Categories
شاعری

مجھے ایک کشتی بنانے کی اجازت دو (سید کاشف رضا)

اگر تم میری دھرتی کو
اپنے گھوڑوں کی چراگاہ
اپنے کتوں کی شکارگاہ بنانا چاہتے ہو
تو مجھے بھی ایک کشتی بنانے کی اجازت دو
جس میں میں لاد کر لے جا سکوں
اپنا کنبہ
خوابوں کی گٹھریاں
اور ایک عورت
جو میرے ساتھ چلنا پسند کرتی تھی
مجھے نکال کر لے جانے دو
گلیاں جن کی
دھول میرے پیروں نے چاٹی
شہر جن کی
خاک میری آنکھوں نے پھانکی
لوگ جو تم سے
اجازت لے کر پیدا نہیں ہوئے
لوگ جو تم کو
اطلاع دیے بغیر مر گئے
مجھے نکال کر لے جانے دو
ٹوٹے ہوئے چولھے
بکھری ہوئی تختیاں
بچے جن کی
قمیصوں میں بٹن نہیں ہوتے
مجھے نکال کر لے جانے دو
میری ماں کی قبر
جسے میں تمہارے گھوڑوں
تمہارے کتوں کے لیے نہیں چھوڑ سکتا

Categories
شاعری

ایک عشق کی نسلی تاریخ

میں اس کی سانسیں سونگھتا ہوا
دریاؤں اور میدانوں میں داخل ہوا تھا
اور وہ مجھے زرخیز زمین کی طرح ملی تھی
میں تاریک راتوں میں جنما ہوا مہتاب تھا
اور وہ شریانوں سے خون اچھال دینے والی تمازت تھی
میں ریت کی کشادہ دامنی تھا
اور اس کی پشت سرما کے سورج کی طرح تھی
میں ایڑ لگائے ہوئے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر کودنے والے کا بیٹا تھا
اور اس کی آنکھوں میں
جاٹوں کی خوں ریز صدیاں چنوتی دیتی تھیں
وہ گناہ کی طرح نمکین تھی
اور وہ ذائقہ تھی جو چکھے بغیر زبان پر پھر جاتا تھا
اور میں اس کی گدی میں دانت گاڑ دینے کی حسرت میں تھا
وہ دھرتی پر پھیلا ہوا سرسوں کا کھیت تھی
اور اس کے ہاتھ گندم کاٹنے والی ماں نے بنائے تھے
اور اس کی ناف کے گرد بھر پرا سکم تھا
اور اس کی گھنڈی میں ایسی جان تھی
کہ اس کا باپ موریا عہد میں پتھر چمکانے کا کاری گر معلوم ہوتا تھا
اور اس کے جسم میں توے پر سرخ کی گئی روٹی کی خوشبو تھی
اور میں آنتوں سے اگی ہوئی آرزو تھا
اور میں تلواروں کی موسیقی پر پڑھا ہوا رجز تھا
اور میں تیر کھائے ہوئے گھوڑے سے گری ہار تھا
اور وہ ایسی جیت تھی
جس کی یاد میں
زمین پر کوئی لاٹھ گاڑی جا سکتی تھی

Categories
شاعری

میں ایک آنسو اکٹھا کر رہا ہوں

میرا دکھ کنوؤں کی ترائیوں میں اُتر گیا ہے
میں اسے کھینچ کر نکال لوں گا
میری آنکھوں میں ایک آبشار کی دھند پھیل گئی ہے
میں اسے ایک آنسو میں جمع کر لوں گا

ہم نے ایک ہی گھونٹ سے پیاس بجھائی
جو تم نے حلق کے اندر سے چکھا
اور میرے ہونٹوں نے
تمہارے حلق کے باہر سے

تم ہماری طرف رخ کر کے کتاب دیکھتے
اور تختہ سیاہ کی طرف رخ کر کے
لکھتے
میں بھی ایک حسابی الجھن سلجھا رہا تھا
تمہارے زانو
تمہارے کولہوں سے فربہ کیوں ہیں
تمہیں ملی ہوئی نعمتوں کے تشکر میں
جھکی رہنے والی بریزئر
میرے استقبال کے لئے کھڑی ہو گئی تھی

مجھے تمہارے کولہوں کی معصومیت مار ڈالے گی
گردن سے نیچے
تمہاری ریڑھ کی ہڈی پر سانپ لپٹا ہوا تھا
کہاں چلا گیا

تمہاری آنکھوں میں میرے لئے
ایک خیر مقدمی راستہ بچھا تھا
جس پر میں اس جستجو میں چلتا جاتا
تمہاری آنکھیں اصل میں کہاں واقع ہیں

تمہاری پشت پر لپٹا سانپ
میرے سینے پر رینگ رہا ہے
کاش میں اسے
اپنی ٹانگوں کے درمیان گھونٹ سکتا
دانتوں نے میرے ہونٹ برباد کر دیئے
میں تمہارے رخساروں پر
ان کا تخم بونا چاہتا تھا

زندگی میں نے بھیک میں وصول کی
اب وہ میری گلک میں گل رہی ہے
آج میں اسے توڑ دوں گا
میرا دکھ کنوؤں کی ترائیوں میں اتر گیا تھا
آج میں اسے ایک آنسو میں اکٹھا کر دوں گا

تم اسے
اپنی زبان کی نوک پر اتار کر تھوک دینا
زمین پر
یا میرے منہ پر

Image: Salvador Dali

Categories
شاعری

ایک مجسمے کی زیارت

تم ایک مجسمہ
جو فنکار کی انگلیوں میں
پروان نہیں چڑھا
تم ایک مجسمہ
جس پر سنگِ مر مر
نرم پڑ گیا

میں ان انگلیوں کا دُکھ
جو تمہیں خلق کرنے کے
وجد سے نہیں گزرا
اور اس دل کا
جو کھل نہیں سکا
تمہاری پوروں کے ساتھ ساتھ
تم آتی جاتی سانسیں
میں
دکھ ان سانسوں کا
جو تم میں شامل نہیں ہوئیں
دکھ ان آنکھوں کا
کہ جب کھل رہی تھیں
تمہاری گواہ نہیں رہیں

تم ایک پھول
اپنی ذات میں کھلا ہوا
میں دکھ
تمہارے بدن سے ذات تک
نارسا راستوں کا
ان کے فاصلوں کا
میں دکھ اپنے چہرے کا
جس نے اپنی تمام شکنیں
تم پر نرم کر دیں
دل کے اس خلا کا
جو تمہیں دیکھ کر
آسمان جتنا ہو گیا

میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا

Categories
شاعری

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کو خوبصورت پھول میں تبدیل کرنے کے لیے
کترا نہ جا سکتا
کبھی اس سے کوئی کاغذ کی کشتی جوڑ کر
گہرے سمندر کی طرف بھیجی نہ جا سکتی
سفر کے درمیاں آئی اک انجانی سرائے میں
ذرا سا دام کے بدلے
اسے ہارا نہ جا سکتا

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کو مختلف ٹکڑوں کے اندر بانٹ کر
ہم اپنی مرضی کے نہ ان میں رنگ بھر سکتے
بڑی مقدار میں اس کو
نہ ہم ای میل کر سکتے
اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے خوبصورت رنگ
آوارہ سی اک بارش میں دھو ڈالے نہ جا سکتے
اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے فالتو ٹکڑے
منڈیروں پر پرندوں کے لیے پھینکے نہ جا سکتے

Categories
شاعری

ہمارے لیے تو یہی ہے

ہمارے لیے تو یہی ہے
ہمارے لیے تو یہی ہے
تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ
اپنی انگلیوں کو ہونٹوں سے چھوتے ہوئے
ہماری جانب ایک بوسے کی صورت اچھالو
جسے سمیٹنے کے لیے ہم ایک ساتھ لپکیں
ہمارے لیے تو یہی ہے
تمہارا لباس ہم پر مہربان ہو جائے
تم اپنی بگھی سے اترتے ہوئے
اپنے پائنچے انگلیوں سے سمیٹ لو
اور تمہارا سینڈل
تمہارے ٹخنے کی پہرے داری سے غافل ہو جائے
یا ہوا تمہارے بالوں کو لہرا دے
اور تم انہیں سمیٹنے کی کوشش میں
اپنا نصف بازو برہنہ کر ڈالو
یا آسمان پر کوئی پرندہ دیکھتے ہوئے
تمہارے ہونٹوں پر آنے والی مسکراہٹ
ہماری آنکھوں سے اتفاقی ملاقات کر لے
Categories
شاعری

تم مجھے پڑھ سکتے ہو

زبان
غیر اعلانیہ
قید بامشقت کاٹ رہی ہے
کانوں نے
سنا ان سنا
آنکھوں نے
دیکھا ان دیکھا
کرنے کی عادت ڈال لی ہے
دل نے
ایک تیز چاقو
اپنے اندر دبا رکھا ہے
یہ دن
نظمیں لکھ لکھ کر
کسی کو نہ سنانے کے ہیں

پھر بھی تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں
Categories
شاعری

اجتماعی مباشرت

اجتماعی مباشرت
تاریخ سے اجتماعی مباشرت
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا
اور ہمارا شوق دیکھ کر
ہماری بریدہ تاریخ
ہماری زوجیت میں دی گئی
اب اس کے بچے کتوں سے زیادہ ہیں

Image: Saya Behnam