تیرہ بچے (ممتاز حسین)
خدا بادلوں کی سیڑھیاں چڑھ کر بارش کے لحاف میں سو گیا
وہ نظم جو خدا نے لکھی تھی ہم سے کہیں کھو گئی ہے ڈھونڈو اسے اس میں شاید ہماری موت…
میں ننھے بچوں کے ماتھے نہیں چومتی کہیں میری وحشت ان میں منتقل نہ ہو جائے
میں اُکتا کر اٹھتا ہوں اور سنسان گلی میں خود کو ڈھونڈنے جاتا ہوں
تمہارا نام شاعری ہونا چاہیے تھا ہم آنکھیں موند کر صرف تمہارا دیکھنا سوچتے اور میرؔ کا دیوان سُلگ اٹھتا
وہ قدیم روایت کے احساس تلے جماہی لیتا ہے اور تاریخ دہرانے کے لیے پرندوں کے قبیلے میں شمولیت کی…
اس زمین کی خاک میں نہ جانے کتنی آنکھیں دفن ہیں جو عمیق سمندروں کے نمکین پانی سے گھری ہوئی…