Categories
نان فکشن

لفظی ترجمہ اور صابن کا جھاگ (سید کاشف رضا)

(یہ مضمون بہاء الدین ذکریا یونی ورسٹی ملتان کی تراجم سے متعلق کانفرنس میں پڑھا گیا جو چھبیس اور ستائیس مئی دو ہزار اکیس کو آن لائن منعقد ہوئی)

تراجم کے سلسلے میں دو تین فقرے ہمارے ہاں بہت استعمال کیے جاتے ہیں:
ترجمہ رواں دواں ہے
ترجمہ، ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا
ترجمہ اصل سے بڑھ گیا ہے

ادب تسلیم شدہ تصورات کو باربار پھرول کر دیکھنے کا بھی تو نام ہے۔ تو کیوں نہ مذکورہ بالا تین تصورات کو بھی ذرا چھان پھٹک کر دیکھ لیا جائے۔

یہ تین فقرے عام طور پر اس ترجمے کے حق میں استعمال کیے جاتے ہیں جسے تخلیقی ترجمہ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک اور ترجمہ ہوتا ہے جسے لفظی ترجمہ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں قسم کے تراجم کے موازنے کے لیے بہ طور نمونہ کسی ایسی تخلیق کا جائزہ لینا ہو گا جس کے ایک سے زائد تراجم ہو چکے ہوں جن میں ہم لفظی اور تخلیقی دونوں قسم کے تراجم کے لیے مثالیں تلاش کر سکیں۔

سن نوے کی دہائی میں دو برسوں، سن چھیانوے اور سن ستانوے میں، غیر ملکی افسانوں کے تراجم پر مشتمل دو مجموعے ایسے سامنے آئے جنھیں ہمارے فکشن نگاروں کی نئی پود اور عام قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ کراچی میں سندھی زبان سے وابستہ ادیبوں سے بھی میری بات ہوتی رہتی ہے اور وہ بھی ان دو مجموعوں کے اثرات کے قائل ہیں۔ ان میں سے ایک صغیر ملال کے تراجم پر مشتمل مجموعہ “بیسویں صدی کے شاہ کار افسانے” ہے جو مترجم کی وفات کے بعد انیس سو چھیانوے میں شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ آصف فرخی کے لاطینی امریکا کے افسانوں کے تراجم پر مشتمل ہے جو “موت اور قطب نُما” کے نام سے انیس سو ستانوے میں شائع ہوا۔

ایک افسانہ ایسا ہے جس کا ترجمہ صغیر ملال اور آصف فرخی دونوں نے کیا ہے اور ہم بہ طور نمونہ اسی افسانے کو لیتے ہیں۔ یہ افسانہ کولومبیا کے فکشن نگار ایرناندو تیژیس نے انیس سو پچاس میں لکھا جس کا انگریزی میں ترجمہ “لیدر اینڈ نتھنگ ایلس” اور “جسٹ لیدر، دیٹس آل” کے نام سے ہوا۔ یہ افسانہ اتنا مشہور و معروف ہے کہ افسانوں کے کئی عالمی انتخابات میں شامل ہو چکا ہے اور اس کے ایک سے زائد انگریزی تراجم ہو چکے ہیں۔ یہ ایک حجام کی کہانی ہے جس کی دکان پر اس کا ایک ایسا حریف اپنی شیو بنوانے چلا آتا ہے جس سے حجام نفرت کرتا ہے کیوں کہ وہ ان باغیوں کے قتل میں ملوث ہے جن کے لیے حجام ہم دردی رکھتا ہے۔ کیا حجام اس کی شیو کے دوران اُسترا چلاتے ہوئے اس کی شہ رگ کاٹ دے گا؟ افسانے میں تناو اسی سوال سے جنم لیتا ہے۔

صغیر ملال اور آصف فرخی دونوں نے یہ تراجم انگریزی سے کیے۔ موازنے کے دوران پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ صغیر ملال اور آصف فرخی کے تراجم کی درُستی کا جائزہ لینے کے لیے انگریزی کا کون سا ترجمہ استعمال کیا جائے؟

آصف فرخی کے ترجمے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ “اس کا نام ٹورس تھا۔ کپتان ٹورس۔ کہتے ہیں خاصا ذہین آدمی تھا، ورنہ کس کے دماغ میں یہ بات آ سکتی تھی کہ باغیوں کو ننگا کر کے پھانسی دے اور ان کے جسموں پر نشانہ بازی کی مشق کروائے۔” صغیر ملال کے ترجمے میں یہ سب باتیں آگے پیچھے ہیں مگر کپتان کی ذہانت والی بات موجود ہی نہیں۔ کیا آصف فرخی صاحب نے یہ حصہ اپنی طرف سے ایزاد کر دیا یا یہ اصل افسانے میں موجود تھا اور صغیر ملال ترجمہ کرتے ہوئے اسے چھوڑ گئے۔ اب میں نے ایرناندو تیژیس کا اصل افسانہ تلاش کیا جو ہسپانوی زبان میں ہے۔ اصل ہسپانوی افسانے میں یہ حصہ مل گیا جہاں ایرناندو تیژیس نے “باغیوں کو ننگا کر کے پھانسی دینے” کا ذکر کیا ہے۔ اس حصے کی شناخت “کپتان ٹورس” کے الفاظ کے بعد والے فقرے میں لفظ “ڈیسنوڈوز” سے ہوئی جو اردو لفظ “ننگا” کی جمع ہے اور جو ہسپانوی میں صیغہ ء تذکیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

“لیدر اینڈ نتھنگ ایلس” کے نام سے ایک ترجمہ انٹرنیٹ پر موجود ہے جو لاطینی امریکی ریاستوں کی تنظیم کے دو ماہی جریدے “امیریکاس” میں شائع ہوا تھا۔ اس ترجمے میں مذکورہ بالا حصہ موجود نہیں۔ تاہم ڈونلڈ ژیٹس کے انگریزی ترجمے میں یہ حصہ موجود ہے۔ زیر نظر مقالے میں صغیر ملال اور آصف فرخی کے تراجم کی درُستی جانچنے کے لیے یہی یعنی ڈونلڈ ژیٹس کا ترجمہ استعمال کیا گیا ہے تاہم مخصوص الفاظ کی اصل دیکھنے کے لیے اصل ہسپانوی متن سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔

میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں کہ پاکستانی قارئین میں صغیر ملال اور آصف فرخی کے یہ دونوں مجموعے بہت مقبول رہے ہیں۔ آصف فرخی نے اور بھی بہت سے تراجم کیے جن میں ان کا یہ مجموعہ کچھ اوجھل سا ہو گیا مگر صغیر ملال کے تراجم کی یہی ایک کتاب تھی سو نمایاں تر رہی۔ اردو میں صغیر ملال کی اس کتاب کا مطالعہ بہت خوش گوار ہے۔ اس میں شامل متعدد افسانے مجھے بہت پسند رہے ہیں جن میں ٹالسٹائی کا “پیالہ”، خورخے لوئیس بورخِس اور فرانز کافکا کے افسانے اور ریمنڈ کارور کا افسانہ”زندگی” اور ایرناندو تیژیس کا یہ افسانہ بھی شامل ہے جس کا ترجمہ انھوں نے “جھاگ” کے عنوان سے کیا۔ افسانے کا آغاز تیژیس نے چار چھوٹے چھوٹے جملوں سے کیا ہے۔ میرے پیش نظر دونوں انگریزی تراجم میں یہ چار جملے چار ہی جملوں میں ترجمہ کیے گئے ہیں۔ آصف فرخی نے بھی ان چار جملوں کا ترجمہ چار ہی جملوں میں کیا۔ صغیر ملال افسانے کے ابتدائی حصے کا ترجمہ صغیر ملال یوں کرتے ہیں:
“میں چمڑے کی پٹی پر اُسترا تیز کرنے میں مصروف تھا کہ وہ خاموشی سے دکان میں داخل ہوا اور آئینے کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اپنے گاہک کا چہرہ پہچانتے ہی مجھ پر لرزہ طاری ہو گیا۔ مگر وہ میری حالت سے بے خبر رہا۔” صغیر ملال خود افسانہ نگار تھے اور شاید ان کا خیال ہو کہ ایک طاقت ور جملہ افسانے کی اُٹھان میں مدد دیتا ہے۔ ان کا پہلا جملہ تو خوب صورت ہے اور شاید کوئی اور موازنہ نگار یہ بھی کہے کہ یہ ترجمہ “اصل سے بڑھ گیا ہے”، مگر اس جملے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اصل تخلیق میں موجود نہیں۔ دوسری جانب آصف فرخی نے افسانے کے اسی آغاز کا ترجمہ یوں کیا ہے:
“وہ اندر آتے ہوئے کچھ نہیں بولا۔ میں اپنا تیز ترین اُسترا چمڑے کی پیٹی پر رگڑ رہا تھا۔ اسے پہچان کر میں کانپ گیا۔ مگر اس کی نظر میں یہ بات نہیں آئی۔”

اصل افسانے میں بات یوں شروع ہوتی ہے کہ کپتان ٹورس حجام کی دکان میں داخل ہوتا ہے، حجام اسے پہچان کر خوف زدہ ہو جاتا ہے، کپتان اپنی کمر سے بندھی اسلحے کی پیٹی اتار کر ایک کھونٹی پر لٹکاتا ہے اور اس کے بعد کرسی پر بیٹھتا ہے۔ صغیر ملال نے چوں کہ کپتان ٹورس کو آتے ہی کرسی پر بٹھا دیا ہے اس لیے جب کپتان ٹورس کی جانب سے اپنی پیٹی کھونٹی پر لٹکانے کا ذکر آتا ہے تو صغیر ملال کو اسے ایک مرتبہ پھر کرسی سے اٹھا کر کھونٹی کے پاس لے جانا پڑتا ہے۔ یوں افسانے کا خوب صورت آغاز کرنے کے چکر میں انھوں نے ان جانے میں کپتان ٹورس کو کچھ مخبوط الحواس دکھا دیا ہے جو حجام کی کرسی پر پہلے بیٹھتا ہے، پھر اٹھتا ہے، اپنی اسلحے کی پیٹی کھونٹی پر لٹکاتا ہے اور پھرکرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ جب کہ افسانے میں درحقیقت کپتان ٹورس مکمل طور پر پُرسکون ہے اور اگر کوئی پریشان ہے تو وہ حجام ہے۔

گفتگو کی ابتداء کپتان ٹورس خود کرتا ہے اور حجام سے کہتا ہے کہ اس کی شیو بنا دے۔ اس کے بعد ایک اور جملہ اقتباسی کاما کے درمیان ہے۔ یہ جملہ کس نے بولا، دونوں انگریزی تراجم میں درج نہیں۔ اس جملے کا ترجمہ صغیر ملال نے یوں کیا:
“مرکزی قیادت کے دوسرے افسروں کے چہروں پر بھی یوں ہی داڑھیاں اُگ آئی ہوں گی”، میں نے کچھ کہنے کی خاطر کہا۔ جب کہ آصف فرخی نے یہ جملہ کپتان ٹورس کے منھ سے بلواتے ہوئے یوں ترجمہ کیا ہے:
“ٹولی کے دوسرے لڑکوں کی بھی اتنی ہی داڑھیاں ہوں گی”، وہ بولا

تیژیس نے یہاں لفظ “موچاچوس” استعمال کیا ہے جو ہسپانوی میں “لڑکے” یعنی موچاچو کی جمع ہے۔ انگریزی تراجم میں بھی اس کا ترجمہ “بوائز”ہی کیا گیا ہے۔ صغیر ملال نے ان لڑکوں کو “مرکزی قیادت کے افسر” بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ اس افسانے کا قرینہ یہ بتاتا ہے کہ حجام خود بات کرنے سے حتی الامکان گریز کر رہا ہے اور بعد میں بھی بہت کم بولتا ہے۔ وہ ایسا جملہ کیوں کہے گا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ وہ کپتان ٹورس کی مہمات کی خبریں رکھتا ہے۔ یہ جملہ کپتان ٹورس ہی بول سکتا تھا، وہی اپنے دستے کے سپاہیوں کو “لڑکے” کہنے کی بے تکلفی کر سکتا تھا اور اگلا جملہ اسی جملے کی توسیع میں اسی کے منھ سے ادا ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک موقع پر حجام سڑک کے پار “گروسری” کی دکان کا ذکر کرتا ہے جس کا ترجمہ کرتے ہوئے صغیر ملال نے صرف “ایک دکان” کے الفاظ استعمال کیے ہیں جب کہ آصف فرخی نے ترجمے میں “سبزی کی دکان” کا ذکر کیا ہے۔

صغیر ملال نے مختصر سے اس افسانے کا ترجمہ سوا آٹھ صفحات میں کیا جس کے پہلے تین صفحات میں تئیس مقامات ایسے ہیں جہاں صغیر ملال نے ترجمے میں اپنی طرف سے کم یا زیادہ اضافہ کر دیا۔ اگلے صفحات سے ایسے اضافے تلاش کرنے کی مجھ میں تاب نہیں رہی۔ انگریزی لفظ “کیپیٹل” کا ترجمہ “دارالخلافہ” کرنے جیسے غلطیاں اس پر مستزاد ہیں۔ آصف فرخی کو اس افسانے کا ترجمہ کرنے پر صرف سوا چھ صفحات صرف کرنا پڑے جس میں کوئی ایک فقرہ بھی اضافی نہیں۔ بعض مقامات پر انھوں نے ایسا خوب صورت ترجمہ کیا ہے کہ ان کا ترجمہ لفظی ہونے کے باوجود تخلیقی بھی قرار دیا جا سکتا ہے، مثلاً یہ فقرہ دیکھیے:
There, for sure, the razor had to be handled masterfully, since the hair, although softer, grew into little swirls.
اس کا ترجمہ آصف فرخی نے یوں کیا ہے:
“وہاں یقینی طور پر مہارت سے اُسترا چلانے کی ضرورت تھی کیوں کہ وہاں کے بال نرم تو تھے مگر اُن میں گھونگھر پڑ گیا تھا۔”

ایک مقام پر البتہ آصف فرخی صاحب سے ایک فقرہ چھوٹ گیا جہاں حجام کپتان ٹورس کی شہ رگ پر پہنچتا ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے کسی فقرے کا چھوٹ جاتا عام بات ہے اور اگر کوئی مدیر ترجمے پر نظرثانی کر رہا ہو تو وہ اس کی نشان دہی کر دیتا ہے۔ تاہم پاکستان میں مترجم کا ڈرافٹ ہی فائنل ڈرافٹ سمجھا جاتا ہے۔

بہ ہر حال دو تین نمونے ہی اس بات کے ثبوت میں کافی رہنے چاہئیں کہ صغیر ملال افسانے کا ترجمہ کرتے ہوئے اصل متن سے بار بار ہٹ گئے۔ شاید انھوں نے ایسا اس لیے کیا کیوں کہ وہ عام طور پر ڈائجسٹ کے لیے ترجمہ کرتے تھے۔ ان کا ترجمہ شدہ افسانہ چاہے قرات میں کتنا ہی پرلطف ہو مگر اصل متن کی کماحقہ نمایندگی نہیں کرتا۔ اب اس ترجمے کے بارے میں کوئی قاری وہ تینوں فقرے استعمال کر سکتا ہے جن کی نشان دہی میں نے شروع میں کی کہ “یہ ترجمہ رواں دواں ہے”، “یہ ترجمہ، ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا” اور “یہ ترجمہ اصل سے بڑھ گیا”۔

لیکن کیا مترجم کو اس مداخلت کا حق ہونا بھی چاہیے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ کوئی تخلیق جیسی ہے اسے ویسا ہی پیش کر دیا جائے اور تخلیق کار کی تصحیح کرنے اور اس کی تخلیق کو “اصل سے بڑھا دینے” کی کوشش نہ کی جائے؟ کیوں کہ ایسی صورت میں ہم اصل تخلیق کار کو نہیں بل کہ اس کی ترجمانی کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اصل متن سے موازنہ کیے بغیر کیا ایسے مدحیہ فقرے استعمال کیے بھی جا سکتے ہیں، جن کا میں نے مضمون کے شروع میں ذکر کیا؟

میرے لیے تو ادبی ترجمے کا اولین امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اردو میں کچھ اوپرا اوپرا محسوس ہو۔ اس کے الفاظ، جملوں اور اسلوب میں کوئی نیا پن محسوس ہو۔ اگر برطانیہ کا پیٹر اور کولومبیا کا کارلوس بھی ارے صاحب، ارے حضرت جیسے الفاظ استعمال کر رہا ہے تو میں ترجمے کی صحت پر شک ضرور کرتا ہوں۔

کیا اردو کے دیگر تراجم میں بھی اصل متن کو سامنے رکھ کر ترجمے کے بجائے اپنے طور پر ترجمانی کی کوشش موجود ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ ترجمہ بہ طور تخلیق کتنا ہی اچھا ہو، اسے اصل تخلیق کا ترجمہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بجائے لفظی ترجمے میں کم از کم ہمیں اتنا تو اعتبار ہوتا ہے کہ ہم اصل متن ہی کا ترجمہ پڑھ رہے ہیں جس میں مترجم صرف ترجمہ کر رہا ہے اور اس نے ازخود ہی شریک مصنف کا کردار نہیں سنبھال لیا۔

بہتر ہوگا کہ ہم صابن خریدنے جائیں تو ہمیں صابن ہی ملے، صابن کا جھاگ نہیں۔

Categories
نان فکشن

عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے (آصف فرخی)

لالٹین پر یہ تحریر یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کی جا رہی ہے۔ یاسر حبیب “عالمی ادب کے اردو تراجم” نامی معروف فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ فیس بک صارفین تک تجربہ کار اور نوآموز مترجمین کا کام پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔

(ادب اور عالم گیریت کے حوالے سے چند ابتدائی خیالات)

اب سے دور، یہ اس زمانے کی بات ہے جب نام و ناموس کے ایسے سنگین مسائل پربھی شعراء کو زحمت دی جاتی تھی۔ نہیں معلوم کہ اس میں حقیقت کتنی ہے اورافسانہ کتنا، مگراس معاملے کا ذکر میں نے مولوی شبلی کے “شعرالعجم” میں دیکھا تھا۔ اس وقت میرے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ دراصل وہ مولانا محمد حسین آزاد کی “آبِ حیات” ہو یا مولوی شبلی نعمانی کی “شعرالعجم” میں نے پہلے پہل ادبی تنقید و تاریخ کی کتابیں سمجھ کر نہیں پڑھا۔ کیا سمجھ کر پڑھا، یہ بتانا مشکل ہے اور بتائے بغیر چارہ بھی نہیں۔ بہت دنوں بعد جب ڈی ایچ لارنس کی نوبت آئی اوراس کا وہ یادگار فقرہ پڑھا کہ یہ زندگی کی ایک شاندار اور روشن کتا ب ہے۔ تو جیسے ذہن میں چپک کررہ گیا۔ لارنس نے تو خیر یہ ناول کے لیے کہا تھا، مگرمیں سمجھتا ہوں کہ میں نے “آبِ حیات” اور “شعرالعجم” کو زندگی کی ایسی ہی شاندار کتابیں سمجھ کر پڑھا تھا۔ میں انتظار حسین نہیں کہ اس بناء پر ان معزّز و گراں قدر کتابوں کو ناول قرار دے ڈالوں لیکن ادبی تذکروں کو قصے کہانی والے تزک و احتشام سے پڑھ لینے کے نتیجے میں ایک مُستقل گڑ بڑ کا شکار ضرور ہوکر رہ گیا کہ افسانہ افسانہ اور تنقیدی مضمون در تنقیدی مضمون اس پیچاک سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈتا ہوں اور ہربار تھوڑا سا اور ٹوٹ کررہ جاتا ہوں۔ بہرکیف، میری یہ افتاد— کہ جہاں سے شہر کو دیکھتا ہوں اور شاعر کو بھی —کسی اور حوالے سے سہی، ابتداء ہی میں آڑے آگئی اور دِل کا چور نظروں کے سامنے ہی رہے تو اچھا ہے۔ ورنہ مطالعے کے وقت کمرے کی بتیاں بجھانے لگتا ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ دبے پاؤں یہ کون آیا۔

عالمگیر سے بھی پہلے شاہ جہاں کی جہاں بانی کا جو معاملہ سر دربار اُٹھا، اس کا حال میں نے مولوی شبلی کے الفاظ میں پڑھا کہ جب شہنشاہ روم نے شاہ جہاں کے نام پر ہی اعتراض جڑدیا کہ شاہجہاں کیسے، آپ ہندوستان کے بادشاہ ہیں سو یہی کہلوائیے۔ سارے جہاں پر آپ کا دعویٰ کہاں جائز ٹھہرا۔ اعتراض میں وزن تھا، بادشاہ کے دل کو بات لگ گئی، اور بات کیا لگی، نام و ناموس کی بن آئی۔ دربار کے شاعر ابو طالب کلیم نے اعتراض کا مسکت جواب دیا کہ شہنشاہ کے دل کی کلی کھُل اُٹھی اور وہ یہی جواب شہنشاہ روم کو بھجوا کر مطمئن ہوگئے۔ جواب یہ تھا کہ چوں کہ شہنشاہ ہند اور شاہجہاں کے اعداد برابر ہیں، اس لیے کوئی فرق نہیں پڑتا اگرایک کے بجائے دوسرا خطاب استعمال کیا جائے۔

شبلی نعمانی نے یہ نہیں بتایا کہ شاہجہاں کا یہ جواب جب معترض شہنشاہ کے دربار میں پہنچا تو وہاں اس کا کیا ردِ عمل ہوا۔ مگر شاہجہاں کے لیے غالباً بس اتنا ہی کافی تھا کا علم الاعداد کی رو سے شہنشاہ ہند برابر ہے شاہجہاں کے، لہٰذا ہندوستان کے شہنشاہ کو شاہجہاں کہنا جائز ہے۔ کلیم کے لیے حروف و الفاط کی برتری ایک اٹل اور ناقابل تردید دلیل تھی اور شاہجہاں کے لیے شاید اپنے شان و شوکت والے دربار سے ماورا اور غیر متعلق کسی اور جغرافیائی حقیقت کا ادراک غیر ضروری تھا بلکہ بڑی حد تک بےکار۔ مولوی شبلی نعمانی کی تمام تر جادو بیانی کے باوجود ہم اس سوال کا سامنا کس طرح کریں، اس Dilemma سے کیوں کرگزریں۔ تاریخ کے اس سارے تام جھام اور جھمیلے کے باوجود، میں یہ اعتراف بھی کرہی ڈالوں کہ مجھے اس تمام معاملے میں شاہجہاں سے ایک دبی دبی سی ہمدردی سی ہے اور شاید اس لیے محسوس بھی ہوتی ہے کہ میرے نزدیک اس کے جواب میں دلیل بودی رہ گئی ہے۔ جذباتی وابستگی کا اعتراف کسی قدر شرمندگی کے ساتھ اس لیے کررہا ہوں کہ دلیل سے بے دلیل ہوجانے کے باوجود ایسے معاملوں میں ہمارے رویّے کم و بیش وہی مغل اعظم کے سے ہیں۔ دنیا کے کسی کونے سے اعتراض اُٹھے، اس کو ٹھوکر ہم اسی رعونت کے ساتھ مارتے ہیں۔ مگرمیں سوچتا ہوں کہ یہ کیا محض ایک شاعر کی درباری بذلہ سنجی کی بات ہے اور ہم کُل جہاں کہہ کر اپنا دیس مُراد لینا چاہتے ہیں؟ اوراگریہ بات دُرست ہے تو پھر گلوبلائزیشن اور عالم گیر غلبے اوراس کے سامنے ادب کے کردار کی باتیں محض اصطلاحوں کا اُلٹ پھیر ہے۔ ایسے میں گھبرانے کی کیا بات ہے۔ رہیں گے وہی موچی کے موچی، باتی دنیا چاہے گاؤں بن جائے۔

میں سمجھتا ہوں کہ رعونت کے سامنے دلیل ٹھہرتی ہے اور نہ تشویش۔ اسی لیے عالم گیری کے خدشے کی بات کرتے ہوئے میں تشویش سے نہیں رویے سے شروع کروں گا۔ تشویش کے اظہار کے لیے ابھی تو پورا مضمون پڑا ہے۔ رویّے سے بات شروع کریں تو دروں بینی بھی کرسکتے ہیں اور خود احتسابی کی گنجائش بھی رہتی ہے، جس کا نتیجہ خود آگہی اور شعور کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے اور اگرمحض مبتلائے تشویش رہے تو فضا کو ماتم رنگ کردینے سے بڑھ کراور کیا کرسکیں گے کہ اس طرح جذبات بھی آسودہ خاطر ہوسکتے ہیں اور خطابت کی خواہش بھی پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔

یوں تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے لیکن جن اِکّا دُکّا مقامات پرایسے معاملوں کا ذکر نکلا ہے، ہماری تنقید اسی مخمصے کا شکار رہی ہے۔ دُنیا تو دو مخالف بلکہ متضاد بلاک کے درمیان بعدِ قُطبین یا Polarization کی پیدا کردہ “سرد جنگ” (Cold War) سے آگے نکل آئی مگرہمارے بہت سے نقّاد چوں کہ اسی ذہنی فضا کے پروردہ تھے، اس لیے وہ وہیں محوِ حیرت بنے کھڑے ہیں اور انہوں نے سرد جنگ کا سارا لفظی گولہ بارود اور Jargon، گلوبلائزیشن کے نام سے موجودہ صورتِ حال پر جاری کردیا کہ اس بہانے ایک جدلیاتی مناقشہ جاری رہے اور نظریے کا جواز نکلتا آئے۔ بغیر ہاتھ میں تلوار لیے، ہروقت لڑتے بھڑتے رہنا بہرحال، لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ضرور ہے۔ جس طرح “سردجنگ” ایک سیاسی اور بین الاقوامی ڈپلو میسی کا شاخسانہ تھی، اسی طرح عالم گیری کا یہ رحجان فی الاصل ایک معاشی Phenomenon ہے اوراس کے عواقب ونتائج کو سرد جنگ کے قطبین کی طرح اچھا اور بُرا کے دو خانوں میں نہ بانٹا جا سکتا ہے اور نہ اِن پرانی اصطلاحوں میں اس کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی معاملے کو ٹھنڈے دِل سے سمجھنے اوراس کے ادبی مضمرات پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا نام آتے ہی مُنہ میں کف لے آنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے، جو ہمارے بیش تر نقّادوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ انگریزی محاورے کے مطابق، حوض میں سے نہانے کا پانی پھینکنے کے ساتھ ساتھ نہلائے جانے والے بچّے کو بھی پھینک دیتے ہیں اورپھر بڑے فخر کے ساتھ سینہ پُھلا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گلو بلائزیشن جیسے معاملوں میں آپ کے پاس انتخاب کی آزادی موجود ہے!

جتنے منہ اتنی باتیں۔ سمیٹنے کو پوری ایک دُنیا اور ہزاروں طرح کے قصّے۔ گلو بلائزیشن کا معاملہ بھی عجیب ہے کہ ہم سب اس کی زد پرہیں، کسی نہ کسی شکل میں اس سے متاثر ہورہے ہیں، یہ چُپکے چُپکے ہماری زندگیوں میں سرایت کرکے اِن کے اندر تبدیلی برپا کرڈالتا ہے اور ہمیں پوری طرح اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ آخریہ ماجرا کیا ہے۔ اب تو اس کے بھی ماہرین اور اس میں اختصاص حاصل کرنے والے نمودار ہو گئے ہیں اور کچھ باور کرائے بغیر انہوں نے دفتروں کے دفتر لکھ ڈالے ہیں، لیکن فی الوقت مجھے تو گلوبلائزیشن کی عمومی اور مکتبی تعریف سے سروکارہے اورنہ اس کے خدوخال کا باریکی سے جائزہ مرتب کرنے سے دل چسپی، میں تو محض اتنا جاننا اور سمجھنا چاہتا ہوں کہ گلوبلائزیشن کے اس Phenomenon کے ثقافتی (بلکہ خصوصیت کے ساتھ، ادبی) مضمرات کیا ہیں، ان معاملات سے ادب کی نوعیت اور ماہیت پر بُرا بھلا کیا اثر مرتّب ہوسکتا ہے، پھراس بدلتی ہوئی صورت کے تئیں ادبی تنقید اور ادبی مطالعات کا کیا رویہ ہونا چاہیے اوران حالات میں میں تفہیم و تعیبر کی ادبی جستجو کا فریضئہ منصبی کیا ٹھہرتا ہے۔ مجھے خدشہ یہ ہے کہ اِن پیچیدہ معاملات کو خاطر خواہ حد تک سمجھے بغیر ہم ان کے بارے میں ایک جنگجویانہ اور مزاحمتی (Partisan) رویہ نہ اختیار کرلیں اورحکم صادر نہ کرنے لگیں کہ ادب کو کون سا رُخ اختیار کرنا چاہیے اور تنقید کے اونٹ کو کس کروٹ بیٹھنا چاہیے۔ گلوبلائزیشن کے حوالے سے ہمارے ہاں تنقید کی اگلی صفوں میں کہیں ہلکی پھلکی بے چینی سی اُٹھی بھی ہے تو اس کا محور یہ سوال بن گیا ہے کہ ادب کو کیسا ہونا چاہیے اوران حالات میں ادیب کو کیا لکھنا چاہیے۔ گلوبلائزیشن کے ہوّے سے زیادہ خوف مجھے ادب کے فریضے کی اس نشاندہی سے آتا ہے کہ ادب ایک بار پھر کسی ہدایت نامے کا تابع مہمل بن کر نہ رہ جائے۔ گلو بلائزیشن اگرآزادی اور انتخاب کا معاملہ ہے تو اپنی راہیں اوردریچے کھُلے رکھنے کا یہ حق ادیب کے پاس بھی ہونا چاہیے، ساری دُنیا کا انتخاب۔۔۔۔ فیصلے کے لیے پوری دُنیا۔

ہمارے نقّادوں کو گلوبلائزیشن کے بارے میں نیم رُخ سے دیکھ کر عُجلت میں فیصلہ صادر کرنے کے لیے سہولت کچھ اس وجہ سے بھی میسر آئی ہے کہ یہ سارا معاملہ اپنی اساس میں معاشی ہے، اوراس کے تاثرات کا جائزہ تیار کرتے ہوئے معاشی اصطلاحوں میں گفتگو ناگزیر۔ لیکن یہ گفتگو تمام تران اصطلاحوں پر کاربند نہیں رہ سکتی۔ گلوبلائزیشن میں آخر ایسی کیا طاقت ہے کہ پوری دنیا ایک مٹھی میں بند ہوئی جارہی ہے اوراس کے باسیوں کے لیے سانس لینا دشوار، اس طاقت کی گہرائی کو سمجھنے کےلیے بین الاقوامی تجارتی پالیسی، تجارتی منڈیوں کے رحجانات اوراُتار چڑھاؤ، افرادی قوت اور اجناس کی ترسیل، ملٹی نیشنل اور ٹرانس کارپوریشنز، دور دراز واقع تجارتی مراکز اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والی اس صورتِ حال کو مدِ نظر رکھنا ہوگا جو گلوبلائزیشن کے فروغ کا سبب بنتی ہے، لیکن ان سے آگے بھی دیکھنا ہوگا۔ گلوبلائزیشن کے بارے میں ایک مختصر، تعارفی کتاب میں مینفریڈ اسٹیگر (Manfred Streger) نے اپنے مطالعے کی بنیاد اس بنیادی اندازے پررکھی ہے کہ گلوبلائزیشن کو سماجی سلسلوں کا ایسا کثیر الجہاتی مجموعہ سمجھا جائے جو کسی ایک موضوعاتی ڈھانچے کا پابند رہنے سے گریزاں ہے اوراسی وجہ سے گلوبلائزیشن میں پنہاں تغیر و تبدیلی کی طاقت، موجودہ سماجی زندگی کے معاشی، سماجی، ٹیکنولوجیکل، ماحولیاتی ابعاد کے ساتھ ساتھ ثقافتی جہت پربھی گہرائی کے ساتھ اثراندازہوتی ہے۔ ایک ابتدائی مطالعے کے طورپر یہ کشادگی اور کھُلے ذہن کا یہ رویہ ہمارے لیے مفید ہوگا۔ ورنہ جہاں تک تعریف متّعین کرنے کی بات ہے تو میری نظرمیں گلوبلائزیشن کی سب سے مکمل وضاحت غالب نے کی ہے – عالم تمام حلقئہ دامِ خیال ہے۔

غالب کے آپ طرف دار ہی کیوں نہ ہوں، گلوبلائزیشن کی مشکلات ایک ڈھیلی ڈھالی اور عارضی سی تعریف متعین کردینے سے بھلا کہیں کم ہوسکتی ہیں؟ متبادل نام وضع کرنے کی کوشش کے ساتھ ہی مشکلات کا اگلا مرحلہ سامنے آتا ہے — گلوبلائزیشن کا مفہوم مختلف لوگوں کے لیے بھلے ہی الگ الگ معنی اور تعبیریں کیوں نہ رکھتا ہو، اس پرسبھی متفق ہیں کہ یہ زندگیوں کو بدل کررکھ دے گا- –کسی اور کی نہیں، ہماری زندگی، ہمارے جیسے لوگوں کی معمولی، بظاہر بے قیمت زندگی جو تبدیلی کے اس برق رفتار اور ہمہ گیر عمل کے لیے خام مواد ہے۔ لہٰذا گلوبلائزیشن کی تعریف وضع کرنے کی ہرکوشش، اس کی تعریف اور نفسِ مضمون کا ایک حصہ ہے۔ گویا یہ کہانی آگے بڑھتی ہے تو اپنے بیان کیے جانے کی ہر کوشش کے اپنے اندر شمولیت کے امکان کے ساتھ۔ اسٹیگر نے اپنی کتاب میں یہ صراحت دیباچے میں ہی کردی ہے، اوراسی لیے مجھے یہ نُکتہ اس تعارفی کتاب کی افادیت میں اہم ترمعلوم ہوتا ہے (متنِ کتاب کے آغاز سے زیادہ مفید، جہاں ابتداء ہی ہوتی ہے اسامہ بن لادن کے ردِ تشکیل (De-constuction) سے یعنی سرمنڈاتے ہی اولے پڑے۔ اوراولے بھی “الجزیرہ نیٹ ورک” کے ٹی وی چینل سے۔ کیا تنقید کے لیے اب اصل حقیقت Virtual Reality ہی ہوگی؟ یہ تعارفی کتاب اس سوال کو حل کرنے میں زیادہ مدد نہیں کرتی، اس لیے میں اس نکتے کو نوٹ کرنے کے بعد میں اسے خیرباد کہہ سکتا ہوں جہاں سے میں نے شروع کیا تھا:
“Globalization contains important discursive aspect in the form of ideologically charged narratives that put before the public a particular agenda of topics for discussion, questions to ask, and claims to make. The existence of these narratives shows that globalization is not merely on objective process, but also a plethora of stories that define, describe, and analyze that very process. The Social forces behind these competing accounts of globalization seek to endow this relatively new buzzword with norms, values, and meanings that not only legitimate and advance specific power interests, but also shape the personal and collective identities of billions of people…”

پڑھتے پڑھتے میں یہاں پہنچ کر رُک جاتا ہوں۔ یہ آئیڈیالوجی کی دہلیز ہے، میں اس مقام کو ٹٹول کر پہچان سکتا ہوں اوراس مقامِ سخت کی وضاحت کے لیے مجھے تعارف نامے کی نہیں، اس میدان کے شہسوار سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے اوراس میں اعجاز احمد کی کتاب کھول کراس کے بھاری بھرکم مقالات کے آخر میں دبی ہوئی ایک مربوط اور قدرے زیادہ کھُلی گفتگو کی طرف دیکھتا ہوں جن میں ایک اچٹتا ہوا حوالہ اس معاملے کا بھی آتا ہے۔ یہ اعجاز احمد کے ادبی مقالات کا مجموعہ نہیں، جس میں فکر سے زیادہ زبانِ مکتب کی پابندی مجھے سہما کر رکھ دیتی ہے، بلکہ سیاسی افکار کا مجموعہ Lineages of the Present ہے۔ جس کو رعب کے مارے اور بھی زیادہ عقیدت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ “سیاسی طورپر دُرست” (Politically Comect) لوگوں میں شمارکیا جاؤں اورجن باتوں کو سمجھنے کی خود اہلیت نہیں رکھتا، ان کے بارے میں مُستند نظرآؤں۔ ثقافت، قوم پرستی اور دانش وروں کے عنوان کے تحت گفتگو کرتے ہوئے وہ ایک سوال کے جواب میں دو ٹوک انداز سے کہہ دیتے ہیں کہ گلوبلائزیشن کا لفظ ہی حد درجے نظریاتی ہے۔ سوتو ہے اوراب بھی اگر واضح نہ ہوا تو پھر کیا بات کیا ہوئی اس لمحہ موجود کے بارے میں، جسے صاحب مکالمہ نے Current historical conjecture کے بھاری بھرکم خطاب سے یاد کیا ہے، اعجاز احمدکا یہ مؤقف بالکل درست ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے (Collapse) کے بعد سے ایک ہی نظام عالمی پیمانے کے لیے رہ گیا ہے، وہ ہے imperialist capital اور باقی ساری دنیا کے لیے عافیت اسی میں ہے کہ اس کو قبول کرلے، اعجاز احمد گلوبلائزیشن کے یک لفظی استعمال میں پنہاں دھمکی کو بے نقاب کر دیتے ہیں اوراس کے ساتھ ان تمام لوگوں کو بھی جو گلوبلائزیشن کے نام پر خوشی کے شادیانے بجانے لگتے ہیں۔ ہم چوں کہ اس کی فیوض و برکات کے مارے ہوئے لوگ ہیں، اوردریا کے بہاؤ کے ساتھ بہے چلے جارہے ہیں، توہم بھی “ہزماسٹرز وائس” کے موجب یہی راگ الاپنے لگے ہیں۔ ہمارے جیسے لوگوں کے لیے عالم گیر تبدیلیوں کا یہ امکان بڑی حد تک ناگزیر ہے تو اس عمل کے موئدین جمہوریت، فری مارکیٹ اور انفارمیشن ٹیکنولوجی کے بے پناہ فروغ کے گُن گاتے ہیں مگرہمیں اندیشہ ہے تو اس عمل کے قلب میں واقع انسانی جوہر سے جو محابا قوتوں کے دباؤ میں آکر مٹ بھی سکتا ہے۔ ادب کی اساس ہے تو اسی جوہر سے، جو دلائل کے زورو شور میں کہیں فراموش ہوکر رہ جاتا ہے۔ خود اعجاز احمد کے یہاں یہی صورتِ حال درپیش آتی ہے جب وہ اس اصطلاح کو یوں کھولتے ہیں:
“…. The term (globalization) refers to tremendous mobility of capital and commodities, the increased role of export/import trade in national accounts, the power of communicational and transport technologies with unparalleled global reach, the enormous power of finance capital and speculation over and above industrial capital across national frontiers, the ability of new and centrally produced cultural commodities to bypass national apparatuses of education and information through telecasting and information highways, the rise of production and management systems in which the production process itself can be fragmented and located in different countries and/or quickly moved from one to the other, and so on.”

اس اقتباس میں زبان بھی قابلِ توجہ ہے – عجیب طرح سے ناموس اور چمک دار تصورات کی بھرمارےسے چکاچوند کردینے والی – ہم یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ تعریف وضع کرنے کی ہرکوشش بھی اسی تعریف کے اجزاء میں شامل ہے، یعنی عناصر میں ظہورِ ترتیب عین داستان ہے۔

گلوبلائزیشن کے لفظی مضمرات بیان کرتے ہوئے اعجاز احمد نے تیسری نشان دہی، استعمار کی نئی شکل کے بارے میں کی ہے کہ یہ اصطلاح اس بات کو بھی پردہ اخفا میں رکھے ہوئے ہے کہ مٹھّی بھر ادارے – اعجاز احمد نے اپنی ناقابلِ تقلید طلاقتِ لسانی میں انہیں “ Imperialist institutional arrangements” قراردیا ہے۔ جیسے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، جی اے ٹی ٹی وغرہ ہم ہمارے جیسے بے دست و پا ممالک میں قومی پالیسیاں مُتعین کررہے ہیں۔ اعجاز صاحب نے اس کی مزید وضاحت ضروری نہیں سمجھی لیکن بات واضح ہے کہ پالیسی بنانے کے قومی عمل میں کم زوری اور اندرونِ ملک سیاسی عمل کے نڈھال ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان دیوآسا اور دور سے پہچانے جانے والے اداروں کو کھُل کھیلنے کی چھوٹ مل جاتی ہے بلکہ خالصتاً تجارتی و منفعت بخش مقاصد کے لیے کام کرنے والی ملٹی نیشنل کارپوریشنز کو بھی کھُلم کھلا اجازت مل جاتی ہے کہ دستور، قوانین و روایات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں اورجب جی چاہے توڑ مروڑ بھی لیں کہ سیّاں بھئے کوتوال، اب ڈرکا ہے کا۔ جس چوتھے عنصر کی طرف اشارہ اعجاز احمد نے کیا ہے، وہ بھی اس سے مُنسلک ہے، اور وہ ہے کہ تمام تر پروڈکشن میں سرمایہ داری سرایت کرجائے گی اوریوں عالمی منڈی کی معیشت حاوی ہوتی جائے گی۔ سواب یہی رنگ ڈھنگ ہے دُنیا کا، اورہمارے لیے یہ حکم کہ جو یہ دِکھلائے سونا چار دیکھنا۔

دُنیا کا رنگ ڈھنگ رہے سورہے، اس بڑھیا کی طرح جس نےراجہ کے محل کے گرنے کی خبرسُنتے ہی اپنے برتن بھانڈے سنبھالنے شروع کردیے تھے، ہمیں تویہ فکر لاحق ہے کہ ان اندھی اور بے محابا طاقتوں کی زرپرآئی ہوئی دُنیا میں ادب کا نقشہ کیا رہے گا۔ مگرکوئی اس سوال کا جواب بھی کیسے دے کہ نہ تو ہمارے پاس بلوریں گیند ہے اور نہ جام جم کہ مُستقبل کا احوال بیان کرسکیں۔ ہم اپنے لمحہ موجود کا نقشہ بھی سمجھ سکیں تو ہمارے لیے یہ بہت ہے کہ اس کی اپنی مشکلات بھی کم نہیں اور ذراسی بات پر ہم حال سے بے حال ہوسکتےہیں۔ ایسی کسی صورتِ حال کا ادب پرکیا اثر مرتّب ہوگا، اس کے بارے میں اندازہ لگانا یوں اوربھی مشکل ہے کہ ادب کو براہِ راست ایسے کسی Phenomenon کا نتیجہ قرار دینا گویا ہردور میں Cause اور Effect کا رشتہ ہے، ایسی سیدھی بات بھی نہیں ہے۔ گلوبلائزیشن سے جو تبدیلیاں متّوقع ہیں، ان میں سب سے بڑی تبدیلی، ایک اندازے کے مطابق، لوگوں کے خیالات اورخوابوں میں ہے۔ یہ اندازے ظاہرہے کہ گلوبلائزیشن کے حامی ہی لکھتے ہیں۔ خیالات کی تبدیلی سے پہلے ہمیں لوگوں کے مطالعے میں تبدیلی نظرآنا شروع ہوئی ہے۔ تبدیلی کی یہ شکل اس طورنظرآتی ہے کہ ایک اہم کتاب دنیا کے ایک کونے میں لکھی جاتی ہے تو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ دوسری زبانوں اور دوسرے ملکوں میں پہنچ جاتی ہے۔ لاطینی امریکا میں تخلیق ہونے والا ناول – مارکیز، فیونتیسس، ماریوبرگس یوسا جس کے اہم اور مستند نام ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ساری دُنیا میں پڑھا جاتا ہے، حد تو یہ ہے کہ اُردو کے نقّاد بھی اس سے آنکھیں چُرا نہیں سکتے۔ یہ عمل بھی مارکیٹ اکانومی کی شرائط سے آزاد نہیں اور تجارتی مقاصد ادب کو بھی یکے از اشیائے صرف تبدیل کرکے اس کے Commodification کی کوشش کرتے ہیں اور میڈیا اپنے مقاصد کے لیے ادب کو بھی خام مواد کے طورپر برتنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوتا نظرآرہا ہے۔ لیکن جو چیز ہمیں پہلے پہل دلکش معلوم ہوتی ہے، وہ اہم ادب کا بڑھتا ہوا دائرہ کارہے کہ وہ اپنی زبان اور ملک کے علاوہ عالم گیر شہرت بھی رکھ سکتا ہے۔ یہاں مناسب ہوگا کہ شہرت و اثر بلکہ فروخت کے اس دائرے کو اس پُرانے تصّور سے الگ کرکے دیکھا جائے جسے گوئٹے نے “عالمی ادب” (Weltliteratur) قراردیا تھا، جو اس کے تصور کے مطابق ایک آفاقی صورت تھی اور قومی و ملکی ادبیات کے چھوٹے چھوٹے دائرے اس میں ضم ہوکرایک بڑے کُل کا حصہ بن گئے تھے۔

عالمی پیمانے پر مصنوعات کے اس فروغ کو (جس میں ادب کے بھی شامل ہوکر محض ایک خریدی جانے والی چیز بن جانے کا خطرہ بڑی حد تک قرینِ قیاس ہے) بعض تجزیہ نگاروں نے Disneyfication or Mc Donaldization کے دِل چسپ مگر عبرت خیز ناموں سے پکارا ہے کہ یہ رُحجانات ایک ایسی صورت کی طرف لیے جارے ہیں جہاں سبھی ایک جیسے کپڑے پہنیں گے (جینز) ایک چیز کھانے کھائیں گے ( پیتزا اور برگر)، ایک جیسی فلمیں دیکھیں گے (والٹ ڈزنی، ہالی وڈ) ایک جیسی موسیقی پر تھرکیں گے اور جھومیں گے (پاپ میوزک) اورپھر ایک جیسی کتابیں پڑھنے لگیں گے اوروہ بھی ایک ہی زبان میں۔ گلوبلائزیشن کا یہ ایجنڈا ظاہر ہے کہ امریکا بہادر طے کرے گا، اسی لیے بعض تجزیہ نگاروں نے گلوبلائزیشن کو فی الاصل “امریکنائزیشن” قراردیا ہے۔

مستقبلِ قریب کی اس یک رنگی کے راستے میں جو رکاوٹ ہے، اسے بعض تجزیہ نگاروں نے دو مختلف رحجانات کے درمیان ایک کشمکش کے طورپر دیکھا ہے۔ گلوبلائزیشن کے مقبول عام نظریہ سازوں میں سے ایک مقبول ترنام ( یہ کام بھی اب ایک کاٹیج انڈسٹری کی حیثیت اختیار کرگیا ہے) بنجمن باربر (Benjamin Barber) کا ہے جنہوں نے ان دو مخالف عناصر میں سے پہلے کو “جہاد” کا نام دیا ہے اور دوسرے کو “میک ورلڈ” (Mc World) کا۔ جہاد کا لفظ اب اپنے انگریزی استعمال میں ایک خالص سیاسی معنویت اختیار کرگیا ہے مگرباربر نے اس سے مراد لی ہیں روایتی اقدار اور محض اسلام ہی ہیں بلکہ ہروہ تحریک جس کے مرکز میں روایت موجود ہے اورجو گلوبلائزیشن کی اس یورش کی مخالف ہے جسے وہ میک ورلڈ کہہ کر پکارتا ہے اور جو گلوبلائزیشن کی “سیاست دشمن صفت” ہے، جس کے دائرہِ انتظام و انصرام میں صرف چیزوں کا ہی نہیں لوگوں کا انتظام بھی اہمیت رکھتا ہے اورجس میں باربر کو یہ مثبت پہلو نظرآتا ہے کہ مارکیٹ کی قوتیں آخرکار امن و استحکام کو فروغ دیتی ہیں، فرقہ واریت و عصبیت اور جنگ کی دشمن ہیں۔ باربر کا یہ تجزیہ گلوبلائزیشن کے حامیوں کو پسند آتا ہے، بس اس میں قباحت یہ ہے کہ یہ ایڈورڈ سعید کے الفاظ میں، بہت Sweeping ہے۔ ایڈورڈ سعید نے اپنے ایک لیکچر میں یہ نکتہ بھی اُٹھایا ہے کہ عربی نہ جاننے کی وجہ سے ایسے تجزیہ نگار یہ نہیں سمجھ سکتے کہ “اجتہاد” کی اصل بھی وہی ہے جو آجکل مغرب کے بدنام لفظ “جہاد” کی ہے اور جہاد کا تعلق حق اور روحانیت سے بھی ہے۔ لفظوں کے استعمال میں غلط فہمی اور اصل معنویت تک رسائی، یہ ہے اسلامی ممالک اور یوروپ و امریکا کی سیاسی برتری کے خواب کے درمیان اس کشمکش کی جڑ جس نے آج ہماری دنیا کو ایک عالم گیر خطرے سے دوچار کیا ہوا ہے، اور جو گلوبلائزیشن کو فوراً سمجھ میں آنے والی شکل ہے، جس سے ہم سبھی واقف ہوچکے ہیں کہ اس سے ہمیں آج کے تیز رفتار میڈیا نے واقف کرایا ہے۔

یہاں تو ٹھیک، لیکن اب اس سے آگے جاکر دیکھنا چاہیے۔ بڑے بڑےمعاشروں پر اثرات (جن کی شکل سیاسی اور معاشی ہے) سے آگے بڑھ کر میں افراد اور انفرادی زندگیوں پران کے اثرات کو سمجھنا چاہتا ہوں جو ادب کا موضوع بھی ہیں اور محرک بھی۔ انفارمیشن کے بے تحاشا چینلز کھُل جانے اور میڈیا کی بھرمارنے انفرادی شناخت کی فصیلوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ وہ گروہ مذہبی ہوں یا ثقافتی، اِن کی بنیاد عقیدے پر ہویا بولی جانے والی زبان، پر، ان سے وابستگی اور پیوستگی اب اتنے مضبوط رشتے نہیں رہے۔ مارکیٹ اکانومی کی قوتیں ان کو اپنے تُند بہاؤ میں ساتھ لیے جاتی ہیں۔ اپنے فطری ماحول سے جُڑے رہنے اور نت نئے شناخت نامے تخلیق کرتے ہوئے رشتے ناتوں کی بھی اپنی ایک کہانی ہے۔ ماحول کے ساتھ ساتھ رشتے ناتے بھی بدل رہے ہیں۔ تعلق کی شکلیں بھی اور خود ماحول کے دوسرے اجزاء بھی۔ نئے سماجی Process سے متاثر ہوکر تبدیل ہونے والے سماجی منظر کی الگ ایک کہانی ہے۔ یہ کہانی سماج میں بھی جاری ہے اوراس سماج کے مرکز میں موجود آدمی کے باطن میں بھی۔ اسی کہانی سے گلوبلائزیشن کا عمل ادب کا موضوع بنتا ہے اور افسانوں کو جنم دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اگردیکھا جائے تو جوں جوں گلوبلائزیشن کا یہ عمل تیز ترہوتا جائے گا، کہان کی افادیت بڑھتی جائے گی کہ لوگ اس میں اپنی باقی ماندہ زندگیوں کی معنویت بھی تلاش کریں گے اور کہانی کے تاروپود میں اپنے سماجی تفاعل اور ثقافتی ورثے کے وہ حصے بھی محفوظ کریں گے جو ان کو قابل قدر معلوم ہوں گے۔ گلوبلائزیشن کا یہ عمل ساری دُنیا کو ایک کیوں نہ کردے، کہانی کی گنجائش اپنی جگہ باقی رہے گی۔

اس عالم گیرافسانے میں ہماری اپنی کہانی کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا اردو افسانہ شناخت و کشمکش کا یہ بار اُٹھا سکے گا؟ کیا اس کشمکش کو اپنے اندر منعکس کرسکے گا؟ گلوبلائزیشن کی یلغار میں آدمی پر جو کچھ گزرے گی، حالات و واقعات جس طرح فرد کی سائیکی پراثرانداز ہوں گے، اس کے پیکر تراش سکے گا؟ آج ہمارے افسانے کو اس عہد کے تخیلقی چیلنج کا سامنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس تخلیقی ذمہ داری سے کس طرح عہدہ برآہوتا ہے۔

اس تخلیقی ذمہ داری کی عکاسی کے حوالے سے مجھے افسانے کے بعد اُردو کی جو ادبی صنف اہم معلوم ہوتی ہے، وہ غزل ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ غزل کے دو مصرعے اپنے اندر جہانِ معنی کو سمیٹ لیتے ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ مارکیٹ اکانومی اور ذرائع ابلاغ کی یلغار جیسی غیرشخصی قوتیں جوں جوں لوگوں کی تقدیروں پراثرانداز ہونے لگیں گی، کلاسیکی روایت کی پاس داری میں بجائے خود ایک قدر اوراپنی اپنی ریزہ خیالی کے اظہار کے لیے ایک ادبی پیکر کی ضرورت کا احساس بڑھتا جائے گا۔ غزل کی صنف دونوں صورتوں میں ایک مفید اور معنی خیز صنف معلوم ہوگی۔ صرف یہی نہیں کہ غزل کا شعری استعمال بڑھتا جائے گا بلکہ غزل کی ضرورت بھی بڑھتی جائے گی۔ لیکن یہ لازمی نہیں کہ غزل کی ضرورت کا یہ بڑھتا ہوا احساس ادب میں بھی ڈھل جائے۔ شاعروں کی بڑھتی ہوئی تعداد، شاعری کے معیار کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ اچھی شاعری اب بھی اسی قدر دشوار اوراتنی ہی کم یاب ہے جتنی کی متقدمین اور متوسطین کے دورمیں تھی۔ کلاسیکی روایت سے دوری، فنی ریاضت میں کمی اور زبان کے پھوہڑ استعمال کے سبب یہ بھی عین ممکن ہے کہ فراوانی کے باوجود یہ شاعری وہ درجہ نہ حاصل کرسکے جس پراس کے شیدائی اسے فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہوا کہ شاعری میں ہُنر مندی کے بجائے لپّاڈگی نظرآنے لگے۔ ہمارے دورمیں ظفراقبال کی شاعری کے ان گھڑ مقّلدین کا سیلاب ایسے بہت سے خطروں کی جانب اشارہ کررہا ہے۔

غزل کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن اس صنف کی افادیت اور معنویت کو بار بار کھنگالنے اور اس کی تفہیم و تعبیر کرتے رہنے کی ضرورت بھی مسلسل رہے گی۔ اسی طرح افسانے کو بھی ہمیں ایسے ہی معیاروں سے جانچنا ہوگا جو نقادوں کی دادو تحسین کے شعور کے باوجود، سطحی، یک رُخی اور سپاٹ نہیں ہوں گے۔ اب یہ کافی نہیں کہ سینے فخر سے پھُلا کر بلند وبانگ اعلان کیے جائیں (جس طرح ہمارے ناقدینِ کرام کرتے آئے ہیں) کہ اب اُردو افسانہ “عالمی سطح” پر (جو کچھ بھی وہ ہوتی ہے) پہنچ گیا ہے۔ نقادوں کی ناواقفیت کے علاوہ، یہ عالمی سطح جس چیز کا Euphemism ہے، وہ اپنی اصل میں کس قدر ہولناک ہوسکتی ہے، اس کا کچھ اندازہ گلوبلائزیشن پراس ابتدائی گفتگو سے بھی ہوسکتا ہے، جس کا دائرہ فی الوقت محدود ہے۔ مزید برآں، اس “عالمی سطح” (اگریہ کوئی مرئی وجود رکھتی ہے) تک رسائی، وہ محاورے والی دھیّا چھونے کی طرح محض ایک بار کا عمل تو نہ ہوگا۔ اس “سطح” تک پہنچ کر یہاں کسی Sustained Performance کی توقع بھی ہے اوراُردو افسانے کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایسی کسی کارفرمائی کے آثار مشکل سے ہی نظرآتے ہیں۔

افسانے اور غزل کا نام لیتے رہنے سے گلو بلائزیشن کا عُقدہ حل نہیں ہوتا نظرآتا۔ ادب کی مخصوص اصناف ایک طرف، رحجانات کا یہ دائرہ چند ایک زبانوں کے اندر دُنیا کی اکثر و بیش تر زبانوں کو سمو لینے پرکارفرما نظرآتا ہے کہ ایک عالمی معیشت کے لیے ایک عالمی کلچر اوراس کلچر کی ایک عالم گیرزبان۔۔۔۔۔ اور ادب کو اس صورتِ حال سے سمجھوتا کرکے رہنا ہوگا۔ گلوبلائزیشن کے اندر خطرے اس وقت مُضمر ہیں کہ ادب کو پہنچنے والی ممکنہ گزند کی طرف کم ہی تجزیہ نگاروں کا دھیان جاتا ہے۔ وہ تھامس فریڈ مین جیسے گلوبلائزیشن کا جشن منانے والے مُبصّر ہوں یا جارج سوفرز جیسے سیاسی و معاشی تجزیہ نگار، ان کے یہاں گلوبلائزیشن ایک دوسرے پراثرانداز ہونے والے مختلف عناصر و معاملات کے ایک انتہائی مظہر کے طورپر سامنے آتا ہے جس کے اثرات کا جدول بنانے سے پہلے اسے ادراک و احساس کا حصہ بنانا ہوگا اور یہ کام ہماری زبان و تہذیب کے منطقے میں ابھی ڈھنگ سے آغاز بھی نہیں ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ Phenomenon اس وقت کا انتظار نہیں کریں گے کہ جب تک ہمیں انہیں سمجھنا شروع کریں۔ اس سے پہلے کہ ہمیں یہ مہلت ملے، یہ ہمیں اپنے تصّرف میں لا چکے ہوں گے۔ ایسی صورتِ حال میں ہم کیا لائحہ عمل اختیارکرسکتے ہیں، زبان و ادیب کیا کرسکتے ہیں اوراس سوال کے پس منظر میں ایک اور سوال کہ ادیب کو آخرکیا کرنا چاہیے۔

تمام نا ممکن سوالوں کی طرح یہ سوال بھی بظاہر بہت سادہ ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسے ہی سوالوں کا جواب تلاش کرنے میں ہماری زندگی بیت جائے گی اور عمر بھر کی ریاضت کے بعد بھی ہم اس سوال کے حل کے قریب تک نہیں پھٹکیں گے۔ یہ سوال ہی ہمارا مقّدر ہیں۔ بہرحال، اس سوال پر جو بات فوری طورپر میرے ذہن میں آتی ہے وہ یورپ کی گرین پارٹی نامی سیاسی جماعت کا نعرہ ہے۔
Think globally, act locally

اس نعرے پر مجھے اپنے بہت پسندیدہ افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی کی ایک بات یاد آرہی ہے جو انہوں نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہی تھی۔ بیدی گلوبلائزیشن کی اس روش سے پہلے کے لکھنے والے تھے مگران کی بات آج بھی برمحل اس لیے معلوم ہوتی ہے کہ اُردو کے ثقہ نقّادوں کے برخلاف وہ اپنے کلیدی مضمون “افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل” میں “عالمی سطح” اوراس تک رسائی پر داد کے ڈونگرے برسانے کے بجائے “عالمی پیمانے” کو حوالہ بناتے ہیں۔ مغرب لکھے جانے والے افسانے سے استفادہ کرنے میں کوئی عارنہ ہونےکا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

“افسانے کے فن کو چھوڑیے، کسی بھی فن کو جانچنے، پرکھنے کے لییے عالمی پیمانے پراسے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کوئی علاحدگی (Isolation) نہیں ہیں، ملکوں اور قوموں کی حدیں نہیں ہیں۔ بہ شرطے کہ آپ منٹو کو موپساں اور مجھے چیخوف کے نام سے نہ پکارنےلگیں۔۔۔۔۔”

یہ یقیناً ممتاز شیریں ایسے نقادوں پرچوٹ ہے لیکن بیدی کے اس بیان میں ہم دبے پاؤں گلوبلائزیشن کی دہلیز تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ایک حل تجویز کیا ہے۔ یونس اگاسکر اور دوسرے ادیبوں سے گفتگو (مشمولہ “باقیاتِ بیدی”) کرتے ہوئے وہ بالکل غیررسمی انداز میں اس موضوع کی طرف آتے ہیں:

“اثر قبول کرتے ہیں بھئی،ا وراثر قبول کیوں نہ کریں۔ اثر قبول کرنا بھی چاہیے بین الاقوامی ادب کا۔ انگریزی میں کہتے ہیں:
Art has got to be international in form and national in content.

تو فارم آپ کہیں سے بھی لیجیے وہ نقّالی نہیں ہوگی بلکہ آپ کو لینی چاہیے۔ ڈرما کیسے لکھنا ہے، یہ شیکسپیئر کو پڑھے بغیر جاننا ممکن نہیں ہے۔ فارم آپ لیجیے لیکن Content آپ کا اپنا ہو۔۔۔۔”

بیدی کی یہ ذہنی کشادگی مجھے بہت اہم معلوم ہوتی ہے اور بجائے خود ایک جواب، اگرچہ اس سے ایک اور سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا فارم اور Content، ہیئت اور مواد میں اس طرح تفریق کی جا سکتی ہے اور کیا ایک کے اندر دوسرا مُضمر نہیں ہے؟ ایک عُنصر کے دوسرے سے نمودار ہونے کے اس مسلسل عمل کو شاید ہمیں اب ازسرِ نو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ سوال ہو یا اس جیسا کوئی اور، سارے سوال بہت گھمبیر ہیں۔ لیکن لکھنے والا ان پر بساط بھر غور کرنے کے علاوہ اورکربھی کیا سکتا ہے؟ میرے حساب سے تو یہی غنیمت ہے۔ ادیب کے فرض ِ منصبی کی بات کرتے ہوئے میں اسی کو بہت سمجھتا ہوں۔ کسی بھی ادیب کا فرض اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ اپنے تجربے کی بنیاد پرزندگی کی حقیقتوں کو بیان کرے اوراپنے ضمیر کی آواز کے تحت لائحہ عمل اختیار کرے۔ لکھنے والے کا کام بس اتنا ہے اور یہ اتنا بھی بہت۔ اس سے بڑھ کر کوئی حکم لگانےیا فیصلہ صادر کرنے کا مجاز کوئی نہیں، سوائے خود اس ایک ادیب کے جو اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے لیے فکرو عمل کا مؤقف اختیار کرے۔ یہ روّیہ ایک فرد کی حیثیت میں ادیب کا اختیار ہے لیکن جہاں تک ادیب(اور یہاں مجھے اصطلاحی معنوں والے ‘دانش ور’ کا نام لینا چاہیے) کے اجتماعی اور پبلک رول کی بات آئے گی، اس کے لیے میں ایڈورڈ سعید کا حوالہ دینے پر اکتفا کروں گا۔ ایڈورڈ سعید کا حوالہ یوں بھی برمحل ہے کہ وہ وجودی صورتِ حال میں براہِ راست سیاسی مداخلت کے نظر انداز کیے جانے کو مُضر بلکہ بلکہ مُہلک سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک ہم میں سے ہرایک اپنے اپنے طورعالمی نظام کا خاکہ یا سمجھ بوجھ لیے گھومتا رہتا ہے لیکن اس سے براہِ راست آمنا سامنا ہونے پرہی کشمکش، دارو رسن کی آزمائش بنتی ہے اورفتح کے آثار نمایاں ہوتے نظرآتے ہیں۔ اپنی مختصر سی مگربڑی بلیغ آخری کتاب Humanism and Demoratic Criticism کے آخری خطبے میں وہ جدوجہد کی وہ تین مثالیں پیش کرتا ہے۔

پہلی جدو جہد ماضی کو محفوظ کرنے کے لیے ہے۔ تیز رفتار تبدیلی، روایت کی ازسرِ نو تشکیل اور تاریخ کو بدل کراپنی پسند کے مطابق ڈھال لینے کی کوششوں کے برخلاف ماضی کو محفوظ رکھنےاوراسے غائب ہونے سے بچانے کی جدو جہد کا سلسلہ وہ “جہاد” اور “میک ورلڈ” کی دو طرفہ مخاصمت سے جوڑ دیتا ہے۔ اس نے لکھا ہے:

The intellectual’s role is to present alternative narratives and other perspectives on history than those provided by combatants on behalf of official memory and national identity and mission.

ماضی کی بازیافت معاصر اُردو افسانے میں ایک معتبر حوالہ بن کر کارفرما رہی ہے جس میں قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین کے نام فوراً ذہن میں آتے ہیں کہ یہ روّیے ان سے منسوب رہے ہیں۔ قرۃ العین حیدر کی فنی دل چسپیوں کا دائرہ خاصا وسیع ہے لیکن خاص طورپر انتظار حسین کے ہاں ماضی کے ایک مترادف اورآزاد خیال بیانیے کے طورپر اُبھرسکنے کا امکان ایک انکشاف بن کر سامنے آتا ہے اوریہ انکشاف افسانے کے اندر ہی تشکیل پاتا ہے۔ اسی لیے مجھے ان کا افسانہ آزادی بخش اور بسا اوقات Heroic بھی معلوم ہوتا ہے۔

دوسری جدوجہد ایڈورڈ سعید کے مطابق، دانش ورانہ مشقت کے نتیجے کے طورپر میدان جنگ و جدل کے بجائے Fields of co-existence کی تعمیر ہے۔ تیسری مثال اس نے فلسطین کی پیش کی ہے، جو اس کے حافظے اوراس کی پوری فکری دُنیا کا محور ہے، بے دخلی کا شکار اورایک فریب خوردہ عالمی سلسلے کے پیدا کردہ معاہدوں اورامن منصوبوں کا مارا ہوا۔ فلسطین کے لیے اس کی بے قراری کیا اپنا کھویا ہوا گھر دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش ہے؟ لیکن اسی خطبے کے آخرمیں اسے فن کار کا گھر بھی عارضی نظرآتا ہے، تسلی و پناہ سے دور:

The intellectual’s provisional home is the domain of an exigent, resistant, intransigent art into which, alas, one can neither retreat nor search for solutions.

گلوبلائزیشن کی ماری ہوئی دُنیا میں ادیب کے لیے بس ایسے عارضی گھرکی تعمیر ہے جہاں اسے معلوم ہے کہ کسی سوال کا جواب نہیں ملے گا، گلوبلائزیشن کے سوال کا نہیں جو ایک بلا بن کربستی بستی گھوم رہا ہے اورکوئی دن جاتا ہے کہ اس کی دستک ہرگھر کے دروازے پر گونج اُٹھے گی۔

Categories
نان فکشن

ہمارے آصف صاحب (رفاقت حیات)

رفاقت حیات کا یہ مضمون اس سے قبل “ہم سب” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔

بعض رخصت ہونے والے، ہمارے وجود کا کچھ حصہ نہیں، بلکہ پورا وجود ہی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ تحریر، ایک ایسے ہی شخص کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، اس کے وجود سے نتھی اپنا وجود کھوجنے کی ایک سعی لاحاصل بھی ہے، جو اس کے جانے بعد گم ہو چکا ہے۔

اُنیس سو پچانوے چھیانوے میں کراچی وارد ہوا تو، فکشن، شاعری اور دیگر سنجیدہ موضوعات کےمطالعے کی چاٹ پہلے سے لگی ہوئی تھی، اگر چہ شاعری ترک کرکےافسانہ نگاری کی طرف مائل ہوچکا تھا اورچند خام سے افسانے چھپ بھی چکے تھے لیکن یہاں کے ادیبوں سے ابھی ذاتی جان پہچان نہیں تھی، مگر اتنی تھی کہ ان میں سے بہت سوں کی تحریریں اور کتابیں راول پنڈی قیام کے دوران پڑھ چکا تھا، اسی لیے فطری طور پر سب سے ملنے کی خواہش تھی۔

اب سوچتا ہوں، توان برسوں کے کراچی کا ادبی(خصوصاً نثری) منظر نامہ خاصا دل چسپ اور وقیع لگتا ہے۔ غلام عباس، عسکری صاحب اور سلیم احمد آسودہِ خاک ہوچکے تھے۔ ادب میں جدیدیت آخری سانسیں لے رہی تھی اور اب مابعد جدیدیت کا دورشروع ہورہاتھا۔ جدیدیت کے سرخیل، قمر جمیل صاحب کی بیٹھک اور ان کا پرچہ بند ہوچکے تھے اور وہ اپنی صحت اور یادداشت کے مسائل سے نبرد آزما تھے۔حمید نسیم مرحوم شاعری پر دو تنقیدی کتابیں لکھنے کے بعد اب نثر پر ایک طویل تنقیدی کتاب لکھنے میں رات دن مصروف تھے، جو بوجوہ آج تک شایع نہ ہوسکی۔افسانے کی دنیا میں کہانی کی واپسی کا چرچا تھا، لیکن جو حقیقت پسند افسانہ لکھا جارہا تھا، وہ واقعاتی سطح سے بلند ہی نہیں ہوپاتا تھا اور دوسری جانب جو لوگ علامتی اور تجریدی افسانہ لکھ رہے تھے، وہ ابہام کے ساتھ ہیئت کے مسائل سے بھی دوچار تھے۔ افسانہ نگاروں کی اکثریت کا تعلق ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں نمایاں ہونے والے فکشن نگاروں سےتھا۔انیس سو اسی کے بعد منظر عام پر آنے والے افسانہ نگار چند ایک ہی تھی۔

اس عرصے میں،ایک طرف فہیم اعظمی صاحب صریر نکالنے کے ساتھ تجریدی فکشن بھی لکھ رہے تھے، دوسری طرف احمد ہمیش کے جریدے تشکیل اور ان کے افسانے “مکھی”کا بھی شور تھا۔ محمود واجد صاحب نے افسانہ نگاری نے تائب ہو کر” سہ ماہی آئندہ” نکالنا شروع کر دیا تھا۔ سخی حسن کے قریب علی حیدر ملک کے ہاں فکشن گروپ(جسے بہاری گروپ بھی کہا جاتا تھا) کے اجلاس منعقد ہو رہے تھے۔ پی ایم اے ہاؤس میں انجمن ترقی پسند مصنفین بھی فعال تھی، جس کے اجلاسوں میں حسن عابدی، نعیم آروی، ڈاکٹر شیر شاہ سید اور دیگر ترقی پسند لکھنے والے باقاعدگی سے شرکت کیا کرتے تھے۔آواری ہوٹل کے کونے پر واقع “بیک اینڈ ٹیک” نامی ریسٹورینٹ میں بھی چند معتبر ادیبوں کا اکٹھ ہوا کرتا تھا، جن میں سے چند ایک کے علاوہ اکثر مردم بے زار محسوس ہوتے تھے۔ اجمل کمال صاحب اپنا اشاعتی ادارہ سٹی پریس بک شاپ قائم کرچکے تھے اور اکثر وہاں پر محمد خالد اختر بھی آنکلتے تھے۔ اجمل صاحب نے فلم کلب بنایا تو وہاں پر فہمیدہ ریاض، افضال احمد سید تنویر انجم، سعید الدین اور کبھی کبھار ذی شاحل سے بھی ملاقات ہوجاتی۔پیرا ڈائز پیلس میں، ایک طرف عذرا عباس نثری نظمیں لکھ رہی تھیں، ان کے ساتھ انور سن رائے ناول، افسانہ، شاعری، تینوںمیں مصروفِ عمل تھے اور دوسری طرف افتخار جالب مرحوم بھی،اپنی بھاری بھر کم تنقیدی بصیرت کے ساتھ موجود تھے۔ آرٹس کونسل کراچی پر یاور مہدی اور ان کے یاروں کا اجارا تھا۔ اس کے سوا اور بھی بہت کچھ ہورہاتھا۔ کئی ادبی پرچے نکل رہے تھے۔کئی ادبی تنظیموں اور انجمنوں کے اجلاس باقاعدگی سے ہورہے تھے۔

ابتدائی برسوں میں بہت سی جگہوں پر جانا ہوا، لیکن اس کے بعدا چانک ملاقات، ایک چھتیس سینتیس سالہ خو برو اور وضع دارصاحبِ علم و ادب سے ہوگئی، جن سے ملنے کے بعد یہ ضرور محسوس ہوا تھاکہ ادبی آوارا گردی اب اپنا ثمر لے آئی ہے۔یاد نہیں آرہا کہ کب، کیسے اور کہاں، پہلی بار ان سے ملاتھا لیکن اتنا یاد ہے کہ گلشن اقبال کے بلاک نمبر چار میں واقع ان کے آبائی گھر میں ہی ملاتھا۔

ان کے تین افسانوی مجموعے اور کئی ناولوں اور افسانوں کے تراجم شایع ہو چکے تھے اورمیں ان میں سے کچھ ہی تراجم، مضامین اور ایک افسانوی مجموعہ “چیزیں اور لوگ” پڑھ چکا تھا، جسے میں آج بھی ان کا بہترین افسانوی مجموعہ خیال کرتا ہوں۔اگرچہ اس کے بعد ان کے افسانوی مجموعے” میں شاخ سے کیوں ٹوٹا”، “شہر ماجرا”،” شہر بیتی”، “ایک آدمی کی کمی” اور میرے دن گزر رہے ہیں” شایع ہوئے۔ اپنے مجموعے “ایک آدمی کی کمی” میں انہوں نے کچھ سندھی لوک کہانیوں کو کامیابی سے اردو میں ڈھالتے ہوئے انہیں ہم عصر زندگی کے پیچیدہ واقعات سے، کامیابی کے ساتھ جوڑا ہے۔شاید کچھ لوگ جانتے ہوں کہ انہوں نے ایک ناول لکھنے کا آغاز بھی کیا تھا، جس کا صرف ایک ہی باب رقم کیا جاسکا اور وہ آگے نہ بڑھ سکا۔

آصف صاحب انتظار حسین سے مرعوب و متاثر ضرور تھے لیکن انہوں نے افسانے میں اپنے لیے الگ راہ نکالنے کی بھرپور کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔وہ نئے ماخذات کی تلاش میں سندھی زبان کی لوک روایات میں اندر تک چلے گئے۔اور صرف سندھی پر ہی کیا موقوف، نجانے کتنی زبانوں کی پوری پوری روایات وہ گھول کر پیئے ہوئے تھے۔ان کافکشن اور نان فکشن پڑھ کر کم از کم مجھے تو یہی لگتا ہے۔

ان کا گلشن اقبال والاوہ گھر اور اس کا ڈرائنگ روم،کبھی فراموش نہیں کیے جاسکتے، جہاں آصف صاحب سے ہونے والی پہلی ملاقات ہی،ملنے ملانے کے ایک طویل سلسلے میں تبدیل ہوگئی۔اس گھرکے گراؤنڈ فلور پر آصف صاحب کے والدین اور پہلی منزل پر وہ خود رہتے تھے۔ گھر کی گھنٹی بجانے پر کبھی آصف صاحب تو کبھی ان کی اہلیہ اورکبھی ڈاکٹر اسلم فرخی مرحوم ( جن کے چہرے پر ہمیشہ ایسی سنجیدگی، متانت اور رعب دکھائی دیتا کہ علیک سلیک کے سوا ان سے کوئی بات کرنے کی ہمت کبھی نہ ہوسکی) آکر گیٹ کا پھاٹک کھولا کرتے اور پھاٹک سے اندر آنے کے بعد مہمان کے لیے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول دیاجاتا۔مہمان اندر بیٹھ کر انتظار کرتے ہوئے سامنے کی دیوار پر نصب شمس العلما، ڈپٹی نذیر احمد کی تصویر دیکھتا رہتا۔ پھر کچھ دیر بعد ڈرائنگ روم کے کونے پر بنا ہوا دروازہ کھلتااور کج مج سی بھوری آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے،طویل قامت، ہلکے سے گھنگھریالے بالوں والے آصف صاحب برآمد ہوتے اور دیکھتے ہی پوچھتے : ہاں، بھئی کیا حال ہے؟ کیسے ہو؟ کیا لکھا اور پڑھا جارہا ہے؟۔ ان سوالوں کے جوابوں کے ساتھ ہی سلسلہ کلام دراز ہوتا چلاجاتا۔ اردوادب کے ساتھ عالمی فکشن نگاروں کا تذکرہ چل نکلتا۔

یہ ان کی اپنی شخصیت کاطمطراق تھا کہ والد صاحب کا اثر، ابتدا میں آصف صاحب سے مل کر میں ایسا مرعوب ہوا تھا کہ ان سے بات کرنے سے پہلے مجھےکئی بار سوچنا پڑتا تھا کہ کیا بات کی جائے اور اس پر مستزاد یہ کہ میری زبان میں لکنت بھی ہے، لیکن ان کا رعب داب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زائل ہوکر برابر کی دوستی میں تبدیل ہوتاچلاگیا۔ایک مرتبہ ان سے اس کا اظہار بھی کیا کہ جب آپ سے شروع میں ملتا تھا تو آپ کے رعب میں رہتا تھا لیکن اب وہ ختم ہوگیا۔ جواب میں انہوں نے ہنستے ہوئے کہاتھا : یہ تو بہت برا ہوا۔

جب تک آصف صاحب گلشن والے گھر میں رہے، ہم سے ادب کے پیاسے بار بار اس گھر کا طواف کرتے رہے۔ اور کیوں نہ کرتے۔ اس گھرکے ڈرائنگ روم میں کیسی کیسی شان دار ادبی اور فکری محفلیں برپاہوتی تھیں، جو شہر بھر میں ہونے والی تمام ادبی تقریبات پر بھاری تھیں۔ اکثر محفلوں کے روحِ رواں وہ خود ہی ہوا کرتے تھے۔میں نے وہیں پر پاکستان انڈیا کے ایٹمی دھماکوں سے حوالے سے لکھا گیا انتظار حسین کا تازہ افسانہ”مور نامہ” سنا۔ اسد محمد خان نے جب اپنا طویل افسانہ”رگھوبا اور تاریخ ِ فرشتہ” مکمل کیا تو آصف صاحب نے اسے اسد صاحب کی زبانی سننے کے لیے اپنے گھر میں باقاعدہ اہتمام کیا۔ اس افسانے کی قرات دو گھنٹے سے زیاد دیر تک جاری رہی۔ سب سنتے رہے اور اسد صاحب کی اعلیٰ نثر سن کر اپنا سر دھنتے رہے۔ اردو کے مایہ نازشاعر محبوب خزاں، جو شہر میں کسی جگہ نظر نہیں آتے تھے، انہیں بھی یہیں دیکھا اور ان سے ان کا کلام بھی سنا۔انڈیا سے تشریف لانے والے شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، سید محمد اشرف، ساجد رشید اور محسن خاں سے بھی یہیں ملاقات ہوئی۔ وہ گھر اردو ادب کا ایسا مرکز و محور تھا کہ بہت سے ادبی ستارے وہاں آکر اپنی آب و تاب دکھاتے۔کس کس کا نام لوں۔

وہ مجھے ہمیشہ تاکید کرتے رہتے۔لکھتے اور پڑھتے رہو۔پڑھنے کے لیے وہ ہمیشہ نت نئی کتابیں تجویز کرتے اور اپنے کتب خانے سے بھی فکشن کی بعض کتابیں نکال کر پڑھنے کے لیےمستعار دے دیا کرتے۔ ایک بار ان کے آگےتورگنیف کے طویل افسانوں کے اردو ترجمے “جھونکے بہار کے” کی تعریفوں کے پل باندھےتو وہ سنتے ہی بےچین ہو گئے اور کہنے لگے۔ کیسی شان دار کتاب ہے لیکن وہ کتاب مجھ سے کہیں کھو گئی ہے۔اگر تم اپنی وہ کتاب مجھے دے دو، تو اس کے بدلے تمہیں چیخوف کے تراجم دے سکتا ہوں۔چند روز بعد “جھونکے بہار کے” ان کے حوالے کردی۔

دھیرے دھیرے میرے افسانوں کے متعلق ان کی رائے بہتر ہونے لگی تھی۔جب میں نے افسانہ ”خوامخواہ کی زندگی ” لکھا، تو اسے پڑھنے کے بعد کہنے لگے: اس کا ماحول ایڈ گر ایلن پو کے افسانوں کی طرح گھمبیر اور تاریک ہے، لیکن افسانہ بن گیا ہے۔ بہت بعد میں یہی افسانہ جب لاہور میں زاہد ڈار کو پڑھنے کے لیے دیا تھا، تو ان کا جواب تھا: مجھے لگتا ہے،تم نے یہ افسانہ مجھ پر لکھا ہے۔”

کتابوں کی اشاعت کا کام وہ بہت پہلے سے شروع کرچکے تھے۔ پہلے احسن مطبوعات کےنام سےکچھ کتابیں چھاپیں، جن میں افسانہ نگار ضمیر الدین احمد کی اردو شاعری کے جنسیاتی مطالعے پر مبنی کتاب” خاطرِ معصوم” بھی شامل تھی۔اس کے علاوہ ان کے اپنے ایک دو افسانوی مجموعے بھی اسی ادارے سے چھپے۔اس کے بعد انہوں نے سین پبللیکیشن کے تحت کچھ کتابیں شایع کیں،جن میں مصطفیٰ ارباب، اکبر معصوم اور امر محبو ب ٹیپو کی کتابیں مجھے یاد ہیں۔

ان دنوں امر محبوب ٹیپو اور عرفان خان نے ریگل چوک کے بیچوں بیچ ایک قدیم عمارت” نرائن داس بلڈنگ” میں” سماوار” نامی تنظیم کے بینر تلے ہفتہ وار ادبی بیٹھک کا آغاز کیا۔ اس عمارت کا نام سین پبلشرز کے پتے کے طور پر بھی لکھا گیا۔ وہاں کچھ عرصے تک باقاعدگی سے تنقیدی نشستیں منعقد ہوئیں۔ ممتاز رفیق مرحوم نے اپنے ابتدائی خاکے وہیں پڑھ کر سنائے۔ایک افسانہ میں نے بھی پیش کیا تھا۔آصف صاحب،فہمیدہ ریاض، فاطمہ حسن، مبین مرزا اور کچھ احباب نےبھی وہاں اپنی نگارشات تنقید کے لیے پیش کی تھیں۔ لیکن یہ سلسلہ چند ماہ بعد ہی ختم ہوگیا۔

ایک شام کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ پیراڈائز پیلس میں چوتھی منزل پر واقع انورسن رائے اور عذرا عباس کے گھر میں احمد فواد، وسعت اللہ خان اور آفتاب ندیم کے ساتھ میں بھی موجود تھا۔ آصف صاحب اکبر معصوم کی کتاب ” اور کہاں تک جانا ہے۔”کا مسودہ بغل میں دبائے وارد ہوئے۔ ان کے آتے ہی محفل کا رنگ بدل گیا۔ انہوں نے اکبر کی شاعری کے پل باندھنے شروع کردیے۔ اس کے بعد آفتاب ندیم نے بیٹھے بیٹھے تقریباً پورا مسودہ پڑھ کر سنا دیا۔تمام سننے والے تازہ کار شاعر کا کلا م سن کر عش عش کر اٹھے۔اس کے بعد وہ کتاب شایع ہوئی اور اس کی تقریبِ رونمائی آرٹس کونسل، کراچی میں ہوئی۔ اکبر معصوم اردو کے مین اسٹریم ادب میں شامل ہوگئے۔

شایدسن دو ہزار میں آصف صاحب نے ادبی رسالہ نکالنے کا ارادہ باندھا۔ مجھے حکم ہو ا کہ ایک افسانہ دنیازاد کے لیے انہیں دوں۔ ان دنوں میں افسانے” چریا ملک” پر کام کر رہا تھا۔اچانک مجھے چھوٹے بھائی کے ساتھ پشاور جانا پڑگیا۔وہاں ایک ہوٹل میں قیام کے دوران وہ افسانہ مکمل کیا اور پشاور سے ان کے پتے پر پوسٹ کردیا، جو انہیں مل گیا۔کراچی واپسی پر ان سے پوچھا: افسانہ کیسا لگا؟ کہنے لگے: اسے پڑھتے ہوئے مارکیز کا کرنل یاد آتا رہا، مگر افسانہ اس سے مختلف ہے۔چند ہی روز کے بعد دنیا زاد کا اجرا ہوگیا اور بہت جلد وہ اردو کے ایک وقیع رسالے کے طور شہرت پانے لگا۔دنیا زاد شروع کرنے سے پہلے وہ ایک نیا اشاعتی ادارہ “شہر زاد پبلشر” کے نام شروع کرچکے تھے۔اس ادارے کے زیرِ اہتمام انہوں نے باقاعدہ اور مسلسل کتابیں چھاپنا شروع کیں۔

لاہور میں جب عاصم بٹ سے پہلی ملاقات ہوئی تو آصف صاحب کا تذکرہ نکلا۔ عاصم نے کہا کہ وہ جب ان کے بارے سوچتا ہے تو اس کے سامنے ایک ایسا شخص آتا ہے، جس نے ایک بہت بڑے میز کو کئی خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک خانہ افسانہ نگاری کے لیے ہے، وہاں بیٹھ کر وہ افسانے لکھتا ہے۔ دوسرا ترجمے کے لیے مخصوص ہے، جہاں سے وہ تراجم کرتا ہے۔ تیسرا مضامین سے مختص ہے، وہاں بیٹھ کر وہ مضامین لکھتا ہے۔ چوتھا خانہ انگریزی کی تحریروں کے لیے ہے، جہاں سے وہ اپنے انگریزی تراجم اور مضامین تحریر کرتا ہے۔

دو ہزار ایک میں میری شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد ایک بار اپنی شریک ِ حیات کے ساتھ ان کے گھر گیا۔ تب سیمی بھابھی بھی آکر ہمارے ساتھ بیٹھ گئی تھیں۔انہوں نے باتوں باتوں میں آصف صاحب کی شکایت کی: انہیں عید کے لیے کپڑے اور جوتے خریدنے کے رقم دی، تو یہ ان کے بجائے ٹامس اینڈ ٹامس سے مہنگی کتابیں خرید کر لے آئے۔ بعد میں ان کے لیے کپڑے اور جوتے مجھے خریدنے پڑگئے۔مجھے یاد ہے کہ بھابھی کا لہجہ آصف صاحب کے متعلق کچھ تلخ سا تھا۔اس سے پہلے تک میں یہی سمجھتا رہا تھا کہ بھابھی آصف صاحب کی ادبی قدو قامت کو نہ صرف پسند کرتی ہیں بلکہ ان کی مدد بھی کرتی ہوں گی، لیکن اس دن کے بعد میرا یہ خیال خام ثابت ہوا۔

مجھے اپنا افسانوی مجموعہ شایع کرنے کا مشورہ آصف صاحب نے ہی دیا تھا۔ان کا خیال تھا کہ اب تمہارا پہلا مجموعہ آجانا چاہیے۔ان دنوں میری کتاب کے ساتھ سید کاشف رضا کا پہلا شعری مجموعہ” محبت کا محلِ وقوع” بھی زیر طبع تھا۔مجھے اپنی کتاب کے لیے مناسب نام نہیں مل رہا تھا۔ ایک روز آصف صاحب کے ہاں انعام ندیم بھی موجود تھے۔جب اس مسئلہ کا انہیں پتا چلا تو انہوں نے افسانوں کے عنوانات دیکھتے ہوئے کتاب کا نام” خوامخواہ کی زندگی” تجویز کیا، جو مجھے اور آصف صاحب دونوں پسند آیا، اس طرح کتاب کا نام طے ہوگیا۔

کچھ عرصے بعد آصف صاحب کا فون آیا کہ تمہاری اور کاشف کی کتابیں چھپ گئی ہیں۔ میں چند کاپیاں لے کر آرہا ہوں۔ کس جگہ ملا جائے؟ میں نے جبیں ہوٹل، صدر میں ملنے کے لیے کہا۔ آصف صاحب نے وہاں مجھے اور کاشف کو شایع ہونے اولین کتابیں پیش کیں۔ ہمیں محسوس ہوا کہ ہم سے زیادہ خوشی آصف صاحب کو ہورہی ہے۔وہ بہت پرجوش تھے۔انہوں نے کتابوں کی تقریب کروانے کے لیے کہا۔ کاشف کی دوکتابوں، محبت کا محل وقوع اور نوم چومسکی کے تراجم والی کتاب اور میری افسانوں کی کتاب کی تقریبِ رونمائی ایک ساتھ ہوئی تھی، جس کے بینر پر لکھا ہوا تھا: دو ادیب، تین کتابیں۔ شرکائے گفتگو میں آصف صاحب کے علاوہ، افضال احمد سید، غازی صلاح الدین، پروفیسر سحر انصاری اور دیگر لوگ شامل تھے۔ تھیٹر کے مایہ ناز اداکار خالد احمد نے میری ایک کہانی اور کاشف کی چند نظمین پڑھ کر سنائیں۔

ایک بار آصف صاحب کے چچا انور احسن صدیقی مرحوم کی کتاب”ایک خبر، ایک کہانی” کی تقریب اجرا کراچی پریس کلب میں جاری تھی۔ میں انور سن رائے صاحب کے ساتھ آخری رو میں بیٹھا تھا۔آصف صاحب اپنا مضمون پڑھ چکنے کے بعد ہمارے پاس ہی آخر بیٹھ گئے۔ انور صاحب نے انہیں جملہ دیاتھا: یار تمہارے ہرمضمون میں محاوروں اور اشعارکی بھرمار ہوتی ہے، کبھی سیدھی بات بھی کرلیا کرو۔اپنے نان فکشن میں آصف صاحب کی نثر کا انداز کچھ ایسا ہی تھا۔

ان دنوں آصف صاحب اقوام ِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال سے وابستہ تھے۔ایک بار انہوں نے بتایا کہ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ہاؤس جاب کےدوران انہوں نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے میں جو بے حسی، منافع خوری، حرص و طمع دیکھی تو پھر اس کے بعد انہوں نے زندگی بھر پریکٹس نہ کرنے کا تہیہ کرلیا اور اپنی ملازمت کے لیے بالکل الگ راستہ منتخب کیا۔

ایک سے زائدبار انہوں نے مجھ سے ایک بات کہی، جو میرے ذہن میں اٹک کر رہ گئی۔ انہوں نے کہا: زندگی میں کبھی سرکاری نوکری مت کرنا۔وہ جانتے تھے کہ میں پی ٹی سی ایل میں ملازمت کرتا ہوں۔ دوہزار آٹھ میں،میں نےوہ جاب چھوڑ دی اور فری لانس ڈرامہ رائٹر کے طور پر کام کرنے لگا اور آج تک یہی کچھ کر رہا ہوں۔دشواری تو پیش آتی ہےلیکن آزادی بڑی چیز ہوتی ہے۔

بعدمیں آصف صاحب گلشن اقبال سے نقل ِ مکانی کر کے ڈیفنس میں منتقل ہوگئے۔جب میں وہاں ان سے ملنے کے لیے گیا تو باتوں باتوں میں میرے منہ سے نکلا:شادی کے بعد جوائنٹ فیملی میں رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ آپ نے مسائل کا سامنا کیا ہوگا؟ یہ سن کر وہ مخصوص انداز میں مسکرائے اورکہنے لگے: اگر میں الگ ہوکر یہاں نہ آتا تو بڑے مسائل ہوجاتے۔

آصف صاحب،ہمہ وقت متحرک رہنے والے ادیب تھے۔ان کی دلچسپی ادب کے کسی ایک شعبے سے مخصوص نہیں تھی۔یہ ٹھیک ہے کہ انہیں زیادہ لگاؤ فکشن سے تھا لیکن غزل، نظم، تنقید، ترجمہ،آپ بیتی، خاکے وغیرہ سب چیزوں کو وہ اہم سمجھتے تھے۔انہوں نے نثری نظم کے سات بہترین شاعروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا، جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شایع کیا تھا۔ادب کے تمام شعبوں کے حوالے سے ایسا پرجوش، سرگرم اور مستعد میری نگاہوں سے نہیں گزرا۔

آکسفورڈ ادارے کے لیے انہوں نے بہت سی کتابیں ترتیب دیں اور ترجمہ کیں۔ امینہ سید صاحبہ سے تعلق کی بنا پر ان کے ساتھ مل کر آصف صاحب نے کراچی لٹریچر فیسٹول کی بنیاد رکھی اور کئی برس اسے کامیابی سے منعقد کرکے ملک بھر میں ادبی میلوں کی نئی روایت قائم کی، جس سے ادب اور ادیبوں دونوں کا بھلا ہوا۔

میرا ناول” میرا واہ کی راتیں” آج میں شایع ہوا تو فون کر کے پر جوش انداز میں مبارک باد دی۔انہیں مجھ سے ایک شکایت تھی، ناول کی تقریب کے دوران بھی انہوں نےجس کا برملااظہار کیا تھا، اور وہ یہ کہ مجھے زیادہ فکشن لکھنا چاہیے جو شاید میں اب تک نہ لکھ سکا ہوں۔ اسی تقریب میں اجمل کمال صاحب بھی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔کاشف رضا کا ناول “چاردریش اور کچھوا” شایع ہوا تو سب سے زیادہ خوشی کا اظہار ان کی جانب سے کیا گیا اور وہ اس کی تعریف کرتے رہے۔

خالد جاوید صاحب کا ناول ” نعمت خانہ” انہوں نے شہر زاد سے شایع کیا تھا۔ایک جوش کے ساتھ انہوں نے مجھے پڑھنے کے لیے دیا۔میں نے پڑھ کر مکمل کیا تو ان سے اور کاشف رضا سے بہت تعریف کی۔ کاشف نے ناول پڑھنے کے لیے مانگ لیااور میں نے بھی اسے دے دیا۔ بعد میں وہ کہنے لگا کہ تم دوسرا لے لینا۔ میں نے جب آصف صاحب سے اس بات کا ذکر کیا تو اگلی ملاقات میں انہوں نے مجھے ناول کی نئی کاپی دے دی۔ لیکن وہ کاپی،عاصم بٹ کراچی آیا تو وہ لے اڑا۔آصف صاحب جیسا پبلشر دنیا میں شاید ہی گزرا ہو جو اپنے ادارے کی کتابیں دوستوں، پڑھنے والوںمیں مفت بانٹا کرتا تھا۔

میں اور اکثر دوست اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ آصف صاحب کے ہاں سب بہت اچھا چل رہا ہے۔وہ شہر کے پوش علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ یونی سیف کی ملازمت چھوڑ کر وہ حبیب یونی ورسٹی جوائن کرچکے تھے۔ وہاں جانے کے بعد ان کی شوخی گفتار میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔ وہاں کبھی اسد محمد خاں، باسودے کی مریم سنا نے کے لیے آ رہے ہیں، کبھی حسن منظر اپنا کوئی افسانہ پڑھنے۔ کبھی عذرا عباس کی نثری نظموں کا ترجمہ کیا جارہا ہے اور کبھی شمیم حنفی صاحب لیکچر دینے کے لیےتشریف لارہے ہیں۔ افضال صاحب، تنویر انجم صاحبہ اور انعام ندیم یو نیورسٹی میں ہمہ وقت ان کے ساتھ ہوتےتھے۔ہم سمجھے بیٹھے تھے کہ آصف صاحب ہمیشہ رہیں گے اور ایسے ہی رہیں گے۔

پھرفیس بک پر ان کی بعض تصویریں دیکھ کر میں ششدر رہ گیا اور سوچنے لگا کہ آصف صاحب کو اچانک کیا ہوگیا؟ان کےچہرے کی شادبی، آنکھوں کی مخصوص چمک اور لہجے کا غیر متزلزل اعتماد غائب ہوچکے تھے۔آصف صاحب سے ملنے پر پوچھنے کی ہمت بھی نہ ہوسکی۔ایک روز یارِ عزیز عرفان جاوید سے ملنے گیا تو باتوں میں انہوں نے آصف صاحب پر بیتنے والی قیامت کی خبر دی۔ جب یہ ذکر کاشف رضا سے کیا تو اس نے پراسرار طریقےاپنے دو خوابوں کے بارے میں سرسری سا بتایا، جو اس نے آصف صاحب کے بارے میں دیکھے تھے۔میرے پوچھنے پر بھی اس نے تفصیل نہ بتائی۔

آصف صاحب دوبارہ ڈیفنس سے گلشن اقبال منتقل ہوچکے تھے، ایک کرائے کے گھر میں، جو ان کے آبائی گھر کے قریب ہی واقع تھا۔اس گھر میں جب ان سے ملا تو عرفان جاوید کی سنائی ہوئی خبر کی تصدیق کرنا چاہی۔اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان پر ڈپریشن کے شدید دورے پڑ رہے ہیں۔دو بار خودکشی کی کوشش کرچکے ہیں۔انہوں نے یہ سب اتنے سرسری طریقے سے بتایا کہ میں حیرت سے انہیں تکتا رہ گیا لیکن وہ دوسری طرف دیکھنے لگ گئے تھے۔

وہ اپنے ذاتی معاملات پر کم ہی بولتے تھے اور دوسروں کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ جب ان سے آخری بار مل کر اٹھاتو سوچ رہا تھا کہ پچیس برس پہلے بھی یہی گلشن تھا، لیکن تب یہ اس طائرِ خوش الحان کی شوخی و طراری سے کیسا گونجتا رہتا تھا، لیکن اب اسے کس کی نظر لگ گئی۔

اس کے بعد تو پوری دنیا کوہی کسی کی نظر لگ گئی۔ایک وبا جنگل کی آگ سے بھی تیزرفتاری کے ساتھ ملکوںملکوں پھیلتی چلی گئی۔ آصف صاحب نے پبلک ہیلتھ میں ڈگری لی ہوئی تھی۔ جب کراچی میں لاک ڈاؤن کا علان ہوا تو انہوں نے دوسرے ہی دن سے “تالہ بندی کا روز نامچہ ” لکھنا شروع کردیا، جو عنقریب کتابی صورت میں شایع بھی ہونے والا ہے۔عرفان جاوید کے مطابق آصف صاحب گلشن والے کرائے کے گھر میں بے چینی محسوس کرتے تھے۔ دل نہیں لگتا تھا۔ اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ وقت یونیورسٹی میں رہنے کی کوشش کرتے۔ دیر تک بیٹھ کر پڑھتے رہتے تھے۔

آج انعام ندیم فون پر کہہ رہا تھا کہ اگر یونیورسٹی بند نہ ہوتی، تو مجھے یقین ہے کہ آصف صاحب ہمارے درمیان ہوتے۔ لیکن ایک بڑا صدمہ ہم سب دوستوں کے لیے یہ ہے کہ وہ اب ہماری تحریریں نہیں پڑھ سکیں گے۔ ہم ہمیشہ کے لیے کتابوں پر ان کی بیش قیمت رائے سے محروم ہو گئے اور یہ محرومی چھوٹی محرومی نہیں ہے۔

Categories
گفتگو

آصف فرخی سے کچھ آپس کی باتیں (تالیف حیدر)

یہ بات تو سچ ہے کہ کسی کی موت کی خبر کوئی واقعہ نہیں ہے۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اور اپنی عملی زندگی میں اس کا نمونہ بھی خوب دیکھا ہے۔ ہزاروں موتیں ایسی ہیں جن کی خبر سن کر یہ خیال آیا ہے کہ ارے یہ شخص اتنی جلدی کیسے چلا گیا، پھر خود کو سمجھا بھی لیا ہے کہ جانے والے کو کون روک سکتا ہے۔ عزیز دوست چلے گئے، بھائی چلے گئے، خاندان والے چلے گئے، آخر ہم نے کیا کر لیا۔لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کی موت کی خبر ایک واقعہ بن کر آئی اور ایک کہانی بن کر زندگی کے معمولات میں گھل گئی۔ مثلاً مولانا اسید الحق کی موت کی خبر یاروف بھائی کے انتقال کی بات، آصف فرخی کے انتقال کی خبر بھی ایسی ہی ہے کہ یہ میری زندگی کے معمولات میں شامل ہو گئی ہے۔ کس طرح میں اس کی وضاحت کرتا ہوں۔ میں نے جن دوستوں اورعزیزوں کو کھویا ان سے میرا قلبی تعلق تھا اور وہ میرے نجی مسائل میں زندہ ہیں، جب ان کی ٹوکری کھلتی ہے تو وہ بھی ایک ایک کر کے سامنے آنے لگتے ہیں۔ اسی طرح خاندان والوں کا معاملہ ہے۔ لیکن علم و ادب میں دن رات غرق رہنے والی وہ عظیم ہستیاں جن کا تعلق میری کل وقتی فکر سے ہے، میں ان سے کسی لمحہ الگ ہو ہی نہیں پاتا، سوائے ان لوگوں کے جو ابھی با حیات ہیں۔ ان کے تعلق سے مجھے یہ محسوس ہوتا رہتا ہے کہ ان کا ہونا ہی ایک ایسی حقیقت ہے جو مجھے کسی پیچیدگی کا شکار نہیں ہونے دے گی۔ مثلاً اگر میں شمس الرحمن فاروقی کے متن کے ساتھ ہوں تو وہ مجھے نہیں الجھائے گا، کیوں کہ اس کے سلجھنے یا منشا و معیار کی تکنیک کو تراشنے والا ابھی بقید حیات ہے، لیکن اگر اسید صاحب کی کوئی تحریر ایسی ہوئی جس میں میں پھنس گیا تو وہ بالکل میرے سامنے آ کر کھڑے ہو جائیں گے اور میں بے بسی سے بس ان کا منہ تکا کروں گا کہ تا ویل کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اب یہ ہی معاملہ آصف فرخی کے ساتھ بھی ہے۔ میں بہت اطمینان میں تھا کہ میں نے آصف فرخی کو ابھی چند برسوں قبل دریافت کیا ہے۔ اسلم صاحب ابھی زندہ تھے، کچھ دنوں پہلے ہی ان کا ہاتھ چھوٹا ہے۔ لہذا آصف صاحب اپنی تحریروں کے ساتھ مجھ میں اتر رہے ہیں اور میں ان کے وجود کی گتھیوں کو خود میں گھلتا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔ اس میں کیا مظائقہ ہے کہ جہاں کوئی گانٹھ سخت ہوئی دو ہاتھ بھر کے فاصلے پہ ادیب اسے سلجھانے کے لیے موجود ہے۔ یہ کسی بھی شخص سے میرے بنیادی تعلق کی کڑی ہوتی ہے۔ پھر آصف صاحب کے ذیل میں اگلے عوامل بھی رو نما ہو رہے تھے۔ وہ اپنے افسانوں، مضامینوں، مکالموں کے ذریعے میرے دل کے نہاں خانے تک اتر رہے تھے۔ شناسائی تو اسی کا نام ہے کہ کوئی انجان راستے سے آئے اورآپ کے دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا جائے، وہ شناسائی بھی کیا کہ بغل میں آباد ہیں اور سلام کلام تک کا مرحلہ ہے۔ آصف صاحب مجھ میں روشن ہونے کے عمل میں تھے۔ ان کی باتیں مجھے بہت حد تک مرزا حامد بیگ کی تحریریں بھی سمجھا دیا کرتی تھیں، یا وارث علوی کے خیالات۔ ایک لمبی ادیبوں کی فہرست ہے جن کے بازوں میں بازو جکڑائے وہ میرے وجود میں تحلیل ہوتے جاتے تھے۔

پھر وہ دن بھی آ گیا کہ جب ان سے ملاقات ہو گئی۔ سید کاشف رضا کو یاد ہے، جس برس وہ ہندوستان آئے تھے آصف فرخی بھی جشن ریختہ میں تھے۔ میں ان سے ملا ان کا چہرا کا فی دیر تک تکتا رہا جیسے میرے سامنے کی کرسی پر کوئی اور نہیں میرا اپنا ہی عکس ہو، جو شخصی اعتبار سے مجھ سے سر بلند ہو، جو میرے ہی خیال کا حصہ ہو کر مجھی پہ چھا رہا ہو۔ بھائی صاحب ساتھ تھے۔ ان سے بات چیت شروع ہوئی تو شروعات میں کچھ اکھڑے اکھڑے مزاج کے لگے، کچھ شہانہ انداز کہ بس انتظار حسین کی بات کا پورا جواب دیتے ہیں اور علی اکبر ناطق، اسد محمد خاں، بھائی صاحب اور مجھ پہ طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ ان کا وہ انداز نہیں بھولتا، پھر خالد اشرف بھی آگئے، وہ بڑھ بڑھ کر آصف صاحب کی موجودگی کو غنیمت جانتے ہوئے ان سے سوالات کرتے اور وہ اسی انداز میں جس سے ظاہراً بے رخی جھلکتی تھی جواب دیتے اور فوراً خاموش ہو کر کھڑکی کے باہر جھانکنے لگتے۔ تصنیف نے میرا تعارف کروایا تو کہنے لگے میں انہیں جانتا ہوں۔ میں نے آہستگی سے ان سے بات کرنا شروع کی دو ایک باتیں جس کا انہوں نے اسی طرح بے رخی سے جواب دیا اور خاموش ہو گئے۔ یہ بے رخی کیا تھی یہ اول ملاقات میں کیسے معلوم ہوتا۔ کیوں کہ یہ تو آصف فرخی کی ذات تھی۔ بعد اور بعداور ا س کے بھی بعد جب چار پانچ ملاقاتیں ہو گئیں، پھر فیس بک پہ اور کال پہ بات ہوئی تب معلوم ہوا کہ یہ شخص جو اپنی تحریروں میں بھی آہستہ آہستہ سلجھتا ہے اور اپنا مافی الضمیر دیر میں کھولتا ہے وہ اصل زندگی میں بھی ویسا ہی ہے۔

تقسیم کا نقصان کچھ کم نہیں اور اردو والوں کے لیے تو یہ غم آج بھی تازہ ہے۔ وہ تو بھلا ہو ریختہ کا کہ ہم نے آصف فرخی کی آنکھیں دیکھ لیں۔ تیسرے روز جب ادیبوں کے خاص پنڈال سے نکل رہے تھے تو میں باہر ہی ٹکرا گیا جلدی میں کہیں جا رہے تھے، مجھے دیکھا تو میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کہ بولے آپ کے والد ابھی یہیں تھے آپ کہا گھوم رہے ہیں۔ میرے جواب کی کیا اہمیت وہ تو بس آگے بڑھ گئے۔ پھر میں پنڈال میں داخل ہوا تو جشن ریختہ کے لیے دل سے دعا نکلنے لگی۔ چاروں طرف بڑے بڑے اردو، ہندی اور انگریزی زبان کے ادیب بیٹھے ہوئے تھے۔ ملک اور بیرون ملک کے۔ میں نے سب کو باری باری دیکھا جیسے وہ سب کوئی اور نہیں بلکہ میرے ہی وجود کے سائے ہوں، کہیں فاروقی، کہیں نارنگ، کہیں شمیم حنفی، کہیں خالد جاوید، کہیں گلزار اور کہیں واجپائی صاحب ان کے بالوں، کپڑوں اور بول چال نے مجھے چونکا دیا، منظر دھیرے دھیرے کشادہ ہوا تو محمد حمید شاہد، سید کاشف رضا اور دیگر ادیب بھی نظر آئے، اسی دوران ہمارا عظیم افسانہ نگار اور مدیر آصف فرخی پنڈال میں داخل ہوا اور ایسا لگا جیسے پنڈال مہکنے لگا ہو۔ مجھے وہ لمحہ نہیں بھولتا اور شاید زندگی بھر نہ بھولے۔

آصف فرخی ایک جادو کی طرح مجھ میں پائے جاتے تھے ایک انجانہ طلسم جو کاغذی پیراہن لیے ہوئے تھا اور اب وہ تصویر اور اوراق سے باہر زندہ بولتے چالتے میری آنکھوں کے سامنے تھے، مجھے لگا کہ شاید یہ شخص اپنی تحریر کا زینہ بنا کر میرے اندر اتر گیا ہے اسی لیے برسوں کا شناسا محسوس ہوتا ہے۔ وہ خواہ میری طرف بے رخی سے دیکھے اور خواہ سب سے روٹھا ہوا معلوم ہو، پھر بھی مجھ میں مسکرا رہا ہے۔ میرے لہو میں دوڑ رہا ہے اور شاید ہمیشہ جب جب میں افسانے کی بساط کھولوں گا یہ اسی طرح میرے سامنے آ موجود ہوگا اور شاید ان افسانوں کی بساط سے اس کا تعلق ہے جس کے ٹکڑے کو میں نے کبھی لپیٹا ہی نہیں۔ وہ میرے رو برو ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

پھر آصف فرخی پاکستان گئے اور دوبارہ ورچیول دنیا میں ان کا اور میرا رشتہ استوار ہو گیا۔ میں کوئی تحریر لکھتا تو انہیں ٹیگ کرتا کوئی کتاب آتی تو انہیں خبر دیتا۔ خواجہ میر درد والی کتاب کے ابتدایئے میں ان کے والد کے دو اقتباسات رکھنے کے لیے ان سے اجازت مانگی تو بہت خوش ہوئے۔ انہیں اپنی مضامین کی کتاب کا کور بھیجا تو شاباشی دی۔ ایسے خوش ہو کر میسج کیا گویا کوئی سر پرست پیٹھ ٹھونک رہا ہو۔ پھر وہ لمحہ بھی آ گیا جب میں نے اپنی چوتھی کتاب کے بیک کور کے لیے ان سے رائے کی التجا کی تو ان کا جواب آیا کہ بہت شکریہ میرے دوست مگر میں ان دنوں بیمار ہوں اس لیے لکھ نہیں سکوں گا۔ان کا یہ جواب ایک ماہ پرانا تھا میں نے ان کی صحت کے لیے دعا کی۔ مگر وہ دعا رنگ نہ لائی اور ایک ایسی خبر آئی جو میرے لیے نہ صرف واقعہ تھی، بلکہ انتہا درجے کی مایوس کہانی جو اس بار بھی آصف فرخی نے ہی لکھی تھی۔ وہ نہیں رہے۔ ان کے انتقال کی خبر مجھ پہ بجلی بن کر گری اور وہ بجلی میں بدن میں ہی کہیں ٹھہر گئی۔ میں جذباتی ہو گیا۔ ان کا خیال ذہن میں ابھرتا اور ان کی موت کے لمحوں کو روشن کر دیتا۔

آج جب وہ نہیں ہیں تو ان کا وجود مجھ میں سانس لینے کو تڑپ رہا ہے۔ میں اپنے اندر ہی ان کو تلاش کر تا ہوں، ان کی کتابیں کھولتا ہوں ان کے مضامین ٹٹولتا ہوں اور ان کے قائم بالذات ہونے کی دلیل تلاش کرتا ہوں، مگر وہ کہیں نہیں ملتے بس نظر آتا ہے تو اپنا ہی وہ سایا جیسے اس روزز جشن ریختہ میں بے رخی سے کھڑکی کے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا تھا۔

Categories
خصوصی

نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے

حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

حلقہ ابابِ ذوق ،کراچی کا ہفتہ وار اجلاس ، یکم اگسست ، ۲۰۱۷ ، بروز منگل ، کانفرنس روم ڈیمپ میں منعقد ہوا۔نثری نظم کے ممتاز شاعرافضال احمد سید کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں مایہ ناز افسانہ نگار نیر مسعود اور ان کے کام کو یاد کیا گیا۔جمال مجیب قریشی نے ان کے افسانوی مجموعے ‘‘ عطرِ کافور’’ کا آخری افسانہ ‘‘ ساسانِ پنجم’’ اپنے مخصوص لب و لہجے میں پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد آصف فرخی صاحب کا انگریزی مضمون جس کا ترجمہ رفاقت حیات نے کیا تھا، ظہیر عباس نے پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے عذرا عباس نےآضف فرخی کے مضمون کے ترجمے کے ایک جملے پر اعتراض کیاکہ ادبی سرگرمی زوال پذیر کیسے ہوسکتی ہے، جب کہ نیر مسعود اپنا سارا کام تو بہت پہلے ختم کرچکے تھے۔ افضال احمد سید نے ان کی تائید کی۔رفاقت حیات نے کہا کہ وہ اس جملے کو بدل دیں گے۔آصف فرخی نے وضاحت دی کہ نیر مسعود صاحب چاہتے تھے کہ تعبیرِ غالب نامی کتاب کی پروف ریڈنگ و ہ خود کریں لیکن خراب صحت کی بنا پر وہ ایسا نہیں کر سکے اورو ہ بچوں کے لیے کچھ اور کہانیاں لکھنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد عذرا عباس نے افسانے ‘‘ ساسانِ پنجم’’ اور جمال مجیب قریشی کی قرات کو سراہا ۔ان کے خیال میں اس افسانے میں گم ہوجانے والی تہذیبوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے ان گنت تہذیبیں وجود میں آئیں اور فنا کے گھاٹ اتر گئیں۔کرن سنگھ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیر مسعود کی کہانیوں میں ان کا زرخیز تخئیل کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کہانیوں میں لکھنو کی تہذیب بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہےاور کہیں کہیں ماورائی عنصر بھی موجود نظر آتا ہے۔ اسی بنا پر ان کی کہانیاں مختلف اور منفرد محسوس ہوتی ہیں۔ شجاعت علی نے کہا کہ نیر مسعود کے افسانوں کے بین السطور صرف لکھنو کی تہذیب نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی تہذیب کار فرما دکھائی دیتی ہے، جو بدقسمتی سے اب دم توڑ چکی ہے۔ نیر مسعود صاحب نے اس زمانے میں افسانے لکھنے شروع کیے ،جب اردو افسانے کے افق پر علامت اور تجرید کا غلبہ تھا۔ نیر مسعود صاحب نے اپنے افسانوں کے لیے الگ راہ نکالی۔

شعیب قریشی نے نیر مسعود صاحب کے سفر نامہِ ایران کو سراہا۔ آصف فرخی نے اس بات کو آگے بڑھایا کہ نیر مسعود صاحب صرف ایک مرتبہ سرکاری دورے پر ایران گئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک مرتبہ بنگلور، دہلی اور الہ آباد بھی گئے لیکن وہ سفر کرنے اور اپنے گھر سے نکلنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔انہیں الہ آباد میں لیکچرار کی ملازمت ملی تو وہ وہاں گئے۔ پہلے دن انہوں نے جوائننگ دی اور اگلے روز استعفی دے کر واپس لکھنو آگئے۔وہ جس مکان میں پیدا ہوئے جو ان کے والد کا بنوایا ہوا تھا۔ اسی میں ان کا انتقال ہوا۔سعیدالدین صاحب نے کہا کہ نیر مسعود صاحب کی تحریروںمیں اتنی وسعت ہے کہ انہیں ایک نشست میں سمیٹنا آسان نہیں ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں انسانوں کو کرادار کے طور پر لینے کے ساتھ ساتھ دروازوں، کھڑکیوں اور عمارتوں سے بھی ایک کردار کی طرح انصاف کرتے اور انہیں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کے افسانوں کی فضا اتنی مسحورکن ہوتی ہے کہ لگتا ہے ان کے پاس کہنے کے لیےکہانی نہیں صرف یہی فضا ہے، لیکن ان کی سب کہانیوں میں ایسا نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کے ذریعے دکھایا ہے کہ وقت کس طرح گلیوں، محلوں، عمارتوں پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔نیر مسعود نے اپنے افسانوں میں وقت کو قید کیا ہے۔ رفاقت حیات نے کہا کہ ان کا نیر مسعود صاحب کی تحریروں سے پہلا تعارف ان کے افسانے ‘‘اوجھل’’ کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ‘‘ سیمیا’’ پڑھا۔ یہ افسانے اپنی بھید بھری اور پراسرار فضا کے سبب آج بھی انہیں اپنے ذہن میں زندہ محسوس ہوتے ہیں۔رفاقت حیات نے مزید کہا کہ انہوں معرو ف فکشن نگار خالد جاوید صاحب کی ایک گفتگو سنی، جس میں وہ نیر مسعود صاحب کوصادق ہدایت ، کافکا اور ایڈگر ایلن پو کی قبیل کا فکشن نگار قرار دے رہے تھے، کیوں کہ نیر صاحب صاحب کے افسانوں میں بھی خوف اور دہشت سے مملو فضا غالب دکھائی دیتی ہے۔

اجمل کمال صاحب سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے رفاقت حیات نے کہا کہ ان کے خیال میں نیر مسعود صاحب نے زیادہ تر ہاتھ سے کام کرنے والوں کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ آصف فرخی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات مکمل طور پرنہیں صرف جزوی طور پر درست کہی جاسکتی ہے اور خالد جاوید صاحب کی توجیہہ سے قطع نظر ،نیر مسعود صاحب واقعیت یا حقیقت پر مبنی فکشن کے بہت قائل تھے۔وہ غلام عباس، محمد خالد اختر ، رتن ناتھ سرشارکو پسند کرتے تھے۔ انہوں نے ضمیر الدین احمد پر ایک مضمون لکھا۔عظیم بیگ چغتائی بھی انہیں پسند تھے۔نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ ان کہ ہاں حقیقت تہہ دار اور واہمے کے بہت قریب ہے۔حقیقت تخئیلاتی بھی تو ہو سکتی ہے۔ان کے تمام افسانوں میں ایک دبا ہوا احساسِ زیاں، ایک ملال، ایک حُزن اور افسوس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔انہوں نے لکھنو کی مخصوص زبان اور محاوروں سے یکسر اجتناب کیا ، جس کے باعث انکے افسانوں میں ایک نامانوس پن در آیا۔

آخر میں اجلاس کےصاحبِ صدر افضال احمد سید صاحب نےکہا کہ حلقے کو یہ نشست ضرور کرنی چاہیے تھی اور حلقے نے کی، کیوں کہ نیر مسعود اردو کے اہم تریب ادیب تھے۔ ہم انہیں جتنا یاد کر سکیں، کرنا چاہیے۔ میری کبھی نیر صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ایسے میں آصف صاحب کےذریعے ہمیں نیر سعود صاحب کے فن اور شخصیت کے باے میں بہت اچھی گفتگو سننے اور انہیں سمجھنے کا موقع ملا۔ میں نیر مسعود صاحب کا صرف ایک قاری ہوں۔میں نے ان کی تنقیدیں نہیں پڑھیں۔ میں ان سے ان کے ترجمے کے ذریعے متعارف ہوا۔ وہ تھا ‘‘ شجر الموت’’۔وہ پیٹر پان کی کہانی تھی۔وہ کہانی اور اس کا ترجمہ دونوں بہت خوب صورت تھے۔میں وہ پڑھتے ہی نیر صاحب کا عاشق ہوگیا۔ا س کے بعد ان کی کہانیاں پڑھیں۔ ان کی کہانیوں میں ابہام کی ایک صورت ہوتی ہے۔ابہام کو شاعری اور ادب میں ایک وصف سمجھاجاتا تھا۔ابہام کی وجہ سے ان کہانیوں کو بارِ دگر پڑھنے اور ان کے متعلق سوچنے کا موقع ملتا ہے۔نیر صاحب اپنے افسانوں میں جو فضا بناتے ہیں وہ ابہام کے ساتھ بھی بناتے ہیں اور طائوس چمن کی مینا جیسی کہانیوں میں بھی بناتے ہیں۔اس کہانی میں انہیں واجد علی شاہ ہیرو نظر نہیں آتا۔اس کہانی کے آخر میں ایسا جملہ بھی آتا ہے کہ اسے(مالی کو) قید واجد علی شاہ نے کیا مگر اسے رہائی انگریزوں نے دلوائی۔نیرمسعود صاحب اپنے افسانوں میں بہت کچھ بین السطور بھی کہتے تھے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
افضال احمد سید کی گفتگو کے حلقے کے اجلاس کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

Categories
نان فکشن

نیر مسعود؛ ایک مہربان شخص، ایک مبہم ادیب

تحریر: آصف فرخی
انگریزی سے ترجمہ: رفاقت حیات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ اور کہانی کہنے سے تعلق رکھنے والی دیویاں پریشاں خیالی میں مبتلا ہیں۔فکشن کا ایک عہداپنے اختتام کو پہنچا۔ادبی علم و فضل اورتحقیق کی بنیاد پر کی جانے والی تاریخ نویسی زیادہ تنگ دست لگ رہے ہیں۔ایک شہر اور اس کی پوری تہذیب، جو نفاست اور کھرے پن کے ساتھ، علامتی و تمثیلی قالب میں ڈھل کرادب کی تاریخ میں پھر سے لوٹ آئی۔جیسے ہی نیر مسعودلافانی لوگوں کی صف میں اپنی جگہ پر براجمان ہونے کے لیے دنیا سے رخصت ہوئے، تونہ صرف اردو ادب نے اپنی نفیس ترین اور سب سے باثروت آواز،بلکہ پوری کی پوری لکھنوی تہذیب بھی کھو دی،جس نے دنیا کے متعلق اپنے نکتہِ نگاہ سے آگاہ کیا تھااور جسے وہ اپنی تحریروں کے ذریعے علامتی و تمثیلی قالب عطا کرنے آئے تھے،اب وہ مردہ اور ازکار رفتہ ہوچکی ہے۔ان جیسے لوگ دوبارہ پیدا نہیں ہوتے اور ان کے گزر جانے سے پورا عہد، مگشدہ زمانے میں منقلب ہوجاتا ہے۔

تربیت سے عالم اور ادبی مورخ بننے کے باوجود، وہ پیدائشی کہانی کہنے والے تھے۔پہلے سےہی اردو اور فارسی کے جُز رس محقق اور ممتاز عالم کی حیثیت سے شہرت مستحکم کرنے کے بعدانہوں نے فکشن پر اپنی توجہ مرکوز کرکے ادبی دنیا کو حیران کردیا۔ اسی لیےان کی اولین کہانیوں کے ساتھ نوآموزوں والی خوش بختی یا کسی حادثے حتی کہ کسی واقعے جیسا معاملہ فوراً ہوا ہوگیا، جب وہ مستقل مزاجی کے ساتھ مزید کہانیاں لکھتے چلے گئے۔حیرت میں پڑنے والی بات درحقیت یہ نہ تھی کہ حقائق سے ہمہ وقت گتم گتھارہنے کی ساکھ رکھنے والے ایک سرکردہ عالم فکشن کی جانب آگئے تھے بلکہ حقیقی حیرت ان کہانیوں پر ہوتی تھی، جو وہ لکھ رہے تھے۔اردو ادب میں کسی دوسرے سے مماثلت نہ رکھنے والی،شان دار مہارت سے کہی گئی یہ کہانیاں،محسوس ہوتا ہےکہ خوابوں کے کسی عنصر کی مدد سے بُنی گئی ہیں، جیسےمکڑی کے جال کے نازک اور مہین تار، جنہیں غیر حقیقی پن سے بنایا گیا ہو مگر وہ اس کے باوجود پوری طرح حقیقی ہوں۔یہ سب مبہم، بیضوی،باطنی اور چکمہ دینے والی تھیں۔کوئی بھی انہیں پوری طرح سمجھنے یا جذب کرنے کا دعوی نہیں کرسکتا تھا، مگر اس کے ساتھ ان کا سِحر پرزور کشش کا حامل تھا مگر کوئی اس اختراع پسندی سے انکا ر بھی نہیں کرسکتا تھا، جو ان کی تحریروں کا خاصہ تھی۔

اپنی بنیاد میں تکمیلیت پسند، نیر مسعود کبھی بھی زرخیز لکھنے والے نہیں ہو سکتے تھے۔ان کی زندگی کا ماحصل پینتیس کہانیوں تک محدود ہے، جو چار مجموعوں میں شایع ہوئیں۔انہوں نے مجھے ایک مرتبہ بتایا کہ انہوں نے لڑکپن میں ہی کہانیاں لکھنی شروع کردی تھیں لیکن اس سے پہلے انہوں نے تحقیق کے ذریعے اپنا نام مستحکم کیا۔ان کی اولین کہانیاں پہلے شب خون میں شایع ہوئیں، جدید رجحانات کا حامل ادبی جریدہ،جسے شمس الرحمن فاروقی مرتب کرتے تھے،ایک ایسے ادبی آئیکون جو خود فکشن نگار کی حیثیت سے دیر سے سامنے آئے۔بہت سے لوگ اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار بیٹھےتھے کہ یہ ترجموں کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتیں۔یہ پراسرار مقامات پر رونما ہوتیں اور خالص اور صاف ستھرے انداز میں لکھی ہوتیں، ایسے با محاورہ اظہارات سے یکسر پاک، جنہیں اردو کے لکھنے والے فخر یہ استعمال کرتے چلے آرہےتھے، جو بعض اوقات برداشت سے باہر ہوجاتا تھا۔ان کا پہلا مجموعہ ‘‘ سیمیا’’ 1984میں منظرِ عام پر آیا۔اس کتاب نے قارئین کو بہت دھوکہ دیا اور محمد سلیم الرحمن نے،جو ایک زیرک ذہن رکھنے والے نقاد ہیں، انہیں ایک خاص دھندلے پن کے ساتھ اندرونی ساختہ اور ہر طرح کی تشریح کی ہم آہنگی سے مقابلہ کرنے والی کہانیاں قرار دیا۔ان کا اسلوب 1990میں چھپنے والی عطرِ کافور میں زیاد ہ کامل محسوس ہوتا ہے۔انتظار حسین انہیں اپنے زمانے کا سب سے اہم ادیب قرار دیتے ہیں۔

اس کے بعد وہ کہانی آئی،جس نے نیر مسعود کو، خود کو بھی حیران کردیا۔یہ تھی ‘‘ طاؤس چمن کی مینا’’ جو 1997 میں چھپنے والے مجموعے کے سرورق کی کہانی تھی۔اس نے گزشتہ کہانیوں سے رخصتی کو ظاہر کیا، جیسا کہ اس کامحل وقوع جو آخری حکم ران واجد علی شاہ کے دور کے ثروت مندلکھنو کے طور پر قابلِ شناخت تھا۔کہانی کہنے والا تاریخی محقق کے طور پر بے حدمنجھا ہوا ہے،اسی لیےرسمی طور پر اس مکمل کہانی میں شاہی پنجرے سے بولتی ہوئی مینا کی چوری اور اس کے ایک لڑکی کے ساتھ رہنے اور اس کا نام یاد کرکے دہرانے کی وجہ سے اس بے باک جرم کو دریافت کرنےکی جانب رہنمائی کرنے کی تمام جزئیات زندہ محسوس ہونے لگتی ہیں۔قدیم اور اب گُم شدہ ہوجانے والے گنجفہ کے کھیل نے انہیں اپنے آخری مجموعے کے لیے عنوان مہیا کیا،جو 2008میں شایع ہوا۔ان کی چند کہانیاںشایع ہونے سے رہ گئیں۔نیر مسعود کی ان کے مترجم محمد عمر میمن نے بھرپور انداز میں خدمت کی، جنہوں نے آہستگی اور باریک بینی کے ساتھ ان کی تمام کہانیوں کا ترجمہ کیا،جو ابتدا میں مختلف مجموعوں میں شایع ہوئیں،پھر اس کے بعد مجموعی کہانیوں کی صورت 2015 میں شایع ہوئیں،ایک ایسا مجموعہ جسے عزیز رکھا جائے اور بار بار اس کا مطالعہ کیا جائے۔ تب سے اب تک ان کی کہانیوں کا فرانسیسی، ہسپانوی اور فنِش زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔نیر مسعود کا بے عیب اظہار اب دنیا سے گفتگو کر رہا ہے۔

ایک کامل ہیرے کو روشنی میں لانے کے لیے، باصلاحیت زنبیل ڈرامیٹک گروپ کی جانب سےطاوس چمن کی مینا کو ڈارامائی انداز میں پڑھنے کا اہتمام کیاگیا۔جب مجھے T2F میں اسے متعارف کروانے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔جب اسے کرشماتی شخصیت سبین محمود کے ذریعے پیش کیا گیا تھا۔میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا تھا کہ مینا کو اردو زبان یا جلد کالونی بنائے جانے والے اور مکمل طور پر تباہ کر دیے جانے والےشاہانہ ہندوستان کی علامت کے طور پر اچھی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔چند کہانیاں اپنے بیان میں اتنی واضح اورتیز دھار ہیں اور اس کے باوجودصفائی سے ایسی اشیا کی جھلک دکھانے کا اہتمام کرتی ہیں جو حدود سے باہر واقع ہیں۔

ان کے فکشن نے ان کی دیگر تصانیف کو گہنادیا ہے۔انہوں نے رجب علی بیگ سرور کی زندگی اور ان کے کام اور لکھنو کے ایک شہنائی نواز،آج تک جس کا کوئی ہم سر نہیں ہے،پر کتاب کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔نیر مسعود نے متعدد تنقیدی اور تاریخی مضامین بھی لکھے لیکن ان کی سب سے زیادہ غیر معمولی کتاب میر انیس کا مطالعہ ہے،جو ان کے لیے تاحیات محرک بنا رہا۔یہ ایک ادبی آپ بیتی سے کہیں زیادہ ہے،یہ مرثیے سے تعلق رکھنے والی ہر کسی چیز کا واضح اور باثروت مطالعہ ہےاوراپنی وسعت میں تقریباً انسائیکلو پیڈیا کے مساوی ہے۔ میں ان کے مضامین میں سےظافر جن کے متعلق مرثیے پر لکھا جانے والا مضمون کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔انہوں نے فکشن لکھنے والوں اور اشعارِ غالب کی تعبیر پر چند عمدہ مضامین لکھے۔وہ مترجم کی حیثیت سے بھی کم غیر معمولی نہیں تھے، انہوں نے فارسی سے چند کہانیاں اور کافکا کی کہانیوں کی ایک مختصر کتاب ہمیں دی ہے۔انہوں نے ایک ریڈیائی ڈرامہ اور کبھی کبھار بچوں کے لیے کہانیاں بھی لکھیں۔

نیر مسعود کی تمام تحریروں کی جڑیں ان کے مخصوص وقت اور مقام میں دور تک گئی ہیں۔1936میں لکھنو میں پیدا ہونے والے، وہ مسعود حسن رضوی ادیب کے ہونہال فرزند تھے، جو اپنے دور کےمشہور عالم تھے۔اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے پہلے اردو میں، پھر فارسی میں پی ایچ ڈی کی اور اس کے بعد لکھنو یونیورسٹی سے وابستہ ہو گئے۔طبعاً شرمیلے اور خلوت پسندہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے دوستوں کے حلقے میں عالم فاضل کی زندگی بسر کی۔وہ شاذونادر ہی سفر کرتے تھےاور لکھنو ان کے لیے پوری دنیا بن گیاتھا، ایک موضوع جو اپنی لامحدود وسعت تک ہر وقت ان کےمطالعے میں رہتا تھا۔

فخرو انبساط اور لامحدود علم کے ساتھ،وہ اس شہر میں میرے اولین قدموں کی رہنمائی کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔میرا دورہ کئی برسوں سے جاری خطوط کے تبادلے کے سبب پہلے سے طے شدہ تھا(وہ بہت بامروت خط لکھنے والے تھے)میں خوش نصیب تھا کہ مجھے اان کی شان دار خاندانی حویلی میں ان کے ساتھ ٹھہرنے کا موقع ملا، جسے ان کے والد نے تعمیر کروایا اور جسے بجا طور پر ادبستان کانام دیا گیا۔شہر سے میری روشناسی کو اس کے سواکچھ اور مکمل بھی نہیں کرسکتا تھا۔انہوں نے میرا تعارف افسانوی ‘’ٹُنڈے کے کباب’’ اور ‘‘ چوک کی بالائی’’ سے کروایا اور پھر انہوں نے مجھے کالی امراو جان، جوایک تاریخی شخصیت تھی اور جس نے ہو سکتا ہے لکھنو کی مشہور ادبی ہستی کو بھی متاثر کیا ہو، اس کا کوٹھا دکھانے کا اہتمام کیا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان روابط کی دشواریوں کے باوجود انہوں نے خطوط اور کتابوں کا تبادلہ مستقل مزاجی سے جاری رکھا۔انہوں نے مجھے اپنی چند کتابیں کراچی سے شایع کرنے کی اجازت دی۔ان کی حوصلہ افزائی سے،میں نے فکشن پران کے تنقیدی مضامین اکٹھے کیے اوراس کے بعد ان کی منتخب کہانیوں کا ایک مجموعہ ترتیب دیا۔انہوں نے مجھےغالب پر اپنے مضامین کےتوسیع شدہ ایڈیشن کا مسود ہ ارسال کیا۔وہ صاحبِ فراش ہوچکے تھےاورآہستگی سے ان کی ادبی سرگرمی زوال پذیر ہورہی تھی۔ وہ کمزور دکھائی دینے لگے، میں نے جب انہیں آخری مرتبہ دیکھا تو ان کی صحت اچھی نہیں تھی۔ان کے خطوط مختصر سے مختصر تر ہوتے چلے گئے، ان کی باقاعدگی میں بھی فرق آنے لگا اور بالآخر وہ مکمل طور پربند ہو گئے۔وہ پہلے سے ہی ایک نشیبی ڈھلان پر تھے۔میں نے اسی وقت بدشگونی کو محسوس کرلیا، جب مجھے ان کی جانب سے بھیجی جانے والی کتاب، ان کے مخصوص دست خط کے بغیر وصول ہوئی۔ ان کی عالی مزاج، مہربان اور شفیق شخصیت کو میں روح تک مہذب شخص کے طور پر یاد کرنا پسندکرتا ہوں۔وہ مرشدِ معنوی تھے، جو میرے ادبی افق کووسعت دینے،لکھنے اور پڑھنے کے سلسلے میں ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے۔ ادبی دنیا کی ایک خلیق دھیمی روشنی ُگل ہوگئی لیکن نام نیر مسعود، جب تک میں زندہ ہوں، میرے دل میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔