Categories
فکشن

سرخ شامیانہ۔ ساتویں قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راشد کا دماغ لاچارگی، دکھ، غصے اور بائیں جبڑے سے اٹھتے تیز درد نے منتشر کر رکھا تھا لیکن وہ شکستہ یادداشت کے سہارے اور لوگوں سے پوچھتا پرانے لاہور کی گلیوں میں چلتا رہا۔ جاڑے کی سردی سے لاہور کی فضا میں پھیلا گرد، دھویں اورلید کا مرکب منجمد ہو رہا تھا اور اس گھاڑی ہوا کا سانس اس کے قدم بوجھل کررہا تھا۔ موچی دروازے میں اقبال کی دکان تک پہنچتے اس نے کئی بار سوچا کہ اس حالت میں وہ شاہد کے دکھی عزیزو اقارب کے درمیان پہنچ کر ان کی پریشانی میں اضافہ کرے یا نہ کرے لیکن اس کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا۔ لاہو ر میں اس کے جو چند جاننے والے رہ گئے تھے ان سے رابطہ کئی برسوں سے معطل تھا۔

 

اقبال کی دکان بند تھی، وہ یقیناً شاہد کے جنازے کے ساتھ تھا، لیکن اب تو شاہد کو دفنائے ہوئے بھی کئی گھنٹے گزر چکے ہوں گے، راشد نے افسردگی سے سوچا۔

 

شاہد کے آبائی گھرکی گلی میں لوگ ٹولیوں میں کھڑے تھے، ایک طرف اینٹوں کے چولہے پر دیگ پک رہی تھی، گھر سے عورتوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اس نے نیم روشن گلی میں محوِگفتگو لوگوں پر نظر ڈالی، ان میں اس کا کوئی شناسا نہ تھا۔ وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو اندر سے نکلتا ایک نوجوان اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔

 

“راشد چچا، یہ آپ ہیں؟” وہ رندھی ہوئی ٓواز میں بولا”میں، میں بھیڈُو ہوں”۔

 

راشد کے حلق سے ایک بلند دھاڑ نکلی جسے وہ دن بھر ضبط کرتا رہا تھا۔ یہ ایک جانور کی دھاڑ تھی جو گلا کٹنے پر نکلتی ہے۔

 

وہ بیٹھک میں داخل ہوا تو چند لوگوں کے درمیان بیٹھا عرفان اٹھ کر اس سے لپٹ گیا۔وہ ایک دوسرے سے لپٹے سسکیوں اور ہچکیوں میں روتے رہے۔

 

“تمہارا حلیہ کیا بنا ہوا ہے؟” عرفان کو اچانک اس کے سوجھے ہوئے جبڑے کا احساس ہوا تو اس نے پوچھا۔

 

“پھر بتاؤں گا، اس حالت میں یہاں نہیں آنا چاہتا تھا لیکن میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا”، اقبال اور خاور کے استفسار پربھی اس نے یہی دُہرایا۔

 

عرفان جنازے کے وقت تک پہنچ گیا تھا، اس نے فلوریڈا ہی سے لاہور ہلٹن میں کمرہ بُک کروا لیا تھا جہاں سامان چھوڑنے کے بعد وہ یہاں آ گیا تھا۔ قبرستان زیادہ دور نہیں تھا، اس کے اصرار پر کہ راشد رستے میں تھا اور اس کا انتظارکرنا چاہیے، خاور نے کافی دیر جنازہ اٹھنے نہیں دیا تھا۔

 

“تمہیں فون کر کرکے تھک گئے، فون بند، تمہاری کوئی اطلاع نہیں، کب تک جنازہ روکے رکھتے۔ ہوا کیا ہے تمہارے ساتھ؟” خاور نے پھر پوچھا

 

“کوئی بڑی بات نہیں، خیر ہے، پھر بتاؤں گا، بس یار کا آخری دیدار بھی نہیں کرسکا۔” راشد نے تاسف سے کہا۔

 

راشد کی درخواست پر عرفان اور اقبال اس کے ساتھ قبرستان روانہ ہوئے۔ بھیڈُو نے ان کا ساتھ دینے کا ارادہ کیا لیکن خاور کے حکم پر کہ اسے پُرسہ دینے والوں کی تواضع کے لیے گھر پر رہنے کی ضرورت تھی، وہ خاموشی سے انہیں جاتے دیکھتا رہا۔

 

اقبال نے اسے بتایاکہ قاتلوں کے بارے کچھ پتہ نہیں چلا تھا، موٹرسائیکل پر دو آدمی تھے، پیچھے والے نے فائرنگ کی اور موٹر سائیکل دوڑا کر وہ غائب ہوگئے۔ پرچہ درج ہوگیاتھا اور پولیس تفتیش کررہی تھی۔ لاش انہیں پوسٹ مارٹم کے بعد مل گئی تھی۔

 

“لیکن شاہد جیسی روح سے کسے دشمنی ہوسکتی تھی؟” راشد نے پوچھا

 

“قتل ہونے کے لیے دشمنی کی یہاں کیا ضرورت رہ گئی ہے، راشد صاحب‘‘، اقبال نے کہا،”دہشت گرد کسی کا نام پتہ کب پوچھتے ہیں”۔

 

“حالات کا کچھ اندازہ تو مجھے بھی ہو گیا ہے اسلام آباد سے لاہور پہنچتے،” راشد نے کہا

 

وہ علی الصبح اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔ کسٹم کاوٗنٹر پر اس کے اکلوتے بیگ کی تلاشی میں وہسکی کی ایک چھوٹی بوتل برآمد ہوئی جو اس نے فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر اپنے حواس قابو میں کرنے کے لیے خریدی تھی اور جسے چند گھونٹ لینے کے بعد وہ اسی بد حواسی میں اپنے بیگ میں رکھ بیٹھا تھا۔

 

“شرم نہیں آتی، مسلمان ہو کر شراب پیتے ہو؟ کسٹم افسر نے بوتل برآمد کرتے ہوئے رعونت سے فرمایا۔

 

“بے خیالی میں ساتھ آگئی، حواس درست نہیں میرے”

 

“باہر سے سب ایسے ہی آتے ہیں، یہاں آکر حواس درست ہوجاتے ہیں”

 

“میرا ایک دوست قتل ہوگیا ہے، میرا دماغ ماؤف ہے اور مجھے جنازے میں پہنچنے کی جلدی ہے”۔

 

“جنازوں کو کندھا دینے ہی آتے ہیں سارے، کسی کو بچانے تو کوئی نہیں آتا”

 

“او جناب ٹھیک ہے، اب کرنا کیا ہے؟”

 

“قانونی کارروائی ہو گی، بوتل ضبط ہوگی، واپسی پر لے لینا”

 

“ٹھیک ہے آپ بوتل رکھیں اور مجھے رسید دے دیں”۔ راشد نے غصے سے کہا

 

قانونی کارروائی کے لیے رسید بک کی تلاش شروع ہوئی اور اسے گھنٹہ بھر وہاں رکنا پڑا۔ اس نے لاکھ کہا کہ اسے رسید کی ضرورت نہیں تھی، وہ یونہی بوتل ضبط کرسکتے تھے لیکن رسید کا معاملہ کسی بڑے افسر تک پہنچ گیا تھا اور اب گلوخلاصی ممکن نہیں تھی۔آخروہ بڑا افسربذاتِ خود نمودار ہو۔ “تم لوگوں کے پاس اسٹیشنری تک نہیں تو کیوں لوگوں کو تنگ کر رکھا ہے یہاں، جانے دو انہیں”۔ افسر کی گرجدار آواز گونجی۔

 

تلاشی لینے والے نے بوتل بیگ میں واپس رکھی اور بیگ بند کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا،” ایک بوتل علیحدہ رکھ لیا کریں ہم غریبوں کے لیے، لگتا ہے پہلی بار واپس آئے ہو”۔

 

ائیرپورٹ پر ہونے والے اس سلوک نے اسے اتنا بد دل کیا کہ اس نے لاہور کی فلائٹ کا پتہ کرنے کی بجائے بس میں جانے کا فیصلہ کیا، دن ابھی شروع ہوا تھا اور وہ جنازے کے وقت تک کوچ یا بس کے ذریعے لاہور پہنچ سکتا تھا۔ ٹیکسی میں کوچ سٹیشن کی طرف سفر کرتے اس کی نظر ایک جگہ کھڑی دن میں روشنیاں چمکاتی اور باجے بجاتی لاری پر پڑی جس کے ماتھے پر لاہور لکھا تھا۔ اس نے ٹیکسی رکوائی اور وہیں اس لاری میں سوار ہوگیا۔ اس نے اپنے کوفت زدہ ذہن کو ڈھیلا چھوڑنے کی کوشش کی، سفر کی تھکن اور دل کے بوجھ میں وہ جلد ہی اونگھ گیا۔ اس کی آنکھ کھُلی تو لاری دینہ کے قریب سے گزر رہی تھی، اس قرب و جوار میں اس کا آبائی گاؤں تھا جہاں وہ بچپن میں گرمیوں کی چھٹیوں میں ٓیا کرتا تھا۔
گرم دوپہروں میں پرندوں پر غلیل چلاتے کھلنڈرے لڑکے اور ایک سرد ملک میں شیشے کے کمرے میں کمپیوٹر سے سر پھوڑتے آدمی کے بیچ زمانوں کا فاصلہ تھا۔

 

اس سے ملحقہ نشست پر ایک نوجوان طالبعلم بیٹھا تھا جس کا تعلق راولپنڈی کے کسی گاؤں سے تھا اور وہ لاہور کے کسی کالج میں زیرِ تعلیم تھا۔یہ جاننے کے بعد کہ راشد یورپ سے آرہا تھا اس نوجوان کی دلچسپی صرف اس موضوع سے رہی کہ
باہر جانے کے کیا کیا طریقے ہو سکتے ہیں۔ اس کا بیان تھا کہ وہ اس ملک سے جلد از جلد نکل جانا چاہتا تھا۔
وہاں تو زیادہ تر یہ پڑھنے سننے میں آتا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت مغربی تہذیب کے خلاف ہے،” راشد نے کہا
“سب بکواس ہے جی، یہاں وہی مغربی دنیا کو گالیاں دیتے ہیں جو یہاں رہنے پر مجبور ہیں یا جن کے ہاں حلوے کی دیگیں چڑھی رہتی ہیں”، نوجوان نے تلخی سے کہا۔

 

چناب کے پُل پر سے گزرتے اسے اپنے باپ کی تلاش میں کیا سفر یاد آیا۔ کئی برس پہلے اسے ایک دور کے رشتہ دار سے اطلاع ملی تھی کہ اس کا باپ انتقال کر گیا تھا، راشد نے نہیں پوچھا تھا کہ جمیل احمد کا انتقال کب، کہاں اور کیسے ہوا اور اسے کہاں دفن کیا گیا تھا۔

 

وہ انہی خیالوں میں گُم تھا کہ اچانک لاری میں بھگدڑ سی مچی، تین نوجوان مختلف جگہوں سے اٹھے اور ان میں سے ایک نے دروازے کے ساتھ بیٹھے مسلح گارڈ کے سر پر پستول رکھ دی، دوسرے نے اس کی گن چھین لی، تیسرا راشد کے پاس ہی کھڑا چاروں طرف پستول لہرا رہاتھا۔

 

“ڈاکو، ڈاکو،”راشد کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے حلق سے پھسی پھنسی آواز نکلی۔

 

“خاموش، کیا ہے تیرے پاس، نکال،” پستول بردار نے طالبعلم کو للکارا

 

لوٹ مار شروع ہوگئی، راشد کے قدموں میں پڑا بیگ کھُلنے پر شراب کی بوتل برآمد ہوئی۔

 

“شرم نہیں آتی، شراب پیتے ہو؟ شکل سے تو مسلمان لگتے ہو”، پستول بردار نے بوتل پر قبضہ کرتے ہوئے شدید نفرت اور غصے سے راشد کے جبڑے پر پستول کا دستہ رسید کیا۔ اچانک وار اور تکلیف کی شدت سے یکلخت راشد کا دماغ ماؤف ہو گیا، اندھیرے میں چنگاریاں اُڑ رہی تھیں اور ناقابلِ فہہم آوازوں کے جھکڑ۔

 

اس کے حواس درست ہوئے تو ڈاکو مالِ غنیمت کے ساتھ لاری سے باہر نکل رہے تھے۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی ساری جیبیں خالی تھیں، نقدی، پاسپورٹ، واپسی کا ٹکٹ اور موبائل فون، سب کچھ لوٹا جا چکا تھا۔ دن کا بقیہ حصہ پولیس کی پوچھ گُچھ اور آہ وزاری میں گزرا، طویل منت سماجت اور بیگ کی کسی جیب سے نکلنے والے اس کے وزیٹنگ کارڈ کی بنا پر پولیس افسر نے اس کے کاغذات چوری ہونے کی رپورٹ درج کی۔

 

“معلوم نہیں کیسے لاری اڈے سے پیدل چلتا یہاں پہنچا ہوں، اتنا کچھ بدل چکا ہے، کوئی سڑک پہچانی نہیں جاتی”، راشد نے اپنی روداد ختم کرتے ہوئے کہا۔

 

نیم تاریکی میں ڈوبے قبرستان پہ طاری موت کے سناٹے کو ارد گرد کی سڑکوں سے آتی آوازوں نے ایک ایسے مقام میں تبدیل کردیا تھا جو زندگی اور موت کے درمیان بے ترتیبی سے بکھری مٹی کی ڈھیریوں پر مشتمل کوئی سیارہ معلوم دیتا تھا۔

 

بوڑھے اورکھردرے درختوں کے درمیان چلتے وہ شاہد کی قبر پر پہنچے۔ راشد نے قبر کے قدموں میں بیٹھ کر پھر سے ایک بچے کی طرح رونا اور بلکنا شروع کردیا۔ اقبال اس کے پاس کھڑا حوصلہ دینے کے انداز میں اس کے شانے سہلاتا رہا۔

 

عرفان پتھر کے بُت کی طرح کھڑا تھا، اس کی آنکھوں کا خلا اندھیرے میں نظر آتا تھا۔

 

“پتہ نہیں کب کے اور کس کس کے لیے آنسو جمع تھے میرے اندر، مر کے مجھے تو ہلکا کردیاتم نے”، راشد نے بالآخر طویل سانس لیتے ہوئے کہا۔

 

“شاہد کو آخر کوئی کیوں قتل کرسکتا تھا، تم تو یہاں اس کے قریب ترین تھے اقبال”؟ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے اقبال سے استفسار کیا۔

 

“میرا تو دماغ ہی بند ہو گیا ہے ڈاکٹر، “اقبال بولا،”میری دکان سے چند دکانیں آگے اس کا کلینک تھا، اس نے اگرچہ اپنی رہائش تبدیل کر لی تھی مگر ہمارا روز کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ شاہد کی بہت عزت تھی علاقے میں، کلینک مریضوں سے بھرا رہتا، لوگ اس کے لیے تحفے لے کر آتے تھے، اتنا سنجیدہ اور ماہر ڈاکٹر تھا میرا یار، کسی سے دشمنی کا تو سوال ہی نہ تھا۔”

 

وہ تینوں بہت دیر خاموش بیٹھے رہے، سوال تھے اور دکھ، جواب کہیں نہ تھا، قرار کہیں نہ تھا۔

 

ایک مریل سا کتا خاموشی سے ان کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ نیم اندھیرے میں ایک آدمی نمودار ہوا، موسم گو ابھی سرد نہ ہوا تھا لیکن اس نے خود کو پوری طرح چادر میں لپیٹ رکھا تھا، صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ ان کے بالکل قریب پہنچ کر اس نے چہرے سے چادر ہٹائی، یہ غلیظ بالوں کی لٹوں اور پچکے گالوں پر بے طرح الجھی داڑھی میں چھپا چہرہ تھا، اس کی آنکھوں میں بیک وقت کرب اور دیوانگی کی چمک تھی۔

 

“توفیق؟” اچانک راشد کے منہ سے نکلا

 

“اس حلیے میں بھی پہچانا جاتا ہوں”، توفیق نے ایک کھوکھلی، دور سے آتی آواز میں کہا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ-پہلی قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راشدنے کمپیوٹر بند کرکے طویل سانس لی اور کھڑکی کے پاس آ کھڑا ہوا۔ فرینکفرٹ کی بلند و بالا عمارتیں اور سڑکیں سردیوں کے تیز قدم اندھیرے میں جگمگا رہی تھیں۔ ٹریفک کے شور کو شیشے کی دبیز دیوار نے روک رکھا تھا، بہت دور نیچے کھلونوں کی طرح قطار در قطار بھاگتی خاموش گاڑیوں پہ ایک غیر حقییقی منظر کا گماں ہوتا تھا۔

 

ؔ “ایک غیرحقیقت سے دوسری اور تیسری میں”، وہ کھڑکی سے جھانکتے ہوئے بڑبڑایا۔ اس کا جی چاہا عینک اتار کر باہر پھینکے اور اسے خاموشی سے اس خاموش منظر میں گرتا دیکھے لیکن کھڑکی کے فریم میں شیشے کی دیوار تھی جسے کھولنا ناممکن تھا اور عینک کی اسے ابھی ضرورت تھی۔باہر دیکھتے دیکھتے یکایک اس کے اندر کا شور بڑھنے لگا۔

 

روزانہ کی طرح کچھ لوگ اپنے دن کو ٹھکانے لگا کر جا چکے تھے، کچھ ابھی اپنے اپنے کمپیوٹر سے الجھے ہوئے تھے۔ اکا دُکا لوگوں سے الوداعی نعرہ کے تبادلے کے بعد وہ دفتر سے نکلا۔ شیشے کی بے آواز لفٹ سے باہر کی خاموش دنیا بتدریج بلند ہوتی گئی۔باہر سڑک پر یکلخت ٹریفک اور سرد ہوا کے بے ہنگم شور نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ راشد نے مفلر ناک کے گرد لپیٹا، ٹوپی کانوں سے نیچے کھینچی اور انڈرگراؤنڈ سٹیشن کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔
سٹیشن کی سرنگ میں دن کے محاذ سے زخمی اور شکستہ لوٹتے جسم دیواروں سے ٹیک لگائے ہانپ رہے تھے یا انتظار کی بے چینی میں اپنے ہی گرد چکرا رہے تھے۔ بیچوں بیچ رات کے معرکوں کے لیے بنے ٹھنے جسم اپنی خوشبو لٹا رہے تھے۔ ایک نوجوان جوڑا ان سب سے بے پرواہ، بوس و کنار میں مگن تھا۔ ٹرین کے اندر بھی معمول کا منظر تھا، دو بے گھر شرابی بیئر کی بوتلیں پکڑے کسی شدید بحث میں مبتلا تھے۔ ایک بوڑھی عورت نوجوان گدھے کی جسامت کے کتے سے باتیں کر رہی تھی،ان کے علاوہ سب کندھوں اور سروں کے بیچ کی خالی جگہوں پر نظر جمائے خاموش بیٹھے تھے۔

 

فلیٹ کا دروازہ کھولتے ہی اس کا چار سالہ بیٹا راحیل بھاگتا ہوا آیا اور اسکی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔ راشد نے اسے اٹھا کر گلے سے لگایا اور محبت سے گال پر بوسہ دیا۔ راحیل اسے بلا وقفہ دن بھر کی کارگزاریاں سنا رہا تھا۔ باورچی خانہ سے برتنوں کا مدھم شور آ رہا تھا۔ راشد نے گہری سانس لی اور اندر کے شور کو طمانیت کی ایک ہلکی لہر کی نظر ہوتے محسوس کیا۔ وہ اوور کوٹ اور ٹوپی سٹینڈ پر لٹکا رہا تھا کہ اس کی بیوی کلاڈیا آ کر اس سے لپٹ گئی۔ وہ اس سے اس کے دن کے بارے پوچھ رہی تھی۔

 

“حسبِ معمول، کوئی نئی بات نہیں ہوئی”، اس نے جواب دیا،”اسی فیصد پروگرامنگ ہوگئی ہے، باقی بھی ہو جائے گی۔ مارٹن نے پھر میرے خلاف کوئی شوشہ چھوڑا تھا، میں نے نوٹس نہیں لیا۔”

 

“تمہیں اس سے صاف صاف بات کرنی چاہیے، وہ تمہارا کیا بگاڑ سکتا ہے،”کلاڈیا نے مشورہ دیا

 

“جب بگاڑ ہی کچھ نہیں سکتا تو اس سے کیا بات کروں؟”

 

“لیکن دوسروں کی رائے تو تمہارے بارے میں خراب کرتا رہتا ہے۔”
“چھوڑو،کیا فرق پڑتا ہے”

 

“اور اس کے ساتھ ہی آج کی باتوں کا کوٹہ ختم، ہے نا؟ کیا ہوتا جا رہا ہے تمہیں، پچھلے چند مہینوں میں تم اتنے چڑچڑے اور چُپ سے ہوگئے ہو”۔

 

“پتہ نہیں، پتہ چلا تو تمہیں بھی بتا دوں گا”

 

کھانے کے دوران وہ خاموش رہے، راحیل کی معصوم باتوں پر وہ ہوں ہاں کرتا رہا، کلاڈیا نے کوئی بات نہ کی۔ رات بستر میں وہ خاموشی سے برابر برابر لیٹے رہے۔

 

“اتنے برسوں سے تم پاکستان نہیں گئے، اپنے لوگوں سے کٹنے کی تنہائی ہے جو تمہیں چڑچڑا کر رہی ہے، اور راحیل کے لیے بھی ضروری ہے تمہارا آبائی شہر دیکھنا، تمہارے رشتہ داروں سے ملنا، کیوں نہ ہم کرسمس کی چھُٹیوں میں پاکستان ہو آئیں؟”

 

راشد جواب دیے بغیر سیدھا لیٹا، اندھیرے میں چھت کو گھورتا رہا۔ کلاڈیا اپنی کروٹ مُڑ کر سوگئی۔ راشد جاگتا رہا۔ بہت دیر تک لیٹے لیٹے تھکنے کے بعد وہ اٹھا، باورچی خانے میں آ کر اس نے فریج سے بیئر کی بوتل نکالی اور کھڑکی کی سل پر کہنیاں جمائے اندھیرے میں کھڑا رہا۔ اندھیرے میں دانیٗلا کا چہرہ چمک رہا تھا، مدھم سرخ روشنی میں اس کا مہین کپڑوں میں ملبوس بدن ایک ایسے رقص کے زاویے بنا رہا تھا جو راشد نے اپنی بے مہار زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

وہ ساحل کی گیلی ریت پہ پاؤں جمائے بحیرہٗ روم کے گہرے نیلے پانیوں میں ڈوبتے سورج کی سُرخی گھُلتے دیکھ رہا تھا۔

 

سمندر کی موجیں اس کے پیروں سے لپٹ کر ٹوٹ رہی تھیں اور اس کے دل میں پھیلی اکتاہٹ اور یکسانیت کی دلدل میں اضطراب کروٹیں لے رہا تھا۔

 

میں جو تُند ندی کی طرح تھا، ایک بدبودار جوہڑ بنتا جا رہا ہوں، جامد اور یکساں۔ اب مجھ پر صرف کائی کی تہیں جم سکتی ہیں۔ اس نے استہزائی کرب سے سوچا۔

 

پچھلے ایک ہفتے سے وہ اٹلی کے اس چھوٹے سے ساحلی قصبے میں مقیم تھے۔ کلاڈیا کے اصرار پر وہ گرمیوں کے کچھ دن گزارنے توزکانا کی سیر کرتے لیوانتو پہنچے تھے۔ ہوٹل کے پُر تکلف ناشتے سے فارغ ہوتے ہی کلاڈیا دن بھر کے لیے کھانے کا سامان، سن کریم اور کتابیں، رسالے ٹوکری میں بھرتی تھی، راشد راحیل اور اس کا کھلونوں سے بھرا تھیلا کندھے پر اٹھاتا اور وہ ساحل کا رُخ کرتے۔ دن بھر وہ انواع و اقسام کے جسموں کے بیچ ڈھیلے ڈھالے پڑے رہتے۔
کلاڈیا تیرتے ہوئے سمندر میں دور تک نکل جاتی، راشد اگرچہ بخوبی تیر لیتا تھا لیکن ایک کسالت اور اکتاہٹ جو اس کے وجود میں جمتی جارہی تھی، سمندر کی موجیں اور شفاف دھوپ کی کرنیں اسے بہا لے جانے میں کامیاب نہ ہوئی تھیں۔ یہ روزمرہ کی یکسانیت تھی، وہی الارم، برسوں سے اس کے بجنے کا وہی مخصوص وقت، وہی ناشتے کی میز، سڑک، ٹرین، دفتر، کرسی، کمپیوٹر، ایک آدھ تبدیلی کے علاوہ وہی رفقائے کار، ان کے تہذیب کے پاؤ ڈر تلے دبے چہروں پر رشک اور حسد کے وہی جال۔ افسر کے لہجے کی تلخی اور عینک کے عدسوں کی موٹائی کے علاوہ ہر شئے ایک ابدی جمود میں تھی۔ اس کے جو دو تین پاکستانی واقف کار تھے، ان کی گفتگو وطنِ عزیز کی یاد میں آہیں بھرنے، رشتے داروں اورغیر حاضر دوستوں کی غیبت کرنے اور جرمن فلاحی نظام کو حتی المقدور لوٹنے کی تراکیب سوچنے تک محدود تھی۔ ان موضوعات سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ طرحدار یورپی لڑکیاں جن کے بیچ اس کی ڈگمگاتی شامیں گزرتی تھیں اس کی شادی کے بعد ایک ایک کرکے منظر سے غائب ہو چکی تھیں۔ رات بھر جھیل پر آگ جلائے برہنہ رقص کرنے والے سوٹ اور ٹائی میں بندھے اپنی اپنی چمکتی دیواروں میں قید ہو چکے تھے۔ کوئی کسی شہر، کوئی کسی دیس۔ دن رات کا یکساں تسلسل بچا تھا جو چکی کے دو پاٹوں کی طرح اس کا جوہر اور گھُن ایک کر رہا تھا۔ کلاڈیا سے محبت کا اولیں بلا خیز دور بیاہی زندگی کی پھُسپھسہاٹ میں ڈھل رہا تھا،ایک راحیل تھا جسے دن بدن نئے لفظ سیکھتے اور نئے دانت نکالتے وہ دیکھ سکتا تھا۔

 

وہ راحیل پر نظر رکھنے کے بہانے کچھ دیر ساحل کے قریب ہی تیرتا، پھر آکر ریت کے بورے کی طرح خود کو ریت پر گرا دیتا۔ راحیل کبھی کبھی کھیلتے بھاگتے نظروں سے اوجھل ہو جاتا، پھر وہ اسے سن کریم سے چُپڑے جسموں،ادھر اُدھر لڑھکے پستانوں اور بیئر سے پھولے شکموں کو پھلانگتا ڈھونڈ لاتا۔

 

کلاڈیا نے اس دن سر میں درد کی شکائت کی اور دن ڈھلنے سے پیشتر ہی راحیل کے کھلونے سمیٹتے ہوئے ہوٹل واپسی کا قصد کیا۔ راشد نے کہا کہ وہ کچھ دیر تنہا وہیں رہنا چاہتا تھا۔ کلاڈیا نے اس سے ساتھ چلنے کی ضد نہ کی، اس نے کہا کہ وہ کچھ دیر سونا چاہتی تھی۔ ان کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر اسی طرح بے حس وحرکت پڑا رہا، پھر وہ اٹھا اور ساحل پر ادھر اُدھر پھرتا رہا۔ سال بھر اپنی اپنی مشقت میں مبتلا رہنے کے بعد گرمیوں کے چند دنوں میں اپنی جمع پونجی لٹانے والے ساحل پر آڑے ترچھے پڑے تھے، سمندر میں نہا رہے تھے، ایک موٹا بوڑھا اور اس کا بیحد چھوٹا کتا ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے، چند نوجوان لڑکیاں لڑکے ایک دوسرے کو اٹھا کر سمندر میں پھینک رہے تھے، ان کے لاپرواہ توانا قہقہے سمندر کی موجوں پر اچھل رہے تھے۔ پھرتا پھراتا وہ ساحل کی نم ریت پر پنجے گاڑ کر کھڑا ہو گیا اور سورج کو آہستہ آہستہ سمندر میں ڈوبتے دیکھتا رہا۔

 

ہوٹل واپس جانے کو اس کا جی نہ چاہا، اس نے ساحل پر غسل کرنے کے بعد قصبے کی راہ لی۔ گلیاں شام کی روشنیوں میں جگمگا اٹھی تھیں، تھڑوں پہ لگی میزوں پر گلاس اور چمچے، کانٹے سلیقے سے سجے تھے۔ دن بھر ریت اور نمک میں لتھڑے رہنے والے بدن تازہ دم ہو کر اپنے بہترین لباسوں میں شام کے کھانے کے لیے گلیوں میں نمودار ہو رہے تھے۔ سوچوں میں گم وہ کچھ دیرگلیوں میں پھرتا رہا، پھر وہ ایک شرابخانے میں داخل ہوا اور بیئر کا گلاس سامنے رکھ کر،ماحول سے لاتعلق بیٹھا رہا۔

 

“میرا خیال ہے یہ کرسی خالی ہے”، کسی نے کھنکتی آواز اور اطالوی لہجے کی انگریزی میں اسے مخاطب کیا۔ یہ ایک جوان عورت تھی جو اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کرسی کھینچ کر بیٹھ چکی تھی۔ وہ عمر میں اس سے چند سال چھوٹی رہی ہوگی اور زندگی کی توانائی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی، سنہرے بالوں کے بیچ اس کے چہرے پر ایسی دمک تھی کہ ایک لمحے کے لیے راشد کے حلق سے کوئی آواز نہ نکلی۔

 

“میں نے تمہیں ساحل پر دیکھا تھا، ڈوبتے سورج کے مقابل اپنے آپ میں ڈوبے ہوئے، میرا نام دانیئلا ہے”، اس نے کھنکتی ہنسی کے ساتھ راشد کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ راشد جو بوکھلاہٹ کے اولیں لمحے سے نکل چکا تھا، اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے ہنسا۔ “ایسی ملاقات کی مجھے کوئی توقع نہیں تھی،تم نے تو اچانک میری بے رنگ شام میں فانوس جلا دیے، میرا نام راشد ہے”۔

 

دانیئلا نے اسے بتایا کہ لیوانتو میں اس کے والدین کا گھر تھا، وہ اسی قصبے میں پلی بڑھی تھی۔اب وہ فلورنس میں رہتی تھی اور چھٹیوں میں چند دنوں کے لیئے والدین سے ملنے آئی ہوئی تھی۔ راشد کے دل میں ایک لمحے کے لیے خیال آیا کہ اسے نہ بتائے کہ وہ مکمل شادی شدہ اور بال بچے دار آدمی تھا، دانیئلا کی دلچسپی شاید یہ جان کر ختم ہو جاتی اور وہ اپنی بوریت کی دلدل میں ہاتھ پیر مارتا اکیلا رہ جاتا۔ لیکن اس نے اس خیال پر لعنت بھیجی۔ اس نے دانیئلا کو اپنے اس سفر کے بارے بتایا، راحیل اور کلاڈیا کے بارے، اور یہ کہ وہ اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔دانیئیلا کو اس کے کوائف سے آگاہ ہو کر کسی قسم کی مایوسی ہوئی تو اس نے اس کا اظہار نہیں کیا، لیوانتو، فلورنس اور فرینکفرٹ کی باتیں کرتے انہوں نے سکاچ وہسکی کا آرڈر دیا۔ یہ تجویز دانیئلا کی تھی، اس نے کہا کہ وہ کبھی کبھار ہی وہسکی پیتی تھی اور آج کی شام اس کے لیئے ایسی ہی تھی۔ دوسرا پیگ ختم کرتے ہوئے راشد کی نظرنے دانیئلا کے سراپا سے ہٹنے سے انکار کردیا، اس کے تاب دار چہرے، شفاف گلے اور سرخ بلاؤز سے جھانکتے مدور ابھاروں نے اسے حسن و مستی کے اس ماحول کی یاد دلائی جسے وہ کلاڈیا کا ہاتھ تھامنے کے بعد خیرباد کہہ چکا تھا۔ اس نے سنا، دانیئلا کچھ کہہ رہی تھی،”مجھے مشرقی مرد پسند ہیں، ان میں ایک خاص طرح کا اسرار ہوتا ہے جو یورپی مردوں میں نہیں، یورپی مرد اکہرے، بے رنگ اور پھُپھسے ہیں”۔

 

اوہ، نہیں، پلیز یہ پراسرا رمشرق کا ریکٹ مت چلانا، اس کلیشے کی دھجیاں اُڑے تو زمانہ ہوگیا، راشد نے کچھ کوفت سے سوچا۔

 

“کلیشے؟”، دانیئلا نے جیسے اس کی سوچ کو پڑھ لیا تھا، “میں ایک خودمختار عورت ہوں اور اپنے لیئے مرد بھی خود منتخب کرتی ہوں اور میری زندگی میں ان کی کمی نہیں رہی۔ مشرقی مردوں کے بارے یہ بات میں نے اپنے تجربے سے کہی ہے، کسی گھٹیا رومانی ناول سے استفادہ نہیں کیا”۔

 

“یہ صرف ایشیائی معاشرے اور تربیت کا اثر ہے، کبھی کھُل کر دل کی بات نہ کہنا، دوغلے، چوغلے لوگ جو بظاہر پراسرار لگتے ہیں۔”راشد نے خشک لہجے میں کہا۔

 

“میں کئی جگہیں اور زمانے پھر چکی ہوں، ہمپی کی چٹانوں کے بیچ، اجنتا کے غاروں میں اور سارناتھ کے مندروں میں گھومتی رہی ہوں اور صدیوں کے اسرار میرے اندر سرائیت کرتے رہے ہیں۔ میں نے دریائے سندھ کے ساتھ سفر کیا ہے، موہنجو داڑو اور ہڑپہ میں تنِ تنہاراتیں گزاری ہیں، میں آئس کریم چاٹتی اطالوی لڑکی نہیں ہوں جس کے دماغ میں نئے فیشن کے علاوہ کوئی بات کم ہی بیٹھتی ہے”۔
راشد کی ریڑھ میں ایک سرد لہر سی پھیلی۔”تم کون ہو؟ اور میرے متروک ماضی سے نکل کر اچانک کیسے میرے سامنے آ بیٹھی ہو؟”

 

“میرے ساتھ چلو گے، اسرار دیکھو گے؟”دانیئلا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ راشد نے ایک ہی گھونٹ میں وہسکی کا گلاس خالی کیا اور جیب سے موبائل فون نکال کر کلاڈیا کا نمبر دبایا، جواب کلاڈیا کی آنسر مشین نے دیا۔ راشد نے اس کے لیئے پیغام چھوڑا کہ وہ ایک پب میں تھا اور اسے واپس آنے میں دیر ہوجائے گی۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ لگے پرانے قصبے کی ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں چلتے رہے، دانیئلاکی کھنکتی، لاپرواہ ہنسی اور اس کے وجود سے اٹھتی توانا مہک نے راشد کے دل و دماغ کو اُتھل پتھل کر رکھا تھا، برسوں کی تہ بہ تہ جمتی اکتاہٹ میں دراڑیں پڑ رہی تھیں۔ دانیئلا ایک پرانی وضع کے تین منزلہ مکان کے دروازے پر رکی۔ دیواروں پر پھولوں سے لدی بیلیں پھیلی تھیں، بالکونیوں میں تازہ رنگ کئے سرخ گملوں میں موسم کے تازہ پھول کھلے تھے۔ مکان کی ساری کھڑکیاں تاریک تھیں۔

 

داینیئلا نے دروازہ کھولتے ہوئے اسے بتایا کہ اس کے والدین شام کے کھانے پر ایک عزیز کے گھر مدعو تھے، اسے وہ رشتہ دار پسند نہیں تھے اور اس نے والدین کی ہمراہی کرنے سے معذرت کرلی تھی۔ دالان میں روشنی پھیلی تو راشد کو پرانے لاہور میں اپنا آبائی گھر یاد آگیا۔ یہ ویسا ہی صحن تھا، سرخ اینٹوں کا فرش، دو اطراف برآمدے، ان کے پیچھے کمرے۔ ہر طرف پھولوں سے بھرے گملے۔ کھلی سیڑھیوں پر لوہے کا جنگلا اور اس سے لپٹی بیلیں۔ پھر اسے رات کی رانی کی مہک آئی۔ وہ بحیرہ روم کے ساحلی قصبوں میں دھوم مچاتی رات کی رانی کی مہک سے واقف تھا لیکن آشنائی اور اجنبیت کے اس ملے جُلے ماحول میں اس خوشبو نے اسے بیک وقت اداس، مضطرب اور شاداب کردیا۔ دانیئلا کے پیچھے سیڑھیاں چڑھتا وہ اس کے کمرے میں داخل ہوا۔

 

یہ ایک لمبا سٹوڈیو نما کمرہ تھا، دیواروں کے ساتھ کتابوں کی بلند الماریاں، چھت کے بیچ لٹکتا قدیم وضع کا فانوس، جگہ جگہ وینس، زیوس، کالی، شیو، عشتروت اور ایسے قدیم دیوی دیوتاؤں کے مجسمے تھے جن سے وہ قطعی ناواقف تھا۔ تین چھوٹے چھوٹے فوارے جن میں گرتا پانی دھیما جلترنگ بجا رہا تھا، کھڑکی کے پاس سرخ ریشم کی چادر سے ڈھکا بستر جس کے سرہانے سرسوتی کا مجسمہ ایستادہ تھا۔ ایک کونے میں دراز قد پودوں اور لکڑی کی منقش جالیدار دیوار سے مختصر سی پارٹیشن کی گئی تھی، کھڑکی سے آتی رات کی رانی کی مہک کمرے میں پھیلی تھی۔راشد لکڑی کے چمکتے فرش پر منہ کھولے کھڑا تھا۔ اس نے اپنے شانے پر دانیئلا کے ہاتھ کا دباؤ محسوس کیا اور اس کے اشارے پر چلتا سامنے کی دیوار کے ساتھ بچھے بید کے صوفے پر بیٹھ گیا۔

 

“میرے آشناؤں میں ایسے یورپی لوگ رہے ہیں جنہیں قدیم ہندوستانی تہذیب سے لگاؤ تھا، لیکن ایسا نفیس ذوق میں نے کبھی نہیں دیکھا۔”اس نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔

 

“اس کمرے میں میرا بچپن اور نوجوانی کا زمانہ گزرا ہے، یہ میرا مستقل ٹھکانہ ہے، اپنی سیاحت کے دوران اکٹھی کی ہوئی چیزیں میں یہاں جمع کرتی رہتی ہوں۔”دانیئلا نے ایک چھوٹے سے فریج سے اسکاچ کی بوتل نکالتے ہوئے اسے مطلع کیا۔ “اور فلورنس؟ وہاں بھی تم ایسے ہی رہتی ہو؟”“نہیں، وہ میرا عارضی پڑاؤ ہے”۔ دانیئلا نے گلاسوں میں وہسکی انڈھیلتے اسے بتایا کہ فلورنس میں وہ ایک مرد اور ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ ایک مختصر سے فلیٹ میں رہتی تھی جہاں اس کے پاس ایک کمرہ تھا جس میں مختلف قسم کا الم غلم کئی برسوں سے گتے کے ڈبوں سے نکلنے کا منتظر تھا۔ اسے کام اور سیاحت سے فرصت ملتی تو یہاں آجاتی تھی۔ یہ اس کی بالکل اپنی، ذاتی دنیا تھی۔

 

باتیں کرتے وہ اٹھی اور ایک سی ڈی منتخب کرکے پلئیر میں ڈالی، کمرے میں ایک عجیب سی موسیقی پھیل گئی، تانپورہ، ستار، چیلو، ڈیچر ی ڈُو اور افریقی ڈھول کے ملاپ نے مدھم روشنی میں ڈوبے اس کمرے کو اٹلی کے ساحل سے اٹھا کر کسی انجانے کرے پر پنہچا دیا جہاں انسان کا قدم نیا نیا پڑا تھا۔

 

دانیئلا اسے انتظار کرنے کا اشارہ کرکے لکڑی کی جالی کے پیچھے چلی گئی، یہ یقینا اس کی تبدیلیِ لباس کی جگہ تھی۔ راشد نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے اپنے دماغ کو ڈھیلاچھوڑنے کی کوشش کی، جنگلوں کی یاد دلاتی موسیقی نے اسے آہستہ آہستہ اپنے جادو میں گھیر لیا۔

 

“میرے ساتھ رقص کرو گے؟”اس نے دیکھا دانیئلا ایک ادا سے اس کی طرف ہاتھ بڑھائے کھڑی تھی۔ وہ آتشیں سرخ رنگ کے ایک مہین، لہریے دار لبادے میں ملبوس تھی۔

 

“نہیں، میں اپنے بے ڈھنگے پن سے اس لمحے کا حُسن برباد نہیں کرنا چاہتا”۔

 

دانیئلا کھلکھلا کر ہنسی اور کمرے کے وسط میں آکر ہلکے ہلکے جھولنے لگی۔ راشد نے وہسکی کا ایک لمبا گھونٹ لیا۔ چند گھنٹے پہلے تک وقت اس کے سینے پرگیلی ریت کی بوری کی طرح پڑا تھا اور اب راشد کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ لمحہ، لمحہ جگنو بن گیا ہے یا خوشبو۔

 

موسیقی میں جلال آتا گیا اور دانیئلا کے رقص میں وحشت اور جمال، سنگی دیوتاؤں کے اس ماحول میں وہ داسی نہیں، ایک محوِ رقص دیوی تھی جو جھومتی، لہریں لیتی، رنگ و روشنی کی کائنات میں سرمستی کے نئے جہان جنم دے رہی تھی۔ اس کا قوس در قوس بدن ہیجان، سرخوشی، تناسب اور بکھراؤ کے سب اسرار اپنے جلو میں لیئے راشد کی دنیا تہہ و بالا کررہا تھا۔

 

اس رقص میں تراشے ہوئے بدن کی لوَ تھی اور روح کی تازگی، مسرت تھی، اتھاہ کرب تھا، طلب کی دیوانگی تھی، خودسپردگی تھی اور پُرغرور بغاوت تھی۔ وہ بہت دیر تک سانس روکے اسے ایک ٹُک دیکھتا رہا، وہ ایک الوہی حسن کے روبرو تھا جس پر وہ نظر جما سکتا تھا نہ ہٹا سکتا تھا۔اس کے دل، دماغ، بدن اور روح میں کوئی دوری نہ رہی تھی اور اس کا سارا وجود ایک نقطے پر آچکا تھا جہاں دانیئلا کے پیروں کی تھاپ پر نئی، ہموار اور زندہ دھڑکنیں تخلیق ہو رہی تھیں۔

 

سانس اس کے سینے سے رہا ہوئی،جب وہ ایک جھٹکے سے اپنے پیروں پہ کھڑا ہوا۔ اس نے ایک پرندے کی طرح بانہیں پھیلائیں اور دانیئلا کے گرد ناچنے لگا۔وقت اپنا مدار چھوڑ چکا تھا اور وہ دونوں مرکز اور مدار بانٹتے ایک دوسرے کے گرد رقص کر رہے تھے۔ جب موسیقی کا آخری سُر ایک سنہرے تیر کی طرح کسی نامعلوم کو نکلا، ان کے وجود ایک دوسرے میں جذب ہوچکے تھے۔

 

سرخ ریشم کی چادر پر ان کے برہنہ بدن ایک دوسرے میں گُندھے رہے، سرسوتی کی وینا دھیمے سروں میں بجتی رہی اورکمرہ رات کی رانی کی مہک سے بھرتا گیا۔
(جاری ہے)
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں – نویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

بلی کے پنجوں کی رگڑ، اس کے جسم کے وزن اور اس کی لجلجاہٹ نے اسے لذت بھرے طلسمی دریا سے نکال کر باہر اچھال دیا۔ وہ چند لمحے نسوانی جسم پر بے سُدھ لیٹا رہا۔ اس بدن کے بوجھ سے شمیم کی سانسیں گھٹنے لگیں۔ وہ ا س کے نیچے تڑپ رہی تھی اور آہیں بھر رہی تھی۔ دفعتاً نذیر نے اپنا سر اٹھایا اور صحن سے ملحقہ برآمدے کی طرف دیکھا اور گھر کی دیگر اشیا پر بھی نگاہ ڈالی۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ نیند اور سکوت میں ڈوبا ہوا گھر اور اس کی تمام چیزیں یک بہ یک بیدار ہو گئی ہیں اور اس بلی کی طرح غراتی ہوئی اس کی جانب لپک رہی ہیں۔ خوف اور دہشت کے سبب اس کے جسم کے ایک ایک عضو میں تشنج کی لہر سی دوڑ گئی۔
شمیم کا ہاتھ اٹھا اور اس کے سر کے بالوں سے اٹکھیلیاں کرنے لگا۔ وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دھیرے سے گویا ہوئی، “کیا ہوا؟ تم ایک بلی سے ڈرگئے؟”

 

نذیر نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔ “اس نے تو میری جان ہی نکال دی،” اس نے تیز اور طویل سانس کھینچتے ہوئے کہا۔ “مجھے لگا کہ وہ کوئی بلی نہیں، بلکہ کوئی غیر مخلوق ہے۔” اس کی یہ بات سن کر شمیم افسوس سے سر ہلانے لگی۔

 

اسے سر ہلاتے دیکھ کر نذیر کو اپنی شکست کا احساس ہونے لگا۔ وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے اس پر دوبارہ دراز ہو گیا اور اس کے کانوں کی لووں کے آس پاس کے نرم و گداز علاقے پر اپنے بوسوں کی بارش کرنے لگا۔ مگر اس مرتبہ اس کے بوسوں میں نہ پہلے والی حدت رہی تھی اور نہ ہی وہ شدت۔ پہلے بوسوں کے دوران اس کے انگ انگ پر عجیب سی مستی چھا گئی تھی۔ وہ ایک طائرِ آزاد کے مانند فضاے جسم کے تمام گوشے دریافت کرتا رہا تھا اور نت نئی دریافتوں کے لیے کوشاں تھا، لیکن اب اس کے ہر بوسے سے بیزاری کا احساس نمایاں ہو رہا تھا۔ اس کے لیے وہ کارِ لذت سے زیادہ عذابِ جاں بن کر رہ گیا تھا۔ وہ اس کی گردن کی مہین و نازک جلد کو اپنے لبوں سے چومتا اور نوکِ زبان سے چاٹتا رہا مگر اس کے اندر کی تحریک مردہ ہو چکی تھی اور اس کے لہو میں سنسناتے، کلبلاتے، تڑپتے، تلملاتے سارے جذبے سرد پڑ چکے تھے۔ اچانک وہ شمیم کے اوپر سے ہٹا اور اس کے برابر میں لیٹ گیا۔

 

شمیم کروٹ لیتی ہوئی اٹھی اور کھاٹ سے اتر کر جلدی جلدی کپڑے پہننے لگی۔ نذیر نے کھاٹ پر لیٹے لیٹے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا، مگر اس نے ایک ہی جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ اس کی گرفت مضبوط نہیں تھی۔ اس نے دھیمے لہجے میں آواز دے کر اسے بلانا چاہا، مگر وہ اس کے قریب نہیں آئی۔ وہ ذرا پرے ہو کر آہیں بھرتی اپنے لباس کی شکنیں درست کرتی رہی۔ پھر وہ آنگن میں رکھی گھڑونچی کی طرف گئی، اس نے مٹکے کو لٹا کر کٹورے میں پانی انڈیلا اور اس کے بعد زمین پر بیٹھ کر گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔

 

نذیر شدید اذیت میں تھا۔ وہ کچھ دیر تک بے تکے انداز میں چارپائی پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھا رہا، پھر نیچے اتر کر کپڑے اٹھائے کونے میں چلا گیا۔ شمیم پیتل کے کٹورے میں اس کے لیے پانی لے آئی۔ وہ اس کے ہاتھ سے پانی کا کٹورا لے کر کئی دنوں کے پیاسے شخص کی طرح یک ہی گھونٹ میں سارا پانی پی گیا۔

 

“میری ساس تھوڑی دیر میں اٹھنے والی ہے، اگراس نے دیکھ لیا تو یہ ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہو گا،” وہ دھیمے لہجے میں بولی اور اس کے ہاتھ سے کٹورا لے کر دور ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔

 

وہ اس سے کچھ دیر باتیں کرنا چاہتا تھا، اسے اپنی حالتِ زار کے بارے میں بتانا چاہتا تھا، لیکن اس کی بات سننے کے بعد اس میں کچھ بھی کہنے کا حوصلہ نہ رہا۔ وہ ہونق نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ اب اس کی تمام گرم جوشی پر اوس پڑ چکی ہے۔ نذیر اٹھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور دھیرے دھیرے صحن کی طرف بڑھنے لگا۔

 

صحن سے برآمدے میں آتے ہوئے وہ ایک ستون سے ٹکرایا۔ وہ خود کو سنبھالنا چاہتا تھا مگر اس کے اعصاب پر ایک حواس باختگی طاری ہو چکی تھی۔ کھیتوں کی طرف کھلنے والے دروازے سے نکلتے ہوئے اس کا پیر چوکھٹ سے بھی ٹکرا یا۔ اس مرتبہ وہ لڑکھڑایا اور باہر کی طرف منھ کے بل گرتے گرتے بچا۔ وہ سنبھل تو گیا مگر اس کے پاؤں کی ڈگمگاہٹ ختم نہیں ہو سکی۔ وہ گھر سے باہر نکلا تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا ہوا تھا۔ اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، نہ راستہ، نہ مکان، نہ کھیت۔ وہ ڈگمگاتا اور لڑکھڑاتا ناہموار زمین پر چلتا رہا۔ وہ پلٹ کر دیکھنا چاہتا تھا مگر دیکھ نہیں سکا۔ وہ جانتا تھا کہ پیچھے دو آنکھیں اسے رخصت کرنے کے لیے موجود ہیں۔ اپنی ندامت اور خفت کے سبب اس کے لیے ان آنکھوں کی طرف دیکھنا ممکن نہ تھا۔ وہ جلدازجلد یہاں سے دور جانا چاہتا تھا تاکہ ان آنکھوں کی پہنچ سے نکل جائے۔

 

شمیم گھر کے دروازے سے لگ کر نڈھال کھڑی آہیں بھرتی رہی اور اسے جاتے ہوئے تکتی رہی۔ کچھ دیر بعد اس نے دروازہ بند کر دیا اور کنڈی چڑھا دی۔

 

نذیر کا وجود درد کا گولہ بنا ہوا تھا۔ اس کی ٹانگیں دکھ رہی تھیں۔ بازوؤں میں اتنا شدید درد تھا کہ اسے لگتا تھا کہ وہ کٹ کر اس کے کاندھے سے جھول رہے ہیں۔ زمستاں کی رات میں گرتے کہرے اور پالے میں اسے اپنا خون اور اپنی سانسیں منجمد ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ اوبڑکھابڑ زمین پر دقت کے ساتھ قدم رکھتا رہا۔
وہ شرینہہ کے دیوقد پیڑ کے پاس پانی کے نالے پر بیٹھ گیا۔ آنے کے بعد وہ اسی جگہ بیٹھ کر شمیم کا انتظار کرتا رہا تھا۔ نالے کی سیمنٹ کی سطح اسے پہلے سے بہت زیادہ یخ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو مسلنے لگا تاکہ وہ گرم ہو سکیں، مگر بہت دیر تک ہاتھ مسلتے رہنے کے باوجود ان میں حرارت پیدا نہ ہو سکی۔ اس کی ٹانگیں بھی وقفے وقفے سے کانپ رہی تھیں۔

 

وہ اچانک اْٹھا اور ایک پگڈنڈی پر دوڑ کر رگوں میں جامد خون کو گرم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ کچھ دور جا کر رات کے پالے سے بھیگی ہوئی پگڈنڈی پر اس کا پاؤں پھسلا اور وہ کماد کی فصل میں جا گرا۔ اس کے کپڑے اور پاؤں گیلی مٹی میں آلودہ ہو گئے۔ گرنے سے اس کا بدن اور زیادہ دکھنے لگا۔ کماد کے کھیت میں دشواری سے چلتے ہوئے وہ دھیرے دھیرے گوٹھ ہاشم جوگی سے دور ہوتا چلا گیا۔

 

بہت آگے جا کر وہ جھاڑیوں سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا نہر کے پْل پر پہنچ گیا اور اندھیرے کے سبب سیاہ نظر آتے پانی کو دیکھنے لگا۔ نہر کا پانی اپنے کناروں سے نیچے نیچے بہہ رہا تھا۔ اس کی سطح پر ٹمٹماتے ستاروں کا عکس جھلملا رہا تھا۔

 

ہولے ہولے اس کا خوف زائل ہو رہا تھا۔اسے درختوں کا عکس پانی میں دھندلے دھبوں کی طرح نظر آ رہا تھا۔

 

اس نے قصبے کے مکانوں کی جانب نگاہ کی تو وہ سب اسے ایک ڈھیر کی صورت ایک دوسرے کے اوپر تلے پڑے ہوئے دکھائی دیے۔ وہ مکانات کے اس ڈھیر میں چھپی ہوئی گلیوں سے اس طرف آیا تھا۔ پل پر کھڑے کھڑے اس نے اپنی چشمِ تصور سے شمیم کو بستر پر درازدیکھا اور اس کی تلخ آہوں کو سنا۔ اس نے بے بسی اور لاچاری سے دانت کچکچائے۔ اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس کے وجود میں ایک ساتھ اذیت کی کئی لہروں نے سر اٹھایا۔ اس کے دل نے چاہا کہ وہ اونچی آواز میں چیخے چلائے اور سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنی چھاتی کو زخمی کر ڈالے۔ اسے اپنے وجود کے وہ سب حصے جن سے اس نے شمیم کو چھوا تھا، قابلِ نفریں محسوس ہونے لگے۔ اس نے اپنی انگلیوں کی طرف دیکھا اور اپنے ہاتھ سے اپنے ہونٹوں کو ٹٹولنے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہاں سے خون رسنے لگے۔ اس نے نہر کنارے کسی درخت پر رسی باندھ کر خودکشی کے بارے میں سوچا۔

 

وہ بڑبڑایا: “آج کے دن کی شروعات منحوس طریقے سے ہوئی تھی۔”
اس کے بدن میں اب بھی درد تھا اور اس کے اعضا کی دکھن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ وہ پل سے اتر کر نہر کے کنارے پیڑوں کی قطار کے نیچے چلنے لگا۔ کچھ دور جا کر وہ ایک ایسی جگہ پر کنارے سے نیچے اترنے لگا جہاں پر نہر کا پانی اسے زیادہ گہرا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بے سوچے سمجھے نہر کنارے کی ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پربیٹھ گیا۔ کچھ آگے کھسک کر اس نے اپنی چپلوں سمیت اپنے پاؤں نہر میں ڈال دیے۔ نہر کا پانی اسے بہت ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی یخ لہریں اس کے ٹخنوں اور پنڈلیوں میں گھسنے لگیں۔ مگر نذیر کے سر میں عجیب سودا سمایا ہوا تھا۔

 

وہ نہر کے پانی میں لرزتا ہوا اپنا دھندلا دھندلا عکس دیکھتا رہا۔ وہ اپنی رگوں میں اپنے جامد خون کو گرمانا چاہتا تھا۔ شمیم سے ملاقات کے دوران اسے جس ہزیمت اور اذیت کا بوجھ اٹھانا پڑا تھا، وہ اس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا تھا۔

 

اپنے عضوِلذیذ کو بہت دیر تک رگڑنے اور مسلنے کے بعد اس کے جسم میں حرارت پیدا ہونے لگی۔ اسے اور زیادہ حرارت کی ضرورت تھی۔ اس کے ہاتھوں کی حرکت دھیرے دھیرے مجنونانہ اور وحشیانہ انداز اختیار کرتی چلی گئی۔ اگر اس وقت اسے کوئی شخص اس حال میں دیکھ لیتا تو یقیناً فاترالعقل یا سودائی خیال کرتا۔

 

اس کے رگ و ریشے میں یکلخت کئی الاؤ جلنے لگے۔ اس کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمایاں ہونے لگیں۔ اس کی سانسیں کسی دھونکنی کی طرح چلنے لگیں۔ وہ اپنے ہاتھوں کی حرکت میں مزید تیزی پیدا کرتا گھاس پر لیٹ گیا اور سیاہ آسمان کو تکنے لگا۔

 

ایک شدید ہیجان خیز لمحے میں وہ سرعت سے اٹھ کھڑا ہوا اور نہر کے پانی میں انزال کی بوندیں گرانے لگا۔ اگلے ہی وہ گھاس پر نڈھال ہوکر گر پڑا اور زور زور سے سسکیاں لینے لگا۔ اس کو معلوم نہیں تھا کہ صبحِ صادق اب صرف چند لمحوں کی منتظر تھی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صبح دیر سے جاگنے کے باوجود نذیر کے جسم میں کل شب کی ہزیمت اور اذیت کے آثار باقی تھے۔ اس نے کمرے میں جا کر صندوق سے استری شدہ لباس نکالا۔ وہ جلدازجلد غسل کرنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی اس کے کپڑوں پر مٹی اور گھاس کے نشان دیکھ لے اور کسی شک میں مبتلا ہو جائے، مگر وہ جیسے ہی برآمدے میں آیا، چاچی خیرالنسا اسے برآمدے میں ٹہلتی دکھائی دی۔ وہ اسے دیکھ کر تولیے سے اپنے بال سکھانے لگی۔

 

چاچی اس کے پاس آ گئی اور اسے ٹوہ لینے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔

 

اس نے سنجیدگی سے کہا، “تیرا چاچا آج سویرے سویرے ہی دکان پر چلا گیا۔ “

 

نذیر نے اسے دیکھا مگر کوشش کے باوجود اس سے آنکھیں نہیں ملا سکا۔ وہ کتھئی رنگ کے ریشمی لباس میں تھی جو اِس کی سفید رنگت سے مل کر پرکشش تاثر پیدا کر رہا تھا۔ اس کی گردن اور کلائی کا رنگ نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ اس کے سر سے ڈوپٹہ اْترا تو اس کی خوبصورتی دوچند ہو گئی۔

 

“آج تو دیر تک گہری نیند سوتا رہا۔ دکان جانے سے پہلے تیرے چاچے نے تجھے ایک دو بار جگانے کی کوشش کی، مگر تو ہلاجلا ہی نہیں، “اس نے بے تکلفی سے کہا۔

 

وہ اس کے ہونٹوں پرپہلی بار لگی ہوئی لپ اسٹک کی تہہ دیکھ کر بولا، “رات جب تو کمرے میں چلی گئی تو اس کے بعد میں سو نہیں سکا۔ “ پہلی بار اسے چاچی کے بھرپور خدوخال روکھے پھیکے سے محسوس ہو رہے تھے۔

 

“مجھے بھی نیند مشکل سے آئی۔” وہ چاہتی تھی، نذیر آج بھی اس کی تعریفیں کرے اور اس سے اپنی چاہت کا اظہار کرے۔ مگر وہ اس سے کھنچا کھنچا سا تھا۔ اس کی آنکھوں میں پژمردگی تھی اور لہجے میں گرم جوشی کے بجائے سوگواری تھی۔ وہ اسے نظرانداز کرتا، نیلے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں پرندے اْڑتے پھر رہے تھے۔ “تیرے لیے ناشتہ تیارکردیا ہے،” وہ ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے بولی۔
“غسل کر کے کھا لوں گا،” یہ کہتے ہوئے وہ کپڑے اٹھائے غسل خانے کی طرف چل دیا۔

 

ناشتے کے بعد اس نے ایک اور چائے پینے کی فرمائش کر دی۔ وہ باورچی خانے جا کر اس کے لیے ایک اور چائے کی پیالی لے آئی۔ وہ اس سے گریزاں سا تھا۔ اس کا جسم اور چہرہ دیکھ کر اسے تکلیف ہو رہی تھی۔ اسے بالکل یاد نہیں تھا کہ اس نے کل رات اس سے کیا کیا باتیں کی تھیں۔ اس کے اعصاب اور حواس پر شمیم سے ملنے کے دوران ہونے والی شکست سوار تھی۔ وہ اپنی ناکامی کے عذاب میں مبتلا تھا۔
“آج تو نے پیٹ بھر کے ناشتہ نہیں کیا۔”

 

“بھوک ہی کم تھی۔”

 

وہ سوچ رہی تھی کہ آج اچانک اسے کیا ہو گیا۔ وہ پہلے تو اکیلا ہی چار پانچ روٹیاں کھا جاتا تھا۔ “آج تجھے دکان پر جانے کی ضرورت نہیں۔ مجھے تیری طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ تو آرام کر لے،” اس نے اپنائیت سے کہا۔

 

“دکان پر تو نہیں مگر ذرا دیر کو باہرگھومنے جاؤں گا۔”

 

اس کی بات سن کر وہ افسردہ ہو گئی۔

 

نذیر نے اچانک اس کے بارے میں سوچا کہ کیا وہ اس عورت سے وصل کر کے اپنی جذباتی شکست کا مداوا کر سکتا تھا۔ اسے اچانک باورچی خانے میں پیش آنے والے واقعے کی جزئیات یاد آئیں تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے کس طرح اسے چومتے ہوئے اپنے بازوؤں میں بھر لیا تھا؟
ان خیالات کا سلسلہ بھی اس کے مزاج کی سردمہری کو ختم نہیں کر سکا۔ وہ پیالی سے چائے کی آخری چسکی لے کر باہر جانے کے لیے اْٹھ کھڑا ہوا۔

 

“سن! تیرا چاچا ہاروالی بات بھول گیا ہے۔”

 

وہ روکھی مسکراہٹ سے بولا، “اچھا؟”اس کے بعد ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے وہ دروازے کی طرف چل پڑا۔

 

گلی سے گزرتے ہوئے تنہائی میں وہ سوچتا رہا کہ کل رات کے تیسرے پہر جو کچھ پیش آیا وہ محض ایک اتفاق تھا۔ اگر بلی چھپر کی چھت سے اس کی پیٹھ پر چھلانگ نہ لگاتی تو اس کا شادکام ہونا یقینی تھا۔ وہ اپنے آپ کو تسلی دینے لگا کہ اسے احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ بالکل ٹھیک تھا۔ اس کی مردانگی پوری طرح بحال تھی اور نہر کنارے بیٹھ کر وہ اپنے انزال کے آب دار موتی بھی نہر کے پانی میں گرا چکا تھا۔ یہ سب باتیں سوچنے کے باوجود وہ خود پر اپنے یقین اور اعتماد کو بحال نہیں کر سکا۔

 

اس نے پان کی مانڈلی سے کچھ سگریٹ خریدے اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا کھیتوں کی طرف چل دیا۔ وہ سگریٹ سلگا کر اس کے لمبے کش لیتا آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔

 

مکمل تنہائی میں مکمل خودسپردگی کے لیے آمادہ عورت سے مباشرت میں ناکامی غیرمعمولی اور شرم ناک بات تھی۔ شمیم خود کو ملامت کرتی رہی ہو گی اور اسے ایک نامرد تصور کر کے دل ہی دل میں وہ اس کا مضحکہ اڑاتی رہی ہو گی۔ نذیر نے فیصلہ کیا کہ وہ اب ہمیشہ کے لیے اس سے قطع تعلق کر لے گا اور آئندہ کبھی نورل کی شکل بھی نہیں دیکھے گا۔ اپنے آپ سے یہ عہد کرتے ہوئے وہ جانتا تھا کہ اس کی خاطر اس کا دل بری طرح مچلے گا اور کیا پتا وہ نیند میں اْٹھ کر نہر کی طرف دوڑتا چلا جائے۔

 

وہ قصبے کی مشرقی سمت میں واقع آخری مکانوں تک پہنچا اور انہیں عبور کرتا ہوا کھیتوں میں داخل ہو گیا۔ تاحدِنظر زمین پر سبزیوں اور گندم کے پودے لہلہا رہے تھے۔ سورج آسمان کے وسط میں چمک رہا تھا اور سارے میں پیلی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ گردوپیش اچٹتی سی نگاہ ڈال کر وہ سر جھکائے ایک پگڈنڈی پر چلنے لگا۔

 

وہ اپنے آپ کو باربار سمجھاتا رہا کہ اس کے ساتھ جو واقعہ پیش آ چکا تھا وہ اس کے اناڑی پن کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اس نے پہلی اور بنیادی غلطی پکوڑافروش کے ہمراہ مے خانے جا کر کی تھی۔ وہاں اس نے چرس اور بھنگ کا بے محابا استعمال کیا تھا، جس کی وجہ سے اس کے حواسِ خمسہ کند پڑ گئے تھے۔ پھر شدید سردی کے موسم میں آدھی رات کو چوری چھپے گھر سے نکلنا، ویران اور تاریک گلیوں میں خوفزدہ چلنا، آہٹوں پر چونکنا اور کھیتوں کے پاس کانپتے ہوئے اس کاانتظار کرنا یہ تمام چیزیں بھی تو اس افسو س ناک عمل کی رونمائی میں شامل تھیں۔

 

سوچتے سوچتے اس کا دماغ شل ہو گیا اوروہ تھک کر ایک بلندقامت شیشم کے پیڑ کے نیچے پگڈنڈی پر ہی بیٹھ گیا۔

 

چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچتے ہوئے اس نے عجیب شرمندگی محسوس کی لیکن اسے معلوم تھا کہ یہی وہ عورت ہے جو اس کے اعتماد کو بحال کر سکتی ہے۔

 

وہ بیٹھے بیٹھے تین سگریٹ پھونکنے کے بعد اپنی الجھنوں کو سلجھائے بغیر اْٹھا اور قصبے کی طرف واپس چل دیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اگلے دن وہ سویرے اٹھا اور چابیاں لے کر دکان چلا گیا۔

 

جانے سے پہلے باورچی خانے میں ناشتہ کرتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ چاچی اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا کراس کے ہاتھ سے چائے سے بھرا پیالہ نیچے گر گیا اور گرم چائے نے اس کے اپنے پاؤں کو جلا دیا۔ اپنی تکلیف کو چھپاتے ہوئے وہ اس سے آنکھیں ملائے بغیر اٹھا اور باورچی خانے کی کوٹھڑی سے باہر نکل گیا۔

 

دکان پر پہنچ کر اس نے اپنی جیب سے چابیاں نکالیں اور شٹر پر لگے ہوئے تالے کھولے۔ شٹر اٹھا کر دکان کھول کر وہ صفائی کرنے کے بجائے دیواروں پر چسپاں فلمی اداکاراؤں کی تصویروں کو غور سے دیکھنے لگا۔ اس نے محسوس کیا کہ کچھ نئی تصویروں کا اضافہ ہو گیا تھا۔ وہ تصویروں کے نزدیک ہو کر انہیں اپنی نظروں سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک بھاری سی مردانہ آوازنے اسے چونکا دیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو یعقوب کاریگر اس کے قریب ہی کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ نذیر کو ڈرانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

 

“دیوار پر لگے نئے نئے فوٹو کیسے ہیں؟ میرے ایک دوست نے مجھے باہرکے ملک کا ایک رنگین رسالہ تحفے میں دیا تھا۔ میں نے اس میں سے بہترین تصویریں نکال کر یہاں لگا دیں۔ ذرا دیکھو! اس فوٹو کا تو جواب نہیں۔”

 

“ویسے تمھاری پسند کا بھی کوئی جواب نہیں۔”

 

کاریگر اپنی تعریف سن کر اس تصویر کی خصوصیات پر روشنی ڈالنے لگا۔ “اسے غور سے دیکھو! اس کے بالوں کا رنگ بالکل سونے جیسا ہے۔ اس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ دیکھ کر ہم جیسا خوامخواہ خوش ہونے لگتا ہے۔ ذرا اس کی چمڑی کو دیدے پھاڑ کر دیکھو، کتنی چمکیلی اور نرم ہے۔ اور اس کے وہ تو۔۔” وہ بے قابو ہو رہا تھا۔
وہ آگے بڑھ کر چمکیلے رنگین کاغذ کی سطح پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پھر تصویر کو چومتے ہوئے کہنے لگا، “پتا نہیں کہاں اور کون سے دیس میں رہتی ہیں یہ پریاں۔ ہماری قسمت میں تو باگڑی اور بھیل بھکارنیں لکھی ہیں۔” وہ افسردگی سے سر ہلاتابیڑی سلگا تے ہوئے اپنی سلائی مشین کے پاس لگی نشست پر بیٹھ گیا۔

 

نذیر نے اسے چھیڑا۔ “تمہارے پاس کپڑے سلوانے خوبصورت عورتیں بھی آتی ہیں۔ پھر ان سے دوستی کیوں نہیں کرتے؟”

 

“وہ بہت چالاک اور ہوشیار ہوتی ہیں۔ آسانی سے ہاتھ بھی نہیں آتیں۔ پھر انہیں قابو کرنے کے لیے پیسوں کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔ میں ٹھہرا ایک غریب درزی۔ تمھارے چاچے کی قسمت بہت اچھی ہے کہ اسے زندگی بھر کے لیے ایک حسین اور جوان عورت مل گئی۔”

 

نذیر نے اس سے یونہی ایک بات پوچھی۔ “اب اس کی پریشانی کا کیا حال ہے؟”

 

یعقوب کاریگر یہ سننے کے بعد اپنی آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ اپنی بیڑی کی راکھ جھٹکتے ہوئے اْٹھا اور گلی میں جھانکنے کے بعد نذیر کے پاس آ بیٹھا۔ وہ رازداری سے کہنے لگا، “میں جانتا ہوں تم شریف آدمی ہو، اسی لیے میں تمہیں پسند کرتا ہوں مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ تمہاری وجہ سے پریشان ہے۔ اس نے کل یہ بات مجھ سے رازداری رکھنے کی قسم لینے کے بعد بتائی۔”

 

“میری وجہ سے؟”

 

“اسے شک ہے کہ تم اس کی بیوی کے ساتھ خراب ہو۔” اس نے بیڑی کو فرش پر پھینکا اوراسے پاؤں کے نیچے مسلتے ہوئے کہنے لگا، “وہ تھوڑی دیر میں آنے والا ہو گا۔ دکان بند ہونے کے بعد تم مجھ سے جوگی کے چائے خانے پر ملو۔”

 

واقعی تھوڑی دیر بعد چاچا غفور دکان پہنچ گیا۔ یعقوب کاریگر سلائی میں مصروف تھا جبکہ نذیر قمیص کے بٹن لگاتا رہا۔ اس دوران غفور نے ایک بار بھی نذیر سے کوئی بات تک نہ کی۔ وہ آتے ہی سر جھکائے اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔

 

(جاری ہے)