Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 24: پڑوسی (ترجمہ: فروا شفقت)

“جی۔ یہ لیجیے ساڑھی، جِسے آپ نے خریدنے کے لیے کہا تھا۔” مدراس سے لائی گئی وہ ساڑھی میرے ہاتھ میں دیتے ہوے وِمل نے کہا۔ ایک بار من کر رہا تھا کہ ساڑھی کو جوں کی توں وِمل کو واپس کر دوں اور کہوں کہ تم ہی رکھ لو۔ لیکن جےشری کے نام پر خریدی گئی ساڑھی کو اس طرح رکھ لینا مناسب نہ ہو گا، یہ سوچ کر میں نے ڈرائیور کو ساڑھی جےشری کے گھر پہنچانے کے لیے کہا۔

سٹوڈیو آتے ہی جےشری نے بتایا کہ ساڑھی اسے بہت ہی پسند آئی۔ لمحہ بھر وہ وہیں رُکی سی رہی۔ لیکن میں نے اس کی طرف خاص دھیان نہیں دیا اور سیدھے میوزک ڈیپارٹمنٹ میں چلا گیا۔ میرے پیچھے ماسٹر کرشن راؤ نے ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ کے کچھ گیتوں کی دھنیں بنائی تھیں۔ ایک دکھ بھرے سین پر گائے جانے والے گیت کو انھوں نے دکھ بھری دُھن دی تھی۔ میں نے اپنی رائے ظاہر کر دی۔ اس پر انھوں نے اسی دھن کو رونی صورت بنا کر پھر پیش کیا۔ اور پوچھا، “انّا، اب کیسی لگی دُھن؟”

میں نے اپنی جیب سے ایک رومال نکال کر ان کے چہرے پر ڈالا اور ان کا چہرہ ڈھک دیا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ ان کی صورت دیکھے بِنا ان کی دُھن کیا وہی اثر ڈال پاتی ہے، جس کی کہ اس سے امید کی جاتی تھی؟ میں نے انھیں وہی گیت پھر سنانے کے لیے کہا۔ گاتے سمے چہرے پر رکھا رومال لگاتار اُڑ رہا تھا۔ ہم سب لوگوں کو یہ دیکھ کر بڑا مزہ آتا رہا۔ گیت ختم ہوا۔ ماسٹر کرشن راؤ نے چہرے سے وہ رومال پردہ نشین عورت کی ادا سے تھوڑا ہٹا کر نسوانی آواز میں پوچھا، “اب کیسی لگی دُھن؟”

میوزک روم میں جمع سبھی لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ اب تو اس دھن کو بدلنے کے علاوہ ماسٹر کرشن راؤ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا! میرا ہمیشہ کا دستور رہا تھا کہ اپنی فلم کے لیے بنے گیت اور دھنیں سر نیچا کر کے سنوں اور پورے دھیان سے سنوں۔ ایسا کرنے سے سین کے مطابق اثر گیت کی دھن سے برابر ابھرتے ہیں یا نہیں، اس کی صاف تصویر ذہن پر نقش ہو پاتی تھی۔ لیکن اس دن جےشری گا رہی تھی، تب یوں ہی میں نے اوپر دیکھا۔ گاتے سمے وہ بھی اپنی موٹی موٹی کجراری آنکھوں سے مجھے ہی ایک ٹُک دیکھ رہی تھی۔ مجبوراً ہی تیرتے سمے ہوے اس واقعے پر من فوکسڈ ہو گیا۔ وہ سین من کی آنکھوں کے سامنے ایسا ثبت ہو گیا کہ ہٹنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ لیکن فوراً ہی میں نے اپنے آپ کو سنبھالا، ہوش میں آیا۔ اپنے آگے جاری کام سے لمحہ بھر ہی سہی، اپنا دھیان ہٹ گیا۔ اس لیے اپنے آپ پر ہی مجھے غصہ آیا۔

شوٹنگ شروع ہو گئی۔ پھر مجھ پر وہی دُھن پوری طرح چھا گئی، جو ‘آدمی’ اور ‘دنیا نہ مانے’ فلم بنانے کے سمے تھی۔ آج تک جیون میں میں نے کبھی کوئی نشہ نہیں کیا۔ لیکن لگتا ہے کہ فلم میکنگ کا نشہ میرے خون میں ہی گُھلا ہے۔ ہر نئی فلم کے ساتھ ایک نیا پاگل پن، ایک نیا لطف چھا جاتا ہے۔

فلم ‘پڑوسی’ کا پوسٹر

اس فلم میں اُن بوڑھے ہندو مسلمان دوستوں کے آپسی محبت کی علامت کے روپ میں دونوں کے ہاتھ میں ہاتھ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، اس سین کا استعمال میں نے کئی جگہوں پر نہایت جذباتی ڈھنگ سے کر لیا۔ بعد میں جب وہ وِلن ٹھیکیدار ان دونوں جانی دوستوں میں غلط فہمی پیدا کرتا ہے، تو دونوں کی دوستی ٹوٹنے لگتی ہے۔ لیکن یہ بات لفظوں میں نے ظاہر نہیں کی، صرف منظروں کے اشاروں سے اس طرح دکھائی کہ دونوں کے ہاتھ میں لیے ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں، ایک دوسرے سے دور جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے اور بعد میں دونوں پردے پر دکھائی نہیں دیتے۔ دکھائی دیتے ہیں صرف ان کے ایک دوسرے سے دور دور جا رہے ہاتھوں کے پنجے۔ کیمرا پیچھے ہٹتے ہٹتے صرف ان دور جاتے پنجوں کو ہی فلماتا رہتا ہے۔

اُن دونوں پڑوسیوں کو ایک ہی شوق تھا، فرصت کے سمے شطرنج جمانا۔ لیکن بعد میں اختلاف ہونے کے کارن دونوں باہمی مخالف سمت کی طرف منھ پھیرے آنگن میں چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں۔ شطرنج کے مہرے اور بِچھا پٹ (بساط) پیڑ کے نیچے بیکار پڑے رہتے ہیں۔ اُن کے بچوں کو بھلا ان بڑوں کے جھگڑے سے کیا لینا دینا! وہ اپنے پِتا جی کی ادا میں شطرنج بچھا کر اپنی اپنی عقل کے مطابق جیسی بنے، چالیں چلنے لگتے ہیں۔ پیڑ کے نیچے منھ پھیرے بیٹھے دونوں بوڑھوں کا دھیان اُن کے کھیل کی طرف جاتا ہے۔ بچے بیچارے غلط چال چلتے رہتے ہیں۔ دونوں بوڑھے اپنے بچوں کے پیچھے آ بیٹھتے ہیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کر خود مہرے چلانے لگتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے کچھ پیادوں کو مارتے ہیں۔ آگے چل کر تو دونوں اس کھیل میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ بچوں کی بیکار کی جھنجھٹ ختم کرنے کے لیے انھیں اٹھا کر ایک طرف ایسے رکھ دیتے ہیں، جیسے شطرنج کی گوٹیاں ہوں، اور کھیل میں مست ہو جاتے ہیں۔ پونم کی رات کو گاؤں کے دیوتا کا تہوار ہوتا ہے۔ سبھی گاؤں واسی، مرد عورت گاؤں کے باہر مندر کے پاس جمع ہوتے ہیں اور ہاتھوں میں مشعلیں لیے ایک رقص کرتے ہیں۔ اس رقص کی ریہرسل کرانے کے لیے بنگال کے کالی بوس کو میں نے خاص طور سے بلایا تھا۔ کافی دنوں تک ‘پربھات’ کے سبھی کاریگر اس رقص کی ریہرسل کرتے رہے۔ میں دکھانا چاہتا تھا کہ گاؤں کے سبھی بچے بوڑھے ذات پات کا اختلاف بھلا کر تہوار کے لطف میں خوشی اور جوش سے شامل ہو گئے ہیں۔ کالی بوس کی کوریوگرافی میں زنانہ رقص کے لیے ضروری نزاکت تو تھی، لیکن مردانہ رقص کے لیے ناگزیر جوش لاکھ کوششیں کرنے پر بھی نہیں آ رہا تھا۔ زنانہ اور مردانہ رقصوں میں دکھایا جانے والا فرق برابر آ نہیں رہا تھا۔ آخر مجبوراً ہی میں نے خود مشعلیں ہاتھ میں لیں اور مردانہ رقص کے سبھی قسموں کی ریہرسل کرا لی۔

میری رائے تھی کہ رقص کا سین بہت شاندار لگے اور شروع سے آخر تک وہ ایک روپ دکھائی دے، اس لیے اس میں کٹ شاٹ نہ ہو، لیکن اتنے بڑے گروپ رقص کو ایک ہی شاٹ میں فلمانا ناممکن تھا۔ لہٰذا شوٹنگ میں ایک مکمل نئی تکنیک کا استعمال کی تا کہ دیکھنے والوں کو ایسا لگے کہ ایک سین سے دوسرا سین کُھلتے کُھلتے نکل رہا ہے۔ پہلے شاٹ کے آخر میں رقاصوں کی مشعلیں کیمرے کے بالکل قریب آتی ہیں۔ دوسرے شاٹ کا آغاز مشعلوں پر کیمرا لے کر ہی ہوتا ہے اور بعد میں انھیں ایک طرف یا پیچھے ہٹا کر دوسرے کونے سے لیا گیا شاٹ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔ اس تکنیک سے لیے گئے شاٹوں کی ایڈیٹنگ میں نے اتنی خوبی سے کی کہ پہلا شاٹ کہاں ختم ہوا اور دوسرا کہاں سے شروع، اچھے اچھے ٹیکنیشنوں کے بھی دھیان میں نہیں آیا۔

پونم کی اجلی چاندنی میں رقص میں پورا رنگ بھر گیا ہے۔ اچانک چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ سبھی ناچنے والوں پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ انسانوں کی شکلیں ایک دم دھندلی ہو جاتی ہیں اور گانے کی لَے کے ساتھ آگے پیچھے ہلنے والی مشعلیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر چاند نکل آتا ہے اور سب کچھ چاندنی میں نہاتا ہوا صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ چاند چھپ جاتا ہے اور پھر نکل آتا ہے؛ اس سین کے کارن دیکھنے والوں کو نین سکھ تو بہت مل جاتا ہے، لیکن اس میں شامل تخیل کا استعمال کہانی کا مقصد اور بھی زندہ کرنے کے لیے بھی میں نے کر لیا۔ مرزا اور پاٹل نوجوانوں کے رقص کا جلوس ایک طرف کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ مرزا کا لڑکا نعیم، پاٹل کے ہاتھوں میں مشعل دے جاتا ہے اور اسے رقص میں شامل کر لیتا ہے۔ پاٹل کا لڑکا رایبا بھی اسی طرح مرزا جی کو بھی رقص میں کھینچ لاتا ہے۔

ناچتے ناچتے دونوں بُھولے سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ لگتا ہے اب دونوں کی ناراضی تہوار کے جوش میں دور ہو جائے گی۔ ٹھیک اسی لمحے چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ پاٹل کا جوش غائب ہو جاتا ہے۔ بیچارے مرزا جی بھی نا امیدی سے لوٹتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے من میں جو میل چھپا تھا، اسی نے رقص کے جوش کا سارا مزہ کرکرا کر دیا ہے۔

پوٹلی کے لڑکے رایبا کو کسی الزام میں پنچایت کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے۔ یہ ساری سازش اس ٹھیکیدار کی ہی ہوتی ہے۔ اس نے اپنے مصاحبوں کی مدد سے رایبا کو ناحق اس میں پھنسا دیا ہے۔ ٹھیکیدار کا ایک مصاحب پاٹل اور مرزا کے بیچ سے ہوتا ہوا حقے کی سلگتی چلم دانی لے جاتا ہے۔ دیہاتوں میں عام رواج ہوتا ہے کہ کسی دو آدمیوں کے بیچ سے ہوتی ہوئی کوئی آگ نکل جائے، تو ان میں ضرور ہی بکھیڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔ لہذا اس طرح سلگتی چلمدانی پاٹل اور مرزا جی کے بیچ سے لے جانے کو دوسرا ہی معنی آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔ پنچایت سبھا کا کام شروع ہوتا ہے۔ بحث اور جرح چل رہی ہے، اور ٹھیکیدار کا وہی مصاحب بیچ بیچ میں چلمدانی کے کوئلوں کو ہوا دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاٹل اور مرزا کے بیچ دھوئیں کی دیوار سی کھڑی ہو جاتی ہے۔ مرزا کے اس حقے کا استعمال میں نے کئی طرح سے کر لیا۔ غلط فہمی بڑھتی جاتی ہے۔ آثار تو ایسے دکھائی دینے لگتے ہیں کہ ہو نہ ہو من مار کر مرزا رایبا کے خلاف فیصلہ بس دینے ہی جا رہا ہے۔ لیکن اپنے پیارے دوست کے لڑکے کے خلاف پنچایت کا فیصلہ دینا مرزا کے لیے بہت ہی مشکل کا کام ہے۔ پاٹل کے من میں پہلے سے ہی بیٹھی غلط فہمی اس سے اور بھی گہری ہو جائے گی، مرزا جانتا ہے۔ مرزا بڑی الجھن میں پھنسا ہے، کشمکش میں پڑا ہے۔ آخر وہ خدا کو گواہ رکھ کر فیصلہ دیتا ہے۔

ٹھیک یہی اثر ناظرین کے من پر بھی پڑے، اس لیے میں نے ایک ترکیب سے کام لیا۔ مرزا فیصلہ سنانے سے پہلے اوپر آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیمرا بھی اوپر کی طرف جاتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے وسیع آسمان اور نیچے کے ایک کونے میں مرزا کا چہرہ۔ مرزا کے چہرے کے علاوہ پردے کا سارا فریم خالی دکھائی دیتا ہے۔ اس سے یہ بات برابر ابھر آتی ہے کہ مورت پوجا میں عقیدہ نہ رکھنے والے اسلام کے مذہبی خیالات کے مطابق وہ خالی جگہ ہی اللہ کی علامت ہے اور اللہ کو گواہ رکھ کر ہی مرزا اب اپنا فیصلہ دے رہا ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے سمے کیمرا پھر نیچے دیکھنے لگتا ہے اور مرزا کا کلوز اپ فلما لیتا ہے۔ اس سارے سین کے آخر میں پردے پر پورے واقعے کی علامت کے روپ میں صرف مرزا جی کی وہ چلم دانی ہی دکھائی دیتی ہے۔ چلم دانی سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور اس کے بعد آگے کے سین میں دکھائی دینے والا پاٹل کا پریشان چہرہ دھیرے دھیرے اسی چلم دانی پر ابھر آتا ہے۔

اس کے بعد دونوں میں زور کا جھگڑا ہو جاتا ہے اور مرزا پڑوس چھوڑ کر جانا طے کر لیتا ہے۔ وہ ایک بیل گاڑی بلواتا ہے۔ گھر کا سارا سامان اس پر رکھواتا ہے۔ بیوی اور بال بچوں کو بھی گاڑی میں بٹھاتا ہے۔ مرغیوں کی جھلیاں بھر دیتا ہے اور بھیڑ بکریوں کو بھی گاڑی سے باندھ کر جانے لگتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے اس کا دور دور جاتا ہوا گھر، گاڑی میں بیٹھ کر پاٹل کے بچوں سے دور جانے والے مرزا کے بچے! مرزا کی مرغیاں اور بھیڑ بکریاں پاٹل کے گھر کے چھجے پر کھڑی ان کی مرغیوں اور بکریوں کو مسکینی سے دیکھ رہی ہیں، دور چلی جا رہی ہیں۔ آخر میں مرزا کی بیل گاڑی دور چلی جاتی ہے اور ادھر پاٹل کا گھر بھی دور ہو جاتا ہے۔ اس طرح دونوں جانی دوست ایک دوسرے سے بچھڑتے ہیں اور اسی دل کو چھو لینے والا سین پر انٹرویل ہو جاتا ہے۔

اس پوری فلم میں مَیں نے کیمرے کی رفتار کا استعمال ایسے کیا تھا کہ ہر سین کے احساسات کی ذرا سی لہریں بھی برابر ابھر کر سامنے آ جائیں۔ میری کوشش تھی کہ کیمرا سین فلمانے کی ایک مشین بن کر ہی نہ رہ جائے، بلکہ یہ ثابت کر دے کہ وہ انسانی من کی طرح ایک حساس من بھی ہے۔ اسی لیے ‘پڑوسی’ کا سنیریو لکھتے سمے میں مختلف شاٹوں کو صرف تکنیکی تقسیم نہیں کرتا تھا، ہر سین کا سنیریو لکھتے سمے میں اس کے احساسات کے ساتھ پوری طرح سے ایک روپ ہو جاتا تھا۔ خاص طور سے آخر میں باندھ ٹوٹ جانے کے سین کا سنیریو لکھتے سمے تو اس کے ساتھ اتنی وابستگی ہو گئی تھی کہ جذبات کے تسلسل کو روک نہ سکا۔ آنکھوں سے گرتے ٹپ ٹپ آنسو سنیریو کی کاپی کو چھو رہے تھے اور وچاروں کی کڑی ٹوٹنے نہ پائے، اس لیے آنسو پونچھ کر سنیریو لکھتا گیا۔ آخری سین لکھا اور کرسی کی پیٹھ پر ماتھا رکھ کر میں خوب رویا۔ میری سسکیاں سن کر وِمل بھی جاگ گئی۔ گھبرائی، ہڑبڑائی سی بڑی ہی بےچینی سے پوچھنے لگی کہ بات کیا ہے۔ میرے منھ سے لفظ نہیں پھوٹ رہا تھا۔ میں نے صرف سنیریو کی کاپی کی طرف اشارہ کر دیا۔

دوسرے دن میرے زیر کام کرنے والے شاعر آٹھولے نے سنیریو کی وہ کاپی دیکھی اور سہمے سہمے سے پوچھا، “بات کیا ہے انّا؟ لکھتے سمے آپ اتنے جذباتی ہو گئے تھے؟”

“کیوں؟ یہ آپ کیسے کہتے ہیں؟”

انھوں نے سنیریو کی کاپی پر آنسوؤں کے نشان مجھے دکھائے۔ وہ اس سے زیادہ کچھ بھی نہ بول سکے۔

فلم کا آخری سین باندھ ٹوٹنے کا تھا۔ وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ باندھ پر سرنگیں بچھانے کے کارن وہ ٹوٹ جاتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔ دکھ سے چُور پاٹل بہکے بہکے سے، کھوئے کھوئے سے بددل ہو کر باندھ پر بیٹھے ہیں۔ چاروں طرف بڑی بڑی چٹانوں کے ٹوٹے ٹکڑے اُڑ رہے ہیں۔ اپنے روایتی متر کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کی پروا کیے بنا ہی مرزا باندھ پر دوڑ کر آتے ہیں۔ دونوں جب لوٹنے لگتے ہیں تب ایک بڑا بھاری دھماکہ ہونے سے لوٹنے کا راستہ تباہ ہو جاتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے۔ بڑی کھائی پڑ جاتی ہے۔ اب تو موت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ دونوں متر ہاتھ میں ہاتھ تھامے وہیں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تبھی ایک اور سرنگ کا دھماکہ ہوتا ہے اور باندھ کا وہ حصہ بھی جس پر یہ دونوں کھڑے ہوتے ہیں، ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔ ہاتھ میں ہاتھ تھامے ہی دونوں موت کا استقبال کرتے ہیں۔ دوسرے دن جب باڑھ اتر جاتی ہے، دونوں متر مرے پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس آخری لمحے بھی دونوں کے ہاتھ اسی مضبوطی سے گتھے ہوے ہیں جیسے انھوں نے زندہ حالت میں تھامے تھے۔ ان دو ہاتھوں کی مضبوط پکڑ کے اوپر سے پانی کی دھارا بہتی جاتی ہے۔

اس پورے سین میں احساسات اور تکنیک کا خوبصورت میل رکھا گیا تھا۔ مضبوط دوستی، محبت کا یہ سین دیکھ کر ایک مسلمان ناظر نے دل کھول کر کہا، “آج دل کا میل نکل گیا!”

سبھی اخباروں کے کالم ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ فلم کی تعریف سے کھِل اٹھے۔ استثنیٰ تھی صرف اترے جی کا ‘نویگ’۔ اس ہفتہ وار میگزین نے اپنا راگ الگ ہی الاپا تھا۔ اترے جی نے اپنے اس ہفتہ وار میں لکھا: ”تنتر تو ہے، پر منتر غائب”۔ ‘پڑوسی’ پر انھوں نے یہ طعنہ زنی کی تھی۔ پہلے بھی بِنا کارن ہی انھوں نے ‘دنیا نہ مانے اور ‘کن کو’ کے بارے میں اسی طرح اول جلول ذکر اپنے ‘پراچا کاؤلا’ (بات کا بتنگڑ) ناٹک میں کیا تھا۔ اس سمے میں نے بھی انھیں کافی تیز تڑاخ جواب دیا تھا، ”تماشائیوں کی طرف سے نذر کی گئی قلم سے ‘دنیا نہ مانے’ کی بےکار کی مخالفت کو دنیا نہیں مانے گی۔” میں نے ہمت کے جذبے سے ان کی طرف کی گئی تنقید کو قبول کیا تھا۔ انھیں بھی چاہیے تھا کہ اسی جذبے سے اس بات پر ہمیشہ کے لیے پردہ ڈال دیتے۔ لیکن ان کے جیسے قلم کے دھنی لیکھک نے ‘پڑوسی’ پر اعتراض، مخالفت کرنے میں ہی اپنی قلم چلائی۔ ‘نویگ’ میں اترے جی نے ‘شیجاری’ پر بالترتیب پانچ کالم لکھے۔ لیکن کوئی بھی اچھی بات، صرف اس لیے کہ کسی عقلمند آدمی نے اسے بُرا کہا ہے، بُری ثابت نہیں ہو جاتی!

‘پڑوسی’ فلم بِہار کے بھاگلپور میں ریلیز ہوئی، تب وہاں ہندوؤں مسلمانوں میں دنگا بھبھک اٹھا تھا۔ لکھنے میں مجھے بےحد فخر ہوتا ہے کہ اس فلم کے کارن وہاں کا دنگا بند ہو گیا۔ دونوں فریقوں کے لوگوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ لوگ باگ کہنے لگے، جو بات بڑے بڑے سیاست دانوں کے بھاشنوں سے بھی نہ ہو پائی تھی، اسے ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ فلم نے کر دکھایا ہے! میں شکر گزار ہو گیا۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 22: نئے خیالات کی لہر (ترجمہ: فروا شفقت)

دن نکل آیا، مجھے کافی ہلکا ہلکا محسوس ہونے لگا۔ جلدی تیار ہو کر کمپنی میں گیا اور ایک آزاد ذہن سے ‘آدمی’ کی میکنگ کے کام میں اپنے آپ کو جھونک دیا۔ دن بھر شوٹنگ کرنے کے بعد رات میں یا تڑکے اٹھ کر میں سنیریو لکھنے بیٹھا کرتا تھا۔ دن رات مجھ پر تو بس یہی ایک دُھن سوار رہتی کہ کیسے فلم کا ہر سین پُراثر ہو گا، کیسے ہر سین ناظرین کے ذہن پر انمٹ چھاپ چھوڑ جائے گا۔ ہر سین لینے سے پہلے ہی اُس کے کرداروں اور کیمرے کی چھوٹی سے چھوٹی ہلچل کیسی ہو، اس کا مکمل خاکہ میرے من میں تیار رہتا تھا، ایک دم صاف اور واضح۔

چکلہ بستی میں گھومتے پھرتے سمے آخر میں ہماری ملاقات جس ویشیا سے ہوئی تھی اس نے زور دے کر کہا تھا کہ ہم لوگ اگرچہ جسم بیچتے ہیں، ہر دن صبح بھگوان کی پوجا کیے بنا پانی تک نہیں پیتے۔ اس کی بات سن کر تب ہم لوگ کافی دنگ رہ گئے تھے۔ میں چاہتا تھا کہ مہذب سماج کی نظروں میں گری ہوئی اور بدنام ہو چکی ان عورتوں کی جو مذہبی ذہنیت ہے، ناظرین کے سامنے بِنا کہے آ جائے۔ لہٰذا ایک چُھپا ہوا مزاحیہ سین میں نے سکرین پلے میں جوڑ دیا : ہیروئین والی چال میں ہی دو ویشیائیں سویرے پوجا کرتے کرتے بیچ ہی میں اپنے کوٹھوں کے دروازوں پر آ کر کل رات آئے کسی گاہک کے بارے میں زوروں سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں۔ ان میں سے ایک کو اتنا طیش آ جاتا ہے کہ پوجا کا خیال بُھلا کر آرتی کا دِیا ہاتھ میں لیے ہی وہ دروازے پر آ کر پتہ نہیں کیا کیا بڑبڑاتی رہتی ہے اور پھر اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں جھگڑے میں الجھی دوسری ویشیا بھی پوجا کی گھنٹی ہاتھ میں لیے اپنے دروازے پر آ کر پہلی ویشیا کو کافی بھلا برا کہہ کر پھر اندر چلی جاتی ہے اور پوجا کرنے لگ جاتی ہے۔ یہ سلسلہ کچھ دیر یوں ہی میں نے جاری رکھا۔

ویشیاؤں کے کوٹھوں پر مختلف مذاہب اور جاتیوں کے لوگ جایا کرتے ہیں۔ اس ویشیا کے کوٹھے پر گاہکوں کو ہوٹل سے چائے لا کر دینے والے چھوکرے کے منہ سے یوں ہی مذاق میں ایک بے معانی بکواس گیت گوایا تارے۔۔ نا۔۔ نانو۔۔ نانو۔۔

کیسر اپنے کوٹھے پر آئے مختلف صوبوں کے شوقین گاہکوں کے سامنے ‘اب کس لیے کل کی بات’ گانا گاتی ہے۔ سبھی رسیا گاہک خوش ہو کر اس پر پیسوں کی برسات کرتے ہیں۔ وہ سب لوگ کوٹھے پر سے چلے گئے ہیں، یہ سین دِکھتا ہی نہیں۔ دکھائی دیتی ہے صرف ان کی کیسر پر کی گئی پیسوں کی برسات۔ اس سے تو کتنی ہی باتیں بِنا کہے اشارے سے ہی من پرنقش ہو جاتی ہیں؛ جیسے ابھی کچھ ہی لمحے پہلے وہاں جمی محفل میں آئے کیسر کے چہیتے اس کی اپنی نگاہ میں صرف چند چاندی کے سکے ہیں، زندگی چلانے کے محض ذرائع ہیں، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ تھکی ماندی کیسر غیر متغیر من اور چہرے سے دھیرے دھیرے ان سِکّوں کو بٹورتی دکھائی گئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

گنپت کیسر کو دھندا چھوڑ دینے کے لیے کہتا ہے اور اسے پہلے کے برعکس کچھ مزید مہذب بستی کی ایک چال میں لے آتا ہے۔ گنپت ایک معمولی آدمی ہے۔ اسے لگتا ہے یہ بھی اس نے کوئی بہت بڑا کام کر لیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کے من میں یہ ڈر بھی سمایا ہوا ہے کہ اس عورت کے ساتھ کسی پہچان والے نے اپنے کو دیکھ لیا تو بہت درگت بن جائے گی۔ اسے نئے کمرے میں پہنچا کر، گنپت یہ کہتا ہوا چلا جاتا ہے کہ ”شام کو اندھیرا ہونے کے بعد آؤں گا۔” یہاں ‘شام’ کے ساتھ ہی ‘اندھیرا ہونے کے بعد’ یہ لفظ رکھنے کے کارن گنپت کے من میں چھپا وہ ڈر بھی اپنے آپ ظاہر ہو گیا کہ وہ چاہتا ہے، اسے وہاں آتے کوئی دیکھ نہ لے۔ کیسر شام ہونے تک اس کی راہ تکتے تکتے اوب جاتی ہے۔ یوں ہی وہ کمرے میں جلائی موم بتی کی موم کی بوندوں سے’ ٢٥٥’ کا ہندسہ زمین پر بناتی ہے۔ یہ گنپت کے پولیس بیج کا نمبر ہوتا ہے۔ اندھیرا ہونے کے بعد گنپت اس کے کمرے کی طرف جانے کی ہمت بٹورتا ہے۔ لیکن پاس ہی کے کمرے میں گنپت کا کوئی دور کا رشتےدار گاؤں سے آ کر ٹھہرا ہوا ہوتا ہے۔ برآمدے میں اپنا بستر بچھانے کی تیاری کر رہے اس رشتےدار کو دیکھتے ہی گنپت کی ساری ہمت پست ہو جاتی ہے۔ وہ اس بوڑھے رشتےدار سے منھ دیکھا حال احوال پوچھ کر کیسر سے ملے بِنا ہی واپس چلا جاتا ہے۔

کئی بار ذہن کی الجھی ہوئی گتھی اشارتاً سین میں ہی زیادہ پُراثر معلوم ہوتی ہے۔ گنپت کو اس طرح لوٹتا دیکھ کر کیسر مایوس ہو کر اپنے پرانے کمرے میں چلی آتی ہے اور مجبور ہو کر اپنا پہلا دھندا پھر شروع کرتی ہے۔ گنپت اس کے کوٹھے پر آتا ہے۔ اس سمے وہاں دو گاہک بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ کیسر کی اُن کے لیے منگوائی گئی چائے میں بڑی اکڑ کے ساتھ روپے کا سکہ ڈالتے ہیں اور کیسر سے کہتے ہیں، اپنے ہاتھوں چائے پلاؤ۔ کیسر ہنستے ہنستے ایک بانہہ ان کے گلے میں ڈال کر انھیں چائے پلاتی ہے اور پیالی میں ڈالا روپیہ نکال لیتی ہے۔ تبھی اس کی نظر دروازے پر کھڑے گنپت کی طرف جاتی ہے۔ وہ اسے بھی پوچھتی ہے، “چائے لو گے؟” گنپت ‘ہاں’ کرتا ہے۔ کیسر چائے کی پیالی اس کے سامنے لے کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ گنپت پیالی میں ایک سکہ ڈال کر وہ گرم چائے غصے میں کیسر کے منھ پر دے مارتا ہے اور تمتما کر وہاں سے لوٹ جاتا ہے۔ اب کیسر کو بھی غصہ آتا ہے۔ وہ تنتناتی ہوئی اس کے پیچھے پیچھے جاتی ہے اور اس کی اس حرکت کا جواب مانگتی ہے۔ گنپت آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنے ڈنڈے میں جو چمڑے کا پٹا لگا ہوتا ہے اس کا ایک کوڑا کیسر کی جانگھ پر جما دیتا ہے۔ کیسر بھی غصے میں سڑک پر پڑا ایک بورڈ اٹھا لیتی ہے اور گنپت کو مارنے کے لیے اٹھاتی ہے لیکن وہ اسے مار نہیں سکتی۔ اور سڑک کے ایک کھمبے پر ہی اپنا غصہ اتارتی ہے۔ اس بورڈ کو وہیں پھینک کر وہ تنکتی ہوئی چلی جاتی ہے۔

گنپت اس کی طرف دیکھتا رہتا ہے اور اپنی ہی جانگھ پر اسی پٹے کا ایک کوڑا کس کر جما لیتا ہے۔ محسوس کرنا چاہتا ہے خود کہ کیسر کو کتنے زور سے لگا ہو گا وہ کوڑا۔ پھر اس سمت کی طرف دیکھتا رہتا ہے جدھر کیسر گئی ہے، اور جانگھ ملتا جاتا ہے۔

دھیرے دھیرے گنپت آگے بڑھتا ہے۔ راہ میں ایک مکان کی دیوار پر اس نے کیسر سے ملاقات کرنے کے بعد ایک ایک لکیر کھینچی ہے۔ ان لکیروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں کتنی بار ملے تھے۔ وہاں پہنچنے پر گنپت پھر ایک بار کیسر جدھر چلی گئی تھی، ادھر دیکھتا ہے اور اپنے ہاتھ کے ڈنڈے سے اس دیوار پر ایک اور لکیر بنا دیتا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو اس بار ہوئی ملاقات آپسی جھگڑے والی تھی۔ گنپت کے اس فعل سے اس کے من کی گہرائی میں کیسر کے لیے کتنی محبت ہے یہی بات ابھر کر آتی ہے۔ اس طرح غصہ اور موہ سے پرے نا قابل بیان اعلیٰ جذبات کا ملا جلا احساس واضح ہو جاتا ہے اور علامتی تخیل اپنے کلائمکس تک پہنچ جاتا ہے۔

گنپت اپنے گاؤں میں اپنے کھیت پر جانے کو تیار ہوتا ہے۔ کیسر بھی اس کے پیچھے پیچھے جاتی ہے۔ دونوں ایک جھونپڑی میں رات بھر کے لیے قیام کرتے ہیں۔

فلم ‘آدمی’ کا پوسٹر

وہاں پھیلی خاموش تنہائی کے کارن کیسر سوچتی ہے کہ گنپت اب اسے اپنی بانہوں میں بھر کر پاس سلائے گا۔ وہ جھونپڑی کے اندر سے بے کار ہی کچھ بولنے کی کوشش کرتی ہے۔ جھونپڑی کے اندر اکیلی کو بڑا ڈر لگ رہا ہے، ایسا بہانہ بھی بناتی ہے۔ لیکن کچھ دیر بعد یہ دیکھ کر کہ باہر سے گنپت کا کچھ بھی جواب نہیں آیا، وہ یہ دیکھنے کے لیے کہ آخر گنپت اکیلا باہر کر کیا رہا ہے، جھونپڑی کے دروازے پر آتی ہے۔ دیکھتی ہے، گنپت تو ایک کمبل اوڑھ کر گھوڑے بیچ کر سو گیا ہے۔ اس سیدھے سادے ضدی گنپت کی طرف سراہنا بھری نظر سے دیکھتے دیکھتے کیسر جھونپڑی کی دہلیز پر بیٹھ جاتی ہے۔

ضبط کے سلیقے کا پران ہوتا ہے۔ اس لَو سین کو ٹالنے کے کارن ساری فلم کو ہی ایک غیرمتوقع موڑ مل جاتا ہے۔ گنپت کی بھولی بھالی شخصیت اور بازاری کیسر کو مرد کے بارے میں جیون میں پہلی بار دیکھنے کو ملا یہ ایک دم نرالا پہلو، دونوں نتائج اس لَو سین کے کارن برابر حاصل ہو گئے۔ فلم میں ایک بھی سین مستحکم نہیں رہتا۔ ہر منٹ نوے فٹ یا ہر سیکنڈ چوبیس تصویروں کی رفتار سے ساری پٹی آنکھوں کے سامنے سے گزرتی رہتی ہے۔ اتنے محدود سمے میں کرداروں کے سوبھاؤ کی نزاکت بھری باریکیوں کو پیش کرنے والے سین کی رچنا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

کبھی کبھی تضاد پیدا کر کے بھی ایک دم صحیح نتیجہ حاصل کیا جاتا ہے۔ جیسے: گنپت محسوس کرتا ہے کہ وہ کیسر سے پیار کرنے لگا ہے۔ وہ اپنے دوست بابا صاحب سے پوچھتا ہے، “کیا تم اپنی پتنی سے پیار کرتے ہو؟” وہ دوست بھی پرانے دھرے کا آدمی ہوتا ہے۔ کہہ دیتا ہے، “دھت، میں کیا جانوں پیار وار کیا ہوتا ہے؟” اور فوراً ہی وہ اپنی پتنی کو ڈھونڈھنے لگتا ہے۔ اس کی پتنی پچھواڑے میں کپڑے دھو رہی ہے۔ وہ غصے میں وہاں جاتا ہے اور پتنی کے ہاتھوں سے دھونے کے سارے کپڑے چھین کر پھینک دیتا ہے اور اسے لگ بھگ کھینچتا ہوا زبردستی کمرے میں لے جا کر سلاتا ہے۔ کہتا ہے، “کل سے اسے بخار ہے۔ کہا تھا پڑی رہو، تو جا کر کپڑے دھونے بیٹھ گئی۔ ایسی پتنی سے بھی بھلا کہیں پیار کیا جاتا ہے؟” پتنی کو اچھی طرح سے کھٹیا پر لٹا کر پیار سے کمبل اوڑھا دیتا ہے اور پھر کہتا ہے، “میں تو اس سے پیار ویار قطعی نہیں کرتا!” قول و فعل میں باہمی تضاد دکھا کر مزاح پیدا تو ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی ڈائریکٹر جس بات پر زور دینا چاہتا ہے ناظرین کے من میں برابر بیٹھ جاتی ہے۔

کچھ سین اُن کی شوٹنگ کے ڈھنگ کے کارن کمال کے دل چھو لینے والے ہو جاتے ہیں:

کیسر کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کر گنپت اسے اپنی ماں کے پاس لے آتا ہے۔ ماں بچاری بہت ہی سیدھی سادی، بھولی بھالی ہے۔ دیکھتے ہی اسے کیسر پسند آ جاتی ہے۔ وہ اپنی کلسوامنی بھوانی (دیوی) سے فیصلہ مانگتی ہے۔ بھوانی کی مورت پر دونوں طرف ایک ایک پھول رکھا جاتا ہے۔ دائیں جانب کا پھول گرا تو بھوانی کو بہو پسند اور بائیں جانب کا گرا تو ناپسند۔ پھر گنپت کی ماں اپنا اِکتارا اٹھاتی ہے اور آنکھیں بند کر ‘جگدمب، جگدمب’ نام پکارنا شروع کرتی ہے۔ گنپت اور کیسر آنکھیں پھاڑ کر بےصبری سے دیکھتے ہیں کہ بھوانی کیا فیصلہ دیتی ہے۔ بھوانی کے بائیں جانب کا پھول تھوڑا سا ہلتا ہے۔ گنپت کا دھیرج ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ اپنے من مطابق فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دائیں جانب کے پھول کو پھونک مار کر ہوا دیتا ہے۔ زور کی پھونک لگنے کے کارن دائیں جانب کا وہ پھول نیچے گرتا ہے۔ بھوانی نے دایاں پھول گرا کر بہو کو پسند کیا، یہ دیکھ کر گنپت کی ماں کو بہت خوشی ہوتی ہے۔

اس کے بعد گنپت رات کی باری کے لیے کام پر چلا جاتا ہے۔ گنپت کی ماں کیسر کو یہ مان کر کہ وہ جیسے ابھی سے اس کی بہو ہو چکی ہے، گنپت کو کھانے پینے کا کیا کیا اور کن کن باتوں کا شوق ہے بڑی ممتا سے سمجھانے لگتی ہے۔ ماتا جی کو بولتے بولتے نیند آنے لگ جاتی ہے۔ لیکن کیسر سو نہیں پاتی۔ گنپت نے کس طرح زبردستی اور جھوٹے پن سے بھوانی کا دایاں فیصلہ حاصل کیا، اسے کھائے جاتا ہے۔ وہ کروٹ بدلتی ہے تو اس کا ہاتھ اچانک پاس رکھے اِکتارے پر پڑتا ہے۔ اِکتارے کی آواز سے کیسر بےحد چونک جاتی ہے۔ دودھ کے دھوئے، بے داغ ذہن کی اس بڑھیا کو دھوکا دینے کا خیال بھی کیسر کے لیے نا قابل برداشت ہو اٹھتا ہے اور وہ آدھی رات ہی گنپت کے گھر سے اکیلی نکل جاتی ہے۔

بعد میں گنپت باؤلا بنا اسے کھوجتا پھرتا ہے۔ وہ اس کی پرانی چال پہنچ جاتا ہے۔ وہاں ساری چال کی سفیدی کا کام جاری ہے۔ گنپت کیسر کے کمرے میں جاتا ہے۔ وہاں کیسر نے پہلے کبھی اس کی یاد میں اسکا ٢٥٥ نمبر دیوار پر لکھ رکھا تھا، اسے دیکھتا ہے۔ تبھی رنگ ساز کا برش اس ہندسے پر سے پھرتا ہے۔ وہ ٢٥٥ کا ہندسہ مٹ جاتا ہے۔ اس ایک ‘ٹچ’ نے ان کے کارن درد ناک احساسات ظاہر کر دیے۔

گنپت وہاں سے تیزی سے نکل جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جیون میں اس کا پیار ہی جیسے کسی نے مٹا دیا ہے۔ مایوسی اسے خود کشی کے لیے مائل کرتی ہے۔ گنپت کی تیز قدمی، دکھ بھری نظر میں دکھائی دینے والے ارادے، اور پاس ہی تیزی سے بہتی جانے والی ندی کی دھارا کے الگ الگ کونوں سے لیے گئے کلوز اپ تیز رفتار سے پردے پر دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً اس سارے سین کی شدت بہت ہی بڑھ جاتی ہے۔ قابل جگہوں پر قابل علامتوں کا استعمال کرنے سے منظر بے حد دل کو چھو جاتا ہے۔ ناظرین بھی یہی مانتے ہیں کہ اب گنپت خود کشی کرے گا۔ وہ اپنے دلوں کو تھام لیتے ہیں۔ تبھی اس کا پولیس والا دوست اسے روکتا ہے اور خود کشی کے وچار سے اسے نکالتا ہے۔ وہاں سے وہ دونوں شراب کے اڈے پر جاتے ہیں۔ اپنا غم ہلکا کرنے کے لیے گنپت ایک بوتل اٹھا لیتا ہے۔

میں جب جرمنی میں تھا، اس سمے کی بات یاد آئی۔ وہاں میں اکیلا تھا اور اسی طرح گہری مایوسی میں ڈوبا تھا۔ تب میں نے بھی اسی طرح شراب کی بوتل منگوائی تھی۔ اس سمے من میں وچاروں کا جو طوفان کھڑا ہوا تھا، وہ جوں کا توں میں نے گنپت کے متر کے مکالمے کے روپ میں دے دیا۔ آخر گنپت شراب کی بوتل زمین پر دے مارتا ہے، توڑ دیتا ہے اور زندگی کا سامنا کرنے کے لیے سچے معنوں میں تیار ہو جاتا ہے۔

اس بیچ کیسر ہمیشہ پیسہ اینٹھنے والے اپنے شرابی ماما کو قتل کر ڈالتی ہے۔ بدقسمتی سے وہ گنپت کے ہاتھوں ہی پکڑی جاتی ہے۔ اس پر قتل کے الزام میں مقدمہ دائر کیا جاتا ہے۔ مقدمے کی کارروائی کا سین، وکیلوں کے دلائل، گواہوں کے بیان، زبان دانی اور مکالموں سے یہ بھرپور تھا۔ اسے ویسا ہی فلمایا جاتا تو بھاشن ہی بھاشن ہو جاتے۔ لہٰذا میں نے اس سین کا شوٹنگ لکیر سے ہٹ کر عدالت کی کانچ کی بند کھڑکیوں کے باہر سے کیا۔ نتیجتاً عدالت کے اندر جاری سبھی کرداروں کی سرگرمیاں تو برابر دکھائی دیں لیکن لفظوں کے جنجال سے فلم بچ گئی۔ بولتی فلم کا دور شروع ہونے کے بعد خاموش فلم سا لگنے والا یہ سین پہلی ہی بار فلمایا گیا تھا۔ چاہتا تو تھا کہ اسے ایسا ہی رہنے دوں۔ لیکن سوچا کہ کہیں ناظرین یہ نہ سوچ لیں کہ سنیما گھر کا ساؤنڈ سسٹم ہی فیل ہو گیا ہے، اور وہ ‘آواز آواز’ کی چیخ و پکار سے واویلا نہ کھڑا کریں، اس سین کو میں نے ماحول کے مطابق آرٹسٹک بیک گراونڈ میوزک سے جوڑ دیا۔

لیکن ابھی فلم کا بنیادی مقصد کامیاب نہیں ہوا تھا۔ محبت کی ناکامی کے کارن مایوس ہو کرغم کو ہلکا کرنے کے لیے شراب کا عادی ہو جانا یا خودکشی کے لیے راضی ہونا آدمی کی بزدلی کی نشانی ہے، یہ بتانے تک تو میرا مقصد کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن اس سے بھی آگے جا کر میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ محبت کی ناکامی کے کارن دل ٹوٹ بھی گیا، تو بھی اس محبت کی یاد کو دل کے کسی کونے میں سنجو کر آدمی کو اپنا فرض ادا کرتے رہنا چاہیے اور جیون بِتاتے رہنا چاہیے۔ یہ انمول پیغام میں کسی بھاشن یا لیکچر کے ذریعے نہیں دینا چاہتا تھا، ورنہ سارا گُڑ گوبر ہو جاتا۔ کافی سوچا، لیکن کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ رات رات جاگتا رہا۔ لیکن من میں آیا ایک بھی خیال آخر ٹھیک سے جچا نہیں۔ ایک بار تو ساری رات کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی گزار دی۔ صبح ہوتے ہوتے تھوڑی سی آنکھ جھپکی اور جاگا تو فلم کے آخری سین کا پورا آئیڈیا لے کر ہی:

پولیس پریڈ جاری ہے۔ کیمرے میں دکھائی دے رہا ہے کہ گنپت سخت اور کٹھور چہرے سے دیگر پولیس سپاہیوں کے ساتھ پریڈ کر رہا ہے۔ چلتے چلتے وہ نیچے دیکھتا ہے۔ کیمرا بھی نیچے دیکھتا ہے۔ کیمرے میں گنپت کے ڈسپلن میں تیزی سے پریڈ کرتے جا رہے قدم دکھائی دیتے ہیں، اس کی چپلیں دکھائی دیتی ہیں۔ کسی گذشتہ سین میں یہ چپلیں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں اور کیسر خود انہیں ٹھیک کر کے لائی ہے، اس کی یاد میں گنپت کے چہرے پر احساسات ابھر آتے ہیں۔ چپلوں پر سے نظر ہٹا کر وہ پھر سامنے دیکھ کر سینہ تان کر پریڈ کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد گنپت کے آگے پیچھے ہلنے والے ہاتھ ہی اہم مقصد دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس یونیفارم پر کانسٹیبل کے جو فیتے لگے ہوتے ہیں، وہ بدل کر حوالدار کے اور پھر جمعدار کے ہو جاتے ہیں۔ بِنا ایک بھی شبد کے سارا ارادہ صرف اشارے دیتے سین اور علامتوں کی مدد سے بتانے کی میری کوشش ہوتی کامیاب ہو گئی۔ یہ آخری سین اس فلم کا انتہائی نقطہ ہو گیا۔

اس فلم کی ایڈیٹنگ میں بھی نئے طریقے اپنانا طے کیا۔ لمبائی ناپ کر فوٹو کاٹنے کا پرانا طریقہ تیاگ دیا۔ سین میں موجود احساسات اور ان کے مطابق ضروری رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ہی میں فلم بھی کاٹنے لگا۔ شاٹ فلم گھر میں جتنی رفتار سے دکھایا جانے والا ہے، اسی رفتار سے میں اسے اپنے ہاتھوں کے اوپر سرکاتا جاتا اور جہاں ایسا لگتا کہ بس یہ شاٹ اتنا ہی ہونا چاہیئے، وہیں اسے کاٹ کر اگلے شاٹ کو جوڑ دیتا۔ اس طریقے کے کارن ایڈیٹ سین پہلے کے مکینیکل طریقہ کار سے ایڈیٹڈ منظروں کے برعکس نتیجہ خیز اور پُراثر معلوم ہوتے تھے۔

ایڈیٹنگ کا کام پوری رفتار سے چل رہا تھا۔ تبھی بمبئی سے بابوراؤ پینڈھارکر جلدی میں پُونا آئے۔ سینٹرل سینما میں اس سمے جاری فلم کی آمدنی یکایک کم ہو گئی تھی۔ وہاں دوسری فلم لگانا ضروری ہو گیا تھا۔ وہاں کسی دوسری کمپنی کی فلم لگاتے تو ہم لوگوں کو تب تک انتظار کرنا پڑتا، جب تک کہ وہ فلم وہاں سے ہٹا نہیں لی جاتی۔ آئندہ فلم ریلیز کرنے کی اعلانیہ تاریخ ابھی پورے تین ہفتے بعد کی تھی۔ ابھی ‘آدمی’ کی ایڈیٹنگ، بیک گراونڈ سنگیت وغیرہ کئی کام باقی تھے۔

میں نے فیصلہ کیا اور بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “تھئیٹر کو ہاتھ سے جانے مت دیجیے۔ آپ نے جو تاریخ طے کی ہے، اس دن آپ کو نئی فلم ریلیز کرنے کے لیے ضرور مل جائے گی۔”

بابوراؤ میرے فیصلے سے مطمئن ہو کر فوراً ممبئی لوٹ گئے۔

اس رات میں نے ہمیشہ کی طرح دس بجے کام بند نہیں کیا۔ ایڈیٹنگ مشین پر بیٹھا تھا، اٹھتے اٹھتے سویرا ہو گیا۔ اٹھتے سمے اپنے معاون کو ہدایت بھی دے دی کہ ٹھیک ایک گھنٹے بعد کام پھر شروع کرنا ہے۔ تب تک وہ سب کاموں سے فارغ ہو لیں۔ میں خود تو آدھے گھنٹے بعد ہی پھر کام پر آ گیا۔ اس کے بعد سورج کئی بار اُگتا گیا، ڈوبتا گیا۔ راتیں ہوتی گئیں، بیتتی گئیں۔ مجھے دیگر کسی بات کا ہوش ہی نہ تھا۔ بس دُھن ایسی سوار ہو گئی تھی کہ طے سمے پر فلم کے سارے کام پورے کرنے ہیں، دیگر کوئی بات نہ تو سوجھتی، نہ سہاتی تھی۔ بھوک، پیاس، نیند، سب کہیں کھو گئے۔

کہیں میری یہ غنودگی ٹوٹ نہ جائے، یہ سوچ کر میرے سبھی معاون سمے کا دھیان مجھے کبھی نہیں دلاتے تھے اور بھوکھے پیاسے رہ کر میرے ساتھ برابر کام کیے جا رہے تھے۔ کام کی اس مدہوشی میں، اپنے انڈر کام کرنے والے لوگوں کو دو روٹیاں سمے پر کھانے کو ملیں، اس لیے جیون میں پہلی بار میں نے رِسٹ واچ باندھنا شروع کیا۔ فلم کو تیزی سے آگے پیچھے سِرکاتے سمے کبھی کبھار اس پر میری نظر پڑ گئی اور شام کو چار پانچ بجے کے بجائے ان لوگوں کو دوپہر دو ڈھائی بجے بھوجن کی بریک ملنے لگی۔ ایڈیٹنگ کرتے سمے دماغ میں پوری فلم کے فارمولے ہوتے تھے۔ ہر سین کی رچنا، اس کی رفتار وغیرہ کے بارے میں مسلسل وچار جاری رہتا تھا۔ نتیجتاً نیند تو مجھے کبھی نہیں آتی تھی۔ لیکن میرے بیچارے معاون فلم جوڑنے کے لیے ہی دن رات میرے پاس کھڑے رہتے تھے۔ دو تین بار تو ایسا ہوا کہ وہ کھڑے کھڑے ہی نیند آ جانے کے کارن گر پڑے۔ تب سے میں نے ان کی دو شفٹیں کر دیں، اور ان کے لیے آٹھ آٹھ گھنٹوں کی باری باندھ دی۔ ایک کام کرتا تب دوسرا سو لیتا تھا۔ میں دیگر کام دھرم اور کھانے وغیرہ کے لیے آدھا پونا گھنٹہ نکالتا اور باقی سمے اپنے کام میں کھو جاتا تھا۔

پھر بھی سارا کام سمے پر پورا ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ کیلینڈر پر لال کراس لگا رکھی تاریخ ہر روز دیکھ کر ہی میں سارے کاموں کو نبٹاتا جا رہا تھا۔ ایک ہفتہ گیا۔۔۔ ریلیز کی تاریخ چار دن پر آ گئی۔ اس بیچ جاری کی ہوئی دو باریوں کا سسٹم بھی بند کرنا پڑا۔ ہر ڈیپارٹمنٹ کے لوگ اپنے اپنے کام ذرا بھی نہ سستاتے ہوئے دن رات کرنے میں جٹے ہوئے تھے۔ ہرسین کی آخری ایڈیٹنگ ہو چکی تھا۔ بغل کے کمرے میں نگیٹووں کو کاٹ کاٹ کر گراریوں پر چڑھانے کا کام جاری تھا۔ تیار گراریوں پر بیک گراونڈ میوزک کے نقش کرنے کا کام ماسٹر کرشن راؤ اور وسنت دیسائی من لگا کر کر رہے تھے۔ پل میں ایڈیٹنگ روم میں، تو دوسرے ہی لمحے بیک گراونڈ میوزک کے ساوئنڈ ریکارڈنگ ڈیپارٹمنٹ میں میری بھاگ دوڑ جاری تھی۔ آخری چھ سات دنوں میں سبھی کاریگروں اور کام گاروں نے بڑی لگن اور عقیدت سے کام کیا۔ ان کی دلی تعاون کو میں کبھی بُھلا نہیں سکتا۔

‘آدمی’ کو ریلیز کرنے کی تاریخ آ گئی، تب بھی اس کی پوری کاپی تیار نہیں ہو پائی تھی۔ پھر بھی میں نے بمبئی فون کیا اور بابوراؤ پینڈھارکر سے ٹھاٹھ سے کہہ دیا کہ دوسرے دن صبح دس بجے فلم سنسر کے پاس ضرور پہنچ جائے گی۔

پُونا کے ‘پربھات’ تھئیٹر میں رات کا شو ختم ہونے کے بعد میرے سبھی ساتھی مددگار، کلاکار، کاریگر، ‘آدمی’ کی ٹرائل ریلیز دیکھنے کے لیے پُرجوش انتظار کر رہے تھے۔ میں سویرے پانچ بجے ہماری لیب سے فلم کی پہلی پانچ چھ گراریاں لے کر تھئیٹر پہنچا۔ آگے کی گراریوں پر کیمیکل روم میں عمل جاری تھا۔ جیسے جیسے پوری ہو جائیں، انھیں تھئیٹر پر لے آنے کی ہدایت دیے کر میں چلا آیا تھا۔

ٹرائل ریلیز فوراً شروع کی۔ میرا دھیان لگاتار گھومتی جا رہی گھڑی کی سوئیوں پر تھا۔ سمے ہو چلا، تو میں نے آگے کی گراریوں کی راہ دیکھے بنا ہی دیکھ چُکی پہلی پانچ چھ گراریوں کو ساتھ لے کر بمبئی جانا طے کیا۔ میں کار سے بمبئی کو لے روانہ ہوا۔ آگے کی گراریوں کو لے کر فوراً بمبئی چلے آنے کی اطلاع میں نے بھاسکرراؤ کو دے دی۔

کار میں فلم کے ڈبے رکھ دیے، اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور کو ہدایت دی کہ کار تیز رفتار سے چلائے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چہرے پر آنے لگی۔ لگاتار تین ہفتے سختی سے روکی گئی نیند کب مجھ پر حاوی ہو گئی، پتہ ہی نہ چلا۔

گاڑی رکی اور میں جاگا۔ گاڑی سینٹرل سینما کے گیٹ پر کھڑی تھی۔ بابوراؤ پہلے تو میری طرف دیکھتے ہی رہ گئے۔ میری داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور مسلسل جاگتے رہنے کے کارن چہرہ تھک کر چور ہو گیا تھا۔ میں نے انہیں فلم کے پانچ چھ ڈبے تھما دیے۔ بابوراؤ انہیں لے کر سیدھے سنسر بورڈ گئے۔

کہیں سنسر نے کچھ شاٹس نکال دینے کے لیے کہا تو؟ سینٹرل سینما میں بیٹھے بیٹھے میں گھبرا رہا تھا۔ پہلا شو ساڑھے تین بجے کا تھا۔ تین پچیس ہو گئے۔ تھئیٹر ناظرین سے کھچا کھچ بھر گیا تھا۔ سینٹرل سینما کے مالک عابد علی اور ان کے ساتھی کے۔ مودی، تھئیٹر کے منیجر اور دیگر سبھی ملازم فلم کے ڈبوں کا پرجوش انتظار کر رہے تھے اور اپنے اپنے کمرے کے دروازے پر ہی کھڑے تھے۔

تبھی انٹرویل تک کی فلم کی گراریاں آ پہنچیں۔ میں پروجیکٹر کمرے میں ایک بے یارومددگار آدمی جیسا بیٹھا تھا۔ عابد علی نے درخواست کی کہ میں تھئیٹر میں بیٹھ کر فلم دیکھوں۔ لیکن ناظرین میں بیٹھ کر یہ فلم دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ ڈر لگ رہا تھا۔

فلم کی پہلی گراری شروع ہو گئی۔ پروجیکٹر کے بغل میں ہی ایک اور جھروکا تھا۔ میں اس میں سے جھانک کر دیکھنے لگا۔ پردے پر پربھات’ کا ٹریڈ مارک دکھائی دیا۔ بھیری کے سُر سنائی دیے، اور ساتھ ہی ناظرین کی تالیوں کی گونج بھی سنائی دی۔ ناظرین بڑی امید سے آئے تھے۔

پردے پر ایک عورت اور ایک مرد کے پاؤں چلتے ہوئے دکھائی دیے۔ ان کے نقشِ پا سے کیچڑ پر ابھرے حروف ‘آدمی’ پردے پر دکھائی دیتے ہی کریڈٹ دکھانے کا یہ نیا خیال لوگوں کو پسند آ گیا، انہوں نے پھر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی۔ اب تو میرا دل اور بھی دھڑکنے لگا۔ پردے پر ڈائریکٹر کا نام دکھائی دیتے ہی ناظرین نے تالیوں سے اتنی زوردار داد دی کہ سن کر میرے ہاتھ پاؤں کی ساری طاقت جاتی رہی۔ میں دھرم سے پاس رکھے مونڈھے پر بیٹھ گیا۔ میرے آنسو بہہ نکلے۔ پروجیکٹر آپریٹر نے مجھے آنکھیں پونچھتے دیکھ لیا اور فوراً ہی کولڈ ڈرنک کا گلاس تھما دیا۔ لیکن مجھے تو کولڈ ڈرنک پینے تک کی بھی ہوش نہیں تھی۔ میرے تھکے ماندے من میں ایک ہی سوال الٹا سیدھا ناچ رہا تھا: ‘کیا ناظرین کی امیدوں کو میں پورا کر سکوں گا؟’ نظر زمین پر گڑی تھی۔ کوئی میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ بابوراؤ پینڈھارکر تھے۔ فلم کے آگے کے سارے حصے وہ سنسر کو دکھا کر لے آئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے فخر سے سینہ تان کر مجھے سلام کیا اور کہنے لگے، “شانتارام بابو، پتہ نہیں کن الفاظ میں آپ کو مبارکیں دوں؟”

میں نے ایک دم معصوم بچے کی طرح ان سے پوچھا، “سچ؟ سچ مچ اتنی پسند آئی آپ کو ‘آدمی’ ؟”

“جی! جی ہاں! جی ہاں!!” انہوں نے زور دے کر کہا۔

ان کی بات پر یقین نہیں ہو رہا تھا مجھے۔ ہو سکتا ہے وہ محض مجھے سمجھا بجھا رہے ہوں۔ غیر یقینی کا یہ احساس میری آنکھوں میں انہوں نے بھی شاید دیکھ لیا اور سمجھاتے ہوئے بولے، “چلیے، اٹھیے۔ اب آپ یہاں نہ بیٹھیے۔” پروجیکٹر کمرے کے پاس ہی ایک کمرا تھا، اس میں وہ مجھے لے گئے۔ میرے سامنے کھانے پینے کی کچھ چیزیں رکھ کر بولے، “لگتا ہے آپ نے کل سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں ہے۔ پہلے آپ اطمینان سے کھا لیجیے۔ تب تک فلم کو ناظرین کیسی کیسی داد دے رہے ہیں، میں دیکھ آتا ہوں۔”

کمرے میں میں اکیلا تھا۔ میں نے ان کھانے پینے کی طرف صرف دیکھ لیا۔

فلم ختم ہونے کے بعد بابوراؤ پینڈھارکر میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھے کس کر گلے لگا لیا اور رندھی آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، فلم دیکھ کر باہر آئے سارے ایگزیمینرز ایک آواز سے کہہ رہے ہیں کہ اس موضوع پر ایسی فلم کا بنانا صرف اکیلا شانتارام ہی کر سکتا ہے!”

پھر کیا تھا! اب تک بڑی کوشش کر تھام رکھے آنسو پھر بہہ نکلے۔ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بابوراؤ نے کہا، “اب آپ یہاں اس طرح آنسو بہاتے نہ بیٹھیے، چلیے، میرے ساتھ باہر آئیے۔ کافی لوگ آپ سے ملنے کے لیے باہر انتظار کر رہے ہیں۔”

“اجی، لیکن اس شکل و صورت میں؟ کل سے میں نہایا تک نہیں۔۔۔”

باہر جانے کے لیے میں آنا کانی کر رہا تھا۔ تبھی کیشوراؤ داتے کمرے میں آئے۔

میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے، “بھئی واہ! کیا کمال کا فن پارہ بنا یا ہے آپ نے!”

میں نے ان کی طرف بھی اسی سوالیہ نظر سے دیکھا۔

“اجی شانتارام، اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں آپ؟ چلیے، باہر چلیے۔”

وہ دونوں مجھے لگ بھگ کھینچتے ہوئے باہر لے گئے۔ مجھے دیکھتے ہی سامنے ہی کھڑے چندر موہن نے دوڑ کر مجھے عملی طور پر کندھوں پر اٹھا لیا اور نہایت خوشی سے وہ پاگل سا ناچنے لگا : “یہ ہیں ہمارے انّا! میرے گرو! انّاصاحب یہ پِکچر بیس سال آگے کی ہے۔”

اس کے بعد کافی ناظرین اور ناقدین بھی ملے۔ تھوڑے بہت فرق سے سبھی نے یہی رائے ظاہر کی۔ سبھی لوگ کافی پُرجوش ہو گئے تھے۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں بہت بیمار ہو گیا ہوں، کوئی طاقت نہیں رہی ہے۔ میں نے بابوراؤ کو بتایا، “میرے ہاتھ پاؤں میں کپکپی چھوٹ رہی ہے۔ مجھے گھر پہنچائیے۔۔۔ میں سونا چاہتا ہوں۔۔۔”

میں گھر گیا اور ایسے سو گیا کہ دوسرے دن سویرے گیارہ بجے ہی جاگا۔ بابوراؤ میرے جاگنے کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ بعد کے شو کے سمے ہوئی کئی مزیدار باتیں وہ بتانے لگے : پہلے دن کے آخری شو کے لیے بامبے ٹاکیز کے مالک ہمانشو رائے اور دیوکا رانی آئے تھے۔ انٹرویل کے سمے ہمانشو رائے یہ چِلّاتے ہوئے ہی باہر آئے کہ “کہاں ہے وہ چُنی لال کا بچہ؟” بامبے ٹاکیز کے منیجر سر رائے بہادر چنی لال انٹر ویل ہونے سے پہلے کچھ دیر تک ان کے ساتھ بیٹھ کر ‘آدمی’ دیکھ رہے تھے۔ بعد میں نہ جانے کہاں غائب ہو گئے تھے۔ یہ دیکھ کر کہ ہمانشو رائے چنی لال جی کو اتنی بے چینی سے کھوج رہے ہیں، بابوراؤ پینڈھارکر لپک کر آگے بڑھے اور پوچھا، “کیوں، آخر بات کیا ہے؟” اس پر ہمانشو جھنجھلا کر برس پڑے، ” دیٹ رائے بہادر کا بچہ ہیڈ ٹیلیفونڈ می آفٹر سینگ فرسٹ شو سیئنگ ‘آدمی’ از ہمبگ۔ آئی وانٹ ٹو تھریش دیٹ فیلو فار سیئنگ بکواس ٹو سچ اے ماسٹر پیس !”

(That Rai Bahadur ka Bachha had telephoned me after seeing first show saying ‘Admi’ is humbug. I want to thrash that fellow for saying bakwas to such a masterpiece.)

لیکن ڈر کے مارے کہیں دبکے بیٹھے چنی لال جی ہمانشو رائے کو آخر تک کہیں بھی نہیں ملے! اتنا کہہ کر بابوراؤ قہقہہ مار کر ہنسنے لگے۔ میں بھی ان کی ہنسی میں شامل ہو گیا۔ میرا خیال ہے، شاید پچھلے ایک مہینے میں پہلی بار میں من سے کھل کر ہنس پایا تھا۔

بابوراؤ نے کہا، “اب چلیے، اٹھیے پہلے داڑھی بنا لیجیے۔ ذرا آئینے میں دیکھیے تو سہی، کتنی بڑھ چکی ہے داڑھی۔”

میں نے اپنا عکس دیکھنے کے لیے آئینہ دیکھا۔ آئینے سے کوئی اجنبی سنیاسی ترانٹ اور لال سرخ آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ پل بھر تو میں اپنے آپ کو پہچان بھی نہ سکا۔ پھر تیزی سے داڑھی بنانے میں لگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد فون ٹھنکا۔ بابوراؤ نے فون اٹھایا۔ ان کی بات میں نے سن لی۔ کہہ رہے تھے، “ذرا رکیے، شانتارام بابو یہاں ہیں۔ آپ انہی سے بات کر لیجیے۔” رسیور میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بابوراؤ نے بتایا، “پولیس داروغہ رانے۔”

میں نے فورا رسیور پر ہاتھ رکھ کر چونک کر پوچھا، “پولیس داروغہ؟ کیوں؟” کچھ ڈرتے ڈرتے ہی میں نے فون کان سے لگایا اور ذرا سی ناخوشی سے ہی “ہیلو” کیا۔ اس طرف سے زور سے پُرجوش آواز آئی، “کانگریچلیشنس!” مجھے اپنے کانوں پر بھروسہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے پھر پوچھا، “جی، کیا فرمایا آپ نے؟”

“اجی، ‘آدمی’ کے لیے آپ کو بدھائیاں! سب لوگ ہم پولیس والوں کو بے حیا اور انسانیت نہ رکھنے والے راکھشس مانتے ہیں۔ لیکن آپ نے اپنے اس ‘آدمی’ کے ذریعے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم لوگ بھی آدمی ہی ہیں! ہم سبھی پولیس والوں کی طرف سے دلی شکریہ!” کہتے کہتے ان کا گلا رندھ گیا۔ بھاری آواز میں انہوں نے کہا، “گاڈ بلیس یو!” اور انہوں نے فون بند کر دیا۔ ایسے ایسے غیر متوقع لوگوں سے اتنی دلی مبارکباد پا کر میں تو سُن پڑ گیا۔ کافی دیر تک کرسی پر ویسا ہی بیٹھا رہا۔ داڑھی آدھی بنی تھی اور آدھے حصے پر لگا صابن سوکھتا جا رہا تھا۔

بمبئی کے سبھی اخباروں نے ‘آدمی’ کی تعریف میں اپنے کالم بھر دیے تھے۔ بابوراؤ نے ان سبھی اخباروں کو میرے سامنے پھیلا کر رکھا اور بڑی خوشی سے کہنے لگے، “پڑھ کر دیکھیے بھی، اخباروں نے کیا کیا لکھا ہے؟”

کیا کہہ رہے ہیں اخبار والے؟”

اجی، ایسے ٹھنڈے پن سے کیا پوچھ رہے ہیں آپ؟ ‘آدمی’ کی تعریف کے لیے لفظ نہیں مل رہے ہیں انہیں!”

میری آنکھیں بھر آئیں۔

“کسی نے کچھ تو تنقید کی ہوگی نا؟”

“بالکل نہیں۔ سب نے ایک مت سے رائے ظاہر کی ہے، فیصلہ دیا ہے : بہت ہی ایکسیلنٹ!”

میں نے ان سبھی اخباروں کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے کہا، “تب تو کیا پڑھنا!”

“اجی، آپ ذرا صحت مند ہو جانے کے بعد پڑھیے۔ اس تنقید کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چلے گا، آپ نے ‘آدمی’ میں کیا کیا، کِیا ہے!”

ان کی بات صحیح تھی۔ ‘آدمی’ میں میں نے کیا کیا کِیا ہے میں بُھلا بیٹھا تھا۔ میرا دماغ سُن سا ہو گیا تھا۔ جسم میں کوئی خوشی، جوش نہیں رہا تھا۔ ‘آدمی’ کے بارے میں کسی نے دو لفظ کہے نہیں کہ میرے آنسو بہہ نکلتے تھے۔ اتنا جذباتی ہو گیا تھا میں!

آخر میں پُونا آ گیا۔ پُونا کے ڈاکٹر بھڑکمکر نے میری صحت کی جانچ کی اور تشخیص بتائی: ‘نروس بریک ڈاؤن’!

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 21: آدمی (ترجمہ: فروا شفقت)

بیتی باتوں سے من کھٹا ضرور ہوا تھا۔ پھر بھی سڑک پر گشت لگانے والا پولیس حوالدار اور لال روشنی میں بھیگی وہ ویشیا من میں گہرے بیٹھ چکے تھے۔ وہ دونوں مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ کئی بار تو میں اپنے ہی وچاروں میں اس طرح کھو جاتا کہ اور کسی بات کا ہوش حواس تک نہ رہتا۔ بھاسکرراؤ کے ساتھ میری کئی بیٹھکیں ہونے لگیں اور ‘آدمی’ روپ لینے لگی۔

آج تک کی سبھی فلموں کے ہیرو سے ‘آدمی’ کا ہیرو مکمل نرالا بنانا طے کیا۔ عام فلموں کا ہیرو ہمیشہ تمام خوبیوں کا پتلا، دِکھنے میں سُندر، بہت بہادر اور نہ جانے کیا کیا نہیں ہوتا تھا۔ ان سبھی پرانے خیالات کی لیک سے ہٹ کر ‘آدمی’ کا ہیرو عام آدمی جیسا ہو، اس کے اندر وہ سبھی خامیاں اور خوبیاں ہوں جو عام آدمی میں پائی جاتی ہیں، یعنی وہ ایک دم ‘اینٹی ہیرو’ ہو، اِس طرح اُس کی تخلیق کرنا میں چاہتا تھا۔

ہیروئین تھی ایک ویشیا، مجبوری کے کارن اس پیشے میں پڑی۔ جیون میں بہت سی تھپیڑیں کھا چکنے کے کارن پتھرائی سی، کچھ چالو، خود غرض، لیکن پھر بھی اتنی ہی بھولی بھالی اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے والی، کسی خاندانی عورت کی طرح جیون بِتانے کے سپنوں میں کھونے والی اس طرح کے باہمی مخالف رنگوں میں رنگی ہوئی ہیروئین کو میں نے بیان کیا۔

بھاسکرراؤ امیمبل نے میرے اس بیانیہ پر مبنی دونوں اہم شخصیتوں کو تحریر کیا اور پورا سکرین پلے تیار کیا۔ کہانی بہت ہی چست، چھوٹی، پھر بھی چُھو جانے والی بن پڑی۔ ان دنوں اپنے ترقی پسند وچاروں کے لیے مشہور لیکھک اننت کانیکر نے مراٹھی ورژن کے مکالمے لکھے اور ہندی کے لیے وہ کام منشی عزیز نے کیا۔ سنگیت سنوارنے کا کام ماسٹرکرشن راؤ کو سونپ دیا گیا۔

میں چاہتا تھا کہ اس فلم کی ساری تکنیک ہی ایک دم نئی ہو۔ لیکن ٹھیک ٹھیک کیسی ہو، اس کی کوئی واضح سوچ بن نہیں پا رہی تھی۔ فلم کی ریہرسل شروع ہو گئی۔ عام طور پر میرا رواج یہی تھا کہ ریہرسل سے پہلے ہر سین کا تخیل، اسے کیسے کیسے آگے بڑھانا ہے، اس سے کیا اثر متوقع ہے، کیسے اس میں رنگ اور رس بھرنے ہیں، اس کا واضح خاکہ من میں تیار کر لوں۔ لیکن اس بار میں خود بہت ہی تذبذب میں تھا۔ آخر میں یہی سوچ کر کہ ریہرسل کرتے کراتے ہی فلم کے مختلف منظروں کا تانا بانا من میں برابر بن جائے گا، میں نے بڑی محنت سے ریہرسل کرانا شروع کر دی۔ کسی ایک ہی سین کو الگ الگ ڈھنگ سے بنانے کی کوشش کرنے لگا۔ اور مجھے نت نئے خیالات سوجھنے لگے۔ فتے لال بھی سیٹ کی تصویریں بنانے میں لگ گئے۔ جانداری اور حقیقت لانے کے لیے مَیں فتے لال جی کو ساتھ لیے چکلہ بستیوں کی ہر گلی چھاننے لگا۔ پولیس والوں کی ہر بستی میں ہم لوگ ہو آئے۔ اس کے بعد انہوں نے سیٹ لگوانا شروع کیا۔ بمبئی کی بھونڈی، بھدی بستیوں کی چال، پولیس کی بیرکیں یا داروغہ کا تھانہ، سب کو میں اتنا اصلی بنانا چاہتا تھا کہ ناظرین کو ایسا لگے کہ ہم لوگوں نے ان موقعوں پر وہاں جا جا کر ہی شوٹنگ کی ہے۔

جیسے جیسے ریہرسلز ہونے لگیں، سین کی شوٹنگ کے مختلف آئیڈیاز اور استعمال میں لانے لائق علامتوں کی جیسے جھڑی سی لگ گئی۔ ان میں سے کِسے لینا، کِسے چھوڑنا، اس کی کنفیوژن ہونے لگی۔ دل و دماغ پر بس ایک ہی دھن سوار ہو گئی کہ کیسے ‘آدمی’ کو انتہائی حقیقی بنایا جائے۔

شوٹنگ شروع ہوئی اور ہم سب پر فلم میکنگ کا نشہ سا سوار ہو گیا۔ اس میں کتنا لطف آتا تھا، لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم لوگ کام میں اتنے مست ہو جاتے تھے کہ دن ڈوب بھی گیا تب بھی لگتا تھا کہ شوٹنگ کبھی رکے ہی نہیں، بس چلتی ہی رہے۔ فلم کا ہیرو گنپت اپنے سینئر ساتھیوں کے ساتھ جوۓ کے کسی اڈے پر چھاپہ مارتا ہے۔ وہاں وہ ایک ویشیا کو جس کا نام کیسر ہوتا ہے، پکڑ لیتا ہے۔

اس کے ساتھ وہ اسی حقارت سے باتیں کرتا ہے جیسی کسی مجرم کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ وہ اس کے سبھی سوالات کا لا پرواہی سے جواب دیتی تو ہے، لیکن اس کے جوابوں سے اس کے من میں مہذب سماج کے لیے جو کڑواہٹ کوٹ کوٹ کر بھری ہے، صاف ابھر آتی ہے۔ انجانے میں اُس کا درد اُس کٹھور پولیس سپاہی کے من کو چھو جاتا ہے۔ اس سین میں اس سخت پولیس جوان کے منہ میں کوئی مکالمے ڈالے جاتے تو ایک دم بے تکے سے لگتے۔ کیسر اور گنپت جب سڑک پر چلتے رہتے ہیں، تو ادھر سے کسی دوسرے پولیس سپاہی کی سیٹی سنائی دیتی ہے۔ قدموں کی آہٹ سے لگتا ہے کہ سیٹی بجانے والا وہ دوسرا پولیس والا ان دونوں کے پاس آتا جا رہا ہے۔ گنپت فوراً کیسر کو کسی اوٹ میں دھکیلتا ہے اور اپنا اوور کوٹ اس پر پھینکتا ہے، تاکہ کیسر اُس دوسرے پولیس والے کو دکھائی نہ دے۔ وہ پوری طرح سے کوٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے، بچ جاتی ہے۔ اِس چھوٹے سے عمل کے ذریعے گنپت ناظرین کو یہ محسوس کراتا ہے کہ اس کے من میں کیسر کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ اس سین کا جو اثر اس واقعہ کے کارن ممکن کیا گیا، وہ ہزار لفظوں سے بھی کبھی نہ ہو پاتا۔

ایک بار فلم کی ہیروئین کیسر کے کوٹھے کے ایک سیٹ پر شوٹنگ جاری تھی۔ سین کافی نزاکت بھرا تھا۔ ہم لوگ اس میں رنگ گئے تھے۔ تبھی شانتا آپٹے کے بھائی بابوراؤ بڑی جلدی جلدی سیٹ پرآئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر منت بھری آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، پہلے میرے ساتھ آئیے! دیکھیے بھی ادھر امی کیا کیا کر رہی ہے! (بابوراؤ اپنی بہن کو امی کہا کرتے تھے) وہ کواڑ اندر سے بند کر بیٹھی ہے۔ میں نے اسے آواز دی تو پاس پڑا پیپرویٹ اس نے کھڑکی سے مجھ پر پھینکا۔ آپ پہلے چلیے!”

وہ مجھے لگ بھگ کھینچ کر ہی وہاں سے لے گئے۔

زینہ چڑھ کر میں شانتا آپٹے کے کمرے کی طرف گیا۔ بابوراؤ مجھے کھینچ کر کھڑکی کے پاس لے گئے۔ میں نے اندر جھانک کر دیکھا، تو وہاں ایک عجیب حال تھا؛ شانتا آپٹے ایک کرسی پر لاش جیسی جڑوت بیٹھی تھیں۔ بابوراؤ نے بتایا کہ فتے لال جی نے اسے ڈانٹا اور غصے میں آ کر اسے پیٹنے کے لیے اپنی چھتری بھی اٹھائی۔ ان کی باتیں سننے کے لیے میں وہاں رُک ہی نہ پایا۔ دندناتا ہوا زینہ اتر کر فتے لال جی کے کمرے کی طرف چل پڑا۔

‘دنیا نہ مانے’ فلم کے بعد شانتا آپٹے کافی مشہور ہو چکی تھیں۔ کافی دنوں کے لیے وہ جنوب میں سیر کرنے گئی تھیں۔ ادھر کے جذباتی لوگوں نے اس کا کافی پیارو محبت سے استقبال کیا تھا۔ عوام کے اس پیار، استقبال اور مہمان نوازی کی وجہ اسے اور بابوراؤ کو بے حد خوشی ہوئی تھی، جیسے آسمان ہاتھ آ گیا ہو۔ شانتا آپٹے جنوب کا دورہ کر واپس لوٹی تو اس کی ساری Paid leaves کے دن ختم ہو چکے تھے اور اوپر کچھ زیادہ ہی دن بیت چکے تھے۔ اُن دنوں دستور یہ تھا کہ ہماری کمپنی کے بڑے سے بڑے کلاکار کو یا تکنیکی ماہر کو بھی کام پر آتے ہی برابر attendance sheetپر دستخط کرنے پڑتے۔ paid چھٹی سے زیادہ دن غیر حاضر رہنے پر ان اضافی دنوں کی تنخواہ کاٹ لی جاتی تھی۔ لہذا اصول کے مطابق شانتا کی تنخواہ بھی کاٹی گئی اور باقی رقم اسے دی گئی۔ اس نے پیسے لینے اور attendance sheet پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب واقعہ ہوا تب میں تو ‘آدمی’ کی شوٹنگ میں مصروف تھا۔ لہذا اکاؤنٹنٹ نے معاملہ فتے لال جی کو سنایا۔ وہ شانتا کے کمرے میں جا کر اسے سمجھانے لگے تو وہ ایک دم جھنجھلا اٹھی اور سب کو کمرے سے باہر کر اس نے کواڑ اندر سے بند کر دیے۔

شانتا آپٹے کے اس طرح ادھم مچانے پر مجھے غصہ آیا۔ میں پھر تمتماتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا اور کھڑکی کے پاس جا کر اسے ڈانٹ کر بولا، “شانتا بائی، اٹھو!” میری آواز سنتے ہی وہ تڑاخ سے کھڑی ہو گئی۔ میں نے پھر حکم دیا، “دروازے کی کنڈی کھولو!” کسی کٹھ پتلی کی طرح اٹھ کر اس نے دروازہ کھولا۔

میں کمرے میں پہنچا۔ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے پتہ نہیں کہاں کسی خلا میں دیکھ رہی تھیں۔ میں نے پہلے جیسے ہی ڈانٹ بھری آواز میں کہا، “کرسی پر بیٹھو!” وہ میری نظر سے نظر ملانے سے ڈر رہی تھیں۔ میں نے بابوراؤ کی طرف مڑ کر انہیں سے کہا، “نیچے جائیے اور ایک کپ کافی لے آئیے۔” بابوراؤ گئے اور کافی لے کر آ گئے۔ میں نے شانتا بائی سے کہا، “یہ کافی پی لو!” اس نے وہ گرم کافی پانی جیسے ایک ہی سانس میں پی ڈالی۔ تب میں نے کہا، “اب آپ بابوراؤ کے ساتھ گھر جائیے!” وہ کسی مشین کے طرح چل کر کمرے کے باہر جانے لگی۔ بابوراؤ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔

شانتا بائی کو سنائی دے اتنی آواز چڑھا کر میں نے بابوراؤ سے کہا، “کل صبح شانتا بائی کو لے کر کمپنی میں آئیے۔ صاحب ماما سے بات کر ساری غلط فہمی دور کر لیں گے۔ ”

دھت۔۔۔ ماں کی! شوٹنگ کتنی رنگ پر آئی تھی اور یہ بےکار کی جھنجھٹ نہ جانے کہاں سے آ کھڑی ہوئی۔ اس کے کارن میں کافی پریشان رہا۔ قدم اپنے آپ اپنے آفس کی طرف مڑے۔ وہاں تھوڑی دیر میں اکیلا ہی بیٹھا رہا۔ شوٹنگ رکی پڑی تھی۔ نہیں، ایسا کرنے سے کام کیسے چل سکتا ہے؟ جو بھی ہو، آج کی شوٹنگ تو پوری کرنی ہی پڑے گی۔ شانتا آپٹے کے اس واقعہ سے من ہٹا کر میں پھر سے آج کی شوٹنگ پر مرکوز کرنے لگا۔ ناخوشگوار وچار آہستہ آہستہ چھنٹتے گئے۔ میں پھر شانت من سے شوٹنگ کرنے کے لیے سٹوڈیو کی طرف مڑا۔

دوسرے دن سویرے پونے نو بجے میں سٹوڈیو میں آ گیا۔ پہرے دار نے مجھے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح سلام کیا۔ میں نے بھی عادت کے مطابق اپنا ہاتھ اونچا اٹھا کر سلام قبول کیا۔ چپڑاسی سے آنکھیں چار ہوتے ہی اس نے head attendance کے برآمدے کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے بھی اُدھر دیکھا۔ ایک بینچ پر شانتا آپٹے سوئی پڑی تھی۔ بابوراؤ بھی وہاں کھڑے کھڑے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے ان کے پاس جا کر حیرانی سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟”

انہوں نے کہا، “کل کمپنی میں جو واقعہ ہوا، اس کے کارن امی اپنے آپ کو بہت ہی بےعزت محسوس کر رہی ہے اور اسی لیے اس نے یہاں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔” شانتا بائی کے پاس جا کر میں نے اسے آواز دی، سنتے ہی اس نے آنکھوں پر کس کر رکھا ہاتھ کچھ ہٹایا اور مجھے دیکھا اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ پھر فوراً ہی اس نے اپنی آنکھوں کو کس کر ڈھانپ لیا۔

“شانتا بائی، یہ کیا پاگل پن لگا رکھا ہے! میں نہیں سوچتا صاحب ماما جان بوجھ کر تمہیں بےعزت کریں گے۔ لیکن مان لو بھولے میں انہوں نے ویسا کیا بھی، تو میں تمہیں پھر بتاتا ہوں، ہم لوگ آپس میں بیٹھ کر ساری غلط فہمیاں دور کر لیں گے۔”

شانتا بائی اپنا رونا روک کر لیکن منہ پر سے ہاتھ نہ ہٹاتے ہوئے بولی، “اب اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا! آپ تو انہیں کی باتوں کو سچ مانیں گے۔ پھر اب آپ کو میری ضرورت بھی تو نہیں رہی۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین کا کردار میں نے کتنی بار آپ سے مانگا، پھر بھی آپ نے وہ مجھے نہیں دیا!”

یہ سچ ہے کہ اس نے وہ کردار لینے کی ضد کی تھی، لیکن میں نے تب بھی اسے سجھا بجھا کر کہا تھا، “یہ کردار تو عمر میں کچھ بڑی، ادھیڑ عمر کی طرف بڑھتی عورت کو ہی پھبے گا۔ تم اس کام کے لائق نہیں ہو۔ پھر اس طرح کا رول کرنا تمہارے لیے مشکل بھی ہو گا۔ اگر اس کردار کو اچھی طرح نہیں نبھایا، تو ‘دنیا نہ مانے’ کے کارن تمہاری جو شہرت پھیلی ہے، دھندلی ہو جائی گی۔”

لیکن عورت ہٹ ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سامنے دنیا کی ساری دلیل بیکار ہو جاتی ہے۔ کم سے کم اس سمے تو اسے شانت کرنے کے لیے میں نے کہا، “میں آپ کو آئندہ فلم میں بہت اچھا کام دوں گا، جس سے تمہارا نام اور پھیلے گا۔” میرا اندازہ تھا، یہ سن کر وہ کچھ خوش ہو جائے گی اور بھوک ہڑتال کا یہ تماشا بند کر دے گی۔ لیکن وہ ہونے سے رہا۔ وہ بولی، “مجھے اب ‘پربھات’ کے فلم میں کام نہیں کرنا ہے۔ آپ مجھے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیجیے!”

کانٹریکٹ سے آزاد کرنے کی بات اس کے منہ سے سنتے ہی میں آپے سے باہر ہو گیا۔ میں نے بھی آواز چڑھا کر کہا، “کانٹریکٹ سے آزاد ہونے کے لیے ہی تم نے یہ بھوک ہڑتال کی ہو تو کان کھول کر سن لو، ‘پربھات’ کے ساتھ کیے گئے کانٹریکٹ سے تمہں ہرگز آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ ‘پربھات’ نے تمہیں اتنا نام دیا، شہرت دلائی، اسی کی عزت ایسے ناٹک رچ کر تم کم کرنے جا رہی ہو۔ اس طرح کا طرز عمل کرنے والے کسی شخص کے بھی لیے میرے من میں کوئی عزت نہیں ہے— چاہے وہ شخص کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ تمہیں آخری بار وارننگ دیتا ہوں: بھوک ہڑتال کا یہ بےکار کا جھنجھٹ چھوڑ دو، سٹوڈیو میں چلو۔ بیکار کا تماشا کھڑا نہ کرو!”

میں نے اتنا سمجھایا، پھر بھی شانتا بائی نے کہا “میں آپ کے سٹوڈیو میں اب قدم بھی رکھنا نہیں چاہتی۔ جب تک آپ کانٹریکٹ سے آزاد نہیں کرتے، میں یہاں سے ہٹوں گی نہیں!” اب میری قوت برداشت کا باندھ ٹوٹ گیا۔ میں نے اس سے صاف کہہ دیا، “اس کے بعد میں تمہیں سمجھانے کے لیے بھی نہیں آؤں گا۔ اس بھوک ہڑتال کے کارن تمہیں کچھ ہو گیا، تب بھی ادھر جھانکوں گا نہیں۔”

شانتا آپٹے کے اندر جو کلاگن ( فنی خوبیاں) تھے، گائیکی میں جو ہنر تھا اور اپنی اداکاری سدھارنے کے لیے اس نے جو کڑی محنت کی تھی، اس کے کارن اُس کے لیے میرے من میں کاروباری ستائش کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک بار تو اس نے ایسی ہمت دکھائی تھی کہ اس کے کارن میرے من کے کسی کونے میں اپنے لیے تھوڑی سی جگہ بھی بنا لی تھی۔ بمبئی کے فلم انڈیا ماہنامہ میگزین کے ایڈیٹر نے شرارت سے اس کے بارے میں کچھ بدنامی کرنے والا مواد چھاپا تھا۔ تب شانتا بائی بینت کی چھڑی لے کر اس میگزین کے ایڈیٹر بابوراؤ پٹیل کے آفس میں گئی تھیں اور اس کی ایسی پٹائی کی تھی کہ پوچھیے نہیں۔ اس کے بعد وہ فوراً پونا آئیں اور سارا قصہ مجھے بتا دیا۔ اس کے اس کارنامے پر ناراض نہ ہو جاؤں اس لیے وہ زنانہ رویے کے کارن خود ہی رونے لگی تھیں۔ میں نے اس کو تسلی دی تھی۔ میرا خیال ہے کہ کسی نٹ کھٹ ایڈیٹر کو بینتیں جما کر سبق سکھانے والی شاید شانتا آپٹے پہلی سینما ایکٹر تھی۔

آج بھی اس معاملے کے خلاف جسے وہ اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی مانتی ہے، بھوک ہڑتال کرنےکی ہمت اس نے دکھائی تھی۔ یہ بھی ایک لحاظ سے میرے من میں ستائش کا ہی موضوع تھا۔ لیکن، جس ‘پربھات’ نے اس کے اندر کے کلاگنوں کو آسمان پر لا کر اسے شہرت کی چوٹی پر پہنچایا تھا، اسی ‘پربھات’ کے نام پر اس طرح بھوک ہڑتال کے ذریعے کیچڑ اچھالنے کی اس کی یہ کوشش مجھے قطعی پسند نہیں تھی۔ میں نے من ہی من فیصلہ کیا کہ پہریدار کے جس کمرے میں وہ مزاحمت کرنے بیٹھی ہے، اس راستے اس کے وہاں بیٹھی رہنے تک آنا جانا بند رکھوں گا۔ وہاں سے میں سیدھے سٹوڈیو گیا۔ بڑھئی کو بلوایا اور اسے ہدایت دی کہ کمپنی کے احاطے کی دوسری طرف جو باڑ لگی ہے اسے ہٹوا کر وہ وہاں سے آنے جانے کا راستہ فوراً تیار کرے۔ تبھی داملے جی، فتے لال جی بھی کمپنی میں آ گئے۔ میں نے انہیں شانتا بائی اور میرے بیچ ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ تبھی کسی نے ہڑبڑاہٹ میں آ کر بتایا کہ “گیٹ پر بابوراؤ ہاتھ میں بندوق لیے شانتا بائی پر پہرہ دے رہے ہیں!”

یہ سوچ کر کہ ان بہن بھائی کے عجیب و غریب طرز عمل پر کوئی دھیان نہ دیا جائے، میں سیٹ پر چلا گیا۔ من کو یکسو کرتے ہوئے کام کرنا شروع کیا۔ دھیرے دھیرے کام نے ہمیشہ کی طرح رفتار پکڑی۔ تبھی پہلے والی خبر دینے والے اسی آدمی کو پھر سیٹ پر آتے میں نے دیکھا۔ اسے پاس بلا کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ، “انّا، بابوراؤ کی پلاننگ پر کچھ رپورٹر آئے ہیں اور وہ شانتا بائی سے انٹرویو کر رہے ہیں۔”

میرے غصے کا ٹھکانا نہ رہا۔ میں نے اس آدمی کو بتا دیا، “انہیں جو جی میں آئے، کرنے دو، مجھے تو اپنا کام کرنا ہے!” کیمرا مین کی طرف مڑ کر میں نے پوچھا، “اودھوت، تم تیار ہو نا؟”

“جی ہاں، انّا۔”

“ٹھیک ہے، چلیے سب لوگ تیار۔ شاٹ لینا ہے۔ ٹیک۔”

‘ٹیک’ کہتے ہی پربھات کے پورے خاندان میں ‘خاموش’ رہنے کا اعلان دینے والے بھومپو بج اٹھے۔ اس دن میں ایک کے بعد ایک لگاتار شاٹس لیتا گیا۔ میں بھی ضد پر اتر آیا تھا اس لیے یا میرے غصے سے ڈر کر سبھی لوگ پورا دھیان لگا اپنا اپنا کام کیے جا رہے تھے۔ اس لیے میری شوٹنگ کا کام زیادہ تیزی سے ہونے لگا تھا۔ ہر شاٹ کے شروع کے سمے پربھات احاطہ بھونپوؤں کی آواز سے لگاتار دندنا جاتا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ شانتا بائی اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کی بھوک ہڑتال کے کارن میں ذرا بھی متاثر نہیں ہوا ہوں۔

شام ہو گئی۔ بڑھئی نےجو نئی راہ بنائی تھی، اسی سے میں سٹوڈیو کے باہر گیا۔ یہ سوچ کر کہ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے کے کارن ممکنہ طور بھائی بہن کی عقل ٹھکانے آ گئی ہو گی، وِمل کو میں نے ان دونوں کے لیے بھوجن کا ڈبہ اور دو تھالیاں نوکر کے ہاتھ بھجوا دینے کے لیے کہا۔ ساتھ میں ان کے لیے پیغام بھی بھجوا دیا، “کھانا کھا لو۔ بھوکے مت رہو۔” لیکن وہ ڈبہ جیسا کا تیسا لوٹا دیا گیا۔ دوسرے دن اخباروں میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کی خبر بڑی موٹی سرخیوں کے ساتھ چھپی۔ وہ زمانہ مہاتما گاندھی کی ستیاگرہ تحریک کا تھا۔ نتیجتاً ایک مقبول اداکارہ کی بھوک ہڑتال کی خبر ‘ٹائمز آف انڈیا’ جیسے وزن دار اخبار میں بھی ‘کرنٹ ٹاپکس’ میں بڑے چاؤ سے چھپ گئی۔ چھپے الزامات کی تردید کرنےکی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی۔ لیکن ایک ڈر سا ضرور لگ رہا تھا کہ اس ہٹ دھرمی کے کارن کہیں شانتا بائی کو کچھ ہو نہ جائے!

اپنا ڈر میں نے داملے جی کو بھی سنا دیا۔ تو وہ ایک دم ٹھنڈی آواز میں کہنے لگے، “وہ کبھی مرنے والی نہیں ہے! شانتا بائی جہاں ستیاگرہ کر رہی ہیں، اس کے پیچھے ہی ہماری کنٹین کا ایک دروازہ ہے۔ اس کی دراڑوں میں سے ٹوہ لیتے رہنے کے لیے میں نے ایک آدمی کو تعینات کیا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس پانی کا جو لوٹا رکھا ہے اس میں پانی نہیں، دودھ ہے اور بابوراؤ تھوڑے تھوڑے سمے بعد اسے وہ دیتے رہتے ہیں۔”

اور ایک دن ایسے میں ہی بیت گیا۔ بیچ میں بابوراؤ جا کر کسی ڈاکٹر کو لے آئے۔ اس ڈاکٹر نے دونوں کو گمبھیر وارننگ دی کہ بھوک ہڑتال اور ایک دن جاری رکھی تو اس کا شانتا بائی کی آواز پر برا اثر ہو جائے گا۔ ممکن ہے ان کے گلے کے vocal cords ہمیشہ کے لیے بے کار ہو جائیں۔

دوسرے دن ہمیشہ کی طرح شوٹنگ شروع کی۔ کام کرتے کرتے بیچ ہی میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کا خیال من میں آتا اور من بے چین ہو اٹھتا۔ لیکن میں اپنے آپ کو سمجھاتا تھا کہ کچھ بھی ہو، اپنے کام میں کسی بھی طرح کی ڈھیل نہیں آنے دینی ہے۔ یہی سوچ کر میں نے اس دن کی شوٹنگ پوری کر لی۔

ہمیشہ کی طرح رات میں مَیں دوسرے دن کی شوٹنگ کا سنیریو لکھنے بیٹھا تھا۔ ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ تبھی دروازے پر کسی نے گھنٹی بجائی۔ نوکر نے دروازہ کھولا۔ تھوڑی ہی دیر میں سنیریو لکھنے کی میری کاپی پر سامنے کی طرف سے دو پرچھائیاں پڑیں۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا: ‘دینک گیان پرکاش’ کے ایڈیٹر کاکا صاحب لِمیے اور ان کے ساتھ پ۔کے۔اترے سامنے کھڑے تھے۔ میں نے لپک کر ان کا استقبال کیا اور تشریف رکھنے کے لیے درخواست کی۔ لیکن انہوں نے کھڑے کھڑے ہی کہا، “شانتا آپٹے بھوک ہڑتال توڑ کر گھر جانے کے لیے تیار ہیں، بشرطےکہ آپ خود جا کر اسے ویسا کہیں۔ پھر وہ کمپنی کے دروازے پر دیا گیا دھرنا اٹھا کر چلی جائےگی۔” میں بھی اپنی ضد پر اڑا تھا۔ میں نے ان دونوں سجنوں کو بتایا، “اجی، یہی بات میں نے پہلے ہی دن اس سے زیادہ اچھی طرح سے سمجھائی تھی۔ لیکن شانتا نے میری ایک نہ سنی۔ الٹے، رپورٹرز کو انٹرویوز دے دے کر اس نے میری ‘پربھات’ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ میں ہرگز نہیں آؤں گا اب اسے منانے کے لیے!”

میری بات سن کر لِمیے جی مجھے سمجھانے لگے، “شانتارام بابو، آپ اپنا غصہ اب تو چھوڑیے، مالک مزدور، یا ڈائریکٹر کلاکار کے طور آپ نہ سوچیے۔ صرف انسانیت کی نظر سے دیکھیے۔ ہماری راۓ میں آپ ایک بار خود جا کر اسے گھر چلی جانے کے لیے صرف کہہ دیں۔ صرف انسانیت کے احساس کے نقطہ نظر سے سوچیے۔”

حالانکہ میں چاہتا تو نہیں تھا، لیکن اپنی خواہش کے خلاف ان دونوں کے ساتھ میں سٹوڈیو گیا۔ شانتا بائی attendance headکے بیٹھنے کی جگہ پر نیچے فرش پر سوئی تھیں۔ اس کے پاس جا کر میں نے بہت ہی بے رخی سے کہا، “شانتا بائی اٹھو، اور اپنے گھر چلی جاؤ۔”

میری آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اور روہانسی آواز میں بولی، “میری تنخواہ تو گھر بھجوا دیں گے نا؟” سوچا، کہاں تو یہ اپنےعزت نفس کو ٹھیس لگنے کے کارن ایک اصول کے لیے ستیاگرہ کرنے بیٹھی تھیں، اور کہاں اب صرف تنخواہ کے لیے اپنا ستیاگرہ واپس لینے کو تیار ہو گئی ہیں! اور اس کے لیے میرے من میں رہی سہی ہمدردی بھی جاتی رہی۔

میں نے نہایت روکھے پن سے جواب دیا، “ہاں!”

وہ فوراً جانے کے لیے اٹھ کر کھڑی ہونے لگی۔ لیکن اپنا توازن کھونے کی ادا سے ایک دم مجھ پر گری۔ پل بھر میں نے سوچا، کہیں اس کا بھائی دنیا بھر میں یہ نہ کہتا پھرے کہ میں نے ہی اسے دھکا دیا۔ لہذا میں نے لپک کر اسے سہارا دیا اور یہ سوچ کر کہ ایک بار یہ بلا یہاں سے ٹلے، میں نے اسے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور سامنے ہی کھڑی اس کی گاڑی میں لے جا کر دھر دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ پھر سے یہیں ٹھیا جما کر بیٹھ نہ جائے۔ لیکن جیسے ہی میں نے اسے اس کی کار میں رکھا، اس نے فوراً اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈالیں اور کس کر مجھ سے لپٹ کر رونے لگی۔ میں پس وپیش میں پڑ گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ ڈر یہ بھی تھا کہ پاس ہی کھڑے لِمیے، اترے، گیٹ پر تعینات پہریدار اور دیگر لوگ اس کا کچھ اور ہی مطلب نکالیں گے۔ لہذا میں نے اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ پریشان تو میں اتنا تھا کہ میرے ہاتھ چیچھڑوں کی طرح لٹکنے لگے۔ دبی آواز میں مَیں اس سے منتیں کرنے لگا، ”شانتا بائی، چھوڑو مجھے۔” لیکن وہ ماننے سے رہیں۔ اس کے آنسو میرے گالوں پر جھر رہے تھے۔ وہ اپنے گال میرے گالوں پر اور ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ مسلسل بار بار گھمانے لگی۔ اس کے اس پاگل پن کے کارن مجھے بہت ہی شرم محسوس ہونے لگی۔ غنیمت تھی کہ دیگر سب کی طرف میری پیٹھ تھی اور ادھر جاری لَو سین کسی کو دکھائی نہیں پڑ رہا تھا! سارا معاملہ ایک دم ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ کاش! چِلّا پاتا! اُف! کیسی گھٹن پیدا کرنے والی مجبوری تھی! میں نے بہت ہی دبی آواز میں اسے مجھے چھوڑ دینے کے لیے کہا۔ تب جا کر کہیں اس نے اپنا شکنجہ ڈھیلا کیا!

میں چھٹتے ہی پیچھے ہٹا اور کار کا دروازہ دھڑام سےبند کر دیا۔ راحت کی سانس لی ہی تھی کہ اس کے بھائی نے مجھے کار کے پیچھے لے جا کر کس کر بھینچ لیا۔ اپنی بانہوں میں وہ بڑبڑانے لگا، “امی کی جان آپ نے ہی بچائی ہے۔ شانتا کو آپ نے۔۔۔” چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ لو، پھر آ گئی آفت! کہیں اس نے بھی اپنی بہن جیسا ہی سلسلہ شروع کر دیا، میں بے طرح گھبرا گیا۔ بابوراؤ کے چنگل سے رہائی پانے کے خیال سے میں نے اُن سے کہا، “اب آپ فوراً اپنے گھر جائیے۔ شانتا بائی کو پہلے کچھ کھانے کو دیجیے، ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”

“جی ہاں، جی ہاں،” کہتے ہوئے بابوراؤ نے اپنی بھینچ سے مجھے رہا کر دیا اور وہ لپک کر کار میں جا بیٹھے۔ کار کا انجن تو کبھی کا سٹارٹ تھا۔ میں نے سڑک کے ٹریفک کنڑول کرنے والے پولیس سپاہی کی ادا سے ڈرائیور کو تیزی سے ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا۔ شانتا بائی کو لے کر وہ کار تیزی سے کمپنی کے احاطے سے باہر نکل گئی۔

گھر لوٹا تو داملے جی فتے لال جی میری راہ دیکھ رہے تھے۔ شانتا آپٹے آخر گھر لوٹ گئیں، یہ سننے کے بعد انہوں نے بھی راحت کی سانس لی۔ سچ کہا جائے تو اس جھمیلے کے کارن وہ دونوں کافی سٹپٹا گئے تھے۔ وِمل کو بھی اس کے چلے جانے کی بات سن کر کافی اچھا لگا۔

کچھ سمے پہلے سکرین پلے اور سنیریو کی کھلی پڑی کاپی بڑی بے چینی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں فوراً سنیریو لکھنے بیٹھ گیا اور وہ کام پورا کر کے ہی میں نے چین کی سانس لی۔ صبح صادق ہو چکی تھی۔ کچھ آرام کر لینے کے وچار سے میں بستر پر لیٹ گیا۔ نیند آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ من میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا۔

شانتا آپٹے نے اس طرح کا سلوک کیوں کیا؟ پیچھے بھی دو ایک بار اُس نے مجھے پیار میں پھنسانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میں نے تو اپنی طرف سے اُسے کسی بھی طرح سے کوئی بڑھاوا نہیں دیا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک ڈائریکٹر کے طور پر میں نے اچھی اداکاری یا اچھی گائیکی کے لیے اس کی تعریف کی تھی، اسے شاباشی بھی دی تھی۔ لیکن میں اس پر فریفتہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر وہ کیوں اس طرح میرے گلے پڑی؟ موہ (پیار) کے ایسے لمحے میرے جیون میں بار بار کیوں آتے ہیں؟ میں رہا ایک معمولی سیدھا سادہ آدمی! میں عمر بھر برہم چاریہ کا پالن کرنے کا عہد کر بیٹھا کوئی رِشی مُنی تو نہ تھا۔ پھر کیوں بھگوان اس طرح بار بار میرا امتحان لیتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مجھے اس کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں کہ میں اپنی کلا کے لیے ہمیشہ وقف رہ پاؤں گا یا نہیں؟

Categories
فکشن

ایک غلام نیویارک میں (تحریر: ولیم فنیگن، انگریزی سے ترجمہ: اجمل کمال)

ولیم فنیگن “دی نیویارکر” کے لیے 1984 سے لکھ رہے ہیں۔ آپ افریقہ، وسطی امریکہ، جنوبی امریکہ، بلقان، میکسیکو، آسٹریلیا اور امریکہ سے متعلق رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ آپ متعدد صحافتی اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔ اس مضمون کا ترجمہ آج کے شمارہ نمبر 30 میں 2000ء میں شائع ہوا تغا۔

اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔

یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ تحریر اجمل کمال نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ سہ ماہی “آج” کا یوٹیوب چینل اب مختلف صداکاروں اور مصنفین کی آواز میں تحاریر کی آڈیو ریکارڈنگز اپ لوڈ کر رہا ہے۔ آج کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔

سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مفرور غلاموں کو پناہ دینے کے سلسلے میں نیویارک شہر کی تاریخ ملی جلی رہی ہے۔ انقلابی جنگ کے دوران مفرور غلاموں سے پورا شہر بھرا ہوا تھا۔ پھر جارج واشنگٹن نے، اپنی فتح کے بعد، کوشش کی کہ انہیں ان کے سابق مالکوں کے پاس واپس بھجوا دیا جائے۔ انڈرگراؤنڈ ریل روڈ کے عروج کے دنوں میں سیکنڈ ایوینیو پر ایک چھوٹا سٹیشن ہوا کرتا تھا۔ سول وار کے خاتمے تک مفرور غلاموں کو پکڑنا ایک خاصا فعال مقامی کاروبار تھا۔

مختار طیب، موریتانیہ سے بھاگا ہوا ایک غلام، اب سے چار سال پہلے 1996 — میں — یہاں پہنچا۔ “یہ سب کچھ بہت خوبصورت تھا،” اس نے حال ہی میں مجھے بتایا، “آزادی، امریکہ۔۔۔ آپ تصور نہیں کر سکتے۔” میرا خیال ہے یہ سب کچھ بہت دشوار بھی تھا۔ طیب اور میں ٹرینٹی چرچ کے قریب، زیریں براڈوے پر، گویا جغرافیائی اعتبار سے عین جارج واشنگٹن کے نیویارک میں، چل رہے تھے کہ اس نے ایک عمارت کو پہچان لیا۔ “ارے!” وہ بولا، “امریکہ میں میرا پہلا ہفتہ تھا جب میں یہاں گیا تھا۔ یا شاید دوسرا ہفتہ۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ مجھے انگریزی نہیں آتی تھی۔ کسی نے بتایا، وہاں کوئی دفتر ہے جو میری مدد کر سکتا ہے۔ لیکن مجھے وہ دفتر نہیں ملا۔”

یہ ایک خوفزدہ کر دینے والا منظر تھا — ایک دبلا، ڈرا ہوا سیاہ فام شخص، کھویا ہوا اور گفتگو سے قاصر، نیویارک کے کاروباری علاقے کی سرد اور چکرا دینے والی سڑکوں پر بھٹکتا ہوا — لیکن اس یاد نے بظاہر طیب کو پریشان نہیں کیا۔ ہم وال اسٹریٹ پر مڑ گئے، اور اس نے نیویارک سٹاک ایکسچینج کے پیش رُخ کی طرف اشارہ کیا۔ “کیا یہ گرجاگھر ہے؟”

“ہاں،” میں نے کہا، “دولت کا گرجاگھر۔”

وہ خوش ہو کر ہنسا۔

نیویارک میں طیب کی زندگی اب بھی دشوار ہے۔ وہ اب بھی مفلس ہے اور اب بھی اپنی راہ کی تلاش میں ہے۔ جب میں نے پچھلے سال کے آغاز میں اس سے ملنا شروع کیا تب وہ برونکس کے علاقے میں ایسٹ ٹریمونٹ ایوینیو کے قریب، ایکو پلیس کے گراؤنڈ فلور پر ایک کمرے میں رہتا تھا۔ فطری طور پر مجھے یہ جاننے کی خواہش تھی کہ آخر یہ کس طرح ہوا کہ بیسویں صدی کے اختتام پر وہ ایک مفرور غلام ہے۔

“میں ہنگامہ کرنے والا آدمی ہوں،” اس نے سادگی سے کہا۔ “وہ لوگ یہی کہتے ہیں۔” جب سے میں نے طیب کو دیکھا ہے، سیاہ آنکھوں، نرم لہجے اور گہری شائستگی کا حامل یہ شخص مجھے ہنگامہ پسند آدمی کا بالکل متضاد معلوم ہوا ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے افریقی دوستانہ پن کے ایک چھوٹے سے حفاظتی بادل میں لپٹا ہوا طیب اپنے کمرے سے نکل کر اس سخت زندگی والے محلے کی گلیوں سے تیرتا ہوا گزر رہا ہو۔ لیکن جو فاصلہ وہ طے کر کے آیا ہے — مشرقی موریتانیہ کے دیہی علاقے سے، جہاں وہ بڑا ہوا تھا، مغربی افریقہ اور مغرب کے خطے کے مختلف ملکوں سے ہوتا ہوا امریکہ تک — اسے رسمی مِیلوں میں نہیں بلکہ صدیوں میں ناپا جانا چاہیے۔ اور نیویارک میں ایک اُکھڑے ہوے مفلس، بےوطن شخص کی زندگی کی گمنامی یقیناً ایک ایسے آدمی کی شخصیت میں جھانکنے کے لیے ایک ناموزوں کھڑکی ہے جو جنوبی صحارا کے ایک بربر گاؤں میں پیڑھیوں سے آشنا ماحول میں کبھی رہا ہو گا۔

“میرے گاؤں میں ہر ایک، آقا اور غلام، یہ کہتا تھا کہ میں عجیب ہوں، پاگل ہوں، گناہگار ہوں،” طیب نے کہا۔ “وہ مجھے کافر تک کہتے تھے۔ موریتانیہ میں کسی کے لیے اس سے بدتر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ لیکن میں ہمیشہ سوال کرتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہیں کچھ ضرور غلط ہے۔”

طیب کے ذہن کو جو بات غلط معلوم ہوتی تھی وہ یہ تھی کہ وہ 1959 میں ایک “عبد”، ایک غلام، پیدا ہوا تھا۔ زیادہ مخصوص طور پر یہ کہ جب وہ بڑا ہوا تو اسے کلاس روم میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ بچپن میں اس کے کاموں میں ہر صبح اپنے مالک کے بچوں کو اونٹ پر سوار کر کے سکول تک پہنچانا اور پھر اونٹ کو واپس گاؤں لانا بھی شامل تھا۔ جب کم عمر طیب سکول میں رکنے کی کوشش کرتا، کہ اسے کھڑکی میں سے کلاس روم کی آوازیں ہی سنائی دے سکیں، تو اسے بھگا دیا جاتا۔ گاؤں کے مدرسے سے بھی، جہاں قرآن کی تعلیم ہوتی تھی، اسے واپس لوٹا دیا گیا۔ جب اس نے ضد کی تو اس کے آقا نے طیب کی ماں سے اس کی پٹائی کرنے کو کہا۔ ماں نے اس کی پٹائی کی، جس کے زخم کا نشان اس کے داہنے ہاتھ پر اب بھی باقی ہے۔ “ہراتین کے لیے،” طیب نے وضاحت کی، “جنت آقا کے قدموں کے نیچے ہے۔ بیدان لوگ یہی کہتے ہیں، اور ہراتین بھی یہی کہتے ہیں۔”

بیدان، جنہیں “وائٹ مُور” بھی کہا جاتا ہے، موریتانیہ کی حکمران نسل ہیں۔ یہ عرب بربر قبائلی ہیں جن کے اجداد نے سترہویں صدی میں اس علاقے پر تسلط حاصل کیا تھا۔ ہراتین، جو “بلیک مُور” بھی کہلاتے ہیں، مغربی افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کی نسل سے ہیں جنھیں صدیوں پہلے بیدانوں نے مفتوح کر لیا تھا۔ اگرچہ بعض ہراتین نے اب آزادی حاصل کر لی ہے، لیکن بیشتر اب تک غلام ہیں۔ طیب بھی ہراتین میں سے ہے لیکن جب میں نے پوچھا کہ اس کا باپ کس نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو وہ بولا، “آپ یہ بات نہیں سمجھیں گے۔ میرے باپ کی کوئی نسل نہیں تھی۔ وہ ایک نسل کی ملکیت تھا، جیسے مویشی کسی کی ملکیت شمار ہوتے ہیں۔ ہم ایک عرب قبیلے اولد ناصر کے غلام ہیں جو بہت طاقتور قبیلہ ہے۔ اس کے پاس بہت زمینیں ہیں، جن پر کھجور کے پیڑ لگے ہیں۔ میرا حال بھی میرے باپ کی طرح ہے۔ میرا کوئی نسلی گروہ نہیں ہے، کوئی نام نہیں ہے۔ میں صرف فلاں کے غلام کے طور پر پہچانا جاتا ہوں۔”

طیب کے بچپن میں موریتانیہ کے باشندے خانہ بدوشی یا نیم خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ (بعد میں آنے والی ایک ہولناک خشک سالی نے ملک کی بیشتر چراگاہوں کو برباد کر ڈالا جس کے باعث بہت سے خانہ بدوش مجبور ہو کر شہروں میں آ گئے۔) اس کی اولین یادیں قبیلے کے گلّوں — مویشیوں، اونٹوں اور بکریوں — کے ساتھ لمبی لمبی مسافتیں طے کرنے اور ایسے خطّوں سے گزرنے کی یادیں ہیں جہاں لگڑبگھے، گیدڑ اور ریچھ ہوتے تھے۔ “ہم گھاس کے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ بیدان لوگ اونٹوں پر سفر کرتے لیکن ہم پیدل چلتے تھے یا گایوں پر سوار ہوتے تھے۔ کسی بیدان کے لیے گائے پر سوار ہونا شرم کی بات ہے۔ ان کے باقاعدہ اون کے بنے خیمے تھے جو اپنی دو چوٹیوں کے ساتھ سیدھے کھڑے ہوتے تھے۔ ہمارے، ہراتین کے خیمے، بہت ابتدائی شکل کے، پھٹی پرانی گدڑیوں کے بنے ہوتے تھے اور ان میں بہت بھیڑ ہوتی تھی۔ سارے کام — پانی بھرنا، ڈھول بجانا — جن کا کرنا بیدانوں کے لیے شرم کی بات تھی، ہراتین کے ذمے تھے۔ اور جب ہم بھیڑیں ذبح کرتے تو ہراتین کو کھانے کے لیے صرف اوجھڑی اور گردن ملتی۔ باقی سب بیدانوں کا حصہ تھا۔” طیب کو، جو ایک کمزور لڑکا تھا، گھریلو نوکر کے طور پر تربیت دی گئی۔ “میں اپنے آقا اور اس کے مہمانوں کے ہاتھ دھلاتا۔ اس کے بچوں کے کپڑے دھوتا۔ میں نے چائے بنانا سیکھا۔” ایک بار ،اس نے بتایا، اسے ایک تجارتی کارواں کے ساتھ بھیجا گیا جس میں شامل بیس یا تیس اونٹ جھیل کی تہہ کا نمک لاد کر مالی لے جا رہے تھے جسے دے کر بدلے میں شورگم لیا جانا تھا۔

طیب خوابناک، سوچتے ہوے لہجے میں مجھے ان قدیم صحرائی مناظر کا حال سناتا رہا، جیسے وہ ان مناظر کا انگریزی زبان میں پہلی بار تصور کر رہا ہو۔ باہر برف پڑ رہی تھی، لیکن اس کا کمرہ گرم تھا۔ ایک خوشبودار موم بتی جل رہی تھی۔ ہمارے درمیان رکھی ایک ٹرے پر میٹھی چائے گلاسوں میں پڑی پڑی ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ میں نے عربی کے کچھ الفاظ کے بارے میں دریافت کیا جو دیوار پر ٹیپ سے چپکائے گئے تھے۔ یہ قرآن کی ایک آیت ہے، طیب نے بتایا۔ اس نے آیت کا ترجمہ کر کے بتایا جو کچھ یوں تھا کہ اﷲ اپنے بندوں کو بلاسبب ہرگز سزا نہیں دیتا۔

میں نے غلاموں کی بغاوتوں کے بارے میں سوال کیا۔

طیب نے بتایا کہ ایسی بغاوتیں بہت کم، تقریباً نامعلوم ہیں۔ “ہراتین کو قابو میں رکھنے کے لیے عموماً جسمانی طاقت کی ضرورت نہیں ہوتی،” اس نے کہا۔ “کبھی کبھی تو وہ اپنے آقا سے الگ کسی اور جگہ رہ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ کہیں بھی رہیں، آقاؤں سے ان کا رشتہ برقرار رہتا ہے۔ وہ غلام ہی رہتے ہیں۔ ان کا آقا انھیں کبھی بھی طلب کر سکتا ہے اور ان کو آنا ہوتا ہے۔ آقا ان کے بچے لے سکتا ہے۔ وہ ان کے بچے اپنے کسی رشتے دار یا دوست کو ہدیہ کر سکتا ہے۔ غلامی ایک ذہنی حالت کا نام ہے، اور بیشتر ہراتینوں کو یقین ہے کہ غلامی کا نظام اﷲ کے احکام کا حصہ ہے۔ وہ کسی اور قسم کی زندگی سے واقف نہیں ہیں۔ یہاں امریکہ میں اطلاعات کے اتنے سارے ذریعے ہیں: کتابیں، اخبار، ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ۔ وہاں ہمارے پاس صرف پرندے ہوتے ہیں، جو ہمیں بتاتے ہیں کہ پانی کہاں مل سکتا ہے، یا پھر بیدان ہوتے ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کام کرنا ہے۔ اگر کوئی ہراتین اپنے آقا کا حکم نہ مانے تو، ہاں، اسے سزا دی جا سکتی ہے، قید کیا جا سکتا ہے، ہلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔”

مجھے “اونٹوں والا علاج” یاد آیا جس کے بارے میں میں نے پڑھا تھا؛ یہ اذیت دینے کا ایک طریقہ تھا جو سرکشی پر آمادہ غلاموں کے لیے مخصوص تھا۔ موریتانیہ کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم کی ایک رپورٹ میں اس طریقے کی تفصیل بیان کی گئی تھی: “غلام کی ٹانگیں ایک ایسے اونٹ کے پہلو سے باندھ دی جاتی ہیں جسے کوئی دو ہفتوں تک پانی سے محروم رکھا گیا ہو۔ پھر اونٹ کو پانی پینے کے لیے لے جایا جاتا ہے، اور جوں جوں اونٹ کا پیٹ پھولتا ہے غلام کی ٹانگیں، رانیں اور جانگھیں آہستہ آہستہ چرتی چلی جاتی ہیں۔” رپورٹ میں ایک مقامی اطلاع دہندہ کے حوالے سے کہا گیا تھا: “میں ایک ایسے غلام سے واقف ہوں جو بوغے کے مغرب میں شرت کے مقام پر 1988 میں اس اذیت سے گزرا تھا۔ اس کے آقا کو شک تھا کہ وہ فرار ہونا چاہتا ہے، کیونکہ وہ ایک سڑک پر دیکھا گیا جہاں اس کا کوئی کام نہ تھا۔ علاوہ ازیں، وہ منھ پھٹ جوان آدمی تھا جو اپنے آقا اور اس کے گھروالوں کو جواب دیتا تھا اور اس نے صاف کہہ دیا تھا کہ اسے غلاموں والی زندگی پسند نہیں۔ اسے پکڑ کر اونٹوں والے علاج سے گزارا گیا۔ اُس وقت اس کی عمر سولہ سال تھی۔ وہ اب بھی اپنے آقا کے خاندان کے ساتھ رہتا ہے، لیکن اب اتنا اپاہج ہو چکا ہے کہ کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔”

طیب بھی ایسے واقعات سے واقف ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ ایسی انتہائی درجے کی بہیمیت موریتانیہ میں آقا اور غلام کے رشتے میں استثنائی صورتوں ہی میں پائی جاتی ہے۔ “یہ ایک باقاعدہ نظام ہے،” اس نے کہا۔ “اس کا آغاز بچپن ہی سے ہو جاتا ہے۔ اگر تم بیدان ہو تو ہمیشہ کوئی ہراتین بچہ تمھاری خدمت کر رہا ہو گا۔ اگر تم ہراتین ہو تو تمھارا کوئی باقاعدہ نام تک نہ ہو گا۔ اگر تمھارا نام محمد ہے، تو اسے توڑ کر ممّد کر لیا جائے گا۔” اس نے بلند آواز میں بگڑا ہوا نام پکار کر بتایا۔ “اگر کوئی ہراتین کتاب پڑھنے کی کوشش کرے، یا گھڑی باندھے یا کسی عمدہ گھوڑے پر سوار ہو تو اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ہمارے ادب میں ایسی بہت سی کہانیاں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کسی ہراتین نے قرآن کی کوئی آیت سیکھ لی، جس پر اس کی اس قدر تضحیک کی گئی کہ آخرکار اسے اپنے آپ سے نفرت ہو گئی۔” طیب کہتے کہتے رکا۔ اس کے چہرے پر ایسا تلخ تاثر تھا جو عموماً نہیں ہوتا تھا۔ “اپنے آپ سے نفرت ہو گئی!” اس نے دھیمی آواز میں دہرایا۔

“یہ نظام نہایت مکمل ہے،” اس نے کہا۔ “میرا آقا بہت دولت مند نہیں ہے، لیکن وہ ایک بڑا سردار ہے۔ اور اس کا ایک بھائی سفارت کار تھا — تعلیم یافتہ آدمی۔ لیکن وہ یہاں، امریکہ میں بھی، اپنے غلام ساتھ لے کر آیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بیدانوں کو وہ کھانا پسند نہیں آتا جو کسی غلام کے ہاتھ سے تیار نہ ہوا ہو۔ ان کو یقین ہے کہ ہر اہم آمی کے اردگرد غلام موجود ہونے چاہییں تاکہ ان کے مالدار ہونے کا اظہار ہو سکے۔ اور وہ جسمانی کام کرنے کو شرمناک بات سمجھتے ہیں۔ ان میں جو لوگ تعلیم یافتہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ دنیا غلامی کو پسند نہیں کرتی۔ وہ اپنے غلاموں سے کہتے ہیں کہ غیرملکیوں کو بتائیں کہ وہ ملازم ہیں، کہ ان کو اجرت ملتی ہے۔ اور اگر ہم اس پر احتجاج کریں تو ہم سے کہتے ہیں: تم ہماری مخالفت کیوں کرتے ہو؟ یہ غیرملکی اسلام کے مخالف ہیں۔ مذہب اس نظام کا بہت بڑا حصہ ہے۔ غلام کی مخالفت کو مذہب کی مخالفت قرار دیا جاتا ہے۔”

طیب اپنے بستر پر، جو کمرے کے بڑے حصے پر محیط تھا، آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ پاس ہی سبز جھالر والی ایک جانماز رکھی تھی۔ جب میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو طیب نے بتایا کہ وہ اسے اس وقت استعمال کرتا ہے جب اس کے پاس مسجد جانے کا موقع نہ ہو۔ اس نے بتایا کہ وہ دن میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہے۔ کمرے مں موجود واحد میز کتابوں سے بھری ہوئی تھی: افلاطون کے مکالمات، اور فرانز فینن کی افتادگان خاک اور A 2nd Helping of Chicken Soup for the Soul۔

طیب نے بتایا کہ جوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا اور تعلیم چھوڑنے سے انکار پر قائم رہا، آقاؤں کے ساتھ اس کے جھگڑے بڑھتے گئے۔ وہ احکام پر تذبذب کے ساتھ عمل کرتا تھا، اور تیرہ برس کی عمر میں سرکشی کے باعث اپنا بازو تڑوا بیٹھا۔ اس کی ماں بہت ناراض ہوئی۔ “وہ ہمیشہ کہتی: ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہمارے باپ داد بھی اسے تسلیم کرتے تھے۔ اﷲ کی یہی مرضی ہے۔ اور پھر اس میں برائی کیا ہے؟ وہ سمجھتی ہے کہ میں باغی ہوں۔”

طیب کے باپ کا خیال مختلف تھا۔ اگرچہ اس کا کوئی نسلی گروہ نہ تھا، لیکن وہ ایک ایسے خاندان کا فرد تھا جس کی ننھیالی اور ددھیالی دونوں شاخوں کی آبائی یادداشت میں وہ وقت محفوظ تھا جب غلامی کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ وہ پولار اور وولوف زبانیں تھوڑی بہت جانتا تھا، جن کا تعلق جنوبی خطے سے تھا، اور اس کے خاندان کو، ہراتین ہوتے ہوے بھی، بیدان امارتوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں حصہ لینے کی بنا پر شجاعت کی نیک نامی حاصل تھی۔ “چنانچہ وہ کبھی مکمل طور پر مطیع ہونے پر آمادہ نہ ہوا،” طیب نے کہا۔ اس کا باپ جب آقا کے ریوڑ نہ چرا رہا ہوتا تو اینٹیں اور کوئلہ بنایا کرتا تھا اور کبھی کبھی وہ اینٹیں فروخت بھی کرتا تھا — جو اس کی غلام کی حیثیت سے ایک طرح کی بغاوت تھی۔ آخرکار 1970 کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں مویشیوں کو ٹرک میں دور لے جانے کے دوران وہ موقع پا کر سینیگال فرار ہو گیا۔

طیب کو بھی اس کے نقشِ قدم پر چلنے کی خواہش تھی۔ لیکن اس کی تیاری راستوں کے نقشے بنانے اور حیلے ایجاد کرنے پر مشتمل نہ تھی۔ اس کے بجاے وہ چھپ چھپ کر پڑھنا سیکھتا رہا۔ وہ سکول میں آقا کے بچوں کو پڑھائے جانے والے سبق یاد کر لیتا۔ اس نے قرآن کی لمبی لمبی سورتیں حفظ کر لیں۔ سترہ برس کی عمر میں اسے تحریر سکھانے والی کچھ کتابیں ہاتھ آ گئیں اور اس نے خود کو لکھنا سکھانا شروع کر دیا۔

ایک کہاوت ہے کہ پڑھے لکھے آدمی کو غلام بنانا ناممکن ہے، اور طیب کو بچپن ہی سے کسی نہ کسی طرح اس بات کی سمجھ حاصل ہو گئی تھی کہ خواندگی، اور مویشیوں اور چیزوں کی سی غلامی کے درمیان بنیادی نوعیت کا تضاد موجود ہے۔ اس کے لیے تعلیم حاصل کرنا اور انسانیت کا درجہ پانا لازم و ملزوم ہوتے گئے۔

1977 میں طیب نے اپنے آقا کے خاندان کے سامنے نرم لہجے میں اپنے ارادے کا اعلان کیا کہ وہ استاد بننا چاہتا ہے۔ اس کا نتیجہ آقا کی بیوی کے ساتھ، جس کے نزدیک طیب کا یہ خواب قابلِ تحقیر تھا، ایک ذلت آمیز تنازعے کی صورت میں نکلا۔ اس کے آقا نے اسے دارالحکومت نواکشوت میں ایک گھر میں کام کرنے کی غرض سے بھجوا دیا۔ لیکن شہر کی غلامانہ زندگی میں ایک دورافتادہ گاؤں کی غلامانہ زندگی کی نسبت نگرانی کچھ کم سخت تھی، اور طیب کو احساس ہوا کہ یہاں اسے فرار کا موقع مل سکتا ہے۔ جولائی 1978 میں وہ بھاگ نکلا اور ایک ٹرک میں لفٹ لے کر سرحد پر دریاے سینیگال کے قریب پہنچ گیا۔ ایک دوست سے حاصل کی ہوئی رقم سے اس نے سرحد پر متعین محافظوں کو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اسے کاغذات کے بغیر موریتانیہ سے باہر نکلنے دیں۔

اس نے اپنے باپ کو وسطی سینیگال میں کاؤلاک کے مقام پر پایا۔ “میرا باپ پڑھنا نہیں جانتا تھا لیکن وہ میری تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کو سمجھ سکتا تھا۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔” یہ سن کر کہ آئیوری کوسٹ میں تعلیمی مواقع بہتر ہیں، طیب اور اس کا باپ مالی کے راستے وہاں روانہ ہو گئے۔ “یہ ایک دشوار سفر تھا،” طیب نے کہا۔ اس کی آواز گھٹ سی گئی۔ “ہم متعدد بار گرفتار ہوے۔” وہ رک گیا اور خاموشی سے موم بتی کے شعلے کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جوڑا۔ “آخرکار ہم آئیوری کوسٹ پہنچ گئے،” وہ بولا۔ “اور وہاں بائیس سال کی عمر میں پہلی بار، مجھے ایک کلاس روم میں بیٹھنے اور استاد سے نگاہ ملانے کی اجازت حاصل ہوئی۔”

جب امریکہ کے لوگ غلامی کا تصور کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں صرف ان غلاموں کا خیال ہوتا ہے جن سے فصلوں پر کام لیا جاتا ہے۔ لیکن غلامی، پوری انسانی تاریخ میں، بیشتر انسانی معاشروں میں بہت سی مختلف شکلوں میں موجود رہی ہے — اس اعتبار سے یہ ایک “عجیب وغریب ادارے” سے بہت مختلف چیز ہے — اور عرب دنیا، جہاں غلامی کی بنیادیں اسلام کے آغاز سے مدتوں پہلے سے مستحکم تھیں، فصلوں پر کام کی غرض سے غلامی کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ غلام، جو عموماً جنگوں میں گرفتار ہو کر آتے تھے، سپاہیوں اور گھریلو ملازموں کے طور پر استعمال میں لائے جاتے تھے۔ متمول طبقوں میں غلام عورتوں پر مشتمل حرم عام تھے۔ داشتائیں رکھنے کے مقبول رواج کے باعث غلام عورتیں عام طور پر غلام مردوں کی نسبت زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی تھیں — بجز اس کے کہ غلام مردوں کا جنسی عضو کاٹ ڈالا گیا ہو، جیساکہ ان کی ہولناک حد تک زیادہ تعداد کے ساتھ ہوتا تھا، اس حد تک کہ غلاموں کی تجارت کی بڑی شاہراہوں کے پاس خواجہ سرا تیار کرنے کے باقاعدہ قصاب خانے قائم تھے۔

اسلام کی تعلیمات میں آقاؤں سے کہا گیا کہ وہ اپنے غلاموں سے بدسلوکی نہ کریں، بلکہ انھیں آزاد کرنے کے امکان پر بھی غور کریں۔ اور مسلمان عالموں اور فقیہوں کے درمیان اُس وقت سے اب تک اس موضوع پر بحث مباحثہ جاری ہے کہ کون کس کو غلام رکھ سکتا ہے اور کن حالات میں۔ اصولی طور پر مسلمان مسلمان کو غلام نہیں بنا سکتے۔ لیکن اسلام کے عرب سے باہر مختلف جغرافیائی خطوں میں پھیل جانے کے دوران یہ اصول بیچ میں کہیں گم ہو گیا، اور بہرحال اس اصول پر عمل کا انحصار مقامی تعبیرات پر ہوتا تھا۔ قرون وسطیٰ میں مشرقی یوروپ نے عرب دنیا کو بڑی تعداد میں سفیدفام غلام فراہم کیے — مسیحی، یہودی، اور دوسرے — لیکن سیاہ فام افریقیوں کی تجارت نے — جن کی نقل وحمل صحارا کے راستے یا دریاے نیل کے ساتھ ساتھ قافلوں کی شکل میں کی جاتی تھی — رفتہ رفتہ غلاموں کی مجموعی عرب تجارت پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اگرچہ تاریخی شواہد بہت کم دستیاب ہیں لیکن بہت سے تاریخ نگاروں کا خیال ہے کہ سیاہ فاموں کی جتنی بڑی تعداد کو شمال کی سمت عرب دنیا میں غلام بنا کر پہنچایا گیا وہ ایک کروڑ غلاموں کی اس تعداد کے مقابلے میں زیادہ ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں بحراوقیانوس کے راستے نئی دنیا (امریکہ) لایا گیا۔

مغربی دنیا میں نشاۃ ثانیہ کے دور کے بعد غلامی کے خاتمے کی جو تحریکیں چلیں، اس قسم کی تحریکوں کی کوئی مثال عرب دنیا میں نہیں ملتی۔ اخلاقی موقف رکھنے والے مسیحی فرقوں مثلا کویکر، میتھوڈسٹ یا یونی ٹیرین، جیسے فرقے بھی اسلام میں نہیں ابھرے، اور مسلمان فرمانرواؤں نے یوروپی نوآبادیاتی طاقتوں کے متواتر دباؤ کے زیرِاثر ہی غلاموں کی کھلے عام تجارت پر پابندیاں عائد کرنا شروع کیا۔ صحارا کے راستے آنے والا غلاموں کا آخری قافلہ 1929 میں لیبیا پہنچا تھا۔ خود غلامی آخرکار ہر جگہ قانوناً ممنوع قرار پائی — حتیٰ کہ سعودی عرب نے بھی اس پر 1962 میں پابندی لگا دی — لیکن ان کوششوں کو بجا طور پر مسلم سماجی ڈھانچے پر حملہ تصور کرتے ہوے نسبتاً زیادہ قدامت پرست ملکوں میں ان کی سخت مزاحمت کی جاتی رہی، اور عملی طور پر غلامی کے امتناع کو کسی بھی اعتبار سے مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 1960 کی ایک برطانوی پارلیمانی رپورٹ کے مطابق مختلف ملکوں سے حج کے لیے مکہ پہنچنے والے حاجی اپنے ساتھ غلام لے کر آتے تھے جو “جاندار ٹریولرز چیکس” کی حیثیت رکھتے تھے، یعنی ضرورت پڑنے پر ان کو فروخت کر کے سفر کے اخراجات پورے کیے جا سکتے تھے۔

موریتانیہ میں سرکاری طور پر غلامی کو تین بار ممنوع کیا گیا، جن میں تازہ ترین 1980 میں کیا جانے والا امتناع ہے۔ لیکن جو قوانین اس امتناع کو عملی طور پر نافذ کر سکتے تھے انھیں کبھی وجود میں نہیں لایا گیا۔ 1980 کے امتناع میں آقاؤں کو — غلاموں کو نہیں — معاوضے کا مستحق قرار دیا گیا، لیکن اس میں ایسا کوئی طریق کار طے نہیں کیا گیا جس کے مطابق معاوضے کی ادائیگی، یا اس قانون کا نفاذ کیا جا سکے، یا کم از کم اس خوشخبری کو ان آزادکردہ افراد کے کانوں تک پہنچا جا سکے جن میں سے بیشتر اب بھی غلام ہیں۔ (موریتانیہ میں غلاموں کی کل تعداد کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس تعداد کا تخمینہ نوے ہزار سے تین لاکھ تک لگایا جاتا ہے۔) موریتانیہ جیسے غریب، پسماندہ اور مکمل طور پر اسلامی ملک میں جدید، سکیولر قوانین کی اہمیت براے نام ہی ہے۔ حاکمیت کی دیگر ہیئتیں — روایتی قانون، اور خصوصا مذہبی قانون جس کی تعبیر کرتے ہوے موریتانیہ کی شرعی عدالتوں نے روایتی طور پر ہمیشہ غلام رکھنے والے آقاؤں کے ملکیت کے حق کو درست ٹھہرایا ہے — عموماً مغربی طرز کے تحریری قوانین سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہیں۔ 1960 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے موریتانیہ یوں بھی بہیمانہ بیدان فرمانرواؤں کے زیرِتسلط رہا ہے جن کے نزدیک قانون کی حکمرانی جیسے تصورات کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔

تاہم بیدان حکمرانوں کو سب سے بڑا خطرہ بیدانوں کے غلام اور ملازم ہراتینوں کی طرف سے نہیں بلکہ ملک کے تیسرے بڑے گروہ کی طرف سے درپیش ہے: یعنی جنوبی خطے کے سیاہ فاموں کی طرف سے جنھیں کبھی غلام نہیں بنایا جا سکا اور جنھیں موریتانیہ میں “نیگرو افریقی” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مردم شماری کے اعدادوشمار ناقابلِ اعتبار ہیں، کیونکہ بیدانوں کی تعداد کو زیادہ کر کے ظاہر کرنے سے حکومت کا اپنا مفاد وابستہ ہے، لیکن اندازہ ہے کہ تینوں گروہ ملک کی آبادی میں تقریباً برابر کا تناسب رکھتے ہیں۔ (ملک کی کل آبادی بیس لاکھ سے تیس لاکھ تک ہے۔) نیگرو افریقی مقامی زبانیں — پولار، وولوف، سوننکے، بمبارا — بولتے ہیں اور لنگوافرانکا یا رابطے کی زبان کے طور پر فرانسیسی، نہ کہ عربی جو ملک کی سرکاری زبان ہے۔ اگرچہ انھوں نے بھی صدیوں پہلے اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیا تھا، ان کا تہذیبی رشتہ اپنے ہم وطن موریتانیائیوں کی بہ نسبت جنوب میں آباد دوسرے فرانسیسی گو افریقیوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ حکمران بیدانوں کا سب سے بڑا سیاسی مقصد یہ ہے کہ ملک کی ان دونوں سیاہ فام آبادیوں — ہراتینوں اور نیگرو افریقیوں — کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جائے۔

“جب میں بچہ تھا تو بیدان لوگ ہمیشہ بتایا کرتے تھے کہ نیگرو وحشی جانور، شیر یا ریچھ، میں منقلب ہو سکتے ہیں،” طیب نے بتایا۔ وہ خوش دلی سے ہنسا۔ “ہمیں بتایا جاتا تھا کہ جنوب کے نیگرو لوگ انسانوں کو کھاتے ہیں۔ اور آئیوری کوسٹ اور ٹوگو جاتے ہوے راستے میں میرے ذہن میں باربار یہی خیال آتا رہا۔”

موریتانیہ سے نکلنے سے پہلے طیب غلامی کے خلاف چلائی جانے والی ایک زیرِزمین تحریک “الحُر” کا رکن بن چکا تھا، اور آج تک اس تنظیم میں عملی طور پر سرگرم ہے۔1974 میں قائم کی گئی الحر تنظیم بیشتر سابق یا مفرور غلاموں پر مشتمل ہے، اور ان میں سے جو لوگ موریتانیہ میں رہتے ہیں وہ سخت جبر کا شکار ہیں۔ جس اتحاد سے بیدان سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں — یعنی نیگرو افریقیوں کی حکومت مخالف تحریکوں اور ہراتینوں کی الحر جیسی تنظیموں کے درمیان اتحاد — وہ اب تک وجود میں نہیں آ سکا ہے۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیدان حکمرانوں کی طرف سے جنوبی آبادیوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں میں بڑی ہوشیاری سے ہراتین سپاہیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ 1989 میں اس قسم کی ایک تادیبی مہم میں دسیوں ہزار نیگرو افریقی کسانوں کو ان کی زمینوں سے جبراً بےدخل کر دیا گیا، اور ان میں سے بہت سوں کو کھدیڑ کر سینیگال میں جلاوطن کر دیا گیا۔ سینکڑوں لوگ ہلاک ہوے اور ہزاروں گرفتار۔ اور سرکوبی کی اس مہم میں ہراتین سپاہیوں نے جو کردار ادا کیا اس کی تلخ یادیں اب بھی تازہ اور گہری ہیں۔

تاہم طیب جیسے ہراتین کارکن سمجھتے ہیں کہ ان دونوں سیاہ فام گروہوں کے درمیان بےاعتمادی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جنوبی نیگرو افریقیوں نے ہمیشہ غلامی کے مسئلے پر غیرجانبدارانہ موقف اختیار کیے رکھا ہے۔ “اب جبکہ ان کو محسوس ہوا ہے کہ غلامی کی مخالفت سے انھیں بین الاقوامی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، تو وہ ایسا ظاہر کرنے لگے ہیں گویا وہ ہمیشہ سے غلامی کے مخالف رہے ہیں،” اس نے کہا۔ “اس سے پہلے ان کو اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔” طیب نے کہا کہ وہ بیدان افراد بھی جو کسی وجہ سے حکومت کے عتاب میں آ گئے ہوں، مغرب میں سیاسی پناہ مانگتے وقت یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں غلامی کے خلاف تحریک چلانے کے نتیجے میں موریتانیہ میں خطرات کا سامنا ہے۔ “میں ایسے کئی بیدانوں سے واقف ہوں،” وہ یوں بولا جیسے اس کے لیے یہ بات ناقابل یقین ہو۔ “خود ان کے گھروں میں اب بھی غلام موجود ہیں!”

پھر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ “آپ کو پتا ہے، ان میں سے کئی لوگ مجھے یہاں نیویارک میں ملے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہمیں عفو و درگزر سکھاتا ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں: یہ عفو و درگزر کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ حقوق کا اور انصاف کا معاملہ ہے۔ اور یہ کوئی ماضی کی بات بھی نہیں ہے۔ یہ سب تو آج، اس وقت بھی ہو رہا ہے! وہ مجھ سے بحث کرنے لگتے ہیں۔ وہ بہت سی احمقانہ باتیں کہتے ہیں۔ لیکن میں اپنے آپ سے کہتا ہوں: مختار! صبر کرو۔ یہ تاریخ ہے، اور تاریخ زیادہ، بہت زیادہ وقت لیتی ہے۔”

طیب نے غور سے مجھے دیکھا۔ “یہ میرا مسئلہ ہے،” آخرکار وہ بولا۔ “اور میں اس سے چھٹی نہیں لیتا۔”

میں نے میز پر ایک ٹیپ ریکارڈر رکھا دیکھ کر دریافت کیا کہ آیا اس میں موریتانیہ کی کوئی مخصوص موسیقی ہے۔ وہ مسکرایا اور مشین میں ایک ٹیپ لگا دیا۔ ڈھول کی سست رو تال، اور عربی میں نوحے جیسی آواز، اور پیٹ کی گہرائی سے نکلتی ہوئی پکار سے کمرہ بھر گیا، اور آن کی آن میں ہمیں یوں محسوس ہونے لگا گویا ہم، برونکس سے کئی ہزار میل دور، صحارا میں کسی خیمے کے اندر بیٹھے ہیں۔ “یہ بہت خوبصورت گیت ہے،” طیب نے بےاختیار ہو کر کہا۔ “یہ بہت مشہور ہے، بہت مقبول ہے۔ ہم اسے غلام عورت کا کیسٹ کہتے ہیں۔” اس نے پُرزور انداز میں ٹیپ ریکارڈر کی طرف اشارہ کیا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ میں نے اس کو کبھی اتنے جوش میں نہیں دیکھا تھا۔ “یہ بیدان ہے جو غلام عورت کو بتا رہا ہے کہ اسے کیوں بےعزت کیا گیا۔ اور اب یہ غلام عورت اسے جواب دے رہی ہے!” طیب خوشی سے بےحال تھا۔

جب ٹیپ ختم ہوا تو اس کی مسکراہٹ رفتہ رفتہ غائب ہو گئی۔ “موریتانیہ کی حکومت نے غلامی پر شرمندگی محسوس کرنا ابھی حال ہی میں شروع کیا ہے،” اس نے کہا۔ “لیکن حکومت ہمارے ادب کو، ان تمام گیتوں اور نظموں کو نہیں مٹا سکتی جن میں غلاموں اور ان کی غلامی کا ذکر موجود ہے — کیونکہ یہی وہ اصل زندگی ہے جسے ہم جیتے ہیں۔”

طیب برونکس کے کمیونٹی کالج میں ہفتے میں پانچ بار انگریزی کی رات کی کلاس میں جاتا ہے۔ ایک شام میں اس کے ساتھ وہاں گیا۔ طالب علموں نے پہلا گھنٹہ کمپیوٹر لیب میں گزارا۔ وہ سب The Great Gatsby پر الگ الگ مضمون لکھتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ طیب کے پاس اس ناول کا جو نسخہ تھا، اس کے حاشیے عربی میں لکھے ہوے نوٹس سے بھرے تھے۔ یہ عموماً الفاظ کے معانی پر مشتمل تھے، نہ صرف ناول کے متن میں موجود الفاظ بلکہ انگریزی عربی لغت میں ان کے آس پاس لکھے ہوے دوسرے الفاظ بھی جو طیب کو دلچسپ محسوس ہوئے۔ نہ صرف Perpetuate کے عربی معنی بلکہ Peripatetic کے مفہوم کے بارے میں بھی ایک مفصل نوٹ؛ نہ صرف Veteran بلکہ Vex بھی۔ یہ مجھے انگریزی سیکھنے کا ایک دلیرانہ، پُرشوق اور ادبی طریقہ معلوم ہوا۔ جو بات میں اصل میں جاننا چاہتا تھا وہ یہ تھی کہ طیب خود اس ناول کے کرداروں جے گیٹسبی اور ڈیزی بوکانن کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ لیکن وہ کمپیوٹر پر انگریزی کے ایک ایسے سافٹ ویر کے ساتھ جدوجہد میں مصروف تھا جو اسے اپنی لغت سے باہر کے الفاظ (بشمول “گیٹسبی”) ٹائپ نہیں کرنے دے رہا تھا۔

طیب کی انگریزی کلاس کے باقی سارے لوگ لاطینی امریکی تھے۔ اور کلاس شروع ہونے سے پہلے کی گفتگو سے میں نے جانا کہ ان میں سے بیشتر ڈومینیکن، اور سب کے سب ہائی سکول پاس تھے۔ ان میں سے اکثر نے نیویارک کے ہائی سکولوں میں تعلیم مکمل کی تھی — سواے انگریزی کی مہارت کے امتحان کے، جو یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ضروری تھا۔ یہ ایک خوش باش اور زندہ دل گروہ تھا۔ ان میں سے تین چار تختۂ سیاہ پر بیک وقت، ایک دوسرے کے آگے اور پیچھے سے ہاتھ نکال کر، گرامر کے جملے لکھنے میں مشغول تھے، جبکہ ڈیسکوں پر بیٹھے ان کے ہم جماعت انھیں بلند آواز سے مشورے دے رہے تھے اور کلاس کی آخری بنچوں پر ایک لسانی بحث (زیادہ تر ہسپانوی زبان میں) جاری تھی جس کا دھیما شور پس منظر میں مسلسل سنائی دے رہا تھا۔

طیب ان سب لوگوں سے الگ دکھائی دیتا تھا، صرف اس باعث نہیں کہ وہ کلاس کا واحد افریقی طالب علم تھا، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ پوری کلاس میں سب سے زیادہ رسمی لباس پہنے تھا: پرل گرے رنگ کا تھری پیس سوٹ، اور گرے رنگ کی نکٹائی جس کی گرہ نہایت عمدگی سے بندھی ہوئی تھی، جبکہ اس کے اردگرد سب لوگ ٹی شرٹ، سویٹ شرٹ اور ڈینم کی جینز پہنے ہوے تھے۔ وہ ہلکی سی مہربان مسکراہٹ کے ساتھ احتیاط سے نوٹس لینے میں مصروف تھا، لیکن اس نے کلاس میں ہونے والی بحث میں کوئی حصہ نہ لیا اور اس کی سنجیدگی اس کے گرد ایک ٹھوس، شفاف مخروطی حصار بنائے معلوم ہوتی تھی۔

تعلیم حاصل کرنے کا عزم طیب کے لیے رہنما ستارے کی طرح رہا تھا جس پر نظر جمائے ہوے اس نے موریتانیہ سے فرار ہونے کے بعد سینکڑوں طوفانوں کا مقابلہ کیا۔ آئیوری کوسٹ میں فرانسیسی زبان سیکھنے کے بعد طیب، نہایت اداسی کے ساتھ، اپنے باپ سے جدا ہو کر گھانا روانہ ہو گیا۔ وہاں سے پانچ بار کوشش کرنے کے بعد آخرکار ٹوگو میں داخل ہوا جہاں اس نے فرانسیسی سفارتخانے کو ایک تصدیق نامہ جاری کرنے پر آمادہ کر لیا کہ وہ موریتانیہ کا شہری ہے۔ اس تصدیق نامے کی مدد سے اس نے لیبیائی تعلیمی وظیفوں کے ایک پروگرام میں داخلہ حاصل کیا جسے صدر معمر القذافی نے عرب لیگ میں شامل تمام ملکوں (بشمول موریتانیہ) کے طلبا کے لیے شروع کیا تھا اور جو بہت کم عرصے جاری رہا۔ اس طرح طیب مغربی افریقہ سے ایک طرف کے ٹکٹ پر جنوب مغربی لیبیا کے شہر صبحہ روانہ ہوا اور وہاں اس نے خود کو واحد سیاہ فام طالب علم پایا۔ موریتانیہ سے تعلق رکھنے والے باقی تمام طلبا بیدان تھے اور طلبا کی سیاست شدید عرب قوم پرستی پر مبنی تھی۔ طیب نے سخت محنت کی اور الیکٹریکل انجنیئرنگ کی سند حاصل کر لی۔ پھر وہ ایک اور وظیفے پر مراکش کے اسی نام کے شہر میں قائم اسلامی انسٹیٹیوٹ پہنچا اور وہاں ادب اور اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ مراکش شہر کے اعلیٰ تعلیمی معیار پر بہت خوش ہوا اور اسے تیسرے سال میں ایک اہم تعلیمی انعام ملا۔ لیکن یہاں بھی دوسرے تمام موریتانیائی بیدان نسل کے تھے اور طیب کو سیاسی مسائل کا سامنا ہونے لگا، خاص طور پر جب دوسرے طلبا پر انکشاف ہوا کہ وہ الحر تنظیم کارکن ہے۔

اس نے لیبیا واپس آ کر بن غازی کی غریونس یونیورسٹی میں قانون کی ایک ڈگری کے لیے پڑھائی شروع کی۔ اس کی روزمرہ زندگی، شخصی اور سیاسی دونوں اعتبار سے، خطرات کا شکار رہی۔ اسے متواتر خطرہ تھا کہ اس کے ساتھ پڑھنے والے بیدان طلبا کہیں اس پر عرب مخالف ہونے کا الزام نہ لگا دیں — اور لیبیائی تعلیمی نظام میں اس کا کوئی واقف کار نہ تھا جو اسے تحفظ دے سکتا۔ “میں عرب دنیا میں اپنے مقام سے واقف ہوں،” اس نے کہا۔ “میں اس بات کی قدر کرتا ہوں کہ وہ مجھے تعلیم حاصل کرنے دیتے ہیں، لیکن اس سے آگے ہمارا بہت کم باتوں پر اتفاق ہے۔” طیب رفتہ رفتہ ایک سکالر بنتا جا رہا تھا۔ وہ مختلف جریدوں میں اپنے مضامین شائع کرانے لگا لیکن غلامی کے موضوع پر اس نے کچھ نہیں لکھا۔ گنتی کے چند افراد کے سوا، جو جنوبی سوڈان کے سیاہ فام طلبا تھے، کوئی شخص ایسا نہ تھا جس سے وہ تنہائی میں بھی غلامی کے موضوع پر بات کر سکتا (سوڈان بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں عرب باشندے سیاہ فاموں کو غلام بنائے ہوئے ہیں)۔ میرے سوال پر کہ اس نے بن غازی میں اپنے جسم اور جان کو کیونکر یکجا رکھا، اس نے کندھے اچکا دیے۔ “سب کچھ جدوجہد کا حصہ ہے،” وہ بولا۔ “غیرملکی طلبا کو نوکری کرنے کی اجازت نہ تھی۔ میں اکثر دن میں صرف ایک وقت کھانا کھاتا تھا، کبھی کبھار وہ بھی نہیں۔ کچھ لوگوں نے میری مدد کی۔ کتابیں حاصل کرنا دشوار تھا۔ اور کپڑے۔۔۔ میں اپنے کپڑوں کے بارے میں بہت محتاط ہوں۔ یہ سوٹ۔۔۔” طیب نے اپنے پرل گرے رنگ کے سوٹ کی طرف اشارہ کیا، “میں نے لیبیا میں خریدا تھا، بارہ سال پہلے۔” میری نظروں کو وہ سوٹ بالکل نیا معلوم ہوتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس کے پاس ایک شاندار جلّابیہ بھی ہے جسے اس نے خاص موقعوں پر پہننے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ان موقعوں کے سوا وہ کبھی اپنے کمرے سے سوٹ پہنے بغیر باہر نہیں نکلتا۔

طیب لیبیائی وکیلوں کی مہارت کا معترف ہے جو بحیرۂ روم کے کنارے آباد پڑوسی ملکوں کے ساتھ پیش آنے والے سامان کی نقل و حمل کے تنازعات کو بہت خوبی سے نمٹاتے تھے۔ اس نے بحری قانون میں اختصاص حاصل کیا اور جزیروں سے متعلق بین الاقوامی قانون کے موضوع پر مقالہ تحریر کیا۔ اس نے اپنی قانون کی ڈگری 1993 میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ تیونس گیا اور وہاں سے دوبارہ مراکش۔ لیکن اسے معلوم ہوا کہ پاسپورٹ کے بغیر اسے کہیں بھی کام نہیں مل سکتا۔ بالآخر اس نے موریتانیہ واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ وہاں چھ ماہ ٹھہرا۔ اس کی صورت حال عجیب وغریب تھی۔ پولیس نے اس کے نواکشوت سے باہر جانے پر پابندی لگا دی تھی اور اسے وقتاًفوقتاً پوچھ گچھ کے لیے اٹھا لیا جاتا۔ لیکن اسے کبھی جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعض موریتانیائی افسر کسی نہ کسی طور طیب کے — یا اس کے واقفکاروں کے — احسان مند تھے اور وہ تحفظ اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے ان سے امید لگائے ہوے تھا۔ علاوہ ازیں اس کے آقا کو اسے دوبارہ حاصل کرنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ طیب کا دو بار نواکشوت کی سڑک پر اپنے آقا اور اس کے سفارتکار بھائی سے سامنا ہوا لیکن دونوں بار وہ طیب سے کنی کترا گئے۔ “وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب میں تعلیم یافتہ ہوں،” اس نے وضاحت کی۔ “وہ جانتے تھے کہ اب میں بول سکتا ہوں۔”

وہ امید بھری کہاوت — کہ تعلیم یافتہ شخص کو غلام نہیں رکھا جا سکتا — آخرکار سچ ثابت ہوئی تھی۔ بلاشبہ ہراتینوں کی تعلیم کے سلسلے میں بیدانوں کی سخت مخالفت کے پیچھے یہی منطق کارفرما ہے۔ اور یہی منطق امریکہ کی ریاست ورجینیا میں 1831 میں منظورکردہ ایک قانون کی پشت پر بھی موجود تھی جس کی رو سے سیاہ فاموں کے لیے (خواہ وہ غلام ہوں یا آزاد) سکول کی تعلیم ممنوع قرار دی گئی، اور بعد میں نافذ ہونے والے ایک اور قانون کی بھی جس کی رو سے پڑھنالکھنا سیکھنے کے لیے ریاست ورجینیا سے باہر جانے والے کسی سیاہ فام کے دوبارہ ورجینیا میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔ (دوسری جنوبی ریاستوں میں بھی اسی قسم کے قوانین نافذ تھے۔) اگرچہ مختلف ادوار میں مختلف قسم کے تعلیم یافتہ غلاموں کا بھی وجود رہا ہے، لیکن ان کی تعداد مستثنیات سے آگے نہیں بڑھی۔ عرب دنیا میں “عبد” یا غلام ہونے کا مطلب، سماجی معنوں میں، انسانیت کے درجے سے کمتر ہونا ہے۔ ارتقائی حیاتیات کے ماہرین اس جسمانی تغیر کا تذکرہ کرتے ہیں جس سے پالتو بنائے جانے والے جانور گزرتے ہیں — رفتہ رفتہ اپنے بڑے دانتوں، لمبے جبڑوں اور اس جبلّی جارحیت سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کے وحشی اجداد میں موجود تھی۔ غلام بنانے والی نسلیں اپنے غلاموں میں اسی قسم کے تغیرات پیدا کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ عمل ہے جس کی مزاحمت اور نفی میں طیب نے اپنی پوری زندگی صرف کی ہے۔ برونکس میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ اسے بیٹھا دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اس کی انفرادیت کا ایک عجیب اور ہیبت ناک پہلو یہ بھی ہے: کلاس روم میں موجود دوسرے لوگوں کے ساتھ اَور جو بھی ناانصافیاں ہوتی رہی ہوں، ان میں سے کسی کی پرورش کسی ایسے معاشرے میں نہیں ہوئی تھی جو اس کو باربرداری کے جانور میں منقلب کرنے پر مستعد اور منحصر ہو۔

علاوہ ازیں، اس کی جگہ کچھ اور بننا، انسان بننا، ایک کبھی نہ ختم ہونے والا عمل ہے۔ طیب جانتا ہے کہ مراکش میں اس کی تعلیم نے اسے ایک تعلیم یافتہ آدمی بننے میں مدد دی جو عربی ادب، تاریخِ عالم اور اسلامی قانون سے گہری واقفیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود وہ کہتا ہے “یہ جاننا دشوار، بہت دشوار تھا کہ میں کون ہوں۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں کتنی بڑی اذیت سے نکل کر آیا ہوں۔” وہ خاموش ہو جاتا ہے، شاید اس مقام — اس بڑی اذیت — کے بارے میں سوچنے لگتا ہے جہاں سے وہ نکل کر آیا ہے اور ان سب انسانوں کے بارے میں جو اَب تک وہاں ہیں۔

نواکشوت میں اپنے چھ ماہ کے قیام کے دوران اسے ایک بار دس دن کے لیے اپنی ماں کے پاس جانے کی اجازت دی گئی۔ (اس کا باپ 1989 میں، موریتانیہ کو دوبارہ دیکھے بغیر، مر چکا تھا۔) آخرکار طیب کو پاسپورٹ مل گیا، اور امریکہ کا ویزا بھی۔ وہ ہوائی جہاز سے نیویارک آیا جہاں اس کا ایک رشتےدار اپنے سفارتکار آقا (طیب کے آقا کے بھائی) کے ساتھ غلام کے طور پر آیا ہو اتھا۔ اگرچہ طیب کے اس رشتےدار کو اس کے آقا نے امریکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی تھی، طیب نے کہا، “لیکن آقا اور غلام کا رشتہ بدستور قائم رہا۔” اس کے پاس ایک ٹیکسی تھی اور جب کبھی اس کا آقا یا اس کا کوئی مالدار بیدان دوست نیویارک آتا تو اسے اپنی ٹیکسی ان کی خدمت کے لیے وقف کرنی پڑتی تھی۔ طیب اپنے رشتےدار کے ساتھ ہارلم میں واقع فلیٹ میں ٹھہرا جہاں یہ دیکھ کر وہ ہیبت زدہ رہ گیا کہ اس نے دیوار پر سفارتکار اوراس کے خاندان والوں کی تصویریں لگا رکھی ہیں۔ اس نے ایک بار اپنے رشتےدار کو کسی مہمان سے یہ کہتے سنا کہ تصویروں میں دکھائے گئے گوری رنگت کے لوگ اس کے “عم زاد” ہیں۔ طیب اور اس کا رشتےدار ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ “وہ برین واش ہو چکا ہے،” طیب نے کہا، “بہت سے ہراتینوں کی طرح۔” جب طیب کو یمنی مالکوں کی دکانوں میں کام مل گیا تو وہ برونکس میں اپنی جگہ میں اٹھ آیا۔

اس کے فوری منصوبوں میں اپنی انگریزی کی استعداد کو بہتر بنانا شامل ہے تاکہ اسے یہاں کی کسی قانون کی درسگاہ میں داخلہ مل سکے۔ ہراتینوں کے حقوق کی جدوجہد کے لیے مور یتانیہ واپس جانا اس کا خواب ہے، اور اس کا خیال ہے کہ شاید امریکہ سے حاصل کی ہوئی قانون کی ڈگری ایک ناخوش حکومت کو اس کے خلاف قدم اٹھاتے ہوے کچھ سوچنے پر مجبور کر سکے۔ تاہم امکان یہ ہے کہ اس ڈگری سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا: الحر تنظیم کے بہت سے ارکان اور رہنماؤں کو گرفتاری، تشدد اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس قسم کے کچھ دوسرے لوگوں کو زیادہ نرم برتاؤ کے ساتھ — یعنی سرکاری ملازمتیں دے کر — خاموش کر دیا گیا ہے۔

طیب اور میں مختصر سیروں کے لیے ساتھ شہر سے باہر جانے لگے۔ اس کے ساتھ امریکہ میں گھومتے ہوے مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میں کسی دوسرے سیارے سے آئے ہوے پُرتجسس فرد کے ساتھ ہوں۔ ٹرین میں نیوانگلینڈ سے گزرتے ہوے ایک جنگلی قطعے میں بےترتیبی سے اِدھر اُدھر بنے ہوے مکان دیکھ کر وہ پوچھتا ہے، “یہ لوگ یہاں درختوں کے درمیان کیوں رہتے ہیں؟” مجھے اس کا کوئی جواب نہیں سوجھتا۔ (“شہروں کا پھیلاؤ؟”) پھر اسے کچھ متحرک مکان نظر آتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ یہ جان کر کہ ان کو کہیں اور تعمیر کیا گیا تھا اور اب ٹرک کے ذریعے سے مطلوبہ جگہ پہنچایا جا رہا ہے، وہ چلّا اٹھا: “بالکل خیموں کی طرح! لوگوں کو یہ مکان دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، کتنے اچھے خیمے ہیں، اور وہ ان میں رہنے لگتے ہیں۔” پنسلوینیا میں میکڈانلڈ کی ایک بہت بڑی دکان میں، جہاں بےشمار سکول کے بچے لنچ کھانے کے لیے جمع تھے، مجھے آرڈر دینے کے لیے کاؤنٹر پر پہنچنے میں سخت دقت ہو رہی ہے، اور ایک مہربان عورت مجھے پیچھے جا کر ڈرائیواَپ کھڑکی پر آرڈر دینے کا مشورہ دیتی ہے۔ یہ ترکیب کامیاب رہتی ہے اور طیب کہتا ہے، “اس خاتون کو میکڈانلڈ کا بہت تجربہ ہو گا۔ کیا یہ نیکی اس نے ایسٹر کے لیے کی تھی؟” مجھے معلوم نہ تھا کہ لوگ ایسٹر کے موقعے کے لیے نیکیاں کرتے ہیں۔

ایک موقعے پر بوسٹن میں جب ہم بہت دیر ایک نہایت وسیع و عریض زیرِزمین گیراج میں بھٹکنے کے بعد ایک لفٹ سے نکل کر راہداری میں آئے تو ایک دم ہمارا سامنا ورزش کر کے ہانپتے ہوے، پسینے میں شرابور، وحشت بھری آنکھوں والے سفیدفام لوگوں سے ہو گیا جن کے اور ہمارے بیچ محض ایک شیشے کی دیوار تھی اور وہ سب ہِپ ہاپ کی ایک تال پر اجتماعی ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ یہ منظر مجھے اپنی بصارت پر ایک حملہ محسوس ہوا اور میں نے کسی قدر خفیف ہو کر طیب کی طرف دیکھا۔ وہ میری طرف دیکھ کر بےاختیار مسکرایا اور انگوٹھا کھڑا کر کے زور سے بولا، “آزادی!”

مجھے اس سے یہ پوچھتے رہنے کی عادت ہو گئی ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے۔ یہ تعجب کی بات نہیں کہ اکثر اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ غلامی کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ زیرِزمین ٹرین میں مین ہیٹن آتے ہوے وہ کہتا ہے، “نیویارک غریب لوگوں سے، بےگھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ ہمیں ہر وقت دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بہت ہولناک بات ہے۔ لیکن بہرحال ان لوگوں کو پھر بھی کچھ نہ کچھ حقوق حاصل ہیں۔”

معلوم ہوتا ہے کہ مقدس کتابیں کبھی اس کے ذہن سے زیادہ دور نہیں ہوتیں۔ “میں یہودیوں اور سیاہ فاموں کے متعلق عربوں کے عجیب و غریب خیالات کے بارے میں سوچ رہا ہوں،” ایک اور موقعے پر وہ کہتا ہے۔ “آپ کو حضرت ابراہیم کا قصہ یاد ہے؟ ان کی بیوی سارا یہودی تھی۔ اس سے ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی تو سارا نے ابراہیم سے کہا کہ ممکن ہے ان کی لونڈی ہاجرہ سے — جو مصر کی رہنے والی اور سیاہ فام تھی — ان کی اولاد پیدا ہو جائے۔ اور پھر ہاجرہ ان سے حاملہ ہو گئی۔ لیکن سارا کو اس سے حسد ہوا اور ہاجرہ گھر سے بھاگ گئی۔ سارے عرب ہاجرہ کے بیٹے اسمعٰیل کی نسل سے ہیں۔ اسی لیے عرب یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کے ایسے عجیب خیالات ہیں۔ آپ کو معلوم ہے، انوار سادات کی ماں کون تھی؟ ایک سیاہ فام عورت۔”

ہم دریاے ہڈسن سے اوپر کی طرف واقع نیاک میں اس کے ایک دوست سے ملنے جاتے ہیں جو ٹرینیڈاڈ کا رہنے والا ہے۔ سڑک کے کنارے سبزے کو دیکھ کر طیب خوش ہوتے ہوے کہتا ہے، “یہ جگہ بالکل گھانا میں عکرہ اور ٹوگو کی سرحد کے درمیانی علاقے جیسی لگتی ہے۔ میں اس علاقے سے کئی بار گزرا ہوں، جب میں ٹوگو میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ وہاں بہت ہریالی اور پہاڑیاں ہیں، پیڑ اتنے زیادہ نہیں ہیں۔ آپ بہت دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں بالکل پاگل تھا: کوئی پیسہ نہیں، کھانے کو کچھ نہیں، اور تعلیم حاصل کرنے کی دُھن۔ میں ٹیکسی میں سفر کرتے ہوے باہر دیکھ کر کہا کرتا تھا: جنت یہی ہے!”

امریکہ میں غلامی مخالف گروپ نامی تنظیم کا بانی اور صدر چارلس جیکبس ہارورڈ کے جان ایف کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کی ایک افسر سے بات کر رہا تھا۔

“وہ فریڈرک ڈگلس کی طرح ہے اور میں ولیم لائیڈ گیریسن کی طرح،” جیکبس نے کہا۔

ہم کیمبرج میں ایک ہوٹل کے بار میں بیٹھے تھے اور جیکبس کینیڈی سکول کو معاصر غلامی کے موضوع پر ایک پروگرام کے لیے مالی امداد فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس میں مختار طیب کو بھی شامل کیا جانا تھا۔ طیب، جس نے اس شام مضافات میں واقع بوسٹن ہائی سکول میں خطاب کیا تھا، تھکا ہوا لگ رہا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ جیکبس کی بلندآہنگ گفتگو پر دھیان نہیں دے رہا ہے۔ لیکن اس نے اپنے خطاب میں موریتانیہ میں غلامی کا نقشہ کھینچ کر طالب علموں کو حیران کر دیا تھا اور کینیڈی سکول کی افسر بھی اس منصوبے میں دلچسپی لیتی معلوم ہوتی تھی۔

جیکبس ایک سابق انتظامی کنسلٹنٹ ہے۔ وہ پچاس کے لگ بھگ عمر کا ایک لمباچوڑا، پُرجوش آدمی ہے اور خود کو زمانۂ حال میں غلامی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والا مجاہد قرار دیتا ہے۔ اس کے خود کو گیریسن سے، جس نے انیسویں صدی میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کے لیے بہت کام کیا تھا، تشبیہ دینے کا یہی سبب ہے۔ اس کی تنظیم کا پہلا دفتر اس کے اپنے گھر کے ایک کمرے میں قائم ہوا تھا۔ اس کا گھر بوسٹن کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک قدیم اور احتیاط سے رکھی گئی وکٹورین کوٹھی ہے۔ (اب یہ محلہ مضافات کے بجاے شہر کا مرکز بن چکا ہے۔) جب تک جیکبس کی طیب سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس کی تنظیم کی سرگرمیاں سودان پر مرکوز تھیں۔ طیب سے مل کر اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کی تنظیم کا ایک بہت موثر ترجمان بن سکتا ہے اور تب سے وہ زیادہ سے زیادہ امریکیوں کو موریتانیہ میں دلچسپی لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چند ہفتے پہلے وہ اور طیب لاس اینجلس گئے تھے جہاں طیب نے ایک کانفرنس میں، جو سائمن وائزنتھال سنٹر کے زیرِاہتمام منعقد ہوئی تھی، حاضرین کو اپنی تقریر سے بےحد متاثر کیا تھا۔

لیکن یوں عوامی اجتماعات میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا طیب کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اسے ابھی سے بہت سے بیدان افراد کی طرف سے دھمکیاں ملنے لگی ہیں جو ان باتوں پر ناراض ہیں جو وہ موریتانیہ کے بارے میں امریکیوں کو بتا رہا ہے۔ “حکومت مزید کمیسار بھیج رہی ہے،” اس نے کہا۔ “سکیورٹی ایجنٹ۔ سخت گیر لوگ۔ ہمیں محتاط رہنا ہو گا۔” اس نے بتایا کہ الحر تنظیم حالات کی نگرانی کر رہی ہے لیکن اس ملک میں اس کا اطلاعات حاصل کرنے کا نظام کمزور ہے۔ اب تک یہ تنظیم اسی بات پر مطمئن ہے کہ اس کا پیغام امریکہ میں پھیل رہا ہے، اور طیب بھی اس کا پیغام پھیلانے کے کام سے خوش ہے۔ اس شام بوسٹن ہائی سکول کے طلبا نے موریتانیہ کے بارے میں بتائی گئی باتوں کو اپنے ذہن میں بٹھانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی۔ ان کے سوالات کچھ اس قسم کے تھے:
“کیا عرب بچوں کو نہیں سمجھایا جا سکتا کہ غلامی اچھی چیز نہیں ہے؟”

“کیا آپ لوگ پیسے ادا کر کے آزاد نہیں ہو سکتے؟”

“اگر آپ امریکی شہری بن جائیں تو؟”

طیب کی کوشش تھی کہ موریتانیہ میں غلامی کے نظام کی نفسیاتی گہرائیاں سننے والوں کی سمجھ میں آ سکیں اور ان کی توجہ طیب کی انفرادی صورتحال سے ہٹ کر تمام ہراتین لوگوں کی مصائب کی طرف منعطف ہو سکے۔ “یہ کسی فرد کا مسئلہ نہیں ہے،” اس نے کہا۔ ایک اور نکتے پر اس نے کہا، “میں ایک ایسا شخص ہوں جو دو دنیاؤں کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ یہاں بوسٹن میں میں آزاد ہوں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ میں غلام بھی ہوں۔”

امریکیوں — نوجوانوں اور بڑی عمر والوں، سیاہ فاموں اور سفیدفاموں — کے سامنے طیب کو غلامی کے موضوع پر بولتے ہوے سننا بہت انکشاف انگیز ثابت ہوتا ہے۔ غلامی کے بارے میں، اس موضوع پر لکھنے والے مورخوں تک کے درمیان، مجموعی طور پر دو نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ غلامی “سماجی موت” کے مترادف ہے، یعنی ایک مطلق حالت ہے، جس کا خلاصہ ایک شمالی افریقی کہاوت کے ذریعے بخوبی کیا جا سکتا ہے: “اگر آقا نہ ہو تو غلام کا کوئی وجود نہیں۔” دوسرا نقطۂ نظر رکھنے والے غلامی کو ایک تدریجی حالت قرار دیتے ہیں، اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غلامی کی صورتیں بےشمار اور ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اور یہ صورتیں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں، اور پھر یہ کہ غلاموں کو جو تھوڑی بہت سماجی قوت حاصل ہوتی ہے اس کو استعمال کر کے وہ اپنی حالت کو مستحکم بلکہ بہتر بھی کر سکتے ہیں۔ طیب، غلامی کی لعنت کے خلاف آزادی سے محبت رکھنے والوں کے جذبات بیدار کرنے کے لیے مطلق حالت والے موقف کا اظہار کرنے کے باوجود، ذاتی طور پر غلاموں اور آقاؤں کے درمیان طاقت کے رشتوں کو اہمیت دینے والے دوسرے موقف کا قائل ہے۔ اس کے امریکی سامعین عموماً پہلا یعنی مطلق حالت والا نقطۂ نظر رکھتے ہیں، جن کے لازمی اجزا میں زنجیروں، کوڑوں اور بدترین سفاکیوں کے تصورات شامل ہوتے ہیں۔

لیکن امریکی شہری طیب کی بات پر مختلف زاویوں سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایک افریقی نژاد امریکی آرتھر فلر نے، جو کنکٹی کٹ کے ایک مڈل سکول میں ریاضی کا استاد تھا، طیب کی کہانی کے بارے میں ایک سی ڈی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا سکول ایک متموّل بستی میں قائم ہے، لیکن وہ اندرون شہر کے ایک پسماندہ محلے کے سکول میں بھی کام کرتا ہے، اور اس کا کہنا ہے کہ طیب کی کہانی غریب سیاہ فام طالب علموں کو محنت پر اکسانے کے لیے بےپناہ امکانات رکھتی ہے۔ “یہ ایک نہایت مثبت کہانی ہے،” فلر نے مجھے بتایا۔ “دیکھو، یہ شخص غلام پیدا ہوا تھا۔ اب اس کے پا س قانون کی ڈگری ہے۔ اس لیے تمھارے پاس — خواہ تمھاری صورت حال کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، تم کتنے ہی بدحال محلے سے کیوں نہ آئے ہو — کامیاب نہ ہونے کا کوئی جواز نہیں۔ کوئی بہانہ نہیں!” فلر نے زور دار، خوشی سے بھر پور قہقہہ لگایا۔ اس کا ارادہ ہے کہ اس سی ڈی کا نام “علم کی جستجو” رکھے۔

کینیڈی سکول کی افسر نے کہا، وہ غلامی کے بارے میں اس پروگرام کی تجویز اپنے دفتر والوں کے سامنے رکھے گی۔ اس نے اور چارلس جیکبس نے ایک دوسرے سے ملاقاتی کارڈوں کا تبادلہ کیا۔ بعد میں، اپنے گھر لوٹ کر، جیکبس نے خیال ظاہر کیا کہ ملاقات اچھی رہی اور کچھ نہ کچھ مثبت نتیجہ نکلنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ “لیکن سودان کے سلسلے میں مدد حاصل کرنا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے،” اس نے ٹھنڈی سانس لی۔ “معلوم ہے کیوں؟ اس لیے کہ وہاں غلامی کا نشانہ بننے والے لوگ مسیحی ہیں۔ چنانچہ ہمیں یہاں اور یوروپ دونوں جگہ کے مسیحی گروپوں کی طرف سے بہت مدد مل جاتی ہے۔ جب غلام بنائے جانے والے لوگ مسلمان ہوں تو ایسا کوئی گروہ نہیں جو فطری طور پر ان کے ساتھ ہو۔ فراخان اور نیشن آف اسلام نے اس مسئلے پر خود کو بالکل بے وقت ثابت کیا ہے۔ لیکن اگر ہم اس بات کی طرف اشارہ کریں تو وہ فوراً کہیں گے کہ میں یہودی ہوں۔”

سودان میں غلام رکھے جانے والے بیشتر لوگ بلاشبہ مسیحی نہیں بلکہ قدیم افریقی مذاہب کے پیرو ہیں۔ لیکن اگرچہ جیکبس نے افریقہ کا کبھی سفر نہیں کیا، پھر بھی اس کی بات درست ہے: اناجیلی مسیحی گروپوں نے سودان میں غلامی کے دوبارہ رواج پانے کے عمل کو سامنے لانے کے سلسلے میں بہت کام کیا ہے۔

طیب کے چند موریتانیائی دوست ہیں جو واشنگٹن ڈی سی میں رہتے ہیں۔ ہم جا کر ان سے ملنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میں، تاریخ سے اس کے شغف کے پیش نظر، گیٹس برگ کا راستہ اختیار کرتا ہوں۔ ہم اس عظیم میدان جنگ کی نرم، سرسبز پہاڑیوں پر چلتے ہیں اور اینگل نامی مقام پر آ کر، جہاں یونین کی فوج نے پکیٹ کا حملہ روک دیا تھا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر پانچ ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ “غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے اتنا کچھ، اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوا،” طیب آہستہ سے کہتا ہے۔ بعد میں ایک یادگار کی دیوار پر، جو اس جگہ کے قریب تعمیر کی گئی ہے جہاں لنکن نے گیٹس برگ کا خطبہ دیا تھا، اس خطبے کا متن پڑھتے ہوے طیب مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔ تمام نامانوس الفاظ، مفہوم کے اندر چھپے ہوئے معنی، سب اس کے لیے بےحد دلچسپی کا باعث ہیں۔ تفصیلات، امتیازات، پیچیدگی اور زبان اور حافظے کی مسلّم اہمیت کے لیے اس کے دل میں عالمانہ احترام ہے۔ اور تاریخ کا یہ احساس اپنی ہولناک سنگینی کے ساتھ، ایک اور روپ میں، اگلے ہی روز ظاہر ہوتا ہے۔ ہم گھومتے ہوے واشنگٹن میوزیم کے ایک حصے میں جا نکلتے ہیں جہاں اٹھارھویں صدی کے ایک سمندری جہاز کی باقیات رکھی ہیں جو کیپ کوڈ کے قریب ڈوب گیا تھا۔ پرانی توپوں اور چاندی کی اشیا کے درمیان ہم ایک زنگ لگی آہنی بیڑی کو دیکھ کر رک جاتے ہیں جو غلاموں کی تجارت کے سلسلے میں اس جہاز کے استعمال کی شاہد ہے۔ طیب اس بیڑی کو تکتا رہتا ہے۔ “انسانی تاریخ بہت طویل ہے،” وہ دھیمی آواز میں کہتا ہے، “اور ہمیں ایک ایک قدم کر کے چلنا ہو گا۔ ایک ایک قدم۔”

ہم مبراک نامی نوجوان کے ساتھ واشنگٹن کے آفس بلاک کے کنارے پر واقع ایک کم فرنیچر والے سٹوڈیو میں ٹھہرتے ہیں۔ اگرچہ طیب کا گرمجوشی سے خیرمقدم ہوتا ہے، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ہماری آمد غیرمتوقع ہے۔ “فکر مت کیجیے،” طیب مجھے بتاتا ہے۔ “یہ افریقیوں کا گھر ہے۔ ایک کھلا گھر۔ یہاں کون آئے گا، کون یہاں سوئے گا، اس پر کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ ہمیں آنے والوں کا خیرمقدم کرنا ہی ہوتا ہے۔ ہم نومادی ہیں۔” اس لفظ پر میرے تاثر سے نہ سمجھ پانے کا اظہار ہوا ہو گا۔ طیب ہنستا ہے۔ “خانہ بدوش!”

مبراک فوراً گلاسوں میں چائے پیش کرتا ہے جو چھوٹے کالے ریچھوں کی شکل کے بنے ہوے ہیں جن کے سر ہلکے زرد رنگ کے ہیں۔ پھر وہ کھانے کی تیاری میں لگ جاتا ہے۔ دو اور موریتانیائی بھی آ جاتے ہیں جو طیب کے دوست ہیں۔ تیز لہجے میں بولی جانے والی عربی اور بےتحاشا قہقہوں سے ساری فضا بھر جاتی ہے۔ طیب کی شخصیت حیران کن طور پر منقلب ہو گئی ہے، بالکل اسی طرح جیسے “غلام عورت کا کیسٹ” سنتے وقت ہوا تھا۔ انگریزی زبان بولتے وقت احتیاط اور تامّل سے بات کرنے والا طیب عربی بولتے ہوے پُرجوش اور پُراعتماد، بلکہ باتونی، بن جاتا ہے۔ اس کے لطیفے سن کر اس کے دوست بےاختیار قہقہے لگاتے ہیں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ یہ لو گ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔ مبراک بڑی سی قاب میں بھیڑ کے گوشت، پاستا، سلاد اور خس خس پر مشتمل کھانے لے کر آتا ہے اور اسے فرش پر کمرے کے بیچوں بیچ رکھ دیتا ہے۔ ہم سب مل کر ایک ہی قاب میں ہاتھوں سے کھاتے ہیں، اور گفتگو کی رفتار دھیمی ہونے پر میں اس کے کچھ حصے کی ترجمانی کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہوں۔

معلوم ہوتا ہے کہ طیب کے عوامی سطح پر مہم شروع کرنے کے بارے میں ملی جلی رائے پائی جاتی ہے۔ اس کے دوستوں میں سے کم ازکم ایک یہ جان کر خاصا فکرمند ہے — اور غالباً ناخوش بھی — کہ میں صحافی ہوں۔ اس گروپ کے تقریباً سب لوگ ہراتین نسل کے ہیں، اور سب کے سب، کسی نہ کسی سطح پر غلامی کے خلاف تحریک میں شامل ہیں۔ طیب واضح طور پر الحر تنظیم کا ایک سینئر رکن ہے لیکن دوسرے افراد اس میں اگر کوئی مقام رکھتے ہیں تو اس کی توضیح نہیں کی جاتی۔ ان میں سے ایک شخص ایک معروف آزاد ہراتین خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ درحقیقت اس کا چچا مختصر سی مدت کے لیے امریکہ میں موریتانیہ کا سفیر بھی رہ چکا ہے۔ اس واقعے کو تاسف آمیز ہنسی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ “حکومت تعلیم یافتہ ہراتینوں کی تلاش میں رہتی ہے تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ ہم لوگ اب غلام نہیں ہیں،” طیب وضاحت کرتا ہے۔ “اس طرح انھوں نے نے ایک ہراتین کو سفیر بنا کر یہاں بھیج دیا۔ یہ ان کے لیے بہت عمدہ پروپیگنڈا تھا۔ مگر پھر وہ نافرمان ہو گیا۔ امریکی اخباروں سے غلامی کے بارے میں بات کرنے لگا! حکومت نے سال پورا ہونے سے پہلے اسے ہٹا دیا۔”

اس گروپ کا ہر شخص، کم ازکم جزوقتی طور پر، طالب علم ہے اور ان مواقع پر اور اس آزادی کے بارے میں جو ان کو یہاں دستیاب ہے، واضح طور پر پُرجوش ہے۔ لیکن موریتانیہ کے بارے میں امریکی پالیسی کا معاملہ دوسرا ہے۔ ایک وقت میں، مجھے بتایا جاتا ہے، امریکہ موریتانیہ میں غلامی کے رواج کی متواتر مذمت کرتا تھا، اور وہاں کی حکومت کو باقاعدگی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مجرم ٹھہراتا تھا۔ اقتصادی دباؤ بھی ڈالا گیا اور غلامی مخالف تحریک کو محسوس ہونے لگا کہ اسے امریکی حمایت حاصل ہے۔ پھر یہ ہوا کہ وہاں کی حکومت نے، جو مدتوں سے صدام حسین کے نزدیک رہی ہے، بلکہ خلیج کی جنگ کے دوران عراق کی حمایت بھی کر چکی ہے، 1995 میں یکایک یہ فیصلہ کیا کہ اسے امریکی امداد کی ضرورت ہے اور اس نے اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں امریکہ کی حمایت اور صدام حسین کی مخالفت میں ووٹ دینا شروع کر دیا۔ “بلاشبہ صدام کے ہم بھی خلاف ہیں،” طیب کہتا ہے، “ہم بھی مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں۔ مگر اب اچانک امریکی محکمۂ خارجہ نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ موریتانیہ میں غلامی کا کوئی وجود نہیں، صرف غلامی کی باقیات موجود ہیں۔” مبراک اور اس کے دوست منھ بنا کر تلخی سے “باقیات” کا لفظ بڑبڑاتے ہیں۔ “یہ موریتانیہ کی حکومت کے لیے صدام کی مخالفت کرنے کا انعام ہے۔”

پس منظر میں ٹی وی چل رہا ہے۔ جب گفتگو دوبارہ عربی میں شروع ہو جاتی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ ٹی وی پر نکولس کیج اور لارا ڈرن ایک قدیم زمانے کی کنورٹیبل میں لہراتے پھر رہے ہیں، ہر چند منٹ بعد مباشرت کرتے ہیں، اور جب مباشرت نہ کر رہے ہوں تو اپنی مباشرت کی شعریات اور مابعدالطبیعیات پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ مبراک کے کمرے میں موجود کوئی اور شخص ٹی وی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ ان کے لیے یہ محض مغربی لذت پسندی ہے جس کے دلکش، بےباک مناظر ہمیشہ کچھ دوری پر دکھائی دیتے رہتے ہیں۔

یا شاید یہ مناظر اتنے دلکش بھی نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ طیب نے مجھے بتایا تھا کہ کس طرح اسے ہارلم میں اپنے رشتےدار کے ساتھ رہتے ہوے رَیپ میوزک سے نفرت ہو گئی تھی کیونکہ وہ دن رات اونچی آواز میں بجایا جاتا تھا۔ “گندے الفاظ!” اس نے کہا تھا، “کوئی تہذیب نہیں، کوئی موسیقی نہیں۔” میں نے اس کے سامنے گینگسٹر رَیپ میوزک کی بہیمیت کی وہی توجیہہ پیش کی جو عموماً پیش کی جاتی ہے، یعنی یہ کہ یہ ایک بہیمانہ دنیا کا ایماندارانہ عکس ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ اس توجیہہ سے مطمئن نہ ہوا۔ “دکھ اٹھا کر لوگ حسین موسیقی بھی تو پیدا کرتے ہیں،” اس نے کہا۔ “خود اس ملک میں غلامی نے خوبصورت موسیقی پیدا کی ہے — گوسپل، بلوز، جاز۔ یہ موسیقی خوبصورت نہیں ہے۔” افریقی انقلابی — کیونکہ طیب موریتانیہ کے تناظر میں ایک انقلابی ہے — تہذیبی اعتبار سے قدامت پسند بھی ہے، میں نے سوچا۔

اور اس کا وطن واپسی کا منصوبہ بھی کسی طرح عظیم الشان نہیں ہے۔ اس نے ایک بار مجھے بتایا تھا، کہ وہ اعیون العطروس کے دیہی علاقے میں، جہاں وہ پیدا ہوا تھا، خاموش اور پُرسکون زندگی بسر کرنے کا خواہش مند ہے۔ وہ قانون کی پریکٹس کرنا چاہتا ہے تاکہ مفلس ہراتینوں کے مقدموں کی سول اور شرعی عدالتوں میں پیروی کر سکے، ان کو آزاد لوگوں کے حقوق دلوا سکے، جن میں ان زمینوں کے مالکانہ حقوق بھی شامل ہیں جن پر وہ محنت کرتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹا سا مکان بنائے گا، اور اس میں بجلی کی فٹنگ خود کرے گا، اور اس کو کتابوں سے بھر دے گا۔

طیب اور اس کے دوستوں کو باتیں کرتا دیکھ کر مجھے اچانک خیال آیا کہ اگرچہ یہ لوگ یہاں بس کنڈکٹر، پلمبر اور ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں — یعنی امریکہ کے سماجی حفظِ مراتب میں تقریباً زیریں ترین مقام پر مشقت کرنے والے افریقی تارکینِ وطن میں شامل ہیں — ان سب کو ایک نہ ایک دن وکیل، تاجر یا انتظامی ماہر بن کر موریتانیہ واپس جانے کی امید ہے۔ لیکن ان کے ہراتین نسل سے تعلق کے باعث ان کی کامیابی کا سارا دارومدار وطن میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں پر ہے۔ اور پھر ان میں سے ہر ایک طیب کی طرح شناخت کے قدیم جامد ساختوں کے خلاف کشمکش، یعنی اپنے ذہن سے صدیوں کی غلامی کے اثرات دور کرنے کی جدوجہد، میں بھی مصروف ہے۔ اب بھی طیب کو ہر صبح نیویارک میں یمنی مالکوں کی دکانوں پر انتہائی عامیانہ اور گہری عرب نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ “وہ اب بھی مجھے عبد کہتے ہیں،” اس نے ایک بار مجھے بتایا تھا۔ “وہ ناخواندہ ہیں۔ میں ان کے بہت سے ایسے کام کرتا ہوں جو وہ خود نہیں کر سکتے، لیکن وہ اب بھی تمام سیاہ فاموں کو غلام ہی سمجھتے ہیں۔”

سکرین پر ڈینس روڈمین کی شکل دکھائی دیتے ہی سب کی توجہ ٹی وی کی طرف ہو جاتی ہے۔ اس کی حرکات پر تعریفی ہنسی کا ردعمل ہوتا ہے۔ “موریتانیہ میں بھی اس قسم کے مسخرے ہوتے ہیں،” طیب وضاحت کرتا ہے۔ “وہ آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر چیز ان کی مخالف ہے، جبکہ درحقیقت وہ خود ہر چیز کے مخالف ہیں۔ یہ لوگ بہت مضحکہ خیز ہیں۔”

رفتہ رفتہ لوگ شب بخیر کہہ کر رخصت ہوتے جاتے ہیں۔ مبراک موبائل فون اور ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول لے کر اپارٹمنٹ کے واحد بستر پر دراز ہو جاتا ہے۔ طیب کاؤچ پر لیٹ جاتا ہے، جو میرے لیے بہت چھوٹا ہے۔ میں ایک پتلا سا گدّا بچھا کر، جو مجھے کونے میں لپٹا ہوا دکھائی دیا تھا، فرش پر سو جاتا ہوں۔ صبح کے وقت، نیم بیداری میں، میں طیب کو، جو بہت سحرخیز ہے، اپنے معمول کے کاموں میں تیزرفتاری، خاموشی اور انہماک کے ساتھ مصروف دیکھتا ہوں۔ وہ نہاتا ہے، شیو کرتا ہے، کپڑے بدلتا ہے: بے داغ کوٹ اور ٹائی۔ پھر کونے میں جا کر خاموشی سے نماز پڑھتا ہے۔ اس کے بعد اپنے وِنائل کے سفری تھیلے میں سے دعاؤں کی سبز کتاب نکال کر آدھ گھنٹے تک اس کا مطالعہ کرتا ہے۔ آخر میں وہ اپنی جیبوں اور اپنے بیگ سے بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے کاغذوں کے پرزے برآمد کرتا ہے اور انھیں کاؤچ پر اپنے چاروں طرف پھیلا کر ان کا بغور جائزہ لینے لگتا ہے۔ میرا تجسس بیدار ہو جاتا ہے اور میں نیم غنودہ آواز میں پوچھتا ہوں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ “ووکیبلری!” وہ کہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چارلس جیکبس چاہتا تھا کہ طیب مستقل طور پر بوسٹن منتقل ہو جائے اور غلامی مخالف گروپ میں کل وقتی مصروفیت اختیار کر لے۔ اس نے لوگوں سے کہنا بھی شروع کر دیا کہ طیب بوسٹن آنے والا ہے۔ طیب اس پر حیران رہ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ جیکبس اس کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بےتکلفی برت رہا ہے، اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر بےشمار لوگوں سے طیب کے ماضی (بطور غلام) اور مستقبل (بطور اس کی تنظیم کے ترجمان) کا تذکرہ کرتا پھر رہا ہے۔ جیکبس کو خود بھی مبہم سا ہی اندازہ تھا کہ طیب کا اس کی تنظیم میں قطعی طور پر کیا کردار ہو گا۔ طیب نے اسے اس کی پیشکش کی شرائط کاغذ پر لکھ کر دینے کو کہا: عہدہ، ذمے داریاں، تنخواہ وغیرہ۔ اب حیران ہونے کی باری جیکبس کی تھی۔ اس کے ذہن میں جو خیال تھا وہ خاصا غیررسمی نوعیت کا تھا۔ اور یہی وہ بات تھی جس کا طیب کو سب سے زیادہ خوف تھا۔ وہ بالکل غریب تھا اور اسے ان تقریروں کا معاوضہ درکار تھا جن کا انتظام جیکبس کر رہا تھا۔ اور وہ یہ بات بھی یقینی طور پر معلوم کرنا چاہتا تھا کہ امریکیوں کو اپنے غمناک بچپن کا حال سنانے کے علاوہ اس کی دوسری ذمےداریاں کیا ہوں گی۔ اس کی اس کہانی کو دہراتے رہنے کی خواہش محدود تھی۔ یہ ایک دردناک کہانی تھی، اور وہ خود ایک مفرور غلام کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔ وہ ایک وکیل، سکالر اور سیاسی کارکن تھا۔ علاوہ ازیں، خود اس کی تنظیم الحر کی پالیسی اپنے ارکان کو ان کی انفرادی کہانیوں پر زور دینے سے باز رکھنے کی تھی۔

جیکبس نے طیب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ امریکی حاضرین صرف انفرادی کہانیوں کو سن کر ہی متاثر اور کسی ناانصافی کے شکار لوگوں کی مدد پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ اپنے زخموں کی نمائش کرنے سے طیب کا احتراز قابل فہم ہے، لیکن اس طرح اسے غلامی کے خاتمے کے لیے مدد حاصل کرنے کا ایک ناقابل یقین موقع مل رہا ہے۔ جیکبس کی مدد سے یہ ممکن ہے کہ وہ اعلیٰ ترین حلقوں تک رسائی حاصل کر سکے اور وہاں اس کی بات سنی جائے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی اکیلے یہ کام انجام نہیں دے سکتا۔ طیب کے پاس محض ایک سیاسی کارکن ہونے سے کہیں آگے جانے کا موقع ہے۔ وہ گاندھی، فریڈرک ڈگلس اور کوامے نکروما کی طرح ایک مثالی کردار بن سکتا ہے۔

طیب نے جیکبس کے دلائل کو دلچسپی سے سنا لیکن یہ دلائل خود اس کے ان خیالات کو تبدیل نہ کر سکے کہ اسے اپنے لوگوں کی مدد کیونکر کرنی ہے۔ وہ بوسٹن منتقل نہیں ہوا۔ وہ اب بھی جیکبس اور اس کی تنظیم کے ساتھ کام کرتا ہے، اور عوامی مجمعوں سے خطاب بھی کرتا ہے، لیکن اپنی شرائط پر، اور شاید الحر کی شرائط پر۔ جیکبس نے جو بات دریافت کی وہ میرے خیال میں وہی تھی جس کا انکشاف اعیون العطروس میں طیب کے آقا پر ہوا تھا، یعنی یہ کہ طیب ایک انتہائی ضدی اور مشکل مخلوق ہے۔ (اگر وہ ایسا نہ ہوتا تو اب تک ایک ناخواندہ غلام کی زندگی گزار رہا ہوتا۔) اس میں تیسری دنیا کی آزادی کی تحریکوں کے وابستہ مثالی کرداروں — گاندھی اور نیلسن منڈیلا — کے ساتھ ایک طرح کی مشابہت موجود ہے: یہ دونوں بھی مضبوط ذہن والے وکیل تھے جو اپنے حریفوں کے ساتھ حددرجہ شائستگی سے پیش آتے تھے جس کی تہہ کے نیچے ایک فولادی عزم کی سختی چھپی ہوئی تھی۔ اور طیب کو آپ زیرِزمین ریل میں سفر کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ وہ وہی دبلاپتلا، سیاہ رنگ والا تارک وطن ہے، پسماندہ لوگوں کے نیویارک میں تقریبا گمشدہ، جو اپنی قیمتی ووکیبلری پر نگاہ جمائے، اپنے کام پر جا رہا ہے جہاں دکان کے مالک اب بھی اسے “عبد” کہہ کر پکارتے ہیں۔

Categories
فکشن

قالین (تحریر: حنان الشیخ، ترجمہ: اجمل کمال)

حنان الشیخ نومبر 1945 میں بیروت لبنان میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے کچھ عرصہ ‘النھار’ اخبار میں کام کیا۔ آپ کی تصانیف مشرق وسطیٰ کے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کے روایتی کردار کو چیلنج کرتی ہیں۔ حنان الشیخ اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ لندن میں مقیم ہیں۔

اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔

یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ کہانی اجمل کمال نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ طاہر رسول کی آواز میں اس کہانی کا آڈیو ورژن “آج” کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔

سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حنان الشیخ
انگریزی سے ترجمہ: اجمل کمال

جب مریم میرے بالوں کو چھوٹی چھوٹی دو چوٹیوں میں گوندھ چکی تو اس نے انگلی منھ تک لے جا کر اس کے سرے کو زبان سے تر کیا، پھر اسے میری بھنووں پر پھیرتے ہوے آہستہ آواز میں کہنے لگی، “آہ، تمھاری بھنویں کیا خوب ہیں، پورا گھر ان کے سائے میں لگتا ہے۔” پھر وہ تیزی سے میری بہن کی طرف مڑی اور اس سے بولی، “جا کر دیکھو، کیا تمھارے ابا اب تک نماز پڑھ رہے ہیں۔” اس سے پہلے کہ میں جان سکوں، میری بہن جا کر واپس آچکی تھی اور سرگوشی میں کہہ رہی تھی، “ہاں، اب تک پڑھ رہے ہیں۔” اس نے ان کی نقل کرتے ہوے اپنے ہاتھ اٹھائے اور انھیں آسمان کی طرف بلند کیا۔ میں ہنسی نہیں جیسے ہمیشہ کرتی تھی۔ مریم بھی نہیں ہنسی۔ بجاے اس کے، اس نے کرسی پر سے اپنی اوڑھنی لی اور بالوں کو اس سے ڈھانپ کر جلدی سے اسے گردن کے گرد لپیٹ لیا۔ پھر بہت احتیاط سے الماری کھول کر اس نے اپنا تھیلا نکالا، اسے بغل میں دبایا اور اپنا ایک ایک ہاتھ ہم دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ ایک ہاتھ میں نے پکڑ لیا اور دوسرا بہن نے۔ ہم سمجھ گئے کہ ہمیں بھی اس کی طرح دبے پاؤں، سانس روک کر سامنے کے کھلے ہوے دروازے کی جانب چلنا ہے۔ سیڑھیوں سے اترتے ہوے ہم نے مڑ کر دروازے کو دیکھا، پھر کھڑکی کو۔ آخری سیڑھی تک پہنچ کر ہم دوڑنے لگے اور اس وقت تک نہ رکے جب تک گلی نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی اور ہم نے سڑک پار نہ کر لی اور مریم نے ٹیکسی نہ روک لی۔

ہمارے اس طرزِعمل کا سبب خوف تھا، کیونکہ آج ہم امی کے طلاق لے کر ابا کے گھر سے چلے جانے کے بعد پہلی بار ان سے ملنے جا رہے تھے۔ ابا نے قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ امی کو کبھی ہماری صورت نہیں دیکھنے دیں گے، کیونکہ طلاق کے چند ہی گھنٹوں بعد خبر پھیل گئی تھی کہ وہ اُس شخص سے شادی کرنے والی ہیں جس سے وہ، اپنے والدین کے مجبور کرنے پر ابا سے شادی کرنے سے پہلے، پیار کرتی تھیں۔

میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، خوف سے یا دوڑنے کی وجہ سے نہیں بلکہ امی سے ہونے والی ملاقات کے اشتیاق اور گھبراہٹ کے احساس کی وجہ سے۔ میں نے خود پر اور اپنی شرم پر قابو پا رکھا تھا، پھر بھی میں جانتی تھی کہ خواہ کتنی ہی کوشش کروں، میں اپنی ماں کے سامنے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میرے اختیار سے باہر تھا کہ امی سے لپٹ جاؤں، انھیں بوسے دینے لگوں اور ان کا سر سینے سے بھینچ لوں، جبکہ بہن یہ سب بڑی بےساختگی سے کر سکتی تھی۔ جس وقت مریم نے مجھ سے اور بہن سے سرگوشی میں کہا تھا کہ ہم اگلے روز امی سے ملنے جانے والے ہیں، تبھی سے میں اس مستقل اور شدید فکر میں غرق تھی۔ میں نے تصور کرنا شروع کر دیا تھا کہ میں وہی کروں گی جو بہن کرے گی؛ میں اس کے پیچھے کھڑی ہو جاؤں گی اور اس کی حرکات کی نقالی کرنے لگوں گی۔ مگر میں اپنے آپ کو جانتی ہوں: میں نے خود کو خود پر حرف بہ حرف نقش کر رکھا ہے۔ میں کتنا ہی خود کو آمادہ کرنے کی کوشش کروں، کتنا ہی پہلے سے سوچ کر رکھوں، اصل صورت حال کا سامنا ہونے پر، فرش پر نظر گاڑے بےحرکت کھڑے ہوے، جبکہ میری پیشانی پر پڑے ہوے بل اَور گہرے ہو رہے ہوں گے، مجھے معلوم ہو گا کہ میں وہ سب کچھ بھول چکی ہوں جو میں نے طے کیا تھا۔ گو اس کے باوجود میں امید ترک نہیں کروں گی اور اپنے دہن سے ایک خفیف مسکراہٹ پیدا کرنے کی التجا ضرور کروں گی، جو، بہرحال، بےاثر ہی ثابت ہو گی۔

جب ٹیکسی ایک مکان کے دروازے کے سامنے رکی جہاں سرخ سنگی ستونوں پر دو شیر کھڑے تھے، تو میرا دل خوشی سے بھر گیا اور اندیشے میرے ذہن سے یک لخت محو ہو گئے۔ میں اس خیال پر مسرت سے مغلوب ہو گئی کہ امی ایک ایسے مکان میں رہ رہی ہیں جہاں صدر دروازے پر دو شیر کھڑے ہیں۔ میں نے بہن کی آواز سنی جو شیر کے دہاڑنے کی نقل اتار رہی تھی، اور رشک سے اس کی طرف دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے پنجے پھیلا کر اشارے سے شیر کو گرفت میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں نے دل میں کہا: یہ ہمیشہ پیچیدگی سے آزاد اور خوش طبع رہتی ہے۔ اس کی خوش دلی کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی، انتہائی نازک لمحوں میں بھی نہیں۔ وہ میرے سامنے تھی اور ہونے والی ملاقات کے بارے میں ذرہ بھر فکرمند نہیں تھی۔

لیکن جب امی نے دروازہ کھولا اور میری نظر ان پر پڑی تو میں نے خود کو بےصبر اور بےتاب پایا اور دوڑ کر بہن سے بھی پہلے ان سے لپٹ گئی۔ میری آنکھیں بند ہو گئی تھیں اور میرے بدن کے جوڑ اس آسائش سے اتنے دنوں تک محروم رہنے سے سُن ہو گئے تھے۔ میں نے ان کے بالوں کی مہک سونگھی جو ذرا بھی نہ بدلی تھی، اور مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ میں نے ان کی جدائی کو کس قدر محسوس کیا تھا اور، اس کے باوجود کہ ابا اور مریم ہمارا اتنا خیال رکھتے تھے، میں نے کس قدر چاہا تھا کہ وہ لوٹ آئیں اور ہمارے ساتھ رہنے لگیں۔ امی کی اُس وقت کی مسکراہٹ میرے ذہن سے محو نہ ہوتی تھی جب، ان کی خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا لینے کی دھمکیوں کے بعد اور مولوی کی دخل اندازی پر، ابا انھیں طلاق دینے پر رضامند ہو گئے تھے۔ میری تمام حِسیں ان کی خوشبو کے اثر سے کُند ہو گئی تھیں جو میرے حافظے میں اچھی طرح محفوظ تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے ان کی جدائی کس قدر کھل رہی تھی، اس کے باوجود کہ جب وہ ہم دونوں کو بوسے دینے کے بعد، اپنے بھائی کے پیچھے تیز قدموں سے چلتی ہوئی، کار میں جا بیٹھی تھیں تو ہم دوبارہ گھر کے باہر گلی میں جا کر اپنے کھیل میں لگ گئے تھے۔ پھر جب رات آئی، اور ایک طویل عرصے بعد ہمیں امی کے ابا سے تکرار کرنے کی آواز سنائی نہ دی، تو ہمارے گھر پر امن اور سکون کی فضا چھا گئی جس میں صرف مریم کے رونے کی آواز مخل ہوتی تھی جو ابا کی رشتےدار تھی اور میری پیدائش کے وقت سے ہمارے ساتھ رہ رہی تھی۔

امی نے مسکراتے ہوے مجھے خود سے جدا کیا تاکہ بہن کو لپٹا کر پیار کر سکیں، پھر وہ مریم سے بھی بغلگیر ہوئیں جو رونے لگی تھی۔ امی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور میں نے انھیں مریم کا شکریہ ادا کرتے سنا۔ انھوں نے آستین سے آنسو پونچھے اور مجھ پر اور بہن پر سر سے پاؤں تک نگاہ ڈالی اور کہا: “اللہ انھیں اپنی امان میں رکھے، دونوں کتنی جلدی بڑی ہو گئی ہیں۔” انھوں نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور بہن نے ان کی کمر میں منھ چھپا لیا، اور جب ہمیں احساس ہوا کہ اس حالت میں چلنا ہمارے لیے دشوار ہے تو ہم سب ہنسنے لگے۔ اندر کے کمرے میں پہنچ کر مجھے یقین ہو گیا کہ امی کے نئے شوہر گھر میں موجود ہیں، کیونکہ امی نے مسکرا کر کہا، “محمود کو تم دونوں سے بہت محبت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمھارے ابا تمھیں میرے سپرد کر دیں تاکہ تم ان کے بچوں کی طرح ہمارے ساتھ رہ سکو۔” بہن ہنسنے لگی اور جواب میں بولی، “اس طرح ہمارے دو ابا ہو جائیں گے۔” میں امی کے بازو پر ہاتھ رکھے ابھی تک گمشدگی کی کیفیت میں تھی، اور امی سے ملاقات کے لمحے میں اپنے بےساختہ برتاؤ پر نازاں تھی؛ کس طرح میں دوڑ کر ان سے لپٹ گئی تھی، جو مجھے ناممکن معلوم ہوتا تھا، اور کیسے آنکھیں بند کر کے انھیں چومنے لگی تھی۔ مجھے بلاکوشش، بندھے ہوے ہاتھوں کے ساتھ، اپنے آپ سے، شرم کے اس قیدخانے سے، رہائی پا لینے پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔

امی کے شوہر گھر پر نہیں تھے۔ میری نظر فرش پر پڑی تو میں اپنی جگہ پر جم کر رہ گئی۔ میں نے بےاعتباری کے عالم میں فرش پر بچھے ہوے ایرانی قالین کو گھورا، پھر امی پر ایک طویل نظر ڈالی۔ میری نظر کی معنویت کو نہ سمجھتے ہوے انھوں نے ایک الماری کھولی اور اس میں سے ایک کڑھی ہوئی قمیص نکال کر میری طرف اچھال دی۔ پھر وہ فرش عبور کر کے سنگھارمیز کے پاس گئیں اور اس کی دراز میں سے ہاتھی دانت کی ایک کنگھی نکال کر، جس پر سرخ رنگ سے دل کی تصویر نقش کی ہوئی تھی، انھوں نے بہن کو دی۔ میں نے ایک بار پھر امی کی طرف دیکھا، اور اس بار انھوں نے میری نگاہ کو نازک تمنا کا اظہار سمجھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے بانہوں میں لے لیا اور بولیں، “تم ہر روز آ جایا کرو، تم جمعے کو پورے دن میرے گھر رہا کرو۔” میں ساکت رہی۔ میری خواہش تھی کہ میں ان کے بازو اپنے گردن سے ہٹا دوں اور اس گوری کلائی میں دانت گاڑ دوں۔ میں نے ملاقات کے لمحے کے مٹ جانے کی خواہش کی اور چاہا کہ وہ لمحے دوبارہ پیش آئیں تاکہ جب وہ دروازہ کھولیں تو میں وہی کروں جو مجھے کرنا چاہیے تھا — یعنی فرش پر نظر گاڑے بےحرکت کھڑی رہوں۔

اس ایرانی قالین کے رنگ اور خطوط میرے حافظے پر نقش تھے۔ میں اس پر لیٹ کر اپنا سبق یاد کیا کرتی تھی۔ میں اتنے قریب سے اس پر بنے ہوے نقوش کو تکتی تھی کہ وہ مجھے سارے میں پھیلی ہوئی تربوز کی قاشیں معلوم ہونے لگتے تھے۔ مگر جب میں مسہری پر بیٹھ کر اسے دیکھتی تو مجھے محسوس ہوتا کہ تربوز کی ہر قاش باریک دندانوں والی ایک کنگھی میں بدل گئی ہے۔ اس کے کناروں پر چاروں طرف بنے ہوے پھولوں کے گچھے اُودے رنگ کے تھے۔ گرمیوں کے شروع میں امی اس پر اور دوسرے عام قالینوں پر کیڑے مار گولیاں ڈال دیتیں اور ان سب کو گول کر کے الماری کی چھت پر رکھ دیتیں۔ کمرہ خالی اور ویران نظر آنے لگتا، یہاں تک کہ خزاں آ جاتی جب وہ قالینوں کو چھت پر لے جا کر پھیلا دیتیں۔ وہ کیڑے مار گولیاں چُنتیں جن میں سے اکثر گرمی اور نمی سے گھل چکی ہوتی تھیں، پھر چھوٹی جھاڑو سے ان کی صفائی کر کے وہ قالینوں کو چھت پر ہی چھوڑ دیتیں۔ شام کو وہ انھیں نیچے لا کر اپنی اپنی جگہ پر بچھا دیتیں۔ ان کے بچھنے سے کمرے میں دوبارہ جان پڑ جاتی اور میرا دل خوشی سے بھر جاتا۔ مگر یہ والا قالین کئی مہینے ہوے، امی کی طلاق سے پہلے، گم ہو چکا تھا۔ اسے چھت پر دھوپ دینے کے لیے پھیلایا گیا تھا، اور سہ پہر کو امی چھت پر گئیں تو غائب تھا۔ انھوں نے ابا کو آواز دے کر بلایا تھا اور میں نے پہلی بار ابا کا چہرہ غصے سے سرخ دیکھا تھا۔ جب وہ دونوں چھت سے نیچے آئے تو امی طیش اور تعجب کے عالم میں تھیں۔ انھوں نے پڑوسیوں سے دریافت کیا جن میں سے ہر ایک نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے نہیں دیکھا۔ اچانک امی چلّا کر بولیں، “ایلیا!” سب لوگ خاموش کھڑے رہ گئے: ابا، بہن اور پڑوسی ام فواد اور ابوسلمان، کسی کے منھ سے ایک لفظ نہ نکلا۔ میں نے خود کو پکار کر کہتے ہوے پایا: “ایلیا؟ ایسی بات مت کہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔”

ایلیا ایک تقریباً نابینا شخص تھا جو محلے میں گھر گھر پھیری لگا کر بید کی کرسیوں کی مرمت کیا کرتا تھا۔ جب ہمارے گھر کی باری آتی تو میں اسکول سے واپسی پر اسے گھر کے باہر پتھر کی بنچ پر بیٹھا ہوا دیکھتی۔ اس کے سامنے بید کی لچھیوں کا ڈھیر پڑا ہوتا اور اس کے بال دھوپ میں چمک رہے ہوتے۔ وہ مہارت سے بید کے تار اٹھاتا اور وہ، مچھلیوں کی طرح تیرتے ہوے، جال کے اندر پھسلتے جاتے۔ میں اسے بےحد مشاقی سے ان کی گول گول لچھیاں بناتے اور پھر ان کے سرے باہر نکالتے دیکھا کرتی، یہاں تک کہ وہ کرسی کی گول نشست کو بُن کر پھر ویسا ہی درست کر دیتا جیسی وہ پہلے تھی۔ ہر چیز بالکل ہموار اور ٹھیک ہو جاتی: یوں لگتا جیسے اس کے ہاتھ مشین ہوں، اور میں اس کی انگلیوں کی پھرتی اور مہارت پر حیران رہ جاتی۔ جب وہ سر جھکائے مشغول بیٹھا ہوتا تو یوں معلوم ہوتا جیسے وہ اپنی آنکھوں سے کام لے رہا ہے۔ ایک بار مجھے شک ہوا کہ وہ اپنے سامنے دھندلی شکلوں سے کچھ زیادہ دیکھ سکتا ہے، اس لیے میں اس کے سامنے گھنٹوں کے بل بیٹھ گئی اور اس کے لال گلابی چہرے پر نظر جما کر عینک کے پیچھے چھپی ہوئی آنکھیں دیکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان آنکھوں میں ایک سفید لکیر تھی جو میرے دل میں چبھنے لگی اور میں جلدی سے بھاگ کر باورچی خانے میں چلی گئی جہاں مجھے میز پر ایک تھیلی میں کھجوریں پڑی ملیں اور میں نے ایک رکابی میں تھوڑی سی کھجوریں رکھ کر ایلیا کو دیں۔

میں نظر جمائے قالین کو گھورتی رہی اور سرخ چہرے اور سرخ بالوں والے ایلیا کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے اُبھر آئی۔ مجھے اس کے کسی کی مدد کے بغیر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آتے ہوے، زینے کے ہتھے پر اس کا ہاتھ محسوس ہوا؛ پھر میں نے اسے کرسی پر بیٹھتے ہوے محسوس کیا، اپنی اجرت طے کرتے ہوے، پھر جیسے وہ کھانا کھا رہا ہو اور اسے خودبخود پتا چل جائے کہ رکابی خالی ہو گئی ہے، آبخورے سے پانی پیتے ہوے جب پانی آسانی سے اس کے حلق میں اتر رہا ہو۔ ایک دوپہر کو، جب ابا کے سکھائے ہوے طریقے سے، کہ کیسے کسی مسلمان کے گھر پر دستک دینے سے پہلے بلند آواز میں اللہ کا نام پکارنا چاہیے کہ مبادا امی بےپردہ ہوں، وہ ہمارے دروازے پر آیا تو امی تیزی سے بڑھیں اور اس سے قالین کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نے جواب میں کچھ نہ کہا، بس ایک سبکی سی لی۔ واپس جاتے ہوے اسے میز سے ٹھوکر لگی اور وہ پہلی مرتبہ الجھ کر گرا۔ میں اس کے پاس گئی اور ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا۔ وہ مجھے میرے ہاتھ کے لمس سے پہچان گیا ہو گا، کیونکہ اس نے نیم سرگوشی میں مجھ سے کہا، “کوئی بات نہیں، بچی۔” پھر وہ جانے کے لیے مڑا۔ جب وہ جھک کر جوتے پہن رہا تھا تو مجھے خیال ہوا کہ میں نے اس کے رخساروں پر آنسو دیکھے ہیں۔ ابا نے اس سے یہ کہے بغیر اسے جانے نہ دیا کہ “ایلیا! اگر تم سچ کہہ دو تو اللہ تمھیں معاف کر دے گا۔” لیکن ایلیا جنگلے کا سہارا لیے چلتا گیا۔ ٹٹول ٹٹول کر سیڑھیاں اترنے میں اس نے بہت وقت لگایا۔ پھر وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا اور ہم نے اسے پھر کبھی نہیں دیکھا۔

Categories
فکشن

کھیل ختم ہوا (تحریر: غلام حسین ساعدی، ترجمہ: اجمل کمال)

غلام حسین ساعدی معروف ایرانی دانشور اور مصنف غلام حسین ساعدی 1936 میں تبریز میں پیدا ہوئے۔ آپ نے چالیس سے زائد کتب تحریر ۔کیں۔ داریوش مھرجویی کی فارم “گاو” کے لیے لکھے گئے سکرین پلے کو ساعدی کا شاہکار خیال کیا جاتا ہے۔ یہ فلم جدید ایرانی سینما کا نقطہ آغاز سمجھی جاتی ہے۔ آپ ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی آف آزربائیجان سے بھی وابستہ رہے۔ 60 کی دہائی میں ایران میں ریاستی سنسنرشپ میں اضافے کے باوجود آپ نے لکھنا جاری رکھا۔ تاہم 1974 میں رضا شاہ پہلوی کے دور میں گرفتاری اور پھر ایک سال بعد رہائی کے نے آپ کو بری طرح متاثر کیا۔ انقلاب ایران کے بعد آپ نے کچھ عرصہ بائیں بازو کی طرف رحجان رکھنے والی لبرل جماعت نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ میں شمولیت اختیار کیے رکھی۔ بعدازاں، آپ پاکستان کے راستے فرانس چلے گئے جہاں وہ 1985 میں اپنے انتقال تک مقیم رہے۔

اجمل کمال اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔

یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ غلام حسین ساعدی کی یہ کہانی اجمل کمال نے فارسی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ اس کہانی کا آڈیو ورژن “آج” کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ چینل کو سبسکرائب کیجیے اور بیل آئی کون پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔

سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غلام حسین ساعدی
فارسی سے ترجمہ: اجمل کمال

1

حسنی نے خود مجھ سے کہا تھا کہ رات کو اس کے جھونپڑے میں چلیں گے۔ میں اس کے ہاں کبھی نہیں جاتا تھا، نہ وہ کبھی ہمارے ہاں آتا تھا۔ میں اپنے بابا کے ڈر سے اسے نہیں بلاتا تھا، اور وہ اپنے بابا کے ڈر سے مجھے۔ وہ بھی اپنے بابا سے بہت ڈرتا تھا، بلکہ مجھ سے بھی زیادہ ڈرتا تھا۔ مگر وہ رات دوسری راتوں کی طرح نہیں تھی۔ میں جانے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ حسنی مجھ سے ناراض ہو جاتا، رنجیدہ ہوتا، سمجھتا کہ میں اس کا دوست نہیں رہا۔ بس اسی طرح میں چلا گیا۔ میں نے پہلی بار اس کے جھونپڑے میں قدم رکھا۔ ہم ایک دوسرے سے ہمیشہ گھر کے باہر ملتے تھے۔صبح کو میں اس کے جھونپڑے کے باہر پہنچ کر زور سے سیٹی بجاتا— یہ خوش آواز سیٹی بجانا اسی نے مجھے سکھایا تھا— اور اس طرح سیٹی بجا کر میں اسے پیغام دیتا کہ “حسنی، آ جاؤ، کام کا وقت ہو گیا۔”حسنی اپنی بالٹی اٹھا کر باہر نکل آتا۔ایک دوسرے کو سلام کرنے کے بجاے ہم دونوں مکابازی کرتے تھے۔خوب زور کے مکے لگاتے جن سے درد ہوتا تھا۔ ہمارا یہی طریقہ تھا۔ ایک دوسرے سے ملتے یا رخصت ہوتے ہوے مکے بازی ہوتی۔ سواے اس وقت کے جب ایک دوسرے سے ناراض ہوں یا کسی بات پر لڑائی ہو چکی ہو۔ پھر ہم ساتھ چل پڑتے اور جھگیوں جھونپڑوں میں سے گزر کر مُردے نہلانے والے مکان کے پاس کے گڑھے پر پہنچتے۔ شہرداری کے کوڑا اٹھانے والے ٹرک اپنا کوڑا یہیں پھینکتے تھے۔ ایک روز میں ٹین ڈبے جمع کرتا اور حسنی کانچ کے ٹکڑے، دوسرے دن وہ ٹین ڈبے چنتا اور میں کانچ کے ٹکڑے۔ کبھی کبھار ہمیں کوئی بہتر چیز بھی ہاتھ آ جاتی— بناسپتی گھی کا خالی کنستر، بچے کی چوسنی، ٹوٹی ہوئی گڑیا، کارآمد جوتا، یا سالم شکردان جس کے صرف دستے پر بال پڑا ہوتا، یا پلاسٹک کا لوٹا۔ ایک بار تو مجھے “و اِنّ یکاد…” کا تعویذ ہاتھ آ گیا تھا، اور ایک بار حسنی کو غیرملکی سگریٹ کا پورا بھرا ہوا ڈبا۔ جب ہم تھک جاتے تو کوڑے کے گڑھے کے دوسری طرف، بڑے سے میدان سے گزر کر، حاج تیمور کے اینٹوں کے پرانے بھٹے پر پہنچ جاتے جو بند پڑا تھا اور اب یونہی خدا کے نام پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ میدان میں اِدھر اُدھر ہر چند قدم پر گہرے کنویں کھدے ہوے تھے۔ اور دو چار نہیں، ایک دوسرے کی بغل میں کنویں ہی کنویں تھے۔ ایک بار ہم دونوں نے ارادہ کیا کہ ان کنووں کو گنتے ہیں، مگر پچاس تک پہنچ کر ہماری ہمت ٹوٹ گئی اور ہم نے گننا چھوڑ دیا۔ کنووں کے پاس پہنچ کر ہم خوب مزے سے کھیلتے۔ وہاں سو جاتے یا الٹے لیٹ کر سینے تک کنویں میں لٹک جاتے اور عجیب و غریب آوازیں نکالتے۔ آوازیں کنویں میں گھومتی ہوئی واپس آتیں۔ ہر کنواں ایک خاص طرح کی آواز نکال کر ہمیں جواب دیتا تھا۔ زیادہ تر ہم کنویں میں منھ ڈال کر قہقہے لگاتے اور جواب میں ہمیں رونے کی آوازیں سنائی دیتیں۔تب ہم ڈر جاتے۔ پھر ہنستے، زیادہ دیر تک اور زیادہ زور سے ہنستے، اور کنویں سے آتی رونے کی آوازیں بھی بڑھتی جاتیں، اونچی ہوتی جاتیں۔ میں اور حسنی وہاں زیادہ تر وقت اکیلے ہوتے۔ دوسرے بچے کوڑے کے گڑھے کی طرف کم آتے تھے۔ ان کی امائیں انھیں آنے نہیں دیتی تھیں۔ ڈرتی تھیں کہ کہیں کنویں میں نہ گر پڑیں یا کوئی اور بلا ان کے سر نہ آ جائے۔ لیکن میں اور حسنی بڑے ہو گئے تھے اور روز بھری ہوئی جیب لے کر گھر لوٹتے تھے، اس لیے ہماری امائیں ہم سے کوئی واسطہ نہ رکھتی تھیں اور ہمیں کچھ نہ کہتیں۔

اس دن، یعنی جس رات میں حسنی کے گھر گیا تھا اس دن سہ پہرکو حسنی بہت غمگین اور غصے کی حالت میں باہر آیا۔ اس کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں، آنکھوں سے لگتا تھا، بہت رویا ہے۔ اس میں کام کرنے کا حوصلہ نہ تھا۔ مردے نہلانے والے مکان کے باہر بنے گڑھے کے پاس پہنچ کر وہ بالکل کھویا ہوا اِدھر اُدھر بھٹکتا اور کوڑے کے ڈھیر کو لاٹھی سے کریدتا رہا۔ وہ اپنے بابا کو ماں بہن کی گالیاں دے رہا تھا۔ میں جانتا تھا کیا بات ہے۔ اس روز دوپہر کو اس کا باپ بہت غصے کے عالم میں گھر لوٹا۔ اس کا اپنے مالک سے جھگڑا ہوا تھا اور اس نے اسے نوکری سے نکال دیا تھا۔ گھر پہنچتے ہی اس نے حسنی پر اپنا غصہ اتارنا شروع کر دیا۔ ہمیں حسنی کے رونے چلّانے کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ میری اماں نے حسنی کے بابا کو ملامت بھی کی تھی کہ کیوں بلاوجہ بے قصور بچے کو ادھیڑے دے رہا ہے۔ میں نے دیکھا، اس کی کمر اور کندھوں پر نیل پڑے تھے اورایک آنکھ بھی سوج کر نیلی ہو گئی تھی۔حسنی کا باپ ہر رات جھونپڑے میں گھستے ہی، کپڑے بدلنے یا منھ ہاتھ دھونے سے پہلے، حسنی کی ٹھکائی شروع کر دیتا تھا۔ جب تک تھک نہ جاتا، اسے مارتا رہتا۔ گھونسوں اور لاتوں سے، لکڑی، رسی، پیٹی، جو کچھ ہاتھ لگتا اس سے اسے پیٹنے لگتا، اور ساتھ میں زور زور سے گالیاں بھی دیتا جاتا۔ اس قدر دھنائی کرتا کہ حسنی کی چیخوں سے سارا محلہ گونج اٹھتا۔ پڑوس کے لوگ اس کی مدد کو پہنچتے اور اس کے باپ کے چنگل سے اسے چھڑاتے۔ حسنی کے باپ کا یہ روز کا معمول تھا، مگر میرا بابا مجھے ہفتے میں ایک یا دو بار مارتا تھا جب اس کا مزاج بگڑا ہوا ہوتا۔جب زیادہ پیسے نہ کمائے ہوتے تو میری اور احمد اور رضا کی جان کو آ جاتا اور خوب پٹائی کرتا۔ مگر میری اماں بیچ میں پڑ کر رونے چلّانے لگتی کہ “کیوں بچوں کو مارے ڈال رہے ہو؟ کیوں انھیں اپاہج کیے دیتے ہو؟”بابا پلٹ کر اماں پر پل پڑتا اور وہ چیخ کر ہم سے باہر نکل جانے کو کہتی۔ جب تک ہم واپس گھر میں آتے، ہمارا بابا ٹھنڈا ہو کر ایک کونے میں بیٹھا ہوتا یا اماں سے کہہ رہا ہوتا، “بچوں سے کہو، آ کر کچھ کھا پی لیں۔”

لیکن حسنی کے باپ کو اپنے باقی بچوں سے کچھ غرض نہ تھی، صرف حسنی کو پیٹتا تھا، باقی بچوں کو کچھ نہ کہتا۔ اور حسنی کی اماں بھی کبھی اسے باہر بھاگ جانے کو نہ کہتی۔اس لیے کہ حسنی کا بابا دروازے کو گھیرے کھڑا ہوتا اور وہیں سے حملہ کر کے حسنی کو لاتوں اور گھونسوں کی زد پر رکھ لیتا۔ بال پکڑ کر اس کا سر دیوار سے ٹکرانے لگتا۔ اس روز پہلی بار اس نے دوپہر کو گھر پہنچ کر حسنی کو پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ حسنی بہت بگڑا ہوا تھا۔ میں نے اسے معمول پر لانے کے لیے کہا، “چلو اوپر چلتے ہیں۔” کوڑے کے گڑھے کو پار کر کے ہم کنووں والے میدان میں پہنچ گئے اور ایک کنویں کے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے بہت کوشش کی مگر وہ ایک لفظ نہ بولا۔ آخر میں کنویں کے پاس لیٹ گیا اور اس میں سر ڈال کر گائے کی آوازیں نکالیں، کتے کی طرح بھونکا، قہقہے لگائے، رویا، جو کچھ مجھے آتا تھا سب کیا۔ لیکن حسنی جوں کا توں، منھ سُجائے، غمگین بیٹھا لاٹھی سے اپنی ٹانگ پر ضربیں لگاتا رہا۔ آخر میں نے سیٹی بجا کر اس سے پوچھا، “حسنی، کیا ہوا؟”

حسنی نے جواب نہ دیا۔ میں نے زور سے پکارکر کہا، “حسنی، او حسنی!”

اس پر اس نے پلٹ کر پوچھا، “کیا ہے؟”

میں نے کہا، “یوں منھ پھلائے رکھنے سے کیسے چلے گا؟”

بولا، “نہ چلے، مجھے کیا۔”

میں نے کہا، “خدا کے لیے، اب کڑھنا بند کرو۔”

بولا، “کیسے بند کروں؟ میرے ہاتھ میں ہے کیا؟”

میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس سے کہنے لگا، “چلو اٹھ جاؤ، اٹھو، کچھ کرتے ہیں جس سے تمھاری حالت ٹھیک ہو۔”

حسنی نے ایک بار پھر لاٹھی اپنی پنڈلی پر ماری اور پوچھا، “کیا کریں گے؟”

میں سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا کیا جائے کہ حسنی کی حالت ٹھیک ہو۔ میں نے کہا، “چلو سڑک پر جا کر گاڑیاں دیکھیں۔”

اس نے جواب دیا، “اس سے کیا فائدہ ہو گا؟”

میں نے کہا، “اُس روز کی طرح میّت گاڑیاں گنیں گے۔ دیکھتے ہیں ایک گھنٹے میں کتنی گزرتی ہیں۔”

بولا، “جتنی بھی گزریں، گزرتی رہیں۔ مجھے کیا۔”

میں نے کہا، “چلو پھر حاج تیمور کے بھٹے کی چھت سے پتھر پھینکیں۔”

بیزار ہو کر بولا، “میں نہیں جاتا۔ تمھارا جی چاہے تو جا کر پھینکنے لگو۔”

میں کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھ گیا۔ وہ کسی طرح میری کوئی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ میں نے کہا، “سب سے اچھا یہ کہ چوک میں چلتے ہیں، وہاں بڑے تماشے ہیں۔”

بولا، “کون کون سے؟”

میں نے کہا، “سنیماگھر میں جا کر تصویریں دیکھتے ہیں، بعد میں سنگتراشوں کے چوک کے پیچھے جا کر درویش سگ دوست کا تماشا دیکھیں گے۔”

بولا، “چوک میں پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی۔”

میں نے کہا، “گاڑی میں چلیں گے۔”

بولا، “پیسے کہاں ہیں؟”

میں نے کہا، “میرے پاس بارہ ریال ہیں۔”

بولا، “انھیں اپنے پاس ہی رکھو۔”

میں نے کہا، “چلو چل کر کچھ کھاتے ہیں۔ ٹھیک ہے؟”

بگڑ کر کہنے لگا، “مجھے کچھ نہیں کھانا۔”

اب میں عاجز ہو گیا۔ یونہی سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ شکرائی کے باغ پر نظر پڑی۔ میں نے کہا، “اے حسنی، چل کر پھل چراتے ہیں۔”

اس نے جواب دیا، “ہاں، آج مجھے کم مار پڑی ہے کہ اب باغبان سے بھی پٹوانا چاہتے ہو؟”

کچھ دیر ہم دونوں چپ رہے۔ بھٹے کے دوسری طرف سے دو آدمی نکلے، کچھ دیر کھڑے ہمیں دیکھتے رہے، پھر باغ کی دیوار کود کر اندر چلے گئے۔ کچھ چیخیں سنائی دیں، پھر باغ سے کئی لوگوں کے قہقہے لگانے کی آوازیں آئیں۔ میں نے حسنی سے کہا، “مجھ سے کیوں ناراض ہو؟”

بولا، “تم سے ناراض نہیں ہوں۔”

ہم پھر چپ ہو گئے اور حسنی اسی طرح لاٹھی سے اپنی ٹانگ پر ضربیں لگاتا رہا۔

میں نے کہا، “اتنا مت مارو۔ پاگل ہو گئے ہو؟”

بولا، “ٹھیک ہے۔ مجھے درد نہیں ہوتا۔”

میں نے کہا، “اچھا کوئی بات کرو۔”

بولا، “مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔”

آخر تنگ آ کر میں چلّایا، “بس کرو اب! بہت ہو گیا۔اٹھو، اٹھ جاؤ اب!”

ہم دونوں اٹھ کر چل پڑے۔ یونہی کنووں کے بیچ سے گزرتے ہوے میں نے کہا، “حسنی۔”
بولا، “کیا ہے؟”

میں نے کہا، “سچ بتاؤ، کیا چاہتے ہو؟ تم جو چاہو میں کروں گا۔ تمھارے لیے سب کچھ کروں گا۔”

بولا، “چاہتا ہوں اس بابا کتے کے بچے کی ایسی ٹھکائی کروں کہ بس۔”

میں نے کہا، “ٹھیک ہے، پھر کرتے کیوں نہیں؟”

اس نے جواب دیا، “میں اکیلا کیسے کروں؟ مجھ میں اتنا زور نہیں۔”

میںنے کہا، “پتا ہے، تم میں اتنا زور نہیں۔”

وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، “تم میرا ساتھ دو تو ہم دونوں مل کر اس سے حساب صاف کر سکتے ہیں۔”

میں سوچ میں پڑ گیا۔ مجھے اس کے بابا سے ڈر لگتا تھا، بہت ڈر لگتا تھا۔ سب بچے حسنی کے بابا سے ڈرتے تھے۔ حسنی کا باپ بچوں کا دشمن تھا؛ کوئی اس کے پاس نہ جاتا، کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتا۔ وہ کسی کے سلام کا کبھی جواب نہ دیتا تھا، صرف مڑ کر گھورنے لگتا تھا۔ میرا بابا کہتا تھا کہ یہ مردود پاگل ہے، اس کا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے۔ اب میں بھلا کس طرح جا کر اس کی ٹھکائی کر سکتا تھا؟ لیکن اگر ایسا نہ کرتا تو حسنی مجھ سے ناراض ہو جاتا اور غصہ کرتا۔ اور میں نہیں چاہتا تھا کہ حسنی مجھ پر غصہ کرے۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ حسنی نے کہا، “میری مدد نہیں کرنا چاہتے؟”

میں نے کہا، “کیوں نہیں کرنا چاہتا، ضرور کرنا چاہتا ہوں۔”

وہ بولا، “پھر جواب کیوں نہیں دیتے؟”

میں نے کہا، “آخر ہم اس کی ٹھکائی کیسے کر سکتے ہیں؟”

حسنی بولا، “تم رات کو میرے گھر آنا۔ دونوں اندر جا کر کونے میں چھپ جائیں گے۔ جیسے ہی وہ اندر گھسے گا، دونوں اس پر حملہ کر دیں گے۔ ٹانگیں کھینچ کر اسے زمین پر گرا دیں گے اور خوب پٹائی کریں گے۔”

میں نے پوچھا، “اور اس کے بعد کیا ہو گا؟”

اس نے کہا، “کچھ بھی نہیں ہو گا۔ بس اس کی سمجھ میں آ جائے گا کہ پٹائی کا مزہ کیسا ہوتا ہے۔ اور میرا دل ٹھنڈا ہو جائے گا۔”

میں نے کہا، “بہت اچھا۔”

اس طرح ہم دونوں رات کو اس کے جھونپڑے میں پہنچے۔ رات تو نہیں ہوئی تھی، مغرب کا وقت تھا جب اندھیرا چھانے لگتا ہے۔ حسنی کا بابا ابھی نہیں آیا تھا۔ حسنی کی اماں نے کہا کہ جاؤ، گھر کے لیے پانی بھر لاؤ۔ ہم پمپ کے پاس پہنچے، پانی بھرا اور پھر وہیں انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ اتنی دیر تک اس ٹانگ سے اس ٹانگ پر وزن ڈالتے رہے کہ دور سے حسنی کا بابا آتا دکھائی دیا۔وہ کچھ جھکا ہوا چل رہا تھا اور کندھے پر ایک تھیلا اٹھائے ہوے تھا۔

حسنی بولا، “ آ گیا کتے کا بچہ۔”

ہم دوڑ پڑے اور جھونپڑوں کے بیچ میں سے ہو کر اس کے گھر آ چھپے۔ حسنی کی اماں باہر بیٹھی چولھے پر ٹماٹر پکا رہی تھی۔ حسنی کا چھوٹا بھائی اپنی اماں کے پاس بیٹھا بلک رہا تھا۔ ہم آنگن پار کر کے آگے بڑھے، پانی کا جگ کھڑکی میں رکھا اور اندر چلے گئے۔ اندر اندھیرا تھا۔ اس کی اماں نے باہر سے پکار کر کہا، “حسنی، او حسنی، بتی جلا دے۔”

حسنی نے بتی جلائی۔ اس کی چھوٹی بہن ایک کونے میں پڑی سو رہی تھی۔ میں نے کہا، “اب کیا کریں؟”

وہ بولا، “کچھ نہیں۔ بس دروازے کے پاس بیٹھ جاؤ۔ باقی مجھ پر چھوڑ دو۔” میں وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ حسنی بھی دوسرے کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔ ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔

حسنی نے کہا، “یاد رکھنا، تمھیں اس کی ٹانگوں سے لپٹنا ہے۔”

میں نے پوچھا، “اور تم کیا کرو گے؟”

وہ بولا، “پہلے میں اس کی ٹھوڑی پر ایک گھونسا رسید کروں گا، اور پھر اس کے اوپر سوار ہو کر اسے زمین پر گرا لوں گا اور خوب کوٹوں گا۔”

مجھے ڈر لگ رہا تھا۔ معلوم نہیں اس کا کیا انجام ہو گا۔ ابھی میں انتظار میں بیٹھا تھا کہ باہر سے اس کے بابا کے چلّانے کی آواز آئی۔ پہلے اس نے زور کا نعرہ بلند کیا اور پھر چیخ کر کہنے لگا، “بدبخت عورت! میرے آنے سے بھی پہلے تو نے کھانا پکانا شروع کر دیا؟”

حسنی کی ماں نے جواب دیا، “تو اور کیا کرتی؟ گھر میں گھستے ہی تو تمھیں کچھ کھانے کو چاہیے ہوتا ہے۔”

حسنی کے بابانے چلّا کر جواب دیا، “صرف مجھے چاہیے ہوتا ہے؟ تجھے اور تیرے ان پلّوں کو نہیں؟”

پھر حسنی کی ماں کے چلّانے کی آواز آئی۔ “یا الٰہی! خدا کرے تیری ٹانگ ٹوٹ جائے!”
حسنی نے کہا، “سنا؟”

میں نے پوچھا، “کیا؟”

حسنی نے کہا، “اماں کو لات ماری ہے۔ وحشی دیوانہ!”

دوبارہ حسنی کے بابا کی آواز بلند ہوئی۔ “یہ کتے کا بچہ یہاں کیوں سو رہا ہے؟”

اس کی ماں نے کہا، “تو پھر کہاں سوئے؟”

وہ چلّایا، “مجھے کیا معلوم؟ کسی اور جگہ۔ کسی کونے میں۔”

وہ صحن میں داخل ہوا اور اپنا بوجھا دروازے کے پاس اتار کر کھانسنے لگا۔ بہت دیر تک کھانستا اور اپنے سینے کی کثافت باہر تھوکتا رہا۔ پھر اس نے زیرلب دو تین گالیاں دیں، پانی کا برتن لے کر منھ دھویا اور دو تین گھونٹ پیے۔ اس کے بعد کمرے کی طرف بڑھا۔ اس کے جوتوں کی آواز سن کر میرا دل بیٹھنے لگا۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو حسنی بالکل ڈری ہوئی بلی کی طرح آدھا بیٹھا آدھا کھڑا پیچھے کو جانے لگا۔ اس کے بابا نے دانت پیسے اور غرایا۔ حسنی کی پیٹھ دیوار سے لگی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا، “کیا کرو گے؟”

اس کا باپ زہریلی ہنسی ہنس کر بولا، “کچھ نہیں۔تجھ جیسی مصیبت کے ساتھ کوئی کیا کر سکتا ہے۔”

اچانک وہ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھے سر سے پاؤں تک دیکھ کر مونچھوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں، وحشت زدہ، بیٹھے بیٹھے پیچھے کو کھسکنے لگا۔ حسنی کے بابا نے کہا، “واہ وا! یہ موٹا ریچھ یہاں کیا کر رہا ہے؟”

حسنی بولا، “میرا دوست ہے، عبدل آقا کا بیٹا۔”

اس نے کہا، “کسی کا بھی ہو، میرے گھر میں کیا کر رہا ہے؟”

حسنی بولا، “اسے میں نے بلایا ہے۔”

ا س نے کہا، “کیوں؟ اس کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے؟”

حسنی بولا، “ہے کیوں نہیں۔ ہم سے اچھا ہے۔”

اس نے کہا، “تو پھر؟ یہاں کیوں آیا ہے؟”

پھر وہ میری طرف مڑ کر چلّایا، “دفع ہو جا یہاں سے۔ اٹھ، بھاگ!”

میں ڈر کر اٹھنے لگا، اور حسنی کا بابا اور بھی زور سے چیخا، “بھاگ!”

حسنی کمرے کے کونے میں تھا، وہاں سے بولا، “یہ نہیں جائے گا۔یہیں رکے گا۔”

حسنی کا بابا اس طرف مڑا اور گھونسا تان کر حسنی کی طرف بڑھنے لگا۔ دونوں بازو ہوا میں پھیلا کر کہنے لگا، “حرامزادے، تیری اتنی ہمت ہو گئی کہ اپنے باپ کو جواب دینے لگا!”

حسنی کی چھوٹی بہن کی آنکھ کھل گئی اور وہ خوفزدہ ہو کر روتی ہوئی کمرے سے باہر بھاگی۔ وہ اسی طرح گھونسا تانے آگے بڑھ رہا تھا کہ حسنی زور سے چلّایا، “مارو!”

میں نے حملہ کر دیا۔ اس کا بابا لپک کر بڑھا تو حسنی اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور اس کا گھونسا دیوار سے ٹکرایا۔ میں نے جھک کر اس کی ٹانگ دبوچ لی۔ حسنی بھی پیچھے سے نکل آیا اور اس کی دوسری ٹانگ پکڑ لی۔ ہم دونوں نے زور سے کھینچا اور وہ چیختا چلّاتا اور ہانپتا ہوا ہمارے اوپر گر پڑا۔ پہلے اس نے میرے منھ پر گھونسا مارا، پھر حسنی کے منھ پر۔ پھر دونوں گھونسے ہم دونوں کے سروں پر ایک ساتھ رسید کیے۔ ہم دونوں نے زور لگایا اور اس بوڑھے آدمی کے نیچے سے نکل آئے۔ حسنی نے گالیاں بکتے ہوے اپنے بابا کے چوتڑ پر ایک زور کی لات ماری اور ہم دونوں بھاگ کر باہر آ گئے۔ حسنی کے بابا کے زور زور سے چیخنے چلّانے کی آوازیں آتی رہیں: “تجھے مار ڈالوں گا! تو اکیلا ہی کم مصیبت تھا کہ اس حرامزادے کو بھی لے آیا!”

یہ کہتے ہوے وہ ہمارے پیچھے لپکا۔ حسنی کی ماں ہراساں، چولھے سے لگی کھڑی تھی اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے۔ ہم اس کے برابر سے دوڑتے ہوے نکل گئے اور طوفان کی رفتار سے دوڑتے ہوے بیچ کا رستہ لے کر مردے نہلانے والے مکان کے گڑھے کا رخ کیا۔ پیچھے سے حسنی کے بابا کی آوازیں سنائی دیتی رہیں کہ “پکڑو! پکڑو!”

وہ کچھ دور تک ہمارے پیچھے دوڑا اور پھر رک کر چلّانے اور گالیاں دینے لگا۔ اندھیرا ہو چکا تھا۔ وہاں کوئی نہ تھا جو ہمارے پیچھے دوڑے اور ہمیں پکڑنے کی کوشش کرے۔ ہم پمپ کے پاس سے نکل کر گڑھے پر پہنچ گئے۔ دونوں کا سانس پھولا ہوا تھا اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ حسنی کا بابا یا کوئی اور ہمارا پیچھا نہ کر رہا ہو۔ میں نے حسنی سے کہا، “بہتر ہو گا کہ گڑھے سے نکل کر اوپر چلیں۔”

حسنی بولا، “ہاں، ورنہ کچھ دیر میں وہ کتے کا بچہ ڈنڈا لے کر آئے گا اور ہمارا کام تمام کر دے گا۔”

ہم گڑھے سے نکل آئے اور ایک ٹیلے پر جا بیٹھے۔ جب میرا سانس درست ہوا تو میں نے حسنی سے کہا، “ہم اس کے ہاتھ سے خوب بچ نکلے۔”

حسنی بولا، “مگر افسوس کہ اس کی زیادہ مرمت نہ کر سکے۔”

میں نے پوچھا، “گھر کب واپس چلو گے؟”

حسنی بولا، “گھر واپس؟ مذاق کرتے ہو؟ وہ تو چاہتا ہی ہو گا کہ میں گھر پہنچوں اور وہ مجھے پکڑ کر تکابوٹی کر ڈالے۔”

میں نے کہا، “پھر کیا کرنا چاہتے ہو؟”

حسنی بولا، “کچھ نہیں۔”

میں نے پوچھا، “رات کو کہاں جاؤ گے؟”

بولا، “کہیں بھی نہیں۔ کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔”

میں نے کہا، “میرے ساتھ چلو۔ میرے گھر۔”

بولا، “ہاں، تاکہ تمھارے بابا کے ہاتھ آ جاؤں۔ دونوں حرامزادے ایک جیسے ہیں۔ ان کے دل میں ذرہ بھر رحم نہیں۔”

میں نے کہا، “اچھا اگر آج رات گھر نہیں بھی گئے تو کل کیا کرو گے؟ پرسوں کیا کرو گے؟ آخر تو واپس جانا ہی ہو گا۔”

حسنی بولا، “پتا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہیں اور چلا جاؤں۔”

میں نے کہا، “مثلاً کہاں؟”

بولا، “کہیں بھی۔”

میں نے کہا، “اور کرو گے کیا؟”

بولا، “کیا پتا۔ کچھ نہ کچھ کر ہی لوں گا۔ کسی کا شاگرد بن جاؤں گا، یا حمّالی کر لوں گا۔”

میں نے کہا، “تم ابھی چھوٹے ہو۔ تمھیں کوئی نہیں رکھے گا۔”

بولا، “کیوں؟”

میں نے کہا، “اس لیے کہ تمھیں کوئی کام نہیں آتا۔”

بولا، “کچھ نہیں آتا، پھر بھی دکانوں کے سامنے جھاڑو تو دے سکتا ہوں۔”

میں نے کہا، “مگر کسی بڑے کے کہے بغیر تو تمھیں کوئی رکھے گا نہیں۔”

بولا، “اگر کچھ نہ ہوا تو ٹین ڈبے جمع کر کے بیچوں گا۔”

میں نے کہا، “اور رات کو سوؤ گے کہاں؟”

بولا، “کھنڈروں میں۔”

میں نے کہا، “کوئی فائدہ نہیں، دو چار دن اس طرح رہنے کے بعد یا تو بھوکے مر جاؤ گے یا کوئی مصیبت سر پر آ پڑے گی۔”

کہنے لگا، “ناممکن۔ میں نہیں مروں گا۔ جا کے بھیک مانگ لوں گا اور زندہ رہوں گا۔”

میں نے کہا، “ہاں، تم اسی خیال میں مگن رہو۔ تمھیں پکڑ کے گداخانے لے جائیں گے۔ اسدول کے بچے یاد نہیں رہے؟ اور رضا ترک کی بہن؟”

بولا، “تو پھر کیا کروں؟”

میں نے کہا، “مجھے نہیں پتا۔ بہتر ہو گا کہ گھر واپس چلے جاؤ۔”

دونوں چپ ہو گئے۔ چاند نکل آیا تھا اور سارے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی، سواے کنووں کے دائروں کے جنھیں کوئی بھی چیز روشن نہیں کر سکتی تھی۔ جھونپڑوں میں کہیں کہیں چراغ جلتے دکھائی دے رہے تھے۔ حسنی نے اپنے اردگرد نظر ڈالی اور بولا، “گھر واپس نہیں جا سکتا۔ اس بار تو وہ جان سے مار ڈالے گا۔”

ہم پھر خاموش ہو گئے اور جھینگروں کی آوازیں سننے لگے۔ حسنی اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور بولا، “سنو، مجھے ایک ترکیب سوجھی ہے۔ تم ابھی دوڑتے ہوے جاؤ اور جھونپڑوں کے پاس پہنچتے ہی رونا چلّانا شروع کر دو اور سر پیٹ پیٹ کر سب سے کہو کہ حسنی کنویں میں گر گیا ہے۔”

میں بھی چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔ میرا دل ڈوبنے لگا۔ میں نے کہا، “کیا؟ تم کنویں میں گرنے والے ہو؟”

حسنی بولا، “میں گدھا ہوں کیا کہ کنویں میں گروں گا؟ بس تم ایسے ہی کہہ دو کہ کنویں میں گر گیا۔ تب دیکھنا بابا کا کیسا حال ہوتا ہے۔”

میں نے کہا، “اور اس کے بعد؟”

بولا، “اس کے بعد کچھ نہیں۔میں کہیں جا کے چھپ جاؤں گا۔”

میں نے کہا، “وہ کنووں میں تلاش کریں گے۔”

بولا، “سب کنووں میں نہیں تلاش کر سکتے۔ ایک دو کنویں تھوڑی ہیں۔ آخر تھک جائیں گے اور سمجھ لیں گے کہ میں مر گیا ہوں۔ پھر سب ایک جگہ جمع ہو کر میرے لیے روئیں پیٹیں گے اور قرآن کا ختم کریں گے۔ بابا اور اماں بھی اپنا سر پیٹیں گے اور دہاڑیں ماریں گے۔”

میں نے کہا، “حسنی، یہ کام ٹھیک نہیں ہے۔”

اس نے پوچھا، “کیوں؟ ٹھیک کیوں نہیں ہے؟”

میں نے کہا، “فرض کرو تمھارا بابا صدمے سے مر جائے۔ یا تمھاری اماں۔پھر کیا کرو گے؟”

حسنی بولا، “یہ سب تمھارا خیال ہے۔ وہ ایسے نہیں ہیں۔ میں انھیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ یہ لوگ مرنے والے نہیں۔ اور پھر جب وہ سینہ کوٹنے اور ماتم کرنے لگیں تو تم مجھے آ کے بتا دینا اور میں دوڑ کے گھر چلا جاؤں گا۔ جب وہ دیکھیں گے کہ میں صحیح سلامت ہوں اور کنویں میں نہیں گرا تو کس قدر خوش ہوں گے۔ پھر میرا خیال ہے بابا بھی ٹھیک ہو جائے گا اور مجھے مارنا پیٹنا چھوڑ دے گا۔”

میں نے کہا، “مگر”۔۔۔۔

بولا، “مگر کیا؟”
میں نے کہا، “مجھے تمھارے بابا سے ڈر لگتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ خبر سن کر مجھے ہی مار ڈالے۔”

بولا، “تمھیں میرے بابا سے کیا لینا دینا؟ تم تو بس جھونپڑوں کے پاس پہنچ کر چیخنے لگنا کہ حسنی کنویں میں گر گیا، حسنی کنویں میں گر گیا۔”

میں نے کہا، “یہ کہتے ہوے تو رونا بھی پڑے گا۔ اگر رونا نہ آیا تو؟”

حسنی نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور بولا، “عجیب گدھے ہو تم۔ اندھیرے میں کسی کو کیا پتا چلے گا کہ تم رو رہے ہو یا نہیں رو رہے ہو؟”

میں نے کہا، “اچھا، اور تم کیا کرو گے؟”

بولا، “میں جا کے بھٹے میں چھپ جاؤں گا۔”

میں نے پوچھا، “اور اگر بھوکے مر گئے؟”

تعجب سے پوچھنے لگا، “تو تم میرے لیے روٹی اور پانی نہیں لاؤ گے کیا؟ ہَیں؟ نہیں لاؤ گے؟”

میں نے کہا، “ہاں لاؤں گا۔”

بولا، “تو بس ٹھیک ہے۔ اب جاؤ۔”

میں ابھی تک دودِلا ہو رہا تھا، جاؤں یا نہ جاؤں، کہ حسنی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا، “آؤ میں تمھیں دکھا دوں کہ میں کہاں چھپوں گا۔”

ہم حاج تیمور کے اینٹوں کے بھٹے کی طرف چل دیے۔ابھی کنووں کے درمیان سے گزر رہے تھے کہ کچھ کتوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ میں نے اور حسنی نے پتھر مار کر انھیں بھگا دیا اور پھر بھٹے کے گرد چکر کاٹ کر آخری کوٹھڑی کے پاس پہنچے جس کی چھت گر چکی تھی اور کسی کو شبہ نہ ہو سکتا تھا کہ یہاں کوئی چھپا ہو گا۔ حسنی نے مجھ سے کہا، “میں یہاں چھپا ہوں گا، ٹھیک ہے؟”

میں نے کہا، “ٹھیک ہے۔”

بولا، “تو پھر اب کھڑے کیوں ہو، جاؤ۔ یاد رکھنا، تمھیں خوب زور زور سے چیخنا چلّانا ہے۔”

میں نے کہا، “ہاں، یاد ہے۔”

ابھی میں چلا ہی تھا کہ حسنی نے پھر پکارا۔ میں نے پوچھا، “کیا ہے؟”

بولا، “یہ بھی یاد رکھنا کہ میں بھوکا ہوں۔ صبح میرے لیے روٹی اور پانی ضرور لانا۔”

میں نے کہا، “ضرور لاؤں گا۔”

میں کوٹھڑی کا چکر لگا کر کنووں کے درمیان سے گزرتا ہوا مردے نہلانے کے گڑھے کے پاس پہنچا جہاں کتے جمع تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر بھاگ گئے۔ میں گڑھے سے باہر نکلا اور پمپ کے پاس پہنچا۔ میرے حلق میں جلن ہو رہی تھی، اس میں گرد وغبار بہت چلا گیا تھا۔ میں نے تھوڑا سا پانی پیا اور آگے چلا۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ مجھے دوڑتے اور چیختے ہوے جانا ہے۔ میں دوڑتا اور چلّاتا ہوا جھونپڑوں کی طرف بڑھنے لگا۔ بہت سے لوگ جھونپڑوں کے باہر کھڑے تھے۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ کیا ہوا ہے، میں نے تو سر پیٹ پیٹ کر چلّانا شروع کر دیا جیسے حسنی سچ مچ کنویں میں گر گیا ہو۔ جو لوگ دور کھڑے تھے وہ بھی قریب آ گئے۔ میں نے اپنے بابا اور حسنی کے بابا کو دیکھا جو ایک دوسرے سے تکرار کر رہے تھے۔ میں ہچکیاں لیتے ہوے بولا، “حسنی! حسنی!”

حسنی کا باپ جو ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوے تھا، پوچھنے لگا، “حسنی کو کیا ہوا؟ ہیں؟ کیا ہوا اسے؟”
میں نے کہا، “گر پڑا، گر پڑا۔۔۔۔” اور رونے لگا، سچ مچ رونے لگا، میرے آنسو خودبخود نکل کر چہرے پر بہنے لگے۔ حسنی کے بابا نے چیخ کر پوچھا، “کہاں گر پڑا؟ بول، میرا حسنی کہاں گر پڑا؟”

میں نے چیخ کر کہا، “کنویں میں۔۔۔کنویں میں گر پڑا۔”

پہلے تو سب لوگ ایک دم خاموش ہو گئے، پھر عجیب طرح کا ہمہمہ بلند ہوا۔ دور و نزدیک سے چیخنے چلّانے کی بکھری ہوئی آوازیں سنائی دینے لگیں۔”حسنی کنویں میں گر پڑا! حسنی کنویں میں گر پڑا!”

آدمیوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کریں۔ جو لوگ اب تک جھونپڑوں میں تھے، باہر نکل آئے۔ کچھ لوگ لالٹین لے آئے اور سب لپکتے ہوے مردے نہلانے کے گڑھے کی طرف چل دیے۔ میں زمین پر پھسکڑا مارے بیٹھا رو رہا تھا۔ میرے بابا نے جھک کر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھڑا کر دیا۔ بولا، “اٹھو، چل کر بتاؤ کون سے کنویں میں گرا ہے۔”

ہم دونوں بھی دوڑتے ہوے سب لوگوں کے پیچھے روانہ ہوے۔ ابھی سڑک سے آگے نہ نکلے تھے کہ کچھ لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور میرے اور بابا کے ساتھ ساتھ دوڑنے لگے۔ وہ دوڑتے ہوے پوچھتے جاتے تھے، “کون سا کنواں ہے؟ کون سے والے میں گرا ہے؟”

مردے نہلانے والے مکان کے گڑھے کے پاس سے گزر کر ہم کنووں کے پاس پہنچے۔ چاند اَور بلند ہو گیا تھا اور کنووں کے دائرے اَور زیادہ تاریک اور گہرے معلوم ہو رہے تھے۔ سب لوگ وہاں کھڑے تھے۔ حسنی کے بابا نے بید کی طرح لرزتے ہوے میرے کندھوں کو پکڑ لیا اور جھنجھوڑتے ہوے پوچھا، “کہاں ہے؟ کہاں ہے؟”

اور اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دوں، اس نے خود کو کوڑے کے ڈھیر پر گرا لیا اور اونچی آواز میں رونے لگا۔ دو تین آدمی اس کے پاس آ گئے اور عباس چرخی اسے تسلیاں دینے لگا کہ “گھبراؤ مت، ہم اسے ابھی باہر نکالے لیتے ہیں۔ کچھ نہیں ہوا، کوئی بات نہیں۔ روؤ مت۔ خود کو ہلاک مت کرو۔ ہم ابھی اسے تلاش کر لیں گے۔”

جب حسنی کا بابا چپ ہوا تو ایک اور ہمہمہ بلند ہوا۔ عورتیں روتی دھوتی آ پہنچیں اور ان میں آگے آگے حسنی کی اماں تھی۔ وہ اپنا سر اور منھ پیٹ رہی تھی اور رو رو کر پکار رہی تھی، “میرا حسنی، میرا حسنی، میرا حسنی، میرا حسنی!”

وہ کچھ اور بھی کہہ رہی تھی جو میری سمجھ میں نہ آیا۔ عباس چرخی آگے آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، “سنو بچے، بتاؤ کون سے کنویں میں گرا ہے؟”

میں نے کہا، “مجھے نہیں معلوم۔”

حسنی کا بابا میری طرف جھپٹا اور بولا، “حرامزادے! سچ سچ بتا کہ میرے بیٹے کا کیا ہوا؟”

قادر آقا نے اسے روکا اور کہا، “ذرا ٹھہرو، اسے سوچ کر بتانے دو۔”

میں ہچکیاں لے لے کر روتا رہا اور بولا، “حسنی کے بابا نے ہم دونوں کو پکڑ کر خوب مارا تھا اور۔۔۔”

حسنی کا بابا بولا، “اچھا اچھا، یہ بتا کہ وہ گرا کہاں ہے؟”

میرے بابا نے بھی کہا، “ہاں، جلدی بتاؤ۔”

عباس چرخی نے کہا، “ارے اسے کچھ بولنے تو دو۔ یہ کیا طریقہ ہے!”

میں نے کہا، “ہم دونوں بھاگ کر یہاں آ گئے۔ حسنی مجھ سے کافی آگے تھا۔ ہم دونوں دوڑتے ہوے جا رہے تھے۔ حسنی ڈر رہا تھا کہ اس کا بابا آ کر ہم دونوں کو پکڑ لے گا۔ وہ مجھ سے بہت تیز دوڑ رہا تھا۔۔۔ بہت تیز۔ میں نے مڑ کر دیکھا کہ اس کا بابا تو نہیں آ رہا ہے۔ کوئی نہیں آ رہا تھا۔ میں نے حسنی کو آواز دی: حسنی، ٹھہرو! ٹھہرو! کوئی نہیں آ رہا! وہ بیچ میں پہنچا تھا کہ ایک دم چیخ ماری اور کنویں میں گر گیا۔”

حسنی کے بابا نے پوچھا، “کہاں گرا تھا؟”

میں نے کہا، “میں تو سمجھا تھا زمین پر گرا ہے۔ میں نے ہر طرف آوازیں دیں۔ مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے ہر طرف ڈھونڈا۔ کہیں نہیں ملا۔”

حسنی کے بابا نے پھر دہاڑ کر پوچھا، “کون سے کنویں میں گرا تھا؟”

عباس چرخی غصے سے بولا، “اسے کیا پتا ہو گا کہ کون سے والے میں گرا ہے؟ ہمیں خود ہی ڈھونڈنا ہو گا۔”

پھر وہ باقی مردوں کی طرف منھ کر کے بولا، “چلو ڈھونڈنا شروع کریں۔ احتیاط سے کام لینا!”

جب وہ آگے بڑھے تو ان کی آوازیں تھم گئیں۔ کوئی رو نہیں رہا تھا، نہ کوئی چیخ چلّا رہا تھا۔ صرف حسنی کی اماں سسکیاں لے رہی تھی اور دوسری عورتیں اسے تسلیاں دے رہی تھیں۔ “روؤ مت بہن! خاموش رہو۔ ابھی یہ لوگ اسے ڈھونڈ کر باہر نکال لائیں گے۔”

ان میں سے کوئی مسلسل “شش! شش!” کی آوازیں نکال رہا تھا، جیسے حسنی سو رہا ہو اور اسے ڈر ہو کہ اس کی آنکھ نہ کھل جائے۔

سب لوگ کچھ کنووں کے پاس سے گزرے۔ پھر حسنی کے بابا نے گائے کی سی اونچی آواز میں اسے پکارا، “حسنی! حسنی!” وہ اس قدر غصے اور جھنجھلاہٹ میں تھا کہ اگر حسنی کنویں میں کھڑا ہوتا اور باہر نکل آتا تو یہ اسے پکڑ کر اس کی خوب ٹھکائی کرتا۔ عباس چرخی نے کہا، “خاموش رہو، خاموش رہو، ہمیں کام کرنے دو۔”

کوئی اندھیرے میں بولا، “رسی اور لالٹین کی ضرورت ہو گی۔ خالی ہاتھ تو کنویں میں اتر نہیں سکتے۔”

کچھ لوگ دوڑتے ہوے بستی کی طرف چل دیے اور دو آدمی لالٹینیں لے کر آگے بڑھ آئے۔ عباس چرخی نے ایک لالٹین ہاتھ میں لی اور کنویں کی منڈیر پر جھک کر اسے اندر لٹکایا۔ سب لوگ کنویں کے گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے۔ عباس آقا، جس کا سر ابھی کنویں کے اندر تھا، گھٹی ہوئی آواز میں بولا، “میرا خیال نہیں ہے کہ اس کنویں میں گرا ہو گا۔”

پھر وہ دوسرے کنویں کی طرف چل پڑا۔ اس دفعہ مسیّب نے جھک کر لالٹین کو کنویں میں لٹکایا اور آواز کو بساطیوں کی طرح کھینچ کر پکارا، “کہاں ہو بچے؟ کہاں ہو؟”

جواب میں کوئی آواز نہ آئی۔ پھر وہ تیسرے کنویں کے پاس پہنچے۔ اس کے بعد چوتھے کنویں پر۔ پھر پانچویں پر۔ پھر چھٹے پر۔ پھر ان کی دو ٹولیاں بن گئیں۔ دونوں ٹولیاں اسی طرح الگ الگ کنووں پر جا کر تلاش کرنے لگیں۔ پھر تین ٹولیاں ہو گئیں، چار ٹولیاں ہو گئیں۔ پھر اَور لالٹینیں آ گئیں۔ سات آٹھ دس لالٹینیں، اور بہت سی رسی۔ کچھ لوگ رسی میں گرہیں ڈالنے لگے۔ سب لوگ آگے ہی آگے بڑھتے گئے لیکن حسنی کہیں نہ ملا۔ ان سب پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی اور وہ زور زور سے باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک کنویں پر پہنچ کر کسی نے سب کو آواز دی۔ یہ عباس آقا تھا۔ سب لپک کر اس کے پاس پہنچے اور اسے گھیر لیا۔ عباس آقا گھبرائی ہوئی آواز میں بولا، “مجھے لگتا ہے اسی کنویں میں ہے۔ مجھے کچھ آواز آئی ہے۔ جیسے کوئی کنویں کی تہہ میں کھڑا رو رہا ہو۔”

سب نے دم سادھ لیا۔ کچھ لوگ کنویں کے اندر جھکے اور کان لگا کر سننے لگے۔ پھر بولے، “ہاں واقعی، اسی کنویں میں ہے۔”

حسنی کے بابا نے پھر چیخنا چلّانا شروع کر دیا۔ “جلدی کرو، جلدی کرو! میرے بچے کو یہاں سے باہر نکالو۔ میرے بچے کو باہر نکالو۔”

مسیّب بولا، “نیچے کون جائے گا؟”

قادر نے کہا، “ پرانا کنواں ہے۔شاید دیوار جھڑتی ہو۔”

حسنی کے بابا نے کہا، “نہیں نہیں، بخدا! نہیں جھڑے گی۔ اندر جاؤ، جا کر اسے نکال لاؤ!”

سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ عباس چرخی نے کہا، “کیا کوئی مرد نہیں؟ اچھا، میں خود جاتا ہوں۔ رسی اتارو۔”

عباس آقا کی بیوی عورتوں کے ہجوم میں سے چیخ کر بولی، “نہیں نہیں، تم نہیں اتر سکتے۔ تمھیں کنویں میں اترنا نہیں آتا!”

عباس آقا جھلا کر بولا، “چپ کر عورت! اپنے کام سے کام رکھ! میں نہیں دیکھ سکتا کہ اس کا بچہ اندر مر جائے۔”

عباس آقا کی بیوی بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھ آئی اور دوڑتی ہوئی اس سے لپٹ گئی۔ “نہیں نہیں، میں تمھیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔ نہیں جانے دوں گی۔”

عباس آقا نے اپنی بیوی کو ایک چانٹا رسید کیا اور بولا، “ہٹ یہاں سے دور ہو! کیسی عورت سے پالا پڑا ہے!”

اور پھر چلّا کر کہا، “رسی!”

رسی لائی گئی اور اسے کس کر عباس آقا کی کمر میں باندھ دیا گیا۔ پھر اس کی ایک ایک گرہ کو کھینچ کر دیکھا گیا۔ عباس آقا نے کہا، “احتیاط سے، کہیں بیچ میں چھوڑ نہ دینا۔”

کچھ لوگ بولے، “پریشان مت ہو۔ احتیاط سے کریں گے۔”

عباس آقا نے اترنے کے لیے تیار ہو کر لالٹین ہاتھ میں تھامی اور کنویں میں جھک کر تہہ کا جائزہ لیا۔ پھر لالٹین کسی اور کو پکڑا کر زور سے بسم اﷲ پڑھی۔ سب نے فوراً جواب میں صلوات پڑھی۔ حسنی کے بابا نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہا، “یا ارحم الراحمین! یا جدِ حسینِ مظلوم! یا جدِ فاطمہ زہرا! یا جدِ خدیجہ کبریٰ، میرے بچے کو بچا لیجیے! میرا حسنی زندہ نکل آئے!”

عباس آقا کنویں میں اترا اور دونوں کہنیاں کنویں کی منڈیر پر ٹیک کر بولا، “احتیاط سے کام لینا۔ رسی کو مضبوط پکڑنا۔ جب میں رسی کو جھٹکا دوں تو اوپر کھینچ لینا۔”

اس کی بیوی، جو ہمارے بالکل پیچھے کھڑی تھی، پھر زور زور سے رونے لگی۔ میری اماں اسے دلاسا دینے لگی۔ عباس آقا نیچے اتر گیا۔ رسی اسی طرح پانچ چھ لوگوں کی گرفت میں تھی جو اسے تھوڑا تھوڑا کر کے چھوڑ رہے تھے اور زیرلب کچھ بولتے بھی جا رہے تھے۔ حسنی کا بابا اپنے گرد چکر کاٹ رہا تھا اور ہونٹ دانتوں میں دبائے ہاتھ مل رہا تھا۔ وہ منھ ہی منھ میں کچھ بول رہا تھا اور خدا خدا کر رہا تھا۔ میرے ذہن سے بالکل فراموش ہو چکا تھا کہ حسنی بھٹے کی کوٹھڑی میں ہے۔ میرے دل میں کوئی کہہ رہا تھا کہ کاش حسنی اسی کنویں میں موجود ہو کہ عباس آقا خالی ہاتھ باہر نہ نکلے اور سب لوگ خوش ہو جائیں۔ کچھ وقت اسی طرح گزرا اور پھر میرے بابا نے، جو دوسرے لوگوں کے ساتھ رسی کو تھامے ہوے تھا، کہا، “اوپر کھینچو! اوپر کھینچو!”

رحمت نے پوچھا، “کیوں؟”

میرے بابا نے کہا، “دیکھتے نہیں رسی ہل رہی ہے، اندھے ہو کیا؟”

سب خاموش ہو گئے اور رسی کو اوپر کھینچنے لگے۔ حسنی کا بابا گردن اٹھا کر سب کے سروں کے اوپر سے دیکھ رہا تھا اور عباس آقا کے نمودار ہونے کا منتظر تھا۔ تب عباس آقا کے دونوں ہاتھ کنویں کی منڈیر کو پکڑتے دکھائی دیے۔ پھر اس نے کہنیاں ٹیکیں اور زور لگا کر اپنے جسم کو اوپر اٹھایا۔ زمین پر آ کر وہ سیدھا لیٹ گیا اور زور زور سے سانس لینے لگا۔ قادر نے پوچھا، “وہ اندر تھا؟ وہ اندر تھا؟”

حسنی کے بابا نے زور کی چیخ ماری اور رونے لگا۔ عباس آقا کروٹ لے کر آدھا اٹھ بیٹھا اور بولا، “لگتا تھا میرا دم گھٹ جائے گا۔”

قادر نے پوچھا، “مر گیا کیا؟”

عباس آقا نے کہا، “وہاں صرف ایک مرا ہوا کتا پڑا سڑ رہا تھا۔”

مسیّب نے کہا، “کہیں تمھیں مغالطہ نہ ہوا ہو۔”

عباس آقا بولا، “ابے احمق، کیا میں مرے ہوے کتے اور حسنی میں فرق نہیں کر سکتا؟”

وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی کمر میں بندھی ہوئی رسی کھول دی۔ پھر سب دوبارہ جتھا بنا کر اگلے کنویں کی طرف گئے۔ پھر اس سے اگلے کنویں پر، اور پھر اس سے اگلے پر۔ وہ پھر دو ٹولیوں میں بٹ گئے، پھر چار ٹولیوں میں، اور لالٹین ہاتھ میں لیے ہر کنویں میں جھک جھک کر حسنی کو پکارنے لگے۔ تب ہی میں چپکے سے کھسک کر جھونپڑوں کی طرف بھاگ پڑا۔ میں کونوں کھدروں میں اندھیرے کی اوٹ لے کر چل رہا تھا تاکہ کسی کو پتا نہ چلے۔ میں نے پمپ سے پانی پیا اور پھر ٹین کی دیوار کے پیچھے سے گزر کر اپنے جھونپڑے میں پہنچ گیا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ میں نے ایک نان اور ایک ٹوٹے ہوے دستے والا آبخورہ اٹھا لیا۔ پھر میں دوڑتا ہوا باہر نکلا، پمپ سے آبخورے میں پانی بھرا، مردے نہلانے والے گڑھے کے پاس سے گزر کر سڑک کے کنارے کنارے لمبا چکر کاٹتا ہوا حاج تیمور کے بھٹے پر نکلا اور اس کوٹھڑی پر پہنچا جہاں حسنی چھپا ہوا تھا۔ میں نے گردن اٹھا کر دبی ہوئی آواز میں اسے پکارا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ دوبارہ آواز دی۔ پھر جواب نہ آیا۔ میں نے اونچی آواز میں پکارا مگر کچھ نہیں۔ مجھ پر خوف چھا گیا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ شاید اسے پتا نہ چلا ہو کہ یہ میں ہوں، سو میں نے سیٹی بجانا شروع کیا — وہی خوش آواز سیٹی جس کے ذریعے میں اسے پیغام دیتا تھا کہ “حسنی، آ جاؤ، کام کا وقت ہو گیا۔” ایک دم مجھے اپنے سر کے اوپر حسنی کے سیٹی بجانے کی آواز سنائی دی۔ وہ کوٹھڑی کی چھت پر اوندھا لیٹا میری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا، “اے حسنی!”

بولا، “چپکے سے اوپر آ جاؤ۔”

میں نے آبخورہ اسے تھمایا اور اینٹوں والی دیوار کا سہارا لے کر اوپر پہنچ گیا۔ دونوں آہستہ آہستہ رینگتے ہوے آگے بڑھے اور بھٹے کی چمنی کے پاس جا بیٹھے۔ میں نے کہا، “تمھیں تو کوٹھڑی کے اندر چھپنا تھا۔”

وہ بولا، “یہ دیکھنے اوپر آیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔”

میں نے کہا، “تمھیں پتا ہے اگر وہ لوگ تمھیں دیکھ لیں تو کیا ہو گا؟”

بولا، “مشکل ہے۔ مجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔” یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگا۔

میں نے پوچھا، “ہنس کیوں رہے ہو؟”

بولا، “بابا کا سوچ کر ہنس رہا ہوں۔ اور باقی سب لوگوں کا۔ دیکھو ذرا، کیسے دوڑتے پھر رہے ہیں۔”

اس نے کنووں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ لوگ لالٹین اٹھائے کبھی ایک کنویں کے پاس جاتے کبھی دوسرے کے۔ کوئی ٹولی کسی ایک کنویں کے پاس جم کر رہ گئی تھی اور وہاں سے ہلتی ہی نہ تھی۔

میں نے کہا، “ہم نے اچھا نہیں کیا حسنی۔”

بولا، “کیوں؟”

میں نے کہا، “تمھارا بابا خود کو مارے ڈال رہا ہے۔ تمھیں پتا نہیں اس کا کتنا برا حال ہے۔”

بولا، “فکر مت کرو۔ وہ خود کو نہیں مارنے کا۔ اماں کیا کر رہی ہے؟”

میں نے کہا، “کیا کر رہی ہے؟ سر پیٹ پیٹ کر رو رہی ہے۔”

بولا، “رونے دو۔”

میں نے کہا، “تمھیں پتا ہے، عباس آقا کنویں میں اترا تھا، اور تمھاری جگہ ایک مرا ہوا کتا نکال کر لایا تھا۔”

حسنی بولا، “اپنے باپ کی لاش لایا ہو گا۔”

ہم دونوں ہنسنے لگے۔ پھر میں نے نان نکالی اور آدھی آدھی توڑ کر دونوں نے کھائی۔ مجھے پیاس نہیں لگی تھی، لیکن حسنی نے کچھ گھونٹ پیے۔ میں نے کہا، “کیا کہتے ہو، اب نیچے ان لوگوں کے پاس چلیں؟”

بولا، “کیا ہو گا؟”

میں نے کہا، “قصہ ختم ہو جائے گا۔ انھیں ایک ایک کنواں جھانکنا نہیں پڑے گا۔”

بولا، “ابھی سے؟ ابھی انھیں گھومنے دو۔”

میں نے کہا، “ان میں سے کوئی کنویں میں گر کر مر گیا تو؟”

بولا، “فکر مت کرو۔ یہ سب کتے کی اولاد ہیں۔ اتنی آسانی سے مرنے والے نہیں۔”

میں نے کہا، “لیکن ہم جو کر رہے ہیں وہ بہت برا ہے۔”

اس نے گردن موڑ کر مجھے غور سے دیکھا۔ بولا، “اور وہ جو ہماری ٹھکائی کرنے سے پہلے کھانا نہیں کھاتے، وہ اچھا کرتے ہیں؟”

میں نے کہا، “خدا کے لیے حسنی، اب بس کرو۔ چلو ان کے پاس چلتے ہیں۔”

وہ بولا، “ میں تو نہیں جانے کا۔”

میں نے پوچھا، “مگر کیوں؟”

بولا، “واپس جا کے کیا کہیں گے؟”

میں نے کہا، “کہہ دینا کہ شکرائی کے باغ میں پھل کھانے گیا تھا۔”

بولا، “پھر تو تمھارا جھوٹ پکڑا جائے گا۔”

میں نے کہا، “میں کہہ دوں گا، مجھے کیا پتا کہاں گیا، میں سمجھا تھا کنویں میں گر گیا۔”

بولا، “نہیں، وہ فوراً سمجھ جائیں گے، اور پھر ہماری شامت آ جائے گی۔”

میں نے کہا، “نہیں آئے گی، خدا کے لیے تم چلو۔”

بولا، “میں تو نہیں چلنے کا۔”

میں نے کہا، “تو ٹھیک ہے، میں جا کے بتا دیتا ہوں کہ حسنی کنویں میں نہیں گرا، حاج تیمور کی کوٹھڑی میں چھپا بیٹھا ہے۔”

اس نے گردن گھما کر مجھے بری طرح گھورا۔ “ٹھیک ہے۔ کہہ دو جا کے۔ اس کے بعد تم الگ اور میں الگ۔ پھر تمھیں میری شکل بھی نظر نہیں آئے گی۔”

میں نے پوچھا، “تو پھر کب واپس چلو گے؟”

بولا، “ختم والے دن۔ جس وقت میرے لیے قرآن ختم ہو رہا ہو گا، اس وقت ایک دم داخل ہو جاؤں گا۔ تب بڑا مزہ آئے گا۔”

میں نے کہا، “بکواس مت کرو۔ کیا مزہ آئے گا؟”

بولا، “پتا ہے، جس وقت وہ سب سینہ پیٹ پیٹ کر رو رہے ہوں گے، میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے بالکل بیچ میں پہنچ جاؤں گا اور زور سے سلام کروں گا۔ پہلے تو وہ سب بوکھلا جائیں گے، پھر ڈر جائیں گے۔ عورتیں چیخنے چلّانے لگیں گی۔ بچے بھاگ جائیں گے اور سوچیں گے کہ میں قبر سے نکل کر آیا ہوں۔ پھر جب وہ لوگ دیکھیں گے کہ میں سچ مچ زندہ ہوں، ہنس رہا ہوں، ہاتھ پیر ہلا رہا ہوں، تو سب کے سب خوش ہو جائیں گے۔ وہ ہوا میں چھلانگیں لگائیں گے، زمین پر گر جائیں گے، وہ مجھے لپٹا کر میرا منھ چومیں گے۔ تم کہتے ہو مزہ نہیں آئے گا؟ ہیں؟”

ہم نے پھر اپنی نظریں ان لوگوں پر جما دیں جو لالٹین ہاتھ میں لٹکائے کنووں کے درمیان اِدھر سے اُدھرگشت کر رہے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد مردوں اور عورتوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں نے کہا، “ٹھیک ہے، اب میں ان لوگوں کے پاس جاتا ہوں…”
وہ بولا، “ٹھیک ہے، مگر انھیں بتانا مت۔”
ہم چاروں ہاتھ پیروں پر رینگتے ہوے آگے بڑھے، دور دور تک غور سے دیکھا اور پھر نیچے اتر آئے۔ میں سڑک کے گرد لمبا چکر کاٹ کر مردے نہلانے کے گڑھے کے پاس سے گزرا اور پھر واپس اوپر کی طرف چلنے لگا۔ وہ سب اب تک ایک کنویں کے گرد دائرے میں جمع تھے۔ میں دوڑتا ہوا ان کے پاس جا پہنچا۔ میں نے اپنی اماں کو دیکھا جو سر پیٹ پیٹ کر اونچی آواز میں رو رہی تھی۔ مردوں نے رسی کو کنویں کی تہہ تک لٹکا رکھا تھا۔ میں لوگوں کی ٹانگوں میں سے نکل کر آگے کنویں کی منڈیر تک پہنچ گیا۔ وہاں میں نے عباس چرخی کو دیکھا جو کسی سے کہہ رہا تھا، “رسی ہلا رہا ہے۔ اوپر کھینچو، اوپر کھینچو!”

قادر نے پوچھا، “مگر کیوں؟”

عباس آقا نے کہا، “اندھے ہو کیا؟ دیکھتے نہیں رسی ہل رہی ہے؟”

سب خاموش ہو گئے اور رسی کو اوپر کھینچنے لگے۔حسنی کا بابا، جو میرے سر کے بالکل پیچھے کھڑا تھا، مسلسل سینہ پیٹتے ہوے کہہ رہا تھا، “یا خدیجہ کبریٰ، یا امام مصطفیٰ، یا غریب الغربا، یا سیدالشہدا۔”

تب میں نے اپنے بابا کو کنویں کی منڈیر پر کہنیاں ٹیک کر باہر نکلتے دیکھا۔وہ سر سے پیر تک سیاہ ہو چکا تھا اور زور زور سے ہانپ رہا تھا۔ عباس آقا نے کہا، “لیٹ جاؤ، لیٹ جاؤ، اور لمبے لمبے سانس لو۔”

کچھ لوگوں نے بابا کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے زمین پر لٹا دیا۔

2

صبح ہوئی تو کوئی کام پر نہ گیا۔ سب بری طرح تھک کر اپنے اپنے جھونپڑے کو لوٹ گئے۔ حسنی انھیں نہیں ملا تھا۔ عباس آقا نے کہا تھا، “کوئی فائدہ نہیں۔ سارے کنووں میں نہیں ڈھونڈ سکتے۔”

وہ ان زیادہ گہرے کنووں پر پہنچ گئے تھے جو نیچے تہہ میں ایک دوسرے سے ملے ہوے تھے اور ان میں گندا پانی بہہ رہا تھا۔ان کنووں کے اندھیرے میں عجیب عجیب چیزیں دکھائی دیتی تھیں۔ اُستا حبیب کے سامنے اچانک گائے کے قد کا ایک جانور آ گیا تھا جس کی چار پانچ دُمیں تھیں اور جبڑوں میں ایک مرے ہوے آدمی کا سر لیے وہ اِدھر اُدھر چل پھر رہا تھا۔ سید کو کچھ ننگے اور کچھ اونی لباس پہنے لوگ دکھائی دیے تھے جو کنویں کی دیوار سے لگے کھڑے تھے۔ اسے دیکھتے ہی وہ لوگ گندے پانی میں کود کر غائب ہو گئے تھے۔ میر جلال نے اپنی آنکھوں سے بڑے بڑے کالے پر دیکھے تھے جو اِدھر سے اُدھر اڑتے پھر رہے تھے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ کنویں کی تہہ سے عجیب و غریب آوازیں سنائی دیتی ہیں، جیسے بلیاں رو رہی ہوں اور نظر نہ آنے والی عورتیں قہقہے لگا رہی ہوں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے سَنج اور شِیپور کی آوازیں بھی سنیں، جیسی عاشورے کے دنوں میں نکلتی ہیں۔ انھیں اپنی پشت سے نوحے پڑھے جانے اور لوگوں کے گریہ کرنے کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ عباس آقا نے کہہ دیا کہ اب کچھ فائدہ نہیں، دوڑ دھوپ سے کچھ نہیں ہو گا اور حسنی اب نہیں ملے گا۔ تب وہ سب، تھکن اور نیند سے چور، بستی کی طرف لوٹ آئے تھے اور اب سو رہے تھے۔ صرف حسنی کا بابا اب تک نہیں سویا تھا اور جھونپڑوں کے درمیان متواتر اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا اور اپنے سر کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے جھٹکتا جا رہا تھا۔ وہ رنج سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارتا اور کہتا، “دیکھا کیا ہوا! دیکھا میرا بچہ کیسے ہاتھ سے جاتا رہا! کیسے جوانی میں مر گیا!”

حسنی کے بابا کا رونا چلّانا اب تھم چکا تھا۔ اس کے بجاے اب اس کا دھیان عجیب و غریب چیزوں سے الجھ رہا تھا۔ جھونپڑوں کی چھتیں، مقبروں کے تاریک دروازے، دیوار کے ساتھ لگی ڈھکے ہوے پیپوں کی قطاریں، جھونپڑوں کے آگے لٹکے ٹاٹ کے پردوں پر پڑے دھبے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ رک کر زمین سے کوئی بیکار سی چیز اٹھا لیتا — ٹین کا ٹکڑا، یا ٹوٹی ہوئی پیالی، یا گھسا ہوا جوتا — اور کچھ دیر اس سے کھیلنے کے بعد اسے دور اچھال کر کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ وہ زیرلب بڑبڑاتا جا رہا تھا، “اب اسے کیڑے کھا رہے ہیں۔ سب ختم ہو گیا۔ میرا حسنی چلا گیا۔”

میں کئی بار اس کے پاس سے گزرا۔ اس کی حالت وہی رہی۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا، یا دیکھا تو مجھ پر توجہ نہیں دی۔ کچھ دیر بعد مجھے اچانک یاد آیا کہ حسنی بھوکا ہو گا اور میرا انتظار کر رہا ہو گا۔ میں سیدھا اپنے جھونپڑے پر پہنچا۔ سب سو رہے تھے۔ میرا بابا نیند میں لڑھک کر ایک طرف کو ہو گیا تھا اور اس کے مٹی میں سَنے پیر باہر کو نکلے ہوے تھے۔ میں نے ایک نان اور مٹھی بھر شکر لی اور باہر نکل آیا۔ ہر طرف سناٹا اور ویرانی تھی۔ حسنی کا بابا ایک مکان کے پیچھے کھڑا تھا اور دیوار پر ناخن سے کھرچ کر کچھ لکھ رہا تھا۔ سورج چڑھ آیا تھا اور روشنی ہر طرف پھیل گئی تھی۔ پمپ کے پاس پہنچ کر میں نے پانی پیا۔دور دور تک کوئی نہ تھا۔ میں مردے نہلانے والے کوڑے کے گڑھے میں اترا اور دوسری طرف نکل کر حاج تیمور کے بھٹے میں پہنچا اور اس کوٹھڑی کی طرف چلا جہاں مجھے معلوم تھا حسنی میرے انتظار میں بیٹھا ہے۔ وہ سو رہا تھا۔ جب میں نے آواز دی تو چونک کر اٹھ گیا اور گھبرا کر کہنے لگا، “کون ہے؟ کون ہے؟”

میں نے کہا، “ڈرو مت۔ میں ہوں میں۔”

وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آنکھوں کے گرد گڑھے تھے اور ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ میں نے پوچھا، “کیا ہوا؟ ٹھیک تو ہو؟”

بولا، “میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں کنویں میں گر گیا ہوں اور باہر نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہوں مگر نکل نہیں پاتا۔”

میں نے کہا، “تمھارا اپنا قصور ہے۔ تم ہی یہ کھیل کھیلنا چاہتے تھے۔ تمھارے بابا کا دماغ چل گیا ہے۔”

وہ کچھ نہ بولا اور خود کو گھسیٹتا ہوا کوٹھڑی سے باہر لے گیا۔ ہم دونوں دھوپ میں بیٹھ گئے۔ میں نے نان اور مٹھی بھر شکر اسے دے دی۔ پانی ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے آبخورہ اٹھا کر چند گھونٹ بھرے اور تھوڑا سا پانی لے کر منھ پر چھینٹے مارے۔ جب اس کا حال کچھ ٹھکانے پر آیا تو مجھ سے پوچھنے لگا، “کیا ہوا؟”

میں نے کہا، “سب کو یقین ہو گیا ہے کہ تم مر چکے ہو۔”

بولا، “تم نے کیا کیا؟”

میں نے کہا، “میں نے کچھ نہیں کیا۔ کسی سے نہیں کہا۔”

کہنے لگا، “اب وہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں؟”

میں نے کہا، “ابھی کچھ طے نہیں ہوا کہ کیا کریں گے۔”

اس نے پوچھا، “میرے لیے قرآن ختم نہیں کرائیں گے؟”

میں نے کہا، “پتا نہیں۔ “

بولا، “میرا خیال ہے آج سہ پہر کو کرائیں گے۔”

میں نے پوچھا، “تمھیں کیسے پتا ہے؟”

بولا، “یاد نہیں جب بی بی کا پوتا مرا تھا تو اگلے دن ختم کرایا تھا؟”

میں نے کہا، “اگر ایسا ہے تو آج کا دن تمھارا ہے۔”

بولا، “ہاں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔ اب مجھ میں اور حوصلہ نہیں۔”

میں نے کہا، “انشاء اﷲ ایسا ہی ہو گا۔”

کہنے لگا، “کہیں بھول نہ جانا۔ فوراً مجھے آ کر بتانا۔”

میں نے کہا، “نہیں، بھول کیسے جاؤں گا؟ لیکن تم زبردست ٹھکائی کے لیے تیار رہنا۔”

بولا، “ٹھکائی نہیں ہو گی۔ سب لوگ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔”

میں نے کہا، “تم یہی سمجھتے رہو۔ اصل بات تو شام کو معلوم ہو گی۔”

بولا، “شرط لگاتے ہو؟”

میں نے پوچھا، “کیسی شرط؟”

بولا، “اگر مجھے دیکھ کر غصے میں آ گئے کہ میں زندہ کیوں ہوں، مرا کیوں نہیں، اور میری پٹائی شروع کر دی تو تم جیتے، اور اگر مجھے دیکھ کر خوش ہوے تو میں جیتا۔ پھر تمھیں میرے ہاتھ سے پٹائی نوش جان کرنی ہو گی۔”

میں نے کہا، “بہت خوب! میں تمھارے لیے اتنی مصیبت اٹھا رہا ہوں، اور تم میری پٹائی کرو گے؟”

ہنسنے لگا۔ بولا، “مذاق کر رہا تھا۔ تمھیں آئس کریم خرید کے کھلاؤں گا۔”

میں نے کہا، “ہاں، یہ ٹھیک ہے۔”

اس نے نان کا ایک لقمہ توڑ کر منھ میں رکھا اور بولا، “اب کیا کریں؟”

میں نے کہا، “کچھ نہیں۔ تم جا کے کوٹھڑی میں چھپو اور میں بستی میں جا کے دیکھتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے۔”

بولا، “اگر سہ پہر کو ختم قران کی ٹھہرے تو مجھے آ کے بتاؤ گے نا؟”

میںنے کہا، “ہاں بتاؤں گا۔”

اور سہ پہر ہی کو ختم قرآن ہونا طے ہوا۔ حسنی کی فاتحہ۔ جھونپڑوں کے سامنے۔ عباس آقانے ایک بانس پر کالا کپڑا باندھ کر اسے میدان کے سرے پر گاڑ دیا تھا۔ سب گھروں سے باہر نکل کر زمین پر بیٹھ گئے۔ عورتیں ایک طرف اور مرد دوسری طرف۔ دوسری بستیوں میں بھی اطلاع پہنچ گئی تھی اور لوگ ٹولیوں میں آ رہے تھے۔ یوسف شاہ کی گھاٹی، سرپیچ، شمس آباد کے بھٹے، شترخون اور ملا احمد کی بستی، ہر جگہ سے۔ وہ سب انجانے لوگ تھے، طرح طرح کے کپڑے پہنے تھے۔ جوں ہی کوئی ٹولی میدان میں پہنچتی، عورتیں حسنی کی اماں کے پاس چلی جاتیں جو کھرچے ہوے خون آلود چہرے کے ساتھ اپنے جھونپڑے کے سامنے بیٹھی تھی۔ وہ اب رو نہیں رہی تھی، بس سر کو اِدھر اُدھر ہلاتی اور سینہ پیٹتی جاتی تھی۔ عورتیں اس کے سامنے پہنچتے ہی رونے اور اپنا سر اور منھ پیٹنے لگتیں اور کہتیں، “خواہر جان، خواہر جان، یہ تم پر کیا افتاد پڑی!”

حسنی کا بابا ہمارے جھونپڑے کے سامنے بیٹھا تھا۔ بلکہ بیٹھا کیا تھا، زمین پر پڑا ہوا تھا۔ مبہوت سا اپنے سامنے تکے جا رہا تھا۔ ہر نئے آنے والے کو جیسے ہی پتا چلتا کہ مرنے والے کا باپ کون ہے، وہ اس کے پاس جا کر سلام کرتا۔ کوئی جواب سنے بغیر آنے والا ایک کونے میں بیٹھ جاتا۔ عباس آقا جوکھڑا ہوا تھا، اونچی آواز میں کہتا، “فاتحہ!”

مرد لوگ فاتحہ پڑھنے لگتے۔ اُستا حبیب ہاتھ میں پانی کا برتن لیے لوگوں میں گھومتا اور پیاسوں کو پانی پلاتا پھر رہا تھا۔ دو بوڑھے آدمی جو غریبا کی گھاٹی سے تمباکو کا بڑا سا تھیلا لے کرآئے تھے، جلدی جلدی اخبار کے کاغذ پھاڑ پھاڑ کر سگریٹ بناتے اور انھیں سینی میں رکھتے جا رہے تھے۔ اور بی بی کا بڑا بیٹا رمضان سینی اٹھائے لوگوں کو سگریٹ پیش کر رہا تھا۔ سب لوگ سگریٹ اور پانی پی رہے تھے، سواے حسنی کے بابا کے، جو نہ سگریٹ پی رہا تھا نہ پانی، بس تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتا اور کبھی کبھی زمین کی طرف منھ کر کے تھوکتا تھا۔

کوئی گھنٹہ بھر گزرا ہو گا کہ سڑک کی سمت سے کچھ لوگ تیزتیز آتے دکھائی دیے۔سب گردن پھیر کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔ عباس آقا نے زور سے کہا، “پیروں کی گھاٹی سے کالے خیموں والے آئے ہیں۔ جاؤ، انھیں یہاں لے آؤ۔”

کئی لوگ ان کی پیشوائی کو آگے بڑھے۔ کالے خیموں والے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ دوڑتے لپکتے آ پہنچے۔ ان میں سے بہت سوں کے ہاتھوں میں علَم تھے۔ وہ ان سب کے آگے آگے چیتھڑے لگے کپڑے پہنے، غم اور پریشانی کی حالت میں سینہ زنی کرتے دوڑ رہے تھے۔ ان کے وسط میں ایک دبلاپتلا، لمبی گردن اور اونچے عمامے والا آخوند تھا۔ عورتیں دستے کے آخر میں تھیں، پابرہنہ اور خاک آلودہ۔ جب وہ لوگ چھوٹے میدان کے بیچ میں پہنچے تو صلوات کی آوازیں بلند ہوئیں۔عورتیں اورمرد الگ الگ ہو گئے۔ عورتیں چیخیں مارتی ہوئی حسنی کی اماں کی طرف چلی گئیں اور مرد آگے بڑھ آئے۔ بوڑھوں نے حسنی کے بابا کو سلام کیا۔ حسنی کے بابا نے جواب نہ دیا۔ علمداروں نے علم بچوں کے حوالے کیے اور بچے انھیں لے کر بڑوں کی پشت پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ تب آخوند جا کر ہمارے جھونپڑے کے باہر لگے پتھر پر بیٹھ گیا۔ اسمٰعیل آقا نے اونچی آواز میں کہا، “صلوات بھیجو! بلند آواز میں صلوات بھیجو!”

سب نے صلوات بھیجی۔ آخوند بھرائی، بیٹھی ہوئی آواز میں بولا، “بیٹھ جائیں، سب لوگ بیٹھ جائیں تاکہ ایک معصوم اور بیچارے نوجوان کی عزا میں روضہ ٔقاسم پڑھیں اور گریہ کریں۔”

پہلے اس نے کچھ عجیب و غریب دعائیں پڑھیں اور پھر روضہ خوانی شروع کی۔ اسی وقت گریہ وزاری کی صدا بلند ہوئی۔ سب رو رہے تھے۔ مرد رو رہے تھے، عورتیں رو رہی تھیں، بچے رو رہے تھے۔ یہاں تک کہ میں بھی رو رہا تھا۔ صرف حسنی کا بابا تھا جو نہیں رو رہا تھا۔ صرف پہلو بدل رہا تھا اور خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔ گریہ کرنے کی آوازیں جیسے جیسے بلند ہوتی گئیں، کالے خیموں والے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے سینے کھول دیے۔ آخوند بھی کھڑا ہو گیا اور اس نے بھی اپنا سینہ کھول دیا، اور اَور بھی زیادہ اونچی آواز میں بولا، “آؤ اب سید الشہدا کی اور اس بے گناہ نوجوان کی شادی میں سینہ زنی کریں۔”

یہ کہہ کر اس نے نوحہ پڑھنا شروع کیا۔ کالے خیموں والے ماتم کرنے لگے۔ دوسرے مرد بھی کھڑے ہو گئے اور اپنے سینے کھول کر ماتم کرنے لگے۔ عورتوں کی چیخ پکار میں اور زیادہ شدت آ گئی اور وہ ایک دوسرے کو لپٹا لپٹا کر زور زور سے رونے لگیں۔ مجھے اچانک خیال آیا کہ یہی وقت ہے۔ یہی وقت ہے کہ مجھے جاکر حسنی کو خبر کرنی چاہیے۔ مجھ پر کسی کی توجہ نہ تھی۔ کسی کی کسی پر بھی توجہ نہ تھی۔ میں چپکے سے وہاں سے نکل آیا۔ پہلے تو الٹے قدموں چلتا رہا، پھر مڑا اور آنکھوں سے آنسو پونچھتا ہوا تیزی سے چلنے لگا۔ پمپ پر پہنچ کر میں نے تھوڑا سا پانی پیا اور مردے نہلانے کے گڑھے میں اتر کر دوسری طرف پہنچ گیا۔ وہاں دور دور تک کوئی نہ تھا۔ تب میں نے دوڑنا شروع کر دیا۔ میں نے ہوا کی رفتار سے کنووں والے احاطے کا چکر لگایا اور آگے بڑھا۔ میرے حواس ٹھکانے نہ تھے۔ سر سے پیر تک پسینہ بہہ رہا تھا۔ اسی حالت میں دوڑتا ہوا میں حاج تیمور کے بھٹے میں پہنچا اور چکر لگا کر پیچھے کی کوٹھڑی کے سامنے آ گیا۔ حسنی کوٹھڑی کی چھت پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔ فوراً اٹھ کر نیچے آیا اور پوچھنے لگا، “کیا خبر ہے؟”

میں نے کہا، “تمھارا ختم ہو رہا ہے۔”

اس نے پوچھا، “کیا کر رہے ہیں وہ لوگ؟”

میں نے کہا، “ساری بستیوں اور گھاٹیوں سے لوگ آ گئے ہیں اور تمھارا ماتم کر رہے ہیں۔”

وہ کچھ دیر مجھے تکتا رہا۔ پھر بولا،’ ’تم کس لیے رو رہے ہو؟”

میں نے کہا، “تمھارے لیے۔”

بولا، “عجیب گدھے ہو! تمھیں تو پتا ہے کہ میں زندہ ہوں، مرا نہیں!”

میں نے کہا، “یہ سب اس آخوند کا قصور ہے جسے کالے خیموں والے لائے ہیں۔ اس نے سب کو رُلا دیا۔”

اس نے خوش ہو کر ہاتھوں کو آپس میں رگڑا اور کہا، “تو اب ٹھیک وقت ہے، ہے نا؟”

میں نے کہا، “ہاں تو۔ میرا خیال ہے یہی ٹھیک وقت ہے۔”

بولا، “اب دیکھتے ہیں کون شرط جیتتا ہے۔”

میں نے کہا، “خدا کرے تم ہی جیت جاؤ۔”

وہ ہنسنے لگا اور زور سے بولا، “تو چلو پھر، بھاگو!”

وہ فوراً اپنی جگہ سے دوڑ پڑا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ ہم دونوں دوڑ رہے تھے لیکن حسنی تو بالکل ہوا کی مانند اڑ رہا تھا۔ کوئی بھی اسے پکڑنا چاہتا تو نہ پکڑ سکتا۔ میں نے دو ایک بار اسے پکارا، “حسنی! حسنی!”

اور حسنی نے جواب دیا، “ہوہو! ۔۔۔ ہوہو!”
کہ اچانک، ایک دم پتا نہیں کیا ہوا… مجھے بالکل پتا نہیں کیا ہوا۔۔۔ کس طرح کہوں کہ کیا ہوا۔۔۔ کہ اچانک حسنی کا پیر کسی چیز میں پڑ کر رپٹا اور وہ سیدھا، بالکل سیدھا، کنویں میں جا گرا۔ میں نے سوچا، یعنی یہ نہیں سوچا کہ حسنی کنویں میں گرا ہے، بلکہ یہ سوچا کہ وہ زمین پر گرا ہے۔ میں آگے دوڑا۔ حسنی کہیں نہیں تھا۔ حسنی کنویں میں گر پڑا تھا۔ ایک بہت بڑے کنویں میں… اس کنویں میں جو سب کنووں سے بڑا تھا۔ میری زبان بند ہو گئی۔ میرے ہونٹ سل گئے۔ میں چاہتا تھا کہ زور سے چیخوں، چیخ کر کہوں: “حسنی!” مگر نہ چیخ سکا۔ میری آواز ہی نہ نکلی۔ منھ ہی نہ کھلا۔ میں نے بہت زور لگایا لیکن منھ سے حسنی کا نام ہی نہ نکلا۔ میں گھورے پر بیٹھ گیا اور اپنے دونوں کندھے زور سے پکڑ لیے۔ میرا سانس ہی رک گیا تھا۔ میں نے دو تین بار کوڑے کے ڈھیر پر اپنا سر مارا۔ پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ بلکہ خود کھڑا نہیں ہوا، گویا کسی چیز نے مجھے اٹھا کر پیروں پر کھڑا کر دیا۔ میں نے دوبارہ دوڑنا شروع کیا، ہمیشہ سے کہیں زیادہ تیز۔ حسنی سے بھی زیادہ تیز۔ میرا دل کرتا تھا، اُڑ کر کسی کنویں میں جا گروں۔ اسی وقت میں نے دیکھا کہ میں سڑک پر پہنچ گیا ہوں۔ پمپ کے پاس پہنچ کر میں نے سانس درست کیا۔ تب میری زبان کھلی اور میرے منھ سے نکلا، “ حسنی! حسنی ! حسنی!”

جس وقت میں میدان میں پہنچا، سینہ زنی ختم ہو چکی تھی۔ سب لوگ دائرہ بنائے خاموش بیٹھے تھے۔ رمضان لوگوں میں سگریٹ تقسیم کر رہا تھا اور اُستا حبیب پانی کا برتن اٹھائے اِدھر اُدھر آ جا رہا تھا۔ میں نے اونچی آواز میں چیخ کر کہا، “ حسنی! حسنی ! حسنی!” میں نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے سر پر ماریں اور زمین پر گر پڑا۔ سب لوگ اٹھ کر میرے گرد جمع ہو گئے۔ عباس آقا نے، جو سب کے آگے چلتا ہوا میرے قریب پہنچ گیا تھا، میرا ہاتھ پکڑ لیا کہ میں خود کو نہ مار سکوں۔ اس نے پوچھا، “کیا ہوا؟ کیا ہوا؟”

میں نے چیخ کر کہا، “حسنی! حسنی کنویں میں گر پڑا!”

یہ کہہ کر میں زمین پر اوندھا ہو گیا اور مٹھیوں سے مٹی پکڑ لی۔ ہر طرف ایک ہمہمہ بلند ہوا۔ سب مجھے تسلیاں دیتے ہوے کہہ رہے تھے، “اچھا، اچھا، خدا رحمت کرے، تم خود کو زخمی مت کرو! صبر کرو!”

میرا بابا لوگوں کو ہٹاتا ہوا آگے آیا اور بولا، “چپ ہو جاؤ بچے! اس کے ماں باپ کے غم کو تازہ مت کرو!”

میں نے کہا، “گر پڑا! میری آنکھوں کے سامنے کنویں میں گر پڑا!”

بابا نے چیخ کر کہا، “میں کہتا ہوں چپ ہو جا! خاموش ہو جا گدھے کے بچے!”

میں اس سے بھی اونچی آواز میں چیخ کر بولا،”بخدا وہ کنویں میں گر پڑا! ابھی ابھی! ابھی گرا ہے!”

بابا نے مجھے سہارا دے کر کھڑا کیا اور ایک زوردار تھپڑ لگایا۔ اسمٰعیل آقا نے بابا کو ہاتھ پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا اور کہا، “مت مارو احمق آدمی! دیکھتے نہیں اس کا کیا حال ہو رہا ہے؟”

پھر اس نے مجھے سینے سے لگا کر کہا، “صبر کرو، صبر کرو!”

استا حبیب نے اسمٰعیل کو پانی دیا اور اسمٰعیل آقا نے پانی لے کر میرے منھ پر چھینٹے مارے۔ میں نے خود کو اس کے بازوؤں سے چھڑانے کے لیے بہت زور لگایا لیکن نہ چھڑا سکا۔ کچھ لوگ اور بھی زور لگا رہے تھے کہ میں بھاگ نہ نکلوں۔ میں نے ایک بار پھر اونچی آواز میں چیخ کر کہا، “حسنی گر پڑا! کنویں میں گر پڑا! حسنی! حسنی ! “ اسمٰعیل آقا نے اپنا بڑا سا ہاتھ میرے منھ پر رکھ کر مجھے چپ کرا دیا اور کھینچتا ہوا میرے جھونپڑے میں لے گیا۔ حسنی کے بابا کے سامنے سے گزرتے ہوے میں نے اس کی طرف دیکھا اور ہاتھ سے کنویں کی سمت اشارہ کیا۔ اس نے میری طرف نہ دیکھا۔ خالی نظروں سے اپنے سامنے تکتا رہا۔ جب میں جھونپڑے میں داخل ہوا تو اسمٰعیل آقا نے کہا، “چپ ہو جاؤ بچے! سب جانتے ہیں کہ حسنی تمھارا دوست تھا۔ تم دونوں میں بہت یاری تھی۔ مگر اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ قضا اور قدر کے فیصلوں میں کسی کا کیا زور۔”

میں نے ایک بار پھر چیخ کر کہا، “ابھی گرا ہے! ابھی گرا ہے! ابھی گرا ہے!”

میں چاہتا تھا کہ دوڑ کر جھونپڑے سے باہر نکل جاؤں مگر نہ کر سکا۔ بابا نے کہا، “اب کیا کر سکتے ہیں؟ بولو؟ کیا کر سکتے ہیں؟”

اسمٰعیل آقا نے کہا،”یہ اپنے ہوش میں نہیں ہے۔ ہاتھ پیر باندھ دینے چاہییں۔”

انھوں نے میرے ہاتھ پیر کس کر باندھ دیے۔ میں نے پھر چیخنا شروع کیا۔ بابا نے کہا، “اس کے چیخنے کا کیا علاج کریں؟”

اسمٰعیل آقا نے کہا، “منھ بھی باندھ دیتے ہیں۔”

میرے منھ پر بھی کپڑا باندھ کر مجھے ایک کونے میں ڈال دیا گیا۔ بابا ہاتھ مل رہا تھا اور کہتا جا رہا تھا، “کیا کریں، خدایا! خداوندا، اگر یہ اسی طرح رہا تو کیا کریں گے!”

اسمٰعیل آقا نے کہا، “پریشان مت ہو۔ ابھی کالے خیموں والے آخوند سے کہتے ہیں کہ اس کے لیے دعا لکھ دے۔ پھر اس کی حالت ٹھیک ہو جائے گی۔”

اُستا حبیب بولا، “اگر ٹھیک نہ ہوا تو شاہ عبدالعظیم لے چلیں گے۔”

بابا متواتر رو رہا تھا اور بے چینی سے چکر لگاتے ہوے کہے جا رہا تھا، “یا امامِ زماں! یا امامِ زماں! یا امامِ زماں!”

اسمٰعیل آقا نے کہا، “بہتر ہے اسے کچھ دیر کے لیے تنہا چھوڑ دیں۔ شاید حالت بہتر ہو جائے۔”

وہ سب جھونپڑے سے باہر چلے گئے اور دروازہ بند کر دیا۔ جماعت کے صلوات پڑھنے کی آواز دوبارہ بلند ہوئی۔ اور پھر آخوند کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی جو دوبارہ روضہ ٔ قاسم پڑھ رہا تھا۔

(فارسی عنوان: “بازی تمام شد”)

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 12: رنگوں کی دنیا میں (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” آپ نے بمبئی میں ‘مایا مچھندر’ دیکھی۔ اب بتائیے، وہ جیسی ہے ویسی ہی پیش کی گئی تو کیا لوگ اسے پسند کریں گے؟” فتےلال جی بڑی سنجیدگی سے سوال کر رہے تھے۔ دوسرے دن سویرے، داملے جی، فتےلال جی، دھایبرجی وغیرہ سب لوگ ہمارے ‘پربھات’ کے کارخانے میں بحث کر رہے تھے۔ تب بمبئی میں میرے کئے گئے فیصلے پر فتے لال جی نے شبہ ظاہر کیا۔ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر آج ہی یہ بےیقینی کیوں؟

میں نے تڑاخ سےجواب دیا، “آپ کی رائے بھی گووندراؤ اور بابوراؤ جیسی ہی ہے تو جائیے، بمبئی تار دیجیے اور ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز آگے دھکیل دیجیے۔ اس کی کاپی یہاں واپس منگا لیجیے۔ اس میں جو بھی تبدیلی کرنی ہو، شوق سےکیجیے۔” سبھی چپ رہے۔ کسی نے کوئی بات نہیں کی۔

اس واقعے کے بعد دوسرےدن داملےجی اور فتےلال جی کے واقف ایک سجن بابوراؤ ٹول کسی سادھو بابا کو کمپنی میں لے آئے۔ ان باباجی کی عظمت کی انہوں نے تعریفیں کیں۔ ان کا نام تھا دادامہاراج۔ سبھی ساجھےدار ان کے چرن چھونے کے لیے لپکے۔ میں دور سے ہی تماشا دیکھتا رہا۔

بابوراؤ ٹول میرے پاس آ کر کہنے لگے، “شانتارام بابو، آگے بڑھیےاور آپ بھی چرن چھو آئیے۔ آپ کےمن میں جو بھی سوال ہو، پوچھ لیجیے۔”

“لیکن مجھے ان سے کوئی سوال نہیں پوچھنا ہے،” میں نے کہا۔

“اجی آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ وہ آپ کی کمپنی میں آئے ہیں۔ کمپنی میں آنے والے دوسرے لوگوں سے جس طرح ملتے ہو، نمسکار کرتے ہو، ویسا بھی نہیں کر سکتے آپ؟ محض ایک رسمی طور پر تو ملیے نا ان سے۔”

ٹول جی کی دنیاداری کچھ تو سمجھ میں آ گئی۔ ایک دم ہچکچاہٹ سے میں ان سادھو مہاراج کے سامنے گیا اور کھڑے کھڑےہی میں نے انہیں پرنام کیا۔

یہ دیکھ کر کہ پھربھی میں کچھ بول نہیں رہا ہوں، ٹول صاحب نے سادھو بابا سے کہا، “شانتارام بابو جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی پربھات فلم کمپنی مستقبل میں کیسی چلےگی؟”

دادا مہاراج نے پوری سنجیدگی سے کہا، “انہوں نے ٹھیک سے چلائی تو ٹھیک ہی چلے گی۔”

مجھے اس بچگانے جواب پر زور کی ہنسی آ رہی تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنی ہنسی کو روکا۔

کچھ دیر بعد دادا مہاراج چلے گئے اور تب تک روکی رکھی میری ہنسی زور سے ابھر آئی۔ میں نے ہنستے ہنستے کہا، “بھئی خوب رہی! کہتے ہیں، ہم نے ٹھیک چلائی تو کمپنی ٹھیک چلےگی! لیکن یہ بتانے کے لیے ان سادھو بابا کی کیا ضرورت ہے؟”

میرا دادا مہاراج کی اس طرح کِھلی اڑانا دیگر لوگوں کو قطعی نہیں بھایا۔

‘مایا مچھندر’ بمبئی میں ریلیز ہو گئی اور اس نے بازی جیت لی۔ لوگوں کو ‘مایا مچھندر’ بہت ہی پسند آئی ہے، یہ خبر وضاحت سے دینے والا بابوراؤ پینڈھارکر کا تار آیا۔ فلم کے بارے میں میری چھٹی حس ایک دم صحیح ثابت ہوئی۔ بابوراؤ پینڈھارکر کولہاپور واپس آئے اور انہوں نے بِنا کچھ کہے میری پیٹھ تھپتھپائی۔ جن کی انگلی تھام کر میں نے اس فلمی دنیا میں پہلا قدم رکھا تھا، ان سے اس طرح خاموش شاباشی پا کر میں نے اپنے آپ کو خوش قسمت مانا۔

یہ فلم نہ صرف بمبئی میں، بلکہ سارے دیش، سبھی جاتی کے لوگوں کو بہت ہی پسند آئی۔ اس کا اینڈ دیکھ کر تو لوگ گدگدا جاتے تھے۔

گورکھ ناتھ اپنی غار میں واپس آتا ہے اور دیکھتا کیا ہےکہ اس کے گروجی مچھندر ناتھ وہیں سمادھی جمائے بیٹھے ہیں! تذبذب میں مبتلا گورکھ اپنے گروجی سے پوچھتا ہے، “ابھی کچھ لمحے پہلے تو آپ اس ستری (عورت) ریاست میں تھے اور ابھی آپ یہاں ہیں۔ تو سچ کیا ہے؟ وہ یا یہ؟”

گورکھ ناتھ کے اس سوال کا معقول جواب مکالمہ لکھتے وقت ہم میں سے کوئی نہیں کھوج پایا تھا۔ ہمارے ڈائیلاگ رائٹر نے اس پر لمبا بھاشن لکھ مارا تھا، لیکن اسے سننے کے لیے ناظرین تھئیٹر میں ہرگز نہ رُکتے۔ ہم سب نے کافی سوچا لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ آخر فلم میں گورکھ ناتھ کے اس سوال کو ویسا ہی لاجواب چھوڑ کر ہم لوگ باقی شوٹنگ میں جُٹ گئے۔ سوچا، شاید آگے چل کر اس کا جواب اپنے آپ اُبھر آئے گا۔

ساری فلم کی شوٹنگ پوری ہو گئی اور اب اس آخری سین کی شوٹنگ کا دن آ گیا۔ اب تو گورکھ ناتھ کےاس سوال کاجواب مزید ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ کیا کریں، کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔ آخر ہار کر میں نے مچھندر ناتھ کے منھ سے ‘چت بھی میری، پٹ بھی میری’ سٹائل میں گول مول جملہ کہلوایا :

گورکھ پوچھتا ہے،”گروجی، یہ سچ ہے، یا وہ سچ ہے؟”

“بیٹا گورکھ ناتھ، یہ بھی سچ ہے اور وہ بھی سچ ہے۔ تمہارے لیے یہ سچ، وہ مایا۔” مچھندر ناتھ بڑی گمبھیرتا سے جواب دیتا ہے۔ یہ جملہ مچھندر ناتھ سے کہلوایا۔ تب سوچا بھی نہیں تھا کہ میں نے کوئی بڑی بات کہلوائی ہے۔ لیکن ناظرین نے اس جملے میں مہان فلسفیانہ نظریہ پایا۔ کئی جذباتی ناظرین نے خط بھیج کر مجھےدلی مبارکباد دی کہ اتنا گہرا،سنجیدہ فلسفیانہ نظریہ میں نے بالکل آسان الفاظ میں آسانی کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا۔

لگ بھگ اسی وقت، ‘پربھات’ کی طرف سے ہم نے ‘سیتا کلیانم’ نامی تمِل فلم بنائی۔ اس کی ڈائریکشن بابوراؤ پینڈھارکر نےکی۔ اس کام کرنے کے لیے سبھی لوگ مدراس سے لائے گئے تھے۔ کچھ ٹیکنیشین بھی وہیں سے آئے تھے۔ لیکن پروڈکشن ‘پربھات’ کی ہی تھی۔ یہ فلم مدراس صوبے میں کافی مقبول ہو گئی تھی۔

‘مایا مچھندر’ کا کام شروع ہونے سے کچھ دن پہلے اگفا کمپنی کے ہندوستان میں مشہور لائیڈن اور ریگے کولھاپور آئے تھے۔ رنگین فلم بنانے کا ایک نیا بائی پیک سسٹم انہوں نے تیار کیا تھا۔ انہوں نےاس سسٹم کی جانکاری دینے والی مشینری ہمیں دی۔ اس بائی پیک سسٹم میں کیمرے میں ایک ہی وقت میں نیگیٹو کے دو فیتے چلانے پڑتے تھے۔ ایک نیگیٹو نارنجی رنگ کے لیےاور دوسری نیلے رنگ کے لیے۔ دونوں نیگیٹوز کو ایک ہی ساتھ فلمانا پڑتا تھا۔ کیمیائی عمل تو بلیک اینڈ وائٹ نیگیٹو پر جیسا ہوتا ہے، ویسا ہی کرنا پڑتا تھا۔ بعد میں ایک ہی پازیٹو فلم پر ایک طرف نارنجی اور دوسری جانب نیلے کے نیگیٹو کے پرنٹ اس طرح لینے پڑتے تھے اور اس طرح ریلیز کا پرنٹ تیار کیا جاتا تھا۔ اس سسٹم میں پیلا رنگ آزاد روپ میں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ نارنجی رنگ میں پیلی چمک آ جاتی تھی، اتنا ہی پیلا رنگ موجود ہوتا تھا۔ اس بائی پیک سسٹم کا استعمال کر جرمنی میں فلمایا ایک فلم رول بھی ہم نے پردے پر دیکھا۔ اس وقت تو ہم سب کو وہ بہت ہی پسند آیا۔

بھارت میں پہلی رنگین فلم بنانےکا یہ موقع نہ کھونے کا ہم نے فیصلہ کیا۔ کیمرے میں جڑواں فلم چڑھانے کا انتظام کرنے اور جرمنی سے رنگین نگیٹو آنے میں دو تین مہینے کا وقت لگنے والا تھا، لہٰذا اس بیچ خالی ہاتھ بیٹھے رہنے کے بجاے ہم لوگوں نے ایک فلم بنانے کا سوچا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی کی ‘سنگھ گڈ’ خاموش فلم کافی مقبول ہو چکی تھی۔ اسی خاموش فلم کو بولتی فلم میں بدلنے کا ہم لوگوں نے ارادہ کیا۔ مشہور مراٹھی ناول نگار ہری نارائن آپٹے کے ناول ‘گڈ آلا، پن سنگھ گیلا’ کے مکمل حقوق ہم نے خرید لیے۔ اس فلم کو صرف مراٹھی میں ہی بنانے کا ہم نے فیصلہ کیا۔

اسی وقت کولہاپور میں مراٹھی ادبی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس میں ایک مشاعرے میں بیٹھے بیٹھے میرے من میں ایک وچار آیا۔ میں نے سبھی شاعروں کو اپنی کمپنی میں محبت سے مدعو کیا۔ کیشو کمار عرف اترے، شاعر یشونت، گریش (مراٹھی کے مشہور ناٹک کار وسنت کانیٹکر کے پتاجی)، سوپان دیو چودھری، مایدیو، سنجیونی مراٹھے وغیرہ مشہور شاعر ہمارے سٹوڈیو آئے۔ انہیں کیمرے کے سامنے کھڑا کر ہم نے ان سے ان کی کچھ نظمیں پڑھوائیں، اس کو فلما لیا اور ساؤنڈ ریکارڈنگ بھی کر لی۔ لیکن انہیں پردے پر جوں کا توں پیش نہیں کیا۔ ہمارے کلاکاروں سے مناسب بھیس میں ان نظموں کے مصرعوں کے مطابق خاموش اداکاری (مائم) کرائی۔ مثال کے لیے: شاعر یشونت کی نظم ‘نیاہاریچا وکھت جھالا میترنی بگی بگی چال’ پر ایک کسان لڑکی باجرے کی روٹیوں کی ٹوکری سر پر لیے اپنے پتی کو ناشتہ کرانے کے لیے بڑی لپک لچک کر کھیت کی طرف جا رہی ہے، ایسا سین ہم نے فلمایا۔ اسی طرح اترےکی ‘پرٹا، ییشل کدھی پرتون’- طنزیہ نظم پر ایک دھوبی اپنے گدھے پر میلے کپڑوں کی گٹھری لادے جا رہا ہے، ایسا منظر ہم نے فلمایا۔

اس مشاعرے کی ڈاکیومنٹری ہم نے ‘سنگھ گڈھ’ فلم کے ساتھ پیش کی۔ ناظرین نے اس نئے آئیڈیا کا اچھا استقبال کیا۔ نظم لکھتے وقت اہلِ نظر کے سامنے جو متاثرکن سین تھا، اسے فلمی پردے پر سچ دیکھ کر بہت لطف حاصل ہونے کی بات کی سبھی شاعروں نےخط لکھ کر ہمیں اطلاع دی۔

‘ایودھیا کا راجا’ ہماری پہلی ہندی بولتی فلم تھی۔ اسے استثنیٰ مان لیا جائے تو ہماری سبھی خاص فلمیں اچھی طرح کامیاب رہی تھیں۔ کمپنی میں خوشی اور جوش ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لیکن اب ہمیں ایک کمی ستانے لگی تھی۔ بمبئی میں سبھی سٹوڈیوز میں آج کل بجلی کے طاقتور بلبوں کی تیز روشنی میں شوٹنگ ہونے لگی تھی۔ ہم نے کولھاپور کی بجلی کمپنی کے اہلکاروں کے پاس جا کر پوچھ تاچھ کی کہ کیا فلم میکنگ کے لیے ضروری بجلی وہ ہمیں دے سکیں گے؟ لیکن انھوں نے ٹکا سا جواب دیا، “دوسرے زیادہ غیرمعمولی کاموں کے لیے بجلی کا استعمال کرنا ہے، اس لیے فلم کے لیے بجلی دینا ممکن نہیں ہو گا۔”
ہم سب کے سامنے فیصلہ کن مشکل منھ کھولے کھڑی تھی: سورج کی کرنوں کو منعکس کرنے کے پرانے طریقے کے مطابق ہی شوٹنگ کرنے کے لکیر کے فقیر بنے رہیں، یا آج اور سب لوگوں کی طرح شوٹنگ کے لیے بجلی کا استعمال کرنا شروع کریں؟

دنیا سے پیچھے رہنا ہمارے لیے ناقابل برداشت تھا۔ من میں وچار آنے لگا کہ کولہاپور میں اگر بجلی کی سہولت میسر نہیں تو کیوں نہ ایسی جگہ چلا جائے جہاں وہ میسر ہو؟ بس، اپنی فلم کمپنی کو پُونا، بمبئی جیسے کسی شہر میں لے جانے کا ارادہ پکا ہونے لگا۔

اور اسی وقت ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے ہم نے اپنی ‘پربھات’ کمپنی کو دوسرے شہر لے جانے کا ارادہ پکا کر ہی ڈالا۔ بات یہ ہوئی کہ ایک دن کولہاپور کے راجا، راجارام مہاراج، ان کی بہن اکا صاحب مہاراج، ماتاجی آئی صاحب مہاراج وغیرہ، راج خاندان کے لوگ سٹوڈیو میں ہماری شوٹنگ دیکھنے کے لیے آئے۔ جاتے جاتے مہاراج نے مجھے راج محل آ کر ملنے کو کہا۔

میں راج محل پہنچا۔ مہاراج نے ہماری کمپنی کا حال پوچھا۔ ‘پربھات’ کے سبھی ساجھے داروں کے نام پوچھے۔ بعد میں باتوں باتوں میں انھوں نےکہا، “شانتارام بابو، یہ تو بہت ہی اچھی بات ہےکہ کمپنی اچھی طرح چل رہی ہے، لیکن آپ کےساجھےداروں میں دو بامن ہیں، داملے اور کُلکرنی۔ بامن جاتی کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے فائدے کے پرے دیکھ نہیں سکتی۔ آپ سب لوگ اوپر اٹھنے کی کوشش کیے جا رہے ہیں، تب تک تو یہ لوگ آپ سے ٹھیک طرح پیش آئیں گے۔ لیکن آپ کی پانچوں انگلیاں گھی میں آتے ہی آپ کا سر کڑاہی میں ڈالنے سے یہ لوگ کبھی نہیں چوکیں گے!”

مہاراج کے برہمن بیزار رویے کے بارے میں مَیں نے سنا تو تھا، اب بات سامنے آ گئی تھی۔ انہوں نے میرےساتھیوں کے بارےمیں جو نامناسب باتیں کہی تھیں، مجھے قطعی نہیں بھائیں۔ میں نےانھیں صاف کہہ دیا، “داملےجی اور کلکرنی جی برہمن بھلے ہی ہوں، آپ بتاتے ہیں، ویسے ہرگز نہیں ہیں!”

“میری بات آپ کو آج نہیں اچھی لگی شاید، لیکن کچھ سال بعد آپ خود تجربہ کریں گے اسے!”

مہاراج کی باتیں سن کر میرے من میں شُبہ جاگا کہ کہیں یہ ہم لوگوں میں پھوٹ ڈالنے کی تو کوشش نہیں کر رہے ہیں؟

میں کمپنی میں واپس آ گیا۔ راج محل میں ہوئی ساری باتیں ساتھیوں کو بتا دیں اور اپنا پیغام بھی واضح کر دیا۔ ایسی حالت میں مہاراج نے چاہا تو وہ ہماری کمپنی کو چٹکیوں میں تباہ کر سکتے تھے!

لہٰذا ہم سب نے مکمل باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا کہ کولھاپور سے کمپنی کا بوریا بستر اٹھا کر بمبئی کےپاس پُونا شہر میں پربھات فلم کمپنی کو نئے سرے سے شروع کیا جائے۔

ڈھیلاپن اور سستی ہم لوگ جانتے ہی نہیں تھے۔ سٹوڈیو کے قابل جگہ کی کھوج کے لیے ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر کو پُونا بھیجا۔ انہوں نے ڈیکن جمخانہ کے آگے ایرنڈونا رستے پر سردار ناتو کی ایک کافی بڑی کھلی جگہ پسند کی۔ جگہ لگ بھگ آٹھ ایکڑ تھی۔ بابوراؤ نے زمین کا سارا حال ہمیں لکھ بھیجا۔ جگہ پسند کرنے کے لیے ہم سب کو انھوں نے پونا بلا لیا۔

پُونا میں اس جگہ پر پہنچتے ہی ہم بہت مطمئن ہوئے۔ ‘پربھات’ کے قیام کے وقت سے ہی من میں ’پربھات نگر’ بسانے کی جو بات گہری پَیٹھ چکی تھی، اسے پورا کرنے کے لیے یہ جگہ بہترین تھی۔ پھر اس کے آس پاس بھی لگ بھگ سو دو سو ایکڑ زمین خالی پڑی تھی۔ آگے چل کر اسے بھی خریدا جا سکتا ہے اور پربھات نگر بسانے کا سپنا سچ کیا جا سکتا ہے، یہ وچار مجھ پر حاوی ہو گیا اور بِنا بھاؤتاؤ کیے ہی ہم نے وہ زمین خرید لی۔ پُونا میں ایک انجینئر تھے پَوار۔ انہیں سٹوڈیو اور دوسرے شعبوں کی پوری جانکاری دی اور اس کے مطابق پلان بنانے کے لیےکہا۔ ان کےکام پر داملےجی دیکھ ریکھ کرنے لگے۔ وہ بیچ بیچ میں پُونا جاتے اور سٹوڈیو کےتعمیری کام پر نظر رکھتے تھے۔

اب تک رنگین فلم کے لیے ضروری ساری مشینری اور سازوسامان، جڑواں نگیٹو وغیرہ ہمیں مل گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انگریزی میں معلوماتی کتابیں بھی آئی تھیں۔ ان سب کو میں نے پورے دھیان سے پڑھا اور ان میں دی گئی ہر بات کا باریکی سے مطالعہ کیا۔ پھر وہ ساری جانکاری میں نے مراٹھی میں دھایبر، فتے لال جی، داملےجی وغیرہ سب کو ٹھیک طرح سے سمجھا دی۔

رنگینی کاخیال کر کمپنی کےکلاکاروں کو پوشاکیں دیں، اور جانکاری کی کتابوں میں دی گئی ہر بات پر ٹھیک ٹھیک عمل کرتے ہوئے تجربے کی خاطر تھوڑی شوٹنگ کی۔ اس جڑواں نیگیٹو پر کیمیکل کا عمل پورا کر رنگین پرنٹ نکالنے کے لیے انہیں جرمنی بھجوا دیا۔

رنگین فلم کے روپ میں ایک نئی ست رنگی دنیا کا علاقہ ہمارے سامنے کھل گیا۔ رنگین فلم کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ کسی قدیم موضوع کو ہی لیا جائے۔ اس لیے ‘کیچک وَدھ’ کی حکایت کو ہم لوگوں نے چنا۔ مہابھارت کی اسی کہانی پر بابوراؤ پینٹر نے ایک فلم ڈائریکٹ کی تھی۔ اس کا مجھ پر بہت اثر پڑا تھا اور اسی لیے میں نے اس علاقے میں قدم رکھا تھا۔ اس کہانی کے ذریعے سے قدیم سیاسی سوالوں کو ڈھنگ سے پھر ایک بار عوام کے سامنے ابھارا جا سکتا تھا۔ آدرشی فلم بنانے کے میرے اپنےسٹائل میں بھی یہ درست بیٹھتا تھا۔ ہم نے بھی اس فلم کا نام ‘سیہ رنگھری’ رکھنا ہی طے کیا۔

میں نے ایڈیٹنگ شروع کی۔ رنگین پرنٹ کے لیے فلم کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے، ٹھیک سے معلوم نہ ہونے کے کارن میں نے ہر سین کی علیحدہ ایڈیٹنگ کر اسے چھوٹی چھوٹی گراریوں میں باندھا۔ اس طرح کئی گراریاں بن گئیں۔ ہر چھوٹی گراری کا ہماری تجربہ گاہ میں ہی بلیک اینڈ وائٹ پرنٹ تیار کیا اور انہیں جوڑ کر ہم نے فلم کو تجرباتی روپ میں پردے پر دیکھا۔ ایک ہی رنگ کی ہونے کے کارن اس فلم پٹی پر نقش سین پردے پر صاف دکھائی نہیں دیے، لہٰذا فلم کا کُل اثر دیکھنے والوں پر کیا پڑے گا، ہم لوگ ٹھیک سے بھانپ نہ سکے۔

اب اس جڑواں نیگیٹو سے رنگین کاپی نکالنے کا وقت آ گیا تھا۔ آج تک اس کیمیائی عمل کا سارا کام داملےجی دیکھا کرتے تھے، لہٰذا اس کام کے لیے جرمنی جانےکی ذمےداری انھی کو سونپی گئی۔ وہ سفر کی تیاری میں جُٹ گئے۔ ان کا پاسپورٹ بن کر آ گیا۔

لیکن ایک دن سویرے ہی داملے جی میرے پاس آئے اور بولے، “شانتارام بابو، جرمنی آپ ہی جائیے۔ ادھر انگریزی میں باتیں کرنا مجھ سے ٹھیک سے نہیں ہو پائے گا!”

میں نے ہنس کر کہا، “میں بھی کون بچپن سے انگریزی بول پاتا ہوں؟ ویسے انگریزی بات چیت آپ کی بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کافی کچھ۔۔”

فیصلے کے مطابق ان کو ہی جرمنی جانا چاہیے، ایسی درخواست میں نے کافی کی، لیکن داملے جی مانتے ہی نہیں تھے۔ شاید انھوں نے نہ جانے کا من ہی من فیصلہ کر رکھا تھا۔ آخر مجھے ہی جرمنی جانے کی تیاری کرنی پڑی۔

جرمنی پہنچنے پر جہاں تک ہو سکے بھارتی لباس میں ہی رہنے کے ارادے سے میں نے شیروانیاں، چوڑی دار پاجامے، طرح طرح کی ٹوپیاں وغیرہ کپڑے بنوا لیے۔ ماں، باپو، وِمل، میرےدونوں بچے، پربھات کمار اور دو برس پہلے جنمی لڑکی سروج میرے ساتھ بمبئی آئے۔ ان کے علاوہ پربھات فلم کمپنی میں میرے ساتھی بابوراؤ پینڈھارکر، ونائک، میرے تینوں چھوٹے بھائی کیشو، رام کرشن اور اودھوت وغیرہ سب لوگ بھی بس سے بمبئی آ گئے۔ بڑا بھائی کاشی ناتھ دادا بمبئی میں ہی رہتا تھا۔ وہ، اس کے گھر کے لوگ، بابوراؤ پینڈھارکر، تورنے اور باقی مِتر بھی بندرگاہ پر مجھے الوداع کہنے آ گئے تھے۔ ‘سیرندھری’ کی نگیٹو لے کر میں نے ‘لائڈ ٹرسٹنو’ کمپنی کے جہاز پر پاؤں رکھا۔ میں باہر ڈیک پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ بندرگاہ کے ساحل پر سارے خاندان والے کھڑے تھے۔ وہ سبھی ساتھی، متر ہاتھ ہلا ہلا کر مجھے الوداع کہہ رہے تھے۔

میں نے بھی اپنی جیب سے رومال نکال کر ہلایا۔ وِمل ہاتھ ہلا رہی تھی اور پلو سے آنکھیں بھی پونچھ رہی تھی۔ وِمل کے پاس ہی وِنائک کھڑا تھا۔ وہ بھی پاگل جیسا رو رہا تھا۔ دھیرج اور سنجیدہ سوبھاؤ کے بابوراؤ بھی بھر آئے آنسو رومال سے دھیرے سے پونچھ رہے تھے۔ میرے بچے پربھات کمار اور سروج تذبذب میں سارا حال دیکھ رہے تھے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ اپنے کام وام میں بہت زیادہ مصروف رہنے کے کارن میں نے بچوں کی طرف خاص کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔ نتیجتاً وہ میرے ساتھ کوئی خاص ہلے ملے نہیں تھے۔ پھر بھی اپنے دادا کو ‘با’ کہا کرتے تھے)، وہ بھی رونے لگے۔ میری بھی آنکھیں بھر آئیں۔

جہاز ساگر ساحل کو چھوڑ کر گہرے پانی میں دور دور جانے لگا۔ ساحل پر کھڑے سبھی مرد عورت چھوٹے چھوٹے دکھائی دینے لگے اور آخر میں اوجھل ہو گئے۔ تب تک میں رومال ہلا رہا تھا، اب میں نے رومال نیچے کیا اور جہاز کی ریلنگ پکڑ کر میں ڈیک پر کھڑا بندرگاہ کی سمت ایک ٹک دیکھتا گیا۔ میں سب کو چھوڑ کر کہیں دور چلا جا رہا ہوں، ایسا نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سب لوگ مجھے اکیلا چھوڑ کر کہیں دور چلے جا رہے ہیں، اور میں ایک دم اکیلا رہ گیا ہوں۔ پتا نہیں کتنی دیر میں یوں ہی ڈیک پر کھڑا کھڑا کسی غیرموجود خلا میں کھوئی کھوئی نظروں سے کیا دیکھتا رہا۔۔۔۔

جہاز پر کچھ بھارتی لوگ تھے۔ ہم نے آپس میں تعارف کر لیا اور چونکہ کرنے کے لیے اور کچھ بھی نہیں تھا، گپیں لڑانے بیٹھ گئے۔ کئی بار جہاز پر کچھ کھیل ہوتے تھے۔ ہم سب لوگ ان میں شامل ہوتے۔ جہاز پر گھڑدوڑ بھی ہوتی۔ لیکن یہ گھوڑے ایک فٹ اونچے اور لکڑی کے بنے ہوتے تھے۔ میں نے گھوڑوں کی اس ریس میں خود پیسہ لگا کر کبھی حصہ نہیں لیا۔ میں صرف ناظر بن کر کھیل اور لوگوں کا تماشا دیکھا کرتا تھا۔ کئی بار یہ سب لوگ تاش کھیلنےجم جاتے۔ تاش میں میری تو قطعی کوئی مہارت نہیں تھی۔ گدھاکوٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی ہمیشہ گدھا بننے لائق ہی میرا تاش کا علم تھا! ایک بار ان سب لوگوں نے مجھے بِرج کھیلنے کا آگرہ کیا۔ مجھے بِرج کے معمولی رولز پتا تھے اور ان کے بل پر میں بِرج کھیلنے ایسے بیٹھا جیسے بڑا ماہر ہوں۔ لیکن بعد میں میرے نوسِکھیا کھیل کی وجہ سے میرا پارٹنر مجھ پر بہت بگڑ پڑا۔ میں نے تاش کے پتے پھینک دیے اور چپ چاپ ایک اور چل دیا۔

سفر میں تین ہفتے بیت گئے اور ہمارا جہاز بندرگاہ پر جا لگا۔ مجھے لینے کے لیے امریکن ایکسپریس کمپنی کا آدمی آیا ہوا تھا۔ اس نے میرے کپڑوں کا بڑا بیگ، نگیٹو کے صندوق وغیرہ سامان برلن پہنچانے کا بندوبست کیا۔ پھر بھی میرے ساتھ دو تین بیگ تھے۔ وہاں سے ٹرین سے میں برلن پہنچا۔ اسٹیشن پر سامان اتروانے کے لیے میں قلی کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن وہاں کوئی قلی وُلی نہیں آیا۔ آخر میں نے خود ہی اپنا سامان اتارا۔ اپنے بیگ بھی میں نے اٹھائے ہی تھے کہ اگفا کمپنی کے ڈاکٹر پیٹرسن مجھے لِوا لینے کے لیے وہاں آ گئے۔ پیٹرسن اگرچہ جرمن تھے، انگریزی اچھی بول لیتے تھے۔

میرے ٹھہرنے کاانتظام ایک بورڈنگ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ بورڈنگ ہاؤس کو وہاں ‘پانسیوں‘ (Pension) کہتے ہیں۔ جس پانسیوں میں ٹھہرایا گیا تھا وہ پہلی جنگ عظیم میں گزر گئے ایک فوجی کی بیوہ کا تھا۔ پیٹرسن نے اس عورت کو میرے آرام کا دھیان رکھنے کے لیے کہا۔ جاتے وقت انھوں نے کہا، “میں کل سویرے یہاں آؤں گا۔ یہاں سے ہم لوگ اُفا سٹوڈیوز کی افِیفا لیبارٹری میں جائیں گے۔ وہاں آپ اپنے نگیٹو کی ایڈیٹنگ کا کام شروع کیجیے۔” ڈاکٹر پیٹرسن جانے کو تیار ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا، “آف ویدرزہن!” میں کچھ سمجھ نہیں پایا۔ پیٹرسن نے ہنس کر کہا، “ہم جرمن لوگ ایک دوسر سے وداع ہوتےوقت ‘گڈ بائی’ نہیں کہتے، آف ویدرزہن کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوتا ہے، امید ہے پھر ملیں گے۔” اس کے بعد میں نے بھی انھیں ” آف ویدرزہن” کہا۔

کل سے کام شروع کرنا ہے، لہٰذا کام چلانے لائق جرمن زبان کے لفظ تو معلوم ہونے ہی چاہییں، یہ سوچ کر بمبئی سے جرمن انگریزی لغت خرید لایا تھا، اسے میں نے اپنے بیگ سے نکالا اور پڑھنے بیٹھ گیا۔ لیکن وہ تھی نری لغت، کوئی ناول تھوڑے ہی تھا! نہ کہانیوں کی کتاب تھی! دو چار لفظوں کو یاد کرتے کرتے میری آنکھیں جھپکنے لگیں۔ آخر، کل صبح اٹھتے ہی ‘ناشتہ’ لفظ کی ضرورت پڑےگی، سوچ کر میں بریک فاسٹ لفظ کا جرمن متبادل لغت میں ڈھونڈنے لگا۔ جرمن زبان میں بریک فاسٹ کو ‘فرشسٹک’ کہتے ہیں۔ لفظ کو رٹتے رٹتے میں گہری نیند سو گیا۔

سویرے پیٹرسن آئے۔ ان کے ساتھ میں افیفا لیباریٹری جانے کے لیے نکلا۔ راستے میں کچھ جرمن نوجوانوں کے دستے بڑے جوش خروش کے ساتھ حرکت کرتے جا رہے تھے۔ میں نے جوش سے پیٹرسن سے پوچھا، “یہ کون لوگ ہیں؟”

“نازی نوجوان ہیں”، انہوں نے بتایا۔ اس وقت جرمنی پر ہٹلر کے نازی وچاروں کا اثر پڑنے لگا تھا۔ ان نوجوانوں کی شرٹ کی آستین پر لال رنگ کے سواستِک بنے پٹّے تھے۔ ہاتھوں میں بندوقیں نہیں تھیں، لکڑی کے ڈنڈے تھے۔ وہ سارا منظر دیکھ کر من میں ماضی کی جنگ عظیم کی یاد تازہ ہو گئی۔ من بہت بےچین ہو گیا۔ ہماری گاڑی آگے نکلی۔ صاف ستھرا اور ایک دم سڈول برلن شہر دیکھ کر آنکھیں نہال ہو جاتی تھیں۔ ہم لوگ لیبارٹری پہنچے۔

وہاں جاتے ہی متعلقہ افسروں سے پیٹرسن نے میرا تعارف کرایا۔

بعد میں ایڈیٹنگ کے لیےمخصوص میرا کمرہ مجھے دکھایا گیا۔ میری سرپرستی میں کام کرنےجا رہی مددگار سے میرا تعارف کرایا گیا۔ یہ تمام شروعاتی رسمیں پوری کر لینے کے بعد میں نے فلم کے پہلے حصے کی جڑواں نگیٹو کی ایڈیٹنگ شروع کی۔ شام تک میں پہلی گراری تیار کر لوں تو ایک ہفتے بعد مجھے رنگین کاپی کا رزلٹ دیکھنے کو ملنے والا تھا۔

میں پہلے نمبر کی گراری کی نگیٹو کاٹ کر دیتا جا رہا تھا۔ میری مددگار جینی پاس میں بیٹھ کر جوڑوں کو ٹھیک ڈھنگ سے ایڈٹ کرتی جا رہی تھی۔ اسے کام کو سمجھا کر بتانا میرے لیے کٹھِن ہوتا جا رہا تھا۔ اسے انگریزی معمولی آتی تھی۔ اس دن انگریزی جرمن لغت اپنے ساتھ لانا میں بھول گیا تھا، لہٰذا کئی باتیں اشاروں کے سہارے ہی اسے سمجھانے کی کوشش مجھے کرنی پڑ رہی تھی۔ پہلی جڑواں گراری تیار ہو جانے پر میں نے جینی سے سامنے والی گراری پر نارنجی اور پیچھے والی پر نیلے رنگ کی فلم (Leaders) جوڑ نے کے لیے کہا۔ کیمیائی عمل کرنے والوں کو معلومات دینے کے لیے ایسا کرنا پڑتا تھا۔ یہ بائی پیک سسٹم جرمنی میں بھی نیا تھا۔ نتیجتاً جینی کو بھی وہ معلوم نہیں تھا۔ میں اسے سمجھانے لگا کہ نگیٹو کی سامنے والی گراری کون سی ہے اور پیچھے والی کون سی۔ “دِس از فرنٹ نگیٹو، دس از بیک نگیٹو۔”

لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ میرا منھ تاکتی رہی۔ پھر اسی نے پوچھا، “دِس واٹ؟”

میں نے اسے پھر وہی بات سمجھائی۔

اس نے ‘اب سمجھ گئی’ کی ادا سے دونوں گراریاں ہاتھوں میں لیں اور ایک کو آگے کرتی ہوئی بولی، “دِس؟”
میں نے کہا، “فرنٹ نگیٹو” اور فوراً ہی دوسری گراری کی طرف انگلی دکھا کر اسے بتایا، “بیک نگیٹو۔”
وہ الجھن میں پڑ گئی۔

میں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، “دیکھو، اب تم میرے ‘سامنے’ کھڑی ہو” اور میں نے اپنے سینے پر انگلی رکھ کر ’میرے‘ لفظ پر زور دیا۔ میں آگے اور کچھ بولنے ہی والا تھا کہ جینی بول پڑی، “اوہ!” وہ ایک دم خوش دکھائی دی اور اسی خوشی خوشی میں جرمن بھاشا میں ‘اب سمجھ گئی’ جیسا کچھ بول گئی۔ پھر اس نے میرے سینے پر انگلی رکھ کر بڑے ٹھاٹ سے کہا، “یو مین” اور وہی انگلی پھر اپنی چھاتی پر رکھ کر بولی، “آئی گرل۔”

میں نے اپنا سر پکڑ لیا اور کہا،”اس کا مجھے پتا ہے!”

اب اس کو ‘سامنے’ اور ‘پیچھے’ لفظوں کا مطلب جرمن زبان میں کس طرح سمجھاؤں، میرے سامنےمسئلہ بن گیا۔ میں نے پھر کوشش شروع کی۔ جینی کے پیچھے کھڑا ہو کر میں نے اس سے پوچھا، “اب بتاؤ، تم کہاں کھڑی ہو اور میں کہاں کھڑا ہوں؟”

“زمین پر،” اس نے میری طرف مڑ کر ہنستے ہنستے جواب دیا۔
تُنک کر میں نے کہا، “نو نو نو!” اور ہر لفظ پر زور دے کر زور سے بتایا،
“یو فرنٹ اینڈ آئی بیک۔” میں نے اس کی طرح ہی ٹوٹی پھوٹی انگریزی کا استعمال کر سمجھانا چاہا۔

لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ کمرے سے باہر گئی۔ میں نے سوچا، شاید انگریزی جرمن لغت لے کر آئے گی۔ لیکن لغت کے بجاے وہ اپنی طرح وہاں کام کرنے والی دو جرمن لڑکیوں کو ساتھ لے آئی۔ میری طرف سے منھ پھیرا اور وہ ان لڑکیوں کو جرمن بھاشا میں زور زور سے کچھ کہنے لگی اور وہ لڑکیاں کِھلکِھلا کر ہنسنے لگیں۔

اب پریشانی میں مَیں پڑا۔

ان میں سے ایک لڑکی آگے آئی اور میری طرف پیٹھ کیے کھڑی جینی کی طرف انگلی دکھا کر بولی، “جینی وہورڈسٹ پرنٹ۔ .پرنٹ۔ یو سٹینڈنگ روکین بیک۔ بیک۔”

میں نے جوش کے ساتھ کہا، “یس۔۔یس۔”

‘سامنے’ اور ‘پیچھے’ ان دو لفظوں کی وجہ سے کھڑا کٹھنائی کا پہاڑ ہم لوگ پار کر چکے تھے۔

دوسرے دن افیفا لیباریٹری جاتے وقت میں نے یاد سے لغت لی۔ اس کی مدد سے میں اور جینی آپس میں تھوڑا بہت بولنے لگے۔ ہم نے اگلے نمبر کی گراری جوڑنے کے لیے لی، لیکن میرا سارا دھیان کیمیکل روم میں تیار کیے جا رہے رنگین پرنٹ کے نتائج پر فوکس ہو گیا تھا۔ ہم نےرنگین فلم کا یہ جو تجربہ ہاتھ میں لیا تھا، اس کی طرف سارا ہندوستان آنکھیں لگائے بیٹھا تھا۔ میرے دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی تھی۔

ساتویں دن سویرے پیٹرسن میرے ایڈیٹنگ روم میں آئے۔ ان کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انھوں نےکہا، “شانتارام، ویری سوری! بیڈ نیوز!”

لمحہ بھر کو ایسا لگا جیسے ساری دھرتی اور آسمان اچانک گول گھوم گئے ہیں۔

کوشش کر کے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے پیٹرسن کی باتیں میں سننے لگا۔ وہ کہہ رہے تھے:

“تمہاری نیگیٹو ٹھیک طرح سے فلمائی نہیں گئی ہے۔ اس میں کافی غلطیاں ہیں اور اسی لیے اس کے رنگین پرنٹ ٹھیک سےنہیں آ پا رہے ہیں۔ اُفا کے خاص کیمیادان ڈاکٹر ولف نے تمھاری نگیٹو کے پرنٹس لینے کے لیے کئی طریقے اپنا کر دیکھ لیے، کئی تجربے بھی کیے، لیکن سب بےسود رہے! آئی ایم سوری مسٹر شانتارام!”

میرا تو گلا سوکھ گیا۔ زبان اندر ہی اندر کھنچتی چلی گئی۔ مشکل سے میں نے جیسے تیسے پیٹرسن سے پوچھا:

“تو کیا ہماری نیگیٹو کے رنگین پرنٹ بنیں گے ہی نہیں؟”

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 11: ان چاہی رانیوں کی گھرگرہستی

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘ایودھیا کا راجا’ کے کس ورژن کو بمبئی میں ریلیز کیا جائے، اس پر ہمارے یہاں کافی بحث چھڑ گئی۔ بمبئی بہت سی زبانوں کا شہر ہے۔ وہاں کے مراٹھی بولنے والے ناظرین بھی ہندی فلموں کو اتنے ہی چاؤ سے دیکھنے جاتے ہیں۔ اس لیے پہلے چار ماہ ہندی ورژن پیش کرنا طےکیاگیااوربعدمیں مراٹھی۔ وہ دن تھا 6 فروری 1932۔

ناطرین تو پہلے شو سے ہی فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کرنے لگے تھے۔ غلاموں کے بازار کے سین میں ہرِیش چندر، تارامتی اور ان کا بیٹا روہِداس ایک دوسرے سےبچھڑ جاتے تھے۔ وہ سین دیکھ کر ناظرین کے آنسو تھامے نہیں تھمتے تھے۔ بمبئی میں ‘ایودھیا کا راجا’ دیکھنے والی ایک بار جاٹ ریاست کی راج ماتا آئی تھیں۔ بولتی فلم کے چلنے کے کچھ بعد وہ تھئیٹر سے باہر آ کر ایک بینچ پر بیٹھ گئیں۔ انھیں اس طرح باہر بیٹھا دیکھ کر مجھے لگا کہ ہو نہ ہو، راج ماتا دیکھتے دیکھتے اکتا گئی ہوں گی۔ میں نے پوچھا تو وہ بولیں، “نہیں نہیں، شانتارام بابو، ویسی کوئی بات نہیں ہے۔ غلاموں کے بازار میں ہرِیش چندر اور تارامتی کے بچھڑنے کا وہ سین میرےدل میں اتنا گہرا بیٹھ گیا کہ میں اپنی شدت سے آتی سسکیاں روک نہ سکی۔ بہت ہی برداشت سےباہر ہو گیا تو باہر آ کر بیٹھ گئی ہوں۔”

تبھی تھئیٹر میں ناظرین کا یکایک شور مچ گیا، سِیٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ‘کودو کٹکو جیو نار کے لیے، بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے’ گانا شروع ہو گیا تھا، اور ناظرین نےخوشی اور مسرت کے مارے سارا تھئیٹر سر پر اٹھا لیا تھا۔ اس طرح بولتی فلم کے سکھ اور دکھ کے منظروں کا ناظرین پر صحیح اثر ہو رہا تھا۔

ہفتہ در ہفتہ سنیماگھر ناظرین سے پورا بھر جاتا۔ ہر شو میں ایسا ہی ہوتا۔ حالات ایسے ہو گئے کہ لوگوں کو اس فلم کی ٹکٹ ملنا مشکل ہونے لگی۔ ‘ایودھیچا راجا’ ہماری امید سے کہیں زیادہ جوش و خروش سے چلتی رہی۔ اس نے بارہویں ماہ میں قدم رکھا اور میجسٹک سنیما کے مالک نے ہمیں کہلا بھیجا کہ بارہویں ہفتے کے بعد ہماری بولتی فلم وہاں دکھانا بند کر دی جائے گی۔ ان کے فیصلے کا کارن ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ بعد میں بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم ہوا کہ میجسٹک سنیما کے دو مالکوں میں ایک تھے ‘عالم آرا’ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اردیشِر ایرانی۔ ان کی ‘عالم آرا’ بولتی فلم سے بھی زیادہ وقت ہماری فلم چلتی، تو کاروباری نقطۂ نظر سے ان کی ناک نیچی ہو جاتی۔ ممکن ہے اسی لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ ‘ایودھیچا راجا’ جس جوش و خروش کےساتھ مقبول ہوتی جا رہی تھی، اسے دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ اگر اسے ویسا ہی چالو رکھ دیا جاتا تو یقیناً وہ اس وقت ریلیز کی گئی سبھی بولتی فلموں سے زیادہ ہفتےچل جاتی اور سب سے زیادہ وقت تک چلنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیتی۔

مہاراشٹر کے گاؤں گاؤں میں یہ بولتی فلم دھوم مچا رہی تھی۔ آمدنی اور مقبولیت کے سارے ریکارڈ اس نے توڑ دیے تھے۔ ‘ایودھیچاراجا’ کسی گاؤں میں لگتی تو آس پاس کے گاؤوں سے سو پچاس میل کا فاصلہ لوگ ریل یا بیل گاڑیوں سے کاٹ کر اس بولتی فلم کو دیکھنے آتے تھے۔ سنیماگھر کے باہر تو اتنی بھیڑ ہو جاتی کہ جیسےکوئی بڑا میلہ ہی لگا ہو۔ سینکڑوں ریل گاڑی میں کھڑے ہیں۔ بیل جگالی کر رہے ہیں۔ کھانے پینے اور میوہ مٹھائیوں کی دکانیں لگی ہیں۔۔ ایسا منظر دکھائی دیتا تھا۔ ناطرین کی تو ایسی بھیڑ اکٹھی ہو جاتی کہ طے شدہ تعداد سے زیادہ شو دکھانے پڑتے۔ اس پر بھی کئی لوگ ایسے ہوتے تھے، جنھیں بولتی فلم کے ٹکٹ نہیں مل پاتے تھے۔ یہ لوگ پھر اپنی اپنی بیل گاڑیوں میں یا پیڑوں کے نیچے ڈیرا ڈال دیتے اور دوسرے دن فلم دیکھنے کے بعد ہی رات میں اپنے گاؤوں کو لوٹتے تھے۔

لیکن ہماری بولتی فلم کے مراٹھی ورژن کو جو بھاری کامیابی حاصل ہوئی وہ ہندی ‘ایودھیا کاراجا’ کو گجرات، ممبئی کےعلاوہ کہیں اور نصیب نہیں ہوئی۔ ہم نے ‘ایودھیا کا راجا’ کو اُتّر بھارت میں ریلیز کیا۔ ہماری کہانی مکمل طور پر قدیم کہانی کے مطابق نہیں، یہ الزام اُتر بھارت واسی ہم پر لگا رہے تھے۔ لیکن اس کی تہہ میں اصل بات یہ تھی کہ راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی ایک ناٹک اُتر بھارت میں بہت ہی مقبول ہو چکا تھا۔ ناٹک کو بےحد دلچسپ بنانے کے چکر میں اس کے لکھاری نے کہانی میں اپنی طرف سے کئی خیالی سین جوڑ دیے تھے۔ ناٹک دلچسپ بنا تو تھا، لیکن اس میں بیان کردہ منظروں کا عوامی ذہن پر کچھ اتنا زیادہ اثر چھا گیا تھا کہ لوگ ناٹک میں بیان کی گئی ہر بات کو حقیقی ماننے لگے تھے۔ سارے منظر قدیم تاریخ کے مطابق ہی ہیں، یہ سوچ بنا بیٹھے تھے۔ تارامتی اپنے گلے میں پہنا منگل سوتر بھی بیچ دیتی ہے، ایسا ایک سین ناٹک میں دکھایا گیا تھا۔ چونکہ ایسے سین ہماری ہندی بولتی فلم میں نہیں تھے، ہو سکتا ہے کہ اسی لیے اُتر بھارت واسی ہماری بولتی فلم پر ناراض ہو گئے ہوں۔ جو بھی ہو، ہمارا ہندی ورژن فیل ہو گیا۔ لیکن مجھے اس کا کوئی رنج نہیں تھا۔ آمدنی کی نظر سے مراٹھی ‘ایودھیچا راجا’ ہندی ورژن میں ہو رہے گھاٹے کی کہیں زیادہ پُورتی کرتی جا رہی تھی۔

اسی معاشی بدحالی سے نجات کی وجہ سے پھر ایک بار اپنے من کی سبھی خواہشات کے مطابق ایک بَڑھیا فلم بنانے کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ اب اس نئی بولتی فلم کو میں پوری طرح اپنی ہی خواہشات کے مطابق پورا کرنے جا رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ نئی فلم صرف بولتی فلم نہ ہو، نہ ناٹک ہو، بلکہ وہ ہر طرح سے ایک موشن پکچر ہو۔ اسی فیصلے سے میں نے کام کرنا شروع کیا۔ ایک وچار یہ آیا کہ نئی فلم میں مکالمے کم سے کم ہوں، گیت بھی بس گنے چنے ہی ہوں اور سین اور ایکٹنگ پر زیادہ زور دیا گیا ہو۔ اسی کے مطابق میں اپنی نئی فلم کے لیے کہانی طے کرنے لگا۔ کہانی کے بارے میں ایک آئیڈیا میں نے گووند راؤ ٹیمبے کے سامنے رکھا۔ وہ اچھے لکھاری بھی تھے۔ انھوں نے میرے خیال کےمطابق ایک اچھی سی کہانی لکھ دی۔ اس بار تو میں نے پکی ٹھان رکھی تھی کہ نئی فلم،خاص کر اس کا ہندی ورژن اتنا پُرکشش بناؤں گا کہ سارے ہندوستان میں کھلبلی مچ جائے۔

مووی کے ہندی ورژن کو میں نے ‘جلتی نشانی’ اور مراٹھی کو ‘اگِن کنکن’ نام دیا۔ خاص کردار وِنائک، لِلا بائی چندرگری، بابوراؤ پینڈھارکر اور کملا دیوی کو دیے۔ ہندی اور مراٹھی دونوں ورژن کی میوزک ڈائریکشن گووند راؤ ٹیمبے نےکی۔ فلم کی ڈائریکشن میں مَیں نے اپنا آج تک کا سارا تجربہ داؤ پر لگا دیا۔ اس فلم کی ڈائریکشن کی کچھ خاص ڈھنگ کی خوبیوں کو ناظرین اور ناقدین نے خوب سراہا۔ کچھ خوبیاں اس طرح تھیں:

رانی اپنے نوزائیدہ راجکمار کو بُرے وزیر کے چُنگل سے بچانے کے لیے راج پاٹ چھوڑ کر بھاگ نکلتی ہے۔ وزیر کے سپاہی اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ بھاگتے بھاگتے ہاری ہوئی رانی سڑک کے کنارے ایک گڑھے میں اپنے آپ کو چھپا لیتی ہے۔ تبھی وہ نوزائیدہ بچہ رونے لگتا ہے۔ حکمران کے سپاہی نزدیک آتے جا رہے ہیں۔ ظاہر تھا کہ راجکمار کے رونے کی آواز سے انھیں رانی کے چھپنے کی جگہ معلوم ہو جاتی۔ لہٰذا رانی اپنے بچے کا منھ بند رکھنے کے لیےہاتھ آگے بڑھاتی ہے، تاکہ سپاہیوں کو اس کے رونے کی آواز سنائی نہ دے۔ لیکن تبھی اس کا ہاتھ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ منھ دبانے سے کہیں راجکمار کا دم نہ گھٹ جائے۔ رانی سوچ میں پڑ جاتی ہے۔ سپاہی اب کافی نزدیک آ گئے ہیں۔ رانی فورا آگے بڑھ کر راجکمار کو چوم لیتی ہے اور اپنے منھ سے اس کا منھ بند کر اسے اپنے منھ سےسانس دینے لگ جاتی ہے۔ راجکمار کے رونے کی آواز سپاہی نہیں سن پاتے۔ وہ آگے نکل جاتے ہیں۔

اس منظر کو دیکھنے کے بعد ناظرین نے زور سے تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی اور کچھ شائقین، جو اب مجھے جاننے لگے تھے، چِلّا اٹھے، “واہ، شانتارام! واہ!”

آگے چل کر وہ رانی اپنے راجکمار کے ساتھ اونٹوں کے ایک غریب بوڑھے بیوپاری کی جھونپڑی میں رہنے لگتی ہے۔ راجکمار بڑا ہونے لگتا ہے۔ راجکمار بڑا ہوجائے تو اس کے لیے اپنا کھویا ہوا راج پاٹ پھر حاصل کرنےکی کوشش رانی کرتی ہے۔ ایک ایک سال گزرتاجاتا ہے۔ اپنی جدوجہد کی یاد برابر بنی رہے اس لیے ہر سال رانی جلتی سلاخ سے اپنے ہاتھ کو داغ لیتی ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہو جاتی ہیں۔ ایک تو رانی کے ہاتھ پر اٹھی جلتی نشانیوں کی تعداد سے ناظرین کو یہ پتا چلتا ہے کہ کتنےسال بیت چکے ہیں اور دوسرے، رانی کے اندر انتقام کا احساس کتنا شدید تھا، اس کا بھی اندازہ انہیں ہو جاتا ہے۔ رانی اپنے آپ کو اس طرح داغ لیتی ہے، یہ سین اتنا جاندار بن گیا تھا کہ اس وقت ناظرین بھی اپنی ‘آہ!’ سے سنیماگھر کو بھر دیتے تھے۔ رانی اپنے ہاتھ پر انیسواں داغ لگا رہی ہے، اس سین سے فلم کا آغاز ہوتا تھا۔ نتیجتاً منظروں کی شدت ایک دم پہلے سین سے ہی برابر بڑھتی جاتی تھی۔

اب تک رواج تو یہی تھا کہ فلم میں موقع بہ موقع من مانی تعداد میں گیت شامل کیے جاتے۔ ‘شیریں فرہاد’، ‘لیلیٰ مجنوں’ اور یہاں تک کہ ہمارے ‘ایودھیچا راجا’ میں بھی گیتوں کی بھرمار تھی۔ ‘جلتی نشانی’ میں ہم نے گیت ایک دم گنے چنے اور سین کے مطابق ہی رکھے تھے۔ اس میں ایک سین ایسا بھی رکھا تھا کہ اپنے باپ کو جسمانی تشدد سے بچانے کے لیے ہیروئن ولن کی زبردستی کی وجہ سے ایک غمگین گیت گاتی ہے۔

اس فلم کے بارے میں مجھے ایک طرح کا اعتماد تھا، اس لیے میں نے اس کا ہندی ورژن بمبئی میں پہلے ریلیز کیا۔ عام ناظرین نے تو اس فلم کو سر پر اٹھا ہی لیا، جانے مانے دانشمند مبصرین نے بھی رائے ظاہر کی کہ بولتی فلم کیسی ہو، یہ جاننے کے لیے ‘پربھات’ کی ’جلتی نشانی’ ضرور دیکھی جائے!

کلکتہ میں ایک نیا تھئیٹر ‘نیو سنیما’ بنا تھا۔ اس کا افتتاح ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم سے ہوا۔ نیو سنیما کے مالک تھے بنگال کے سلیبرٹی فلم میکر اور ‘نیو تھئیٹرز’ کے مالک بی این سرکار۔ بنگال میں ایک فلمی اخبار ‘فلم لینڈ’ نکلتا تھا۔ اس کا سارے ملک میں بول بالا تھا۔ اس فلمی میگزین میں ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم کی بےحد تعریف شائع ہوئی۔ میگزین نے لکھا تھا، بنگالی فلم پروڈیوسر، ہدایت کار، فنکار، تکنیک کار وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس فلم کو دیکھیں، بلکہ اس کا باریکی کے ساتھ مطالعہ بھی کریں۔ مجھے اخبار کی یہ بات کچھ مبالغہ آمیز لگی۔

کچھ سال بعد، پُونا میں ہماری پربھات کمپنی کا کام شروع ہونے کے بعد ‘نیو تھئیٹرز’ کی طرف سے ہی مشہور بنگالی ڈائریکٹر دیوکی بوس ایک بار پربھات میں آئے تھے۔ انہوں نے وقار کے ساتھ مجھ سے کہا تھا، “شانتارام، آپ کو پتا نہیں ہو گا شاید، میں نے آپ کی ‘جلتی نشانی’ فلم دس بارہ بار دیکھی اور اس کے ہر شاٹ کا ٹھیک ٹھیک مطالعہ کیا ہے۔ ڈائریکشن کی نظر سے مجھے اس کا بہت فائدہ ہوا!”

ایک سچے کلاکار نے اس طرح من سے مجھے داد دی، اور کیا چاہیے تھا؟ اس ملاقات سے پہلے دیوکی بوس کی ڈائریکٹ کی ہوئی ‘وِدیاپتی’ میں نے پُونا میں دیکھی تھی۔ مجھے وہ اتنی پسند آئی تھی کہ بوس جی سے کچھ بھی تعارف نہ ہوتے ہوئے بھی میں نے خود ان کوخط لکھ کر دلی مبارکباد دی تھی۔

‘جلتی نشانی’ کی غیرمتوقع کامیابی کی وجہ سے سٹوڈیو کےسبھی لوگ بہت خوشیاں منا رہے تھے۔ لیکن میں اندر ہی اندر سنجیدہ ہوتاجا رہا تھا۔ ‘جلتی نشانی‘ کی لوگ کافی تعریف کیے جا رہے تھے۔ اسے دیکھنے کے لیے بھیڑ روز بروز بڑھتی ہی جا رہی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی امیدیں بھی بڑھ رہی تھیں۔ توقعات بھی کافی اونچی اٹھتی جا رہی تھیں۔ ‘پربھات’ کو پیار دینے والےان ناظرین کو اب اور نیا، اور اچھا دیں تو کیا دیں؟ اسی کی فکر میں میں کھو گیا تھا۔ باربار جی کرنے لگا کہ اب کی بار کوئی سماجی فلم بناؤں اور اس کے ذریعے سے کسی سُلگتی سماجی فکر کو پیش کروں۔

انھیں دنوں مراٹھی کے مقبول ڈرامہ نگار ماما وریرکر کا ‘وِدھوا کماری’ ناول میں نے پڑھا۔ مجھے وہ ناول بہت ہی پسند آیا۔ پھر تو وریرکرجی کے دیگر ناول اور ناٹک بھی میں نے پڑھ ڈالے۔ ان سب کا میرے من پر کافی اچھا اثر پڑا۔ میں نے انھیں بمبئی سے بلوا لیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے معاصر سماجی مسئلے پر ایک اچھی سی کہانی لکھ کر دیں۔

انہوں نے قبول کیا۔ کہانی لکھنا شروع بھی کیا۔ ایک مہینہ بیت گیا۔ بعد میں انھوں نے مجھے وہ کہانی سنائی۔ لیکن کہانی سن کر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ انھوں نے ناٹک کے اسلوب میں پوری کہانی مکالموں کی صورت پیش کی تھی۔ میں نے اس کہانی پر ان کےساتھ تفصیل سے بحث کی اور ایک فلم ڈائریکٹر کے طور پر میں صحیح صحیح کیاچاہتا ہوں، انہیں سمجھا کر بتا دیا۔ انہوں نے اگرچہ جتایا کہ انہیں میری بات سمجھ میں آ گئی ہے، پھر بھی وہ مجھ سے کچھ ناراض بھی ہو گئے، کیونکہ میں نے ان کی کہانی جوں کی توں قبول نہیں کی تھی۔ میں نے ماما صاحب سے کہا کہ جلدی کی کوئی بات نہیں ہے، وہ آرام سے ممبئی جا کر کہانی کو پورا کر سکتے ہیں۔

لگ بھگ اسی وقت ہمارے جنوبی بھارت کے ڈسٹری بیوٹر جنیتی لال ٹھاکر کولہاپور آئے۔ انہوں نے ہمیں یہ خوشخبری دی کہ بنگلور، مدراس وغیرہ سبھی شہروں میں ‘جلتی نشانی’ کا اچھا استقبال ہو رہا ہے۔ ہماری آئندہ فلم کون سی ہے، اس کی بھی انھوں نے پوچھ تاچھ کی۔ میں نے نئی کہانی کے بارے میں اپنی کٹھنائی انھیں بتا دی۔

انھوں نے یوں ہی باتوں باتوں میں بتایا کہ گووند راؤ ٹیمبے اپنی شِوراج ناٹک منڈلی کی طرف سے ‘سِدھ سنسار’ نامی ایک ناٹک پیش کیا کرتے تھے اور اس پر ایک اچھی فلم بنائی جا سکتی ہے۔ چونکہ اصل ناٹک پر مبنی فلم بنانے کی میری کوئی خواہش نہیں تھی، میں نے ان کی باتوں کی طرف خاص دھیان نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے زبردستی اس ناٹک کی کہانی کا کچھ حصہ سنایا۔ یہ کہانی ناتھ برادری کے سادھوں کے گرو مچھندر ناتھ کے جیون کے ایک غیرمعمولی واقعے پر مبنی تھی۔

مچھندر ناتھ ستری(عورت) ریاست میں جاتا ہے۔ اس ستری (عورت) ریاست کی رانی کِلوتلا انسانوں سے نفرت کرنے والی ہوتی ہے۔ مچھندر ناتھ کو حاصل غیرفطری طاقتوں اور اس کے دکھائے جانے والے چمتکاروں کا اس پر اثر پڑتا ہے۔ کِلوتلا مچھندر ناتھ سے شادی کر لیتی ہے۔ مچھندر ناتھ اس ستری (عورت) ریاست میں رہنے لگتا ہے۔ اسے اس محبت کے جال سے مُکت کرانے کے لیے اس کا خاص شاگرد گورکھ ناتھ مرِدنگ بجانے والے کا بھیس بنا کر اس ستری(عورت) راج میں جاتا ہے۔ کِلوتلا اور مچھندر ناتھ جب بسنت تہوار کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں، گورکھ ناتھ مردنگ بجانا شروع کرتا ہے۔ مردنگ سے گمبھیر آواز نکلتی ہے، “چلو مچھندر، گورکھ آیا، چلو مچھندر، گورکھ آیا”- مردنگ کے ان بولوں کو سن کر مچھندر ناتھ بےچین ہو اٹھتا ہے۔ کَلوتلا اسے چھوڑتی نہیں، گورکھ ناتھ برہم ہو کر چلا جاتا ہے اور سیدھا مچھندر ناتھ کی غار میں جا پہنچتا ہے۔ وہاں دیکھتا کیا ہے کہ مچھندر ناتھ تو سمادھی جمائے بیٹھے ہیں۔ گورکھ ناتھ کا غصہ دور ہو جاتا ہے۔ حقیقت اس کی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ یہ تو سب اپنے گرو کی مایا ہے۔

اس کہانی کو فلم کی نظر سے میں نے کافی مضبوط پایا۔ بس میں نے طے کر لیا کہ آئندہ فلم اسی کہانی پر بنائی جائے۔ اپنے ساتھیوں اور گووند راؤ کو میں نے یہ بات بتائی۔ ‘سدھ سنسار’ ناٹک کے مکمل حقوق گووند راؤ ٹیمبے کے پاس محفوظ تھے، انھوں نے ہی فورا پتر لکھ کر ناٹک کے حقیقی لکھاری سے فلم بنانے کے لیے اجازت حاصل کر لی۔ لیکن ناٹک کہیں بھی چَھپا ہوا نہیں تھا، لہٰذا اس کے مکالمے وغیرہ کیسے ہیں، معلوم کرنا مشکل تھا۔ لیکن یہ کٹھنائی بھی منٹوں میں دور ہو گئی۔ ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں راجارام بابو نامی ایک آرگن پلیئر تھے۔ وہ کسی زمانے میں شِوراج ناٹک منڈلی میں کام کیا کرتے تھے۔ انھیں یہ ناٹک پورا یاد تھا۔ ہم نے ان سے ‘سِدھ سنسار’ ناٹک منظم طور پر لکھوا لیا اور اس سکرپٹ سے میں نے فلم کی کہانی اپنے من سے لکھنی شروع کی۔

اس فلم کے لیے اداکاروں کا انتخاب شروع کیا۔ مچھندر ناتھ اور کلوتلا کا کردار کرنے کے لیے پھر ‘ایودھیچا راجا’ کے ہیرو ہیروئن کی جوڑی کو ہی پسند کیا۔ گووند راؤ ٹیمبے اور دُرگا بائی کھوٹے کو وہ کام دیے گئے۔ گورکھ ناتھ ونائک کو بنایا گیا۔ فلم کا نام رکھا ‘مایا مچھندر’۔ شوٹنگ شروع ہو گئی۔

اور ایک دن مجھے بخار ہو گیا۔ بات یہ ہوئی تھی کہ دو تین دنوں سے میں بخار میں ہی شوٹنگ کرتا رہا، جس کا نتیجہ تھا کہ اب بخارکچھ زیادہ ہو گیا تھا۔ ہمارے خاندان کے ڈاکٹر پادھیے نے میری صحت کو اچھی طرح سے دیکھا بھالا، معائنہ کیا اور تشخیص کی کہ ٹائیفائڈ ہے۔ اُن دنوں آج کے طرح ٹائیفائڈ کی اکسیر دوائیاں نہیں نکلی تھیں۔ یہ بیماری کافی لوگوں کی جان لے لیتی تھی۔ عام آدمی کے لیے تو یہ بیماری جان لیوا ہی مانی جاتی تھی۔ فطری طور پر گھر کے لوگوں کے تو ہوش اڑ گئے۔ کمپنی میں بھی گھبراہٹ پھیل گئی۔ ‘مایا مچھندر’ کی شوٹنگ پورا کرنے کا کام میں نے دھایبر اور دیگر ساتھیوں کو سونپ دیا اور اس کے بعد کیا ہوا، میں نہیں جانتا۔

مجھے کچھ آرام ہو جانے کے بعد اپنی بیماری کا قصہ معلوم ہوا۔ میں کافی دن بےہوش پڑا تھا۔ ایسے میں ہی ایک دن تو میری صحت گمبھیر روپ سے گر گئی۔ ڈاکٹروں کو نبض کا پتا تک نہیں چل پا رہا تھا۔ سبھی بےحد فکرمند تھے۔ کمپنی کے سب لوگ میرے گھر کے باہر رات بھر جاگتے رہے تھے۔ لیکن وہ گھڑی ٹل گئی! دوسرے دن سےدھیرے دھیرے بخار کم ہونے لگا۔ لیکن میں بےحد کمزور ہو چکا تھا۔

کچھ صحت پکڑتے ہی میں پھر کمپنی میں جانے لگا اور ہمیشہ کی طرح جلدی جلدی کام نبٹانے میں لگ گیا۔ لیکن اب کمپنی میں میری باتوں کو لوگ مانتے نہیں تھے۔ دوپہر کے چار بجے نہیں کہ سب لوگ اپنا اپنا میک اپ اتار کر گھر جانے کی تیاری کرنے لگتے۔ دھایبر، فتے لال جی اور داملےجی کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈر بند کر دیتے۔ پھر تو میں مجبور ہو جاتا اور جلد ہی گھر لوٹ جاتا۔

میرے ہر دن کی غذا میں ثابت موٹھ، مٹر، چنے چھولے وغیرہ کی بہتات ہوتی تھی۔ یہ چیزیں مجھے بہت ہی مزےدار بھی لگتی تھیں۔ لیکن اب بیماری کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے وہ غذا لینے کو منع کر دیا تھا۔ ان کی اس مناہی پر بہت سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ کمپنی میں دوپہر میں ہم سب لوگ ایک ساتھ بھوجن کرنے بیٹھتے تھے۔ کسی کے ڈبے میں میرے من چاہے چٹپٹے چھولے، مٹر وغیرہ ہوتے تو گووند راؤ مجھے باربار ہدایت دیتے، “شانتارام بابو، آپ کو وہ کھانا منع ہے۔”

لیکن مجھے چھولے کھانا منع کرتے کرتے گووند راؤ کے منھ میں چھولے لفظ اس طرح بیٹھ گیا تھا کہ ایک دن شوٹنگ کرتے وقت ہمیں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو کر شوٹنگ کو بیچ ہی میں روک دینا پڑا۔

اُس دن بسنت تہوار کے سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ گورکھ ناتھ کےظاہر ہوتے ہی کِلوتلا غصے میں اس پر برس پڑتی ہے اور اس کی سمت دوڑ پڑتی ہے۔ تب مچھندرناتھ کہتا ہے، “کِلوتلے، تمھارا سوبھاؤ تو بس اچانک شعلہ برساتا ہے۔” لیکن گووند راؤ عادت سے لاچار ہو کر کہہ بیٹھے، “کِلوتلے، تمہارا سوبھاؤ تو بس اچانک چھولے برساتا ہے۔‘‘

اس طرح ہنستے ہنساتے، لیکن ہمیشہ کے برعکس کچھ دھیمی رفتار سے، ساری شوٹنگ مکمل ہو گئی۔ ایڈیٹنگ کے کام بھی پورے ہو گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر فلم کی ایک کاپی لے کر بمبئی سنسر کے پاس گئے۔ فلم کی پیشکش اس کے آٹھ دس دنوں بعد کی جانے والی تھی۔

بیماری کے بعد مجھے آرام کرنے کی ضرورت تھی، لہذا میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بابوراؤ پینڈھارکر اکیلے بمبئی گئے اور دوسرے ہی دن مجھے ان کا تار ملا: “شام کی گاڑی سے بمبئی چلے آؤ، ضروری کام آ پڑا ہے۔‘‘ تار کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ داملےجی سے پوچھا تو کہہ دیا، “آپ ہی جائیے، میں نہیں جاؤں گا۔” بات سمجھاتے ہوئے داملےجی نے کہا، “نہیں، جانا تو آپ ہی کو ہو گا، کیونکہ آپ کو بلایا ہے۔”

جیسے تیسے میں بمبئی جانے کے لیے تیار ہو گیا۔

بمبئی پہنچتے ہی میں اسی دن سویرے بابوراؤ پینڈھارکر کے دفتر گیا۔ وہاں ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ بہت ہی گمبھیر انداز میں بیٹھے تھے۔ سب سے میں نے اس طرح فوراً بمبئی بلانے کا کارن جاننا چاہا، لیکن ایک نے بھی صاف جواب نہیں دیا۔ پینڈھارکر نے کہا، “چلیے، پہلے ہم لوگ تھئیٹر میں جا کر ‘مایا مچھندر’ دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

اُن دنوں تھئیٹروں میں صبح کے شو نہیں ہوا کرتے تھے۔ تھئیٹر جاتے جاتے راستے میں میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟ سب کے اس طرح منہ لٹکے ہوئے کیوں ہیں؟”

میری تنک مزاجی اور ہٹِیلے سوبھاؤ سے واقف ہونے کے کارن بابوراؤ نے کچھ جھجکتے ہوئے بتایا، “سب کی رائے ہے کہ اس فلم میں دو ایک اور اچھے سین اور ایک دو گیت ڈالےجائیں، اور بعد میں ہی اسے ریلیز کیا جائے۔ کل فلم دیکھنے کے بعد گووندراؤ ٹیمبے، دُرگا بائی، تورنے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ سب کی یہی رائے رہی۔ اس حالت میں فلم اثردار نہیں لگتی۔”

“لیکن میں اس رائے کو نہیں مانتا۔ میری رائے میں فلم آج جیسی ہے، ویسی ہی کافی اثردار ہے۔ یعنی آپ لوگوں کی رائے کا مطب یہ ہوا کہ میں نے بِنا سوچے سمجھے ہی فلم یہاں بھیج دی، کیوں؟”

بابوراؤ نے شانت رویے سے کہا، “آپ ‘مایامچھندر’ کو ایک بار پھر دیکھیے تو سہی، پھر ہم لوگ بیٹھ کر بحث کریں گے۔”

ممبئی کے ‘کرشن ناٹک گرہ’ کے سنیماگھرمیں تبدیلیاں کی جانے والی تھیں، اور نئے روپ میں اس سنیماگھر کا افتتاح ہماری ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز سے ہونے والا تھا۔ ہم سب نے وہاں اپنی فلم دیکھنی شروع کی۔

فلم کے پہلے تین حصے دیکھنے کے بعد میں اٹھ کر باہر چلا آیا۔ باقی سب لوگ بھی میرے پیچھےپیچھے باہر آ گئے۔ میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “ابھی اسی وقت اس فلم کو میجِسٹک سنیما میں دیکھنےکا بندوبست کیجیے۔”

بابوراؤ پینڈھارکر نے فوراً وہ بندوبست کر دیا۔

ہم لوگ میجسٹک میں ‘مایا مچھندر’ دیکھنے لگے۔ مجھے فلم اثردار معلوم ہو رہی تھی۔ اس کی کامیابی کے بارے میں یقین ہوتا جا رہا تھا۔ فلم ختم ہوئی۔ ہم سب لوگ باہر آ گئے۔ سب کی نظریں مجھ پر لگی تھیں۔ ان کی نظروں میں امید تھی، توقع تھی۔ میں نے سب سے سوال کیا، “آپ لوگوں نے یہ فلم پہلےکرشن سنیما میں اور اب یہاں میجسٹک سنیما میں دیکھی ہے۔ اب بتائیے، کچھ فرق لگا؟ اسی فلم کو اس تھئیٹر میں دیکھنے کے بعد آپ کو کیسا لگا؟”

سب نے گووندراؤ ٹیمبےکو جواب دینے کے لیے آگے کیا۔ گووند راؤ نے کہا، “یہاں ہم لوگوں کو فلم کے گیت اور مکالمے زیادہ اچھی طرح سنائی دیے۔ لیکن، شانتارام بابو۔۔۔”

ان کی بات کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر)، آپ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ کرشن سنیما میں ساؤنڈ سسٹم اچھا نہیں ہے۔ وہاں کا ساؤنڈ سسٹم ُسدھارا نہیں جاتا، تب تک آپ ہماری فلم کو وہاں ریلیز نہ کریں۔ اور آپ سب لوگ اچھی طرح سے سُن لیں، میری رائے میں اس فلم میں نئے سین جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس میں کچھ بھی جوڑتوڑ کرنے والا نہیں ہوں! اسے جیسی ہے ویسی ہی ریلیز کرنا ہو گا!” پھر بابوراؤ پینڈھارکر کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ، آج شام کی گاڑی سے میرے کولہاپور لوٹنے کا بندوبست کروا دیجیے۔”

ہو سکتا ہے، میرے اس طرح کے بول سے میرے ساتھیوں کے دل کو ٹھیس لگی ہو، لیکن اسے سمجھنے کی کوشش میں نے نہیں کی۔

جس دن صبح بمبئی پہنچا تھا، اسی دن شام کی دکن کوئین پکڑ کر میں بمبئی سے کولہاپور کی جانب چل دیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) اور پینڈھارکر دونوں مجھے رخصت کرنے کے لیے اسٹیشن پر آئے تھے۔ دونوں میرا منہ تک رہے تھے۔ میں اپنے ہی خیالوں میں کھو گیا تھا۔ گاڑی چل پڑی۔ میں ان کی طرف دیکھ کر سوکھا سا مسکرا دیا۔ وہ بھی عجیب کشمکش میں پڑ کر محض ہنس دیے۔ صبح کے سین کو لے کر میرے من میں وچاروں کا طوفان برپا ہو گیا تھا۔ میری ضد کیا صحیح تھی؟ ٹھیک تھی؟ کیا مجھے سب کی رائے مان نہیں لینی چاہیے تھی؟ میری اس ہٹ دھرمی کے کارن کل کو ‘مایا مچھندر’ نہیں چلی تو؟ کیا میرے ساجھےدار اور یہی سب لوگ میری ہٹ دھرمی کو ہی دوش نہیں دیں گے؟ اس ناکامی کا دوش میرے ہی متھے مڑھا جائےگا۔ کیا واقعی میں یہ ضدی پن یا ہٹ دھرمی تھی؟ اگرچہ نہیں! وہ تو میرے اپنے خیال میں اٹوٹ اعتماد کی علامت تھا۔ دوسروں کی بات پر میں اپنے فیصلوں کو بدلنے لگ جاؤں، تو میں اپنی خوداعتمادی کھو بیٹھوں گا اور ہمیشہ کے لیے ذہنی اپاہج پن کا شکار ہو جاؤں گا۔ خوداعتمادی کے ساتھ راستے پر چلتے چلتے ٹھوکر کھا جاؤں تو بھی ہرج نہیں، لہولہان ہو جاؤں تو بھی پروا نہیں، لیکن دوسروں کی رائےکی بیساکھیاں لے کر میں کبھی نہیں چلوں گا۔ اس کارن ‘مایا مچھندر’ کی ناکامی کا دوش میرے متھے مڑھا جانے والا ہو تو مڑھا جائے، اپنی بلا سے!

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 10: بھیری گونج اٹھی (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب پیچھے رہنے سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ اپنی ہی بات پر بے سود اڑے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا۔  فلمی دنیا میں بولتی فلموں کے وجود کو قبول کرنےکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بولتی فلموں کے مقبول ہونے کے دو کارن تھے۔ پہلا تھا ہمارے دیس میں بےانتہا ناخواندگی۔ ان دنوں ممکنہ طورپراسّی نوےفیصد لوگ ان پڑھ تھے۔ خاموش فلموں میں مکالموں کی جو تختیاں دکھائی جاتی تھیں،اَن پڑھ عوام انہیں پڑھ نہیں پاتی تھی۔اس لئے وہ خاموش فلموں کا آدھےسےزیادہ لطف نہیں لےپاتی تھی۔ اس کے برعکس بولتی فلموں کے سبھی مکالمےسیدھاسنائی دینےکی بدولت وہی اَن پڑھ عوام بولتی فلموں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہوتی تھی۔ اس کےعلاوہ بولتی فلموں میں دوسرا چارم تھا سنگیت کا۔ سنگیت بھارتی جیون کے ساتھ اس طرح گُھلا ہے کہ گھر گھر میں جنم سے لےکرموت تک ہر موقع پر گائے جانے والے گیت ہر صوبےکی زبان میں ہوتےہیں۔ خوشی کے موقع پر تو گانےاور ناچنے کا انعقاد بھارتی ثقافت کی رِیت رہا ہے۔ لہذاہم نے بھی اپنی فلموں کو ‘آواز’ دینے کا فیصلہ کیا۔

ایک بار فیصلہ کر لینے کے بعد پھر تاخیر کرنا ہمیں پسند نہیں تھا۔ہم نےفوراًاپنے ڈسٹری بیوٹرزسے کہا اورامریکہ سےطرح طرح کی ساؤنڈ مشینوں کی معلومات منگوالیں۔ بھارت میں جو پہلی بولتی فلم ‘عالم آرا’ بنائی گئی تھی، اس میں اوردیگر بولتی فلموں میں بھی، منظر فلمانےکے کیمرے میں ہی فلم کے ایک کنارے پر ساؤنڈ ریکارڈربھی ہوتا تھا۔ لہذا بولنے والوں کے ہونٹوں کی حرکات کے ساتھ ہی ان کی آواز بھی بے عیب میل کھاتی تھی۔اس میں کوئی غلطی نہیں ہو پاتی تھی۔ لیکن اس میں ایک خرابی یہ تھی کہ ایڈیٹرکو پوری آزادی نہیں مل پاتی تھی۔ ہم نے سوچا کہ اچھا ہواگر ساؤنڈریکارڈ کا انتظام کیمرے میں ہی نہ ہو،الگ ہو۔ شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈ الگ الگ فلموں پر کیا جائے تاکہ ڈائریکشن اورایڈیٹنگ میں کافی آزادی مل سکے۔ اسی لئے ہم لوگوں نے طے کیا کہ ساؤنڈ ریکارڈنگ کی آزاد سہولت والی’آڈیو کمیکس’ نامی مشین منگوائی جائے۔ اس نظام میں سہولت یہ تھی کہ ساؤنڈ ریکارڈر اورکیمرہ ایک ہی ساتھ، ایک ہی رفتار میں چلائے جا سکتے تھے اور اس طرح دوگنی رفتار یعنی اِنٹرلاک موٹرزہمیں دستیاب ہوتے تھے۔

داملے ممبئی گئے۔ وہاں انہوں نے آڈیو کیمیکس ساؤنڈ ریکارڈر کے بارےمیں باریکی سےپوچھا اور ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکرسے ساری مشینری امریکہ سے منگوانے کے لیے کہا۔ وہ مشینری جہاز کے ذریعے بھارت میں آنے میں چار مہینے لگنے والےتھے، خوش قسمتی سے اسی وقت کولہاپورمیں بجلی آ گئی، شہرکی مخصوص امیر بستیوں میں اورہائی وے پر بجلی کے دیپ روشن ہوگئےتھے۔ ہمارانیا کیمرہ اور ساؤنڈ ریکارڈر چلانے کے لیے ضروری بجلی بالکل صحیح وقت پر دستیاب ہو گئی تھی۔

اب تو کمپنی کا کام کافی بڑھ گیا تھا۔ پرانا ٹھکانہ اب ناکافی ہونے لگاتھا۔ وہ مقام بھی کولہاپور کی بیچ کی بستی میں تھا۔ وہاں ہمیشہ شوروغل ہوتا ہی رہتاتھا۔ اب ہمیں بولتی فلموں کو فلمانا تھا۔ یعنی کرداروں کے مکالمےاورگانے بھی ریکارڈ کرنے تھے۔ لہذافلمانے کے لئے شانت احاطے کی ضرورت تھی۔

مہاراشٹر فلم کمپنی کی پہلی ساجھےدارشریمنت تانی بائی کاگلکرکےگاؤں کےباہر کافی بڑے احاطے والا ایک بنگلہ تھا۔  ہمیں وہ ہرنقطہ نظر سے بہت ہی با سہولت لگا۔ اس بیچ تانی بائی نے مہاراشٹر فلم کمپنی سے اپنی ساجھےداری ہٹا لی تھی۔ پھر وہ ہمارے کیشوراؤ دھایبرکی نزدیکی رشتےدار بھی تھیں۔ نتیجتا ًوہ جگہ ہمیں مناسب کرائے پر مل گئی۔

فوراً ہی نئی جگہ پر ہم نے اپنا نیا سٹوڈیو بنانے کا کام پرشروع کر دیا۔ اس بار ہم نے سٹوڈیو پر کپڑے کی چھت نہیں ڈالی، اُس کے بجائے دھندلے شیشوں کا استعمال کیا۔ سین کھڑے کرنے والے بڑھئیوں کے لئے ایک بڑی سی جگہ پرچھت لگوا دی۔ مرکزی بنگلے میں میک اپ روم اور کاسٹیوم کےلئے الگ کمرے طے کر دیئے۔ کیمیکل روم، ایک اچھا بڑا سا کارخانہ، بابوراؤ پینڈھارکر کے لئے ایک مینجمنٹ روم، اداکاری اور سنگیت کی مشق کرنے کے لئےدودیوان خانوں وغیرہ کا بھی پربندوبست کردیا۔ اس کے علاوہ میوزک ڈائریکشن کے لئے ایک الگ کمرہ دیا۔ اس طرح سے وہ نیا بنگلہ ہم نے اپنی کمپنی کے متنوع کاموں کے لئے آراستہ کیا۔

ہماری پہلی بولتی فلم کے لیے موضوع زیر بحث آیا۔ بچپن میں، میں نے حق پرست راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی’ستوپریکشا’ نامی ایک ناٹک دیکھا تھا۔اس کہانی نے مجھے بہت ہی متاثرکیا تھا۔ معصوم من پراس کی انمٹ چھاپ پڑی تھی۔ بعدمیں خاموش فلموں کے نقش اول داداصاحب فالکے کی بنائی’راجا ہریش چندر’فلم بھی میں نے دیکھی تھی۔ اس وقت تو وہ مجھے بہت ہی ڈھیلی لگی تھی۔ اب میں سوچنے لگا کہ ایک ہی کہانی پر لکھے گئے ناٹک اور بنائی گئ خاموش فلم کا متضاداثر میرے من پر کیوں پڑا تھا؟ میں اسی نتیجہ پرپہنچاکہ ناٹک میں مکالمےتھے، اسی لئے اس کا اثر پڑتا تھا۔ خاموش فلم میں لکھے ہوئے مکالمے ناظرین کو پڑھنے پڑتے تھے، جن کا کوئی اثر ذہن پر نہیں پڑتا تھا، پڑنا ممکن بھی نہیں تھا۔ لہذاراجا ہریش چندر کی حق پرستی کو بولتی فلم کے ذریعے موثرروپ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس نتیجہ پر پہنچتے ہی میں نے اسی کہانی کا انتخاب ہماری پہلی بولتی فلم کے لئے کیا۔ ایسے حق پرست راجا ہریش چندر کا آدرش لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے سماجی فلموں کے آغاز کے ہمارے مقصد کواور بھی تقویت ملنےوالی تھی۔

ہم نے طے کیا کہ ہماری یہ پہلی بولتی فلم مراٹھی اور ہندی دونوں ورژن میں بنائی جائے۔ کہانی کے انتخاب کے بعد پھر ایک بارکرداروں کے انتخاب کا سوال کھڑاہوا۔ آج تک خاموش فلموں میں کامیاب رہے ہمارے کلاکاربولتی فلموں کے لئے بیکار ہوگئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لِلابائی چندر گڑی اور بابوراؤپینڈھارکرکےعلاوہ باقی سارے کلاکاران پڑھ ہی تھے۔ ان کے لئے رواں مکالمہ بولنا ناممکن ہی تھا۔ پھر بولتی فلموں کے اہم کرداروں کے لئے ایسے کلاکاروں کا انتخاب کرنا ضروری تھا،جو گائیکی میں بھی قابل ہوں۔

ہم اسی سوچ میں پڑے تھے کہ ایک دن مائی نے مجھے بلا بھیجا۔ اس طرح خاص بلاوا بھیجنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔مجھے دیکھتے ہی مائی نے ساڑی کا پلو آنکھوں سے لگا لیا اور لگاتار بولتی ہی گئیں، بولتی ہی گئیں۔ اس کے تیسرے بیٹے وِنائک نے کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی،اورکسی اعلی آدرش سے متاثر ہوکر کولھاپورکےودیاپیٹھ ہائی سکول میں بغیرتنخواہ پڑھانے کا کام شروع کیا تھا۔ مائی کا کہنا تھا، “ارے، ہم کوئی زمیندارجاگیردارتھوڑے ہی ہیں، جو یہ دیوانہ خیراتی کام کر رہا ہے؟ گھر میں تو کئی بار دو وقت کھانے کے لالے پڑ جاتے ہیں، اور اس کے یہ ڈھنگ! شانتارام، تم ذرا اسے بلا کر اچھی طرح ڈانٹواور پوچھواس سے کہ یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے۔ اور ہاں، تم اسے اپنی فلم کمپنی میں کوئی کام دے دو۔” وِنائک پر مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے
بابوراؤسےپوچھا، “تم کیوں نہیں اسے آڑےہاتھوں لیتے؟”بابوراؤ نے کہا، “وہ میری کچھ نہیں سنےگا۔ وہ تو، مجھے بھی آدرشوں کی اونچی اونچی باتیں سناتا رہتا ہے۔”

وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔

میں نے وِنائک کو بلا بھیجا۔ اسےکافی پھٹکارااورکھری کھری سنا دیں۔ ونائک شروع سے ہی بہت جذباتی فطرت کاآدمی تھا۔ صحیح وقت کا بیان میں نے کافی بے رحمی کے ساتھ اس کے سامنے کیا۔ میری پھٹکار بھی ممتا سے بھری ہے، مائی سے مجھے بےحد پیاراور عزت ہے، یہ باتیں اس کے دھیان میں آ گئیں اور وہ جذبات سے مغلوب ہوکر رونے لگا۔ آخر اس نے ودیاپیٹھ میں قبول کیا ہوا کام کسی اور کےذمے کر دیا اور وہ پربھات فلم کمپنی میں کام کے لئے آ گیا۔

وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔ وہ گاتا بھی اچھا تھا۔ شروع میں تو وہ بطوراداکار کمپنی میں آیا۔ لیکن گائیکی میں اس کی قابلیت کی وجہ سے گائیک اداکارکےروپ میں اس نےاپنی پہلی ہی بولتی فلم میں اچھی خاصی کمائی کی۔ ‘ایودھیا کا راجا’ فلم میں وہ لڑکی بنا تھا۔ اس میں اس کا گایا گیا گانا ‘آدپرش نارائن’ گیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ میں نے اسے بطورمعاون ہدایت کار کام پر لے لیا۔ میں جو بھی کام بتاتا، اسے وہ پوری اطاعت سے نبھاتا۔ میری ڈائریکشن کی شوٹنگ سے اچھی طرح واقف ہونے کےبعد کئی بار ڈائریکشن کےمعاملات میں وہ کچھ سجھاؤ بھی میرے سامنےرکھنے لگا۔ میں نےپایا کہ اس کے مخصوص سجھاؤ بہت ہی عملی اورمکمل ہوتے تھے۔

گووندراو ٹیمبے

بولتی فلموں کے کارن اب فلمی دنیا میں میوزک ڈائریکشن کی ایک نئی پوسٹ تیار ہو گئی تھی۔اسے نبھانےوالےکسی اہل شخص کی ہمیں تلاش تھی۔ مشہور ہارمونیم پلیئر اور موسیقارگووندراؤٹیمبے گندھرو ناٹک منڈلی سے کافی پہلے ہی الگ ہوگئےتھے انہوں نے اپنی ایک شِوراج سنگیت ناٹک منڈلی چلائی تھی، لیکن وہ بھی اب بند ہو گئی تھی۔ لہذاکولہاپورمیں ٹیمبے جی صرف آرام کرتے تھے۔ وہ باذوق آدمی تھے، شاعر تھےاورگیتوں کو بڑی ہی مدھردُھنیں دینےمیں ماہر بھی۔ لیکن دِقت یہ تھی کہ انہیں پربھات فلم کمپنی میں مدعو کریں تو کیسے، اور کون مدعوکرے؟ بات یہ تھی کہ انہیں گووندراؤٹیمبےکی گندھرو ناٹک کمپنی میں میں کبھی نوکر تھا، اور وہ میرےمالک۔ آج پربھات فلم کمپنی میں وہ میوزک ڈائریکٹر بن کرآتے بھی ہیں، تو وہ میرے نوکر ہو جاتے۔ کیا وہ اسے قبول کریں گے ؟ دِقت یہی تھی۔ آخر کافی سوچ وچار کے بعد انہیں مدعو کرنے کا کٹھن کام ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر پر چھوڑدیا۔ انہوں نے اس نازک گتھی کو بخوبی سلجھالیا۔ گووندراؤنےمیوزک ڈائریکشن کی ذمہ داری بخوشی قبول کی۔ وہ کمپنی میں حسب معمول آنے لگے۔ہم لوگ بھی انہیں وہی عزت واحترام دیتے تھے،جو ناٹک کمپنی کے مالک ہونے وقت انہیں ملتا تھا۔

گووند راؤ جی ٹیمبے کے واقف شری بھولے نامی ایک گائیک اداکار کو ہم نے پونا سے ہریش چندر کا کام کرنے کے لئے بلا لیا۔ اس وقت لِلابائی کی صحت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے تارامتی کے کام کے لئے کسی اور کو لینا ضروری ہو گیا تھا۔ تبھی اخباروں میں دُرگا کھوٹے نامی ایک نوجوان لڑکی کے نام کی چرچا میں نے پڑھی تھی۔ بمبئی میں”ٹریپڈ’ نامی فلم میں اس نے کام کیا تھا۔ یہ بولتی فلم فیل ہو گئی تھی،لیکن درگا کھوٹے کے کام کی سبھی اخباروں نے بڑی تعریف کی تھی۔ مجھے اس کا خیال آیا۔

درگا کھوٹے کے والد سالسیٹرلاڈ سے گووندراؤ کا اچھا تعارف تھا۔ ان کے ساتھ میں بمبئی میں لاڈ صاحب کے گھر گیا۔ مجھے باہر کے کمرےمیں بیٹھاکرگووند راؤ درگابائی سے باتیں کرنے کے لئےاندر چلے گئے۔ درگا بائی نے ہماری کمپنی کی فلم میں کام کرنا قبول کر لیا۔تب گووندر راؤ نے مجھے اندر بلا لیا۔ میں نے انہیں کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھ لیا، ان کا ڈیل ڈول اور شکل و صورت رانی تارامتی کے کام کے لئے ایک دم موزوں معلوم ہوئی۔ لین دین کا معاملہ اور شرائط ہم نے اسی بیٹھک میں طے کر لیں۔ رانی تارامتی کے کام کے لئے تین مہینوں کے لئے ہم نے انہیں ڈھائی ہزار روپے دینا قبول کیا۔

ہم دونوں درگابائی کے گھر سے باہر آ گئے۔گووند راؤ کہنے لگے، “درگابائی پوچھ رہی تھی اس بولتی فلم کی ڈائریکشن کون کرنے والا ہے؟” تب میں نے بتا دیا، “وہ جوباہر بیٹھے ہیں نہ، وہ کریں گے۔” اس پر انہوں نے کہا، “کون؟ وہ؟ باہر بیٹھا چھوکرا؟”

اور گووند راؤ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔

ان کی یہ باتیں سن کر میں نے کہا، “اب آئندہ بولتی فلم کے لئے کسی بھی اداکارا کے یہاں جانا ہو، تو میں کمپنی سے گھنی مونچھیں اورداڑھی لگوا کرہی آؤں گا،تاکہ آپ کی طرح رعب دار دکھائی دوں۔”

ان دنوں مہاراشٹر میں ہر جگہ مہاراشٹر ‘کٹمب مالا’ نامی کتھا مالا کافی مشہور ہو چکی تھی۔ اس مشہور کتھامالا کے ایڈیٹر تھے، ن۔ وی۔ کلکرنی۔ میں نےانہیں ہماری بولتی فلم کی کہانی لکھنےکی دعوت دی۔ گیت نگاری گووندراؤنےہی کی۔

نئے سٹوڈیو کا قیام، نئے ساؤنڈسسٹم کی خرید، بولتی فلم کے لئے ضروری دیگر سازو سامان کی انسٹالیشن وغیرہ میں بولتی فلموں کے لیے ہمارا خرچ، ہماری پونجی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ لہذا مزید ہمت نہ دکھاتے ہوئے ہم نے بمبئی میں اس سے پہلے سے ریلیز اور مشہور ہو چکے بولتی فلموں کی طرح راجا ہریش چندر کی کہانی بھی اسی ناٹک نما اسلوب میں لکھ کر تیار کی۔ ہندی ورژن کے مکالمے لکھنے کے لئے ایک اردو ناٹک کار کوبمبئی سے بلا لیا۔ ان صاحب نے دیگرتمام کمپنیوں کی طرح ہندی سکرپٹ میں شعروشاعری کی بھرمار کر دی۔ مکمل ریہرسل کےوقت انہوں نےہمارے کلاکاروں کواردو شعرو شاعری پیش کرنے کا طریقہ ٹھیک اسی ڈھنگ سے سکھایا، جیساکہ سٹیج پر خاص جوشیلی ادا میں کن الفاظ پر،زور دیا جاتاہے۔ بیچارے ہریش چندر،تارامتی، اور برہم رشی وشوامتر کو بھی ہم نے اردو میں اپنے مکالمے بولنے کے لئے مجبور کیا۔

‘گوپال کرشن’ کے بعد کے زمانے میں دھارا کے الٹ تیرنے والے ماہر تیراک کی مانند میں تیزی سے ہاتھ مارتے آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ لیکن اس بار پھر ایک بار کمپنی کے وجود کا سوال منہ کھولے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔ لہذا منجدھارمیں مالی بدحالی کے بھنور کو ٹال کر آگے نکل جانے میں ہی عقل مندی تھی۔ اس لئے کچھ دیرتک پر دھارا کے ساتھ بہتے جانا ہی ضابطہ تھا، ضروری بھی تھا۔ میرے تخلیقی من کو اس کا خاص قلق ہوتا تھا۔

بولتی فلم کے خاص منظروں کی مکمل ریہرسل شروع ہو گئیں۔ درگابائی بہت ہی کھلے من کی اچھی پڑھی لکھی اورکھاتے پیتے گھرانے کی تھیں۔ پھر بھی کمپنی کے ہر چھوٹے بڑے کارکن کے ساتھ وہ ملنساری سے پیش آتیں۔ کام سیکھنے میں ذرا بھی نہ ہچکچاتیں۔ مکمل ریہرسل کے وقت اپنے کام کی ساری خوبیوں کو خاص ڈھنگ سے سیکھتیں اور کوئی انہیں ان کی غلطی سمجھا دیتا تواس غلطی کو سدھارنے کی دلی کوشش کرتیں۔گانا وانا انہیں خاص نہیں آتا تھا پھر بھی گانے کا ریاض اتنا من لگا کر کرتی تھیں کہ اس فلم میں ان کی گائی لوری ’بالاکا جھوپ ییئی نہ’، (منے، کاہے نہ آوے نندیا) فلم کی نمایاں خوبی بن گئی تھی۔

اس کے برعکس ہریش چندر کا کام کرنے والے گائیک اداکار گولے ریہرسل کےوقت ایک دم ہمت ہار جاتے تھے۔ میں انہیں کافی دلاسہ دیتا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ آخر انہوں نے وِنائک کے ذریعے مجھے کہلوا بھیجا، “مجھے نہیں لگتا،فلم میں کام کرنا میرے بس کا روگ ہے۔” میں نے انہیں سمجھانے بجھانے کی کافی کوشش کی، لیکن وہ ایک دم بد دل ہو گئے اور واپس پونا چلے ہی گئے۔اب پھر سے ایک نئی دقت آ پڑی۔ ہریش چندر کا کام کون کرے؟ فوراً خیال آیاکہ گووند راؤخود تو سٹیج کے مشہور اداکار تھے اور منجھے ہوئے گائیک بھی۔وہ فلم میں کام کرنا قبول کرتے ہیں، تو کیا ہی کہنا، سونے پرسہاگہ ہو جائےگا۔ گووند راؤ کو بابوراؤنے راضی کر لیا۔ پھر نئے سرے سے ریہرسل ہونے لگی۔

گووند راؤ کی تعریف میں کہنا ہوگا کہ اگرچہ وہ عمرمیں مجھ سے کافی بڑے تھے اورمیں عمرمیں ان سے بہت چھوٹا تھا، بطورایک ڈائریکٹرمیرے دئیے گئے سبھی احکامات کو وہ کھلے من سے قبول کرتےاوران کےمطابق ہی برابر کام کرتے تھے۔گووند راؤ کی یہ کھلی شخصیت ان ریہرسلزکےوقت اور بھی،زیادہ اجاگرہو گئی تھی۔ ہم دونوں کے بیچ ہنسی مذاق بھی ہونے لگا تھا۔ایک شام ہم لوگ اپنے اپنے گھر جا رہے تھے، انہوں نے سہج انداز سے مجھ سے پوچھا،

“شانتارام بابو، سگریٹ پیو گے؟”
“نہیں۔”
ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے دوسرا سوال کیا، “اچھا، تھوڑی شراب تو چلتی ہے نا؟”
“نہیں! نہیں!بالکل نہیں!”

“اور سنا ہے عورت کے بارے میں آپ ایک دم سادھو ہیں؟ کیسے انسان ہیں آپ! یہ ناک کی سیدھ میں جانے والا جیون بھی کوئی جیون ہے؟ یہ تو ایک دم بجلی کے سیدھے کھمبےکا سا جیون ہوا! ورنہ مجھے دیکھو، میرا جیون ہے بے رحم فطرت کےکسی درخت کی طرح۔ ادھر سے پتے پھوٹ رہے ہیں، ادھر سے ٹہنیاں بڑھ رہی ہیں، سیدھی ہوں، ٹیڑھی ہوں، لیکن ہیں سبھی ایک دم سہج اور فطرت کے اصول کے مطابق!”

گووند راؤ کےان سہج اورفطری رنگ ڈھنگ سےاچھی طرح واقف ہونے کی وجہ میں اپنی ہنسی دبا نہیں سکا۔ سب سےمزے کی بات یہ کہ گووندراؤبھی جی کھول کر میرےساتھ ہنسنے لگے۔

آڈیو کمیکس کمپنی کا ساؤنڈریکارڈر،اس کے ساؤنڈ سسٹم کا سارا سازوسامان، ساؤنڈ اور سین شوٹنگ کی فلم پٹیوں کی ایڈیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والی ‘مووی اولا’ مشین وغیرہ سبھی مشینری لےکر داملے جی کولھاپورپہنچے۔ ہماری یہ ساری مشینری منگوائے جانے کی خبر ملتے ہی، اردیشِرایرانی نے ایک دندناتابیان دیا کہ اس دوہرے نظام کے ذریعے کی گئی شوٹنگ میں ہونٹوں کی جنبش اورآوازکامیل ناممکن ہے۔ سچ کہوں تو ایسے کھرے پن کی وجہ سے ہم لوگ بھی سٹپٹاہی گئےتھے۔

شوٹنگ کیمرے کے ساتھ ساتھ ساؤنڈ ریکارڈرکا ٹیسٹ کرنے کے لیے ہم نے پانچ چھ شاٹس ڈرتےڈرتےلےلیے۔ ان پر ہمارےکیمیکل روم میں کیمیائی عمل کیااوربعد میں انہیں مووی اولا پر چڑھا کرپردے پر دیکھنا شروع کیا۔ اردیشِرایرانی کی طرف سے ظاہر کیا گیا خدشہ ایک دم بے بنیاد ثابت ہوا۔ تصویراورآوازدوالگ الگ پٹیوں پرنقش کئےتھےاور اس کے باوجود کرداروں کےہونٹوں کی جنبش اوران کی آوازمیں پوراتال میل تھا۔ کہیں پرتھوڑا بھی جھول نہیں آیا تھا۔ اس سے ہمارا جوش کافی بڑھ گیا۔

لیکن ادھر معاشی کٹھنائیوں نے ہمیں گھیرلیا تھا۔ خرچہ پوراہوتاہی نہیں تھا۔ مشینری کے آلات خریدنے کے لیے قرض لیا تھا، کاریگروں اورکلاکاروں کی تنخواہ رُکی پڑی تھی، اس پر فلم میکنگ کا روزانہ خرچ۔۔۔ مختلف مصیبتیں تھیں۔ کم سےکم شوٹنگ کی نگیٹو پر ہونےوالاخرچ کم کرنے کے لیے ہم اس کا ایک انچ بھی ضائع نہ ہونے دیتے۔ اس کے لیے شوٹنگ سے پہلے میں سبھی کلاکاروں اورتکنیک کاروں سے کڑی مکمل ریہرسل کروا لیتا تھا۔ جہاں تک ہو سکے دوبارہ شاٹ لینا نہ پڑے،اس کا یہی مقصد رہتا تھا۔ اس سے فلم کا خرچ کم سے کم رکھنے میں مدد ملتی تھی۔ سمے کی بچت کے لیے ہم لوگ ہر شاٹ پہلے مراٹھی میں اور اس کے فورابعد ہندی نہیں، اردو میں لے لیا کرتے تھ۔

اس زمانے میں گانے کی ساؤنڈ ریکارڈنگ اور سین کی شوٹنگ ایک ساتھ کرنا پڑتی تھی۔ فلم میں کام کرنے والے کلاکارخود گاتےاوراداکاری بھی کیا کرتے-اہم موسیقار کرداروں کا گروہ سٹوڈیو میں ہی کیمرے کی نظر سے ہٹ کر کسی اوٹ میں کھڑا ہوتا تھا اوروہیں سے گانے والے کی سنگت کرتا تھا۔ گیت شروع ہونے اور اس کے ختم ہونے تک شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں کیمرے چلتے رہتے تھے۔ صرف شوٹنگ کیمرے کو ٹرالی پر رکھ کر درمیانے شاٹ، کبھی فل لینتھ، تو کبھی کلوزاپ کی ضرورت کے لیےآگے پیچھے کیا جاتا تھا۔ ہلچل بس یہی ہوتی تھی۔چار ساڑھے چار منٹ کے چلنے والے اس شروع کے شاٹ میں،کیمرہ والا، گانےوالا یا کردار تھوڑی بھی غلطی کرتا، تو پھر شروع سے آخر تک وہی سلسلہ چلانا پڑتا تھا۔

ایک دن گووندراؤ ٹیمبے کا ہریش چندر کا گیت فلمانا تھا۔ گووندراؤ اعلی پائے کے گائیک تھے۔ انہیں اسٹیج پر وقت کی قید نہ مانتے ہوئے جتنی دیر چاہا گانے کی عادت تھی۔ لیکن یہاں فلمی دنیا میں وقت کی قید بہت معانی رکھتی تھی۔ میں نے گووندراؤ کو گانا وقت پر ختم کرنے کے بارے میں اچھی طرح سے سمجھایا تھا، کہا تھا، “میں کیمرے کے پاس کھڑا رہوں گا۔ ہر ایک منٹ کے بعد میں آپ کو ایک، دو، اس طرح انگلیاں دکھا کر اشارہ کرتا رہوں گا۔ میری چار انگلیاں دکھائی جاتے ہی آپ اپنا گانا مناسب ڈھنگ سے ختم کیجئے۔”

انہوں نے میری باتیں دھیان سے سن لیں۔ اُن کو من ہی من دہرا لیا اور میری ہدایات کو اچھی طرح سے سمجھ لیا۔ اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ اب گووندراؤوقت کے بارے میں کوئی جھنجھٹ کھڑا نہیں کریں گے۔

گانے کی ریہرسل ہو گئی۔ کیمرے کی سرگرمی بھی پکی ہو گئی۔ گووندراؤنے اپنی سنہرے فریم والی عینک اتار کر ایک طرف رکھ دی۔ میں نے چِلا کر سب کو ‘خاموش’ رہنے کا حکم دیا۔ سب لوگ اپنی اپنی مقررہ جگہ پر ٹھیک کھڑے ہوگئے۔”سٹارٹ”، میں نے اشارہ کیا۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈنگ الگ دونوں کیمرے چالو ہو گئے۔ وِنائک نے سین نمبر اور شاٹ نمبر کہہ کر ‘کلیپ’ماری۔ خاص سنگیت بھی شروع ہو گیا۔ گووندراؤ کا سُر بہت ہی بڑھیا لگا تھا۔ کیمرے کی حرکت میرے خاموش اشاروں کے مطابق ہونے لگی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ میں نے ایک منٹ ختم ہونے کا اشارہ دیا۔ مجھے لگا کہ گووندراؤ نے اسے دیکھ لیا ہے۔ وہ گانے میں ایک دم کھو گئے تھے۔ گانے کے بھاؤ کے مطابق ان کی اداکاری بھی بہت ٹھیک سے چل رہی تھی۔ دو منٹ ہو گئے۔ میں بہت خوش تھا۔ تیسرا منٹ بیتا۔۔۔چارمنٹ ہو گئے۔ میں نے گانا ختم کرنے کا اشارہ گووندراؤ کو کیا۔ لیکن وہ گانے میں اتنے کھو گئے تھے کہ میرے اشاروں کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں تھا۔ اس لئے گاتے گاتے ان کی نظر جس طرف بھی جاتی، اسی سمت میں کتھک نرتک کی طرح اچھل کود کر میں انہیں گیت ختم کرنے کے اشارے کرتا گیا۔ لیکن بھگوان کا نام لو، پانچ منٹ ہوگئے، گووندراؤرکنےکا نام ہی نہیں لےرہے تھے۔میراکتھک ناچ اب تانڈو میں بدل گیا تھا۔ لیکن میں جتنا بھی کودتا پھاندتا، گووندراؤ کا گانا اور رسیلا بنتا جا رہا تھا۔ میری ساری کوششیں بیکار گئیں۔ہار کر سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر میں مایوس ہوکر دھم سے نیچے بیٹھ گیا۔ تبھی کیمرا چلانے والے فتے لال زور سے چلائے “فلم ختم ہوگئی۔”گووندراؤ چونک کر رک گئے اور غصے میں آکر بولے، “یہ کیا مذاق بنا رکھا ہے آپ نے؟ اب جاکر کہیں میری آواز فلم کے مطابق سدھ گئی تھی، اور ادھر آپ کی فلم ختم ہو گئی؟کہاں ہے وہ شانتارام بابو؟” میں تو ان کے سامنے ہی کیمرے کے پاس گردن لٹکا کر سرتھامے بیٹھا تھا۔ گم سم، چپ!مجھے دیکھنے کے لیے گووندراؤنے اپنی عینک منگوا لی۔

ایودھیا کا راجہ کا ایک منظر

اسےوہ آنکھوں پر رکھنے جا ہی رہے تھے کہ میں نے فوراً اٹھ کر، جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ایسے انداز سے کہا، “واہ گووندراؤ! آج تو آپ کی آواز ایک دم بڑھیا سدھی تھی۔ آپ کا گانا بےمثال رہا!”

یہ سن کر ان کا غصہ شانت ہو گیا، بولے، “تبھی تو! عینک لگی نہ ہونے کے کارن آپ کا چہرہ مجھے صاف نظر نہیں آرہا تھا، لیکن آپ ہاتھ اٹھاتے ضرور تھے، اس سے میں سمجھ گیا کہ آپ میرے گانے کی داد دے رہے ہیں اور اسی لئے میں گاتا چلا گیا۔”

میں نے من ہی من کہا، “کرم پھوٹےمیرے!”

ہماری شوٹنگ انیس دن چلتی رہی۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈ دونوں کی فلموں پر کیمیکل روم میں روز کیمیائی عمل کیے جاتے تھے۔ دھایبرجی نے ان کے پرنٹس تیار کئے۔ دوسرے سین کی شوٹنگ کرنے تیاریاں ہونے تک میں نے سوچا، تصویر اور آواز پٹیوں کو ٹھیک سے ساتھ ساتھ جمع کرکے ان کی ایڈیٹنگ کیوں نہ پوری کر لی جائے۔ مووی اؤلا پر میں ایڈیٹنگ کے لیے بیٹھ گیا۔

تصویر اورآوازپٹیوں کےالگ الگ ر ولوں کو مووی اولا پر چڑھایا۔ شوٹنگ سکرپٹ کے مطابق کس شاٹ کو کہاں کاٹنا ہے، طےکرلیااورنشان بھی لگا لیے۔ پہلے ہی شاٹ میں کرداروں کےہونٹوں کی حرکت اورآواز کاتال میل نہیں بیٹھا تھا۔ مجھے لگا کہ شاید ایڈیٹنگ مشین پر رول چڑھانے میں مجھ سے کوئی بھول ہو گئی ہے۔ میں نے رول اتار لیے اورپھرٹھیک سے چڑھا دیے۔ دونوں پٹیوں کا ٹیسٹ پھرشروع کیا۔لیکن دونوں پٹیوں میں قطعی کوئی میل نہیں بیٹھتا تھا۔ ہونٹوں کی شروعات حرکت کے ساتھ آواز کو ملا لینے پر دونوں پٹیوں کی لمبائی میں فرق آ جاتا۔ میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ اردیشرایرانی جیسے تجربہ کار فلم ڈائریکٹرنے یہ سسٹم غلط ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ صحیح تھا؟ نہیں!

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ شاید ایک ادھ شاٹ غلط ہو گیا ہوگا۔ من میں پھر تھوڑی امید جاگی۔ اگلا شاٹ ٹھیک سے دیکھا۔ لیکن وہی حال۔ پاگل کی طرح میں ایک کے بعد ایک شاٹ اور ایک کے بعد ایک رول جانچتا گیا۔ لیکن ایک بھی شاٹ میں تصویراورآوازکا میل نہیں بیٹھ پارہا تھا۔ میرے تو دیوتا کوچ کر گئے۔

تبھی داملے وہاں آ پہنچے۔ میں نے انہیں کچھ شاٹس دکھائے۔ انہیں دیکھتے ہی داملے ایسے بیٹھ گئے جیسے ہذیان ہو گیا ہو۔ کچھ دیر بعد پتہ نہیں انہوں نے کیا سوچا، وہ مشینری روم میں گئے۔ کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈرایک ساتھ چالو ہوں اس کے لیے وہاں جو اوربجلی پر چلنے والےدیگرآلات رکھے تھے،ان کا داملے ٹھیک ٹھیک معائنہ کرنے لگے۔

کچھ لمحوں بعد میں بھی اس کمرے میں پہنچ گیا۔ داملے پسینے پسینے ہو گئے تھے۔انہوں نے ساری مشینری کی پھر جانچ پڑتال کی، دیکھا بھالا۔ کسی میں کوئی نقص نظر نہیں آ رہا تھا۔داملے جی نے مجھے بے چینی سے پوچھا، “شانتا راما بابو، ہم نے تجربے کے لیے جو شروع کے شاٹس لیے تھے، ان میں تصویراورآوازکی فلمیں ایک سی لمبائی کی تو تھیں نا؟ ان میں ہونٹوں کی ہلچل کا آواز کے ساتھ برابر تال میل بیٹھا تھا نا؟”

میں نے “ہاں” کہہ تو دیا لیکن میں بھی کچھ سٹپٹاہٹ میں ہی تھا۔

ہم دونوں ایڈیٹنگ روم میں گئے۔ وہاں نئی شاٹس کی فلموں کو ہم نے پھر مووی اولا پر چڑھایا۔ ان فوٹوزمیں تصویر اور آواز کا ایک دم ٹھیک تال میل بیٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر داملے نے کہا، “اچھا، اب آپ گھر جائیے۔ ان انٹرلاک موٹرز میں کیا خرابی آ گئی ہے، میں دیکھ لیتا ہوں۔”

میں گھر گیا۔ رات بھر سو نہیں سکا۔ کمرے میں ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر چکر کاٹتا رہا۔ مجھے اس طرح پریشان دیکھ کر وِمل نے پوچھا بھی، بات کیا ہے، لیکن میں نے کچھ ٹال مٹول جواب دے دیا۔ دن بھر کے کام کے مارے تھکی ماندی ہونے کے کارن وہ سو گئی۔ میں کمرے میں ٹہلتا تھا۔ بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ انیس دن کی محنت، وقت، شوٹنگ، سب کچھ بے کارہوگیاتھا۔ اس کے علاوہ شوٹنگ کی گیارہ ہزار فٹ اور ساؤنڈ ریکارڈر کی بھی اتنی ہی لمبائی کی فلم بیکار گئی تھی۔ یعنی بائیس ہزار فٹ فلم ہم نے برباد کر ڈالی تھی۔ ادھر ایک ایک پیسے کے لیے کمپنی ترس رہی تھی۔ ہم بھی فلم کے ہر فٹ کاپورااستعمال کرنے کی احتیاط برت رہے تھے۔ اور ایسے میں یہ بربادی! کیا آڈیوکمیکس ساؤنڈریکارڈرکاہماراانتخاب غلط تھا؟ اگر تھا،تواب شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں ایک ساتھ کر سکنے والا نیا کیمرا کہاں سے لایا جائے؟ اس کےلیے ضروری رقم کہاں سے حاصل کی جائے؟ پھر نیا کیمرا لانا بھی ہو، تو امریکہ سےمنگوانا پڑےگا۔اس کے آنے میں تین چار ماہ لگ جائیں گے۔ یعنی تب تک کیا کمپنی کے لوگوں کو بنا کسی کام کے تنخواہ دی جائے گی؟ ویسے ہی پیسے کے لالے پڑرہے تھے۔ تو کیا کمپنی کو تین چار مہینے بند رکھنا ہوگا؟ میرے من میں وچاروں کا انبار لگا تھا۔ کھڑکی سے باہر کہیں دور دیکھنے کی میں کوشش کر رہا تھا۔ لیکن باہر گھنا اندھیرا چھا گیا تھا۔ میں کب بستر پر آکر لیٹ گیا اور کب آنکھ لگی، معلوم نہیں۔

سپنے میں ایک پاگل سا نوجوان سر جھکائے آگے پیچھے ڈول رہا تھا۔ اسے ہم نے اپنے بچپن میں کئی بار دیکھا تھا۔ اس کا نام تھا نیل کنٹھ۔۔ بعد میں وہ کولہاپور کی کمہار گلی میں دت سوامی کے مندر میں بیٹھا رہتا تھا۔ کسی نے کھانے کے لیے کچھ دے دیا تو کھا لیتا تھا، ورنہ بھوکا رہ کر دن بھر بس اسی طرح ڈولتا رہتا تھا۔ لوگ اسے ‘نیلو مہاراج’ کہنے لگے تھے۔ اس نیلو مہاراج کی حال ہی میں وفات ہو چکی تھی۔ سپنے میں اسی نیل کنٹھ نے سر اٹھا کر میری اور دیکھا، اور وہ کہنے لگا،”بے کار کی الجھن میں کیوں پڑتے ہو؟ فکر نہ کرو، سب کچھ ایک دم ٹھیک ہونےوالا ہے!”

یہ لفظ سن کر میں جاگ اٹھا۔ سپنے میں بات یاملاقات وغیرہ ہونے پر میرا قطعی یقین نہیں تھا، لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جو ہوتا ہے! مجھے بھی اس سپنے نے ہمت بندھائی۔نہانے دھونے سے نبٹ کر میں فوراً مشینری روم میں پہنچا۔ داملےجی بہاں رات بھر مشین میں آئی خرابی کھوجتے رہے۔ کوشش تو وہ پوری کر رہے تھے، لیکن غلطی پکڑ میں نہیں آ رہی تھی۔سٹوڈیو میں ہریش چندر کے محل کا منظر کھڑا کیا جا رہا تھا۔ میں نے اس کام کو پہلے بند کروایا۔ اتنے دنوں سے جاری شوٹنگ سب کا سب بیکار ہو جانے کی بات کانوں کان ہر جگہ پھیل گئی تھی۔ ساری کمپنی پرڈپریشن بری طرح چھا گیا تھا۔ میں بھی ایک کمرے میں گہری فکر میں کھو گیا۔

کچھ دیر بعدایک چھوکرا بھاگتے بھاگتے مجھے کھوجتا ہوا آیا۔ اس کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس نے کہا، “داملے ماما نے کہلا بھیجا ہے کہ آلے میں جو خامی تھی، اس کا پتہ چل گیا ہے۔ دونوں موٹریں اب ٹھیک چل رہی ہیں۔”

سن کر میں دوڑ کر مشینری روم میں گیا۔ داملے سارا کام ختم کر پسینہ پونچھ رہے تھے۔ میں نے داملے کو کس کر گلے لگا لیا۔ ان کے چہرے پر رات بھر کام کرنے کے کارن تھکان صاف دکھائی تو دے رہی تھی،لیکن سکون اس سے بھی زیادہ جھلک رہا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “خاص کوئی بات نہیں تھی، شانتارام بابو۔ صرف ایک سوئچ ذرا ڈھیلا ہو گیا تھا، اسی کے کارن یہ سارا جھمیلا ہو گیا!”میں نے انہیں آرام کرنے کے لیے گھر بھیج دیا اور میں اسی دن بمبئی گیا۔

بمبئی پہنچتے ہی پہلا کام میں نے یہ کیا کہ آگفا کمپنی میں گیا۔ ریگےجی سے ملا۔ بے جھجک ہوکر انہیں سارا معاملہ بتایا۔ انہوں نے میری پیٹھ سہلاتے ہوئے ہمت بندھائی، “کوئی بات نہیں! فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کو آپ کی بولتی فلم کوپورا کرنے کے لیے جتنی بھی کچی فلم لگے، ہم آپ کو ادھار دے دیں گے۔” سن کرمیرا حوصلہ کچھ بڑھا۔ پھر میں نے ہمارے ڈسٹری بیوٹربابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ سوچ بچار اورمشورہ کرکےکچھ رقم کابندوبست کرلیا۔

میں کولہاپور واپس آ گیا۔ ہریش چندر کے محل کی شوٹنگ پھرسےشروع کر دی۔ اب پہلے سے بھی زیادہ احتیاط برت کرمیں ہردن شوٹنگ پوری کرنے کے بعد رات بارہ ایک بجے تک بیٹھ کراس دن کی شوٹنگ کی ایڈیٹنگ بھی پورا کر لیتا تھا۔ مقصد یہ ہوتا کہ مان لو پھر کہیں کوئی غلطی ہو بھی گئی ہو، تو فورا اسی دن اسے ٹھیک کر لیا جا سکے۔

سٹوڈیو کے باہر کے کھلے میدان میں کاشی کے غلاموں کے بازار کا منظر تیارکیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کو کاشی کے گنگاناتھ مہاجن کا کردار دیا۔ تہذیب کے نام پر صفائی کے ساتھ بُرے کام کرنے والے وِلن سامنے لانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ میری یہ سوچ میں نے بابوراؤ کو بتائی۔ انہیں وہ بہت پسند آئی۔ اس خیال کو انہوں نے ڈھال لیا اور اپنی اداکارانہ مہارت سے اس میں ایسی جان ڈال دی کہ (فلم میں) گنگاناتھ مہاجن یادگاربن گیا۔

غلاموں کے بازار کی شوٹنگ ختم ہوئی۔ پھرمرگھٹ کا منظربنایاجانےلگا۔ ہریش چندر کے مرگھٹ کے مناظر کو فلمایا جانے لگا۔ ہریش چندر کا ڈوم مالک مرگھٹ کا بھی سردار تھا۔ اس ڈوم کے یہاں ایک بار ناچ گانے والوں کا ایک گروہ آتا ہے اور گانا گاتا ہے۔ اس سین کو فلماتے سمے ہی کولہاپورمیں ڈوم مداریوں کی ایک تماشہ پارٹی آئی ہوئی تھی۔ انہیں ہم نے کمپنی میں بلوا لیا اورسیدھا شوٹنگ کے لیے کھڑا کر دیا۔ ان میں ایک لڑکی سے وہیں کچھ لوک گیت سن لیے۔ ان لوک گیتوں میں سے ایک ٹھیٹھ دیہاتی،چٹخداراورپھڑکتی دھن کا لوک گیت چن لیا۔ اس گیت کی دھن پر وہ لوگ ناچنے لگے۔ لیکن فلم کے لیے مخصوص وقت کا اندازہ انہیں نہیں تھا۔ گووندراؤ ٹیمبے کی گائیکی کے بارے میں جو بُرا تجربہ ہوگیا تھا، من میں تازہ تھا۔ اس لئے ان دیہاتی فنکاراؤں کو ٹھیک وقت پر کیسے روکا جائے، ایک الجھن ہی تھی۔

میں نے اپنا ڈائریکٹر کا پہناوا بدل لیا۔ پھٹی دھوتی اور سر پر ایک مٹ میلی دھجی باندھ کر میں بھی ان میں سےایک ڈوم بن گیا۔ میں کیمرے کی طرف پیٹھ کئے کھڑا رہا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹی گھڑی چھپا لی۔ ناچتے ناچتے بیچ بیچ میں میری طرف دیکھتے رہنے کی ہدایت انہیں دی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ میرے ہاتھوں کا اشارہ سمجھ کر گیت گانا بند کرنا۔ شوٹنگ چالو ہو گئی۔ گانا اچھا تھا۔ رقص بھی چٹخدارتھا۔ کمپنی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے کلاکار اور کاریگر ‘پربھات’ کا سخت ڈسپلن توڑ کررقص گیت کے تماشے کو دیکھنے کے لیے شوٹنگ کی جگہ پہ جمع ہو گئے تھے۔ اصل مراٹھی کے لوک گیت کے الفاظ تھے بھی بڑے مزیدار، جن کا مطلب تھا۔۔۔

“کودو کٹکی جیو نار کے لیے بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے۔۔۔”

فلم کی شوٹنگ اور مراٹھی ہندی ورژن کا کام پورا ہوا۔ مراٹھی میں اس بولتی فلم کا نام “ایودھیچا راجہ” اور ہندی میں “ایودھیا کا راجہ” رکھا گیا۔

فلم کو پہلے ٹرائل روپ میں آپس میں ہی دیکھنے کا دن طے ہوا۔ رات ہو گئی۔ فلم کی مکمل کاپی تیار ہو رہی تھی۔ ہم سب لوگ بے حد اتاولے ہو رہے تھے۔ ذہنی تناؤ تو اتنا بڑھ گیا تھا کہ بیچ میں ملے وقت میں بھی ہم لوگ کسی سے بات نہیں کر رہے۔ مکمل فلم کو تیار کرتے کرتے بھور ہو گئی تھی۔ سبھی چپ چاپ بیٹھے فلم تیار کی جانے کا انتظارکر رہے تھے۔

کمپنی کے باہر والے کھلے احاطے میں ہم لوگ اپنی پہلی بولتی فلم دیکھنے کے لیے تیار ہوکر بیٹھ گئے۔ پربھات کے لوگو کا پہلا شاٹ چالو ہو گیا۔ تانپورے کی آواز سنائی دینے لگی۔ اسی جھنکار کی لے پر پربھات دیوی نے اپنی بھیری اٹھائی، وہ اسے اپنے ہونٹوں تک لے گئیں۔ اور بھیری سے نکلی دیسی راگ کی سریلی دھن نے سارے ماحول کو بھر دیا۔

خاموش فلم کے لیے بنایا گیا وہ لوگو ساؤنڈ ریکارڈ یعنی بولتی فلموں کے لیے اتنا مناسب ثابت ہوگا، کسی نے سوچا نہیں تھا۔ بھیری کو سر مل گئے۔ ہماری ‘پربھات’ کی بھیری سامنے لگے پردے پر گونج رہی تھی۔ اس خاموش لوگو سے پرزوراور پہلی سُریلی لہر سے میرا تن من پر جوش ہو گیا۔ اسی لمحے ہمارے منتخب ناظرین کےگروہ نے والہانہ داد دی، “واہ واہ!” ساتھ ہی سارااحاطہ تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔ آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔

بولتی فلم پوری ہو گئی۔ آخرمیں پھر سے ‘پربھات’ کا لوگوپردے پر آیا۔ پربھات کی بھیری پھر ایک بار اپنا سریلا سُر ماحول میں بکھیر رہی تھی۔ میں نے پورب کی طرف دیکھا۔ مشرقی افق بھی اس وقت پربھات کی لالی سے لال لال ہو رہا تھا۔

بولتی فلم واقعی میں بہترین بنی تھی۔ اس کے مکالمے،گیت، سب کچھ بہت اچھا فلم ہو گیا تھا۔ سبھی کلاکاروں اور تکنیک کاروں نے اپنا کام پورے دل سے کیا تھا۔ لیکن۔۔۔۔من میں اتنے دن سے دبی پڑی وہی بے چینی پھر ابھر آئی۔ میری رائے میں ‘ایودھیا کا راجا’ حقیقت میں ایک فلم نہیں تھی۔ وہ ناٹک فلم تھی۔ سین اور اداکاری کے مقابلےوہ مکالموں اورگیتوں سے کھچاکھچ بھراپڑا تھا،لدا لدا سا لگ رہا تھا۔حقیقی معنی میں وہ صرف ‘بولتی فلم’ تھی۔ لیکن اس الجھے خیال کے کارن کہ اس طرح کی بولتی فلم بنائے بنا وہ کامیاب ہو ہی نہ سکےگی، میں نے پربھات فلم کمپنی کی معاشی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے وہ ناٹک کی طرز کی بولتی فلم پورا کی تھی۔

ہندی ورژن ‘ایودھیا کا راجا’ تو سو فی صدی ڈرامائی تھی۔ مراٹھی ورژن کچھ کم ناٹکی تھا۔ بچوں کی کہانی ہوتی ہے نا، ٹھیک ویسی ہی تھی ان دو ورژن کی کہانی : ایک تھا راجا۔ اس کی دو رانیاں تھیں۔ ایک تھی اس کی چہیتی اور دوسری تھی اَن چاہی : لیکن میرے بارے میں یہ کہانی تھوڑی سی مختلف تھی ہندی ورژن بالکل ہی اَن چاہا تھا، تو مراٹھی ورژن تھا تواَن چاہا ہی، لیکن تھوڑا کم اَن چاہاتھا۔

میں سوچ رہا تھا کہ کیا دیکھنے والے ان دونوں ان چاہی رانیوں کو پسند کریں گے؟کمپنی کی بگڑی گرہستی (گھر)کو کیا یہ رانیاں پھر ٹھیک سے بسائیں گی؟

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 9: بہاؤ کے الٹ

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
…………………..

‘گوپال کرشن’کو غیرمتوقع کامیابی ملنے کی وجہ سے ساری کمپنی میں جان آ گئی۔ کمپنی کا کام بھی بڑھ گیا۔ آج تک ساری خط و کتابت میں ہی دیکھا کرتا تھا، لیکن اب کام بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے خط و کتابت کی طرف کافی دھیان دینے کی فرصت مجھے نہیں مل پا رہی تھی۔ ایک دن بابوراؤ پینڈھارکر سے ملاقات ہو گئی۔ مہاراشٹر فلم کمپنی سے ناطہ توڑنے کے بعد انھوں نے بمبئی جاکر ‘وندے ماترم’ نامی فلم بنائی تھی۔ لیکن سینسر کی قینچی نے اس کی ایسی درگت بنا دی تھی کہ وہ ایک دم فیل ہو گئی۔ لہٰذا اس وقت وہ بالکل بے کار بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا، “کیا آپ ‘پربھات’ میں مینیجر کا کام قبول کریں گے؟” انہوں نے بےکار کی بحث میں نہ پڑ کر فورا ‘ہاں’ کہہ دی۔ بابوراؤ پینڈھارکر ہمارے مینیجر بن کر روز سارا کاروبار دیکھنے لگے۔ خط و کتابت کی بھی فکر مجھے نہیں رہی۔

‘گوپال کرشن’ کولھاپور میں ریلیز ہونے جا رہی تھی۔ ہم چاروں کی خواہش تھی کہ بابوراؤ پینٹر اسے دیکھ کر ہمیں دلی آشیرواد دیں۔ ہم چاروں انھیں مدعو کرنے گئے۔ اس وقت صحت خراب ہونے کی وجہ سے بابوراؤ پینٹر اسپتال میں بھرتی کیے گئے تھے۔ ہم نے اپنی خواہش ظاہر کی۔ ہمیشہ کی طرح وہ خاموش رہے۔
فتے لال جی نے پھر صبر کے ساتھ پوچھا، “تو آپ صحت حاصل کر لینے کے بعد تو آئیں گے نا؟”

پھربھی کوئی جواب نہیں ملا۔ ہم لوگ بڑی امید سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے،اور ایک وہ تھے جو کہیں اور دھیان لگائے خاموش پڑے تھے۔ کچھ لمحوں بعد انتہائی ناراض ہو کر، ‘اچھا’، کہہ کر ہم لوگ چلے آئے۔

اس کے دوچار دن بعد بابا گزبر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا، “بابوراؤ کا رویہ بھی کتنا عجیب ہے! آپ لوگ انھیں مدعو کرنے گئے تھے، اس کے کچھ ہی وقت بعد میں ان کے پاس گیا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے، پربھات فلم کمپنی کےمالک آئے تھے، میں زندہ ہوں یا مر گیا، دیکھنے کے لیے۔” اور اس کے بعد انہوں نے جو کہا اسے سن کر میں ایک دم ٹھنڈا پڑ گیا۔ انھوں نے کہا تھا، “یہ لوگ مجھ سے جو کچھ سیکھ کر گئے تھے، سارا ایک ہی فلم میں ختم کر بیٹھے ہیں! اب دیکھتے ہیں، آگے کیا کر پاتے ہیں!”

اب آئندہ فلم کیا ہو؟ اس کے لیے کہانی کیا چنی جائے؟ ‘گوپال کرشن’ کو ریلیز کرنے بمبئی گیا تھا، تب وہاں میں نے ایک ماردھاڑ والی فلم جان بوجھ کر دیکھی تھی، جو بمبئی کے ایک اولین پروڈیوسر نے بنائی تھی۔ ماردھاڑ سے بھرپور اسٹنٹ فلم میں ہیرو کا کام،مہاراشٹر فلم کمپنی میں میرے تحت ایڈیٹنگ کاکام کرنے والا وِٹھل ہی اب ماسٹر وٹھل کے نام سے کرتا تھا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی میں تلواربازی، ڈنڈے بازی کی جو تربیت اسے ملی تھی،اس کا پورا استعمال کرتے ہوئے ماسٹر وٹھل اس زمانے کے ناٹکوں کے لیے ضروری ہو چکا تھا۔ اسٹنٹ فلموں میں مصنوعی اور مشکل منظروں کی بھرمار ہوا کرتی تھی اور ناظرین کو سستی تفریح مہیا کرنا ان کا مقصد ہوا کرتا تھا۔ زوردار تلوار چلا کر ایسی فلموں کا ہیرو دشمن کے بیس پچیس سپاہیوں کو ڈھیر کر دیتا تھا۔ زمین سے بارہ پندرہ فٹ اونچی دیوار پر نیچے سے چھلانگ لگا کر وہ آرام سے بھاگ نکلتا تھا۔ اُن دنوں ایسی فلم کے لیے لوگوں کی دلچسپی بہت بڑھ گئی تھی۔

اتنے سستے جوش کی اس فلم کو دیکھنے پر مجھے تو گھن سی آنے لگی۔ میں ‘ساوکاری پاش’ جیسی آدرشی فلم بنانے والی مہاراشٹر فلم کمپنی کے سنسکاروں (اقدار) میں پلا بڑھاتھا۔ مجھ جیسے شخص کو ناچار ایسا لگنے لگا کہ بھونڈی شہرت کے پیچھے پڑ کر صرف پیسہ کمانے کے خیال سے بنائی جانے والی فلموں کا منہ توڑ جواب ایک بہترین فلم تیار کر کے دیا جائے۔

‘گوپال کرشن’ بناتے وقت فلم میکنگ میں رائج دھارا(روایت) سے بڑی صفائی سے، تیزی سے ہٹ کر میں نے اوروں کی توقع سے آگے جانے کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش میں کہیں دوچار ہاتھ کچھ مختلف سمتوں میں آڑے ٹیڑھےچلا دیے تھے۔ ‘گوپال کرشن’ میں،میں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا۔ لیکن اب سستی مقبولیت کی کشش مٹا کر اپنی پوری طاقت کے ساتھ دھارا کی مخالف سمت میں تیرتے ہوئے ایک اچھی سی سٹنٹ فلم بنانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ دل و دماغ کو نہ بھانے والے جھوٹ موٹ کے منظروں کو بڑھاوا نہ دیتے ہوئے، ناظرین کے جوش کو ہر پل بڑھاتے ہی جانے والی فلم کا میں تصور کرنے لگا۔ اس کا ایک منصوبہ تیار کیا۔ کہانی کی رچنا اس طرح کی کہ اس اسٹنٹ فلم کے ناظرین تھریلڈ ہوکر حیران رہ جائیں۔ لیکن سٹنٹ فلموں کو ہی پسند کرنے والے ناظرین کو مسحور کرنے کے لیے میں نے اس فلم کا نام رکھا ‘خونی خنجر’، اس بھڑکیلے نام رکھنے پر مجھے تب بھی بڑی ہنسی آتی تھی۔

اس فلم میں میں نے ڈائریکشن کے کچھ خاص ‘ٹچِز’ دکھائے تھے۔ ایسے منظروں میں ایک تھا :کھل نائک (ولن) ہیروئین کو پکڑ کر اپنے محل میں لے آتا ہے۔ وہ اس سے زیادتی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ زیادتی کا یہ منظر میں نے پٹے پٹائےاسٹائل سے ولن اور ہیروئن میں ہاتھاپائی دکھا کر نہیں لیا۔ میں نے دکھایا، کھل نائک(ولن) نائکا (ہیروئین )کی طرف جانے لگتا ہے۔ نائکا ڈر کے مارے دیوار کی اور منھ پھیر کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ ولن میان سے تلوار کھینچ لیتا ہے اور اس کی نوک سے نائکا کی چولی کے پیچھے کے بند کاٹ دیتا ہے۔ نائکا اپنے سینے کو ہاتھوں سے ڈھک کر پیٹھ دیوار سے ٹکا کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے۔ ولن پھر اس کے پاس آتا ہے اور تلوار سے اس کی ٹانگ پر سے ساڑھی پھاڑ دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساڑھی کے پھٹے دونوں حصے الگ ہو کر گر جاتے ہیں اور دکھائی دیتی ہے اس کی گوری گوری ٹانگ اور پیر، جیسے کیلے کے پیڑ کا ملائم نزاکت بھرا تنا ہو۔

اس ڈھنگ سے فلمایا گیا یہ منظر سنسر کو اتنا شہوت انگیز معلوم ہوا کہ انھوں نےہمیں اسے پورا کا پورا نکال دینے کا حکم دیا۔ ہم نے انھیں کافی سمجھا کر بتایا تب جا کر کہیں اس منظر کو فلم میں رکھنے کی اجازت انھوں نے دی۔ لیکن اس کی لمبائی کافی کم کر دی۔

اسی فلم میں ایک شاٹ بہت ہی لمبا لیا گیا تھا۔ فلمی دنیا کی آج کی اصطلاح میں اسے ’لِنگرِنگ شاٹ’ کہا جاتا ہے۔فلم کا ہیرو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے۔ کمرے میں وہ اکیلا ہی دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کی لمبائی چوڑائی ناپتا پھرتا ہے۔ یہ شاٹ کافی لمبا چلانے میں میرا ارادہ تھا ہیرو کا اکیلاپن اور نہ کٹنے والا، بور کر دینے والا وقت، ایک ساتھ ناظرین کو متاثر کرے۔ اس کا اثر بھی ناظرین پر اچھا دیکھا گیا۔ ‘خونی خنجر’ میں زیادتی کا وہ سین اور کمرے کا وہ لنگرنگ شاٹ آگے چل کر میرے سٹائل کے خاص ‘ٹچز’ مانے گئے۔

‘خونی خنجر’ کی ہدایتکاری کرتے وقت میں نے اس بات کی احتیاط برتی تھی کہ میں پھر وہ ہی غلطیاں نہ کر بیٹھوں، جو ‘گوپال کرشن’ میں رہ گئی تھیں۔ لیکن اس بار میں نئی غلطیاں کر بیٹھا۔ اس بار بھی مجھے ضرور لگا کہ میں تھوڑا زیادہ چوکنا رہتا یا زیادہ سوچ کر کام کرتا، تو ان غلطیوں کو روکا جا سکتا تھا۔ یہی حال ہے، تو پھر میرے سے ایسا کیوں ہو جاتا ہے؟ میرے وچاروں میں، کام میں کہیں نہ کہیں کچھ کمی کیوں رہ جاتی ہے؟ یہ سوچتے سوچتے پھر آنسو بہانے کا وہی موقع آ پڑا! لیکن اس بار مجھے روتا دیکھ کر وِمل ہنسنے لگی۔ مجھے اس پر بڑا غصہ آیا۔ اس نے کہا، “آپ کی پہلی فلم کی غلطیاں کسی کے بھی دھیان میں نہیں آئی تھیں، تو اس فلم کی غلطیوں کو بھی کوئی پکڑ نہیں پائے گا!”

“کوئی نہ پکڑ پائے تو اپنی بلا سے، مجھے جو وہ دکھائی دے رہی ہیں؟” اس پر وِمل نے کچھ نہیں کہا۔ ایک بڑا سا رومال صرف میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے پوچھا، “یہ کس لیے؟”شرارتی ہنسی ہنستی ہوئی بولی، “آنکھیں پونچھنے کے لیے!” میں نے اس کے گال پر ایک کس کے چانٹا لگا دیا۔ روتے روتے وہ مجھ سے دور ہو گئی۔ یہ بھی خوب رہی، میں بعد میں سوچنے لگا۔ غلطیاں کروں میں، اور چانٹا کھائے وِمل؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ لیکن یہ خیال میرے من میں اس رات نہیں، دوسرے دن آیا!

سویرے میں جب سٹوڈیو گیا، تب کولھاپور دربار کا ایک سپاہی ایک لفافہ لے کر آیا۔ اس کے اندر جو لکھا تھا، اسے پڑھ کر میں سر پکڑ کر رہ گیا۔ میرے باقی ساتھی پوچھنے لگے، ‘بات کیا ہے؟’ میں نے انھیں بتایا، ہمیں ‘گوپال کرشن’فلم کے لیے جن گایوں کی تلاش تھی، وہ گائیں ہمیں دینے کے لیے مہاراجہ صاحب نےحکم دے دیا ہے!” یہ جان کر ہنستے ہنستے سبھی لوٹ پوٹ ہو گئے۔ تب تک تو ہماری ‘گوپال کرشن’ ریلیز ہو چکی تھی اور اب دوسری فلم ‘خونی خنجر’ بھی جلد ہی بمبئی میں ریلیز ہونے جا رہی تھی!

بمبئی میں ‘خونی خنجر’ ریلیز ہو گئی۔ وہ چلی بھی خوب۔ اس فلم کو طوفانی کامیابی ملی۔ نتیجتاً دوسرے پروڈیوسروں کی بنائی اسٹنٹ فلموں میں بھی مصنوعی پن کم ہونے لگا۔ خالص تفریح کے لیے بھی ‘خونی خنجر’ آئندہ کئی فلموں کی ایک طرح سے innovation بن گئی۔

خونی خنجر’ کو ملی کامیابی کی وجہ سے ہم لوگوں کا حوصلہ اور بھی بڑھ گیا۔ اب کچھ نئی اور ایکشن فلمیں بنانے کا وچار میرے من میں آیا۔ ‘گوپال کرشن’ کے اس ‘تلی لیلی’ والے منظر کی وجہ مقبولیت بنے اننتیا کو اہم کردار دےکر ایک فلم بنانے کا میں نے طے کیا۔ اننتیا اس وقت پانچ سال کا تھا،اس کا فلمی نام ہم نے رکھا ‘بجربٹو’۔

اس فلم کو میں پریکٹیکل فلم اس لیے مانتا ہوں کہ ایک ننھے سے بچے کو خاص کردار دے کر بنائی گئی وہ پہلی ہی فلم تھی۔ میرے دوسرے خالہ زاد بھائی بھالاجی پینڈھارکر کہانی لیکھک اور ناٹک کار تھے۔ انہیں میں نے اپنا یہ وچار بتایا، جو انھیں بھی بہت پسند آیا۔ انھوں نے جلد ہی میرے خیال کے مطابق ایک بڑھیا کہانی لکھ دی۔ اس فلم کا نام تھا ‘رانی صاحبہ’۔

اس فلم کو بھی لوگوں نے خوب پسند کیا۔ ‘پربھات’ فلم کمپنی کا نام اب لگ بھگ ہر زبان پر آنے لگا تھا۔

سال ڈیڑھ سال کا ہی وقت گزرا تھا، پربھات کی مالی حالت روز بہ روز بہتر ہوتی جا رہی تھی۔ اب ہم میں سے ہر ایک کے لیے گھریلو خرچ کے لیے ہر ماہ ڈیڑھ سو روپے لینا ممکن ہو گیا تھا۔ کمپنی کے سبھی نوکروں کی تنخواہ بھی ہم لوگوں نےبڑھا دی۔

آئندہ فلم کو اور بھی بہتر ین کیسے بنایا جائے، اسی کی فکر ہم لوگ کرنے لگے۔ وہ زمانہ تھا مہاتما گاندھی کی آزادی تحریک کا۔ اس تحریک کی ہوا پورے ملک میں زوروں سے بہنے لگی تھی۔ کیا مرد، کیا عورتیں، ہاتھوں میں کانگریس کا جھنڈا لیے سرِعام سڑکوں پر آتے اور پولیس کا کھل کر سامنا کرتے تھے۔ ان پر لاٹھی چارج ہوتا، کئی بار تو گولی بھی چلائی جاتی تھی۔ کئی لوگ گھائل ہوتے تھے۔ ریاست ہونے کی وجہ سےکولھاپور میں اس تحریک کی آنچ اتنی نہیں پہنچتی تھی۔ لیکن تحریک کا سارا حال اخبارات سے ہمیں بھی معلوم ہوجاتا تھا۔ تحریک کی خبریں پڑھ سن کر مجھے تو بہت ہی جوش آتا تھا۔ من میں آیا کہ کیوں نہ اسی ریاستی تحریک کی عکاسی کرنے والا موضوع ہی ہماری آئندہ فلم کے لیے چنا جائے؟ میں نے طے کر لیا کہ کسی تاریخی موضوع کی اوٹ سے اسی نشانے کو سادھا جائے۔
ہم مہاراشٹر کے لوگوں کے لیے شواجی مہاراج ایشٹ دیوتا کی مانند پوجنے کےقابل ہیں۔ اب تک جتنی بھی تاریخی فلمیں بنائی گئی تھیں، ان میں شواجی مہاراج کو لڑائی کے احکامات دینےوالے رہنما کے روپ میں ہی فلمایا گیا تھا۔ بہروپیا پردے پر پیش کی گئی شواجی کی یہ مورتی مجھے قطعی قبول نہیں تھی، اس لیے میں نے ایک ایسی کہانی کا انتخاب کیا، جس میں ویر شواجی کوجان کی بازی لگا کر اپنےآپ کو لڑائی کے میدانوں میں جھونک دینےوالا، دشمن پر وِجے پانےوالا، ہوا سے باتیں کرنے والے گھوڑے کو ایڑ لگانے والا غصیلا جوان لیڈر دکھایا جا سکتا تھا۔ شواجی نے کچی عمر میں اپنے ساتھیوں کی مدد سے تورنا قلعہ جیت لیا اور وہاں آزادی کی بنیاد رکھی۔ اس انتہائی جوش دِلانے والے موضوع پر پہلی تاریخی فلم بنانے کا ہم لوگوں نے فیصلہ کیا۔ سب کی درخواست تھی کہ اس فلم میں شواجی کا کردار میں ہی کروں۔

مہاراشٹر فلم کمپنی میں تلواربازی، گھڑدوڑ وغیرہ کی مجھے اچھی خاصی مشق ہو گئی تھی۔ شواجی مہاراج کی تاریخی کالی گھوڑی کی طرح ہی دِکھنے والی ایک جوان اور تیز کالی گھوڑی جت ریاست کے راجا صاحب سے ہم نے حاصل کر لی۔شواجی مہاراج کا وادھیا نامی ایک لاڈلا کتا تھا، ایسا ہم لوگوں نے تاریخ میں پڑھا تھا۔ میں نے اس ایماندار کتے کا بھی اپنی فلم میں استعمال کرنے کا طے کیا۔ ٹھیک ویسا ہی ایک کتا جت ریاست کے ہی ایک گڈریے کے پاس ہمیں مل گیا۔ سارا انتظام ٹھیک کر کے ہم نے شوٹنگ شروع کی۔

ظاہر ہے کہ مجھے شواجی کا کردار اور ڈائریکشن دونوں کام کرنے پڑتے تھے۔ کئی بار باہر شوٹنگ کے وقت میں گھوڑی پر سوار ہو کر شواجی کا کردار نبھاتے نبھاتے کیمرے کے پاس پہنچ جاتا اور سین کیسے لینا ہے، اس کے بارے میں ضروری ہدایت دیتا۔ دوسرے کرداروں کو بھی اداکاری کے بارے میں ہدایات دیتا۔ اس کے بعد وہ سین میری ہدایت کے مطابق برابر لیا جاتا ہے، اسے دھائبر دیکھتے تھے اور فتح لالجی کیمرا چلاتے تھے۔ فلماتے وقت ہم لوگ ایک ساتھ دو کیمرے الگ الگ سمتوں میں رکھتے تھے۔ اپنی جان کی ذرہ بھر پروا نہ کر میں اس کالی گھوڑی کو اتنی زور سے ایڑ لگا کر دوڑاتا کہ اس پر نظر بھی نہیں ٹھہر پاتی تھی۔ آئیمو کیمرے پر گھوڑے کے ساتھ ہی فولو کیے شاٹس تو بےپناہ، بہت ہی پُراثر آئے تھے۔

فلم میں کام کرنے کے لیے ہم لوگوں نے گڈریے کےجس کتے کو چنا تھا، وہ توایک دم انجان ہوتے ہوئے بھی اتنا چالاک اور سمجھدار تھا کہ اس کا ہر ایک شاٹ اس نے بتائے گئے ڈھنگ سے ایک دم سمجھدار آدمی کی طرح کیا۔ اسے واقعی شیواجی مہاراج کا ہی کتا مان کر ہم سب لوگ وادھیاہی کہنے لگے تھے۔

اس فلم کا نام ہم نے ‘سوراجیاچے تورن’ (آزادی کا وندنوار) رکھا۔ فلم کے پہلی ٹرائل ریلیز کے بعد میں ہمیشہ کی طرح اندر ہی اندر ٹوٹ گیاتھا۔ اس بارہمیشہ کی مانندکچھ زیادہ کیونکہ ہیرو بھی میں اور ڈائریکٹربھی میں ہی تھا۔ ‘گوپال کرشن’ کی ریلیز کے بعد اگلی فلم کی ریلیزکےوقت میں بمبئی نہیں جاتا تھا۔ مکتب کے طالب علم جس طرح اپنے امتحان کے نتیجہ کا انتظارکرتارہتا ہے، اسی طرح میں کولھاپور میں ہی لوگوں کا ردعمل جان لینے کے انتظار میں بیٹھا رہتا۔ اس بار بھی میں فلم کے ساتھ بمبئی نہیں گیا تھا۔ سنسر کے ایک ممبرنےفلم دیکھی اور کہا کہ جب تک سنسر بورڈ کے سبھی افراد اسے دیکھ نہیں لیتے، اسے عام نمائش کے لیے ریلیزنہیں کیا جا سکتا۔ انگریز سرکار ‘سوراج’ لفظ کے لیے بہت ہی خائف ہو گئی تھی۔ اسی لیے باوجود اس کے کہ سنسرکاممبر مہاراشٹری تھا،فلم کوقبولیت عطا کرنے کی ذمہ داری وہ اپنےپر نہیں لینا چاہتا تھا۔

کولھاپور میں یہ خبرملتے ہی میں فورا بمبئی گیا۔ اسی دن صبح سنسربورڈ کے سبھی ممبر میجسٹک سنیما میں فلم دیکھنے کے لیے آئے، سنسر بورڈ کے چیئرمین انگریز تھے اور ممبئی کے پولیس کمشنر بھی۔ باقی سبھی ممبر بھارتی تھے۔ آڈیٹوریم میں جانے سے پہلے کمشنر نے تھئیٹر کے باہر لگے ‘سوراجیا چے تورن’ کے پوسٹر اور فوٹو دیکھے تھے۔ ایک تصویر میں شواجی جھنڈا پھاڑتے دکھائے گئے تھے۔ اسے دیکھتے ہی انگریز کمشنر ایک دم آگ بگولا ہو گئے۔ وہ لگ بھگ چلّائے، ’’نو، نو! دس کانٹ بی پاسڈ’! اور اسی جھلاہٹ میں وہ تھئیٹر میں آ کر فلم دیکھنے کے لیے بیٹھ گئے۔

میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ فلم دیکھ کر سبھی لوگ باہر آئے اور چلےبھی گئے۔ میں ان کی آمد اور باہر چلے جانے کی طرف کسی کٹھ پتلی کی طرح گردن اِدھر سے اُدھر ہلا کر دیکھتا رہا۔ سب کے بعد سنسر ممبر میرے پاس آئے اور سر جھکا کر بولے، “دی پکچر از بینڈ!” میں دھم سے وہیں ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔ ہاتھ پاؤں میں کوئی جان نہیں رہی۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤپینڈھارکرممبر سے باتیں کرتے کرتے دروازے تک انھیں چھوڑنے گئے۔

تھوڑی دیر بعد لوٹ کر بابوراؤ پینڈھارکرکہنے لگے، ان لوگوں کا اصرار ہے کہ سب سےپہلے ہمیں اپنے فلم کا ‘سوراجیاچے تورن’ نام بدلنا ہوگا۔ کچھ سین اور ٹائٹلز کے کچھ جملوں کو بھی بدلنا پڑے گا۔ جھنڈا پھاڑنے کا آخری سین تو پورا ہی نکال دینا ضروری ہے!

میں بینچ پر بیٹھا تھا، اچھل کر کھڑا ہو گیا اور غصے میں کہنے لگا، “میں کوئی بھی سین کاٹنے کو تیار نہیں ہوں! فلم جیسی بنی ہے، ویسا ہی دکھانے کی اجازت ملنی چاہیے!” میرا غصہ دیکھ کر بابوراؤ اس وقت کچھ بولے نہیں۔

شام کو میرا غصہ کافی اتر گیا تھا، بابوراؤ پینڈھارکر پھر میرے پاس آ کر بیٹھے۔ مجھے سمجھانے لگے، “سنسرکی خواہش کےمطابق ہم فلم میں تبدیلی نہیں کرتے ہیں توفلم کی عام نمائش ناممکن ہونے والی ہے۔ ”

“اس طرح اسے بےسرپیر کاٹنے میں کیا دھرا ہے؟ اگر جیسا ہے، ویسا ہی اسے ریلیز نہیں کرنے دیا جاتا، تو میرا سجھاؤ ہے کہ فلم کو ڈبے میں بند رہنے دیں۔ ہمارا دیس جب آزاد ہو گا، تبھی ہم اس کو ریلیز کریں گے!” میں بھی ہٹیلے بچے کی سی ضد پر اتر آیا۔

بابوراؤ پے نے پھر کہا، “پتا نہیں سوراج(آزادی) ملنے کے لیے ابھی کتنے سال رکنا پڑے گا! تب تک اس فلم کو ڈبے میں بند رکھ کر ہمارا کام کیسے چلے گا؟ اچھا، ایسا کرتے ہیں، آزادی ملنے کے بعد آپ اسی موضوع کو لے کر اپنی مرضی کے مطابق نئی فلم بنائیے۔ آج فلم کا نام بدلنے سے اس کی کہانی تھوڑاہی بدل جائےگی! شواجی تو شواجی ہی رہےگا نا؟ جھنڈا پھاڑنے کا وہ آخری سین نکال بھی دیا، تب بھی تورنا قلعہ جیت کر شواجی نے سوراج کی بنیاد رکھی، یہ بات لوگوں کی سمجھ میں آ ہی جائے گی۔”

میں سوچنے لگا، میں چاہتا تھا کہ سوراج کے حصول کے لیے شواجی مہاراج نے جو کوشش کی، اس کا اثر اس زمانے کے عوامی ذہن پر پڑے اور اس کے کامیاب روپ سے عوامی بیداری ہو۔ میری یہ خواہش اس فلم کو ریلیز کرنے سے ہی پوری ہو سکتی تھی۔

میں نے چپ چاپ ‘سوراجیاچے تورن’ کی فلم لے کر واپس کولھاپور جانا ہی مناسب سمجھا۔

سنسر کی ساری کہانی اپنے سبھی ساتھیوں کو میں نے بتلا دی اور ہاتھ میں قینچی لئے سنسر کی خواہش کے مطابق فلم میں کاٹ چھانٹ شروع بھی کر دی۔ آخر وہ جھنڈا پھاڑنے کا سین آیا۔ اسے کاٹنے کی میری ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ لگتا تھا،جیسے اپنے بچے پر قینچی چلا رہا ہوں! میں قینچی پھینک کر کھڑا ہو گیا۔ آنکھیں بھرآئیں۔ سبھی ساتھی کسی بچےکوسمجھانے احساس سے مجھے سمجھانے لگے۔ آخراس سین کو کاٹنے کا کام میں نے دھائبر کو سونپ دیا۔ دھائبر نے اس سین کو کاٹ کر فلم سے الگ کردیا۔

سب کی رائے سے فلم کا نیا نام ‘ادےکال’طے کیا گیا۔ اس کے مطابق ٹائٹلز لکھ کر فلم میں جوڑ دیئے گئے۔ ‘ادےکال’ کی کاپی لےکر کوئی بمبئی گیا۔

فلم میں کی گئی بھاری چھنٹائی کے کارن اس کے لیے میرا کوئی چاو نہیں رہا تھا، نہ ہی کوئی جوش۔ لوگوں کے ردعمل کے بارے میں کوئی خاص خواہش بھی میں نے نہیں رکھی تھی۔لیکن بمبئی سے حاصل ہونے والی خبریں بہت ہی حوصلہ افزاء تھیں۔ فلم کا نام بدل دئیے جانے اورکئی منظروں کو نکال دیئے جانےکے باوجود عوامی ذہن پر اس کا اچھا اثر پڑ رہا تھا۔ فلم میں متحرک،طاقتور، نوجوان شیواجی کی مورتی لوگوں کے ذہن پر صحیح روپ میں نقش ہو رہی تھی۔ نئے آئمو کیمرے سے لئے گئےتیز گھڑدوڑکےشاٹس پر تو لوگ بےحد خوش تھے، طوفانی رفتار سے گھوڑے دوڑتے چلے جانےکے سین آتے ہی لوگ تالیوں کے ساتھ جوش کا اظہارکرتے تھے۔ وادھیا کتے کا کام بھی لوگوں کو بہت پسند آیا تھا۔ ان اطلاعات کےکارن میرے من پر چھایا ڈپریشن دھیرے دھیرے چھٹ گیا۔ ہم سب لوگ بڑی خوشی سے کمپنی میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔۔۔

اندھیرا کب ہو گیا، پتہ بھی نہیں چلا کہ کمپنی کا ایک نوکر دوڑتاچلاتاآیا اور روتے روتے کہنے لگا، “وادھیا اک جھٹکا دے کے بڑی تیزی سے پتہ نہیں کتےبھاگ گوا۔ وا کے پیچھے پیچھے ہم بڑی دور تک بھاگت رہن، پر چکما دے کے وہ کتے گائب ہوئی گوا، واکو کوئی پتہ نہ ملو ہے۔”(واڈیا اک جھٹکا دے کر بڑی تیزی سے پتہ نہیں کہاں بھاگ گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے ہم بڑی دور تک بھاگتے رہے، پر چکمہ دے کر وہ کہاں غائب ہو گیا، مجھے کوئی پتہ نہ ملا)۔

ہم نے کولہاپر کی سبھی سمتوں میں وادھیا کو ڈھونڈ لانے کے لئے آدمی بھیجے۔ اخباروں میں اشتہار دے کر اس کی فوٹو شائع کرائی اور اسے ڈھونڈ کر لانے والے کو مناسب انعام دینے کا بھی اعلان کیا۔ یہ سوچ کر کہ کہیں وادھیا اپنے پرانےمالک کے پاس نہ چلا گیا ہو، ہم نے جت کو بھی ایک آدمی بھیج دیا۔ وادھیا خاص کر مجھ سے کافی ہل مل گیا تھا۔ اس کے اس طرح یکایک چلے جانے سے مجھے تو کھانا پینا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ ‘ادےکال’ میں نہیں نہیں، ‘سوراجیاچےتورن’ میں اس نے تو ایک سدّھے ہوئے اداکار کی طرح کام کیا تھا۔ ہمارے دیگر فنکاروں کی طرح عام لوگ بھی اسے چاہنے لگے تھے۔ میں تو یہ بھی سوچنے لگا تھا کہ وادھیا کو اہم کردار دےکر کوئی فلم بنائی جائے۔ لیکن سب تباہ ہو گیا! بھیجے گئے سبھی آدمی واپس آ گئے۔ کسی کو وادھیا نہیں ملا تھا۔

معجزوں پر میرا قطعی یقین نہیں، لیکن اس وقت پر بس ایسا بھی وچارمن میں آیا که ہو نہ ہو، شایدشواجی مہاراج کا وادھیا ہی اس فلم میں کام کرنے کے لئے آیا تھا اور کام ہوتے ہی وہ واپس چلا گیا!

لیکن شاید ہماری دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ترقی کو نظر لگانے کے لئےہی، یا کہیں اس کامیابی نشے میں چور ہوکر ہمارا دماغ خراب نہ ہو جائے،اس لئے ہی، ہماری فلم ‘جلم’ (ظلم) ایک دم فیل ہو گئی۔ اس کی ڈائریکشن دھایبر نے کی تھی۔ پھر بھی میں نے اور ہمارے سبھی ساتھیوں نے اس کے لئےپوری لگن سے کام کیا تھا۔ میں ڈائرکٹرنہیں تھا، اس کا مطلب یہ نہیں تھاکہ اس فلم سے میرا کوئی سروکار نہیں تھا۔ میں دھایبر کی ڈائریکشن میں مدد کرتاتھا۔ ظلم کی ناکامی کے لئے ہم سبھی ذمہ دار تھے۔

“جلم” کی ناکامی سے ہمیں دکھ دکھ ہوا، لیکن ہم امید نہیں ہارے۔

ہماری پہلی تینوں فلمیں چھوٹے بڑے شہروں میں دھوم مچا رہی تھیں اور اس لئے ہمارےسامنے کوئی معاشی کٹھنائی نہیں تھی۔ میری ڈائریکٹ کی گئی فلم کی کامیابی کے باعث میرے سبھی ساتھیوں نے میرے اسٹائل اور موضوع کے انتخاب کی سمجھ بوجھ کی بہت تعریف کی، سراہا بھی اور ان معاملوں میں وہ مجھ پر پورا بھروسہ کرنے لگے۔

شواجی مہاراج تورنا کے بعد ایک کے بعد ایک گڑھ جیتتے چلے گئے تھے ہماری’پربھات’ کمپنی بھی ایک کے بعد ایک، ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب فلموں کو بنا کرکر لوگوں کے دلوں کو جیتتی گئی۔ اسی بیچ ہمیں کولہاپر میں خبریں ملی کہ اب سنیما ‘بولنے’ بھی لگا ہے، ‘گانے’ بھی لگا ہے۔ بمبئی میں کسی امریکی کمپنی کی
‘جیز سنگر’ نامی ایک بولتی فلم لگی ہے۔ مغربی تہذیب کی گرفت میں آئے اپر کلاس کے لوگ اس پر مرے جا رہے ہیں۔لہذا میں، داملے، فتے لال اور دھائبر بولتی فلم دیکھنے بمبئی گئے۔

وہ فلم ایک امریکی ناٹک پر مبنی تھی۔ اس لئے ایسا لگتا تھا جیسےہم کوئی ناٹک ہی دیکھ رہے ہیں۔ ایک امریکی اداکار نے کالے نیگرو کا میک اپ کرکے ہیرو کا کام کیا تھا۔ آخرمیں اس نے ایک گانا بھی گایا تھا۔ آج تک فلموں میں حرکات، اداکاری اور پریکٹس پر کافی زور دیا جاتا تھا۔ ان کے ماحول میں صرف بک بک ہی کئے جانے والی اس بولتی فلم کا میرے من پر تو کوئی اثر نہیں پڑا۔

لگ بھگ اسی وقت ایک اخبار نے میرا انٹرویو شائع کیا۔ اس میں انٹرویو کرنے والے نےبولتی فلموں کے بارے میں مجھ سے اپنے تاثرات ظاہر کرنے کے لئے کہا تھا۔ اس نے درست تاثرات مانگے تھے۔ میں نے بھی بالکل صاف لفظوں میں بتا دیا، “چونکہ بولتی فلم ایک نیا تجربہ ہے، ناظر آج اس پر مرا تو جا رہا ہے، لیکن ان کا نیاپن ختم ہوتے ہی وہ لوگوں کو خاص مسحور نہیں کر پائےگا۔ فلمی دنیا میں خاموش فلموں کوآج جو فنکارانہ مقام حاصل ہے، وہ میری رائے میں پکا ہے اور آگے بھی اسی طرح رہےگا، اس میں مجھے ذرا بھی شبہ نہیں ہے۔”اور اسی طرح بغیر کسی شبہ سے ہم نے اپنی ‘پربھات’ کمپنی کی ایک نئی فلم کا منصوبہ بھی بنا لیا۔ لیکن چونکہ مقابلہ بولتی فلموں سے تھا، ہم نے اپنی خاموش فلم کو ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لئے ایک حیرت انگیز اور نفیس دیومالائی کہانی کاانتحاب کیا۔ رام چندر جی پاتال میں اہراون مہراون نامی دو راکھشس بھایئوں کی ریاست میں جاتے ہیں۔ وہاں کی راج کماری ان پر فدا ہو جاتی ہے۔ یک زوجیت کا احترام کرنے والے رام جی پرایک آفت ہی آ جاتی ہے۔ ہنومان جی کے حکم سے راج کنیا چندرسینا کا پلنگ کپڑے کے ذریعے ایک دم کھوکھلا بنا کر رکھا جاتا ہے اور رام چندر کی اس مصیبت سے نجات ہو جاتی ہے۔ آخر میں رام جی ان دونوں راکشسوں سے جنگ کرتے ہیں۔ جنگ میں زخمی ہوئے اہراون اور مہراون کے تن سے رسنے والے خون کی ہر بوند سے ہزاروں اہراون مہراون پیدا ہوتے ہیں۔ آخر میں رام چندر جی ان سب کو ختم کر دیتے ہیں،اس فلم کی شوٹنگ کے لئے ہم لوگوں نے میسور ریاست کی ہاسپیٹ نامی جگہ پر جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں شاہی وجےنگر کے کچھ تاریخی کھنڈرات ہیں۔ ہماری دیو مالا فلم کے ماحول کے لئے وہ بہت مفید معلوم ہوئے۔ ہم سب کو وہاں لے جانے کے لئے دو خاص بسوں کا انتظام کرنا پڑا۔ بسوں میں داملے، میں، فتے لال،دھائبر، بابوراوپینڈھارکر،کاسٹیوم ڈیزائنر شری پتی راو کاکڑے، میک اپ کرنےوالے لوگ، فن کار وغیرہ شوٹنگ کے لئے ضروری سبھی سامان کے ساتھ سوار تھے۔ بسیں جنوبی سمت چل رہی تھیں۔ میری بیوی وِمل مولت کرناٹک کی تھی۔ بیاہ کے بعد آج تک میں اسے کولہاپورکے باہر کبھی نہیں لے جا سکا تھا۔لہذا سوچا، اس بار اسے بھی ساتھ لے جاؤں۔ لیکن میں صرف میں اپنی ہی بیوی کو ساتھ لیتا چلوں، یہ بات ٹھیک نہیں لگی۔ اس لئے میں نے سجھاؤ دیا کہ داملے، فتےلال، دھائبر بھی اپنی اپنی بیویوں کو ساتھ لیتے چلو۔سب کو میری بات جچ گئی لیکن فتےلال جی مسلمان تھے اور ان کی پتنی ہمیشہ پردے میں رہتی تھی اور داملےجی کی بیوی کسی گھریلو کام کی وجہ سے آ نہیں پائی۔ اس طرح ہمارےسفرمیں میری پتنی ومل اور دھائبر کی پتنی ہی ہمارے ساتھ ہو لی تھیں۔

سفرشروع ہوا۔ علاقہ نیا تھا۔ لہٰذا ہماری بسیں صحیح راستے پر صحیح سمت میں چلیں، اس لیے میں نے اپنے ساتھ راستے کی رہنمائی کرنے والا ایک نقشہ بھی رکھ لیا تھا۔ سکول میں جغرافیہ میرا پسندیدہ مضمون رہا تھا، اس لیے نقشہ دیکھ کر راستہ بتانے کا کام میں نے بڑی شان سے لے لیا تھا۔ کئی بار دوراہے یا تراہے آتے تو ہماری بسیں رک جاتی تھیں۔ پھر میں نیچے اترتا۔ نقشہ کھول کر بتاتا، کس سمت میں جانا مناسب ہو گا۔ ایک تراہے پر میں بھی الجھ گیا۔ تینوں میں سے کون سا راستہ صحیح ہو گا، میری بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں نے داملے جی کو بھی اترنے کے لیے کہا اور پھر ہم دونوں نے مل کر طے کیا کہ ہماری بسیں کس راستے جائیں۔

بسیں پوری رفتار سے بھاگتی رہیں۔ ایک گھنٹہ ہو گیا، دوسرا بھی بیت گیا۔ لیکن نقشے میں ہم نے اگلے پڑاؤ کا جو گاؤں دیکھا تھا، وہ آنے سے رہا۔ پھر فتے لال جی نے بسوں کو روکنے کا حکم دیا۔ “مجھے لگتا ہے، شاید ہم لوگ غلط راستے پر آ گئےہیں۔ شانتارام باپو،نقشہ دیکھتے وقت آپ نے اسے کہیں الٹا تو نہیں پکڑا تھا؟ اسی طرح چلتے رہے تو ہمپی کے بجائے ہم لوگ کولہاپور واپس پہنچ جائیں گے!” بس میں سبھی لوگ اس بات پر زور سے قہقہے لگانے لگے۔ میں جھینپ گیا اور پھر نقشہ کھول کر دیکھنے لگا۔ تبھی کوئی راہگیر ادھر سے گزر رہا تھا۔ فتے لال جی نے اس سے پوچھا، “بابا، ہم لوگ کدھر جا رہے ہیں؟” اب وہ بچارا کیسے بتاتا، ہم کدھرجا رہے تھے! وہ تو منھ کھولے ہم لوگوں کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ فتے لال جی نے اس سے پھر وہی سوال کیا۔ تب وہ آدمی بولا، “اجی میں کیا جانوں تم لوگ کس طرف جا رہے ہو؟” اتنا کہہ کر ہنستے ہنستے وہ چلا گیا۔ حقیقت میں یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟ ایسا اس سے پوچھنا چاہیے تھا، یہ بات بعد میں ہمارے دھیان میں آئی۔
تبھی مجھے بھی اپنی غلطی معلوم پڑ گئی۔ ہم راستہ بھول گئے تھے۔ بسوں کو پھر واپس موڑ لیا اور پھر اسی تراہے پر آنے کے بعد صحیح راستہ لے کر ہمارا آگے کا سفر جاری رہا۔ بیچ میں پنگھٹ پر رک کر سب لوگ سکون کے ساتھ جوار کی روٹی اور پیاز کا بیسن کھاتے تھے۔ اس طرح اتنی لمبی یاترا ہم لوگوں نے ہنستے کھیلتے پوری کر لی۔ آخر ہم لوگ ہاسپیٹ پہنچ گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر نے یہاں ہم سب کے رہنے کا انتظام کر رکھا تھا۔ بھوجن کا بھی انتظام تھا۔ ہاسپیٹ سے ہمپی گاؤں بالکل پاس تھا۔ دوسرے دن سویرے ہی ہم ہمپی پہنچ گئے۔

راستے کے دونوں طرف کھلے میدان میں طرح طرح کے پتھر بےشمار بکھرے پڑے تھے۔ کچھ بڑی بڑی چٹانیں چھوٹے پتھروں کے سہارے ساکت کھڑی تھیں۔ دیکھنے سے تو ایسا لگتا تھا کہ ذرا سا دھکا لگا اور یہ وشال(عظیم) چٹانیں نیچے لڑھکیں گی لیکن اسی حالت میں وہ چٹانیں سینکڑوں سالوں سے آندھیوں طوفانوں کے تھپیڑے کھا کر دھوپ اور بارش میں اپنا توازن سبھالے کھڑی تھیں۔ جیسے خود کھڑی ہوں۔ میں نے جھاڑ جھنکاڑ کے ایک سے زیادہ جنگل دیکھے ہیں، لیکن پتھر چٹانوں کا یہ سامراجیہ جیون میں پہلی بار دیکھ رہا تھا!

وہاں سے ہم لوگ وجےنگر کے تاریخی کھنڈر دیکھنے کے لیے گئے۔ دیکھ کرحیران رہ گئے ہم لوگ۔ کیا کیا نہیں تھا وہاں؟ پتھر پر نزاکت سے نقاشی کھدے مکان، دروازے، بازار، راستے وغیرہ، ماضی کی شان کے گواہ کھنڈر!اتنی شاندارکلاکاری کے وہ نمونے، ان کے کلاکاروں کوشاہی سرپرستی دے کر ان سے ایسی فنکارانہ تخلیق کروا لینے والے فیاض راجا کی فنکاری دیکھ کر ماضی کی یاد سے من میں جذبات کا جوار سا اٹھا۔ وجےنگر کے ان آثار قدیمہ اور کھنڈروں کو دیکھتے دیکھتے شام ہو گئی۔ فلم کے کس سین کی شوٹنگ کہاں کرنی چاہیے، اس کا فیصلہ کر ہم لوگ اپنے ٹھکانے پر لوٹ آئے۔

دوسرے دن شِوراتری تھی۔ کسی کی زرخیر عقل میں وچار آیاکہ شِوراتری کے دن بھنگ چھنے۔ مجھے تو ایسے پروگراموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، معلوم اتنا ہی تھا کہ بھنگ پینے سے بھی نشہ چڑھ جاتا ہے۔ داملے اور فتےلال کبھی کسی ناٹک کمپنی میں پردے پینٹ کرنے کا کام کرتے تھے، تب شِوراتری پر کہتے ہیں بھنگ پینےکا رواج تھا، اس کے مطابق ان دونوں نے تھوڑی تھوڑی چھانی تھی۔ بابوراؤ پینڈھارکر اور کیشوراؤ دھایبر ایسے کاموں میں ہمیشہ پہل کرتے تھے۔ جب سبھی نے شِوراتری پر بھنگ چھاننے کا طے کر ہی لیا، تو ان کے رنگ میں بھنگ ڈالنا مجھے نامناسب لگا۔

بھنگ چھن کر تیار ہو گئی۔ سبھی نے “بم بھولے” کہہ کر چڑھا لی۔ مجھے بھی اس میں شامل کرنے کے لیے سب نے مل کر ایک سازش کی۔ کسی کو ٹھنڈائی کا گلاس دے کرمیرے پاس بھیج دیا۔ لانے والے نے کہا، “اس میں اور کچھ بھی نہیں، صرف دودھ، بادام اور دوسری ایسی ہی چیزیں ملائی گئی ہیں۔” میں نے اس آدمی کو ڈپٹ کر پوچھا، “کیوں، اس میں کہیں بھنگ بھی تو گھول کر نہیں لائے؟” وہ خوفزدہ ہو گیا، ڈر کے مارے اس نے اصل بات مجھے بتا دی۔ اس کے بعد اس نے میرے لیے جسے بھنگ کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو، ایسی ٹھنڈائی کا گلاس لا کر دیا۔ میں سب کے سامنے اسے پی گیا۔ سب کا خیال تھا کہ میں نے بھی جے شنکر کر لیا ہے۔ اس دن ہماری پارٹی کے ہر ایک فرد نے مالک سے لے کر معمولی نوکر تک بھنگ کا آکنٹھ پان کیا، صرف عورتوں نے بھنگ کو چھوا تک نہیں۔

اس کے بعد ہم کچھ چنندہ لوگ شوٹنگ کے مقام پکے کرنے کے لیے بس میں بیٹھے۔ بس ابھی ہاسپیٹ کی حدود سے باہر نکل ہی رہی تھی که کچھ لوگوں کو زور کی الٹیاں ہونے لگیں۔ ڈرائیور بھی بیچ بیچ میں سر لٹکانےلگ گیا۔ میں نے چلا کر اسے گاڑی روکنے کا حکم دیا۔ اسے ہٹا کراس کی جگہ پر میں گاڑی چلانے بیٹھا۔ واپس ہمارے کیمپ آ گیا۔ سب کو جیسے تیسے بس سے اتارا۔ سب لوگ باہر کے صحن میں ہی سو گئے۔

نوکر چاکر سبھی نے کھل کر بھنگ پی تھی، لہٰذا پانی لانے کے لیے بھی کوئی پاس میں نہیں تھا۔ آخر میں نے ومل سے پانی منگوا لیا۔ سب کو پانی پلانے کے لیے ان کے پاس گیا اور دیکھا کہ سبھی لوگ ایک دم لاش سے پڑے تھے۔ سب کے چہروں پر چھائی مردنی دیکھ کر میں بہت ڈر گیا۔ ایک پڑوسی کو میں نے ڈاکٹر بلانے کے لیے روانہ کیا۔ مسز دھائیبر تو بہت ہی ڈر گئی تھیں۔ وِمل کے چہرے پر بھی ڈر صاف ابھر آیا تھا۔ اسے شک تھا کہ شاید میں نے بھی بھنگ چڑھا رکھی ہے اور کچھ ہی لمحوں میں میں بھی سب کی طرح نڈھال ہوکر گرنے والا ہوں۔ مجھے لگا کہ کولھاپور سٹوڈیو کو تار دے کر ان سب لوگوں کے خاندان کو پہلی گاڑی سے بلا لوں۔ تار کے فارم نکالنے کے لیے میں وِمل سے میرا بیگ لے آنے کو کہا۔ بیگ میرے ہاتھ میں دیتے وقت اس نے بھی کچھ ہچکچاتے پوچھا، “آپ کو تو کچھ ہو نہیں رہا؟”

“نہیں میں نے بھنگ پی ہی نہیں ہے۔” میں نےکہا۔ سن کر اسے بڑی راحت محسوس ہوئی ہو گی۔ پھر بھی اس نے کہا، “شریمتی دھایبر کہہ رہی تھیں، شانتارام باپو کا واقعی کمال ہے۔ ہمارے وہ (یعنی دھائبرجی) بھی آڑے پڑ گئے ہیں، لیکن لگتاہے شانتا رام نے بھنگ ہضم کر لی ہے۔ شاید ان کو نشہ پانی کرنے کی عادت ہے۔” سن کر مجھے ہنسی آ گئی۔ مجھے بالکل پورے ہوش میں دیکھ کر شریمتی دھائبر کو ومل سے حسد ہونا بھی فطری تو تھا!

تبھی ڈاکٹر آ گئے۔ اتنے سارے لوگوں کی حالت جانچ کر انھیں انجکشن وغیرہ دیتے دلاتے چار پانچ گھنٹوں کا وقت نکل گیا۔ میں نے فکرمند ہو کر ڈاکٹر سے پوچھا، “کیا ان لوگوں کے گھروالوں کو بلوانے کی ضرورت ہے؟”

“بالکل نہیں۔ یہ لوگ چوبیس گھنٹوں کے بعد اپنے آپ ٹھیک ہو جا ئیں گے۔ چنتا (فکر) کرنے کی کوئی بات نہیں،” ڈاکٹر نے دلاسا دیا۔ میری جان میں جان آ گئی۔ ومل نے میرا بستر لگوا دیا۔ وہ باربار مجھے کچھ آرام کر لینے کی صلاح دیتی رہی،اصرارکرتی رہی، لیکن میں نے اس کی ایک نہ سنی، رات بھر میں صحن کی لمبائی ناپتا رہا۔

کاسٹیوم ڈیزائنر شری پت راؤ کاکڑے کو سب سے پہلے ہوش آیا۔ شاید انھوں نے کچھ کم لی تھی۔ پھر بھی ان کا نشہ پوری طرح سے اترا نہیں تھا۔ بھنگ کے نشے میں آدمی ایک ہی بات کو لگاتار کرتا جاتا ہے۔ ہنسنے لگا تو پھر ہنستا ہی رہتا ہے، رونے لگا تو روتا ہی جاتا ہے۔ اب ان کاکڑے صاحب کو لگ رہا تھا کہ میں نے بھی بھنگ چڑھا رکھی ہے، اس کے نشے میں لگاتار میں اِدھر سے اُدھر، اُدھر سے اِدھر چکر کاٹ رہا ہوں اور اب بس دھڑام سے کہیں گرنے ہی جا رہا ہوں۔ اس لیے میں جدھر جاتا، ادھر ہی کاکڑے اپنے دونوں ہاتھ میری دونوں بانہوں سے کچھ دور تان کر میرے پیچھے پیچھے چلا آتا تھا، تاکہ وہ مجھے گرنے سے بچا سکے۔
دوسرے دن سویرے سبھی لوگ تھوڑی تھوڑی ہلچل کرنے لگے۔ شام تک سب کو ہوش آ گیا۔ میرے من کا بھاری بوجھ اتر گیا۔ میں کافی تھک چکا تھا۔ اس دن شام کوجو سویا تو دوسرے دن سویرے ہی جاگا۔ جاگ کر دیکھتا کیا ہوں، سبھی لوگ میری طرف کافی فکرمند ہو کر دیکھ رہے تھے۔ فتےلال جی نے کہا، “ہم نے سوچا کہ آپ کو چوبیس گھٹے دیری سے بھنگ کا نشہ چڑھا اورآپ بےہوش ہو کر گر پڑے ہیں۔ لیکن نہیں، آپ تو گھوڑے بیچ کر سو گئے تھے۔” اس پر سب لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ ومل دروازے پر کھڑی تھی۔ صرف اپنا پتی بھنگ سے اچھوتا رہا، اس کا فخریہ احساس اس کے چہرے پر مسکرا رہا تھا۔

سب لوگ مکمل چنگے ہو گئے۔ لیکن ہمارا میک اپ مین شنکر گوڑ بچارا ہمیشہ کے لیے بے کار ہو گیا۔ بھنگ اسی نے چھانی تھی۔ سب کو دینے کے بعد نیچے بھنگ کا جو گاڑھا نچوڑ رہ گیا، شنکر اسی کو پی گیا تھا۔ یوں بھی بھنگ کا نشہ ہوتا ہے کڑک، اس پر یہ مہاشے نیچے کا گاڑھا گاڑھا پی گئے، وہ تو اور بھی ظالم ہو گا۔ دو تین دن بیت جانے پر بھی شنکر ہوش میں نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکٹر کو پھر بلوایا۔ شنکر کا علاج شروع کروایا۔ چوتھے دن جا کر کہیں اسے ہوش آیا۔ لیکن وہ پاگل جیسا کرنے لگا۔ آگے چل کر میک اپ کا کام وہ کرتا تو تھا، لیکن اس کے دماغ پر جو اثر ہو گیا، وہ مستقل تھا۔ شنکر ہمیشہ کے لیے بے کارہو گیا تھا۔

وجےنگر کے کھنڈروں میں اور میدان میں باہر شوٹنگ پوری کر سب لوگ محفوظ کولھاپور لوٹ آئے، شنکر گوڑ کا ایک دلی ڈیپریشن ساتھ لیے!

اس کے بعد کتنی ہی شِوراتری آئی اور گئی، کسی نے بھنگ کا پروگرام کرنے کا نام بھی نہیں لیا۔

اس ‘چندرسین’ فلم میں داملے اور فتےلال نے اپنی ساری مہارت داؤ پر لگا دی تھی اور کئی سین اتنے حیرت انگیز اور عظیم بنائے تھے، پوشاک اتنی زیادہ دیدہ زیب بنائی تھی کہ ان کی آرٹ ڈائریکشن بھی اس فلم میں ایک بڑی کشش بن گئی تھی۔

میں نے بھی طے کیا تھا کہ ڈائریکشن کے شعبے میں کچھ نئی کرامات کروں گا۔ پچھلی بارجب ممبئی گیا تھا، وہاں منروا میں ایک جرمن فلم دیکھی تھی “ورائٹی”، اس میں کیمرہ چلتی پھرتی ٹرالی پر رکھ کر شوٹنگ کی گئی تھی۔ شاٹس کی وہ رفتار دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا۔ ٹرالی کا استعمال کرتے ہوئے کچھ شاٹس خود لینے کی خواہش جاگ اٹھی تھی۔ اس لیے میں نے بھی اپنے تخیل سے ایک چار پہیوں والی ٹرالی بنوا لی۔ فتح لال جی نے ٹرالی پر کیمرہ رکھ کر اسے آگے پیچھے، آڑا ترچھا چلاتے وقت کیمرے کا ہینڈل گھماتے رہنے کی پریکٹس کی۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اس فلم کے ممبئی میں ریلیز کی تاریخ پہلے سےہی طے ہو گئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سارا کام نبٹانے میں اتنی جلدبازی ہوئی کہ کیمیائی عمل کے بعد “چندرسین” کے کچھ آخری منظروں کی فلم سُکھانے کے لیے بھی کافی وقت نہیں رہا۔ لہٰذا ہم لوگوں نے پونے تک تیسرے درجے کا ایک پورا ڈبہ گاڑی میں اپنے لیے بک کرا لیا اور اس میں پوری فلم کھول کر اسے سُکھاتے سُکھاتے پونے پہنچ گئے۔

چندرسین ‘ تو اتنا چلا کہ اس نے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ان دنوں ٹرالی کے استعمال کی بات ہماری فلمی دنیا کے لیے ایک دم نئی تھی۔ ناظرین کی تو کیا، بڑے بڑے لیجنڈری فلمی ناقدین کی سمجھ میں وہ تکنیک نہیں آئی۔ انھوں نے اخباروں میں “چندرسین” کی تنقید میں لکھا کہ اس فلم میں سین کبھی آگے، کبھی پیچھے تو کبھی آڑے چلتے دیکھ کر ناظر دنگ رہ جاتا ہے۔ ناقدین کے اس نتیجے سے ہم سبھی کا اچھا خاصا منورنجن(تفریح) ہوا، ‘چندرسین’ نے پربھات کی شہرت میں چار چاند لگا دیے۔ نہ صرف بھارت میں، بلکہ برما میں بھی ‘چندرسین’ نے خاموش فلموں سے ہونے والی آمدنی کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔

ہم سب لوگ خوشیاں منا رہے تھے کہ بولتی فلموں کے بارے میں ایک سنسنی خیز خبرآئی۔ بمبئی کی امپیریل کمپنی نے اردیشر ایرانی کی ڈائریکشن میں ‘عالم آرا‘ نامی ایک بولتی فلم بنائی ہے اور سماج کی مختلف طبقوں کے پرھے لکھے، ان پڑھ سبھی ناظرین نے اسے سر پر اٹھا رکھا ہے۔ سپر ہٹ خاموش فلموں کا چار ہفتے چلنے کا ریکارڈ کہیں پیچھے چھوڑ کر یہ بولتی فلم اب آٹھویں ہفتے میں بھی بے پناہ بھیڑمسحور کیے جا رہا ہے!یعنی؟ کیا بولتی فلموں کے بارے میں میرا اندازہ غلط ہو گیا؟بولتی فلم کامقابلہ کرنے کےلیےزیادہ تعداد میں خاموش فلمیں بنائی جائیں ایسامجھے ایمانداری سے لگتا تھا، میرے دیگر ساتھی بھی یہی چاہتے تھے۔ لیکن بمبئی سے دوسری خبر آئی۔ مدن اینڈ کمپنی کا بنائی ہوئی’لیلیٰ مجنوں‘ بولتی فلم ویلنگٹن تھئیٹر میں لگی ہے اور وہ بھی ‘عالم آرا’ کی طرح ہی دھوم مچا رہی ہے!
یہ خبرسن کرمیری سوچنے کی طاقت کو زبردست دھچکا لگا۔ پربھات فلم کمپنی کےآغاز سے لے کر آج تک فلم کے بارے میں میرے سبھی اندازے لگ بھگ صحیح نکلے تھے۔ ان فلموں کو ملی زبردست کامیابی کی وجہ سے میری خود اعتمادی بھی بڑھی تھی۔ لیکن اس خبر نے تو اس خود اعتمادی کو ہی گہنا دیاتھا۔ میں نے ہر پہلو پر وچار کیے بنا ہی بولتی فلموں کے لیے اپنی رائے اخباروں میں جابرانہ طور پر ظاہر کی تھی۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہونے والا تھا؟ بولتی فلم کا جو شاندار سواگت(استقبال) ہو رہا تھا، وہ فلمی دنیا کی نظر سے اہل ہے یا نا اہل اس کا وچار کرنے کے لیے وقت بھی کہاں بچا تھا؟ بمبئی سے ایک کے بعد ایک،لگاتار خبریں آنے لگی تھیں:بولتی فلموں کا زمانہ آ گیا ہے۔ بولتی فلموں کی لہر شدت سے اٹھ رہی ہے ۔۔۔۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 8: شانتا راما ٹچ کا بننا (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

……………..

‘ شانتارام، او شانتارام!’پکار بالکل کھلے من سےآئی تھی۔ میرے قدموں کی رفتار دھیمی ہو گئی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا، بابا گزبر آوازدیتے چلے آ رہے تھے، “کیا کمپنی میں جا رہے ہو؟” اور پھر انہوں نے ہماری نئی کمپنی کا حال پوچھا۔ باتوں باتوں میں کہہ گئے، “بابوراو پینٹر تمہارے بارے میں کہہ رہے تھے کہ اور سارے مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہوتے، تو بھی مجھے خاص کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا،لیکن شانتارام کو میرے ساتھ ہی رہنا چاہئیے تھا ! میرے لئے اس کا بہت فائدہ تھا!’
سن کر میں صرف اداسی سے ہنس پڑا۔

بابا کچھ دیر تو چپ رہے، بعد میں بات بدل کر کہنے لگے، “ارے، شانتارام، مہاراشٹر فلم کمپنی میں ابھی ابھی تو تم اچھی تنخواہ پانے لگے تھے۔۔۔ “ان کی بات کو بیچ ہی میں کاٹ کر میں نے کہا، “بابا، ویسے دیکھا جائے تو آج بھی ہم سب کو اچھی تنخواہ مل ہی رہی ہے! ہم میں سے ہر ایک گھر خرچ کےلئے ساٹھ روپے لیتا ہے۔” “لیکن بھائی میرے، تم نے کمپنی چھوڑ دی تب میرے خیال سے تمہیں پورے ایک سو تیس روپےلے رہے تھے ۔اتنی تنخواہ پانے کے لئے تمہیں کمپنی میں نو سال کھپنا پڑا تھا۔ اب پھر،اتنی تنخواہ پانے کے لئے تمہیں یہاں بھی۔۔۔۔”

“اتنے سال نہیں لگیں گے، مجھے یقین ہے!” میں نے ان کا جملہ پورا کیا اور آگے کہا، ‘الٹے، ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتے ہوئے ہم لوگ جس جوش خروش کے ساتھ کام میں لگے ہیں، اسے دیکھ کر نو سال تو کیا نو مہینے بھی نہیں لگیں گے مجھے ایک سو تیس روپے پانے کے لئے۔ اور چلو مان لیتے ہیں کہ نو سال لگ جاتے ہیں، اور تب تک ہمیں آج جیسی ہی حالت میں گزارا کرنا پڑتا ہے، تو کیا ہوا؟ اپنے پاؤں پر کھڑےہوکر ، آزادی کے ساتھ کچھ نیا کام کرنے کی ہماری کوشش ہے، یہ سکون پیسوں سے زیادہ قیمتی لگتا ہے ہمیں!”

میری ایسی خود اعتمادی بھری باتیں سن کر بابا نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔

لیکن اس کے بعد انہوں نے مجھے بہت ہی پس وپیش میں ڈالنے والا سوال کیا، ‘مان لو، بابوراو پینٹر مہاراشٹر فلم کمپنی کو چھوڑ کر تمہارے پاس آ جاتے ہیں، تو کیاانہیں قبول کر لوگے؟ وہ وہاں کے ساجھے داروں کے مارے تنگ آ گئے ہیں۔ انہوں نے ہی یہ پیشکش لےکر مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔”میں سن کر دنگ رہ گیا، ساکت رہ گیا۔ سوچنے لگا ، بابوراو پینٹر میرے گرو ہیں،بڑے کلاکار ہیں، میرے لئے پوجنے لائق ہیں۔ ان کی اس پیشکش کو رد کرناناممکن ہے۔ رد نا ممکن تو تھا، لیکن قبول کرنا بھی مشکل تھا۔یہ تو انہی کی بےعملی کانتیجہ تھا کہ مہاراشٹر فلم کمپنی اتنی نہیں پنپی، جتنی پنپنی چاہئیے تھی یا پنپ سکتی تھی۔

الجھن سے اپنے آپ کو ابھارنے کے کوشش میں ایک ایک لفظ کھوجتے ہوئے دھیرےدھیرے میں نےکہا، “آپ جاکر سیٹھ سے پوچھئے کہ آج تک مہاراشٹر فلم کمپنی میں ہم لوگ ان کی ہر بات مانتے تھے، لیکن اب اگر وہ ہماری کمپنی میں آتے ہیں، تو کیا ہمارےپروگرام کے مطابق وہ چل سکیں گے؟ اگر ہاں کہتے ہیں تو مجھے آ کر بتائیے، میرے دیگر ساتھیوں سے صلاح کر کے میں آپ کو بتاؤں گا۔”

میرا یہ ٹکا سا جواب سن کر بابا بھی خاموش رہ گئے۔ پھر بھی میں نے دیکھا کہ میری بات انہیں بھی جچ گئی تھی۔ انہیں وہیں چھوڑ کر میں کمپنی کی طرف تیزی سے چلا گیا۔

اتنی ہی تیزی سے من میں وچاروں کا چکر گھومنے لگا تھا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی کوچھوڑ کر نکل آنا صحیح تھا یا غلط، یہ خیال اب بےمعانی ہو چکا تھا، پہلےمہاراشٹر فلم کمپنی میں کام کرتے وقت من میں بس صرف ایک ہی خیال آتا تھا کہ جو کام مجھے سونپا گیا ہے، یا کرنے کو ملا ہے، اچھے سے اچھے ڈھنگ سے کس طرح پورا کیا جائے۔ لیکن اب ‘پربھات’ کے قیام کے بعد، اتنی ساری کٹھنائیوں کوپار کرتے وقت میرے من میں آج تک کا سویا عزم جاگ گیا تھا۔ میرے سپنوں کا افق وسیع ہو گیا تھا۔ اب توصرف ایک ہی دھن سوار تھی : ‘پربھات کواچھے ڈھنگ سے کس طرح فعال کیا جائے۔ عمدہ فلموں کا بنانا ہی اس کا ایک جواب تھا!

تیزی سے ڈاگ بھرتا ہوا میں کمپنی میں آ پہنچا۔ دن بھر بالکل شام ہونے تک اپنے آپ کو مختلف کاموں میں لگائے رکھا۔ شام کو ہم چاروں ساجھے دار اپنے چھوٹے سے کارخانے میں اکٹھے ہوئے۔ میں نے انہیں سویرے بابا گزبر سے ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔

داملےجی نے زور دےکر کہا، “سیٹھ کی پیشکش کا جوجواب آپ نے دیا، وہ ایک دم مناسب تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کے باوجود اب وہ ہماری کمپنی میں آئیں گے!” بابوراو پینٹر کو وہ مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتے تھے۔

لیکن بیچ ہی میں فتے لال جی نے شبہ ظاہر کیا، “سچ کہتا ہوں، ایک بات ضرور سوچنے لائق ہے کہ کہیں ہماری کمپنی کا بھی وہی حال نہ ہو جو اتنے سال کام کرنے کے بعد بھی مہاراشٹر فلم کمپنی کا ہو گیا ہے۔”میں نے فوراکہا، “ہمارا حال ویسا کبھی نہیں ہوگا، ہرگز نہیں۔ جو غلطیاں سیٹھ کرتے تھے، اگر ان سے بچنے کی کی کوشش ہم نے کی، تو ہم اچھی طرح کامیاب ہو جائیں گے۔”

“لیکن ان کے لوگ ہماری پربھات کمپنی کو دہی چاول کمپنی جو کہتے ہیں،اس کا کیا؟’ دھائبر نے کہا۔”دہی چاول؟” میں نے جوش سے کہا، ٹھیک ہے، ہماری اس طرح کھلی اڑانے والےجلد ہی جان جائیں گے کہ ہماری ‘پربھات فلم کمپنی’ ایک آدرشی فلم ادارہ ہے۔ ہم لوگ ‘پربھات’ کی پرورش کر کے اسے بڑابنائیں گے۔ آج کی اس چھوٹی سی جگہ سے اس کا گھر سنسار کافی بڑے احاطے میں لے جا کر بسائیں گے۔ہالی ووڈ کی یونیورسل کمپنی کاجیسےایک اپنا نگر بنا ہے، اسی طرح ہم لوگ بھی اپنی اس پربھات فلم کمپنی کا ‘پربھات نگر’ بنائیں گے!”

بیچ ہی میں داملے بولے اجی!اجی! شانتارام بابو،اجی جاگئے، مہاراج جاگئے ! میرے سپنوں کی فلم ٹوٹ گئی داملے جی کہے جا رہے تھے، آپ ذرا سپنے کی دنیا سے جاگ کر دھرتی پر قدم رکھئے۔

“پربھات نگر بسانے کا وچار کرنے سے پہلے ہم لوگوں کو اپنے خاندان نگری کا وچار کرنا چاہئیے!”میں نے تین دن کے سلطان کی ادا سے ان سے سوال کیا۔ اچھا، بتائیے ہم میں سے ہر ایک کے پاس کتنا روپیہ ہونا چاہئیے، تاکہ کسی کوخاندان نگری کی فکرہی نہ رہے؟ بتائیے! ”

ہرایک کے پاس ایک ایک لاکھ روپے ہو جائیں، تو ہم لوگ ایک دم بے فکر ہوجائیں گے۔ اس کا انتظام کیجیے، بعد میں آرام سے اپنے سپنوں کی دنیا دھرتی پربسانے میں لگ جائیے، ہم میں سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا!”

ادھر اصل میں تو تھوڑا ہی کام ہوا تھا۔ سٹوڈیو کے لئے لوہے کے شہتیر کھڑےکئے جا چکے تھے۔ کیمیکل روم بن گیا تھا، میں اپ کے لئے کمرے تیار کر لئے گئےتھے۔ حساب کتاب لکھنے کے لئے ایک چھوٹے سے کمرے کا انتظام کر دیا گیا تھا۔ ہمارےپیچھے پیچھے ہمارے باپو کو بھی مہاراشٹر فلم کمپنی سے ہٹنا پڑا۔ انہیں کو ہم نےاپنی کمپنی کا لیکھا جوکھا اور پیسے کا سارا کام سنبھالنے کا کام سونپا۔

پہلی فلم کے لئے کہانی کے انتخاب کا وچار شروع ہو گیا۔ ہم لوگ چاہتے تھےکہ ہماری پہلی فلم اونچی قسم کی اور مقبول ہو، اس لئے ہم نے عام آدمی کے پسندیدہ شری کرشن کے بچپن کے مدھر منظروں پرمبنی کہانی طے کی،اندردیو کے غصے کے کارن اپیدا ہوئے طوفان میں شری کرشن گووردھن پروتن اٹھاکربرج واسیوں کی حفاظت کرتا ہے، یہ تھا ہماری فلم کا نقطہ عروج۔

فلم کاموڈ پر کیا اثر پڑے گا، میں نے پہلے سے ہی سوچ لیا تھا۔اس لئے میں چاہتا تھا کہ ‘گوپال کرشن جیسا موضوع صرف شاستروں پرانوں کے دائرے میں ہی سمٹا نہ رہے، بلکہ آج کے زمانے کے مطابق سماج اور دیس کے لئے کچھ پیغام دینے والا ہو۔ دیس میں سیاسی تحریک زور پکڑتی جا رہی تھی ۔ ہماری کولہاپر ریاست میں بھی خبریں آنے لگی تھیں کہ خودمختاری کے لئے مہاتما گاندھی زوردار تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس لئے میں نے اس ‘گوپال کرشن’ فلم کوسیاست کا ہلکا ٹچ دینے کا فیصلہ کیا۔

متھرا کے راجا کنس کو میں نے برٹش راج طاقت کا اور شری کرشن کو عوام کارہنما بنا کرفلمانے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات بھی میں نے بالواسطہ روپ میں اور اصل لیجنڈری کہانی کے منظروں کو تھوڑا سابھی نقصان پہنچائے بنا فلم میں رکھا۔ یعنی سیاست کو کھلم کھلا فلمانا مشکل تھا۔ کیونکہ یہ ہماری پہلی فلم تھی اور ہم اسے سینسر کی قینچی سے بچا کرعوام کے سامنے پیش کرناچاہتے تھے۔ یہ ضروری بھی تھا۔ اس لئے میں نے اپنی آدرش پسندی اورعمل پسندی کے بیچ تال میل بٹھانے کے لئے کچھ سمجھوتے ضرور کر لئے تھے۔

ہماری کمپنی کا سارا کاروبار ہی نیا تھا۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نئے سرے سے جٹانی پڑ رہی تھی۔ سب سے بڑا سردرد تھا قابل اداکاروں اور اداکاراوں کواکٹھاکرنے کا۔ گیانوبا مانے نامی ایک سڈول اور کسے جسم کے شحض کوکنس کا کام کرنے کے لئے چنا۔ سانگولے دیہات کے ایک پیارے لڑکے سریش کو شری کرشن کا کردار ادا کرنے کے لئے ڈھونڈ کر لائے تھے۔ شوٹنگ کی مدت میں وہ ہمارے گھر پر ہی کھانے کے لئے آتا۔ دیگر چھوٹے موٹے کاموں کے لئے کمپنی کے آس پاس کے گلی کوچوں میں رہنے والے ان پڑھ، اور تھوڑا سا ہی لکھ پڑھ لینے والے بیکار لوگوں کو بہت ہی معمولی پیسوں پر رکھ لیا۔

اب پرشن (سوال) تھا نئے لوگوں کا! مہاراشٹر فلم کمپنی کی ہیروئن کملا دیوی(گلاب بائی) کو فتے لال جی سے کافی پہلے ہی پیار ہو گیا تھا اور وہ بھی مہاراشٹرفلم کمپنی چھوڑ کر ہمارے ساتھ آ گئی تھیں۔ ان کا انتخاب شری کرشن کی ماتا یشودا کےکردار کے لئے کیا گیا۔ ان دنوں خاندانی عورتیں سینما میں کام کرنےنہیں آتی تھیں۔ اس لئے بہنابائی نامی ایک گوری چٹی ادھیڑ عمرکی مدد سےطوائف کا کاروبار کرنیوالی کچھ ادھیڑ عمرکی عورتوں کو لے آیا گیا۔ لیکن سوال تھا نوجوان لڑکیوں کو لانے کا۔ خصوصا رادھا کا اہم کردار کرنے کے لئےچست چالاک لڑکی ی کی ہمیں تلاش تھی۔

انہی دنوں کولہاپور میں ایک تماشا پارٹی آئی تھی۔ اس میں اہم نرتکیوں میں سے ایک لڑکی کے کافی چست و چالاک ہونے کی خبر مجھے ملی وہ ذات کی مدارن تھی۔ ہم نےاسے کمپنی میں بلا لیا۔ وہ ایک دم پکے کالے رنگ روپ کی تھی، لیکن اس ڈیل ڈول اور ناک نقشہ اچھا تھا۔ اسے بیس روپے تنخواہ پر ہم لوگوں نے رادھاکےکردارکے لئے طے کیا۔ جیسا کہ ان دنوں کا رواج تھا، فلم کے مختلف منظروں کی تعلیم دینا میں نے شروع کیا۔ ایک کملا دیوی کے علاوہ خاص سبھی لوگ ایک دم نئے ہونے کے کارن انہیں اداکاری بالکل شروع سے سکھانی پڑتی تھی۔ لہذا تعلیم ہر روز پانچ پانچ اور چھ چھ گھنٹے چلتی تھی۔ آہستہ آہستہ منتخب کئے گئےسبھی لوگوں میں اداکار اور اداکاراؤں کچھ کچھ نکھارآنے لگا۔ تھوڑے ہی دنوں میں شروع کرنا طے ہوا اور ایک دن ہمارے فلم کی رادھااچانک غائب ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے! ہم سب لوگ ماتھا تھامے بیٹھ گئے۔

پھر سے کھوج، ایک ہیروئین کی! اب کی باربہنابائی نے خودآگے آ کرہماری مدد کی۔ وہ ٹھیک ٹھاک ڈیل ڈول کی اور اچھے ناک نقشے کی ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کمپنی میں لے آئی۔پھر سے تعلیم شروع ہو گئی، جو واقعی میں چست تھی۔ وہ اپنا کام بہت ہی پھرتی کے ساتھ سیکھتی گئی۔

سب کا کہنا تھا کہ کوئی اچھا مہورت دیکھ کر فلمانا شروع کیا جائے۔بات یہ تھی کہ اچھا مہورت دیکھ کر کام شروع کرنے پر گوپال کرشن’ خوب چلے گی اور ہماری آئندہ لامحدود پریشانیاں کم ہو جائیں گی،لہذا سیتارام پنت کی پہچان سےکولہاپورکے ایک جوتشی کو بلایاگیا۔ انہوں نے آتے ہی ہم پانچوں ساجھےداروں کی جنم پتریاں دیکھنے کے لئے منگوائیں۔ گئے مارے! ہرایک کے نو نو یعنی ہم پانچوں کے ملا کر پورے پینتالیس گرہن کشتروں (گھروں) کا ہیل میل جس دن ہو گا، اسی دن کام پرشروع ہو سکےگا یعنی پانچ سال تو ایسا ہونا ناممکن تھا!

میں نے کچھ سوچ کر جوتشی کو سجھاؤ دیا، “پنڈت جی، اس کی توقع آپ ایسے کیجئے، جس دن ہماری یہ پربھات کمپنی شروع ہوئی، اس دن، اس وقت اورکمپنی کا نام لےکر آپ کمپنی کی ہی کنڈلی بنا لیجیے اور اس کے لئے جومبارک ہو، ایسا مہورت نکالیے۔ مہورت کمپنی کے لئے بھی تو شبھ ہونا چاہئیے۔ سبھی ساجےداروں کو میری بات پسند آئی۔ اب پینتالیس کے بجائے صرف نو گرہوں کی ہی گنتی دیکھی جانے والی تھی، لیکن وہ نو گرہ بھی پورے ٹھیک نکلے۔ پنڈت جی نے بتایا، “آج سے پیتالیسویں دن ایک دم جگ کیسری یوگ ہے۔ اس سے بڑھیا مہورت کیا ہو سکتا ہے۔ اسی دن کام شروع کیجئے۔

سب کے چہرے سوکھ گئے۔ سبھی چپ تھے۔ ہم تو پینتالیس دنوں میں ساری شوٹنگ مکمل کرنا چاہتے تھے۔ ڈیڑھ مہینہ رکنے کا مطلب ہوتا کمپنی کی کمر توڑ کر رکھ دینا! سبھی اداکاروں کو اور دیگرلوگوں کو ڈیڑھ مہینہ مفت میں تنخواہ دیتے رہیں، توپھر ہو گیا فائدہ کمپنی کا! پہلے ہی ہماری پونجی محدود، وہ یوں ہی ختم ہو جاتی اور فلم کبھی نہ بن پاتی!

اچھا بھلا کام شروع کرنے جا رہے تھے، پتہ نہیں کیا سوجھی جو اس پنڈت کو بلالائے۔ گھر بیٹھے ایک مصیبت ہی مول لے لی۔ اب کیا کیا جائے۔ کسی کو سوجھتا نہیں تھا، مہورت وہورت کی بات کو دھتکارنا بھی ممکن نہیں تھا، کیونکہ سنسکاری من پرمہورت، شبھ گھڑی وغیرہ باتوں کا اثر تھا ہی۔ میں تو اتنی اتاولی فطرت کاآدمی تھا کہ پینتالیس گھنٹے بھی کام کو روکنا مجھے منظور نہیں تھا۔ آخر میں ہمت بٹور کر میں نے کہا، “دیکھیئے، ہم نیک کام کرنے جا رہے ہیں۔ تو نیکی میں پوچھ پاچھ کیسی؟ اتنی مصیبتوں سے راہ نکالتے نکالتے ہم لوگ شوٹنگ شروع کرنے کی تیاری پوری کر چکے ہیں۔ بھگوان ہمارا سرپرست ہے،لہذا اب اور دیری نہ کی جائے۔شبھسیہ شیگھرم (جلدخوش قسمتی آئے)! کل سے ہی کام شروع کریں ۔

سیتارام پنت اور داملےجی نہ تھوڑی بحث بازی کرنی چاہی۔ کنتو(لیکن) میں بھی اپنی ضد پر اٹل رہا۔ میرا خیال ہے، میری عملی دلیل منظور تو سبھی کو تھی، اسی لئے سب نے میری بات رکھ لی اور دوسرے ہی دن صبح’پربھات’ کے لوگو کی شوٹنگ سے ہمارا کام شروع ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘گوپال کرشن’ ریلیز ہونے تک اپنے اس ضدی فیصلے پر میں کافی پریشان رہتاتھا۔ ذرا فرصت ملی کہ دنیاداری کے ریتی رواجوں کے خلاف جاکر، وقت نا وقت کا خیال نہ کرتے ہوئے شروع کئے گئے اس فلم کی کامیابی، ناکامی کے وچاروں کی گھٹائیں من میں گھر گھر کر آتیں اور مجھے بہت ہی پریشان کرتی تھیں ۔

پربھات فلم کمپنی کا لوگو

شوٹنگ کا آغازہم نے ‘پربھات’ کے لوگو سے ہی کیا۔ فتےلال جی نے پیچھےایک پردہ لگایا، جس سے دکھائی دیتا تھا کہ سورج کی کرنیں نیچے کے افق سے اوپرکو اٹھتی آ رہی ہیں۔ پردے کے سامنے پاس ہی انہوں نے لکڑی کے ایک نیم دائرے کاچبوترہ رکھا۔ سڈول ڈیل کی گلاب بائی پربھات کا لوگو بن کر تیار ہوکرآئی۔ فتےلال جی کی بنائی گئی چتر کےمطابق انہوں ڈریسنگ کی تھی۔ گھٹنوں تک پہنی، تن چھوتی ساڑی، اس پر کمربند، بازو میں ایک چھوٹا، نیچےلٹکتا جھولتا دوپٹہ، صرف عروجوں کو ہی ڈھکنے والی انگیا، پیٹھ پر اس انگیا کی گانٹھ کا کچھ لمبا سرا، سر پر ایک نازک تاج اور پیچھے ناگن سی لمبی بل کھاتی چوٹی، ایسی سج دھج میں بن ٹھن کر آئی گلاب بائی اس چبوترےپر کھڑی ہو گئی۔ کسی نے مہورت کا ناریل پھوڑا۔ میں نے کیمرے کو ‘سٹارٹ’ کا حکم دیا۔ فتے لال جی بیل اینڈ ہاویل کیمرے کا ہینڈل گھمانے لگے۔ میں گلاب بائی کواونچی آواز میں ہدایات دینے لگا، “گلاب بائی، اب آپ ہاتھ میں تھامی بھیری کودھیرے دھیرے اوپر کو اٹھائیے اور پیچھے کمر کی طرف جھک کر اسے زور سے پھونکئے۔”

شوٹنگ خاموش فلم کی تھی۔ اس لئے کیمرے کی آواز بھی آتی اور ڈائریکٹر بھی نٹ نٹیوں کو چلا چلا کراداکاری کے بارے میں ہدایات دیتا تھا۔

گلاب بائی ایک سدھی ہوئی اداکارہ تھیں۔ انہوں نے بہت ہی شان کے ساتھ سارا کام کیا۔ میں نے زور سے ‘کٹ’ کہا۔ کیمرہ رکا۔ مہالکشمی کے مندر سے لائے گئے کولہاپور کے خاص پھیکے پیڑے سب کو بانٹے گئےڈھیر ساری مٹھائی ہم پانچوں ساجھےداروں نے ہمارےاس کارخانے میں بیٹھ کر صاف کر دی۔

دوسرے دن سٹوڈیو میں بنائے گئے کنس کے عالی شان محل کی شوٹنگ شروع کی۔ پہلوان گیانوبا مانے کمپنی میں کافی دنوں سے آئے تھے۔ لہذاانہیں اداکاری کی مکمل مشق کافی اچھی ہو گئی تھی۔ نتیجتااس سیٹ پر پینٹ کئے جانےوالے منظروں کی شوٹنگ لگ بھگ پانچ چھ دنوں میں پورا ہو گئی۔ داملے ہر روز اس شوٹنگ کے نیگیٹو کو ہمارے نئےکیمیکل روم میں کیمیکل سے دھوتے تھے۔ دھائبرانکی مدد کرتے تھے۔ کیمیائی عمل کے بعد ان کا پرنٹ نکال کر ہم نے اسےپروجیکٹر پر چڑھایا۔ شوٹنگ نہایت تسلی بخش ہوئی تھی ۔ فورا ہی اگلے سین کی شوٹنگ کے لئے ہم لوگوں نے رادھا کے گھر کا سین کھڑا کرنا شروع کیا۔

شوٹنگ کے دنوں اگلے دن کس سین کی شوٹنگ کیسے کرنی ہے، ہر رات اس کا ایک خاکہ میں لکھ کر کھینچ لیتا تھا۔شام کو گھر آنے کے بعد آدھی رات جاگ کر میں اس سوچ بچار کو لکھنے بیٹھتا تھا۔ اس رات لکھنا پورا نہ ہو سکتا،تو دوسرے دن منہ اندھیرے چار بجے اٹھ کر لکھنے بیٹھتا اور دن نکلتے ہی نہانے دھونے سے نبٹ کر بنا کچھ کھائے پیئے سٹوڈیو چلا جاتا۔ اس جھمیلے میں گھرگرہستھی اور خاص ومل سے غفلت رہنے لگی۔ دو باتیں کرنے کے لیے اس سےمیں فرصت میں نہیں مل پاتا تھا۔

ایک دن سویرے ہی میں سٹوڈیو جانے کو نکل رہا تھا کہ وِمل راستہ روک کرکھڑی ہو گئی اور بولی، “آپ کو یاد بھی ہے کہ گھر میں آپکی ایک پتنی ہے؟ مجھے دومنٹ بات کرنے کی بھی فرصت نہیں تھی، تو شادی کیوں کی ؟اس کی یہ حرکت دیکھ کر میں غصے میں آگ بگولاہو گیا۔ کوئی جواب تو میں نے نہیں دیا، لیکن اسکا ہاتھ زور سے ہٹا کر اس کی بھری آنکھوں کی طرف دیکھے بنا ہی باہر چل دیا۔ راستے میں رہ رہ کر وِمل کے آج کے طرز عمل پر سوچتا گیا۔ کیا وِمل کی بات صحیح نہیں تھی؟ جب دیکھو، میں صرف گوپال کرشن، پربھات اور سٹوڈیو کی ہی سوچتا تھا، حال ہی میں ایک بیٹے کا پتا بن چکا تھا۔ اسکا نام بھی پربھات کمپنی کے نام پر ہی میں نے پربھات کمار رکھا تھا۔ گھر خاندام، پتنی، اکلوتا منا،کسی کی طرف میرا قطعی دھیان نہیں تھا۔ میرا گھروالوں کے ساتھ اس طرح پیش آناغلط ہے، یہ بات من ہی من مجھے سوجنے لگی۔ آکھر وِمل اس گھر کی نئی نویلی بہو ہے۔ اسے کوئی دقت آ جائے، تو میرے سوا اور کس سے بات کر سکتی ہے وہ؟۔۔۔
جیسے جیسے کمپنی کے پاس آتا گیا، ان وچاروں کی جگہ آج کی شوٹنگ نےلینا شروع کر دی۔

اتفاق کی بات تھی کہ رادھا اور اس کے پتی انیے کے بیچ لگ بھگ اسی طرح کےمنظر کی شوٹنگ اس دن کرنی تھی۔ انیے کو متھرا میں کنس کے پاس جانا ہوتا ہے۔وہ رادھا کو ویسا بتا بھی دیتا ہے۔ منظرایک دم سیدھا سادہ لکھا گیا تھا۔ تبھی میرےاندر کا ڈائریکٹرجاگ اٹھا۔ میں نے سوچا، آج وِمل کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی ہی ہوبہو شوٹنگ آج ہوئی تو ناطرین کو گھریلو جھگڑے کی آپ بیتی دیکھنے کا لطف آئے گا اور وہ اسے بہت پسند کریں گے ۔ مجھے اپنے اس وچار پر ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ اس لئے کہ کارگزاری کے پیچھے ہاتھ دھوکر لگے آدمی کا بھی کیا ہی عجیب حال ہوتا ہے۔ اور غصہ اس بات پر کہ میں بھی کتنا مطلبی ہوں ! اپنے گھر کی اس بات کو، گمبھیر و نہایت نجی منظر کو ایک دم بے شرمی سے اپنے کام میں استمعال کرنے کی سوچ رہا ہوں! لیکن میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ آخر گھر میں اور باہر ہونے والے ایسے دل کو چھو لینے والے منظرہی تو ڈائریکشن کے لئے میری پونجی ہیں !اسی زاد راہ کے ساتھ ہی آگے کا سفر کرتے جانا ہے۔

اس دن کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد میں رات گھر لوٹا، اور یہ ہی ساری باتیں ہنستے ہنستے وِمل کو سنا دیں۔ سن کر وہ اور بھی زیادہ غصہ ہو بیٹھی لگ بھگ آٹھ دن تک اس نے مجھ سے ایک بھی بات نہیں کی۔ آٹھ دنوں بعد میں نے اس سے کہا،” وِمل، تم روٹھ تو گئی ہو، لیکن پتہ ہے، اس کی وجہ سے دوسرے دنوں کےسین لکھ لینےکے لئے مجھے کافی وقت مل گیا۔”

میری اس بات پر اس کا غصہ جاتا رہا۔ وہ میرے پاس آئی۔ میرے ہاتھ سے کاغذ،اور پینسل چھین کر اسے دور پھینک دیئے اور میری گود میں بیٹھ کر بولی، “ہوں ،لکھیئے نے کیا لکھنا ہے۔” – ہر روز کمپنی آنے بعد میرا پہلا کام ہوتا تھا سب کا میک اپ کرنا، اس کام میں مدد کرنے کے لیے میں نے شنکر گوڑ نامی ایک لڑکے کو رکھ لیا تھا۔ اداکاروں اور اداکاراؤں کے چہرے پر رنگ لگانے کاکام میں نے اسے سکھایا تھا۔ میں ٹھیک پونے نو بجے سفید پینٹ، سفید قمیص پہن کر شوٹنگ کے لئے تیار ہوجاتا، فتےلال، داملے اور دھائبروغیرہ لوگ بھی بنا چوکے ٹھیک وقت پر آتےاور اپنے اپنے کام پورے کر شوٹنگ کے لئے تیار رہتے ہیں۔
سبھی کلاکار ٹھیک نو بجے سیٹ پر حاضر رہ سکنے کے لئے سویرے سات بجے سے ہی میک اپ کے لئے سٹوڈیو میں آ جاتے تھے، کمپنی کے پاس ہی ایک لمبے کمرے،گلیارہ نما کمرےمیں ٹین کی پارٹیشن ڈال کر دو حصے بنائے گئے تھے شوٹنگ کے سیٹ پر جب کام نہیں ہوتا، تب اداکاراور اداکارائیں اسی جگہ پر آرام کیا کرتے تھے سویرے سب سے پہلے میں اداکاروں کو داڑھی مونچھیں وغیرہ لگاتا اورمیک اپ بھی کر دیتا تھا۔ اس کے بعد وہ سب لوگ جاکر سٹوڈیو کے کام میں داملے اور فتے لال جی کی مدد کرتے تھے کون سا ریفلیکٹر کہاں رکھنا، چھوٹی موٹی چیزیں ادھر سے ادھر لے جاکر رکھنا، وغیرہ کام وہ لوگ تب کرتے، جب سامنے جاری شوٹنگ میں ان کا کام نہیں ہوتا۔ صرف عورتیں ہی اپنے کمرے میں بیٹھ کرپان تمباکو کھاتیں، گپیں لڑاتیں۔ پان چبانے تک کی آواز مجھے سنائی نہ دے، اس وجہ سے وہ دانت بھینچ لیتی۔

ایک دن صرف ایک گوپی اور کرشن کے سین کی ہی شوٹنگ کرنا تھی۔ سبھی مرد اداکار باہر سٹوڈیو میں مختلف کاموں میں مدد کرنے چلے گئے تھے ۔کرشن کا میک اپ کر کے میں نے اسے کرشن کا بھیس بدلنے کے لئے فتے لال جی کے پاس بھیج دیا۔گوپی کا میک اپ کرنے کے لئے میں عورتوں کے کمرے کی طرف گیا اور کواڑ پردستک دے کر ہمیشہ کی عادت کے مطابق پوچھا کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اندر سے’ آئیے’ کا جواب آیا۔ میں کواڑ دھکیل کر اندر گیا۔ سارا کمراخالی پڑا تھا۔پھر ‘آئیے’ کس نے کہا تھا؟ میں نے مڑ کر دیکھا اور۔۔۔۔

ایلورا غار کی ایک سیڈول لڑکی کی طرح کوئی شلپا کرتی(مورتی) میرے سامنے کھڑی تھی! وہ کرافٹڈ مورتی نہیں تھی، وہ واقعی میں ایک جیتی جاگتی تھی۔ اپنی مدہوش جوانی کے ابھرتے ڈیل ڈول کی نمائش کرتے ہوئے وہ کھڑی تھی ہماری ‘دوسری ہیروئین۔’ اس کے تن پر رتی بھر چولی بھی نہیں تھی۔

میری تو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ وہ مسکرا کر ایک انداز سے اپنا روپ مجھ پر بکھیررہی تھی۔ حیرت کے پہلے دھچکے سے سنبھلتے ہی میں نے غصے میں اسے دیکھا۔ فورا ہی اپنے کھلے عروجوں کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپتی ہوئی وہ ڈر کے مارےنیچے بیٹھ گئی۔ میں نے ایک دم روکھی آواز میں کہا، ‘کپڑے کر لو، اور فورا کمرے کےباہر آ کر میں نے کواڑ بند کر دیئے۔

باہر آتے ہی من میں خیالات کا طوفان اٹھا ۔کیوں کھڑی رہی وہ میرے سامنے، اس طرح بے لباس ہوکر؟ مجھے لبھانے کے لئے؟ یہ کس کی سوجھ ہو سکتی ہے؟ اس کی اپنی یا بہنابائی کی؟ یا کسی اور کی؟ اگرایسا ہے، تو ان کا مقصد ایک ہی ہوگا مجھے ہوس کا شکار بنانا۔ لیکن ایسا کرنے سے انہیں کیا ملتا؟ کیا وہ مجھے عورت بازوں کی قطار میں شامل ہوا دیکھنا چاہتی تھیں؟ پھر میں اپنی نظر سےسوچنے لگا۔ مدہوش جوانی کو بے لباس سامنے کھڑا دیکھ کر بھی میں بے حس کیسے رہ سکا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے من میں ہوس کا جوش آیا تو تھا، لیکن میں نے اس پر فورا قابو پا لیا؟ لیکن، ویسا نہیں تھا۔ بس ایک ہی دھن سوار تھی: ‘گوپال کرشن’ ایک دم سب سے اچھی فلم بنے ! ہماری ‘پربھات فلم کمپنی ‘ کا نام سارے بھارت میں روشن ہو! پربھات کا ایک فنکارانہ اور مستحکم ‘پربھات نگر’ بسائیں! بس یہی دھن مجھ پر ایسی چھا گئی تھی کہ تن من اسی میں ڈوبا تھا۔ کسی دوسری شکایت کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔ اس لیےاس کے ایسے طرز عمل پر مجھے غصہ آگیا۔ سوچا، اس کو فورا کمپنی سے چلے جانے کے لیے کہہ دوں۔ لیکن یہ کیسے ممکن تھا؟ ‘کرشن گوپال، میں اس کے کئی سین فلمانا کمپنی کی محدود پونجی میں نا ممکن تھا۔ اس سے بھی بڑی دقت یہ تھی کہ وہ کام کرنے کے لئے پھر کسی قابل لڑکی کاملنا مشکل تھا۔ میں ایک طرح کی گھٹن محسوس کرنے لگا۔ آخر میں نے من کے احساسات کا بہاؤ روک دیا اورروپے کے خیال سے اپنے غصے کو ٹھنڈا کیا۔

میں نے باہر سے ہی پھر آواز دی، ”اندر آ سکتا ہوں؟ اس بار اندر سے ڈری سی ‘ہاں’ سنائی دی۔ وہ کپڑے پہن کر بیٹھی شرم سے گڑی جا رہی تھی۔

میں نے اس کا میک اپ پورا کیااس لیے کہ اپنے کئے پر اسے شرمندہ سا نہ رہنا پڑے، کچھ ڈانٹتے ہوئے میں نےکہا، “سنو، پھر ایسا کبھی نہ کرنا۔ فوراً اپنا کاسٹیوم پہن کر سٹوڈیو میں آجاؤ! میری بات سن کر اس نے راحت کی سانس لی ہوگی۔

دوسرے دن میں میک اپ کرنے کے لئے گیا، تو بہنابائی وغیرہ ساری عورتیں مجرم سی بنی بیٹھی تھیں۔مجھے آتا دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئیں ۔ سب نے میرے چرنوں پر ماتھا ٹیکا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر معافی مانگتے ہوئی کہنے لگیں “غلطی تو ہم سب کی ہے۔ ہم نے ہی اسے ایسا گندہ کام کرنے کے لئے اکسایا تھا کل!”

غلطی ہماری تھی! آپ تو واقعی دیوتا آدمی ہیں!” لیکن کیا میں سچ مچ دیوتا آدمی تھا؟

‘گوپال کرشن’ کی باہر شوٹنگ کے لئے ہم لوگ کولہاپر سے کوئی چالیس میل دور گڈہنگلس نامی گاؤں گئے۔ وہاں ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی۔ اسے ہی ہم نے’گووردھن’ پہاڑ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن شام کو وہاں موسلادھار بارش ہونےلگی۔ ندی نالے باڑھ سے بھر گئے۔ ہم فورا کیمرہ لےکر شوٹنگ کے لئے چل پڑے۔ سبھی اداکاروں اوراداکاراؤں نے پانی میں قدم رکھا ۔ وہ واقعی میں باڑھ کے پانی میں بہنے لگے۔ میں اور فتے لال جی کیمرہ کے پاس رہ کر شوٹنگ کرنے لگے۔ داملے اوردھا ئبر آگے جاکر باڑھ میں ڈوبتےابھرتے لوگوں کو باہر نکالنے لگے۔ بےموسم آئی وہ بارش ہمارے لئے ایک خوش قسمتی کی بات تھی۔ لیکن اس کی وجہ سے فلم میں بارش کے سین ایک دم اصلی بن سکے۔ برسات ہی ہماری فلم کا اہم سین تھا۔ اس کو ہم لوگ غیر متوقع روپ سے ایک دم اصلی ماحول میں فلما سکے۔شوٹنگ کے لئے ہمیں اچھی موٹی تازی اور ہری بھری گایوں کی تلاش تھی۔ ویسی گائیں کولہاپور دربار کی گئوشالہ میں تھیں۔ شوٹنگ کے لئے انہیں دستیاب کرانےکی درخواست ہم نے دربار سے کی تھی۔ کافی دن ہو چکے تھے۔ ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں آیا تھا۔ لہذا ہم نے کہیں اور کوشش کرنا شروع کیا تھا۔ دھائبر جت ریاست کی راج ماتا سے اچھی طرح سے متعارف تھے۔ نے راج ماتا صاحبہ سے گائیں شوٹنگ کے لئے دینے کی درخواست کی۔ جسے انہوں نے فورا قبول کرلیا۔ ہم لوگ فورا جت پہنچ گئے اور چار پانچ دن میں گایوں کے سبھی منظروں کی شوٹنگ پوری کر کولہاپر واپس آ گئے۔

گوپال کرشن کی شوٹنگ اب لگ بھگ پوری ہونے کو آئی تھی ۔ صرف ایک منظرفلمانا باقی تھا۔ ہم نے طے کیا کہ اس سین کی شوٹنگ ندی کنارے پیروباغ میں کیا جائے۔ اسی باغیچے میں ‘سریکھا ہرن’ کی شوٹنگ کے لئے کیمرہ پیٹھ پر لادےمیں ایک ہمال کی طرح جاتا تھا۔ سین تھا وہاں کے ایک پیڑ پر باندھے جھولے پر کرشن بیٹھا ہے۔ پیندیا اور اسکے ساتھی اسے جھولا جھلا رہے ہیں، ناچ رہے ہیں، گا رہے ہیں، خوشی سے کودتےپھاندتے جا رہے ہیں، مستی میں مست ہو گئے ہیں۔
اس منظرمیں کرشن کا ایک چار پانچ سال کا ننھا ساتھی آنند سے تالیاں بجاتا، ناچتا ہوا اپنی خوشی ظاہر کر رہا ہے، ایسا ہی ایک سین میں فلمارہا تھا ناچتے ناچتے اس لڑکے کی لنگوٹی ایک طرف ہٹ گئی۔ میں کیمرے کے پاس سےچلایا، ‘ابے انتیا کے بچے، تیری تلی لیلی ہو گئی ہے۔ لنگوٹی ٹھیک کر۔”اس نےلنگوٹی ٹھیک کر لی۔ میں پھر چلایا، “ناچو، ناچو، تالیاں پیٹتے ناچنے رہو۔”میرے کہنے کے مطابق وہ پھر ناچنے لگا۔ شاٹ پورا ہو گیا۔ ہنسی کے مارے ہم سب لوگ لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔

‘گوپال کرشن’ کی ایڈیٹنگ کو میں فائنل روپ دے رہا تھا۔ اس لڑکے کی لنگوٹی ہٹ کر جو ‘تلی لیلی’ ہو گئی تھی، اس کا سین فلم میں رکھیں یا نہ رکھیں، میں کشمکش میں پڑا تھا۔ وہ زمانا ایسا تھا کہ فلم میں ننگا بچہ دکھایا تو جاتا تھا، لیکن اس کی شرم گاہ بخوبی کیمرے میں نہیں آنے دی جاتی تھی۔ اگر وہ دکھایا گیا، تولوگ فحش فحش کی چیخ وپکار مچاتے۔ اس لئے میں نے بھی اس سین کوکاٹ دیا۔ پھر سوچا کہ یہ منظرواقعی میں یہ منظر ایک دم قدرتی بہاؤ سے آیا ہے، اس میں کہیں پر کوئی بناوٹ نہیں ہے، جیسا آسانی سے ہو گیا، ویسا ہی، اتنی ہی آسانی سےفلما لیا گیا ہے۔ اسے رہنے دیا جائے، تو کیا ہرج ہے؟ میں نے اس سین کو فلم میں پھر جوڑ دیا۔

جب ہم لوگوں نے آپس میں ‘گوپال کرشن’ کا پرنٹ دیکھا، تو سب کی رائے تھی کہ اس سین کو فلم میں نہ رکھا جائے۔ دیکھنے والے ناراض ہو جا ئیں گے اور فلم کی مقبولیت پر اس کا بڑا اثرپڑےگا۔ آخر سب کی رائے کے مطابق اس سین کو نکال دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

‘گوپال کرشن’ کا پہلی ٹرائل دیکھنے کے بعد سب کو اطمینان ہو رہا تھا کہ ہم نےایک بہترین فلم تیار کی ہے۔ لیکن مجھے؟ مجھے کیا لگ رہا تھا؟ میں بھی سطحی اطمینان حاصل کر رہا تھا، لیکن گہرائی سے دیکھنے پر مجھے اس فلم میں مجھ سے ہوئیں موٹی موٹی بھولیں دکھائی دے رہی تھیں۔ میں حیران تھا کہ اتنی موٹی بھولیں شوٹنگ کےوقت میرے دھیان میں کیسے نہیں آئیں۔ ساری بھولیں ڈائریکشن کی ہی تھیں۔ میں اپنے آپ کوکوسنے لگا، قصور پانے لگا۔ اندر ہی اندر غصہ تھا۔

گھر پر تنہائی میں میرے آنسو بہہ نکلے۔ وِمل نے اس کا کارن جاننا چاہا، میں نےکہا، “میں واقعی مہامورکھ ہوں۔ ذرا زیادہ سوچتا تو آج اس ‘گوپال کرشن’ میں رہ گئی کتنی ہی معمولی غلطیاں وقت پر ٹھیک کر سکتا تھا، ان کو ٹال بھی سکتا تھا۔ اور میں اپنی سسکیوں کو روک نہیں سکا۔

بیچاری وِمل! اس کی سمجھ میں میری ایک بھی بات نہیں آ سکی۔ فلم کیا ہوتی ہے، ان میں غلطیاں ہوتی ہیں یعنی کیا ہو جاتا ہے؟ وہ غلطیاں رہ بھی گئیں تو کون ساآسمان پھٹنے والا ہے؟ یہ سب باتیں اس کی سمجھ کے پرے تھیں۔ وہ تو بس اتنا جان گئی کہ میں بےچین ہوں۔ اس نے ماں کی ممتا سے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور پتی ورتا ہے اس لیے وہ بھی روتی رہی۔

دوسرے دن میں نے اپنا درد دھائبر، فتے لال جی ، داملے کو بتایا۔ وہ تو مجھےباربار یہی سمجھاتے رہے کہ ‘گوپال کرشن’ بہت اچھی بن گئی ہے۔ پھر فلم بمبئی میں پیشکش کرنے کی تاریخ بھی طے ہو چکی تھی، صرف پندرہ دن ہی باقی تھے۔لہذا یہ طے کیا گیا کہ ‘گوپال کرشن’ جیسی ہے اسی حالت میں، غلطیوں کو سدھارےبنا ہی، بمبئی میں ریلیز کی جائے۔ پرنٹ کو بمبئی لے جانے سے پہلے میں نے انتیا کی تلیلیلی ہونے کا سین چپ چاپ اس میں جوڑ دیا۔ سوچا، پہلے شو میں تو دکھا ہی دیتے ہیں۔ لوگوں نے چھی چھا کی، تو ترنت (فورا)کاٹ دیں گے۔ممبئی کے گر گاؤں حصے میں میجیسٹک سنیما کے باہر گوپال کرشن’ کے خاص کرداروں کے چہروں کے فنکارانہ ڈھنگ سے بنے بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے تھے۔ سڑک سے جاتے آتےلوگ ان پوسٹرز کو دیکھنے کے لئے رکتے، لوگ پوسٹرز کو دیکھنے کے لئے آنے بھی لگے۔پربھات کی ‘گوپال کرشن’ فلم جمعہ کو ریلیز ہونے والی تھی۔ شو تھا دوپہر ساڑھے تین بجے کا۔ میں دو بجے سے ہی میجیسٹک تھیٹر پر پہنچ گیا۔ لگتاتھا، گھڑی کی سوئیوں نے چلنا بند کر دیا ہے۔ جیسے وقت تھم گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعدناظرین آنے لگے۔ یہاں تو دل کی دھڑکن کا برا حال ہونے لگا۔ حال آدھے سے زیادہ بھر گیا تھا۔ ہماری کمپنی کا نام نیا تھا۔ لہذا پہلے دن ناظرین کی اتنی بھیڑ جمع نہ ہونا قدرتی تھا۔آخر ساڈھے تین بجے۔ فلم چالو ہو گئی۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھنے لگی،رنگ اور رس چھننے لگے۔ ناظرین بھی جہاں انہیں کوئی بات بھا جاتی، داد دینے لگے۔ کرشن کے مکالمے کے کچھ ٹائٹلز پڑھ کر ناظرین تالیاں بجانے لگے۔ اس سے مجھے لگا کہ کرشن کو متنوع سماج کا اور کنس کو برٹش راج کے نمائندہ پینٹ کرنےمیں میرا جو بالواسطہ ارادہ تھا، ناظرین کی بھی سمجھ میں آ گیا ہے۔

اور بعد میں وہ انتیا کی ‘تلی لیلی’ ہونے کا شاٹ آیا۔ دل تھام کر میں دیکھنےلگا کہ اب ناظرین کے تاثرات کیا ہوتے ہیں ۔ اب چھی چھی تھو تھو مچے گی یا ۔۔۔ تبھی سارا تھئیٹر ناظرین کی طوفانی ہنسی سے گونج اٹھا۔ تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے بیچ ناظرین نے اس شاٹ کی بھی داد دی تھی۔ میری جان میں جان آ گئی۔ سچ بتاتا ہوں، اپنےبولڈ فیصلہ کو من ہی من میں نے کافی کو کافی سراہا۔

بعد میں جب بارش ہوتی ہے اور شری کرشن گووردھن پہاڑ کو اٹھا لیتا ہے، یہ پرسنگ دیکھتے وقت تو ناطرین جذباتی ہو گئے اور تھرتھرا اٹھے۔ آخر میں پردے پر پربھات دیوی بھیری بجا رہی ہے، یہ پربھات کا لوگو دکھائی دیتے ہی ناظرین نے پھر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی، ‘گوپال کرشن’ پر اپنی پسند کی مہر ہی جیسے لگا دی۔ تھیٹر سےباہر آتے وقت ناظرین ‘گوپال کرشن’ کے خاص منظروں، فوٹوگرافی اور خاص طور سے میری ہدایتکاری کے سٹائل کی بہت بہت تعریف کر رہے تھے، جسے سن کر ہم سب لوگ فخر سے پھولے نہیں سمائے۔ خوشی سے ہم نہال ہو گئے تھے۔

پربھات کے ڈسٹری بیوٹر دادا تورنے اور بابورائو راو تھیٹر سے باہر آئے۔ دادا نے مجھے شاباشی دی، بولے، “بھائی کیا بڑھیا تصور اور ہمت ہے آپ کی، مان گئےآپ کو!”میں نے پوچھا، کیسے تصور؟ کیسی ہمت؟” کچھ دادا خوش ہو کر بولے، “اجی، اس بچے کی ‘تلی لیلی’ ہونے کا وہ شاٹ!اتنا سہج، اتنا قدرتی اور اتنا جاندا تھا وہ شاٹ کہ اسی سے آپکی ڈائریکشن کانرالاپن صاف دکھائی دیا۔ وہ شاٹ یعنی خاص آپ کا ہی ‘ٹچ ہے!”شانتارام ٹچ!”

Categories
تبصرہ

اس چھپی ہوئی کھڑکی سے جھانکو (تجزیہ: تالیف حیدر)

آج کے شمارہ نمبر 105 میں شامل کوشلیہ کمارہ سنگھے کا ناول” اس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو “مجھے آج سے تقریباً کچھ دو یا ڈھائی ماہ قبل ملا تھا، ان دنوں یہ بات میرے معمول میں شامل ہے کہ میں آج کے گزشتہ شماروں کا مطالعہ ایک ترتیب سے کر رہا ہوں، لہذا جب اس کے دو تازہ شمارے، شمارہ نمبر 104 اور 105 مجھے حاصل ہوئے تو مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ چلو اب انہیں تاریخ بنا کر نہیں پڑھنا پڑھے گا، لہذا جوں ہی یہ شمارے ہاتھ لگے میں ان کے مطالعے میں جٹ گیا، 104 والے شمارے میں حسن بلاسیم کی کہانیوں نے متاثر کیا جن کا ترجمہ ڈاکٹرارجمند آرا نے کیا ہےاور 105 کے شمارے میں کوشلیہ کمارا سنگھے کے ناول ” اس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو” نے۔کوشلیہ کمارا سنگھے کے اس ناول کو میں نے اس دورانیے میں تقریبا ً تین مرتبہ پڑھا ہے۔ یہ ناول جو اصل میں سری لنکن سنہالا زبان میں لکھا گیا ہے۔ اس کی کہانی مجھے اپنی تہذیب سے بہت قریب اور شناسا معلوم ہوتی ہے، یقیناً یہاں میں اپنی تہذیب کے طور پر صرف اس ماحول اور معاشرے کی بات نہیں کر رہا ہوں جو میں نے بچپن سے اپنے ارد گرد دیکھا ہے، بلکہ اس تہذیب میں میرے وہ تمام مشاہدات، تجربات اور مطالعات بھی شامل ہیں جو دنیا کی مختلف تہذیبوں سے مل کر متشکل ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے کوشلیہ کایہ ناول جو غالباً میرے مطالعے کی فہرست میں پہلا سر لنکن ناول ہے، جو خاصہ جانا پہچانا محسوس ہوتا ہے۔

اس ناول کی کہانی جیسا کہ میں نے محسوس کیا اس کے کرداروں کی مختلف سیاسی، سماجی، ذاتی، اقصادی، تاریخی اور تہذیبی حالتوں میں ڈھل کر تیار ہوئی ہے۔اس میں کسی ایک شخص کی داستان زندگی یا اس کی نفسیاتی حالت کو بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ مختلف کہانیوں کے ادھورے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک مکمل کہانی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہانی کے بنیادی کردار: تیوانکا، کیشانی، اسی، اونی، ٹنیکا،کمل، پدمی، چھٹکی، داسن، رالیکا، ٹانیا،ڈیلان، سندا اور نیترا وغیرہ ہیں،جن میں بیشتر نام ہندوستانی سماعتوں کے لیے نئے ہیں۔کہا نی کا اصل کردار میری نظر میں تیوانکا ہے اورسب سے معصوم اور دلچسپ کردار اونی۔ چند روز کے واقعات پر مشتمل اس ناول میں متذکرہ بالا کرداروں کی زندگی کے مسائل و معاملات کی جھلکیا ں دکھاتے ہوئے مصنف نے بڑی مہارت سے سری لنکن تہذیب،تاریخ اور سیاست وغیرہ کی پیچیدہ گتھیوں کو سادہ اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہانی میں بیانیے کی سطح پر بہت زیادہ الجھاو کہیں نظر نہیں آتا، فکر انگیز مکالمے اور عام فہم فلسفیانہ بیانات پائے جاتے ہیں،لیکن وہ کرداروں کے حالات کو الجھاتے نہیں ہے، بلکہ پڑھنے والے سے یکسوئی کا مطالبہ کرتے ہیں،جیسا کہ عام طور پر کسی اچھی آرٹسٹک فلم میں بہت سے مناظر ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہونے کے باوجود الگ الگ ہوتے ہیں اسی طرح کوشلیہ نے بھی کہانی کی بیرونی فضا کو خط ملط کرتے ہوئے بھی اسے بہت سلیقے سے الگ الگ رکھا ہے۔ ناول کی تکنیک بظاہر الجھانے والی معلوم ہوتی ہے، لیکن ذرا غور کرو تو محسوس ہوتا ہے کہ اسے مکمل فلمی انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔

میں جب اس ناول کا مطالعہ کر رہا تھا تو مجھے بار بار ایک ہندوستانی فلم “لائف ان اَ میٹرو” یاد آ رہی تھی۔ یہ فلم بھی اسی ناول کی طرح مختلف کرداروں کی زندگی کے واقعات پر مشتمل ہے۔ مطالعے کے دوران کئی ہندستانی اور بالخصوص اردو کہانیاں بھی یاد آئیں جن کا وقتاً فوقتاً مکالموں اور منظروں سے کچھ رشتہ محسوس ہوا۔ میری دانست میں کوشلیہ کا یہ ناول ایک ایسے سوالیہ انداز بیان میں تحریر کیا گیا ہےجن سوالوں میں ایک نوع کی مثبت بے یقینی شامل ہے۔ ابتدا سے انتہا تک تین چیزیں ناول میں ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتیں پہلے یہ ہی سوالات، دوسرا تتلیوں کا استعارہ اورتیسرا ولڈ ٹریڈ سینٹر۔یقیناً ان کا ناول سے کوئی گہرا تعلق ہے جس پر ہم غور کریں تو کسی نہ کسی معنویت تک پہنچ ہی جاتے ہیں، ایک اچھی بات اس ناول کے وہ فلسفیانہ تبصرے ہیں جو مصنف نے قدم قدم پر تحریر کیے ہیں، مثلاً کیمرہ کی وہ آنکھ جو کسی نادیدہ ڈرون کی طرح کہانی میں سفر کر رہی ہے وہ جہاں جہاں جاتی ہے مصنف وہاں کے حالات اور مناظر بیان کرتے ہوئے جتنے سوال قائم کرتا ہے اتنے ہی فلسفیانہ نکتے بھی بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح مصنف کی کچھ شعوری کوششیں بھی ناول میں قاری کے لیے کچھ دلچسپ نشانات وضع کرتی چلی گئی ہیں،مثلاً ان برینڈز اور کمپنیز کے نام جو ناول کے مرکزی کرداروں کے ارد گرد پائے جاتے ہیں۔ جن میں سیم سن،سونی، ایپل، ایچ-ٹی-سی،ہیرو ہونڈا،نوکیا، کالسبرگ،مالبرو،بلیک لیبل،کوکا کولا،ماروتی، مرسڈیز،کیااور متسبشی وغیرہ شامل ہیں۔ایک خاص بات یہ ہے کہ ان برینڈز اور کمپنیز کے نام ناول میں کسی بھی غیر ضروری کردار کے ساتھ نہیں ابھرتے جن کا ناول کی اصل کہانی سے کوئی واستہ نہیں ہے،اس کی وجہ یہ محسوس ہوتی کہ موجودہ عہد میں ہم برینڈز اور کمپنیز کے ناموں سے ایک ایسی شناخت میں ڈھل جاتے ہیں جس سے ہماری سطح زندگی کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے، مصنف کو جہاں محسوس ہوا ہے کہ موبائل اور کیمرے کے ساتھ جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ یہ کس کمپنی کا ہے تو اس سے معنی کی ترسیل میں خلل واقعے ہو سکتا ہے، لہذا ایسی جگہوں پر اس نے شعوری طور پر اس کا الترام کیا ہے۔ایسے بہت سے مقامات پر اسے غیر ضروری تفصیلات بھی دینا پڑی ہیں، ساتھ ہی مصنف نے منظر نگاری اور سرپا نگاری میں بھی ان غیر ضروری تفصیلات کو روا رکھا ہے جس سے بعض اوقات ناول میں بوجھل پن کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ ناول کی تکنیک سے اس کے بعض حصوں میں ایک طرح کی تجزیاتی بے اعتدالی بھی پیدا ہوگئی ہے، جس سے مصنف کی رائے کہیں کہیں اطمینان بخش نہیں لگتی۔ مصنف نے شعوری طور پر بھی ایک دو جگہ اس تجزیاتی بے اعتدالی کا اظہار کیا ہے جس سے جذباتی کڑہن کے اثرات پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ناول کے ابتدائی حصے میں جہاں وہ اپنے مرکزی کردار کو چن رہا ہے، ایک شخص کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے اوراس کے برابر میں بیٹھی ہوئی لڑکی کےمتعلق بعض پیشن گویاں کرتا ہے اور آخر میں ان تمام باتوں کو خود رد کرتے ہوئے صورت حال کی تقلیب کر دیتا ہے۔ تکنیک کے متعلق ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی اچھی ہالی ووڈ فلم کی طرح اپنے ناول کو ایڈیٹ کرنے میں کوشاں ہو۔ مصنف کا ہالی ووڈ کی فلموں، گانوں اور انگریزی کے پوپلر لڑیچر سے گہرا تعلق محسوس ہوتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے بہت سے استعاروں اور تشبیہوں کو سنوارنے کے لیے ان سے مثالیں لاتا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ کوشلیہ نے اپنے ناول میں جتنے گانوں کا تذکرہ کیا ہے یا جن گانوں کے اقتباسات نقل کیے ہیں وہ اس کی فنی جمالیات سے بہت مشابہ نظر آتے ہیں۔ ایک طرف جہاں وہ زندگی کے سنجیدہ مسائل اور پریشانیوں سے نبرد آزما نظر آتا ہے وہی دوسری طرف لذت کے منہ زور سیلاب میں بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تیوانکا جو اس ناول کا مرکزی کردار ہے اس کی ذات میں یہ دونوں حالتیں ضم ہو جاتی ہے۔ پدمی جو ناول میں المناک حالتوں کو جذب کرنے والی پتنی دیوی ہے جو بڑی شدت سےاپنی جذباتی سوزش میں گھٹ کر اپنی بائیں چھاتی نوچ کر پورے شہر پر پھینکنا چاہتی ہے تاکہ وہ جل کر راکھ ہوجائے، تنوانکا اس کے بالمقابل اپنی بنی بنائی دنیا کو جلتا ہوا دیکھ کر تلذذ کے نئے سوتوں کا متلاشی نظر آتا ہے۔ ناول میں کہیں کہیں فضا جب بہت بوجھل ہو جاتی ہے تو دو چیزیں اس کو معتدل کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں ایک مصنف کا آڈیو اور وڈیونیریٹو ایفکٹ اور دوسرا تیوانکا کا کردار۔ مصنف یا مترجم نے ناول کے بہت سے حصوں کی زبان انگریزی رکھی ہے جس سے مکالموں میں روانی پیدا ہوتی ہے اور بناوٹی انداز شامل نہیں ہوتا، ناول کے کچھ پاسنگ کردار جو صرف ذرا دیر کے لیے ناول کی اصل کہانی کا حصہ بنتے ہیں انہیں بھی مصنف نے بڑی مہارت سے آخر تک اہمیت دیتے ہوئے کسی نہ کسی طرح شامل رکھا ہے جس کی بہترین مثال وہ بڑھیا ہے جو جنت نشان پر امن تتلیوں کا گیت گا رہی ہے۔ زبان کی سطح پر کچھ الفاظ اور تراکیب مصنف کے کم مترجم کے زیادہ محسوس ہوتے ہیں، مثلا ایک جگہ صفحہ نمبر 31 پہ مصنف نے ایک ترکیب شہادت کی انگلی کا استعمال کیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ غالباً مصنف کو اس بات کا شائد علم بھی نہ ہو کہ انسانی بدن میں ایسی کوئی انگلی بھی پائی جاتی ہے۔ ناول میں ایک جاندار کردار کیشو کا بھی ہے جو ایک برد بار اور عقل مند عورت ہے، حقیقتوں کو تسلیم کرنے والی اور سچی دوستی کی تلاش میں سرگرداں اس عورت کو ناول کا دوسرا مرکزی کردار کہا جا سکتا ہے، ایک مقام پر جہاں وہ اپنے بائے فرنڈ اسی کو یہ بتاتی ہے کہ اس نے کیسے اتنی آسانی سے کیشو کو اپنے جال میں پھنسا لیا تو ایسا لگتا ہے جیسے عورت کی زندگی کی تلخ حقیقتیں بیان کر رہی ہے۔ ناول میں کرداروں کے ذریعے جس عجیب و غریب محبت اور جلن و حسد کا مادہ دکھایا گیا ہے وہ خاصہ ہندوستانی ہے اور جہاں ہندوستانی منشیات کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ ہندوستانی کرپشن کا نقطہ عروج ہے۔ صفحہ نمبر 68 اور صفحہ نمبر 158 پر فلسفہ عشق کے دو بالکل مختلف تصورات پیش کیے گئے ہیں۔ ایک جگہ ایک مرد کی زبانی جب ڈیلان تیوانکا کو سمجھا رہا ہے کہ عشق وشق سب پرانے تصورات ہیں اور آج کل ہر کوئی صرف فیشن کے طور پر عشق کرتا ہے اور دوسری جگہ ایک عورت کا تصور عشق کہ جب ایک ٹی –وی رپوٹر اس سے محبت کے متعلق پوچھتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ سچی محبت کا مطلب ہے آنسو اور یہ کہہ کر مسکرا دیتی ہے۔مجھے مصنف کا یہ انداز اچھا لگا کہ اس نے ایک مرد اور ایک عورت دونوں کے تصور عشق کی جھلکیاں پیش کر دیں۔ ناول کے تین وقتی مگر نا قابل فراموش جذباتی کردار چنگی، جینت اور نرملی بھی ہیں جو دوستی کے فلسفے کی مثال ہیں۔ ان چند سطور میں جہاں مصنف نے ان تینوں کرداروں کا ذکر کیا ہے رقیق جذبات کی نازک رگوں پر اپنی گرفت نہایت مضبوط کر دی ہے۔ ناول میں مختلف کتابوں،مصنفوں، منشیات، اداکاروں، گانوں، دیوی دیوتاوں اور رقص کی قسموں وغیرکا تذکرہ بھی کثرت سے کیا گیا ہے، جس سے پڑھنے والے کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے، مثلاً مجھے اس ناول کے مطالعے سے پہلے یہ بات بالکل نہیں معلوم تھی کہ کوئی رقص گیگنم اسٹائل کا بھی ہوتا ہے یا فرسٹ ٹیچر نام کی بھی کوئی کتاب ہے جسے ایک کزاکستانی مصنف چنگیز اعتماتوف نے لکھا ہے، سرلنکن فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی 62 فی صد آبادی کام کرنے کے دوران بالی ووڈ کے گانے سننا پسند کرتی ہے یا آرسینک اِٹومک نمبر 33 بھی کوئی بلا ہے جو پانی میں مل جائے تو وہ پینے کے لائق نہیں رہتا۔ کسی اچھے ناول نگار کا مطالعہ اتنا ہی گہرا ہونا چاہیے تاکہ وہ دنیا کی مختلف اشیاء اور حقیقتوں سے ہمیں واقف کروا سکے۔ کوشلیہ کمارا سنگھے کے اس ناول میں مجھے داستانی عنصر بھی خاصہ نظر آیا ہے، عین ممکن ہے کہ یہ ان کی شخصیت کا حصہ ہو یا وہ کچھ ضعیف الاعتقاد ہوں یا آسمانی اور ہوائی مخلوقات پہ ان کا گہرا یقین ہو، کیوں کہ پورے ناول میں پری، بھوت، آتما، آسیب، دیو، راکشس اور آسمانی مخلوقات وغیرہ کا تذکرہ کثرت سے کیا گیا ہے۔ کوشلیہ نے اپنی بہت سی تشبہیں انہیں مخلوقات کی ہئیتوں سے وضع کی ہیں۔ مثلاً وہ ولڈ ٹریڈ سینٹر کو ایک ایسا دیو کہتے ہیں جس کی دونو ں ٹانگیں جب چاہیں شہر کو کچل دیں اور چڑیوں کی داستان میں سنہرے پروں والی پری کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے وہ کوئی حقیقی مخلوق ہو۔ چڑیوں والی پر ی اور خوبصورت جھیل کا جو واقعہ کوشلیہ نے بیان کیا ہے وہ سبع معلقہ کے امر القیس والے قصیدے کے قصے اور عصمت چغتائی کے افسانے امر بیل کی کہانی سے بہت لگا کھا تا ہے۔ ناول میں ایسی اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کو مختلف کہانیوں سے ملا یا جا سکتا ہے، لیکن میں یہاں ان کا تذکرہ نہیں کروں گا، میری دانست میں یہ ناول خواہ دنیا کے کسی ادبی فن پارے سے ملے کوشلیہ کی اپنی تخلیق ہے، کیوں کہ انہوں نے کہانی کو جس ڈھنگ سے مرتب کیا ہے اس سے ان کی تخلیقیت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک پہلو جس کا کوشلیہ کو ناول کی ابتدا سے بہت احساس ہے کہ کوئی پڑھنے والا یا سننے والا ان کے اس ناول سے کسی قدم پر بور تو نہیں ہوگا اس کا مجھے پورے ناول میں کہیں کوئی شائبہ بھی نظر نہیں آیا۔ اس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو اپنے عنوان سے قاری کے لیےجس تجسس کی فضا مرتب کرتا ہے وہ متن کے اختتام تک قائم رہتی ہے۔ چونکہ اس ناول کا کوئی حتمی اختتام نہیں اس لیے اس سے ناول کی ایک بنی بنائی شناخت کہیں مجروح نہیں ہوتی پورے ناول میں کوشلیہ نے سیکس پوزیشن کے مناظر اور پروٹیسٹ کے ماحول میں جو اعتدال قائم کیا ہے اس سے سوا دو سو صفحات کا یہ ناول کب ختم ہوجاتا ہے ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا، یہ ہی وجہہ ہے کہ میں نے اسے ایک بار نہیں بلکہ تین بار پڑھا اور ہر بار اسی لذت بیانی سے محظوظ ہوا۔

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 11

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

وقت اپنی پوری رفتار سے گزرتا جا رہا تھا، پر نہیں گزر رہا تھا تو سیاسی اُتھل پُتھل اور افرا تفری کا وہ دور جس کا آغاز بٹوارے کے اعلان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ہندو آبادی کے پلائن کی وجہ سے وہاں کا سارا نظام چِھن بِھن ہونے لگا تھا۔ روزمرہ کی ضرورت کی کئی چیزوں تک کی قلت ہونے لگی تھی۔ دکانوں پر تالے لگے تھے جن کی چابیاں اور اپنی جان بچا کر ہندو بیوپاری بھاگ نکلے تھے۔ دھیرے دھیرے ان دکانوں کے تالے ایک کے بعد ایک ٹوٹتے چلے گئے۔ کچھ دکانوں کا مال لُٹ گیا تو کچھ پر وہاں پہنچے مہاجروں نے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن چار دن بعد مشکل اسی شکل میں سامنے آ کھڑی ہو جاتی که خالی ہوتی دکانوں میں بھرنے کے لیے نئی سپلائی کا بندوبست نہ تھا۔

اُدھر سڑکوں پر جھاڑو لگانے اور گھروں کے پاخانے صاف کرنے والے صفائی کرمچاری بھی ندارد تھے۔ نتیجے میں گھروں اور سڑکوں پر گندگی اور بدبو کا عالم پھیلنے لگا تھا۔ ایک پاک اور جنّت نشاں ملک کی آس میں اپنا شہر، اپنا گھربار چھوڑ کر پہنچے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وہاں پھیلی بدحالی کا یہ عالم کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ اور جو اتنا کافی نہ تھا تو وہاں کے مقامی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے رویے نے ان کا دل توڑ دیا۔

حالات ہندوستان میں بھی بہت بہتر نہ تھے۔ ایک صاف ستھری آبادکاری کی پالیسی کے برعکس تمام سرکاری کوششیں لچر ثابت ہو رہی تھیں۔ خاص کر دہلی میں سارا بندوبست چرمرانے لگا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے نیتاؤں کی تمام کوششوں کے باوجود مار کاٹ، خون خرابے جیسی باتیں روز کا معمول سی بننے لگی تھیں۔ اور جو کوئی کسر باقی تھی تو جب تب پھیلتی بھڑکاؤ افواہوں سے پوری ہوتی جاتی تھی۔ ان افواہوں کو پختگی دینے میں دونوں ملکوں کے اخبار پوری طرح آمادہ نظر آتے تھے۔ اس کے بعد کا کام دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں نے مانو اپنے ذمے لے لیا تھا۔ ان مشکل سے مشکل تر ہوتے حالات کے لیے دونوں ملک، ہندوستان اور پاکستان، ایک دوسرے کو ذمےدار بتاتے ہوے، کھلم کھلا ایک دوسرے پر فوجی حملے کی باتیں کرنے لگے تھے۔

ہندو مہاسبھا کے سربراہ این بی کھرے جیسے نیتاؤں کے لیے تو پَوبارہ والے حالات بن گئے تھے۔ پاکستان پر حملہ کر کے اسے پھر سے ہندوستان کا حصہ بنا کر ’’اکھنڈ بھارت‘‘ قائم کرنے جیسی تقریریں آئے دن کی بات ہو گئی۔ ’’ایک دھکا اور دو/ پاکستان کو توڑ دو‘‘ جیسے نعروں کی گونج دھیرے دھیرے پورے دیش میں سنائی دینے لگی تھی۔ اُدھر پاکستان میں بھی مسلم لیگ اسی طرح کا ماحول بنائے ہوے تھی۔ آئے دن انگریزی اخباروں میں چھپنے والے فوٹوؤں اور خبروں سے معلوم ہو رہا تھا که وہاں مسلم لیگ کے رہبران بھی جنگ کا ماحول بنانے میں جٹے ہوے ہیں۔ جلسوں میں گونجنے والا نعرہ ’’ہنس کے لیا ہے پاکستان / لڑ کر لیں گے ہندوستان‘‘ ملک بھر کی دیواروں پر اتر آیا تھا۔ اسی ماحول کا فائدہ اٹھاکر این بی کھرے نے تو باقاعدہ یو این او میں پٹیشن بھی لگا دی تھی، جس میں انھوں نے پاکستان کو غیرقانونی طور پر قائم ہوا دیش بتاتے ہوے اس کی منظوری منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت میں پردھان منتری جواہر لال نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کچھ اور لوگوں کو وادی بنا کر تقسیم پر ریفرنڈم کی مانگ کی اپیل بھی کر دی تھی۔ ان کا الزام تھا که ”کچھ لوگوں نے کسی قانونی اختیار کے بغیر سازش کر کے دیش کے شہریوں کی رضامندی کے بنا بٹوارے کا فیصلہ لیا ہے، جس کا احتیار انھیں تھا ہی نہیں۔

کراچی اور دہلی کے بیچ چھڑی اس سیاسی جنگ کی آنچ سے بھوپال بھی پوری طرح بَری نہ تھا۔ حالانکہ یہاں بقایا ملک کے مقابلے میں حالات کافی بہتر تھے، پھر بھی غم اور غصے کی آنچ پوری طرح بجھی نہ تھی۔

اسی ماحول میں دادا نے ایک طرف رفیوجی پنچائت کی ذمےداری اور دوسری طرف ہندو مہاسبھا کی راج نیتی میں شامل ہوکر اپنی مصروفیت کو بےطرح بڑھا لیا تھا۔ نئی نئی شروع ہوئی وکالت کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔ نتیجے میں گھر کی مالی حالت بری طرح ڈانواڈول ہو رہی تھی۔ اسی بات کو لے کر گھر میں روز قلح مچتی۔ حالات کو قابو میں رکھنے کو دن رات کھٹتی ماں دادا کے زبانی حملوں اور تہمت طرازی کے نشانے پر رہتی۔

دادا اپنی گھریلو ذمےداریوں سے بھلے ہی بھاگ رہے ہوں لیکن سماجی ذمےداریوں کو نبھانے کے لیے انھوں نے خود کو پوری طرح کھپا رکھا تھا۔ اسی وجہ سے ان سے ملنے اور اپنے دکھ درد اور داد فریاد سنا کر مدد مانگنے والوں کی تعداد بھی لگاتار بڑھنے لگی تھی۔ صبح سویرے ہی حویلی کے بند دروازے پر سانکل کی چوٹ سے اٹھنے والی آواز باربار حویلی میں رہنے والوں کے معمول کے جیون میں خلل پیدا کرنے لگی تھی۔ اس دروازے سے ہی سٹا ہوا سب سے پہلا گھر داداجی کا تھا۔ اکثر وہی یا پھر چاچا، جو داداجی کے ساتھ ہی اوپر بنی برساتی میں رہتے تھے، جا کر دروازہ کھول دیتے تھے۔ بعض مرتبہ یوں بھی ہوتا که حویلی کا کوئی دوسرا باشندہ جا کر دروازہ کھولتا اور آنے والے کے منھ سے دادا کا نام سن کر نراشا بھری آواز میں اس کی خبر ہمیں دے جاتا۔ دھیرے دھیرے ان سارے لوگوں نے یہ مان کر که دروازہ بجانے والا دادا کے لیے ہی آیا ہو گا، دروازہ کھولنا چھوڑ دیا۔ سواے داداجی کے کوئی بھی دروازہ کھولنے نہ جاتا۔ اس بدلاؤ کے نتیجے میں کئی بار دروازے کا سانکل دیر تک پِٹتا رہتا اور ہر بار اس کی آواز آروہی سے اوروہی کی اور چڑھتی چلی جاتی۔ جب دروازہ کھلتا تو یوں بھی ہو جاتا که آیا ہوا انسان حویلی کے کسی اور گھر کا مہمان نکلتا۔ ایسے میں ان کی بات چیت اس اُلاہنے کے ساتھ شروع ہوتی: ”کلاک کھوں در پیا کھڑکایوں! گھر میں سب سمھیا پیا ہیو چھا؟’’ (ایک گھنٹے سے دروازہ پیٹ رہا ہوں۔ گھر میں سب سو رہے تھے کیا؟)

آئے دن بنتی اس حالت سے تنگ آ کر سب نے ایک اجتماعی فیصلہ لے لیا که دن کے وقت دروازہ کھلا رکھا جائے۔ یہ فیصلہ سہولت کے ساتھ ہی ساتھ حویلی کے سندھی اور گلی کے مسلم پریواروں کے بیچ ایک دوسرے کے لیے دھیرے دھیرے بڑھتی آپسی سمجھ اور بھروسے کی علامت بھی تھا۔ دھیرے دھیرے بدلتے اس رشتے پر گھر میں جب بھی بات نکلتی تو ماں کہتی، ’’امیری میں ہوڑ اور غریبی میں جوڑ۔۔۔ لالہ یاد رکھنا، غریبی کا رشتہ آستے آستے بنتا ہے۔ مگر بن جائے تو سب سے مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔‘‘

گلی کے دو چار گھروں کو چھوڑ کر باقی ہر گھر سے ایک دم صبح سویرے لگ بھگ ایک ہی وقت ادھ کھلی آنکھیں اور بند مٹھی میں اکنی یا دونّی کے سکے لیے گھروں سے لوگ باہر نکلتے تو ایک دوسرے کا سامنا ہو ہی جاتا۔ ان سب کی راہ ایک ہی ہوتی: برجیسیہ مسجد کے نزدیک مشّو میاں اور پوکرداس کی پرچون کی دکانیں اور توس والی بیکری۔ روز روز ایک راہ چلتے، ایک دوسرے کو دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی تو دھیرے دھیرے مسکراہٹ کی ادلابدلی کرنا بھی سیکھ گئے تھے۔ ساتھ ساتھ دکان کی طرف چلتے ہوے جب دکان پر پہنچ کر ان سب کی مٹھیاں کھلتیں تو سکّے بھی اکثر ایک ہی وزن کے نکلتے۔ اسی طرح آوازیں بھی ملتی جلتی سی ہی ہوتیں: ”چھوٹی پُڑیا، طوطا چھاپ اور ایک چھٹانک شکر۔‘‘ کسی کسی آواز میں یہ مانگ ایک آدھا پاؤ شکر اور دو پڑیاں بھی ہوتی، لیکن بروک بانڈ کی طوطا چھاپ چائے پتی کی مانگ لگ بھگ یکساں ہوتی تھی۔ لپٹن کی روبی ڈسٹ کی مانگ بھی سنائی دیتی، مگر ذرا کم۔

بدّو میاں اس چائے کے چسکے میں ڈوب رہے لوگوں سے بےحد خفا رہتے تھے۔ وہ بتاتے تھے که یہاں پہلے دودھ مکھن کا ہی چلن تھا۔ اسی وجہ سے سارا شہر اکھاڑوں اور پہلوانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بعد کو انگریزوں نے اپنی کمپنیوں کے منافعے کے لیے یہ ’’گندی‘‘ عادت ڈالی۔ ’’’شہر کے سارے ہاٹ بازاروں میں یہ لوگ ٹیبلیں لگا لگا کر مفت میں چا پلاتے تھے۔ آوازیں لگا لگا کے بلاتے، منتیں کر کر کے کیتے، چا پی لو میاں، چا پی لو۔ حرام کے جنے بُری تراں جھوم جاتے اور تب تلک پیچھا نی چھوڑتے جب تلک آپ چا پی نہ لو۔ سالے نہ جانے کاں کاں سے سات سات فٹے لوگ پکڑ لاتے که لوگ ان کو دیکھنے کھڑے ہو جائیں۔ آپ کھڑے ہوے نئیں که وِن نے فوراً آپ کو چا پلائی نئیں۔ ایسے ہی ایک بڑا لمب تڑنگ جوان آیا تھا جو جتّا لمبا تھا وِتنا ای چوڑا۔ اس کے پیچھے بچوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔ وہ بھی باقی سب کی تراں غائب ہو گیا۔ اور بعد کو دیکھو تو سالا فلموں میں دِکھنے لگا۔ تبھی پتا چلا که اس کا نام شیخ مختار تھا۔ قسم خدا کی، اس کی فلم دیکھنے سارا شیر پونچ جاتا تھا ٹاکیز میں۔ وہ پردے پہ آتا تو آوازیں لگتیں: چائے گریم، چائے! اور پھر ٹھہاکے لگتے۔ پردے پہ تو وہ دس دس کو اکیلا پچھیٹ پچھیٹ کے مارتا ہے۔ اب تو اتّی ہل گداگد نئیں ہوتی جتّی پیلے ہوتی تھی۔ پیلے اس سالے نے چا کی عادت ڈالی، بعد کو فلم کی۔‘‘

بدّو میاں کی بات میں دم تھا۔ سچ مچ شہر بھر میں چائے کے اشتہار ہی سب سے زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ مشو میاں کی دکان پرانی اور ذرا چھوٹی تھی جبکہ پوکرداس کی دکان اس سے کچھ بڑی۔ چھوٹی دکان پر بروک بانڈ چائے کا اینامل پینٹ والا ٹین کا چھوٹا سا بورڈ لگا تھا تو اس نئی دکان نے بروک بانڈ، لپٹن اور اصفہانی چائے کی تختیاں ٹانگ رکھی تھیں۔ ایک تختی پر لکھا ہوتا: ’’اچھی چائے جب / دل خوش میرا تب‘‘۔ بروک بانڈ والے ٹین کے پترے پر ماں بچہ چھاپ چائے، جسے کچھ لوگ عورت چھاپ چائے بھی کہتے تھے، کا اشتہار ہوتا جس پر چائے کا ایک بڑا سا پُڑا ہاتھوں میں تھامے ایک ناچتے گاتے پریوار کی تصویر ہوتی۔ اس کے نیچے انگریزی، ہندی اور اردو میں لکھا ہوتا: ’’بروک بانڈ چائے – کورا ڈسٹ۔ سب کی دلچسپی کا مرکز۔‘‘

دوسرا اشتہار زیادہ صاف ستھرا اور سیدھی بات کرتا تھا: ’’کڑک اور بڑھیا چائے کی زیادہ پیالیاں – بروک بانڈ اے ون ڈسٹ ٹی۔‘‘ اس پر طوطے کی پیٹھ پر لدا ایک طوطا چھاپ چائے کے پیکیٹ کا چتر ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے که ان دونوں بڑے پیکٹوں کے خریدار اس دکان پر کبھی کبھار ہی دِکھتے تھے۔

لپٹن کی جاکوجا اور روبی ڈسٹ چائے کا اشتہار اسے ’’ہندستان کی عمدہ اور تیز خوشبو، خوش رنگ اور کم قیمت چائے‘‘ بتاتا تھا۔ لیکن صبح کے اس وقت دکان پر آنے والوں میں سے کسی کے بھی پاس ان اشتہاروں کو پڑھ کر چائے خریدنے کا سمے نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تو اکثر افراتفری کا ماحول بنا رہتا که سب کو جلدی گھر پہنچنا ہے۔ سب کے گھروں میں پانی کا پتیلا لگ بھگ چولھے پر چڑھنے کو تیار ہوتا یا پھر چڑھ ہی چکا ہوتا تھا۔ ایسے میں جلدی ہونا لازم تھا۔ اس پر بیچ میں شمیم بیکری والے، جسے سب شمّو بھائی بلاتے تھے، کے یہاں سے توس بھی لینے ہوتے تھے۔ خاص کر ٹائی لیور توس۔ واپسی کے وقت جواں مرد تیز چال سے اور بچے لگ بھگ دوڑتے ہوے جلدی سے گھر پہنچنے کو آتُر دکھائی دیتے۔ ہم لوگ تو باقاعدہ آپس میں ریس کرتے، کھلکھلاتے اپنے اپنے گھروں تک پہنچتے۔ کچھ دوستوں کے گھر بیچ میں ہی پڑتے اور کچھ کے آگے، ہماری حویلی گلی کے بیچوں بیچ تھی۔ ہر روز یہاں پہنچ کر مجھے داداجی کو، جنھیں میں بابا کہتا تھا، دروازہ کھولنے کو آواز دینی پڑتی تھی۔ لیکن اُس دن دروازہ پہلے ہی سے کھلا تھا۔ سو بس، سب اسی دوڑ والی رفتار میں سیدھے اندر گھس گئے۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

خواب (عبدالسلام العجیلی)

[blockquote style=”3″]
عبدالسلام العجیلی 1918ء میں شام کے مقام رقّہ میں پیدا ہوے اور وہیں طبیب کے طور پر کام کرتے ہیں۔ لکھنے کے علاوہ انھوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا ہے اور کئی وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں وزیر ثقافت کا عہدہ بھی شامل ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: عبدالسلام العُجیلی (Abdel Salam al-Ujaili)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ویس نے خواب میں خود کو نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں تھی، کہ وہ تو بیداری کی حالت میں بھی باقاعدگی سے عبادت کرتا تھا اور کوئی فرض نماز اس نے قضا نہیں کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ پہلی رکعت میں وہ سورۂ نصر بالجہر پڑھ رہا ہے، جس کے ختم ہوتے ہی دہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی۔

’’صدق اللہ العلی العظیم،‘‘ اس کے منھ سے نکلا۔ وہ بستر پر اٹھ بیٹھا اور اپنی آنکھیں ملنے لگا۔ محمد ویس کو یاد نہیں تھا کہ پورے خواب میں سے صرف یہی بات کیوں اس کے ذہن میں اٹک گئی۔ صبح ہوتے ہی وہ موضعے کے بزرگ شیخ محمد سعید کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ دوپہر ہوتے ہوتے اس نے شیخ کو ڈھونڈ نکالا اور اس کو اپنا خواب سنایا۔ شیخ نے پہلے سر جھکا لیا، اس کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں اور بہت دیر غوروفکر میں ڈوبے رہنے کے بعد اس نے سوال کیا:

’’تمھیں یقین ہے کہ تم سورۂ نصر پڑھ رہے تھے؟‘‘
’’بالکل،‘‘ محمد ویس نے کہا۔ ’’پوری کی پوری پڑھی تھی۔‘‘

’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثنا کرتے ہوے اس کی تحمید کرو اور اس سے بخشش طلب کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ صدق اللہ العلی العظیم۔‘‘ شیخ محمد سعید نے کہا: ’’محمد ویس، اپنے رب کی حمد و ثنا کرو اور اس سے استغفار کی درخواست کرو۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

’’یا شیخ، میرا دل کہتا ہے یہ میرے لیے نیک شگون ہوگا۔ آپ اس خواب کی تعبیر میں کیا کہتے ہیں ؟‘‘

شیخ محمد سعید نے اپنی چوڑی اور گھنی داڑھی کو مٹھی میں تھام لیا اور انگلیوں سے بالوں میں خلال کرنے لگا۔ وہ اپنے تبحّر کو خواب کی تعبیر جیسی معمولی بات کے لیے استعمال کرنے سے ہچکچا رہا تھا۔ آخرِکار وہ بولا:
’’محمد ویس، اللہ سے توبہ استغفار کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ خواب میں خود کو یہ سورت پڑھتے ہوے دیکھنے کا مطلب ہے کہ بس، اب انجام قریب ہے۔‘‘

محمد ویس جو ویسے ہی بَولایا بَولایا سا رہتا تھا، یہ سنتے ہی سر سے پیر تک لرز گیا۔
’’کیا کہہ رہے ہیں شیخ؟‘‘

’’تمھارے روبرو یہ بات کہتے ہوے کلیجہ منھ کو آتا ہے، ‘‘شیخ بولا، ’’مگر حوصلہ رکھو، اللہ کی رحمت جلد ہی تمھارے شامل حال ہو گی۔ اور موت تو سب ہی کو آنی ہے۔ محمد ویس، کوئی شخص یہ خواب دیکھنے کے بعد چالیس دن سے زیادہ نہیں جیا۔‘‘

یہ فیصلہ سنا کر شیخ تو ظہر کی نماز کے لیے وضو کرنے چل دیا اور محمد ویس مارے دہشت کے گم سم بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا۔ اس کے پیروں میں کھڑے ہونے کی سکت بھی نہ رہی۔

خشک گلے سے وہ منمنایا، ’’چالیس دن! اللہ ہمت دے۔‘‘

جس بستی میں محمد ویس اور شیخ محمد سعید رہتے تھے، بہت مختصر سی تھی، اس لیے شام ہوتے ہوتے ہر فرد کو محمد ویس کے خواب اور شیخ محمد سعید کی تعبیر کا علم ہو گیا۔ وہ موضع ایسا تھا جہاں خوابوں کی تعبیر پر اعتبار کیا جاتا تھا، اور اگلی شام تک ہر فردوبشر کو یقین ہو چکا تھا کہ محمد ویس چالیس دن میں ختم ہو جائے گا۔ پہلے فرداً فرداً اور پھر ٹولیوں میں لوگ باگ محمد ویس کے پاس آنے لگے، جس کے باعث ان لوگوں کی خاطر جو اس کی عیادت یا پیش از مرگ تعزیت کے لیے آ رہے تھے، اس کو اپنے گھر ہی پر رہنا پڑا۔ محمد ویس کے خاندان کی عورتیں ٹوہ لینے کے لیے آتیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کا جائزہ لیتیں۔ اس کو تندرست اور توانا مگر خیالوں میں گم دیکھ کر وہ بین کرنے لگتیں اور اللہ سے فریاد کرتیں کہ موت کے فرشتے کو روک لے جو اس کو لے جانے پر تلا ہوا تھا حالانکہ وہ ابھی ہٹّاکٹّا تھا۔ گو محمد ویس کو کوئی غم یا تردّد نہیں تھا، لیکن حفظِ ما تقدم کے طور پر جو تدبیریں ہو رہی تھیں اور اس سلسلے میں جو نازک سوالات اس سے کیے جا رہے تھے انھوں نے اس کو اندوہ اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ دس دن تو اس نے جیسے تیسے معمول کے مطابق گزار لیے، گھر سے ہاٹ تک روزانہ آتا جاتا رہا، تاہم جلد ہی اس کے اعصاب بول گئے اور قوتِ برداشت جواب دے گئی۔ اب لوگوں نے دن میں بھی اس کے پاس آنا شروع کر دیا تھا، جبکہ پہلے وہ صرف شام ہی کو گھر پر ملتا تھا۔ خواب دِکھنے کے بیس دن بعد محمد ویس کے گھر کی عورتوں نے اس کا بستر جھاڑنا چھوڑ دیا کیونکہ اب وہ صبح شام اسی پر پڑا رہتا تھا۔ جب میعاد کے تیس دن نکل گئے تو تمام کھانے جو اس کو مرغوب تھے اور جو اس کے گھر والے بنا بنا کر پیش کیا کرتے تھے، اب بے چھوئے اس کی چاروں طرف رکھے رہتے۔ اس نے داڑھی چھوڑدی اور ایک سفید سا لبادہ پہنے پہنے ہر وقت عبادات میں مشغول رہنے لگا۔ اس پر ہمہ وقت رقت طاری رہتی، نہ موت کے خوف سے اور نہ زندگی کے ختم ہونے کے غم میں، بلکہ اُن سزاؤں کی ہیبت سے جو قبر سے آگے اس کے انتظار میں تھیں۔ اسے خوف اس بات کا تھا کہ اس نے کاروبار کے دوران اللہ کی بڑی جھوٹی قسمیں کھائی تھیں اور ہاٹ میں آس پاس کے دیہاتیوں کو بڑے دھوکے دیے تھے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ ان خطاؤں کو معاف نہ کرے۔ جوں جوں دن گزرتے گئے اور چالیسواں دن قریب آتا گیا، اس کے خالی پیٹ پر جمی ہوئی چربی ان پچھلے گناہوں کی توبہ استغفار میں گھلتی چلی گئی۔ اس کی بستی اور آس پاس کے بستیوں کے لوگ اب اس کے چہرے کے گرد ایک نورانی ہالے کا ذکر کرنے لگے اور ایسے پُراسرار کلمات کا چرچا ہونے لگا جو نماز پڑھتے ہوے اس کی زبان سے ادا ہوتے تھے۔ چالیس میں سے جب اڑتیس دن گزرچکے تو انتالیسویں دن مَیں وہاں پہنچا۔

آپ پوچھیں گے کہ مَیں کون؟

جس موضعے میں محمد ویس مویشیوں کا دلّال تھا اور شیخ محمد سعید ولی اللہ سمجھا جاتا تھا، میں وہاں کے اسکول میں مدرّس تھا۔ میں گرمیوں کی تعطیلات دمشق میں گزارتا تھا جہاں سے میری واپسی محمد ویس کے لیے شیخ محمد سعید کے مقرر کیے ہوے چالیس دنوں میں سے انتالیسویں دن ہوئی۔ میں محمد ویس سے بھی اسی طرح واقف ہوں جیسے بستی کے دوسرے لوگوں سے؛ تو جب اسکول کے بوڑھے چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے اس کا قصہ سنایا تو میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس کی حالت پر اپنا سر پیٹ لوں یا قہقہے لگاؤں۔ اس لیے میں عطاء اللہ کو ساتھ لے کر اس کی عیادت کرنے— یا آنے والی موت پر تعزیت کرنے— گیا۔ وہ احاطہ جو محمد ویس کے خریدے ہوے مویشیوں سے بھرا ہوتا تھا، اس وقت ان تمام لوگوں سے بھرا ہوا تھا جو اس کے قریب آتی ہوئی متوقع موت کے انتظار میں جمع ہو گئے تھے۔ ایک کونے میں مرد جمع تھے تو دوسرے گوشے میں عورتیں، اور تیسری طرف وہ بھیڑ بکریاں بندھی ہوئی تھیں جو محمد ویس کے دوست احباب اس کی زندگی ہی میں اس لیے لے آئے تھے کہ اس کی الوداعی رات کو ذبح کی جائیں۔ جس کمرے میں محمد ویس ملک الموت کا انتظار کر رہا تھا، وہاں داخل ہونے پر میں نے اسے دیکھا— ملک الموت کو نہیں، محمد ویس کو۔ وہ اپنے بستر کے ایک کونے پر ٹکا عبادت میں مشغول تھا، جبکہ دوسرے کونے میں شیخ محمد سعید بیٹھا قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا۔ جس محمد ویس کو میں جانتا تھا اس کی بالکل مختلف صورت دیکھ کر مجھے دھکا لگا۔ اس کا گول، گلگوں چہرہ اب ستواں اور پیلا ہو گیا تھا اور داڑھی نے اسے اور بھی لمبوترا بنا دیا تھا۔ اس کے ڈھیلے ڈھالے سفید لباس نے اس کے چہرے کی زردی کو اَور نمایاں کر دیا تھا۔ نماز پڑھتے ہوے وہ اپنے سجدوں کو اس امید میں طویل کر دیتا کہ موت آئے تو سجدے میں آئے۔ اِس ولی اللہ میں اور اُس محمد ویس میں زمین آسمان کا فرق تھا جس کو میں اپنی کھڑکی میں سے قسمیں کھا کھا کر یہ کہتے سنا کرتا تھا کہ اگر اس نے ابھی ابھی خریدے ہوے جانور پر تین لیرے کا گھاٹا نہ اٹھایا ہو تو سمجھو اپنی بیوی کو طلاق دی۔ میں محمد ویس سے ملنے تو اپنے شوق اور تجسس میں گیا تھا لیکن اس کی حالت میں یہ فرق دیکھ کر بھونچکا رہ گیا اور اس بات کا قائل ہو گیا کہ وہ یقیناً وقت معین پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اور جب میں نے شیخ محمد سعید کو کنکھیوں سے اپنی طرف دیکھتے ہوے پایا تو میرے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی۔

میری اس شیخ سے، جس کی فطرت سادگی، حماقت اور مکاری کا مجموعہ تھی، کافی عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی۔ میں اس کی عطائیت اور دغا سے، جن کے زور پر اس نے جاہل دیہاتیوں کے ذہنوں کو اپنے قابو میں کر رکھا تھا، ہمیشہ لڑا کرتا تھا اور وہ بھی ان کو میرے خلاف ورغلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ مجھ پر الزام لگاتا کہ میں بچوں کے ذہنوں کو ملحدانہ خیالات سے مسموم کرتا ہوں اور انھیں اللہ رسول کا باغی بناتا ہوں۔ میری مخالفت میں اس کا جوش یہ جاننے کے باوجود کم نہیں ہوتا تھا کہ میں رسول کے پرنواسے حضرت زین العابدین کی اولاد میں سے ہوں، بلکہ وہ اسی کو میری مذمت کا جواز بنا لیتا تھا۔ ’’اس شخص کو دیکھو، حضرت زین العابدین کی اولاد ہو کر کہتا پھرتا ہے کہ زمین گھومتی ہے۔‘‘ پھر وہ لوگوں سے کہتا، ’’بھلا بتاؤ، تم میں سے کسی نے کبھی اپنے گھر کے مشرقی رخ کے دروازے کو اچانک مغرب کی طرف گھومتے دیکھا؟‘‘

جیسا کہ میں نے بتایا، شیخ محمد سعید کو دیکھ کر مجھے غصہ آ گیا تھا اور میں چیخ پڑنے کو تھا کہ وہ قاتل ہے، وہ محمد ویس کے ذہن میں وہ زہر بھررہا ہے جو اس کو چالیس دن میں مار ڈالے گا۔ تاہم میں نے ضبط سے کام لیا۔ اس طرح بگڑ کر میں شیخ کے خلاف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ کی طرح اسی زمین کی گردش والی دلیل سے ثابت کر دیتا کہ کس دیہاتی نے اپنا مشرقی رخ والا دروازہ مغرب کی جانب گھومتے دیکھا ہے؛ پس ثابت ہوا کہ زمین نہیں گھومتی۔ میرے خلاف کینہ رکھنے پر اللہ اس پر رحم کرے، اور محمد ویس اگر کل صبح تک شیخ محمد سعید کے زیرِ اثر رہے تو اللہ اس پر بھی رحم کرے۔ غم اور غصے کے مارے دل پر ایک بوجھ لیے میں اسکول لوٹ آیا۔

میرے کہنے کے مطابق چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے منھ اندھیرے اٹھا دیا۔ میں اپنے ساتھ دمشق سے تین چتی دار ناشپاتیاں لایا تھا جو میں نے رات کو ہوا کے رخ پر رکھے مٹکے کے نیچے رکھ دی تھیں۔ ان میں سے ایک ناشپاتی اٹھا کر میں لپکتا ہوا محمد ویس کے گھر پہنچا۔ سواے ان بھیڑ بکریوں کے جو اپنے مالک کی موت کے نتیجے میں خود اپنی موت کی منتظر کھڑی تھیں، احاطے میں کوئی نہیں تھا۔ زنان خانہ روشن تھا اور رونے کی دھیمی دھیمی آواز آ رہی تھی۔ محمد ویس کا کمرہ بند تھا۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ وہ موت کے انتظار میں عبادت کرتے کرتے تھک کر سویا پڑا ہے۔ کئی بار میں نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، پھر دھکا دے کر دروازہ کھولتے ہوے چلّا کر کہا:

’’محمد ویس، اللہ کی حمدوثنا کرو!‘‘
وہ نیند سے چونک پڑا اور چیخا، ’’کیا ہوا؟‘‘
’’میں ہوں، استاد نا جی۔ ڈرو نہیں، محمد ویس، اور میری بات سنو۔‘‘

میں نے دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے اور بہہ بہہ کر اس کے رخساروں سے ٹپک رہے تھے اور وہ سہما ہوا گم سم بیٹھا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری بات سننے سے پہلے ہی اس کا دم نہ نکل جائے، میں نے کہا:

’’میں تمھارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ میرے جدامجد حضرت زین العابدین نے مجھے بیدار کر کے تمھارے پاس بھیجا ہے۔ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ نے مجھے حکم دیا: محمد ویس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ نے اس کو آزمائش میں ڈالا تھا اور جان لیا کہ وہ توبہ کرنے والا بندہ ہے۔ اس کو یہ پھل دینا، یہ بہشت کے میووں میں سے ہے، اور حکم دینا کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے دو رکعت نماز تمھارے ساتھ ادا کرے اور پہلی رکعت میں سورۂ نصر پڑھے۔ اللہ اس کی عمر اتنی دراز کرے گا کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی، بلکہ بچوں کے بچوں کی خوشیاں بھی دیکھے گا۔‘‘

محمد ویس نے تھوک نگلا۔ یوں دکھائی دیا جیسے میری بات پوری طرح اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ بس میرے ہاتھ میں دبی ہوئی ناشپاتی کو گھورتا رہا۔ (مجھے یقین تھا کہ بستی میں کسی نے بھی چتی دار ناشپاتی نہیں دیکھی تھی۔) میں نے ناشپاتی چھیل کر اس کو کھلائی اور بیج سمیت نگل جانے کو کہا۔ پھر میں اسے کھینچ کر کمرے کے کونے میں لے گیا۔

’’محمد ویس، سورج نکلنے سے پہلے نماز کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘
’’مگر استاد ناجی، میں وضو سے نہیں ہوں۔‘‘
مجھے یاد آیا کہ میں نے بھی وضو نہیں کیا تھا، مگر اس خوف سے کہ کہیں میرے مشورے کا اثر زائل نہ ہو جائے، میں نے سمجھایا:
’’تیمم کرلو محمد ویس، اس کی اجازت ہے۔ مارو ہاتھ زمین پر۔‘‘

محمد ویس کے ساتھ کھڑے ہو کر میں نے بھی نماز پڑھی۔ ہم نے دو رکعت نماز ادا کی اور پہلی رکعت میں اس نے سورۂ نصر پڑھی۔ پھر میں لوٹ کر اسکول آ گیا اور صبح کا انتظار کرنے لگا۔

ایک گھنٹے کے اندر اندر پوری بستی کو محمد ویس کی نئی بشارت کا علم ہو گیا۔ وہ تمام لوگ جو کل محمد ویس کے احاطے میں جمع تھے، آج اسکول کے احاطے میں جمع ہو گئے۔ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ آیا واقعی میرے جدامجد حضرت زین العابدین خود میرے پاس محمد ویس کی بریّت لے کر آئے تھے، وہ سب ایک دوسرے پر گرے پڑ رہے تھے۔ اس وقت مجھے لگا کہ آج میں نے شیخ محمد سعید پر واضح فتح حاصل کر لی، کیونکہ نہ تو محمد ویس مرا اور نہ اس کی بھیڑ بکریاں ذبح ہوئیں، بلکہ وہ سب حضرت زین العابدین کی اولاد، ولی اللہ استاد ناجی کی، یعنی میری نذر کر دی گئیں۔

مگر کیا یہ واقعی میری فتح تھی؟ سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس کا یقین نہیں۔ اس فتح کی حقیقت پر شک کا سبب یہ ہے کہ میں شیخ محمد سعید کے مقتدیوں میں سے ایک بھی کم نہ کر سکا، بلکہ الٹا میں نے ان میں ایک کا اضافہ ہی کر دیا، مدرّس کا، یعنی خود اپنا۔ اپنے جداِمجد کے ناموس کو قائم رکھنے کی خاطر، جن کے نام سے میں نے اپنا خواب گھڑا تھا، اب میں بھی شیخ محمد سعید کے پیچھے نماز پڑھنے پر مجبور ہوں، تیمم کر کے نہیں، باقاعدہ وضو کر کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والے گلی – قسط 9 (راجکمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

جس وقت غیاث الدین یہاں پہنچا تو اس وقت گھر کا داخل دروازہ اندر سے بند تھا۔ پٹھان کے ہاتھ کنڈی کھٹکھٹانے کی غرض سے یکایک اٹھے اور ویسے ہی یکایک پیچھے کی طرف بھی کھنچ گئے۔ اس نے حویلی کے بند دروازے کو نِہارنا شروع کر دیا۔ تقریباً بارہ فٹ اونچے، بےجان سلیٹی رنگ سے پُتے، بھرپور چوڑے محراب دار دروازے کے جسم پر اسے جگہ جگہ باریک لکیریں اُبھری ہوئی دکھائی دینے لگیں۔ غیاث الدین کو حیرت ہو رہی تھی که آخر یہ لکیریں اسے تب کیوں نہیں دکھائی دی تھیں جب وہ یہاں رہتا تھا؟ یا پھر ایسا ہوا ہے که یہ لکیریں اس کے گھر چھوڑ جانے کے بعد ابھری ہیں؟ اپنے جواب کی تلاش میں اس نے دروازے پر ہاتھ پھیرکر دیکھا۔ پھر وہ دروازے کی لکیروں پر نظر گڑا کر انھیں اس طرح گھورنے لگا مانو وہ کسی ہاتھ کی لکیریں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

اچانک اسے اپنی ہی اس کوشش پر ہنسی آئی اور اس نے اِدھر اُدھر دیکھ کر ہنستے ہوے ہی کنڈی کھٹکھٹا دی۔ لوہے کی مضبوط اور موٹی چولوں پر گھومتا بھاری بھرکم دروازہ، اپنی دیونما گونج کے ساتھ اتنی تیزی کے ساتھ کھلا مانو دروازے کے اُس طرف کوئی کھڑا کھڑا اس حویلی کے مالک کی اس عجیب حالت کو شیشے میں نہار رہا ہو۔

’’کہیے؟‘‘ دروازہ کھولنے والے نے پوچھا۔
’’جی آداب۔‘‘
’’آداب۔‘‘
’’معاف کیجیے، آپ شاید ہمیں نہیں جانتے۔ ہمارا نام غیاث الدین ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک اس حویلی میں ہم ہی رہتے تھے۔‘‘ اتنا کہہ کر غیاث الدین نے آخر میں دروازہ کھولنے والے سے اس کا تعارف پوچھ لیا۔ ’’معاف کیجیے، آپ کا اسم شریف جان سکتا ہوں؟‘‘

دروازہ کھولنے والے منجھلے سے قد کے، سانولے سے آدمی کے چہرے پر دروازے پر کھڑے چھ فٹ سے اوپر نکلتے قد والے اس لحیم شحیم پٹھان کا نام سنتے ہی مسکراہٹ سی پھیل گئی۔ اسے سب کچھ پتا تھا اور اسے اس گھڑی وہ سب کچھ یاد آ بھی گیا تھا۔ اس نے بےحد گرم جوشی کے ساتھ ہاتھ آگے بڑھا کر اپنے سے سوائے قد والے انسان کا ہاتھ تھام لیا اور ’’ارے آئیے آئیے، پہلوان صاحب‘‘ کہتے ہوئے خوشی سے بھرے کسی بچے کی طرح لگ بھگ کھینچتے ہوے اندر کی طرف لے چلے۔

خوشی سے لبریز یہ ’بچہ‘ کوئی اور نہیں میرے پتا تھے۔ پچھلے تین چار سال میں اس گھر کے مالک کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے کرتے وہ غیاث الدین پٹھان اور اس حویلی کا پورا شجرہ اکٹھا کر چکے تھے۔ عادت کے مطابق وہ ایسی تمام جانکاریوں اور اپنے جذبات کو ایک کاپی میں لکھ لیتے تھے۔ یہ ان کا لگ بھگ روز کا کام تھا۔

لہٰذا ان کی اسی کاپی کے مطابق یہ حویلی غیاث الدین کے پتا میجر انجام الدین نے بنوائی تھی۔ اکلوتا بیٹا ہونے کے ناتے میجر صاحب کے بعد یہ غیاث الدین کو وراثت میں ملی۔ غیاث الدین شہر کے معروف انسان تھے۔ ان کی پہچان ایک دلاور اور دلآویز شخص کے طور پر تھی۔ شہر سے کچھ فاصلے پر آباد ایک گاؤں لسانیہ خورد میں کئی ایکڑ زمین تھی۔ لگ بھگ آدھے رقبے میں خاص بھوپالی دئیڑ آم کا باغ تھا۔ باقی حصے میں گیہوں کی پیداوار تھی، جس کے لیے اسی حویلی میں انھوں نے ایک بڑا سا ہال رکھ چھوڑا تھا۔

لیکن غیاث الدین کا دل کھیتی باڑی سے زیادہ پہلوانی میں رَمتا تھا۔ سو گھر سے کچھ دور ہی کوتوالی کے پاس گپّو استاد کے اکھاڑے میں خوب ڈنڈ پیلتے تھے اور کشتیاں لڑتے تھے۔

دادا کو یہ پہلوانی والی بات خوب بھا گئی تھی۔ انھوں نے اپنے ذہن میں اس پہلوان کی ایک بڑی رومانی سی تصویر بنا لی تھی۔ اسی وجہ سے وہ شہر میں جب بھی اپنا پریچے دیتے تو یہ بتانا نہ بھولتے که وہ ’غیاث الدین پہلوان‘ کی حویلی میں رہتے ہیں۔

غیاث الدین کو لے کر دادا گھر اور آنگن کے بیچ برابری سے پھیلے فرشی والے اوٹلے پر بچھی کھٹیا پر بیٹھ گئے۔ دادا اس حویلی کے بارے میں لگاتار باتیں کیے جا رہے تھے لیکن پٹھان کی نظریں لگاتار چاروں اور گھوم گھوم کر حویلی کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس وقت نہ جانے اس کے ذہن میں کیا کیا باتیں چل رہی ہوں گی، لیکن اتنا طے تھا که وہ اس وقت اپنی حویلی کی کسی بھی چیز کو ان دیکھا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔

دادا اس بات کو تاڑ گئے۔ انھوں نے پٹھان سے سوال کیا، ’’حویلی کو دیکھ رہے ہیں؟‘‘
جواب میں پٹھان مسکرا کر رہ گیا۔
دادا نے پھر سوال کیا، ’’یہاں کی یاد آتی ہوگی۔ نہیں؟‘‘
اس بار پٹھان کے چہرے کا رنگ بدلا۔ مسکراہٹ کی جگہ درد کی ایک عجب سی لکیر آنکھوں کی کوروں کے آس پاس دکھائی دینے لگی۔

’’گھر کی یاد کسے نہیں آتی؟ ۔۔۔ اس بات کو تو آپ بھی خوب سمجھتے ہوں گے۔‘‘ اتنا کہہ کر پٹھان نے اپنا چہرہ حویلی کے کویلو کی چھت والے حصے کی طرف گھما لیا، جہاں کہیں سے کٹ کر آئی ہوئی پتنگ پڑی ہوئی تھی۔ پٹھان کھڑا ہو گیا اور اس کٹی پتنگ کو غور سے دیکھتے ہوے کہنے لگا، ’’بڑی لمبی ڈوروں کے ساتھ ہے۔ کہیں دور سے کٹ کر آئی معلوم ہوتی ہے۔‘‘

اب تک دادا بھی اٹھ کر کھڑے ہو چکے تھے اور اسی طرف دیکھ رہے تھے جدھر پٹھان دیکھ رہا تھا۔ پٹھان کی بات سنی تو دادا کے منھ سے ہنسی ہنسی میں ازخود ایک ایسی بات نکل گئی جس نے پورے ماحول کو بدل ڈالا۔
’’شاید یہ بھی کہیں سندھ سے کٹ کر آئی ہے اور اسے بھی پہلوان صاحب کی حویلی ہی پسند آئی۔‘‘

پٹھان پر اس بات کا جادو سا اثر ہوا۔ اس نے دادا کو بانہوں میں بھر لیا اور واپس کھٹیا پر بیٹھتے ہوے کہا، ’’ہم بھی تو یہاں سے کٹ کر ہی وہاں پہنچے ہیں۔‘‘
اب اس بات چیت میں ایک فلسفیانہ گمبھیرتا آ گئی تھی۔ دادا نے بھی اسی طرح کا جواب دیتے ہوے کہا، ’’پہلوان صاحب، ہمارے لیڈروں کو پینچ لڑانے کا بہت شوق ہے نا۔ اب ان کے پینچ لڑیں گے تو کٹیں گے تو ہم آپ ہی نا۔‘‘

پٹھان نے اس بھاری سے ہوتے ماحول کو بدلنے کی غرض سے ایک سوال کر لیا، ’’آپ کے علاوہ اور کون کون ہے یہاں پر؟ کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟‘‘
اس سوال کے ساتھ ہی دادا کے بھیتر بیٹھا نیتا فوراً متحرک ہو گیا۔ فوراً جواب دیا، ’’ارے پہلوان صاحب بالکل۔ آپ یہیں بیٹھیے اور ناشتہ کیجیے، میں سب کو یہیں بلا لیتا ہوں۔’’

لیکن غیاث الدین تو پوری حویلی میں چاروں طرف گھوم کر سب کچھ اپنی نظروں سے دیکھنا چاہتے تھے۔ سو انھوں نے سجھاؤ والے انداز میں کہا، ’’ارے نہیں۔ کیوں سب کو زحمت دینا۔ ہم لوگ چل کر ہی سب سے مل لیتے ہیں نا۔‘‘

اگلے ایک گھنٹے تک غیاث الدین چہرے پر ایک مستقل مسکراہٹ لیے حویلی کے کونے کونے میں گھومتا، لوگوں سے ملتا اور درودیوار کو چھو کر دیکھتا، کچھ کہتا اور کچھ نہ کہتا، چلتا رہا۔ ایک کونے میں بنی چھوٹی سی کُٹھریا خالی پڑی تھی اور اس سے لگی دیوار کا ایک حصہ گر چکا تھا، جس کی وجہ سے اس پار کوتوالی والی گلی پر بنے مکان کا پچھواڑا دکھائی دے رہا تھا۔ اس جگہ پر آ کر غیاث الدین کے چہرے کی وہ مستقل مسکان والے ہونٹ کچھ اور کھلے۔ بولے، ’’گر گئی آخر۔‘‘

دادا نے اس پہیلی کو سمجھنے کی غرض سے سوال کیا، ’’کیا پہلے سے ہی گرنے والی تھی؟‘‘
’’ہاں، گرنی تو چاہیے تھی۔ مگر ہمارے رہتے نہیں گری۔‘‘
اس سے پہلے که دادا کوئی اور سوال پوچھتے، غیاث الدین نے ہی ایک سوال پوچھ لیا، ’’آپ کو معلوم ہے وہ اُس طرف کس کا گھر ہے؟‘‘
دادا نے انکار میں سر ہلا دیا۔
’’وہ افتخار میاں کی حویلی کا پچھواڑا ہے۔‘‘
پھر ایک لمحے کی خاموشی کے بعد انھوں نے جوڑا، ’’کبھی ہمارے دوست ہوتے تھے۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ بڑی تیزی سے مڑا اور باہر جانے کے لیے قدم بڑھا دیے۔ دادا نے بہت اصرار کیا که وہ چائے ناشتے کے بنا نہیں جا سکتے، لیکن اسے جانے کی بہت جلدی سی ہو چلی تھی۔ سو بس ایک پاپڑ کھا کر اور ایک گلاس پانی پی کر باہر کی طرف مڑ گیا۔

دادا اس تیزقدم چال کے ساتھ برابری سے چلنے کی کوشش کرتے ہوے دروازے تک پہنچ گئے۔ غیاث الدین نے دادا کو گلے لگا کر ’’خدا حافظ‘‘ کہا اور پھر پوری رفتار سے آگے بڑھ گیا۔

٭٭٭

دادا جب اندر واپس پہنچے تو حویلی کے گھروں سے لوگ نکل کر آنگن میں کھڑے کھسرپسر میں لگے تھے۔ سب کے چہروں کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ حویلی میں رہنے والے سب سے آسودہ اور سب سے بزرگ ماسٹر امبومل نے اپنے گھر کے باہر نکلے ہوے کونے میں لگی کرسی پر بیٹھے بیٹھے اور ہاتھ میں اخبار تھامے تھامے دادا سے سوال کیا، ’’کیا کہتا ہے یہ میاں؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ وہ تو بس دیکھنے آیا تھا اپنی حویلی،‘‘ دادا نے جواب دیا۔

”ارے بھائی ہمت رام، تم تو نیتا آدمی ہو، اخبارنویس ہو۔ تم کو معلوم نہیں ہے که یہ مسلمان واپس لوٹ رہے ہیں اور اپنے گھر واپس لینے کے لیے تلواروں سے ہندوؤں کو کاٹ رہے ہیں۔‘‘

غیاث الدین سے ملنے کی خوشی میں ڈوبے دادا کے ذہن میں اس لمحے تک یہ خیال آیا ہی نہیں تھا۔ ماسٹرجی نے چیتایا تو ان کی چیتنا لوٹی۔ پھر بھی ان کا جواب تھا، ’’ماسٹر صاحب، وہ بڑا شریف آدمی ہے۔ وہ کوئی تلوار لے کر آیا تھا کیا؟ اور سارے مسلمان ایک جیسے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
’’یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ تم تو سب سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف تقریریں کرتے ہو!‘‘ ماسٹرجی نے ایک طنزیہ ہنسی ہنستے ہوے کہا۔

دادا کو یہ بات بڑی ناگوار گزری۔ انھوں نے پلٹ کر جواب دیا، ’’جو کہتا ہوں، سچ کہتا ہوں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں۔ کوئی تلوار لے کر آئے گا تو ہم بھی اس سے تلوار سے بات کریں گے۔ لیکن کوئی شریف آدمی گھر آئے تو کیا اسے پتھر مارنا شروع کر دیں؟‘‘

کرودھ سے بھرے اس جواب سے ایک سنّاکا سا کھنچ گیا۔ ماسٹرجی اپنی اعلیٰ حیثیت اور اپنی عمر کی بڑی پروا کرتے تھے۔ سو انھوں نے اپنے سے بہت چھوٹے ’لڑکے‘ سے الجھنے کے بجاے ہاتھ میں تھامے اخبار کو پڑھنے کی غرض سے اپنے منھ کی طرف اٹھانے کی کوشش کی ہی تھی که دادا نے ایک آخری جملہ جڑ دیا:
’’آخر وہ اس حویلی کا پرانا مالک ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔ اتنی شرافت تو ہم میں بھی ہونی چاہیے ۔۔۔‘‘
یہ کہتے کہتے دادا اپنے گھر کی طرف جانے کو مڑ گئے۔ ٹھیک اسی وقت ماسٹرجی کے گھر سے حویلی کے اکلوتے گھڑیال کے گجر کی آواز گونجنا شروع ہو گئی۔

ایک۔۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔ چار۔۔۔ پانچ۔۔۔ چھ۔۔۔ سات۔۔۔ آٹھ۔۔۔ نو۔۔۔ دس۔۔۔

٭٭٭

شہر میں سندھی شرنارتھیوں کی موجودگی کو ابھی مقامی لوگ ٹھیک سے سویکار بھی نہیں کر پائے تھے که ایک گھٹنا اور گھٹ گئی، جس کے نتیجے میں تناؤ بڑھنا طے تھا۔ بھارت سرکار کے پُنرواس وبھاگ نے اچانک ہی یہ فیصلہ لے لیا که راجستھان میں اجمیر کے پاس دیولی کیمپ میں رہنے والے بےگھر سندھی پریواروں کا تبادلہ شہر بھوپال سے کوئی 4-5 میل کے فاصلے پر آباد بیراگڑھ کیمپ میں کر دیا جائے۔

ایک بار پھر اُکھڑنے سے ناخوش لوگوں کی ناخوشی کی آواز کسی کان تک نہ پہنچی اور چند برس پہلے سندھ سے بےدخل ہوے ان پریواروں کو دوبارہ بےگھر ہو کر باہر نکلنا پڑا۔ اجمیر سے روانہ ہونے والی اس پہلی ’ریفیوجی سپیشل‘ گاڑی میں تقریباً 2300 پریواروں کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا گیا۔ بیراگڑھ کیمپ تک چلنے والی اس میٹر گیج والی ٹرین کو بول چال میں ’چھوٹی لائن‘ والی گاڑی کہا جاتا تھا۔

اجمیر کی نصیرآباد چھاؤنی والے سٹیشن پر اس دن کچھ زیادہ ہی بھیڑ تھی۔ اجمیر میں بس چکے دیولی کیمپ کے رہواسیوں کے رشتےدار ناتےدار ان بچھڑ کر دور جانے والے اپنوں کو وِداع کرنے آ پہنچے تھے۔ ایک نئے انجانے شہر اور غیریقینی مستقبل کے سفر پر نکلنے کو مجبور لوگ اپنوں سے گلے مل اس طرح روتے تھے که مانو اب تو شاید ہی کبھی ملنا ہو۔ آہ و زاری کی گونج سے بھرے، سسکتے سے ماحول کے بیچ ٹرین کا ڈرائیور اور کنڈکٹر ایک دوسرے کو بےبس نگاہوں سے دیکھتے خاموش کھڑے تھے۔ ٹرین کا مقررہ وقت گزر چکا تھا لیکن ٹرین آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی، که پسنجر تو ابھی تک پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ آخر کنڈکٹر ڈینِس بنجامن نے آ کر بڑے نرم لہجے میں آخری چیتاونی دینے کے بعد سیٹی بجا کر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا دی۔
اس بار مجبور ہو کر سب لوگ اپنے اپنے آنسوؤں کو ساتھ لے کر ٹرین کے ان چھوٹے چھوٹے، سکڑے سے ڈبوں میں سوار ہو گئے۔ ٹرین دھیرے دھیرے، لگ بھگ قدم تال والی سپیڈ سے کھسکتی، چل پڑی۔ کوئی 400 میل دور بسے بیراگڑھ کیمپ کی طرف۔

ٹرین کی روانگی کے ساتھ ہی پلیٹ فارم والا منظر ان ٹھساٹھس بھرے ڈبوں میں سوار ہو گیا تھا۔ اپریل مہینے کی گرمی سے تپے ہوے ٹرین کے کمپارٹمنٹ میں چھت کے پنکھے کم اور ہاتھ کے پںکھوں سے زیادہ راحت پانے کی ناکام کوشش ہو رہی تھی۔ اس پر چھوٹے چھوٹے بچوں کا رونا ماحول کو اور بھی رنجیدہ بنا رہا تھا۔

چھک چھک کرتی اور اسی گتی سے چلتی ٹرین کے انجن سے نکلتا دھواں اور ہوا میں اڑتی کوئلے کی ٹکڑیاں لگاتار سارے ڈبوں کے یاتریوں کے ماتم زدہ چہروں کو اور بھی ماتم زدہ بنا رہی تھیں۔ اس ٹرین میں سوار ڈیلارام ممتانی کا پریوار بھی سوار تھا۔ 70 برس کے ڈیلارام کے پریوار میں اس کے دو بیٹے، دو بہویں، ایک وِدھوا بیٹی، چار پوتے اور دو ناتنیں بھی شامل تھے۔ اداس چہروں کی اس بھیڑ کے بیچ جہاں لگ بھگ سارے چہرے ایک جیسے دکھائی دے رہے تھے، اسی جمگھٹے میں کھڑکی سے لگے بیٹھے ڈیلارام باہر کی طرف جھانکتے، آسمان کو نہارتے نہارتے بیچ بیچ میں بےوجہ ہی ہنسنے لگتے تھے۔ اس ہنسی کی وجہ سے اداس چہروں کے بیچ ایک عجب سی ہلچل مچ جاتی تھی۔ بچے حیرت سے ایک بار ڈیلارام کی طرف اور دوسری بار اداس چہروں کی طرف دیکھ کر آنکھوں کے اشارے سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہوے سے معلوم ہوتے تھے که ماجرا کیا ہے؟

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔