پیٹرول میں لہو کی لکیر (شاعر: اشرف فیاض، ترجمہ: ادریس بابر)
ابھی وقت لگے گا روح کو ہمیشہ کے لیے کھونے میں
ابھی وقت لگے گا روح کو ہمیشہ کے لیے کھونے میں
پامالی کا اپنا حسن ہوا کرتا ہے پامالی کے ضبط پہ دنیا ٹکی ہوئی ہے
زمین کے بیضوی سرے سے پھسل کر محبت قریبی بلیک ہول میں گر گئی ہے!
غربت کی لکیر آمدنی اخراجات کو دعوتِ گناہ دیتی ہوٸی آتی ہے “ہم مہذب نہیں مذہبی ہیں” اس جملے کی…
وہ میرے دل کو ایسے بھر دیتا ہے جیسے سناٹا خالی کمرے کو
شام کا وقت ہے اور خالی ہوں میں دو دو کپ چائے پی کر بھی راحت نہیں خالی پن سے…