Categories
شاعری

دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا
کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں
وہ صرف میرے پاس ہیں
میں اپنے خوابوں کی ریز گاری
تمہاری جیبوں میں نہیں ڈالتا
کہ تمہیں اِن کے بوجھ سے گھبراہٹ ہوتی ہے
میں تمہارے درد کی صراحی سے روزانہ
چِلوُ بھر درد پی جاتا ہوں
آخر ایک روز صراحی خالی پا کے
تمہیں درد کا ذائقہ بھول جائے گا
میں اپنے خیالوں کو
سبزی مائل رکھتا ہوں
کہ وہاں تمہیں موسم کی شِدت
اور حِدت کا احساس نہ ہو
میں محبت کے گیت
اونچے سُروں میں نہیں گاتا
میں محبت کے دھویں سے مرغولے نہیں بناتا
سینے میں کہیں پھیلائے رکھتا ہوں
صرف اپنے لئے
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

خواب کے دروازے پر

سو جاؤ!
اے گلِ شب سو جاؤ!!
جب صبح ہو گی
میں یہیں کہیں ہوں گا
تمہارے آس پاس
تمہیں تمہاری مقدس تاریکیوں سے
طلوع ہوتے ہوئے دیکھوں گا

سو جاؤ ، سو جاؤ!!
رات طویل ہے
ہمارے انتظار سے بھی طویل
جب ہم طلوع ہوں گے
کائنات کے کسی دور دراز حصے میں
خدا تنہائی کی آخری حد سے گزر رہا ہو گا

اور میں تمہیں
خواب کے دروازے پر
اسی طرح جاگتا ہوا ملوں گا

آ جاؤ، آؤ
اندر آ جاؤ
کھلے دروازوں پہ رکا نہیں کرتے!!
Image: Christian Schloe

Categories
شاعری

وہ برسوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہے

لوگ نیند میں
خواب دیکھتے ہیں
وہ جاگتے میں
سونے سے پہلے
ہر روز ایک خواب دیکھنا شروع کرتا ہے
یہ ایک طویل اور مسلسل خواب ہے
جو روز وہیں سے شروع ہوتا ہے
جہاں پچھلی رات ختم ہوا تھا
وہ ایک ہی وقت میں
دو جگہوں پر
دو طریقوں سے
زندگی بسر کر رہا ہے

Image: Kim Daehyun

Categories
شاعری

ایک خواب مجھے سمجھ نہیں آرہا

میں دیکھتا ہوں
جون کی دوپہر ہے
او ر آنکھیں چندھیائی جاتی ہیں
فٹ پاتھ پر پیروں کے درمیان
جلی ہوئی لاش سلگ رہی ہے
لیکن کوئی نیچے نہیں دیکھتا

 

میں سوچنے لگتا ہوں
ایک سوچی ہوئی بے خبری
میں دیکھنے لگتا ہوں
ایک نابینا بینائی

 

میں دیکھتا ہوں
آسمان جھلسا ہوا ورق ہے
جس کی راکھ مسلسل برس رہی ہے
دن ہے
اور اس کے دل میں رات کی گٹھڑی پڑی ہے
گٹھڑی میں سانپ ہے
جو زہریلا نہیں ہے
لیکن روشنی کو ڈس رہا ہے

 

ایک پیالے میں خون ہے
جسے ہر آنکھ پی رہی ہے
ایک پیالے میں آگ ہے
جو ہر ماتھے کی محراب ہے

 

میں دیکھتا ہوں
سب ہاتھوںمیں ہتھیار ہیں
سب قدموں میں کٹے ہوئے جسم ہیں
چہروںپر خاموشی ہے
اورسینوں میں سیاہ جھاڑیاں پھیل رہی ہیں
زمین وہاں سے سرخ ہے
جہاںمسلسل راکھ برس رہی ہے
لیکن کوئی نیچے نہیں دیکھ رہا!

 

گرہ لگی نیند ہے
شور مجھے جگارہا ہے
میں خؤاب میں جاگ رہا ہوں
Categories
فکشن

شکستگی

بستی کے باہر ٹوٹے ہوئے خوابوں کا چلتا پھرتا بازار آکے رُکا تھا اور اور وہ اُسے دیکھنے کو بے حد بےتاب تھا۔ اُس کی عمر کے لڑکوں کے پاس پیسے اتنے نہیں ہوتے جن سے کسی بھی قسم کے خواب خریدے جا سکیں۔ مگر بستی کے ہر شخص کا خواب دیکھنے جانا اور خالی ہاتھ اور روتے ہوئے واپس آنا اس کے شوق کو باولا کیے دے رہا تھا۔ جب شوق کا یہ بار نا قابلِ برداشت ہونے لگا تولڑکا اپنی ماں کےپاس مدد لینے جا پہنچا۔”ماں مجھے ٹوٹے ہوئے خواب خریدنے کو پیسے چاہئیں۔ “ماں نے کام سے سر اٹھا کر اپنے سالم خواب کی جانب دیکھا۔ لڑکے کی آنکھیں آنسوؤں میں تیر رہی تھیں، ماں کا دل دھک سے رہ گیا اور اس نے پلو سے بندھی پونجی کھولنے میں دیر نہ کی۔ لڑکے کے ہاتھ میں اب تک کی زندگی کی سب سے بڑی رقم تھی اور پاؤں ہوا میں پڑ رہے تھے۔
راستے میں اس کے سب سے اچھے دوست کا گھر پڑتا تھا اور یہ ناممکن تھا کہ کہ وہ کوئی بھی کام ایک دوسرے کو بتائے یا شامل کیے بغیر کر پائیں، سو لڑکے نے تپتی دوپہر میں اپنے دوست کے گھر کا دروازہ تب تک کھٹکھٹایا جب تک اسے کھول نہ دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو اسے اپنے دوست کے باپ کی نامہرباں صورت دکھائی دی جس وہ سخت خار کھاتا تھا۔ مگر آج اسے کسی شکل کی پروا نہ تھی۔ اس نے بے صبرے ہو کر گردن لمبی کر کے اپنے دوست کی تلاش میں ہر طرف نظر دوڑائی لیکن کچھ بولا نہیں، کیوں کہ اُس کی اِس جگہ موجودگی کی واحد وجہ گھر والوں کو معلوم تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنے دوست کو خود ڈھونڈتا، دروازے میں کھڑا شخص بے حد شکستہ آواز میں بولا۔”وہ اب یہاں نہیں رہتا۔”
” کیوں؟” لڑکے نے پوچھا۔”میں صبح ہی تو اُسے یہاں چھوڑ کر گیا ہوں۔” آدمی نے ایک نظر لڑکے کے ٹمٹماتے ہوئے چہرے پر ڈالی اور جان گیا کہ وہ ایک اور دل توڑنے جا رہا ہے۔ اُس نے بچے کا ہاتھ پکڑا اور اُسے اندر لے گیا۔ آدمی اپنے بیٹے کو اس شکستہ خواب کے بدلے بیچ آیا تھا کہ ایک دن نامعلوم وجوہ کی بنیاد پہ وہ زندگی گزار پائے گا جس کا خواب دیکھنے کی ہمت ٹوٹی ہوئی آنکھوں میں نہیں ہوتی۔ لڑکا یہ خواب اور اس سے متعلق کہانی سن کر بے سمت ہو گیا۔ اب وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ کل سورج نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔ اس کے ذہن سے بستی کا نقش معدوم ہونے لگا۔ یہ بات اس کی سمجھ کی پکڑ میں نہ آتی تھی کے مستقبل کے متعلق کیے گئے ارادوں اور دعووں کا کیا ہو گا، اُس کی عقل یہ تک ماننے کو تیار نہ تھی کہ کسی کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔
لڑکا سوچ میں گم واپس ہولیا۔ راستے سے آشنا قدموں نے دماغ کی بے سمتی کو نظر انداز کر کے اسے ذمہ داری سے گھر پہنچایا اور خاموش رہے۔ لڑکے نے ماں کو پیسے واپس کیے اور چپ چاپ ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ ماں کو ان پیسوں کے خرچے جانے کا اور گم ہونے کا یقین تو تھا مگر واپسی کی توقع نہ تھی۔ اُس نے بیٹے سے سبب پوچھا۔ لڑکا بولا تو وقت اس کی آواز میں عمر کے اگلے دس سال بھی شامل کر چکا تھا۔ “ماں اب میرے پاس اپنے ٹوٹے ہوئے خواب اتنے ہیں کہ ان سے الگ بستی بسائی جا سکتی ہے۔ “