Categories
فکشن

سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

’’یوپی، ناگن چورنگی، حیدری، ناظم آباد، بندر روڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرن۔۔”
کنڈیکٹر کی تکرار سن کر اچانک وہ اپنے خیالات سے باہر نکل آیا۔
’’کرن؟ کیا اس کی منزل آگئی۔۔ـ‘‘ اس نے سیٹ پر سیدھا ہوتے ہوئے باہر جھانکا۔۔۔۔
’’بندر روڈ سے اگلا اسٹاپ بولٹن مارکیٹ کا ہی ہوتا ہے۔ سمندر تو ابھی کچھ دور ہے۔۔۔ مگر پھر میرے ذہن میں کرن کا نام کیوں آیا۔ کیا کنڈیکٹر نے صدا لگائی تھی؟ یابس یوں ہی۔۔۔۔۔‘‘
بس ابھی بھی بولٹن مارکیٹ پر ہی رکی ہوئی تھی۔۔۔ وہ دوبارہ سیٹ پر ڈھے گیا۔۔ پھر، ایک گہری سانس بھرتا ہوا۔۔۔ گہری سوچوں میں گم ہو گیا۔۔۔۔۔۔

’’تم تو سمندر تھے۔‘‘
’’تم بھی تو اس سمندر کی واحد ڈالفن۔‘‘

’’تم سمندر نہ رہے۔‘‘
’’تم نے اور پانیوں کی تلاش کر لی۔ اس سمندر کو چھوڑ کر۔ اور میں شاید بھول گیا تھاکہ سمندر کے اطراف آکٹوپس بھی تاک میں کھڑے ہیں۔‘‘

سیٹ یکایک، ایک ہائی ٹیک سیٹ میں اور بس خلائی راکٹ تبدیل ہوچکی تھی اور بے پناہ رفتار سے کرہ ارض سے باہر نکل کر اب چاند کے پاس سے گزر رہی۔۔۔۔۔۔
“چاند۔۔۔۔۔۔۔کرن۔۔۔۔ چاند۔۔۔”
اس نے بے اختیار ہو کر دروازہ کھولا اور باہر نکل کر اسے اپنی گرفت میں لینا چاہا۔۔۔۔۔۔ مگر چاند اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا۔ وہ کنی کاٹ گیا۔۔۔ اورکچھ فاصلے پرجاکر طنزیہ انداز میں ہنسنے لگا۔۔۔۔۔اچانک خلا کی یخ بستہ تاریکی اس کے اندر سما گئی۔۔۔ وہ منجمد ہو گیا اور تیزی سے نیچے گرنے لگا۔۔۔۔
“ٹاور۔۔ ٹاور ”
وہ چونک پڑا۔منزل تک لے جانے والا اسٹاپ یعنی سمندر اب سامنے ہی تھا، وہ تیزی سے نیچے اتر گیا۔۔۔اسے نیچے اترتا دیکھ کر اس کے اور کرن کے درمیان حائل خون آشام آکٹوپس چاروں جانب سے اس کی سمت لپکنے لگے۔ اور اسے نگل گئے۔۔۔۔۔
Image: Vasko Taskovski

Categories
فکشن

سیاہ گڑھے اور دیگر مائکروفکشن (عامر صدیقی)

سیاہ گڑھے

وہ ایک خونی لٹیراتھا۔ اس کے سر پر انعام تھا، اس کی موت یقینی تھی اور اس وقت وہ کسی انجان راستے پر لگاتار کئی دنوں سے بھاگا چلا جا رہا تھا۔اس کے پیچھے تھے مسلح سپاہی اور ان کے خونخوار کتے۔ یہ اس کی بقا کا سوال تھا۔ رکنا مطلب موت۔ وہ رک نہیں سکتا تھا۔ مگر اسے اچانک رکنا پڑا۔ اچانک سامنے آئے دو گہرے سیاہ گڑھوں نے اس کا راستہ روک لیا تھا ۔وہ ٹھٹک گیا، اس نے ان سیاہ گڑھوں اور ان کو پار کرکے آنے والی گھاٹی میں رہنے والے لوگوں کے متعلق مبہم مگر کچھ پراسرارسا سن رکھا تھا۔ سپاہیوں اور کتوں کی آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں۔ اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ وہ دونوں گڑھوں کے بیچ بنے تنگ راستے پر چڑھ گیا اور جیسے ہی اس کے پار اترا، اس کے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اور وہ بے ہوش ہو گیا۔

اس کی آنکھ کھلی تو روشن دان سے چھن چھن کر آتی روشنی میں پایا کہ وہ کسی کوٹھری میں بند ہے ۔ابھی وہ صورتِ حال کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ تبھی کوٹھری کا دروازہ کھلا اور ایک بارعب بوڑھا اندر آیا۔جو قدیم طرز کا لبادہ پہنے تھا، جس نے اس کا پورا منہ ڈھانپ رکھا تھا۔وہ اسے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔’’میں معافی چاہتا ہوں میرا قطعی ارادہ یہاں آنے کانہیں تھا۔ پر میرے پیچھے سپاہی پڑے تھے۔میں جلد ہی یہاں سے چلا جاوں گا۔‘‘

’’اب تک تو ایسا ہوا نہیں کہ کوئی یہاں سے زندہ واپس گیا ہو۔تم بھی نہیں جا سکو گے۔ کل صبح تمہیں مار دیا جائے گا۔ ویسے بھی واپس جا کرتمہیں مرنا ہی ہے۔‘‘
’’مجھ پر رحم کرو۔کوئی تو حل ہوگاکہ میں زندہ بھی رہوں اور یہاں بھی رہوں۔ کیونکہ اب میرے لئے واپسی کی راہ مفقود ہو چکی ہے۔‘‘
’’پھر تو ایک ہی حل ہے کہ تم ہمارے جیسے ہو جاو۔‘‘
’’تمہارے جیسے؟ میں تمہارا جیسا ہی ہوں۔‘‘
’’نہیں تم ہمارے جیسے نہیں ہو ۔لیکن اگر تم را ضی ہو، ہمارے جیسا بننے پر تو خوش آمدید۔‘‘
’’میں راضی ہوں۔ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔‘‘ اس نے بیتابی سے کہا۔ ابھی اس کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ گھنٹا بجنے کی تیز آوازیں آنے لگیں ۔
’’یہ آواز کیسی؟‘‘
’’اس کا مطلب کہ بارہ بج گئے اور دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا ۔میں تمہارے لئے کھانا لاتا ہوں۔ ویسے یہ گھنٹا صرف دن میں کھانے پر بلانے کیلئے بجایا جاتا ہے۔ جب سب کام پر دور دور ہوتے۔ رات کو اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘

سوچوں میں ڈوبے ہوئے اس نے کھانا کھایااور کھاتے ہی اس پر غنودگی سوار ہو گئی۔نیم بیداری ، نیم بے ہوشی کی حالت میں وہ ایک سپنا دیکھ رہا تھاکہ اس کے پیچھے پیچھے سپاہی اور کتے ہیں اوروہ بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ بھاگتے بھاگتے اچانک دو سیاہ گڑھے آ جاتے ہیں اور وہ ان میں گر جاتا ہے۔اور گرتا چلا جاتا۔ درد کے شدید احساس کے ساتھ گڑھوں کی کبھی نا ختم ہوسکنے والی تاریکی، اسے ڈرا دیتی ہے۔ وہ چیخنا شروع کر دیتا ہے اور ہڑبڑا کر بیدار ہو جاتا ہے۔کوٹھری میں گھپ اندھیراتھا۔اور گھنٹے کی آواز کوٹھری میں گونج رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہاری ہاؤس

انورکی اس نہاری ہائوس میں اکثر آنے کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ یہاں پورے شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ لذیذ اور منفرد ذائقے والی نہاری ملتی تھی۔بلکہ یہاں آنے کی ایک وجہ ا سکے کام کے حوالے سے بھی تعلق رکھتی تھی۔ وہ افرادی قوت فراہم کرتا تھا۔اور اس مد میں کمیشن پاتا تھا۔ اور یہ ہوٹل تو اس کے بڑے کلائنٹ میں شمار ہوتا تھا۔

بڑھتے ہجوم کے باوجود اسے سیٹھ کے کاونٹر کے پاس والی ہی میز مل گئی۔ کافی دیر تک جب کوئی آرڈر لینے نہیں آیا تو اس نے سیٹھ کو آواز لگائی۔
’’اورسیٹھ، سناو کیا حال چال ہیں، دھندہ کیسا چل رہا ہے۔ مجھے اتنی دیر ہوگئی کوئی آرڈر لینے ہی نہیں آیا۔ ذرا ایک اسپیشل نہاری تو منگوا دو۔”

’’ ارے واہ انور،ایکدم بڑھیا۔تم سنائو کیا چل رہا ہے۔ معافی ،دیر لگ رہی ہے تمہیں، ادھر چھوکروں کا ذرا مسئلہ ہے۔ کمی چل رہی ہے۔سالے ٹکتے ہی نہیں۔‘‘

’’ارے کیا سیٹھ وہ جو پچھلے ہفتے آٹھ پہاڑی لڑکے دیئے تھے ۔ انکا کیا ہوا نظر نہیں آرہے۔اور لوچا ووچا کچھ نہیں، یہ آج کل کے لڑکے حرام خور ہوگئے ہیں۔ کھانا جانتے ہیں پر کام نہیں ہوتا ان سے۔ خیر میرے ہوتے تمہیں فکر کرنے کی کیا ضرورت۔ بولو کتنے لڑکے بھیجوں۔ لڑکوں کی تازہ تازہ کھیپ آئی ہے۔‘‘
’’دس پندرہ تو بھیج ہی دو، ہوٹل کا رش تو تم دیکھ ہی رہے ہو ۔گراہکی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔‘‘

’’دس پندرہ؟‘‘ وہ ششدر رہ گیا۔ زیادہ لوگوں کا مطلب، زیادہ کمیشن۔ ہال کی جانب اس کی نظریں غیر ارادی طور پر اٹھ گئیں، ہال معمول کے مقابلے میں دگنا بھرا تھا اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔ ’’سیٹھ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔‘‘اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اور بھاری کمیشن کا سوچ کر مسکرا اٹھا۔
’’ہاں، اتنے تو میں مانگتا ہی ہوں۔ اور ہاں پہاڑی چھوکرے ہی لانا۔‘‘
’’پر سیٹھ، وہ توپھر بھاگ جا۔۔۔‘‘اس کے جملہ ادھورا رہ گیا۔سیٹھ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔

’’بولانا، اب سے ادھرپہاڑی چھوکرے ہی چلیں گے اور ہاں پہلے کے طرح ہی ہٹے کٹے اور قد آور ہوں۔ اور ہاں، ان کے بھاگنے کی مجھے پرواہ نہیں، تم ہو نا۔‘‘
اس نے اثبات میں اپنی گردن ہلائی، اور اپنی نہاری کی طرف متوجہ ہو گیا۔ گرم گرم نہاری سے اشتہا انگیز خوشبو اٹھ رہی تھی۔ اس نے لوازمات ڈالتے ہوئے ،بے قراری سے پہلا نوالہ لیا۔

’’واہ سیٹھ۔ تمہاری نہاری تو دن بدن لاجواب ہوتی جارہی ہے۔اب تو گوشت کی بوٹی بھی پہلے سے بڑی دینے لگے ہو، ایک دم رسدار، چربیلی،اور نرم۔‘‘
اس نے نہاری کی تعریف کرتے ہوئے سیٹھ کی جانب دیکھا۔ پر وہ چاروں جانب سے ادائیگی کرتے گاہکوں سے گھرا تھا۔ اس کی نظریں دفعتاً ہال کی جانب اٹھ گئیں ، ہال میں اب تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔اور ہوٹل کے باہر،اپنی باری کا انتظار کرتے گاہکوں کی طویل قطار دور تک چلی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرتبان

’’گو کہ صاحب میں بس ابھی دکان بند کرنے ہی والا تھے۔ پھر بھی آپ کا سامان پیک کرتے ہوئے، جلدی جلدی آپ کے سوال کا جواب بھی دیتا جاتا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ زلزلہ انتہائی بھیانک تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ زمین سے اٹھتی لہریں سب کچھ تلپٹ کرکے رکھ دیں گی۔ جدھر نظریں دوڑائیں، تباہی و بربادی کا عالم تھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی،کراہیں تھیں، رونا دھونا تھا۔ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے لوگوں کی پکاریں تھیں۔ قیامت اس سے کیا کم ہوگی؟۔۔۔ اورجیسا کے آپ دیکھ ہی ہیں کہ میرا ذریعۂ معاش پہاڑی جڑی بوٹیوں اور ان جانوروں پر ہے ،جو طبّی نقطۂ نظر سے فائدہ مند ہیں۔ سواس دن بھی میں جنگل میں انہیں کی تلاش میں نکلا ہوا تھا۔‘‘

میں بخوبی جانتا تھا کہ میں کہاں بیٹھا ہوا ہوں اور کس مقصد سے آیا ہوں ، پھر بھی غیر ارادی طور پر میری نگاہیں دکان کی اطراف گھوم گئیں۔ نیم تاریکی میں جو کچھ میں دیکھ پایا، وہ تھیں شیشے کے بڑے بڑے مرتبانوں میں بند انواع و اقسام کی جڑی بوٹیاں، سوکھے کیڑے مکوڑے اورشفاف محلول میں ڈوبے جنگلی جانوروں کے مردہ اجسام۔

“زلزلے کے جھٹکے وہاں جنگل میں بھی محسوس ہوئے۔ لیکن اتنے نہیں۔ میں نے اپنی سائیکل اٹھائی اور تیزی سے یہاں آیا۔ میرا مکان بھی ڈھے چکا تھا۔ ممتا سے محروم میرا چھ ماہ کا بچہ اور اس کی خادمہ دونوں ملبے تلے دب چکے تھے۔ میں پاگلوں کی طرح اکیلے ہی ملبہ ہٹانے لگا۔ وہاں میری مدد کرنے والا بھی بھلا کون تھا۔میں دنیاو مافیہا سے بے خبر ۔ اس وقت تک اپنے کام میں جٹا رہا، جب تک میں نے اپنے بچے کو ملبے سے نکال نہیں لیا۔‘‘وہ کچھ دیر تک ہاتھ میں موجود گلاب کی خشک پتیوں کو دیکھتا رہا، پھر کہنے لگا ،’’بس اس دن سے ایسا خوف بیٹھا صاحب کہ اب میں کبھی بھی اپنے بچے کو خود سے جدا نہیں کرتا ہوں۔ اب وہ ہر جگہ میرے ساتھ جاتا ہے ، یہاں تک کے جنگل میں بھی۔ ‘‘

میں سامان لے کر باہر نکلا۔ اتنی دیر میں اس نے بھی شٹر گرا دیا۔اور سائیکل پر بیٹھ کر مجھے سلام کرتا ہوا، جنگل کی جانب جاتی تنگ پگڈنڈی پر چڑھ گیا۔ اس کی سائیکل کے اسٹینڈ پر ایک مرتبان رکھا ہوا تھا۔
ٰImage: Wassily Wassilyevich Kandinsky

Categories
فکشن

کنجڑا، قصائی

[blockquote style=”3″]

یہ افسانہ اس سے قبل سہ ماہی تسطیر کے اگست 2017 کے ایڈیشن میں بھی شائع ہو چکا ہے۔

[/blockquote]
تحریر: انور سہیل
انتخاب و ترجمہ: عامر صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کنجڑے قصائیوں کو تمیز کہاں۔۔۔ تمیز کا ٹھیکہ تمہارے سیدوں نے جو لے رکھا ہے۔” محمد لطیف قریشی عرف ایم ایل قریشی بہت دھیرے بولا کرتے۔ مگر جب کبھی بولتے بھی تو کفن پھاڑ کر بولتے۔ ایسے کہ سامنے والا خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا۔

زلیخا نے گھور کر ان کو دیکھا۔ ہر کڑوی بات اگلنے سے پہلے ،اس کے شوہر لطیف صاحب کا چہرہ تن جاتا ہے۔ دکھ تکلیف یا خوشی کا کوئی جذبہ نظر نہیں آتا۔ آنکھیں پھیل جاتی ہیں اور زلیخا اپنے لئے ڈھال تلاش کرنے لگ جاتی ہے۔ وہ جان جاتی ہے کہ میاں کی جلی کٹی باتوں کے تیر چلنے والے ہیں۔

محمد لطیف قریشی صاحب کا چہرہ اب پرسکون ہوگیا تھا۔ اس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ تیر چلا کر، مخالف کو زخمی کر کے ،وہ مطمئن ہو گئے ہیں۔
زلیخا چڑ گئی۔ “سیدوں کو کاہے درمیان میں گھسیٹ رہے ہیں، ہمارے یاں ذات برادری پر یقین نہیں کیا جاتا۔ “

لطیف قریشی نے اگلا تیر نشانے پر پھینکا ۔ “جب ذات پات پر یقین نہیں، تو تمہارے ابوامی اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے بہو تلاش کرنے کے لئے، اپنی برادری میں صوبہ بہار کیوں بھاگے پھر رہے ہیں؟ کیا اِدھر کی لڑکیاں بے شعور ہوتی ہیں یا اِدھرکی لڑکیوں کا ہڈی،خون، تہذیب بدل گئی ہے؟ “

زلیخا صفائی دینے لگی ہے ۔”وہ بہار سے بہو کاہے لائیں گے، جب پتہ ہی ہے آپ کو، تو کاہے طعنہ مارتے ہیں۔ ارے ۔۔۔ مما، ننّا اور چچا لوگوں کا دباؤ بھی تو ہے کہ بہو بہار سے لے جانا ہے۔ “

“واہ بھئی واہ، خوب کہی۔ لڑکے بیاہنا ہے تو مما، چچا کا دباؤ پڑ رہا ہے، شادی خاندان میں کرنی ہے۔ اگر لڑکی کی شادی نپٹانی ہو تو نوکری والا لڑکاکھوجو۔ ذات چاہے جولاہا ہو یا کنجڑاہو، یا قصائی۔ جو بھی ہو سب چلے گا۔ واہ بھئی واہ ۔۔۔ مان گئے سیدوں کا لوہا! “

زلیخا روہانسی ہو گئی۔ عورتوں کا سب سے بڑا ہتھیار اس کے پاس وافر مقدار میں ہے، جسے “آنسوؤں کا ہتھیار “ بھی کہا جاتا ہے۔ مرد ان آنسوؤں سے گھبرا جاتے ہیں۔ لطیف قریشی بھی اس سے عاری نہ تھے۔ زلیخا کے اس ہتھیارسے وہ گھبرائے۔ سوچا ، مگرہار ماننا کچھ زیادہ ہی برا لگتا ہے۔ معاملہ رفع دفع کرنے کی غرض سے، انہوں نے کچھ فارمولا جملے بدبدائے ۔

“بات تم ہی چھیڑتی ہو اور پھرہارمان کر رونے لگ جاتی ہو۔ تمہیں یہ کیا کہنے کی ضرورت تھی کہ ادھر مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ کی لڑکیاں، بیچ کھانے والی ہوتی ہیں۔ کنگال بنا دیتی ہیں۔ تمہارا بھائی کنگال ہو جائے گا۔ مانا کہ تمہارے ننہیال ددھیال کا دباؤ ہے، جس کی بدولت تم لوگوں کو یہ شادی اپنے ہی خاندان میں کرنی پڑ رہی ہے۔ بڑی معمولی بات ٹھہری۔ چلو چائے بنا لاؤ جلدی سے ۔۔۔! “

زلیخا نے آنسو پی کر ہتھیار ڈال دیئے ۔”ہر ماں باپ کے دل میں خواہش رہتی ہے کہ ان کی لڑکی جہاں جائے، راج کرے۔ اس کے لئے کیسا بھی سمجھوتہ ہو ،کرنا ہی پڑتا ہے۔”

“سمجھوتہ!” لطیف ایک ایک لفظ چبا کر بولے۔
بات دوبارہ بگڑ گئی۔

“وہی تو ۔۔۔ وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ اور جانتی ہو، سمجھوتہ مجبوری میں کیا جاتا ہے۔ جب انسان اپنی قوت اور طاقت سے مجبور ہوتا ہے تو سمجھوتہ کرتا ہے۔ جیسے ۔۔۔! “

زلیخا سمجھ گئی۔کڑواہٹ کی آگ ابھی اور بھڑکے گی۔

“ہمارا رشتہ بھی اسی نامراد” سمجھوتے”کی بنیاد پر ٹکا ہوا ہے۔ ایک طرف بینک میں نوکری کرتا کماؤ کنجڑے قصائی برادری کا داماد، دوسری طرف خاندان اور ہڈی،خون، ناک کا سوال۔ معاملہ لڑکی کا تھا، پرایا دھن تھا، اس لئے کماؤ داماد کے لئے تمہارے گھر والوں نے خاندان کے نام کی قربانی دے ہی دی۔”
زلیخا رو پڑی اور کچن کی طرف چلی گئی۔ محمد لطیف قریشی صاحب بیدکی آرام کرسی پر نڈھال سے ڈھے گئے۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا، جیسے جنگ جیت کر آئے ہوں اور تھکن دور کر رہے ہوں۔ سید زادی بیوی زلیخا کو دکھ پہنچا کر ،وہ اسی طرح کا “رلیکس” محسوس کیا کرتے ہیں۔ اکلوتے سالے صاحب کی شادی کی خبر پاکر اتنا”ڈرامہ” کرنا انہیں مناسب لگا تھا۔

زلیخا کے چھوٹے بھائی جاوید کے لئے ان کے اپنے رشتہ داروں نے بھی منصوبے بنائے تھے۔ اکلوتا لڑکے، لاکھوں کی زمین جائداد۔ جاوید کے لئے لطیف کے چچا نے بھی کوشش کی تھی۔ لطیف کے چچا، شہڈول میں سب انسپکٹر ہیں اور وہیں گاؤں میں کافی زمین بنا چکے ہیں۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکے۔ کل مل ملاکر دو اولادیں۔ چچا چاہتے تھے کہ لڑکی کی شادی جہاں تک ممکن ہوسکے ،اچھی جگہ کریں۔ لڑکی بھی ان کی ہیرا ٹھہری۔ بی ایس سی تک تعلیم۔ نیک سیرت، بھلی صورت،فنِ خانہ داری میں ماہر، صوم وصلاۃ کی پابند، لمبی، دبلی، پاکیزہ خیالات والی اور بیوٹیشن کا کورس کی ہوئی لڑکی کے لئے، چچا کئی چکر زلیخا کے والد سید عبدالستار کے گھر کے کاٹ چکے تھے۔ ہر بار یہی جواب ملتا کہ لڑکے کا ابھی شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ایک بار محمد لطیف قریشی صاحب، جب اپنی سسرال میں موجود تھے، تب اپنے کانوں سے انہوں نے خودسنا تھا ۔”یہ سالے کنجڑے قصائی کیاسمجھ بیٹھے ہیں ہمیں؟ لڑکی کیا دی، عزت بھی دے دی کیا؟” انگلی پکڑائی تو لگے ہاتھ پکڑنے۔ بھلا ان دلَدّروں کی لڑکی ہماری بہو بنے گی؟ حد ہو گئی بھئی۔”
یہ بات زلیخا کے ماما کہہ رہے تھے۔ لطیف صاحب اس وقت بیڈروم میں لیٹے تھے۔ لوگوں نے سمجھا کہ وہ سو گئے ہیں ، لہذا اونچی آواز میں بحث کر رہے تھے۔ زلیخا کے والد نے ماما کو ڈانٹ کر خاموش کرایا تھا۔

لطیف توہین کا گھونٹ پی کر رہ گئے۔

تبھی تو اس بات کا بدلہ، وہ اس خاندان کی بیٹی، یعنی اپنی بیوی زلیخا سے لینا چاہ رہے تھے۔ لے دے کر آج توا گرمایا تو کر بیٹھے پرہار! زلیخا کو دکھ پہنچاکر، ہندوستانی اسلامی معاشرے میں پھیلی اونچ نیچ کی برائی پرگھاتک وار کرنے کی، ان کی یہ کوشش کتنی اوچھی، کتنی شرمناک تھی، اس سے ان کا کیا مقصد تھا؟ ان کا مقصد تھا کہ جیسے ان کا دل دکھا، ویسے ہی کسی اور کا دکھے۔ دوسرے کا دکھ، ان کے اپنے دکھ کے لئے مرہم بن گیا تھا۔

زلیخا کی سسکیاں کچن کے پردے کو چیر کر باہر نکل رہی تھیں۔ بیٹا بیٹی شاپنگ کے لئے سپر مارکیٹ تک گئے ہوئے تھے۔ گھر میں شانتی بکھری ہوئی تھی۔ اسی شانتی کو تحلیل کرتی سسکیاں، لطیف صاحب کے تھکے جسم کے لئے لوری بنی جا رہی تھیں۔

محمد لطیف قریشی صاحب کو یوں محسوس ہو رہا تھا، جیسے سیدوں، شیخوں جیسی تمام متکبر ذاتیں رو رہی ہوں، توبہ کر رہی ہوں۔
ارے! انہیں بھی تھوڑا بڑے ہوکر ہی، کہیں پتہ چل پایا تھا کہ وہ قصائیوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ تو صرف اتنا جانتے تھے کہ “ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز” والا دنیا کا واحد مذہب ہے اسلام۔ ایک ایسانیا انوکھاسماجی نظام ہے اسلام۔ جہاں اونچ نیچ، گورے کالے ، مرد عورت، چھوٹے بڑے، ذات پات کا کوئی جھمیلا نہیں ہے۔کہاں محمود جیسا بادشاۂ وقت، اور کہاں ایاز جیسا معمولی سپاہی، لیکن نماز کے وقت ایک ہی صف میں کھڑا کیا ،تو صرف اسلام ہی نے۔

ان کے خاندان میں کوئی بھی گوشت کا کام نہیں کرتا۔ سب ہی سرکاری ملازمت میں ہیں۔ سرگوجا ضلع کے علاوہ باہری رشتہ داروں سے لطیف کے والد صاحب نے کوئی تعلق نہیں رکھا تھا۔ لطیف کے والد کی ایک ہی نعرہ تھا، تعلیم حاصل کرو۔ کسی بھی طرح علم حاصل کرو۔ سو لطیف علم حاصل کرتے کرتے بینک میں افسر بن گئے۔ ان کے والد صاحب بھی سرکاری ملازم تھے، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اپنے خاندانی رشتہ داروں سے کٹے ہی رہے۔

لطیف، کلاس کے دیگر قریشی لڑکوں سے کوئی تعلق نہیں بنا پائے تھے۔ یہ قریشی لڑکے پچھلی بینچ میں بیٹھنے والے بچے تھے، جن کی دکانوں سے گوشت خریدنے کبھی کبھار وہ بھی جایا کرتے تھے۔ تقریباً تمام قریشی ہم جماعت مڈل اسکول کی پڑھائی کے بعد آگے نہ پڑھ پائے۔

تب انہیں کہاں پتہ تھا کہ قریشی ایک ایسا لاحقہ ہے۔ جو ان کے نام کے ساتھ ان کی سماجی حیثیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ وہ وعظ ،میلاد وغیرہ میں بیٹھتے تو یہی سنتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کا تعلق عرب کے قریش قبیلہ سے تھا۔ ان کا بچکانہ ذہن یہی حساب لگایا کرتا تھا کہ اسی قریشی خاندان کے لوگ ماضی میں جب ہندوستان آئے ہوں گے، تو انہیں قریشی کہا جانے لگا ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے پڑوس کے ہندو گھروں کی بہوؤں کو ان کے نام سے نہیں، بلکہ ان کے آبائی شہر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جیسے کہ بِلاس پورہِن،رائے پورہِن، سرگج ہِن، کوتماوالی، پینڈراوالی، کٹن ہِن وغیرہ۔

کچھ بڑے کاروباری مسلم گھرانوں کے لوگ نام کے ساتھ عراقی لفظ شامل کرتے، جس کا مطلب لطیف نے یہ لگایا کہ ہو نہ ہو ان مسلمانوں کا تعلق عراق کے مسلمانوں سے ہوگا۔ کچھ مسلمان خان، انصاری، چھیپا، رضا وغیرہ سے اپنا نام سجایا کرتے۔ بچپن میں اپنے نام کے ساتھ لگے قریشی لاحقے کو سن کر وہ خوش ہوا کرتے۔ انہیں اچھا لگتا کہ ان کا نام بھی، ان کے جسم کی طرح مکمل ہے۔ کہیں کوئی عیب نہیں۔ کتنا نامکمل سا لگتا، اگر ان کا نام صرف محمد لطیف ہوتا۔ جیسے بغیر دم کا کتا، جیسے بغیر ٹانگ کا آدمی، جیسے بغیر سونڈ کا ہاتھی۔

بچپن میں جب بھی کوئی ان سے ان کا نام پوچھتا تو وہ اتراکر بتایا کرتے ۔”جی میرا نام محمد لطیف قریشی ہے۔ “
یہی قریشی لفظ کا لاحقہ ،ان کی شادی کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہوا۔ جب ان کی بینک میں نوکری لگی تو قصائی گھرانوں سے دھڑا دھڑ رشتے آنے لگے۔ اچھے پیسے والے، شان شوکت والے، حج کر آئے قریشی خاندانوں سے رشتے ہی رشتے۔ لطیف کے والد ان لوگوں میں اپنا لڑکا دینا نہیں چاہتے تھے، کیونکہ سبھی روپیوں پیسوں میں کھیلتے ، دولت مند قریشی لوگ تعلیم و تہذیب کے معاملے میں صفر تھے۔ پیسے سے ماروتی کار آ سکتی ہے ،پر سلیقہ نہیں۔

اس دوران شہڈول کے ایک اجاڑ سے سید مسلم خاندان سے لطیف صاحب کے لئے پیغام آیا۔ اجاڑ ان معنوں میں کہ یوپی بہار سے آکر مدھیہ پردیش کے اس بگھیل کھنڈ میں آ بسے۔ زلیخا کے والد کسی زمانے میں اچھے کھاتے پیتے ٹھیکیدار ہوا کرتے تھے۔ آزادی سے پہلے اور اس کے بعد کے ایک دو پنج سالہ منصوبوں تک زلیخا کے والد اور دادا وغیرہ کی جنگل کی ٹھیکیداری ہوا کرتی تھی۔ جنگل میں درخت کاٹنے کا مقابلہ چلتا۔ سرکاری ملازم اور ٹھیکیداروں کے مزدوروں میں ہوڑ مچی رہتی۔ کون کتنے درخت کاٹ گراتا ہے۔ ٹرکوں لکڑیاں بین الصوبائی اسمگلنگ کے ذریعے اِدھر اُدھر کی جاتیں۔ خوب نوٹ چھاپے تھے ان دنوں۔ اسی کمائی سے شہڈول کے قلب میں پہلی تین منزلہ عمارت کھڑی ہوئی۔ جس کا نام کرن ہوا تھا “سیدنا “۔ یہ عمارت زلیخا کے دادا کی تھی۔ آج تو کئی فلک بوس عمارتیں ہیں، لیکن اس زمانے میں زلیخا کا آبائی مکان مشہور ہوا کرتا تھا۔ آس پاس کے لوگ اس عمارت”سیدنا “ کااستعمال اپنے گھر کے پتے کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ مقامی اور علاقائی سطح کی سیاست میں بھی اس عمارت کی اہمیت تھی۔ پھر یہاں مارواڑی آئے، سکھ آئے، مقابلہ بڑھا۔ منافع کئی ہاتھوں میں منقسم ہوا۔ زلیخا کے خاندان والوں کی مونوپلی ختم ہوئی۔ مشروموں کی طرح شہر میں خوبصورت عمارتیں اگنے لگیں۔

زلیخا کے والد یعنی سید عبدالستار یا یوں کہیں کہ حاجی سید عبدالستار صاحب کی ترقی کا گراف اچانک تیزی سے نیچے گرنے لگا۔ جنگلات کی ٹھیکیداری میں مافیاراج آ گیا۔ دولت ،طاقت اوربازوؤں کی زور آزمائی کے بعد حاجی صاحب فالج کا شکار ہوئے۔ چچاؤں اور چچازاد بھائیوں میں دادا کی جائیداد کو لے کر تنازعات ہوئے۔ جھوٹی شان کو برقرار رکھنے میں ،حاجی عبدالستار صاحب کی جمع پونجھی خرچ ہونے لگی۔ جسم کمزور ہوا۔ بولتے تو سر لڑکھڑا جاتا۔ کاروبار کی نئی ٹیکنالوجی آ جانے سے، پرانے تجارتی طور طریقوں سے چلنے والے کاروباریوں کا عموماً جو حشر ہوتا ہے، وہی حاجی صاحب کا ہوا۔

ڈوبتی کشتی میں اب زلیخا تھی، اس کی ایک چھوٹی بہن تھی اور ایک چھوٹا بھائی۔ بڑی بہن کی شادی ہوئی، توسیدوں میں ہی۔ لیکن پارٹی مالدار نہ تھی۔ داماد تھوک کپڑے کا تاجر تھا اور رنڈوا تھا۔ زلیخا کی بڑی بہن وہاں بہت خوش تھی۔ زلیخا جب سیاسیات میں ایم اے کر چکی، تو اس کے والدحاجی صاحب فکر مند ہوئے۔ خاندان میں زیادہ پڑھی لکھی لڑکی کی اتنی ڈیمانڈ نہ تھی۔ لڑکے زیادہ تر کاروباری تھے۔ زلیخا کوبیاہنا نہایت ضروری تھا، کیونکہ چھوٹی سی لڑکی قمرن بھی جوان ہوئی جا رہی تھی۔ جوان کیا وہ تو زلیخا سے بھی زیادہ بھرے بدن کی تھی۔ ان کی عمروں میں فرق محض دو سال کا تھا۔ دو دو نوجوان لڑکیوں کا بوجھ حاجی صاحب کا مفلوج بدن برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

ان کے ایک دوست ہوا کرتے تھے اگروال صاحب۔ جو فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ملازم تھے۔ حاجی صاحب کے سیاہ سفید کے امین! انہی اگروال صاحب نے، دور سرگوجا میں ایک بہترین رشتہ بتایا۔ اس پرحاجی صاحب ان پر بگڑے۔ زمین پر تھوکتے ہوئے بولے۔ “لعنت ہے آپ پر اگروال صاحب ۔ کنجڑے قصائیوں کو لڑکی تھوڑے ہی دوں گا۔ گھاس کھا کر جی لوں گا۔ لیکن خدا ایسا دن دکھانے سے پہلے اٹھا لے تو بہتر ۔۔۔ “

پھرکچھ رک کر کہا تھا انہوں نے ۔ “ارے بھائی، سیدوں میں کیا لڑکوں کی مہاماری ہو گئی ہے؟ “
اگروال صاحب بات سنبھالنے لگے ۔ “میں یہ کب کہہ رہا ہوں کہ آپ اپنی لڑکی کی شادی وہیں کریں۔ ہاں، تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچئے ضرور۔ میں ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ پڑھا لکھا، مہذب گھرانہ ہے۔ لڑکا بینک میں افسر ہے۔ کل کو اوربڑاافسر بنے گا۔ بڑے شہروں میں رہے گا۔ “

اگروال صاحب کسی ٹیپ ریکارڈر کی طرح، تفصیلات بتانے لگے۔ انہیں حاجی صاحب نامی عمارت کی خستہ حال دیواروں، ٹوٹی چھتوں اور ہلتی بنیادوں کا حال خوب معلوم تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ شادی کے لائق بیٹیوں کی، شادی کی فکر میں، حاجی صاحب بے خوابی کے مریض بھی ہوئے جا رہے ہیں۔ معاشی حالات کی مار نے انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ ان کا علاج بھی چل رہا تھا۔ ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی، جھاڑ پھونک،تعویز گنڈا ، پیری فقیری اور حج زیارت جیسے تمام نسخے آزمائے جا چکے تھے۔ پرمرض اپنی جگہ اور مریض اپنی جگہ۔ گھٹ رہی تھی تو صرف جمع کی ہوئی دھن دولت اور بڑھ رہی تھیں تو صرف مشکلیں۔

ایک دو روز کے بعد اگروال صاحب کی بات پر حاجی صاحب غور وفکر کرنے لگے۔ حاجی صاحب کی چند شرائط تھیں، جو رسی کے جل جانے کے بعد بچے بلوں کی طرح تھیں۔

ان شرائط میں اول تو یہ تھی کہ شادی کے دعوت ناموں میں دلہن اور دلہا والوں کی ذات برادری کا لاحقہ نہ لگایاجائے۔ نہ تو حاجی سید عبدالستار اپنے نام کے آگے سید لگائیں اور نہ ہی لڑکے والے اپنا “قریشی” ٹائٹل زمانے کے آگے ظاہر کریں۔ شادی” شرعی” رواج سے ہو۔ کوئی دھوم دھام، بینڈ باجا نہیں۔ دس بارہ براتی آئیں۔ دن میں شادی ہو، دوپہر میں کھانا اور شام ہونے تک رخصتی۔

ایک اور خاص شرط یہ تھی کہ نکاح کے موقعہ پر لوگ کتنا ہی پوچھیں، کسی سے بھی قریشی ہونے کی بات نہ بتائی جائے۔
لطیف اور اس کے والد کو یہ تمام شرائط توہین آمیز لگیں، لیکن اعلی درجے کے خاندان کی تعلیم یافتہ، نیک سیرت لڑکی کے لئے، ان لوگوں نے بالآخر یہ توہین آمیز سمجھوتہ قبول کر ہی لیا۔ اگروال صاحب کے بہنوئی سرگوجا میں ہوتے تھے اور لطیف کے والد سے ان کا قریبی تعلق تھا۔ ان کا بھی دباؤ انہیں مجبور کر رہا تھا۔

ہوا وہی، جو زلیخا کے والد صاحب کی پسند تھا۔ لڑکے والے، لڑکی والوں کی طرح بیاہنے آئے۔ اس طرح سے سیدوں کی لڑکی، کنجڑے قصائیوں کے گھر بیاہی گئی۔

ایک دن زلیخا کے ایک رشتہ دار بینک میں کسی کام سے آئے۔ لطیف صاحب کو پہچان لیا انہوں نے۔ کیبن کے باہر ان کے نام کی تختی پر صاف صاف لکھا تھا ۔ “ایم۔ ایل۔ قریشی، برانچ منیجر “

لطیف صاحب نے آنے والے رشتے دار کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اورگھنٹی بجا کر چپراسی کو چائے لانے کا حکم دیا۔
یہ رشتے دار بلاشبہ مال دار پارٹی تھے اور سرمایہ کاری کے سلسلے میں بینک آئے تھے۔
لطیف صاحب نے سوالیہ نظروں سے ان کو دیکھا۔
وہ دنگ رہ گئے۔ گلاکھنکھارکر پوچھا ۔ “آپ حاجی” سید “عبدالستار صاحب کے داماد ہوئے نہ؟ “
“جی ہاں، کہیے۔” لطیف صاحب کا ماتھا ٹھنکا۔
سید لفظ پر اضافی زور دیے جانے کو وہ خوب سمجھ رہے تھے۔

“ ہاں، میں ان کا رشتہ دار ہوں۔ پہلے گجرات میں سیٹل تھا، آج کل ادھر ہی قسمت آزمانا چاہ رہا ہوں۔ آپ کو نکاح کے وقت دیکھا تھا۔ نیم پلیٹ دیکھ کر گھبرایا، لیکن آپ کے بڑے بابو تیواری نے بتایا کہ آپ کی شادی شہڈول کے حاجی صاحب کے یہاں ہوئی تو مطمئن ہوا۔ “ وہ صفائی دے رہے تھے۔
پھر دانت نکالتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ “آپ تو اپنے ہی ہوئے! “ان کے لہجے میں عزت، تعلق داری اور ڈرامائی انداز کی ملاوٹ تھی۔
محمد لطیف قریشی صاحب کا سارا وجود روئی کی طرح جلنے لگا۔ پلک جھپکتے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتے کہ اس سے قبل خود کو سنبھالا اور آنے والے رشتے دار کا کام سہولت سے نمٹا دیا۔

ایم ایل لطیف صاحب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ محمد لطیف قریشی کے مردہ جسم کو دفنا یاتوجا سکتا ہے، لیکن ان کے نام کے ساتھ لگے “قریشی “ کو وہ کبھی نہیں دفنا سکتے ہیں۔

Categories
فکشن

عامر صدیقی کے تین افسانے

کارنس

’’میں اسے گڑیا سے کھیلنے نہیں دوں گی۔‘‘
کمرے کے سناٹے کو چیرتی، تین سایوں میں سے ایک کی سرگوشی ابھری۔۔۔۔۔۔اور دلوں میں اتر گئی۔۔۔۔
۔۔۔سنگدلی، سفاکیت، پختہ ارادہ
۔۔۔تذبذب، نیم دلی،پس و پیش
۔۔۔مظلومیت،بے بسی، تاریکی
’’چوں چوں چوں‘‘
’’اس کارنس کو صاف کرو۔۔۔۔سارے گھر کو بھنکادیا ہے۔جہیز میں اور تو کچھ لائی نہیں کلموہی، سوائے ان منحوس پرندوں کے۔۔۔ ‘‘
۔۔۔تہمت، بہتان، اتہام
۔۔۔تردد،نیم رضامندی، فرمانبرداری
۔۔۔نصیب، قسمت،آنسو
’’چوں چوں‘‘
’’بس میں نے کہہ دیا، اس گھر میں گڑیا نہیں آنے دوں گی۔۔۔۔‘‘
’’میں بھی۔۔۔۔۔۔‘‘
’’میں گڑیا سے ہی کھیلوں گی۔۔۔۔‘‘
’’چوں چوں چوں‘‘
’’کارنس سے گند ہٹاؤ ابھی۔۔۔۔۔‘‘
۔۔۔بدبو، تعفن، سرانڈ
۔۔۔قصد، عزم،کارروائی
۔۔۔چیخیں، سسکیاں، کراہیں
’’چیں چیں چیں‘‘
’’چیں چیں چیں‘‘
خون،سفیدی، زردی
زردی، سفیدی، خون


الگنی کی تلاش میں بھٹکتا پیار

’’جھاگ نہیں بن رہا۔‘‘
’’تھوڑا پاؤڈر اور ڈالو نا۔‘‘
’’بہت جھاگ بن جائے گا۔‘‘
’’تمہارا کیا جاتا ہے۔‘‘
’’میرا کیا جائے گا؟ میرا ہی تو جاتاہے۔۔۔اچھااسے بھی دھو ڈالو،اوراسے بھی۔‘‘
’’جھاگ مرجائے گا۔۔۔‘‘
’’کام چل جائے گا۔ ‘‘
’’بہت مشکل ہے۔ویسے بھی الگنی چھوٹی ہے۔‘‘
’’الگنی بڑی کئے دیتا ہوں۔‘‘
’’مگر جھاگ کا کیا؟اوراب پاؤڈر بھی نہیں۔‘‘
’’تم کیا ان سے دھوتی ہو۔‘‘
’’کون میں ؟ اور کس سے بھلا۔تم کیا سمجھے؟‘‘
’’میں سمجھا۔۔۔۔‘‘
’’کیا سمجھے؟‘‘
’’ارے جھاگ نیچے گر رہا ہے۔‘‘
’’کچھ نہیں، لاؤکیا دھونا ہے،کیازندگی؟‘‘
’’رائیگاں گئی۔‘‘
’’قسمت؟‘‘
’’وہ تو پھوٹی نکلی۔‘‘
’’روپیہ پیسہ۔‘‘
’’ہاتھوں کا میل تھا۔ سواتار پھینکا۔‘‘
’’توجوانی۔‘‘
’’اسے ادھارپرلیا تھا، واپس کردی۔‘‘
’’عزت۔‘‘
’’ٹکے بھاؤ بیچ دی۔‘‘
’’شہرت۔‘‘
’’بہت داغدار ہے۔تمہارے بس کی بات نہیں۔‘‘
’’پھرحوصلے کا کیا۔‘‘
’’ماند پڑ گیا۔‘‘
’’اورجذبات۔‘‘
’’ان کا رنگ پھیکا پڑگیاہے۔‘‘
’’حسن ہی سہی۔‘‘
’’اب کہاں، ناپید ہوچکا۔‘‘
’’بشاشت۔‘‘
’’اس پرحالات کا پکا رنگ چڑھ چکاہے۔اب یہ نہ اترے گا۔‘‘
’’تو پھر اپنی کھال ہی اتار کردو۔‘‘
’’کئی بار اتاری جا چکی، اب اتاری تو پھٹ جائے گی۔‘‘
’’جب کچھ دھلوانا ہی نہیں تو اتنا جھاگ کیوں بنوایا؟‘‘
’’پیار کو جو دھلوانا تھا۔‘‘
’’فقط ایک پیارکو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’پکا۔‘‘
’’پکااورہاں خوب رگڑ رگڑ کر دھونااور اچھی طرح نچوڑنا۔‘‘
’’ارے کتنا گندہ ہے۔‘‘
’’ہاں صدیوں سے یونہی جوپڑا تھا، کسی الگنی کی تلاش میں۔‘‘


بیر بہوٹی کی تلاش میں

میں بیر بہوٹی کی تلاش میں تھا۔
میں کہاں کہاں نہیں بھٹکا۔
نامعلوم اور خوابیدہ عدم کو ممکنات میں لے آیا۔
ساتوں آسمان، تمام جنتیں، سارے جہنم۔
یہاں تک کہ تخلیق کی دیوارِ گریہ تک بھی جا پہنچا۔
چیخوں اور کراہوں کی موسلادھار بارش کی پھسلن کو ان دیکھا کرکے۔
ناامیدی کے بھنور میں امید کے پر لگا کر
روح کی بے کسی کو متاعِ عزیزجان کر
بدن کی شکستگی و کہنگی کو مومیائی بنا کر
نفس کی منہ زوری کو لگام ڈال کر
ہر خواہش، ہر امید، ہر تمنا، ہر چاہت کوپیچھے د ھکیلتے۔۔۔۔
فقط بیر بہوٹی کو پانے کی چاہ میں۔۔۔۔۔
ایک جھلک دیکھنے کی آرزو میں۔۔۔۔۔
میں دیوار پر چڑھ گیا۔اوراب میرے سامنے تھے،تمام مناظر،تمام موجودات۔۔۔ ساحل پر پڑی کسی مردہ سیپ کی مانند۔۔۔ بے ٹھور۔۔۔بے سدھ۔۔۔بے بال وپر۔۔۔بے پا۔۔۔۔بے بود۔۔۔ مگر بیر بہوٹی۔۔۔ بیر بہوٹی کہاں تھی۔۔۔
کسی نے مجھ سے کہا تھا۔۔۔
’’ اس کی تلاش تو بہت آسان ہے۔۔۔
اسے پانی کی تلاش ہے۔۔۔۔
توُ اسے پانی کی بھینٹ دے اور وہ تجھے مل جائے گی۔۔۔‘‘
پر میں نہ مانا۔ میں مان بھی نہیں سکتا تھا۔ میرے اندر یہ صلاحیت ہی نہیں تھی۔
’’پانی جیسی حقیر شے۔۔۔ مجھے بیر بہوٹی کے شایانِ شان نہیں لگتی۔۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے کہ تُو ماننے والا نہیں۔۔۔اگر ماننے والا ہوتا تو بھلا بیر بہوٹی کی تلاش ہی کیوں ہوتی تجھے،وہ خود تجھ تک پہنچ جاتی۔ جا پھر اسے اپنے طریقے سے تلاش کر۔‘‘
سوچوں کو پرے ڈال کر میں دیوار سے نیچے اترا۔۔۔۔اور بڑبڑایا،’’اگر اسے پانی کا ہی تحفہ دینا ہے تو یہ پھر میرے مطابق ہو گا۔۔۔’’میں‘‘۔۔۔ میں ہوں۔۔کوئی مشت غبار تو نہیں ہوں۔۔‘‘
اب میں ساتوں سمندروں کی جستجو میں تھا۔ بیر بہوٹی کے لئے، اس کی شان کے مطابق، تحفے کی تلاش میں۔۔
اور
وہیں دور کہیں،کسی سوکھے صحرا میں لب دم کوئی شخص،اپنی بے بسی پر بے اختیاررو پڑا۔۔اس کی آنکھوں سے چند قطرے گرے۔۔۔اور ریت میں جذب ہوگئے۔۔۔
بہر بہوٹی کو اس کی بھینٹ مل گئی تھی۔۔۔۔۔
Image: Wassily Kandinsky