غیر مسلموں پر حملہ کرتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم جرائم کے بہت سے دیگر واقعات کی طرح اس واقعہ میں بھی مقامی پولیس خاموش تماشائی بن کر جیتے جاگتے انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتی رہی، مقامی ایس ایچ او نے ایک احمدی کے سامنے اپنی بیچارگی اور معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ساڈے وَس دی گل نئی”۔
اگر دیکھا جائے تو اس مسکین ایس ایچ او کا کہنا بھی ٹھیک ہے کیونکہ مذہبی بلووں کے آگے قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر بے بس اور لاچار ہیں۔ پولیس کی مداخلت اشتعال کا رخ خود پولیس، ججوں اور سیاستدانوں کی طرف موڑنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ دوسری طرف قانون اور آئین میں اقلیتوں خصوصاً احمدیوں کے خلاف موجود قوانین بھی مذہب کے نام پر کئے جانے والے جرائم کے حل میں رکاوٹ ہیں۔
گو کہ توہین مذہب و رسالت ایکٹ میں ترمیم کے لئے معاشرہ اور حکومت تیار نہیں تاہم اس قانون کے استعمال اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جرائم پر سزائیں دینے کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم سے شاید غیر مسلم اقلیتوں کا توہین اور گستاخی کے الزامات کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ان مذہبی ٹھیکیداروں (جن کے پاس مبینہ طور پراقلیتوں کو قتل کرنے کاخدائی اختیار ہے) کے ہاتھوں قتل عام بند ہوجائے۔
Categories
نقطۂ نظر

مذہب برائے فروخت

رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی ہی بات نہیں ہے بلکہ ہمارے ٹی وی چینلز نے ہر مذہبی تہوار کوبے قدر کر دیا ہے۔ بات صرف رمضان المبارک میں سحری و افطاری نشریات کی نہیں ہے، ہر مذہبی تہوار پر پر ہمارے ٹی وی چینلوں نے مذہب سے منسلک لوگوں کو دین کے اصل پیغام کی ترویج کی بجائے بے معنی ہلڑبازی کے ذریعے ذہنی کوفت کا شکار کیاہے۔ ہمارے اداکار، رقاصاور کھلاڑی ایسے مواقع پر خود کو کامل مسلمان ثابت کرنے کی بے جا کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ افطاری و سحری ، محرم الحرام ، عید الاضحٰی ، عید الفطر ، لیلتہ القدر ہویا کوئی بھی مذہبی تہوار ہم نے مذہب کو ہر ممکن حد تک اور ہر طرح سے بیچا ہے، کبھی موبائل کے ڈبوں کےذریعے تو کبھی موٹر گاڑی اورشربت کی بوتلوں کی مدد سے۔ قہقوں سے لبریز خواتین اور مردوں کی محفلیں جس شان و شوکت سے افطاروسحر کے دوران سجائی جا رہی ہیں وہ رمضان کےسادگی اور صبر کے بنیادی پیغام سے متصاد م ہے۔ ٹی وی چینلوں پر مذہب کی روحانیت اور تقدس کو نظرانداز کرتے ہوئے محض ریٹنگ اور اشتہارات کے حصول میں دلچسپی کے باعث رمضان کی نشریات افسوس ناک حد تک قابل اعتراض ہیں۔
سحرو افطار کے دوران چند ایک پروگراموں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو درپیش شدت پسندی، قدامت پرستی اور علمی انحطاط جیسے مسائل پر کسی قسم کی گفتگو سننے کا موقع نہیں ملا
یہ کیسا رمضان ہے کہ جس میں سحرو افطارکے دوران بڑے بڑے سٹوڈیوز میں انعامات کی بھرمار چل رہی ہے، اور لوگوں کو تزکیہ نفس اور حسن معاشرت کا پیغام دینے کی بجائے نفسانی خواہشات میں مزید الجھایا جارہا ہے۔ سحرو افطار کے دوران چند ایک پروگراموں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو درپیش شدت پسندی، قدامت پرستی اور علمی انحطاط جیسے مسائل پر کسی قسم کی گفتگو سننے کا موقع نہیں ملا۔
رمضان نشریات کے دوران موسمی علماء اور اشتہاری مبلغین کے رٹے رٹائے مضامین کے سوا معاصر مذہبی مسائل پر کہیں فکر نو کی ترویج کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ علمائے دین کے برس ہا برس کے آزمودہ خطبات ، تقاریر اور بیانات میں مسلم دنیا کے مسائل پر گفتگو کی بجائے وہی صدیوں پرانی تقلیدی روش حاوی ہے۔ اگر ان ٹی وی چینلوں کو ایک ماہ مذہب پر بات کرنے کا موقع مل ہی گیا ہے تو اخلاق حسنہ اور مہذب معاشرتی اقدار کی ترویج کی کوشش کی بجائے ہر برس کی طرح محض روایات کی جگالی جاری ہے۔ رمضان کی نشریات محض انعامات کی تقسیم کے ذریعے کاروباری اداروں کی تشہیر کا ایک سنہری موقع بن کر رہ گئی ہے۔ اس ہڑبونگ میں پی ٹی وی کو داد دینا ضروری ہےجو سحری کے وقت مذہب پر روایتی مگر پر مغز گفتگونشر کررہا ہےلیکن مجال ہے جو کسی اور چینل نے کوئی ڈھنگ کاپروگرام پورے ماہ میں دکھایاہو ۔
رمضان کی نشریات کے دوران دکھائی دینے والے چہرے بہروپ بدلنے میں اس قدر ماہر ہیں کہ رمضان کے آغاز اور اختتام کے ساتھ ہی اپنے چینل کی ہدایت پر نیا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ خواتین وحضرات سکرین پر رہنے کے لیے تسبیح پکڑنے سے لے کر ڈھول بجانے تک ہر سوانگ بھرنے کے ماہر ہیں۔ جیسے ہی ایک مذہبی تہوار ختم ہوتا ہے یہ اداکار “سیزن” تک کے لیے اپنے اپنے معمولات میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ کسی اداکار، گلوکار یا بہروپیے کا مذہب پر بات کرنا غلط نہیں تاہم مذہب پر بات کرنے کے لیے جس سنجیدگی، علمیت اور دینی و عصری علوم پر دسترس کی ضرورت ہے وہ رمضان کی خصوصی نشریات کے کسی میزبان میں دکھائی نہیں دیتی
اگرچہ کسی اداکار، گلوکار یابہروپیے کا مذہب پر بات کرنا غلط نہیں تاہم مذہب پر بات کرنے کے لیے جس سنجیدگی، علمیت اور دینی و عصری علوم پر دسترس کی ضرورت ہے وہ رمضان کی خصوصی نشریات کے کسی میزبان میں دکھائی نہیں دیتی۔ یا تو وہ موسمی بٹیر ہیں جو صرف خوش رو ہونے اور معروف ہونے کے باعث مذہبی پروگراموں کی زیب و زینت بڑھانے کے لیے آرائشی نمونے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے یا پھر وہ مذہبی علماء ہیں جو معاصر علوم سے بے بہرہ ہیں۔ معروف فلم سٹار سعود جو سامنے لکھے ہوئےمکالمے ٹھیک سے ادا نہیں کرپاتے وہ ایک نجی چینل پر انتہائی ڈھٹائی سے اسلام پر لیکچر دے رہے ہیں ۔ ابرار الحق صاحب نے بھی ایک ٹی وی پر سحری کی نشریات شروع کر دی ہیں، اداکارہ نو ر ، جویریہ عباسی اور پاکستان کےنام نہاد مذہبی دانشور عامر لیاقت صاحب بھی مسلسل موبائل، لان کے سوٹ اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے اسلام کا پیغام عام کررہے ہیں۔اگرچہ کسی خوش رو خاتون یا مرد کا مذہب پر بات کرنا قطعاً کوئی جرم یا گناہ نہیں تاہم مذہب جیسے سنجیدہ معاملے کو محض کھیل کود یا تفریح کے سپرد کردینا کسی طرح دانشمندی نہیں۔
اشتہاروں اور ریٹنگ کے لیے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی خاطر مذہب کا سہارا لینا علمی بددیانتی ہے اور مذہب پر سنجیدہ بحث اور مکالمے کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ یہ کیسی تشہیر ہے یہ کیسی مارکیٹنگ ہے کہ ہم مذہب کو اس طرح دکانوں میں مٹھائی کی طرح بیچ رہے ہیں ۔عامر لیاقت صاحب جب پروگرام میں بولنے لگتے ہیں تو پس منظر میں نعت کی آواز مدھم ہو جاتی ہے پھر جب وہ چپ ہوتے ہیں نعت کی آواز گونجنے لگتی ہے۔ مذہب کوموضوع بحث بناتے وقت اسے ایک کاروباری موقع کی بجائے علمی ذمہ داری سمجھنا زیادہ ضروری ہے کیوں کہ مذہب ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے اور اسے سمجھنے، پھیلانے اور موجودہ زمانے کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے اسی قدر متانت اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

سیکولرازم کیوں ضروری ہے؟

سیاست اور مذہب کا الحاق کس قدر تباہ کن ہو سکتا ہے یہ جاننے کے لیے دنیا کے امن پسند ترین مذہب بدھ مت کے سیاسی استعمال کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تفصیلات کافی ہیں
برما کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم اور ان مظلوموں کے حق میں کیے جانے والے احتجاج کو مذہبی رنگ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہب سیاسی مقاصد کے لیے کس قدر آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ معاملہ صرف روہنگیا مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر وہ خطہ جہاں سیاسی جماعتوں نے مذہب کا سہارا لیا ہے وہاں اقلیتوں کا اسی طرح استحصال دیکھنے میں آیا ہے۔ سیاست اور مذہب کا الحاق کس قدر تباہ کن ہو سکتا ہے یہ جاننے کے لیے دنیا کے امن پسند ترین مذہب بدھ مت کے سیاسی استعمال کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تفصیلات کافی ہیں۔ بدقسمتی سے مذہبی بنیاد پرست تمام مذاہب میں ہیں اور سیاسی طاقت حاصل کررہے ہیں۔ پاکستان میں مسلم بنیاد پرستی، ہندوستان میں ہندو قوم پرستی ، اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی اور برما میں بدھ مت کے پیروکاروں کی نظریاتی شدت اقلیتی فرقوں اور مذاہب کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنارہے ہیں۔
مذہبی بنیاد پرستی اسلام، یہودیت اور ہندومت سمیت ہر مذہب کے لیےایک جیسا مسئلہ ہے اور ہر جگہ اس بنیاد پرستی کا شکار اقلیتیں، عورتیں اور کم زور طبقات ہی ہوتے ہیں
مذہبی امتیاز کا شکار صرف غیر مسلم ملکوں میں مقیم مسلمان ہی نہیں بلکہ مسلم ملکوں میں موجود غیر مسلم بھی ہیں۔ ظالم صرف برما کے بدھ مت کے پیروکار، اسرائیل میں بسنے والے یہودی یا ہندوستان کے دائیں بازو کے ہندو قوم پرست ہی نہیں مسلم ملکوں میں بسنے والے مسلمان بھی اپنے ہاں بسنے والی اقلیتوں کے لیے اتنے ہی ظالم اور جابر ہیں۔ مذہبی بنیاد پرستی اسلام، یہودیت اور ہندومت سمیت ہر مذہب کے لیےایک جیسا مسئلہ ہے اور ہر جگہ اس بنیاد پرستی کا شکار اقلیتیں، عورتیں اور کم زور طبقات ہی ہوتے ہیں۔ مذہبی شدت پسندی کا چہرہ ہر مذہب کے ماننے والوں میں ایک ہی جتنا بھیانک ہے اور اس کا سیاسی استعمال ایک ہی جتنا خون آشام۔
اس تناظر میں ریاست اور مذہب کی علیحدگی ہی وہ واحد حل ہے جو مذہب کو تشدد اور دہشت گردی کی وجہ بننے سے روک سکتا ہے۔ سیکولرازم سے متعلق یہ عمومی تاثرغلط ہے کہ اس سے مذہب کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ سیکولرازم سے مذہب کو نہیں بلکہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو خطرہ ہے جوخدا اور مذہب کے نام پر استحصال اور تشدد کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ریاست اور مذہب کی علیحدگی کا عمل جس طرح یورپ میں عیسائیت کے خاتمے کی بجائے ارتقاء پر منتج ہوا ہے مسلمان، ہندو اور یہودی اکثریت پر مبنی ریاستوں کو بھی ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ان علاقوں میں بسنے والی اقلیتوں کے خلاف نفرت کو کم کیا جاسکے۔
روہنگیا مسلمان ہوں، پاکستانی احمدی ہوں یا ہندوستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں ہر جگہ مذہب کا سیاسی استعمال اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت پھیلانے کا باعث بن رہا ہے
سیاسی مسائل کو مذہبی رنگ دینا ہمیشہ تشدد، قتل و غارت اور دہشت گردی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ فلسطین اسرائیل تنازعہ کو عرب قومیت کی بجائے مسلم یہودی رنگ دینے کے باعث لاکھوں فلسطینی جان گنوا چکے ہیں، امریکہ کے عراق اور افغانستان پر حملوں کو ایک سامراج کے استعماری ایجنڈے کے طور پر دیکھنے کی بجائے صیہونی رنگ دینے سے دنیا بھر میں متشدد اسلام کو فروغ ملا ہے، شام اور یمن کی خانہ جنگی کو شیعہ سنی رنگ دینے سے پورے مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ تشدد کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ سیاسی مسائل کو مذہبی تناظر میں دیکھنے کی وجہ سے شدت پسند القاعدہ، طالبان اور دولت اسلامیہ جیسے دہشت گرد تنظیموں کے بیانیے کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
اسی طرح سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذہب کی جانب رجوع کرنے کی روایت نے بھی مسلم ممالک سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کو بنیاد پرستی کی جانب دھکیلا ہے۔ مذہبی علماء، پنڈتوں اور پادریوں کے سیاسی اثرورسوخ میں اضافے سے سیاسی عمل کم زور ہوا ہے اور اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوئی ہیں۔ برما کے مسلمانوں کا مسئلہ مذہبی نہیں سیاسی ہے، یہ معاملہ بنیادی شہری حقوق کے حصول اک معاملہ ہے لیکن برما میں بڑھتی ہوئی مذہبی بنیاد پرستی کے باعث اسے مذہبی رنگ دے دیا گیا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومیت کی بنیاد پر ریاست کے قیام کے حق کا مسئلہ ہے لیکن اسے مذہبی رنگ دینے کے باعث دنیا بھر میں مسلم شدت پسندی بڑھی ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں کا مسئلہ سیاسی آزادی کا مسئلہ ہے نہ کہ ہندومسلم دشمنی کا ۔ یہ صرف برما کے مسلمانوں کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان میں بسنے والے قادیانیوں، عیسائیوں اور ہندووں کا بھی مسئلہ ہے جنہیں مذہبی بنیادوں پر ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ اگر برما کے مسلمانوں سے صرف ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمدردی جتائی جارہی ہے تو یہ عمل مذہبی تشدد کو مزید ہوا دے گا۔ روہنگیا مسلمان ہوں، پاکستانی احمدی ہوں یا ہندوستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں ہر جگہ مذہب کا سیاسی استعمال اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت پھیلانے کا باعث بن رہا ہے ۔
مذہب کو ئی سا بھی ہو اس کاکام ریاست چلانا یا معاشرے کیی تشکیل کرنا نہیں ہے بلکہ فرد کی اصلاح ہے ۔ یہ سجھنا ہو گا کہ مذہب چاہے اسلام ہو، عیسائیت، یہودیت، ہندومت یا بدھ مت؛ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا سہارا لینا محض فساد کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج معاشرے ، ریاست اور دنیاکو سیکولر بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہےتاکہ ہم مذہب کو تشددم نفرت اور عدم مساوات پھیلانے کی سیاست کی بجائے روحانی پاکیزگی کے لیے برت سکیں۔
Categories
نقطۂ نظر

نوروز تاریخ اور ارتقاَ

نوروز فارسی زبان کے دو الفاظ نیا اور روز یعنی دن کا مرکب ہےاگرچہ تاریخی حوالوں میں نو روز کی ابتدا سے متعلق کوئی متفق علیہ نقطہ نظر موجود نہیں البتہ کئی ایک روایات دستیاب ہیں۔ عمومی خیال کے مطابق نو روز زرتشتیوں کا مذہبی تہوار تھا۔ اس مذہب کے پیروکار اس دن آگ جلا کر رقص و مستی کرتے تھے جو ان کی عبادت تھی۔ شمسی سال کی ابتدا سب سے پہلے فارس میں ہوئی اور وہاں شمسی کلینڈر تیار کیا گیا۔دوسری روایت یہ ہے کہ مارچ بالخصوص21 مارچ کے بعد بہار کی آمد ہوتی ہے اور نو روز بھی بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ چونکہ ایرانی کیلنڈر کے مطابق 21 مارچ کو سورج زمین کے گرداپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے اور اسی طرح ایک شمسی سال مکمل ہوتا ہے۔ایرانی روایت کے مطابق اسی دن کائنات نے تخلیق کے بعد اپنی حرکت شروع کی تھی اسی وجہ سے نو روز کو زمین کی پیدائش کا دن بھی قرار دیا جاتا ہے؛ “ہوئی جس دن زمیں پیدا وہی نو روز ارضی تھا، کہ ہر تارا ہے اک دنیا یہ ہی ہے مثردہ نو روز”۔
ایرانی روایت کے مطابق اسی دن کائنات نے تخلیق کے بعد اپنی حرکت شروع کی تھی اسی وجہ سے نو روز کو زمین کی پیدائش کا دن بھی قرار دیا جاتا ہے؛ “ہوئی جس دن زمیں پیدا وہی نو روز ارضی تھا، کہ ہر تارا ہے اک دنیا یہ ہی ہے مثردہ نو روز”۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ سینکڑوں برس قبل کردستان میں ضحاک نام کا ایک ظالم اور جابر بادشاہ حکومت کرتا تھا اس کے دونوں کندھوں پر سانپ اگ آئے تھے جن کی خوراک انسانی دماغ تھا۔ضحاک روزانہ کرد قوم کے دو افراد کو قتل کر کےان کامغزان سانپوں کو کھلاتا تھا۔ اپنے اقتدار کے خلاف بغاوت کے ڈرسے ضحاک نے معززین کو اکٹحا کیا۔ ضحاک کی جانب سے اپنی نیک نامی کی دستاویز پر دستخط لینے کی اس تقریب میں “کاوہ” نامی لوہار نے باشاہ پر اپنے اٹھارہ میں سےسترہ بیٹوں کے قتل کا الزام لگایا اور اٹھارہویں بیٹے کے مقید ہونے کا انکشاف کیا۔ضحاک نے لوہار کے بیٹے کو رہا کردیا لیکن اپنی پارسائی کی دستاویز پر دستخط لینے میں ناکام رہا۔کاوہ کی پیروی کرتے ہوئے بہت سے افراد نے پہاڑوں کا رخ کیا جہاں ایک پیش گوئی کے مطابق ضحاک کے اقتدار کا خاتمہ کرنے کا اہل “فریدون” مقیم تھا ۔ فریدون کی قیادت میں ضحاک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد لوگوں نے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے اونچے ٹیلوں پر چڑھ کر آگ لگا دی۔ اور ضحاک کی ہلاکت کی خوشی میں ناچنے لگے۔ اور ہرسال نوروز کو کرد اسی فتح کے جشن کے طور پر مناتے ہیں۔
تاریخ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب نامور بادشاہ جمشید نے سرکاری طور پر سلطنت کی بنیاد رکھی تو اس دن کو نیا دن کہا گیااور اس کے بعد ہر سال نوروز کا تہوار جوش و خروش سے منایا جانے لگا۔
تاریخ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب نامور بادشاہ جمشید نے سرکاری طور پر سلطنت کی بنیاد رکھی تو اس دن کو نیا دن کہا گیااور اس کے بعد ہر سال نوروز کا تہوار جوش و خروش سے منایا جانے لگا۔ ایران میں نوروز ‘فروردین’کے یکم سے 13 تاریخ تک منایا جاتا ہےفروردین شمسی کلینڈر کا پہلا مہینہ ہے جو زرتشتی زبان کے لفظ ‘فراواشیس’سے ماخوذ ہے جس کا مطلب موت کے بعد نئی زندگی کی شروعات ہے۔نامور ایرانی مفکر ڈاکٹر علی شریعتی لکھتے ہیں کہ’نوروزکائنات کے جشن،زمین کی خوشی،سورج اور آسمان کی تخلیق کا دن ہے۔ وہ عظیم فاتح دن جب ہر ایک مظہر پیدا ہوا”۔
ایران میں نوروز کے لیے ‘ہفت سین’ کا میزسجایا جاتا ہے۔ ہفت کا مطلب ہے سات اور سین کا مطلب وہ اشیاء جن کے نام کاپہلاحرف س سے شروع ہوتا ہے جیسے سنجد،سماق،سیر،سمنو،سبزہ، سیب، سنبل اور سرکہ۔ ان تمام اشیا کو سجانے کے پیچھے ایک خاص نظریہ موجود ہے۔ سنجد میٹھے اور خشک میوے ہوتے ہیں جو کہ پیار و محبت کی علامت ہیں۔ سماق مسالوں سے بنی ہوئی چٹپٹی خوراک ہے جو کہ طلوع سورج اور بہترین زندگی کی علامت تصور کی جاتی ہے۔ سیر خیر و عافیت کی، سمنو نرم حلوہ ہے جو زندگی کی خوبصورتی اور مٹھاس کی نمائندگی کرتا ہے۔ سبزی اور اناج کے گھاس کی شاخیں جموت کے بعد دوبارہ زندگی کی نئی شروعات اور فطرت کی دوبارہ پیدائش کی علامت ہیں۔ سنبل کا پھول کامیابی ، خوشحالی اور خیر خواہی کو ظاہر کرتی ہے۔ اشیائے خوردونوش کے ساتھ ہفت سین کی میز پر آئینہ بھی رکھا جاتا ہے، جو پاکیزگی، شفافیت اور دیانتداری کے علامت ہے۔
نوروز کا سب سے بڑا تہوار ایران کے جنوبی شہر شیراز میں تخت جمشید کے مقام پر منایا جاتا ہے۔ اس دن ایران کے مختلف حصوں اور بیرونی دنیا سے لوگوں کی کثیر تعداد شیراز اور اصفہان کی جانب سفر کرتے ہیں۔ ایران کے علاوہ بہت سارے ممالک میں نوروز کو سرکاری طور منایا جاتا ہے۔ افغانستان، البانیا،آزربائیجان، جارجیا، کوسووو،کرغزستان، ازبکستان،عراق،قازقستان،تاجکستان ، ترکمانستان،عراقی ترکستان وغیرہ میں نوروز کے دن سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں مغلوں کے رور حکومت میں نورووز سرکاری طور پر منایا جاتا تھا۔نامور تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں،” چونکہ عربی تہوار ثقافتی طور پہ اتنے رنگین اور دلکش نہیں تھے جتنے کہ ایران و ہندوستان کے، لازمی طور پر مسلمان ان سے متاثر ہوئے اور تبدیلی مذہب کے بعد بھی لوگ یہ تہواربطور ورثہ اپنے ساتھ لائے ۔انہوں نے ان تہواروں اور رسومات کو جاری رکھا۔ اس لیے مسلمان بادشاہوں کے دربار میں نوروز کا تہوار بڑی شان و شوکت کے ساتھ منایا جاتا رہا (المیہ تاریخ،ڈاکٹر مبارک علی صفحہ99 )۔ پاکستان کے شمالی علاقوں (گلگت، بلتستان اور چترال) میں جشن نو روز ثقافتی و مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جاتاہے۔ چترال کے بعض تاریخی حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابقہ ریاستی دور میں نوروز ریاستی سطح پر منایا جاتا تھااور دن بہار کی آمد کی خوشی میں پولو میچ ہوتا ہے جسے دیکھنے کے لیے مہتر چترال بھی میدان میں تشریف لاتے۔ مختلف قسم کے روایتی کھانے پکوائے جاتےتھے اور رات کو محفل موسیقی کا انعقاد ہوتا تھا۔ اس دن دہقان کھیت میں جا کر کام کا آغاز کرتے ہیں۔ یاد رہے نوروز کی آمد سے پہلے زمینوں میں کام کرنے کو بد شگونی تصور کیا جاتا ہے۔
چترال کے بعض تاریخی حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابقہ ریاستی دور میں نوروز ریاستی سطح پر منایا جاتا تھااور دن بہار کی آمد کی خوشی میں پولو میچ ہوتا ہے جسے دیکھنے کے لیے مہتر چترال بھی میدان میں تشریف لاتے۔
جشن نوروز کا آغاز آج سے ہزاروں برس قبل ہوا ترقی کے مختلف مدارج طے ہوئے اب یہ تہواربین لاقوامی شہرت اختیار کر چکا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2010 میں نوروز کو عالمی تہوار قرار دیاتھا جس کی مناسبت سے ایران نے پہلے عالمی نوروز منعقدہ تہران 27 مارچ 2010 کو سابق صدر محمود احمدی نژاد کی موجودگی میں خصوصی ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا ۔اس موقع پرسابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”جشن نوروز نہ صرف ثقافتی ترقی کی علامت ہےبلکہ یہ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ،امن اور ایک دوسرے کو عزت دینے میں بھی مددگار ہوگا”۔ اقوام متحدہ نے 28 ستمبر سے 2 اکتوبر2009 کو دبئی میں منعقدہ اپنی ایک میٹنگ میں نوروز کوسرکاری طور پر یونیسکوکے عالمی ثقافتی ورثہ کا ھصہ تسلیم کیا ۔ 30 مارچ 2009 کو کینڈین پارلیمنٹ نے اپنے ایک اجلاس میں بل پاس کرتے ہوئے نوروز کو قومی کیلنڈر میں شامل کیا۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان نے بل پاس کرتے ہوئے نوروز کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا۔ نو روز ایک ایسا ثقافتی تہوار ہے جو اپنے ساتھ علم دوستی مساوات اور بھائی چارگی کی روایات لے کر طلوع ہوتا ہے تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں تہوار اور میلے منانے کا رحجان ختم ہوتا جارہا ہے جو پاکستانی ثقافت کی ہمہ گیریت کے لیے نقصان دہ ہے۔
Categories
اداریہ

اسلام کا امن پسند چہرہ دھندلا رہا ہے – اداریہ

وہ تمام افراد اور جماعتیں جو گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی اور مذہب کے درمیان تعلق سے انکار کرتے رہے ہیں،شکار پورمیں اہل تشیع پر ہونے والا حملہ اور 61 لاشیں انہیں یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ دہشت گردی کا تعلق نہ صرف مذہب بلکہ مسلک اور فرقہ سے بھی ہے۔ موجودہ دہشت گرد تنظیموں کے مذہب اور مسلک سے تعلق سے انکار کا رویہ ان تحریکوں کو مزید حمایت اور طاقت فراہم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ان جہادی تنظیموں کے لیے پائے جانے والی ہمدردی اور حمایت ان کے خلاف کارروائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پشاور حملے اور اب سانحہ شکار پور کے بعد بھی مذہبی تنظیمیں نہ تونصاب سے جہادی مضامین کے اخراج اور نہ ہی دہشت گردی کی وجہ بننے والی جہادی اورتکفیر ی فکر کے تدارک کے لیے مدارس کے خلاف کارروائی کی حمایت کو تیار ہیں۔مسلم دنیا نہ تو دہشت گرد فکر کی بھرپور مذمت اور تدارک پر رضامند ہے اور نہ ہی اسلام کی نئی یا ترقی پسند تشریح کو تشکیل دینے اور اپنانے کے لیے تیار ہے۔
اگرچہ متشدد مسلمان اور شدت پسند جہادی فکر کے پیروکار تعداد میں کم ہیں لیکن یہی سب سے زیادہ موثر، فعال اور بلند آواز بھی ہیں جس کے باعث اسلام کی متبادل اور امن پسند تشریح مقبول عام نہیں ہو سکی ہے۔
دہشت گردوں کے مذہب اور مسلک کے وجود سے انکار کی بدولت ان تنظیموں کے مالی و افرادی وسائل میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ان کا مذہبی بیانیہ شدید تر ہوا ہے۔ مسلم دنیا خصوصاً پاکستان دہشت گردی کی وجہ بننے والے مذہبی بیانیے کی بلا حیل وحجت تنقید اور تدارک کو تیار نہیں۔ جبکہ دوسری طرف افغان جہاد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جہادی گروہوں کی نئی نسل نہ صرف مذہب بلکہ مسلک کی بنیاد پر تشدد کو جائز قرار دیتی ہے بلکہ اس کی ترویج کے لیے مذہبی حوالے بھی استعمال کر رہی ہے۔ اگرچہ متشدد مسلمان اور شدت پسند جہادی فکر کے پیروکار تعداد میں کم ہیں لیکن یہی سب سے زیادہ موثر، فعال اور بلند آواز بھی ہیں جس کے باعث اسلام کی متبادل اور امن پسند تشریح مقبول عام نہیں ہو سکی ہے۔ اور نہ ہی گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریاستی سطح پر ایسی کوئی موثرکوشش کی گئی ہے۔
نو گیارہ کے بعد سے اب تک مسلم دنیا میں جہادی تنظیموں کا اثرورسوخ بڑھا ہے، ان کے لیے چندہ اور افرادی قوت کبھی بھی اس قدر ارزاں اور وافر نہیں رہے جس قدر اب ہیں۔ معتدل اور امن پسند اسلام کے داعین کو اپنی ناکامی کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ شدت پسند سیاسی اسلامی فکر اور اس کا متشدد جہادی بیانیہ دنیا کے امن کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی معتدل آبادی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ اسلام میں عقلیت پسندی کی کمزور اور معدوم شدہ روایت نے مسلم اکثریت کے سامنے متشدد، خود پسند اور مقلد ہونے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہنے دیا،جبکہ اپنی پسماندگی کی وجوہات مذہب سے دوری اور مغرب کے دہرے معیار میں ڈھونڈنے کے رویے نے بھی مسلمانوں کی حالت زار کو بدتر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں جہادی تنظیموں کی دہشت گرد کارروائیوں کو اسلام کی فتح سمجھتے ہوئے القاعدہ، طالبان،الشباب، حزب اللہ، حماس،بوکوحرام اور اب دولت اسلامیہ کی حمایت بڑھ رہی ہے۔
آج کے مسلم نوجوان کے سامنے اسامہ بن لادن، ملاعمر، ابو بکر شیکاو اور ابوبکر بغدادی کے متبادل طاقتور اور قابل تقلید مثال ابھرکر سامنے نہیں آئی۔ مسلم معاشروں کی سیاسی جماعتوں، مذہبی تحریکوں اور دینی شخصیات نے مغرب بیزاری، قدامت پسندی، تکفیریت اور نرگسیت کی جس مذہبی روایت کی حفاظت ایمان اور مذہب سمجھ کر کی ہے وہ آج کے مسلمان نوجوان کو ہتھیار اٹھانے کے اس راستے کی جانب لے جا رہی ہے جو اسلام کے صبر، برداشت، ہمہ گیریت اور امن کے عظیم الشان پیغام کی نفی ہے۔
معتدل اور امن پسند مسلم اکثریت کو اسلام کے امن پسند رخ کو نمایاں کرنے کے لیے مذہبی اور متشددجہادی بیانیے اور فکر کی نہ صرف پرزور مذمت کرنا ہوگی بلکہ ایک متبادل روشن خیال اور ترقی پسند اسلام کو نمایاں کرنے کے لیے ان تحریکوں سے خود کو کلی طور پر علیحدہ کرنا ہوگا۔ مسلم شدت پسندی کا خاتمہ تب تک ممکن نہیں جب تک مسلمان ان دہشت گردوں کے مذہب اور مسلک سے تعلق کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے تدارک کی کوششوں کا آغاز اپنے طور پر نہیں کرتے۔ اگر معتدل اور امن پسند مسلمان اکثریت دہشت گرد تنظیموں کو اسلام کا صحیح نمائندہ تسلیم نہیں کرتی تو اسے عل الاعلان ان تنظیموں اور ان کی فکر سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اسلام کی بہتر نمائندگی کا بیڑا اٹھانا ہوگا۔
Categories
نقطۂ نظر

ایک اچھوت تحریر

[blockquote style=”3″]

یہ تحریر بہت سے غیر مسلم دوستوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔

[/blockquote]

 

وہ ہمیں گھر کرائے پر نہیں دیتے، بعض اوقات تو مجھے کچھ بیچنے سے بھی انکار کردیتے ہیں۔ وہ مجھے اپنی آبادیوں سے دھکیل دینا چاہتے ہیں کیوں کہ میرے عقیدے اور میری کتابوں میں “ملاوٹ “کر دی گئی ہے۔لیکن یہ بھی بہت ہے کہ وہ ہمیں اپنی سڑکوں، پلوں اور چوراہوں سے گزرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ ہم ان کے خدا کو ان کی طرح نہیں مانتے تو وہ ہم سے ہماری زمینیں چھین لیتے ہیں حالانکہ زمین خدا کی ہے اور اس زمین پر امان بھی سب کی ہے۔ وہ ہمارے برتن استعمال نہیں کرتے، ہم سے ہاتھ نہیں ملاتے، کیوں کہ انہیں کہا گیا ہے کہ ہم ناپاک ہیں یہ ایک طرح سے ٹھیک بھی ہے کیوں کہ بنانے والی اور پیدا کرنے والی ذات بھلے ایک ہی ہو لیکن مخلوق ایک سی نہیں ہو سکتی۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ کھانے اور پینے کی اجازت نہیں دیتے کیوں کہ ایسا کرنے سے ان کے عقیدے اور ایمان کو نقصان کا اندیشہ ہے، بے برکتی بھی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ہر کھانے اور پینے والی چیز ایک ہی زمین سے اگتی ہے ، موسم اور ذائقے ہم پر ایک ہی طرح سے اثرانداز ہوتے ہیں،پرندے مجھے بھی بھلے لگتے ہیں لیکن میرے لئے اس سب پر سب کے ساتھ مل کر خوش ہونا منع ہے۔
وہ ہمیں گھر کرائے پر نہیں دیتے، بعض اوقات تو مجھے کچھ بیچنے سے بھی انکار کردیتے ہیں۔ وہ مجھے اپنی آبادیوں سے دھکیل دینا چاہتے ہیں کیوں کہ میرے عقیدے اور میری کتابوں میں “ملاوٹ “کر دی گئی ہے
وہ ہمارے تہوار نہیں مناتے، ہمارے گھر ملنے نہیں آتے انہیں شبہ ہے کہ ہمارے تہواروں کی مبارک باد دینا، مٹھائی کھانا یاان پر خوش ہونا ان کے لئے منع ہے۔ ان کے بچے میرے بچوں کے ساتھ سکول میں اکٹھے نہیں بیٹھ سکتے، اکٹھے کھیل نہیں سکتے۔ وہ اپنے بچوں کو منع کرتے ہیں کہ میرے بچوں سے بہت زیادہ رسم و راہ نہ رکھیں، اس کے باوجود کہ کرکٹ کے اصول یا گلی ڈنڈے کے ضوابط سب کے لئے ایک سے ہیں۔ برف پانی اور اونچ نیچ کےکھیلنے کے لئے دو ٹانگیں میرے بچوں کی بھی ہیں مگر انہیں شامل کرنے سےان کی گم راہی کا اندیشہ ہے۔ میرے بچے ان کے لئے تبھی تک معصوم اور خوبصورت ہیں جب تک انہیں پتہ نہ چلے کہ ان کے ماں باپ کا عقیدہ کیا ہے۔میرا بیٹا بھی تیز گیند کر سکتا ہے اور میری بیٹی کے پاس بھی ایک خوبصورت گڑیا ہے ، میرا بیٹا بھی تیز بھاگ سکتاہے اور میری بیٹی بھی سائیکل چلا سکتی ہے، آئس کریم بھی دونوں کو اچھی لگتی ہے مگر شاید ان کے لئے اس دنیا کے عذابوں میں سے ایک عذاب یہ بھی ہے کہ انہیں باقی بچوں سے دوستی کرنے اور گھلنے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔
وہ مجھے نیچ سمجھتے ہیں، شہریت میں، قومیت میں، معاشرت میں ؛ وہ میرے شناختی کارڈ پر یہ واضح کر کے لکھتے ہیں کہ میں ان جیسا نہیں ہوں اس لئے مجھے اس دنیا پر برابری کی سطح پر جینے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ وہ مجھے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میرے خمیر میں غداری ہے اور میں ان کے پاکیزہ عزائم میں روکاوٹ ہوں۔ وہ مجھے جھاڑو دیتا، کوڑااٹھاتا یا نالیاں صاف کرتا دیکھنا چاہتے ہیں اور مجھے سراٹھا کر چلنے سے منع کرتے ہیں۔
وہ ہم سے اچھے طریقے سے صرف تبھی بات کرتے ہیں جب وہ ہمیں اپنے عقیدے پر لانا چاہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم گمراہ ہیں اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے ہیں، وہ میرے عقیدے کو اپنے ایمان سے کم تر سمجھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میری عبادت اور دعائیں میری نجات کا باعث نہیں بنیں گی۔ انہیں ان کے علماء نے بتایا ہے کہ ہم اور ہم جیسے سب لوگ جنت میں جانے کے لائق نہیں کیوں کہ میرے بزرگوں نے مجھے نیکی کا ایک مختلف چلن سمجھایا اور سکھایا ہے۔ وہ مجھے اپنے قانون اور آئین میں مختلف قرار دے چکے ہیں، وہ میری قابلیت نہیں عقیدہ دیکھ کر مجھے مسترد یا منتخب کرتے ہیں۔ وہ مجھے اپنے مذہب کی باتیں پڑھاتے اور سناتے ہیں اور یہ جتاتے ہیں کہ ان کا مذہب امن کا مذہب ہے۔ وہ کتابوں میں یہ لکھتے ہیں کہ ہم ناپاک ہیں، باطل ہیں ،ہم سے دوستی ممکن نہیں اور میرے بچوں کو یہ پڑھنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ وہ میری عبادت گاہوں پر حملہ کرتے ہیں کیوں کہ پاک لوگوں کی دھرتی پر “ناپاک خداوں”کا نام لینا ٹھیک نہیں۔ وہ اس دنیا میں میری عبادت گاہوں کو گھیرے ہوئے ہیں اور مجھے یرغمال بنائے ہوئے ہیں، مجھے اپنی آبادیوں سے بے دخل کررہے ہیں اور بہت ممکن ہے وہ اپنی جنت کی طرح اپنے جہنم سے بھی مجھے بے دخل کردیں؟
وہ میری بیٹی کو اس کے جوان ہوتے ہی اٹھا لے جاتے ہیں، تاکہ وہ ان کا عقیدہ قبول کر کے ان کی اولادیں پیدا کر سکے، پھر وہ اسے مجھ سے ہم میں سے کسی سے بھی ملنے سے منع کر دیتے ہیں۔ وہ میرے بولنے، ہنسنے یا زندہ رہنے پر کسی بھی وقت مشتعل ہو کر مجھے مار سکتے ہیں، یا میرے گھر جلا سکتے ہیں۔ وہ مجھے کسی بھی شبے میں مار سکتے ہیں، کسی بھی الزام کے تحت، کسی بھی بہتان کے بعد بنا تصدیق کئے چند روپوں، تھوڑی سی زمین ۔مجھے کیا وہ میری حمایت کرنے والوں کو بھی مار سکتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ میں آسمانی صحیفوں میں غیبی امداد کے وعدوں کے باوجود اپنی پیدائش کے بعد سے اچھوت ہوں، بے گھر ہوں اور جلاوطن ہوں۔