Categories
نان فکشن

لفظی ترجمہ اور صابن کا جھاگ (سید کاشف رضا)

(یہ مضمون بہاء الدین ذکریا یونی ورسٹی ملتان کی تراجم سے متعلق کانفرنس میں پڑھا گیا جو چھبیس اور ستائیس مئی دو ہزار اکیس کو آن لائن منعقد ہوئی)

تراجم کے سلسلے میں دو تین فقرے ہمارے ہاں بہت استعمال کیے جاتے ہیں:
ترجمہ رواں دواں ہے
ترجمہ، ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا
ترجمہ اصل سے بڑھ گیا ہے

ادب تسلیم شدہ تصورات کو باربار پھرول کر دیکھنے کا بھی تو نام ہے۔ تو کیوں نہ مذکورہ بالا تین تصورات کو بھی ذرا چھان پھٹک کر دیکھ لیا جائے۔

یہ تین فقرے عام طور پر اس ترجمے کے حق میں استعمال کیے جاتے ہیں جسے تخلیقی ترجمہ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک اور ترجمہ ہوتا ہے جسے لفظی ترجمہ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں قسم کے تراجم کے موازنے کے لیے بہ طور نمونہ کسی ایسی تخلیق کا جائزہ لینا ہو گا جس کے ایک سے زائد تراجم ہو چکے ہوں جن میں ہم لفظی اور تخلیقی دونوں قسم کے تراجم کے لیے مثالیں تلاش کر سکیں۔

سن نوے کی دہائی میں دو برسوں، سن چھیانوے اور سن ستانوے میں، غیر ملکی افسانوں کے تراجم پر مشتمل دو مجموعے ایسے سامنے آئے جنھیں ہمارے فکشن نگاروں کی نئی پود اور عام قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ کراچی میں سندھی زبان سے وابستہ ادیبوں سے بھی میری بات ہوتی رہتی ہے اور وہ بھی ان دو مجموعوں کے اثرات کے قائل ہیں۔ ان میں سے ایک صغیر ملال کے تراجم پر مشتمل مجموعہ “بیسویں صدی کے شاہ کار افسانے” ہے جو مترجم کی وفات کے بعد انیس سو چھیانوے میں شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ آصف فرخی کے لاطینی امریکا کے افسانوں کے تراجم پر مشتمل ہے جو “موت اور قطب نُما” کے نام سے انیس سو ستانوے میں شائع ہوا۔

ایک افسانہ ایسا ہے جس کا ترجمہ صغیر ملال اور آصف فرخی دونوں نے کیا ہے اور ہم بہ طور نمونہ اسی افسانے کو لیتے ہیں۔ یہ افسانہ کولومبیا کے فکشن نگار ایرناندو تیژیس نے انیس سو پچاس میں لکھا جس کا انگریزی میں ترجمہ “لیدر اینڈ نتھنگ ایلس” اور “جسٹ لیدر، دیٹس آل” کے نام سے ہوا۔ یہ افسانہ اتنا مشہور و معروف ہے کہ افسانوں کے کئی عالمی انتخابات میں شامل ہو چکا ہے اور اس کے ایک سے زائد انگریزی تراجم ہو چکے ہیں۔ یہ ایک حجام کی کہانی ہے جس کی دکان پر اس کا ایک ایسا حریف اپنی شیو بنوانے چلا آتا ہے جس سے حجام نفرت کرتا ہے کیوں کہ وہ ان باغیوں کے قتل میں ملوث ہے جن کے لیے حجام ہم دردی رکھتا ہے۔ کیا حجام اس کی شیو کے دوران اُسترا چلاتے ہوئے اس کی شہ رگ کاٹ دے گا؟ افسانے میں تناو اسی سوال سے جنم لیتا ہے۔

صغیر ملال اور آصف فرخی دونوں نے یہ تراجم انگریزی سے کیے۔ موازنے کے دوران پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ صغیر ملال اور آصف فرخی کے تراجم کی درُستی کا جائزہ لینے کے لیے انگریزی کا کون سا ترجمہ استعمال کیا جائے؟

آصف فرخی کے ترجمے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ “اس کا نام ٹورس تھا۔ کپتان ٹورس۔ کہتے ہیں خاصا ذہین آدمی تھا، ورنہ کس کے دماغ میں یہ بات آ سکتی تھی کہ باغیوں کو ننگا کر کے پھانسی دے اور ان کے جسموں پر نشانہ بازی کی مشق کروائے۔” صغیر ملال کے ترجمے میں یہ سب باتیں آگے پیچھے ہیں مگر کپتان کی ذہانت والی بات موجود ہی نہیں۔ کیا آصف فرخی صاحب نے یہ حصہ اپنی طرف سے ایزاد کر دیا یا یہ اصل افسانے میں موجود تھا اور صغیر ملال ترجمہ کرتے ہوئے اسے چھوڑ گئے۔ اب میں نے ایرناندو تیژیس کا اصل افسانہ تلاش کیا جو ہسپانوی زبان میں ہے۔ اصل ہسپانوی افسانے میں یہ حصہ مل گیا جہاں ایرناندو تیژیس نے “باغیوں کو ننگا کر کے پھانسی دینے” کا ذکر کیا ہے۔ اس حصے کی شناخت “کپتان ٹورس” کے الفاظ کے بعد والے فقرے میں لفظ “ڈیسنوڈوز” سے ہوئی جو اردو لفظ “ننگا” کی جمع ہے اور جو ہسپانوی میں صیغہ ء تذکیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

“لیدر اینڈ نتھنگ ایلس” کے نام سے ایک ترجمہ انٹرنیٹ پر موجود ہے جو لاطینی امریکی ریاستوں کی تنظیم کے دو ماہی جریدے “امیریکاس” میں شائع ہوا تھا۔ اس ترجمے میں مذکورہ بالا حصہ موجود نہیں۔ تاہم ڈونلڈ ژیٹس کے انگریزی ترجمے میں یہ حصہ موجود ہے۔ زیر نظر مقالے میں صغیر ملال اور آصف فرخی کے تراجم کی درُستی جانچنے کے لیے یہی یعنی ڈونلڈ ژیٹس کا ترجمہ استعمال کیا گیا ہے تاہم مخصوص الفاظ کی اصل دیکھنے کے لیے اصل ہسپانوی متن سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔

میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں کہ پاکستانی قارئین میں صغیر ملال اور آصف فرخی کے یہ دونوں مجموعے بہت مقبول رہے ہیں۔ آصف فرخی نے اور بھی بہت سے تراجم کیے جن میں ان کا یہ مجموعہ کچھ اوجھل سا ہو گیا مگر صغیر ملال کے تراجم کی یہی ایک کتاب تھی سو نمایاں تر رہی۔ اردو میں صغیر ملال کی اس کتاب کا مطالعہ بہت خوش گوار ہے۔ اس میں شامل متعدد افسانے مجھے بہت پسند رہے ہیں جن میں ٹالسٹائی کا “پیالہ”، خورخے لوئیس بورخِس اور فرانز کافکا کے افسانے اور ریمنڈ کارور کا افسانہ”زندگی” اور ایرناندو تیژیس کا یہ افسانہ بھی شامل ہے جس کا ترجمہ انھوں نے “جھاگ” کے عنوان سے کیا۔ افسانے کا آغاز تیژیس نے چار چھوٹے چھوٹے جملوں سے کیا ہے۔ میرے پیش نظر دونوں انگریزی تراجم میں یہ چار جملے چار ہی جملوں میں ترجمہ کیے گئے ہیں۔ آصف فرخی نے بھی ان چار جملوں کا ترجمہ چار ہی جملوں میں کیا۔ صغیر ملال افسانے کے ابتدائی حصے کا ترجمہ صغیر ملال یوں کرتے ہیں:
“میں چمڑے کی پٹی پر اُسترا تیز کرنے میں مصروف تھا کہ وہ خاموشی سے دکان میں داخل ہوا اور آئینے کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اپنے گاہک کا چہرہ پہچانتے ہی مجھ پر لرزہ طاری ہو گیا۔ مگر وہ میری حالت سے بے خبر رہا۔” صغیر ملال خود افسانہ نگار تھے اور شاید ان کا خیال ہو کہ ایک طاقت ور جملہ افسانے کی اُٹھان میں مدد دیتا ہے۔ ان کا پہلا جملہ تو خوب صورت ہے اور شاید کوئی اور موازنہ نگار یہ بھی کہے کہ یہ ترجمہ “اصل سے بڑھ گیا ہے”، مگر اس جملے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اصل تخلیق میں موجود نہیں۔ دوسری جانب آصف فرخی نے افسانے کے اسی آغاز کا ترجمہ یوں کیا ہے:
“وہ اندر آتے ہوئے کچھ نہیں بولا۔ میں اپنا تیز ترین اُسترا چمڑے کی پیٹی پر رگڑ رہا تھا۔ اسے پہچان کر میں کانپ گیا۔ مگر اس کی نظر میں یہ بات نہیں آئی۔”

اصل افسانے میں بات یوں شروع ہوتی ہے کہ کپتان ٹورس حجام کی دکان میں داخل ہوتا ہے، حجام اسے پہچان کر خوف زدہ ہو جاتا ہے، کپتان اپنی کمر سے بندھی اسلحے کی پیٹی اتار کر ایک کھونٹی پر لٹکاتا ہے اور اس کے بعد کرسی پر بیٹھتا ہے۔ صغیر ملال نے چوں کہ کپتان ٹورس کو آتے ہی کرسی پر بٹھا دیا ہے اس لیے جب کپتان ٹورس کی جانب سے اپنی پیٹی کھونٹی پر لٹکانے کا ذکر آتا ہے تو صغیر ملال کو اسے ایک مرتبہ پھر کرسی سے اٹھا کر کھونٹی کے پاس لے جانا پڑتا ہے۔ یوں افسانے کا خوب صورت آغاز کرنے کے چکر میں انھوں نے ان جانے میں کپتان ٹورس کو کچھ مخبوط الحواس دکھا دیا ہے جو حجام کی کرسی پر پہلے بیٹھتا ہے، پھر اٹھتا ہے، اپنی اسلحے کی پیٹی کھونٹی پر لٹکاتا ہے اور پھرکرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ جب کہ افسانے میں درحقیقت کپتان ٹورس مکمل طور پر پُرسکون ہے اور اگر کوئی پریشان ہے تو وہ حجام ہے۔

گفتگو کی ابتداء کپتان ٹورس خود کرتا ہے اور حجام سے کہتا ہے کہ اس کی شیو بنا دے۔ اس کے بعد ایک اور جملہ اقتباسی کاما کے درمیان ہے۔ یہ جملہ کس نے بولا، دونوں انگریزی تراجم میں درج نہیں۔ اس جملے کا ترجمہ صغیر ملال نے یوں کیا:
“مرکزی قیادت کے دوسرے افسروں کے چہروں پر بھی یوں ہی داڑھیاں اُگ آئی ہوں گی”، میں نے کچھ کہنے کی خاطر کہا۔ جب کہ آصف فرخی نے یہ جملہ کپتان ٹورس کے منھ سے بلواتے ہوئے یوں ترجمہ کیا ہے:
“ٹولی کے دوسرے لڑکوں کی بھی اتنی ہی داڑھیاں ہوں گی”، وہ بولا

تیژیس نے یہاں لفظ “موچاچوس” استعمال کیا ہے جو ہسپانوی میں “لڑکے” یعنی موچاچو کی جمع ہے۔ انگریزی تراجم میں بھی اس کا ترجمہ “بوائز”ہی کیا گیا ہے۔ صغیر ملال نے ان لڑکوں کو “مرکزی قیادت کے افسر” بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ اس افسانے کا قرینہ یہ بتاتا ہے کہ حجام خود بات کرنے سے حتی الامکان گریز کر رہا ہے اور بعد میں بھی بہت کم بولتا ہے۔ وہ ایسا جملہ کیوں کہے گا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ وہ کپتان ٹورس کی مہمات کی خبریں رکھتا ہے۔ یہ جملہ کپتان ٹورس ہی بول سکتا تھا، وہی اپنے دستے کے سپاہیوں کو “لڑکے” کہنے کی بے تکلفی کر سکتا تھا اور اگلا جملہ اسی جملے کی توسیع میں اسی کے منھ سے ادا ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک موقع پر حجام سڑک کے پار “گروسری” کی دکان کا ذکر کرتا ہے جس کا ترجمہ کرتے ہوئے صغیر ملال نے صرف “ایک دکان” کے الفاظ استعمال کیے ہیں جب کہ آصف فرخی نے ترجمے میں “سبزی کی دکان” کا ذکر کیا ہے۔

صغیر ملال نے مختصر سے اس افسانے کا ترجمہ سوا آٹھ صفحات میں کیا جس کے پہلے تین صفحات میں تئیس مقامات ایسے ہیں جہاں صغیر ملال نے ترجمے میں اپنی طرف سے کم یا زیادہ اضافہ کر دیا۔ اگلے صفحات سے ایسے اضافے تلاش کرنے کی مجھ میں تاب نہیں رہی۔ انگریزی لفظ “کیپیٹل” کا ترجمہ “دارالخلافہ” کرنے جیسے غلطیاں اس پر مستزاد ہیں۔ آصف فرخی کو اس افسانے کا ترجمہ کرنے پر صرف سوا چھ صفحات صرف کرنا پڑے جس میں کوئی ایک فقرہ بھی اضافی نہیں۔ بعض مقامات پر انھوں نے ایسا خوب صورت ترجمہ کیا ہے کہ ان کا ترجمہ لفظی ہونے کے باوجود تخلیقی بھی قرار دیا جا سکتا ہے، مثلاً یہ فقرہ دیکھیے:
There, for sure, the razor had to be handled masterfully, since the hair, although softer, grew into little swirls.
اس کا ترجمہ آصف فرخی نے یوں کیا ہے:
“وہاں یقینی طور پر مہارت سے اُسترا چلانے کی ضرورت تھی کیوں کہ وہاں کے بال نرم تو تھے مگر اُن میں گھونگھر پڑ گیا تھا۔”

ایک مقام پر البتہ آصف فرخی صاحب سے ایک فقرہ چھوٹ گیا جہاں حجام کپتان ٹورس کی شہ رگ پر پہنچتا ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے کسی فقرے کا چھوٹ جاتا عام بات ہے اور اگر کوئی مدیر ترجمے پر نظرثانی کر رہا ہو تو وہ اس کی نشان دہی کر دیتا ہے۔ تاہم پاکستان میں مترجم کا ڈرافٹ ہی فائنل ڈرافٹ سمجھا جاتا ہے۔

بہ ہر حال دو تین نمونے ہی اس بات کے ثبوت میں کافی رہنے چاہئیں کہ صغیر ملال افسانے کا ترجمہ کرتے ہوئے اصل متن سے بار بار ہٹ گئے۔ شاید انھوں نے ایسا اس لیے کیا کیوں کہ وہ عام طور پر ڈائجسٹ کے لیے ترجمہ کرتے تھے۔ ان کا ترجمہ شدہ افسانہ چاہے قرات میں کتنا ہی پرلطف ہو مگر اصل متن کی کماحقہ نمایندگی نہیں کرتا۔ اب اس ترجمے کے بارے میں کوئی قاری وہ تینوں فقرے استعمال کر سکتا ہے جن کی نشان دہی میں نے شروع میں کی کہ “یہ ترجمہ رواں دواں ہے”، “یہ ترجمہ، ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا” اور “یہ ترجمہ اصل سے بڑھ گیا”۔

لیکن کیا مترجم کو اس مداخلت کا حق ہونا بھی چاہیے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ کوئی تخلیق جیسی ہے اسے ویسا ہی پیش کر دیا جائے اور تخلیق کار کی تصحیح کرنے اور اس کی تخلیق کو “اصل سے بڑھا دینے” کی کوشش نہ کی جائے؟ کیوں کہ ایسی صورت میں ہم اصل تخلیق کار کو نہیں بل کہ اس کی ترجمانی کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اصل متن سے موازنہ کیے بغیر کیا ایسے مدحیہ فقرے استعمال کیے بھی جا سکتے ہیں، جن کا میں نے مضمون کے شروع میں ذکر کیا؟

میرے لیے تو ادبی ترجمے کا اولین امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اردو میں کچھ اوپرا اوپرا محسوس ہو۔ اس کے الفاظ، جملوں اور اسلوب میں کوئی نیا پن محسوس ہو۔ اگر برطانیہ کا پیٹر اور کولومبیا کا کارلوس بھی ارے صاحب، ارے حضرت جیسے الفاظ استعمال کر رہا ہے تو میں ترجمے کی صحت پر شک ضرور کرتا ہوں۔

کیا اردو کے دیگر تراجم میں بھی اصل متن کو سامنے رکھ کر ترجمے کے بجائے اپنے طور پر ترجمانی کی کوشش موجود ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ ترجمہ بہ طور تخلیق کتنا ہی اچھا ہو، اسے اصل تخلیق کا ترجمہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بجائے لفظی ترجمے میں کم از کم ہمیں اتنا تو اعتبار ہوتا ہے کہ ہم اصل متن ہی کا ترجمہ پڑھ رہے ہیں جس میں مترجم صرف ترجمہ کر رہا ہے اور اس نے ازخود ہی شریک مصنف کا کردار نہیں سنبھال لیا۔

بہتر ہوگا کہ ہم صابن خریدنے جائیں تو ہمیں صابن ہی ملے، صابن کا جھاگ نہیں۔

Categories
فکشن

بے گناہ

[blockquote style=”3″]

لالٹین پر یہ افسانہ “عالمی ادب کے اردو تراجم” کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم یاسر حبیب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس افسانے کی اشاعت کی اجازت دی۔

[/blockquote]

افسانہ نگار: او ہنری
ترجمہ: صغیر ملال

 

وہ زمانہ گزر گیا جب جہنم کے ذکر پر ہمارے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی تھیں اور ہاتھ ٹھنڈے پسینے سے بھیگ جاتے تھے۔ سائنس دانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ جسے ہم خدا کہتے ہیں، وہ وقت ہے یا خلا ہے یا زمان و مکان کا مشترکہ نام ہے اور گناہ گاروں کو زیادہ سے زیادہ کسی کیمیائی ردِعمل کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ جدید عہد کا خوش گوار منطقی نتیجہ ہے لیکن قدیم عقیدے بھی بہرحال کہیں گہرائیوں میں اپنا اثر چھوڑ جاتے تھے۔

 

دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں جن کا نام لے کر، آپ بلا خوف تردید جو چاہے کہہ سکتے ہیں۔ یہ کہ آپ نے خواب میں کیا دیکھا اور یہ کہ آپ نے کسی طوطے کو کیا بولتے سُنا۔

 

تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں نے خواب میں کیا دیکھا۔

 

صورِ اسرافیل کی گونج کائنات کے طول و عرض میں پھیل چکی تھی اور ہم میدانِ حشر میں آخری فیصلے کے منتظر تھے۔ ایک فرشتے نے مجھے بازو سے پکڑا اور اُس طرف گھسیٹا جہاں دولت مند اور خوش حال دکھائی دینے والے چند انسانوں کا ایک گروہ فیصلے کا منتظر تھا۔
“غالباً تم اِن میں سے ہو۔” فرشتے نے اُس گروہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے کہا۔

 

“یہ کون ہیں؟” میں نے پوچھا۔

 

“فرشتہ مجھے غور سے دیکھتے ہوئے بولا۔ “یہ وہ لوگ ہیں جو۔۔۔۔۔”
لیکن یہ مکالمہ بلا وجہ بات کو طول دے رہا ہے۔ مجھے اصل کہانی بیان کرنی چاہیے۔

 

ڈولی ایک سُپر مارکیٹ میں کام کرتی تھی۔ وہاں وہ برتن بیچتی تھی۔ دودھ کے ڈبے بیچتی تھی، کھلونے بیچتی تھی۔ ہفتے کے اختتام پر اُسے اس کی تنخواہ کا نصف ادا کرکے پوری تنخواہ کی رسید پر دستخط لیے جاتے تھے۔ بقیہ تنخواہ کاغذات پر ڈولی کے نام ہونے کے باوجود کوئی اور لے جاتا تھا۔

 

ابتدا میں ڈولی کو نصف سے بھی کم تنخواہ ملتی تھی۔ آپ جاننا چاہیں گے کہ وہ نصف سے کم تنخواہ میں کیسے گزارہ کرتی تھی؟ کیا؟؟؟ آپ نہیں جاننا چاہتے! میرے خیال میں آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو صرف بڑی رقوم میں دل چسپی لیتے ہیں۔ تو چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ نصف تنخواہ میں کیسے گزارہ کرتی تھی۔

 

ایک دوپہر سپر مارکیٹ سے نکلتے وقت ڈولی نے لباس کی شکنیں درست کرتے ہوئے ساتھی سیلز گرل کا بتایا کہ “خبیث” نے اُس سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے اور آج شام وہ خبیث کے ساتھ ایک مشہور ہوٹل میں کھانا کھانے جائے گی۔

 

“تم بہت خوش قسمت ہو۔” اس کی سہیلی نے رشک آمیز لیجے میں کہا “خبیث بڑا زبردست آدمی ہے۔ وہ لڑکیوں کو زبردست جگہوں پر لے جاتا ہے۔ گرینڈ کلب جیسی جگہ۔ جہاں زبردست موسیقی اور زبردست لوگ ہوتے ہیں۔ تم خبیث کے ساتھ زبردست وقت گزارو گی۔

 

اس دن ڈولی جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی۔ اُسے شام کے لیے تیار ہونا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں چمک اور رُخساروں پر ہیجان کی گلابی رنگت تھی۔ اُس کے بٹوے میں گزشتہ ہفتے کی تنخواہ کے بچے ہوئے چند سکے تھے، سکے چھنکتے تو اُس کا چہرہ مزید نکھر جاتا تھا۔
شاہراہوں پر لوگوں کا ہجوم ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ سیکڑوں، ہزاروں یا شاید لاکھوں انسان سڑکوں پر دوڑتے چلے جارہے تھے۔ ڈولی اپنے بدن پر اَن گنت آنکھوں کا بوجھ محسوس کرتی چلتی رہی۔ رات کے وقت رنگ و نور سے لبریز ہو جانے والا مخصوص علاقہ آہستہ آہستہ جاگ رہا تھا۔ اس علاقے کی گلیاں پھول کی پنکھڑیوں کی طرح کھلنا شروع ہو گئی تھیں۔

 

ڈولی نے اپنے کمرے میں پہنچ کر چاروں سمت دیکھا۔ یہ قرینے سے سجا ہوا ایک کمرہ تھا۔ یہ کمرہ عام گھروں کے کمروں سے اس طرح مختلف تھا کہ اس کے مکین کے بھوکے سو جانے کی کسی کوخبر نہیں ہو سکتی تھی۔ ایک چھوٹا پلنگ، ایک میز، ایک کرسی، ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ہوئی ایک لپ اسٹک اور پاؤڈر کا ڈبہ، دیوار سے آویزاں سالِ رواں کا کلینڈر، بستر پر پڑی کتاب جس کے سرورق پر جلی حروف میں “آپ کے خواب اور اُن کی تعبیریں” درج تھا۔ نمک اور کالی مرچ کی شیشیاں اور پلاسٹک کے بنے چند پھل جو ایک سرخ ریشمی ڈوری سے بندھے تھے۔ آئینے کے عین اوپر ایک فوجی کی تصویر رکھی تھی۔ جنرل مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا۔ ڈولی اکثر تنہائی میں اس سے گفتگو کرتی تھی اور اسے پیار سےجنرل صاحب کہتی تھی۔

 

خبیث اُسے سات بجے لینے آئے گا۔ جب تک وہ تیار ہوتی۔ ہم منہ دوسری طرف کرکے خبیث کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔

 

اس کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ شہر کی لڑکیوں نے اس کا نام خبیث رکھا ہے۔ اُس کا بدن بہترین انسانوں جیسا اور روح درندوں کے مانند ہے۔ وہ نفیس کپڑے پہنتا اور مہنگے کھانے کھاتا ہے، اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ فاقہ زدہ لوگوں کو فوراً پہچان لیتا ہے خاص طور پر لڑکیوں کے بارے میں تو اُس کا اندازہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ اس نے کتنے دنوں سے سوائے چائے اور روٹی کے کچھ نہیں کھایا ہے، وہ اکثر مہنگے بازاروں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹوروں میں گھومتا نظر آتا ہے اور مجبور و محروم لڑکیوں کو شاندار جگہوں پر کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ مختصراً یہ کہ وہ خبیث ہے۔ اُس کے متعلق زیادہ بات نہیں کروں گا میرا قلم آگے چلنے سے انکار کر دیتا ہے۔

 

ڈولی فی الوقت سب کچھ فراموش کر چکی ہے۔ اسے صرف یہ یاد ہے کہ وہ ایک خوبصورت لڑکی ہے۔ اور زندگی کے روشن پہلو اس پر عیاں ہونے والے ہیں۔ اُسے آج سے پہلے کسی خوش حال شخص نے اپنے ساتھ وقت گزارنے کی دعوت نہیں دی تھی۔ اب وہ بھی ان جگہوں کے لطف سے آشنا ہونے والی تھی۔ جہاں فقط مالدار لوگ جا سکتے ہیں۔ لڑکیاں بتاتی ہیں کہ خبیث بہت شاہ خرچ ہے۔ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے صرف درجے اوّل ہی کی چیزیں خریدتا ہے۔ اور ایسے کھانے کھلاتا ہے جن کے نام لیتے ہوئے لڑکیوں کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ہے۔
کسی نے دروازے پر دستک دی۔ ڈولی نےدروازہ کھولا تو سامنے مالکِ مکان کو معنی خیز انداز میں مسکراتے پایا۔ “کوئی تمہیں ملنے آیا ہے۔” اُس نے آنکھ مار کر کہا۔ “اپنا نام مسٹر ڈکنس بتا رہا ہے۔” جو لوگ خبیث کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے وہ اسے اُس کے اصلی نام سے یہ پکارتے تھے۔

 

ڈولی اپنا رومال اُٹھانے کے لیے کے لیے گھومی اور اچانک ٹھٹک گئی اس نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا لیا۔ آئینے میں نظر پڑتے ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ پرستان میں ہےاور سو سال تک سوئی رہنے والی پری کی طرح اب آہستہ آہستہ آنکھیں کھول رہی ہے۔ آئینے کے اوپر سے اُسے وہ دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ جو اسے کسی بھی کام کا حکم دے سکتا تھا اور کسی بھی کام سے روک سکتا تھا۔۔۔ جنرل صاحب۔۔۔۔ آج جنرل صاحب کے دل کش چہرے اداسی کی جھلک نمایاں تھی۔ وہ ناراض لگ رہے تھے۔ ڈولی کچھ دیر تک جنرل کے چہرے کو غور سے دیکھتی رہی اور پھر روہانسی آواز میں بولی، “میں نہیں آ سکتی۔۔۔ کہہ دو میں بیمار ہوں۔۔۔ یا کچھ بھی کہہ دو۔۔۔ میں نہیں جاؤں گی۔”

 

جوں ہی دروازہ بند ہوا، ڈولی بستر پر منہ کے بل لیٹ کر رونے لگی۔ وہ دیر تک روتی رہی پھر خاموش ہو کر وقفے وقفے سے ہچکیاں لینے لگی۔ جنرل اس کا واحد دوست تھا۔ وہ ڈولی کے لیے مثالی مرد کی حیثیت رکھتا تھا۔ ڈولی اکثر اس سے خوابوں میں گفتگو کرتی تھی۔ اُس کے ساتھ دنیا کی سیر پر روانہ کھولنے پر اُسے جنرل کھڑا نظر آئے گا۔ وہ قدم پڑھائے گا تو اُس کے سینے پر سجے بہادری کے تمغے سرشار کر دینے والی آواز میں چھنکتے جائیں گے۔ اس جھنکار کی گونج میں وہ ڈولی کا بازو تھام کر اسے اس کی تنہائی اور گھٹن سے نجات دلائے گا۔ ایک بار تو اُسے گلی میں جنرل کے تمغے چھنکنے کی آواز سُنائی بھی دی تھی لیکن جب اُس نے کھڑکی کھول کر دیکھا تو محلے کا ایک لڑکا بجلی کے کھمبے سے لوہے کی زنجیر ٹکرا رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سب اُس کے ذہن کا فتور ہے۔ اُسے معلوم تھا کہ جنرل اس وقت جاپان میں ترکوں کے اپنی فوج کی قیادت کر رہا ہے اور وہ کبھی بھی اُس کے دروازے پر دستک نہیں دے گا۔ اُس کے باوجود جنرل کی ایک نظر نے اُس روز خبیث کو بھگا دیا تھا۔ کم از کم ایک رات کے لیے اُسے پسپا کردیا تھا۔

 

جب اُس کے آنسو خشک ہوئے تو وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ نیا لباس اُتار کر اس نے گھر کے سادے کپڑے پہنے، اور اس دوران اپنے پسندیدہ گانوں کے بول دہراتی رہی۔ اسے کھانے کی کوئی خواہش نہیں رہی تھی۔ اچانک آئینے میں اُسے اپنی ناک کے کونے پر ایک چھوٹا سا سرخ دھبا نظر آیا۔ کچھ دیر تک وہ اس دھبے کو غور سے دیکھتی رہی۔ یہ ایک بے ضرر داغ تھا۔ اس نے کندھے اچکائے اور سرخ نقطے سے لاتعلق ہوگئی۔ پھر اُس نے کمرے کی واحد کُرسی پر بیٹھ کر گود میں تاش کے پتے پھیلائے اور اپنی قسمت کا حال معلوم کرنے کے لیے کھیل میں مصروف ہو گئی۔

 

نو بجے کے قریب ڈولی نے چائے بنائی اور ڈبے سے بسکٹ نکال کر مزے سے کھانے لگی۔ ایک بسکٹ اس نے جنرل کی جانب بھی بڑھایا۔ لیکن جنرل اُسے یوں دیکھتا رہا۔ جیسے مصر کے اہرام اپنی آنکھوں کے سامنے منڈلاتی تتلی کو دیکھتے ہوں گے۔۔۔۔ اگر صحراؤں میں تتلیاں وجود رکھتی ہیں۔

 

“۔۔۔ نہیں کھانا تو کھاؤ” ڈولی نے اٹھلا کر کہا اور جنرل کی جانب بڑھایا ہوا بسکٹ اپنے منہ میں ڈال لیا۔” اور یہ تم اس طرح گھورنا چھوڑ دو جنرل صاحب۔ اگر میری طرح تمھیں بھی نصف تنخواہ ملے تو میں دیکھوں تم کتنا اتراتے ہو۔ چھ ڈالر میں ہفتہ گزار سکتے ہو؟”

 

ساڑھے نو بجے ڈولی نے آئینے پر رکھی تصویر پر آخری نظر ڈالی۔ بتی بجھائی اور بستر پر دراز ہو گئی۔ تنہائی اور دکھ کی زندگی میں جنرل کو شب بخیر کہنا آسان کام نہ تھا۔

 

یہ کہانی اصل میں کہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس کا بقیہ حصہ بعد میں آتا ہے، اس وقت جب خبیث ایک بار پھر ڈولی کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہے اور اس مرتبہ پہلے سے کہیں زیادہ اکیلی اور اُداس ہے۔ اور اُسے پیٹ بھر کر کھانا کھائے کئی دن ہو چکے ہیں اور جنرل صاحب دوسری جانب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔”

 

میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ میں نے خواب میں خود کو قیامت کے روز ایک گروہ کے قریب کھڑے پایا تھا۔ گروہ کے افراد نہایت خوش حال دکھائی دیتے تھے اور ایک فرشتے نے مجھے بازو سے پکڑ کر کہا تھا۔ “غالباً تم ان میں سے ایک ہو؟”

 

“یہ کون لوگ ہیں؟” میں نے پوچھا تھا۔

 

“یہ؟” فرشتے نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ “یہ وہ لوگ ہیں جو مجبور لڑکیوں کو ملازمت دے کر انہیں نصف تنخواہ ادا کرتے ہیں ۔ کیا تم ان یہ میں سے ہو؟”

 

“نہیں۔ نہیں۔ تمہاری لافانی زندگی کی قسم۔ میں ان میں سے نہیں ہوں۔”

 

میں نے گھبرا کر جواب دیا۔ “میں نے تو بس ایک یتیم خانے کو آگ لگائی تھی اور ایک اندھے فقیر کو اس کی رقم کی خاطر قتل کر دیا تھا۔”