Categories
فکشن

باجے والے گلی – قسط 9 (راجکمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

جس وقت غیاث الدین یہاں پہنچا تو اس وقت گھر کا داخل دروازہ اندر سے بند تھا۔ پٹھان کے ہاتھ کنڈی کھٹکھٹانے کی غرض سے یکایک اٹھے اور ویسے ہی یکایک پیچھے کی طرف بھی کھنچ گئے۔ اس نے حویلی کے بند دروازے کو نِہارنا شروع کر دیا۔ تقریباً بارہ فٹ اونچے، بےجان سلیٹی رنگ سے پُتے، بھرپور چوڑے محراب دار دروازے کے جسم پر اسے جگہ جگہ باریک لکیریں اُبھری ہوئی دکھائی دینے لگیں۔ غیاث الدین کو حیرت ہو رہی تھی که آخر یہ لکیریں اسے تب کیوں نہیں دکھائی دی تھیں جب وہ یہاں رہتا تھا؟ یا پھر ایسا ہوا ہے که یہ لکیریں اس کے گھر چھوڑ جانے کے بعد ابھری ہیں؟ اپنے جواب کی تلاش میں اس نے دروازے پر ہاتھ پھیرکر دیکھا۔ پھر وہ دروازے کی لکیروں پر نظر گڑا کر انھیں اس طرح گھورنے لگا مانو وہ کسی ہاتھ کی لکیریں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

اچانک اسے اپنی ہی اس کوشش پر ہنسی آئی اور اس نے اِدھر اُدھر دیکھ کر ہنستے ہوے ہی کنڈی کھٹکھٹا دی۔ لوہے کی مضبوط اور موٹی چولوں پر گھومتا بھاری بھرکم دروازہ، اپنی دیونما گونج کے ساتھ اتنی تیزی کے ساتھ کھلا مانو دروازے کے اُس طرف کوئی کھڑا کھڑا اس حویلی کے مالک کی اس عجیب حالت کو شیشے میں نہار رہا ہو۔

’’کہیے؟‘‘ دروازہ کھولنے والے نے پوچھا۔
’’جی آداب۔‘‘
’’آداب۔‘‘
’’معاف کیجیے، آپ شاید ہمیں نہیں جانتے۔ ہمارا نام غیاث الدین ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک اس حویلی میں ہم ہی رہتے تھے۔‘‘ اتنا کہہ کر غیاث الدین نے آخر میں دروازہ کھولنے والے سے اس کا تعارف پوچھ لیا۔ ’’معاف کیجیے، آپ کا اسم شریف جان سکتا ہوں؟‘‘

دروازہ کھولنے والے منجھلے سے قد کے، سانولے سے آدمی کے چہرے پر دروازے پر کھڑے چھ فٹ سے اوپر نکلتے قد والے اس لحیم شحیم پٹھان کا نام سنتے ہی مسکراہٹ سی پھیل گئی۔ اسے سب کچھ پتا تھا اور اسے اس گھڑی وہ سب کچھ یاد آ بھی گیا تھا۔ اس نے بےحد گرم جوشی کے ساتھ ہاتھ آگے بڑھا کر اپنے سے سوائے قد والے انسان کا ہاتھ تھام لیا اور ’’ارے آئیے آئیے، پہلوان صاحب‘‘ کہتے ہوئے خوشی سے بھرے کسی بچے کی طرح لگ بھگ کھینچتے ہوے اندر کی طرف لے چلے۔

خوشی سے لبریز یہ ’بچہ‘ کوئی اور نہیں میرے پتا تھے۔ پچھلے تین چار سال میں اس گھر کے مالک کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے کرتے وہ غیاث الدین پٹھان اور اس حویلی کا پورا شجرہ اکٹھا کر چکے تھے۔ عادت کے مطابق وہ ایسی تمام جانکاریوں اور اپنے جذبات کو ایک کاپی میں لکھ لیتے تھے۔ یہ ان کا لگ بھگ روز کا کام تھا۔

لہٰذا ان کی اسی کاپی کے مطابق یہ حویلی غیاث الدین کے پتا میجر انجام الدین نے بنوائی تھی۔ اکلوتا بیٹا ہونے کے ناتے میجر صاحب کے بعد یہ غیاث الدین کو وراثت میں ملی۔ غیاث الدین شہر کے معروف انسان تھے۔ ان کی پہچان ایک دلاور اور دلآویز شخص کے طور پر تھی۔ شہر سے کچھ فاصلے پر آباد ایک گاؤں لسانیہ خورد میں کئی ایکڑ زمین تھی۔ لگ بھگ آدھے رقبے میں خاص بھوپالی دئیڑ آم کا باغ تھا۔ باقی حصے میں گیہوں کی پیداوار تھی، جس کے لیے اسی حویلی میں انھوں نے ایک بڑا سا ہال رکھ چھوڑا تھا۔

لیکن غیاث الدین کا دل کھیتی باڑی سے زیادہ پہلوانی میں رَمتا تھا۔ سو گھر سے کچھ دور ہی کوتوالی کے پاس گپّو استاد کے اکھاڑے میں خوب ڈنڈ پیلتے تھے اور کشتیاں لڑتے تھے۔

دادا کو یہ پہلوانی والی بات خوب بھا گئی تھی۔ انھوں نے اپنے ذہن میں اس پہلوان کی ایک بڑی رومانی سی تصویر بنا لی تھی۔ اسی وجہ سے وہ شہر میں جب بھی اپنا پریچے دیتے تو یہ بتانا نہ بھولتے که وہ ’غیاث الدین پہلوان‘ کی حویلی میں رہتے ہیں۔

غیاث الدین کو لے کر دادا گھر اور آنگن کے بیچ برابری سے پھیلے فرشی والے اوٹلے پر بچھی کھٹیا پر بیٹھ گئے۔ دادا اس حویلی کے بارے میں لگاتار باتیں کیے جا رہے تھے لیکن پٹھان کی نظریں لگاتار چاروں اور گھوم گھوم کر حویلی کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس وقت نہ جانے اس کے ذہن میں کیا کیا باتیں چل رہی ہوں گی، لیکن اتنا طے تھا که وہ اس وقت اپنی حویلی کی کسی بھی چیز کو ان دیکھا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔

دادا اس بات کو تاڑ گئے۔ انھوں نے پٹھان سے سوال کیا، ’’حویلی کو دیکھ رہے ہیں؟‘‘
جواب میں پٹھان مسکرا کر رہ گیا۔
دادا نے پھر سوال کیا، ’’یہاں کی یاد آتی ہوگی۔ نہیں؟‘‘
اس بار پٹھان کے چہرے کا رنگ بدلا۔ مسکراہٹ کی جگہ درد کی ایک عجب سی لکیر آنکھوں کی کوروں کے آس پاس دکھائی دینے لگی۔

’’گھر کی یاد کسے نہیں آتی؟ ۔۔۔ اس بات کو تو آپ بھی خوب سمجھتے ہوں گے۔‘‘ اتنا کہہ کر پٹھان نے اپنا چہرہ حویلی کے کویلو کی چھت والے حصے کی طرف گھما لیا، جہاں کہیں سے کٹ کر آئی ہوئی پتنگ پڑی ہوئی تھی۔ پٹھان کھڑا ہو گیا اور اس کٹی پتنگ کو غور سے دیکھتے ہوے کہنے لگا، ’’بڑی لمبی ڈوروں کے ساتھ ہے۔ کہیں دور سے کٹ کر آئی معلوم ہوتی ہے۔‘‘

اب تک دادا بھی اٹھ کر کھڑے ہو چکے تھے اور اسی طرف دیکھ رہے تھے جدھر پٹھان دیکھ رہا تھا۔ پٹھان کی بات سنی تو دادا کے منھ سے ہنسی ہنسی میں ازخود ایک ایسی بات نکل گئی جس نے پورے ماحول کو بدل ڈالا۔
’’شاید یہ بھی کہیں سندھ سے کٹ کر آئی ہے اور اسے بھی پہلوان صاحب کی حویلی ہی پسند آئی۔‘‘

پٹھان پر اس بات کا جادو سا اثر ہوا۔ اس نے دادا کو بانہوں میں بھر لیا اور واپس کھٹیا پر بیٹھتے ہوے کہا، ’’ہم بھی تو یہاں سے کٹ کر ہی وہاں پہنچے ہیں۔‘‘
اب اس بات چیت میں ایک فلسفیانہ گمبھیرتا آ گئی تھی۔ دادا نے بھی اسی طرح کا جواب دیتے ہوے کہا، ’’پہلوان صاحب، ہمارے لیڈروں کو پینچ لڑانے کا بہت شوق ہے نا۔ اب ان کے پینچ لڑیں گے تو کٹیں گے تو ہم آپ ہی نا۔‘‘

پٹھان نے اس بھاری سے ہوتے ماحول کو بدلنے کی غرض سے ایک سوال کر لیا، ’’آپ کے علاوہ اور کون کون ہے یہاں پر؟ کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟‘‘
اس سوال کے ساتھ ہی دادا کے بھیتر بیٹھا نیتا فوراً متحرک ہو گیا۔ فوراً جواب دیا، ’’ارے پہلوان صاحب بالکل۔ آپ یہیں بیٹھیے اور ناشتہ کیجیے، میں سب کو یہیں بلا لیتا ہوں۔’’

لیکن غیاث الدین تو پوری حویلی میں چاروں طرف گھوم کر سب کچھ اپنی نظروں سے دیکھنا چاہتے تھے۔ سو انھوں نے سجھاؤ والے انداز میں کہا، ’’ارے نہیں۔ کیوں سب کو زحمت دینا۔ ہم لوگ چل کر ہی سب سے مل لیتے ہیں نا۔‘‘

اگلے ایک گھنٹے تک غیاث الدین چہرے پر ایک مستقل مسکراہٹ لیے حویلی کے کونے کونے میں گھومتا، لوگوں سے ملتا اور درودیوار کو چھو کر دیکھتا، کچھ کہتا اور کچھ نہ کہتا، چلتا رہا۔ ایک کونے میں بنی چھوٹی سی کُٹھریا خالی پڑی تھی اور اس سے لگی دیوار کا ایک حصہ گر چکا تھا، جس کی وجہ سے اس پار کوتوالی والی گلی پر بنے مکان کا پچھواڑا دکھائی دے رہا تھا۔ اس جگہ پر آ کر غیاث الدین کے چہرے کی وہ مستقل مسکان والے ہونٹ کچھ اور کھلے۔ بولے، ’’گر گئی آخر۔‘‘

دادا نے اس پہیلی کو سمجھنے کی غرض سے سوال کیا، ’’کیا پہلے سے ہی گرنے والی تھی؟‘‘
’’ہاں، گرنی تو چاہیے تھی۔ مگر ہمارے رہتے نہیں گری۔‘‘
اس سے پہلے که دادا کوئی اور سوال پوچھتے، غیاث الدین نے ہی ایک سوال پوچھ لیا، ’’آپ کو معلوم ہے وہ اُس طرف کس کا گھر ہے؟‘‘
دادا نے انکار میں سر ہلا دیا۔
’’وہ افتخار میاں کی حویلی کا پچھواڑا ہے۔‘‘
پھر ایک لمحے کی خاموشی کے بعد انھوں نے جوڑا، ’’کبھی ہمارے دوست ہوتے تھے۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ بڑی تیزی سے مڑا اور باہر جانے کے لیے قدم بڑھا دیے۔ دادا نے بہت اصرار کیا که وہ چائے ناشتے کے بنا نہیں جا سکتے، لیکن اسے جانے کی بہت جلدی سی ہو چلی تھی۔ سو بس ایک پاپڑ کھا کر اور ایک گلاس پانی پی کر باہر کی طرف مڑ گیا۔

دادا اس تیزقدم چال کے ساتھ برابری سے چلنے کی کوشش کرتے ہوے دروازے تک پہنچ گئے۔ غیاث الدین نے دادا کو گلے لگا کر ’’خدا حافظ‘‘ کہا اور پھر پوری رفتار سے آگے بڑھ گیا۔

٭٭٭

دادا جب اندر واپس پہنچے تو حویلی کے گھروں سے لوگ نکل کر آنگن میں کھڑے کھسرپسر میں لگے تھے۔ سب کے چہروں کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ حویلی میں رہنے والے سب سے آسودہ اور سب سے بزرگ ماسٹر امبومل نے اپنے گھر کے باہر نکلے ہوے کونے میں لگی کرسی پر بیٹھے بیٹھے اور ہاتھ میں اخبار تھامے تھامے دادا سے سوال کیا، ’’کیا کہتا ہے یہ میاں؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ وہ تو بس دیکھنے آیا تھا اپنی حویلی،‘‘ دادا نے جواب دیا۔

”ارے بھائی ہمت رام، تم تو نیتا آدمی ہو، اخبارنویس ہو۔ تم کو معلوم نہیں ہے که یہ مسلمان واپس لوٹ رہے ہیں اور اپنے گھر واپس لینے کے لیے تلواروں سے ہندوؤں کو کاٹ رہے ہیں۔‘‘

غیاث الدین سے ملنے کی خوشی میں ڈوبے دادا کے ذہن میں اس لمحے تک یہ خیال آیا ہی نہیں تھا۔ ماسٹرجی نے چیتایا تو ان کی چیتنا لوٹی۔ پھر بھی ان کا جواب تھا، ’’ماسٹر صاحب، وہ بڑا شریف آدمی ہے۔ وہ کوئی تلوار لے کر آیا تھا کیا؟ اور سارے مسلمان ایک جیسے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
’’یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ تم تو سب سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف تقریریں کرتے ہو!‘‘ ماسٹرجی نے ایک طنزیہ ہنسی ہنستے ہوے کہا۔

دادا کو یہ بات بڑی ناگوار گزری۔ انھوں نے پلٹ کر جواب دیا، ’’جو کہتا ہوں، سچ کہتا ہوں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں۔ کوئی تلوار لے کر آئے گا تو ہم بھی اس سے تلوار سے بات کریں گے۔ لیکن کوئی شریف آدمی گھر آئے تو کیا اسے پتھر مارنا شروع کر دیں؟‘‘

کرودھ سے بھرے اس جواب سے ایک سنّاکا سا کھنچ گیا۔ ماسٹرجی اپنی اعلیٰ حیثیت اور اپنی عمر کی بڑی پروا کرتے تھے۔ سو انھوں نے اپنے سے بہت چھوٹے ’لڑکے‘ سے الجھنے کے بجاے ہاتھ میں تھامے اخبار کو پڑھنے کی غرض سے اپنے منھ کی طرف اٹھانے کی کوشش کی ہی تھی که دادا نے ایک آخری جملہ جڑ دیا:
’’آخر وہ اس حویلی کا پرانا مالک ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔ اتنی شرافت تو ہم میں بھی ہونی چاہیے ۔۔۔‘‘
یہ کہتے کہتے دادا اپنے گھر کی طرف جانے کو مڑ گئے۔ ٹھیک اسی وقت ماسٹرجی کے گھر سے حویلی کے اکلوتے گھڑیال کے گجر کی آواز گونجنا شروع ہو گئی۔

ایک۔۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔ چار۔۔۔ پانچ۔۔۔ چھ۔۔۔ سات۔۔۔ آٹھ۔۔۔ نو۔۔۔ دس۔۔۔

٭٭٭

شہر میں سندھی شرنارتھیوں کی موجودگی کو ابھی مقامی لوگ ٹھیک سے سویکار بھی نہیں کر پائے تھے که ایک گھٹنا اور گھٹ گئی، جس کے نتیجے میں تناؤ بڑھنا طے تھا۔ بھارت سرکار کے پُنرواس وبھاگ نے اچانک ہی یہ فیصلہ لے لیا که راجستھان میں اجمیر کے پاس دیولی کیمپ میں رہنے والے بےگھر سندھی پریواروں کا تبادلہ شہر بھوپال سے کوئی 4-5 میل کے فاصلے پر آباد بیراگڑھ کیمپ میں کر دیا جائے۔

ایک بار پھر اُکھڑنے سے ناخوش لوگوں کی ناخوشی کی آواز کسی کان تک نہ پہنچی اور چند برس پہلے سندھ سے بےدخل ہوے ان پریواروں کو دوبارہ بےگھر ہو کر باہر نکلنا پڑا۔ اجمیر سے روانہ ہونے والی اس پہلی ’ریفیوجی سپیشل‘ گاڑی میں تقریباً 2300 پریواروں کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا گیا۔ بیراگڑھ کیمپ تک چلنے والی اس میٹر گیج والی ٹرین کو بول چال میں ’چھوٹی لائن‘ والی گاڑی کہا جاتا تھا۔

اجمیر کی نصیرآباد چھاؤنی والے سٹیشن پر اس دن کچھ زیادہ ہی بھیڑ تھی۔ اجمیر میں بس چکے دیولی کیمپ کے رہواسیوں کے رشتےدار ناتےدار ان بچھڑ کر دور جانے والے اپنوں کو وِداع کرنے آ پہنچے تھے۔ ایک نئے انجانے شہر اور غیریقینی مستقبل کے سفر پر نکلنے کو مجبور لوگ اپنوں سے گلے مل اس طرح روتے تھے که مانو اب تو شاید ہی کبھی ملنا ہو۔ آہ و زاری کی گونج سے بھرے، سسکتے سے ماحول کے بیچ ٹرین کا ڈرائیور اور کنڈکٹر ایک دوسرے کو بےبس نگاہوں سے دیکھتے خاموش کھڑے تھے۔ ٹرین کا مقررہ وقت گزر چکا تھا لیکن ٹرین آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی، که پسنجر تو ابھی تک پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ آخر کنڈکٹر ڈینِس بنجامن نے آ کر بڑے نرم لہجے میں آخری چیتاونی دینے کے بعد سیٹی بجا کر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا دی۔
اس بار مجبور ہو کر سب لوگ اپنے اپنے آنسوؤں کو ساتھ لے کر ٹرین کے ان چھوٹے چھوٹے، سکڑے سے ڈبوں میں سوار ہو گئے۔ ٹرین دھیرے دھیرے، لگ بھگ قدم تال والی سپیڈ سے کھسکتی، چل پڑی۔ کوئی 400 میل دور بسے بیراگڑھ کیمپ کی طرف۔

ٹرین کی روانگی کے ساتھ ہی پلیٹ فارم والا منظر ان ٹھساٹھس بھرے ڈبوں میں سوار ہو گیا تھا۔ اپریل مہینے کی گرمی سے تپے ہوے ٹرین کے کمپارٹمنٹ میں چھت کے پنکھے کم اور ہاتھ کے پںکھوں سے زیادہ راحت پانے کی ناکام کوشش ہو رہی تھی۔ اس پر چھوٹے چھوٹے بچوں کا رونا ماحول کو اور بھی رنجیدہ بنا رہا تھا۔

چھک چھک کرتی اور اسی گتی سے چلتی ٹرین کے انجن سے نکلتا دھواں اور ہوا میں اڑتی کوئلے کی ٹکڑیاں لگاتار سارے ڈبوں کے یاتریوں کے ماتم زدہ چہروں کو اور بھی ماتم زدہ بنا رہی تھیں۔ اس ٹرین میں سوار ڈیلارام ممتانی کا پریوار بھی سوار تھا۔ 70 برس کے ڈیلارام کے پریوار میں اس کے دو بیٹے، دو بہویں، ایک وِدھوا بیٹی، چار پوتے اور دو ناتنیں بھی شامل تھے۔ اداس چہروں کی اس بھیڑ کے بیچ جہاں لگ بھگ سارے چہرے ایک جیسے دکھائی دے رہے تھے، اسی جمگھٹے میں کھڑکی سے لگے بیٹھے ڈیلارام باہر کی طرف جھانکتے، آسمان کو نہارتے نہارتے بیچ بیچ میں بےوجہ ہی ہنسنے لگتے تھے۔ اس ہنسی کی وجہ سے اداس چہروں کے بیچ ایک عجب سی ہلچل مچ جاتی تھی۔ بچے حیرت سے ایک بار ڈیلارام کی طرف اور دوسری بار اداس چہروں کی طرف دیکھ کر آنکھوں کے اشارے سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہوے سے معلوم ہوتے تھے که ماجرا کیا ہے؟

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اپنے گھروں سے بےدخل ہوکر نئے شہر میں ایک مخالف ماحول کے بیچ اپنے لیے زمین ڈھونڈتی قوم کے کردار میں عدم تحفظ کا احساسٴ سرایت کر جانا قدرتی تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر انسان کے بھیتر دو دھارے بہنے لگتے ہیں۔ ایک دھارا ہوتا ہے خوف کا، جو باہری ماحول میں پھیلے ہوے خطرے سے پیدا ہوتا ہے، اور دوسرا دھارا ہوتا ہے باہری ردعمل والے دھارے کے ردعمل میں جنما جوابی دھارا۔ یہی دھارا ہوتا ہے جس سے اثر لے کر انسان کی تمام اندرونی قوتیں اپنے وجود کے بچاؤ میں ایک جُٹ ہو کر اسے اس کی تمام جسمانی قوتوں سے زیادہ طاقتور ہونے کا بھروسا دلاتی ہیں۔ وہ اپنی اسی اندرونی طاقت کے بھروسے ان باہری خطروں سے ٹکراتا ہے جن سے اسے ڈر لگتا ہے۔

بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی اس اندرونی طاقت کو نہ ٹھیک سے پہچان پاتے ہیں اور نہ ہی اسے ایک جٹ کر پاتے ہیں۔ ایسے لوگ، اپنی حفاظت کے لیے دوسرے انسانوں میں اپنا تحفظ ڈھونڈے ہیں۔

ایسی ہی دوِدھا سے جوجھتے، ایک دوراہے پر کھڑے بے یارومددگار سندھی طبقے میں بھی ایک اور بٹوارا ہوا۔ دھیرے دھیرے اکھڑے ہوے لوگوں میں سے گنتی کے چند ایسے لوگ منچ پر ابھرنے لگے جو ہر روز کی لعنت ملامت سے عاجز آ چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی زندگی سے بھی عاجز آ چکے تھے۔ ان لوگوں کی بولی ہی ان کے اپمان کا ہتھیار بن گئی تھی۔ یہ زبان سے چلنے والی کسی پچکاری کی طرح کا ہتھیار تھا، جس سے ’’اے سندھی!‘‘، ’’بھینڑاں کھپو‘‘، ’’لکھ جی لعنت‘‘، ’’وڑی سائیں‘‘ جیسے سندھی کے کچھ چنندہ لفظ ہلاک ہو کر مسخ روپ میں باہر نکلتے اور برچھی کی طرح راہ چلتے بچے بوڑھوں کو نشانہ بناتے۔

ایسے ہی مخالف ماحول میں جینے کے راستے ڈھونڈتے ان رفیوجیوں میں سے کچھ لوگ ’’کم لاگت، کم منافع، لیکن ٹرن اوور زیادہ‘‘ والا فارمولا لے کر بازار میں اترے۔ بیوپاری مفادات کا ٹکراو ہوا تو شہر کے پرانے بیوپاریوں نے ان نئے نئے بیوپاریوں کو ملاوٹ خور اور ڈنڈی مار والے تمغے دے کر بازار میں ہرانے کی حکمت عملی اپنا لی۔ دو بیوپاریوں کی اس جنگ کی زد میں آ کر وہ لوگ بھی زخمی ہونے لگے جو نہ تو سڑک پر خالی شکر کے بورے کے منافعے پر شکر بیچ رہے تھے اور نہ جنھوں نے دال چانول کی کوئی دکان لگائی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہر صبح، ہر شام طرح طرح کے جھوٹے الزام جھیل رہے تھے۔

یہ بیکار سے گھومتے بیروزگار لوگوں کا گروہ تھا جس کے لیے زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ سو جینے مرنے کی پروا کو پیچھے چھوڑ، اس نہایت چھوٹے سے حصے نے اینٹ کا جواب پتھر والا راستہ چن لیا اور ڈرانے والے نتیجوں کو الگنی پر ٹانگ کر بےخوف سینہ تان کر نکلنا شروع کر دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اونچی آواز میں اپنے گھر چھوڑ بےگھر ہونے کو وطن کے لیے دی گئی قربانی مانتے تھے اور نئے بندوبست میں اپنے لئے عزت کی جگہ چاہتے تھے۔ اور جو یہ حق حق کی طرح نہ ملے تو آگے بڑھ کر چھین لینے والے فلسفے کے ساتھ سامنے آ گئے۔

لیکن دوسرے راستے پر چلنے والوں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ یہ لوگ مل جل کر صلح کل والے انداز میں جینے کی تمنا رکھتے تھے۔ اتنی بڑی اتھل پتھل کے بعد کسی طرح تھوڑے بہت سمجھوتے کی راہ لے کر سکون سے جینا چاہتے تھے۔ اس طبقے نے شہر کی سِکھ سمودائے [برادری] اور ان کی بہادری کو اپنی طاقت مان لیا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ صدیوں سے سندھی سماج سِکھی پرمپرا [روایت] سے جڑا رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو که جس گھر میں گرو نانک دیو یا دوسرے سِکھ گروؤں کی تصویریں نہ لگتی ہوں۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر رہا ہو گا جس میں گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہ ہوتا ہو۔ اور تو اور، سندھی کہاوتوں میں بھی گرو نانک دیو کا ستھان اتنا اونچا رہا ہے که وہ اپنے گھر کو بھی گرو کی چھاؤں کی طرح مانتے تھے۔ باربار یہی ایک جملہ سنائی دیتا تھا: ’’گھر گُرو جو در۔‘‘ ہر تیسرے چوتھے سندھی گھر میں ایک بیٹے کا سِکھ ہونا ایک عام بات تھی۔ اس ناتے وہ ہمیشہ سے سِکھوں کو اپنا بھائی، اپنا ہمزاد مانتے ہی آئے تھے۔ اور سکھ سمودائے نے بھی ہمیشہ اس رشتے کو وہی سمّان دیا ہے۔

ایک دن کی گھٹنا نے اس پوری بات کو ایک نئی اڑان دے دی۔ ایک دن دو سکھ عورتیں گھر سے کچھ دوری پر آباد اِبّا چوڑی والے کی باخل سے ماں کے پاس کپڑے سلوا نے آئیں۔ انھوں نے اپنی کسی جاننے والی کا حوالہ دیا جس کے لیے ماں نے کپڑے سیے تھے۔ ماں کے چہرے پر اپنی تعریف سن کر ایک مسکراہٹ سی آئی۔ اس نے اٹھ کر دونوں کو پانی پلایا اور بڑے پیار سے کپڑوں کی سلائی کے بارے میں بات کی۔ باتوں باتوں میں ہی ماں نے ان سے دریافت کیا که شہر میں گورودوارہ کہاں ہے۔ گورودوارے کی بات سن کر دونوں کے چہرے پر ایک مسکان سی پھیل گئی۔ انھوں نے بتایا که شہر میں کل جمع ایک ہی گورودوارہ ہے جو شہر سے کافی دور رجمنٹ روڈ پر ہے۔

ان دو میں سے ایک عورت خاصی بزرگ تھیں۔ ماں نے جب اس بات پر حیرانی اور نراشا ظاہر کی تو اس بزرگ مہیلا نے اپنے پنجابی لہجے میں جواب دیا، ’’او نا جی، جیہڑا نواب سی نہ بھوپال دا، اُناں دی فوج وچ پٹیالے دے جیالے سکھ سپاہی تھے۔ کوڑاں والی فوج (گھڑسوار فوجی دستہ) بنانے کے لیے اُناں نے خاص طور سے پٹیالہ مہاراج نوں دوستی دا واسطہ دے کے، پنج سو سپاہیاں نوں بلایا سی۔ سو بس اُناں دے واسطے ای وہ گورودوارہ بھی بنایا سی۔‘‘
رجمنٹ روڈ شہر خاص سے واقعی دور دراز کا علاقہ تھا۔ یہ بھوپال ریاست کی فوج سلطانیہ انفنٹری والی بیرکس کی طرف آنے جانے کا راستہ تھا۔ اس دوری کے باوجود گورودوارے پہنچنے والوں کی کمی نہ تھی۔ ساجھے کا تانگہ اس کے لیے بڑی مفید چیز تھا۔

ماں نے حویلی کے سارے گھروں سے ان دو مہیلاؤں کا تعارف ایسے کروایا جیسے کوئی رشتےدار ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ که سارے لوگوں نے اسی طرح کی خوشی ظاہر کی۔ ماں نے آخر میں گھر کے اندر ایک آلے میں بنے مندر، اس میں کانچ والے فریم میں جڑی گرو نانک دیو کی تصویر اور گرو گرنتھ صاحب کے درشن بھی کروا دیے۔ کپڑے سلنے سے پہلے ہی ایک نیا اور مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ اس کے بعد شروع ہوا تیج تیوہار پر گورودوارے جانے کا سلسلہ۔

دادا پو پھٹے ہی حویلی کے اکلوتے غسلخانے میں پانی کی بالٹی لے کر گھس جاتے۔ جنیؤ ہاتھ میں لے کر کچھ بُدبُداتے اور پھر نہا دھو کر نکل پڑتے گھر سے کچھ دور خزانچی گلی میں بنے مندر کی طرف۔ ماں کا پوجا پاٹھ گھر پر ہی ہو جاتا۔ امرت ویلے کی اس کی پوجا میں سُکھمنی صاحب کا پاٹھ ضروری ہوتا تھا۔ جب بھی موقع ملتا، ماں مجھے بھی ساتھ بٹھا کر گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ سناتی۔ اس کا مطلب سمجھاتی۔ میں منترمُگدھ سا ماں کو پاٹھ کرتے سننے سے بھی زیادہ اسے دیکھتا رہتا تھا۔ گیت والے انداز میں پاٹھ کرتی ماں کی اس دھیمی اور کبھی مدھم سی آواز میں کسی کسی شبد پر ایک سیٹی سی سنائی دے جاتی تھی اور میں چمتکرِت سا اس کے ہونٹوں کو دیکھتا رہتا که کس طرح اوپر نیچے ہوتے ہوتے اچانک کیسے ایک حالت ایسی آتی ہے که کسی کسی شبد پر وہ ذرا گول ہو جاتے ہیں اور سیٹی کی سی آواز سنائی دے جاتی ہے۔ جس گھڑی ایسا ہوتا تو مارے رومانچ کے میرے پورے بدن میں ایک پھرپھری سی اٹھتی اور چہرے پر خوشی کا انوکھا بھاوٴ آ جاتا۔

ایک دن ماں نے، پڑوسن پتلی بائی سے کہہ کر میرے لیے ایک چھوٹی سی پُستک بازار سے منگوائی: ’’بال بودھ‘‘۔ اسی کتاب کے ذریعے وہ مجھے گرمکھی پڑھنا سکھانا چاہتی تھی که میں خود بھی گرو گرنتھ صاحب اور دسمیس درشن جیسی پوتر کتابیں پڑھ سکوں۔

ماں کی پہلی کوشش کچھ کامیاب نہ ہو سکی۔ میرا رجحان ذرا دوسری طرف ہی بنا رہا۔ لیکن ماں کی لگاتار کوششوں اور پاٹھ کے دوران بجنے والی سیٹی نے مجھے گرمکھی سیکھنے پر آمادہ کر ہی لیا۔ میں گرمکھی سیکھا تو گرو گرنتھ صاحب کو پڑھنے کا چسکا سا لگ گیا۔ اب مجھے اس سیٹی وِیٹی کی یاد بھی نہ آتی تھی۔ میری زندگی میں اس گرنتھ نے ایک ایسا بیج بویا جو میرے بھیتر پوری طرح بلوان ہو کر مجھے باغیانہ فطرت کی راہ پر لے جانے والے رجحان کے ساتھ ٹکرانے لگا تھا۔ اندر ہی اندر کشمکش کی ایک ایسی کیفیت بننے لگی تھی جو مجھے باربار بےچینی اور خفتگی کے ساتھ خود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

صحبت اور حالات سے پیدا ہوا باغیانہ تیور سماج میں غنڈئی والے کھاتے میں درج ہوتا ہے۔ لہٰذا عمربھر میرے بھیتر یہ باغی اور یہ امرت بیج ساتھ ساتھ پلتے رہے۔ میں جب جب کرودھ میں کوئی ایسا کارنامہ کر گزرتا جو مہذب سماج کے بچوں کے لیے ممنوع مانا جاتا تھا، تب تب کسی اور کی انگلی اٹھنے سے پہلے ہی یہ امرت بیج میرے بھیتر کوئی ایسا مادّہ پیدا کر دیتا که میں خود اپنے کو قصوروار مان کر لہولہان کر، سزا دینے کی کوشش کرنے لگتا۔

اس کوشش کی شروعات ہوتی تھی دادا کے پورٹیبل ریمنگٹن ٹائپ رائٹر کے ساتھ رکھے کاربن پیپر اور کاغذوں کے ساتھ رکھی آل پن کی ڈبی سے۔ ایک پن نکال کر میں خود کو باربار سوئی چبھوتا اور چبھن کے درد کے ساتھ نکلتی خون کی ننھی سی بوند کو دیکھتا، ماں کی طرح ہی خاموش آنسو بہاتا اور چپ چپ رُلائی کرتا رہتا۔ جس دن سوئی سے نکلی خون کی بوندوں سے بھی جی ہلکا نہ ہوتا، اس دن اٹھ کر اتوارے کے ٹرانسپورٹ علاقے میں آباد ایک ننھے سے باغیچے میں پھولوں کے اردگرد لگی کانٹےدار باڑھ کے اُبھرے کانٹوں سے اپنی انگلیاں زخمی کر لیتا۔ جب خون بہتا تو دبی دبی چیخ بھی نکلتی لیکن اس خون کے ساتھ ہی دل میں اٹھا درد بھی ضرور کچھ بہہ جاتا۔ جی ہلکا ہو جاتا۔

اس ساری کسرت میں بہتے آنسو چہرے پر طرح طرح کے نقشے بھی بنا جاتے، جو سوکھ کر بخوبی ابھر کر صاف دکھائی دینے لگتے تھے۔ چہرے پر پھیلا عجب سا چپچپاپن محسوس ہوتا۔ جب ہاتھ لگا کر دیکھتا تو ہاتھ کو ذرا سے خراش نما کھردرےپن کا احساس ہوتا۔ اپنے چہرے کی حالت اور ہاتھ کی انگلیوں پر آنسوؤں کی طرح سوکھ چکا خون دیکھ کر اپنی جہالتوں پر خود ہی ہنسی آنے لگتی تھی، جو چہرے تک آتے آتے محض ایک مسکان بھر ہی رہ جاتی تھی۔

میں بغیا کی بنچ سے اٹھ کر سامنے نندا چائے والے کی دکان تک پہنچ جاتا۔ باہر ٹرے میں رکھے پانی کے گلاسوں میں سے ایک گلاس اٹھا کر منھ دھوتا۔ اُدھر سے گدی پر بیٹھے نندا سیٹھ کی آواز آتی: ’’ابے او ڈھور! یہ گاہکوں کے پینے کا پانی ہے۔ منھ دھونا ہو تو نل پہ جاؤ۔‘‘
میں مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا۔ سنی ان سنی کر، واپس گھر کی طرف چل پڑتا۔

٭٭٭

بٹوارا – کہنا آسان اور نبھانا بہت مشکل ہے۔ ایک پریوار کے بیچ کے بٹوارے میں اکثر گھر کے آنگن میں دیوار کھڑی کر کے اس کام کو تمام مان لیا جاتا ہے۔ لیکن بہتر زندگی کی تلاش میں بٹے ہوے دیوار کے دونوں طرف کے انسانوں کا بیشتر وقت زندگی سے یکایک گم ہوئی چیزوں کو ڈھونڈنے میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔ ان گمشدہ چیزوں میں برتن بھانڈوں سے لے کر ہاتھ سے پھسلتے رشتوں کی کمی کا اثر جتنا دل کو دکھاتا ہے اتنا ہی ذہن کو مشتعل بھی کرتا ہے۔ یہی اشتعال اور یہی جوش انسان کو اپنی کھوئی ہوئی چیز حاصل کرنے کے لیے پرتشدد بھی بنا دیتا ہے۔

ملک کا بٹوارا ہوا تو یہاں بٹنے والوں کے بیچ محض ایک چھوٹی سی دیوار نہیں تھی که جس کے آرپار رہنے والوں کو ایک دوسرے کے سکھ دکھ کی آوازیں سنائی دے جاتی ہیں۔ یہ سیاسی حصہ بانٹ تھی۔ اس طرح کے بٹوارے میں چیزوں کو ایک دوسرے کی نظر سے دور رکھنے کے لیے دیوار کی جگہ انسانیت کے کل قد سے اونچا ایک پہاڑ کھڑا کیا جاتا ہے جسے عام زبان میں سرحد کہا جاتا ہے۔

ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھی دونوں طرف کے لوگوں کے من میں برسوں برس ایک ہی سنگھرش جاری رہا – ’’میں اِدھر جاؤں، یا اُدھر جاؤں؟‘‘ اِدھر آ چکے لوگ ایک دن پھر واپس جانے کے سپنے دیکھتے تھے، تو اُدھر جا بسے لوگوں کو بھی گھر کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ نتیجہ یہ که اُدھر رہ کر بھی اِدھر ہی رہ گئے اور اِدھر آ کر بھی اُدھر لوٹنے کی آس لیے رہے۔

شروعات میں دونوں طرف آنا جانا آسان تھا۔ بنا روک ٹوک آنے جانے کی سہولت تھی۔ اس آسانی کا نتیجہ یہ ہوا که ہندوستان میں بسے بسائے گھربار چھوڑ کر پاکستان جا پہنچے لوگ بڑی تعداد میں واپس لوٹنے لگے۔ اس کی خاص وجہ تھی مقامی لوگوں کا رویہ۔ اپنوں کے بیچ اچانک ہزاروں ہزار انجانے لوگوں کی بڑھتی تعداد نے انسانی ذہن میں وہی خوف پیدا کر دیا تھا جو ہندوستان میں آئے ہوے بےگھروں کو دیکھ کر مقامی لوگوں میں پیدا ہو رہا تھا۔ نتیجے میں اپنے گھروں کی قربانی دے کر آئے ان لوگوں کے ماتھے پر مہاجر کا ٹھپہ لگا دیا۔ اسی غیردوستانہ رویے اور افراتفری کے ماحول میں اپنے لیے جگہ بنانے میں ناکام ہو کر پاکستان سے واپس لوٹنے والوں کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں میں ہونے لگی۔ ان لوٹنے والوں میں سب سے بڑی تعداد تھی دہلی سے گئے ہوے لوگوں کی۔ اس کے بعد نمبر تھا اتر پردیش کا، اور پھر دوسرے علاقوں کا۔ ان لوٹنے والوں میں زیادہ تر لوگ وہ تھے جو جاتے وقت پیچھے اچھی خاصی جائیداد چھوڑ کر گئے تھے۔

دہلی میں ان ہزاروں لوگوں کی واپسی سے ایک بڑی گمبھیر سمسیا کھڑی ہو گئی تھی۔ ان مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی عمارتوں پر پاکستان سے بےگھر ہو کر آئے سِکھوں اور پنجابیوں نے قانونی اور غیرقانونی، دونوں طریقوں سے قبضہ کر لیا تھا۔ اب پاکستان سے لوٹ کر اپنی زمین جائیداد واپس حاصل کرنے کی کوشش میں آئے دن مار کاٹ کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔

انھی حالات میں آنے جانے کے لیے ایک پرمٹ سسٹم لاگو کر دیا گیا۔ نوکرشاہوں کے ہاتھ میں یہ پرمٹ سسٹم ان کے لیے سونے کی ٹکسال بن گیا۔ مصیبت کے مارے لوگوں کے خون سے بننے والا سونا۔ ایسے سسٹم کو ناکام ہونا تو تھا، سو ہوا۔

اس پرمٹ کی جگہ اب دونوں ملکوں کی سہمتی سے دنیا کے باقی تمام ملکوں کی طرح ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لیے پاسپورٹ والا انتظام لاگو کر دیا گیا۔ 15 اکتوبر 1952 سے لاگو ہونے والا یہ پاسپورٹ انتظام دنیا بھر کے ملکوں کے لیے جاری ہونے والے انٹرنیشنل پاسپورٹ سے الگ، صرف دو دیشوں – ہندستان پاکستان – کے بیچ سفر کا پاسپورٹ تھا۔

اس پاسپورٹ بندوسبت کی بنیاد یہ تھی که 19 جولائی 1948 تک پاکستان چھوڑ کر ہندوستان میں آنے والے فطری طور سے ہندوستانی شہری مانے جائیں گے۔ اس تاریخ کے بعد آنے والا ہر شخص ’’باہری‘‘ ہو گا اور اسے ہندوستانی شہریت کے لیے باقاعدہ درخواست دے کر تمام سارے مرحلوں سے گزرنا ہو گا۔ اسی طرح کا بندوبست پاکستان میں بھی لاگو ہو گیا۔

ان پیچیدہ قانونوں اور اس کے پروسیجر کی زد میں آ کر دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ ’’پاکستانی جاسوس‘‘ یا ’’ہندستانی جاسوس‘‘ قرار دے دیے گئے۔ ہزاروں لوگ برسوں برس لگ بھگ پوری طرح بےوطن بنے رہے که دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی بنا دستاویزی ثبوت انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہ تھا۔
اسی غیریقینی سے بھرے ماحول والے دنوں میں ہی ایک گھٹنا ہوئی۔ ایک صبح اچانک ہی حویلی کے دروازے پر حویلی کا پرانا مالک غیاث الدین پٹھان حویلی کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
نان فکشن

خالدہ حسین کے افسانے”ابنِ آدم” کا تاثراتی جائزہ

[blockquote style=”3″]

شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “کہانی میرے دور کی” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

ایک سوال پچھلے کچھ عرصے سے مستقل پوچھا جانے لگا ہے کہ نیا فکشن کیا ہے؟ یوں تو اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے کہ کسی بھی زمانے میں لکھا گیا اس زمانے سے جڑا ہوا فکشن اس زمانے کا نیا فکشن کہلاتا ہے۔ جیسے تقسیم اور فسادات کے زمانے میں لکھا گیا فکشن جو تقسیم اور فسادات سے جڑے موضوعات،اس وقت کے مصنفین کی ذہنی حالت اور اس زمانے کے سماجی و معاشرتی حالات کا آئنہ دار تھا وہی اس زمانے کا نیا فکشن تھا۔ آج کے سماجی اور معاشرتی حالات یکسر مختلف ہیں اس لیے آج کے نئے فکشن کو سمجھنے کے لیے آج کے عالمی منظر نامے اور فکشن نگار کے علاقائی منظر نامے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے 11/9 کے بعد ایک اصطلاح سامنے آتی ہے دہشت گردی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے عالمی منظرنامے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پورے عالمی سیاسی اور سماجی نظام کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیتی ہے جس سے عالمی ادبی منظرنامہ بھی یکسر بدل کر رہ جاتا ہے۔ جہاں مغرب کا ادیب نئے حسی تجربات سے کشید کیے گئے خارجی و داخلی احساس کو نئے تخلیقی جوہر میں پرو کر نئے سماج کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتا دکھائی دیتا ہے وہاں اردو ادب سے وابسطہ پاک و ہند کے ادیب بھی نئی ادبی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔

پچھلے سترہ اٹھرہ سالوں میں دہشت گردی کے نام پر مسلط کی گئی جنگیں انسانیت کے لیے ایک گھمبیر مسئلہ رہی ہیں اور ان سے متعلقہ موضو عات پر ہر خطے کے ادیب نے قلم اٹھایا اور اپنا احتجاج قلم بند کروایا ہے اردو ادب میں بھی تقریباً ہرکہانی کار نے ان جنگوں سے متعلقہ موضوعات کو اپنا مشق ِ سخن بنایا ہے۔ ویسے تو ہر خطے کے قلم کاروں پر ان جنگوں کے اثرات بالواسطہ یا بلا واسطہ پڑے ہیں لیکن پاکستان کا ادب اور ادیب براہ ِ راست ان سے متاثر ہوا ہے کیوں کہ عراق اور افغان جنگ کے بعد دہشت گردی کا جیسے سیلاب ہی ہمارے ملک میں امڈ آیا ہے جس نے انفرادی اور اجتماعی قومی سوچ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کسی بھی علاقے کے ادب میں آنے والے بدلاؤ کو سمجھنے کے لیے اس علاقے کے ادب کو پڑھنا اور باریکی سے اس کا تجزیہ کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے ویسے تو یہ کام اُس ادب کے ناقدین کا ہے اور یہ انہیں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آج کے اردو ادب کا موازنہ عالمی ادب کے ساتھ پیش کریں اور تجزیات کے ذریعے ثابت کریں کہ اردو ادب اور خاص طور پر اردو فکشن آج کہاں کھڑا ہے۔

میں ایک عام قاری کی حیثیت سے کوئی تنقیدی مقالہ تو پیش نہیں کر سکتا لیکن یہ دعویٰ ضرور کر سکتا ہوں کہ ہمارا آج کا فکشن کسی بھی طرح نئے عالمی فکشن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بس معاملہ اتنا سا ہے کہ اردو ادب کو دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں کیا جا رہا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دوسری زبانوں کے ادب کو اردو زبان میں ترجمہ کرنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔ انفرادی سطح پر تو احباب کچھ کام کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اس کام کے لیے سرکاری سطح پر نہ تو پاک میں اور نہ ہی ہند میں اقدامات کیے گئے ہیں۔

اب اگر مجھ سے کوئی کہے کہ اپنے دعوے کے ثبوت میں دلیل لاؤں تو میں اپنی دلیل کے لیے محترمہ خالدہ حسین کا افسانہ “ابنِ آدم” پیش کروں گا۔
(یوں تو یہاں میں بہت سے افسانوں کا ذکر کر سکتا ہوں جو میں آئندہ بہت سے افسانوں کے تاثراتی جائزوں میں کرتا بھی رہوں گا )

گو “ابنِ آدم ” امریکہ عراق جنگ کے تناظر میں لکھی گئی کہانی لگتی ہے لیکن مصنفہ نے اپنے کمالِ فن سے اسے ایسی آفاقیت عطا کر دی ہے کہ یہ کسی ایک فرد، کسی ایک خطے،کسی ایک ملک،یا کسی ایک براعظم کی کہانی نہیں رہی بلکہ یہ کل انسانیت اورکلی دنیا کی کہانی بن گئی ہے۔

افسانہ پُر اسرار انداز میں شروع ہوتا ہے اور قاری کو پہلی سطر سے ہی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے بالکل مکڑی کے جال جیسی گرفت جس میں قاری ہر آن تڑپتا پھڑکتا تو ہے لیکن اس گرفت سے آزاد ہونا اس کے بس میں نہیں رہتا۔ خالدہ حسین اپنے چھوٹے چھوٹے حسی تجربات سے کشید کیے گئے شدید احساسات کو اپنی کہانیوں میں یوں پرو دیتی ہیں کہ پڑھتے ہوئے قاری کو وہ اپنے ہی حسی تجربے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ تیزی سے گزرتے وقت میں پے در پے رو نما ہوتے حالات و واقعات سے پیدا ہونے والی یقین و بے یقینی کی کیفیت کو جس چابکدستی سے کہانی میں گوندھا گیا ہے پڑھ کر طبیعت عش عش کر اٹھتی ہے۔۔۔

“ہیلی کاپٹر کا جسیم پنکھا ابھی بند نہیں ہوا تھا اور چاروں سمت ریت اڑ رہی تھی اور شاید اس پنکھے کے بند ہونے کا کوئی ارادہ بھی نہ تھا۔ مگر نہیں، ہوسکتا ہے یہ رک چکا ہو اور وہ اسے چلتا ہوا دیکھ رہا ہو کیوں کہ اب واقعات مسلسل ہوتے رہتے تھے۔ جیسے آنکھ پر کسی شے کی منفی تصویر بہت دیر تک جمی رہ جائے۔”

بظاہر یہ کہانی ایک جہادی تنظیم کے گرفتار کیے گئے چند مجاہدوں کے گرد گھومتی ہے لیکن پس ِ متن قابض فوج اور اسکے پر آشوب رویے کا پردہ چاک کرتی چلی جاتی ہے۔ اس فوج کے اس علاقے میں ہونے اور اس کے پیچھے محر ک سوچ کو سمجھنے کے لیے صرف ایک جملہ کافی ہے جسے مصنفہ نے بڑی ہی سہولت سے کہانی میں جڑ دیا ہے اپنے احساسات پر لگنے والی اس کاری ضرب کو قاری اپنی روح تک محسوس کیے بنا نہیں رہ پاتا۔
“آخر یہاں پر ایسا کیا مسئلہ پیش آ گیا ہے”؟ ماہر نے سکریٹ منہ میں دبائے دبائے کہا۔”ہم اس کمبخت نحوست مارے ریگستان میں اس لیےتو خوار نہیں ہو رہے کہ یہ حشرات الارض ہمیں پاگل کر دیں۔ کچھ ہے کوئی بڑی پُر اسرار شیطانی قوت جو ان کے اندر مرتی ہی نہیں۔ ہم جو خواب دیکھتے ہیں نا کہ آدمی مر کے بھی نہیں مرتا، چند ثانیے مرنے کے بعد پھر اچھا بھلا اٹھ بیٹھتا ہے اور گلا دبانے کو ہمارا پیچھا کرتا ہے تو یہ اس ریگستان کا نائٹ میئر ہے”۔

یعنی وہ فوج جس زمین پر قابض ہے اس میں بسنے والے اس کے لیے حشرات الارض ہیں یہی وہ سوچ ہے جو ان بڑی عالمی قوتوں کے ذہن میں پنپ رہی ہے جس کے زیرے اثر بڑی عالمی قوتویں اپنے زیرِ تسلط آ جانے والوں کو انسان ہی نہیں سمجھتیں اگر دیکھا جائے تو حقیقتاً یہ عراق پر امریکہ کی بہیمانہ جنگی جارحیت تھی جس نے ایک پوری قوم اور اس کے تشخص کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا خالدہ حسین نے جنگ سے پیدا ہونے والے انسانی المیے کو افسانے کا موضوع بنایا ہے اور سماجی اور معاشرتی سطح پر جنگی جبر سے پیدا ہونے والی صورت ِ حال سے انسانوں کی زندگیوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ کو جس خوبی سے کرداروں کا روپ دیا ہے اس کی داد کے لیے میرے الفاظ کم ہیں کرداروں کی تحلیل ِ نفسی کی جائے تو مختلف کرداروں پر اس جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کے اثرات کا مختلف ہونا بعید از قیاس نہیں آئیے یہ حالات کرداروں پر کیا کیا اثر ڈالتے ہیں اور ان کے رویوں میں کیا کیا تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں ان کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ امین کا کردار معاشرے میں لالچی، خود غرض دنیاوی ذلت بھری زندگی کو انسانی خودی پر فوقیت دینے والے انسانوں کا نمائندہ ہے جو اپنی نام نہاد محبت میں ناکامی اپنی سہل پسند طبیعت،اپنی حرص و ہوس اور اپنی جینے کی بےکار سی خواہش کے زیر ِ اثر دشمنوں سے مل جانے اور اپنوں کے خلاف کام کرنے اور دشمنوں کے آلہ ء کار بنے کو درست سمجھتا ہے اور اس کے لیے بھونڈے جواز خود ہی گھڑتا چلا جاتا ہے ایسے کردار عام زندگی میں بھی ہر معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔۔۔

“ابو حمزہ!مجھے تم پر حیرت ہوتی ہے۔ اس قدر توہم پرست ہو۔ ڈاکٹر ہو کر بھی تم ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہو۔یہ کچھ بھی نہیں۔ ساری دنیا معصوم لوگوں کے خون سے لبریز ہے۔ انسانی تاریخ ہے ہی یہی کچھ۔کس کس نے بد دعا نہ دی ہو گی اور یہ دعا بد دعا آخر ہے ہی کیا؟”

“مگر ضروری نہیں، موت ضروری نہیں،ہر گز نہیں۔ زندہ رہنا زیادہ قرینِ قیاس ہے زیادہ فطری ہے۔ اس کے اندر کسی نے کہا تھا اور وہ بے حد شرمندہ ہو گیا تھا۔ اس نے پھر سوچا، یہ بزدلی اس میں کب اور کس طرح پیدا ہو گئی۔ شاید یہ موروثی ہے۔”

کیا بھونڈا جواز ہےیہ صرف جینے کی خواہش کی تکمیل کے لیے۔ اور جینا بھی کیا صرف جسمانی آسائش اور بھیک کے چند نوالے امین کے لیے درد اور تکلیف کے معنی بدل ڈالتے ہیں

“وہ لمحہ عجیب تھا۔یقیناً کھال کا ادھڑنا، ناخن کا اکھڑنااور نازک مقامات کوکچلا جانا بہت غیر ضروری ہے۔یقینا! تر و تازہ روٹی اور جسم کی آسائش بہت ضروری ہے۔ سب سے ضروری۔”

اس کی یہی سوچ اسے ذلت بھری زندگی کی کھائی میں اتار دیتی ہے جہاں زندگی کا آفاقی تصور کچھ نہیں رہتا زندگی سے جڑے سارے حقیقی تصورات ایک انسان کے لیے محض تصور ہی رہ جاتے ہیں۔

” جبریل الامین، کتنا غلط نام تھا اس کا۔” یہ بھی اس نے سوچا، مگر امانت اور خیانت۔۔۔۔یہ بھی محض تصورات ہیں جب کہ جسم اور حواس اور ان کی آسودگی حقیقت۔”

خالدہ حسین نے انسانی نفسیات کے علم سے مکمل آگہی اور اپنے فنی تجربے سے اس کردار کو یوں گھڑا ہے کہ یہ ذلت بھری زندگی اور گھٹیا انسانی سوچ کی علامت بن گیا ہے۔۔۔جب کہ اس کے بر عکس ایک کردار لیلٰہ کا ہے ریاستی جنگی جبر اور اپنے معصوم لوگوں کے ساتھ کیا گیا الم ناک سلوک اس کی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہےاورحب الوطنی اور اپنوں کی خاطر جان نثاری کا جزبہ اس کے اندر ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔

” اس وقت لیلیٰ اپنی کمر کے گرد وہ بیلٹ باندھ رہی تھی۔ ’’مگر اس سے حاصل کیا ہو گا۔ تم خود اور کچھ وہ … اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کیسے اور کتنے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی دوسرے بے فائدہ قسم کے لوگ ہوں جو اس دھماکے کی لپیٹ میں آ جائیں اور سب سے بڑھ کر تمہاری بہن اور بابا کو اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا؟‘‘ اس نے لیلیٰ سے کہا تھا۔

’’ ان کو تو اب کسی بات سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ ‘‘ لیلیٰ نے جواب دیا تھا۔ ’’مجھے معلوم ہے اب سکینہ اگر زندہ ہے تو کس حال میں ہو گی اور میرا باپ…!‘‘ وہ خاموش ہو گئی۔

’’کیا تم چاہو گے کہ میرا بھی وہی حال ہو جو سکینہ کا ہوا؟‘‘
’’ نہیں نہیں !‘‘ اس نے فوراً کہا تھا اور پھر خود اٹھ کر اس کی ڈیوائس سیٹ کرنے لگا۔ لیلیٰ بالکل پرسکون تھی۔ اس نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ اس وقت اس میں ایک نرم گرماہٹ تھی۔ اس کی بھوری آنکھیں اور بھی گہری نظر آ رہی تھیں۔”

یہ تو خالدہ حسین کا ہی خاصہ ہے کہ ایک ہی افسانے میں زندگی کے بارے مختلف کرداروں کے مختلف نظریات کو یک جا کر کے پیش کیا ہے اور بین المتن ایسا معنیاتی نظام ترتیب دیا ہے جس نے اس فنپارے کو آفاقیت عطا کر دی ہے۔ایسے فنپارے بے شک کسی بھی زبان میں تخلیق کیے گئے ہوں وہ ہیں در اصل کل انسانی سماجی رویوں کے آئنہ دار اور نمائندہ۔ اور یہ افسانہ تو ہے ہی مثال کی حد تک خالدہ حسین کی فنی مہارت، مشاہدے اور علم کا عکاس جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

یوں تو اس افسانے کا ہرکردار ہی اپنی جگہ طویل بحث کا متقاضی ہے کہ ہر کردار میں خالدہ حسین کا تخلیقی عنصر اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے لیکن اس کہانی کا وہ متحرک کردار جس نے مجھے اس شکست و ریخت سے گزارا جس نے خالدہ حسین کو ایسا شاہکار کردار تخلیق کرنے پر مجبور کیا ہو گا۔ ابو حمزہ جو کسی صورت سماجی جنگی جبر کے آگے جھکتا نہیں جو ہر صورت ان استبدادی قوتوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرواتا ہے پھر چاہے وہ احتجاج موت کی ہی صورت کیوں نہ ہو۔جس شخص کے لیے زندگی خودی اور وضعداری کا نام ہے لیکن بصورت ِ دیگر موت، زندگی سے زیادہ اعلٰی و عرفہ شے بن جاتی ہے۔جنگی جبر اور سماجی ادھیڑ بُن ایک انسان کے اندر ایسی گھٹن اور حبس پیدا کردیتے ہیں کہ پھر اس کے لیے زندگی کے مقابلے میں موت بہتر انتخاب بن جاتی ہے۔ خالدہ حسین نے اسے جس خوبصورتی سے نقش کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل لگتا ہے۔۔۔۔

” ابو حمزہ اس روز اپنے آپ کو خودکش حملے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ لیلیٰ اور قدوس بھی وہیں تھے۔ وہ اس تباہ شدہ عمارت کی چھوٹی سی کوٹھری میں تھے جو ملبے میں گھری نظروں سے اوجھل تھی۔ اس روز وہ بڑی مشکل سے روٹی کے چند پھپھوندی لگے ٹکڑے کوڑے کے ڈھیر پر سے چن کر لایا تھا۔ وہاں سب اپنے اپنے ٹکڑے ٹھونگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیلیٰ کے رخسار پر ایک لمبا گہرا شگاف تھا۔ ایک بم دھماکے میں شیشے کا ٹکڑا پیوست ہو گیا تھا۔ ابو حمزہ نے اپنی ڈائی سیکشن کی چمٹی سے اسے نکالا تھا۔ لیلیٰ کے ہاتھ تکلیف کی شدت سے بالکل برف ہو رہے تھے اور پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اس روز اس کے باپ اور چھوٹی بہن ہنکا کر لے جائے گئے تھے۔ حالانکہ وہ سب در اصل ابوحمزہ اور لیلیٰ کی تلاش میں تھے۔ دہشت گردی کے نام پر محلے کے محلے زندانوں میں ٹھونس دیے گئے تھے۔ اس سے پہلے انہیں کب خبر تھی کہ زندان آبادیوں سے زیادہ بڑے ہیں۔ یوں بھی ان کے نزدیک جانے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔

ابو حمزہ نے پھپھوندی لگی روٹی کی ایک چٹکی منہ میں ڈالی اور اسے ابکائی آ گئی۔

’’ اس میں تمام بیکٹیریا بھرے ہیں۔ اس سے مرنے سے بہتر ہے کہ آدمی بہتر موت کا انتخاب کرے۔ ‘‘
“صدیوں سے قدرت یہ منصونہ بنا رہی تھی۔ صدیاں تو اس کی تقویم میں چند ایک ثانیوں سے زیادہ نہیں۔یہ زمین بے گناہوں کے خون سے سیراب ہوتی چلی آئی ہے۔ اس کو دی گئی بد دعا حرف ِ سچ ثابت ہو رہی ہے”

“میں بھی نہیں مانتا تھا مگر اس زمین کی ہوائیں بین کرتی ہیں اور کرتی چلی آئی ہیں۔ یہاں کی زمین سیال سونا اُگلتی رہے۔ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔فاقہ اور جبر یہاں کی نسلوں پر لباس کی طرح منڈھ دیے گئے ہیں۔ اس وقت میرا مسئلہ صرف اپنے حصے کا احتجاج ہے۔ایک بہتر موت کا انتخاب کر کے۔”

یہ کردار ہر دو صورتوں میں آفاقی معنویت کا حامل ہے جب یہ آزاد ہے اپنے فیصلے کرنے میں اور اپنے قول و فعل کے لیے کلی طور پر ذمہ دار ہے تب بھی یہ اخلاق کی بلند سطح پر نظر آتا ہے حالات کا جبر اور سماج کی بدلتی صورت اس کی آدمیت اور آفاقی سوچ کو مسخ نہیں کر پاتی۔

“امین !جبریل الامین۔” اس نے پرانے وقتوں کی طرح بڑے دُلار سے کہا،”لو ہماری تصویر بناؤ اور ہمارے بعد اسے میڈیا پر پہنچانا کہ ہم اس وقت کتنے خوش تھے۔”
اس کا صبر واستقلال اور استقامت اس وقت بھی دیدنی ہوتا ہے جب وہ دشمن کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور ظلم اور تذلیل کی شدید آگ سے گزار دیا جاتا ہے۔

“اس کے ہاتھ میں ایک موٹا پٹّاتھا اور پٹّا ایک متحرک وجود کے گلے میں تھا اور وہ وجود معلوم نہیں کون تھا۔آدمی یا سنگ، معلوم نہیں مگر وہ چار ہاتھوں پاؤں پر چلتا تھا۔ کتے سے بڑی جسامت، بالکل برہنہ۔اس کی برہنگی چوپائے کی مانند عیاں تھی”

“اس کا منہ تھوتھنی کی طرح سامنے اٹھا تھا اور جھاڑ داڑھی لٹکی تھی (کیا کتوں کی راڑھی ہوتی ہے؟ اس نے یاد کرنا چاہا)۔” فوجن زور زور سے پٹّے کو جھٹکا مارتی تھی اور چوپائے کی گردن گھوم گھوم جاتی تھی۔پھر وہ ایک زور دار ٹھڈا اپنے ایڑی دار فوجی بوٹوں کا اس کے پچھلے دھڑ پر رسید کرتی اور فاتحانہ نظروں سے مجمعے کی طرف دیکھ کر دوسرا ہاتھ لہراتی۔”

“اب ماہر، افسروں کی قطار سے نکل کر باہر آیا۔ اس نے فوجن کی طرف ہاتھ کی دو انگلیوں سے وی کا نشان بنایا اور نعرہ لگایا۔
“براوو۔۔۔۔جاری رکھو۔”فوجن اپنی تعریف پر اور بھی مستعد ہوگئی۔ پھر ماہر نے سب کی طرف فخریہ دیکھا اور پکارا اور وہ جس کے گلے میں پٹّا تھا، اس کی طرف اشارہ کیا۔ پھر اپنا بھاری بوٹ اس کی تھوتھنی پر رسید کیا۔

“سگ،سگ،کلب،کلب،بھوں،بھوں۔”اور آدھا ہنسا جب کہ ادھا خاموش رہا۔پھر ماہر نے اشارہ کیا اور بہت سے فوٹوگرافر دوڑے دوڑے آئے ہر طرح کے کیمروں سے لندے پھندے۔پھر دو فوجی بیچ میدان کے آئے اور انہوں نے اپنی پینٹوں کی زپیں کھولیں اور اس چوپائے پر اپنا مثانہ خالی کرنے لگے اور وہ چوپایا اس متعفن سیال کے نیچے چاروں ہاتھوں پاؤں پر کھڑا تلملانے لگا۔اپنا سر، منہ، آنکھیں بچانے کے لیے۔

تشدد،رسوائی اور ذلت کی اس بد ترین سطح پر لے آنے کے باوجود دشمن نہ تو اس سے کوئی راز ہی اگلوا پاتا ہے اور نہ اپنے لیے رحم اور زندگی کی بھیک ہی منگوا پاتا ہے یوں یہ کردا ر انسانی عزم و ہمت کی آفاقی علامت بن جاتا ہے۔اور افسانے کے پورے ڈسکورس کو ایک بڑے تخلیقی تجربے میں ڈھال دیتا ہے۔ جس کی داد آنے والے زمانے دیتے ہی رہیں گے۔

“آدمیت ختم کرنا بھی ایک ہنر ہے اور جب تک تم آسمیت ختم نہ کر دو گے،کمزور سے کمزور بھی تمھیں تنگ کرتا رہے گا۔تمہارا جینا حرام کردے گا،دیوانہ کر دے گا۔”

ماہر کی گفتگو ٹکڑوے ٹکڑوے اس تک پہنچ رہی تھی۔وہ باقیوں کو بتا رہا تھا کہ تفتیش اور راز اگلوانے سے پہلے اب لوگوں کو کنڈیشن کرنا ضروری ہے۔ اور اس کے لیے ان کی آدمیت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔دراصل آدمی میں خود آدمیت ہی سب سے بڑا فساد ہے۔اور اس نسل میں تو خاص طور پر۔”

یہ وہ سوچ ہے جس پر شدیدضرب لگاتا ہے یہ افسانہ۔خالدہ حسین یہ جملے فوجی کے منہ سے کہلواتی ہیں اور پھر پورے ڈسکورس کو اس سوچ کے بر خلاف یوں بنتی ہیں کہ افسانے کے اختتام پر قاری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہاں در حقیقت کس کی آدمیت ختم ہوئی ہے اور وہ اصلاً کُتا بن گیا ہے اور کون آدمیت کے اعلٰی ترین معیار پر قائم و دائم ہے بے شک ایسی تخلیقی کاریگری اور ہنرمندی سے ایسا شاہکار افسانہ تخلیق کرنا خود اپنی جگہ ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔میں محترمہ خالدہ حسین کے اس افسانے ” ابن ِ آدم” کو اکیسویں صدی میں لکھے گئے شاہکار افسانوں میں شمار کرتا ہوں اور اسے نئے فکشن کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہوں مصنفہ کے لیے مبارک باد کہ انہوں نے ایسا فن پارہ تخلیق کیا۔ میں اس فنپارے کو پڑھنے اس کے تخلیقی جوہر کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کرنے اور اس پر اپنے تاثرات پیش کرنے کو اپنا فخر سمجھتا ہوں۔