Categories
شاعری

ہمیں اپنی محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے اور دیگر نظمیں

آوازوں کے شہر میں

آوازوں کے اس شہر میں
تم مجھ تک پہنچنے کے لیے
ہمیشہ خاموشی کا رستہ اختیار کرتے ہو
تمہیں معلوم ہے میری خاموشی
تمہاری محبت سے زیادہ مضبوط ہے

تم کہتے ہو کہ زندگی
شراب خانے میں پڑی خالی بوتل سے زیادہ اداس لگتی ہے
مگر مجھے تمہارے ہاتھ
تمہاری آنکھوں سے زیادہ افسردہ نظر آتے ہیں

دریائے تھیمز (River Thames)کے کنارے کھڑے ہوکر
میں تمہیں کسی سیاح کی حیرت سے دیکھتا ہوں
اور یاد آتا ہے وہ لمحہ
جب تم نائٹ کلب کے خواب آگیں ماحول میں
میری طرف دیکھ کر پہلی بار مسکرائے تھے

پھر تم میرے دل کی کائنات سے بڑے کیسے ہوگئے؟
اب تمہاری باتوں سے خاموشی
اور کافور کی مہک آتی ہے

آوازوں کے اس شہر میں
جذبے کتنے مہنگے ہیں
مگر جسم کتنے سستے۔۔۔۔۔

ہمیں اپنی محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے

ہمیں محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے
جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین دن
ہمارے ساتھ گزار دیے

انہوں نے ستاروں سے بنے دل
ہمارے قدموں میں
اس طرح پھینکے
کہ وہ پھر کبھی نہ جڑ سکے

ہماری محبوباؤں نے معمول کے دنوں کو
ہمارے لیے غیر معمولی بنایا
اور جب کبھی ہم ان کی سالگرہ کا دن بھولے
انہوں نے معافی کے عوض
ایک رات مانگی
جسے ہم نے اپنے بارے میں سوچ کر ضائع کردیا

اور ہمیں محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے
کہ ہماری تمام خوشیاں
ان کے جسموں میں دفن ہیں

بے ترتیب موسموں میں

میرا جسم آنسوؤں سے بھیگ گیا
درخت ماتمی گیت گانے لگے
اور بندوق کے سائے میں
کچھ پھول مرجھا گئے

بے معنی آوازوں کے ہجوم نے
کتنے بدن کچل دیے
اب تنہائی کی زمین پر
صرف موت کا محاصرہ ہے

ہمارے خوابوں کے پیالوں میں
نمکین پانی کے سوا کچھ نہیں بچا
ہم زندگی کے پتھروں سے ٹکراتے رہے
اور تم نے ہماری قسمت کے پھول
اپنی ہتھیلی میں مسل دیے

ہم آسمان کے قیدی
اور مٹی کی خوشبو کو ماننے والے
تمہارے محافظ دستوں سے مدد نہیں مانگ رہے

ہم اپنی یادوں کی تتلیوں کا تعاقب کرتے ہوئے
زندگی کا بادبان پانیوں کی زمین پر کھولنا چاہتے ہیں
کیونکہ دریاؤں کے کناروں پر
زندگی اور موت
بہت آسان ہوتی ہے

Categories
نان فکشن

نثری نظم کا فن (اویس سجاد)

نوٹ: یہ مضمون راجوری (ہندوستان) سے شایع ہونے والے رسالے “تفہیم” کے تازہ شمارے (جون ۲۰۲١) میں بھی شامل ہے۔

شاعری کا تعلق تخیل، حسیات، جذبات اور کیفیات سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ہمارے شعوری اور لاشعوری خیالات کو مہمیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسے وحدت یا کلیت میں ڈھلنا پڑتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی ہئیتی ضرورت کو مکمل کرتا ہے اور اس سے وہ آہنگ بھی جنم لیتا ہے جو سامع یا قاری پر اثر انداز ہو۔ نفیس اور پُراثر شاعری زمانی یا مکانی قیود کی پابند نہیں ہوتی بلکہ بڑا شاعر اسے آفاقیت کا درجہ دیتا ہے۔ رامائن، مہابھارت، اوڈیسی یا ایلیڈ جیسے شاہکار اگر آج بھی ہمیں لطف پہنچاتے ہیں تو ان باریکیوں کو تلاش کرنا چاہیے جس کی وجہ سے یہ فن پارے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

شاعر کو اختصاص حاصل ہے کہ وہ تخیل اور اسلوب سے نئے جذبات اختراع کرتا ہے۔ ایسا نہیں کہ شاعری جذبات و احساسات کے دائرے میں مقید رہتی ہے بلکہ وہ تو انسان کے باطن کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اچھی شاعری انسان کو مایوسی کی طرف دھکیلنے کی بجائے ؛اس سے چند قدم آگے چلتی ہے۔ شاعری قاری کو ایسے راستے پر چلنے پر مجبور کرتی ہے جو بالکل نیا اور منفرد ہوتا ہے؛ یہ ایسا ساز ہے جس کے پردوں میں جذبات کے نغمے خوابیدہ ہوتے ہیں۔ (1)

شاعری کو مختلف اصناف میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تمام اصناف اپنے اپنے عہد کی پیدوار ہیں۔ نظم شاعری کا اہم سانچہ ہے۔ اس میں مختلف موضوعات کو ہیئتی اور تکنیکی تجربات کے ساتھ پرویا جا سکتا ہے۔ ہیئت اور مواد کی سطح پر نظم میں بے شمار تجربات ہوئے۔ مواد کا تعلق چونکہ ہیئت اور تکنیک سے ہے ، اس لیے نظم کے فنی معیارات طے کرنا مشکل عمل ہے۔ پابند نظم سے نثری نظم تک کا سفر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نظم میں لامختتم امکانات پوشیدہ ہیں۔ نظم میں انسان کی نفسیاتی الجھنوں اور تمام معاملات زندگی کی بہترین عکاسی ہوتی ہے۔ نظم کسی بھی فرد کے انفرادی جذبات کو آشکار کرتی ہے اور انسان خود کو نئے سرے سے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی دیگر اصناف کے مقابلے میں زیادہ ٹھوس، جامع اور وسعت یافتہ ہے(2)

بعض اوقات نئے عمل کو منکشف کرنے کے لیے نظم میں ایسے اساطیری یا تاریخی حوالے آ جاتے ہیں جو قاری سے گہرے شعور کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ راشد اور میرا جی کی نظموں کو سمجھنے کے لیے قدیم اساطیر کی جانب مراجعت کرنا پڑتی ہے۔ سپاٹ اور کیفیت سے خالی بیانیہ نظم کا لطف زائل کر سکتا ہے۔ نظم میں استعاروں اور علامتوں کے ذریعے جو تخلیقی فضا قائم ہوتی ہے وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر تی ہے۔ ہر نظم اپنے ساتھ خارجی تکنیک ضرور لے کر آتی ہے جو مواد (داخلی تکنیک) سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اس متعلق ناصر عباس نیئر نے اپنی کتاب ’’نظم کیسے پڑھیں؟‘‘ میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ شاعر کے لیے ہیئت کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ کون سی ہیئت اس کے مواد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں شاعر ’کیا‘ کے بارے میں لاعلم ہو سکتا ہے مگر ’کیسے‘ کے سلسلے میں نہیں۔ (3)

نثری نظم میں یہ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں تو تخلیق کار اسی وجہ سے نثری نظم کا انتخاب کرتا ہے، کیونکہ اس کے لیے نظم کی باقی ہیئتیں رکاوٹ بنتی محسوس ہوتی ہیں۔ نثری نظم خلق کرنے والے کے سامنے ہیئت کی بجائے مواد (اظہار) اہم ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ اس ہیئت کا انتخاب کرتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مواد اور ہیئت کی اہمیت اپنی اپنی جگہ پر قائم ہے۔

نظم کی روایت پر ایک مختصر سی نگاہ دوڑائیں تو پابند نظم قصیدہ، مثنوی یا رباعی کا ارتقاء معلوم ہوتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جو عام آدمی کی محرومیوں اور خواہشوں کو سامنے لاتے ہیں۔ نظم نے ہر عہد میں انسان کی نئی قدروں کو منکشف کرنے پر زور دیا ہے۔ اسی لیے ان کی نظموں میں وہ تمام اقدار دکھائی دیتی ہیں جن کو بعد میں ترقی پسند ادیبوں نے موضوع بنایا۔ نظیر کی نظمیں زندگی کے مختلف رنگوں سے ہم آہنگ ہیں۔ ’’الٰہی نامہ، بنجارہ نامہ‘‘ اور ’’برسات کی بہاریں‘‘ چند ایسی نظمیں ہیں، جو عام آدمی کے خدشات کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے سماجی روّیوں، مذہبی اعتقادات کو نظموں میں خوبصورتی سے پرویا۔ ان کی نظموں میں ایک خاص رنگ دکھائی دیتا ہے جو لوک گیتوں کے قریب تر ہے۔

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب سماج کے روایتی بیانیے ٹوٹے تو اس کے ساتھ منطقی روّیوں نے جنم لیا۔ لوگوں نے استدلالی انداز میں سوچنا شروع کیا۔ یہ وہی دور تھا جب ہندوستانی سماج نئے حالات اور مغربی اثرات سے متاثر ہو رہا تھا۔ جدید نظم کا آغاز ہوا تو اس میں ہیئت اور تکنیک کے تجربات بھی ہوئے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد جدید نظم نگاری نے اپنی جڑوں کو مضبوط کیا ۔ سماجی، سیاسی اور تہذیبی تغیرات کی وجہ سے سر سید، آزاد اور حالی نے اصلاحی کوششیں کیں۔ جدید نظم کو پروان چڑھانے میں ان تینوں کا حصہ شامل تھا۔ ۱۸۸۷ء کے پاس حالی کے ایک شاگرد پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے تجربہ کیا جو انگریزی شاعری کی مخصوص ہیئت ’’اسٹنزا‘‘ فارم کے قریب تر تھا۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کا جو تصور پیش کیا تھا، اس نے نہ صرف انیسویں صدی کے شعراء کو متاثر کیا بلکہ اس کے اثرات بیسویں صدی کے شعراء بھی پر بھی مرتب ہوئے۔ یہاں سے نظم نگاروں کی ایک نئی پود نے جنم لیا جن کے موضوعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نظم وہ صنف ہے جس نے خود کوبدلتے سماج کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پابند، معریٰ اور آزاد نظم کے بعد نثری نظم کیوں وجود میں آئی؟ ایسا کیا ہوا کہ پابند اور معریٰ نظم طاقِ نسیاں کی نذر ہو گئیں، حالانکہ ہیئتی اعتبار سے پابند اور معریٰ نظم یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ اسے شعری روایت میں بلند درجے پر فائز کیا جائے۔ لیکن ہمارے سامنے جدید زندگی نے جو صورتحال پیدا کی اس کا بوجھ تو پابند نظم بھی نہیں سہار سکتی تھی۔ نظیر اکبر آبادی کی روایت کو حبیب جالب، ساقی فاروقی اور فیض احمد فیض وغیرہ نے زندہ رکھنے کی سعی کی مگر یہ ہیئت پنپ نہ سکی۔ انہوں نے لسانی تجربات بھی کیے مگر زیادہ سفر نہ کر سکے۔ جدید نظم کی جو بنیاد آزاد اور حالی نے رکھی تھی وہ شرر، طباطبائی اور اقبال سے ہوتی ہوئی مجید امجد تک ٹھہری۔ جدید نظم میں شعراء کی بڑی تعداد تجربات کر رہی تھی۔ ۱۹۶۰ء کے قریب ’’لسانی تشکیلات‘‘ کی تحریک نے اردو ادب کے دروازے پر دستک دی جو جدیدیت کی پیداوار تھی۔ اس تحریک میں افتخار جالب اور شمس الرحمن فاروقی نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ’شعریت‘ کو موضوع یا تجربہ کی بنیاد پر نہیں ماپا جا سکتا بلکہ ’فارم‘ کے ذریعے جو لفظوں کی عمارت وجود میں آتی ہے وہی شاعری ہے۔ یہ عمل لاشعوری نہیں ہوتا بلکہ شاعر ارادی طور پر تمام فیصلے کرتا ہے۔

اسی دوران ’’نثری نظم‘‘ کا وجود بھی عمل میں آیا۔ اس نے ہیئت وزن اور بحر کے تمام معاملات کو ازکارِ رفتہ قرار دیا۔ نثری نظم لکھنے والوں کا ماننا تھا کہ آہنگ ہی وہ بنیادی شرط ہے جس سے ’’شعریت‘‘ کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ اردو ادب کے لیے نیا مگر مغرب کے لیے پرانا تجربہ تھا۔ اردو میں آزاد نظم کی طرح نثری نظم لکھنے والوں نے کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ کئی تخلیق کاروں نے اس تجربے کو کشادہ دل کے ساتھ تسلیم کیا۔ فرانسیسی شاعر ’’بودلیئر‘‘ نے سب سے پہلے نثری نظم کی اصطلاح استعمال کی۔ بودلیئر سے کئی ہم عصر شاعر بھی متاثر ہوئے جن میں راں بو، ملارمے وغیرہ شامل ہیں۔

جب اردو میں نثری نظم لکھنے کا چلن عام ہوا تو جہاں اس ہیئت کا خیر مقدم کیا گیا وہیں مخالف روّیے بھی سامنے آئے۔ ان کے بقول یہ صنف چونکہ مروجہ اصنافِ شاعری کی طرح موزوں نہیں ہے، اس لیے یہ تجربہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ حالانکہ ناقدین اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ مغرب میں بڑے پیمانے پر اس صنف میں طبع آزمائی کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ میں اسے صنفِ شعر تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے اس صنف /ہیئت کو ’’اوراق‘‘ میں جگہ دی بھی تو اپنے پسندیدہ ناموں کے ساتھ، اسے نثم، نثرِ لطیف جیسے نام دینے کی کوشش کی مگر یہ جدو جہد کار آمد نہ ہو سکی۔ ان کا موقف تھا کہ شاعری تو خارجی اور عروضی آہنگ سے مملو ہے۔ چونکہ نثری نظم عروضی پیرائے پر پورا نہیں اترتی لہٰذا اسے شاعری کے دائرے سے خارج کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہونا چاہیے۔

ذوالفقار تابش نے بھی نثری نظم کو رد کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ نثر اور نظم دو مختلف اصناف ہیں۔ ان کا یکجا کرنا کسی نئے بیانیے کو جنم دینے کے مترادف ہے۔ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ نظم سے زیادہ نثر کے قریب ہے۔ انہوں نے نثری نظم کو سہل نگاری کی گھٹیا مثال قرار دیا۔

فیض احمد فیض کا بھی یہی خیال تھا کہ نثری شاعری بحور اور اوزان کے پیمانے پر پورا نہیں اترتی، اسے شاعری قرار دینا کسی گناہ سے کم نہیں ۔ ان ناقدین کے مقابلے میں وہ لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے نثری نظم کو عصرِ حاضر کے لیے ضروری صنف قرار دیا۔ احمد اعجاز نے تو یہاں تک کہا کہ نئی اور جدید شاعری کے امکانات اسی ہیئت یا صنف میں پوشیدہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہر یار، قمر جمیل، انیس ناگی، مبارک احمد، مخدوم منور، فہیم جوزی اور سعادت سعید وغیرہ وہ نام ہیں جنہوں نے نثری نظم کی بھرپور حمایت کی۔ اس تمام پس منظر کے بعد اب ان فنی پیمانوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو نثری نظم میں موجود ہو سکتے ہیں یا اس کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ صنف آج بھی رد و قبول کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اس لیے فنی معیارات طے کرنا یا کچھ لکھنا قبل از وقت ہو گا۔ اس سب کے باوجود نثری نظم کے نام پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ اسے مضبوط بنانے کی بجائے شک و شبہات میں مبتلا کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں چند پیمانے وضع ہونے چاہییں جو اس صنف کے ارتقاء میں معاون ثابت ہو سکیں۔ اس ضمن میں نثری نظم کے ان شاعروں کا بھی ذکر کیا جائے گا جن کی نظمیں فنی معیارات طے کرتی ہوئی ماڈل (نمونہ) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ان عناصر کا جائزہ لیتے ہیں جو نثری نظم میں شعریت پیدا کر سکتے ہیں۔

تخلیق میں شعریت اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب فکر و احساس میں لطافت اور بیان کرنے کے انداز میں کوئی انوکھا پن ہو۔ اس حوالے سے ہیئت یا مواد کی جمالیاتی فضا بھی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسے تخلیقی فکر یا جذبے کی ہم آہنگی کے بغیر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں عناصر مل کر پُراثر فضا کو تشکیل دیتے ہیں جس کا تعلق ہماری حسیات یاتجربے سے ہے۔ جدید نظم کی لفظیات، استعارے اور تشبیہات شعریت کو جنم دیتے ہیں۔ جبکہ نثری نظم میں تمثیلی، تجریدی اور امیجری مناظر شعریت پیدا کرنے کے لیے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ موضوع اور ہیئت میں ہم آمیزی مخصوص شعریت کو ابھارتی ہے۔ جب کوئی لفظ کسی مخصوص استعارے کا لباس پہنتا ہے تو اس میں موسیقی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو دراصل شعریت ہی ہے۔ استعاروں کے ذریعے نئی دنیا خلق کی جا سکتی ہے۔ اساطیری کرداروں کی بازیافت ہوسکتی ہے۔ بہرحال شعریت پیدا کرنے کے لیے بنیادی اہمیت استعارے کو دی جا سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نئے خیالات وجود میں آتے ہیں۔ نثری نظم میں چونکہ ’’لفظ‘‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اس لیے لفظ کو نظر انداز کر کے ہم معنی کی جانب جست نہیں بھر سکتے۔ نثری نظم میں لفظ کے ذریعے جو شعریت جنم لیتی ہے وہ قاری کو اپنے حصار میں لے سکتی ہے۔

نثری نظم مروجہ نظام سے انحراف کرتی ہے۔ اس کی سطروں میں داخلی آہنگ پایا جاتا ہے جو پڑھنے والے یعنی خارجی آہنگ سے متشکل ہوتا ہے۔ نثری نظم امیجز (Images) پر اپنی بنیاد استوار کرتی ہے۔ اس میں واقعیت کی بجائے تجریدیت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آج کی نثری نظم بیانیہ اسلوب بھی اختیار کرتی نظر آتی ہے اور اس کی مختلف شکلیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ نثری نظم کا تعلق چونکہ ہمارے لاشعور سے ہے اس لیے مختلف شہروں میں جو نظمیں لکھی گئیں وہ مختلف فنی معیارات طے کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کراچی کے حالات کشیدہ ہوئے، ٹارگٹ کلنگ ہونے لگی، تشدد کی فضا چھانے لگی اور بوری بند لاشوں کا ملنا معمول بن گیا تو اس صورت میں نثری نظم بیانیہ اسلوب، براہ راست یا واقعیت کے قریب نظر آئی۔ افضال احمد سید، ثروت حسین، ذی شان ساحل، سعید الدین، تنویر انجم اور کاشف رضا کی نظموں میں ایسی فضا محسوس کی جا سکتی ہے۔

افضال احمد کی نظم سے چند سطریں دیکھئے جو ’’مٹی کی کان‘‘ میں شامل ہے:
’’میرا پسندیدہ کھلونا
چوہے دان رہا ہو گا
میری دوپہریں وباؤں کی بستیوں میں آہ و بکا سننے میں گزری ہوں گی
شام کو جب منحوس پرندے شور مچانے لگتے
میں گھر آ جاتا
اور اپنے پاؤں سے زمین کریدنے لگتا
کوئی خزانہ ہمارے گھر کے نیچے دفن ہے
مگر میرا باپ مجھے لہو لہان کر دیتا ہے‘‘ (4)

ان سطروں میں کوئی تجریدیت یا بھاری بھر کم لفظ نہیں ملتا بلکہ یہ کسی واقعے کی جانب اشارہ ہے۔ لاشوں کی بات ہے، قید کا ذکر ہے اور آہ و بکا سننے کے عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ جب انسان سماج کے مکروہ چہرے سے خوفناک ہو جاتا ہے تو وہ نیا جہان بسانا چاہتا ہے۔ یہ موت کی خواہش بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی قبر تیار کر رہا ہے۔

کاشف رضا کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی نظموں میں لاپتہ افراد کا دکھ اور قتل کیے جانے والے معصوم لوگوں کی ہُوک سنائی دیتی ہے۔ اگر ان کی نظموں کے عنوان بھی دیکھے جائیں تو وہ بھی کسی مجموعی واقعے کو ہی جنم دے رہے ہیں۔ ’’ممنوعہ موسموں کی کتاب‘‘ سے ایک نظم ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ کی چند سطریں دیکھئے:
’’ زندگی سے موت تک
اک کڑی مسافت ہے
ہم اسے سہولت سے طے کراتے ہیں
اور آپ سے تیس روپے فی گولی
قیمت بھی نہیں لیتے

آپ کے لیے ہم
پٹ سن کی گانٹھوں سے
کفن تیار کرتے ہیں
جس کی خوشبو نیند آور ہوتی ہے

ہمارے رضا کار
آپ کی لاش اٹھاتے ہیں
اور ہماری ایمبولینس
آپ کے لیے ٹریفک کو چیرتی ہوئی نکلتی ہے‘‘ (5)

ان سطروں میں وہ دکھ واضح ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے کراچی کے عام لوگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ ان کے کان صبح و شام کا فاصلہ اذانوں کی بجائے گولیوں کی آواز سے ماپتے ہیں۔ ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ دراصل کسی ایک فرد یا سماج کے لیے کہی جانے والی نظم نہیں ہے، بلکہ اس میں مجموعی فضا کا ذکر ہے۔

اسلام آباد کے منفرد اور نفیس شاعر نصیر احمد ناصر کی نظمیں فطرت (نیچر) کے زیادہ قریب ہیں۔ وہاں کے موسموں کا ذکر ملتا ہے اور خوبصورتی کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کی نظم ’’میں پرندوں کی طرح طلوع ہونا چاہتا ہوں‘‘ ملاحظہ ہو:
’’ میں جانتا ہوں
میرا سفر ختم ہونے والاہے
نیند آنکھوں میں پڑاؤڈال چکی ہے
اور اندھیرے کی ساکن آواز
کہیں بہت قریب سے سنائی دے رہی ہے
لیکن میں سونا نہیں چاہتا
نظم، کچھ دیر اور میرے ساتھ رہو
مجھ سے باتیں کرو
مجھے تنہا مت چھوڑو
میں اس رات کی صبح دیکھنا،
اور پرندوں کی طرح
تمہارے ساتھ طلوع ہونا چاہتا ہوں‘‘ (6)

اس نظم میں استعاراتی زبان اختیار کی گئی ہے۔ یہ نظم فطرت سے مکالمہ کرنا چاہتی ہے۔ اس میں جمالیاتی فضا بھی واضح ہے۔ ۲۰۰۰ء کے بعد جو نثری نظم کے شعراء سامنے آتے ہیں، ان کے ہاں نئی بوطیقا ملتی ہے۔ جس میں زندگی کی لایعنیت، فرد کی تنہائی اور کم مائیگی کا اظہار ملتا ہے۔ ایسے شعراء میں ساحر شفیق، زاہد امروز اور قاسم یعقوب کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ساحر شفیق کا تعلق ملتان سے ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ’’خودکشی کا دعوت نامہ‘‘ ۲۰۱۰ء میں طبع ہوا۔ ساحر کی نظموں میں ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو ہر چیز سے بیزار ہو چکا ہے۔ وہ کسی نئے جہان کی طرف نکل جانا چاہتا ہے۔ ان کی نظم سے یہ سطریں دیکھئے:
’’ میرے پاس ایک گیت تھا/ جسے میرے ملازم نے چُرا کر کباڑی کو بیچ دیا
میرے پاس ایک بات تھی/جو مجھ سے کہیں گِر گئی
میرے پاس ایک دن تھا/ جسے میں ایک سفر میں گنوا آیا
میرے پاس ایک دعا تھی /جو چڑیا کی طرح اُڑ گئی
میرے پاس ایک تعویز تھا / جسے میں نے بہت سالوں بعد کھولا تو اس میں گالیاں لکھی ہوئی تھیں
میرے پاس ایک حیرت تھی/جو ہمسائے کے کُتے کے کاٹنے سے مر گئی
میرے پاس ایک پری تھی/جو خود دیو کے ساتھ بھاگ گئی
میرے پاس وقت تھا/ جو ناراض ہو کر چلا گیا
میرے پاس ایک شام تھی/ جو چائے کے ساتھ پی گئی
___ اور ___
میرے پاس میں خود تھا/ جسے میں نے قتل کر دیا‘‘ (7)

اس نظم میں نثری نظم کی نئی جہت دریافت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا بیانیہ نظم میں بہت کم ملتا ہے۔ ان لائنوں کی ترتیب نثری نظم کی نئی تکنیک بھی متعارف کروا رہی ہے۔ ساحر کی نظمیں، جون ایلیاء کی شاعری کی طرح کسی نوجوان کو کھانے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ نظموں میں یہ اسلوب اب دقیق ہو چکا ہے۔ جو نوآموز خود کو اس رنگ میں رنگنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں وہ صرف نقالی کر رہے ہیں۔

زاہد امروز کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ ان کی نظموں کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ زاہد امروز کی نظمیں تہہ دار ہیں مگر مشکل نہیں۔ بظاہر تو ان میں زندگی کا عامیانہ رنگ دکھائی دیتا ہے مگر بین السطور میں انسان کو زندگی کی گھمبیرتا سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ان کی نظم ’’ میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں‘‘ بھی ایسی کیفیت کو آشکار کرتی ہے۔
’’میں تیرے ساتھ لپٹ کر
تیرے جُوڑے میں مہکے مہکے پھول سجانا چاہتا ہوں
لیکن تُو چہرے پر غلاظت مَل لیتی ہے
تُو اپنی عیار ہنسی سے
شفاف دلوں کی ننھی خوشیاں ڈس لیتی ہے
چم چم کرتی بھربھرائی دنیا!
تیری سنگت بڑی ہی ظالم دشمن ہے
میں تجھ کو گلے لگا لوں لیکن
تیری قبا میں پوشیدہ ہے
سب چوری کا مال
تیری جھلمل سطح کے نیچے
پھیلا ہے مایا کا جال

اگر ترے سینے پر گولائیاں
گوتم کے سَر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں ‘‘ (8)

زاہد امروز کی نظموں میں فنی حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انہوں نے شعریت پیدا کرنے کے لیے ایک مختلف استعاراتی نظام وضع کیا ہے۔ عصرِ حاضر میں نثری کے متعلق یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اسے نثر کے زیادہ قریب ہونا چاہیے تا کہ اس صنف کے تخلیقی جواز کو وسعت مل سکے۔ اس مختصر جائزے سے سمجھانے کی سعی کی گئی ہے کہ نثری نظم کسی ایک موضوع تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ عمرانی شعور سے مکمل ہم آہنگ ہے اور مستقبل کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔ دراصل یہ موضوعات ہی نثری نظم کے فنی پیمانے بھی طے کرتے ہیں۔

نثری نظم کا موضوع اپنا اسلوب خود وضع کرتا ہے۔ ساحر کی نظمیں نیا اسلوب اختراع کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کوئی اسلوب چرانے کی کوشش کی جاتی ہے تو موضوع کی پیشکش میں فاصلہ حائل رہتا ہے جو کمزوری بھی ہے نثری نظم زیادہ تر صیغہ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہے۔ ایسی نظموں میں خود کلامیہ تکنیک سے معاملہ کیا جاتا ہے۔ انجم سلیمی کی بیشتر نظموں میں یہ کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظم ’’اذیت کا شجر ہوں‘‘ دیکھئے:
’’ مجھ پر بے موسم کا بُور آتا ہے
بہت بے صبرے ہو
ہنسی کو پکنے تو دو
میری خوشیاں ابھی بالغ نہیں ہوئیں
اور دکھ کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے ہیں
یہ کوئی بددعا نہیں کہ تم پر میرا صبر پڑے
یہ تو ایک ذائقہ ہے جسے تم نے کبھی چکھ کر نہیں دیکھا
چھوٹے چھوٹے دکھوں نے مجھے چھوٹا کر دیا ہے
عجیب دکھ ہے
خود کو جی بھر کے برباد نہیں کر سکا
ایک بڑے سانحے کے انتظار میں
رائیگاں جا رہا رہوں !‘‘ (9)

نثری نظم میں ایک نیا رویہ یہ بھی سامنے آیا کہ خود کوکسی کردار کا روپ دے کر ایک علامتی وجود خلق کیا جائے۔ ایسی نظمیں تنویر انجم کے ہاں ملتی ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’’میں اور نیلوفر‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔
’’ دنیا میں کوئی نیلوفر کا مقابل ہے اور نہ متبادل
ایسا ہو سکتا ہے
میں اس کا پیچھا کرتے دور نکل جاؤں
میں اس کا پیچھا کرتے مٹی میں دھنس جائوں
میں اس کا پیچھا کرتے عالمِ انبساط میں مر جاؤں‘‘(10)

ناقدین کا یہ اعتراض بھی سامنے آتا ہے کہ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ اس سے پہلے آزاد، نیاز فتح پوری یا یلدرم اپنی شاعرانہ نثر میں پیش کر چکے تھے۔ یہ اعتراض بہت سطحی سا ہے۔ نثری نظم اور ایسے شاعرانہ ٹکڑوں میں بہت تفاوت ہے۔ شاعرانہ نثر قطعیت اور جامعیت پر مبنی ہوتی ہے۔ ایسا اظہار خود میں نامکمل ہوتا ہے۔ شاعرانہ نثر شروع سے لے کر آخر تک مبہم اور معنویت سے خالی ہوتی ہے۔ جبکہ نثری نظم کا معاملہ مختلف ہے۔ اس میں تو شاعر کے ذہن میں پوری کہانی چل رہی ہوتی ہے۔ وہ اس کے کردار بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔ یوں وہ اول تا آخر ایک کلی تجربے کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس میں برتے جانے والے استعارے، علامتیں اور امیجز(Images) اسے آرٹ کے قریب تر کر دیتے ہیں جو اپنا تخلیقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ نثری نظم پیرگراف میں بھی لکھی جاتی رہی ہے۔ یہ بھی اس کا فن اور تکنیک ہے۔ بودلیئر نے جب نثری نظم لکھنے کا آغاز کیا تو اسے پیراگراف میں لکھا۔ ہمارے ہاں بھی چند نظم نگاروں نے اس میں تجربہ کیا۔ ثروت حسین کی یہ نظم دیکھئے:
’’ پرندوں اور بادلوں سے خالی آسمان کے نیچے کسی دور دراز اسٹیشن کے برآمدے میں ریت بھری بالٹیاں اور ایک بھاری زنجیر ۔۔۔ جنگلے کو تھام کر پھیلتی ہوئی بیلیں، رُکی ہوئی مال گاڑی کے پہیے اور پتھروں کی ابدی خاموشی میں قریب آتی ہوئی یاد، کبھی کبھی چمکنے والی بجلی کی چکا چوند میں آبائی مکان کی جھلک، جہاں کیاریوں کے پاس ایک بیلچہ بارشوں میں بھیگ رہا ہے۔۔۔۔
کوئی ہمارا نام لے کر پکارتا ہے، کیا وہ لڑکی اب بھی کسی کھڑکی پر کہنیاں ٹکائے ہمیں اداسیوں کے سرسراتے جھنڈ سے گزرتے دیکھ سکتی ہے ۔۔۔ یہاں تک کہ شام ہو جاتی ہے۔‘‘ (11)

یہ نظم پیراگراف میں ہونے کے باوجود کسی قطیعت یا جامعیت کا اعلان نہیں کر رہی، نہ ہی اس نظم کی سطروں کے مفاہیم کو کسی دائرے میں مقید کیا جا سکتا ہے۔ نثری نظم کا یہ فن اسے باقی اصناف سے ممیز کرتا ہے۔

فنی اعتبار سے نثری نظم کو یہ اختصاص بھی حاصل ہے کہ اس ہیئت /صنف کے موضوعات خود کو عالمی شخصیت، کسی بحران یا جنگ سے بھی جوڑتے ہیں۔ نثری نظم اپنا رشتہ بین الاقوامیت کے ساتھ مضبوط کرتی ہے۔ وہ علاقائی سرحدوں کو توڑتے ہوئے ہر موضوع کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نازی حکمران نے جب پولینڈ کو تباہ کر دیا تو بعد میں ہمارے ہاں کئی باشعور شاعروں نے اس درد کو محسوس کیا اور کافی عرصہ گزر جانے کے بعد بھی انہیں نظموں کا موضوع بنایا۔ کاشف رضا نے چارلی چپلن کے لیے نظم لکھی جو پڑھنے کے قابل ہے:
’’ چارلی چپلن نے کہا
اُسے بارش میں چلنا پسند ہے
کیونکہ تب کوئی اس کے
آنسو نہیں دیکھ پاتا

اس نے چار شادیاں کیں
اور بارہ معاشقے
عورتیں اس پر فدا تھیں
وہ انہیں کسی بھی وقت
جوائے رائڈ دے سکتا تھا‘‘ (12)

نثری نظم میں تکنیکی اور فنی لحاظ سے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں جنہیں تلاش کیا جانا چاہیے۔ نثری نظم میں مکالماتی انداز بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ مکالمہ کسی فرد یا سماج سے ہو سکتا ہے۔ نثری نظم کی یہ تکنیک نئے فنی پیمانے وجود میں لاتی ہے۔ ثروت حسین کی نظم ’’ایک پل بنایا جا رہا ہے‘‘ سے چند سطریں ملاحظہ ہوں:
’’ میں ان سے پوچھتا ہوں:
پُل کیسے بنایا جاتا ہے؟
پُل بنانے والے کہتے ہیں:
تم نے کبھی محبت کی
میں کہتا ہوں:محبت کیا چیز ہے؟
وہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:
محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو
تو پہلے دریا سے ملو ___ ‘‘ (13)

نثری نظم کا فن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ہیئت /صنف کے لیے مروجہ اوزان یا بحور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہ کسی صورت رائیگاں نہیں جا سکتی۔ یہاں تو شاعر کا کڑا امتحان ہوتا ہے کہ اس نے کسی خارجی مدد کے بغیر داخلی آہنگ کو تشکیل دینا ہوتا ہے جو دراصل شعریت کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔ نثری نظم لکھنے کا عمل سرکس کے اس جوکر جیسا ہے جو باریک رسی پر چل کر اپنا فاصلہ طے کرتا ہے ۔ اس میں جہاں کہیں جھول آ گیا نظم اپنے فن کو مشکوک کرے گی اور شاعر منہ کے بل گرے گا۔

مندرجہ بالا بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صنف فنی جہات میں متنوع پہلو رکھتی ہے۔ اسے لکھنے کے اتنے ہی طریقے ہیں جتنے اس دنیا میں موجود نثری نظم نگار ۔ نثری نظم اپنے ساتھ تخریب اور تعمیر کا سامان خود لے کر وارد ہوتی ہے۔ اس کو چند پیمانوں پر ماپنا ناانصافی ہو گی۔ اس حوالے سے نئے لکھنے والوں کی تربیت ضروری ہے تا کہ وہ اس غلط فہمی سے پاک رہیں کہ جو کچھ انہوں نے تخلیق کیا ہے وہ نثری نظم کے زمرے میں شمار ہو گا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آزاد نظم سے بحر حذف کر دی جائے تو وہ نثری نظم کہلائے گی۔ ایسا ہرگز نہیں نثری نظم تو لکھنے والے سے گہرے شعور اور مکمل کمٹمنٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔ نثری نظم لکھنے والے کے ذہن میں چند فنی پیمانے ضرور ہونے چاہییں تا کہ وہ ان کی پابندی کرتے ہوئے کوئی لایعنی یا بے معنوی نظم خلق کرنے سے گریز کرے۔

حوالہ جات

۱۔ محمد ہادی حسین، شاعری اور تخیل، مجلس ترقیء ادب، لاہور ، ۲۰۱۵ء، ص ۲۱
۲۔ سعادت سعید، اردو نظم میں جدیدیت کی تحریک، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۷ء، ص ۶۲
۳۔ ناصر عباس نیئر، ڈاکٹر، نظم کیسے پڑھیں، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۸ء، ص ۱۵۶
۴۔ افضال احمد سید، مٹی کی کان، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۰۹ء، ص ۲۰
۵۔ کاشف رضا، سید، ممنوعہ موسموں کی کتاب، شہر زاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۳۰
۶۔ نصیر احمد ناصر، سرمئی نیند کی بازگشت، بک کارنر، جہلم، ۲۰۱۷ء، ص ۱۳
۷۔ ساحر شفیق، خود کشی کا دعوت نامہ، دستک پبلی کیشنز، ملتان، ۲۰۱۰ء، ص ۷۸
۸۔ زاہد امروز، کائناتی گردش میں عریاں شام، سانجھ، لاہور، ۲۰۱۳ء، ص ۳۱
۹۔ انجم سلیمی، ایک قدیم خیال کی نگرانی میں، دست خط مطبوعات، فیصل آباد، ۲۰۱۷ء، ص ۸۳
۱۰۔ تنویر انجم، نئی زبان کے حروف، آ ج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۲۰ء، ص ۱۱۳
۱۱۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۳۵
۱۲۔ کاشف رضا سید، ممنوع موسموں کی کتاب، شہرزاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۷۳
۱۳۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۷۲

Categories
شاعری

یہ کوئی نظم نہیں ہے اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

یہ کوئی نظم نہیں ہے

رات کہتی ہے
—–عورتیں محبت مانگتی ہیں
کنواں کہتا ہے
—–انسان مینڈک ہے
درخت کہتا ہے
—–کلہاڑی شیطان کی ایجاد ہے
نظم کہتی ہے
—–آدمی استعاروں میں زندہ ہے
صحرا نورد کہتا ہے
—–زندگی طویل سفر مانگتی ہے
سمندر کہتا ہے
—–آدمی عرشے پر کھڑا بھلا لگتا ہے
کرسی کہتی ہے
—–تھکن کا کوئی نعم البدل نہیں
سرخ نوٹ کہتا ہے
—–عورت کے سینے سے نرم کوئی جگہ نہیں
خواب کہتا ہے
—–آدمی کی شلوار سیلن زدہ رہتی ہے
اندھیرا کہتا ہے
—–خوف انسان کا دیوتا ہے
زمین کہتی ہے
—–چلنے سے تم رندے کی طرح گھستے رہتے ہو
اور بستر کہتا ہے
—–آدمی مباشرت کے لئے زندہ ہے

میں تمہاری سمت غروب ہونا چاہتا ہوں

جب انگلیاں دو زانو ہو کر
تمہارے جسم کا طواف کرتی ہیں
ہمسایوں کی کھڑکیاں ہمارے خلاف
ایک دوسرے کے کانوں میں
نفرت کی سرگوشیاں کررہی ہوتی ہیں

جب تمہارے جسم کی سرحد کو چومتے ہوئے
محبت کی موسیقی ترتیب دے رہا ہوتا ہوں
شہر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے
معنویت سے خالی باتیں اگل رہا ہوتا ہے

رد کئے ہوئے لمحوں میں
جب میں خود کو جمع کر رہا ہوتا ہوں
چوک میں کھڑے میلے کچیلے ہاتھ
خوابوں کی بھیگ مانگ رہے ہوتے ہیں

جب کاربن سے اٹے مزدور اپنے چہرے کو
بچوں کی چیخوں سے صاف کر رہے ہوتے ہیں
میں تمہارے ہونٹوں پر تیرتی ہنسی کو
چھونے کی ریاضت کر رہا ہوتا ہوں

حب ریستوران سایوں کے شور سے بھر جاتے ہیں
اور سڑکوں پر بے چہرہ لوگ
آپس میں ٹکرا ریے ہوتے ہیں
تم میری بانہوں میں مرجھا چکی ہوتی ہو
اور میں قطرہ قطرہ
تمہارے جسم کے کسی خانے میں
محفوظ ہوجانا چاہتا ہوں

بارش ہر کسی کو مصروف کر دیتی ہے

چاند بارش میں بھیگ رہا ہے
گراموفون موت کا گیت گا رہا ہے
آدمی عرشے سے
ریت میں دھنسی عورت کی تصویر کشی کر رہا ہے
مالی امرود کے درخت کے پہلو میں سو رہا ہے
اسے پھولوں میں سوئی لڑکی کے خواب آ رہے ہیں
اداسی کیکٹس کے پھولوں سے
پول میں مشت زنی کرتے لڑکے کو جھانک رہی ہے

آدمی بے موسمی پھل اگانے کی کوشش میں
کئی موسم ضائع کر رہا ہے
چوک میں کھڑے ریڑھی بان
قہقہے ہانک رہے ہیں

بچے نیند کے فیڈر پیتے ہوئے
دو سمتوں میں سفر کررہے ہیں
کلاک کا پینڈولم تھکتا ہی نہیں ہے

شہر کے حاکم کو آٹھ راتوں سے
امرد پرستی کے خواب آ رہے ہیں

شام بادلوں کے پیچھے تیر رہی ہے
میں اسے بھیگتے ہوئے دیکھ رہا ہوں

آنسوؤں میں بٹی زندگی

ہماری آنکھیں
صرف تھوکے ہوئے منظر
یا بس کے پیچھے
لٹکتے ہوئے آدمی کو دیکھ سکتی ہیں
مگر میں نے اپنی آنکھیں
ہم دونوں کے درمیان حائل فاصلہ
ماپتے ہوۓ ضائع کیں

ہمارے کان
گیت اور دعا سے پہلے
آنسوؤں کا ترانہ سننے کے عادی ہیں
اور انگلیاں
مٹی کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے
لکڑی کی شکل میں تبدیل ہو چکی ہیں
یہ تو صرف ایک ماں ہی بتا سکتی ہے
کہ مٹی میں آنسو جلدی جذب ہوتے ہیں
یا پھر پسینہ؟

میں ہر رات
کشتی بنانے کے منصوبے ترتیب دیتا ہوں
تاکہ چپوؤں سے
سمندر کی گہرائی معلوم کرتے وقت
مچھلی سے پوچھا جاسکے
کہ سمندر کا پانی زیادہ میٹھا ہوتا ہے
یا پھر آدمی کے آنسوؤں کا؟

شاید میں اب
ایک چپو بھی نہیں بنا سکتا
کیو نکہ جوۓ کی بازی میں
رات کی بچائی ہوئی
آدھی روٹی بھی ہار چکا ہوں

میرے پاس اب صرف دل بچا ہے
جس کے ذریعے
میں ایک چھینی ہوئی محبت کرسکتا ہوں

تم کھڑکی کھول کر نہیں دیکھتی

تمہارے کمرے کی کھڑکی
سمندر کی طرف کھلتی ہے
تم آسانی سے
بادلوں کو چھو سکتی ہو
مگر میرے پیغام کا جواب دینے کی بجائے
طویل انتظار
میسج میں رکھ کر بھیج دیتی ہو

تم نیند کے ساحل پر
خوابوں کا بادبان اوڑھے سوئی رہتی ہو
تمہیں اس وقت کی خبر نہیں ہوتی
جب کوئی سیاح
تمہاری خوشبو سونگھ کر مچل جاتا ہے
اور سانسوں کے رستے سے
تم میں داخل ہوجانا چاہتا ہے

بارش کی شاموں میں
تم برہنہ بستر کا لباس بنی رہتی ہو
تمہارے کمرے کے آتشدان سے نکلتا دھواں
آسمان میں شگاف کردیتا ہے

خود لذتی کے دوران
آوازیں نکالتے ہوئے
جب تم دیواروں کے کان
بند کر رہی ہوتی ہو
کوئی شہوت کا مارا
تمہارے کمرے کی دیواروں میں
کسی درز کو تلاش کررہا ہوتا ہے

مگر تم کھڑکی کھول کر نہیں دیکھتی

شناخت

جب وہ پیدا ہوا
گھر والوں نے اس کا نام جمال الدین رکھا
سکول کے رجسٹر میں اس کا نام
محمد جمال الدین درج ہوا

جب بچپن کو بیچ کر
اس نے بلوغت کمائی
اور داڑھی رکھنا شروع کردی
تو محلے والے اسے مولوی پکارنے لگے

عمر کے درمیانی حصے میں
جب وہ شہر میں چپڑاسی بھرتی ہوا
بڑے صاحب نے اس کا نام
بگاڑ کر “جالو “رکھ  دیا

مگر وہ خوش تھا
کہ پہچان تو چہروں سے ہوتی ہے

جن دنوں سرکاری معلومات
کمپیوٹر میں محفوظ کی جارہی تھی
ایک چیک پوسٹ پر
تلاشی لینے کے بہانے
اس کے اعضاء کو بکھیر دیا گیا
یوں اپنے اصل نام کے ساتھ
وہ کہیں بھی درج نہ ہو سکا

جب ٹی وی اسکرین پر
اس کی موت کی خبر نشر ہوئی
تو گھر والے خوش تھے
کہ اس کے نام کی بجائے
مسخ شدہ چہرے کے ساتھ
صرف شہید لکھا ہوا تھا

Categories
شاعری

قید اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

[divider]قید[/divider]

میری روح کا جھنڈا
ایک اداس پرندے کے ہاتھ میں ہے
جو زندگی کی سمتوں میں قید
آزادی یا موت کا منتظر ہے

[divider]ایک بھلائی جانے والی لڑکی[/divider]

وہ اپنے چہرے پر
گزرے دنوں کا میک اپ کرتی ہے
اس کی زرد سرخی میں
ہجر کے ذرات دیکھے جا سکتے ہیں
مستقبل کی چکی میں
وعدوں کو پیس کر
آنکھوں پر کاجل کی طرح سجانا
اسے ہمشہ پسند رہا ہے

فارغ اوقات میں
اپنے سینے پر محفوظ
مختلف ذائقوں کو محسوس کرنا
اس کے نزدیک
وقت گزارنے کا بہترین مشغلہ ہے

ضدی شوہر جب بھی
گردن پہ ابھری
نیلی رگوں پر بوسہ دیتا ہے
بیتے دنوں کی شفاف یادیں
ناف کے گرد
زبان پھیرنے لگتی ہیں
وہ خود کو
کھڑکی میں ٹھٹھرتی بلی کی طرح
سرد محسوس کرتی ہے

وہ اپنا غصہ
اس کے داہنے گال پر تھوکتا ہے
اور
نیند کے سینے میں دفن ہو جاتا ہے

[divider]تمہارے بدن سے چرائی ہوئی نظم[/divider]

دھوپ سے خالی
ایک دوپہر میں
جب تم اپنے بوسوں سے
میرے سینے کو نرم کر کے جا چکی تھیں
تمہارے ہاتھ کی لکیروں جیسی
اپنے بستر کی سلوٹ میں
مجھے برہنہ نظم ملی تھی
جس پر نیلے پھول کڑھے ہوئے تھے

اور اس میں سے
تمہارے بوسوں جیسی خوشبو آ رہی تھی!

[divider]خواب کے ہاتھ پر لکھی نظم[/divider]

تمہاری باتوں سے
بارود کی بو آتی ہے
تم سے خوفزدہ لوگ
اندھیرے میں
زندہ رہنے کی اداکاری کرتے ہیں
تم جنگ سے لوٹےگھڑ سوار کی
بے خوابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
اس کے خوابوں کو قتل کرنا جانتے ہو
تم محبت کے نام پر جسم جیت سکتے ہو
مگر اس لڑکی کو کبھی نہیں سمجھ سکے
جس کے آنسوؤں سے
تمہارے جسم پر دستخط ہو چکے ہیں
اور وہ تمھیں جوان کرنے کی کوشش میں
خود بوڑھی ہوتی جارہی ہے

بے خواب راتوں میں
شہر کی اکلوتی ویشیا
اپنی ساری سانسیں جمع کر کے
جب تمہارے جسم کو چومتی ہے
اس کی آنکھوں سے بہتی نیند
تمہارے جسم کے خفیہ خانوں میں گر جاتی ہے

اور جب چیونٹیاں
زمین کے کانوں میں اذان دے رہی ہوتی ہیں
تم روشنی سے آنکھیں چرائے
زمین کی کوکھ میں پناہ لینا چاہتے ہو
مگر ویشیا خود کو مکمل کرنے کے لیے
جب تمہارا پیچھا کرتی ہے
تم اپنا خون آلود ہاتھ
خدا کے قدموں میں پھینک چکے ہوتے ہو !

[divider]تم کبھی محبت کا لباس نہ پہن سکے[/divider]

جب تم پیدا ہوئے
تم سے پوچھے بغیر
کسی ان دیکھے رشتے سے باندھ دیا گیا
یوں تم سے
ایک محبت کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا
اور لڑکی کا جسم
تمہارے لئے ممنوع قرار پایا!

بارش کے موسم میں
جب زمین کی تنہائی نے کروٹ لی
تم کئی بدن جھانکنے نکلے
مگر اپنے ساتھ
باتوں کی مہک سے خالی آنگن جیسی
خاموشی لے کر لوٹے

تم نے اپنے خالی کمرے میں
جب جسم کی فصل کاٹنے
اور محبت حاصل کرنے کی مہم شروع کی
تو تمہارے خراٹے
جنسی آوازوں جیسے ہو گئے

گھر والوں نے
تمہیں قتل کرنے کے منصوبے بنائے
اور جس رات تم خوابوں کے سفر پر نکلے
بے عکس آئینے کے سامنے کھڑی لڑکی
اپنے جسم پر زہر ملے
تمہیں محبت کا لباس پہنانے کی منتظر تھی

Categories
شاعری

ہم ملتے ہیں تاکہ بچھڑ سکیں (اویس سجاد)

ہم پہلی ملاقات کرتے ہیں
کسی مہنگے چاۓ خانے میں
اس احساس کے ساتھ
کہ کبھی جدا نہیں ہوں گے
وہاں بیٹھے بیٹھے
ہم ماپنے کی بے کار کوشش کرتے ہیں
اپنے درمیان حائل
بھورے میز جتنا فاصلہ

ہم چلتے رہنا چاہتے ہیں
کیمپس کے من پسند رستے پر
اس خواہش کے ساتھ
کہ تازہ کریں گے
اپنے ان قدموں کو
جو خاکروب نے دھندلے کر دیے ہوتے ہیں
اس رستے پر چلتے چلتے
بے خیالی میں جب کئی وعدے کر لیتے ہیں
تو واپسی پر ایک دوسرے کو چومنے کی کوشش کرتے ہیں
اس دھیان کے ساتھ
کہ سیکورٹی گارڈ ہمیں نہیں دیکھ رہا

کسی انجان نمبر پر
ہم کوئی پیغام بھجتے ہیں
اس یقین کے ساتھ
کہ وہ رضامند ہو جائے گا
ہمیشہ ساتھ رہنے کے لیے
اور کسی روز
ہم اسے دیکھ سکیں گے
برہنہ حالت میں

مگر افسوس ہم ایک دوسرے کو
بھول جاتے ہیں
اس قہقہے کی طرح
جو کسی روز بٹوے سے برآمد ہوتا
چائے خانے کے بل میں لپٹا ہوا

ایک دوسرے کی خواہشوں کو مار دیتے ہیں
اس وعدے کی طرح
جس کو کچل دیا ہوتا ہے
ہم نے اپنے قدموں سے
من پسند رستے پر

خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں
اس سرد بوسے کی طرح
جو کہیں چھپ کر
ہمیں ہماری یاد دلا رہا ہوتا ہے

اور ہم اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں
اس آخری میسج کی طرح
جس میں دعوی کیا ہوتا ہے
ہمیشہ یاد رکھنے کا

Categories
شاعری

تنہا رہنے کا موسم اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

تنہا رہنے کا موسم

میرے پاس ممنوعہ راتوں میں دیکھے گئے چند خواب ہیں
مگر تعبیر بتانے والا بوڑھا خودکشی کرچکا ہے
میرے اچھے اور برے دنوں کا خدا
پچھلے کئی دنوں سے لاپتہ ہے
اب میں اپنے باپ کو
اپنا خدا مانتا ہوں
میرے پاس گزرے موسم کے آنسو ہیں
جو مزید کچھ دن ٹھہرنا چاہتا تھا
مگر اسے ایک خطرناک وبا نگل گئی
میرے پاس سُروں سے خالی گیت ہیں
جن کو کوئی بھی فنکار
اپنے البم کا حصہ نہیں بنائے گا
میرے پاس گول باغ* کے مرکزی گیٹ پر بیٹھے
ایک خطرناک چوکیدار جیسا غصہ ہے
جو کبھی بھی ایکسپائر نہیں ہو گا
میرے پاس گاؤں کے لوہار جیسا دکھ ہے
جس نے کسانوں کے لیے
بیساکھی پر نئی درانتیاں بنائیں
مگر ایک رات فصلوں کو اجاڑ دیا گیا
میرے پاس کئی ٹوٹی پھوٹی نظمیں ہیں
جن میں کچھ عورتوں کے ساتھ
اندھیرے میں کی گئی محبت کے لمحے محفوظ ہیں
میرے پاس خوش کن اداسی ہے
جو قرنطینہ کے دنوں میں
ایک فرشتہ میرے سرہانے رکھ کر بھول گیا تھا

میرے پاس سب کچھ ہے
سوائے نایاب ہوتے قہقہوں کے
جو میں چرا لوں گا
کسی تابوت بنانے والے سے
یا اس بوڑھے سے جو ہمیشہ مہنگی سگریٹ پیتا ہے
ہو سکتا ہے میں مکمل ہو جاؤں

خواب میں جاگتی آنکھیں

میں ایک ایسے شہر میں زندہ ہوں
جہاں روز سانحے ہوتے ہیں
کیونکہ کچھ لوگوں کو دہشت زدہ فضا پسند ہے
جہاں گونگی سڑک پر
اندھی گاڑیاں خوفناک آوازیں نکالتی ہیں
ان سے خوفزدہ ہو کر
ہیجڑوں کا ایک گروہ خودکشی کر لیتا ہے
میں کھڑکی سے دیکھتا ہوں
اس پیشہ ور طوائف کو
جس کے پستانوں کا سائز بڑھ چکا ہے
اب وہ اپنی بیٹی کو
نئے گاہک سے ملوانے آئی ہے
میں دیکھ سکتا ہوں
سڑک کے دوسری طرف واقع اس قبرستان کو
جہاں بوڑھا گورگن
ایک بوسیدہ قبر کے سرہانے
کدال پر سر جھکائے
آنسو بہا رہا ہے
اچانک پرکھوں کا ہجوم گزرتا ہے
جو اپنے حصے کے خدا کے خلاف
دوسرے جنم میں مذاکرات کے لیے نعرے لگاتا ہے
اچانک میں خواب سے باہر آتا ہوں
مجھے رات کے دوسرے پہر کا وعدہ یاد آتا ہے
کوئی میرا انتظار کررہا ہوگا
میں اوورکوٹ پہنے گھر سے نکل آیا ہوں
مگر مجھے معلوم ہے
آخری لوکل بس بھی جا چکی ہو گی

میں سب کچھ دیکھ رہا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب ایک بوڑھا فقیر
اپنے گناہوں کا ٹوکرا اٹھائے
جہنم کا ٹکٹ لے رہا تھا
تو لوگ چپکے سے
اس کے کاسے میں
اپنے غم ڈال رہے تھے

میں دیکھ رہا تھا
جب تم اپنی زندگی کی معیاد بڑھانے
خدا کے پاس گئے تھے
تو فرشتوں نے تمہیں بھگا دیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب تمھارا سابقہ بوائے فرینڈ
گردن سے نیچے
تمھارے بوسے لے رہا تھا
تو تم نے کچھ دیر اپنی شرم کو
بیگ میں چھپا لیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب بوڑھا فنکار
مجھے تخلیق کر رہا تھا
وہ اپنے حصے کا کام چھوڑ کر
میرے حصے کے ادھورے خواب
جو شہر کی اندھی سڑکوں پر بکھرے تھے
انہیں سمیٹنے نکل گیا

میں مسلسل دیکھ رہا ہوں
بوڑھا فنکار ایک مدت سے لوٹ کر نہیں آیا