Categories
شاعری

ایک بے ارادہ نظم

ریل کی سیٹی
ہوا کے پیٹ میں
سوراخ کرتی جا رہی ہے

الوداعی ہاتھ،
لہراتے ہوئے رومال،
وعدے،
لوٹ آنے کی دعائیں
اور لبوں پر
منجمد ہوتے ہوئے
بوسوں کے سورج

بے ارادہ
پانیوں سے
آنکھ بھرتی جا رہی ہے
ریل کی سیٹی
ہوا کے پیٹ میں
سوراخ کرتی جا رہی ہے!