Categories
شاعری

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو!

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے
ویرانیاں تاریخ کی
مقدونیہ کی سمت جاتے راستوں پر دھول اُڑتی ہے
مقدر کے سکندر جا چکے ہیں
قونیہ کی میخ کے چاروں طرف
کُنڈل بنائے
گھومتے قدموں کی چاپیں
اب کسی بے وقت لمحے کی صدائے جاں گُزا ہیں
اب کسی درویش کی ایڑی میں دَم باقی نہیں
روشن لکیریں بجھ چکی ہیں
محو ہوتے جا رہے ہیں
رقص کے سب سلسلے
بغداد پر چیلیں جھپٹتی ہیں
دمشقی دھات کے
پھل دار ہتھیاروں کی دھاریں کند ہیں !

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو !
اب تمہارے خواب کی گہرائیوں میں
دل دھڑکنے کے بجائے
بِس بھری آنکھوں کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں
کورِنتھی ستونوں سے بنی کہنہ عمارت میں
نئی دنیا کے دھاری دار سانپوں کا بسیرا ہے
طلسمی غار میں
خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں
سرخ سِکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں
دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے
Image: Pawel kuczynski

Categories
نقطۂ نظر

شامی خانہ جنگی: پسِ منظر سے پیش منظر تک۔ تیسری قسط

اس سلسلے کے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

﴿شامی خانہ جنگی پر شامی بعث پارٹی، علوی کمیونٹی اور اسد رژیم کی فرقہ وارانہ چھاپ کے اثرات

 

اسد رژیم کے بارے میں فرقہ وارانہ تاثر 1980ء کے بعد سے عام ہونا شروع ہوا۔ اس سے پہلے تک اسدحکومت کی پہچان بائیں بازو کی عرب قوم پرست حکومت کی تھی۔ ستمبر 1970ء میں اردن میں بلیک ستمبر کا سانحہ ہوا۔ اسد حکومت نے فلسطین کاز کی حمایت میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا ساتھ دیا جس میں بیسیوں شامی فوجی بھی فلسطینیوں کی حمایت میں لڑتے مارے گئے۔ حافظ الاسد نے اردن کی جانب سے فلسطینی گوریلوں کو اردن سے بے دخل کرنے پر اردن کے بادشاہ شاہ حسین بن طلال کی شدید مخالفت کی۔ 6 تا26 اکتوبر 1973ء چوتھی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسدرژیم کے زیرِاقتدار شام نے مصر کے شانہ بشانہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ اسد حکومت نے لبنانی خانہ جنگی میں بھی اپنی افواج بھجوائیں۔ لبنان میں 1975ء سے 1990ء تک خانہ جنگی رہی۔ اس خانہ جنگی میں شامی افواج نے مقامی مسلمانوں کو اسرائیلی دراندازوں اور میرونائیٹ عیسائی جتھوں سے بچانے کے لیے Deterrence Army کا کردار ادا کیا۔ یوں فلسطین اور لبنان میں بھی اسد خاندان کو اپنے حامی مل گئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شام کی حالیہ خانہ جنگی میں بشارالاسد کو فلسطین اور لبنان کی بااثر عسکری تنظیموں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ ان تنظیموں میں لبنانی ’حزب اللہ‘ اور فلسطینی ’پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین لبریشن جنرل کمانڈ‘ سرفہرست ہیں۔

 

بلیک ستمبر کے دوران شامی افواج اردن کی حدود میں داخل ہوئیں
بلیک ستمبر کے دوران شامی افواج اردن کی حدود میں داخل ہوئیں
ابتداء میں شام اور عراق میں بعث پارٹی کی حکومتیں سیکولر، عرب قوم پرست اور سوشلسٹ رجحانات رکھنے کی وجہ سے غیرمذہبی تشخص کی حامل گردانی جاتی تھیں۔ لیکن شام میں حافظ الاسد اور عراق میں صدام حسین کے بعثی ادوارِ حکومت کے بارے میں فرقہ وارانہ تاثر کو 1979ء میں تقویت ملنا شروع ہوئی۔ اس تاثر کی بنیادی وجوہ اس زمانے میں ہونے والی تاریخ ساز عالمی تبدیلیاں تھیں۔ ان تبدیلیوں میں سرفہرست امریکی کارٹر انتظامیہ کے تخلیق کردہ “اسلام ازم” (سیاسی اسلام) کا عالمی سیاست میں ابھرنا تھا۔ اسی نظریے کے تحت افغانستان میں امریکی سرپرستی میں عالمی جہاد کا آغاز ہوا۔ اسی دوران ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوا اور مصر اور شام میں اخوان المسلمین کی اقتدار پر قبضے کی سرگرمیوں میں تیزی آئی۔

 

عالمی سطح پر رونما ہونے والی اِن تبدیلیوں سے شام اور عراق خاص طور پر متاثر ہوئے۔ جس طرح کمیونزم کی عالمی قیادت کے مسئلے پر سوویت یونین کے نکیتا خروشیف اور کمیونسٹ چین کے ماؤزے تنگ فطری اتحادی ہونے کے باوجود مخالفت پر اتر آئے تھے تقریباً اِسی طرح شام کے حافظ الاسد اور عراق کے صدام حسین بھی بعث ازم کی عالمی قیادت کے مسئلے پر فطری اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے کٹر مخالف بن کر سامنے آئے۔ یوں عراق اور شام کی بعث پارٹیاں فطری اتحاد کے باوجود ایک دوسرے کے مدمقابل آنے سے خود پرسنی اور علوی ہونے کی فرقہ وارانہ چھاپ لگوا بیٹھیں۔ اس صورت حال میں عراق اور شام نے نئے اتحادی تلاش کیے۔ 1980ء کی دہائی میں آیت اللہ خمینی کے زیرِاقتدار ایران کو عالمی برادری میں اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے اتحادیوں کی ضرورت تھی۔ شام کی صورت میں ایران کو ایک اتحادی میسر آیا تو دوسری جانب حافظ الاسد کو عراق سے کشیدگی کے بعد ایران کی حمایت حاصل ہوئی۔ صدام حسین کو شام اور ایران کے خلاف سنی اکثریت کے حامل خلیجی عرب ممالک کی قربت میسر آئی۔

 

بین الاقوامی تعلقات کی تھیوری ’نیو رئیل ازم‘ کے مطابق “بین الاقوامی سیاست کے خدوخال اور حالات و واقعات کسی بھی ریاست کے خارجی رویے کا تعین کرتے ہیں”۔ یہی معاملہ شام اور ایران کے ساتھ ہوا۔ نظریاتی طور پر اشتراکیت کے کٹر مخالف آیت اللہ خمینی اور سیاسی اسلام کے کٹر مخالف حافظ الاسد باہم متصادم نظریات کے باوجود بھی زمینی حالات کے پیشِ نظر اتحادی بنے۔ دوسری جانب صدام حسین کے زیراقتدار عراق کو شام اور ایران کے خلاف خلیجی عرب ممالک کا حلیف بننا پڑا۔ ایران عراق جنگ اس نئی سیاسی صف بندی کو مضبوط کرنے کا باعث بنی۔ 22 ستمبر 1980ء کو عراقی صدر صدام حسین نے شط العرب پر قبضے کی تذویراتی جنگ شروع کی۔ اس جنگ کو آیت اللہ خمینی کی شیعائی ملائیت کے زیرِاقتدار ایران پر سنی مسلکی شاؤنزم مسلط کرنے کی جنگ کے طور پر دیکھا گیا۔ 1988ء میں جنگ کے اختتام تک آٹھ سال کے عرصے میں شامی بعث پارٹی کے علوی سربراہ اور شامی صدر حافظ الاسد نے ایران کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں عراقی بعث پارٹی کی سنی شناخت اور شامی بعث پارٹی کی علوی پہچان کا تاثر گہرا ہوا۔ عراق میں صدر صدام حسین نے اور شام میں صدر حافظ الاسد نے اِس عوامی تاثر کو دور کرنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی۔ بعث پارٹی کی سنی پہچان اب بھی قائم ہے اور یہ جماعت اس وقت بھی عراقی حکومت کے خلاف زیرزمین سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد عراقی بعث پارٹی پر پابندی لگائی گئی تھی۔ سابق عراقی صدر صدام حسین کے نائب عزت ابراہیم الدوری اور صدام حسین کی بیٹی کی قیادت میں عراقی بعث پارٹی نقشبندی آرمی کے نام سے کام کر رہی ہے۔

 

ایران عراق جنگ میں شام نے ایران کا ساتھ دیا تھا
ایران عراق جنگ میں شام نے ایران کا ساتھ دیا تھا
حافظ الاسد کے عہد میں 1982ء میں حماۃ شہر پر اخوان المسلمین کے بلوائیوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے کی گئی ناکہ بند فوجی کارروائی میں ہزاروں عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں اسدرژیم پر سنی دشمنی کی مہر بھی لگ گئی لیکن سنی دشمنی کا یہ الزام بہت زیادہ درست نہیں۔ مصر میں بھی ’اخوان المسلمین‘ جیسی عسکریت پسند مذہبی سیاسی جماعتوں کو دبائے رکھا گیا حتیٰ کہ مصر میں تو اخوان المسلمین کے مرشد سید قطب کو پھانسی تک دی گئی۔ حال ہی میں اخوان المسلمین کو سعودی عرب، بحرین اور مصر نے ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے کر کالعدم کیا ہے۔ لہٰذا شام میں اسد حکومت کی اخوان المسلمین مخالف پالیسیوں پر اُسے علوی سُنی فرقہ وارانہ دشمنی کا مظہر قرار دینا مناسب نہیں۔ اخوان المسلمین کی حکومت کے خلاف اور اقتدار پر جنرل عبدالفتح السیسی کے قبضے کی تائید میں فتویٰ جاری کرنے والے مفتیوں میں مصر کے مشہور سنی عالم ڈاکٹر علی جمعہ سرفہرست ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ شام میں اسدرژیم کا اخوان المسلمین کو عتاب کا نشانہ بنانا فرقہ وارانہ تضادات کا معاملہ نہیں بلکہ آمرانہ حکومتی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

 

اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسدرژیم کو صرف علوی کمیونٹی کی حکومت نہیں کہا جاسکتا کیونکہ حافظ الاسد اور بشارالاسد کے انتہائی وفادار اور قریبی حلقوں میں سنیوں کی بھی بڑی تعداد ہے جن پر اسدفیملی علویوں سے بھی بڑھ کر بھروسہ کرتی ہے۔ حافظ الاسد نے 1983ء میں اپنی علالت کے دوران کاروبارِ حکومت اپنے بھائی رفعت الاسد اور علویوں کو نظرانداز کر کے چھ رکنی کمیٹی کے حوالے کیا جس کے اراکین سنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ رفعت الاسد اور حافظ الاسد میں اس فیصلے پر اختلافات پیدا ہوئے۔ رفعت الاسد نے بعدازاں شامی مسلح افواج کے علوی افسران کی ملی بھگت سے فوجی انقلاب برپا کرنے کی کوشش بھی کی جو پکڑی گئی۔ تب سے اب تک حافظ الاسد اور رفعت الاسد کے گھرانوں میں ناراضی چلی آرہی ہے حتیٰ کہ رفعت الاسد کا شمار بشارالاسد کے مخالف جلاوطن اپوزیشن رہنماؤں کی صفِ اول میں کیا جاتا ہے۔ گویا اسدفیملی کی سیاست علوی کمیونٹی کی نہیں ہے بلکہ اقتدار کی سیاست ہے۔

 

حافظ الاسد (دائیں) اور رفعت الاسد (بائیں)
حافظ الاسد (دائیں) اور رفعت الاسد (بائیں)
علاوہ ازیں چونکہ علویوں کو بذاتِ خود اہل تشیع بھی غیر مسلم سمجھتے تھے لہٰذا اپنی حکومت کو عوام میں نسبتاً قابلِ قبول بنانے کے لیے اسد فیملی نے اثناعشری شیعہ مذہب کی طرف جھکاؤ کیا اور اپنے خاندان اور علوی کمیونٹی کی ’شیعہ نائزیشن‘ کا سلسلہ شروع کیا۔ تقریباً اس سے مماثل مثال قائداعظم کی ہے جو اسماعیلی فرقے سے تھے مگر بعدازاں اثناعشری شیعہ بن گئے۔حتیٰ کہ بشارالاسد اپنے مذہبی وظائف بالخصوص نمازوں کی ادائیگی اہل سنت کی طرح ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بشارالاسد کی اپنی اہلیہ اسماء اسد سنی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ شام کے سنیوں میں بشارالاسد کی حامی شخصیات میں شافعی فقہ سے تعلق رکھنے والے معروف عالمِ دین الشیخ ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی سرفہرست تھے۔ جنہیں 21 مارچ 2013ء کو دمشق کی ایک مسجد میں درس دیتے ہوئے خودکش حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

 

نومبر1989ء میں دیوار برلن گرنے اور پھر سوویت یونین کی تحلیل سے عالمی سطح پر اشتراکی تحریک کو دھچکا پہنچا۔ بعدازاں سردجنگ کے خاتمے اور سرمایہ دارانہ روس کی عالمی سیاست میں وقتی خاموشی سے شام کا خارجی سیاست میں ایران اور لبنان کی شیعہ تنظیموں جیسے امل اور حزب اللہ پر انحصار بڑھتا چلا گیا۔ داخلی سیاست میں بعث ازم کی ناکامی نے بعث پارٹی کو ایک نظریاتی جماعت سے مقتدر اقلیتی اشرافیہ کی حکمران جماعت میں بدل دیا۔ جس کا مرکزومحور کوئی نظریہ نہیں بلکہ اسد خاندان کے اقتدار کا تحفظ تھا۔ عالمی سیاست میں “تاریخ کا خاتمہ”، “تہذیبوں کا تصادم” اور “نیو ورلڈ آرڈر” جیسے اشتراکیت کا خاتمہ کرنے کے دعویدار نظریات کی وقتی دھاک بیٹھنے سے بھی عراق اور شام کی مقتدر بعث پارٹیوں کا نظریاتی کردار محدود ہوکر اقتدار کی مصلحتوں کی نذر ہوگیا۔جس کا نتیجہ عراق اور شام کی بعث پارٹیوں پر فرقہ وارانہ چھاپ کی صورت میں نکلا۔
حافظ الاسد اور صدام حسین نے بعث ازم کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا
حافظ الاسد اور صدام حسین نے بعث ازم کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا
بلاشبہ بعث ازم عرب نیشنلزم،سیکولرازم اور سوشلزم کے امتزاج پر مبنی ایک معقول اور پرکشش نظریہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عراق میں سنیوں کے زیرغلبہ بعث پارٹی نے اِسے شیعہ اکثریت کو دبانے کے لیے استعمال کیا۔ شام میں علویوں کے زیرغلبہ بعث پارٹی نے سنی اکثریت کو دبانے کے لیے بعث ازم کو نظریاتی محرک کے طور پر برتا۔ بالکل اسی طرح جیسے متحدہ پاکستان کی پنجابی اور مہاجر اشرافیہ نے بنگالی اکثریت کو دبائے رکھنے کے لیے ’اسلام‘ کو استعمال کیا اور متحدہ بنگال میں ہندواشرافیہ نے مسلمان اکثریت کو اپنے استحصال تلے دبائے رکھنے کے لیے بنگالی قوم پرستی کا سہارا لیا۔

 

(جاری ہے)
Categories
نقطۂ نظر

شامی خانہ جنگی: پسِ منظر سے پیش منظر تک- دوسری قسط

اس سلسلے کے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
دوسری قسط

 

شامی بحران میں شامی بعث پارٹی، علوی برادری اور اسد حکومت کا عمل دخل

 

بعث پارٹی شام کے ایک عیسائی دانشور مشیل عفلق نے 7 اپریل 1947ء کو قائم کی تھی۔ بعث پارٹی ‘مصنوعی سرحدوں’ میں منتشر عربوں کو قومیت، اشتراکیت اور سیکولرازم کی بنیاد پر یکجا کرنے اور منقسم عرب خطوں کی جغرافیائی وحدت کو عربوں کے لیے راہِ نجات قرار دیتی ہے۔ بعث پارٹی کو عراق اور شام میں فوجی انقلابات کے ذریعے اقتدار تو مل گیا لیکن عراق اور شام کی مقتدر بعث پارٹیاں بہت جلد قیادت کے حصول کی لڑائی میں پڑ گئیں اور یوں بعث ازم کے تحت عراق اور شام کے باہم الحاق سے ایک قوم پرست اشتراکیت پسند عرب جمہوریت کے قیام کی دو طرفہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

 

مشیل ایفلق
مشیل ایفلق
شام میں بعث پارٹی اور اسد حکومت کا پسِ منظر

 

حافظ الاسد نے اپنے تیس سالہ دور میں سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والی ایمرجنسی کو اُٹھانے کی بجائے حسبِ سابق من وعن شامیوں پر مسلط کیے رکھا۔
17 اپریل 1946ء کو فرانسیسی استعمار سے آزادی کے بعد سے مارچ 1971ء تک شام داخلی اور خارجی عوامل کی بنا پر پچیس برس تک سیاسی عدم استحکام اور معاشی انحطاط کا شکار رہا۔ اسرائیل سے تین جنگوں میں شکست، فلسطینی مہاجرین کی آمد، نااہل سیاسی قیادت، مصر سے الحاق اور علیحدگی، فوجی انقلابات اور قیادت کا فقدان اس سیاسی اور معاشی بحران کی وجہ بنے۔ اُسی زمانے میں مشرقی وسطیٰ اور گردونواح میں اشتراکیت پسندوں کا اثرورسوخ بھی بڑھ رہا تھا۔ ہمسایہ ممالک کے حالات سے شہہ ملنے پر شام کی مسلح افواج میں بعث پارٹی سے وابستہ عناصر نے 8 مارچ 1963ء کو فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ بعدازاں شام کے موجودہ صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد نے ’بعث پارٹی شام‘ کے اپنے حامی رہنماؤں اور شام کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے علوی عہدیداران کی ملی بھگت سے 1970ء میں شام کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

 

شام پر اسد خاندان کی حکومت بھی مشرقِ وسطیٰ میں دیگر بادشاہی اور خودرانی عرب حکومتوں کی طرح مطلق العنانیت، استبدادیت اور جبر کے بل پر قائم ہے۔ اس نظامِ حکومت میں بھی عوام کو ایمرجنسی، جاسوسی، خفیہ پولیس، سخت قوانین، ہولناک سزاؤں اور عقوبت خانوں کے خوف سے مطیع بنائے رکھا گیا ہے۔ حافظ الاسد نے اپنے تیس سالہ دور میں سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والی ایمرجنسی کو اُٹھانے کی بجائے حسبِ سابق من وعن شامیوں پر مسلط کیے رکھا۔ جس کی وجہ سے شامی قانوناً بنیادی انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور اظہارِ رائے کے حق سے محروم رہے۔ جس طرح مصر میں حسنی مبارک مذہبی عسکریت پسندوں کی جانب سے ملکی قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایمرجنسی کے بلاتعطل نفاذ کو ضروری قرار دیتے تھے، بالکل اسی طرح حافظ الاسد بھی شام میں ہنگامی حالت کے مسلسل نفاذ کے حق میں ایسی ہی پالیسی رکھتے تھے۔ اس حوالے سے اسد حکومت کے موقف کو تب وزن ملتا ہے جب شام میں بشارالاسد کی جانب سے 48 سالہ طویل ایمرجنسی اُٹھانے کے نتیجے میں اخوان المسلمین سمیت عسکریت پسند گروہوں کی زیرزمین سرگرمیاں سر اُٹھانے لگیں۔ یہ سرگرمیاں بالآخر موجودہ خانہ جنگی پر منتج ہوئیں۔ اگرچہ شام میں اسد حکومت نے اپنے شہریوں کو ضمیر کے مطابق مذہبی وظائف سرانجام دینے کی آزادی دیے رکھی ہے مگر حکومت کی جانب سے کسی شہری کا غیرمعمولی طور پر مذہبی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شک کی نظر سے دیکھاجاتا ہے چاہے وہ شہری شیعہ ہو یا سنی کیونکہ حکومت انتہاپسندی کو سماجی استحکام کے لیے تباہ کن گردانتی ہے۔

 

حافظ الاسد کی مقبولیت کیوں کم ہوئی؟

 

حافظ الاسد کے عہد میں شام کی حکومت، بعث پارٹی، سول بیوروکریسی اور مسلح افواج کے کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں کے محرکات مذہبی نہیں بلکہ ذاتی تھے۔
گو ابتداء میں حافظ الاسد کے انقلاب کو شامیوں کی جانب سے خوش آمدید کہا گیا لیکن 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد عوام میں حافظ الاسد کی حکومت کی مقبولیت کم ہوئی۔ جنگ کے دوران اسرائیل سے گولان کی پہاڑیوں کا قبضہ چھڑانے میں ناکامی سے عوام کی نظروں میں حافظ الاسد کی حکومت کا وقار کم ہوا۔ ملکی معیشت میں مندی پر’ملک اسرائیل کے خلاف حالت جنگ میں ہے‘ کا عذر پیش کیا گیا جس نے شامی عوام کو حافظ الاسد سے بہت جلد مایوس کر دیا اوریوں شام کی عوام میں حافظ الاسد کی مقبولیت کم ہوتی چلی گئی۔ اگرچہ مجموعی طور پر حافظ الاسد حکومت کی وجہ سے شام میں معاشی استحکام دیکھنے کو ملا اور عوام کے معیارِ زندگی میں نسبتاً بہتری بھی آئی لیکن اس ترقی کے ثمرات تمام طبقات تک نہیں پہنچے۔ حافظ الاسد کے دور میں مادی ترقی اور خوشحالی کے اعتبار سے پسماندہ علوی برادری نے باقی قومیتوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ترقی کی۔

 

گولان پہاڑیاں اسرائیل اور شام کے مابین تنازعے کی وجہ ہیں
گولان پہاڑیاں اسرائیل اور شام کے مابین تنازعے کی وجہ ہیں
حافظ الاسد کی علویوں سے پر نوازشات سے متعلق اکثر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حافظ الاسد کے عہد میں شام کی حکومت، بعث پارٹی، سول بیوروکریسی اور مسلح افواج کے کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں کے محرکات مذہبی نہیں بلکہ ذاتی تھے۔ چونکہ حافظ الاسد کا اقتدار محلاتی سازشوں کا نتیجہ تھا اِسی وجہ سے ان کے اقتدار کو جوابی محلاتی سازش کا کسی بھی وقت سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ جیسا کہ حافظ الاسد کو اپنے بھائی رفعت الاسد کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی محلاتی سازشوں کا بھی سامنا ہوا۔ لہٰذا اِن خطرات کا سدباب کرنے کے لیے انہوں نے کلیدی عہدوں پر اپنے آبائی علاقے اور خاندان سے تعلق رکھنے والے قابلِ اعتبار اور وفادار امیدواروں کو مقرر کیا۔ بالکل اِسی طرح جیسے عراق میں صدر صدام حسین نے بیشتر کلیدی عہدوں پر اپنے آبائی علاقے تکریت سے تعلق رکھنے والے بااعتماد اور وفادار افراد کا تقرر کیا تھا۔ حافظ الاسد کا خاندان اپنی نجی زندگی میں انتہائی لبرل ہے اور بعثی رجحانات کی وجہ سے وہ مذہب کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ حافظ الاسد کی بہو اور بشارالاسد کی اہلیہ اسماء اسد کا تعلق سُنی فیملی سے ہے۔ جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ علویوں کے کلیدی عہدوں پر تقرر کے پیچھے حافظ الاسد کے مسلکی محرکات نہیں بلکہ ذاتی مفادات تھے۔ لیکن کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں سے عوام میں حافظ الاسد حکومت کا امیج بعث پارٹی کی حکومت کی بجائے علوی حکومت کا بن گیا اور یوں شامی بعث پارٹی کا سیکولر تشخص علوی چھاپ کی نذر ہو گیا۔

 

اکثریت پر قلیت کی حکمرانی

 

اسد خاندان کے شام پر برسراقتدار آنے سے علوی بطورِ ایک برادری مقتدر سیاسی قوت اور سماجی اشرافیہ بن گئے جس کے نتیجے میں شام کی اکثریتی سنی المسلک اور کرد النسل عوام احساسِ محرومی کا شکار ہوگئے۔
علوی اور دروزی مسلمانوں کے ہی دو فرقے ہیں جو خود کو شیعہ مسلک کے ذیلی فرقے قرار دیتے ہیں۔ مگر تاریخ میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں علویوں اور دروزیوں کی تکفیر کرتے آئے ہیں۔ البتہ سیاسی مقاصد کے لیے اہل سنت میں پہلے مفتی اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی اور بعدازاں اہل تشیع میں سے ایرانی نژاد لبنانی عالم آیت اللہ موسیٰ الصدر نے انہیں مسلمان قرار دیا۔ ان علماء کا بنیادی مقصد خطے میں آبادی ی بنیاد پر یہودیوں اور میرونیائی عیسائیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی عددی اکثریت ظاہر کرنا تھا۔ اسد خاندان کے شام پر برسراقتدار آنے سے علوی بطورِ ایک برادری مقتدر سیاسی قوت اور سماجی اشرافیہ بن گئے جس کے نتیجے میں شام کی اکثریتی سنی المسلک اور کرد النسل عوام احساسِ محرومی کا شکار ہوگئے۔ چونکہ اسد خاندان کا اقتدار اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی تھی اس لیے شام کی عوام نے اِسے اپنے استحصال کے زمرے میں لیا جو کہ غلط نہ تھا۔ لہٰذا جس طرح بلحاظِ آبادی شیعہ اکثریتی عراق میں یک جماعتی نظام حکومت کے تحت برسراقتدار جماعت عراقی بعث پارٹی پر سنیوں کا غلبہ اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی تھی بالکل اِسی طرح سنی اکثریتی شام میں یک جماعتی نظام کی حکمران جماعت شامی بعث پارٹی پر علویوں کا غلبہ بھی اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی ہے۔

 

شام میں علوی آبادی اقلیت میں ہے
شام میں علوی آبادی اقلیت میں ہے
علوی برادری اسد حکومت سے دور ہو رہی ہے

 

علوی شام کی کل آبادی کا 12 فیصد ہیں۔ حافظ الاسد نے اپنے اقتدار کی بقاء کے لیے علویوں کو کلیدی عہدوں پر متعین کیا تاکہ علویوں کو احسانات تلے دبا کر اپنا وفادار بنایا جا سکے۔ حافظ الاسد شعوری طور پر علویوں کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ شام میں انہیں جو شان وشوکت اور ٹھاٹھ باٹھ حاصل ہے وہ صرف حافظ الاسد حکومت کی وجہ سے ہے۔ صدام حسین کی طرح حافظ الاسد نے بھی اپنے اقتدار کی بقاء اور طوالت کے لیے اکثریت کو دبائے رکھا اور اقرباء پروری کے ذریعے علویوں کو اپنا وفادار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب موجودہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو حکومت نے نے ایران اور حزب اللہ سے مدد مانگنے سے پہلے علوی کمیونٹی کو امن لشکروں کے ذریعے حکومت کی حمایت میں باغیوں کے خلاف مزاحمت پر مجبور کیا۔ یوں بہت جلد علویوں کو احساس ہوگیا کہ شام کی خانہ جنگی علویوں کی بطورِ گروہ ذاتی جنگ نہیں بلکہ اسد خاندان کی جنگ ہے جس میں وہ مفت میں مارے جا رہے ہیں۔ لہٰذا علوی برادری نے خود کو بشارالاسد سے دور کر لیا ہے۔ علوی برادری نہیں چاہتی کہ وہ بشارالاسد حکومت کے خاتمے کی صورت میں فاتحین کے انتقام کا نشانہ بنے۔ اس صورت حال سے اس نکتے کو تقویت ملتی ہے کہ شام میں جاری خآنہ جنگی فرقہ وارانہ نہیں بلکہ اقتدار کی سیاست کی مظہر ہے۔

 

(جاری ہے)

Image: www.panoramio.com

Categories
نقطۂ نظر

عراق، شام، تیل اور داعش

فرانس کے تاریخی شہر اور دارالحکومت پیرس میں خوفناک حملوں سے یہ بات ایک مرتبہ پھر واضح ہوگئی ہے کہ عراق وشام میں سرگرم دہشت گرد اب یورپ کے محفوظ ممالک تک رسائی رکھتے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم دنیا کی سب سے امیر اور خوفناک دہشت گرد اسلامی تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) نے قبول کی تھی۔ داعش کے حوالے سے خوف اور خبریں تو بہت ہیں لیکن اس گروہ کے پس منظر اور تشکیل سے متعلق بے حد ابہام ہے۔

 

2003ء میں امن، جمہوریت اور انسانی آزادیوں کے ‘علمبردار’ امریکہ نے اپنے یورپی حواریوں کے ہمراہ عراق پر حملہ کیا۔ حملے کی وجہ وہ ناقابل بھروسہ انٹیلی جنس معلومات تھیں جن کے مطابق عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا اورصدام حکومت کے القاعدہ سے مراسم کا ‘انکشاف’ کیا گیا۔ حملہ آوروں کے خیال میں عراق کے پاس موجود ہتھیار اور القاعدہ سے اس کے روابط سے دنیا بھر کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ جب ان ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہ ملا توپھر یہ شوشہ چھوڑ اگیا، کہ گزشتہ تین دہائیوں سے عراق صدام حسین کی آمریت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا اور اب مہذب دنیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ عراقی عوام کو صدام کی آمریت سے نجات دلاکر جمہوری روایات سے روشناس کرائے۔ اُس وقت برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا سمیت نیٹو کے 48 ممالک امریکہ کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک تھے۔ اس حملے کے دوران ان ممالک نے عراق کے مستقبل کا فیصلہ عراقی عوام کی صوابدید پر چھوڑنے کی بجائے اسلحے اور طاقت سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔ عراق میں نافذ کیا جانے والا نیا جمہوری نظم سنی اقلیت کو مناسب نمائندگی اور حقوق دینے میں ناکام رہا۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے دنیا بھر کی جہادی تنظیموں نے عراق کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

 

عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔
عراق میں القاعدہ کا قیام:

 

داعش کی ابتداء اور ارتقاءکو سمجھنے کے لیے پہلے ان عوامل اور محرکات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے یہاں ایسے سخت گیر سنی گروہ کے لیے گنجائش پیدا ہوئی اور بغداد اس ‘کالی آندھی’ کی لپیٹ میں آگیا۔ عراق پر سن 2003ء میں امریکی حملے کے ایک سال بعد 2004ء میں القاعدہ نے وہاں پر اپنی شاخ قائم کی۔ عراق کے سماجی ڈھانچے میں بہت بڑے سیاسی و انتظامی خلاء کے ساتھ شیعہ سنی کشیدگی بھی موجود تھی۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراقی سنی آبادی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین میں القاعدہ کو پنپنے میں بڑی آسانی رہی۔ Vox.com پر 19 نومبر 2015ءکو ISIS, a history: how the world’s worst terrorist group came into beingکے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی ایس دنیا کا سب سے امیر اور طاقتور دہشت گرد گروہ ہے جو سن 2003ءکو امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد وجود میں آیا۔ اس حملے نے عراقی سماج کے سارے مظاہر کو تہس نہس کر دیا جس سے عراق طوائف الملوکی اور انتشار کا شکار ہو گیا۔ بیرونی دنیا کے دہشت گرد عراق کی جانب مائل ہوئے۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ نے صدام حسین کی سیاسی جماعت اور سنی العقیدہ سول اور فوجی نظم کو ختم کیا اور شیعہ اکثریت کے تعاون سے نئی حکومت کھڑی کی۔ جب عراق میں القاعدہ نے اپنی شاخ قائم کی تو وہ صدام دور کے فوجی اہلکاروں اور فسران کے لیے مزاحمت اور روزگار کا ایک موقع ثابت ہوئی۔ 2004ء ہی میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اورمشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔ مسلکی بنیادوں پر اس قتل و غارت کا بنیادی مقصد شیعہ سنی تفریق کو بڑھا کر خانہ جنگی کو ہوادینا تھا، اسی تکفیری طرز پر داعش بھی اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر ہی ہے۔ عراق اور افغانستان میں القاعدہ کے کمزور ہونے اور بیشتر قیادت کے مارے جانے کے باعث عملاً القاعدہ کی دہشت گردانہ سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں جس کے بعد عراق میں القاعدہ کی شاخ نے شام اور عراق کی خانہ جنگی اور شیعہ سنی تفریق کا فائدہ اٹھا کر سخت گیر اور بنیاد پرست اسلامی تکفیری فکر کی بنیاد پر اپنی تنظیم سازی شروع کی۔

 

نوری المالکی حکومت اور داعش:

 

عراق پر قبضے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے عراق میں جمہوری نظام رائج کرنے کے حوالے سے انتخابات منعقد کیے۔ ان انتخابات میں شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے نوری المالکی کو کامیابی ملی۔ عراق کی کل آبادی کا 60 فیصد شیعہ، 22 فیصد صدام حسین کے حامی عرب سنی اور 18 فیصد صدام مخالف کرد سنی آبادی پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں مسلکی بنیادوں پر شیعہ حکومت قائم ہوئی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق نوری المالکی نے اعتدال پسند سیکولر سیاسی و آئینی نظام کے قیام اور سنی اقلیت کو اقتدار میں جائز نمائندگی فراہم کرنے کی بجائے مسلکی تعصبات پر مبنی حکمرانی کی۔ اور یوں وہ سنی اقلیت جو برسوں سے عراق پر حکمران رہی تھی سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی۔ نوری المالکی کی حکومت کے امتیازی سلوک سے سنی اقلیت خود کو غیر محفوظ سمجھنے کے علاوہ شدت پسند گروہوں میں اپنی بقاء تلاش کرنے لگی۔

 

دو ہزار چودہ میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اور مشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔
عراق اور شام کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری بہت حد تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عراق میں مداخلت اور ناہلی پر عائد ہوتی ہے۔ تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔ زید ال علی فارن پالیسی میں How Maliki Ruined Iraqکے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں وضاحت کرتے ہیں: ”بالآخر 2010ء میں عراق سیکیورٹی کے لحاظ سے نسبتاً بہتر پوزیشن میں آگیا اور ملک کے مختلف مذہبی و نسلی گروہوں کے درمیان مثبت تعلقات استوار ہوگئے۔ لیکن یہ تبدیلی دیر پا ثابت نہ ہوئی۔ کیونکہ نوری المالکی نے سیاسی و انتظامی شعبوں سے اپنے مخالفین کو بے دخل کر دیا، فوج میں من پسند افراد کا تقرر کیا جبکہ پر امن احتجاجیوں کو کچل ڈالا۔ یہی وہ وجوہ تھیں جنہوں نے داعش کو پھلنے پھولنے میں مدد دی“۔

 

داعش کا ارتقاء:

 

آن لائن مجلہ Crethiplethi.com 2009ء سے مشرقی وسطیٰ، اسرائیل، عرب دنیا اور جنوب مغربی ایشیاء وغیرہ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس جریدے نے 20نومبر 2015ء کو The Historical Roots and Stages in the Development of ISISکے موضوع سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس ساری صورتحال کو یوں بیان کیاگیا ہے۔

 

“عراق میں امریکیوں نے نوری المالکی کی قیادت والی شیعہ اور قوم پرست جمہوری طرزِ حکمرانی کی حمایت کی تاہم اس دور میں تاریخی لحاظ سے عراق پر (برسوں سے قابض) سنی آبادی کو حکومت سے باہر رکھا گیا کیونکہ وہ (عددی اعتبارسے ) اقلیت میں تھی۔ عراق میں القاعدہ کے قیام سے لے کر داعش تک کے مراحل کو اس رپورٹ میں چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے “عراق او ر شام میں القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کا قیام چار مرحلوں میں مکمل ہوا“۔

 

1: پہلا مرحلہ (2004-06) پہلے مرحلے میں عراق میں ابو مصعب الزرقاوی کی قیادت میں القاعدہ کی شاخ کا قیام عمل میں آیا جس نے امریکہ اور اتحادی فوجیوں اور شیعہ آبادی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی پہلا مرحلہ اس وقت اختتام پزیر ہوا جب (القاعدہ کے راہنما) ابومصعب الزرقاوی جون 2006ء کو امریکہ کے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

 

تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔
2: دوسرا مرحلہ (2006-11) دوسرے مرحلے میں “امارت اسلامیہ العراقیہ” کا قیام عمل میں آیا۔ آئی ایس آئی دوسری دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتی رہی جس نے امریکہ، اس کے اتحادیوں اور اہل تشیع کے خلاف گوریلا حملے جاری رکھے۔ اس زمانے میں امریکہ کی موجودگی، ان کی عسکری کارروائیوں اور اس دور کی کامیاب خارجہ و داخلہ پالیسی جس میں تمام عراقی طبقات کو عراقی نظم میں شامل رکھا گیا کی وجہ سے آئی ایس آئی کمزور رہی۔

 

3: تیسرا مرحلہ (2012سے جون2014): اس دوران “امارت اسلامیہ العراقیہ” نے خود کو مستحکم کیا اور شام میں جاری خانہ جنگی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس دوران اس تنظیم نے اپنا نام تبدیل کر کے امارت اسلامیہ عراق و شام یاISIS رکھ لیا۔ سن 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد داعش مزید مضبوط ہوگئی۔ ٹھیک اسی دوران افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مسلم اکثریتی ممالک میں “بہارِعرب” آمریت مخالف تحریکیں شروع ہوئیں۔ شام میں “بہارعرب” کے اثرات پہنچنے اور بشارالاسد حکومت کے خلاف تحریک کے انسداد کے لیے طاقت کے استعمال سے شامی ریاست میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے داعش کو وہاں اپنے پاوں جمانے کا موقع ملا اور وہاں النصرا فرنٹ کے نام سے اس تنظیم کی شاخ قائم کی گئی۔

 

4: چوتھا مرحلہ (جون 2014ءکے بعد ): داغش کی عسکری فتوحات اور ڈرامائی کامیابی: اسی مرحلے میں داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ جما لیا۔ جبکہ مشرقی شام کے مختلف حصے بھی داعش کے قبضے میں آگئے۔ جہاں حکومتی مرکز ‘الرقہ’ پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد داعش نے اسلامی امارات (IS)یا اسلامی خلافت کے باقاعدہ قیام کا اعلان کر دیا جس کی قیادت داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کر رہے ہیں۔ ستمبر 2014ء میں امریکہ نے داعش کے خلاف بھر پور مہم کا آغاز کیا“۔

 

ابوغریب جیل پر حملہ:

 

21جولائی 2013ء کو البغدادی نے ایک منصوبے کے تحت بغداد کے قریب واقع ابوغُریب جیل پر حملہ کر دیا۔ اس جیل میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب خطرناک دہشت گرد موجود تھے۔ حملے میں صرف 50 داعش اہلکاروں نے حصہ لیا اور 500 دہشت گردوں کو رہا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔ حملے کے وقت جیل کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکار ذرا برابر بھی مزاحمت نہ کر سکے اور بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے داعش جنگجووں نے جیل توڑ ڈالی۔ بی بی سی نیوز میں 2 اگست 2014ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگرچہ داعش اور القاعدہ کے درمیان زیادہ ہم آہنگی موجود نہیں لیکن عراق اور شام کی حد تک دونوں مل چکے ہیں۔ اس گروہ میں شامل افراد کی کل تعداد کا صیحح اندازہ تو نہیں البتہ ہزاروں افراد اس گروہ سے منسلک ہیں۔ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی میدان جنگ کے بہترین کمانڈر اور منصوبہ ساز ہے۔ ابوبکر البغدادی نے دنیا بھر میں موجود عالمگیر سنی خلافت کے حامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے میں بہت کامیاب رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگار داعش اور القاعدہ کا تقابلی جائزہ یوں کرتے ہیں کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ایک امیر کبیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اور امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل تھے یعنی القاعدہ کا سربراہ جدید تعلیم یافتہ جبکہ ان کے پیروکار جاہل قبائلی تھے۔ اس کے برعکس داعش کی قیادت ناخواندہ جبکہ اس گروپ کے جنگجو اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی بی سی انگریزی سروس کی اس رپورٹ میں لندن کے کنگ کالج کے پروفیسر پیٹرنغمان کے حوالے سے لکھا گیا ہے ”البغدادی کے گروپ (داعش) میں 80 فیصد غیر ملکی جنگجو شامل ہو کر شام میں لڑ رہے ہیں، جن میں سے اکثریت فرانس، برطانیہ، جرمنی، یورپین ممالک، امریکہ اور عرب دنیا سے تعلق رکھتے ہیں“۔

 

شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔
بشار الاسد کی گمراہ کن پالیسیاں:

 

Vox.com کی مذکورہ بالا رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ سن 2011ء میں جب شام بہارِ عرب سے متاثر ہونے لگا اور عوام سڑکوں پر نکل کر بشارالاسد کی آمریت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے تو اسی وقت بشارالاسد حکومت کی حکمت عملی کی وجہ سے اس عوامی تحریک کا رخ مذہبی شدت پسندی کی جانب ہو گیا۔ اسد نے انتہائی خطرناک جواء کھیلا، یعنی ان کا یہ خیال تھا کہ اگر ان کے مخالف مذہبی شدت پسند ہوں گے تو یورپ اور امریکہ اس مذہبی تحریک سے خوفزدہ ہو کر ان (اسد) کا ساتھ دیں گے اور یوں شام کی جمہوریت نواز سیکولر تحریک بشارالاسد کی غلط اور گمراہ کن پالیسیوں کی بابت مذہبی شدت پسندی میں تبدیل ہوگئی۔ سعودی عرب، امریکہ اور یورپ نے بھی شام کے معاملے میں ایسی ہی غلطیاں کیں۔ داعش کی مالی سرپرستی کرنے والوں کے ہاتھ سے یہ تنظیم بہت جلد نکل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سن 2013ء میں شام کا شہر رقہ داعش کے قبضے میں آ گیا جو کہ ہتھیار ڈالنے والا شام کا پہلا بڑا شہر تھا۔

 

داعش کے مالی وسائل :

 

مبصرین کے مطابق داعش دنیا کی امیر ترین دہشت گرد تنظیم ہے جو مختلف طریقوں سے لوٹ مار کے ذریعے اپنی دولت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔ مشرقی شام میں موجود تیل کے ذخائر پر بھی اس تنظیم کا قبضہ اس کے لیے مالی طور پر سودمند رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان کا خاندان داعش سے سستے داموں تیل خرید رہا ہے جس کی بنا پر ترکی بالخصوص ترک صدر داعش کے حوالے سے نرم گوشہ اختیارکیے ہوئے ہیں۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی کئی مرتبہ ترکی پر داعش کی مدد اور ان سے تیل خریدنے کے الزامات عائد کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے روس ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکا۔ اس کے علاوہ داعش نے عراق او رشام کے تاریخی مقامات کو لوٹ کر وہاں موجود نواردات بھی بیچے ہیں۔ پروفیسر نغمان کا خیال ہے کہ “موصل پر قبضے سے قبل جون 2014ء میں داعش کے پاس 900 ملین ڈالر کی نقد رقم موجود تھی موصل پر قبضے کے بعد ان کے اثاثوں کی مقدار 2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ موصل پر قبضے کے بعد وہاں کے مرکزی بنک کی شاخ کو لوٹا گیا تھا جبکہ شمالی عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضے کے بعدان کے اثاثوں میں مزید کئی گنا اضافہ ہوا“۔

 

دہشت گردی اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور القاعدہ کے بعد داعش اب ایک نیا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ یورپ، امریکہ اور مسلم ممالک وک سمجھنا ہو گا کہ یہ صرف بنیاد پرست تکفیری اسلام اور خلافت کے قیام کا خواب ہی نہیں جو ایسی تنظیموں کی وجہ ہے بلکہ عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ اور سعودی عرب کی تباہ کن خارجہ پالیسی ہے جس کی وجہ سے آج مشرق وسطیٰ اس عفریت کا شکار ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا امریکہ، اس کے یورپی حواری، سعودی عرب اور ایران دہشت گردی کے ان وجوہ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟
Categories
نقطۂ نظر

روس کیا کر سکے گا؟

جو امریکہ نہیں کر سکا، روس کر سکے گا؟ BBC کے سفارتی و دفاعی امور کے مدیر مارک اربن(Mark Urban) نے یہ سوال ایک تحریر میں اُٹھایا ہے۔ اور اس سوال کے پیچھے چھپے خدشات ان کی تحریر سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ اربن اپنی تحریر میں، جو 29اکتوبر کو شائع ہوئی ایک جگہ یہ مانتے بھی ہیں کہ روس کی کارrوائیاں امریکی کاروائیوں سے کئی گنا بہتر اثر انداز ہو رہی ہیں لیکن ساتھ ہی وہ ان کارروائیوں سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔ اس تحریر میں عجلت اور غیر ذمہ دارانہ پن دیکھا جا سکتا ہے۔ تحریر کا مقصد روس کی مخالفت کرنا تو ہے ہی لیکن ایک طرح سے یہ روس کی کارروائیوں سے شدت پسندوں کو پہنچنے والے نقصانات کا اثر کم کر کے پیش کرنے کی کوشش بھی ہے۔

 

افغان مجاہدین کی حمایت، عراق اور افغانستان میں مدخلت سمیت ہر موقع پر امریکی خارجہ حکمت عملی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلاء کو دہشت گرد تنظیموں نے پُر کیا ہے، شام میں امریکی یا روسی مداخلت مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کی وجہ ہے۔
شام حقیقی معنوں میں اس وقت عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس میں فائدہ امریکہ کا ہو گا یا روس کا لیکن اس بات میں ہرگز دو رائے نہیں کہ نقصان صرف اور صرف شام کا ہو رہا ہے۔ 14اکتوبر کو نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ پرایک نسبتاً غیر جانبدار رپورٹ شائع ہوئی، جو اگلے روز اخبار میں بھی شائع ہوئی۔ یہ رپورٹ سٹیو ن لی میئرز(Steven Lee Myers) اور ایرک شمٹ(Eric Schmidt) نے لکھی۔ اس رپورٹ میں ایک طرف یہ تاثر دیا گیا ہے کہ شام میں روس اپنے جمع کیے گیے اسلحے کو تجربانی بنیادوں پر استعمال کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا اقرار بھی کیا گیا ہے کہ روس شدت پسند عناصر کے خلاف جتنے حملے ایک دن میں کر رہا ہے اتنے امریکہ اور اس کے اتحادی ایک مہینے میں بھی نہیں کر پا رہے۔ اس کی وجوہ بھی واضح ہیں۔ امریکہ اور اتحادی بیشتر حملے خلیجی ممالک کے

 

تعاون سے کر رہے ہیں۔ جہاں سے پرواز کر کے لڑاکا جہاز زیادہ سے زیادہ دن میں دو سے تین حملے ہی کر سکتے ہیں ۔ جب کہ روس نے اپنی کارروائیوں کا مرکزشام میں ہی شمال مغرب کی طرف لتاکیا(Latakia) کے ہوائی اڈے کو بنایا ہوا ہے۔ لتاکیا شام کا ایک اہم ساحلی شہر اور پانچواں بڑا شہر بھی ہے۔ اس کے علاوہ روس کی جانب سے کارروائیاں اس لیے بھی موثر ثابت ہو رہی ہیں کیوں کہ زمینی افواج کی مدد بھی انہیں حاصل رہتی ہے۔ یہ زمینی افواج شام کی سرکاری افواج ہیں جنہیں بشار الاسد کی حامی افواج سمجھا جاتا ہے۔ 35 سے زائد روسی جنگی جہاز، ہیلی کاپٹر، اور دیگر اسلحے کے علاوہ روس کی تیاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس آپریشن میں روس کی طرف سے فوجیوں کے لیے ہنگامی طور پر فوری تیار ہونے والے گھر بھی شامل ہیں جو کم و بیش 2000 فوجیوں کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔ یہ تمام جنگی سازوسامان 1970 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے جب سوویت یونین نے مصر میں بھیجا تھا۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں اس حقیقت کو مانا گیا ہے کہ امریکی اتحادیوں کے مقابلے میں روس 30 ستمبر کے بعد سے ایک دن میں 90 حملے تک کر چکا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں شام کو روس کے لیے ایک تجربہ گاہ تو قرار دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی روسی کارروائیوں کی افادیت بھی ڈھکے چھپے لفظوں میں تسلیم کی گئی ہے جسے روس کی کامیابی تصور کیا جاسکتا ہے۔ اسی کامیابی کا اثر ہے کہ اب امریکہ نے بھی زمینی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔

 

اس لڑائی میں روس کے زیادہ مفادات اس لیے وابستہ ہیں کہ دہشت پسند عناصر براہ راست روس پہ اثر انداز ہو سکتے ہیں جب کہ امریکی سرزمین تک ان کا پہنچنا نہایت مشکل ہے اس لیے روس نہ صرف شام بلکہ اپنی سر زمین کا تحفظ بھی کر رہا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی ایک شامی مصنفہ مارام سسلی(Maram Susli)نے ایک آرٹیکل لکھا جو 20 اکتوبر کوNew Eastern Outlook نامی آن لائن میگزین پر شائع ہوا۔ یاد رہے کہ مارام شام میں غیر ملکی جارحیت کے خلاف لکھنے کی وجہ سے Syrian Girl کے نام سے مشہور ہے۔ مصنفہ نے لکھا کہ شام میں امریکی کارروائیاں دہشت پسند عناصر کا قلع قمع کرنے کے بجائے صرف چہرے تبدیل کرنے کے لیے ہیں۔ امریکی کارروائیوں کا مقصد شدت پسندوں کے خاتمے کی بجائے بشار الاسد کو ہٹانا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی کارروائیوں کا اہم مقصد اس خطے میں روسی اثر و رسوخ کم کرنا ہے۔ اسی لیے روس کی کارروائیوں پہ امریکہ سیخ پا ہے کیوں کہ اس خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے اثر سے امریکی و اسرئیلی مفادات پہ کاری ضرب لگنے کا خدشہ ہے۔ امریکہ یہاں اسی انداز میں روس کا عمل دخل کم کرنا چاہتا ہے جیسے سربیا اور کوسووو میں کر چکا ہے۔ مارام کی رپورٹ میں DIA کے سابق چیف Micheal Flynn کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ امریکہ نے جان بوجھ کر داعش کو شام میں پھلنے پھولنے کا موقع دیا تاکہ اسے شامی حکومت کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ امریکی واویلا اس لیے بھی اہم ہے کہ روسی کارروائیوں کا نشانہ کم و بیش وہ 10000 باغی بھی بن رہے ہیں جو امریکی تربیت یافتہ بھی ہیں جن کا حوالہ اس رپورٹ میں موجود ہے۔ مزید لکھتی ہیں کہ اس لڑائی میں روس کے زیادہ مفادات اس لیے وابستہ ہیں کہ دہشت پسند عناصر براہ راست روس پہ اثر انداز ہو سکتے ہیں جب کہ امریکی سرزمین تک ان کا پہنچنا نہایت مشکل ہے اس لیے روس نہ صرف شام بلکہ اپنی سر زمین کا تحفظ بھی کر رہا ہے۔ ماضی میں جس (گمراہ کن) منطق کے تحت امریکہ افغانستان اور عراق پر اپنے ‘تحفظ’ کے لیے حملہ کر چکا ہے، اسی کے تحت روسی کرتا دھرتا بھی شام کا ساتھ دے رہے ہیں۔ امریکہ کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ شدت پسندوں کو شام و عراق تک محدود رکھا جائے تا کہ وہ امریکی سر زمین کا سوچ ہی نہ سکیں۔ لیکن روس اس لیے ان کامکمل قلع قمع کرنے میں ہی دلچسپی رکھتا ہے کیوں کہ وہ براہ راست اس کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ روس اپنی تمام کارروائیوں کی منظر کشی Russia Today نامی فورم پر کر رہا ہے جسے ٹیکنالوجی کی دنیا میںRT کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب کہ امریکی کارروائیوں کے بارے میں شاذ و نادر ہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ امریکہ کی جانبداری پہ اس لیے بھی سوال اٹھ رہا ہے کیوں کہ امریکہ صرف بشار الاسد کو ہٹانے کے لیے ایسے عناصر کی بھی مدد کر رہا ہے جو شدت پسندی پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ Aleppo میں موجود ایرانی فوجی بھی نیٹو اتحادیوں کے لیے اور امریکہ کے لیے بھی درد سر بنے ہوئے ہیں۔

 

بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے بہت سے بہتر طریقے ہو سکتے ہیں۔ اگربشارالاسد کے طرز حکمرانی سے شامی عوام کی اکثریت تنگ ہے اور تبدیلی چاہتی ہے یا بشارالاسد کی حکومت کسی طرح عالمی امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے تو عالمی برادری کو شامی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اقتدار سے پر امن طریقے سے علیحدہ ہو جائے، حکومت کی تبدیلی کا حق شامی عوام کو دیا جانا چاہیئے۔ اس عمل کی نگرانی اقوام متحدہ کے ذریعے کی جانی چاہیئے۔ اس تنازعے کا خاتمہ پوری عالمی برادری کی زیر نگرانی منصفانہ انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ جن میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بشار الاسد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہ ہو سکے اور لوگوں کو فیصلہ کرنے کی آزادی ہو۔ شدت پسند عناصر یا باغیوں کو مسلح کرنا کسی بھی طرح اس مسئلے کا حل نہیں۔ افغان مجاہدین کی حمایت، عراق اور افغانستان میں مدخلت سمیت ہر موقع پر امریکی خارجہ حکمت عملی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلاء کو دہشت گرد تنظیموں نے پُر کیا ہے، شام میں امریکی یا روسی مداخلت مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کی وجہ ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

امریکی خارجہ حکمت عملی کے سامراجی خدوخال

روس شام میں داعش کے خلاف محاذ کا حصہ بن چکا ہے۔ عالمی میڈیا پر روس کو لے کر دو طرح کی بحث دیکھنے کو ملتی ہے؛ ایک تو یہ کہ روس داعش سے زیاد ہ بشارالاسد کو مضبوط کرنے کے لیے اس کے مخالف باغیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور چونکہ یہ باغی داعِش کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہیں سو اِنہیں کمزور کرنے سے داعِش مضبوط ہوسکتی ہے اور اِس سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ یوں اس طرح کے آپریشن سے لوگ زیادہ متنفر ہو سکتے ہیں اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ خد شہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے کئی سالوں سے جاری کارروائیوں کی نسبت روس کی جانِب سے کی گئی کاروائی نے داعش کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور ماسکو آ نے والے دنوں میں بشارالاسد اور اس کے حامیوں کو شام میں ایک اچھی حکومت چلانے کے لیے کسی دوسرے گروہ یا شخص سے زیادہ منا سب سمجھتا ہے۔ مگر امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی اور رویہ ہمیشہ روس سے مختلف رہا ہے۔ وہ نہ تو اپنی سر زمین پہ جنگ چاہتا ہے اور نہ کبھی ہونے دیتا ہے۔ جب امریکہ کو کسی مضبوط ریاست سے کسی قسم کا خطرہ ہوتا ہے وہ اس کے کمزور ہمسائے کے ساتھ یا تو سفارتی تعلقات بناتا ہے یا پھر عسکری تعلقات استوار کرتا ہے۔ امریکہ ہمیشہ کسی خطے میں ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے سیاسی دوست چاہتے ہیں۔ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی معیشت چین کو مات دینے کے لیے امریکہ وہاں قدم جمانا چاہتا تھا مگر وسطی ایشیا پہ ایران کے ساتھ سیاسی اختلافات ہونے کی وجہ سے اس نے افغانستان میں اپنی پسند کی حکومتیں لانے کی کوشش کی تا کہ وسطی ایشیا میں کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وہاں فوج موجود ہو۔ امریکہ افغانِستان میں عین ویسی حکومت کا خواہاں ہے جیسی خظے میں موجود اس کے سیاسی حلیف پاکِستان اور بھارت چاہتے ہیں۔
امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔

 

امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔ عراق اور افغانستان کے بعد بظاہر امریکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں میں بھی براہِ راست عسکری مداخلت چاہتا تھا تا کہ افغانستان میں اپنے فوجیوں اور تنصیبات کو محفوظ بنا سکے مگر اس وقت کی پاکِستانی قیادت اس سے نا خوش تھی سو وہ براہِ راست مداخلت نہ کر سکا۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے دوران پاکستان کو اتحادی بنائے رکھنے کے بعد اب امریکہ نے ہندوستان کو خطے میں اپنے حلیف کے طور پر دیکھنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان نے امریکہ کی بجائے چین پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے۔ اوبامہ نے خود بھارت کا دورہ کیا اور کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔

 

دیگر سامراجی طاقتوں برطانیہ اور فرانس کی طرح امریکہ بھی مذہب کو اپنے لیے کار گر حربہ سمجھتا ہے۔ اَسّی کی دہائی میں روس کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر امریکہ نے افغانستان میں نجیب حکومت گرانے کے لیے یہاں مذہب کی بنیاد پر مزاحمت کی سرپرستی شروع کی۔ لوگوں کو مذہب کے نام پر انتہا پسند بنا کر پاکستان اور سعودی عرب کی مدد سے مجاہدین بنائے گئے تاکہ ایک تو خطے میں بڑھتے ہوئے روسی اثرورسوخ روکا جا سکے اور آنے والے دنوں میں یہاں پر اپنی موجودگی کے لیے کوئی جواز تراشا جا سکے۔
امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔

 

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ صورتِ حال پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ شام اور عراق میں امریکہ بالکل ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے حامی ترکی، اِسرائیل اور سعودی عرب چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے امریکہ حلیف بھی اب امریکی طرز پر اپنے مفادات کے حصول کے لیے عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی اور براہ راست مداخلت کی راہ اپنا چکے ہیں ۔ شام اور عراق میں امریکی و سعودی مداخلت کے باعث شیعہ، سنی تصادم میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔ ان تنظیموں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان اور عراق میں امریکی اور اتحادی افواج کی مداخلت سے دنیا میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکی حکمت عملی مختلف وجوہ کی بناء پر ناکام ہوئی ہے اور القاعدہ سے زیادہ خوفناک تنظیموں کی شکل میں نئے عفریت سامنے آئے ہیں۔
یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔

 

داعش کے خلاف امریکہ اور اتحادیوں کی کارروائیاں غیرموثر رہی ہیں کیوں کہ امریکی حکام شام اور عراق میں اپنے مفادات کے تحت مخصوص گروہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ امریکہ نے جو ہتھیار شامی باغیوں کے حوالے کیے تھے وہ بھی داعش کے ہاتھ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ داعش کے خلاف سب سے موثر مزاحمت کردِش آرمی پیش مر گہ کی جانب سے کی جارہی ہے لیکن امریکہ کی جانب سے انہیں ہتھیار فراہم کرنے یا تربیت دینے کے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے اور اور نہ ہی امریکہ کے کسی سیاسی یا عسکری حلیف کی طرف سے انہیں کوئی کمک حاصل ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے کرد مزاحمت کار مضبوط ہوسکتے ہیں اور قوم پرست پیش مرگہ ترکی میں اردگان کے لیے سردرد بن سکتے ہیں۔ ترکی پیش مرگہ کو اس وقت بھی نشانہ بناتا ہے جب وہ کوبانی میں داعش کے خلاف جان کی بازی لگا کر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یوں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ترکی شمالی کردستان میں داعش کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے کرد علاقوں میں اپنی فوج استعمال کرسکے۔

 

شامی خانہ جنگی اور یمنی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کردار تخریبی رہا ہے۔ یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔ اس طرزعمل نے عالمی امن کو خطرات سے دوچار کیا ہے اور مسلح عسکریت پسندی کو عام کیا ہے۔ اگر امریکہ واقعی مشرقِ وسطٰی میں داعش اور دیگر انتہا پسندوں کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے روس، عراق اور ایران کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ امریکہ کو ترکی اور سعودی عرب جیسے اپنے حلیفوں کے مفادات کو پسِ پشت رکھتے ہوئے عالمی اتفاق رائے کے قیام کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ امریکہ اور سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں نجی ملیشیاز اور جہادی گروہوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی روش ترک کر دیں نہیں تو آنے والے دِنوں میں پاکستان کی طرح اس کا خمیازہ ان ممالک کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔