Categories
شاعری

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے
دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا
خود کش حملوں کے خوف سے
اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے
خدا واحدِ حقیقی ہے
اسے کیا پڑی ہے
کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر
جوتوں اور کپڑوں کے ساتھ اِدھر اُدھر بکھر جائے

شاعروں اور دہشت گردوں نے
خدا کو اتنی کثرت سے استعمال کیا ہے
کہ تنگ آ کر
وہ نظموں اور دنیا سے غائب ہو گیا ہے
اور کائنات کے کسی ایسے گوشے کی طرف نکل گیا ہے
جہاں ان کی نظروں سے محفوظ رہ سکے
خدا اتنا بے بس کبھی نہیں تھا
جتنا اب ہے

خدا کائنات کا سب سے بڑا کلیشے ہے
جسے ترک نہیں کیا جا سکتا !
Image: Andrey Bobirs

Categories
نان فکشن

مسئلہ تقدیر اور خدا

تقدیر کا معاملہ اسلام سمیت بہت سے مذاہب کو درپیش نہایت مشکل معاملات میں سے ایک ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے سب خدا کے علم اور ارادے سے ہے تو انسان کے اچھے بُرے ہونے کا کیا مطلب؟ پھر پہلے سے معلوم افعال پر خدا کا راضی و ناراض ہونا، پہلے سے طے شدہ و متعین نتیجے پر خدا کی تخلیق اور سزا جزا کا یہ سارا معاملہ بھی محض خدا کی اسی صفت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قادر مطلق ہے سو جو چاہے کرے۔

اسلام کے حوالے سے بات کی جائے تو مسئلہ تقدیر کی جو بھی تعبیر مسلمان متکلمین پیش کرتے آئے ہیں، آپس میں اس قدر گنجلک ہیں کہ جو بھی پہلو اختیار کیا جائے خود قرآن و حدیث کے دیگر دلائل اس کے خلاف آن کھڑے ہوتے ہیں۔ مذہبی دانشور و مفکرین جو بھی تفہیم اختیار کرتے ہیں کہیں نہ کہیں آ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ “انسان اپنی محدود سی عقل سے خدا کی لامحدود ذات و صفات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔” اگر نتیجہ حاصل یہی ماننا ہے تو پھر سمجھنے سمجھانے کا تکلف کیسا؟ انسان کو خود ایسی محدود عقل کے ساتھ پیدا کرنا کہ وہ ان معاملات کو سمجھ ہی نہ سکے اور پھر انہی مسائل کو بنیادی ترین ایمان کا حصہ بنانا، کیا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ عقیدہ و نظریہ سمجھ سے بالاتر محض مان لینے کا نام ہے اور اسی کو “غیب پر ایمان لانا” کہا جاتا ہے۔

مگر یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ چیز جو سمجھ سے بالاتر ہو اسے ماننا اور آنکھیں بند کئے تسلیم کرنا یا اس پر سوال نہ اٹھانا ہی خدائی منشاء و ہدایت ہے تو پھر یہ سہولت کیا دیگر مذاہب کو بھی حاصل ہے؟ دیگر مذاہب و قدیم یونانی دیومالائی قصے کہانیاں اور ان پر مبنی عقائد پر ایمان لانا بھی کیا اس بنیاد پر ہدایت ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی محدود عقل و فہم سے ان معاملات کا احاطہ نہیں کر سکتا؟

ان فلسفیانہ مباحث کو چھوڑتے ہوئے آئیے ایک نظر تقدیر سے متعلقہ آیات و احادیث پر ڈالتے ہیں:

قرآن میں ارشاد ہوا: “کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے۔” (سورة الحديد: 22)

حضرت ابوہریرۃ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو کچھ تمھارے ساتھ ہونے والا ہے اس پر قلم خشک ہو چکا ہے۔”
(صحیح بخاری، کتاب القدر، قبل حدیث: 6596)

ہمارے مذہبی علماء و مفکرین اکثر یہ تعبیر اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد صرف خدا کا علم اور ارادہ ہے نا کہ کسی انسان کو اس علم کی بنیاد پر مجبور کیا جاتا ہےجبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی اکثر نصوص اس تاویل کے خلاف ہیں۔ قرآن و حدیث میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ تقدیر ہی انسان پر غلبہ پاتی ہے وہ اعمال کچھ بھی کر رہا ہو، اس کی پہلے سے طے شدہ متعین تقدیر کے مطابق اسے سہلوت دی جاتی ہے اور اس سے وہی عمل کروایا جاتا ہے۔

“پس خدا جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ اور دشوار گزار بنادیتا ہے جیسے آسمان کی طرف بلند ہورہا ہو ,وہ اسی طرح بے ایمانوں پر ان کی کثافت کو مسّلط کر دیتا ہے۔” (سورة الأنعام: 125)

یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خدا جسے خود ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو ہدایت کے لئے کھول دیتا ہے اور اس کے مقابل جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے۔ اب جس کا سینہ خود خدا نے کھولا ہو اسے ہدایت ملنا محض خدا کا اس پر خصوصی و امتیازی فضل ٹھہرا اور جس کا سینہ خود خدا نے تنگ کر دیا ہو کہ خود خدا اسے گمراہی میں ہی چھوڑنا چاہتا ہے تو بتائیں اسے ہدایت کیسے اور کہاں سے ملے؟

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا کئے، انہیں اس وقت جنت کے لئے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے اور دوزخ کے لئے بھی رہنے والے بنائے، انہیں اس وقت دوزخ کے لئے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔”
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب معنیٰ کل مولود یولد علی فطرۃ۔۔۔، حدیث:2662)

یہ حدیث بھی واضح ثبوت ہے کہ جنتیوں کو پیدا ہی جنت کے لئے کیا گیا اور جہنم میں جانے والوں کو پیدا ہی جہنمی اور جہنم جانے کے لئے کیا گیا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میں سے ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک یا دو ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جہنم کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، کتاب القدر، حدیث: 6594)

گویا کہ کوئی انسان اعمال کیسے بھی کر لے، آخر میں تقدیر اس پر غلبہ پاتی ہے اور وہ اسی کے مطابق جنتی و جہنمی بنتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جنتی کا خاتمہ جنتی کے عمل پر ہو گا اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمی کے عمل پر ہو گا اگرچہ اس سے پہلے جو بھی عمل کرے۔”
(سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2141)

حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جو اس کے لئے آسان کیا گیا ہے۔” (صحیح بخاری، کتاب القدر، حدیث: 6596)

حضرت عمر سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہر ایک کے لئے وہ کام آسان کر دیا گیا ہے (جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے) چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بد بختوں میں سے ہے وہ بد بختی والا کام کرتا ہے۔” (سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2135)

حضرت عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے: “بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا۔”
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب کیفیۃ خلق الادمی فی بطن امہ۔۔۔، حدیث: 2645، طبع دارالسلام 6726)

یہ تمام احادیث بھی یہ حقیقت کھول کر بیان کر دیتی ہیں کہ تقدیر پہلے سے متعین نتیجہ ہے اور اسی کے مطابق سہولت اور آسانی دے دی جاتی ہے۔ گویا جسے پہلے سے جنتی لکھ دیا گیا اس کے لئے نیک اعمال کو آسان کر دیا اور جسے جہنمی لکھا گیا اسے بدی کی طرف آسانی اور سہولت دی جاتی ہے۔ ہر ایک کرتا ہی وہ ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ کیا اس معاملے کو صرف پہلے سے جانا گیا علم و ارادہ کہا جا سکتا ہے؟

حضرت ابوہریرۃ سے مروی حدیث میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے مناظرہ کیا۔ حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے جب کہا: “پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا۔ حضرت آدم نے جواب دیا: “آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کرنے سے بھی پہلے میرے لیے لکھ دیا تھا۔” آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے۔
(سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2134)

صحیح مسلم کی روایت (2652) میں وضاحت موجود ہے کہ یہ مناظرہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ خود انبیاء کا عقیدہ و نظریہ بھی یہی تھا کہ ان سے جو اعمال صادر ہوئے وہ سب لکھی ہوئی تقدیر کی وجہ سے ہی تھے۔ یہاں پر ایک اور شبہ کا جواب بھی ضروری ہے کہ شاید کوئی یہی سمجھے کہ اعمال تو چلو تقدیر سے ہیں اور اسی کے مطابق سہولت اور آسانی دی جاتی ہے لیکن یہ اعمال کا صدور ہوتا تو انسان کی اپنی چاہت سے ہے تو عرض ہے کہ قرآن کے مطابق تو انسان کا کسی عمل کی طرف رغبت اور چاہت اختیار کرنا تک خود اس کے اختیار میں نہیں۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا: “اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے۔” (سورة التكوير: 29)

گویا عمل کی توفیق ہے نہ کسی عمل چاہنے کی آزادی بلکہ جو خدا نے لکھ رکھا ہے اسی کے مطابق سب ہو گا کیونکہ وہ مالک و مختار ہے اور مخلوق میں سے جنتی جہنمی سب طے شدہ ہیں اور خدا کی کسی نامعلوم خواہش کے سامنے بے بس و لاچار جو وہ کم عقل انسانوں کو بتانے کا ہرگز پابند نہیں۔

“جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں.” (سورة الإسراء: 16)

اس آیت میں بھی بالکل وضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے کہ اللہ خود کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو اس بستی کے خوشحال لوگوں کو خود حکم دیتا ہے تو وہ نافرمانیاں کرتے ہیں تاکہ اللہ نے ان بستی والوں کے لئے پہلے سے جو تباہی و بربادی کا فیصلہ کر رکھا ہے وہ ان پر نافذ ہو جائے۔ یہ کہنا پھر کیونکر غلط ہو گا کہ اعمال کی آزادی کا نظریہ کم از کم قرآن کے مطابق ہرگز نہیں؟ بھلا مخلوق کہاں اتنی سکت رکھتی ہے کہ خدا کے اتارے حکم و امر سے منہ موڑے، جہاں ایک پتا بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا۔

صرف یہی نہیں کہ خدا نے لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق اعمال کو پہلے سے طے شدہ نتیجے کے مطابق سہولت دی یا خود جس کو برباد کرنا مقصود تھا انہیں نافرمانی و گمراہی کا حکم دیا تاکہ خدا کا فیصلہ نافذ ہو بلکہ ایسے نصوص بھی موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اعمال کرنا یا کسی سے کسی عمل کا سرزد ہونا بھی ضروری نہیں بلکہ محض اللہ کا علم ہی جزا و سزا کا باعث ہو سکتا ہے۔

چنانچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ مَیں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی اولاد کا انجام کیا ہو گا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “وہ اپنے آباء میں سے ہیں۔” مَیں نے کہا: عمل کے بغیر ہی؟ فرمایا: “اللہ کو بہتر علم ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔”
(سنن ابو داؤد، کتاب القدر، باب فی ذراری المشرکین، حدیث 4712)

گویا جزا و سزا کا تعلق ہونے والے اعمال سے ہرگز نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے پہلے سے طے شدہ علم کے نتیجے پر ہے۔ بھلا جو ہوا ہی نہیں اس کا علم سوائے خدا کی اپنی منشاء و مرضی کی لکھی تقدیر کے کیا ہے؟ اس ضمن میں قرآن میں موجود حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ انتہائی غور طلب ہے کہ جس میں خضرت خضر نے ایک لڑکے کو اللہ کے دیے ہوئے علم کے مطابق قتل کر ڈالا۔ دیکھئے سورۃ الکہف (آیت 74) پھر اس کی وضاحت یہ بتائی کہ اس لڑکے کے ماں باپ مومن تھے ہمیں خطرہ ہوا کہ یہ لڑکا ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔ دیکھئے سورۃ الکہف (آیت 80)

یہاں دیکھئے کس طرح اللہ کے دیے ہوئے علم کی ہی بنیاد پر ایک لڑکے کو قتل کر دیا گیا اور اسے اس جُرم پر سزا دے دی گئی جو محض اللہ کے علم میں تھا ابھی ہوا نہیں تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس لڑکے کو طبعاً کافر بھی خود ہی بنایا گیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس لڑکے کو حضرت خضر نے قتل کیا تھا وہ طبعاً کافر بنایا گیا تھا، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا۔”
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب معنیٰ کل مولود یولد علی فطرۃ۔۔۔، حدیث:2661، طبع دارالسلام 6766)

ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “وہ لڑکا جس دن پیدا کیا گیا، کافر پیدا کیا گیا تھا۔”
(سنن ابو داؤد، کتاب السنۃ، باب فی القدر، حدیث 4706)

غور طلب ہے کہ اس لڑکے کو طبعاً پیدا ہی کافر کیا گیا اور پھر اپنے ہی لکھے ہوئے کے مطابق اپنے علم کی بنیاد پر اللہ نے اپنے نبی کے ہاتھوں اس عمل پر سزا بھی نافذ کروائی جو ابھی ہوا ہی نہیں تھا۔

یہ تمام نصوص سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلامی لحاظ سے تقدیر کا معاملہ ہرگز صرف خدا کے علم میں ہونے کا مسئلہ نہیں اور نہ عمل کے لحاظ سے غیرجانبدار آزادی کا اختیار ہے بلکہ یہ محض خدا کی اپنی چاہت اور منشاء پر مبنی ہے۔ یہ امتحان کا معاملہ نہیں کہ جہاں سب کو برابری کے مواقع میسر ہوں بلکہ سیدھا سادا پہلے سے طے شدہ نتیجے پر خدا کی قدرت و اختیار کا مسئلہ ہے، جہاں وہ کسی کو جوابدہ نہیں کہ وہ جسے چاہے پسند کرے تو جنتی لکھ دے اور جسے ناپسند کرے تو جہنمی بنا دے۔ تمام اعمال تو خود اس کی مرضی بلکہ ان اعمال کا چاہنا تک اسی کی مرضی و منشاء پر ہے۔ جنتی و جہنمی طے شدہ ہیں۔

گویا دنیا ایک سٹیج ہے جہاں پہلے سے لکھے اسکرپٹ کے مطابق سب اداکاری کے لئے مجبور ہیں، جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس سب کا مقصد و فائدہ کیا ہے؟ کیونکہ خدا نے جن کو پیدا کیا ان کے اوپر مکمل قدرت صرف اسی کی ہے اور کوئی اس سے جواب طلب نہیں کر سکتا کہ کس کو کس تقدیر کے ساتھ کیوں پیدا کیا؟ وہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔

“جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔” (سورۃ القمر: 48-49)

Categories
نقطۂ نظر

خدا کے لیے بحران کی صدیاں

بیسویں اور اکیسویں صدی خدا کے لیے بحران کی صدیاں قرار دی جا سکتی ہیں کیوں کہ ان دو صدیوں کے دوران خدا کے وجود کی بحث قطعیت سے نکل کر خدا کے موجود ہونے کے امکان اور مذہبی شخصی خدا کے دائرے سے ایک غیر مذہبی یا غیر شخصی خدا کی موجودگی کے تصورات کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

 

1-ان صدیوں میں خدا کے وجود پر زیادہ شدت سے سوال اٹھائے گئے ہیں۔ مذہب کی سماجی گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے سامی یا غیر سامی مذاہب کے خداؤں پر نہایت شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان سوالات کی نوعیت شلوار کی لمبائی، داڑھی، برقعے اورشراب کی حرمت کی بجائے وجودِ خدا کی مختلف صورتوں کی شکل میں سامنے آ رہی ہےـ یعنی خدا کے وجود کا معاملہ مذہبی دائرہ کار سے باہر نکل کر غیر مذہبی دائرہ بحث میں آ گیا ہے۔

 

2- بیسوی صدی کے بڑے داناؤں، فلاسفہ، سائنسدانوں اور منطقیوں نے خدا کے وجود کی حقیقت پر زور آزمائی کی ہےـ سائنس اور مادیت پسند فلسفے سے قریب ہونے والوں کی اکثریت نے خدا کو رد کر دیا یا کم سے کم مذہبی اور شخصی خدا پر تنقید کی۔

 

رسل، ہاکنگ، ڈاکنز، بوہر جیسے لوگوں نے خدا کو رد کیا ہے اور آئن سٹائن اور دوسرے لوگوں نے خدا کو مانا بھی تو مذہبی نقطہ نگاہ سے اختلاف کیاـ اس کے علاوہ ایک کثیر تعداد لا ادریت کی قائل ہے اور کچھ تعداد باقاعدہ مذہبی نقطہ نظر پر باقی رہی ـ

 

3- ان صدیوں میں دانشور اور عقلاء خدا کے وجود کی حقیقت پر متضاد نظریات کے ساتھ سامنے آئے اور بذاتِ خود بھی کسی خاص نتیجے پر نہیں پہنچ سکےـ

 

4- رچرڈ ڈاکنز جو جدید الحاد کے سرخیل ہیں اکثر اوقات خدا کے وجود پر مختلف پروگراموں میں بحث کرتے نظر آتے ہیں ان کے مخالف نظریے کے پیشرو ولیم کریگ ہیں ـ میرا ایک بحث دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں طبعیات دان میچو کاکو نے بھی حصہ لیاـ ملحدین اور مواحدین ایک دوسرے پر دلائل دے رہے تھے کہ اتنے میں میچو کاکو کو دعوت دی گئی میچو کاکو کہتے ہیں:

 

” ایک گروہ کے نزدیک خدا کی موجودگی سو فیصد یقینی ہے اور دوسرے گروہ کو سو فیصد یقین ہے کہ خدا موجود نہیں ہے ان دونوں میں سے کوئی ایک غلط ہوگا اور کوئی ایک صحیح ہوگا لیکن میرے خیال میں دونوں غلط ہیںـ سائنس کا کام ہے فیصلہ کن نتیجہ دینا، سائنس کا کام ہے ایک تھیوری دینا جسے پرکھا جا سکے مثال کہ طور پر میرے ہاتھ میں جو فون ہے اگر میں چھوڑ دوں تو اس کا اٹل نتیجہ یہی ہے کہ یہ کششِ ثقل کے نتیجے میں زمین پر آئے گا لیکن اگر میں یہ کہوں کہ یونیکورنز Unicorns موجود ہیں یا نہیں؟ تو ہم اس سوال کا فیصلہ ہی نہیں کرسکتے اسی طرح خدا موجود ہے یا کائنات کا کوئی مقصد ہے یا نہیں؟ یہ فیصلہ ہی نہیں کیا جاسکتا! کیا ہم کہ سکتے ہیں کہ یونیکونز موجود نہیں؟ کیا معلوم کسی جزیرے پر موجود ہوں کیا پتہ خلا میں کہیں وجود رکھتے ہوں؟ تو ہم اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ “

 

اتنے میں نظریہ خدا کے قائل مناظر کو موقع دیا جاتا ہے تو وہ واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ:

 

“خدا کے بارے میں ہمارا نظریہ مطلق نہیں ہے یعنی ہم سو فیصد نہیں کہتے بلکہ اس کی موجودگی کے امکان کو دلیل بناتے ہیں۔ ”
یعنی بحث اب خدا کے موجود ہونے سے خدا کا امکان موجود ہونے تک آ چکی ہےـ

 

5 ۔ دنیا میں اکثریت مطالعے سے دور ہوتی ہے جو اقلیت مطالعہ کرتی ہے اس میں سے بھی بیشتر افراد کا واسطہ نظریہ خدا کی بحث سے کم ہی پڑتا ہے اور اگر ایک عام قاری دونوں طرف کے نظریات کو تقابلی انداز میں تحقیقی انداز میں پڑھنا شروع کرے تو حتمی نتیجے پر پہنچنے کی بجائے مزید ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک بڑا اہم سوال ابھرتا ہے جو میں اپنے قارئین کے لیے چھوڑے جارہا ہوں کہ ہم دو مفروضے قائم کرسکتے ہیں:

 

پہلا مفروضہ یہ کہ خدا موجود نہیں ہے
اب جب خدا موجود ہی نہیں تو گفتگو ہی عبث اور فضول ہے۔
دوسرا مفروضہ یہ کہ خدا موجود ہے

 

اس مفروضے سے متعلق ایک قابل بحث نکتہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی خدا موجود ہے تو وہ کس قسم کا خدا ہے؟ اور اگر کوئی خدا موجود نہیں تو یہ غیر موجود خدا خدا کے ماننے والوں کو سزا دے سکتا ہے؟ یا کوئی خدا کسی انسان کو خود کو نہ ماننے پر سزا دے سکتا ہے؟ یا یہ کہ کسی ایک قسم کے خدا کو ماننے والوں کو کسی دوسری قسم کا خدا سزا دے سکتا ہے یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ ایک عام انسان نظریہِ خدا پر گوناگوں اور متضاد نظریات کو دیکھتے ہوئے ذہنی انتشار میں مبتلا ہو جاتا ہے تو کیا وہ انسان جو نظریہ خدا کو پڑھتا ہے اور معاشرے کا صرف دو فیصد ہے وہ بھی سزا کا حقدار ٹھہرے گا؟ باقی لوگ جو جبلی و فطری جبر کی تسکین اور روزی روٹی کے غم میں زندگی گزار چکے ہوتے ہیں ان سے سوال ہونا تو عقلی طور پر بھی غیر درست نہیں ہے؟

 

خدا کے وجود پر بحث جاری رہے گی اور مذہبی علماء، فلسفی اور سائنس دان خدا کے وجود پر مختلف اور متنوع آراء کا اظہار کرتے رہیں گے۔ لیکن ایک عام آدمی اس بحث سے کس حد تک متاثر ہو گا اور کیا وہ مذہب کے بتائے ہوئے شخصی خدا کے تصور کو ترک کرنے پر کبھی آمادہ ہو گا یہ ایک نہایت مشکل سوال ہے اور اس کا بھی کوئی حتمی جواب دینا ممکن نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

بچپن میں تصورِ خدا کی تشکیل اور نفاذ دین پر اس کے اثرات

[blockquote style=”3″]

ادارتی وضاحت: اس مضمون کے مندرجات مصنف کے ذاتی مشاہدے، مطالعے اور سوچ بچار کا نتیجہ ہیں اور ان سے کسی بھی قومیت کے حامل افراد کی دل آزاری مقصود نہیں۔ یہ مصنف کی رائے ہے قطعی یا حتمی فیصلہ نہیں۔ مضمون نگار کی رائے سے اختلاف کی صورت میں لالٹین کے صفحات جوابی نقطہ نظر کی اشاعت کے لیے حاضر ہیں۔

[/blockquote]

کسی نے کہا تھا کہ انسان کا بچپن ساری عمر اس کے اندر زندہ رہتا ہے۔ افراد ہوں یا اقوام ان کے مزاج اور نفسیات کی تشکیل میں ان کے بچپن کے تصورات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ افراد یا اقوام کے مزاج اور نفسیات کا درست مطالعہ کرنا ہو تو ان کے ایام طفولیت (بچپن) اور ان کے ماضی کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اسی طرح کسی فرد یا قوم کے دینی مزاج کا اندازہ بھی ان کے بچپن میں لا شعوری طور پر تشکیل پانے والے تصورِ خدا کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔

 

فرائڈ کہتا ہے کہ انسان اپنے لیے خدا کا پہلا تصور اپنے والدین سے لیتا ہے۔
میرا پہلا تصورِ خدا میرے سیپارے کی پہلی استاد ہمارے محلے کی ایک بزرگ خاتون تھیں۔ ہم انہیں بوا جی کہا کرتے تھے۔ وہ بڑے جثے کی رعب دار خاتون تھیں۔ وہ اپنے گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ ہمیں سبق بھی پڑھاتی جاتی تھیں۔ وہ دل کی نرم اور زبان کی سخت تھیں۔ ان سے کبھی ایک بار بھی مجھے مار نہیں پڑی تھی، نہ ہی کبھی کسی اور کو میرے سامنے انہوں نے مارا۔ پھر بھی میں ان سے بہت ڈرتا تھا، لیکن اپنے لیے ان کی دبی دبی سی شفقت بھی محسوس کرتا تھا۔ دراصل میں ان سے بہت حیا کرتا تھا۔ چھٹی کر لیتا تو ان کے سامنے جانے میں مجھے ڈر سے زیادہ شرمندگی محسوس ہوتی تھی اور یہ احساس ڈر سے زیادہ سخت ہوتا تھا۔ بچپن میں مجھے جب بھی خدا کا خیال آتا تو مجھے ایک عظیم الجثہ خاتون نما ہستی نظر آتی، جو گویا برتن دھوتے دھوتے کائنات کا انتظام بھی دیکھتی جاتی تھی۔ باوجود یہ کہ خدا کے لیے مذکر کا صیغہ بولا جاتا ہے، لیکن میرا تصورِ خدا ایک عظیم الجثہ خاتون کو دیکھتا تھا۔ بعد میں علم و آگہی نے اس تصور کو بہت بدلا۔

 

فرائڈ کہتا ہے کہ انسان اپنے لیے خدا کا پہلا تصور اپنے والدین سے لیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بچہ پہلے پہل اپنی ماں کے تاثر سے خدا کا تصور تشکیل دیتا ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد اس تصور خدا میں ماں کی جگہ باپ آ جاتا ہے جو زیادہ مضبوط اور محافظ محسوس ہوتا ہے۔ باقی کی ساری عمر اپنے باپ جیسے خدا کا تصور انسان کے ذہن میں موجود رہتا ہے۔ میں اس میں اتنا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ بچہ اپنا تصور خدا ماں باپ کے علاوہ اپنے پہلے استاد یا اساتذہ سے بھی اخذ کرتا ہے، جیسا کہ میرا تجربہ تھا اور اس کی تائید دیگر لوگوں کے تجربات سے بھی ہوتی ہے۔ ہر شخص اپنے بچپنے میں اس تجربے سے گزرتا ہے اور اس کو سمجھ سکتا ہے۔ بہت سے بچے اپنے مذھبی پیشوا سے خدا کا تصور لیتے ہیں۔

 

ہر مذھب نے مادری اور پدری اصطلاحات میں ہی خدا کے تصور کو پیش کیا ہے۔
ہر مذھب نے مادری اور پدری اصطلاحات میں ہی خدا کے تصور کو پیش کیا ہے۔ مسیحیت میں تو خدا کے لیے باپ کا لفظ ہی اختیار کر لیا گیا، ہندو مت میں دیوتا باپ جیسے تصور کی حامل ہستیاں ہیں اور دیویاں ماتا یعنی ماں جیسے ہستیاں۔ اسلام جیسے توحید پرست مذھب، جس میں تجسیمِ خداوندی اور انسان جیسے تصورِ خدا کا کوئی تصور ہی نہیں، اس میں بھی مختلف مادری اور پدری اصطلاحات کے ذریعے خدا کی رحمت اور غضب کے تصور کو سمجھایا گیا ہے۔ مثلًا حدیث میں آیا ہے کہ، “مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔”، اور “خدا ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔” خد اکے لیے ربّ کا لفظ مستعمل ہے جو ایک لحاظ سے باپ یا سرپرست کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ ہم اپنے لیے فرزندانِ توحید کی تعبیر اختیار کرتے ہیں۔
پھر جیسے والدین ہوں گے، خاص طور باپ جس طرح کا ہو گا، اور جس طرح کے پہلے اساتذہ ہوں گے، ویسا ہی تصورِ خدا ایک بچے کے ذہن میں بیٹھے گا اور پھر وہ ساری عمر اسی تصور کے تاثر میں گزار دے گا۔ والدین اور بچپن میں ملنے والے پہلے اساتذہ اگر مہربان ہوں گے تو ایک مہربان خدا کا تصور ابھرے گا اور اگر سخت گیر، خود غرض یا غیر ذمہ دار وغیرہ ہوں گے تو ویسا ہی تصور خدا بچے کے ذہن میں ہمشہ کے لیے بیٹھ جائے گا۔

 

ہمارے معاشرے میں مذھب ایک غالب عنصر کے طور پر پایا جاتا ہے۔ مذھب میں خدا کا تصور بدیہی طور پر مرکزی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ جیسا تصور خدا کا ہوگا ویسا ہی دینی مزاج اس کے ماننے والوں کا ہوگا۔ مثلًا ہمارے ہاں خدا کی بے نیازی کا یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اس کو دوسروں کے احساسات یا احتیاجات کی کوئی پروا نہیں۔ فوتگی کے موقعوں پر اس قسم کے جملے سن کر آپ خدا کے بارے میں اس تصور کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ یہ تصور خدا کی رحمت کے تصور سے مخالف تصور ہے۔

 

ہمارے معاشرے کا تصورِ خدا کیا ہے اور وہ کن تاثرات سے تشکیل پایا ہے یہ سمجھنا ہمارے لیے ضروری ہے تا کہ ہم اپنے لوگوں کے تصورِ خدا اور پھر تصورِ مذھب اور اس سے پیدا ہونے والے دینی مزاج کو درست طور پر سمجھ سکیں۔
میری رائے میں ہمارے ہاں علاقائی اعتبار سے دو بڑی دینی روایات پائی جاتی ہیں: ایک پختون علاقے کی دینی روایت اور دوسری ہندوستانی علاقوں سے آنے والی دینی روایت۔

 

ناظرہ قرآن پڑھنے کے لیے تو تقریبًا ہر بچہ مسجد کے مولوی اور قاری صاحب کے پاس تو جاتا ہی ہے۔ اور اس کے تاثر سے اپنا پہلا تصورِ خدا تشکیل دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں مذھب پر پختون علماء اور خطباء کا بڑا غلبہ ہے۔ پختون سماج میں روایتی طور پر باپ ایک سخت گیر شخصیت ہوتا ہے۔ اولاد سے اس کا تعلق ڈر، احترام اور اطاعت کا ہوتا ہے۔ محبت فطری طور پر ہوتی تو ہے، لیکن یہ جذباتی حدوں تک عمومًا نہیں پہنچ پاتی۔ نیز یہ محبت دائرہ اظہار میں بھی کم ہی آ پاتی ہے۔ دوسری طرف پختون بچوں کی ایک بڑی تعداد کو بہت کم عمری میں مدارس میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ناظرہ قرآن پڑھنے کے لیے تو تقریبًا ہر بچہ مسجد کے مولوی اور قاری صاحب کے پاس تو جاتا ہی ہے۔ اور اس کے تاثر سے اپنا پہلا تصورِ خدا تشکیل دیتا ہے۔

 

مدارس میں داخل کرا دیئے جانے والے پختون بچوں کی اتنی کم عمری میں والدین سے دوری، والدین سے ان کے جذباتی تعلق کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس کا اثر خدا کے ساتھ ان کے تعلق پر بھی پڑتا ہے اور پھر یہی اثر ان کا دینی مزاج بھی تشکیل دیتا ہے، جہاں جذبات، محبت اور رحمت کی جگہ خدا سے وابستگی کے ساتھ ایک گونا دوری کا تعلق ہوتا ہے۔ جس طرح وہ والدین کی شفقت اور محبت اور ان کی دیکھ بھال کے بغیر جانا سیکھ لیتے ہیں، اسی طرح وہ خدا کی محبت اور رحمت اور اس کے محتاج ہونے کے تصور سے بھی بڑی حد تک آزاد ہوتے ہیں۔

 

عمومًا ناظرہ اور حفظ قرآن کے درجے کے پختون اساتذہ، درج بالا بیان کی روشنی میں، سخت گیر ہوتے ہیں اور بچوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے انفرادی توجہ دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے۔ ان میں کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو بد اخلاقی کا شکار ہوتے ہیں اور بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بھی بناتے رہتے ہیں۔ جسمانی تشدد تو عام سی بات ہے جسے مدارس میں پوری طرح ‘قانونی’ اور ‘اخلاقی’ جواز دیا گیا ہے۔ بچے کی ابتدائی عمر کے ان اساتذہ سے بچے کے کوئی دلی تعلق نہیں بن پاتا۔ استاد شاگرد کا تعلق ادب، احترام، اطاعت، خوف، خدشے اور بعض صورتوں میں ظلم اور مظلوم کا ہوتا ہے۔ اب یہی تاثر خدا کا تصور تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

 

ہم نے دیکھا کہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان کو جہاں بھی اپنی شریعت نافذ کرنے کا موقع ملا تو ان کا سارا زور دین کے چند مظاہر تک محدود رہا
یہ ایک بڑی اور بنیادی وجہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے روایتی دینی طبقے میں دین پر عمل کے میدان میں خدا سے محبت، اس کی رحمت کے احساس سے عاری، ایسا قانونی اور فقہی مزاج پاتے ہیں جو خشک قسم کی اطاعت کو کُل دین کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کو اسلامائز کرنے کی برسوں کی کوششوں کا محور کیا ہے؟ محض چند اسلامی شقوں کو آئین اور قانون میں شامل کروانا ہی ان کا مطمح نظر ہے۔ اسلام کے نفاذ کا منتہا اسلامی سزاؤں کے اجراء کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہم نے دیکھا کہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان کو جہاں بھی اپنی شریعت نافذ کرنے کا موقع ملا تو ان کا سارا زور دین کے چند مظاہر تک محدود رہا، یعنی خواتین کا پردہ، ان کے سکول جانے پر پابندی، مردوں کو داڑھی رکھوانا، انگریزی لباس کی حوصلہ شکنی، بتوں کو توڑنا، وغیرہ۔ ان کے اس سارے عمل میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اطاعت، قانون، جبر، خوف اور تشدد کے عناصر شامل ہیں۔ کہیں بھی رحمت، ہمدردی، بھائی چارہ، انسانی مسائل اور مشکلات کے حل اور ازالے کی کوئی منظم اور با مقصد کوششوں کا عمل دخل نہیں۔ خدا کی بے نیازی کا مندرجہ بالا مخصوص تصور بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ یعنی جیسا تصورِ خدا ان کو ملا، ویسا تصورِ دین ان کے ذہنوں میں بیٹھا، ویسا ہی دینی مزاج تشکیل پایا اور اختیار ملنے پر نتائج بھی اس کے مطابق ہی برآمد ہوئے۔

 

مدارس میں پائی جانے والی دوسری دینی روایت ہندوستانی علاقوں سے پاکستان میں آئی ہے۔ ہندوستانی والدین عمومًا سخت گیر نہیں ہوتے۔ اسی کا اثر ہے کہ ہندوستانی (اب پاکستانی) اساتذہ بھی زیادہ سخت گیر نہیں ہوتے۔ دین کا فقہی اور قانونی پہلو اگرچہ وہاں بھی غالب ہے، اور نفاذِ اسلام اور غیر ریاستی جہاد کے تصورات میں یہ لوگ بھی پختون دینی روایت کے ساتھ نظریاتی اشتراک رکھتے ہیں لیکن ان کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور نہ ایسی کارروائیوں میں حصہ لیا جاتا ہے۔ بلکہ ان کی طرف سے ان کی صوفی روایت کے تحت خدا کی رحمت اور محبت کا پرچار بھی کیا جاتا ہے۔ اس سب کی نفسیاتی وجہ والدین اور اساتذہ کی نرم مزاجی ہے جو تصور خدا ور پھر تصورِ دین میں ڈھل کر ان کے اس دینی مزاج کی تشکیل کا سبب بنی۔

 

بچپن کے تصورِ خدا کو شعوری علم کے ذریعے تبدیل کرنے سب سے اہم ذریعہ قرآن مجید کا براہ راست مطالعہ ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچپن کے تصور خدا میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ بچپن کا تصورِ خدا شعور کی عمر میں علم اور فہم کی زیادتی سے تبدیل بھی ہو جاتا ہے لیکن اس کے باجود بچپنے کا تصورِ خدا مکمل طور پر غائب نہیں ہو پاتا۔ کہیں نہ کہیں اس کا اثر جھلکتا رہتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو اپنے بچپن کے تصورِ خدا کو علم و فہم کی کے ذریعے بدلنے کی شعوری کوشش کرتے ہیں یا علم و فہم کی راہ سے تصورِ خدا میں آنے والی تبدیلی کو قبو ل کرتے ہیں۔

 

بچپن کے تصورِ خدا کو شعوری علم کے ذریعے تبدیل کرنے سب سے اہم ذریعہ قرآن مجید کا براہ راست مطالعہ ہے۔ ایسا مطالعہ جس میں اپنے پہلے کے تصورِ خدا کو معطل کر دیا جائے اور بلا حجاب قرآن کو اپنے دل کو مخاطب کرنے دیا جائے۔ اس سے جو تصورِ خدا پیدا ہوتا ہے وہی حقیقی تصورِ خدا ہے۔ اس مطالعہ میں حتی الوسع اپنے تعصبات اور پہلے کے تصورات کو پورے شعور کے ساتھ الگ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کہیں اپنے کی خیالات کی بازگشت قرآن کی تلاوت میں بھی سنائی دے رہی ہو۔ ایسا مطالعہ ہی آپ کو خدا کے حقیقی تصور سے روشناس کروا سکتا ہے جو آپ کے دینی مزاج کو بھی درست کر سکتا ہے۔
Categories
شاعری

اسٹیکر

خیال ٹوٹ ٹوٹ کر آتے ہیں
اور شعر کا اسٹیکر لگا کر
صفحات پر چپک جاتے ہیں
یہ میری اور تمہاری محبت کی داستان
جو کئی نظموں میں ادھوری ہے
یہ فرشتے اور خدا کی بیٹھک
اور انکی جرح کرتا یہ بکھرا مجاہد
گوندھ رہا ہے کئی تہذیبوں کا آٹا
جو ہتھیلی پر سوکھا ہوا ہے
یہ موضوع کی گوند میں لتھڑے
اندیشے اور جذبات کے مسالے
اترتے نہیں ہیں حلق سے
یہ زمانے کی اینٹھن لے کر دل میں
پرانے وقتوں کا نا جائز بیٹا بن کر
جو کچھ بھی لکھا ہے میں نے
یہ سب کچھ اسٹیکر ہے چپکا ہوا
صفحات کی عزت سے الجھا ہوا
 
اب تم کہتے ہو کہ میں اتار دوں سب کو
مگر یہ ممکن نہیں ہے اے دوست
میں بہت عظیم ہوں خود میں
مجھے اچھا نہیں لگتا
خیال سے روٹھا ہوا لفظ
واپس ذہن میں لانا
اور تم بھی تو اس دورِ غلامی سے گزر کر
افسانہِ بیزار سے خود بھی
چپک گئے ہو ایسے
جیسے اسٹیکر اتارتے اتارتے انگلیاں
اور انکی چپچپاہٹ میں تم نے
مجھ پر بھی شاعر کا اسٹیکر
چسپاں کر دیا ہے
شکر ہے

Categories
شاعری

اور خدا کرے وہ تمھیں کبھی معاف نہ کرے

برخوردار گولی
تم اتنا چیختی کیوں ہو؟
کیا تمھیں شرم نہیں آتی کہ
تمھیں چلانے والوں کے اندر
کوئی چیخ نہیں ہے
کوئی آواز نہیں ہے
ایک سرسراہٹ ہے بس
حیوانی سانسوں کی
تم کیوں نہیں سرسراتی؟
بارود کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا
 
آج جب ١٦ دسمبر کی صبح کا سوچتا ہوں
اور ان چپکی پڑی چیخوں کا
تمہاری بوچھاڑ میں
تو لگتا ہے کہ تم بھی منافق ہے
اپنے چلانے والوں کی طرح
تمہاری چیخ بھی درندہ چیخ ہے
احساس کی طمانیت سے عاری
کاش تمھیں بھی پھانسیوں کا ڈر ہوتا
کاش تمہیں بھی کانپنا آتا
تمھارے موجد نے بھی تمھیں
انکار کے لفظ سکھاۓ ہوتے
 
اور اب تم دندناتی پھرتی ہو
جیسے کلمہ پڑھ لینے سے
تم کوئی مسلمان ہوگئی ہو
ایسا نہیں ہوتا برخوردار
تم جس لالی سے وضو کر کے آئی ہو
وہ تو گناہوں سے افضل تھی
تم نے جس سینے پر سجدہ کیا ہے
اسکا قصور تو پوچھ لیتی
کاش تمہاری بھی زبان ہوتی
جسے کوئی بھی کھینچ سکتا
 
مجھے تمہاری رفتار میں ہی ایک بزدلی
نظر آتی ہے تمھیں چلانے والوں کی
کون نہیں جانتا میرا سپاہی کہاں کہاں کھڑا ہے
جاؤ اسکے سامنے سینہ تان کر
اتنے برسوں کے اندھیر حملوں کی
منمناہٹ کی شرمندگی کی معافی مانگو
اور خدا کرے وہ تمھیں کبھی معاف نہ کرے