Categories
فکشن

عامر صدیقی کے تین افسانے

کارنس

’’میں اسے گڑیا سے کھیلنے نہیں دوں گی۔‘‘
کمرے کے سناٹے کو چیرتی، تین سایوں میں سے ایک کی سرگوشی ابھری۔۔۔۔۔۔اور دلوں میں اتر گئی۔۔۔۔
۔۔۔سنگدلی، سفاکیت، پختہ ارادہ
۔۔۔تذبذب، نیم دلی،پس و پیش
۔۔۔مظلومیت،بے بسی، تاریکی
’’چوں چوں چوں‘‘
’’اس کارنس کو صاف کرو۔۔۔۔سارے گھر کو بھنکادیا ہے۔جہیز میں اور تو کچھ لائی نہیں کلموہی، سوائے ان منحوس پرندوں کے۔۔۔ ‘‘
۔۔۔تہمت، بہتان، اتہام
۔۔۔تردد،نیم رضامندی، فرمانبرداری
۔۔۔نصیب، قسمت،آنسو
’’چوں چوں‘‘
’’بس میں نے کہہ دیا، اس گھر میں گڑیا نہیں آنے دوں گی۔۔۔۔‘‘
’’میں بھی۔۔۔۔۔۔‘‘
’’میں گڑیا سے ہی کھیلوں گی۔۔۔۔‘‘
’’چوں چوں چوں‘‘
’’کارنس سے گند ہٹاؤ ابھی۔۔۔۔۔‘‘
۔۔۔بدبو، تعفن، سرانڈ
۔۔۔قصد، عزم،کارروائی
۔۔۔چیخیں، سسکیاں، کراہیں
’’چیں چیں چیں‘‘
’’چیں چیں چیں‘‘
خون،سفیدی، زردی
زردی، سفیدی، خون


الگنی کی تلاش میں بھٹکتا پیار

’’جھاگ نہیں بن رہا۔‘‘
’’تھوڑا پاؤڈر اور ڈالو نا۔‘‘
’’بہت جھاگ بن جائے گا۔‘‘
’’تمہارا کیا جاتا ہے۔‘‘
’’میرا کیا جائے گا؟ میرا ہی تو جاتاہے۔۔۔اچھااسے بھی دھو ڈالو،اوراسے بھی۔‘‘
’’جھاگ مرجائے گا۔۔۔‘‘
’’کام چل جائے گا۔ ‘‘
’’بہت مشکل ہے۔ویسے بھی الگنی چھوٹی ہے۔‘‘
’’الگنی بڑی کئے دیتا ہوں۔‘‘
’’مگر جھاگ کا کیا؟اوراب پاؤڈر بھی نہیں۔‘‘
’’تم کیا ان سے دھوتی ہو۔‘‘
’’کون میں ؟ اور کس سے بھلا۔تم کیا سمجھے؟‘‘
’’میں سمجھا۔۔۔۔‘‘
’’کیا سمجھے؟‘‘
’’ارے جھاگ نیچے گر رہا ہے۔‘‘
’’کچھ نہیں، لاؤکیا دھونا ہے،کیازندگی؟‘‘
’’رائیگاں گئی۔‘‘
’’قسمت؟‘‘
’’وہ تو پھوٹی نکلی۔‘‘
’’روپیہ پیسہ۔‘‘
’’ہاتھوں کا میل تھا۔ سواتار پھینکا۔‘‘
’’توجوانی۔‘‘
’’اسے ادھارپرلیا تھا، واپس کردی۔‘‘
’’عزت۔‘‘
’’ٹکے بھاؤ بیچ دی۔‘‘
’’شہرت۔‘‘
’’بہت داغدار ہے۔تمہارے بس کی بات نہیں۔‘‘
’’پھرحوصلے کا کیا۔‘‘
’’ماند پڑ گیا۔‘‘
’’اورجذبات۔‘‘
’’ان کا رنگ پھیکا پڑگیاہے۔‘‘
’’حسن ہی سہی۔‘‘
’’اب کہاں، ناپید ہوچکا۔‘‘
’’بشاشت۔‘‘
’’اس پرحالات کا پکا رنگ چڑھ چکاہے۔اب یہ نہ اترے گا۔‘‘
’’تو پھر اپنی کھال ہی اتار کردو۔‘‘
’’کئی بار اتاری جا چکی، اب اتاری تو پھٹ جائے گی۔‘‘
’’جب کچھ دھلوانا ہی نہیں تو اتنا جھاگ کیوں بنوایا؟‘‘
’’پیار کو جو دھلوانا تھا۔‘‘
’’فقط ایک پیارکو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’پکا۔‘‘
’’پکااورہاں خوب رگڑ رگڑ کر دھونااور اچھی طرح نچوڑنا۔‘‘
’’ارے کتنا گندہ ہے۔‘‘
’’ہاں صدیوں سے یونہی جوپڑا تھا، کسی الگنی کی تلاش میں۔‘‘


بیر بہوٹی کی تلاش میں

میں بیر بہوٹی کی تلاش میں تھا۔
میں کہاں کہاں نہیں بھٹکا۔
نامعلوم اور خوابیدہ عدم کو ممکنات میں لے آیا۔
ساتوں آسمان، تمام جنتیں، سارے جہنم۔
یہاں تک کہ تخلیق کی دیوارِ گریہ تک بھی جا پہنچا۔
چیخوں اور کراہوں کی موسلادھار بارش کی پھسلن کو ان دیکھا کرکے۔
ناامیدی کے بھنور میں امید کے پر لگا کر
روح کی بے کسی کو متاعِ عزیزجان کر
بدن کی شکستگی و کہنگی کو مومیائی بنا کر
نفس کی منہ زوری کو لگام ڈال کر
ہر خواہش، ہر امید، ہر تمنا، ہر چاہت کوپیچھے د ھکیلتے۔۔۔۔
فقط بیر بہوٹی کو پانے کی چاہ میں۔۔۔۔۔
ایک جھلک دیکھنے کی آرزو میں۔۔۔۔۔
میں دیوار پر چڑھ گیا۔اوراب میرے سامنے تھے،تمام مناظر،تمام موجودات۔۔۔ ساحل پر پڑی کسی مردہ سیپ کی مانند۔۔۔ بے ٹھور۔۔۔بے سدھ۔۔۔بے بال وپر۔۔۔بے پا۔۔۔۔بے بود۔۔۔ مگر بیر بہوٹی۔۔۔ بیر بہوٹی کہاں تھی۔۔۔
کسی نے مجھ سے کہا تھا۔۔۔
’’ اس کی تلاش تو بہت آسان ہے۔۔۔
اسے پانی کی تلاش ہے۔۔۔۔
توُ اسے پانی کی بھینٹ دے اور وہ تجھے مل جائے گی۔۔۔‘‘
پر میں نہ مانا۔ میں مان بھی نہیں سکتا تھا۔ میرے اندر یہ صلاحیت ہی نہیں تھی۔
’’پانی جیسی حقیر شے۔۔۔ مجھے بیر بہوٹی کے شایانِ شان نہیں لگتی۔۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے کہ تُو ماننے والا نہیں۔۔۔اگر ماننے والا ہوتا تو بھلا بیر بہوٹی کی تلاش ہی کیوں ہوتی تجھے،وہ خود تجھ تک پہنچ جاتی۔ جا پھر اسے اپنے طریقے سے تلاش کر۔‘‘
سوچوں کو پرے ڈال کر میں دیوار سے نیچے اترا۔۔۔۔اور بڑبڑایا،’’اگر اسے پانی کا ہی تحفہ دینا ہے تو یہ پھر میرے مطابق ہو گا۔۔۔’’میں‘‘۔۔۔ میں ہوں۔۔کوئی مشت غبار تو نہیں ہوں۔۔‘‘
اب میں ساتوں سمندروں کی جستجو میں تھا۔ بیر بہوٹی کے لئے، اس کی شان کے مطابق، تحفے کی تلاش میں۔۔
اور
وہیں دور کہیں،کسی سوکھے صحرا میں لب دم کوئی شخص،اپنی بے بسی پر بے اختیاررو پڑا۔۔اس کی آنکھوں سے چند قطرے گرے۔۔۔اور ریت میں جذب ہوگئے۔۔۔
بہر بہوٹی کو اس کی بھینٹ مل گئی تھی۔۔۔۔۔
Image: Wassily Kandinsky

Categories
نقطۂ نظر

بوڑھا چور

youth-yell-featured

وہ گھات لگائے کھڑا تھا، وہ اس موقعےکی تلاش میں تھا جب وہ لوگوں کی نظروں سے بچتا ہوا اپنی مطلوبہ جگہ اور اس جگہ پہ موجود اپنی مطلوبہ شے تک پہنچ پاتا۔ شام کے سات بجے تھے، بس اڈے پہ ہمیشہ کی طرح لوگوں کا ہجوم تھا اورہجوم میں وہ لوگ جن کی منزل ابھی بھی نہ آئی مگر تھوڑے بہت آرام اور طعام کی خاطر چند گھنٹے قیام کے لیۓ سفر ترک کر چکے تھے، شامل تھے۔ وہ بس اڈے پہ کھڑا لوگوں کو سامنے بنے اک درمیانے درجے کے ہوٹل میں داخل ہوتے دیکھ رہا تھا جہاں انواع و اقسام کے کھانوں سے نکلتی بھاپ ہر دیکھنے والے کو بھاتی تھی اور بھوک کی اشتہا کو بڑھاتی تھی۔ وہ اس ہوٹل میں داخل ہوتے لوگوں کو عقابی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا کہ بس ابھی ہی انہیں لوٹ کر لے جاۓگا کسی کا صاف ستھرا اجلا لباس اور کسی کا شکن زدہ پیرہن، کسی کا تھکا اور کسی کا مسکراتا چہرہ اس وقت اسے صرف اس کھوج میں گم کیے ہوۓ تھا کہ آخر وہ وہاں پہنچے کیسے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

‏وہ سب سمجھتا تھا، وہ تیرہ سالہ “عقلمند” باصبر بوڑھا تھا۔ مگر اس کاسات سالہ بھائی روتا ہی جارہاتھا،قریب المرگ ماں خستہ اینٹوں کی چاردیواری میں پڑی ٹوٹی چارپائی پر لیٹی بچوں کی بھوک اور اپنی تکلیف سے کراہ رہی تھی، بجھاچولہا، ماں کا کھانسنا جس کے نصیب میں دوا تک نہ تھی۔ سات سالہ حمزہ کا رونا تیرہ سال کے حسن سے برداشت نہ ہو رہا تھا۔ وہ جو روزانہ ادھار کنگھے خرید کر باہر بڑی شاہراہ پہ جا کر اونے پونے بیچ آتا، آج سخت طوفانی بارش میں ایسا بھی نہ کر سکا۔ غربت و افلاس میں ہچکولے کھاتا اس کا گھرآج بھوک سے ڈوب رہا تھا، اس کے پیلے چہرےاوردھنسی ہوئی حلقوں میں گھری آنکھوں میں حساسیت کا سمندر پنہاں تھا مگر وہ بے بس تھا۔ اس عمر میں گھر کی معیشت کا بوجھ اس کے ناتواں کندھوں پر دھرا تھا۔ باپ جو کبھی کا مر چکا تھا، ماں جہاں کام کرتی تھی جب انہیں خبرہوئی کہ زرینہ کو ٹی بی ہوگئی ہےتواس کے جراثیموں سے ڈر کر اسے کام سے ہٹا دیا گیا۔ زرینہ کی حالت روز بروزبگڑتی جا رہی تھی، فاقوں کی نوبت آ گئی، برسات میں چھت ٹپکنے لگی اور پانی گھر کےاندرآنے لگا۔ حمزہ جو سات سال کا ناسمجھ تھا ضد کرنے لگا۔۔۔۔ پیٹ بھرنے کی فضول ضد۔۔۔۔ اور بڑاحسن مزید بڑا ہونے لگا، اس نے غیر محسوس طریقے سے اپنی پڑھائی چھوڑ کر گھر کا بوجھ خود اٹھا لیا۔ آج موسم نےاس کا ساتھ نہ دیا تھا، آج وہ کچھ نہ کر پایا تھا اپنی مرتی ماں اور بلکتے بھائی کے لیے۔ مگر وہ انہیں تڑپتا کیسے دیکھ سکتا تھا؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

‏”آرڈرلکھوائیں صاحب”بارش کے بعد کے شدید حبس میں بھی وہ مفلر سے منہ لپیٹے بیٹھا تھا۔ اس کی ہی عمر کا ایک اور”بوڑھا”اس کے مفلسانہ سراپے کو نظرانداز کرتا اسے “صاحب” کہہ رہا تھا۔ وہ ہراساں تھا، اس کادل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے محسوس ہوا کہ یہاں موجود تمام لوگ اس کی دھڑکن کو آرام سے سن سکتے ہیں۔ اس کے اندر کا خوف اس کی ذات سے نکل کر ہر اور پنجے گاڑ کر بیٹھ گیا، اس کا چہرہ مزید پیلا پڑامگر کسی کو کیا پتہ تھا کہ مفلر کے”پیچھے”کیا ہے۔ “پہلے مجھے بتاؤلیٹرین کہاں ہے؟”حسن نے آوازکی کپکپاہٹ پہ قابو پا کر اسے بارعب بنانے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ “صاحب” کہنے والے لڑکے نے بھی زیادہ غور نہ کیاکہ گاہکوں کا ہجوم تھا، وہ جلدی جلدی اسے غسل خانے کا راستہ بتاکر دوسری طرف مڑ گیا۔ حسن اٹھا، کپکپاتے ہاتھوں اور لرزتے قدموں نےاس کاساتھ نہ دیااور وہ میزکاسہارالے کردوبارہ بیٹھ گیا۔ سامنے جگمگاتے رنگ برنگے قمقموں کی شوخ روشنی اس کی آنکھوں میں چبھی، اس نے سختی سے آنکھیں میچ کر آنسو اندر اتارے اور ماں کا کھانسنا، بھوک سے حمزہ کا رونا سوچتے ہوئے اب کی بار مضبوط قدموں سے کھڑا ہوا ہوٹل سے باہر نکلا اور ادھر ادھر دیکھتے بیرونی کاؤنٹر پر جا کھڑا ہوا جہاں اندر کی طرف کھڑا لڑکا پیسے گن گن کر کاؤنٹر پر گڈیاں بنا کر رکھتاجاتا تھا۔ بس ایک لمحہ لگااورحسن کچھ جھپٹ کر بھاگ کھڑا ہوا۔

 

وہ اندھادھند بھاگ رہا تھا اور بھاگتے بھاگتے مٹھی میں مضبوطی سے پکڑی چوری کی گئی شۓ اس نے جیب میں ڈالی اور وہ لڑکا جو کاؤنٹر پر کھڑا تھااورحساب کتاب میں مصروف تھا “چور،چور” کہتے حسن کے پیچھے بھاگ نکلا…!! اس چور، چور کی صدانے بہت سے دوسروں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیااور اس “چور” کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا۔ “بس یہ بڑی سڑک پارکرکےسامنےہی گلی میں توگھر ہے، اور تیز بھاگو حسن”۔ حسن نے خودکوتسلی دی۔ وہ اور تیز بھاگا جبکہ لوگ اس چور کے تعاقب میں تھے۔ وہ چوربڑی شاہراہ پر پہنچا، سبزبتی جلی، گاڑیوں کاسیلاب اچانک امڈ آیا اور ایک تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے چور اچھلتا ہوا دور جا گرا، جہاں کئی گاڑیوں کے پہیے بیک وقت چرچراۓ۔ حادثہ سنگین تھا، لوگ اس چور تک گاڑیوں سے نکل کر پہنچے اور ہوٹل سے اس کا تعاقب کرتا گروہ بھی۔ “بہت برا حادثہ ہوا ہے، دیکھو کتنا خون بہہ رہا ہے سر سے، یہ بچے گا نہیں”۔ کوئی بولا “حرام کام کرے گا تو ایسی کتےکی موت ہی مرے گا نا چور کہیں کا” کاؤنٹروالا لڑکا اب بھی مشتعل تھا۔ “حرام کام؟” ہجوم میں سے سوالیہ بھنبھناہٹیں اٹھیں، “ہاں، میرے ہوٹل سے چوری کر کے بھاگا ہے، میں حساب کتاب کر رہا تھا، میز پہ پیسے گن گن کر رکھ رہا تھا کہ یہ خبیث اچانک وہاں سے جھپٹا مار کر بھاگا۔ پیسے ہی لے کر بھاگا ہے ناں” اب کے اس نے ہمدردی سمیٹنے کے لیے ہجوم سے سوال کیا، “ہاں تو اور کیا پیسے ہی ہوں گے” ہجوم میں سے کئی آوازوں نے تائیدی سروں کو ہلانے کے ساتھ جواب دیا۔
“لواس کی تلاشی” لڑکے نے غصے سے سامنے پڑے بے سدھ حسن کی طرف اشارہ کر کے شاید ہوٹل کے ملازمین کوحکم دم دیا۔ اپنے رویے سے وہ ہوٹل کا مالک لگ رہا تھا۔

 

“پرجناب کیوں نہ پہلےاسے ہسپتال لے جایا جاۓ، دیکھیں اس کی سانسیں ابھی بھی باقی ہیں، تلاشی والا معاملہ پھر کر لیجیئے گا”کوئی”آدم زاد” بولا۔

 

“اوبھائی! جا کام کر اپنا، نقصان میرا ہوا ہے ہزاروں کا، تیرا نہیں۔ وہ تو قسمت اچھی تھی میری جو یہ میرے ہاتھ لگ گیا، چاہے ایسے ہی سہی، چلو اوۓ لو تلاشی” اس نےپھر حکم صادر کیا۔ حسن کا زرد چہرہ سفید پڑ رہا تھا، پتلیاں ساکت ہو رہی تھیں۔

 

اورملازمین اب اس کے چہرے سےمفلر اتار رہے تھے۔۔۔ بس، بارہ تیرہ سالہ بچہ؟ پرتوبہ، اتنا بڑا کام کرنے کی اس میں ہمت کہاں سےآئی؟ چہ چہ۔۔۔۔لوگوں نے سوچا۔ ساری جیبیں ٹٹولی گئیں اوربالآخر وہ سامان برآمد ہو ہی گیا جو وہ وہاں سے لے کر بھاگا تھا۔ نہ کوئی روپیہ پیسہ، نہ ہی کوئی خزانہ، اک جیب سےآدھی تڑی مڑی روٹی کا ٹکڑا برآمد ہوا۔۔۔۔ اور اب “بوڑھے چور” کی پتلیاں ساکت تھیں کسی نے آگے بڑھ کر اس کی آنکھیں بند کیں۔ وہ جوجاں ہتھیلی پہ رکھ کر وہاں سےچوری کرنے گیا تھا، اورچوری کی نیت بس “روٹی” تک محدود رکھی تھی۔۔۔۔ مرنے والے کے لیے اک سانس، ڈوبنے والے کوتنکا اور پہروں سے بھوکے کے لیے روٹی کا ایک نوالہ بھی تو زندگی ہی ہے وہ چور توبس “آج” کے لیے”زندگی”چرانے گیا تھا۔۔۔۔ روٹی کا ٹکڑا دیکھ کر ہجوم میں ہر کوئی شرمندہ تھا، مگر شرمندگی جلد ہی جھاگ کی طرح بیٹھنے لگی ذرا دیر میں گاڑیوں کے دروازے بند ہونے لگے، بھیڑ چھٹنے لگی اور ایدھی ایمبولینس کی آواز قریب آنے لگی۔۔۔۔