Categories
فکشن

نعمت خانہ: اکتیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اور اِسی شور میں، میری کھوپڑی میں، وہ زہریلا سانپ موجود تھا جس نے ایک طرح سے، کچھ معاملوں میں میرے اوپر چودہ طبق روشن کر رکھے تھے۔ یہ سانپ سر میں کلبلاتا، دل میں گھبراہٹ ہوتی اور پیر کانپنے لگتے۔ میری بدقسمتی کے اس مرض نے یہاں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔

میں دو دو قتل بھول گیا۔ میں بڑے ماموں کی موت بھول گیا، میں بہت جلد، نہ جانے کیا کیا بھول گیا مگر باورچی خانے سے آتی ہوئی، کسی خوشبو یا بدبو کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟ میں یہ نہیں بھولا۔

میں اپنی اس پرُاسرار صلاحیت سے ہاتھ دھو بیٹھنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکا۔
ہوسٹل میں جہاں میرا کمرہ تھا۔ وہاں راہداری ختم ہوجاتی تھی۔ یوں دیکھیں تو آخری کمرہ تھا جس کے بعد میس کی عمارت شروع ہو جاتی تھی۔ یعنی باورچی خانے کی حکومت۔

دن بھر میرے کمرے میں، طرح طرح کے کھانوں کی خوشبوئیں یا کبھی کبھی بدبوئیں بھی آتی رہتی تھیں اور میں اُنہیں ایک کتّے کی مانند سونگھنے پر مجبور تھا۔ کچھ دنوں سے طلبا، ہوسٹل کے کھانے سے مطمئن نہیں نظر آرہے تھے۔

میرے کمرے میں ترپاٹھی اور اِدریس بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔

’’یار حفیظ۔۔۔ اب ایسے کام نہیں چلے گا۔‘‘ اِدریس نے سگریٹ سُلگایا۔

’’کیا ہوا؟‘‘
’’کل سالوں نے بریانی کے نام پر دھوبی پُلاؤ زہر مار کرا دیا۔

ترپاٹھی نے ایک زبردست قہقہہ لگایا اور پان مسالہ منھ میں ڈال کر بے ہنگم انداز میں چبانے لگا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ کھانے کے بارے میں، ویدوں یا اُپنشدوں سے کوئی نکتہ یا فقرہ نکال کر لائے گا ترپاٹھی کو قدیم ہندوستانی فلسفے پر پر خاصا عبور حاصل ہو گیا تھا۔ مگر ٹھیک اُسی وقت مجھے اپنی ناک میں ایک سڑاندھ کا احساس ہوا۔ میں نے نتھنے پھلائے تو علاؤ الدین ہنس کر بولا۔ ’گوبھی ہے، گوبھی۔‘‘

’’بڑی بدبو ہوتی ہے یار جب گوبھی پکتی ہے۔‘‘

’’یہ اصل میں گندھک کی وجہ سے ہے، گوبھی میں گندھک یعنی سلفر بہت پایا جاتا ہے۔‘‘ ترپاٹھی نے اپنی علمیت کا اظہار شروع کر دیا۔
’’پتہ ہے یار— ‘‘ علاؤ الدین نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔ ’’اس کی کھیتی میں بطور کھاد تازہ تازہ انسانی فضلہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘
’’دیکھ بھائی علاؤالدین — تونے Food Cycle پڑھی ہے؟ ‘‘ ترپاٹھی نے پوچھا۔

علاؤ الدین نے نفی میں سر ہلایا۔

’’میرے پاس ہائی اسکول میں سائنس تھی، میں نے پڑھی ہے۔ سارا کھیل نائیٹروجن اور ایمونیا کا ہے۔ چیزیں وہیں سے شروع ہوتی ہیں جہاں پر ختم ہوتی ہیں۔ یہ آنتوں سے آنتوں تک کی یاترا ہے۔ انسان کی آنت میں گیا کھانا، رنگ روپ، بدل کر باہر آتا ہے، اور دوبارہ اُس کی آنتوں کے لیے خود کو مٹا کر سڑا کر نیا کھانا تیار کرتا ہے۔ اسی لیے یجروید میں اُس یگیہ کی بہت اہمیت ہے، جس میں صرف منتر کے ذریعے، آنتوں کی بھوک مٹ جائے اور کھانا محض علامتوں میں بدل جائے۔‘‘ ترپاٹھی آگے بھی کچھ کہہ رہا تھا مگر میں نے نہیں سنا۔

میرے ہاتھ پیر کانپنے سے لگے۔

وہ کالا جادو یہاں بھی چلا آیا تھا۔ میرے پیچھے پیچھے۔ اپنے گھر سے اس شہر تک۔ میں نے دو ندیاں پار کیں، مگر جادو نہیں کٹا۔ لیکن پھر مجھے ایک کمینی اور چھچھوری مسرّت کا احساس ہوا۔ یہ جادو میرا دشمن نہیں ہے۔ یہ تو میری طاقت ہے۔ ایک ایسی کالی طاقت جس کا علم کسی کو نہیں، میری چھٹی حس جو اپنی وسعت میں ایک دن اس نیلگوں آسمان کو بھی سمیٹ لے گی۔ مجھے اپنی جیومیٹری کی ساری اشکال، اُن کے زاویے اور آپسی محور یاد تھے۔ اس کمینی اور چھچھوری مسرّت کا احساس ہوتے ہی میرے ہاتھ پیر کانپنا بند ہو گئے۔

’’آج گوبھی کا پکنا اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ میں نے مسکرا کر اپنے لفظوں کو تولتے ہوئے کہا۔
’’ارے یار گوبھی پکنا تو کسی بھی دن اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ ترپاٹھی بیزاری سے بولا۔
میں فخریہ انداز میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔
’’چلو، ڈائننگ ہال میں چلیں دو بج رہے ہیں۔ بھوک لگنے لگی۔‘‘علاؤ الدین اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’تم لوگ جاؤ، میں کمرے میں ہی کھانا کھاؤں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ابے سالے پڑھاکو— تیرے جیسوں کا ہی بیڑہ غرق ہوتا ہے۔ مت بن کتابی کیڑا، مت بن۔‘‘ ترپاٹھی نے پھر اپنی تقریر شروع کی۔
میں نے اُسے دکھانے کے لیے، ایک جماہی لی اور چادر اوڑھ کر لیٹ گیا۔

علاؤ الدین اور ترپاٹھی کمرے سے چلے گئے تھے۔ نومبر کا مہینہ تھا جو کوئی مہینہ نہیں ہوتا۔ اس کی اپنی کوئی شناخت، کوئی پہچان نہیں ہوتی۔ اس لیے اسے اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے، اور اپنی تاریخیں یاد کرانے کے لیے بھیانک واقعات یاحادثات کی ضرورت پڑتی ہے۔ دوپہر تین بجے سے ہی اندھیرا سا پھیلنے لگا۔ کیونکہ دھوپ کا گزر نہیں تھا۔ ڈائننگ ہال سے شور کی آوازیں آ رہی تھیں۔ میں نے چادر سے منھ نکال کر غور سے سننے کی کوشش کی۔ یہ شور کھانے کے بارے میں یا کھاتے وقت کا عمومی شور تو نہ تھا۔ اب مجھے بھی کچھ بھوک لگ رہی تھی۔ بیرا نہ جانے کب کا میز پر کھانا رکھ کر چلا گیا تھا۔ مگر میں سوچ رہا تھا کہ پہلے کوئی برُی خبر سن لوں۔ پھر آرام سے کھانا کھاوں گا۔ کسی طالب علم کی خبر آتی ہے یا کسی پروفیسر کی یا پھر جلّاد پرنسپل کی—؟ اتنا تو مجھے یقین تھا کہ آج، اس وقت ہوسٹل کے میس میں گوبھی پکنا غلط تھا، اور بدشگونی کی علامت تھا۔

ڈائننگ ہال سے شور بڑھتا ہوا گیلری کی طرف آنے لگا۔ میں بستر سے اُٹھ کر کمرے کے دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا۔ تیز تیز بھاگتا ہوا، ترپاٹھی مجھے دور سے ہی نظر آ گیا۔

’’حفیظ—حفیظ— غضب ہوگیا۔‘‘ وہ دور سے ہی چلّانے لگا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ میں اندر ہی اندر اپنی صلاحیت کا معترف ہونے لگا۔
’’اِندرا گاندھی کو قتل کر دیا گیا۔‘‘
اب مجھے واقعی سکتہ سا طاری ہونے لگا۔ اس نوعیت کی خبر کی مجھے خواب تک میں توقع نہ تھی۔

طلبا اور پروفیسر افراتفری میں اِدھر اُدھر جاتے ہوئے نظر آئے۔ کئی لوگ کان پر ٹرانسسٹر لگائے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ کل تک کے لیے کلاسز ملتوی کر دلیے گئے ہیں۔

نہ جانے کب شام ہو گئی۔ اکتوبر کے آخر اور نومبر میں سورج اتنی تیزی سے ڈوب جاتا ہے کہ کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی۔ ہر جانب ایک سنّاٹا تھا۔ سڑکیں سنسان اور دہشت زدہ سی نظر آرہی تھیں۔ لوگ یا توبھیڑ بناکر ایک جگہ اکٹھا ہوکر چہ میگوئیاں کر رہے تھے یا پھر بہت تیزی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے۔ سرکاری دفاتر کے بند کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ میں کالج کے آس پاس کی سڑکوں اور کتابوںکی چند دوکانوں پر بھٹکتا رہا۔ مجھے اپنے قصبے میں کسی کی کہی ہوئی بات یاد آرہی تھی کہ جب ملک کا کوئی بڑا سیاسی رہنما یا قائد مرتا ہے تو سارا ملک سائیں سائیں کرتا ہے۔ ہر طرف ویرانی ہی ویرانی پھیل جاتی ہے۔ اور یقینا ایسا ہی تھا۔ وزیر اعظم اِندرا گاندھی کویہاں سے چار سو پچاس کلومیٹر دور — دہلی میں اپنے گھر کے قریب، اُن کے اپنے ہی باڈی گارڈوں یا محافظوں کے ذریعہ گولیوں سے چھلنی کیا گیاتھا۔ مگر ویرانی یہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ممکن ہے کہ اُس میں نومبر کی بے رنگ شام کا بھی کچھ حصّہ مل گیا ہو۔

میں چلتے چلتے پرساد ٹاکیز کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں امیتابھ بچن اور دھرمیندر کے بڑے بڑے پوسٹر لٹک رہے تھے۔ فلم شعلے چل رہی تھی۔ شعلے اس ٹاکیز میں گذشتہ آٹھ سال سے چل رہی تھی۔ اور آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو یقین کیجیے پرساد ٹاکیز میں آج بھی شعلے دکھائی جا رہی ہے۔ آج جب میری عمر اڑسٹھ سال کی ہو چکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ امیتابھ بچن اور دھرمیندر کی شکلیں بھی اب بوڑھی اور قابل رحم نظر آتی تھیں۔ مگر ٹاکیز خالی تھا۔ اُس پر تالہ لٹکا ہوا تھا۔ شہرکے سارے سنیما ہال بند کر دئیے گئے تھے۔ میں فلم دیکھنے نہیں گیا تھا۔ مگر سنیما ہال کو ویران دیکھ کر، اُس پر ایک منحوس تالہ لٹکا ہوا دیکھ کر، میرے دل کو سخت دھکا پہنچا۔

پوسٹر میں، میں نے سنجیو کمار کی انتقام میں جلتی سلگتی ہوئی آنکھیں دیکھیں اور سوچا کہ آج شام کے اور رات کے شو میں، سنجیو کمار کا انتقام فلم کی ایک خاموش اندھیری رِیل میں بند رہے گا۔ وہ باہرنہیں آئے گا۔ جس طرح ہر انتقام، بلکہ ہر جذبہ وقت کے فریم میں بہتا ہے اور کبھی — شاید رُک جاتا ہے بالکل اس طرح جیسے کسی کے دل کی رگوں میں بہتا ہوا خون جم جاتا ہے اور حرکتِ قلب بند ہو جاتی ہے۔

وہ انتقام کا زمانہ تھا۔ اینگری ینگ مینوں کا زمانہ۔ راجیش کھنہ کی قربانیوں، المیوں اور محبتّوں کا زمانہ ابھی بس حال ہی میں گزرا تھا۔ مگر اب اُس کے نشان بھی باقی نہ تھے۔ اب انتقام کا رُخ انفرادی تھا۔ اور اِس انفرادی انتقام کواجتماعی شعور نہ صرف پسند کرتا تھا بلکہ اس پر پھول برساتا تھا اور تالیاں بجاتا تھا۔

انتقام جس کی پیداوار یا جس کی جڑوں کا ایک کیڑا خود میں بھی تو تھا اور اِندرا گاندھی کا قتل—؟
سورن مندر پر گولیاں چلائے جانے کا بدلہ اورخالصتان کو سیاسی طور پر قبول نہ کرنے کی سزا۔

سنیما ہال کے سامنے کھڑے کھڑے پولیس کی گاڑیاں سائرن دیتے ہوئی نکل گئیں۔ دفعہ 144 لگا دی گئی تھی۔ ریڈیو پر خبر آئی کہ دہلی میں سکھّوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ بازاروں کو آگ لگادی گئی ہے۔ سکھّوں کے گھر پھونک دئے گئے ہیں۔ اب اِندرا گاندھی کے قتل کا بدلہ لیا جارہا ہے۔

31؍ اکتوبر کی یہ شام اب جاڑوں کی رات میں بدلنے لگی۔ ویرانی کا احساس اور بڑھ گیا اور خوف و دہشت کا بھی۔
میں واپس ہوسٹل اپنے کمرے میں آیا۔
گیلری میں میرے احباب میرا انتظار کر رہے تھے۔ وہ سب میرے کمرے میں چلے آئے۔
کمرے میں، گوبھی کی بو بری طرح بھری ہوئی تھی۔
مجھے اپنی ناک پر ہاتھ رکھنا پڑا۔

اُس رات میرے کمرے میں دوستوں کا آنا جانا لگا رہا۔ ہیٹر پر چائے بنتی رہی اور سیاسی بحثیں ہوتی رہیں۔ حالانکہ ہم سب کی عمر اُن دنوں سیاسی یا سماجی شعور کے معاملے میں صرف بچکانہ رویّوں یا خیالات کے مناسب ہی ہو سکتی تھی۔ پھر بھی بہت بکواس ہوتی اور بکواس کے درمیان کہیں کہیں کوئی ایسا جملہ بھی چمک اُٹھتا تھا جس کی معنویت آج مجھے پہلے سے بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ جہاں تک میرا سوال ہے، مجھے نہ اُن دنوں کوئی سیاسی شعور تھا اور نہ اب ہے۔ میرے سامنے دوسرے سوال تھے اور یہ سوال خود میرے وجود کی آہٹیں مجھ سے ہی کرتی تھیں۔ میرے ساتھ ایک ماضی تھا جس سے خون کی بو آتی تھی۔ اگرچہ میں اس ماضی کو بڑی بے شرمی کے ساتھ بھول گیا تھا مگر دراصل ہم بھُولتے کچھ بھی نہیں ہیں۔ پیڑ سے گرا ایک پتّہ تمھارے جوتے کے تلے میں چپک جاتا ہے، تم چلتے چلتے کچھ دیر تک پتّے کی سڑک پر رگڑ کی آواز سنتے ہو، پھر دنیا کے شور اور اُس کی بے ہنگم آوازوں میں پتّے کی رگڑ دب کر معدوم ہوجاتی ہے۔

مگر ایک دن آتا ہے جب تم اپنے جوتے کی صفائی کرنے اور اس پر پالش کرنے بیٹھتے ہو۔
بس وہی دن ۔۔۔ دوبارہ تمھیں تمھارے گناہ یاد دلاتا ہے۔ وہ دن تمھیں یاددلاتا ہے کہ تم نے اپنے کتنے گندے کپڑے دھوبی کو دھلنے کے لیے دیے تھے، تم اپنی جیب سے وہ فہرست نکالتے ہو اور پڑھتے ہو اور پھر ملاتے ہو۔۔۔ کپڑے سے کپڑا۔۔۔ اور یہ بھی کہ کون سا کپڑا مسک کر، پھٹ کر، دھوبی کے یہاں سے واپس آیا ہے اور کون سا کپڑا گم ہو گیا، ہمیشہ کے لیے۔ تو بس اتنا ہی تھا اور یہاں شہر آکر، محض ایک گوبھی پکنے کی بُو نے مجھے ایک بار پھر اپنے اندر بیٹھے خوفناک بن مانس کا احساس دلا دیا۔ مجھے سب کُچھ بڑی شدّت کے ساتھ یاد آ گیا۔ اتنی شدّت کے ساتھ کہ کاغذ پر اس لفظ ’’یاد‘‘ کو لکھنے سے زیادہ مضحکہ خیز اس وقت اور کچھ نہیں ہو گا۔

میرے سوال سیاسی غلطیوں کے بارے میں نہیں تھے۔ میں اندرا گاندھی کی سیاسی غلطیوں کے بارے میں گفتگو کرنے کا اہل ہی نہ تھا۔ میں تو مگر، جرم، سزا اور انصاف کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنے سر کے بائیں حصّے کو ہمیشہ کشمکش میں مبتلا کر تا رہتا تھا۔ اور وہ حصّہ پھوڑے کی طرح دُکھنے لگتا تھا۔

جرم کس سے سرزد ہوتا ہے؟
سزا کیسی ہوتی ہے؟ سزا کا چہرہ کیا قتل سے ملتا جلتا ہوتا ہے؟
پھانسی کے تختے کی طرف مجرم کو لے جاتے ہوئے جلّاد کون سا گیت گاتا ہے۔

اور انصاف—؟ انصاف کس عدالت میں ہوتا ہے؟ عدالت آخر ہے کہاں؟ سزا اور انصاف میں کیا فرق ہے؟ کیا سزا کے دانت اُتنے ہی بڑے بڑے اور نُکیلے ہیں جتنے کہ انصاف کے دانت۔ سزا اورانصاف کے چہرے آپس میں کتنے مشابہ ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر وہ ہاتھ، جو انصاف کی خون جیسی لال روشنائی میں اپنی انگلیاں ڈبو کر، انسان کی پیٹھ پر سزا کے منحوس عدد لکھتا ہے، وہ ہاتھ کس کا ہے؟
وہ ہاتھ کس کا ہے؟
ریڈیونے بتایا کہ دلّی میں سکھّوں کے پورے کے پورے علاقے پھونک دیئے گئے اور گرودواروں میں آگ لگا دی گئی۔ سکھّوں کا قتل عام تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ بہت بعد میں شاید، راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ ’’جب ایک— بڑا اور گھنا پیڑ گرتا ہے۔۔۔۔ تو؟‘‘

پتہ نہیں آگے کچھ کہا تھا۔ مگر میرے لیے اُسے اِس وقت یاد کرنا اور وہ بھی ذہن پر زور دے کر محض ایک رائیگاں اور بے معنی سی تکلیف دہ حرکت ہے۔
اُس رات میں نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔ اگلا سال میرے بی۔اے کا سال دوئم ہو گا اور میں جو ایم۔اے پالیٹیکل سائنس میں کرنے کے بعد ریسرچ کرنا چاہتا تھا اور کسی یونیورسٹی میں پروفیسر بننا چاہتا تھا۔۔۔ اچانک بدل گیا۔

میں نے حتمی فیصلہ کر لیا کہ میں قانون پڑھوں گا۔ اگلے سال میں ایل۔ایل۔بی۔ میں داخلہ لوں گا۔ مجھے یاد ہے کہ دل میں یہ فیصلہ کرتے ہی مجھے وقتی طور پر بہت سکون حاصل ہوا — رات گزر گئی تھی، پو پھٹ رہی تھی۔
میری ہی نہیں، ہم سب کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔
نیند میں اونگھتے ہوئے،میرے کان میں ریڈیو پر آتی ہوئی خبر سنائی دی۔
’’راجیو گاندھی کو وزیر اعظم بنا دیاگیا۔‘‘

یہ خبر میرے لیے ایک لوری کی طرح تھی۔ اچانک مجھے بہت گہری نیند کا غلبہ محسوس ہوا۔ نومبر کی اِس بے ہنگم صبح کی ہوا میں ایک بدمزہ اور خشک سی خنکی تھی۔ میں نے چادر کو منھ تک اوڑھ لیا۔
(جاری ہے)

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 7 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

لال فیتہ شاہی کے چلتے ’’ایک پریوار، ایک کمرہ‘‘ کی سرکاری پالیسی نے کئی سارے ریفیوجی پریواروں کو پہلے کاغذ پر، پھر حقیقت میں توڑ ڈالا۔ ہمارا پریوار بھی اس کا شکار ہوا۔ یہاں آنے تک ایک گھر، ایک پریوار، زیادہ کشادہ جگہ حاصل کرنے کے چکر میں ٹوٹ کر تین گھروں میں بٹ گیا۔ اس بکھرتے پریوار کی مالی حالت بھی کنگالی کے کگار تک جا پہنچی تھی۔ یہاں تک آتے آتے کچھ دن سرکاری راشن کا آسرا رہا تو کچھ گھر کے برتن بھانڈے بیچ کر گزر ہوتا رہا۔ ہاتھ کی نقدی، زیور زٹا کچھ بھی باقی نہ بچا تھا۔ گھر کی غریبی کی اس حقیقت کو پریوار کا ہر فرد دل ہی دل میں محسوس کرتا تھا لیکن زبانی طور پر سویکار نہیں کرتا تھا۔ ہمیشہ خود کو دوسروں کی مثالیں دے کر بہتر بتاتے۔ اپنے سے زیادہ بدحال لوگوں کی باتیں کرتے ہوے اپنی غریبی کو ڈھارس بندھاتے رہتے۔ دادا پوری جان لگا کر گھر کی مالی حالت سدھارنے کی کوشش میں صبح سے کرائے کی سائیکل لے کر نکل جاتے تھے۔ اخباروں کے لیے رپورٹنگ کے بدلے ملنے والا پیسہ بہت کم تھا۔ پڑھے لکھے انسان ہو کر سڑک پر بھجیے [پکوڑے] یا شکر بیچنے میں جھجک تھی۔ سو اپنی بی اے کی ڈگری کی مدد سے ایک وکیل کے ساتھ کچھ دن کام کر کے، بنا ایل ایل بی والے وکیل ہو گئے۔ مگر سندھی وکیل کے پاس کیس کہاں سے آتے۔ اور آتے تو غریب سندھیوں کے، جو فیس کے نام پر دام کم اور دعائیں زیادہ دیتے تھے۔

اس ماحول میں بھی وکیل صاحب کے ادھار کے بھروسے کھانے پینے اور صاف ستھرے رہنے کے شوق کے چلتے کبھی کبھی باہر والوں کے ساتھ ساتھ خود گھر والوں کو بھی اپنی خوشحالی کا یقین ہونے لگتا۔ لیکن تقاضے کی بڑھتی آوازوں سے خواب ٹوٹ جاتا۔ گھر کے دوسرے مرد بھی ہر دن کمائی بڑھانے کی نئی نئی تجویزوں پر بات کرتے۔ کچھ پر عمل کرتے۔ کبھی کامیاب، کبھی ناکام ہوتے۔ اِدھر مہیلائیں اپنی اپنی طرح سے اسی دِشا میں کام کرتیں۔ ماں اور اس کی بہنیں کپڑے سیتے وقت تو ہنستے بولتے، قہقہے لگاتے کام کرتیں لیکن اکیلے ہوتے ہی غریبی، بھوت کے سائے کی طرح پیچھے لگی ہی رہتی۔

ماں نے ایک دن تاج محل میں رہنے والی اپنی ایک سہیلی شیلا کے تیزی سے بدلتے حالات کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔ معمولی سے ٹھیکیدار کے منشی سے اس کا باپ ٹھیکیدار ہو گیا۔ اپنا گھر بھی بنا لیا۔ ایک ایمبیسیڈر کار بھی خرید لی۔ ڈرائیور بھی رکھ لیا۔ بھوک کو ٹھینگا دکھا کر گھر میں دعوتوں کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ ایک دن شیلا اپنی کار سے ماں کو اپنے گھر بھی لے گئی۔ اس کی خوشحالی دیکھ کر ماں کو رشک ہوا۔ بات چیت میں شیلا نے گھر میں لگا ایک بڑا سا پھلتا پھولتا منی پلانٹ دکھایا۔ مذاق مذاق میں یہ بھی کہہ دیا که یہ پودا ایک بوتل میں تاج محل والے گھر میں لگایا تھا، یہاں آ کر خوب پھل پھول رہا ہے۔ ماں نے اسی دن اس کے گھر سے ایک شاخ توڑ کر، آ کر اپنے گھر میں لگا لی۔ ایک بوتل میں۔ ہر دن صبح اٹھ کر سب سے پہلے پودے پر نظر ڈالتی۔ اکثر ہمیں بلا بلا کر دکھاتی، ’’دیکھو بڑھ رہا ہے نا؟ یہ دیکھو ایک نیا پتّا نکل رہا ہے۔‘‘

خدا جانے کیوں اور کیسے، ماں کا یہ منی پلانٹ کبھی سرسبز نہ ہوا۔ کبھی دھوپ میں، کبھی ایک دم چھاؤں میں۔ کبھی مندر کے پاس۔ پر جو وہ نہ پنپا تو نہ پنپا۔ محلے کی عورتوں میں اس کو لے کر ایک چھیڑ بھی بن گئی۔ طنز بھرے انداز میں ماں سے دریافت کرتیں، ’’کیسا ہے تمھارا منی پلانٹ؟‘‘ پھر خود ہی آگے بڑھ کر اس دم توڑتے چار پتے والے پودے کو دیکھ کر صلاح دیتیں، ’’پانی بدلو اس کا، پانی گندا ہو گیا ہے۔‘‘ کوئی صلاح دیتا، ’’اسے زمین میں لگاؤ۔‘‘ اور سب سے لاجواب صلاح یہ تھی که ’’دیکھو کرشنا، یہ مانگے کا پودا ہے۔ مانگ کر لایا ہوا پودا نہیں پنپے گا۔ اسے تو چپ چاپ چوری سے کسی اچھے پنپے ہوے گھر سے توڑ کر لگاؤ، تبھی پنپتا ہے۔‘‘

اس منی پلانٹ کی وجہ سے گھر کی غریبی پر تو کوئی اثر نہ پڑا البتہ ماں کا مذاق بنانے والی تین چار عورتوں کے گھروں میں منی پلانٹ کی لٹکتی بوتلیں ضرور نظر آنے لگیں۔ کچھ کی بیل بھی بنی، پر اس بیل کے باوجود ان گھروں میں جینے کے لیے ہر روز بیلے جانے والے پاپڑ کبھی بند نہ ہوے۔ سلائی مشینیں کبھی نہ رکیں۔

حویلی کے ان آٹھ پریواروں کے مرد ہر روز صبح صبح گھروں سے نکل پڑتے تو گھر کی عورتیں کام کرتے کرتے کفایت شعاری سے جیون کو بہتر بنانے کے اپنے اپنے تجربے ایک دوسرے سے بانٹتیں۔ نتیجہ یہ که کپڑے تو پہلے ہی گھر پر دھلتے تھے لیکن اب صابن بھی گھر پر ہی بننے لگا۔ شہر بھر میں گھوم گھوم کر پاپڑ بیچنے والی ساوتری مائی ہر دوسرے چوتھے دن کوئی نیا آئیڈیا لے کر آتی اور پوری حویلی کی کشش کا مرکز بن جاتی۔ اس دور کے چلن کے مطابق ساوتری مائی کو اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے بیٹے گھنشیام عرف ’گنو‘ کے نام سے جوڑ کر ’گنو ماؤ‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اس کا مطلب تھا، گنو کی ماں۔

ایک دن یہی ساوتری مائی بڑی زبردست خبر لائی۔ سب سے پہلے اپنے گھر گئی اور ہاتھ میں ایک بڑی بالٹی لی۔ پھر دھیرے سے ایک ایک کر سب کو بالٹی لے کر چلنے کی دعوت دی۔ یہ دعوت تھی گھر سے کچھ دور منگلوارا میں نئے نئے کھلے صابن کارخانے کا صابن والا پانی لانے کی دعوت، جسے کارخانے والے پائپ کے ذریعے پیچھے بنے نالے میں بہا دیتے تھے۔ اب یہاں آئیڈیا یہ تھا که کپڑے دھونے کے لیے صابن خرچ کرنے کے بجاے صابن کے اس پانی کا استعمال کیا جائے جو مفت میں مل رہا ہے۔

محلے بھر کی عورتوں کے چہرے یکایک کھل اٹھے۔ اس طرح کی مفت یا سستے کی جگاڑ سے یہ چہرے ہمیشہ ہی چمک اٹھتے تھے۔ انھی کوششوں کے نتیجے میں چولھا جلانے کے لیے ضروری ایندھن کو لے کر بھی کئی کامیاب ناکام تجربے ہو چکے تھے۔ سب سے پہلے جلاؤ لکڑی کے بجاے لکڑی کٹائی کے دوران پیٹھے پر اِدھر اُدھر بکھرنے والے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں (چھپٹیوں) کا استعمال۔ کافی سستی پڑنے والی ان چھپٹیوں کو کسی ٹوکری یا تگاڑی میں پورے پیٹھے میں گھوم گھوم کر خریدار کو خود ہی بیننا پڑتا تھا۔ پھر انھیں بڑی لکڑی کے بیچ پھنسا کر چولھے سلگائے جاتے تھے۔ کچھ گھروں میں لکڑی کے بھوسے سے جلنے والی لوہے کی سِگڑیاں بھی آ گئی تھیں۔ اس بھوسے کے لیے انھیں چھاؤنی میں آباد آرا مشینوں کے چکر لگانے پڑتے تھے، جبکہ چھپٹیاں محلے میں ہی تین تین پیٹھوں سے مل جاتی تھیں۔

سٹیشن کے پاس رہنے والی میری بوا کے لڑکے گرمُکھ اور جےپال ریل پٹریوں سے سٹیم انجن سے گرنے والا کوئلہ بین کر لے آتے تھے۔ کوئلہ بیننے کے دوران ہونے والی مشکلوں، لڑائی جھگڑوں اور پولیس کے پنگوں کی کہانیاں سن سن کر کوئلہ بیننے کو من بہت للچاتا تھا، لیکن ماں اسے چوری بتاتی تھی جو پاپ ہو جاتا ہے۔ سو بس ایک بار کے بعد پھر کبھی نہ گیا۔ آج ساوتری مائی ایک نئی رومانچک کھوج لے کر آئی تھی۔ اس دن بس دو اور گھروں سے گنو کی اس امّاں کے ساتھ لوگ بھری دھوپ میں بالٹیاں بھرنے نکلے۔ اب حویلی میں نل ایک ہی تھا۔ سو جس گھر کو کپڑے دھونے ہوتے، وہ شام میں ہی اس ارادے کا اعلان کر دیتا که کوئی اور کپڑے دھونے کی تیاری نہ کر لے، کیونکہ نہانے دھونے اور پینے کا پانی بھرتے بھرتے ہی نل بند ہو جاتے تھے۔ غنیمت یہ تھا که ان دنوں شام کو ایک بار پھر پانی آتا تھا که جس سے کسی ایک گھر کے کپڑے دھل پاتے تھے۔

اب تک حویلی میں کپڑے دھونے کے لیے رات میں ٹین کے بڑے ڈبوں میں پانی کے ساتھ کاسٹک سوڈا اور صابن کے چُورے کو ملا کر کپڑے ڈال دیے جاتے تھے۔ چھوٹے کپڑوں کے لیے آنے دو آنے میں ملنے والے مالتی گھی کے خالی ڈبے اور بڑے کپڑوں کے لیے بال وہار کے لوہاروں کے بنائے گئے ٹین کے بڑے ڈبے استعمال ہوتے تھے۔ دھوبی کی بھٹی کی طرح آنگن کے ایک کونے میں بنی سِگڑی پر خوب اُبال آنے تک گرم کیا جاتا تھا۔ ایک ڈبا ابل گیا تو دوسرا یا تیسرا۔ اس نئی کوشش کا مطلب تھا صابن کے چورے کا خرچ بچانا۔ اگلے دن جب ساوتری مائی موگری سے پیٹ پیٹ کر کپڑے دھو رہی تھی تو اسکی آواز کی طرف حویلی بھر کے سارے گھروں کی عورتوں کے کان لگے ہوے تھے۔ بیچ بیچ میں اپنا کام چھوڑ کر بھی کوئی کوئی دیکھنے چلا جاتا که کپڑے دھل کیسے رہے ہیں۔ آخری نتیجہ تو بہرحال کپڑے سوکھنے کے بعد ہی آنا تھا۔

ساوتری کی یہ کوشش خاصی کامیاب رہی۔ حالانکہ سب مہیلائیں ایک رائے نہیں تھیں که کپڑے ایک دم صاف دھلے ہیں لیکن اس بات پر سب سہمت تھے که بچت اچھی ہو جائے گی۔ اس اکیلی بات نے دھیرے دھیرے سب کو کوئی ڈیڑھ دو فرلانگ کی دوری پر صابن کارخانے کے نالے سے بالٹیاں بھر کر لانا سکھا دیا۔ ایک دن جب میری باری آئی تو میرے ساتھ میرا وہی دوست للّن بھی گیا، جس کی بہن سے پہلے جھگڑا ہوا تھا اور پھر وہ میری بہن بن گئی تھی۔

للّن بہت تیز دماغ تھا۔ وہ بھاگ کر گھر گیا اور خاصا موٹا اور مضبوط بانس لے آیا۔ دونوں بالٹیوں کو بانس کے بیچ ڈال کر ہم دونوں گاتے مسکراتے چل پڑے صابن فیکٹری کی طرف۔ ایک سرا میرے ہاتھ اور دوسرا للن کے ہاتھ میں۔ میں للن کی اس ہوشیاری سے بہت خوش تھا۔ میری یہ خوشی نہایت وقتی ثابت ہوئی۔ کارخانے کے پچھواڑے پہنچے تو دیکھا که نالے کے پاس ڈنڈا لیے ایک آدمی بٹھا دیا گیا تھا۔ پائپ کا پانی جمع کرنے کے لیے ڈرم رکھے ہوے تھے۔ ڈنڈے والے آدمی نے ہماری بالٹیاں دیکھتے ہی للکارا: ’’پیسے لاؤ ہو؟‘‘

میں نے حیرت سے پوچھا، ’’پیسے؟‘‘
وہ بولا، ’’ہاں، پیسے۔ جاؤ جاؤ پیسے لاؤ۔ نہیں تو چلتے نظر آؤ۔‘‘

للن مجھ سے عمر میں دو ایک سال بڑا تھا۔ بات بات پر تھوک کو پچکاری کی طرح استعمال کرتا اِدھر اُدھر پھینکتا رہتا تھا۔ اور غصہ آ جائے تو اس کی رفتار ایک دم بڑھ جاتی تھی۔ اس گھڑی بھی یہی ہوا۔ ایک پچکاری چھوڑکر بولا، ’’چلو خاں لالو، یاں تو اندھے کے آنکھ نکل آئی ہیں!‘‘

بیوپاری نے کمائی کی گنجائش تاڑ لی تھی، اب اس سے جیتنا مشکل تھا۔ لیکن ہر روز کے حالات سے ٹکراتے ٹکراتے اس کمسنی کے دور میں بھی دل دماغ میں غصہ اور زبان پر زہر جب تب اتر کر آنے لگا تھا۔ اس وقت بھی غصہ اپنے اوج پر چڑھ کر زبان کی نوک پر اتر ہی آیا۔ اسی غصے میں میں نے کہہ دیا، ’’رکھ لو سمھال کے۔ گانڈ دھونے کے کام آئے گا۔‘‘

ڈنڈے والے کا ہاتھ ڈنڈے تک پہنچتا اور ہم پر چل جاتا، اس سے پہلے ہی للن نے بانس میں پھنسی بالٹیاں نکال کر ہاتھ میں تھام لیں اور میں نے نیچے گرا بانس کا ڈنڈا اٹھا کر دوڑ لگا دی۔

گھر پہنچ کر ماں کے سامنے غصے بھرے انداز میں اپنی ناکامی بیان کرتے ہوے اس صابن فیکٹری کے مالک کو ایک ہلکی سی گالی بھی دے ڈالی۔ ماں نے حیرت اور صدمے سے بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔ ایسا بالکل نہ تھا که اسے میری بدزبانی اور بداخلاقی کا اندازہ ہی نہ تھا۔ میری گالیوں کی عادت سے وہ واقف تھی، لیکن آج سیدھے اسی کے سامنے ہی منھ سے گالی نکل آئی تو وہ گھبرا گئی۔

گھبرا تو میں بھی گیا، بلکہ بہت بری طرح گھبرا گیا۔ اب تک صرف باپ کے منھ سے سنتا آیا تھا که میں مسلمانوں کی سنگت میں غنڈا بن گیا ہوں۔ لیکن ماں کو اپنے ایشور پر اور اپنی بھکتی پر بڑا بھروسا تھا که میں ابھی بہت چھوٹا ہوں اور دھیرے دھیرے سدھر جاؤں گا۔ آج اس بھروسے کو چوٹ لگی تھی۔ میں نے ماں کی آنکھوں میں جو کچھ اس گھڑی دیکھا وہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں گھر سے بھاگ کر پائیگاہ کی طرف چل پڑا۔ تالا لگے بڑے دروازے کے پاس والی ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے راستے اندر گھس گیا۔

نظروں کی حد سے باہر تک پھیلی پائیگاہ کے بھیتر چاروں اور نوابی خاندان کے جانوروں کے باندھنے کے باڑے بنے ہوے تھے، اور بیچ میں تھا وشال سا خالی میدان۔ باڑے تو برسوں سے یوں ہی خالی پڑے تھے لیکن میدان بارش کے پانی سے اگ آئی گھاس سے پوری طرح ڈھکا ہوا تھا۔ میں گھاس کا ایک تنکا توڑ کر باڑے والے حصے کے بھیتر جا کر بیٹھ گیا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے ایک تنکے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑتا کچھ سوچتا جاتا تھا۔ حالانکہ کسی نے مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا تھا لیکن پھر بھی میں بہت ڈرا ہوا تھا۔ باربار یہی سوچ سوچ کر شرمندہ ہوتا رہا که میں نے ماں کے سامنے گالی بک دی۔ مجھے رونا آ رہا تھا مگر میں رو نہیں رہا تھا۔ پھر خود پر غصہ آنے لگا۔ اسی غصے میں خود کو کس کر چار چھ تماچے مار لیے۔ اب رونا بھی شروع ہو گیا۔ روتے روتے منھ سے باربار ایک ہی لفظ نکلتا تھا: ماں۔۔۔

کچھ دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے ساری پائیگاہ میں یہی لفظ گونج رہا ہے: ماں۔ میں ڈر گیا، رونا بند کر کے اس گونج کو سننے کی کوشش کرنے لگا۔ اب ایسی کوئی گونج نہیں تھی۔ بس ہوا کے جھونکوں میں ضرور کچھ تیزی آ گئی تھی جس نے اب تک میری طرح اداس کھڑے گھاس کے تنکوں پر گدگدی کا سا کام کر دکھایا۔ گھاس کے یہ ہزاروں تنکے ایک ساتھ جھوم جھوم کر ہواوٴں کی سنگت میں ناچتے گاتے سے معلوم ہونے لگے۔ اس سنگت میں سنگیت بھی آ شامل ہوا اور پورب کی طرف سے سیٹی سی بجاتا پچھم کو چھیڑنے لگا۔

میری خوفزدہ آنکھوں کے سامنے ہو رہے اس رومانی بدلاؤ نے چند لمحوں کے لیے میرے بھیتر کے سارے دکھ درد کو ایک مسکان میں بدل دیا۔ میں سب کچھ بھول اس جادوئی بیار [ہوا] کے ساتھ بہنے سا لگا۔ تبھی لیلیٰ بُرج والی دِشا سے ہوا میں تیزی سے اڑتا ایک پتھر آ کر پائیگاہ کے بھیتر کے ایک ٹین کے دروازے سے ٹکرایا اور اس ماحول میں ایک نہایت بےسُرا رنگ بھر دیا۔

میری نظریں قدرت کے اس کھیل سے ہٹ کر اِدھر اُدھر گھومنے لگیں۔ نظروں کو کہیں کچھ بھی بدلاؤ نظر نہیں آیا لیکن پھر اچانک ہی یوں لگنے لگا جیسے کوئی اور بھی یہاں موجود ہے، جس نے مجھے روتے ہوے دیکھ لیا ہے۔ نظروں نے ایک بار پھر چاروں طرف کی تلاشی لی لیکن کوئی نہیں تھا۔
میں نے جلدی جلدی اپنے گالوں پر پھیل چکے آنسوؤں کو جیسے تیسے پونچھ کر پوری ہمت سے ایک بار پھر گھوم گھوم کر اِدھر اُدھر تلاش شروع کر دی۔
کوئی بھی تو نہیں تھا۔

تو پھر کون تھا؟

اب تک میری ساری بہادری چیں بول چکی تھی۔ اس تیزی سے دوڑ لگائی که اگلے ہی پل میں اسی ٹوٹی کھڑکی کے پاس پہنچ گیا جو برسوں سے بند پڑے دروازے کے بدلے یہاں آنے جانے کے راستے کا کام دیتی تھی۔

گلی میں اس وقت کوئی خاص چہل پہل نہیں تھی۔ میں بھی دھیرے دھیرے گھر کی طرف قدم بڑھاتا چل پڑا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
تبصرہ

بکر بیتی: صحرا کی داستان غم

بن یامین کے ناول Goat Daysکاتجزیاتی مطالعہ

تمہید:

اگر آپ نے بن یامین کا ناول Goat Daysنہیں پڑھا ہے، تو پڑھ لیجیے، اصل متن ملیالم میں ہے، مگر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں اس کاترجمہ موجود ہے۔ آج کے شمارہ نمبر 101 میں اس کا اردو ترجمہ موجود ہے، عاصم بخشی نے نہایت صاف اور سلیس زبان میں انگریزی سے اس ناول کا ترجمہ کیا ہے۔
اس ناول کو کیوں پڑھنا چاہیے؟

اگر یہ سوال آپ کے ذہن میں آتا ہے تو میں اپنے تجربے کو آپ کے ساتھ بانٹ سکتا ہوں کہ مجھے اس ناول کو پڑھ کر کیا حاصل ہوا اور کسی بھی شخص کو یہ ناول کیوں پڑھنا چاہیے۔

سب سے بنیادی بات تو یہ کہ فکشن کا مطالعہ کسی بھی انسان کو اپنے محدود دائرہ نگاہ سے باہر نکال کر ایک ایسی دنیا میں لاتا ہے جہاں زندگی کی بے شمار تصویریں موجود ہوتی ہیں۔ لاتعداد آئینے جن میں زندگی کا عکس الگ الگ انداز میں پایا جاتا ہے۔ ہم اور آپ جب تک فکشن کی دنیا میں داخل نہیں ہوتے اس وقت تک اپنی معمولی معمولی خواہشوں کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھتے رہتے ہیں۔ اپنے فیصلوں، صداؤں، المیوں اورعمومی باتوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جذباتی انداز میں سوچنے کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور زندگی کی ان سچائیوں سے ناواقف رہتے ہیں جو موجود تو ہیں، مگر ہمارے تجربے کا حصہ نہیں بنی ہیں۔

میں بھانت بھانت کا فکشن زیادہ تر انہیں وجوہات کی بنا پر پڑھتا ہوں، کیوں کہ زندگی کے اس پھیلاو سے آشنا ہونا چاہتا ہوں جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں یا جس کا ذکر سنتے رہتے ہیں۔

دنیا حقیقت میں کوئی چھوٹی جگہ نہیں اور نہ اتنی معمولی ہے جتنا اسے مذہبی پیشوا سمجھتے ہیں۔ دنیا کے لا تعداد رنگ ہیں، بے شمار چہرے، جن کا احساس ہمیں فکشن کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ آپ کسی شخص کو جاننا چاہتے ہیں تو کہانی آپ کی مدد کر سکتی ہے، کسی کے متعلق کوئی رائے قائم کرنا چاہتے ہیں تو بھی کہانی آپ کی مدد کر سکتی ہے، کسی سے نزدیک یا دور ہونا چاہتے ہیں تو ان معاملات میں بھی کہانیاں ہی آپ کی سب سے بڑی مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ انہیں آپ کسی کے دل کا غبار کہیں، جھوٹ کہیں، تجربہ کہیں، افسانہ کہیں یا کچھ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہانی تو بس کہانی ہے جس سے اگر آپ کو عشق ہے تو آپ زندگی کے اس پھیلاؤ سے آشنا ہوتے چلے جائیں گے جہاں انسانی احساس،جذبات، شعوراور ادراک کا ٹھاٹھے مارتا سمند ر موجود ہے۔آپ کو بڑی سے بڑی حقیقت افسانہ معلوم ہونے لگے گی اور بڑے سے بڑا افسانہ حقیقت۔

بکر بیتی کا قصہ:

اس سے پہلے کہ میں یہ بتاوں کہ یہ کہانی ہمیں کیوں پڑھنا چاہیے، مختصراً اس ناول کا قصہ بیان کیے دیتا ہوں:
بکر بیتی ایک شخص نجیب محمد کی کہانی ہے جو بنیادی طور پر مالابار کا رہنا والا ایک غریب مسلمان ہے۔ اس کے بہت سے خواب ہیں، بہت سی خواہشیں ہیں، مگر وہ ان خواہشوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے، کیوں کہ اس کے حالات اور کمائی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ ان خوابوں کو پورا کر سکے۔ نجیب ایک شادی شدہ شخص ہے جس کی بیوی سینو ایک صابر اور سمجھ دار عورت ہے۔نجیب کو ایک روز اپنے ایک ساتھی سے خلیجی ملک جانے کے ایک عدد ویزے کے متعلق معلوم ہوتا ہے، یہ ویزا خلیجی ملک میں مزدوری کے لیے ہے۔ جس کی قیمت تیس ہزار ہے۔ نجیب اس ویزے کے متعلق اپنی بیوی سینو سے بات کرتا ہے اور اسے حاصل کر کے عرب ملک جا کر مزدوری کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ سینو اس بات سے بہت خوش ہوتی ہے اور اس کا حوصلہ بڑھاتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہے کہ ہمیں بہت زیادہ دولت جمع نہیں کرنی ہے، بس کسی نہ کسی طرح اتنا ہو جائے کہ ہم اپنے بچوں کا مستقبل سنوار لیں اور ایک متوسط زندگی گزار سکیں۔

نجیب ویزا کے لیے تیس ہزار رپیوں کا انتظام کرتا ہے اور ادھار قرض لے کر ویزا حاصل کرلیتا ہے۔ سفر کی شروعات میں بمبئی پہنچتا ہے اور وہاں ایک نوجوان لڑکے حکیم سے اس کی ملاقات ہوتی ہے،جو نجیب کا ہم سفر ہے اور اس کے ساتھ مزدوری کر نے عرب جارہا ہے۔ حکیم کی ماں نجیب کو بڑا سمجھ کر حکیم کا دھیان رکھنے کے لیے کہتی ہے۔ یہ دونوں خوشی خوشی عرب پہنچتے ہیں اور ایر پورٹ کے باہر آکر اپنے ارباب کا انتظار کرنے لگتے ہیں، مگر انہیں لے جانے کوئی نہیں آتا، بہت دیر تک انتظار کرنے کے بعد ایک گاڑی آتی ہے جس میں سے ایک بد بو دار عرب اتر کر ان سے کسی عبداللہ کے متعلق پوچھتا ہے،جس کے جواب میں وہ انکار میں سر ہلا دیتے ہیں، وہ عرب غصے میں ایر پورٹ پر ٹہلنے لگتا ہے، پھر کچھ دیر بعد وہ حکیم کے پاس آکر اسے گاڑی میں بیٹھے کے لیے کہتا ہے اور حکیم اور نجیب اسے اپنا ارباب سمجھ کر گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ ارباب انہیں شہر سے دور ایک ریتیلے میدان کے بیچوں بیچ لا کر ایک بدبو دار جگہ پر اتار دیتا ہے اورارباب، نجیب اور حکیم دونوں کے پاس پورٹ ضبط کر لیتا ہے۔

پہلے حکیم کو ایک ٹینٹ کے پاس اتارتا ہے اور نجیب کو گاڑی میں ہی بیٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے، پھر ایک کلو میٹر کے فاصلے پر نجیب کو بھی اتار کر اسی طرح کے ٹینٹ میں بھیج دیتا ہے۔وہاں ایک اور ارباب سے نجیب کی ملاقات ہوتی ہے۔ جو اس سے بات تک نہیں کرتا اور ٹینٹ کے باہر بھیج دیتا ہے۔ گاڑی میں لانے والا ارباب انہیں وہیں صحرا میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

نجیب کو یہاں بڑا عجیب سا محسوس ہوتا ہے، دوسرے دن صبح میں نجیب کی ملاقات وہیں ٹینٹ میں ایک اور شخص سے ہوتی ہے جو نہایت بدبو دار ہے، اور اس کی شکل بہت خوف ناک ہے۔ نجیب اسے دیکھ کر کراہت محسوس کرتا ہے۔ یہاں سے اصل کہانی کی شروعات ہوتی ہے۔

نجیب کو اس ٹینٹ کے پاس موجود بکریوں،بھیڑوں اور اونٹوں کی گلہ بانی کے کام پر لگایا جاتا ہے۔ جہاں اسے بہت سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں۔ وہ بے انتہا بدبودار ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں نہ پینے کے لیے پانی ہے نہ کھانے کے لیے اچھا کھانا۔ صرف ایک عدد پکوان پہ اس کا گزارا ہوتا ہے اور جب وہ بے انتہا تھک جاتا ہے تو اسے زندہ رہنے کے لیے ایک پیالہ پانی ملتا ہے۔ ارباب اس پر بے انتہا مظالم کرتا ہے، اسے مارتا پیٹتا ہے اور گدھوں کی طرح اس سے کام لیتا ہے۔ وہ بد شکل شخص جو نجیب کو پہلے دن اس بکروں کے ریوڑ میں ملتا ہے۔ وہ وہاں کا پرانا ملازم ہوتا ہے جو نجیب کے آتے ہی وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ نجیب وہاں، بکرے،بکریوں کو چرانے، ان کا دودھ نکالنے، انہیں بھونسا ڈالنے، ان کی دیکھ بھال کرنے اوربھیڑوں کے چرواہے کے فرائض انجام دینے وغیرہ جیسے کاموں پر معمور کیا جاتا ہے، جہاں صرف وہ ہے اور اس کا ارباب۔

ارباب ایک خیمے میں رہتا ہے جہاں جانے کی نجیب کو اجازت نہیں ہے اور وہ سردی گرمی برسات میں کھلے آسمان کے نیچے ریت پر پڑا رہتا ہے۔ نہانے دھونے، غسل، رفع حاجت یا کسی صفائی کے لیے پانی میسر نہیں ہے۔ پانی ایک قیمتی چیز ہے جس کو ان بے کار کاموں پر صرف کرنے پر سزا دی جاتی ہے۔ ارباب کے بے شمار مظالم، موسم اور محنت، مزدوری کی وجہ سے نجیب بہت جلد کمزور ہوجاتا ہے۔ وہ تین سال تک اسی حالت میں رہتا ہے۔ اسی طرح حکیم بھی اسی عالم میں اس سے ایک کلو میڑ کی دوری پر زندگی گزارتا رہتا ہے۔ نجیب اور حکیم موت کی دعائیں مانگتے ہیں، مگر انہیں موت نہیں آتی،بس زندگی ان پر ظلم کرتی رہتی ہے۔

حکیم کے جائے کار پر بہت عرصے بعد ایک اور ملازم ابراہیم خضری آتا ہے، جو ایک دیو قامت شخص ہے۔ وہ نجیب اور حکیم کو بتاتا ہے کہ وہ اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہے اور کسی روز انہیں یہاں سے بھگا لے جائے گا۔ حکیم اور نجیب یہ سن کر بہت خوش ہوتے ہیں اور ان میں زندگی کی امید پختہ ہو جاتی ہے۔ ایک روز جب تمام ارباب ایک شادی میں گئے ہوئے ہوتے ہیں، حکیم، نجیب اور ابراہیم خضری وہاں سے بھاگ نکلتے ہیں۔ یہاں سے داستان غم کا ایک دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔

صحرا میں بھاگتے بھاگتے ان کی حالت بہت بری ہو جاتی ہے، حکیم راستے ہی میں پاگل ہو کر مر جاتا ہے۔ نجیب کو اس کا بہت دکھ ہوتا ہے۔ نجیب اور ابراہیم خضری ایک ایسے مقام کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جہاں سے سڑک نزدیک ہے، لیکن ایک صبح جب نجیب کی آنکھ کھلتی ہے تو ابراہیم خضری غائب ہوتا ہے۔ وہ خضر کی صورت نجیب کو صحیح راہ پر لگا کر غائب ہو جاتا ہے۔ نجیب سڑک پر آکر بہت سی لاریاں اور ٹرک روکنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کی حالت اتنی بھیانک اور بدبو دار ہے کہ کوئی گاڑی نہیں رکتی۔ ایک بہت شفاف گاڑی جس پرنجیب کو یقین بھی نہیں ہوتا کہ وہ رکے گی اس کے ہاتھ دکھانے پر رک جاتی ہے۔ وہ ایک امیر عربی کی گاڑی ہوتی ہے جو اسے شہر تک لا کر چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں سے وہ ایک ملیالی کے ہوٹل جس کا نام کنجیکا کا ہوٹل ہے وہاں اتفاق سے پہنچ جاتا ہے۔ کنجیکا کے ہوٹل کی سیڑیوں پر ہی وہ بے ہوش ہو جاتا ہے، جہاں سے کنجیکا کے ملازم اسے اٹھا کر ایک کمرے میں لاتے ہیں اور اسے نہلا دھلا کر اس کا علاج کرواتے ہیں۔ نجیب کو ہوش آتا ہے تو وہ اپنے قریب ملیالیوں کا ایک جمگٹھا دیکھتا ہے اور رونے لگتا ہے۔ کنجیکا اس کا حوصلہ بڑھاتا ہے او ر اس کے غموں کی داستان پوچھتا ہے۔ نجیب اسے سب کچھ بتاتا ہے جس پر سب حیران ہو جاتے ہیں۔نجیب کنجیکا کے ہوٹل میں تین ماہ رہتا ہے اور یہیں سے اپنی بیوی سے فون پر بات کرتا ہے۔ وہاں یہ طے ہوتا ہے کہ نجیب خود کو پولس کے حوالے کر دے تاکہ پولس اسے بنا پاس پورٹ انہیں ان کے ملک بھیج دے۔ جیل کے واقعات بھی بہت دلچسپ ہیں۔ کنجیکا میں اپنی طرح کے ایک دوسرے مظلوم شخص حمید سے اس کی ملاقات ہوتی ہے، جس کے ساتھ نجیب جیل جاتا ہے۔ سب سے آخری سین میں یہ سسپنس بھی کھل جاتا ہے کہ نجیب کا وہ ارباب جو اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر صحرا میں لے جاتا ہے وہ واقعتاً نجیب کا ارباب ہوتا ہی نہیں ہے، بلکہ اس رات نجیب اور حکیم کو ایک عرب شخص اغوا کر لیتا ہے اور نجیب اور حکیم یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ اسی کام کہ لیے خلیجی ملک آئے تھے۔

اس ناول کو کیوں پڑھا جائے:

یہ ناول 43 حصوں پر مشتمل ہے، جس میں سے زیادہ تر حصے نجیب کی مسارے میں ملازمت اور ریگستان کے سفر پر مشتمل ہیں۔ یہ ہی حصے کہانی کی جان ہیں۔ بن یامین کے بقول انہوں نے نجیب نامی ایک شخص سےملاقات کر کے یہ کہانی سنی تھی، جسے بنا کسی مبالغے انہوں نے من و عن بیان کر دی۔ ایک سچا واقعہ جس میں انسانی زندگی پر ہونے والے مظالم کی انتہا دکھائی گئی ہے۔ کہانی فلیش بیک تکنیک میں لکھی گئی ہے، جس سے پڑھنے والا مزید لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ بات کہانی کی شروعات میں ہی طے ہو جاتی ہے کہ جو شخص کہانی سنا رہا ہے وہ مرا نہیں ہے، لہذا وہ تمام مناظر جہاں مظالم کی انتہا دکھائی گئی ہے وہاں بھی پڑھنے والے کے ذہن میں یہ بات رہتی ہے کہ جس پر یہ سب کچھ گزر رہا ہے وہ اتنے قہر کے باوجود بھی جیتا رہا۔اس سے پڑھنے والے کو زندگی کے مشکل ایام میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ ملتا ہے، ساتھ ہی انسان کی قوت برداشت کا علم ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص مشکل سے مشکل حالات میں یہ ٹھان لےکہ اسے زندگی سےلڑتے رہنا ہے اور شکست کا منہ نہیں دیکھنا تو قدرتی طور پر اس کے اندر چھپی ہوئی توانائی باہر آنے لگتی ہے اور وہ ایسے مشکل ترین حالات کا بھی سامنا کر لیتا ہے جس کے متعلق سوچ کر بھی ا س کی روح کانپ جائے۔
ناول میں بے شمار مقامات پر ہمیں اس کا درس ملتا ہے، مثلاً وہ منظر جب ارباب نجیب سے اس کے نئے کپڑے اتارنے کے لیے کہتا ہے اور اسے ایک نہایت بدبو دار چوغہ دیتا ہے جسے دیکھ کر نجیب کو قے آنے لگتی ہے، پھر بھی نجیب اسے پہنتا ہے، یا وہ منظر جس میں نجیب کا ہاتھ بکرے کی ٹکر سے ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی چھاتی پر بھی ورم آجاتا ہے اس کے باوجود ارباب اس سے بکری کا دودھ دوہنے کے لیے کہتا ہے اور نجیب بے انتہا تکلیف میں بھی اس کام کو کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ صحرا میں پانچ کلو میٹر تک بکھری ہوئی بکریوں کو جمع کرنے والا منظر، اپنے بیٹے نبیل کی طرح پالے ہوئے بکری کے بچے کی مردانگی کو قطع کرنے والا منظر، مسارے میں گھسےسانپ کو مارنے والا منظر، گرم ریت میں کوئے کے پر کے برابر سایہ ڈھونڈنے والا منظر اوروہ تمام مناظر جن میں نجیب پر اسی طرح کے کرب ناک مظالم ہوتے ہیں۔

ایسے کرب ناک حالات کو بیان کرنے والے ناول کے متن میں داخل ہونے والا قاری خود بہ خود نجیب کی طرح اپنے آپ کو حالات کا شکار ہوتا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے اور جب وہ مسارے کی زندگی میں خود کو نجیب کی طرح بالکل پھنسا ہوا پاتا ہے تو اس کےا ندر ایک نئی نفسیاتی حالت جنم لینے لگتی ہے۔ جس حالت میں وہ کبھی خود کو خوش رکھنے کے لیے طرح طرح کی حرکتیں کرتا ہے، کبھی اپنے ماضی کے اہم کرداروں کو مصنوعی طور پر اپنے آس پاس زندہ کر لیتا ہے، کبھی خوشی کے حصول کے لیے جانوروں کی کسی حرکتیں کرنے لگتا ہے، کبھی غم کی انتہا کو خود سے چھپانے کے لیے اپنے ضمیر سے دروغ گوئی کرنے لگتا ہے۔

اس ناول میں انسان کی ذہنی حالت کے مختلف رویوں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ہمیں یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ انسان خواہ آبادی میں رہے یا ویرانے میں اس میں اگر زندہ رہنے کا حوصلہ ہے تو وہ مصیبتوں اور پریشانیوں کے باوجود اپنے ارد گرد ایک تماشا پیدا کرلیتا ہے۔ صحرا کی وہ کرب ناک زندگی جہاں نہ پانی ہے نہ کھانا، جہاں نہ انسان ہے نہ بھیڑ، بکریوں اور اونٹو ں کے علاوہ کوئی جانور۔ وہاں بھی نجیب خود کو کس طرح اپنے لوگوں میں شامل رکھتا ہے، وہ اپنے مسارے کی بکریوں اور بکروں میں اپنے محلے کے انسانوں کی صفات تلاش کر لیتا ہے اور انہیں ایک انسانی ہیولے میں ڈھال کر اپنے قریب ماضی کا میلا لگا لیتا ہے۔ وہ کسی کو میری میمونہ سمجھتا ہے تو کسی کو اراووتھر، کسی کو پوچا کری رامنی بنا دیتا ہے تو کسی کو پھراندی پوکر، اس کے نزدیک کوئی جاندوراگھون ہے تو کوئی پریپو وجیبا، کوئی نبیل ہے تو کوئی رافت کوئی کاسو ہے تو کوئی اور آمنی۔ان سب میں سب سے زیادہ پر لطف قصہ پوچا کری رامنی کا ہے، جس کے کردار کی اصلی جھلک دیکھ کر قاری تمام المیے سے باہر آجاتا ہے۔

بن یامین کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے ناول میں المیے اور طربیے ان دونوں صورتوں کو پوری طرح قائم رکھا ہے۔ بہت سے صحرائی واقعات ایسے ہیں جن میں حالات کی سفاکی کے باوجود غم کی لہر نہیں ہے بلکہ حیرانی کا سحر ہے۔مثلاً وہ منظر جس میں سانپوں کا ایک غول کا غول چلا آرہا ہے اور نجیب اور ابرہیم خضری ان سے بچنے کے لیے شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنا منہ دبا لیتے ہیں یا وہ مقام جہاں نجیب اڑتے ہوئے گرگٹوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ ایسے تمام مناظر میں ارباب کا پانی سے ڈرنے والا منظر ایسا ہے جس پر قاری بھونچکا رہ جاتا ہے۔ ارباب جو پورے ناول میں ظلم کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ جو آخری درجے تک سفاک ہے، جسے سوائے ظلم کے کچھ نہیں آتا اور جو کسی جری مرد کی طرح پورے ناول میں طاقت کی مثال نظر آتا ہے وہ پانی سے وہ بھی بارش کے پانی سےڈر کر ایسا سکڑا پڑا ہے جیسے ہزاروں شیروں نے اسے گھیر لیا ہے۔ نجیب جو خود اس کے ظلم کا شکار ہے ارباب اس کی موجودگی پر اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے اور پانی کی ایک ایک بوند سے ایسے ڈر رہا ہے جیسے آسمان سے شعلے برس رہے ہوں۔نجیب اس مقام پر جب یہ کہتا ہے کہ ارباب پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی نہیں نہایا تو ناول میں ایک نئی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے چھوٹے بڑےکئی مناظر ہیں جن سے کہانی میں مختلف حالتوں کا ظہور ہوتا ہے اور ایک مکمل المیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناول میں دیگر اجزائے تاثیر بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

فلیش بیک تکنیک:

ایک خاص بات اس ناول کا فلیش بیک کی تکنیک میں ہونا بھی ہے،اس سے ناول کی ابتدا میں ایک تجسس کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ دو لوگ حمید اور نجیب عربی ملک میں کئی دنوں سے سڑکوں پر بھٹک رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ انہیں کسی نہ کسی طرح پولس گرفتار کر لے۔ اس کے لیے وہ کچھ کوششیں بھی کرتے ہیں، مگر ناکام رہتے ہیں۔ بہت مشکل سے انہیں جیل کی راہ ملتی ہے جس پر وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس فضا سے قاری کا ذہن ایک مخمسے میں پڑ جاتا ہے کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے جس کی وجہ سے کوئی جیل میں جانے کو اپنی منزل تک پہنچنا تصور کر رہا ہے۔ فلیش بیک کی وجہ سے بعض ایسی باتوں کی طرف بھی اشارہ کرنا ممکن ہوا جن کا ناول کی کہانی سے کوئی راست تعلق تو نہیں، مگر کہانی کے موثر ہونے سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ مثلاً پوچا کری رامنی کی کہانی۔

فلیش بیک تکنیک سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ کہانی کے بعض اہم کردارمثلاً حمید، حکیم، ارباب، ابرہیم خضری، سینو، بدنما بدبو دار شخص اور کنجیکا کی عادات و اطوار اور خصائل کی بہتر انداز میں وضاحت ہو گئی۔اسی طرح جیل کے حالات کا بیان بھی کامیابی سے ہو سکا۔ اگر یہ ناول فلیش بیک بیانیہ تکنیک میں نہ ہوتا تو غالباً اس کے تمام حصے جہاں قاری کو بوریت محسوس ہوتی ہے وہ بہت زیادہ بوجھل ہو جاتے اور ناول کا پھیلاو غیر ضروری معلوم ہونے لگتا۔

منظر نگاری:

منظر نگاری میں مصنف کو مہارت حاصل ہے۔ ناول میں بہت سے حصے ایسے ہیں جہاں مصنف نے اس ضمن میں کمال کیا ہے۔میں یہاں مثال کے طور پر ایک پیش کرتا ہوں:

“سینکڑوں عرب ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ مرد اور عورتیں۔ میں نے اپنی توجہ ہٹانے کے لیے تصور کیا کہ میں قطب جنوبی پر ہوں اور میرے سامنے سیاہ و سفید پینگوئن پھر رہے ہیں۔ میں ملتجی نظروں سے ہر پینگوئن کی شکل (ان مادہ پینگوئنوں کی آنکھیں جن کی شکل نظر نہیں آرہی تھی) دیکھ رہا تھا۔ میں وہی نجیب ہوں جسے تم ڈھونڈ رہے ہو۔ میرے ساتھ یہ چھوٹا سا لڑکا وہی حکیم ہے جس کی تمھیں تلاش ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں اور درخواست گزار چال ڈھال کی مدد سے ہر ایک سے مواصلاتی تعلق قائم کیا۔ لیکن کوئی میری التجا پر مائل نہیں ہوا۔ ہو کوئی دور جاتے ہوئے اپنی مصروف زندگی میں گم ہو رہا تھا۔”(حصہ نمبر 6)

جذبات نگاری:

ناول میں جذبات نگاری کو بھی متاثر کن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے ہر اس مقام پر قاری کی آنکھیں نم کر دی ہیں جہاں ذرا بھی جذباتی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ بعض مواقع تو ایسے ہیں کہ پڑھتے پڑھتے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور حلق میں الفاظ پھنسنے لگتے ہیں۔ مثلاً وہ مقام جہاں نجیب خیالی انداز میں سینو کو خط لکھ رہا ہے یا وہ موقع جہاں سینو،اکایعنی نجیب کو لائق گزارہ کما کر واپس لوٹ آنے کی تلقین کر رہی ہے۔اسی طرح حکیم کی ماں کا نجیب سے التجا کرنے والا منظر اور نجیب کا سینو سےتین برس چار ماہ بعد فون پر بات کرنے والا منظر۔یہ تمام مناظر جذباتیت سے بھرے ہوئے ہیں۔

مزاح نگاری:

ناول کے بعض مقامات پر مزاح بھی پیدا کیا گیا ہے، جس سے ناول کی بوجھل فضا میں لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے مناظر میں پوچا کری رامنی کا قصہ سب سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ مسارے کا ایک منظر جو بظاہر المیہ ہے مگر یامین کے بیانیہ نے اسے طربیہ بنا دیا ہے۔ملاحظہ کیجیے:

“میں آہستگی سے جھکتے ہوئے ایک بکری کے پیچھے بڑھا،برتن قریب کیا اور تھن کو کھینچا۔ دودھ تو خیر کیا نکلنا تھا، بکری کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ چھلانگ مار کر برتن اور مجھے لات مارتی ہوئی ریوڈ سے دور بھاگ گئی۔ اسے پاگلوں کی طرح بھاگتے دیکھ کردوسری بکریوں میں بھی افراتفری پھیل گئی۔ ایک تو میری کمر کو روندتی ہوئی نکل گئی۔ میں درد سے جھنجھلا اٹھا۔ کسی نہ کسی طرح سنبھلتے ہوئے ایک اور ایسی بکر ی کے پیچھے بڑھا جو اب دوڑتے دوڑتے رک چکی تھی۔ چوچیوں کو ہاتھ لگانا تھا کہ وہ بھی بھڑک کر دوسری طرف چھلانگ مار گئی۔ ایک اور سے دودھ حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی بھاگ گئی۔ میں نے سوچا، یا میرے مالک! بھاگتی ہوئی بکری سے دودھ کیسے نکالا جاسکتا ہے؟ میں حیران و پریشان تھا۔”(حصہ نمبر ق13)

کردار نگاری:

ناول میں کردار نگاری پر بہت توجہ دی گئی ہے۔ کہانی خواہ حقیقت پر مبنی ہو یا افسانہ ہو اس میں کردار نگاری کا سب اہم رول ہوتا ہے۔ بن یامین نے ناول کے کرداروں میں اپنے بیانیے سے جان ڈال دی ہے۔ناول کے کرداروں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سب کے سب مختلف رویوں کا شکار ہیں۔ جس طرح عام زندگی میں ہم کسی بھی ایک معاملے میں کمزوراور ایک میں مضبوط ہو تے ہیں اسی طرح ناول کے کرداروں کا بھی معاملہ ہے۔ بنیادی کرداروں میں نجیب اور ارباب اس طرح کی صفات سے مزین نظر آتے ہیں۔ جو اپنے فیصلوں میں مضبوط بھی ہیں اور کمزور بھی۔ ڈرتے بھی ہیں اور ڈراتے بھی ہیں۔ خود سے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور سچے بھی ہیں۔ لالچی بھی ہیں اور رحم دل بھی۔ منافق بھی ہیں اور ایمان دار بھی۔ الگ الگ مواقع پر ان کی الگ الگ صفات ابھر کر سامنے آتی ہیں۔اس ناول میں نجیب ایک سیدھا، سچا اور مظلوم کردار ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کے ظلم، حسد اور کمینے پن کی واضح تصاویر بھی ناول میں موجودہیں۔ مثلاً ایک موقع پر جب اسے لگتا ہے کہ حکیم اور ابراہیم خضری اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو وہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتا ہے:

“میں حسد کے مارے سکڑ کر رہ گیا۔ دل میں ساری دنیا کے لیے نفرت اور عداوت کی آگ سلگنے لگی۔ میں نے اپنی ساری کڑواہٹ مسارے میں موجود بکریوں پر نکالی، یعنی نو مولود بکریوں کے خصیے دبانا، اپنی چھڑی دودھ دینے والی بکریوں کے تھنوں پر مارنا اور بھیڑوں کے پچھواڑے میں لکڑیاں گھسیڑنا۔”(حصہ نمبر 29)

حکیم ایک لڑکا ہے اس لیے اسے بہت کمزور اور جذباتی دکھایا گیا ہے، ساتھ ہی وہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے مضبوط بھی ہے۔ مثلاًجب ابراہیم خضری اسے مسارے سے بھگا لے جانے کی بات کرتا ہے تو اس میں توانائی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ پر مسرت نظر آنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے کردار میں ہمیں قوت کی ایک لہر دوڑتی نظر آتی ہے۔

ناول کا ایک متاثر کن کردار ابراہیم خضری بھی ہے۔ یہ خضر کی طرح دو مظلوموں کی مدد کے لیے اچانک کہانی میں داخل ہو جاتا ہے اور اپنے مقصد کو پورا کر کے اسی طلسماتی طریقے سے غائب ہو جاتا ہے۔ ابراہیم خضری کا کردار الف لیلوی کردار ہے جس کے واقعات سے ناول میں داستانی رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ مثلاً اس کا جانوروں، درختوں، پودوں، صحراوں اور وادیوں کی خصوصیات سے آگاہ ہونا۔ حالات کی نزاکت کو جاننا اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینی کی صلاحیت کا پایا جانا اس کے کردار کو ایک معمہ بنا دیتے ہیں۔ وہ ایک مکمل راہ نما ہے جو نجیب اور حکیم کی مدد کے لیے آسمانی مخلوق بن کر آتا ہے۔

کنجیکا اور حمید کے کردار ذرا کمزور ہیں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کا کہانی میں زیادہ عمل دخل نہیں۔
سینو ایک جذباتی عورت ہے جو بہت مختصر وقفے کے لیے ناول کاحصہ بنتی ہے، مگر اس سے عورت کی وفا شعاری کادرس ملتا ہے۔
ان کے علاوہ ایک عربی جو نجیب کو شہر تک لا کر چھوڑتا ہے وہ انسانیت کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ حالاں کہ ایسا عام زندگی میں نہیں ہوتا کہ کوئی امیر ترین شخص کسی نہایت بھیانک اور بدبودار انجان شخص کو اپنی چمچماتی گاڑی میں بٹھائے،لیکن پھر بھی استثنائی صورت میں ایسے لوگ کبھی کبھی ٹکرا جاتے ہیں۔ اس کردار کی ناول میں کیا اہمیت ہے اس کےلیے صرف مصنف کے یہ جملے ہی کافی ہے کہ:

“میں کیسے اس عظیم آدمی کا شکریہ ادا کر سکتا تھاجس نےمجھے اتنی دیر برداشت کیا۔ اس کے احسان کی قیمت میں بس ایک قطرہ اشک کے ذریعے ہی چکا سکا۔ اس نے کچھ بھی نہ پوچھا۔ ایک لفظ بھی نہ کہا۔میں گاڑی سے نکلا اور دروازہ بند کردیا۔ مجھے شہر کے بیچوں بیچ چھوڑ کر عرب نے اپنی راہ لی۔ میں کافی دیر روتا رہا۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ خدا پر تعیش گاڑیوں میں بھی سفر کرتا ہے۔”(حصہ نمبر 40)

جمالیات:
ناول میں بعض مقامات پر جمالیات کا بھی بھر پور اظہار ملتا ہے۔ ایسے موقعوں پر بن یامین کی ناول نگاری اور جمالیاتی حس کی طرف ذہن مبذول ہوجاتا ہے اور نجیب کی کہانی ذہن سےیکسر غائب ہو جاتی ہے۔ مثلاً اونٹ کی شبیہ کا یہ بیان دیکھیے:

” اونٹ میرے قریب آئے تو میں حیرانی سے انہیں دیکھنے لگا۔یوں لگتا تھا جیسے ان کی بھاری پلکیں صحرا کی شدت کا کامل استعارہ ہوں۔پھیلتے سکڑتے مچھلی کے گلپھڑوں جیسے نتھنے۔کشادہ کھلا منھ،مضبوط گردن،گھوڑے کی ایال جیسے کھردرے بال،کان سینگوں کی طرح کھڑے ہوئے۔ان کی الگ تھلگ سی بے تعلقی میرے لئے سب سے زیادہ کشش اور دہشت کا باعث تھی۔”(حصہ نمبر 11 )

جنسیت

جنسیت انسانی زندگی کا ایک لازمی جز ہے، مگر اس ناول میں اس کی جھلکیوں کے پائے جانے کی امید کم تھی۔اولاً تو نجیب کے حالات اس کی طرف اشارہ نہیں کرتے اور پھر اس ناول کا یہ موضوع نہیں کہ اس میں جنسیت کا ذکر کہیں تلاش کیا جائے۔ رہی سہی کسر اس منظر میں پوری ہو جاتی ہے جہاں نجیب خود اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کےبیٹے نیبل کی مانند جس بکری کے بچے کو خصی کیا گیا،تو اس واقعے سے خود اس کی مردانگی بھی بکری کے بچے کے ساتھ سلب ہو گئی۔ اس کے باوجود ایک مقام پر نجیب اس جذبے کو ابھرنے سے نہیں روک پاتا، وہ منظر اتناحیران کن ہے کہ قاری اسے پڑھ کر کچھ دیر کے لیے ساکت ہوجاتا ہے۔یہ اقتباس دیکھئے:

“ان دنوں جب میرے ساتھ بس بکریاں ہی تھیں، ایک واقعہ ایسا ہواکہ میں نے نہ صرف اپنے غم و الم بلکہ اپنا جسم بھی ان کے ساتھ بانٹا۔ ایک رات لیٹا تو نیند آنکھوں سے کوسو دور تھی۔ نہ جانے کیوں پورا جسم پسینے میں شرابور تھا۔ ایک عجیب سی شدت طلب تھی، بدن میں ریگستانی بگولےسے چل رہے تھے۔ کافی عرصے سے میں خود کو نامرد ہی سمجھ رہا تھا۔ گمان نہیں تھا کہ کبھی دوبارہ جنسی طور پر فعال ہو سکوں گا۔ لیکن یہ کیا ہوا؟ اندر پڑی کوئی ساکت اور جامد خواہش کسمسانے لگی۔ اسے دبانے کی تمام کوششیں بد ستور اس کے بھڑکنے کا سبب بن رہی تھیں۔ پردہ چشم کے سامنے کچھ برہنہ شبیہیں ظاہر ہو کر ورغلانے لگیں۔ میں جذبے کی حدت سے پگھل رہا تھا۔ کسی جسم کی قربت کی خواہش تھی۔ کسی غار میں پناہ درکار تھی۔ میں پاگل ہو رہا تھا۔ اسی غلبہ دیوانگی میں باہر بھاگا۔ صبح جب تھکی تھکی آنکھیں کھلیں تو میں مسارے میں تھا۔ پوچا کری رامنی(بکری) میرے قریب ہی نیم دراز تھی۔”(حصہ نمبر26)

فلسفہ

ناول میں مصنف نے بہت سے مقامات پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔ چونکہ ناول بیانیے کی تکنیک میں ہے اس لیے مصنف کا فلسفہ گاہے بہ گاہے نظر آتا رہتا ہے۔ وہ کسی بھی حالت پر اپنی رائے کا اظہار کر کے انسانی نفسیات اور اس کی صفات کے متعلق فلسفہ پیش کرتا ہے۔ کچھ مقامات پر قدیم فلسفوں کا اظہار کرتا ہے اور کچھ دقیانوسی باتوں کو فلسفے کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ مذہبی فلسفہ ناول میں بیش تر مقامات پر نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نجیب جس کی کہانی ہے اس کے خیالات سے مصنف کے خیالات کہیں کہیں متصادم ہوتے ہیں، مگر ان میں بہت زیادہ اختلاف کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ اسی طرح مصنف بیانیہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بے تکلفانہ انداز میں بعض جگہ اپنی بات کہہ جاتا ہے جہاں مصنف اور نجیب ان دونوں کے مختلف شخصیات واضح ہو جاتی ہیں۔ مثلاًیہ جملے کہ:

• نامعلوم دنیاوں کے خواب کسی کو راس نہیں آتے، دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔ جب خواب حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں تو اکثر نا قابل برداشت ہو جاتے ہیں۔(حصہ نمبر18)
• سچ اس خط میں نہیں بلکہ میری آنکھوں میں تھا۔ سچ کون پڑھ سکتا ہے۔(حصہ نمبر 19)
• اس دن مجھے معلوم ہو ا کہ خدا پر تعیش کاروں میں بھی سفر کرتا ہے۔(حصہ نمبر 40)

مذہبی جذبات:

نجیب ایک کٹر مسلمان ہے، جسے اللہ کی ذات پر بہت زیادہ بھروسا ہے۔ وہ جتنے مشکل حالات میں زندگی گزارتا ہے اس کا ایمان اتنا ہی مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ ناول میں اللہ کو پکارنے اور اس کی مدد چاہنے کے بے شمار مناظر ہیں۔ اس کی حمد و ثنا کے مناظر بھی ہیں، ساتھ ہی ساتھ بعض مواقع پر نجیب اللہ کو برا بھلا بھی کہتا ہے۔لیکن اس کا انکار نہیں کرتا اور اپنے مذہبی جذبات کو اپنے مشکل حالات کا سامنا کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار تصور کرتا ہے۔

غیر مانوس الفاظ:

ناول میں بہت سے الفاظ قاری کے لیے غیر مانوس ہیں۔ ان میں بعض عربی بعض ملیالی اور بعض اردو کے ثقیل الفاظ ہیں۔ ایسے الفاظ میں سے زیادہ تر الفاظ کے معنی ناول میں کہیں نہ کہیں معلوم ہوجاتے ہیں، کچھ کے معنی خود مصنف نے بتا دیئے ہیں اور کچھ سیاق سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔ پھر بھی یہ ایک عام قاری کے لیے نئے ہیں۔ مثلاً:

بطاقہ،مطوع،عقال،کاروتا،ساسی،اپیری،چمنتی پوری،موپلوں،ارباب،چچڑ مکھی،ماہ مکارم،چڑی مڑی، ثوب، شیلادی، مسارا، سمانے،شف،ماعن،حوائج،قلما،خنز،کاڈی،شڑپ،ساوا،مونجی،غنم،حلیب،تبن،برسی،یلا،تناقضات اورگوہ۔

زبان اور چھپائی کی اغلاط:

بہت سے مقامات پر چھپائی کی غلطی سے کچھ حرف چھوٹ گئے ہیں اور کہیں کہیں جملہ ہی غلط ہے۔ ایسے الفاظ اور جملوں کی مثالیں مندجہ ذیل ہیں:
• کوئی مجھے تلاش کرنے نہیں آیا۔ شایہ یہ مسلسل تکرار کا نتیجہ تھا۔(غلطی: شایہ کی جگہ شاید ہوگا/حصہ نمبر 3)
• مہمان نوازی کے انعام کے طور پر میں نے ساسی کو وہ اپنی وہ گھڑی اتار کر دے دی۔(وہ۔ دو مرتبہ ہے/حصہ نمبر 5)
• اب آنتیں قل ہو اللہ احد پڑھ رہی تھیں۔(اس میں صرف قل ہو اللہ آئے گا احد اضافی ہے/ حصہ نمبر 7)
• اپنے ذہن میں اسے گالیاں نکال رہا تھا۔(غیر فصیح ہے۔ گالی دینا، بکنا،داغنا، سنانااور ٹکانا محاورہ ہے۔ نکالنا نہیں/حصہ نمبر 18)
• چہرہ صاف کیا اور ہم دونوں سے اسے زبر دستی بٹھا دیا۔(سے کی جگہ نے ہوگا/حصہ نمبر 35)
• آخر کار جب کافی پانی چکا تو تھک کر زمین پر گر پڑا۔(پی۔ چھوٹ گیا ہے/حصہ نمبر 37)

فن ترجمہ نگاری:

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عاصم بخشی نے بکر بیتی کا نہایت آسان زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کی زبان شستہ اور معیاری ہے۔ وہ الفاظ اور جملوں کو اس طرح سجا بنا کر بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو تر جمے کے اصل متن ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔مختلف مقامات پر ان کی فن ترجمہ نگاری کے جوہر کھلتے ہیں۔مثلاً کچھ مناظر ایسے ہیں کہ اگر میں ان کا اردو سے ہندی میں ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا تو مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا۔ عاصم بخش زیادہ تر مواقع پر ناول کے متن کو اردو کاحقیقی متن بنا کر اسے یوں تحریر کرتے ہیں کہ وہ دوزبانوں میں ایک معنی رکھنے والے دو متن بن جاتے ہیں۔ ان کی زبان شناسی کی یہ خاصیت ہے کہ کسی مطلب کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس بے شمار الفاظ ہیں، اسی لیے کسی بھی حالت کو بار بار ایک ہی لفظ کے ذریعے ظاہر نہیں کرتے۔ الفاظ کا بر محل استعمال کرتے ہیں جس سے روانی پہ حرف نہیں آتا۔ مطلب کی ادائیگی کے لیے قریب الفہم لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر انہوں نے ماہ مکارم جیسے ثقیل الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے، لیکن ایسے مقامات بہت کم ہیں۔ ملیالی زبان کے ان الفاظ کا تلفظ جو اس ناول میں استعمال ہوئے ہیں کتنا درست ہے میں اس سے ناواقف ہوں، لیکن ایک جگہ جہاں لفظ کاڈی کا استعمال ہوا ہے وہاں مجھے کچھ احتمال ہوا کہ غالباً یہ لفظ کڑھی ہے۔ کیوں کہ یہ بھی ایک مشروب ہے اور مصنف نے بھی کسی مشروب کے لیے ہی یہ لفظ استعمال کیا ہے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – اٹھارہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دسمبر کا مہینہ آپہنچا۔ ایک شاندار مہینہ جس میں کہرے سے لدی راتیں کالی پلٹن کی طرح سڑکوں پرمارچ کرتی ہیں اور سڑکوں کا کلیجہ کانپنے لگتا ہے۔ یہ ایک باوقار مہینہ ہے۔ اُداسی اسے اور بھی زیادہ وقار اور تمکنت بخشتی ہے۔ رات کو تیز، سرد ہواؤںکے پاگل جھکّڑوں میں انسان کا مقدّر اپنی خطرناک تاریخ لکھتا ہے۔ دسمبر میں صبح کی دھوپ ایک ٹھٹھری ہوئی دھوپ ہے۔ دھوپ کو بہت وقت لگتا ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اپنی گرمی اور تپش کو واپس لانے میں اور جب تک سورج دوبارہ، دسمبر کے قہر سے کمزور ہوکر مغرب کی خندق میں لڑھکنے لگتا ہے۔

گھر کے آنگن تک میں کہرا جیسے اپنے پیروں پر چلنے لگا ہے۔ کہرے کے پیر نکل آئے تھے۔ اندھیرا کہرے سے اپنی بازی ہار گیا۔ وہ روشنی کا اتنا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔

کالی سردی کے لوتھڑے چاروں طرف گر رہے ہیں۔ ذرا سی حرارت بھی نہیں اور اگر ہے بھی تو، سردی کی اِس کالی راکھ میں، ایک تنہا انگارے کی مانند، دبی چھپی پڑی ہے۔ آسمان کہرے کی دُھند سے غائب ہے۔ اُس کا نیلا رنگ کہیں نہیں ہے۔ یہ ایک ادھورا آسمان ہے، بغیر ہاتھ پیروں کا۔ ایک کٹا پھٹا آسمان، ایک کمزور اور معذور فلک۔

انجم باجی کی شادی اِن خطرناک، مگر شاندار سردیوں میں ہوگی، ایک طرح سے اُن کے شایانِ شان مگر میرے لیے؟

مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔ نہ ہرا، نہ لال۔ ریل گاڑی کی دھواں اُگلتی ہوئی سیٹیاں، اس کے گلے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گی۔

انجم باجی کی شادی کا دن اور تاریخ طے ہوگئے۔ گھر میں ہر طرف چہل پہل ہونے لگی۔ دور کے رشتہ دار بھی آکر ہمارے گھر رہنے لگے۔ مگر اِس کے باوجود ایک گہرا سناٹا مجھے ہر وقت محسوس ہوتا تھا۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ سخت سردیاں اور دِن رات چھائے رہنے والا کہرا ہو۔ اس ٹھنڈ میں ہڈّیاں گلا کر رکھ دینے والی ہوا میں، رات کے وقت کوئی آنگن میں نہیں اُٹھتا بیٹھتا تھا۔ مگر باورچی خانے میں رات گئے تک رونق رہتی۔ رشتہ دار لڑکیاں، شادی شدہ عورتیں اور بوڑھی خواتین بھی چولہے کی گرم راکھ کے آگے باتوں کی محفل سجائے رکھتیں۔ صرف قہقہے ہی گونجتے رہتے اگرچہ کبھی کبھی مجھے کچھ کانا پھوسیوں کا بھی شبہ ہوا۔ میں ایک بھوت کی طرح باورچی خانے کے آس پاس منڈلاتا رہتا۔

دن میں نسبتاً سناٹا ہوتا، کیونکہ زیادہ تر لوگ شادی کی تیاری اور لباس اور زیورات خریدنے کے سلسلے میں بازار گئے ہوتے۔ مگر دن میں کبھی کبھی آفتاب بھائی آتے، سگریٹ منھ میں دبائے اور اُن کی بے رحم اور بھوری آنکھیں، کینہ اور بغض سے چمکتی نظر آتیں۔ اُن کا بلڈاگ جیسا دہانہ کچھ اور نیچے کو لٹک جاتا تھا۔ وہ مجھے بہت قابل نفرت نظر آنے لگے، پہلے سے بھی زیادہ۔ وہ بہت عجیب دن تھے۔
ایک طرف آفتاب بھائی کی پُراسرار اور خطرناک تانکا جھانکی میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئی تھی اور دوسری طرف انجم باجی سے بھی مجھے ایک ایسی خاموش مگر بھیانک شکایت پیدا ہوگئی تھی جسے میں آج تک کوئی نام نہیں دے سکا۔اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ تلاش کر سکا۔ ظاہر ہے کہ وجہ بچکانہ رہی ہوگی، مگر اِس بچکانے پن کی بھی تو کوئی وجہ ہوگی؟

میں پریشان اور اُلجھا اُلجھا نظر آنے لگا۔ میں نے گھرکے افراد سے بولنا چالنا تقریباً چھوڑ دیا۔ مجھے باربار پیشاب کی حاجت ہوتی۔ مجھے رُک رُک کر پیشاب آتا اور ہر وقت سانس سی پھولی محسوس ہوتی۔ میں ایک ناقابل فہم قسم کی بے چینی سے دوچار رہنے لگا۔ انجم باجی بھی کبھی کبھی اپنی پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھتیں۔ وہ اُن دنوں بہت اُداس نظر آتیں۔ مجھے اُن کی اُداسی پر غصہ آتا، اور میں جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہوکر اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنے کی کوشش کرنے لگتا۔ اگرچہ اس گھناؤنے فعل میں مجھے کبھی کامیابی نہ حاصل ہوسکی۔

اب میں سوچتا ہوں کہ اگر انجم باجی مجھے اُن دنوں اُداس اور افسردہ نہ نظر آتیں تو میری زندگی کا رُخ کُچھ اور ہی ہوتا۔ اگر انجم باجی، آفتاب بھائی کے لیے مغموم اور غمگین نہ ہوکر اپنے ہو نے والے دولہا کے خوابوں میں، مسرت اور آرزو سے بھری ہوئی مگن رہتیں تو پھر یہ کرّہ ارض اپنی گردش کا انداز بدل دیتا۔

آفتاب بھائی میرے لیے نفرت کا ایک آفاقی تصوّرتھے۔ ایک گھناؤنی اور باسی خراب مچھلیوں سے آتی ہوئی سڑاندھ۔ اِس نفرت کی بُو گھر کے ہر گوشے میں رینگتی پھرتی تھی۔

ایسا کیوں تھا؟

مجھے نہیں پتہ۔ واقعی مجھے نہیں پتہ۔ انسانوں کا سب سے بڑا المیہ تو یہی ہے (اورکم از کم میرا المیہ تو واقعتا یہی ہے) کہ انھیں جو معلوم ہونا چاہئیے وہ آخری سانس تک نہیں معلوم ہو پاتا اور ایک بھید، ایک اسرار ہی بنا رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک مُردہ آدمی جس سے بڑا اسرار کائنات میں اور کوئی نہیں ہے۔ انسان کی لاعلمی اور اُس کی لاش مترادف ہیں۔ ایک راز دوسرے راز سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ پھر اِسی دنیا کی کالی سردی اور کہرے میں گم ہو جاتا ہے۔

مگر وہ — جس کا علم نہیں ہونا چاہئیے، وہ انسانوں کی احمق کھوپڑیوں پر لاسے کی طرح لٹکا رہتا ہے اور جس پر دنیا بھر کی سازشیں، محبتیں، نفرتیں اور خواہشیں اِسی طرح آکر چپکتی، گرتی اور پھنستی رہتی ہیں جیسے آسمان میں اُڑنے والے کبوتر لاسے پر۔
ایک دن میرا غصہ اپنی حدوں کو پار کرگیا۔ میں نے اپنے سرکے بال نوچ ڈالے اور اپنے ہاتھوں کے ناخنوں کو باورچی خانے کی دیوار پر زور زور سے رگڑا۔ میں نے خاموشی، تنہائی میں اپنے پیروں کو زور زور سے زمین پر مارا، کیونکہ میں نے انجم باجی کو سسکیاں لے کر روتے ہوئے دیکھا تھا۔ اور وہ بھی ایک کونے میں آفتاب بھائی کے شانے پر سر رکھ کر۔

یہ کتنا گھناؤنا اور کریہہ منظر تھا۔ اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔
ناک سڑا دینے والی نفرت کے کاندھے پر ایک پاکیزہ خوشبو کا قالب۔

میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ایک پاکیزہ، پیلی سفیدی کو ایسی سفیدی میں مدغم ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا جس میں لال رنگ چھپا ہو —لال رنگ۔ جسم میں خون کی زیادتی جسم میں زیادہ خون ہونا، بھدّا تھا اور ہوس کی نشانی بھی۔
ہاں ہوس کی نشانی—!

Categories
فکشن

سرخ شامیانہ-پہلی قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راشدنے کمپیوٹر بند کرکے طویل سانس لی اور کھڑکی کے پاس آ کھڑا ہوا۔ فرینکفرٹ کی بلند و بالا عمارتیں اور سڑکیں سردیوں کے تیز قدم اندھیرے میں جگمگا رہی تھیں۔ ٹریفک کے شور کو شیشے کی دبیز دیوار نے روک رکھا تھا، بہت دور نیچے کھلونوں کی طرح قطار در قطار بھاگتی خاموش گاڑیوں پہ ایک غیر حقییقی منظر کا گماں ہوتا تھا۔

 

ؔ “ایک غیرحقیقت سے دوسری اور تیسری میں”، وہ کھڑکی سے جھانکتے ہوئے بڑبڑایا۔ اس کا جی چاہا عینک اتار کر باہر پھینکے اور اسے خاموشی سے اس خاموش منظر میں گرتا دیکھے لیکن کھڑکی کے فریم میں شیشے کی دیوار تھی جسے کھولنا ناممکن تھا اور عینک کی اسے ابھی ضرورت تھی۔باہر دیکھتے دیکھتے یکایک اس کے اندر کا شور بڑھنے لگا۔

 

روزانہ کی طرح کچھ لوگ اپنے دن کو ٹھکانے لگا کر جا چکے تھے، کچھ ابھی اپنے اپنے کمپیوٹر سے الجھے ہوئے تھے۔ اکا دُکا لوگوں سے الوداعی نعرہ کے تبادلے کے بعد وہ دفتر سے نکلا۔ شیشے کی بے آواز لفٹ سے باہر کی خاموش دنیا بتدریج بلند ہوتی گئی۔باہر سڑک پر یکلخت ٹریفک اور سرد ہوا کے بے ہنگم شور نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ راشد نے مفلر ناک کے گرد لپیٹا، ٹوپی کانوں سے نیچے کھینچی اور انڈرگراؤنڈ سٹیشن کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔
سٹیشن کی سرنگ میں دن کے محاذ سے زخمی اور شکستہ لوٹتے جسم دیواروں سے ٹیک لگائے ہانپ رہے تھے یا انتظار کی بے چینی میں اپنے ہی گرد چکرا رہے تھے۔ بیچوں بیچ رات کے معرکوں کے لیے بنے ٹھنے جسم اپنی خوشبو لٹا رہے تھے۔ ایک نوجوان جوڑا ان سب سے بے پرواہ، بوس و کنار میں مگن تھا۔ ٹرین کے اندر بھی معمول کا منظر تھا، دو بے گھر شرابی بیئر کی بوتلیں پکڑے کسی شدید بحث میں مبتلا تھے۔ ایک بوڑھی عورت نوجوان گدھے کی جسامت کے کتے سے باتیں کر رہی تھی،ان کے علاوہ سب کندھوں اور سروں کے بیچ کی خالی جگہوں پر نظر جمائے خاموش بیٹھے تھے۔

 

فلیٹ کا دروازہ کھولتے ہی اس کا چار سالہ بیٹا راحیل بھاگتا ہوا آیا اور اسکی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔ راشد نے اسے اٹھا کر گلے سے لگایا اور محبت سے گال پر بوسہ دیا۔ راحیل اسے بلا وقفہ دن بھر کی کارگزاریاں سنا رہا تھا۔ باورچی خانہ سے برتنوں کا مدھم شور آ رہا تھا۔ راشد نے گہری سانس لی اور اندر کے شور کو طمانیت کی ایک ہلکی لہر کی نظر ہوتے محسوس کیا۔ وہ اوور کوٹ اور ٹوپی سٹینڈ پر لٹکا رہا تھا کہ اس کی بیوی کلاڈیا آ کر اس سے لپٹ گئی۔ وہ اس سے اس کے دن کے بارے پوچھ رہی تھی۔

 

“حسبِ معمول، کوئی نئی بات نہیں ہوئی”، اس نے جواب دیا،”اسی فیصد پروگرامنگ ہوگئی ہے، باقی بھی ہو جائے گی۔ مارٹن نے پھر میرے خلاف کوئی شوشہ چھوڑا تھا، میں نے نوٹس نہیں لیا۔”

 

“تمہیں اس سے صاف صاف بات کرنی چاہیے، وہ تمہارا کیا بگاڑ سکتا ہے،”کلاڈیا نے مشورہ دیا

 

“جب بگاڑ ہی کچھ نہیں سکتا تو اس سے کیا بات کروں؟”

 

“لیکن دوسروں کی رائے تو تمہارے بارے میں خراب کرتا رہتا ہے۔”
“چھوڑو،کیا فرق پڑتا ہے”

 

“اور اس کے ساتھ ہی آج کی باتوں کا کوٹہ ختم، ہے نا؟ کیا ہوتا جا رہا ہے تمہیں، پچھلے چند مہینوں میں تم اتنے چڑچڑے اور چُپ سے ہوگئے ہو”۔

 

“پتہ نہیں، پتہ چلا تو تمہیں بھی بتا دوں گا”

 

کھانے کے دوران وہ خاموش رہے، راحیل کی معصوم باتوں پر وہ ہوں ہاں کرتا رہا، کلاڈیا نے کوئی بات نہ کی۔ رات بستر میں وہ خاموشی سے برابر برابر لیٹے رہے۔

 

“اتنے برسوں سے تم پاکستان نہیں گئے، اپنے لوگوں سے کٹنے کی تنہائی ہے جو تمہیں چڑچڑا کر رہی ہے، اور راحیل کے لیے بھی ضروری ہے تمہارا آبائی شہر دیکھنا، تمہارے رشتہ داروں سے ملنا، کیوں نہ ہم کرسمس کی چھُٹیوں میں پاکستان ہو آئیں؟”

 

راشد جواب دیے بغیر سیدھا لیٹا، اندھیرے میں چھت کو گھورتا رہا۔ کلاڈیا اپنی کروٹ مُڑ کر سوگئی۔ راشد جاگتا رہا۔ بہت دیر تک لیٹے لیٹے تھکنے کے بعد وہ اٹھا، باورچی خانے میں آ کر اس نے فریج سے بیئر کی بوتل نکالی اور کھڑکی کی سل پر کہنیاں جمائے اندھیرے میں کھڑا رہا۔ اندھیرے میں دانیٗلا کا چہرہ چمک رہا تھا، مدھم سرخ روشنی میں اس کا مہین کپڑوں میں ملبوس بدن ایک ایسے رقص کے زاویے بنا رہا تھا جو راشد نے اپنی بے مہار زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

وہ ساحل کی گیلی ریت پہ پاؤں جمائے بحیرہٗ روم کے گہرے نیلے پانیوں میں ڈوبتے سورج کی سُرخی گھُلتے دیکھ رہا تھا۔

 

سمندر کی موجیں اس کے پیروں سے لپٹ کر ٹوٹ رہی تھیں اور اس کے دل میں پھیلی اکتاہٹ اور یکسانیت کی دلدل میں اضطراب کروٹیں لے رہا تھا۔

 

میں جو تُند ندی کی طرح تھا، ایک بدبودار جوہڑ بنتا جا رہا ہوں، جامد اور یکساں۔ اب مجھ پر صرف کائی کی تہیں جم سکتی ہیں۔ اس نے استہزائی کرب سے سوچا۔

 

پچھلے ایک ہفتے سے وہ اٹلی کے اس چھوٹے سے ساحلی قصبے میں مقیم تھے۔ کلاڈیا کے اصرار پر وہ گرمیوں کے کچھ دن گزارنے توزکانا کی سیر کرتے لیوانتو پہنچے تھے۔ ہوٹل کے پُر تکلف ناشتے سے فارغ ہوتے ہی کلاڈیا دن بھر کے لیے کھانے کا سامان، سن کریم اور کتابیں، رسالے ٹوکری میں بھرتی تھی، راشد راحیل اور اس کا کھلونوں سے بھرا تھیلا کندھے پر اٹھاتا اور وہ ساحل کا رُخ کرتے۔ دن بھر وہ انواع و اقسام کے جسموں کے بیچ ڈھیلے ڈھالے پڑے رہتے۔
کلاڈیا تیرتے ہوئے سمندر میں دور تک نکل جاتی، راشد اگرچہ بخوبی تیر لیتا تھا لیکن ایک کسالت اور اکتاہٹ جو اس کے وجود میں جمتی جارہی تھی، سمندر کی موجیں اور شفاف دھوپ کی کرنیں اسے بہا لے جانے میں کامیاب نہ ہوئی تھیں۔ یہ روزمرہ کی یکسانیت تھی، وہی الارم، برسوں سے اس کے بجنے کا وہی مخصوص وقت، وہی ناشتے کی میز، سڑک، ٹرین، دفتر، کرسی، کمپیوٹر، ایک آدھ تبدیلی کے علاوہ وہی رفقائے کار، ان کے تہذیب کے پاؤ ڈر تلے دبے چہروں پر رشک اور حسد کے وہی جال۔ افسر کے لہجے کی تلخی اور عینک کے عدسوں کی موٹائی کے علاوہ ہر شئے ایک ابدی جمود میں تھی۔ اس کے جو دو تین پاکستانی واقف کار تھے، ان کی گفتگو وطنِ عزیز کی یاد میں آہیں بھرنے، رشتے داروں اورغیر حاضر دوستوں کی غیبت کرنے اور جرمن فلاحی نظام کو حتی المقدور لوٹنے کی تراکیب سوچنے تک محدود تھی۔ ان موضوعات سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ طرحدار یورپی لڑکیاں جن کے بیچ اس کی ڈگمگاتی شامیں گزرتی تھیں اس کی شادی کے بعد ایک ایک کرکے منظر سے غائب ہو چکی تھیں۔ رات بھر جھیل پر آگ جلائے برہنہ رقص کرنے والے سوٹ اور ٹائی میں بندھے اپنی اپنی چمکتی دیواروں میں قید ہو چکے تھے۔ کوئی کسی شہر، کوئی کسی دیس۔ دن رات کا یکساں تسلسل بچا تھا جو چکی کے دو پاٹوں کی طرح اس کا جوہر اور گھُن ایک کر رہا تھا۔ کلاڈیا سے محبت کا اولیں بلا خیز دور بیاہی زندگی کی پھُسپھسہاٹ میں ڈھل رہا تھا،ایک راحیل تھا جسے دن بدن نئے لفظ سیکھتے اور نئے دانت نکالتے وہ دیکھ سکتا تھا۔

 

وہ راحیل پر نظر رکھنے کے بہانے کچھ دیر ساحل کے قریب ہی تیرتا، پھر آکر ریت کے بورے کی طرح خود کو ریت پر گرا دیتا۔ راحیل کبھی کبھی کھیلتے بھاگتے نظروں سے اوجھل ہو جاتا، پھر وہ اسے سن کریم سے چُپڑے جسموں،ادھر اُدھر لڑھکے پستانوں اور بیئر سے پھولے شکموں کو پھلانگتا ڈھونڈ لاتا۔

 

کلاڈیا نے اس دن سر میں درد کی شکائت کی اور دن ڈھلنے سے پیشتر ہی راحیل کے کھلونے سمیٹتے ہوئے ہوٹل واپسی کا قصد کیا۔ راشد نے کہا کہ وہ کچھ دیر تنہا وہیں رہنا چاہتا تھا۔ کلاڈیا نے اس سے ساتھ چلنے کی ضد نہ کی، اس نے کہا کہ وہ کچھ دیر سونا چاہتی تھی۔ ان کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر اسی طرح بے حس وحرکت پڑا رہا، پھر وہ اٹھا اور ساحل پر ادھر اُدھر پھرتا رہا۔ سال بھر اپنی اپنی مشقت میں مبتلا رہنے کے بعد گرمیوں کے چند دنوں میں اپنی جمع پونجی لٹانے والے ساحل پر آڑے ترچھے پڑے تھے، سمندر میں نہا رہے تھے، ایک موٹا بوڑھا اور اس کا بیحد چھوٹا کتا ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے، چند نوجوان لڑکیاں لڑکے ایک دوسرے کو اٹھا کر سمندر میں پھینک رہے تھے، ان کے لاپرواہ توانا قہقہے سمندر کی موجوں پر اچھل رہے تھے۔ پھرتا پھراتا وہ ساحل کی نم ریت پر پنجے گاڑ کر کھڑا ہو گیا اور سورج کو آہستہ آہستہ سمندر میں ڈوبتے دیکھتا رہا۔

 

ہوٹل واپس جانے کو اس کا جی نہ چاہا، اس نے ساحل پر غسل کرنے کے بعد قصبے کی راہ لی۔ گلیاں شام کی روشنیوں میں جگمگا اٹھی تھیں، تھڑوں پہ لگی میزوں پر گلاس اور چمچے، کانٹے سلیقے سے سجے تھے۔ دن بھر ریت اور نمک میں لتھڑے رہنے والے بدن تازہ دم ہو کر اپنے بہترین لباسوں میں شام کے کھانے کے لیے گلیوں میں نمودار ہو رہے تھے۔ سوچوں میں گم وہ کچھ دیرگلیوں میں پھرتا رہا، پھر وہ ایک شرابخانے میں داخل ہوا اور بیئر کا گلاس سامنے رکھ کر،ماحول سے لاتعلق بیٹھا رہا۔

 

“میرا خیال ہے یہ کرسی خالی ہے”، کسی نے کھنکتی آواز اور اطالوی لہجے کی انگریزی میں اسے مخاطب کیا۔ یہ ایک جوان عورت تھی جو اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کرسی کھینچ کر بیٹھ چکی تھی۔ وہ عمر میں اس سے چند سال چھوٹی رہی ہوگی اور زندگی کی توانائی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی، سنہرے بالوں کے بیچ اس کے چہرے پر ایسی دمک تھی کہ ایک لمحے کے لیے راشد کے حلق سے کوئی آواز نہ نکلی۔

 

“میں نے تمہیں ساحل پر دیکھا تھا، ڈوبتے سورج کے مقابل اپنے آپ میں ڈوبے ہوئے، میرا نام دانیئلا ہے”، اس نے کھنکتی ہنسی کے ساتھ راشد کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ راشد جو بوکھلاہٹ کے اولیں لمحے سے نکل چکا تھا، اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے ہنسا۔ “ایسی ملاقات کی مجھے کوئی توقع نہیں تھی،تم نے تو اچانک میری بے رنگ شام میں فانوس جلا دیے، میرا نام راشد ہے”۔

 

دانیئلا نے اسے بتایا کہ لیوانتو میں اس کے والدین کا گھر تھا، وہ اسی قصبے میں پلی بڑھی تھی۔اب وہ فلورنس میں رہتی تھی اور چھٹیوں میں چند دنوں کے لیئے والدین سے ملنے آئی ہوئی تھی۔ راشد کے دل میں ایک لمحے کے لیے خیال آیا کہ اسے نہ بتائے کہ وہ مکمل شادی شدہ اور بال بچے دار آدمی تھا، دانیئلا کی دلچسپی شاید یہ جان کر ختم ہو جاتی اور وہ اپنی بوریت کی دلدل میں ہاتھ پیر مارتا اکیلا رہ جاتا۔ لیکن اس نے اس خیال پر لعنت بھیجی۔ اس نے دانیئلا کو اپنے اس سفر کے بارے بتایا، راحیل اور کلاڈیا کے بارے، اور یہ کہ وہ اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔دانیئیلا کو اس کے کوائف سے آگاہ ہو کر کسی قسم کی مایوسی ہوئی تو اس نے اس کا اظہار نہیں کیا، لیوانتو، فلورنس اور فرینکفرٹ کی باتیں کرتے انہوں نے سکاچ وہسکی کا آرڈر دیا۔ یہ تجویز دانیئلا کی تھی، اس نے کہا کہ وہ کبھی کبھار ہی وہسکی پیتی تھی اور آج کی شام اس کے لیئے ایسی ہی تھی۔ دوسرا پیگ ختم کرتے ہوئے راشد کی نظرنے دانیئلا کے سراپا سے ہٹنے سے انکار کردیا، اس کے تاب دار چہرے، شفاف گلے اور سرخ بلاؤز سے جھانکتے مدور ابھاروں نے اسے حسن و مستی کے اس ماحول کی یاد دلائی جسے وہ کلاڈیا کا ہاتھ تھامنے کے بعد خیرباد کہہ چکا تھا۔ اس نے سنا، دانیئلا کچھ کہہ رہی تھی،”مجھے مشرقی مرد پسند ہیں، ان میں ایک خاص طرح کا اسرار ہوتا ہے جو یورپی مردوں میں نہیں، یورپی مرد اکہرے، بے رنگ اور پھُپھسے ہیں”۔

 

اوہ، نہیں، پلیز یہ پراسرا رمشرق کا ریکٹ مت چلانا، اس کلیشے کی دھجیاں اُڑے تو زمانہ ہوگیا، راشد نے کچھ کوفت سے سوچا۔

 

“کلیشے؟”، دانیئلا نے جیسے اس کی سوچ کو پڑھ لیا تھا، “میں ایک خودمختار عورت ہوں اور اپنے لیئے مرد بھی خود منتخب کرتی ہوں اور میری زندگی میں ان کی کمی نہیں رہی۔ مشرقی مردوں کے بارے یہ بات میں نے اپنے تجربے سے کہی ہے، کسی گھٹیا رومانی ناول سے استفادہ نہیں کیا”۔

 

“یہ صرف ایشیائی معاشرے اور تربیت کا اثر ہے، کبھی کھُل کر دل کی بات نہ کہنا، دوغلے، چوغلے لوگ جو بظاہر پراسرار لگتے ہیں۔”راشد نے خشک لہجے میں کہا۔

 

“میں کئی جگہیں اور زمانے پھر چکی ہوں، ہمپی کی چٹانوں کے بیچ، اجنتا کے غاروں میں اور سارناتھ کے مندروں میں گھومتی رہی ہوں اور صدیوں کے اسرار میرے اندر سرائیت کرتے رہے ہیں۔ میں نے دریائے سندھ کے ساتھ سفر کیا ہے، موہنجو داڑو اور ہڑپہ میں تنِ تنہاراتیں گزاری ہیں، میں آئس کریم چاٹتی اطالوی لڑکی نہیں ہوں جس کے دماغ میں نئے فیشن کے علاوہ کوئی بات کم ہی بیٹھتی ہے”۔
راشد کی ریڑھ میں ایک سرد لہر سی پھیلی۔”تم کون ہو؟ اور میرے متروک ماضی سے نکل کر اچانک کیسے میرے سامنے آ بیٹھی ہو؟”

 

“میرے ساتھ چلو گے، اسرار دیکھو گے؟”دانیئلا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ راشد نے ایک ہی گھونٹ میں وہسکی کا گلاس خالی کیا اور جیب سے موبائل فون نکال کر کلاڈیا کا نمبر دبایا، جواب کلاڈیا کی آنسر مشین نے دیا۔ راشد نے اس کے لیئے پیغام چھوڑا کہ وہ ایک پب میں تھا اور اسے واپس آنے میں دیر ہوجائے گی۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ لگے پرانے قصبے کی ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں چلتے رہے، دانیئلاکی کھنکتی، لاپرواہ ہنسی اور اس کے وجود سے اٹھتی توانا مہک نے راشد کے دل و دماغ کو اُتھل پتھل کر رکھا تھا، برسوں کی تہ بہ تہ جمتی اکتاہٹ میں دراڑیں پڑ رہی تھیں۔ دانیئلا ایک پرانی وضع کے تین منزلہ مکان کے دروازے پر رکی۔ دیواروں پر پھولوں سے لدی بیلیں پھیلی تھیں، بالکونیوں میں تازہ رنگ کئے سرخ گملوں میں موسم کے تازہ پھول کھلے تھے۔ مکان کی ساری کھڑکیاں تاریک تھیں۔

 

داینیئلا نے دروازہ کھولتے ہوئے اسے بتایا کہ اس کے والدین شام کے کھانے پر ایک عزیز کے گھر مدعو تھے، اسے وہ رشتہ دار پسند نہیں تھے اور اس نے والدین کی ہمراہی کرنے سے معذرت کرلی تھی۔ دالان میں روشنی پھیلی تو راشد کو پرانے لاہور میں اپنا آبائی گھر یاد آگیا۔ یہ ویسا ہی صحن تھا، سرخ اینٹوں کا فرش، دو اطراف برآمدے، ان کے پیچھے کمرے۔ ہر طرف پھولوں سے بھرے گملے۔ کھلی سیڑھیوں پر لوہے کا جنگلا اور اس سے لپٹی بیلیں۔ پھر اسے رات کی رانی کی مہک آئی۔ وہ بحیرہ روم کے ساحلی قصبوں میں دھوم مچاتی رات کی رانی کی مہک سے واقف تھا لیکن آشنائی اور اجنبیت کے اس ملے جُلے ماحول میں اس خوشبو نے اسے بیک وقت اداس، مضطرب اور شاداب کردیا۔ دانیئلا کے پیچھے سیڑھیاں چڑھتا وہ اس کے کمرے میں داخل ہوا۔

 

یہ ایک لمبا سٹوڈیو نما کمرہ تھا، دیواروں کے ساتھ کتابوں کی بلند الماریاں، چھت کے بیچ لٹکتا قدیم وضع کا فانوس، جگہ جگہ وینس، زیوس، کالی، شیو، عشتروت اور ایسے قدیم دیوی دیوتاؤں کے مجسمے تھے جن سے وہ قطعی ناواقف تھا۔ تین چھوٹے چھوٹے فوارے جن میں گرتا پانی دھیما جلترنگ بجا رہا تھا، کھڑکی کے پاس سرخ ریشم کی چادر سے ڈھکا بستر جس کے سرہانے سرسوتی کا مجسمہ ایستادہ تھا۔ ایک کونے میں دراز قد پودوں اور لکڑی کی منقش جالیدار دیوار سے مختصر سی پارٹیشن کی گئی تھی، کھڑکی سے آتی رات کی رانی کی مہک کمرے میں پھیلی تھی۔راشد لکڑی کے چمکتے فرش پر منہ کھولے کھڑا تھا۔ اس نے اپنے شانے پر دانیئلا کے ہاتھ کا دباؤ محسوس کیا اور اس کے اشارے پر چلتا سامنے کی دیوار کے ساتھ بچھے بید کے صوفے پر بیٹھ گیا۔

 

“میرے آشناؤں میں ایسے یورپی لوگ رہے ہیں جنہیں قدیم ہندوستانی تہذیب سے لگاؤ تھا، لیکن ایسا نفیس ذوق میں نے کبھی نہیں دیکھا۔”اس نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔

 

“اس کمرے میں میرا بچپن اور نوجوانی کا زمانہ گزرا ہے، یہ میرا مستقل ٹھکانہ ہے، اپنی سیاحت کے دوران اکٹھی کی ہوئی چیزیں میں یہاں جمع کرتی رہتی ہوں۔”دانیئلا نے ایک چھوٹے سے فریج سے اسکاچ کی بوتل نکالتے ہوئے اسے مطلع کیا۔ “اور فلورنس؟ وہاں بھی تم ایسے ہی رہتی ہو؟”“نہیں، وہ میرا عارضی پڑاؤ ہے”۔ دانیئلا نے گلاسوں میں وہسکی انڈھیلتے اسے بتایا کہ فلورنس میں وہ ایک مرد اور ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ ایک مختصر سے فلیٹ میں رہتی تھی جہاں اس کے پاس ایک کمرہ تھا جس میں مختلف قسم کا الم غلم کئی برسوں سے گتے کے ڈبوں سے نکلنے کا منتظر تھا۔ اسے کام اور سیاحت سے فرصت ملتی تو یہاں آجاتی تھی۔ یہ اس کی بالکل اپنی، ذاتی دنیا تھی۔

 

باتیں کرتے وہ اٹھی اور ایک سی ڈی منتخب کرکے پلئیر میں ڈالی، کمرے میں ایک عجیب سی موسیقی پھیل گئی، تانپورہ، ستار، چیلو، ڈیچر ی ڈُو اور افریقی ڈھول کے ملاپ نے مدھم روشنی میں ڈوبے اس کمرے کو اٹلی کے ساحل سے اٹھا کر کسی انجانے کرے پر پنہچا دیا جہاں انسان کا قدم نیا نیا پڑا تھا۔

 

دانیئلا اسے انتظار کرنے کا اشارہ کرکے لکڑی کی جالی کے پیچھے چلی گئی، یہ یقینا اس کی تبدیلیِ لباس کی جگہ تھی۔ راشد نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے اپنے دماغ کو ڈھیلاچھوڑنے کی کوشش کی، جنگلوں کی یاد دلاتی موسیقی نے اسے آہستہ آہستہ اپنے جادو میں گھیر لیا۔

 

“میرے ساتھ رقص کرو گے؟”اس نے دیکھا دانیئلا ایک ادا سے اس کی طرف ہاتھ بڑھائے کھڑی تھی۔ وہ آتشیں سرخ رنگ کے ایک مہین، لہریے دار لبادے میں ملبوس تھی۔

 

“نہیں، میں اپنے بے ڈھنگے پن سے اس لمحے کا حُسن برباد نہیں کرنا چاہتا”۔

 

دانیئلا کھلکھلا کر ہنسی اور کمرے کے وسط میں آکر ہلکے ہلکے جھولنے لگی۔ راشد نے وہسکی کا ایک لمبا گھونٹ لیا۔ چند گھنٹے پہلے تک وقت اس کے سینے پرگیلی ریت کی بوری کی طرح پڑا تھا اور اب راشد کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ لمحہ، لمحہ جگنو بن گیا ہے یا خوشبو۔

 

موسیقی میں جلال آتا گیا اور دانیئلا کے رقص میں وحشت اور جمال، سنگی دیوتاؤں کے اس ماحول میں وہ داسی نہیں، ایک محوِ رقص دیوی تھی جو جھومتی، لہریں لیتی، رنگ و روشنی کی کائنات میں سرمستی کے نئے جہان جنم دے رہی تھی۔ اس کا قوس در قوس بدن ہیجان، سرخوشی، تناسب اور بکھراؤ کے سب اسرار اپنے جلو میں لیئے راشد کی دنیا تہہ و بالا کررہا تھا۔

 

اس رقص میں تراشے ہوئے بدن کی لوَ تھی اور روح کی تازگی، مسرت تھی، اتھاہ کرب تھا، طلب کی دیوانگی تھی، خودسپردگی تھی اور پُرغرور بغاوت تھی۔ وہ بہت دیر تک سانس روکے اسے ایک ٹُک دیکھتا رہا، وہ ایک الوہی حسن کے روبرو تھا جس پر وہ نظر جما سکتا تھا نہ ہٹا سکتا تھا۔اس کے دل، دماغ، بدن اور روح میں کوئی دوری نہ رہی تھی اور اس کا سارا وجود ایک نقطے پر آچکا تھا جہاں دانیئلا کے پیروں کی تھاپ پر نئی، ہموار اور زندہ دھڑکنیں تخلیق ہو رہی تھیں۔

 

سانس اس کے سینے سے رہا ہوئی،جب وہ ایک جھٹکے سے اپنے پیروں پہ کھڑا ہوا۔ اس نے ایک پرندے کی طرح بانہیں پھیلائیں اور دانیئلا کے گرد ناچنے لگا۔وقت اپنا مدار چھوڑ چکا تھا اور وہ دونوں مرکز اور مدار بانٹتے ایک دوسرے کے گرد رقص کر رہے تھے۔ جب موسیقی کا آخری سُر ایک سنہرے تیر کی طرح کسی نامعلوم کو نکلا، ان کے وجود ایک دوسرے میں جذب ہوچکے تھے۔

 

سرخ ریشم کی چادر پر ان کے برہنہ بدن ایک دوسرے میں گُندھے رہے، سرسوتی کی وینا دھیمے سروں میں بجتی رہی اورکمرہ رات کی رانی کی مہک سے بھرتا گیا۔
(جاری ہے)
Categories
فکشن

پستان – ساتویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-5
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

میں کمرے کی چوکورپستانوں سے جھانکتا ہوا ایک واحد گواہ، بجھا اور اندیشوں سے بھرا اپنی آغوش میں سمٹا بیٹھا ہوں۔ باہر بہتی ہوئی ہواؤں، تڑختی ہوئی بوندوں اور بھائیں بھائیں کی آوازوں نے میرے کان سن کردیے ہیں، پیٹھ تر کردی ہے اور پانی اب رینگ کر میرے پیٹ اور منہ میں سیلن کی جھپکیاں لیتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔میں ٹھنڈ سے سکڑ گیا ہوں، اتنا کہ مجھ کو پہنائی گئی پلستر کی چادر پر کچھ شکنیں ابھر آئی ہیں۔کہانی دو کرداروں سے شروع ہوئی تھی، وہ دونوں اس وقت میری نگاہوں سے غائب ہیں۔لیکن میں ابھی ان کے بارے میں نہیں سوچ سکتا، یہ ایک تھکی ہوئی، بوجھل اور زنگ آلود رات ہے، جس میں میری رانیں بوندوں سے تر ہیں، میں اپنی نسوں میں چڑھتے ہوئے تاروں کی جھمک اور دھمک دونوں کو سن اور محسوس کررہا ہوں۔یہ رات آواز کے سارے موسموں پر کسی رقص کرتے ہوئے بگولے کی طرح حاوی ہوتی جارہی ہے۔انسانی ہاتھوں کے تراشے ہوئے لیمپ جل بجھ رہے ہیں، ان کی گرمیاں اپنے ٹھنڈے دائروں میں رقص کرتے کرتے ماند ہوئی جارہی ہیں اور ڈم اور بے جان اجالے کی یہ لہر اب گرتی پڑتی کسی طرح وجود کی رسیوں کو تھامے ہوئے کھڑی ہے۔

 

وقت دھیرے دھیرے آگے کی جانب پھسل رہا ہے، جیسے بالکنی میں زمین پر ڈھیر پانی کی لکیر آہستہ آہستہ خود کو آگے کی جانب دھکیل رہی ہے۔یہ دائرہ بڑھتے بڑھتے اس پورے فلیٹ کو اپنی نم مٹھیوں میں جکڑ لے گا۔ڈرائنگ روم میں پڑا ہوا صوفہ غنودگی میں ہے، اس نے اپنے اندر بھری ہوئی کترنوں اور روئیوں کو تھپک تھپک کر سلادیا ہے مگر ہوا کا آسیبی وجود چھوٹے چھوٹے چھیدوں سے اس کے پیٹ میں اتررہا ہے، صوفے کے پانئچے بھیگ گئے ہیں۔اس کی کڑھتی اور ٹھنکتی آوازوں نے کمرے کے اندر موجود تمام چیزوں کو ہوا کی اس بے رحم گدگدی کا احساس دلادیا ہے، جس سے بے دم ہوجانے والی تمام اشیا آج اپنے گلے چھیلنے پر مجبور ہوجائیں گی۔دروازے کا لوک کھر کھر کی مانوس صداؤں سے بھرا پڑا ہے، برتن بج رہے ہیں، گلک میں رکھی ہوئی ریزگاری کی جھنکار تیز ہوئی جارہی اورہے اس پورے ماحول میں ایسا لگتا ہے جیسے کوئی تیز بو ہم سب کے وجود میں سرایت کرتی جارہی ہے۔یہ کھراند ہے، بو کی ایک ایسی شکل جو تیزابی ہوا کرتی ہے، جس کے اندر بھرا ہوتا ہے پیلاپن، دھوا ں اور وہ گاڑھا جذبہ جو نتھنوں کی ہڈیاں نچوڑنے کا ہنر جانتا ہے۔ ہلکے ہلکے باریک پردے پینگیں بھر رہے ہیں، ایسا لگتا ہے چھت کو چھو لینے کی ہڑک اچانک ان کے دل میں جاگ گئی ہو، اس پورے منظر میں صرف دو چیزیں ہیں، پانی اور ہوا۔پانی اور ہوا، جیسے کچ اور صدر۔دونوں نے لگتا ہے غائب ہوکر ان صورتوں میں اپنے آپ کو اجاگر کیا ہے،صدر کا ڈھلتا، ڈوبتا اور تیرتا، اچھلتا وجود اگر پانی ہے تو کچ کا انگڑائیاں لیتا، اٹھکیلیاں کرتا، دھکیلتا اور بھرتا ہوا وجود ہوا کی طرح ابل رہا ہے۔جوانیوں کے اس عظیم نشے میں دونوں کی طاقتیں اور اختیار بڑھ کر خدا کا روپ دھار چکے ہیں، وہ ایک دوسرے میں ضم ہوئے جارہے ہیں اور اپنے بوسوں، تھپکیوں، ناخنوں اور نکیلے دانتوں سے خود کو گھائل کیے جارہے ہیں۔مگر وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ اب ان کا کوئی بدن نہیں ہے، بس وہ ایک دوسرے کے اندر اتر سکتے ہیں، کچ جب صدر کے سینے پر پاؤں رکھتی ہے تو اس کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے بلبلے روشن ہوجاتے ہیں، صدر جب کچ کی ہتھیلیوں کو پکڑنا چاہتا ہے تو اس کی ماورائی، چکنی اور سرد جلد مجبوراً اس کے اپنے ہاتھ کو شرمگاہ کی عمق تک لے جاتی ہے۔کانچ پر، چمڑے پر، برف پر، چونے کی ایک پتلی چادر پر ہرجگہ ان کا حیوانی جنون جنگلی قبائل کے سیاہ خون میں لتھڑے ہوئے نوالوں کی طرح چبتا ہوا محسوس ہورہا ہے، جیسے داڑھیں چچڑی ہوئی کسی ہڈی کو دبا دبا کر سارا رس نکال رہی ہوں۔تمام جگہیں ان کے نشانات سے بھر گئی ہیں۔وہ کبھی سیلنگ فین کے اوپر، کبھی گدوں کے اندر، کبھی فرج کے پیچھے تو کبھی برتنوں کے بیچ اپنے جنسی عمل کو انجام دے رہے ہیں۔وقت کے اس تیز پہیے میں انہیں بس اس ایک لذت سے سروکار ہے، جس کے لیے انہوں نے اچانک ایک سوتے ہوئے چمکدار چاقو جیسے شانت منظر پر دھاوا بول دیا ہے۔انہوں نے کپڑوں سے اس حد تک بغاوت کی ہے کہ جلد کو بھی درمیان سے ہٹادیا ہے،مگر اب بھی ان کی پیاس کا صحرا جوں کا توں، بچھوؤں کے رینگتے ہوئے کانٹے دار قدموں، مکڑیوں کے گول گھومتے ہوئے وجود اور ہرنوں کے کریدتے ہوئے پنجوں سے آباد ہے۔میں اب اس منظر کی تاب نہیں لا سکتا، ان کے لعاب کی چھینٹیں میرے منہ پر بھی اڑتی ہوئی آئی ہیں۔اور میرا باہر کو جھکا ہوا منہ اب اس ذلت پر کچھ لٹک گیا ہے، آنکھوں میں دھندلاہٹ بھر گئی ہے، کچھ صاف نظر نہیں آرہا، بس ایک ترش احساس اپنی شکست کا ہے،اپنے بے جان اور جکڑے ہوئے ہونے کا، اپنی بے قدمی اور بے جگری کا۔پھر بھی میری آنکھیں کھلی ہوئی ہیں، اس انجام کو دیکھنے کے لیے جو اس کمرے میں قید رات کا مستقبل ہے۔کڑھے ہوئے سینوں کے اندر شاید ایک آگ ہوتی ہے، میرے اندر بھی وہی آگ موجود ہے، کیونکہ میں اس وقت اپنی بینائی پر پانی کا پہرا دیکھ رہا ہوں، ایک ایسی گیلی چادر، جس نے میری آنکھوں میں موجود روشنی کو اپنے پیٹ میں اتار لیا ہے اور میری بینائی اس بڑے سے گول اور چکنے، پھیلے منظر سے باہر کی ہر ایک شے کو دیکھنے سے قاصر ہے،بس کچھ نشانات سے نظر آرہے ہیں، جن کو میں اندازے کے طور پر استعمال کررہا ہوں اور کہانی کو جوڑ توڑ کر اپنے لفظوں میں بیان کرنے کی ادھوری سی کوشش۔میری بینائی اگر چلی بھی جائے تب بھی میں اس روایت کو بیان کرنے سے دستبردار نہیں ہوسکتا، جب تک میری سماعتوں کا بھی وہی حشر نہ ہو، جو میری آنکھوں کا ہوا ہے۔کچ اور صدر اب زمین پر لیٹے ہوئے نہ جانے کیوں پنجے چلا رہے ہیں، ایسے میں اڑتا ہوا پانی میری آنکھوں پر مزید موٹی پرت بنارہا ہے۔میرے ہاتھ سے اندازوں کی شیشیاں بھی چھوٹتی جارہی ہیں اور میں انہیں اٹھانے سے قاصر ہوں۔

 

اس گیلے منظر میں چرمراہٹ کی سوکھی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا، میں جانتا تھا کہ آنے والا جو بھی ہے وہ کچ اور صدر میں سے ایک ہے، مگر کون ہے، یہ بتانے سے قاصر ہوں،شاید وہ اندر داخل ہوکر کہیں بیٹھ گیا ہے، صوفے پر یا کہیں اور۔۔۔میرے خیال میں اسے صوفے پر ہی بیٹھنا چاہیے کیونکہ زمین تو اس وقت بہت بھیگی ہوئی ہے، وہ اینڈا بینڈا انسانی ہیولا بیڈ پر بھی نہیں گیا تھا۔پتہ نہیں اس نے جلتی بجھتی روشنی کے تپتے ہوئے زخموں کو ابھی تک ہاتھ کیوں نہیں لگایا تھا۔کچھ وقت یونہی بیت گیا، اتنا ہی اداس، بے جان، بے ضمیر اور روکھا۔جیسے اس وقت کو پانی کی کوئی بوند نہ چھو پائی ہو، سوکھے ہوئے گلے کی طرح اس کے اندر کی رگیں چٹخ رہی ہوں اور اس سرد،پراسرار اور دھندلے اجالے میں بھی ا س کے اندر کی حرارت برف سے تھپے ہوئے منظر میں جلتی ہوئی چمنیوں کی طرح روشن ہو۔وہ ہیولا کچھ دیر بعد اٹھا اور مرے بدن کے پاس آکر ایک تصویر کو گھورنے لگا، اس کی انگلیاں میرے جسم پر رینگ رہی تھیں، میں انگلیوں کی دبازت کو محسوس کررہا تھا مگراس سن جسم کے اندر آنچ کی شناخت کرکے اس شخص کا نام بتاسکنا اس وقت میرے لیے ممکن نہیں تھا۔میرے بدن سے ادھڑے ہوئے پلاستر کو اس نے کہیں کہیں سے نوچ کر پھینک دیا۔ میں اس وقت اس کی جسامت، لطافت اور کثافت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اندرون اور بیرون کی ہرچیز پھیلتی اور سکڑتی جارہی تھی۔نہ جانے کتنی دیر تک وہ انگلیاں میرے بدن پر مختلف قسم کی لکیریں کھینچتی رہیں، ان کی تپن مرے اندر ذرا بھی حرارت نہ پیدا کرسکی۔پھر وہ ہٹ گئیں، شاید میرے ماتھے پر سجی ہوئی تصویر کا سارا رس پی لینے کے بعد اس ہیولے کو کسی اور بات کا خیال آگیا تھا۔اچانک میرے نیند میں ڈوبے ہوئے دماغ کے کسی گوشے میں چنگاری کی طرح ایک سوال سلگ کر پھر ماند ہوگیا، کہیں یہ کوئی چور تو نہیں۔جو سیاہ رات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مالک مکان کی عدم موجودگی میں اس وقت یہاں آپہنچا ہو۔میں نے بہت غور کیا کہ کیا میں نے چابیوں کے کھنکنے کی کوئی آواز سنی تھی، مگر ایسا نہیں تھا، پھر مجھے خیال آیا کہ صدر دروازے کو تالا لگا کر گیا تھا یا اس نے محض آٹو لوک کی مدد سے جز وقتی طور پر دروازے کو بھیڑ دیا تھا۔ کچھ دیر بعد مجھے باتھ روم سے آتی ہوئی شرر شرر کی آوازیں محسوس ہوئیں، اس ٹھنڈک میں نہانے کا خیال برسات میں بھیگے اور کپوئے ہوئے کسی بدن کو ہی آسکتا ہے، ٹنکی کی حبس زدہ آنتوںمیں موجود پانی ضرور اتنا گنگنا تو ہوگا جس سے بدن کی سرد شکنوں کو واپس سوئی ہوئی موجوں میں تبدیل کیا جاسکے۔شاید اسی طرح اس کپکپکی کا احساس کم کیا جاسکتا ہے، جو سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے، جسم کو سنسان اور برفیلے پہاڑوں میں تبدیل کردیتی ہے، بدن کا سارا پانی شرمگاہوں سے ہوتا ہوا رانوں کے طشت کو بھگونے پر آمادہ ہو جاتا ہے، گھٹنوں کی کٹوریاں بجنے لگتی ہیں، پنڈلیاں لڑکھڑانے لگتی ہیں اور انسان اپنے دونوں بازو وؤں کو خود سے لپٹائے ضرب کے نشان کی صورت اس سرد و سفید احساس میں گھل کر خود اندھیرے کا نمائندہ بنتا چلا جاتا ہے۔

 

کوئی چور باتھ روم نہیں جاسکتا، کم از کم نہانے کی غرض سے تو بالکل نہیں۔اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔وہ سردی کی دھوپ کی طرح جلد باز ہوتا ہے، جو زمین پر بکھرے رنگ برنگے تماشے چرا کر تیزی سے مغرب کی طرف چھلانگ لگادیتی ہے اور اندھیرے کی غلام گردشوں میں چکر لگاتے سپاہیوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیٹھ پیچھے کب صبح آئی، دوپہر تک رکی اور شام ہونے سے پہلے ہی رخصت ہوگئی۔مجھے محسوس ہوا کہ ابھی اندازے کی کچھ شیشیاں میرے ہاتھ میں ہیں، جو اتنی بھی بے کار نہیں ہیں، جتنا کہ میں سمجھ رہا تھا۔بہرحال، ایک بدن، سائے کی صورت ہلکے سے دوڑتا ہوا بیڈروم میں پہنچا،دھاڑ سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی، میں بے انتہا دھندلی نظر کے باوجود دیکھ سکتا تھا کہ دروازے کی نچلی درار سے نکلتی ہوئی روشنی نے ایک بے نام رنگ کی چادر میں دیواروں پر بہت سے سیاہ قد اگادیے ہیں، وہ سیاہ قد کن چیزوں کے تھے، یہ میں نہیں بتا سکتا۔کچھ دیر بعد پانی کی لہریں ختم ہوگئی تھیں،نظر دھندلی ضرور تھی، بدن سرد ضرور تھا، مگر دیوار میں زندہ دفن کردیے جانے والے ایک قیدی کی طرح میری ایک ہی خواہش تھی کہ میں دیکھوں کہ ان دونوں میں سے وہ کون سا کردار ہے، جو پلٹ آیا ہے۔اس معاملے میں اندازے کی کوئی شیشی میرے کام نہ آئی تو میں نے جھلا کر انہیں سامنے کے آئنے سے دے مارا، اس میں چٹاخ کی آواز کے ساتھ ایک ہلکی سی خراش پیدا ہوگئی۔صبح اب اپنے جلو میں ایک نم اور افسردہ اجالے کو لے کر بہت آہستگی سے تھکے ہوئے جنسی حیوانوں اور سوتے ہوئے دربانوں کی موجودگی میں مختلف رنگ کے تماشوں کو سمیٹنے کی خواہش لیے اس طرف بڑھنے کا ارادہ کررہی تھی، اس نے کرنوں کے ایک بہت چھوٹے سے وفد کو زمین کے گھنگھور اور گہرے غصے کا اندازہ کرنے کے لیے بھیجا تھا، جن میں سے دو چار کرنیں، شانت اور ڈوبے ہوئے پانی کی سطح پر بیٹھیں چھپ کر بیٹھی ہوئی کرنوں کو اشارے سے بلارہی تھیں۔کہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ہوا کا سائرن کافی دھیمے انداز میں اب بھی بجے رہا تھا۔میں اس پورے تماشے میں بری طرح تھک گیا تھا، اب میرے بدن پر اگ آنے والے چھالوں نے مجھے اور زیادہ زخمی ہونے کا احساس دلایا۔ایسے میں کمرے سے ہلکی موسیقی میں ابھرتی ہوئی آواز کی کچھ لہریں دروازے کی نچلی درار سے تیرتی ہوئی باہر نکل رہی تھیں۔

 

راہ تکے من ہارے نہیں
اب کوئی کہیں ہے، کوئی کہیں
کیوں راہ تھکے من ہارے نہیں
جب ان سے آمنا سامنا تھا
تب چنچل دل کو تھامنا تھا
کیوں پریم کے بھید ابھارے نہیں
اب راہ تکے من ہارے نہیں*

 

بھیدوں بھرے ان بولوں کو سنتے سنتے میری پلکیں بوجھل ہونے لگیں، بدن تو نہ جانے کب سے سن تھا، دھوپ اب کمرے میں گھس آئی تھی، میرے پیروں سے لپٹا ہوا پانی اب معلوم ہوتا تھا پنجوں کی سنکائی کررہا ہے۔دھوپ زخموں اور چھالوں پر مرہم لگانے لگی۔آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ سلائڈنگ میں اڑتی ہوئی ایک بھنبھیری تھی۔ہرے رنگ کی، پھرپھر کرتی، تیز اور آزاد، بالکل کچ اور صدر کی طرح۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

*میرا جی کا گیت