Categories
فکشن

پستان – ساتویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-5
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

میں کمرے کی چوکورپستانوں سے جھانکتا ہوا ایک واحد گواہ، بجھا اور اندیشوں سے بھرا اپنی آغوش میں سمٹا بیٹھا ہوں۔ باہر بہتی ہوئی ہواؤں، تڑختی ہوئی بوندوں اور بھائیں بھائیں کی آوازوں نے میرے کان سن کردیے ہیں، پیٹھ تر کردی ہے اور پانی اب رینگ کر میرے پیٹ اور منہ میں سیلن کی جھپکیاں لیتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔میں ٹھنڈ سے سکڑ گیا ہوں، اتنا کہ مجھ کو پہنائی گئی پلستر کی چادر پر کچھ شکنیں ابھر آئی ہیں۔کہانی دو کرداروں سے شروع ہوئی تھی، وہ دونوں اس وقت میری نگاہوں سے غائب ہیں۔لیکن میں ابھی ان کے بارے میں نہیں سوچ سکتا، یہ ایک تھکی ہوئی، بوجھل اور زنگ آلود رات ہے، جس میں میری رانیں بوندوں سے تر ہیں، میں اپنی نسوں میں چڑھتے ہوئے تاروں کی جھمک اور دھمک دونوں کو سن اور محسوس کررہا ہوں۔یہ رات آواز کے سارے موسموں پر کسی رقص کرتے ہوئے بگولے کی طرح حاوی ہوتی جارہی ہے۔انسانی ہاتھوں کے تراشے ہوئے لیمپ جل بجھ رہے ہیں، ان کی گرمیاں اپنے ٹھنڈے دائروں میں رقص کرتے کرتے ماند ہوئی جارہی ہیں اور ڈم اور بے جان اجالے کی یہ لہر اب گرتی پڑتی کسی طرح وجود کی رسیوں کو تھامے ہوئے کھڑی ہے۔

 

وقت دھیرے دھیرے آگے کی جانب پھسل رہا ہے، جیسے بالکنی میں زمین پر ڈھیر پانی کی لکیر آہستہ آہستہ خود کو آگے کی جانب دھکیل رہی ہے۔یہ دائرہ بڑھتے بڑھتے اس پورے فلیٹ کو اپنی نم مٹھیوں میں جکڑ لے گا۔ڈرائنگ روم میں پڑا ہوا صوفہ غنودگی میں ہے، اس نے اپنے اندر بھری ہوئی کترنوں اور روئیوں کو تھپک تھپک کر سلادیا ہے مگر ہوا کا آسیبی وجود چھوٹے چھوٹے چھیدوں سے اس کے پیٹ میں اتررہا ہے، صوفے کے پانئچے بھیگ گئے ہیں۔اس کی کڑھتی اور ٹھنکتی آوازوں نے کمرے کے اندر موجود تمام چیزوں کو ہوا کی اس بے رحم گدگدی کا احساس دلادیا ہے، جس سے بے دم ہوجانے والی تمام اشیا آج اپنے گلے چھیلنے پر مجبور ہوجائیں گی۔دروازے کا لوک کھر کھر کی مانوس صداؤں سے بھرا پڑا ہے، برتن بج رہے ہیں، گلک میں رکھی ہوئی ریزگاری کی جھنکار تیز ہوئی جارہی اورہے اس پورے ماحول میں ایسا لگتا ہے جیسے کوئی تیز بو ہم سب کے وجود میں سرایت کرتی جارہی ہے۔یہ کھراند ہے، بو کی ایک ایسی شکل جو تیزابی ہوا کرتی ہے، جس کے اندر بھرا ہوتا ہے پیلاپن، دھوا ں اور وہ گاڑھا جذبہ جو نتھنوں کی ہڈیاں نچوڑنے کا ہنر جانتا ہے۔ ہلکے ہلکے باریک پردے پینگیں بھر رہے ہیں، ایسا لگتا ہے چھت کو چھو لینے کی ہڑک اچانک ان کے دل میں جاگ گئی ہو، اس پورے منظر میں صرف دو چیزیں ہیں، پانی اور ہوا۔پانی اور ہوا، جیسے کچ اور صدر۔دونوں نے لگتا ہے غائب ہوکر ان صورتوں میں اپنے آپ کو اجاگر کیا ہے،صدر کا ڈھلتا، ڈوبتا اور تیرتا، اچھلتا وجود اگر پانی ہے تو کچ کا انگڑائیاں لیتا، اٹھکیلیاں کرتا، دھکیلتا اور بھرتا ہوا وجود ہوا کی طرح ابل رہا ہے۔جوانیوں کے اس عظیم نشے میں دونوں کی طاقتیں اور اختیار بڑھ کر خدا کا روپ دھار چکے ہیں، وہ ایک دوسرے میں ضم ہوئے جارہے ہیں اور اپنے بوسوں، تھپکیوں، ناخنوں اور نکیلے دانتوں سے خود کو گھائل کیے جارہے ہیں۔مگر وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ اب ان کا کوئی بدن نہیں ہے، بس وہ ایک دوسرے کے اندر اتر سکتے ہیں، کچ جب صدر کے سینے پر پاؤں رکھتی ہے تو اس کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے بلبلے روشن ہوجاتے ہیں، صدر جب کچ کی ہتھیلیوں کو پکڑنا چاہتا ہے تو اس کی ماورائی، چکنی اور سرد جلد مجبوراً اس کے اپنے ہاتھ کو شرمگاہ کی عمق تک لے جاتی ہے۔کانچ پر، چمڑے پر، برف پر، چونے کی ایک پتلی چادر پر ہرجگہ ان کا حیوانی جنون جنگلی قبائل کے سیاہ خون میں لتھڑے ہوئے نوالوں کی طرح چبتا ہوا محسوس ہورہا ہے، جیسے داڑھیں چچڑی ہوئی کسی ہڈی کو دبا دبا کر سارا رس نکال رہی ہوں۔تمام جگہیں ان کے نشانات سے بھر گئی ہیں۔وہ کبھی سیلنگ فین کے اوپر، کبھی گدوں کے اندر، کبھی فرج کے پیچھے تو کبھی برتنوں کے بیچ اپنے جنسی عمل کو انجام دے رہے ہیں۔وقت کے اس تیز پہیے میں انہیں بس اس ایک لذت سے سروکار ہے، جس کے لیے انہوں نے اچانک ایک سوتے ہوئے چمکدار چاقو جیسے شانت منظر پر دھاوا بول دیا ہے۔انہوں نے کپڑوں سے اس حد تک بغاوت کی ہے کہ جلد کو بھی درمیان سے ہٹادیا ہے،مگر اب بھی ان کی پیاس کا صحرا جوں کا توں، بچھوؤں کے رینگتے ہوئے کانٹے دار قدموں، مکڑیوں کے گول گھومتے ہوئے وجود اور ہرنوں کے کریدتے ہوئے پنجوں سے آباد ہے۔میں اب اس منظر کی تاب نہیں لا سکتا، ان کے لعاب کی چھینٹیں میرے منہ پر بھی اڑتی ہوئی آئی ہیں۔اور میرا باہر کو جھکا ہوا منہ اب اس ذلت پر کچھ لٹک گیا ہے، آنکھوں میں دھندلاہٹ بھر گئی ہے، کچھ صاف نظر نہیں آرہا، بس ایک ترش احساس اپنی شکست کا ہے،اپنے بے جان اور جکڑے ہوئے ہونے کا، اپنی بے قدمی اور بے جگری کا۔پھر بھی میری آنکھیں کھلی ہوئی ہیں، اس انجام کو دیکھنے کے لیے جو اس کمرے میں قید رات کا مستقبل ہے۔کڑھے ہوئے سینوں کے اندر شاید ایک آگ ہوتی ہے، میرے اندر بھی وہی آگ موجود ہے، کیونکہ میں اس وقت اپنی بینائی پر پانی کا پہرا دیکھ رہا ہوں، ایک ایسی گیلی چادر، جس نے میری آنکھوں میں موجود روشنی کو اپنے پیٹ میں اتار لیا ہے اور میری بینائی اس بڑے سے گول اور چکنے، پھیلے منظر سے باہر کی ہر ایک شے کو دیکھنے سے قاصر ہے،بس کچھ نشانات سے نظر آرہے ہیں، جن کو میں اندازے کے طور پر استعمال کررہا ہوں اور کہانی کو جوڑ توڑ کر اپنے لفظوں میں بیان کرنے کی ادھوری سی کوشش۔میری بینائی اگر چلی بھی جائے تب بھی میں اس روایت کو بیان کرنے سے دستبردار نہیں ہوسکتا، جب تک میری سماعتوں کا بھی وہی حشر نہ ہو، جو میری آنکھوں کا ہوا ہے۔کچ اور صدر اب زمین پر لیٹے ہوئے نہ جانے کیوں پنجے چلا رہے ہیں، ایسے میں اڑتا ہوا پانی میری آنکھوں پر مزید موٹی پرت بنارہا ہے۔میرے ہاتھ سے اندازوں کی شیشیاں بھی چھوٹتی جارہی ہیں اور میں انہیں اٹھانے سے قاصر ہوں۔

 

اس گیلے منظر میں چرمراہٹ کی سوکھی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا، میں جانتا تھا کہ آنے والا جو بھی ہے وہ کچ اور صدر میں سے ایک ہے، مگر کون ہے، یہ بتانے سے قاصر ہوں،شاید وہ اندر داخل ہوکر کہیں بیٹھ گیا ہے، صوفے پر یا کہیں اور۔۔۔میرے خیال میں اسے صوفے پر ہی بیٹھنا چاہیے کیونکہ زمین تو اس وقت بہت بھیگی ہوئی ہے، وہ اینڈا بینڈا انسانی ہیولا بیڈ پر بھی نہیں گیا تھا۔پتہ نہیں اس نے جلتی بجھتی روشنی کے تپتے ہوئے زخموں کو ابھی تک ہاتھ کیوں نہیں لگایا تھا۔کچھ وقت یونہی بیت گیا، اتنا ہی اداس، بے جان، بے ضمیر اور روکھا۔جیسے اس وقت کو پانی کی کوئی بوند نہ چھو پائی ہو، سوکھے ہوئے گلے کی طرح اس کے اندر کی رگیں چٹخ رہی ہوں اور اس سرد،پراسرار اور دھندلے اجالے میں بھی ا س کے اندر کی حرارت برف سے تھپے ہوئے منظر میں جلتی ہوئی چمنیوں کی طرح روشن ہو۔وہ ہیولا کچھ دیر بعد اٹھا اور مرے بدن کے پاس آکر ایک تصویر کو گھورنے لگا، اس کی انگلیاں میرے جسم پر رینگ رہی تھیں، میں انگلیوں کی دبازت کو محسوس کررہا تھا مگراس سن جسم کے اندر آنچ کی شناخت کرکے اس شخص کا نام بتاسکنا اس وقت میرے لیے ممکن نہیں تھا۔میرے بدن سے ادھڑے ہوئے پلاستر کو اس نے کہیں کہیں سے نوچ کر پھینک دیا۔ میں اس وقت اس کی جسامت، لطافت اور کثافت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اندرون اور بیرون کی ہرچیز پھیلتی اور سکڑتی جارہی تھی۔نہ جانے کتنی دیر تک وہ انگلیاں میرے بدن پر مختلف قسم کی لکیریں کھینچتی رہیں، ان کی تپن مرے اندر ذرا بھی حرارت نہ پیدا کرسکی۔پھر وہ ہٹ گئیں، شاید میرے ماتھے پر سجی ہوئی تصویر کا سارا رس پی لینے کے بعد اس ہیولے کو کسی اور بات کا خیال آگیا تھا۔اچانک میرے نیند میں ڈوبے ہوئے دماغ کے کسی گوشے میں چنگاری کی طرح ایک سوال سلگ کر پھر ماند ہوگیا، کہیں یہ کوئی چور تو نہیں۔جو سیاہ رات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مالک مکان کی عدم موجودگی میں اس وقت یہاں آپہنچا ہو۔میں نے بہت غور کیا کہ کیا میں نے چابیوں کے کھنکنے کی کوئی آواز سنی تھی، مگر ایسا نہیں تھا، پھر مجھے خیال آیا کہ صدر دروازے کو تالا لگا کر گیا تھا یا اس نے محض آٹو لوک کی مدد سے جز وقتی طور پر دروازے کو بھیڑ دیا تھا۔ کچھ دیر بعد مجھے باتھ روم سے آتی ہوئی شرر شرر کی آوازیں محسوس ہوئیں، اس ٹھنڈک میں نہانے کا خیال برسات میں بھیگے اور کپوئے ہوئے کسی بدن کو ہی آسکتا ہے، ٹنکی کی حبس زدہ آنتوںمیں موجود پانی ضرور اتنا گنگنا تو ہوگا جس سے بدن کی سرد شکنوں کو واپس سوئی ہوئی موجوں میں تبدیل کیا جاسکے۔شاید اسی طرح اس کپکپکی کا احساس کم کیا جاسکتا ہے، جو سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے، جسم کو سنسان اور برفیلے پہاڑوں میں تبدیل کردیتی ہے، بدن کا سارا پانی شرمگاہوں سے ہوتا ہوا رانوں کے طشت کو بھگونے پر آمادہ ہو جاتا ہے، گھٹنوں کی کٹوریاں بجنے لگتی ہیں، پنڈلیاں لڑکھڑانے لگتی ہیں اور انسان اپنے دونوں بازو وؤں کو خود سے لپٹائے ضرب کے نشان کی صورت اس سرد و سفید احساس میں گھل کر خود اندھیرے کا نمائندہ بنتا چلا جاتا ہے۔

 

کوئی چور باتھ روم نہیں جاسکتا، کم از کم نہانے کی غرض سے تو بالکل نہیں۔اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔وہ سردی کی دھوپ کی طرح جلد باز ہوتا ہے، جو زمین پر بکھرے رنگ برنگے تماشے چرا کر تیزی سے مغرب کی طرف چھلانگ لگادیتی ہے اور اندھیرے کی غلام گردشوں میں چکر لگاتے سپاہیوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیٹھ پیچھے کب صبح آئی، دوپہر تک رکی اور شام ہونے سے پہلے ہی رخصت ہوگئی۔مجھے محسوس ہوا کہ ابھی اندازے کی کچھ شیشیاں میرے ہاتھ میں ہیں، جو اتنی بھی بے کار نہیں ہیں، جتنا کہ میں سمجھ رہا تھا۔بہرحال، ایک بدن، سائے کی صورت ہلکے سے دوڑتا ہوا بیڈروم میں پہنچا،دھاڑ سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی، میں بے انتہا دھندلی نظر کے باوجود دیکھ سکتا تھا کہ دروازے کی نچلی درار سے نکلتی ہوئی روشنی نے ایک بے نام رنگ کی چادر میں دیواروں پر بہت سے سیاہ قد اگادیے ہیں، وہ سیاہ قد کن چیزوں کے تھے، یہ میں نہیں بتا سکتا۔کچھ دیر بعد پانی کی لہریں ختم ہوگئی تھیں،نظر دھندلی ضرور تھی، بدن سرد ضرور تھا، مگر دیوار میں زندہ دفن کردیے جانے والے ایک قیدی کی طرح میری ایک ہی خواہش تھی کہ میں دیکھوں کہ ان دونوں میں سے وہ کون سا کردار ہے، جو پلٹ آیا ہے۔اس معاملے میں اندازے کی کوئی شیشی میرے کام نہ آئی تو میں نے جھلا کر انہیں سامنے کے آئنے سے دے مارا، اس میں چٹاخ کی آواز کے ساتھ ایک ہلکی سی خراش پیدا ہوگئی۔صبح اب اپنے جلو میں ایک نم اور افسردہ اجالے کو لے کر بہت آہستگی سے تھکے ہوئے جنسی حیوانوں اور سوتے ہوئے دربانوں کی موجودگی میں مختلف رنگ کے تماشوں کو سمیٹنے کی خواہش لیے اس طرف بڑھنے کا ارادہ کررہی تھی، اس نے کرنوں کے ایک بہت چھوٹے سے وفد کو زمین کے گھنگھور اور گہرے غصے کا اندازہ کرنے کے لیے بھیجا تھا، جن میں سے دو چار کرنیں، شانت اور ڈوبے ہوئے پانی کی سطح پر بیٹھیں چھپ کر بیٹھی ہوئی کرنوں کو اشارے سے بلارہی تھیں۔کہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ہوا کا سائرن کافی دھیمے انداز میں اب بھی بجے رہا تھا۔میں اس پورے تماشے میں بری طرح تھک گیا تھا، اب میرے بدن پر اگ آنے والے چھالوں نے مجھے اور زیادہ زخمی ہونے کا احساس دلایا۔ایسے میں کمرے سے ہلکی موسیقی میں ابھرتی ہوئی آواز کی کچھ لہریں دروازے کی نچلی درار سے تیرتی ہوئی باہر نکل رہی تھیں۔

 

راہ تکے من ہارے نہیں
اب کوئی کہیں ہے، کوئی کہیں
کیوں راہ تھکے من ہارے نہیں
جب ان سے آمنا سامنا تھا
تب چنچل دل کو تھامنا تھا
کیوں پریم کے بھید ابھارے نہیں
اب راہ تکے من ہارے نہیں*

 

بھیدوں بھرے ان بولوں کو سنتے سنتے میری پلکیں بوجھل ہونے لگیں، بدن تو نہ جانے کب سے سن تھا، دھوپ اب کمرے میں گھس آئی تھی، میرے پیروں سے لپٹا ہوا پانی اب معلوم ہوتا تھا پنجوں کی سنکائی کررہا ہے۔دھوپ زخموں اور چھالوں پر مرہم لگانے لگی۔آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ سلائڈنگ میں اڑتی ہوئی ایک بھنبھیری تھی۔ہرے رنگ کی، پھرپھر کرتی، تیز اور آزاد، بالکل کچ اور صدر کی طرح۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

*میرا جی کا گیت
Categories
نان فکشن

شادی؛ ایک غیر ضروری سماجی تجربہ

حالانکہ میں یہ تحریر لکھتے وقت جانتا ہوں کہ مجھے بھی کبھی نہ کبھی اس پھندے میں پاؤں رکھنا پڑ سکتا ہے اور وہ بھی بخوشی، کسی زور زبردستی سے نہیں۔ میرے کچھ احباب مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ تصنیف! تمہارے سر پر جو جنسی خواہشات اس قدر منڈراتی ہیں تو اگر تم شادی کر لو تب شاید یہ مسئلے حل ہو جائیں۔ لیکن میں نے پلٹ کر ان سے کبھی نہیں کہا کہ تمہارے سر پر جو اتنی معاشی اور سماجی مجبوریاں پھیرے لگاتی ہیں، ان کی وجہ سے تم اپنی بیوی کو طلاق کیوں نہیں دے رہے۔ میرے سوچنے سمجھنے کے زاویے ممکن ہے کہ سماجی اصولوں سے بہت زیادہ مطابقت نہ رکھتے ہوں، مگر اتنا تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ شادی کی بنیادی وجہ انسان کی جنسی خواہش کی تسکین کا ایک مستقل علاج ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ہم اس میں گھر گرہستی کا سکھ، اولاد کی کلکاریوں اور دوسرے بہت سے اہم معاملات جھونک کر اسے زبردستی ایک بہتر اور زندگی کے لیے قابل ذکر عمل قرار دے دیں۔ میرے ایک بہت ذی علم اور پیارے دوست ہیں طارق احمد صدیقی، ان کا میں ویسا ہی قائل ہوں، جیسا اپنے معاصرین میں زیف سید، سید کاشف رضا، مصعب اقبال ، رمشیٰ اشرف ،رامش فاطمہ اور محمد علی وغیرہ کا ہوں۔ طارق کا ماننا ہے کہ انسان اگر شادی نہیں کرے گا تو ایک نراج کی سی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ لوگ آزاد جنسی رشتوں میں گھر کر ہر دوسری عورت پر ٹوٹ پڑیں گے اور مرد و عورت کے درمیان قائم مقدس رشتوں کے باند بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے شادی کے تعلق سے فیس بک پر ایک مختصر تحریر لکھی تھی تو انہوں نے اس معاملے پر مضبوط دلائل کے ساتھ ایک منطقی بحث کا آغاز کیا تھا۔ افسوس کہ ہم اس بحث کو جاری نہ رکھ سکے، لیکن شاید بات یہاں سے دوبارہ شروع کی جاسکے۔

 

جہاں تک بات جبریہ جنسی عمل اور زنا وغیرہ کی ہے تو میرا ماننا ہے کہ یہ کام ہماری سوسائٹی میں شادی کے بعد بھی ہوتا ہے اور متواتر ہوتا ہے۔
اول تو میں نہیں سمجھتا کہ آزاد جنسی رشتے کسی قسم کے وحشی جنسی عمل کی دعوت دیتے ہیں یا ان کے لیے انسانوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جہاں تک بات جبریہ جنسی عمل اور زنا وغیرہ کی ہے تو میرا ماننا ہے کہ یہ کام ہماری سوسائٹی میں شادی کے بعد بھی ہوتا ہے اور متواتر ہوتا ہے۔ مجھے قریب ایک پینتالیس سالہ عورت نے بتایا تھا کہ اس نے گزشتہ دس برسوں سے اپنے شوہر سے جنسی تعلق منقطع کر رکھا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا شوہر اسے جنسی ایذائیں دیا کرتا تھا، وہ ایک عزت دار گھرانے کی خاتون ہیں، ان کی اولادیں ہیں اور دور سے دیکھنے پر یہ گھرانہ ایک بہت کامیاب اور خوشحال خاندان نظر آتا ہے۔ آپ اسے استثنائی صورت حال قرار دے کر نظر انداز نہیں کرسکتے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ سنجیدہ اس حوالے سے کہ ہم نے جن معاملات کو پیش نظر رکھ کر شادی کو انسانی زندگی کا جزو لاینفک بنا دیا ہے، اس نے بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ فرض کیجیے کوئی شخص شادی کرنا چاہتا ہے، مگر اسے اپنی پسند اور مزاج کی لڑکی سوسائٹی میں نہیں مل رہی ہے، ماں باپ اور ملنے جلنے والوں کا تقاضہ، جنسی گھٹن کا حملہ، گھر گرہستی کی خواہش، اپنانسب آگے لے جانے کی تمنا اور بیوی کی خدمات کا سکھ بھوگنے کے لیے وہ شخص کسی ایسی لڑکی سے شادی کر لیتا ہے، جو اس کے لیے بالکل مناسب نہ تھی۔ اول تو وہ اس کا مزاج سمجھنے میں ہی ایک برس لگا دے گی اور ایک برس بعد جب اسے احساس ہوگا کہ اس کے شوہر کی ترجیحات کیا ہیں تو اسے اپنے آپ کی باقی ماندہ زندگی مستقل طور پر اپنے شوہر اور اس کے خاندان کے اصولوں اور خواہشات کے مطابق گزارنے کا حوصلہ خود میں پیدا کرنا پڑے گا۔ میرے خیال میں انسانی کردار کی یہ جبریہ تبدیلی ایک ظلم ہے، ایک ایسا ظلم، جس پر ہم کبھی نہ دھیان دیتے ہیں اور نہ بات کرتے ہیں اور اگر اس کے نتیجے میں ہمیں کوئی عورت چڑچڑی، منہ پھٹ یا زبان دراز بنتی نظر آتی ہے تو ہم اسے طعنہ دیتے ہیں کہ وہ ایک لائق بہو یا بیوی نہیں ہے، اپنے میاں کو انگوٹھے کے نیچے داب کر رکھنا چاہتی ہے اور اسے سماج میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔

 

یہ مسائل اس قدر عجیب و غریب ہیں کہ ان کی نفسیاتی وجوہات پر غور کیے بغیر ہم ان کی مخالفت کرنے کے اہل نہیں ہو سکتے۔ بظاہر ہمیں لگے گا کہ سب ٹھیک ہے۔ ہر چیز اپنے حساب سے چل رہی ہے۔ شوہر صبح دفتر جاتا ہے، بیوی برتن مانجھتی ہے، ،ناشتہ بناتی، بچے سنبھالتی ہے، بازار جاتی ہے یا دیگر ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ہنستے کھیلتے گزار دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں اپنے آپ کو کامیاب ثابت کرنے کے لیے کئی عورتوں نے پوری پوری زندگیاں ایک دھوکے اور سراب کی نذر ہو کر گزار دی ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ وہ ایک مثالی بیوی بنیں گی، ایک ایسی بہو، جس کی لوگ تعریف کریں، ساس جس کی نظریں اتارے اور شوہر جس کی ان فرمانبرداریوں پر لٹو ہو جائے۔ اگر آپ مجھ سے یہ کہیں کہ وہ لاکھوں کروڑوں عورتیں جنہوں نے صرف بچے پیدا کر کے، ان کی پرورش کرنے کے بعد انہیں لائق فائق انسان بنا دیا ہو، اس کام کو کرنے کے علاوہ کچھ اور کرنے کی اہل تھیں ہی نہیں تو یقین جانیے ہمیں انسانی نظام میں عورت کےوجود اور اس کی افادیت پر سوالیہ نشان قائم کرنا پڑے گا۔اگر عورت صرف انہی کاموں کے لیے ہے کہ وہ مرد کو لائق فائق بنا سکے، اس کا ساتھ دے سکے یا اس کے پیچھے کھڑی رہ سکے۔ مجلسوں، کتابوں اور تقریروں میں اس کا ذکر کائنات کی تصویر میں رنگ بھرنے کے تعلق سے ہی کیا جاتا رہے تو یہ ایک سراسر بے ہودہ اور بے وقوفانہ بات ہے۔ جس کے خلاف آواز اٹھانے کا ہر عورت کومکمل حق حاصل ہے۔

 

اگر عورت صرف انہی کاموں کے لیے ہے کہ وہ مرد کو لائق فائق بنا سکے، اس کا ساتھ دے سکے یا اس کے پیچھے کھڑی رہ سکے۔ مجلسوں، کتابوں اور تقریروں میں اس کا ذکر کائنات کی تصویر میں رنگ بھرنے کے تعلق سے ہی کیا جاتا رہے تو یہ ایک سراسر بے ہودہ اور بے وقوفانہ بات ہے۔
یہ تو ہوئی وہ بنیادی بات جس میں شادی ایک عورت پر جو منفی اثر ڈالتی ہے، اس کے اعتماد اور اس کی نفسیات پر جو چوٹ کرتی ہے۔اس کا بکھان۔ اب میں آگے چلتا ہوں۔ شادی کے فائدے کیا ہیں۔ شادی کا صرف ایک فائدہ ہے اور وہ یہ کہ آپ کی جنسی تسکین کا ایک مستقل سامان آپ کے بغل میں ہر رات موجود رہ سکتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ مرد یا عورت دونوں قسم کے سیکس ورکرز کے لیے خرچ کی جانے والی رقم کا بندوبست ہر شخص نہیں کر سکتا۔ لیکن، یہ صرف ایک فائدہ ہے اور وہ بھی چند سالوں کے لیے۔ میں نے بہت سے شادی شدہ جوڑوں سے یہ بات کی ہے، اور ان میں سے اسی فیصد نے اسے تسلیم کیا ہے کہ شادی کے دو سال بعد سیکس کا چارم یا جنسی خواہش کا ایکسائٹمنٹ بہت حد تک کم ہو جاتا ہے۔ کچھ معاملات میں ممکن ہے دورانیہ کچھ آگے پیچھے ہو جائے۔ لیکن ایسا ہوتا ضرور ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی صرف جنس سے عبارت نہیں ہے۔ انسان کو دنیا میں اور بھی کام ہیں، اور بھی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ جنس کا کوئی مستقل علاج کیوں ڈھونڈا جائے۔ جبکہ وہ مستقل علاج دو برس کے فائدے کے ساتھ ہزاروں قسم کی لعنتیں بھی اپنے ساتھ لاتا ہو۔ شادی کی پہلی پریشانی تو یہ ہے کہ آج بھی ہمارے یہاں بہت سے مرد اپنی خوشی سے بہت سے بچے پیدا کرلیتے ہیں، عورتوں کی اوں آں کو ویسے بھی کون گبرو خاطر میں لاتا ہے۔ ہر سال سردی ایک نیا تحفہ دے جاتی ہے اور انسان یا خاص طور پر عورت اس کے چکرمیں بالکل ادھ مری اور بے جان ہوئی جاتی ہے۔ لیکن اس کی فکر کسی کو نہیں ہے۔ بہت سے مذاہب پیدا ہونے والی اولادوں کو روکنے کے سائنسی طریقوں کو غیر مذہبی اور خدا کے نزدیک ایک ناپسندیدہ عمل سمجھتے ہیں۔ اور یہ صرف اس لیے ہے کہ انسان جس قدر اولاد پیدا کرے گا، اتنا پریشان ہوگا اور جتنا پریشان ہو گا، اسے روحانی، ذہنی اور نفسیاتی سکون کے لیے خدا کے در کی خاک چھاننی پڑے گی، جبکہ اس کا علاج خود انسان کے ہاتھ میں ہے، وہ پیدا ہونے والے بچوں کو کنڈوم کی مدد سے روک سکتا ہے (میں مانتا ہوں کہ کنڈوم کے نہ پھٹنے کی گارنٹی کوئی کمپنی نہیں لیتی، لیکن کنڈوم بہت کم پھٹتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت بڑی بڑی فحش انڈسٹریز اس کے بل پر اپنا کام کاج آگے نہ بڑھا رہی ہوتیں)۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے طریقے ہیں، جن میں سے اب کئی طریقے پڑھے لکھے خاندانوں یا نیوکلیئر فیملیز میں اپنائے جاتے ہیں۔

 

شادی کی دوسری بڑی لعنت اس کے ساتھ پیدا ہونے والے اخراجات ہیں۔ حالانکہ آپ ایسے لوگوں کو ہر روز اپنی سوسائٹی میں دیکھتے ہوں گے جو دوسروں کو اصراف بے جا پر لعنت و ملامت بھیجتے ہوں۔ خدا کی توکل پسندی اور صبر و شکر کے فائدے گناتے ان کی داڑھیوں کے بال سفید ہوجاتے ہیں۔ لیکن باریش آدمی یا برقعہ پوش عورت ہمیشہ یہی چاہے گی کہ اس کے بیٹے یا بیٹی کی شادی عزت سے ہو۔ اب اس عزت کا معاملہ یہ ہے کہ کم از کم آج کی مہنگائی کے دور میں آپ دعوت نامے چھاپیں گے، ہال لیں گے یا شامیانہ لگوائیں گے،کھانا کھلوائیں گے، گاڑیوں میں رخصتی کروائیں گے اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔پھر اس کے ساتھ اگر آپ لڑکی کے ماں باپ ہیں تو آپ کو اچھے خاصے جہیز کا سامان دینا ہوگا اور لڑکے کے ماں باپ ہیں تو اس کی پڑھائی، لکھائی، رہن سہن تمام کے خرچ کی نمائش کرنی ہوگی۔ شادی اس لحاظ سے ہمارے یہاں ایک انڈسٹری بن گئی ہے۔ اخبارات، ٹی وی، ویب سائٹس، موبائل ایپلیکیشنز، ایجنسیاں اور اسی کا کاروبار کرنے والی عورتیں۔ یہ تمام کے تمام آپ کے گھروں میں تب تک دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں، جب تک آپ کی کہیں شادی کرکے آپ کو کسی ٹھور ٹھکانے سے نہ لگا دیں۔

 

شادی کی تیسری لعنت انسان کا اپنی برادریوں، من پسند لوگوں، معاشی فائدہ حاصل کرنے کے مسائل سے جڑ جانا ہے۔
شادی کی تیسری لعنت انسان کا اپنی برادریوں، من پسند لوگوں، معاشی فائدہ حاصل کرنے کے مسائل سے جڑ جانا ہے۔ میں ایسے بہت لوگوں کو جانتا ہوں جو بہت دیکھ کر، سمجھ کر شادی کرتے ہیں کہ کہاں ان کا مستقبل زیادہ بہتر ہوگا، کس کے ساتھ وہ اپنی زندگی کے معاشی مسائل کو حل کرنے میں جلد کامیاب ہوسکیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے شادی نفع و نقصان کا ایک ایسا سودا ہے، جسے وہ چاہ کر بھی نظر انداز نہیں کرسکتے اور اگر آپ اپنے چاروں جانب نظر ڈالیں گے تو بیشتر شادیاں انہی شرائط اور معاملات پر طے پاتے ہوئے دیکھیں گے۔ اب ایسی شادیوں میں محبت کا کوئی عنصر شامل ہو گا یا ہوسکتا ہے، مجھے اس پر بھرپور شک ہے۔

 

ایک اور مسئلہ جو شادی نے پیدا کیا ہے، وہ ہے طلاق اور حرامی کی اصطلاحات کی ایجاد کا۔ جب آپ شادی کریں گے تو ظاہر ہے کہ سماج نے جس طرح کے اصول طے کر دیے ہیں، انہی کو پیش نظر رکھ کر کریں گے۔ کبھی عزت، کبھی شہرت، کبھی معاش اور کبھی صرف اور صرف جنس کو مد نظر رکھ کر کی جانے والی شادی کتنے دن تک اپنے پاوں پر سیدھی کھڑی رہ سکتی ہے۔ ایک دن جب انسان جاگتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے خود کے ساتھ غلط کیا ہے، اور اس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔ پھر طلاق شدہ مرد یا عورت (مرد کم، عورت زیادہ) کے ساتھ ایک مسئلہ اور پیدا ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ انہیں ایک جانب دوسری دفعہ یہی عمل انجام دینے سے ایک خوف سا محسوس ہوتا ہے علاوہ ازیں سماج میں انہیں ایک امپرفیکٹ اور نقص زدہ انسان کی سی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف شادی کو ایک مستند اور باعزت انسانی رسم کے طور پر قبول کیے جانے کا نقصان یہ ہوا ہے کہ آزادانہ جنسی عمل کے طور پر پیدا ہوجانے والے بچوں کو ہم ‘حرامی’ اور ‘ناجائز’کے نام سے پکارنے لگتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب دو لوگ اپنی خوشی، محبت اور رضامندی کے ساتھ بغیر شادی کے جنسی عمل کرتے ہیں تو ان کے بچے ناجائز ہوجاتے ہیں اور شادی کے بعد خواہ وہ کتنی ہی بے دلی، ذہنی اذیت اور گھٹن میں یہ عمل انجام دیں ان کے بچے جائز کہلاتے ہیں۔ حالانکہ ہماری اخلاقیات کے طے کردہ یہ اصول سراسر کھوکھلے اور بے وقوفانہ ہیں اور ہمیں اب ان سے پیچھا چھڑانا چاہیے۔

 

عجیب بات یہ ہے کہ جب دو لوگ اپنی خوشی، محبت اور رضامندی کے ساتھ بغیر شادی کے جنسی عمل کرتے ہیں تو ان کے بچے ناجائز ہوجاتے ہیں اور شادی کے بعد خواہ وہ کتنی ہی بے دلی، ذہنی اذیت اور گھٹن میں یہ عمل انجام دیں ان کے بچے جائز کہلاتے ہیں۔
پھر آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ یہ تو رہے مسائل لیکن کیا میرے پاس کوئی بہتر تجویز موجود ہے جو سوسائٹی کو غیر متوازن ہونے سے بچانے اور انسان کے جنسی عمل کو کامیابی اور عزت کے ساتھ قبول کروانے کا راستہ نکال سکے۔ اول تو ہمیں شادی کے معاملےپر غور کرنا چاہیے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ شادی کو بالکل ختم کر دیا جائے۔ لیکن شادی صرف ایسے دو لوگوں کی رضامندی کے ساتھ ہونی چاہیے، جو ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کسی دباو، کسی منفعت کی خواہش کے ایک ساتھ ساری زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں۔ ایسے رشتوں میں طلاق کا عنصر ممکن ہے کم ہو اور اگر نہ بھی ہو تو طلاق کو کوئی بہتر نام دیا جائے اور نئی سماجی اخلاقیات میں اسے انسانی مرضی اور دو لوگوں کے ایک مشترکہ مثبت فیصلے سے تعبیر کیا جائے۔ جو لوگ آزادانہ جنسی رشتہ قائم کرنا چاہتے ہوں، ان کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ وہ ایک دوسرے کی سماجی، معاشی ذمہ داریاں نہیں اٹھائیں گے اور اگر ایسا کریں گے تو صرف خوشی سے، یہ کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہوگا۔ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو اس میں مرد اور عورت جس کی بھی خواہش بچہ پیدا کرنے کی ہو، اسی پر بچے کی ذمہ داری بھی عائد کی جائے تاکہ وہ خود کو کسی لائق بنا کر بچہ پیدا کرے۔ سماج میں بچوں کے پیدا کرنے سے روکنے والے غیر نقصان دہ راستوں کو فروغ دیا جائے اور انہیں بالغ ہوتے ہی بچوں کے نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

 

عورت کو اس طرح خود کفیل ہونے کے زیادہ مواقع حاصل ہوں گے۔ اتنی ساری شادیوں کی ایجنسیاں کھول کر بیٹھنے والوں کو اس کاروبار کی جانب راغب کرایا جاسکتا ہے کہ وہ ان بچوں کی پرورش کریں، جن کی ذمہ داری اٹھانے والے کسی فرد کی موت ہو گئی ہو اور وہ ابھی اپنی ذمہ داری اٹھانے کے اہل نہ ہوں، یہ سارے کام حکومت کی نگرانی میں ہوں اور ان کی تفصیلات ایک ایسے ادارے کی نگرانی میں کسی ویب سائٹ پر پیش کی جائیں، جن کے ذمہ داران ایسے لوگ ہوں جو ان معاملات کی گہری سمجھ رکھتے ہوں اور سماج میں ایک صاف شبیہ رکھتے ہوں، ظاہر ہے کہ یہ ایک جز وقتی ذمہ داری ہے اس لیے ان ممبران میں صحافی، ادیب، سائنسداں، انجینیر، سیاست داں جیسے تمام لوگوں کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔

 

شادی کے بغیر ملنے والی سیکس کی اجازت آتے ہی سوسائٹی میں جنسی عمل کے تعلق سے موجود ایک جبر کا احساس ختم ہوگا، لوگ اس پر زیادہ کھل کر بات کرسکیں گے۔
شادی کے بغیر ملنے والی سیکس کی اجازت آتے ہی سوسائٹی میں جنسی عمل کے تعلق سے موجود ایک جبر کا احساس ختم ہوگا، لوگ اس پر زیادہ کھل کر بات کرسکیں گے۔ جب کوئی سوسائٹی یہ تسلیم کرتی ہوگی کہ عورت کو بھی آزادنہ جنسی عمل کی اجازت ہے تو کسی بھی عورت کو اپنے ریپ کی رپورٹ کروانے میں بھی شرم اور جھجھک محسوس نہ ہوا کرے گی اور لوگوں کے نزدیک ریپ کی جانے والی عورت ایک گھن لگےہوئے گیہوں کے دانے کی سی حیثیت نہ اختیار کر سکے گی۔ میں جانتا ہوں کہ اس معاملے پر میری یہ تحریر ایک ایسا آغاز ہے، جس پر مزید باتیں ہونی چاہییں۔ اور دوسرے بہت سے نقائص کے ساتھ میری تحریر اور تجاویز پر مکمل تنقید ہونی چاہیے۔ تاکہ ہم ایک مثبت اور غور وفکر کرنے والی سوسائٹی کی دہلیز میں قدم رکھنے کے اہل ہوسکیں۔