Categories
نان فکشن

طویل افسانے کی نظری اساس

صنف کی شناخت،ادبی صنف کاتعین،ادبی صنف کے امتیازی نشانات،ہیئت ومواد کی سطح پر صنف کے فاصلاتی وشناختی خصائص کی نشاندہی،یہ صنفیاتی مطالعے کے اہم موضوعات ہیں جو کسی صنف کی وجودیات پرمکالمہ قائم کرتے وقت زیر بحث آتے ہیں۔جدیدفکشن کی تاریخ میں ناول،ناولٹ،طویل افسانہ اور مختصر افسانے کی مختلف شکلیں ہم رشتہ تصور کی جاتی ہیں۔اس وقت ہمارے زیر بحث طویل افسانے کی وجودیات ہیں۔ان خطوط کی تلاش جو طویل افسانے کو مختصر افسانے سے مختلف بناتے ہیں،ہمارا عین مدعا ہے۔

صنف فقط ہیئتی تجربے کانام نہیں ہے۔تجربے کاتسلسل واستحکام بھی صنفی شناخت کالازمہ ہیں بلکہ یہ کہہ لیجیے کہ ادبی روایت میں بہ تکرار کسی تجرباتی شناخت کا ورودتجربے کوصنف کی صورت دینے میں اہم رول اداکرتاہے۔اردو کی ادبی روایت میں ہیئت اور مواد دونوں ہی صنف کی تشکیل اور شناخت میں اہم رہے ہیں۔ہمارے یہاں ایسی کئی اصناف ہیں جو صرف موضوع کے اختلاف کی وجہ سے صنفی شناخت کی حامل ہیں۔غزل قصیدے کی ہیئت میں لکھی جاتی ہے بلکہ وہ تو اس کے بطن سے پیداہوئی اورقصیدے کے ایک جزء نے صنف کی صورت لے لی(بعض ناقدین اس خیال کو غیر تاریخی اور غیر منطقی خیال کرتے ہیں۔)۔اس ہم رشتگی کے باوجود غزل کے ہر شعر کی خود مکتفی حیثیت اس کی شناخت کااہم پہلو ہے۔غزل اور قصیدے میں خیال کی سطح پر پائی جانے والی دوئیاں بھی اہم ہیں۔قصیدہ اپنے اجزائے ترکیبی میں جس نظم وضبط،تسلسل وارتقااور موضوعاتی دائرہ کاپابند ہے،غزل ہرگز نہیں ہے۔حمد اورنعت ہیئت میںغزل سے مشابہت رکھتی ہیں،اس کے باوجود موضوع کااختصاص انھیں صنفی شناخت عطاکرتاہے۔کہنے کامطلب یہ ہے کہ صنف کو شناخت کرنے کاکوئی لگابندھااصول نہیں ہے اور نہ ہی صنف کے خودساختہ اورکسی صنف سے ہم رشتہ نہ ہونے کاتصور قائم کیاجاناہی ممکن ہے۔صنف موجود متن سے برآمد ہوتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح ایک نئی زبان دوسری موجود زبان سے۔

صنفی شناخت اور اس کے ایسے امتیازی اوصاف کاتعین جوصرف اسی صنف کے ساتھ خاص ہوں،آسان کام نہیں ہے۔صنف شناسی کے کاوشیں صنفی شناخت کالگابندھااصول دریافت کرنے،ہیئت ومواد کی سطح پر انفرادیت،ندرت،دیگر اصناف سے کلی اختلاف کو قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔صنفیات کے باب میں یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھنے کی ہے کہ ادبی متون سے اکتساب ومماثلت کے باوصف کسی بھی نومولود صنف کی اپنی علاحدہ شان قائم ہوتی ہے یانہیں۔ایسے امتیازی نشانات جو صنف کی ناگزیریت کو باور کراتے ہوں،کاپایاجاناہی صنفی شناخت اوراستحکام کے لئے کافی ہے۔بس تجربے کے تسلسل،مقبولیت اور روایت کاحصہ بننے میں اس کی کامیابی لازمی ہے۔قاضی افضال حسین نے صنفی نشانیات کی اہمیت متن کی تشکیل میں اس کے کردار پر معنی خیز گفتگو کی ہے اگر چہ ان کی گفتگو نظمیہ اصناف کے ذکر پر مبنی ہے لیکن تخلیقی عمل میں صنف کے تشکیلی اجزاء کی کارفرمائی کو سمجھنے میں معاون ہیں۔وہ لکھتے ہیں :

’’اصناف کی امتیازی صفات،صرف صنف کی شناخت کا فریضہ انجام نہیں دیتی بلکہ متن کی تخلیق کے عمل (Process)میں اس کے تشکیلی اجزاء کے تفاعل یعنی Function بھی متعین کرتی ہیں۔یعنی ہر صنف میں متن مرتب کرنے کے اصول اس کی صنفی شناخت کے پا بند ہوتے ہیں۔غزل میں الفاظ کے ارتباط کی نوعیت اور اس ارتباط سے برآمد ہو نے والے معنی یا ان کی تعبیرات،قصیدہ،مثنوی یا جدید نظموں میں الفاظ کے باہم ارتباط سے برآمد ہو نے والے معنی سے بالکل مختلف طور پر نمو کرتی ہیں۔‘‘(۳۷صنف کی تشکیل،امتیازات اور اردو کی اصناف سخن،مرتب افضال)

نظم کے مقابلے میں نثر کامعاملہ مختلف ہے بالخصوص ایسی نثر جو واقعہ اساس ہو۔اب واقعہ اساس نثر میں بھی افسانوی نثر اور غیرافسانوی نثر کے مابین حدفاصل موجود ہے۔ناول، ناولٹ، طویل افسانہ اور مختصر افسانہ واقعہ اساس ہیں۔خاکہ،سوانح اوررپورتاژ بھی واقعہ اساس ہیں لیکن ان مابین فرق یہ ہے کہ ان میں ایک کے واقعہ کی صداقت،تاریخیت،واقعیت اورصحت ناگزیر ہے اوردوسرااس سے بے نیاز ہے۔وہاں توبس واقعہ کااس کی امکانی صورت میں ہوناہی کافی ہے،چاہے وہ واقع ہوا ہویانہ ہوا ہو۔ناول،افسانہ میں واقعہ کاحجم اورجہت،پیشکش کاطریقۂ کار حد فاصل قائم کرتے ہیں۔یہاں جو بات تمام جدیدافسانوی اصناف میں مشترک ہے وہ یہ کہ یہاں واقعہ میں سبب اور نتیجے کانسبت کاہونالازمی ہے۔واقعہ کی امکانی صورت منطق سے جس قدر قریب ہوگی،اس کے مختلف پہلواور جہتیں اسی قدر مربوط،منظم،چست اور درست ہوگیں۔

ناول سے پہلے ہمارے یہاں شافی وکافی نثری افسانوی بیانیہ داستان ہے۔داستان اورناول کے مابین رشتہ ہے،زبان کا،واقعہ کا،کردارکا،منظر کشی کا،عمل وردعمل کا لیکن ان کے مابین واقعہ کی منطقی امکانی صورت کی شرط حد فاصل کوقائم اور مستحکم کر دیتی ہے۔مزید زمانی عرصہ کی صراحت ناول کی صنفی شناخت کومزیداجالتی ہے۔کرداروں کی باہمی کشمکش،وقوعات کاتصادم،تطابق وتخالف اور اس سے متشکل ہوتے منطقی زمانی ومکانی بیانیے سے وسط وانجام کی طرف بڑھتاقصہ ناول کی تکمیل کرتاہے۔ناول کے برخلاف داستان میں ہم منطقیت کی شرط کو لازم خیال نہیں کرتے۔داستان ایسی تہذیبی وتمدنی معاشرت کی زائیدہ ہے جہاں اسطوراورمافوق الفطرت عناصر کی کارفرمائی بہت سی مشکلات حل کردیتی ہے۔اسی طرح زمان ومکان کی تبدیلی بھی وہاں اس منطق کی پابند نہیں ہوتی جوکہ ناول کاخاصہ ہے۔داستان کی اپنی جداگانہ منطق ہے۔موضوع کی سطح پر ناول خیر وشر کی ایسی آماجگاہ نہیں بنتاجیسی کہ داستان۔ناول کے کرداربشری جون میں اچھابراسب کچھ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔داستان کی صنفی خصوصیات پر گفتگو کرتے ہوئے افضال حسین نے لکھاہے:

ــ’’۔۔۔۔داستان میں واقعہ اور اس کے کردار جس مخصوص فکری اور تہذیبی بنیادوں پر تشکیل دئیے گئے ہیں اس میں سبب اور نتیجے والی منطق کہیں بھی استعمال نہیں ہوئی ہے۔گھنے اندھیرے جنگل میں،زمین کے نیچے محل کیسے نکل آتا ہے یا کٹی ہوئی گردن سے ٹپکنے والا خون دریا میں گرتے ہی کیسے لعل بن جاتا ہے داستان کا قاری،اپنے متن سے یہ سوال نہیں کرتا۔جس تہذیبی اور فکری ماحول میں داستانیں لکھی گئیں ان میں رچا بسا قاری اس پر یقین رکھتا ہے کہ قدرت کا کارخانہ ایک قادر مطلق کی منشا کا ظہور ہے۔اس لئے اس میں جو وہ چاہے وہ بلا اسباب ہونا ممکن ہے کہ اس نے جو کہا وہ ہو گیا۔ اس لئے داستان کے کرداروں نے ماحول معاشرت یا زمانے کی تبدیلی کے سبب کوئی تغیر / ارتقا بھی نہیں ہوتا۔‘‘۳۹،۴۰ایضا
ناول اورافسانے کی اساس بھی جیسا کہ پہلے ذکرآیامنطقی واقعہ ہے۔دونوں جگہوں پر سبب اورنتیجے کی کارفرمائی ناگزیر ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ ناول میں کردار کاارتقاہوتاہواور افسانے میں نہ ہوتاہو۔البتہ تطابق وتخالف کی جوصورت ناول میں ہوتی ہے افسانے میں نہیں ہوتی۔کرداروں کاتفاعل عمل کے تسلسل اورتکرار کی جوصورتیں پیدا کرتاہے،اس سے ناول کی واقعاتی اساس افسانے سے علاحدہ ہوکر قائم ہوتی ہے۔اس نکتہ کوواضح کرتے ہوئے افضال حسین نے لکھاہے:

’’ناول کے کرداروں میں ارتقاکے تصور کے ساتھ ہی ان کے اعمال میںتکرار کی صفت لازماً موجود ہوتی ہے یعنی مختلف situationsمیں کردار ایک خاص طرح عمل کرتے ہیں۔مختلف صورت حال میں عمل کے اس تکرار کے سبب قاری ان کی فطرت یا صفات کے متعلق قیاس یا فیصلہ کر سکتا ہے۔ افسانہ میں عمل یا Behaviourکے تکرار کی فضا نہیںہوتی یا متعدد واقعات کے باہم عمل اور رد عمل کا کوئی سلسلہ قائم ہو سکتا ہے (صرف ان افسانوں کے علاوہ جو کسی کردار کی صفات کے متعلق لکھے گئے ہوں )،اس لئے افسانے میں واقعہ بیشتر کشمکش کے بیان سے شروع ہو کر سبب اور نتیجے کے منطقی انجام پر ختم ہوتا ہے۔اس لئے خود واقعہ کی تعریف میں اشتراک کے باوجود افسانہ ناول سے الگ صنف کی حیثیت سے قائم ہو گیا ہے۔ ۴۰،۴۱ایضا‘‘
ناول اور ناولٹ کا مسئلہ اس وقت زیر بحث آیا جب شہاب کی سرگزشت،ایک شاعر کا انجام،شاما،ایک چادر میلی سی،مجو بھیا،سیتا ہرن،دلربا،ہائوسنگ سوسائٹی،چراغ تہ داماں جیسی تخلیقات ادبی دنیا میں نمودار ہوئیں۔جو اپنے فارم کے اعتبار سے اور ساخت اور اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے تو ناولیں ہی تھیں لیکن ان میں وہ گیرائی و گہرائی اور وہ وسعت نہیں تھی جو عموما ناولوں میں ہوتی ہے۔اس لئے تخلیق کار خود بھی ایسی تخلیق کے سلسلے میں مخمصے میں رہے اور ساتھ ہی نقاد بھی اس تخلیق کے حوالہ سے کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں کر پائے۔

اولا ًناولٹیں اس احساس و شعور کے ساتھ نہیں لکھی گئیں کہ وہ ناولٹ ہیں ان کے ٹائٹل پر ناول ہی لکھا ہوتا تھا۔اور آج بھی اس بحث کو کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچایا جا سکا ہے کیونکہ ایک شاعر کا انجام،شہاب کی سرگزشت ان کو کوئی ناولٹ کہتا ہے تو کوئی طویل افسانہ۔مرزا حامد بیگ انہیں طویل افسانہ ہی مانتے ہیں اور احسن فاروقی کے بقول :

ــ’’حقیقت یہ ہے کہ نثر اور نظم اور معلومات میں جس قدر ان کا مذاق اعلیٰ ہے ناول کے سلسلے میں اتنا ہی ناقابل اطمینان ہے ان کی کم ازکم دو تصنیفیں ناول ضرور کہلاتی ہیں،ایک شہاب کی سرگزشت اور دوسری ’’شاعر کا انجام ‘‘یہ اتنی مختصر ہیں کہ ان کو زیادہ سے زیادہ ناول کہا جا سکتا ہے۔‘‘۱

اسی طرح ضبط کی دیوار،ہائوسنگ سوسائٹی کے بارے میں بھی اختلافات ہیں۔
آگے اسی کتاب میں صفحہ ۲۰۶پر ناولٹوں کا اردو ادب میں وجود کس طرح ہوا اس کے بارے میں احسن فاروقی لکھتے ہیں :
’’َ۔۔۔۔۔۔۔۔ناول کے نام کا رواج بہت ہوا اور اس میں عام دلچسپی بھی بہت بڑھی۔مگر ایسی ایسی چیزیں ناول کے نام سے مشہور ہو گئیں جنہیں ناول سے محض سطحی ہی تعلق تھا ان ناول نما اصناف میں دو فارم خاص طور پر نمایاں ہوئے۔ایک ناولٹوں کا اور دوسرے خاکوں کے مجموعوں کا۔ان فارموں کے عاملین یہی سمجھتے رہے کہ وہ ناولیں لکھ رہے ہیں اور ان کے پڑھنے والے انہیں ناولیں سمجھ کر پڑھتے رہے۔ان کو ناول کے مناسب مگر اس سے مختلف ضرور سمجھا جانا چاہئے۔‘‘۲

جیسا کہ احسن فاروقی کا کہنا ہے کہ ان فارموں کے عاملین یہی سمجھتے رہے کہ وہ ناول لکھ رہے ہیں،تو کیا اس بیان سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اردو ادب میں ناولٹ کا وجود ناقص ناول نگارے کے سبب ہوا۔کیوں کہ انہیں ناول کہا جائے تو ان کا نقص عیاں ہے کہ یہ ناول نگاری کے فن پر پورا نہیں اترتیں۔گہرائی و گیرائی،حقیقت بیانی،کرداری ارتقاء،زندگی کا ایک وسیع منظر نامہ ان سارے لوازمات سے عاری ہیں۔

ان جیسی تخلیقوں کے سبب جو ناول کے مماثل تو تھیں لیکن جنہیں ناول کہنے میں تردد بھی تھا،ایک نئی بحث کا آغاز ہوا۔اور ناول اور ناولٹ دو صنفوں کے اصول متعین کرنے میں نقاد کافی شش و پنج میں مبتلا رہے۔ان میں کچھ مماثلتیں بھی تھیں تو افتراق کی بھی صورتیں تھیں۔یہیں سے ناول اور ناولٹ میں نظریاتی و اصولی ٹکرائو کی صورتوں نے جنم لیا اور کچھ سوالات پیدا ہوئے۔

اصناف ادب کے تعین میں طوالت کا دلیل بنانا عجیب بات ہے۔افسانوی اصناف پر نظر ڈالیں تو داستانیں عموماًطویل ہوتی ہیں لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ اگر وہ ناول سے ضخامت میں کم ہوں تو ہم اسے ناول کے زمرے میں شامل کر لیں گے ؟قطعی نہیں کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو باغ و بہار،فسانۂ عجائب،طوطا کہانی،نو طرز مرصع وغیرہ ناولیں تسلیم کی جانے لگتیں اور لہو کے پھول،آگ کا دریا،کئی چاند تھے سر آسماں داستانیں بن جاتیں۔کسی تخلیق کے سلسلے میں طوالت کا جواز کسی نئی صنف کی علاحدہ شناخت کی حیثیت میں ادھوری اور نا کافی ہے۔

حالانکہ Edger ellen .poeنے ناول اور افسانہ میں فرق طوالت کی بنیاد پر کیا ہے۔لیکن آج افسانے کے ساتھ ساتھ ناولٹ اور طویل افسانے کا صنفی مسئلہ میں درپیش ہے تو افتراق کا یہ پیمانہ کیا قابل قبول ہے ؟

قاضی افضال صاحب اپنی کتاب صنفیات میں صفحہ ۱۹۳پر لکھتے ہیں :

’’متن کی طوالت کو امتیاز کی بنیاد۔شرط قرار دینا ایک غیر تنقیدی رویہ ہے۔فکشن کی تشکیل کی شرائط اور ان کے اجزاء کے درمیان یکسانیت کے باوجود صرف صفحات۔الفاظ کی تعداد یا قرأت کے دورانیہ کی بنیاد پر کوئی متن ایک نئی صنف کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا ‘‘گویا کہ صرف صفحات کی بنا پر ہم کسی تخلیق کو نئی صنف کا درجہ نہیں دے سکتے۔

ڈاکٹر صبا عارف لکھتی ہیں :

’’صرف صفحات کی تعداد کے اعتبار سے ناول اور ناولٹ میں امتیاز کرنا تو صحیح نہیں معلوم ہوتا۔دونوں کے درمیان خط فاصل کھینچنے کے لئے کچھ واضح اصول کرنا ہی مناسب ہو گا۔‘‘ڈاکٹر صبا عارف واضح اصول بنانے کا مشورہ تو دیتی ہیں اور ساتھ ہی اسے ایک الگ صنف بھی تسلیم کرتی ہیں لیکن اس کے اصول متعین کر نے سے قا صر ہیں۔وضع اصول کو مستقبل پر ٹا ل دیتی ہیں۔ملاحظہ ہو :

ــ’’ہمارے یہاں ہی نہیں مغرب کی زبانوں میں بھی معیاری ناولٹوں کے مقابلے میں کم تر درجے کی ناولٹوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔قبول عام اسی درجیکے ناولٹوں کو حاصل ہو تا ہے مگر صرف عوام کی پسند ادب کا معیار نہیں ہو سکتی۔معیاری ناولٹوں کی تعداد جیسے جیسے بڑھتی جائے گی اس صنف کے اصول اور میزان کا تعین بھی آسان ہوتا جائے گا۔‘‘

عبدالمغنی ناولٹ کے حوالے سے رقم طراز ہیں :’’افسانہ جب بہت طویل ہو جاتا ہے پھر بھی ناول کے حجم تک نہیں پہنچتاتو اسے ناولٹ کہہ دیا جاتا ہے یعنی یہ ایک مختصر ناول ہے ‘‘گویا ان کے نزدیک افسانہ اور ناولٹ اور ناول میں وجہ امتیاز محض طوالت ہے۔یہ ایک ناقابل فہم بیان ہے۔صنفی شناخت محض طوالت کے سبب متعین نہیں کی جاسکتی۔اگر ایسا ہوتا تو قصیدہ،مثنوی اور مرثیہ کی شناخت کس طرح عمل میں آتی،داستانوں کو ناولوں سے کس طرح متمائز کرتے،یہ ایک انتہائی بھونڈی بات ہے۔

ان ناقدین کے علاوہ جب ہم انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں ناولٹ کے متعلق تحقیق کرتے ہیں تو وہاں ناولٹ کو کچھ یوں Discribe کیا جاتا ہے۔’’When any piece of fiction is long enough to book ,than it may be said to have achived novel hood .But this state admits of its own quantitative categories ,so that a relatively brief novel may be termed a novella(or if the substantiality of the content matches its brevity ,a novellet ),and a very long novel may overflow the banks of a single volume a roman fleuve or river novel
آرنلڈ کیٹل ناولٹ کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے An entroduction to the english novel میں لکھتا ہے
[The question of lenth i leave ,deliberately ,vague.}
ابرامس ناولٹ کے بارے میں یوں خیال ظاہر کرتے ہیں :

{As an extended narrative ,the novel is distinguished from the short story and from the works of middle lenth called the novellet }
ان تمام بیانات سے کہیں بھی یہ واضح نہیں ہو پاتا کہ ہم ناولٹ کی شناخت کیسے کریں۔

اگر ہم بحالت مجبوری طوالت کو صنفی شناخت کے طور پر تسلیم بھی کر لیں تو نئی دقتیں سامنے آجائیں گی اور افسانہ طویل افسانہ اور ناولٹ کے ساتھ ناول یہ سب خلط ملط ہو جائیں گے اور ہم کوئی واضح شناخت متعین نہیں کر سکیں گے۔ان کے درمیان اجزائے ترکیبی مشترک ہیں،لیکن ان کے ہر ایک قصے کے حدود میں تفاوت ہے اس لئے ان میں حد فاصل قائم کرنے کی صورت ان کا طرز تعمیر ہی ہو سکتا ہے۔

فکشن کی اولین شرط واقعہ ہے۔اور واقعہ ایسا جو حقیقت تو نہ ہو لیکن حقیقت سے بعید بھی نہ ہو۔جو حقیقی زندگی سے نہ لیا گیا ہو بلکہ اسے با تکلف گڑھا گیا ہو۔ناول ناولٹ اور افسانہ میں تخلیقی متن کی تعمیر میں بروئے کار آنے والے وسائل یکساں ہیں مثلا قصہ،پلاٹ،کردار،مکالمہ،منظر نگاری وغیرہ لیکن ان میں واقعہ کی نوعیتیں مختلف ہو تی ہیں اور واقعہ کی مختلف نوعیت ہی کے سبب ان کا طرز تعمیر بھی تشکیل پاتا ہے۔واقعہ ہی کے بدولت ان اصناف میں بکار آنے والے وسائل اپنی تعمیری و تشکیلی صلاحیتوں کی نشو ونما کرتے ہیں۔فکشن کے ان اجزائے ترکیبی کا دائرہ کار واقعہکی نوعیتوں کے اعتبار سے گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔واقعہ کی بناء پر الگ الگ صنفی شناخت متعین کی جا سکتی ہے اس کی تصدیق قاضی افضال حسین اپنی کتاب صنفیات میں صفحہ ۱۷۹پر یوں کرتے ہیں :

’’افسانوی متون میں واقعہ کے تخلیقی۔۔تشکیلی کردار کے بنیادی اشتراک کے باوجود ان اصناف میں واقعہ کی ’’نوعیت‘‘ایک دوسرے سے مختلف ہو گی۔’واقعہ ‘کی نوعیت میں اسی اختلاف کے سبب افسانوی متون کی الگ الگ صنفی شناخت متعین ہوتی ہے۔‘‘

اس کے باوجود قاضی صاحب ناولٹ،اور طویل افسانہ کو الگ صنف تصور نہیںکرتے۔قاضی صاحب کے نزدیک کسی ادب میں کسی علحٰدہ صنفی شناخت کے لئے کم از کم دو واضح شناختی عنصر کا ہونا ضروری ہے۔ان کے انھیںدونوں بیانات سے ہم ناولٹ کے لئے علاحدہ صنف ہونے کا جواز تلاش کر سکتے ہیں۔۔کیوں کہ ناولٹ میں ناول سے مختلف واقعہ بھی ہے اور اس سے علحٰدہ ٹریٹمنٹ بھی۔

ناولٹ کے ضمن میں احسن فاروقی کی رائے معقول معلوم ہوتی ہے کہ :

’’سوال محض طوالت کا نہیں ہے۔دس صفحے تک کے قصے کو افسانہ بیس سے سو تک کے قصے کو ناولٹ اور سو سے چار سو تک یا زیادہ کے قصے کو ناول کہہ دینا محض سطحیت ہے۔یہ ایسا ہی ہوا کہ ایک خاص اونچان کے ہر جانور کو کتا کہا جائے اس سے اونچے کو گدھا اور اس سے اونچے کو گھوڑا۔نہیں صاحب تینوں جانوروں کے تصور میں فرق ہے،اسی طرح تینوں اصناف کے ڈھانچے الگ الگ ہیں۔جن سے ساخت اور شکل میں نمایاں فرق ہو جاتا ہے حالاں کہ سب میں جان مشترک ہوتی ہے اور زندہ رہنے کے ذرائع بھی ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں۔غرض سارا معاملہ تعمیر یا طرز تعمیر کا ہے۔‘‘

اسی طرح بعض ناولیں ضخامت میں ناولٹوں کے دائرے میںآتی ہیں لیکن وہ ناولیں ہیں مثلا بازدید کی ضخامت تقریبا ۲۴۰ صفحات ہے اور وہیں ’’رہ و رسم آشنائی ‘‘بھی ۲۴۰ صفحات کی ہے۔حالاں کہ ’’رہ و رسم آشنائی ‘‘اپنے دائرہ عمل اور واقعاتی خصوصیات کی بنا پر ناولٹ ہے اور بازدید میں علامتی پیرائے میں ہم اس کے موضوع کو وسیع منظر نامے میں دیکھتے ہیں۔اسی طرح چراغ تہ داماں تقریبا ۲۵۰ صفحات پر محیط ہے لیکن اس کا کینوس اور واقعہ اسے ناول کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیتا،غرض جس طرح ناولیں طویل اور مختصر ہو سکتی ہیں اسی طرح ناولٹیں بھی طویل اور مختصر ہو سکتی ہیں۔
ناولٹ چونکہ ناول کی تصغیر ہے اس لئے ناقدین اس وجہ سے بھی ناولٹ کو علاحدہ صنف ماننے میں پس و پیش میں رہتے ہیں۔ناولٹ کو مختصر نا ول کے نام سے بھی پکارا جا تا ہے۔سلیم اختر اس پر یو ںروشنی ڈالتے ہیں :

’’گرائمر کی رو سے نا ولٹ ناول کی تصغیر سہی لیکن اسے مرد کی مشا بہت پر بچہ نہیں سمجھا جا سکتا۔اس حقیقت کا اس لئے ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ اس میں جو منظقی مغالطہ پایا جا تا ہے اسی باعث اکثر لوگ مختصرناول کو ناولٹ سمجھ لیتے ہیں۔لیکن ’’ریڈر ڈائجسٹ ‘‘کی مانند ناول کا خلاصہ کر دینے سے وہ ناولٹ نہیں بنے گا بلکہ بلحاظ ناول بیشتر فنی محاسن بھی گم کر دینے کا امکان ہے

{War and peace,Brothers kramanzoy ,,Idiot ,,Possessed..Gone with the wind ,,and ,,Quiet flows the dawn,,

وغیرہ طویل ترین ناولوں میں سے ہیں لیکن اگر انہیں ڈیڑھ سو صفحات تک سکیڑ دیا جائے تو نتیجہ ظاہر ہے۔یہ تلواروں کی آبداری نشتر میں بھرنے والی بات نہ ہو گی کیوں کہ یہ مفروضہ غلط ہے۔‘‘

غرض ناولٹ ایک علاحدہ صنف ہے کسی ناول کی اگر تلخیص کر دی جائے اور اسے ناولٹ کا نام دیا جائے تو اسے ناول کا خلاصہ تو کہہ سکتے ہیں لیکن ناولٹ کا نام نہیں دے سکتے کیوں کہ ناولٹ خلاصہ کا نام نہیں اسکے اپنے لوازمات اور فنی حیثیت ہے۔یہ تو طے ہوا کہ ناول اور ناولٹ میں وجہ امتیاز طوالت کی بناء پر نہیں ہے۔لیکن سوال ابھی ہنوز وہیں ہے کہ آخر پھر حد امتیاز کیا ہے ؟آئیے ہم احسن فاروقی کے اس بیان کی طرف واپس چلتے ہیں کہ :

’’دس صفحے تک کے قصے کو افسانہ بیس سے سو تک کے قصے کو ناولٹ اور سو سے چار سو تک یا زیادہ کے قصے کو ناول کہہ دینا محض سطحیت ہے۔یہ ایسا ہی ہوا کہ ایک خاص اونچان کے ہر جانور کو کتا کہا جائے اس سے اونچے کو گدھا اور اس سے اونچے کو گھوڑا۔نہیں صاحب تینوں جانوروں کے تصور میں فرق ہے اسی طرح تینوں اصناف کے ڈھانچے الگ الگ ہیں جن سے ساخت اور شکل میں نمایاں فرق ہو جا تا ہے حالاں کہ سب میں جان مشترک ہوتی ہے اور زندہ رہنے کے ذرائع بھی ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں،غرض سارا معاملہ تعمیر یا طرز تعمیر کا ہے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ جب معاملہ صرف طرز تعمیر کا ہے لیکن قصہ میں بروئے کار آنے والے وسائل یکساں ہیں تو طرز تعمیر میں اختلاف کیوں ؟جب کہ اس طرز تعمیر کے سبب نتائج کی نوعیت مختلف ہو جارہی ہے۔دراصل ناول اور ناولٹ کے واقعاتی نوعیت میں فرق ہے۔یہی سبب ہے کہ جب کہانی کا دائرہ کار ناول کے جیسا وسیع نہیں تو اس میں بروئے کار آنے والے وسائل کی تعمیری خصوصیات میں تغیر واقع ہوتا ہے اور نتیجہ کے طور پر ناولٹ کا ڈھانچہ اور اس کی ساخت ناول سے مختلف ہو جاتی ہے۔مثلا کہا جاتا ہے کہ ناول کے مقابلے میں ناولٹ میں کرداروں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ایسا اس وجہ سے کہ ناولٹ کا کینوس اتنا وسیع نہیں۔ناول کے دائرہ کار میں بہت سے کردار سما سکتے ہیں لیکن ناولٹ میں وہی کردار آتے ہیں جو کہانی کے ارتقاء میں معاون ہوں۔اس کے علاوہ ناول اور ناولٹ کے کرداروں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ ناولٹ کے شاہ کردار اور اس کے مرکزی فکر کی معاونت میں جو کردار آتے ہیں ان کے بس وہی پہلو سامنے لائے جاتے ہیں جو قصے کو بڑھاے میں معاون ہوں۔ناولٹ کے شاہ کردار کے علاوہ کسی اور کردار کی مکمل نشو ونما نہیں ہوتی۔احسن فاروقی نے اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’پوری فطرت ہر کردار کی ناول میں ہی واضح ہو سکتی ہے۔مختصر افسانے میں محض ایک صفت ہی کو دکھانے کی گنجائش ہوتی ہے،ناولٹ میں ایک ہی صفت پر سب سے زیادہ زور ہوتا ہے اور دوسری صفات محض اشاروں ہی سے لائی جاتی ہیں ان کا مقصد بھی مخصوص صفت ہی کو واضح کرنا ہوتا ہے۔‘‘
ناولٹ میں مر کزی کرداروں کی بھی نشو ونما ناول کے مرکزی کرداروں جیسی نہیں ہوتی۔مثلا چراغ تہ داماں کی مرکزی کردار اور ٹیڑھی لکیر کے شمن کے کردار میں یوں فرق ہے کہ آخر الذکر کا کردار کا ارتقاء اس کے بچپن بلکہ جب دنیا میں آئی بھی نہیں اس وقت سے اس کا ذکر ناول میں ہونے لگتا ہے۔پھر بچپن سے لے کر جوانی تک ہم اس کو بڑھتے پھیلتے دیکھتے ہیں اس کی ہر حر کت و عمل سے ہم واقف ہیں۔کردار کے کسی ڈائمنشن یا صفت کی وضاحت کسی پس منظری تکنیک سے نہیں کی گئی ہے۔اس کی فکر اور اس کا عمل اس کردار کی نشو ونما کرتا ہے۔اور مکمل کردار کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔اس کے بر عکس چراغ تہ داماں میں قصہ درمیان سے شروع ہوتاہے،ٹھیک ہے ناول میںبھی یہ ممکن ہے کہ قصہ کی ابتداء درمیان سے ہو لیکن ناول میںایک مقام پر پیچھے پلٹتے ہیں اور کردار کے سارے ابعاد پر ناول نگار روشنی ڈالتا ہے۔اور صرف کردار نہیں اس سے متعلق دیگر واقعات اور پس منظر کو تمام تفصیلات کے ساتھ سامنے لاتا ہے جس سے ناول بتدریج اپنے مقصود تک پہنچتا ہے۔اس کے برعکس چراغ تہ داماں میں کردار کی اپنی ایک شناخت پہلے سے متعین ہے جو شناخت قائم ہوئی اس تک پہنچنے کے تمام مراحل کو صرف چند جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔اسی طرح ایک چادر میلی سی میںبھی مرکزی کردار رانو کی ایک شناخت متعین کر دی جاتی ہے کہ وہ تلوکا کی بیوی ہے جسے کہ اس کے غریب ماں باپ نے کھانے کپڑے کے عوض تلوکا کو سونپ دیتے ہیں۔اس سے زیادہ رانو کی پچھلی زندگی کے بارے میں ناولٹ نگار کوئی اطلاع نہیں دیتا۔اس کے آگے ناولٹ نگار رانو پر گزرنے والے واقعات کے ذریعہ کردار کی وضاحت کرتا ہے۔اور واقعات کا تانا بانا اسی حد تک گڑھتا ہے جو رانو کے کردار پر مکمل روشنی ڈال سکے۔ضمنی کردار کی وہی خصوصیات ناول نگار سامنے لاتا ہے جو اس کہانی کے مرکزی خیال کے ارتقاء میں معاون ہیں۔کوئی کردار اپنی علاحدہ شناخت مکمل طور سے نہیں بنا پاتا۔اسی وجہ سے شاہ کردار کے علاوہ ضمنی کردار ہمارے ذہن سے جلد محو ہونے لگتے ہیں۔انفرادی شناخت کا کردار ناولٹ میں ممکن نہیں جیسے کہ ناولوںمیں شاہ کردار کے علاوہ دیگر کردار بھی مکمل شخصیت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ان کی خوبیاں خامیاں سب پر روشنی پڑتی ہے۔محمد اشرف کا نمبردار کا نیلا ہو یا قاضی عبد الستار کا مجو بھیا،بیدی کا ایک چادر میلی سی ہو یا اقبال متین کا چراغ تہ داماں یا احسن فاروقی کا رہ و رسم آشنائی،ان تمام ناولٹوں میں ضمنی کرداروں کی وہی صورتحال ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔

قاضی عبدلستار کے ناولٹ میں ’’مجو بھیا ‘‘مرکزی کردار ہے۔اس کی نشو ونما اوپر مذکور دونوں ناولٹوں سے اس طرح مختلف ہے کہ اس کی جڑیں مضبوطی سے زمین میں گڑی ہیں۔اس کی ا ٹھان کا گراف نیچے سے بتدریج اوپر کی طرف بڑھتا ہے۔لیکن یہاں بھی کردار کی نشو ونما ایک خاص نکتہ کو لے کر ہی آگے بڑھتا ہے۔زمیندارانہ ماحول کا پروردہ ایک کردار جسکا اطراف اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کے حرکت و عمل سے اس کا کردار مکمل ہوتا ہے۔ایک نظر میں اس میں ناول سی گہما گہمی عمل اور رد عمل کے سبب واقعا ت کا رونما ہونا ناول سا معلوم ہونے لگتا ہے۔لیکن ذرا دیر ٹھہر کر دیکھیں تو رد عمل کی تمام صورتوں میں مخالف کرداروں کی زندگی کا خاتمہ شاہ کردار مجو بھیا کے ہی کردار کی اکمالیت کا پتہ دیتے ہیں۔ناولٹ میں تراب اور للی کا کردار ایسا ہے کہ اگر انہیں زندگی ملتی اور وہ مخالف کردار کی مکمل نشوو نما کی فضا پاتے تو ممکن تھا کہ یہ ناولٹ،ناول کے زمرے میں داخل ہو جاتا۔تراب کے کردار کی جھلک ہمیں یوں نظر آتی ہے۔

’’وہ واحد آدمی تھا جو ان کے دروازے کے سامنے سے سانڈ کی طرجھومتا ہوا نکل جاتا۔کبھی دو انگلی اٹھا کر سلام کا بھی روادار نہ ہوتا۔پھر تراب کی بھینس اکثر ان کے بار میں دندناتی ہوئی گھس پڑتیں۔بظاہر تو وہ کوئی خاص توجہ نہ دیتے لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ حرکتیں ان کے بڑھتے ہوئے اقتدار کو مجروح کرنے کے لئے سوچ سمجھ کر کی جاتی ہیں۔پھر ہولی والے دن تو تراب نے کھل کر نوکروں سے کہہ دیا تھا کہ بڑے شیخ کے بیٹے ہوں تو ہانک دیں آکر تراب کی بھینسیں۔‘‘

تراب کے یہ تیور بتاتے ہیں کہ اس کا کردار جی دار بن سکتا تھا۔لیکن قاضی عبدالستار نے مجو بھیا کے ذریعہ سازشی واقعہ کی بنت کر کے اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔اور اس سے یہ واضح ہو گیا کہ ناولٹ نگار کا مقصد زندگی کے رزمیے کی عکاسی نہیں ایک مخصوص کردار کے اطراف اور اس کی بنت میں شامل دیگر کرداروں کے ذریعے اس کی نمائندگی اور ایک خاص طبقہ یا نکتۂ نظر کی عکاسی مقصود ہے۔

صبا عارف اس ناولٹ کے بارے میں یو رقم طراز ہیں :’’اس ناولٹ میں دیہاتی معاشرے کی منھ بولتی تصویریں ہیں۔یہ تصویریں دیہات کے ہر پہلو اور ہر طبقہ کی مکمل نمائندگی نہیں کرتیں کیوں کہ یہ کام ناول کا ہے مگر چند مسائل،چند کردار اور ان کے گرد گھومتے ہوئے تھوڑے سے واقعات قاری کو بہت کچھ بتا دیتے ہیں۔۔‘‘

کرداری نوعیت کا ہی ایک فرق یہ بھی ہے کہ ناول کے کردار عموما جسم و جان دماغ اور جسم کے تمام اعضاء جب مل کر ایک انسان کی شناخت پاتے ہیں اسی طرح ناول کے کردار ہیں جس طرح اعضاء جسم کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ علاحدہ علاحدہ شناخت بھی رکھتے ہیں،اسی طرح ناول کے کردار ایک جان و جسم ہوتے ہوئے بھی اپنی علاحدہ پہچان بھی بناتے ہیں۔عقل کا دعویدار دماغ ہوتا ہے اس کے باوجود ہاتھ کا لمس پاکر کچھ مختلف حاصل کرتا ہے۔ناول کے کردار بھی عموما سوچ کے مختلف زاوئیے دے جاتے ہیں۔غرض جس طرح جسم میں جان و روح کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کے بعد بھی جسم میں سرایت کرتی ہیں تو دوسروں کی زندگیاں بھی جی اٹھتی ہیں اسی طرح ناول کے کردار بھی حسیت و احساس کے علاحدہ علاحدہ ذرائع ہیں۔یہ خصوصیت آپ کو ناولٹ میں نظر نہیں آئے گی۔

اس کو اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ناول کی مثال۔۔۔۔۔کی مانند ہے جس کی جڑوں کی شاخیں اندرون میں کافی پھیلی ہوتی ہیں،اور انہیں شاخوں سے نئے پودھے جڑوں سے متصل سطح زمین پر نمودار ہوتے ہیں جو زمین کے اندرون میں تو ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں لیکن سطح زمین پر نئے پودھے ایک دوسرے پودھے کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔جو انفرادی شناخت رکھتے ہیں۔اور ناولٹ کی مثال۔۔۔۔۔کی ہے۔اس کی جڑیں زیر زمیں بہت پھیلائو نہیں رکھتیں۔کچھ شاخیں ادھر ادھر ہوتی ہیں اور نہ ہی وہ نئے پودھے کو پنپنے دیتی ہیں۔

قاضی افضال نے ناول اور افسانے کے متعلق ایک سوال اٹھایا تھا جو ناولٹ کو سمجھنے میںممد ہو سکتا ہے کہ متن کی خارجی تشکیل کی سطح پر ناول اور افسانے میں کیا فرق ہے ؟اس کی وضاحت کے لئے قاضی صاحب کے ایک اقتباس پر غور کرتے ہیں۔افسانہ اور ناول میں فرق کرتے ہوئے قاضی صاحب لکھتے ہیں :

’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تخلیق کی قواعد اور شناخت کی یکساں نشانیوں کے باوجود متن کے آغاز و انجام،خواہش و مقصود یا تحریک اور تحصیل کے درمیان کا فاصلہ ناول کے مقابلے میں کم واقعات سے مکمل/پر کیا جاتا ہے۔لیکن کتنے کم واقعات ؟اس کی کوئی حد /تعداد متعین نہیں کی جاسکتی۔بعض مرتبہ تو تعداد کا یہ خط فاصل اتنا موہوم ہو جاتا ہے کہ ان دونو ںمیں کوئی فرق معلوم ہی نہیں ہوتا۔مثلا عبد اللہ حسین کے افسانے ’’ندی ‘‘اور ’’نشیب ‘‘ان کے افسانوی مجموعے ’’سات رنگ ‘‘میں شامل ہیں اور ہندوستان کے کسی ناشر نے انہیں ناولٹ کے عنوان سے بھی شائع کیا ہے۔‘‘

گویا ناول اور ناولٹ ایک ہی صنف ہیں۔اس نکتہ کو تقویت قاضی صاحب کے اگلے اقتباس سے ملتی ہے۔’’یہاں ناولٹ کا ذکر آگیا ہے تو ضمنا ًیہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ناول کے مقابلے میں افسانے کے لئے دو اور نام ’مختصر افسانہ‘اور ’طویل افسانہ‘(یا بالکل نا مناسب طور پر ’طویل مختصر افسانہ ‘)بھی چلن میں ہیں۔تنقیدی شعور یہ بات قبول نہیں کرتا کہ کسی متن کی صفحات کی تعداد سے اس کی صنف کا تعین کیا جائے۔‘‘قاضی افضال ناولٹ اور طویل افسانہ میں طوالت کے بجز ان میں کوئی مختلف امتیاز ی خصوصیت نہیں دیکھتے اور انہیں طوالت کی بناء پر جو علاحدہ شناخت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے یا ناشروں نے طوالت کے سبب جو ان کا ٹائٹل بدلا ہے اسے رد کرتے ہیں۔

یہ بات معقول ہے کہ طوالت کوئی سبب نہیں کسی تخلیق کو علاحدہ صنفی حیثیت دینے کا،لیکن جب خود قاضی افضال یہ کہتے ہیں ’’تخلیق کی قواعد اور شناخت کی یکساں نشانیوں کے باوجود متن کے آغاز و انجام،خواہش و مقصود یا تحریک اور تحصیل کے درمیان کا فاصلہ ناول کے مقابلے میں کم واقعات سے مکمل۔۔پر کیا جاتا ہے ‘‘ناول اور افسانہ میں اگر یہ دلیل وجہ امتیاز بن سکتی ہے تو ناولٹ پر بھی اس نقطۂ نگاہ سے نظر ڈالی جا سکتی ہے۔کیوں کہ ناول ناولٹ،افسانہ تینوں کی تخلیقی قواعد ایک جیسی ہیں اور تینوں میں متن کی خارجی تشکیل کی سطح پر فرق واقع ہوتا ہے۔اور اگر ناول اور افسانہ میں فاصلہ واقع ہوتا ہے اور واقعات میں کمی بیشی ہے تو ناول اور ناولٹ کے ما بین بھی واقعاتی فاصلہ واقع ہوتا ہے۔دراصل قاضی افضال نے پہلے ہی یہ بات متعین کر لی ہے کہ ناولٹ ناول کی تصغیر ہے۔حالاں کہ تصغیری نوعیت ماننے پر بھی ناولٹ پر تنقیدی زاوئیے سے نظر کی جائے تو تقریبا ایسے ہی اور اتنے ہی افتراق کے نکات سامنے آئیں گے جتنی کہ ناول اور افسانہ میں افتراق کی صورتیں ہیں۔

قاضی افضال آگے لکھتے ہیں کہ :
’’یہ زیادہ تنقیدی طریقۂ کار ہوگا کہ ناول اور افسانے کے درمیان فرق کی نشاندہی کے لئے واقعہ کی صفات و کردار کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ناول اور افسانے میں واقعہ کی ترتیب کا طریقہ اور اس کے ارتقاء کی جہت بالکل یکساں نہیں ہے۔یعنی ’’واقعہ سازی ‘‘ کا طریقہ کار تو ناول اور افسانہ میں یکساں ہے لیکن جہاں ناول کی اساسی ساخت میں مرکزی موضوع کے آغاز و انجام(خواہش و مقصود )کے درمیان ارتباط کی جہت تو یک سمتی ہوتی ہے۔یعنی آغاز اپنے انجام کی طرف ہی بڑھتا ہے لیکن اس بنیادی وضع سے واقعات کا وہ سلسلہ بھی پھوٹتا رہتا ہے جسے ہم اساسی وضع کے لئے تائیدی واقعات کہہ سکتے ہیں۔‘‘

یہاں تک کا بیان ناول اور ناولٹ میں یکسانیت کا ظاہر کرتا ہے۔اور افسانے سے ان دونوں کو متمائز کرتا ہے۔لیکن جب ’’تائیدی واقعات ‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے قاضی افضال یہ کہتے ہیں کہ ’’ناول کی اس اساسی ’وضع ‘میں تائیدی واقعات کی شمولیت سے ناول میں بیانیہ کا تحرک کثیرالجہات ہو جاتا ہے (مثال ؛خدا کی بستی از :شوکت صدیقی )ناول میں بیانیہ کا یہ کثیر الجہتی تحرک،افسانے میں ممکن نہیں۔‘‘

تو یہ بھی پیش نظر رکھنا ہو گا کہ ناولٹ میں بھی کثیر الجہات بیانیہ نہیں پایا جاتا۔اگرچہ کہ تائیدی واقعات ہوتے ہیں جو ناولٹ کے مرکزی مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لئے لائے جاتے ہیں لیکن ان کی نوعیت علاحدہ بیانیہ کی نہیں ہوتی۔یہاں ’’تائیدی واقعات ‘‘کی دو قسمیں سامنے آتی ہیں۔ایک وہ جن سے ایک دوسرے بیانیہ کی تعمیر ہوتی ہے۔اور ایک وہ جو صرف بنیادی نکتہ میں معاون تو ہوتے ہیں لیکن وہ علاحدہ بیانیہ وضع نہیں کرتے۔ناول میں علاحدہ بیانیہ وضع کرنے کے سلسلے میں قاضی صاحب نے ’’امرائو جان ادا ‘‘کے دو کردار کی مثال پیش کی ہے۔ایک مرکزی کردار امیرن کی اور اس کی ایک معاون کردار رام دئی عرف بسم اللہ جان کی۔بسم اللہ جان کے واقعات کی ترتیب سے ایک ضمنی پلاٹ تعمیر ہو جاتا ہے۔غرض ناول میں قصہ مرکزی واقعہ کے ساتھ ساتھ ضمنی قصوں۔پلاٹوں کو بھی تشکیل دیتا ہے اور اپنے اندر پلاٹ در پلاٹ،پیچیدہ اور مرکب پلاٹوں کی خصوصیات رکھتا ہے۔جبکہ ناولٹ دو پلاٹ ایک ساتھ لے کر چلنے سے قاصر ہے۔

ناول اور ناولٹ کے مابین مذکورہ امتیازات کے بعد ہم افسانہ اور طویل افسانہ کی طرف آتے ہیں۔طویل افسانہ افسانے سے علاحدہ کوئی صنف ہے یا مختصر افسانہ ہی کو طوالت کے سبب طویل افسانہ کہا جاتا ہے ؟یہ ایک بڑا اور پیچیدہ سوال ہے۔افسانہ کی روایت پر نظر ڈالیں تو راشد الخیری اردو کے اولین افسانہ نگار شمار کئے جاتے ہیں۔جنہوں نے ’’نصیر و خدیجہ ‘‘خط کی تکنیک میں لکھ کر افسانہ کا بیج بویا۔۔انہوں نے ہی کئی طویل افسانے بھی لکھے۔اس طرح یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ افسانہ کی ابتداء و ارتقاء کے ساتھ ہی ساتھ طویل افسانہ کا وجود بھی ملنا شروع ہو گیا تھا۔لیکن اس تاریخی بات سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ طویل افسانہ کیا ہے ؟اس کے لوازمات کیا ہیں ؟اس کی خصوصیات کیا ہیں ؟کس بناء پر ہم کسی افسانے کو طویل افسانہ کے ذیل میں رکھیں ؟کیا طویل افسانہ کو علاحدہ صنف کی حیثیت دی جا سکتی ہے ؟

طویل افسانہ کے فن پر نقادوں نے کم ہی توجہ کی ہے۔اور جن نقادوں نے اس پر تنقیدی نظر ڈالی بھی ہے ان کی آراء باہم متنوع و متحارب قسم کی ہیں،جو کبھی ایک دوسرے کی ضد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں تو کبھی مماثل ہو جاتی ہیں۔خورشید احمد طویل افسانہ کو افسانے کی ہی ایک قسم مانتے ہیں۔

’’افسانے کو جب طول کے لحاظ سے منقسم کرتے ہیں تو اردو افسانے کے آغاز سے لے کر آج تک تین طرح کے افسا نے ملتے ہیں۔۱۔مختصر افسانہ ۲۔طویل افسانہ ۳۔ افسانچہ ‘‘

ان اقسام کی نشاندہی کے ساتھ ہی ان کی تحدید الفاظ کی تعداد سے کرتے ہیں۔

’’مختصر افسانہ میں پانچ سو سے لے پندرہ ہزار تک الفاظ ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طویل افسانے پندرہ بیس ہزار الفاظ کا احاطہ کرتے ہیں ‘‘
The science fiction and fantasy writers of america,نامی ادارہ نے ,,Nabula award for science fiction ,,میں کہانی کی تحدید ۷۵۰۰ الفاظ میں کی ہے۔ارچنا ورما ’’ہنس ‘‘کے ’’لمبی کہانی نمبر ‘‘کے مقدمہ میں لکھتی ہیں کہ مختصر افسانہ سے ایسی تخلیق مراد لی جاتی ہے جو کم سے کم ۱۰۰۰لفاظ سے لے کر ۲۰۰۰۰پر مشتمل ہو۔ہزار صفحے سے کم کی تخلیق کو فلیش فکشن یا شارٹ سٹوری کہا جاتا ہے۔

طوالت کے ذیل میں مذکورہ بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔الفاظ کی تعداد کا تعین کر کے افسانہ،طویل افسانہ اور افسانچہ کو تعددی چوکھٹے میں مقید کرنا بہت مشکل امر ہے۔کیوں کہ ہر قاری اپنے حساب سے بھی طویل اور مختصر افسانہ کو طوالت کی بناء پر ایک دوسرے سے متمائز کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ تمام قارئین علاحدہ علاحدہ نتیجہ پر پہنچیں۔ایسے میں یہ کہنا کہ اتنے الفاظ کسی تخلیق میں ہیں تو وہ افسانہ اور اتنے تو وہ طویل افسانہ ہے،سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اولاً جو چیز پہلی نگاہ میں دونوں میں فرق کی صورتیں پیدا کرتی ہیں وہ طوالت ہے۔ایسا کہنا کہ طوالت ہی ایک واحد افتراق کی وجہ ہے نزاعی بحث کو جنم دینے والی بات ہوگی۔

وکی پیڈیا آن لائن پر جولیا کیمرون نے مختصر افسانے کی جو تعریف درج کی ہے اس میں بھی طویل مختصر افسانہ کا ذکر ملتا ہے۔اس کی تعریف کا ماحصل یہ ہے کہ مختصر افسانہ نثری تحریر کی بیانیہ صنف ہے جسکے اوصاف ان الفاظ کی تعداد سے ہوتا ہے جن پر وہ مشتمل ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ:
مختصر افسانہ کی طوالت کا تعین پر پیچ مسئلہ ہے۔مختصر افسانے کے طوالت کی جو کلاسیکی تعریف کی جاتی ہے،وہ یہ کہ اس ایک نشست میں پڑھا جا سکے لیکن ہم عصر عہد میں اس نقطہ کا اطلاق ایسے افسانوی ٹکڑے پر ہوتا ہے جو بیس ہزار الفاظ پر مبنی ہو۔حالاں کہ مختصر افسانے کی طوالت کا تعین میں اختلاف مقام اشاعت کے اعتبار سے ہوا ہے۔مثلا ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مختصر افسانہ دس ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے (اور اسے طویل مختصر افسانہ کہا جاتا ہے )برطانیہ میں مختصر افسانے بالعموم پانچ ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔آسٹریلیا میں مختصر افسانہ بمشکل۔۔۔سو الفاظ سے زیادہ ہوتا ہے۔باوجود یکہ چندمختصر افسانے کچھ الفاظ پر مشتمل ہو سکتے ہیں (مائیکرو بیانیہ کہا جاتا ہے )ہم عصر قارئین کی توقع کے مطابق مختصر افسانہ کم از کم طوالت میںایک ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔بیشتر مختصر کہانیاں افسانوی تحریر کے زمرے میں آتی ہیں۔نیز شائع ہونے والی مختصر کہانیاں افسانوی صنف سائنس فکشن،ہارر فکشن اور جاسوسی فکشن پر مشتمل ہوتی ہیں۔مختصر کہانی نے غیر افسانوی اصناف مثلا سفر نامہ،نثری شاعری اور مابعد جدیدیت کے تغیرات کو ہم حلقہ کر لیا ہے۔افسانوی مختصر کہانیاں جو مختصر افسانہ حتی کہ طویل مختصر افسانے کی طوالت سے متجاوز ہوتی ہیں ناولا کہلاتی ہیں۔کوئی ایسی طویل افسانوی تخلیق جو چالیس ہزار یا اس سے زائد الفاظ پر مشتمل ہو ناول کہلاتی ہے۔

اس تعریف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عام تصور افسانہ اور طویل افسانہ کا الگ الگ نہیں ہے اور طوالت ہی ان کی شناخت کو قائم کرتی ہے۔یہاں منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم طوالت کو اصناف کا شناختی کارڈ تسلیم کر سکتے ہیں یا نہیں ؟اگر تعداد الفاظ ہی صنف کے تعین کے لئے کافی قرار پائیں تو دیگر فنی خصوصیات اور تکنیکی امورکی بظاہر کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ہم اس تعریف کے سلسلے میں اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ ناول کے الفاظ کی تعداد بالعموم یہ ہوتی ہے اور ناولٹ اور افسانہ کی یہ،یہ ضخامت کے ایک عمومی فرق کو واضح کرنے والی تعریف ہے۔اس کا تعلق فنی امور سے نہیں ہے۔بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ اصناف کو سمجھنے کی یہ عامیانہ حد بندی /تعین ہے تو بے جا نہ ہوگا۔اردو میں فکشن کے ناقدین نے الفاظ کی تعداد کو مد نظر رکھ کر قائم کی جانے والی صنفی شناخت کو بہت اچھی نظروں سے نہیں دیکھا ہے۔اس بارے میں ہم قاضی افضال اور احسن فاروقی کی رائیں پیش کر چکے ہیں۔طویل افسانے کی وجودیات کوسمجھنے اوراسے پہچاننے کے کے صرف اس قدر کاوش کافی نہیں ہے۔ہمیں عملی ونظری سطح پر اس تلاش کومزید سرگرم سفر رکھنا ہو گا۔

مختصر افسانے کی خصوصیت اختصار جامعیت اور کفایت شعاری ہے۔یہاں بے جا تفصیل،لفظوں کے استعمال میںفضول خرچی،واقعات کے انتخاب و ترتیب میں امکانی صورتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے۔جا و بے جا وقوعات کا استعمال مختصر افسانے کے حسن کو غارت کر دیتا ہے۔اس تساہل اور سقم کی وجہ سے بہت ممکن ہے کہ مختصر افسانے کا ظاہری حجم طویل افسانے کے حجم سے بھی متجاوز ہو جائے لیکن ان اقسام کے سبب اس کی فنی ساکھ کامیاب افسانہ میں بدلنے سے رہ جائے گی۔جب یہ ظاہر ہو گیا کہ کھینچ تان کر کی جانے والی حجم کی توسیع اور بے جا طوالت اس کی فنی حیثیت کو مجروح کرتی ہے تو یہ کیوں کر ممکن ہے اسے طویل افسانے کے زمرے میں شمار کیا جائے۔جیسا کہ ممتاز شیریں نے لکھا ہے :

’’طویل مختصر افسانے کی ہیئت اور فنی لوازمات کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی طوالت کے علاوہ اور بھی بہت کچھ درکار ہے۔محض طوالت ہی شرط ہوتی تو کسی بھی افسانے کو کھینچ تان کر طویل مختصر افسانہ بنانا آسان بات ہوتی۔‘‘

یہاں پر یہ سوال قائم ہوتا ہے کہ پھر وہ کیسی طوالت ہے جو مختصر افسانے کے بجائے افسانے کے نام میں طویل کا سابقہ لگا کر اسے طویل مختصر افسانہ کہنے پر مجبور کرتی ہے۔افسانے کی مروجہ ہیئتوں اور اس کی حرکیات کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ کچھ موضوعات،کردار وقوعات جو محاکاتی۔۔۔دونوں سطحوں پر اپنا رنگ اختصار میں نہ ظاہر کرتے ہوں۔ان کے رنگ کے کھلنے اور چہرے کے کھلنے کے لئے بیان میں وسعت چاہتے ہوں۔تنگنائے مختصر افسانہ ان کے لئے کافی نہ ہو۔اور بے جا اختصار اور کفایت شعاری کا اہتمام کیا جائے تو ممکن ہے کہ افسانے کی حرکیات کو اظہار کے پورے امکانات میسر نہ ہوں۔افسانے کی ساخت بتائے کہ اظہار کے لئے مطلوب پیرائے سے انحراف /تغافل نے کہانی یا کردار اور اس کے ارتقاء کو سکیڑ کر رکھ دیا ہے۔یہی وہ امکان ہے جو طویل مختصر افسانے کے وجود کو ضروری اور لا بدی بناتا ہے اس صورت میں افسانے کے حرکیاتی نظام میں سارے امکانات طبعی نظام کے تحت وجود پاتے ہیں تو افسانہ مختصر افسانے کے دائرے سے قدم باہر نکال کر طویل افسانے کی سرحد میں داخل ہوتا ہے اور افسانے کی ذیلی قسم رہتے ہوئے اپنا تشخص مستحکم کرتا ہے۔ایسے افسانوں کا حجم فطری انداز میں مختصر افسانوں کے حجم سے بڑھ جاتا ہے اور اس طرح صوری اور معنوی طور پر طویل افسانہ کہلانے کا بجا طور پر مستحق قرار پاتا ہے۔جلیل کریر نے طویل افسانے کے جواز اور اس کی نا گزیریت پر کارآمد اور مفید مطلب باتیں کہی ہیں۔انہوں نے مختصر افسانے کے وسیع امکانات کا اقرار کرنے کے بعد طویل افسانے کے امکان پر سوالیہ نشان قائم کیا ہے،اور اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جہاں فنکار کو ہلکے خطوط و نقوش کو اجاگر کرنے کے لئے فنی ضرورت لاحق ہوتی ہے وہاں وہ مختصر افسانے کا انتخاب کرتا ہے۔اور جہاں لمبے خطوط اور تفصیل طلب نقوش ہوتے ہیں وہاں طویل افسانے کو کام میں لاتا ہے۔(طویل مختصر افسانہ نمبر،ادب لطیف )

کیا طویل افسانے کے لئے لازم ہے کہ اس کا حجم مختصر افسانے سے بڑا ہو ؟اگر ایسا ہے تو الفاظ کی تعداد سے صنفی شناخت کو قائم کرنے کے تصور کو تقویت پہنچے گی اور طویل و ضخیم ناولوں اور کم سے کم صفحات پر مشتمل ناولوں پر بھی سوالیہ نشان قائم ہو گا۔آج کے ناولوں کو ہم ناول کیوں کہیں ان کی ضخامت تو ناولٹ کے برابر ہو رہی ہے۔اگر ایک بڑے موضوع اور طویل زمان اور وسیع مکان کو کفایت شعاری سے لفظوں کے آئینہ میں اتارنے کی کامیاب کوشش سو سوا سو صفحات کے ناول کو ممکن کر سکتی ہے تو افسانے کے حدود میں صنفی دائرے کی پابندی کرتے ہوئے ایسے افسانے کا لکھا جانا ممکن ہے جو ضخامت میں مختصر افسانے سے کم ہو لیکن اپنے معنیاتی اور منظریاتی جہان میں طویل افسانے کو سموئے ہو۔معنیاتی و منظریاتی جہان کی وسعت کے لئے بھی ہمیں ایک حد مقرر کرنا ہو گی۔ایسا نہیں ہے کہ کوئی افسانہ،افسانچہ کے حجم کی کہانی اپنے لازمانی انسلاکات اور اشارات کی وجہ سے بڑے معنی رکھتی ہو اور ہم اسے طویل افسانہ کہیں بلکہ اس کے افسانے کے بطون سے ہی زمان و مکان اور کردار کے عمل وردعمل سے اس کابڑاہوناظاہر ہوتاہو۔طویل افسانے کی یہ ایک امکانی صورت ہے۔طویل افسانے کی نظری اساس کوسمجھنے کے بعد اس کی عملی صورتوں کودیکھنابھی ضروری ہے۔ایساممکن ہے کہ ایک مرکزی کردار سے متعلق مختلف انسانی رویوں اور متصادم تہذیبی اقدار کی رونمائی کا عمل جب افسانے میں انجام پایے تو اس کی جہت ایک نہ ہو کر متعدد ہو جا ئے جیسے کہ ’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے۔۔۔۔‘‘میں ہوا ہے۔پادری کی بیٹی کی آمد کی خبر پر ایک رد عمل قدامت پرستانہ ہے۔ جس میں پردہ داری اور عورت کے روایتی مثالی کردار بالمقابل پادری کی بیٹی کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نئی تہذیبی کثافتوں کی سبیل بن کر گھروں میں تہذیبی و معاشرتی کدورت کا گدلا پانی پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک ردعمل محظوظانہ ہے۔جس میں مختلف پیشہ کے لوگ اپنے سفلہ پن اور غیر صحتمند جنسی نفسیات کے اظہار کو لفظوں کا روپ دیتے،پادری کی بیٹی سے متعلق اپنے تجسس کو بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔پادری کا گھر اور اس کی بیوی ایک الگ دنیا کی تصویر ہیں۔ایک الگ سمت رکھتے ہیں۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایسی صورت میں افسانہ کا حجم بڑا نہ ہو اور ضخامت کے خوف سے کتر بیونت کی جائے تو کہانی کی روح بری طرح مجروح ہو گی اور افسانہ انکشاف بننے کے بجائے تشنہ گھونٹ بن جائے گا۔یا پھر کہانی کا ستیاناس ہوگا کہ وہ پوری طرح کھل کر سامنے نہ آئے گی۔جن جن پہلوؤں کا تجزیہ مصنف کے ذریعہ نہیں بلکہ مختلف پس منظر کے کرداروں کے زبانی اس افسانے میں ہوا ہے اگر ہم اس تجزیے کی طوالت کو اختصار میں بدلنے کی کوشش کریں گے تو کیا ہوگا،یہی کہ اک سادہ بیان، کفایت شعارانہ راست بیانیہ ان پہلوؤں کو معروضیت سے پیش کر دے گا۔مگر افسانے کا حسن،بولتی صورت حال اور محاضراتی اسلوب سب چوپٹ ہو جائیں گے۔زبان و بیان کے اسالیب کی مدد سے جو لسانی تنوع افسانہ کا حصہ بن کر الگ جہات و ابعاد کا اس قدر خوبصورت اظہار کر رہا وہ اظہار بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔اس سے پتہ یہ چلا کہ طوالت فقط طوالت نہیں ہے بلکہ وہ طویل افسانہ کی ناگزیر اور لا بدی ضرورت بھی بنتی ہے۔زاویہ،رتبہ اور طبقہ کے بدلتے ہی گلیڈس کی حیثیت بدل جا تی ہے۔ایک افسانے کے مکتوباتی حصہ میں خط اور روزنامچہ سے جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ کہ فکرو نظر اور اقدار کی سطحیں بھی کسی قدر طبقاتی اور درجہ بند ہیں۔ایک فضا میں جینے والے اور ایک دوسرے سے کتنے الگ۔افسانے روزنامچے اور مکتوب گلیڈس کے دل میں اٹھنے والے جذبات کے انکشاف کو قاری پر تو کھولتا ہے لیکن وہ ان دو کرداروں سے ڈھکا چھپا ہی رہتا ہے۔یہ ہے وہ کثیر جہتی پہلو جسے طویل افسانے میں ہی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

’’چائے کی پیالی ‘‘ طویل افسانہ ہے۔اس افسانہ میں نہ تو جہتیں زیادہ ہیں اور نہ وقوعات اس قدر ہیں کہ وہ طوالت کو نا گزیر کریں۔لیکن اس امکان کی معدومیت کے باوجود مصنف نے بڑی چابکدستی سے اس افسانے کو فقط کیفیت اور کردار کی نفسیاتی حالت و خود کلامی کی مدد سے نہایت ہوشیاری سے بنا ہے۔ جو تلازمات اس افسانے میں لائے گئے ہیں،ڈولی کا کردار ان تلازموں کے بغیر پوری طرح کھل کر نہیں آتا۔یہ افسانہ اپنے دورانیہ کے اعتبار سے حد درجہ مختصر ہے کہ اس کا دورانیہ بمشکل دن بھر کا ہے۔لیکن اس قلیل وقت میں دوران سفر جو خیالات،کیفیات اور خود کلامیاں اس افسانہ کی شہ کردار’’مس ڈولی روبنسن ‘‘کے ذہن کا تلازمہ بنتے ہیں،اور جس ڈھنگ سے اس کی شخصیت نگاری اور شبیہ سازی کا کام انجام دیتے ہیں اس سے یہ افسانہ ایک بھر پور شخصیت کا آئینہ بن کر اپنی طوالت کا جواز پیدا کر لیتا ہے۔’’کرسچین گرلز انسٹی ٹیوٹ ‘‘کی طالب علم کی یہ کہانی تمدن کاری کے اثرات اور انسانی جبلت کے اظہارات کا مرکب ہے۔کالج کی چہار دیواری کے قریب سے گزرنے والے لڑکے کے متعلق مس ڈولی کے جذبات فطری ہیں کہ اس عمر میں یہ امکان سے باہر نہیں کہ یہ باہمی کشش جبلی فطرت کا نتیجہ ہے۔وہی دوسری طرف نوکرانی سے اس کی انگلش بولنے کی خواہش اور نئے نئے نام اور چیزیں بتا کر پریشان کر نے کی تمنا نو آبادیاتی فضا میں تربیت پانے والے ذہن کی غمازہیں کہ حکمراں کے طور طریق مرعوبانہ ذہن سے سیکھ کر اپنے دست نگروں پر انہیں کے ذریعہ دھونس جما کر ایسا تسلط و تفوق قائم کرنا۔

دوران سفر اپنی سہیلی برنس سے اختلاط کی گزشتہ رات کا یاد آنا اور اس تفصیل سے یاد آنا،مس ڈولی کی شخصیت کے ایک الگ پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ہم جنسوں کے بیچ اس کشش کی اس ہلکی اور حقیقی جھلک سے رو برو کرتا ہے جسے ہم جنس کشش کہہ سکتے ہیں،کہ مخالف صنف سے اختلاط کا خلا بھی ہم جنس اختلاط کی وجہ بنتا ہے۔جس انداز سے افسانہ نگار نے برنس کی کہانی بیان کر نے کے بعد پیار کرنے کی التجا کو ظاہر کیا ہے،اس سے یہی معلوم ہو تا ہے۔

ہم درسوں کے مابین رشک اور چپقلش کی جو صورتیں ہو تی ہیں ان میں سے ایک صورت کا افسانہ نگار نے ذکر کیا ہے۔یہ رشک ڈولی کو ایمی سے ہے۔جو حسد کی نفسیات کا زائیدہ ہے اور عہد شباب سے پہلے کی منزل میں تو یہ خوب خوب ہوتا ہے۔اب ہم یہاں یہ دیکھتے ہیں کہ افسانہ نگار نے اپنے قلم کا رخ شہ کردار کے ذہن کی طرف کیا ہو اہے۔گویا شہ کردار کا ذہن ہی افسانہ نگار کے قلم کی سیاہی ہے جس سے وہ موضوع کو نچوڑ رہا ہے۔اس افسانے کی بنت یہ بتاتی ہے کہ ناگزیر جزیات نگاری اور آزاد تلازموں کے استعمال سے کم کم دورانیہ میں بھی طویل افسانہ کو خلق کیا جا نا ممکن ہے،بس شرط یہ کہ کوئی پہلو غیر فطری یا ٹھونسا ہوا معلوم نہ ہو۔کہانی کو بنانے اور بتانے کا موڈ واقعی اور امکانی ہو۔

طویل افسانے کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نفس موضوع کا دورانیہ فقط سالوں پر نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہو۔کسی ایک معروض یا مسئلہ کی تفہیم اور اس متعلق مختلف عہد اور زمانوں میں بدلتے انسانی رویے کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہو۔عزیز احمد کا افسانہ مدن سینا اور صدیاں‘‘اسی نوع کا افسانہ ہے جس میں مرد عورت کے رشتے کی زمانی تقسیم ہے۔وقت کے ساتھ جو ں جوں معاشیات نے اور حصول معاش کے لئے بپا کی جانے والی اقتداری۔۔۔۔نے اپنا چولا بدلا ڈھنگ اور رنگ کے اعتبار سے عورت اور مرد کے رشتہ کا ڈولا بھی بدلا ہے۔اس افسانہ میں قدیم عہد کی کہانی بھی ہے،نوآبادیاتی عہد کا رویہ بھی اور اشتراکی معاشرت کا نظریہ بھی۔فی الواقع ہر عہد کی عورت کہانی رکھتی ہے۔ہر کہانی میں ایک عاشق ایک شوہر اور ایک۔۔۔ضرور ہے۔اور پھر ا ن میں سے ایثار کس کے حصہ میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔وی کے سوال و جواب سے مل جاتا ہے۔اس افسانہ میں مدن سینا،عورت کا روپ ہے۔ یہ عورت عہد اور زمانے عبور کرتی جاتی ہے تو مردوں کے عورت کے تئیں رویے میں کس قدر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔یہ منسوب کسی سے ہے اور اس عاشق کوئی اور ہے۔عاشق تنہائی میں ملتا ہے اور اس کی حالت زار دیکھ کر یہ اس سے وصل ازدواجی سے پہلے ملنے کا وعدہ کرتی ہے۔شادی کی رات سارا قصہ شوہر سے کہہ کر اس سے ملنے کی اجازت چاہتی ہے۔شوہر اجازت دے دیتا ہے۔یہ اپنے معشوق کی طرف چلنے لگتی ہے کہ راستے میں ڈاکوؤں سے سابقہ پڑتا ہے اور وہ اس کے تن من کے زیور کو لوٹنے پر آمادہ ہوتا ہے۔یہ اپنا قصہ کہہ کر عاشق س ملنے کے بعد ان کے پاس واپس آنے کا وعدہ کرتی ہے۔عاشق کے گھر پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے ’’تم نے اپنا بچن پورا کیا لیکن تم جو کسی دوسرے کی پتنی ہو میرے کس کام کی جس طرح تم آئی ہو ویسے ہی چلی جائو کوئی تمہیں دیکھنے نہ پائے۔ایک آنکھ سے ہنستی اور دوسری سے روتی مدن سینا اسی راستے واپس ہوتی ‘‘ڈاکوؤں سے مدن سینا کو ایفائے عہد کرنا تھا سو وہاں پہنچتی تو ڈاکو نے قصہ سنا واپسی کا تو اس نے کہا،تیری سچائی سے خوش ہو کر میں بھی تجھے چھوڑتا ہوں۔جا اپنے سونے چاندی اور عزت کے زیوروں سمیت اپنے گھر جا ‘‘اس قصہ کے خاتمہ پر ویتال نے مہاراج تری وکرم سینا سے اس قصہ میں سب سے فراخ دل شخص کی نشاندھی چاہی۔انہوں نے ڈاکو کو فراخ دل بتایا ’’لیکن ڈاکو،وہ بے اصول،بدمعاش،اندھیارے کا باسی،وہ سچ مچ فیاض اور فراخ دل تھا۔اس نے ایسی خوبصورت عورت کو جواہرات سمیت چلے جانے دیا۔‘‘

یہ طویل افسانہ اس تصور کی طرف بھی رخ کرتا ہے کہ عشق آزادی کا آئینہ ہے۔وہاں جذبہ عمل،قول کا تبادلہ آزادانہ ہوتا ہے۔کسی معاہدے کے جبر سے آزاد کسی اخلاقی معاشرتی رعایت سے عاری۔واضح رہے کہ عمل میں ہر نوع کا جبلی عمل بھی شامل جو کسی انسانی جوڑے کے لئے ضروری ہے۔اور یہ تصور ملکہ شامینیںکے فیصلہ کی صورت افسانے میں داخل ہوتا ہے۔’’ہم اعلان کرتے ہیں اور ہم اسے امر طے شدہ سمجھتے ہیں کہ عشق ایسے دو افراد کے درمیان اپنی طاقتوں کا اثر نہیں ڈال سکتا جو ایک دوسرے سے منکوح ہوں۔کیوں کہ عشاق ایک دوسرے کو ہر چیز آزادی سے دیتے ہیں،کسی جبر یا مجبوری سے نہیں۔لیکن شادی شدہ جوڑے میں فریقین مجبور ہیں کہ بطور فرض ایک دوسرے کی خواہشیں پوری کریں۔اور ایک دوسرے سے اس امر میں انکار نہ کریں۔‘‘اس تصور عشق میں سپردگی یا دو طرفہ احتظاظ اور معاونت کی جو صورت ہے،وہ صورت ایک خاص ماحول اور عہد کی زائیدہ ہے۔وقت بدلتا ہے طرز زندگانی ایک ڈھرے پر جا پڑتی ہے تو رویے بھی بدل جاتے ہیں۔مارکس،اینگلز کے ذریعہ افسانہ نگار اس قصہ پر نظر ثانی کرواتا ہے۔’’ہمارے بورژوا اپنی مزدوروںکی بیویوں اور بیٹیوں پر ہی اکتفاء نہیں کرتے،رنڈیوں کا تو ذکر ہی کیا انہیں ایک دوسرے کی بیویوں کو پھسلانے میں انتہائی لطف آتا ہے۔‘‘؎؎؎؎؎؎؎افسانہ مثالیت پسندی اور انسانی جبلت کی اور فطری معصومیت کے عہد سے نکل کر اور اقتصادیات کی تعبیر کی وجہ سے وقت کی انارکی اور ابتذال کا آئینہ بننے لگتا ہے۔قرون وسطیٰ کے ایک قصہ سے پھر مدن سینا کے مثل ایک قصہ یورپ کے پس منظر میں افسانے کے بیانیہ کا حصہ بنتا ہے اور اس کا انجام بھی تقریبا وہی ہے۔

چوتھے قصہ میں افسانہ نو آبادیاتی عہدمیں آگھستا ہے اور یہاں کے بورژوا طبقہ کی معاشرت کی آئینہ گری کرتا ہے۔اس حصہ میں پس منظر ہندوستان ہے۔تفریحی جلسہ یا پارتی کے جلومیں عورت مرد کے رشتوںکے روپ جگمگاتے ہیں اور کثافتیں اپنا رنگ چوکھا کرتی ہیں۔رقص و سرود اور لذت جام و کام و دہن اس کثافت کی تصویر بنتے ہیں۔انجام صمدر کی کم عمر بیوی کے اس ازدواجی حدود سے پرے اس جنسی تعلق اور صمدر کے درگزر پر ہوتا ہے کہ اس سے احساس ہمدردی کی ایک معقول وجہ اس کے پاس یہ ہوتی ہے کہ عمر کا تفاوت ان کے ما بین وہی ہے جو باپ بیٹی کے درمیان ہو سکتا ہے۔اس پر صمدر کا رد عمل ملاحظہ کیجئے۔

’’کپڑے بدلتے ہوئے وہ سوچنے لگے۔ہم سب میں زیادہ فیاض کون ہے ؟۔۔۔میں جو مالک ہوں اور اپنی ملکیت پر جبر نہیں کرتا ؟یا۔۔۔جس نے اپنا پیار بیچا ؟یا میری چندرا جس نے اپنے ریشمی آرام و آسائش کے لئے اپنے والدین کو اپنا جسم میرے ہاتھوں میں لینے دیا۔وہ۔۔۔۔۔۔راج میں کون فیاض ہے ؟کون فیاض رہ سکتا ہے ؟یہاں تو ہر طرف لین دین ہی لین دین ہے۔یہاں شکر و شکایت اور گلہ شکوہ کیا ؟‘‘

افسانے کے آکری حصے میں صغیراور ناہید جہاں اشتراکی میاں بیوی کا قصہ شروع ہوتا ہے۔یہاں سہولت پسند بورژوا اشتراکیت جو آسائش و آرائش کے ساتھ اشتراک کو بناہنے والے گروہ کا ذکر کرنے کے بعد تخلیق کار اس جوڑے کا ذکر کرتا ہے جو عملا اشتراکیت پسند ہے۔دونوں میاں بیوی اپنی اپنی اپنی اپنی جدو جہد اور تحریکی سر گرمیوں میں مصروف ہوتے ہوئے پر سکون زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں کہ ایک دن ناہید مقبول کے ساتھ سنیما چلی جاتی ہے اور اسے واپس لوٹنے میں دیر ہو جاتی ہے۔اس دوران صغیر کے دل میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں اور یہ وسوسے رشتہ مناکحت کی فلسفیانہ تفہیم کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔تخلیق کار کردار صغیر کے ذریعہ مناکحت کی تمدنی صورتوں پر غورو فکر کرتا ہے۔

’’اس نے سگریٹ سلگایا اور ٹہلنے لگا۔سوچنے لگا کہ مجھے شک اور کسی قسم کے صدمے کاحق ہی کیا ہے۔ناہید اور اس کا جسم میری ملکیت تو ہے نہیں۔کیا اس مہاجنی تمدن سے پہلے بر بریت کے سنہری دور میں تمام عورتیں تمام مردوں اور تمام مرد تمام عورتوں کی ملکیت نہیں ہوتے تھے۔ممکن ہو یہی قانون فطرت ہو۔ممکن ہے ’’جوڑے دار ‘‘شادیاں قانون فطرت کی خلاف ورزی ہوں۔تمدن کی صبح کاذب کے ساتھ ساتھ یہ شادیاں وجود میں آئی ہیں۔پہلے مائیں بہنیں حرام ہوئیں،پھر قبیلے کی عورتیں حرام ہوئیں۔پھر ایک مرد اور ایک عورت کی جوڑے دار شادیاں ہونے لگیں۔‘‘

افسانے کے بطن اور متن میں سماجی فلسفہ کھپانے کا یہ سلیقہ بھی خوب ہے کہ اشتراکی فلسفہ کی رو سے کی جانے والی معاشرتی نظام کی تعبیر کو نئے عہد کی مدن سینا کی تفہیم میں حسن و خوبی سے استعمال کیا ہے۔صغیر کی خود کلامی اور فکر کی رو سے جو مکالمہ قائم ہوتا ہے وہ ایک متمدن اور تعلیم یافتہ انسان کا مکالمہ معلوم ہوتا ہے جو اپنے عہد میں رائج تصورات سے ذہنی کشمکش کر رہا ہے کہ کیوں کر عصمت صرف عورت پر واجب ہے۔اور اگر عشق کے ذریعہ یہی کچھ واجب ہو تو دونوں پر واجب ہو۔ادھر اس کی بیوی ناہید مقبول کے دلکش جمالیات بدن میں محو ہے کہ دونوں کی آنکھوں نے ہی بس بے معلوم عشقیہ خاموش سرگوشیاں کی ہیں۔نگاہوں کے رابطے جنسی کشش تو لے آئے لیکن جذب مطلق کی صورت نہ ہوئی۔صغیر کے دل میں کوئی شک نہ ابھرے یہ اندیشہ لئے گھر کے زینے چڑھنے شروع کئے اور اپنی سوچ پر حیرت زدہ ہو کر اس نتیجہ پر پہنچی کہ اسے اپنی برأت کی کیا حاجت،وہ صغیر کی ملکیت تو نہیں ؟اور ایک گرم بوسے پر تخلیق کار کے اس مثالی جوڑے کی کہانی تمام ہوتی ہے۔اس مقام پر ویتال نے مہاراج سے وہی سوال کیا کہ بتائیے سب سے زیادہ فیاض کون تھا ؟تخلیق کار کے ذہن میں اشتراکیت کی مثالیت پسند کوندے لپک رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس سماجی فلسفہ کے ذہن کی دسترس آنے کے بعد انسانی فطرت کی کوئی کل ٹیڑھی ہو جائے،یہ کہاں ممکن ہے۔اب تو سب مبنی بر حق ہی ہوتا ہے تو مبنی بر حق ہی ہوا۔ہر فرد یہاں اس قدر کا ذمہ دار ہے اور دوسرے کے حق کی تمیز رکھتا ہے۔مہاراج کی زبانی ہی سنئیے ’’اور ایسا واقعہ جیسا تو بیان کرتا ہے،پیش آئے تو میں یہ کہوں گا کہ صغیر ناہید اور مقبول برابر فیاض تھے۔یا یہ کہ ان میں سے کوئی خاص طور پر فیاض اور فراخ دل نہ تھا۔ہر ایک اپنا اور دوسرے کا حق جانتا تھا۔اور دل اور جسم کی محبت میں امتیاز کر سکتا تھا۔ان دونوں کے فرق کو سمجھتا تھا۔‘‘

میں یہ کہنے کی پوزیشن میں ہر گز نہیں ہوں کہ یہ طویل افسانہ حد درجہ کامیاب افسانہ ہے۔یہاں تو انسانی جبلت خط مستقیم پر چلتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اس میں کوئی کجی کوئی ٹیڑھ سب کثیف ماحول میں ہی پیدا ہوتی ہے۔صمدر اور اس کی بیوی کو چھوڑ کر ہر جگہ مثالیت پسندی حاوی ہے۔قدیم عہد کی مدن سینا اور عہد وسطیٰ کا۔۔۔۔۔قابل اعتبار اس لئے معلوم ہوتے ہیں کہ اس عہد کے پس منظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس عہد تک تمدن نے آدمی پر اس قدر خول نہیں چڑھائے کہ انسان کا خول آدمی کو اس کی جیون سے باہر نہ آنے دے۔لیکن بعد کی صورتیں قابل غور ہیں۔اگر چہ امکانی صورت صمدر بھی ہے اور صغیر و ناہید بھی۔ان کی فلسفیانہ سرگوشیاں اور خود کلامیاں بھی لیکن محل نظر بات اس افسانہ کا انجام ہے۔جو بتاتا ہے یہاں انسانی رویوں کو ترازو پر تول کر استعمال میں لایا گیا ہے جو فطری معلوم نہیں ہوتا ہے۔اشتراکیت لاکھ تیز سہی لیکن اتنی بھی نہیں کہ روح کا تزکیہ کرے،وہ تو ذہن کی غذا بھر ہے۔

اس طویل تجزیہ سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ طویل افسانے میں کسی موضوع کو برتنے کا امکان کس حد تک ہے اور یہ کام مختصر افسانے سے کیوں کر ممکن نہیں ہے۔عورت کو تاریخی تناظر میں دیکھنے اور تہذیبی تسلسل کے سیاق میں دیکھنے کی یہ کوشش طویل افسانے میں ہی ممکن تھی۔مختصر افسانہ اسے سہار سکنے کا اہل نہیں ہو سکتا تھا۔اس طرح کے بہتیرے موضوعات طویل افسانے میں بہتر ڈھنگ سے اظہار پا سکتے ہیں۔

کو ئی بھی مستقل صنف اپنے خالق سے نام نہیں پاتی،نہ ہی قاری سے بلکہ اس صنف کا ساختیاتی نظام اس میں کارفرما تشکیلی طریقہ کار ان خطوط کی طرف لے جانے میں مدد کرتے ہیں جو ایسی اختصاصی شناختوں کو اجا گر کرتے ہیں جن کی بنیاد پر صنف کا مستقل وجود قائم ہو تا ہے۔صرف فکرو خیال کو صنفی شناخت کی بنیاد قرار دینا ممکن نہیں ہے۔خارجی ہیئت اور طریقہ اظہار ہی کسی امتیازی اظہار کی صنفی صورت گری کر تے ہیں۔صرف ایک واحد تجربہ صنف کو مستحکم اور قائم کرنے کا اہل نہیں،بلکہ تخلیقی عمل کے تسلسل میں اس کی وافر شہادتیں بھی ضروری ہیں جو صنفی خصوصیات کی عملی شہادتیں مہیا۔ کرتی ہیں۔کوئی ایک تجربہ فقط شذوذ کے دائرہ میں ہی رکھا جاسکتا ہے۔قاضی افضال رقم طراز ہیں کہ :

’’صنف کے قائم ہونے کے لئے متون میں کم سے کم دو صفات کا مشترک ہونا ضروری ہے۔اور ایک مثالی صنف میں کم سے کم ایک صفت ہیئت اور ایک صفت موضوع یا بیان کی لازما مشترک ہونی چاہئے (مثلا رباعی )یا موضوع میں خود موضوع کیدو تخصیصی صفات ہونی چاہئے تاکہ وہ صنف کہی جا سکے۔کسی ایک صفت کی بنیاد پر اردو میں کوئی صنف قائم نہیں ہوتی۔ایک صفت کی بنیاد پر کسی صنف کی کوئی قسم قائم ہو سکتی ہے،صنف نہیں۔
’’صنف کے قیام کی ایک بنیادی شرط،مشترک صفات کا متون میں تواتر ہے۔تجربہ پسندی کے شوق میں یا ’’موجد صنف ‘‘ کہلانے کے شوق میں کوئی تخلیق کار کسی صنف کی مشترک صفات کی شکل بگاڑ کر کوء صنف ’’ایجاد‘‘ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے (مثلا آزاد غزل )اور اپنے دعوے کے ثبوت میں خود اپنے کلام کے علاوہ بمشکل اپنے گروہ کے کسی دوست،شاگرد یا مؤید کا کلام ہی پیش کر سکتا ہے،تو وہ صنف نہیں ایجاد کر رہا،اپنی عجب کی تسکین کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔‘‘

طویل افسانہ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو متون کا ایسا وافر ذخیرہ ملتا ہے جو متون میںمشترک صفات کی موجودگی کی شہادت دیتا ہے۔ہیئت کی سطح پر ہم طویل افسانے کو مختصر افسانے سے ان معنوں میں مختلف پاتے ہیں کہ اس کا بیانیہ اختصار کے بجائے تفصیل طلب ہو تا ہے۔اس میں جزئیات کی نہ صرف گنجائش ہوتی ہے بلکہ کردار کے بھر پور اظہار کے لئے بسا اوقات جزئیات نگاری لازم ہو جاتی ہے۔طویل افسانے کا حسیاتی و منظریاتی جہان بھی مختصر افسانے سے قدرے وسیع اور بھر پور ہوتا ہے۔اگر ہم مختصر افسانے اور طویل افسانے کے ما بین یہ خطوط فاصل پاتے ہیں تو کیا ان کی بنیاد پر طویل افسانہ کو علاحدہ صنف کا درجہ دے سکتے ہیں ؟جلیل کریر طویل افسانے کے وجود کو معرض سوال میں لاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ جب مختصر افسانے میں ہم صنعتی زندگی اور انقلابی تبدیلیوں کا عکس اتار سکتے ہیں تو طویل افسانہ کیوں کر لازم ہوا۔اس کی ضرورت اور وجود کا جواز کیا ہے ؟وہ لکھتے ہیں:

’’اگر مختصر افسانے میں صنعتی زندگی کی لال چری کو اپنے شیشے میں اتار سکتے تھے تو خواہ مخواہ طویل افسانہ کیوں آزمایا گیا ؟اس سوال کے جواب میں سب سے پہلے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’طویل مختصر افسانہ‘کوئی بالکل علاحدہ صنف ادب نہیں۔دوسرے یہ کہ افسانوی فارم تمام تر مواد اور موضوع پر مبنی ہوتی ہے۔فن کار سب سے پہلے اپنے موضوع کا انتخاب کرتا ہے اور اس کے حسب حال خام مواد اکٹھا کرتا ہے۔یہی اسے فارم کے انتخاب میں ممد ہوتا ہے۔کئی جگہ اشاراتی انداز کی ضرورت ہوتی ہے اور کہیں پھیلائو اور وضاحت کی۔اگر فنکار سمجھتا ہے کہ وہ کہنے کی بات کو چند ہلکے ہلکے خطوں میں اجاگر کر سکتا ہے تو وہ یقینا مختصر افسانے کا انتخاب کرے گا۔اگر تصویر کو ابھارنے میں لمبے اور واضح خطوں کی ضرورت ہے تو وہ قدرتی طور پر طویل مختصر افسانے کی صنف کا استعمال کرے گا۔‘‘

کیا طویل افسانے کے موضوع اور مواد میں ایسی تخصیصی صفات ہیں جو اسی کے ساتھ خاص ہوں تو اس باب میں ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ تخصیصی صفت اجمال کے مقابلے تفصیل کی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ا س کے ساتھ کوئی موضوع خاص ہو کہ وہ موضوع طویل افسانے میں بیان ہو سکتا ہے اور کہیں نہیں۔تکنیک کی سطح پر جو تغیر اور طویل افسانے کی طوالت طلبی اور کثیر جہتی اور ابعادی تنوع کو کیا ہم اس کی ایسی صفات قرار دے سکتے ہیں جو بطور صنف اس کی تشکیل کرتی ہوں۔طویل افسانہ موضوع اور مواد سے جوسلوک کرتا ہے اور جس طرح اپنے حجم کے حجرے میں مسند نشین کرتا ہے اس سے ابو بکر عباد نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ ایک جداگانہ صنف ہے۔لکھتے ہیں :

’’طویل مختصر افسانہ ناول اور مختصر افسانے سے جدا صنف اور انتہائی محتاط فن ہے۔جس میں نہ تو مختصر افسانے کا سا اختصار ہے نہ ہی ناول کا سا پھیلائو بلکہ مختصر افسانہ جن چیزوں کا متحمل نہیں ہو سکتا طویل مختصر افسانے میں وہ چیزیں بڑی خوبی سے جگہ پاسکتی ہیں۔اور ناول میں بھی ہمارے بعض ماہرین سے بھی جو بے اعتدالیاں ہو تی ہیں اس کی گنجائش بھی اس صنف میں بہت کم رہ جاتی ہے۔‘‘

قاضی افضال نے طوالت کے باعث طویل افسانہ کو صنف ماننے سے احتراز کیا ہے۔۱

میں اس بحث میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ فقط طوالت طویل افسانہ کا وصف نہیں بلکہ موضوع و مواد کو برتنے اور بیانیہ کو قائم کرنے کا اس کا اپنا طریقہ مختصر افسانے سے مختلف ہے۔اگر با ضابطہ طویل افسانے کے لوازم کو مد نظر رکھ کر یہ سوال قائم کیا جاتا اور اس سوال کا تسلسل نہ ٹوٹتا تو اب تک یہ بات واضح ہو گئی ہوتی کہ طویل افسانہ کے شناختی امتیازات اور علامات اس نوع کے ہیں کہ اسے علاحدہ صنف کا درجہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ناقدین کے پس و پیش کی جو وجہ معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اب تک ہمارے یہاں الگ زاویے سے طویل افسانے کو دیکھنے کی کوششیں کم ہوئیں ہیں۔آج سے نصف صدی پہلے جو کوششیں جلیل کریر،مظفر سید اور ممتاز شیریں نے اس باب میں کی ہیں، اس پر مستقل مکالمہ قائم ہوا ہوتا تو مختصر افسانے اور طویل افسانے کا فرق واضح ہو گیا ہوتا۔

Categories
نان فکشن

“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ

[blockquote style=”3″]

شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “کہانی میرے دور کی” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

تاثراتی جائزہ

مصنف جتنا کہنہ مشق اور تجربہ کار ہوتا ہے اس کی پکڑ بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے اور اس کی تخلیق کو اتنا ہی سخت شکنجے میں کس کر ناپا تولا اور پرکھا جاتا ہے۔

متن اساس تنقید کو اس سے ویسے تو بالکل بھی سرو کار نہیں ہوتا کہ مصنف کون ہے اس نے کیا کیا تخلیق کر رکھا ہے اور اسکا نام کتنا اونچا ہے اسے متن سے سر و کار ہوتا ہے میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ میں کسی بھی تخلیق کو مصنف سے جدا رکھ کر دیکھوں اور پرکھوں۔

یہاں ویسے تو یہ چلن عام ہے کہ دوستوں کے کمزور افسانوں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور ان کی تعریف میں آسمان کے قلابے ملا دیے جاتے ہیں اور جواب میں دوست بھی پھر خوب دوستیاں نبھاتے دکھائی دیتے ہیں اور احسان اتارتے نظر آتے ہیں خیر یہ ایک ضمنی بات تھی جو بالعموم ادب میں اور باالخصوص فیس بک پر دکھنے والے رویے کے بارے تھی۔

اب زرا چلتے ہیں مذکورہ تخلیق کی جانب

میں اپنی پوری ایمان داری برتتے ہوئے متن اساس تنقید کی ہی کوشش کروں گا اور مصنفہ کی ذات کو تخلیق سے جدا رکھ کر اپنا تجزیہ پیش کروں گا لیکن اس سے پہلے کچھ مصنفہ کے بارے میں محترمہ فارحہ ارشد کم و بیش بیس پچیس یا اس سے کچھ کم یا اوپر سالوں سے پاکستان کے مختلف ڈائجسٹوں میں لکھ رہی ہیں اور ڈائجسٹی لکھاریوں میں ایک بڑا نام اور اہم مقام رکھتی ہیں پچھلے قریب تین سالوں سے وہ فیس بک کے بہت سے فورمز پر بھی لکھ رہی ہیں اور ان کے “زمین زادہ” اور “حویلی مہر داد کی ملکہ” جیسے شاہکار افسانے بھی ہم نے پڑھ رکھے ہیں ان کے ایک اور افسانے کو پڑھتے ہوئے ان کے اس ہی معیار کی توقع رکھنا بے شک ان کے قاری کا حق ہے میں ان کے اس افسانہ پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

آئیں اب متن میں جھانکیں۔

میں ہمیشہ کہتا ہوں جب تک مصنف کا حسی تجربہ تخلیق کا حسی تجربہ بن کر نہیں ابھرتا تخلیق تحریر تو رہتی ہے فن پارہ نہیں بنتی ایسا ہی کچھ مذکورہ تحریر کا معاملہ بھی ہے۔

تھر جیسے پسماندہ علاقے میں بسنے والی چودہ پندرہ سال کی ایک لڑکی کی کہانی جو اول اول اپنے باپ کی زبانی ایک ڈاکٹر کا ذکر سن کر اسے اپنے من کا راجہ بنا بیٹھتی ہے اور پھر ایک مغالطے کی پاداش میں کاری کر دی جاتی ہے۔

میں اگر ایک جملے میں تخلیق کے مرکزی خیال کا احاطہ کروں تو وہ یہ ہو گا
“معاشرہ اتنا پسمادہ نا خواندہ اور شدت پسند ہے کہ کسی کے تصور اور تخیل کو بھی بنیاد بنا کر اس کی جان لے لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا”

بالکل درست ایسا ہی ہے لیکن اس بات کو فنی مہارت کے ساتھ تخلیق کا حصہ بنانا ہی ایک مشاق لکھاری کی مشاقی ہوتا ہے یہ تخلیق اپنی ابتداء سے ہی ایک مصنوعی تاثر لے کر ابھرتی ہے اور آخر تک وہ تاثر تخلیق کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

“جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔
پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو
من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔
کنویں میں جھانکتی تو اپنا من اسے اس کنویں سے بھی کہیں گہرا لگنے لگتا۔

دانتوں پہ دانت جمائے سانس تک روک لیتی کہ من کی آواز سنے۔ جبڑے دُکھنے لگتے، سانس بند ہونے لگتی مگر کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔
سکھیاں سہیلیاں کیا کہہ رہی ہیں کس بات پہ دبے دبے قہقہے تھر کی کُھلی فضا میں گونجتے ہیں وہ بس گُم صم سی ان کی شکلیں دیکھنے لگتی۔
چُنری کا گھونگھٹ اور گہرا کرتی۔ مٹکا بھر کے سر پہ رکھتی اور ریت میں قدم دھنسا کر آہستہ آہستہ چلنے لگتی۔”

اس ابتدائی پیرا گراف کا مطالعہ کریں تو ہمیں لگتا ہے یہ کسی وڈیرے کی پچیس سال کی خوبرو الہڑ بیٹی کا ذکر ہے جس کے ناز و انداز سے دوشیزگی اور دلبری ٹپک ٹپک پڑتی ہے لیکن کہانی کے درمیان میں جا کر کھلتا ہے کہ یہ کوئی پچیس سال کی بانکی ناری نہیں چودہ سال کی کم سن بچی کا ذکر ہے جس کا تعلق تھر جیسے پسماندہ علاقے کے ایک غریب گھرانے سے ہے۔

تھر جس کی زندگی پر میری نگاہ ایک تو اس لیے بہت گہری رہی کہ مجھے صحرا سے عشق ہے اور میں نے کچھ وقت وہاں گزارا ہے دوسرا تھر کے ایک بزرگ سے تعلق داری ہے جن کے توسط سے بھی تھر کو بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھر میں شاید ہی ایسا کوئی غریب گھرانہ ہو جہاں تین وقت کی روٹی میسر ہو تھر کی عورتیں سخت جان اور کرخت مزاج ہوتی ہیں انہیں مردوں کے ساتھ برابر بلکہ شاید ان سے بھی زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اس لیے جس نازک ناری کا ذکر کہانی کی ابتداء میں کیا گیا ہے وہ کردار کسی تصوراتی تھر میں تو شاید بستا ہو حقیقت میں اس کے وجود کا تصور بھی محال ہے مرکزی کردار کا بنا گیا شخصی خاکہ کہانی کے پلاٹ سے میل نہیں کھاتا۔

“یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا۔
کچھ روز پہلے ابا نے ساتھ کے گاؤں کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ اردگرد کے گاؤں میں بچوں کی اموات کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ سارے تھر میں پھیل رہا ہے۔ ایک تنظیم کسی بڑے شہر سے آئی ہے اور انہوں نے ساتھ والے گاؤں کے قریب ایک کیمپ لگایا ہے۔ وہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر سانول مراد بھی ہے جو بہت تسلی سے بچوں کو دیکھتا اور انہیں دوا دیتا ہے۔ آرام نہ آنے کی صورت میں بچوں کو علاج کے لئے وہ ڈاکٹر اور اس کی تنظیم بڑے شہر کے ہسپتال لے جاتی ہے۔

بھائی کا بیٹا بیمار ہوا تو اسے بھی ڈاکٹر سانول کے کیمپ میں لے جایا گیا۔ کچھ روز کے بعد جب وہ صحتیاب ہو کر گھر آیا تو اٹھتے بیٹھتے سب کی زبان پہ ایک ہی نام تھا ڈاکٹر سانول مراد۔

داکٹر سانول مراد ایسا خوبرو جوان ہے۔ ڈاکٹر سانول مراد ایسے محبت سے بچوں کو دیکھتا ہے۔
ڈاکٹر سانول مراد ایسے پہنتا ایسے باتیں کرتا ہے۔”
درج بالا پیرا پڑھتے ہوئے شدت سے احساس ابھرتا ہے کہ ڈاکٹر سانول کا ذکر شامل کرنے کے لیے کس مصنوعی انداز میں یہ حصہ لکھا گیا ہے جو حقیقت میں اس پوری تخلیق کی بنیاد ہے لیکن اس حصے کی شدید مصنوعی فضا نے پوری تخلیق کو گہن لگا دیا اور تحریر ایک ڈائجسٹی کہانی بن کر رہ گئی
اس کے بعد چودہ پندرہ سال کی تھر کی باسی اس کمسن لڑکی کے خوابوں خیالوں اور تصورات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو اس کردار کی بنت کو مزید کمزور بنا دیتا ہے جس سے تحریر بے جا طوالت کا بھی شکار ہو گئی ہے اور روائتی سطحی بھی ایسے خوابوں خیالوں اور تصورات کی داستانوں سے ڈائجسٹوں کے پیٹ بھرے پڑے ہیں دکھانا مقصود ہے کہ اس نے خیالوں میں ایک سانول کا کردار گھڑا ہے لیکن اس کا بیان اتنا روائیتی ہے کہ قاری سوچے بنا نہیں رہ پاتا کہ ادب کس رخ بڑھ رہا ہے اسے ادب کی تنزلی پر منتج نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے آخر؟؟

رہی سہی کسر اس ٹکڑے نے پوری کر دی
زرا دیکھیں کس غیر حقیقی اور مصنوعی انداز میں یہ حصہ تحریر کیا گیا ہے جس کے منطقی جواز کی کوئی صورت مجھے تحریر میں نہیں ملی
“چارہ سر پہ اٹھائے باہر سے آئی تو بھائی کو مرغ کو مکھن کھلاتے دیکھ کر اس پہ پل پڑی۔
یہ تُو کیا ہر وقت بے کار کی چیزوں میں پڑا رہتا ہے تیری بیوی، ماں اور بہن سارا دن کام میں جُتی رہتی ہیں اور تُو یہاں بیٹھ کر مرغ کو مکھن کھلا رہا ہے۔ بیوی تیری چوتھا بچہ جننے والی ہے اسے کھانے کو خشک روٹی مشکل سے ملتی ہے اور تُو یہاں میلے ملاکھڑے کے لیے مرغ کو مکھن کے نوالے کھلا کر تیار کر رہا ہے۔
وہ بھائی کے ساتھ بیٹھے جمن اور شناور کو بھی ماتھے پہ سو بل ڈال کر غصے سے دیکھنے لگی۔”

کیا ایک چودہ پندرہ سال کی کم سن لڑکی خود سے پانچ آٹھ سال بڑے بھائی پر یوں پل پڑنے کی جرات کر سکتی ہے وہ بھی جہاں ایک طرف یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہو کہ عورت کتنی جکڑی ہوئی اور مجبور و لاچار ہے اور اپنی تکلیف پر بھی اف نہیں کر سکتی تھر جیسے علاقے میں تو چچا زاد تایا زاد کےلڑکی کی تنہائی میں گھر میں آ جانے پر بھی لڑکی کو کاری کر دیا جاتا ہے وہاں جمن کا بھائی کے سامنے اسے دبوچ لینا کتنا حقیقی یا مصنوعی ہے اس کا فیصلہ قاری خود کر سکتا ہے

“چل ری۔۔۔ دو ہتڑ لگاؤں گا۔ میرے سامنے ایک لفظ نہ بولنا۔
اورہم مردوں کی یہ شان نہیں کہ گھر کے کام کریں تم عورتیں کس لیے ہو۔ اور بھرجائی تیری کو چوتھا بچہ جنوا رہا ہوں تو یہ بھی تو میری مردانگی ہے ”
“۔ وہ آخری جملہ آہستہ سے کہہ کر جُمن اور شناور کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیا تو سُکھاں کے تو مانو تلووں میں لگی اور سر پہ جا بجھی۔ ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا لے کر اس کی طرف لپکی”
کون سا بے غیرت بھائی ہے جو چودہ سال کی بہن کو غیر مردوں کے سامنے اپنی مردانگی کا پاٹ پڑھا رہا ہے اور اس پر اوباش لفنگوں کی طرح کزن کے ہاتھ پر ہاتھ مار رہا ہے
” آ تیری مردانگی بتاؤں۔۔۔ ”
اور کون سی چودہ سال کی بہن ہے جو جواب میں ڈنڈا لے کر بھائی کو مردانگی بتانے دوڑ کھڑی ہوئی ہے یہ کردار کسی الٹرا موڈ شہری سوسائٹی کے کسی مغرب زدہ گھرانے کے تو ہو سکتے ہیں تھر کے کسی غریب گھر کے نہیں کم سے کم مجھے یہ ماننے میں عار ہے۔
“جمن نے اسے بھائی کی طرف بھاگتے دیکھ کر اسے پیچھے سے جا لیا۔ نرم نرم گداز بدن میں انگلیاں دھنس کر رہ گئیں
” تُو تو چھوڑ۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ناکارہ۔ ” وہ اس سے اپنا آپ پوری طاقت سے چھڑانے لگی مگر جمن کی بانہوں کا گھیرا بہت مضبوط تھا۔
” تم سب ایک سے ناکارہ۔ اور ایک وہ سانول ہے۔۔۔۔ ”
” اے ری کون سانول ؟۔۔۔۔ ” وہ اسے چھوڑ کر سینہ تان کر سامنے کھڑا ہوگیا
کیا کوئی کسی غیر حقیقی تصوراتی کردار کا موازنہ کسی حقیقی شخص کے ساتھ یوں کر سکتا ہے کردار کی تحلیل ِ نفسی کریں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایک پسماندہ علاقے کی چودہ پندرہ سال کی کمسن لڑکی نارمل حالات میں ایسا نہیں کر سکتی کہ وہ کسی حقیقی شخص کے ساتھ یوں برملا کسی تصوراتی کردار کا موازنہ کرے اور اس کردار کا یوں بر ملا اظہار کرے وہ بھی ایک ایسے ماحول میں جہاں کاری کیے جانے کے واقعات عام ہوں اور کمسنی سے ہی لڑکیاں اپنی حدود و قیود جانتی ہوں۔

” جا جا تیرا کوئی کام نہیں۔ اور میرے منہ نہ لگنا اسی ڈنڈے سے تیرا پنجرچُورا بنا کے پھانک جاؤنگی ”
درج بالا جملہ دیکھیں کیا تو تڑاخ ہے کیا اعتماد ہے واہ وہ بھی سندھ کے ایک دیہی علاقے کی ایک کم سن لڑکی کا
مجھے ایسی نڈر لڑکی سے تو ملنے کا اشتیاق ہو چلا اب ساری لڑکیاں اتنی نڈر اور بے باک ہو جائیں یہ میری دعا ہے

لیکن یہ کیا آگے چل کر بکری کی طرح سب مان گئی یہ لڑکی اور اف تک نہیں کی یہ کیا تضاد ہے ایسی اعتماد والی لڑکی کو تو شادی سے ہی انکار کر دینا چاہیے تھا اور خوابوں کے سانول کے ساتھ بیاہی جانے کی ضد کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا تو کچھ نہیں ہوا وہ باغی نڈر لڑکی شوہر کے ہاتھوں دھنکی جاتی رہی لیکن اس کے آگے بغاوت نہ کی۔ کاری ہو گئی لیکن جرگے کے سامنے آواز نہ اٹھائی اور دوسری طرف وہ ڈنڈا اٹھا کر بڑے بھائی پر پل پڑی اور ڈنڈے سے جمن کا پنجر چورا بنا کر پھانک جانے کی باتیں؟؟؟

اپنا تجزیہ آگے بڑھانے سے پہلے زرا عنوان کی طرف چلتے ہیں
جیسا کہ تحریر کے آخر میں عنوان جو کے سندھی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ بھی درج ہے
اگر اس ترجمہ کو درست مان لیا جائے تو پھر اصل عنوان کے الفاظ یہ ہونے چاہیں
امان ھو مون کی کاری کری ماری چھڈیندا
یا
امان اُنھن مون کی کاری کری ماری چھڈیندو
اور اگر عنوان کے الفاظ کو درست لیا جائے تو ترجمہ بنے گا
اماں وہ مجھے کاری کر کے مارتا ہے
میرے خیال میں اتنے تردد میں پڑنے کے بجائے اگر تحریر کا عنوان ترجمہ کو ہی کر لیا جاتا
یعنی
“اماں وہ مجھے کاری کر کے مار دیں گے”
تو بہترین ہوتا
اور زبان کا بگاڑ بھی نہ در آتا

ہر مبصر اور ناقد کا مشاہدہ بھی رائے دیتے ہوئے اتنا ہی گہرا ہونا چاہیے جتنا کہ تخلیق کار کا تخلیق کرتے ہوئے۔

یہ کہانی صرف پسماندہ علاقے کی نہیں۔ تھر کی ہے جسی کی اپنی ثقافت ہے جس کی اپنی اقدار ہیں جس کی اپنی حدود ہیں تھر جہاں بیویاں شادی کے بعد تیس سال گزار دیتی ہیں لیکن اپنے خاوند کی موجودگی میں آنکھ اونچی نہیں کرتیں بیٹیاں جوان ہو جائیں تو چچا تایا تو کجا باپ کے سامنے آنے سے بھی گریز برتنے لگتی ہیں اور بہنیں چھوٹے بھائیوں کے سامنے بھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتیں بڑا بھائی تو دور کی بات۔

تھر میں کیوں کہ بے حد خشک سالی رہتی ہے اور تھر واسی خانہ بدوشوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں اس لیے ان کے رہن سہن اور بودو باش عام دیہی زندگی سے بہت مختلف ہوتی ہے۔

ایسے میں بھائی کا جوان بہن کو مردانگی کا پاٹ پڑھانا اور بہن کا ڈنڈا لے کر اس پر پل پڑنا کسی صورت ایڈجسٹ ایبل نہیں وہ بھی غیر مردوں کی موجودگی میں
ایسا تو شہری غریب یا مڈل کلاس گھرانوں میں بھی ہونا بعید از قیاس ہے۔
اور اس کا کوئی منطقی جواز نہیں
ریئر کیسز میں شاید ایسا ہو لیکن افسانہ اجتماعی معاشرتی رویوں کا عکاس ہوتا ہے۔

قصے کی ابتدا میں ڈاکٹر سانول کا ذکر جس طرح کیا گیا ہے اور اس کا نام زبان زدِ عام و عوام دکھایا گیا ہے تو اتنے مشہور ڈاکٹر کے تصور سے لڑکی عشق کر بیٹھتی ہے لیکن جب وہ بھائی کے اور جمن کے سامنے سانول کا ذکر کرتی ہے تو حیرانگی کی بات ہے کہ ان کا دھیان گاؤں کی مہان اور مشہور ہستی ڈاکٹر سانول کی طرف نہیں جاتا جب کہ اتنی مشہور اور ایسی ہستی کا نام تو استعارہ بن کر گردش کرنے لگتا ہے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں یہ بات بھی بڑی غیر منطقی لگی۔

اس کے بعد کا باقی سارا پلاٹ بھی مصنوعی اور فطری بہاؤ سے خالی سوچ سوچ کر لکھا ہوا ہے
میری رائے میں یہ تحریر بارِ دگر لکھی جانے کی متقاضی ہے
ہم نے مصنفہ کے اچھے افسانے بھی پڑھ رکھے ہیں اور امید ہے کہ وہ اس افسانے کو بھی وقت کے ساتھ پکا کر کچھ بہتر بنا لیں گی
اس دعا کے ساتھ کہ مصنفہ کا قلم جاری و ساری رہے رد و قبول تسلیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا

جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔
پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو
من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔
کنویں میں جھانکتی تو اپنا من اسے اس کنویں سے بھی کہیں گہرا لگنے لگتا۔
دانتوں پہ دانت جمائے سانس تک روک لیتی کہ من کی آواز سنے۔ جبڑے دُکھنے لگتے، سانس بند ہونے لگتی مگر کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔
سکھیاں سہیلیاں کیا کہہ رہی ہیں کس بات پہ دبے دبے قہقہے تھر کی کُھلی فضا میں گونجتے ہیں وہ بس گُم صم سی ان کی شکلیں دیکھنے لگتی۔
چُنری کا گھونگھٹ اور گہرا کرتی۔ مٹکا بھر کے سر پہ رکھتی اور ریت میں قدم دھنسا کر آہستہ آہستہ چلنے لگتی۔
یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا۔
کچھ روز پہلے ابا نے ساتھ کے گاؤں کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ اردگرد کے گاؤں میں بچوں کی اموات کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ سارے تھر میں پھیل رہا ہے۔ ایک تنظیم کسی بڑے شہر سے آئی ہے اور انہوں نے ساتھ والے گاؤں کے قریب ایک کیمپ لگایا ہے۔ وہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر سانول مراد بھی ہے جو بہت تسلی سے بچوں کو دیکھتا اور انہیں دوا دیتا ہے۔ آرام نہ آنے کی صورت میں بچوں کو علاج کے لئے وہ ڈاکٹر اور اس کی تنظیم بڑے شہر کے ہسپتال لے جاتی ہے۔
بھائی کا بیٹا بیمار ہوا تو اسے بھی ڈاکٹر سانول کے کیمپ میں لے جایا گیا۔ کچھ روز کے بعد جب وہ صحتیاب ہو کر گھر آیا تو اٹھتے بیٹھتے سب کی زبان پہ ایک ہی نام تھا ڈاکٹر سانول مراد۔
داکٹر سانول مراد ایسا خوبرو جوان ہے۔ ڈاکٹر سانول مراد ایسے محبت سے بچوں کو دیکھتا ہے۔
ڈاکٹر سانول مراد ایسے پہنتا ایسے باتیں کرتا ہے۔۔۔۔
سُکھاں چپ چاپ سر نہوڑائے ڈاکٹر سانول مراد کا سراپا من ہی من میں مجسم کرتی رہتی۔
کنویں پہ لڑکیاں ایک دوسرے کو ڈاکٹر سانول مراد کا نام لے لے کر چھیڑنے لگیں تو جانے اسے کیوں حسد سا محسوس ہونے لگا۔
اسے لگتا ڈاکٹر سانول مراد صرف اسی کے خوابوں کا جوان ہے۔
ڈاکٹر سانول مراد سے اس کے خوابوں کے جوان، سانول تک پہنچانے میں جہاں اس کے اردگردکی عورتوں اور لڑکیوں کا قصور تھا اس سے کہیں زیادہ اس کی اپنی چڑھتی ندی جیسی عمر بھی خطاکار تھی۔
کب چال میں ٹھمریاں جاگیں اور کلائیوں میں مرداروں کی ہڈیوں سے بنی سفید چوڑیاں بجنے لگیں وہ سمجھ نہ پاتی اورخود بھی سب کے ساتھ حیران اور بولائی پھرتی۔
اماں کے ساتھ مویشیوں کو ہانکتے، لکڑیاں چُنتے، گج میں شیشے ٹانکتے جانے کب وہ ان ہاتھ سے بنائے گج کے شیشوں میں اپنا عکس دیکھ کر مسکرانے لگی۔
ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی کہ وہ سمجھ پاتی۔
اب تو وہ اسے سنائی بھی دینے لگا تھا اور دکھائی بھی۔
جانے کس شہر کا باسی تھااور کہاں سے آیا تھا وہ مارے حیا کے، کسی سے پوچھ تک نہ پاتی۔
آٹا گوندھتے روٹیاں پکاتے وہ مسلسل مسکراتی رہتی اور گھونگھٹ کو اور لمبا کھینچ لیتی۔
وہ ادھر ہی اس کے پاس پیڑھی کھینچ کے بیٹھ جاتا اور اس سے میٹھی میٹھی سرگوشیاں کرتا۔
پانی بھرتے ہوئے وہ اس کے قریب آتا اور سرگوشیوں میں ایسا کچھ کہہ دیتا کہ وہ سارا وقت لجاتی اور سمٹتی رہتی۔
جڑی بوٹیاں توڑنے جاتی تو وہ وہاں بھی پہنچ جاتا۔ اس کی خوشبو ان جنگلی بوٹیوں کی مہک کے باوجود پہچان لیتی۔
میٹھی اورمن اندر مدھ جگانے والی ایسی خوشبو جس نے اسے چودہ سال کی کم سنی میں ایک دم جوان عورت کا روپ دے دیا تھا۔
قحط بھرے وقت میں جب سب کا روپ اور حُسن کُملا گیا تھا اور لڑکیوں کے منحنی وجود سُکڑنا شروع ہوگئے تھے ایسے میں وہ بھر پور انگڑائی لے کر پُر زور شباب کو چولی کے اندر قابو نہ کر پا رہی تھی۔
چولی کیا تنگ ہوئی کہ چُنری کا گھونگھٹ بھی اسے چھپانے میں ناکام نظر آنے لگا۔
ماں نے اسے مسکراتے، لجاتے اور خود سے باتیں کرتے دیکھا تو جھٹ دو چار صلواتیں سنا ڈالیں اور گھر کے مردوں کے سامنے بیر بہوٹی بننے کے سارے ازبر گُر اسے چوٹی سے پکڑ
کے سکھانے لگی۔
بھابھی تو جیسے بے ہوش ہوتے ہوتے بچی کہ وہ اتنی دیر سے گج میں شیشے ٹانکتے ہوئے کس سے باتیں کر رہی ہے اور کس کی باتوں پہ زور زور سے کھلکھلا کے ہنس رہی ہے۔ اردگرد دور تک گہری مشکوک نگاہ سے تاڑنے کے بوجود جب کوئی نظر نہ آیا تو گھبرا کر ساتھ والے گھر اپنی سہیلی کے پاس جا کر داستان کو مرچ مصالحہ لگا کر سنانے لگی۔
وہ تو خود کسی اور جہان میں تھی ماں کے غیض وغضب بھرے چہرے پہ اسے بس لب ہلتے نظر آتے
بھابھی کی مشکوک نگاہوں پہ تو اسے ہنسی آنے لگتی۔
سب گونگے بہرے لگنے لگے کیونکہ ایک منٹھار سی سرگوشی اس کے من اور تن کا احاطہ کئے رکھتی۔ وہ کسی وقت ذرا سا دور ہوتا تو بھٹائی کی وائی اور سچل سر مست کے اشعار سنائی دینے لگتے۔
صبح طلوع فجر سے پہلے اٹھ کر چکی پیسنے اور جانوروں کو چارہ ڈال کر ان کا دودھ دوہنے تک وہ اس کے آگے پیچھے ہنستا، باتیں کرتا رہتا۔
ویرو کی شادی پہ اس نے یوں لہک لہک کر گیت گائے کہ سب حیرت زدہ سے اسے دیکھتے رہ گئے۔
اور جھک کر گول گول دائرے میں رقص کرتے وہ اس کی بلائیں لیتا رہا اور وہ یوں گھومی جیسے سارے تھر کو انگلیوں کی پوروں پہ گھما نے کا عزم کئے بیٹھی ہو۔
سہیلیاں اسے ٹہوکے دے کر چھیڑتیں تو وہ گلنار سی ہنس ہنس کر دوہری ہونے لگتی۔
ماں اور بھابھی کی طرح گھر میں مردوں کے حصے کے بھی کام کرتی اور بھائی کو مُرغ اور بکرے لڑانے کے لیے تیاریاں کرتے دیکھتی تو آگ بگولہ ہو جاتی۔
” میرا سانول تو ایسا نہیں ہے۔ میرے ہر کام میں میرے ساتھ ہاتھ بٹاتا ہے۔ وہ جُمن، سارنگ، رامن سب سے زیادہ مختلف ہے اور سوہنا جوان بھی۔”
وہ اتراتی ہوئی انہیں گھور کر یوں دیکھنے لگتی جیسے وہ سب کیڑے مکوڑے ہوں۔
چارہ سر پہ اٹھائے باہر سے آئی تو بھائی کو مرغ کو مکھن کھلاتے دیکھ کر اس پہ پل پڑی۔
” یہ تُو کیا ہر وقت بے کار کی چیزوں میں پڑا رہتا ہے تیری بیوی، ماں اور بہن سارا دن کام میں جُتی رہتی ہیں اور تُو یہاں بیٹھ کر مرغ کو مکھن کھلا رہا ہے۔ بیوی تیری چوتھا بچہ جننے والی ہے اسے کھانے کو خشک روٹی مشکل سے ملتی ہے اور تُو یہاں میلے ملاکھڑے کے لیے مرغ کو مکھن کے نوالے کھلا کر تیار کر رہا ہے۔ ”
وہ بھائی کے ساتھ بیٹھے جمن اور شناور کو بھی ماتھے پہ سو بل ڈال کر غصے سے دیکھنے لگی۔
” چل ری۔۔۔ دو ہتڑ لگاؤں گا۔ میرے سامنے ایک لفظ نہ بولنا۔
اورہم مردوں کی یہ شان نہیں کہ گھر کے کام کریں تم عورتیں کس لیے ہو۔ اور بھرجائی تیری کو چوتھا بچہ جنوا رہا ہوں تو یہ بھی تو میری مردانگی ہے
“۔ وہ آخری جملہ آہستہ سے کہہ کر جُمن اور شناور کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیا تو سُکھاں کے تو مانو تلووں میں لگی اور سر پہ جا بجھی۔ ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا لے کر اس کی طرف لپکی
” آ تیری مردانگی بتاؤں۔۔۔ ”
جمن نے اسے بھائی کی طرف بھاگتے دیکھ کر اسے پیچھے سے جا لیا۔ نرم نرم گداز بدن میں انگلیاں دھنس کر رہ گئیں
” تُو تو چھوڑ۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ناکارہ۔ ” وہ اس سے اپنا آپ پوری طاقت سے چھڑانے لگی مگر جمن کی بانہوں کا گھیرا بہت مضبوط تھا۔
” تم سب ایک سے ناکارہ۔ اور ایک وہ سانول ہے۔۔۔۔ ”
” اے ری کون سانول ؟۔۔۔۔ ” وہ اسے چھوڑ کر سینہ تان کر سامنے کھڑا ہوگیا
” جا جا تیرا کوئی کام نہیں۔ اور میرے منہ نہ لگنا اسی ڈنڈے سے تیرا پنجرچُورا بنا کے پھانک جاؤنگی ”
وہ اس وحشی عورت کی طاقت سے ایسا دم بخود ہوا کہ اسے گرا کر اپنی طاقت آزمانے کے خواب دیکھنے لگا۔
” بڑا آیا پوچھنے کہ سانول کون ہے۔ ”
وہ گدرے جسم پہ چبھے اس کے ناخنوں سے خون بھری خراشیں دیکھ کر نتھنے پھلائے سو سو بل کھاتی رہی۔
” تُو ہے سہی اس کا مقابلہ کرنے والا۔ اور تُو کیا پورے تھر کی زمین پہ
اس جیسا چھورا کوئی نہیں۔ ”
۔۔۔۔ وہ خود سے جانے کتنی دیر ہمکلام رہی۔ سانول اس کی خون بھری خراشوں کو بوسے دیتا رہا اور بند دروازے سے کھلکھلانے کی آواز باہر آتی رہی۔ بچے کو کھانا کھلاتی بھابھی کے ہاتھ خوف سے کانپتے رہے اور ماں ایک سوچ بھری نگاہ سے دروازے کو گھورتی رہی۔
اکیلی جھومتی، گاتی اور اکیلی ہی باتیں کرنے لگی تو تھر کی عورتیں انگلیاں دانتوں تلے چبانے لگیں۔
ماں نے ابا سے مشورہ کر کے اپنے بھائی کے بیٹے جمن سے اس کی پدھری (بات پکی) کر دی۔
ماموں نے بیٹے کے لئے سنگ ہی نہیں مانگا بیاہ کی تاریخ بھی رکھ دی۔
وہ جمن کی ساری چالیں سمجھتی تھی۔ مگر کیا کرسکتی تھی۔
اس روز اسے لگا جیسے سانول روٹھ گیا ہو وصال کی وائیں لبوں کے اندر دم توڑنے لگیں۔ اور ہجر کے آنسوؤں سے بھری آواز ریت کے ٹیلوں میں یوں سرسرانے لگتی جیسے اس کی آواز نہیں ریت میں سرسراتی بلائیں ہوں۔
جُمن کی دولہن کے روپ میں سانول کی طلب نے اور بھی بیقرار کر ڈالا۔
عشق کی اڑان تو تلور طیور سے بھی تیز نکلی۔
جسم نے عشق کا بوجھ اٹھانے سے بے بسی ظاہر کی تو روح تھر کے ریگستانوں میں، صحراؤں میں ببول کے درختوں کی ٹہنیوں پہ ننگے پاؤں بھاگتی لہولہان ہونے لگی۔
کلائی میں بندھے دھاگے کو کلائی کے چوگرد پھیرتی صرف ایک ہی جملہ دہراتی رہی۔ ‘ تمہاری ہوں سانول’
عشق کی طلب، بھٹکتے ہوئے پنکھوؤں کی طرح اس کے من منڈیر پہ منڈلانے لگی۔
ایک خوشبو کا جھونکا آیا اور وصل کی سرگوشیاں کرتا اس کی بلائیں لینے لگا۔
وہ سہاگ کی پہلی رات تھی اور وہ بندِ قبا کھولے اسانول کے سامنے تھی۔ وہ اس کی قبا کے اندر وجود میں اتر کرپنکھ بن کر اڑنے لگا۔ وصل کی بارش نے پر بھگوئے تو وہ بھاری بھیگے پروں سمیت وہیں کہیں اس کے اندرہی بیٹھ گیا اور اڑنا بھول گیا۔
سرگوشیوں میں جمن نے اپنے نام کی بجائے سانول کا نام سنا تو ایک دم الگ ہو کر دور جا کھڑا ہوا۔
“کون ہے ری یہ سانول۔۔۔۔” وہ غصے سے پوچھتا رہا اور وہ انجان بنی آنکھوں پہ بازو دھرے نیم خوابیدہ سی خاموش لیٹی رہی۔
رات کے کسی پہر اس کے بدن کی حدت جمن کوایسی تپش دینے لگی کہ اس نے خود کو بہتیرا روکا مگر اسے لگتا اس کا غصہ اس کے سوا نکل نہیں سکتا۔
ہر رات ہی وہ پہلے سے بڑھ کر اس کا جسم روئی کی طرح دھنکنے لگا۔
کاہل مرد تھا۔ چھپڑ ہوٹلوں پہ فحش فلمیں دیکھتا اور ہر بار نت نئے طریقوں سے اس کا جسم جھنجھوڑ کے رکھ دیتا۔ اسے اذیت دیتا۔
ہمرچو اور ملہار گاتے طالب و مطلوب کے درمیان ہجر آن کھڑا ہوا۔ تھر باسیوں نے دیکھا کہ کارونجھر کے پہاڑاسے پکارتے تھے اور وہ عشق کی آتش سے راکھ ہوتی اُدھر دوڑنے لگتی۔
نہ سمجھ تھی نہ خبر۔۔۔۔۔۔۔ راز رکھنا یا راز ہونا کیا ہوتا ہے وہ بے خبر ان باریکیوں کو جانتی ہوتی تو یوں من موہنی رانی بنی، سات سنگھار کر کے کہیں دور چھوٹے ٹیلے کے پار جاتی بھلا؟۔۔۔۔۔
سونے جیسی ریت پہ بھاری اور تھکے قدموں سے واپس آتی تو چونرے (ہٹ نما گھر) کی دیوار سے کان لگائے تھر کی عورتیں غضبناک نگاہوں سے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتیں۔
مگر اسے کب کسی کی پرواہ تھی۔ انجانی راہیں اور اس پہ عمر کا پندرہواں سال۔ اس پہ عشق کی آتش ایسی کہ بڑوں بڑوں کو منہ کے بل گرا کر جلا دے، راکھ کر ڈالے اور پھر راکھ کو بھی ہواؤں میں اڑا دے، فنا کر ڈالے۔
جمن کمرے میں آتا تو اس کی دبی دبی سرگوشیاں سن کر مونچھیں مروڑتا۔ اس کو ساری رات روئی جیسا دھنکتا، وہ جتنی طاقت خود کو چھڑانے میں لگاتی اس سےزیادہ اس کی مردانگی کو ہاتھ پڑتا اور اسے تھر کی ریت جیسا پیس ڈالنے کے سارے ہنر آزما ڈالتا۔
وہ سارا دن اس کے گھر والوں اور مویشیوں کی چُپ چاپ دیکھ بھال میں لگی رہتی۔
اور وہ مرغ بغل میں دبائے میلوں ملاکھڑوں میں اپنا مرغ لڑانے کے لئے گاؤں کے دوسرے جوانوں کی طرح سارا سارا دن مارا مارا پھرتا۔
من مٹی کے تھیلے میں قید بلکتا، کراہتا۔ وہ ٹیلے کی طرف لپکتی۔ ریت پاؤں کے تلوے چاٹتی اور جُمن ٹیلے کے سارے رستے بند کئے اس پہ کسی کتے کی طرح غرانے لگتا۔
ماں بننے کی خبر سن کر اماں اس کے لیے بھوگاڑو بنا لائی۔ بسری پکائی تل کے لڈو بانٹے اور دبا دبا غصہ نکالتی بار بار ایک ہی جملہ دوہراتی رہی
‘ لوئی لج کی پرواہ کر۔۔۔۔۔ ری’۔۔۔۔
لوئی لج کی پرواہ کسے یاد تھی وہ تو صحراؤں کی ریت کا بگولہ بنی کبھی یہاں ہوتی تو کبھی وہاں۔
جمن کی جب تک جسم تک رسائی رہی خاموش رہا اور جی بھر کے اس کے جسم کو روئی کی مانند دُھنکا مگر کب تک ؟۔۔۔۔
جب وہ تن کر کھڑی ہوئی کہ اب اسے تکلیف ہوتی ہےتو بالوں سے پکڑ گھسیٹتا ہوا اس کے باپ اور بھائی کے قدموں میں جا پھینکا
” بہت برداشت کر لیا۔ اس سے زیادہ بے غیرت نہیں ہو سکتا۔ تیری بیٹی کسی کے ساتھ
چھوٹے ٹیلے پہ منہ کالا کرتی ہے”۔۔۔۔
اماں سر پکڑ کے بیٹھ گئی، باپ اور بھائی کی نگاہیں برچھیاں بن کراس کے وجود کے آر پار ہوئیں، بھرجائی نے طعنوں کی زد میں آ لیا۔
جسم اپنے اندر پلتے نئے وجود کے بوجھ سے گریزاں۔ ناتوانی اور آٹھ ماہ کا تشدد الگ۔
اور اس پہ ہجر کا طوفان۔
مصیبتوں اور آزمائشوں کا سورج سوانیزے پہ آکے دہکنے لگا۔
پہرے سخت ہوئے اورٹیلے پہ جا کر دن رات سب کسی کو ڈھونڈتے رہے۔ مگر نہ ملنے والا کسی کو نہ ملا۔
جُمن اور اس کے سسرال والے بات جرگے تک لے گئے۔
جمن کسی اور نئی نویلی کلی کو مسلنے کا شوق پورا کرنا چاہتا تھا اور سسرال والے اس کے کردار پہ گاؤں والوں کی اٹھی انگلیوں کے نیچے دب گئے۔
جب اسے مجرموں کی طرح جرگے کے میدان میں لے جایا جا رہا تھا توپھولے ہوئے پیٹ کے ساتھ اس کا چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔
اس کا دل تو محبت کا استعارہ تھا اور وہاں بھٹائی کی وائی اور سچل سر مست کے نغمے پھوٹتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کب جانتی تھی کہ اس راہ میں کڑی آزمائشیں ہیں۔ اور جو جانتی بھی تو کیا خود کو روک پاتی؟۔۔۔۔
عورتیں اس کا تماشا دیکھنے میدان کی طرف بھاگیں۔ بھاگ بھری، بھیلنی اور ویرو سب کی گواہیاں ہوئیں کہ کب کب انہوں نے اسے سانول سے ملنے جاتے دیکھا
وہ خاموش رہی۔
اسے تو خود یہ سفر روز اول سے اب تک حیران کرنے والا لگا تھا۔
جانے سانول کون تھا کہاں سے آیا تھا۔۔۔
تھا بھی کہ نہیں۔۔۔ تو کیا من مندر کی مورت ہی تھا سانول۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زور زور سے رونے لگی
سانول۔۔۔ سانول
وہ پوری قوت سے بند لبوں سے سانول کو پکار رہی تھی اس یقین کے ساتھ کہ ابھی ٹیلے کے پیچھے سے سانول آجائے گا۔ مگر سب کے ساتھ اس کی نگاہیں بھی مایوس لوٹ آئیں
وہ تو بس ایک ہیولہ تھا۔۔۔۔ محض ایک خوابیدہ تصور۔۔۔۔۔۔
وہ نڈھال ہو کر درد سے تڑپنے لگی
جانے دل کا درد تھا یا جسم کا۔ وہ سراپا درد بنی کراہ رہی تھی۔
حقیقت جان لیوا تھی۔ اسے یوں لگنے لگا جیسے سب نے مل کر اس کا سانول مار ڈالا ہو۔
باگڑی، بھیل، کولہی مردوں سے میدان بھرا تھا چہ میگوئیاں عروج پہ تھیں۔
سب یوں اکٹھے تھے جیسے میلے ملاکھڑے میں مرغ لڑتے دیکھنے آئے ہوں۔
وہ تو ابھی پوری طرح سانول کو بھی رو نہ پائی تھی جب اس نے سنا۔
جرگے کا سردار دوسرے پنچائتیوں کا اور اپنا متفقہ فیصلہ سنا رہا تھا
“ایسی بد چلن لڑکی کو کاری کرنے کا حکم دیا جاتا ہے “۔۔۔۔۔۔ !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭اماں ھُو مونکھے کاری کرے ماریندا
(اماں وہ مجھے کاری کر کے مار دیں گے)

Categories
نان فکشن

خالدہ حسین کے افسانے”ابنِ آدم” کا تاثراتی جائزہ

[blockquote style=”3″]

شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “کہانی میرے دور کی” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

ایک سوال پچھلے کچھ عرصے سے مستقل پوچھا جانے لگا ہے کہ نیا فکشن کیا ہے؟ یوں تو اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے کہ کسی بھی زمانے میں لکھا گیا اس زمانے سے جڑا ہوا فکشن اس زمانے کا نیا فکشن کہلاتا ہے۔ جیسے تقسیم اور فسادات کے زمانے میں لکھا گیا فکشن جو تقسیم اور فسادات سے جڑے موضوعات،اس وقت کے مصنفین کی ذہنی حالت اور اس زمانے کے سماجی و معاشرتی حالات کا آئنہ دار تھا وہی اس زمانے کا نیا فکشن تھا۔ آج کے سماجی اور معاشرتی حالات یکسر مختلف ہیں اس لیے آج کے نئے فکشن کو سمجھنے کے لیے آج کے عالمی منظر نامے اور فکشن نگار کے علاقائی منظر نامے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے 11/9 کے بعد ایک اصطلاح سامنے آتی ہے دہشت گردی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے عالمی منظرنامے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پورے عالمی سیاسی اور سماجی نظام کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیتی ہے جس سے عالمی ادبی منظرنامہ بھی یکسر بدل کر رہ جاتا ہے۔ جہاں مغرب کا ادیب نئے حسی تجربات سے کشید کیے گئے خارجی و داخلی احساس کو نئے تخلیقی جوہر میں پرو کر نئے سماج کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتا دکھائی دیتا ہے وہاں اردو ادب سے وابسطہ پاک و ہند کے ادیب بھی نئی ادبی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔

پچھلے سترہ اٹھرہ سالوں میں دہشت گردی کے نام پر مسلط کی گئی جنگیں انسانیت کے لیے ایک گھمبیر مسئلہ رہی ہیں اور ان سے متعلقہ موضو عات پر ہر خطے کے ادیب نے قلم اٹھایا اور اپنا احتجاج قلم بند کروایا ہے اردو ادب میں بھی تقریباً ہرکہانی کار نے ان جنگوں سے متعلقہ موضوعات کو اپنا مشق ِ سخن بنایا ہے۔ ویسے تو ہر خطے کے قلم کاروں پر ان جنگوں کے اثرات بالواسطہ یا بلا واسطہ پڑے ہیں لیکن پاکستان کا ادب اور ادیب براہ ِ راست ان سے متاثر ہوا ہے کیوں کہ عراق اور افغان جنگ کے بعد دہشت گردی کا جیسے سیلاب ہی ہمارے ملک میں امڈ آیا ہے جس نے انفرادی اور اجتماعی قومی سوچ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کسی بھی علاقے کے ادب میں آنے والے بدلاؤ کو سمجھنے کے لیے اس علاقے کے ادب کو پڑھنا اور باریکی سے اس کا تجزیہ کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے ویسے تو یہ کام اُس ادب کے ناقدین کا ہے اور یہ انہیں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آج کے اردو ادب کا موازنہ عالمی ادب کے ساتھ پیش کریں اور تجزیات کے ذریعے ثابت کریں کہ اردو ادب اور خاص طور پر اردو فکشن آج کہاں کھڑا ہے۔

میں ایک عام قاری کی حیثیت سے کوئی تنقیدی مقالہ تو پیش نہیں کر سکتا لیکن یہ دعویٰ ضرور کر سکتا ہوں کہ ہمارا آج کا فکشن کسی بھی طرح نئے عالمی فکشن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بس معاملہ اتنا سا ہے کہ اردو ادب کو دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں کیا جا رہا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دوسری زبانوں کے ادب کو اردو زبان میں ترجمہ کرنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔ انفرادی سطح پر تو احباب کچھ کام کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اس کام کے لیے سرکاری سطح پر نہ تو پاک میں اور نہ ہی ہند میں اقدامات کیے گئے ہیں۔

اب اگر مجھ سے کوئی کہے کہ اپنے دعوے کے ثبوت میں دلیل لاؤں تو میں اپنی دلیل کے لیے محترمہ خالدہ حسین کا افسانہ “ابنِ آدم” پیش کروں گا۔
(یوں تو یہاں میں بہت سے افسانوں کا ذکر کر سکتا ہوں جو میں آئندہ بہت سے افسانوں کے تاثراتی جائزوں میں کرتا بھی رہوں گا )

گو “ابنِ آدم ” امریکہ عراق جنگ کے تناظر میں لکھی گئی کہانی لگتی ہے لیکن مصنفہ نے اپنے کمالِ فن سے اسے ایسی آفاقیت عطا کر دی ہے کہ یہ کسی ایک فرد، کسی ایک خطے،کسی ایک ملک،یا کسی ایک براعظم کی کہانی نہیں رہی بلکہ یہ کل انسانیت اورکلی دنیا کی کہانی بن گئی ہے۔

افسانہ پُر اسرار انداز میں شروع ہوتا ہے اور قاری کو پہلی سطر سے ہی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے بالکل مکڑی کے جال جیسی گرفت جس میں قاری ہر آن تڑپتا پھڑکتا تو ہے لیکن اس گرفت سے آزاد ہونا اس کے بس میں نہیں رہتا۔ خالدہ حسین اپنے چھوٹے چھوٹے حسی تجربات سے کشید کیے گئے شدید احساسات کو اپنی کہانیوں میں یوں پرو دیتی ہیں کہ پڑھتے ہوئے قاری کو وہ اپنے ہی حسی تجربے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ تیزی سے گزرتے وقت میں پے در پے رو نما ہوتے حالات و واقعات سے پیدا ہونے والی یقین و بے یقینی کی کیفیت کو جس چابکدستی سے کہانی میں گوندھا گیا ہے پڑھ کر طبیعت عش عش کر اٹھتی ہے۔۔۔

“ہیلی کاپٹر کا جسیم پنکھا ابھی بند نہیں ہوا تھا اور چاروں سمت ریت اڑ رہی تھی اور شاید اس پنکھے کے بند ہونے کا کوئی ارادہ بھی نہ تھا۔ مگر نہیں، ہوسکتا ہے یہ رک چکا ہو اور وہ اسے چلتا ہوا دیکھ رہا ہو کیوں کہ اب واقعات مسلسل ہوتے رہتے تھے۔ جیسے آنکھ پر کسی شے کی منفی تصویر بہت دیر تک جمی رہ جائے۔”

بظاہر یہ کہانی ایک جہادی تنظیم کے گرفتار کیے گئے چند مجاہدوں کے گرد گھومتی ہے لیکن پس ِ متن قابض فوج اور اسکے پر آشوب رویے کا پردہ چاک کرتی چلی جاتی ہے۔ اس فوج کے اس علاقے میں ہونے اور اس کے پیچھے محر ک سوچ کو سمجھنے کے لیے صرف ایک جملہ کافی ہے جسے مصنفہ نے بڑی ہی سہولت سے کہانی میں جڑ دیا ہے اپنے احساسات پر لگنے والی اس کاری ضرب کو قاری اپنی روح تک محسوس کیے بنا نہیں رہ پاتا۔
“آخر یہاں پر ایسا کیا مسئلہ پیش آ گیا ہے”؟ ماہر نے سکریٹ منہ میں دبائے دبائے کہا۔”ہم اس کمبخت نحوست مارے ریگستان میں اس لیےتو خوار نہیں ہو رہے کہ یہ حشرات الارض ہمیں پاگل کر دیں۔ کچھ ہے کوئی بڑی پُر اسرار شیطانی قوت جو ان کے اندر مرتی ہی نہیں۔ ہم جو خواب دیکھتے ہیں نا کہ آدمی مر کے بھی نہیں مرتا، چند ثانیے مرنے کے بعد پھر اچھا بھلا اٹھ بیٹھتا ہے اور گلا دبانے کو ہمارا پیچھا کرتا ہے تو یہ اس ریگستان کا نائٹ میئر ہے”۔

یعنی وہ فوج جس زمین پر قابض ہے اس میں بسنے والے اس کے لیے حشرات الارض ہیں یہی وہ سوچ ہے جو ان بڑی عالمی قوتوں کے ذہن میں پنپ رہی ہے جس کے زیرے اثر بڑی عالمی قوتویں اپنے زیرِ تسلط آ جانے والوں کو انسان ہی نہیں سمجھتیں اگر دیکھا جائے تو حقیقتاً یہ عراق پر امریکہ کی بہیمانہ جنگی جارحیت تھی جس نے ایک پوری قوم اور اس کے تشخص کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا خالدہ حسین نے جنگ سے پیدا ہونے والے انسانی المیے کو افسانے کا موضوع بنایا ہے اور سماجی اور معاشرتی سطح پر جنگی جبر سے پیدا ہونے والی صورت ِ حال سے انسانوں کی زندگیوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ کو جس خوبی سے کرداروں کا روپ دیا ہے اس کی داد کے لیے میرے الفاظ کم ہیں کرداروں کی تحلیل ِ نفسی کی جائے تو مختلف کرداروں پر اس جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کے اثرات کا مختلف ہونا بعید از قیاس نہیں آئیے یہ حالات کرداروں پر کیا کیا اثر ڈالتے ہیں اور ان کے رویوں میں کیا کیا تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں ان کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ امین کا کردار معاشرے میں لالچی، خود غرض دنیاوی ذلت بھری زندگی کو انسانی خودی پر فوقیت دینے والے انسانوں کا نمائندہ ہے جو اپنی نام نہاد محبت میں ناکامی اپنی سہل پسند طبیعت،اپنی حرص و ہوس اور اپنی جینے کی بےکار سی خواہش کے زیر ِ اثر دشمنوں سے مل جانے اور اپنوں کے خلاف کام کرنے اور دشمنوں کے آلہ ء کار بنے کو درست سمجھتا ہے اور اس کے لیے بھونڈے جواز خود ہی گھڑتا چلا جاتا ہے ایسے کردار عام زندگی میں بھی ہر معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔۔۔

“ابو حمزہ!مجھے تم پر حیرت ہوتی ہے۔ اس قدر توہم پرست ہو۔ ڈاکٹر ہو کر بھی تم ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہو۔یہ کچھ بھی نہیں۔ ساری دنیا معصوم لوگوں کے خون سے لبریز ہے۔ انسانی تاریخ ہے ہی یہی کچھ۔کس کس نے بد دعا نہ دی ہو گی اور یہ دعا بد دعا آخر ہے ہی کیا؟”

“مگر ضروری نہیں، موت ضروری نہیں،ہر گز نہیں۔ زندہ رہنا زیادہ قرینِ قیاس ہے زیادہ فطری ہے۔ اس کے اندر کسی نے کہا تھا اور وہ بے حد شرمندہ ہو گیا تھا۔ اس نے پھر سوچا، یہ بزدلی اس میں کب اور کس طرح پیدا ہو گئی۔ شاید یہ موروثی ہے۔”

کیا بھونڈا جواز ہےیہ صرف جینے کی خواہش کی تکمیل کے لیے۔ اور جینا بھی کیا صرف جسمانی آسائش اور بھیک کے چند نوالے امین کے لیے درد اور تکلیف کے معنی بدل ڈالتے ہیں

“وہ لمحہ عجیب تھا۔یقیناً کھال کا ادھڑنا، ناخن کا اکھڑنااور نازک مقامات کوکچلا جانا بہت غیر ضروری ہے۔یقینا! تر و تازہ روٹی اور جسم کی آسائش بہت ضروری ہے۔ سب سے ضروری۔”

اس کی یہی سوچ اسے ذلت بھری زندگی کی کھائی میں اتار دیتی ہے جہاں زندگی کا آفاقی تصور کچھ نہیں رہتا زندگی سے جڑے سارے حقیقی تصورات ایک انسان کے لیے محض تصور ہی رہ جاتے ہیں۔

” جبریل الامین، کتنا غلط نام تھا اس کا۔” یہ بھی اس نے سوچا، مگر امانت اور خیانت۔۔۔۔یہ بھی محض تصورات ہیں جب کہ جسم اور حواس اور ان کی آسودگی حقیقت۔”

خالدہ حسین نے انسانی نفسیات کے علم سے مکمل آگہی اور اپنے فنی تجربے سے اس کردار کو یوں گھڑا ہے کہ یہ ذلت بھری زندگی اور گھٹیا انسانی سوچ کی علامت بن گیا ہے۔۔۔جب کہ اس کے بر عکس ایک کردار لیلٰہ کا ہے ریاستی جنگی جبر اور اپنے معصوم لوگوں کے ساتھ کیا گیا الم ناک سلوک اس کی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہےاورحب الوطنی اور اپنوں کی خاطر جان نثاری کا جزبہ اس کے اندر ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔

” اس وقت لیلیٰ اپنی کمر کے گرد وہ بیلٹ باندھ رہی تھی۔ ’’مگر اس سے حاصل کیا ہو گا۔ تم خود اور کچھ وہ … اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کیسے اور کتنے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی دوسرے بے فائدہ قسم کے لوگ ہوں جو اس دھماکے کی لپیٹ میں آ جائیں اور سب سے بڑھ کر تمہاری بہن اور بابا کو اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا؟‘‘ اس نے لیلیٰ سے کہا تھا۔

’’ ان کو تو اب کسی بات سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ ‘‘ لیلیٰ نے جواب دیا تھا۔ ’’مجھے معلوم ہے اب سکینہ اگر زندہ ہے تو کس حال میں ہو گی اور میرا باپ…!‘‘ وہ خاموش ہو گئی۔

’’کیا تم چاہو گے کہ میرا بھی وہی حال ہو جو سکینہ کا ہوا؟‘‘
’’ نہیں نہیں !‘‘ اس نے فوراً کہا تھا اور پھر خود اٹھ کر اس کی ڈیوائس سیٹ کرنے لگا۔ لیلیٰ بالکل پرسکون تھی۔ اس نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ اس وقت اس میں ایک نرم گرماہٹ تھی۔ اس کی بھوری آنکھیں اور بھی گہری نظر آ رہی تھیں۔”

یہ تو خالدہ حسین کا ہی خاصہ ہے کہ ایک ہی افسانے میں زندگی کے بارے مختلف کرداروں کے مختلف نظریات کو یک جا کر کے پیش کیا ہے اور بین المتن ایسا معنیاتی نظام ترتیب دیا ہے جس نے اس فنپارے کو آفاقیت عطا کر دی ہے۔ایسے فنپارے بے شک کسی بھی زبان میں تخلیق کیے گئے ہوں وہ ہیں در اصل کل انسانی سماجی رویوں کے آئنہ دار اور نمائندہ۔ اور یہ افسانہ تو ہے ہی مثال کی حد تک خالدہ حسین کی فنی مہارت، مشاہدے اور علم کا عکاس جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

یوں تو اس افسانے کا ہرکردار ہی اپنی جگہ طویل بحث کا متقاضی ہے کہ ہر کردار میں خالدہ حسین کا تخلیقی عنصر اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے لیکن اس کہانی کا وہ متحرک کردار جس نے مجھے اس شکست و ریخت سے گزارا جس نے خالدہ حسین کو ایسا شاہکار کردار تخلیق کرنے پر مجبور کیا ہو گا۔ ابو حمزہ جو کسی صورت سماجی جنگی جبر کے آگے جھکتا نہیں جو ہر صورت ان استبدادی قوتوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرواتا ہے پھر چاہے وہ احتجاج موت کی ہی صورت کیوں نہ ہو۔جس شخص کے لیے زندگی خودی اور وضعداری کا نام ہے لیکن بصورت ِ دیگر موت، زندگی سے زیادہ اعلٰی و عرفہ شے بن جاتی ہے۔جنگی جبر اور سماجی ادھیڑ بُن ایک انسان کے اندر ایسی گھٹن اور حبس پیدا کردیتے ہیں کہ پھر اس کے لیے زندگی کے مقابلے میں موت بہتر انتخاب بن جاتی ہے۔ خالدہ حسین نے اسے جس خوبصورتی سے نقش کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل لگتا ہے۔۔۔۔

” ابو حمزہ اس روز اپنے آپ کو خودکش حملے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ لیلیٰ اور قدوس بھی وہیں تھے۔ وہ اس تباہ شدہ عمارت کی چھوٹی سی کوٹھری میں تھے جو ملبے میں گھری نظروں سے اوجھل تھی۔ اس روز وہ بڑی مشکل سے روٹی کے چند پھپھوندی لگے ٹکڑے کوڑے کے ڈھیر پر سے چن کر لایا تھا۔ وہاں سب اپنے اپنے ٹکڑے ٹھونگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیلیٰ کے رخسار پر ایک لمبا گہرا شگاف تھا۔ ایک بم دھماکے میں شیشے کا ٹکڑا پیوست ہو گیا تھا۔ ابو حمزہ نے اپنی ڈائی سیکشن کی چمٹی سے اسے نکالا تھا۔ لیلیٰ کے ہاتھ تکلیف کی شدت سے بالکل برف ہو رہے تھے اور پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اس روز اس کے باپ اور چھوٹی بہن ہنکا کر لے جائے گئے تھے۔ حالانکہ وہ سب در اصل ابوحمزہ اور لیلیٰ کی تلاش میں تھے۔ دہشت گردی کے نام پر محلے کے محلے زندانوں میں ٹھونس دیے گئے تھے۔ اس سے پہلے انہیں کب خبر تھی کہ زندان آبادیوں سے زیادہ بڑے ہیں۔ یوں بھی ان کے نزدیک جانے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔

ابو حمزہ نے پھپھوندی لگی روٹی کی ایک چٹکی منہ میں ڈالی اور اسے ابکائی آ گئی۔

’’ اس میں تمام بیکٹیریا بھرے ہیں۔ اس سے مرنے سے بہتر ہے کہ آدمی بہتر موت کا انتخاب کرے۔ ‘‘
“صدیوں سے قدرت یہ منصونہ بنا رہی تھی۔ صدیاں تو اس کی تقویم میں چند ایک ثانیوں سے زیادہ نہیں۔یہ زمین بے گناہوں کے خون سے سیراب ہوتی چلی آئی ہے۔ اس کو دی گئی بد دعا حرف ِ سچ ثابت ہو رہی ہے”

“میں بھی نہیں مانتا تھا مگر اس زمین کی ہوائیں بین کرتی ہیں اور کرتی چلی آئی ہیں۔ یہاں کی زمین سیال سونا اُگلتی رہے۔ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔فاقہ اور جبر یہاں کی نسلوں پر لباس کی طرح منڈھ دیے گئے ہیں۔ اس وقت میرا مسئلہ صرف اپنے حصے کا احتجاج ہے۔ایک بہتر موت کا انتخاب کر کے۔”

یہ کردار ہر دو صورتوں میں آفاقی معنویت کا حامل ہے جب یہ آزاد ہے اپنے فیصلے کرنے میں اور اپنے قول و فعل کے لیے کلی طور پر ذمہ دار ہے تب بھی یہ اخلاق کی بلند سطح پر نظر آتا ہے حالات کا جبر اور سماج کی بدلتی صورت اس کی آدمیت اور آفاقی سوچ کو مسخ نہیں کر پاتی۔

“امین !جبریل الامین۔” اس نے پرانے وقتوں کی طرح بڑے دُلار سے کہا،”لو ہماری تصویر بناؤ اور ہمارے بعد اسے میڈیا پر پہنچانا کہ ہم اس وقت کتنے خوش تھے۔”
اس کا صبر واستقلال اور استقامت اس وقت بھی دیدنی ہوتا ہے جب وہ دشمن کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور ظلم اور تذلیل کی شدید آگ سے گزار دیا جاتا ہے۔

“اس کے ہاتھ میں ایک موٹا پٹّاتھا اور پٹّا ایک متحرک وجود کے گلے میں تھا اور وہ وجود معلوم نہیں کون تھا۔آدمی یا سنگ، معلوم نہیں مگر وہ چار ہاتھوں پاؤں پر چلتا تھا۔ کتے سے بڑی جسامت، بالکل برہنہ۔اس کی برہنگی چوپائے کی مانند عیاں تھی”

“اس کا منہ تھوتھنی کی طرح سامنے اٹھا تھا اور جھاڑ داڑھی لٹکی تھی (کیا کتوں کی راڑھی ہوتی ہے؟ اس نے یاد کرنا چاہا)۔” فوجن زور زور سے پٹّے کو جھٹکا مارتی تھی اور چوپائے کی گردن گھوم گھوم جاتی تھی۔پھر وہ ایک زور دار ٹھڈا اپنے ایڑی دار فوجی بوٹوں کا اس کے پچھلے دھڑ پر رسید کرتی اور فاتحانہ نظروں سے مجمعے کی طرف دیکھ کر دوسرا ہاتھ لہراتی۔”

“اب ماہر، افسروں کی قطار سے نکل کر باہر آیا۔ اس نے فوجن کی طرف ہاتھ کی دو انگلیوں سے وی کا نشان بنایا اور نعرہ لگایا۔
“براوو۔۔۔۔جاری رکھو۔”فوجن اپنی تعریف پر اور بھی مستعد ہوگئی۔ پھر ماہر نے سب کی طرف فخریہ دیکھا اور پکارا اور وہ جس کے گلے میں پٹّا تھا، اس کی طرف اشارہ کیا۔ پھر اپنا بھاری بوٹ اس کی تھوتھنی پر رسید کیا۔

“سگ،سگ،کلب،کلب،بھوں،بھوں۔”اور آدھا ہنسا جب کہ ادھا خاموش رہا۔پھر ماہر نے اشارہ کیا اور بہت سے فوٹوگرافر دوڑے دوڑے آئے ہر طرح کے کیمروں سے لندے پھندے۔پھر دو فوجی بیچ میدان کے آئے اور انہوں نے اپنی پینٹوں کی زپیں کھولیں اور اس چوپائے پر اپنا مثانہ خالی کرنے لگے اور وہ چوپایا اس متعفن سیال کے نیچے چاروں ہاتھوں پاؤں پر کھڑا تلملانے لگا۔اپنا سر، منہ، آنکھیں بچانے کے لیے۔

تشدد،رسوائی اور ذلت کی اس بد ترین سطح پر لے آنے کے باوجود دشمن نہ تو اس سے کوئی راز ہی اگلوا پاتا ہے اور نہ اپنے لیے رحم اور زندگی کی بھیک ہی منگوا پاتا ہے یوں یہ کردا ر انسانی عزم و ہمت کی آفاقی علامت بن جاتا ہے۔اور افسانے کے پورے ڈسکورس کو ایک بڑے تخلیقی تجربے میں ڈھال دیتا ہے۔ جس کی داد آنے والے زمانے دیتے ہی رہیں گے۔

“آدمیت ختم کرنا بھی ایک ہنر ہے اور جب تک تم آسمیت ختم نہ کر دو گے،کمزور سے کمزور بھی تمھیں تنگ کرتا رہے گا۔تمہارا جینا حرام کردے گا،دیوانہ کر دے گا۔”

ماہر کی گفتگو ٹکڑوے ٹکڑوے اس تک پہنچ رہی تھی۔وہ باقیوں کو بتا رہا تھا کہ تفتیش اور راز اگلوانے سے پہلے اب لوگوں کو کنڈیشن کرنا ضروری ہے۔ اور اس کے لیے ان کی آدمیت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔دراصل آدمی میں خود آدمیت ہی سب سے بڑا فساد ہے۔اور اس نسل میں تو خاص طور پر۔”

یہ وہ سوچ ہے جس پر شدیدضرب لگاتا ہے یہ افسانہ۔خالدہ حسین یہ جملے فوجی کے منہ سے کہلواتی ہیں اور پھر پورے ڈسکورس کو اس سوچ کے بر خلاف یوں بنتی ہیں کہ افسانے کے اختتام پر قاری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہاں در حقیقت کس کی آدمیت ختم ہوئی ہے اور وہ اصلاً کُتا بن گیا ہے اور کون آدمیت کے اعلٰی ترین معیار پر قائم و دائم ہے بے شک ایسی تخلیقی کاریگری اور ہنرمندی سے ایسا شاہکار افسانہ تخلیق کرنا خود اپنی جگہ ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔میں محترمہ خالدہ حسین کے اس افسانے ” ابن ِ آدم” کو اکیسویں صدی میں لکھے گئے شاہکار افسانوں میں شمار کرتا ہوں اور اسے نئے فکشن کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہوں مصنفہ کے لیے مبارک باد کہ انہوں نے ایسا فن پارہ تخلیق کیا۔ میں اس فنپارے کو پڑھنے اس کے تخلیقی جوہر کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کرنے اور اس پر اپنے تاثرات پیش کرنے کو اپنا فخر سمجھتا ہوں۔

Categories
نان فکشن

منشایاد کا افسانہ اور سماجی معنویت

’’میرے اندر کھلبلی مچ گئی۔

عمر کے اس حصے میں، جب لطیف اور نازک جذبے سرد پڑ جاتے ہیں اور آدمی کے اندر کا بیل تھک کر تھان پر بیٹھا جگالی کر رہا ہوتا ہے۔ اسے ڈچکروں اور ٹھوکروں سے حرکت میں نہیں لایا جاسکتا۔ اسے ہلانے جلانے کے لیے تابڑ توڑ ڈنڈے برسانا پڑتے ہیں۔

اس کی موت کی خبر سن کرمجھے صدمہ ضرور ہوا جیسے بیٹھے بیٹھائے کسی نے ٹھوکر مار دی۔ میں چونکا اور پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔‘‘

صاحب ‘ منشایاد کی کہانی’’سارنگی‘‘ کایہ دلچسپ ٹکڑا عین تمہید میں آپ کواس لیے سنادیا ہے کہ مجھے تیزی سے بدلتے ہوئے سماج کے ساتھ جڑے رہنے کی شدید خواہش رکھنے والے منشایاد کا لگ بھگ اپنے ہر دوسرے افسانے میں ایک عجب دھج سے چونکنا لطف دیتا رہا ہے۔

اسے آگے کا سفر کرنا تھا مگر اُسے بار بار بیک مرر دیکھنا پڑتاتھا۔ یادرہے ’’بیک مرر ‘‘ اس کا ایک افسانہ ہے اورساتھ ہی ساتھ محبوب استعارہ بھی… وہ اس بیک مرر میں دیکھتاتھا ‘ بار بار دیکھتاتھا ‘عقب میں تیزی سے معدوم ہوتے منظرنامے کو بھی اور ونڈاسکرین میںسے تیر کی تیزی سے اپنی سمت بڑھتے نامانوس وقت کو بھی۔ جو کچھ جانا پہچاناہوتا وہ اس کے اندر بس جاتا اور جو سامنے ہوتا وہ اس دھرتی جیسا ہوجاتا ہے جسے بیل نے اپنے سینگوں پر اُٹھا رکھا ہے۔

ہم جو ماضی کے ساتھ ایک بامعنی رشتہ رکھنا چاہتے ہیں اور ارضیت کو اپنی سانسوں میں بسائے ہوئے ہیں‘ زمین سے چاہے جتنا اوپر اٹھ جائیں اپنے حصے کی مٹی اپنی مٹھی میں ضرور رکھتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ منشایاد کی مٹھی میں جو مٹی تھی وہ جگنو بن کر چمکتی تھی۔ ان سورجوں کی طرح جن کے مقابل آکر نئے عہد کی صارفیت زدہ مجہول حسیت کے چراغ منہ چھپانے لگتے ہیں۔

منشایاد کے افسانوں میں متشکل ہونے والے جس سماج کی میں بات کر رہاہوںاس میں خالص اور پاکیزہ رشتوں میں ایسے ایسے کردار ملتے ہیں جن کا تصور مادیت زدگی نے مشکل بنا دیا ہے اورایسی ایسی فضا ملتی ہے کہ جس کے اندر سے زندگی کی خوشبو کے جھرنے پھوٹ بہتے ہیں۔ مگر کون نہیں جانتا کہ ضرورت ‘ پیداواریت اور سرمائے کی افزودگی کی بنیادوں پر اُسارے جارہے نئے عہد کے شیش محل کے اندر اس خوشبو کاداخلہ ممنوع ہے۔

مگر… اُسے تو اِس خوشبو کے ساتھ ہی اس کانچ محل میں داخل ہوناتھا۔
اور منشایاد اس امتناع کو توڑنا چاہتاتھا۔
مجھے ’’سارنگی‘‘کا جملہ ایک بار پھر دہرانے دیجئے:
’’ میں چونکا اور پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔‘‘
تو یوں ہے کہ کہ منشایاد نے ہمت کرکے اور نیت باندھ کر کچھ افسانے تو اسی دھرتی کے بارے میں لکھے جو سینگوں پر بوجھ کی طرح جھول رہی ہے اور بہت سارے افسانے اس مٹی کے بارے میں لکھے ہیں جو خوشبو بن گئی۔ وہ خوشبوجس نے انسان کا وجود بامعنی بنا دیا ہے۔

میں اس دونوںقسم کے افسانوں کی سماجی معنویت کو بھی الگ الگ پہچان سکتا ہوں۔
ایک قسم کے افسانوں کے اندر آدمی اڑیل بیل کی طرح دکھایا گیاہے جسے اس کا مالک آگے کوکھنچتا ہے مگر بیل پیچھے کو زور لگاتا ہے حتی کہ مالک بپھر جاتا ہے۔ اس قبیل کے افسانوں کی ایک عمدہ مثال منشایاد کا ۸ اکتوبر کے سانحے کے حوالے سے لکھا گیا ’’ آگے خاموشی ہے ‘‘ کا نام پانے والاافسانہ ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ اس افسانے کا ماسٹر دین محمد اپنے طالب علموں سمیت ملبے کے اندر دب گیا تھا۔ اس کے شاگرد ایک ایک کرکے اس کے سامنے مرتے رہے اور وہ خود جرعہ جرعہ موت لنڈھاتے ہوئے بھی زندہ رہا۔ اور پھر یوں ہوا تھا کہ ہمارے نام نہاددانش وروں کی رکی ہوئی سوچ کے تعفن نے اسے تڑپایا اور ماردیاتھا۔اس کہانی میں منشایاد نے ماسٹر دین محمدکے ہاتھ میں اس کے مرنے سے پہلے جوتا تھمانا چاہا ہے کہ وہ اسے اُن دانش وروں کی سمت اُچھال سکے۔ اورسجھانے کا جتن کیا ہے کہ جمود زدہ متعفن سوچ رکھنے والوں کو جب تک چوٹ نہ لگے وہ اڑیل بیل کی طرح پیچھے ہی کو زور دیتے رہتے ہیں۔

اُس کا فیصلہ ہے کہ آگے نہ دیکھیں تو راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور پلٹ کر دیکھنا بھول جائے توشناخت گم ہو جاتی ہے۔

منشایاد کے افسانوں پربات کرتے ہوئے مجھے خواہش ہونے لگی ہے کہ اسی کی طرح چلتی ہوئی بات کی گاڑی کی ونڈاسکرین سے نظر اٹھا کر بیک مرر میں دیکھوں۔ تو یوں ہے کہ اس بار وہ اڑیل بیل نظر آگیا ہے جس کامالک اُسے آگے کھینچنے سے اُکتا گیا تھااور بپھر کراُس کے کولہوں پر چوٹ لگانا چاہتا تھا۔

دوسری قبیل کے افسانوں کی دنیا ہی کچھ اور ہے الگ سی مگر روح کو سرشار کرنے والی۔ان افسانوں میں فکری دائروںسے کہیں زیادہ زندگی کی تفہیم کی راہیں نکلتی ہیں۔ منشایادنے ’’شہر افسانہ‘‘ کی ابتدائی سطور میں لکھا ہے کہ ’’سائنسی علوم اورٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ انسان روز بروز مشین میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ ‘‘ مشین میں ڈھلتے مصروف آدمی کا جو ہیولا منشایاد نے بنایا ہے وہ آدمی اپنے بنجراپے سے بولایا ہوا ہے۔ تاہم جب جب وہ اسی گھٹن زدہ ماحول کے مقابل دیہی زندگی کے کشادہ ماحول کو لے کر آیاتو یوں لگا جیسے تاریکی کی لمبی سرنگ کے اندر سے روشنی کی چیخ جادو بنسری کے سر کی طرح برآمد ہوگئی ہے‘ یوں کہ تاریک سرنگ کا دوسرا کنارہ روشن ہو گیا ہے۔

میں اسی روشن کنارے پر منشایاد کے افسانے ’’اپنا گھر‘‘ کے میلے کچیلے مگر فرشتوں جیسے اس شخص کو دیکھتا ہوں جس کا دل اپنے بچوں سے ملنے کو چاہا تھاتو اس نے چارہ کاٹنا اور ہل چلانا وہیں موقوف کیا۔ بس پکڑی اور ملنے آگیا تھا۔

جسے میں نے تاریک غار سے شناخت کیا ہے منشایاد کے مرکزی کردار نے اس صورت حال کا نقشہ اسی افسانے کے آغاز میں یوں کھینچا ہے۔

’’ وہی ہر طرف مداریوں کی طرح چتر چالاک آدمی اور آسمان میں تھگلی لگانے والی تیرہ تالن عورتیں۔

منافقت سے اٹی ہوئی صورتیں …خود غرضی کے جالے …سازشوں کی مکڑیاں اور وہی ٹانگیں کھینچنے اور میرے اٹھنے بیٹھنے کی جگہوں پر مرغیوں کی طرح گندگی پھیلاتے احباب۔ وہی ہر روز ایک طرح سو کر اٹھنا اور وہی ستر ستر قدم پیچھے ہٹ کر ایک دوسری سے ٹکریں مارتی دیواریں۔

بھاگم بھاگ دفتر کے لیے تیار ہونا …وہی میز اور وہی ایک جیسا ناشتہ…وہی دفتر اور وہی انتظار میں بیٹھے ہوئے گدھوں کی طرح افسران بالا کی نظریں۔

وہی فائلیں اور وہی ایک جیسے قے کیے ہوئے لفظوں کے پیٹ بھرنا۔‘‘

تو صاحب !یہ منظر نامہ جو منشایاد نے دکھایا ہے اس نے نئے آدمی کے رنگ ڈھنگ اور چال ڈھال کے بے ڈھنگے پن کوننگا کر دیا ہے۔ آدمی اپنے تہذیبی آہنگ سے نکل چکا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے آدمی کا آدمی سے تعلق سماجی نہیں رہابازاری ہوگیا ہے۔ عقیدے دم توڑنے لگے ہیں‘ عقیدت اور احترام کے قرینے قریہ بدر ہوئے اور اقدار بدل گئی ہیں۔ حقیقت کے معنی اُلجھ گئے اور سچائیGray Areas کا رزق ہو گئی ہے۔ الفاظ ہیں‘ معنی عنقا ہیں۔ جملہ ہے مگر اس کے بطن میں مفہوم کا حمل ٹھہرتا ہی نہیں ہے۔ پریشان نظری ہے ‘ فکری انتشار ہے۔شمیم حنفی نے اسے آڈن کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ ’’بے چینی‘‘ کا عہد ہے ‘ فرانز الیگزنڈر نے اسے ’’عدم تعقل‘‘ کا دور کہا مگر یار لوگ تہذیبی اقدار پر شب خون مارنے والے اس عہد کو روشن خیال‘ ترقی یافتہ‘ اور انسانی فلاح کا عہد قرار دینے پر تلے بیٹھے ہیں۔ منشایاد کے ہاں معاملہ یہ رہا کہ اس کی گفتگوؤں میں جتنی توجہ یہ بدلا ہوا زمانہ پاتا تھا اس کا تخلیقی وجود عین مین اِس تناسب سے اس تبدیلی کوقبول نہیں کرپاتا‘کہ اپنے افسانوںکوجس سماجی معنویت سے وہ جگمگا رہا تھا اس کا غالب حصہ ارضیت ‘ تہذیب اور روایت ہی میں پیوست تھا۔
میں نے کسی اور جگہ لکھا تھا کہ منشایاد کو بیدی کی طرح گرہستن اور خاندان سے جڑی ہوئی عورت پر لکھنا اچھا لگتا ہے اور آج کی نشست میںاس پر یہ اضافہ کرنا ہے کہ اس کا سبب محض اور صرف یہ ہے کہ رشتوں میں جڑی ہوئی عورت ہی اسے سماج کے اندر بامعنی دِکھتی ہے۔ جب کہ رشتوں سے کٹی ہوئی عورت ’’شے ‘‘ بن جاتی ہے‘ ’’صارف‘‘ ہوتی ہے یاپھر محض ’’کارآمد/بے کار‘‘ پُرزہ(اور لگ بھگ یہی بات تو مردوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔) یہی سبب ہے کہ ان رشتوں کے لیے وہ بہت کچھ قربان کر سکتا ہے حتی کہ اپنا عشق بھی۔ اس باب میں منشایاد کے معروف افسانے ’’تیرہواں کھمبا ‘‘ کو دھیان میں لائیے اور اس نوبیاہتا جوڑے کو بھی جو ریل کار میں سوار ہو گیا تھا۔ منشایاد نے اپنے قاری کوایک عجب صورت حال سے دوچار کرنے کے لیے اسی منظر نامے میں ایک تیسرے کردارکو بھی موجود رکھا ہے۔ یہ تیسرا شخص نوبیاہتا دلہن کی زندگی میں کبھی اہم رہا ہوگا مگر نئے اور تخلیقی رشتے سے جڑ جانے والی کے لیے (پراناعشق بھولنا مشکل سہی)‘نیا رشتہ اہم ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا رشتہ جو اپنی کیمسٹری میں چاہے عشق جتنا اخلاص نہ رکھتا ہو اس کی ایک سماجی معنویت ہوتی ہے۔ تو یوں ہے کہ اس افسانے کے آخر میں منہ زور عشق ہار جاتا اور تخلیقی رشتہ سماجی معنویت سے ہم کنار ہوجاتا ہے۔منشایاد چاہتا تو اس تیسرے آدمی کو ریل سے کود کر خود کشی کی راہ دکھا دیتا ‘ نوبیاہتا انجی کی چھاتی سے چیخ برآمد کرکے اس کے عشق کا بھانڈا پھوڑ کر سماجی رشتے میں دراڑیں ڈال سکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔جس گوں کا وہ آدمی تھا اس گوں کا آدمی اپنے کرداروں کو اوچھا نہیں رہنے دیتا انہیں وسیب کا ذمہ دار آدمی بنا دیتا ہے۔سو اس نے منہ زور عشق کو پچھاڑ دیا اور سماج کو ایک تخلیقی رشتے سمیت بچا لیا۔

جی،مجھے موقع ملا ہے کہ میں منشایاد کے افسانوں کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ کروں اور اس مطالعے میں محسوس کیا ہے کہ سماجی منظر نامے میں منشایاد کے ہاں تخلیقی رشتے بہت احترام پاتے ہیں۔ ’’سزا اور بڑھا دی جائے‘‘ ’’سارنگی‘‘اور ’’ساجھے کا کھیت‘‘جیسی کہانیوں سے میں صحیح یا غلط اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مادی تعیش کے عہد میں‘ بنتی بگڑی حسیات والے نئے تفریحی آدمی سے کہیں زیادہ اسے تہذیبی اور سماجی آدمی بہت محبوب ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ جس دور میں منشایاد نے شناخت پائی وہ علامت نگاری اور تجرید کا زمانہ تھااور اس عہد کے افسانے میں اس نے سماجی اور تہذیبی علامت کے شعور کے ساتھ جو افسانے لکھے وہ الگ سے مطالعہ کا تقاضہ کرتے ہیں۔تاہم مجھے ان کے حوالے سے یہاں یہ کہنا ہے کہ اگر منشایاد کو سماجی رشتوں میں بندھے آدمی سے محبت نہ ہوتی اور وہ فرد کے محض باطنی آشوب کو ہی کہانی کا وسیلہ بناناچاہتا تو بھی اس ڈھنگ میں اس نے ایسی ایسی کامیاب کہانیاں لکھی ہیں کہ وہ بہت دور تک جا سکتا تھا مگر بہت جلد ادھر سے دامن جھٹک کر الگ ہو گیا۔محض دیہات نگاری بھی اس کا مسئلہ نہیں بن پایا ورنہ وہ بالا دست جاگیردار طبقے کی چیرہ دستیاں دکھا کر اور ہمارے دل دہلا کر بھی مقبول ہو سکتا تھا۔ ذرا تصور باندھیے ’’کچی پکی قبریں‘‘ والے کوڈو فقیر کا جس کی نظر کدال پر پڑی تھی توفاتحانہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ناچنے لگی تھی۔ پکی قبریں ادھیڑ کران میں اپنے مردے رکھنے والے ایسے جی دار کردار اس کی کہانیوں میں آئے ضرور ‘مگر سماجی معنویت کے باب میں اس نے ترقی پسندوں کی طرح اسے طبقاتی مسئلے کے فیتے نہیں لگائے۔ اس کے کردار کہیں بھی اپنی شناخت گم نہیں کرتے پوری کہانی میں یوں رچے بسے ہوتے ہیں جیسے رات کی رانی کے بدن میں اس کی مست کر دینے والی مہک۔میلے ٹھیلے کے رسیا‘ نچلی ذاتوں کے کمی کمین‘ جنس کے مارے ہوئے مرد اور عوتیں‘ اپنوں سے پچھڑے ہوئے مگر ایسے کردار جن کے وجود کی مٹی کو خلوص کے پانیوں سے گوندھا گیا ہوتا ہے۔جو سماج کو جینے کے قابل بنانے کی للک رکھتے ہیں اور اپنے وسیب کی دانش کے امیں ہوتے ہیں۔

یوں تو عصری آگہی اور سیاسی شعور بھی منشایاد کے افسانوں کا ایک قوی حوالہ بنتا ہے’’۹۷۸ا کا آخری افسانہ:پناہ‘‘ ’’بوکا‘‘ اور’’کہانی کی رات‘‘ جیسے اہم افسانے اس باب میں عمدہ مثال ہیں کہ ایسے افسانوں میں منشا یاد نے تاریخ کو مسخ کرنے والے چہروں کو نوچ ڈالا ہے۔ عام آدمی کو مات دینے والے سیاست دانوں کو لتاڑا ‘جمہوریت کے حق میں آواز بلند کی اور سامراج کے دروغوں کے منہ پر تھوکا ہے مگرآج کی نشست میں میرا دھیان منشایاد کی اس دھج کی طرف رہا ہے جورواں منظر نامے سے اوب کر اور چونک کر عقب میں دیکھتا اور لمحہ لمحہ مادیت سے مات کھاتے آدمی کے ضمیر پر دستک دیتا رہاہے۔اس نہج سے مطالعے نے مجھے حوصلہ دیا ہے کہ منشایاد کے فکشن کے محبوب سروکاروں میں سماجی رشتوں کی مہک کو بھی قدرے نمایاں جگہ دوں کہ یہ ایسی مہک ہے جو سماج کو بامعنی اور تخلیقی بنا رہی ہے۔

Categories
نان فکشن

جون ایلیا: مشہور مگر غیر مقبول شاعر

میں نے چند روز قبل اپنی ٹائم لائن پر ایک پوسٹ لکھی، پوسٹ ہندی میں تھی اور اس تعلق سے تھی کہ لوگوں کو پڑھنا چاہیے اور ادب کو سمجھنے کے لیے تھوڑے بہت جتن کرنے چاہیے۔ایسا نہیں ہے کہ یا میر ، یاغالب اور یا جون ایلیا چلاتے ہوئے اس آنگن میں دھم سے کود پڑیں اور بس ہوجائیں شاعر۔ویسے بھی شاعر ہونا کمال بات نہیں ہے، شاعری ہماری ایک دوست کے مطابق الفاظ کے ناپ تول سے تعلق رکھنے والا ایک ہنر ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے انسان کو بس ایک خاص قسم کی موزونیت اپنے اندر پیدا کرنی ہوتی ہے۔عرف عام میں شاعر ایسے لوگوں کو سمجھا جاتا ہے جو رومانی زندگی گزارتے ہیں، لاپروا ہوتے ہیں، بکھرے بکھرے سے رہتے ہیں اور بہت سارے عشق کرتے ہیں۔ہم نے جس مذہبی ماحول کو بچپن سے دیکھا، اس میں بھی شاعر کی اسی تعریف کی وجہ سے تہذیب یافتہ سماج اس سے بدظن رہا کرتا تھا۔اب چونکہ نئی دنیا میں شاعر ہونا صرف شاعر ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ بہت سی خاموش، تفکر آمیز اور خود کشی کی خواہشوں والی ایک فینٹسی جڑی ہوئی ہے، اس لیے ہر دوسرا آدمی سمجھتا ہے کہ اس میں ایسی کیا برائی ہے، بال بکھرالیے، واہی تباہی پھرنے لگے، دنیا کو گالیاں دیں ، محبوب کو یاد کیا اور بن گئے شاعر۔اب اس پکی پکائی کھیر میں بس الفاظ کے چند مرجھائے ہی سہی، مگر گلابی پتے ہی تو ڈالنے کی دیر ہے، اپنے حلیے کے کیوڑے کی مدد سے اسے مزید دیدہ زیب بناکر فیس بک کے تھال پر سجادیا جائے اور ٹیگنگ کے ذریعے اس دعوت میں پچاس سے سو افراد تک کو شریک کرلیا جائے۔یہ ہے سوشل میڈیا کا شاعر، جی ہاں اسی سوشل میڈیا کا، جس پر جون ایلیا کے قصائد پڑھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔مگر جون ایلیا کو سمجھنے اور جاننے سے انکار کرنے والی دنیا، ان کے مشہور اشعار کو(جو دنیائے عشق کی ایک گھسی پٹی مات کا استعارہ ہیں)گنگناتی ہوئی رقص کررہی ہے۔جدھر جائیے، جسے دیکھیے، واہ جون، آہ جون کے نعرے بلند ہورہے ہیں۔مگر کسی سے یہ پوچھیے کہ جون ایلیا ہی کیوں؟ اور جون ایلیا کیسے؟ تو ان کے اچھے اچھے مرید بھی قل ہواللہ احد کہہ کر منہ کے بل گرجانے میں ہی عافیت محسوس کریں گے۔

اس کی دو تین وجوہات ہیں۔جون کی شاعری سے زیادہ ان کی شخصیت اور اس سے جڑے سنسیشنل قصوں کی دریافت نے انہیں مشہور کیا ہے۔پھٹی ہوئی جینز پہننے والے نوجوان، سینہ تانے، گردن اکڑائے، جون کی بے پروا لٹوں میں اپنے عشق کی موٹی موٹی گرہیں ڈھونڈتے نظر آئیں گے۔یہاں وہ جون کے الفاظ کے سہارے اپنی اس محبوبہ کے ہجر میں محو مرثیہ نظر آئیں گے، جسے شاعری کی الف ب تک سے چڑ ہے۔میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میراجی نے بھی اگر کچھ ایسی ہی عام رنگ کی غزلیں کہہ رکھی ہوتیں اور ان کے پاس اپنی محبوبہ کے سینے اور ناف کا چٹخارے دار بیان اسی صورت میں ہوتا، جیسا کہ جون کے پاس ہے تو وہ اس وقت جون سے زیادہ مشہور شاعر ہوتے، مگر شکر ہے کہ انہوں نے اپنی محبت کو جون کی طرح بات بات پر طعنے دے کر یاد نہیں کیا اور نہ ہی ان کو کسی مشاعرے میں اپنی اکلوتی بنگالی محبوبہ سے آنکھیں اور انگلیاں نچا نچا کر اپنی ڈھلتی ہوئی جوانی میں بھی مردانہ غرور کا اعلان کرنے یا خود سپردگی سے انکار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔میراجی تو محبوبہ کے کپڑے کی دھجیوں کے ساتھ خوش تھے، انہوں نے خوشبوؤں سے اگنے والی استعاروں کی بھید بھری کائنات میں قدم رکھا، نظم کہی اور اسی آنکھ سے دنیا کو دیکھنے کی سعی کی، جس میں عشق اور ہوس کے بیچ کا فرق مٹ کر رہ گیا۔ان کی نظمیں آکاش میں ٹکے تاروں کی جھلمل اور جھاگ اگلتے، لہریں اچھالتے سمندر کو بھی محبوب کے دھندلے عکس میں تبدیل کرسکیں۔میراجی کا جنون، جون ایلیا کی طرح مشاعروں میں یا مائک پر جوش میں نہ آتا تھا، وہ ایک بند کمرے میں اپنی ہی ننگی دنیا کے تنہا باشندے تھے، انہوں نے میرا کو سانسوں کی ڈار میں شامل کرنے کی کوشش کی۔اس کے برعکس جون نے بھیڑ میں اپنی محبوبہ کو کوسا بھی، اس کے سامنے گھگھیائے بھی۔اس پر طعنہ زن بھی ہوئے اور اسے خون تھوکنے کی تکلیف کا احساس بھی دلانے کی کوشش کی۔ یہاں جون اور میراجی کا کوئی مقابلہ مقصود نہیں۔کہنا یہ ہے کہ جس حوالے سے جون ایلیا مشہور ہوئے، وہ ان کی زندگی کا صرف ایک رخ ہے، اور وہ رخ نہایت ڈرامائی ہے، اس میں جون کی سچی تخلیقی دنیاؤں کی جھلک کم ہے اور ماتھے کو دونوں ہاتھوں سے چھوچھوکر داد کا جواب دینے کی خواہش زیادہ ہے۔

جون ایلیا کی شعری کتب کا مطالعہ کرتے وقت بظاہر دو زاویوں سے ان پر روشنی ڈالی ہی جانی چاہیے۔اول تو یہ کہ ان کی ذات میں حقیقت پسندی بہت زیادہ تھی۔حقیقت پسند انسان شاعری کرسکتا ہے، عشق نہیں کرسکتا۔عشق ایک آئیڈیل سچویشن کا نام ہے۔اسی لیے جون نے فاقہ کش لڑکی کو ننگی نگاہوں سے دیکھ کر اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ خوبصورتی کے لیے دیدہ زیب ہونا ضروری ہے۔وہ خوب سے خوب تر جسم کو دیکھ کر بھی اس کے اندر موجود معدے میں بھری غلاظت کا خیال دل سے نہ نکال سکے۔ان کی جمالیاتی حس نے انہیں ناف اور سینے کا گرویدہ بنائے رکھا، وہ حسن کی تعریف کرسکتے ہیں، مگر حسن کی تعریف کے ساتھ ساتھ وہ اس کے پس منظر اورمختلف حالات میں اس کے بگڑ جانے کا خیال دل سے نہیں نکال پاتے۔عشق ان باتوں سے ماورا ہوتا ہے،میراجی جیسے لوگ جنہیں نہایت ہوس پرست سمجھا جاتا ہے، عشق تو انہی کے بس کا روگ ہے۔کیونکہ وہ تو ایک چھچھلتی نظر کے عشق کو بھی عشق ہی سمجھتے ہیں، وہ اس جذبے کو لمحوں میں قید کرکے، اس کا نام نہیں بدلتے۔جون کے یہاں تہذیب کا رونا زیادہ ہے، وہ تہذیب کو، نفاست کو اور خوبصورتی کے ساتھ موجود متانت کے تصور کو الگ نہیں کرپاتے، جبکہ عشق تہذیب ، نفاست اور سنجیدگی تینوں سے بغاوت کانام ہے۔عشق میں کوئی آداب ، کوئی ٹکی ٹکائی پاکیزگی کا تصور یا پھر ٹھٹہ ٹھٹھول کا انکار موجود ہی نہیں ہوتا۔وہاں تو شوخی بھی ہے، جنون بھی، خود سپردگی بھی ہے اور تسلیم ورضا بھی۔اس زاویے سے روشنی ڈالتے ہی جون ایلیا کا وہ تمام کلام دراصل ایک جلد باز عاشق کی روداد معلوم ہوتا ہے جو محبوب سے بس اپنی ضد پوری کروانے کے لیے اس سے ایسی باتیں کررہا ہے، جس سے اسے رام کیا جاسکے۔جون کے وہ بیشتر اشعار جو مشہور ہیں اور جن کو پڑھ کر ہند و پاک کی نوجوان نسل بے ساختہ واہ کہتی ہے، وہ اسی قسم کے شعر ہیں، جن میں بے چینی کے نعرے، عشق کے بڑے بڑے دعوے، طنز و تشنیع، خون تھوکنے کے واقعات اور بات بات پر اپنی برتری کا احساس دلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔یہ جون کی شاعری کا وہ حصہ ہے جو ذرا دیر کو مزہ تو دیتا ہے مگر اس میں شعور کو کوئی بڑا دخل نہیں ہے، کوئی ایسی بات نہیں ہے، جس سے پڑھنے والا ان کی گہری تخلیقی صلاحیت سے بہت دیر تک متاثر رہ سکے۔جہاں انسان میں ذرا علمی سنجیدگی پیدا ہوئی، اس نے جون ایلیا کے اس پینترے کو سمجھا، وہاں یہ شاعری بودی معلوم ہونے لگے گی۔

جون کا ایک دوسرا رخ ہے، اس پر ہمارے نوجوان روشنی تو کیا ڈالیں گے، بس اسے عقیدت سے بیٹھ کر سن لیتے ہیں کہ جس شاعر کی اتنی واہ واہ کی ہے، اس نے ضرور اس زبان میں بھی اعلیٰ باتیں ہی کہی ہونگیں، جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔جون نے انسانی ارتقا، تہذیب کے بننے بگڑنے، سیاست کے مختلف چہروں اور انسان کے وجودی و سماجی مسائل پر اپنی نظموں اور غزلوں میں جس طرح بات کی ہے،وہ انہیں ان کے ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہے۔لفظ و معنی کی ایک علمی بحث کو جون نے اپنی نظم ‘سوفسطا ‘ میں یوں رقم کیا

ہاں لفظ ایجاد ہیں/یہ ہزاروں’ہزاروں برس کے/سراسیمہ گر اجتہاد تکلم کا انعام ہیں/ان کے انساب ہیں/جن کی اسناد ہیں/اور پھر ان کی تاریخ ہے/اور معنی کی تاریخ کوئی نہیں۔

جون کی اس نظم کا مآخذ یونان کا فلسفی پروٹاگورس ہے۔جون نے کس حد تک یونانی فلسفہ اور اس کے معاملات پر غور و فکر کیا ہوگا اور کس طرح اس کے خیالات کو نظم کرنے میں جون نے ایسا کامیاب راستہ تلاش کیا ہوگا، اس جانب ہماری نظر نہیں جاتی۔یہ تو ایک بہت چھوٹی سی مثال ہے۔فلسفہ، منطق، تاریخ، سیاست، سماجیات اور اس طرح کے دوسرے علوم سے جون کی دلچسپی ، اسے اپنے دوسرے ہم عصروں سے الگ کردیتی ہے، اس کے یہاں علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتا ہے۔جون کی نظمیں رمز ہمیشہ، اعلان رنگ، ، درخت زرد، دو آوازیں وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

نوجوان دراصل ان باتوں کو جانے بغیر کہ جون کی شعری تربیت اور سیاسیات میں ان کی دلچسپی، سرمایہ دارانہ نظام سے ان کی چڑ کن عقلی و علمی دلیلوں پر استوار ہوئی تھی، ان سے اتنا عشق کیسے فرمارہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جون ایلیا ہمارے دور میں جس قدر مشہور ہوئے ہیں، ان کی شہرت ترقی پسندوں کے اس دور کی یاد دلاتی ہے، جہاں کمیونزم اور سوشلزم جیسے الفاظ کو سمجھے بغیر شاعر مزدوروں کے حق میں نظمیں غزلیں کہہ کر خود کو کمیونسٹ اور سوشلسٹ ادیب کہلوانا پسندکرتے تھے۔بھیڑ چال کا ایک دور ہوتا ہے اور اس دور کی ایک مدت ہوتی ہے۔جون ایلیا کی عام فہم شاعری سے زیادہ اگر ان کا دیباچہ شاید نئی نسل میں مشہور ہوتا تو جون کی شہرت سے زیادہ ان کی مقبولیت کے دروازے کھل سکتے تھے۔وہ لوگ جو مذہبی، نسلی اور فکری معاملات میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں، مہنگے مہنگے موبائل میں فیس بک چیک کرتے وقت شعروں پر لائکس کے ٹک لگاتے ہوں، جون کو کیسے پڑھتے اور پسند کرتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ جس سرمایہ دارانہ نظام کی جون نے مخالفت کی، اسی نظام کے پروردہ اذہان میں جون کو شہرت حاصل ہوئی، اس لیے ان کی تعبیر ہی سرے سے غلط ہوگئی، وہ ایک گھسے پٹے شاعرانہ عاشق کی صورت میں مشہور ہوئے، جبکہ انہیں علم اور کہنہ روایات سے بغاوت کا استعارہ بن کر نمودار ہونا چاہیے تھا۔ حتیٰ کہ عشق میں بھی ان کے یہاں روایت شکنی کا جذبہ حاوی رہا ہے۔وہ خود عشق میں مرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ اس کے برعکس کسی کو اپنی محبت میں جان گنواتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔

جون نے سب سے پہلے اس مذہبی نظام کی نفی کی تھی، جس نے آج ہندوستان اور پاکستان کو جہنم بننے کے دوراہے پر لاکھڑاکیا ہے۔پھر بھی اگر ہم جون سے صرف اس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ انہیں خودکشی سے ایک خاص نسبت تھی، محبوبہ کی ناف اور سینے سے لگاؤ تھا تو ہماری محبت قابل رحم حد تک غلط بنیادوں پر قائم کی گئی ہے۔جون نے انسانی ارتقا کے حوالے سے ایک شعر کہا تھا

مہذب آدمی پتلون کے بٹن تو لگا
کہ ارتقا ہے عبارت بٹن لگانے سے

دیکھا جائے تو بٹن لگانا بے حد چھوٹا سا کام ہے، مگر اس سے موجودہ انسانی تہذیب کے خدوخال کا تعین ہوتا ہے۔ہم جس طرح پتلون کے بٹن لگائے بغیر مہذب یا ترقی پسند نہیں ہوسکتے۔اسی طرح شاعری سے تعلق رکھنے والے مضامین سے شدبدرکھے بغیر خود کو شاعر یا شعر فہم نہیں کہلوا سکتے۔خواہ ہم جون کے شعروں پر مچل مچل ہی کیوں نہ جائیں۔

Categories
نان فکشن

تکنیکی تنقید کے اصول اور میری گستاخیاں

Saaze-Gule-Taza-tasneef-haiderاردو ادب پر مزید ایک صدی گزر جانے سے شاید یہ بات ثابت ہوجائے کہ اس میں بیسویں صدی کے اواخر میں دو باتوں نے ہولوکوسٹ (مرگ انبوہ) کا سا ماحول پیدا کیا۔ایک شمس الرحمٰن فاروقی کی شعر فہمی اور دوسرے ظفر اقبال کی تنقید نگاری۔مرگ انبوہ میں نے اس لیے کہا کیونکہ ان دونوں باتوں نے جو تاثر پیدا کیا اس سے دو تین نسلوں کے نہ جانے کتنے لوگ برباد ہوئے اور ابھی نہ جانے کتنے اس حبس زدہ ماحول میں دب یا پھنس کر اپنی ادبی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ شعر کے معاملے میں دو چار باتیں نہایت صاف ہونی چاہیئں، اول تو یہ کہ شاعری کو سمجھنے کے لیے کوئی فرد اگر جامد اصول بنا لیتا ہے تو شاعری پر ظلم کرتا ہے۔اردو میں یہ رویہ عام ہےکیونکہ اس کا مسئلہ کچھ اور ہے، یہاں کی پروفیسرانہ اور غیر پروفیسرانہ تنقید کا صرف اور صرف ایک اصول ہے، کسی کی تعریف کیجیے تو ایسی کہ اسے خدائے سخن بنادیجیے، کسی کی برائی کیجیے تو اتنی کہ اسے بدترین ثابت کردیجیے۔اس کے لیے ہمارے استادوں نے کچھ تکنیکیں ایجاد کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے اقربا اور اپنی پسند کے شاعروں کو سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں۔ ہم لوگ الٹی گنگا بہانے والے لوگ ہیں، ہمارے لیے ماضی زیادہ شاندار ہے، روشن ہے، ہمارا پدرم سلطان بود والا رویہ ہے اور ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ہم جس احترام، جس قدر اور جس جذبے سے میر و غالب کی طرف دیکھتے ہیں، اس طرح اگلی نسلوں کی طرف دیکھ ہی نہیں سکتے۔ ادب کے نام پر ہمیں پچھلے کئی برسوں سے دھوکا دیا جاتا رہا ہے، لوگ یا تو غالب کے طرفدار ہوتے ہیں یا تو اس کے مخالف۔لوگ اچھی تنقید نہیں کرپاتے، وجہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے ایک پوری روایت ہے، حتیٰ کہ جو لوگ ہمارے یہاں تنقید و تخلیق میں ایک حد تک مجتہد سمجھے گئے وہ بھی اس رویے سے اپنا دامن چھڑا نہ سکے۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ ایسا کیوں ہے، مگر ایسا ہے۔ میر نے اچھی شاعری کی، غالب نے اچھی شاعری کی، مگر ان کے فن کی شعریات مختلف تھیں، ہم اس طرح شعر نہیں کہتے۔ اس لیے انہی معیارات پر بعد کے لوگوں کو تولنا بے وقوفانہ بات ہے۔ ہمیں کہنا چاہیے تھا کہ میر اور غالب نے اپنے عہد میں بڑی شاعری کی، مصحفی نے بڑی شاعری کی، انشا اور جرات نے اپنے اپنے میدان میں کمال جوہر دکھائے، دکن میں سراج اور ولی اور ان کے ساتھ ساتھ بہت سے پرانے نئے شاعروں نے شعر کہے، مگر مختلف اصولوں کے ساتھ، ان شعریات سے ہمیں سیکھنا چاہیے تھا، نئے اصول بناتے وقت ہمیں دھیان رکھنا چاہیے تھا کہ ہر دور میں ان اصولوں کو کیسے اور پھیلایا جائے، ان کو کیسے تسلیم کرتے ہوئے، ان میں مزید اصول جوڑے جائیں، مگر ایسا نہیں ہوا اور جو ہوا، اس کی بدولت ہم نے وہ اصول کھو دیئے اور نئے اصول بنائے، چنانچہ ترقی پسندوں کے اصول الگ ہیں، جدیدیت پسندوں کے الگ اور ان کے بعد شاعری کرنے والے لوگوں کے کچھ اور ہیں۔ یہ بات بری ہے، مگر چونکہ اس کا وجود ہے، اردو ادب اور شاعری کی یہی حقیقت ہے، چنانچہ اسے تسلیم کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ان خارجی اصولوں سے قطع نظر، شاعری کا اپنا ایک مزاج ہے، وہ خود کو منوانا چاہتی ہے، سمجھانے کے چکر میں زیادہ نہیں پڑتی۔ وہ بات جو سیدھی سیدھی سمجھ میں آجاتی ہے، وہ بھی شعر ہوسکتی ہے، اور جو بات نہایت مبہم، مہمل ہوگی وہ بھی شعر ہوسکتی ہے۔

 

یہاں کی پروفیسرانہ اور غیر پروفیسرانہ تنقید کا صرف اور صرف ایک اصول ہے، کسی کی تعریف کیجیے تو ایسی کہ اسے خدائے سخن بنادیجیے، کسی کی برائی کیجیے تو اتنی کہ اسے بدترین ثابت کردیجیے۔اس کے لیے ہمارے استادوں نے کچھ تکنیکیں ایجاد کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے اقربا اور اپنی پسند کے شاعروں کو سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں۔
یہ باتیں واضح کرنے کے بعد میں اب اپنی دوسری باتوں کی طرف آتا ہوں۔ تکنیکی تنقید کے تعلق سے یہ بات بہت اہم ہے کہ تقابلی مطالعے کا ایک بھونڈا طریقہ ایجاد کیا جائے، اور وہ طریقہ ایسا ہو جس کی سرے سے کوئی منطق نہ ہو، مگر اسے دنیا کا سب سے مضبوط منطقی طریقہ قرار دیا جائے۔ اور ایسے میں اگر لغات اور اچھی نثر کا سہارا بھی اس تنقید کو حاصل ہو تو سمجھیے اس کی نیا پار لگ گئی۔ شمس الرحمٰن فاروقی کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے۔ ان کا معاملہ اردو کے دوسرے پروفیسروں سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے، خاص طور پر تنقید کے معاملے میں۔ بس ان کا دبدبہ اس لیے قائم ہے کیونکہ وہ شاعری کو پڑھتے ہوئے بار بار قاری کو یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ میں نے فلاں لغت سے فلاں لفظ کا یہ نیا معنی دریافت کیا ہے، فلاں مصرعے میں موجود رعایتوں کا بہتا ہوا، چم چم کرتا دریا ڈھونڈ نکالاہے، چنانچہ بچارا قاری سہم کر اس طرف دیکھتا ہے کہ صاحب یہ آدمی تو واقعی صاحب علم ہے، اس کی تعبیر اور تشریح میں یقیناً دم ہوگا۔ شاعری، زندگی کی طرح برتنے والی چیز ہے۔ رعایت اول بات تو یہ ہے کہ شعر کی ایک ایسی خوبی ہے، جو اس کی اضافی خوبیوں میں شامل ہے، اصل خوبیوں میں نہیں۔ یعنی یہ ممکن نہیں کہ جو شعر رعایتوں کے اعتبار سے اچھا ہوگا، وہ واقعتاً شاعری کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہو، اپنی بات مزید واضح کرنے کے لیے میں یہاں دو شعر نقل کرتا ہوں۔انہیں دیکھیے:

 

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہے گویا چراغ مفلس کا
(میر)

 

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا
دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا

 

میر کے شعر میں چراغ کے بجھنے کی رعایت سے مفلس کا لفظ آیا ہے، کیا شک ہے کہ یہ شعر بہت اچھا ہے، مگر شہریار کا شعر بھی زبردست ہے۔ میں اگر فاروقی صاحب کی طرح شعر کو سمجھتا تو اس کی نئی نئی تعبیریں کرکے آپ کو دکھانے لگتا، چنانچہ میں کہتا کہ دیکھیے اس میں لطف کی بات یہ ہے کہ اس شعر میں موجود کردار کا دل شام ہوتے ہی ڈوب رہا ہے، شام کو چونکہ سورج بھی ڈوبتا ہے، اس لیے یہاں اس لفظ کا استعمال کتنا خوب ہے، شام کے بعد رات آتی ہے، جب آدمی سوتا ہے، سوتے میں وہ خواب دیکھتا ہے، یہ کردار چونکہ عاشق کا ہے، اور اس کے معشوق کا خواب میں آنا طے ہے، پھر بھی دل ڈوب رہا ہے،کیوں ڈوب رہا ہے، اس کی کئی وجہیں ہوسکتی ہیں، مطلب اس وجہ سے بھی ممکن ہے کہ عاشق، معشوق کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے، اس پر ایک مقام حیرت طاری ہوجاتا ہے، اسے دیکھنا ایک قیامت سے کم نہیں، یا پھر وہ فوراہی آکر گزر جاتا ہے، جیسا کہ غالب کا ایک شعر ہے:

 

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا

 

یعنی کہ دل اس اندیشے سے ڈوبا جارہا ہے کہ وہ آئے گا، صائقہ کی طرح، برق کی صورت، اور وہی ارنی و لن ترانی والا معاملہ ہوگا، چنانچہ اس کا ایک پہلو متصوفانہ بھی ہے۔ فلاں، فلاں، فلاں۔۔۔ اس طرح کی باتیں کرتے کرتے نقاد بھول جاتا ہے کہ ایک بات ہے جو اس پوری تعبیر و تشریح میں رہ گئی اور وہی دراصل شاعری ہے۔ ان تکنیکوں سے آدمی نقاد بن سکتا ہے، شاعر نہیں بن سکتا، اسی لیے اتنی احتیاط سے کی گئی شاعری محراب آسماں بن جاتی ہے، جسے کلیات میر کے اتنے گہرے مطالعے کا ہلکا سا بھی فائدہ نہیں ہوتا، اس لیے سوچنا چاہیے کہ چوک کہاں ہوئی۔ شعر شور انگیز کی حد تک میں کہہ سکتا ہوں کہ جب بھی کوئی لائق فائق آدمی اس کا بغور مطالعہ کرے گا تو جس نتیجے پر پہنچے گا، اس میں اس تنقید پر شارح صاحب کو پاسنگ مارکس ملنا بھی شاید مشکل ہوجائیں۔ اس تکنیکی تنقید کا ایک مسئلہ ملاحظہ فرمائیے، جو کہ شعر شور انگیز میں شامل پہلی غزل کے ایک شعر کی تشریح سے ثابت ہوتا ہے۔

 

“کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

 

میر کے اس شعر کے تعلق سے شمس الرحمٰن فاروقی صاحب فرماتے ہیں:
آتش نے اس مضمون کو براہ راست میر سے مستعار لیا ہے، لیکن اسے بہت پست کرکے کہا ہے:

 

دل کہیں جان کہیں چشم کہیں گوش کہیں
اپنے مجموعے کا ہر ایک ورق برہم ہے

 

آتش کے یہاں خود کو مجموعہ فرض کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے (یعنی کوئی تخلیقی منطق نہیں ہے) محض ایک مفروضہ ہے۔ اس بنا پر دل، جان، چشم، گوش کو اس مجموعے کا ورق فرض کرنا، پھر ان اوراق کو برہم بتانا، خالی از تصنع نہیں۔ میر کے کلام میں تخلیقی منطق کے تقریباً تمام پہلو اور انداز مل جاتے ہیں، اسی لیے ان کا معمولی شعر بھی “بھرپور ہوتا ہے۔

 

جبکہ اس کے آگے کی غزل میں میر کے ایک شعر کے تعلق سے تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں، پہلے شعر سن لیجیے:

 

“درہمی حال کی ساری مرے دیواں میں ہے
سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا

 

پریشانی کے ساتھ مجموعہ بھی بہت خوب ہے۔ خاص کر اس وجہ سے کہ اشعار کے دیوان کو بھی مجموعہ کہتے ہیں۔”

 

ظفر اقبال اچھی شاعری کرتے ہیں، اور ان کی اچھی شاعری کو تو خیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، جیسے شمس الرحمٰن فاروقی کی فکشن نگاری کو تنقید سے کوئی دھچکا لگنا نہایت مشکل ہے۔ نہایت غیر جانبداری سے یہ بات سمجھنی اور کہنی چاہیے کہ شاعری کی میدان میں ظفر اقبال اور فکشن کے میدان میں شمس الرحمٰن فاروقی بہت اہم لوگ ہیں۔ انہوں نے واقعی ان دو مختلف اصناف میں اچھا اوربڑا کام کیا ہے۔
یہ عجیب سی صورت حال دیکھیے، برہم کا ایک مطلب پریشان بھی ہے، مگر آتش کے شعر میں، برہم اور مجموعے کا آنا بالکل خوبی نہیں تھا، اور اس کی کوئی تخلیقی منطق بھی نہیں تھی۔لیکن یہاں ہوگئی۔ یہاں یہ بھی یاد آگیا کہ مجموعہ، اشعار کے دیوان کو کہتے ہیں، آتش کے شعر کی یہ خوبی پی گئے کہ غزل میں ہر شعر کا مضمون ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی برہم و پریشان رہا کرتا ہے، اس نسبت سے آتش نے بڑی اچھی رعایت پیدا کی کہ یہ سارے مضامین اس طرح بکھرے ہوئے ہیں، جیسے ہمارے مجموعے کے اوراق بکھرے ہوئے ہیں، اس میں دل کا مضموں کہیں ہے، جان کا کہیں، چشم کا کہیں ہے تو گوش کا کہیں۔ مگر صاحب تخلیقی منطق ہی عنقا ہوگئی اس شعر میں جو کہ اچھا شعر ہے، میرکے شعر سے بالکل کم نہیں، رعایت وعایت سے شعر اچھا نہیں بنتا بلکہ بعض دفعہ ایک ہی مفہوم کے دو بار پیدا ہونے سے عجیب سی بدرونقی پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر شمس الرحمٰن فاروقی نے یہ کیسے تصور کرلیا کہ آتش نے خود کو مجموعہ تصور کرلیا ہے، اس نے اپنے مجموعے لکھا ہے اور مجموعے کا مطلب کسی لغت میں بدن یا جسم وغیرہ تو نہیں لکھا ہے۔
اس طرح کی ایک پوری داستان ہے، اور یقین کیجیے یہ تو تفصیلی مطالعہ ہی بتاسکے گا کہ تنقید کے میدان میں جتنے شعبوں پر فاروقی صاحب کا کام ہے، اس میں ان کی عجلت پسندی نے کیا کیا رنگ دکھائے ہیں۔ میرے نزدیک کوئی آدمی صرف اس بات سے معتبر نہیں ہوجاتا کہ اس نے کتنی کتابیں ترتیب دی ہیں، تالیف یا تصنیف کی ہیں، وہ اپنے متن میں کتنا گہرا، دبیز، حق بجانب اور اچھا ہے۔یہ دیکھنے کی بات ہے، میں نہیں کہتا کہ شعر کی تفہیم پر غور نہیں کرنا چاہیے، مگر اپنی تفہیم پر اصرار کرنا ایک غلط رجحان ہے۔

 

ہم انسان ہیں، ہمارے نزدیک کچھ لوگ بلا سبب اچھے یا برے بھی ہوسکتے ہیں، مگر جب بات فنکاری کی ہو، تو قدردانی یا تنقید نگاری کرتے وقت یہ دیکھنا اور سوچنا غلط ہے کہ جس پر تنقید کرنی ہے، وہ ہمارا اپنا ہے یا پرایا، ہندستانی ہے یا پاکستانی، ہندو ہے یا مسلمان۔
اب رہی ظفر اقبال کی بات۔ ظفر اقبال اچھی شاعری کرتے ہیں، اور ان کی اچھی شاعری کو تو خیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، جیسے شمس الرحمٰن فاروقی کی فکشن نگاری کو تنقید سے کوئی دھچکا لگنا نہایت مشکل ہے۔ نہایت غیر جانبداری سے یہ بات سمجھنی اور کہنی چاہیے کہ شاعری کی میدان میں ظفر اقبال اور فکشن کے میدان میں شمس الرحمٰن فاروقی بہت اہم لوگ ہیں۔ انہوں نے واقعی ان دو مختلف اصناف میں اچھا اوربڑا کام کیا ہے۔ ظفر اقبال کی کلیات میں پڑھ چکا ہوں، انہوں نے ایسے ایسے شعر کہہ رکھے ہیں جن کا زندگی کے معروضی یا منطقی طریق کار سے دور تک کا واسطہ نہیں۔ اب ایسا شخص اگر کسی نقاد کی اس بات کی حمایت کرتا ہے، یا اس کی ایسی تضحیک پر صبر کر لیتا ہے تو معاملہ کچھ اور ہے، ظفر اقبال کو سمجھنا چاہیے کہ اپنے سے پچھلوں کے اچھے شعروں کو خراب ثابت کرنے سے کوئی آدمی آج تک بڑا شاعر ثابت نہیں ہوا۔ ان تعصبات کا کوئی مطلب نہیں۔ میر تقی میر نے اپنے تذکرے میں یقین کی بہت برائیاں کیں، اسے بدکردار اور خراب شاعر قرار دیا مگر ان سب باتوں سے یقین کی ذات پر کیا فرق پڑگیا۔ میر اس کی برائی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی اچھی شاعری کی وجہ سے زندہ ہے اور رہے گا۔ ہم انسان ہیں، ہمارے نزدیک کچھ لوگ بلا سبب اچھے یا برے بھی ہوسکتے ہیں، مگر جب بات فنکاری کی ہو، تو قدردانی یا تنقید نگاری کرتے وقت یہ دیکھنا اور سوچنا غلط ہے کہ جس پر تنقید کرنی ہے، وہ ہمارا اپنا ہے یا پرایا، ہندستانی ہے یا پاکستانی، ہندو ہے یا مسلمان۔اس طرح کی باتوں سے جو لوگ ادبی فن پاروں کی قدر متعین کرتے ہیں وہ انسان اچھے نہیں ہوسکتے، تخلیق کار اچھے ہوں تو یہ الگ بات ہے۔ نیت میں فتور پیدا کرنے سے صرف برائی پیدا ہوتی ہے۔اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا اور مسئلے پیدا ہوجایا کرتے ہیں۔ اگر ڈھونڈا جائے اور معروضی نقطۂ نظر سے تنقید کی جانے لگے تو ظفر اقبال کے مجموعے ہے ہنومان میں موجود واقعات کے اشارے ان کی رامائن دانی کی پول کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ مگر ہم ایسا کرتے نہیں، کیونکہ ہم شاعری میں موجود واقعات کو نہیں دیکھتے، شعر دیکھتے ہیں، کہنے کو تو غالب نے بھی کہا تھا

 

یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا

 

تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ زمرد دکھانے سے واقعی سانپ اندھا ہوجاتا ہے اور میر بھی چاند کو دیکھ کر وحشت زدہ ہوجاتے تھے، مگر اس کامطلب یہ تو نہیں کہ چاند میں واقعی کوئی معشوق موجود تھا، یہ سب شاعری کی باتیں ہیں، فن کاری کی باتیں ہیں، یہاں کا جھوٹ ہی، یہاں کا سب سے بڑا سچ ہے۔ اس لیے شعر کو پڑھتے وقت کہاں معروضی انداز نقد اختیار کرنا ہے اور کہاں نہیں، اس کا خیال بھی بے حد ضروری ہے۔ اور یہی زمانے نے آپ کی شاعری کے ساتھ کیا ہے، ورنہ فاروقیانہ تنقید ظفر اقبال کے چیتھڑے بھی اڑا سکتی ہے اور اسے اپنے دور کی سب سے اعلیٰ شاعری بھی قرار دے سکتی ہے، کیونکہ وہ یہ تکنیک بہت اچھی طرح جانتی ہے۔