Categories
شاعری

تنہائی (رضوان علی)

شاید اس سیارے پر
مَیں اکیلا ہی ہوں
اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر
اکیلے ہی طے کرنا ہے
باقی سب ہمسفر
شاید ابھی سو رہے ہیں
جب وہ جاگیں گے
تب تک تو یہ سفر ختم ہو چکا ہو گا

اس تنہائی کا کوئی سدِ باب ہے؟
کوئی ہمسفر، ہم نفس، ہم راز
ہے کہ نہیں ہے؟
کیا میں کسی اور سیارے پہ
کوئی پیغام بھیج سکتا ہوں؟
شاید وہاں کوئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا ہمسفر، ہم نفس، ہم راز
میرا غمگداز، ہم دم، ہم زاد

مجھے لگتا ہے میَں
کسی غلط جگہ پیدا ہو گیا ہوں
اب ایسے میں میَں
کیا شیو کروں
کیا کپڑے بدلوں
نہاؤں بھی کیوں؟
زندہ ہی کیوں رہوں
کاش میں خلائی مخلوق ہوتا
تیرتا رہتا
اور کہیں نہ پہنچ پاتا
واپس لوٹ آتا
تنہائی کی گہرائی میں ۔۔۔۔۔۔

اے خدائے عزوجل!!
اس سیارے پر یا تو کسی کو بھیج
یا مجھے اپنے پاس بلا لے
یا مجھے وہ گُر بتا
کہ میں کسی کو جگا سکوں
کسی کو اپنا بنا سکوں
رُلا سکوں، ہنسا سکوں

Categories
شاعری

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے (فرح دیبا اکرم)

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے
جب اس کا دم گھٹنے لگے تو
کھڑکی پہ پردہ ڈال کر
مدھم روشنی کو
اندھیرے کی چاندنی سے ڈراتی ہے

ایک آخری کام رہ گیا ہے
تیری امانت، تیرے سپرد کرنی ہے
اپنے جنوں کے بےمعنی اضطراب کو
تمھارے دروازے کے ڈور میٹ پہ رکھ کر
زمانے کی زنجیر کھینچنی ہے

میں وحشت کا استعارہ ہوں
زندگی میری آہٹ سے ڈر جاتی ہے
موت آواز کے سنّاٹے میں ہڑبھڑا اُٹھتی ہے
جانتے ہو، میں جہاں ہوں۔۔۔وہاں آسماں کا سایہ نہیں
بس اُس کی اک آہ نے
میرے خواب کی تعبیر اُلٹ دی۔۔۔
Image: Krisztian Tejfel

Categories
شاعری

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے
اور پھیلتی چلی جاتی ہے
کبھی نہ ختم ہونے کے لیے
وہ کتنے خوش رہتے ہیں
جو بظاہر مِل کر بھی در اصل نہیں مِلتے
اور دلوں میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے
دل کا دل سے
روح کا روح سے
اور شریر کا شریر سے ملنا
یہ سب تنہا ہونے کے جتن ہیں
پتا نہیں
زندگی تنہائی کے بغیر ادھوری ہے
یا تنہائی زندگی کے بغیر
لیکن ہم جہاں جاتے ہیں
اپنی تنہائی ساتھ لے جاتے ہیں
اور جہاں ٹکتے ہیں
یہ ہمارے بیچ یا کہیں آس پاس
کنڈل مار کر بیٹھ جاتی ہے
گاہے زیادہ
گاہے کم ہونے سے
تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !

Image: Henn Kim

Categories
شاعری

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کو خوبصورت پھول میں تبدیل کرنے کے لیے
کترا نہ جا سکتا
کبھی اس سے کوئی کاغذ کی کشتی جوڑ کر
گہرے سمندر کی طرف بھیجی نہ جا سکتی
سفر کے درمیاں آئی اک انجانی سرائے میں
ذرا سا دام کے بدلے
اسے ہارا نہ جا سکتا

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کو مختلف ٹکڑوں کے اندر بانٹ کر
ہم اپنی مرضی کے نہ ان میں رنگ بھر سکتے
بڑی مقدار میں اس کو
نہ ہم ای میل کر سکتے
اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے خوبصورت رنگ
آوارہ سی اک بارش میں دھو ڈالے نہ جا سکتے
اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے فالتو ٹکڑے
منڈیروں پر پرندوں کے لیے پھینکے نہ جا سکتے