آزُوقہ

نصیر احمد ناصر: ایک زمیں کے ٹکڑے سے بھی
کیا کچھ حاصل ہو سکتا ہے!
سٹی ہائٹس

نصیر احمد ناصر:زمیں ماں ہے، زمیں کا خواب تھا لیکن
زمیں زادوں کی آنکھوں میں
فلک بوسی کا سپنا ہے جسے تعبیر ہونا ہے
زمیں زادوں کی آنکھوں میں
فلک بوسی کا سپنا ہے جسے تعبیر ہونا ہے
سوختہ درختوں کی خاموش سسکیاں
سورج آج کل کے دنوں سے پہلے بھی لوہاروں کے گھر سے نکلتا تھا۔ لیکن فرق یہ تھا کہ کچھ غمگسار تھے جو اس کی تمازت کو اپنے سر لے کر انسانوں کو ٹھنڈک دے دیتے تھے۔ اب وہ کم ہو گئے ہیں۔
بیت الخلا سے ایک نظم

شہر کی بدبو سے
شہر بھی اپنے مضافات میں بھاگ رہا ہے
تم نے بھاگتا ہوا شہر دیکھا ہے؟
شہر بھی اپنے مضافات میں بھاگ رہا ہے
تم نے بھاگتا ہوا شہر دیکھا ہے؟