ایک معمولی سا منظر اور دوسری نظمیں (سوئپنل تیواری)
شام کا وقت ہے اور خالی ہوں میں دو دو کپ چائے پی کر بھی راحت نہیں خالی پن سے…
شام کا وقت ہے اور خالی ہوں میں دو دو کپ چائے پی کر بھی راحت نہیں خالی پن سے…
پرندے کی چہک لے کر اسے سیٹی بنا لینا ہوا کے ایک جھونکے کو کبھی موسم بنا لینا
تم جو ایک بادبانی گیت ہو تمہارے لہراتے سُروں کی سبز شاخوں پر میرا بسیرا ہے
شاید میرے خیال کا قد، میرے وجود سے بڑھ گیا ہے ، اور میرا بالشتیا ہونا بہت ڈراؤنی بات ہے…
اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو تم عام سی لڑکی نہیں رہو گی میری سطریں سمندروں میں کود…
تمہیں کیسے بتاؤں کہ میں ایک بھولی ہوئی وادی کے گمنام شہر کا بچہ تھا
لیپ ٹاپ ساری رات ٹہلتا اور بڑبڑاتا رہتا ہے اسے اب راتوں کو نیند نہیں آتی!
جب شہر سو رہا تھا دُور، ایک کوہ کے دامن میں دریا نے مچل کر دھرتی کے گُداز سینے میں…
مجھے نکال کر لے جانے دو میری ماں کی قبر جسے میں تمہارے گھوڑوں تمہارے کتوں کے لیے نہیں چھوڑ…