Categories
شاعری

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے
دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا
خود کش حملوں کے خوف سے
اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے
خدا واحدِ حقیقی ہے
اسے کیا پڑی ہے
کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر
جوتوں اور کپڑوں کے ساتھ اِدھر اُدھر بکھر جائے

شاعروں اور دہشت گردوں نے
خدا کو اتنی کثرت سے استعمال کیا ہے
کہ تنگ آ کر
وہ نظموں اور دنیا سے غائب ہو گیا ہے
اور کائنات کے کسی ایسے گوشے کی طرف نکل گیا ہے
جہاں ان کی نظروں سے محفوظ رہ سکے
خدا اتنا بے بس کبھی نہیں تھا
جتنا اب ہے

خدا کائنات کا سب سے بڑا کلیشے ہے
جسے ترک نہیں کیا جا سکتا !
Image: Andrey Bobirs

Categories
شاعری

کفارہ

ایک شور ہے
ہمارے درمیان
چپ چاپ بیٹھا ہوا
جیسے
کسی کائنات کا وقت ہو
چپ چاپ بیٹھا ہوا
نہ تماشائی ہے
نہ مداری ہے
یہ کہانی کار ہے
یہ توڑنے جوڑنے کی خصلت کی قدیم روایت
کا باپ ہے

میں بزدل نہیں ہوں
میں اپنے گناہ کی گرفت میں ہوں
میں اعلانیہ کرتا ہوں
اپنی بقیہ روح کا سودا
صرف پانچ سال دے دو
کچھ چیزیں پیچھے توڑ آیا ہوں
کچھ غلطیاں جوڑ آیا ہوں
تم خدا ہو ماؤں والے تو جانے دو
مجھے اپنے پرانے ہاتھ توڑ کر آنے دو
اپنے شکار واپس جوڑنے دو
اگر تم خدا ہو ماؤں والے
تو کرلو سودا
تمہارا کیا جاتا ہے؟
تم تو شور ہو
چپ چاپ بیٹھے ہوئے
تمھارے توڑنے جوڑنے کی کونسی پکڑ ہونی ہے
پکڑ ہونے کے لیے دل ہونا چاہیے

Image: Andrey Bobirs