ولادیمیر نابوکوف کی یہ کہانی آج کے شمارہ 126 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649
ولادیمیر نابوکوف کی یہ کہانی آج کے شمارہ 126 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649
گزشتہ چار برسوں میں اب چوتھی مرتبہ انھیں وہی مسئلہ درپیش تھا کہ ایک ایسے نوجوان کے لیے سالگرہ کا کون سا تحفہ لے کر جایا جائے جو ناقابلِ علاج حد تک مخبوط الحواس یا پاگل ہو چکا تھا۔ اسے کسی قسم کی کوئی خواہشات نہ تھیں۔ انسانی ہاتھ سے بنائی ہوئی اشیا اس کے لیے یا تو بدی کے چھتے جیسی تھیں اور ایسی ہلاکت خیز سرگرمی سے لرزاں اور فعال تھیں جسے صرف وہی محسوس کر سکتا تھا، یا پھر مجموعی انسانی زندگی کی ایسی کثیف آسائشیں تھیں جن کا اس کی مجرّد زندگی میں کوئی مصرف نہ تھا۔ ایسی بےشمار اشیا کو مسترد کرنے کے بعد، جو اُسے ناراض یا دہشت زدہ کر سکتی تھیں (مثلاً کل پُرزوں یا چابی سے چلنے والی کوئی بھی شے ممنوع تھی)، اس کے والدین نے لذیذ اور تازہ پھلوں کے مربے کا انتخاب کیا۔ دس مختلف پھلوں کے یہ مربے، دس چھوٹے چھوٹے خوبصورت مرتبانوں میں بند، ایک نفیس سی ٹوکری میں رکھے ہوے تھے۔
اس کی پیدائش کے وقت تک ان کی شادی کو ایک طویل عرصہ گزر چکا تھا اور اب وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے۔ خاتون کے رُوکھے مٹیالے بال لاپروائی سے ایک جوڑے میں باندھے گئے تھے۔ وہ سیاہ رنگ کے سستے ترین لباس پہنا کرتی تھی۔ اپنی ہم عمر عورتوں کے برعکس (مثلاً مسز سول، ان کے سامنے والی پڑوسن، کا چہرہ میک اپ سے ہر وقت گلابی اور ارغوانی رہا کرتا تھا اور جس کے ہیٹ پر مصنوعی پھولوں کا ایک گچھا سجا رہتا تھا) اس کا سفید برفیلا چہرہ، موسمِ بہار کی عیب جُو روشنی میں بالکل سپاٹ اور پھیکا دکھائی دیتا تھا۔ اس کا شوہر، جو اپنے پرانے ملک میں ایک کامیاب کاروباری شخص تھا، اب یہاں نیویارک میں مکمل طور پر اپنے بھائی اضحاک کے سہارے زندگی گزار رہا تھا جو چالیس برس کے عرصے میں اب ایک حقیقی امریکن بن چکا تھا۔ اضحاک سے ان کی ملاقات شاذ و نادر ہی ہوا کرتی تھی اور انھوں نے اس کا نام شہزادہ رکھ چھوڑا تھا۔
اس جمعے کو، جو اُن کے بیٹے کی سالگرہ کا دن تھا، ہر چیز غلط ہوتی چلی گئی۔ سب وے ٹرین میں دو سٹیشنوں کے درمیان خرابی پیدا ہو گئی اور اگلے پندرہ منٹ تک انھیں سواے اپنے تابعدار دل کی دھڑکنوں اور اخبارات کے صفحات پلٹنے کی آوازوں کے، کوئی اَور آواز سنائی نہ دی۔ ٹرین سے اتر کر انھیں جس بس میں سوار ہونا تھا، اس کے آنے میں تاخیر ہو گئی اور انھیں کافی وقت تک ایک گلی کے کونے پر اس بس کا انتظار کرنا پڑا اور بالآخر جب وہ بس آئی تو ہائی سکول کے باتونی بچوں سے ٹھساٹھس بھری ہوئی تھی۔ جب انھوں نے اس بھورے مٹیالے راستے پر چلنا شروع کیا جو ذہنی صحت کے ہسپتال کی طرف جاتا تھا تو بارش شروع ہو گئی۔ وہاں پہنچ کر انھیں مزید انتظار کرنا پڑا اور ان کے بیٹے کے بجاے (جو عموماً تیز تیز چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوتا تھا، بڑھی ہوئی شیو، پریشاں حال، مہاسوں اور پھنسیوں بھرے چہرے پر خفگی اور آزردگی کا تاثر لیے) ایک نرس داخل ہوئی جسے وہ دونوں جانتے تھے مگر کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے، اور چمکتے چہرے کے ساتھ انھیں بتایا کہ ان کے بیٹے نے ایک مرتبہ پھر اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے۔ ویسے وہ ٹھیک تھا، اس نے مزید بتایا، مگر والدین سے ملاقات شاید اس کے ذہنی اختلال میں اضافہ کر کے مزید مضطرب کر دے گی۔ وہ جگہ ویسے بھی شکستہ حال اور ذلت آمیز حد تک عملے کی کمی کا شکار تھی اور وہاں چیزوں کو کبھی غلط جگہ رکھ کر بھول جانا اور کبھی بری طرح گڈمڈ کر دینا عام سی بات تھی، لہٰذا انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا تحفہ وہاں دفتر میں نہیں چھوڑیں گے بلکہ اگلی مرتبہ اس سے ملاقات کے لیے آتے ہوے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔
عمارت سے باہر نکل کر عورت نے پہلے انتظار کیا کہ اس کا شوہر اپنی چھتری کھول لے، اور پھر اس کا بازو تھام لیا۔ وہ بار بار کھنکھار کر اپنا گلا صاف کر رہا تھا۔ وہ ایسا اُس وقت کیا کرتا تھا جب وہ پریشان ہوتا تھا۔ وہ دونوں سڑک کی دوسری جانب بنے ہوے بس اسٹاپ کی چھت کے نیچے آکھڑے ہوے اور اس کے شوہر نے اپنی چھتری بند کر لی۔
چند قدم دور ہوا میں لہراتے اور پانی ٹپکتے ہوے ایک درخت کے نیچے، ایک ننھا سا، بے پروبال پرندہ، پانی کے ایک چھوٹے سے گڑھے میں بےبسی سے پھنسا ہوا پھڑپھڑاتے ہوے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بس سے سب سٹیشن تک کے لمبے سفر کے دوران اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہیں ہوا۔ ہر مرتبہ جب بھی اس کی نظر اس کے سِن رسیدہ ہاتھوں پر پڑتی جو چھتری کے دستے کو گرفت میں لیے اینٹھے ہوے تھے، اور ان کی پھولی ہوئی رگیں اور جلد پر پڑے بھورے دھبے نظر آتے تو اسے اپنے آنسو روکنا مشکل ہو جاتا تھا۔ جب اس نے اپنے ذہن کو کسی اَور خیال میں لگانے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا تو اسے یہ دیکھ کر ایسا صدمہ ہوا جس میں رحم، ترس، دردمندی اور حیرت کی آمیزش تھی کہ ایک مسافر لڑکی جس کے بال گہرےکتھئی تھے اور پیروں کے سرخ ناخن انتہائی غلیظ تھے، ایک عمررسیدہ عورت کے کاندھے پر سر رکھے رو رہی تھی۔ اس بوڑھی عورت کی شکل کس سے مشابہ تھی؟ اس کی شکل ربیکا بوری سوونا سے ملتی تھی جس کی بیٹی نے برسوں پہلے، مِنسک میں، سولوویشک خاندان کے ایک فرد سے شادی کرلی تھی۔
پچھلی مرتبہ جب اس لڑکے نے یہ کوشش کی تھی تو، ڈاکٹر کے بقول، اس نے جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ قوتِ اختراع کا ایک شاہکار تھا۔ وہ تو کامیاب بھی ہو گیا ہوتا اگر ایک حاسد مریض نے یہ نہ سوچا ہوتا کہ وہ اُڑنا سیکھ رہا ہے، اور بروقت اسے پکڑ کر روک نہ لیا ہوتا۔ دراصل وہ اپنی دنیا میں ایک شگاف پیدا کر کے فرار ہونا چاہتا تھا۔ اس کے فریبِ خیال اور فکری مغالطوں کا پورا ایک نظام تھا جو ایک ماہانہ سائنسی جریدے میں شائع ہونے والے تفصیلی مضمون کا موضوع بھی رہا تھا اور جو ذہنی صحت کے اس ہسپتال کے ڈاکٹر نے اُن دونوں کو پڑھنے کے لیے بھی دیا تھا، لیکن وہ اور اس کا شوہر، بہت عرصہ پہلے ہی، گہرے سوچ بچار کے بعد، اپنی حد تک، اسے سمجھ چکے تھے۔ اس مضمون کا عنوان ’ایک سے زائد حوالہ جات والا مالیخولیا‘(Referential mania) تھا۔ اس انتہائی غیرمعمولی مرض میں مریض یہ تصور کر لیتا ہے کہ اس کے گرد رونما ہونے والی ہر بات مخفی طور پر اس کے وجود اور شخصیت سے متعلق ہے۔ وہ حقیقی لوگوں کو تو اس سازش سے خارج کر دیتا ہے کیونکہ وہ خود کو دیگر لوگوں سے بےپناہ ذہین سمجھتا ہے؛ وہ جہاں جہاں جاتا ہے مظاہرِ قدرت سایہ بن کر اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ گھورتے ہوے آسمان پر چھائے بادل، سست رو نشانیوں کے ذریعے، ایک دوسرے کو اس کے متعلق ناقابلِ یقین حد تک تفصیلی معلومات بھیجتے ہیں۔ شام ڈھلے، درخت، سادہ ترین حروفِ تہجی میں، پُراسرار اشاروں یا حرکات کے ذریعے اس کے عمیق ترین خیالات پر گفتگو کرتے ہیں۔ بلور، داغ دھبے اور سورج کی کرنیں ایسے نقش بناتی ہیں جو انتہائی ہولناک ہوتے ہیں، اور ان نقوش میں ایسے پیغامات مخفی ہوتے ہیں جنھیں اسے لازماً ایک خفیہ عبارت میں پڑھنا اور سمجھنا ہوتا ہے۔ ہر شے ایک رمز ہے اور ہر شے کا موضوع اس کی ذات ہے۔
اس کے اردگرد ہر جگہ جاسوس پھیلے ہوے ہیں جن میں سے کچھ تو صرف غیرمتعلق نگران ہیں، مثلاً شیشے کی اشیا کی سطحیں اور ساکن تالاب، جبکہ دوسرے، جیسے دکانوں میں لٹکے کوٹ، متعصب اور بدظن، نظر رکھنے والے ہیں جو دلی طور پر اسے جان سے مارنا چاہتے ہیں۔ کئی اَور، مثلاً بہتا پانی، طوفانِ باد و باراں وغیرہ، پاگل پن کی حد تک ہسٹیریا کا شکار ہیں اور اس کے متعلق ایک انتہائی مسخ شدہ رائے رکھتے ہیں اور مضحکہ خیز حد تک اس کی سرگرمیوں کی تشریح اور توضیح کرتے رہتے ہیں۔ اسے ہمیشہ چوکنا رہنا ہو گا اور اپنی زندگی کے ہر لمحے اور ہر دور میں اشیا کی لہردار حرکتوں میں مخفی خفیہ پیغامات کو پڑھنا ہو گا۔ وہ ہوا جو وہ سانس کے ذریعے اپنے بدن میں لیتا ہے وہ تک نشان زد ہوتی ہے اور درجہ بندی کرکے محفوظ کر دی جاتی ہے۔ اگر تو یہ تمام تر اشتیاق اور تعلق اس کے گِردوپیش تک ہی محدود رہتے تو کوئی بات نہ تھی مگر غم تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے! ہر بڑھتے فاصلے کے ساتھ ساتھ، وحشیانہ بدنامی اور رسوائی کے تیز رو دھارے اپنے حجم، مقدار اور طرّاری میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اس کے خون کے خلیوں کے تاریک سائے، جو اپنے ناپ سے لاکھوں گنا بڑے کر دیے جاتے ہیں، بڑے بڑے میدانوں میں اُڑتے پھرتے ہیں اور ان سے بہت پرے سنگِ خارا کی سی سختی، مضبوطی اور اونچائی والے پہاڑ اور کراہتے ہوے صنوبر کے اونچے درخت، باہم مل کر اس کے وجود کی مطلق سچائی کو بیان کرتے ہیں۔
……….
جب وہ سب وے کی گڑگڑاہٹ اور بدبودار فضا سے باہر آئے تو دن کی آخری تلچھٹ سڑک کی روشنیوں سے گڈمڈ ہو رہی تھی۔ وہ رات کے کھانے کے لیے مچھلی خریدنا چاہتی تھی لہٰذا اس نے مربے کے مرتبانوں والی ٹوکری شوہر کے حوالے کی اور اسے گھر جانے کے لیے کہا۔ جب وہ اپنے کرائے پر لیے گھر پہنچا اور تیسری منزل کی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے دروازے کے سامنے پہنچا تو اسے یاد آیا کہ چابیاں تو وہ دن میں کسی وقت بیوی کو دے چکا تھا۔ وہ خاموشی سے سیڑھیوں پر بیٹھ گیا اور خاموشی ہی سے اُس وقت اٹھ کھڑا ہوا جب دس منٹ کے بعد اس کی بیوی بہ دقّت سیڑھیاں چڑھتی اوپر پہنچی۔ وہ پژمردگی سے مسکرا رہی تھی اور اپنی بےوقوفی پر خود کو ملامت کرتے ہوے تاسّف سے سر ہلا رہی تھی۔ وہ دونوں اپنے دو کمروں کے فلیٹ میں داخل ہوے۔ وہ فوراً آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ دونوں انگوٹھوں کی مدد سے، اپنے منھ کو زور لگا کر کھولتے اور ایک مضحکہ خیز شکل بناتے ہوے اس نے اپنی مایوسانہ حد تک تکلیف دہ مصنوعی بتیسی باہر نکالی۔ جب تک عورت نے میز پر کھانا لگایا، وہ اپنا روسی زبان کا اخبار پڑھتا رہا۔ یونہی اخبار پڑھتے ہوے وہ پتلا دلیہ بھی کھاتا رہا جس کے لیے دانتوں کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ وہ اس کی مزاج آشنا تھی اس لیے خاموش رہی۔
جب وہ سونے کے لیے چلا گیا تب بھی وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھی رہی اور میلی کچیلی تاش کی گڈیاں اور پرانے فوٹوؤں کے البم دیکھتی رہی۔ عمارت کے احاطے کے اُس پار جہاں بارش کی بوندیں دھات پر گر کر ٹن ٹن کی آواز پیدا کر رہی تھیں، کھڑکیاں خوب روشن تھیں اور ایک کھڑکی سے ایک شخص سیاہ پتلون پہنے، دونوں ہاتھ سر کے نیچے باندھے، کہنیاں اٹھائے، کمر کے بل ایک بےترتیب بستر پر لیٹا، دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے پردہ برابر کر دیا اور تصویروں کا معائنہ شروع کیا۔ اس کا بیٹا، نوزائیدہ، دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ حیران دکھائی دے رہا تھا۔ اچانک ایک تصویر البم سے باہر گر پڑی جو اس جرمن خادمہ اور اس کے پھولے پھولے گالوں والے منگیتر کی تھی جو لیپزگ میں ان کے گھر ملازم تھی۔ وہ البم کے صفحات پلٹتی چلی گئی: مِنسک، انقلاب، لیپزِگ، برلن، دوبارہ لیپزگ، ایک ڈھلوان چھت والے مکان کا اگلا حصہ، بری طرح دھندلائی ہوئی تصویر۔
روسی نژاد امریکی ادیب ولادیمیر نابوکوف زبان، یادداشت، اور احساسات کی باریکیوں کو غیر معمولی مہارت سے فکشن میں برتنے کے لیے مشہور ہیں۔
اس تصویر میں لڑکا، جب اس کی عمر چار برس تھی، شرمیلے انداز میں، پیشانی پر شکنیں، ایک جوشیلی گلہری سے نظریں چُراتے ہوے، جیسا کہ وہ کسی بھی اجنبی سے ملتے ہوے کیا کرتا تھا۔ یہ تصویر آنٹی روزا کی، ہر بات میں مین میخ نکالنے والی، استخوانی چہرے اور غصیلی آنکھوں والی عمررسیدہ عورت جو بُری خبروں، دیوالیہ پن، ٹرین کے حادثات اور سرطان کی رسولی کے خوف و اضطراب سے تھرتھراتی ایک دنیا میں اس وقت تک زندہ رہی جب تک کہ جرمنوں نے اسے ان تمام لوگوں سمیت، جن کی اسے ہمیشہ فکر رہا کرتی تھی، موت کے گھاٹ نہ اتار دیا۔ لڑکا، عمر چھ سال، یہ اُس وقت کی تصویر ہے جب وہ انسانی ہاتھ پاؤں رکھنے والے پرندوں کی حیرت انگیز تصویریں بنایا کرتا تھا اور کسی عمررسیدہ شخص کی طرح نیند نہ آنے کی بیماری کا شکار تھا۔ یہ اس کا کزن ہے جو اَب شطرنج کا ایک مشہور کھلاڑی ہے۔ ایک اَور تصویر، لڑکے کی عمر آٹھ برس، یہ وہ وقت تھا جب اسے سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ وہ دیوار پر چسپاں نقشیں کاغذوں اور ایک کتاب میں ایک خاص تصویر سے خوفزدہ ہو جاتا تھا جس میں صرف ایک دیہی منظر میں ایک چھوٹی پہاڑی، چند چٹانیں اور ایک ٹُنڈمُنڈ درخت پر لٹکا بیل گاڑی کا ایک پہیہ دکھایا گیا تھا۔ ایک اَور تصویر، جب وہ دس برس کا تھا، جس برس انھوں نے یورپ چھوڑا تھا۔ عورت کو اس سفر کی خِجالت، خواری، ندامت، ترس، تاسف اور ذلت بھری دشواریاں بھی یاد تھیں اور وہ گھٹیا، پست، کندذہن اور کمینے بچے بھی یاد تھے جن کے ساتھ لڑکے کو امریکہ میں آمد کے بعد ایک خصوصی سکول میں رکھا گیا تھا، اور پھر اس کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب نمونیا کے بعد ہونے والی ایک طویل صحت یابی کے دوران، اس کے وہ غیرمنطقی اور حد سے بڑھے ہوے خوف اور اوہام — جنھیں اس کے والدین نے سختی سے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ ایک خداداد قابلیت کے حامل، انتہائی ذہین بچے کا ایک غیرمعمولی، حیرت انگیز اور نرالا، عمومی کردار سے مختلف ایک تلوّن ہے — شدت اختیار کرتے چلے گئے اور ایسی ٹھوس پیچیدہ گتھیوں میں الجھتے اور باہمی مربوط التباسات اور فریبِ نظر میں ڈھلتے چلے گئے جو اپنی اس صورت میں عام اذہان کی سمجھ سے ماورا تھے۔
عورت یہ سب کچھ، اور اس سے بھی سوا جو کچھ ہوا، قبول کرتی چلی گئی کیونکہ بہرحال زندہ رہنے کا مطلب ایک کے بعد ایک خوشی، مسرت اور شادمانی سے محروم ہوتے چلے جانا اور نقصان کو برداشت کیے جانا بھی ہے؛ بلکہ اس کے معاملے میں تو کوئی خوشی ہی نہیں تھی ، فقط ممکنہ طور پر کسی بہتری کے امکانات کی امید ہی رہی تھی۔ اس نے بار بار پلٹ کر آنے والی درد کی ان لہروں کو یاد کیا جو اس نے اور اس کے شوہر نے کسی نہ کسی طور پر برداشت کی تھیں۔ اس نے ان غیرمرئی عفریتوں کے بارے میں سوچا جو اُن کے بیٹے کو ناقابلِ تصور انداز سے ذہنی اور جسمانی ایذا پہنچا رہے تھے، دنیا میں موجود ناقابلِ پیمائش محبت اور نرم دلی کو یاد کیا، اس رحم دلی کی تقدیر کو یاد کیا جسے یا تو کچل دیا جاتا ہے، ضائع کر دیا جاتا ہے یا پھر دیوانگی اور پاگل پن کا روپ دے دیا جاتا ہے، ان نظرانداز کردہ بچوں کو یاد کیا جو غلیظ کونے کھدروں میں چھپے اپنے آپ سے باتیں کرتے اور منمناتے رہتے ہیں، ان خوبصورت، خودرو جڑی بوٹیوں کو یاد کیا جو کسان کی نگاہ سے چھپ نہیں سکتی ہیں۔
…………
آدھی رات گزر چکی تھی جب اسے خواب گاہ سے اپنے شوہر کے کراہنے کی آواز سنائی دی اور پھر فوراً ہی وہ ڈگمگاتا ہوا نشست گاہ میں داخل ہوا۔ اس نے اپنے شب خوابی کے گاؤن کے اوپر وہ پرانا اوورکوٹ پہن رکھا تھا جس کا کالر استراخانی اُون سے بنا ہوا تھا اور جو اسے اپنے نیلے رنگ کے عمدہ جامۂ غسل سے بھی زیادہ بڑا تھا۔
’’مجھے نیند نہیں آرہی ہے،‘‘ وہ چلّایا۔
’’تمھیں نیند کیوں نہیں آ رہی؟‘‘ عورت نے پوچھا۔ ’’تم تو اس قدر تھکے ہوے تھے۔‘‘
’’مجھے نیند اس لیے نہیں آ رہی کہ میں مرنے والا ہوں،‘‘ اس نے کہا اور کاؤچ پر لیٹ گیا۔
’’کیا تمھارے معدے میں درد ہے؟ کیا میں ڈاکٹر سولوو کو فون کروں؟‘‘
’’کوئی ڈاکٹر نہیں چاہیے،‘‘ وہ کراہا۔ ’’لعنت ہو ان ڈاکٹروں پر!‘‘
’’ہمیں فوراً اسے وہاں سے نکال لینا چاہیے، ورنہ ہم ذمےدار ہوں گے۔۔۔۔ ہم ذمےدار ہوں گے!‘‘ اس نے ہمت کی، اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں پاؤں فرش پر رکھے، بند مٹھیوں سے اپنی پیشانی پر ضرب لگانے لگا۔
’’ٹھیک ہے،‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔ ’’ہم کل صبح اسے گھر لے آئیں گے۔‘‘
’’مجھے چائے مل جائے تو کیا ہی بات ہے،‘‘ اس کے شوہر نے کہا اور غسل خانے چلا گیا۔ عورت نے دشواری سے جھکتے ہوے تاش کے کچھ پتّے اور فرش پر گری ہوئی دو تین تصویریں اٹھائیں… حکم کا غلام، حکم کا اِکّا، خادمہ ایلسا اور اس کا بدکار معشوق۔
وہ غسل خانے سے واپس آیا تو ہشاش بشاش تھا۔ وہ بلند آواز میں کہنے لگا، ’’میں نے اس مسئلے کا حل سوچ لیا ہے۔ ہم اسے خواب گاہ والا بستر دے دیں گے اور دونوں باری باری رات کا کچھ حصہ اس کے پاس گزاریں گے اور بقیہ وقت اس کاؤچ پر گزار لیں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ ڈاکٹر ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ اس کا معائنہ کرے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شہزادہ کیا کہتا ہے؛ ویسے بھی اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ سب ہمیں ویسے بھی سستا پڑے گا۔‘‘
فون کی گھنٹی بجی۔ یہ فون کی گھنٹی بجنے کا ایک غیرمعمولی وقت تھا۔ وہ کمرے کے وسط میں کھڑا اس چپل میں پیر ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا جو پاؤں سے نکل گئی تھی اور دانت نہ ہونے کے باعث، بچکانہ انداز میں منھ کھولے، بیوی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ چونکہ اس سے زیادہ انگریزی جانتی تھی لہٰذا فون کا جواب بھی ہمیشہ وہی دیا کرتی تھی۔
’’کیا میں چارلی سے بات کر سکتی ہوں؟‘‘ ایک لڑکی کی بیزار کن آواز سنائی دی۔
’’تم نے کس نمبر پر فون کیا ہے؟… تم نے غلط نمبر پر فون کیا ہے۔‘‘
اس نے آہستگی سے فون کریڈل پر واپس رکھ دیا اور ایک ہاتھ اپنے دل پر رکھ لیا۔
’’اس فون نے تو میری جان ہی نکال لی تھی!‘‘ وہ ذرا سا مسکرایا اور پھر اپنی جوشیلی خودکلامی دوبارہ شروع کر دی۔ دن نکلتے ہی وہ دونوں اسے گھر لے آئیں گے۔ اس کی ذاتی حفاظت کی خاطر، وہ گھر کے تمام چاقو چھریاں ایک دراز میں تالا لگا کر رکھیں گے۔ اپنی بدترین کیفیت میں بھی دوسروں کو اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔
فون کی گھنٹی دوسری مرتبہ بجی۔
وہی بےکیف آواز چارلی کا پوچھ رہی تھی۔
’’تم غلط نمبر پر فون کر رہی ہو۔ میں بتاتی ہوں تم کیا کر رہی ہو۔ تم شاید زیرو کے بجاے ’او‘ کا حرف ڈائل کر رہی ہو۔‘‘ اس نے فون دوبارہ کریڈل پر رکھ دیا۔
وہ نصف شب کو اپنی غیرمتوقع اور دعوت جیسی چائے پینے لگے۔ وہ زور زور سے آواز نکالتے ہوے چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا۔ وہ رہ رہ کر اپنا گلاس ہوا میں بلند کرتا اور اسے ایک دائرے میں گردش دیتا تاکہ شکر خوب اچھی طرح حل ہو جائے۔ اس کے گنجے سر کے ایک جانب ایک پھولی ہوئی رگ بہت نمایاں نظر آ رہی تھی اور ٹھوڑی پر سفید کھونٹیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ سالگرہ کا تحفہ میز پر رکھا ہوا تھا۔ جب عورت نے دوسری مرتبہ اس کے گلاس میں چائے انڈیلی تو مرد نے عینک لگائی اور مسرت اور انبساط سے ایک بار پھر اُن چمکیلے، زرد، سبز اور سرخ رنگ کے مرتبانوں کا جائزہ لیا۔ اس کے بےڈول اور مرطوب ہونٹ ان مرتبانوں پر لکھی خوشنما عبارت پڑھنے لگے۔ خوبانی، انگور، آلو بخارا، سنگترہ… ابھی وہ جنگلی سیب تک ہی پہنچا تھا کہ فون ایک بار پھر بج اٹھا۔
جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649
جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649
انتہائی قابلِ احترام پتاجی،
آج میں بے حد ادب کے ساتھ آپ کو شردھانجلی پیش کرنا چاہتی ہوں۔ میں جو کچھ بھی ہوں وہ نہ ہوتی، اگر آپ ویسے نہ ہوتے جیسے تھے۔
آپ کو ٹائم خراب کرنا سخت ناپسند ہے، سو جلدی اصل بات پر آتی ہوں۔ پچھلے مہینے میرے دونوں بھائیوں کا پیغام آیا میرے پاس کہ میں اپنے حصے کی موروثی جائیداد ان کے نام لکھ دوں، نہیں تو وہ مجھ سے ’تعلق‘ نہیں رکھیں گے اور مجھے’دیکھ‘ لیں گے۔ میں جانتی ہوں، مجھے ’دیکھ‘ لینے کے چکر میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ وہ بھی اسی پدرشاہی نظام کا حصہ ہیں جس کے آپ رہے۔ آپ کو بھی پسند نہیں تھا کہ کوئی عورت اپنے حق کی بات کرے یا سوچے بھی۔ آپ نے یہ اجازت نہ ماں کو دی، نہ مجھے۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ میرے ذرا سے جواب دینے پر پورا گھر مجھ پر ٹوٹ پڑتا تھا: ’’یہ وکیلوں والی جرح اپنی ساس سے کرے گی تو وہ ’بیچاری‘ تو اپنی چھاتی کُوٹ لے گی‘‘۔ ساس نے چھاتی کُوٹی ضرور، پر میرے جواب دینے سے نہیں، میرے پڑھنے لکھنے سے۔ وہ بھی ’بےچاری‘ اسی پدرشاہی نظام کا حصہ بنی رہی جو سمجھتا ہے کہ لڑکیاں پڑھنے لکھنے سے بگڑ جاتی ہیں— بالکل صحیح سوچتے ہیں، میرے بگڑنے کی شروعات بھی یہیں سے ہوئی۔
چار سال ہو گئے ہیں آپ کو گئے ہوے اور شاید ہی کبھی میں نے آپ کو اس شدت سے یاد کیا ہو۔ گاہے بگاہے کوئی مجھے آپ کی یاد دلا بھی دیتا تھا، یہ کہتے ہوے کہ تمھیں دیکھ کر تمھاری عمر کا اندازہ نہیں ہوتا، تم اپنی عمر سے بیس سال چھوٹی لگتی ہو، تو میں بے حد انکسار سے جواب دیتی تھی کہ میں اپنے پِتا پر پڑی ہوں۔ آپ تو نوّے کی عمر میں بھی ساٹھ سے زیادہ کے نہیں لگتے تھے۔ لوگ کہتے تھے، آپ کی ٹانگیں کاٹھ کی بنی ہیں، تھکتیں ہی نہیں۔ آپ کبھی رکتے نہیں تھے پتاجی، ہمیشہ چلتے رہتے تھے۔ اتنا چلے کہ بہت دور نکل گئے، ہماری پہنچ سے پرے۔ ہمارے لیے تو آپ پِتا نہیں، دور سیاروں سے آیا کوئی شکتی شالی آدمی تھے جس سے ہم سدا ڈرتے رہتے تھے۔ ہمارے ننھے ہاتھوں نے کبھی آپ کا ہاتھ نہیں پکڑا۔ آپ کا گھر میں گھسنا ہمارے خوف کا سبب ہوتا تھا۔ آپ کے آنے کی آہٹ پاتے ہی ہم اپنی کوئی بھی کتاب کھول اس میں اپنا سر ڈال دیتے تھے تاکہ کسی بھی طرح آپ کی آنکھوں سے اوجھل رہ سکیں۔ جو آپ کے سامنے پڑا، وہ گیا۔ پڑنا تو ماں کو پڑتا تھا، اور وہ یہ قہر اپنے دل اور جسم پر جھیلتی تھیں۔ چھلنی ہو گئے ہوں گے دونوں، جب وہ اوپر گئی ہوں گی۔ عورت کے جیون کی اتنی دشواریاں جھیل لیں انھوں نے کہ سب کچھ چتھڑا چتھڑا ہو گیا۔’جیوں کی تیوں دھر دینی چدریا‘، کبیر کہتے ہیں۔ کیا سچ مچ کوئی عورت ایسا کر پاتی ہے؟ ان کی ’چدریا‘ کے تار تو دور سے بھی ٹوٹے پھوٹے دکھائی دیتے تھے۔ آتما کو بھی اس میں رہتے شرم آنے لگی تھی۔
اب دیکھیے نا، بھائیوں کے فون کے ساتھ ہی رشتےداروں کے فون بھی آنا شروع ہو گئے اور وہ مجھے’شائستگی‘ سے یہ سمجھانے کی کوشش کرنے لگے کہ ’بھگوان کا دیا ‘ سب کچھ میرے پاس ہے، سو میں بھائیوں سے ’پنگا‘ لینے کی کوشش نہ کروں، نہ سوچوں۔ نہیں تو میں وہ ’گھر‘ [میرا مائیکا] کھو دوں گی۔ یہ سن کر بھی مجھے بہت زور سے ہنسی آتی رہتی ہے۔ یہ وہی رشتےدار ہیں جو آپ کے رہتے گھر میں گھسنے سے بھی ڈرتے تھے۔ آپ نے انھیں ہمیشہ اپنے گھر سے باہر رکھا، اور اب آپ کی غیرموجودگی میں دیکھیے کیسے گھسے چلے آ رہے ہیں! اور رہی اس ’گھر‘ کی بات تو وہ ’گھر‘ تو میرا پِتاجی، آپ کے رہتے بھی نہ تھا۔ آپ نے کبھی اس کا احساس ہی نہ ہونے دیا۔ جو ’گھر‘ ستر سال کی ماں کا نہ ہو سکا تو بھلا سولہ سال کی لڑکی کا کیا ہوگا؟ وہ گھر صرف آپ کا تھا، پِتاجی۔ وہاں تو ہر دن یہی سنائی دیتا تھا: ’’جا اپنے گھر تو ہمیں تجھ سے چھٹکارا ملے!‘‘ ہم لڑکیوں سے زیادہ تو آپ لوگ گھر کی گایوں کا سمّان کرتے تھے— تب تک جب تک وہ دودھ دیتی تھیں۔ بوڑھی ہو جانے پر آپ انھیں دان میں دے دیتے تھے۔ ہم بھی ہاڑتوڑ محنت کرتی تھیں، پِتاجی، میں اور میری چاروں بوائیں (پھپھیاں)، تاکہ ہم خود پر ہونے والے خرچ کے قرض کی بھرپائی کر سکیں۔ اگر وہ سب آپ کو دِکھا نہیں تو بھی کوئی بات نہیں پِتاجی، ’دِکھنے‘ لائق کچھ تھا بھی نہیں۔
بواؤں کی جیسے تیسے شادی کر کے انھیں ان کے نام نہاد ’گھر‘ بھیج کر، آپ نے مجھے گھر میں قید کرنے کے تمام جتن کیے۔ اس بندی خانے کو کتابوں سے بھر دیا کہ اسی میں الجھی رہوں، اور میں شبدوں کی پیٹھ پر سوار، اپنا جسم وہیں دھرے، اُڑ جاتی۔ آپ نے یہ بڑے ثواب کا کام کیا، پِتاجی۔ کتابوں نے مجھے وہ وہ دیا جو آپ دینے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ میں دھیرے دھیرے آپ کے خلاف کھڑی ہونے لگی تھی۔ پھر ایک دن جب میری ماں پٹی، میں آپ دونوں کے بیچ کھڑی ہو گئی۔
ہم آپ کو بہت پیار کرتے تھے، پِتاجی۔ گھر کی ہر اچھی چیز پر آپ کا ہی ادھیکار رہتا تھا، پھر آپ کے بیٹوں کا، چاہے وہ ماں کے ہاتھ کا بنا لذیذ کھانا ہو یا کچھ اَور۔ کھانا بنتے ہی ماں تھالی پروس کے آپ کے لیے الگ رکھ دیتی تھیں، پھر ہم بچوں کو کھلاتی تھیں، اور آخر میں سامنے رکھی کڑھائی کو پونچھ پونچھ کر اپنی روٹیاں ختم کر ایسی تسکین سے اٹھتیں جو آپ کو بھی وہ سپیشل تھالی کھاکر نہ ملتی ہوگی۔ مجھے یاد ہے، آپ اپنے کانوں میں مہنگے عطر کا پھاہا رکھتے تھے۔ آپ کے گھر سے نکلتے ہی ہم بھائی بہن آپ کے تکیے کو سونگھنے کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔ کبھی ایک گِرے ہوے پھا ہے کے لیے ہم لڑ مرتے تھے۔ ہم کتنے بھی نالائق ہوں، پر کیا ہوتا پِتاجی، اگر ایک پھاہا آپ ہمارے کانوں میں بھی رکھ دیتے؟ ہم تمام عمر آپ کی یاد سے مہکتے رہتے۔
مجھے خود پر بڑی شرم بھی آتی ہے کہ مجھے وہ وہ چیزیں یاد نہیں ہیں جو مجھے آپ سے ملیں: حوصلہ، خودداری، اکیلے جوجھنے کی فولادی طاقت، خوداعتمادی، اَور بھی بہت کچھ۔ اس سنگھرش نے میرے وجود کو ایک دھار دی۔ نہیں، صرف اسی سنگھرش نے نہیں، اُس دوسرے سنگھرش نے بھی جو اُس دوسرے گھر کی دین تھا جہاں آپ نے شادی کے نام پر مجھے بھیجا تھا۔ کتنا آزاد محسوس کیا ہوگا آپ نے یہ کہتے ہوے کہ ’’جا، اب اِس طرف پیٹھ کرکے سونا‘‘۔ اس گھر میں تو ہم کھارے پانی سے کبھی کبھی روبرو ہوتے تھے کیونکہ یہاں ماں تھیں، اُس گھر میں تو میں روز کھارے پانی سے سنان کرنے لگی کیونکہ وہاں ساس تھیں۔ ہم پیدائشی بےگھر لڑکیاں ایک گھر کی تلاش میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں، اور داؤ پر لگانے کے لیے ہمارے پاس ہوتا ہی کیا ہے اس جسم کے سوا؟ پر میں نے آپ سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی، نہ کبھی اپنا کوئی دکھڑا رویا۔ وہ میرا نصیب تھا جس سے مجھے خود ہی بھڑنا تھا۔ آپ نے مجھے ’چیز‘ بنایا، سسرال مجھے ’اچھی چیز‘ بنانے پر مُصر تھا۔
ہم پریم سے اُپجی اولاد نہیں تھیں، پر اولاد تو تھیں۔ میں آپ سے، آپ کے سامنے پیدا ہوئی، پلی بڑھی، جوان ہوئی، لڑی جھگڑی، پر گھر میں کسی کو سمجھ میں نہیں آئی، یہاں تک کہ ماں کو بھی نہیں۔ ان پر معاشی بوجھ تو تھا ہی، اپنی اور بچوں کی حفاظت کا بھی بوجھ تھا۔ صبح تین بجے اٹھ کر رات گیارہ بجے تک وہ عورت ہاڑتوڑ محنت کرتی تھی۔ آج کی عورتوں کو جب دیکھتی ہوں، کہ کس طرح وہ بازار میں اور بازار اُن میں ناچ رہے ہیں، وہ لگی ہیں مرد کو ’خالی‘ کرنے اور اپنے لالچ ’جی‘ لینے میں، تو حیرانی نہیں ہوتی۔ وہ اپنا پچھلا بدلہ چکا رہی ہیں۔ مجھے ماں پر غصہ آتا تھا۔ تمام وقت وہ تمھارے اور تمھارے بیٹوں کے لیے برت رکھتی تھیں، آنولے کے پیڑ کو گول گول گھومتے ہوے لال دھاگے باندھتی تھیں، اور ہولیکا دہن یا دوسرے تیوہاروں میں تمھارے لیے انگاروں پر میٹھے روٹ سینکتی تھیں۔ تم نے ہمیں دو حصوں میں توڑ دیا تھا: کمر سے نیچے اور اوپر۔ یہ دونوں تمھارے ہی لیے کام کرتے تھے۔ نیچے کا دھڑ مزاحمت کرتا ہے تو اسے سرسنبھالتا ہے، سر بغاوت کرتا ہے تو دھڑ سنبھالتا ہے۔ تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ تمھارے اقتدار سے الگ بھی میں اور ماں کچھ ہو سکتے ہیں، کہ ہمارے پاس بھی اپنا دماغ اور شعور ہے۔ یہ ہمیشہ تم ہی طے کرتے تھے کہ ہمیں کیا اور کتنا دینا چاہیے۔ اور دیا بھی۔
آپ تو اپنے ناکارہ بیٹوں کے ہر سکھ دکھ میں کھڑے ملے، پِتاجی۔ وہ آپ کی کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہوں گے، یہ بات آپ کو بےحساب خوشی دیتی تھی۔ وہ پڑھنا نہیں چاہتے تھے، آپ ان کو مار مار کر پڑھاتے تھے۔ میں پڑھنا چاہتی تھی، آپ نے میری پڑھائی چھڑوا دی۔ آپ ان پر فضول خرچ کرتے تھے پر مالی مشکلات کی شکار اپنی بہنوں کو سو روپلّی دیتے ہوے کہتے تھے، ’’میرے پاس ہے کہاں بہنا، بس کام چلا رہا ہوں۔‘‘ اپنے جس نام کو ’روشن‘ کرانے کا آپ کو بےپناہ لالچ تھا، اسی ’نام‘ کو آپ کے بیٹوں نے ’ڈبو‘ دیا۔ پر کوئی بات نہیں پِتاجی، جس سورگ میں آپ ہیں، وہ بھی آپ جیسوں کا ہی جماؤڑا ہے، وہاں بھی سارے دیوتا ایک دوسرے کی تعریفیں گاتےگواتے ہیں، دیویوں کو بھی انھوں نے اپنے حساب سے گڑھ رکھا ہے، سو مجھے امید ہے، اوپر آپ کے نام کا جھنڈا ضرور لہرا رہا ہوگا۔ پر ایک بات اَور بتائیے پِتاجی، کیا آپ کا ’نام‘ اور ’شان‘ کچھ سطحی چیزوں پر نہیں ٹکا تھا؟ میں سر پر دوپٹہ نہیں لیتی تھی تو آپ چیختے تھے: ’’بےنظیر بھٹو کو دیکھو، سر پر دوپٹہ لے کر تقریر کرتی ہے۔ ایک تم ہو! لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ یا، ’’ لتا منگیشکر کو دیکھو، اس نے کتنا اپنے باپ کا نام روشن کیا ہے، ایک تم ہو!‘‘ میرے ہر کام میں، یہاں تک کہ میری شکل صورت میں بھی آپ کو ہزار نقص دکھتے تھے۔
’’دیکھو تو، کیسے چلتی ہے! دھپ دھپ کرکے۔ کون اس سے شادی کرے گا؟‘‘
’’قد دیکھو، کیسے نکلتا جا رہا ہے! لڑکیاں چھوٹی اچھی۔‘‘
’’اتنی زور سے ہنسنے کی کیا ضرورت ہے؟ لڑکیاں ہنستی ہوئی اچھی نہیں لگتیں۔‘‘
آپ ٹھیک تھے پِتاجی، لڑکیاں صرف روتی ہوئی اچھی لگتی ہیں، کیونکہ تب ان پر ترس کھایا جا سکتا ہے، ان پر مہربان ہوا جا سکتا ہے۔ اچھا ہوا آپ کو پتا نہیں چلا، کتنے امکانات کے بیج آپ نے اپنے الفاظ کے سفاک پیروں تلے کچل دیے۔ ہمارے سیلف کانفیڈنس کو مٹی میں ملا دیا۔ ہم ’کچھ نہیں‘ تھے ،اور یہ آپ کبھی نہیں جان پائے کہ ’کچھ نہیں‘ سے ’کچھ‘ ہونےکا جان لیوا سفر کرنے میں مجھے کتنے برسوں اور کتنے دردوں سے گزرنا پڑا۔ اپنی مٹی سے پرانے کانٹوں کی فصل اکھاڑنا، مٹی کو دوبارہ اُپجاؤ بنانا، نئے بیج لگانا، پھر بارش اور فصل کا انتظار کرنا۔ میں آپ کو دھنے واد دیتی ہوں پِتاجی، کہ آپ نے مجھے سر نہیں چڑھایا۔ آپ کے سر چڑھائے بیٹوں کا انجام میں دیکھ رہی ہوں جنھیں اپنے بُوتے دو قدم چلنا نہیں آیا۔
بےنظیر بھٹو بھی ڈری سہمی گھومتی ہوگی کہ وہ آپ جیسوں کی ذہنیت والوں کا شکار نہ ہو جائے، اور وہ ہو گئی۔ آپ لوگ ایک قدآور عورت کو گھروں میں بھی برداشت نہیں کر پاتے، سڑکوں اور اونچے عہدوں پر تو کوئی سوال ہی نہیں۔ برداشت کرنا بھی نہیں چاہیے پِتاجی، یہ زنانہ فوج گھر سے نکل آئی تو پھر بچے کون پالے گا؟ اِن کو اِن کی اوقات بتانا بہت ضروری ہے۔
پر میری ایک درخواست ہے، اپنے بچوں کو ’بنا‘ دینے کی ذمےداری کسی باپ کی نہیں ہوتی۔ پلیز اس سے باز آئیے۔ آپ وہی بنا سکتے ہو جو آپ خود ہو۔ آپ تو بس اتنا پیار اور سمّان دو کہ وہ خود کو بھی وہی دے سکے، خود اپنی مٹی سے اٹھ، تن کر کھڑا ہو سکے۔ ہم عورتوں کو بھرپور صحت مند رشتے کہاں ملتے ہیں؟ ہمیں تو ملتے ہیں چیزوں کے ڈھیر۔ ہم انھی سے چپکتے، انھی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں تو وہ مرد ملتا ہی نہیں جو ہمیں ہمارے مکمل ہونے کا شعور کرا سکے۔ اکثر ہم ایک بےتسکینی بھرے بھٹکاؤ میں ہی جیون گزار دیتی ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی کوئی بےخوف، دبنگ، بےباک اور بیہڑ عورت مردانہ اقتدار کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور اس کی چُولیں ہلا دیتی ہے۔ خود کو اپنی زبان سے کہتی ہے، اپنے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ پر پھر کیا ہوتا ہے؟ یہ اقتدار تیور بدل کر بات کرتا ہے اور آخرکار اسے ٹھکانے لگا دیتا ہے۔
آپ نے اپنی بہنوں پر بھی اتنی زیادتیاں اور بےعزتیاں کیں کہ انھوں نے آگے ہونے والی بےعزتیوں کو بھی اپنا نصیب مان لیا۔ اب آپ کی جگہ ان کے شوہروں اور بیٹوں نے لے لی ہے۔ پر آپ بھی کیا کیا کرتے پِتاجی، اب سب کی ذمےداری آپ نے تھوڑا ہی لے رکھی ہے! ایک مَیں ہی اُن کی طرح نہیں بن پائی۔ آپ نے تو ہم سب کو بےچہرہ ہی بنا رکھا تھا، پر میں نے اپنے بھیتر سے اپنا نیا چہرہ اُگا لیا۔ یقیناً اس کا بھی کریڈٹ آپ ہی کو جاتا ہے۔ اب بتائیے، جو کتابیں آپ مجھے اپنی قید میں بنے رہنے کے لیے دیتے تھے، انھی نے میرا بیڑا غرق کر دیا۔ ماں یہ بات ضرور سمجھتی ہوں گی، تبھی تو وہ کتابیں جلا دیتی یا چھت پر پھینک دیتی تھیں۔ کہتی تھیں، ’’لڑکیوں کو زیادہ نہیں پڑھنا چاہیے، بھلا گھرگرھستی چلانے میں پڑھائی کا کیا کام؟ سلائی کڑھائی سیکھو، پاپڑبڑیاں، گھجیے کچری بناؤ، رضائی گدّےجھولے بناؤ، سندھی کڑھائی سیکھو، گُرمکھی سیکھو، دھارمک گرنتھ پڑھو، اچھی پتنی، اچھی بہو بننے کے گُن سیکھو، نہیں تو لوگ ہم پر تھوکیں گے کہ تم نے اپنی بیٹی کو کیا سکھایا؟‘‘ اب بتائیے، ہمارے دیش میں تو لوگ کہیں بھی تھوک دیتے ہیں، ان کا کیا کیا جائے؟ پھر میری جبراً شادی کر دینے پر انھوں نے سمجھائش دی، ’’روز صبح جلدی اٹھ کر گھر کے سارے کام کرنا۔ ساس سسر کے روز پیر چھونا۔وہ جو بھی کہیں، کبھی پلٹ کر جواب مت دینا۔ اگر وہاں سے کوئی شکایت آئی تو سمجھ تُو ہمارے لیے مر گئی۔‘‘ پتاجی، کیا میں آپ کو بتا پاؤں گی کہ جینے کے لیے ایک لڑکی کو کتنی بار مرنا پڑتا ہے؟ میں نے وہ سب کرنے کی بھرپور کوشش کی جو مجھ سے کہا جاتا رہا، پر میں کیا کرتی؟ میری زمین پھوڑ کر تب تک ایک نئی عورت نکل آئی تھی اور اس نے پرانی کی جان ہی لے لی۔
میں ماں کو کبھی سمجھا نہیں پائی کہ تم جن کی طاقت کو کوستی اور کراہتی ہو، انھی کو دراصل پالتی پوستی بھی ہو۔ ماں آپ سے نفرت بھی کرتی تھیں اور ایک عجیب سوامی بھکتی بھی تھی ان میں۔ ان کے وجود کے معنی اپنے ’سوامی‘ (پتی) سے ہیں، اور وہ اس وجود کو ہی بےمعنی مانتا ہے۔ وہ ہمیشہ چڑچڑی، غصیل اور بےچین رہتی تھیں۔ ان کا بےبس غصہ ہم پر پھوٹ کر ٹوٹے کانچ سا ہر وقت گڑتا رہتا تھا۔ یہ خودبخود نہیں ہوا کہ ان کی موت دل کی دھڑکن رکنے اور یونی میں کیڑے پڑنے سے ہوئی۔ پر اس میں آپ کا کیا قصور؟ یہ تو قسمت ہوتی ہے ہر مورکھ عورت کی۔ آپ ہی تو کہتے تھے، ’’عورتیں ڈنڈے کی نوک پر سیدھی رہتی ہیں۔‘‘
مجھے لگتا تھا کہیں نہ کہیں جاکر اس سے آزادی پانا ممکن ہے، پر میں غلط تھی۔ عورتیں بوڑھی ہونے کے بعد بھی آزاد نہیں ہوتیں، صرف ان کے مالک بدلتے ہیں۔ ہر لمحے مردانہ طاقت سے اپنی حفاظت کرتے رہنے کا ڈر ہمیشہ ان کے شعور پر حاوی رہتا ہے۔ اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے مرد کے مقابلے میں انھیں چوگنا سنگھرش کرنا پڑتا ہے۔ دیکھیے نا، میں ابھی تک کر رہی ہوں۔
آپ تو اتنے گیان وان تھے پِتاجی، کہ آپ کو بھولے اور بھوندو شوہر پسند ہی نہیں آتے تھے کیونکہ ان میں عورتوں کو دابے رکھنے کا ہنر نہیں ہوتا۔ شاید اس لیے آپ کو اپنے پِتا ناپسند تھے، کیونکہ ان میں آپ کی ماں کو دابنے کا ہنر نہیں تھا۔ تو آپ نے اپنے بیٹوں کو بھی غور سے دیکھا ہی ہوگا۔ کون کس کو داب رہا ہے؟ آپ کو اپمان اور دکھ ہوتا ہوگا، پر وقت اب تھوڑا سا بدل گیا ہے۔ آپ کو تو اپنی بدزبان اور اَن پڑھ ماں بھی اچھی نہیں لگتی تھیں۔ آپ چاہتے تھے، عورت ’سمجھدار‘ بھی ہو اور اپنی ’حد‘ میں بھی رہے، ’عقل‘ اور ’فیصلے کی قوت‘ ہو پر وہ اس کا استعمال نہ کرے۔ اب ایسی عورتیں تو صرف کتابوں میں ملیں گی پِتاجی!
آپ سے اس ساری بدتمیزی کے لیے مجھے بے حد افسوس ہے، قابلِ احترام پِتاجی۔ جیسی بھی ہوں، آپ کی اُپج ہوں۔ نہ میں آپ کے ہونے سے انکار کرتی ہوں، نہ آپ کو مٹانا چاہتی ہوں نہ جھکانا۔ بس اتنا چاہتی ہوں، آج ذرا برابری کے لیول پر بات ہو جائے۔ دیکھیے نا، آپ نے مجھے بولنے کا کبھی موقع نہیں دیا، آج میں جی بھر کر بول رہی ہوں۔ آپ نیچے ہوتے تو ضرور مجھے اپنی چھتری سے مارتے۔ چھتری کی مار مجھے کبھی بری نہیں لگی، پِتاجی، بس شبدوں کی مار ذرا زور سے لگتی ہے۔ پر کوئی بات نہیں، یہ آپ کا پیدائشی حق تھا۔ آپ بات بات پر کہتے تھے، ’’میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا تم لوگوں کا؟ دانے دانے کو محتاج ہو جاتے!‘‘ مجھے نہیں پتا کیا ہوتا، پِتاجی۔ پر اگر آپ نہ ہوتے تو ہم ضرور اپنے بھیتر کھوئی عقل، حوصلے اور خودشعوری کو جگا ہی لیتے۔
آج اتنے برسوں بعد اتنی دور کھڑے ہوکر میں آپ کی ذہنیت کی دھجی دھجی اُدھیڑنے کے لیے آپ سے معافی مانگتی ہوں، پِتاجی۔ جانتی بھی ہوں، کہ درحقیقت یہ آپ کا چناؤ نہیں، کنڈیشننگ ہے جو آپ کے ریشے ریشے میں سما گئی ہے۔ جو مرد اس سے آزاد نہیں ہو پاتے، مجھ جیسی عورتیں ان سے آزاد ہو جاتی ہیں۔
عورت کی غلامی مرد کے وجود کی مانگ ہے، عورت کی آزادی اس کی آتما کی ضرورت ہے۔
اور یہ سب آج میں آپ کو کیوں کہہ رہی ہوں؟ کیونکہ بھائی بھی وہی کر رہے ہیں جو انھوں نے اس روایت سے سیکھا ہے۔ ہم عورتوں کو تمھاری جائیداد محفوظ رکھنے کا حق تو ہے، اس کا استعمال کرنے کا نہیں۔ وہ چاہتے ہیں میں ’پھوکٹ‘ میں ان کا ٹائم خراب نہ کروں، اپنی ’اوقات‘ میں رہوں، چپ چاپ اپنا راستہ ناپوں، دفع ہوؤں ان کی زندگیوں سے۔ میں تو کب کی دفع ہو چکی ہوں، پِتاجی۔ میں کسی کے اندر زندہ نہیں ہوں، پر میرے اندر سب زندہ ہیں۔ اب اس حق سے مجھے محروم کرنے کے لیے انھیں بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے، ویسے ہی پاپڑ جنھیں ٹھیک سے نہ بیل سکنے پر آپ لوگ میری انگلیاں توڑتے تھے۔ مجھ میں آپ کا مقدس خون ہے پِتاجی، اس لڑائی میں ہار کر میں آپ کو شرمندہ ہونے کا موقع ہرگز نہیں دوں گی۔ اس جرم کی معافی کی درخواست کبھی کی ہو تو واپس لیتی ہوں۔
آپ کی سرکش بیٹی۔
(نام نہیں لکھ رہی۔ آپ کا دیا نام پیچھے چھوڑ آئی ہوں۔ نیا جان کر آپ کیا کریں گے ؟)
جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649
بیتی باتوں سے من کھٹا ضرور ہوا تھا۔ پھر بھی سڑک پر گشت لگانے والا پولیس حوالدار اور لال روشنی میں بھیگی وہ ویشیا من میں گہرے بیٹھ چکے تھے۔ وہ دونوں مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ کئی بار تو میں اپنے ہی وچاروں میں اس طرح کھو جاتا کہ اور کسی بات کا ہوش حواس تک نہ رہتا۔ بھاسکرراؤ کے ساتھ میری کئی بیٹھکیں ہونے لگیں اور ‘آدمی’ روپ لینے لگی۔
آج تک کی سبھی فلموں کے ہیرو سے ‘آدمی’ کا ہیرو مکمل نرالا بنانا طے کیا۔ عام فلموں کا ہیرو ہمیشہ تمام خوبیوں کا پتلا، دِکھنے میں سُندر، بہت بہادر اور نہ جانے کیا کیا نہیں ہوتا تھا۔ ان سبھی پرانے خیالات کی لیک سے ہٹ کر ‘آدمی’ کا ہیرو عام آدمی جیسا ہو، اس کے اندر وہ سبھی خامیاں اور خوبیاں ہوں جو عام آدمی میں پائی جاتی ہیں، یعنی وہ ایک دم ‘اینٹی ہیرو’ ہو، اِس طرح اُس کی تخلیق کرنا میں چاہتا تھا۔
ہیروئین تھی ایک ویشیا، مجبوری کے کارن اس پیشے میں پڑی۔ جیون میں بہت سی تھپیڑیں کھا چکنے کے کارن پتھرائی سی، کچھ چالو، خود غرض، لیکن پھر بھی اتنی ہی بھولی بھالی اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے والی، کسی خاندانی عورت کی طرح جیون بِتانے کے سپنوں میں کھونے والی اس طرح کے باہمی مخالف رنگوں میں رنگی ہوئی ہیروئین کو میں نے بیان کیا۔
بھاسکرراؤ امیمبل نے میرے اس بیانیہ پر مبنی دونوں اہم شخصیتوں کو تحریر کیا اور پورا سکرین پلے تیار کیا۔ کہانی بہت ہی چست، چھوٹی، پھر بھی چُھو جانے والی بن پڑی۔ ان دنوں اپنے ترقی پسند وچاروں کے لیے مشہور لیکھک اننت کانیکر نے مراٹھی ورژن کے مکالمے لکھے اور ہندی کے لیے وہ کام منشی عزیز نے کیا۔ سنگیت سنوارنے کا کام ماسٹرکرشن راؤ کو سونپ دیا گیا۔
میں چاہتا تھا کہ اس فلم کی ساری تکنیک ہی ایک دم نئی ہو۔ لیکن ٹھیک ٹھیک کیسی ہو، اس کی کوئی واضح سوچ بن نہیں پا رہی تھی۔ فلم کی ریہرسل شروع ہو گئی۔ عام طور پر میرا رواج یہی تھا کہ ریہرسل سے پہلے ہر سین کا تخیل، اسے کیسے کیسے آگے بڑھانا ہے، اس سے کیا اثر متوقع ہے، کیسے اس میں رنگ اور رس بھرنے ہیں، اس کا واضح خاکہ من میں تیار کر لوں۔ لیکن اس بار میں خود بہت ہی تذبذب میں تھا۔ آخر میں یہی سوچ کر کہ ریہرسل کرتے کراتے ہی فلم کے مختلف منظروں کا تانا بانا من میں برابر بن جائے گا، میں نے بڑی محنت سے ریہرسل کرانا شروع کر دی۔ کسی ایک ہی سین کو الگ الگ ڈھنگ سے بنانے کی کوشش کرنے لگا۔ اور مجھے نت نئے خیالات سوجھنے لگے۔ فتے لال بھی سیٹ کی تصویریں بنانے میں لگ گئے۔ جانداری اور حقیقت لانے کے لیے مَیں فتے لال جی کو ساتھ لیے چکلہ بستیوں کی ہر گلی چھاننے لگا۔ پولیس والوں کی ہر بستی میں ہم لوگ ہو آئے۔ اس کے بعد انہوں نے سیٹ لگوانا شروع کیا۔ بمبئی کی بھونڈی، بھدی بستیوں کی چال، پولیس کی بیرکیں یا داروغہ کا تھانہ، سب کو میں اتنا اصلی بنانا چاہتا تھا کہ ناظرین کو ایسا لگے کہ ہم لوگوں نے ان موقعوں پر وہاں جا جا کر ہی شوٹنگ کی ہے۔
جیسے جیسے ریہرسلز ہونے لگیں، سین کی شوٹنگ کے مختلف آئیڈیاز اور استعمال میں لانے لائق علامتوں کی جیسے جھڑی سی لگ گئی۔ ان میں سے کِسے لینا، کِسے چھوڑنا، اس کی کنفیوژن ہونے لگی۔ دل و دماغ پر بس ایک ہی دھن سوار ہو گئی کہ کیسے ‘آدمی’ کو انتہائی حقیقی بنایا جائے۔
شوٹنگ شروع ہوئی اور ہم سب پر فلم میکنگ کا نشہ سا سوار ہو گیا۔ اس میں کتنا لطف آتا تھا، لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم لوگ کام میں اتنے مست ہو جاتے تھے کہ دن ڈوب بھی گیا تب بھی لگتا تھا کہ شوٹنگ کبھی رکے ہی نہیں، بس چلتی ہی رہے۔ فلم کا ہیرو گنپت اپنے سینئر ساتھیوں کے ساتھ جوۓ کے کسی اڈے پر چھاپہ مارتا ہے۔ وہاں وہ ایک ویشیا کو جس کا نام کیسر ہوتا ہے، پکڑ لیتا ہے۔
اس کے ساتھ وہ اسی حقارت سے باتیں کرتا ہے جیسی کسی مجرم کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ وہ اس کے سبھی سوالات کا لا پرواہی سے جواب دیتی تو ہے، لیکن اس کے جوابوں سے اس کے من میں مہذب سماج کے لیے جو کڑواہٹ کوٹ کوٹ کر بھری ہے، صاف ابھر آتی ہے۔ انجانے میں اُس کا درد اُس کٹھور پولیس سپاہی کے من کو چھو جاتا ہے۔ اس سین میں اس سخت پولیس جوان کے منہ میں کوئی مکالمے ڈالے جاتے تو ایک دم بے تکے سے لگتے۔ کیسر اور گنپت جب سڑک پر چلتے رہتے ہیں، تو ادھر سے کسی دوسرے پولیس سپاہی کی سیٹی سنائی دیتی ہے۔ قدموں کی آہٹ سے لگتا ہے کہ سیٹی بجانے والا وہ دوسرا پولیس والا ان دونوں کے پاس آتا جا رہا ہے۔ گنپت فوراً کیسر کو کسی اوٹ میں دھکیلتا ہے اور اپنا اوور کوٹ اس پر پھینکتا ہے، تاکہ کیسر اُس دوسرے پولیس والے کو دکھائی نہ دے۔ وہ پوری طرح سے کوٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے، بچ جاتی ہے۔ اِس چھوٹے سے عمل کے ذریعے گنپت ناظرین کو یہ محسوس کراتا ہے کہ اس کے من میں کیسر کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ اس سین کا جو اثر اس واقعہ کے کارن ممکن کیا گیا، وہ ہزار لفظوں سے بھی کبھی نہ ہو پاتا۔
ایک بار فلم کی ہیروئین کیسر کے کوٹھے کے ایک سیٹ پر شوٹنگ جاری تھی۔ سین کافی نزاکت بھرا تھا۔ ہم لوگ اس میں رنگ گئے تھے۔ تبھی شانتا آپٹے کے بھائی بابوراؤ بڑی جلدی جلدی سیٹ پرآئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر منت بھری آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، پہلے میرے ساتھ آئیے! دیکھیے بھی ادھر امی کیا کیا کر رہی ہے! (بابوراؤ اپنی بہن کو امی کہا کرتے تھے) وہ کواڑ اندر سے بند کر بیٹھی ہے۔ میں نے اسے آواز دی تو پاس پڑا پیپرویٹ اس نے کھڑکی سے مجھ پر پھینکا۔ آپ پہلے چلیے!”
وہ مجھے لگ بھگ کھینچ کر ہی وہاں سے لے گئے۔
زینہ چڑھ کر میں شانتا آپٹے کے کمرے کی طرف گیا۔ بابوراؤ مجھے کھینچ کر کھڑکی کے پاس لے گئے۔ میں نے اندر جھانک کر دیکھا، تو وہاں ایک عجیب حال تھا؛ شانتا آپٹے ایک کرسی پر لاش جیسی جڑوت بیٹھی تھیں۔ بابوراؤ نے بتایا کہ فتے لال جی نے اسے ڈانٹا اور غصے میں آ کر اسے پیٹنے کے لیے اپنی چھتری بھی اٹھائی۔ ان کی باتیں سننے کے لیے میں وہاں رُک ہی نہ پایا۔ دندناتا ہوا زینہ اتر کر فتے لال جی کے کمرے کی طرف چل پڑا۔
‘دنیا نہ مانے’ فلم کے بعد شانتا آپٹے کافی مشہور ہو چکی تھیں۔ کافی دنوں کے لیے وہ جنوب میں سیر کرنے گئی تھیں۔ ادھر کے جذباتی لوگوں نے اس کا کافی پیارو محبت سے استقبال کیا تھا۔ عوام کے اس پیار، استقبال اور مہمان نوازی کی وجہ اسے اور بابوراؤ کو بے حد خوشی ہوئی تھی، جیسے آسمان ہاتھ آ گیا ہو۔ شانتا آپٹے جنوب کا دورہ کر واپس لوٹی تو اس کی ساری Paid leaves کے دن ختم ہو چکے تھے اور اوپر کچھ زیادہ ہی دن بیت چکے تھے۔ اُن دنوں دستور یہ تھا کہ ہماری کمپنی کے بڑے سے بڑے کلاکار کو یا تکنیکی ماہر کو بھی کام پر آتے ہی برابر attendance sheetپر دستخط کرنے پڑتے۔ paid چھٹی سے زیادہ دن غیر حاضر رہنے پر ان اضافی دنوں کی تنخواہ کاٹ لی جاتی تھی۔ لہذا اصول کے مطابق شانتا کی تنخواہ بھی کاٹی گئی اور باقی رقم اسے دی گئی۔ اس نے پیسے لینے اور attendance sheet پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب واقعہ ہوا تب میں تو ‘آدمی’ کی شوٹنگ میں مصروف تھا۔ لہذا اکاؤنٹنٹ نے معاملہ فتے لال جی کو سنایا۔ وہ شانتا کے کمرے میں جا کر اسے سمجھانے لگے تو وہ ایک دم جھنجھلا اٹھی اور سب کو کمرے سے باہر کر اس نے کواڑ اندر سے بند کر دیے۔
شانتا آپٹے کے اس طرح ادھم مچانے پر مجھے غصہ آیا۔ میں پھر تمتماتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا اور کھڑکی کے پاس جا کر اسے ڈانٹ کر بولا، “شانتا بائی، اٹھو!” میری آواز سنتے ہی وہ تڑاخ سے کھڑی ہو گئی۔ میں نے پھر حکم دیا، “دروازے کی کنڈی کھولو!” کسی کٹھ پتلی کی طرح اٹھ کر اس نے دروازہ کھولا۔
میں کمرے میں پہنچا۔ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے پتہ نہیں کہاں کسی خلا میں دیکھ رہی تھیں۔ میں نے پہلے جیسے ہی ڈانٹ بھری آواز میں کہا، “کرسی پر بیٹھو!” وہ میری نظر سے نظر ملانے سے ڈر رہی تھیں۔ میں نے بابوراؤ کی طرف مڑ کر انہیں سے کہا، “نیچے جائیے اور ایک کپ کافی لے آئیے۔” بابوراؤ گئے اور کافی لے کر آ گئے۔ میں نے شانتا بائی سے کہا، “یہ کافی پی لو!” اس نے وہ گرم کافی پانی جیسے ایک ہی سانس میں پی ڈالی۔ تب میں نے کہا، “اب آپ بابوراؤ کے ساتھ گھر جائیے!” وہ کسی مشین کے طرح چل کر کمرے کے باہر جانے لگی۔ بابوراؤ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔
شانتا بائی کو سنائی دے اتنی آواز چڑھا کر میں نے بابوراؤ سے کہا، “کل صبح شانتا بائی کو لے کر کمپنی میں آئیے۔ صاحب ماما سے بات کر ساری غلط فہمی دور کر لیں گے۔ ”
دھت۔۔۔ ماں کی! شوٹنگ کتنی رنگ پر آئی تھی اور یہ بےکار کی جھنجھٹ نہ جانے کہاں سے آ کھڑی ہوئی۔ اس کے کارن میں کافی پریشان رہا۔ قدم اپنے آپ اپنے آفس کی طرف مڑے۔ وہاں تھوڑی دیر میں اکیلا ہی بیٹھا رہا۔ شوٹنگ رکی پڑی تھی۔ نہیں، ایسا کرنے سے کام کیسے چل سکتا ہے؟ جو بھی ہو، آج کی شوٹنگ تو پوری کرنی ہی پڑے گی۔ شانتا آپٹے کے اس واقعہ سے من ہٹا کر میں پھر سے آج کی شوٹنگ پر مرکوز کرنے لگا۔ ناخوشگوار وچار آہستہ آہستہ چھنٹتے گئے۔ میں پھر شانت من سے شوٹنگ کرنے کے لیے سٹوڈیو کی طرف مڑا۔
دوسرے دن سویرے پونے نو بجے میں سٹوڈیو میں آ گیا۔ پہرے دار نے مجھے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح سلام کیا۔ میں نے بھی عادت کے مطابق اپنا ہاتھ اونچا اٹھا کر سلام قبول کیا۔ چپڑاسی سے آنکھیں چار ہوتے ہی اس نے head attendance کے برآمدے کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے بھی اُدھر دیکھا۔ ایک بینچ پر شانتا آپٹے سوئی پڑی تھی۔ بابوراؤ بھی وہاں کھڑے کھڑے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے ان کے پاس جا کر حیرانی سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟”
انہوں نے کہا، “کل کمپنی میں جو واقعہ ہوا، اس کے کارن امی اپنے آپ کو بہت ہی بےعزت محسوس کر رہی ہے اور اسی لیے اس نے یہاں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔” شانتا بائی کے پاس جا کر میں نے اسے آواز دی، سنتے ہی اس نے آنکھوں پر کس کر رکھا ہاتھ کچھ ہٹایا اور مجھے دیکھا اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ پھر فوراً ہی اس نے اپنی آنکھوں کو کس کر ڈھانپ لیا۔
“شانتا بائی، یہ کیا پاگل پن لگا رکھا ہے! میں نہیں سوچتا صاحب ماما جان بوجھ کر تمہیں بےعزت کریں گے۔ لیکن مان لو بھولے میں انہوں نے ویسا کیا بھی، تو میں تمہیں پھر بتاتا ہوں، ہم لوگ آپس میں بیٹھ کر ساری غلط فہمیاں دور کر لیں گے۔”
شانتا بائی اپنا رونا روک کر لیکن منہ پر سے ہاتھ نہ ہٹاتے ہوئے بولی، “اب اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا! آپ تو انہیں کی باتوں کو سچ مانیں گے۔ پھر اب آپ کو میری ضرورت بھی تو نہیں رہی۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین کا کردار میں نے کتنی بار آپ سے مانگا، پھر بھی آپ نے وہ مجھے نہیں دیا!”
یہ سچ ہے کہ اس نے وہ کردار لینے کی ضد کی تھی، لیکن میں نے تب بھی اسے سجھا بجھا کر کہا تھا، “یہ کردار تو عمر میں کچھ بڑی، ادھیڑ عمر کی طرف بڑھتی عورت کو ہی پھبے گا۔ تم اس کام کے لائق نہیں ہو۔ پھر اس طرح کا رول کرنا تمہارے لیے مشکل بھی ہو گا۔ اگر اس کردار کو اچھی طرح نہیں نبھایا، تو ‘دنیا نہ مانے’ کے کارن تمہاری جو شہرت پھیلی ہے، دھندلی ہو جائی گی۔”
لیکن عورت ہٹ ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سامنے دنیا کی ساری دلیل بیکار ہو جاتی ہے۔ کم سے کم اس سمے تو اسے شانت کرنے کے لیے میں نے کہا، “میں آپ کو آئندہ فلم میں بہت اچھا کام دوں گا، جس سے تمہارا نام اور پھیلے گا۔” میرا اندازہ تھا، یہ سن کر وہ کچھ خوش ہو جائے گی اور بھوک ہڑتال کا یہ تماشا بند کر دے گی۔ لیکن وہ ہونے سے رہا۔ وہ بولی، “مجھے اب ‘پربھات’ کے فلم میں کام نہیں کرنا ہے۔ آپ مجھے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیجیے!”
کانٹریکٹ سے آزاد کرنے کی بات اس کے منہ سے سنتے ہی میں آپے سے باہر ہو گیا۔ میں نے بھی آواز چڑھا کر کہا، “کانٹریکٹ سے آزاد ہونے کے لیے ہی تم نے یہ بھوک ہڑتال کی ہو تو کان کھول کر سن لو، ‘پربھات’ کے ساتھ کیے گئے کانٹریکٹ سے تمہں ہرگز آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ ‘پربھات’ نے تمہیں اتنا نام دیا، شہرت دلائی، اسی کی عزت ایسے ناٹک رچ کر تم کم کرنے جا رہی ہو۔ اس طرح کا طرز عمل کرنے والے کسی شخص کے بھی لیے میرے من میں کوئی عزت نہیں ہے— چاہے وہ شخص کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ تمہیں آخری بار وارننگ دیتا ہوں: بھوک ہڑتال کا یہ بےکار کا جھنجھٹ چھوڑ دو، سٹوڈیو میں چلو۔ بیکار کا تماشا کھڑا نہ کرو!”
میں نے اتنا سمجھایا، پھر بھی شانتا بائی نے کہا “میں آپ کے سٹوڈیو میں اب قدم بھی رکھنا نہیں چاہتی۔ جب تک آپ کانٹریکٹ سے آزاد نہیں کرتے، میں یہاں سے ہٹوں گی نہیں!” اب میری قوت برداشت کا باندھ ٹوٹ گیا۔ میں نے اس سے صاف کہہ دیا، “اس کے بعد میں تمہیں سمجھانے کے لیے بھی نہیں آؤں گا۔ اس بھوک ہڑتال کے کارن تمہیں کچھ ہو گیا، تب بھی ادھر جھانکوں گا نہیں۔”
شانتا آپٹے کے اندر جو کلاگن ( فنی خوبیاں) تھے، گائیکی میں جو ہنر تھا اور اپنی اداکاری سدھارنے کے لیے اس نے جو کڑی محنت کی تھی، اس کے کارن اُس کے لیے میرے من میں کاروباری ستائش کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک بار تو اس نے ایسی ہمت دکھائی تھی کہ اس کے کارن میرے من کے کسی کونے میں اپنے لیے تھوڑی سی جگہ بھی بنا لی تھی۔ بمبئی کے فلم انڈیا ماہنامہ میگزین کے ایڈیٹر نے شرارت سے اس کے بارے میں کچھ بدنامی کرنے والا مواد چھاپا تھا۔ تب شانتا بائی بینت کی چھڑی لے کر اس میگزین کے ایڈیٹر بابوراؤ پٹیل کے آفس میں گئی تھیں اور اس کی ایسی پٹائی کی تھی کہ پوچھیے نہیں۔ اس کے بعد وہ فوراً پونا آئیں اور سارا قصہ مجھے بتا دیا۔ اس کے اس کارنامے پر ناراض نہ ہو جاؤں اس لیے وہ زنانہ رویے کے کارن خود ہی رونے لگی تھیں۔ میں نے اس کو تسلی دی تھی۔ میرا خیال ہے کہ کسی نٹ کھٹ ایڈیٹر کو بینتیں جما کر سبق سکھانے والی شاید شانتا آپٹے پہلی سینما ایکٹر تھی۔
آج بھی اس معاملے کے خلاف جسے وہ اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی مانتی ہے، بھوک ہڑتال کرنےکی ہمت اس نے دکھائی تھی۔ یہ بھی ایک لحاظ سے میرے من میں ستائش کا ہی موضوع تھا۔ لیکن، جس ‘پربھات’ نے اس کے اندر کے کلاگنوں کو آسمان پر لا کر اسے شہرت کی چوٹی پر پہنچایا تھا، اسی ‘پربھات’ کے نام پر اس طرح بھوک ہڑتال کے ذریعے کیچڑ اچھالنے کی اس کی یہ کوشش مجھے قطعی پسند نہیں تھی۔ میں نے من ہی من فیصلہ کیا کہ پہریدار کے جس کمرے میں وہ مزاحمت کرنے بیٹھی ہے، اس راستے اس کے وہاں بیٹھی رہنے تک آنا جانا بند رکھوں گا۔ وہاں سے میں سیدھے سٹوڈیو گیا۔ بڑھئی کو بلوایا اور اسے ہدایت دی کہ کمپنی کے احاطے کی دوسری طرف جو باڑ لگی ہے اسے ہٹوا کر وہ وہاں سے آنے جانے کا راستہ فوراً تیار کرے۔ تبھی داملے جی، فتے لال جی بھی کمپنی میں آ گئے۔ میں نے انہیں شانتا بائی اور میرے بیچ ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ تبھی کسی نے ہڑبڑاہٹ میں آ کر بتایا کہ “گیٹ پر بابوراؤ ہاتھ میں بندوق لیے شانتا بائی پر پہرہ دے رہے ہیں!”
یہ سوچ کر کہ ان بہن بھائی کے عجیب و غریب طرز عمل پر کوئی دھیان نہ دیا جائے، میں سیٹ پر چلا گیا۔ من کو یکسو کرتے ہوئے کام کرنا شروع کیا۔ دھیرے دھیرے کام نے ہمیشہ کی طرح رفتار پکڑی۔ تبھی پہلے والی خبر دینے والے اسی آدمی کو پھر سیٹ پر آتے میں نے دیکھا۔ اسے پاس بلا کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ، “انّا، بابوراؤ کی پلاننگ پر کچھ رپورٹر آئے ہیں اور وہ شانتا بائی سے انٹرویو کر رہے ہیں۔”
میرے غصے کا ٹھکانا نہ رہا۔ میں نے اس آدمی کو بتا دیا، “انہیں جو جی میں آئے، کرنے دو، مجھے تو اپنا کام کرنا ہے!” کیمرا مین کی طرف مڑ کر میں نے پوچھا، “اودھوت، تم تیار ہو نا؟”
“جی ہاں، انّا۔”
“ٹھیک ہے، چلیے سب لوگ تیار۔ شاٹ لینا ہے۔ ٹیک۔”
‘ٹیک’ کہتے ہی پربھات کے پورے خاندان میں ‘خاموش’ رہنے کا اعلان دینے والے بھومپو بج اٹھے۔ اس دن میں ایک کے بعد ایک لگاتار شاٹس لیتا گیا۔ میں بھی ضد پر اتر آیا تھا اس لیے یا میرے غصے سے ڈر کر سبھی لوگ پورا دھیان لگا اپنا اپنا کام کیے جا رہے تھے۔ اس لیے میری شوٹنگ کا کام زیادہ تیزی سے ہونے لگا تھا۔ ہر شاٹ کے شروع کے سمے پربھات احاطہ بھونپوؤں کی آواز سے لگاتار دندنا جاتا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ شانتا بائی اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کی بھوک ہڑتال کے کارن میں ذرا بھی متاثر نہیں ہوا ہوں۔
شام ہو گئی۔ بڑھئی نےجو نئی راہ بنائی تھی، اسی سے میں سٹوڈیو کے باہر گیا۔ یہ سوچ کر کہ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے کے کارن ممکنہ طور بھائی بہن کی عقل ٹھکانے آ گئی ہو گی، وِمل کو میں نے ان دونوں کے لیے بھوجن کا ڈبہ اور دو تھالیاں نوکر کے ہاتھ بھجوا دینے کے لیے کہا۔ ساتھ میں ان کے لیے پیغام بھی بھجوا دیا، “کھانا کھا لو۔ بھوکے مت رہو۔” لیکن وہ ڈبہ جیسا کا تیسا لوٹا دیا گیا۔ دوسرے دن اخباروں میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کی خبر بڑی موٹی سرخیوں کے ساتھ چھپی۔ وہ زمانہ مہاتما گاندھی کی ستیاگرہ تحریک کا تھا۔ نتیجتاً ایک مقبول اداکارہ کی بھوک ہڑتال کی خبر ‘ٹائمز آف انڈیا’ جیسے وزن دار اخبار میں بھی ‘کرنٹ ٹاپکس’ میں بڑے چاؤ سے چھپ گئی۔ چھپے الزامات کی تردید کرنےکی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی۔ لیکن ایک ڈر سا ضرور لگ رہا تھا کہ اس ہٹ دھرمی کے کارن کہیں شانتا بائی کو کچھ ہو نہ جائے!
اپنا ڈر میں نے داملے جی کو بھی سنا دیا۔ تو وہ ایک دم ٹھنڈی آواز میں کہنے لگے، “وہ کبھی مرنے والی نہیں ہے! شانتا بائی جہاں ستیاگرہ کر رہی ہیں، اس کے پیچھے ہی ہماری کنٹین کا ایک دروازہ ہے۔ اس کی دراڑوں میں سے ٹوہ لیتے رہنے کے لیے میں نے ایک آدمی کو تعینات کیا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس پانی کا جو لوٹا رکھا ہے اس میں پانی نہیں، دودھ ہے اور بابوراؤ تھوڑے تھوڑے سمے بعد اسے وہ دیتے رہتے ہیں۔”
اور ایک دن ایسے میں ہی بیت گیا۔ بیچ میں بابوراؤ جا کر کسی ڈاکٹر کو لے آئے۔ اس ڈاکٹر نے دونوں کو گمبھیر وارننگ دی کہ بھوک ہڑتال اور ایک دن جاری رکھی تو اس کا شانتا بائی کی آواز پر برا اثر ہو جائے گا۔ ممکن ہے ان کے گلے کے vocal cords ہمیشہ کے لیے بے کار ہو جائیں۔
دوسرے دن ہمیشہ کی طرح شوٹنگ شروع کی۔ کام کرتے کرتے بیچ ہی میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کا خیال من میں آتا اور من بے چین ہو اٹھتا۔ لیکن میں اپنے آپ کو سمجھاتا تھا کہ کچھ بھی ہو، اپنے کام میں کسی بھی طرح کی ڈھیل نہیں آنے دینی ہے۔ یہی سوچ کر میں نے اس دن کی شوٹنگ پوری کر لی۔
ہمیشہ کی طرح رات میں مَیں دوسرے دن کی شوٹنگ کا سنیریو لکھنے بیٹھا تھا۔ ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ تبھی دروازے پر کسی نے گھنٹی بجائی۔ نوکر نے دروازہ کھولا۔ تھوڑی ہی دیر میں سنیریو لکھنے کی میری کاپی پر سامنے کی طرف سے دو پرچھائیاں پڑیں۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا: ‘دینک گیان پرکاش’ کے ایڈیٹر کاکا صاحب لِمیے اور ان کے ساتھ پ۔کے۔اترے سامنے کھڑے تھے۔ میں نے لپک کر ان کا استقبال کیا اور تشریف رکھنے کے لیے درخواست کی۔ لیکن انہوں نے کھڑے کھڑے ہی کہا، “شانتا آپٹے بھوک ہڑتال توڑ کر گھر جانے کے لیے تیار ہیں، بشرطےکہ آپ خود جا کر اسے ویسا کہیں۔ پھر وہ کمپنی کے دروازے پر دیا گیا دھرنا اٹھا کر چلی جائےگی۔” میں بھی اپنی ضد پر اڑا تھا۔ میں نے ان دونوں سجنوں کو بتایا، “اجی، یہی بات میں نے پہلے ہی دن اس سے زیادہ اچھی طرح سے سمجھائی تھی۔ لیکن شانتا نے میری ایک نہ سنی۔ الٹے، رپورٹرز کو انٹرویوز دے دے کر اس نے میری ‘پربھات’ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ میں ہرگز نہیں آؤں گا اب اسے منانے کے لیے!”
میری بات سن کر لِمیے جی مجھے سمجھانے لگے، “شانتارام بابو، آپ اپنا غصہ اب تو چھوڑیے، مالک مزدور، یا ڈائریکٹر کلاکار کے طور آپ نہ سوچیے۔ صرف انسانیت کی نظر سے دیکھیے۔ ہماری راۓ میں آپ ایک بار خود جا کر اسے گھر چلی جانے کے لیے صرف کہہ دیں۔ صرف انسانیت کے احساس کے نقطہ نظر سے سوچیے۔”
حالانکہ میں چاہتا تو نہیں تھا، لیکن اپنی خواہش کے خلاف ان دونوں کے ساتھ میں سٹوڈیو گیا۔ شانتا بائی attendance headکے بیٹھنے کی جگہ پر نیچے فرش پر سوئی تھیں۔ اس کے پاس جا کر میں نے بہت ہی بے رخی سے کہا، “شانتا بائی اٹھو، اور اپنے گھر چلی جاؤ۔”
میری آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اور روہانسی آواز میں بولی، “میری تنخواہ تو گھر بھجوا دیں گے نا؟” سوچا، کہاں تو یہ اپنےعزت نفس کو ٹھیس لگنے کے کارن ایک اصول کے لیے ستیاگرہ کرنے بیٹھی تھیں، اور کہاں اب صرف تنخواہ کے لیے اپنا ستیاگرہ واپس لینے کو تیار ہو گئی ہیں! اور اس کے لیے میرے من میں رہی سہی ہمدردی بھی جاتی رہی۔
میں نے نہایت روکھے پن سے جواب دیا، “ہاں!”
وہ فوراً جانے کے لیے اٹھ کر کھڑی ہونے لگی۔ لیکن اپنا توازن کھونے کی ادا سے ایک دم مجھ پر گری۔ پل بھر میں نے سوچا، کہیں اس کا بھائی دنیا بھر میں یہ نہ کہتا پھرے کہ میں نے ہی اسے دھکا دیا۔ لہذا میں نے لپک کر اسے سہارا دیا اور یہ سوچ کر کہ ایک بار یہ بلا یہاں سے ٹلے، میں نے اسے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور سامنے ہی کھڑی اس کی گاڑی میں لے جا کر دھر دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ پھر سے یہیں ٹھیا جما کر بیٹھ نہ جائے۔ لیکن جیسے ہی میں نے اسے اس کی کار میں رکھا، اس نے فوراً اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈالیں اور کس کر مجھ سے لپٹ کر رونے لگی۔ میں پس وپیش میں پڑ گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ ڈر یہ بھی تھا کہ پاس ہی کھڑے لِمیے، اترے، گیٹ پر تعینات پہریدار اور دیگر لوگ اس کا کچھ اور ہی مطلب نکالیں گے۔ لہذا میں نے اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ پریشان تو میں اتنا تھا کہ میرے ہاتھ چیچھڑوں کی طرح لٹکنے لگے۔ دبی آواز میں مَیں اس سے منتیں کرنے لگا، ”شانتا بائی، چھوڑو مجھے۔” لیکن وہ ماننے سے رہیں۔ اس کے آنسو میرے گالوں پر جھر رہے تھے۔ وہ اپنے گال میرے گالوں پر اور ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ مسلسل بار بار گھمانے لگی۔ اس کے اس پاگل پن کے کارن مجھے بہت ہی شرم محسوس ہونے لگی۔ غنیمت تھی کہ دیگر سب کی طرف میری پیٹھ تھی اور ادھر جاری لَو سین کسی کو دکھائی نہیں پڑ رہا تھا! سارا معاملہ ایک دم ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ کاش! چِلّا پاتا! اُف! کیسی گھٹن پیدا کرنے والی مجبوری تھی! میں نے بہت ہی دبی آواز میں اسے مجھے چھوڑ دینے کے لیے کہا۔ تب جا کر کہیں اس نے اپنا شکنجہ ڈھیلا کیا!
میں چھٹتے ہی پیچھے ہٹا اور کار کا دروازہ دھڑام سےبند کر دیا۔ راحت کی سانس لی ہی تھی کہ اس کے بھائی نے مجھے کار کے پیچھے لے جا کر کس کر بھینچ لیا۔ اپنی بانہوں میں وہ بڑبڑانے لگا، “امی کی جان آپ نے ہی بچائی ہے۔ شانتا کو آپ نے۔۔۔” چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ لو، پھر آ گئی آفت! کہیں اس نے بھی اپنی بہن جیسا ہی سلسلہ شروع کر دیا، میں بے طرح گھبرا گیا۔ بابوراؤ کے چنگل سے رہائی پانے کے خیال سے میں نے اُن سے کہا، “اب آپ فوراً اپنے گھر جائیے۔ شانتا بائی کو پہلے کچھ کھانے کو دیجیے، ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”
“جی ہاں، جی ہاں،” کہتے ہوئے بابوراؤ نے اپنی بھینچ سے مجھے رہا کر دیا اور وہ لپک کر کار میں جا بیٹھے۔ کار کا انجن تو کبھی کا سٹارٹ تھا۔ میں نے سڑک کے ٹریفک کنڑول کرنے والے پولیس سپاہی کی ادا سے ڈرائیور کو تیزی سے ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا۔ شانتا بائی کو لے کر وہ کار تیزی سے کمپنی کے احاطے سے باہر نکل گئی۔
گھر لوٹا تو داملے جی فتے لال جی میری راہ دیکھ رہے تھے۔ شانتا آپٹے آخر گھر لوٹ گئیں، یہ سننے کے بعد انہوں نے بھی راحت کی سانس لی۔ سچ کہا جائے تو اس جھمیلے کے کارن وہ دونوں کافی سٹپٹا گئے تھے۔ وِمل کو بھی اس کے چلے جانے کی بات سن کر کافی اچھا لگا۔
کچھ سمے پہلے سکرین پلے اور سنیریو کی کھلی پڑی کاپی بڑی بے چینی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں فوراً سنیریو لکھنے بیٹھ گیا اور وہ کام پورا کر کے ہی میں نے چین کی سانس لی۔ صبح صادق ہو چکی تھی۔ کچھ آرام کر لینے کے وچار سے میں بستر پر لیٹ گیا۔ نیند آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ من میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا۔
شانتا آپٹے نے اس طرح کا سلوک کیوں کیا؟ پیچھے بھی دو ایک بار اُس نے مجھے پیار میں پھنسانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میں نے تو اپنی طرف سے اُسے کسی بھی طرح سے کوئی بڑھاوا نہیں دیا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک ڈائریکٹر کے طور پر میں نے اچھی اداکاری یا اچھی گائیکی کے لیے اس کی تعریف کی تھی، اسے شاباشی بھی دی تھی۔ لیکن میں اس پر فریفتہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر وہ کیوں اس طرح میرے گلے پڑی؟ موہ (پیار) کے ایسے لمحے میرے جیون میں بار بار کیوں آتے ہیں؟ میں رہا ایک معمولی سیدھا سادہ آدمی! میں عمر بھر برہم چاریہ کا پالن کرنے کا عہد کر بیٹھا کوئی رِشی مُنی تو نہ تھا۔ پھر کیوں بھگوان اس طرح بار بار میرا امتحان لیتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مجھے اس کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں کہ میں اپنی کلا کے لیے ہمیشہ وقف رہ پاؤں گا یا نہیں؟
نئی فلمیں بنانا ہی میرا کام ہے! یہ کام ہی جیون ہے! جیون جینے کے لیے ہے! اسے اصل میں جینا چاہیئے! میری سوچ اس طرح پختہ ہوتی جا رہی تھی۔
اور اُسی سمے یاس پسندی کو اجاگر کرنے والی ایک فلم ‘دیوداس’ لوگوں کو بہت متاثر کر رہی تھی۔ کلکتہ کی نیو تھئیٹرز فلم کمپنی کی بنائی اس فلم کے ڈائرکٹر تھے پرمتھیش بروا۔ ایک فلم کے روپ سے وہ بہت ہی سُندر تھی۔ اس میں سہگل کا گایا ایک گیت ”دکھ کے اب دن بیتت ناہیں” بہت ہی سُندر تھا۔ آج بھی وہ گیت مجھے بہت پسند ہے، لیکن یہ یاس پسند فلم نوجوان نسل کے من میں ایک طرح کی مایوسی پیدا کرتی جا رہی تھی۔ دیوداس شراب کا عادی ہو جاتا ہے، ویشیا کے یہاں جانے لگتا ہے اور آخر میں پیار کی خاطر اپنے آپ کو شراب میں پورا ڈبو دیتا ہے۔ اُسی میں اس کا انت ہو جاتا ہے۔ اس فلم کو دیکھتے سمے جوان لوگ رونے لگتے تھے۔ سچے پریم کے لیے مر جانا چاہیئے، خود کشی بھی کر لینی چاہیئے، یہ کھوکھلا آدرش جوان نسل کے من پر حاوی ہونے لگا تھا۔ لیکن ہمارے سماج کو اس طرح ناامید، غیر فعال نوجوانوں کی ضرورت نہیں تھی۔ اِسے تو چاہیئے تھے ایسے نوجوان لوگ جو دکھ میں بھی راستہ نکالتے ہوے سورماؤں کی طرح جیون کی راہ پر امنگ اور خوشی کے ساتھ چلتے ہی رہیں۔ پیار کی ناکامی کے کارن دکھ سے چُور ہو کر مر جانے کا نام جیون نہیں۔ جیون تو اِسی کو کہتے ہیں جو اپنے پیار کی یاد کو من میں سنجو کر فرض کی ادائیگی موت تک کرتا ہے۔ جوانوں کو اِس نتیجے پر پہنچانے والی مقصدی اور اُمید پرست فلم بنانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ ‘دیوداس’ کے کارن نا امیدی کی جو لہر اٹھی تھی، اس کو روکنا سماجی مفاد کے لیے بے حد ضروری تھا۔
اسی سوچ سے میں نے اپنے معاون بھاسکرراؤ امینبل کو سارا خیال بتا دیا اور اس پر ایک کہانی کا موٹا خاکہ بنا کر لانے کو کہا۔ اس خاکے کے مطابق نئی فلم کے بارے میں ہمارے خیالات دھیرے دھیرے واضح ہوتے گئے۔ ‘دیوداس’ کی اصل کتھا مشہور بنگالی لیکھک شری چندر چٹرجی کی تھی۔ وہ بہت ہی مضبوط قلم کے دھنی تھے۔ ان کی یاس پسند فکر کو کرارا جواب دینے والی کہانی تیار کرنے کے چیلنج کو میں نے خود پہل کر قبول کیا۔
ظاہر ہے کہ محض بذلہ سنجی اور محاوروں سے بھرے مکالمے ایسے اثر کی تخلیق نہیں کر سکتے تھے، کہانی تو ایسے آدمیوں کی ہونی چاہیئے جو بالکل ہی سادہ اور عام جیون جیتے ہیں۔ وہ لوگ چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کا سکھ دکھ بھی عام ہوتا ہے۔ اپنے خوف، ہمت، خوبی، خامی وغیرہ کے کارن ہی وہ لوگ آدمی کہلاتے ہیں، آدمی لگتے بھی ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ ان کے جیون پر مبنی کہانی ہو۔ اس طرح جانے انجانے میں ہی نئی فلم کا نام ‘آدمی’ طے ہو گیا۔
سوچا کہ ‘آدمی’ کا ہیرو راستے پر گشت لگاتا ایک معمولی پولیس والا ہو۔ پولیس کو ڈیوٹی کرنے کے لیے کسی بھی محلے میں جانا پڑتا ہے۔ اس کام میں اس کا شہر کے مختلف طبقے کے لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے۔ اِسی چکر میں ایک دن جوے کے ایک اڈے پر چھاپہ مارتے سمے اس معمولی پولیس والے یعنی ہمارے ‘آدمی’ کے ہیرو کی ملاقات ایک ویشیا سے ہو جاتی ہے۔ اس کے من میں اس ویشیا کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ دونوں میں آگے چل کر میل جول بڑھتا جاتا ہے یہ تھا اِس سکرین پلے کا آغاز۔
اِس کے لیے ہم لوگوں نے پولیس والوں کا گھریلو جیون، ان کے مکانوں کی حالت اور پریڈ جا کر دیکھی۔
اب باری تھی ویشیاؤں کے جیون کو غور سے دیکھنے کی! اِس کے بارے میں ہم نے کئی کہانیاں سنی تھیں۔ لیکن صرف سنی سنائی باتوں پر کہانی لکھتے تو وہ حقیقت سے دور رہ جاتی۔ اس لیے ویشیاؤں کے چکلوں میں جا کر اُن کے جیون، رہن سہن، اُن کی کٹھنائیاں اور سوال وغیرہ کا خود معائنہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، یہ جان کر میں اور بھاسکرراؤ بمبئی گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر کے ایک واقف کار دتارام کو ہم نے پکڑا۔ اُس کی مدد سے ہم ہر رات چکلہ بستی میں جانے لگے۔ میں تو کبھی پان تک نہیں کھاتا تھا۔ لیکن یہ جتانے کے لیے کہ میں اِس بستی میں روز کا آنے والا ہوں، میں دو تین پان چبا کر ہونٹ لال کر لیتا، بِنا ٹوپی کے گھومتا، اور شکل ایسی بنا لیتا کہ کچھ نہ پوچھیے۔ بال بکھرے ہوے، کپڑے مٹ میلے اور سلوٹیں پڑے ہوے، منہ میں پان، رنگیلے ہونٹ۔۔۔ ایسے جاتا تھا میں اس بستی میں۔ سب سے آگے ہوتا تھا ہمارا رہبر دتارام، اس کے پیچھے میں، میرے پیچھے پیچھے بابوراؤ پینڈھارکر اور سب سے آخر میں پسینے پسینے ہو رہے بھاسکرراؤ، ایسی ہوتی تھی ہماری پلٹن کی تیاری۔
ہمارا رہبر دتارام دھندا کرنے والا یا ویشیاؤں کا کوئی بھڑوا نہیں تھا۔ یقیناً وہ ایک سماج سیوک تھا۔ اسے سب طرح کی چکلہ بستیوں کی جانکاری تھی۔
شروع میں ہم لوگ نچلے طبقے کی چکلہ بستی میں گئے۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر مجھے تو گِھن سی آ گئی۔ ایک کمرے میں رسی باندھ کر اُس پر پرانے کپڑے پردے جیسے ڈالے گئے تھے اور ان کے پیچھے ایک جوڑے کے سونے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس طرح سے چار پانچ ‘بیڈ’ اسی کمرے میں بنائے گئے تھے۔ باہر صحن میں ایک لڑکی بالوں میں کافی تیل ڈالے، چہرے پر پوڈر پوت کر ہونٹوں پر بھڑکیلی لپ سٹک لگائے کسی گاہک کے ساتھ بڑے پیار سے اِٹھلا رہی تھی۔ تبھی اندر سے شراب کے نشہ میں دھت ایک شخص اپنے کپڑوں کو سنوارتا ہوا باہر آیا۔ اس کے پیچھے پیچھے اُسی طرح سے تڑک بھڑک کاسٹیوم پہنے ہوئی ایک لڑکی بھی باہر آئی۔ وہ کھلکھلا کر ہنستی ہوئی اس آدمی کے کپڑوں کو کھینچنے لگی۔ صحن میں کھڑی وہ لڑکی فوراً ہی اپنے گاہک کو ہاتھ پکڑ کر اس مٹ میلے پردے کی اوٹ میں لے گئی۔
من گِھن سے بھر گیا تھا۔ لیکن چہرے پر اس کا ذرا بھی احساس نہ دکھاتے ہوے ہم وہیں بے شرمی سے ہنستے ہوے کھڑے رہے۔ ایک بڑھیا ہمارے پاس آئی۔ اس کا پہناوا بھی چمک دمک والا تھا اور رنگ روغن بھڑکیلا۔ اپنی عمر سے سیدھی بے میل شوخی اور ادا سے عاشقانہ ادا پھینک کر اس نے ہنستے ہوے کہا، “تھوڑا صبر کیجئے۔ ابھی ایک ایک لڑکی خالی ہوئی جاتی ہے۔ پھر وہ آپ لوگوں کو اندر لے جائیں گی۔۔۔ آپ کو بہت ہی جلدی ہو، تو میں جو حاضر ہوں!”
میں نے اُس بڑھیا کا اپنی فلم میں کہیں نہ کہیں کچھ استعمال کرنا طے کیا۔
لوگوں کی اتنی آمد ورفت میں ویشیا جیون اور ان کے کاروبار کے بارے میں کچھ اور جانکاری حاصل کرنا ناممکن ہی تھا۔ وہاں تو بیٹھنے تک کے لیے جگہ نہیں تھی۔
دوسرے دن ہم نے کچھ اونچے طبقے والی چکلہ بستی میں جانا طے کیا۔ کینیڈی برِج پر ایک گووا والی رہتی تھی۔ اس کے یہاں جانا تھا۔ لیکن ہمارے کتھا لیکھک بھاسکرراؤ وہاں آنے کو تیار نہیں ہو رہے تھے۔ اُن کے بڑے بھائی وہیں کہیں آس پاس رہتے تھے۔ کسی نے اُس بائی کے کوٹھے پر جاتے دیکھ لیا تو خیر نہیں، یہ خوف انہیں وہاں جانے سے روک رہا تھا۔ وہ کافی ٹال مٹول کرتے رہے، لیکن میں نے انہیں چھوڑا نہیں۔ آنکھیں بند کر چوری سے دودھ پینے والی بلی کی طرح بھاسکرراؤ بِنا اِدھر اُدھر دیکھے، سر جھکائے سیدھے اس بائی کے کوٹھے میں گھس گئے۔
بائی کے گھر کی سجاوٹ عام مڈل کلاس کے لوگوں کے گھروں جیسی تھی۔ بائی نے ہمارے لیے پان بنوائے اور بڑی نشیلی ادا سے دیکھتے ہوے ہمیں دے دیے۔ اس نے ایک گانا بھی سنایا۔ اس کا گانا ایک دم معمولی تھا۔ اُس کے من کی بات جاننے کے لیے ہم نے اس سے باتیں شروع کیں۔ لیکن اس کی باتوں سے ہم ایک بات جان گئے: ویشیا کے یہاں آنے والے لوگ صرف لطف لینے کے لیے ہی آتے ہیں، لہذا انہیں اپنی بھلی بُری آپ بیتی سنا کر دکھی کرنا کہاں تک مناسب ہے؟ اسی بھاونا سے وہ اپنے من کی ذرا بھی گہرائی پانے نہیں دے رہی تھی۔ اس کے رویے میں اتنی فارملیٹی تھی کہ ہمیں وہ ذہنیت وہاں مل پانا لگ بھگ ناممکن لگنے لگا تھا، جس کی کہ ہمیں تلاش تھی۔ ہم نے اسے سو روپے دے دیے، اور فوراً وہاں سے کھسک آئے۔ کل کی طرح آج کا دن بھی اس طرح بے کار گیا تھا۔
میں ‘آدمی’ کی ہیروئین کی تلاش میں تھا، لیکن قِسم قِسم کے چکلوں کے زینے چڑھنے اترنے کے باوجود وہ مجھے مل نہیں رہی تھی۔ ایک رات دتارام ہمیں ایک ایسی جگہ پر لے گیا جہاں ایک ٹھیک ٹھاک چہرے والی ادھیڑ گوری عورت نے ہمارے سامنے اپنی پسند چننے کے لیے سات آٹھ جوان لڑکیوں کو کھڑا کر دیا۔ سب نے مجھے دیکھا۔ میں بھی کسی پرانے کھلاڑی کی نظر سے انہیں دیکھنے لگا۔ شاید ابھی ابھی اس کاروبار میں آئی لڑکی اپنا درد دل بتلا دے گی، یہ سوچ کر میں نے ان میں سے ایک خوبصورت لڑکی کو پسند کیا۔ اوپری منزل کے ایک کمرے میں وہ مجھے لے گئی۔ اس کمرے میں لکڑی کی ایک پارٹیشن لگی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں ایک پلنگ اور ایک کرسی جیسے تیسے جمع کر رکھی تھی۔ نیچے دیوان خانے میں دتارام، بابوراؤ پینڈھارکر اور بھاسکرراؤ میری راہ دیکھ رہے تھے۔
کوئی آدھ گھنٹے کے بعد میں نیچے آیا۔ وہ سب لوگ شرارت سے مسکرا رہے تھے۔ ہم سب لوگ وہاں سے چلنے کو تیار ہوے۔ زینے کی سیڑھیاں اترنے ہی لگے تھے کہ اس ادھیڑ کُٹنی نے میرے گھنگھرالے بال پکڑ کر کھینچے اور اپنی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی، “اجی، یہ بھی اچھا خاصا تجربے کار مال ہے!” میں نے اپنے بالوں کو جھٹکا دے کر چھڑا لیا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر آیا۔
دوسرے دن شام ہو جانے کے بعد چکلہ بستی میں گھومنے کے لیے ہم نے ایک وکٹوریہ کرائے پر لیا۔ وکٹوریہ میں بیٹھتے ہی دتارام نے میرے چرن چھو لیے اور کہنے لگا، “آپ واقعی دیوتا ہیں!”
میں نے اسے کندھے پکڑ کر اٹھا لیا۔
بھاسکرراؤ نے پوچھا، “دیوتا؟”
“اور نہیں تو؟ اجی کل آپ اس جوان چھوکری کو لے کر اوپر گئے اور ویسے ہی سوکھے رہ کر نیچے چلے آئے۔ لیکن اِن کے اس طرح سب سے نیارے طرز عمل کے کارن آج مجھے کافی کچھ بھلا بُرا سننا پڑا۔”
بابوراؤ اور بھاسکرراؤ دونوں میرا منھ تاکتے رہ گئے۔
بابوراؤ نے دتارام سے پوچھا، “کیوں، اور کیا ہو گئی بات؟”
“ہونا جانا کیا تھا؟ چکلے کی اس کٹنی نے آج مجھے بلا بھیجا اور پھٹکارتی ہوئی بولی کل تم نے جس آدمی کو لایا تھا، وہ چھوکری کو لے کر اوپر گیا۔ وہ چھوکری اس کے سامنے ننگی ہو گئی لیکن وہ سُسرا اس کے سنگ سویا ہی نہیں۔ بےکار کی پوچھ تاچھ کرتا رہا۔ لگتا ہے شی۔آئی۔ڈی C.I.D)) کا آدمی ہوے گا۔ پھر کبھی ایسے شی۔ آئی۔ڈی والے کو اِہاں لائے تو میری جوتی ہو گی اور تیرا سر، سمجھے؟”
بابوراؤ سے رہا نہیں گیا۔ انہوں نے حیرانی سے پوچھا، “یعنی شانتارام بابو۔ پھر آپ اوپر جا کر آخر کیا کر آئے؟”
“کچھ بھی تو نہیں۔ اوپر گیا۔ جاتے ہی وہ بائی پلنگ پر لیٹ گئی اور ”چلو! آؤ!! بیٹھو!!!” کہہ کر مجھے اپنے پاس سونے کی درخواست کرنے لگی۔ میں نے اُس سے کہا، “اری، ایسی بھی کیا جلدی پڑی ہے؟ آؤ، پہلے کچھ باتیں کر لیں۔” ــ سچ تو یہ تھا کہ میں اس سے پہلے کے اس کے جیون کے بارے میں کچھ باتیں جاننا چاہتا تھا۔ اسے تھوڑا پچکار کر، سہلا سہلا کر سہج بھاؤ سے اس سے ساری باتیں نکلوانی چاہیئے تھیں۔ لیکن ایسے موقع کے لیے میں بھی تو ایک دم اناڑی تھا۔ اس لیے میں نے اسے سیدھے رنگیلے ڈھنگ سے پوچھا، ”تم کس گاؤں سے آئی ہو؟‘‘ اس پر وہ جَھلّا کر بولی، “تم کو کیا کرنا ہے؟ آؤ، بیٹھو!”
“میں تو کرسی سے مانو چپک کر ہی بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا، “اری! یہ بیٹھو، بیٹھو، کیا لگا رکھا ہے؟ پہلے کچھ باتیں ہو جائیں۔ اچھا بتاؤ، تم اپنی خوشی سے یہاں آئی ہو کیا؟ یا کوئی تمہیں ورغلا کر، دھوکا دے کر یہاں پھنسا گیا ہے؟”
“اس چھوکری کو میری اِن باتوں پر کافی غصہ آیا۔ پاس ہی والے پارٹشن کی طرف منہ کیے وہ زور زور سے بڑبڑانے لگی۔ وہ کنڑ بھاشا میں بول رہی تھی۔ پارٹشن کے اُس پار سے بول رہی عورت نے اسے چیتاونی دی کہ مجھے کوئی بھی جانکاری نہ دے۔ کنڑ میں تھوڑی سمجھ لیتا تھا، اسی لیے میں یہ بات جان سکا۔”
“اس کے بعد کافی دیر تک اس کا ‘آؤ، بیٹھو’ جاری تھا۔ میں نے لاکھ کوششیں کیں کہ اس کا نجی جیون معلوم کر لوں، لیکن کچھ بھی ہاتھ نہ لگا۔ اس کا ریٹ دو روپے تھا۔ میں نے اس کے ہاتھ پر پانچ پانچ کے پانچ نوٹ رکھ دیے اور چلنے کو تیار ہوا۔ اس نے مجھے روکا اور بولی، “تو ہم پر بیٹھا نہیں اور پیسہ کیوں دیتا ہے؟ ہم کو نئ (نہیں) چییے پھوکٹ (چاہیے مفت) کا پیسہ!”
“ایک ویشیا کے منہ سے ایسے معتبر خیالات سن کر مجھے کافی حیرانی ہوئی۔ میں نے اس کے ہاتھوں میں ان نوٹوں کو زبردستی ٹھونس دیا اور کمرے سے باہر چلا آیا۔” یہ سارا قصہ سن کر سبھی لوگ حیرت میں پڑ گئے۔
اس کے بعد اور پانچ چھ دن ہم لوگ مختلف چکلوں پر گئے، لیکن ہمیں ایسی ویشیا نہیں ملی جو اپنی صحیح کہانی دل کھول کر ہمیں بتاتی۔ ہوا اتنا ہی کہ ہمیں الگ الگ ڈھنگ کا ماحول، طرح طرح کی شخصیت اور ان کے جذبات وغیرہ دیکھنے کو ملے۔ اِدھر اُدھر کی تھوڑی بہت جانکاری بھی ملی، لیکن ہیروئین کی شخصیت کی اچھی کہانی کہیں نہیں مل رہی تھی۔ ہر روز ان غیر مہذب بستیوں میں بے کار ہی جانے سے ہم لوگ اوب چکے تھے۔
رات ہو گئی۔ روز کی منڈلی چالو ہو گئی۔ آج جہاں گئے، وہاں دو ادھیڑ عورتیں ملیں۔ کمرا اچھا خاصا بڑا تھا۔ اسی کمرے میں ایک کونے میں پردہ لگوا کر اوٹ تیار کی گئی تھی۔ ان دونوں عورتوں میں ایک بہت ہی باتونی تھی۔ دتارام کو دیکھتے ہی اس نے کہا، “ارے، اتنے دن کہاں چھپا بیٹھا تھا؟” بعد میں فوراً ہماری جانب مڑ کر بولی، “آئیے، آئیے۔ بیٹھیے۔ چائے لیں گے نا آپ؟” کہتی ہوئی ہمارا جواب جاننے سے پہلے ہی میرے بدن پر جھکتی ہوئی کھڑکی سے نیچے دیکھ کر زور سے آواز لگائی، “اے چائے والا، چار چائے بھیجنا۔”
نیچے سے لوٹتی آواز میں سوال آیا، “سنگل یا ڈبل”
”ڈبل!” اس نے جواب دیا اور ہماری طرف ہنس کر دیکھتے ہوے آنکھ مارتی ہوئی شوخی سے کہنے لگی، “کیا پوچھتا ہے گدھا کہیں کا؟ اِہاں سب ڈبل ہی لگت (لگتا) ہے!”
اپنے اس فحش مذاق پر خوش ہو کر وہ خود ہی کھی کھی کھی کر ہنسنے لگی۔ ہم بھی اس کی ہنسی میں شامل ہو گئے۔ ‘ڈبل’ کہنے کی اس کی ادا مجھے اچھی طرح یاد رہی۔ وہ بائی ان پڑھ تھی۔ اس کی بول چال دیہاتی شہراتی کھچڑی تھی۔ اس کی بولی میں کنڑ، پنجابی، گجراتی وغیرہ کئی بھاشاؤں کی ملاوٹ تھی۔
میں نے سہج بھاؤ سے اس سے کہا، “تمہارے اس کاروبار کے کارن تمہیں شاید ناٹک، سنیما دیکھنے کا سمے نہیں ملتا ہوگا، ہے نا؟”
اس پر وہ دھڑلے سے کہنے لگی، “کیوں، اِہاں ہم لوگ کیا جیل میں بیٹھے ہیں؟ تین کا شو ہم تھئیٹر میں دیکھتے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے اپنا گاہک بھی ڈھونڈ لیوت ہیں۔ پھر چلے آوت ہیں وہ لوگ ہمرے پیچھے پیچھے!” لیکن فوراً ہی وہ سٹپٹا گئی اور بولی، “لیکن وہ ہمرا راجہ بنت ہے خالی گھڑی دو گھڑی کو!”
باتیں کرتے کرتے اب وہ کافی کھلتی جا رہی تھی۔ اس سے اور زیادہ کہلوانے کے لیے میں نے کہا، “حال میں کون سا سنیما دیکھا تم نے؟”
“دو چار دن پہلے دیکھا وہ ‘دنیا نہ مانے’ بہوت بڑھیا تھا! کچھ بھی کہیو، وہ شانتارام سالا سنیما بہوت بڑھیا بناوت ہے!”
میرے نام پر اس نے جو گالی جوڑ دی، سن کر ہم سبھی کو بڑی ہنسی آئی۔ پھر ہم لوگوں نے اس کے منہ سے ‘دنیا نہ مانے’ کی کہانی سنی۔ لیکن کہانی سناتے سناتے اس نے اس میں اپنے من سے اتنی تبدیلی کر دی، کہ میں خود تذبذب میں پڑ گیا کہ میری ڈائرکٹ کی ‘دنیا نہ مانے’ یہی تھی یا کوئی اور۔ تبھی وہ چائے والا چھوکرا چائے لے کر آیا۔ اس کی وہ میلی کچیلی پلیٹیں، گھسے پٹے کپ، لال کالی چائے وغیرہ دیکھ کر اس چائے کو پی پانا میرے لیے مشکل سا لگ رہا تھا۔ لیکن بے کار ہی اپنے بارے میں کوئی شک کھڑا نہ ہو، اس وچار سے میں نے وہ چائے جیسے تیسے پی لی۔
چائے پان کے بعد وہ اور بھی کُھل گئی۔ اپنے جسم کے چھپے انگوں کے بارے میں وہ کھلم کھلا اس ڈھنگ سے بولے جا رہی تھی کہ ایسا لگتا تھا، وہ اپنے آپ کو ایک زندہ ناری نہ مان کر مردوں کی ہوس مطمئن کرنے کی ایک مشین سمجھ رہی ہے۔ باتیں کرتے کرتے وہ اچانک سیدھے میری گود میں آ کر بیٹھ گئی اور بولی، “چاہیں تو آپ خود پڑتال کر دیکھ لیجیے!”
میں پس و پیش میں پڑ گیا۔ اتنی کوشش کرنے کے بعد ایک ویشیا ملی جو کھل کر باتیں کر رہی تھی۔ اب میرے دقیانوسی رویے سے کہیں اس کے من میں شُبہ جاگا تو سارا گُڑ گوبر ہو جائےگا! میں اسی حالت میں بیٹھا رہا۔ لیکن اس بار دتارام نے میری مدد کی۔ وہ لپک کر آگے آیا اور اس نے اسے اٹھا کر ایک طرف ہٹایا۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ نظر اٹھا کر سامنے دیکھا، تو وہاں بھگوان کی تصویر ٹنگی دیکھی۔ تصویر پر چڑھائے گئے پھول تازہ تھے۔ میں نے جان بوجھ کر کھسیانے کے لیے اس بائی سے پوچھا، “کی ماں کو، یہاں تم ایسا گندہ بولتی ہو اور وہاں بھگوان کی تصویر لٹکا کر اس پر پھول بھی چڑھاتی ہو!”
جیسی کہ مجھے امید تھی، وہ ایک دم جھلّا اٹھی۔ میری بات کو بیچ میں ہی کاٹ کر بولی، “اے صاب! تم ہم کو کیا سمجھتا ہے؟ ہر روز سویرے اٹھ کر بھگوان کی پوجا کیے بِنا ہم منہ میں پانی تک ناہیں ڈالت ہیں، سمجھا؟”
میں دنگ رہ گیا۔
“تم کو کیسے پتہ ہوے گا، ہم موئی یہ دھندا کیوں کرت ہیں؟ ہم کو اچھا لگت ہے اس لیے؟ صاب، ہمری پیڑھا ہم ہی جانت ہیں! کبھی کبھی ایسا بھی ہووے ہے کہ کوئی گاہک آتا ہی نہیں۔ پھر تو گھر کا برتن بھانڈا گروی رکھ کر چولھا جلانا پڑت ہے! اور تب بھی منہ پِچکا کر ہنس کر نئے گاہک کی باٹ جوہنا (انتظار کرنا) پڑت ہے! کچھ پھوکٹ والے موالی شراب پی کر آوے ہیں۔ ان کو بھی ناراض کیسے کر پاوے؟ تو ان کی آگ میں بھی اِی شریر (جسم) جھونکنا پڑے ہے۔ کمرے کا کرایہ لینے کے لیے مکان مالک کا نوکر آوت ہے، تو اس کو بھی خوش کرنا ہی پڑے ہے! زندگی ایک دم نرک بن گئی ہے نرک!”
“کبھی کوئی بڑا آدمی بنا آوت ہے۔ ہمرے ادھار (نجات) کی یا نہ جانے کاہے کاہے کی، لمبی چوڑی ڈینگیں ہانکت ہے اور خود رات ما ہمرے سنگ رنگ رلی اڑا کے منھ اندھیرا ما چور کی نائی (چور کی طرح) منھ چھپائے بھاگ جاوت ہے!”
“صاب، کبھی کبھی لاگے ہے، اِی گندا کام چھوڑ چھاڑ کے چنگی زندگی جیوے، پر دو جون کھانے کو کون دیوے گا؟ اُدھر ہمرے گاؤں میں ماں باپ ہیں، چھوٹے بھائی بہن ہیں، سبھی کو لالے پڑ جاویں گے نا۔۔۔ صاب، اِہاں کوئی نوکری ڈھونڈنے آئی ہتی میں، پر کون دیوے ہے نوکری؟ تو بس سہیلی کے سنگ لگ گئی اسی دھندے ما۔۔۔”
اس کا درد پھوٹ پھوٹ کر سامنے آنے لگا تھا۔
بیچ میں وہ چپ ہو گئی۔ پھر یکایک بولی، “صاب تم لوگ ایہاں مزہ لوٹن کے واسطے آئے اور میں موئی اپنی کرم کہانی سنان لگی۔ چھما (معاف) کرو صاب!”
سچ پوچھو تو مجھے اس کی باتوں سے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے اسے ویسا بتا بھی دیا۔ پھر ساری رات وہ ہمیں اپنے جیون کے ایک سے زیادہ واقعات جی کھول کر سناتی رہی۔ اس کا من اتنا دو ٹوک ہو گیا تھا کہ جیون میں بیتی اور ہر دن دن بیت رہیں گندی گھناؤنی باتیں وہ بے شرمی کے ساتھ کھلے عام کہتی جا رہی تھی۔ اس کی بھاشا بہت ہی بھدی اور فحش تھی۔ جذبات میں تو اتنی مسخ تھی کہ وہ جو کچھ بتا کر دکھا رہی تھی، اس کا دس فی صد بھی میں اپنے فلم میں لا نہیں سکتا تھا۔ اور لاتا بھی، تو یقینی ہی سنسر اسے ہرگز پاس نہیں کرتا۔ اس کے درد اور تکلیف نے میرے دل کو ہلا دیا۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین اپنی تمام بے عزتی اور قابل رحم درد دل کے ساتھ زندہ ہو کر میرے سامنے کھڑی تھی۔
بمبئی سے لوٹا تو معلوم ہوا کہ داملے جی اور فتے لال ‘گوپال کرشن’ کے باہری شوٹنگ کے لیے بمبئی کے پاس ہی ڈونبِولی گئے ہیں۔ پندرہ دن ہو گئے شوٹنگ کے لیے گئے ان کے گروپ کے واپس آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔ کام بھی کوئی خاص زیادہ تو تھا ہی نہیں۔ میں سوچ میں پڑ گیا۔ تبھی بابوراؤ پینڈھارکر کا فون آیا کہ ”آپ خود یہاں آ کر ایک بار شوٹنگ کے کام کو دیکھ جائیں۔” میں ڈونبِولی گیا۔ شوٹنگ کافی دھیمی رفتار سے چل رہی تھی۔ فوراً شوٹنگ کی ساری ذمہ داری میں نے اپنے ہاتھ میں لی اور چار پانچ دن میں وہاں کا سارا کام پورا کر پُونا واپس لوٹ آیا۔ پُونا لوٹتے ہی سٹوڈیو کے کھلے احاطے میں ایک سیٹ کھڑا کیا اور اس پر بھی شوٹنگ شروع کر دی۔
ایک دن دیکھا کہ داملے جی، فتے لال شوٹنگ کا کام بیچ ہی میں روک کر آرام سے بیٹھ گئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے — “شوٹنگ کرتے سمے ہمیں غش کھا کر گرنے جیسا لگا، یہ چلچلاتی دھوپ ایک دم ناقابل برداشت ہو رہی ہے۔”
میں نے ان سے کہا، “کوئی بات نہیں۔ آپ یہیں آرام کریں، شوٹنگ میں کیے دیتا ہوں۔”میں فوراً باہر آیا اور وہاں کی ساری شوٹنگ پوری کر لی۔
کنس کے سینا پتی (سپاہ سالار) کیشی نے کرشن کو اپنے کیمپ میں قیدی بنا لیا ہے۔ اسے رہا کرانے کے لیے کرشن کے گوپ گوالے ساتھی گایوں اور بیلوں کا گروہ لے کر کیشی کے کیمپ پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ کیشی اور اس کے سپاہیوں کی ناک میں دم کر دیتے ہیں۔ یہ سین شوٹنگ کے نقطہ نظر سے بے حد کٹھن تھا۔ اس میں براہ راست گائے بیلوں اور ان کی ‘ڈمیز’ کا استعمال ناممکن تھا۔ سین کو انتہائی پراثر بنانا ضروری تھا۔ اس سین کا پورا آوٹ ڈور شوٹ بھی داملے جی فتے لال جی کے کہنے پر مجھے ہی کرنا پڑا۔
‘گوپال کرشن’ کی ایڈیٹنگ کا کام شروع ہوا۔ لیکن اس کے ڈائرکٹر داملے جی اور فتے لال بھولے سے بھی ایڈیٹنگ روم کے پاس نہیں آئے، نہ ہی انہوں نے کبھی یہ بھی پوچھا کہ ایڈیٹنگ کا کام کہاں تک آیا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے انہیں اس ‘گوپال کرشن’ سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔
‘گوپال کرشن’ ریلیز ہو گئی۔ اس نے بڑی شہرت حاصل کی۔ اس میوزیکل فلم کے گیت لوگوں کو بہت ہی پسند آئے۔ اس میں کھیل کھیل کے جو سین ڈالے ان کو تو ناظرین نے سر پر اٹھا لیا۔ ‘گوپال کرشن’ کے ریلیز ہونے کے دوسرے دن اس کے سکرین پلے لیکھک شِورام واشیکر، بابوراؤ پینڈھارکر آفس میں مجھ سے ملنے آ گئے۔ دیکھتے ہی انہوں نے کہا، “شانتارام بابو، ‘گوپال کرشن’ کی کہانی کا کریڈٹ لینے میں مجھے بڑی ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔
“اجی وشیکرن جی، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟”
“سچ ہی تو کہہ رہا ہوں۔ اس کے خاص سین، اس کی بذلہ سنجی کے ساتھ میں نے ویسے کے ویسے اتار لیے جیسے آپ نے بتائے تھے۔ آپ بتاتے گئے، میں لکھتا گیا۔ لہذا اس کا سارا کریڈٹ اصل میں آپ کو جانا چاہیے، آپ کی محنت کو ملنا چاہیے۔ میری یہی پکی سوچ ہے، اور پریس کانفرنس بلا کر میں اس کا اعلان بھی کرنے جا رہا ہوں۔”
“نہیں، نہیں۔ ویسا آپ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ آپ کا کرِئیر اس میں مات کھا جائے گا۔ آپ کو جو لگتا ہے اسے آپ ایمانداری سے قبول کرتے ہیں، یہی کافی ہے۔ مجھ سے پوچھیں تو کہوں گا کہ یہ احساس ہی آپ کی مستقبل میں ترقی کا اشارہ ہے۔”
‘گوپال کرشن’ کی ریلیز کے سمے ہم سبھی لوگ بمبئی گئے تھے۔ وہاں بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں ایک بہت ہی اچھی خبر سنائی کہ بمبئی کا پوتھے سنیما (آج کل اس کا نام سوستک سنیما ہو گیا ہے) بیچا جانے والا ہے۔
‘پوتھے’ سنیما میں گیلری وغیرہ کچھ بھی نہیں تھی، اسی لیے مجھے وہ بہت پسند تھا۔ بمبئی میں ‘پربھات’ کی فلم کی ریلیز کے لیے اس سنیما گھر کو خرید لینے کی رائے سب نے ظاہر کی۔ اس سے پہلے پُونا کا ‘پربھات تھئیٹر’ بھی ہم لوگوں نے لیا تھا اور اس کا کامیاب استعمال ہم کر رہے تھے۔ ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر کو ‘پوتھے’ کے مالک سے فوراً ملنے کو کہا اور اس سے باتیں کر کے ضروری دستاویز اور کانٹریکٹ وغیرہ بنوا لینے کے بھی ہدایات دیں۔ داملے جی پُونا گئے۔ میں اور فتے لال جی دو دن بمبئی میں ہی رہے۔ ہم دونوں ‘پوتھے’ سنیما دیکھنے کے لیے گئے۔ فتے لال جی بڑے چاؤ سے مجھے سمجھا رہے تھے کہ ایک فلم کی نظر سے اس تھئیٹر میں کیا کیا تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ میں بھی تکنیکی نظر سے اس تھئیٹر کا ٹھیک ٹھیک معائنہ کر رہا تھا۔ بابوراؤ ہمارے ساتھ ہی تھے۔ اپنی ہمیشہ کے اتاولے پن سے میں نے ان سے کہا، “آج ہی سودا پکا کر سیل پتر تیار کروا لیجیے۔”
بابوراؤ نے کہا، “میں نے کل ہی انہیں ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کی پیشکش کی ہے۔ کل تک راہ دیکھتے ہیں۔ دوسری صورت میں ان کی مانگ کے مطابق ڈیڑھ لاکھ روپے میں سودا طے کیے لیتے ہیں۔” میری بہت دنوں کی چاہ تھی کہ ‘پربھات’ کی بنائی فلم ریلیز کرنے کے لیے ملک بھر میں سنیما گھروں کی ایک سیریز ہو۔ اب اپنا وہ سپنا کچھ کچھ سچ ہوتا دیکھ کر میرا من کافی پرجوش ہو اٹھا۔
پُونا لوٹنے کے بعد دوسرے دن سویرے کمپنی کا اخبار دیکھ رہا تھا کہ داملے جی، فتے لال جی اور سیتارام پنت کلکرنی میرے آفس میں آئے۔ انہیں دیکھتے ہی میں نے کافی جوش سے پوچھا، “سیتارام بابو کو ‘پوتھے’ کے بارے میں وہ خوش خبری دی نہ آپ نے؟”
انہوں نے ‘ہاں’ کہا۔ لیکن سب کے چہرے بہت ہی گمبھیر دکھائی دے رہے تھے۔ داملے جی نے پوچھا، “کیا ‘پیسے’ کا قرارنامہ ہو گیا ہے؟”
“نہیں، لیکن بابوراؤ سے اسے فائنل کرنے کے لیے ہم کہہ آئے ہیں۔ ممکنہ آج ہو جائے گا۔”
داملے جی نے گمبھیر ہو کر کہا، “میری راۓ میں ہمیں وہ تھئیٹر نہیں خریدنا چاہیئے!”
داملے جی کی وہ بات سن کر مجھے دھچکا لگا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، داملے جی نے ہی آگے کہا، “پیسے کی زمین تھئیٹر کے مالک کے پاس لمبی لیز پر ہے۔”
“جی ہاں، اسی لیے تو وہ تھئیٹر ہمیں اتنی کم قیمت پر مل رہا ہے۔”
اُس جگہ کا ماہانہ کرایہ تین ہزار روپے ہے۔ اتنے بھاری خرچ کا بوجھ ہم اپنے اوپر لیں، یہ ہمیں پسند نہیں!” میرا اپنا ماننا تھا کہ کاروبار اور ‘پربھات’ کی شہرت کی نظر سے تھئیٹر کو خریدنا بہت اہم ہے۔ میں دلیل کرنے لگا، “اجی، پُونا کا ‘پربھات’ سنیما گھر بھی لیز پر ہی تو ہے۔”
“لیکن اس کا کرایہ اتنا زبردست نہیں ہے۔ میری رائے میں ہر ماہ تین ہزار روپے کا بوجھ ہمیں ہرگز نہیں اٹھانا چاہیے!”
“آپ ایک بات دھیان میں رکھیں۔ ‘سینٹرل’ اور ‘کرشن’ سنیما گھروں کے مالک بھی لیز کا بھاری کرایہ دیتے ہیں اور وہاں ہمارے ‘پربھات’ کی فلم ریلیز کر وہ ہر سال پچاس پچاس ہزار روپے کا منافع کما لیتے ہیں۔ پھر ہم ہی اس بات سے کیوں ڈریں؟ یہ بھی تو سوچئے کہ دیگر شہروں میں اس طرح ‘پربھات’ کے اپنے سنیما گھر ہوں تو ہر بار سنیما گھر کرائے پر لینے میں ہمارا جو پیسہ خرچ ہو جاتا ہے، اس میں کتنی بچت ہو گی؟”
میرے ان بیوپاری اور کاروباری دلائل کا بھی داملے جی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ میں مایوس ہو گیا۔ آخر میں نے آج تک ‘پربھات’ کے زمانے میں بھی کبھی استعمال میں نہ لایا گیا ایک پینترا چلنے کا طے کیا۔ ہمارے حصہ داری کانٹریکٹ میں ایک دفعہ تھی کہ ‘پربھات’ کا سارا کاروبار ہمیشہ اکثریت سے چلایا جائے۔ اب اس دفعہ کا استعمال کرنے کا سمے آ گیا تھا! کل ہی میں اور فتے لال جی ‘پوتھے’ کی عمارت میں کھڑے کھڑے پتہ نہیں کیا کیا خیالی پلاؤ بنا چکے تھے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ فتے لال جی ضرور ہی میری سائیڈ لیں گے۔ سیتارام بابو پشتینی بیوپاری ہیں، میری کاروباری بات انہیں بھی پسند آ ہی جائے گی مجھے امید تھی۔ لہذا من ہی من مجھے یقین ہو گیا کہ اکثریت میرے حق میں ہو گی۔ اپنا غصہ دبا کر ہنستے ہنستے میں نےکہا، “اکثریت سے جو طے رہے گا، اسے ہی مان لیتے ہیں۔”
“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” داملے جی نے کہا۔
میں نے سب سے پہلے سیتارام بابو سے پوچھا۔ ان کا جواب میں دھیان سے سن رہا تھا۔
انہوں نے کہا، “میرا خیال ہے، داملے جی کی بات میں کافی وزن ہے!” میں سن کر ٹھنڈا پڑ گیا۔ پھر بھی لگاتار مسکرا کر میں نے فتے لال جی کی طرف دیکھا۔ فتےلال جی نے کہا، “داملے جی کی بات صحیح ہے!” سامنے ہی بیٹھے داملے جی کے چہرے پر جیت کی مسکراہٹ چمکنے لگی۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “تو پھر شانتارام بابو، بمبئی فون کر بابوراؤ پینڈھارکر سے کہیں گے نا آپ کہ سنیما گھر کے بارے میں آگے بات چیت نہ چلائیں؟”
ہمیشہ کی نسبت کچھ جلدی جاگ کر میں تڑکے ہی اخبار پھینکنے والے لڑکے کے انتظار میں بیٹھا تھا۔۔۔
‘تُکارام’ کل ہی ہمارے نئے ‘پربھات’ تھئیٹر، پُونا میں ریلیز ہو چکی تھی۔ اس دن کمپنی میں کچھ غیر ملکی مہمان آنے والے تھے۔ اس لیے ‘تُکارام’ کے پہلے شو میں مَیں تھئیٹر جا نہیں پایا تھا۔ مہمانوں کے چلے جانے تک تو پہلا شو ختم ہو چکا تھا۔ میں اپنے آفس سے نیچے آ گیا۔
سامنے والی بینچ پر داملے جی اور فتے لال مایوس ہو کر بیٹھے تھے۔ میرا کلیجہ کانپ اٹھا۔ جلدی جلدی ان کے پاس پہنچ کر میں نے پوچھا، “کیا حال ہیں ‘تُکارام’ کے؟”
“کچھ مت پوچھیے!” فتے لال جی نے کہا۔
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہی کہ ‘تُکارام’ کے لیے لوگوں میں قطعی کوئی جوش نظر نہیں آرہا ہے۔ ہماری پربھات کی نئی فلم کے پہلے شو کے لیے آج تک جو بے شمار بھیڑ اُمڈ آیا کرتی تھی، وہ اس سمے نہ جانےکہاں غائب ہو گئی تھی۔ تھئیٹر آدھے سے زیادہ خالی پڑا تھا۔”
“کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہونا نہیں چاہیئے۔ آج رات کا شو میں خود لوگوں میں بیٹھ کر دیکھتا ہوں۔ آپ بھی چلیے ساتھ میں۔”
رات کے تیسرے شو کے لیے ہم لوگ تھئیٹر پر پہنچے۔ تھئیٹر میں بہت ہی کم لوگ تھے۔ فلم شروع ہو گئی۔ جو اِکّا دُکّا ناظرین بیٹھے تھے، وہ میری توقع کے مطابق جگہ جگہ پر فلم کے سبھی حصوں کی برابر داد دے رہے تھے۔ چونکہ ناظرین کی تعداد ہی بہت کم تھی، ناظرین کی یہ داد بھی کافی کمزور لگتی تھی، لیکن تھی ضرور۔ میرا من اُتھل پُتھل ہونے لگا۔
پچھلے مہینے لوناؤلا میں بابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ ہوئی وہ بات یاد آئی۔
‘تُکارام’ فلم نہ چلی تو ڈائریکٹ کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا عہد میں نے کیا تھا۔ میرا وہ عہد سن کر بابوراؤ پینڈھارکر کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ میرے ضدی سوبھاؤ سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ مجھے سمجھانے بُجھانے کی انہوں نے کافی کوشش کی، “اجی شانتارام بابو، ایک آدھ فلم کبھی کبھار نہیں چلتی۔ لیکن اس کے لیے اپنی ساری ڈائریکشن ہی داؤ پر لگانے کا کھیل بے کار ہی کیوں کھیل رہے ہیں آپ؟”
اپنے غصے پر قابو پاتے ہوے میں نے کہا، “بابوراؤ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کبھی جُوا نہیں کھیلتا! میں ان لوگوں میں سے ہرگز نہیں ہوں، جو ہاتھ کے پانسے زمین پر پھینک کر اپنے لیے مناسب دان کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ صرف شرط لگانے یا مقابلے میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے جذبہ سے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں۔ اس فلم کے بارے میں مجھے پورا یقین ہے اور اس کے باوجود اگر یہ نہیں چلتی، تو اس کا سیدھا مطلب تو یہی ہونا چاہیے کہ اس موضوع پر اب مجھے کوئی گیان ویان نہیں رہا ہے۔ تب تو یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ فلم میکنگ اور ڈائریکشن کرنا میرے بس کے باہر کی بات ہے!”
“آپ کی ان باتوں سے میں قطعی متفق نہیں ہوں۔ آپ پہلے اپنا وہ خوفناک عہد واپس لیجیے بھلا!” بابوراؤ نے کافی مِنت بھری التجا کی۔
“نہیں، یہ ایک دم ناممکن ہے۔ میں نے محض عہد برائے عہد نہیں کیا ہے، اس کے پیچھے خیالات کی ایک یقینی سمت ہے۔” میں انہیں وِچاروں میں کھویا تھا کہ ناظرین نے دل سے داد دی۔ سامنے پردے پر تُکارام اور جِجاؤ کا وہ برگد کے پیڑ کی چھایا والا سین آیا تھا۔ جو چند ناظرین اس سمے فلم دیکھ رہے تھے، انہیں وہ سین بہت پسند آیا۔ اس کے بعد تو فلم میں زیادہ سے زیادہ رنگ بھرتا گیا۔ ناظرین اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے گئے۔
فلم ختم ہوئی۔ میں لمبے لمبے ڈاگ بھرتا ہوا اپنی کار میں جا بیٹھا۔ داملے جی اور فتے لال بھی ساتھ ہو لیے۔ میں نے انہیں بتایا، “پکچر بہت اچھی چلنے والی ہے۔ لوگ چمتکاروں سے بھرپور سنت فلموں سے اوب گئے ہیں۔ شاید یہی سوچ کر کہ ‘تُکارام’ بھی اسی کیٹیگری کی ایک فلم ہو گی، انہوں نے شروع میں بھیڑ نہیں کی۔ ایک بار انہیں معلوم ہو گیا کہ ‘تُکارام’ کچھ نرالی ہی سنت فلم ہے، آپ دیکھیں گے لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔”
بولتے بولتے میں چپ ہو گیا۔ من میں سوال اٹھا تھا لوگوں کو کس طرح متوجہ کیا جائے؟ فلم کا گراف کم ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا!
ہم لوگ گھر پہنچے، میں نے ڈرائیور کو ہدایت دی کہ ہماری فلموں کے پرچارک اور ایڈورٹائزنگ کا کام دیکھنے والے داتار جی کو فوراً لے آؤ۔
بیچارے داتار صاحب، اس تذبذب میں کہ اتنی رات بیتے انہیں کیوں بلایا گیا ہے، آنکھیں ملتے ملتے آ پہنچے۔ انہوں نے گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ میں نے ان سے کہا، “داتار، کل سویرے کے ‘گیان پرکاش’ میں پہلے صفحے پر اشتہار چھپ کر آنا چاہیئے اور اس اشتہار پر بولڈ عنوان چاہیئے: ‘تُکارام اور جِجاؤ کا برگد کے نیچے ‘لَوسین’ سمجھے؟”
“کیا؟” داتار حیرت کے کارن لگ بھگ چیخ پڑے۔ ان کی نیند رفو چکر ہو گئی۔ بیچارے مجھے ہی سمجھانے لگے، “لیکن شانتارام بابو، اس طرح کے اشتہار میں ایک بہت بڑا خطرہ بھی ہے۔”
“وہ خطرہ اٹھانے کے لیے میں تیار ہوں! آپ فوراً ہی اشتہار چھپوانے کا انتظام کریں!”
داتار ‘گیان پرکاش’ نامی مقبول روزنامے کے منتظم تھے اور اسی لیے میں یہ کام کرانے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہا تھا۔
میں دروازے پر کھڑا تھا۔ سامنے سے اخبار ڈالنے والا چھوکرا آتا دکھائی دیا۔ میں نے اس کے ہاتھوں سے ‘گیان پرکاش’ کا تازہ شمارہ لگ بھگ چھین ہی لیا۔ پہلے ہی صفحے پر اشتہار تُکارام جِجاؤ کے لَو سین والے عنوان کے ساتھ چھپا تھا۔ یہ سوچ کر کہ پُونا کے مذہب پرست لوگوں میں اس اشتہار کےکارن کیا ہی سنسنی مچ جائےگی، میں من ہی من خوش ہو رہا تھا۔
شام کے چھ بجے میرے آفس میں فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون پر فتے لال جی بات کر رہے تھے۔ بڑے جوش سے کہہ رہے تھے، “تُکارام کا دوپہر والا شو کل کی نسبت کافی اچھا رہا۔ ابھی چھ بجے والے شو میں تو اس سے بھی زیادہ لوگ آئے ہیں۔”
میں نے پُرجوش ہو کر پوچھا، “تُکارام دیکھ کر لوٹتے سمے لوگ کیا کیا باتیں کرتے ہیں؟”
“فلم کے بارے میں تو لوگ اچھا بول رہے ہیں۔ آپ کے اس اشتہار نے کافی مدد کر دی ہے!”
“ہیلو، لوگ اس اشتہار کے بارے میں کیا بولتے ہیں؟” میں نے پُرامیدی سے پوچھا۔
“کئی لوگ تو اشتہار میں ‘لَوسین’ لفظ پر اعتراض اٹھا رہے تھے۔ لیکن اب کھیل ختم ہونے پر لوگ اس اشتہار کی سوجھ بوجھ کے لیے داتار کی تعریف کر رہے ہیں!”
تو اس کا مطلب یہ رہا کہ میرا تیر ٹھیک نشانے پر جا لگا تھا!
روز بہ روز’ تُکارام’ دیکھنے کے لیے آنے والوں کی بھیڑ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
پُونا میں ‘تُکارام’ کو ریلیز ہوے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ بمبئی کے ‘سینٹرل’ سینما کے مالک کے۔کے۔ مودی اور عبدل علی مجھ سے ملنے پُونا میں میرے گھر پر آ پہنچے۔ چُھوٹتے ہی انہوں نے مجھ سے پوچھا، “شانتارام، ‘تُکارام’ کے لیے سینٹرل سینما میں کتنے ہفتے رکھ چھوڑوں؟”
“آپ ایسا سوال کیوں کر رہے ہیں؟”
وہ گول مول جواب دینے لگے، “نہیں نہیں، ویسی تو کوئی بات نہیں ہے، لیکن بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں بتایا کہ پہلے آپ سے پوچھ لینے کے بعد ہی فائنل کیا جائے۔”
“یعنی بابوراؤ پینڈھارکر کو بھی ‘تُکارام’ کی کامیابی پر شُبہ ہے۔ تو ویسا صاف صاف کیوں نہیں کہتے؟ میں آپ سے کہتا ہوں، ‘پربھات’ کی کسی بھی کامیاب فلم کے لیے آپ جتنے ہفتے رکھتے ہیں، اتنے ہی ہفتے اس فلم کے لیے بھی بِنا کسی اگر مگر کے آپ رکھ چھوڑیں۔” یہ بات میں نے تھوڑا ڈپٹ کر سختی سے کہی۔
دونوں انہی قدم واپس لوٹ گئے۔ آخر بات میری ہی سچ نکلی۔ بمبئی، پُونا میں ‘تُکارام’ کو چلے پچیس ہفتے پورے ہو رہے تھے۔ تب ‘تُکارام’ کے سلور جوبلی فیسٹول اشتہار میں بطور ڈائریکٹر کے داملے جی اور فتے لال جی کے فوٹو چھپوانے کا انتظام میں نے کرا دیا۔ میری پکی رائےتھی کہ فلم کے اشتہار میں ڈائریکٹر کا صرف نام اور کلاکاروں کے فوٹو ہونے چاہیئں۔ اسی لیے میری ڈائریکٹ کی گئی کسی بھی فلم کے اشتہار میں اپنی فوٹو بطور ڈائریکٹر کے دینا میں برابر ٹالتا آیا تھا۔ لیکن اس سمے میں نے اپنی رائےکو چُھپایا۔ کارن یہ تھا کہ داملے جی، فتے لال جی کو ‘تُکارام’ بنانے کی inspiration میں نے دی تھی۔ اس میں میرا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ان کے ناموں کا بھی اچھا پرچار ہو اور میرے لیے ان کے دل میں کہیں حسد یا جلن ہو، تو دور ہو جائے۔
بمبئی کے سینٹرل سینما میں ‘تُکارام’ فلم نے آج تک کی ریلیز ہوئی سبھی فلموں کے ریکارڈ توڑ دیے۔ سینٹرل سینما میں تو وہ پورے ستاون ہفتے تک چلتی رہی۔
‘تُکارام’ کی اس بے مثال کامیابی کی خوشی داملے جی، فتے لال جی کی نسبت مجھے ہی زیادہ ہوئی۔ ‘تُکارام’ کے پچاسویں ہفتے کے سمے بابوراؤ پینڈھارکر میرے یہاں آئے اور خود کہنے لگے، “آپ نے شرط جیت لی۔ کمال کاحوصلہ اور خود اعتمادی ہے آپ میں۔ بھئی مان گئے۔ آپ کومبارک باد دوں تو کیسے؟ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔”
لگ بھگ اسی سمے ‘امر جیوتی’ فلم وینس میں انٹرنیشنل فلم فیسٹول کے لیے بھیجی گئی تھی، اس طرح کی انٹرنیشل فلم ریلیز میں بھیجی گئی وہ پہلی بھارتی فلم تھی۔ وہاں اسے عزت ملی۔ Appreciation letter بھی ملا۔ بھارت میں بھی’ امر جیوتی’ کو ایک سے زیادہ مشہور اداروں کی طرف سے گولڈ میڈل دیے گئے۔
اس کے بعد کے برس میں ‘تُکارام’ کو بھی وینس فلم فیسٹول کے لیے بھیجا گیا۔ اس کو بھی ‘آنریبل مینشن’ کا رتبہ حاصل ہوا۔ اس کا شمار معزز فلموں میں کیا گیا۔
اس بیچ ہم نے ایک اور فلم بنائی ‘وہاں’۔ ویدک زمانے میں آریاؤں اور غیرآریاؤں کےبیچ جدوجہد پر وہ مبنی تھی۔ آریہ لوگ بھارت میں فاتح ویروں کی طرح آئے اور بھارت کے مقامی غیر آریوں کے ساتھ انہوں نے غلاموں جیسا برتاؤ کیا۔ اُس وجودیت کی جدوجہد پر مکمل کہانی تخلیق کی گئی تھی۔ باصلاحیت فتے لال جی کو نیا موضوع مل گیا۔ انہوں نے اس زمانے کے معقول کاسٹیوم، کپڑے لتے وغیرہ بنوا لیے۔ مین کریکٹر کے لیے ‘پربھات’ میں نووارد اداکارا الہاس کو چُنا گیا۔ الہاس بہت ہی سڈول اور پُرکشش شخصیت تھا۔ڈائریکٹر تھے، کے۔ نارائن کالے۔
اصل میں کے۔ نارائن کالے کا فرق ایک نقاد کا تھا۔ وہ لیکھک اور اداکار بھی تھے۔ لیکن ان کے اندر کا نقاد فلم میں بھی انہیں ہربات میں بال کی کھال نکالنے میں مدد کرتا تھا۔ ایک دن الہاس کے کسی سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ اوپر کی گیلری میں کھڑے ہو کر میں بھی شوٹنگ دیکھ رہا تھا۔ کے۔ نارائن کالے الہاس سے کہہ رہے تھے، “دیکھو الہاس، اس سین میں تمہیں پچاس فیصد دکھ اور پچاس فیصد غصےکی اداکاری کرنی ہے، سمجھے؟”
الہاس بالکل ہی نیا تھا۔ اس نے سڑی بولی میں کالے جی سے کہہ دیا،” آپ کا یہ پچاس فیصد کا حساب اپنی تو سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ آخر مجھ سے چاہتے کیا ہیں؟ انّا صاحب بتاتے ہیں، اسی ڈھنگ سے بتائیے۔”
کالے ویسے تُنک مزاج ہی آدمی تھے۔ وہ ماتھا ٹھوکتے ہوے پاس رکھی ایک کرسی پر دھم سے بیٹھ گئے۔ الہاس بھی بیچارہ چکرا گیا۔ کام رُک گیا۔ میں فوراً نیچے آیا۔ الہاس کو سارا سین ٹھیک سے سمجھا کر بتایا، اسے اچھے موڈ میں لایا۔ کالے جی بھی تھوڑے موڈ میں آ گئے۔ شاٹ پورا ہوا۔ وہ ٹھیک ویسے ہی آیا تھا جیسا کہ کالے جی چاہ رہے تھے۔
شام کو میں نے کالے جی کو اپنے آفس میں بلوایا اور ہنستے ہنستے کہا، “کالے جی، آپ کی وہ پرسینٹیج والی ڈائریکشن مہربانی کر کے بند کیجئے بھئی۔ آدمی کے احساسات کی بھی کیا کبھی پرسینٹیج ہوتی ہے؟ میرے خیال سے تو آپ کلاکاروں کو سین میں موجود احساسات کا معنی سمجھا کر بتا دیں اور باقی سب کچھ کلاکاروں پر چھوڑ دیں، تو اچھا رہے گا۔ کبھی کبھار ضرورت پڑ جائے تو آپ انہیں خود اداکاری کر کے دکھا دیں۔ ایسا کرنے سے آپ اپنے کلاکاروں سے جیسی چاہیں اداکاری کروا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی تو انہیں جھوٹی ترغیب دیجیے۔ آپ توجانتے ہیں میں کتنا غصیل آدمی ہوں، لیکن آپ نے مجھے سیٹ پر کبھی کسی پر غصہ کرتے دیکھا ہے؟”
“انّا، یہ سب تار پر چلنے کی کسرت کرنا آپ ہی جانتے ہیں۔”
“اجی، آپ بھی کر لیں گے۔ کوشش کر کے تو دیکھیے نا؟”
“ٹھیک ہے، دیکھتا ہوں کوشش کر کے!” کالے جی نے ہنستے ہنستےکہا۔
وہ فلم تھی تو اچھی، لیکن ناظرین کو وہ خاص پسند نہیں آئی۔ کالے جی نے اس فلم کو جو ٹریٹمینٹ دیا وہ کچھ ذہین تھا۔ پھر بھی اس فلم نے ہمیں پیسہ کافی دیا۔
فلمی دنیا میں ہمیں لگاتار کامیابیاں ملتی گئیں۔ نتیجہ یہ رہا کہ اس دنیا کے کچھ ذلیل دماغ والے لوگ ہماری فلم کے بارے میں کہنے لگے کہ، “پربھات کی فلم تو اس میں استعمال میں لائےجانے والے عالیشان سین کے کارن ہی چلتی ہیں، ویسے باقی ان میں ہوتا ہی کیا ہے!” لہذا اس بار میں نے اس چنوتی کو قبول کرنا طے کیا ۔ من ہی من ٹھان لیا کہ آئندہ فلم کا موضوع ایسا چنوں گا کہ اس میں عالیشان سین، پُرکشش کاسٹیوم وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی!
نئی کہانی کے بارے میں سوچنے لگا، کئی دنوں سے من میں محفوظ لیکن پورا نہ ہو پایا ایک سپنا تھا کہ ایک خالصتاً سماجی فلم بناؤں۔ اسے اب پورا کرنےکا فیصلہ کیا۔ میری شوقیہ خواہش تھی کہ کہانی ایسی ہو جو مڈل کلاس لوگوں کےجیون کو چُھو لے اور اس میں کسی ایسی مشکل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے جو دیکھنے والے ہر شخص کو اس کی اپنی مشکل معلوم ہو۔ کے۔ نارائن کالے نے سجھاؤ دیا کہ نارائن ہری آپٹے کے ناول ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) پر آئندہ فلم بنائی جائے۔ سن کر میں ایک دم اُچھل پڑا۔ اس ناول کی کہانی مجھ پر برسوں سے حاوی تھی۔
میں نے اس ناول کے لیکھک کو پُونا بلا لیا۔ ناول کے کاپی رائٹس کے بارے میں لین دین کا سودا پورا کیا۔ سکرین پلے میں ناول کی کن کن باتوں کو میں چھوڑنے والا ہوں، اس کی انہیں معلومات دیں۔ کسی زمانے میں سماج میں کھلبلی مچا دینے والے اپنے اس ناول پر اب فلم بننےجارہی ہے، اس کی خوشی میں ہی وہ اپنے گاؤں لوٹ گئے۔ اس ناول پر ایک تجرباتی فلم بنانا میں نے طے کیا۔ سکرین پلےکو زیادہ سے زیادہ پُراثر کیسے بنایا جائے، اسی وِچار میں مَیں تھا کہ ایک غیرمتوقع خبر کےکارن ہم سبھی ہکے بکے رہ گئے۔ کیشوراؤ دھایبر نے ہم سب کے نام ایک نوٹس بھیجا تھا کہ انہیں ‘پربھات’ کی حصہ داری سے آزاد کیا جائے۔
کیشوراؤ دھایبر ویسے تھے تو بہت ہی محنتی۔ لیکن خود مختار روپ سے فلم بنانا ان کی اوقات کے باہر کی بات تھی۔ وہ تو میری درخواست تھی کہ وہ پربھات کےحصے داربنیں۔ لہذاحصہ داری چھوڑنے کے ان کے نوٹس کو پڑھ کر مجھے بہت ہی دکھ ہوا۔ کمپنی چھوڑ کر باہر جانے میں انہی کا نقصان کتنا ہے، یہ میں نے انہیں کافی واضح روپ سے سمجھایا تھا۔ لیکن وہ مانتے ہی نہیں تھے۔ پھر یہ بات بھی میں نے ان کے دھیان میں لائی کہ پارٹنرشپ لیٹر کے اصولوں کے مطابق کوئی حصہ دار ‘پربھات’ چھوڑ کر جا نہیں سکتا۔ لیکن اپنی ضد پر اڑے تھے۔ آخر مجبور ہو کر انہیں کانٹریکٹ سے آزاد کرنا ہی پڑا۔
لگ بھگ اسی سمے ہمارے ہمدرد نارائن ہری آپٹے کا مجھے ایک پتر ملا۔ پتر اس طرح تھا:
تاریخ: 21-1-1937
مسٹر شانتارام بابو کی خدمت میں، پیار بھرا نمسکار۔ اِدھر سب کچھ ٹھیک ہے۔ اُدھر آپ بھی ٹھیک ہوں گے۔ ایسی خواہش کرتا ہوں۔
کسی اہم وجہ سے یہ خط نہیں لکھ رہا ہوں۔ لیکن لکھے بِنا رہا نہیں جا رہا تھا، اس لیے لکھ رہا ہوں۔ شری کیشوراؤ دھایبر کمپنی چھوڑ کر جانے والے ہیں، اس کا اشارہ مجھے پہلے ہی مل چکا تھا۔ لیکن بھروسہ نہیں ہو رہا تھا۔ کسی جھمیلے کے بارے میں چرچا نہ کرنا میرا دستور رہا ہے، اور نہ ہی ایسے معاملوں میں اپنی ناک گُھساتا ہوں، جس سے کچھ بھی تعلق نہ ہو۔ اِس دستور کو میں نے ہر جگہ نبھایا ہے۔ ‘پربھات’ میں بھی اِسے توڑا نہیں ہے۔
لیکن اخباروں میں جب اس خبر کی چرچا پڑھی، من کو دکھ ہوا۔ دوسری کسی بات میں من لگانا ناممکن ہو گیا۔ سوچا، یہ کیا سے کیا ہو گیا ہے! آپسی میل جول کو برابر بنائے رکھنا ہم ہندو لوگوں کو کیا آتا ہی نہیں؟ ‘پربھات’ کےلگ بھگ سبھی اہم لوگوں سے میرا تعلق رہا ہے۔ آپ سےخاص رہا۔ آپ کےسوبھاؤ کو میں اچھی طرح سے جانتا ہوں اور اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ آپ کو بھی اس بات سے کافی دکھ ضرور ہی ہو رہا ہو گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ بہادر اور فرض شناس شخص دل توڑنے والے واقعات پر آنسو نہیں بہاتے۔ لیکن میرا اپنا اندازہ تو یہ ہے کہ چونکہ اس کے کومل احساسات ختم نہیں ہوتے، بلکہ اوروں کی نسبت زیادہ سلجھے ہوتے ہیں، اس لیے ایسی باتوں سے من ہی من دکھی ہوے بنا نہیں رہتا۔ اسی لیے کیشوراؤ کے اس خیال پر کافی افسوس ہو رہا ہے۔
اب مجھے بیتی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ سن ١٩٣٢ء میں آپ نے مجھے ‘امرت منتھن’ کے لیے بلایا تھا۔ خط لکھا تو آپ نے تھا۔ لیکن اس کا جواب کیشوراؤ دھایبر کے نام منگوایا تھا ۔یعنی آپ کیشوراؤ کو بڑا پن عطا کرنا چاہ رہے تھے۔ آگے چل کر بھی کئی بار میں نے دیکھا کہ کہانی کی چرچا ہو، مکالمہ لکھنا یا سننا ہو، ہر موقع پر آپ نے کیشوراؤ کے ساتھ بڑے بھائی کا سا برتاؤ کیا اور انہیں برابر عزت دی۔ ہر بات میں آپ ان کی عزت کرتے تھے۔ آپ کی شرافت سے میں پہلے سے ہی واقف تھا، لیکن آپ کی سمجھداری اور زندہ دلی ایسے موقعوں پر میں نے پہلی بار محسوس کی۔ میں کتنا خوش تھا، بیان نہیں کر سکتا۔ تب سے میں بڑے فخر کے ساتھ کہتا آیا ھوں کہ ‘پربھات’ مہاراشٹر کا ایک آدرشی ادارہ ہے۔ شہرت اور شان و شوکت دن دوگنی رات چوگنی بڑھنے والی ہے۔ اس بات کے لیے میں من ہی من آپ پانچوں (حصے داروں) کو دعا بھی دیتا رہا ہوں۔ لیکن اچنبھا اس بات کا ہےکہ سن ١٩٣٥ء میں یہ سارا منظر بدل گیا۔ ‘راجپوت رمنی’ کی کہانی میں نےجیسے تیسے لکھ تو دی، لیکن من کا اطمینان جاتا رہا۔ اُس سمے بھی میں نے آپ کو لکھا ہی تھا۔
تبھی سے مجھے لگ رہا تھا کہ ‘پربھات’ میں ‘کالی’ گُھسا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا، کبھی سوچا نہ تھا۔ خیر! کرم گتی ٹارے ناہیں ٹرے ( قسمت میں لکھی کو کون ٹال سکتا ہے)۔ بےکار افسوس کرنے سے کیا ہونے والا ہے۔ لیکن من ہی تو ہے، بے چین ہو ہی جاتا ہے۔
اور ایک بات من میں آ گئی ہے، اسے بھی لکھ ہی دیتا ہوں۔ تب میں ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) کے لیے آیا تھا۔ دوسرے دن فتے لال جی کے گھر دعوت تھی۔ ہم لوگ چرچا پوری کر نیچے آئے تھے۔ کار آنے والی تھی۔ سامنے والی بینچ پر سیتارام بابو، داملے ماما، صاحب ماما بیٹھے تھے۔ میں کار میں بیٹھا اور آپ ان تینوں کے پاس گئے۔ تبھی من میں خیال آیا کہ ارے، کیشوراؤ کہاں ہیں؟ اور تبھی مجھے معلوم ہوا کہ وہ کمپنی چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ بات سن کر میں حیران رہ گیا۔ سوچا —’کیا خوب!’ کیشو کا ہیرا جڑاؤ سے کیسے گِر گیا۔ میں کچھ تو ضرور جانتا ہوں۔ اس میں کہیں نہ کہیں ایک ناری ہے! کبھی فرگیوسن کالج میں بحث چھڑی تھی کہ کیا عورت مرد کی راہ میں روڑا ہے؟ کیشو راؤ کے کریکٹر کو دیکھتے ہوے کہنا پڑے گا کہ عورت نہ صرف مرد کی ترقی کی راہ میں روڑا ہے، بلکہ اُسے جَل سمادھی (water grave) دلانے والی ایک خوفناک چٹان ہے! مرد عام طور پر بہت قصور وار یا ہوس ناک نہیں ہوتا، لیکن ایک ناری کے چکر میں آنے پر وہ کتنا نادان بن سکتا ہے، اس کی کیا یہ جیتی جاگتی مثال نہیں؟ کیشوراؤ ایک دم گھناؤنے تو نہیں ہیں، استعفٰی دینے کے لائق بھی کہاں ہیں؟ لیکن کیا چمتکار ہوگیا دیکھیے، بےچارہ کام سے جاتا رہا! دنیاداری کی حالت کیا ہے، اور ایک یہ مہاشے ہیں کہ میٹھے بھوجن کی تھالی کو لات مار کر چلے جانے کی نادانی کر رہے ہیں!
کون کِسے کیا کہہ سکتا ہے! ہر ایک اپنا اپنا سوچنے پر قادر ہے۔ پھر بھی مجھے من ہی من ضرور لگتا ہے کہ کیشوراؤ اپنے ہاتھوں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں۔ ہر سمجھدار آدمی یہی کہےگا۔
سارا قصہ یاد آتے ہی بہت تکلیف ہوتی ہے۔
کل کیشوراؤ اپنی کوئی فلم بنانےکی کوشش کریں گے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں۔ بطور ایک لیکھک کے وہ مجھے مدعو کریں گے اور دھندھے کی بات مان کر میں اسے شاید قبول بھی کر لوں گا۔ لیکن من کبھی خوشی محسوس نہیں کرے گا!
جو من میں آیا، صرف اپنے پن کے احساس سے آپ کو لکھ دیا۔ اس سمے آپ شاید کافی دوڑ بھاگ میں ہوں گے۔ اس میں ایک اور پریشانی کھڑی کرنا نہیں چاہ رہا تھا، لیکن لکھے بِنا رہا بھی تو نہیں جا رہا۔
یہاں لگتا ہے ایک خطرے کی اطلاع آپ کو دے ہی دوں۔
مجھے پکا شُبہ ہے کہ پربھات کمپنی کے بارے میں، اس کی فلموں کے بارے میں جو بھی بھونڈا مذاق یا تنقید کی جاتی ہے، زیادہ تر کمپنی کا نمک کھانے والوں میں سے ہی کسی کے دماغ کی اپج ہوتی ہے۔ میں کسی کا نام لینا نہیں چاہتا، لیکن کئی بار تو اپنی آستین میں ہی سانپ ہوتا ہے۔ ہر گروہ میں کالی بکری ضرور ہوتی ہے۔ کانا پُھوسی کرنا، اِدھر کی اُدھر لگا دینا، ہر بار اپنی ہی اہمیت بڑھانے کا جتن کرنا، فائدے کی ہی فکر کرنا، منہ دکھاوے کی میٹھی باتیں کرنا، گھر میں لالے پڑتے ہیں لیکن باہر بڑی پوشیدگی بگھارنا وغیرہ، حرکتوں سے باز نہ آنے والا کوئی نہ کوئی آپ کے آس پاس ضرور رہتا ہے۔ وہی آپ کی مذمت کے رخنے ڈالتا رہتا ہے۔ لہذا خبردار ہوں، احتیاط سے رہیےگا اور ہرآدمی کو اس کی اہلیت کے لائق جگہ پر ہی رکھیےگا۔ یہ میں نے آپ کو ہدایت دینے کے لیے نہیں لکھا ہے، نہ ہی کسی کی چغلی کھانے کے لیے۔ صرف آپسی محبت کےکارن ہی صاف لکھا ہے۔ آپ کی ‘پربھات’ کی ہمیشہ جیت ہو، یہی د لی خواہش کرتا ہوں۔ مہربانی کر کے اس پتر کو اپنے لیٹربکس میں نہ رکھیں۔ ضرورت ہو تو۔۔۔ منع تو نہیں کرتا، لیکن!
ولیم فنیگن “دی نیویارکر” کے لیے 1984 سے لکھ رہے ہیں۔ آپ افریقہ، وسطی امریکہ، جنوبی امریکہ، بلقان، میکسیکو، آسٹریلیا اور امریکہ سے متعلق رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ آپ متعدد صحافتی اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔ اس مضمون کا ترجمہ آج کے شمارہ نمبر 30 میں 2000ء میں شائع ہوا تغا۔
اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔
یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ تحریر اجمل کمال نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ سہ ماہی “آج” کا یوٹیوب چینل اب مختلف صداکاروں اور مصنفین کی آواز میں تحاریر کی آڈیو ریکارڈنگز اپ لوڈ کر رہا ہے۔ آج کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔
سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مفرور غلاموں کو پناہ دینے کے سلسلے میں نیویارک شہر کی تاریخ ملی جلی رہی ہے۔ انقلابی جنگ کے دوران مفرور غلاموں سے پورا شہر بھرا ہوا تھا۔ پھر جارج واشنگٹن نے، اپنی فتح کے بعد، کوشش کی کہ انہیں ان کے سابق مالکوں کے پاس واپس بھجوا دیا جائے۔ انڈرگراؤنڈ ریل روڈ کے عروج کے دنوں میں سیکنڈ ایوینیو پر ایک چھوٹا سٹیشن ہوا کرتا تھا۔ سول وار کے خاتمے تک مفرور غلاموں کو پکڑنا ایک خاصا فعال مقامی کاروبار تھا۔
مختار طیب، موریتانیہ سے بھاگا ہوا ایک غلام، اب سے چار سال پہلے 1996 — میں — یہاں پہنچا۔ “یہ سب کچھ بہت خوبصورت تھا،” اس نے حال ہی میں مجھے بتایا، “آزادی، امریکہ۔۔۔ آپ تصور نہیں کر سکتے۔” میرا خیال ہے یہ سب کچھ بہت دشوار بھی تھا۔ طیب اور میں ٹرینٹی چرچ کے قریب، زیریں براڈوے پر، گویا جغرافیائی اعتبار سے عین جارج واشنگٹن کے نیویارک میں، چل رہے تھے کہ اس نے ایک عمارت کو پہچان لیا۔ “ارے!” وہ بولا، “امریکہ میں میرا پہلا ہفتہ تھا جب میں یہاں گیا تھا۔ یا شاید دوسرا ہفتہ۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ مجھے انگریزی نہیں آتی تھی۔ کسی نے بتایا، وہاں کوئی دفتر ہے جو میری مدد کر سکتا ہے۔ لیکن مجھے وہ دفتر نہیں ملا۔”
یہ ایک خوفزدہ کر دینے والا منظر تھا — ایک دبلا، ڈرا ہوا سیاہ فام شخص، کھویا ہوا اور گفتگو سے قاصر، نیویارک کے کاروباری علاقے کی سرد اور چکرا دینے والی سڑکوں پر بھٹکتا ہوا — لیکن اس یاد نے بظاہر طیب کو پریشان نہیں کیا۔ ہم وال اسٹریٹ پر مڑ گئے، اور اس نے نیویارک سٹاک ایکسچینج کے پیش رُخ کی طرف اشارہ کیا۔ “کیا یہ گرجاگھر ہے؟”
“ہاں،” میں نے کہا، “دولت کا گرجاگھر۔”
وہ خوش ہو کر ہنسا۔
نیویارک میں طیب کی زندگی اب بھی دشوار ہے۔ وہ اب بھی مفلس ہے اور اب بھی اپنی راہ کی تلاش میں ہے۔ جب میں نے پچھلے سال کے آغاز میں اس سے ملنا شروع کیا تب وہ برونکس کے علاقے میں ایسٹ ٹریمونٹ ایوینیو کے قریب، ایکو پلیس کے گراؤنڈ فلور پر ایک کمرے میں رہتا تھا۔ فطری طور پر مجھے یہ جاننے کی خواہش تھی کہ آخر یہ کس طرح ہوا کہ بیسویں صدی کے اختتام پر وہ ایک مفرور غلام ہے۔
“میں ہنگامہ کرنے والا آدمی ہوں،” اس نے سادگی سے کہا۔ “وہ لوگ یہی کہتے ہیں۔” جب سے میں نے طیب کو دیکھا ہے، سیاہ آنکھوں، نرم لہجے اور گہری شائستگی کا حامل یہ شخص مجھے ہنگامہ پسند آدمی کا بالکل متضاد معلوم ہوا ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے افریقی دوستانہ پن کے ایک چھوٹے سے حفاظتی بادل میں لپٹا ہوا طیب اپنے کمرے سے نکل کر اس سخت زندگی والے محلے کی گلیوں سے تیرتا ہوا گزر رہا ہو۔ لیکن جو فاصلہ وہ طے کر کے آیا ہے — مشرقی موریتانیہ کے دیہی علاقے سے، جہاں وہ بڑا ہوا تھا، مغربی افریقہ اور مغرب کے خطے کے مختلف ملکوں سے ہوتا ہوا امریکہ تک — اسے رسمی مِیلوں میں نہیں بلکہ صدیوں میں ناپا جانا چاہیے۔ اور نیویارک میں ایک اُکھڑے ہوے مفلس، بےوطن شخص کی زندگی کی گمنامی یقیناً ایک ایسے آدمی کی شخصیت میں جھانکنے کے لیے ایک ناموزوں کھڑکی ہے جو جنوبی صحارا کے ایک بربر گاؤں میں پیڑھیوں سے آشنا ماحول میں کبھی رہا ہو گا۔
“میرے گاؤں میں ہر ایک، آقا اور غلام، یہ کہتا تھا کہ میں عجیب ہوں، پاگل ہوں، گناہگار ہوں،” طیب نے کہا۔ “وہ مجھے کافر تک کہتے تھے۔ موریتانیہ میں کسی کے لیے اس سے بدتر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ لیکن میں ہمیشہ سوال کرتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہیں کچھ ضرور غلط ہے۔”
طیب کے ذہن کو جو بات غلط معلوم ہوتی تھی وہ یہ تھی کہ وہ 1959 میں ایک “عبد”، ایک غلام، پیدا ہوا تھا۔ زیادہ مخصوص طور پر یہ کہ جب وہ بڑا ہوا تو اسے کلاس روم میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ بچپن میں اس کے کاموں میں ہر صبح اپنے مالک کے بچوں کو اونٹ پر سوار کر کے سکول تک پہنچانا اور پھر اونٹ کو واپس گاؤں لانا بھی شامل تھا۔ جب کم عمر طیب سکول میں رکنے کی کوشش کرتا، کہ اسے کھڑکی میں سے کلاس روم کی آوازیں ہی سنائی دے سکیں، تو اسے بھگا دیا جاتا۔ گاؤں کے مدرسے سے بھی، جہاں قرآن کی تعلیم ہوتی تھی، اسے واپس لوٹا دیا گیا۔ جب اس نے ضد کی تو اس کے آقا نے طیب کی ماں سے اس کی پٹائی کرنے کو کہا۔ ماں نے اس کی پٹائی کی، جس کے زخم کا نشان اس کے داہنے ہاتھ پر اب بھی باقی ہے۔ “ہراتین کے لیے،” طیب نے وضاحت کی، “جنت آقا کے قدموں کے نیچے ہے۔ بیدان لوگ یہی کہتے ہیں، اور ہراتین بھی یہی کہتے ہیں۔”
بیدان، جنہیں “وائٹ مُور” بھی کہا جاتا ہے، موریتانیہ کی حکمران نسل ہیں۔ یہ عرب بربر قبائلی ہیں جن کے اجداد نے سترہویں صدی میں اس علاقے پر تسلط حاصل کیا تھا۔ ہراتین، جو “بلیک مُور” بھی کہلاتے ہیں، مغربی افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کی نسل سے ہیں جنھیں صدیوں پہلے بیدانوں نے مفتوح کر لیا تھا۔ اگرچہ بعض ہراتین نے اب آزادی حاصل کر لی ہے، لیکن بیشتر اب تک غلام ہیں۔ طیب بھی ہراتین میں سے ہے لیکن جب میں نے پوچھا کہ اس کا باپ کس نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو وہ بولا، “آپ یہ بات نہیں سمجھیں گے۔ میرے باپ کی کوئی نسل نہیں تھی۔ وہ ایک نسل کی ملکیت تھا، جیسے مویشی کسی کی ملکیت شمار ہوتے ہیں۔ ہم ایک عرب قبیلے اولد ناصر کے غلام ہیں جو بہت طاقتور قبیلہ ہے۔ اس کے پاس بہت زمینیں ہیں، جن پر کھجور کے پیڑ لگے ہیں۔ میرا حال بھی میرے باپ کی طرح ہے۔ میرا کوئی نسلی گروہ نہیں ہے، کوئی نام نہیں ہے۔ میں صرف فلاں کے غلام کے طور پر پہچانا جاتا ہوں۔”
طیب کے بچپن میں موریتانیہ کے باشندے خانہ بدوشی یا نیم خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ (بعد میں آنے والی ایک ہولناک خشک سالی نے ملک کی بیشتر چراگاہوں کو برباد کر ڈالا جس کے باعث بہت سے خانہ بدوش مجبور ہو کر شہروں میں آ گئے۔) اس کی اولین یادیں قبیلے کے گلّوں — مویشیوں، اونٹوں اور بکریوں — کے ساتھ لمبی لمبی مسافتیں طے کرنے اور ایسے خطّوں سے گزرنے کی یادیں ہیں جہاں لگڑبگھے، گیدڑ اور ریچھ ہوتے تھے۔ “ہم گھاس کے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ بیدان لوگ اونٹوں پر سفر کرتے لیکن ہم پیدل چلتے تھے یا گایوں پر سوار ہوتے تھے۔ کسی بیدان کے لیے گائے پر سوار ہونا شرم کی بات ہے۔ ان کے باقاعدہ اون کے بنے خیمے تھے جو اپنی دو چوٹیوں کے ساتھ سیدھے کھڑے ہوتے تھے۔ ہمارے، ہراتین کے خیمے، بہت ابتدائی شکل کے، پھٹی پرانی گدڑیوں کے بنے ہوتے تھے اور ان میں بہت بھیڑ ہوتی تھی۔ سارے کام — پانی بھرنا، ڈھول بجانا — جن کا کرنا بیدانوں کے لیے شرم کی بات تھی، ہراتین کے ذمے تھے۔ اور جب ہم بھیڑیں ذبح کرتے تو ہراتین کو کھانے کے لیے صرف اوجھڑی اور گردن ملتی۔ باقی سب بیدانوں کا حصہ تھا۔” طیب کو، جو ایک کمزور لڑکا تھا، گھریلو نوکر کے طور پر تربیت دی گئی۔ “میں اپنے آقا اور اس کے مہمانوں کے ہاتھ دھلاتا۔ اس کے بچوں کے کپڑے دھوتا۔ میں نے چائے بنانا سیکھا۔” ایک بار ،اس نے بتایا، اسے ایک تجارتی کارواں کے ساتھ بھیجا گیا جس میں شامل بیس یا تیس اونٹ جھیل کی تہہ کا نمک لاد کر مالی لے جا رہے تھے جسے دے کر بدلے میں شورگم لیا جانا تھا۔
طیب خوابناک، سوچتے ہوے لہجے میں مجھے ان قدیم صحرائی مناظر کا حال سناتا رہا، جیسے وہ ان مناظر کا انگریزی زبان میں پہلی بار تصور کر رہا ہو۔ باہر برف پڑ رہی تھی، لیکن اس کا کمرہ گرم تھا۔ ایک خوشبودار موم بتی جل رہی تھی۔ ہمارے درمیان رکھی ایک ٹرے پر میٹھی چائے گلاسوں میں پڑی پڑی ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ میں نے عربی کے کچھ الفاظ کے بارے میں دریافت کیا جو دیوار پر ٹیپ سے چپکائے گئے تھے۔ یہ قرآن کی ایک آیت ہے، طیب نے بتایا۔ اس نے آیت کا ترجمہ کر کے بتایا جو کچھ یوں تھا کہ اﷲ اپنے بندوں کو بلاسبب ہرگز سزا نہیں دیتا۔
میں نے غلاموں کی بغاوتوں کے بارے میں سوال کیا۔
طیب نے بتایا کہ ایسی بغاوتیں بہت کم، تقریباً نامعلوم ہیں۔ “ہراتین کو قابو میں رکھنے کے لیے عموماً جسمانی طاقت کی ضرورت نہیں ہوتی،” اس نے کہا۔ “کبھی کبھی تو وہ اپنے آقا سے الگ کسی اور جگہ رہ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ کہیں بھی رہیں، آقاؤں سے ان کا رشتہ برقرار رہتا ہے۔ وہ غلام ہی رہتے ہیں۔ ان کا آقا انھیں کبھی بھی طلب کر سکتا ہے اور ان کو آنا ہوتا ہے۔ آقا ان کے بچے لے سکتا ہے۔ وہ ان کے بچے اپنے کسی رشتے دار یا دوست کو ہدیہ کر سکتا ہے۔ غلامی ایک ذہنی حالت کا نام ہے، اور بیشتر ہراتینوں کو یقین ہے کہ غلامی کا نظام اﷲ کے احکام کا حصہ ہے۔ وہ کسی اور قسم کی زندگی سے واقف نہیں ہیں۔ یہاں امریکہ میں اطلاعات کے اتنے سارے ذریعے ہیں: کتابیں، اخبار، ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ۔ وہاں ہمارے پاس صرف پرندے ہوتے ہیں، جو ہمیں بتاتے ہیں کہ پانی کہاں مل سکتا ہے، یا پھر بیدان ہوتے ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کام کرنا ہے۔ اگر کوئی ہراتین اپنے آقا کا حکم نہ مانے تو، ہاں، اسے سزا دی جا سکتی ہے، قید کیا جا سکتا ہے، ہلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔”
مجھے “اونٹوں والا علاج” یاد آیا جس کے بارے میں میں نے پڑھا تھا؛ یہ اذیت دینے کا ایک طریقہ تھا جو سرکشی پر آمادہ غلاموں کے لیے مخصوص تھا۔ موریتانیہ کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم کی ایک رپورٹ میں اس طریقے کی تفصیل بیان کی گئی تھی: “غلام کی ٹانگیں ایک ایسے اونٹ کے پہلو سے باندھ دی جاتی ہیں جسے کوئی دو ہفتوں تک پانی سے محروم رکھا گیا ہو۔ پھر اونٹ کو پانی پینے کے لیے لے جایا جاتا ہے، اور جوں جوں اونٹ کا پیٹ پھولتا ہے غلام کی ٹانگیں، رانیں اور جانگھیں آہستہ آہستہ چرتی چلی جاتی ہیں۔” رپورٹ میں ایک مقامی اطلاع دہندہ کے حوالے سے کہا گیا تھا: “میں ایک ایسے غلام سے واقف ہوں جو بوغے کے مغرب میں شرت کے مقام پر 1988 میں اس اذیت سے گزرا تھا۔ اس کے آقا کو شک تھا کہ وہ فرار ہونا چاہتا ہے، کیونکہ وہ ایک سڑک پر دیکھا گیا جہاں اس کا کوئی کام نہ تھا۔ علاوہ ازیں، وہ منھ پھٹ جوان آدمی تھا جو اپنے آقا اور اس کے گھروالوں کو جواب دیتا تھا اور اس نے صاف کہہ دیا تھا کہ اسے غلاموں والی زندگی پسند نہیں۔ اسے پکڑ کر اونٹوں والے علاج سے گزارا گیا۔ اُس وقت اس کی عمر سولہ سال تھی۔ وہ اب بھی اپنے آقا کے خاندان کے ساتھ رہتا ہے، لیکن اب اتنا اپاہج ہو چکا ہے کہ کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔”
طیب بھی ایسے واقعات سے واقف ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ ایسی انتہائی درجے کی بہیمیت موریتانیہ میں آقا اور غلام کے رشتے میں استثنائی صورتوں ہی میں پائی جاتی ہے۔ “یہ ایک باقاعدہ نظام ہے،” اس نے کہا۔ “اس کا آغاز بچپن ہی سے ہو جاتا ہے۔ اگر تم بیدان ہو تو ہمیشہ کوئی ہراتین بچہ تمھاری خدمت کر رہا ہو گا۔ اگر تم ہراتین ہو تو تمھارا کوئی باقاعدہ نام تک نہ ہو گا۔ اگر تمھارا نام محمد ہے، تو اسے توڑ کر ممّد کر لیا جائے گا۔” اس نے بلند آواز میں بگڑا ہوا نام پکار کر بتایا۔ “اگر کوئی ہراتین کتاب پڑھنے کی کوشش کرے، یا گھڑی باندھے یا کسی عمدہ گھوڑے پر سوار ہو تو اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ہمارے ادب میں ایسی بہت سی کہانیاں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کسی ہراتین نے قرآن کی کوئی آیت سیکھ لی، جس پر اس کی اس قدر تضحیک کی گئی کہ آخرکار اسے اپنے آپ سے نفرت ہو گئی۔” طیب کہتے کہتے رکا۔ اس کے چہرے پر ایسا تلخ تاثر تھا جو عموماً نہیں ہوتا تھا۔ “اپنے آپ سے نفرت ہو گئی!” اس نے دھیمی آواز میں دہرایا۔
“یہ نظام نہایت مکمل ہے،” اس نے کہا۔ “میرا آقا بہت دولت مند نہیں ہے، لیکن وہ ایک بڑا سردار ہے۔ اور اس کا ایک بھائی سفارت کار تھا — تعلیم یافتہ آدمی۔ لیکن وہ یہاں، امریکہ میں بھی، اپنے غلام ساتھ لے کر آیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بیدانوں کو وہ کھانا پسند نہیں آتا جو کسی غلام کے ہاتھ سے تیار نہ ہوا ہو۔ ان کو یقین ہے کہ ہر اہم آمی کے اردگرد غلام موجود ہونے چاہییں تاکہ ان کے مالدار ہونے کا اظہار ہو سکے۔ اور وہ جسمانی کام کرنے کو شرمناک بات سمجھتے ہیں۔ ان میں جو لوگ تعلیم یافتہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ دنیا غلامی کو پسند نہیں کرتی۔ وہ اپنے غلاموں سے کہتے ہیں کہ غیرملکیوں کو بتائیں کہ وہ ملازم ہیں، کہ ان کو اجرت ملتی ہے۔ اور اگر ہم اس پر احتجاج کریں تو ہم سے کہتے ہیں: تم ہماری مخالفت کیوں کرتے ہو؟ یہ غیرملکی اسلام کے مخالف ہیں۔ مذہب اس نظام کا بہت بڑا حصہ ہے۔ غلام کی مخالفت کو مذہب کی مخالفت قرار دیا جاتا ہے۔”
طیب اپنے بستر پر، جو کمرے کے بڑے حصے پر محیط تھا، آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ پاس ہی سبز جھالر والی ایک جانماز رکھی تھی۔ جب میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو طیب نے بتایا کہ وہ اسے اس وقت استعمال کرتا ہے جب اس کے پاس مسجد جانے کا موقع نہ ہو۔ اس نے بتایا کہ وہ دن میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہے۔ کمرے مں موجود واحد میز کتابوں سے بھری ہوئی تھی: افلاطون کے مکالمات، اور فرانز فینن کی افتادگان خاک اور A 2nd Helping of Chicken Soup for the Soul۔
طیب نے بتایا کہ جوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا اور تعلیم چھوڑنے سے انکار پر قائم رہا، آقاؤں کے ساتھ اس کے جھگڑے بڑھتے گئے۔ وہ احکام پر تذبذب کے ساتھ عمل کرتا تھا، اور تیرہ برس کی عمر میں سرکشی کے باعث اپنا بازو تڑوا بیٹھا۔ اس کی ماں بہت ناراض ہوئی۔ “وہ ہمیشہ کہتی: ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہمارے باپ داد بھی اسے تسلیم کرتے تھے۔ اﷲ کی یہی مرضی ہے۔ اور پھر اس میں برائی کیا ہے؟ وہ سمجھتی ہے کہ میں باغی ہوں۔”
طیب کے باپ کا خیال مختلف تھا۔ اگرچہ اس کا کوئی نسلی گروہ نہ تھا، لیکن وہ ایک ایسے خاندان کا فرد تھا جس کی ننھیالی اور ددھیالی دونوں شاخوں کی آبائی یادداشت میں وہ وقت محفوظ تھا جب غلامی کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ وہ پولار اور وولوف زبانیں تھوڑی بہت جانتا تھا، جن کا تعلق جنوبی خطے سے تھا، اور اس کے خاندان کو، ہراتین ہوتے ہوے بھی، بیدان امارتوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں حصہ لینے کی بنا پر شجاعت کی نیک نامی حاصل تھی۔ “چنانچہ وہ کبھی مکمل طور پر مطیع ہونے پر آمادہ نہ ہوا،” طیب نے کہا۔ اس کا باپ جب آقا کے ریوڑ نہ چرا رہا ہوتا تو اینٹیں اور کوئلہ بنایا کرتا تھا اور کبھی کبھی وہ اینٹیں فروخت بھی کرتا تھا — جو اس کی غلام کی حیثیت سے ایک طرح کی بغاوت تھی۔ آخرکار 1970 کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں مویشیوں کو ٹرک میں دور لے جانے کے دوران وہ موقع پا کر سینیگال فرار ہو گیا۔
طیب کو بھی اس کے نقشِ قدم پر چلنے کی خواہش تھی۔ لیکن اس کی تیاری راستوں کے نقشے بنانے اور حیلے ایجاد کرنے پر مشتمل نہ تھی۔ اس کے بجاے وہ چھپ چھپ کر پڑھنا سیکھتا رہا۔ وہ سکول میں آقا کے بچوں کو پڑھائے جانے والے سبق یاد کر لیتا۔ اس نے قرآن کی لمبی لمبی سورتیں حفظ کر لیں۔ سترہ برس کی عمر میں اسے تحریر سکھانے والی کچھ کتابیں ہاتھ آ گئیں اور اس نے خود کو لکھنا سکھانا شروع کر دیا۔
ایک کہاوت ہے کہ پڑھے لکھے آدمی کو غلام بنانا ناممکن ہے، اور طیب کو بچپن ہی سے کسی نہ کسی طرح اس بات کی سمجھ حاصل ہو گئی تھی کہ خواندگی، اور مویشیوں اور چیزوں کی سی غلامی کے درمیان بنیادی نوعیت کا تضاد موجود ہے۔ اس کے لیے تعلیم حاصل کرنا اور انسانیت کا درجہ پانا لازم و ملزوم ہوتے گئے۔
1977 میں طیب نے اپنے آقا کے خاندان کے سامنے نرم لہجے میں اپنے ارادے کا اعلان کیا کہ وہ استاد بننا چاہتا ہے۔ اس کا نتیجہ آقا کی بیوی کے ساتھ، جس کے نزدیک طیب کا یہ خواب قابلِ تحقیر تھا، ایک ذلت آمیز تنازعے کی صورت میں نکلا۔ اس کے آقا نے اسے دارالحکومت نواکشوت میں ایک گھر میں کام کرنے کی غرض سے بھجوا دیا۔ لیکن شہر کی غلامانہ زندگی میں ایک دورافتادہ گاؤں کی غلامانہ زندگی کی نسبت نگرانی کچھ کم سخت تھی، اور طیب کو احساس ہوا کہ یہاں اسے فرار کا موقع مل سکتا ہے۔ جولائی 1978 میں وہ بھاگ نکلا اور ایک ٹرک میں لفٹ لے کر سرحد پر دریاے سینیگال کے قریب پہنچ گیا۔ ایک دوست سے حاصل کی ہوئی رقم سے اس نے سرحد پر متعین محافظوں کو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اسے کاغذات کے بغیر موریتانیہ سے باہر نکلنے دیں۔
اس نے اپنے باپ کو وسطی سینیگال میں کاؤلاک کے مقام پر پایا۔ “میرا باپ پڑھنا نہیں جانتا تھا لیکن وہ میری تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کو سمجھ سکتا تھا۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔” یہ سن کر کہ آئیوری کوسٹ میں تعلیمی مواقع بہتر ہیں، طیب اور اس کا باپ مالی کے راستے وہاں روانہ ہو گئے۔ “یہ ایک دشوار سفر تھا،” طیب نے کہا۔ اس کی آواز گھٹ سی گئی۔ “ہم متعدد بار گرفتار ہوے۔” وہ رک گیا اور خاموشی سے موم بتی کے شعلے کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جوڑا۔ “آخرکار ہم آئیوری کوسٹ پہنچ گئے،” وہ بولا۔ “اور وہاں بائیس سال کی عمر میں پہلی بار، مجھے ایک کلاس روم میں بیٹھنے اور استاد سے نگاہ ملانے کی اجازت حاصل ہوئی۔”
جب امریکہ کے لوگ غلامی کا تصور کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں صرف ان غلاموں کا خیال ہوتا ہے جن سے فصلوں پر کام لیا جاتا ہے۔ لیکن غلامی، پوری انسانی تاریخ میں، بیشتر انسانی معاشروں میں بہت سی مختلف شکلوں میں موجود رہی ہے — اس اعتبار سے یہ ایک “عجیب وغریب ادارے” سے بہت مختلف چیز ہے — اور عرب دنیا، جہاں غلامی کی بنیادیں اسلام کے آغاز سے مدتوں پہلے سے مستحکم تھیں، فصلوں پر کام کی غرض سے غلامی کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ غلام، جو عموماً جنگوں میں گرفتار ہو کر آتے تھے، سپاہیوں اور گھریلو ملازموں کے طور پر استعمال میں لائے جاتے تھے۔ متمول طبقوں میں غلام عورتوں پر مشتمل حرم عام تھے۔ داشتائیں رکھنے کے مقبول رواج کے باعث غلام عورتیں عام طور پر غلام مردوں کی نسبت زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی تھیں — بجز اس کے کہ غلام مردوں کا جنسی عضو کاٹ ڈالا گیا ہو، جیساکہ ان کی ہولناک حد تک زیادہ تعداد کے ساتھ ہوتا تھا، اس حد تک کہ غلاموں کی تجارت کی بڑی شاہراہوں کے پاس خواجہ سرا تیار کرنے کے باقاعدہ قصاب خانے قائم تھے۔
اسلام کی تعلیمات میں آقاؤں سے کہا گیا کہ وہ اپنے غلاموں سے بدسلوکی نہ کریں، بلکہ انھیں آزاد کرنے کے امکان پر بھی غور کریں۔ اور مسلمان عالموں اور فقیہوں کے درمیان اُس وقت سے اب تک اس موضوع پر بحث مباحثہ جاری ہے کہ کون کس کو غلام رکھ سکتا ہے اور کن حالات میں۔ اصولی طور پر مسلمان مسلمان کو غلام نہیں بنا سکتے۔ لیکن اسلام کے عرب سے باہر مختلف جغرافیائی خطوں میں پھیل جانے کے دوران یہ اصول بیچ میں کہیں گم ہو گیا، اور بہرحال اس اصول پر عمل کا انحصار مقامی تعبیرات پر ہوتا تھا۔ قرون وسطیٰ میں مشرقی یوروپ نے عرب دنیا کو بڑی تعداد میں سفیدفام غلام فراہم کیے — مسیحی، یہودی، اور دوسرے — لیکن سیاہ فام افریقیوں کی تجارت نے — جن کی نقل وحمل صحارا کے راستے یا دریاے نیل کے ساتھ ساتھ قافلوں کی شکل میں کی جاتی تھی — رفتہ رفتہ غلاموں کی مجموعی عرب تجارت پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اگرچہ تاریخی شواہد بہت کم دستیاب ہیں لیکن بہت سے تاریخ نگاروں کا خیال ہے کہ سیاہ فاموں کی جتنی بڑی تعداد کو شمال کی سمت عرب دنیا میں غلام بنا کر پہنچایا گیا وہ ایک کروڑ غلاموں کی اس تعداد کے مقابلے میں زیادہ ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں بحراوقیانوس کے راستے نئی دنیا (امریکہ) لایا گیا۔
مغربی دنیا میں نشاۃ ثانیہ کے دور کے بعد غلامی کے خاتمے کی جو تحریکیں چلیں، اس قسم کی تحریکوں کی کوئی مثال عرب دنیا میں نہیں ملتی۔ اخلاقی موقف رکھنے والے مسیحی فرقوں مثلا کویکر، میتھوڈسٹ یا یونی ٹیرین، جیسے فرقے بھی اسلام میں نہیں ابھرے، اور مسلمان فرمانرواؤں نے یوروپی نوآبادیاتی طاقتوں کے متواتر دباؤ کے زیرِاثر ہی غلاموں کی کھلے عام تجارت پر پابندیاں عائد کرنا شروع کیا۔ صحارا کے راستے آنے والا غلاموں کا آخری قافلہ 1929 میں لیبیا پہنچا تھا۔ خود غلامی آخرکار ہر جگہ قانوناً ممنوع قرار پائی — حتیٰ کہ سعودی عرب نے بھی اس پر 1962 میں پابندی لگا دی — لیکن ان کوششوں کو بجا طور پر مسلم سماجی ڈھانچے پر حملہ تصور کرتے ہوے نسبتاً زیادہ قدامت پرست ملکوں میں ان کی سخت مزاحمت کی جاتی رہی، اور عملی طور پر غلامی کے امتناع کو کسی بھی اعتبار سے مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 1960 کی ایک برطانوی پارلیمانی رپورٹ کے مطابق مختلف ملکوں سے حج کے لیے مکہ پہنچنے والے حاجی اپنے ساتھ غلام لے کر آتے تھے جو “جاندار ٹریولرز چیکس” کی حیثیت رکھتے تھے، یعنی ضرورت پڑنے پر ان کو فروخت کر کے سفر کے اخراجات پورے کیے جا سکتے تھے۔
موریتانیہ میں سرکاری طور پر غلامی کو تین بار ممنوع کیا گیا، جن میں تازہ ترین 1980 میں کیا جانے والا امتناع ہے۔ لیکن جو قوانین اس امتناع کو عملی طور پر نافذ کر سکتے تھے انھیں کبھی وجود میں نہیں لایا گیا۔ 1980 کے امتناع میں آقاؤں کو — غلاموں کو نہیں — معاوضے کا مستحق قرار دیا گیا، لیکن اس میں ایسا کوئی طریق کار طے نہیں کیا گیا جس کے مطابق معاوضے کی ادائیگی، یا اس قانون کا نفاذ کیا جا سکے، یا کم از کم اس خوشخبری کو ان آزادکردہ افراد کے کانوں تک پہنچا جا سکے جن میں سے بیشتر اب بھی غلام ہیں۔ (موریتانیہ میں غلاموں کی کل تعداد کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس تعداد کا تخمینہ نوے ہزار سے تین لاکھ تک لگایا جاتا ہے۔) موریتانیہ جیسے غریب، پسماندہ اور مکمل طور پر اسلامی ملک میں جدید، سکیولر قوانین کی اہمیت براے نام ہی ہے۔ حاکمیت کی دیگر ہیئتیں — روایتی قانون، اور خصوصا مذہبی قانون جس کی تعبیر کرتے ہوے موریتانیہ کی شرعی عدالتوں نے روایتی طور پر ہمیشہ غلام رکھنے والے آقاؤں کے ملکیت کے حق کو درست ٹھہرایا ہے — عموماً مغربی طرز کے تحریری قوانین سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہیں۔ 1960 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے موریتانیہ یوں بھی بہیمانہ بیدان فرمانرواؤں کے زیرِتسلط رہا ہے جن کے نزدیک قانون کی حکمرانی جیسے تصورات کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔
تاہم بیدان حکمرانوں کو سب سے بڑا خطرہ بیدانوں کے غلام اور ملازم ہراتینوں کی طرف سے نہیں بلکہ ملک کے تیسرے بڑے گروہ کی طرف سے درپیش ہے: یعنی جنوبی خطے کے سیاہ فاموں کی طرف سے جنھیں کبھی غلام نہیں بنایا جا سکا اور جنھیں موریتانیہ میں “نیگرو افریقی” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مردم شماری کے اعدادوشمار ناقابلِ اعتبار ہیں، کیونکہ بیدانوں کی تعداد کو زیادہ کر کے ظاہر کرنے سے حکومت کا اپنا مفاد وابستہ ہے، لیکن اندازہ ہے کہ تینوں گروہ ملک کی آبادی میں تقریباً برابر کا تناسب رکھتے ہیں۔ (ملک کی کل آبادی بیس لاکھ سے تیس لاکھ تک ہے۔) نیگرو افریقی مقامی زبانیں — پولار، وولوف، سوننکے، بمبارا — بولتے ہیں اور لنگوافرانکا یا رابطے کی زبان کے طور پر فرانسیسی، نہ کہ عربی جو ملک کی سرکاری زبان ہے۔ اگرچہ انھوں نے بھی صدیوں پہلے اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیا تھا، ان کا تہذیبی رشتہ اپنے ہم وطن موریتانیائیوں کی بہ نسبت جنوب میں آباد دوسرے فرانسیسی گو افریقیوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ حکمران بیدانوں کا سب سے بڑا سیاسی مقصد یہ ہے کہ ملک کی ان دونوں سیاہ فام آبادیوں — ہراتینوں اور نیگرو افریقیوں — کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جائے۔
“جب میں بچہ تھا تو بیدان لوگ ہمیشہ بتایا کرتے تھے کہ نیگرو وحشی جانور، شیر یا ریچھ، میں منقلب ہو سکتے ہیں،” طیب نے بتایا۔ وہ خوش دلی سے ہنسا۔ “ہمیں بتایا جاتا تھا کہ جنوب کے نیگرو لوگ انسانوں کو کھاتے ہیں۔ اور آئیوری کوسٹ اور ٹوگو جاتے ہوے راستے میں میرے ذہن میں باربار یہی خیال آتا رہا۔”
موریتانیہ سے نکلنے سے پہلے طیب غلامی کے خلاف چلائی جانے والی ایک زیرِزمین تحریک “الحُر” کا رکن بن چکا تھا، اور آج تک اس تنظیم میں عملی طور پر سرگرم ہے۔1974 میں قائم کی گئی الحر تنظیم بیشتر سابق یا مفرور غلاموں پر مشتمل ہے، اور ان میں سے جو لوگ موریتانیہ میں رہتے ہیں وہ سخت جبر کا شکار ہیں۔ جس اتحاد سے بیدان سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں — یعنی نیگرو افریقیوں کی حکومت مخالف تحریکوں اور ہراتینوں کی الحر جیسی تنظیموں کے درمیان اتحاد — وہ اب تک وجود میں نہیں آ سکا ہے۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیدان حکمرانوں کی طرف سے جنوبی آبادیوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں میں بڑی ہوشیاری سے ہراتین سپاہیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ 1989 میں اس قسم کی ایک تادیبی مہم میں دسیوں ہزار نیگرو افریقی کسانوں کو ان کی زمینوں سے جبراً بےدخل کر دیا گیا، اور ان میں سے بہت سوں کو کھدیڑ کر سینیگال میں جلاوطن کر دیا گیا۔ سینکڑوں لوگ ہلاک ہوے اور ہزاروں گرفتار۔ اور سرکوبی کی اس مہم میں ہراتین سپاہیوں نے جو کردار ادا کیا اس کی تلخ یادیں اب بھی تازہ اور گہری ہیں۔
تاہم طیب جیسے ہراتین کارکن سمجھتے ہیں کہ ان دونوں سیاہ فام گروہوں کے درمیان بےاعتمادی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جنوبی نیگرو افریقیوں نے ہمیشہ غلامی کے مسئلے پر غیرجانبدارانہ موقف اختیار کیے رکھا ہے۔ “اب جبکہ ان کو محسوس ہوا ہے کہ غلامی کی مخالفت سے انھیں بین الاقوامی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، تو وہ ایسا ظاہر کرنے لگے ہیں گویا وہ ہمیشہ سے غلامی کے مخالف رہے ہیں،” اس نے کہا۔ “اس سے پہلے ان کو اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔” طیب نے کہا کہ وہ بیدان افراد بھی جو کسی وجہ سے حکومت کے عتاب میں آ گئے ہوں، مغرب میں سیاسی پناہ مانگتے وقت یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں غلامی کے خلاف تحریک چلانے کے نتیجے میں موریتانیہ میں خطرات کا سامنا ہے۔ “میں ایسے کئی بیدانوں سے واقف ہوں،” وہ یوں بولا جیسے اس کے لیے یہ بات ناقابل یقین ہو۔ “خود ان کے گھروں میں اب بھی غلام موجود ہیں!”
پھر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ “آپ کو پتا ہے، ان میں سے کئی لوگ مجھے یہاں نیویارک میں ملے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہمیں عفو و درگزر سکھاتا ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں: یہ عفو و درگزر کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ حقوق کا اور انصاف کا معاملہ ہے۔ اور یہ کوئی ماضی کی بات بھی نہیں ہے۔ یہ سب تو آج، اس وقت بھی ہو رہا ہے! وہ مجھ سے بحث کرنے لگتے ہیں۔ وہ بہت سی احمقانہ باتیں کہتے ہیں۔ لیکن میں اپنے آپ سے کہتا ہوں: مختار! صبر کرو۔ یہ تاریخ ہے، اور تاریخ زیادہ، بہت زیادہ وقت لیتی ہے۔”
طیب نے غور سے مجھے دیکھا۔ “یہ میرا مسئلہ ہے،” آخرکار وہ بولا۔ “اور میں اس سے چھٹی نہیں لیتا۔”
میں نے میز پر ایک ٹیپ ریکارڈر رکھا دیکھ کر دریافت کیا کہ آیا اس میں موریتانیہ کی کوئی مخصوص موسیقی ہے۔ وہ مسکرایا اور مشین میں ایک ٹیپ لگا دیا۔ ڈھول کی سست رو تال، اور عربی میں نوحے جیسی آواز، اور پیٹ کی گہرائی سے نکلتی ہوئی پکار سے کمرہ بھر گیا، اور آن کی آن میں ہمیں یوں محسوس ہونے لگا گویا ہم، برونکس سے کئی ہزار میل دور، صحارا میں کسی خیمے کے اندر بیٹھے ہیں۔ “یہ بہت خوبصورت گیت ہے،” طیب نے بےاختیار ہو کر کہا۔ “یہ بہت مشہور ہے، بہت مقبول ہے۔ ہم اسے غلام عورت کا کیسٹ کہتے ہیں۔” اس نے پُرزور انداز میں ٹیپ ریکارڈر کی طرف اشارہ کیا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ میں نے اس کو کبھی اتنے جوش میں نہیں دیکھا تھا۔ “یہ بیدان ہے جو غلام عورت کو بتا رہا ہے کہ اسے کیوں بےعزت کیا گیا۔ اور اب یہ غلام عورت اسے جواب دے رہی ہے!” طیب خوشی سے بےحال تھا۔
جب ٹیپ ختم ہوا تو اس کی مسکراہٹ رفتہ رفتہ غائب ہو گئی۔ “موریتانیہ کی حکومت نے غلامی پر شرمندگی محسوس کرنا ابھی حال ہی میں شروع کیا ہے،” اس نے کہا۔ “لیکن حکومت ہمارے ادب کو، ان تمام گیتوں اور نظموں کو نہیں مٹا سکتی جن میں غلاموں اور ان کی غلامی کا ذکر موجود ہے — کیونکہ یہی وہ اصل زندگی ہے جسے ہم جیتے ہیں۔”
طیب برونکس کے کمیونٹی کالج میں ہفتے میں پانچ بار انگریزی کی رات کی کلاس میں جاتا ہے۔ ایک شام میں اس کے ساتھ وہاں گیا۔ طالب علموں نے پہلا گھنٹہ کمپیوٹر لیب میں گزارا۔ وہ سب The Great Gatsby پر الگ الگ مضمون لکھتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ طیب کے پاس اس ناول کا جو نسخہ تھا، اس کے حاشیے عربی میں لکھے ہوے نوٹس سے بھرے تھے۔ یہ عموماً الفاظ کے معانی پر مشتمل تھے، نہ صرف ناول کے متن میں موجود الفاظ بلکہ انگریزی عربی لغت میں ان کے آس پاس لکھے ہوے دوسرے الفاظ بھی جو طیب کو دلچسپ محسوس ہوئے۔ نہ صرف Perpetuate کے عربی معنی بلکہ Peripatetic کے مفہوم کے بارے میں بھی ایک مفصل نوٹ؛ نہ صرف Veteran بلکہ Vex بھی۔ یہ مجھے انگریزی سیکھنے کا ایک دلیرانہ، پُرشوق اور ادبی طریقہ معلوم ہوا۔ جو بات میں اصل میں جاننا چاہتا تھا وہ یہ تھی کہ طیب خود اس ناول کے کرداروں جے گیٹسبی اور ڈیزی بوکانن کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ لیکن وہ کمپیوٹر پر انگریزی کے ایک ایسے سافٹ ویر کے ساتھ جدوجہد میں مصروف تھا جو اسے اپنی لغت سے باہر کے الفاظ (بشمول “گیٹسبی”) ٹائپ نہیں کرنے دے رہا تھا۔
طیب کی انگریزی کلاس کے باقی سارے لوگ لاطینی امریکی تھے۔ اور کلاس شروع ہونے سے پہلے کی گفتگو سے میں نے جانا کہ ان میں سے بیشتر ڈومینیکن، اور سب کے سب ہائی سکول پاس تھے۔ ان میں سے اکثر نے نیویارک کے ہائی سکولوں میں تعلیم مکمل کی تھی — سواے انگریزی کی مہارت کے امتحان کے، جو یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ضروری تھا۔ یہ ایک خوش باش اور زندہ دل گروہ تھا۔ ان میں سے تین چار تختۂ سیاہ پر بیک وقت، ایک دوسرے کے آگے اور پیچھے سے ہاتھ نکال کر، گرامر کے جملے لکھنے میں مشغول تھے، جبکہ ڈیسکوں پر بیٹھے ان کے ہم جماعت انھیں بلند آواز سے مشورے دے رہے تھے اور کلاس کی آخری بنچوں پر ایک لسانی بحث (زیادہ تر ہسپانوی زبان میں) جاری تھی جس کا دھیما شور پس منظر میں مسلسل سنائی دے رہا تھا۔
طیب ان سب لوگوں سے الگ دکھائی دیتا تھا، صرف اس باعث نہیں کہ وہ کلاس کا واحد افریقی طالب علم تھا، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ پوری کلاس میں سب سے زیادہ رسمی لباس پہنے تھا: پرل گرے رنگ کا تھری پیس سوٹ، اور گرے رنگ کی نکٹائی جس کی گرہ نہایت عمدگی سے بندھی ہوئی تھی، جبکہ اس کے اردگرد سب لوگ ٹی شرٹ، سویٹ شرٹ اور ڈینم کی جینز پہنے ہوے تھے۔ وہ ہلکی سی مہربان مسکراہٹ کے ساتھ احتیاط سے نوٹس لینے میں مصروف تھا، لیکن اس نے کلاس میں ہونے والی بحث میں کوئی حصہ نہ لیا اور اس کی سنجیدگی اس کے گرد ایک ٹھوس، شفاف مخروطی حصار بنائے معلوم ہوتی تھی۔
تعلیم حاصل کرنے کا عزم طیب کے لیے رہنما ستارے کی طرح رہا تھا جس پر نظر جمائے ہوے اس نے موریتانیہ سے فرار ہونے کے بعد سینکڑوں طوفانوں کا مقابلہ کیا۔ آئیوری کوسٹ میں فرانسیسی زبان سیکھنے کے بعد طیب، نہایت اداسی کے ساتھ، اپنے باپ سے جدا ہو کر گھانا روانہ ہو گیا۔ وہاں سے پانچ بار کوشش کرنے کے بعد آخرکار ٹوگو میں داخل ہوا جہاں اس نے فرانسیسی سفارتخانے کو ایک تصدیق نامہ جاری کرنے پر آمادہ کر لیا کہ وہ موریتانیہ کا شہری ہے۔ اس تصدیق نامے کی مدد سے اس نے لیبیائی تعلیمی وظیفوں کے ایک پروگرام میں داخلہ حاصل کیا جسے صدر معمر القذافی نے عرب لیگ میں شامل تمام ملکوں (بشمول موریتانیہ) کے طلبا کے لیے شروع کیا تھا اور جو بہت کم عرصے جاری رہا۔ اس طرح طیب مغربی افریقہ سے ایک طرف کے ٹکٹ پر جنوب مغربی لیبیا کے شہر صبحہ روانہ ہوا اور وہاں اس نے خود کو واحد سیاہ فام طالب علم پایا۔ موریتانیہ سے تعلق رکھنے والے باقی تمام طلبا بیدان تھے اور طلبا کی سیاست شدید عرب قوم پرستی پر مبنی تھی۔ طیب نے سخت محنت کی اور الیکٹریکل انجنیئرنگ کی سند حاصل کر لی۔ پھر وہ ایک اور وظیفے پر مراکش کے اسی نام کے شہر میں قائم اسلامی انسٹیٹیوٹ پہنچا اور وہاں ادب اور اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ مراکش شہر کے اعلیٰ تعلیمی معیار پر بہت خوش ہوا اور اسے تیسرے سال میں ایک اہم تعلیمی انعام ملا۔ لیکن یہاں بھی دوسرے تمام موریتانیائی بیدان نسل کے تھے اور طیب کو سیاسی مسائل کا سامنا ہونے لگا، خاص طور پر جب دوسرے طلبا پر انکشاف ہوا کہ وہ الحر تنظیم کارکن ہے۔
اس نے لیبیا واپس آ کر بن غازی کی غریونس یونیورسٹی میں قانون کی ایک ڈگری کے لیے پڑھائی شروع کی۔ اس کی روزمرہ زندگی، شخصی اور سیاسی دونوں اعتبار سے، خطرات کا شکار رہی۔ اسے متواتر خطرہ تھا کہ اس کے ساتھ پڑھنے والے بیدان طلبا کہیں اس پر عرب مخالف ہونے کا الزام نہ لگا دیں — اور لیبیائی تعلیمی نظام میں اس کا کوئی واقف کار نہ تھا جو اسے تحفظ دے سکتا۔ “میں عرب دنیا میں اپنے مقام سے واقف ہوں،” اس نے کہا۔ “میں اس بات کی قدر کرتا ہوں کہ وہ مجھے تعلیم حاصل کرنے دیتے ہیں، لیکن اس سے آگے ہمارا بہت کم باتوں پر اتفاق ہے۔” طیب رفتہ رفتہ ایک سکالر بنتا جا رہا تھا۔ وہ مختلف جریدوں میں اپنے مضامین شائع کرانے لگا لیکن غلامی کے موضوع پر اس نے کچھ نہیں لکھا۔ گنتی کے چند افراد کے سوا، جو جنوبی سوڈان کے سیاہ فام طلبا تھے، کوئی شخص ایسا نہ تھا جس سے وہ تنہائی میں بھی غلامی کے موضوع پر بات کر سکتا (سوڈان بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں عرب باشندے سیاہ فاموں کو غلام بنائے ہوئے ہیں)۔ میرے سوال پر کہ اس نے بن غازی میں اپنے جسم اور جان کو کیونکر یکجا رکھا، اس نے کندھے اچکا دیے۔ “سب کچھ جدوجہد کا حصہ ہے،” وہ بولا۔ “غیرملکی طلبا کو نوکری کرنے کی اجازت نہ تھی۔ میں اکثر دن میں صرف ایک وقت کھانا کھاتا تھا، کبھی کبھار وہ بھی نہیں۔ کچھ لوگوں نے میری مدد کی۔ کتابیں حاصل کرنا دشوار تھا۔ اور کپڑے۔۔۔ میں اپنے کپڑوں کے بارے میں بہت محتاط ہوں۔ یہ سوٹ۔۔۔” طیب نے اپنے پرل گرے رنگ کے سوٹ کی طرف اشارہ کیا، “میں نے لیبیا میں خریدا تھا، بارہ سال پہلے۔” میری نظروں کو وہ سوٹ بالکل نیا معلوم ہوتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس کے پاس ایک شاندار جلّابیہ بھی ہے جسے اس نے خاص موقعوں پر پہننے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ان موقعوں کے سوا وہ کبھی اپنے کمرے سے سوٹ پہنے بغیر باہر نہیں نکلتا۔
طیب لیبیائی وکیلوں کی مہارت کا معترف ہے جو بحیرۂ روم کے کنارے آباد پڑوسی ملکوں کے ساتھ پیش آنے والے سامان کی نقل و حمل کے تنازعات کو بہت خوبی سے نمٹاتے تھے۔ اس نے بحری قانون میں اختصاص حاصل کیا اور جزیروں سے متعلق بین الاقوامی قانون کے موضوع پر مقالہ تحریر کیا۔ اس نے اپنی قانون کی ڈگری 1993 میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ تیونس گیا اور وہاں سے دوبارہ مراکش۔ لیکن اسے معلوم ہوا کہ پاسپورٹ کے بغیر اسے کہیں بھی کام نہیں مل سکتا۔ بالآخر اس نے موریتانیہ واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ وہاں چھ ماہ ٹھہرا۔ اس کی صورت حال عجیب وغریب تھی۔ پولیس نے اس کے نواکشوت سے باہر جانے پر پابندی لگا دی تھی اور اسے وقتاًفوقتاً پوچھ گچھ کے لیے اٹھا لیا جاتا۔ لیکن اسے کبھی جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعض موریتانیائی افسر کسی نہ کسی طور طیب کے — یا اس کے واقفکاروں کے — احسان مند تھے اور وہ تحفظ اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے ان سے امید لگائے ہوے تھا۔ علاوہ ازیں اس کے آقا کو اسے دوبارہ حاصل کرنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ طیب کا دو بار نواکشوت کی سڑک پر اپنے آقا اور اس کے سفارتکار بھائی سے سامنا ہوا لیکن دونوں بار وہ طیب سے کنی کترا گئے۔ “وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب میں تعلیم یافتہ ہوں،” اس نے وضاحت کی۔ “وہ جانتے تھے کہ اب میں بول سکتا ہوں۔”
وہ امید بھری کہاوت — کہ تعلیم یافتہ شخص کو غلام نہیں رکھا جا سکتا — آخرکار سچ ثابت ہوئی تھی۔ بلاشبہ ہراتینوں کی تعلیم کے سلسلے میں بیدانوں کی سخت مخالفت کے پیچھے یہی منطق کارفرما ہے۔ اور یہی منطق امریکہ کی ریاست ورجینیا میں 1831 میں منظورکردہ ایک قانون کی پشت پر بھی موجود تھی جس کی رو سے سیاہ فاموں کے لیے (خواہ وہ غلام ہوں یا آزاد) سکول کی تعلیم ممنوع قرار دی گئی، اور بعد میں نافذ ہونے والے ایک اور قانون کی بھی جس کی رو سے پڑھنالکھنا سیکھنے کے لیے ریاست ورجینیا سے باہر جانے والے کسی سیاہ فام کے دوبارہ ورجینیا میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔ (دوسری جنوبی ریاستوں میں بھی اسی قسم کے قوانین نافذ تھے۔) اگرچہ مختلف ادوار میں مختلف قسم کے تعلیم یافتہ غلاموں کا بھی وجود رہا ہے، لیکن ان کی تعداد مستثنیات سے آگے نہیں بڑھی۔ عرب دنیا میں “عبد” یا غلام ہونے کا مطلب، سماجی معنوں میں، انسانیت کے درجے سے کمتر ہونا ہے۔ ارتقائی حیاتیات کے ماہرین اس جسمانی تغیر کا تذکرہ کرتے ہیں جس سے پالتو بنائے جانے والے جانور گزرتے ہیں — رفتہ رفتہ اپنے بڑے دانتوں، لمبے جبڑوں اور اس جبلّی جارحیت سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کے وحشی اجداد میں موجود تھی۔ غلام بنانے والی نسلیں اپنے غلاموں میں اسی قسم کے تغیرات پیدا کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ عمل ہے جس کی مزاحمت اور نفی میں طیب نے اپنی پوری زندگی صرف کی ہے۔ برونکس میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ اسے بیٹھا دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اس کی انفرادیت کا ایک عجیب اور ہیبت ناک پہلو یہ بھی ہے: کلاس روم میں موجود دوسرے لوگوں کے ساتھ اَور جو بھی ناانصافیاں ہوتی رہی ہوں، ان میں سے کسی کی پرورش کسی ایسے معاشرے میں نہیں ہوئی تھی جو اس کو باربرداری کے جانور میں منقلب کرنے پر مستعد اور منحصر ہو۔
علاوہ ازیں، اس کی جگہ کچھ اور بننا، انسان بننا، ایک کبھی نہ ختم ہونے والا عمل ہے۔ طیب جانتا ہے کہ مراکش میں اس کی تعلیم نے اسے ایک تعلیم یافتہ آدمی بننے میں مدد دی جو عربی ادب، تاریخِ عالم اور اسلامی قانون سے گہری واقفیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود وہ کہتا ہے “یہ جاننا دشوار، بہت دشوار تھا کہ میں کون ہوں۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں کتنی بڑی اذیت سے نکل کر آیا ہوں۔” وہ خاموش ہو جاتا ہے، شاید اس مقام — اس بڑی اذیت — کے بارے میں سوچنے لگتا ہے جہاں سے وہ نکل کر آیا ہے اور ان سب انسانوں کے بارے میں جو اَب تک وہاں ہیں۔
نواکشوت میں اپنے چھ ماہ کے قیام کے دوران اسے ایک بار دس دن کے لیے اپنی ماں کے پاس جانے کی اجازت دی گئی۔ (اس کا باپ 1989 میں، موریتانیہ کو دوبارہ دیکھے بغیر، مر چکا تھا۔) آخرکار طیب کو پاسپورٹ مل گیا، اور امریکہ کا ویزا بھی۔ وہ ہوائی جہاز سے نیویارک آیا جہاں اس کا ایک رشتےدار اپنے سفارتکار آقا (طیب کے آقا کے بھائی) کے ساتھ غلام کے طور پر آیا ہو اتھا۔ اگرچہ طیب کے اس رشتےدار کو اس کے آقا نے امریکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی تھی، طیب نے کہا، “لیکن آقا اور غلام کا رشتہ بدستور قائم رہا۔” اس کے پاس ایک ٹیکسی تھی اور جب کبھی اس کا آقا یا اس کا کوئی مالدار بیدان دوست نیویارک آتا تو اسے اپنی ٹیکسی ان کی خدمت کے لیے وقف کرنی پڑتی تھی۔ طیب اپنے رشتےدار کے ساتھ ہارلم میں واقع فلیٹ میں ٹھہرا جہاں یہ دیکھ کر وہ ہیبت زدہ رہ گیا کہ اس نے دیوار پر سفارتکار اوراس کے خاندان والوں کی تصویریں لگا رکھی ہیں۔ اس نے ایک بار اپنے رشتےدار کو کسی مہمان سے یہ کہتے سنا کہ تصویروں میں دکھائے گئے گوری رنگت کے لوگ اس کے “عم زاد” ہیں۔ طیب اور اس کا رشتےدار ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ “وہ برین واش ہو چکا ہے،” طیب نے کہا، “بہت سے ہراتینوں کی طرح۔” جب طیب کو یمنی مالکوں کی دکانوں میں کام مل گیا تو وہ برونکس میں اپنی جگہ میں اٹھ آیا۔
اس کے فوری منصوبوں میں اپنی انگریزی کی استعداد کو بہتر بنانا شامل ہے تاکہ اسے یہاں کی کسی قانون کی درسگاہ میں داخلہ مل سکے۔ ہراتینوں کے حقوق کی جدوجہد کے لیے مور یتانیہ واپس جانا اس کا خواب ہے، اور اس کا خیال ہے کہ شاید امریکہ سے حاصل کی ہوئی قانون کی ڈگری ایک ناخوش حکومت کو اس کے خلاف قدم اٹھاتے ہوے کچھ سوچنے پر مجبور کر سکے۔ تاہم امکان یہ ہے کہ اس ڈگری سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا: الحر تنظیم کے بہت سے ارکان اور رہنماؤں کو گرفتاری، تشدد اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس قسم کے کچھ دوسرے لوگوں کو زیادہ نرم برتاؤ کے ساتھ — یعنی سرکاری ملازمتیں دے کر — خاموش کر دیا گیا ہے۔
طیب اور میں مختصر سیروں کے لیے ساتھ شہر سے باہر جانے لگے۔ اس کے ساتھ امریکہ میں گھومتے ہوے مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میں کسی دوسرے سیارے سے آئے ہوے پُرتجسس فرد کے ساتھ ہوں۔ ٹرین میں نیوانگلینڈ سے گزرتے ہوے ایک جنگلی قطعے میں بےترتیبی سے اِدھر اُدھر بنے ہوے مکان دیکھ کر وہ پوچھتا ہے، “یہ لوگ یہاں درختوں کے درمیان کیوں رہتے ہیں؟” مجھے اس کا کوئی جواب نہیں سوجھتا۔ (“شہروں کا پھیلاؤ؟”) پھر اسے کچھ متحرک مکان نظر آتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ یہ جان کر کہ ان کو کہیں اور تعمیر کیا گیا تھا اور اب ٹرک کے ذریعے سے مطلوبہ جگہ پہنچایا جا رہا ہے، وہ چلّا اٹھا: “بالکل خیموں کی طرح! لوگوں کو یہ مکان دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، کتنے اچھے خیمے ہیں، اور وہ ان میں رہنے لگتے ہیں۔” پنسلوینیا میں میکڈانلڈ کی ایک بہت بڑی دکان میں، جہاں بےشمار سکول کے بچے لنچ کھانے کے لیے جمع تھے، مجھے آرڈر دینے کے لیے کاؤنٹر پر پہنچنے میں سخت دقت ہو رہی ہے، اور ایک مہربان عورت مجھے پیچھے جا کر ڈرائیواَپ کھڑکی پر آرڈر دینے کا مشورہ دیتی ہے۔ یہ ترکیب کامیاب رہتی ہے اور طیب کہتا ہے، “اس خاتون کو میکڈانلڈ کا بہت تجربہ ہو گا۔ کیا یہ نیکی اس نے ایسٹر کے لیے کی تھی؟” مجھے معلوم نہ تھا کہ لوگ ایسٹر کے موقعے کے لیے نیکیاں کرتے ہیں۔
ایک موقعے پر بوسٹن میں جب ہم بہت دیر ایک نہایت وسیع و عریض زیرِزمین گیراج میں بھٹکنے کے بعد ایک لفٹ سے نکل کر راہداری میں آئے تو ایک دم ہمارا سامنا ورزش کر کے ہانپتے ہوے، پسینے میں شرابور، وحشت بھری آنکھوں والے سفیدفام لوگوں سے ہو گیا جن کے اور ہمارے بیچ محض ایک شیشے کی دیوار تھی اور وہ سب ہِپ ہاپ کی ایک تال پر اجتماعی ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ یہ منظر مجھے اپنی بصارت پر ایک حملہ محسوس ہوا اور میں نے کسی قدر خفیف ہو کر طیب کی طرف دیکھا۔ وہ میری طرف دیکھ کر بےاختیار مسکرایا اور انگوٹھا کھڑا کر کے زور سے بولا، “آزادی!”
مجھے اس سے یہ پوچھتے رہنے کی عادت ہو گئی ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے۔ یہ تعجب کی بات نہیں کہ اکثر اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ غلامی کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ زیرِزمین ٹرین میں مین ہیٹن آتے ہوے وہ کہتا ہے، “نیویارک غریب لوگوں سے، بےگھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ ہمیں ہر وقت دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بہت ہولناک بات ہے۔ لیکن بہرحال ان لوگوں کو پھر بھی کچھ نہ کچھ حقوق حاصل ہیں۔”
معلوم ہوتا ہے کہ مقدس کتابیں کبھی اس کے ذہن سے زیادہ دور نہیں ہوتیں۔ “میں یہودیوں اور سیاہ فاموں کے متعلق عربوں کے عجیب و غریب خیالات کے بارے میں سوچ رہا ہوں،” ایک اور موقعے پر وہ کہتا ہے۔ “آپ کو حضرت ابراہیم کا قصہ یاد ہے؟ ان کی بیوی سارا یہودی تھی۔ اس سے ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی تو سارا نے ابراہیم سے کہا کہ ممکن ہے ان کی لونڈی ہاجرہ سے — جو مصر کی رہنے والی اور سیاہ فام تھی — ان کی اولاد پیدا ہو جائے۔ اور پھر ہاجرہ ان سے حاملہ ہو گئی۔ لیکن سارا کو اس سے حسد ہوا اور ہاجرہ گھر سے بھاگ گئی۔ سارے عرب ہاجرہ کے بیٹے اسمعٰیل کی نسل سے ہیں۔ اسی لیے عرب یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کے ایسے عجیب خیالات ہیں۔ آپ کو معلوم ہے، انوار سادات کی ماں کون تھی؟ ایک سیاہ فام عورت۔”
ہم دریاے ہڈسن سے اوپر کی طرف واقع نیاک میں اس کے ایک دوست سے ملنے جاتے ہیں جو ٹرینیڈاڈ کا رہنے والا ہے۔ سڑک کے کنارے سبزے کو دیکھ کر طیب خوش ہوتے ہوے کہتا ہے، “یہ جگہ بالکل گھانا میں عکرہ اور ٹوگو کی سرحد کے درمیانی علاقے جیسی لگتی ہے۔ میں اس علاقے سے کئی بار گزرا ہوں، جب میں ٹوگو میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ وہاں بہت ہریالی اور پہاڑیاں ہیں، پیڑ اتنے زیادہ نہیں ہیں۔ آپ بہت دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں بالکل پاگل تھا: کوئی پیسہ نہیں، کھانے کو کچھ نہیں، اور تعلیم حاصل کرنے کی دُھن۔ میں ٹیکسی میں سفر کرتے ہوے باہر دیکھ کر کہا کرتا تھا: جنت یہی ہے!”
امریکہ میں غلامی مخالف گروپ نامی تنظیم کا بانی اور صدر چارلس جیکبس ہارورڈ کے جان ایف کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کی ایک افسر سے بات کر رہا تھا۔
“وہ فریڈرک ڈگلس کی طرح ہے اور میں ولیم لائیڈ گیریسن کی طرح،” جیکبس نے کہا۔
ہم کیمبرج میں ایک ہوٹل کے بار میں بیٹھے تھے اور جیکبس کینیڈی سکول کو معاصر غلامی کے موضوع پر ایک پروگرام کے لیے مالی امداد فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس میں مختار طیب کو بھی شامل کیا جانا تھا۔ طیب، جس نے اس شام مضافات میں واقع بوسٹن ہائی سکول میں خطاب کیا تھا، تھکا ہوا لگ رہا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ جیکبس کی بلندآہنگ گفتگو پر دھیان نہیں دے رہا ہے۔ لیکن اس نے اپنے خطاب میں موریتانیہ میں غلامی کا نقشہ کھینچ کر طالب علموں کو حیران کر دیا تھا اور کینیڈی سکول کی افسر بھی اس منصوبے میں دلچسپی لیتی معلوم ہوتی تھی۔
جیکبس ایک سابق انتظامی کنسلٹنٹ ہے۔ وہ پچاس کے لگ بھگ عمر کا ایک لمباچوڑا، پُرجوش آدمی ہے اور خود کو زمانۂ حال میں غلامی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والا مجاہد قرار دیتا ہے۔ اس کے خود کو گیریسن سے، جس نے انیسویں صدی میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کے لیے بہت کام کیا تھا، تشبیہ دینے کا یہی سبب ہے۔ اس کی تنظیم کا پہلا دفتر اس کے اپنے گھر کے ایک کمرے میں قائم ہوا تھا۔ اس کا گھر بوسٹن کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک قدیم اور احتیاط سے رکھی گئی وکٹورین کوٹھی ہے۔ (اب یہ محلہ مضافات کے بجاے شہر کا مرکز بن چکا ہے۔) جب تک جیکبس کی طیب سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس کی تنظیم کی سرگرمیاں سودان پر مرکوز تھیں۔ طیب سے مل کر اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کی تنظیم کا ایک بہت موثر ترجمان بن سکتا ہے اور تب سے وہ زیادہ سے زیادہ امریکیوں کو موریتانیہ میں دلچسپی لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چند ہفتے پہلے وہ اور طیب لاس اینجلس گئے تھے جہاں طیب نے ایک کانفرنس میں، جو سائمن وائزنتھال سنٹر کے زیرِاہتمام منعقد ہوئی تھی، حاضرین کو اپنی تقریر سے بےحد متاثر کیا تھا۔
لیکن یوں عوامی اجتماعات میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا طیب کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اسے ابھی سے بہت سے بیدان افراد کی طرف سے دھمکیاں ملنے لگی ہیں جو ان باتوں پر ناراض ہیں جو وہ موریتانیہ کے بارے میں امریکیوں کو بتا رہا ہے۔ “حکومت مزید کمیسار بھیج رہی ہے،” اس نے کہا۔ “سکیورٹی ایجنٹ۔ سخت گیر لوگ۔ ہمیں محتاط رہنا ہو گا۔” اس نے بتایا کہ الحر تنظیم حالات کی نگرانی کر رہی ہے لیکن اس ملک میں اس کا اطلاعات حاصل کرنے کا نظام کمزور ہے۔ اب تک یہ تنظیم اسی بات پر مطمئن ہے کہ اس کا پیغام امریکہ میں پھیل رہا ہے، اور طیب بھی اس کا پیغام پھیلانے کے کام سے خوش ہے۔ اس شام بوسٹن ہائی سکول کے طلبا نے موریتانیہ کے بارے میں بتائی گئی باتوں کو اپنے ذہن میں بٹھانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی۔ ان کے سوالات کچھ اس قسم کے تھے:
“کیا عرب بچوں کو نہیں سمجھایا جا سکتا کہ غلامی اچھی چیز نہیں ہے؟”
“کیا آپ لوگ پیسے ادا کر کے آزاد نہیں ہو سکتے؟”
“اگر آپ امریکی شہری بن جائیں تو؟”
طیب کی کوشش تھی کہ موریتانیہ میں غلامی کے نظام کی نفسیاتی گہرائیاں سننے والوں کی سمجھ میں آ سکیں اور ان کی توجہ طیب کی انفرادی صورتحال سے ہٹ کر تمام ہراتین لوگوں کی مصائب کی طرف منعطف ہو سکے۔ “یہ کسی فرد کا مسئلہ نہیں ہے،” اس نے کہا۔ ایک اور نکتے پر اس نے کہا، “میں ایک ایسا شخص ہوں جو دو دنیاؤں کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ یہاں بوسٹن میں میں آزاد ہوں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ میں غلام بھی ہوں۔”
امریکیوں — نوجوانوں اور بڑی عمر والوں، سیاہ فاموں اور سفیدفاموں — کے سامنے طیب کو غلامی کے موضوع پر بولتے ہوے سننا بہت انکشاف انگیز ثابت ہوتا ہے۔ غلامی کے بارے میں، اس موضوع پر لکھنے والے مورخوں تک کے درمیان، مجموعی طور پر دو نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ غلامی “سماجی موت” کے مترادف ہے، یعنی ایک مطلق حالت ہے، جس کا خلاصہ ایک شمالی افریقی کہاوت کے ذریعے بخوبی کیا جا سکتا ہے: “اگر آقا نہ ہو تو غلام کا کوئی وجود نہیں۔” دوسرا نقطۂ نظر رکھنے والے غلامی کو ایک تدریجی حالت قرار دیتے ہیں، اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غلامی کی صورتیں بےشمار اور ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اور یہ صورتیں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں، اور پھر یہ کہ غلاموں کو جو تھوڑی بہت سماجی قوت حاصل ہوتی ہے اس کو استعمال کر کے وہ اپنی حالت کو مستحکم بلکہ بہتر بھی کر سکتے ہیں۔ طیب، غلامی کی لعنت کے خلاف آزادی سے محبت رکھنے والوں کے جذبات بیدار کرنے کے لیے مطلق حالت والے موقف کا اظہار کرنے کے باوجود، ذاتی طور پر غلاموں اور آقاؤں کے درمیان طاقت کے رشتوں کو اہمیت دینے والے دوسرے موقف کا قائل ہے۔ اس کے امریکی سامعین عموماً پہلا یعنی مطلق حالت والا نقطۂ نظر رکھتے ہیں، جن کے لازمی اجزا میں زنجیروں، کوڑوں اور بدترین سفاکیوں کے تصورات شامل ہوتے ہیں۔
لیکن امریکی شہری طیب کی بات پر مختلف زاویوں سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایک افریقی نژاد امریکی آرتھر فلر نے، جو کنکٹی کٹ کے ایک مڈل سکول میں ریاضی کا استاد تھا، طیب کی کہانی کے بارے میں ایک سی ڈی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا سکول ایک متموّل بستی میں قائم ہے، لیکن وہ اندرون شہر کے ایک پسماندہ محلے کے سکول میں بھی کام کرتا ہے، اور اس کا کہنا ہے کہ طیب کی کہانی غریب سیاہ فام طالب علموں کو محنت پر اکسانے کے لیے بےپناہ امکانات رکھتی ہے۔ “یہ ایک نہایت مثبت کہانی ہے،” فلر نے مجھے بتایا۔ “دیکھو، یہ شخص غلام پیدا ہوا تھا۔ اب اس کے پا س قانون کی ڈگری ہے۔ اس لیے تمھارے پاس — خواہ تمھاری صورت حال کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، تم کتنے ہی بدحال محلے سے کیوں نہ آئے ہو — کامیاب نہ ہونے کا کوئی جواز نہیں۔ کوئی بہانہ نہیں!” فلر نے زور دار، خوشی سے بھر پور قہقہہ لگایا۔ اس کا ارادہ ہے کہ اس سی ڈی کا نام “علم کی جستجو” رکھے۔
کینیڈی سکول کی افسر نے کہا، وہ غلامی کے بارے میں اس پروگرام کی تجویز اپنے دفتر والوں کے سامنے رکھے گی۔ اس نے اور چارلس جیکبس نے ایک دوسرے سے ملاقاتی کارڈوں کا تبادلہ کیا۔ بعد میں، اپنے گھر لوٹ کر، جیکبس نے خیال ظاہر کیا کہ ملاقات اچھی رہی اور کچھ نہ کچھ مثبت نتیجہ نکلنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ “لیکن سودان کے سلسلے میں مدد حاصل کرنا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے،” اس نے ٹھنڈی سانس لی۔ “معلوم ہے کیوں؟ اس لیے کہ وہاں غلامی کا نشانہ بننے والے لوگ مسیحی ہیں۔ چنانچہ ہمیں یہاں اور یوروپ دونوں جگہ کے مسیحی گروپوں کی طرف سے بہت مدد مل جاتی ہے۔ جب غلام بنائے جانے والے لوگ مسلمان ہوں تو ایسا کوئی گروہ نہیں جو فطری طور پر ان کے ساتھ ہو۔ فراخان اور نیشن آف اسلام نے اس مسئلے پر خود کو بالکل بے وقت ثابت کیا ہے۔ لیکن اگر ہم اس بات کی طرف اشارہ کریں تو وہ فوراً کہیں گے کہ میں یہودی ہوں۔”
سودان میں غلام رکھے جانے والے بیشتر لوگ بلاشبہ مسیحی نہیں بلکہ قدیم افریقی مذاہب کے پیرو ہیں۔ لیکن اگرچہ جیکبس نے افریقہ کا کبھی سفر نہیں کیا، پھر بھی اس کی بات درست ہے: اناجیلی مسیحی گروپوں نے سودان میں غلامی کے دوبارہ رواج پانے کے عمل کو سامنے لانے کے سلسلے میں بہت کام کیا ہے۔
طیب کے چند موریتانیائی دوست ہیں جو واشنگٹن ڈی سی میں رہتے ہیں۔ ہم جا کر ان سے ملنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میں، تاریخ سے اس کے شغف کے پیش نظر، گیٹس برگ کا راستہ اختیار کرتا ہوں۔ ہم اس عظیم میدان جنگ کی نرم، سرسبز پہاڑیوں پر چلتے ہیں اور اینگل نامی مقام پر آ کر، جہاں یونین کی فوج نے پکیٹ کا حملہ روک دیا تھا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر پانچ ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ “غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے اتنا کچھ، اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوا،” طیب آہستہ سے کہتا ہے۔ بعد میں ایک یادگار کی دیوار پر، جو اس جگہ کے قریب تعمیر کی گئی ہے جہاں لنکن نے گیٹس برگ کا خطبہ دیا تھا، اس خطبے کا متن پڑھتے ہوے طیب مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔ تمام نامانوس الفاظ، مفہوم کے اندر چھپے ہوئے معنی، سب اس کے لیے بےحد دلچسپی کا باعث ہیں۔ تفصیلات، امتیازات، پیچیدگی اور زبان اور حافظے کی مسلّم اہمیت کے لیے اس کے دل میں عالمانہ احترام ہے۔ اور تاریخ کا یہ احساس اپنی ہولناک سنگینی کے ساتھ، ایک اور روپ میں، اگلے ہی روز ظاہر ہوتا ہے۔ ہم گھومتے ہوے واشنگٹن میوزیم کے ایک حصے میں جا نکلتے ہیں جہاں اٹھارھویں صدی کے ایک سمندری جہاز کی باقیات رکھی ہیں جو کیپ کوڈ کے قریب ڈوب گیا تھا۔ پرانی توپوں اور چاندی کی اشیا کے درمیان ہم ایک زنگ لگی آہنی بیڑی کو دیکھ کر رک جاتے ہیں جو غلاموں کی تجارت کے سلسلے میں اس جہاز کے استعمال کی شاہد ہے۔ طیب اس بیڑی کو تکتا رہتا ہے۔ “انسانی تاریخ بہت طویل ہے،” وہ دھیمی آواز میں کہتا ہے، “اور ہمیں ایک ایک قدم کر کے چلنا ہو گا۔ ایک ایک قدم۔”
ہم مبراک نامی نوجوان کے ساتھ واشنگٹن کے آفس بلاک کے کنارے پر واقع ایک کم فرنیچر والے سٹوڈیو میں ٹھہرتے ہیں۔ اگرچہ طیب کا گرمجوشی سے خیرمقدم ہوتا ہے، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ہماری آمد غیرمتوقع ہے۔ “فکر مت کیجیے،” طیب مجھے بتاتا ہے۔ “یہ افریقیوں کا گھر ہے۔ ایک کھلا گھر۔ یہاں کون آئے گا، کون یہاں سوئے گا، اس پر کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ ہمیں آنے والوں کا خیرمقدم کرنا ہی ہوتا ہے۔ ہم نومادی ہیں۔” اس لفظ پر میرے تاثر سے نہ سمجھ پانے کا اظہار ہوا ہو گا۔ طیب ہنستا ہے۔ “خانہ بدوش!”
مبراک فوراً گلاسوں میں چائے پیش کرتا ہے جو چھوٹے کالے ریچھوں کی شکل کے بنے ہوے ہیں جن کے سر ہلکے زرد رنگ کے ہیں۔ پھر وہ کھانے کی تیاری میں لگ جاتا ہے۔ دو اور موریتانیائی بھی آ جاتے ہیں جو طیب کے دوست ہیں۔ تیز لہجے میں بولی جانے والی عربی اور بےتحاشا قہقہوں سے ساری فضا بھر جاتی ہے۔ طیب کی شخصیت حیران کن طور پر منقلب ہو گئی ہے، بالکل اسی طرح جیسے “غلام عورت کا کیسٹ” سنتے وقت ہوا تھا۔ انگریزی زبان بولتے وقت احتیاط اور تامّل سے بات کرنے والا طیب عربی بولتے ہوے پُرجوش اور پُراعتماد، بلکہ باتونی، بن جاتا ہے۔ اس کے لطیفے سن کر اس کے دوست بےاختیار قہقہے لگاتے ہیں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ یہ لو گ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔ مبراک بڑی سی قاب میں بھیڑ کے گوشت، پاستا، سلاد اور خس خس پر مشتمل کھانے لے کر آتا ہے اور اسے فرش پر کمرے کے بیچوں بیچ رکھ دیتا ہے۔ ہم سب مل کر ایک ہی قاب میں ہاتھوں سے کھاتے ہیں، اور گفتگو کی رفتار دھیمی ہونے پر میں اس کے کچھ حصے کی ترجمانی کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہوں۔
معلوم ہوتا ہے کہ طیب کے عوامی سطح پر مہم شروع کرنے کے بارے میں ملی جلی رائے پائی جاتی ہے۔ اس کے دوستوں میں سے کم ازکم ایک یہ جان کر خاصا فکرمند ہے — اور غالباً ناخوش بھی — کہ میں صحافی ہوں۔ اس گروپ کے تقریباً سب لوگ ہراتین نسل کے ہیں، اور سب کے سب، کسی نہ کسی سطح پر غلامی کے خلاف تحریک میں شامل ہیں۔ طیب واضح طور پر الحر تنظیم کا ایک سینئر رکن ہے لیکن دوسرے افراد اس میں اگر کوئی مقام رکھتے ہیں تو اس کی توضیح نہیں کی جاتی۔ ان میں سے ایک شخص ایک معروف آزاد ہراتین خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ درحقیقت اس کا چچا مختصر سی مدت کے لیے امریکہ میں موریتانیہ کا سفیر بھی رہ چکا ہے۔ اس واقعے کو تاسف آمیز ہنسی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ “حکومت تعلیم یافتہ ہراتینوں کی تلاش میں رہتی ہے تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ ہم لوگ اب غلام نہیں ہیں،” طیب وضاحت کرتا ہے۔ “اس طرح انھوں نے نے ایک ہراتین کو سفیر بنا کر یہاں بھیج دیا۔ یہ ان کے لیے بہت عمدہ پروپیگنڈا تھا۔ مگر پھر وہ نافرمان ہو گیا۔ امریکی اخباروں سے غلامی کے بارے میں بات کرنے لگا! حکومت نے سال پورا ہونے سے پہلے اسے ہٹا دیا۔”
اس گروپ کا ہر شخص، کم ازکم جزوقتی طور پر، طالب علم ہے اور ان مواقع پر اور اس آزادی کے بارے میں جو ان کو یہاں دستیاب ہے، واضح طور پر پُرجوش ہے۔ لیکن موریتانیہ کے بارے میں امریکی پالیسی کا معاملہ دوسرا ہے۔ ایک وقت میں، مجھے بتایا جاتا ہے، امریکہ موریتانیہ میں غلامی کے رواج کی متواتر مذمت کرتا تھا، اور وہاں کی حکومت کو باقاعدگی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مجرم ٹھہراتا تھا۔ اقتصادی دباؤ بھی ڈالا گیا اور غلامی مخالف تحریک کو محسوس ہونے لگا کہ اسے امریکی حمایت حاصل ہے۔ پھر یہ ہوا کہ وہاں کی حکومت نے، جو مدتوں سے صدام حسین کے نزدیک رہی ہے، بلکہ خلیج کی جنگ کے دوران عراق کی حمایت بھی کر چکی ہے، 1995 میں یکایک یہ فیصلہ کیا کہ اسے امریکی امداد کی ضرورت ہے اور اس نے اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں امریکہ کی حمایت اور صدام حسین کی مخالفت میں ووٹ دینا شروع کر دیا۔ “بلاشبہ صدام کے ہم بھی خلاف ہیں،” طیب کہتا ہے، “ہم بھی مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں۔ مگر اب اچانک امریکی محکمۂ خارجہ نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ موریتانیہ میں غلامی کا کوئی وجود نہیں، صرف غلامی کی باقیات موجود ہیں۔” مبراک اور اس کے دوست منھ بنا کر تلخی سے “باقیات” کا لفظ بڑبڑاتے ہیں۔ “یہ موریتانیہ کی حکومت کے لیے صدام کی مخالفت کرنے کا انعام ہے۔”
پس منظر میں ٹی وی چل رہا ہے۔ جب گفتگو دوبارہ عربی میں شروع ہو جاتی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ ٹی وی پر نکولس کیج اور لارا ڈرن ایک قدیم زمانے کی کنورٹیبل میں لہراتے پھر رہے ہیں، ہر چند منٹ بعد مباشرت کرتے ہیں، اور جب مباشرت نہ کر رہے ہوں تو اپنی مباشرت کی شعریات اور مابعدالطبیعیات پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ مبراک کے کمرے میں موجود کوئی اور شخص ٹی وی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ ان کے لیے یہ محض مغربی لذت پسندی ہے جس کے دلکش، بےباک مناظر ہمیشہ کچھ دوری پر دکھائی دیتے رہتے ہیں۔
یا شاید یہ مناظر اتنے دلکش بھی نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ طیب نے مجھے بتایا تھا کہ کس طرح اسے ہارلم میں اپنے رشتےدار کے ساتھ رہتے ہوے رَیپ میوزک سے نفرت ہو گئی تھی کیونکہ وہ دن رات اونچی آواز میں بجایا جاتا تھا۔ “گندے الفاظ!” اس نے کہا تھا، “کوئی تہذیب نہیں، کوئی موسیقی نہیں۔” میں نے اس کے سامنے گینگسٹر رَیپ میوزک کی بہیمیت کی وہی توجیہہ پیش کی جو عموماً پیش کی جاتی ہے، یعنی یہ کہ یہ ایک بہیمانہ دنیا کا ایماندارانہ عکس ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ اس توجیہہ سے مطمئن نہ ہوا۔ “دکھ اٹھا کر لوگ حسین موسیقی بھی تو پیدا کرتے ہیں،” اس نے کہا۔ “خود اس ملک میں غلامی نے خوبصورت موسیقی پیدا کی ہے — گوسپل، بلوز، جاز۔ یہ موسیقی خوبصورت نہیں ہے۔” افریقی انقلابی — کیونکہ طیب موریتانیہ کے تناظر میں ایک انقلابی ہے — تہذیبی اعتبار سے قدامت پسند بھی ہے، میں نے سوچا۔
اور اس کا وطن واپسی کا منصوبہ بھی کسی طرح عظیم الشان نہیں ہے۔ اس نے ایک بار مجھے بتایا تھا، کہ وہ اعیون العطروس کے دیہی علاقے میں، جہاں وہ پیدا ہوا تھا، خاموش اور پُرسکون زندگی بسر کرنے کا خواہش مند ہے۔ وہ قانون کی پریکٹس کرنا چاہتا ہے تاکہ مفلس ہراتینوں کے مقدموں کی سول اور شرعی عدالتوں میں پیروی کر سکے، ان کو آزاد لوگوں کے حقوق دلوا سکے، جن میں ان زمینوں کے مالکانہ حقوق بھی شامل ہیں جن پر وہ محنت کرتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹا سا مکان بنائے گا، اور اس میں بجلی کی فٹنگ خود کرے گا، اور اس کو کتابوں سے بھر دے گا۔
طیب اور اس کے دوستوں کو باتیں کرتا دیکھ کر مجھے اچانک خیال آیا کہ اگرچہ یہ لوگ یہاں بس کنڈکٹر، پلمبر اور ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں — یعنی امریکہ کے سماجی حفظِ مراتب میں تقریباً زیریں ترین مقام پر مشقت کرنے والے افریقی تارکینِ وطن میں شامل ہیں — ان سب کو ایک نہ ایک دن وکیل، تاجر یا انتظامی ماہر بن کر موریتانیہ واپس جانے کی امید ہے۔ لیکن ان کے ہراتین نسل سے تعلق کے باعث ان کی کامیابی کا سارا دارومدار وطن میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں پر ہے۔ اور پھر ان میں سے ہر ایک طیب کی طرح شناخت کے قدیم جامد ساختوں کے خلاف کشمکش، یعنی اپنے ذہن سے صدیوں کی غلامی کے اثرات دور کرنے کی جدوجہد، میں بھی مصروف ہے۔ اب بھی طیب کو ہر صبح نیویارک میں یمنی مالکوں کی دکانوں پر انتہائی عامیانہ اور گہری عرب نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ “وہ اب بھی مجھے عبد کہتے ہیں،” اس نے ایک بار مجھے بتایا تھا۔ “وہ ناخواندہ ہیں۔ میں ان کے بہت سے ایسے کام کرتا ہوں جو وہ خود نہیں کر سکتے، لیکن وہ اب بھی تمام سیاہ فاموں کو غلام ہی سمجھتے ہیں۔”
سکرین پر ڈینس روڈمین کی شکل دکھائی دیتے ہی سب کی توجہ ٹی وی کی طرف ہو جاتی ہے۔ اس کی حرکات پر تعریفی ہنسی کا ردعمل ہوتا ہے۔ “موریتانیہ میں بھی اس قسم کے مسخرے ہوتے ہیں،” طیب وضاحت کرتا ہے۔ “وہ آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر چیز ان کی مخالف ہے، جبکہ درحقیقت وہ خود ہر چیز کے مخالف ہیں۔ یہ لوگ بہت مضحکہ خیز ہیں۔”
رفتہ رفتہ لوگ شب بخیر کہہ کر رخصت ہوتے جاتے ہیں۔ مبراک موبائل فون اور ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول لے کر اپارٹمنٹ کے واحد بستر پر دراز ہو جاتا ہے۔ طیب کاؤچ پر لیٹ جاتا ہے، جو میرے لیے بہت چھوٹا ہے۔ میں ایک پتلا سا گدّا بچھا کر، جو مجھے کونے میں لپٹا ہوا دکھائی دیا تھا، فرش پر سو جاتا ہوں۔ صبح کے وقت، نیم بیداری میں، میں طیب کو، جو بہت سحرخیز ہے، اپنے معمول کے کاموں میں تیزرفتاری، خاموشی اور انہماک کے ساتھ مصروف دیکھتا ہوں۔ وہ نہاتا ہے، شیو کرتا ہے، کپڑے بدلتا ہے: بے داغ کوٹ اور ٹائی۔ پھر کونے میں جا کر خاموشی سے نماز پڑھتا ہے۔ اس کے بعد اپنے وِنائل کے سفری تھیلے میں سے دعاؤں کی سبز کتاب نکال کر آدھ گھنٹے تک اس کا مطالعہ کرتا ہے۔ آخر میں وہ اپنی جیبوں اور اپنے بیگ سے بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے کاغذوں کے پرزے برآمد کرتا ہے اور انھیں کاؤچ پر اپنے چاروں طرف پھیلا کر ان کا بغور جائزہ لینے لگتا ہے۔ میرا تجسس بیدار ہو جاتا ہے اور میں نیم غنودہ آواز میں پوچھتا ہوں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ “ووکیبلری!” وہ کہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چارلس جیکبس چاہتا تھا کہ طیب مستقل طور پر بوسٹن منتقل ہو جائے اور غلامی مخالف گروپ میں کل وقتی مصروفیت اختیار کر لے۔ اس نے لوگوں سے کہنا بھی شروع کر دیا کہ طیب بوسٹن آنے والا ہے۔ طیب اس پر حیران رہ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ جیکبس اس کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بےتکلفی برت رہا ہے، اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر بےشمار لوگوں سے طیب کے ماضی (بطور غلام) اور مستقبل (بطور اس کی تنظیم کے ترجمان) کا تذکرہ کرتا پھر رہا ہے۔ جیکبس کو خود بھی مبہم سا ہی اندازہ تھا کہ طیب کا اس کی تنظیم میں قطعی طور پر کیا کردار ہو گا۔ طیب نے اسے اس کی پیشکش کی شرائط کاغذ پر لکھ کر دینے کو کہا: عہدہ، ذمے داریاں، تنخواہ وغیرہ۔ اب حیران ہونے کی باری جیکبس کی تھی۔ اس کے ذہن میں جو خیال تھا وہ خاصا غیررسمی نوعیت کا تھا۔ اور یہی وہ بات تھی جس کا طیب کو سب سے زیادہ خوف تھا۔ وہ بالکل غریب تھا اور اسے ان تقریروں کا معاوضہ درکار تھا جن کا انتظام جیکبس کر رہا تھا۔ اور وہ یہ بات بھی یقینی طور پر معلوم کرنا چاہتا تھا کہ امریکیوں کو اپنے غمناک بچپن کا حال سنانے کے علاوہ اس کی دوسری ذمےداریاں کیا ہوں گی۔ اس کی اس کہانی کو دہراتے رہنے کی خواہش محدود تھی۔ یہ ایک دردناک کہانی تھی، اور وہ خود ایک مفرور غلام کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔ وہ ایک وکیل، سکالر اور سیاسی کارکن تھا۔ علاوہ ازیں، خود اس کی تنظیم الحر کی پالیسی اپنے ارکان کو ان کی انفرادی کہانیوں پر زور دینے سے باز رکھنے کی تھی۔
جیکبس نے طیب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ امریکی حاضرین صرف انفرادی کہانیوں کو سن کر ہی متاثر اور کسی ناانصافی کے شکار لوگوں کی مدد پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ اپنے زخموں کی نمائش کرنے سے طیب کا احتراز قابل فہم ہے، لیکن اس طرح اسے غلامی کے خاتمے کے لیے مدد حاصل کرنے کا ایک ناقابل یقین موقع مل رہا ہے۔ جیکبس کی مدد سے یہ ممکن ہے کہ وہ اعلیٰ ترین حلقوں تک رسائی حاصل کر سکے اور وہاں اس کی بات سنی جائے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی اکیلے یہ کام انجام نہیں دے سکتا۔ طیب کے پاس محض ایک سیاسی کارکن ہونے سے کہیں آگے جانے کا موقع ہے۔ وہ گاندھی، فریڈرک ڈگلس اور کوامے نکروما کی طرح ایک مثالی کردار بن سکتا ہے۔
طیب نے جیکبس کے دلائل کو دلچسپی سے سنا لیکن یہ دلائل خود اس کے ان خیالات کو تبدیل نہ کر سکے کہ اسے اپنے لوگوں کی مدد کیونکر کرنی ہے۔ وہ بوسٹن منتقل نہیں ہوا۔ وہ اب بھی جیکبس اور اس کی تنظیم کے ساتھ کام کرتا ہے، اور عوامی مجمعوں سے خطاب بھی کرتا ہے، لیکن اپنی شرائط پر، اور شاید الحر کی شرائط پر۔ جیکبس نے جو بات دریافت کی وہ میرے خیال میں وہی تھی جس کا انکشاف اعیون العطروس میں طیب کے آقا پر ہوا تھا، یعنی یہ کہ طیب ایک انتہائی ضدی اور مشکل مخلوق ہے۔ (اگر وہ ایسا نہ ہوتا تو اب تک ایک ناخواندہ غلام کی زندگی گزار رہا ہوتا۔) اس میں تیسری دنیا کی آزادی کی تحریکوں کے وابستہ مثالی کرداروں — گاندھی اور نیلسن منڈیلا — کے ساتھ ایک طرح کی مشابہت موجود ہے: یہ دونوں بھی مضبوط ذہن والے وکیل تھے جو اپنے حریفوں کے ساتھ حددرجہ شائستگی سے پیش آتے تھے جس کی تہہ کے نیچے ایک فولادی عزم کی سختی چھپی ہوئی تھی۔ اور طیب کو آپ زیرِزمین ریل میں سفر کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ وہ وہی دبلاپتلا، سیاہ رنگ والا تارک وطن ہے، پسماندہ لوگوں کے نیویارک میں تقریبا گمشدہ، جو اپنی قیمتی ووکیبلری پر نگاہ جمائے، اپنے کام پر جا رہا ہے جہاں دکان کے مالک اب بھی اسے “عبد” کہہ کر پکارتے ہیں۔
حنان الشیخ نومبر 1945 میں بیروت لبنان میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے کچھ عرصہ ‘النھار’ اخبار میں کام کیا۔ آپ کی تصانیف مشرق وسطیٰ کے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کے روایتی کردار کو چیلنج کرتی ہیں۔ حنان الشیخ اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ لندن میں مقیم ہیں۔
اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔
یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ کہانی اجمل کمال نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ طاہر رسول کی آواز میں اس کہانی کا آڈیو ورژن “آج” کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔
سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حنان الشیخ
انگریزی سے ترجمہ: اجمل کمال
جب مریم میرے بالوں کو چھوٹی چھوٹی دو چوٹیوں میں گوندھ چکی تو اس نے انگلی منھ تک لے جا کر اس کے سرے کو زبان سے تر کیا، پھر اسے میری بھنووں پر پھیرتے ہوے آہستہ آواز میں کہنے لگی، “آہ، تمھاری بھنویں کیا خوب ہیں، پورا گھر ان کے سائے میں لگتا ہے۔” پھر وہ تیزی سے میری بہن کی طرف مڑی اور اس سے بولی، “جا کر دیکھو، کیا تمھارے ابا اب تک نماز پڑھ رہے ہیں۔” اس سے پہلے کہ میں جان سکوں، میری بہن جا کر واپس آچکی تھی اور سرگوشی میں کہہ رہی تھی، “ہاں، اب تک پڑھ رہے ہیں۔” اس نے ان کی نقل کرتے ہوے اپنے ہاتھ اٹھائے اور انھیں آسمان کی طرف بلند کیا۔ میں ہنسی نہیں جیسے ہمیشہ کرتی تھی۔ مریم بھی نہیں ہنسی۔ بجاے اس کے، اس نے کرسی پر سے اپنی اوڑھنی لی اور بالوں کو اس سے ڈھانپ کر جلدی سے اسے گردن کے گرد لپیٹ لیا۔ پھر بہت احتیاط سے الماری کھول کر اس نے اپنا تھیلا نکالا، اسے بغل میں دبایا اور اپنا ایک ایک ہاتھ ہم دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ ایک ہاتھ میں نے پکڑ لیا اور دوسرا بہن نے۔ ہم سمجھ گئے کہ ہمیں بھی اس کی طرح دبے پاؤں، سانس روک کر سامنے کے کھلے ہوے دروازے کی جانب چلنا ہے۔ سیڑھیوں سے اترتے ہوے ہم نے مڑ کر دروازے کو دیکھا، پھر کھڑکی کو۔ آخری سیڑھی تک پہنچ کر ہم دوڑنے لگے اور اس وقت تک نہ رکے جب تک گلی نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی اور ہم نے سڑک پار نہ کر لی اور مریم نے ٹیکسی نہ روک لی۔
ہمارے اس طرزِعمل کا سبب خوف تھا، کیونکہ آج ہم امی کے طلاق لے کر ابا کے گھر سے چلے جانے کے بعد پہلی بار ان سے ملنے جا رہے تھے۔ ابا نے قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ امی کو کبھی ہماری صورت نہیں دیکھنے دیں گے، کیونکہ طلاق کے چند ہی گھنٹوں بعد خبر پھیل گئی تھی کہ وہ اُس شخص سے شادی کرنے والی ہیں جس سے وہ، اپنے والدین کے مجبور کرنے پر ابا سے شادی کرنے سے پہلے، پیار کرتی تھیں۔
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، خوف سے یا دوڑنے کی وجہ سے نہیں بلکہ امی سے ہونے والی ملاقات کے اشتیاق اور گھبراہٹ کے احساس کی وجہ سے۔ میں نے خود پر اور اپنی شرم پر قابو پا رکھا تھا، پھر بھی میں جانتی تھی کہ خواہ کتنی ہی کوشش کروں، میں اپنی ماں کے سامنے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میرے اختیار سے باہر تھا کہ امی سے لپٹ جاؤں، انھیں بوسے دینے لگوں اور ان کا سر سینے سے بھینچ لوں، جبکہ بہن یہ سب بڑی بےساختگی سے کر سکتی تھی۔ جس وقت مریم نے مجھ سے اور بہن سے سرگوشی میں کہا تھا کہ ہم اگلے روز امی سے ملنے جانے والے ہیں، تبھی سے میں اس مستقل اور شدید فکر میں غرق تھی۔ میں نے تصور کرنا شروع کر دیا تھا کہ میں وہی کروں گی جو بہن کرے گی؛ میں اس کے پیچھے کھڑی ہو جاؤں گی اور اس کی حرکات کی نقالی کرنے لگوں گی۔ مگر میں اپنے آپ کو جانتی ہوں: میں نے خود کو خود پر حرف بہ حرف نقش کر رکھا ہے۔ میں کتنا ہی خود کو آمادہ کرنے کی کوشش کروں، کتنا ہی پہلے سے سوچ کر رکھوں، اصل صورت حال کا سامنا ہونے پر، فرش پر نظر گاڑے بےحرکت کھڑے ہوے، جبکہ میری پیشانی پر پڑے ہوے بل اَور گہرے ہو رہے ہوں گے، مجھے معلوم ہو گا کہ میں وہ سب کچھ بھول چکی ہوں جو میں نے طے کیا تھا۔ گو اس کے باوجود میں امید ترک نہیں کروں گی اور اپنے دہن سے ایک خفیف مسکراہٹ پیدا کرنے کی التجا ضرور کروں گی، جو، بہرحال، بےاثر ہی ثابت ہو گی۔
جب ٹیکسی ایک مکان کے دروازے کے سامنے رکی جہاں سرخ سنگی ستونوں پر دو شیر کھڑے تھے، تو میرا دل خوشی سے بھر گیا اور اندیشے میرے ذہن سے یک لخت محو ہو گئے۔ میں اس خیال پر مسرت سے مغلوب ہو گئی کہ امی ایک ایسے مکان میں رہ رہی ہیں جہاں صدر دروازے پر دو شیر کھڑے ہیں۔ میں نے بہن کی آواز سنی جو شیر کے دہاڑنے کی نقل اتار رہی تھی، اور رشک سے اس کی طرف دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے پنجے پھیلا کر اشارے سے شیر کو گرفت میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں نے دل میں کہا: یہ ہمیشہ پیچیدگی سے آزاد اور خوش طبع رہتی ہے۔ اس کی خوش دلی کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی، انتہائی نازک لمحوں میں بھی نہیں۔ وہ میرے سامنے تھی اور ہونے والی ملاقات کے بارے میں ذرہ بھر فکرمند نہیں تھی۔
لیکن جب امی نے دروازہ کھولا اور میری نظر ان پر پڑی تو میں نے خود کو بےصبر اور بےتاب پایا اور دوڑ کر بہن سے بھی پہلے ان سے لپٹ گئی۔ میری آنکھیں بند ہو گئی تھیں اور میرے بدن کے جوڑ اس آسائش سے اتنے دنوں تک محروم رہنے سے سُن ہو گئے تھے۔ میں نے ان کے بالوں کی مہک سونگھی جو ذرا بھی نہ بدلی تھی، اور مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ میں نے ان کی جدائی کو کس قدر محسوس کیا تھا اور، اس کے باوجود کہ ابا اور مریم ہمارا اتنا خیال رکھتے تھے، میں نے کس قدر چاہا تھا کہ وہ لوٹ آئیں اور ہمارے ساتھ رہنے لگیں۔ امی کی اُس وقت کی مسکراہٹ میرے ذہن سے محو نہ ہوتی تھی جب، ان کی خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا لینے کی دھمکیوں کے بعد اور مولوی کی دخل اندازی پر، ابا انھیں طلاق دینے پر رضامند ہو گئے تھے۔ میری تمام حِسیں ان کی خوشبو کے اثر سے کُند ہو گئی تھیں جو میرے حافظے میں اچھی طرح محفوظ تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے ان کی جدائی کس قدر کھل رہی تھی، اس کے باوجود کہ جب وہ ہم دونوں کو بوسے دینے کے بعد، اپنے بھائی کے پیچھے تیز قدموں سے چلتی ہوئی، کار میں جا بیٹھی تھیں تو ہم دوبارہ گھر کے باہر گلی میں جا کر اپنے کھیل میں لگ گئے تھے۔ پھر جب رات آئی، اور ایک طویل عرصے بعد ہمیں امی کے ابا سے تکرار کرنے کی آواز سنائی نہ دی، تو ہمارے گھر پر امن اور سکون کی فضا چھا گئی جس میں صرف مریم کے رونے کی آواز مخل ہوتی تھی جو ابا کی رشتےدار تھی اور میری پیدائش کے وقت سے ہمارے ساتھ رہ رہی تھی۔
امی نے مسکراتے ہوے مجھے خود سے جدا کیا تاکہ بہن کو لپٹا کر پیار کر سکیں، پھر وہ مریم سے بھی بغلگیر ہوئیں جو رونے لگی تھی۔ امی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور میں نے انھیں مریم کا شکریہ ادا کرتے سنا۔ انھوں نے آستین سے آنسو پونچھے اور مجھ پر اور بہن پر سر سے پاؤں تک نگاہ ڈالی اور کہا: “اللہ انھیں اپنی امان میں رکھے، دونوں کتنی جلدی بڑی ہو گئی ہیں۔” انھوں نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور بہن نے ان کی کمر میں منھ چھپا لیا، اور جب ہمیں احساس ہوا کہ اس حالت میں چلنا ہمارے لیے دشوار ہے تو ہم سب ہنسنے لگے۔ اندر کے کمرے میں پہنچ کر مجھے یقین ہو گیا کہ امی کے نئے شوہر گھر میں موجود ہیں، کیونکہ امی نے مسکرا کر کہا، “محمود کو تم دونوں سے بہت محبت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمھارے ابا تمھیں میرے سپرد کر دیں تاکہ تم ان کے بچوں کی طرح ہمارے ساتھ رہ سکو۔” بہن ہنسنے لگی اور جواب میں بولی، “اس طرح ہمارے دو ابا ہو جائیں گے۔” میں امی کے بازو پر ہاتھ رکھے ابھی تک گمشدگی کی کیفیت میں تھی، اور امی سے ملاقات کے لمحے میں اپنے بےساختہ برتاؤ پر نازاں تھی؛ کس طرح میں دوڑ کر ان سے لپٹ گئی تھی، جو مجھے ناممکن معلوم ہوتا تھا، اور کیسے آنکھیں بند کر کے انھیں چومنے لگی تھی۔ مجھے بلاکوشش، بندھے ہوے ہاتھوں کے ساتھ، اپنے آپ سے، شرم کے اس قیدخانے سے، رہائی پا لینے پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔
امی کے شوہر گھر پر نہیں تھے۔ میری نظر فرش پر پڑی تو میں اپنی جگہ پر جم کر رہ گئی۔ میں نے بےاعتباری کے عالم میں فرش پر بچھے ہوے ایرانی قالین کو گھورا، پھر امی پر ایک طویل نظر ڈالی۔ میری نظر کی معنویت کو نہ سمجھتے ہوے انھوں نے ایک الماری کھولی اور اس میں سے ایک کڑھی ہوئی قمیص نکال کر میری طرف اچھال دی۔ پھر وہ فرش عبور کر کے سنگھارمیز کے پاس گئیں اور اس کی دراز میں سے ہاتھی دانت کی ایک کنگھی نکال کر، جس پر سرخ رنگ سے دل کی تصویر نقش کی ہوئی تھی، انھوں نے بہن کو دی۔ میں نے ایک بار پھر امی کی طرف دیکھا، اور اس بار انھوں نے میری نگاہ کو نازک تمنا کا اظہار سمجھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے بانہوں میں لے لیا اور بولیں، “تم ہر روز آ جایا کرو، تم جمعے کو پورے دن میرے گھر رہا کرو۔” میں ساکت رہی۔ میری خواہش تھی کہ میں ان کے بازو اپنے گردن سے ہٹا دوں اور اس گوری کلائی میں دانت گاڑ دوں۔ میں نے ملاقات کے لمحے کے مٹ جانے کی خواہش کی اور چاہا کہ وہ لمحے دوبارہ پیش آئیں تاکہ جب وہ دروازہ کھولیں تو میں وہی کروں جو مجھے کرنا چاہیے تھا — یعنی فرش پر نظر گاڑے بےحرکت کھڑی رہوں۔
اس ایرانی قالین کے رنگ اور خطوط میرے حافظے پر نقش تھے۔ میں اس پر لیٹ کر اپنا سبق یاد کیا کرتی تھی۔ میں اتنے قریب سے اس پر بنے ہوے نقوش کو تکتی تھی کہ وہ مجھے سارے میں پھیلی ہوئی تربوز کی قاشیں معلوم ہونے لگتے تھے۔ مگر جب میں مسہری پر بیٹھ کر اسے دیکھتی تو مجھے محسوس ہوتا کہ تربوز کی ہر قاش باریک دندانوں والی ایک کنگھی میں بدل گئی ہے۔ اس کے کناروں پر چاروں طرف بنے ہوے پھولوں کے گچھے اُودے رنگ کے تھے۔ گرمیوں کے شروع میں امی اس پر اور دوسرے عام قالینوں پر کیڑے مار گولیاں ڈال دیتیں اور ان سب کو گول کر کے الماری کی چھت پر رکھ دیتیں۔ کمرہ خالی اور ویران نظر آنے لگتا، یہاں تک کہ خزاں آ جاتی جب وہ قالینوں کو چھت پر لے جا کر پھیلا دیتیں۔ وہ کیڑے مار گولیاں چُنتیں جن میں سے اکثر گرمی اور نمی سے گھل چکی ہوتی تھیں، پھر چھوٹی جھاڑو سے ان کی صفائی کر کے وہ قالینوں کو چھت پر ہی چھوڑ دیتیں۔ شام کو وہ انھیں نیچے لا کر اپنی اپنی جگہ پر بچھا دیتیں۔ ان کے بچھنے سے کمرے میں دوبارہ جان پڑ جاتی اور میرا دل خوشی سے بھر جاتا۔ مگر یہ والا قالین کئی مہینے ہوے، امی کی طلاق سے پہلے، گم ہو چکا تھا۔ اسے چھت پر دھوپ دینے کے لیے پھیلایا گیا تھا، اور سہ پہر کو امی چھت پر گئیں تو غائب تھا۔ انھوں نے ابا کو آواز دے کر بلایا تھا اور میں نے پہلی بار ابا کا چہرہ غصے سے سرخ دیکھا تھا۔ جب وہ دونوں چھت سے نیچے آئے تو امی طیش اور تعجب کے عالم میں تھیں۔ انھوں نے پڑوسیوں سے دریافت کیا جن میں سے ہر ایک نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے نہیں دیکھا۔ اچانک امی چلّا کر بولیں، “ایلیا!” سب لوگ خاموش کھڑے رہ گئے: ابا، بہن اور پڑوسی ام فواد اور ابوسلمان، کسی کے منھ سے ایک لفظ نہ نکلا۔ میں نے خود کو پکار کر کہتے ہوے پایا: “ایلیا؟ ایسی بات مت کہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔”
ایلیا ایک تقریباً نابینا شخص تھا جو محلے میں گھر گھر پھیری لگا کر بید کی کرسیوں کی مرمت کیا کرتا تھا۔ جب ہمارے گھر کی باری آتی تو میں اسکول سے واپسی پر اسے گھر کے باہر پتھر کی بنچ پر بیٹھا ہوا دیکھتی۔ اس کے سامنے بید کی لچھیوں کا ڈھیر پڑا ہوتا اور اس کے بال دھوپ میں چمک رہے ہوتے۔ وہ مہارت سے بید کے تار اٹھاتا اور وہ، مچھلیوں کی طرح تیرتے ہوے، جال کے اندر پھسلتے جاتے۔ میں اسے بےحد مشاقی سے ان کی گول گول لچھیاں بناتے اور پھر ان کے سرے باہر نکالتے دیکھا کرتی، یہاں تک کہ وہ کرسی کی گول نشست کو بُن کر پھر ویسا ہی درست کر دیتا جیسی وہ پہلے تھی۔ ہر چیز بالکل ہموار اور ٹھیک ہو جاتی: یوں لگتا جیسے اس کے ہاتھ مشین ہوں، اور میں اس کی انگلیوں کی پھرتی اور مہارت پر حیران رہ جاتی۔ جب وہ سر جھکائے مشغول بیٹھا ہوتا تو یوں معلوم ہوتا جیسے وہ اپنی آنکھوں سے کام لے رہا ہے۔ ایک بار مجھے شک ہوا کہ وہ اپنے سامنے دھندلی شکلوں سے کچھ زیادہ دیکھ سکتا ہے، اس لیے میں اس کے سامنے گھنٹوں کے بل بیٹھ گئی اور اس کے لال گلابی چہرے پر نظر جما کر عینک کے پیچھے چھپی ہوئی آنکھیں دیکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان آنکھوں میں ایک سفید لکیر تھی جو میرے دل میں چبھنے لگی اور میں جلدی سے بھاگ کر باورچی خانے میں چلی گئی جہاں مجھے میز پر ایک تھیلی میں کھجوریں پڑی ملیں اور میں نے ایک رکابی میں تھوڑی سی کھجوریں رکھ کر ایلیا کو دیں۔
میں نظر جمائے قالین کو گھورتی رہی اور سرخ چہرے اور سرخ بالوں والے ایلیا کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے اُبھر آئی۔ مجھے اس کے کسی کی مدد کے بغیر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آتے ہوے، زینے کے ہتھے پر اس کا ہاتھ محسوس ہوا؛ پھر میں نے اسے کرسی پر بیٹھتے ہوے محسوس کیا، اپنی اجرت طے کرتے ہوے، پھر جیسے وہ کھانا کھا رہا ہو اور اسے خودبخود پتا چل جائے کہ رکابی خالی ہو گئی ہے، آبخورے سے پانی پیتے ہوے جب پانی آسانی سے اس کے حلق میں اتر رہا ہو۔ ایک دوپہر کو، جب ابا کے سکھائے ہوے طریقے سے، کہ کیسے کسی مسلمان کے گھر پر دستک دینے سے پہلے بلند آواز میں اللہ کا نام پکارنا چاہیے کہ مبادا امی بےپردہ ہوں، وہ ہمارے دروازے پر آیا تو امی تیزی سے بڑھیں اور اس سے قالین کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نے جواب میں کچھ نہ کہا، بس ایک سبکی سی لی۔ واپس جاتے ہوے اسے میز سے ٹھوکر لگی اور وہ پہلی مرتبہ الجھ کر گرا۔ میں اس کے پاس گئی اور ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا۔ وہ مجھے میرے ہاتھ کے لمس سے پہچان گیا ہو گا، کیونکہ اس نے نیم سرگوشی میں مجھ سے کہا، “کوئی بات نہیں، بچی۔” پھر وہ جانے کے لیے مڑا۔ جب وہ جھک کر جوتے پہن رہا تھا تو مجھے خیال ہوا کہ میں نے اس کے رخساروں پر آنسو دیکھے ہیں۔ ابا نے اس سے یہ کہے بغیر اسے جانے نہ دیا کہ “ایلیا! اگر تم سچ کہہ دو تو اللہ تمھیں معاف کر دے گا۔” لیکن ایلیا جنگلے کا سہارا لیے چلتا گیا۔ ٹٹول ٹٹول کر سیڑھیاں اترنے میں اس نے بہت وقت لگایا۔ پھر وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا اور ہم نے اسے پھر کبھی نہیں دیکھا۔
غلام حسین ساعدی معروف ایرانی دانشور اور مصنف غلام حسین ساعدی 1936 میں تبریز میں پیدا ہوئے۔ آپ نے چالیس سے زائد کتب تحریر ۔کیں۔ داریوش مھرجویی کی فارم “گاو” کے لیے لکھے گئے سکرین پلے کو ساعدی کا شاہکار خیال کیا جاتا ہے۔ یہ فلم جدید ایرانی سینما کا نقطہ آغاز سمجھی جاتی ہے۔ آپ ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی آف آزربائیجان سے بھی وابستہ رہے۔ 60 کی دہائی میں ایران میں ریاستی سنسنرشپ میں اضافے کے باوجود آپ نے لکھنا جاری رکھا۔ تاہم 1974 میں رضا شاہ پہلوی کے دور میں گرفتاری اور پھر ایک سال بعد رہائی کے نے آپ کو بری طرح متاثر کیا۔ انقلاب ایران کے بعد آپ نے کچھ عرصہ بائیں بازو کی طرف رحجان رکھنے والی لبرل جماعت نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ میں شمولیت اختیار کیے رکھی۔ بعدازاں، آپ پاکستان کے راستے فرانس چلے گئے جہاں وہ 1985 میں اپنے انتقال تک مقیم رہے۔
اجمل کمال اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔
یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ غلام حسین ساعدی کی یہ کہانی اجمل کمال نے فارسی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ اس کہانی کا آڈیو ورژن “آج” کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ چینل کو سبسکرائب کیجیے اور بیل آئی کون پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔
سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غلام حسین ساعدی
فارسی سے ترجمہ: اجمل کمال
1
حسنی نے خود مجھ سے کہا تھا کہ رات کو اس کے جھونپڑے میں چلیں گے۔ میں اس کے ہاں کبھی نہیں جاتا تھا، نہ وہ کبھی ہمارے ہاں آتا تھا۔ میں اپنے بابا کے ڈر سے اسے نہیں بلاتا تھا، اور وہ اپنے بابا کے ڈر سے مجھے۔ وہ بھی اپنے بابا سے بہت ڈرتا تھا، بلکہ مجھ سے بھی زیادہ ڈرتا تھا۔ مگر وہ رات دوسری راتوں کی طرح نہیں تھی۔ میں جانے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ حسنی مجھ سے ناراض ہو جاتا، رنجیدہ ہوتا، سمجھتا کہ میں اس کا دوست نہیں رہا۔ بس اسی طرح میں چلا گیا۔ میں نے پہلی بار اس کے جھونپڑے میں قدم رکھا۔ ہم ایک دوسرے سے ہمیشہ گھر کے باہر ملتے تھے۔صبح کو میں اس کے جھونپڑے کے باہر پہنچ کر زور سے سیٹی بجاتا— یہ خوش آواز سیٹی بجانا اسی نے مجھے سکھایا تھا— اور اس طرح سیٹی بجا کر میں اسے پیغام دیتا کہ “حسنی، آ جاؤ، کام کا وقت ہو گیا۔”حسنی اپنی بالٹی اٹھا کر باہر نکل آتا۔ایک دوسرے کو سلام کرنے کے بجاے ہم دونوں مکابازی کرتے تھے۔خوب زور کے مکے لگاتے جن سے درد ہوتا تھا۔ ہمارا یہی طریقہ تھا۔ ایک دوسرے سے ملتے یا رخصت ہوتے ہوے مکے بازی ہوتی۔ سواے اس وقت کے جب ایک دوسرے سے ناراض ہوں یا کسی بات پر لڑائی ہو چکی ہو۔ پھر ہم ساتھ چل پڑتے اور جھگیوں جھونپڑوں میں سے گزر کر مُردے نہلانے والے مکان کے پاس کے گڑھے پر پہنچتے۔ شہرداری کے کوڑا اٹھانے والے ٹرک اپنا کوڑا یہیں پھینکتے تھے۔ ایک روز میں ٹین ڈبے جمع کرتا اور حسنی کانچ کے ٹکڑے، دوسرے دن وہ ٹین ڈبے چنتا اور میں کانچ کے ٹکڑے۔ کبھی کبھار ہمیں کوئی بہتر چیز بھی ہاتھ آ جاتی— بناسپتی گھی کا خالی کنستر، بچے کی چوسنی، ٹوٹی ہوئی گڑیا، کارآمد جوتا، یا سالم شکردان جس کے صرف دستے پر بال پڑا ہوتا، یا پلاسٹک کا لوٹا۔ ایک بار تو مجھے “و اِنّ یکاد…” کا تعویذ ہاتھ آ گیا تھا، اور ایک بار حسنی کو غیرملکی سگریٹ کا پورا بھرا ہوا ڈبا۔ جب ہم تھک جاتے تو کوڑے کے گڑھے کے دوسری طرف، بڑے سے میدان سے گزر کر، حاج تیمور کے اینٹوں کے پرانے بھٹے پر پہنچ جاتے جو بند پڑا تھا اور اب یونہی خدا کے نام پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ میدان میں اِدھر اُدھر ہر چند قدم پر گہرے کنویں کھدے ہوے تھے۔ اور دو چار نہیں، ایک دوسرے کی بغل میں کنویں ہی کنویں تھے۔ ایک بار ہم دونوں نے ارادہ کیا کہ ان کنووں کو گنتے ہیں، مگر پچاس تک پہنچ کر ہماری ہمت ٹوٹ گئی اور ہم نے گننا چھوڑ دیا۔ کنووں کے پاس پہنچ کر ہم خوب مزے سے کھیلتے۔ وہاں سو جاتے یا الٹے لیٹ کر سینے تک کنویں میں لٹک جاتے اور عجیب و غریب آوازیں نکالتے۔ آوازیں کنویں میں گھومتی ہوئی واپس آتیں۔ ہر کنواں ایک خاص طرح کی آواز نکال کر ہمیں جواب دیتا تھا۔ زیادہ تر ہم کنویں میں منھ ڈال کر قہقہے لگاتے اور جواب میں ہمیں رونے کی آوازیں سنائی دیتیں۔تب ہم ڈر جاتے۔ پھر ہنستے، زیادہ دیر تک اور زیادہ زور سے ہنستے، اور کنویں سے آتی رونے کی آوازیں بھی بڑھتی جاتیں، اونچی ہوتی جاتیں۔ میں اور حسنی وہاں زیادہ تر وقت اکیلے ہوتے۔ دوسرے بچے کوڑے کے گڑھے کی طرف کم آتے تھے۔ ان کی امائیں انھیں آنے نہیں دیتی تھیں۔ ڈرتی تھیں کہ کہیں کنویں میں نہ گر پڑیں یا کوئی اور بلا ان کے سر نہ آ جائے۔ لیکن میں اور حسنی بڑے ہو گئے تھے اور روز بھری ہوئی جیب لے کر گھر لوٹتے تھے، اس لیے ہماری امائیں ہم سے کوئی واسطہ نہ رکھتی تھیں اور ہمیں کچھ نہ کہتیں۔
اس دن، یعنی جس رات میں حسنی کے گھر گیا تھا اس دن سہ پہرکو حسنی بہت غمگین اور غصے کی حالت میں باہر آیا۔ اس کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں، آنکھوں سے لگتا تھا، بہت رویا ہے۔ اس میں کام کرنے کا حوصلہ نہ تھا۔ مردے نہلانے والے مکان کے باہر بنے گڑھے کے پاس پہنچ کر وہ بالکل کھویا ہوا اِدھر اُدھر بھٹکتا اور کوڑے کے ڈھیر کو لاٹھی سے کریدتا رہا۔ وہ اپنے بابا کو ماں بہن کی گالیاں دے رہا تھا۔ میں جانتا تھا کیا بات ہے۔ اس روز دوپہر کو اس کا باپ بہت غصے کے عالم میں گھر لوٹا۔ اس کا اپنے مالک سے جھگڑا ہوا تھا اور اس نے اسے نوکری سے نکال دیا تھا۔ گھر پہنچتے ہی اس نے حسنی پر اپنا غصہ اتارنا شروع کر دیا۔ ہمیں حسنی کے رونے چلّانے کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ میری اماں نے حسنی کے بابا کو ملامت بھی کی تھی کہ کیوں بلاوجہ بے قصور بچے کو ادھیڑے دے رہا ہے۔ میں نے دیکھا، اس کی کمر اور کندھوں پر نیل پڑے تھے اورایک آنکھ بھی سوج کر نیلی ہو گئی تھی۔حسنی کا باپ ہر رات جھونپڑے میں گھستے ہی، کپڑے بدلنے یا منھ ہاتھ دھونے سے پہلے، حسنی کی ٹھکائی شروع کر دیتا تھا۔ جب تک تھک نہ جاتا، اسے مارتا رہتا۔ گھونسوں اور لاتوں سے، لکڑی، رسی، پیٹی، جو کچھ ہاتھ لگتا اس سے اسے پیٹنے لگتا، اور ساتھ میں زور زور سے گالیاں بھی دیتا جاتا۔ اس قدر دھنائی کرتا کہ حسنی کی چیخوں سے سارا محلہ گونج اٹھتا۔ پڑوس کے لوگ اس کی مدد کو پہنچتے اور اس کے باپ کے چنگل سے اسے چھڑاتے۔ حسنی کے باپ کا یہ روز کا معمول تھا، مگر میرا بابا مجھے ہفتے میں ایک یا دو بار مارتا تھا جب اس کا مزاج بگڑا ہوا ہوتا۔جب زیادہ پیسے نہ کمائے ہوتے تو میری اور احمد اور رضا کی جان کو آ جاتا اور خوب پٹائی کرتا۔ مگر میری اماں بیچ میں پڑ کر رونے چلّانے لگتی کہ “کیوں بچوں کو مارے ڈال رہے ہو؟ کیوں انھیں اپاہج کیے دیتے ہو؟”بابا پلٹ کر اماں پر پل پڑتا اور وہ چیخ کر ہم سے باہر نکل جانے کو کہتی۔ جب تک ہم واپس گھر میں آتے، ہمارا بابا ٹھنڈا ہو کر ایک کونے میں بیٹھا ہوتا یا اماں سے کہہ رہا ہوتا، “بچوں سے کہو، آ کر کچھ کھا پی لیں۔”
لیکن حسنی کے باپ کو اپنے باقی بچوں سے کچھ غرض نہ تھی، صرف حسنی کو پیٹتا تھا، باقی بچوں کو کچھ نہ کہتا۔ اور حسنی کی اماں بھی کبھی اسے باہر بھاگ جانے کو نہ کہتی۔اس لیے کہ حسنی کا بابا دروازے کو گھیرے کھڑا ہوتا اور وہیں سے حملہ کر کے حسنی کو لاتوں اور گھونسوں کی زد پر رکھ لیتا۔ بال پکڑ کر اس کا سر دیوار سے ٹکرانے لگتا۔ اس روز پہلی بار اس نے دوپہر کو گھر پہنچ کر حسنی کو پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ حسنی بہت بگڑا ہوا تھا۔ میں نے اسے معمول پر لانے کے لیے کہا، “چلو اوپر چلتے ہیں۔” کوڑے کے گڑھے کو پار کر کے ہم کنووں والے میدان میں پہنچ گئے اور ایک کنویں کے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے بہت کوشش کی مگر وہ ایک لفظ نہ بولا۔ آخر میں کنویں کے پاس لیٹ گیا اور اس میں سر ڈال کر گائے کی آوازیں نکالیں، کتے کی طرح بھونکا، قہقہے لگائے، رویا، جو کچھ مجھے آتا تھا سب کیا۔ لیکن حسنی جوں کا توں، منھ سُجائے، غمگین بیٹھا لاٹھی سے اپنی ٹانگ پر ضربیں لگاتا رہا۔ آخر میں نے سیٹی بجا کر اس سے پوچھا، “حسنی، کیا ہوا؟”
حسنی نے جواب نہ دیا۔ میں نے زور سے پکارکر کہا، “حسنی، او حسنی!”
اس پر اس نے پلٹ کر پوچھا، “کیا ہے؟”
میں نے کہا، “یوں منھ پھلائے رکھنے سے کیسے چلے گا؟”
بولا، “نہ چلے، مجھے کیا۔”
میں نے کہا، “خدا کے لیے، اب کڑھنا بند کرو۔”
بولا، “کیسے بند کروں؟ میرے ہاتھ میں ہے کیا؟”
میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس سے کہنے لگا، “چلو اٹھ جاؤ، اٹھو، کچھ کرتے ہیں جس سے تمھاری حالت ٹھیک ہو۔”
حسنی نے ایک بار پھر لاٹھی اپنی پنڈلی پر ماری اور پوچھا، “کیا کریں گے؟”
میں سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا کیا جائے کہ حسنی کی حالت ٹھیک ہو۔ میں نے کہا، “چلو سڑک پر جا کر گاڑیاں دیکھیں۔”
اس نے جواب دیا، “اس سے کیا فائدہ ہو گا؟”
میں نے کہا، “اُس روز کی طرح میّت گاڑیاں گنیں گے۔ دیکھتے ہیں ایک گھنٹے میں کتنی گزرتی ہیں۔”
بولا، “جتنی بھی گزریں، گزرتی رہیں۔ مجھے کیا۔”
میں نے کہا، “چلو پھر حاج تیمور کے بھٹے کی چھت سے پتھر پھینکیں۔”
بیزار ہو کر بولا، “میں نہیں جاتا۔ تمھارا جی چاہے تو جا کر پھینکنے لگو۔”
میں کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھ گیا۔ وہ کسی طرح میری کوئی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ میں نے کہا، “سب سے اچھا یہ کہ چوک میں چلتے ہیں، وہاں بڑے تماشے ہیں۔”
بولا، “کون کون سے؟”
میں نے کہا، “سنیماگھر میں جا کر تصویریں دیکھتے ہیں، بعد میں سنگتراشوں کے چوک کے پیچھے جا کر درویش سگ دوست کا تماشا دیکھیں گے۔”
بولا، “چوک میں پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی۔”
میں نے کہا، “گاڑی میں چلیں گے۔”
بولا، “پیسے کہاں ہیں؟”
میں نے کہا، “میرے پاس بارہ ریال ہیں۔”
بولا، “انھیں اپنے پاس ہی رکھو۔”
میں نے کہا، “چلو چل کر کچھ کھاتے ہیں۔ ٹھیک ہے؟”
بگڑ کر کہنے لگا، “مجھے کچھ نہیں کھانا۔”
اب میں عاجز ہو گیا۔ یونہی سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ شکرائی کے باغ پر نظر پڑی۔ میں نے کہا، “اے حسنی، چل کر پھل چراتے ہیں۔”
اس نے جواب دیا، “ہاں، آج مجھے کم مار پڑی ہے کہ اب باغبان سے بھی پٹوانا چاہتے ہو؟”
کچھ دیر ہم دونوں چپ رہے۔ بھٹے کے دوسری طرف سے دو آدمی نکلے، کچھ دیر کھڑے ہمیں دیکھتے رہے، پھر باغ کی دیوار کود کر اندر چلے گئے۔ کچھ چیخیں سنائی دیں، پھر باغ سے کئی لوگوں کے قہقہے لگانے کی آوازیں آئیں۔ میں نے حسنی سے کہا، “مجھ سے کیوں ناراض ہو؟”
بولا، “تم سے ناراض نہیں ہوں۔”
ہم پھر چپ ہو گئے اور حسنی اسی طرح لاٹھی سے اپنی ٹانگ پر ضربیں لگاتا رہا۔
میں نے کہا، “اتنا مت مارو۔ پاگل ہو گئے ہو؟”
بولا، “ٹھیک ہے۔ مجھے درد نہیں ہوتا۔”
میں نے کہا، “اچھا کوئی بات کرو۔”
بولا، “مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔”
آخر تنگ آ کر میں چلّایا، “بس کرو اب! بہت ہو گیا۔اٹھو، اٹھ جاؤ اب!”
ہم دونوں اٹھ کر چل پڑے۔ یونہی کنووں کے بیچ سے گزرتے ہوے میں نے کہا، “حسنی۔”
بولا، “کیا ہے؟”
میں نے کہا، “سچ بتاؤ، کیا چاہتے ہو؟ تم جو چاہو میں کروں گا۔ تمھارے لیے سب کچھ کروں گا۔”
بولا، “چاہتا ہوں اس بابا کتے کے بچے کی ایسی ٹھکائی کروں کہ بس۔”
میں نے کہا، “ٹھیک ہے، پھر کرتے کیوں نہیں؟”
اس نے جواب دیا، “میں اکیلا کیسے کروں؟ مجھ میں اتنا زور نہیں۔”
میںنے کہا، “پتا ہے، تم میں اتنا زور نہیں۔”
وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، “تم میرا ساتھ دو تو ہم دونوں مل کر اس سے حساب صاف کر سکتے ہیں۔”
میں سوچ میں پڑ گیا۔ مجھے اس کے بابا سے ڈر لگتا تھا، بہت ڈر لگتا تھا۔ سب بچے حسنی کے بابا سے ڈرتے تھے۔ حسنی کا باپ بچوں کا دشمن تھا؛ کوئی اس کے پاس نہ جاتا، کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتا۔ وہ کسی کے سلام کا کبھی جواب نہ دیتا تھا، صرف مڑ کر گھورنے لگتا تھا۔ میرا بابا کہتا تھا کہ یہ مردود پاگل ہے، اس کا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے۔ اب میں بھلا کس طرح جا کر اس کی ٹھکائی کر سکتا تھا؟ لیکن اگر ایسا نہ کرتا تو حسنی مجھ سے ناراض ہو جاتا اور غصہ کرتا۔ اور میں نہیں چاہتا تھا کہ حسنی مجھ پر غصہ کرے۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ حسنی نے کہا، “میری مدد نہیں کرنا چاہتے؟”
میں نے کہا، “کیوں نہیں کرنا چاہتا، ضرور کرنا چاہتا ہوں۔”
وہ بولا، “پھر جواب کیوں نہیں دیتے؟”
میں نے کہا، “آخر ہم اس کی ٹھکائی کیسے کر سکتے ہیں؟”
حسنی بولا، “تم رات کو میرے گھر آنا۔ دونوں اندر جا کر کونے میں چھپ جائیں گے۔ جیسے ہی وہ اندر گھسے گا، دونوں اس پر حملہ کر دیں گے۔ ٹانگیں کھینچ کر اسے زمین پر گرا دیں گے اور خوب پٹائی کریں گے۔”
میں نے پوچھا، “اور اس کے بعد کیا ہو گا؟”
اس نے کہا، “کچھ بھی نہیں ہو گا۔ بس اس کی سمجھ میں آ جائے گا کہ پٹائی کا مزہ کیسا ہوتا ہے۔ اور میرا دل ٹھنڈا ہو جائے گا۔”
میں نے کہا، “بہت اچھا۔”
اس طرح ہم دونوں رات کو اس کے جھونپڑے میں پہنچے۔ رات تو نہیں ہوئی تھی، مغرب کا وقت تھا جب اندھیرا چھانے لگتا ہے۔ حسنی کا بابا ابھی نہیں آیا تھا۔ حسنی کی اماں نے کہا کہ جاؤ، گھر کے لیے پانی بھر لاؤ۔ ہم پمپ کے پاس پہنچے، پانی بھرا اور پھر وہیں انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ اتنی دیر تک اس ٹانگ سے اس ٹانگ پر وزن ڈالتے رہے کہ دور سے حسنی کا بابا آتا دکھائی دیا۔وہ کچھ جھکا ہوا چل رہا تھا اور کندھے پر ایک تھیلا اٹھائے ہوے تھا۔
حسنی بولا، “ آ گیا کتے کا بچہ۔”
ہم دوڑ پڑے اور جھونپڑوں کے بیچ میں سے ہو کر اس کے گھر آ چھپے۔ حسنی کی اماں باہر بیٹھی چولھے پر ٹماٹر پکا رہی تھی۔ حسنی کا چھوٹا بھائی اپنی اماں کے پاس بیٹھا بلک رہا تھا۔ ہم آنگن پار کر کے آگے بڑھے، پانی کا جگ کھڑکی میں رکھا اور اندر چلے گئے۔ اندر اندھیرا تھا۔ اس کی اماں نے باہر سے پکار کر کہا، “حسنی، او حسنی، بتی جلا دے۔”
حسنی نے بتی جلائی۔ اس کی چھوٹی بہن ایک کونے میں پڑی سو رہی تھی۔ میں نے کہا، “اب کیا کریں؟”
وہ بولا، “کچھ نہیں۔ بس دروازے کے پاس بیٹھ جاؤ۔ باقی مجھ پر چھوڑ دو۔” میں وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ حسنی بھی دوسرے کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔ ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔
حسنی نے کہا، “یاد رکھنا، تمھیں اس کی ٹانگوں سے لپٹنا ہے۔”
میں نے پوچھا، “اور تم کیا کرو گے؟”
وہ بولا، “پہلے میں اس کی ٹھوڑی پر ایک گھونسا رسید کروں گا، اور پھر اس کے اوپر سوار ہو کر اسے زمین پر گرا لوں گا اور خوب کوٹوں گا۔”
مجھے ڈر لگ رہا تھا۔ معلوم نہیں اس کا کیا انجام ہو گا۔ ابھی میں انتظار میں بیٹھا تھا کہ باہر سے اس کے بابا کے چلّانے کی آواز آئی۔ پہلے اس نے زور کا نعرہ بلند کیا اور پھر چیخ کر کہنے لگا، “بدبخت عورت! میرے آنے سے بھی پہلے تو نے کھانا پکانا شروع کر دیا؟”
حسنی کی ماں نے جواب دیا، “تو اور کیا کرتی؟ گھر میں گھستے ہی تو تمھیں کچھ کھانے کو چاہیے ہوتا ہے۔”
حسنی کے بابانے چلّا کر جواب دیا، “صرف مجھے چاہیے ہوتا ہے؟ تجھے اور تیرے ان پلّوں کو نہیں؟”
پھر حسنی کی ماں کے چلّانے کی آواز آئی۔ “یا الٰہی! خدا کرے تیری ٹانگ ٹوٹ جائے!”
حسنی نے کہا، “سنا؟”
میں نے پوچھا، “کیا؟”
حسنی نے کہا، “اماں کو لات ماری ہے۔ وحشی دیوانہ!”
دوبارہ حسنی کے بابا کی آواز بلند ہوئی۔ “یہ کتے کا بچہ یہاں کیوں سو رہا ہے؟”
اس کی ماں نے کہا، “تو پھر کہاں سوئے؟”
وہ چلّایا، “مجھے کیا معلوم؟ کسی اور جگہ۔ کسی کونے میں۔”
وہ صحن میں داخل ہوا اور اپنا بوجھا دروازے کے پاس اتار کر کھانسنے لگا۔ بہت دیر تک کھانستا اور اپنے سینے کی کثافت باہر تھوکتا رہا۔ پھر اس نے زیرلب دو تین گالیاں دیں، پانی کا برتن لے کر منھ دھویا اور دو تین گھونٹ پیے۔ اس کے بعد کمرے کی طرف بڑھا۔ اس کے جوتوں کی آواز سن کر میرا دل بیٹھنے لگا۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو حسنی بالکل ڈری ہوئی بلی کی طرح آدھا بیٹھا آدھا کھڑا پیچھے کو جانے لگا۔ اس کے بابا نے دانت پیسے اور غرایا۔ حسنی کی پیٹھ دیوار سے لگی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا، “کیا کرو گے؟”
اس کا باپ زہریلی ہنسی ہنس کر بولا، “کچھ نہیں۔تجھ جیسی مصیبت کے ساتھ کوئی کیا کر سکتا ہے۔”
اچانک وہ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھے سر سے پاؤں تک دیکھ کر مونچھوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں، وحشت زدہ، بیٹھے بیٹھے پیچھے کو کھسکنے لگا۔ حسنی کے بابا نے کہا، “واہ وا! یہ موٹا ریچھ یہاں کیا کر رہا ہے؟”
حسنی بولا، “میرا دوست ہے، عبدل آقا کا بیٹا۔”
اس نے کہا، “کسی کا بھی ہو، میرے گھر میں کیا کر رہا ہے؟”
حسنی بولا، “اسے میں نے بلایا ہے۔”
ا س نے کہا، “کیوں؟ اس کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے؟”
حسنی بولا، “ہے کیوں نہیں۔ ہم سے اچھا ہے۔”
اس نے کہا، “تو پھر؟ یہاں کیوں آیا ہے؟”
پھر وہ میری طرف مڑ کر چلّایا، “دفع ہو جا یہاں سے۔ اٹھ، بھاگ!”
میں ڈر کر اٹھنے لگا، اور حسنی کا بابا اور بھی زور سے چیخا، “بھاگ!”
حسنی کمرے کے کونے میں تھا، وہاں سے بولا، “یہ نہیں جائے گا۔یہیں رکے گا۔”
حسنی کا بابا اس طرف مڑا اور گھونسا تان کر حسنی کی طرف بڑھنے لگا۔ دونوں بازو ہوا میں پھیلا کر کہنے لگا، “حرامزادے، تیری اتنی ہمت ہو گئی کہ اپنے باپ کو جواب دینے لگا!”
حسنی کی چھوٹی بہن کی آنکھ کھل گئی اور وہ خوفزدہ ہو کر روتی ہوئی کمرے سے باہر بھاگی۔ وہ اسی طرح گھونسا تانے آگے بڑھ رہا تھا کہ حسنی زور سے چلّایا، “مارو!”
میں نے حملہ کر دیا۔ اس کا بابا لپک کر بڑھا تو حسنی اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور اس کا گھونسا دیوار سے ٹکرایا۔ میں نے جھک کر اس کی ٹانگ دبوچ لی۔ حسنی بھی پیچھے سے نکل آیا اور اس کی دوسری ٹانگ پکڑ لی۔ ہم دونوں نے زور سے کھینچا اور وہ چیختا چلّاتا اور ہانپتا ہوا ہمارے اوپر گر پڑا۔ پہلے اس نے میرے منھ پر گھونسا مارا، پھر حسنی کے منھ پر۔ پھر دونوں گھونسے ہم دونوں کے سروں پر ایک ساتھ رسید کیے۔ ہم دونوں نے زور لگایا اور اس بوڑھے آدمی کے نیچے سے نکل آئے۔ حسنی نے گالیاں بکتے ہوے اپنے بابا کے چوتڑ پر ایک زور کی لات ماری اور ہم دونوں بھاگ کر باہر آ گئے۔ حسنی کے بابا کے زور زور سے چیخنے چلّانے کی آوازیں آتی رہیں: “تجھے مار ڈالوں گا! تو اکیلا ہی کم مصیبت تھا کہ اس حرامزادے کو بھی لے آیا!”
یہ کہتے ہوے وہ ہمارے پیچھے لپکا۔ حسنی کی ماں ہراساں، چولھے سے لگی کھڑی تھی اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے۔ ہم اس کے برابر سے دوڑتے ہوے نکل گئے اور طوفان کی رفتار سے دوڑتے ہوے بیچ کا رستہ لے کر مردے نہلانے والے مکان کے گڑھے کا رخ کیا۔ پیچھے سے حسنی کے بابا کی آوازیں سنائی دیتی رہیں کہ “پکڑو! پکڑو!”
وہ کچھ دور تک ہمارے پیچھے دوڑا اور پھر رک کر چلّانے اور گالیاں دینے لگا۔ اندھیرا ہو چکا تھا۔ وہاں کوئی نہ تھا جو ہمارے پیچھے دوڑے اور ہمیں پکڑنے کی کوشش کرے۔ ہم پمپ کے پاس سے نکل کر گڑھے پر پہنچ گئے۔ دونوں کا سانس پھولا ہوا تھا اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ حسنی کا بابا یا کوئی اور ہمارا پیچھا نہ کر رہا ہو۔ میں نے حسنی سے کہا، “بہتر ہو گا کہ گڑھے سے نکل کر اوپر چلیں۔”
حسنی بولا، “ہاں، ورنہ کچھ دیر میں وہ کتے کا بچہ ڈنڈا لے کر آئے گا اور ہمارا کام تمام کر دے گا۔”
ہم گڑھے سے نکل آئے اور ایک ٹیلے پر جا بیٹھے۔ جب میرا سانس درست ہوا تو میں نے حسنی سے کہا، “ہم اس کے ہاتھ سے خوب بچ نکلے۔”
حسنی بولا، “مگر افسوس کہ اس کی زیادہ مرمت نہ کر سکے۔”
میں نے پوچھا، “گھر کب واپس چلو گے؟”
حسنی بولا، “گھر واپس؟ مذاق کرتے ہو؟ وہ تو چاہتا ہی ہو گا کہ میں گھر پہنچوں اور وہ مجھے پکڑ کر تکابوٹی کر ڈالے۔”
میں نے کہا، “پھر کیا کرنا چاہتے ہو؟”
حسنی بولا، “کچھ نہیں۔”
میں نے پوچھا، “رات کو کہاں جاؤ گے؟”
بولا، “کہیں بھی نہیں۔ کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔”
میں نے کہا، “میرے ساتھ چلو۔ میرے گھر۔”
بولا، “ہاں، تاکہ تمھارے بابا کے ہاتھ آ جاؤں۔ دونوں حرامزادے ایک جیسے ہیں۔ ان کے دل میں ذرہ بھر رحم نہیں۔”
میں نے کہا، “اچھا اگر آج رات گھر نہیں بھی گئے تو کل کیا کرو گے؟ پرسوں کیا کرو گے؟ آخر تو واپس جانا ہی ہو گا۔”
حسنی بولا، “پتا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہیں اور چلا جاؤں۔”
میں نے کہا، “مثلاً کہاں؟”
بولا، “کہیں بھی۔”
میں نے کہا، “اور کرو گے کیا؟”
بولا، “کیا پتا۔ کچھ نہ کچھ کر ہی لوں گا۔ کسی کا شاگرد بن جاؤں گا، یا حمّالی کر لوں گا۔”
میں نے کہا، “تم ابھی چھوٹے ہو۔ تمھیں کوئی نہیں رکھے گا۔”
بولا، “کیوں؟”
میں نے کہا، “اس لیے کہ تمھیں کوئی کام نہیں آتا۔”
بولا، “کچھ نہیں آتا، پھر بھی دکانوں کے سامنے جھاڑو تو دے سکتا ہوں۔”
میں نے کہا، “مگر کسی بڑے کے کہے بغیر تو تمھیں کوئی رکھے گا نہیں۔”
بولا، “اگر کچھ نہ ہوا تو ٹین ڈبے جمع کر کے بیچوں گا۔”
میں نے کہا، “اور رات کو سوؤ گے کہاں؟”
بولا، “کھنڈروں میں۔”
میں نے کہا، “کوئی فائدہ نہیں، دو چار دن اس طرح رہنے کے بعد یا تو بھوکے مر جاؤ گے یا کوئی مصیبت سر پر آ پڑے گی۔”
کہنے لگا، “ناممکن۔ میں نہیں مروں گا۔ جا کے بھیک مانگ لوں گا اور زندہ رہوں گا۔”
میں نے کہا، “ہاں، تم اسی خیال میں مگن رہو۔ تمھیں پکڑ کے گداخانے لے جائیں گے۔ اسدول کے بچے یاد نہیں رہے؟ اور رضا ترک کی بہن؟”
بولا، “تو پھر کیا کروں؟”
میں نے کہا، “مجھے نہیں پتا۔ بہتر ہو گا کہ گھر واپس چلے جاؤ۔”
دونوں چپ ہو گئے۔ چاند نکل آیا تھا اور سارے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی، سواے کنووں کے دائروں کے جنھیں کوئی بھی چیز روشن نہیں کر سکتی تھی۔ جھونپڑوں میں کہیں کہیں چراغ جلتے دکھائی دے رہے تھے۔ حسنی نے اپنے اردگرد نظر ڈالی اور بولا، “گھر واپس نہیں جا سکتا۔ اس بار تو وہ جان سے مار ڈالے گا۔”
ہم پھر خاموش ہو گئے اور جھینگروں کی آوازیں سننے لگے۔ حسنی اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور بولا، “سنو، مجھے ایک ترکیب سوجھی ہے۔ تم ابھی دوڑتے ہوے جاؤ اور جھونپڑوں کے پاس پہنچتے ہی رونا چلّانا شروع کر دو اور سر پیٹ پیٹ کر سب سے کہو کہ حسنی کنویں میں گر گیا ہے۔”
میں بھی چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔ میرا دل ڈوبنے لگا۔ میں نے کہا، “کیا؟ تم کنویں میں گرنے والے ہو؟”
حسنی بولا، “میں گدھا ہوں کیا کہ کنویں میں گروں گا؟ بس تم ایسے ہی کہہ دو کہ کنویں میں گر گیا۔ تب دیکھنا بابا کا کیسا حال ہوتا ہے۔”
میں نے کہا، “اور اس کے بعد؟”
بولا، “اس کے بعد کچھ نہیں۔میں کہیں جا کے چھپ جاؤں گا۔”
میں نے کہا، “وہ کنووں میں تلاش کریں گے۔”
بولا، “سب کنووں میں نہیں تلاش کر سکتے۔ ایک دو کنویں تھوڑی ہیں۔ آخر تھک جائیں گے اور سمجھ لیں گے کہ میں مر گیا ہوں۔ پھر سب ایک جگہ جمع ہو کر میرے لیے روئیں پیٹیں گے اور قرآن کا ختم کریں گے۔ بابا اور اماں بھی اپنا سر پیٹیں گے اور دہاڑیں ماریں گے۔”
میں نے کہا، “حسنی، یہ کام ٹھیک نہیں ہے۔”
اس نے پوچھا، “کیوں؟ ٹھیک کیوں نہیں ہے؟”
میں نے کہا، “فرض کرو تمھارا بابا صدمے سے مر جائے۔ یا تمھاری اماں۔پھر کیا کرو گے؟”
حسنی بولا، “یہ سب تمھارا خیال ہے۔ وہ ایسے نہیں ہیں۔ میں انھیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ یہ لوگ مرنے والے نہیں۔ اور پھر جب وہ سینہ کوٹنے اور ماتم کرنے لگیں تو تم مجھے آ کے بتا دینا اور میں دوڑ کے گھر چلا جاؤں گا۔ جب وہ دیکھیں گے کہ میں صحیح سلامت ہوں اور کنویں میں نہیں گرا تو کس قدر خوش ہوں گے۔ پھر میرا خیال ہے بابا بھی ٹھیک ہو جائے گا اور مجھے مارنا پیٹنا چھوڑ دے گا۔”
میں نے کہا، “مگر”۔۔۔۔
بولا، “مگر کیا؟”
میں نے کہا، “مجھے تمھارے بابا سے ڈر لگتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ خبر سن کر مجھے ہی مار ڈالے۔”
بولا، “تمھیں میرے بابا سے کیا لینا دینا؟ تم تو بس جھونپڑوں کے پاس پہنچ کر چیخنے لگنا کہ حسنی کنویں میں گر گیا، حسنی کنویں میں گر گیا۔”
میں نے کہا، “یہ کہتے ہوے تو رونا بھی پڑے گا۔ اگر رونا نہ آیا تو؟”
حسنی نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور بولا، “عجیب گدھے ہو تم۔ اندھیرے میں کسی کو کیا پتا چلے گا کہ تم رو رہے ہو یا نہیں رو رہے ہو؟”
میں نے کہا، “اچھا، اور تم کیا کرو گے؟”
بولا، “میں جا کے بھٹے میں چھپ جاؤں گا۔”
میں نے پوچھا، “اور اگر بھوکے مر گئے؟”
تعجب سے پوچھنے لگا، “تو تم میرے لیے روٹی اور پانی نہیں لاؤ گے کیا؟ ہَیں؟ نہیں لاؤ گے؟”
میں نے کہا، “ہاں لاؤں گا۔”
بولا، “تو بس ٹھیک ہے۔ اب جاؤ۔”
میں ابھی تک دودِلا ہو رہا تھا، جاؤں یا نہ جاؤں، کہ حسنی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا، “آؤ میں تمھیں دکھا دوں کہ میں کہاں چھپوں گا۔”
ہم حاج تیمور کے اینٹوں کے بھٹے کی طرف چل دیے۔ابھی کنووں کے درمیان سے گزر رہے تھے کہ کچھ کتوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ میں نے اور حسنی نے پتھر مار کر انھیں بھگا دیا اور پھر بھٹے کے گرد چکر کاٹ کر آخری کوٹھڑی کے پاس پہنچے جس کی چھت گر چکی تھی اور کسی کو شبہ نہ ہو سکتا تھا کہ یہاں کوئی چھپا ہو گا۔ حسنی نے مجھ سے کہا، “میں یہاں چھپا ہوں گا، ٹھیک ہے؟”
میں نے کہا، “ٹھیک ہے۔”
بولا، “تو پھر اب کھڑے کیوں ہو، جاؤ۔ یاد رکھنا، تمھیں خوب زور زور سے چیخنا چلّانا ہے۔”
میں نے کہا، “ہاں، یاد ہے۔”
ابھی میں چلا ہی تھا کہ حسنی نے پھر پکارا۔ میں نے پوچھا، “کیا ہے؟”
بولا، “یہ بھی یاد رکھنا کہ میں بھوکا ہوں۔ صبح میرے لیے روٹی اور پانی ضرور لانا۔”
میں نے کہا، “ضرور لاؤں گا۔”
میں کوٹھڑی کا چکر لگا کر کنووں کے درمیان سے گزرتا ہوا مردے نہلانے کے گڑھے کے پاس پہنچا جہاں کتے جمع تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر بھاگ گئے۔ میں گڑھے سے باہر نکلا اور پمپ کے پاس پہنچا۔ میرے حلق میں جلن ہو رہی تھی، اس میں گرد وغبار بہت چلا گیا تھا۔ میں نے تھوڑا سا پانی پیا اور آگے چلا۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ مجھے دوڑتے اور چیختے ہوے جانا ہے۔ میں دوڑتا اور چلّاتا ہوا جھونپڑوں کی طرف بڑھنے لگا۔ بہت سے لوگ جھونپڑوں کے باہر کھڑے تھے۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ کیا ہوا ہے، میں نے تو سر پیٹ پیٹ کر چلّانا شروع کر دیا جیسے حسنی سچ مچ کنویں میں گر گیا ہو۔ جو لوگ دور کھڑے تھے وہ بھی قریب آ گئے۔ میں نے اپنے بابا اور حسنی کے بابا کو دیکھا جو ایک دوسرے سے تکرار کر رہے تھے۔ میں ہچکیاں لیتے ہوے بولا، “حسنی! حسنی!”
حسنی کا باپ جو ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوے تھا، پوچھنے لگا، “حسنی کو کیا ہوا؟ ہیں؟ کیا ہوا اسے؟”
میں نے کہا، “گر پڑا، گر پڑا۔۔۔۔” اور رونے لگا، سچ مچ رونے لگا، میرے آنسو خودبخود نکل کر چہرے پر بہنے لگے۔ حسنی کے بابا نے چیخ کر پوچھا، “کہاں گر پڑا؟ بول، میرا حسنی کہاں گر پڑا؟”
میں نے چیخ کر کہا، “کنویں میں۔۔۔کنویں میں گر پڑا۔”
پہلے تو سب لوگ ایک دم خاموش ہو گئے، پھر عجیب طرح کا ہمہمہ بلند ہوا۔ دور و نزدیک سے چیخنے چلّانے کی بکھری ہوئی آوازیں سنائی دینے لگیں۔”حسنی کنویں میں گر پڑا! حسنی کنویں میں گر پڑا!”
آدمیوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کریں۔ جو لوگ اب تک جھونپڑوں میں تھے، باہر نکل آئے۔ کچھ لوگ لالٹین لے آئے اور سب لپکتے ہوے مردے نہلانے کے گڑھے کی طرف چل دیے۔ میں زمین پر پھسکڑا مارے بیٹھا رو رہا تھا۔ میرے بابا نے جھک کر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھڑا کر دیا۔ بولا، “اٹھو، چل کر بتاؤ کون سے کنویں میں گرا ہے۔”
ہم دونوں بھی دوڑتے ہوے سب لوگوں کے پیچھے روانہ ہوے۔ ابھی سڑک سے آگے نہ نکلے تھے کہ کچھ لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور میرے اور بابا کے ساتھ ساتھ دوڑنے لگے۔ وہ دوڑتے ہوے پوچھتے جاتے تھے، “کون سا کنواں ہے؟ کون سے والے میں گرا ہے؟”
مردے نہلانے والے مکان کے گڑھے کے پاس سے گزر کر ہم کنووں کے پاس پہنچے۔ چاند اَور بلند ہو گیا تھا اور کنووں کے دائرے اَور زیادہ تاریک اور گہرے معلوم ہو رہے تھے۔ سب لوگ وہاں کھڑے تھے۔ حسنی کے بابا نے بید کی طرح لرزتے ہوے میرے کندھوں کو پکڑ لیا اور جھنجھوڑتے ہوے پوچھا، “کہاں ہے؟ کہاں ہے؟”
اور اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دوں، اس نے خود کو کوڑے کے ڈھیر پر گرا لیا اور اونچی آواز میں رونے لگا۔ دو تین آدمی اس کے پاس آ گئے اور عباس چرخی اسے تسلیاں دینے لگا کہ “گھبراؤ مت، ہم اسے ابھی باہر نکالے لیتے ہیں۔ کچھ نہیں ہوا، کوئی بات نہیں۔ روؤ مت۔ خود کو ہلاک مت کرو۔ ہم ابھی اسے تلاش کر لیں گے۔”
جب حسنی کا بابا چپ ہوا تو ایک اور ہمہمہ بلند ہوا۔ عورتیں روتی دھوتی آ پہنچیں اور ان میں آگے آگے حسنی کی اماں تھی۔ وہ اپنا سر اور منھ پیٹ رہی تھی اور رو رو کر پکار رہی تھی، “میرا حسنی، میرا حسنی، میرا حسنی، میرا حسنی!”
وہ کچھ اور بھی کہہ رہی تھی جو میری سمجھ میں نہ آیا۔ عباس چرخی آگے آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، “سنو بچے، بتاؤ کون سے کنویں میں گرا ہے؟”
میں نے کہا، “مجھے نہیں معلوم۔”
حسنی کا بابا میری طرف جھپٹا اور بولا، “حرامزادے! سچ سچ بتا کہ میرے بیٹے کا کیا ہوا؟”
قادر آقا نے اسے روکا اور کہا، “ذرا ٹھہرو، اسے سوچ کر بتانے دو۔”
میں ہچکیاں لے لے کر روتا رہا اور بولا، “حسنی کے بابا نے ہم دونوں کو پکڑ کر خوب مارا تھا اور۔۔۔”
حسنی کا بابا بولا، “اچھا اچھا، یہ بتا کہ وہ گرا کہاں ہے؟”
میرے بابا نے بھی کہا، “ہاں، جلدی بتاؤ۔”
عباس چرخی نے کہا، “ارے اسے کچھ بولنے تو دو۔ یہ کیا طریقہ ہے!”
میں نے کہا، “ہم دونوں بھاگ کر یہاں آ گئے۔ حسنی مجھ سے کافی آگے تھا۔ ہم دونوں دوڑتے ہوے جا رہے تھے۔ حسنی ڈر رہا تھا کہ اس کا بابا آ کر ہم دونوں کو پکڑ لے گا۔ وہ مجھ سے بہت تیز دوڑ رہا تھا۔۔۔ بہت تیز۔ میں نے مڑ کر دیکھا کہ اس کا بابا تو نہیں آ رہا ہے۔ کوئی نہیں آ رہا تھا۔ میں نے حسنی کو آواز دی: حسنی، ٹھہرو! ٹھہرو! کوئی نہیں آ رہا! وہ بیچ میں پہنچا تھا کہ ایک دم چیخ ماری اور کنویں میں گر گیا۔”
حسنی کے بابا نے پوچھا، “کہاں گرا تھا؟”
میں نے کہا، “میں تو سمجھا تھا زمین پر گرا ہے۔ میں نے ہر طرف آوازیں دیں۔ مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے ہر طرف ڈھونڈا۔ کہیں نہیں ملا۔”
حسنی کے بابا نے پھر دہاڑ کر پوچھا، “کون سے کنویں میں گرا تھا؟”
عباس چرخی غصے سے بولا، “اسے کیا پتا ہو گا کہ کون سے والے میں گرا ہے؟ ہمیں خود ہی ڈھونڈنا ہو گا۔”
پھر وہ باقی مردوں کی طرف منھ کر کے بولا، “چلو ڈھونڈنا شروع کریں۔ احتیاط سے کام لینا!”
جب وہ آگے بڑھے تو ان کی آوازیں تھم گئیں۔ کوئی رو نہیں رہا تھا، نہ کوئی چیخ چلّا رہا تھا۔ صرف حسنی کی اماں سسکیاں لے رہی تھی اور دوسری عورتیں اسے تسلیاں دے رہی تھیں۔ “روؤ مت بہن! خاموش رہو۔ ابھی یہ لوگ اسے ڈھونڈ کر باہر نکال لائیں گے۔”
ان میں سے کوئی مسلسل “شش! شش!” کی آوازیں نکال رہا تھا، جیسے حسنی سو رہا ہو اور اسے ڈر ہو کہ اس کی آنکھ نہ کھل جائے۔
سب لوگ کچھ کنووں کے پاس سے گزرے۔ پھر حسنی کے بابا نے گائے کی سی اونچی آواز میں اسے پکارا، “حسنی! حسنی!” وہ اس قدر غصے اور جھنجھلاہٹ میں تھا کہ اگر حسنی کنویں میں کھڑا ہوتا اور باہر نکل آتا تو یہ اسے پکڑ کر اس کی خوب ٹھکائی کرتا۔ عباس چرخی نے کہا، “خاموش رہو، خاموش رہو، ہمیں کام کرنے دو۔”
کوئی اندھیرے میں بولا، “رسی اور لالٹین کی ضرورت ہو گی۔ خالی ہاتھ تو کنویں میں اتر نہیں سکتے۔”
کچھ لوگ دوڑتے ہوے بستی کی طرف چل دیے اور دو آدمی لالٹینیں لے کر آگے بڑھ آئے۔ عباس چرخی نے ایک لالٹین ہاتھ میں لی اور کنویں کی منڈیر پر جھک کر اسے اندر لٹکایا۔ سب لوگ کنویں کے گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے۔ عباس آقا، جس کا سر ابھی کنویں کے اندر تھا، گھٹی ہوئی آواز میں بولا، “میرا خیال نہیں ہے کہ اس کنویں میں گرا ہو گا۔”
پھر وہ دوسرے کنویں کی طرف چل پڑا۔ اس دفعہ مسیّب نے جھک کر لالٹین کو کنویں میں لٹکایا اور آواز کو بساطیوں کی طرح کھینچ کر پکارا، “کہاں ہو بچے؟ کہاں ہو؟”
جواب میں کوئی آواز نہ آئی۔ پھر وہ تیسرے کنویں کے پاس پہنچے۔ اس کے بعد چوتھے کنویں پر۔ پھر پانچویں پر۔ پھر چھٹے پر۔ پھر ان کی دو ٹولیاں بن گئیں۔ دونوں ٹولیاں اسی طرح الگ الگ کنووں پر جا کر تلاش کرنے لگیں۔ پھر تین ٹولیاں ہو گئیں، چار ٹولیاں ہو گئیں۔ پھر اَور لالٹینیں آ گئیں۔ سات آٹھ دس لالٹینیں، اور بہت سی رسی۔ کچھ لوگ رسی میں گرہیں ڈالنے لگے۔ سب لوگ آگے ہی آگے بڑھتے گئے لیکن حسنی کہیں نہ ملا۔ ان سب پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی اور وہ زور زور سے باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک کنویں پر پہنچ کر کسی نے سب کو آواز دی۔ یہ عباس آقا تھا۔ سب لپک کر اس کے پاس پہنچے اور اسے گھیر لیا۔ عباس آقا گھبرائی ہوئی آواز میں بولا، “مجھے لگتا ہے اسی کنویں میں ہے۔ مجھے کچھ آواز آئی ہے۔ جیسے کوئی کنویں کی تہہ میں کھڑا رو رہا ہو۔”
سب نے دم سادھ لیا۔ کچھ لوگ کنویں کے اندر جھکے اور کان لگا کر سننے لگے۔ پھر بولے، “ہاں واقعی، اسی کنویں میں ہے۔”
حسنی کے بابا نے پھر چیخنا چلّانا شروع کر دیا۔ “جلدی کرو، جلدی کرو! میرے بچے کو یہاں سے باہر نکالو۔ میرے بچے کو باہر نکالو۔”
مسیّب بولا، “نیچے کون جائے گا؟”
قادر نے کہا، “ پرانا کنواں ہے۔شاید دیوار جھڑتی ہو۔”
حسنی کے بابا نے کہا، “نہیں نہیں، بخدا! نہیں جھڑے گی۔ اندر جاؤ، جا کر اسے نکال لاؤ!”
سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ عباس چرخی نے کہا، “کیا کوئی مرد نہیں؟ اچھا، میں خود جاتا ہوں۔ رسی اتارو۔”
عباس آقا کی بیوی عورتوں کے ہجوم میں سے چیخ کر بولی، “نہیں نہیں، تم نہیں اتر سکتے۔ تمھیں کنویں میں اترنا نہیں آتا!”
عباس آقا جھلا کر بولا، “چپ کر عورت! اپنے کام سے کام رکھ! میں نہیں دیکھ سکتا کہ اس کا بچہ اندر مر جائے۔”
عباس آقا کی بیوی بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھ آئی اور دوڑتی ہوئی اس سے لپٹ گئی۔ “نہیں نہیں، میں تمھیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔ نہیں جانے دوں گی۔”
عباس آقا نے اپنی بیوی کو ایک چانٹا رسید کیا اور بولا، “ہٹ یہاں سے دور ہو! کیسی عورت سے پالا پڑا ہے!”
اور پھر چلّا کر کہا، “رسی!”
رسی لائی گئی اور اسے کس کر عباس آقا کی کمر میں باندھ دیا گیا۔ پھر اس کی ایک ایک گرہ کو کھینچ کر دیکھا گیا۔ عباس آقا نے کہا، “احتیاط سے، کہیں بیچ میں چھوڑ نہ دینا۔”
کچھ لوگ بولے، “پریشان مت ہو۔ احتیاط سے کریں گے۔”
عباس آقا نے اترنے کے لیے تیار ہو کر لالٹین ہاتھ میں تھامی اور کنویں میں جھک کر تہہ کا جائزہ لیا۔ پھر لالٹین کسی اور کو پکڑا کر زور سے بسم اﷲ پڑھی۔ سب نے فوراً جواب میں صلوات پڑھی۔ حسنی کے بابا نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہا، “یا ارحم الراحمین! یا جدِ حسینِ مظلوم! یا جدِ فاطمہ زہرا! یا جدِ خدیجہ کبریٰ، میرے بچے کو بچا لیجیے! میرا حسنی زندہ نکل آئے!”
عباس آقا کنویں میں اترا اور دونوں کہنیاں کنویں کی منڈیر پر ٹیک کر بولا، “احتیاط سے کام لینا۔ رسی کو مضبوط پکڑنا۔ جب میں رسی کو جھٹکا دوں تو اوپر کھینچ لینا۔”
اس کی بیوی، جو ہمارے بالکل پیچھے کھڑی تھی، پھر زور زور سے رونے لگی۔ میری اماں اسے دلاسا دینے لگی۔ عباس آقا نیچے اتر گیا۔ رسی اسی طرح پانچ چھ لوگوں کی گرفت میں تھی جو اسے تھوڑا تھوڑا کر کے چھوڑ رہے تھے اور زیرلب کچھ بولتے بھی جا رہے تھے۔ حسنی کا بابا اپنے گرد چکر کاٹ رہا تھا اور ہونٹ دانتوں میں دبائے ہاتھ مل رہا تھا۔ وہ منھ ہی منھ میں کچھ بول رہا تھا اور خدا خدا کر رہا تھا۔ میرے ذہن سے بالکل فراموش ہو چکا تھا کہ حسنی بھٹے کی کوٹھڑی میں ہے۔ میرے دل میں کوئی کہہ رہا تھا کہ کاش حسنی اسی کنویں میں موجود ہو کہ عباس آقا خالی ہاتھ باہر نہ نکلے اور سب لوگ خوش ہو جائیں۔ کچھ وقت اسی طرح گزرا اور پھر میرے بابا نے، جو دوسرے لوگوں کے ساتھ رسی کو تھامے ہوے تھا، کہا، “اوپر کھینچو! اوپر کھینچو!”
رحمت نے پوچھا، “کیوں؟”
میرے بابا نے کہا، “دیکھتے نہیں رسی ہل رہی ہے، اندھے ہو کیا؟”
سب خاموش ہو گئے اور رسی کو اوپر کھینچنے لگے۔ حسنی کا بابا گردن اٹھا کر سب کے سروں کے اوپر سے دیکھ رہا تھا اور عباس آقا کے نمودار ہونے کا منتظر تھا۔ تب عباس آقا کے دونوں ہاتھ کنویں کی منڈیر کو پکڑتے دکھائی دیے۔ پھر اس نے کہنیاں ٹیکیں اور زور لگا کر اپنے جسم کو اوپر اٹھایا۔ زمین پر آ کر وہ سیدھا لیٹ گیا اور زور زور سے سانس لینے لگا۔ قادر نے پوچھا، “وہ اندر تھا؟ وہ اندر تھا؟”
حسنی کے بابا نے زور کی چیخ ماری اور رونے لگا۔ عباس آقا کروٹ لے کر آدھا اٹھ بیٹھا اور بولا، “لگتا تھا میرا دم گھٹ جائے گا۔”
قادر نے پوچھا، “مر گیا کیا؟”
عباس آقا نے کہا، “وہاں صرف ایک مرا ہوا کتا پڑا سڑ رہا تھا۔”
مسیّب نے کہا، “کہیں تمھیں مغالطہ نہ ہوا ہو۔”
عباس آقا بولا، “ابے احمق، کیا میں مرے ہوے کتے اور حسنی میں فرق نہیں کر سکتا؟”
وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی کمر میں بندھی ہوئی رسی کھول دی۔ پھر سب دوبارہ جتھا بنا کر اگلے کنویں کی طرف گئے۔ پھر اس سے اگلے کنویں پر، اور پھر اس سے اگلے پر۔ وہ پھر دو ٹولیوں میں بٹ گئے، پھر چار ٹولیوں میں، اور لالٹین ہاتھ میں لیے ہر کنویں میں جھک جھک کر حسنی کو پکارنے لگے۔ تب ہی میں چپکے سے کھسک کر جھونپڑوں کی طرف بھاگ پڑا۔ میں کونوں کھدروں میں اندھیرے کی اوٹ لے کر چل رہا تھا تاکہ کسی کو پتا نہ چلے۔ میں نے پمپ سے پانی پیا اور پھر ٹین کی دیوار کے پیچھے سے گزر کر اپنے جھونپڑے میں پہنچ گیا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ میں نے ایک نان اور ایک ٹوٹے ہوے دستے والا آبخورہ اٹھا لیا۔ پھر میں دوڑتا ہوا باہر نکلا، پمپ سے آبخورے میں پانی بھرا، مردے نہلانے والے گڑھے کے پاس سے گزر کر سڑک کے کنارے کنارے لمبا چکر کاٹتا ہوا حاج تیمور کے بھٹے پر نکلا اور اس کوٹھڑی پر پہنچا جہاں حسنی چھپا ہوا تھا۔ میں نے گردن اٹھا کر دبی ہوئی آواز میں اسے پکارا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ دوبارہ آواز دی۔ پھر جواب نہ آیا۔ میں نے اونچی آواز میں پکارا مگر کچھ نہیں۔ مجھ پر خوف چھا گیا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ شاید اسے پتا نہ چلا ہو کہ یہ میں ہوں، سو میں نے سیٹی بجانا شروع کیا — وہی خوش آواز سیٹی جس کے ذریعے میں اسے پیغام دیتا تھا کہ “حسنی، آ جاؤ، کام کا وقت ہو گیا۔” ایک دم مجھے اپنے سر کے اوپر حسنی کے سیٹی بجانے کی آواز سنائی دی۔ وہ کوٹھڑی کی چھت پر اوندھا لیٹا میری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا، “اے حسنی!”
بولا، “چپکے سے اوپر آ جاؤ۔”
میں نے آبخورہ اسے تھمایا اور اینٹوں والی دیوار کا سہارا لے کر اوپر پہنچ گیا۔ دونوں آہستہ آہستہ رینگتے ہوے آگے بڑھے اور بھٹے کی چمنی کے پاس جا بیٹھے۔ میں نے کہا، “تمھیں تو کوٹھڑی کے اندر چھپنا تھا۔”
وہ بولا، “یہ دیکھنے اوپر آیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔”
میں نے کہا، “تمھیں پتا ہے اگر وہ لوگ تمھیں دیکھ لیں تو کیا ہو گا؟”
بولا، “مشکل ہے۔ مجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔” یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگا۔
میں نے پوچھا، “ہنس کیوں رہے ہو؟”
بولا، “بابا کا سوچ کر ہنس رہا ہوں۔ اور باقی سب لوگوں کا۔ دیکھو ذرا، کیسے دوڑتے پھر رہے ہیں۔”
اس نے کنووں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ لوگ لالٹین اٹھائے کبھی ایک کنویں کے پاس جاتے کبھی دوسرے کے۔ کوئی ٹولی کسی ایک کنویں کے پاس جم کر رہ گئی تھی اور وہاں سے ہلتی ہی نہ تھی۔
میں نے کہا، “ہم نے اچھا نہیں کیا حسنی۔”
بولا، “کیوں؟”
میں نے کہا، “تمھارا بابا خود کو مارے ڈال رہا ہے۔ تمھیں پتا نہیں اس کا کتنا برا حال ہے۔”
بولا، “فکر مت کرو۔ وہ خود کو نہیں مارنے کا۔ اماں کیا کر رہی ہے؟”
میں نے کہا، “کیا کر رہی ہے؟ سر پیٹ پیٹ کر رو رہی ہے۔”
بولا، “رونے دو۔”
میں نے کہا، “تمھیں پتا ہے، عباس آقا کنویں میں اترا تھا، اور تمھاری جگہ ایک مرا ہوا کتا نکال کر لایا تھا۔”
حسنی بولا، “اپنے باپ کی لاش لایا ہو گا۔”
ہم دونوں ہنسنے لگے۔ پھر میں نے نان نکالی اور آدھی آدھی توڑ کر دونوں نے کھائی۔ مجھے پیاس نہیں لگی تھی، لیکن حسنی نے کچھ گھونٹ پیے۔ میں نے کہا، “کیا کہتے ہو، اب نیچے ان لوگوں کے پاس چلیں؟”
بولا، “کیا ہو گا؟”
میں نے کہا، “قصہ ختم ہو جائے گا۔ انھیں ایک ایک کنواں جھانکنا نہیں پڑے گا۔”
بولا، “ابھی سے؟ ابھی انھیں گھومنے دو۔”
میں نے کہا، “ان میں سے کوئی کنویں میں گر کر مر گیا تو؟”
بولا، “فکر مت کرو۔ یہ سب کتے کی اولاد ہیں۔ اتنی آسانی سے مرنے والے نہیں۔”
میں نے کہا، “لیکن ہم جو کر رہے ہیں وہ بہت برا ہے۔”
اس نے گردن موڑ کر مجھے غور سے دیکھا۔ بولا، “اور وہ جو ہماری ٹھکائی کرنے سے پہلے کھانا نہیں کھاتے، وہ اچھا کرتے ہیں؟”
میں نے کہا، “خدا کے لیے حسنی، اب بس کرو۔ چلو ان کے پاس چلتے ہیں۔”
وہ بولا، “ میں تو نہیں جانے کا۔”
میں نے پوچھا، “مگر کیوں؟”
بولا، “واپس جا کے کیا کہیں گے؟”
میں نے کہا، “کہہ دینا کہ شکرائی کے باغ میں پھل کھانے گیا تھا۔”
بولا، “پھر تو تمھارا جھوٹ پکڑا جائے گا۔”
میں نے کہا، “میں کہہ دوں گا، مجھے کیا پتا کہاں گیا، میں سمجھا تھا کنویں میں گر گیا۔”
بولا، “نہیں، وہ فوراً سمجھ جائیں گے، اور پھر ہماری شامت آ جائے گی۔”
میں نے کہا، “نہیں آئے گی، خدا کے لیے تم چلو۔”
بولا، “میں تو نہیں چلنے کا۔”
میں نے کہا، “تو ٹھیک ہے، میں جا کے بتا دیتا ہوں کہ حسنی کنویں میں نہیں گرا، حاج تیمور کی کوٹھڑی میں چھپا بیٹھا ہے۔”
اس نے گردن گھما کر مجھے بری طرح گھورا۔ “ٹھیک ہے۔ کہہ دو جا کے۔ اس کے بعد تم الگ اور میں الگ۔ پھر تمھیں میری شکل بھی نظر نہیں آئے گی۔”
میں نے پوچھا، “تو پھر کب واپس چلو گے؟”
بولا، “ختم والے دن۔ جس وقت میرے لیے قرآن ختم ہو رہا ہو گا، اس وقت ایک دم داخل ہو جاؤں گا۔ تب بڑا مزہ آئے گا۔”
میں نے کہا، “بکواس مت کرو۔ کیا مزہ آئے گا؟”
بولا، “پتا ہے، جس وقت وہ سب سینہ پیٹ پیٹ کر رو رہے ہوں گے، میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے بالکل بیچ میں پہنچ جاؤں گا اور زور سے سلام کروں گا۔ پہلے تو وہ سب بوکھلا جائیں گے، پھر ڈر جائیں گے۔ عورتیں چیخنے چلّانے لگیں گی۔ بچے بھاگ جائیں گے اور سوچیں گے کہ میں قبر سے نکل کر آیا ہوں۔ پھر جب وہ لوگ دیکھیں گے کہ میں سچ مچ زندہ ہوں، ہنس رہا ہوں، ہاتھ پیر ہلا رہا ہوں، تو سب کے سب خوش ہو جائیں گے۔ وہ ہوا میں چھلانگیں لگائیں گے، زمین پر گر جائیں گے، وہ مجھے لپٹا کر میرا منھ چومیں گے۔ تم کہتے ہو مزہ نہیں آئے گا؟ ہیں؟”
ہم نے پھر اپنی نظریں ان لوگوں پر جما دیں جو لالٹین ہاتھ میں لٹکائے کنووں کے درمیان اِدھر سے اُدھرگشت کر رہے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد مردوں اور عورتوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں نے کہا، “ٹھیک ہے، اب میں ان لوگوں کے پاس جاتا ہوں…”
وہ بولا، “ٹھیک ہے، مگر انھیں بتانا مت۔”
ہم چاروں ہاتھ پیروں پر رینگتے ہوے آگے بڑھے، دور دور تک غور سے دیکھا اور پھر نیچے اتر آئے۔ میں سڑک کے گرد لمبا چکر کاٹ کر مردے نہلانے کے گڑھے کے پاس سے گزرا اور پھر واپس اوپر کی طرف چلنے لگا۔ وہ سب اب تک ایک کنویں کے گرد دائرے میں جمع تھے۔ میں دوڑتا ہوا ان کے پاس جا پہنچا۔ میں نے اپنی اماں کو دیکھا جو سر پیٹ پیٹ کر اونچی آواز میں رو رہی تھی۔ مردوں نے رسی کو کنویں کی تہہ تک لٹکا رکھا تھا۔ میں لوگوں کی ٹانگوں میں سے نکل کر آگے کنویں کی منڈیر تک پہنچ گیا۔ وہاں میں نے عباس چرخی کو دیکھا جو کسی سے کہہ رہا تھا، “رسی ہلا رہا ہے۔ اوپر کھینچو، اوپر کھینچو!”
قادر نے پوچھا، “مگر کیوں؟”
عباس آقا نے کہا، “اندھے ہو کیا؟ دیکھتے نہیں رسی ہل رہی ہے؟”
سب خاموش ہو گئے اور رسی کو اوپر کھینچنے لگے۔حسنی کا بابا، جو میرے سر کے بالکل پیچھے کھڑا تھا، مسلسل سینہ پیٹتے ہوے کہہ رہا تھا، “یا خدیجہ کبریٰ، یا امام مصطفیٰ، یا غریب الغربا، یا سیدالشہدا۔”
تب میں نے اپنے بابا کو کنویں کی منڈیر پر کہنیاں ٹیک کر باہر نکلتے دیکھا۔وہ سر سے پیر تک سیاہ ہو چکا تھا اور زور زور سے ہانپ رہا تھا۔ عباس آقا نے کہا، “لیٹ جاؤ، لیٹ جاؤ، اور لمبے لمبے سانس لو۔”
کچھ لوگوں نے بابا کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے زمین پر لٹا دیا۔
2
صبح ہوئی تو کوئی کام پر نہ گیا۔ سب بری طرح تھک کر اپنے اپنے جھونپڑے کو لوٹ گئے۔ حسنی انھیں نہیں ملا تھا۔ عباس آقا نے کہا تھا، “کوئی فائدہ نہیں۔ سارے کنووں میں نہیں ڈھونڈ سکتے۔”
وہ ان زیادہ گہرے کنووں پر پہنچ گئے تھے جو نیچے تہہ میں ایک دوسرے سے ملے ہوے تھے اور ان میں گندا پانی بہہ رہا تھا۔ان کنووں کے اندھیرے میں عجیب عجیب چیزیں دکھائی دیتی تھیں۔ اُستا حبیب کے سامنے اچانک گائے کے قد کا ایک جانور آ گیا تھا جس کی چار پانچ دُمیں تھیں اور جبڑوں میں ایک مرے ہوے آدمی کا سر لیے وہ اِدھر اُدھر چل پھر رہا تھا۔ سید کو کچھ ننگے اور کچھ اونی لباس پہنے لوگ دکھائی دیے تھے جو کنویں کی دیوار سے لگے کھڑے تھے۔ اسے دیکھتے ہی وہ لوگ گندے پانی میں کود کر غائب ہو گئے تھے۔ میر جلال نے اپنی آنکھوں سے بڑے بڑے کالے پر دیکھے تھے جو اِدھر سے اُدھر اڑتے پھر رہے تھے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ کنویں کی تہہ سے عجیب و غریب آوازیں سنائی دیتی ہیں، جیسے بلیاں رو رہی ہوں اور نظر نہ آنے والی عورتیں قہقہے لگا رہی ہوں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے سَنج اور شِیپور کی آوازیں بھی سنیں، جیسی عاشورے کے دنوں میں نکلتی ہیں۔ انھیں اپنی پشت سے نوحے پڑھے جانے اور لوگوں کے گریہ کرنے کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ عباس آقا نے کہہ دیا کہ اب کچھ فائدہ نہیں، دوڑ دھوپ سے کچھ نہیں ہو گا اور حسنی اب نہیں ملے گا۔ تب وہ سب، تھکن اور نیند سے چور، بستی کی طرف لوٹ آئے تھے اور اب سو رہے تھے۔ صرف حسنی کا بابا اب تک نہیں سویا تھا اور جھونپڑوں کے درمیان متواتر اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا اور اپنے سر کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے جھٹکتا جا رہا تھا۔ وہ رنج سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارتا اور کہتا، “دیکھا کیا ہوا! دیکھا میرا بچہ کیسے ہاتھ سے جاتا رہا! کیسے جوانی میں مر گیا!”
حسنی کے بابا کا رونا چلّانا اب تھم چکا تھا۔ اس کے بجاے اب اس کا دھیان عجیب و غریب چیزوں سے الجھ رہا تھا۔ جھونپڑوں کی چھتیں، مقبروں کے تاریک دروازے، دیوار کے ساتھ لگی ڈھکے ہوے پیپوں کی قطاریں، جھونپڑوں کے آگے لٹکے ٹاٹ کے پردوں پر پڑے دھبے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ رک کر زمین سے کوئی بیکار سی چیز اٹھا لیتا — ٹین کا ٹکڑا، یا ٹوٹی ہوئی پیالی، یا گھسا ہوا جوتا — اور کچھ دیر اس سے کھیلنے کے بعد اسے دور اچھال کر کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ وہ زیرلب بڑبڑاتا جا رہا تھا، “اب اسے کیڑے کھا رہے ہیں۔ سب ختم ہو گیا۔ میرا حسنی چلا گیا۔”
میں کئی بار اس کے پاس سے گزرا۔ اس کی حالت وہی رہی۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا، یا دیکھا تو مجھ پر توجہ نہیں دی۔ کچھ دیر بعد مجھے اچانک یاد آیا کہ حسنی بھوکا ہو گا اور میرا انتظار کر رہا ہو گا۔ میں سیدھا اپنے جھونپڑے پر پہنچا۔ سب سو رہے تھے۔ میرا بابا نیند میں لڑھک کر ایک طرف کو ہو گیا تھا اور اس کے مٹی میں سَنے پیر باہر کو نکلے ہوے تھے۔ میں نے ایک نان اور مٹھی بھر شکر لی اور باہر نکل آیا۔ ہر طرف سناٹا اور ویرانی تھی۔ حسنی کا بابا ایک مکان کے پیچھے کھڑا تھا اور دیوار پر ناخن سے کھرچ کر کچھ لکھ رہا تھا۔ سورج چڑھ آیا تھا اور روشنی ہر طرف پھیل گئی تھی۔ پمپ کے پاس پہنچ کر میں نے پانی پیا۔دور دور تک کوئی نہ تھا۔ میں مردے نہلانے والے کوڑے کے گڑھے میں اترا اور دوسری طرف نکل کر حاج تیمور کے بھٹے میں پہنچا اور اس کوٹھڑی کی طرف چلا جہاں مجھے معلوم تھا حسنی میرے انتظار میں بیٹھا ہے۔ وہ سو رہا تھا۔ جب میں نے آواز دی تو چونک کر اٹھ گیا اور گھبرا کر کہنے لگا، “کون ہے؟ کون ہے؟”
میں نے کہا، “ڈرو مت۔ میں ہوں میں۔”
وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آنکھوں کے گرد گڑھے تھے اور ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ میں نے پوچھا، “کیا ہوا؟ ٹھیک تو ہو؟”
بولا، “میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں کنویں میں گر گیا ہوں اور باہر نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہوں مگر نکل نہیں پاتا۔”
میں نے کہا، “تمھارا اپنا قصور ہے۔ تم ہی یہ کھیل کھیلنا چاہتے تھے۔ تمھارے بابا کا دماغ چل گیا ہے۔”
وہ کچھ نہ بولا اور خود کو گھسیٹتا ہوا کوٹھڑی سے باہر لے گیا۔ ہم دونوں دھوپ میں بیٹھ گئے۔ میں نے نان اور مٹھی بھر شکر اسے دے دی۔ پانی ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے آبخورہ اٹھا کر چند گھونٹ بھرے اور تھوڑا سا پانی لے کر منھ پر چھینٹے مارے۔ جب اس کا حال کچھ ٹھکانے پر آیا تو مجھ سے پوچھنے لگا، “کیا ہوا؟”
میں نے کہا، “سب کو یقین ہو گیا ہے کہ تم مر چکے ہو۔”
بولا، “تم نے کیا کیا؟”
میں نے کہا، “میں نے کچھ نہیں کیا۔ کسی سے نہیں کہا۔”
کہنے لگا، “اب وہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں؟”
میں نے کہا، “ابھی کچھ طے نہیں ہوا کہ کیا کریں گے۔”
اس نے پوچھا، “میرے لیے قرآن ختم نہیں کرائیں گے؟”
میں نے کہا، “پتا نہیں۔ “
بولا، “میرا خیال ہے آج سہ پہر کو کرائیں گے۔”
میں نے پوچھا، “تمھیں کیسے پتا ہے؟”
بولا، “یاد نہیں جب بی بی کا پوتا مرا تھا تو اگلے دن ختم کرایا تھا؟”
میں نے کہا، “اگر ایسا ہے تو آج کا دن تمھارا ہے۔”
بولا، “ہاں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔ اب مجھ میں اور حوصلہ نہیں۔”
میں نے کہا، “انشاء اﷲ ایسا ہی ہو گا۔”
کہنے لگا، “کہیں بھول نہ جانا۔ فوراً مجھے آ کر بتانا۔”
میں نے کہا، “نہیں، بھول کیسے جاؤں گا؟ لیکن تم زبردست ٹھکائی کے لیے تیار رہنا۔”
بولا، “ٹھکائی نہیں ہو گی۔ سب لوگ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔”
میں نے کہا، “تم یہی سمجھتے رہو۔ اصل بات تو شام کو معلوم ہو گی۔”
بولا، “شرط لگاتے ہو؟”
میں نے پوچھا، “کیسی شرط؟”
بولا، “اگر مجھے دیکھ کر غصے میں آ گئے کہ میں زندہ کیوں ہوں، مرا کیوں نہیں، اور میری پٹائی شروع کر دی تو تم جیتے، اور اگر مجھے دیکھ کر خوش ہوے تو میں جیتا۔ پھر تمھیں میرے ہاتھ سے پٹائی نوش جان کرنی ہو گی۔”
میں نے کہا، “بہت خوب! میں تمھارے لیے اتنی مصیبت اٹھا رہا ہوں، اور تم میری پٹائی کرو گے؟”
ہنسنے لگا۔ بولا، “مذاق کر رہا تھا۔ تمھیں آئس کریم خرید کے کھلاؤں گا۔”
میں نے کہا، “ہاں، یہ ٹھیک ہے۔”
اس نے نان کا ایک لقمہ توڑ کر منھ میں رکھا اور بولا، “اب کیا کریں؟”
میں نے کہا، “کچھ نہیں۔ تم جا کے کوٹھڑی میں چھپو اور میں بستی میں جا کے دیکھتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے۔”
بولا، “اگر سہ پہر کو ختم قران کی ٹھہرے تو مجھے آ کے بتاؤ گے نا؟”
میںنے کہا، “ہاں بتاؤں گا۔”
اور سہ پہر ہی کو ختم قرآن ہونا طے ہوا۔ حسنی کی فاتحہ۔ جھونپڑوں کے سامنے۔ عباس آقانے ایک بانس پر کالا کپڑا باندھ کر اسے میدان کے سرے پر گاڑ دیا تھا۔ سب گھروں سے باہر نکل کر زمین پر بیٹھ گئے۔ عورتیں ایک طرف اور مرد دوسری طرف۔ دوسری بستیوں میں بھی اطلاع پہنچ گئی تھی اور لوگ ٹولیوں میں آ رہے تھے۔ یوسف شاہ کی گھاٹی، سرپیچ، شمس آباد کے بھٹے، شترخون اور ملا احمد کی بستی، ہر جگہ سے۔ وہ سب انجانے لوگ تھے، طرح طرح کے کپڑے پہنے تھے۔ جوں ہی کوئی ٹولی میدان میں پہنچتی، عورتیں حسنی کی اماں کے پاس چلی جاتیں جو کھرچے ہوے خون آلود چہرے کے ساتھ اپنے جھونپڑے کے سامنے بیٹھی تھی۔ وہ اب رو نہیں رہی تھی، بس سر کو اِدھر اُدھر ہلاتی اور سینہ پیٹتی جاتی تھی۔ عورتیں اس کے سامنے پہنچتے ہی رونے اور اپنا سر اور منھ پیٹنے لگتیں اور کہتیں، “خواہر جان، خواہر جان، یہ تم پر کیا افتاد پڑی!”
حسنی کا بابا ہمارے جھونپڑے کے سامنے بیٹھا تھا۔ بلکہ بیٹھا کیا تھا، زمین پر پڑا ہوا تھا۔ مبہوت سا اپنے سامنے تکے جا رہا تھا۔ ہر نئے آنے والے کو جیسے ہی پتا چلتا کہ مرنے والے کا باپ کون ہے، وہ اس کے پاس جا کر سلام کرتا۔ کوئی جواب سنے بغیر آنے والا ایک کونے میں بیٹھ جاتا۔ عباس آقا جوکھڑا ہوا تھا، اونچی آواز میں کہتا، “فاتحہ!”
مرد لوگ فاتحہ پڑھنے لگتے۔ اُستا حبیب ہاتھ میں پانی کا برتن لیے لوگوں میں گھومتا اور پیاسوں کو پانی پلاتا پھر رہا تھا۔ دو بوڑھے آدمی جو غریبا کی گھاٹی سے تمباکو کا بڑا سا تھیلا لے کرآئے تھے، جلدی جلدی اخبار کے کاغذ پھاڑ پھاڑ کر سگریٹ بناتے اور انھیں سینی میں رکھتے جا رہے تھے۔ اور بی بی کا بڑا بیٹا رمضان سینی اٹھائے لوگوں کو سگریٹ پیش کر رہا تھا۔ سب لوگ سگریٹ اور پانی پی رہے تھے، سواے حسنی کے بابا کے، جو نہ سگریٹ پی رہا تھا نہ پانی، بس تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتا اور کبھی کبھی زمین کی طرف منھ کر کے تھوکتا تھا۔
کوئی گھنٹہ بھر گزرا ہو گا کہ سڑک کی سمت سے کچھ لوگ تیزتیز آتے دکھائی دیے۔سب گردن پھیر کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔ عباس آقا نے زور سے کہا، “پیروں کی گھاٹی سے کالے خیموں والے آئے ہیں۔ جاؤ، انھیں یہاں لے آؤ۔”
کئی لوگ ان کی پیشوائی کو آگے بڑھے۔ کالے خیموں والے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ دوڑتے لپکتے آ پہنچے۔ ان میں سے بہت سوں کے ہاتھوں میں علَم تھے۔ وہ ان سب کے آگے آگے چیتھڑے لگے کپڑے پہنے، غم اور پریشانی کی حالت میں سینہ زنی کرتے دوڑ رہے تھے۔ ان کے وسط میں ایک دبلاپتلا، لمبی گردن اور اونچے عمامے والا آخوند تھا۔ عورتیں دستے کے آخر میں تھیں، پابرہنہ اور خاک آلودہ۔ جب وہ لوگ چھوٹے میدان کے بیچ میں پہنچے تو صلوات کی آوازیں بلند ہوئیں۔عورتیں اورمرد الگ الگ ہو گئے۔ عورتیں چیخیں مارتی ہوئی حسنی کی اماں کی طرف چلی گئیں اور مرد آگے بڑھ آئے۔ بوڑھوں نے حسنی کے بابا کو سلام کیا۔ حسنی کے بابا نے جواب نہ دیا۔ علمداروں نے علم بچوں کے حوالے کیے اور بچے انھیں لے کر بڑوں کی پشت پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ تب آخوند جا کر ہمارے جھونپڑے کے باہر لگے پتھر پر بیٹھ گیا۔ اسمٰعیل آقا نے اونچی آواز میں کہا، “صلوات بھیجو! بلند آواز میں صلوات بھیجو!”
سب نے صلوات بھیجی۔ آخوند بھرائی، بیٹھی ہوئی آواز میں بولا، “بیٹھ جائیں، سب لوگ بیٹھ جائیں تاکہ ایک معصوم اور بیچارے نوجوان کی عزا میں روضہ ٔقاسم پڑھیں اور گریہ کریں۔”
پہلے اس نے کچھ عجیب و غریب دعائیں پڑھیں اور پھر روضہ خوانی شروع کی۔ اسی وقت گریہ وزاری کی صدا بلند ہوئی۔ سب رو رہے تھے۔ مرد رو رہے تھے، عورتیں رو رہی تھیں، بچے رو رہے تھے۔ یہاں تک کہ میں بھی رو رہا تھا۔ صرف حسنی کا بابا تھا جو نہیں رو رہا تھا۔ صرف پہلو بدل رہا تھا اور خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔ گریہ کرنے کی آوازیں جیسے جیسے بلند ہوتی گئیں، کالے خیموں والے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے سینے کھول دیے۔ آخوند بھی کھڑا ہو گیا اور اس نے بھی اپنا سینہ کھول دیا، اور اَور بھی زیادہ اونچی آواز میں بولا، “آؤ اب سید الشہدا کی اور اس بے گناہ نوجوان کی شادی میں سینہ زنی کریں۔”
یہ کہہ کر اس نے نوحہ پڑھنا شروع کیا۔ کالے خیموں والے ماتم کرنے لگے۔ دوسرے مرد بھی کھڑے ہو گئے اور اپنے سینے کھول کر ماتم کرنے لگے۔ عورتوں کی چیخ پکار میں اور زیادہ شدت آ گئی اور وہ ایک دوسرے کو لپٹا لپٹا کر زور زور سے رونے لگیں۔ مجھے اچانک خیال آیا کہ یہی وقت ہے۔ یہی وقت ہے کہ مجھے جاکر حسنی کو خبر کرنی چاہیے۔ مجھ پر کسی کی توجہ نہ تھی۔ کسی کی کسی پر بھی توجہ نہ تھی۔ میں چپکے سے وہاں سے نکل آیا۔ پہلے تو الٹے قدموں چلتا رہا، پھر مڑا اور آنکھوں سے آنسو پونچھتا ہوا تیزی سے چلنے لگا۔ پمپ پر پہنچ کر میں نے تھوڑا سا پانی پیا اور مردے نہلانے کے گڑھے میں اتر کر دوسری طرف پہنچ گیا۔ وہاں دور دور تک کوئی نہ تھا۔ تب میں نے دوڑنا شروع کر دیا۔ میں نے ہوا کی رفتار سے کنووں والے احاطے کا چکر لگایا اور آگے بڑھا۔ میرے حواس ٹھکانے نہ تھے۔ سر سے پیر تک پسینہ بہہ رہا تھا۔ اسی حالت میں دوڑتا ہوا میں حاج تیمور کے بھٹے میں پہنچا اور چکر لگا کر پیچھے کی کوٹھڑی کے سامنے آ گیا۔ حسنی کوٹھڑی کی چھت پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔ فوراً اٹھ کر نیچے آیا اور پوچھنے لگا، “کیا خبر ہے؟”
میں نے کہا، “تمھارا ختم ہو رہا ہے۔”
اس نے پوچھا، “کیا کر رہے ہیں وہ لوگ؟”
میں نے کہا، “ساری بستیوں اور گھاٹیوں سے لوگ آ گئے ہیں اور تمھارا ماتم کر رہے ہیں۔”
وہ کچھ دیر مجھے تکتا رہا۔ پھر بولا،’ ’تم کس لیے رو رہے ہو؟”
میں نے کہا، “تمھارے لیے۔”
بولا، “عجیب گدھے ہو! تمھیں تو پتا ہے کہ میں زندہ ہوں، مرا نہیں!”
میں نے کہا، “یہ سب اس آخوند کا قصور ہے جسے کالے خیموں والے لائے ہیں۔ اس نے سب کو رُلا دیا۔”
اس نے خوش ہو کر ہاتھوں کو آپس میں رگڑا اور کہا، “تو اب ٹھیک وقت ہے، ہے نا؟”
میں نے کہا، “ہاں تو۔ میرا خیال ہے یہی ٹھیک وقت ہے۔”
بولا، “اب دیکھتے ہیں کون شرط جیتتا ہے۔”
میں نے کہا، “خدا کرے تم ہی جیت جاؤ۔”
وہ ہنسنے لگا اور زور سے بولا، “تو چلو پھر، بھاگو!”
وہ فوراً اپنی جگہ سے دوڑ پڑا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ ہم دونوں دوڑ رہے تھے لیکن حسنی تو بالکل ہوا کی مانند اڑ رہا تھا۔ کوئی بھی اسے پکڑنا چاہتا تو نہ پکڑ سکتا۔ میں نے دو ایک بار اسے پکارا، “حسنی! حسنی!”
اور حسنی نے جواب دیا، “ہوہو! ۔۔۔ ہوہو!”
کہ اچانک، ایک دم پتا نہیں کیا ہوا… مجھے بالکل پتا نہیں کیا ہوا۔۔۔ کس طرح کہوں کہ کیا ہوا۔۔۔ کہ اچانک حسنی کا پیر کسی چیز میں پڑ کر رپٹا اور وہ سیدھا، بالکل سیدھا، کنویں میں جا گرا۔ میں نے سوچا، یعنی یہ نہیں سوچا کہ حسنی کنویں میں گرا ہے، بلکہ یہ سوچا کہ وہ زمین پر گرا ہے۔ میں آگے دوڑا۔ حسنی کہیں نہیں تھا۔ حسنی کنویں میں گر پڑا تھا۔ ایک بہت بڑے کنویں میں… اس کنویں میں جو سب کنووں سے بڑا تھا۔ میری زبان بند ہو گئی۔ میرے ہونٹ سل گئے۔ میں چاہتا تھا کہ زور سے چیخوں، چیخ کر کہوں: “حسنی!” مگر نہ چیخ سکا۔ میری آواز ہی نہ نکلی۔ منھ ہی نہ کھلا۔ میں نے بہت زور لگایا لیکن منھ سے حسنی کا نام ہی نہ نکلا۔ میں گھورے پر بیٹھ گیا اور اپنے دونوں کندھے زور سے پکڑ لیے۔ میرا سانس ہی رک گیا تھا۔ میں نے دو تین بار کوڑے کے ڈھیر پر اپنا سر مارا۔ پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ بلکہ خود کھڑا نہیں ہوا، گویا کسی چیز نے مجھے اٹھا کر پیروں پر کھڑا کر دیا۔ میں نے دوبارہ دوڑنا شروع کیا، ہمیشہ سے کہیں زیادہ تیز۔ حسنی سے بھی زیادہ تیز۔ میرا دل کرتا تھا، اُڑ کر کسی کنویں میں جا گروں۔ اسی وقت میں نے دیکھا کہ میں سڑک پر پہنچ گیا ہوں۔ پمپ کے پاس پہنچ کر میں نے سانس درست کیا۔ تب میری زبان کھلی اور میرے منھ سے نکلا، “ حسنی! حسنی ! حسنی!”
جس وقت میں میدان میں پہنچا، سینہ زنی ختم ہو چکی تھی۔ سب لوگ دائرہ بنائے خاموش بیٹھے تھے۔ رمضان لوگوں میں سگریٹ تقسیم کر رہا تھا اور اُستا حبیب پانی کا برتن اٹھائے اِدھر اُدھر آ جا رہا تھا۔ میں نے اونچی آواز میں چیخ کر کہا، “ حسنی! حسنی ! حسنی!” میں نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے سر پر ماریں اور زمین پر گر پڑا۔ سب لوگ اٹھ کر میرے گرد جمع ہو گئے۔ عباس آقا نے، جو سب کے آگے چلتا ہوا میرے قریب پہنچ گیا تھا، میرا ہاتھ پکڑ لیا کہ میں خود کو نہ مار سکوں۔ اس نے پوچھا، “کیا ہوا؟ کیا ہوا؟”
میں نے چیخ کر کہا، “حسنی! حسنی کنویں میں گر پڑا!”
یہ کہہ کر میں زمین پر اوندھا ہو گیا اور مٹھیوں سے مٹی پکڑ لی۔ ہر طرف ایک ہمہمہ بلند ہوا۔ سب مجھے تسلیاں دیتے ہوے کہہ رہے تھے، “اچھا، اچھا، خدا رحمت کرے، تم خود کو زخمی مت کرو! صبر کرو!”
میرا بابا لوگوں کو ہٹاتا ہوا آگے آیا اور بولا، “چپ ہو جاؤ بچے! اس کے ماں باپ کے غم کو تازہ مت کرو!”
میں نے کہا، “گر پڑا! میری آنکھوں کے سامنے کنویں میں گر پڑا!”
بابا نے چیخ کر کہا، “میں کہتا ہوں چپ ہو جا! خاموش ہو جا گدھے کے بچے!”
میں اس سے بھی اونچی آواز میں چیخ کر بولا،”بخدا وہ کنویں میں گر پڑا! ابھی ابھی! ابھی گرا ہے!”
بابا نے مجھے سہارا دے کر کھڑا کیا اور ایک زوردار تھپڑ لگایا۔ اسمٰعیل آقا نے بابا کو ہاتھ پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا اور کہا، “مت مارو احمق آدمی! دیکھتے نہیں اس کا کیا حال ہو رہا ہے؟”
پھر اس نے مجھے سینے سے لگا کر کہا، “صبر کرو، صبر کرو!”
استا حبیب نے اسمٰعیل کو پانی دیا اور اسمٰعیل آقا نے پانی لے کر میرے منھ پر چھینٹے مارے۔ میں نے خود کو اس کے بازوؤں سے چھڑانے کے لیے بہت زور لگایا لیکن نہ چھڑا سکا۔ کچھ لوگ اور بھی زور لگا رہے تھے کہ میں بھاگ نہ نکلوں۔ میں نے ایک بار پھر اونچی آواز میں چیخ کر کہا، “حسنی گر پڑا! کنویں میں گر پڑا! حسنی! حسنی ! “ اسمٰعیل آقا نے اپنا بڑا سا ہاتھ میرے منھ پر رکھ کر مجھے چپ کرا دیا اور کھینچتا ہوا میرے جھونپڑے میں لے گیا۔ حسنی کے بابا کے سامنے سے گزرتے ہوے میں نے اس کی طرف دیکھا اور ہاتھ سے کنویں کی سمت اشارہ کیا۔ اس نے میری طرف نہ دیکھا۔ خالی نظروں سے اپنے سامنے تکتا رہا۔ جب میں جھونپڑے میں داخل ہوا تو اسمٰعیل آقا نے کہا، “چپ ہو جاؤ بچے! سب جانتے ہیں کہ حسنی تمھارا دوست تھا۔ تم دونوں میں بہت یاری تھی۔ مگر اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ قضا اور قدر کے فیصلوں میں کسی کا کیا زور۔”
میں نے ایک بار پھر چیخ کر کہا، “ابھی گرا ہے! ابھی گرا ہے! ابھی گرا ہے!”
میں چاہتا تھا کہ دوڑ کر جھونپڑے سے باہر نکل جاؤں مگر نہ کر سکا۔ بابا نے کہا، “اب کیا کر سکتے ہیں؟ بولو؟ کیا کر سکتے ہیں؟”
اسمٰعیل آقا نے کہا،”یہ اپنے ہوش میں نہیں ہے۔ ہاتھ پیر باندھ دینے چاہییں۔”
انھوں نے میرے ہاتھ پیر کس کر باندھ دیے۔ میں نے پھر چیخنا شروع کیا۔ بابا نے کہا، “اس کے چیخنے کا کیا علاج کریں؟”
اسمٰعیل آقا نے کہا، “منھ بھی باندھ دیتے ہیں۔”
میرے منھ پر بھی کپڑا باندھ کر مجھے ایک کونے میں ڈال دیا گیا۔ بابا ہاتھ مل رہا تھا اور کہتا جا رہا تھا، “کیا کریں، خدایا! خداوندا، اگر یہ اسی طرح رہا تو کیا کریں گے!”
اسمٰعیل آقا نے کہا، “پریشان مت ہو۔ ابھی کالے خیموں والے آخوند سے کہتے ہیں کہ اس کے لیے دعا لکھ دے۔ پھر اس کی حالت ٹھیک ہو جائے گی۔”
اُستا حبیب بولا، “اگر ٹھیک نہ ہوا تو شاہ عبدالعظیم لے چلیں گے۔”
بابا متواتر رو رہا تھا اور بے چینی سے چکر لگاتے ہوے کہے جا رہا تھا، “یا امامِ زماں! یا امامِ زماں! یا امامِ زماں!”
اسمٰعیل آقا نے کہا، “بہتر ہے اسے کچھ دیر کے لیے تنہا چھوڑ دیں۔ شاید حالت بہتر ہو جائے۔”
وہ سب جھونپڑے سے باہر چلے گئے اور دروازہ بند کر دیا۔ جماعت کے صلوات پڑھنے کی آواز دوبارہ بلند ہوئی۔ اور پھر آخوند کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی جو دوبارہ روضہ ٔ قاسم پڑھ رہا تھا۔
(فارسی عنوان: “بازی تمام شد”)
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب پیچھے رہنے سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ اپنی ہی بات پر بے سود اڑے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا۔ فلمی دنیا میں بولتی فلموں کے وجود کو قبول کرنےکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بولتی فلموں کے مقبول ہونے کے دو کارن تھے۔ پہلا تھا ہمارے دیس میں بےانتہا ناخواندگی۔ ان دنوں ممکنہ طورپراسّی نوےفیصد لوگ ان پڑھ تھے۔ خاموش فلموں میں مکالموں کی جو تختیاں دکھائی جاتی تھیں،اَن پڑھ عوام انہیں پڑھ نہیں پاتی تھی۔اس لئے وہ خاموش فلموں کا آدھےسےزیادہ لطف نہیں لےپاتی تھی۔ اس کے برعکس بولتی فلموں کے سبھی مکالمےسیدھاسنائی دینےکی بدولت وہی اَن پڑھ عوام بولتی فلموں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہوتی تھی۔ اس کےعلاوہ بولتی فلموں میں دوسرا چارم تھا سنگیت کا۔ سنگیت بھارتی جیون کے ساتھ اس طرح گُھلا ہے کہ گھر گھر میں جنم سے لےکرموت تک ہر موقع پر گائے جانے والے گیت ہر صوبےکی زبان میں ہوتےہیں۔ خوشی کے موقع پر تو گانےاور ناچنے کا انعقاد بھارتی ثقافت کی رِیت رہا ہے۔ لہذاہم نے بھی اپنی فلموں کو ‘آواز’ دینے کا فیصلہ کیا۔
ایک بار فیصلہ کر لینے کے بعد پھر تاخیر کرنا ہمیں پسند نہیں تھا۔ہم نےفوراًاپنے ڈسٹری بیوٹرزسے کہا اورامریکہ سےطرح طرح کی ساؤنڈ مشینوں کی معلومات منگوالیں۔ بھارت میں جو پہلی بولتی فلم ‘عالم آرا’ بنائی گئی تھی، اس میں اوردیگر بولتی فلموں میں بھی، منظر فلمانےکے کیمرے میں ہی فلم کے ایک کنارے پر ساؤنڈ ریکارڈربھی ہوتا تھا۔ لہذا بولنے والوں کے ہونٹوں کی حرکات کے ساتھ ہی ان کی آواز بھی بے عیب میل کھاتی تھی۔اس میں کوئی غلطی نہیں ہو پاتی تھی۔ لیکن اس میں ایک خرابی یہ تھی کہ ایڈیٹرکو پوری آزادی نہیں مل پاتی تھی۔ ہم نے سوچا کہ اچھا ہواگر ساؤنڈریکارڈ کا انتظام کیمرے میں ہی نہ ہو،الگ ہو۔ شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈ الگ الگ فلموں پر کیا جائے تاکہ ڈائریکشن اورایڈیٹنگ میں کافی آزادی مل سکے۔ اسی لئے ہم لوگوں نے طے کیا کہ ساؤنڈ ریکارڈنگ کی آزاد سہولت والی’آڈیو کمیکس’ نامی مشین منگوائی جائے۔ اس نظام میں سہولت یہ تھی کہ ساؤنڈ ریکارڈر اورکیمرہ ایک ہی ساتھ، ایک ہی رفتار میں چلائے جا سکتے تھے اور اس طرح دوگنی رفتار یعنی اِنٹرلاک موٹرزہمیں دستیاب ہوتے تھے۔
داملے ممبئی گئے۔ وہاں انہوں نے آڈیو کیمیکس ساؤنڈ ریکارڈر کے بارےمیں باریکی سےپوچھا اور ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکرسے ساری مشینری امریکہ سے منگوانے کے لیے کہا۔ وہ مشینری جہاز کے ذریعے بھارت میں آنے میں چار مہینے لگنے والےتھے، خوش قسمتی سے اسی وقت کولہاپورمیں بجلی آ گئی، شہرکی مخصوص امیر بستیوں میں اورہائی وے پر بجلی کے دیپ روشن ہوگئےتھے۔ ہمارانیا کیمرہ اور ساؤنڈ ریکارڈر چلانے کے لیے ضروری بجلی بالکل صحیح وقت پر دستیاب ہو گئی تھی۔
اب تو کمپنی کا کام کافی بڑھ گیا تھا۔ پرانا ٹھکانہ اب ناکافی ہونے لگاتھا۔ وہ مقام بھی کولہاپور کی بیچ کی بستی میں تھا۔ وہاں ہمیشہ شوروغل ہوتا ہی رہتاتھا۔ اب ہمیں بولتی فلموں کو فلمانا تھا۔ یعنی کرداروں کے مکالمےاورگانے بھی ریکارڈ کرنے تھے۔ لہذافلمانے کے لئے شانت احاطے کی ضرورت تھی۔
مہاراشٹر فلم کمپنی کی پہلی ساجھےدارشریمنت تانی بائی کاگلکرکےگاؤں کےباہر کافی بڑے احاطے والا ایک بنگلہ تھا۔ ہمیں وہ ہرنقطہ نظر سے بہت ہی با سہولت لگا۔ اس بیچ تانی بائی نے مہاراشٹر فلم کمپنی سے اپنی ساجھےداری ہٹا لی تھی۔ پھر وہ ہمارے کیشوراؤ دھایبرکی نزدیکی رشتےدار بھی تھیں۔ نتیجتا ًوہ جگہ ہمیں مناسب کرائے پر مل گئی۔
فوراً ہی نئی جگہ پر ہم نے اپنا نیا سٹوڈیو بنانے کا کام پرشروع کر دیا۔ اس بار ہم نے سٹوڈیو پر کپڑے کی چھت نہیں ڈالی، اُس کے بجائے دھندلے شیشوں کا استعمال کیا۔ سین کھڑے کرنے والے بڑھئیوں کے لئے ایک بڑی سی جگہ پرچھت لگوا دی۔ مرکزی بنگلے میں میک اپ روم اور کاسٹیوم کےلئے الگ کمرے طے کر دیئے۔ کیمیکل روم، ایک اچھا بڑا سا کارخانہ، بابوراؤ پینڈھارکر کے لئے ایک مینجمنٹ روم، اداکاری اور سنگیت کی مشق کرنے کے لئےدودیوان خانوں وغیرہ کا بھی پربندوبست کردیا۔ اس کے علاوہ میوزک ڈائریکشن کے لئے ایک الگ کمرہ دیا۔ اس طرح سے وہ نیا بنگلہ ہم نے اپنی کمپنی کے متنوع کاموں کے لئے آراستہ کیا۔
ہماری پہلی بولتی فلم کے لیے موضوع زیر بحث آیا۔ بچپن میں، میں نے حق پرست راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی’ستوپریکشا’ نامی ایک ناٹک دیکھا تھا۔اس کہانی نے مجھے بہت ہی متاثرکیا تھا۔ معصوم من پراس کی انمٹ چھاپ پڑی تھی۔ بعدمیں خاموش فلموں کے نقش اول داداصاحب فالکے کی بنائی’راجا ہریش چندر’فلم بھی میں نے دیکھی تھی۔ اس وقت تو وہ مجھے بہت ہی ڈھیلی لگی تھی۔ اب میں سوچنے لگا کہ ایک ہی کہانی پر لکھے گئے ناٹک اور بنائی گئ خاموش فلم کا متضاداثر میرے من پر کیوں پڑا تھا؟ میں اسی نتیجہ پرپہنچاکہ ناٹک میں مکالمےتھے، اسی لئے اس کا اثر پڑتا تھا۔ خاموش فلم میں لکھے ہوئے مکالمے ناظرین کو پڑھنے پڑتے تھے، جن کا کوئی اثر ذہن پر نہیں پڑتا تھا، پڑنا ممکن بھی نہیں تھا۔ لہذاراجا ہریش چندر کی حق پرستی کو بولتی فلم کے ذریعے موثرروپ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس نتیجہ پر پہنچتے ہی میں نے اسی کہانی کا انتخاب ہماری پہلی بولتی فلم کے لئے کیا۔ ایسے حق پرست راجا ہریش چندر کا آدرش لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے سماجی فلموں کے آغاز کے ہمارے مقصد کواور بھی تقویت ملنےوالی تھی۔
ہم نے طے کیا کہ ہماری یہ پہلی بولتی فلم مراٹھی اور ہندی دونوں ورژن میں بنائی جائے۔ کہانی کے انتخاب کے بعد پھر ایک بارکرداروں کے انتخاب کا سوال کھڑاہوا۔ آج تک خاموش فلموں میں کامیاب رہے ہمارے کلاکاربولتی فلموں کے لئے بیکار ہوگئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لِلابائی چندر گڑی اور بابوراؤپینڈھارکرکےعلاوہ باقی سارے کلاکاران پڑھ ہی تھے۔ ان کے لئے رواں مکالمہ بولنا ناممکن ہی تھا۔ پھر بولتی فلموں کے اہم کرداروں کے لئے ایسے کلاکاروں کا انتخاب کرنا ضروری تھا،جو گائیکی میں بھی قابل ہوں۔
ہم اسی سوچ میں پڑے تھے کہ ایک دن مائی نے مجھے بلا بھیجا۔ اس طرح خاص بلاوا بھیجنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔مجھے دیکھتے ہی مائی نے ساڑی کا پلو آنکھوں سے لگا لیا اور لگاتار بولتی ہی گئیں، بولتی ہی گئیں۔ اس کے تیسرے بیٹے وِنائک نے کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی،اورکسی اعلی آدرش سے متاثر ہوکر کولھاپورکےودیاپیٹھ ہائی سکول میں بغیرتنخواہ پڑھانے کا کام شروع کیا تھا۔ مائی کا کہنا تھا، “ارے، ہم کوئی زمیندارجاگیردارتھوڑے ہی ہیں، جو یہ دیوانہ خیراتی کام کر رہا ہے؟ گھر میں تو کئی بار دو وقت کھانے کے لالے پڑ جاتے ہیں، اور اس کے یہ ڈھنگ! شانتارام، تم ذرا اسے بلا کر اچھی طرح ڈانٹواور پوچھواس سے کہ یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے۔ اور ہاں، تم اسے اپنی فلم کمپنی میں کوئی کام دے دو۔” وِنائک پر مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے
بابوراؤسےپوچھا، “تم کیوں نہیں اسے آڑےہاتھوں لیتے؟”بابوراؤ نے کہا، “وہ میری کچھ نہیں سنےگا۔ وہ تو، مجھے بھی آدرشوں کی اونچی اونچی باتیں سناتا رہتا ہے۔”
وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔
میں نے وِنائک کو بلا بھیجا۔ اسےکافی پھٹکارااورکھری کھری سنا دیں۔ ونائک شروع سے ہی بہت جذباتی فطرت کاآدمی تھا۔ صحیح وقت کا بیان میں نے کافی بے رحمی کے ساتھ اس کے سامنے کیا۔ میری پھٹکار بھی ممتا سے بھری ہے، مائی سے مجھے بےحد پیاراور عزت ہے، یہ باتیں اس کے دھیان میں آ گئیں اور وہ جذبات سے مغلوب ہوکر رونے لگا۔ آخر اس نے ودیاپیٹھ میں قبول کیا ہوا کام کسی اور کےذمے کر دیا اور وہ پربھات فلم کمپنی میں کام کے لئے آ گیا۔
وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔ وہ گاتا بھی اچھا تھا۔ شروع میں تو وہ بطوراداکار کمپنی میں آیا۔ لیکن گائیکی میں اس کی قابلیت کی وجہ سے گائیک اداکارکےروپ میں اس نےاپنی پہلی ہی بولتی فلم میں اچھی خاصی کمائی کی۔ ‘ایودھیا کا راجا’ فلم میں وہ لڑکی بنا تھا۔ اس میں اس کا گایا گیا گانا ‘آدپرش نارائن’ گیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ میں نے اسے بطورمعاون ہدایت کار کام پر لے لیا۔ میں جو بھی کام بتاتا، اسے وہ پوری اطاعت سے نبھاتا۔ میری ڈائریکشن کی شوٹنگ سے اچھی طرح واقف ہونے کےبعد کئی بار ڈائریکشن کےمعاملات میں وہ کچھ سجھاؤ بھی میرے سامنےرکھنے لگا۔ میں نےپایا کہ اس کے مخصوص سجھاؤ بہت ہی عملی اورمکمل ہوتے تھے۔
گووندراو ٹیمبے
بولتی فلموں کے کارن اب فلمی دنیا میں میوزک ڈائریکشن کی ایک نئی پوسٹ تیار ہو گئی تھی۔اسے نبھانےوالےکسی اہل شخص کی ہمیں تلاش تھی۔ مشہور ہارمونیم پلیئر اور موسیقارگووندراؤٹیمبے گندھرو ناٹک منڈلی سے کافی پہلے ہی الگ ہوگئےتھے انہوں نے اپنی ایک شِوراج سنگیت ناٹک منڈلی چلائی تھی، لیکن وہ بھی اب بند ہو گئی تھی۔ لہذاکولہاپورمیں ٹیمبے جی صرف آرام کرتے تھے۔ وہ باذوق آدمی تھے، شاعر تھےاورگیتوں کو بڑی ہی مدھردُھنیں دینےمیں ماہر بھی۔ لیکن دِقت یہ تھی کہ انہیں پربھات فلم کمپنی میں مدعو کریں تو کیسے، اور کون مدعوکرے؟ بات یہ تھی کہ انہیں گووندراؤٹیمبےکی گندھرو ناٹک کمپنی میں میں کبھی نوکر تھا، اور وہ میرےمالک۔ آج پربھات فلم کمپنی میں وہ میوزک ڈائریکٹر بن کرآتے بھی ہیں، تو وہ میرے نوکر ہو جاتے۔ کیا وہ اسے قبول کریں گے ؟ دِقت یہی تھی۔ آخر کافی سوچ وچار کے بعد انہیں مدعو کرنے کا کٹھن کام ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر پر چھوڑدیا۔ انہوں نے اس نازک گتھی کو بخوبی سلجھالیا۔ گووندراؤنےمیوزک ڈائریکشن کی ذمہ داری بخوشی قبول کی۔ وہ کمپنی میں حسب معمول آنے لگے۔ہم لوگ بھی انہیں وہی عزت واحترام دیتے تھے،جو ناٹک کمپنی کے مالک ہونے وقت انہیں ملتا تھا۔
گووند راؤ جی ٹیمبے کے واقف شری بھولے نامی ایک گائیک اداکار کو ہم نے پونا سے ہریش چندر کا کام کرنے کے لئے بلا لیا۔ اس وقت لِلابائی کی صحت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے تارامتی کے کام کے لئے کسی اور کو لینا ضروری ہو گیا تھا۔ تبھی اخباروں میں دُرگا کھوٹے نامی ایک نوجوان لڑکی کے نام کی چرچا میں نے پڑھی تھی۔ بمبئی میں”ٹریپڈ’ نامی فلم میں اس نے کام کیا تھا۔ یہ بولتی فلم فیل ہو گئی تھی،لیکن درگا کھوٹے کے کام کی سبھی اخباروں نے بڑی تعریف کی تھی۔ مجھے اس کا خیال آیا۔
درگا کھوٹے کے والد سالسیٹرلاڈ سے گووندراؤ کا اچھا تعارف تھا۔ ان کے ساتھ میں بمبئی میں لاڈ صاحب کے گھر گیا۔ مجھے باہر کے کمرےمیں بیٹھاکرگووند راؤ درگابائی سے باتیں کرنے کے لئےاندر چلے گئے۔ درگا بائی نے ہماری کمپنی کی فلم میں کام کرنا قبول کر لیا۔تب گووندر راؤ نے مجھے اندر بلا لیا۔ میں نے انہیں کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھ لیا، ان کا ڈیل ڈول اور شکل و صورت رانی تارامتی کے کام کے لئے ایک دم موزوں معلوم ہوئی۔ لین دین کا معاملہ اور شرائط ہم نے اسی بیٹھک میں طے کر لیں۔ رانی تارامتی کے کام کے لئے تین مہینوں کے لئے ہم نے انہیں ڈھائی ہزار روپے دینا قبول کیا۔
ہم دونوں درگابائی کے گھر سے باہر آ گئے۔گووند راؤ کہنے لگے، “درگابائی پوچھ رہی تھی اس بولتی فلم کی ڈائریکشن کون کرنے والا ہے؟” تب میں نے بتا دیا، “وہ جوباہر بیٹھے ہیں نہ، وہ کریں گے۔” اس پر انہوں نے کہا، “کون؟ وہ؟ باہر بیٹھا چھوکرا؟”
اور گووند راؤ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔
ان کی یہ باتیں سن کر میں نے کہا، “اب آئندہ بولتی فلم کے لئے کسی بھی اداکارا کے یہاں جانا ہو، تو میں کمپنی سے گھنی مونچھیں اورداڑھی لگوا کرہی آؤں گا،تاکہ آپ کی طرح رعب دار دکھائی دوں۔”
ان دنوں مہاراشٹر میں ہر جگہ مہاراشٹر ‘کٹمب مالا’ نامی کتھا مالا کافی مشہور ہو چکی تھی۔ اس مشہور کتھامالا کے ایڈیٹر تھے، ن۔ وی۔ کلکرنی۔ میں نےانہیں ہماری بولتی فلم کی کہانی لکھنےکی دعوت دی۔ گیت نگاری گووندراؤنےہی کی۔
نئے سٹوڈیو کا قیام، نئے ساؤنڈسسٹم کی خرید، بولتی فلم کے لئے ضروری دیگر سازو سامان کی انسٹالیشن وغیرہ میں بولتی فلموں کے لیے ہمارا خرچ، ہماری پونجی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ لہذا مزید ہمت نہ دکھاتے ہوئے ہم نے بمبئی میں اس سے پہلے سے ریلیز اور مشہور ہو چکے بولتی فلموں کی طرح راجا ہریش چندر کی کہانی بھی اسی ناٹک نما اسلوب میں لکھ کر تیار کی۔ ہندی ورژن کے مکالمے لکھنے کے لئے ایک اردو ناٹک کار کوبمبئی سے بلا لیا۔ ان صاحب نے دیگرتمام کمپنیوں کی طرح ہندی سکرپٹ میں شعروشاعری کی بھرمار کر دی۔ مکمل ریہرسل کےوقت انہوں نےہمارے کلاکاروں کواردو شعرو شاعری پیش کرنے کا طریقہ ٹھیک اسی ڈھنگ سے سکھایا، جیساکہ سٹیج پر خاص جوشیلی ادا میں کن الفاظ پر،زور دیا جاتاہے۔ بیچارے ہریش چندر،تارامتی، اور برہم رشی وشوامتر کو بھی ہم نے اردو میں اپنے مکالمے بولنے کے لئے مجبور کیا۔
‘گوپال کرشن’ کے بعد کے زمانے میں دھارا کے الٹ تیرنے والے ماہر تیراک کی مانند میں تیزی سے ہاتھ مارتے آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ لیکن اس بار پھر ایک بار کمپنی کے وجود کا سوال منہ کھولے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔ لہذا منجدھارمیں مالی بدحالی کے بھنور کو ٹال کر آگے نکل جانے میں ہی عقل مندی تھی۔ اس لئے کچھ دیرتک پر دھارا کے ساتھ بہتے جانا ہی ضابطہ تھا، ضروری بھی تھا۔ میرے تخلیقی من کو اس کا خاص قلق ہوتا تھا۔
بولتی فلم کے خاص منظروں کی مکمل ریہرسل شروع ہو گئیں۔ درگابائی بہت ہی کھلے من کی اچھی پڑھی لکھی اورکھاتے پیتے گھرانے کی تھیں۔ پھر بھی کمپنی کے ہر چھوٹے بڑے کارکن کے ساتھ وہ ملنساری سے پیش آتیں۔ کام سیکھنے میں ذرا بھی نہ ہچکچاتیں۔ مکمل ریہرسل کے وقت اپنے کام کی ساری خوبیوں کو خاص ڈھنگ سے سیکھتیں اور کوئی انہیں ان کی غلطی سمجھا دیتا تواس غلطی کو سدھارنے کی دلی کوشش کرتیں۔گانا وانا انہیں خاص نہیں آتا تھا پھر بھی گانے کا ریاض اتنا من لگا کر کرتی تھیں کہ اس فلم میں ان کی گائی لوری ’بالاکا جھوپ ییئی نہ’، (منے، کاہے نہ آوے نندیا) فلم کی نمایاں خوبی بن گئی تھی۔
اس کے برعکس ہریش چندر کا کام کرنے والے گائیک اداکار گولے ریہرسل کےوقت ایک دم ہمت ہار جاتے تھے۔ میں انہیں کافی دلاسہ دیتا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ آخر انہوں نے وِنائک کے ذریعے مجھے کہلوا بھیجا، “مجھے نہیں لگتا،فلم میں کام کرنا میرے بس کا روگ ہے۔” میں نے انہیں سمجھانے بجھانے کی کافی کوشش کی، لیکن وہ ایک دم بد دل ہو گئے اور واپس پونا چلے ہی گئے۔اب پھر سے ایک نئی دقت آ پڑی۔ ہریش چندر کا کام کون کرے؟ فوراً خیال آیاکہ گووند راؤخود تو سٹیج کے مشہور اداکار تھے اور منجھے ہوئے گائیک بھی۔وہ فلم میں کام کرنا قبول کرتے ہیں، تو کیا ہی کہنا، سونے پرسہاگہ ہو جائےگا۔ گووند راؤ کو بابوراؤنے راضی کر لیا۔ پھر نئے سرے سے ریہرسل ہونے لگی۔
گووند راؤ کی تعریف میں کہنا ہوگا کہ اگرچہ وہ عمرمیں مجھ سے کافی بڑے تھے اورمیں عمرمیں ان سے بہت چھوٹا تھا، بطورایک ڈائریکٹرمیرے دئیے گئے سبھی احکامات کو وہ کھلے من سے قبول کرتےاوران کےمطابق ہی برابر کام کرتے تھے۔گووند راؤ کی یہ کھلی شخصیت ان ریہرسلزکےوقت اور بھی،زیادہ اجاگرہو گئی تھی۔ ہم دونوں کے بیچ ہنسی مذاق بھی ہونے لگا تھا۔ایک شام ہم لوگ اپنے اپنے گھر جا رہے تھے، انہوں نے سہج انداز سے مجھ سے پوچھا،
“شانتارام بابو، سگریٹ پیو گے؟”
“نہیں۔”
ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے دوسرا سوال کیا، “اچھا، تھوڑی شراب تو چلتی ہے نا؟”
“نہیں! نہیں!بالکل نہیں!”
“اور سنا ہے عورت کے بارے میں آپ ایک دم سادھو ہیں؟ کیسے انسان ہیں آپ! یہ ناک کی سیدھ میں جانے والا جیون بھی کوئی جیون ہے؟ یہ تو ایک دم بجلی کے سیدھے کھمبےکا سا جیون ہوا! ورنہ مجھے دیکھو، میرا جیون ہے بے رحم فطرت کےکسی درخت کی طرح۔ ادھر سے پتے پھوٹ رہے ہیں، ادھر سے ٹہنیاں بڑھ رہی ہیں، سیدھی ہوں، ٹیڑھی ہوں، لیکن ہیں سبھی ایک دم سہج اور فطرت کے اصول کے مطابق!”
گووند راؤ کےان سہج اورفطری رنگ ڈھنگ سےاچھی طرح واقف ہونے کی وجہ میں اپنی ہنسی دبا نہیں سکا۔ سب سےمزے کی بات یہ کہ گووندراؤبھی جی کھول کر میرےساتھ ہنسنے لگے۔
آڈیو کمیکس کمپنی کا ساؤنڈریکارڈر،اس کے ساؤنڈ سسٹم کا سارا سازوسامان، ساؤنڈ اور سین شوٹنگ کی فلم پٹیوں کی ایڈیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والی ‘مووی اولا’ مشین وغیرہ سبھی مشینری لےکر داملے جی کولھاپورپہنچے۔ ہماری یہ ساری مشینری منگوائے جانے کی خبر ملتے ہی، اردیشِرایرانی نے ایک دندناتابیان دیا کہ اس دوہرے نظام کے ذریعے کی گئی شوٹنگ میں ہونٹوں کی جنبش اورآوازکامیل ناممکن ہے۔ سچ کہوں تو ایسے کھرے پن کی وجہ سے ہم لوگ بھی سٹپٹاہی گئےتھے۔
شوٹنگ کیمرے کے ساتھ ساتھ ساؤنڈ ریکارڈرکا ٹیسٹ کرنے کے لیے ہم نے پانچ چھ شاٹس ڈرتےڈرتےلےلیے۔ ان پر ہمارےکیمیکل روم میں کیمیائی عمل کیااوربعد میں انہیں مووی اولا پر چڑھا کرپردے پر دیکھنا شروع کیا۔ اردیشِرایرانی کی طرف سے ظاہر کیا گیا خدشہ ایک دم بے بنیاد ثابت ہوا۔ تصویراورآوازدوالگ الگ پٹیوں پرنقش کئےتھےاور اس کے باوجود کرداروں کےہونٹوں کی جنبش اوران کی آوازمیں پوراتال میل تھا۔ کہیں پرتھوڑا بھی جھول نہیں آیا تھا۔ اس سے ہمارا جوش کافی بڑھ گیا۔
لیکن ادھر معاشی کٹھنائیوں نے ہمیں گھیرلیا تھا۔ خرچہ پوراہوتاہی نہیں تھا۔ مشینری کے آلات خریدنے کے لیے قرض لیا تھا، کاریگروں اورکلاکاروں کی تنخواہ رُکی پڑی تھی، اس پر فلم میکنگ کا روزانہ خرچ۔۔۔ مختلف مصیبتیں تھیں۔ کم سےکم شوٹنگ کی نگیٹو پر ہونےوالاخرچ کم کرنے کے لیے ہم اس کا ایک انچ بھی ضائع نہ ہونے دیتے۔ اس کے لیے شوٹنگ سے پہلے میں سبھی کلاکاروں اورتکنیک کاروں سے کڑی مکمل ریہرسل کروا لیتا تھا۔ جہاں تک ہو سکے دوبارہ شاٹ لینا نہ پڑے،اس کا یہی مقصد رہتا تھا۔ اس سے فلم کا خرچ کم سے کم رکھنے میں مدد ملتی تھی۔ سمے کی بچت کے لیے ہم لوگ ہر شاٹ پہلے مراٹھی میں اور اس کے فورابعد ہندی نہیں، اردو میں لے لیا کرتے تھ۔
اس زمانے میں گانے کی ساؤنڈ ریکارڈنگ اور سین کی شوٹنگ ایک ساتھ کرنا پڑتی تھی۔ فلم میں کام کرنے والے کلاکارخود گاتےاوراداکاری بھی کیا کرتے-اہم موسیقار کرداروں کا گروہ سٹوڈیو میں ہی کیمرے کی نظر سے ہٹ کر کسی اوٹ میں کھڑا ہوتا تھا اوروہیں سے گانے والے کی سنگت کرتا تھا۔ گیت شروع ہونے اور اس کے ختم ہونے تک شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں کیمرے چلتے رہتے تھے۔ صرف شوٹنگ کیمرے کو ٹرالی پر رکھ کر درمیانے شاٹ، کبھی فل لینتھ، تو کبھی کلوزاپ کی ضرورت کے لیےآگے پیچھے کیا جاتا تھا۔ ہلچل بس یہی ہوتی تھی۔چار ساڑھے چار منٹ کے چلنے والے اس شروع کے شاٹ میں،کیمرہ والا، گانےوالا یا کردار تھوڑی بھی غلطی کرتا، تو پھر شروع سے آخر تک وہی سلسلہ چلانا پڑتا تھا۔
ایک دن گووندراؤ ٹیمبے کا ہریش چندر کا گیت فلمانا تھا۔ گووندراؤ اعلی پائے کے گائیک تھے۔ انہیں اسٹیج پر وقت کی قید نہ مانتے ہوئے جتنی دیر چاہا گانے کی عادت تھی۔ لیکن یہاں فلمی دنیا میں وقت کی قید بہت معانی رکھتی تھی۔ میں نے گووندراؤ کو گانا وقت پر ختم کرنے کے بارے میں اچھی طرح سے سمجھایا تھا، کہا تھا، “میں کیمرے کے پاس کھڑا رہوں گا۔ ہر ایک منٹ کے بعد میں آپ کو ایک، دو، اس طرح انگلیاں دکھا کر اشارہ کرتا رہوں گا۔ میری چار انگلیاں دکھائی جاتے ہی آپ اپنا گانا مناسب ڈھنگ سے ختم کیجئے۔”
انہوں نے میری باتیں دھیان سے سن لیں۔ اُن کو من ہی من دہرا لیا اور میری ہدایات کو اچھی طرح سے سمجھ لیا۔ اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ اب گووندراؤوقت کے بارے میں کوئی جھنجھٹ کھڑا نہیں کریں گے۔
گانے کی ریہرسل ہو گئی۔ کیمرے کی سرگرمی بھی پکی ہو گئی۔ گووندراؤنے اپنی سنہرے فریم والی عینک اتار کر ایک طرف رکھ دی۔ میں نے چِلا کر سب کو ‘خاموش’ رہنے کا حکم دیا۔ سب لوگ اپنی اپنی مقررہ جگہ پر ٹھیک کھڑے ہوگئے۔”سٹارٹ”، میں نے اشارہ کیا۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈنگ الگ دونوں کیمرے چالو ہو گئے۔ وِنائک نے سین نمبر اور شاٹ نمبر کہہ کر ‘کلیپ’ماری۔ خاص سنگیت بھی شروع ہو گیا۔ گووندراؤ کا سُر بہت ہی بڑھیا لگا تھا۔ کیمرے کی حرکت میرے خاموش اشاروں کے مطابق ہونے لگی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ میں نے ایک منٹ ختم ہونے کا اشارہ دیا۔ مجھے لگا کہ گووندراؤ نے اسے دیکھ لیا ہے۔ وہ گانے میں ایک دم کھو گئے تھے۔ گانے کے بھاؤ کے مطابق ان کی اداکاری بھی بہت ٹھیک سے چل رہی تھی۔ دو منٹ ہو گئے۔ میں بہت خوش تھا۔ تیسرا منٹ بیتا۔۔۔چارمنٹ ہو گئے۔ میں نے گانا ختم کرنے کا اشارہ گووندراؤ کو کیا۔ لیکن وہ گانے میں اتنے کھو گئے تھے کہ میرے اشاروں کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں تھا۔ اس لئے گاتے گاتے ان کی نظر جس طرف بھی جاتی، اسی سمت میں کتھک نرتک کی طرح اچھل کود کر میں انہیں گیت ختم کرنے کے اشارے کرتا گیا۔ لیکن بھگوان کا نام لو، پانچ منٹ ہوگئے، گووندراؤرکنےکا نام ہی نہیں لےرہے تھے۔میراکتھک ناچ اب تانڈو میں بدل گیا تھا۔ لیکن میں جتنا بھی کودتا پھاندتا، گووندراؤ کا گانا اور رسیلا بنتا جا رہا تھا۔ میری ساری کوششیں بیکار گئیں۔ہار کر سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر میں مایوس ہوکر دھم سے نیچے بیٹھ گیا۔ تبھی کیمرا چلانے والے فتے لال زور سے چلائے “فلم ختم ہوگئی۔”گووندراؤ چونک کر رک گئے اور غصے میں آکر بولے، “یہ کیا مذاق بنا رکھا ہے آپ نے؟ اب جاکر کہیں میری آواز فلم کے مطابق سدھ گئی تھی، اور ادھر آپ کی فلم ختم ہو گئی؟کہاں ہے وہ شانتارام بابو؟” میں تو ان کے سامنے ہی کیمرے کے پاس گردن لٹکا کر سرتھامے بیٹھا تھا۔ گم سم، چپ!مجھے دیکھنے کے لیے گووندراؤنے اپنی عینک منگوا لی۔
ایودھیا کا راجہ کا ایک منظر
اسےوہ آنکھوں پر رکھنے جا ہی رہے تھے کہ میں نے فوراً اٹھ کر، جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ایسے انداز سے کہا، “واہ گووندراؤ! آج تو آپ کی آواز ایک دم بڑھیا سدھی تھی۔ آپ کا گانا بےمثال رہا!”
یہ سن کر ان کا غصہ شانت ہو گیا، بولے، “تبھی تو! عینک لگی نہ ہونے کے کارن آپ کا چہرہ مجھے صاف نظر نہیں آرہا تھا، لیکن آپ ہاتھ اٹھاتے ضرور تھے، اس سے میں سمجھ گیا کہ آپ میرے گانے کی داد دے رہے ہیں اور اسی لئے میں گاتا چلا گیا۔”
میں نے من ہی من کہا، “کرم پھوٹےمیرے!”
ہماری شوٹنگ انیس دن چلتی رہی۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈ دونوں کی فلموں پر کیمیکل روم میں روز کیمیائی عمل کیے جاتے تھے۔ دھایبرجی نے ان کے پرنٹس تیار کئے۔ دوسرے سین کی شوٹنگ کرنے تیاریاں ہونے تک میں نے سوچا، تصویر اور آواز پٹیوں کو ٹھیک سے ساتھ ساتھ جمع کرکے ان کی ایڈیٹنگ کیوں نہ پوری کر لی جائے۔ مووی اؤلا پر میں ایڈیٹنگ کے لیے بیٹھ گیا۔
تصویر اورآوازپٹیوں کےالگ الگ ر ولوں کو مووی اولا پر چڑھایا۔ شوٹنگ سکرپٹ کے مطابق کس شاٹ کو کہاں کاٹنا ہے، طےکرلیااورنشان بھی لگا لیے۔ پہلے ہی شاٹ میں کرداروں کےہونٹوں کی حرکت اورآواز کاتال میل نہیں بیٹھا تھا۔ مجھے لگا کہ شاید ایڈیٹنگ مشین پر رول چڑھانے میں مجھ سے کوئی بھول ہو گئی ہے۔ میں نے رول اتار لیے اورپھرٹھیک سے چڑھا دیے۔ دونوں پٹیوں کا ٹیسٹ پھرشروع کیا۔لیکن دونوں پٹیوں میں قطعی کوئی میل نہیں بیٹھتا تھا۔ ہونٹوں کی شروعات حرکت کے ساتھ آواز کو ملا لینے پر دونوں پٹیوں کی لمبائی میں فرق آ جاتا۔ میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ اردیشرایرانی جیسے تجربہ کار فلم ڈائریکٹرنے یہ سسٹم غلط ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ صحیح تھا؟ نہیں!
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ شاید ایک ادھ شاٹ غلط ہو گیا ہوگا۔ من میں پھر تھوڑی امید جاگی۔ اگلا شاٹ ٹھیک سے دیکھا۔ لیکن وہی حال۔ پاگل کی طرح میں ایک کے بعد ایک شاٹ اور ایک کے بعد ایک رول جانچتا گیا۔ لیکن ایک بھی شاٹ میں تصویراورآوازکا میل نہیں بیٹھ پارہا تھا۔ میرے تو دیوتا کوچ کر گئے۔
تبھی داملے وہاں آ پہنچے۔ میں نے انہیں کچھ شاٹس دکھائے۔ انہیں دیکھتے ہی داملے ایسے بیٹھ گئے جیسے ہذیان ہو گیا ہو۔ کچھ دیر بعد پتہ نہیں انہوں نے کیا سوچا، وہ مشینری روم میں گئے۔ کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈرایک ساتھ چالو ہوں اس کے لیے وہاں جو اوربجلی پر چلنے والےدیگرآلات رکھے تھے،ان کا داملے ٹھیک ٹھیک معائنہ کرنے لگے۔
کچھ لمحوں بعد میں بھی اس کمرے میں پہنچ گیا۔ داملے پسینے پسینے ہو گئے تھے۔انہوں نے ساری مشینری کی پھر جانچ پڑتال کی، دیکھا بھالا۔ کسی میں کوئی نقص نظر نہیں آ رہا تھا۔داملے جی نے مجھے بے چینی سے پوچھا، “شانتا راما بابو، ہم نے تجربے کے لیے جو شروع کے شاٹس لیے تھے، ان میں تصویراورآوازکی فلمیں ایک سی لمبائی کی تو تھیں نا؟ ان میں ہونٹوں کی ہلچل کا آواز کے ساتھ برابر تال میل بیٹھا تھا نا؟”
میں نے “ہاں” کہہ تو دیا لیکن میں بھی کچھ سٹپٹاہٹ میں ہی تھا۔
ہم دونوں ایڈیٹنگ روم میں گئے۔ وہاں نئی شاٹس کی فلموں کو ہم نے پھر مووی اولا پر چڑھایا۔ ان فوٹوزمیں تصویر اور آواز کا ایک دم ٹھیک تال میل بیٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر داملے نے کہا، “اچھا، اب آپ گھر جائیے۔ ان انٹرلاک موٹرز میں کیا خرابی آ گئی ہے، میں دیکھ لیتا ہوں۔”
میں گھر گیا۔ رات بھر سو نہیں سکا۔ کمرے میں ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر چکر کاٹتا رہا۔ مجھے اس طرح پریشان دیکھ کر وِمل نے پوچھا بھی، بات کیا ہے، لیکن میں نے کچھ ٹال مٹول جواب دے دیا۔ دن بھر کے کام کے مارے تھکی ماندی ہونے کے کارن وہ سو گئی۔ میں کمرے میں ٹہلتا تھا۔ بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ انیس دن کی محنت، وقت، شوٹنگ، سب کچھ بے کارہوگیاتھا۔ اس کے علاوہ شوٹنگ کی گیارہ ہزار فٹ اور ساؤنڈ ریکارڈر کی بھی اتنی ہی لمبائی کی فلم بیکار گئی تھی۔ یعنی بائیس ہزار فٹ فلم ہم نے برباد کر ڈالی تھی۔ ادھر ایک ایک پیسے کے لیے کمپنی ترس رہی تھی۔ ہم بھی فلم کے ہر فٹ کاپورااستعمال کرنے کی احتیاط برت رہے تھے۔ اور ایسے میں یہ بربادی! کیا آڈیوکمیکس ساؤنڈریکارڈرکاہماراانتخاب غلط تھا؟ اگر تھا،تواب شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں ایک ساتھ کر سکنے والا نیا کیمرا کہاں سے لایا جائے؟ اس کےلیے ضروری رقم کہاں سے حاصل کی جائے؟ پھر نیا کیمرا لانا بھی ہو، تو امریکہ سےمنگوانا پڑےگا۔اس کے آنے میں تین چار ماہ لگ جائیں گے۔ یعنی تب تک کیا کمپنی کے لوگوں کو بنا کسی کام کے تنخواہ دی جائے گی؟ ویسے ہی پیسے کے لالے پڑرہے تھے۔ تو کیا کمپنی کو تین چار مہینے بند رکھنا ہوگا؟ میرے من میں وچاروں کا انبار لگا تھا۔ کھڑکی سے باہر کہیں دور دیکھنے کی میں کوشش کر رہا تھا۔ لیکن باہر گھنا اندھیرا چھا گیا تھا۔ میں کب بستر پر آکر لیٹ گیا اور کب آنکھ لگی، معلوم نہیں۔
سپنے میں ایک پاگل سا نوجوان سر جھکائے آگے پیچھے ڈول رہا تھا۔ اسے ہم نے اپنے بچپن میں کئی بار دیکھا تھا۔ اس کا نام تھا نیل کنٹھ۔۔ بعد میں وہ کولہاپور کی کمہار گلی میں دت سوامی کے مندر میں بیٹھا رہتا تھا۔ کسی نے کھانے کے لیے کچھ دے دیا تو کھا لیتا تھا، ورنہ بھوکا رہ کر دن بھر بس اسی طرح ڈولتا رہتا تھا۔ لوگ اسے ‘نیلو مہاراج’ کہنے لگے تھے۔ اس نیلو مہاراج کی حال ہی میں وفات ہو چکی تھی۔ سپنے میں اسی نیل کنٹھ نے سر اٹھا کر میری اور دیکھا، اور وہ کہنے لگا،”بے کار کی الجھن میں کیوں پڑتے ہو؟ فکر نہ کرو، سب کچھ ایک دم ٹھیک ہونےوالا ہے!”
یہ لفظ سن کر میں جاگ اٹھا۔ سپنے میں بات یاملاقات وغیرہ ہونے پر میرا قطعی یقین نہیں تھا، لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جو ہوتا ہے! مجھے بھی اس سپنے نے ہمت بندھائی۔نہانے دھونے سے نبٹ کر میں فوراً مشینری روم میں پہنچا۔ داملےجی بہاں رات بھر مشین میں آئی خرابی کھوجتے رہے۔ کوشش تو وہ پوری کر رہے تھے، لیکن غلطی پکڑ میں نہیں آ رہی تھی۔سٹوڈیو میں ہریش چندر کے محل کا منظر کھڑا کیا جا رہا تھا۔ میں نے اس کام کو پہلے بند کروایا۔ اتنے دنوں سے جاری شوٹنگ سب کا سب بیکار ہو جانے کی بات کانوں کان ہر جگہ پھیل گئی تھی۔ ساری کمپنی پرڈپریشن بری طرح چھا گیا تھا۔ میں بھی ایک کمرے میں گہری فکر میں کھو گیا۔
کچھ دیر بعدایک چھوکرا بھاگتے بھاگتے مجھے کھوجتا ہوا آیا۔ اس کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس نے کہا، “داملے ماما نے کہلا بھیجا ہے کہ آلے میں جو خامی تھی، اس کا پتہ چل گیا ہے۔ دونوں موٹریں اب ٹھیک چل رہی ہیں۔”
سن کر میں دوڑ کر مشینری روم میں گیا۔ داملے سارا کام ختم کر پسینہ پونچھ رہے تھے۔ میں نے داملے کو کس کر گلے لگا لیا۔ ان کے چہرے پر رات بھر کام کرنے کے کارن تھکان صاف دکھائی تو دے رہی تھی،لیکن سکون اس سے بھی زیادہ جھلک رہا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “خاص کوئی بات نہیں تھی، شانتارام بابو۔ صرف ایک سوئچ ذرا ڈھیلا ہو گیا تھا، اسی کے کارن یہ سارا جھمیلا ہو گیا!”میں نے انہیں آرام کرنے کے لیے گھر بھیج دیا اور میں اسی دن بمبئی گیا۔
بمبئی پہنچتے ہی پہلا کام میں نے یہ کیا کہ آگفا کمپنی میں گیا۔ ریگےجی سے ملا۔ بے جھجک ہوکر انہیں سارا معاملہ بتایا۔ انہوں نے میری پیٹھ سہلاتے ہوئے ہمت بندھائی، “کوئی بات نہیں! فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کو آپ کی بولتی فلم کوپورا کرنے کے لیے جتنی بھی کچی فلم لگے، ہم آپ کو ادھار دے دیں گے۔” سن کرمیرا حوصلہ کچھ بڑھا۔ پھر میں نے ہمارے ڈسٹری بیوٹربابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ سوچ بچار اورمشورہ کرکےکچھ رقم کابندوبست کرلیا۔
میں کولہاپور واپس آ گیا۔ ہریش چندر کے محل کی شوٹنگ پھرسےشروع کر دی۔ اب پہلے سے بھی زیادہ احتیاط برت کرمیں ہردن شوٹنگ پوری کرنے کے بعد رات بارہ ایک بجے تک بیٹھ کراس دن کی شوٹنگ کی ایڈیٹنگ بھی پورا کر لیتا تھا۔ مقصد یہ ہوتا کہ مان لو پھر کہیں کوئی غلطی ہو بھی گئی ہو، تو فورا اسی دن اسے ٹھیک کر لیا جا سکے۔
سٹوڈیو کے باہر کے کھلے میدان میں کاشی کے غلاموں کے بازار کا منظر تیارکیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کو کاشی کے گنگاناتھ مہاجن کا کردار دیا۔ تہذیب کے نام پر صفائی کے ساتھ بُرے کام کرنے والے وِلن سامنے لانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ میری یہ سوچ میں نے بابوراؤ کو بتائی۔ انہیں وہ بہت پسند آئی۔ اس خیال کو انہوں نے ڈھال لیا اور اپنی اداکارانہ مہارت سے اس میں ایسی جان ڈال دی کہ (فلم میں) گنگاناتھ مہاجن یادگاربن گیا۔
غلاموں کے بازار کی شوٹنگ ختم ہوئی۔ پھرمرگھٹ کا منظربنایاجانےلگا۔ ہریش چندر کے مرگھٹ کے مناظر کو فلمایا جانے لگا۔ ہریش چندر کا ڈوم مالک مرگھٹ کا بھی سردار تھا۔ اس ڈوم کے یہاں ایک بار ناچ گانے والوں کا ایک گروہ آتا ہے اور گانا گاتا ہے۔ اس سین کو فلماتے سمے ہی کولہاپورمیں ڈوم مداریوں کی ایک تماشہ پارٹی آئی ہوئی تھی۔ انہیں ہم نے کمپنی میں بلوا لیا اورسیدھا شوٹنگ کے لیے کھڑا کر دیا۔ ان میں ایک لڑکی سے وہیں کچھ لوک گیت سن لیے۔ ان لوک گیتوں میں سے ایک ٹھیٹھ دیہاتی،چٹخداراورپھڑکتی دھن کا لوک گیت چن لیا۔ اس گیت کی دھن پر وہ لوگ ناچنے لگے۔ لیکن فلم کے لیے مخصوص وقت کا اندازہ انہیں نہیں تھا۔ گووندراؤ ٹیمبے کی گائیکی کے بارے میں جو بُرا تجربہ ہوگیا تھا، من میں تازہ تھا۔ اس لئے ان دیہاتی فنکاراؤں کو ٹھیک وقت پر کیسے روکا جائے، ایک الجھن ہی تھی۔
میں نے اپنا ڈائریکٹر کا پہناوا بدل لیا۔ پھٹی دھوتی اور سر پر ایک مٹ میلی دھجی باندھ کر میں بھی ان میں سےایک ڈوم بن گیا۔ میں کیمرے کی طرف پیٹھ کئے کھڑا رہا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹی گھڑی چھپا لی۔ ناچتے ناچتے بیچ بیچ میں میری طرف دیکھتے رہنے کی ہدایت انہیں دی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ میرے ہاتھوں کا اشارہ سمجھ کر گیت گانا بند کرنا۔ شوٹنگ چالو ہو گئی۔ گانا اچھا تھا۔ رقص بھی چٹخدارتھا۔ کمپنی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے کلاکار اور کاریگر ‘پربھات’ کا سخت ڈسپلن توڑ کررقص گیت کے تماشے کو دیکھنے کے لیے شوٹنگ کی جگہ پہ جمع ہو گئے تھے۔ اصل مراٹھی کے لوک گیت کے الفاظ تھے بھی بڑے مزیدار، جن کا مطلب تھا۔۔۔
“کودو کٹکی جیو نار کے لیے بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے۔۔۔”
فلم کی شوٹنگ اور مراٹھی ہندی ورژن کا کام پورا ہوا۔ مراٹھی میں اس بولتی فلم کا نام “ایودھیچا راجہ” اور ہندی میں “ایودھیا کا راجہ” رکھا گیا۔
فلم کو پہلے ٹرائل روپ میں آپس میں ہی دیکھنے کا دن طے ہوا۔ رات ہو گئی۔ فلم کی مکمل کاپی تیار ہو رہی تھی۔ ہم سب لوگ بے حد اتاولے ہو رہے تھے۔ ذہنی تناؤ تو اتنا بڑھ گیا تھا کہ بیچ میں ملے وقت میں بھی ہم لوگ کسی سے بات نہیں کر رہے۔ مکمل فلم کو تیار کرتے کرتے بھور ہو گئی تھی۔ سبھی چپ چاپ بیٹھے فلم تیار کی جانے کا انتظارکر رہے تھے۔
کمپنی کے باہر والے کھلے احاطے میں ہم لوگ اپنی پہلی بولتی فلم دیکھنے کے لیے تیار ہوکر بیٹھ گئے۔ پربھات کے لوگو کا پہلا شاٹ چالو ہو گیا۔ تانپورے کی آواز سنائی دینے لگی۔ اسی جھنکار کی لے پر پربھات دیوی نے اپنی بھیری اٹھائی، وہ اسے اپنے ہونٹوں تک لے گئیں۔ اور بھیری سے نکلی دیسی راگ کی سریلی دھن نے سارے ماحول کو بھر دیا۔
خاموش فلم کے لیے بنایا گیا وہ لوگو ساؤنڈ ریکارڈ یعنی بولتی فلموں کے لیے اتنا مناسب ثابت ہوگا، کسی نے سوچا نہیں تھا۔ بھیری کو سر مل گئے۔ ہماری ‘پربھات’ کی بھیری سامنے لگے پردے پر گونج رہی تھی۔ اس خاموش لوگو سے پرزوراور پہلی سُریلی لہر سے میرا تن من پر جوش ہو گیا۔ اسی لمحے ہمارے منتخب ناظرین کےگروہ نے والہانہ داد دی، “واہ واہ!” ساتھ ہی سارااحاطہ تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔ آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔
بولتی فلم پوری ہو گئی۔ آخرمیں پھر سے ‘پربھات’ کا لوگوپردے پر آیا۔ پربھات کی بھیری پھر ایک بار اپنا سریلا سُر ماحول میں بکھیر رہی تھی۔ میں نے پورب کی طرف دیکھا۔ مشرقی افق بھی اس وقت پربھات کی لالی سے لال لال ہو رہا تھا۔
بولتی فلم واقعی میں بہترین بنی تھی۔ اس کے مکالمے،گیت، سب کچھ بہت اچھا فلم ہو گیا تھا۔ سبھی کلاکاروں اور تکنیک کاروں نے اپنا کام پورے دل سے کیا تھا۔ لیکن۔۔۔۔من میں اتنے دن سے دبی پڑی وہی بے چینی پھر ابھر آئی۔ میری رائے میں ‘ایودھیا کا راجا’ حقیقت میں ایک فلم نہیں تھی۔ وہ ناٹک فلم تھی۔ سین اور اداکاری کے مقابلےوہ مکالموں اورگیتوں سے کھچاکھچ بھراپڑا تھا،لدا لدا سا لگ رہا تھا۔حقیقی معنی میں وہ صرف ‘بولتی فلم’ تھی۔ لیکن اس الجھے خیال کے کارن کہ اس طرح کی بولتی فلم بنائے بنا وہ کامیاب ہو ہی نہ سکےگی، میں نے پربھات فلم کمپنی کی معاشی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے وہ ناٹک کی طرز کی بولتی فلم پورا کی تھی۔
ہندی ورژن ‘ایودھیا کا راجا’ تو سو فی صدی ڈرامائی تھی۔ مراٹھی ورژن کچھ کم ناٹکی تھا۔ بچوں کی کہانی ہوتی ہے نا، ٹھیک ویسی ہی تھی ان دو ورژن کی کہانی : ایک تھا راجا۔ اس کی دو رانیاں تھیں۔ ایک تھی اس کی چہیتی اور دوسری تھی اَن چاہی : لیکن میرے بارے میں یہ کہانی تھوڑی سی مختلف تھی ہندی ورژن بالکل ہی اَن چاہا تھا، تو مراٹھی ورژن تھا تواَن چاہا ہی، لیکن تھوڑا کم اَن چاہاتھا۔
میں سوچ رہا تھا کہ کیا دیکھنے والے ان دونوں ان چاہی رانیوں کو پسند کریں گے؟کمپنی کی بگڑی گرہستی (گھر)کو کیا یہ رانیاں پھر ٹھیک سے بسائیں گی؟
راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال
[/blockquote]
وقت اپنی پوری رفتار سے گزرتا جا رہا تھا، پر نہیں گزر رہا تھا تو سیاسی اُتھل پُتھل اور افرا تفری کا وہ دور جس کا آغاز بٹوارے کے اعلان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ہندو آبادی کے پلائن کی وجہ سے وہاں کا سارا نظام چِھن بِھن ہونے لگا تھا۔ روزمرہ کی ضرورت کی کئی چیزوں تک کی قلت ہونے لگی تھی۔ دکانوں پر تالے لگے تھے جن کی چابیاں اور اپنی جان بچا کر ہندو بیوپاری بھاگ نکلے تھے۔ دھیرے دھیرے ان دکانوں کے تالے ایک کے بعد ایک ٹوٹتے چلے گئے۔ کچھ دکانوں کا مال لُٹ گیا تو کچھ پر وہاں پہنچے مہاجروں نے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن چار دن بعد مشکل اسی شکل میں سامنے آ کھڑی ہو جاتی که خالی ہوتی دکانوں میں بھرنے کے لیے نئی سپلائی کا بندوبست نہ تھا۔
اُدھر سڑکوں پر جھاڑو لگانے اور گھروں کے پاخانے صاف کرنے والے صفائی کرمچاری بھی ندارد تھے۔ نتیجے میں گھروں اور سڑکوں پر گندگی اور بدبو کا عالم پھیلنے لگا تھا۔ ایک پاک اور جنّت نشاں ملک کی آس میں اپنا شہر، اپنا گھربار چھوڑ کر پہنچے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وہاں پھیلی بدحالی کا یہ عالم کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ اور جو اتنا کافی نہ تھا تو وہاں کے مقامی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے رویے نے ان کا دل توڑ دیا۔
حالات ہندوستان میں بھی بہت بہتر نہ تھے۔ ایک صاف ستھری آبادکاری کی پالیسی کے برعکس تمام سرکاری کوششیں لچر ثابت ہو رہی تھیں۔ خاص کر دہلی میں سارا بندوبست چرمرانے لگا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے نیتاؤں کی تمام کوششوں کے باوجود مار کاٹ، خون خرابے جیسی باتیں روز کا معمول سی بننے لگی تھیں۔ اور جو کوئی کسر باقی تھی تو جب تب پھیلتی بھڑکاؤ افواہوں سے پوری ہوتی جاتی تھی۔ ان افواہوں کو پختگی دینے میں دونوں ملکوں کے اخبار پوری طرح آمادہ نظر آتے تھے۔ اس کے بعد کا کام دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں نے مانو اپنے ذمے لے لیا تھا۔ ان مشکل سے مشکل تر ہوتے حالات کے لیے دونوں ملک، ہندوستان اور پاکستان، ایک دوسرے کو ذمےدار بتاتے ہوے، کھلم کھلا ایک دوسرے پر فوجی حملے کی باتیں کرنے لگے تھے۔
ہندو مہاسبھا کے سربراہ این بی کھرے جیسے نیتاؤں کے لیے تو پَوبارہ والے حالات بن گئے تھے۔ پاکستان پر حملہ کر کے اسے پھر سے ہندوستان کا حصہ بنا کر ’’اکھنڈ بھارت‘‘ قائم کرنے جیسی تقریریں آئے دن کی بات ہو گئی۔ ’’ایک دھکا اور دو/ پاکستان کو توڑ دو‘‘ جیسے نعروں کی گونج دھیرے دھیرے پورے دیش میں سنائی دینے لگی تھی۔ اُدھر پاکستان میں بھی مسلم لیگ اسی طرح کا ماحول بنائے ہوے تھی۔ آئے دن انگریزی اخباروں میں چھپنے والے فوٹوؤں اور خبروں سے معلوم ہو رہا تھا که وہاں مسلم لیگ کے رہبران بھی جنگ کا ماحول بنانے میں جٹے ہوے ہیں۔ جلسوں میں گونجنے والا نعرہ ’’ہنس کے لیا ہے پاکستان / لڑ کر لیں گے ہندوستان‘‘ ملک بھر کی دیواروں پر اتر آیا تھا۔ اسی ماحول کا فائدہ اٹھاکر این بی کھرے نے تو باقاعدہ یو این او میں پٹیشن بھی لگا دی تھی، جس میں انھوں نے پاکستان کو غیرقانونی طور پر قائم ہوا دیش بتاتے ہوے اس کی منظوری منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت میں پردھان منتری جواہر لال نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کچھ اور لوگوں کو وادی بنا کر تقسیم پر ریفرنڈم کی مانگ کی اپیل بھی کر دی تھی۔ ان کا الزام تھا که ”کچھ لوگوں نے کسی قانونی اختیار کے بغیر سازش کر کے دیش کے شہریوں کی رضامندی کے بنا بٹوارے کا فیصلہ لیا ہے، جس کا احتیار انھیں تھا ہی نہیں۔
کراچی اور دہلی کے بیچ چھڑی اس سیاسی جنگ کی آنچ سے بھوپال بھی پوری طرح بَری نہ تھا۔ حالانکہ یہاں بقایا ملک کے مقابلے میں حالات کافی بہتر تھے، پھر بھی غم اور غصے کی آنچ پوری طرح بجھی نہ تھی۔
اسی ماحول میں دادا نے ایک طرف رفیوجی پنچائت کی ذمےداری اور دوسری طرف ہندو مہاسبھا کی راج نیتی میں شامل ہوکر اپنی مصروفیت کو بےطرح بڑھا لیا تھا۔ نئی نئی شروع ہوئی وکالت کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔ نتیجے میں گھر کی مالی حالت بری طرح ڈانواڈول ہو رہی تھی۔ اسی بات کو لے کر گھر میں روز قلح مچتی۔ حالات کو قابو میں رکھنے کو دن رات کھٹتی ماں دادا کے زبانی حملوں اور تہمت طرازی کے نشانے پر رہتی۔
دادا اپنی گھریلو ذمےداریوں سے بھلے ہی بھاگ رہے ہوں لیکن سماجی ذمےداریوں کو نبھانے کے لیے انھوں نے خود کو پوری طرح کھپا رکھا تھا۔ اسی وجہ سے ان سے ملنے اور اپنے دکھ درد اور داد فریاد سنا کر مدد مانگنے والوں کی تعداد بھی لگاتار بڑھنے لگی تھی۔ صبح سویرے ہی حویلی کے بند دروازے پر سانکل کی چوٹ سے اٹھنے والی آواز باربار حویلی میں رہنے والوں کے معمول کے جیون میں خلل پیدا کرنے لگی تھی۔ اس دروازے سے ہی سٹا ہوا سب سے پہلا گھر داداجی کا تھا۔ اکثر وہی یا پھر چاچا، جو داداجی کے ساتھ ہی اوپر بنی برساتی میں رہتے تھے، جا کر دروازہ کھول دیتے تھے۔ بعض مرتبہ یوں بھی ہوتا که حویلی کا کوئی دوسرا باشندہ جا کر دروازہ کھولتا اور آنے والے کے منھ سے دادا کا نام سن کر نراشا بھری آواز میں اس کی خبر ہمیں دے جاتا۔ دھیرے دھیرے ان سارے لوگوں نے یہ مان کر که دروازہ بجانے والا دادا کے لیے ہی آیا ہو گا، دروازہ کھولنا چھوڑ دیا۔ سواے داداجی کے کوئی بھی دروازہ کھولنے نہ جاتا۔ اس بدلاؤ کے نتیجے میں کئی بار دروازے کا سانکل دیر تک پِٹتا رہتا اور ہر بار اس کی آواز آروہی سے اوروہی کی اور چڑھتی چلی جاتی۔ جب دروازہ کھلتا تو یوں بھی ہو جاتا که آیا ہوا انسان حویلی کے کسی اور گھر کا مہمان نکلتا۔ ایسے میں ان کی بات چیت اس اُلاہنے کے ساتھ شروع ہوتی: ”کلاک کھوں در پیا کھڑکایوں! گھر میں سب سمھیا پیا ہیو چھا؟’’ (ایک گھنٹے سے دروازہ پیٹ رہا ہوں۔ گھر میں سب سو رہے تھے کیا؟)
آئے دن بنتی اس حالت سے تنگ آ کر سب نے ایک اجتماعی فیصلہ لے لیا که دن کے وقت دروازہ کھلا رکھا جائے۔ یہ فیصلہ سہولت کے ساتھ ہی ساتھ حویلی کے سندھی اور گلی کے مسلم پریواروں کے بیچ ایک دوسرے کے لیے دھیرے دھیرے بڑھتی آپسی سمجھ اور بھروسے کی علامت بھی تھا۔ دھیرے دھیرے بدلتے اس رشتے پر گھر میں جب بھی بات نکلتی تو ماں کہتی، ’’امیری میں ہوڑ اور غریبی میں جوڑ۔۔۔ لالہ یاد رکھنا، غریبی کا رشتہ آستے آستے بنتا ہے۔ مگر بن جائے تو سب سے مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔‘‘
گلی کے دو چار گھروں کو چھوڑ کر باقی ہر گھر سے ایک دم صبح سویرے لگ بھگ ایک ہی وقت ادھ کھلی آنکھیں اور بند مٹھی میں اکنی یا دونّی کے سکے لیے گھروں سے لوگ باہر نکلتے تو ایک دوسرے کا سامنا ہو ہی جاتا۔ ان سب کی راہ ایک ہی ہوتی: برجیسیہ مسجد کے نزدیک مشّو میاں اور پوکرداس کی پرچون کی دکانیں اور توس والی بیکری۔ روز روز ایک راہ چلتے، ایک دوسرے کو دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی تو دھیرے دھیرے مسکراہٹ کی ادلابدلی کرنا بھی سیکھ گئے تھے۔ ساتھ ساتھ دکان کی طرف چلتے ہوے جب دکان پر پہنچ کر ان سب کی مٹھیاں کھلتیں تو سکّے بھی اکثر ایک ہی وزن کے نکلتے۔ اسی طرح آوازیں بھی ملتی جلتی سی ہی ہوتیں: ”چھوٹی پُڑیا، طوطا چھاپ اور ایک چھٹانک شکر۔‘‘ کسی کسی آواز میں یہ مانگ ایک آدھا پاؤ شکر اور دو پڑیاں بھی ہوتی، لیکن بروک بانڈ کی طوطا چھاپ چائے پتی کی مانگ لگ بھگ یکساں ہوتی تھی۔ لپٹن کی روبی ڈسٹ کی مانگ بھی سنائی دیتی، مگر ذرا کم۔
بدّو میاں اس چائے کے چسکے میں ڈوب رہے لوگوں سے بےحد خفا رہتے تھے۔ وہ بتاتے تھے که یہاں پہلے دودھ مکھن کا ہی چلن تھا۔ اسی وجہ سے سارا شہر اکھاڑوں اور پہلوانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بعد کو انگریزوں نے اپنی کمپنیوں کے منافعے کے لیے یہ ’’گندی‘‘ عادت ڈالی۔ ’’’شہر کے سارے ہاٹ بازاروں میں یہ لوگ ٹیبلیں لگا لگا کر مفت میں چا پلاتے تھے۔ آوازیں لگا لگا کے بلاتے، منتیں کر کر کے کیتے، چا پی لو میاں، چا پی لو۔ حرام کے جنے بُری تراں جھوم جاتے اور تب تلک پیچھا نی چھوڑتے جب تلک آپ چا پی نہ لو۔ سالے نہ جانے کاں کاں سے سات سات فٹے لوگ پکڑ لاتے که لوگ ان کو دیکھنے کھڑے ہو جائیں۔ آپ کھڑے ہوے نئیں که وِن نے فوراً آپ کو چا پلائی نئیں۔ ایسے ہی ایک بڑا لمب تڑنگ جوان آیا تھا جو جتّا لمبا تھا وِتنا ای چوڑا۔ اس کے پیچھے بچوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔ وہ بھی باقی سب کی تراں غائب ہو گیا۔ اور بعد کو دیکھو تو سالا فلموں میں دِکھنے لگا۔ تبھی پتا چلا که اس کا نام شیخ مختار تھا۔ قسم خدا کی، اس کی فلم دیکھنے سارا شیر پونچ جاتا تھا ٹاکیز میں۔ وہ پردے پہ آتا تو آوازیں لگتیں: چائے گریم، چائے! اور پھر ٹھہاکے لگتے۔ پردے پہ تو وہ دس دس کو اکیلا پچھیٹ پچھیٹ کے مارتا ہے۔ اب تو اتّی ہل گداگد نئیں ہوتی جتّی پیلے ہوتی تھی۔ پیلے اس سالے نے چا کی عادت ڈالی، بعد کو فلم کی۔‘‘
بدّو میاں کی بات میں دم تھا۔ سچ مچ شہر بھر میں چائے کے اشتہار ہی سب سے زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ مشو میاں کی دکان پرانی اور ذرا چھوٹی تھی جبکہ پوکرداس کی دکان اس سے کچھ بڑی۔ چھوٹی دکان پر بروک بانڈ چائے کا اینامل پینٹ والا ٹین کا چھوٹا سا بورڈ لگا تھا تو اس نئی دکان نے بروک بانڈ، لپٹن اور اصفہانی چائے کی تختیاں ٹانگ رکھی تھیں۔ ایک تختی پر لکھا ہوتا: ’’اچھی چائے جب / دل خوش میرا تب‘‘۔ بروک بانڈ والے ٹین کے پترے پر ماں بچہ چھاپ چائے، جسے کچھ لوگ عورت چھاپ چائے بھی کہتے تھے، کا اشتہار ہوتا جس پر چائے کا ایک بڑا سا پُڑا ہاتھوں میں تھامے ایک ناچتے گاتے پریوار کی تصویر ہوتی۔ اس کے نیچے انگریزی، ہندی اور اردو میں لکھا ہوتا: ’’بروک بانڈ چائے – کورا ڈسٹ۔ سب کی دلچسپی کا مرکز۔‘‘
دوسرا اشتہار زیادہ صاف ستھرا اور سیدھی بات کرتا تھا: ’’کڑک اور بڑھیا چائے کی زیادہ پیالیاں – بروک بانڈ اے ون ڈسٹ ٹی۔‘‘ اس پر طوطے کی پیٹھ پر لدا ایک طوطا چھاپ چائے کے پیکیٹ کا چتر ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے که ان دونوں بڑے پیکٹوں کے خریدار اس دکان پر کبھی کبھار ہی دِکھتے تھے۔
لپٹن کی جاکوجا اور روبی ڈسٹ چائے کا اشتہار اسے ’’ہندستان کی عمدہ اور تیز خوشبو، خوش رنگ اور کم قیمت چائے‘‘ بتاتا تھا۔ لیکن صبح کے اس وقت دکان پر آنے والوں میں سے کسی کے بھی پاس ان اشتہاروں کو پڑھ کر چائے خریدنے کا سمے نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تو اکثر افراتفری کا ماحول بنا رہتا که سب کو جلدی گھر پہنچنا ہے۔ سب کے گھروں میں پانی کا پتیلا لگ بھگ چولھے پر چڑھنے کو تیار ہوتا یا پھر چڑھ ہی چکا ہوتا تھا۔ ایسے میں جلدی ہونا لازم تھا۔ اس پر بیچ میں شمیم بیکری والے، جسے سب شمّو بھائی بلاتے تھے، کے یہاں سے توس بھی لینے ہوتے تھے۔ خاص کر ٹائی لیور توس۔ واپسی کے وقت جواں مرد تیز چال سے اور بچے لگ بھگ دوڑتے ہوے جلدی سے گھر پہنچنے کو آتُر دکھائی دیتے۔ ہم لوگ تو باقاعدہ آپس میں ریس کرتے، کھلکھلاتے اپنے اپنے گھروں تک پہنچتے۔ کچھ دوستوں کے گھر بیچ میں ہی پڑتے اور کچھ کے آگے، ہماری حویلی گلی کے بیچوں بیچ تھی۔ ہر روز یہاں پہنچ کر مجھے داداجی کو، جنھیں میں بابا کہتا تھا، دروازہ کھولنے کو آواز دینی پڑتی تھی۔ لیکن اُس دن دروازہ پہلے ہی سے کھلا تھا۔ سو بس، سب اسی دوڑ والی رفتار میں سیدھے اندر گھس گئے۔
[blockquote style=”3″]
عبدالسلام العجیلی 1918ء میں شام کے مقام رقّہ میں پیدا ہوے اور وہیں طبیب کے طور پر کام کرتے ہیں۔ لکھنے کے علاوہ انھوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا ہے اور کئی وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں وزیر ثقافت کا عہدہ بھی شامل ہے۔
عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔
عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649
[/blockquote]
تحریر: عبدالسلام العُجیلی (Abdel Salam al-Ujaili)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ویس نے خواب میں خود کو نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں تھی، کہ وہ تو بیداری کی حالت میں بھی باقاعدگی سے عبادت کرتا تھا اور کوئی فرض نماز اس نے قضا نہیں کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ پہلی رکعت میں وہ سورۂ نصر بالجہر پڑھ رہا ہے، جس کے ختم ہوتے ہی دہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی۔
’’صدق اللہ العلی العظیم،‘‘ اس کے منھ سے نکلا۔ وہ بستر پر اٹھ بیٹھا اور اپنی آنکھیں ملنے لگا۔ محمد ویس کو یاد نہیں تھا کہ پورے خواب میں سے صرف یہی بات کیوں اس کے ذہن میں اٹک گئی۔ صبح ہوتے ہی وہ موضعے کے بزرگ شیخ محمد سعید کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ دوپہر ہوتے ہوتے اس نے شیخ کو ڈھونڈ نکالا اور اس کو اپنا خواب سنایا۔ شیخ نے پہلے سر جھکا لیا، اس کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں اور بہت دیر غوروفکر میں ڈوبے رہنے کے بعد اس نے سوال کیا:
’’تمھیں یقین ہے کہ تم سورۂ نصر پڑھ رہے تھے؟‘‘
’’بالکل،‘‘ محمد ویس نے کہا۔ ’’پوری کی پوری پڑھی تھی۔‘‘
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثنا کرتے ہوے اس کی تحمید کرو اور اس سے بخشش طلب کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ صدق اللہ العلی العظیم۔‘‘ شیخ محمد سعید نے کہا: ’’محمد ویس، اپنے رب کی حمد و ثنا کرو اور اس سے استغفار کی درخواست کرو۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
’’یا شیخ، میرا دل کہتا ہے یہ میرے لیے نیک شگون ہوگا۔ آپ اس خواب کی تعبیر میں کیا کہتے ہیں ؟‘‘
شیخ محمد سعید نے اپنی چوڑی اور گھنی داڑھی کو مٹھی میں تھام لیا اور انگلیوں سے بالوں میں خلال کرنے لگا۔ وہ اپنے تبحّر کو خواب کی تعبیر جیسی معمولی بات کے لیے استعمال کرنے سے ہچکچا رہا تھا۔ آخرِکار وہ بولا:
’’محمد ویس، اللہ سے توبہ استغفار کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ خواب میں خود کو یہ سورت پڑھتے ہوے دیکھنے کا مطلب ہے کہ بس، اب انجام قریب ہے۔‘‘
محمد ویس جو ویسے ہی بَولایا بَولایا سا رہتا تھا، یہ سنتے ہی سر سے پیر تک لرز گیا۔
’’کیا کہہ رہے ہیں شیخ؟‘‘
’’تمھارے روبرو یہ بات کہتے ہوے کلیجہ منھ کو آتا ہے، ‘‘شیخ بولا، ’’مگر حوصلہ رکھو، اللہ کی رحمت جلد ہی تمھارے شامل حال ہو گی۔ اور موت تو سب ہی کو آنی ہے۔ محمد ویس، کوئی شخص یہ خواب دیکھنے کے بعد چالیس دن سے زیادہ نہیں جیا۔‘‘
یہ فیصلہ سنا کر شیخ تو ظہر کی نماز کے لیے وضو کرنے چل دیا اور محمد ویس مارے دہشت کے گم سم بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا۔ اس کے پیروں میں کھڑے ہونے کی سکت بھی نہ رہی۔
خشک گلے سے وہ منمنایا، ’’چالیس دن! اللہ ہمت دے۔‘‘
جس بستی میں محمد ویس اور شیخ محمد سعید رہتے تھے، بہت مختصر سی تھی، اس لیے شام ہوتے ہوتے ہر فرد کو محمد ویس کے خواب اور شیخ محمد سعید کی تعبیر کا علم ہو گیا۔ وہ موضع ایسا تھا جہاں خوابوں کی تعبیر پر اعتبار کیا جاتا تھا، اور اگلی شام تک ہر فردوبشر کو یقین ہو چکا تھا کہ محمد ویس چالیس دن میں ختم ہو جائے گا۔ پہلے فرداً فرداً اور پھر ٹولیوں میں لوگ باگ محمد ویس کے پاس آنے لگے، جس کے باعث ان لوگوں کی خاطر جو اس کی عیادت یا پیش از مرگ تعزیت کے لیے آ رہے تھے، اس کو اپنے گھر ہی پر رہنا پڑا۔ محمد ویس کے خاندان کی عورتیں ٹوہ لینے کے لیے آتیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کا جائزہ لیتیں۔ اس کو تندرست اور توانا مگر خیالوں میں گم دیکھ کر وہ بین کرنے لگتیں اور اللہ سے فریاد کرتیں کہ موت کے فرشتے کو روک لے جو اس کو لے جانے پر تلا ہوا تھا حالانکہ وہ ابھی ہٹّاکٹّا تھا۔ گو محمد ویس کو کوئی غم یا تردّد نہیں تھا، لیکن حفظِ ما تقدم کے طور پر جو تدبیریں ہو رہی تھیں اور اس سلسلے میں جو نازک سوالات اس سے کیے جا رہے تھے انھوں نے اس کو اندوہ اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ دس دن تو اس نے جیسے تیسے معمول کے مطابق گزار لیے، گھر سے ہاٹ تک روزانہ آتا جاتا رہا، تاہم جلد ہی اس کے اعصاب بول گئے اور قوتِ برداشت جواب دے گئی۔ اب لوگوں نے دن میں بھی اس کے پاس آنا شروع کر دیا تھا، جبکہ پہلے وہ صرف شام ہی کو گھر پر ملتا تھا۔ خواب دِکھنے کے بیس دن بعد محمد ویس کے گھر کی عورتوں نے اس کا بستر جھاڑنا چھوڑ دیا کیونکہ اب وہ صبح شام اسی پر پڑا رہتا تھا۔ جب میعاد کے تیس دن نکل گئے تو تمام کھانے جو اس کو مرغوب تھے اور جو اس کے گھر والے بنا بنا کر پیش کیا کرتے تھے، اب بے چھوئے اس کی چاروں طرف رکھے رہتے۔ اس نے داڑھی چھوڑدی اور ایک سفید سا لبادہ پہنے پہنے ہر وقت عبادات میں مشغول رہنے لگا۔ اس پر ہمہ وقت رقت طاری رہتی، نہ موت کے خوف سے اور نہ زندگی کے ختم ہونے کے غم میں، بلکہ اُن سزاؤں کی ہیبت سے جو قبر سے آگے اس کے انتظار میں تھیں۔ اسے خوف اس بات کا تھا کہ اس نے کاروبار کے دوران اللہ کی بڑی جھوٹی قسمیں کھائی تھیں اور ہاٹ میں آس پاس کے دیہاتیوں کو بڑے دھوکے دیے تھے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ ان خطاؤں کو معاف نہ کرے۔ جوں جوں دن گزرتے گئے اور چالیسواں دن قریب آتا گیا، اس کے خالی پیٹ پر جمی ہوئی چربی ان پچھلے گناہوں کی توبہ استغفار میں گھلتی چلی گئی۔ اس کی بستی اور آس پاس کے بستیوں کے لوگ اب اس کے چہرے کے گرد ایک نورانی ہالے کا ذکر کرنے لگے اور ایسے پُراسرار کلمات کا چرچا ہونے لگا جو نماز پڑھتے ہوے اس کی زبان سے ادا ہوتے تھے۔ چالیس میں سے جب اڑتیس دن گزرچکے تو انتالیسویں دن مَیں وہاں پہنچا۔
آپ پوچھیں گے کہ مَیں کون؟
جس موضعے میں محمد ویس مویشیوں کا دلّال تھا اور شیخ محمد سعید ولی اللہ سمجھا جاتا تھا، میں وہاں کے اسکول میں مدرّس تھا۔ میں گرمیوں کی تعطیلات دمشق میں گزارتا تھا جہاں سے میری واپسی محمد ویس کے لیے شیخ محمد سعید کے مقرر کیے ہوے چالیس دنوں میں سے انتالیسویں دن ہوئی۔ میں محمد ویس سے بھی اسی طرح واقف ہوں جیسے بستی کے دوسرے لوگوں سے؛ تو جب اسکول کے بوڑھے چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے اس کا قصہ سنایا تو میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس کی حالت پر اپنا سر پیٹ لوں یا قہقہے لگاؤں۔ اس لیے میں عطاء اللہ کو ساتھ لے کر اس کی عیادت کرنے— یا آنے والی موت پر تعزیت کرنے— گیا۔ وہ احاطہ جو محمد ویس کے خریدے ہوے مویشیوں سے بھرا ہوتا تھا، اس وقت ان تمام لوگوں سے بھرا ہوا تھا جو اس کے قریب آتی ہوئی متوقع موت کے انتظار میں جمع ہو گئے تھے۔ ایک کونے میں مرد جمع تھے تو دوسرے گوشے میں عورتیں، اور تیسری طرف وہ بھیڑ بکریاں بندھی ہوئی تھیں جو محمد ویس کے دوست احباب اس کی زندگی ہی میں اس لیے لے آئے تھے کہ اس کی الوداعی رات کو ذبح کی جائیں۔ جس کمرے میں محمد ویس ملک الموت کا انتظار کر رہا تھا، وہاں داخل ہونے پر میں نے اسے دیکھا— ملک الموت کو نہیں، محمد ویس کو۔ وہ اپنے بستر کے ایک کونے پر ٹکا عبادت میں مشغول تھا، جبکہ دوسرے کونے میں شیخ محمد سعید بیٹھا قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا۔ جس محمد ویس کو میں جانتا تھا اس کی بالکل مختلف صورت دیکھ کر مجھے دھکا لگا۔ اس کا گول، گلگوں چہرہ اب ستواں اور پیلا ہو گیا تھا اور داڑھی نے اسے اور بھی لمبوترا بنا دیا تھا۔ اس کے ڈھیلے ڈھالے سفید لباس نے اس کے چہرے کی زردی کو اَور نمایاں کر دیا تھا۔ نماز پڑھتے ہوے وہ اپنے سجدوں کو اس امید میں طویل کر دیتا کہ موت آئے تو سجدے میں آئے۔ اِس ولی اللہ میں اور اُس محمد ویس میں زمین آسمان کا فرق تھا جس کو میں اپنی کھڑکی میں سے قسمیں کھا کھا کر یہ کہتے سنا کرتا تھا کہ اگر اس نے ابھی ابھی خریدے ہوے جانور پر تین لیرے کا گھاٹا نہ اٹھایا ہو تو سمجھو اپنی بیوی کو طلاق دی۔ میں محمد ویس سے ملنے تو اپنے شوق اور تجسس میں گیا تھا لیکن اس کی حالت میں یہ فرق دیکھ کر بھونچکا رہ گیا اور اس بات کا قائل ہو گیا کہ وہ یقیناً وقت معین پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اور جب میں نے شیخ محمد سعید کو کنکھیوں سے اپنی طرف دیکھتے ہوے پایا تو میرے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی۔
میری اس شیخ سے، جس کی فطرت سادگی، حماقت اور مکاری کا مجموعہ تھی، کافی عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی۔ میں اس کی عطائیت اور دغا سے، جن کے زور پر اس نے جاہل دیہاتیوں کے ذہنوں کو اپنے قابو میں کر رکھا تھا، ہمیشہ لڑا کرتا تھا اور وہ بھی ان کو میرے خلاف ورغلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ مجھ پر الزام لگاتا کہ میں بچوں کے ذہنوں کو ملحدانہ خیالات سے مسموم کرتا ہوں اور انھیں اللہ رسول کا باغی بناتا ہوں۔ میری مخالفت میں اس کا جوش یہ جاننے کے باوجود کم نہیں ہوتا تھا کہ میں رسول کے پرنواسے حضرت زین العابدین کی اولاد میں سے ہوں، بلکہ وہ اسی کو میری مذمت کا جواز بنا لیتا تھا۔ ’’اس شخص کو دیکھو، حضرت زین العابدین کی اولاد ہو کر کہتا پھرتا ہے کہ زمین گھومتی ہے۔‘‘ پھر وہ لوگوں سے کہتا، ’’بھلا بتاؤ، تم میں سے کسی نے کبھی اپنے گھر کے مشرقی رخ کے دروازے کو اچانک مغرب کی طرف گھومتے دیکھا؟‘‘
جیسا کہ میں نے بتایا، شیخ محمد سعید کو دیکھ کر مجھے غصہ آ گیا تھا اور میں چیخ پڑنے کو تھا کہ وہ قاتل ہے، وہ محمد ویس کے ذہن میں وہ زہر بھررہا ہے جو اس کو چالیس دن میں مار ڈالے گا۔ تاہم میں نے ضبط سے کام لیا۔ اس طرح بگڑ کر میں شیخ کے خلاف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ کی طرح اسی زمین کی گردش والی دلیل سے ثابت کر دیتا کہ کس دیہاتی نے اپنا مشرقی رخ والا دروازہ مغرب کی جانب گھومتے دیکھا ہے؛ پس ثابت ہوا کہ زمین نہیں گھومتی۔ میرے خلاف کینہ رکھنے پر اللہ اس پر رحم کرے، اور محمد ویس اگر کل صبح تک شیخ محمد سعید کے زیرِ اثر رہے تو اللہ اس پر بھی رحم کرے۔ غم اور غصے کے مارے دل پر ایک بوجھ لیے میں اسکول لوٹ آیا۔
میرے کہنے کے مطابق چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے منھ اندھیرے اٹھا دیا۔ میں اپنے ساتھ دمشق سے تین چتی دار ناشپاتیاں لایا تھا جو میں نے رات کو ہوا کے رخ پر رکھے مٹکے کے نیچے رکھ دی تھیں۔ ان میں سے ایک ناشپاتی اٹھا کر میں لپکتا ہوا محمد ویس کے گھر پہنچا۔ سواے ان بھیڑ بکریوں کے جو اپنے مالک کی موت کے نتیجے میں خود اپنی موت کی منتظر کھڑی تھیں، احاطے میں کوئی نہیں تھا۔ زنان خانہ روشن تھا اور رونے کی دھیمی دھیمی آواز آ رہی تھی۔ محمد ویس کا کمرہ بند تھا۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ وہ موت کے انتظار میں عبادت کرتے کرتے تھک کر سویا پڑا ہے۔ کئی بار میں نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، پھر دھکا دے کر دروازہ کھولتے ہوے چلّا کر کہا:
’’محمد ویس، اللہ کی حمدوثنا کرو!‘‘
وہ نیند سے چونک پڑا اور چیخا، ’’کیا ہوا؟‘‘
’’میں ہوں، استاد نا جی۔ ڈرو نہیں، محمد ویس، اور میری بات سنو۔‘‘
میں نے دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے اور بہہ بہہ کر اس کے رخساروں سے ٹپک رہے تھے اور وہ سہما ہوا گم سم بیٹھا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری بات سننے سے پہلے ہی اس کا دم نہ نکل جائے، میں نے کہا:
’’میں تمھارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ میرے جدامجد حضرت زین العابدین نے مجھے بیدار کر کے تمھارے پاس بھیجا ہے۔ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ نے مجھے حکم دیا: محمد ویس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ نے اس کو آزمائش میں ڈالا تھا اور جان لیا کہ وہ توبہ کرنے والا بندہ ہے۔ اس کو یہ پھل دینا، یہ بہشت کے میووں میں سے ہے، اور حکم دینا کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے دو رکعت نماز تمھارے ساتھ ادا کرے اور پہلی رکعت میں سورۂ نصر پڑھے۔ اللہ اس کی عمر اتنی دراز کرے گا کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی، بلکہ بچوں کے بچوں کی خوشیاں بھی دیکھے گا۔‘‘
محمد ویس نے تھوک نگلا۔ یوں دکھائی دیا جیسے میری بات پوری طرح اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ بس میرے ہاتھ میں دبی ہوئی ناشپاتی کو گھورتا رہا۔ (مجھے یقین تھا کہ بستی میں کسی نے بھی چتی دار ناشپاتی نہیں دیکھی تھی۔) میں نے ناشپاتی چھیل کر اس کو کھلائی اور بیج سمیت نگل جانے کو کہا۔ پھر میں اسے کھینچ کر کمرے کے کونے میں لے گیا۔
’’محمد ویس، سورج نکلنے سے پہلے نماز کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘
’’مگر استاد ناجی، میں وضو سے نہیں ہوں۔‘‘
مجھے یاد آیا کہ میں نے بھی وضو نہیں کیا تھا، مگر اس خوف سے کہ کہیں میرے مشورے کا اثر زائل نہ ہو جائے، میں نے سمجھایا:
’’تیمم کرلو محمد ویس، اس کی اجازت ہے۔ مارو ہاتھ زمین پر۔‘‘
محمد ویس کے ساتھ کھڑے ہو کر میں نے بھی نماز پڑھی۔ ہم نے دو رکعت نماز ادا کی اور پہلی رکعت میں اس نے سورۂ نصر پڑھی۔ پھر میں لوٹ کر اسکول آ گیا اور صبح کا انتظار کرنے لگا۔
ایک گھنٹے کے اندر اندر پوری بستی کو محمد ویس کی نئی بشارت کا علم ہو گیا۔ وہ تمام لوگ جو کل محمد ویس کے احاطے میں جمع تھے، آج اسکول کے احاطے میں جمع ہو گئے۔ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ آیا واقعی میرے جدامجد حضرت زین العابدین خود میرے پاس محمد ویس کی بریّت لے کر آئے تھے، وہ سب ایک دوسرے پر گرے پڑ رہے تھے۔ اس وقت مجھے لگا کہ آج میں نے شیخ محمد سعید پر واضح فتح حاصل کر لی، کیونکہ نہ تو محمد ویس مرا اور نہ اس کی بھیڑ بکریاں ذبح ہوئیں، بلکہ وہ سب حضرت زین العابدین کی اولاد، ولی اللہ استاد ناجی کی، یعنی میری نذر کر دی گئیں۔
مگر کیا یہ واقعی میری فتح تھی؟ سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس کا یقین نہیں۔ اس فتح کی حقیقت پر شک کا سبب یہ ہے کہ میں شیخ محمد سعید کے مقتدیوں میں سے ایک بھی کم نہ کر سکا، بلکہ الٹا میں نے ان میں ایک کا اضافہ ہی کر دیا، مدرّس کا، یعنی خود اپنا۔ اپنے جداِمجد کے ناموس کو قائم رکھنے کی خاطر، جن کے نام سے میں نے اپنا خواب گھڑا تھا، اب میں بھی شیخ محمد سعید کے پیچھے نماز پڑھنے پر مجبور ہوں، تیمم کر کے نہیں، باقاعدہ وضو کر کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال
[/blockquote]
جس وقت غیاث الدین یہاں پہنچا تو اس وقت گھر کا داخل دروازہ اندر سے بند تھا۔ پٹھان کے ہاتھ کنڈی کھٹکھٹانے کی غرض سے یکایک اٹھے اور ویسے ہی یکایک پیچھے کی طرف بھی کھنچ گئے۔ اس نے حویلی کے بند دروازے کو نِہارنا شروع کر دیا۔ تقریباً بارہ فٹ اونچے، بےجان سلیٹی رنگ سے پُتے، بھرپور چوڑے محراب دار دروازے کے جسم پر اسے جگہ جگہ باریک لکیریں اُبھری ہوئی دکھائی دینے لگیں۔ غیاث الدین کو حیرت ہو رہی تھی که آخر یہ لکیریں اسے تب کیوں نہیں دکھائی دی تھیں جب وہ یہاں رہتا تھا؟ یا پھر ایسا ہوا ہے که یہ لکیریں اس کے گھر چھوڑ جانے کے بعد ابھری ہیں؟ اپنے جواب کی تلاش میں اس نے دروازے پر ہاتھ پھیرکر دیکھا۔ پھر وہ دروازے کی لکیروں پر نظر گڑا کر انھیں اس طرح گھورنے لگا مانو وہ کسی ہاتھ کی لکیریں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اچانک اسے اپنی ہی اس کوشش پر ہنسی آئی اور اس نے اِدھر اُدھر دیکھ کر ہنستے ہوے ہی کنڈی کھٹکھٹا دی۔ لوہے کی مضبوط اور موٹی چولوں پر گھومتا بھاری بھرکم دروازہ، اپنی دیونما گونج کے ساتھ اتنی تیزی کے ساتھ کھلا مانو دروازے کے اُس طرف کوئی کھڑا کھڑا اس حویلی کے مالک کی اس عجیب حالت کو شیشے میں نہار رہا ہو۔
’’کہیے؟‘‘ دروازہ کھولنے والے نے پوچھا۔
’’جی آداب۔‘‘
’’آداب۔‘‘
’’معاف کیجیے، آپ شاید ہمیں نہیں جانتے۔ ہمارا نام غیاث الدین ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک اس حویلی میں ہم ہی رہتے تھے۔‘‘ اتنا کہہ کر غیاث الدین نے آخر میں دروازہ کھولنے والے سے اس کا تعارف پوچھ لیا۔ ’’معاف کیجیے، آپ کا اسم شریف جان سکتا ہوں؟‘‘
دروازہ کھولنے والے منجھلے سے قد کے، سانولے سے آدمی کے چہرے پر دروازے پر کھڑے چھ فٹ سے اوپر نکلتے قد والے اس لحیم شحیم پٹھان کا نام سنتے ہی مسکراہٹ سی پھیل گئی۔ اسے سب کچھ پتا تھا اور اسے اس گھڑی وہ سب کچھ یاد آ بھی گیا تھا۔ اس نے بےحد گرم جوشی کے ساتھ ہاتھ آگے بڑھا کر اپنے سے سوائے قد والے انسان کا ہاتھ تھام لیا اور ’’ارے آئیے آئیے، پہلوان صاحب‘‘ کہتے ہوئے خوشی سے بھرے کسی بچے کی طرح لگ بھگ کھینچتے ہوے اندر کی طرف لے چلے۔
خوشی سے لبریز یہ ’بچہ‘ کوئی اور نہیں میرے پتا تھے۔ پچھلے تین چار سال میں اس گھر کے مالک کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے کرتے وہ غیاث الدین پٹھان اور اس حویلی کا پورا شجرہ اکٹھا کر چکے تھے۔ عادت کے مطابق وہ ایسی تمام جانکاریوں اور اپنے جذبات کو ایک کاپی میں لکھ لیتے تھے۔ یہ ان کا لگ بھگ روز کا کام تھا۔
لہٰذا ان کی اسی کاپی کے مطابق یہ حویلی غیاث الدین کے پتا میجر انجام الدین نے بنوائی تھی۔ اکلوتا بیٹا ہونے کے ناتے میجر صاحب کے بعد یہ غیاث الدین کو وراثت میں ملی۔ غیاث الدین شہر کے معروف انسان تھے۔ ان کی پہچان ایک دلاور اور دلآویز شخص کے طور پر تھی۔ شہر سے کچھ فاصلے پر آباد ایک گاؤں لسانیہ خورد میں کئی ایکڑ زمین تھی۔ لگ بھگ آدھے رقبے میں خاص بھوپالی دئیڑ آم کا باغ تھا۔ باقی حصے میں گیہوں کی پیداوار تھی، جس کے لیے اسی حویلی میں انھوں نے ایک بڑا سا ہال رکھ چھوڑا تھا۔
لیکن غیاث الدین کا دل کھیتی باڑی سے زیادہ پہلوانی میں رَمتا تھا۔ سو گھر سے کچھ دور ہی کوتوالی کے پاس گپّو استاد کے اکھاڑے میں خوب ڈنڈ پیلتے تھے اور کشتیاں لڑتے تھے۔
دادا کو یہ پہلوانی والی بات خوب بھا گئی تھی۔ انھوں نے اپنے ذہن میں اس پہلوان کی ایک بڑی رومانی سی تصویر بنا لی تھی۔ اسی وجہ سے وہ شہر میں جب بھی اپنا پریچے دیتے تو یہ بتانا نہ بھولتے که وہ ’غیاث الدین پہلوان‘ کی حویلی میں رہتے ہیں۔
غیاث الدین کو لے کر دادا گھر اور آنگن کے بیچ برابری سے پھیلے فرشی والے اوٹلے پر بچھی کھٹیا پر بیٹھ گئے۔ دادا اس حویلی کے بارے میں لگاتار باتیں کیے جا رہے تھے لیکن پٹھان کی نظریں لگاتار چاروں اور گھوم گھوم کر حویلی کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس وقت نہ جانے اس کے ذہن میں کیا کیا باتیں چل رہی ہوں گی، لیکن اتنا طے تھا که وہ اس وقت اپنی حویلی کی کسی بھی چیز کو ان دیکھا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔
دادا اس بات کو تاڑ گئے۔ انھوں نے پٹھان سے سوال کیا، ’’حویلی کو دیکھ رہے ہیں؟‘‘
جواب میں پٹھان مسکرا کر رہ گیا۔
دادا نے پھر سوال کیا، ’’یہاں کی یاد آتی ہوگی۔ نہیں؟‘‘
اس بار پٹھان کے چہرے کا رنگ بدلا۔ مسکراہٹ کی جگہ درد کی ایک عجب سی لکیر آنکھوں کی کوروں کے آس پاس دکھائی دینے لگی۔
’’گھر کی یاد کسے نہیں آتی؟ ۔۔۔ اس بات کو تو آپ بھی خوب سمجھتے ہوں گے۔‘‘ اتنا کہہ کر پٹھان نے اپنا چہرہ حویلی کے کویلو کی چھت والے حصے کی طرف گھما لیا، جہاں کہیں سے کٹ کر آئی ہوئی پتنگ پڑی ہوئی تھی۔ پٹھان کھڑا ہو گیا اور اس کٹی پتنگ کو غور سے دیکھتے ہوے کہنے لگا، ’’بڑی لمبی ڈوروں کے ساتھ ہے۔ کہیں دور سے کٹ کر آئی معلوم ہوتی ہے۔‘‘
اب تک دادا بھی اٹھ کر کھڑے ہو چکے تھے اور اسی طرف دیکھ رہے تھے جدھر پٹھان دیکھ رہا تھا۔ پٹھان کی بات سنی تو دادا کے منھ سے ہنسی ہنسی میں ازخود ایک ایسی بات نکل گئی جس نے پورے ماحول کو بدل ڈالا۔
’’شاید یہ بھی کہیں سندھ سے کٹ کر آئی ہے اور اسے بھی پہلوان صاحب کی حویلی ہی پسند آئی۔‘‘
پٹھان پر اس بات کا جادو سا اثر ہوا۔ اس نے دادا کو بانہوں میں بھر لیا اور واپس کھٹیا پر بیٹھتے ہوے کہا، ’’ہم بھی تو یہاں سے کٹ کر ہی وہاں پہنچے ہیں۔‘‘
اب اس بات چیت میں ایک فلسفیانہ گمبھیرتا آ گئی تھی۔ دادا نے بھی اسی طرح کا جواب دیتے ہوے کہا، ’’پہلوان صاحب، ہمارے لیڈروں کو پینچ لڑانے کا بہت شوق ہے نا۔ اب ان کے پینچ لڑیں گے تو کٹیں گے تو ہم آپ ہی نا۔‘‘
پٹھان نے اس بھاری سے ہوتے ماحول کو بدلنے کی غرض سے ایک سوال کر لیا، ’’آپ کے علاوہ اور کون کون ہے یہاں پر؟ کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟‘‘
اس سوال کے ساتھ ہی دادا کے بھیتر بیٹھا نیتا فوراً متحرک ہو گیا۔ فوراً جواب دیا، ’’ارے پہلوان صاحب بالکل۔ آپ یہیں بیٹھیے اور ناشتہ کیجیے، میں سب کو یہیں بلا لیتا ہوں۔’’
لیکن غیاث الدین تو پوری حویلی میں چاروں طرف گھوم کر سب کچھ اپنی نظروں سے دیکھنا چاہتے تھے۔ سو انھوں نے سجھاؤ والے انداز میں کہا، ’’ارے نہیں۔ کیوں سب کو زحمت دینا۔ ہم لوگ چل کر ہی سب سے مل لیتے ہیں نا۔‘‘
اگلے ایک گھنٹے تک غیاث الدین چہرے پر ایک مستقل مسکراہٹ لیے حویلی کے کونے کونے میں گھومتا، لوگوں سے ملتا اور درودیوار کو چھو کر دیکھتا، کچھ کہتا اور کچھ نہ کہتا، چلتا رہا۔ ایک کونے میں بنی چھوٹی سی کُٹھریا خالی پڑی تھی اور اس سے لگی دیوار کا ایک حصہ گر چکا تھا، جس کی وجہ سے اس پار کوتوالی والی گلی پر بنے مکان کا پچھواڑا دکھائی دے رہا تھا۔ اس جگہ پر آ کر غیاث الدین کے چہرے کی وہ مستقل مسکان والے ہونٹ کچھ اور کھلے۔ بولے، ’’گر گئی آخر۔‘‘
دادا نے اس پہیلی کو سمجھنے کی غرض سے سوال کیا، ’’کیا پہلے سے ہی گرنے والی تھی؟‘‘
’’ہاں، گرنی تو چاہیے تھی۔ مگر ہمارے رہتے نہیں گری۔‘‘
اس سے پہلے که دادا کوئی اور سوال پوچھتے، غیاث الدین نے ہی ایک سوال پوچھ لیا، ’’آپ کو معلوم ہے وہ اُس طرف کس کا گھر ہے؟‘‘
دادا نے انکار میں سر ہلا دیا۔
’’وہ افتخار میاں کی حویلی کا پچھواڑا ہے۔‘‘
پھر ایک لمحے کی خاموشی کے بعد انھوں نے جوڑا، ’’کبھی ہمارے دوست ہوتے تھے۔‘‘
اتنا کہہ کر وہ بڑی تیزی سے مڑا اور باہر جانے کے لیے قدم بڑھا دیے۔ دادا نے بہت اصرار کیا که وہ چائے ناشتے کے بنا نہیں جا سکتے، لیکن اسے جانے کی بہت جلدی سی ہو چلی تھی۔ سو بس ایک پاپڑ کھا کر اور ایک گلاس پانی پی کر باہر کی طرف مڑ گیا۔
دادا اس تیزقدم چال کے ساتھ برابری سے چلنے کی کوشش کرتے ہوے دروازے تک پہنچ گئے۔ غیاث الدین نے دادا کو گلے لگا کر ’’خدا حافظ‘‘ کہا اور پھر پوری رفتار سے آگے بڑھ گیا۔
٭٭٭
دادا جب اندر واپس پہنچے تو حویلی کے گھروں سے لوگ نکل کر آنگن میں کھڑے کھسرپسر میں لگے تھے۔ سب کے چہروں کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ حویلی میں رہنے والے سب سے آسودہ اور سب سے بزرگ ماسٹر امبومل نے اپنے گھر کے باہر نکلے ہوے کونے میں لگی کرسی پر بیٹھے بیٹھے اور ہاتھ میں اخبار تھامے تھامے دادا سے سوال کیا، ’’کیا کہتا ہے یہ میاں؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ وہ تو بس دیکھنے آیا تھا اپنی حویلی،‘‘ دادا نے جواب دیا۔
”ارے بھائی ہمت رام، تم تو نیتا آدمی ہو، اخبارنویس ہو۔ تم کو معلوم نہیں ہے که یہ مسلمان واپس لوٹ رہے ہیں اور اپنے گھر واپس لینے کے لیے تلواروں سے ہندوؤں کو کاٹ رہے ہیں۔‘‘
غیاث الدین سے ملنے کی خوشی میں ڈوبے دادا کے ذہن میں اس لمحے تک یہ خیال آیا ہی نہیں تھا۔ ماسٹرجی نے چیتایا تو ان کی چیتنا لوٹی۔ پھر بھی ان کا جواب تھا، ’’ماسٹر صاحب، وہ بڑا شریف آدمی ہے۔ وہ کوئی تلوار لے کر آیا تھا کیا؟ اور سارے مسلمان ایک جیسے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
’’یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ تم تو سب سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف تقریریں کرتے ہو!‘‘ ماسٹرجی نے ایک طنزیہ ہنسی ہنستے ہوے کہا۔
دادا کو یہ بات بڑی ناگوار گزری۔ انھوں نے پلٹ کر جواب دیا، ’’جو کہتا ہوں، سچ کہتا ہوں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں۔ کوئی تلوار لے کر آئے گا تو ہم بھی اس سے تلوار سے بات کریں گے۔ لیکن کوئی شریف آدمی گھر آئے تو کیا اسے پتھر مارنا شروع کر دیں؟‘‘
کرودھ سے بھرے اس جواب سے ایک سنّاکا سا کھنچ گیا۔ ماسٹرجی اپنی اعلیٰ حیثیت اور اپنی عمر کی بڑی پروا کرتے تھے۔ سو انھوں نے اپنے سے بہت چھوٹے ’لڑکے‘ سے الجھنے کے بجاے ہاتھ میں تھامے اخبار کو پڑھنے کی غرض سے اپنے منھ کی طرف اٹھانے کی کوشش کی ہی تھی که دادا نے ایک آخری جملہ جڑ دیا:
’’آخر وہ اس حویلی کا پرانا مالک ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔ اتنی شرافت تو ہم میں بھی ہونی چاہیے ۔۔۔‘‘
یہ کہتے کہتے دادا اپنے گھر کی طرف جانے کو مڑ گئے۔ ٹھیک اسی وقت ماسٹرجی کے گھر سے حویلی کے اکلوتے گھڑیال کے گجر کی آواز گونجنا شروع ہو گئی۔
شہر میں سندھی شرنارتھیوں کی موجودگی کو ابھی مقامی لوگ ٹھیک سے سویکار بھی نہیں کر پائے تھے که ایک گھٹنا اور گھٹ گئی، جس کے نتیجے میں تناؤ بڑھنا طے تھا۔ بھارت سرکار کے پُنرواس وبھاگ نے اچانک ہی یہ فیصلہ لے لیا که راجستھان میں اجمیر کے پاس دیولی کیمپ میں رہنے والے بےگھر سندھی پریواروں کا تبادلہ شہر بھوپال سے کوئی 4-5 میل کے فاصلے پر آباد بیراگڑھ کیمپ میں کر دیا جائے۔
ایک بار پھر اُکھڑنے سے ناخوش لوگوں کی ناخوشی کی آواز کسی کان تک نہ پہنچی اور چند برس پہلے سندھ سے بےدخل ہوے ان پریواروں کو دوبارہ بےگھر ہو کر باہر نکلنا پڑا۔ اجمیر سے روانہ ہونے والی اس پہلی ’ریفیوجی سپیشل‘ گاڑی میں تقریباً 2300 پریواروں کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا گیا۔ بیراگڑھ کیمپ تک چلنے والی اس میٹر گیج والی ٹرین کو بول چال میں ’چھوٹی لائن‘ والی گاڑی کہا جاتا تھا۔
اجمیر کی نصیرآباد چھاؤنی والے سٹیشن پر اس دن کچھ زیادہ ہی بھیڑ تھی۔ اجمیر میں بس چکے دیولی کیمپ کے رہواسیوں کے رشتےدار ناتےدار ان بچھڑ کر دور جانے والے اپنوں کو وِداع کرنے آ پہنچے تھے۔ ایک نئے انجانے شہر اور غیریقینی مستقبل کے سفر پر نکلنے کو مجبور لوگ اپنوں سے گلے مل اس طرح روتے تھے که مانو اب تو شاید ہی کبھی ملنا ہو۔ آہ و زاری کی گونج سے بھرے، سسکتے سے ماحول کے بیچ ٹرین کا ڈرائیور اور کنڈکٹر ایک دوسرے کو بےبس نگاہوں سے دیکھتے خاموش کھڑے تھے۔ ٹرین کا مقررہ وقت گزر چکا تھا لیکن ٹرین آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی، که پسنجر تو ابھی تک پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ آخر کنڈکٹر ڈینِس بنجامن نے آ کر بڑے نرم لہجے میں آخری چیتاونی دینے کے بعد سیٹی بجا کر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا دی۔
اس بار مجبور ہو کر سب لوگ اپنے اپنے آنسوؤں کو ساتھ لے کر ٹرین کے ان چھوٹے چھوٹے، سکڑے سے ڈبوں میں سوار ہو گئے۔ ٹرین دھیرے دھیرے، لگ بھگ قدم تال والی سپیڈ سے کھسکتی، چل پڑی۔ کوئی 400 میل دور بسے بیراگڑھ کیمپ کی طرف۔
ٹرین کی روانگی کے ساتھ ہی پلیٹ فارم والا منظر ان ٹھساٹھس بھرے ڈبوں میں سوار ہو گیا تھا۔ اپریل مہینے کی گرمی سے تپے ہوے ٹرین کے کمپارٹمنٹ میں چھت کے پنکھے کم اور ہاتھ کے پںکھوں سے زیادہ راحت پانے کی ناکام کوشش ہو رہی تھی۔ اس پر چھوٹے چھوٹے بچوں کا رونا ماحول کو اور بھی رنجیدہ بنا رہا تھا۔
چھک چھک کرتی اور اسی گتی سے چلتی ٹرین کے انجن سے نکلتا دھواں اور ہوا میں اڑتی کوئلے کی ٹکڑیاں لگاتار سارے ڈبوں کے یاتریوں کے ماتم زدہ چہروں کو اور بھی ماتم زدہ بنا رہی تھیں۔ اس ٹرین میں سوار ڈیلارام ممتانی کا پریوار بھی سوار تھا۔ 70 برس کے ڈیلارام کے پریوار میں اس کے دو بیٹے، دو بہویں، ایک وِدھوا بیٹی، چار پوتے اور دو ناتنیں بھی شامل تھے۔ اداس چہروں کی اس بھیڑ کے بیچ جہاں لگ بھگ سارے چہرے ایک جیسے دکھائی دے رہے تھے، اسی جمگھٹے میں کھڑکی سے لگے بیٹھے ڈیلارام باہر کی طرف جھانکتے، آسمان کو نہارتے نہارتے بیچ بیچ میں بےوجہ ہی ہنسنے لگتے تھے۔ اس ہنسی کی وجہ سے اداس چہروں کے بیچ ایک عجب سی ہلچل مچ جاتی تھی۔ بچے حیرت سے ایک بار ڈیلارام کی طرف اور دوسری بار اداس چہروں کی طرف دیکھ کر آنکھوں کے اشارے سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہوے سے معلوم ہوتے تھے که ماجرا کیا ہے؟
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
[/blockquote]
دوسرے ہی دن میں پرائیویٹ ہائی سکول کے پرنسپل وبھوتے کے دفتر پہنچ گیا۔ انھوں نے پوچھا، ’’کیوں رے، اتنے دن کہاں تھا؟ ہیں ؟‘‘
سنتے ہی مجھے رونا آ گیا۔
انھوں نے کہا، ’’اچھا اچھا، کوئی بات نہیں۔ رؤ مت، آ جاؤ۔ نیچے چوتھی جماعت میں بیٹھو اور دھیان سے پڑھائی کرو۔‘‘
میری تعلیم پھر سے باقاعدہ شروع ہو گئی۔
مجھے کھیل کود کا بھی کافی شوق تھا۔ ہم بہت سارے طالب علم گاؤں کے باہر والے گھاس کے میدان میں شام کو کھیلنے جایا کرتے۔ وہاں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال وغیرہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔
ایک بار کرکٹ کی بیٹ ہاتھ میں لے کر میں بڑی اکڑ سے سٹمپس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ پہلی ہی گیند اتنی سنسناتی ہوئی آئی کہ سیدھی میری پنڈلی پر آ لگی۔ درد جھنجھناتا ہوا سر تک پہنچ گیا۔ میں درد کے مارے ایک دم بیٹھ گیا۔
اُس دن سے لیدر بال کا ڈر من میں بیٹھ گیا۔ پھر بھی ڈرپوک کہلائے جانے کے ڈر سے میں اپنے آپ پر کرکٹ کھیلنے کی زبردستی کرتا رہا۔ لیکن بلّے بازی کرنے جب جب جاتا، اور سامنے والے سرے سے گیند پھینکی جاتی، تو ڈر کے مارے میری آنکھیں اپنے آپ مُند جاتیں۔ پھر بلّا انداز ے سے اوپر اوپر ہوا میں ہی گھوم جاتا، گیند سے اُس کی ملاقات ہی نہ ہوتی۔ بلّا اِدھر اُدھر گھوما اور گیند پیچھے وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں پہنچ جاتی۔ کبھی کبھی تو گیند میرے بلے سے ہی کافی دور سے ہی چلی جاتی۔ کبھی بھولے سے بلے پر آ بھی جاتی، اُوٹ پٹانگ ڈھنگ سے میں اُسے مارتا، تو کیچ لے لیا جاتا، تو کبھی میرا بلا جہاں کا تہاں دھرارہ جاتا اور گیند سٹیمپس گرا کر چلی جاتی۔
ایک دن شام کو اپنے مِتروں کے ساتھ کھیل ہم واپس آ رہے تھے۔ ایک متر نے کہا، ’’بھائی، بات کیا ہے؟ گیند کو بلے سے پیٹنے کے بجاے تم تو ہر بار آنکھیں بند کر لیتے ہواور اسی لیے جلدی آؤٹ ہو جاتے ہو۔‘‘ اُس وقت میرا جواب تھا: ’’کیا بتاؤں یار، کی ماں کو، اماں کی ماں کو۔۔۔ پہلے دن ہی کی بات ہے، کی ماں کو۔۔۔ وہ پتھریلی لیدر کی گیند، کی ماں کو۔۔ سیدھی میری پنڈلی پر اتنے زور سے آ لگی کہ۔۔ کی ماں کو۔۔۔ مجھے تو چکر ہی آ گیا۔ اچھا۔۔ کی ماں کو۔۔ میں کرکٹ کھیلنا بند کر دیتا تو کی ماں کو۔۔ منھ بنا کر میری کھِلّی اڑاتے۔۔۔۔‘‘
میرے متر مجھے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگے۔ جھنجھلاہٹ میں کچھ چمک کر میں نے پوچھا، ’’کی ماں کی کو۔۔ میں اتنے من سے سب کچھ بتا رہا ہوں، اور کی ماں کی، تم سب لوگ اِس طرح ہنسے جارہے ہو؟‘‘
اس پر ہماری ٹولی میں سے ایک نے ہنستے ہنستے کہا، ‘‘کاش، تم نے ابھی جتنی بار کی ماں کو، ماں کو، کی ماں کو، کہا ہے، اُس سے آدھی بار بھی بلے سے گیند کو مارا ہوتا! یہ کیا رٹ لگا رکھی ہے کی ماں کو، کی ماں کو؟‘‘
اپنے متروں کی صلاح پر میں نے اِس ’کی ماں کو‘ کا ساتھ چھوڑنے کی بڑی لگن سے کوشش کی، کافی حد تک کامیاب بھی رہا، لیکن آج بھی اچانک کبھی کبھار وہ اپنا وجود جتاہی جاتی ہے۔
اُس کے بعد دھیرے دھیرے میں نے کرکٹ کھیلنا چھوڑ کر فٹ بال کھیلنا شروع کیا۔ ایسے گندھروناٹک منڈلی میں ہی فٹ بال کھیلنا سیکھ گیا تھا۔ ایک بار کمپنی ناگپور میں تھی۔ میں نے فٹ بال کھیلتے وقت اتنے زور سے کک ماری تھی کہ میرے بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی کا ناخن جڑ سے اکھڑ کر الٹ گیا تھا۔ اُس کے بعد سکول میں میں نے کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔
انہی دنوں مجھے تیرنے کا بھی کافی شوق ہو گیا۔ ایک بار ناٹک منڈلی ناسک میں تھی، تب گوداوری میں میں نے تیرنا سیکھ لیا تھا۔ کولھاپور میں ایک بڑا تالاب ہے، اُس کا فریم دو ڈھائی میل کا ہے، کچھ ماہر تیراک ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر تیرکر لگا جاتے۔ دھیرے دھیرے مشق بڑھا کر میں بھی ایک ہی دم میں تالاب کا پورا چکر کاٹنے لگا۔ لیکن بعد میں اتنی بھوک لگتی کہ پریشان ہو جاتا۔ رنکالا سے واپسی پر مائی کا گھر پڑتا تھا۔ بھوک جب بےقابو ہو جاتی، میں سیدھے مائی کی رسوئی میں پہنچ جاتا اور پِیڑھا لگا کر بیٹھ جاتا۔ مائی فوراً ہی مجھے جوار کی گرم گرم روٹیاں اور ساگ پروستی۔ بڑی ممتا سے کھلاتی۔ لیکن اِس طرح ہر روز مائی کے یہاں جانا اچھا بھی نہیں لگتا تھا۔ تیر کر گھر لوٹ جانے پر میں ہر کھانے میں باجرے کی بڑی بڑی دو ڈھائی روٹیاں ڈکوسنے لگ گیا۔ لیکن میں نے اندازہ کیا کہ گھر کے باقی سارے لوگ آدھی پون روٹی پر گزارہ کر لیتے ہیں، میرا دو ڈھائی روٹیاں اکیلے کھانا ٹھیک نہیں۔ میں نے تیرنے جانا بند کر دیا۔
لگ بھگ انہی دنوں کولھاپور میں سنیما کا تھیٹر بن گیا تھا۔ ناٹکوں کی نمائش جس شِواجی تھیٹر میں ہوا کرتی تھی اُسی میں تبدیلی کر اب سنیما دکھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جیسے شِواجی تھیٹر کی کایاکلپ ہی ہو گئی تھی۔ کولھاپور میں دو پینٹر بھائی تھے، آنند راؤ اور بابو راؤ۔ دونوں پینٹر بھائیوں نے اپنے تخیل کا پورا پورا استعمال کر کے تھیٹر کی اندرونی سجاوٹ کو پوری طرح بدل ڈالا تھا۔ لگتا تھا شِواجی تھیٹر ایک دم نیا بن گیا ہے۔ اس کام میں کولھاپور کے ایک کپڑے کے بیوپاری واشیکر نے پونجی لگائی تھی اور سنیما کے لیے ساری ضروری مشینری خرید کر لے آئے تھے۔ انھوں نے شِواجی تھیٹر کا نام بدل ڈالا تھا۔ اب وہ ’’ڈیکن‘‘ (Deccan) سنیما کے نام سے جانا جانے لگا۔
اس سے پہلے، یعنی میں جب دس گیارہ سال کا تھا، کولھاپور کے دادُو لوہار بمبئی سے سنیما دکھانے کی ایک چھوٹی سی مشین خرید لائے تھے۔ اس پر دادُوجی ایک اکھنڈ جڑا تصویروں کا فیتہ چڑھاتے۔ پھر اُس مشین کا ہینڈل ہاتھوں سے گھما کر سامنے والے پردے پر اُس تصویری فیتے کے منظروں کو دکھاتے۔ تصویری فیتے کے پیچھے ایک دیا ہوتا تھا۔ اُس دیے کی روشنی فلم کے فیتے پر پڑتی اور سامنے لگے شیشوں کے لینز سے گزر کر آگے کچھ فاصلے پر لگائے گئے چھوٹے سے پردے پر انہی منظروں کو دکھاتی تھی۔ اُن دنوں اِن چلتی تصویروں کو دیکھ کر لوگوں کو بڑا مزہ آتا تھا۔ دادُو لوہار یہ سنیما دکھانے کے لیے ایک پیسہ، دو پیسہ ٹکٹ لیا کرتے تھے۔ اُس ہینڈل کو ایک ہی رفتار میں بِنا جھٹکا دیئے گھمانا میں نے سیکھ لیا تھا۔
اس مشین پر دکھائی جانے والی ایک فلم میں ایک ماں اپنے بچے کو چمچ سے کچھ کھلا پلا رہی ہے، ایسا سین تھا۔ پوری فلم میں وہ عورت بس یہی کرتی ہے۔ ایک اور فلم تھی، جس میں ایک مرد ایک عورت کو لگاتار چومتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ سنیما دکھانے کے اِس سٹائل میں بعد میں میں طرح طرح کے تجربے کرنے لگا۔ خصوصاً اس چومنے والی فلم کو شروع میں بہت دھیمی رفتار سے گھماتا اور بعد میں ہینڈل گھمانے کی رفتار بڑھاتا جاتا۔ نیتجتاً آخر میں میں تھوڑا فٹافٹ چومتا دکھائی دیتا تھا۔ اس پر لوگوں میں ہنسی کے فوّارے چھوٹتے تھے۔
سنیما کا یہ طریقہ فلم تو نہیں کہا جا سکتا تھا، ہاں اُسے تصویری پٹی یا فیتے کہنا مناسب ہو گا۔ آج کی فلموں کے مقابلے میں اُس سنیما کی حالت گھٹنے کے بل چلنے والے بچے جیسی تھی۔
کولھاپور میں بنے نئے ڈیکن سنیما میں ’’پروٹیا‘‘ نامی ایک غیرملکی خاموش فلم قسط وار دکھائی جاتی تھی۔ اِس میں پراسرار عورت کا کردار اہم تھا۔ اُسی عورت کے نام پر خاموش فلم کو ’’پروٹیا‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ پروٹیا پوری فلم میں کالے رنگ کے تنگ کپڑے پہن پہن کر کام کرتی تھی۔ یہ خاموش فلم اُن دنوں کولھاپور میں کافی مقبول ہو گئی۔ ہم بہن بھائیوں نے دیکھی۔ اور بھی ایک دو فلمیں دیکھی تھیں۔ اصل میں بات یہ تھی کہ اتنی ساری فلمیں دیکھنے کی ہم لوگوں کی حیثیت نہیں تھی، پھر بھی ہمارے ماں باپو جتنا ہو سکے وہاں تک، لاڈپیار میں ہم بچوں کی فرمائشیں، ضرورتیں برابر پوری کرتے تھے۔
باپو کی فطرت میں کچھ حجاب تھا۔ اُس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کافی گاہک دکان سے مال ادھار لے جاتے۔ ناٹک کمپنیوں کو تو کریانہ مال اور پیٹرومیکس ادھار دینا پسند کرتے تھے۔ پھر اُن لوگوں کا یہ حال ہوتا کہ کولھاپور سے چلتے وقت کہہ دیتے، ’’ارے راجا رام باپو، کوئی پرائے تھوڑی ہی ہیں، اپنے ہی آدمی ہیں۔ اُن کے پیسے اگلے مرحلے پر دے دیں گے۔ ‘‘ اور بس چلتے بنتے۔ لہٰذا کئی بار باپو اپنے پیسے وصولنے کے لیے ناٹک کمپنی کے پیچھے پیچھے دھول چھانتے پھرتے تھے۔ یہ بات مجھے آج بھی یاد ہے، جیسے کام پر باپو جب گاؤں سے باہر جاتے تو دکان میں کام کرنے والے نوکر کی اچھی بن آتی تھی۔ دکان کا مال چوری چھپے بیچاجاتا۔ اُس سے آنے والے پیسے خود ہی خرچ کر ڈالتا۔ اِن سبھی وجوہات کی بناء پر ہم لوگوں کو غریبی روز بہ روز زیادہ ہی محسوس ہونے لگی تھی۔
ایسی حالت میں میرے من میں آنے لگا کہ کسی طرح کچھ کام کر کے گھر گرہستی چلانے میں باپو کی مدد کرنی چاہیے۔ گرمی کی چھٹیوں میں ’شری وینکٹیشور پریس‘ میں،میں نے کمپوزیٹر کا کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلے پندرہ دنوں میں میں نے سیاہی کا رولر چلانا اور ٹائپ جمانا سیکھ لیا۔ یہاں میں نے مہینے بھر کام کیا۔ اس کے لیے مجھے چھ روپے ملے۔ بعد میں ہر سال گرمی کی چھٹیوں میں میں چھاپاخانے میں یہ کام کیا کرتا تھا۔ بدلے میں حاصل پیسوں سے میرے سکول کی کاپیوں اور کتابوں وغیرہ کا خرچ تھوڑا بہت نکل آتا تھا۔
گندھرو ناٹک منڈلی میں رہ کر بال گندھرو کی مُدھر اور سریلی آواز میں گائیکی لگاتار سننے کو ملتی تھی۔ نیتجتاً سنگیت میں میری بھی دلچسپی ہو چلی تھی۔ دیول کلب میں گانے بجانے کی محفل ہمیشہ کی طرح ہوتی تھیں۔ کولھاپور دربار کے سنگیت رتن استاد اللہ دیا خاں صاحب کا گانا کلب میں ہوتا، تو نہ صرف کلب کھچاکھچ بھر جاتا بلکہ سیڑھیوں پر اور سڑک پر بھی لوگ کھڑے ہو کر اُن کا گانا سنا کرتے تھے۔ سنگیت کے ایسے پروگرام سن کر مجھے کلاسیکل سنگیت اچھے لگنے لگے تھے۔ رحمت خان، بھاسکربوابکھلے، عبدالکریم خان، سوائی گندھرو وغیرہ گائیک فنکاروں کا گانا مجھے پسند آنے لگا تھا۔ پھر بھی ستار اور ہارمونیم کے پروگرام مجھے بہت زیادہ بھاتے تھے۔ کئی بار گوبند راؤ ٹینے کے کولھاپور آنے پر اُن کے ہارمونیم بجانے کے پروگرام بھی ہوا کرتے تھے۔ لوگوں کے اصرار پر وہ کبھی کبھی ہارمونیم کے سُروں میں خود دبی آواز میں گا بھی لیا کرتے تھے۔ ہارمونیم کے سُروں کے ساتھ وہ اپنا سُر اتنا بڑھیا ملا دیتے تھے کہ سامعین داد دیے بغیر نہیں رہتے۔
ایسی محفلوں میں تانپورے پر بیٹھنے کے لیے کوئی نہ ملا تو مجھے ہی پکڑ بیٹھایا جاتا۔ منع کرتا بھی کیسے؟ مشہور گندھرو ناٹک منڈلی کی مہر جو مجھ پر لگی تھی! تانپورے پر بیٹھنے کی بوریت سے اپنا الاپ چھڑانے کے لیے، پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی میں کسی بڑے سے کھمبے کے پیچھے چھپ کر بیٹھتا۔ لیکن تبھی سامنے سے بابا دیول پکارتے، ’’ارے شانتارام، چلو آؤ، اٹھاؤ تانپورا۔‘‘ پھر میری کون سنتا؟ ہم تانپورا سنبھالنے کے لیے سٹیج پر پہنچ ہی جاتے۔ اس طرح زبردستی تانپورا بجاتے بجاتے میں تانپورا بجانے میں ماہر ہو گیا۔ (یہ دوسری بات ہے کہ تانپورا بجانا کچھ بھی مشکل نہیں!)
دیول کلب میں ہونے والے پروگروموں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بابا دیول کے من میں آیا کہ کیوں نہ کلب کی کوئی اپنی خودمختار عمارت ہو! بس، من میں آنا ہی تھا کہ انھوں نے اِس عمارت کے فنڈ کے لیے کلاسیکل موسیقی اور گائیکی کا ایک جلسہ منعقد کیا۔ جلسے کے بعد دیول جی نے اور رقم جمع کرنے کی غرض سے کلب کی طرف سے سٹیج پر ’وینور‘ نامی ناٹک پیش کرنےکا فیصلہ کیا۔اس ناٹک کے ایک زنانہ کردار کے لیے مجھے چنا گیا۔ ناٹک منڈلی میں سال بھر کام کرنے کی وجہ سے اب ساڑھی باندھ کر کام کرنے میں مجھے کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی تھی۔اس ‘وینود’ نامی ناٹک میں نوجوان رادھا کے نثری مکالمے کا رول میں بہت ہی چستی سے کی کرتا تھا۔ اس ناٹک کو کولھاپور اور سانگلی میں تین بار پیش کیا گیا۔ دیول کلب کی عمارت کے چندے کے لیے پیسہ اچھا اکٹھا ہوا۔ اِس ناٹک میں میری چست اور جاندار اداکاری دیکھ کر ہی آگے چل کر کولھاپور کی ایک شوقیہ ناٹک کمپنی نے ’مان اپمان‘ ناٹک میں مجھے بھامنی کا کردار دینا طے کیا۔ اِس کردار میں کام کرنے کے لیے مجھے ایک ناٹک کے پورے بیس روپے ملتے تھے۔ لیکن دو بار سٹیج ہونے کے بعد ہی یہ ناٹک بند ہو گیا۔
اُسی وقت روٹین کی زندگی میں ایک واقعہ ہوا۔ اُسے کیا کہا جائے،عجیب یا سکھ دینے والا؟ پتا نہیں۔ لیکن وہ ایک دم بےوقت پیش آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی میں تھا، تب ہماری ہی کمپنی میں کام کرنے والے ایک خاندان کے ساتھ میرا تعارف ہو گیا تھا۔ اُس خاندان میں ایک دس گیارہ سال کی لڑکی تھی۔ اُس کا نام بڑا میٹھا تھا، ’’چیتی‘‘۔ میں اسے’’چیتا‘‘ کہا کرتا تھا۔
اس وقت میں تیرہ سال کا تھا۔ یہ لہنگا پہننے والی چیتی کئی بار ہمارے گھر آئی تھی۔ ہمارے مکان میں اوپری منزل پر ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی۔ کئی بار بےسبب ہی اس کوٹھری میں آ کر چیتی چہکتی رہتی۔ میں اس کو نظرانداز کرتا اور سامنے رکھی کتاب پر بہت زیادہ دھیان دینے کی کوشش کرتا رہتا تو پھر ہار کر وہ مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہتی تھی۔ اُس کی نگاہ بڑی نوکیلی تھی۔ لگتا تھا وہ مجھے چبھتی جا رہی ہے۔ اس پر میں سوچتا کہ اُس کی اِس نظر سے تو اُس کا پُھدک پُھدک کر چہچاتے رہنا ہی اچھا ہے۔ ایک دن اُس کی نظر ناقابلِ برداشت ہونے کی وجہ سے غصے میں میں نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور زور سے مروڑ دیا۔ میرا خیال تھا کہ اب وہ چیخے گی، چلّائے گی۔ لیکن الٹا وہ ایک دم مجھ سے لپٹ گئی۔ لگا، جیسے کوئی ملائم چڑیا ہو! اُس کے جسم کی گرماہٹ، ملائم کوملتا مھے بہت ہی بھا گئی۔ میں نے بھی اُسے کس کر بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اُس کی وہ تھوڑی سی شرماہٹ اپنی سی لگی۔ ہم نے لگاتار ایک دوسرے کو چومنا شروع کیا، چومتے ہی رہے۔
اُس کے بعد کئی بار دوپہر کی تنہائی میں وہ ہمارے یہاں آتی۔ میں بھی من ہی من میں اُس کا انتظار کرتا رہتا۔ وہ تب آتی جب گھر میں کسی کا آنا جانا نہ ہوتا، تو ہم دونوں کبوتر کے جوڑے کی طرح ایک دوسرے کو مضبوط حصار میں جکڑ لیتے۔ پھر کچھ دنوں بعد مالی مشکلات کے باعث ہم لوگوں نے اس گلی کا مکان چھوڑ دیا اور کہیں دور چلے گئے۔ تب سے وہ پھر کبھی مجھ سے نہیں ملی۔ چیتی آج اس دنیا میں ہے بھی یا نہیں، میں نہیں جانتا۔ لیکن اُس کے اُس پہلے (ملاپ؟) کی یاد آج بھی میرے دل کو گرماتی ہے۔
میری پڑھائی آگے جا رہی تھی۔ ہر سال جیسے تیسے پاس ہو کر میں اگلی جماعت میں جاتا تھا۔ انہی دنوں مجھے سکول کی کتابوں کے علاوہ کچھ پڑھنے کا شوق ہو گیا۔ دوستوں، پڑوسیوں اور سکول سے جو کتابیں مل سکتی تھیں، سبھی لا کر میں نے پڑھ ڈالیں۔ ایساپنیتی، پنج تنتر، ٹھکسین کی کہانیاں، الف لیلہ وغیرہ۔ تخیلاتی کتابیں پڑھنے سے زیادہ پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ اسے پورا کرنے کے لیے میں کولھاپور کی ’نیٹو لائبریری‘ کا ممبر بن گیا۔ دکھی کتابیں پڑھ کر میرا من بہت دکھی ہوتا۔ اِس لیے کتاب پڑھنا شروع کرنے سے پہلے میں دیکھ لیتا، اُس کا اختتام کیسے کیا گیا ہے اور اگر دکھی ہو تو بنا پڑھے واپس لوٹا دیتا۔ میں کیا پڑھتا ہوں، اِس پر میری ماں کا باریکی سے دھیان برابر رہتا۔ وہ ایک جماعت انگریزی بھی پڑھے ہونے کی وجہ سے میری لائی ہوئی کتابوں کے کچھ صفحے پلٹ کر ضرور دیکھ لیتی۔ من چلے ہیجانی ناولوں کا سایہ بھی مجھ پر پڑنے نہیں دینا چاہتی تھیں۔
رامائن، مہابھارت، بھگوت وغیرہ مذہبی کتابیں بھی میں نے پڑھ ڈالی تھیں۔ ہری نارائن آپٹے کے مقصدی شِوکالین (مذہبی) ناول بڑے چاؤ سے پڑھ کر پورے کیے تھے۔ دکھی کہانیوں اور ناولوں کو دور سے ہی سلام کرنے والا میں، ہری نارائن آپٹے کا ’’لیکن دھیان کون دیتا ہے؟‘‘ (پن لکشات کون گیتو؟) ناول جو سماج کے سلگتے مسائل پر مبنی دل کو چھو لینے والی دکھی کہانی ہے، بغور آخر تک پڑھ گیا۔ بیواؤں کا سر منڈوانا، جرٹھ کماری ویواہ (ادھیڑ عمرعورت کی شادی)، عورتوں کی خواندگی وغیرہ مسائل کو افادی ڈھنگ سے چھو لینے والا یہ ناول کئی سالوں تک میرے من میں آسن جمائے رہا۔ ’’چار آنے کتھا مالا‘‘ میں چھپنے والی ’سنہری گروہ‘ کہانیاں پڑھنے میں مجھے کافی لطف آتا تھا۔ ہر روز میں بلاناغہ بلونت کولھاپور کا ’’سندیش‘‘ اور مشہور بال گندھرو تلک کا ’’کیسری‘‘ برابر پڑھتا رہتا تھا۔ انھیں یا تو لائبریری سے لا کر پڑھتا یا پڑوسیوں سے مانگ کر۔ ’سندیش‘ میں ہمیشہ سنسنی خیز خبریں اور چٹ پٹے مضمون ہوا کرتے تھے۔ ’کیسری‘ میں علمی اور عصری سیاست پر مبنی مضمون ہوا کرتے تھے۔ اُن مضامین اور سیاست کا راز اپنی سمجھ میں کوئی خاص نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی ’کیسری‘ معمول کے مطابق پڑھتا تھا۔
کچھ اور بڑا ہو جانے پر میں نے وشنو شاستری چِپلونکرکے مضامین، تلک کے گیتا رہیسے (گیتا کا راز)، استقامت کے ساتھ پورا پڑھ لیا۔ اِن کتابوں میں لکھی باتیں پوری طرح میری سمجھ میں تب تو نہیں آتی تھیں۔ پھر بھی انجانے میں گیتا کا درشن (فلسفہ) کہیں جڑ پکڑ گیا۔ کُرمنیے وادھی کراستے ماپھایشو کداچن (’’کام کرنا تمھارے بس میں ہے، اس کا پھل تمھارے بس میں نہیں اس لیے اپنا فرض نبھاؤ اور انجام ایشورپر چھوڑ دو‘‘) کی سیکھ میرےکورے من پر کافی گہری چھاپ نقش کر گئی۔
ان اچھے گرنتھوں کی طرح میرے جسم کی ساخت بناوٹ کے برعکس نتیجہ خیز، عجیب عجیب کتاب بھی ان دنوں میرے ہاتھ لگی۔ لائبریری کی کیٹلاگ میں ایک ویدِک طبی گرنتھ تھا۔ میں نے کافی جوش سے پڑھنے کے لیے اُسے لے لیا۔ لیکن یہ کہ گرنتھ میں جن روگوں کا جائزہ لیا گیا تھا، اُن میں ایک سے زیادہ روگوں کی کچھ نہ کچھ علامات میرے جسم میں موجود ہونے کا احساس مجھے ہونے لگا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ تمام بیماریاں مجھے ہو گئی ہیں۔ میرے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ رنگت پھیکی پڑنے لگی۔ وزن گھٹنے لگا۔ روز بہ روز صحت گرنے لگ گئی۔ میری طبیعت خراب پا کر ماں نے مجھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر پرابھاولکر کے پاس جانے کے لیے کہا۔ میرے پورے خاندان کو وہ ڈاکٹر بغیر فیس کے دوائیاں دیتے تھے۔
میں پرابھاولکر جی کے پاس گیا۔ انھوں نے میری صحت کا چھی طرح معائنہ کیا اور حیرت سے پوچھا، ’’کیوں رے، آخر تمھیں ہو کیا گیا ہے؟‘‘ میں نے کافی سنجیدگی سے انھیں اپنا درد بتایا اور یہ بھی بتا دیا کہ لائبریری سے لائے گئے اس گرنتھ میں بیان کردہ تمام بیماریوں سے میں روگی ہوں، ایسا مجھے ہر دن لگتا ہے۔ پرابھاولکر جی نے اچھی طرح سے دیکھا بھالا، پرکھا اور بتایا، ’’تمھیں کوئی بیماری نہیں ہے۔ ایک کام کرو، وہ جو کتاب لے آئے ہو نا تم۔ اُسے پہلے پھینک دو، اُس میں تم نے جو کچھ پڑھا ہے، پوری طرح بُھلا دو۔ تمھاری اِس بیماری کی اور کوئی دوا نہیں ہے، سمجھے؟‘‘
میں گھر واپس آ گیا۔ اس گرنتھ کو لائبریری میں واپس پہنچا دیا۔ لیکن اُس میں جو کچھ پڑھا تھا، اُسے بھلانے میں مجھے لگ بھگ ایک سال لگ گیا۔ پھر میری صحت دھیرے دھیرے ٹھیک ہونے لگی۔ تبھی ڈیکن سنیما کے مالک آنندراؤ پنیٹر اور واشیکر کے درمیان کچھ اَن بَن ہو گئی۔ واشیکر نے یہ کیا کہ تھیٹر میں لگی مشینری ہٹا کر سنیما کو کسی دوسرے گاؤں لے جایا جائے۔ ہمارے باپو اور واشیکر اچھے مِتر تھے۔ باپو نے میرے دادا کو سنیما کا انجن، پروجیکٹر وغیرہ کا کام سِکھانے کے لیے اُن کے پاس بھیج دیا۔
اِدھر ہماری کریانہ دکان کا دیوالہ نکلنے کو تھا۔ لوگوں کے پیسے چکانے میں دیری ہو رہی تھی۔ باہر پیٹرومیکس میں سے پانچ چھ خراب ہو گئے تھے۔ نتیجتاً وہ دھندا بھی ٹھیک سے چل نہیں رہا تھا۔ کوئی اور کام دھندا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ ڈیکن سنیما کے مالک واشیکر نے باپو کو کچھ کام دینا چاہا۔ باپو سے انھوں نے جاننا چاہا کہ کیا وہ ہُبلی میں اُن کے سنیما میں لیکھاجوکھا (حساب کتاب) لکھنےاور مارکیٹ لیڈر کا کام کرنا پسند کریں گے؟ باپو نے آج تک ہمیشہ خودمختار کاروبار ہی کیا تھا، سچ پوچھا جائے تو نوکری ان کے بس کا روگ نہیں تھا۔ پھر بھی شاید ہم سب کا خیال کر، انھوں نے ہُبلی جانا قبول کیا تھا۔
باپو نے کریانہ مال کی وہ دکان بیچ دی۔ جو رقم آئی اس میں سے لوگوں کا جو تھوڑا بہت پیسہ دینا تھا، دے دیا۔ ڈیکن سنیما میں نوکری کرنے وہ ہُبلی چلے گئے۔ ہمارا گھروندہ بکھر گیا۔ دادا پہلے ہی دوسرے گاؤں میں سنیما کی نوکری کرنے چلا گیا تھا۔ وہ وہاں بجلی پیدا کرنے والی مشین چلاتا اور سنیما چالو ہونے پر اُس کے سین پر پیانو بجاتا۔ ولایتی خاموش فلموں میں دی جانے والی معلومات انگریزی میں ہوا کرتی تھیں۔ عام ناظرین کی سمجھ میں وہ نہیں آ پاتیں۔ دادا اُن کا مراٹھی ترجمہ کر تھیٹر میں زوردار آواز میں اُن کی جانکاری دیتا۔ باپو اور دادا کو جو تنخواہ ملتی تھی اُس میں کھانے پینے اور رہائش کا نظام بھی شامل تھا، اس لیے کل تنخواہ میں سے اپنے خرچ کے لیے رکھ کر باقی سارا پیسہ وہ ہمارے لیے کولھاپور بھیج دیتے تھے۔ ہُبلی سے آنے والے پیسوں میں سے ہمیشہ ضروری پیسے ہی ہم لوگ گھر میں رکھتے۔ باقی سارا پیسہ لوگوں کا قرض چُکتا کرنے میں خرچ ہو جاتا۔ ماں تو اب بہت زیادہ محنت کرنے لگی تھیں۔ ہمارے نانا ہر روز کچہری جاتے، لیکن کبھی کبھار ہی ایک آدھ روپیہ کما لاتے۔ گھر آتے ہی فوراً وہ سب کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے میں جٹ جاتے۔ میں بھی جو مجھ سے ہو سکے اپنی ماں کی مدد کیا کرتا۔ حالت اتنی بری ہونے کے باوجود میری اور میرے تینوں چھوٹے بھائیوں کی تعلیم جاری تھی۔
میں اب ساتویں میں تھا۔ ہماری کلاس اوپری منزل پر لگا کرتی تھی۔ کلاس کے باہر ہی چھجا بنا تھا، لیکن اُس میں کوئی دیوار یا جافری نہیں لگی تھی۔ ایک دن کی بات ہے، پتا نہیں کس دُھن میں میں کسی سے باتیں کرتے الٹا پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ ہمارے ایک گروجی واسو نانا کُلکرنی اُدھر ہی سے جا رہے تھے۔ انھوں نے کہا، ’’گدھے! نیچے گرنا ہے کیا؟‘‘ کہتے ہوئے بائیں کنپٹی پر اتنی زور سے چانٹا مارا کہ میرا کان زخمی ہو گیا اور بعد میں تو بہنے بھی لگ گیا۔ کُلکرنی جی کا کس کر مارا ہوا وہ چانٹا آج تک مجھے اچھی طرح یاد ہے، کیونکہ تبھی سے بائیں کان سے میں کچھ اونچا سننے لگا ہوں۔
میٹرک کی کلاس پاس آتی جا رہی تھی۔ اُسی وقت مجھے سردرد کی بیماری ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے کچھ سال تک عینک لگانے کی صلاح دی۔ یونیورسٹی کا انٹری ٹیسٹ ہو گیا۔ اُس میں سنسکرت میں ہم فیل ہو گئے۔ ہمارے سنسکرت کے پرچے واسو نانا کُلکرنی گروجی نے ہی چیک کیے تھے۔ میرے من میں بیکار ہی ایک بچگانہ خیال آ گیا کہ ہو نہ ہو، انھوں نے جان بوجھ کر مجھے فیل کیا۔ جیسا کہ اُن دنوں رواج تھا، انٹری ٹیسٹ میں فیل ہونے والے طالب علم کو میٹرک کی کلاس کا فارم نہیں دیا جاتا تھا اور میری سکول کی تعلیم ختم ہو گئی۔
تب تک ماں نے باپو کا کافی قرض اتار دیا تھا۔ جن چند لوگوں کا پیسہ دینا باقی تھا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ باپوان کاپیسہ ایک نہ ایک دن ضرور چکا دیں گے، کھا نہیں لیں گے۔ ایسی حالت میں ایک دن باپو کا ہُبلی سے خط آیا۔ انھوں نے ہم سب کو ہُبلی بُلا لیا تھا۔ ماں نے سارا سامان بٹورا اور باقی لین داروں کو یقین دہانی کرا، کہ ہُبلی سے اُن کا پیسہ ضرور بھیج دیں گے، ہم سب کولھاپور سے رخصت ہوئے۔
اُس حالت میں بھی، ہم سب پھر سے ایک ہی جگہ پر آ گئے، اِس کی راحت ہم سب نے محسوس کی۔ ہمارا ہُبلی کا مکان بہت ہی چھوٹا تھا۔ دادا تو تھیٹر میں ہی سوتا اور باقی ہم لوگ ایک دوسرے سے کافی سٹ کر ہاتھ پاؤں سمیٹے جیسے تیسے ایک ہی کمرے میں سو لیتے تھے۔ ہُبلی میں مراٹھی زبان بولنے والوں کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ زیادہ تعداد میں لوگ کنّڑ ہی بولتے تھے۔
کچھ دنوں بعد خبر ملی کہ محکمۂ ڈاک میں کلرکوں کی نوکری کے لیے ہُبلی میں امتحان لیا جانے والا ہے۔ اُس میں پاس ہونے والوں کو سرکار میں مستقل نوکری ملنے والی تھی۔ اس امتحان میں بیٹھنے کا میں نے فیصلہ کیا۔ کافی محنت کر اُس کے لیے تیاریاں کیں۔ کچھ دنوں بعد رزلٹ آیا۔ میں بالکل فیل ہو گیا۔ پھر ایک بار فیل! میٹرک کا امتحان دینے کے لیے سکول نے مجھے نااہل ٹھہرا ہی دیا تھا، اب محکمۂ ڈاک نے بھی مجھے نالائق قرار دیا۔ اندر ہی اندر میں ٹوٹ چکا تھا۔
کچھ دن یوں ہی بیکار بِتائے۔ ایک دن باپو نے مجھ سے پوچھا، ’’یہاں ہُبلی میں ریلوے کی ایک بڑی ورکشاپ ہے۔ اُس میں کام کرنے والے ایک بڑے افسر میری پہچان والے ہیں۔ اُن کی سفارش سے اُس ورکشاپ میں فٹر کی نوکری تمھیں مل سکتی ہے، محنت بھی کافی کرنی پڑے گی۔ تم کرو گے نا فٹر کا کام؟‘‘
’’فٹر کا ہی کیوں؟ کسی جھاڑ ووالے کا کام ہو تو وہ بھی کرنے کو میں تیار ہوں،‘‘ میں نے جواب دیا۔
باپو نے کوشش کی۔ ریلوے ورکشاپ میں فٹر کے کام پر مجھے نوکری مل گئی۔ تنخواہ تھی روز کے آٹھ آنے۔ ہر روز میں صبح سات بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ ساڑھے گیارہ بجے ایک بھونپو بجتا۔ وہ کھانے اور آرام کا شارہ ہوتا۔ میں فوراً دوڑ کر گھر جاتا، باجرے کی روٹی سبزی کھا کر پھر لگ بھگ دوڑتے بھاگتے لوٹ بھی آتا، اور ساڑھے بارہ بجے کام پر حاضر ہو جاتا۔ شام چھ بجے تک کام جاری رہتا۔
اِس طرح دن بھر کام کرنے کے بعد ہر روز رات میں ڈیکن سنیما کے دروازے پر ڈورکیپر کا کام بھی میں کیا کرتا۔ اس کام کا مجھے کوئی پیسہ ویسہ نہیں ملتا تھا۔ فائدہ اتنا ہی تھا کہ سبھی فلمیں مفت میں دیکھنے کو مل جایا کرتی تھیں۔ یہیں میں نے ایڈی پولو وغیرہ اداکاروں کی خاموش فلمیں بالترتیب دیکھی تھیں۔ ان فلموں میں اکثر گھڑدوڑ، پستول بازی، مار پیٹ وغیرہ کے منظروں کی بھر مار ہوا کرتی تھی۔ کبھی کبھاربھولے سے ایک آدھ بڑھیا جذباتی فلم بھی دیکھنے کو مل جایا کرتی تھی۔
اسی ڈیکن سنیما میں ہی میں نے داداصاحب پھالکے کی بنائی اور ڈائریکٹ کی گئی ’’لنکادہن‘‘، ’’بھسما سُر موہنی‘‘، ’’کرشن جنم‘‘ بھی دیکھی تھیں۔ اس سے پہلے کولھاپور میں میں نے پھالکے جی کی ’’ہیر چندر‘‘ نامی خاموش فلم بھی بڑی عقیدت سے دیکھی تھی۔ مجھے وہ بہت اچھی لگی تھی۔ اُس میں عورتوں کے کردار مردوں نے نبھائے تھے۔ ولائتی فلموں میں عورتوں کا کردار عورتیں ہی کیا کرتی تھیں اور انھیں دیکھنے کی عادت پڑجانے کی وجہ سے ’’ہیر چندر‘‘ خاموش فلم کی یہ بات اتنی بھا نہیں سکی تھی۔ لیکن یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ اُن کے معجزوں پر مبنی حیرت انگیز باتوں کو دکھانے والی خاموش فلمیں لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی تھیں، حاوی ہو گئی تھیں۔ کہتے ہیں، بمبئی میں ’’لنکادہن‘‘ دکھائی گئی، تب تو اتنا پیسہ ملا کہ گاڑیاں بھر بھر کر ماہانہ پیسہ لے جایا گیا تھا۔ اُس کے بعد بھی ان کی کئی فلمیں بہت ہی کامیاب رہی تھیں۔ پھالکے جی اُن گاؤوں میں جہاں تھیٹر نہیں ہوتے تھے، اپنا پروجیکٹر لے کر جاتے اور لوگوں کو سنیما دکھاتے تھے۔ اُن کی انہی کوششوں کے نتیجے میں عوام میں تفریح کے اچھے ذریعے کے روپ میں سنیما کے لیے ایک قسم کے تجسس اور کشش کا آغاز ہو گیا تھا۔
ریلوے ورکشاپ میں جلد ہی چیٹلے، اردھ گول آکار، گول آکار، اور دیگر چھوٹے موٹے قسم کی سٹیل ریتوں کی مدد سے ریلوے ڈبوں کے متنوع حصوں کو تراشنا، پالش کرنا وغیرہ کاموں میں ماہر ہو گیا۔ میری اِس ترقی کو دیکھ کر فورمین نے ریلوے یارڈ میں ریپئری (مرمت) کے لیے لائی گئی ویگنوں کے بفرز ٹھیک کرنے کے کام کی پوری ذمےداری مجھے سونپ دی۔ میری تنخواہ بڑھ گئی۔ اب ہر روز بارہ آنے ملنے لگے۔ میرا جوش بڑھا اور ویگنوں کے بفرز کو ٹھیک کرنے کے کام میں میں بڑے چاؤ سے جُٹ گیا۔
ایک دن ریلوے یارڈ میں ویگنوں کے بفر کی جانچ پڑتال کر خرابی کو ٹھیک کرتے وقت میں اکیلا تھا۔ پہلے دو ڈبوں کے بفرز دیکھ چکا۔ اُن کی سپرنگ کوائلز ٹھیک حالت میں تھیں۔ جو تھوڑی سی گڑبڑ تھی اُسے میں نے ٹھیک کر دیا اور تیسری ویگن کے پاس پہنچا۔ بڑی ہی خوداعتمادی سے اُس کے ایک بفر سپرنگ دیکھنے کے لیے لوہے کا وہ گولا دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر زور سے اندر کی طرف دبایا۔ لیکن اُس بفر میں سپرنگ تھے ہی نہیں، اس لیے میری انگیاں بفر میں پھنس کر زوروں سے کچلی گئیں۔ میں زور سے چیخ کر بےہوش ہو کر گر پڑا۔ میری چیخ سننے والا آس پاس کوئی نہیں تھا۔ دو تین گھنٹے بعد ہوش آیا تو دیکھا کہ میرے دائیں ہاتھ کی انگیاں خون سے لت پت ہو گئی ہیں۔ یارڈ سے ورکشاپ تک جیسے تیسے پہنچ گیا اور سُوجن کی وجہ سے پھولا ہوا ہاتھ فورمین کو دکھا کر گھر لوٹ آیا۔
اس حادثے کے بعد کافی دن مجھے بخار آتا رہا۔ انگیوں میں ہوئے زخموں کے گھاؤ بھرنے اور سوجن اترنے میں کافی دن لگ گئے۔ اس حادثے کے باعث میری شہادت کی انگلی کے پاس کی انگلی ٹیڑھی میڑھی ہو چکی ہے۔ ہُبلی ورکشاپ میں کیے کام کی یاد کے روپ میں آج بھی وہ ویسی ہی ٹیڑھی ہے۔
لیکن کئی دن بیمار رہنے کی وجہ سے میری ریلوے کی وہ نوکری جاتی رہی۔ میں پھر بیکار ہو گیا۔ انہی دنوں ڈیکن سنیما کے سامنے ایک مہاشے نے فوٹوگرافی کا سٹوڈیو مارڈن سائن بورڈ پنیٹنگ کی دکان کھولی تھی۔ باپو نے مجھے اُن مہاشے کے پاس دونوں کام سیکھنے کے لیے بھجوایا۔ وہاں ڈویلپنگ کے فن سے میرا پہلا رابطہ ہوا۔ فوٹو نکالنا، اُس کے شیشے دھونا، پرنٹ نکالنا، فوٹو ماؤنٹ پر چڑھانا وغیرہ، ساری باتیں میں دھیرے دھیرے سیکھ گیا اور انھیں اچھی طرح سے کرنے بھی لگا۔ بڑی بڑی دکانوں پر اُن کے نام کے جو فلیکس لگائے جاتے، انھیں میں اچھی طرح رنگنے بھی لگا تھا۔ دکان کا سارا کام سیکھ چکنے کے بعد بھی مہاشے مجھے تنخواہ تو دیتے ہی نہیں تھے۔ بلکہ مجھے سکھانے کے احسان کے بدلے دونوں وقت ہمارے یہاں روٹی کھانے کے لیے آ جمتے تھے۔ اپنی طرف سے میں گرہستی میں ایک پائی کی بھی شراکت نہیں کر پا رہا تھا، بلکہ الٹا میری تربیت کی وجہ سے گھر میں ایک اور آدمی کو کھلانے پلانے کا خرچ بڑھ گیا۔ اس کی چبھن میرے من کو کھائے جا رہی تھی۔
ایک دن ہم لوگوں کو معلوم ہوا کہ باپو اور ڈٰیکن سنیما کے مالک واشکیر میں ناراضی ہو گئی ہے۔ باپو نے سنیما کی نوکری چھوڑ دی۔ اُن کے ساتھ دادا کو بھی وہاں کی نوکری چھوڑنی پڑی۔ واشیکر، اُن کے خاندان، باپو اور دادا کا کھانا بنانے کے لیے ایک باورچی انھوں نے رکھا تھا۔ اُس کا بھی واشیکر کے ساتھ جھگڑا ہو گیا اور اُس نے بھی نوکری چھوڑ دی۔ لیکن اس کی صلاح بھی یہی تھی کہ باپو اور وہ دونوں مل کر ساجھے داری میں ایک ہوٹل شروع کریں۔ پیٹ پالنے کے لیے دوسرا کوئی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے باپو نے اُس کا مشورہ مان لیا۔
باپو نے ہوٹل شروع کیا۔ اس سے آمدنی بھی اچھی ہونے لگی۔ ہم لوگوں کا کُنبہ پھر سے اچھے دن دیکھنے لگا۔ گاڑی پھر پٹری پر آ گئی۔ لیکن کچھ ہی دن بعد اُس باورچی کے من میں برائی جاگی۔ ایک دن لڑجھگڑ کر وہ چلا گیا۔ ہوٹل بند کرنے کی نوبت آ گئی۔
لیکن تب میری ماں کمر کس کر آگے آئی۔ بولی، ’’ہوٹل کے بند وَند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہوٹل کے سارے کھانے میں خود تیار کروں گی۔‘‘
باپو ماں کی طرف دیکھتے ہی رہے، بولے، ’’تم؟ تم ہوٹل کی کھانے پینے کی چیزیں بناؤ گی؟‘‘
ماں نے مضبوطی سے کہا، ’’جی ہاں! آپ ہوٹل کو چالو رکھیے۔ آخر گھر میں میں کھانا تو پکاتی ہی ہوں نا؟ وہی کچھ زیادہ لوگوں کے لیے یہاں پکا لوں گی۔ تھوڑا زیادہ وقت دوں گی۔ گھر میں اپنے پانچ بچوں کے لیے بناتی ہوں، ہوٹل میں آنے والے سب کو اپنے ہی بچے مان کر اُن کے لیے بھی بنایا کروں گی۔‘‘
سارے سنسار کی پرورش کرنے والی جیتی جاگتی جگن ماتا (دیوی ماں) بھوانی میری ماں کے روپ میں بولی تھی۔ باپو نے ہوٹل کو جاری رکھا۔ ماں تڑکے چار بجے اٹھتی اور تبھی سے کمر کس کام میں جُٹ جاتی۔ کھانے پینے کے سامان کی چیزیں اتنی مزیدار اور رسیلی بناتی کہ ہمارا ہوٹل پہلے سے بھی زیادہ اچھا چلنے لگا۔ سویرے چار بجے سے لے کر رات دس بجے تک چولھے کی آنچ میں تپ کر لال لال بنا اُس کا چہرہ، اور کانوں کے پیچھے سے اترتی پسینے کی دھار دیکھ کر میرے پیٹ میں بل پڑتے۔ ماں کی اتنی ساری محنت لاچار ہو کر دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔ اتنی محنت کرنے کے باوجود ہم نے ماں کو کبھی یہ کہتے نہیں سُنا، تھک گئی رے بھیا، اب یہ سب مجھ سے نہیں ہوتا! کئی بار رات میں فوٹوگرافی کے سٹوڈیو سے لوٹ آنے کے بعد میں ماں کے پاؤں دبانے بیٹھتا۔ اتنی ہی اُس تھکے ہوئے جسم کی سیوا ہو پاتی!
کچھ دنوں بعد میرا خالہ زاد بھائی بابو (بابوراؤ پینڈھارکر) بابوراؤ پینٹر کی کولھاپور میں بنائی ’’سیرنگری‘‘ نامی خاموش فلم ڈیکن سنیما میں دکھانے کے لیے ہُبلی آیا۔ بابوراؤ پنیٹر کی مہاراشٹر فلم کمپنی میں منیجر تھا (میرا کزن) بابوراؤ۔ جوئے میں ہارے پانڈو خفیہ طور پر وِراٹ راجا کے محل میں بھیس بدل کر رہتے ہیں، مہا بھارت کے اِس ایک واقعے پر وہ فلم بنائی گئی تھی۔ اِس فلم میں عورتوں کے کردار عورتوں نے ہی کیے تھے۔ بابوراؤجی پینٹر نے فلم کی ڈائریکشن بڑی سوجھ بوجھ اور اُپج سے کی تھی۔ اُس میں فنکاری بھی کافی تھی۔ سبھی کی اداکاری بھی اتنی بَڑھیا تھی کہ سبھی کردار جاندار اور سچ مچ کے لگتے تھے۔ خاص فخر کی بات یہ تھی کہ فلمسازی کے لیے بابوراؤ جی پینٹر نے کمال دیسی کیمرا بنایا تھا۔ پنیٹرجی کے خود بنائے ہوئے کیمرے پر فلمائی گئی یہ فلم پونا میں جانے مانے تلک جی نے دیکھی اور انھوں نے اس فلم کی، اور اُس مقامی کیمرے کی بہت بہت تعریف کرتے ہوئے اُسے ایک گولڈمیڈل اور تصدیقی خط سرٹیفیکٹ دیا تھا۔
میں نے اس فلم کو باربار یکھا۔ سوچا، بابو کے ساتھ میں بھی چلا جاؤں مہاراشٹر فلم کمپنی میں۔ فوٹوگرافی تو میں نے سیکھ ہی لی تھی۔ لہٰذا ہمت اکٹھی کر میں نے بابو سے پوچھا، ’’بابو، کیا تمھاری فلم کمپنی میں مجھے کچھ کام مل سکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ صرف ایک وقت کا کھانا مل جائے تو اُتنے پر ہی ہر کام کرنے کے لیے میں تیار ہوں۔‘‘
بابو نے کچھ سوچ کر بتایا، ’’ٹھیک ہے، تم کولھاپور آ جاؤ۔ کمپنی شِواجی تھیٹر میں ہے۔ وہاں آ کر مجھے ملنا۔ میں تمھیں بابوراؤ پینٹر کے سامنے کھڑا کر دوں گا۔ وہ تمھیں دیکھیں گے، بس!‘‘
’’اس کا مطلب تو یہ رہا کہ بابوراؤ پینٹر مجھے دیکھ کر پاس یا فیل کر دیں گے، ہے نا؟‘‘
بابو مجھے ڈھارس بندھاتے ہوئے بولا، ’’بھئی، ڈرتے کیوں ہو؟ تم آؤ تو سہی کولھاپور۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ سنیما گھر میں چلا گیا۔ سنیما کے دروازے پر کھڑے کھڑے میں سوچنے لگا، بابوراؤجی پینٹر مجھے دیکھیں گے۔ اُن کی نظر کے امتحان میں بھی کیا میں پاس ہو پاؤں گا؟ کہتے ہیں، کوئی بات دو بار ہوئی تو تیسری بار بھی ضرور ہو جاتی ہے۔ دو بار تو میں فیل ہو چکا تھا، اب تیسری بار ہونے جا رہی ہے، اس امتحان میں بھی میں فیل رہا تو؟ اس کا تصور بھی میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ہاتھ جوڑ کر، آنکھیں بند کرتے ہوئے میں بڑبڑایا: ’’اب کی بار تو مجھے فیل مت کرنا میرے پربھو!‘‘
’’سیرنگری‘‘ فلم کو دکھانے کے بعد بابو فلم کے ڈبے لے کر کولھاپور واپس چلا گیا۔ اُسے گئے دو تین ہفتے بیت گئے۔ تب میں نے باپو سے مہاراشٹر فلم کمپنی میں کام کے لیے جانے کی بات چھیڑی۔ انھوں نے ہاں یا نا کچھ بھی نہیں کہا۔ شاید اب تک وہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ میں جو بات ٹھان لیتا ہوں، پوری کر کے ہی رہتا ہوں۔ باپو نے میرے ہاتھ پر ریلوے کا ٹکٹ اور پندرہ روپے رکھے اور بولے، ’’اور پیسوں کی ضرورت پڑ جائے تو لکھنا۔‘‘ ان سے پیسے لیتے وقت مجھے کافی عجیب سا لگا۔
چلتے وقت میں نے باپو کے پاؤں میں ماتھا ٹیکا، ماں کے بھی پاؤں پڑا۔ لگاتار کام کرتے رہنے کی وجہ سے کھردری ہتھیلی بڑی مامتا سے میرے چہرے پر گھما کر ماں نے مجھے چوم لیا۔ ہُبلی سے کولھاپور جانے والی ریل میں بیٹھتے وقت میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اب جو بھی ہو، جو بھی کام کرنا پڑے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر ہی چین لوں گا۔ زندگی کے دن جیسے بھی گزارنا پڑے، باپو سے پیسے نہیں منگواؤں گا! اِسی سوچ وچار میں ایسا الجھ گیا کہ کولھاپور کب آ گیا پتا ہی نہ چلا۔ گاڑی صبح چھ بجے کولھاپور پہنچی۔ سٹیشن کے باہر صرف ایک ہی تانگہ کھڑا تھا۔ تانگے والا بوڑھا تھا۔ اُس سے میں نے پوچھا، ’’تانگے والے بابا، مجھے شِواجی تھیٹر تک لے جاؤ گے؟‘‘
’’ضرور، کیوں نہیں! آؤ بیٹھو، چار آنہ لوں گا۔‘‘
’’چار نہیں، دو آنے دوں گا۔‘‘
’’اچھا اچھا، بیٹھو بچے۔ اپنا مکان بھی اُدھر ہی ہے۔ آؤ بیٹھو۔‘‘
میں تانگے میں بیٹھ گیا۔ تانگہ چلنے لگا۔ میں تو شِواجی تھیٹر پہنچنے کے لیے بےتاب ہو رہا تھا لیکن تانگہ تو چیونٹی کی رفتار سے چلتا ظاہر ہو رہا تھا۔ میں نے تانگے والے بابا سے کہا، ’’ذرا تیز دوڑائیے نا تانگے کو۔‘‘
’’ارے بچے، دو آنے میں گھوڑا تیز کیسے بھاگ سکتا ہے؟‘‘
میں نے ہنس کر کہا، ’’گھوڑا تھوڑے ہی جانتا ہے، دو آنے ملے یا چار۔‘‘
’’پر وا کو مالک تو جانت ہے نا؟‘‘ (پر اس کا مالک تو جانتا ہے نا؟) ایسا کہہ کر اُس نے زور سے ٹہوکا لگایا اور گھوڑے کو ایک ہنٹر جما دیا۔
تانگہ سرپٹ بھاگنے لگا۔ میرے دماغ میں سوچوں کا چکر بھی اتنی ہی رفتار سے چلنے لگا۔ ’’سیرنگری‘‘ کا منظر ذہن میں آ گیا۔ میں مہاراشٹر فلم کمپنی میں کسی نہ کسی کام پر لگ گیا ہوں۔ نئی فلم کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ میں وہاں سب کو میک اپ کر رہا ہوں۔ اپنا بھی میک اپ کر اُس فلم میں کبھی بہادر سپاہی کا، تو اُس سے اگلی فلم میں راجا کے بیٹے کا رول ادا کر رہا ہوں۔ میری اکڑ اور ادا کو بابو فخر کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ بابوراؤ پینٹر میرے کام سے خوش ہو کر میری پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں، شاباشی دے رہے ہیں اور۔۔۔
اور تبھی زور سے جھٹکا لگا۔ میں ہڑبڑا کر ہوش میں آ گیا۔ تانگہ رُک گیا تھا اور تانگے والا کہہ رہا تھا، ’’جی، اب اُتر جاؤ چھوٹے بابو، شِواجی تھیٹر آن پہنچے ہیں۔‘‘
تانگہ شِواجی تھیٹر کے دروازے پر ہی کھڑا تھا۔ میں نے تانگے والے کو پیسے دیے، اپنا صندوق اور بستر لے کر نیچے اُترا اور بڑے جوش اور اُمنگ کے ساتھ تھیٹر کے پورچ سے ہوتا ہوا اندر جانے لگا۔ نظر کچھ اونچی اٹھی اور پاؤں ایک دم تھم گئے۔ ایک بڑی سی تختی پورچ کی چھت سے نیچے لٹک رہی تھی۔ اُس پر لکھا تھا: ’’بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے۔‘‘
(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
[blockquote style=”3″]
انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔
راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال
[/blockquote]
اپنے گھروں سے بےدخل ہوکر نئے شہر میں ایک مخالف ماحول کے بیچ اپنے لیے زمین ڈھونڈتی قوم کے کردار میں عدم تحفظ کا احساسٴ سرایت کر جانا قدرتی تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر انسان کے بھیتر دو دھارے بہنے لگتے ہیں۔ ایک دھارا ہوتا ہے خوف کا، جو باہری ماحول میں پھیلے ہوے خطرے سے پیدا ہوتا ہے، اور دوسرا دھارا ہوتا ہے باہری ردعمل والے دھارے کے ردعمل میں جنما جوابی دھارا۔ یہی دھارا ہوتا ہے جس سے اثر لے کر انسان کی تمام اندرونی قوتیں اپنے وجود کے بچاؤ میں ایک جُٹ ہو کر اسے اس کی تمام جسمانی قوتوں سے زیادہ طاقتور ہونے کا بھروسا دلاتی ہیں۔ وہ اپنی اسی اندرونی طاقت کے بھروسے ان باہری خطروں سے ٹکراتا ہے جن سے اسے ڈر لگتا ہے۔
بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی اس اندرونی طاقت کو نہ ٹھیک سے پہچان پاتے ہیں اور نہ ہی اسے ایک جٹ کر پاتے ہیں۔ ایسے لوگ، اپنی حفاظت کے لیے دوسرے انسانوں میں اپنا تحفظ ڈھونڈے ہیں۔
ایسی ہی دوِدھا سے جوجھتے، ایک دوراہے پر کھڑے بے یارومددگار سندھی طبقے میں بھی ایک اور بٹوارا ہوا۔ دھیرے دھیرے اکھڑے ہوے لوگوں میں سے گنتی کے چند ایسے لوگ منچ پر ابھرنے لگے جو ہر روز کی لعنت ملامت سے عاجز آ چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی زندگی سے بھی عاجز آ چکے تھے۔ ان لوگوں کی بولی ہی ان کے اپمان کا ہتھیار بن گئی تھی۔ یہ زبان سے چلنے والی کسی پچکاری کی طرح کا ہتھیار تھا، جس سے ’’اے سندھی!‘‘، ’’بھینڑاں کھپو‘‘، ’’لکھ جی لعنت‘‘، ’’وڑی سائیں‘‘ جیسے سندھی کے کچھ چنندہ لفظ ہلاک ہو کر مسخ روپ میں باہر نکلتے اور برچھی کی طرح راہ چلتے بچے بوڑھوں کو نشانہ بناتے۔
ایسے ہی مخالف ماحول میں جینے کے راستے ڈھونڈتے ان رفیوجیوں میں سے کچھ لوگ ’’کم لاگت، کم منافع، لیکن ٹرن اوور زیادہ‘‘ والا فارمولا لے کر بازار میں اترے۔ بیوپاری مفادات کا ٹکراو ہوا تو شہر کے پرانے بیوپاریوں نے ان نئے نئے بیوپاریوں کو ملاوٹ خور اور ڈنڈی مار والے تمغے دے کر بازار میں ہرانے کی حکمت عملی اپنا لی۔ دو بیوپاریوں کی اس جنگ کی زد میں آ کر وہ لوگ بھی زخمی ہونے لگے جو نہ تو سڑک پر خالی شکر کے بورے کے منافعے پر شکر بیچ رہے تھے اور نہ جنھوں نے دال چانول کی کوئی دکان لگائی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہر صبح، ہر شام طرح طرح کے جھوٹے الزام جھیل رہے تھے۔
یہ بیکار سے گھومتے بیروزگار لوگوں کا گروہ تھا جس کے لیے زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ سو جینے مرنے کی پروا کو پیچھے چھوڑ، اس نہایت چھوٹے سے حصے نے اینٹ کا جواب پتھر والا راستہ چن لیا اور ڈرانے والے نتیجوں کو الگنی پر ٹانگ کر بےخوف سینہ تان کر نکلنا شروع کر دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اونچی آواز میں اپنے گھر چھوڑ بےگھر ہونے کو وطن کے لیے دی گئی قربانی مانتے تھے اور نئے بندوبست میں اپنے لئے عزت کی جگہ چاہتے تھے۔ اور جو یہ حق حق کی طرح نہ ملے تو آگے بڑھ کر چھین لینے والے فلسفے کے ساتھ سامنے آ گئے۔
لیکن دوسرے راستے پر چلنے والوں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ یہ لوگ مل جل کر صلح کل والے انداز میں جینے کی تمنا رکھتے تھے۔ اتنی بڑی اتھل پتھل کے بعد کسی طرح تھوڑے بہت سمجھوتے کی راہ لے کر سکون سے جینا چاہتے تھے۔ اس طبقے نے شہر کی سِکھ سمودائے [برادری] اور ان کی بہادری کو اپنی طاقت مان لیا۔
یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ صدیوں سے سندھی سماج سِکھی پرمپرا [روایت] سے جڑا رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو که جس گھر میں گرو نانک دیو یا دوسرے سِکھ گروؤں کی تصویریں نہ لگتی ہوں۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر رہا ہو گا جس میں گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہ ہوتا ہو۔ اور تو اور، سندھی کہاوتوں میں بھی گرو نانک دیو کا ستھان اتنا اونچا رہا ہے که وہ اپنے گھر کو بھی گرو کی چھاؤں کی طرح مانتے تھے۔ باربار یہی ایک جملہ سنائی دیتا تھا: ’’گھر گُرو جو در۔‘‘ ہر تیسرے چوتھے سندھی گھر میں ایک بیٹے کا سِکھ ہونا ایک عام بات تھی۔ اس ناتے وہ ہمیشہ سے سِکھوں کو اپنا بھائی، اپنا ہمزاد مانتے ہی آئے تھے۔ اور سکھ سمودائے نے بھی ہمیشہ اس رشتے کو وہی سمّان دیا ہے۔
ایک دن کی گھٹنا نے اس پوری بات کو ایک نئی اڑان دے دی۔ ایک دن دو سکھ عورتیں گھر سے کچھ دوری پر آباد اِبّا چوڑی والے کی باخل سے ماں کے پاس کپڑے سلوا نے آئیں۔ انھوں نے اپنی کسی جاننے والی کا حوالہ دیا جس کے لیے ماں نے کپڑے سیے تھے۔ ماں کے چہرے پر اپنی تعریف سن کر ایک مسکراہٹ سی آئی۔ اس نے اٹھ کر دونوں کو پانی پلایا اور بڑے پیار سے کپڑوں کی سلائی کے بارے میں بات کی۔ باتوں باتوں میں ہی ماں نے ان سے دریافت کیا که شہر میں گورودوارہ کہاں ہے۔ گورودوارے کی بات سن کر دونوں کے چہرے پر ایک مسکان سی پھیل گئی۔ انھوں نے بتایا که شہر میں کل جمع ایک ہی گورودوارہ ہے جو شہر سے کافی دور رجمنٹ روڈ پر ہے۔
ان دو میں سے ایک عورت خاصی بزرگ تھیں۔ ماں نے جب اس بات پر حیرانی اور نراشا ظاہر کی تو اس بزرگ مہیلا نے اپنے پنجابی لہجے میں جواب دیا، ’’او نا جی، جیہڑا نواب سی نہ بھوپال دا، اُناں دی فوج وچ پٹیالے دے جیالے سکھ سپاہی تھے۔ کوڑاں والی فوج (گھڑسوار فوجی دستہ) بنانے کے لیے اُناں نے خاص طور سے پٹیالہ مہاراج نوں دوستی دا واسطہ دے کے، پنج سو سپاہیاں نوں بلایا سی۔ سو بس اُناں دے واسطے ای وہ گورودوارہ بھی بنایا سی۔‘‘
رجمنٹ روڈ شہر خاص سے واقعی دور دراز کا علاقہ تھا۔ یہ بھوپال ریاست کی فوج سلطانیہ انفنٹری والی بیرکس کی طرف آنے جانے کا راستہ تھا۔ اس دوری کے باوجود گورودوارے پہنچنے والوں کی کمی نہ تھی۔ ساجھے کا تانگہ اس کے لیے بڑی مفید چیز تھا۔
ماں نے حویلی کے سارے گھروں سے ان دو مہیلاؤں کا تعارف ایسے کروایا جیسے کوئی رشتےدار ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ که سارے لوگوں نے اسی طرح کی خوشی ظاہر کی۔ ماں نے آخر میں گھر کے اندر ایک آلے میں بنے مندر، اس میں کانچ والے فریم میں جڑی گرو نانک دیو کی تصویر اور گرو گرنتھ صاحب کے درشن بھی کروا دیے۔ کپڑے سلنے سے پہلے ہی ایک نیا اور مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ اس کے بعد شروع ہوا تیج تیوہار پر گورودوارے جانے کا سلسلہ۔
دادا پو پھٹے ہی حویلی کے اکلوتے غسلخانے میں پانی کی بالٹی لے کر گھس جاتے۔ جنیؤ ہاتھ میں لے کر کچھ بُدبُداتے اور پھر نہا دھو کر نکل پڑتے گھر سے کچھ دور خزانچی گلی میں بنے مندر کی طرف۔ ماں کا پوجا پاٹھ گھر پر ہی ہو جاتا۔ امرت ویلے کی اس کی پوجا میں سُکھمنی صاحب کا پاٹھ ضروری ہوتا تھا۔ جب بھی موقع ملتا، ماں مجھے بھی ساتھ بٹھا کر گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ سناتی۔ اس کا مطلب سمجھاتی۔ میں منترمُگدھ سا ماں کو پاٹھ کرتے سننے سے بھی زیادہ اسے دیکھتا رہتا تھا۔ گیت والے انداز میں پاٹھ کرتی ماں کی اس دھیمی اور کبھی مدھم سی آواز میں کسی کسی شبد پر ایک سیٹی سی سنائی دے جاتی تھی اور میں چمتکرِت سا اس کے ہونٹوں کو دیکھتا رہتا که کس طرح اوپر نیچے ہوتے ہوتے اچانک کیسے ایک حالت ایسی آتی ہے که کسی کسی شبد پر وہ ذرا گول ہو جاتے ہیں اور سیٹی کی سی آواز سنائی دے جاتی ہے۔ جس گھڑی ایسا ہوتا تو مارے رومانچ کے میرے پورے بدن میں ایک پھرپھری سی اٹھتی اور چہرے پر خوشی کا انوکھا بھاوٴ آ جاتا۔
ایک دن ماں نے، پڑوسن پتلی بائی سے کہہ کر میرے لیے ایک چھوٹی سی پُستک بازار سے منگوائی: ’’بال بودھ‘‘۔ اسی کتاب کے ذریعے وہ مجھے گرمکھی پڑھنا سکھانا چاہتی تھی که میں خود بھی گرو گرنتھ صاحب اور دسمیس درشن جیسی پوتر کتابیں پڑھ سکوں۔
ماں کی پہلی کوشش کچھ کامیاب نہ ہو سکی۔ میرا رجحان ذرا دوسری طرف ہی بنا رہا۔ لیکن ماں کی لگاتار کوششوں اور پاٹھ کے دوران بجنے والی سیٹی نے مجھے گرمکھی سیکھنے پر آمادہ کر ہی لیا۔ میں گرمکھی سیکھا تو گرو گرنتھ صاحب کو پڑھنے کا چسکا سا لگ گیا۔ اب مجھے اس سیٹی وِیٹی کی یاد بھی نہ آتی تھی۔ میری زندگی میں اس گرنتھ نے ایک ایسا بیج بویا جو میرے بھیتر پوری طرح بلوان ہو کر مجھے باغیانہ فطرت کی راہ پر لے جانے والے رجحان کے ساتھ ٹکرانے لگا تھا۔ اندر ہی اندر کشمکش کی ایک ایسی کیفیت بننے لگی تھی جو مجھے باربار بےچینی اور خفتگی کے ساتھ خود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔
صحبت اور حالات سے پیدا ہوا باغیانہ تیور سماج میں غنڈئی والے کھاتے میں درج ہوتا ہے۔ لہٰذا عمربھر میرے بھیتر یہ باغی اور یہ امرت بیج ساتھ ساتھ پلتے رہے۔ میں جب جب کرودھ میں کوئی ایسا کارنامہ کر گزرتا جو مہذب سماج کے بچوں کے لیے ممنوع مانا جاتا تھا، تب تب کسی اور کی انگلی اٹھنے سے پہلے ہی یہ امرت بیج میرے بھیتر کوئی ایسا مادّہ پیدا کر دیتا که میں خود اپنے کو قصوروار مان کر لہولہان کر، سزا دینے کی کوشش کرنے لگتا۔
اس کوشش کی شروعات ہوتی تھی دادا کے پورٹیبل ریمنگٹن ٹائپ رائٹر کے ساتھ رکھے کاربن پیپر اور کاغذوں کے ساتھ رکھی آل پن کی ڈبی سے۔ ایک پن نکال کر میں خود کو باربار سوئی چبھوتا اور چبھن کے درد کے ساتھ نکلتی خون کی ننھی سی بوند کو دیکھتا، ماں کی طرح ہی خاموش آنسو بہاتا اور چپ چپ رُلائی کرتا رہتا۔ جس دن سوئی سے نکلی خون کی بوندوں سے بھی جی ہلکا نہ ہوتا، اس دن اٹھ کر اتوارے کے ٹرانسپورٹ علاقے میں آباد ایک ننھے سے باغیچے میں پھولوں کے اردگرد لگی کانٹےدار باڑھ کے اُبھرے کانٹوں سے اپنی انگلیاں زخمی کر لیتا۔ جب خون بہتا تو دبی دبی چیخ بھی نکلتی لیکن اس خون کے ساتھ ہی دل میں اٹھا درد بھی ضرور کچھ بہہ جاتا۔ جی ہلکا ہو جاتا۔
اس ساری کسرت میں بہتے آنسو چہرے پر طرح طرح کے نقشے بھی بنا جاتے، جو سوکھ کر بخوبی ابھر کر صاف دکھائی دینے لگتے تھے۔ چہرے پر پھیلا عجب سا چپچپاپن محسوس ہوتا۔ جب ہاتھ لگا کر دیکھتا تو ہاتھ کو ذرا سے خراش نما کھردرےپن کا احساس ہوتا۔ اپنے چہرے کی حالت اور ہاتھ کی انگلیوں پر آنسوؤں کی طرح سوکھ چکا خون دیکھ کر اپنی جہالتوں پر خود ہی ہنسی آنے لگتی تھی، جو چہرے تک آتے آتے محض ایک مسکان بھر ہی رہ جاتی تھی۔
میں بغیا کی بنچ سے اٹھ کر سامنے نندا چائے والے کی دکان تک پہنچ جاتا۔ باہر ٹرے میں رکھے پانی کے گلاسوں میں سے ایک گلاس اٹھا کر منھ دھوتا۔ اُدھر سے گدی پر بیٹھے نندا سیٹھ کی آواز آتی: ’’ابے او ڈھور! یہ گاہکوں کے پینے کا پانی ہے۔ منھ دھونا ہو تو نل پہ جاؤ۔‘‘
میں مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا۔ سنی ان سنی کر، واپس گھر کی طرف چل پڑتا۔
٭٭٭
بٹوارا – کہنا آسان اور نبھانا بہت مشکل ہے۔ ایک پریوار کے بیچ کے بٹوارے میں اکثر گھر کے آنگن میں دیوار کھڑی کر کے اس کام کو تمام مان لیا جاتا ہے۔ لیکن بہتر زندگی کی تلاش میں بٹے ہوے دیوار کے دونوں طرف کے انسانوں کا بیشتر وقت زندگی سے یکایک گم ہوئی چیزوں کو ڈھونڈنے میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔ ان گمشدہ چیزوں میں برتن بھانڈوں سے لے کر ہاتھ سے پھسلتے رشتوں کی کمی کا اثر جتنا دل کو دکھاتا ہے اتنا ہی ذہن کو مشتعل بھی کرتا ہے۔ یہی اشتعال اور یہی جوش انسان کو اپنی کھوئی ہوئی چیز حاصل کرنے کے لیے پرتشدد بھی بنا دیتا ہے۔
ملک کا بٹوارا ہوا تو یہاں بٹنے والوں کے بیچ محض ایک چھوٹی سی دیوار نہیں تھی که جس کے آرپار رہنے والوں کو ایک دوسرے کے سکھ دکھ کی آوازیں سنائی دے جاتی ہیں۔ یہ سیاسی حصہ بانٹ تھی۔ اس طرح کے بٹوارے میں چیزوں کو ایک دوسرے کی نظر سے دور رکھنے کے لیے دیوار کی جگہ انسانیت کے کل قد سے اونچا ایک پہاڑ کھڑا کیا جاتا ہے جسے عام زبان میں سرحد کہا جاتا ہے۔
ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھی دونوں طرف کے لوگوں کے من میں برسوں برس ایک ہی سنگھرش جاری رہا – ’’میں اِدھر جاؤں، یا اُدھر جاؤں؟‘‘ اِدھر آ چکے لوگ ایک دن پھر واپس جانے کے سپنے دیکھتے تھے، تو اُدھر جا بسے لوگوں کو بھی گھر کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ نتیجہ یہ که اُدھر رہ کر بھی اِدھر ہی رہ گئے اور اِدھر آ کر بھی اُدھر لوٹنے کی آس لیے رہے۔
شروعات میں دونوں طرف آنا جانا آسان تھا۔ بنا روک ٹوک آنے جانے کی سہولت تھی۔ اس آسانی کا نتیجہ یہ ہوا که ہندوستان میں بسے بسائے گھربار چھوڑ کر پاکستان جا پہنچے لوگ بڑی تعداد میں واپس لوٹنے لگے۔ اس کی خاص وجہ تھی مقامی لوگوں کا رویہ۔ اپنوں کے بیچ اچانک ہزاروں ہزار انجانے لوگوں کی بڑھتی تعداد نے انسانی ذہن میں وہی خوف پیدا کر دیا تھا جو ہندوستان میں آئے ہوے بےگھروں کو دیکھ کر مقامی لوگوں میں پیدا ہو رہا تھا۔ نتیجے میں اپنے گھروں کی قربانی دے کر آئے ان لوگوں کے ماتھے پر مہاجر کا ٹھپہ لگا دیا۔ اسی غیردوستانہ رویے اور افراتفری کے ماحول میں اپنے لیے جگہ بنانے میں ناکام ہو کر پاکستان سے واپس لوٹنے والوں کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں میں ہونے لگی۔ ان لوٹنے والوں میں سب سے بڑی تعداد تھی دہلی سے گئے ہوے لوگوں کی۔ اس کے بعد نمبر تھا اتر پردیش کا، اور پھر دوسرے علاقوں کا۔ ان لوٹنے والوں میں زیادہ تر لوگ وہ تھے جو جاتے وقت پیچھے اچھی خاصی جائیداد چھوڑ کر گئے تھے۔
دہلی میں ان ہزاروں لوگوں کی واپسی سے ایک بڑی گمبھیر سمسیا کھڑی ہو گئی تھی۔ ان مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی عمارتوں پر پاکستان سے بےگھر ہو کر آئے سِکھوں اور پنجابیوں نے قانونی اور غیرقانونی، دونوں طریقوں سے قبضہ کر لیا تھا۔ اب پاکستان سے لوٹ کر اپنی زمین جائیداد واپس حاصل کرنے کی کوشش میں آئے دن مار کاٹ کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔
انھی حالات میں آنے جانے کے لیے ایک پرمٹ سسٹم لاگو کر دیا گیا۔ نوکرشاہوں کے ہاتھ میں یہ پرمٹ سسٹم ان کے لیے سونے کی ٹکسال بن گیا۔ مصیبت کے مارے لوگوں کے خون سے بننے والا سونا۔ ایسے سسٹم کو ناکام ہونا تو تھا، سو ہوا۔
اس پرمٹ کی جگہ اب دونوں ملکوں کی سہمتی سے دنیا کے باقی تمام ملکوں کی طرح ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لیے پاسپورٹ والا انتظام لاگو کر دیا گیا۔ 15 اکتوبر 1952 سے لاگو ہونے والا یہ پاسپورٹ انتظام دنیا بھر کے ملکوں کے لیے جاری ہونے والے انٹرنیشنل پاسپورٹ سے الگ، صرف دو دیشوں – ہندستان پاکستان – کے بیچ سفر کا پاسپورٹ تھا۔
اس پاسپورٹ بندوسبت کی بنیاد یہ تھی که 19 جولائی 1948 تک پاکستان چھوڑ کر ہندوستان میں آنے والے فطری طور سے ہندوستانی شہری مانے جائیں گے۔ اس تاریخ کے بعد آنے والا ہر شخص ’’باہری‘‘ ہو گا اور اسے ہندوستانی شہریت کے لیے باقاعدہ درخواست دے کر تمام سارے مرحلوں سے گزرنا ہو گا۔ اسی طرح کا بندوبست پاکستان میں بھی لاگو ہو گیا۔
ان پیچیدہ قانونوں اور اس کے پروسیجر کی زد میں آ کر دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ ’’پاکستانی جاسوس‘‘ یا ’’ہندستانی جاسوس‘‘ قرار دے دیے گئے۔ ہزاروں لوگ برسوں برس لگ بھگ پوری طرح بےوطن بنے رہے که دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی بنا دستاویزی ثبوت انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہ تھا۔
اسی غیریقینی سے بھرے ماحول والے دنوں میں ہی ایک گھٹنا ہوئی۔ ایک صبح اچانک ہی حویلی کے دروازے پر حویلی کا پرانا مالک غیاث الدین پٹھان حویلی کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔
راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال
[/blockquote]
لال فیتہ شاہی کے چلتے ’’ایک پریوار، ایک کمرہ‘‘ کی سرکاری پالیسی نے کئی سارے ریفیوجی پریواروں کو پہلے کاغذ پر، پھر حقیقت میں توڑ ڈالا۔ ہمارا پریوار بھی اس کا شکار ہوا۔ یہاں آنے تک ایک گھر، ایک پریوار، زیادہ کشادہ جگہ حاصل کرنے کے چکر میں ٹوٹ کر تین گھروں میں بٹ گیا۔ اس بکھرتے پریوار کی مالی حالت بھی کنگالی کے کگار تک جا پہنچی تھی۔ یہاں تک آتے آتے کچھ دن سرکاری راشن کا آسرا رہا تو کچھ گھر کے برتن بھانڈے بیچ کر گزر ہوتا رہا۔ ہاتھ کی نقدی، زیور زٹا کچھ بھی باقی نہ بچا تھا۔ گھر کی غریبی کی اس حقیقت کو پریوار کا ہر فرد دل ہی دل میں محسوس کرتا تھا لیکن زبانی طور پر سویکار نہیں کرتا تھا۔ ہمیشہ خود کو دوسروں کی مثالیں دے کر بہتر بتاتے۔ اپنے سے زیادہ بدحال لوگوں کی باتیں کرتے ہوے اپنی غریبی کو ڈھارس بندھاتے رہتے۔ دادا پوری جان لگا کر گھر کی مالی حالت سدھارنے کی کوشش میں صبح سے کرائے کی سائیکل لے کر نکل جاتے تھے۔ اخباروں کے لیے رپورٹنگ کے بدلے ملنے والا پیسہ بہت کم تھا۔ پڑھے لکھے انسان ہو کر سڑک پر بھجیے [پکوڑے] یا شکر بیچنے میں جھجک تھی۔ سو اپنی بی اے کی ڈگری کی مدد سے ایک وکیل کے ساتھ کچھ دن کام کر کے، بنا ایل ایل بی والے وکیل ہو گئے۔ مگر سندھی وکیل کے پاس کیس کہاں سے آتے۔ اور آتے تو غریب سندھیوں کے، جو فیس کے نام پر دام کم اور دعائیں زیادہ دیتے تھے۔
اس ماحول میں بھی وکیل صاحب کے ادھار کے بھروسے کھانے پینے اور صاف ستھرے رہنے کے شوق کے چلتے کبھی کبھی باہر والوں کے ساتھ ساتھ خود گھر والوں کو بھی اپنی خوشحالی کا یقین ہونے لگتا۔ لیکن تقاضے کی بڑھتی آوازوں سے خواب ٹوٹ جاتا۔ گھر کے دوسرے مرد بھی ہر دن کمائی بڑھانے کی نئی نئی تجویزوں پر بات کرتے۔ کچھ پر عمل کرتے۔ کبھی کامیاب، کبھی ناکام ہوتے۔ اِدھر مہیلائیں اپنی اپنی طرح سے اسی دِشا میں کام کرتیں۔ ماں اور اس کی بہنیں کپڑے سیتے وقت تو ہنستے بولتے، قہقہے لگاتے کام کرتیں لیکن اکیلے ہوتے ہی غریبی، بھوت کے سائے کی طرح پیچھے لگی ہی رہتی۔
ماں نے ایک دن تاج محل میں رہنے والی اپنی ایک سہیلی شیلا کے تیزی سے بدلتے حالات کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔ معمولی سے ٹھیکیدار کے منشی سے اس کا باپ ٹھیکیدار ہو گیا۔ اپنا گھر بھی بنا لیا۔ ایک ایمبیسیڈر کار بھی خرید لی۔ ڈرائیور بھی رکھ لیا۔ بھوک کو ٹھینگا دکھا کر گھر میں دعوتوں کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ ایک دن شیلا اپنی کار سے ماں کو اپنے گھر بھی لے گئی۔ اس کی خوشحالی دیکھ کر ماں کو رشک ہوا۔ بات چیت میں شیلا نے گھر میں لگا ایک بڑا سا پھلتا پھولتا منی پلانٹ دکھایا۔ مذاق مذاق میں یہ بھی کہہ دیا که یہ پودا ایک بوتل میں تاج محل والے گھر میں لگایا تھا، یہاں آ کر خوب پھل پھول رہا ہے۔ ماں نے اسی دن اس کے گھر سے ایک شاخ توڑ کر، آ کر اپنے گھر میں لگا لی۔ ایک بوتل میں۔ ہر دن صبح اٹھ کر سب سے پہلے پودے پر نظر ڈالتی۔ اکثر ہمیں بلا بلا کر دکھاتی، ’’دیکھو بڑھ رہا ہے نا؟ یہ دیکھو ایک نیا پتّا نکل رہا ہے۔‘‘
خدا جانے کیوں اور کیسے، ماں کا یہ منی پلانٹ کبھی سرسبز نہ ہوا۔ کبھی دھوپ میں، کبھی ایک دم چھاؤں میں۔ کبھی مندر کے پاس۔ پر جو وہ نہ پنپا تو نہ پنپا۔ محلے کی عورتوں میں اس کو لے کر ایک چھیڑ بھی بن گئی۔ طنز بھرے انداز میں ماں سے دریافت کرتیں، ’’کیسا ہے تمھارا منی پلانٹ؟‘‘ پھر خود ہی آگے بڑھ کر اس دم توڑتے چار پتے والے پودے کو دیکھ کر صلاح دیتیں، ’’پانی بدلو اس کا، پانی گندا ہو گیا ہے۔‘‘ کوئی صلاح دیتا، ’’اسے زمین میں لگاؤ۔‘‘ اور سب سے لاجواب صلاح یہ تھی که ’’دیکھو کرشنا، یہ مانگے کا پودا ہے۔ مانگ کر لایا ہوا پودا نہیں پنپے گا۔ اسے تو چپ چاپ چوری سے کسی اچھے پنپے ہوے گھر سے توڑ کر لگاؤ، تبھی پنپتا ہے۔‘‘
اس منی پلانٹ کی وجہ سے گھر کی غریبی پر تو کوئی اثر نہ پڑا البتہ ماں کا مذاق بنانے والی تین چار عورتوں کے گھروں میں منی پلانٹ کی لٹکتی بوتلیں ضرور نظر آنے لگیں۔ کچھ کی بیل بھی بنی، پر اس بیل کے باوجود ان گھروں میں جینے کے لیے ہر روز بیلے جانے والے پاپڑ کبھی بند نہ ہوے۔ سلائی مشینیں کبھی نہ رکیں۔
حویلی کے ان آٹھ پریواروں کے مرد ہر روز صبح صبح گھروں سے نکل پڑتے تو گھر کی عورتیں کام کرتے کرتے کفایت شعاری سے جیون کو بہتر بنانے کے اپنے اپنے تجربے ایک دوسرے سے بانٹتیں۔ نتیجہ یہ که کپڑے تو پہلے ہی گھر پر دھلتے تھے لیکن اب صابن بھی گھر پر ہی بننے لگا۔ شہر بھر میں گھوم گھوم کر پاپڑ بیچنے والی ساوتری مائی ہر دوسرے چوتھے دن کوئی نیا آئیڈیا لے کر آتی اور پوری حویلی کی کشش کا مرکز بن جاتی۔ اس دور کے چلن کے مطابق ساوتری مائی کو اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے بیٹے گھنشیام عرف ’گنو‘ کے نام سے جوڑ کر ’گنو ماؤ‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اس کا مطلب تھا، گنو کی ماں۔
ایک دن یہی ساوتری مائی بڑی زبردست خبر لائی۔ سب سے پہلے اپنے گھر گئی اور ہاتھ میں ایک بڑی بالٹی لی۔ پھر دھیرے سے ایک ایک کر سب کو بالٹی لے کر چلنے کی دعوت دی۔ یہ دعوت تھی گھر سے کچھ دور منگلوارا میں نئے نئے کھلے صابن کارخانے کا صابن والا پانی لانے کی دعوت، جسے کارخانے والے پائپ کے ذریعے پیچھے بنے نالے میں بہا دیتے تھے۔ اب یہاں آئیڈیا یہ تھا که کپڑے دھونے کے لیے صابن خرچ کرنے کے بجاے صابن کے اس پانی کا استعمال کیا جائے جو مفت میں مل رہا ہے۔
محلے بھر کی عورتوں کے چہرے یکایک کھل اٹھے۔ اس طرح کی مفت یا سستے کی جگاڑ سے یہ چہرے ہمیشہ ہی چمک اٹھتے تھے۔ انھی کوششوں کے نتیجے میں چولھا جلانے کے لیے ضروری ایندھن کو لے کر بھی کئی کامیاب ناکام تجربے ہو چکے تھے۔ سب سے پہلے جلاؤ لکڑی کے بجاے لکڑی کٹائی کے دوران پیٹھے پر اِدھر اُدھر بکھرنے والے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں (چھپٹیوں) کا استعمال۔ کافی سستی پڑنے والی ان چھپٹیوں کو کسی ٹوکری یا تگاڑی میں پورے پیٹھے میں گھوم گھوم کر خریدار کو خود ہی بیننا پڑتا تھا۔ پھر انھیں بڑی لکڑی کے بیچ پھنسا کر چولھے سلگائے جاتے تھے۔ کچھ گھروں میں لکڑی کے بھوسے سے جلنے والی لوہے کی سِگڑیاں بھی آ گئی تھیں۔ اس بھوسے کے لیے انھیں چھاؤنی میں آباد آرا مشینوں کے چکر لگانے پڑتے تھے، جبکہ چھپٹیاں محلے میں ہی تین تین پیٹھوں سے مل جاتی تھیں۔
سٹیشن کے پاس رہنے والی میری بوا کے لڑکے گرمُکھ اور جےپال ریل پٹریوں سے سٹیم انجن سے گرنے والا کوئلہ بین کر لے آتے تھے۔ کوئلہ بیننے کے دوران ہونے والی مشکلوں، لڑائی جھگڑوں اور پولیس کے پنگوں کی کہانیاں سن سن کر کوئلہ بیننے کو من بہت للچاتا تھا، لیکن ماں اسے چوری بتاتی تھی جو پاپ ہو جاتا ہے۔ سو بس ایک بار کے بعد پھر کبھی نہ گیا۔ آج ساوتری مائی ایک نئی رومانچک کھوج لے کر آئی تھی۔ اس دن بس دو اور گھروں سے گنو کی اس امّاں کے ساتھ لوگ بھری دھوپ میں بالٹیاں بھرنے نکلے۔ اب حویلی میں نل ایک ہی تھا۔ سو جس گھر کو کپڑے دھونے ہوتے، وہ شام میں ہی اس ارادے کا اعلان کر دیتا که کوئی اور کپڑے دھونے کی تیاری نہ کر لے، کیونکہ نہانے دھونے اور پینے کا پانی بھرتے بھرتے ہی نل بند ہو جاتے تھے۔ غنیمت یہ تھا که ان دنوں شام کو ایک بار پھر پانی آتا تھا که جس سے کسی ایک گھر کے کپڑے دھل پاتے تھے۔
اب تک حویلی میں کپڑے دھونے کے لیے رات میں ٹین کے بڑے ڈبوں میں پانی کے ساتھ کاسٹک سوڈا اور صابن کے چُورے کو ملا کر کپڑے ڈال دیے جاتے تھے۔ چھوٹے کپڑوں کے لیے آنے دو آنے میں ملنے والے مالتی گھی کے خالی ڈبے اور بڑے کپڑوں کے لیے بال وہار کے لوہاروں کے بنائے گئے ٹین کے بڑے ڈبے استعمال ہوتے تھے۔ دھوبی کی بھٹی کی طرح آنگن کے ایک کونے میں بنی سِگڑی پر خوب اُبال آنے تک گرم کیا جاتا تھا۔ ایک ڈبا ابل گیا تو دوسرا یا تیسرا۔ اس نئی کوشش کا مطلب تھا صابن کے چورے کا خرچ بچانا۔ اگلے دن جب ساوتری مائی موگری سے پیٹ پیٹ کر کپڑے دھو رہی تھی تو اسکی آواز کی طرف حویلی بھر کے سارے گھروں کی عورتوں کے کان لگے ہوے تھے۔ بیچ بیچ میں اپنا کام چھوڑ کر بھی کوئی کوئی دیکھنے چلا جاتا که کپڑے دھل کیسے رہے ہیں۔ آخری نتیجہ تو بہرحال کپڑے سوکھنے کے بعد ہی آنا تھا۔
ساوتری کی یہ کوشش خاصی کامیاب رہی۔ حالانکہ سب مہیلائیں ایک رائے نہیں تھیں که کپڑے ایک دم صاف دھلے ہیں لیکن اس بات پر سب سہمت تھے که بچت اچھی ہو جائے گی۔ اس اکیلی بات نے دھیرے دھیرے سب کو کوئی ڈیڑھ دو فرلانگ کی دوری پر صابن کارخانے کے نالے سے بالٹیاں بھر کر لانا سکھا دیا۔ ایک دن جب میری باری آئی تو میرے ساتھ میرا وہی دوست للّن بھی گیا، جس کی بہن سے پہلے جھگڑا ہوا تھا اور پھر وہ میری بہن بن گئی تھی۔
للّن بہت تیز دماغ تھا۔ وہ بھاگ کر گھر گیا اور خاصا موٹا اور مضبوط بانس لے آیا۔ دونوں بالٹیوں کو بانس کے بیچ ڈال کر ہم دونوں گاتے مسکراتے چل پڑے صابن فیکٹری کی طرف۔ ایک سرا میرے ہاتھ اور دوسرا للن کے ہاتھ میں۔ میں للن کی اس ہوشیاری سے بہت خوش تھا۔ میری یہ خوشی نہایت وقتی ثابت ہوئی۔ کارخانے کے پچھواڑے پہنچے تو دیکھا که نالے کے پاس ڈنڈا لیے ایک آدمی بٹھا دیا گیا تھا۔ پائپ کا پانی جمع کرنے کے لیے ڈرم رکھے ہوے تھے۔ ڈنڈے والے آدمی نے ہماری بالٹیاں دیکھتے ہی للکارا: ’’پیسے لاؤ ہو؟‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا، ’’پیسے؟‘‘
وہ بولا، ’’ہاں، پیسے۔ جاؤ جاؤ پیسے لاؤ۔ نہیں تو چلتے نظر آؤ۔‘‘
للن مجھ سے عمر میں دو ایک سال بڑا تھا۔ بات بات پر تھوک کو پچکاری کی طرح استعمال کرتا اِدھر اُدھر پھینکتا رہتا تھا۔ اور غصہ آ جائے تو اس کی رفتار ایک دم بڑھ جاتی تھی۔ اس گھڑی بھی یہی ہوا۔ ایک پچکاری چھوڑکر بولا، ’’چلو خاں لالو، یاں تو اندھے کے آنکھ نکل آئی ہیں!‘‘
بیوپاری نے کمائی کی گنجائش تاڑ لی تھی، اب اس سے جیتنا مشکل تھا۔ لیکن ہر روز کے حالات سے ٹکراتے ٹکراتے اس کمسنی کے دور میں بھی دل دماغ میں غصہ اور زبان پر زہر جب تب اتر کر آنے لگا تھا۔ اس وقت بھی غصہ اپنے اوج پر چڑھ کر زبان کی نوک پر اتر ہی آیا۔ اسی غصے میں میں نے کہہ دیا، ’’رکھ لو سمھال کے۔ گانڈ دھونے کے کام آئے گا۔‘‘
ڈنڈے والے کا ہاتھ ڈنڈے تک پہنچتا اور ہم پر چل جاتا، اس سے پہلے ہی للن نے بانس میں پھنسی بالٹیاں نکال کر ہاتھ میں تھام لیں اور میں نے نیچے گرا بانس کا ڈنڈا اٹھا کر دوڑ لگا دی۔
گھر پہنچ کر ماں کے سامنے غصے بھرے انداز میں اپنی ناکامی بیان کرتے ہوے اس صابن فیکٹری کے مالک کو ایک ہلکی سی گالی بھی دے ڈالی۔ ماں نے حیرت اور صدمے سے بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔ ایسا بالکل نہ تھا که اسے میری بدزبانی اور بداخلاقی کا اندازہ ہی نہ تھا۔ میری گالیوں کی عادت سے وہ واقف تھی، لیکن آج سیدھے اسی کے سامنے ہی منھ سے گالی نکل آئی تو وہ گھبرا گئی۔
گھبرا تو میں بھی گیا، بلکہ بہت بری طرح گھبرا گیا۔ اب تک صرف باپ کے منھ سے سنتا آیا تھا که میں مسلمانوں کی سنگت میں غنڈا بن گیا ہوں۔ لیکن ماں کو اپنے ایشور پر اور اپنی بھکتی پر بڑا بھروسا تھا که میں ابھی بہت چھوٹا ہوں اور دھیرے دھیرے سدھر جاؤں گا۔ آج اس بھروسے کو چوٹ لگی تھی۔ میں نے ماں کی آنکھوں میں جو کچھ اس گھڑی دیکھا وہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں گھر سے بھاگ کر پائیگاہ کی طرف چل پڑا۔ تالا لگے بڑے دروازے کے پاس والی ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے راستے اندر گھس گیا۔
نظروں کی حد سے باہر تک پھیلی پائیگاہ کے بھیتر چاروں اور نوابی خاندان کے جانوروں کے باندھنے کے باڑے بنے ہوے تھے، اور بیچ میں تھا وشال سا خالی میدان۔ باڑے تو برسوں سے یوں ہی خالی پڑے تھے لیکن میدان بارش کے پانی سے اگ آئی گھاس سے پوری طرح ڈھکا ہوا تھا۔ میں گھاس کا ایک تنکا توڑ کر باڑے والے حصے کے بھیتر جا کر بیٹھ گیا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے ایک تنکے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑتا کچھ سوچتا جاتا تھا۔ حالانکہ کسی نے مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا تھا لیکن پھر بھی میں بہت ڈرا ہوا تھا۔ باربار یہی سوچ سوچ کر شرمندہ ہوتا رہا که میں نے ماں کے سامنے گالی بک دی۔ مجھے رونا آ رہا تھا مگر میں رو نہیں رہا تھا۔ پھر خود پر غصہ آنے لگا۔ اسی غصے میں خود کو کس کر چار چھ تماچے مار لیے۔ اب رونا بھی شروع ہو گیا۔ روتے روتے منھ سے باربار ایک ہی لفظ نکلتا تھا: ماں۔۔۔
کچھ دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے ساری پائیگاہ میں یہی لفظ گونج رہا ہے: ماں۔ میں ڈر گیا، رونا بند کر کے اس گونج کو سننے کی کوشش کرنے لگا۔ اب ایسی کوئی گونج نہیں تھی۔ بس ہوا کے جھونکوں میں ضرور کچھ تیزی آ گئی تھی جس نے اب تک میری طرح اداس کھڑے گھاس کے تنکوں پر گدگدی کا سا کام کر دکھایا۔ گھاس کے یہ ہزاروں تنکے ایک ساتھ جھوم جھوم کر ہواوٴں کی سنگت میں ناچتے گاتے سے معلوم ہونے لگے۔ اس سنگت میں سنگیت بھی آ شامل ہوا اور پورب کی طرف سے سیٹی سی بجاتا پچھم کو چھیڑنے لگا۔
میری خوفزدہ آنکھوں کے سامنے ہو رہے اس رومانی بدلاؤ نے چند لمحوں کے لیے میرے بھیتر کے سارے دکھ درد کو ایک مسکان میں بدل دیا۔ میں سب کچھ بھول اس جادوئی بیار [ہوا] کے ساتھ بہنے سا لگا۔ تبھی لیلیٰ بُرج والی دِشا سے ہوا میں تیزی سے اڑتا ایک پتھر آ کر پائیگاہ کے بھیتر کے ایک ٹین کے دروازے سے ٹکرایا اور اس ماحول میں ایک نہایت بےسُرا رنگ بھر دیا۔
میری نظریں قدرت کے اس کھیل سے ہٹ کر اِدھر اُدھر گھومنے لگیں۔ نظروں کو کہیں کچھ بھی بدلاؤ نظر نہیں آیا لیکن پھر اچانک ہی یوں لگنے لگا جیسے کوئی اور بھی یہاں موجود ہے، جس نے مجھے روتے ہوے دیکھ لیا ہے۔ نظروں نے ایک بار پھر چاروں طرف کی تلاشی لی لیکن کوئی نہیں تھا۔
میں نے جلدی جلدی اپنے گالوں پر پھیل چکے آنسوؤں کو جیسے تیسے پونچھ کر پوری ہمت سے ایک بار پھر گھوم گھوم کر اِدھر اُدھر تلاش شروع کر دی۔
کوئی بھی تو نہیں تھا۔
تو پھر کون تھا؟
اب تک میری ساری بہادری چیں بول چکی تھی۔ اس تیزی سے دوڑ لگائی که اگلے ہی پل میں اسی ٹوٹی کھڑکی کے پاس پہنچ گیا جو برسوں سے بند پڑے دروازے کے بدلے یہاں آنے جانے کے راستے کا کام دیتی تھی۔
گلی میں اس وقت کوئی خاص چہل پہل نہیں تھی۔ میں بھی دھیرے دھیرے گھر کی طرف قدم بڑھاتا چل پڑا۔