Categories
تبصرہ

بنجر میدان—شہر خموشاں کا ناول

[blockquote style=”3″]

یہ تحریر حلقہ اربابِ ذوق ، کراچی کے زیرِ اہتمام ہونے والی شامِ مطالعات میں اس ناول کو متعارف کروانے کی غرض سے لکھی گئی۔

[/blockquote]
حوان رلفو سے پہلا تعارف تو اس کی چند کہانیوں کے ذریعے ہوا تھا، جن کا ترجمہ شاید سہ ماہی آج کے کسی شمارے میں شائع ہوا تھا۔ ان کہانیوں کے نام تو یاد نہیں رہے، لیکن ان میں چھپی گھمبیرتا ، ان کی پیچیدگی اور ان کا اسرار آج تک ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ ہے۔ان کے مطالعے کے بعد رلفو کا نام ناقابلِ فراموش ہوگیا۔ اس کا ناول پیڈرو پرامو کئی بار مرتبہ انگریزی میں پڑھنا چاہا مگر ہر بار چند صفحات پڑھنے کے بعد ہمت جواب دے جاتی تھی۔ اس طرح اس ناول کا مطالعہ طویل عرصے تک التوا کا شکار ہوتا رہا۔پھر ایک دن جب اردو غزل کے معتبر شاعر احمد مشتاق کا کیاہوا اس ناول کا ترجمہ کتابوں کی دوکان پر دکھائی دیا تو اسے فوراً خرید لیا۔ فرصت ملتے ہی جب اس ناول کو پڑھنا شروع کیا، تو جوں جوں آگے بڑھتا گیا، حیرت و انکشاف کے کئی دروا ہوتے چلےگئے۔ ایک زندہ انسان کےبظاہر سیدھے سادے بیان سے شروع ہونے والا یہ ناول آگے چل کر توہمات اور بدروحوں کی پراسرار سرگوشیوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ مطالعے کے دوران ناول کی ہر سطر، بدروحوں کی ہر سرگوشی اور سایوں کی ہر خودکلامی پر اعتبار کرنا پڑھنے والے کی مجبوری بنتی چلی جاتی ہے۔آسیبوں کے اس گھنے جنگل میں قاری بھی ایک بدروح کی طرح اس پراسرار ماحول کا اسیر ہوتاچلا جاتا ہے۔

احمد مشتاق اس ناول کا تعارف کرواتے ہوئے بتاتے ہیں۔‘‘یہ ناول 1955میں پیڈرو پرامو کے نام سے شایع ہوا۔پہلے پہل یہ ناول کامیابی حاصل نہ کرسکا، پھر اس کے خواص کھلنے لگے۔کہا جاتا ہے کہ اس ایک ناول سے رلفو نے لاطینی امریکی ناول کے دھارے کا رخ موڑ دیا۔اس نے حقیقت کے ساتھ توہم کو ملا دیا۔’’

‘‘ میکسیکو کے باکمال شاعر آکتاویوپاز نے ایک جگہ لکھا ہے کہ رلفو میکسیکو کا وہ واحد ناول نگار تھا، جس نے محض بیان کے بجائےہمارے طبیعی گردوپیش کے لیے ایک امیج فراہم کی۔’’

مترجم آگے چل کر ہمیں مزید بتاتے ہیں۔‘‘ مارکیز کے مطابق یہ رلفو ہی تھا، جس کے طریقِ کار کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعداس کے لیے اپنا اسلوب وضع کرنا ممکن ہوسکا’’۔

معروف امریکی نقادسوزن سونٹاگ نے اس ناول کے انگریزی کے نئے ایڈیشن کے لیے جو پیش لفظ لکھا ، مترجم نے اسے بھی ترجمہ کرکے کتاب میں شامل کردیا ہے۔وہ کہتی ہیں۔‘‘کتاب کی صاف شفاف ابتدااس کی پہلی چال ہے۔حقیقت میں پیڈرو پرامو ابتدائی جملوں سے قطع نظر کہیں زیادہ پیچیدہ بیانیہ ہے۔ناول کا مقدمہ-‘‘ایک مری ہوئی ماں کا اپنے بیٹے کو دنیا سے روشناس کرانے کے لیے بھیجنا’’،‘‘ایک بیٹے کااپنے باپ کی کھوج میں نکلنا’’۔جہنم میں ایک کثیر الاصوات عارضی قیام میں تبدیل ہوجاتا ہے۔بیانیہ دو دنیاؤں میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔زمانہِ حال کا کومالا،جس کی طرف ابتدائی جملوں کا‘‘میں’’‘‘حوان پرسیادو’’روانہ ہوتا ہےاور زمانہِ ماضی کا کومالا،جواس کی ماں کی یادوں اور پیڈرو پرامو کے عہدِ شباب کاگاؤں ہے۔بیانیہ ضمیر متکلم اور ضمیر غائب،حال اور ماضی کے درمیان آگے پیچھے رخ بدلتا رہتا ہے۔(عظیم کہانیاں نہ صرف ضیغہ ماضی میں بیان کی گئی ہیں بلکہ وہ ہیں بھی ماضی کے بارے میں)ماضی کا کومالا زندوں کا گاؤں تھا۔ حال کا کومالا مردوں کا مسکن ہے۔اور دان پرسیادو جب کومالا پہنچتا ہے تو اس کی مڈبھیڑسایوں اور پرچھائیوں سے ہوتی ہے۔ہسپانوی زبان میں‘‘ پرامو ’’کے معنی ہیں‘‘بنجر میدان’’۔خرابہ۔ نہ صرف اس کا باپ ہی، جس کی اسے تلاش ہے، مرچکا ہے بلکہ گاؤں کا ہرشخص مرچکا ہے۔مردہ ہونے کی وجہ سے ان کے پاس بیان کرنے لیے سوائے اپنی ذات کے اور کچھ نہیں۔’’

سوزن سونٹاگ ہمیں بتاتی ہیں۔‘‘رلفو نے ایک بار کہا تھا؛‘‘میری زندگی میں بہت خاموشیاں ہیں اور میری تحریر میں بھی’’۔اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس ناول کو برسوں تک اپنے اندر لیے پھرتا رہا،جب تک اسے معلوم نہیں ہوگیا کہ اسے کیسے لکھا جائے۔وہ سینکڑوں صفحے لکھتا اور پھر پھاڑدیتا تھا۔اس نے کہیں یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ ناول لکھتے جانے اور مٹاتے جانے کا عمل ہے’’۔

‘‘مختصر کہانیاں لکھنے کی مشق نے میری تربیت کی،مجھے خود غائب ہوجانے اور کرداروں کو اپنی مرضی سے باتیں کرنے کے لیے کھلا چھوڑدینےکی ضرورت کا احساس دلایا، جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ کہنے کی ترغیب ملی کہ ناول میں کوئی ڈھانچہ نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے ‘‘پیڈرو پرامو’’ میں ایک ڈھانچہ موجود ہےلیکن اس ڈھانچے کی تشکیل،خاموشیوں سے، لٹکتےہوئے دھاگوں سےاور کٹے ہوئے منظروں سے ہوئی ہے۔جہاں ہر چیز ایک زمانی وقت میں ظہور پذیر ہوتی ہے، جو ایک‘‘ لازماں’’ہے’’۔

‘‘پیڈرو پرامو ایک ایسی داستانی کتاب ہے، ایک ایسے ادیب کی لکھی ہوئی جو اپنی زندگی ہی میں خود ایک داستانی کردار بن گیا’’۔

‘‘بنجر میدان ’’کے پبلشر آصف فرخی، جو خود سینیئر افسانہ نگار اور نقاد بھی ہیں، اس کتاب میں شامل اپنے مضمون‘‘شہرِمردہ کا ایک ناول’’ میں اس ناول کی تعبیر کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں؛ ‘‘ پیڈرو پرامو ’’کا قصہ دراصل تین مرکزی کرداروں کے احوال سے مل کر ترتیب پاتا ہے۔ حوان پرسیادو، پیڈرو پرامواور سوزانا سان حوان۔ناول کا آغاز حوان پرسیادو سے ہوا ہےاور اس کے نقطہِ نظر سے دیکھیں تو یہ ناول دراصل اپنی شناخت اور ہدایت کی جستجوکے لیے ایک بیٹے کے سفر کی کہانی ہے۔حوان کی ماں ڈولوریس پرسیادو کا شوہر پیڈرو پرامو تھااور حوان اپنے باپ کے نام سے شناخت نہیں رکھتا۔وہ اپنے باپ کی اکلوتی جائز اولاد ہے۔بسترِ مرگ پر اپنی ماں سے کیے ہوئے وعدےکو پورا کرنے کے لیےحوان پرسیادو کومالا واپس آتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پڑھنے والے بھی ایسے قصے میں داخل ہوجاتے ہیں، جہاں چاروں طرف ماضی کے بھوت اور بدروحیں بھری پڑی ہیں۔اسے غیر مرئی چیزیں دکھائی دیتی ہیں،آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔یہاں تک کہ وہ اس شک میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ شاید وہ خود بھی مرچکا ہے۔حوان کی نظروسماعت کے ذریعے ہم گاؤں کے مردگان کی کے زندگی نامے سے واقف ہوتے ہیں اور حوان کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوںکو جوڑ کر کومالا اور اس کی بربادی کی ایک تصویر بنا پاتے ہیں’’۔

‘‘حوان کی اس تلاش اور ماضی دریافت کے دوران ایسے فلیش بیک آتے ہیں کہ ہم پیڈرو پرامو کی روداد سے بھی واقف ہونے لگتے ہیں۔پیڈرو پرامو ان زمین داروں کاوارث ہے،جن کا کسی زمانے میں حال اچھا تھا۔ماضی کی دولت اور شان و شوکت، پرچھائیں کی طرح ساتھ چھوڑتی جارہی ہے۔پیڈرو کو سوزانا سان حوان نامی لڑکی سے محبت ہوجاتی ہےاور اس عشق کا اثر اس کی باقی ماندہ زندگی تک قائم رہتا ہے۔لیکن سوزانا وہاں سے چلی جاتی ہےاور پیڈرو کی تنہائی اور بڑھ جاتی ہے۔وہ اپنے باپ کو مرتے ہوئے اور اپنے گھرانے کو رخصت ہوتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے۔نوجوان پیڈرو کے کاندھوں پر اس جائیداد اور اس پر چڑھے ہوئے قرض سے نمٹنے کی ذمہ داری آجاتی ہےمگر اس کے حوصلے بلند ہیں۔آخر کار وہ دھوکے،فریب، چالاکی اور تشدد کے ذریعے سے خوب دولت اکٹھی کرلیتا ہے۔ دولت کے اس حصول کا آغاز وہ اپنے سب سے بڑے قرض خواہ کی بیٹی ڈولوریس پرسیادو سے شادی سےکرتا ہے۔ڈولوریس سے شادی کرکے وہ اس کی دولت اور زمین ہتھیا لیتا ہےاور پھر اسے اس کی بہن کے ہاں رہنے کے لیے بھیج دیتا ہے، جہاں رہ کر اس کی بیوی اس کے مذموم ارادوں میں دخل اندازی نہ کرسکے۔’’

‘‘ناول میں سیدھے سبھاؤ اور تسلسل کے ساتھ واقعات بیان نہیں کیے گئےلیکن ٹکڑوں کو جوڑ نے اور کڑیاں ملانے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا ہوگا۔اس کے بعد ناول کے واقعات دراصل پیڈرو پرامو کے رانچ(Ranch)‘‘میڈیالونا’’ اور اس کی کامیابی کا قصہ ہیں۔یہ رانچ کسی روک ٹوک کے بغیر پھلتا پھولتا رہااور 1910-20کے دوران میکسیکو کے انقلاب کو بھی سہہ گیا۔پیڈرو پرامو زمینوں کا ازحد حریص تھااور اسی وجہ سے اسے زک اٹھانی پڑی۔اسے اپنے گناہوں کی قیمت چکانی پڑی، جب اس کا ناجائز بیٹامیگوئیل پرامو–جو اس کی ناجائز اولادوں میں سے اکلوتا بیٹا تھا جسے اس نے اپنی اولاد تسلیم کیا اور اپنا نام بخشا—ایک سنگین حادثے کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے۔ اس کے بعد خبر ملتی ہے کہ سوزاناسان حوان اور اس کا باپ اس علاقے میں لوٹ آئے ہیں۔پیڈرو اپنے بندوبست کے ذریعے اس کے باپ کو موت کے منہ میں پہنچا دیتا ہےاور سوزانا سے تعلقات استوار کرلیتا ہے۔اس کے باوجود وہ اس کے قابو میں نہیں آتی اور جذباتی طور پر اس سے کوسوں دور ، دیوانگی کے عالم میں مرجاتی ہے۔جس دوران کومالا بربادی کا شکار ہوا، پیڈرو کا ایک اور بیٹا ایبنڈو مارٹینیزسامنے آتا ہے، جسے اس نے کبھی اپنی اولاد تسلیم نہیں کیا تھا۔وہ اپنی مردہ بیوی کے کفن دفن کے لیے رقم مانگنے پیڈرو کے پاس آتا ہےاور جب اسے انکار سننے کو ملتا ہےتو وہ نشے اور مدہوشی کے عالم میں اپنے باپ کو مارڈالتا ہے۔یوں اس ناول کے مرکزی کردار اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔’’

ناول کے انجام تک پہنچ کر قاری پر یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ کومالا کی تباہی کا ذمہ دار صرف اور صرف پیڈرو پرامو تھا، جس کی زمین اور دولت کے حصول کے لیے حد سے بڑھی ہوئی حرص اور گاؤں کی ہر عورت کو اپنے تصرف میں لانے کی بے محابا خواہش اور کوشش آخر کار کومالا نامی گاؤں کی مکمل تباہی پر منتج ہوتی ہے۔

چکر دار اور سر گھمادینے والے بیانیے کے حامل اس ناول کا اردو میں ترجمہ کارِ آسان ہرگز نہیں تھا۔یہ امر قابلِ مسرت ہے کہ اس ناول کے ترجمے کا کام احمد مشتاق جیسے جید غزل گو نے سر انجام دیا، جو افسانوی ادب کے پارکھ اور مترجم بھی ہیں۔وہ اس سے قبل حوزے سارامیگو کے ناول‘‘ اندھے لوگ’’ کو بھی اردو میں منتقل کرچکے ہیں۔انہوں نے کڑی محنت اور لگن کے ساتھ کے اسے اردو میں منتقل کیا۔اس ناول میں بیان کیا گیا تجربہ اور اظہار کا بالکل انوکھا انداز اردو ناول میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

Categories
خصوصی

پاکستانی ادب کے ستر سال

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کی خصوصی ہفتہ وار نشست19ستمبر2017 کو کانفرس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنز، پاکستان سیکریٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔’’پاکستانی ادب کے ستر سال ‘‘ کے نام سے معنون اس تقریب کی صدارت معروف افسانہ نگار زاہدہ حنا صاحبہ نے کی۔ اجلاس کے آغاز میں انہوں نے ایک قراردا د پیش کی کہ آج کے اجلاس کو پنجابی کے مشہور ناول نگار افضل احسن رندھاوا کے نام کیا جاتا ہے،تمام حاضرین نے قرارداد کی تائید کی۔صدر محفل کی اجازت سے سید کاشف رضا نے اپنا مضمون ’’قومی زبانوں کا ادب ‘‘ پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ اردو کی بنسبت پاکستان میں دیگر زبانوں کے ادیبوں کی عوام اور جمہوریت سے کمٹمنٹ زیادہ نظر آتی ہے۔اگر ہم صرف آج انتقال کرجانے والے معروف پنجابی ناول نگار افضل احسن رندھاوا کی مثال سامنے رکھیں تو انہوں نے ادب کی تخلیق کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیا۔کاشف رضا نے افضل احسن رندھاوا کی طرف سے مارکیز کے ایک ناول کے پنجابی ترجمے کا اقتباس پیش کیا اور ان کی پنجابی شاعری کے اشعار بھی سنائے۔کاشف رضا نے بات بڑھاتے ہوئے بتایا کہ پنجابی میں نجم حسین سید، منیر نیازی اور احمد راہی نے بھی بہترین تخلیقات پیش کیں۔ سندھی زبان کے ادیبوں نے عوام کے حقوق کیلئے بھرپور جدوجہد کی، شیخ ایاز نے مختلف اصناف میں نام پیدا کیا۔ پشتو ادب میں ولی خان، عبداللہ جان جمالدینی اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ انہوں بتایا کہ ہندکو اور بلتی زبان کا ادب ہمارے سامنے نہ آسکا جبکہ کتنی ہی ایسی زبانیں ملک میں موجود ہیں جن کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں ہیں۔

سید کاشف رضا کے مضمون پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فاطمہ حسن نے کہا کہ اردو کے ادیبوں نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں،ضروری نہیں کہ اردو ادیب اسے ہی کہا جائے جس کے والدین اردو بولتے ہوں،مشتاق احمد یوسفی، فیض، اقبال اور ن م راشد اس کی بڑی مثالیں ہیں۔زاہدہ حنا نے کہا کہ پاکستان میں موجود تمام زبانیں قومی زبانیں ہیں،ہم زبانوں سے نفرت نہیں کرسکتے اور ان کو رد نہیں کرسکتے۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہم نے بنگلہ کے ساتھ کیا کیا؟اورہمیں اُ س کی بھاری قیمت اداکرنا پڑی۔

فاطمہ حسن نے اپنا مضمون ’’پاکستان کی ستر سالہ تاریخ اور خواتین قلمکار۔۔۔۔ایک جائزہ ‘‘ پیش کیا۔انہوں نے مضمون میں وضاحت کی کہ بیسویں صدی ادب کے حوالے سے خواتین کی شناخت کی صدی ہے، پاکستان بننے کے بعد خواتین کو لکھنے کے لئے بہت سازگار ماحول ملا،انہوں نے قرۃ العین حیدر، زاہدہ حنا، خالدہ حسین،ادا جعفری، زہرا نگار،فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، پروین شاکر،ممتاز شیریں اور دیگر متعدد قلمکاروں کے ادبی کا کارناموں کا مختصراً اور جامع طور پر ذکر کیا۔انہوں نے بتایا کہ خواتین نے ستر سالوں میں ادب کی مختلف اصناف افسانہ نگاری، ناول نگاری، شاعر ی اور سفرناموں تک میں اپنا ایک منفر د نام پید اکیا۔مضمون پر گفتگو کاآغاز کرتے ہوئے عقیل عباس جعفری نے ایک سوال اٹھایا کہ ہم پاپولر ادب لکھنے والی خواتین کو کس درجے میں رکھیں گے؟ فاطمہ حسن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاپولر ادب دنیا بھر کے ادب میں موجود ہے، لکھنے والے پاپولر ادب سے بھی سیکھتے ہیں۔فاطمہ حسن نے کہا کہ وہ پاپولر ادب کو ادب عالیہ نہیں سمجھتی اس لئے انہوں ان خواتین ادیبوں کا ذکر اپنےمضمون میں نہیں کیا۔کاشف رضا نے کہا کہ کچھ ادیب خواتین کے ماہر بنے پھرتے ہیں،خواتین کو اپنے مسائل اٹھانے کےلئے خود آگے بڑھنا چاہئے۔فاطمہ حسن کا کہنا تھا کہ مرد ادیب بھی نسائی شعور کے ساتھ ادب تخلیق کررہے ہیں۔

محترم آصف فرخی نے اپنی گفتگو کا آغار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اردو ناول نگاری کی موجودہ اور پچھلی دودہائیوں کی صورتحال پر اظہار خیال کریں گے۔ انہوں نے افضل احسن رندھاوا کو ادبی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل رندھاوا نے عالمی ادب کو مقامی ادب میں ٹرانسفارم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ناول کم لکھے گئے اور ناول پر تنقید اُس سے بھی کم لکھی گئی۔اہم ناول نگار نثار عزیز بٹ کے تخلیقی عمل کا نہایت کم جائزہ لیا گیا،انتظار حسین کے ناول بستی پر اعتراض کیا گیا کہ یہ ناول ہی نہیں ہے۔حسن منظر نے افسانہ نگاری سے اپنے ادبی زندگی کا آغاز کیا، سویرا کے ایک شمارے میں منٹو کے ساتھ ان کا افسانہ بھی شائع ہوا۔العاصفہ، دھنی بخش کے بیٹے اور حال ہی میں شائع ہونے والا ناول حبس ان کے بہترین ناول کہے جاسکتے ہیں۔اکرام اللہ ایک منفرد ناول نگار ہیں ان کے ناول گرگ شب پر پابندی لگادی گئی۔ ’’آنکھ اوجھل ‘‘ میں پہلی مرتبہ بھرپور انداز میں نفر ت کے موضوع کو بیان کیا گیا۔مصطفیٰ کریم کا ناول ’’راستہ بند ہے‘‘ ملک کے تین بڑے اداروں کے آپسی گٹھ جوڑ اور اس کے ذریعے عوام کے استحصال کو بخوبی اجاگر کرتا ہے۔موجودہ دور کا ذکر کرتے ہوئے آصف فرخی نے کہا کہ رفاقت حیات نے اپنے ناول ’’میرواہ کی راتیں ‘‘ میں چھوٹے شہر کی اکتاہٹ کو عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ مرزا اطہر بیگ اپنے قارئین سے سخت مطالبہ کرتے ہیں۔اس کے بعد زاہدہ حنا نے خواتین افسانہ نگاروں کے متعلق اپنا مضمون پیش کیا۔ انہوں اپنے مضمون میں مختلف خواتین افسانہ نگاروں کے معروف افسانوں کا ذکر کرتے ہوئے معاشرے اور عوام پر اس کے اثرات کاجائزہ لیا، انہوں نے بتایا کہ افسانہ نگاروں نے اپنی زبردست تخلیقی صلاحیتوں سے عوامی شعور کی آبیاری کی اور آمریت کے دور میں اہم کردار ادا کیا۔زاہد حنا نے اپنے مضمون کے بعد خصوصی اجلاس کے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نشست کے خاتمے کا اعلان کیا۔

Categories
تبصرہ

خرم سہیل کی تین کتابیں

خرم سہیل سے میری ملاقاتوں کو ایک برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ کئی ادبی صحافیوں کی طرح میں ان کے بھی صرف نام سے ہی واقف تھا۔پہلی ملاقات گزشتہ سال حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاس میں ہوئی، تب سے آج تک ہمار ملناا برابر رہتا ہے۔دیکھنے میں تو یہ بہت تھوڑا ساعرصہ ہے۔ لیکن میں نے اس عرصے میں انہیں علم و ادب و فن کاجویا اور متجسس پایا۔وہ متواتر اور مسلسل کئی چیزوں کے لیے متحرک اور سرگرداں رہتے ہیں اور ان سب چیزوں کا علم و ادب و فن کے ساتھ ہماری سماجی، ثقافتی اور تہذیبی زندگی سے بھی گہرا تعلق ہے۔ان کی دلچسپیوں کا دائرہ بے حد وسیع ہے، جو پھیلتا اور سکڑتا بھی رہتا ہے۔اس میں ریڈیو، فلم، تھیٹر، ٹی وی، ادب، کھیل، ترجمہ نگاری،کتابوں کی ترتیبِ و تدوین و اشاعت،غرض کہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ حتی کہ وہ آج کل فکشن لکھنے کے حوالے سے بھی سوچ رہے ہیں۔ان سے کچھ بعید نہیں کہ وہ کسی روز فلم لکھنے اور بنانے کا بھی اعلان کردیں۔

سیمابی مزاج اوربے قرار دل و دماغ رکھنے والے خرم سہیل کی متنوع دل چسپیوں میں سے ایک ایسی ہے، جس میں وہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مصروفِ کار ہیں اوروہ ہے انٹرویو نگاری۔یہ بات ان کی طبیعت میں موجودمستقل مزاجی کا بھی پتا دیتی ہے۔انٹرویو بنیادی طور پر دو افراد کے درمیان ایسی گفتگو ہے، جس میں انٹرویو لینے والا، دینے والے سے کسی بھی موضوع پر زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرتا ہے اور اسے دوسروں تک پہنچاتا ہے۔انٹرویو دینے والی شخصیت، اپنے اختصاص اور کسی شعبے یا شعبوں سے اپنی گہری وابستگی کے سبب ایک ایسی کان کی مانند ہوتی ہے، انٹرویو لینے والا اپنی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق ہی جس میں سے معلومات کا سونا نکال سکتا ہے۔

انٹرویو ز کی ان کی پہلی کتاب ’’باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے‘‘اور دوسری کتاب ’’ سُر مایا‘‘ بہت پہلے ہی داد کی سند حاصل کرچکی ہیں۔جب کہ ابھی حال ہی میں ان کے کیے ہوئے انٹر ویوز کا ایک انگریزی ترجمہ چھپا ہے۔جس کا نام ہے۔A Conversation with legends– A History in session۔اس کتاب کا ترجمہ اور اس کی ایڈیٹنگ محترمہ عفرا جمال نے کی ہے۔میں ان تینوں کتابوں کے بارے میں چندخیالات کا اظہار کرنا چاہوں گا۔

عفرا جمال صاحبہ نے اس کتاب کے دیباچے میں لکھا ہے کہ اس کتاب پر کام کرنے کے منصوبے کا آغاز اس تجسس سے ہوا کہ کسی پڑھنے والے کو پاکستانی لیجینڈز کے بارے میں مواد کہاں سے میسر آسکتا ہے۔ کیوں کہ ان میں سے اکثر شخصیات اپنی زندگی میں خود تو تاریخ بنانے میں مصروف رہیں اور اپنی یادداشتیں لکھے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ایسے میں ان کی نظرِ انتخاب خرم سہیل کے اردو میں کیے ہوئے انٹرویوز کے مجموعوں کی جانب گئی، جو خود ان انٹرویوز کے لیے مترجم کے منتظر بیٹھے تھے۔

اس کتاب میں شامل چند شخصیات کو پڑھنے کے دوران مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ کتاب انٹرویوز کی کتاب نہیں ہے۔ اس کے بعد میں جوں جوں آگے بڑھا، یہ احساس ایک مضبوط خیال کی صورت اختیار کرتا چلا گیا۔ مجھے تو یہ کتاب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر مختصر اور درمیانے درجے کے مضامین کا مجموعہ معلوم ہوئی۔جسے عفرا جمال صاحبہ نے بے حد تخلیقی اور تخئیل سے معمور انگریزی نثر سے آراستہ کیا ہے۔ اس لحاظ سے وہ اس کتاب کی صرف ایڈیٹر اور مترجم نہیں رہتیں بلکہ مصنفہ معلوم ہوتی ہیں۔۔انہوں نے خرم سہیل کے پوچھے ہوئے سوالوں اور ان کے حاصل کردہ جوابوں کو اس طرح لکھا ہے کہ کہیں کہیں خاکہ نگاری کا گمان گزرتا ہے اور کہیں کہیں مضمون نگاری کا۔بہر حال یہ ان دونوں کی مشترکہ کاوش ہے۔اس کتاب میں لگ بھگ پچاس مختلف شخصیات کے حوالے سے مضامین یا Write-upsشامل ہیں اور سب شخصیات کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔ان کے بارے میں پڑھتے ہوئے ہم نہ صرف ان نادر افراد کے نادر خیالات سے روشناس ہوتے ہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے ان کی ایک جھلک بھی دیکھ لیتے ہیں۔

نجانے کیوں کئی شخصیات کے بارے میں پڑھتے ہوئے ایک تشنگی سی بھی محسوس ہوتی ہے۔ مطالعے کے دوران جی چاہتا ہے کہ کاش ان منفرد اور یکتا انسانوں کے بارے میں تھوڑی سی معلومات اور مل جاتیں۔ فنون سے وابستہ یہ اشخاص اپنے فن کے بارے میں دو چار گہری باتیں اور کر لیتے۔اب یہ اس کتاب کی خوبی ہے یا خامی، میں اس بارے میں تشکیک میں مبتلا ہوں۔

عبداللہ حسین، ڈاکٹر جمیل جالبی،مستنصر حسین تارڑ، بانو قدسیہ،ڈاکٹر انور سجاد،انتظار حسین،جیسے بڑے فکشن نگاروں کی عمریں اور کام جتنے پھیلاو کا حامل ہے، وہ اس بات متقاضی تھا کہ ان سے ان کے کام اور ان کے زمانے کے حوالے سے طویل مکالمہ کیا جاتا۔ میری ناقص رائے میں کئی ہزار صفحات لکھنے والے ان اہم ترین ادیبوں کو چند صفحات کے انٹر ویو کے ذریعے دریافت کرنا کارِ دشوار ہے۔اس لیے اس کتاب میں شامل تحریروں کا تاثر تعارفی محسوس ہوتا ہے مگر یہ تعارف پاکستان میں اپنی زندگی گزارنے والے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کا ہے، اس لیے اس کی تحسین ضروری ہے۔

کتاب کے ٹائیٹل میں شامل دو الفاظ ’’Legend‘‘ اور ’’ History‘‘ اپنے معانی میں جس گہرائی اور وسعت کے حامل ہیں، کاش اس میں شامل تمام کی تمام شحصیات بھی اس گہرائی اور وسعت کی حامل ہوتیں۔کچھ کمی بیشی کرنے سے کتاب پر یقیناً خوشگوار اثر مرتب ہوتا۔ جیسے خلیل الرحمن قمر،اصغر ندیم سید، امجد اسلام امجد، عاطف اسلم،ٹی وی آرٹسٹ نبیل،نعیم بخاری، شاہد آفریدی اور ایسے ہی کچھ اور نام بھی ہیں، جو کسی طرح لیجنڈز کہلانے کے مستحق نہیں۔میرے خیال میں ہر مشہور شخصیت لیجنڈ نہیں ہوا کرتی اور نہ ہی وہ کوئی تاریخ بناتی ہے۔اس کتاب میں شامل کئی مشہور شخصیات کو لیجنڈ قرار دینا درست رویہ نہیں ہے۔

اس کے بعد مجھے خرم سہیل کی اس کتاب کا ذکر کرنا ہے،جس میں اس کے انٹرویوز خوب نکھر کر آئے ہیں اور وہ ہے سُر مایا۔یہ ترتیب کے اعتبار سے ان کی دوسری کتاب ہے۔اس میں انہوں نے پاکستان کی دنیائے موسیقی کے اہم ترین ناموں کے انٹرویوز یکجا کیے ہیں۔ اس کا ہر انٹرویو موسیقی کے حوالے سے ہماری معلومات میں بیش قیمت اضافہ کرتا ہے۔ ہم کچھ نئی، انوکھی اور منفرد باتیں جانتے اور سیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر مشہور ستار نواز استاد رئیس خان نے خرم کے ایک سوال کے جواب میں کلاسیکل ساز ’’سارنگی‘‘ کے بارے میں بتایا کہ اس کا اصل نام تو سو رنگی تھا، جو بعد میں سارنگی ہوگیا۔اس کتاب میں آپ کو شام چوراسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے ریاض علی خان کی المیہ کہانی بھی پڑھنے کو ملے گی۔ موسیقاروں کو ان کی زندگی میں کیسی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کا احوال پڑھنے کو ملتا ہے۔یہ جاننے کو ملتا ہے کہ معروف موسیقارگھرانوں کے بزرگ اپنے بیٹوں کو یہ فن سکھانے کے لیے کتنی سخت گیری سے کام لیا کرتے تھے مگر اس سخت گیری کی وجہ سے ان کی اولادوں نے ان کیسے شان دار انداز میں اپنے بزرگوں کا نام روشن۔اس کتاب کے آخر میں گیت نگاری کا فن مستقل اختیار کرنے والے چند شاعروں کے بھی انٹرویوز شامل ہیں۔ان میں ممتاز غزل گو صابر ظفر بھی ہیں، جن سے بہت اچھی باتیں کی گئی ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ان کی زندگی اور شاعری سے گہری وابستگی کا احوال پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس کتاب مین اور بھی بہت کچھ ہے۔
معروف براڈکاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی نے خرم کی اس محنت کو موسیقی سے خراجِ عقیدت کا انداز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسیقی کی لطافتوں اور نزاکتوں کے بھیدخرم سہیل نے اپنی کتاب ’’سُر مایا‘‘ میں کھولے ہیں۔اس کتاب میں کوئی ساٹھ ایسے لوگوں کی باتیں جمع ہیںجن کو موسیقی کے کسی نہ کسی اسلوب سے نہ صرف گہرا تعلق رہا ہے بلکہ جنہوں نے سر کے ذریعے نام کمایا ہے اور موسیقی کے سراہنے والے والوں کے دل و دماغ پر اپنانقش چھوڑا ہے۔

گلزار نے سُر مایا کے فلیپ پر لکھا ہے کہ خرم سہیل کو سوال بہت پریشان کرتے ہیں۔وہ ہر آنے جانے والے سے اس کا پتا پوچھتا رہتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ وہ لوگ گھروں میں نہیں رہتے، وہ فنکار ہیں، وہ گھروں میں تو صرف رکتے ہیں، رہتے کہیں اور ہیں۔وہ سروں میں رہتے ہیں اور بستے کہیں اور ہیں۔

میرا خیال ہے کہ خرم سہیل، سوال کی بھڑکتی لو میں ٹھٹھک کر چلتا اسرارِ موسیقی کی غلام گردش میں تنہا گھومتا رہا لیکن جب وہاں سے لوٹا تو سُر مایا جیسی کتاب ہمارے سامنے لایاتا کہ ہم بھی موسیقی کے بھید جاننے میں اس کے ساتھ شامل ہوجائیں۔

اب خرم کی پہلی کتاب’’ باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے‘‘کے بارے میں چند باتیں۔یہ کتاب 2009-10میں پہلی بار شا یع ہوئی تھی۔اس کا بیشتر حصہ ادب کے مختلف شعبوں یعنی افسانہ، ناول،نظم، غزل، تنقید، تحقیق سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل ہے جب کہ ایک حصے میں تھیٹر، فلم،ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ افراد اورا ایک حصہ بین الاقوامی شخصیات پر مشتمل ہے۔ انہیں پڑھ کر ہمیں ان تمام افراد کے بارے میں خاطر خواہ باتیں معلوم ہوتی ہیں۔یہ انٹر ویوز روزنامہ آج کل میں شایع ہوئے تھے۔

فراست رضوی صاحب اس کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں؛’’خرم سہیل گو انٹرویو لینے کے فن میں نئے ہیں لیکن اتنے نئے لگتے نہیں۔وہ ادبی اور ثقافتی موضوعات پر بات کرتے ہوئے پختہ کار نظر آتے ہیں۔شاید اس کا سبب ان کی محنت اور اکتساب ہے۔‘‘

ادب، موسیقی یا دیگر شعبوں سے وابستہ افراد اپنی پوری زندگی اپنے کام کے لیے وقف کرتے ہیں۔ اسی لیے ان شخصیات کے کام کی وسعت، باریکی اور گہرائی کا احاطہ کرنے لیے ایک سے زائد نشستیں کی جانی چاہئیے تھیں۔ تاکہ اپنے کام کے ساتھ ایک عمر گزارنے والی شخصیات کا بہتر طور پر احاطہ کیا جاسکتا،کیوں کہ اسی طرح کوئی انٹرویو تاریخ میں مستقل حیثیت کا حامل بن سکتا ہے، ورنہ تاریخ تو ہر روز تبدیل ہوتی ہے اورہر روز کئی انٹر ویو شایع ہوتے ہیں۔خرم سہیل اب زیاد ہ پختہ کار ہوچکے ہیں، اس لیے میں ان سے توقع زیادہ رکھتا ہوں۔امید ہے وہ اس توقع پر پورا اتریں گے۔

Categories
خصوصی

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کا ہفتہ وار اجلاس بعنوان ’’شام مطالعات‘‘،مورخہ29اگست،2017،بروز منگل شام ساڑھے سات بجے ،کانفرنس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈایا اینڈ پبلیکیشنز،پاکستان سیکریٹریٹ میں منعقد کیا گیا۔اس اجلاس کی صدارت مانچسٹر، برطانیہ سے تشریف لائے سینیئر شاعر جناب باصر سلطان کاظمی صاحب نے کی۔اجلاس کا آغاز حلقے کے سیکریٹری نے گزشتہ اجلاس کی رپورٹ سنا کر کیا۔حاضرین کی تائید کے بعد صاحبِ صدر نے اس رپورٹ کی توثیق کی۔اس کے بعد ظہیر عباس نے شبیر نازش کے پہلے شعری مجموعے ’’ آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘پر اپنا تحریری مطالعہ پڑھ کر سنایا۔ظہیر عباس نے شعری مجموعے کے فنی محاسن اور خوبیوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ شبیر نازش کے اشعار کا موازنہ دیگر سینیئر شعرا کے اشعار سے بھی کیا۔

ذوالفقار عادل نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ شبیر نے اپنے پہلے مجموعے میں شامل غزلیات اور اشعار کا عمدہ انتخاب کیا۔اسی لیے ان کے مجموعے کا مطالعہ پرلطف رہا۔اس مجموعے میں شاعر کی اپنی شاعری کے ساتھ کمٹ منٹ بھرپور انداز میںنظر آتی ہے۔سید کاشف رضا نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شبیر کی شاعری میں لسانی اختراع کے بجائے دوسری طرح کے تجربے ملتے ہیں۔ان کا ڈکشن سہل اور سادہ ہے۔مطالعے کو ایسے Exploitکیا جانا اچھا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ چراغ سے چراغ کیسے جلتا ہے۔اس کے بعد رفیع اللہ میاں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقابلی اشعار سن کر لگتا ہے کہ شبیر ، میر وغالب کے ہم پلہ ہیں۔مجھے ان کی شاعری میں استعارہ سازی سے گریز اچھا نہیں لگا۔ رفاقت حیات نے شبیر نازش کی شاعری کے بارے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شبیر کے مجموعے کے مطالعے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی غزلوں میں زیادہ تر اپنی ذاتی جذباتی اور محسوساتی واردات تک ہی محدود رہے۔ ان کے ہاں شعری نرگسیت اور تعلی زیادہ نظر آتی ہے۔ان کے پاس اچھے اشعار تو ہیں،مگر گہرے اور تہہ دار اشعار بہت کم ملتے ہیں، اس کی وجہ شاید ان کی مطالعے کی کمی ہے۔کاشف رضا نے اس بات پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اظہارِ ذات والے شعرا کے ہاں سادگی کی طرف رجحان ہوتا ہے۔شبیر اسی قبیل کے شاعر ہیں۔رفیع اللہ میاں نے کہاکہ شاعری بنیادی طور پر اظہارِ ذات ہی ہوتی ہے۔مجھے اس مجموعے میں دو شعر بہت اچھے لگے۔جن میں سے ایک یہ ہے ع؛ پر نہ کھولے اسی تردد میں

   کم نہ پڑ جائے کائنات مجھے

اس شعر کا مفہوم بظاہر منفی ہے مگر اس کا حسن بھی یہی ہے کہ آدمی اس شعر میںکھو جائے۔
شبیر نازش کے شعری مجموعے پر گفتگو کو سمیٹتے ہوئے صاحبِ صدر باسر سلطان کاظمی نے کہا کہ پہلے مجموعے کی اشاعت پر مبار ک باد بجا طور پر دی گئی۔وہ اس کا مستحق ہے۔شبیر نے آتش بازی یا نمائش کی شعوری کوشش نہیں کی۔بلکہ ان کے شعر اس کم روشنی کی طرح ہوتے ہیں، جو آہستہ آہستہ محسوس ہوتی ہے۔ٹی ایس ایلیٹ نے شاعری کے لیے اظہارِ ذات سے آگے کی بات کی ہے۔شاعری تو ذات سے فرار کا نام ہے۔

اس کے بعد رفاقت حیات نے مرزا اطہر بیگ کے پہلے ناول’’ غلام باغ‘‘ پر تحریری مطالعہ پیش کیا۔اس بار بھی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ذوالفقار عادل نے کہا کہ انہوں نے یہ ناول مکمل نہیں پڑھامگر جتنا بھی پڑھا۔ انہیں یہ اس عہد کا بڑا ناول محسوس ہوا۔اس میں کردار سازی خوب ہے۔زبان بہت اچھی ہے۔سید کاشف رضا نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مرزا اطہر بیگ کے ناول بہت فاسٹ پیس ہوتے ہیں۔شاید یہ ان کی ڈرامہ نگاری کی ریاضت کا ثمر ہے کہ ان کے ناولوں میں کہانی بہت تیز چلتی ہے۔ان کے ناول پوسٹ کولونیل دور کے متعلق ہیں۔ اس حوالے سے ان کے ہاں مقامی اور بیرونی، دونوں نقطہ نطر ملتے ہیں۔ان کے سسپینس کا عنصر حاوی رہتا ہے۔ان کے ناولوں میں پاکستان جیتا جاگتا دکھائی دیتا ہے۔ایک ناول نگار کو ایک اچھا منصوبہ ساز ہونا چاہیے، اس معاملے میں مرزا اطہر بیگ بہت نمایاں ہیں۔رفاقت حیا ت اظہارں کیال کرتے ہوئے کہا کہ مرزا اطہر بیگ اپنے ناولوں میںکرداروں کی تشکیل مختلف طرح کے تصورات کی مدد سے کرتے ہیں۔اس لحاظ سے انہیں غلام باغ ایک میچور ناول محسوس ہوتا ہے۔صاحب صدر نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہارڈی کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس کے ناولوں کا اسٹرکچر بہت پختہ ہوتا ہے۔کاشف رضا نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہارڈی کے ناولوں کا اسٹرکچر Guess کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ ڈکنز کے ناولوں کا ڈیزائن گیس نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا اطہر بیگ کے ہاں معاملہ بے حد مختلف ہے۔رفیع اللہ میاں نے کہا کہ انہیں مرزا صاحب کے ناولوں میں جو بات سب سے زیادہ کھلتی رہی ، وہ یہ ہے کہ انہوں نے ہر ناول میں ایک ہی کردار کو بار بار دہرایا ہے۔کاشف رضا نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی فکشن میں بھی ایسا دیکھا گیا ہے کہ عام طور پرناولوں کا ہیرو ادیب کی اپنی ذات ہوتی ہے۔یہ بات قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔رفاقت حیات نے کہا کہ غلام باغ کے اکثر کردار فلسفی اور دانشور محسوس ہوتے ہیں۔ وہ موقع بے موقع فلسفہ بگھارتے دکھائی دیتے ہیں۔ نرس مختیار بھی ایک ایسا ہی کردار ہے۔رفیع اللہ میاں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ناول کا پہلا دور ’’آگ کا دریا‘‘ اور ’’اداس نسلیں‘‘ کے ساتھ ختم ہوگیا۔ غلام باغ اردو ناول کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔لاہور سے تشریف لائے مہمان جاوید آفتاب نے گفتگو مین سریک ہوتے ہوئے کہا کہ ایک شاعر کے لیے دیگر علوم سے آگاہی ناگزیر ہے۔وسیع علم کے بغیر شاعری میں گہرائی اور وسعت پیدا نہیں کی جاسکتی۔جب کہ فکشن میں ریسرچ کے بغیر کردارون پر گرفت کرنا آسان نہیں ہوتا۔مرزا اطہر بیگ صاحب ایک وسیع المطامعہ شخص ہیں ، مگر ان کے ناولوں میں تکرار نہیں ہونی چاہیے۔

آخر میں اجلاس کے صدر باصر سلطان کاظمی صاحب نے ناول پر گفتگو کو انتہائی پر مغز قرار دیا۔حاضرین کے اصرار پر باصر سلطان کاظمی صاحب نے اپنا کلام سنایا۔ع؛

ملتا نہیں ہے دشت نوردی میں اب وہ لطف
رہنے لگا ہے ذہن پہ گھر اس قدر سوار

اس کے ساتھ ہی صاحب ِ صدر نے اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا۔

Categories
خصوصی

نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے

حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

حلقہ ابابِ ذوق ،کراچی کا ہفتہ وار اجلاس ، یکم اگسست ، ۲۰۱۷ ، بروز منگل ، کانفرنس روم ڈیمپ میں منعقد ہوا۔نثری نظم کے ممتاز شاعرافضال احمد سید کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں مایہ ناز افسانہ نگار نیر مسعود اور ان کے کام کو یاد کیا گیا۔جمال مجیب قریشی نے ان کے افسانوی مجموعے ‘‘ عطرِ کافور’’ کا آخری افسانہ ‘‘ ساسانِ پنجم’’ اپنے مخصوص لب و لہجے میں پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد آصف فرخی صاحب کا انگریزی مضمون جس کا ترجمہ رفاقت حیات نے کیا تھا، ظہیر عباس نے پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے عذرا عباس نےآضف فرخی کے مضمون کے ترجمے کے ایک جملے پر اعتراض کیاکہ ادبی سرگرمی زوال پذیر کیسے ہوسکتی ہے، جب کہ نیر مسعود اپنا سارا کام تو بہت پہلے ختم کرچکے تھے۔ افضال احمد سید نے ان کی تائید کی۔رفاقت حیات نے کہا کہ وہ اس جملے کو بدل دیں گے۔آصف فرخی نے وضاحت دی کہ نیر مسعود صاحب چاہتے تھے کہ تعبیرِ غالب نامی کتاب کی پروف ریڈنگ و ہ خود کریں لیکن خراب صحت کی بنا پر وہ ایسا نہیں کر سکے اورو ہ بچوں کے لیے کچھ اور کہانیاں لکھنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد عذرا عباس نے افسانے ‘‘ ساسانِ پنجم’’ اور جمال مجیب قریشی کی قرات کو سراہا ۔ان کے خیال میں اس افسانے میں گم ہوجانے والی تہذیبوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے ان گنت تہذیبیں وجود میں آئیں اور فنا کے گھاٹ اتر گئیں۔کرن سنگھ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیر مسعود کی کہانیوں میں ان کا زرخیز تخئیل کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کہانیوں میں لکھنو کی تہذیب بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہےاور کہیں کہیں ماورائی عنصر بھی موجود نظر آتا ہے۔ اسی بنا پر ان کی کہانیاں مختلف اور منفرد محسوس ہوتی ہیں۔ شجاعت علی نے کہا کہ نیر مسعود کے افسانوں کے بین السطور صرف لکھنو کی تہذیب نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی تہذیب کار فرما دکھائی دیتی ہے، جو بدقسمتی سے اب دم توڑ چکی ہے۔ نیر مسعود صاحب نے اس زمانے میں افسانے لکھنے شروع کیے ،جب اردو افسانے کے افق پر علامت اور تجرید کا غلبہ تھا۔ نیر مسعود صاحب نے اپنے افسانوں کے لیے الگ راہ نکالی۔

شعیب قریشی نے نیر مسعود صاحب کے سفر نامہِ ایران کو سراہا۔ آصف فرخی نے اس بات کو آگے بڑھایا کہ نیر مسعود صاحب صرف ایک مرتبہ سرکاری دورے پر ایران گئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک مرتبہ بنگلور، دہلی اور الہ آباد بھی گئے لیکن وہ سفر کرنے اور اپنے گھر سے نکلنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔انہیں الہ آباد میں لیکچرار کی ملازمت ملی تو وہ وہاں گئے۔ پہلے دن انہوں نے جوائننگ دی اور اگلے روز استعفی دے کر واپس لکھنو آگئے۔وہ جس مکان میں پیدا ہوئے جو ان کے والد کا بنوایا ہوا تھا۔ اسی میں ان کا انتقال ہوا۔سعیدالدین صاحب نے کہا کہ نیر مسعود صاحب کی تحریروںمیں اتنی وسعت ہے کہ انہیں ایک نشست میں سمیٹنا آسان نہیں ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں انسانوں کو کرادار کے طور پر لینے کے ساتھ ساتھ دروازوں، کھڑکیوں اور عمارتوں سے بھی ایک کردار کی طرح انصاف کرتے اور انہیں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کے افسانوں کی فضا اتنی مسحورکن ہوتی ہے کہ لگتا ہے ان کے پاس کہنے کے لیےکہانی نہیں صرف یہی فضا ہے، لیکن ان کی سب کہانیوں میں ایسا نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کے ذریعے دکھایا ہے کہ وقت کس طرح گلیوں، محلوں، عمارتوں پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔نیر مسعود نے اپنے افسانوں میں وقت کو قید کیا ہے۔ رفاقت حیات نے کہا کہ ان کا نیر مسعود صاحب کی تحریروں سے پہلا تعارف ان کے افسانے ‘‘اوجھل’’ کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ‘‘ سیمیا’’ پڑھا۔ یہ افسانے اپنی بھید بھری اور پراسرار فضا کے سبب آج بھی انہیں اپنے ذہن میں زندہ محسوس ہوتے ہیں۔رفاقت حیات نے مزید کہا کہ انہوں معرو ف فکشن نگار خالد جاوید صاحب کی ایک گفتگو سنی، جس میں وہ نیر مسعود صاحب کوصادق ہدایت ، کافکا اور ایڈگر ایلن پو کی قبیل کا فکشن نگار قرار دے رہے تھے، کیوں کہ نیر صاحب صاحب کے افسانوں میں بھی خوف اور دہشت سے مملو فضا غالب دکھائی دیتی ہے۔

اجمل کمال صاحب سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے رفاقت حیات نے کہا کہ ان کے خیال میں نیر مسعود صاحب نے زیادہ تر ہاتھ سے کام کرنے والوں کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ آصف فرخی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات مکمل طور پرنہیں صرف جزوی طور پر درست کہی جاسکتی ہے اور خالد جاوید صاحب کی توجیہہ سے قطع نظر ،نیر مسعود صاحب واقعیت یا حقیقت پر مبنی فکشن کے بہت قائل تھے۔وہ غلام عباس، محمد خالد اختر ، رتن ناتھ سرشارکو پسند کرتے تھے۔ انہوں نے ضمیر الدین احمد پر ایک مضمون لکھا۔عظیم بیگ چغتائی بھی انہیں پسند تھے۔نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ ان کہ ہاں حقیقت تہہ دار اور واہمے کے بہت قریب ہے۔حقیقت تخئیلاتی بھی تو ہو سکتی ہے۔ان کے تمام افسانوں میں ایک دبا ہوا احساسِ زیاں، ایک ملال، ایک حُزن اور افسوس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔انہوں نے لکھنو کی مخصوص زبان اور محاوروں سے یکسر اجتناب کیا ، جس کے باعث انکے افسانوں میں ایک نامانوس پن در آیا۔

آخر میں اجلاس کےصاحبِ صدر افضال احمد سید صاحب نےکہا کہ حلقے کو یہ نشست ضرور کرنی چاہیے تھی اور حلقے نے کی، کیوں کہ نیر مسعود اردو کے اہم تریب ادیب تھے۔ ہم انہیں جتنا یاد کر سکیں، کرنا چاہیے۔ میری کبھی نیر صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ایسے میں آصف صاحب کےذریعے ہمیں نیر سعود صاحب کے فن اور شخصیت کے باے میں بہت اچھی گفتگو سننے اور انہیں سمجھنے کا موقع ملا۔ میں نیر مسعود صاحب کا صرف ایک قاری ہوں۔میں نے ان کی تنقیدیں نہیں پڑھیں۔ میں ان سے ان کے ترجمے کے ذریعے متعارف ہوا۔ وہ تھا ‘‘ شجر الموت’’۔وہ پیٹر پان کی کہانی تھی۔وہ کہانی اور اس کا ترجمہ دونوں بہت خوب صورت تھے۔میں وہ پڑھتے ہی نیر صاحب کا عاشق ہوگیا۔ا س کے بعد ان کی کہانیاں پڑھیں۔ ان کی کہانیوں میں ابہام کی ایک صورت ہوتی ہے۔ابہام کو شاعری اور ادب میں ایک وصف سمجھاجاتا تھا۔ابہام کی وجہ سے ان کہانیوں کو بارِ دگر پڑھنے اور ان کے متعلق سوچنے کا موقع ملتا ہے۔نیر صاحب اپنے افسانوں میں جو فضا بناتے ہیں وہ ابہام کے ساتھ بھی بناتے ہیں اور طائوس چمن کی مینا جیسی کہانیوں میں بھی بناتے ہیں۔اس کہانی میں انہیں واجد علی شاہ ہیرو نظر نہیں آتا۔اس کہانی کے آخر میں ایسا جملہ بھی آتا ہے کہ اسے(مالی کو) قید واجد علی شاہ نے کیا مگر اسے رہائی انگریزوں نے دلوائی۔نیرمسعود صاحب اپنے افسانوں میں بہت کچھ بین السطور بھی کہتے تھے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
افضال احمد سید کی گفتگو کے حلقے کے اجلاس کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

Categories
خصوصی

افضال احمد سید ستر برس کے ہو گئے

حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کا ہفتہ واراجلاس مورخہ 04 اکتوبر 2016 کو وفاقی وزارتِ اطلاعات کے زیرِ انتظام ڈائر یکٹر یٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلکیشنز کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اس نشست کی صدارت محترمہ تنویرانجم نے کی۔ یہ خصوصی اجلاس نام ور شاعرمحترم افضال احمد سید کی ستر ویں سال گرہ پر منعقد کیا گیا۔

 

اجلاس شروع ہونے سے پہلے افضال احمد سید صاحب نے اپنی سال گرہ کا کیک کاٹا۔ عذرا عباس نے اپنی اور انور سن رائے کی جانب سے افضال صاحب کو پھول پیش کیے اور باقی حاضرین نے با آواز بلند افضال صاحب کو سال گرہ کی مبارک باد دی۔ محترمہ نگت مجید صاحبہ نے تمام حاضرین کو کیک پیش کیا۔

 

اس کے بعد افضال صاحب نے اپنی غیر مطبوعہ یا داشتوں کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا، جس میں 1947 میں ان کے خاندان کے یو پی سے ڈھاکہ منتقل ہونے کے واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کی خود نوشت سوانح سنتے وقت حاضرین کی اکثریت پر گہرا تاثر غالب رہا۔ سوانح کی قرات کے بعد تقریباً سب نے اس پر اظہارِ رائے کیا۔ خود نوشت سوانح میں بھی افضال صاحب کا مخصوص شاعرانہ اسلوب جھلک رہا تھا۔ بچپن کے اکثر واقعات کا متن ان کی غزلیات کے مجموعے “خیمہء سیاہ” کے مصرعوں کی طرح اختصار اور ابہام لیے ہوئے تھا مگراس کا تاثر بہت بھر پور اور گہرا تھا۔ ایک جگہ انہوں نے پڑھا۔ “ہم سے پہلے جو لوگ اس مکان میں رہتے تھے، ان میں سے کبھی کوئی لوٹ کر اس مکان کو دیکھنے نہیں آیا، کن حالا ت میں چھوڑا ہو گا اس مکان کو، پوری منصوبہ بندی کے ساتھ، افراتفری میں قیمتی اشیاء سنبھال کر فرار ہوتے ہوئے، سب کچھ لٹ جانے کے بعد یا وہ کہیں نہیں گئے یہیں ان کی گردنیں کاٹ دی گئیں۔ “اور یہ حصہ “ڈھاکہ میں جس گلی میں ہمارا مکان تھا اس میں با لکل عام سے لوگ رہتے تھے پتہ نہیں عام رہ جانا ان کی تقدیر تھی یا ترجیح “۔ ایک اور جگہ وہ رقم طراز تھے۔ “پرانے ڈھاکہ میں طوائفوں کے لئے مشہور بادام گلی سے میری آشنائی ان رکشہ چلانے والوں نے کرائی، جو متبادل راستوں کے ہوتے ہوئے بھی ادھر سے ہی گزر کر جاتے، کبھی کبھی گلی میں کھڑی کوئی طو ائف جسے عرفِ عام میں خانگی کہا جا تا تھا، اس سے کچھ چھیڑ چھاڑکر لیتی تھی، تو رکشے والے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ رہتا، اگر خانگی، شرارت سے اس کے عُضوء تناسل کو پکڑ لیتی تو یہ ایک محنت کش کے لئے ایک جسم فروش کا ایثار ہوتا جو دو ٹکے کی طوائف کے پاس بھی جا نے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔”

 

afzal-ahmed-syed-2

خود نوشت سوانح کی قرأت کے اختتام پر اس کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے نگہت مجید نے کہا کہ اس نسبتاً مختصر باب میں اس قدر تنوع اور گہرائی دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ واقعات کی کثرت اور تیز رفتاری قاری کو پریشان کن حد تک متجسس رکھتی ہے۔ کاشف رضا نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جو تحریر ہم نے سنی اس کا بیانیہ بہت مختلف اور انوکھا ہے۔ جس میں افضال صاحب کا مخصوص شاعرانہ اسلوب جھلک رہا ہے۔ ایک مشکل جو اس حصے میں قاری کو محسوس ہوتی ہے، وہ بہت سے زمانوں کا ایک ساتھ چلنا ہے۔ یہ سوانح مکمل حالت میں سامنے آئے تو پتا چلے کہ انہوں نے زمان و مکان کو کس طرح تقسیم کیا ہے۔ بہر حال پوری تحریر پڑھ کر ہی تمام جزئیات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ خالد معین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض جگہ عمر کا تعین کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے اور واقعات میں تفاصیل کی کمی بھی محسوس ہو رہی ہے لیکن یہ طے ہے کہ جزئیات نگاری اور تفاصیل کی حد کا تعین آپ نے کرنا ہے اور اسی طرح اسٹائل کے حولے سے بھی آپ کو پابند نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خالق داد اُمید کے اس سوال پر کہ بہت سے سوانحی نکتے، جیسا کہ اپنے خاندان کے بارے میں تفصیل کو آپ نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور بچپن کے جن واقعات کو شامل کیا ہے ان کی بھی جائز تفاصیل موجود نہیں، بس اشارہ اور صرف دلچسپ اشارہ کرکے گز رنے کا تاثر کیوں مل رہا ہے؟ اس کے جواب میں افضال صاحب نے بتایا کہ یہ تاثر درست ہے۔ بنیادی طور پر یہ سوانح لکھنے کی وجہ اس باب کے بعد شروع ہونے والے قیامت خیز واقعات ہیں، جن کے بارے میں، میں تفصیل سے لکھنا چاہتا ہوں۔ یہ بچپن کا ذکر تو ان جھلکیوں پر مشتمل ہے جو میرے لاشعور میں رچ بس گئی ہیں اور جن کے ذکر کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔ آج بھی میں خواب دیکھتا ہوں تو اکثر اپنا پچپن ہی خواب میں دیکھتا ہوں۔ افضال صاحب کے اس جواب پر سعدیہ بلوچ نے کہا، جیسا افضال صاحب نے بتایا کہ آگے چل کر وہ کچھ قیامت خیز واقعات پر لکھنا چاہ رہے ہیں لہٰذا یہ تعارف اس کے لیے معاون ثابت ہو گا۔ عذرا عباس نے کہا کہ خود نوشت کے راوی کی عمر اور واقعات کا زمانہ جو کہ ایک ہی چیز ہے، اس کی عدم وضاحت بیانیہ کوسمجھنے کے >لئے مشکل بنا رہی ہے، گر ایسا ہے تو راوی کی عمر اور واقعات کے زمان کے حوالے سے وضاحت پیدا کی جائے۔ عبدالصمد نے کہا کہ بہت سی کمینوٹیوں کے مذہبی اور لسانی حوالوں کا ذکر ہے اور اس مختصر باب میں واقعات کا کثیر الجہت مشاہدہ پیش کیا گیا ہے جس سے تحریر بظاہر گُنجلک لگنے لگی ہے مگر ایسا حقیقت میں نہیں ہے بلکہ ہر چیز واضح ہے۔

 

رفاقت حیات نے کہا کہ ڈھاکہ کاجتنا ذکر اس باب میں سنا، اسے سنتے ہوئے محسوس ہوا کہ کرچی کا ذکر چل رہا ہے۔ مقامی بنگالیوں، بہاریوں، یو پی، سی پی کے اُردو بولنے والوں کشمیریوں حتیٰ کہ پٹھانوں کا ذکر بھی ڈھاکہ کو کراچی بنا رہا ہے۔ علی ارقم نے بتایا کہ جس رقص کا ذکر پٹھانوں کے حوالے سے کیا گیا اور جسے گفتگو میں دوستوں نے اتنڑ کہا، در اصل خٹک ڈانس کی ایک خاص صورت ہے جس میں تلواروں کو لہراتے ہوئے رقص کیا جاتا ہے اور جو اب بہت کم دیکھنے میں آ تا ہے۔ محترمہ تنویر انجم نے اجلاس کے اس حصے کے اختتام پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ میرا تاثر بھی اس تحریر کو سن کر یہی ہے کہ بہت سے واقعات کا بہت ہی کم ٹائم فریم میں ذکر کیا گیا ہے اور ہر واقعے کی تفصیل سے بھی اجتناب برتا گیا ہے جس سے تحریر گنجلک ہو گئی ہے۔ اگر ہر واقعے کو اس کی مطلوبہ تفصیل دے دی جائے تو یہ چھوٹی چھوٹی الگ الگ کہانیاں ہیں جو اس آپ بیتی کو بہت سپورٹ دے سکتی ہیں بہر حال یہ سب کچھ طے کر نا لکھنے والے پر منحصر ہے کہ کس چیز یا واقعے کو کتنی تفصیل اور وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہے۔ اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ صدرِ نشست کی گفتگوکے بعد افضال صاحب نے اپنی کلیات “مٹی کی کان” کے بعد کی نثری نظمیں “جواہرات کی نمائش میں شاعرہ”، “مٹی میں تیرا رنگِ حنا اور بھی چمکے” سنائیں اور اس کے بعد خیمہء سیا ہ کے بعد تخلیق پانے والی غزلیں سنائیں۔ جن میں سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:

 

اک رنجِ من و تو کو ہمہ وقت اٹھائے
پھرتا ہوں یہی مطلعِ دولخت اٹھائے
آتش کدہ ءِ یزدِ محبت میں ملے تو
اک شمع بنامِ دل و زرتشت اٹھائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری وحشت سے جو اس حسن پہ تشدید آئی
دل یہ کہتا ہے کہ اب ساعتِ تمہید آئی
روبرو اس کے جو اس دل سا خطاکار آیا
اس کی آ نکھوں میں بھی اک شوخیِ تائید آئی
ایک آئینہ میں ایسا بھی لیے پھرتا ہوں
جس میں جب دیکھا نظر صورتِ امید آئی
اس نے سن کر یہ غزل بوسہِ لب تک نہ دیا
اس کی جانب سے بڑی سخت یہ تنقید آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عکسِ معدوم سہی میں تیری آنکھوں میں مگر
دل مرا تجھ پہ تو اے آئینہ رُو روشن ہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دست برداری ہے اب تیغِ ستم سے تیری
یا ہماری سرِ وحشت سے سبک دوشی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزر کے منزلِ ہر خوب و زشت سے اس کی
ملیں گے جا کے بہارِ بہشت سے اس کی
جہاں سے صورتِ تنویم میں گزرتا ہوں
خیالِ چشمِ ستارہ سرشت سے اس کی

 

حاضرین کی اکثریت کے لیے جو کہ افضال صاحب کی غیر مطبوعہ غزلیں خاصے کی چیز تھیں۔ شرکائے اجلاس نے افضال کی غزلوں پر انہیں خوب خوب داد دی۔

afzal-ahmed-syed

Categories
نان فکشن

شامِ مطالعات

[blockquote style=”3″]

حلقہ ارباب ِذوق،کراچی کا ہفتہ وار اجلاس مورخہ 30اگست 2016 ،وفاقی وزارت ِاطلاعات پاکستان کے ڈائر یکٹر یٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلکیشن کے کانفرنس ہال میں معروف شاعر، نثر نگار اور مترجم سید کاشف رضا کی صدارت میں منعقد ہوا۔

[/blockquote]

حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رپورٹ: خالق داد امید (جوائنٹ سیکریٹری)
شامِ مطالعات کے عنوان سے منعقدہ اس اجلاس میں سب سے پہلے نوجوان نقاد رفیع اللہ میاں نے درہ سحر عمران کے شعری مجموعے “ہم گناہ کا استعارہ ہیں” اور عارفہ شہزاد کے شعری مجموعے “عورت ہوں نا” پر اپنے تحریری مطالعات و تجزئیات پیش کیے۔ رفیع اللہ کے مطالعات پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے شبیر نازش نے کہا کہ دونوں کتابوں پر شاعری کے معیار کے حوالے سے مضمون نگار کی مفصل رائے سے متفق ہوں۔ مضامین اچھے ہیں ۔ ان مضامین میں انگریزی اور ہندی کے الفاظ کے بارے میں میری رائے ہے کہ ان کا استعمال مجبوری میں اورانتہائی ضرورت میں کرنا تو جائز ہے مگر جو الفاظ اُردو میں مو جود ہیں اور عام فہم ہیں ان کے ہم معنی الفاظ دوسری زبانوں سے لے کر استعمال کرنادرست نہیں ۔نعیم سمیر نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مضامین دو نوں خوب ہیں البتہ مضمون کے آخر میں نظمیں سنانے سے بہتر ہو تا کہ مضمون کے دوران اپنے تجزیئے کی دلیل کے طور پر نظم کے ٹکڑے لائے جاتے۔ جہاں تک شا عرات اور شاعری کی بات ہے تو سدرہ سحر کی نظمیں مجھے نثری نظم کی خصوصیات سے عاری نظر آئیں یعنی نثری نظم کا جو مخصوص ٹریٹمنٹ ہے وہ ان نظموں میں با لکل ناپید ہے ۔عارفہ شہزاد نے اپنی نظموں میں عورت کو جینڈر بریکٹ کیا ہے اور اسی کو نسائی شاعری کا نام دیا ہے جو کہ اس سے بہت بڑھ کر اور کچھ مختلف چیز ہے ۔ ظہیر عباس نے کہا کہ جو مضامین ہم نے سنے، انہیں بنیادی طور پر مضمون کہنا مناسب نہیں بلکہ ایک تاثر ات تھے، جو مطالعے کے نتیجے میں تحر یر کیے گئے اور مضمون نگار کی رائے اور نظموں کے جو نمونے ہم نے سنے ان میں ہم آہنگی ہے۔ دونوں شاعرات اپنی فکر کا بہت اچھی طرح سے ابلاغ نہیں کر پائی ہیں۔ جس کے باعث ہم نظموں سے وہ حظ نہیں اُٹھا پائے ہیں جو کہ نثری نظم اور اس کے اچھے شاعروں کا خاصہ ہے ۔ رفاقت حیات نے گفتگو آگے بڑھائی کہ دونو ں مضامین اور شاعری کے نمونے سن کر شدت سے یہ احساس ہو ا کہ دونوں شاعرات اپنے تخلیقی سفر کے ارتقائی مرحلے میں ہیں۔ دونوں کی شاعری میں گہرائی اور پختگی کی کمی ہے اور دونوں چونکہ نسائی نظریہ ادب سے متاثر لگتی ہیں اور اپنے کلام میں اس کا اظہار کرتی ہیں تو وہاں بھی وہ نسائی شاعری کی بڑی آوازوں فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، نثری نظم کی سطح پر تنویر انجم اور عذرا عباس کو چیلنج کرتی نظر نہیں آتیں۔اور نا ہی کوئی تازہ فکر شامل کرتی نظر آتی ہیں۔ بہر حال مضامین اس بات پر ابھارتے ہیں کہ ہم سدرہ سحر عمران اور عارفہ شہزادکی اس شعری کاوش یعنی ان کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔

 

سلمان ثروت نے مضامین سے متعلق کہا کہ یہ کتابوں اور شاعرات کے حوالے سے تعارفی اور تجزیاتی انداز میں لکھے مضامین ہیں۔ ان کے آخر میں پوری پوری نظمیں پیش کرنے سے مضامین کے ساتھ انصاف ہوتا نظر نہیں آتا ۔مناسب ہو تا کہ جہاں جہاں جس نقطہ شاعری پر تاثر پیش کیا گیا ہے وہاں اس تاثر کے حق میں شاعری یعنی نظم کا کوئی ٹکڑا یا ٹکڑے پیش کیے جاتے جس سے ہم سننے والے بھی مضمون نگار کے تاثرپر کوئی سیر حاصل تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں ہو تے ۔جہاں تک شاعری کاتعلق ہے دونو ں شاعرات کی نسائی فکر اس قدیم قضّیے تک ہی محدود ہے کہ عورت کا مقا م کیا ہے چونکہ ان کی فکر میں کوئی نیا پن نہیں لہٰذا طرز اظہار سے توقع رکھی جاتی ہے کہ اس میں کوئی تازگی ہو، اچھوتا پن ہو یا گہرائی ہو مگر اس کی بھی کم از کم نمونوں کی حد تک شاعری میں کمی پائی گئی۔ بہر حال مضامین اس لحاظ سے خوش آئند تھے کہ اپنا فیصلہ صادر کرنے کے بجائے مضمون نگار نے شاعر ات کی فکر کو تجزیا تی انداز میں قاری تک پہنچایا ہے ۔کاشف رضانے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ رفیع اللہ میاں نے سدرہ سحر عمران کے مجموعے “ہم گناہ کا استعارہ ہیں” کے بارے میں دو تین اہم باتیں کہی ہیں۔ میں سوشل میڈیا پر اس کتاب کے حوالے سے احباب کا لکھا ہوا بھی پڑھ چکا ہوں ۔رفیع اللہ کے مطابق ایک تو ان کے تصور مذہب اور ادبی فکر کے بارے میں، کہ وہ مذہبی تعلیمات کی تو قائل ہیں مگر مذہبی ٹھیکیداروں کے خلاف ایک واضح سوچ رکھتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ ایک خاتون ہو کر بھی ان کی شاعری میں رومانیت کے بجائے شدت پسندانہ مذہبیت پائی جاتی ہے اور تیسرا یہ کہ سدرہ کی شاعری میں جو احتجاج ہے، وہ بہت لاؤڈ ہے۔ وہ ان کے ڈکشن سے ابھرنے والا التباس ہے۔ میری ذاتی رائے سدرہ کی imagesبنانے کی صلاحیت کے بارے میں بہت اچھی ہے اور جو نیا شاعر اپنی شاعری میں imagesبنا سکتا ہے اس سے بہتر شاعری توقع رکھی جا سکتی ہے ۔عا رفہ شہزاد کے یہاں مجھے مو ضوعات کے حوالے سے ایک نیا پن ملتا ہے پھر ہم خواتین تخلیق کا روں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ انسانی سوچ کہ کچھ ایسے منطقے دریافت کریں گی جن تک تاحال ہماری پہنچ نہیں ہو سکی۔ دونوں سدرہ اورعارفہ نوجوان اورپڑھی لکھی ہیں لہٰذا انہیں اُردو میں اپنی سینئر خواتین تخلیق کا روں اور دوسری زبانوں کی نسائی ادب کی تخلیق کاروں کے خیالات اور کام سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور ایک بہتر اور وسیع ذہن کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔

 

شبیر نازش نے “ماہ ِنو”کے جوش نمبر کے حوالے سے اپنے زبانی تاثرات پیش کیے۔ جس پر گفتگو کرتے ہوئے نعیم سمیر نے کہا کہ شبیر نازش کے تاثرات چونکہ تحریری شکل میں نہیں ہیں لہٰذا کچھ چیزیں گفتگو میں رہ گئیں ہیں جیسا کہ “یادوں کی بارات “جو جوش صاحب کا ایک اہم مضبوط حوالہ ہے۔ پھر ان کی شاعری کا ان کے عہد یعنی جنگ عظیم اول اور دوئم اور تقسیم کے تناظر میں بھی جائزہ نہیں لیا گیا کہ بہر حال ان کا عمدہ کلام ابتدائی دور کی تخلیق ہے۔غزلیں جوش صاحب نے بہت کم لکھی بلکہ وہ غز ل کے خلاف تھے۔ نظمیں بہت کہیں مگر مرثیہ ہی قادر الکلامی کے حوالے سے ان کی پہچان ہے ۔کاشف رضا نے شبیر نازش کے مطالعے کے حوالے سے کہا کہ جوش کی اُٹھان ان کی شاعری کے ابتدائی دور یعنی 1920سے 25میں بہت تیز تھی اور وہ اپنے ہم اثر اقبال کے مقابلے کے شاعر سمجھے جاتے تھے مگر بعد میں ان کی شاعرانہ طرز فکر میں کوئی فکری یا تکنیکی تبدیلی واقع نہیں ہوئی جو کہ ہر دس بیس سال بعد کی شاعری میں ضرروری ہونی چاہیے۔اس وجہ سے ان کے بعد کے شاعر اُن سے زیادہ متاثر نظر نہیں آتے ۔جبکہ ن ۔م ۔راشد اقبال کے خلاف ہونے کے با وجود ان کے زیر اثر نظر آتے ہیں اور ایسے بہت سے دوسرے شاعر بھی، مگر جوش صاحب کے حوالے سے ایسا نہیں ہے۔

 

ظہیر عباس نے سبطِ حسن کی کتاب “سخن در سخن “کے حوالے سے اپنی تحریر”سبطِ حسن اور فیض شناسی” اور افلاطون کے مکالموں پر مشتمل اکرام الرحمن کے ترجمے “سُقراط کے آخری ایام” پراپنا تحریری تاثر پیش کیا جس پر گفتگو کرتے ہوئے رفاقت حیات نے کہا کہ فیض پر سبطِ حسن کی رائے اور اس رائے پر ظہیر عباس کا تبصرہ دونوں شاندار ہیں جبکہ مکالماتِ افلاطون پر ظہیر عباس کی تحریرنے ان مکالمات کا احاطہ کیا گیا ہے جو سقراط کے آخری ایام کے نام سے اکرام الرحمن نے اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ سقراط سے متعلق اور خصوصاً ان کے آخری ایام سے متعلق بہترین اور مستند کاوش ہے ۔سقراط اپنے دور کے سوفسطائی حکماء کی طرح گھوم پھر کر اور لوگوں سے سوالات کر کے ان کے ذہن میں موجود خیالات کی خوبیاں، خامیاں اُن پر عیاں کرتا اور ان کی ذہنی اور فکری تربیت کرتا تھا۔ وہ ایک بڑھ مکھی کا ذکر کرتا تھا کہ وہ اسے ہر وقت کاٹتی ہے اور لوگوں سے سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس دعوے کی روشنی میں کچھ لوگ انہیں پیغمبر بھی کہتے تھے مگر سقراط ایک فلسفی تھا منطقی طرز فکر کا جسے سرخیل سمجھا جاتا ہے جبکہ فکری دنیا میں سقراط ایک ایسی مِتھ بن گیا ہے، اصولوں پر سمجھوتے کی جگہ جس نے زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دی۔ کاشف رضا نے ظہیر عباس کے مطالعے پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ مکالماتِ افلاطون ہر نو جوان کو پڑھنے چاہئیں۔ یہ جو سقراط کے آخری ایام کے نام سے افلاطون کے مکالمات ہیں یہی یا ایک آدھ اور مکالمہ سقراط سے متعلق یا سقراط کا بیان کردہ ہے باقی جتنے بھی افلاطون کے مکالمے ہیں وہ ان کی اپنی فکر اور خیالات پر مشتمل ہیں ۔کم ازکم یہ چا ر مکالمے اور اگر ممکن ہو تو افلاطون کے تمام مکالمے ہر نو جوان کو پڑھنے چائیں اور پہلی فرصت میں پڑھنے چاہیں کہ ایک تو یہ ہمارے اذہان میں مذہب کے جو ٹھونسے ہوئے تصورات ہیں ان پر سوال اُٹھاتے ہیں دوسرا یہ عمومی طور پر بھی ہم میں سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں ۔جبکہ فلسفے کی دو بڑی شاخوں افلاطون کا آئیڈیلزم یا تصوریت پر محیط فلسفہ اور ارسطو کا تجربیت پر مبنی فلسفے میں سے ایک کی بھر پور وضاحت سے آگہی اور دوسرے کی بنیادی فہم عطاء کرتے ہیں ۔

 

آخر میں سید کاشف رضا نے بھیشم ساہنی کے ناول “تمس”اور اوم پرکاش والمیکی کی آپ بیتی “جوٹھن” پر اپنا زبانی مطالعاتی تاثر پیش کیا اور کہا کہ تمس کو میں تقسیم اور اس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے تو اہم سمجھتا ہی ہوں مگر اسے پنڈی ِ اور اس کے آس پاس کے علاقوں،جہاں تقسیم سے قبل ہندو اور خصوصاً سکھ بہت بڑی تعداد میں رہتے تھے پر ایک شاندار ادبی اور تاریخی دستاویزبھی سمجھتا ہوں ۔جبکہ جوٹھن اس خطے کی ایک بہت بڑی حقیقت “دلِت” کمیونیٹی پر ایک جامع اور بولڈ کتاب ہے جس کی مدد سے ہم پاکستان میں بھی اپنے موجودہ لسانی ،فرقہ وارانہ اور مذہبی مسائل کو نہ صر ف سمجھ سکتے ہیں بلکہ اس کتاب کے اندراجات کی روشنی میں ان کا حل بھی نکا ل سکتے ہیں ۔کا شف رضا کے مطالعے پر گفتگو کرتے ہوے رفاقت حیات نے کہا کہ میں نے تمس اور جوٹھن پڑھ رکھی ہیں تمس کی بڑی خوبیاں جو میں نے محسوس کی وہ ایک تو بھیشم ساہنی نے اس میں تقسیم کی تمام جہتوں کو بیان کیا ہے حتی کہ انگریز کے کردار کو بھی اور پھر تمام مذاہب اور لسان کے کردار کہانی میں انسان کی سطح پر عمل کرتے اور کردار نبھاتے نظر آتے ہیں نا کہ ہیرو اور ولن کے طور پر۔ہم سب جانتے ہیں کہ پنڈی، حسن ابدال اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں سکھ صدیوں سے آباد تھے مگر کتنی بڑی تعداد میں آباد تھے اور کس طرح کی زندگی گزارتے تھے اس حوالے سے ہما را علم نا ہونے کے برابر ہے ۔حا لا نکہ میں پنڈی میں بہت عرصہ رہائش پزیر رہا ہوں اور تعلیم حاصل کی ہے لہٰذا کاشف کا یہ کہنا کہ یہ ایک ادبی اور تاریخی دستاویز ہے بالکل درست ہے بلکہ میں اسے ادبی، تاریخی، سماجی، سیاسی اور جغرافیائی دستاویز کہوں گا ۔” جو ٹھن” اوم پرکاش والمیکی کی بڑی شاندار آپ بیتی ہے جسے پڑھتے ہوئے اکثر مقامات پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ آبادی کے ایک بڑے حصے کو کس طرح سماجی، معاشرتی اور مذہبی طور پر الگ کیا گیا ہے، دھتکارا گیا ہے بلکہ رد کیا گیا ہے۔خالق داد اُمید نے کہا کہ دلِتوں پر ہونے والے مظالم بیشک ہماری تاریخ کا ایک المناک باب ہیں مگر میں اس میں برصغیر کے حکمرانوں مغل، انگریز اور بعد از تقسیمِ ہندوستان کی ریاستوں کو زیادہ قصور وار نہیں سمجھتا کہ ہندو مذہب کے نظریے اور تعلیمات میں ہی یہ تفریق بہت نمایا ں ہے ۔جس پر غالب آنے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی ہر حکومت، ریاست اور حکمران نے کو شش کی اس کے مقابلے میں پاکستان میں جو 70 سال میں دوسرے مذاہب اور اپنے فرقوں کے لئے جارحیت اور نفرت پران چڑھی ہے اس کی بڑی حد تک یا شاید مکمل طور پر ذمہ دار پاکستانی ریاست، اس کے مذہبی فکر اور اس سے متاثر حکمران ہیں۔ کاشف رضا نے ان جملوں پر کہ ہماری ریاست کو اپنی جغرافیائی حدود کے اندر مذہبی، فر قہ ورانہ اور لسانی مسائل کے حل کے لئے دلِتوں کے مسئلے اور اس کی تاریخ کا علم ہونا چاہیے نشست کی برخاست کا اعلان کیا۔