Categories
تراجم فکشن

سنو پِتاجی!

جیا جادوانی
ہندی سے ترجمہ: محمد ابوالحسن عسکری

جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649

جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649

انتہائی قابلِ احترام پتاجی،

آج میں بے حد ادب کے ساتھ آپ کو شردھانجلی پیش کرنا چاہتی ہوں۔ میں جو کچھ بھی ہوں وہ نہ ہوتی، اگر آپ ویسے نہ ہوتے جیسے تھے۔

آپ کو ٹائم خراب کرنا سخت ناپسند ہے، سو جلدی اصل بات پر آتی ہوں۔ پچھلے مہینے میرے دونوں بھائیوں کا پیغام آیا میرے پاس کہ میں اپنے حصے کی موروثی جائیداد ان کے نام لکھ دوں، نہیں تو وہ مجھ سے ’تعلق‘ نہیں رکھیں گے اور مجھے’دیکھ‘ لیں گے۔ میں جانتی ہوں، مجھے ’دیکھ‘ لینے کے چکر میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ وہ بھی اسی پدرشاہی نظام کا حصہ ہیں جس کے آپ رہے۔ آپ کو بھی پسند نہیں تھا کہ کوئی عورت اپنے حق کی بات کرے یا سوچے بھی۔ آپ نے یہ اجازت نہ ماں کو دی، نہ مجھے۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ میرے ذرا سے جواب دینے پر پورا گھر مجھ پر ٹوٹ پڑتا تھا: ’’یہ وکیلوں والی جرح اپنی ساس سے کرے گی تو وہ ’بیچاری‘ تو اپنی چھاتی کُوٹ لے گی‘‘۔ ساس نے چھاتی کُوٹی ضرور، پر میرے جواب دینے سے نہیں، میرے پڑھنے لکھنے سے۔ وہ بھی ’بےچاری‘ اسی پدرشاہی نظام کا حصہ بنی رہی جو سمجھتا ہے کہ لڑکیاں پڑھنے لکھنے سے بگڑ جاتی ہیں— بالکل صحیح سوچتے ہیں، میرے بگڑنے کی شروعات بھی یہیں سے ہوئی۔

چار سال ہو گئے ہیں آپ کو گئے ہوے اور شاید ہی کبھی میں نے آپ کو اس شدت سے یاد کیا ہو۔ گاہے بگاہے کوئی مجھے آپ کی یاد دلا بھی دیتا تھا، یہ کہتے ہوے کہ تمھیں دیکھ کر تمھاری عمر کا اندازہ نہیں ہوتا، تم اپنی عمر سے بیس سال چھوٹی لگتی ہو، تو میں بے حد انکسار سے جواب دیتی تھی کہ میں اپنے پِتا پر پڑی ہوں۔ آپ تو نوّے کی عمر میں بھی ساٹھ سے زیادہ کے نہیں لگتے تھے۔ لوگ کہتے تھے، آپ کی ٹانگیں کاٹھ کی بنی ہیں، تھکتیں ہی نہیں۔ آپ کبھی رکتے نہیں تھے پتاجی، ہمیشہ چلتے رہتے تھے۔ اتنا چلے کہ بہت دور نکل گئے، ہماری پہنچ سے پرے۔ ہمارے لیے تو آپ پِتا نہیں، دور سیاروں سے آیا کوئی شکتی شالی آدمی تھے جس سے ہم سدا ڈرتے رہتے تھے۔ ہمارے ننھے ہاتھوں نے کبھی آپ کا ہاتھ نہیں پکڑا۔ آپ کا گھر میں گھسنا ہمارے خوف کا سبب ہوتا تھا۔ آپ کے آنے کی آہٹ پاتے ہی ہم اپنی کوئی بھی کتاب کھول اس میں اپنا سر ڈال دیتے تھے تاکہ کسی بھی طرح آپ کی آنکھوں سے اوجھل رہ سکیں۔ جو آپ کے سامنے پڑا، وہ گیا۔ پڑنا تو ماں کو پڑتا تھا، اور وہ یہ قہر اپنے دل اور جسم پر جھیلتی تھیں۔ چھلنی ہو گئے ہوں گے دونوں، جب وہ اوپر گئی ہوں گی۔ عورت کے جیون کی اتنی دشواریاں جھیل لیں انھوں نے کہ سب کچھ چتھڑا چتھڑا ہو گیا۔’جیوں کی تیوں دھر دینی چدریا‘، کبیر کہتے ہیں۔ کیا سچ مچ کوئی عورت ایسا کر پاتی ہے؟ ان کی ’چدریا‘ کے تار تو دور سے بھی ٹوٹے پھوٹے دکھائی دیتے تھے۔ آتما کو بھی اس میں رہتے شرم آنے لگی تھی۔

اب دیکھیے نا، بھائیوں کے فون کے ساتھ ہی رشتےداروں کے فون بھی آنا شروع ہو گئے اور وہ مجھے’شائستگی‘ سے یہ سمجھانے کی کوشش کرنے لگے کہ ’بھگوان کا دیا ‘ سب کچھ میرے پاس ہے، سو میں بھائیوں سے ’پنگا‘ لینے کی کوشش نہ کروں، نہ سوچوں۔ نہیں تو میں وہ ’گھر‘ [میرا مائیکا] کھو دوں گی۔ یہ سن کر بھی مجھے بہت زور سے ہنسی آتی رہتی ہے۔ یہ وہی رشتےدار ہیں جو آپ کے رہتے گھر میں گھسنے سے بھی ڈرتے تھے۔ آپ نے انھیں ہمیشہ اپنے گھر سے باہر رکھا، اور اب آپ کی غیرموجودگی میں دیکھیے کیسے گھسے چلے آ رہے ہیں! اور رہی اس ’گھر‘ کی بات تو وہ ’گھر‘ تو میرا پِتاجی، آپ کے رہتے بھی نہ تھا۔ آپ نے کبھی اس کا احساس ہی نہ ہونے دیا۔ جو ’گھر‘ ستر سال کی ماں کا نہ ہو سکا تو بھلا سولہ سال کی لڑکی کا کیا ہوگا؟ وہ گھر صرف آپ کا تھا، پِتاجی۔ وہاں تو ہر دن یہی سنائی دیتا تھا: ’’جا اپنے گھر تو ہمیں تجھ سے چھٹکارا ملے!‘‘ ہم لڑکیوں سے زیادہ تو آپ لوگ گھر کی گایوں کا سمّان کرتے تھے— تب تک جب تک وہ دودھ دیتی تھیں۔ بوڑھی ہو جانے پر آپ انھیں دان میں دے دیتے تھے۔ ہم بھی ہاڑتوڑ محنت کرتی تھیں، پِتاجی، میں اور میری چاروں بوائیں (پھپھیاں)، تاکہ ہم خود پر ہونے والے خرچ کے قرض کی بھرپائی کر سکیں۔ اگر وہ سب آپ کو دِکھا نہیں تو بھی کوئی بات نہیں پِتاجی، ’دِکھنے‘ لائق کچھ تھا بھی نہیں۔

بواؤں کی جیسے تیسے شادی کر کے انھیں ان کے نام نہاد ’گھر‘ بھیج کر، آپ نے مجھے گھر میں قید کرنے کے تمام جتن کیے۔ اس بندی خانے کو کتابوں سے بھر دیا کہ اسی میں الجھی رہوں، اور میں شبدوں کی پیٹھ پر سوار، اپنا جسم وہیں دھرے، اُڑ جاتی۔ آپ نے یہ بڑے ثواب کا کام کیا، پِتاجی۔ کتابوں نے مجھے وہ وہ دیا جو آپ دینے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ میں دھیرے دھیرے آپ کے خلاف کھڑی ہونے لگی تھی۔ پھر ایک دن جب میری ماں پٹی، میں آپ دونوں کے بیچ کھڑی ہو گئی۔

ہم آپ کو بہت پیار کرتے تھے، پِتاجی۔ گھر کی ہر اچھی چیز پر آپ کا ہی ادھیکار رہتا تھا، پھر آپ کے بیٹوں کا، چاہے وہ ماں کے ہاتھ کا بنا لذیذ کھانا ہو یا کچھ اَور۔ کھانا بنتے ہی ماں تھالی پروس کے آپ کے لیے الگ رکھ دیتی تھیں، پھر ہم بچوں کو کھلاتی تھیں، اور آخر میں سامنے رکھی کڑھائی کو پونچھ پونچھ کر اپنی روٹیاں ختم کر ایسی تسکین سے اٹھتیں جو آپ کو بھی وہ سپیشل تھالی کھاکر نہ ملتی ہوگی۔ مجھے یاد ہے، آپ اپنے کانوں میں مہنگے عطر کا پھاہا رکھتے تھے۔ آپ کے گھر سے نکلتے ہی ہم بھائی بہن آپ کے تکیے کو سونگھنے کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔ کبھی ایک گِرے ہوے پھا ہے کے لیے ہم لڑ مرتے تھے۔ ہم کتنے بھی نالائق ہوں، پر کیا ہوتا پِتاجی، اگر ایک پھاہا آپ ہمارے کانوں میں بھی رکھ دیتے؟ ہم تمام عمر آپ کی یاد سے مہکتے رہتے۔

مجھے خود پر بڑی شرم بھی آتی ہے کہ مجھے وہ وہ چیزیں یاد نہیں ہیں جو مجھے آپ سے ملیں: حوصلہ، خودداری، اکیلے جوجھنے کی فولادی طاقت، خوداعتمادی، اَور بھی بہت کچھ۔ اس سنگھرش نے میرے وجود کو ایک دھار دی۔ نہیں، صرف اسی سنگھرش نے نہیں، اُس دوسرے سنگھرش نے بھی جو اُس دوسرے گھر کی دین تھا جہاں آپ نے شادی کے نام پر مجھے بھیجا تھا۔ کتنا آزاد محسوس کیا ہوگا آپ نے یہ کہتے ہوے کہ ’’جا، اب اِس طرف پیٹھ کرکے سونا‘‘۔ اس گھر میں تو ہم کھارے پانی سے کبھی کبھی روبرو ہوتے تھے کیونکہ یہاں ماں تھیں، اُس گھر میں تو میں روز کھارے پانی سے سنان کرنے لگی کیونکہ وہاں ساس تھیں۔ ہم پیدائشی بےگھر لڑکیاں ایک گھر کی تلاش میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں، اور داؤ پر لگانے کے لیے ہمارے پاس ہوتا ہی کیا ہے اس جسم کے سوا؟ پر میں نے آپ سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی، نہ کبھی اپنا کوئی دکھڑا رویا۔ وہ میرا نصیب تھا جس سے مجھے خود ہی بھڑنا تھا۔ آپ نے مجھے ’چیز‘ بنایا، سسرال مجھے ’اچھی چیز‘ بنانے پر مُصر تھا۔
ہم پریم سے اُپجی اولاد نہیں تھیں، پر اولاد تو تھیں۔ میں آپ سے، آپ کے سامنے پیدا ہوئی، پلی بڑھی، جوان ہوئی، لڑی جھگڑی، پر گھر میں کسی کو سمجھ میں نہیں آئی، یہاں تک کہ ماں کو بھی نہیں۔ ان پر معاشی بوجھ تو تھا ہی، اپنی اور بچوں کی حفاظت کا بھی بوجھ تھا۔ صبح تین بجے اٹھ کر رات گیارہ بجے تک وہ عورت ہاڑتوڑ محنت کرتی تھی۔ آج کی عورتوں کو جب دیکھتی ہوں، کہ کس طرح وہ بازار میں اور بازار اُن میں ناچ رہے ہیں، وہ لگی ہیں مرد کو ’خالی‘ کرنے اور اپنے لالچ ’جی‘ لینے میں، تو حیرانی نہیں ہوتی۔ وہ اپنا پچھلا بدلہ چکا رہی ہیں۔ مجھے ماں پر غصہ آتا تھا۔ تمام وقت وہ تمھارے اور تمھارے بیٹوں کے لیے برت رکھتی تھیں، آنولے کے پیڑ کو گول گول گھومتے ہوے لال دھاگے باندھتی تھیں، اور ہولیکا دہن یا دوسرے تیوہاروں میں تمھارے لیے انگاروں پر میٹھے روٹ سینکتی تھیں۔ تم نے ہمیں دو حصوں میں توڑ دیا تھا: کمر سے نیچے اور اوپر۔ یہ دونوں تمھارے ہی لیے کام کرتے تھے۔ نیچے کا دھڑ مزاحمت کرتا ہے تو اسے سرسنبھالتا ہے، سر بغاوت کرتا ہے تو دھڑ سنبھالتا ہے۔ تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ تمھارے اقتدار سے الگ بھی میں اور ماں کچھ ہو سکتے ہیں، کہ ہمارے پاس بھی اپنا دماغ اور شعور ہے۔ یہ ہمیشہ تم ہی طے کرتے تھے کہ ہمیں کیا اور کتنا دینا چاہیے۔ اور دیا بھی۔

آپ تو اپنے ناکارہ بیٹوں کے ہر سکھ دکھ میں کھڑے ملے، پِتاجی۔ وہ آپ کی کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہوں گے، یہ بات آپ کو بےحساب خوشی دیتی تھی۔ وہ پڑھنا نہیں چاہتے تھے، آپ ان کو مار مار کر پڑھاتے تھے۔ میں پڑھنا چاہتی تھی، آپ نے میری پڑھائی چھڑوا دی۔ آپ ان پر فضول خرچ کرتے تھے پر مالی مشکلات کی شکار اپنی بہنوں کو سو روپلّی دیتے ہوے کہتے تھے، ’’میرے پاس ہے کہاں بہنا، بس کام چلا رہا ہوں۔‘‘ اپنے جس نام کو ’روشن‘ کرانے کا آپ کو بےپناہ لالچ تھا، اسی ’نام‘ کو آپ کے بیٹوں نے ’ڈبو‘ دیا۔ پر کوئی بات نہیں پِتاجی، جس سورگ میں آپ ہیں، وہ بھی آپ جیسوں کا ہی جماؤڑا ہے، وہاں بھی سارے دیوتا ایک دوسرے کی تعریفیں گاتےگواتے ہیں، دیویوں کو بھی انھوں نے اپنے حساب سے گڑھ رکھا ہے، سو مجھے امید ہے، اوپر آپ کے نام کا جھنڈا ضرور لہرا رہا ہوگا۔ پر ایک بات اَور بتائیے پِتاجی، کیا آپ کا ’نام‘ اور ’شان‘ کچھ سطحی چیزوں پر نہیں ٹکا تھا؟ میں سر پر دوپٹہ نہیں لیتی تھی تو آپ چیختے تھے: ’’بےنظیر بھٹو کو دیکھو، سر پر دوپٹہ لے کر تقریر کرتی ہے۔ ایک تم ہو! لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ یا، ’’ لتا منگیشکر کو دیکھو، اس نے کتنا اپنے باپ کا نام روشن کیا ہے، ایک تم ہو!‘‘ میرے ہر کام میں، یہاں تک کہ میری شکل صورت میں بھی آپ کو ہزار نقص دکھتے تھے۔

’’دیکھو تو، کیسے چلتی ہے! دھپ دھپ کرکے۔ کون اس سے شادی کرے گا؟‘‘
’’قد دیکھو، کیسے نکلتا جا رہا ہے! لڑکیاں چھوٹی اچھی۔‘‘
’’اتنی زور سے ہنسنے کی کیا ضرورت ہے؟ لڑکیاں ہنستی ہوئی اچھی نہیں لگتیں۔‘‘

آپ ٹھیک تھے پِتاجی، لڑکیاں صرف روتی ہوئی اچھی لگتی ہیں، کیونکہ تب ان پر ترس کھایا جا سکتا ہے، ان پر مہربان ہوا جا سکتا ہے۔ اچھا ہوا آپ کو پتا نہیں چلا، کتنے امکانات کے بیج آپ نے اپنے الفاظ کے سفاک پیروں تلے کچل دیے۔ ہمارے سیلف کانفیڈنس کو مٹی میں ملا دیا۔ ہم ’کچھ نہیں‘ تھے ،اور یہ آپ کبھی نہیں جان پائے کہ ’کچھ نہیں‘ سے ’کچھ‘ ہونےکا جان لیوا سفر کرنے میں مجھے کتنے برسوں اور کتنے دردوں سے گزرنا پڑا۔ اپنی مٹی سے پرانے کانٹوں کی فصل اکھاڑنا، مٹی کو دوبارہ اُپجاؤ بنانا، نئے بیج لگانا، پھر بارش اور فصل کا انتظار کرنا۔ میں آپ کو دھنے واد دیتی ہوں پِتاجی، کہ آپ نے مجھے سر نہیں چڑھایا۔ آپ کے سر چڑھائے بیٹوں کا انجام میں دیکھ رہی ہوں جنھیں اپنے بُوتے دو قدم چلنا نہیں آیا۔

بےنظیر بھٹو بھی ڈری سہمی گھومتی ہوگی کہ وہ آپ جیسوں کی ذہنیت والوں کا شکار نہ ہو جائے، اور وہ ہو گئی۔ آپ لوگ ایک قدآور عورت کو گھروں میں بھی برداشت نہیں کر پاتے، سڑکوں اور اونچے عہدوں پر تو کوئی سوال ہی نہیں۔ برداشت کرنا بھی نہیں چاہیے پِتاجی، یہ زنانہ فوج گھر سے نکل آئی تو پھر بچے کون پالے گا؟ اِن کو اِن کی اوقات بتانا بہت ضروری ہے۔

پر میری ایک درخواست ہے، اپنے بچوں کو ’بنا‘ دینے کی ذمےداری کسی باپ کی نہیں ہوتی۔ پلیز اس سے باز آئیے۔ آپ وہی بنا سکتے ہو جو آپ خود ہو۔ آپ تو بس اتنا پیار اور سمّان دو کہ وہ خود کو بھی وہی دے سکے، خود اپنی مٹی سے اٹھ، تن کر کھڑا ہو سکے۔ ہم عورتوں کو بھرپور صحت مند رشتے کہاں ملتے ہیں؟ ہمیں تو ملتے ہیں چیزوں کے ڈھیر۔ ہم انھی سے چپکتے، انھی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں تو وہ مرد ملتا ہی نہیں جو ہمیں ہمارے مکمل ہونے کا شعور کرا سکے۔ اکثر ہم ایک بےتسکینی بھرے بھٹکاؤ میں ہی جیون گزار دیتی ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی کوئی بےخوف، دبنگ، بےباک اور بیہڑ عورت مردانہ اقتدار کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور اس کی چُولیں ہلا دیتی ہے۔ خود کو اپنی زبان سے کہتی ہے، اپنے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ پر پھر کیا ہوتا ہے؟ یہ اقتدار تیور بدل کر بات کرتا ہے اور آخرکار اسے ٹھکانے لگا دیتا ہے۔

آپ نے اپنی بہنوں پر بھی اتنی زیادتیاں اور بےعزتیاں کیں کہ انھوں نے آگے ہونے والی بےعزتیوں کو بھی اپنا نصیب مان لیا۔ اب آپ کی جگہ ان کے شوہروں اور بیٹوں نے لے لی ہے۔ پر آپ بھی کیا کیا کرتے پِتاجی، اب سب کی ذمےداری آپ نے تھوڑا ہی لے رکھی ہے! ایک مَیں ہی اُن کی طرح نہیں بن پائی۔ آپ نے تو ہم سب کو بےچہرہ ہی بنا رکھا تھا، پر میں نے اپنے بھیتر سے اپنا نیا چہرہ اُگا لیا۔ یقیناً اس کا بھی کریڈٹ آپ ہی کو جاتا ہے۔ اب بتائیے، جو کتابیں آپ مجھے اپنی قید میں بنے رہنے کے لیے دیتے تھے، انھی نے میرا بیڑا غرق کر دیا۔ ماں یہ بات ضرور سمجھتی ہوں گی، تبھی تو وہ کتابیں جلا دیتی یا چھت پر پھینک دیتی تھیں۔ کہتی تھیں، ’’لڑکیوں کو زیادہ نہیں پڑھنا چاہیے، بھلا گھرگرھستی چلانے میں پڑھائی کا کیا کام؟ سلائی کڑھائی سیکھو، پاپڑبڑیاں، گھجیے کچری بناؤ، رضائی گدّےجھولے بناؤ، سندھی کڑھائی سیکھو، گُرمکھی سیکھو، دھارمک گرنتھ پڑھو، اچھی پتنی، اچھی بہو بننے کے گُن سیکھو، نہیں تو لوگ ہم پر تھوکیں گے کہ تم نے اپنی بیٹی کو کیا سکھایا؟‘‘ اب بتائیے، ہمارے دیش میں تو لوگ کہیں بھی تھوک دیتے ہیں، ان کا کیا کیا جائے؟ پھر میری جبراً شادی کر دینے پر انھوں نے سمجھائش دی، ’’روز صبح جلدی اٹھ کر گھر کے سارے کام کرنا۔ ساس سسر کے روز پیر چھونا۔وہ جو بھی کہیں، کبھی پلٹ کر جواب مت دینا۔ اگر وہاں سے کوئی شکایت آئی تو سمجھ تُو ہمارے لیے مر گئی۔‘‘ پتاجی، کیا میں آپ کو بتا پاؤں گی کہ جینے کے لیے ایک لڑکی کو کتنی بار مرنا پڑتا ہے؟ میں نے وہ سب کرنے کی بھرپور کوشش کی جو مجھ سے کہا جاتا رہا، پر میں کیا کرتی؟ میری زمین پھوڑ کر تب تک ایک نئی عورت نکل آئی تھی اور اس نے پرانی کی جان ہی لے لی۔

میں ماں کو کبھی سمجھا نہیں پائی کہ تم جن کی طاقت کو کوستی اور کراہتی ہو، انھی کو دراصل پالتی پوستی بھی ہو۔ ماں آپ سے نفرت بھی کرتی تھیں اور ایک عجیب سوامی بھکتی بھی تھی ان میں۔ ان کے وجود کے معنی اپنے ’سوامی‘ (پتی) سے ہیں، اور وہ اس وجود کو ہی بےمعنی مانتا ہے۔ وہ ہمیشہ چڑچڑی، غصیل اور بےچین رہتی تھیں۔ ان کا بےبس غصہ ہم پر پھوٹ کر ٹوٹے کانچ سا ہر وقت گڑتا رہتا تھا۔ یہ خودبخود نہیں ہوا کہ ان کی موت دل کی دھڑکن رکنے اور یونی میں کیڑے پڑنے سے ہوئی۔ پر اس میں آپ کا کیا قصور؟ یہ تو قسمت ہوتی ہے ہر مورکھ عورت کی۔ آپ ہی تو کہتے تھے، ’’عورتیں ڈنڈے کی نوک پر سیدھی رہتی ہیں۔‘‘

مجھے لگتا تھا کہیں نہ کہیں جاکر اس سے آزادی پانا ممکن ہے، پر میں غلط تھی۔ عورتیں بوڑھی ہونے کے بعد بھی آزاد نہیں ہوتیں، صرف ان کے مالک بدلتے ہیں۔ ہر لمحے مردانہ طاقت سے اپنی حفاظت کرتے رہنے کا ڈر ہمیشہ ان کے شعور پر حاوی رہتا ہے۔ اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے مرد کے مقابلے میں انھیں چوگنا سنگھرش کرنا پڑتا ہے۔ دیکھیے نا، میں ابھی تک کر رہی ہوں۔

آپ تو اتنے گیان وان تھے پِتاجی، کہ آپ کو بھولے اور بھوندو شوہر پسند ہی نہیں آتے تھے کیونکہ ان میں عورتوں کو دابے رکھنے کا ہنر نہیں ہوتا۔ شاید اس لیے آپ کو اپنے پِتا ناپسند تھے، کیونکہ ان میں آپ کی ماں کو دابنے کا ہنر نہیں تھا۔ تو آپ نے اپنے بیٹوں کو بھی غور سے دیکھا ہی ہوگا۔ کون کس کو داب رہا ہے؟ آپ کو اپمان اور دکھ ہوتا ہوگا، پر وقت اب تھوڑا سا بدل گیا ہے۔ آپ کو تو اپنی بدزبان اور اَن پڑھ ماں بھی اچھی نہیں لگتی تھیں۔ آپ چاہتے تھے، عورت ’سمجھدار‘ بھی ہو اور اپنی ’حد‘ میں بھی رہے، ’عقل‘ اور ’فیصلے کی قوت‘ ہو پر وہ اس کا استعمال نہ کرے۔ اب ایسی عورتیں تو صرف کتابوں میں ملیں گی پِتاجی!

آپ سے اس ساری بدتمیزی کے لیے مجھے بے حد افسوس ہے، قابلِ احترام پِتاجی۔ جیسی بھی ہوں، آپ کی اُپج ہوں۔ نہ میں آپ کے ہونے سے انکار کرتی ہوں، نہ آپ کو مٹانا چاہتی ہوں نہ جھکانا۔ بس اتنا چاہتی ہوں، آج ذرا برابری کے لیول پر بات ہو جائے۔ دیکھیے نا، آپ نے مجھے بولنے کا کبھی موقع نہیں دیا، آج میں جی بھر کر بول رہی ہوں۔ آپ نیچے ہوتے تو ضرور مجھے اپنی چھتری سے مارتے۔ چھتری کی مار مجھے کبھی بری نہیں لگی، پِتاجی، بس شبدوں کی مار ذرا زور سے لگتی ہے۔ پر کوئی بات نہیں، یہ آپ کا پیدائشی حق تھا۔ آپ بات بات پر کہتے تھے، ’’میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا تم لوگوں کا؟ دانے دانے کو محتاج ہو جاتے!‘‘ مجھے نہیں پتا کیا ہوتا، پِتاجی۔ پر اگر آپ نہ ہوتے تو ہم ضرور اپنے بھیتر کھوئی عقل، حوصلے اور خودشعوری کو جگا ہی لیتے۔

آج اتنے برسوں بعد اتنی دور کھڑے ہوکر میں آپ کی ذہنیت کی دھجی دھجی اُدھیڑنے کے لیے آپ سے معافی مانگتی ہوں، پِتاجی۔ جانتی بھی ہوں، کہ درحقیقت یہ آپ کا چناؤ نہیں، کنڈیشننگ ہے جو آپ کے ریشے ریشے میں سما گئی ہے۔ جو مرد اس سے آزاد نہیں ہو پاتے، مجھ جیسی عورتیں ان سے آزاد ہو جاتی ہیں۔

عورت کی غلامی مرد کے وجود کی مانگ ہے، عورت کی آزادی اس کی آتما کی ضرورت ہے۔

اور یہ سب آج میں آپ کو کیوں کہہ رہی ہوں؟ کیونکہ بھائی بھی وہی کر رہے ہیں جو انھوں نے اس روایت سے سیکھا ہے۔ ہم عورتوں کو تمھاری جائیداد محفوظ رکھنے کا حق تو ہے، اس کا استعمال کرنے کا نہیں۔ وہ چاہتے ہیں میں ’پھوکٹ‘ میں ان کا ٹائم خراب نہ کروں، اپنی ’اوقات‘ میں رہوں، چپ چاپ اپنا راستہ ناپوں، دفع ہوؤں ان کی زندگیوں سے۔ میں تو کب کی دفع ہو چکی ہوں، پِتاجی۔ میں کسی کے اندر زندہ نہیں ہوں، پر میرے اندر سب زندہ ہیں۔ اب اس حق سے مجھے محروم کرنے کے لیے انھیں بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے، ویسے ہی پاپڑ جنھیں ٹھیک سے نہ بیل سکنے پر آپ لوگ میری انگلیاں توڑتے تھے۔ مجھ میں آپ کا مقدس خون ہے پِتاجی، اس لڑائی میں ہار کر میں آپ کو شرمندہ ہونے کا موقع ہرگز نہیں دوں گی۔ اس جرم کی معافی کی درخواست کبھی کی ہو تو واپس لیتی ہوں۔

آپ کی سرکش بیٹی۔

(نام نہیں لکھ رہی۔ آپ کا دیا نام پیچھے چھوڑ آئی ہوں۔ نیا جان کر آپ کیا کریں گے ؟)

جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 24: پڑوسی (ترجمہ: فروا شفقت)

“جی۔ یہ لیجیے ساڑھی، جِسے آپ نے خریدنے کے لیے کہا تھا۔” مدراس سے لائی گئی وہ ساڑھی میرے ہاتھ میں دیتے ہوے وِمل نے کہا۔ ایک بار من کر رہا تھا کہ ساڑھی کو جوں کی توں وِمل کو واپس کر دوں اور کہوں کہ تم ہی رکھ لو۔ لیکن جےشری کے نام پر خریدی گئی ساڑھی کو اس طرح رکھ لینا مناسب نہ ہو گا، یہ سوچ کر میں نے ڈرائیور کو ساڑھی جےشری کے گھر پہنچانے کے لیے کہا۔

سٹوڈیو آتے ہی جےشری نے بتایا کہ ساڑھی اسے بہت ہی پسند آئی۔ لمحہ بھر وہ وہیں رُکی سی رہی۔ لیکن میں نے اس کی طرف خاص دھیان نہیں دیا اور سیدھے میوزک ڈیپارٹمنٹ میں چلا گیا۔ میرے پیچھے ماسٹر کرشن راؤ نے ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ کے کچھ گیتوں کی دھنیں بنائی تھیں۔ ایک دکھ بھرے سین پر گائے جانے والے گیت کو انھوں نے دکھ بھری دُھن دی تھی۔ میں نے اپنی رائے ظاہر کر دی۔ اس پر انھوں نے اسی دھن کو رونی صورت بنا کر پھر پیش کیا۔ اور پوچھا، “انّا، اب کیسی لگی دُھن؟”

میں نے اپنی جیب سے ایک رومال نکال کر ان کے چہرے پر ڈالا اور ان کا چہرہ ڈھک دیا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ ان کی صورت دیکھے بِنا ان کی دُھن کیا وہی اثر ڈال پاتی ہے، جس کی کہ اس سے امید کی جاتی تھی؟ میں نے انھیں وہی گیت پھر سنانے کے لیے کہا۔ گاتے سمے چہرے پر رکھا رومال لگاتار اُڑ رہا تھا۔ ہم سب لوگوں کو یہ دیکھ کر بڑا مزہ آتا رہا۔ گیت ختم ہوا۔ ماسٹر کرشن راؤ نے چہرے سے وہ رومال پردہ نشین عورت کی ادا سے تھوڑا ہٹا کر نسوانی آواز میں پوچھا، “اب کیسی لگی دُھن؟”

میوزک روم میں جمع سبھی لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ اب تو اس دھن کو بدلنے کے علاوہ ماسٹر کرشن راؤ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا! میرا ہمیشہ کا دستور رہا تھا کہ اپنی فلم کے لیے بنے گیت اور دھنیں سر نیچا کر کے سنوں اور پورے دھیان سے سنوں۔ ایسا کرنے سے سین کے مطابق اثر گیت کی دھن سے برابر ابھرتے ہیں یا نہیں، اس کی صاف تصویر ذہن پر نقش ہو پاتی تھی۔ لیکن اس دن جےشری گا رہی تھی، تب یوں ہی میں نے اوپر دیکھا۔ گاتے سمے وہ بھی اپنی موٹی موٹی کجراری آنکھوں سے مجھے ہی ایک ٹُک دیکھ رہی تھی۔ مجبوراً ہی تیرتے سمے ہوے اس واقعے پر من فوکسڈ ہو گیا۔ وہ سین من کی آنکھوں کے سامنے ایسا ثبت ہو گیا کہ ہٹنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ لیکن فوراً ہی میں نے اپنے آپ کو سنبھالا، ہوش میں آیا۔ اپنے آگے جاری کام سے لمحہ بھر ہی سہی، اپنا دھیان ہٹ گیا۔ اس لیے اپنے آپ پر ہی مجھے غصہ آیا۔

شوٹنگ شروع ہو گئی۔ پھر مجھ پر وہی دُھن پوری طرح چھا گئی، جو ‘آدمی’ اور ‘دنیا نہ مانے’ فلم بنانے کے سمے تھی۔ آج تک جیون میں میں نے کبھی کوئی نشہ نہیں کیا۔ لیکن لگتا ہے کہ فلم میکنگ کا نشہ میرے خون میں ہی گُھلا ہے۔ ہر نئی فلم کے ساتھ ایک نیا پاگل پن، ایک نیا لطف چھا جاتا ہے۔

فلم ‘پڑوسی’ کا پوسٹر

اس فلم میں اُن بوڑھے ہندو مسلمان دوستوں کے آپسی محبت کی علامت کے روپ میں دونوں کے ہاتھ میں ہاتھ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، اس سین کا استعمال میں نے کئی جگہوں پر نہایت جذباتی ڈھنگ سے کر لیا۔ بعد میں جب وہ وِلن ٹھیکیدار ان دونوں جانی دوستوں میں غلط فہمی پیدا کرتا ہے، تو دونوں کی دوستی ٹوٹنے لگتی ہے۔ لیکن یہ بات لفظوں میں نے ظاہر نہیں کی، صرف منظروں کے اشاروں سے اس طرح دکھائی کہ دونوں کے ہاتھ میں لیے ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں، ایک دوسرے سے دور جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے اور بعد میں دونوں پردے پر دکھائی نہیں دیتے۔ دکھائی دیتے ہیں صرف ان کے ایک دوسرے سے دور دور جا رہے ہاتھوں کے پنجے۔ کیمرا پیچھے ہٹتے ہٹتے صرف ان دور جاتے پنجوں کو ہی فلماتا رہتا ہے۔

اُن دونوں پڑوسیوں کو ایک ہی شوق تھا، فرصت کے سمے شطرنج جمانا۔ لیکن بعد میں اختلاف ہونے کے کارن دونوں باہمی مخالف سمت کی طرف منھ پھیرے آنگن میں چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں۔ شطرنج کے مہرے اور بِچھا پٹ (بساط) پیڑ کے نیچے بیکار پڑے رہتے ہیں۔ اُن کے بچوں کو بھلا ان بڑوں کے جھگڑے سے کیا لینا دینا! وہ اپنے پِتا جی کی ادا میں شطرنج بچھا کر اپنی اپنی عقل کے مطابق جیسی بنے، چالیں چلنے لگتے ہیں۔ پیڑ کے نیچے منھ پھیرے بیٹھے دونوں بوڑھوں کا دھیان اُن کے کھیل کی طرف جاتا ہے۔ بچے بیچارے غلط چال چلتے رہتے ہیں۔ دونوں بوڑھے اپنے بچوں کے پیچھے آ بیٹھتے ہیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کر خود مہرے چلانے لگتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے کچھ پیادوں کو مارتے ہیں۔ آگے چل کر تو دونوں اس کھیل میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ بچوں کی بیکار کی جھنجھٹ ختم کرنے کے لیے انھیں اٹھا کر ایک طرف ایسے رکھ دیتے ہیں، جیسے شطرنج کی گوٹیاں ہوں، اور کھیل میں مست ہو جاتے ہیں۔ پونم کی رات کو گاؤں کے دیوتا کا تہوار ہوتا ہے۔ سبھی گاؤں واسی، مرد عورت گاؤں کے باہر مندر کے پاس جمع ہوتے ہیں اور ہاتھوں میں مشعلیں لیے ایک رقص کرتے ہیں۔ اس رقص کی ریہرسل کرانے کے لیے بنگال کے کالی بوس کو میں نے خاص طور سے بلایا تھا۔ کافی دنوں تک ‘پربھات’ کے سبھی کاریگر اس رقص کی ریہرسل کرتے رہے۔ میں دکھانا چاہتا تھا کہ گاؤں کے سبھی بچے بوڑھے ذات پات کا اختلاف بھلا کر تہوار کے لطف میں خوشی اور جوش سے شامل ہو گئے ہیں۔ کالی بوس کی کوریوگرافی میں زنانہ رقص کے لیے ضروری نزاکت تو تھی، لیکن مردانہ رقص کے لیے ناگزیر جوش لاکھ کوششیں کرنے پر بھی نہیں آ رہا تھا۔ زنانہ اور مردانہ رقصوں میں دکھایا جانے والا فرق برابر آ نہیں رہا تھا۔ آخر مجبوراً ہی میں نے خود مشعلیں ہاتھ میں لیں اور مردانہ رقص کے سبھی قسموں کی ریہرسل کرا لی۔

میری رائے تھی کہ رقص کا سین بہت شاندار لگے اور شروع سے آخر تک وہ ایک روپ دکھائی دے، اس لیے اس میں کٹ شاٹ نہ ہو، لیکن اتنے بڑے گروپ رقص کو ایک ہی شاٹ میں فلمانا ناممکن تھا۔ لہٰذا شوٹنگ میں ایک مکمل نئی تکنیک کا استعمال کی تا کہ دیکھنے والوں کو ایسا لگے کہ ایک سین سے دوسرا سین کُھلتے کُھلتے نکل رہا ہے۔ پہلے شاٹ کے آخر میں رقاصوں کی مشعلیں کیمرے کے بالکل قریب آتی ہیں۔ دوسرے شاٹ کا آغاز مشعلوں پر کیمرا لے کر ہی ہوتا ہے اور بعد میں انھیں ایک طرف یا پیچھے ہٹا کر دوسرے کونے سے لیا گیا شاٹ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔ اس تکنیک سے لیے گئے شاٹوں کی ایڈیٹنگ میں نے اتنی خوبی سے کی کہ پہلا شاٹ کہاں ختم ہوا اور دوسرا کہاں سے شروع، اچھے اچھے ٹیکنیشنوں کے بھی دھیان میں نہیں آیا۔

پونم کی اجلی چاندنی میں رقص میں پورا رنگ بھر گیا ہے۔ اچانک چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ سبھی ناچنے والوں پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ انسانوں کی شکلیں ایک دم دھندلی ہو جاتی ہیں اور گانے کی لَے کے ساتھ آگے پیچھے ہلنے والی مشعلیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر چاند نکل آتا ہے اور سب کچھ چاندنی میں نہاتا ہوا صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ چاند چھپ جاتا ہے اور پھر نکل آتا ہے؛ اس سین کے کارن دیکھنے والوں کو نین سکھ تو بہت مل جاتا ہے، لیکن اس میں شامل تخیل کا استعمال کہانی کا مقصد اور بھی زندہ کرنے کے لیے بھی میں نے کر لیا۔ مرزا اور پاٹل نوجوانوں کے رقص کا جلوس ایک طرف کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ مرزا کا لڑکا نعیم، پاٹل کے ہاتھوں میں مشعل دے جاتا ہے اور اسے رقص میں شامل کر لیتا ہے۔ پاٹل کا لڑکا رایبا بھی اسی طرح مرزا جی کو بھی رقص میں کھینچ لاتا ہے۔

ناچتے ناچتے دونوں بُھولے سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ لگتا ہے اب دونوں کی ناراضی تہوار کے جوش میں دور ہو جائے گی۔ ٹھیک اسی لمحے چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ پاٹل کا جوش غائب ہو جاتا ہے۔ بیچارے مرزا جی بھی نا امیدی سے لوٹتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے من میں جو میل چھپا تھا، اسی نے رقص کے جوش کا سارا مزہ کرکرا کر دیا ہے۔

پوٹلی کے لڑکے رایبا کو کسی الزام میں پنچایت کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے۔ یہ ساری سازش اس ٹھیکیدار کی ہی ہوتی ہے۔ اس نے اپنے مصاحبوں کی مدد سے رایبا کو ناحق اس میں پھنسا دیا ہے۔ ٹھیکیدار کا ایک مصاحب پاٹل اور مرزا کے بیچ سے ہوتا ہوا حقے کی سلگتی چلم دانی لے جاتا ہے۔ دیہاتوں میں عام رواج ہوتا ہے کہ کسی دو آدمیوں کے بیچ سے ہوتی ہوئی کوئی آگ نکل جائے، تو ان میں ضرور ہی بکھیڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔ لہذا اس طرح سلگتی چلمدانی پاٹل اور مرزا جی کے بیچ سے لے جانے کو دوسرا ہی معنی آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔ پنچایت سبھا کا کام شروع ہوتا ہے۔ بحث اور جرح چل رہی ہے، اور ٹھیکیدار کا وہی مصاحب بیچ بیچ میں چلمدانی کے کوئلوں کو ہوا دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاٹل اور مرزا کے بیچ دھوئیں کی دیوار سی کھڑی ہو جاتی ہے۔ مرزا کے اس حقے کا استعمال میں نے کئی طرح سے کر لیا۔ غلط فہمی بڑھتی جاتی ہے۔ آثار تو ایسے دکھائی دینے لگتے ہیں کہ ہو نہ ہو من مار کر مرزا رایبا کے خلاف فیصلہ بس دینے ہی جا رہا ہے۔ لیکن اپنے پیارے دوست کے لڑکے کے خلاف پنچایت کا فیصلہ دینا مرزا کے لیے بہت ہی مشکل کا کام ہے۔ پاٹل کے من میں پہلے سے ہی بیٹھی غلط فہمی اس سے اور بھی گہری ہو جائے گی، مرزا جانتا ہے۔ مرزا بڑی الجھن میں پھنسا ہے، کشمکش میں پڑا ہے۔ آخر وہ خدا کو گواہ رکھ کر فیصلہ دیتا ہے۔

ٹھیک یہی اثر ناظرین کے من پر بھی پڑے، اس لیے میں نے ایک ترکیب سے کام لیا۔ مرزا فیصلہ سنانے سے پہلے اوپر آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیمرا بھی اوپر کی طرف جاتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے وسیع آسمان اور نیچے کے ایک کونے میں مرزا کا چہرہ۔ مرزا کے چہرے کے علاوہ پردے کا سارا فریم خالی دکھائی دیتا ہے۔ اس سے یہ بات برابر ابھر آتی ہے کہ مورت پوجا میں عقیدہ نہ رکھنے والے اسلام کے مذہبی خیالات کے مطابق وہ خالی جگہ ہی اللہ کی علامت ہے اور اللہ کو گواہ رکھ کر ہی مرزا اب اپنا فیصلہ دے رہا ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے سمے کیمرا پھر نیچے دیکھنے لگتا ہے اور مرزا کا کلوز اپ فلما لیتا ہے۔ اس سارے سین کے آخر میں پردے پر پورے واقعے کی علامت کے روپ میں صرف مرزا جی کی وہ چلم دانی ہی دکھائی دیتی ہے۔ چلم دانی سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور اس کے بعد آگے کے سین میں دکھائی دینے والا پاٹل کا پریشان چہرہ دھیرے دھیرے اسی چلم دانی پر ابھر آتا ہے۔

اس کے بعد دونوں میں زور کا جھگڑا ہو جاتا ہے اور مرزا پڑوس چھوڑ کر جانا طے کر لیتا ہے۔ وہ ایک بیل گاڑی بلواتا ہے۔ گھر کا سارا سامان اس پر رکھواتا ہے۔ بیوی اور بال بچوں کو بھی گاڑی میں بٹھاتا ہے۔ مرغیوں کی جھلیاں بھر دیتا ہے اور بھیڑ بکریوں کو بھی گاڑی سے باندھ کر جانے لگتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے اس کا دور دور جاتا ہوا گھر، گاڑی میں بیٹھ کر پاٹل کے بچوں سے دور جانے والے مرزا کے بچے! مرزا کی مرغیاں اور بھیڑ بکریاں پاٹل کے گھر کے چھجے پر کھڑی ان کی مرغیوں اور بکریوں کو مسکینی سے دیکھ رہی ہیں، دور چلی جا رہی ہیں۔ آخر میں مرزا کی بیل گاڑی دور چلی جاتی ہے اور ادھر پاٹل کا گھر بھی دور ہو جاتا ہے۔ اس طرح دونوں جانی دوست ایک دوسرے سے بچھڑتے ہیں اور اسی دل کو چھو لینے والا سین پر انٹرویل ہو جاتا ہے۔

اس پوری فلم میں مَیں نے کیمرے کی رفتار کا استعمال ایسے کیا تھا کہ ہر سین کے احساسات کی ذرا سی لہریں بھی برابر ابھر کر سامنے آ جائیں۔ میری کوشش تھی کہ کیمرا سین فلمانے کی ایک مشین بن کر ہی نہ رہ جائے، بلکہ یہ ثابت کر دے کہ وہ انسانی من کی طرح ایک حساس من بھی ہے۔ اسی لیے ‘پڑوسی’ کا سنیریو لکھتے سمے میں مختلف شاٹوں کو صرف تکنیکی تقسیم نہیں کرتا تھا، ہر سین کا سنیریو لکھتے سمے میں اس کے احساسات کے ساتھ پوری طرح سے ایک روپ ہو جاتا تھا۔ خاص طور سے آخر میں باندھ ٹوٹ جانے کے سین کا سنیریو لکھتے سمے تو اس کے ساتھ اتنی وابستگی ہو گئی تھی کہ جذبات کے تسلسل کو روک نہ سکا۔ آنکھوں سے گرتے ٹپ ٹپ آنسو سنیریو کی کاپی کو چھو رہے تھے اور وچاروں کی کڑی ٹوٹنے نہ پائے، اس لیے آنسو پونچھ کر سنیریو لکھتا گیا۔ آخری سین لکھا اور کرسی کی پیٹھ پر ماتھا رکھ کر میں خوب رویا۔ میری سسکیاں سن کر وِمل بھی جاگ گئی۔ گھبرائی، ہڑبڑائی سی بڑی ہی بےچینی سے پوچھنے لگی کہ بات کیا ہے۔ میرے منھ سے لفظ نہیں پھوٹ رہا تھا۔ میں نے صرف سنیریو کی کاپی کی طرف اشارہ کر دیا۔

دوسرے دن میرے زیر کام کرنے والے شاعر آٹھولے نے سنیریو کی وہ کاپی دیکھی اور سہمے سہمے سے پوچھا، “بات کیا ہے انّا؟ لکھتے سمے آپ اتنے جذباتی ہو گئے تھے؟”

“کیوں؟ یہ آپ کیسے کہتے ہیں؟”

انھوں نے سنیریو کی کاپی پر آنسوؤں کے نشان مجھے دکھائے۔ وہ اس سے زیادہ کچھ بھی نہ بول سکے۔

فلم کا آخری سین باندھ ٹوٹنے کا تھا۔ وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ باندھ پر سرنگیں بچھانے کے کارن وہ ٹوٹ جاتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔ دکھ سے چُور پاٹل بہکے بہکے سے، کھوئے کھوئے سے بددل ہو کر باندھ پر بیٹھے ہیں۔ چاروں طرف بڑی بڑی چٹانوں کے ٹوٹے ٹکڑے اُڑ رہے ہیں۔ اپنے روایتی متر کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کی پروا کیے بنا ہی مرزا باندھ پر دوڑ کر آتے ہیں۔ دونوں جب لوٹنے لگتے ہیں تب ایک بڑا بھاری دھماکہ ہونے سے لوٹنے کا راستہ تباہ ہو جاتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے۔ بڑی کھائی پڑ جاتی ہے۔ اب تو موت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ دونوں متر ہاتھ میں ہاتھ تھامے وہیں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تبھی ایک اور سرنگ کا دھماکہ ہوتا ہے اور باندھ کا وہ حصہ بھی جس پر یہ دونوں کھڑے ہوتے ہیں، ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔ ہاتھ میں ہاتھ تھامے ہی دونوں موت کا استقبال کرتے ہیں۔ دوسرے دن جب باڑھ اتر جاتی ہے، دونوں متر مرے پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس آخری لمحے بھی دونوں کے ہاتھ اسی مضبوطی سے گتھے ہوے ہیں جیسے انھوں نے زندہ حالت میں تھامے تھے۔ ان دو ہاتھوں کی مضبوط پکڑ کے اوپر سے پانی کی دھارا بہتی جاتی ہے۔

اس پورے سین میں احساسات اور تکنیک کا خوبصورت میل رکھا گیا تھا۔ مضبوط دوستی، محبت کا یہ سین دیکھ کر ایک مسلمان ناظر نے دل کھول کر کہا، “آج دل کا میل نکل گیا!”

سبھی اخباروں کے کالم ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ فلم کی تعریف سے کھِل اٹھے۔ استثنیٰ تھی صرف اترے جی کا ‘نویگ’۔ اس ہفتہ وار میگزین نے اپنا راگ الگ ہی الاپا تھا۔ اترے جی نے اپنے اس ہفتہ وار میں لکھا: ”تنتر تو ہے، پر منتر غائب”۔ ‘پڑوسی’ پر انھوں نے یہ طعنہ زنی کی تھی۔ پہلے بھی بِنا کارن ہی انھوں نے ‘دنیا نہ مانے اور ‘کن کو’ کے بارے میں اسی طرح اول جلول ذکر اپنے ‘پراچا کاؤلا’ (بات کا بتنگڑ) ناٹک میں کیا تھا۔ اس سمے میں نے بھی انھیں کافی تیز تڑاخ جواب دیا تھا، ”تماشائیوں کی طرف سے نذر کی گئی قلم سے ‘دنیا نہ مانے’ کی بےکار کی مخالفت کو دنیا نہیں مانے گی۔” میں نے ہمت کے جذبے سے ان کی طرف کی گئی تنقید کو قبول کیا تھا۔ انھیں بھی چاہیے تھا کہ اسی جذبے سے اس بات پر ہمیشہ کے لیے پردہ ڈال دیتے۔ لیکن ان کے جیسے قلم کے دھنی لیکھک نے ‘پڑوسی’ پر اعتراض، مخالفت کرنے میں ہی اپنی قلم چلائی۔ ‘نویگ’ میں اترے جی نے ‘شیجاری’ پر بالترتیب پانچ کالم لکھے۔ لیکن کوئی بھی اچھی بات، صرف اس لیے کہ کسی عقلمند آدمی نے اسے بُرا کہا ہے، بُری ثابت نہیں ہو جاتی!

‘پڑوسی’ فلم بِہار کے بھاگلپور میں ریلیز ہوئی، تب وہاں ہندوؤں مسلمانوں میں دنگا بھبھک اٹھا تھا۔ لکھنے میں مجھے بےحد فخر ہوتا ہے کہ اس فلم کے کارن وہاں کا دنگا بند ہو گیا۔ دونوں فریقوں کے لوگوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ لوگ باگ کہنے لگے، جو بات بڑے بڑے سیاست دانوں کے بھاشنوں سے بھی نہ ہو پائی تھی، اسے ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ فلم نے کر دکھایا ہے! میں شکر گزار ہو گیا۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 23: امرت ورشا (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
…………………..
“مدھرا وٹیا بڑی سہانی، گھنگھرالے بال لگے سیانی، آنکھیں موٹی ناک سے نکٹی، دیکھ دیکھ کر ہے مسکانی۔۔۔”

دو سال کی گھنگھرالے بالوں والی گول مٹول مدھُرا کو گود میں لے کر بےسری آواز میں میری شاعری چالو تھی۔ موٹر تیزی سے جنگل کا راستہ کاٹتی دوڑتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل نے کندھے سے مجھے ہلاتے ہوئے کہا، “اجی —”

میں نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں خوف و فکر دکھائی دی۔ اس کے اس طرح ‘اجی’ کہہ کر شاعری کی غنودگی سے مجھے جگانے کا معنی میری سمجھ میں فوراً آ گیا۔ میں اپنی ہنسی روک نہ سکا۔ وِمل سے کہا، “تم کیا سمجھ رہی ہو، میں پاگل واگل ہو گیا ہوں؟ بالکل نہیں۔ میں تو ایک دم مزے میں ہوں، مست ہوں۔ اس سفر میں پورا آرام کرنے والا ہوں، ساری جھنجھٹوں کو بُھلا بسرا کر، سمجھی؟”

وِمل نے صرف سر ہلایا اور وہ بھی میرے ساتھ ہنسنے لگی۔ کار کی کھڑکی سے آس پاس کی ہریالی کو جی بھر کر دیکھتے ہوئے، مدھُرا کے گھنگھریالے بالوں پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے شاعری پھر زوروشور سے شروع ہو گئی۔

ڈاکٹر بھڑکمکر نے میرے روگ کی جو تشخیص کی تھی، اسے سُن کر سبھی لوگ گھبرا گئے تھے۔ وِمل نے جیون میں پہلی بار ضد کی تھی کہ کسی شانت جگہ پر آرام کے لیے جایا جائے۔ اسی لیے ہم سب لوگ یعنی وِمل، پربھات کمار، سروج اور دو سال کی مدھُرا اور میں، گرسپپا کا بھدبھدا (آبشار) دیکھنے کے لیے کار سے جا رہے تھے۔

شام ہو رہی تھی۔ ڈرائیور نے اچانک کار روک دی۔ میں نے کارن جاننا چاہا۔ اس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا: ایک لمبا پیلے رنگ کا ناگ رپٹیلی چال سے چلا جا رہا تھا۔ غروب کے سمے کی سورج کی کرنوں سے اس کی چکنی کایا چمک رہی تھی۔ اس نے راستہ پار کر لیا اور ہمارے ڈرائیور نے کار پھر چالو کی۔ دھیرے دھیرے اندھیرا چھانے لگا۔ کچھ ہی سمے بعد گاڑی رکی۔ سامنے ہی ایک ڈاک بنگلہ تھا۔ برآمدے میں رکھی ایک آرام کرسی پر میں بیٹھ گیا۔ گِرسپپا کے بھدبھدا کی گہری گمبھیر آواز سنائی پڑ رہی تھی۔

سویرے اٹھتے ہی دھیرے دھیرے جا کر وہاں سے سامنے ہی واقع بھدبھدا میں نے دیکھا۔ اس پرچنڈ جلودھ (جھرنے) کو دیکھ کر میرے من کی ساری تھکان جاتی رہی۔ میں جذباتی ہو گیا۔ بھدبھدا! اس کے چاروں جانب چھائی ہریالی بھری جنگلی املاک کا حسن ایک بےصبر پیاسے کی طرح میں جی بھر کر پینے لگا۔ من میں شدت کا اشتعال دھیرے دھیرے کم ہوتا جا رہا تھا۔ سُدھ بدھ کھو کر میں وہاں پتہ نہیں کتنی دیر بیٹھا رہا!

دوچار دن میں ہی میرے وہاں آرام کے لیے آنے کی خبر پاس پڑوس میں پھیل گئی۔ کچھ چاہنے والوں نے میرے لیے ایک خاص پروگرام کا انعقاد کیا۔ پونم آ رہی تھی۔ کچھ لوگ پہاڑی پر چڑھ گئے اور وہاں سے انھوں نے بڑی بڑی لکڑیاں سُلگا کر بھدبھدے کے پانی میں چھوڑیں۔ وہ جلتے ہوئے کندے (بلاک) خوفناک رفتار سے بھدبھدے کے ساتھ نیچے کودتے اور پانی میں ڈوبتے ابھرتے آگے چلے جاتے۔ آگ اور پانی کا ایسا حسین اور ناقابل بیان ملن میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ غیرمعمولی حُسن من میں سنجوتے جی نہیں اکتاتا تھا۔

پُونا واپس آیا تو تن من میں نیا جوش اور امنگ آ گئی تھی۔ گِرسپپا کے آس پاس کی گھنی ہری ہری جنگلی املاک کے کارن میری صحت بہت جلدی ٹھیک ہو گئی۔ سٹوڈیو میں قدم رکھا ہی تھا کہ ‘پربھات’ کے مینیجر پتروں کا ڈھیر لے کر میرے آفس میں آ گئے۔ ان کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس ڈھیر کو میری میز پر رکھتے ہوئے انھوں نے کہا، ”یہ لیجیے ’’آدمی‘‘ اور ‘مانوس’ کے لیے حاصل بدھائیوں کی چٹھیاں!”

اب میں ان سبھی پتروں کو جوش سے دیکھنے لگا۔ ہر ڈائریکٹر کی اپنی اپنی رائے تھی۔ کسی نے ‘آدمی’ جیسی فلم بنا کر ‘دیوداس’ میں موجود مایوسی کا کرارا جواب دینے پر دلی بدھائیاں دی تھیں، تو کسی دوسرے لیکھک نے لکھا تھا: “آپ کے کاروباری بھائی بندوں کی بنائی فلم کی اس طرح کھِلّی اڑانا آپ کے لیے زیب نہیں دیتا!”

کسی کو فلم کا اختتام پسند نہیں آیا تھا۔ ایک مہاشے نے تو ہم سے صاف صاف جاننا چاہا تھا کہ آخر میں آپ ہیرو اور ہیروئین کا بیاہ رچا دیتے، تو آپ کا کیا جاتا؟ لہٰذا ہم لوگوں کو دو دن تک بھوجن بھی راس نہیں آیا! اب کوئی اس پتر لیکھک کو جواب دے بھی تو کیا دے؟

ایک جذباتی ناظر نےلکھا تھا:

اب کبھی بمبئی کے فارس روڈ سے جانے کا سین آ بھی جائے تو، آپ کی ‘آدمی’ دیکھی ہونے کے کارن ہم لوگوں کو چِقوں کے پیچھے کھڑی ویشیاؤں کو دیکھ کر پہلے جیسی نفرت نہیں ہو گی بلکہ یہ محسوس ہو گا کہ ہر چِق کے پیچھے ایک گہرا دردِ دل چھپا ہے!”

اس فلم کے بارے میں ابھی حال کا ایک تجربہ تو بہت ہی انوکھا ہے: میں پہلی بار بیلگاؤں گیا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے فطری ڈھنگ سے، بڑے پیار سے میرا سمان کرنے کا انتظام کیا۔ بیلگاؤں کے پاس پڑوس کے دس بارہ ضلعوں کے محکمہ جاتی کمشنر رام چندرن اس انتظام کے صدر تھے۔ سبھی مقررین کے بھاشن ہو چکنے کے بعد رام چندرن بولنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ سبھا کا انتظام چونکہ میرے اعزاز میں کیا گیا تھا، میں سوچ ہی رہا تھا کہ اب یہ مہاشے بھی میری تعریف کے پُل باندھیں گے۔ اسی لیے ان کی تقریر کی طرف میرا کوئی خاص دھیان نہیں تھا۔ لیکن رام چندرن نے ‘آدمی’ کے بارے میں ایک بہت ہی دل چھو لینے والی یاد دلائی:

“آج آپ مجھے یہاں زندہ اور چلتا پھرتا دیکھ رہے ہیں، اس کا سارا کریڈٹ اس فلم کو جاتا ہے۔ پینتیس برس پہلے کی بات ہے۔ اس سمے میری عمر اٹھارہ برس کی ہو گی۔ کئی خاندانی مصیبتیں میرے سامنے منھ کھولے کھڑی تھیں۔ انھیں سلجھانے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ روز بہ روز میں مایوسی کے گہرے گڑھے میں دھنستا جا رہا تھا۔ خودکشی کا وچار بھی من میں اٹھنے لگا تھا۔ لگتا تھا کہ خودکشی کر کے ان سبھی الجھنوں سے ہمیشہ کے لیے آزادی پا جاؤں۔ سوچ وچار کر کہیے یا بغیر سوچے سے، خود کشی کا ارادہ آہستہ آہستہ پکا ہونے لگا۔ لگ بھگ انہی دنوں میرے گاؤں میں وی شانتارام کی ‘آدمی’ فلم ریلیز ہوئی۔ شانتارام جی کی فلمیں مجھے ہمیشہ بہت ہی راس آتی تھیں۔ من کی اس ڈولتی حالت میں ہی میں ‘آدمی’ دیکھنے گیا۔ فلم دیکھ کر باہر آیا تو خود کشی کا وچار رفوچکر ہو چکا تھا۔ جیون جینے کا ایک نیا نظریہ مجھے مل گیا تھا۔ مشکلوں اور مصیبتوں سے جوجھتے جوجھتے جینے کا ہی نام جیون ہے۔ جیون جینے کے لیے ہوتا ہے۔ ‘لائف از فار لِونگ’ کا اصول ہی جیسے وی شانتارام کی اس فلم نے میرے کانوں میں پھونک دیا!

“اس کے بعد مصیبتوں کے پہاڑ سامنے آئے، پھر بھی میں ہارا نہیں، ٹوٹا نہیں۔ بلکہ ان کے ‘آدمی’ کے ہیرو کی طرح جیون کی راہ دھیرج سے طے کرتا ہوا آج میں ڈویژنل کمشنر بن گیا ہوں، اور یہ سب آپ کے سامنے قبول کرنے میں فخر محسوس کر رہا ہوں!”

اُن مہاشے کی آپ بیتی سن کر میں واقعی میں جذباتی ہو گیا۔ اس لمحے تو ضرور ہی لگا کہ میری تخلیق کامیاب ہو گئی ہے۔ لیکن عام طور پر دیکھا جائے، تو ‘آدمی’ پربھات کی دیگر فلموں کے مقابلے میں کم ہی چلی۔ بارہ ہفتے بعد ہی اسے بمبئی کے سینٹرل سینما سے ہٹانا پڑا۔ شاید چندرموہن نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ، ”یہ فلم بیس برس آگے کی ہے!”

بیسویں صدی کی چوتھی دہائی ختم ہونے کو تھی۔ دیش میں ہر جگہ بولتی فلموں کی مقبولیت کافی بڑھ چکی تھی۔ وہ اب ایک انڈسٹری کا روپ لینے لگی تھی۔ پربھات کی فلموں کے کاروباری معاملات کی دیکھ بھال کا کام میرے ہی ذمے تھا۔ جیسے جیسے یہ کاروبار بڑھتا گیا، اس پر نگرانی رکھنے کے لیے میں نے ‘پربھات سینٹرل ایکسچینج’ نامی ایک نیا ڈیپارٹمنٹ شروع کیا، ایک ٹیلنٹڈ مینیجر کو مقرر کیا۔ پربھات کی فلمیں سارے دیس میں بہت ہی مقبول تھیں۔ لہٰذا سینما گھروں کے مالکوں میں ان فلموں کو اپنے یہاں ریلیز کرنے کی ایک طرح سے ہُڑک سی لگی رہتی تھی۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کی رکھی گئی سبھی شرطوں کو وہ بِنا کسی جھجھک کے قبول کرتے اور پربھات کی فلم اپنے سنیما گھر میں ریلیز کرنے کو مل گئی، اسی میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے تھے۔

اس سینٹرل ایکسچینج ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ہر ماہ میرے پاس پوری تفصیل آتی تھی۔ اس کا باریکی سے مطالعہ کرنے پر میں نے دیکھا کہ ہمارے صوبائی ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار کیا جائے تو آمدنی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس نظر سے میں نے سوچا کہ سبھی ڈسٹری بیوٹرز کا ایک سمپوزیم بلایا جائے اور انھیں آپس میں کاروبار کے مختلف سسٹمز اور کٹھنائیوں وغیرہ پر کھل کر تبادلہ خیال کرنے کا موقع دیا جائے تو ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار بھی ہو گا اور اسے نئی سمت بھی حاصل ہو گی۔ فوراً ہی میں نے ہندوستان کے ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز کی ایک کانفرنس پُونا میں مدعو کی اور سبھی کو دعوت نامہ بھجوا دیا۔

اس کانفرنس میں سبھی ڈسٹری بیوٹرز کے سامنے میں نے پربھات کی آئندہ فلموں کے بنانے کا پروگرام اور اس پر آنے والے متوقع خرچ کا خاکہ پیش کیا۔ فلم میکنگ کے لیے یہ ضروری رقم ڈسٹریبیوشن کے ذریعے تکمیل کے لیے اخلاقی امداد ڈسٹری بیوٹر برادران دیں، ایسی مانگ بھی میں نے کی۔ اسے میں نے قانونی امداد نہ کہہ کر اخلاقی امداد کہا۔ اس کا کارن یہ تھا کہ قانونی بندھن آنے پر آدمی گھبرا جاتا ہے اور آسانی سے اسے قبول نہیں کرتا۔ پھر اخلاقی امداد کے کارن اپنی فلم میکنگ کا پروگرام سمے پر پورا کرنا ہمارے لیے بھی ممکن ہو جائے گا۔ نتیجتاً پربھات کی آمدنی تو بڑھے گی ہی، آپ سب لوگوں کو بھی زیادہ کمیشن حاصل ہو گا۔ میری دلیل سبھی نے قبول کی۔ مکمل پروگرام کے جائزہ لینے کے لیے آئندہ سال بھی اسی طرح کی بیٹھک منعقد کرنا متفقہ طور پر طے کیا گیا۔

اس کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے آئندہ سال میں اخلاقی امداد کی رقم پوری کر دی۔ لیکن اس کو پورا کے لیے انھوں نے ہر سنیما مالک سے اس کے گاؤں کے چھوٹے بڑے ہونے کے حساب سے، تھوڑی زیادہ ہی امدادی رقم لے کر ہماری فلمیں ریلیز کیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ ہماری فلموں کی مقبولیت پوری طرح روشن ہونے کے کارن ریلیز کرنے والوں کو اس میں کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑا، لیکن دیگر پروڈیوسرز نے بھی ہماری دیکھادیکھی اسی طرح سے امدادی رقم مانگنا شروع کی۔ اس میں کچھ کو تو اچھی آمدنی ہوئی، لیکن زیادہ تر فلم ریلیز کرنے والوں کو گھاٹا اٹھانا پڑا۔ کئی ریلیز کرنے والوں نے اس بات کی شکایت مجھے پتر لکھ کر کی۔ وہ بیچارے ایک دم مایوس ہو گئے تھے۔

اگلے برس کی ڈسٹری بیوٹرز کانفرنس میں میں نے ایک تجویز رکھی: “میری رائے ہے کہ آپ لوگ ہماری فلم کے لیے ریلیز کرنے والوں سے جو امدادی رقم لیتے ہیں، اسے نہ لیں۔ آپ کو اس سے زیادہ رقم فیصدی میں ملتی ہے۔ ہماری فلم پر اس طرح امدادی رقم لینے کی شرط آپ لوگوں نے واپس لے لی، تو ریلیز کرنے والے دیگر ڈسٹری بیوٹرز سے بھی ہمت کر یہ کہہ سکیں گے کہ ‘پربھات’ جیسی جانی مانی کمپنی بھی ہم سے امدادی رقم نہیں لیتی، لہٰذا آپ کو بھی اسے نہیں مانگنا چاہیے۔ نتیجتاً انھیں ممکنہ گھاٹا نہیں ہو گا۔”

سبھی لوگ ایک دم چپ بیٹھے تھے میری تجویز کا کیا جواب دیں، کسی کو سمجھ میں شاید نہیں آ رہا تھا۔ وہ لوگ آپس میں کھل کر باتیں کر سکیں، اس لیے ہم سبھی حصہ دار کچھ دیر کے لیے بیٹھک سے باہر آ گئے۔ پھر ہم لوگ بیٹھک میں پہنچے تو بابوراؤ پینڈھارکر نے کہا، “آپ کے اس سجھاؤ پر اچھی طرح سے سوچ وچار کر کے ہم لوگ اپنا فیصلہ آپ کو کل بتائیں گے۔” دوسرے دن صبح دس بجے ہم لوگ پھر اکٹھے ہوئے۔ اتر پردیش، پنجاب اور کشمیر کے ڈسٹری بیوٹر دل سکھ پانچولی نے کہا، “آپ کا فیصلہ اگر ایسا ہے کہ ہم لوگ آپ کی فلموں پر ریلیز کرنے والوں سے گارنٹی نہ لیں، تو آپ بھی ہم سے اخلاقی امداد کے روپ میں پیشگی رقم لینا بند کریں۔ اس ذمہ داری سے آپ ہمیں آزاد کرتے ہیں، تو ہم بھی ریلیز کرنے والوں پر امدادی رقم کی شرط نہیں تھوپیں گے۔”

اب چپ رہنے کی باری میری تھی۔ ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے ہی الجھن میں ڈالا تھا۔ سب کا دھیان میری طرف تھا۔ دیکھنا چاہتے تھے وہ کہ میں اپنے لفظ واپس لیتا ہوں یا نہیں۔ ریلیز کرنے والوں کی میرے پاس بھیجی گئی شکایت ایک دم صحیح تھی اور مناسب بھی۔ ان پر امدادی رقم جمع کرنے کا دباؤ ہٹا لیا، تو ڈسٹری بیوٹرز کی دی گئی ترپ چال کے مطابق ہمیں اپنی آئندہ فلموں کے لیے ضروری رقم کھڑی کرنے میں دقت آنے والی تھی۔ لیکن ریلیز کرنے والوں کا یہ جو استحصال ہو رہا تھا، اسے تو کسی بھی حالت میں روکنا ضروری ہو گیا تھا۔ کل اگر سارے سنیماگھر بند ہو جائیں، تو ہم لوگ اپنی فلموں کو کہاں ریلیز کر پائیں گے؟ ریلیز کرنے والا ختم ہو گیا، تو پوری فلم انڈسٹری دم توڑ دے گی۔ اپنی معاشی کٹھنائیوں کے لیے کم از کم امدادی رقم لینے کا یہ رواج مقامی شکل میں مقبول کر دیا، تو فلم انڈسٹری کی سرحدیں روز بہ روز سکڑتی جائیں گی۔ میں نے فیصلہ کر لیا: “میں آپ سب کو اخلاقی امدادی رقم کی ذمہ داری سے آزاد کرتا ہوں۔”

اس پر بنگال، بہار، آسام اور اڑیسہ کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر کپور چند نے کہا، “یہ تو ٹھیک ہی ہے، لیکن آگے چل کر آپ کو فلم بنانےکے لیے پیسے کم پڑ جائیں، تو اس کے ذمہ دارہم نہیں ہوں گے۔”

“میں نہیں سوچتا کہ ویسی نوبت آئے گی۔ انسان کے بھلے مانس ہونے پر مجھے بھروسہ ہے۔ ساتھ ہی یہ اعتماد بھی ہے کہ امدادی رقم بھرنے سے راحت ملنے پر ریلیز کرنے والے ہماری فلم کے لیے پہلے جیسی ہی، حقیقت میں اس سے تھوڑی زیادہ ہی آمدنی ہو اس لیے اشتہار وغیرہ پر تھوڑا زیادہ خرچ خود کریں گے۔ آپ لوگ نئی فلموں کے کانٹریکٹ کرتے سمے ریلیز کرنے والوں سے درخواست کریں کہ ‘پربھات’ کی فلموں کو ریلیز کرتے سمے ان کی بے فکری کے نتیجے میں آمدنی کم ہو گئی، تو ہم لوگ امدادی رقم لینے کے رواج کو پھر پہلے جیسا چالو کریں گے۔”

اس کے بعد ایک سال بیت گیا۔ ڈسٹری بیوٹرز کی کانفرنس کے شروع میں ہی سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے دل سے سراہا۔ کہنے لگے: “شانتارام بابو، مان گئے ہم آپ کو۔ بیتے برس آپ نے جو باہمت فیصلہ کیا اس کے لیے پھر آپ کو دلی مبارک باد۔ پچھلے سال ہماری اوسط آمدنی میں لگ بھگ بیس فی صد کی بڑھوتری ہوئی۔” میں نے حیرانی جتاتے ہوئے پوچھا، “لیکن یہ کیسے ممکن ہو سکا؟” ہمارے جنوبی صوبوں کے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکُر نے جواب دیا، “کیسے ممکن ہو سکا، یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ امدادی رقم کا رواج بند کرنے کے کارن ریلیز کرنے والے بہت ہی خوش ہو گئے۔ یہ رواج پھر چالو کرنے کی بات آپ کے من میں بھی نہ آئے، اس لیے انھوں نے ہر فلم کو اچھی طرح چلانے کی پوری کوشش کی۔ ہولڈ اوور فگر (یعنی فلم کی کم از کم ہفتہ وار آمدنی کا ہندسہ، جس کے نیچے آمدنی چلی جائے تو فلم ہٹا لی جاتی ہے) سے کم آمدنی ہونے لگی پھر بھی انھوں نے دو دو، تین تین ہفتے فلم کو زیادہ چلایا۔ اسی سب کے نتیجے میں آمدنی میں یہ بیس فیصد کی بڑھوتری ہو سکی ہے۔ واقعی میں آپ نہ صرف ڈائریکشن میں، بلکہ بزنس میں بھی ماہر ہیں۔”

“میں؟ اور کاروبار میں بھی ماہر!” اتنا کہہ کر میں چُپ ہو گیا۔ بندھی مٹھی لاکھ کی!

اس کے بعد میرے من میں وچار آیا کہ کیوں نہ ہماری ‘پربھات’ کی اپنی ایک ڈسٹریبیوشن آرگنائزیشن ہو؟ صوبے صوبے میں اس کی شاخیں ہوں۔ وہ ہماری فلموں کے ساتھ ہی دیگر اچھے پروڈیوسرز کی فلمیں بھی ڈسٹری بیوشن کے لیے قبول کرے۔ اس طرح ایک مکمل بھارتی ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن بنانے کا اہم خیال میرے من میں شکل لینے لگا۔ لیکن اپنے کام کے گورکھ دھندھے سے سمے نکال کر یہ نیا کام بھی دیکھوں، اس کے لیے میرے پاس سمے نہیں تھا۔ میں کسی ماہر ڈسٹری بیوٹر کے بارے میں سوچنے لگا۔ بمبئی کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکر کا نام سامنے آیا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کیا بابوراؤ ان کی اپنی ‘فیمس پکچرز’ آرگنائزیشن بند کر ‘اکھل بھارتی ڈسٹرییوسن آرگنائزیشن’ کا کاروبار سنبھالنے کو راضی ہو جائیں گے؟ اس میں انھیں کیا فائدہ ہو گا؟ اس پر وچار آیا کہ کیوں نہ انھیں بِنا کوئی رقم لیے ‘پربھات’ کا پانچواں حصہ دار بنا لیا جائے اور ان کی ‘فیمس پکچرز’ کو پربھات کی نیشنل ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن کے روپ میں بدل دیا جائے۔ شاید بابوراؤ اس کے لیے ضرور ہی تیار ہو جائیں گے۔ ‘پربھات’ کی بالکل پہلی فلم سے وہ ہمارے ساتھ جو تھے! لیکن بابوراؤ پینڈھارکر کے بارے میں داملے، فتےلال کی رائے خاص اچھی نہیں تھی۔ ان کی رائے تھی کہ بابوراؤ مہا حکمتی آدمی ہے، اپنا فائدہ ہر حالت میں ممکن کر کے ہی رہے گا! لہٰذا انھوں نے میرے سجھاؤ کی مخالفت کی۔ لیکن ان دونوں کو میں نے یقین دلایا کہ میں خود بابوراؤ پینڈھارکر کی ہرحرکت پر کڑی نظر رکھوں گا۔ ‘پربھات’ کو گڑھے میں ڈالنے والا کوئی کام وہ نہیں کریں گے، اس کی احتیاط برتوں گا۔ تب جا کر کہیں میرے حصے داروں نے میرا سجھاؤ مان لیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کیشوراؤ دھایبر کی جگہ پر پربھات کے پانچویں حصےدار بن کر آ گئے۔

اس کے کچھ دن بعد کمپنی میں ایک الگ ہی بات چل پڑی۔ کہا جانے لگا کہ ‘گوپال کرشن’، ‘تُکارام’ فلم کے مقابلے میں ‘آدمی’ اور ‘مانوس’ آمدنی کے خیال سے کم پُراثر ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے علاوہ کمپنی کے دیگر مالکوں نے ایک وچار رکھنا شروع کر دیا کہ “اس طرح کم آمدنی دینے والی فلمیں ‘پربھات’ جیسی کمپنی آخر بنائے ہی کس لیے؟ فلم میکنگ بھی آخر اپنے آپ میں ایک دھندا ہے۔ لہٰذا دھندے کا تقاضا تو یہی ہونا چاہیے کہ ایسی ہی فلمیں بنائی جائیں جن سے زیادہ آمدنی ہو”۔ اپنی بنائی ‘گوپال کرشن’ اور’تکارام’ کی آمدنی کے ہندسوں کا مقابلہ’ آدمی’ اور ‘دنیا نہ مانے’ کی آمدنی سے کرتے رہنا، داملے، فتے لال جی کا ایک نٹھلا شوق بن گیا۔ ان کے پاس نٹھلےپن کے لیے سمے بھی کافی رہتا تھا! لیکن ان دونوں نے اس بات کو آرام سے بھُلا دیا تھا کہ ‘گوپال کرشن’ اور ‘تکارام’ دونوں فلموں کے بننے میں میرا کردار کتنا رہا تھا!

میں نے جان بوجھ کر ان کے اس وچار کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا اور داملے جی، فتے لال جی کے لیے ایک نئی فلم کی تیاریاں شروع کر دیں۔ سکرین پلے کے لیے ایک سیدھا سادہ، سب لوگوں کو راس آنے والا موضوع چُنا: ‘سنت گیانیشور’! ان یتیم بھائیوں کی کہانی سب کے دلوں کو چُھو جانے والی، گہری بیٹھ جانے والی کہانی تھی۔ میں نے ‘تکارام’ اور ‘گوپال کرشن’ کے سکرین پلے تیار کرنے والے لیکھک شِورام واشیکر کو اس فلم کی کہانی لکھنے کو کہہ دیا۔ میں نے خود بھی گیانیشور کی آپ بیتی پڑھ ڈالی۔ گیانیشوری کا بھی تھوڑا بہت مطالعہ کیا۔ سکرین پلے کے موضوع کو لے کر وشیکرن جی میرے ساتھ چرچا کرنے لگے۔ بیچ بیچ میں داملے جی فتےلال جی بھی اس میں حصہ لیتے اور اپنی رائے ظاہر کرتے تھے۔ سکرین پلے تیار ہو گیا۔ فلم کی شوٹنگ کا انتظام بھی ہو گیا۔ ہم سب لوگ نئے جوش خروش سے کام میں جٹ گئے۔ کہنا نہ ہوگا کہ اس فلم کی ڈائریکشن کی ذمہ داری داملے جی اور فتے لال جی پر تھی۔

‘سنت گیانیشور’ کے لیے سنگیت دینے کا کام کیشوراؤ بھولے کو سونپا تھا۔ ‘پربھات’ میں شروع میں بطور ایکٹر کام کر چکے وسنت دیسائی کو میوزک ڈیپارٹمنٹ میں ان کے زیر کام کرنے کے لیے کہا۔ اسے ہدایات دی تھیں کہ جو بھی کام کرنا پڑے، کرے اور خالی سمے میں مختلف آلات کو بجانا بھی سیکھ لے۔ اسے جب چاہے آلات بجانے کی ریہرسل کرنے کی چُھوٹ دے دی تھی۔ ‘سنت گیانیشور’ میں ایک گاڑی بان کا گانا اس نے گایا اور گاڑی بان کا کام بھی اسی نے کیا۔ اس فلم کے بیک گراونڈ میوزک کا کام جاری تھا، تب وسنت دیسائی خود آگے آ کر بھولے کی مدد کرتا تھا، لیکن اس بھلے آدمی نے تعریف میں کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا، نہ ہی اس کا حوصلہ بڑھایا اور نہ ہی کبھی ایسا کام کیا جس سے وسنت دیسائی کی کوشش ہمارے بھی دھیان میں لائی جاتی۔ نتیجتاً ویسنت دیسائی کئی بار ناامید ہو جاتا تھا۔ یہ بات میری نظر سے بچ نہ سکی۔ میں نے اسے سمجھایا بجھایا، “دیکھو وسنت، تم تو اسی میں اطمینان مانو کہ تمھیں آخر کام کرنے کا موقع تو مل رہا ہے۔ خوب ڈٹ کر کام کرو، محنت کرو، مطالعہ کرو، میرا پورا دھیان تمھاری طرف ہے۔” دیسائی ویسے ہی بہت محنتی تھا۔ اسے میری باتوں سے جوش ملا اور وہ اور بھی زیادہ جوش سے من لگا کر کام کرنے لگا۔

اس بیچ ‘سنت گیانیشور’ کی شوٹنگ کے سمے داملے جی اور فتے لال جی میں ڈائریکشن کے کئی پہلوؤں پر ٹکراؤ ہونے لگے۔ کئی بار فتے لال جی کی ہدایات اعلیٰ فنکارانہ ہوتی تھیں، لیکن داملے جی اور ان کا معاون راجہ نے نے ان کے اچھے اچھے سجھاؤوں کو بھی نامنظور کر دیتے۔ پھر فتے لال جی اپنا خیال مجھے آ کر بتاتے اور پھر میں انھیں جا کر داملے جی کے گلے اتارتا تھا۔

‘تکارام’ اور ‘گوپال کرشن’ کی ڈائریکشن کرنے کے بعد بھی ان دونوں نے فلم میں کس شاٹ کی لمبائی کتنی ہو اور اس کے لیے کتنی فلم خرچ کی جانی چاہیے، اس کا کوئی مطالعہ نہیں کیا تھا۔ ایڈیٹنگ شروع کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جو سین فلم میں مشکل سے پچاس ہی فیٹ رہنے والا ہے، اس کی شوٹنگ کے لیے ہزار دو ہزار فیٹ فلم ضائع کر دی گئی ہے۔ ایک ایک سین کی اتنی لمبی شوٹنگ حیرانی کی بات تھی۔ اس معاملے میں زیادہ احتیاط برتی جائے، اس احساس سے میں نے ان دونوں کو ایڈیٹنگ روم میں بلوا لیا اور براہ راست شوٹنگ کے نمونے دکھا کر بات کو سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھیے، ان ہزاروں فیٹ فلموں میں مناسب شاٹ کھوج نکالتے نکالتے میری تو ناک میں دم آ گیا! ‘تکارام’، ‘گوپال کرشن’ کی ڈائریکشن کر چکنے کے بعد بھی شوٹنگ کا ایک موٹا اندازہ بھی آپ نہیں لگا پائے، اس کی واقعی مجھے بہت ہی حیرانی ہوتی ہے!”

لیکن میں نے دیکھا کہ ان دونوں کو میری یہ بات پسند نہیں آئی۔ ایڈیٹنگ کرتے سمے فلم کے سکرین پلے میں رہ گئی ایک خرابی میرے دھیان میں آ گئی: گیانیشور جب بچہ تھا، ایک ننھی سی بچی اس سے محبت کرتی ہے۔ گیانیشور برہمچاری! لہٰذا اس بچی کا وہ کردار ایک دم اَدھر میں لٹکتا سا معلوم ہوتا تھا۔ اس اچھی بچی کے ناسمجھ پیار کو کہیں نہ کہیں یقین دلانا نہایت ضروری تھا۔ میں نے ایڈیٹنگ روک دی۔

سوچتے سوچتے ایک بہت ہی کومل اور اعلیٰ خیال من میں آیا۔ میں داملے جی، فتے لال جی کو ڈھونڈنے شوٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں گیا۔ وہاں وہ دونوں پنت دھرم ادھکاری ساتھ نہ جانے کیا باتیں کر رہے تھے، مجھے آیا دیکھ کر چپ ہو گئے۔ میں نے انھیں ایڈیٹنگ کرتے سمے پیدا ہوا خدشہ بتایا اور کیا کرنا چاہیئے، بڑی اپنائیت سے میں بتانے لگا۔

ان دونوں نے میری بات سکون سے سن لی۔ اس کے بعد میرے اس نئے خیال پر داملے جی نے گھڑا بھر پانی ڈال دیا۔ انھوں نے کہا، “دیکھیے، سکرین پلے کے نقطۂ نظر سے مجھے نہیں لگتا کہ آپ جس بےکار کے سین کا ذکر کیے جا رہے ہیں، اس کی کوئی ضرورت ہے!”
بات کا بتنگڑ نہ ہو، اس لیے میں نے بھی ان کی ‘ہاں’ میں ‘ہاں’ ملا دی۔

اس دن ایڈیٹنگ وہیں ادھوری چھوڑ کر میں پہلی منزل پر اپنے آفس کے باہر چھجے پر کہنیاں ٹیکے کھڑا آج کے واقعے پر غور کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی۔ تبھی نیچے سے کسی کے بولنے کی آواز سنائی دی، “آج شانتارام بابو کو کیسی کھری کھری سنا دی!”

میں نے جھک کر دیکھا۔ داملے جی، فتے لال جی گپیں لڑاتے لڑاتے کمپنی کے احاطے میں بنے جلترن تالاب کی طرف چہل قدمی کرنےکے لیے جا رہے تھے۔ دونوں اپنی ہی باتوں میں ڈوبے ہونے کے کارن اوپر کی طرف ان کا قطعی دھیان نہیں تھا۔ داملےجی کہہ رہے تھے، “کیا ہی لاجواب کر دیا میں نے انھیں!” فتے لال جی بولے “ٹھیک ہی تو ہے! ورنہ اپنے ضدی سوبھاؤ کے کارن وہ اس سین کو اپنی خواہش کے مطابق پھر فلمانے پر اُتر ہی آتے!”

“اور بعد میں اسے بھی قینچی لگانی ہی پڑتی۔ تب کیا فلم ضائع نہ ہوتی؟ شانتارام بابو کا سوچنے کا ڈھنگ ہی کچھ ایسا ہے کہ وہ جو کریں گے یا کہیں گے وہ ایک دم درست اور صحیح اور باقی لوگ ہمیشہ غلط! عقل بٹتے سمے وہ اکیلے ہی جیسے بھگوان کے سامنے حاضر تھے!”

باتیں کرتے کرتے وہ دونوں آگے نکل گئے لیکن مجھے ان کی باتیں سن کر ایسا لگا جیسے کسی نے ابلتا ہوا ٹنکچر میرے کانوں میں ڈال دیا ہے۔ میں نے جو سین انھیں سمجھایا تھا اس کی کلپنا کا صحیح صحیح اندازہ دونوں نہیں کر پائے تھے۔ شاید ان کی ویسی اوقات بھی نہیں تھی۔ لیکن ان کے من میں میرے لیے جو زہریلے وچار تھے، انھیں سن کر میرا ماتھا بےحد ٹھنکا۔ سُن سا میں وہیں پتہ نہیں کب تک کھڑا رہا۔

وِمل نے مجھے ہلا کر اس غنودگی سے جگایا۔ چاروں طرف گھنا اندھیرا چھا چکا تھا۔ وِمل میرے پاس کھڑی تھی۔ آفس میں بتی جل رہی تھی۔ وِمل نے کہا، “پتہ ہے، آپ سوچ میں ڈوبے رہنے پر کتنے بھلے لگتے ہیں؟ لیکن دو نوالے بھوجن کرنے کے بعد سوچنے بیٹھیں گے نا، تو اور بھی اچھے دِکھیں گے!” ومل اس طرح مجھے کبھی چھیڑا نہیں کرتی تھی۔ لیکن اس لمحے تو اس کی ٹھٹھولی سن کر میری طبیعت کافی ہلکی ہو گئی۔ من کا غبار اتر گیا۔ ہم دونوں گھر کی طرف چل پڑے۔

دوسرے دن سویرے میں کمپنی میں ایک نیا فیصلہ کر کے ہی آیا۔ میرا سُجھایا گیا وہ سین فلم کی نظر سے فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہے، یہ بات میں انھیں بتا دینا چاہتا تھا۔ میں ان دونوں کے کمرے میں گیا۔ وہ سین فلما کر فلم میں شامل کرنے کی درخواست کرنے لگا۔ تھوڑی سی ضد بھی کی۔ آخرکار مجبور ہو کر ہی وہ راضی ہو گئے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ، “آپ جس سین کی بات کر رہے ہیں اسے کیسے فلمایا جائے، ہماری تو سمجھ میں قطعی نہیں آیا ہے۔ لہٰذا اس کی شوٹنگ بھی آپ ہی کریں۔”

ایکٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں حال ہی کام پر آئی مُتی گپتے کو میں نے فوراً ہی اس نوجوان لڑکی کا کام کرنے کے لیے تیار ہو آنے کے لیے کہا۔ ہمیشہ کے برعکس اس بار تو اس سین کا سنیریو بھی میں تیار کر کے نہیں لایا تھا۔ بس من میں جو سوچ اور خیالات آئے تھے انھیں کے مطابق میں دھڑلے کے ساتھ لگاتار شاٹس لیتا گیا اور وہ سین ایک ہی دن میں فلما کر پورا کر لیا۔

‘سنت گیانیشور’ تیار ہو گئی۔ بمبئی کے سینٹرل سنیما میں اسے ریلیزکیا گیا۔ فلم میں اچھا خاصا رنگ بھرتا جا رہا تھا۔ میں نے ضد کر کے فلم میں جو سین شامل کیا تھا، وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ داملے جی، فتے لال جی میں کچھ کھسرپھسر شروع ہو گئی۔ لیکن میرا دھیان ان کی باتوں پر قطعی نہیں تھا۔ ناظرین کے اس سین کے بارے کیا تاثرات ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے میں بےحد بےچین ہو اٹھا تھا۔

بچے گیانیشور سے دل ہی دل میں محبت کرنے والی وہ بچی اب جوان ہو گئی ہے۔ ندی کے گھاٹ پر ایک مندر کی اوٹ سے ندی میں نہا رہے پھرتیلے نوجوان گیانیشور کو وہ بڑی جذباتی عقیدت سے دیکھ رہی ہے۔۔۔ جوانی کی سرزمین میں ابھی ابھی قدم رکھ چکی وہ خوبصورت لڑکی کچھ زیادہ جھک کر گیانیشور کو نہارنے لگی ہے۔ اس کے من کی بےصبری اس کی نظر سے صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ گیانیشور کا غسل ہو گیا ہے۔ وہ بھیگی کفنی سے ہی گھاٹ کی سیڑھیاں چڑھ جاتا ہے، مندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ گھاٹ کی سیڑھیوں پر اس کے بھیگے نقشِ پا ابھر آتے ہیں۔ وہ لڑکی مندر کی اوٹ سے باہر آتی ہے۔ جلدی جلدی سامنے آ کر ان بھیگے نقشِ پا پر پھول چڑھاتی ہے اور بھکتی کے جذبے سے انھیں پرنام کرتی ہے۔

ناظرین نے اس پر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی۔ پاس ہی بیٹھے داملے جی، فتے لال جی کی طرف میں نے فاتحانہ انداز سے دیکھا۔ بےکار ہی لگا کہ شاید وہ بھی داد دیں گے۔ لیکن انھوں نے ویسا کچھ بھی نہیں کیا۔ لاتعلق انداز سے وہ فلم دیکھتے رہے!

پہلا شو ختم ہوا۔ کافی ناظرین اور ناقدین نے داملے جی فتے، لال جی کو دلی مبارکباد دی۔ دو ایک نقاد اس بھیڑ میں بھی مجھے کھوج کر ایک طرف لے گئے اور صاف صاف پوچھ ہی بیٹھے، “اس نوجوان لڑکی کا گیانیشور کے لیے بھکتی کے احساس سے بھری محبت اتنے علامتی انداز کے ساتھ فلمانے کرنے کا تخیل آپ کا ہی تو ہے نا؟ اس سین کو اتنی نزاکت کے ساتھ پیش کرنے کی مہارت آپ کے سوائے اور کون دکھا سکتا ہے!” من ہی من میں نے ان ناقدین کی تیز نظر کی داد دی۔ ان کی چالاکی کا لوہا مان لیا۔ لیکن اوپر سے ویسا کچھ بھی نہ جتاتے ہوئے فوراً کہا، “یہ تخیل شِورام واشیکر جی کا ہی ہے اور اس سین کو داملے، فتے لال جی نے فلمایا ہے۔” ان دونوں ناقدین نے سطحی طور پر میری بات مان لی اور ایک اچھی خوبیوں سے بھرپور فلم کے لیے مجھے بھی مبارکباد دے کر وہ چلے گئے۔

یہ مکالمہ چل رہا تھا تب پتہ نہیں کب واشیکر جی میرے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے، مجھے تو پتہ ہی نہ چلا۔ لیکن انھوں نے ہماری باتیں سن لی تھیں۔ جذباتی ہو کر میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں کس کر تھام کر وہ خاموش کھڑے رہے۔ ان کی آنکھوں میں جذباتیت چھلکنے لگی تھی۔ میں نے حیرانی سے پوچھا، “واشیکر جی، کیا بات ہے؟” رندھی آواز میں انہوں نے کہا، “فلم میں بھیگے نقش پا پر پھول چڑھانے والی اس لڑکی کا ایک خاموش سین— ویسا ہی اِسے بھی ایک اور خاموش سین جانیے!”

‘سنت گیانیشور’ کی ریلیز کے بعد پُونا واپس آنے پر ایک لیکھک وشرام بیڑیکر مجھ سے ملنے کے لیے تشریف لائے، ولایت جا کر وہ فلمنگ کی تربیت لے کر حال ہی وطن لوٹے تھے۔ ان کا لکھا ایک ناول ‘رنانگن’ میں اس سے پہلے ہی پڑھ چکا تھا اور تبھی سے ان کے ٹیلنٹ کا قائل ہو گیا تھا۔

اُن دنوں مہاتما گاندھی کی قیادت میں پورے بھارت میں آزادی کی جدوجہد کافی شدت کے ساتھ چل رہی تھی۔ انگریزی حکومت نے ‘پھوٹ ڈالو اور راج کرو’ والی کامیاب سیاست کے مطابق ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی منافرت ابھار کر بھارت پر اپنی طاقت کا شکنجہ کس لیا تھا۔ سبھی اخباروں میں ہندو مسلمانوں کے دنگوں کی خبریں سرخیوں کے ساتھ چھپتی تھیں۔ ان خبروں کو پڑھ کر میں بہت بےچین ہو اٹھتا تھا۔ سارے ملک میں آتش فشاں کی طرح سلگ رہے اس سوال پر آئندہ فلم بنانے کی ہمت کرنا میں نے طے کیا۔ وشرام بیڑیکر جیسا نئی سوچ کا باصلاحیت، ہنرمند لیکھک میرے خیالات کو لفظ دینے کے لیے تیار تھا۔

اس فلم کے لیے مجھے ایک نئی ہیروئین کی تلاش تھی۔ شانتا آپٹے ‘پربھات’ چھوڑ کر کبھی کی جا چکی تھی۔ ‘آدمی’ میں ہیروئن کا کام کر چکی شانتا ہُبلیکر اب کچھ اَدھیڑ سی ہو چلی تھی۔ ‘پربھات’ چھوڑ کر جانے کی اس کی منشا میرے کان پر آئی تھی۔ چونکہ آئندہ فلم کے لیے اس کا خاص استعمال ہونے والا نہیں تھا، ہم نے اسے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیا۔

ایک دن سویرے ہی ممبئی کی نشنل گراموفون کمپنی کے ساؤنڈ ریکارڈنگ ہیڈ بابوراؤ مالپیکر ایک اچھی خوبصورت نوجوان لڑکی کو میرے آفس میں لے آئے اور اسے سیدھے میرے سامنے کھڑا کیا۔ میں نے اسے کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھا۔ اس کا ناک نقشہ، ہونٹ، دیکھنے کی ادا، ٹھوڑی، بہت سڈول تو نہیں تھے، لیکن اس کی موٹی موٹی، کجراری، کچھ کچھ کٹاری سی آنکھیں بہت ہی متجسس، چمک دار اور نہایت پر کشش تھیں۔ نین بڑے چنچل تھے۔ میں نے اس سے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کچھ جھجک کر بتایا، “ج۔۔۔ جےشری کامُلکر”۔ اس کی آواز مدھر تھی۔ سہج بھاؤ سے میں نے پوچھا کہ گانا وانا جانتی ہو؟ جواب بابوراؤ مالپیکر نے دیا، “اسے کلاسیکی موسیقی کی خاص جانکاری نہیں ہے، لیکن لائٹ میوزک، سینٹیمنٹل اور فلمی گیت اچھی طرح گا لیتی ہے۔ اس نے اس سے پہلے جن فلموں میں کام کیا، ان میں اپنے گیت خود گائے ہیں۔” میں نے ماسٹر کرشن راؤ کو بلا کر اس کا گانا سننے کے لیے کہا۔ سن کر انھوں نے اس کی آواز کے بارے میں اپنی پسند ظاہر کی۔ میں نے مینیجر کو بلوا کر اسے تین سال کے لیے کانٹریکٹ دینے کو کہا۔

دوسرے دن ‘پربھات’ کے منیجر جےشری کے کانٹریکٹ کا کچا چٹھا لےکر میرے پاس آئے۔ میں اسے پڑھ رہا تھا تو بولے، “انا، یہ جےشری کہتے ہیں کہ منحوس ہے۔”
“منحوس؟ کیا مطلب؟”

“اس نے جس کسی فلم کمپنی میں کام کیا ہے، وہ بند ہو گئی۔ اس کا دِوالا پٹ گیا۔ ساؤنڈ سٹوڈیو، کیشوراؤ دھایبر کی کمپنی، سرسوتی سنےٹون، کتنے نام گناؤں؟ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ سبھی فلم کمپنیاں بند ہو چکی ہیں!”

”دیکھیے، منحوس، جیوتش، ان سب باتوں کو میں قطعی نہیں مانتا۔ فلم خراب بناؤ تو کمپنی ضرور بند ہو گی۔ اس میں جےشری کا کیا قصور ہے؟ ‘پربھات’ ایسی منحوس وغیرہ بری باتوں کو پچا کر آگے ہی بڑھتی جائے گی! جائیے، آج ہی اس کانٹریکٹ کو پکا کیجیے اور اس پر جےشری کے دستخط کروا لیجیے!”

کمپنی کے رولز کے مطابق جےشری ہر دن سویرے نو بجے کام پر آ جاتی تھی۔ اپنی مدھر اور اچھی اچھی باتوں کے کارن وہ بہت ہی تھوڑے سمے میں سب کے ساتھ ہِل مل گئی۔ چھوٹے بڑے سب کو اس نے اپنا بنا لیا۔

بیڑیکرجی نے کہانی کا موٹا خاکہ بنا لیا۔ نئی فلم کے لیے میرا سُجھایا گیا موضوع ویسے کسی بھی لیکھک کے لیے ذرا مشکل ہی تھا۔ پھر انگریزوں کے سنسر کی قینچی کا بھی ڈر تھا، فلم میں دو بنیادی کردار، دونوں بوڑھے اور پڑوسی متر۔ ایک ہندو دوسرا مسلمان۔ انگریز حاکموں کے خیالات کی نمائندگی کرنے والا ایک ولن بھی بنایا۔ یہ سرمایہ دار ہوتا ہے، اپنے فائدے کے لیے وہ ندی پر ایک باندھ بنوانے کا پروگرام بناتا ہے۔ باندھ کے کارن کافی غریب کسانوں کی زمین پانی میں ڈوبنے والی ہوتی ہے۔ اس سرمایہ دار کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ ان سب کی زمینیں خرید لینے کی ٹھان لیتا ہے۔ پہلے تو کوئی زمین بیچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ پھر انگریزوں کی Distinction policy کا سہارا لے کر وہ سرمایہ دار گاؤں والوں میں پھوٹ ڈالتا ہے، اختلافات پیدا کرتا ہے اور اپنا الو سیدھا کر لیتا ہے۔ اسی چکر میں ان دو بوڑھے متروں میں بھی اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور دونوں کے خاندان دھیرے دھیرے تنہا سا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں۔

— موٹے طور پر کہانی کا فارمولا یہی رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سماجیت اور سیاست کا توازن برابر سنبھالنا تار پر کسرت کرنے کے جیسا تھا، لیکن ویسا کرنا ضروری بھی تھا۔ سنسر کی تیز نظر سے فلم کو پاس جو کرانا تھا!

دو بوڑھوں کے کرداروں پر مبنی یہ کہانی لوگوں کو بےجان اور روکھی معلوم ہوتی، لہٰذا لوگوں کی دلچسپی کے لیے ایک محبت کرنے والا نوجوان جوڑا بھی سکرین پلے میں شامل کیا۔ دو بنیادی بوڑھوں میں سے ایک ہندو بوڑھے کا نوجوان لڑکے اور اس سرمایہ دار کی لڑکی کے کچھ لَو سین کا فلمانا اس فلم میں جان بوجھ کر شامل کیا۔ حقیقت میں یہ لَو سین اس صاف ستھری کہانی میں تھگلی لگانے کے برابر ہی تھے۔ میں نے اپنے آدرشی اور فنکارانہ من کو سمجھایا اور فلم میں ان کرداروں اور منظروں کا وجود مجبوراً قبول کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے صرف یہی احساس تھا کہ ہماری آدرشی فلم زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھیں۔ لیکن جب جب میں اس فلم کو دیکھتا، ہر بار جی کرتا کہ ان سارے لَو سینز کو کاٹ کر الگ کر دوں۔ نئی فلم کا نام ہندی میں ‘پڑوسی’ اور مراٹھی میں ‘شیجاری’ رکھا۔

میں نہیں چاہتا تھا کہ اس فلم کے کارن ہندو یا مسلمان کسی کے من کو ٹھیس لگے اور ان میں بےکار ہی پرائےپن کا احساس پیدا ہو۔ لہٰذا میں نے کافی سوچ وچار کے بعد ایک فیصلہ کیا ‘پڑوسی’ میں بوڑھے مسلمان متر کا کردار گجانن جاگیردار نامی ہندو اداکار اور ہندو متر کا کردار مظہر خان نامی مسلمان اداکار کرے۔ مراٹھی ورژن میں بوڑھے ہندو متر کی اداکاری کیشوراؤ داتے کرے۔ مکمل ریہرسلز شروع ہو گئیں۔ گجانن جاگیردار اور مظہر خان جیسے ماہر اداکار بھی میری بتائی اداکاری کی باریکیوں کو خوب من لگا کر دیکھتے اور پورا مطامعہ کر ان کو ٹھیک ٹھیک اپنی اداکاری میں اتارتے۔

وہ گرمیوں کے دن تھے۔ کمپنی کی ایک طرف ہم لوگوں نے جنگل کے سین کو فلمانے کے لیے کچھ پیڑ پودے منصوبے سے لگائے تھے۔ اس جھنکاڑ کے پار تیراکی کے لیے ایک تالاب بھی بنایا تھا۔ میں کئی بار گھر کے لوگوں کے ساتھ شام کو وہاں تیرنے جایا کرتا تھا۔ ایک اتوار کو جےشری کو پتہ چل گیا کہ میں تیرنے جانے والا ہوں۔ اس نے بھی تیرنے کے لیے آنے کی اجازت چاہی۔ دوسرے دن ہم سب لوگ تالاب میں کافی ڈوبتے ابھرتے رہے تھے۔ کمار اور سروج بھی تھوڑا تھوڑا تیرنا سیکھ چکے تھے۔ وِمل تو بس صرف چند ہاتھ پاؤں پانی میں آزما لیتی تھی۔ میں نے اس کے پیٹ کے نیچے سہارا دے کر اسے کچھ تیرنا سکھایا۔ مدھو کو پیٹھ پر بٹھا کر تالاب کا ایک چکر میں نے پورا کیا۔ جےشری اچھا تیر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل اور بچوں کو کم گہرے پانی میں ہی ڈوبنے ابھرنے کی ہدایت دے کر میں تیزی کے ساتھ پانی کاٹتا ہوا جلترن کا مزہ لینے لگا۔ تالاب کے دو تین چکر لگا لیے پھر میں پانی کی سطح کے نیچے غوطے لگانے لگا۔ میرا ہاتھ کسی کی پنڈلی سے لگا! پانی کی سطح پر آ کر دیکھا وہ جےشری تھی! میرا دم بھر گیا تھا! میں وہیں پاس کا چھجا پکڑ کر سانس لینے کے لیے رکا۔ اسی سمے میری پیٹھ پر کسی کے ہاتھ کا احساس لگا! میں نے مڑ کر دیکھا، جےشری میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی!

میں نے پھرتی سے پانی کے اندر غوطہ لگایا اور سطح کے نیچے سے ہی تیرتا ہوا اس سے کافی دور نکل گیا۔ اس کے بعد کافی دیر تک میں اتنا تیرا کہ تھکنے تک تیرتا ہی رہا۔ تبھی وِمل کی آواز سنائی دی، “اجی، اب بس بھی کریے۔ کب تک ڈوبتے ابھرتے رہیں گے؟”

تھوڑی دیر بعد ہم سبھی گھر لوٹنے کے لیے نکلے۔ جےشری بھی ہمارے پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔ کمپنی کے پھاٹک کے پاس پہنچنے پر اس نے اپنا جلوہ مجھ پر گرا کر پوچھا، “اب میں جاؤں؟”
میں نے کچھ روکھے پن سے کہہ دیا، “جاؤ۔”

ہماری فلم کے مدراس میں ڈسٹری بیوٹر نے مدراس میں ‘پربھات’ نامی سنیماگھر بنوایا۔ اس کا افتتاح میرے ہاتھوں ہونا تھا۔ چار پانچ دن بعد میں اور وِمل اس تقریب کے لیے جانے کے لیے مدراس میل میں بیٹھے۔ اس یاترا کی خبر دینے کے لیے دو تین اخباروں کے انٹرویو لینے والے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ حقیقت میں مَیں تھا لوگوں کی تفریح کرنے والا فلم ڈائریکٹر، کوئی سیاست دان تو نہیں تھا۔ پرچار، پبلسٹی، انٹرویوئرز کا اس طرح ساتھ ہونا، یہ باتیں مجھے ایک دم پاکھنڈ سی لگتی تھیں۔

پُونا سے میل چل پڑی۔ رات بیت گئی۔ جنوبی بھارت کی طرف میل تیزرفتار سے دوڑی جا رہی تھی۔ بیچ میں کسی سٹیشن پر گاڑی رکی۔ مدراس میل اس سٹیشن پر رکتی نہیں تھی۔ عوام کے خاص اصرار پر گاڑی وہاں روکی گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی بھیڑ میرے ڈبے میں پھول مالائیں لے کر گھسی۔ انھوں نے ہار مجھے پہنا دیے۔ پھولوں کے گلدستے ہاتھوں میں تھما دیے۔ پل بھر تو میں بھونچکا رہ گیا۔ ماجرا آخر ہے کیا، کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ لگا کہ ہو نہ ہو، ان سب کو شاید کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے۔ وہ مجھے کوئی لیڈر سمجھ بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کی جنوبی بھاشا میں بھی میں اپنا نام اور اپنی فلموں کا ذکر صاف سن رہا تھا، سمجھ بھی پا رہا تھا۔

میرے ساتھ آئے انٹرویوئرز میں ایک تمل بھاشی تھا۔ میں نے اس سے جاننا چاہا کہ آخر یہ لوگ اس طرح میری اتنی آؤبھگت کس لیے کر رہے ہیں۔ اس نے کہا، “یہ لوگ آپ کے قائل ہیں، کہہ رہے ہیں کہ وی شانتارام صرف رنگین فلم ہی نہیں بناتے، سماجی حالات کے لیے بیدار رہ کر فلم بنانے والا آج یہی واحد ڈائریکٹر ہے، اور اسی لیے وہ ہمارے لیے پوجنے لائق ہے!”

“لیکن ان سب کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ میں اسی گاڑی سے جا رہا ہوں؟” میرے اس بچگانے سوال پر وہ انٹرویو لینے والا قہقہے لگا کر کہنے لگا، “لو، یہ تو آپ نے کمال کر دیا! اجی، آپ کے اس سفر کی خبر اخباروں میں جو چھپ چکی ہے، اسی لیے تو آپ کا یہ پُرجوش استقبال ہو رہا ہے۔” اس کے بعد مدراس پہنچنے تک ہر سٹیشن پر اسی طرح کی استقبالیہ تقریب کم وبیش ہوتی رہی۔

آخر گاڑی مدراس پہنچی۔ سٹیشن پر بھاری بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ جیسے ہی میں اپنے ڈبے کے دروازے پر آیا، لوگوں نے جوش سے ہاتھ ہلا کر میری جے جےکار کی۔ سٹیشن تو دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ جدھر دیکھو، آدمی ہی آدمی نظر آ رہے تھے۔ جیسے اتھاہ انسانی ساگر ہی وہاں ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لگ بھگ ایک گھنٹے تک میرے گلے میں پھولوں کے ہار پڑتے رہے۔ انھیں نکال نکال کر میں پیچھے کھڑی وِمل کو دیتا گیا۔ وِمل ان مالاؤں کو ہم دونوں کے بیچ رکھتی گئی۔ بیچ ہی میں میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، وِمل کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ تبھی اسی کی آواز سنائی دی، “اجی۔۔۔۔” شاید وہ پھول مالاؤں کے ڈھیر سے ڈھک گئی تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اس ڈھیر کے آگے لانگھ کر آنے میں مدد کی۔ سٹیشن پر اتنے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے کہ بھیڑ میں سے راہ نکالنا ٹیڑھی کھیر بن گیا تھا۔ آخر ہمارے ڈبے کے پیچھے کی طرف سے ایک پولیس دستہ آ پہنچا اور اس نے ہمیں دوسری طرف سے باہر جانے میں مدد کی۔ دوسرے راستے سے وہ ہمیں باہر لے گئے۔ باہر سٹیشن کے کورٹ یارڈ میں بھی بھاری بھیڑ جمع تھی۔ ان میں کچھ جوشیلے نوجوان مجھے میرے نام سے پکار پکار کر ہاتھ ہلا رہے تھے۔ میں ان سبھی محبت کرنے والوں کو کبھی ہاتھ جوڑ کر، کبھی ہاتھ ہلا کر سلام کر رہا تھا۔ راستے کی دونوں طرف لوگ صرف مجھے دیکھنے کے لیے کھڑے تھے۔ آخر مدراس میں ہمارے میزبان کے گھر کے پاس ہم لوگ آ پہنچے۔ گھر کے پاس بھی بھاری بھیڑجمع تھی۔ کچھ پیار کرنے تو گھر کی چھت پر چڑھ کر وہیں سے مجھے زور زور سے آواز دے رہے تھے۔ میں نے وِمل کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور پریم کی اس پھُنکارتی باڑھ سے راستہ نکالتے ہوئے جیسے تیسے میزبان کے گھر میں داخل ہو گیا۔

مدراس میں ہمارے میزبان تھے ہمارے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکر۔ حال ہی میں وہ ایک جان لیوا حادثے سے بال بال بچ گئے تھے۔ ان کے گھر میں، پتہ نہیں کیسے، آگ لگ گئی تھی۔ اس میں وہ کافی جھلس گئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بستر سے اٹھے اور مجھے گلے لگا لیا۔ جذباتی ہو کر بولے، “میں بچ گیا، زندہ رہ گیا! لیکن سٹیشن پر نہ آسکا۔ آپ کا گرینڈ استقبال دیکھنا میری قسمت میں نہیں تھا! لیکن سارا حال مجھے یہاں بستر پر پڑے پڑے معلوم ہو گیا!” اتنا کہہ کر وہ ادھیڑ عمر کا آدمی پاگل جیسا رونے لگا۔ میں نے انھیں سمجھایا بُجھایا اور تسلی دی۔ اس آدمی کا میرے لیے اور ہماری ‘پربھات’ کے لیے دلی پیار تھا!

مدراس کے اپنے دورے میں نے ‘پربھات تھئیٹر’ کا افتتاح کیا۔ وہاں کی سماجی اور فلم انڈسٹری سے جڑی انجمنوں کی طرف سے ہمارے احترام میں کئی استقبالیہ تقریریں منعقد کی گئیں۔ ان تقریبوں میں مختلف لوگوں سے میل ملاقاتیں ہوئیں، ان لوگوں میں تمل، تیلگو، ملیالم، کنڑ بھاشا بھاشی سبھی فنکار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر شامل تھے۔ ان میں سے کئیوں نے تو میرے چرن چھو کر مجھے پرنام کیا۔ ایسی حرکتیں میں پسند نہیں کرتا تھا۔ مخالفت کرتا، تو چرن چھونے والا بڑے ہی ادب سے کہتا، “آپ ہمارے گرو ہیں!”

“میں آپ کا گرو؟ وہ کیسے؟” میں پوچھتا۔

تو سامنےوالا جذباتی جواب دیتا، “آپ کی فلموں کو باربار دیکھ کر ہی تو ہم نے فلم کلا کی کئی باریکیاں اکٹھی کی ہیں۔ آپ کا چرن چھونا ہماری خوش قسمتی ہے۔ اس کارن ہمیں اپنے کام میں بڑی طاقت حاصل ہو گی!”

اپنے لیے اتنی عقیدت، اتنا احترام، اتنا پیار آج تک میں نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ ایسے موقع پر بولتا بھی، تو کیا؟ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں جہاں بھی جاتا، وِمل بھی میرے ساتھ ہوتی۔ اس سماج کی عورتیں اس کا استقبال بھی پورے جذبے سے کرتیں۔ اپنے لیے اتنا پیار دیکھ کر وِمل من ہی من میاں مٹھو بن رہی تھی۔ فلم کلا کے شعبے میں وِمل کو کوئی خاص علم تو نہیں تھا، نہ ہی اس سے اس کی امید کرنا مناسب تھا۔ لیکن میرے سکھ میں ہی اپنا سکھ، اور میرے دکھ میں ہی اپنا بھی دکھ مانتی آئی سادی، بھولی وِمل پتی کے اتنے شاندار استقبال اور تعریف سے سیر ہو گئی تھی۔ وہ سیری اس کی آنکھوں میں صاف جھلکتی تھی۔ اس بات پر ہو رہا سکون اس نے میرے پاس کبھی ظاہر نہیں کیا۔ لیکن آج بھی مجھے اس بات کا دلی اطمینان ہے کہ میرے افتحار کی بڑھوتری میں وِمل بھی برابری کی حصےدار تھی۔

مدراس میں ہم لوگ دس دن رہے۔ وہ دس دن پتہ نہیں کب بیت گئے۔ بچوں کے لیے کچھ سِلے سِلائے کپڑے اور وِمل کے لیے جنوبی ڈھنگ کی کچھ ساڑھیاں خریدنے کے ارادے سے ہم کپڑے کی ایک دکان پر گئے۔ وِمل نے کچھ ساڑھیاں پسند کیں۔ میں نے اسے ایک اور ساڑھی خریدنے کے لیے کہا۔ اس نے سہج بھاؤ سے پوچھا، “کس کے لیے؟” میں نے زیادہ کچھ بھی نہ بتاتے ہوئے اتنا ہی کہا، “کمپنی میں وہ جےشری آئی ہے نا، اس کے لیے!”

وِمل جےشری کے لیے ساڑھی پسند کرنے لگی۔ وچار کرتے کرتے میرا ارادہ بدل گیا۔ ساڑھی مت خریدنا، کہنے کے لیے میں وِمل کی طرف مڑا ہی تھا کہ اس نے اپنی پسند کی ایک ساڑھی میرے سامنے رکھی۔ میں نے صرف سر ہلا دیا۔

مدراس سے پُونا واپس آنے کے لیے ہم نکلے۔ سٹیشن پر پھر بےحد بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ سب سے وداع لیتے ہوئے میں اور وِمل ڈبے کے دروازے پر کھڑے تھے۔ گاڑی چلی۔ میرا من سحرزدہ ہو گیا تھا۔عوام کا یہ بےپناہ پیار دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ گاڑی نے رفتار پکڑی۔ ڈبے کے ایک کونے میں مَیں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ کسی سے باتیں کرنے کو جی ہی نہیں کر رہا تھا۔ میرے چاہنے والوں نے جو عقیدت ظاہر کی، جو پیار مجھے دیا، یہ سب اسی لیے کہ میں نے سماجی فلمیں بنائی ہیں۔ لہٰذا آگے چل کر بھی ہر حالت میں مجھے سستی مقبولیت کے چکر میں نہ پڑتے ہوئے سماج میں ظاہر مسائل کو آواز دینے والے ایک سے ایک بڑھ کر درجے فلم بناتے رہنا چاہیے، یہی وچار میرے من میں دوبارہ پختہ ہوتا گیا۔ واپسی یاترا میں بھی وہی حال رہا، جو مدراس جاتے سمے رہا تھا۔ ہر سٹیشن پر ہار اور گلدستہ لیے لوگ دلی وداعی دیتے تھے۔ ایک بار تو آدھی رات کسی سٹیشن پر لوگوں نے ریل کی پٹریوں پر کھڑے ہو کر ہماری گاڑی کو زبردستی رکوا لیا۔ ہمارے ڈبے کی کھڑکیوں اور دروازے پر زور سے دستکیں دے دے کر ہمیں جگایا اور ہم سے وداع لی۔

مقبولیت کی اس بےمثال امرت ورشا (رس کی برسات) میں بھیگتے نہاتے ہم دونوں واپس پونا آ گئے۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 21: آدمی (ترجمہ: فروا شفقت)

بیتی باتوں سے من کھٹا ضرور ہوا تھا۔ پھر بھی سڑک پر گشت لگانے والا پولیس حوالدار اور لال روشنی میں بھیگی وہ ویشیا من میں گہرے بیٹھ چکے تھے۔ وہ دونوں مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ کئی بار تو میں اپنے ہی وچاروں میں اس طرح کھو جاتا کہ اور کسی بات کا ہوش حواس تک نہ رہتا۔ بھاسکرراؤ کے ساتھ میری کئی بیٹھکیں ہونے لگیں اور ‘آدمی’ روپ لینے لگی۔

آج تک کی سبھی فلموں کے ہیرو سے ‘آدمی’ کا ہیرو مکمل نرالا بنانا طے کیا۔ عام فلموں کا ہیرو ہمیشہ تمام خوبیوں کا پتلا، دِکھنے میں سُندر، بہت بہادر اور نہ جانے کیا کیا نہیں ہوتا تھا۔ ان سبھی پرانے خیالات کی لیک سے ہٹ کر ‘آدمی’ کا ہیرو عام آدمی جیسا ہو، اس کے اندر وہ سبھی خامیاں اور خوبیاں ہوں جو عام آدمی میں پائی جاتی ہیں، یعنی وہ ایک دم ‘اینٹی ہیرو’ ہو، اِس طرح اُس کی تخلیق کرنا میں چاہتا تھا۔

ہیروئین تھی ایک ویشیا، مجبوری کے کارن اس پیشے میں پڑی۔ جیون میں بہت سی تھپیڑیں کھا چکنے کے کارن پتھرائی سی، کچھ چالو، خود غرض، لیکن پھر بھی اتنی ہی بھولی بھالی اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے والی، کسی خاندانی عورت کی طرح جیون بِتانے کے سپنوں میں کھونے والی اس طرح کے باہمی مخالف رنگوں میں رنگی ہوئی ہیروئین کو میں نے بیان کیا۔

بھاسکرراؤ امیمبل نے میرے اس بیانیہ پر مبنی دونوں اہم شخصیتوں کو تحریر کیا اور پورا سکرین پلے تیار کیا۔ کہانی بہت ہی چست، چھوٹی، پھر بھی چُھو جانے والی بن پڑی۔ ان دنوں اپنے ترقی پسند وچاروں کے لیے مشہور لیکھک اننت کانیکر نے مراٹھی ورژن کے مکالمے لکھے اور ہندی کے لیے وہ کام منشی عزیز نے کیا۔ سنگیت سنوارنے کا کام ماسٹرکرشن راؤ کو سونپ دیا گیا۔

میں چاہتا تھا کہ اس فلم کی ساری تکنیک ہی ایک دم نئی ہو۔ لیکن ٹھیک ٹھیک کیسی ہو، اس کی کوئی واضح سوچ بن نہیں پا رہی تھی۔ فلم کی ریہرسل شروع ہو گئی۔ عام طور پر میرا رواج یہی تھا کہ ریہرسل سے پہلے ہر سین کا تخیل، اسے کیسے کیسے آگے بڑھانا ہے، اس سے کیا اثر متوقع ہے، کیسے اس میں رنگ اور رس بھرنے ہیں، اس کا واضح خاکہ من میں تیار کر لوں۔ لیکن اس بار میں خود بہت ہی تذبذب میں تھا۔ آخر میں یہی سوچ کر کہ ریہرسل کرتے کراتے ہی فلم کے مختلف منظروں کا تانا بانا من میں برابر بن جائے گا، میں نے بڑی محنت سے ریہرسل کرانا شروع کر دی۔ کسی ایک ہی سین کو الگ الگ ڈھنگ سے بنانے کی کوشش کرنے لگا۔ اور مجھے نت نئے خیالات سوجھنے لگے۔ فتے لال بھی سیٹ کی تصویریں بنانے میں لگ گئے۔ جانداری اور حقیقت لانے کے لیے مَیں فتے لال جی کو ساتھ لیے چکلہ بستیوں کی ہر گلی چھاننے لگا۔ پولیس والوں کی ہر بستی میں ہم لوگ ہو آئے۔ اس کے بعد انہوں نے سیٹ لگوانا شروع کیا۔ بمبئی کی بھونڈی، بھدی بستیوں کی چال، پولیس کی بیرکیں یا داروغہ کا تھانہ، سب کو میں اتنا اصلی بنانا چاہتا تھا کہ ناظرین کو ایسا لگے کہ ہم لوگوں نے ان موقعوں پر وہاں جا جا کر ہی شوٹنگ کی ہے۔

جیسے جیسے ریہرسلز ہونے لگیں، سین کی شوٹنگ کے مختلف آئیڈیاز اور استعمال میں لانے لائق علامتوں کی جیسے جھڑی سی لگ گئی۔ ان میں سے کِسے لینا، کِسے چھوڑنا، اس کی کنفیوژن ہونے لگی۔ دل و دماغ پر بس ایک ہی دھن سوار ہو گئی کہ کیسے ‘آدمی’ کو انتہائی حقیقی بنایا جائے۔

شوٹنگ شروع ہوئی اور ہم سب پر فلم میکنگ کا نشہ سا سوار ہو گیا۔ اس میں کتنا لطف آتا تھا، لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم لوگ کام میں اتنے مست ہو جاتے تھے کہ دن ڈوب بھی گیا تب بھی لگتا تھا کہ شوٹنگ کبھی رکے ہی نہیں، بس چلتی ہی رہے۔ فلم کا ہیرو گنپت اپنے سینئر ساتھیوں کے ساتھ جوۓ کے کسی اڈے پر چھاپہ مارتا ہے۔ وہاں وہ ایک ویشیا کو جس کا نام کیسر ہوتا ہے، پکڑ لیتا ہے۔

اس کے ساتھ وہ اسی حقارت سے باتیں کرتا ہے جیسی کسی مجرم کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ وہ اس کے سبھی سوالات کا لا پرواہی سے جواب دیتی تو ہے، لیکن اس کے جوابوں سے اس کے من میں مہذب سماج کے لیے جو کڑواہٹ کوٹ کوٹ کر بھری ہے، صاف ابھر آتی ہے۔ انجانے میں اُس کا درد اُس کٹھور پولیس سپاہی کے من کو چھو جاتا ہے۔ اس سین میں اس سخت پولیس جوان کے منہ میں کوئی مکالمے ڈالے جاتے تو ایک دم بے تکے سے لگتے۔ کیسر اور گنپت جب سڑک پر چلتے رہتے ہیں، تو ادھر سے کسی دوسرے پولیس سپاہی کی سیٹی سنائی دیتی ہے۔ قدموں کی آہٹ سے لگتا ہے کہ سیٹی بجانے والا وہ دوسرا پولیس والا ان دونوں کے پاس آتا جا رہا ہے۔ گنپت فوراً کیسر کو کسی اوٹ میں دھکیلتا ہے اور اپنا اوور کوٹ اس پر پھینکتا ہے، تاکہ کیسر اُس دوسرے پولیس والے کو دکھائی نہ دے۔ وہ پوری طرح سے کوٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے، بچ جاتی ہے۔ اِس چھوٹے سے عمل کے ذریعے گنپت ناظرین کو یہ محسوس کراتا ہے کہ اس کے من میں کیسر کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ اس سین کا جو اثر اس واقعہ کے کارن ممکن کیا گیا، وہ ہزار لفظوں سے بھی کبھی نہ ہو پاتا۔

ایک بار فلم کی ہیروئین کیسر کے کوٹھے کے ایک سیٹ پر شوٹنگ جاری تھی۔ سین کافی نزاکت بھرا تھا۔ ہم لوگ اس میں رنگ گئے تھے۔ تبھی شانتا آپٹے کے بھائی بابوراؤ بڑی جلدی جلدی سیٹ پرآئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر منت بھری آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، پہلے میرے ساتھ آئیے! دیکھیے بھی ادھر امی کیا کیا کر رہی ہے! (بابوراؤ اپنی بہن کو امی کہا کرتے تھے) وہ کواڑ اندر سے بند کر بیٹھی ہے۔ میں نے اسے آواز دی تو پاس پڑا پیپرویٹ اس نے کھڑکی سے مجھ پر پھینکا۔ آپ پہلے چلیے!”

وہ مجھے لگ بھگ کھینچ کر ہی وہاں سے لے گئے۔

زینہ چڑھ کر میں شانتا آپٹے کے کمرے کی طرف گیا۔ بابوراؤ مجھے کھینچ کر کھڑکی کے پاس لے گئے۔ میں نے اندر جھانک کر دیکھا، تو وہاں ایک عجیب حال تھا؛ شانتا آپٹے ایک کرسی پر لاش جیسی جڑوت بیٹھی تھیں۔ بابوراؤ نے بتایا کہ فتے لال جی نے اسے ڈانٹا اور غصے میں آ کر اسے پیٹنے کے لیے اپنی چھتری بھی اٹھائی۔ ان کی باتیں سننے کے لیے میں وہاں رُک ہی نہ پایا۔ دندناتا ہوا زینہ اتر کر فتے لال جی کے کمرے کی طرف چل پڑا۔

‘دنیا نہ مانے’ فلم کے بعد شانتا آپٹے کافی مشہور ہو چکی تھیں۔ کافی دنوں کے لیے وہ جنوب میں سیر کرنے گئی تھیں۔ ادھر کے جذباتی لوگوں نے اس کا کافی پیارو محبت سے استقبال کیا تھا۔ عوام کے اس پیار، استقبال اور مہمان نوازی کی وجہ اسے اور بابوراؤ کو بے حد خوشی ہوئی تھی، جیسے آسمان ہاتھ آ گیا ہو۔ شانتا آپٹے جنوب کا دورہ کر واپس لوٹی تو اس کی ساری Paid leaves کے دن ختم ہو چکے تھے اور اوپر کچھ زیادہ ہی دن بیت چکے تھے۔ اُن دنوں دستور یہ تھا کہ ہماری کمپنی کے بڑے سے بڑے کلاکار کو یا تکنیکی ماہر کو بھی کام پر آتے ہی برابر attendance sheetپر دستخط کرنے پڑتے۔ paid چھٹی سے زیادہ دن غیر حاضر رہنے پر ان اضافی دنوں کی تنخواہ کاٹ لی جاتی تھی۔ لہذا اصول کے مطابق شانتا کی تنخواہ بھی کاٹی گئی اور باقی رقم اسے دی گئی۔ اس نے پیسے لینے اور attendance sheet پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب واقعہ ہوا تب میں تو ‘آدمی’ کی شوٹنگ میں مصروف تھا۔ لہذا اکاؤنٹنٹ نے معاملہ فتے لال جی کو سنایا۔ وہ شانتا کے کمرے میں جا کر اسے سمجھانے لگے تو وہ ایک دم جھنجھلا اٹھی اور سب کو کمرے سے باہر کر اس نے کواڑ اندر سے بند کر دیے۔

شانتا آپٹے کے اس طرح ادھم مچانے پر مجھے غصہ آیا۔ میں پھر تمتماتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا اور کھڑکی کے پاس جا کر اسے ڈانٹ کر بولا، “شانتا بائی، اٹھو!” میری آواز سنتے ہی وہ تڑاخ سے کھڑی ہو گئی۔ میں نے پھر حکم دیا، “دروازے کی کنڈی کھولو!” کسی کٹھ پتلی کی طرح اٹھ کر اس نے دروازہ کھولا۔

میں کمرے میں پہنچا۔ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے پتہ نہیں کہاں کسی خلا میں دیکھ رہی تھیں۔ میں نے پہلے جیسے ہی ڈانٹ بھری آواز میں کہا، “کرسی پر بیٹھو!” وہ میری نظر سے نظر ملانے سے ڈر رہی تھیں۔ میں نے بابوراؤ کی طرف مڑ کر انہیں سے کہا، “نیچے جائیے اور ایک کپ کافی لے آئیے۔” بابوراؤ گئے اور کافی لے کر آ گئے۔ میں نے شانتا بائی سے کہا، “یہ کافی پی لو!” اس نے وہ گرم کافی پانی جیسے ایک ہی سانس میں پی ڈالی۔ تب میں نے کہا، “اب آپ بابوراؤ کے ساتھ گھر جائیے!” وہ کسی مشین کے طرح چل کر کمرے کے باہر جانے لگی۔ بابوراؤ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔

شانتا بائی کو سنائی دے اتنی آواز چڑھا کر میں نے بابوراؤ سے کہا، “کل صبح شانتا بائی کو لے کر کمپنی میں آئیے۔ صاحب ماما سے بات کر ساری غلط فہمی دور کر لیں گے۔ ”

دھت۔۔۔ ماں کی! شوٹنگ کتنی رنگ پر آئی تھی اور یہ بےکار کی جھنجھٹ نہ جانے کہاں سے آ کھڑی ہوئی۔ اس کے کارن میں کافی پریشان رہا۔ قدم اپنے آپ اپنے آفس کی طرف مڑے۔ وہاں تھوڑی دیر میں اکیلا ہی بیٹھا رہا۔ شوٹنگ رکی پڑی تھی۔ نہیں، ایسا کرنے سے کام کیسے چل سکتا ہے؟ جو بھی ہو، آج کی شوٹنگ تو پوری کرنی ہی پڑے گی۔ شانتا آپٹے کے اس واقعہ سے من ہٹا کر میں پھر سے آج کی شوٹنگ پر مرکوز کرنے لگا۔ ناخوشگوار وچار آہستہ آہستہ چھنٹتے گئے۔ میں پھر شانت من سے شوٹنگ کرنے کے لیے سٹوڈیو کی طرف مڑا۔

دوسرے دن سویرے پونے نو بجے میں سٹوڈیو میں آ گیا۔ پہرے دار نے مجھے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح سلام کیا۔ میں نے بھی عادت کے مطابق اپنا ہاتھ اونچا اٹھا کر سلام قبول کیا۔ چپڑاسی سے آنکھیں چار ہوتے ہی اس نے head attendance کے برآمدے کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے بھی اُدھر دیکھا۔ ایک بینچ پر شانتا آپٹے سوئی پڑی تھی۔ بابوراؤ بھی وہاں کھڑے کھڑے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے ان کے پاس جا کر حیرانی سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟”

انہوں نے کہا، “کل کمپنی میں جو واقعہ ہوا، اس کے کارن امی اپنے آپ کو بہت ہی بےعزت محسوس کر رہی ہے اور اسی لیے اس نے یہاں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔” شانتا بائی کے پاس جا کر میں نے اسے آواز دی، سنتے ہی اس نے آنکھوں پر کس کر رکھا ہاتھ کچھ ہٹایا اور مجھے دیکھا اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ پھر فوراً ہی اس نے اپنی آنکھوں کو کس کر ڈھانپ لیا۔

“شانتا بائی، یہ کیا پاگل پن لگا رکھا ہے! میں نہیں سوچتا صاحب ماما جان بوجھ کر تمہیں بےعزت کریں گے۔ لیکن مان لو بھولے میں انہوں نے ویسا کیا بھی، تو میں تمہیں پھر بتاتا ہوں، ہم لوگ آپس میں بیٹھ کر ساری غلط فہمیاں دور کر لیں گے۔”

شانتا بائی اپنا رونا روک کر لیکن منہ پر سے ہاتھ نہ ہٹاتے ہوئے بولی، “اب اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا! آپ تو انہیں کی باتوں کو سچ مانیں گے۔ پھر اب آپ کو میری ضرورت بھی تو نہیں رہی۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین کا کردار میں نے کتنی بار آپ سے مانگا، پھر بھی آپ نے وہ مجھے نہیں دیا!”

یہ سچ ہے کہ اس نے وہ کردار لینے کی ضد کی تھی، لیکن میں نے تب بھی اسے سجھا بجھا کر کہا تھا، “یہ کردار تو عمر میں کچھ بڑی، ادھیڑ عمر کی طرف بڑھتی عورت کو ہی پھبے گا۔ تم اس کام کے لائق نہیں ہو۔ پھر اس طرح کا رول کرنا تمہارے لیے مشکل بھی ہو گا۔ اگر اس کردار کو اچھی طرح نہیں نبھایا، تو ‘دنیا نہ مانے’ کے کارن تمہاری جو شہرت پھیلی ہے، دھندلی ہو جائی گی۔”

لیکن عورت ہٹ ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سامنے دنیا کی ساری دلیل بیکار ہو جاتی ہے۔ کم سے کم اس سمے تو اسے شانت کرنے کے لیے میں نے کہا، “میں آپ کو آئندہ فلم میں بہت اچھا کام دوں گا، جس سے تمہارا نام اور پھیلے گا۔” میرا اندازہ تھا، یہ سن کر وہ کچھ خوش ہو جائے گی اور بھوک ہڑتال کا یہ تماشا بند کر دے گی۔ لیکن وہ ہونے سے رہا۔ وہ بولی، “مجھے اب ‘پربھات’ کے فلم میں کام نہیں کرنا ہے۔ آپ مجھے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیجیے!”

کانٹریکٹ سے آزاد کرنے کی بات اس کے منہ سے سنتے ہی میں آپے سے باہر ہو گیا۔ میں نے بھی آواز چڑھا کر کہا، “کانٹریکٹ سے آزاد ہونے کے لیے ہی تم نے یہ بھوک ہڑتال کی ہو تو کان کھول کر سن لو، ‘پربھات’ کے ساتھ کیے گئے کانٹریکٹ سے تمہں ہرگز آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ ‘پربھات’ نے تمہیں اتنا نام دیا، شہرت دلائی، اسی کی عزت ایسے ناٹک رچ کر تم کم کرنے جا رہی ہو۔ اس طرح کا طرز عمل کرنے والے کسی شخص کے بھی لیے میرے من میں کوئی عزت نہیں ہے— چاہے وہ شخص کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ تمہیں آخری بار وارننگ دیتا ہوں: بھوک ہڑتال کا یہ بےکار کا جھنجھٹ چھوڑ دو، سٹوڈیو میں چلو۔ بیکار کا تماشا کھڑا نہ کرو!”

میں نے اتنا سمجھایا، پھر بھی شانتا بائی نے کہا “میں آپ کے سٹوڈیو میں اب قدم بھی رکھنا نہیں چاہتی۔ جب تک آپ کانٹریکٹ سے آزاد نہیں کرتے، میں یہاں سے ہٹوں گی نہیں!” اب میری قوت برداشت کا باندھ ٹوٹ گیا۔ میں نے اس سے صاف کہہ دیا، “اس کے بعد میں تمہیں سمجھانے کے لیے بھی نہیں آؤں گا۔ اس بھوک ہڑتال کے کارن تمہیں کچھ ہو گیا، تب بھی ادھر جھانکوں گا نہیں۔”

شانتا آپٹے کے اندر جو کلاگن ( فنی خوبیاں) تھے، گائیکی میں جو ہنر تھا اور اپنی اداکاری سدھارنے کے لیے اس نے جو کڑی محنت کی تھی، اس کے کارن اُس کے لیے میرے من میں کاروباری ستائش کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک بار تو اس نے ایسی ہمت دکھائی تھی کہ اس کے کارن میرے من کے کسی کونے میں اپنے لیے تھوڑی سی جگہ بھی بنا لی تھی۔ بمبئی کے فلم انڈیا ماہنامہ میگزین کے ایڈیٹر نے شرارت سے اس کے بارے میں کچھ بدنامی کرنے والا مواد چھاپا تھا۔ تب شانتا بائی بینت کی چھڑی لے کر اس میگزین کے ایڈیٹر بابوراؤ پٹیل کے آفس میں گئی تھیں اور اس کی ایسی پٹائی کی تھی کہ پوچھیے نہیں۔ اس کے بعد وہ فوراً پونا آئیں اور سارا قصہ مجھے بتا دیا۔ اس کے اس کارنامے پر ناراض نہ ہو جاؤں اس لیے وہ زنانہ رویے کے کارن خود ہی رونے لگی تھیں۔ میں نے اس کو تسلی دی تھی۔ میرا خیال ہے کہ کسی نٹ کھٹ ایڈیٹر کو بینتیں جما کر سبق سکھانے والی شاید شانتا آپٹے پہلی سینما ایکٹر تھی۔

آج بھی اس معاملے کے خلاف جسے وہ اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی مانتی ہے، بھوک ہڑتال کرنےکی ہمت اس نے دکھائی تھی۔ یہ بھی ایک لحاظ سے میرے من میں ستائش کا ہی موضوع تھا۔ لیکن، جس ‘پربھات’ نے اس کے اندر کے کلاگنوں کو آسمان پر لا کر اسے شہرت کی چوٹی پر پہنچایا تھا، اسی ‘پربھات’ کے نام پر اس طرح بھوک ہڑتال کے ذریعے کیچڑ اچھالنے کی اس کی یہ کوشش مجھے قطعی پسند نہیں تھی۔ میں نے من ہی من فیصلہ کیا کہ پہریدار کے جس کمرے میں وہ مزاحمت کرنے بیٹھی ہے، اس راستے اس کے وہاں بیٹھی رہنے تک آنا جانا بند رکھوں گا۔ وہاں سے میں سیدھے سٹوڈیو گیا۔ بڑھئی کو بلوایا اور اسے ہدایت دی کہ کمپنی کے احاطے کی دوسری طرف جو باڑ لگی ہے اسے ہٹوا کر وہ وہاں سے آنے جانے کا راستہ فوراً تیار کرے۔ تبھی داملے جی، فتے لال جی بھی کمپنی میں آ گئے۔ میں نے انہیں شانتا بائی اور میرے بیچ ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ تبھی کسی نے ہڑبڑاہٹ میں آ کر بتایا کہ “گیٹ پر بابوراؤ ہاتھ میں بندوق لیے شانتا بائی پر پہرہ دے رہے ہیں!”

یہ سوچ کر کہ ان بہن بھائی کے عجیب و غریب طرز عمل پر کوئی دھیان نہ دیا جائے، میں سیٹ پر چلا گیا۔ من کو یکسو کرتے ہوئے کام کرنا شروع کیا۔ دھیرے دھیرے کام نے ہمیشہ کی طرح رفتار پکڑی۔ تبھی پہلے والی خبر دینے والے اسی آدمی کو پھر سیٹ پر آتے میں نے دیکھا۔ اسے پاس بلا کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ، “انّا، بابوراؤ کی پلاننگ پر کچھ رپورٹر آئے ہیں اور وہ شانتا بائی سے انٹرویو کر رہے ہیں۔”

میرے غصے کا ٹھکانا نہ رہا۔ میں نے اس آدمی کو بتا دیا، “انہیں جو جی میں آئے، کرنے دو، مجھے تو اپنا کام کرنا ہے!” کیمرا مین کی طرف مڑ کر میں نے پوچھا، “اودھوت، تم تیار ہو نا؟”

“جی ہاں، انّا۔”

“ٹھیک ہے، چلیے سب لوگ تیار۔ شاٹ لینا ہے۔ ٹیک۔”

‘ٹیک’ کہتے ہی پربھات کے پورے خاندان میں ‘خاموش’ رہنے کا اعلان دینے والے بھومپو بج اٹھے۔ اس دن میں ایک کے بعد ایک لگاتار شاٹس لیتا گیا۔ میں بھی ضد پر اتر آیا تھا اس لیے یا میرے غصے سے ڈر کر سبھی لوگ پورا دھیان لگا اپنا اپنا کام کیے جا رہے تھے۔ اس لیے میری شوٹنگ کا کام زیادہ تیزی سے ہونے لگا تھا۔ ہر شاٹ کے شروع کے سمے پربھات احاطہ بھونپوؤں کی آواز سے لگاتار دندنا جاتا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ شانتا بائی اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کی بھوک ہڑتال کے کارن میں ذرا بھی متاثر نہیں ہوا ہوں۔

شام ہو گئی۔ بڑھئی نےجو نئی راہ بنائی تھی، اسی سے میں سٹوڈیو کے باہر گیا۔ یہ سوچ کر کہ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے کے کارن ممکنہ طور بھائی بہن کی عقل ٹھکانے آ گئی ہو گی، وِمل کو میں نے ان دونوں کے لیے بھوجن کا ڈبہ اور دو تھالیاں نوکر کے ہاتھ بھجوا دینے کے لیے کہا۔ ساتھ میں ان کے لیے پیغام بھی بھجوا دیا، “کھانا کھا لو۔ بھوکے مت رہو۔” لیکن وہ ڈبہ جیسا کا تیسا لوٹا دیا گیا۔ دوسرے دن اخباروں میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کی خبر بڑی موٹی سرخیوں کے ساتھ چھپی۔ وہ زمانہ مہاتما گاندھی کی ستیاگرہ تحریک کا تھا۔ نتیجتاً ایک مقبول اداکارہ کی بھوک ہڑتال کی خبر ‘ٹائمز آف انڈیا’ جیسے وزن دار اخبار میں بھی ‘کرنٹ ٹاپکس’ میں بڑے چاؤ سے چھپ گئی۔ چھپے الزامات کی تردید کرنےکی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی۔ لیکن ایک ڈر سا ضرور لگ رہا تھا کہ اس ہٹ دھرمی کے کارن کہیں شانتا بائی کو کچھ ہو نہ جائے!

اپنا ڈر میں نے داملے جی کو بھی سنا دیا۔ تو وہ ایک دم ٹھنڈی آواز میں کہنے لگے، “وہ کبھی مرنے والی نہیں ہے! شانتا بائی جہاں ستیاگرہ کر رہی ہیں، اس کے پیچھے ہی ہماری کنٹین کا ایک دروازہ ہے۔ اس کی دراڑوں میں سے ٹوہ لیتے رہنے کے لیے میں نے ایک آدمی کو تعینات کیا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس پانی کا جو لوٹا رکھا ہے اس میں پانی نہیں، دودھ ہے اور بابوراؤ تھوڑے تھوڑے سمے بعد اسے وہ دیتے رہتے ہیں۔”

اور ایک دن ایسے میں ہی بیت گیا۔ بیچ میں بابوراؤ جا کر کسی ڈاکٹر کو لے آئے۔ اس ڈاکٹر نے دونوں کو گمبھیر وارننگ دی کہ بھوک ہڑتال اور ایک دن جاری رکھی تو اس کا شانتا بائی کی آواز پر برا اثر ہو جائے گا۔ ممکن ہے ان کے گلے کے vocal cords ہمیشہ کے لیے بے کار ہو جائیں۔

دوسرے دن ہمیشہ کی طرح شوٹنگ شروع کی۔ کام کرتے کرتے بیچ ہی میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کا خیال من میں آتا اور من بے چین ہو اٹھتا۔ لیکن میں اپنے آپ کو سمجھاتا تھا کہ کچھ بھی ہو، اپنے کام میں کسی بھی طرح کی ڈھیل نہیں آنے دینی ہے۔ یہی سوچ کر میں نے اس دن کی شوٹنگ پوری کر لی۔

ہمیشہ کی طرح رات میں مَیں دوسرے دن کی شوٹنگ کا سنیریو لکھنے بیٹھا تھا۔ ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ تبھی دروازے پر کسی نے گھنٹی بجائی۔ نوکر نے دروازہ کھولا۔ تھوڑی ہی دیر میں سنیریو لکھنے کی میری کاپی پر سامنے کی طرف سے دو پرچھائیاں پڑیں۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا: ‘دینک گیان پرکاش’ کے ایڈیٹر کاکا صاحب لِمیے اور ان کے ساتھ پ۔کے۔اترے سامنے کھڑے تھے۔ میں نے لپک کر ان کا استقبال کیا اور تشریف رکھنے کے لیے درخواست کی۔ لیکن انہوں نے کھڑے کھڑے ہی کہا، “شانتا آپٹے بھوک ہڑتال توڑ کر گھر جانے کے لیے تیار ہیں، بشرطےکہ آپ خود جا کر اسے ویسا کہیں۔ پھر وہ کمپنی کے دروازے پر دیا گیا دھرنا اٹھا کر چلی جائےگی۔” میں بھی اپنی ضد پر اڑا تھا۔ میں نے ان دونوں سجنوں کو بتایا، “اجی، یہی بات میں نے پہلے ہی دن اس سے زیادہ اچھی طرح سے سمجھائی تھی۔ لیکن شانتا نے میری ایک نہ سنی۔ الٹے، رپورٹرز کو انٹرویوز دے دے کر اس نے میری ‘پربھات’ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ میں ہرگز نہیں آؤں گا اب اسے منانے کے لیے!”

میری بات سن کر لِمیے جی مجھے سمجھانے لگے، “شانتارام بابو، آپ اپنا غصہ اب تو چھوڑیے، مالک مزدور، یا ڈائریکٹر کلاکار کے طور آپ نہ سوچیے۔ صرف انسانیت کی نظر سے دیکھیے۔ ہماری راۓ میں آپ ایک بار خود جا کر اسے گھر چلی جانے کے لیے صرف کہہ دیں۔ صرف انسانیت کے احساس کے نقطہ نظر سے سوچیے۔”

حالانکہ میں چاہتا تو نہیں تھا، لیکن اپنی خواہش کے خلاف ان دونوں کے ساتھ میں سٹوڈیو گیا۔ شانتا بائی attendance headکے بیٹھنے کی جگہ پر نیچے فرش پر سوئی تھیں۔ اس کے پاس جا کر میں نے بہت ہی بے رخی سے کہا، “شانتا بائی اٹھو، اور اپنے گھر چلی جاؤ۔”

میری آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اور روہانسی آواز میں بولی، “میری تنخواہ تو گھر بھجوا دیں گے نا؟” سوچا، کہاں تو یہ اپنےعزت نفس کو ٹھیس لگنے کے کارن ایک اصول کے لیے ستیاگرہ کرنے بیٹھی تھیں، اور کہاں اب صرف تنخواہ کے لیے اپنا ستیاگرہ واپس لینے کو تیار ہو گئی ہیں! اور اس کے لیے میرے من میں رہی سہی ہمدردی بھی جاتی رہی۔

میں نے نہایت روکھے پن سے جواب دیا، “ہاں!”

وہ فوراً جانے کے لیے اٹھ کر کھڑی ہونے لگی۔ لیکن اپنا توازن کھونے کی ادا سے ایک دم مجھ پر گری۔ پل بھر میں نے سوچا، کہیں اس کا بھائی دنیا بھر میں یہ نہ کہتا پھرے کہ میں نے ہی اسے دھکا دیا۔ لہذا میں نے لپک کر اسے سہارا دیا اور یہ سوچ کر کہ ایک بار یہ بلا یہاں سے ٹلے، میں نے اسے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور سامنے ہی کھڑی اس کی گاڑی میں لے جا کر دھر دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ پھر سے یہیں ٹھیا جما کر بیٹھ نہ جائے۔ لیکن جیسے ہی میں نے اسے اس کی کار میں رکھا، اس نے فوراً اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈالیں اور کس کر مجھ سے لپٹ کر رونے لگی۔ میں پس وپیش میں پڑ گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ ڈر یہ بھی تھا کہ پاس ہی کھڑے لِمیے، اترے، گیٹ پر تعینات پہریدار اور دیگر لوگ اس کا کچھ اور ہی مطلب نکالیں گے۔ لہذا میں نے اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ پریشان تو میں اتنا تھا کہ میرے ہاتھ چیچھڑوں کی طرح لٹکنے لگے۔ دبی آواز میں مَیں اس سے منتیں کرنے لگا، ”شانتا بائی، چھوڑو مجھے۔” لیکن وہ ماننے سے رہیں۔ اس کے آنسو میرے گالوں پر جھر رہے تھے۔ وہ اپنے گال میرے گالوں پر اور ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ مسلسل بار بار گھمانے لگی۔ اس کے اس پاگل پن کے کارن مجھے بہت ہی شرم محسوس ہونے لگی۔ غنیمت تھی کہ دیگر سب کی طرف میری پیٹھ تھی اور ادھر جاری لَو سین کسی کو دکھائی نہیں پڑ رہا تھا! سارا معاملہ ایک دم ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ کاش! چِلّا پاتا! اُف! کیسی گھٹن پیدا کرنے والی مجبوری تھی! میں نے بہت ہی دبی آواز میں اسے مجھے چھوڑ دینے کے لیے کہا۔ تب جا کر کہیں اس نے اپنا شکنجہ ڈھیلا کیا!

میں چھٹتے ہی پیچھے ہٹا اور کار کا دروازہ دھڑام سےبند کر دیا۔ راحت کی سانس لی ہی تھی کہ اس کے بھائی نے مجھے کار کے پیچھے لے جا کر کس کر بھینچ لیا۔ اپنی بانہوں میں وہ بڑبڑانے لگا، “امی کی جان آپ نے ہی بچائی ہے۔ شانتا کو آپ نے۔۔۔” چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ لو، پھر آ گئی آفت! کہیں اس نے بھی اپنی بہن جیسا ہی سلسلہ شروع کر دیا، میں بے طرح گھبرا گیا۔ بابوراؤ کے چنگل سے رہائی پانے کے خیال سے میں نے اُن سے کہا، “اب آپ فوراً اپنے گھر جائیے۔ شانتا بائی کو پہلے کچھ کھانے کو دیجیے، ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”

“جی ہاں، جی ہاں،” کہتے ہوئے بابوراؤ نے اپنی بھینچ سے مجھے رہا کر دیا اور وہ لپک کر کار میں جا بیٹھے۔ کار کا انجن تو کبھی کا سٹارٹ تھا۔ میں نے سڑک کے ٹریفک کنڑول کرنے والے پولیس سپاہی کی ادا سے ڈرائیور کو تیزی سے ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا۔ شانتا بائی کو لے کر وہ کار تیزی سے کمپنی کے احاطے سے باہر نکل گئی۔

گھر لوٹا تو داملے جی فتے لال جی میری راہ دیکھ رہے تھے۔ شانتا آپٹے آخر گھر لوٹ گئیں، یہ سننے کے بعد انہوں نے بھی راحت کی سانس لی۔ سچ کہا جائے تو اس جھمیلے کے کارن وہ دونوں کافی سٹپٹا گئے تھے۔ وِمل کو بھی اس کے چلے جانے کی بات سن کر کافی اچھا لگا۔

کچھ سمے پہلے سکرین پلے اور سنیریو کی کھلی پڑی کاپی بڑی بے چینی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں فوراً سنیریو لکھنے بیٹھ گیا اور وہ کام پورا کر کے ہی میں نے چین کی سانس لی۔ صبح صادق ہو چکی تھی۔ کچھ آرام کر لینے کے وچار سے میں بستر پر لیٹ گیا۔ نیند آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ من میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا۔

شانتا آپٹے نے اس طرح کا سلوک کیوں کیا؟ پیچھے بھی دو ایک بار اُس نے مجھے پیار میں پھنسانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میں نے تو اپنی طرف سے اُسے کسی بھی طرح سے کوئی بڑھاوا نہیں دیا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک ڈائریکٹر کے طور پر میں نے اچھی اداکاری یا اچھی گائیکی کے لیے اس کی تعریف کی تھی، اسے شاباشی بھی دی تھی۔ لیکن میں اس پر فریفتہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر وہ کیوں اس طرح میرے گلے پڑی؟ موہ (پیار) کے ایسے لمحے میرے جیون میں بار بار کیوں آتے ہیں؟ میں رہا ایک معمولی سیدھا سادہ آدمی! میں عمر بھر برہم چاریہ کا پالن کرنے کا عہد کر بیٹھا کوئی رِشی مُنی تو نہ تھا۔ پھر کیوں بھگوان اس طرح بار بار میرا امتحان لیتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مجھے اس کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں کہ میں اپنی کلا کے لیے ہمیشہ وقف رہ پاؤں گا یا نہیں؟

Categories
نان فکشن

باب 20 شانتا راما: چکلہ بستی میں (ترجمہ: فروا شفقت)

نئی فلمیں بنانا ہی میرا کام ہے! یہ کام ہی جیون ہے! جیون جینے کے لیے ہے! اسے اصل میں جینا چاہیئے! میری سوچ اس طرح پختہ ہوتی جا رہی تھی۔

اور اُسی سمے یاس پسندی کو اجاگر کرنے والی ایک فلم ‘دیوداس’ لوگوں کو بہت متاثر کر رہی تھی۔ کلکتہ کی نیو تھئیٹرز فلم کمپنی کی بنائی اس فلم کے ڈائرکٹر تھے پرمتھیش بروا۔ ایک فلم کے روپ سے وہ بہت ہی سُندر تھی۔ اس میں سہگل کا گایا ایک گیت ”دکھ کے اب دن بیتت ناہیں” بہت ہی سُندر تھا۔ آج بھی وہ گیت مجھے بہت پسند ہے، لیکن یہ یاس پسند فلم نوجوان نسل کے من میں ایک طرح کی مایوسی پیدا کرتی جا رہی تھی۔ دیوداس شراب کا عادی ہو جاتا ہے، ویشیا کے یہاں جانے لگتا ہے اور آخر میں پیار کی خاطر اپنے آپ کو شراب میں پورا ڈبو دیتا ہے۔ اُسی میں اس کا انت ہو جاتا ہے۔ اس فلم کو دیکھتے سمے جوان لوگ رونے لگتے تھے۔ سچے پریم کے لیے مر جانا چاہیئے، خود کشی بھی کر لینی چاہیئے، یہ کھوکھلا آدرش جوان نسل کے من پر حاوی ہونے لگا تھا۔ لیکن ہمارے سماج کو اس طرح ناامید، غیر فعال نوجوانوں کی ضرورت نہیں تھی۔ اِسے تو چاہیئے تھے ایسے نوجوان لوگ جو دکھ میں بھی راستہ نکالتے ہوے سورماؤں کی طرح جیون کی راہ پر امنگ اور خوشی کے ساتھ چلتے ہی رہیں۔ پیار کی ناکامی کے کارن دکھ سے چُور ہو کر مر جانے کا نام جیون نہیں۔ جیون تو اِسی کو کہتے ہیں جو اپنے پیار کی یاد کو من میں سنجو کر فرض کی ادائیگی موت تک کرتا ہے۔ جوانوں کو اِس نتیجے پر پہنچانے والی مقصدی اور اُمید پرست فلم بنانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ ‘دیوداس’ کے کارن نا امیدی کی جو لہر اٹھی تھی، اس کو روکنا سماجی مفاد کے لیے بے حد ضروری تھا۔

اسی سوچ سے میں نے اپنے معاون بھاسکرراؤ امینبل کو سارا خیال بتا دیا اور اس پر ایک کہانی کا موٹا خاکہ بنا کر لانے کو کہا۔ اس خاکے کے مطابق نئی فلم کے بارے میں ہمارے خیالات دھیرے دھیرے واضح ہوتے گئے۔ ‘دیوداس’ کی اصل کتھا مشہور بنگالی لیکھک شری چندر چٹرجی کی تھی۔ وہ بہت ہی مضبوط قلم کے دھنی تھے۔ ان کی یاس پسند فکر کو کرارا جواب دینے والی کہانی تیار کرنے کے چیلنج کو میں نے خود پہل کر قبول کیا۔

ظاہر ہے کہ محض بذلہ سنجی اور محاوروں سے بھرے مکالمے ایسے اثر کی تخلیق نہیں کر سکتے تھے، کہانی تو ایسے آدمیوں کی ہونی چاہیئے جو بالکل ہی سادہ اور عام جیون جیتے ہیں۔ وہ لوگ چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کا سکھ دکھ بھی عام ہوتا ہے۔ اپنے خوف، ہمت، خوبی، خامی وغیرہ کے کارن ہی وہ لوگ آدمی کہلاتے ہیں، آدمی لگتے بھی ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ ان کے جیون پر مبنی کہانی ہو۔ اس طرح جانے انجانے میں ہی نئی فلم کا نام ‘آدمی’ طے ہو گیا۔

سوچا کہ ‘آدمی’ کا ہیرو راستے پر گشت لگاتا ایک معمولی پولیس والا ہو۔ پولیس کو ڈیوٹی کرنے کے لیے کسی بھی محلے میں جانا پڑتا ہے۔ اس کام میں اس کا شہر کے مختلف طبقے کے لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے۔ اِسی چکر میں ایک دن جوے کے ایک اڈے پر چھاپہ مارتے سمے اس معمولی پولیس والے یعنی ہمارے ‘آدمی’ کے ہیرو کی ملاقات ایک ویشیا سے ہو جاتی ہے۔ اس کے من میں اس ویشیا کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ دونوں میں آگے چل کر میل جول بڑھتا جاتا ہے یہ تھا اِس سکرین پلے کا آغاز۔

اِس کے لیے ہم لوگوں نے پولیس والوں کا گھریلو جیون، ان کے مکانوں کی حالت اور پریڈ جا کر دیکھی۔

اب باری تھی ویشیاؤں کے جیون کو غور سے دیکھنے کی! اِس کے بارے میں ہم نے کئی کہانیاں سنی تھیں۔ لیکن صرف سنی سنائی باتوں پر کہانی لکھتے تو وہ حقیقت سے دور رہ جاتی۔ اس لیے ویشیاؤں کے چکلوں میں جا کر اُن کے جیون، رہن سہن، اُن کی کٹھنائیاں اور سوال وغیرہ کا خود معائنہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، یہ جان کر میں اور بھاسکرراؤ بمبئی گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر کے ایک واقف کار دتارام کو ہم نے پکڑا۔ اُس کی مدد سے ہم ہر رات چکلہ بستی میں جانے لگے۔ میں تو کبھی پان تک نہیں کھاتا تھا۔ لیکن یہ جتانے کے لیے کہ میں اِس بستی میں روز کا آنے والا ہوں، میں دو تین پان چبا کر ہونٹ لال کر لیتا، بِنا ٹوپی کے گھومتا، اور شکل ایسی بنا لیتا کہ کچھ نہ پوچھیے۔ بال بکھرے ہوے، کپڑے مٹ میلے اور سلوٹیں پڑے ہوے، منہ میں پان، رنگیلے ہونٹ۔۔۔ ایسے جاتا تھا میں اس بستی میں۔ سب سے آگے ہوتا تھا ہمارا رہبر دتارام، اس کے پیچھے میں، میرے پیچھے پیچھے بابوراؤ پینڈھارکر اور سب سے آخر میں پسینے پسینے ہو رہے بھاسکرراؤ، ایسی ہوتی تھی ہماری پلٹن کی تیاری۔

ہمارا رہبر دتارام دھندا کرنے والا یا ویشیاؤں کا کوئی بھڑوا نہیں تھا۔ یقیناً وہ ایک سماج سیوک تھا۔ اسے سب طرح کی چکلہ بستیوں کی جانکاری تھی۔

شروع میں ہم لوگ نچلے طبقے کی چکلہ بستی میں گئے۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر مجھے تو گِھن سی آ گئی۔ ایک کمرے میں رسی باندھ کر اُس پر پرانے کپڑے پردے جیسے ڈالے گئے تھے اور ان کے پیچھے ایک جوڑے کے سونے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس طرح سے چار پانچ ‘بیڈ’ اسی کمرے میں بنائے گئے تھے۔ باہر صحن میں ایک لڑکی بالوں میں کافی تیل ڈالے، چہرے پر پوڈر پوت کر ہونٹوں پر بھڑکیلی لپ سٹک لگائے کسی گاہک کے ساتھ بڑے پیار سے اِٹھلا رہی تھی۔ تبھی اندر سے شراب کے نشہ میں دھت ایک شخص اپنے کپڑوں کو سنوارتا ہوا باہر آیا۔ اس کے پیچھے پیچھے اُسی طرح سے تڑک بھڑک کاسٹیوم پہنے ہوئی ایک لڑکی بھی باہر آئی۔ وہ کھلکھلا کر ہنستی ہوئی اس آدمی کے کپڑوں کو کھینچنے لگی۔ صحن میں کھڑی وہ لڑکی فوراً ہی اپنے گاہک کو ہاتھ پکڑ کر اس مٹ میلے پردے کی اوٹ میں لے گئی۔

من گِھن سے بھر گیا تھا۔ لیکن چہرے پر اس کا ذرا بھی احساس نہ دکھاتے ہوے ہم وہیں بے شرمی سے ہنستے ہوے کھڑے رہے۔ ایک بڑھیا ہمارے پاس آئی۔ اس کا پہناوا بھی چمک دمک والا تھا اور رنگ روغن بھڑکیلا۔ اپنی عمر سے سیدھی بے میل شوخی اور ادا سے عاشقانہ ادا پھینک کر اس نے ہنستے ہوے کہا، “تھوڑا صبر کیجئے۔ ابھی ایک ایک لڑکی خالی ہوئی جاتی ہے۔ پھر وہ آپ لوگوں کو اندر لے جائیں گی۔۔۔ آپ کو بہت ہی جلدی ہو، تو میں جو حاضر ہوں!”

میں نے اُس بڑھیا کا اپنی فلم میں کہیں نہ کہیں کچھ استعمال کرنا طے کیا۔

لوگوں کی اتنی آمد ورفت میں ویشیا جیون اور ان کے کاروبار کے بارے میں کچھ اور جانکاری حاصل کرنا ناممکن ہی تھا۔ وہاں تو بیٹھنے تک کے لیے جگہ نہیں تھی۔

دوسرے دن ہم نے کچھ اونچے طبقے والی چکلہ بستی میں جانا طے کیا۔ کینیڈی برِج پر ایک گووا والی رہتی تھی۔ اس کے یہاں جانا تھا۔ لیکن ہمارے کتھا لیکھک بھاسکرراؤ وہاں آنے کو تیار نہیں ہو رہے تھے۔ اُن کے بڑے بھائی وہیں کہیں آس پاس رہتے تھے۔ کسی نے اُس بائی کے کوٹھے پر جاتے دیکھ لیا تو خیر نہیں، یہ خوف انہیں وہاں جانے سے روک رہا تھا۔ وہ کافی ٹال مٹول کرتے رہے، لیکن میں نے انہیں چھوڑا نہیں۔ آنکھیں بند کر چوری سے دودھ پینے والی بلی کی طرح بھاسکرراؤ بِنا اِدھر اُدھر دیکھے، سر جھکائے سیدھے اس بائی کے کوٹھے میں گھس گئے۔

بائی کے گھر کی سجاوٹ عام مڈل کلاس کے لوگوں کے گھروں جیسی تھی۔ بائی نے ہمارے لیے پان بنوائے اور بڑی نشیلی ادا سے دیکھتے ہوے ہمیں دے دیے۔ اس نے ایک گانا بھی سنایا۔ اس کا گانا ایک دم معمولی تھا۔ اُس کے من کی بات جاننے کے لیے ہم نے اس سے باتیں شروع کیں۔ لیکن اس کی باتوں سے ہم ایک بات جان گئے: ویشیا کے یہاں آنے والے لوگ صرف لطف لینے کے لیے ہی آتے ہیں، لہذا انہیں اپنی بھلی بُری آپ بیتی سنا کر دکھی کرنا کہاں تک مناسب ہے؟ اسی بھاونا سے وہ اپنے من کی ذرا بھی گہرائی پانے نہیں دے رہی تھی۔ اس کے رویے میں اتنی فارملیٹی تھی کہ ہمیں وہ ذہنیت وہاں مل پانا لگ بھگ ناممکن لگنے لگا تھا، جس کی کہ ہمیں تلاش تھی۔ ہم نے اسے سو روپے دے دیے، اور فوراً وہاں سے کھسک آئے۔ کل کی طرح آج کا دن بھی اس طرح بے کار گیا تھا۔

میں ‘آدمی’ کی ہیروئین کی تلاش میں تھا، لیکن قِسم قِسم کے چکلوں کے زینے چڑھنے اترنے کے باوجود وہ مجھے مل نہیں رہی تھی۔ ایک رات دتارام ہمیں ایک ایسی جگہ پر لے گیا جہاں ایک ٹھیک ٹھاک چہرے والی ادھیڑ گوری عورت نے ہمارے سامنے اپنی پسند چننے کے لیے سات آٹھ جوان لڑکیوں کو کھڑا کر دیا۔ سب نے مجھے دیکھا۔ میں بھی کسی پرانے کھلاڑی کی نظر سے انہیں دیکھنے لگا۔ شاید ابھی ابھی اس کاروبار میں آئی لڑکی اپنا درد دل بتلا دے گی، یہ سوچ کر میں نے ان میں سے ایک خوبصورت لڑکی کو پسند کیا۔ اوپری منزل کے ایک کمرے میں وہ مجھے لے گئی۔ اس کمرے میں لکڑی کی ایک پارٹیشن لگی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں ایک پلنگ اور ایک کرسی جیسے تیسے جمع کر رکھی تھی۔ نیچے دیوان خانے میں دتارام، بابوراؤ پینڈھارکر اور بھاسکرراؤ میری راہ دیکھ رہے تھے۔

کوئی آدھ گھنٹے کے بعد میں نیچے آیا۔ وہ سب لوگ شرارت سے مسکرا رہے تھے۔ ہم سب لوگ وہاں سے چلنے کو تیار ہوے۔ زینے کی سیڑھیاں اترنے ہی لگے تھے کہ اس ادھیڑ کُٹنی نے میرے گھنگھرالے بال پکڑ کر کھینچے اور اپنی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی، “اجی، یہ بھی اچھا خاصا تجربے کار مال ہے!” میں نے اپنے بالوں کو جھٹکا دے کر چھڑا لیا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر آیا۔

دوسرے دن شام ہو جانے کے بعد چکلہ بستی میں گھومنے کے لیے ہم نے ایک وکٹوریہ کرائے پر لیا۔ وکٹوریہ میں بیٹھتے ہی دتارام نے میرے چرن چھو لیے اور کہنے لگا، “آپ واقعی دیوتا ہیں!”

میں نے اسے کندھے پکڑ کر اٹھا لیا۔

بھاسکرراؤ نے پوچھا، “دیوتا؟”

“اور نہیں تو؟ اجی کل آپ اس جوان چھوکری کو لے کر اوپر گئے اور ویسے ہی سوکھے رہ کر نیچے چلے آئے۔ لیکن اِن کے اس طرح سب سے نیارے طرز عمل کے کارن آج مجھے کافی کچھ بھلا بُرا سننا پڑا۔”

بابوراؤ اور بھاسکرراؤ دونوں میرا منھ تاکتے رہ گئے۔

بابوراؤ نے دتارام سے پوچھا، “کیوں، اور کیا ہو گئی بات؟”

“ہونا جانا کیا تھا؟ چکلے کی اس کٹنی نے آج مجھے بلا بھیجا اور پھٹکارتی ہوئی بولی کل تم نے جس آدمی کو لایا تھا، وہ چھوکری کو لے کر اوپر گیا۔ وہ چھوکری اس کے سامنے ننگی ہو گئی لیکن وہ سُسرا اس کے سنگ سویا ہی نہیں۔ بےکار کی پوچھ تاچھ کرتا رہا۔ لگتا ہے شی۔آئی۔ڈی C.I.D)) کا آدمی ہوے گا۔ پھر کبھی ایسے شی۔ آئی۔ڈی والے کو اِہاں لائے تو میری جوتی ہو گی اور تیرا سر، سمجھے؟”

بابوراؤ سے رہا نہیں گیا۔ انہوں نے حیرانی سے پوچھا، “یعنی شانتارام بابو۔ پھر آپ اوپر جا کر آخر کیا کر آئے؟”

“کچھ بھی تو نہیں۔ اوپر گیا۔ جاتے ہی وہ بائی پلنگ پر لیٹ گئی اور ”چلو! آؤ!! بیٹھو!!!” کہہ کر مجھے اپنے پاس سونے کی درخواست کرنے لگی۔ میں نے اُس سے کہا، “اری، ایسی بھی کیا جلدی پڑی ہے؟ آؤ، پہلے کچھ باتیں کر لیں۔” ــ سچ تو یہ تھا کہ میں اس سے پہلے کے اس کے جیون کے بارے میں کچھ باتیں جاننا چاہتا تھا۔ اسے تھوڑا پچکار کر، سہلا سہلا کر سہج بھاؤ سے اس سے ساری باتیں نکلوانی چاہیئے تھیں۔ لیکن ایسے موقع کے لیے میں بھی تو ایک دم اناڑی تھا۔ اس لیے میں نے اسے سیدھے رنگیلے ڈھنگ سے پوچھا، ”تم کس گاؤں سے آئی ہو؟‘‘ اس پر وہ جَھلّا کر بولی، “تم کو کیا کرنا ہے؟ آؤ، بیٹھو!”

“میں تو کرسی سے مانو چپک کر ہی بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا، “اری! یہ بیٹھو، بیٹھو، کیا لگا رکھا ہے؟ پہلے کچھ باتیں ہو جائیں۔ اچھا بتاؤ، تم اپنی خوشی سے یہاں آئی ہو کیا؟ یا کوئی تمہیں ورغلا کر، دھوکا دے کر یہاں پھنسا گیا ہے؟”

“اس چھوکری کو میری اِن باتوں پر کافی غصہ آیا۔ پاس ہی والے پارٹشن کی طرف منہ کیے وہ زور زور سے بڑبڑانے لگی۔ وہ کنڑ بھاشا میں بول رہی تھی۔ پارٹشن کے اُس پار سے بول رہی عورت نے اسے چیتاونی دی کہ مجھے کوئی بھی جانکاری نہ دے۔ کنڑ میں تھوڑی سمجھ لیتا تھا، اسی لیے میں یہ بات جان سکا۔”

“اس کے بعد کافی دیر تک اس کا ‘آؤ، بیٹھو’ جاری تھا۔ میں نے لاکھ کوششیں کیں کہ اس کا نجی جیون معلوم کر لوں، لیکن کچھ بھی ہاتھ نہ لگا۔ اس کا ریٹ دو روپے تھا۔ میں نے اس کے ہاتھ پر پانچ پانچ کے پانچ نوٹ رکھ دیے اور چلنے کو تیار ہوا۔ اس نے مجھے روکا اور بولی، “تو ہم پر بیٹھا نہیں اور پیسہ کیوں دیتا ہے؟ ہم کو نئ (نہیں) چییے پھوکٹ (چاہیے مفت) کا پیسہ!”

“ایک ویشیا کے منہ سے ایسے معتبر خیالات سن کر مجھے کافی حیرانی ہوئی۔ میں نے اس کے ہاتھوں میں ان نوٹوں کو زبردستی ٹھونس دیا اور کمرے سے باہر چلا آیا۔” یہ سارا قصہ سن کر سبھی لوگ حیرت میں پڑ گئے۔

اس کے بعد اور پانچ چھ دن ہم لوگ مختلف چکلوں پر گئے، لیکن ہمیں ایسی ویشیا نہیں ملی جو اپنی صحیح کہانی دل کھول کر ہمیں بتاتی۔ ہوا اتنا ہی کہ ہمیں الگ الگ ڈھنگ کا ماحول، طرح طرح کی شخصیت اور ان کے جذبات وغیرہ دیکھنے کو ملے۔ اِدھر اُدھر کی تھوڑی بہت جانکاری بھی ملی، لیکن ہیروئین کی شخصیت کی اچھی کہانی کہیں نہیں مل رہی تھی۔ ہر روز ان غیر مہذب بستیوں میں بے کار ہی جانے سے ہم لوگ اوب چکے تھے۔

رات ہو گئی۔ روز کی منڈلی چالو ہو گئی۔ آج جہاں گئے، وہاں دو ادھیڑ عورتیں ملیں۔ کمرا اچھا خاصا بڑا تھا۔ اسی کمرے میں ایک کونے میں پردہ لگوا کر اوٹ تیار کی گئی تھی۔ ان دونوں عورتوں میں ایک بہت ہی باتونی تھی۔ دتارام کو دیکھتے ہی اس نے کہا، “ارے، اتنے دن کہاں چھپا بیٹھا تھا؟” بعد میں فوراً ہماری جانب مڑ کر بولی، “آئیے، آئیے۔ بیٹھیے۔ چائے لیں گے نا آپ؟” کہتی ہوئی ہمارا جواب جاننے سے پہلے ہی میرے بدن پر جھکتی ہوئی کھڑکی سے نیچے دیکھ کر زور سے آواز لگائی، “اے چائے والا، چار چائے بھیجنا۔”

نیچے سے لوٹتی آواز میں سوال آیا، “سنگل یا ڈبل”

”ڈبل!” اس نے جواب دیا اور ہماری طرف ہنس کر دیکھتے ہوے آنکھ مارتی ہوئی شوخی سے کہنے لگی، “کیا پوچھتا ہے گدھا کہیں کا؟ اِہاں سب ڈبل ہی لگت (لگتا) ہے!”

اپنے اس فحش مذاق پر خوش ہو کر وہ خود ہی کھی کھی کھی کر ہنسنے لگی۔ ہم بھی اس کی ہنسی میں شامل ہو گئے۔ ‘ڈبل’ کہنے کی اس کی ادا مجھے اچھی طرح یاد رہی۔ وہ بائی ان پڑھ تھی۔ اس کی بول چال دیہاتی شہراتی کھچڑی تھی۔ اس کی بولی میں کنڑ، پنجابی، گجراتی وغیرہ کئی بھاشاؤں کی ملاوٹ تھی۔

میں نے سہج بھاؤ سے اس سے کہا، “تمہارے اس کاروبار کے کارن تمہیں شاید ناٹک، سنیما دیکھنے کا سمے نہیں ملتا ہوگا، ہے نا؟”

اس پر وہ دھڑلے سے کہنے لگی، “کیوں، اِہاں ہم لوگ کیا جیل میں بیٹھے ہیں؟ تین کا شو ہم تھئیٹر میں دیکھتے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے اپنا گاہک بھی ڈھونڈ لیوت ہیں۔ پھر چلے آوت ہیں وہ لوگ ہمرے پیچھے پیچھے!” لیکن فوراً ہی وہ سٹپٹا گئی اور بولی، “لیکن وہ ہمرا راجہ بنت ہے خالی گھڑی دو گھڑی کو!”

باتیں کرتے کرتے اب وہ کافی کھلتی جا رہی تھی۔ اس سے اور زیادہ کہلوانے کے لیے میں نے کہا، “حال میں کون سا سنیما دیکھا تم نے؟”

“دو چار دن پہلے دیکھا وہ ‘دنیا نہ مانے’ بہوت بڑھیا تھا! کچھ بھی کہیو، وہ شانتارام سالا سنیما بہوت بڑھیا بناوت ہے!”

میرے نام پر اس نے جو گالی جوڑ دی، سن کر ہم سبھی کو بڑی ہنسی آئی۔ پھر ہم لوگوں نے اس کے منہ سے ‘دنیا نہ مانے’ کی کہانی سنی۔ لیکن کہانی سناتے سناتے اس نے اس میں اپنے من سے اتنی تبدیلی کر دی، کہ میں خود تذبذب میں پڑ گیا کہ میری ڈائرکٹ کی ‘دنیا نہ مانے’ یہی تھی یا کوئی اور۔ تبھی وہ چائے والا چھوکرا چائے لے کر آیا۔ اس کی وہ میلی کچیلی پلیٹیں، گھسے پٹے کپ، لال کالی چائے وغیرہ دیکھ کر اس چائے کو پی پانا میرے لیے مشکل سا لگ رہا تھا۔ لیکن بے کار ہی اپنے بارے میں کوئی شک کھڑا نہ ہو، اس وچار سے میں نے وہ چائے جیسے تیسے پی لی۔

چائے پان کے بعد وہ اور بھی کُھل گئی۔ اپنے جسم کے چھپے انگوں کے بارے میں وہ کھلم کھلا اس ڈھنگ سے بولے جا رہی تھی کہ ایسا لگتا تھا، وہ اپنے آپ کو ایک زندہ ناری نہ مان کر مردوں کی ہوس مطمئن کرنے کی ایک مشین سمجھ رہی ہے۔ باتیں کرتے کرتے وہ اچانک سیدھے میری گود میں آ کر بیٹھ گئی اور بولی، “چاہیں تو آپ خود پڑتال کر دیکھ لیجیے!”

میں پس و پیش میں پڑ گیا۔ اتنی کوشش کرنے کے بعد ایک ویشیا ملی جو کھل کر باتیں کر رہی تھی۔ اب میرے دقیانوسی رویے سے کہیں اس کے من میں شُبہ جاگا تو سارا گُڑ گوبر ہو جائےگا! میں اسی حالت میں بیٹھا رہا۔ لیکن اس بار دتارام نے میری مدد کی۔ وہ لپک کر آگے آیا اور اس نے اسے اٹھا کر ایک طرف ہٹایا۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ نظر اٹھا کر سامنے دیکھا، تو وہاں بھگوان کی تصویر ٹنگی دیکھی۔ تصویر پر چڑھائے گئے پھول تازہ تھے۔ میں نے جان بوجھ کر کھسیانے کے لیے اس بائی سے پوچھا، “کی ماں کو، یہاں تم ایسا گندہ بولتی ہو اور وہاں بھگوان کی تصویر لٹکا کر اس پر پھول بھی چڑھاتی ہو!”

جیسی کہ مجھے امید تھی، وہ ایک دم جھلّا اٹھی۔ میری بات کو بیچ میں ہی کاٹ کر بولی، “اے صاب! تم ہم کو کیا سمجھتا ہے؟ ہر روز سویرے اٹھ کر بھگوان کی پوجا کیے بِنا ہم منہ میں پانی تک ناہیں ڈالت ہیں، سمجھا؟”

میں دنگ رہ گیا۔

“تم کو کیسے پتہ ہوے گا، ہم موئی یہ دھندا کیوں کرت ہیں؟ ہم کو اچھا لگت ہے اس لیے؟ صاب، ہمری پیڑھا ہم ہی جانت ہیں! کبھی کبھی ایسا بھی ہووے ہے کہ کوئی گاہک آتا ہی نہیں۔ پھر تو گھر کا برتن بھانڈا گروی رکھ کر چولھا جلانا پڑت ہے! اور تب بھی منہ پِچکا کر ہنس کر نئے گاہک کی باٹ جوہنا (انتظار کرنا) پڑت ہے! کچھ پھوکٹ والے موالی شراب پی کر آوے ہیں۔ ان کو بھی ناراض کیسے کر پاوے؟ تو ان کی آگ میں بھی اِی شریر (جسم) جھونکنا پڑے ہے۔ کمرے کا کرایہ لینے کے لیے مکان مالک کا نوکر آوت ہے، تو اس کو بھی خوش کرنا ہی پڑے ہے! زندگی ایک دم نرک بن گئی ہے نرک!”

“کبھی کوئی بڑا آدمی بنا آوت ہے۔ ہمرے ادھار (نجات) کی یا نہ جانے کاہے کاہے کی، لمبی چوڑی ڈینگیں ہانکت ہے اور خود رات ما ہمرے سنگ رنگ رلی اڑا کے منھ اندھیرا ما چور کی نائی (چور کی طرح) منھ چھپائے بھاگ جاوت ہے!”

“صاب، کبھی کبھی لاگے ہے، اِی گندا کام چھوڑ چھاڑ کے چنگی زندگی جیوے، پر دو جون کھانے کو کون دیوے گا؟ اُدھر ہمرے گاؤں میں ماں باپ ہیں، چھوٹے بھائی بہن ہیں، سبھی کو لالے پڑ جاویں گے نا۔۔۔ صاب، اِہاں کوئی نوکری ڈھونڈنے آئی ہتی میں، پر کون دیوے ہے نوکری؟ تو بس سہیلی کے سنگ لگ گئی اسی دھندے ما۔۔۔”

اس کا درد پھوٹ پھوٹ کر سامنے آنے لگا تھا۔

بیچ میں وہ چپ ہو گئی۔ پھر یکایک بولی، “صاب تم لوگ ایہاں مزہ لوٹن کے واسطے آئے اور میں موئی اپنی کرم کہانی سنان لگی۔ چھما (معاف) کرو صاب!”

سچ پوچھو تو مجھے اس کی باتوں سے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے اسے ویسا بتا بھی دیا۔ پھر ساری رات وہ ہمیں اپنے جیون کے ایک سے زیادہ واقعات جی کھول کر سناتی رہی۔ اس کا من اتنا دو ٹوک ہو گیا تھا کہ جیون میں بیتی اور ہر دن دن بیت رہیں گندی گھناؤنی باتیں وہ بے شرمی کے ساتھ کھلے عام کہتی جا رہی تھی۔ اس کی بھاشا بہت ہی بھدی اور فحش تھی۔ جذبات میں تو اتنی مسخ تھی کہ وہ جو کچھ بتا کر دکھا رہی تھی، اس کا دس فی صد بھی میں اپنے فلم میں لا نہیں سکتا تھا۔ اور لاتا بھی، تو یقینی ہی سنسر اسے ہرگز پاس نہیں کرتا۔ اس کے درد اور تکلیف نے میرے دل کو ہلا دیا۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین اپنی تمام بے عزتی اور قابل رحم درد دل کے ساتھ زندہ ہو کر میرے سامنے کھڑی تھی۔

بمبئی سے لوٹا تو معلوم ہوا کہ داملے جی اور فتے لال ‘گوپال کرشن’ کے باہری شوٹنگ کے لیے بمبئی کے پاس ہی ڈونبِولی گئے ہیں۔ پندرہ دن ہو گئے شوٹنگ کے لیے گئے ان کے گروپ کے واپس آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔ کام بھی کوئی خاص زیادہ تو تھا ہی نہیں۔ میں سوچ میں پڑ گیا۔ تبھی بابوراؤ پینڈھارکر کا فون آیا کہ ”آپ خود یہاں آ کر ایک بار شوٹنگ کے کام کو دیکھ جائیں۔” میں ڈونبِولی گیا۔ شوٹنگ کافی دھیمی رفتار سے چل رہی تھی۔ فوراً شوٹنگ کی ساری ذمہ داری میں نے اپنے ہاتھ میں لی اور چار پانچ دن میں وہاں کا سارا کام پورا کر پُونا واپس لوٹ آیا۔ پُونا لوٹتے ہی سٹوڈیو کے کھلے احاطے میں ایک سیٹ کھڑا کیا اور اس پر بھی شوٹنگ شروع کر دی۔

ایک دن دیکھا کہ داملے جی، فتے لال شوٹنگ کا کام بیچ ہی میں روک کر آرام سے بیٹھ گئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے — “شوٹنگ کرتے سمے ہمیں غش کھا کر گرنے جیسا لگا، یہ چلچلاتی دھوپ ایک دم ناقابل برداشت ہو رہی ہے۔”

میں نے ان سے کہا، “کوئی بات نہیں۔ آپ یہیں آرام کریں، شوٹنگ میں کیے دیتا ہوں۔”میں فوراً باہر آیا اور وہاں کی ساری شوٹنگ پوری کر لی۔

کنس کے سینا پتی (سپاہ سالار) کیشی نے کرشن کو اپنے کیمپ میں قیدی بنا لیا ہے۔ اسے رہا کرانے کے لیے کرشن کے گوپ گوالے ساتھی گایوں اور بیلوں کا گروہ لے کر کیشی کے کیمپ پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ کیشی اور اس کے سپاہیوں کی ناک میں دم کر دیتے ہیں۔ یہ سین شوٹنگ کے نقطہ نظر سے بے حد کٹھن تھا۔ اس میں براہ راست گائے بیلوں اور ان کی ‘ڈمیز’ کا استعمال ناممکن تھا۔ سین کو انتہائی پراثر بنانا ضروری تھا۔ اس سین کا پورا آوٹ ڈور شوٹ بھی داملے جی فتے لال جی کے کہنے پر مجھے ہی کرنا پڑا۔

‘گوپال کرشن’ کی ایڈیٹنگ کا کام شروع ہوا۔ لیکن اس کے ڈائرکٹر داملے جی اور فتے لال بھولے سے بھی ایڈیٹنگ روم کے پاس نہیں آئے، نہ ہی انہوں نے کبھی یہ بھی پوچھا کہ ایڈیٹنگ کا کام کہاں تک آیا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے انہیں اس ‘گوپال کرشن’ سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔

‘گوپال کرشن’ ریلیز ہو گئی۔ اس نے بڑی شہرت حاصل کی۔ اس میوزیکل فلم کے گیت لوگوں کو بہت ہی پسند آئے۔ اس میں کھیل کھیل کے جو سین ڈالے ان کو تو ناظرین نے سر پر اٹھا لیا۔ ‘گوپال کرشن’ کے ریلیز ہونے کے دوسرے دن اس کے سکرین پلے لیکھک شِورام واشیکر، بابوراؤ پینڈھارکر آفس میں مجھ سے ملنے آ گئے۔ دیکھتے ہی انہوں نے کہا، “شانتارام بابو، ‘گوپال کرشن’ کی کہانی کا کریڈٹ لینے میں مجھے بڑی ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔

“اجی وشیکرن جی، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟”

“سچ ہی تو کہہ رہا ہوں۔ اس کے خاص سین، اس کی بذلہ سنجی کے ساتھ میں نے ویسے کے ویسے اتار لیے جیسے آپ نے بتائے تھے۔ آپ بتاتے گئے، میں لکھتا گیا۔ لہذا اس کا سارا کریڈٹ اصل میں آپ کو جانا چاہیے، آپ کی محنت کو ملنا چاہیے۔ میری یہی پکی سوچ ہے، اور پریس کانفرنس بلا کر میں اس کا اعلان بھی کرنے جا رہا ہوں۔”

“نہیں، نہیں۔ ویسا آپ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ آپ کا کرِئیر اس میں مات کھا جائے گا۔ آپ کو جو لگتا ہے اسے آپ ایمانداری سے قبول کرتے ہیں، یہی کافی ہے۔ مجھ سے پوچھیں تو کہوں گا کہ یہ احساس ہی آپ کی مستقبل میں ترقی کا اشارہ ہے۔”

‘گوپال کرشن’ کی ریلیز کے سمے ہم سبھی لوگ بمبئی گئے تھے۔ وہاں بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں ایک بہت ہی اچھی خبر سنائی کہ بمبئی کا پوتھے سنیما (آج کل اس کا نام سوستک سنیما ہو گیا ہے) بیچا جانے والا ہے۔

‘پوتھے’ سنیما میں گیلری وغیرہ کچھ بھی نہیں تھی، اسی لیے مجھے وہ بہت پسند تھا۔ بمبئی میں ‘پربھات’ کی فلم کی ریلیز کے لیے اس سنیما گھر کو خرید لینے کی رائے سب نے ظاہر کی۔ اس سے پہلے پُونا کا ‘پربھات تھئیٹر’ بھی ہم لوگوں نے لیا تھا اور اس کا کامیاب استعمال ہم کر رہے تھے۔ ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر کو ‘پوتھے’ کے مالک سے فوراً ملنے کو کہا اور اس سے باتیں کر کے ضروری دستاویز اور کانٹریکٹ وغیرہ بنوا لینے کے بھی ہدایات دیں۔ داملے جی پُونا گئے۔ میں اور فتے لال جی دو دن بمبئی میں ہی رہے۔ ہم دونوں ‘پوتھے’ سنیما دیکھنے کے لیے گئے۔ فتے لال جی بڑے چاؤ سے مجھے سمجھا رہے تھے کہ ایک فلم کی نظر سے اس تھئیٹر میں کیا کیا تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ میں بھی تکنیکی نظر سے اس تھئیٹر کا ٹھیک ٹھیک معائنہ کر رہا تھا۔ بابوراؤ ہمارے ساتھ ہی تھے۔ اپنی ہمیشہ کے اتاولے پن سے میں نے ان سے کہا، “آج ہی سودا پکا کر سیل پتر تیار کروا لیجیے۔”

بابوراؤ نے کہا، “میں نے کل ہی انہیں ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کی پیشکش کی ہے۔ کل تک راہ دیکھتے ہیں۔ دوسری صورت میں ان کی مانگ کے مطابق ڈیڑھ لاکھ روپے میں سودا طے کیے لیتے ہیں۔” میری بہت دنوں کی چاہ تھی کہ ‘پربھات’ کی بنائی فلم ریلیز کرنے کے لیے ملک بھر میں سنیما گھروں کی ایک سیریز ہو۔ اب اپنا وہ سپنا کچھ کچھ سچ ہوتا دیکھ کر میرا من کافی پرجوش ہو اٹھا۔

پُونا لوٹنے کے بعد دوسرے دن سویرے کمپنی کا اخبار دیکھ رہا تھا کہ داملے جی، فتے لال جی اور سیتارام پنت کلکرنی میرے آفس میں آئے۔ انہیں دیکھتے ہی میں نے کافی جوش سے پوچھا، “سیتارام بابو کو ‘پوتھے’ کے بارے میں وہ خوش خبری دی نہ آپ نے؟”

انہوں نے ‘ہاں’ کہا۔ لیکن سب کے چہرے بہت ہی گمبھیر دکھائی دے رہے تھے۔ داملے جی نے پوچھا، “کیا ‘پیسے’ کا قرارنامہ ہو گیا ہے؟”

“نہیں، لیکن بابوراؤ سے اسے فائنل کرنے کے لیے ہم کہہ آئے ہیں۔ ممکنہ آج ہو جائے گا۔”

داملے جی نے گمبھیر ہو کر کہا، “میری راۓ میں ہمیں وہ تھئیٹر نہیں خریدنا چاہیئے!”

داملے جی کی وہ بات سن کر مجھے دھچکا لگا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، داملے جی نے ہی آگے کہا، “پیسے کی زمین تھئیٹر کے مالک کے پاس لمبی لیز پر ہے۔”

“جی ہاں، اسی لیے تو وہ تھئیٹر ہمیں اتنی کم قیمت پر مل رہا ہے۔”

اُس جگہ کا ماہانہ کرایہ تین ہزار روپے ہے۔ اتنے بھاری خرچ کا بوجھ ہم اپنے اوپر لیں، یہ ہمیں پسند نہیں!” میرا اپنا ماننا تھا کہ کاروبار اور ‘پربھات’ کی شہرت کی نظر سے تھئیٹر کو خریدنا بہت اہم ہے۔ میں دلیل کرنے لگا، “اجی، پُونا کا ‘پربھات’ سنیما گھر بھی لیز پر ہی تو ہے۔”

“لیکن اس کا کرایہ اتنا زبردست نہیں ہے۔ میری رائے میں ہر ماہ تین ہزار روپے کا بوجھ ہمیں ہرگز نہیں اٹھانا چاہیے!”

“آپ ایک بات دھیان میں رکھیں۔ ‘سینٹرل’ اور ‘کرشن’ سنیما گھروں کے مالک بھی لیز کا بھاری کرایہ دیتے ہیں اور وہاں ہمارے ‘پربھات’ کی فلم ریلیز کر وہ ہر سال پچاس پچاس ہزار روپے کا منافع کما لیتے ہیں۔ پھر ہم ہی اس بات سے کیوں ڈریں؟ یہ بھی تو سوچئے کہ دیگر شہروں میں اس طرح ‘پربھات’ کے اپنے سنیما گھر ہوں تو ہر بار سنیما گھر کرائے پر لینے میں ہمارا جو پیسہ خرچ ہو جاتا ہے، اس میں کتنی بچت ہو گی؟”

میرے ان بیوپاری اور کاروباری دلائل کا بھی داملے جی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ میں مایوس ہو گیا۔ آخر میں نے آج تک ‘پربھات’ کے زمانے میں بھی کبھی استعمال میں نہ لایا گیا ایک پینترا چلنے کا طے کیا۔ ہمارے حصہ داری کانٹریکٹ میں ایک دفعہ تھی کہ ‘پربھات’ کا سارا کاروبار ہمیشہ اکثریت سے چلایا جائے۔ اب اس دفعہ کا استعمال کرنے کا سمے آ گیا تھا! کل ہی میں اور فتے لال جی ‘پوتھے’ کی عمارت میں کھڑے کھڑے پتہ نہیں کیا کیا خیالی پلاؤ بنا چکے تھے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ فتے لال جی ضرور ہی میری سائیڈ لیں گے۔ سیتارام بابو پشتینی بیوپاری ہیں، میری کاروباری بات انہیں بھی پسند آ ہی جائے گی مجھے امید تھی۔ لہذا من ہی من مجھے یقین ہو گیا کہ اکثریت میرے حق میں ہو گی۔ اپنا غصہ دبا کر ہنستے ہنستے میں نےکہا، “اکثریت سے جو طے رہے گا، اسے ہی مان لیتے ہیں۔”

“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” داملے جی نے کہا۔

میں نے سب سے پہلے سیتارام بابو سے پوچھا۔ ان کا جواب میں دھیان سے سن رہا تھا۔

انہوں نے کہا، “میرا خیال ہے، داملے جی کی بات میں کافی وزن ہے!” میں سن کر ٹھنڈا پڑ گیا۔ پھر بھی لگاتار مسکرا کر میں نے فتے لال جی کی طرف دیکھا۔ فتےلال جی نے کہا، “داملے جی کی بات صحیح ہے!” سامنے ہی بیٹھے داملے جی کے چہرے پر جیت کی مسکراہٹ چمکنے لگی۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “تو پھر شانتارام بابو، بمبئی فون کر بابوراؤ پینڈھارکر سے کہیں گے نا آپ کہ سنیما گھر کے بارے میں آگے بات چیت نہ چلائیں؟”

میں مجبور تھا۔ بھاری من سے میں نے فون اٹھایا۔

Categories
فکشن

فارسی کہانیاں (جلد ۱) – تبصرہ نگار: آمنہ زریں

فارسی کہانیاں (جلد ۱)
انتخاب اور ترتیب: نیر مسعود
ناشر: آج کی کتابیں، کراچی

تبصرہ نگار: آمنہ زریں

کہانی کا طلسم،ہر عمر اور ہر دور کو مسخر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ طلسم، پتھر نہیں کرتا۔۔اثر رکھتا ہے۔چلتے دور کی ہر خوبی کو گہنائے ہوئے دیکھنا اور گئے وقت کی کرنوں کو سورج کرنا۔۔۔عمومی طور پر دل پسند انسانی مشغلہ ہے۔مگر وائے قسمت۔۔کہ یہ حال کی بدولت ہے۔۔۔جو نظر۔۔سماعت اور لمس کی حد میں ہے!

خود کو کائنات سمجھ لینا اور کائنات کا حصہ سمجھ کر زندگی گزارنے سے زندگی اور اس کے گزارنے والے۔۔۔دونوں کو فرق پڑتا ہے۔

اکیلا ہونا صرف خدا کو زیبا ہے اور اسی لئے کوئی کتنا بھی آدم بے زار ہونے کا دعوٰی کرے۔۔اکیلا نہیں رہتا۔۔۔!

ہر لمحہ جو زندگی کے نام پر رواں دواں ہے۔۔کہانی ہے!

ہر آنکھ۔۔جو دیکھتی ہے۔۔نکتے کی تصویر بنانے کی اہل ہے۔۔مگر وہ نکتہ کہاں سے کیا اٹھاتا ہے اور تصویر کے رنگ کتنے دل پذیر ہیں۔۔یہ بھی ایک منفرد صلاحیت ہے جو کہانی کاروں کو ودیعت کی جاتی ہے۔۔۔!

آج کی جدید دنیا۔۔حساس کیمروں اور تکنیکی مہارتوں کے سبب، ہماری منشا سے بے نیاز۔۔کانوں کان خبر کئے بغیر۔۔راز جاننے اور افشا کر دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔۔مگر۔۔اس ذہن رسا کو کیا کہیے۔۔کہ جس کی ہفت رنگی آج بھی نادر و کمیاب ہے!

سفر کو وسیلہ ظفر سنتے آئے ہیں اور عمر کے تدریجی مراحل نے یہ سکھایا ہے کہ سفر کے ظاہری اسباب اور وسائل میسر نہ بھی ہوں تو کچھ دیگر ذرائع پھر بھی موجود رہتے ہیں۔۔اب یہ آدمی کا اپنا انتخاب ہے کہ وہ کتنی لچک کا حامل ہے۔۔۔!

تو کہانی کہنے کی کہانی کتنی پرانی ہے۔۔۔؟

یہ تصور کی وہ زقند ہے جو پلک جھپکتے ہی بھری جا سکتی ہے۔۔کہ کہانی ہابیل اور قابیل جتنی پرانی ہے!

کہنے کو مرتی ہوئی ایک قوم کثیر۔۔۔سننے کا وصف بھی کھو بیٹھی ہے اور اسی سے نفسا نفسی برپا ہے!

خطوں کی عمر۔ روایات اور ان کی منتقلی۔۔افراد اور ان کے زمانے پر اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھ لینا۔۔اپنی حقیقت کو جان لینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جس خطے کا تعارف۔۔جامی، حافظ، فردوسی اور سعدی ہوں۔۔اور زبان۔ زبان شیریں کہلاتی ہو۔۔اس خطے پر قدم رکھنا۔۔اور حواس خمسہ کو ان پر گواہ کرنا۔۔اگر ہمارے لئے ممکن نہ ہو۔۔تو آئیے۔۔

کہانی کے اڑتے ہوئے قالین پر بیٹھتے ہیں۔۔۔!

پندرہ کہانیوں پر مشتمل فارسی کہانیوں کے ترجمے کی یہ پہلی جلد ہے، جن میں زیادہ تر کا بیانیہ علامتی ہے۔علامتی طرز بیان برتنا دراصل خود ایک سوالیہ نشان ہے جو جواب کا سراغ لگانے کی مہمیز فراہم کرتا ہے کہ وہ کون سے مسائل ہیں جن کے لئے براہ راست بیانیہ اختیار نہیں کیا گیا اور وہ کیا حالات ہیں جو علامت کو اظہار بنانے پر مجبور کرتے ہیں۔۔

مجبور سے جبر کی صدا تو آتی ہے۔۔اور جبر کسی بھی نوعیت کا ہو۔۔انسانوں کا مسلط کردہ ہو۔۔یا تقدیر کا۔۔ہر دو صورت میں۔۔سینہ سپر رہنا اعلیٰ ترین انسانی وصف کی بدولت ہے۔

تو چلتے ہیں پندرہ کہانیوں سے بنے۔۔اڑتے ہوئے۔۔ایرانی قالین پر۔۔جہاں سے ہمیں نظر آنے والے ہیں۔۔ایرانی سماج۔۔رہن سہن۔۔بول چال۔وہ کردار۔۔جو زبان، لباس اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔۔مگر ضرورت۔۔احساس اور غم میں ہمارے ہی جیسے لگتے ہیں!

پہلی کہانی ’’خواب ‘‘ہے۔۔

خوابوں سے عموما سہانے تصور مانوس ہوتے ہیں۔۔یا پھر تشنگی۔۔نا آسودگی اور حسرتیں۔۔

اس ’’خواب ‘‘کا دیکھنے والا مسلسل اپنے تعاقب میں ہے اور اپنی جان لینے کے در پے۔۔اور اپنے ہی قتل کے مقدمے پر سزا کا منتظر۔۔

مگر حقیقت کی تعبیر۔۔مسلط زندگی کی صورت میں۔۔آ موجود ہوتی ہے۔۔!

دوسری کہانی ’’ولادت ‘‘ ہے۔۔جسے عام انسانی فہم معمول کی اطلاع کے طور پر وصول کرتا ہے۔۔مگر اس کرب ناک تجربے سے وابستہ ایسے مہیب گھاو بھی ہو سکتے ہیں۔۔جن کا انت خالی دامن اور خالی کوکھ پر ہوتا ہو۔۔۔ایسے تجربوں کو بیان کرنا بھی۔۔۔دشوار گھاٹیوں سے گزرنے کے برابر ہے!

تیسری کہانی’’بارش اور آنسو ‘‘ہے۔۔جس میں دو عمر رسیدہ دوست ساحل سمندر کی سیر کرتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔۔اس دوران آپ کو ساحل پر موجود سیپیاں، گھونگھے۔۔خالی بوتلیں۔۔اور آسمان پر موجود بادلوں کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔۔مگر ساتھ ہی ساتھ۔۔آپ کی ہمزاد۔روح پر دستک دیتے کچھ گزرے لمحوں کی داستان سامنے آتی ہے۔۔۔جس کا مرکزی کردار ایک گھوڑا ہے!

گھوڑے کی محبت۔۔اور جدائی کے بیچوں بیچ برپا ہوئی جنگ۔۔قید اور بے بسی کی تصویر بنے قیدی۔۔۔

دونوں دوست جنگ کے جبر سے گزرے ہوئے تھے۔دونوں نے اپنے پالتو گھوڑوں کو اپنے سامنے جدا ہوتے دیکھا تھا۔

’’تمہارا چہرہ بھیگا ہوا ہے۔روئے ہو؟ ‘‘

’’اس عمر کو پہنچ کر آدمی روتا نہیں۔۔‘‘میں نے کہا ’’پانی برس رہا ہے ‘‘

’’پنجرے ‘‘ایک ایسی علامتی کہانی ہے جو روئے زمین پر موجود ہر ذی نفس، ہر ذی شعور پر منطبق کی جا سکتی ہے۔۔ایک آفاقی حقیقت کی طرح۔۔۔!

تخلیق کی صلاحیت ان دیکھے جہانوں سے آتی ضرور ہے، نمو، اپنے اردگرد سے ہی پاتی ہے۔اس کہانی میں پرندوں کو کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔۔جنہیں پر عطا کئے گئے۔۔ان کا فطری مقصد اڑنا ہے اور پنجرہ، ان کی حیات کو لاحق وہ جبر ہے جو قید کی صورت میں ان پر مسلط ہے۔یہ حساس ترین کہانی پرندوں کی حالت زار دیکھ کر ان کو پنجروں سے آزادی دلانے والے ایک حساس مگر اولوالعزم انسان کے بارے میں ہے۔۔جس نے اپنی عمر، دولت پرندوں کی مدد کرنے اور انہیں آزاد کرنے میں گزار دی۔۔مگر اس سفر سے واپسی پر۔۔اسے معلوم ہوا کہ دائروں کا سفر کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔۔!

بابا مقدم کے قلم سے نکلے۔۔حیات کے اس ابدی نوحے پر۔۔سینہ کوبی کی صدا بلند نہیں ہوتی۔۔نہ ہی آہوں اور سسکیوں کی آواز آتی ہے۔۔مگر ایک احساس۔۔جو بھونچکا رہ جانے کا گواہ بن جاتا ہے!

مشینی زندگی سے انسانی شغف اسے فطرت سے کس طرح دور کرتا ہے اور جدیدیت کا شوق اسے اپنے اصل درماں سے جدا کر دیتا ہے۔۔اس منفرد اور کم اہم سمجھے جانے والے حساس موضوع پر جمال میر صادقی کا قلم اور تخیل یکساں سبک رو ہے کہ آپ ایک بس۔۔جی ہاں۔۔سواریاں ڈھونے والی بس کو مسٹر عارفی کا پیچھا کرتے لمحوں کی ہئیت کذائی پر بے اختیار ہنس پڑتے ہیں۔۔لیکن حقیقت کے قہر کو لطف سے بیان کرنا بھی۔۔نوادرات قلم کا حصہ ہے!

ایرانی تہذیب کا کینوس وسیع ہے اور قصہ گوئی اس کی ایک نمائندہ روایت ہے۔علامتی طرز بیان کے علاوہ بھی کچھ کہانیاں ہیں جو روایتی داستان گوئی کی طرز پر بیان کی گئی ہیں۔جیسے ’’بہائے عشق ‘‘۔’’روضے والی‘‘’’مردہ سانپ ‘‘جیسی کہانیاں ہیں۔

بہائے عشق تعلق میں سیندھ لگنے کی روایتی کہانی ہے جو اپنے اختصار میں بھی جامع ہے۔

روضے والی ایک ماں کی کہانی ہے۔جو بیان میں آب رواں کی مانند ہے!

اور ماں کے دل جیسا گداز رکھتی ہے۔۔مصائب، الم سہتی ہوئی ماں کی زبان پر تو کیا۔۔دل میں بھی شکوہ نہیں آتا۔۔۔اور یہ آسان کہاں ہے؟

’’چم چچڑ ‘‘کے عنوان اور آغاز سے اس کی سمت کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔۔اور ویسے بھی زندگی کا یہی چلن ہے۔۔کہاں سے کہیں لے جائے۔۔۔کس کو خبر؟

روایتی سخت گیر باپ کے تشدد سے ایک بچے کی کہانی شروع ہوتی ہے اور بچپن کے زخموں سے کھرنڈ اتارنے کے لیے ہر فرد ذاتی انتخاب کا حق رکھتا ہے۔۔سو،اس بچے نے دوسروں کو خوفزدہ کرنے کی خوشی کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔۔

اس کہانی میں خوف کی حقیقت اور نفسیات سے گزرتے ہوئے کردار۔۔ایک تیسرے فرد کو دلچسپ تجربے کا موقع دیتے ہیں۔۔۔وہ تیسرا فرد کون ہے؟ ؟؟

قاری!

مسلسل تعاقب اور بلی چوہے کا کھیل کھیلتے ہوئے، خوف در اصل اعصابی جنگ ثابت ہوتا ہے۔۔جس کا نتیجہ، بہر حال، خوش دلی سے تسلیم کرنے والی حقیقت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

’’بلی کا خون ‘‘بھی علامتی کہانی ہے جو سفاک تسلط اور غیر فطری جبر کا آئینہ ہے، جس میں ایرانی سماج کو در پیش حاکمانہ جبر کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔جبر کی صورت کوئی بھی ہو۔۔لوگوں میں بے چینی کا باعث بنتی ہے۔آزاد خیالی کے متوالوں نے ڈنڈے کے زور پر روشن خیالی کو عام کیا۔۔اور بعد میں آنے والی جماعت نے بھی جو درست سمجھا۔۔اسے ہر ایک کے لئے مخصوص کر دیا۔

بہر حال، ایرانی سماج میں کیا چل رہا ہے۔۔اس کی ایک جھلک دکھلانے کو کہانیاں۔۔۔قاصد ہیں!

عالمی پابندیوں کے نتیجے میں پیش آنے والی معاشی نا ہمواریوں سے، جاری جبر سے، تاریخ اور تہذیب کے سر چشموں کے وارث کس طرح نبٹ رہے ہیں۔۔یہ انہی کا وصف ہے!

’’آقائے ماضی کے عجائب خواب ‘‘بھی ایک علامتی کہانی ہے۔بالواسطہ بیان کی گئی کہانی کا مرکزی کردار ماضی ہے۔۔عجیب خوابوں کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے۔۔یہ منفرد کہانی زندگی کو لاحق ماضی پرستی کی دیمک کی نشاندہی کرتی ہے۔

درخت کو مرکزی کردار بنا کر انسانی زندگی اور موت کا فلسفہ بیان کرتی ہوئی آخری کہانی ’’مرگ ‘‘ہے۔

انسانی زندگی ارتقاء اور بقا کی جدوجہد کا درمیانی وقفہ ہے اور کائناتی حقیقت سبھی پر منکشف ہو۔۔یہ لازم نہیں۔۔۔!

ہوتا، تو یہ دنیا فانی کیسے قرار پاتی؟

گھر میں باپ اور درخت کی بہ یک وقت موت اپنے بیانئے میں گہری رمز سموئے ہوئے ہے۔درخت کی انسانی زندگی میں اہمیت ڈھکی چھپی نہیں اور باپ کی شجر سے مماثلت اتفاقیہ بھی نہیں۔۔۔!طبیعت پر بار ڈالے بغیر۔۔زندگی کے فلسفے کی گتھیاں سلجھانا صاحب علم و ادراک ہی کے قلم کی قدرت ہے!

فرد کو کہانی سے دلچسپی ازلی ہے۔۔۔کیونکہ اپنی ان کہی کو اکیلے لئے پھرنا۔۔۔کہانی کے بغیر مزید دشوار لگتا ہے۔۔۔۔!

تو۔ سماج اور تاریخ کے امتزاج سے بنے قالین پر بیٹھنا کیسا رہا؟

یہ آپ کو بیٹھنے کے بعد ہی پتہ چلے گا!

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 15: امرت منتھن (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے ڈھائی بجے ہوں گے۔ دور اُفق پر بمبئی بندرگاہ کی بتیاں ٹمٹماتی نظر آنے لگی تھیں۔ میں انہیں بڑی امیدبھری نظر سے دیکھ رہا تھا۔من میں آیا کہ جہاز کو ایک زور کا دھکا ماروں تاکہ وہ فوراً کنارے لگ جائے۔ جہاز سویرے ساگرکنارے پر لگنے والا تھا، لیکن میں اتنا بےصبر ہو گیا تھا کہ رات بارہ بجے ہی اٹھا اور نہا دھو کر اکیلا ہی ڈیک پر چہل قدمی کرنے لگا تھا، کسی پاگل کی طرح۔

سویرے جہاز کنارے پر لگنے لگا۔ جرمنی جاتے سمے مجھے اکیلا چھوڑ گئے لوگ اب پھر پاس آتے دکھائی دیے۔ سب سے پہلے وِمل دکھائی دی، جو کمار اور سروج کو ساتھ لیے بھیڑ میں مجھے کھوجتی نظر آئی۔ ایک الجھا سا خیال من کو چھو کر گیا کہ شاید وِنائک اور بابوراؤ پینڈھارکر کم سے کم میرا استقبال کرنے کے لیے تو بندرگاہ پر آئے ہوں گے، اس لیے میں انہیں بھی بھیڑ میں کھوجنے لگا۔ میری امید بےسود رہی۔

تبھی بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ جہاز پر آتے دکھائی دیے۔ اُن کے ساتھ وِمل بھی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ دوڑ کر آئی اور آس پاس کے لوگوں کا ذرا بھی لحاظ یا لجا کیے بنا ہی سیدھے آ کر مجھ سے کس کر لپٹ گئی۔ میں حیران رہ گیا۔

ایک پبلک مقام پر سدھ بدھ کھو کر اس کا میرا اس طرح سواگت کیا جانا مجھے من ہی من اچھا لگا۔ میں نے بھی اسے سینے سے لگا لیا۔ کچھ لمحوں بعد وہ خود مجھ سے دور ہو گئی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ شرم کے مارے اب وہ گڑی جا رہی تھی۔ ہمارے جیون میں سب لوگوں کے سامنے اس طرح گلے لگنے کا یہ اکلوتا منظر تھا!

بعد میں، رات کی تنہائی میں، میں نے اسے میٹھی شکایت کرتے ہوئے کہا، “تم تو ایسے لگ رہی تھیں کہ میں نہیں، تم ہی پردیس جا کر آئی ہو!”

“وہ کیسے؟”

“جہاز کے ڈیک پر کسی اینگلو لڑکی کی طرح مجھ سے کس کر لپٹ جو گئی تھیں!”

“پتا ہے؟ آپ جرمنی میں تھے، تب یہاں سب لوگ مجھے چِڑھا رہے تھے کہ لوٹتے سمے آپ ایک گوری میڈم ساتھ لانے والے ہو! آپ کو جہاز پر دیکھا، آپ کے ساتھ کوئی بھی تو نہیں آیا تھا اور پھر کیا ہوا مجھےخود ہی ہوش نہیں رہا۔”

”چھوڑو! پگلی کہیں کی!” محض کچھ کہنا ہے اس لیے کہہ تو گیا، لیکن من کہنے لگا: ”جینی میرے ساتھ بھارت آتی تو؟”

وطن پر پاؤں رکھتے ہی ایک بری خبر ملی۔ ہماری ‘سیرندھری’ رنگین فلم ناظرین کو قطعی نہیں بھائی تھی۔ اس کی رنگین کاپی پہلی بار جرمنی میں دیکھی تھی، تبھی فلم کی کامیابی کے لیے میرے من میں شبہ جاگا تھا، جو اب میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ صحیح ثابت ہوا۔ اتنی ساری محنت، پریشانیاں، سب بےسود ہو گئے تھے!

بابوراؤ پینڈھارکر اور وِنائک نے کولہاپور دربار کی قائم کردہ ‘راجا رام مووی ٹون’ نامی نئی کمپنی میں زیادہ تنخواہ پر نوکری قبول کر لی تھی۔ یہ جان کر کہ انہوں نے صرف زیادہ تنخواہ پانے کے لیے ‘پربھات’ تیاگ دیا تھا، مجھے اور بھی برا لگا۔ اتنی تنخواہ تو انہیں ‘پربھات’ میں بھی مل سکتی تھی اور سب کی محنت سے ‘پربھات’ کو حاصل وقار کا بھی فائدہ انہیں ملتا، وہ الگ۔ اسی حوالے سے بابوراؤ پینڈھارکر نے مجھے بمبئی کے ایک اخبار میں چھپی خبر دکھائی۔ اس کی سرخی تھی: ‘پربھات کے بنیادی ستون ڈھے گئے! پربھات گر گئی۔’ اس خبر کو پڑھتے ہی میں نے یقین سے کہا، “پربھات کے سچے ستون ہیں سب کی محنت، مسلسل عمل اور ایمانداری۔ جب تک یہ سلامت ہیں، ‘پربھات’ سبھی کٹھنائیوں کو پار کرتی ہوئی کندن سی تپ کر نکھرےگی!”

میں پُونا آ گیا۔ ماں، باپو، میرے تینوں چھوٹے بھائی اور ان کے علاوہ کچھ عام کلاکار اور ٹیکنیشن کولہاپور چھوڑ کر پُونا رہنے کے لیے آ گئے تھے۔

پُونا پہنچتے ہی پہلے میں اپنے گھر گیا۔ باپو کافی تھک چکے تھے۔ ان دنوں سارے پُونا شہر میں جاڑے کے بخار کی وبا سی پھیلی ہوئی تھی۔ باپو بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔ انہیں جوش دلانے اور جلدی صحت مندی کی امید جگانے کے لیے میں نے کہا، “باپو، آئندہ سات آٹھ مہینوں میں آپ کے لیے اپنا مکان بن کر تیار ہونے جا رہا ہے، آپ جلدی اچھے ہو جائیے۔”

پردیس سے میرے سلامت لوٹ آنے سے ہی ان کی آدھی بیماری ٹھیک ہو گئی تھی۔ میرے منھ سے گھر کے بارے میں یہ باتیں سن کر اس حالت میں بھی ان کا حوصلہ اور بڑھا۔ لیکن پھر بھی کچھ ناامید سے ہو کر باپو نے کہا، “ارے، تب تک میں زندہ رہوں تب نا!”

میں نے فوراً کہا، “باپو، آپ نہ صرف اس بنگلے کے بننے تک، بلکہ اس کے بعد بھی کئی سال تک زندہ رہنے والے ہیں اور ایک دم صحت مند!” یہ سن کر باپو نے میرے سر پر ممتا سے ہاتھ رکھ کر آشیرواد دیا۔ میری بات جیسے پیشین گوئی ثابت ہوئی۔ ماں اور باپو اس بنگلے میں تیس برس سے بھی زیادہ سمے تک سکون سے رہے۔

میں فوراً نیا سٹوڈیو دیکھنے کے لیے کمپنی کےمقام پر گیا۔ سٹوڈیو کی تعمیر پوری ہو چکی تھی۔ فلم میکنگ کے مختلف کاموں کے لیے الگ کمرے بنائے گئے تھے، ان میں اس ڈپارٹمنٹ کی ضروریات کو دھیان میں رکھ کر مختلف قسم کی سہولتوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ سبھی تعمیری کاموں میں داملےجی کی ہنرمند دیکھ ریکھ اور سوجھ بوجھ جگہ جگہ جھلک رہی تھی۔ میں داملےجی کے اس کام سے اتنا جذباتی ہو گیا کہ میں یہ بھول ہی گیا کہ وہ بزرگ ہیں اور میں نے ان کی پیٹھ تھپتھپا کر شاباشی دے دی۔

کمپنی کے کئی ماہرین کولہاپور چھوڑ کر پُونا نہیں آئے تھے۔ نتیجتاً ہم نے ان کے کاموں کی ذمےداری اب ہم پانچوں ساجھےداروں کے ان رشتےداروں کو سونپنے کا فیصلہ کیا جو آج تک کمپنی میں ہرفن مولا بن کر جو بھی کام نظر آتا، کرتے چلے آ رہے تھے۔

آہستہ آہستہ میں نے اپنے ساتھیوں کو جرمنی میں ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ میری غیرموجودگی میں ہوئے واقعات کے کارن میرے ساتھی ہمت کھوتے جا رہے تھے۔ ان کی ہمت پست ہو چلی تھی، لیکن میرے پختہ ارادے سے انہیں کافی دھیرج بندھ گئی۔ نئی فلم کی کہانی اور خیال میں نے سب کے سامنے رکھا۔ قرون وسطیٰ کے راج کے پس منظر میں اس فلم کے کہانی بنانے کا ہم نے فیصلہ کیا۔ فلم کا نام جرمنی میں ہی میں نے طے کر رکھا تھا: ‘امرت منتھن’۔ اس کے راج گرو کی آنکھوں کا بڑا کلوزاَپ لینے کے لیے لایا گیا ٹیلی فوٹو لینز میں نے سب کو دکھایا۔

فتےلال جی کی فنکارانہ پنسل بجلی کی رفتار سے پوشاک اور منظروں کی لکیریں کھینچنے لگی۔ ‘امرت منتھن’ ہم نے ہندی اور مراٹھی دونوں زبانوں میں بنانا طے کیا۔ بنیادی کہانی لکھنے کے لیے میرے عزیز ناول نگار ہری نارائن آپٹے کو میں نے پُونا بلا لیا۔ ان کے ساتھ کہانی پر بحث شروع کی۔ اس بحث سے ‘امرت منتھن‘ کا سکرپٹ اچھی طرح شکل لینے لگا۔

قرون وسطیٰ کا راجہ اور اس کی بیٹی دونوں کافی ترقی پسند خیالات کے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس ان کا راج گرو دھرم اور قدامت کا کٹر اور سخت حامی ہوتا ہے۔ دھرم اور قدامت شکنی کرنے والے کو بےرحمی کے ساتھ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے وداع کر دیتا ہے۔ نہ صرف راج خاندان کے سب لوگوں کو، بلکہ دیگر بھولے بھالے لوگوں کو بھی اپنی آنکھوں کی دھاک میں رکھتا ہے۔ ایک طرف راجہ اور اس کی لڑکی کے نئے وِچار اور دوسری طرف دقیانوسی راج گرو کی قدامت پرستی، ان کی کشمکش پر ‘امرت منتھن’ کی کہانی تیار ہوئی۔ اس فلم کے ہندی مکالمے اور گیت لکھنے کے لیے اتّر ہندوستان کے ایک لیکھک محمد پوری ‘ویر’ کو بلا لیا۔

اب ہمیں مراٹھی اور ہندی دونوں فلموں میں راج گرو کی اداکاری کر سکنے والے اچھے اداکار کی تلاش تھی۔ اس کے علاوہ ایک نئے میوزک ڈائرکٹر کی بھی ضرورت تھی۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ سب لوگ مجھے اچانک مل گئے۔ مہاراشٹر میں ‘ناٹیہ منونتر’ نامی ایک نیا ناٹک ادارہ بنا تھا۔ اس نے’آندھلیانچی شالا’ ( نابینا سکول) ناٹک سٹیج کیا تھا۔ میں اسے دیکھنے گیا تھا۔ اس ناٹک میں میں نے اسٹیج کے مشہور اداکار کیشوراؤ داتے کی اداکاری پہلی بار دیکھی۔ میں اس سے بہت ہی متاثر ہو گیا۔ اس کے علاوہ اس ناٹک کے گیت اور بیک گراؤنڈ میوزک بھی مجھے مدھر اور نئے ڈھنگ کے لگے۔ اس کے میوزک ڈائرکٹر تھے کیشوراؤ بھولے۔ دوسرے دن میں نے ان دونوں کو ‘پربھات’ میں بلا لیا اور ان کے ساتھ معاہدہ بھی کر لیا۔ اسی سمے دلّی سے چندر موہن ووٹل نامی ایک نوجوان میرے سامنےآ کر کھڑا ہو گیا۔ کچھ سال پہلے اس سے ایک بار ملاقات ہوئی تھی۔ دلّی کی کسی فلم ڈسٹری بیوٹنگ کمپنی کی طرف سے وہ کولہاپور میں کسی کام سے آیا تھا۔ اس کمپنی میں وہ ایک معمولی کلرک تھا۔ اس کی آنکھیں بہت متجسس اور آواز بہت ہی کسی ہوئی اور رعب دار تھی۔

چندر موہن نے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز امرت منتھن میں ولن کے کردار سے کیا

دونوں باتوں کا مجھ پر کافی اچھا اثر پڑا تھا۔ میں نے اسے اسی سمے کہا تھا، “اس کلرکی میں کہاں پڑے ہو، اس میں رکّھا ہی کیا ہے؟ ایک مکمل اداکار کے لیے ضروری سبھی باتیں تم میں ہیں۔ تم ہمارے ساتھ آ جاؤ۔ یقین دلاتا ہوں، ایک اچھے اداکار کا نام کماؤ گے!”

اُس وقت اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ لیکن آج وہی چندرموہن میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اسے براہ راست سامنے کھڑا پا کر مجھے تو ایسا لگا جیسے میری فلم کا ‘راج گرو’ ہی سامنے آ گیا ہے۔ ہم نے اس کے ساتھ کچھ سالوں کے لیے معاہدہ کر لیا۔ میں نے ‘امرت منتھن’ کے مراٹھی ورژن میں کیشوراؤ داتے اور ہندی میں چندرموہن کو راج گرو کا کردار دینے کا فیصلہ کیا۔

اس فلم کےوِلن راج گرو کو بہت ہی نرالی ادا میں پیش کرنا تھا۔ آج تک کی سبھی فلموں کے ولن کے لیے غصہ، کراہت کے جذبات ہی ناظرین کے من میں جاگتے تھے۔ لیکن میں نے طے کیا کہ کہانی کو میں اس طرح موڑ دوں گا کہ ‘امرت منتھن’ کے اس راج گرو کے لیے ناظرین آخر میں ایک احترام کا جذبہ لے کر جا ئیں گے، اگرچہ وہ ایک ولن ہے۔ لیکن یہ کہنا آسان تھا، کرنا بہت کٹھن۔ اسے کس طرح کیا جائے، کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔ نارائن راؤ آپٹے کے ساتھ میں نے اس پر کافی بحث کی۔ آخر میں مجھے ایک خیال سوجھا۔ لیکن میں نے کسی کو نہیں بتایا، اپنے تک ہی اسے محدود رکھا۔ ایسا کرنے کے بھی کچھ کارن تھے۔

اس نئی کہانی کا کام چالو تھا، تب ہم نے اپنے نئے سٹوڈیو کے لیے آڈیو ریکارڈنگ کی جدید مشینری اور کیمرا خرید لیا۔ آج تک ہم کیمیائی عمل پرانےطریقۂ کار کے مطابق کیا کرتے تھے۔ اس کی جگہ پر ہاتھ لگائے بنا ہی سارا عمل کرنے والے اور بجلی سے چلنے والے آلات ہم نے پُونا میں ہی بنوا لیے۔ صرف نیگیٹو پرنٹ بنانے والا جدید پرنٹر ہم نے غیرملکی درآمد کیا۔

امرت منتھن کا ایک پوسٹر

فطری طور اس وجہ سے فلم میکنگ کا کام شروع ہونے میں کچھ دیری ہو جاتی، لہٰذا ‘پربھات’ میں اس سمے آخر کیا چل رہا ہے اور ہماری نئی فلم ‘امرت منتھن’ کتنی محنت سے بنائی جا رہی ہے، اس کی جھلک لوگوں کو دکھانے کے لیے ایک شارٹ فلم بنانے کا خیال میرے من میں آیا۔ شارٹ فلم بھی ایسی بنانی تھی جسے دیکھ کر ناظرین کی دلچسپی برابر بڑھتی ہی رہے۔ ایسی شارٹ فلم ہم نے بنائی اور اسےگاؤں گاؤں میں پیش کیا۔

لوگ اب ہماری ‘امرت منتھن’ کا بڑی بےتابی سے انتظار کرنے لگے۔

‘امرت منتھن’ کا سکرین پلے اور مکالمے تیار ہوتے ہی میں نے سبھی کلاکاروں سے مکمل ریہرسل کرانی شروع کی۔ یہ ریہرسل ہر روز ہونے لگی۔ فلم کے گیتوں کی دھنیں بننے لگیں۔ ان دھنوں کے مطابق ‘ویر’ نے ہندی گیت لکھ دیے۔ مراٹھی فلم رائٹنگ کے لیے نارائن راؤ آپٹے کی سفارش پر ایک نوجوان شاعر شانتارام آٹھولے پربھات میں شامل ہو گیا۔

میوزک ڈائرکٹر کیشوراؤ بھولے کے پاس ہندی اور مراٹھی کے چنندہ گیتوں کے گراموفون ریکارڈز کی اچھی کولیکشن تھی۔ عام طور پر وہ انہیں ریکارڈز سے کہانی کے سین کے مطابق دھنیں تیار کر لیتے اور پھر ان دھنوں کے مطابق بول لکھواتے تھے۔ کبھی میں انہیں کسی گیت کو ایک آدھ نئی دھن دینے کے لیے کہتا تو وہ مجھے دوسرا گراموفون ریکارڈ سنواتے اور دھن پسند کرنے کے لیے کہتے۔ میوزک ڈائرکشن کا یہ سسٹم مجھے خاص پسند نہیں تھا۔ لیکن میرا ہمیشہ کا ایک دستور تھا کہ ایک بار کسی کو ساتھ لے لیا تو اس کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کر اس کی قابلیت کے مطابق اس سے زیادہ سے زیادہ اچھا کام کروا لینا۔ اسی لیے میں نے انہیں وقت وقت پر حوصلہ دیا اور کہانی کا جاندار سنگیت بنوا لیا۔ لیکن کہنا پڑےگا کہ فلم کے گیتوں اور آرکسٹرا کی مناسب ایڈجسمنٹ کے فن کی مکمل اپچ کیشو راؤ کے اپنے بنیادی ٹیلنٹ کا کمال تھا۔ اس کے علاوہ سین کے مطابق اس کے جذبات کو نقطۂ عروج تک لے جانے کے لیے کس انسڑومنٹ یا ساز کا استعمال کہاں کتنا کرنا چاہیے، اس کا فیصلہ کرنے والے وہ ایک ماہر میوزک ڈائرکٹر تھے۔

ایک دن بابوراؤ پینڈھارکر پُونا آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ کسی سمے میرے زیر کام کرنے والےگجانن جاگیردار نے ’امرت منتھن’ کی تھیم پر ‘سنہاسن’ نامی ایک فلم جھٹ پٹ بنا لی اور اسے ریلیز بھی کر ڈالا ہے۔ اس خبر سے میں ذرا بھی سٹپٹایا نہیں، کیونکہ یہ کہانی میں کس ڈھنگ اور طریقے سے فلمانے جا رہا ہوں، اس کا راز سوا میرے کوئی نہیں جانتا تھا۔ کہانی کا آخر تو میں نے ایک راز کے روپ میں صرف اپنے ہی پاس سنجو رکھا تھا: راج گرو کی بدسلوکی سے تنگ لوگ اسے جان سے مار ڈالنے کے لیے مندر کی طرف آتے ہیں۔ ان کی قیادت کرتا ہے راج گرو کا ذاتی بھروسہ مند، لیکن اصل میں راجہ کے لیے وفادار، سردار وشواس۔ خنجر تان کر اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر لمحہ بھر کو تو راج گرو چونک جاتا ہے، لیکن اسے ڈرا دھمکا کر پوچھتا ہے، “کون؟ وشواس، تم؟” سب کو قابو میں اور اپنی دھاک میں رکھتی آئی راج گرو کی وہ نظر وشواس کو سونگھتی نِہارتی ہے۔ پردے پر اس کی آنکھوں کی پُتلیوں میں وشواس کا عکس صاف ابھر آتا ہے۔ عکس میں اتنا ہی صاف دکھائی دیتا ہے: وشواس کا من ڈانواڈول ہو گیا ہے، خنجر تانے اس کا ہاتھ کچھ نیچےکی طرف آتا جا رہا ہے۔۔۔ پھر اس کی وفاداری جاگتی ہے۔ پھر خنجر تان کر وہ آگے آتا ہے اور اسے راج گرو کی آنکھوں میں گھونپ دیتا ہے، پوری ملامت کے ساتھ! راج گرو چیخ کر کچھ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ڈھک لیتا ہے۔۔۔ راج گرو کی نظر میں ہمیشہ زندہ رہی دھاک ختم ہو جاتی ہے! اس کے بعد راج گرو لڑکھڑاتا ہوا اپنے نجی مندر کی طرف جاتا ہے۔ دروازہ بند کر لیتا ہے اور دیوی کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے، “ہے بھگوَتی، آج تک میں نے جو کچھ کیا اس میں میرا اپنا کوئی مفاد نہیں تھا۔ یہ سب کچھ میں نے صرف تمہارے لیے، دھرم کی حفاظت کے لیے ہی کیا تھا۔ پھر بھی میں تمہیں خوش نہیں کر سکا۔ اس لیے اب میں اپنی بَلی چڑھاتا ہوں۔ اس بلیدان سے تم خوش ہوؤ اور دھرم کی حفاظت کرو!”

مندر کے باہر ستائے ہوے لوگ مندر کا دروازہ توڑ کر اندر گھس آتے ہیں۔ سامنے کا منظر دیکھ کر وہ سب بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ راج گرو کا سر کٹا دھڑ بھگوتی کے سامنے پڑا ہے اور اس کے ہاتھ کٹے ہوئے سر کو بھگوتی کے چرنوں پر چڑھا رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ بےجان، شانت ہو جاتا ہے۔

مجھے یقین تھا کہ راج گرو اپنی سوچ پر کتنا اٹل، کٹّر تھا، ناظرین کے من پر اس کے اس بلیدان کی وجہ سے یہ انمٹ روپ سے نقش ہو جائے گا۔اس سین کی شوٹنگ میں نے ایک دم آخر میں کی۔ اس کے مراٹھی مکالمے میں نے خود اُس دن سویرے لکّھے اور اس کا ہندی ورژن چندرموہن سے کروا لیا۔

ہمیشہ کی طرح کمپنی میں نئی فلم کے آخری کام تیزی سے چل رہے تھے۔ جانچ کے لیے کمپنی میں ہی ‘امرت منتھن’ کی پہلی ریلیز دیکھی تو مجھے خاص اطمینان نہیں ہوا، لہٰذا اس میں پھر کچھ جوڑتوڑ کر، خرابیوں کو کم کرتے ہوئے فلم کی رفتار کو اور بڑھانے کے لیے میں پھر ایڈیٹنگ کرنے بیٹھ گیا۔ ویسے تو فلم جیسی ہے ویسی ہی ناظرین کو پسند آئے گی، اس کا نرالاپن اثردار ثابت ہو گا اور ‘پربھات’ کا فخر بڑھانے میں مددگار ہو گا، اس میں مجھے شبہ نہیں تھا، لیکن ہمارے سبھی ساتھیوں کو اس کی کامیابی کے بارے میں بھاری شبہ تھا۔

ستھِر فلم ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ پنت دھرم ادھِکاری نے بھی ٹیسٹ ریلیز کے وقت ‘امرت منتھن’ دیکھی تھی۔ وہ اور داملےجی گہرے دوست تھے۔ انہوں نے داملےجی سے صاف لفظوں میں کہہ دیا، “مجھے ‘امرت منتھن’ قطعی پسند نہیں آئی ہے!”

داملےجی نے کہا، “شانتارام بابو اس میں کچھ کانٹ چھانٹ کر رہے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ فلم زیادہ اثردار ہو گی۔”

“اجی چھوڑیے ان باتوں کو۔ کچھ بھی کریں، گدھے کا گھوڑا تھوڑے ہی بن جائےگا،”

پنت دھرم ادھِکاری نے ذلت آمیز لہجے میں کہا۔

اس دن شام کو داملےجی نے پنت دھرم ادھکاری کی باتیں انہیں کے لفظوں میں مجھے بتا دیں۔ سن کر میں قہقہہ مار کر ہنسا اور داملےجی سے میں نے کہا، “پنت جی کو اندھی عقیدت اور رجعت پسندوں پر حملہ کرنے والی یہ فلم پسند آ ہی نہیں سکتی۔ لیکن ان کے جیسے مذہبی براہمن کو وہ بھائی نہیں، اسی میں فلم کی ترقی پسندیت کی جیت ہے!”

‘امرت منتھن’ بمبئی میں پہلے ہندی میں ریلیز کی گئی۔ ٹکٹ کھڑکی پر ناظرین کی بےحد بھیڑ تھی۔ تینوں شو کے لیے تھئیٹر کے اندر اور باہر بےشمار بھیڑ جمع ہوتی اور پھر بھی ہزاروں لوگ ٹکٹ نہ ملنے کے کارن ناامید ہو کر لوٹ جاتے۔

‘امرت متھن’ کا آخری سین لوگوں کے دلوں کو چھو جاتا تھا۔ میرا اندازہ بالکل صحیح نکلا۔ ایک سیدھے سادھے نئے ڈھنگ کے ولن کی پُراثر تصویر پہلی بار فلم میں ابھر آئی تھی۔ چونکہ چندرموہن کی یہ پہلی ہی فلم تھی، اس کے کام میں کچھ نوسِکھیاپن ضرور معلوم ہوتا تھا، لیکن اس کی متجسس اور کُھبنے والی آنکھیں، آنکھوں کے بڑے بڑے کلوزاَپ اور اس کی وزن دار آواز کی انمٹ چھاپ ناظرین کے من پر نقش ہو گئی۔ چندرموہن ایک ہی رات میں شہرت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ چندرموہن کی طرح شانتا آپٹے بھی اس فلم کے کارن بےحد مقبول ہو گئی۔ اس فلم میں اس کے گانے اور اداکاری دونوں کو ناظرین نے سراہا۔ ‘شیام سندر’ میں اس کی بےجان اداکاری دیکھنے کے بعد لوگوں کو اس سے زیادہ امید نہیں تھی۔ اننت ہری گدرے نے تو اس کے کام کی تعریف کرتے سمے کمال کر دیا۔ اپنے ادبی میگزین ‘نربھیڈ’ میں انہوں نے ‘امرت منتھن’ کا پورے صفحے کا جائزہ لکھا۔ اس پر موٹی سرخی تھی:

“شانتا میں بھی ڈالے رام
واقعی میں ہیں شانتارام۔”

یہ منچلی سرخی مجھے قطعی پسند نہیں آئی۔ آگے چل کر ایک بار اُن سے ملاقات ہو گئی، تو اس سرخی پر میں نےاعتراض بھی اٹھایا۔ لیکن گدرےجی الٹے مجھ سے ہی اسی مدعے کو لے کر جھگڑا کرنے لگے، “آپ بھی خوب ہیں، آخراس سرخی میں غلط یا برا کیا ہے؟ ‘شیام سندر’ میں اس کے کام میں کوئی رام نہیں تھا اور اس فلم میں آپ کی ڈائرکشن کے کارن اس کے کام میں ہمیں وہ رام دکھائی دیا، اور اسی لیے ایک دم خالص جذبے سے ہی ہم نے ویسا لکھا!”

اب اس Correspondent کے سامنے کوئی کیا کہے؟ اپنا سر!

سارے دیس میں ‘امرت منتھن’ نے دھوم مچا دی۔ بمبئی میں تو وہ پورے تیس ہفتے چلی۔ ہر ہفتے کو فلم کے جیون کا ایک سال مان کر پچیسویں ہفتے میں ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکر نے ‘امرت منتھن’ کی سلور جوبلی منائی اور زبردست پرچار کیا۔ سلور جوبلی کو پار کر اور کچھ ہفتے چلنے والی وہ پہلی ہندی فلم تھی۔

‘امرت منتھن’ نے پھر ایک بار ‘پربھات’ کا نام چوٹی پر پہنچا دیا۔ کچھ اہم لوگوں کے ‘پربھات’ چھوڑ کر چلے جانے کے کارن پربھات کے مستقبل کے بارے میں خدشے کے شکار لوگوں کو اس فلم نے منھ توڑ جواب دیا۔

اس کے بعد من میں پھر ایک بار اچھی سماجی فلم بنانے کا خیال آنے لگا۔ پہلے بھی کبھی یہ خیال آیا تھا لیکن ادھورا ہی چھوڑ دیا گیا تھا، لیکن اس بار فتےلال جی نے ضد کی کہ خاموش فلموں کے زمانے میں بنائی ‘چندر سینا’ پر ایک بولتی فلم بنائی جائے۔ اس کہانی کے لیے انہوں نے کافی نئے نئے خیالات پر مبنی سین، پوشاکیں، زیور وغیرہ کا ایک کچا چٹھا بنا لیا تھا۔ اہِراون اور مہِراون کی پاتال نگری کو اثرانگیز بنانے کے لیے انہوں نے اپنی پنسل، سنکھ سیپیوں اور موتیوں کی مدد سے ایک نرالی ہی دنیا بنا لی تھی۔ وہ فینٹسی واقعی غیرمعمولی اور دلکش تھی۔ ہم سب لوگ کافی خوشی سے ‘چندر سینا’ فلم بنانے میں لگ گئے۔ میں نے بھی سوچا کہ اس فلم کی قدیم کہانی کو اپنے سماجی وچاروں کے مطابق نیا رنگ دوں۔ خاموش فلم چندرسینا کی طرح بولتی فلم چندر سینا میں بھی موجود پیغام یہی تھا کہ لوگوں کو شراب پینے کے برے نتیجے سے بالواسطہ طریقے سے آگاہ کیا جائے۔ جنوب کے ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کی مانگ پر ہم نے بولتی فلم ‘چندرسینا’ کے مراٹھی اور ہندی ورژنوں کےساتھ ہی تمِل ورژن بھی بنانا طےکیا۔ تمل فلم میں کام کرنے کے لیے کلاکاروں کو مدراس سے پربھات میں لایا گیا۔ ان کے ساتھ کچھ ٹیکنیشین بھی اس امید سے آئے کہ انہیں بھی کچھ نئی باتیں سیکھنے کو مل جائیں گی۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے تو ‘پربھات’ میں اپنے قیام کے دوران فلمی فن کی اتنی باتیں سیکھیں کہ انہوں نے مدراس لوٹ کر کافی شہرت کمائی۔ رام ناتھ اور شیکھر جیسے کچھ ٹیکنیشینوں اور کہانی کاروں نے بی ریڈّی کے ساتھ مل کر ‘واہونی فلم کمپنی’، کے لیے ‘سمنگلی’ جیسی فلم بنائی۔ اس فلم کے کارن جنوب کی فلم انڈسڑی کو فنکارانہ طول و عرض اور سمت مل گئی۔

اہراؤن مہراؤن کی پاتال نگری کے محل کا سین سٹوڈیو میں بنایا گیا تھا۔ چندرموہن اہراؤن کا کام کر رہا تھا۔ شوٹنگ شروع ہوئےآٹھ دس دن ہو چکے تھے۔ ایک دن سویرے ہم لوگ اس دن کی شوٹنگ کی تیاری کر رہےتھے۔ سبھی کلاکار ٹھیک سوا نو بجے میک اپ کر سٹوڈیو میں حاضر ہوئے۔ سین کو سمجھا کر بتانے کے لیے میں نے چندرموہن کو آواز دی۔ میرے معاون راجہ نے نے ڈرتے ڈرتے بتانے لگا، “چندرموہن آج ابھی تک کام پر آیا نہیں ہے۔”

میں غصے میں چلّایا، “کیوں نہیں آیا؟”

تبھی ہمارے منیجر آئے اور انہوں نے مجھے رجسٹرڈ ڈاک سے آیا ایک لفافہ تھما دیا۔ وہ چندرموہن کی طرف سے ہمیں دیا گیا نوٹس تھا۔ وہ ہمارے ساتھ کیے گئے معاہدے سے آزاد ہونا چاہتا تھا۔

نوٹس پڑھ کر مجھے بہت ہی غصہ آیا۔ پھر بھی میں نے پاٹھک جی سے کہا، “آپ چندرموہن کے گھر جائیے اور اسے کام پر آنے کو کہیے۔ لیکن اس نے ہمارے منیجر کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ “میں اب کام پر نہیں آؤں گا۔ مجھے بمبئی کے ایک بڑے پروڈیوسر نے کافی اچھی تنخواہ پر بلوا لیا ہے۔”

پاٹھک جی واپس آئے۔ سر جھکا کر انہوں نے چندرموہن کا پیغام سنایا۔

اب میں آپے سے باہر ہو گیا۔ کمپنی کے ایکٹنگ ڈپارٹمنٹ میں مستقل نوکری کر رہے ایک اداکار کو میں نے فوراً چندرموہن کے کردار کے لیے ضروری میک اپ کر آنے کو کہا۔ کسی کے بنا پربھات کا کوئی کام نہ رک پائے، اس کا تو میں نےعہد کر رکھا تھا۔ لہٰذا میں نے اسی وقت پہلے آٹھ دس دن کی شوٹنگ رد کرنے کا فیصلہ کیا اور وکیل کی معرفت چندرموہن کے نوٹس کا جواب بھجوا دیا: “تم اس طرح پربھات کے ساتھ کیے گئے معاہدے سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ قانوناً تمہیں آئندہ فلم کے لیے کی گئی تمہاری آٹھ دس دن کی شوٹنگ کا ہرجانہ دینا پڑے گا، کیونکہ اب وہ ساری شوٹنگ رد کرنی پڑی ہے۔”

چندرموہن ہمارا جوابی نوٹس پڑھ کر کافی ہڑبڑا گیا۔ اس نے فوراً پیغام بھیجا کہ ”معاہدے سے آزاد ہونے کے لیے میں اپنے نزدیک کے رشتےدار سر تیج بہادر سپرو کی مدد لوں گا۔” یہ بیرسٹر سپرو صاحب اُس زمانے کی کافی بڑی ہستی تھے۔

لیکن میں نے چندرموہن کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ میں تو اس بات پر تُلا ہوا تھا کہ چندرموہن کی طرف سے ڈالی جا رہی اس ضرررساں روایت کو جڑ سے اکھاڑ دوں۔ کسی کلاکار کا اس طرح پیش آنا کمپنی کے لیے کافی خطرناک تھا۔

‘چندرسینا’ تیار ہو گئی۔ ٹرائل ریلیز سب نے دیکھی۔ کاپی میں کافی غلطیاں تھیں۔ فلم کا سنسر اور عام ریلیز نزدیک آ گئی تھی۔ دو تین دن ہی باقی تھے۔ دھایبر اس فلم کے فوٹوگرافر تھے۔ انہوں نے جلدی جلدی نیاپرنٹ بنایا اور بنا ٹیسٹ کیے سنسر اور ریلیز کے لیے بمبئی بھیج دیا۔

بمبئی میں ‘کرشن’ سنیما میں اس وقت ’امرت منتھن’ خوب چل رہی تھی، اس لیے ‘چندرسینا’ کا پردرش مِنروا میں کیا گیا۔ ریلیز کے وقت میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بمبئی سے بابوراؤ پینڈھارکر کا فون آیا کہ ”فلم کے گیت اور مکالمے ٹھیک سے سنائی نہیں دیتے۔ لگاتار ایک طرح کی گھرررر کی آواز سنائی دیتی رہتی ہے۔”

میں فوراً بمبئی گیا اور ‘چندرسینا’ کا پرنٹ اچھی طرح سے جانچا پرکھا۔ فلم کی کاپی پر ساؤنڈ ریکارڈنگ کی لکیریں بہت ہی دھندلی نقش ہوئی تھیں۔ دھایبرجی نے شاید کسی غلط فہمی کےکارن ساؤنڈ پٹی اتنی گہری اور کالی نہیں رکھی تھی جتنی کہ رکھنی چاہیے تھی۔ اسی کارن یہ سب جھمیلا ہو گیا تھا۔ مکالمے اور سنگیت ناظرین تک پہنچ ہی نہیں پا رہے تھے۔ اس کے علاوہ خاموش فلم ’چندر سینا‘ کی یاد ناظرین میں ابھی تازہ تھی، اس لیے کہانی میں انہیں کچھ بھی نیاپن شاید معلوم نہیں ہو رہا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سین اور پوشاک وغیرہ میں کافی فینٹسی ہونے کے باوجود لوگوں کو یہ فلم قطعی پسند نہیں آئی۔ ہم سب کا اندازہ ایک دم غلط ہو گیا۔ ساؤنڈ پٹی کو ٹھیک کر ’چندر سینا‘ کا ایک نیا پرنٹ ہم نے دو تین دن میں ہی بمبئی بھیج تو دیا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور ہماری یہ فلم بری طرح فیل ہو گئی۔

فلم چندرسینا کا پوسٹر

میرے ambitious سوبھاؤ کے کارن ہمیں ایک اور دردناک واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھی ایک جرأت آمیز نئے خیال سے بنی کہانی کا المناک نتیجہ تھا۔ برلن سے میں نے کارٹون فلموں کے لیے خاص مشینری خرید کر بھجوائی تھی۔ والٹ ڈِزنی کے ‘مکی ماؤس’ کے ڈھنگ کا ایک کارٹون بنانے کے ارادے سے خریدی گئی وہ مشینری اب ہمارے پاس پہنچ گئی تھی۔ کارٹون فلم کے لیے میں نے ایک تخلیقی ٹیکنیشین کا انتخاب کر طرح طرح کے تجربے کرنے شروع کیے۔ ‘مکی ماؤس’ کی طرح ہی کسی مزیدار جانور کو چن کر اس پر کارٹون بنانے کی سوچی۔ لومڑ بہت چالاک جانور مانا جاتا ہے، اس لیے ہم نے طے کیا کہ ایک فلم بنائی جائے، جس کا نام ہو ‘جمبو کاکا’۔ اس کے لیے ایک مناسب چھوٹی کہانی تیار کی۔ کہانی کی ضرورت کے مطابق کلاکاروں سے جمبو کاکا اور دیگر کرداروں کی ہلچلوں کے کئی سٹِل فوٹو سیلولائڈ پر بنوا لیے۔ شوٹنگ کے لیے لائے گئے خاص کیمرے کے ذریعے ہم نے ان سب تصویروں کو فلما لیا اور نو سو فٹ کی ایک فلم (اینیمیشن) تیار کی۔ اس پر بہت مناسب بیک گراؤنڈ میوزک کو بھی ریکارڈ کر لیا۔ اس فلم کو ٹرائل ریلیز میں پہلی بار دیکھا تو مکی ماؤس کے مقابلے میں وہ بالکل ہی نارمل معلوم ہوا، لیکن ہمارا وہ پہلا تجربہ تھا اور اس لیے تسلی بخش لگا۔

ہم نے اس ‘جمبو کاکا’ کارٹون کو بمبئی اور دوسرے شہروں میں ریلیز کیا۔ لیکن چونکہ مخصوص معزز لوگوں کے علاوہ ایسے کارٹون دیکھنےکی عادت عام ناظرین میں نہیں تھی، مخصوص ناظرین کے تاثرات ہمیں معلوم نہ ہو سکے۔

یہ فلم اگرچہ چھوٹی سی تھی، پر اس کے بنانے پر پیسہ خرچ ہوا تھا، لہٰذا ہم نے اپنی فلم دکھانے والوں سے اس فلم کی ریلیز کے لیے کُل آمدنی کا پانچ فیصد زیادہ دینے کی مانگ کی۔ لیکن ہمارے فلم دکھانے والوں نے ہمیں جوابی ڈاک سے جواب دیا کہ، ’’ناظرین آپ کی بنیادی فلموں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اس کارٹون فلم میں انہیں کوئی مزہ نہیں آتا۔ لہٰذا مہربانی کر کے ایسی کارٹون فلم دکھانے کے لیے نہ بھیجیں۔‘‘ ہم نے کارٹون فلموں کا کام کچھ وقت کے لیے ملتوی کر دیا اور کارٹون فلم کے ٹیکنیشنوں کو اس سسٹم کا مزید مطالعہ کر والٹ ڈزنی کی بنائی فلموں جیسے صاف کارٹون بنانے کی کوشش جاری رکھنے کو کہا۔ بھارت کی پہلی کارٹون فلم بنانے کا کریڈٹ ‘پربھات’ کو ملا تو، لیکن اس کا استقبال اتنا ٹھنڈا رہا کہ ہمارے سارے جوش پر پانی پھر گیا۔

لیکن انہیں دنوں ‘امرت منتھن’ نے عوامی ذہن پر ایسا جادوکر رکھا تھا کہ ’چندر سینا’ اور ‘جمبو کاکا’ کی ناکامی پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔ یہی نہیں، دَھن کا جو بہاؤ ہمارے پاس چلا آ رہا تھا، اس میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔

ماں باپو کے لیے ایک چھوٹا سا بنگلہ بن کر تیار ہو گیا۔ تعمیر کے بعد وہ دونوں جب اس میں رہنے کے لیے گئے، تب ان کے چہرے خوشی سے کھِل اٹھےتھے۔ ان کی خوشی دیکھ کر میں بھی شادکام تھا اس کے ساتھ ہی پربھات سٹوڈیو کے سامنے والی کھلی جگہ میں ہم پانچوں ساجھےداروں کے بھی پانچ الگ بنگلے بنائے گئے۔کولہاپور چھوڑ کر ہمارے ساتھ پُونا رہنے کے لیے آئے کام کرنے والے کاریگروں کے لیے اسی احاطے میں ایک دومنزلہ مکان بنوایا گیا۔

اس طرح پربھات نگر بسانے کا میرا سپنا پورا ہو چلا تھا۔ میں نے لوہے کی گول گول شکل کی کئی طشتریاں بنوا لیں۔ ہر طشتری پر پربھات کا لوگو نقش کرا لیا۔ اس پر ‘پربھات نگر’ حروف بھی سرخیوں میں لکھوا لیے۔ پیچھے ایک تیر بھی پرنٹ کیا، جس کی نوک پربھات نگر کی طرف جانے والی سمت کا اشارہ کرتی تھی۔ پُونا کے لکڑی پل سے لے کر ہمارے سٹوڈیو تک راستے کے ہر بجلی کے کھمبے پر یہ طشتریاں میں نے فِٹ کروا دیں۔ اس راستے آتے جاتے وقت ان طشتریوں کو دیکھ کر میں ایک بچے کی طرح خوش ہو جاتا تھا۔

ہمارے ‘پربھات’ کی روشنی اب پورے دیش میں پھیل چکی تھی۔ ہمارا جدید سٹوڈیو دیکھنے کے لیے دوردور سے لوگ آنے لگے تھے۔ ملک کے کونے کونے سے آنے والے ان لوگوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ ہمارے کام میں مشکل پیدا ہونےلگی۔ آخر ہم نے اعلان کیا کہ ہمارا سٹوڈیو عوام کے دیکھنے کے لیے ہر بدھوار کو صبح کھلا رہے گا۔

انہیں دنوں اخبار میں پڑھا کہ “سبھی مراٹھی لوگوں کے پیارے گائیک اداکار نارائن راؤ راج ہنس عرف بال گندھرو نے بھاری قرض کے کارن اپنی گندھرو ناٹک منڈلی بند کر دی ہے۔”

کچھ معزز لوگوں نے ہمیں سجھاؤ دیا کہ کیوں نہ ہم بال گندھرو کو اہم کردار دے کر دو ایک فلمیں بنائیں۔ سجھاؤ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایسی فلم پر ہوئے خرچ کے بھگتان کے بعد بچے منافعے میں ‘پربھات’ اور بال گندھرو کا آدھا آدھا ساجھا ہو۔ سچ پوچھا جائے تو ہمیں اتنے جھنجھٹ میں پڑ کر فلم بنانےکی ضرورت نہیں تھی، لیکن بال گندھرو جیسا ایک مہان کلاکار معاشی کٹھنائیوں میں پھنسا ہو، اس کی مدد کرنا اپنا فرض مان کر ہم نے بال گندھرو کے ساتھ دو فلموں کا معاہدہ کر لیا۔

بال گندھرو ناٹکوں میں عورت کا کردار کرتے رہے تھے۔ لیکن اب تو فلموں میں عورتوں کے کردار عورتیں ہی کرنے لگی تھیں۔ ایسی صورت میں انہیں عورت کردار میں پردے پر دکھانا بڑا عجیب سا لگتا۔ وہ نہ عورت، نہ مرد معلوم ہوتے تھے، لہٰذا انہیں زنانہ کردار دے کر کوئی فلم کامیاب نہیں ہو گی، اسے میں من ہی من اچھی طرح سے جان گیا تھا۔ وہ قرض سے آزاد ہونے کے لیے فلم میں کام کرنا چاہ رہے تھے۔ اس کے لیے فلم کا کاروباری نظر میں کامیاب ہونا نہایت ضروری تھا، دوسری صورت میں وہ مقصد ہی دھرا کا دھرا رہ جاتا۔ میں نے یہ بات نارائن راؤ کو اچھی طرح سے سمجھائی۔

بال گندھرو فلموں میں عورتوں کے کردار نبھاتے تھے، شانتا راما نے انہیں ایک اصلاح پسند مذہبی رہنما کے طور پر متعارف کرایا

بال گندھرو کا رنگ روپ، سوبھاؤ، سب کچھ بہت ہی شانت اور ماتحت کام کرنے والوں کے ساتھ سلوک انتہائی محبت بھرا تھا۔ میں کھوجنے لگا ان کے اسی سوبھاؤ کے مطابق اور ‘پربھات’ کی روایت کے مطابق ایک کہانی، جس میں انہیں کردار دیا جا سکے۔ کافی دنوں پہلے میرے من میں چھوت چھات کی روک تھام کے موضوع کو لےکر ایک فلم بنانے کی بات آئی تھی۔ فلم کے ذریعے سے اس مصیبت کی طرف میں سماج کا دھیان مرکوز کرانا چاہتا تھا۔کولہاپور کے راجہ شاہُو مہاراج نے اپنی ریاست میں چھوت چھات پر کافی کام کیا تھا۔ ان کے اس کام کا میرےذہن پر عجیب اثر پڑا تھا۔ اِدھر مہاتما گاندھی بھی سارے ملک میں اسی کام کے لیے عوامی بیداری کی مہم چلا رہے تھے۔

کے نارائن کالے نے اس ضمن میں میرے سامنے ایک مشورہ رکھا کہ ’’جات پات پر نہیں کوئی، ہری کو بھجے سو ہری کا کوئی(ذات پات کی بنیاد پرکوئی نہیں برتری نہیں ہے جو ہری کا جاپ کرتا ہے، ہری ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے)، اس یقین کے ساتھ جیون بتانے والے مہاراشٹر کے سنت ایکناتھ کے جیون پر فلم بنائی جا سکتی ہے۔ سنت ایکناتھ تین سو سال پہلے اسی چھوت چھات کو مٹانے میں لگے تھے۔ ان کا یقین اور سیکھ یہی تھی کہ آدمی صرف اس لیے نیچا نہیں ہو جاتا کہ اس کا جنم مہار یا ماتنگ سماج میں ہوا ہے۔ یہی ثابت کرنے کے لیے سنت ایکناتھ ایک مہار کے گھر بھوجن کرنے گئے تھے۔ مہاراشٹر کے وہ اولین سماجی مصلح تھے۔ بات کچھ مجھے جچ گئی۔ کالےجی کا مشورہ مان لیا گیا۔ میں نے سنت ایکناتھ کے بھجن، بھاروڈ (روایتی موضوعات پر تاثراتی ڈھنگ سے رچا لوک گیت) وغیرہ لٹریچر منگوا کر پڑھ لیا اور اسی کی بنیاد پر میں نے اور کالے جی نے بیٹھ کر ایک کہانی تیار کی۔

سٹیج پر ہمیشہ ساڑھی پہن کر ہی کام کرنے والے بال گندھرو کو دھوتی اور کرتا پہنایا گیا۔ مونچھیں لگوا دی گئیں۔ سر پر چوٹی رکھ کر باقی سارا سر ان دنوں کے پنڈتوں کے ڈھنگ سے منڈوا دیا گیا۔ اوپر سے پگڑی بھی پہنا دی گئی۔ کیشوراؤ دھایبر کے سالے وِنائک راؤ گھورپڑے کی ایک بہت ہی سندر اور چلبلی لڑکی تھی، وَسنتی۔ اس کو ایک مہار کی لڑکی کا کردار دیا گیا۔

میں نے نئے میوزک ڈائرکٹر کی کھوج شروع کی۔ ہمارے میوزک ڈائرکٹر کیشوراؤ بھولے زیادہ تر پرانے مشہور گانوں کی دھنوں پر ہی نئی دھنیں بناتے تھے اور کلاسیکی موسیقی کی راگداری پر مبنی دھن بنانا تو ان کے بس کے باہر کی بات تھی۔

بال گندھرو جیسا رسیلا گایک اور سنت ایکناتھ مہاراج پر بنیادی لٹریچر لکھنا درکار ہو، تب تو میوزک ڈائرکٹر ایسا ہونا ہی چاہیے تھا جو بال گندھرو کی گائیکی مہارت کے ساتھ انصاف کر سکے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ فلم کا سنگیت بھی ایک دم اعلیٰ درجے کا ہو۔ یہی سب سوچ کر میں نے مشہور گایک اور میوزک ڈائرکٹر ماسٹر کرشن راؤ کو اس فلم کا سنگیت سنوارنے کا کام سونپا۔ اس کے علاوہ مشہور طبلہ استاد احمد جان تِھرکوا کو، جو ناٹکوں اور محفلوں میں بال گندھرو کی سنگت کرتے رہے تھے، ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں کام پر رکھ لیا۔

ماسٹر کرشن راؤ اصل میں نئی تخلیق کرنے والے میوزک ڈائرکٹر تھے۔ جب تک بال گندھرو اور میں مطمئن نہ ہو جائیں، وہ ایک ہی گیت کو ایک سے زائد دھنوں میں سنایا کرتے تھے۔

اس فلم کا ٹائٹل ہم نےرکھا ‘مہاتما’۔ اس کی ریہرسل تیزی سے ہونے لگی۔ بال گندھرو اتنے آزادخیال تھے اپنا بڑا ہونا بُھلا کے نئے اداکاروں کی طرح ساری باتیں مجھ سے سمجھ لیتے تھے۔ ان کے جیون میں مرد کردار کا کام کرنے کا یہ پہلا ہی موقع تھا۔ فطری طور پر ان کی چال ڈھال میں زنانہ پن آ گیا تھا، اسے دور کرنے کے لیے مجھے کافی محنت کرنی اور کروانی پڑی۔ پوری فلم میں سنت ایکناتھ کی جذباتی وقار اور عقل کے ساتھ ایک روپ ہو کر کام کرنے کی وہ بھرپور کوشش کرتے تھے۔ لیکن کبھی کسی سین کی ایکٹنگ ٹھیک سے نہ ہو پاتی، تو وہ خود مجھ سے وہ اداکاری کر دکھانےکو کہہ دیتے تھے۔

ایک دن ایک بہت ہی جذباتی سین کی ریہرسل پورے رنگ پر آ چکی تھی۔ میں نے بال گندھرو کو ایکناتھ کی اداکاری کر کے دکھائی اور دوسرے ہی لمحے ننھی وسنتی کو مہار لڑکی کی اداکاری بھی کر کے دکھائی۔ بال گندھرو میرے پاس آئے میری پیٹھ تھپتھپا کر شاباشی دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “انا، واہ واہ! کیا کمال ہے۔ پل میں آپ ایکناتھ بن جاتے ہو، اور دوسرے ہی پل ننھا سا بالک بھی!”

بال گندھرو جیسے مہان کلاکار سے اس طرح شاباشی ملنے پر مجھے بہت اچھا لگا۔ کمپنی کے دیگر سبھی کاریگر اور کلاکار مجھے عزت سے ‘انا’ مخاطب کرتے تھے۔ لیکن بال گندھرو کے منھ سے بھی وہی خطاب سن کر میں بہت ہی مشکل میں پڑ گیا۔ میں نے شائستگی سے ان سے کہا، “میں گندھرو ناٹک منڈلی میں نوکری کرتا تھا، تب تو آپ مجھے ‘شانتا’ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ آج بھی آپ مجھے اسی طرح شانتا بلایا کریں، وہی اچھا لگے گا! وہ آپ کے چرنوں میں بیٹھ کر میں جو کچھ سیکھ پایا، اس کا اس انڈسٹری میں کافی استعمال ہو رہا ہے۔ آپ کےاس احسان کو جب میں دل سے قبول کرتا ہوں، آپ مجھے ‘انا’ کہیں، یہ ٹھیک نہیں!”

بال گندھرو کو میری بات قطعی منظور نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، “بھگوَن، اس سمے آپ ‘شانتا’ تھے۔ آج آپ اپنے بل بوتے پر اور کارکردگی دکھا کر بڑے ہو گئے ہیں۔ ریہرسل کراتے سمے آپ جس طرح کھو جاتے ہیں، اسے دیکھ کر مجھے آسانی سے لگا کہ آپ کو ‘انا’ کہہ کر ہی مخاطب کروں!”

ان کی دلیل لاجواب تھی! اس پر کیا کہوں، سمجھ میں نہیں آیا۔

‘مہاتما’ کی شوٹنگ شروع ہوئی اور ایک دن اچانک ہمارے گرو بابوراؤ پینٹر سٹوڈیو میں آئے۔ ہم سب نےان کا دلی استقبال کیا۔ جل پان ہوا۔ وہ بال گندھرو سے اچھی طرح واقف تھے۔ بال گندھرو کے ‘دروپدی’ ناٹک کے سین بابوراؤ پینٹر نے تیار کیے تھے۔ بابوراؤ کی اس بےمثال ملاقات کی یاد میں ہم نے ایک فوٹو کھنچوا لیا، جس میں ان کے لیے اپنا احترام ظاہر کرنے کے لیے ان کے ساتھ کرسی پر نہ بیٹھتے ہوئے باقی سب لوگ پیچھے کھڑے رہے اور میں سامنے زمین پر ہی بیٹھ گیا تھا۔

اپنے سبھی ساتھیوں کی آنکھوں میں ایک ہی سوال ناچتا ہوا میں نے پایا۔ آخر بابوراؤ پینٹر کے اس طرح اچانک ہمارے یہاں آ دھمکنے کا کارن کیا ہو سکتا ہے؟ راز کیا ہے؟ ہم سب لوگ امید کر رہے تھے کہ سیٹھ پربھات فلم کمپنی، وہاں کی مشینری، کمپنی کا احاطہ، ہماری بنائی فلموں وغیرہ کے بارے میں کچھ تو رائے ظاہر کریں گے، ہماری حوصلہ افزائی کریں گے، لیکن ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

کچھ سمے بعد وہ جانے کو تیار ہوئے۔ انہوں نے مجھے ایک طرف بلا کر کہا، “مجھے دس ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے۔”

وہ یہ رقم فوراً چاہتے تھے۔ رقم لینے کے لیے کل آؤں گا، کہہ کر وہ چلےگئے۔ اس کے بعد میں نے ساتھیوں کو بابوراؤ کی گئی رقم کی مانگ کے بارے میں بتا دیا۔ ہم سب کو ان کا یہ طریقہ عجیب و غریب لگا۔

دوسرے دن وہ پُونا سٹوڈیو میں آئے۔ میں نے ایک لفافے میں وہ رقم انہیں دے دی۔ سیٹھ نے لفافہ جیب میں ڈالا اور بنا کسی سے کچھ بولے وہ جیسے آئے تھے ویسے ہی چلے گئے۔۔۔

‘مہاتما’ کے سکرین پلے میں میں نے ایک ڈھونگی سادھو بابا کا کردار تخلیق کیا۔ اس سادھو بابا کے کچھ کارنامے میں نے خود دیکھے تھے، اسی طرح کے ڈھکوسلاباز سادھو باباؤں کے طریقے کو جوں کا توں لے لیا تھا۔ پچھلے دنوں ایک بار دادا مہاراج کے ساتھ بیتے اس واقعے کے بعد ایک امیر بیوپاری کسی باباجی کو ہمارے یہاں لے آیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کے چیلے چپاٹے بھی تھے۔ اس سمے کا ایک بہت ہی بھونڈا سین یاد بن کر رہ گیا تھا: اس باباجی کی مہمان نوازی کرنے کے لیے اس کے سامنےکچھ پھل ول رکھے تھے۔ انہوں نے ایک کیلا لیا، تھوڑاسا کھایا، اور بعد میں بچا ہوا کیلا پاس ہی کھڑے ایک چیلے کو دے دیا۔ اس نے اس جوٹھے کیلے کو باباجی کا پرساد مان کر ماتھے سے لگایا اور کچھ حصہ اپنے دانتوں سے کاٹ کر باقی کیلا دوسرے چیلےکو تھما دیا۔ یہی سلسلہ جاری رہا۔ وہ کیلا گھومتا ہوا آخر میرے پاس کھڑے ایک سجن کو دیا گیا۔ تب اس میں کیلا بہت کم اور چھلکا کافی زیادہ رہ گیا تھا۔ مجھے اس بھونڈے رواج پر بہت ہی گھن آ گئی۔ متلی سی آنے لگی۔ یہ دیکھ کر کہ سادھو باباجی کا وہ پرساد کھانے کی نوبت اب مجھ پر بھی آنے جا رہی ہے، کسی کام کے بہانے میں وہاں سے چپ چاپ کھسکا۔

اس گھناؤنے سین کو جوں کا توں ‘مہاتما’ میں فلمانا میں نے طے کیا۔ مراٹھی ‘مہاتما’ میں اس بھوندو سادھو کا کام میں نے اداکار کیلکر کو دیا اور ہندی ورژن میں چندرموہن کو، جی ہاں، چندرموہن کو!

’چندر سینا’ کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد ایک دن چندرموہن سویرے ہی میرے گھر پر آیا اور نم آنکھوں سے اس نے ایک دم میرے چرن چھو لیے۔ اپنےغلط رویے کی اس نے مجھ سے معافی مانگی۔ چندرموہن میرا بنایا ہوا کلاکار تھا۔ میں نے ہی اسے گھڑا تھا۔ وہ میرا اپنا تھا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اسے اوپر اٹھایا اور کہا، “تم نے مجھ سے دلی معافی مانگی ہے، اب میرا سارا غصہ اتر گیا ہے۔”

کچھ لمحے تو چندرموہن کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی۔ کہیں سپنا تو نہیں، یہ تاثر اس کی آنکھوں میں دکھائی دیا۔ لیکن میں نے اسے یقین دلایا، یقین دہانی کرائی۔

“معاہدے کے مطابق ‘پربھات’ کی آخری فلم کا کام پورا کر تم باہر کی فلمی دنیا میں قدم رکھو گے تو تمہارا نام یقینی ہی مقبولیت کی چوٹی پر چمکے، اسی طرح کا کردار میں تمہیں دوں گا!”

اسے دیا گیا وہ وعدہ آگے چل کر ‘امر جیوتی’ فلم میں میں نے پورا کیا۔

‘مہاتما’ فلم پُراثر بنے، اس وجہ سے میں نے اسے اپنے خاص ڈائرکشن سٹائل سے من لگا کر سجایا سنوارا تھا۔ ایک سین تھا: پیٹھن گاؤں کے مہار کی ایک لڑکی جائی کے گھر کھانے پر جانا ایکناتھ قبول کر لیتے ہیں۔ مہاراج کے دعوت نامہ قبول کر لینے کے کارن جائی تو خوشی کے مارے پاگل ہوئی جاتی ہے۔ وہ سارے گاؤں کی گلیوں سے ناچتی گاتی جاتی ہے اور راستے میں ملنے والے ہر آدمی کو بہت خوش ہو کر بتاتی پھرتی ہے، “کل آویں گے ناتھ ہمارے گھر پر، بھوجن پر۔” جائی کی ان خوشیوں کے کارن سب لوگ متاثر ہو جاتے ہیں، ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں، خوشی کے آنسو بہنے لگتے ہیں اور خوشی کےاس نزدیکی موقعے پر ہی ‘انٹرویل’ ہوتا ہے۔

انٹرویل کےبعد فلم آگے بڑھتی ہے۔ مہار ٹولا خوشی سے مست ہو گیا ہے۔ گھر کا ہر پھٹا پرانا چیتھڑا مہار لوگ دھو دھو کر صاف کرنے میں لگے ہیں۔ عورتیں اپنی اپنی جھگی جھونپڑی کے سامنے کا گھر آنگن لیپ پوت کر چمکانے میں جٹی ہیں۔ جھاڑ پونچھ جاری ہے۔ مہار ٹولےکا بچہ بچہ کسی نالے تالاب میں نہا نہا کر صاف بننے کی کوشش میں ہے۔ جدھر دیکھو، خوشی ہی خوشی ہے۔ ایک امنگ بھرا سماں بنتا جا رہا ہے۔ یہ دونوں سین بےشمار خوشی سے بھرے تھے۔ ‘مہاتما’ کا ایک اور دل چھونے والا سین تھا:

ایکناتھ مہاراج کے گھر پر شرادھ (ختم) ہے، لیکن سبھی براہمنوں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا ہے، اس لیے دوپہر بیت جاتی ہے، غروب سمے ٹل جاتا ہے، دیپ جلانے کا وقت آ جاتا ہے، تب بھی ایکناتھ کے پُرکھوں کی آتما کو احترام دینے کے لیے کوئی بھی براہمن کے گھر شرادھ کے لیے آتا نہیں۔ سبھی براہمن لوگ اسی اکڑ میں بیٹھے رہتے ہیں کہ بےعزتی کا مارا ایکناتھ ہاتھ جوڑ کر چرنوں میں آ گرے گا اور گڑگڑا کر منتیں کرے گا۔ ادھر ایکناتھ کے باڑے کے باہر مہار اور ماتنگ لوگ اس امید سے راہ دیکھ رہے ہیں کہ کب براہمنوں کا بھوجن ہو، اور کب انہیں جوٹھی مٹھائی وغیرہ کھانے کو ملے۔ آخر ایکناتھ مہاراج ان سب لوگوں کو اپنے باڑے میں بلاتے ہیں اور اس پرجوش جنتا کو قطاروں میں بٹھا کر پورا کھانا پروستے ہیں، جس میں ایکناتھ کی خوش اخلاق بیوی اور نوکر شریکھنڈ بھی ہاتھ بٹاتے ہیں۔

اس سین کی شوٹنگ جاری تھی، تبھی اچانک مجھے ایک اور محبت بھرا سین ڈالنے کا خیال سوجھا۔ بھوجن جاری ہے۔ بوندی کے لڈو پروسے جا رہے ہیں۔ کھانے میں بڑوں کے ساتھ دو بچے بھی شامل ہیں۔ ایک بچہ لڈو اٹھا کر منھ میں بھرتا ہے اور اسے توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ لڈو کچھ سخت بنے ہیں۔ بچہ اسے توڑ نہیں پاتا، اس کے پاس ہی بیٹھا دوسرا کچھ بڑا سا بچہ اس کا لڈو لے لیتا ہے اور اپنے منھ میں ڈال کر توڑتا ہے۔ اس کے ٹوٹتے ہی لڈو کا ایک ٹکڑا اس کے منھ میں آتا ہے۔ سب کو لگتا ہے کہ اب یہ بچہ پورا لڈو صاف کر جائےگا۔ تبھی وہ بچہ بڑی ممتا اور محبت سے لڈو کا وہ ٹکڑا چھوٹے بچے کے منھ میں ڈالتا ہے اور اسی طرح اس کو کھلاتا جاتا ہے۔

شبدوں کے سبھی طول و عرض کو پار کرتا ہوا ڈائرکٹر کہیں خاموش سین کو بھی بےحد پُراثر بنا سکتا ہے، اس سوچ پر میرا عقیدہ ایسےسین کی شوٹنگ کےکارن ہی روز بہ روز بڑھتا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی میں محسوس کرنے لگا کہ کچھ سین کو علامتی روپ دینے سے وہ بہت ہی بامعنی بن جاتے ہیں۔ ‘مہاتما’ فلم میں آخر میں ایک سین ہے کہ سنت ایکناتھ اور ان کے دیو صفت پنڈت بیٹے میں ایک مذہبی مناظرہ ہوتا ہے۔

ایکناتھ کے دیو شاستر( دینیات) میں کامیاب بیٹے کا خیال ہوتا ہےکہ اپنے قدامت شکن باپ کا منھ دیکھنے سے وہ بھرشٹ ہو جائے گا، اس لیے بحث کے وقت وہ بیچ میں ایک پردہ لگوا لیتا ہے۔ ایکناتھ روشنی کی طرف ہوتے ہیں، اس لیے ان کی پرچھائیں سامنے پڑتی ہے اور اس پرچھائیں میں سے ان کا لڑکا اپنی پنڈتائی بگھارتا دکھائی دیتا ہے۔ بھید، چاتر ورنیہ، پرانیوں میں ویاپت اچنیچتا وغیرہ (مذہبی) موضوعات پر دونوں میں کافی دھواں دھار شاستر ارتھ (مناظرہ) ہوتا ہے۔ اس منظر کے فلمانے میں یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ لڑکا کتنا ہی مہان پنڈت کیوں نہ ہو، وہ اس دنیا میں اس انسان پرست مہاتما کی پرچھائیں سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ میرے من کے اس ارادے کے اضافی اور بھی کئی معنی اس منظر سے نکالے جائیں گے، لیکن کیا کبھی کوئی تخلیقی انسان اپنی کسی سرشت کے سبھی طول و عرض کو الفاظ دے پاتا ہے؟

فلم پوری ہو گئی۔

اسے سنسر کے لیے میں خود بمبئی لے گیا۔ سنسر کے ایک ممبر نے ‘مہاتما’ دیکھی۔ اس نے فیصلہ دیا: ”چونکہ یہ فلم ذات پات جیسے متنازعہ سوال پر بنی ہے، میں اکیلا اس کو پاس کرنےکی ذمےداری نہیں لیتا۔ سنسربورڈ کے سبھی ارکان کو فلم دکھانی ہو گی۔” ممبر کا وہ فیصلہ سن کر تو میرے پیٹ میں بل پڑنے لگے۔ ‘سوراجیاچے تورن’ فلم کے سمے ہوا سارا گھٹناچکر پھر ایک بار آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔ من میں خدشہ جاگ اٹھا کہ کہیں پھر ویسا ہی نہ ہو جائے۔

اور آخر میں میرا خدشہ صحیح ثابت ہوا! سنسر کے سبھی ممبروں نے فلم دیکھی اور اپنی رائے دی: اس فلم کےکارن اونچی ذاتوں کے ہندوؤں میں غصہ پھوٹ پڑےگا، ذات پرستی بڑھےگی، ملک میں بےاطمینانی پھیلےگی اور نتیجتاً امن و امان خطرے میں پڑ جائے گا! اس لیے سنسر بورڈ کا فیصلہ ہے: ‘مہاتما’ فلم پر مکمل پابندی!’
)جاری ہے(

Categories
فکشن

ریگِ دیروز (ذکی نقوی)

۔۔۔ ہم محبت کے خرابوں کے مکیں
ریگِ دیروز میں خوابوں کے شجر بوتے رہے
سایہ نا پید تھا، سائے کی تمنا کے تلے سوتے رہے۔۔۔
ن۔ م راشد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھادوں کے پُر حبس مہینے کی ایک دوپہر تھی لیکن ہاڑ کی سی جھُلسا دینے والی دھُوپ اور گرم لُو کی وجہ سے بالکل بھی گمان نہیں گزر رہا تھا کہ یہ بھادوں کی دوپہر ہے، اور اسی وجہ سے مجھے تو بہت اچھی لگ رہی تھی۔ ایسے میں گھوڑے کی پیٹھ پر لمبی سواری کا خیال معمول سے ذیادہ لُطف دے رہا تھا۔ چچا کبیر علی خان سیال ڈیرے پر نیم اور کیکر کے پیڑوں تلے بندھی گھوڑی کی۔۔۔ جس کا نام اُس کی نقرئی رنگت کی وجہ سے نُکری رکھ دیا گیا تھا۔۔۔ باگیں ایک ہاتھ میں مضبوطی سے تھامے تھے جبکہ دوسرے ہاتھ سے میرا ہاتھ تھامے ہوئے سوار ہونے میں میری مدد کر رہے تھے۔ ہمارا ٹھگنا مزارع دتہ فقیر دونوں ہاتھوں سے، جن کی چھے چھے اُنگلیاں تھیں، لکڑی کا مونڈھا تھامے کھڑا تھا جس پر چڑھ کر مجھے گھوڑی پہ سوار ہونا تھا۔ میں گھوڑی پہ سوار ہو گیا۔ چچا کبیر علی خاں نے باگیں میرے ہاتھ میں تھمائیں، دتے فقیر نے مونڈھا ایک طرف کھینچ لیا۔ چونکہ میں نوآموز سوار تھا لہٰذا لمبے سفر کے لئے چچا کبیر علی خاں نے جاتے ہوئے ایک نصیحت کرنا چاہی تو ایک بار باگ میں ہاتھ ڈال کر مجھے متوجہ کیا؛

“سُنو بیٹے باگ اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑنا اور نہ ہی گھوڑی کے آگے کسی لمحے خود کو بے بس سمجھنا، یاد رکھو، عورت اور گھوڑی، جس کے تصرف میں ہوں، اُسی کے وفادار ہوتے ہیں۔۔۔ اس سے ڈرنا مت!”

اُنہوں نے اٹل لہجے میں کہا تو میرے اندر کے ‘تعلیم یافتے’ کو یہ بات ناگوار گزری۔
“چچا ایسے تو ناں کہیں۔۔۔ ہاں میں گھوڑی پہ قابو رکھوں گا!”

چچا مُسکرا دیئے۔ وہ میرے ابا اور چچا کے دوست اور، یوں کہوں کہ جاں نثار ساتھی تھے، تو بھی مبالغہ نہ ہو گا۔

‘نُکری’ ایک متانت کے ساتھ اُس پگڈنڈی کی طرف چل پڑی جس جانب چچا کبیر علی خاں سیال کا ڈیرہ تھا، میں نے سختی سے اُس کی باگیں مغرب کی طرف جانے والے صحرائی راستے کو کھینچیں تو وہ بغیر مزاحمت کے اُس جانب مُڑ گئی۔ میری منزل اسی صحرا میں کوس بھر کے فاصلے پر واقع وہ گاؤں تھا جسے میں اپنا آبائی گاؤں کہتا ہوں۔ میں نے گھوڑی کو جنوب کی طرف تھل کے گرم ٹیلوں کے درمیان لیٹی سیاہ پکی سڑک کے کنارے کنارے کچے راستے پر ڈال دیا۔ نُکری کے سُموں میں نعلیں نہ تھیں جس وجہ سے اُسے پختہ سڑک پہ دوڑانا مناسب نہ تھا۔ علاقے کے با حیثیت دہقان گھرانے کے طور پر ہمارے آفتاب کو غروب ہوئے عرصہ گزر چکا تھا اور اب گھوڑے پالنا ہماری معاشی حیثیت سے باہر کا کام تھا لہٰذا نُکری جتنی توجہ کی مستحق تھی، اتنی توجہ اُسے مل نہ سکی تھی۔ اب بھی اسے جو راسیں ڈالی گئی تھیں، یہ شہسواری والی قیمتی راسیں نہ تھیں بلکہ یکے والے گھوڑوں کی سی سستی راسیں تھیں اور روانگی سے پہلے کھانے میں بھی نُکری کو گُڑ اور گیہوں کے بجائے ‘کَھل’ اور بھوسہ کھلایا گیا تھا۔ انہی عسرتوں نے شدید ضرورت کے با وجود نُکری کو نعلوں سے محروم رکھا تھا۔ نُکری ہماری اور چچا کبیر علی خاں سیال کی سانجھی تھی۔ جو سفید پوش زمیندار اپنی غربت کے باعث گھوڑے نہ پال سکیں لیکن شوق کے ہاتھ مجبور ہوں، وہ اپنے جیسے کسی زمیندار کے ساتھ گھوڑا یا گھوڑی سانجھے پہ پال لیتے ہیں۔ پنجاب کی صدیوں پُرانی روایت ہے کہ جہاں بہت قرابت داری ہو لیکن رشتے داری نہ ہو سکے تو وہاں گھوڑیاں سانجھی کرلی جاتی ہیں۔ یہ گھوڑی ایک سید اور ایک سیال کے درمیان دوستی کی ایک غریبانہ سی علامت تھی۔ وہ چچا کبیرعلی خاں کے ڈیرے پہ بندھی رہتی تھی جہان بہتر سبز چارہ ملتا لیکن جب کبھی مجھے چاہیے ہوتی، اُن کا بیٹا ہمارے یہاں چھوڑ جاتا۔ میں کوشش کر رہا تھا کہ اسے سرپٹ نہ دوڑاوں کیونکہ میں ننگی پیٹھ سواری کررہا تھا۔ عربوں میں ننگی پیٹھ گھڑ سواری شجاعت کی علامت سمجھی لیکن یہاں سب پر عیاں تھا کہ نُکری کی پیٹھ پر زین نہ ہونا سوار کی عسرت اور تنگی کی علامت تھی۔ ابھی مہینہ بھر پہلے تک اس پر مضبوط ‘رسالے آلی سپاٹ’ ہوتی تھی جس کی گہری سُرخ رنگت گھوڑی کے نقرئی رنگ پر بہت اچھی لگتی تھی لیکن ایک شام، سیالوں کی آپس کی کسی دشمنی کے شاخسانے میں پولیس آ دھمکی چچا کبیر کے بڑے بیٹے کو گرفتار کرنے۔ وہ اپنے دو کم سن بھائیوں کو ساتھ لے کر گھوڑی پہ سوار ہوا اور ٹیلے سے اُتر کر میدانوں کی طرف اسے سرپٹ دوڑانے لگا۔ پولیس کی ویگن دریا کنارے تک تو اس کا تعاقب کر سکی لیکن پھر وہ پایاب پانیوں کو عبور کرکے ‘بیلے’میں روپوش ہو گیا۔ وہ گرفتاری سے تو بچ گیا لیکن اس جھمیلے میں وہ رسالے والی زین ٹوٹ گئی۔ اب سپاٹ خریدنے کی باری میری تھی، جو مَیں نہ خرید سکا تھا، سو اب اپنے تئیں تسلی دے رہا تھا کہ ‘کوئی بات نہیں، پرانے عرب اور تُرک شہسوار بھی ننگے پیٹھ سواری کرتے تھے!’

میری منزل۔۔۔ جسے میں اپنا آبائی گاوں بتا رہا ہوں۔۔۔ قریب آرہا تھا۔ گاوں کا نام بھی وہیں کے ایک بلوچ سردار کے نام پر تھا۔ تو ہم اسے کوٹ نیازی خان بلوچ کہیں گے۔ مرحوم نیازی خاں بلوچ کے زمانے میں یہاں معاشی اور زرعی طور پر دو ہی بڑے اور معزز قبیلے تھے، بلوچ اور سیال، جبکہ روحانی طور پر موقر گھرانا سید جلال شاہ بخاری کا تھا۔ وہ ایک سید بزرگ تھے، خدا جانے کیا پیشہ تھا ان کا۔ میرا خیال ہے کہ پیری فقیری ان کا مشغلہ اور کھیتی باڑی ان کا پیشہ تھا۔ بلوچ بھی زراعت پیشہ تھے لیکن ماہر شُتر بان اور اُونٹوں کے پالنے والے تھے۔ بلوچوں کے اونٹ ایک زمانے میں پوری روہی اور ساندل بار میں سب سے ذیادہ مانگ والے اُونٹ تھے۔ بار کے علاقوں میں “باری” اونٹ کی مانگ تھی جو کہ باربرداری کے لئے موزوں تھے۔ بلوچوں کے اونٹ “تھلوچڑ” کہلاتے تھے اور لمبے سفروں کےلئے مشہور تھے۔ انگریز حکومت اپنے سرکاری ملازموں مثلاً تھانے داروں، فوجیوں، ہرکاروں اور دیگر متعلقہ کاموں کے لئے بلوچوں سے اونٹ لیا کرتی تھی جس کی وجہ سے روہی اور ساندل، دونوں علاقوں میں بلوچ بہت با اثر لوگ تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے زمانے میں ان کے اونٹوں کو “کیمل کور” میں شامل کر کے میسو پوٹیمیا تک بھیجا گیا۔ ان میں پٹے پر لئے گئے اونٹ جب فوجی یا پولیس کی خدمات کے دوران مر جاتے تو ان کی دُم کاٹ کر مالک کو دے دی جاتی جسے ایک متعلقہ دفتر میں جمع کروانے پر اس مالک کو اونٹ کی قیمت مل جاتی تھی۔ بابا کھیڑے خاں بلوچ نے ایک دلچسپ حکایت اس بابت سُنائی تھی۔ اُن کا ایک نوسرباز اور چوری ٹھگی پیشہ چچا ایک دفعہ آس پاس کے چند دیہاتوں سے رات کے اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر کوئی درجن بھر اُونٹوں کی دُمیں کاٹ کر فرار ہو گیا لیکن ازالے کے دفتر میں کسی گورے افسر کی حاضر دماغی سے پکڑا گیا، بیچارے کی خوب درگت بنی۔

اس گاؤں کے بلوچوں میں بڑے ماہر شُتربان سپاہی پیدا ہوئے۔ بابا چراغ علی خاں رائل انڈین آرمی سروس کور میں شُتربان سپاہی تھے اور اُن کے اعزاء و اقارب میں بابا فیض احمد خاں اور مرید حُسین خاں بھی برٹش انڈین آرمی کے پُرانے شُتر بان تھے اور مصر، میسوپوٹیمیا اور فرنٹئیر کے محاذوں پر ساربانی کی مہارت کی داد انگریزوں سے بھی پا چُکے تھے۔ ان کی صحبت بلکہ ان سے قریبی تعلق نے سید جلال شاہ کی اولاد میں سید زادوں کو بھی شُتربانی کے شوق میں مبتلا کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے آغاز میں چراغ علی خاں، سید امیر حیدر شاہ کو اپنے ہمراہ رائل انڈین آرمی سروس کور لے گئے اور انہیں شُتر بان سپاہی کے طور پر بھرتی کروا دیا۔ دادا امیر حیدر شاہ کی تقلید میں ہمارے خاندان میں بڑے چچا جان کے بعد شُتر بان تو کوئی نہ بنا البتہ سپاہی درجن بھر پیدا ہوئے۔

میرا خیال ہے کہ مجھے بلوچوں کی شُتر بانی پہ اجارہ داری کی آخری مثال بیان کر کےآگے بڑھنا چاہیئے۔ یہ بھی اسی لئے ضروری ہے کہ تھل، روہی اور بار کی ثقافت میں سرائیکی بولنے والے بلوچوں کے اونٹوں کا ایک خطیر حصہ ہے۔ یہ لوک گیت اس کا ایک اظہار ہے جو پنجابیوں میں مشہور ہے:
‘نی اُٹھاں والے ٹُر جان گے، پچھے لبھدی پھریں گی نمانی،
نی سسیئے جاگدی رئیں!!’

آبادکاری کے دنوں میں جب سیالوں، کھرلوں اور دیگر جاٹ ذاتوں کو زمینیں دی جانے لگیں اور وہ ساندل بار کے وسیع رقبوں کے مالک ہونے لگے تو ایک بلوچ سردار بابا بہادر خاں ایک روز بڑے غُصے میں انگریز کمشنر (غالباََ کیپٹن پوپہیم ینگ) کے پاس پہنچ گیا؛
“صاب بہادر! اب دیکھنا تمہارے ہرکارے اور سپاہی بھینسوں پر سوار ڈاک لایا کریں گے”

گورا صاحب چونکا تو بابا بہادر خاں نے کہا کہ اگر بلوچ شُتر بان ساندل کا علاقہ چھوڑ کر تھل کو لوٹ گئے تو تمہارے لئے اونٹ فراہم کرنے والا کوئی نہ ہو گا!! انگریز افسر نے بابا بہادر سے وعدہ کیا کہ سمندری کے علاقے میں بلوچوں کو زمینیں الاٹ کردی جائیں گی لیکن اس کے فوراََ بعد سرکاری شُتر پال اسکیم بھی شروع کر دی گئی تاہم اس اسکیم پر بھی بلوچ شتر بانوں کی اجارہ داری رہی۔

کوٹ نیازی خاں بلوچ جونہی قریب آرہا تھا، گھوڑی کے قدم تیز ہو رہے تھے۔ شاید میری طرح اُس کے بھی بچپنے کی یادیں اس بستی سے جُڑی تھیں۔ میرا تو یوں کہوں کہ پورا بچپن کا زمانہ اس بستی کی آغوش میں گزرا تھا۔ لگ بھگ آٹھ دس سال نوکری چاکری اور دو چار سال تعلیم کے جھمیلوں میں بڑے شہروں کی خاک پھانکنے کے بعد میں واپس گاؤں لوٹا تھا لہٰذا یادوں کی مہربان خوشبو مجھے دوبارہ مدہوش کر کے اس بستی کی طرف کھینچ رہی تھی۔ کون جانے وہ عرصہ اس گاوں میں مَیں نے کن مزوں میں گزارا، دُنیا کتنی حسین اور رہنے کے لئے کتنی سادہ جگہ تھی اس گاوں میں!!

یہاں ہمارے دو طرح کے اقارب رہتے تھے۔ ایک تو وہ جو دادا ابا کے دیگر بھائیوں کی اولادیں تھیں دوسرا یہاں کے ایک دو بلوچ گھرانے جن سے ہمارے بڑے بوڑھوں کے بہت قریبی تعلقات اور بھائی چارہ تھا جبکہ یہاں ایک نو مسلم گھرانا میرے نزدیک ہمارا سب سے قریبی رشتےداروں کا گھرانا تھا۔ دادا کے چچا شاہ چراغ نے بنگال میں نوکری کے دوران ایک ہندو بنگالن سے شادی کی اور اُس کے یتیم بھانجے کو گود لے لیا۔ اُس یتیم بھانجے کا نام تو جگدیش سے بدل کر دینوُ رکھ دیا گیا تھا لیکن مَیں اُن کا تذکرہ اُس نام سے بھی کرتا ہوں۔ جگدیش کے نام سے مجھے اپنے پردادا کے زمانوں کی خوشبو آتی ہے۔ بابا جگدیش کی لڑکیاں جنہیں میں پھوپھیاں کہا کرتا تھا- مجھے یہی بتایا گیا تھا کہ وہ میری پھوپھیاں ہیں-اُن کے بیٹے اور اُن کی بیوی، سب مجھے بے تحاشہ پیار کرتے تھے۔ میری سگی پھوپھیاں، جن کے ہاتھوں میں مَیں پلا بڑھا تھا، اکثر یہاں آئی رہتی تھیں۔ حتیٰ کہ جب وہ ہمسائے میں چچا گُلن شاہ کے گھر چلی جاتیں، میں تب بھی یہیں رہتا۔ میں چار یا پانچ برس کا تھا لیکن ان ساری پھوپھیوں کو میری شادی کی بہت جلدی تھی۔ وہ اکثر مجھے گھیر لیتیں اور تھالی بجا کر شادی کے گانے شروع کر دیتیں۔ چچا گُلن شاہ کی جواں سال بیٹی نموں اس ناٹک میں میری دُلہن بنتی۔ پھوپھی پٹھانی اور میری سب سے بڑی پھوپھی جسے سب پیار سے ‘بنتو’ کہتے تھے، تھالی بجا کر گانا شروع کردیتیں:

“اج پہلی واری مَیں قربان زاری
ذکی نکڑا جیہا، نموں جوان ساری!!”

اور میں شرمانے لگ جاتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شادی بیاہ پہ لڑکیوں کے ناچنے اور گانے کی ممانعت شریف سے شریف گھرانوں میں بھی نہ تھی۔ پھوپھیوں نے میری شادی کے اتنے گیت گائے کہ اب میرا شرمانا ایک چڑ سے بدل گیا تھا۔ جب بھی اُن کی محفل میں مجھے کاجل لگا کے بٹھا دیا جاتا، مَیں سمجھ جاتا کہ میری شادی کا سوانگ ہونے والا ہے اور بڑی پھوپھیوں کے گانے اور نموں کے بوسے میرے گال سُرخ کردیں گے۔ ایک دن جب ان لڑکیوں نے میرے گرد روائتی لوک ناچ شروع کردیا تھا مَیں بھاگا، “بتاتا ہوں چچا ضمیر کو، کُتیائیں ہر وقت ناچتی رہتی ہیں!!” میں نے اپنے بچگانہ غضب میں کہا تو سب بھاگیں مجھے بہلانے پھسلانے کو۔ اُن کی زندگی میں تفریح کا یہی واحد ذریعہ تھا۔ ٹیلی ویژن کا وجود یہاں نہ تھا، اور ریڈیو بھی مردوں کے تصرف میں ہوتے تھے۔ یہ مواقع بھی تب ملتے جب دادا، سارے چچا اور بابا جگدیش وغیرہ گھرپر نہ ہوتے۔ خیر، نموں نے مجھے چار آنے سکہ اپنے دوپٹے کے پلوُ سے کھول کے دیا “جاؤ بکھے خاں کی دُکان سے مرونڈا کھالینا، میرے اچھے منگیتر!” وہ خوشامد سے کہتی اور میں چونی کی سکہ لے کر اُسے ایک پار پھر کُتیا کا لقب دے کر فرار ہو جاتا۔ اگرچہ یہ گھرانا ہم سب میں سب سے غریب اور مفلس تھا مگر بابا جگدیش، یعنی بابا دینُو کے گھر میری دلچسپی کی چیزیں چچا گُلن شاہ کے گھر یا بکھے خاں (بختیار خاں) کی دُکان کی نسبت زیادہ تھیں۔ مثلاََ جب بابا دینُو کی بیوی، دادی خاتوُں بی بی چکی پہ نمک پیسنے بیٹھتیں تو میں پاس بیٹھ کر معدنی نمک کے سُرخ ڈھیلوں کو پس کر سفید نمک میں بدلتے دیکھتا اور بہت لطف اندوز ہوتا تھا۔ کئی دفعہ ضد کرتا کہ میں چکی پیسوں گا یا پاٹ کے درمیانی سوراخ سے نمک کے ڈھیلوں کی دھانک دوں گا لیکن ہر دفعہ ڈانٹ پڑتی۔ دادی خاتوں بی بی مجھے ایک گالی دیتیں جو آج مجھے بہت پسند ہے؛ وہ جب مجھے “کُتا ولَیت دا” کہتیں تو مجھے اس کا مفہوم قطعی سمجھ میں نہ آتا، اب آ کے اندازہ ہوا ہے کہ اُن انگریز ی نسل کا (ولائتی) کُتا اُن انگریز بیزار بوڑھوں کے نزدیک زیادہ رزیل ہوتا تھا جس کی وجہ سے یہ گالی عام مستعمل تھی۔ اس کے علاوہ دادی کے چرخہ کا تنے کا وقت ہوتا تو وہ چرخہ نکال کر صحن میں رکھتیں اور میں پر وقت اس تاڑ میں رہتا کہ کسی لمحے چرخہ مجھے اکیلا پڑا مل جائے جبکہ دادی قریب نہ ہوں۔ مجھے اُس کے کاتنے کے عمل میں تو کوئی دلچسپی نہ تھی البتہ میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ میں اس کو اُلٹا کر اس پر چڑھ بیٹھوں جو کہ اس عمل سے میری بائیسکل بن جائے گی۔ ایک پہیہ تو چرخے کے ہوتا ہی تھا، مکمل بائیسکل بنانے کے لئے دوسرے پہیئے کا لگانا ایک بچے کی قوتِ تخیل کے آگے کچھ مشکل نہیں! ایک دن یہ موقع مل ہی گیا لیکن تھوڑی ہی سواری کے بعد دادی آ دھمکیں اور مجھے ‘سائیکل’ چھوڑ کے بھاگنا پڑا۔

اس کے علاوہ وہاں بھی ہمارے اپنے گھر کی طرح گارے کے لیپ والے کچے مکان تھے تو ان کی لپائی کا کام جہاں خواتین کے لئے ایک مصروف دن ہوتا تھا وہاں میرے لئے مزے کی سرگرمی تھا۔ پہلے تو وہ دریا کی جانب، تھال، پراتیں اُٹھائے روانہ ہوتیں جہاں سیلابی گزرگاہ میں بننے والے تالابوں کی تہہ سے چکنی، سیاہی مائل مٹی نکالنی ہوتی تھی۔ صحرا سے اُتر کر، زرخیز میدانوں، کھجور کے ننھے ننھے نخلستانوں اور کھلیانوں میں سے گزر کر ان جھیل نما تالابوں میں ڈبکیاں لگانا ہمارے لئے کسی ضیافت سے کم نہ ہوتا۔ بابا جگدیش کے لڑکوں میں سے کوئی نہ کوئی، عموماََ چھوٹا چچا ساتھ ہوتا جو خواتین کی مدد کے علاوہ گہرے پانی میں میری نگہبانی بھی کرتا۔ جب چکنی مٹی گھر پہنچا لی جاتی تو لپائی کے عمل سے پہلے گارا بنتا۔ گارے میں کھیلنے کا لُطف ہر موسم میں یکساں تھا اور یہی موقع ہوتا تھا جب کافی سارے مٹی کے کھلونے بنانے کا موقع بھی میسر آتا تھا۔

پھرجب چھوٹا چچا اپنے گدھے پہ بوریا کستا اور درانتی تھامے گدھے پہ سوار ہوتا تو میں بھی ساتھ جانے کے لئے بضد ہو جاتا کیونکہ یہ اعلان تھا چارہ کاٹنے کے لئے دریا کنارے جانے کا۔ ایک دن جیٹھ ہاڑھ کی چلچلاتی دوپہر تھی، میں چچا کے گدھے پر سوار اُن کی گود میں بیٹھا سواری سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ بابا دینو کا یہ منجھلا بیٹا چچا اختر مجھ سے زیادہ لاڈپیار رکھتا تھا۔ اُونچے پیڑوں کی ایک لمبی قطار کے نیچے ہم جنوب کی طرف گامزن تھے۔ گدھے کے پالان یعنی ‘واہنگی’ کے ڈھیلا ہونے کی وجہ سے چچا اپنا توازن درست کرنے کے لئے دائیں بائیں کروٹیں بدل رہے تھے۔ ہمارے دائیں جانب، مغرب کی طرف صحرائے تھل کے سفید چمکتے ہوئے ٹیلے اور نیلاآسمان واضح تھا جبکہ بائیں طرف گھنا جنگل تھا جس کی وجہ سے دریا کی جانب کا علاقہ واضح نہ دِکھتا تھا۔

“چچا!” میں نے اچانک کسی خیال کے زیرِاثر اُنہیں مخاطب کیا

“جی بیٹا!” اُنہوں نے گدھے کے چھڑی رسید کرتے ہوئے کہا۔

چچا کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ہوا میں اُڑیں؟”

خُدا جانے یہ خیال میرے ذہن میں اُسی لمحے آیا یا پھر بنی نوعِ انسان کی ہزاروں سالہ دیرینہ خواہش کی بازگشت تھل کے اس بچے کی صورت میں بھی اپنے اظہار کے لئے فطرت کے ہاتھوں بے چین تھی۔

ہاں بیٹا! اب تھوڑی دیر میں ہمارا گدھا بھی طیارے کے مانند ہوا میں اُڑے گا!” چچا نے سنجیدگی سے گہا۔

میں دیر تک انتطار کرتا رہا کہ کس لمحے ہم دونوں چچا بھتیجا گدھے پہ سوار ہوا میں اُڑ جائیں گے۔ جب بے کلی ہوئی تو اسی معصومیت سے پوچھا،

چچا! ہم کب اُڑیں گے؟”

اُس پگڈنڈی سے۔۔۔ ”

چچا نے چھڑی سے سامنے کے ایک موڑ کی طرف اشارہ کیا۔ میں بے چینی سے اُس پگڈنڈی تک پہنچنے کا انتطار کرنے لگا۔ ہوا میں پرواز کرنے اور پرندوں کے پاس سے گزر کر نیلے آسمان کی بلندیوں کو چھو لینے کا خیال مجھے مست کئے جا رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ بابا دینو ُ کے گھر کے اوپر سے گُزروں گا تو پھوپھی پٹھانی، پھوپھی بنتو اور چھوٹی پھوپھیاں مجھے دیکھ کر حیران رہ جائیں گی۔ اسی اثناء میں وہ پگڈنڈی آن پہنچی۔ میں نے ‘واہنگی’ کے بوریئے کو مضبوطی سے جکڑ لیا اور میرا ننھا سا دل تیز دھڑکنے لگا۔ یہ پگڈنڈی عام رستے سے ذرا اونچی تھی اور اس کے ایک طرف آب پاشی کا چھوٹا سا کھال بھی گزرتا تھا۔ گدھا ذرا سا تیز ہو کر رُکا، چچا نے اُس کی دُم کے نیچے نازک مقام پر چھڑی چبھوئی تو گدھے نے ایک زوردار چھلانگ لگائی۔ چچا، مَیں اور گدھے کی ‘واہنگی’ پلک جھپکنے میں کھال میں گرے پڑے تھے اور گدھاپاس ہی بھولا بن کے سر نیہوڑائے کھڑا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ آدھا بوریا اُس کے جسم سے بندھا تھا، آدھا ہماری ٹانگوں سے اُلجھا تھا۔ میں نے رونا شروع کردیا۔ چچا نے بمشکل مجھے دلاسہ دیا۔ میرے رونے کی وجہ وہ کبھی نہ سمجھ پائے۔

بابا جگدیش کے گھر میں ایک اور یادگار موقع وہ ہوتا تھا جب سال ششماہے میں، عموماََ چیت کی آخری جمعرات کو کبھی کسی کی کوئی منت مراد برآتی اور پیر ولائیت شاہ ؒکے دربار پر مُرغا چڑھاوا کرنے کا اہتمام ہوتا۔ خواتین و حضرات کا ایک قافلہ گھر سے روانہ ہوتا جس میں کسی ایک مرد یا خاتون کے سر پر نر مُرغ کے سالن کی بڑی ہانڈی دھری ہوتی، کسی دوسرے کے سر پر چنگیر بھر روٹیوں کا ‘بارِامانت’ ہوتا۔ سب ہنستے، گاتے، چہچہاتے پیدل پیدل دربار پیر ولائیت شاہ ؒ کی طرف روانہ ہوتے۔ مرد آگے آگے، خواتین جن میں برقع پوش اور نیم پردہ نشین بھی تھیں، پیچھے پیچھے ہوتیں۔ بابا جگدیش کی لڑکیاں پردہ نہ کرتی تھیں۔ آدھے گھنٹے کی پیدل مسافت کا یہ عرصہ میرے لئے نئی دلچسپیاں لئے ہوتا۔ مثلاََ راستے میں “جال” کا کہنہ سال پیڑ جس پہ اتنی بڑی آکاس بیل تھی کہ میں دیدے پھاڑ پھاڑ کر اسے حیرت اور خوف کے عالم میں دیکھتا رہتا۔ یا پھر ایک پُرانا اسکول جس کی بڑی بڑی کھڑکیوں میں کوئی شیشہ نہ تھا اور اس کی عمارت کیکر کے دیو ہیکل سیاہ پیڑوں سے گھری تھی۔ البتہ میں یہ سوچتا بھی نہ تھا کہ میں کبھی اس اسکول میں پڑھوں گا۔ دربار ایک اونچے ٹیلے کی چوٹی پہ تھا۔ چڑھائی چڑھتے ہوئے میں بھاگ کرمردوں سے بھی آگے نکل جاتا لیکن دادی اماں پھر دھتکار پھٹکار کر واپس بُلا لیتیں۔ دربار پیر ولائیت شاہ ؒ پر تو میلے کا سا سماں ہوتا۔ کھنکھناتی مٹی اور لکڑی کے رنگارنگ کھلونے، بھانت بھانت کی مٹھائیاں اور پکوڑے بنانے والے حلوائی اور ان کی بساطیں، اُونٹ گھوڑے اور دُلہوں کی طرح سجائے ہوئے دُنبے، بندر تماشے والے مداری جن کے ساتھ کبھی کبھار ریچھ کا ناچ دکھانےوالے ‘قلندر’ بھی ہوتے۔ چوڑیوں کے بھرے چھابے سر پر اُٹھائے چوڑیاں بیچنے والی سفید دانتوں والی کالی عورتیں جن کے جسم بہت توانا ہوتے تھے، اکثر قافلے کی مستورات میں گھِر جاتیں۔ کئی دفعہ میں ضد کر کے ایک گجرا اپنی کلائی میں بھی چڑھوا لیتا۔ اگرچہ مجھے چار پانچ سال کی اس عمر سے ہی شوق تھا کہ مجھے مرد کہا اور سمجھا جائے، پھوپھیاں اکثر میرے ساتھ لڑکیوں جیسا سلوک کرتی تھیں۔ مجھے گجرے پہنانا اور میرے ماتھے پہ بندیا لگانا اُنہیں بالخصوص مرغوب تھا۔ بد قسمتی- یا خوش قسمتی سے چچاؤں میں سے کسی کا کوئی بچہ میرے جیسا لال گلابی گالوں والا نہ تھا لہٰذا جو سُرخی غازہ اور سنگھار میرا ہوتا تھا، وہ کسی بچے کو نصیب نہ ہوا۔ بنتو پھوپھی کبھی کبھار میرا دل رکھنے کو فونٹین پین سے میرے لمبی لمبی مونچھ بھی بنا دیتیں۔ وہ لڑکیوں والے ہائی اسکول میں جاتی تھیں جو ہمارے گاؤں سے کافی دور تھا۔

اگرچہ زندگی اپنے گاؤں میں بھی دلچسپ تھی لیکن میرا جو وقت یہاں گزرتا، میں اُس کے ایک ایک لمحے سے لُطف اندوز ہوتا۔ منجھلے چچا، چچا اختر نے مجھے چولستان کی لوک داستان “ادھڑوُ مدھڑُو کی کہانی ” یہیں ایک ٹھنڈی میٹھی رُت کی رات میں کھُلے آسمان تلے چارپائی پر لیٹے ہوئے سُنائی تھی۔ صحرا میں تارے معمول سے حجم میں بڑے، زیادہ روشن اور تعداد میں بھی زیادہ نظر آتے تھے۔ یہاں راتوں کو گیدڑوں کے غولوں کی آوازیں ہمارے گاؤں کی نسبت زیادہ واضح اور بلند سُنائی دیتی تھیں اور رات کا سناٹا بھی یہاں زیادہ گھمبیر تھا۔ بابا زوار شاہ کے گھر کا آنگن تو اتنی بلندی پر تھا کہ گویا یہاں سے آسمان چھُو لو! مجھے یہ گھر بہت پسند تھا۔

بلوچوں کے ڈیرے پہ اگرچہ زیادہ تر بڑے بوڑھے ہی مل بیٹھتے تھے اور ہم بچوں کی دلچسپی کی کوئی چیز وہاں بظاہر نہ تھی لیکن بابا جگدیش کے گھر کے مقابلے میں یہاں گالم گلوچ اور کیچڑ میں کھیلنے کی زیادہ آزادی تھی جو کہ بلوچوں کے لڑکوں اور اُن کے چوڑے حوض والے نلکے کی بدولت میسر تھی۔ یہاں بلوچوں کے مویشی دن بھر پانی پیتے رہتے تھے اور حوض کے ساتھ ہی کیچڑ اور گندے پانی کا ایک بڑا ذخیرہ تھا جس سے پانی رِس رِس کر کچے راستے اور کھیتوں کو سیراب کرتا تھا۔ اس ذخیرے کے گرد بانس کی نَے کی گھنی باڑ خود رو بوٹیوں کی طرح اُگ آئی تھی۔ پانی میں سرکنڈے تیرانے، بانس کے پتوں سے سبز مکڑا –یا عابد ٹڈا- پکڑ کر اُس سے ایک زندہ کھلونے کا کام لینے اور نلکے پہ جی بھر کے نہانے کی تفریحات بلوچوں کے ڈیرے پر بلا روک ٹوک میسر تھیں جن میں چچا گلن شاہ کا بیٹا پھیمی میری مدد اور سرپرستی کرتا تھا۔ اُس نے مجھے ماں بہن کی چند ننگی گالیاں بھی سکھائیں جو میں نے ایک دفعہ بڑے چچا پر آزما کر یادگار چھترول بھی وصول کی۔

بکھے خاں یعنی بختیار خان بلوچ اُن دنوں فوج سے تازہ تازہ پنشن پا کر آئے تھے اور اُنہوں نے اپنے ڈیرے پر ہی ایک چھوٹی سی دُکان بھی بنا لی تھی۔ یہاں سے گُڑ اور چاولوں کا مرونڈا، ریوڑیاں، گُڑ کی “ٹانگری”، بُھنے ہوئے چنے، مکئی کے پھُلے اور “گاں آلی مچھی” جیسی کئی میٹھی اور مزیدار چیزیں ملتی تھیں۔ بابا جگدیش اکثر تہمد کے پلُو سے چَوَنی یا اَٹَھنی نکال کر مجھے انعام کرتے تو میرا عیش ہو جاتا۔ پھر یہاں اکثر کوئی راہ چلتا جوگی مسافر بیٹھا کسی نہ کسی تماشے، مداری یا سوانگ سے گاؤں والوں کو تفریح بہم پہنچا رہا ہوتا تھا۔ ریچھ کے تماشے والا تو بلوچوں کے مویشیوں کی قطاریں دیکھ کر قطب ہوجاتا اور دو چار روپے انعام، معہ کچھ گیہوں، مُوٹھ یا چنے کے، لئے بغیر ہرگز نہ ٹلتا۔ مجھے ریچھ سے بہت ڈر لگتا تھا لیکن میں یہ منظر دیکھتا ضرور تھا۔

یہی وہ مزے تھے کہ میرا دل اپنے گاؤں کی نسبت یہاں زیادہ خوش رہتا اور پرندوں کے مانند خود کو آزاد محسوس کرتا۔ یہاں تک کہ میں بیمار بھی پڑتا تو ضد کرتا کہ کوٹ نیازی خان بلوچ والے حکیم اللہ دتہ کے پاس لے جائیں تو بھلا ہوں گا ورنہ ہرگز نہیں! دادی اماں پھر دوپہر دیکھتیں نہ رات، لاری نہ ملتی تو مجھے اُٹھائے پیدل چل پڑتیں۔ حکیم مرحوم مجھ سے بہت پیار کرتے تھے اور میں اُن کے علاج سے بھلا چنگا بھی ہو جاتا تھا۔ ابا جان فوج سے ریٹائر ہو کر گھر آئے، مجھے میرے والدین اور بھائیوں سے متعارف کروایا اور اسکول بٹھایا گیا تو یہ مزے ختم ہو کر رہ گئے اور کوٹ نیازی خان بلوچ آنا جانا موقوف ہو گیا۔ حتیٰ کہ ایک مُدت بعد جب ایک مزارعہ کوٹ نیازی خاں سے پیغام لے کرپہنچا کہ دادا امیر حیدر شاہ فوت ہو گئے ہیں تو میرا پہلا ردِعمل خوشی کا تھا اور میں مُنہ سے ڈھول بجا کر ناچنے لگا تا آنکہ پھوپھی بنتو کے ایک زناٹے دار تھپڑ نے مجھے سنجیدہ و رنجیدہ کر دیا۔

آج جب گھوڑی کی باگ کوٹ نیازی خان بلوچ پہنچ کر بابا جگدیش کے گھرکی طرف موڑی تو اندیشوں اور خیالوں کا تانتا بندھا تھا، کون کہاں ہو گا، کون کس تپاک سے ملے گا۔ دادی خاتوُں بی بی، بابا زوار شاہ، بابا امیر حیدر شاہ، بابا علی محمد خاں بلوچ اور بہت سے بزرگ جو فوت ہو چکے تھے، اُن کے بغیر گاؤں کا ماحول یقیناََ بدل سا تو گیا تھا لیکن یہاں زندگی اب بھی سادہ تھی، خلوص اور والہانہ پن کے ساتھ جہالت اور توہم پرستی کے بھی وہی انداز ہوں گے۔ انہی سوچوں میں گُم تھا کہ ٹیلے کی ڈھلوان سے اُترتے ہی ایک جانی پہچانی آواز نے مُجھے چونکا کر متوجہ کیا،

ابے او بِجُو کی اولاد!!”

یہ آواز چچا گُلن شاہ کی تھی ! لہجہ خالص اُردو بانوں سے ملتا جُلتا جو اُنہوں نے اپنے فیض آباد (لکھنؤ) سے مہاجرت کر کے آنے والے سُسرالیوں سے سیکھا ہوگا اور یوں بھی میں جانتا تھا کہ مجھے اس لقب سے پُکارنا خاص اُنہی کا انداز تھا۔ میں بائیں ہاتھ میں باگ تھامی اور دائیں ہاتھ سے اُنہیں چُست سا سلیوٹ کیا،

“سلام چچا جان!” وہ ٹیلے سے اُتر رہے تھے۔ باریک کپڑے کا لمبا سفید چولا پہن رکھا تھا، ہاتھ میں قد آدم عصا تھا اور اُن کی لمبی سفید ڈاڑھی ہوا سے لہرا رہی تھی۔ میرے سلیوٹ کے جواب میں وہ بھی اپنا دایاں ہاتھ اپنی سفید ابرُو کے بیرونی کونے تک لے آئے۔ اُن کے ہاتھ کی دو اُنگلیاں غائب تھیں جو کہ اکہتر کی لڑائی میں کسی ہندوستانی فوجی کے سینے کا تمغہ بن گئی تھیں۔ اُنہوں نے مجھ سے اماں ابا کی خیریت دریافت کی، اتنے لمبے عرصے تک ددھیالی گاؤں کا چکر تک نہ لگانے پر مجھے اُلو کا پٹھا قرار دیا اور بہت سی دعائیں دے کر چلتے بنے۔ وہ فوج چھوڑنے کے بعد پیری فقیری کے مشاغل اپنا چکے تھے اور اب بھی نجانے کس لہر میں تھے۔

ڈھلوان سے راستہ بستی کی طرف اُترتا تھا، راہ پڑتے ہی پہلا گھر بابا چراغ علی خاں کا آتا تھا، میں نے گھوڑی پر بیٹھے ہی آسانی سے دیکھ لیا کہ بابا جی صحن کے درمیان میں کیکر کی ٹھنڈی چھاؤں تلے بیٹھے ایک سگریٹ کو حُقے کی نے کی مانند دبوچے اپنی پَون صدی پُرانی سپاہیانہ شان سے پئے جا رہے تھے۔ سامنے بابا جگدیش کے گھر کے پستہ قد چوبی دروازے سے چچا اختر نکلتے نظر آئے۔ میں سلام کرنے کے لئے گھوڑی سے اُتر آیا۔ وہ آگے بڑھ کے گلے ملے،

“اتنا لمبا ہو گیا ہے سُرخے!!”

مجھے سرتاپا دیکھ کر ہنسے اور میرا ہاتھ تھام لیا۔ منجھلے چچا ویسے ہی دھان پان تھے لیکن سر میں سفیدی آگئی تھی، چہرے پہ وہی بشاشت۔
“کہاں جا رہے ہیں چچا؟ میں تو آپ کے ہاں۔۔۔ ”

میں نے پوچھا تو انہوں نے میری بات کاٹ کر ہاتھ کے جھٹکے سے مجھے ہدایات دینا شروع کردیں،

گھوڑی کو وہاں باندھو، بکھے خاں کے ڈیرے پہ، اسے پانی پلاؤ اور پھر بابا چراغ علی خاں کے گھر آجاؤ جلدی سے، میں اُن کی عیادت کرنے جا رہا ہوں، جلدی آؤ، وہیں بیٹھ کر گپ ہانکتے ہیں!”

میں آگے بڑھ کر بختیار خاں کے ڈیرے پر پہنچا جہاں اُس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا، کمزور اور دُبلے مویشی وعلان کررہے تھے کہ خاں صاحب موصوف پر بھی تنگدستی آگئی ہے۔ میں نے گھوڑی کو ایک درخت سے باندھا، راسیں کھول دیں اور پانی کی چھاگل ایک گائے کے سامنے سے اُٹھا کر گھوڑی کے سامنے رکھ دی۔ وہ پانی پینے لگی تو میں نے شفقت سے تھوڑی دیراس کی ایال میں ہاتھ پھیرا اور پھر تیز قدموں سے بابا چراغ علی خاں کے گھر آ گیا۔

“آؤ بھئی، آؤ بھئی!”

بابا چراغ علی خاں نےاپنی چارپائی پہ بیٹھے بیٹھے ہی بانہیں پھیلائیں اور مجھے بڑے تپاک سے ملے۔

“تمہارا باپ تو اس گاؤں کا رستہ ہی بھول گیا ہے، چلو یہ بھی غنیمت ہے کہ آج تمہاری صورت میں اُسے دیکھ لیا”

وہ بڑی اپنائیت سے کہنے لگے۔

“تمہیں تو پتہ نہیں اس کا علم بھی ہے یا نہیں، کہ تمہارے بزرگوں سے ہمارا کیا رشتہ تھا!! تمہارے پڑدادا کو میں ماموں کہا کرتا تھا اور تمہارے دادا کی پہلی بیوی سردار خانم سے اُنہوں نے میرے ابا کے حُکم پر نکاح کیا تھا۔۔۔ ”

وہ سادگی سے کہنے لگے۔

بابا جی سب جانتا ہوں، تبھی تو ددھیالی گاؤں میں سب سے پہلے آپ سے مل رہا ہوں!”

میں نے مونڈھا کھسکا کر اُن کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا تو وہ مسوڑھے نکال کر ہنس دیئے۔

“گھوڑی کو پانی پلالیا تُم نے؟”

چچا نے پوچھا میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“صفیہ! دیور کے لئے پانی لے آؤ، آج مُدت بعد آیا ہے، کھانا بھی دھرو چولہے پہ۔۔۔ ”

بابا چراغ علی خاں نے صحن کے کونے میں بیٹھی ایک جوان عورت سے کہا، پھر میری طرف رُخ موڑا،

“اچھا شہسوار منزل پہ پہنچتے ہی پہلے اپنے گھوڑے کو پانی پلاتا ہے، پھر خود پانی پیتا ہے”

اُنہوں نے ناصحانہ انداز میں اپنا ضعیف ہاتھ کھڑا کرکے کہا تو چچا اختر نے میری طرف یوں دیکھا گویا کہہ رہے ہوں کہ یہ غائت تھی میرے حُکم چلانے کی!

“بیٹا پگڑی بھی باندھا کرو! گھوڑے پہ ننگے سر بیٹھنا خلافِ ادب ہے!”

اُنہوں نے لگے ہاتھوں ایک اور نصیحت بھی کر دی۔

پھر بابا چراغ علی خاں نے اپنے دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کے قصے چھیڑ دیئے، مزے کی گپ سُنائی۔ اس عمر میں بھی بلا کی حسِ مزاح تھی، خُدا جانے کتنی دیر گزر گئی ہنستے ہنساتے۔ اس گاؤں کی فضا میں پھر وہی جانی پہچانی آوازیں اور لب و لہجے جو میری بچپن کی سماعتوں سے مخصوص تھے، دوبارہ احساس میں زندہ ہوئے تو یوں لگا کہ میری زندگی میں بچپن اور اِ س عمر کے درمیان اتنے لمبے عرصے کا فاصلہ کبھی تھا ہی نہیں- بلکہ بابا چراغ علی خاں کی باتوں سے تو یہ احساس ہو رہا تھا کہ ہماری تاریخ میں کبھی تقسیم کا واقعہ بھی نہیں ہوا۔ وہی انگریز افسروں کی بد دماغیوں کی باتیں، رسالے کے گھوڑے، کیمل کور کے اُونٹ، توپخانے کے خچر، بانکےسکھ نوجوان، ہندو سیٹھوں کی مغرور لڑکیاں اور نجانے کیا کیا کردار اُن کی باتوں میں تھے۔۔۔ بابا جی کی صحت ساتھ دیتی تو میں سب قصوں کی جزئیات میں بھی جاتا لیکن میں نے اُن کے آرام کے پیش نظر اجازت مانگی اور چائے پی کر ہی چچا کے ہمراہ گلی میں نکل آیا۔ چچا اختر جس لاری پہ کنڈیکٹر تھے، اُس کے آنے کا وقت تھا، وہ تو سلام کہہ کر سڑک کی جانب اُترنے والے ٹیلے پر چڑھ گئے، میں یہاں سے بابا جگدیش کے گھر کی طرف آگیا۔

چھوٹی پھوپھی اپنے میاں اور بچوں کے ساتھ بیٹھی اُبلے ہوئے آلو کھا رہی تھی۔ سب بڑے والہانہ ملے، پھوپھی نے میرا سر چوما، اُن کے میاں سن رسیدہ ہونے کے باوجود بڑے احترام سے ملے اور بچے تو مجھ سے لپٹ گئے۔ کھجور کے پتوں سے چھتے گئے چھپر کے نیچے جن جھلنگا چارپائیوں پر وہ بیٹھے تھے، یہ اُسی معیارِ زندگی کی غماز تھیں جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ یہاں شاید وقت کی رفتار بہت کم تھی۔ میں بھی چارپائی پہ جگہ پا کر بے تکلفی سے بیٹھ گیا اور بے تکلفی سے اُبلے الو کی قاشیں اُٹھا کر کھانے لگا۔ چارپائی پہ سامنے بیٹھے ایک میزبان کو میں نہ پہچان سکاتھا۔ کناری گوٹے والے سیاہ جوڑے میں ملبوس گورے گندمی رنگ کی اس لڑکی کی دلآویز آنکھوں کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ وہ نووارد مہمان کے بظاہر اجنبی ہونے اور پھر یوں ان سب میں گُھل مل جانے سے لُطف اندوز ہو رہی تھی۔ گھنی بھنویں اور ابروئیں واضح طور پر چغلی کھا رہی تھیں کہ ‘اجنبی میزبان’ بلوچ قبیلے سے ہے۔ میں اُن آنکھوں میں جھانکنے کے مختصر لمحے میں اپنی مسکراہٹ ضبط نہ کر سکا البتہ اسے اُن ہنسی قہقہوں میں چھپا گیا جو کہ پھوپھی کے میاں اور بچے میری فوجی قمیص پر پھبتیاں کستے ہوئے گاؤں کی فضا میں بکھیر رہے تھے۔ ہمارے گاؤں کے اکثر مفلوک الحال دیہاتیوں کی مفلسی کو بھی ہمیشہ سے فوجی سپلائی کے کپڑے لتے ڈھانپتے چلے آئے ہیں۔ عالمی جنگوں سے اب تک کتنے سپاہی ہو گزرے تھے لہٰذا فوجی کپڑا، جوتے، کمبل، مچھردانیاں،کوٹ اور جرسیاں ہم دیہاتیوں کی دسترس میں آنے والا سستا ترین متاعِ فقیر ہیں جس کے لئے کسی سپاہی بھائی بیٹے کو حُکم کرنے یا کسی فوجی ہمسائے کو دُعا دینے سے زیادہ کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ پھوپھی کی بکری بھی جس کا نام مجھے نازش بتایا گیا تھا، اس وقت چارپائی کے پائے سے جس رسی کے ساتھ بندھی تھی، وہ لڑاکا طیارے کے ڈریگ شوٹ کی سسپنشن لائن تھی اور اس کے عوض وارنٹ افسر منظور خان بلوچ کو چاند سا بیٹا عطا ہونے کی دعائیں ملی ہوں گی- بے چارے کے ہاں تمام لڑکیاں ہی پیدا ہو ئی ہیں۔ مجھ سے اماں ابا کے احوال پوچھے گئے تو میں نے ہر دو کے درمیان ہونے والی ایک فرضی لڑائی کا تازہ ترین قصہ سُنا کر سب کو خوب ہنسایا۔ وہ لڑکی بھی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں سُرخ ہوئے جا رہی تھی اور میں ہر بار نظریں چُرا کر اُسے دیکھتا تو وہ لجا کر اس سُرخی میں اور اضافہ کر دیتی۔

اس سے بات کرنے کی مبہم سی خواہش دل میں اُٹھی لیکن کیا کہتا- وہ برابر مسکرائے جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں پھوپھا نے درانتی اُٹھائی اور چارہ کاٹنے نکل گئے، اُن کا چھوٹا بیٹا اُن کے کندھے پہ سوار ہو گیا۔ پھوپھی تندور کی مرمت کرنے لگ گئیں۔ بڑا لڑکا مٹھُو میرے پاس بیٹھا مجھ سے باتیں کرتا رہا۔ اسی اثناء میں ہمسائے سے، یعنی بختیار خاں کے گھر سے کسی خاتون کے بولنے کی آواز آئی، مخصوص قسم کے نسوانی لہجے کی فریکوئینسی بتا رہی تھی کہ کسی کو کوسا جا رہا ہے۔

“اوہو! لو پھوپھی! میری ساس کا ہارن بج گیا، میں تو چلی!”

اُس لڑکی نے پھوپھی کی طرف دیکھ کر کہا اور دوپٹہ سنبھالتی ہوئی چل دی۔ اس کے چہرے پہ وہ مسکراہٹ اب بھی تھی۔

“پھوپھو!”

میں اُٹھ کر تندور کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور بڑے خوشامدی لہجے میں چھوٹی پھوپھی سے مخاطب ہوا۔

“یہ لڑکی کون ہے؟”

پھوپھی میرے لہجے کا تجسس بھانپ گئیں۔

“تیری ماں ہے!! میں سمجھ گئی تُو کیوں پوچھ رہا ہے- سوہنی ہے ناں، اس لئے!”

پھوپھی نے مصنوعی ناگواری سے کہا۔

“وہ تو ہے- بکھے خاں کی کچھ لگتی ہے؟”

میں نے اسی تجسس سے پوچھا لیکن پھوپھی سے ماں کی گالی سُن کے بھی باز نہ آیا۔ مٹُھو جو سات آٹھ برس کا ہوگا، اور انتہائی شریر لڑکا تھا، پاس بیٹھا سُن رہا تھا۔

“اوئے سناز نام ہے اس کا، بکھے خان کی بہو ہے!”

مٹُھو اونچی آواز میں بولا۔

“شہناز- نام کتنا پیارا ہے، جیسی خود، ویسا نام۔۔۔ ”

میں نے فلمی عاشقوں کے انداز میں سینےپہ ہاتھ رکھ کے کہا تو پھوپھی نے جُوتا اُتار کر مٹھو کی طرف پھینکا، وہ بھاگ نکلا۔

“مادر۔۔۔ سارے چھوٹے بڑے عاشق مزاج ہیں۔۔۔ ”

پھوپھی نے ہنستے ہوئے کہا تو میں نے مزید خوشامد کے انداز میں پھوپھی کے پاؤں چھو لئے اور دیر تک انہیں ادھر اُدھر کی باتوں میں ہنساتا رہا۔

پھر میں چچا گُلن شاہ کے گھر گیا۔ باجی نموں میکے آئی ہوئی تھی۔ اُس کے سر میں بھی چاندی آگئی تھی اور رنگت سنولا گئی تھی۔ مجھے بڑی اپنائیت سے ملی۔ اُس کا بیٹا تیرہ چودہ برس کا نوجوان تھا اور خوبصورت لڑکا تھا، مجھے ماموں کے طور پہ اُس سے متعارف کرایا گیا۔
“تمہارا یہ ماموں پانچ سال کی عُمر تک میرا منگیتر تھا!”

باجی نموں نے کہا تو ہم سب ہنس دیئے۔ چچا ضمیر کے گھر گیا تو ایک ایک پیڑ کے تنے سے بغلگیر ہونے کو جی چاہا۔ یہ میرا ددھیالی گھر تھا۔ میرے بچپن میں بابا امیر حیدر شاہ ایک طرف کونے میں چارپائی پر بیٹھا کرتے تھے۔ دُبلے اور بہت لمبے۔ مُجھ سے پوچھتے تھے، کس کے بیٹے ہو؟ کیا نام ہے؟ آج اُسی کونے میں اُن کی قبر تھی اور وہ کونا ہمسائے والے امام باڑے کا حصہ بن چکا تھا۔ اُن کی بیوہ اماں بانو زندہ تھیں اور مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ “چڑھدے پنجاب” کی سی بولی بولتی تھیں اور میری بلائیں لیتی نہ تھکتی تھیں۔ میں نے خیر خیریت دریافت کی۔ بتانے لگیں کہ بابا مرحوم کی برٹش انڈین فوج والی پنشن اُنہیں مل رہی تھی اور غربت میں سہی، صبر و شکر میں گزر رہی تھی۔ چچا ضمیر فوج چھوڑ نے کے بعد نجانے کتنے پیشے بدل چکے تھے، آج کل گاؤں میں تھے۔ مجھے ساتھ لے کر وہ بابا علی محمد خان بلوچ کے ڈیرے پر چلے آئے۔ بکھے خاں کے ڈیرے کے برعکس بابا علی محمد خاں کا ڈیرہ گاؤں کے سنجیدہ اور بڑی عمر کے لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی – بکھے خاں کے ہاں تو دیہہ بھر کے لقندرے اکٹھے ہوتے تھے۔ بابا علی خاں کے ڈیرے پر کافی سارے جوان اور بزرگ بیٹھے تھے، بڑے تپاک سے ملے، کچھ نے پہچانا، کچھ نے نہ پہچانا، اُن سے چچا نے میرا تعارف کروایا؛

“محمد ذکی، بھتیجا ہے میرا۔۔۔ ماشااللہ سے بی اے پاس ہے”

سب نے تعریفی اور رشک بھری نظروں سے دیکھا۔ ایک دو نے ابا جان کی خیریت دریافت کی۔

“اللہ اپنی امان میں رکھے بیٹا، تمہارے باپ کو بھی،جس نے محنت کرکے، غریب سے دیہہ کے پس منظر سے تمہیں اتنا بڑا آدمی بنایا۔۔۔ ”

پائند خان نے حُقے کا کش لیتے ہوئے مجھے مخاطب کر کے کہا تو مجھے خوشگوار سی حیرت ہوئی کہ یہاں اب بھی بی۔ اے پاس کا مطلب “اتنا بڑا آدمی” ہوتا ہے۔ خیر گزری کہ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ آج کل نوکری کہاں ہے؟؟؟

بابا جگدیش سے نہ مل پایا، وہ گاؤں میں نہ تھے۔

میں اپنے گاؤں واپس توآ گیا لیکن یہاں کی مصروفیات میں بھی شہناز خانم میرے خیالوں پہ حاوی رہی۔ کوٹ نیازی خان بلوچ کے ساتھ کم سنی کی اپنائیت اب ایک نیا رُخ پکڑ رہی تھی- یا واضح طور پر کہہ دوں ایک فردِ واحد کی اُلفت کا رُوپ دھار رہی تھی۔ گھر کے کام کاج- بڑے چچا کے ساتھ مویشیوں کے چارے پانی کے کام، ابا جان کا حُقہ بھرنا، جلانے کی لکڑیاں کاٹنا، نیز دن بھر کی مصروفیات کے دوران میرے خیالوں کا محور یہی تھا کہ اب کسی بہانے سے دوبارہ وہاں جاؤں اور شہناز کو دیکھوں۔ نُکری کو ڈیرے پہ بندھا دیکھ کر سفر کی خواہش اور بھی بھڑک اُٹھتی۔ ایک دن ایک جھوٹا سچا بہانہ مل ہی گیا۔ بابا جگدیش بیمار تھے، اُنہوں نے کہلا بھیجا کہ اُن سے ڈاک لے کے تقسیم کردوں جو آج کل اُن کی ذمہ داری تھی جس کے عوض یونین کونسل سے چند روپے پا لیتے تھے۔

“ابا جی، بابا دینُو بُلاتے ہیں- بیمار ہیں۔۔۔ اُن کی ڈاک تقسیم کرنے والا کوئی نہیں۔ یونین کونسل کا ہرکارہ آیا تھا”

میں نے پریشانی کی اداکاری کرتے ہوئے منمنا کر اباجان سے کہا، اجازت مل گئی۔ بھاگم بھاگ نُکری کو پانی پلایا، راسیں باندھیں ایڑھ لگائی اور چل نکلا۔ نُکری کو سرپٹ دوڑنے کی کم ہی عادت تھی لیکن میرا بس چلتا تو آج اُسے اُڑا کر منزل پہ پہنچ جاتا۔ خیر، کوٹ نیازی خان بلوچ کون سا دور تھا، پہنچ ہی گئے۔ بابا جگدیش اُسی چھپر تلے چارپائی پر دراز تھے۔ چھوٹی پھوپھی اور باجی نموں پاس بیٹھی تھیں۔ مَیں بابا سے مَلا۔ میں اُن کو بچپن سے ہی بُوڑھا دیکھتا آیا تھا۔

کیا محبت ہے پوتے کو بابا دینُو سے! پیغام ملتے ہی چلا آیا!”

پھوپھی نے شرارت بھرے لہجے میں مسکرا کر کہا تو بابا نے شفقت سے میرے گال پہ تھپتھپایا۔

“بس پھوپھی، محبت ہے ہی ایسا جذبہ۔۔۔ ”

میں نے مسکرا کر پھوپھی سے کہا تو اُنہوں نے ہاتھ کے پنجے سے مُجھے پھٹکارنے کا اشارہ دیا۔ مٹھو پاس بیٹھا بغیر کچھ سمجھے ہی دانت نکالے جا رہا تھا۔ اُس کے کالے کٹ لیکن معصوم سے چہرے پر اُس کے ننھے ننھے سفید دانت اور آنکھیں زیادہ چمک رہی تھیں۔ میں دیر تک بابا کے پاس بیٹھا رہا، کچھ خواتین آس پاس سے اُن کی عیادت کے لئے آئیں لیکن شہناز نہ آئی۔ میں تلملا کر رہ گیا۔ اسی اثناء میں مٹھو نے ضد کرنا شروع کردی کہ اُسے گھڑ سواری کرائی جائے۔ ناچار ڈاک لی اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔ بکھے خاں کے ڈیرے پر گھوڑی بندھی تھی، خان موصوف تہمد باندھے اپنے دو بیٹوں کے ساتھ، چھپر کے نیچے گہری نیند سوئے تھے۔ نُکری نلکے سے بندھی حوض میں مُنہ رکھے کھڑی تھی جبکہ نلکا چلانے والے ہاتھ شہناز کے تھے۔ دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لئے رُک سی گئی۔ شہناز کی نظر مجھ پہ پڑی تو وہ لجا کر بجلی کی تیزی سے ڈیوڑھی میں چلی گئی۔ مٹھو مجھے بوکھلایا دیکھ کر ہنس دیا۔

“اوئے باجی سناز تجھے اچھی لگتی ہے؟” کم سن مٹھو جو عمر میں مجھ سے اٹھارہ بیس سال چھوٹا تو ہو گا، مجھ سے بے تکلفی سے بولا۔ آخر ماموں زاد، پھوپھی زاد ایک جیسے ہی تو ہوتے ہیں- پھر ہمراز ہوں تو کیا ہی بات ہے!۔ میں نے مٹھو کو دونوں ہاتھوں میں اُٹھا کر گھوڑی پہ بٹھایا۔

“فوجی! تُو اس پہ ‘آسِک’ ہو گیا ہے ناں؟”

چند قدم چلنے کے بعد مٹھو نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔ میں مزے میں تھا۔ شہناز کا یوں شرما کر اندر چلے جانا ایک معنی رکھتا تھا- دن بھر تو دیہہ بھر کے مردوں کی موجودگی میں اسی نلکے پہ برتن مانجھتی تھی، میر ی ہی باری ایسا کیوں۔۔۔

“اوئے بھوتنی کے!!! تُو نے یہ باتیں کہاں سے سیکھیں؟؟”

میں نے مصنوعی ناگواری سے کہا۔

“کسی کے سامنے منہ سے پھوٹا تو مار مار کے دُنبہ بنا دوں گا!!”

میں نے اپنا بازو بلندی تک اٹھا کر اُس کے کان کو دبوچا جو اُس کے چہرے کے تناسب سے بہت بڑا تھا۔ مٹھو برابر ہنسے جارہا تھا۔ وہ بھی مزے میں تھا۔ روزانہ گدھے کی سواری کرتا تھا، آج گھوڑی پہ بیٹھا خود کو دُلہا محسوس کر رہا تھا۔ میں نے اس سے شہناز کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ اس بالشت بھر کے کم سن مشٹنڈے کے پاس تو کافی معلومات تھیں “باجی سناز” کے بارے میں۔ شہناز تھی تو اسی گاؤں کی لیکن پلی بڑھی سرگودھے میں تھی۔ اُس کے ابا کو میں جانتا تھا۔ صوبیدار یونس خان بلوچ، چچا گُلن شاہ کی پلٹن کے تھے لیکن اُن سے نوکری میں بہت بعد آئے تھے تاہم خوب دوستانہ ربط تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یونس خاں سرگودھے کے ہی ہو کر رہ گئے۔ شہناز کی شادی کم عمری میں ہی بکھے خاں کے بڑے لڑکے مختار خاں سے ہوگئی تھی۔ وہ ہمارے سن کا تھا اور ہم اسے مَتے خاں کہتے تھے۔ یہاں عُرفی نام عمر بھر جان نہیں چھوڑتے۔ مَتے خاں پڑھ لکھ نہ سکا تھا اور اب راج مستری کا کام کرتا تھا۔ شہناز کا بیٹا رضا علی دو ڈھائی برس کا ہوگا۔ مٹھو نے بتا یا کہ خانم چچی- شہناز کی ساس- اُس سے ہر وقت جھگڑتی رہتی تھی اور اُس کو بیٹے سے پٹواتی بھی تھی۔ علاوہ ازیں مٹھو کا خزانہء معلومات غیر ضروری تھا لیکن اس سے ہماری دوستی بڑی پکی ہو گئی۔ مٹھو نے مجھے اپنا اصل نام بھی بتایا جو بعد ازاں مجھے بھول گیا۔ واپسی پہ میں نے مٹھو کو گھر چھوڑا تو پھوپھی دروازے میں بیٹھے اپنی بکری ‘نازش’ کو روٹی کے ٹکڑے کھلا رہی تھی، سنجیدگی سے مخاطب ہوئی؛
“انسان بن جاؤ ذکی! مَتے خاں تمہارے چچا اختر کا جگری یار ہے- بلکہ بھائی بنا ہوا ہے اور اختر ہمیشہ شہناز کو بھابی کہہ کر پکارتا ہے- باز آ جاؤ، اُلجھنوں میں پڑو گے!”

وہ سنجیدہ تھیں لیکن میں سرشاری میں تھا۔

پھوپھی دل جو دیوانہ ہے یہ۔۔۔ ”

میں نے شوخی سے اداکاری کی تو پھوپھی نے قریب پڑا جھاڑو اُچک کر چھپاک سے میرے پہلو میں رسید کیا

“تیرے دل کی تو ماں کی۔۔۔ ”

لیکن میں ہنس دیا، وہ بھی ہنس کر اپنے کام میں لگ گئیں۔

واپسی کے سفر میں مَیں بار بار آگے کو جھک کر نُکری کے گلے میں بازو حمائل کر کے گانے لگتا:
“آ میڈا دلدارا!!! میڈے سینگڑیں دا سردارا!!!”
)آ میرے محبوب! میرے ہم عمروں کے سردار (

نُکری نتھنے پُھلا کر رُک جاتی۔ ایک دفعہ تو میں نے اُس کی گردن زبردستی پیچھے موڑ کر اُس کے نتھنوں کا بوسہ لے لیا۔ نُکری بھی مسکرا رہی تھی۔ بلکہ آس پاس کے ٹیلوں پر چشم براہ کھڑے کیکر کے پیڑ بھی مسکرا رہے تھے، راہ چلتے تھلوچڑ اونٹ بھی جھومتے مسکراتے جا رہے تھے۔

پھر کئی دن گزر گئے۔ گھر کے کام کاج اور ماں باپ کی بلاناغہ پھٹکار نے کبھی گاؤں سے نکلنے ہی نہیں دیا۔ پھر عید کا دن آ گیا۔ بڑے بھائی کو چھٹی ملی نہ اسد گھر آیا، بس میں اور حسُو ہی گھر پر تھے۔ اپنی سی عید تو والدین کے ساتھ مل کر منائی لیکن میری عید نامکمل سی تھی۔ کافی دیر بے چینی میں ادھر اُدھر پھرا، پھر حسُو کو سب قصہ بتا دیا۔ اُس نے ایسی چال چلی کہ ابا نے فوراََ ہم دونوں کو کوٹ نیازی خان بلوچ جانے کا حُکم دے دیا، ساتھ میں اپنے شناختی کارڈ کی نقل دی کہ بابا دینُو کے حوالے کردینا۔ خدا جانے حسُو نے کیا کہا تھا۔ خیر بلیوں اُچھلتے پیدل چل پڑے۔ راستے بھر گاتے گئے اور پیر ولائیت شاہ ؒ سے دیدار کی مرادیں مانگتے گئے،
“پیر کاملا! عید نہ کرکری کر دینا!”

پھر موسم بھی ابر آلود ہوگیا، صحرا کی مسافت کا لُطف سہ بالا ہوگیا۔ منزلِ مقصود پر پہنچے۔ شہناز کے گھر کے سامنے بابا چراغ علی خاں کھڑے تھے، جلانے کی لکڑی کاٹنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کلہاڑی ہی ہاتھ سے چھُوٹ چھُوٹ جاتی تھی۔ میں نے سلام عرض کر کے کلہاڑی ان کے ہاتھ سے لی اور لکڑیاں کاٹنے لگا۔ کچھ تو وہ اونچا سنتے تھے، کچھ میں بھی اُونچا بولنے لگا تاکہ ڈیوڑھی کے اندر تک آواز جائے۔ اُن کا دُوسری جنگِ عظیم کا ایک قصہ ہی مکمل ہوا تھا کہ میں نے ساری لکڑیاں کاٹ پھینکیں۔ شہناز سامنے نہ آئی۔ بابا نے مجھے ڈھیروں دعائیں دیں اور لکڑیاں سمیٹ کر اندر چلے گئے۔ میں پھوپھی کے ہاں چلا آیا۔ وہ گُڑ والی سویاں بنانے بیٹھی تھیں، آتے ہی تام چینی کی پلیٹ میں مٹھی بھر سویاں بھر کر میرے سامنے رکھ دیں۔ وہ چولہے کے سامنے بیٹھی تھیں، میں بھی زمین پر آلتی پالتی مار کر ان کے سامنے بیٹھ گیا۔ میں سویاں کھا کر پھوپھی کے دوپٹے سے ہاتھ پونچھ رہا تھا کہ عقب سے ایک نسوانی آوازآئی:
“سلام علیکم، عید مُبارک!”

یہ آواز شہناز کی تھی۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ پیچھے مُڑا تو وہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ ایک ہاتھ کا فاصلہ بھی تو نہ ہو گا۔ آنکھوں اور ہونٹوں کی وہی مسکراہٹ- میں ایک لمحے کو گُنگ سا ہو گیا۔ حسُو فوراََ اُٹھ کر چچا اختر کے آنگن میں چلا گیا۔

“بیٹھیں!”

میں نے چارپائی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بیٹھ گئی۔ میں دوسری چارپائی گھسیٹ کر اُس کے سامنے بیٹھ گیا۔ وہ برابر مسکرائے جا رہی تھی۔ اُس نے آج بھی وہی سیاہ جوڑا پہن رکھا تھا، سنہری گوٹے کناری والا۔ میں بھی اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر برابر مسکرائے جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ گفتگو کہاں سے آغاز کی جائے۔۔۔

“آپ کی پھوپھی زاد بہن۔۔۔ فرزانہ مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی۔۔۔ ”

اُس نے بات کا آغاز کردیا۔

“کیوں؟”

میں نے تجسس سے پوچھا۔ گفتگو آغاز تو ہو گئی تھی لیکن اس میں پھوپھی رضیہ کی بیٹی کہان سے ٹپک پڑی؟

“وہ جو ہے ناں فرزانہ۔۔۔ وہ سُنی ہو گئی ہے اور کہتی ہے کہ عاشور کے دن سوگ نہیں منانا چاہیئے۔ مجھے سخت بُرا لگتا ہے، کسی دن وہ خبر لُوں گی اُس کی کہ۔۔۔ بس آپ سمجھا لیں اُسے!”

شہناز کی اس بات پہ میں تھوڑا سا چونکا اور پھر مجھے ہنسی اور پیار مل کر آئے، میں ہنس دیا۔

“خاں صاحب!”

میں نے اُسے ہنستے ہوئے ہی جواب دیا۔

“اگر آپ عید کے دن سیاہ جوڑا پہن سکتے ہیں تو میری پھوپھی زاد عاشور کے دن جشن بھی منا سکتی ہے!”

میں نے چہل کرتے ہوئے کہا تو وہ شرما سی گئی۔

“اب ایسے تو نہ کہیں آپ۔ سیدوں کو ایسی باتیں نہیں کہنی چاہئیں۔ ہاں میں تو ہر وقت سوگ میں رہتی ہوں۔ جب زندگی میں دُکھ ہی دُکھ ہوں تو۔۔۔ ”

وہ اُداس ہو گئی۔

“اے ہے! یہ کیا محفل جم گئی بھئی؟ مجھ غریب کو گاؤں سے نکلواؤ گے؟ یہ نیا سسی پُنوں کا قصہ اُگ رہا ہے یہاں!!”

پھوپھی نے مصنوعی سی ناگواری سے مجھے اور شہناز کو ڈانٹا۔

“ہم کسی سے ڈرتے ہیں کیا؟؟”

شہناز نے بھاؤ بتانے کے انداز میں کہا تو میرا دل خوشی سے اچھل پڑا۔

“یہ دکھائی ناں بلوچوں والی دلیری!!”

میں نے تعریفی انداز میں کہا، شہناز شرما گئی۔ پھوپھی چولہے پہ جا بیٹھیں۔

“کیا غم ہے آپ کو یہاں رہتے ہوئے خانم شہناز جہاں بیگم؟؟؟ اتنی سادہ اور پر سکون زندگی ہے یہاں۔ اور پھر آپ کی عمر ہی کیا ہے غموں کی؟ ایسا نہ کہا کریں”

میں نے اپنائیت سے مسکرا کر کہا تو وہ اُداسی میں مسکرا دی۔

“جب شادی ہوئی تھی تو وہ کون سا بیاہے جانے کی عمر تھی! آٹھویں پڑھتی تھی میں۔۔۔ آرمی پبلک اسکول میں۔۔۔ ”

شہناز نے کہا تو میں چونک گیا۔

“خاں صاحب نے پھر تو بڑا ظلم کیا ! پڑھے لکھے فوجی آدمی تھے، اُنہیں تو یہ زیب نہیں دیتا تھا!”

میں نے احتجاج کے انداز میں کہا۔

“لیکن تھے تو بلوچ قبیلہ!! برادری، رسم و رواج، روایات، رشتے۔۔۔ بس بھائی کے وٹے سٹے میں آ کر اس کھونٹے سے بندھنا پڑا”

شہناز سر جھکائے ہوئے اُداسی سے بول رہی تھی۔ میرا دل اُس کے لئے کٹا جارہا تھا لیکن اس امر کی خوشی بھی ناقابلِ بیان تھی کہ شہناز اپنا غم مجھ سے بانٹ رہی تھی۔ شاید اُس پہلے دن ہماری آنکھیں چار ہوئی تھیں تو اُس نے اِس اجنبی میں اپنائیت کا رشتہ دیکھ لیا تھا۔ پھر وہ مجھے بتانے لگی کہ اُس کی ساس کس طرح ہاتھ دھوئے اُس کے پیچھے پڑی رہتی تھی۔ خانم چچی یعنی شہناز کی ساس بڑی چالاک اور بدمزاج عورت تھیں اور یہ بات کسی سے چھپی نہ تھی۔ میں نے تشفی کے چند الفاظ کہے اور بات کا رُخ موڑا تو وہ مسکرا کر باتیں کرنے لگی۔ اپنے اسکول کے دنوں کے بارے میں بتانے لگی، اپنے بیٹے رضا علی کے بارے میں بھی۔۔۔ پھر وہ اچانک چونکی۔
“وہ جی ایک منٹ، میں آئی۔۔۔ ”

وہ تیزی سے اُٹھی۔

“بیٹھیں ناں، کیا ضرورت ہے اتنی جلدی جانے کی”

میرا دل ڈوب سا گیا۔

“بس مَیں گئی اور آئی!”

شہناز نے تیزی سے کہا اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ میں چارپائی پہ لیٹ کر رفاقتوں کے نئے خواب ترتیب دینے لگا اور من میں محسوس ہوتی گدگدی کے زیرِ اثر مسکرانے لگا۔ میں سرشاری کے عالم میں چارپائی کے پائے سے بندھی بکری ‘نازش’ کے بالوں پہ ہاتھ پھیررہا تھا کہ دروازے میں آہٹ ہوئی۔ شہناز سامنے کھڑی تھی۔ اب اُس نے سبز کناری والا زرد جوڑا پہن رکھا تھا۔ ایسے لگا جیسے موسمِ بہار کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہو۔

“مجھے یاد بھی نہیں تھا عید کا جوڑا پہننا- کیسا ہے یہ؟”

شہناز ہنستے ہوئے بولی۔

“بہت خوبصورت۔۔۔ بس اس کا رنگ مجھے فکر مند کر رہا ہے۔۔۔ ”

میں نے کہا۔

“جی اپ کہیں گے کہ زرد رنگ نفرت کی علامت ہے؟ میرے دل میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بس اچھا لگ رہا تھا، لے لیا!”

شہناز نے مسکرا کر میری بات کا جواب دیا اور اپنے قمیص کے دامن کو پھیلا کر اُس کی کناری کو دیکھنے لگی۔

“شہناز!”

میں نے اُسے متوجہ کیا۔

“جی”

اُس کے جواب میں بہت اپنائیت تھی۔

“اب تمہیں خوش رہنا ہو گا!”

میں نے کہا۔

“ہاں رہوں گی۔۔۔ ”

وہ بولی اور اسی لمحے ساتھ کے صحن سے خانم چچی کے بآوازِ بلند کوسنے کی آوازیں آنے لگیں۔

“لیں! میرا تو سائرن بج گیا!”

شہناز نے زہرخند کے ساتھ کہا اور ہنستی ہوئی چلی گئی۔

مجھے بارش سخت نا پسند ہے لیکن اس روز گاؤں جاتے ہوئے راستے میں بارش ہونے لگی تو میں حسُو کے گلے میں بانہیں ڈال کر خوشی سے گانے لگا۔ پیر ولائیت شاہ ؒ کے دربار پہ گیا تو دیر تک چہچہاتا اور وہاں کے ملنگ کے ساتھ گپیں ہانکتا رہا۔ صحرائے تھل مجھے اسکاٹ لینڈ نظر آرہا تھا۔ دیر سے گھر پہنچنے پر جو لعنت پھٹکار ہوئی، وہ بھی لالہ و گل کی بارش محسوس ہوئی کیونکہ میری زندگی میں شہناز کا کردار شامل ہو چکا تھا گویا یہی ایک کمی تھی— اگرچہ شہناز میری پہلی محبت بھی تو نہ تھی۔۔۔

چند روز اپنے گاؤں کی زندگی میں معمول کے گزرے۔ نُکری بیمار پڑ گئی تو اُسے چچا کبیر علی خان سیال کے ہاں بھجوا دیا۔ ابا جان کے حُکم پر مجھے موٹر سائیکل سیکھنا پڑی۔ ایک تین دہائیاں پرانی موٹر سائیکل ابا کے پاس تھی، بھاری بھرکم اور چلنے میں تیز، بڑے چمکیلے بال و پروالی۔ جب سیکھ لی تو پہلا سفر کوٹ نیازی خان بلوچ کا کیا۔ مٹھُو کو جھولا دلوانے کے بہانے گلی میں کچھ کم درجن بھر چکر لگائے لیکن شہناز نظر نہ آئی۔ پھر تھک ہار کر بکھے خاں کے ڈیرے پر جا بیٹھا۔ چچا گُلن شاہ، بکھے خاں، متے خاں اور پھیمی یہاں بیٹھے تھے، سب سے ملنا پڑا، گپ شپ کی، حتیٰ کہ خانم چچی آئیں تو اُن سے بھی با ادب ملا لیکن دال نہ گلی۔ مَتے خاں تھا تو میری عمر کا ہی لیکن مجھ سے نو خیز جوان لگتا تھا، مردانہ وجاہت میں بھی کم نہ تھا۔ بس پڑھا لکھا ہوتا تو شہناز تھی بھی اُسی کے شایاں۔ میں اُس سے شدید حسد محسوس کرنے لگا۔ خیر، شام ہو گئی اور ا س طرح کئی شامیں اَور بھی گُزریں- شہناز کی ایک جھلک ہی دیکھ پایا۔ اب اُسے دیکھے بغیر سارا کاروبارِ حیات برہم لگتا تھا۔ اُس کی شکل کبھی بھولنے لگتی تو بوکھلا اُٹھتا، پھر یاد آتی تو شدت سے یاد آنے لگتی۔

پھر ایک دن بابا جگدیش ہمارے گھر آئے، مٹھُو بھی اُن کے ہمراہ تھا۔ موقع پا کر مٹُھو نے مجھے ایک اطلاع دی؛

“اوئے باجی سناز نے آج پیر عبدالرحمان شاہؒ کے دربار پہ سلام کے لئے آنا ہے تمہارے گاؤں!”

میں نے مٹھو کے کالے کالے گالوں کو چوم لیا۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ دربار پہ جانے کا کیا بہانہ تراشا جائے کہ بخت نے پھر یاوری کی، چچا اونٹ لے کر آ پہنچے۔ پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے دربار کے پاس فقیروں سے دو جُھنڈ سوکھے کیکروں کے خریدے تھے، لڑکوں نے کاٹ دیئے ہیں، وہی لادنے جارہا ہوں۔ میں نے نعرہ لگایا؛

“چچا! میں بھی ساتھ چلوں گا!!”

موٹے تلوے کے فوجی بوٹ شلوار قمیص کے ساتھ پہنے اور چچا کے ہمراہ ہو لیا۔ سارا دن کیکر کا کانٹے دار تنے اُونٹ پر لدواتا رہا، بار بار نظر دربار شریف کی طرف جاتی، کوئی مسافر نہ آتا ہوا دیکھ کر دل ڈوب سا جاتا۔ نجانے کتنے کانٹے اس بے دھیانی میں ہاتھوں میں چبھ گئے۔ سہ پہر کو سیاہ بُرقعے میں ملبوس، شہناز کے سے قد وقامت کی ایک خاتون کو دربار کی جانب آتا دیکھا۔ قریب سے گزریں تو بھانپ لیا۔ ہمراہ خانم چچی تھیں اور اُنہوں نے ننھے رضا علی کو اُٹھا رکھا تھا۔ یعنی برقعہ پوش خاتون شہناز کے سوا کوئی اور نہ تھی۔ وہ دربار کا سلام کرکے لوٹیں تو ہمارے قریب کی پگڈنڈی سے گزریں۔ خانم چچی نے چچا سے احوال پُرسی کی، چچا نے جواباَ “سلام بھابی” کہا تو شہناز کو بھی موقع مل گیا ہاتھ کے خفیف سے اشارے سے مجھے سلام کہنے کا۔ ہم دیہاتیوں کو محبت میں اتنے خفیف سے حسیِن اتفاقات کے مقابل قلوپطرہ اور انطونی کی محبت کا پورا قصہ بھی کچھ نہ ہو گا۔

اس شام کی سرشاری بھی کمال تھی۔ اُونٹ کے گلے کی گھنٹیوں میں بربط و رباب سُنائی دے رہے تھے، کیکر کی کانٹے دار لکڑی لاد کر جاتے ہوئے لگ رہا تھا کہ جیسے مہر و محبت کے اسباب لُوٹ کر جا رہے ہیں۔ اور تو اور، اُونٹ گول مٹول لِید گراتا جا رہا تھا اور میرے من میں لڈُو پھوٹ رہے تھے۔

کوٹ نیازی خان بلوچ میں میرا ایک دوست ہائی اسکول کی پڑھائی کے دنوں میں بنا تھا، شیر محمد۔ بستی کے جس کونے میں رہتا تھا، اُدھر بچپن میں میرا کبھی گذر نہ ہوا تھا۔ فراغت کے وقتوں میں شیرے کی رفاقت میں آوارہ گردی میرا مشغلہ تھا۔ ان دنوں تو میں نے کمال آوارہ گردی کی۔ حیلے بہانے سے کوٹ نیازی خاں پہنچ جاتا، شیرا اپنے مویشیوں کی دیکھ بھال اور چارے پانی سے فارغ ہو چکتا تو ہم نکل پڑتے۔ بکھے خاں کے ڈیرے پر جا بیٹھتے، وہاں سے اُٹھ کر بابا علی محمد خاں کے ڈیرے پہ، وجہ بے وجہ چچا گُلن شاہ کو سلام عرض کرنے جا نکلتے یا پھر پیر ولائیت شاہؒ کے دربار پہ۔۔۔ اس دوران یہ کوشش ہوتی کہ ہر بار شہناز کے گھر کے سامنے سے گزرا جائے۔ اس گلی کے ذرے ذرے کو خوب روندا، یومیہ درجن بھر چکر لگتے۔ کبھی بخت یاوری کرتا تو کاسہء دید میں ایک آدھ جھلک کا سکہ بھرلاتے ورنہ نامراد لوٹتے تو شعلہء عشق پہلے سے ذیادہ بھڑکا لاتے۔ ایک دفعہ تو ننھا رضا علی گلی میں ننگ دھڑنگ کھیلتا مل گیا، اُسے اُٹھایا، گلے لگایا، پیار کیا، کچھ ہنسایا کھلایا، پھر گھر کے دروازے میں چھوڑ دیا۔ اکثر شیرا مجھے سمجھاتا کہ یا ر کیوں گاؤں میں اپنی عزت کم کرتا ہے! لوگ تجھے اچھا خاصہ قابل آدمی سمجھتے ہیں، ایسے لُور لُور پھرے گا تو اپنی وقعت کھو دے گا، لیکن میں سُن کے اُڑا دیتا۔ اُس نے یہاں تک بتایا کہ اُس کا چچا اللہ وسایا، خانم چچی کے عشق میں اپنی ڈھلتی عمر عذاب بنا کر نشانِ عبرت بن چکا تھا۔ بے چارے نے فوج کی نوکری سے بچائی ایک ایک پائی لُٹا دی لیکن انجام کار کچھ نہ ملا۔ اگرچہ خانم چچی نے تابمقدورنباہی لیکن اُس کی وفا سے کیا تلافی ہوتی کہ اللہ وسائے کو اُس کی بیوی تک چھوڑ کر میکے چلی گئی، بچے بھی ہمراہ لے گئی۔ مجھے اس کہانی سے مزید تشویق ملی، شیرا سر پیٹ کر رہ گیا۔

خدا جانے کون سا مہینہ تھا، گرمی پڑ رہی تھی لیکن سہ پہر کا وقت بڑا خوشگوار لگتا تھا، میں شہر کسی کام سے گیا تھا، واپسی پہ لاری جو یہاں سے گُزری تو کوٹ نیازی خان بلوچ اُتر گیا۔ پھوپھی کے گھر پہنچا تو کوئی بھی نہ تھا وہاں، بس مٹھوُ دیوار پہ چڑھا بیٹھا ‘گھڑ سواری’ کے مزے لے رہا تھا۔

“نیچے اُتر او بھوتنی کے! ماں کہاں ہے تیری؟”

میں نے اُسے کہا۔ اُس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا، بس اپنے خیالی گھوڑے کی راہ میں آنے والے راہگیروں کو ہٹنے بچنے کی ہدایات دیتا رہا۔

“اوئے جا، ناں! ماں اپنی کو بتا کہ بھائی ذکی آیا ہے!”

میں نے ذرا سختی سے کہا تو مٹھوُ نے جواباً فحش سا اشارہ کیا اور دوسری جانب سے دیوار سے کود گیا۔

“حرامزادہ ناں ہو تو۔۔۔ ”

میں نے ہنس کر کہا اور چارپائی پر دراز ہو گیا۔ ‘نازش’ اپنے نومولود میمنوں کو گھیرے تندور کے پا س بیٹھی تھی، میں ہاتھ بڑھا کر ان میمنوں کو چمکارنے لگا۔ اسی اثناء میں مٹُھو دروازے سے اندر آیا تو اُس کے چہرے پر ایک فاتحانہ سی شان اور آنکھوں میں چمک تھی۔ اُس نے دروازے کی طرف آنکھ کا اشارہ کیا تو میں اچھل کر کھڑا ہو گیا؛ شہناز دروازے میں کھڑی تھی۔ گلابی رنگ کا بہت اُجلا جوڑا پہنے، جس پہ اُسی رنگ کے سلمیٰ ستارے ٹانکے گئے تھے۔ وہ ہمیشہ کی طرح مسکرا رہی تھی۔ میں نے اندر آنے کا اشارہ کیا تو وہ اندر آگئی۔

“مٹُھو کے ہاتھ بُلوا بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟”

شہناز نے مصنوعی ناگواری سے کہا تو مجھے قصہ سمجھ میں آیا، میں ہنس دیا۔

“کیا کرتا شہناز، کیا کیا جتن نہیں کرنے پڑتے تمہیں ایک جھلک دیکھنے کے لئے۔۔۔ بیٹھو!”

میں نے سنجیدہ ہو کر کہا۔ وہ میرے سامنے کی چارپائی پر بیٹھ گئی۔

“شہناز دیکھو ایسے لاپروائی نہیں کرتے۔ سارا دن کُتوں کی طرح رُلتا ہوں تمہاری گلی میں، سامنے ہی آ جایا کرو۔۔۔ مجھ سے رہا نہیں جاتا۔۔۔ ایک جھلک ہی دکھا دیا کرو۔۔ ”

میں نرم دھیمے لہجے میں سماجتیں کرنے لگا۔ اس دوران مَیں اُس کے چہرے اور آنکھوں سے نظر ہٹانے پر آمادہ ہی نہ تھا گویا زندگی میں آخری بار اُسے دیکھ رہا ہوں۔ اُس کی آنکھیں گہری سیاہ تھیں – کاجل بھی لگا رکھا تھا۔ وہ اپنی مجبوریاں اور مسائل بتانے لگی، اپنی ساس کے اوصاف سُنانے لگی۔

“شہناز کچھ بھی۔۔۔ میرا حال بھی تُم سے مختلف نہیں، ہزار جتن کرنے پڑتے ہیں یہاں آنے کے لئے”

میں اپنی ضد پر قائم رہا۔ بس مقصد تھا کہ وہ ملتے رہنے کی ہامی بھر لے۔ مجھے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے اُس کا نام لے لے کر پکارے جانا اچھا لگ رہا تھا، وہ محظوظ ہو رہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ چاہے جانے کا بھی ایک عجیب لُطف اور نشہ ہے اور یہ بیاہی سُہاگن بھی شاید اب تک اس نشے سے نابلد تھی۔ اُس کے چہرے پر اب شرم کا رنگ گہرا ہو رہا تھا کہ دروازے میں آہٹ ہوئی،
“فوجی اوئے! اماں آگئی اوئے!”

مٹُھو تیزی سے بولا۔ شہناز اُٹھ کھڑی ہوئی، میں بیٹھا رہا۔ اسی لمحے چھوٹی پھوپھی بھی اندر آدھمکی۔ میں اُٹھ کے آگے بڑھا، پھوپھی نے میرے شانے پہ ہاتھ رکھا، شہناز سے احوال پُرسی کی۔ مٹھو اسی اثناء میں بھاگ نکلا۔

“شہنازو! یہ جو میرا بھتیجا ہے ناں، یہ حرامی تجھے طلاق دلوا کر ٹلے گا! اس مرتد کے ہوتے ہوئے یہاں نہ آیا کر- یوں تو تیرا اپنا گھر ہے!”

پھوپھی نے ہنستے ہوئے شہناز سے کہا اور چارہائی پہ بیٹھ گئی۔ ساتھ ہی اُسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ شہناز بھی بیٹھ گئی۔ پھوپھی کو ابھی تک اندازہ نہ تھا کہ دونوں طرف آگ برابر کی نہیں بھی ہے تو کچھ نہ کچھ شعلہ اُدھر بھی ہے۔ شہناز کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرتی رہی، پھر اجازت کے کر چلی گئی۔

“ارے کتنے پیارے میمنے دئیے ہیں نازش نے!!”

میں نے چونکنے کی اداکاری کی اور لپک کر بکری کے پاس جا کر تندور پر چڑھ بیٹھا۔ یہاں سے گلی اور شہناز کے گھر کا دروازہ واضح نطر آتا تھا۔ شہناز اپنے گھر کے دروازے پر جا کر رُک گئی- اُسے گلی میں کسی نے بُلایا تھا۔

“شہناز! اپنا دوپٹہ دینا، ذرا امام باڑے تک جا رہی ہوں، ابھی آئی!”

اُس کی دیورانی شمو قریب آتے ہوئے بولی تو شہناز نے اپنا دوپٹہ اُتار کر اس کے حوالے کر دیا۔ اسی لمحے اُس کی نظر مُجھ پر پڑ ی کہ میں تندور پر چڑھا اُسے دیکھ رہا تھا، وہ ہنس دی۔

“یہیں رُکو!”

میں نے شمو کے جانے کے بعد اُسے اشارہ کیا۔

“کیوں؟”

اُس نے ہنستے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا۔

“مَیں- تُمہیں – دیکھنا – چاہتا- ہوُں!!”
میں نے اشاروں سے ایک ایک لفظ سمجھایا تو وہ ہنس دی۔ اُس نے دانتوں پر تازہ ‘مُساگ’ رگڑ رکھا تھا جو اُس کی ہنسی کا حُسن دوبالا کر گیا۔ ساتھ ہی بڑی شرارت کے ساتھ اُس نے اپنے گہرے سیاہ بالوں کو پُشت سے اُٹھا کر دائیں شانے سے سامنے سینے پر ڈال لیا۔ یہ صریح اور سنجیدہ شرارت تھی جس نے بلا مبالغہ میرے دل کو امتحان میں ڈال دیا۔ دلبری کے جو چند سادہ و پُرکار انداز اُسے آتے تھے، اُن میں یہ شرارت مجھے کبھی نہ بھولے گی۔ میں نے دونوں ہاتھوں میں اپنا سر پکڑ لیا۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی- میں بھی ہنس دیا۔

پھر اس کے بعد نجانے کتنے ہفتے گزر گئے۔ کبھی سرراہ آمنا سامنا ہو تو ہو، ورنہ دو باتیں تک کہہ لینے کی بھی مہلت نہ مل سکی۔ شیرے نے مجھے ایک دو دفعہ پھر مشورہ دینے کی کوشش کی کہ گاؤں میں میری آوارہ گردیوں کی بابت کھسر پھسر ہونے لگی ہے۔ میں نے سختی سے کہہ دیا کہ دوست ہو تو ناصح مت بنو! شیرا خفا تو ہوا لیکن پھر میرے ساتھ ہو لیا۔ دن بھر کی آوارہ گردی کے بعد اُس نے شہناز کی گلی کا ایک چکر لگانے کی منظوری دی تو ہم وہاں جا پہنچے۔ گلی کے نکڑ پہ ایک نیا مکان تعمیر ہو رہا تھا، یونس خاں صاحب کا- یعنی شہناز کے ابا کا۔ شاید خان موصوف عمرِ آخر اپنے آبائی گاؤں میں گزارنا چاہتے تھے۔ ہم قریب پہنچے تو دیکھا کہ راج مستری کا کام مَتے خاں کررہا تھا۔ شہناز اُسے اینٹیں تھما رہی تھی۔ میں زیرِ لب مَتے خاں کو بہن کی گالی دی، اُدھر سے مَتے خاں نے مجھے دیکھتے ہی بآوازِ بلند سلام کیا،

“شاہ صاحب قبلہ! سلام ہے!”

میں نے ہنس کر سلام کا جواب دیا۔ شہناز نے ہاتھ سے اینٹ رکھ کر اپنا دوپٹہ درست کیا۔ بس اتنی سی دید ہوئی، شام بڑی بے چینی میں گزری۔

“یار شیر محمد! یہ ظُلم ہے!!!”

ٹیلے پر بیٹھ کر گپ شپ کے دوران میرا خیال پھر شہناز کی آج کی مصروفیت کی طرف گیا تو میں نے بڑے جارحانہ انداز میں سخت غُصے کے ساتھ کہا۔

“یار کمال کرتے ہو، سب عورتیں کرتی ہیں کام کاج۔ تمہارے گھر یا تمہارے گاؤں میں نہیں ہوتا؟”

شیرے نے مجھے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

“دیکھ شیرے! وہ مویشیوں کو پانی پلاتی تھی، کلہاڑی سے لکڑی کاٹتی تھی، گھر میں گارے کا لیپ وغیرہ بھی خود کرتی تھی، میں نے کبھی اعتراض کیا؟ میری ماں بھی کرتی ہے لیکن اینٹیں ڈھونے کا کام؟؟؟ یہ سراسر کمینگی ہے مَتے خاں کی۔۔۔ ”

میں مزید جارحانہ ہوا جا رہا تھا۔

“محبوب تو پھولوں سے بھی نازک ہوتے ہیں، اُنہیں ان ہاتھوں سے صرف دلبری کرنی چاہیئے۔۔۔ وہ ان نازک ہاتھوں سے ہم عاشقوں کے دل کا کھلونا بنا کر کھیلیں، لیکن اینٹیں؟؟؟”

اب میں واقعی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا، شیرا ہنس دیا۔

“اچھا جلدی سے اس مسئلے کا حل بتاؤ!”

شیر محمد بولا تو میری بھی ہنسی چھوٹ گئی۔ لیکن اندر سے پھر بھی بے چین تھا۔

اگلے ہی دن میں نے موٹر سائیکل اُڑائی اور آدھمکا کوٹ نیازی خاں۔ مِٹھو کو بھتے کے طور پر پکی پُلی تک موٹر سائیکل کے جھولے دئیے اور پھر اُسے شہناز کے گھر بھیجا، پیغام تھا کہ خُدارا ایک بار پھوپھی کے گھر کے دروازے تک آؤ، میں تندور پہ بیٹھا تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد شہناز آ کر دروازے میں کھڑی ہو گئی۔ میں نے اند ر بُلایا لیکن وہ وہیں کھڑی رہنے پہ بضد تھی۔

“جلدی بتائیے، کیوں بُلایا تھا آپ نے مُجھے جانا ہے!”

وہ تیزی سے بولی۔

“شہناز مجھے کل تمہارا اینٹیں ڈھونا بالکل اچھا نہیں لگا”

میں نے کہا۔

“پھر کیا ہوا؟ مختار خاں کا ہاتھ بٹا رہی تھی- یہ دیکھیں میرے ہاتھ پہ تو چھالے بھی پڑ گئے ہیں”

اُس نے اپنی ہتھیلی دکھائی تو مجھے یوں لگا کہ مجھے میرے ہی دل کے پھپھولے دکھائے جا رہے ہیں۔

“شہناز مجھے تم سے شدید محبت ہے۔۔۔ بہت زیادہ!!!”

میں بے قراری میں کہہ گیا۔

“اچھا؟”

وہ بے یقینی سے بولی۔

“ہاں”

میں نے اسی بے چینی میں تصدیق کی۔

” اچھا اب میں چلتی ہوں ”

شہناز نے تیزی سے کہا اور چلی گئی۔ کاش مجھے اس لمحے پتہ ہوتا کہ یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔ ٹیلے کی چوٹی پہ خانم چچی کے بھائی کا گھر تھا جہاں سے پھوپھی کا تندور واضح نظر آتا تھا۔ ہماری یہ ملاقات دیکھ لی گئی تھی۔ میں تو گھر آگیا لیکن وہاں خانم چچی نے جو تماشے کھڑے کئے۔ اُس نے مَتے خاں کے خُوب لتے لیے۔

“بیوی نہیں سنبھالی جاتی مختار خاں تم سے، تو طلاق دے دو چھنال کو! جو لونڈا ذرا لمبے قد کا دیکھتی ہے، دوستی گانٹھ لیتی ہے” وغیرہ
اور نجانے کیا کیا واہیات۔۔۔

خانم چچی نے چھوٹی پھوپھی کی موجودگی میں مَتے خاں کو سُنائیں۔ کچھ دیر تو پھوپھی نے دیکھا کہ اُس کی موجودگی میں شرم کرے گی لیکن خانم چچی تو اسے اضافی فائدے کے طور پہ لینے لگی تو پھوپھی نے بھی کہہ دیا کہ خبردار میرے بھتیجے کے بارے میں یوں بھونکیں تو سبق سکھا دوں گی!! ماحول تو اور گرم ہو گیا۔ ادھر سے چچا اختر آپہنچے تو اُنہوں نے جنگ بندی کروائی لیکن صورت حال بگڑ چکی تھی۔ گاؤں میں بھی ڈونڈی پٹ گئی۔

شہناز کا گھر سے نکلنا سختی سے بند ہو گیا، مجھے بھی پھوپھی کا پیغام ملا کہ اگر عزت عزیز ہے تو کوٹ نیازی خان بلوچ کی طرف آنا جانا موقوف کردوں۔ ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ شہناز کی خاطر ہی سہی، اُس کا خیال دل سے نکال دوں۔ یہ مشکل تقاضہ تھا۔ خیر، کئی مہینے ضبط کیا، موسمِ سرما آکر گزر گیا۔ کوٹ نیازی خاں ایک دو دفعہ گیا بھی تو جُھٹ پٹے کے وقت اور شیر محمد کے گھر سے ہی واپس لوٹ آیا۔

ایک رات دل کے ہاتھ مجبور ہو کر شہناز کی گلی میں جا پہنچا۔ پُورے چاند کی رات تھی، اُس کے گھر کے سامنے اُس کا پستہ قد پالتو کُتا بیٹھا تھا جو مجھ سے مانوس تھا، میں نے چمکارا تو میرے پاس آگیا۔ میں نے اُسے اُٹھا لیا۔ سرما کی رات تھی، گلی میں کوئی نہ تھا۔ یہ سوچ کر کہ شہناز کا لاڈلا ہے، میں نے فرطِ جذبات سے اُسے سینے سے لگا لیا۔ کتوں سے مجھے یوں بھی لگاؤ ہے جو احباب سے چھپانہیں۔ اسی لمحے گلی میں کسی کی پرچھائیں پڑیں۔ میں نے کُتے کو زمین پر چھوڑا اور چل دیا۔ دیکھنے والے نے مجھے میرے فوجی کوٹ سے پہچان لیا۔ گاؤں کے چند لڑکے شہر پڑھنے جاتے تھے، میرے پاس اکثر انگریزی کے سبق سمجھنے آتے تھے تو میرے سامنے تو مجھے اُستاد جی کہتے تھے، پیٹھ پیچھے میرا نام اُنہو ں نے “گورا” رکھ چھوڑا تھا۔ یہ لڑکا اُنہی میں سے ایک تھا۔ اگلے روز اُس نے اسکول میں پھیلا دی؛

“گورا تو اُس خانم کے پیچھے ایسا دیوانہ ہوا پھر رہا ہے کہ باقاعدہ قیس مجنوں والی حرکات پہ اُتر آیا ہے۔۔۔ ”

ایک لڑکے نے تو شیر محمد سے بھی یہ قصہ کہہ دیا۔ شیرا مجھ سے بہت خفا ہوا لیکن وقتی طور پر۔ پھر کئی مہینے گُزر گئے، میں نے شہناز کو نہ دیکھا۔ شیر محمد مجھے کبھی کبھار کوئی خبر دے دیتا۔ انہی دنوں پتہ چلا کہ یونس خاں صاحب زیارات کے سفر پر کربلا روانہ ہو گئے ہیں لیکن شہناز بیمار ہونے کی وجہ سے اُنہیں رُخصت نہیں کر سکی۔ شیر محمد نے بتایا کہ بیماری نے اسے ادھ موا کر دیا ہے اور اُس کا حُسن گہنا گیا ہے۔ میری بے چینی دیدنی تھی۔ ایک رات سونے سے پہلے میں نے لالٹین جلائی اور کاغذ قلم لے کر لکھنے بیٹھ گیا۔ بجلی ہمارے گاؤں میں آ تو چکی تھی لیکن اکثر اوقات شہر والوں کی خدمت پہ ہی مامور رہتی تھی لہٰذا لالٹین اور دیا ہماری زندگی سے رُخصت نہیں ہوئے تھے۔ شہناز کے نام خط لکھا؛
“پیاری شہناز!
اتنے لمبے عرصے سے تمہیں نہ دیکھ سکنے کی تکلیف اور کرب اپنی جگہ لیکن مجھے خود سے زیادہ تمہاری فکر ہے۔ اس عدم روابط کے عرصے نے تمہارے دل و ذہن میں میرے لئے غلط فہمیاں نہ ڈال دی ہوں۔ تم بیمار بھی رہتی ہو، تمہاری سسرال والے تمہیں میری وجہ سے پہلے سے زیادہ ناحق ستاتے ہوں گے، یہ سب کچھ سوچ کر بہت بے چین ہوں۔ تمہیں بہت سی باتیں کہنا چاہتا ہوں لیکن ایک بات سب سے اہم ہے کہ میرے دل میں تمہارے لئے محبت اور ہمدردی اس قدر ہے کہ اس گاؤں میں جو شخص تمہارے حق میں اچھا ہے، وہ میرا دوست ہے اور جو تمہارے حق میں اچھا نہیں ہے، وہ میرا دشمن ہے خواہ وہ میرا چچا ہی نہ ہو ( میرا اشارہ چچا اختر کی طرف تھا جن کی بیوی نے خانم چچی کی ہمنوائی میں شہناز کو ذلیل و رسوا کیا تھا) اور اب اس گاؤں میں مجھے تم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔
اپنا خیال رکھنا،
ہمیشہ تمہارا- ذکی”

دودن تو اسے اپنے پاس سنبھالے رکھا، پھر ایک صبح فجر کے وقت گھوڑی کے ایڑھ لگائی اور صبح دم کوٹ نیازی خاں جا پہنچا۔ پھوپھی نے اتنی صبح آنے کی وجہ پوچھی تو کہا ؛

” نُکری ذرا صحتمند ہوئی ہے تو لمبے سفر پہ لے کے نکلا تھا، سوچا کہ آپ سے مل لوں۔ چل اوئے مِٹُھو! تجھے مدرسے چھوڑ آؤں!”
مٹھُو بستہ لئے میرے ہمراہ ہولیا۔ میں نے اُسے پکی پُلی کے پاس جا کر چھوڑ دیا اور خط اس کے ہاتھ میں تھما کر کہا کہ شہناز کو دینا۔
“تیری ماں کو ناں دوں؟ ماں کے۔۔۔ ”

مٹھوُ نے گالی بکتے ہوئے صریح انکار کر دیا اور خط واپس میری طرف اچھال دیا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ چچا اختر نے اُس کے سابقہ کردار کی وجہ سے اُس کی خوب چھترول کی تھی۔ میں نے شدید افسو س کا اظہار بھی کیا، بڑا غمگین مُنہ بنایا لیکن مٹُھو ٹس سے مس نہ ہوا۔ مَیں نے مایوسی سے گھوڑی کی باگیں اپنے گاؤں کی طرف موڑ دیں تو مِٹُھو کے ننھے سے دل میں رحم پیدا ہو گیا۔

“فوجی اوئے! دے دے خط! پہنچا دوں گا۔۔۔ ماموں اختر کی تو بہن کی۔۔۔ ”

مٹُھو اپنے روائتی اکھڑانداز میں بولا۔ وہ باتیں ہی نہیں، گالیاں بھی اپنے قد سے بڑی بکتا تھا۔ میں نے جلدی سے خط اسے دے دیا، گھوڑی سے اُتر کر اُسے گلے لگایا، ہمیشہ کی طرح اُس کے میلے کچیلے، کالے کالے گالوں کو چوما اور واپس گاؤں آ گیا۔

اگلے روز ارادہ تھا کہ دوبارہ جا کر پتہ کر دیکھوں لیکن مجھ اناڑی سوار کے ہاتھ میں نکری کے پاؤں میں پھرلنگڑاہٹ پیدا ہو گئی، اُسے چچا کبیر علی خان سیال کے ہاں بھیج دینا پڑا۔ مجھے اُسی دن بڑے چچا نے لال کمہار کے ساتھ چارا کاٹنے دریا کے کنارے بھیج دیا۔ مَیں راستے میں چارے والی گدھا گاڑی ہانکتے ہوئے اپنے ہی آپ میں فرض کرتا رہا کہ شہناز میرے خط کا کیا جواب دے گی، کبھی سنگدلانہ جواب کا سوچ کر تاؤ آ جاتا تو دو چار ڈنڈے ناتوں گدھے کی پیٹھ پر رسید کردیتا، پھر اُمید بندھتی تو ہنس کر لال کمہار کو کوئی ماہیا یا بیت سُنا دیتا۔ شام ہونے لگی تو دل ڈُوبنے سا لگا، پریشانی میں چارہ کاٹتے کاٹتے درانتی سے اپنی اُنگلی بھی زخمی کر بیٹھا۔ خیر اندھیرا پھیلے واپس گھر پہنچا، چارہ اتار کر کُترنے کی مشین کے پاس ڈھیر کیا، گدھا گاڑی لال کمہار کے حوالے کی اور آنگن میں چولہے کے پاس چُپ چاپ بیٹھ کر ابا کا حُقہ بھرنے لگ گیا۔

“تمہارے ابا کوٹ نیازی خاں تک گئے ہیں، دیر سے آئیں گے۔۔۔ ”

ماں نے دھونکنی سے چولہے میں انگارے پھونکتے ہوئے کہا تو میرے جسم میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی۔

“خیر سے اماں؟”

میں نے ضبط کر کے پوچھا۔

“ہاں، خیر ہی ہو گی، تمہارے چچا ضمیر آئے تھے، کہتے تھے بھائی گُلن شاہ نے بُلوا بھیجا ہے- کیا معلوم- تُم کیوں اتنے بوجھل بوجھل سے ہو؟”

ماں نے کہا تو میں نے تھکن کا بہانہ بنا کر چلم اور تمباکو ایک طرف رکھا اور نلکے کی طرف مُنہ دھونے چلا گیا۔

ابا جان دیر سے گھر آئے لیکن مُجھ سے اُنہوں نے کچھ نہ کہا۔ میں بے چینی سے آدھی رات تک کروٹ بدلتا رہا۔ اگلا دن یونہی بے کلی میں گزر گیا۔ ابا جان خاموشی سے حُقے کی نَے مُنہ میں دبائے اپنی سبزیوں کی کیاری کی ‘گوڈی’ کرتے رہے یا پھر کوئی کتاب پڑھتے رہے۔ میں نے سرِ شام مجبور ہو کر ابا سے موٹر سائیکل کی چابی مانگی۔

“کیوں؟ کہاں جانا ہے؟”

ابا نے پچھلے چوبیس گھنٹے میں پہلی بار مجھ سے کوئی بات کی۔

“شیر محمد سے کام تھا جی۔۔۔ ”

میں نے منمناتے ہوئے کہا۔

“لیکن نیچے بستی کی طرف نہ اُتر جانا! پھوپھی کے گھر جا کر وہیں کے ہو رہتے ہو!”

ابا جان نے چابی میری طرف اُچھا لتے ہوئے کہا۔

“جی بہتر۔۔۔ ”

میں نے چابی لی اور یہ جا، وہ جا۔

میں پہلے تو شیر محمد کے ہاں پہنچا، اُسے ساتھ لے کر پھوپھی کے گھر کی طرف جانے لگا تو راستے میں اپنا شاگرد حسن خان مل گیا جس نے قیس مجنوں والا قصہ شیر محمد کو بتایا تھا۔ وہ بکھے خاں کا بھانجا تھا اور اب تک کے تمام حالات سے باخبر تھا۔

“اُستاد جی اگر گُستاخی نہ سمجھیں تو ایک عرض ہے۔۔۔ آپ نیچے بستی کی طرف نہ اُتریں۔۔۔ وہاں صورت حال بہت خراب ہے۔۔۔ ہمارے بڑے شدید جارحانہ مُوڈ میں ہیں!”

حسن خان نے اپنے قبیلے کے جارحانہ مُوڈ کی وضاحت کرتے ہوئے جو صورت حال بتائی، میرا دل دھک سے رہ گیا۔ دو دن پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو گھوڑی پہ سوار اُن کی گلی سے گُزرا۔ شہناز اپنے گھر کے آنگن میں صفائی کر رہی تھی لیکن میں اُسے دیکھ کر یہ نہ سمجھ پایا تھا کہ وہ شہناز ہے یا شمّو۔ اس دوران خانم چچی نے مجھے دیکھ لیا اور پکی پُلی سے تھوڑا پہلے مَتے خاں نے بھی اُس جانب سے آتے دیکھا تھا۔ اس سے اُن کے گھر میں کافی تناؤ کی صورتحال بن گئی لیکن یہ تناؤ تب بڑھا جب مٹُھو وہ خط شہناز کو دے کر واپس آ رہا تھا تو گھر کے دروازے میں شمّو نے اُسے اُس کے مشکوک انداز سے تاڑ لیا۔ شمو نے اُسے روک لیا اور بہت اصرار کیا کہ بتائے اُس کے پاس کیا ہے۔ مٹُھو نہ مانا، اُس کے بہت ستانے پہ مٹھو رونے لگا۔ لیکن جب شمو نے کہا کہ وہ اُس کی تلاشی لے گی تو مٹھو نے ذرا تھم کر اپنی قمیص کا دامن اُٹھایا اور شلوار نیچے سرکا دی؛
“لے میری تلاشی کُتی کمینی!!”

مٹُھو کا تازہ تازہ ختنہ ہوا تھا، اس کے علاوہ شمّو کو کوئی نئی بات پتہ نہ چل سکی۔ اُس نے سارا قصہ خانم چچی کے گوش گُذار کیا تو ساس بہو میں وہ گھمسان کا رَن پڑا کہ الحذر!!!۔ شہناز ایک طرف اکیلی تھی، دوسری طرف سارا گھرانہ تھا، خوب ایک دوسرے کی مادر پدر خواہی ہوئی۔ مَتے خاں نے اُسی وقت یونس خاں صاحب کو کہلا بھیجا کہ اپنی صاحب زادی کو آکے لے جائیں اور یہ کہ اُس کے وٹے سٹے میں اُس کی جو بہن اُن کے گھر بیاہی گئی تھی، اُسے بھی ہمراہ لیتے آئیں۔ شام تک رو رو کر شہناز کی بُری حالت ہو گئی تھی۔ بابا علی محمد خاں کے لڑکے اُن بلوچون میں پڑھے لکھے بھی تھے اور پنچائتی سمجھ بوجھ والے لوگ بھی تھے، اُن میں سے کسی نے مشورہ دیا کہ یوں وٹے سٹے توڑ کر دو گھرانے برباد نہ کرو اور مرد حضرات باہم مل بیٹھ کر معاملے کا حل نکالیں، عین ممکن ہے کہ عورتیں محض رائی کا پہاڑ بنا رہی ہوں۔ بکھے خاں کے ڈیرے پر تمام لوگ مل بیٹھے، چچا اختر اور چچا گُلن شاہ بھی آگئے۔ طے پایا کہ میرے ابا جان اور صوبیدار یونس خاں صاحب کو بُلوا کر اُن سےمعاملہ کہہ دیا جائے، جو امر وہ فیصل کردیں۔ سو بکھے خاں کے ڈیرے پر دوبارہ اکٹھ ہوا۔ ابا جان بھی وہیں تھے، صوبیدار یونس خاں صاحب، بابا جگدیش اور چچا گُلن شاہ بھی۔۔۔

“شاہ صاحب، بڑوں کا بڑا اچھا تعلق اور رشتہ چلا آرہا تھا لیکن بچے خراب کررہے ہیں۔۔۔ ہماری مجال کہ آپ کہ لڑکے کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات کہیں لیکن۔۔۔ ” بختیار خاں نے جھجکتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔

“کُھل کر بات کرو بختیار خاں! مَیں روایتی باپ نہیں ہوں، انصاف کے تقاضے جانتا ہوں!”

اباجان نے کہا تو بکھے خاں در کُجا، چچا گُلن شاہ نے بھی میرے خلاف الزامات کی پٹاری کھول دی، چچا ختر بھی ساتھ ہولئے۔ سوءِ اتفاق، شہناز ان دنوں اُمید سے تھی۔

“دیکھیں بھائی گُلن، ذکی شاہ کی غلطیوں کا مجھے اعتراف ہے لیکن وہ لغزشیں بھی اخلاق اور تہذیب کے اُن دائروں میں رہ کر کرے گا جو میری تربیت اور اُس کی تعلیم نے اُس کے گرد کھینچ دیئے ہیں۔ وہ فقط چند دفعہ شہناز سے سرِ راہ ملا ضرور ہے، جو کہ وہ آئندہ نہیں کرے گا، ا س سے آگے سب افسانے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ آئندہ یہاں نہیں آیا کرے گا”

ابا جان نے اٹل لہجے میں کہا تو سب خاموش ہو گئے۔ گویا ابا جان معاملے سے پوری طرح باخبر تھے۔

یونس خاں صاحب اُسی دیرینہ احترام سے پیش آئے اور اُنہوں نے اس تمام اہتمام کے لئے ابا جان سے افسوس کا اظہار بھی کیا اور ابا جان واپس چلے آئے۔ طلاق کی جو تلوار شہناز کے سر پر لٹک رہی تھی، وہ ٹَل گئی۔

مجھے اس تمام قصے کا پتہ چلا (اگرچہ جزئیات کا بعد میں ادھر اُدھر سے علم ہوا) تو میرا ماتھا ٹھنکا۔

“اچھا حسن خاں! ایک احسان کردو، جاکے میری پھوپھی سے کہنا کہ اگر مٹھو سے کسی نے کچھ سختی کی تو میرا مرا ہوا مُنہ دیکھو گی!!”
مجھے اب سخت شرمندگی ہو رہی تھی۔ حسن خان نے بتایا کہ گاؤں میں یہ قصہ اس وقت زبان زدِ خاص و عام ہے۔

ہم وہاں سے واپس لوٹ آئے اور مغرب کی جانب ٹیلوں پر چڑھ گئے۔ رات ہو رہی تھی، ستارے نمودار ہونا شروع ہو گئے تھے۔ مِیل بھر اُوپر کی جانب فوجی کیمپ کے قمقمے جل اُٹھے تھے لیکن صحرا خاموش تھا۔
“شیر محمد!”

میں نے کیمپ کی بتیوں کو گھورتے ہوئے شیر محمد کو مخاطب کیا۔ وہ بھی گھمبیر خاموشی میں تھا۔

“یار کتنی شرمندگی کی بات ہے ناں۔۔۔ ڈُوب مرنا چاہیئے کہ بکھے خاں جیسے آدمی سے میرے ابا کو معافی مانگنی پڑی ہے۔ یار بتا، مَیں نے بھی کُچھ غلط کیا؟”

شیرا خاموش رہا۔

“یار شیر محمد، مجھے شہناز سے محبت ہے۔۔۔ ہو گئی! کیا نہیں ہونی چاہیئے تھی؟”

میں احمقوں کی طرح سوال کئے جا رہا تھا۔ میری آنکھوں میں نمی تھی۔ شیرا خاموشی سے مجھے دیکھے جا رہا تھا۔ رُسوائی کا دُکھ مجھے تب بھی نہیں تھا، اب بھی نہیں ہے لیکن شہناز جس امتحان میں پڑ گئی تھی، ابا جان کو جس سبکی سے گزرنا پڑا اور کوٹ نیازی خان بلوچ سے بچپن کا جو یہ تعلق ٹوٹتا نظر آرہا تھا، یہ سب میرا گلا گھونٹ رہے تھے۔

شیرے نے میری توجہ بٹانے کے لئے اپنا سفری ریڈیو چلایا تو نجانے کس اسٹیشن سے اقبال بانوؔ کی آواز میں ناصر کاظمی کی ایک غزل آہستگی سے فضا میں ایک اُداس سا تموج پھیلانے لگی۔۔۔ اس کے کچھ اشعار میرے حافظے میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئے؛
ترے خیال سے لَو دے اُٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تُو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
اُنہیں بھی دیکھ جنہیں راستوں میں نیند آئی
یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اُس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی
پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصرؔ
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رُسوائی

اس غزل نے کبھی میرے دامنِ دل کونہ چھوڑا۔۔۔ ہفتہ بھر پہلے ننھیالی گاؤں میں نذر خان بلوچ کے ‘مُشکی’ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے میرے پہلو میں گردے کے مقام پہ درد شروع ہوا تھا، جو اب بڑھ کر ذہنی کرب کو دوگنا چوگنا کررہا تھا۔ میں نے پہلو کو اپنے ہاتھ سے دبایا اور رودیا۔

گھر واپس لوٹا تو اندھیرا پھیل چکا تھا۔ اب مجھے ابا جان کے خراب مُوڈ کی علت غائی سمجھ میں آئی۔ رات کو جب اماں سو گئیں تو اُنہوں نے مجھے ڈیرے پہ بلوا بھیجا۔

“کوٹ نیازی خاں گئے تھے آج۔۔۔ کیا کرنے گئے؟”

ابا جان جب غُصے میں ہوتے تو انہیں دیکھ کر ہی میرے اوسان خطا ہو جاتے۔ خاندان بھر میں ان کا غُصہ مشہور ہے۔

“جی وہ شیر محمد۔۔۔ ”

میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن اُنہوں نے سختی سے میری بات کاٹ دی

“تُمہارے وہاں جانے پر مجھے سخت اعتراض ہے!!!”

ابا جان نے کہا تو میں ایک نیم مردہ سی “جی نہیں جاؤں گا آئندہ” ہی کہ سکا۔

“یہ شہناز کون ہے؟”

ابا جان نے پوچھا تو مجھے یوں لگا کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ہے۔

“جی وہ چچا بختیار خاں کی بڑی بہُو ہے لیکن۔۔۔ ”

میں بمشکل ہی کہہ پایا تھا کہ ابا جان کی ایک اٹل سی “شَٹ اَپ” نے میرا مُنہ بند کردیا۔ پھر میں خاموش تھا اور ابا جان مجھ پر برس رہے تھے۔ ہر جملے کے ساتھ میں زمین میں گڑا جارہا تھا۔

“کل میں لاہور جارہا ہوں، واپس آؤں تو تمہارا منحوس وجود میری آنکھوں کے سامنے نہ ہو!!”

اُٹھ کے جاتے ہوئے وہ مُجھے یہ فرمان سُنا گئے۔ میں رات بھر جاگا کیا۔ گزشتہ واقعات کا فلم میرے ذہن میں چلا، مستقبل کے اندیشے قطار بنا کر آ کھڑے ہوئے۔ کبھی یوں لگتا کہ شہناز ایک خیالی کردار تھی، پھر ایسے لگتا خُدا معلوم یہ سب جھوٹ ہو، صرف مجھے شہناز سے دُور کرنے کے لئے ڈھونگ رچایا گیا ہو۔ جوں جوں نیند آتی گئی، یہ خیالات مزید پراگندہ اور بعید از عقل ہوتے گئے اور نجانے کس پہر نیند آگئی۔ دن کو جاگا تو ابا جان لاہور جاچکے تھے۔

میں نے بھی اپنے ضروری اسباب یعنی کپڑے، کتابیں، ڈائری وغیرہ سمیٹ کر رکھ لئے۔ شیر محمد کو پیغام بھیجا تو وہ ملنے آگیا۔ اس سے مشورے کے بعد طے پایا کہ ابا جان کا غُصہ اُترنے تک شورکوٹ چھاؤنی چلا جاؤں، بڑے بھائی صاحب کے پاس۔ اگرچہ میری چھٹی حس یہ کہہ رہی تھی کہ شہروں کی آب و ہوا نہ صرف یہ کہ مجھے راس نہ آئے گی بلکہ اب کے یہاں سے نکلا تو کبھی دوبارہ ٹک کے گاؤں میں رہنا نصیب نہ ہوگا۔

“یار تیرا دانا پانی اُٹھ گیا ہے یہاں سے، دل کڑا کر اور چلا جا یہاں سے!”

شیر محمد نے میرا شانہ دبا کر مجھے کہا۔

“شیرے مجھے گاؤں کی خبریں دیتے رہنا۔ شہناز اُمید سے ہے۔ میرا دل مانتا ہے کہ اُس کے بیٹی ہو گی، میری خواہش تھی کہ ہم بہم ہوئے تو میں اُس لڑکی کا نام شہلا رکھوں گا۔ تُو پڑھا لکھا ہے گاؤں میں، تجھ سے نام کا مشورہ لیں تو یہی نام بتانا۔۔۔ ”

میں نے اُداس ہو کر کہا تو شیرے نے میرے شانے پہ ہاتھ مارا۔

“پھر وہی!! یار کیا بہکی بہکی باتیں کررہا ہے، شہر جا! تیرے لئے وہاں مواقع اور کامیابیاں ہیں!!”

شیرا مجھے ہمت دلانے کی کوشش بھی کر رہا تھا اور کوشش کررہا تھا کہ میں گاؤں اور شہناز کا ذکر نہ کروں۔ ہم دونوں چچا کبیر علی خاں سیال کے ڈیرے پر گئے تو میں نکری سے بھی ملا۔ اُس کے بالوں اور نتھنوں پہ ہاتھ پھیرا۔

“نُکری! میری ناکام محبت کے دنوں کو قدم قدم یادگار بنانے پہ تمہارا بھی شُکریہ!”

شیرے نے مجھے گھوڑی سے ہم کلام ہوتے دیکھا تو ہنس دیا۔ وہ ایک عملی آدمی تھا اور جانتا تھا کہ عشق کا جذبہ عقل سے کتنا دور رہنے پہ مائل رکھتا ہے۔

اماں کو بتایا کہ شہر جا کر بی۔ ایڈ کی پڑھائی کرنی ہے، دُعائیں لیں اور مظفر گڑھ- خوشاب روڈ سے گزرنے والی پہلی لاری پکڑ کر شہر روانہ ہو گیا۔ شورکوٹ چھاؤنی میں چند ماہ بڑے بھائی کے ہاں قیام کیا۔ یہاں برطانوی ہوم گارڈز کی طرز پر بنی نیشنل گارڈز کی ایک پلٹن میں رضاکارانہ افسری کا انٹرویو دیا، کمان افسر نے اپنے صوابدیدی اختیارات پر عبوری طور پر بھرتی کرلیا۔ چند روز جھوٹ سچ کی لفٹینی کے نشے میں رہا لیکن او۔ ٹی۔ ایس جانے سے پہلے کور کمانڈر کے دفتر سے حُکم نامہ آیا کہ میری خدمات درکار نہیں ہیں۔ کور کمانڈر کے لئے دل سے بد دُعا نکلی، خُدا نے کچھ مُدت بعد اُس کو سپہ سالار بنا دیا۔ یہاں سے لاہور کا قصد کیا جہاں ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کے ایک حلقے سے تعارف تھا لہٰذا چند ماہ کی بے روزگاری کے بعد وہاں چند پاکستانی اور انگریز کارکنوں نے انسانی حقوق پہ کام کرنے والی جو ایک ٹیم تشکیل دی، اُس میں شامل ہو گیا۔

گاؤں سے شہناز کی بابت جو پہلی خبر آئی، وہ یہ تھی کہ اُس کے بیٹی ہوئی تھی، نام کیا رکھا گیا تھا، یہ پتہ نہ چل سکا۔ پھر خبر ملی کہ بابا چراغ علی خاں- رائل انڈین آرمی، وفات پا گئے ہیں۔ لاہور شہر کی رنگینیوں نے مجھے بہت مسحور کیا، بالخصوص یہاں کے حسینوں نے جن میں دلبری تو بَلا کی تھی، مروت کوڑی برابر بھی نہ تھی۔۔۔ یہ تو ایک جملہء معترضہ تھا۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود شہناز اور کوٹ نیازی خان بلوچ سے دوری کا داغ دل پہ نہ صرف تازہ رہا بلکہ ایک ناسٹلجیا کی صورت میرے مزاج کا حصہ بنتا چلا گیا۔ شہروں کی مصروف، بے مروت اور بے رحم زندگی مجھے راس نہ آئی۔ آدمی شہروں میں امیر ہونے کے لئے آتا ہے یا کامیاب بننے کے لئے، مجھے یہ دونوں شوق نہ تھے لہٰذا یہاں جو وقت گُزرا، بامرِ مجبوری گُزرا۔ پیچھے گاؤں میں تو زمین باقی تھی نہ مویشی، اب تو فقط روٹی کے لالے پڑے تھے جن کا جبر شہر میں باندھے ہوئے تھا، اگرچہ چند دوستوں کی مروتوں اور مہربانیوں نے اس دو سالہ قیام لاہور کو بھی مجموعی طور پر ایک قیمتی تجربہ بنا دیا۔ کچھ حسین چہرے یہاں بھی حافظہء دل پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے لیکن اس حوالے سے بھی ناکامی کی عادت پڑ چکی تھی سو ہر قدم پر پروانہ وار شمعِ حُسن کا فدائی ہوا، ہر بار ناکام ہوا، یاروں میں بَلا کے حُسن پرست کے طور پر بدنام ہوا اور بجا طور پر بدنام ہوا۔ شہناز پھر بھی جہاں تھی، میرے دل و دماغ میں وہیں ہے!!

جُوں جُوں مَیں شہر کا ہوتا گیا، اپنے گاؤں سے زیادہ کوٹ نیازی خان بلوچ کی یاد دل میں جگہ کرتی گئی۔ شہناز اس محبت کی سب سے تابندہ علامت تھی۔ شہر کے بلند میعارِ زندگی سے ملنے والا احساسِ کمتری جب گاؤں کی یاد دلاتا تو بھی شہناز بہت یاد آتی۔

ایک موسمِ گرما میں، جبکہ ابا جان سے صفائی ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا اور مَیں گھر کی معیشت میں اُن کا ہاتھ بٹانے لگ چکا تھا تو گاؤں جانا ہوا۔ شیر محمد جو کہ ساتھ والے گاؤں کے ہائی اسکول میں تین سال بیالوجی پڑھانے کے بعد اب گھر پہ دیہہ کے بچوں کو پڑھایا کرتا تھا، مجھے ملا تو اُس نے بتایا کہ شہناز کا بیٹا رضا علی اُس کے پاس پڑھنے آتا تھا۔ میں ایک دفعہ شیر محمد سے ملنے گیا تو ساتھ پہلی جماعت کی رنگین کتابیں کاپیاں لے گیا۔ شیر محمد اپنے مویشیوں والے چھپر کے نیچے بیٹھا بچوں کو پڑھا رہا تھا، رضا علی میری گود میں بیٹھا بآوازِ بلند اپنا سبق دُہرا رہا تھا،
“گھاف گھولا!- گھاف گھولا!”

اور مضبوطی سے قاعدے کے صفحے پر بنی گھوڑے کی تصویر پر انگلی دبائے ہوئے تھا۔ میں اُس کو فرطِ محبت سے چوم لیتا اور مزید اونچی آواز میں سبق پڑھنے کی تلقین کرتا تو وہ مزید اُونچی آواز میں کہتا؛
“گھاف گھولاآآآآآآ”

اور شیرا اور میں ہنس دیتے۔ اسی اثناء میں شہناز سامنے سے آتی ہوئے دکھائی دی۔ وہ نیلے رنگ کے جوڑے میں ملبوس تھی اور سیاد چادر لپیٹے تھی۔ وہ روزانہ رضا علی کو یہاں چھوڑ جاتی اور لینے آتی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اُس نے چہرے پر نقاب کر لیا۔ پھر مُڑ کر واپس چلی گئی۔ میں نے رضا علی کو وہ رنگین کتابیں دیتے ہوئے ان میں سے ایک پر پنسل سے لکھ دیا:

“For Reza Ali Khan, with love from Zakie!”

رضا علی کتابیں لے کر گھر چلا گیا۔ اگلے روز جب وہ پڑھنے آیا تو وہ تحریر آدھی مٹا کر یوں بدل دی گئی تھی:
“For Reza Ali Khan son of Mukhtar Alikhan”
میں نے رضا علی سے پوچھا تو اُس نے بتایا کہ یہ سطر اُس کی ماں نے لکھی تھی۔

“شاہ صاحب، میرا خیال ہے کہ اس سے زیادہ اور کتنے واضح الفاظ میں شہناز اپنی وفاداریوں کا اظہار کرے گی؟ اُس کے لئے تُم ایک قصہء پارینہ بن چکے ہو!”

شیرے نے مجھے سمجھایا۔ میں نے بھی اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر ہی لیا کہ شہناز کے دل میں اگر میرے لئے کوئی جگہ باقی تھی، تو وہ اب نہیں رہی۔ شہر واپسی پہ پھر وہاں کی مصروفیات اور مسائل کے عفرین دہانے پھاڑ کر گلے ملے تو اُس کے بعد دوبارہ بہم ہونے کی اُمید نے کبھی سر نہ اُٹھایا۔ شہر نے یوں بھی جذبوں کی سادگی کو اس بے رحمی سے کچلا تھا اُن کی شکل مسخ ہو کر رہ گئی۔ دولت اور کامیابی نے قدم قدم پر اپنی اہمیت کا قائل کیا لیکن وہ گاؤں کا سادہ اور قانع طرزِ زندگی بھی رہ رہ کر پکارتا رہا اور اسی کشمکش میں کبھی دل و ذہن کا ایک ٹھکانہ نہ بن سکا- آج تک یہی عالم ہے۔

کوٹ نیازی خان بلوچ کی جس مہربان ریت اور ٹھنڈی چھاؤں نے کم سنی میں مجھے کھیلنے کودنے، خواب دیکھنے اور خواہش کرنے کے لئے اپنے دامن میں کھلی جگہ دی، وہ اب بھی مجھے اپنی طرف کھینچتی تھی۔ اس گاؤں میں زندگی کا وہ سادہ چلن اب بھی اپنی طرف بُلاتا تھا لیکن اب یہاں کے باسیوں کے لئے میں وہ کم سن معصوم لڑکا نہ تھا۔ اب یہاں میرے نام کے ساتھ طعن و الزام کے سابقے لاحقے وابستہ تھے۔ جو لوگ میرے ساتھ مل بیٹھنے کو باعثِ فخر سمجھا کرتے تھے، وہ اب راہ چلتے سلام کرنے کے قائل بھی نہ رہے۔ گاؤں کے کتنے آنگن تھے جن کے دروازے مجھ پہ کھلے تھے، اب بند ہو گئے تھے۔ رُسوائی کی بھی حد ہوتی ہے، اس بستی نے مجھے اپنا باسی سمجھنا چھوڑ دیا۔

میجر ڈگلس لینگ لینڈز مجھ پر مہربان تھے، پیشہء تدریس میں آنے کے لئے میرا اشتیاق بڑھاتے رہتے تھے، بالآخر یہ فیصلہ بھی کر لیا۔ ایک بڑے کالج میں لکچرار ہو گیا تو گاؤں میں میری خوب پرسش ہونے لگی، کوٹ نیازی خاں کے بزرگوں نے بھی پیٹھ ٹھونک کر شاباش دی لیکن کھوئی ہوئی ساکھ کہاں بحال ہوتی ہے۔

چچا کبیر علی خان سیال کچہری میں ماخوذ ہوئے تو اُنہوں نے دو چار دفعہ مجھ سے رابطہ کیا کہ شاید میرا رُسوخ اور عہدہ اُن کے کام آ سکے جو اُن کے خیال میں اسسٹنٹ کمشنر کے برابر تھا۔ پھر اُنہیں دامے درمے میری ضرورت پڑی تو بھی میں ناکام رہا۔ ایسا خفا ہوئے کہ پھر سال بھر رابطہ تک نہ کیا۔ جاٹ بدگمان ہو جائے تو عمر بھر کے تعلق رگید دیتا ہے۔

نئی ملازمت میں بھی جھمیلے کم نہ تھے بلکہ اس شہر میں تو دُنیا داری کے تقاضے لاہور سے بھی زیادہ بے رحم تھے۔ یہاں ہوتے ہوئے ایک دفعہ صوبیدار خاں صاحب کی وفات پر اور دوسری دفعہ اماں بانو کو قبر میں اُتارنے کے لئے کوٹ نیازی خاں جانا پڑا لیکن اس بستی نے میرے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کیا، شہناز تو گویا یہاں کبھی تھی ہی نہیں۔

زیادہ دن نہیں ہوئے، میں گاؤں کی ایک پنچایت میں گیا، سرپنچ چا کبیر علی خان سیال تھے۔ اُٹھ کے جانے لگے تو میں آگے بڑھ کے ملا۔ حال احوال پوچھے۔ نُکری کی خیریت پوچھی،
“وہ تو مر گئی!”

چچا نے لاپروائی سے کہا۔ وجہ پوچھی تو “وہی کُھروں کا مسئلہ ” کہہ کر بے اعتنائی سے چل دیئے۔

اس لمحے میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ ایسے لگا جیسے نُکری کا مرنا فطرت کی طرف سے آخری اور حتمی اشارہ ہے کہ کوٹ نیازی خان بلوچ اور شہناز سے وابستہ ہر چیز اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ اب اُن سے میرا حال وابستہ ہے نہ مستقبل لیکن ایک بات کا فیصلہ شاید مجھ سے کبھی نہ ہو سکے کہ یا تو ایسا ہے کہ اگر شہناز مجھے کوٹ نیازی خاں کے علاوہ کہیں اور ملتی تو مجھے اُس سے محبت نہ ہو پاتی- یا پھر ایسا ہے کہ کوٹ نیازی خان بلوچ مجھے شہناز کی وجہ سے ہمیشہ عزیز رہے گا۔۔۔

Categories
فکشن

ایک غلام نیویارک میں (تحریر: ولیم فنیگن، انگریزی سے ترجمہ: اجمل کمال)

ولیم فنیگن “دی نیویارکر” کے لیے 1984 سے لکھ رہے ہیں۔ آپ افریقہ، وسطی امریکہ، جنوبی امریکہ، بلقان، میکسیکو، آسٹریلیا اور امریکہ سے متعلق رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ آپ متعدد صحافتی اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔ اس مضمون کا ترجمہ آج کے شمارہ نمبر 30 میں 2000ء میں شائع ہوا تغا۔

اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔

یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ تحریر اجمل کمال نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ سہ ماہی “آج” کا یوٹیوب چینل اب مختلف صداکاروں اور مصنفین کی آواز میں تحاریر کی آڈیو ریکارڈنگز اپ لوڈ کر رہا ہے۔ آج کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔

سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مفرور غلاموں کو پناہ دینے کے سلسلے میں نیویارک شہر کی تاریخ ملی جلی رہی ہے۔ انقلابی جنگ کے دوران مفرور غلاموں سے پورا شہر بھرا ہوا تھا۔ پھر جارج واشنگٹن نے، اپنی فتح کے بعد، کوشش کی کہ انہیں ان کے سابق مالکوں کے پاس واپس بھجوا دیا جائے۔ انڈرگراؤنڈ ریل روڈ کے عروج کے دنوں میں سیکنڈ ایوینیو پر ایک چھوٹا سٹیشن ہوا کرتا تھا۔ سول وار کے خاتمے تک مفرور غلاموں کو پکڑنا ایک خاصا فعال مقامی کاروبار تھا۔

مختار طیب، موریتانیہ سے بھاگا ہوا ایک غلام، اب سے چار سال پہلے 1996 — میں — یہاں پہنچا۔ “یہ سب کچھ بہت خوبصورت تھا،” اس نے حال ہی میں مجھے بتایا، “آزادی، امریکہ۔۔۔ آپ تصور نہیں کر سکتے۔” میرا خیال ہے یہ سب کچھ بہت دشوار بھی تھا۔ طیب اور میں ٹرینٹی چرچ کے قریب، زیریں براڈوے پر، گویا جغرافیائی اعتبار سے عین جارج واشنگٹن کے نیویارک میں، چل رہے تھے کہ اس نے ایک عمارت کو پہچان لیا۔ “ارے!” وہ بولا، “امریکہ میں میرا پہلا ہفتہ تھا جب میں یہاں گیا تھا۔ یا شاید دوسرا ہفتہ۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ مجھے انگریزی نہیں آتی تھی۔ کسی نے بتایا، وہاں کوئی دفتر ہے جو میری مدد کر سکتا ہے۔ لیکن مجھے وہ دفتر نہیں ملا۔”

یہ ایک خوفزدہ کر دینے والا منظر تھا — ایک دبلا، ڈرا ہوا سیاہ فام شخص، کھویا ہوا اور گفتگو سے قاصر، نیویارک کے کاروباری علاقے کی سرد اور چکرا دینے والی سڑکوں پر بھٹکتا ہوا — لیکن اس یاد نے بظاہر طیب کو پریشان نہیں کیا۔ ہم وال اسٹریٹ پر مڑ گئے، اور اس نے نیویارک سٹاک ایکسچینج کے پیش رُخ کی طرف اشارہ کیا۔ “کیا یہ گرجاگھر ہے؟”

“ہاں،” میں نے کہا، “دولت کا گرجاگھر۔”

وہ خوش ہو کر ہنسا۔

نیویارک میں طیب کی زندگی اب بھی دشوار ہے۔ وہ اب بھی مفلس ہے اور اب بھی اپنی راہ کی تلاش میں ہے۔ جب میں نے پچھلے سال کے آغاز میں اس سے ملنا شروع کیا تب وہ برونکس کے علاقے میں ایسٹ ٹریمونٹ ایوینیو کے قریب، ایکو پلیس کے گراؤنڈ فلور پر ایک کمرے میں رہتا تھا۔ فطری طور پر مجھے یہ جاننے کی خواہش تھی کہ آخر یہ کس طرح ہوا کہ بیسویں صدی کے اختتام پر وہ ایک مفرور غلام ہے۔

“میں ہنگامہ کرنے والا آدمی ہوں،” اس نے سادگی سے کہا۔ “وہ لوگ یہی کہتے ہیں۔” جب سے میں نے طیب کو دیکھا ہے، سیاہ آنکھوں، نرم لہجے اور گہری شائستگی کا حامل یہ شخص مجھے ہنگامہ پسند آدمی کا بالکل متضاد معلوم ہوا ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے افریقی دوستانہ پن کے ایک چھوٹے سے حفاظتی بادل میں لپٹا ہوا طیب اپنے کمرے سے نکل کر اس سخت زندگی والے محلے کی گلیوں سے تیرتا ہوا گزر رہا ہو۔ لیکن جو فاصلہ وہ طے کر کے آیا ہے — مشرقی موریتانیہ کے دیہی علاقے سے، جہاں وہ بڑا ہوا تھا، مغربی افریقہ اور مغرب کے خطے کے مختلف ملکوں سے ہوتا ہوا امریکہ تک — اسے رسمی مِیلوں میں نہیں بلکہ صدیوں میں ناپا جانا چاہیے۔ اور نیویارک میں ایک اُکھڑے ہوے مفلس، بےوطن شخص کی زندگی کی گمنامی یقیناً ایک ایسے آدمی کی شخصیت میں جھانکنے کے لیے ایک ناموزوں کھڑکی ہے جو جنوبی صحارا کے ایک بربر گاؤں میں پیڑھیوں سے آشنا ماحول میں کبھی رہا ہو گا۔

“میرے گاؤں میں ہر ایک، آقا اور غلام، یہ کہتا تھا کہ میں عجیب ہوں، پاگل ہوں، گناہگار ہوں،” طیب نے کہا۔ “وہ مجھے کافر تک کہتے تھے۔ موریتانیہ میں کسی کے لیے اس سے بدتر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ لیکن میں ہمیشہ سوال کرتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہیں کچھ ضرور غلط ہے۔”

طیب کے ذہن کو جو بات غلط معلوم ہوتی تھی وہ یہ تھی کہ وہ 1959 میں ایک “عبد”، ایک غلام، پیدا ہوا تھا۔ زیادہ مخصوص طور پر یہ کہ جب وہ بڑا ہوا تو اسے کلاس روم میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ بچپن میں اس کے کاموں میں ہر صبح اپنے مالک کے بچوں کو اونٹ پر سوار کر کے سکول تک پہنچانا اور پھر اونٹ کو واپس گاؤں لانا بھی شامل تھا۔ جب کم عمر طیب سکول میں رکنے کی کوشش کرتا، کہ اسے کھڑکی میں سے کلاس روم کی آوازیں ہی سنائی دے سکیں، تو اسے بھگا دیا جاتا۔ گاؤں کے مدرسے سے بھی، جہاں قرآن کی تعلیم ہوتی تھی، اسے واپس لوٹا دیا گیا۔ جب اس نے ضد کی تو اس کے آقا نے طیب کی ماں سے اس کی پٹائی کرنے کو کہا۔ ماں نے اس کی پٹائی کی، جس کے زخم کا نشان اس کے داہنے ہاتھ پر اب بھی باقی ہے۔ “ہراتین کے لیے،” طیب نے وضاحت کی، “جنت آقا کے قدموں کے نیچے ہے۔ بیدان لوگ یہی کہتے ہیں، اور ہراتین بھی یہی کہتے ہیں۔”

بیدان، جنہیں “وائٹ مُور” بھی کہا جاتا ہے، موریتانیہ کی حکمران نسل ہیں۔ یہ عرب بربر قبائلی ہیں جن کے اجداد نے سترہویں صدی میں اس علاقے پر تسلط حاصل کیا تھا۔ ہراتین، جو “بلیک مُور” بھی کہلاتے ہیں، مغربی افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کی نسل سے ہیں جنھیں صدیوں پہلے بیدانوں نے مفتوح کر لیا تھا۔ اگرچہ بعض ہراتین نے اب آزادی حاصل کر لی ہے، لیکن بیشتر اب تک غلام ہیں۔ طیب بھی ہراتین میں سے ہے لیکن جب میں نے پوچھا کہ اس کا باپ کس نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو وہ بولا، “آپ یہ بات نہیں سمجھیں گے۔ میرے باپ کی کوئی نسل نہیں تھی۔ وہ ایک نسل کی ملکیت تھا، جیسے مویشی کسی کی ملکیت شمار ہوتے ہیں۔ ہم ایک عرب قبیلے اولد ناصر کے غلام ہیں جو بہت طاقتور قبیلہ ہے۔ اس کے پاس بہت زمینیں ہیں، جن پر کھجور کے پیڑ لگے ہیں۔ میرا حال بھی میرے باپ کی طرح ہے۔ میرا کوئی نسلی گروہ نہیں ہے، کوئی نام نہیں ہے۔ میں صرف فلاں کے غلام کے طور پر پہچانا جاتا ہوں۔”

طیب کے بچپن میں موریتانیہ کے باشندے خانہ بدوشی یا نیم خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ (بعد میں آنے والی ایک ہولناک خشک سالی نے ملک کی بیشتر چراگاہوں کو برباد کر ڈالا جس کے باعث بہت سے خانہ بدوش مجبور ہو کر شہروں میں آ گئے۔) اس کی اولین یادیں قبیلے کے گلّوں — مویشیوں، اونٹوں اور بکریوں — کے ساتھ لمبی لمبی مسافتیں طے کرنے اور ایسے خطّوں سے گزرنے کی یادیں ہیں جہاں لگڑبگھے، گیدڑ اور ریچھ ہوتے تھے۔ “ہم گھاس کے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ بیدان لوگ اونٹوں پر سفر کرتے لیکن ہم پیدل چلتے تھے یا گایوں پر سوار ہوتے تھے۔ کسی بیدان کے لیے گائے پر سوار ہونا شرم کی بات ہے۔ ان کے باقاعدہ اون کے بنے خیمے تھے جو اپنی دو چوٹیوں کے ساتھ سیدھے کھڑے ہوتے تھے۔ ہمارے، ہراتین کے خیمے، بہت ابتدائی شکل کے، پھٹی پرانی گدڑیوں کے بنے ہوتے تھے اور ان میں بہت بھیڑ ہوتی تھی۔ سارے کام — پانی بھرنا، ڈھول بجانا — جن کا کرنا بیدانوں کے لیے شرم کی بات تھی، ہراتین کے ذمے تھے۔ اور جب ہم بھیڑیں ذبح کرتے تو ہراتین کو کھانے کے لیے صرف اوجھڑی اور گردن ملتی۔ باقی سب بیدانوں کا حصہ تھا۔” طیب کو، جو ایک کمزور لڑکا تھا، گھریلو نوکر کے طور پر تربیت دی گئی۔ “میں اپنے آقا اور اس کے مہمانوں کے ہاتھ دھلاتا۔ اس کے بچوں کے کپڑے دھوتا۔ میں نے چائے بنانا سیکھا۔” ایک بار ،اس نے بتایا، اسے ایک تجارتی کارواں کے ساتھ بھیجا گیا جس میں شامل بیس یا تیس اونٹ جھیل کی تہہ کا نمک لاد کر مالی لے جا رہے تھے جسے دے کر بدلے میں شورگم لیا جانا تھا۔

طیب خوابناک، سوچتے ہوے لہجے میں مجھے ان قدیم صحرائی مناظر کا حال سناتا رہا، جیسے وہ ان مناظر کا انگریزی زبان میں پہلی بار تصور کر رہا ہو۔ باہر برف پڑ رہی تھی، لیکن اس کا کمرہ گرم تھا۔ ایک خوشبودار موم بتی جل رہی تھی۔ ہمارے درمیان رکھی ایک ٹرے پر میٹھی چائے گلاسوں میں پڑی پڑی ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ میں نے عربی کے کچھ الفاظ کے بارے میں دریافت کیا جو دیوار پر ٹیپ سے چپکائے گئے تھے۔ یہ قرآن کی ایک آیت ہے، طیب نے بتایا۔ اس نے آیت کا ترجمہ کر کے بتایا جو کچھ یوں تھا کہ اﷲ اپنے بندوں کو بلاسبب ہرگز سزا نہیں دیتا۔

میں نے غلاموں کی بغاوتوں کے بارے میں سوال کیا۔

طیب نے بتایا کہ ایسی بغاوتیں بہت کم، تقریباً نامعلوم ہیں۔ “ہراتین کو قابو میں رکھنے کے لیے عموماً جسمانی طاقت کی ضرورت نہیں ہوتی،” اس نے کہا۔ “کبھی کبھی تو وہ اپنے آقا سے الگ کسی اور جگہ رہ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ کہیں بھی رہیں، آقاؤں سے ان کا رشتہ برقرار رہتا ہے۔ وہ غلام ہی رہتے ہیں۔ ان کا آقا انھیں کبھی بھی طلب کر سکتا ہے اور ان کو آنا ہوتا ہے۔ آقا ان کے بچے لے سکتا ہے۔ وہ ان کے بچے اپنے کسی رشتے دار یا دوست کو ہدیہ کر سکتا ہے۔ غلامی ایک ذہنی حالت کا نام ہے، اور بیشتر ہراتینوں کو یقین ہے کہ غلامی کا نظام اﷲ کے احکام کا حصہ ہے۔ وہ کسی اور قسم کی زندگی سے واقف نہیں ہیں۔ یہاں امریکہ میں اطلاعات کے اتنے سارے ذریعے ہیں: کتابیں، اخبار، ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ۔ وہاں ہمارے پاس صرف پرندے ہوتے ہیں، جو ہمیں بتاتے ہیں کہ پانی کہاں مل سکتا ہے، یا پھر بیدان ہوتے ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کام کرنا ہے۔ اگر کوئی ہراتین اپنے آقا کا حکم نہ مانے تو، ہاں، اسے سزا دی جا سکتی ہے، قید کیا جا سکتا ہے، ہلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔”

مجھے “اونٹوں والا علاج” یاد آیا جس کے بارے میں میں نے پڑھا تھا؛ یہ اذیت دینے کا ایک طریقہ تھا جو سرکشی پر آمادہ غلاموں کے لیے مخصوص تھا۔ موریتانیہ کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم کی ایک رپورٹ میں اس طریقے کی تفصیل بیان کی گئی تھی: “غلام کی ٹانگیں ایک ایسے اونٹ کے پہلو سے باندھ دی جاتی ہیں جسے کوئی دو ہفتوں تک پانی سے محروم رکھا گیا ہو۔ پھر اونٹ کو پانی پینے کے لیے لے جایا جاتا ہے، اور جوں جوں اونٹ کا پیٹ پھولتا ہے غلام کی ٹانگیں، رانیں اور جانگھیں آہستہ آہستہ چرتی چلی جاتی ہیں۔” رپورٹ میں ایک مقامی اطلاع دہندہ کے حوالے سے کہا گیا تھا: “میں ایک ایسے غلام سے واقف ہوں جو بوغے کے مغرب میں شرت کے مقام پر 1988 میں اس اذیت سے گزرا تھا۔ اس کے آقا کو شک تھا کہ وہ فرار ہونا چاہتا ہے، کیونکہ وہ ایک سڑک پر دیکھا گیا جہاں اس کا کوئی کام نہ تھا۔ علاوہ ازیں، وہ منھ پھٹ جوان آدمی تھا جو اپنے آقا اور اس کے گھروالوں کو جواب دیتا تھا اور اس نے صاف کہہ دیا تھا کہ اسے غلاموں والی زندگی پسند نہیں۔ اسے پکڑ کر اونٹوں والے علاج سے گزارا گیا۔ اُس وقت اس کی عمر سولہ سال تھی۔ وہ اب بھی اپنے آقا کے خاندان کے ساتھ رہتا ہے، لیکن اب اتنا اپاہج ہو چکا ہے کہ کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔”

طیب بھی ایسے واقعات سے واقف ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ ایسی انتہائی درجے کی بہیمیت موریتانیہ میں آقا اور غلام کے رشتے میں استثنائی صورتوں ہی میں پائی جاتی ہے۔ “یہ ایک باقاعدہ نظام ہے،” اس نے کہا۔ “اس کا آغاز بچپن ہی سے ہو جاتا ہے۔ اگر تم بیدان ہو تو ہمیشہ کوئی ہراتین بچہ تمھاری خدمت کر رہا ہو گا۔ اگر تم ہراتین ہو تو تمھارا کوئی باقاعدہ نام تک نہ ہو گا۔ اگر تمھارا نام محمد ہے، تو اسے توڑ کر ممّد کر لیا جائے گا۔” اس نے بلند آواز میں بگڑا ہوا نام پکار کر بتایا۔ “اگر کوئی ہراتین کتاب پڑھنے کی کوشش کرے، یا گھڑی باندھے یا کسی عمدہ گھوڑے پر سوار ہو تو اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ہمارے ادب میں ایسی بہت سی کہانیاں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کسی ہراتین نے قرآن کی کوئی آیت سیکھ لی، جس پر اس کی اس قدر تضحیک کی گئی کہ آخرکار اسے اپنے آپ سے نفرت ہو گئی۔” طیب کہتے کہتے رکا۔ اس کے چہرے پر ایسا تلخ تاثر تھا جو عموماً نہیں ہوتا تھا۔ “اپنے آپ سے نفرت ہو گئی!” اس نے دھیمی آواز میں دہرایا۔

“یہ نظام نہایت مکمل ہے،” اس نے کہا۔ “میرا آقا بہت دولت مند نہیں ہے، لیکن وہ ایک بڑا سردار ہے۔ اور اس کا ایک بھائی سفارت کار تھا — تعلیم یافتہ آدمی۔ لیکن وہ یہاں، امریکہ میں بھی، اپنے غلام ساتھ لے کر آیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بیدانوں کو وہ کھانا پسند نہیں آتا جو کسی غلام کے ہاتھ سے تیار نہ ہوا ہو۔ ان کو یقین ہے کہ ہر اہم آمی کے اردگرد غلام موجود ہونے چاہییں تاکہ ان کے مالدار ہونے کا اظہار ہو سکے۔ اور وہ جسمانی کام کرنے کو شرمناک بات سمجھتے ہیں۔ ان میں جو لوگ تعلیم یافتہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ دنیا غلامی کو پسند نہیں کرتی۔ وہ اپنے غلاموں سے کہتے ہیں کہ غیرملکیوں کو بتائیں کہ وہ ملازم ہیں، کہ ان کو اجرت ملتی ہے۔ اور اگر ہم اس پر احتجاج کریں تو ہم سے کہتے ہیں: تم ہماری مخالفت کیوں کرتے ہو؟ یہ غیرملکی اسلام کے مخالف ہیں۔ مذہب اس نظام کا بہت بڑا حصہ ہے۔ غلام کی مخالفت کو مذہب کی مخالفت قرار دیا جاتا ہے۔”

طیب اپنے بستر پر، جو کمرے کے بڑے حصے پر محیط تھا، آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ پاس ہی سبز جھالر والی ایک جانماز رکھی تھی۔ جب میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو طیب نے بتایا کہ وہ اسے اس وقت استعمال کرتا ہے جب اس کے پاس مسجد جانے کا موقع نہ ہو۔ اس نے بتایا کہ وہ دن میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہے۔ کمرے مں موجود واحد میز کتابوں سے بھری ہوئی تھی: افلاطون کے مکالمات، اور فرانز فینن کی افتادگان خاک اور A 2nd Helping of Chicken Soup for the Soul۔

طیب نے بتایا کہ جوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا اور تعلیم چھوڑنے سے انکار پر قائم رہا، آقاؤں کے ساتھ اس کے جھگڑے بڑھتے گئے۔ وہ احکام پر تذبذب کے ساتھ عمل کرتا تھا، اور تیرہ برس کی عمر میں سرکشی کے باعث اپنا بازو تڑوا بیٹھا۔ اس کی ماں بہت ناراض ہوئی۔ “وہ ہمیشہ کہتی: ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہمارے باپ داد بھی اسے تسلیم کرتے تھے۔ اﷲ کی یہی مرضی ہے۔ اور پھر اس میں برائی کیا ہے؟ وہ سمجھتی ہے کہ میں باغی ہوں۔”

طیب کے باپ کا خیال مختلف تھا۔ اگرچہ اس کا کوئی نسلی گروہ نہ تھا، لیکن وہ ایک ایسے خاندان کا فرد تھا جس کی ننھیالی اور ددھیالی دونوں شاخوں کی آبائی یادداشت میں وہ وقت محفوظ تھا جب غلامی کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ وہ پولار اور وولوف زبانیں تھوڑی بہت جانتا تھا، جن کا تعلق جنوبی خطے سے تھا، اور اس کے خاندان کو، ہراتین ہوتے ہوے بھی، بیدان امارتوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں حصہ لینے کی بنا پر شجاعت کی نیک نامی حاصل تھی۔ “چنانچہ وہ کبھی مکمل طور پر مطیع ہونے پر آمادہ نہ ہوا،” طیب نے کہا۔ اس کا باپ جب آقا کے ریوڑ نہ چرا رہا ہوتا تو اینٹیں اور کوئلہ بنایا کرتا تھا اور کبھی کبھی وہ اینٹیں فروخت بھی کرتا تھا — جو اس کی غلام کی حیثیت سے ایک طرح کی بغاوت تھی۔ آخرکار 1970 کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں مویشیوں کو ٹرک میں دور لے جانے کے دوران وہ موقع پا کر سینیگال فرار ہو گیا۔

طیب کو بھی اس کے نقشِ قدم پر چلنے کی خواہش تھی۔ لیکن اس کی تیاری راستوں کے نقشے بنانے اور حیلے ایجاد کرنے پر مشتمل نہ تھی۔ اس کے بجاے وہ چھپ چھپ کر پڑھنا سیکھتا رہا۔ وہ سکول میں آقا کے بچوں کو پڑھائے جانے والے سبق یاد کر لیتا۔ اس نے قرآن کی لمبی لمبی سورتیں حفظ کر لیں۔ سترہ برس کی عمر میں اسے تحریر سکھانے والی کچھ کتابیں ہاتھ آ گئیں اور اس نے خود کو لکھنا سکھانا شروع کر دیا۔

ایک کہاوت ہے کہ پڑھے لکھے آدمی کو غلام بنانا ناممکن ہے، اور طیب کو بچپن ہی سے کسی نہ کسی طرح اس بات کی سمجھ حاصل ہو گئی تھی کہ خواندگی، اور مویشیوں اور چیزوں کی سی غلامی کے درمیان بنیادی نوعیت کا تضاد موجود ہے۔ اس کے لیے تعلیم حاصل کرنا اور انسانیت کا درجہ پانا لازم و ملزوم ہوتے گئے۔

1977 میں طیب نے اپنے آقا کے خاندان کے سامنے نرم لہجے میں اپنے ارادے کا اعلان کیا کہ وہ استاد بننا چاہتا ہے۔ اس کا نتیجہ آقا کی بیوی کے ساتھ، جس کے نزدیک طیب کا یہ خواب قابلِ تحقیر تھا، ایک ذلت آمیز تنازعے کی صورت میں نکلا۔ اس کے آقا نے اسے دارالحکومت نواکشوت میں ایک گھر میں کام کرنے کی غرض سے بھجوا دیا۔ لیکن شہر کی غلامانہ زندگی میں ایک دورافتادہ گاؤں کی غلامانہ زندگی کی نسبت نگرانی کچھ کم سخت تھی، اور طیب کو احساس ہوا کہ یہاں اسے فرار کا موقع مل سکتا ہے۔ جولائی 1978 میں وہ بھاگ نکلا اور ایک ٹرک میں لفٹ لے کر سرحد پر دریاے سینیگال کے قریب پہنچ گیا۔ ایک دوست سے حاصل کی ہوئی رقم سے اس نے سرحد پر متعین محافظوں کو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اسے کاغذات کے بغیر موریتانیہ سے باہر نکلنے دیں۔

اس نے اپنے باپ کو وسطی سینیگال میں کاؤلاک کے مقام پر پایا۔ “میرا باپ پڑھنا نہیں جانتا تھا لیکن وہ میری تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کو سمجھ سکتا تھا۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔” یہ سن کر کہ آئیوری کوسٹ میں تعلیمی مواقع بہتر ہیں، طیب اور اس کا باپ مالی کے راستے وہاں روانہ ہو گئے۔ “یہ ایک دشوار سفر تھا،” طیب نے کہا۔ اس کی آواز گھٹ سی گئی۔ “ہم متعدد بار گرفتار ہوے۔” وہ رک گیا اور خاموشی سے موم بتی کے شعلے کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جوڑا۔ “آخرکار ہم آئیوری کوسٹ پہنچ گئے،” وہ بولا۔ “اور وہاں بائیس سال کی عمر میں پہلی بار، مجھے ایک کلاس روم میں بیٹھنے اور استاد سے نگاہ ملانے کی اجازت حاصل ہوئی۔”

جب امریکہ کے لوگ غلامی کا تصور کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں صرف ان غلاموں کا خیال ہوتا ہے جن سے فصلوں پر کام لیا جاتا ہے۔ لیکن غلامی، پوری انسانی تاریخ میں، بیشتر انسانی معاشروں میں بہت سی مختلف شکلوں میں موجود رہی ہے — اس اعتبار سے یہ ایک “عجیب وغریب ادارے” سے بہت مختلف چیز ہے — اور عرب دنیا، جہاں غلامی کی بنیادیں اسلام کے آغاز سے مدتوں پہلے سے مستحکم تھیں، فصلوں پر کام کی غرض سے غلامی کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ غلام، جو عموماً جنگوں میں گرفتار ہو کر آتے تھے، سپاہیوں اور گھریلو ملازموں کے طور پر استعمال میں لائے جاتے تھے۔ متمول طبقوں میں غلام عورتوں پر مشتمل حرم عام تھے۔ داشتائیں رکھنے کے مقبول رواج کے باعث غلام عورتیں عام طور پر غلام مردوں کی نسبت زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی تھیں — بجز اس کے کہ غلام مردوں کا جنسی عضو کاٹ ڈالا گیا ہو، جیساکہ ان کی ہولناک حد تک زیادہ تعداد کے ساتھ ہوتا تھا، اس حد تک کہ غلاموں کی تجارت کی بڑی شاہراہوں کے پاس خواجہ سرا تیار کرنے کے باقاعدہ قصاب خانے قائم تھے۔

اسلام کی تعلیمات میں آقاؤں سے کہا گیا کہ وہ اپنے غلاموں سے بدسلوکی نہ کریں، بلکہ انھیں آزاد کرنے کے امکان پر بھی غور کریں۔ اور مسلمان عالموں اور فقیہوں کے درمیان اُس وقت سے اب تک اس موضوع پر بحث مباحثہ جاری ہے کہ کون کس کو غلام رکھ سکتا ہے اور کن حالات میں۔ اصولی طور پر مسلمان مسلمان کو غلام نہیں بنا سکتے۔ لیکن اسلام کے عرب سے باہر مختلف جغرافیائی خطوں میں پھیل جانے کے دوران یہ اصول بیچ میں کہیں گم ہو گیا، اور بہرحال اس اصول پر عمل کا انحصار مقامی تعبیرات پر ہوتا تھا۔ قرون وسطیٰ میں مشرقی یوروپ نے عرب دنیا کو بڑی تعداد میں سفیدفام غلام فراہم کیے — مسیحی، یہودی، اور دوسرے — لیکن سیاہ فام افریقیوں کی تجارت نے — جن کی نقل وحمل صحارا کے راستے یا دریاے نیل کے ساتھ ساتھ قافلوں کی شکل میں کی جاتی تھی — رفتہ رفتہ غلاموں کی مجموعی عرب تجارت پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اگرچہ تاریخی شواہد بہت کم دستیاب ہیں لیکن بہت سے تاریخ نگاروں کا خیال ہے کہ سیاہ فاموں کی جتنی بڑی تعداد کو شمال کی سمت عرب دنیا میں غلام بنا کر پہنچایا گیا وہ ایک کروڑ غلاموں کی اس تعداد کے مقابلے میں زیادہ ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں بحراوقیانوس کے راستے نئی دنیا (امریکہ) لایا گیا۔

مغربی دنیا میں نشاۃ ثانیہ کے دور کے بعد غلامی کے خاتمے کی جو تحریکیں چلیں، اس قسم کی تحریکوں کی کوئی مثال عرب دنیا میں نہیں ملتی۔ اخلاقی موقف رکھنے والے مسیحی فرقوں مثلا کویکر، میتھوڈسٹ یا یونی ٹیرین، جیسے فرقے بھی اسلام میں نہیں ابھرے، اور مسلمان فرمانرواؤں نے یوروپی نوآبادیاتی طاقتوں کے متواتر دباؤ کے زیرِاثر ہی غلاموں کی کھلے عام تجارت پر پابندیاں عائد کرنا شروع کیا۔ صحارا کے راستے آنے والا غلاموں کا آخری قافلہ 1929 میں لیبیا پہنچا تھا۔ خود غلامی آخرکار ہر جگہ قانوناً ممنوع قرار پائی — حتیٰ کہ سعودی عرب نے بھی اس پر 1962 میں پابندی لگا دی — لیکن ان کوششوں کو بجا طور پر مسلم سماجی ڈھانچے پر حملہ تصور کرتے ہوے نسبتاً زیادہ قدامت پرست ملکوں میں ان کی سخت مزاحمت کی جاتی رہی، اور عملی طور پر غلامی کے امتناع کو کسی بھی اعتبار سے مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 1960 کی ایک برطانوی پارلیمانی رپورٹ کے مطابق مختلف ملکوں سے حج کے لیے مکہ پہنچنے والے حاجی اپنے ساتھ غلام لے کر آتے تھے جو “جاندار ٹریولرز چیکس” کی حیثیت رکھتے تھے، یعنی ضرورت پڑنے پر ان کو فروخت کر کے سفر کے اخراجات پورے کیے جا سکتے تھے۔

موریتانیہ میں سرکاری طور پر غلامی کو تین بار ممنوع کیا گیا، جن میں تازہ ترین 1980 میں کیا جانے والا امتناع ہے۔ لیکن جو قوانین اس امتناع کو عملی طور پر نافذ کر سکتے تھے انھیں کبھی وجود میں نہیں لایا گیا۔ 1980 کے امتناع میں آقاؤں کو — غلاموں کو نہیں — معاوضے کا مستحق قرار دیا گیا، لیکن اس میں ایسا کوئی طریق کار طے نہیں کیا گیا جس کے مطابق معاوضے کی ادائیگی، یا اس قانون کا نفاذ کیا جا سکے، یا کم از کم اس خوشخبری کو ان آزادکردہ افراد کے کانوں تک پہنچا جا سکے جن میں سے بیشتر اب بھی غلام ہیں۔ (موریتانیہ میں غلاموں کی کل تعداد کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس تعداد کا تخمینہ نوے ہزار سے تین لاکھ تک لگایا جاتا ہے۔) موریتانیہ جیسے غریب، پسماندہ اور مکمل طور پر اسلامی ملک میں جدید، سکیولر قوانین کی اہمیت براے نام ہی ہے۔ حاکمیت کی دیگر ہیئتیں — روایتی قانون، اور خصوصا مذہبی قانون جس کی تعبیر کرتے ہوے موریتانیہ کی شرعی عدالتوں نے روایتی طور پر ہمیشہ غلام رکھنے والے آقاؤں کے ملکیت کے حق کو درست ٹھہرایا ہے — عموماً مغربی طرز کے تحریری قوانین سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہیں۔ 1960 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے موریتانیہ یوں بھی بہیمانہ بیدان فرمانرواؤں کے زیرِتسلط رہا ہے جن کے نزدیک قانون کی حکمرانی جیسے تصورات کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔

تاہم بیدان حکمرانوں کو سب سے بڑا خطرہ بیدانوں کے غلام اور ملازم ہراتینوں کی طرف سے نہیں بلکہ ملک کے تیسرے بڑے گروہ کی طرف سے درپیش ہے: یعنی جنوبی خطے کے سیاہ فاموں کی طرف سے جنھیں کبھی غلام نہیں بنایا جا سکا اور جنھیں موریتانیہ میں “نیگرو افریقی” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مردم شماری کے اعدادوشمار ناقابلِ اعتبار ہیں، کیونکہ بیدانوں کی تعداد کو زیادہ کر کے ظاہر کرنے سے حکومت کا اپنا مفاد وابستہ ہے، لیکن اندازہ ہے کہ تینوں گروہ ملک کی آبادی میں تقریباً برابر کا تناسب رکھتے ہیں۔ (ملک کی کل آبادی بیس لاکھ سے تیس لاکھ تک ہے۔) نیگرو افریقی مقامی زبانیں — پولار، وولوف، سوننکے، بمبارا — بولتے ہیں اور لنگوافرانکا یا رابطے کی زبان کے طور پر فرانسیسی، نہ کہ عربی جو ملک کی سرکاری زبان ہے۔ اگرچہ انھوں نے بھی صدیوں پہلے اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیا تھا، ان کا تہذیبی رشتہ اپنے ہم وطن موریتانیائیوں کی بہ نسبت جنوب میں آباد دوسرے فرانسیسی گو افریقیوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ حکمران بیدانوں کا سب سے بڑا سیاسی مقصد یہ ہے کہ ملک کی ان دونوں سیاہ فام آبادیوں — ہراتینوں اور نیگرو افریقیوں — کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جائے۔

“جب میں بچہ تھا تو بیدان لوگ ہمیشہ بتایا کرتے تھے کہ نیگرو وحشی جانور، شیر یا ریچھ، میں منقلب ہو سکتے ہیں،” طیب نے بتایا۔ وہ خوش دلی سے ہنسا۔ “ہمیں بتایا جاتا تھا کہ جنوب کے نیگرو لوگ انسانوں کو کھاتے ہیں۔ اور آئیوری کوسٹ اور ٹوگو جاتے ہوے راستے میں میرے ذہن میں باربار یہی خیال آتا رہا۔”

موریتانیہ سے نکلنے سے پہلے طیب غلامی کے خلاف چلائی جانے والی ایک زیرِزمین تحریک “الحُر” کا رکن بن چکا تھا، اور آج تک اس تنظیم میں عملی طور پر سرگرم ہے۔1974 میں قائم کی گئی الحر تنظیم بیشتر سابق یا مفرور غلاموں پر مشتمل ہے، اور ان میں سے جو لوگ موریتانیہ میں رہتے ہیں وہ سخت جبر کا شکار ہیں۔ جس اتحاد سے بیدان سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں — یعنی نیگرو افریقیوں کی حکومت مخالف تحریکوں اور ہراتینوں کی الحر جیسی تنظیموں کے درمیان اتحاد — وہ اب تک وجود میں نہیں آ سکا ہے۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیدان حکمرانوں کی طرف سے جنوبی آبادیوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں میں بڑی ہوشیاری سے ہراتین سپاہیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ 1989 میں اس قسم کی ایک تادیبی مہم میں دسیوں ہزار نیگرو افریقی کسانوں کو ان کی زمینوں سے جبراً بےدخل کر دیا گیا، اور ان میں سے بہت سوں کو کھدیڑ کر سینیگال میں جلاوطن کر دیا گیا۔ سینکڑوں لوگ ہلاک ہوے اور ہزاروں گرفتار۔ اور سرکوبی کی اس مہم میں ہراتین سپاہیوں نے جو کردار ادا کیا اس کی تلخ یادیں اب بھی تازہ اور گہری ہیں۔

تاہم طیب جیسے ہراتین کارکن سمجھتے ہیں کہ ان دونوں سیاہ فام گروہوں کے درمیان بےاعتمادی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جنوبی نیگرو افریقیوں نے ہمیشہ غلامی کے مسئلے پر غیرجانبدارانہ موقف اختیار کیے رکھا ہے۔ “اب جبکہ ان کو محسوس ہوا ہے کہ غلامی کی مخالفت سے انھیں بین الاقوامی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، تو وہ ایسا ظاہر کرنے لگے ہیں گویا وہ ہمیشہ سے غلامی کے مخالف رہے ہیں،” اس نے کہا۔ “اس سے پہلے ان کو اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔” طیب نے کہا کہ وہ بیدان افراد بھی جو کسی وجہ سے حکومت کے عتاب میں آ گئے ہوں، مغرب میں سیاسی پناہ مانگتے وقت یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں غلامی کے خلاف تحریک چلانے کے نتیجے میں موریتانیہ میں خطرات کا سامنا ہے۔ “میں ایسے کئی بیدانوں سے واقف ہوں،” وہ یوں بولا جیسے اس کے لیے یہ بات ناقابل یقین ہو۔ “خود ان کے گھروں میں اب بھی غلام موجود ہیں!”

پھر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ “آپ کو پتا ہے، ان میں سے کئی لوگ مجھے یہاں نیویارک میں ملے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہمیں عفو و درگزر سکھاتا ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں: یہ عفو و درگزر کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ حقوق کا اور انصاف کا معاملہ ہے۔ اور یہ کوئی ماضی کی بات بھی نہیں ہے۔ یہ سب تو آج، اس وقت بھی ہو رہا ہے! وہ مجھ سے بحث کرنے لگتے ہیں۔ وہ بہت سی احمقانہ باتیں کہتے ہیں۔ لیکن میں اپنے آپ سے کہتا ہوں: مختار! صبر کرو۔ یہ تاریخ ہے، اور تاریخ زیادہ، بہت زیادہ وقت لیتی ہے۔”

طیب نے غور سے مجھے دیکھا۔ “یہ میرا مسئلہ ہے،” آخرکار وہ بولا۔ “اور میں اس سے چھٹی نہیں لیتا۔”

میں نے میز پر ایک ٹیپ ریکارڈر رکھا دیکھ کر دریافت کیا کہ آیا اس میں موریتانیہ کی کوئی مخصوص موسیقی ہے۔ وہ مسکرایا اور مشین میں ایک ٹیپ لگا دیا۔ ڈھول کی سست رو تال، اور عربی میں نوحے جیسی آواز، اور پیٹ کی گہرائی سے نکلتی ہوئی پکار سے کمرہ بھر گیا، اور آن کی آن میں ہمیں یوں محسوس ہونے لگا گویا ہم، برونکس سے کئی ہزار میل دور، صحارا میں کسی خیمے کے اندر بیٹھے ہیں۔ “یہ بہت خوبصورت گیت ہے،” طیب نے بےاختیار ہو کر کہا۔ “یہ بہت مشہور ہے، بہت مقبول ہے۔ ہم اسے غلام عورت کا کیسٹ کہتے ہیں۔” اس نے پُرزور انداز میں ٹیپ ریکارڈر کی طرف اشارہ کیا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ میں نے اس کو کبھی اتنے جوش میں نہیں دیکھا تھا۔ “یہ بیدان ہے جو غلام عورت کو بتا رہا ہے کہ اسے کیوں بےعزت کیا گیا۔ اور اب یہ غلام عورت اسے جواب دے رہی ہے!” طیب خوشی سے بےحال تھا۔

جب ٹیپ ختم ہوا تو اس کی مسکراہٹ رفتہ رفتہ غائب ہو گئی۔ “موریتانیہ کی حکومت نے غلامی پر شرمندگی محسوس کرنا ابھی حال ہی میں شروع کیا ہے،” اس نے کہا۔ “لیکن حکومت ہمارے ادب کو، ان تمام گیتوں اور نظموں کو نہیں مٹا سکتی جن میں غلاموں اور ان کی غلامی کا ذکر موجود ہے — کیونکہ یہی وہ اصل زندگی ہے جسے ہم جیتے ہیں۔”

طیب برونکس کے کمیونٹی کالج میں ہفتے میں پانچ بار انگریزی کی رات کی کلاس میں جاتا ہے۔ ایک شام میں اس کے ساتھ وہاں گیا۔ طالب علموں نے پہلا گھنٹہ کمپیوٹر لیب میں گزارا۔ وہ سب The Great Gatsby پر الگ الگ مضمون لکھتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ طیب کے پاس اس ناول کا جو نسخہ تھا، اس کے حاشیے عربی میں لکھے ہوے نوٹس سے بھرے تھے۔ یہ عموماً الفاظ کے معانی پر مشتمل تھے، نہ صرف ناول کے متن میں موجود الفاظ بلکہ انگریزی عربی لغت میں ان کے آس پاس لکھے ہوے دوسرے الفاظ بھی جو طیب کو دلچسپ محسوس ہوئے۔ نہ صرف Perpetuate کے عربی معنی بلکہ Peripatetic کے مفہوم کے بارے میں بھی ایک مفصل نوٹ؛ نہ صرف Veteran بلکہ Vex بھی۔ یہ مجھے انگریزی سیکھنے کا ایک دلیرانہ، پُرشوق اور ادبی طریقہ معلوم ہوا۔ جو بات میں اصل میں جاننا چاہتا تھا وہ یہ تھی کہ طیب خود اس ناول کے کرداروں جے گیٹسبی اور ڈیزی بوکانن کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ لیکن وہ کمپیوٹر پر انگریزی کے ایک ایسے سافٹ ویر کے ساتھ جدوجہد میں مصروف تھا جو اسے اپنی لغت سے باہر کے الفاظ (بشمول “گیٹسبی”) ٹائپ نہیں کرنے دے رہا تھا۔

طیب کی انگریزی کلاس کے باقی سارے لوگ لاطینی امریکی تھے۔ اور کلاس شروع ہونے سے پہلے کی گفتگو سے میں نے جانا کہ ان میں سے بیشتر ڈومینیکن، اور سب کے سب ہائی سکول پاس تھے۔ ان میں سے اکثر نے نیویارک کے ہائی سکولوں میں تعلیم مکمل کی تھی — سواے انگریزی کی مہارت کے امتحان کے، جو یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ضروری تھا۔ یہ ایک خوش باش اور زندہ دل گروہ تھا۔ ان میں سے تین چار تختۂ سیاہ پر بیک وقت، ایک دوسرے کے آگے اور پیچھے سے ہاتھ نکال کر، گرامر کے جملے لکھنے میں مشغول تھے، جبکہ ڈیسکوں پر بیٹھے ان کے ہم جماعت انھیں بلند آواز سے مشورے دے رہے تھے اور کلاس کی آخری بنچوں پر ایک لسانی بحث (زیادہ تر ہسپانوی زبان میں) جاری تھی جس کا دھیما شور پس منظر میں مسلسل سنائی دے رہا تھا۔

طیب ان سب لوگوں سے الگ دکھائی دیتا تھا، صرف اس باعث نہیں کہ وہ کلاس کا واحد افریقی طالب علم تھا، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ پوری کلاس میں سب سے زیادہ رسمی لباس پہنے تھا: پرل گرے رنگ کا تھری پیس سوٹ، اور گرے رنگ کی نکٹائی جس کی گرہ نہایت عمدگی سے بندھی ہوئی تھی، جبکہ اس کے اردگرد سب لوگ ٹی شرٹ، سویٹ شرٹ اور ڈینم کی جینز پہنے ہوے تھے۔ وہ ہلکی سی مہربان مسکراہٹ کے ساتھ احتیاط سے نوٹس لینے میں مصروف تھا، لیکن اس نے کلاس میں ہونے والی بحث میں کوئی حصہ نہ لیا اور اس کی سنجیدگی اس کے گرد ایک ٹھوس، شفاف مخروطی حصار بنائے معلوم ہوتی تھی۔

تعلیم حاصل کرنے کا عزم طیب کے لیے رہنما ستارے کی طرح رہا تھا جس پر نظر جمائے ہوے اس نے موریتانیہ سے فرار ہونے کے بعد سینکڑوں طوفانوں کا مقابلہ کیا۔ آئیوری کوسٹ میں فرانسیسی زبان سیکھنے کے بعد طیب، نہایت اداسی کے ساتھ، اپنے باپ سے جدا ہو کر گھانا روانہ ہو گیا۔ وہاں سے پانچ بار کوشش کرنے کے بعد آخرکار ٹوگو میں داخل ہوا جہاں اس نے فرانسیسی سفارتخانے کو ایک تصدیق نامہ جاری کرنے پر آمادہ کر لیا کہ وہ موریتانیہ کا شہری ہے۔ اس تصدیق نامے کی مدد سے اس نے لیبیائی تعلیمی وظیفوں کے ایک پروگرام میں داخلہ حاصل کیا جسے صدر معمر القذافی نے عرب لیگ میں شامل تمام ملکوں (بشمول موریتانیہ) کے طلبا کے لیے شروع کیا تھا اور جو بہت کم عرصے جاری رہا۔ اس طرح طیب مغربی افریقہ سے ایک طرف کے ٹکٹ پر جنوب مغربی لیبیا کے شہر صبحہ روانہ ہوا اور وہاں اس نے خود کو واحد سیاہ فام طالب علم پایا۔ موریتانیہ سے تعلق رکھنے والے باقی تمام طلبا بیدان تھے اور طلبا کی سیاست شدید عرب قوم پرستی پر مبنی تھی۔ طیب نے سخت محنت کی اور الیکٹریکل انجنیئرنگ کی سند حاصل کر لی۔ پھر وہ ایک اور وظیفے پر مراکش کے اسی نام کے شہر میں قائم اسلامی انسٹیٹیوٹ پہنچا اور وہاں ادب اور اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ مراکش شہر کے اعلیٰ تعلیمی معیار پر بہت خوش ہوا اور اسے تیسرے سال میں ایک اہم تعلیمی انعام ملا۔ لیکن یہاں بھی دوسرے تمام موریتانیائی بیدان نسل کے تھے اور طیب کو سیاسی مسائل کا سامنا ہونے لگا، خاص طور پر جب دوسرے طلبا پر انکشاف ہوا کہ وہ الحر تنظیم کارکن ہے۔

اس نے لیبیا واپس آ کر بن غازی کی غریونس یونیورسٹی میں قانون کی ایک ڈگری کے لیے پڑھائی شروع کی۔ اس کی روزمرہ زندگی، شخصی اور سیاسی دونوں اعتبار سے، خطرات کا شکار رہی۔ اسے متواتر خطرہ تھا کہ اس کے ساتھ پڑھنے والے بیدان طلبا کہیں اس پر عرب مخالف ہونے کا الزام نہ لگا دیں — اور لیبیائی تعلیمی نظام میں اس کا کوئی واقف کار نہ تھا جو اسے تحفظ دے سکتا۔ “میں عرب دنیا میں اپنے مقام سے واقف ہوں،” اس نے کہا۔ “میں اس بات کی قدر کرتا ہوں کہ وہ مجھے تعلیم حاصل کرنے دیتے ہیں، لیکن اس سے آگے ہمارا بہت کم باتوں پر اتفاق ہے۔” طیب رفتہ رفتہ ایک سکالر بنتا جا رہا تھا۔ وہ مختلف جریدوں میں اپنے مضامین شائع کرانے لگا لیکن غلامی کے موضوع پر اس نے کچھ نہیں لکھا۔ گنتی کے چند افراد کے سوا، جو جنوبی سوڈان کے سیاہ فام طلبا تھے، کوئی شخص ایسا نہ تھا جس سے وہ تنہائی میں بھی غلامی کے موضوع پر بات کر سکتا (سوڈان بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں عرب باشندے سیاہ فاموں کو غلام بنائے ہوئے ہیں)۔ میرے سوال پر کہ اس نے بن غازی میں اپنے جسم اور جان کو کیونکر یکجا رکھا، اس نے کندھے اچکا دیے۔ “سب کچھ جدوجہد کا حصہ ہے،” وہ بولا۔ “غیرملکی طلبا کو نوکری کرنے کی اجازت نہ تھی۔ میں اکثر دن میں صرف ایک وقت کھانا کھاتا تھا، کبھی کبھار وہ بھی نہیں۔ کچھ لوگوں نے میری مدد کی۔ کتابیں حاصل کرنا دشوار تھا۔ اور کپڑے۔۔۔ میں اپنے کپڑوں کے بارے میں بہت محتاط ہوں۔ یہ سوٹ۔۔۔” طیب نے اپنے پرل گرے رنگ کے سوٹ کی طرف اشارہ کیا، “میں نے لیبیا میں خریدا تھا، بارہ سال پہلے۔” میری نظروں کو وہ سوٹ بالکل نیا معلوم ہوتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس کے پاس ایک شاندار جلّابیہ بھی ہے جسے اس نے خاص موقعوں پر پہننے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ان موقعوں کے سوا وہ کبھی اپنے کمرے سے سوٹ پہنے بغیر باہر نہیں نکلتا۔

طیب لیبیائی وکیلوں کی مہارت کا معترف ہے جو بحیرۂ روم کے کنارے آباد پڑوسی ملکوں کے ساتھ پیش آنے والے سامان کی نقل و حمل کے تنازعات کو بہت خوبی سے نمٹاتے تھے۔ اس نے بحری قانون میں اختصاص حاصل کیا اور جزیروں سے متعلق بین الاقوامی قانون کے موضوع پر مقالہ تحریر کیا۔ اس نے اپنی قانون کی ڈگری 1993 میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ تیونس گیا اور وہاں سے دوبارہ مراکش۔ لیکن اسے معلوم ہوا کہ پاسپورٹ کے بغیر اسے کہیں بھی کام نہیں مل سکتا۔ بالآخر اس نے موریتانیہ واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ وہاں چھ ماہ ٹھہرا۔ اس کی صورت حال عجیب وغریب تھی۔ پولیس نے اس کے نواکشوت سے باہر جانے پر پابندی لگا دی تھی اور اسے وقتاًفوقتاً پوچھ گچھ کے لیے اٹھا لیا جاتا۔ لیکن اسے کبھی جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعض موریتانیائی افسر کسی نہ کسی طور طیب کے — یا اس کے واقفکاروں کے — احسان مند تھے اور وہ تحفظ اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے ان سے امید لگائے ہوے تھا۔ علاوہ ازیں اس کے آقا کو اسے دوبارہ حاصل کرنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ طیب کا دو بار نواکشوت کی سڑک پر اپنے آقا اور اس کے سفارتکار بھائی سے سامنا ہوا لیکن دونوں بار وہ طیب سے کنی کترا گئے۔ “وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب میں تعلیم یافتہ ہوں،” اس نے وضاحت کی۔ “وہ جانتے تھے کہ اب میں بول سکتا ہوں۔”

وہ امید بھری کہاوت — کہ تعلیم یافتہ شخص کو غلام نہیں رکھا جا سکتا — آخرکار سچ ثابت ہوئی تھی۔ بلاشبہ ہراتینوں کی تعلیم کے سلسلے میں بیدانوں کی سخت مخالفت کے پیچھے یہی منطق کارفرما ہے۔ اور یہی منطق امریکہ کی ریاست ورجینیا میں 1831 میں منظورکردہ ایک قانون کی پشت پر بھی موجود تھی جس کی رو سے سیاہ فاموں کے لیے (خواہ وہ غلام ہوں یا آزاد) سکول کی تعلیم ممنوع قرار دی گئی، اور بعد میں نافذ ہونے والے ایک اور قانون کی بھی جس کی رو سے پڑھنالکھنا سیکھنے کے لیے ریاست ورجینیا سے باہر جانے والے کسی سیاہ فام کے دوبارہ ورجینیا میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔ (دوسری جنوبی ریاستوں میں بھی اسی قسم کے قوانین نافذ تھے۔) اگرچہ مختلف ادوار میں مختلف قسم کے تعلیم یافتہ غلاموں کا بھی وجود رہا ہے، لیکن ان کی تعداد مستثنیات سے آگے نہیں بڑھی۔ عرب دنیا میں “عبد” یا غلام ہونے کا مطلب، سماجی معنوں میں، انسانیت کے درجے سے کمتر ہونا ہے۔ ارتقائی حیاتیات کے ماہرین اس جسمانی تغیر کا تذکرہ کرتے ہیں جس سے پالتو بنائے جانے والے جانور گزرتے ہیں — رفتہ رفتہ اپنے بڑے دانتوں، لمبے جبڑوں اور اس جبلّی جارحیت سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کے وحشی اجداد میں موجود تھی۔ غلام بنانے والی نسلیں اپنے غلاموں میں اسی قسم کے تغیرات پیدا کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ عمل ہے جس کی مزاحمت اور نفی میں طیب نے اپنی پوری زندگی صرف کی ہے۔ برونکس میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ اسے بیٹھا دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اس کی انفرادیت کا ایک عجیب اور ہیبت ناک پہلو یہ بھی ہے: کلاس روم میں موجود دوسرے لوگوں کے ساتھ اَور جو بھی ناانصافیاں ہوتی رہی ہوں، ان میں سے کسی کی پرورش کسی ایسے معاشرے میں نہیں ہوئی تھی جو اس کو باربرداری کے جانور میں منقلب کرنے پر مستعد اور منحصر ہو۔

علاوہ ازیں، اس کی جگہ کچھ اور بننا، انسان بننا، ایک کبھی نہ ختم ہونے والا عمل ہے۔ طیب جانتا ہے کہ مراکش میں اس کی تعلیم نے اسے ایک تعلیم یافتہ آدمی بننے میں مدد دی جو عربی ادب، تاریخِ عالم اور اسلامی قانون سے گہری واقفیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود وہ کہتا ہے “یہ جاننا دشوار، بہت دشوار تھا کہ میں کون ہوں۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں کتنی بڑی اذیت سے نکل کر آیا ہوں۔” وہ خاموش ہو جاتا ہے، شاید اس مقام — اس بڑی اذیت — کے بارے میں سوچنے لگتا ہے جہاں سے وہ نکل کر آیا ہے اور ان سب انسانوں کے بارے میں جو اَب تک وہاں ہیں۔

نواکشوت میں اپنے چھ ماہ کے قیام کے دوران اسے ایک بار دس دن کے لیے اپنی ماں کے پاس جانے کی اجازت دی گئی۔ (اس کا باپ 1989 میں، موریتانیہ کو دوبارہ دیکھے بغیر، مر چکا تھا۔) آخرکار طیب کو پاسپورٹ مل گیا، اور امریکہ کا ویزا بھی۔ وہ ہوائی جہاز سے نیویارک آیا جہاں اس کا ایک رشتےدار اپنے سفارتکار آقا (طیب کے آقا کے بھائی) کے ساتھ غلام کے طور پر آیا ہو اتھا۔ اگرچہ طیب کے اس رشتےدار کو اس کے آقا نے امریکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی تھی، طیب نے کہا، “لیکن آقا اور غلام کا رشتہ بدستور قائم رہا۔” اس کے پاس ایک ٹیکسی تھی اور جب کبھی اس کا آقا یا اس کا کوئی مالدار بیدان دوست نیویارک آتا تو اسے اپنی ٹیکسی ان کی خدمت کے لیے وقف کرنی پڑتی تھی۔ طیب اپنے رشتےدار کے ساتھ ہارلم میں واقع فلیٹ میں ٹھہرا جہاں یہ دیکھ کر وہ ہیبت زدہ رہ گیا کہ اس نے دیوار پر سفارتکار اوراس کے خاندان والوں کی تصویریں لگا رکھی ہیں۔ اس نے ایک بار اپنے رشتےدار کو کسی مہمان سے یہ کہتے سنا کہ تصویروں میں دکھائے گئے گوری رنگت کے لوگ اس کے “عم زاد” ہیں۔ طیب اور اس کا رشتےدار ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ “وہ برین واش ہو چکا ہے،” طیب نے کہا، “بہت سے ہراتینوں کی طرح۔” جب طیب کو یمنی مالکوں کی دکانوں میں کام مل گیا تو وہ برونکس میں اپنی جگہ میں اٹھ آیا۔

اس کے فوری منصوبوں میں اپنی انگریزی کی استعداد کو بہتر بنانا شامل ہے تاکہ اسے یہاں کی کسی قانون کی درسگاہ میں داخلہ مل سکے۔ ہراتینوں کے حقوق کی جدوجہد کے لیے مور یتانیہ واپس جانا اس کا خواب ہے، اور اس کا خیال ہے کہ شاید امریکہ سے حاصل کی ہوئی قانون کی ڈگری ایک ناخوش حکومت کو اس کے خلاف قدم اٹھاتے ہوے کچھ سوچنے پر مجبور کر سکے۔ تاہم امکان یہ ہے کہ اس ڈگری سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا: الحر تنظیم کے بہت سے ارکان اور رہنماؤں کو گرفتاری، تشدد اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس قسم کے کچھ دوسرے لوگوں کو زیادہ نرم برتاؤ کے ساتھ — یعنی سرکاری ملازمتیں دے کر — خاموش کر دیا گیا ہے۔

طیب اور میں مختصر سیروں کے لیے ساتھ شہر سے باہر جانے لگے۔ اس کے ساتھ امریکہ میں گھومتے ہوے مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میں کسی دوسرے سیارے سے آئے ہوے پُرتجسس فرد کے ساتھ ہوں۔ ٹرین میں نیوانگلینڈ سے گزرتے ہوے ایک جنگلی قطعے میں بےترتیبی سے اِدھر اُدھر بنے ہوے مکان دیکھ کر وہ پوچھتا ہے، “یہ لوگ یہاں درختوں کے درمیان کیوں رہتے ہیں؟” مجھے اس کا کوئی جواب نہیں سوجھتا۔ (“شہروں کا پھیلاؤ؟”) پھر اسے کچھ متحرک مکان نظر آتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ یہ جان کر کہ ان کو کہیں اور تعمیر کیا گیا تھا اور اب ٹرک کے ذریعے سے مطلوبہ جگہ پہنچایا جا رہا ہے، وہ چلّا اٹھا: “بالکل خیموں کی طرح! لوگوں کو یہ مکان دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، کتنے اچھے خیمے ہیں، اور وہ ان میں رہنے لگتے ہیں۔” پنسلوینیا میں میکڈانلڈ کی ایک بہت بڑی دکان میں، جہاں بےشمار سکول کے بچے لنچ کھانے کے لیے جمع تھے، مجھے آرڈر دینے کے لیے کاؤنٹر پر پہنچنے میں سخت دقت ہو رہی ہے، اور ایک مہربان عورت مجھے پیچھے جا کر ڈرائیواَپ کھڑکی پر آرڈر دینے کا مشورہ دیتی ہے۔ یہ ترکیب کامیاب رہتی ہے اور طیب کہتا ہے، “اس خاتون کو میکڈانلڈ کا بہت تجربہ ہو گا۔ کیا یہ نیکی اس نے ایسٹر کے لیے کی تھی؟” مجھے معلوم نہ تھا کہ لوگ ایسٹر کے موقعے کے لیے نیکیاں کرتے ہیں۔

ایک موقعے پر بوسٹن میں جب ہم بہت دیر ایک نہایت وسیع و عریض زیرِزمین گیراج میں بھٹکنے کے بعد ایک لفٹ سے نکل کر راہداری میں آئے تو ایک دم ہمارا سامنا ورزش کر کے ہانپتے ہوے، پسینے میں شرابور، وحشت بھری آنکھوں والے سفیدفام لوگوں سے ہو گیا جن کے اور ہمارے بیچ محض ایک شیشے کی دیوار تھی اور وہ سب ہِپ ہاپ کی ایک تال پر اجتماعی ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ یہ منظر مجھے اپنی بصارت پر ایک حملہ محسوس ہوا اور میں نے کسی قدر خفیف ہو کر طیب کی طرف دیکھا۔ وہ میری طرف دیکھ کر بےاختیار مسکرایا اور انگوٹھا کھڑا کر کے زور سے بولا، “آزادی!”

مجھے اس سے یہ پوچھتے رہنے کی عادت ہو گئی ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے۔ یہ تعجب کی بات نہیں کہ اکثر اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ غلامی کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ زیرِزمین ٹرین میں مین ہیٹن آتے ہوے وہ کہتا ہے، “نیویارک غریب لوگوں سے، بےگھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ ہمیں ہر وقت دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بہت ہولناک بات ہے۔ لیکن بہرحال ان لوگوں کو پھر بھی کچھ نہ کچھ حقوق حاصل ہیں۔”

معلوم ہوتا ہے کہ مقدس کتابیں کبھی اس کے ذہن سے زیادہ دور نہیں ہوتیں۔ “میں یہودیوں اور سیاہ فاموں کے متعلق عربوں کے عجیب و غریب خیالات کے بارے میں سوچ رہا ہوں،” ایک اور موقعے پر وہ کہتا ہے۔ “آپ کو حضرت ابراہیم کا قصہ یاد ہے؟ ان کی بیوی سارا یہودی تھی۔ اس سے ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی تو سارا نے ابراہیم سے کہا کہ ممکن ہے ان کی لونڈی ہاجرہ سے — جو مصر کی رہنے والی اور سیاہ فام تھی — ان کی اولاد پیدا ہو جائے۔ اور پھر ہاجرہ ان سے حاملہ ہو گئی۔ لیکن سارا کو اس سے حسد ہوا اور ہاجرہ گھر سے بھاگ گئی۔ سارے عرب ہاجرہ کے بیٹے اسمعٰیل کی نسل سے ہیں۔ اسی لیے عرب یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کے ایسے عجیب خیالات ہیں۔ آپ کو معلوم ہے، انوار سادات کی ماں کون تھی؟ ایک سیاہ فام عورت۔”

ہم دریاے ہڈسن سے اوپر کی طرف واقع نیاک میں اس کے ایک دوست سے ملنے جاتے ہیں جو ٹرینیڈاڈ کا رہنے والا ہے۔ سڑک کے کنارے سبزے کو دیکھ کر طیب خوش ہوتے ہوے کہتا ہے، “یہ جگہ بالکل گھانا میں عکرہ اور ٹوگو کی سرحد کے درمیانی علاقے جیسی لگتی ہے۔ میں اس علاقے سے کئی بار گزرا ہوں، جب میں ٹوگو میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ وہاں بہت ہریالی اور پہاڑیاں ہیں، پیڑ اتنے زیادہ نہیں ہیں۔ آپ بہت دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں بالکل پاگل تھا: کوئی پیسہ نہیں، کھانے کو کچھ نہیں، اور تعلیم حاصل کرنے کی دُھن۔ میں ٹیکسی میں سفر کرتے ہوے باہر دیکھ کر کہا کرتا تھا: جنت یہی ہے!”

امریکہ میں غلامی مخالف گروپ نامی تنظیم کا بانی اور صدر چارلس جیکبس ہارورڈ کے جان ایف کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کی ایک افسر سے بات کر رہا تھا۔

“وہ فریڈرک ڈگلس کی طرح ہے اور میں ولیم لائیڈ گیریسن کی طرح،” جیکبس نے کہا۔

ہم کیمبرج میں ایک ہوٹل کے بار میں بیٹھے تھے اور جیکبس کینیڈی سکول کو معاصر غلامی کے موضوع پر ایک پروگرام کے لیے مالی امداد فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس میں مختار طیب کو بھی شامل کیا جانا تھا۔ طیب، جس نے اس شام مضافات میں واقع بوسٹن ہائی سکول میں خطاب کیا تھا، تھکا ہوا لگ رہا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ جیکبس کی بلندآہنگ گفتگو پر دھیان نہیں دے رہا ہے۔ لیکن اس نے اپنے خطاب میں موریتانیہ میں غلامی کا نقشہ کھینچ کر طالب علموں کو حیران کر دیا تھا اور کینیڈی سکول کی افسر بھی اس منصوبے میں دلچسپی لیتی معلوم ہوتی تھی۔

جیکبس ایک سابق انتظامی کنسلٹنٹ ہے۔ وہ پچاس کے لگ بھگ عمر کا ایک لمباچوڑا، پُرجوش آدمی ہے اور خود کو زمانۂ حال میں غلامی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والا مجاہد قرار دیتا ہے۔ اس کے خود کو گیریسن سے، جس نے انیسویں صدی میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کے لیے بہت کام کیا تھا، تشبیہ دینے کا یہی سبب ہے۔ اس کی تنظیم کا پہلا دفتر اس کے اپنے گھر کے ایک کمرے میں قائم ہوا تھا۔ اس کا گھر بوسٹن کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک قدیم اور احتیاط سے رکھی گئی وکٹورین کوٹھی ہے۔ (اب یہ محلہ مضافات کے بجاے شہر کا مرکز بن چکا ہے۔) جب تک جیکبس کی طیب سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس کی تنظیم کی سرگرمیاں سودان پر مرکوز تھیں۔ طیب سے مل کر اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کی تنظیم کا ایک بہت موثر ترجمان بن سکتا ہے اور تب سے وہ زیادہ سے زیادہ امریکیوں کو موریتانیہ میں دلچسپی لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چند ہفتے پہلے وہ اور طیب لاس اینجلس گئے تھے جہاں طیب نے ایک کانفرنس میں، جو سائمن وائزنتھال سنٹر کے زیرِاہتمام منعقد ہوئی تھی، حاضرین کو اپنی تقریر سے بےحد متاثر کیا تھا۔

لیکن یوں عوامی اجتماعات میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا طیب کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اسے ابھی سے بہت سے بیدان افراد کی طرف سے دھمکیاں ملنے لگی ہیں جو ان باتوں پر ناراض ہیں جو وہ موریتانیہ کے بارے میں امریکیوں کو بتا رہا ہے۔ “حکومت مزید کمیسار بھیج رہی ہے،” اس نے کہا۔ “سکیورٹی ایجنٹ۔ سخت گیر لوگ۔ ہمیں محتاط رہنا ہو گا۔” اس نے بتایا کہ الحر تنظیم حالات کی نگرانی کر رہی ہے لیکن اس ملک میں اس کا اطلاعات حاصل کرنے کا نظام کمزور ہے۔ اب تک یہ تنظیم اسی بات پر مطمئن ہے کہ اس کا پیغام امریکہ میں پھیل رہا ہے، اور طیب بھی اس کا پیغام پھیلانے کے کام سے خوش ہے۔ اس شام بوسٹن ہائی سکول کے طلبا نے موریتانیہ کے بارے میں بتائی گئی باتوں کو اپنے ذہن میں بٹھانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی۔ ان کے سوالات کچھ اس قسم کے تھے:
“کیا عرب بچوں کو نہیں سمجھایا جا سکتا کہ غلامی اچھی چیز نہیں ہے؟”

“کیا آپ لوگ پیسے ادا کر کے آزاد نہیں ہو سکتے؟”

“اگر آپ امریکی شہری بن جائیں تو؟”

طیب کی کوشش تھی کہ موریتانیہ میں غلامی کے نظام کی نفسیاتی گہرائیاں سننے والوں کی سمجھ میں آ سکیں اور ان کی توجہ طیب کی انفرادی صورتحال سے ہٹ کر تمام ہراتین لوگوں کی مصائب کی طرف منعطف ہو سکے۔ “یہ کسی فرد کا مسئلہ نہیں ہے،” اس نے کہا۔ ایک اور نکتے پر اس نے کہا، “میں ایک ایسا شخص ہوں جو دو دنیاؤں کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ یہاں بوسٹن میں میں آزاد ہوں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ میں غلام بھی ہوں۔”

امریکیوں — نوجوانوں اور بڑی عمر والوں، سیاہ فاموں اور سفیدفاموں — کے سامنے طیب کو غلامی کے موضوع پر بولتے ہوے سننا بہت انکشاف انگیز ثابت ہوتا ہے۔ غلامی کے بارے میں، اس موضوع پر لکھنے والے مورخوں تک کے درمیان، مجموعی طور پر دو نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ غلامی “سماجی موت” کے مترادف ہے، یعنی ایک مطلق حالت ہے، جس کا خلاصہ ایک شمالی افریقی کہاوت کے ذریعے بخوبی کیا جا سکتا ہے: “اگر آقا نہ ہو تو غلام کا کوئی وجود نہیں۔” دوسرا نقطۂ نظر رکھنے والے غلامی کو ایک تدریجی حالت قرار دیتے ہیں، اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غلامی کی صورتیں بےشمار اور ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اور یہ صورتیں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں، اور پھر یہ کہ غلاموں کو جو تھوڑی بہت سماجی قوت حاصل ہوتی ہے اس کو استعمال کر کے وہ اپنی حالت کو مستحکم بلکہ بہتر بھی کر سکتے ہیں۔ طیب، غلامی کی لعنت کے خلاف آزادی سے محبت رکھنے والوں کے جذبات بیدار کرنے کے لیے مطلق حالت والے موقف کا اظہار کرنے کے باوجود، ذاتی طور پر غلاموں اور آقاؤں کے درمیان طاقت کے رشتوں کو اہمیت دینے والے دوسرے موقف کا قائل ہے۔ اس کے امریکی سامعین عموماً پہلا یعنی مطلق حالت والا نقطۂ نظر رکھتے ہیں، جن کے لازمی اجزا میں زنجیروں، کوڑوں اور بدترین سفاکیوں کے تصورات شامل ہوتے ہیں۔

لیکن امریکی شہری طیب کی بات پر مختلف زاویوں سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایک افریقی نژاد امریکی آرتھر فلر نے، جو کنکٹی کٹ کے ایک مڈل سکول میں ریاضی کا استاد تھا، طیب کی کہانی کے بارے میں ایک سی ڈی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا سکول ایک متموّل بستی میں قائم ہے، لیکن وہ اندرون شہر کے ایک پسماندہ محلے کے سکول میں بھی کام کرتا ہے، اور اس کا کہنا ہے کہ طیب کی کہانی غریب سیاہ فام طالب علموں کو محنت پر اکسانے کے لیے بےپناہ امکانات رکھتی ہے۔ “یہ ایک نہایت مثبت کہانی ہے،” فلر نے مجھے بتایا۔ “دیکھو، یہ شخص غلام پیدا ہوا تھا۔ اب اس کے پا س قانون کی ڈگری ہے۔ اس لیے تمھارے پاس — خواہ تمھاری صورت حال کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، تم کتنے ہی بدحال محلے سے کیوں نہ آئے ہو — کامیاب نہ ہونے کا کوئی جواز نہیں۔ کوئی بہانہ نہیں!” فلر نے زور دار، خوشی سے بھر پور قہقہہ لگایا۔ اس کا ارادہ ہے کہ اس سی ڈی کا نام “علم کی جستجو” رکھے۔

کینیڈی سکول کی افسر نے کہا، وہ غلامی کے بارے میں اس پروگرام کی تجویز اپنے دفتر والوں کے سامنے رکھے گی۔ اس نے اور چارلس جیکبس نے ایک دوسرے سے ملاقاتی کارڈوں کا تبادلہ کیا۔ بعد میں، اپنے گھر لوٹ کر، جیکبس نے خیال ظاہر کیا کہ ملاقات اچھی رہی اور کچھ نہ کچھ مثبت نتیجہ نکلنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ “لیکن سودان کے سلسلے میں مدد حاصل کرنا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے،” اس نے ٹھنڈی سانس لی۔ “معلوم ہے کیوں؟ اس لیے کہ وہاں غلامی کا نشانہ بننے والے لوگ مسیحی ہیں۔ چنانچہ ہمیں یہاں اور یوروپ دونوں جگہ کے مسیحی گروپوں کی طرف سے بہت مدد مل جاتی ہے۔ جب غلام بنائے جانے والے لوگ مسلمان ہوں تو ایسا کوئی گروہ نہیں جو فطری طور پر ان کے ساتھ ہو۔ فراخان اور نیشن آف اسلام نے اس مسئلے پر خود کو بالکل بے وقت ثابت کیا ہے۔ لیکن اگر ہم اس بات کی طرف اشارہ کریں تو وہ فوراً کہیں گے کہ میں یہودی ہوں۔”

سودان میں غلام رکھے جانے والے بیشتر لوگ بلاشبہ مسیحی نہیں بلکہ قدیم افریقی مذاہب کے پیرو ہیں۔ لیکن اگرچہ جیکبس نے افریقہ کا کبھی سفر نہیں کیا، پھر بھی اس کی بات درست ہے: اناجیلی مسیحی گروپوں نے سودان میں غلامی کے دوبارہ رواج پانے کے عمل کو سامنے لانے کے سلسلے میں بہت کام کیا ہے۔

طیب کے چند موریتانیائی دوست ہیں جو واشنگٹن ڈی سی میں رہتے ہیں۔ ہم جا کر ان سے ملنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میں، تاریخ سے اس کے شغف کے پیش نظر، گیٹس برگ کا راستہ اختیار کرتا ہوں۔ ہم اس عظیم میدان جنگ کی نرم، سرسبز پہاڑیوں پر چلتے ہیں اور اینگل نامی مقام پر آ کر، جہاں یونین کی فوج نے پکیٹ کا حملہ روک دیا تھا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر پانچ ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ “غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے اتنا کچھ، اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوا،” طیب آہستہ سے کہتا ہے۔ بعد میں ایک یادگار کی دیوار پر، جو اس جگہ کے قریب تعمیر کی گئی ہے جہاں لنکن نے گیٹس برگ کا خطبہ دیا تھا، اس خطبے کا متن پڑھتے ہوے طیب مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔ تمام نامانوس الفاظ، مفہوم کے اندر چھپے ہوئے معنی، سب اس کے لیے بےحد دلچسپی کا باعث ہیں۔ تفصیلات، امتیازات، پیچیدگی اور زبان اور حافظے کی مسلّم اہمیت کے لیے اس کے دل میں عالمانہ احترام ہے۔ اور تاریخ کا یہ احساس اپنی ہولناک سنگینی کے ساتھ، ایک اور روپ میں، اگلے ہی روز ظاہر ہوتا ہے۔ ہم گھومتے ہوے واشنگٹن میوزیم کے ایک حصے میں جا نکلتے ہیں جہاں اٹھارھویں صدی کے ایک سمندری جہاز کی باقیات رکھی ہیں جو کیپ کوڈ کے قریب ڈوب گیا تھا۔ پرانی توپوں اور چاندی کی اشیا کے درمیان ہم ایک زنگ لگی آہنی بیڑی کو دیکھ کر رک جاتے ہیں جو غلاموں کی تجارت کے سلسلے میں اس جہاز کے استعمال کی شاہد ہے۔ طیب اس بیڑی کو تکتا رہتا ہے۔ “انسانی تاریخ بہت طویل ہے،” وہ دھیمی آواز میں کہتا ہے، “اور ہمیں ایک ایک قدم کر کے چلنا ہو گا۔ ایک ایک قدم۔”

ہم مبراک نامی نوجوان کے ساتھ واشنگٹن کے آفس بلاک کے کنارے پر واقع ایک کم فرنیچر والے سٹوڈیو میں ٹھہرتے ہیں۔ اگرچہ طیب کا گرمجوشی سے خیرمقدم ہوتا ہے، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ہماری آمد غیرمتوقع ہے۔ “فکر مت کیجیے،” طیب مجھے بتاتا ہے۔ “یہ افریقیوں کا گھر ہے۔ ایک کھلا گھر۔ یہاں کون آئے گا، کون یہاں سوئے گا، اس پر کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ ہمیں آنے والوں کا خیرمقدم کرنا ہی ہوتا ہے۔ ہم نومادی ہیں۔” اس لفظ پر میرے تاثر سے نہ سمجھ پانے کا اظہار ہوا ہو گا۔ طیب ہنستا ہے۔ “خانہ بدوش!”

مبراک فوراً گلاسوں میں چائے پیش کرتا ہے جو چھوٹے کالے ریچھوں کی شکل کے بنے ہوے ہیں جن کے سر ہلکے زرد رنگ کے ہیں۔ پھر وہ کھانے کی تیاری میں لگ جاتا ہے۔ دو اور موریتانیائی بھی آ جاتے ہیں جو طیب کے دوست ہیں۔ تیز لہجے میں بولی جانے والی عربی اور بےتحاشا قہقہوں سے ساری فضا بھر جاتی ہے۔ طیب کی شخصیت حیران کن طور پر منقلب ہو گئی ہے، بالکل اسی طرح جیسے “غلام عورت کا کیسٹ” سنتے وقت ہوا تھا۔ انگریزی زبان بولتے وقت احتیاط اور تامّل سے بات کرنے والا طیب عربی بولتے ہوے پُرجوش اور پُراعتماد، بلکہ باتونی، بن جاتا ہے۔ اس کے لطیفے سن کر اس کے دوست بےاختیار قہقہے لگاتے ہیں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ یہ لو گ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔ مبراک بڑی سی قاب میں بھیڑ کے گوشت، پاستا، سلاد اور خس خس پر مشتمل کھانے لے کر آتا ہے اور اسے فرش پر کمرے کے بیچوں بیچ رکھ دیتا ہے۔ ہم سب مل کر ایک ہی قاب میں ہاتھوں سے کھاتے ہیں، اور گفتگو کی رفتار دھیمی ہونے پر میں اس کے کچھ حصے کی ترجمانی کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہوں۔

معلوم ہوتا ہے کہ طیب کے عوامی سطح پر مہم شروع کرنے کے بارے میں ملی جلی رائے پائی جاتی ہے۔ اس کے دوستوں میں سے کم ازکم ایک یہ جان کر خاصا فکرمند ہے — اور غالباً ناخوش بھی — کہ میں صحافی ہوں۔ اس گروپ کے تقریباً سب لوگ ہراتین نسل کے ہیں، اور سب کے سب، کسی نہ کسی سطح پر غلامی کے خلاف تحریک میں شامل ہیں۔ طیب واضح طور پر الحر تنظیم کا ایک سینئر رکن ہے لیکن دوسرے افراد اس میں اگر کوئی مقام رکھتے ہیں تو اس کی توضیح نہیں کی جاتی۔ ان میں سے ایک شخص ایک معروف آزاد ہراتین خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ درحقیقت اس کا چچا مختصر سی مدت کے لیے امریکہ میں موریتانیہ کا سفیر بھی رہ چکا ہے۔ اس واقعے کو تاسف آمیز ہنسی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ “حکومت تعلیم یافتہ ہراتینوں کی تلاش میں رہتی ہے تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ ہم لوگ اب غلام نہیں ہیں،” طیب وضاحت کرتا ہے۔ “اس طرح انھوں نے نے ایک ہراتین کو سفیر بنا کر یہاں بھیج دیا۔ یہ ان کے لیے بہت عمدہ پروپیگنڈا تھا۔ مگر پھر وہ نافرمان ہو گیا۔ امریکی اخباروں سے غلامی کے بارے میں بات کرنے لگا! حکومت نے سال پورا ہونے سے پہلے اسے ہٹا دیا۔”

اس گروپ کا ہر شخص، کم ازکم جزوقتی طور پر، طالب علم ہے اور ان مواقع پر اور اس آزادی کے بارے میں جو ان کو یہاں دستیاب ہے، واضح طور پر پُرجوش ہے۔ لیکن موریتانیہ کے بارے میں امریکی پالیسی کا معاملہ دوسرا ہے۔ ایک وقت میں، مجھے بتایا جاتا ہے، امریکہ موریتانیہ میں غلامی کے رواج کی متواتر مذمت کرتا تھا، اور وہاں کی حکومت کو باقاعدگی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مجرم ٹھہراتا تھا۔ اقتصادی دباؤ بھی ڈالا گیا اور غلامی مخالف تحریک کو محسوس ہونے لگا کہ اسے امریکی حمایت حاصل ہے۔ پھر یہ ہوا کہ وہاں کی حکومت نے، جو مدتوں سے صدام حسین کے نزدیک رہی ہے، بلکہ خلیج کی جنگ کے دوران عراق کی حمایت بھی کر چکی ہے، 1995 میں یکایک یہ فیصلہ کیا کہ اسے امریکی امداد کی ضرورت ہے اور اس نے اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں امریکہ کی حمایت اور صدام حسین کی مخالفت میں ووٹ دینا شروع کر دیا۔ “بلاشبہ صدام کے ہم بھی خلاف ہیں،” طیب کہتا ہے، “ہم بھی مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں۔ مگر اب اچانک امریکی محکمۂ خارجہ نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ موریتانیہ میں غلامی کا کوئی وجود نہیں، صرف غلامی کی باقیات موجود ہیں۔” مبراک اور اس کے دوست منھ بنا کر تلخی سے “باقیات” کا لفظ بڑبڑاتے ہیں۔ “یہ موریتانیہ کی حکومت کے لیے صدام کی مخالفت کرنے کا انعام ہے۔”

پس منظر میں ٹی وی چل رہا ہے۔ جب گفتگو دوبارہ عربی میں شروع ہو جاتی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ ٹی وی پر نکولس کیج اور لارا ڈرن ایک قدیم زمانے کی کنورٹیبل میں لہراتے پھر رہے ہیں، ہر چند منٹ بعد مباشرت کرتے ہیں، اور جب مباشرت نہ کر رہے ہوں تو اپنی مباشرت کی شعریات اور مابعدالطبیعیات پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ مبراک کے کمرے میں موجود کوئی اور شخص ٹی وی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ ان کے لیے یہ محض مغربی لذت پسندی ہے جس کے دلکش، بےباک مناظر ہمیشہ کچھ دوری پر دکھائی دیتے رہتے ہیں۔

یا شاید یہ مناظر اتنے دلکش بھی نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ طیب نے مجھے بتایا تھا کہ کس طرح اسے ہارلم میں اپنے رشتےدار کے ساتھ رہتے ہوے رَیپ میوزک سے نفرت ہو گئی تھی کیونکہ وہ دن رات اونچی آواز میں بجایا جاتا تھا۔ “گندے الفاظ!” اس نے کہا تھا، “کوئی تہذیب نہیں، کوئی موسیقی نہیں۔” میں نے اس کے سامنے گینگسٹر رَیپ میوزک کی بہیمیت کی وہی توجیہہ پیش کی جو عموماً پیش کی جاتی ہے، یعنی یہ کہ یہ ایک بہیمانہ دنیا کا ایماندارانہ عکس ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ اس توجیہہ سے مطمئن نہ ہوا۔ “دکھ اٹھا کر لوگ حسین موسیقی بھی تو پیدا کرتے ہیں،” اس نے کہا۔ “خود اس ملک میں غلامی نے خوبصورت موسیقی پیدا کی ہے — گوسپل، بلوز، جاز۔ یہ موسیقی خوبصورت نہیں ہے۔” افریقی انقلابی — کیونکہ طیب موریتانیہ کے تناظر میں ایک انقلابی ہے — تہذیبی اعتبار سے قدامت پسند بھی ہے، میں نے سوچا۔

اور اس کا وطن واپسی کا منصوبہ بھی کسی طرح عظیم الشان نہیں ہے۔ اس نے ایک بار مجھے بتایا تھا، کہ وہ اعیون العطروس کے دیہی علاقے میں، جہاں وہ پیدا ہوا تھا، خاموش اور پُرسکون زندگی بسر کرنے کا خواہش مند ہے۔ وہ قانون کی پریکٹس کرنا چاہتا ہے تاکہ مفلس ہراتینوں کے مقدموں کی سول اور شرعی عدالتوں میں پیروی کر سکے، ان کو آزاد لوگوں کے حقوق دلوا سکے، جن میں ان زمینوں کے مالکانہ حقوق بھی شامل ہیں جن پر وہ محنت کرتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹا سا مکان بنائے گا، اور اس میں بجلی کی فٹنگ خود کرے گا، اور اس کو کتابوں سے بھر دے گا۔

طیب اور اس کے دوستوں کو باتیں کرتا دیکھ کر مجھے اچانک خیال آیا کہ اگرچہ یہ لوگ یہاں بس کنڈکٹر، پلمبر اور ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں — یعنی امریکہ کے سماجی حفظِ مراتب میں تقریباً زیریں ترین مقام پر مشقت کرنے والے افریقی تارکینِ وطن میں شامل ہیں — ان سب کو ایک نہ ایک دن وکیل، تاجر یا انتظامی ماہر بن کر موریتانیہ واپس جانے کی امید ہے۔ لیکن ان کے ہراتین نسل سے تعلق کے باعث ان کی کامیابی کا سارا دارومدار وطن میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں پر ہے۔ اور پھر ان میں سے ہر ایک طیب کی طرح شناخت کے قدیم جامد ساختوں کے خلاف کشمکش، یعنی اپنے ذہن سے صدیوں کی غلامی کے اثرات دور کرنے کی جدوجہد، میں بھی مصروف ہے۔ اب بھی طیب کو ہر صبح نیویارک میں یمنی مالکوں کی دکانوں پر انتہائی عامیانہ اور گہری عرب نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ “وہ اب بھی مجھے عبد کہتے ہیں،” اس نے ایک بار مجھے بتایا تھا۔ “وہ ناخواندہ ہیں۔ میں ان کے بہت سے ایسے کام کرتا ہوں جو وہ خود نہیں کر سکتے، لیکن وہ اب بھی تمام سیاہ فاموں کو غلام ہی سمجھتے ہیں۔”

سکرین پر ڈینس روڈمین کی شکل دکھائی دیتے ہی سب کی توجہ ٹی وی کی طرف ہو جاتی ہے۔ اس کی حرکات پر تعریفی ہنسی کا ردعمل ہوتا ہے۔ “موریتانیہ میں بھی اس قسم کے مسخرے ہوتے ہیں،” طیب وضاحت کرتا ہے۔ “وہ آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر چیز ان کی مخالف ہے، جبکہ درحقیقت وہ خود ہر چیز کے مخالف ہیں۔ یہ لوگ بہت مضحکہ خیز ہیں۔”

رفتہ رفتہ لوگ شب بخیر کہہ کر رخصت ہوتے جاتے ہیں۔ مبراک موبائل فون اور ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول لے کر اپارٹمنٹ کے واحد بستر پر دراز ہو جاتا ہے۔ طیب کاؤچ پر لیٹ جاتا ہے، جو میرے لیے بہت چھوٹا ہے۔ میں ایک پتلا سا گدّا بچھا کر، جو مجھے کونے میں لپٹا ہوا دکھائی دیا تھا، فرش پر سو جاتا ہوں۔ صبح کے وقت، نیم بیداری میں، میں طیب کو، جو بہت سحرخیز ہے، اپنے معمول کے کاموں میں تیزرفتاری، خاموشی اور انہماک کے ساتھ مصروف دیکھتا ہوں۔ وہ نہاتا ہے، شیو کرتا ہے، کپڑے بدلتا ہے: بے داغ کوٹ اور ٹائی۔ پھر کونے میں جا کر خاموشی سے نماز پڑھتا ہے۔ اس کے بعد اپنے وِنائل کے سفری تھیلے میں سے دعاؤں کی سبز کتاب نکال کر آدھ گھنٹے تک اس کا مطالعہ کرتا ہے۔ آخر میں وہ اپنی جیبوں اور اپنے بیگ سے بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے کاغذوں کے پرزے برآمد کرتا ہے اور انھیں کاؤچ پر اپنے چاروں طرف پھیلا کر ان کا بغور جائزہ لینے لگتا ہے۔ میرا تجسس بیدار ہو جاتا ہے اور میں نیم غنودہ آواز میں پوچھتا ہوں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ “ووکیبلری!” وہ کہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چارلس جیکبس چاہتا تھا کہ طیب مستقل طور پر بوسٹن منتقل ہو جائے اور غلامی مخالف گروپ میں کل وقتی مصروفیت اختیار کر لے۔ اس نے لوگوں سے کہنا بھی شروع کر دیا کہ طیب بوسٹن آنے والا ہے۔ طیب اس پر حیران رہ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ جیکبس اس کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بےتکلفی برت رہا ہے، اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر بےشمار لوگوں سے طیب کے ماضی (بطور غلام) اور مستقبل (بطور اس کی تنظیم کے ترجمان) کا تذکرہ کرتا پھر رہا ہے۔ جیکبس کو خود بھی مبہم سا ہی اندازہ تھا کہ طیب کا اس کی تنظیم میں قطعی طور پر کیا کردار ہو گا۔ طیب نے اسے اس کی پیشکش کی شرائط کاغذ پر لکھ کر دینے کو کہا: عہدہ، ذمے داریاں، تنخواہ وغیرہ۔ اب حیران ہونے کی باری جیکبس کی تھی۔ اس کے ذہن میں جو خیال تھا وہ خاصا غیررسمی نوعیت کا تھا۔ اور یہی وہ بات تھی جس کا طیب کو سب سے زیادہ خوف تھا۔ وہ بالکل غریب تھا اور اسے ان تقریروں کا معاوضہ درکار تھا جن کا انتظام جیکبس کر رہا تھا۔ اور وہ یہ بات بھی یقینی طور پر معلوم کرنا چاہتا تھا کہ امریکیوں کو اپنے غمناک بچپن کا حال سنانے کے علاوہ اس کی دوسری ذمےداریاں کیا ہوں گی۔ اس کی اس کہانی کو دہراتے رہنے کی خواہش محدود تھی۔ یہ ایک دردناک کہانی تھی، اور وہ خود ایک مفرور غلام کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔ وہ ایک وکیل، سکالر اور سیاسی کارکن تھا۔ علاوہ ازیں، خود اس کی تنظیم الحر کی پالیسی اپنے ارکان کو ان کی انفرادی کہانیوں پر زور دینے سے باز رکھنے کی تھی۔

جیکبس نے طیب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ امریکی حاضرین صرف انفرادی کہانیوں کو سن کر ہی متاثر اور کسی ناانصافی کے شکار لوگوں کی مدد پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ اپنے زخموں کی نمائش کرنے سے طیب کا احتراز قابل فہم ہے، لیکن اس طرح اسے غلامی کے خاتمے کے لیے مدد حاصل کرنے کا ایک ناقابل یقین موقع مل رہا ہے۔ جیکبس کی مدد سے یہ ممکن ہے کہ وہ اعلیٰ ترین حلقوں تک رسائی حاصل کر سکے اور وہاں اس کی بات سنی جائے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی اکیلے یہ کام انجام نہیں دے سکتا۔ طیب کے پاس محض ایک سیاسی کارکن ہونے سے کہیں آگے جانے کا موقع ہے۔ وہ گاندھی، فریڈرک ڈگلس اور کوامے نکروما کی طرح ایک مثالی کردار بن سکتا ہے۔

طیب نے جیکبس کے دلائل کو دلچسپی سے سنا لیکن یہ دلائل خود اس کے ان خیالات کو تبدیل نہ کر سکے کہ اسے اپنے لوگوں کی مدد کیونکر کرنی ہے۔ وہ بوسٹن منتقل نہیں ہوا۔ وہ اب بھی جیکبس اور اس کی تنظیم کے ساتھ کام کرتا ہے، اور عوامی مجمعوں سے خطاب بھی کرتا ہے، لیکن اپنی شرائط پر، اور شاید الحر کی شرائط پر۔ جیکبس نے جو بات دریافت کی وہ میرے خیال میں وہی تھی جس کا انکشاف اعیون العطروس میں طیب کے آقا پر ہوا تھا، یعنی یہ کہ طیب ایک انتہائی ضدی اور مشکل مخلوق ہے۔ (اگر وہ ایسا نہ ہوتا تو اب تک ایک ناخواندہ غلام کی زندگی گزار رہا ہوتا۔) اس میں تیسری دنیا کی آزادی کی تحریکوں کے وابستہ مثالی کرداروں — گاندھی اور نیلسن منڈیلا — کے ساتھ ایک طرح کی مشابہت موجود ہے: یہ دونوں بھی مضبوط ذہن والے وکیل تھے جو اپنے حریفوں کے ساتھ حددرجہ شائستگی سے پیش آتے تھے جس کی تہہ کے نیچے ایک فولادی عزم کی سختی چھپی ہوئی تھی۔ اور طیب کو آپ زیرِزمین ریل میں سفر کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ وہ وہی دبلاپتلا، سیاہ رنگ والا تارک وطن ہے، پسماندہ لوگوں کے نیویارک میں تقریبا گمشدہ، جو اپنی قیمتی ووکیبلری پر نگاہ جمائے، اپنے کام پر جا رہا ہے جہاں دکان کے مالک اب بھی اسے “عبد” کہہ کر پکارتے ہیں۔

Categories
فکشن

قالین (تحریر: حنان الشیخ، ترجمہ: اجمل کمال)

حنان الشیخ نومبر 1945 میں بیروت لبنان میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے کچھ عرصہ ‘النھار’ اخبار میں کام کیا۔ آپ کی تصانیف مشرق وسطیٰ کے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کے روایتی کردار کو چیلنج کرتی ہیں۔ حنان الشیخ اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ لندن میں مقیم ہیں۔

اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔

یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ کہانی اجمل کمال نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ طاہر رسول کی آواز میں اس کہانی کا آڈیو ورژن “آج” کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔

سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حنان الشیخ
انگریزی سے ترجمہ: اجمل کمال

جب مریم میرے بالوں کو چھوٹی چھوٹی دو چوٹیوں میں گوندھ چکی تو اس نے انگلی منھ تک لے جا کر اس کے سرے کو زبان سے تر کیا، پھر اسے میری بھنووں پر پھیرتے ہوے آہستہ آواز میں کہنے لگی، “آہ، تمھاری بھنویں کیا خوب ہیں، پورا گھر ان کے سائے میں لگتا ہے۔” پھر وہ تیزی سے میری بہن کی طرف مڑی اور اس سے بولی، “جا کر دیکھو، کیا تمھارے ابا اب تک نماز پڑھ رہے ہیں۔” اس سے پہلے کہ میں جان سکوں، میری بہن جا کر واپس آچکی تھی اور سرگوشی میں کہہ رہی تھی، “ہاں، اب تک پڑھ رہے ہیں۔” اس نے ان کی نقل کرتے ہوے اپنے ہاتھ اٹھائے اور انھیں آسمان کی طرف بلند کیا۔ میں ہنسی نہیں جیسے ہمیشہ کرتی تھی۔ مریم بھی نہیں ہنسی۔ بجاے اس کے، اس نے کرسی پر سے اپنی اوڑھنی لی اور بالوں کو اس سے ڈھانپ کر جلدی سے اسے گردن کے گرد لپیٹ لیا۔ پھر بہت احتیاط سے الماری کھول کر اس نے اپنا تھیلا نکالا، اسے بغل میں دبایا اور اپنا ایک ایک ہاتھ ہم دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ ایک ہاتھ میں نے پکڑ لیا اور دوسرا بہن نے۔ ہم سمجھ گئے کہ ہمیں بھی اس کی طرح دبے پاؤں، سانس روک کر سامنے کے کھلے ہوے دروازے کی جانب چلنا ہے۔ سیڑھیوں سے اترتے ہوے ہم نے مڑ کر دروازے کو دیکھا، پھر کھڑکی کو۔ آخری سیڑھی تک پہنچ کر ہم دوڑنے لگے اور اس وقت تک نہ رکے جب تک گلی نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی اور ہم نے سڑک پار نہ کر لی اور مریم نے ٹیکسی نہ روک لی۔

ہمارے اس طرزِعمل کا سبب خوف تھا، کیونکہ آج ہم امی کے طلاق لے کر ابا کے گھر سے چلے جانے کے بعد پہلی بار ان سے ملنے جا رہے تھے۔ ابا نے قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ امی کو کبھی ہماری صورت نہیں دیکھنے دیں گے، کیونکہ طلاق کے چند ہی گھنٹوں بعد خبر پھیل گئی تھی کہ وہ اُس شخص سے شادی کرنے والی ہیں جس سے وہ، اپنے والدین کے مجبور کرنے پر ابا سے شادی کرنے سے پہلے، پیار کرتی تھیں۔

میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، خوف سے یا دوڑنے کی وجہ سے نہیں بلکہ امی سے ہونے والی ملاقات کے اشتیاق اور گھبراہٹ کے احساس کی وجہ سے۔ میں نے خود پر اور اپنی شرم پر قابو پا رکھا تھا، پھر بھی میں جانتی تھی کہ خواہ کتنی ہی کوشش کروں، میں اپنی ماں کے سامنے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میرے اختیار سے باہر تھا کہ امی سے لپٹ جاؤں، انھیں بوسے دینے لگوں اور ان کا سر سینے سے بھینچ لوں، جبکہ بہن یہ سب بڑی بےساختگی سے کر سکتی تھی۔ جس وقت مریم نے مجھ سے اور بہن سے سرگوشی میں کہا تھا کہ ہم اگلے روز امی سے ملنے جانے والے ہیں، تبھی سے میں اس مستقل اور شدید فکر میں غرق تھی۔ میں نے تصور کرنا شروع کر دیا تھا کہ میں وہی کروں گی جو بہن کرے گی؛ میں اس کے پیچھے کھڑی ہو جاؤں گی اور اس کی حرکات کی نقالی کرنے لگوں گی۔ مگر میں اپنے آپ کو جانتی ہوں: میں نے خود کو خود پر حرف بہ حرف نقش کر رکھا ہے۔ میں کتنا ہی خود کو آمادہ کرنے کی کوشش کروں، کتنا ہی پہلے سے سوچ کر رکھوں، اصل صورت حال کا سامنا ہونے پر، فرش پر نظر گاڑے بےحرکت کھڑے ہوے، جبکہ میری پیشانی پر پڑے ہوے بل اَور گہرے ہو رہے ہوں گے، مجھے معلوم ہو گا کہ میں وہ سب کچھ بھول چکی ہوں جو میں نے طے کیا تھا۔ گو اس کے باوجود میں امید ترک نہیں کروں گی اور اپنے دہن سے ایک خفیف مسکراہٹ پیدا کرنے کی التجا ضرور کروں گی، جو، بہرحال، بےاثر ہی ثابت ہو گی۔

جب ٹیکسی ایک مکان کے دروازے کے سامنے رکی جہاں سرخ سنگی ستونوں پر دو شیر کھڑے تھے، تو میرا دل خوشی سے بھر گیا اور اندیشے میرے ذہن سے یک لخت محو ہو گئے۔ میں اس خیال پر مسرت سے مغلوب ہو گئی کہ امی ایک ایسے مکان میں رہ رہی ہیں جہاں صدر دروازے پر دو شیر کھڑے ہیں۔ میں نے بہن کی آواز سنی جو شیر کے دہاڑنے کی نقل اتار رہی تھی، اور رشک سے اس کی طرف دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے پنجے پھیلا کر اشارے سے شیر کو گرفت میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں نے دل میں کہا: یہ ہمیشہ پیچیدگی سے آزاد اور خوش طبع رہتی ہے۔ اس کی خوش دلی کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی، انتہائی نازک لمحوں میں بھی نہیں۔ وہ میرے سامنے تھی اور ہونے والی ملاقات کے بارے میں ذرہ بھر فکرمند نہیں تھی۔

لیکن جب امی نے دروازہ کھولا اور میری نظر ان پر پڑی تو میں نے خود کو بےصبر اور بےتاب پایا اور دوڑ کر بہن سے بھی پہلے ان سے لپٹ گئی۔ میری آنکھیں بند ہو گئی تھیں اور میرے بدن کے جوڑ اس آسائش سے اتنے دنوں تک محروم رہنے سے سُن ہو گئے تھے۔ میں نے ان کے بالوں کی مہک سونگھی جو ذرا بھی نہ بدلی تھی، اور مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ میں نے ان کی جدائی کو کس قدر محسوس کیا تھا اور، اس کے باوجود کہ ابا اور مریم ہمارا اتنا خیال رکھتے تھے، میں نے کس قدر چاہا تھا کہ وہ لوٹ آئیں اور ہمارے ساتھ رہنے لگیں۔ امی کی اُس وقت کی مسکراہٹ میرے ذہن سے محو نہ ہوتی تھی جب، ان کی خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا لینے کی دھمکیوں کے بعد اور مولوی کی دخل اندازی پر، ابا انھیں طلاق دینے پر رضامند ہو گئے تھے۔ میری تمام حِسیں ان کی خوشبو کے اثر سے کُند ہو گئی تھیں جو میرے حافظے میں اچھی طرح محفوظ تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے ان کی جدائی کس قدر کھل رہی تھی، اس کے باوجود کہ جب وہ ہم دونوں کو بوسے دینے کے بعد، اپنے بھائی کے پیچھے تیز قدموں سے چلتی ہوئی، کار میں جا بیٹھی تھیں تو ہم دوبارہ گھر کے باہر گلی میں جا کر اپنے کھیل میں لگ گئے تھے۔ پھر جب رات آئی، اور ایک طویل عرصے بعد ہمیں امی کے ابا سے تکرار کرنے کی آواز سنائی نہ دی، تو ہمارے گھر پر امن اور سکون کی فضا چھا گئی جس میں صرف مریم کے رونے کی آواز مخل ہوتی تھی جو ابا کی رشتےدار تھی اور میری پیدائش کے وقت سے ہمارے ساتھ رہ رہی تھی۔

امی نے مسکراتے ہوے مجھے خود سے جدا کیا تاکہ بہن کو لپٹا کر پیار کر سکیں، پھر وہ مریم سے بھی بغلگیر ہوئیں جو رونے لگی تھی۔ امی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور میں نے انھیں مریم کا شکریہ ادا کرتے سنا۔ انھوں نے آستین سے آنسو پونچھے اور مجھ پر اور بہن پر سر سے پاؤں تک نگاہ ڈالی اور کہا: “اللہ انھیں اپنی امان میں رکھے، دونوں کتنی جلدی بڑی ہو گئی ہیں۔” انھوں نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور بہن نے ان کی کمر میں منھ چھپا لیا، اور جب ہمیں احساس ہوا کہ اس حالت میں چلنا ہمارے لیے دشوار ہے تو ہم سب ہنسنے لگے۔ اندر کے کمرے میں پہنچ کر مجھے یقین ہو گیا کہ امی کے نئے شوہر گھر میں موجود ہیں، کیونکہ امی نے مسکرا کر کہا، “محمود کو تم دونوں سے بہت محبت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمھارے ابا تمھیں میرے سپرد کر دیں تاکہ تم ان کے بچوں کی طرح ہمارے ساتھ رہ سکو۔” بہن ہنسنے لگی اور جواب میں بولی، “اس طرح ہمارے دو ابا ہو جائیں گے۔” میں امی کے بازو پر ہاتھ رکھے ابھی تک گمشدگی کی کیفیت میں تھی، اور امی سے ملاقات کے لمحے میں اپنے بےساختہ برتاؤ پر نازاں تھی؛ کس طرح میں دوڑ کر ان سے لپٹ گئی تھی، جو مجھے ناممکن معلوم ہوتا تھا، اور کیسے آنکھیں بند کر کے انھیں چومنے لگی تھی۔ مجھے بلاکوشش، بندھے ہوے ہاتھوں کے ساتھ، اپنے آپ سے، شرم کے اس قیدخانے سے، رہائی پا لینے پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔

امی کے شوہر گھر پر نہیں تھے۔ میری نظر فرش پر پڑی تو میں اپنی جگہ پر جم کر رہ گئی۔ میں نے بےاعتباری کے عالم میں فرش پر بچھے ہوے ایرانی قالین کو گھورا، پھر امی پر ایک طویل نظر ڈالی۔ میری نظر کی معنویت کو نہ سمجھتے ہوے انھوں نے ایک الماری کھولی اور اس میں سے ایک کڑھی ہوئی قمیص نکال کر میری طرف اچھال دی۔ پھر وہ فرش عبور کر کے سنگھارمیز کے پاس گئیں اور اس کی دراز میں سے ہاتھی دانت کی ایک کنگھی نکال کر، جس پر سرخ رنگ سے دل کی تصویر نقش کی ہوئی تھی، انھوں نے بہن کو دی۔ میں نے ایک بار پھر امی کی طرف دیکھا، اور اس بار انھوں نے میری نگاہ کو نازک تمنا کا اظہار سمجھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے بانہوں میں لے لیا اور بولیں، “تم ہر روز آ جایا کرو، تم جمعے کو پورے دن میرے گھر رہا کرو۔” میں ساکت رہی۔ میری خواہش تھی کہ میں ان کے بازو اپنے گردن سے ہٹا دوں اور اس گوری کلائی میں دانت گاڑ دوں۔ میں نے ملاقات کے لمحے کے مٹ جانے کی خواہش کی اور چاہا کہ وہ لمحے دوبارہ پیش آئیں تاکہ جب وہ دروازہ کھولیں تو میں وہی کروں جو مجھے کرنا چاہیے تھا — یعنی فرش پر نظر گاڑے بےحرکت کھڑی رہوں۔

اس ایرانی قالین کے رنگ اور خطوط میرے حافظے پر نقش تھے۔ میں اس پر لیٹ کر اپنا سبق یاد کیا کرتی تھی۔ میں اتنے قریب سے اس پر بنے ہوے نقوش کو تکتی تھی کہ وہ مجھے سارے میں پھیلی ہوئی تربوز کی قاشیں معلوم ہونے لگتے تھے۔ مگر جب میں مسہری پر بیٹھ کر اسے دیکھتی تو مجھے محسوس ہوتا کہ تربوز کی ہر قاش باریک دندانوں والی ایک کنگھی میں بدل گئی ہے۔ اس کے کناروں پر چاروں طرف بنے ہوے پھولوں کے گچھے اُودے رنگ کے تھے۔ گرمیوں کے شروع میں امی اس پر اور دوسرے عام قالینوں پر کیڑے مار گولیاں ڈال دیتیں اور ان سب کو گول کر کے الماری کی چھت پر رکھ دیتیں۔ کمرہ خالی اور ویران نظر آنے لگتا، یہاں تک کہ خزاں آ جاتی جب وہ قالینوں کو چھت پر لے جا کر پھیلا دیتیں۔ وہ کیڑے مار گولیاں چُنتیں جن میں سے اکثر گرمی اور نمی سے گھل چکی ہوتی تھیں، پھر چھوٹی جھاڑو سے ان کی صفائی کر کے وہ قالینوں کو چھت پر ہی چھوڑ دیتیں۔ شام کو وہ انھیں نیچے لا کر اپنی اپنی جگہ پر بچھا دیتیں۔ ان کے بچھنے سے کمرے میں دوبارہ جان پڑ جاتی اور میرا دل خوشی سے بھر جاتا۔ مگر یہ والا قالین کئی مہینے ہوے، امی کی طلاق سے پہلے، گم ہو چکا تھا۔ اسے چھت پر دھوپ دینے کے لیے پھیلایا گیا تھا، اور سہ پہر کو امی چھت پر گئیں تو غائب تھا۔ انھوں نے ابا کو آواز دے کر بلایا تھا اور میں نے پہلی بار ابا کا چہرہ غصے سے سرخ دیکھا تھا۔ جب وہ دونوں چھت سے نیچے آئے تو امی طیش اور تعجب کے عالم میں تھیں۔ انھوں نے پڑوسیوں سے دریافت کیا جن میں سے ہر ایک نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے نہیں دیکھا۔ اچانک امی چلّا کر بولیں، “ایلیا!” سب لوگ خاموش کھڑے رہ گئے: ابا، بہن اور پڑوسی ام فواد اور ابوسلمان، کسی کے منھ سے ایک لفظ نہ نکلا۔ میں نے خود کو پکار کر کہتے ہوے پایا: “ایلیا؟ ایسی بات مت کہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔”

ایلیا ایک تقریباً نابینا شخص تھا جو محلے میں گھر گھر پھیری لگا کر بید کی کرسیوں کی مرمت کیا کرتا تھا۔ جب ہمارے گھر کی باری آتی تو میں اسکول سے واپسی پر اسے گھر کے باہر پتھر کی بنچ پر بیٹھا ہوا دیکھتی۔ اس کے سامنے بید کی لچھیوں کا ڈھیر پڑا ہوتا اور اس کے بال دھوپ میں چمک رہے ہوتے۔ وہ مہارت سے بید کے تار اٹھاتا اور وہ، مچھلیوں کی طرح تیرتے ہوے، جال کے اندر پھسلتے جاتے۔ میں اسے بےحد مشاقی سے ان کی گول گول لچھیاں بناتے اور پھر ان کے سرے باہر نکالتے دیکھا کرتی، یہاں تک کہ وہ کرسی کی گول نشست کو بُن کر پھر ویسا ہی درست کر دیتا جیسی وہ پہلے تھی۔ ہر چیز بالکل ہموار اور ٹھیک ہو جاتی: یوں لگتا جیسے اس کے ہاتھ مشین ہوں، اور میں اس کی انگلیوں کی پھرتی اور مہارت پر حیران رہ جاتی۔ جب وہ سر جھکائے مشغول بیٹھا ہوتا تو یوں معلوم ہوتا جیسے وہ اپنی آنکھوں سے کام لے رہا ہے۔ ایک بار مجھے شک ہوا کہ وہ اپنے سامنے دھندلی شکلوں سے کچھ زیادہ دیکھ سکتا ہے، اس لیے میں اس کے سامنے گھنٹوں کے بل بیٹھ گئی اور اس کے لال گلابی چہرے پر نظر جما کر عینک کے پیچھے چھپی ہوئی آنکھیں دیکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان آنکھوں میں ایک سفید لکیر تھی جو میرے دل میں چبھنے لگی اور میں جلدی سے بھاگ کر باورچی خانے میں چلی گئی جہاں مجھے میز پر ایک تھیلی میں کھجوریں پڑی ملیں اور میں نے ایک رکابی میں تھوڑی سی کھجوریں رکھ کر ایلیا کو دیں۔

میں نظر جمائے قالین کو گھورتی رہی اور سرخ چہرے اور سرخ بالوں والے ایلیا کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے اُبھر آئی۔ مجھے اس کے کسی کی مدد کے بغیر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آتے ہوے، زینے کے ہتھے پر اس کا ہاتھ محسوس ہوا؛ پھر میں نے اسے کرسی پر بیٹھتے ہوے محسوس کیا، اپنی اجرت طے کرتے ہوے، پھر جیسے وہ کھانا کھا رہا ہو اور اسے خودبخود پتا چل جائے کہ رکابی خالی ہو گئی ہے، آبخورے سے پانی پیتے ہوے جب پانی آسانی سے اس کے حلق میں اتر رہا ہو۔ ایک دوپہر کو، جب ابا کے سکھائے ہوے طریقے سے، کہ کیسے کسی مسلمان کے گھر پر دستک دینے سے پہلے بلند آواز میں اللہ کا نام پکارنا چاہیے کہ مبادا امی بےپردہ ہوں، وہ ہمارے دروازے پر آیا تو امی تیزی سے بڑھیں اور اس سے قالین کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نے جواب میں کچھ نہ کہا، بس ایک سبکی سی لی۔ واپس جاتے ہوے اسے میز سے ٹھوکر لگی اور وہ پہلی مرتبہ الجھ کر گرا۔ میں اس کے پاس گئی اور ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا۔ وہ مجھے میرے ہاتھ کے لمس سے پہچان گیا ہو گا، کیونکہ اس نے نیم سرگوشی میں مجھ سے کہا، “کوئی بات نہیں، بچی۔” پھر وہ جانے کے لیے مڑا۔ جب وہ جھک کر جوتے پہن رہا تھا تو مجھے خیال ہوا کہ میں نے اس کے رخساروں پر آنسو دیکھے ہیں۔ ابا نے اس سے یہ کہے بغیر اسے جانے نہ دیا کہ “ایلیا! اگر تم سچ کہہ دو تو اللہ تمھیں معاف کر دے گا۔” لیکن ایلیا جنگلے کا سہارا لیے چلتا گیا۔ ٹٹول ٹٹول کر سیڑھیاں اترنے میں اس نے بہت وقت لگایا۔ پھر وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا اور ہم نے اسے پھر کبھی نہیں دیکھا۔

Categories
فکشن

کھیل ختم ہوا (تحریر: غلام حسین ساعدی، ترجمہ: اجمل کمال)

غلام حسین ساعدی معروف ایرانی دانشور اور مصنف غلام حسین ساعدی 1936 میں تبریز میں پیدا ہوئے۔ آپ نے چالیس سے زائد کتب تحریر ۔کیں۔ داریوش مھرجویی کی فارم “گاو” کے لیے لکھے گئے سکرین پلے کو ساعدی کا شاہکار خیال کیا جاتا ہے۔ یہ فلم جدید ایرانی سینما کا نقطہ آغاز سمجھی جاتی ہے۔ آپ ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی آف آزربائیجان سے بھی وابستہ رہے۔ 60 کی دہائی میں ایران میں ریاستی سنسنرشپ میں اضافے کے باوجود آپ نے لکھنا جاری رکھا۔ تاہم 1974 میں رضا شاہ پہلوی کے دور میں گرفتاری اور پھر ایک سال بعد رہائی کے نے آپ کو بری طرح متاثر کیا۔ انقلاب ایران کے بعد آپ نے کچھ عرصہ بائیں بازو کی طرف رحجان رکھنے والی لبرل جماعت نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ میں شمولیت اختیار کیے رکھی۔ بعدازاں، آپ پاکستان کے راستے فرانس چلے گئے جہاں وہ 1985 میں اپنے انتقال تک مقیم رہے۔

اجمل کمال اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔

یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ غلام حسین ساعدی کی یہ کہانی اجمل کمال نے فارسی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ اس کہانی کا آڈیو ورژن “آج” کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ چینل کو سبسکرائب کیجیے اور بیل آئی کون پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔

سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:
03003451649
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غلام حسین ساعدی
فارسی سے ترجمہ: اجمل کمال

1

حسنی نے خود مجھ سے کہا تھا کہ رات کو اس کے جھونپڑے میں چلیں گے۔ میں اس کے ہاں کبھی نہیں جاتا تھا، نہ وہ کبھی ہمارے ہاں آتا تھا۔ میں اپنے بابا کے ڈر سے اسے نہیں بلاتا تھا، اور وہ اپنے بابا کے ڈر سے مجھے۔ وہ بھی اپنے بابا سے بہت ڈرتا تھا، بلکہ مجھ سے بھی زیادہ ڈرتا تھا۔ مگر وہ رات دوسری راتوں کی طرح نہیں تھی۔ میں جانے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ حسنی مجھ سے ناراض ہو جاتا، رنجیدہ ہوتا، سمجھتا کہ میں اس کا دوست نہیں رہا۔ بس اسی طرح میں چلا گیا۔ میں نے پہلی بار اس کے جھونپڑے میں قدم رکھا۔ ہم ایک دوسرے سے ہمیشہ گھر کے باہر ملتے تھے۔صبح کو میں اس کے جھونپڑے کے باہر پہنچ کر زور سے سیٹی بجاتا— یہ خوش آواز سیٹی بجانا اسی نے مجھے سکھایا تھا— اور اس طرح سیٹی بجا کر میں اسے پیغام دیتا کہ “حسنی، آ جاؤ، کام کا وقت ہو گیا۔”حسنی اپنی بالٹی اٹھا کر باہر نکل آتا۔ایک دوسرے کو سلام کرنے کے بجاے ہم دونوں مکابازی کرتے تھے۔خوب زور کے مکے لگاتے جن سے درد ہوتا تھا۔ ہمارا یہی طریقہ تھا۔ ایک دوسرے سے ملتے یا رخصت ہوتے ہوے مکے بازی ہوتی۔ سواے اس وقت کے جب ایک دوسرے سے ناراض ہوں یا کسی بات پر لڑائی ہو چکی ہو۔ پھر ہم ساتھ چل پڑتے اور جھگیوں جھونپڑوں میں سے گزر کر مُردے نہلانے والے مکان کے پاس کے گڑھے پر پہنچتے۔ شہرداری کے کوڑا اٹھانے والے ٹرک اپنا کوڑا یہیں پھینکتے تھے۔ ایک روز میں ٹین ڈبے جمع کرتا اور حسنی کانچ کے ٹکڑے، دوسرے دن وہ ٹین ڈبے چنتا اور میں کانچ کے ٹکڑے۔ کبھی کبھار ہمیں کوئی بہتر چیز بھی ہاتھ آ جاتی— بناسپتی گھی کا خالی کنستر، بچے کی چوسنی، ٹوٹی ہوئی گڑیا، کارآمد جوتا، یا سالم شکردان جس کے صرف دستے پر بال پڑا ہوتا، یا پلاسٹک کا لوٹا۔ ایک بار تو مجھے “و اِنّ یکاد…” کا تعویذ ہاتھ آ گیا تھا، اور ایک بار حسنی کو غیرملکی سگریٹ کا پورا بھرا ہوا ڈبا۔ جب ہم تھک جاتے تو کوڑے کے گڑھے کے دوسری طرف، بڑے سے میدان سے گزر کر، حاج تیمور کے اینٹوں کے پرانے بھٹے پر پہنچ جاتے جو بند پڑا تھا اور اب یونہی خدا کے نام پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ میدان میں اِدھر اُدھر ہر چند قدم پر گہرے کنویں کھدے ہوے تھے۔ اور دو چار نہیں، ایک دوسرے کی بغل میں کنویں ہی کنویں تھے۔ ایک بار ہم دونوں نے ارادہ کیا کہ ان کنووں کو گنتے ہیں، مگر پچاس تک پہنچ کر ہماری ہمت ٹوٹ گئی اور ہم نے گننا چھوڑ دیا۔ کنووں کے پاس پہنچ کر ہم خوب مزے سے کھیلتے۔ وہاں سو جاتے یا الٹے لیٹ کر سینے تک کنویں میں لٹک جاتے اور عجیب و غریب آوازیں نکالتے۔ آوازیں کنویں میں گھومتی ہوئی واپس آتیں۔ ہر کنواں ایک خاص طرح کی آواز نکال کر ہمیں جواب دیتا تھا۔ زیادہ تر ہم کنویں میں منھ ڈال کر قہقہے لگاتے اور جواب میں ہمیں رونے کی آوازیں سنائی دیتیں۔تب ہم ڈر جاتے۔ پھر ہنستے، زیادہ دیر تک اور زیادہ زور سے ہنستے، اور کنویں سے آتی رونے کی آوازیں بھی بڑھتی جاتیں، اونچی ہوتی جاتیں۔ میں اور حسنی وہاں زیادہ تر وقت اکیلے ہوتے۔ دوسرے بچے کوڑے کے گڑھے کی طرف کم آتے تھے۔ ان کی امائیں انھیں آنے نہیں دیتی تھیں۔ ڈرتی تھیں کہ کہیں کنویں میں نہ گر پڑیں یا کوئی اور بلا ان کے سر نہ آ جائے۔ لیکن میں اور حسنی بڑے ہو گئے تھے اور روز بھری ہوئی جیب لے کر گھر لوٹتے تھے، اس لیے ہماری امائیں ہم سے کوئی واسطہ نہ رکھتی تھیں اور ہمیں کچھ نہ کہتیں۔

اس دن، یعنی جس رات میں حسنی کے گھر گیا تھا اس دن سہ پہرکو حسنی بہت غمگین اور غصے کی حالت میں باہر آیا۔ اس کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں، آنکھوں سے لگتا تھا، بہت رویا ہے۔ اس میں کام کرنے کا حوصلہ نہ تھا۔ مردے نہلانے والے مکان کے باہر بنے گڑھے کے پاس پہنچ کر وہ بالکل کھویا ہوا اِدھر اُدھر بھٹکتا اور کوڑے کے ڈھیر کو لاٹھی سے کریدتا رہا۔ وہ اپنے بابا کو ماں بہن کی گالیاں دے رہا تھا۔ میں جانتا تھا کیا بات ہے۔ اس روز دوپہر کو اس کا باپ بہت غصے کے عالم میں گھر لوٹا۔ اس کا اپنے مالک سے جھگڑا ہوا تھا اور اس نے اسے نوکری سے نکال دیا تھا۔ گھر پہنچتے ہی اس نے حسنی پر اپنا غصہ اتارنا شروع کر دیا۔ ہمیں حسنی کے رونے چلّانے کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ میری اماں نے حسنی کے بابا کو ملامت بھی کی تھی کہ کیوں بلاوجہ بے قصور بچے کو ادھیڑے دے رہا ہے۔ میں نے دیکھا، اس کی کمر اور کندھوں پر نیل پڑے تھے اورایک آنکھ بھی سوج کر نیلی ہو گئی تھی۔حسنی کا باپ ہر رات جھونپڑے میں گھستے ہی، کپڑے بدلنے یا منھ ہاتھ دھونے سے پہلے، حسنی کی ٹھکائی شروع کر دیتا تھا۔ جب تک تھک نہ جاتا، اسے مارتا رہتا۔ گھونسوں اور لاتوں سے، لکڑی، رسی، پیٹی، جو کچھ ہاتھ لگتا اس سے اسے پیٹنے لگتا، اور ساتھ میں زور زور سے گالیاں بھی دیتا جاتا۔ اس قدر دھنائی کرتا کہ حسنی کی چیخوں سے سارا محلہ گونج اٹھتا۔ پڑوس کے لوگ اس کی مدد کو پہنچتے اور اس کے باپ کے چنگل سے اسے چھڑاتے۔ حسنی کے باپ کا یہ روز کا معمول تھا، مگر میرا بابا مجھے ہفتے میں ایک یا دو بار مارتا تھا جب اس کا مزاج بگڑا ہوا ہوتا۔جب زیادہ پیسے نہ کمائے ہوتے تو میری اور احمد اور رضا کی جان کو آ جاتا اور خوب پٹائی کرتا۔ مگر میری اماں بیچ میں پڑ کر رونے چلّانے لگتی کہ “کیوں بچوں کو مارے ڈال رہے ہو؟ کیوں انھیں اپاہج کیے دیتے ہو؟”بابا پلٹ کر اماں پر پل پڑتا اور وہ چیخ کر ہم سے باہر نکل جانے کو کہتی۔ جب تک ہم واپس گھر میں آتے، ہمارا بابا ٹھنڈا ہو کر ایک کونے میں بیٹھا ہوتا یا اماں سے کہہ رہا ہوتا، “بچوں سے کہو، آ کر کچھ کھا پی لیں۔”

لیکن حسنی کے باپ کو اپنے باقی بچوں سے کچھ غرض نہ تھی، صرف حسنی کو پیٹتا تھا، باقی بچوں کو کچھ نہ کہتا۔ اور حسنی کی اماں بھی کبھی اسے باہر بھاگ جانے کو نہ کہتی۔اس لیے کہ حسنی کا بابا دروازے کو گھیرے کھڑا ہوتا اور وہیں سے حملہ کر کے حسنی کو لاتوں اور گھونسوں کی زد پر رکھ لیتا۔ بال پکڑ کر اس کا سر دیوار سے ٹکرانے لگتا۔ اس روز پہلی بار اس نے دوپہر کو گھر پہنچ کر حسنی کو پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ حسنی بہت بگڑا ہوا تھا۔ میں نے اسے معمول پر لانے کے لیے کہا، “چلو اوپر چلتے ہیں۔” کوڑے کے گڑھے کو پار کر کے ہم کنووں والے میدان میں پہنچ گئے اور ایک کنویں کے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے بہت کوشش کی مگر وہ ایک لفظ نہ بولا۔ آخر میں کنویں کے پاس لیٹ گیا اور اس میں سر ڈال کر گائے کی آوازیں نکالیں، کتے کی طرح بھونکا، قہقہے لگائے، رویا، جو کچھ مجھے آتا تھا سب کیا۔ لیکن حسنی جوں کا توں، منھ سُجائے، غمگین بیٹھا لاٹھی سے اپنی ٹانگ پر ضربیں لگاتا رہا۔ آخر میں نے سیٹی بجا کر اس سے پوچھا، “حسنی، کیا ہوا؟”

حسنی نے جواب نہ دیا۔ میں نے زور سے پکارکر کہا، “حسنی، او حسنی!”

اس پر اس نے پلٹ کر پوچھا، “کیا ہے؟”

میں نے کہا، “یوں منھ پھلائے رکھنے سے کیسے چلے گا؟”

بولا، “نہ چلے، مجھے کیا۔”

میں نے کہا، “خدا کے لیے، اب کڑھنا بند کرو۔”

بولا، “کیسے بند کروں؟ میرے ہاتھ میں ہے کیا؟”

میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس سے کہنے لگا، “چلو اٹھ جاؤ، اٹھو، کچھ کرتے ہیں جس سے تمھاری حالت ٹھیک ہو۔”

حسنی نے ایک بار پھر لاٹھی اپنی پنڈلی پر ماری اور پوچھا، “کیا کریں گے؟”

میں سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا کیا جائے کہ حسنی کی حالت ٹھیک ہو۔ میں نے کہا، “چلو سڑک پر جا کر گاڑیاں دیکھیں۔”

اس نے جواب دیا، “اس سے کیا فائدہ ہو گا؟”

میں نے کہا، “اُس روز کی طرح میّت گاڑیاں گنیں گے۔ دیکھتے ہیں ایک گھنٹے میں کتنی گزرتی ہیں۔”

بولا، “جتنی بھی گزریں، گزرتی رہیں۔ مجھے کیا۔”

میں نے کہا، “چلو پھر حاج تیمور کے بھٹے کی چھت سے پتھر پھینکیں۔”

بیزار ہو کر بولا، “میں نہیں جاتا۔ تمھارا جی چاہے تو جا کر پھینکنے لگو۔”

میں کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھ گیا۔ وہ کسی طرح میری کوئی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ میں نے کہا، “سب سے اچھا یہ کہ چوک میں چلتے ہیں، وہاں بڑے تماشے ہیں۔”

بولا، “کون کون سے؟”

میں نے کہا، “سنیماگھر میں جا کر تصویریں دیکھتے ہیں، بعد میں سنگتراشوں کے چوک کے پیچھے جا کر درویش سگ دوست کا تماشا دیکھیں گے۔”

بولا، “چوک میں پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی۔”

میں نے کہا، “گاڑی میں چلیں گے۔”

بولا، “پیسے کہاں ہیں؟”

میں نے کہا، “میرے پاس بارہ ریال ہیں۔”

بولا، “انھیں اپنے پاس ہی رکھو۔”

میں نے کہا، “چلو چل کر کچھ کھاتے ہیں۔ ٹھیک ہے؟”

بگڑ کر کہنے لگا، “مجھے کچھ نہیں کھانا۔”

اب میں عاجز ہو گیا۔ یونہی سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ شکرائی کے باغ پر نظر پڑی۔ میں نے کہا، “اے حسنی، چل کر پھل چراتے ہیں۔”

اس نے جواب دیا، “ہاں، آج مجھے کم مار پڑی ہے کہ اب باغبان سے بھی پٹوانا چاہتے ہو؟”

کچھ دیر ہم دونوں چپ رہے۔ بھٹے کے دوسری طرف سے دو آدمی نکلے، کچھ دیر کھڑے ہمیں دیکھتے رہے، پھر باغ کی دیوار کود کر اندر چلے گئے۔ کچھ چیخیں سنائی دیں، پھر باغ سے کئی لوگوں کے قہقہے لگانے کی آوازیں آئیں۔ میں نے حسنی سے کہا، “مجھ سے کیوں ناراض ہو؟”

بولا، “تم سے ناراض نہیں ہوں۔”

ہم پھر چپ ہو گئے اور حسنی اسی طرح لاٹھی سے اپنی ٹانگ پر ضربیں لگاتا رہا۔

میں نے کہا، “اتنا مت مارو۔ پاگل ہو گئے ہو؟”

بولا، “ٹھیک ہے۔ مجھے درد نہیں ہوتا۔”

میں نے کہا، “اچھا کوئی بات کرو۔”

بولا، “مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔”

آخر تنگ آ کر میں چلّایا، “بس کرو اب! بہت ہو گیا۔اٹھو، اٹھ جاؤ اب!”

ہم دونوں اٹھ کر چل پڑے۔ یونہی کنووں کے بیچ سے گزرتے ہوے میں نے کہا، “حسنی۔”
بولا، “کیا ہے؟”

میں نے کہا، “سچ بتاؤ، کیا چاہتے ہو؟ تم جو چاہو میں کروں گا۔ تمھارے لیے سب کچھ کروں گا۔”

بولا، “چاہتا ہوں اس بابا کتے کے بچے کی ایسی ٹھکائی کروں کہ بس۔”

میں نے کہا، “ٹھیک ہے، پھر کرتے کیوں نہیں؟”

اس نے جواب دیا، “میں اکیلا کیسے کروں؟ مجھ میں اتنا زور نہیں۔”

میںنے کہا، “پتا ہے، تم میں اتنا زور نہیں۔”

وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، “تم میرا ساتھ دو تو ہم دونوں مل کر اس سے حساب صاف کر سکتے ہیں۔”

میں سوچ میں پڑ گیا۔ مجھے اس کے بابا سے ڈر لگتا تھا، بہت ڈر لگتا تھا۔ سب بچے حسنی کے بابا سے ڈرتے تھے۔ حسنی کا باپ بچوں کا دشمن تھا؛ کوئی اس کے پاس نہ جاتا، کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتا۔ وہ کسی کے سلام کا کبھی جواب نہ دیتا تھا، صرف مڑ کر گھورنے لگتا تھا۔ میرا بابا کہتا تھا کہ یہ مردود پاگل ہے، اس کا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے۔ اب میں بھلا کس طرح جا کر اس کی ٹھکائی کر سکتا تھا؟ لیکن اگر ایسا نہ کرتا تو حسنی مجھ سے ناراض ہو جاتا اور غصہ کرتا۔ اور میں نہیں چاہتا تھا کہ حسنی مجھ پر غصہ کرے۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ حسنی نے کہا، “میری مدد نہیں کرنا چاہتے؟”

میں نے کہا، “کیوں نہیں کرنا چاہتا، ضرور کرنا چاہتا ہوں۔”

وہ بولا، “پھر جواب کیوں نہیں دیتے؟”

میں نے کہا، “آخر ہم اس کی ٹھکائی کیسے کر سکتے ہیں؟”

حسنی بولا، “تم رات کو میرے گھر آنا۔ دونوں اندر جا کر کونے میں چھپ جائیں گے۔ جیسے ہی وہ اندر گھسے گا، دونوں اس پر حملہ کر دیں گے۔ ٹانگیں کھینچ کر اسے زمین پر گرا دیں گے اور خوب پٹائی کریں گے۔”

میں نے پوچھا، “اور اس کے بعد کیا ہو گا؟”

اس نے کہا، “کچھ بھی نہیں ہو گا۔ بس اس کی سمجھ میں آ جائے گا کہ پٹائی کا مزہ کیسا ہوتا ہے۔ اور میرا دل ٹھنڈا ہو جائے گا۔”

میں نے کہا، “بہت اچھا۔”

اس طرح ہم دونوں رات کو اس کے جھونپڑے میں پہنچے۔ رات تو نہیں ہوئی تھی، مغرب کا وقت تھا جب اندھیرا چھانے لگتا ہے۔ حسنی کا بابا ابھی نہیں آیا تھا۔ حسنی کی اماں نے کہا کہ جاؤ، گھر کے لیے پانی بھر لاؤ۔ ہم پمپ کے پاس پہنچے، پانی بھرا اور پھر وہیں انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ اتنی دیر تک اس ٹانگ سے اس ٹانگ پر وزن ڈالتے رہے کہ دور سے حسنی کا بابا آتا دکھائی دیا۔وہ کچھ جھکا ہوا چل رہا تھا اور کندھے پر ایک تھیلا اٹھائے ہوے تھا۔

حسنی بولا، “ آ گیا کتے کا بچہ۔”

ہم دوڑ پڑے اور جھونپڑوں کے بیچ میں سے ہو کر اس کے گھر آ چھپے۔ حسنی کی اماں باہر بیٹھی چولھے پر ٹماٹر پکا رہی تھی۔ حسنی کا چھوٹا بھائی اپنی اماں کے پاس بیٹھا بلک رہا تھا۔ ہم آنگن پار کر کے آگے بڑھے، پانی کا جگ کھڑکی میں رکھا اور اندر چلے گئے۔ اندر اندھیرا تھا۔ اس کی اماں نے باہر سے پکار کر کہا، “حسنی، او حسنی، بتی جلا دے۔”

حسنی نے بتی جلائی۔ اس کی چھوٹی بہن ایک کونے میں پڑی سو رہی تھی۔ میں نے کہا، “اب کیا کریں؟”

وہ بولا، “کچھ نہیں۔ بس دروازے کے پاس بیٹھ جاؤ۔ باقی مجھ پر چھوڑ دو۔” میں وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ حسنی بھی دوسرے کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔ ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔

حسنی نے کہا، “یاد رکھنا، تمھیں اس کی ٹانگوں سے لپٹنا ہے۔”

میں نے پوچھا، “اور تم کیا کرو گے؟”

وہ بولا، “پہلے میں اس کی ٹھوڑی پر ایک گھونسا رسید کروں گا، اور پھر اس کے اوپر سوار ہو کر اسے زمین پر گرا لوں گا اور خوب کوٹوں گا۔”

مجھے ڈر لگ رہا تھا۔ معلوم نہیں اس کا کیا انجام ہو گا۔ ابھی میں انتظار میں بیٹھا تھا کہ باہر سے اس کے بابا کے چلّانے کی آواز آئی۔ پہلے اس نے زور کا نعرہ بلند کیا اور پھر چیخ کر کہنے لگا، “بدبخت عورت! میرے آنے سے بھی پہلے تو نے کھانا پکانا شروع کر دیا؟”

حسنی کی ماں نے جواب دیا، “تو اور کیا کرتی؟ گھر میں گھستے ہی تو تمھیں کچھ کھانے کو چاہیے ہوتا ہے۔”

حسنی کے بابانے چلّا کر جواب دیا، “صرف مجھے چاہیے ہوتا ہے؟ تجھے اور تیرے ان پلّوں کو نہیں؟”

پھر حسنی کی ماں کے چلّانے کی آواز آئی۔ “یا الٰہی! خدا کرے تیری ٹانگ ٹوٹ جائے!”
حسنی نے کہا، “سنا؟”

میں نے پوچھا، “کیا؟”

حسنی نے کہا، “اماں کو لات ماری ہے۔ وحشی دیوانہ!”

دوبارہ حسنی کے بابا کی آواز بلند ہوئی۔ “یہ کتے کا بچہ یہاں کیوں سو رہا ہے؟”

اس کی ماں نے کہا، “تو پھر کہاں سوئے؟”

وہ چلّایا، “مجھے کیا معلوم؟ کسی اور جگہ۔ کسی کونے میں۔”

وہ صحن میں داخل ہوا اور اپنا بوجھا دروازے کے پاس اتار کر کھانسنے لگا۔ بہت دیر تک کھانستا اور اپنے سینے کی کثافت باہر تھوکتا رہا۔ پھر اس نے زیرلب دو تین گالیاں دیں، پانی کا برتن لے کر منھ دھویا اور دو تین گھونٹ پیے۔ اس کے بعد کمرے کی طرف بڑھا۔ اس کے جوتوں کی آواز سن کر میرا دل بیٹھنے لگا۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو حسنی بالکل ڈری ہوئی بلی کی طرح آدھا بیٹھا آدھا کھڑا پیچھے کو جانے لگا۔ اس کے بابا نے دانت پیسے اور غرایا۔ حسنی کی پیٹھ دیوار سے لگی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا، “کیا کرو گے؟”

اس کا باپ زہریلی ہنسی ہنس کر بولا، “کچھ نہیں۔تجھ جیسی مصیبت کے ساتھ کوئی کیا کر سکتا ہے۔”

اچانک وہ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھے سر سے پاؤں تک دیکھ کر مونچھوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں، وحشت زدہ، بیٹھے بیٹھے پیچھے کو کھسکنے لگا۔ حسنی کے بابا نے کہا، “واہ وا! یہ موٹا ریچھ یہاں کیا کر رہا ہے؟”

حسنی بولا، “میرا دوست ہے، عبدل آقا کا بیٹا۔”

اس نے کہا، “کسی کا بھی ہو، میرے گھر میں کیا کر رہا ہے؟”

حسنی بولا، “اسے میں نے بلایا ہے۔”

ا س نے کہا، “کیوں؟ اس کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے؟”

حسنی بولا، “ہے کیوں نہیں۔ ہم سے اچھا ہے۔”

اس نے کہا، “تو پھر؟ یہاں کیوں آیا ہے؟”

پھر وہ میری طرف مڑ کر چلّایا، “دفع ہو جا یہاں سے۔ اٹھ، بھاگ!”

میں ڈر کر اٹھنے لگا، اور حسنی کا بابا اور بھی زور سے چیخا، “بھاگ!”

حسنی کمرے کے کونے میں تھا، وہاں سے بولا، “یہ نہیں جائے گا۔یہیں رکے گا۔”

حسنی کا بابا اس طرف مڑا اور گھونسا تان کر حسنی کی طرف بڑھنے لگا۔ دونوں بازو ہوا میں پھیلا کر کہنے لگا، “حرامزادے، تیری اتنی ہمت ہو گئی کہ اپنے باپ کو جواب دینے لگا!”

حسنی کی چھوٹی بہن کی آنکھ کھل گئی اور وہ خوفزدہ ہو کر روتی ہوئی کمرے سے باہر بھاگی۔ وہ اسی طرح گھونسا تانے آگے بڑھ رہا تھا کہ حسنی زور سے چلّایا، “مارو!”

میں نے حملہ کر دیا۔ اس کا بابا لپک کر بڑھا تو حسنی اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور اس کا گھونسا دیوار سے ٹکرایا۔ میں نے جھک کر اس کی ٹانگ دبوچ لی۔ حسنی بھی پیچھے سے نکل آیا اور اس کی دوسری ٹانگ پکڑ لی۔ ہم دونوں نے زور سے کھینچا اور وہ چیختا چلّاتا اور ہانپتا ہوا ہمارے اوپر گر پڑا۔ پہلے اس نے میرے منھ پر گھونسا مارا، پھر حسنی کے منھ پر۔ پھر دونوں گھونسے ہم دونوں کے سروں پر ایک ساتھ رسید کیے۔ ہم دونوں نے زور لگایا اور اس بوڑھے آدمی کے نیچے سے نکل آئے۔ حسنی نے گالیاں بکتے ہوے اپنے بابا کے چوتڑ پر ایک زور کی لات ماری اور ہم دونوں بھاگ کر باہر آ گئے۔ حسنی کے بابا کے زور زور سے چیخنے چلّانے کی آوازیں آتی رہیں: “تجھے مار ڈالوں گا! تو اکیلا ہی کم مصیبت تھا کہ اس حرامزادے کو بھی لے آیا!”

یہ کہتے ہوے وہ ہمارے پیچھے لپکا۔ حسنی کی ماں ہراساں، چولھے سے لگی کھڑی تھی اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے۔ ہم اس کے برابر سے دوڑتے ہوے نکل گئے اور طوفان کی رفتار سے دوڑتے ہوے بیچ کا رستہ لے کر مردے نہلانے والے مکان کے گڑھے کا رخ کیا۔ پیچھے سے حسنی کے بابا کی آوازیں سنائی دیتی رہیں کہ “پکڑو! پکڑو!”

وہ کچھ دور تک ہمارے پیچھے دوڑا اور پھر رک کر چلّانے اور گالیاں دینے لگا۔ اندھیرا ہو چکا تھا۔ وہاں کوئی نہ تھا جو ہمارے پیچھے دوڑے اور ہمیں پکڑنے کی کوشش کرے۔ ہم پمپ کے پاس سے نکل کر گڑھے پر پہنچ گئے۔ دونوں کا سانس پھولا ہوا تھا اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ حسنی کا بابا یا کوئی اور ہمارا پیچھا نہ کر رہا ہو۔ میں نے حسنی سے کہا، “بہتر ہو گا کہ گڑھے سے نکل کر اوپر چلیں۔”

حسنی بولا، “ہاں، ورنہ کچھ دیر میں وہ کتے کا بچہ ڈنڈا لے کر آئے گا اور ہمارا کام تمام کر دے گا۔”

ہم گڑھے سے نکل آئے اور ایک ٹیلے پر جا بیٹھے۔ جب میرا سانس درست ہوا تو میں نے حسنی سے کہا، “ہم اس کے ہاتھ سے خوب بچ نکلے۔”

حسنی بولا، “مگر افسوس کہ اس کی زیادہ مرمت نہ کر سکے۔”

میں نے پوچھا، “گھر کب واپس چلو گے؟”

حسنی بولا، “گھر واپس؟ مذاق کرتے ہو؟ وہ تو چاہتا ہی ہو گا کہ میں گھر پہنچوں اور وہ مجھے پکڑ کر تکابوٹی کر ڈالے۔”

میں نے کہا، “پھر کیا کرنا چاہتے ہو؟”

حسنی بولا، “کچھ نہیں۔”

میں نے پوچھا، “رات کو کہاں جاؤ گے؟”

بولا، “کہیں بھی نہیں۔ کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔”

میں نے کہا، “میرے ساتھ چلو۔ میرے گھر۔”

بولا، “ہاں، تاکہ تمھارے بابا کے ہاتھ آ جاؤں۔ دونوں حرامزادے ایک جیسے ہیں۔ ان کے دل میں ذرہ بھر رحم نہیں۔”

میں نے کہا، “اچھا اگر آج رات گھر نہیں بھی گئے تو کل کیا کرو گے؟ پرسوں کیا کرو گے؟ آخر تو واپس جانا ہی ہو گا۔”

حسنی بولا، “پتا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہیں اور چلا جاؤں۔”

میں نے کہا، “مثلاً کہاں؟”

بولا، “کہیں بھی۔”

میں نے کہا، “اور کرو گے کیا؟”

بولا، “کیا پتا۔ کچھ نہ کچھ کر ہی لوں گا۔ کسی کا شاگرد بن جاؤں گا، یا حمّالی کر لوں گا۔”

میں نے کہا، “تم ابھی چھوٹے ہو۔ تمھیں کوئی نہیں رکھے گا۔”

بولا، “کیوں؟”

میں نے کہا، “اس لیے کہ تمھیں کوئی کام نہیں آتا۔”

بولا، “کچھ نہیں آتا، پھر بھی دکانوں کے سامنے جھاڑو تو دے سکتا ہوں۔”

میں نے کہا، “مگر کسی بڑے کے کہے بغیر تو تمھیں کوئی رکھے گا نہیں۔”

بولا، “اگر کچھ نہ ہوا تو ٹین ڈبے جمع کر کے بیچوں گا۔”

میں نے کہا، “اور رات کو سوؤ گے کہاں؟”

بولا، “کھنڈروں میں۔”

میں نے کہا، “کوئی فائدہ نہیں، دو چار دن اس طرح رہنے کے بعد یا تو بھوکے مر جاؤ گے یا کوئی مصیبت سر پر آ پڑے گی۔”

کہنے لگا، “ناممکن۔ میں نہیں مروں گا۔ جا کے بھیک مانگ لوں گا اور زندہ رہوں گا۔”

میں نے کہا، “ہاں، تم اسی خیال میں مگن رہو۔ تمھیں پکڑ کے گداخانے لے جائیں گے۔ اسدول کے بچے یاد نہیں رہے؟ اور رضا ترک کی بہن؟”

بولا، “تو پھر کیا کروں؟”

میں نے کہا، “مجھے نہیں پتا۔ بہتر ہو گا کہ گھر واپس چلے جاؤ۔”

دونوں چپ ہو گئے۔ چاند نکل آیا تھا اور سارے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی، سواے کنووں کے دائروں کے جنھیں کوئی بھی چیز روشن نہیں کر سکتی تھی۔ جھونپڑوں میں کہیں کہیں چراغ جلتے دکھائی دے رہے تھے۔ حسنی نے اپنے اردگرد نظر ڈالی اور بولا، “گھر واپس نہیں جا سکتا۔ اس بار تو وہ جان سے مار ڈالے گا۔”

ہم پھر خاموش ہو گئے اور جھینگروں کی آوازیں سننے لگے۔ حسنی اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور بولا، “سنو، مجھے ایک ترکیب سوجھی ہے۔ تم ابھی دوڑتے ہوے جاؤ اور جھونپڑوں کے پاس پہنچتے ہی رونا چلّانا شروع کر دو اور سر پیٹ پیٹ کر سب سے کہو کہ حسنی کنویں میں گر گیا ہے۔”

میں بھی چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔ میرا دل ڈوبنے لگا۔ میں نے کہا، “کیا؟ تم کنویں میں گرنے والے ہو؟”

حسنی بولا، “میں گدھا ہوں کیا کہ کنویں میں گروں گا؟ بس تم ایسے ہی کہہ دو کہ کنویں میں گر گیا۔ تب دیکھنا بابا کا کیسا حال ہوتا ہے۔”

میں نے کہا، “اور اس کے بعد؟”

بولا، “اس کے بعد کچھ نہیں۔میں کہیں جا کے چھپ جاؤں گا۔”

میں نے کہا، “وہ کنووں میں تلاش کریں گے۔”

بولا، “سب کنووں میں نہیں تلاش کر سکتے۔ ایک دو کنویں تھوڑی ہیں۔ آخر تھک جائیں گے اور سمجھ لیں گے کہ میں مر گیا ہوں۔ پھر سب ایک جگہ جمع ہو کر میرے لیے روئیں پیٹیں گے اور قرآن کا ختم کریں گے۔ بابا اور اماں بھی اپنا سر پیٹیں گے اور دہاڑیں ماریں گے۔”

میں نے کہا، “حسنی، یہ کام ٹھیک نہیں ہے۔”

اس نے پوچھا، “کیوں؟ ٹھیک کیوں نہیں ہے؟”

میں نے کہا، “فرض کرو تمھارا بابا صدمے سے مر جائے۔ یا تمھاری اماں۔پھر کیا کرو گے؟”

حسنی بولا، “یہ سب تمھارا خیال ہے۔ وہ ایسے نہیں ہیں۔ میں انھیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ یہ لوگ مرنے والے نہیں۔ اور پھر جب وہ سینہ کوٹنے اور ماتم کرنے لگیں تو تم مجھے آ کے بتا دینا اور میں دوڑ کے گھر چلا جاؤں گا۔ جب وہ دیکھیں گے کہ میں صحیح سلامت ہوں اور کنویں میں نہیں گرا تو کس قدر خوش ہوں گے۔ پھر میرا خیال ہے بابا بھی ٹھیک ہو جائے گا اور مجھے مارنا پیٹنا چھوڑ دے گا۔”

میں نے کہا، “مگر”۔۔۔۔

بولا، “مگر کیا؟”
میں نے کہا، “مجھے تمھارے بابا سے ڈر لگتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ خبر سن کر مجھے ہی مار ڈالے۔”

بولا، “تمھیں میرے بابا سے کیا لینا دینا؟ تم تو بس جھونپڑوں کے پاس پہنچ کر چیخنے لگنا کہ حسنی کنویں میں گر گیا، حسنی کنویں میں گر گیا۔”

میں نے کہا، “یہ کہتے ہوے تو رونا بھی پڑے گا۔ اگر رونا نہ آیا تو؟”

حسنی نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور بولا، “عجیب گدھے ہو تم۔ اندھیرے میں کسی کو کیا پتا چلے گا کہ تم رو رہے ہو یا نہیں رو رہے ہو؟”

میں نے کہا، “اچھا، اور تم کیا کرو گے؟”

بولا، “میں جا کے بھٹے میں چھپ جاؤں گا۔”

میں نے پوچھا، “اور اگر بھوکے مر گئے؟”

تعجب سے پوچھنے لگا، “تو تم میرے لیے روٹی اور پانی نہیں لاؤ گے کیا؟ ہَیں؟ نہیں لاؤ گے؟”

میں نے کہا، “ہاں لاؤں گا۔”

بولا، “تو بس ٹھیک ہے۔ اب جاؤ۔”

میں ابھی تک دودِلا ہو رہا تھا، جاؤں یا نہ جاؤں، کہ حسنی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا، “آؤ میں تمھیں دکھا دوں کہ میں کہاں چھپوں گا۔”

ہم حاج تیمور کے اینٹوں کے بھٹے کی طرف چل دیے۔ابھی کنووں کے درمیان سے گزر رہے تھے کہ کچھ کتوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ میں نے اور حسنی نے پتھر مار کر انھیں بھگا دیا اور پھر بھٹے کے گرد چکر کاٹ کر آخری کوٹھڑی کے پاس پہنچے جس کی چھت گر چکی تھی اور کسی کو شبہ نہ ہو سکتا تھا کہ یہاں کوئی چھپا ہو گا۔ حسنی نے مجھ سے کہا، “میں یہاں چھپا ہوں گا، ٹھیک ہے؟”

میں نے کہا، “ٹھیک ہے۔”

بولا، “تو پھر اب کھڑے کیوں ہو، جاؤ۔ یاد رکھنا، تمھیں خوب زور زور سے چیخنا چلّانا ہے۔”

میں نے کہا، “ہاں، یاد ہے۔”

ابھی میں چلا ہی تھا کہ حسنی نے پھر پکارا۔ میں نے پوچھا، “کیا ہے؟”

بولا، “یہ بھی یاد رکھنا کہ میں بھوکا ہوں۔ صبح میرے لیے روٹی اور پانی ضرور لانا۔”

میں نے کہا، “ضرور لاؤں گا۔”

میں کوٹھڑی کا چکر لگا کر کنووں کے درمیان سے گزرتا ہوا مردے نہلانے کے گڑھے کے پاس پہنچا جہاں کتے جمع تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر بھاگ گئے۔ میں گڑھے سے باہر نکلا اور پمپ کے پاس پہنچا۔ میرے حلق میں جلن ہو رہی تھی، اس میں گرد وغبار بہت چلا گیا تھا۔ میں نے تھوڑا سا پانی پیا اور آگے چلا۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ مجھے دوڑتے اور چیختے ہوے جانا ہے۔ میں دوڑتا اور چلّاتا ہوا جھونپڑوں کی طرف بڑھنے لگا۔ بہت سے لوگ جھونپڑوں کے باہر کھڑے تھے۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ کیا ہوا ہے، میں نے تو سر پیٹ پیٹ کر چلّانا شروع کر دیا جیسے حسنی سچ مچ کنویں میں گر گیا ہو۔ جو لوگ دور کھڑے تھے وہ بھی قریب آ گئے۔ میں نے اپنے بابا اور حسنی کے بابا کو دیکھا جو ایک دوسرے سے تکرار کر رہے تھے۔ میں ہچکیاں لیتے ہوے بولا، “حسنی! حسنی!”

حسنی کا باپ جو ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوے تھا، پوچھنے لگا، “حسنی کو کیا ہوا؟ ہیں؟ کیا ہوا اسے؟”
میں نے کہا، “گر پڑا، گر پڑا۔۔۔۔” اور رونے لگا، سچ مچ رونے لگا، میرے آنسو خودبخود نکل کر چہرے پر بہنے لگے۔ حسنی کے بابا نے چیخ کر پوچھا، “کہاں گر پڑا؟ بول، میرا حسنی کہاں گر پڑا؟”

میں نے چیخ کر کہا، “کنویں میں۔۔۔کنویں میں گر پڑا۔”

پہلے تو سب لوگ ایک دم خاموش ہو گئے، پھر عجیب طرح کا ہمہمہ بلند ہوا۔ دور و نزدیک سے چیخنے چلّانے کی بکھری ہوئی آوازیں سنائی دینے لگیں۔”حسنی کنویں میں گر پڑا! حسنی کنویں میں گر پڑا!”

آدمیوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کریں۔ جو لوگ اب تک جھونپڑوں میں تھے، باہر نکل آئے۔ کچھ لوگ لالٹین لے آئے اور سب لپکتے ہوے مردے نہلانے کے گڑھے کی طرف چل دیے۔ میں زمین پر پھسکڑا مارے بیٹھا رو رہا تھا۔ میرے بابا نے جھک کر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھڑا کر دیا۔ بولا، “اٹھو، چل کر بتاؤ کون سے کنویں میں گرا ہے۔”

ہم دونوں بھی دوڑتے ہوے سب لوگوں کے پیچھے روانہ ہوے۔ ابھی سڑک سے آگے نہ نکلے تھے کہ کچھ لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور میرے اور بابا کے ساتھ ساتھ دوڑنے لگے۔ وہ دوڑتے ہوے پوچھتے جاتے تھے، “کون سا کنواں ہے؟ کون سے والے میں گرا ہے؟”

مردے نہلانے والے مکان کے گڑھے کے پاس سے گزر کر ہم کنووں کے پاس پہنچے۔ چاند اَور بلند ہو گیا تھا اور کنووں کے دائرے اَور زیادہ تاریک اور گہرے معلوم ہو رہے تھے۔ سب لوگ وہاں کھڑے تھے۔ حسنی کے بابا نے بید کی طرح لرزتے ہوے میرے کندھوں کو پکڑ لیا اور جھنجھوڑتے ہوے پوچھا، “کہاں ہے؟ کہاں ہے؟”

اور اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دوں، اس نے خود کو کوڑے کے ڈھیر پر گرا لیا اور اونچی آواز میں رونے لگا۔ دو تین آدمی اس کے پاس آ گئے اور عباس چرخی اسے تسلیاں دینے لگا کہ “گھبراؤ مت، ہم اسے ابھی باہر نکالے لیتے ہیں۔ کچھ نہیں ہوا، کوئی بات نہیں۔ روؤ مت۔ خود کو ہلاک مت کرو۔ ہم ابھی اسے تلاش کر لیں گے۔”

جب حسنی کا بابا چپ ہوا تو ایک اور ہمہمہ بلند ہوا۔ عورتیں روتی دھوتی آ پہنچیں اور ان میں آگے آگے حسنی کی اماں تھی۔ وہ اپنا سر اور منھ پیٹ رہی تھی اور رو رو کر پکار رہی تھی، “میرا حسنی، میرا حسنی، میرا حسنی، میرا حسنی!”

وہ کچھ اور بھی کہہ رہی تھی جو میری سمجھ میں نہ آیا۔ عباس چرخی آگے آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، “سنو بچے، بتاؤ کون سے کنویں میں گرا ہے؟”

میں نے کہا، “مجھے نہیں معلوم۔”

حسنی کا بابا میری طرف جھپٹا اور بولا، “حرامزادے! سچ سچ بتا کہ میرے بیٹے کا کیا ہوا؟”

قادر آقا نے اسے روکا اور کہا، “ذرا ٹھہرو، اسے سوچ کر بتانے دو۔”

میں ہچکیاں لے لے کر روتا رہا اور بولا، “حسنی کے بابا نے ہم دونوں کو پکڑ کر خوب مارا تھا اور۔۔۔”

حسنی کا بابا بولا، “اچھا اچھا، یہ بتا کہ وہ گرا کہاں ہے؟”

میرے بابا نے بھی کہا، “ہاں، جلدی بتاؤ۔”

عباس چرخی نے کہا، “ارے اسے کچھ بولنے تو دو۔ یہ کیا طریقہ ہے!”

میں نے کہا، “ہم دونوں بھاگ کر یہاں آ گئے۔ حسنی مجھ سے کافی آگے تھا۔ ہم دونوں دوڑتے ہوے جا رہے تھے۔ حسنی ڈر رہا تھا کہ اس کا بابا آ کر ہم دونوں کو پکڑ لے گا۔ وہ مجھ سے بہت تیز دوڑ رہا تھا۔۔۔ بہت تیز۔ میں نے مڑ کر دیکھا کہ اس کا بابا تو نہیں آ رہا ہے۔ کوئی نہیں آ رہا تھا۔ میں نے حسنی کو آواز دی: حسنی، ٹھہرو! ٹھہرو! کوئی نہیں آ رہا! وہ بیچ میں پہنچا تھا کہ ایک دم چیخ ماری اور کنویں میں گر گیا۔”

حسنی کے بابا نے پوچھا، “کہاں گرا تھا؟”

میں نے کہا، “میں تو سمجھا تھا زمین پر گرا ہے۔ میں نے ہر طرف آوازیں دیں۔ مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے ہر طرف ڈھونڈا۔ کہیں نہیں ملا۔”

حسنی کے بابا نے پھر دہاڑ کر پوچھا، “کون سے کنویں میں گرا تھا؟”

عباس چرخی غصے سے بولا، “اسے کیا پتا ہو گا کہ کون سے والے میں گرا ہے؟ ہمیں خود ہی ڈھونڈنا ہو گا۔”

پھر وہ باقی مردوں کی طرف منھ کر کے بولا، “چلو ڈھونڈنا شروع کریں۔ احتیاط سے کام لینا!”

جب وہ آگے بڑھے تو ان کی آوازیں تھم گئیں۔ کوئی رو نہیں رہا تھا، نہ کوئی چیخ چلّا رہا تھا۔ صرف حسنی کی اماں سسکیاں لے رہی تھی اور دوسری عورتیں اسے تسلیاں دے رہی تھیں۔ “روؤ مت بہن! خاموش رہو۔ ابھی یہ لوگ اسے ڈھونڈ کر باہر نکال لائیں گے۔”

ان میں سے کوئی مسلسل “شش! شش!” کی آوازیں نکال رہا تھا، جیسے حسنی سو رہا ہو اور اسے ڈر ہو کہ اس کی آنکھ نہ کھل جائے۔

سب لوگ کچھ کنووں کے پاس سے گزرے۔ پھر حسنی کے بابا نے گائے کی سی اونچی آواز میں اسے پکارا، “حسنی! حسنی!” وہ اس قدر غصے اور جھنجھلاہٹ میں تھا کہ اگر حسنی کنویں میں کھڑا ہوتا اور باہر نکل آتا تو یہ اسے پکڑ کر اس کی خوب ٹھکائی کرتا۔ عباس چرخی نے کہا، “خاموش رہو، خاموش رہو، ہمیں کام کرنے دو۔”

کوئی اندھیرے میں بولا، “رسی اور لالٹین کی ضرورت ہو گی۔ خالی ہاتھ تو کنویں میں اتر نہیں سکتے۔”

کچھ لوگ دوڑتے ہوے بستی کی طرف چل دیے اور دو آدمی لالٹینیں لے کر آگے بڑھ آئے۔ عباس چرخی نے ایک لالٹین ہاتھ میں لی اور کنویں کی منڈیر پر جھک کر اسے اندر لٹکایا۔ سب لوگ کنویں کے گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے۔ عباس آقا، جس کا سر ابھی کنویں کے اندر تھا، گھٹی ہوئی آواز میں بولا، “میرا خیال نہیں ہے کہ اس کنویں میں گرا ہو گا۔”

پھر وہ دوسرے کنویں کی طرف چل پڑا۔ اس دفعہ مسیّب نے جھک کر لالٹین کو کنویں میں لٹکایا اور آواز کو بساطیوں کی طرح کھینچ کر پکارا، “کہاں ہو بچے؟ کہاں ہو؟”

جواب میں کوئی آواز نہ آئی۔ پھر وہ تیسرے کنویں کے پاس پہنچے۔ اس کے بعد چوتھے کنویں پر۔ پھر پانچویں پر۔ پھر چھٹے پر۔ پھر ان کی دو ٹولیاں بن گئیں۔ دونوں ٹولیاں اسی طرح الگ الگ کنووں پر جا کر تلاش کرنے لگیں۔ پھر تین ٹولیاں ہو گئیں، چار ٹولیاں ہو گئیں۔ پھر اَور لالٹینیں آ گئیں۔ سات آٹھ دس لالٹینیں، اور بہت سی رسی۔ کچھ لوگ رسی میں گرہیں ڈالنے لگے۔ سب لوگ آگے ہی آگے بڑھتے گئے لیکن حسنی کہیں نہ ملا۔ ان سب پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی اور وہ زور زور سے باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک کنویں پر پہنچ کر کسی نے سب کو آواز دی۔ یہ عباس آقا تھا۔ سب لپک کر اس کے پاس پہنچے اور اسے گھیر لیا۔ عباس آقا گھبرائی ہوئی آواز میں بولا، “مجھے لگتا ہے اسی کنویں میں ہے۔ مجھے کچھ آواز آئی ہے۔ جیسے کوئی کنویں کی تہہ میں کھڑا رو رہا ہو۔”

سب نے دم سادھ لیا۔ کچھ لوگ کنویں کے اندر جھکے اور کان لگا کر سننے لگے۔ پھر بولے، “ہاں واقعی، اسی کنویں میں ہے۔”

حسنی کے بابا نے پھر چیخنا چلّانا شروع کر دیا۔ “جلدی کرو، جلدی کرو! میرے بچے کو یہاں سے باہر نکالو۔ میرے بچے کو باہر نکالو۔”

مسیّب بولا، “نیچے کون جائے گا؟”

قادر نے کہا، “ پرانا کنواں ہے۔شاید دیوار جھڑتی ہو۔”

حسنی کے بابا نے کہا، “نہیں نہیں، بخدا! نہیں جھڑے گی۔ اندر جاؤ، جا کر اسے نکال لاؤ!”

سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ عباس چرخی نے کہا، “کیا کوئی مرد نہیں؟ اچھا، میں خود جاتا ہوں۔ رسی اتارو۔”

عباس آقا کی بیوی عورتوں کے ہجوم میں سے چیخ کر بولی، “نہیں نہیں، تم نہیں اتر سکتے۔ تمھیں کنویں میں اترنا نہیں آتا!”

عباس آقا جھلا کر بولا، “چپ کر عورت! اپنے کام سے کام رکھ! میں نہیں دیکھ سکتا کہ اس کا بچہ اندر مر جائے۔”

عباس آقا کی بیوی بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھ آئی اور دوڑتی ہوئی اس سے لپٹ گئی۔ “نہیں نہیں، میں تمھیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔ نہیں جانے دوں گی۔”

عباس آقا نے اپنی بیوی کو ایک چانٹا رسید کیا اور بولا، “ہٹ یہاں سے دور ہو! کیسی عورت سے پالا پڑا ہے!”

اور پھر چلّا کر کہا، “رسی!”

رسی لائی گئی اور اسے کس کر عباس آقا کی کمر میں باندھ دیا گیا۔ پھر اس کی ایک ایک گرہ کو کھینچ کر دیکھا گیا۔ عباس آقا نے کہا، “احتیاط سے، کہیں بیچ میں چھوڑ نہ دینا۔”

کچھ لوگ بولے، “پریشان مت ہو۔ احتیاط سے کریں گے۔”

عباس آقا نے اترنے کے لیے تیار ہو کر لالٹین ہاتھ میں تھامی اور کنویں میں جھک کر تہہ کا جائزہ لیا۔ پھر لالٹین کسی اور کو پکڑا کر زور سے بسم اﷲ پڑھی۔ سب نے فوراً جواب میں صلوات پڑھی۔ حسنی کے بابا نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہا، “یا ارحم الراحمین! یا جدِ حسینِ مظلوم! یا جدِ فاطمہ زہرا! یا جدِ خدیجہ کبریٰ، میرے بچے کو بچا لیجیے! میرا حسنی زندہ نکل آئے!”

عباس آقا کنویں میں اترا اور دونوں کہنیاں کنویں کی منڈیر پر ٹیک کر بولا، “احتیاط سے کام لینا۔ رسی کو مضبوط پکڑنا۔ جب میں رسی کو جھٹکا دوں تو اوپر کھینچ لینا۔”

اس کی بیوی، جو ہمارے بالکل پیچھے کھڑی تھی، پھر زور زور سے رونے لگی۔ میری اماں اسے دلاسا دینے لگی۔ عباس آقا نیچے اتر گیا۔ رسی اسی طرح پانچ چھ لوگوں کی گرفت میں تھی جو اسے تھوڑا تھوڑا کر کے چھوڑ رہے تھے اور زیرلب کچھ بولتے بھی جا رہے تھے۔ حسنی کا بابا اپنے گرد چکر کاٹ رہا تھا اور ہونٹ دانتوں میں دبائے ہاتھ مل رہا تھا۔ وہ منھ ہی منھ میں کچھ بول رہا تھا اور خدا خدا کر رہا تھا۔ میرے ذہن سے بالکل فراموش ہو چکا تھا کہ حسنی بھٹے کی کوٹھڑی میں ہے۔ میرے دل میں کوئی کہہ رہا تھا کہ کاش حسنی اسی کنویں میں موجود ہو کہ عباس آقا خالی ہاتھ باہر نہ نکلے اور سب لوگ خوش ہو جائیں۔ کچھ وقت اسی طرح گزرا اور پھر میرے بابا نے، جو دوسرے لوگوں کے ساتھ رسی کو تھامے ہوے تھا، کہا، “اوپر کھینچو! اوپر کھینچو!”

رحمت نے پوچھا، “کیوں؟”

میرے بابا نے کہا، “دیکھتے نہیں رسی ہل رہی ہے، اندھے ہو کیا؟”

سب خاموش ہو گئے اور رسی کو اوپر کھینچنے لگے۔ حسنی کا بابا گردن اٹھا کر سب کے سروں کے اوپر سے دیکھ رہا تھا اور عباس آقا کے نمودار ہونے کا منتظر تھا۔ تب عباس آقا کے دونوں ہاتھ کنویں کی منڈیر کو پکڑتے دکھائی دیے۔ پھر اس نے کہنیاں ٹیکیں اور زور لگا کر اپنے جسم کو اوپر اٹھایا۔ زمین پر آ کر وہ سیدھا لیٹ گیا اور زور زور سے سانس لینے لگا۔ قادر نے پوچھا، “وہ اندر تھا؟ وہ اندر تھا؟”

حسنی کے بابا نے زور کی چیخ ماری اور رونے لگا۔ عباس آقا کروٹ لے کر آدھا اٹھ بیٹھا اور بولا، “لگتا تھا میرا دم گھٹ جائے گا۔”

قادر نے پوچھا، “مر گیا کیا؟”

عباس آقا نے کہا، “وہاں صرف ایک مرا ہوا کتا پڑا سڑ رہا تھا۔”

مسیّب نے کہا، “کہیں تمھیں مغالطہ نہ ہوا ہو۔”

عباس آقا بولا، “ابے احمق، کیا میں مرے ہوے کتے اور حسنی میں فرق نہیں کر سکتا؟”

وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی کمر میں بندھی ہوئی رسی کھول دی۔ پھر سب دوبارہ جتھا بنا کر اگلے کنویں کی طرف گئے۔ پھر اس سے اگلے کنویں پر، اور پھر اس سے اگلے پر۔ وہ پھر دو ٹولیوں میں بٹ گئے، پھر چار ٹولیوں میں، اور لالٹین ہاتھ میں لیے ہر کنویں میں جھک جھک کر حسنی کو پکارنے لگے۔ تب ہی میں چپکے سے کھسک کر جھونپڑوں کی طرف بھاگ پڑا۔ میں کونوں کھدروں میں اندھیرے کی اوٹ لے کر چل رہا تھا تاکہ کسی کو پتا نہ چلے۔ میں نے پمپ سے پانی پیا اور پھر ٹین کی دیوار کے پیچھے سے گزر کر اپنے جھونپڑے میں پہنچ گیا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ میں نے ایک نان اور ایک ٹوٹے ہوے دستے والا آبخورہ اٹھا لیا۔ پھر میں دوڑتا ہوا باہر نکلا، پمپ سے آبخورے میں پانی بھرا، مردے نہلانے والے گڑھے کے پاس سے گزر کر سڑک کے کنارے کنارے لمبا چکر کاٹتا ہوا حاج تیمور کے بھٹے پر نکلا اور اس کوٹھڑی پر پہنچا جہاں حسنی چھپا ہوا تھا۔ میں نے گردن اٹھا کر دبی ہوئی آواز میں اسے پکارا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ دوبارہ آواز دی۔ پھر جواب نہ آیا۔ میں نے اونچی آواز میں پکارا مگر کچھ نہیں۔ مجھ پر خوف چھا گیا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ شاید اسے پتا نہ چلا ہو کہ یہ میں ہوں، سو میں نے سیٹی بجانا شروع کیا — وہی خوش آواز سیٹی جس کے ذریعے میں اسے پیغام دیتا تھا کہ “حسنی، آ جاؤ، کام کا وقت ہو گیا۔” ایک دم مجھے اپنے سر کے اوپر حسنی کے سیٹی بجانے کی آواز سنائی دی۔ وہ کوٹھڑی کی چھت پر اوندھا لیٹا میری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا، “اے حسنی!”

بولا، “چپکے سے اوپر آ جاؤ۔”

میں نے آبخورہ اسے تھمایا اور اینٹوں والی دیوار کا سہارا لے کر اوپر پہنچ گیا۔ دونوں آہستہ آہستہ رینگتے ہوے آگے بڑھے اور بھٹے کی چمنی کے پاس جا بیٹھے۔ میں نے کہا، “تمھیں تو کوٹھڑی کے اندر چھپنا تھا۔”

وہ بولا، “یہ دیکھنے اوپر آیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔”

میں نے کہا، “تمھیں پتا ہے اگر وہ لوگ تمھیں دیکھ لیں تو کیا ہو گا؟”

بولا، “مشکل ہے۔ مجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔” یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگا۔

میں نے پوچھا، “ہنس کیوں رہے ہو؟”

بولا، “بابا کا سوچ کر ہنس رہا ہوں۔ اور باقی سب لوگوں کا۔ دیکھو ذرا، کیسے دوڑتے پھر رہے ہیں۔”

اس نے کنووں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ لوگ لالٹین اٹھائے کبھی ایک کنویں کے پاس جاتے کبھی دوسرے کے۔ کوئی ٹولی کسی ایک کنویں کے پاس جم کر رہ گئی تھی اور وہاں سے ہلتی ہی نہ تھی۔

میں نے کہا، “ہم نے اچھا نہیں کیا حسنی۔”

بولا، “کیوں؟”

میں نے کہا، “تمھارا بابا خود کو مارے ڈال رہا ہے۔ تمھیں پتا نہیں اس کا کتنا برا حال ہے۔”

بولا، “فکر مت کرو۔ وہ خود کو نہیں مارنے کا۔ اماں کیا کر رہی ہے؟”

میں نے کہا، “کیا کر رہی ہے؟ سر پیٹ پیٹ کر رو رہی ہے۔”

بولا، “رونے دو۔”

میں نے کہا، “تمھیں پتا ہے، عباس آقا کنویں میں اترا تھا، اور تمھاری جگہ ایک مرا ہوا کتا نکال کر لایا تھا۔”

حسنی بولا، “اپنے باپ کی لاش لایا ہو گا۔”

ہم دونوں ہنسنے لگے۔ پھر میں نے نان نکالی اور آدھی آدھی توڑ کر دونوں نے کھائی۔ مجھے پیاس نہیں لگی تھی، لیکن حسنی نے کچھ گھونٹ پیے۔ میں نے کہا، “کیا کہتے ہو، اب نیچے ان لوگوں کے پاس چلیں؟”

بولا، “کیا ہو گا؟”

میں نے کہا، “قصہ ختم ہو جائے گا۔ انھیں ایک ایک کنواں جھانکنا نہیں پڑے گا۔”

بولا، “ابھی سے؟ ابھی انھیں گھومنے دو۔”

میں نے کہا، “ان میں سے کوئی کنویں میں گر کر مر گیا تو؟”

بولا، “فکر مت کرو۔ یہ سب کتے کی اولاد ہیں۔ اتنی آسانی سے مرنے والے نہیں۔”

میں نے کہا، “لیکن ہم جو کر رہے ہیں وہ بہت برا ہے۔”

اس نے گردن موڑ کر مجھے غور سے دیکھا۔ بولا، “اور وہ جو ہماری ٹھکائی کرنے سے پہلے کھانا نہیں کھاتے، وہ اچھا کرتے ہیں؟”

میں نے کہا، “خدا کے لیے حسنی، اب بس کرو۔ چلو ان کے پاس چلتے ہیں۔”

وہ بولا، “ میں تو نہیں جانے کا۔”

میں نے پوچھا، “مگر کیوں؟”

بولا، “واپس جا کے کیا کہیں گے؟”

میں نے کہا، “کہہ دینا کہ شکرائی کے باغ میں پھل کھانے گیا تھا۔”

بولا، “پھر تو تمھارا جھوٹ پکڑا جائے گا۔”

میں نے کہا، “میں کہہ دوں گا، مجھے کیا پتا کہاں گیا، میں سمجھا تھا کنویں میں گر گیا۔”

بولا، “نہیں، وہ فوراً سمجھ جائیں گے، اور پھر ہماری شامت آ جائے گی۔”

میں نے کہا، “نہیں آئے گی، خدا کے لیے تم چلو۔”

بولا، “میں تو نہیں چلنے کا۔”

میں نے کہا، “تو ٹھیک ہے، میں جا کے بتا دیتا ہوں کہ حسنی کنویں میں نہیں گرا، حاج تیمور کی کوٹھڑی میں چھپا بیٹھا ہے۔”

اس نے گردن گھما کر مجھے بری طرح گھورا۔ “ٹھیک ہے۔ کہہ دو جا کے۔ اس کے بعد تم الگ اور میں الگ۔ پھر تمھیں میری شکل بھی نظر نہیں آئے گی۔”

میں نے پوچھا، “تو پھر کب واپس چلو گے؟”

بولا، “ختم والے دن۔ جس وقت میرے لیے قرآن ختم ہو رہا ہو گا، اس وقت ایک دم داخل ہو جاؤں گا۔ تب بڑا مزہ آئے گا۔”

میں نے کہا، “بکواس مت کرو۔ کیا مزہ آئے گا؟”

بولا، “پتا ہے، جس وقت وہ سب سینہ پیٹ پیٹ کر رو رہے ہوں گے، میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے بالکل بیچ میں پہنچ جاؤں گا اور زور سے سلام کروں گا۔ پہلے تو وہ سب بوکھلا جائیں گے، پھر ڈر جائیں گے۔ عورتیں چیخنے چلّانے لگیں گی۔ بچے بھاگ جائیں گے اور سوچیں گے کہ میں قبر سے نکل کر آیا ہوں۔ پھر جب وہ لوگ دیکھیں گے کہ میں سچ مچ زندہ ہوں، ہنس رہا ہوں، ہاتھ پیر ہلا رہا ہوں، تو سب کے سب خوش ہو جائیں گے۔ وہ ہوا میں چھلانگیں لگائیں گے، زمین پر گر جائیں گے، وہ مجھے لپٹا کر میرا منھ چومیں گے۔ تم کہتے ہو مزہ نہیں آئے گا؟ ہیں؟”

ہم نے پھر اپنی نظریں ان لوگوں پر جما دیں جو لالٹین ہاتھ میں لٹکائے کنووں کے درمیان اِدھر سے اُدھرگشت کر رہے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد مردوں اور عورتوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں نے کہا، “ٹھیک ہے، اب میں ان لوگوں کے پاس جاتا ہوں…”
وہ بولا، “ٹھیک ہے، مگر انھیں بتانا مت۔”
ہم چاروں ہاتھ پیروں پر رینگتے ہوے آگے بڑھے، دور دور تک غور سے دیکھا اور پھر نیچے اتر آئے۔ میں سڑک کے گرد لمبا چکر کاٹ کر مردے نہلانے کے گڑھے کے پاس سے گزرا اور پھر واپس اوپر کی طرف چلنے لگا۔ وہ سب اب تک ایک کنویں کے گرد دائرے میں جمع تھے۔ میں دوڑتا ہوا ان کے پاس جا پہنچا۔ میں نے اپنی اماں کو دیکھا جو سر پیٹ پیٹ کر اونچی آواز میں رو رہی تھی۔ مردوں نے رسی کو کنویں کی تہہ تک لٹکا رکھا تھا۔ میں لوگوں کی ٹانگوں میں سے نکل کر آگے کنویں کی منڈیر تک پہنچ گیا۔ وہاں میں نے عباس چرخی کو دیکھا جو کسی سے کہہ رہا تھا، “رسی ہلا رہا ہے۔ اوپر کھینچو، اوپر کھینچو!”

قادر نے پوچھا، “مگر کیوں؟”

عباس آقا نے کہا، “اندھے ہو کیا؟ دیکھتے نہیں رسی ہل رہی ہے؟”

سب خاموش ہو گئے اور رسی کو اوپر کھینچنے لگے۔حسنی کا بابا، جو میرے سر کے بالکل پیچھے کھڑا تھا، مسلسل سینہ پیٹتے ہوے کہہ رہا تھا، “یا خدیجہ کبریٰ، یا امام مصطفیٰ، یا غریب الغربا، یا سیدالشہدا۔”

تب میں نے اپنے بابا کو کنویں کی منڈیر پر کہنیاں ٹیک کر باہر نکلتے دیکھا۔وہ سر سے پیر تک سیاہ ہو چکا تھا اور زور زور سے ہانپ رہا تھا۔ عباس آقا نے کہا، “لیٹ جاؤ، لیٹ جاؤ، اور لمبے لمبے سانس لو۔”

کچھ لوگوں نے بابا کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے زمین پر لٹا دیا۔

2

صبح ہوئی تو کوئی کام پر نہ گیا۔ سب بری طرح تھک کر اپنے اپنے جھونپڑے کو لوٹ گئے۔ حسنی انھیں نہیں ملا تھا۔ عباس آقا نے کہا تھا، “کوئی فائدہ نہیں۔ سارے کنووں میں نہیں ڈھونڈ سکتے۔”

وہ ان زیادہ گہرے کنووں پر پہنچ گئے تھے جو نیچے تہہ میں ایک دوسرے سے ملے ہوے تھے اور ان میں گندا پانی بہہ رہا تھا۔ان کنووں کے اندھیرے میں عجیب عجیب چیزیں دکھائی دیتی تھیں۔ اُستا حبیب کے سامنے اچانک گائے کے قد کا ایک جانور آ گیا تھا جس کی چار پانچ دُمیں تھیں اور جبڑوں میں ایک مرے ہوے آدمی کا سر لیے وہ اِدھر اُدھر چل پھر رہا تھا۔ سید کو کچھ ننگے اور کچھ اونی لباس پہنے لوگ دکھائی دیے تھے جو کنویں کی دیوار سے لگے کھڑے تھے۔ اسے دیکھتے ہی وہ لوگ گندے پانی میں کود کر غائب ہو گئے تھے۔ میر جلال نے اپنی آنکھوں سے بڑے بڑے کالے پر دیکھے تھے جو اِدھر سے اُدھر اڑتے پھر رہے تھے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ کنویں کی تہہ سے عجیب و غریب آوازیں سنائی دیتی ہیں، جیسے بلیاں رو رہی ہوں اور نظر نہ آنے والی عورتیں قہقہے لگا رہی ہوں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے سَنج اور شِیپور کی آوازیں بھی سنیں، جیسی عاشورے کے دنوں میں نکلتی ہیں۔ انھیں اپنی پشت سے نوحے پڑھے جانے اور لوگوں کے گریہ کرنے کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ عباس آقا نے کہہ دیا کہ اب کچھ فائدہ نہیں، دوڑ دھوپ سے کچھ نہیں ہو گا اور حسنی اب نہیں ملے گا۔ تب وہ سب، تھکن اور نیند سے چور، بستی کی طرف لوٹ آئے تھے اور اب سو رہے تھے۔ صرف حسنی کا بابا اب تک نہیں سویا تھا اور جھونپڑوں کے درمیان متواتر اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا اور اپنے سر کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے جھٹکتا جا رہا تھا۔ وہ رنج سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارتا اور کہتا، “دیکھا کیا ہوا! دیکھا میرا بچہ کیسے ہاتھ سے جاتا رہا! کیسے جوانی میں مر گیا!”

حسنی کے بابا کا رونا چلّانا اب تھم چکا تھا۔ اس کے بجاے اب اس کا دھیان عجیب و غریب چیزوں سے الجھ رہا تھا۔ جھونپڑوں کی چھتیں، مقبروں کے تاریک دروازے، دیوار کے ساتھ لگی ڈھکے ہوے پیپوں کی قطاریں، جھونپڑوں کے آگے لٹکے ٹاٹ کے پردوں پر پڑے دھبے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ رک کر زمین سے کوئی بیکار سی چیز اٹھا لیتا — ٹین کا ٹکڑا، یا ٹوٹی ہوئی پیالی، یا گھسا ہوا جوتا — اور کچھ دیر اس سے کھیلنے کے بعد اسے دور اچھال کر کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ وہ زیرلب بڑبڑاتا جا رہا تھا، “اب اسے کیڑے کھا رہے ہیں۔ سب ختم ہو گیا۔ میرا حسنی چلا گیا۔”

میں کئی بار اس کے پاس سے گزرا۔ اس کی حالت وہی رہی۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا، یا دیکھا تو مجھ پر توجہ نہیں دی۔ کچھ دیر بعد مجھے اچانک یاد آیا کہ حسنی بھوکا ہو گا اور میرا انتظار کر رہا ہو گا۔ میں سیدھا اپنے جھونپڑے پر پہنچا۔ سب سو رہے تھے۔ میرا بابا نیند میں لڑھک کر ایک طرف کو ہو گیا تھا اور اس کے مٹی میں سَنے پیر باہر کو نکلے ہوے تھے۔ میں نے ایک نان اور مٹھی بھر شکر لی اور باہر نکل آیا۔ ہر طرف سناٹا اور ویرانی تھی۔ حسنی کا بابا ایک مکان کے پیچھے کھڑا تھا اور دیوار پر ناخن سے کھرچ کر کچھ لکھ رہا تھا۔ سورج چڑھ آیا تھا اور روشنی ہر طرف پھیل گئی تھی۔ پمپ کے پاس پہنچ کر میں نے پانی پیا۔دور دور تک کوئی نہ تھا۔ میں مردے نہلانے والے کوڑے کے گڑھے میں اترا اور دوسری طرف نکل کر حاج تیمور کے بھٹے میں پہنچا اور اس کوٹھڑی کی طرف چلا جہاں مجھے معلوم تھا حسنی میرے انتظار میں بیٹھا ہے۔ وہ سو رہا تھا۔ جب میں نے آواز دی تو چونک کر اٹھ گیا اور گھبرا کر کہنے لگا، “کون ہے؟ کون ہے؟”

میں نے کہا، “ڈرو مت۔ میں ہوں میں۔”

وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آنکھوں کے گرد گڑھے تھے اور ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ میں نے پوچھا، “کیا ہوا؟ ٹھیک تو ہو؟”

بولا، “میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں کنویں میں گر گیا ہوں اور باہر نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہوں مگر نکل نہیں پاتا۔”

میں نے کہا، “تمھارا اپنا قصور ہے۔ تم ہی یہ کھیل کھیلنا چاہتے تھے۔ تمھارے بابا کا دماغ چل گیا ہے۔”

وہ کچھ نہ بولا اور خود کو گھسیٹتا ہوا کوٹھڑی سے باہر لے گیا۔ ہم دونوں دھوپ میں بیٹھ گئے۔ میں نے نان اور مٹھی بھر شکر اسے دے دی۔ پانی ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے آبخورہ اٹھا کر چند گھونٹ بھرے اور تھوڑا سا پانی لے کر منھ پر چھینٹے مارے۔ جب اس کا حال کچھ ٹھکانے پر آیا تو مجھ سے پوچھنے لگا، “کیا ہوا؟”

میں نے کہا، “سب کو یقین ہو گیا ہے کہ تم مر چکے ہو۔”

بولا، “تم نے کیا کیا؟”

میں نے کہا، “میں نے کچھ نہیں کیا۔ کسی سے نہیں کہا۔”

کہنے لگا، “اب وہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں؟”

میں نے کہا، “ابھی کچھ طے نہیں ہوا کہ کیا کریں گے۔”

اس نے پوچھا، “میرے لیے قرآن ختم نہیں کرائیں گے؟”

میں نے کہا، “پتا نہیں۔ “

بولا، “میرا خیال ہے آج سہ پہر کو کرائیں گے۔”

میں نے پوچھا، “تمھیں کیسے پتا ہے؟”

بولا، “یاد نہیں جب بی بی کا پوتا مرا تھا تو اگلے دن ختم کرایا تھا؟”

میں نے کہا، “اگر ایسا ہے تو آج کا دن تمھارا ہے۔”

بولا، “ہاں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔ اب مجھ میں اور حوصلہ نہیں۔”

میں نے کہا، “انشاء اﷲ ایسا ہی ہو گا۔”

کہنے لگا، “کہیں بھول نہ جانا۔ فوراً مجھے آ کر بتانا۔”

میں نے کہا، “نہیں، بھول کیسے جاؤں گا؟ لیکن تم زبردست ٹھکائی کے لیے تیار رہنا۔”

بولا، “ٹھکائی نہیں ہو گی۔ سب لوگ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔”

میں نے کہا، “تم یہی سمجھتے رہو۔ اصل بات تو شام کو معلوم ہو گی۔”

بولا، “شرط لگاتے ہو؟”

میں نے پوچھا، “کیسی شرط؟”

بولا، “اگر مجھے دیکھ کر غصے میں آ گئے کہ میں زندہ کیوں ہوں، مرا کیوں نہیں، اور میری پٹائی شروع کر دی تو تم جیتے، اور اگر مجھے دیکھ کر خوش ہوے تو میں جیتا۔ پھر تمھیں میرے ہاتھ سے پٹائی نوش جان کرنی ہو گی۔”

میں نے کہا، “بہت خوب! میں تمھارے لیے اتنی مصیبت اٹھا رہا ہوں، اور تم میری پٹائی کرو گے؟”

ہنسنے لگا۔ بولا، “مذاق کر رہا تھا۔ تمھیں آئس کریم خرید کے کھلاؤں گا۔”

میں نے کہا، “ہاں، یہ ٹھیک ہے۔”

اس نے نان کا ایک لقمہ توڑ کر منھ میں رکھا اور بولا، “اب کیا کریں؟”

میں نے کہا، “کچھ نہیں۔ تم جا کے کوٹھڑی میں چھپو اور میں بستی میں جا کے دیکھتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے۔”

بولا، “اگر سہ پہر کو ختم قران کی ٹھہرے تو مجھے آ کے بتاؤ گے نا؟”

میںنے کہا، “ہاں بتاؤں گا۔”

اور سہ پہر ہی کو ختم قرآن ہونا طے ہوا۔ حسنی کی فاتحہ۔ جھونپڑوں کے سامنے۔ عباس آقانے ایک بانس پر کالا کپڑا باندھ کر اسے میدان کے سرے پر گاڑ دیا تھا۔ سب گھروں سے باہر نکل کر زمین پر بیٹھ گئے۔ عورتیں ایک طرف اور مرد دوسری طرف۔ دوسری بستیوں میں بھی اطلاع پہنچ گئی تھی اور لوگ ٹولیوں میں آ رہے تھے۔ یوسف شاہ کی گھاٹی، سرپیچ، شمس آباد کے بھٹے، شترخون اور ملا احمد کی بستی، ہر جگہ سے۔ وہ سب انجانے لوگ تھے، طرح طرح کے کپڑے پہنے تھے۔ جوں ہی کوئی ٹولی میدان میں پہنچتی، عورتیں حسنی کی اماں کے پاس چلی جاتیں جو کھرچے ہوے خون آلود چہرے کے ساتھ اپنے جھونپڑے کے سامنے بیٹھی تھی۔ وہ اب رو نہیں رہی تھی، بس سر کو اِدھر اُدھر ہلاتی اور سینہ پیٹتی جاتی تھی۔ عورتیں اس کے سامنے پہنچتے ہی رونے اور اپنا سر اور منھ پیٹنے لگتیں اور کہتیں، “خواہر جان، خواہر جان، یہ تم پر کیا افتاد پڑی!”

حسنی کا بابا ہمارے جھونپڑے کے سامنے بیٹھا تھا۔ بلکہ بیٹھا کیا تھا، زمین پر پڑا ہوا تھا۔ مبہوت سا اپنے سامنے تکے جا رہا تھا۔ ہر نئے آنے والے کو جیسے ہی پتا چلتا کہ مرنے والے کا باپ کون ہے، وہ اس کے پاس جا کر سلام کرتا۔ کوئی جواب سنے بغیر آنے والا ایک کونے میں بیٹھ جاتا۔ عباس آقا جوکھڑا ہوا تھا، اونچی آواز میں کہتا، “فاتحہ!”

مرد لوگ فاتحہ پڑھنے لگتے۔ اُستا حبیب ہاتھ میں پانی کا برتن لیے لوگوں میں گھومتا اور پیاسوں کو پانی پلاتا پھر رہا تھا۔ دو بوڑھے آدمی جو غریبا کی گھاٹی سے تمباکو کا بڑا سا تھیلا لے کرآئے تھے، جلدی جلدی اخبار کے کاغذ پھاڑ پھاڑ کر سگریٹ بناتے اور انھیں سینی میں رکھتے جا رہے تھے۔ اور بی بی کا بڑا بیٹا رمضان سینی اٹھائے لوگوں کو سگریٹ پیش کر رہا تھا۔ سب لوگ سگریٹ اور پانی پی رہے تھے، سواے حسنی کے بابا کے، جو نہ سگریٹ پی رہا تھا نہ پانی، بس تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتا اور کبھی کبھی زمین کی طرف منھ کر کے تھوکتا تھا۔

کوئی گھنٹہ بھر گزرا ہو گا کہ سڑک کی سمت سے کچھ لوگ تیزتیز آتے دکھائی دیے۔سب گردن پھیر کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔ عباس آقا نے زور سے کہا، “پیروں کی گھاٹی سے کالے خیموں والے آئے ہیں۔ جاؤ، انھیں یہاں لے آؤ۔”

کئی لوگ ان کی پیشوائی کو آگے بڑھے۔ کالے خیموں والے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ دوڑتے لپکتے آ پہنچے۔ ان میں سے بہت سوں کے ہاتھوں میں علَم تھے۔ وہ ان سب کے آگے آگے چیتھڑے لگے کپڑے پہنے، غم اور پریشانی کی حالت میں سینہ زنی کرتے دوڑ رہے تھے۔ ان کے وسط میں ایک دبلاپتلا، لمبی گردن اور اونچے عمامے والا آخوند تھا۔ عورتیں دستے کے آخر میں تھیں، پابرہنہ اور خاک آلودہ۔ جب وہ لوگ چھوٹے میدان کے بیچ میں پہنچے تو صلوات کی آوازیں بلند ہوئیں۔عورتیں اورمرد الگ الگ ہو گئے۔ عورتیں چیخیں مارتی ہوئی حسنی کی اماں کی طرف چلی گئیں اور مرد آگے بڑھ آئے۔ بوڑھوں نے حسنی کے بابا کو سلام کیا۔ حسنی کے بابا نے جواب نہ دیا۔ علمداروں نے علم بچوں کے حوالے کیے اور بچے انھیں لے کر بڑوں کی پشت پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ تب آخوند جا کر ہمارے جھونپڑے کے باہر لگے پتھر پر بیٹھ گیا۔ اسمٰعیل آقا نے اونچی آواز میں کہا، “صلوات بھیجو! بلند آواز میں صلوات بھیجو!”

سب نے صلوات بھیجی۔ آخوند بھرائی، بیٹھی ہوئی آواز میں بولا، “بیٹھ جائیں، سب لوگ بیٹھ جائیں تاکہ ایک معصوم اور بیچارے نوجوان کی عزا میں روضہ ٔقاسم پڑھیں اور گریہ کریں۔”

پہلے اس نے کچھ عجیب و غریب دعائیں پڑھیں اور پھر روضہ خوانی شروع کی۔ اسی وقت گریہ وزاری کی صدا بلند ہوئی۔ سب رو رہے تھے۔ مرد رو رہے تھے، عورتیں رو رہی تھیں، بچے رو رہے تھے۔ یہاں تک کہ میں بھی رو رہا تھا۔ صرف حسنی کا بابا تھا جو نہیں رو رہا تھا۔ صرف پہلو بدل رہا تھا اور خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔ گریہ کرنے کی آوازیں جیسے جیسے بلند ہوتی گئیں، کالے خیموں والے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے سینے کھول دیے۔ آخوند بھی کھڑا ہو گیا اور اس نے بھی اپنا سینہ کھول دیا، اور اَور بھی زیادہ اونچی آواز میں بولا، “آؤ اب سید الشہدا کی اور اس بے گناہ نوجوان کی شادی میں سینہ زنی کریں۔”

یہ کہہ کر اس نے نوحہ پڑھنا شروع کیا۔ کالے خیموں والے ماتم کرنے لگے۔ دوسرے مرد بھی کھڑے ہو گئے اور اپنے سینے کھول کر ماتم کرنے لگے۔ عورتوں کی چیخ پکار میں اور زیادہ شدت آ گئی اور وہ ایک دوسرے کو لپٹا لپٹا کر زور زور سے رونے لگیں۔ مجھے اچانک خیال آیا کہ یہی وقت ہے۔ یہی وقت ہے کہ مجھے جاکر حسنی کو خبر کرنی چاہیے۔ مجھ پر کسی کی توجہ نہ تھی۔ کسی کی کسی پر بھی توجہ نہ تھی۔ میں چپکے سے وہاں سے نکل آیا۔ پہلے تو الٹے قدموں چلتا رہا، پھر مڑا اور آنکھوں سے آنسو پونچھتا ہوا تیزی سے چلنے لگا۔ پمپ پر پہنچ کر میں نے تھوڑا سا پانی پیا اور مردے نہلانے کے گڑھے میں اتر کر دوسری طرف پہنچ گیا۔ وہاں دور دور تک کوئی نہ تھا۔ تب میں نے دوڑنا شروع کر دیا۔ میں نے ہوا کی رفتار سے کنووں والے احاطے کا چکر لگایا اور آگے بڑھا۔ میرے حواس ٹھکانے نہ تھے۔ سر سے پیر تک پسینہ بہہ رہا تھا۔ اسی حالت میں دوڑتا ہوا میں حاج تیمور کے بھٹے میں پہنچا اور چکر لگا کر پیچھے کی کوٹھڑی کے سامنے آ گیا۔ حسنی کوٹھڑی کی چھت پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔ فوراً اٹھ کر نیچے آیا اور پوچھنے لگا، “کیا خبر ہے؟”

میں نے کہا، “تمھارا ختم ہو رہا ہے۔”

اس نے پوچھا، “کیا کر رہے ہیں وہ لوگ؟”

میں نے کہا، “ساری بستیوں اور گھاٹیوں سے لوگ آ گئے ہیں اور تمھارا ماتم کر رہے ہیں۔”

وہ کچھ دیر مجھے تکتا رہا۔ پھر بولا،’ ’تم کس لیے رو رہے ہو؟”

میں نے کہا، “تمھارے لیے۔”

بولا، “عجیب گدھے ہو! تمھیں تو پتا ہے کہ میں زندہ ہوں، مرا نہیں!”

میں نے کہا، “یہ سب اس آخوند کا قصور ہے جسے کالے خیموں والے لائے ہیں۔ اس نے سب کو رُلا دیا۔”

اس نے خوش ہو کر ہاتھوں کو آپس میں رگڑا اور کہا، “تو اب ٹھیک وقت ہے، ہے نا؟”

میں نے کہا، “ہاں تو۔ میرا خیال ہے یہی ٹھیک وقت ہے۔”

بولا، “اب دیکھتے ہیں کون شرط جیتتا ہے۔”

میں نے کہا، “خدا کرے تم ہی جیت جاؤ۔”

وہ ہنسنے لگا اور زور سے بولا، “تو چلو پھر، بھاگو!”

وہ فوراً اپنی جگہ سے دوڑ پڑا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ ہم دونوں دوڑ رہے تھے لیکن حسنی تو بالکل ہوا کی مانند اڑ رہا تھا۔ کوئی بھی اسے پکڑنا چاہتا تو نہ پکڑ سکتا۔ میں نے دو ایک بار اسے پکارا، “حسنی! حسنی!”

اور حسنی نے جواب دیا، “ہوہو! ۔۔۔ ہوہو!”
کہ اچانک، ایک دم پتا نہیں کیا ہوا… مجھے بالکل پتا نہیں کیا ہوا۔۔۔ کس طرح کہوں کہ کیا ہوا۔۔۔ کہ اچانک حسنی کا پیر کسی چیز میں پڑ کر رپٹا اور وہ سیدھا، بالکل سیدھا، کنویں میں جا گرا۔ میں نے سوچا، یعنی یہ نہیں سوچا کہ حسنی کنویں میں گرا ہے، بلکہ یہ سوچا کہ وہ زمین پر گرا ہے۔ میں آگے دوڑا۔ حسنی کہیں نہیں تھا۔ حسنی کنویں میں گر پڑا تھا۔ ایک بہت بڑے کنویں میں… اس کنویں میں جو سب کنووں سے بڑا تھا۔ میری زبان بند ہو گئی۔ میرے ہونٹ سل گئے۔ میں چاہتا تھا کہ زور سے چیخوں، چیخ کر کہوں: “حسنی!” مگر نہ چیخ سکا۔ میری آواز ہی نہ نکلی۔ منھ ہی نہ کھلا۔ میں نے بہت زور لگایا لیکن منھ سے حسنی کا نام ہی نہ نکلا۔ میں گھورے پر بیٹھ گیا اور اپنے دونوں کندھے زور سے پکڑ لیے۔ میرا سانس ہی رک گیا تھا۔ میں نے دو تین بار کوڑے کے ڈھیر پر اپنا سر مارا۔ پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ بلکہ خود کھڑا نہیں ہوا، گویا کسی چیز نے مجھے اٹھا کر پیروں پر کھڑا کر دیا۔ میں نے دوبارہ دوڑنا شروع کیا، ہمیشہ سے کہیں زیادہ تیز۔ حسنی سے بھی زیادہ تیز۔ میرا دل کرتا تھا، اُڑ کر کسی کنویں میں جا گروں۔ اسی وقت میں نے دیکھا کہ میں سڑک پر پہنچ گیا ہوں۔ پمپ کے پاس پہنچ کر میں نے سانس درست کیا۔ تب میری زبان کھلی اور میرے منھ سے نکلا، “ حسنی! حسنی ! حسنی!”

جس وقت میں میدان میں پہنچا، سینہ زنی ختم ہو چکی تھی۔ سب لوگ دائرہ بنائے خاموش بیٹھے تھے۔ رمضان لوگوں میں سگریٹ تقسیم کر رہا تھا اور اُستا حبیب پانی کا برتن اٹھائے اِدھر اُدھر آ جا رہا تھا۔ میں نے اونچی آواز میں چیخ کر کہا، “ حسنی! حسنی ! حسنی!” میں نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے سر پر ماریں اور زمین پر گر پڑا۔ سب لوگ اٹھ کر میرے گرد جمع ہو گئے۔ عباس آقا نے، جو سب کے آگے چلتا ہوا میرے قریب پہنچ گیا تھا، میرا ہاتھ پکڑ لیا کہ میں خود کو نہ مار سکوں۔ اس نے پوچھا، “کیا ہوا؟ کیا ہوا؟”

میں نے چیخ کر کہا، “حسنی! حسنی کنویں میں گر پڑا!”

یہ کہہ کر میں زمین پر اوندھا ہو گیا اور مٹھیوں سے مٹی پکڑ لی۔ ہر طرف ایک ہمہمہ بلند ہوا۔ سب مجھے تسلیاں دیتے ہوے کہہ رہے تھے، “اچھا، اچھا، خدا رحمت کرے، تم خود کو زخمی مت کرو! صبر کرو!”

میرا بابا لوگوں کو ہٹاتا ہوا آگے آیا اور بولا، “چپ ہو جاؤ بچے! اس کے ماں باپ کے غم کو تازہ مت کرو!”

میں نے کہا، “گر پڑا! میری آنکھوں کے سامنے کنویں میں گر پڑا!”

بابا نے چیخ کر کہا، “میں کہتا ہوں چپ ہو جا! خاموش ہو جا گدھے کے بچے!”

میں اس سے بھی اونچی آواز میں چیخ کر بولا،”بخدا وہ کنویں میں گر پڑا! ابھی ابھی! ابھی گرا ہے!”

بابا نے مجھے سہارا دے کر کھڑا کیا اور ایک زوردار تھپڑ لگایا۔ اسمٰعیل آقا نے بابا کو ہاتھ پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا اور کہا، “مت مارو احمق آدمی! دیکھتے نہیں اس کا کیا حال ہو رہا ہے؟”

پھر اس نے مجھے سینے سے لگا کر کہا، “صبر کرو، صبر کرو!”

استا حبیب نے اسمٰعیل کو پانی دیا اور اسمٰعیل آقا نے پانی لے کر میرے منھ پر چھینٹے مارے۔ میں نے خود کو اس کے بازوؤں سے چھڑانے کے لیے بہت زور لگایا لیکن نہ چھڑا سکا۔ کچھ لوگ اور بھی زور لگا رہے تھے کہ میں بھاگ نہ نکلوں۔ میں نے ایک بار پھر اونچی آواز میں چیخ کر کہا، “حسنی گر پڑا! کنویں میں گر پڑا! حسنی! حسنی ! “ اسمٰعیل آقا نے اپنا بڑا سا ہاتھ میرے منھ پر رکھ کر مجھے چپ کرا دیا اور کھینچتا ہوا میرے جھونپڑے میں لے گیا۔ حسنی کے بابا کے سامنے سے گزرتے ہوے میں نے اس کی طرف دیکھا اور ہاتھ سے کنویں کی سمت اشارہ کیا۔ اس نے میری طرف نہ دیکھا۔ خالی نظروں سے اپنے سامنے تکتا رہا۔ جب میں جھونپڑے میں داخل ہوا تو اسمٰعیل آقا نے کہا، “چپ ہو جاؤ بچے! سب جانتے ہیں کہ حسنی تمھارا دوست تھا۔ تم دونوں میں بہت یاری تھی۔ مگر اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ قضا اور قدر کے فیصلوں میں کسی کا کیا زور۔”

میں نے ایک بار پھر چیخ کر کہا، “ابھی گرا ہے! ابھی گرا ہے! ابھی گرا ہے!”

میں چاہتا تھا کہ دوڑ کر جھونپڑے سے باہر نکل جاؤں مگر نہ کر سکا۔ بابا نے کہا، “اب کیا کر سکتے ہیں؟ بولو؟ کیا کر سکتے ہیں؟”

اسمٰعیل آقا نے کہا،”یہ اپنے ہوش میں نہیں ہے۔ ہاتھ پیر باندھ دینے چاہییں۔”

انھوں نے میرے ہاتھ پیر کس کر باندھ دیے۔ میں نے پھر چیخنا شروع کیا۔ بابا نے کہا، “اس کے چیخنے کا کیا علاج کریں؟”

اسمٰعیل آقا نے کہا، “منھ بھی باندھ دیتے ہیں۔”

میرے منھ پر بھی کپڑا باندھ کر مجھے ایک کونے میں ڈال دیا گیا۔ بابا ہاتھ مل رہا تھا اور کہتا جا رہا تھا، “کیا کریں، خدایا! خداوندا، اگر یہ اسی طرح رہا تو کیا کریں گے!”

اسمٰعیل آقا نے کہا، “پریشان مت ہو۔ ابھی کالے خیموں والے آخوند سے کہتے ہیں کہ اس کے لیے دعا لکھ دے۔ پھر اس کی حالت ٹھیک ہو جائے گی۔”

اُستا حبیب بولا، “اگر ٹھیک نہ ہوا تو شاہ عبدالعظیم لے چلیں گے۔”

بابا متواتر رو رہا تھا اور بے چینی سے چکر لگاتے ہوے کہے جا رہا تھا، “یا امامِ زماں! یا امامِ زماں! یا امامِ زماں!”

اسمٰعیل آقا نے کہا، “بہتر ہے اسے کچھ دیر کے لیے تنہا چھوڑ دیں۔ شاید حالت بہتر ہو جائے۔”

وہ سب جھونپڑے سے باہر چلے گئے اور دروازہ بند کر دیا۔ جماعت کے صلوات پڑھنے کی آواز دوبارہ بلند ہوئی۔ اور پھر آخوند کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی جو دوبارہ روضہ ٔ قاسم پڑھ رہا تھا۔

(فارسی عنوان: “بازی تمام شد”)

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 12: رنگوں کی دنیا میں (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” آپ نے بمبئی میں ‘مایا مچھندر’ دیکھی۔ اب بتائیے، وہ جیسی ہے ویسی ہی پیش کی گئی تو کیا لوگ اسے پسند کریں گے؟” فتےلال جی بڑی سنجیدگی سے سوال کر رہے تھے۔ دوسرے دن سویرے، داملے جی، فتےلال جی، دھایبرجی وغیرہ سب لوگ ہمارے ‘پربھات’ کے کارخانے میں بحث کر رہے تھے۔ تب بمبئی میں میرے کئے گئے فیصلے پر فتے لال جی نے شبہ ظاہر کیا۔ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر آج ہی یہ بےیقینی کیوں؟

میں نے تڑاخ سےجواب دیا، “آپ کی رائے بھی گووندراؤ اور بابوراؤ جیسی ہی ہے تو جائیے، بمبئی تار دیجیے اور ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز آگے دھکیل دیجیے۔ اس کی کاپی یہاں واپس منگا لیجیے۔ اس میں جو بھی تبدیلی کرنی ہو، شوق سےکیجیے۔” سبھی چپ رہے۔ کسی نے کوئی بات نہیں کی۔

اس واقعے کے بعد دوسرےدن داملےجی اور فتےلال جی کے واقف ایک سجن بابوراؤ ٹول کسی سادھو بابا کو کمپنی میں لے آئے۔ ان باباجی کی عظمت کی انہوں نے تعریفیں کیں۔ ان کا نام تھا دادامہاراج۔ سبھی ساجھےدار ان کے چرن چھونے کے لیے لپکے۔ میں دور سے ہی تماشا دیکھتا رہا۔

بابوراؤ ٹول میرے پاس آ کر کہنے لگے، “شانتارام بابو، آگے بڑھیےاور آپ بھی چرن چھو آئیے۔ آپ کےمن میں جو بھی سوال ہو، پوچھ لیجیے۔”

“لیکن مجھے ان سے کوئی سوال نہیں پوچھنا ہے،” میں نے کہا۔

“اجی آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ وہ آپ کی کمپنی میں آئے ہیں۔ کمپنی میں آنے والے دوسرے لوگوں سے جس طرح ملتے ہو، نمسکار کرتے ہو، ویسا بھی نہیں کر سکتے آپ؟ محض ایک رسمی طور پر تو ملیے نا ان سے۔”

ٹول جی کی دنیاداری کچھ تو سمجھ میں آ گئی۔ ایک دم ہچکچاہٹ سے میں ان سادھو مہاراج کے سامنے گیا اور کھڑے کھڑےہی میں نے انہیں پرنام کیا۔

یہ دیکھ کر کہ پھربھی میں کچھ بول نہیں رہا ہوں، ٹول صاحب نے سادھو بابا سے کہا، “شانتارام بابو جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی پربھات فلم کمپنی مستقبل میں کیسی چلےگی؟”

دادا مہاراج نے پوری سنجیدگی سے کہا، “انہوں نے ٹھیک سے چلائی تو ٹھیک ہی چلے گی۔”

مجھے اس بچگانے جواب پر زور کی ہنسی آ رہی تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنی ہنسی کو روکا۔

کچھ دیر بعد دادا مہاراج چلے گئے اور تب تک روکی رکھی میری ہنسی زور سے ابھر آئی۔ میں نے ہنستے ہنستے کہا، “بھئی خوب رہی! کہتے ہیں، ہم نے ٹھیک چلائی تو کمپنی ٹھیک چلےگی! لیکن یہ بتانے کے لیے ان سادھو بابا کی کیا ضرورت ہے؟”

میرا دادا مہاراج کی اس طرح کِھلی اڑانا دیگر لوگوں کو قطعی نہیں بھایا۔

‘مایا مچھندر’ بمبئی میں ریلیز ہو گئی اور اس نے بازی جیت لی۔ لوگوں کو ‘مایا مچھندر’ بہت ہی پسند آئی ہے، یہ خبر وضاحت سے دینے والا بابوراؤ پینڈھارکر کا تار آیا۔ فلم کے بارے میں میری چھٹی حس ایک دم صحیح ثابت ہوئی۔ بابوراؤ پینڈھارکر کولہاپور واپس آئے اور انہوں نے بِنا کچھ کہے میری پیٹھ تھپتھپائی۔ جن کی انگلی تھام کر میں نے اس فلمی دنیا میں پہلا قدم رکھا تھا، ان سے اس طرح خاموش شاباشی پا کر میں نے اپنے آپ کو خوش قسمت مانا۔

یہ فلم نہ صرف بمبئی میں، بلکہ سارے دیش، سبھی جاتی کے لوگوں کو بہت ہی پسند آئی۔ اس کا اینڈ دیکھ کر تو لوگ گدگدا جاتے تھے۔

گورکھ ناتھ اپنی غار میں واپس آتا ہے اور دیکھتا کیا ہےکہ اس کے گروجی مچھندر ناتھ وہیں سمادھی جمائے بیٹھے ہیں! تذبذب میں مبتلا گورکھ اپنے گروجی سے پوچھتا ہے، “ابھی کچھ لمحے پہلے تو آپ اس ستری (عورت) ریاست میں تھے اور ابھی آپ یہاں ہیں۔ تو سچ کیا ہے؟ وہ یا یہ؟”

گورکھ ناتھ کے اس سوال کا معقول جواب مکالمہ لکھتے وقت ہم میں سے کوئی نہیں کھوج پایا تھا۔ ہمارے ڈائیلاگ رائٹر نے اس پر لمبا بھاشن لکھ مارا تھا، لیکن اسے سننے کے لیے ناظرین تھئیٹر میں ہرگز نہ رُکتے۔ ہم سب نے کافی سوچا لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ آخر فلم میں گورکھ ناتھ کے اس سوال کو ویسا ہی لاجواب چھوڑ کر ہم لوگ باقی شوٹنگ میں جُٹ گئے۔ سوچا، شاید آگے چل کر اس کا جواب اپنے آپ اُبھر آئے گا۔

ساری فلم کی شوٹنگ پوری ہو گئی اور اب اس آخری سین کی شوٹنگ کا دن آ گیا۔ اب تو گورکھ ناتھ کےاس سوال کاجواب مزید ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ کیا کریں، کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔ آخر ہار کر میں نے مچھندر ناتھ کے منھ سے ‘چت بھی میری، پٹ بھی میری’ سٹائل میں گول مول جملہ کہلوایا :

گورکھ پوچھتا ہے،”گروجی، یہ سچ ہے، یا وہ سچ ہے؟”

“بیٹا گورکھ ناتھ، یہ بھی سچ ہے اور وہ بھی سچ ہے۔ تمہارے لیے یہ سچ، وہ مایا۔” مچھندر ناتھ بڑی گمبھیرتا سے جواب دیتا ہے۔ یہ جملہ مچھندر ناتھ سے کہلوایا۔ تب سوچا بھی نہیں تھا کہ میں نے کوئی بڑی بات کہلوائی ہے۔ لیکن ناظرین نے اس جملے میں مہان فلسفیانہ نظریہ پایا۔ کئی جذباتی ناظرین نے خط بھیج کر مجھےدلی مبارکباد دی کہ اتنا گہرا،سنجیدہ فلسفیانہ نظریہ میں نے بالکل آسان الفاظ میں آسانی کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا۔

لگ بھگ اسی وقت، ‘پربھات’ کی طرف سے ہم نے ‘سیتا کلیانم’ نامی تمِل فلم بنائی۔ اس کی ڈائریکشن بابوراؤ پینڈھارکر نےکی۔ اس کام کرنے کے لیے سبھی لوگ مدراس سے لائے گئے تھے۔ کچھ ٹیکنیشین بھی وہیں سے آئے تھے۔ لیکن پروڈکشن ‘پربھات’ کی ہی تھی۔ یہ فلم مدراس صوبے میں کافی مقبول ہو گئی تھی۔

‘مایا مچھندر’ کا کام شروع ہونے سے کچھ دن پہلے اگفا کمپنی کے ہندوستان میں مشہور لائیڈن اور ریگے کولھاپور آئے تھے۔ رنگین فلم بنانے کا ایک نیا بائی پیک سسٹم انہوں نے تیار کیا تھا۔ انہوں نےاس سسٹم کی جانکاری دینے والی مشینری ہمیں دی۔ اس بائی پیک سسٹم میں کیمرے میں ایک ہی وقت میں نیگیٹو کے دو فیتے چلانے پڑتے تھے۔ ایک نیگیٹو نارنجی رنگ کے لیےاور دوسری نیلے رنگ کے لیے۔ دونوں نیگیٹوز کو ایک ہی ساتھ فلمانا پڑتا تھا۔ کیمیائی عمل تو بلیک اینڈ وائٹ نیگیٹو پر جیسا ہوتا ہے، ویسا ہی کرنا پڑتا تھا۔ بعد میں ایک ہی پازیٹو فلم پر ایک طرف نارنجی اور دوسری جانب نیلے کے نیگیٹو کے پرنٹ اس طرح لینے پڑتے تھے اور اس طرح ریلیز کا پرنٹ تیار کیا جاتا تھا۔ اس سسٹم میں پیلا رنگ آزاد روپ میں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ نارنجی رنگ میں پیلی چمک آ جاتی تھی، اتنا ہی پیلا رنگ موجود ہوتا تھا۔ اس بائی پیک سسٹم کا استعمال کر جرمنی میں فلمایا ایک فلم رول بھی ہم نے پردے پر دیکھا۔ اس وقت تو ہم سب کو وہ بہت ہی پسند آیا۔

بھارت میں پہلی رنگین فلم بنانےکا یہ موقع نہ کھونے کا ہم نے فیصلہ کیا۔ کیمرے میں جڑواں فلم چڑھانے کا انتظام کرنے اور جرمنی سے رنگین نگیٹو آنے میں دو تین مہینے کا وقت لگنے والا تھا، لہٰذا اس بیچ خالی ہاتھ بیٹھے رہنے کے بجاے ہم لوگوں نے ایک فلم بنانے کا سوچا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی کی ‘سنگھ گڈ’ خاموش فلم کافی مقبول ہو چکی تھی۔ اسی خاموش فلم کو بولتی فلم میں بدلنے کا ہم لوگوں نے ارادہ کیا۔ مشہور مراٹھی ناول نگار ہری نارائن آپٹے کے ناول ‘گڈ آلا، پن سنگھ گیلا’ کے مکمل حقوق ہم نے خرید لیے۔ اس فلم کو صرف مراٹھی میں ہی بنانے کا ہم نے فیصلہ کیا۔

اسی وقت کولہاپور میں مراٹھی ادبی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس میں ایک مشاعرے میں بیٹھے بیٹھے میرے من میں ایک وچار آیا۔ میں نے سبھی شاعروں کو اپنی کمپنی میں محبت سے مدعو کیا۔ کیشو کمار عرف اترے، شاعر یشونت، گریش (مراٹھی کے مشہور ناٹک کار وسنت کانیٹکر کے پتاجی)، سوپان دیو چودھری، مایدیو، سنجیونی مراٹھے وغیرہ مشہور شاعر ہمارے سٹوڈیو آئے۔ انہیں کیمرے کے سامنے کھڑا کر ہم نے ان سے ان کی کچھ نظمیں پڑھوائیں، اس کو فلما لیا اور ساؤنڈ ریکارڈنگ بھی کر لی۔ لیکن انہیں پردے پر جوں کا توں پیش نہیں کیا۔ ہمارے کلاکاروں سے مناسب بھیس میں ان نظموں کے مصرعوں کے مطابق خاموش اداکاری (مائم) کرائی۔ مثال کے لیے: شاعر یشونت کی نظم ‘نیاہاریچا وکھت جھالا میترنی بگی بگی چال’ پر ایک کسان لڑکی باجرے کی روٹیوں کی ٹوکری سر پر لیے اپنے پتی کو ناشتہ کرانے کے لیے بڑی لپک لچک کر کھیت کی طرف جا رہی ہے، ایسا سین ہم نے فلمایا۔ اسی طرح اترےکی ‘پرٹا، ییشل کدھی پرتون’- طنزیہ نظم پر ایک دھوبی اپنے گدھے پر میلے کپڑوں کی گٹھری لادے جا رہا ہے، ایسا منظر ہم نے فلمایا۔

اس مشاعرے کی ڈاکیومنٹری ہم نے ‘سنگھ گڈھ’ فلم کے ساتھ پیش کی۔ ناظرین نے اس نئے آئیڈیا کا اچھا استقبال کیا۔ نظم لکھتے وقت اہلِ نظر کے سامنے جو متاثرکن سین تھا، اسے فلمی پردے پر سچ دیکھ کر بہت لطف حاصل ہونے کی بات کی سبھی شاعروں نےخط لکھ کر ہمیں اطلاع دی۔

‘ایودھیا کا راجا’ ہماری پہلی ہندی بولتی فلم تھی۔ اسے استثنیٰ مان لیا جائے تو ہماری سبھی خاص فلمیں اچھی طرح کامیاب رہی تھیں۔ کمپنی میں خوشی اور جوش ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لیکن اب ہمیں ایک کمی ستانے لگی تھی۔ بمبئی میں سبھی سٹوڈیوز میں آج کل بجلی کے طاقتور بلبوں کی تیز روشنی میں شوٹنگ ہونے لگی تھی۔ ہم نے کولھاپور کی بجلی کمپنی کے اہلکاروں کے پاس جا کر پوچھ تاچھ کی کہ کیا فلم میکنگ کے لیے ضروری بجلی وہ ہمیں دے سکیں گے؟ لیکن انھوں نے ٹکا سا جواب دیا، “دوسرے زیادہ غیرمعمولی کاموں کے لیے بجلی کا استعمال کرنا ہے، اس لیے فلم کے لیے بجلی دینا ممکن نہیں ہو گا۔”
ہم سب کے سامنے فیصلہ کن مشکل منھ کھولے کھڑی تھی: سورج کی کرنوں کو منعکس کرنے کے پرانے طریقے کے مطابق ہی شوٹنگ کرنے کے لکیر کے فقیر بنے رہیں، یا آج اور سب لوگوں کی طرح شوٹنگ کے لیے بجلی کا استعمال کرنا شروع کریں؟

دنیا سے پیچھے رہنا ہمارے لیے ناقابل برداشت تھا۔ من میں وچار آنے لگا کہ کولہاپور میں اگر بجلی کی سہولت میسر نہیں تو کیوں نہ ایسی جگہ چلا جائے جہاں وہ میسر ہو؟ بس، اپنی فلم کمپنی کو پُونا، بمبئی جیسے کسی شہر میں لے جانے کا ارادہ پکا ہونے لگا۔

اور اسی وقت ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے ہم نے اپنی ‘پربھات’ کمپنی کو دوسرے شہر لے جانے کا ارادہ پکا کر ہی ڈالا۔ بات یہ ہوئی کہ ایک دن کولہاپور کے راجا، راجارام مہاراج، ان کی بہن اکا صاحب مہاراج، ماتاجی آئی صاحب مہاراج وغیرہ، راج خاندان کے لوگ سٹوڈیو میں ہماری شوٹنگ دیکھنے کے لیے آئے۔ جاتے جاتے مہاراج نے مجھے راج محل آ کر ملنے کو کہا۔

میں راج محل پہنچا۔ مہاراج نے ہماری کمپنی کا حال پوچھا۔ ‘پربھات’ کے سبھی ساجھے داروں کے نام پوچھے۔ بعد میں باتوں باتوں میں انھوں نےکہا، “شانتارام بابو، یہ تو بہت ہی اچھی بات ہےکہ کمپنی اچھی طرح چل رہی ہے، لیکن آپ کےساجھےداروں میں دو بامن ہیں، داملے اور کُلکرنی۔ بامن جاتی کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے فائدے کے پرے دیکھ نہیں سکتی۔ آپ سب لوگ اوپر اٹھنے کی کوشش کیے جا رہے ہیں، تب تک تو یہ لوگ آپ سے ٹھیک طرح پیش آئیں گے۔ لیکن آپ کی پانچوں انگلیاں گھی میں آتے ہی آپ کا سر کڑاہی میں ڈالنے سے یہ لوگ کبھی نہیں چوکیں گے!”

مہاراج کے برہمن بیزار رویے کے بارے میں مَیں نے سنا تو تھا، اب بات سامنے آ گئی تھی۔ انہوں نے میرےساتھیوں کے بارےمیں جو نامناسب باتیں کہی تھیں، مجھے قطعی نہیں بھائیں۔ میں نےانھیں صاف کہہ دیا، “داملےجی اور کلکرنی جی برہمن بھلے ہی ہوں، آپ بتاتے ہیں، ویسے ہرگز نہیں ہیں!”

“میری بات آپ کو آج نہیں اچھی لگی شاید، لیکن کچھ سال بعد آپ خود تجربہ کریں گے اسے!”

مہاراج کی باتیں سن کر میرے من میں شُبہ جاگا کہ کہیں یہ ہم لوگوں میں پھوٹ ڈالنے کی تو کوشش نہیں کر رہے ہیں؟

میں کمپنی میں واپس آ گیا۔ راج محل میں ہوئی ساری باتیں ساتھیوں کو بتا دیں اور اپنا پیغام بھی واضح کر دیا۔ ایسی حالت میں مہاراج نے چاہا تو وہ ہماری کمپنی کو چٹکیوں میں تباہ کر سکتے تھے!

لہٰذا ہم سب نے مکمل باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا کہ کولھاپور سے کمپنی کا بوریا بستر اٹھا کر بمبئی کےپاس پُونا شہر میں پربھات فلم کمپنی کو نئے سرے سے شروع کیا جائے۔

ڈھیلاپن اور سستی ہم لوگ جانتے ہی نہیں تھے۔ سٹوڈیو کے قابل جگہ کی کھوج کے لیے ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر کو پُونا بھیجا۔ انہوں نے ڈیکن جمخانہ کے آگے ایرنڈونا رستے پر سردار ناتو کی ایک کافی بڑی کھلی جگہ پسند کی۔ جگہ لگ بھگ آٹھ ایکڑ تھی۔ بابوراؤ نے زمین کا سارا حال ہمیں لکھ بھیجا۔ جگہ پسند کرنے کے لیے ہم سب کو انھوں نے پونا بلا لیا۔

پُونا میں اس جگہ پر پہنچتے ہی ہم بہت مطمئن ہوئے۔ ‘پربھات’ کے قیام کے وقت سے ہی من میں ’پربھات نگر’ بسانے کی جو بات گہری پَیٹھ چکی تھی، اسے پورا کرنے کے لیے یہ جگہ بہترین تھی۔ پھر اس کے آس پاس بھی لگ بھگ سو دو سو ایکڑ زمین خالی پڑی تھی۔ آگے چل کر اسے بھی خریدا جا سکتا ہے اور پربھات نگر بسانے کا سپنا سچ کیا جا سکتا ہے، یہ وچار مجھ پر حاوی ہو گیا اور بِنا بھاؤتاؤ کیے ہی ہم نے وہ زمین خرید لی۔ پُونا میں ایک انجینئر تھے پَوار۔ انہیں سٹوڈیو اور دوسرے شعبوں کی پوری جانکاری دی اور اس کے مطابق پلان بنانے کے لیےکہا۔ ان کےکام پر داملےجی دیکھ ریکھ کرنے لگے۔ وہ بیچ بیچ میں پُونا جاتے اور سٹوڈیو کےتعمیری کام پر نظر رکھتے تھے۔

اب تک رنگین فلم کے لیے ضروری ساری مشینری اور سازوسامان، جڑواں نگیٹو وغیرہ ہمیں مل گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انگریزی میں معلوماتی کتابیں بھی آئی تھیں۔ ان سب کو میں نے پورے دھیان سے پڑھا اور ان میں دی گئی ہر بات کا باریکی سے مطالعہ کیا۔ پھر وہ ساری جانکاری میں نے مراٹھی میں دھایبر، فتے لال جی، داملےجی وغیرہ سب کو ٹھیک طرح سے سمجھا دی۔

رنگینی کاخیال کر کمپنی کےکلاکاروں کو پوشاکیں دیں، اور جانکاری کی کتابوں میں دی گئی ہر بات پر ٹھیک ٹھیک عمل کرتے ہوئے تجربے کی خاطر تھوڑی شوٹنگ کی۔ اس جڑواں نیگیٹو پر کیمیکل کا عمل پورا کر رنگین پرنٹ نکالنے کے لیے انہیں جرمنی بھجوا دیا۔

رنگین فلم کے روپ میں ایک نئی ست رنگی دنیا کا علاقہ ہمارے سامنے کھل گیا۔ رنگین فلم کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ کسی قدیم موضوع کو ہی لیا جائے۔ اس لیے ‘کیچک وَدھ’ کی حکایت کو ہم لوگوں نے چنا۔ مہابھارت کی اسی کہانی پر بابوراؤ پینٹر نے ایک فلم ڈائریکٹ کی تھی۔ اس کا مجھ پر بہت اثر پڑا تھا اور اسی لیے میں نے اس علاقے میں قدم رکھا تھا۔ اس کہانی کے ذریعے سے قدیم سیاسی سوالوں کو ڈھنگ سے پھر ایک بار عوام کے سامنے ابھارا جا سکتا تھا۔ آدرشی فلم بنانے کے میرے اپنےسٹائل میں بھی یہ درست بیٹھتا تھا۔ ہم نے بھی اس فلم کا نام ‘سیہ رنگھری’ رکھنا ہی طے کیا۔

میں نے ایڈیٹنگ شروع کی۔ رنگین پرنٹ کے لیے فلم کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے، ٹھیک سے معلوم نہ ہونے کے کارن میں نے ہر سین کی علیحدہ ایڈیٹنگ کر اسے چھوٹی چھوٹی گراریوں میں باندھا۔ اس طرح کئی گراریاں بن گئیں۔ ہر چھوٹی گراری کا ہماری تجربہ گاہ میں ہی بلیک اینڈ وائٹ پرنٹ تیار کیا اور انہیں جوڑ کر ہم نے فلم کو تجرباتی روپ میں پردے پر دیکھا۔ ایک ہی رنگ کی ہونے کے کارن اس فلم پٹی پر نقش سین پردے پر صاف دکھائی نہیں دیے، لہٰذا فلم کا کُل اثر دیکھنے والوں پر کیا پڑے گا، ہم لوگ ٹھیک سے بھانپ نہ سکے۔

اب اس جڑواں نیگیٹو سے رنگین کاپی نکالنے کا وقت آ گیا تھا۔ آج تک اس کیمیائی عمل کا سارا کام داملےجی دیکھا کرتے تھے، لہٰذا اس کام کے لیے جرمنی جانےکی ذمےداری انھی کو سونپی گئی۔ وہ سفر کی تیاری میں جُٹ گئے۔ ان کا پاسپورٹ بن کر آ گیا۔

لیکن ایک دن سویرے ہی داملے جی میرے پاس آئے اور بولے، “شانتارام بابو، جرمنی آپ ہی جائیے۔ ادھر انگریزی میں باتیں کرنا مجھ سے ٹھیک سے نہیں ہو پائے گا!”

میں نے ہنس کر کہا، “میں بھی کون بچپن سے انگریزی بول پاتا ہوں؟ ویسے انگریزی بات چیت آپ کی بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کافی کچھ۔۔”

فیصلے کے مطابق ان کو ہی جرمنی جانا چاہیے، ایسی درخواست میں نے کافی کی، لیکن داملے جی مانتے ہی نہیں تھے۔ شاید انھوں نے نہ جانے کا من ہی من فیصلہ کر رکھا تھا۔ آخر مجھے ہی جرمنی جانے کی تیاری کرنی پڑی۔

جرمنی پہنچنے پر جہاں تک ہو سکے بھارتی لباس میں ہی رہنے کے ارادے سے میں نے شیروانیاں، چوڑی دار پاجامے، طرح طرح کی ٹوپیاں وغیرہ کپڑے بنوا لیے۔ ماں، باپو، وِمل، میرےدونوں بچے، پربھات کمار اور دو برس پہلے جنمی لڑکی سروج میرے ساتھ بمبئی آئے۔ ان کے علاوہ پربھات فلم کمپنی میں میرے ساتھی بابوراؤ پینڈھارکر، ونائک، میرے تینوں چھوٹے بھائی کیشو، رام کرشن اور اودھوت وغیرہ سب لوگ بھی بس سے بمبئی آ گئے۔ بڑا بھائی کاشی ناتھ دادا بمبئی میں ہی رہتا تھا۔ وہ، اس کے گھر کے لوگ، بابوراؤ پینڈھارکر، تورنے اور باقی مِتر بھی بندرگاہ پر مجھے الوداع کہنے آ گئے تھے۔ ‘سیرندھری’ کی نگیٹو لے کر میں نے ‘لائڈ ٹرسٹنو’ کمپنی کے جہاز پر پاؤں رکھا۔ میں باہر ڈیک پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ بندرگاہ کے ساحل پر سارے خاندان والے کھڑے تھے۔ وہ سبھی ساتھی، متر ہاتھ ہلا ہلا کر مجھے الوداع کہہ رہے تھے۔

میں نے بھی اپنی جیب سے رومال نکال کر ہلایا۔ وِمل ہاتھ ہلا رہی تھی اور پلو سے آنکھیں بھی پونچھ رہی تھی۔ وِمل کے پاس ہی وِنائک کھڑا تھا۔ وہ بھی پاگل جیسا رو رہا تھا۔ دھیرج اور سنجیدہ سوبھاؤ کے بابوراؤ بھی بھر آئے آنسو رومال سے دھیرے سے پونچھ رہے تھے۔ میرے بچے پربھات کمار اور سروج تذبذب میں سارا حال دیکھ رہے تھے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ اپنے کام وام میں بہت زیادہ مصروف رہنے کے کارن میں نے بچوں کی طرف خاص کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔ نتیجتاً وہ میرے ساتھ کوئی خاص ہلے ملے نہیں تھے۔ پھر بھی اپنے دادا کو ‘با’ کہا کرتے تھے)، وہ بھی رونے لگے۔ میری بھی آنکھیں بھر آئیں۔

جہاز ساگر ساحل کو چھوڑ کر گہرے پانی میں دور دور جانے لگا۔ ساحل پر کھڑے سبھی مرد عورت چھوٹے چھوٹے دکھائی دینے لگے اور آخر میں اوجھل ہو گئے۔ تب تک میں رومال ہلا رہا تھا، اب میں نے رومال نیچے کیا اور جہاز کی ریلنگ پکڑ کر میں ڈیک پر کھڑا بندرگاہ کی سمت ایک ٹک دیکھتا گیا۔ میں سب کو چھوڑ کر کہیں دور چلا جا رہا ہوں، ایسا نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سب لوگ مجھے اکیلا چھوڑ کر کہیں دور چلے جا رہے ہیں، اور میں ایک دم اکیلا رہ گیا ہوں۔ پتا نہیں کتنی دیر میں یوں ہی ڈیک پر کھڑا کھڑا کسی غیرموجود خلا میں کھوئی کھوئی نظروں سے کیا دیکھتا رہا۔۔۔۔

جہاز پر کچھ بھارتی لوگ تھے۔ ہم نے آپس میں تعارف کر لیا اور چونکہ کرنے کے لیے اور کچھ بھی نہیں تھا، گپیں لڑانے بیٹھ گئے۔ کئی بار جہاز پر کچھ کھیل ہوتے تھے۔ ہم سب لوگ ان میں شامل ہوتے۔ جہاز پر گھڑدوڑ بھی ہوتی۔ لیکن یہ گھوڑے ایک فٹ اونچے اور لکڑی کے بنے ہوتے تھے۔ میں نے گھوڑوں کی اس ریس میں خود پیسہ لگا کر کبھی حصہ نہیں لیا۔ میں صرف ناظر بن کر کھیل اور لوگوں کا تماشا دیکھا کرتا تھا۔ کئی بار یہ سب لوگ تاش کھیلنےجم جاتے۔ تاش میں میری تو قطعی کوئی مہارت نہیں تھی۔ گدھاکوٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی ہمیشہ گدھا بننے لائق ہی میرا تاش کا علم تھا! ایک بار ان سب لوگوں نے مجھے بِرج کھیلنے کا آگرہ کیا۔ مجھے بِرج کے معمولی رولز پتا تھے اور ان کے بل پر میں بِرج کھیلنے ایسے بیٹھا جیسے بڑا ماہر ہوں۔ لیکن بعد میں میرے نوسِکھیا کھیل کی وجہ سے میرا پارٹنر مجھ پر بہت بگڑ پڑا۔ میں نے تاش کے پتے پھینک دیے اور چپ چاپ ایک اور چل دیا۔

سفر میں تین ہفتے بیت گئے اور ہمارا جہاز بندرگاہ پر جا لگا۔ مجھے لینے کے لیے امریکن ایکسپریس کمپنی کا آدمی آیا ہوا تھا۔ اس نے میرے کپڑوں کا بڑا بیگ، نگیٹو کے صندوق وغیرہ سامان برلن پہنچانے کا بندوبست کیا۔ پھر بھی میرے ساتھ دو تین بیگ تھے۔ وہاں سے ٹرین سے میں برلن پہنچا۔ اسٹیشن پر سامان اتروانے کے لیے میں قلی کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن وہاں کوئی قلی وُلی نہیں آیا۔ آخر میں نے خود ہی اپنا سامان اتارا۔ اپنے بیگ بھی میں نے اٹھائے ہی تھے کہ اگفا کمپنی کے ڈاکٹر پیٹرسن مجھے لِوا لینے کے لیے وہاں آ گئے۔ پیٹرسن اگرچہ جرمن تھے، انگریزی اچھی بول لیتے تھے۔

میرے ٹھہرنے کاانتظام ایک بورڈنگ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ بورڈنگ ہاؤس کو وہاں ‘پانسیوں‘ (Pension) کہتے ہیں۔ جس پانسیوں میں ٹھہرایا گیا تھا وہ پہلی جنگ عظیم میں گزر گئے ایک فوجی کی بیوہ کا تھا۔ پیٹرسن نے اس عورت کو میرے آرام کا دھیان رکھنے کے لیے کہا۔ جاتے وقت انھوں نے کہا، “میں کل سویرے یہاں آؤں گا۔ یہاں سے ہم لوگ اُفا سٹوڈیوز کی افِیفا لیبارٹری میں جائیں گے۔ وہاں آپ اپنے نگیٹو کی ایڈیٹنگ کا کام شروع کیجیے۔” ڈاکٹر پیٹرسن جانے کو تیار ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا، “آف ویدرزہن!” میں کچھ سمجھ نہیں پایا۔ پیٹرسن نے ہنس کر کہا، “ہم جرمن لوگ ایک دوسر سے وداع ہوتےوقت ‘گڈ بائی’ نہیں کہتے، آف ویدرزہن کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوتا ہے، امید ہے پھر ملیں گے۔” اس کے بعد میں نے بھی انھیں ” آف ویدرزہن” کہا۔

کل سے کام شروع کرنا ہے، لہٰذا کام چلانے لائق جرمن زبان کے لفظ تو معلوم ہونے ہی چاہییں، یہ سوچ کر بمبئی سے جرمن انگریزی لغت خرید لایا تھا، اسے میں نے اپنے بیگ سے نکالا اور پڑھنے بیٹھ گیا۔ لیکن وہ تھی نری لغت، کوئی ناول تھوڑے ہی تھا! نہ کہانیوں کی کتاب تھی! دو چار لفظوں کو یاد کرتے کرتے میری آنکھیں جھپکنے لگیں۔ آخر، کل صبح اٹھتے ہی ‘ناشتہ’ لفظ کی ضرورت پڑےگی، سوچ کر میں بریک فاسٹ لفظ کا جرمن متبادل لغت میں ڈھونڈنے لگا۔ جرمن زبان میں بریک فاسٹ کو ‘فرشسٹک’ کہتے ہیں۔ لفظ کو رٹتے رٹتے میں گہری نیند سو گیا۔

سویرے پیٹرسن آئے۔ ان کے ساتھ میں افیفا لیباریٹری جانے کے لیے نکلا۔ راستے میں کچھ جرمن نوجوانوں کے دستے بڑے جوش خروش کے ساتھ حرکت کرتے جا رہے تھے۔ میں نے جوش سے پیٹرسن سے پوچھا، “یہ کون لوگ ہیں؟”

“نازی نوجوان ہیں”، انہوں نے بتایا۔ اس وقت جرمنی پر ہٹلر کے نازی وچاروں کا اثر پڑنے لگا تھا۔ ان نوجوانوں کی شرٹ کی آستین پر لال رنگ کے سواستِک بنے پٹّے تھے۔ ہاتھوں میں بندوقیں نہیں تھیں، لکڑی کے ڈنڈے تھے۔ وہ سارا منظر دیکھ کر من میں ماضی کی جنگ عظیم کی یاد تازہ ہو گئی۔ من بہت بےچین ہو گیا۔ ہماری گاڑی آگے نکلی۔ صاف ستھرا اور ایک دم سڈول برلن شہر دیکھ کر آنکھیں نہال ہو جاتی تھیں۔ ہم لوگ لیبارٹری پہنچے۔

وہاں جاتے ہی متعلقہ افسروں سے پیٹرسن نے میرا تعارف کرایا۔

بعد میں ایڈیٹنگ کے لیےمخصوص میرا کمرہ مجھے دکھایا گیا۔ میری سرپرستی میں کام کرنےجا رہی مددگار سے میرا تعارف کرایا گیا۔ یہ تمام شروعاتی رسمیں پوری کر لینے کے بعد میں نے فلم کے پہلے حصے کی جڑواں نگیٹو کی ایڈیٹنگ شروع کی۔ شام تک میں پہلی گراری تیار کر لوں تو ایک ہفتے بعد مجھے رنگین کاپی کا رزلٹ دیکھنے کو ملنے والا تھا۔

میں پہلے نمبر کی گراری کی نگیٹو کاٹ کر دیتا جا رہا تھا۔ میری مددگار جینی پاس میں بیٹھ کر جوڑوں کو ٹھیک ڈھنگ سے ایڈٹ کرتی جا رہی تھی۔ اسے کام کو سمجھا کر بتانا میرے لیے کٹھِن ہوتا جا رہا تھا۔ اسے انگریزی معمولی آتی تھی۔ اس دن انگریزی جرمن لغت اپنے ساتھ لانا میں بھول گیا تھا، لہٰذا کئی باتیں اشاروں کے سہارے ہی اسے سمجھانے کی کوشش مجھے کرنی پڑ رہی تھی۔ پہلی جڑواں گراری تیار ہو جانے پر میں نے جینی سے سامنے والی گراری پر نارنجی اور پیچھے والی پر نیلے رنگ کی فلم (Leaders) جوڑ نے کے لیے کہا۔ کیمیائی عمل کرنے والوں کو معلومات دینے کے لیے ایسا کرنا پڑتا تھا۔ یہ بائی پیک سسٹم جرمنی میں بھی نیا تھا۔ نتیجتاً جینی کو بھی وہ معلوم نہیں تھا۔ میں اسے سمجھانے لگا کہ نگیٹو کی سامنے والی گراری کون سی ہے اور پیچھے والی کون سی۔ “دِس از فرنٹ نگیٹو، دس از بیک نگیٹو۔”

لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ میرا منھ تاکتی رہی۔ پھر اسی نے پوچھا، “دِس واٹ؟”

میں نے اسے پھر وہی بات سمجھائی۔

اس نے ‘اب سمجھ گئی’ کی ادا سے دونوں گراریاں ہاتھوں میں لیں اور ایک کو آگے کرتی ہوئی بولی، “دِس؟”
میں نے کہا، “فرنٹ نگیٹو” اور فوراً ہی دوسری گراری کی طرف انگلی دکھا کر اسے بتایا، “بیک نگیٹو۔”
وہ الجھن میں پڑ گئی۔

میں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، “دیکھو، اب تم میرے ‘سامنے’ کھڑی ہو” اور میں نے اپنے سینے پر انگلی رکھ کر ’میرے‘ لفظ پر زور دیا۔ میں آگے اور کچھ بولنے ہی والا تھا کہ جینی بول پڑی، “اوہ!” وہ ایک دم خوش دکھائی دی اور اسی خوشی خوشی میں جرمن بھاشا میں ‘اب سمجھ گئی’ جیسا کچھ بول گئی۔ پھر اس نے میرے سینے پر انگلی رکھ کر بڑے ٹھاٹ سے کہا، “یو مین” اور وہی انگلی پھر اپنی چھاتی پر رکھ کر بولی، “آئی گرل۔”

میں نے اپنا سر پکڑ لیا اور کہا،”اس کا مجھے پتا ہے!”

اب اس کو ‘سامنے’ اور ‘پیچھے’ لفظوں کا مطلب جرمن زبان میں کس طرح سمجھاؤں، میرے سامنےمسئلہ بن گیا۔ میں نے پھر کوشش شروع کی۔ جینی کے پیچھے کھڑا ہو کر میں نے اس سے پوچھا، “اب بتاؤ، تم کہاں کھڑی ہو اور میں کہاں کھڑا ہوں؟”

“زمین پر،” اس نے میری طرف مڑ کر ہنستے ہنستے جواب دیا۔
تُنک کر میں نے کہا، “نو نو نو!” اور ہر لفظ پر زور دے کر زور سے بتایا،
“یو فرنٹ اینڈ آئی بیک۔” میں نے اس کی طرح ہی ٹوٹی پھوٹی انگریزی کا استعمال کر سمجھانا چاہا۔

لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ کمرے سے باہر گئی۔ میں نے سوچا، شاید انگریزی جرمن لغت لے کر آئے گی۔ لیکن لغت کے بجاے وہ اپنی طرح وہاں کام کرنے والی دو جرمن لڑکیوں کو ساتھ لے آئی۔ میری طرف سے منھ پھیرا اور وہ ان لڑکیوں کو جرمن بھاشا میں زور زور سے کچھ کہنے لگی اور وہ لڑکیاں کِھلکِھلا کر ہنسنے لگیں۔

اب پریشانی میں مَیں پڑا۔

ان میں سے ایک لڑکی آگے آئی اور میری طرف پیٹھ کیے کھڑی جینی کی طرف انگلی دکھا کر بولی، “جینی وہورڈسٹ پرنٹ۔ .پرنٹ۔ یو سٹینڈنگ روکین بیک۔ بیک۔”

میں نے جوش کے ساتھ کہا، “یس۔۔یس۔”

‘سامنے’ اور ‘پیچھے’ ان دو لفظوں کی وجہ سے کھڑا کٹھنائی کا پہاڑ ہم لوگ پار کر چکے تھے۔

دوسرے دن افیفا لیباریٹری جاتے وقت میں نے یاد سے لغت لی۔ اس کی مدد سے میں اور جینی آپس میں تھوڑا بہت بولنے لگے۔ ہم نے اگلے نمبر کی گراری جوڑنے کے لیے لی، لیکن میرا سارا دھیان کیمیکل روم میں تیار کیے جا رہے رنگین پرنٹ کے نتائج پر فوکس ہو گیا تھا۔ ہم نےرنگین فلم کا یہ جو تجربہ ہاتھ میں لیا تھا، اس کی طرف سارا ہندوستان آنکھیں لگائے بیٹھا تھا۔ میرے دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی تھی۔

ساتویں دن سویرے پیٹرسن میرے ایڈیٹنگ روم میں آئے۔ ان کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انھوں نےکہا، “شانتارام، ویری سوری! بیڈ نیوز!”

لمحہ بھر کو ایسا لگا جیسے ساری دھرتی اور آسمان اچانک گول گھوم گئے ہیں۔

کوشش کر کے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے پیٹرسن کی باتیں میں سننے لگا۔ وہ کہہ رہے تھے:

“تمہاری نیگیٹو ٹھیک طرح سے فلمائی نہیں گئی ہے۔ اس میں کافی غلطیاں ہیں اور اسی لیے اس کے رنگین پرنٹ ٹھیک سےنہیں آ پا رہے ہیں۔ اُفا کے خاص کیمیادان ڈاکٹر ولف نے تمھاری نگیٹو کے پرنٹس لینے کے لیے کئی طریقے اپنا کر دیکھ لیے، کئی تجربے بھی کیے، لیکن سب بےسود رہے! آئی ایم سوری مسٹر شانتارام!”

میرا تو گلا سوکھ گیا۔ زبان اندر ہی اندر کھنچتی چلی گئی۔ مشکل سے میں نے جیسے تیسے پیٹرسن سے پوچھا:

“تو کیا ہماری نیگیٹو کے رنگین پرنٹ بنیں گے ہی نہیں؟”

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 11: ان چاہی رانیوں کی گھرگرہستی

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘ایودھیا کا راجا’ کے کس ورژن کو بمبئی میں ریلیز کیا جائے، اس پر ہمارے یہاں کافی بحث چھڑ گئی۔ بمبئی بہت سی زبانوں کا شہر ہے۔ وہاں کے مراٹھی بولنے والے ناظرین بھی ہندی فلموں کو اتنے ہی چاؤ سے دیکھنے جاتے ہیں۔ اس لیے پہلے چار ماہ ہندی ورژن پیش کرنا طےکیاگیااوربعدمیں مراٹھی۔ وہ دن تھا 6 فروری 1932۔

ناطرین تو پہلے شو سے ہی فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کرنے لگے تھے۔ غلاموں کے بازار کے سین میں ہرِیش چندر، تارامتی اور ان کا بیٹا روہِداس ایک دوسرے سےبچھڑ جاتے تھے۔ وہ سین دیکھ کر ناظرین کے آنسو تھامے نہیں تھمتے تھے۔ بمبئی میں ‘ایودھیا کا راجا’ دیکھنے والی ایک بار جاٹ ریاست کی راج ماتا آئی تھیں۔ بولتی فلم کے چلنے کے کچھ بعد وہ تھئیٹر سے باہر آ کر ایک بینچ پر بیٹھ گئیں۔ انھیں اس طرح باہر بیٹھا دیکھ کر مجھے لگا کہ ہو نہ ہو، راج ماتا دیکھتے دیکھتے اکتا گئی ہوں گی۔ میں نے پوچھا تو وہ بولیں، “نہیں نہیں، شانتارام بابو، ویسی کوئی بات نہیں ہے۔ غلاموں کے بازار میں ہرِیش چندر اور تارامتی کے بچھڑنے کا وہ سین میرےدل میں اتنا گہرا بیٹھ گیا کہ میں اپنی شدت سے آتی سسکیاں روک نہ سکی۔ بہت ہی برداشت سےباہر ہو گیا تو باہر آ کر بیٹھ گئی ہوں۔”

تبھی تھئیٹر میں ناظرین کا یکایک شور مچ گیا، سِیٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ‘کودو کٹکو جیو نار کے لیے، بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے’ گانا شروع ہو گیا تھا، اور ناظرین نےخوشی اور مسرت کے مارے سارا تھئیٹر سر پر اٹھا لیا تھا۔ اس طرح بولتی فلم کے سکھ اور دکھ کے منظروں کا ناظرین پر صحیح اثر ہو رہا تھا۔

ہفتہ در ہفتہ سنیماگھر ناظرین سے پورا بھر جاتا۔ ہر شو میں ایسا ہی ہوتا۔ حالات ایسے ہو گئے کہ لوگوں کو اس فلم کی ٹکٹ ملنا مشکل ہونے لگی۔ ‘ایودھیچا راجا’ ہماری امید سے کہیں زیادہ جوش و خروش سے چلتی رہی۔ اس نے بارہویں ماہ میں قدم رکھا اور میجسٹک سنیما کے مالک نے ہمیں کہلا بھیجا کہ بارہویں ہفتے کے بعد ہماری بولتی فلم وہاں دکھانا بند کر دی جائے گی۔ ان کے فیصلے کا کارن ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ بعد میں بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم ہوا کہ میجسٹک سنیما کے دو مالکوں میں ایک تھے ‘عالم آرا’ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اردیشِر ایرانی۔ ان کی ‘عالم آرا’ بولتی فلم سے بھی زیادہ وقت ہماری فلم چلتی، تو کاروباری نقطۂ نظر سے ان کی ناک نیچی ہو جاتی۔ ممکن ہے اسی لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ ‘ایودھیچا راجا’ جس جوش و خروش کےساتھ مقبول ہوتی جا رہی تھی، اسے دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ اگر اسے ویسا ہی چالو رکھ دیا جاتا تو یقیناً وہ اس وقت ریلیز کی گئی سبھی بولتی فلموں سے زیادہ ہفتےچل جاتی اور سب سے زیادہ وقت تک چلنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیتی۔

مہاراشٹر کے گاؤں گاؤں میں یہ بولتی فلم دھوم مچا رہی تھی۔ آمدنی اور مقبولیت کے سارے ریکارڈ اس نے توڑ دیے تھے۔ ‘ایودھیچاراجا’ کسی گاؤں میں لگتی تو آس پاس کے گاؤوں سے سو پچاس میل کا فاصلہ لوگ ریل یا بیل گاڑیوں سے کاٹ کر اس بولتی فلم کو دیکھنے آتے تھے۔ سنیماگھر کے باہر تو اتنی بھیڑ ہو جاتی کہ جیسےکوئی بڑا میلہ ہی لگا ہو۔ سینکڑوں ریل گاڑی میں کھڑے ہیں۔ بیل جگالی کر رہے ہیں۔ کھانے پینے اور میوہ مٹھائیوں کی دکانیں لگی ہیں۔۔ ایسا منظر دکھائی دیتا تھا۔ ناطرین کی تو ایسی بھیڑ اکٹھی ہو جاتی کہ طے شدہ تعداد سے زیادہ شو دکھانے پڑتے۔ اس پر بھی کئی لوگ ایسے ہوتے تھے، جنھیں بولتی فلم کے ٹکٹ نہیں مل پاتے تھے۔ یہ لوگ پھر اپنی اپنی بیل گاڑیوں میں یا پیڑوں کے نیچے ڈیرا ڈال دیتے اور دوسرے دن فلم دیکھنے کے بعد ہی رات میں اپنے گاؤوں کو لوٹتے تھے۔

لیکن ہماری بولتی فلم کے مراٹھی ورژن کو جو بھاری کامیابی حاصل ہوئی وہ ہندی ‘ایودھیا کاراجا’ کو گجرات، ممبئی کےعلاوہ کہیں اور نصیب نہیں ہوئی۔ ہم نے ‘ایودھیا کا راجا’ کو اُتّر بھارت میں ریلیز کیا۔ ہماری کہانی مکمل طور پر قدیم کہانی کے مطابق نہیں، یہ الزام اُتر بھارت واسی ہم پر لگا رہے تھے۔ لیکن اس کی تہہ میں اصل بات یہ تھی کہ راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی ایک ناٹک اُتر بھارت میں بہت ہی مقبول ہو چکا تھا۔ ناٹک کو بےحد دلچسپ بنانے کے چکر میں اس کے لکھاری نے کہانی میں اپنی طرف سے کئی خیالی سین جوڑ دیے تھے۔ ناٹک دلچسپ بنا تو تھا، لیکن اس میں بیان کردہ منظروں کا عوامی ذہن پر کچھ اتنا زیادہ اثر چھا گیا تھا کہ لوگ ناٹک میں بیان کی گئی ہر بات کو حقیقی ماننے لگے تھے۔ سارے منظر قدیم تاریخ کے مطابق ہی ہیں، یہ سوچ بنا بیٹھے تھے۔ تارامتی اپنے گلے میں پہنا منگل سوتر بھی بیچ دیتی ہے، ایسا ایک سین ناٹک میں دکھایا گیا تھا۔ چونکہ ایسے سین ہماری ہندی بولتی فلم میں نہیں تھے، ہو سکتا ہے کہ اسی لیے اُتر بھارت واسی ہماری بولتی فلم پر ناراض ہو گئے ہوں۔ جو بھی ہو، ہمارا ہندی ورژن فیل ہو گیا۔ لیکن مجھے اس کا کوئی رنج نہیں تھا۔ آمدنی کی نظر سے مراٹھی ‘ایودھیچا راجا’ ہندی ورژن میں ہو رہے گھاٹے کی کہیں زیادہ پُورتی کرتی جا رہی تھی۔

اسی معاشی بدحالی سے نجات کی وجہ سے پھر ایک بار اپنے من کی سبھی خواہشات کے مطابق ایک بَڑھیا فلم بنانے کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ اب اس نئی بولتی فلم کو میں پوری طرح اپنی ہی خواہشات کے مطابق پورا کرنے جا رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ نئی فلم صرف بولتی فلم نہ ہو، نہ ناٹک ہو، بلکہ وہ ہر طرح سے ایک موشن پکچر ہو۔ اسی فیصلے سے میں نے کام کرنا شروع کیا۔ ایک وچار یہ آیا کہ نئی فلم میں مکالمے کم سے کم ہوں، گیت بھی بس گنے چنے ہی ہوں اور سین اور ایکٹنگ پر زیادہ زور دیا گیا ہو۔ اسی کے مطابق میں اپنی نئی فلم کے لیے کہانی طے کرنے لگا۔ کہانی کے بارے میں ایک آئیڈیا میں نے گووند راؤ ٹیمبے کے سامنے رکھا۔ وہ اچھے لکھاری بھی تھے۔ انھوں نے میرے خیال کےمطابق ایک اچھی سی کہانی لکھ دی۔ اس بار تو میں نے پکی ٹھان رکھی تھی کہ نئی فلم،خاص کر اس کا ہندی ورژن اتنا پُرکشش بناؤں گا کہ سارے ہندوستان میں کھلبلی مچ جائے۔

مووی کے ہندی ورژن کو میں نے ‘جلتی نشانی’ اور مراٹھی کو ‘اگِن کنکن’ نام دیا۔ خاص کردار وِنائک، لِلا بائی چندرگری، بابوراؤ پینڈھارکر اور کملا دیوی کو دیے۔ ہندی اور مراٹھی دونوں ورژن کی میوزک ڈائریکشن گووند راؤ ٹیمبے نےکی۔ فلم کی ڈائریکشن میں مَیں نے اپنا آج تک کا سارا تجربہ داؤ پر لگا دیا۔ اس فلم کی ڈائریکشن کی کچھ خاص ڈھنگ کی خوبیوں کو ناظرین اور ناقدین نے خوب سراہا۔ کچھ خوبیاں اس طرح تھیں:

رانی اپنے نوزائیدہ راجکمار کو بُرے وزیر کے چُنگل سے بچانے کے لیے راج پاٹ چھوڑ کر بھاگ نکلتی ہے۔ وزیر کے سپاہی اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ بھاگتے بھاگتے ہاری ہوئی رانی سڑک کے کنارے ایک گڑھے میں اپنے آپ کو چھپا لیتی ہے۔ تبھی وہ نوزائیدہ بچہ رونے لگتا ہے۔ حکمران کے سپاہی نزدیک آتے جا رہے ہیں۔ ظاہر تھا کہ راجکمار کے رونے کی آواز سے انھیں رانی کے چھپنے کی جگہ معلوم ہو جاتی۔ لہٰذا رانی اپنے بچے کا منھ بند رکھنے کے لیےہاتھ آگے بڑھاتی ہے، تاکہ سپاہیوں کو اس کے رونے کی آواز سنائی نہ دے۔ لیکن تبھی اس کا ہاتھ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ منھ دبانے سے کہیں راجکمار کا دم نہ گھٹ جائے۔ رانی سوچ میں پڑ جاتی ہے۔ سپاہی اب کافی نزدیک آ گئے ہیں۔ رانی فورا آگے بڑھ کر راجکمار کو چوم لیتی ہے اور اپنے منھ سے اس کا منھ بند کر اسے اپنے منھ سےسانس دینے لگ جاتی ہے۔ راجکمار کے رونے کی آواز سپاہی نہیں سن پاتے۔ وہ آگے نکل جاتے ہیں۔

اس منظر کو دیکھنے کے بعد ناظرین نے زور سے تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی اور کچھ شائقین، جو اب مجھے جاننے لگے تھے، چِلّا اٹھے، “واہ، شانتارام! واہ!”

آگے چل کر وہ رانی اپنے راجکمار کے ساتھ اونٹوں کے ایک غریب بوڑھے بیوپاری کی جھونپڑی میں رہنے لگتی ہے۔ راجکمار بڑا ہونے لگتا ہے۔ راجکمار بڑا ہوجائے تو اس کے لیے اپنا کھویا ہوا راج پاٹ پھر حاصل کرنےکی کوشش رانی کرتی ہے۔ ایک ایک سال گزرتاجاتا ہے۔ اپنی جدوجہد کی یاد برابر بنی رہے اس لیے ہر سال رانی جلتی سلاخ سے اپنے ہاتھ کو داغ لیتی ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہو جاتی ہیں۔ ایک تو رانی کے ہاتھ پر اٹھی جلتی نشانیوں کی تعداد سے ناظرین کو یہ پتا چلتا ہے کہ کتنےسال بیت چکے ہیں اور دوسرے، رانی کے اندر انتقام کا احساس کتنا شدید تھا، اس کا بھی اندازہ انہیں ہو جاتا ہے۔ رانی اپنے آپ کو اس طرح داغ لیتی ہے، یہ سین اتنا جاندار بن گیا تھا کہ اس وقت ناظرین بھی اپنی ‘آہ!’ سے سنیماگھر کو بھر دیتے تھے۔ رانی اپنے ہاتھ پر انیسواں داغ لگا رہی ہے، اس سین سے فلم کا آغاز ہوتا تھا۔ نتیجتاً منظروں کی شدت ایک دم پہلے سین سے ہی برابر بڑھتی جاتی تھی۔

اب تک رواج تو یہی تھا کہ فلم میں موقع بہ موقع من مانی تعداد میں گیت شامل کیے جاتے۔ ‘شیریں فرہاد’، ‘لیلیٰ مجنوں’ اور یہاں تک کہ ہمارے ‘ایودھیچا راجا’ میں بھی گیتوں کی بھرمار تھی۔ ‘جلتی نشانی’ میں ہم نے گیت ایک دم گنے چنے اور سین کے مطابق ہی رکھے تھے۔ اس میں ایک سین ایسا بھی رکھا تھا کہ اپنے باپ کو جسمانی تشدد سے بچانے کے لیے ہیروئن ولن کی زبردستی کی وجہ سے ایک غمگین گیت گاتی ہے۔

اس فلم کے بارے میں مجھے ایک طرح کا اعتماد تھا، اس لیے میں نے اس کا ہندی ورژن بمبئی میں پہلے ریلیز کیا۔ عام ناظرین نے تو اس فلم کو سر پر اٹھا ہی لیا، جانے مانے دانشمند مبصرین نے بھی رائے ظاہر کی کہ بولتی فلم کیسی ہو، یہ جاننے کے لیے ‘پربھات’ کی ’جلتی نشانی’ ضرور دیکھی جائے!

کلکتہ میں ایک نیا تھئیٹر ‘نیو سنیما’ بنا تھا۔ اس کا افتتاح ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم سے ہوا۔ نیو سنیما کے مالک تھے بنگال کے سلیبرٹی فلم میکر اور ‘نیو تھئیٹرز’ کے مالک بی این سرکار۔ بنگال میں ایک فلمی اخبار ‘فلم لینڈ’ نکلتا تھا۔ اس کا سارے ملک میں بول بالا تھا۔ اس فلمی میگزین میں ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم کی بےحد تعریف شائع ہوئی۔ میگزین نے لکھا تھا، بنگالی فلم پروڈیوسر، ہدایت کار، فنکار، تکنیک کار وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس فلم کو دیکھیں، بلکہ اس کا باریکی کے ساتھ مطالعہ بھی کریں۔ مجھے اخبار کی یہ بات کچھ مبالغہ آمیز لگی۔

کچھ سال بعد، پُونا میں ہماری پربھات کمپنی کا کام شروع ہونے کے بعد ‘نیو تھئیٹرز’ کی طرف سے ہی مشہور بنگالی ڈائریکٹر دیوکی بوس ایک بار پربھات میں آئے تھے۔ انہوں نے وقار کے ساتھ مجھ سے کہا تھا، “شانتارام، آپ کو پتا نہیں ہو گا شاید، میں نے آپ کی ‘جلتی نشانی’ فلم دس بارہ بار دیکھی اور اس کے ہر شاٹ کا ٹھیک ٹھیک مطالعہ کیا ہے۔ ڈائریکشن کی نظر سے مجھے اس کا بہت فائدہ ہوا!”

ایک سچے کلاکار نے اس طرح من سے مجھے داد دی، اور کیا چاہیے تھا؟ اس ملاقات سے پہلے دیوکی بوس کی ڈائریکٹ کی ہوئی ‘وِدیاپتی’ میں نے پُونا میں دیکھی تھی۔ مجھے وہ اتنی پسند آئی تھی کہ بوس جی سے کچھ بھی تعارف نہ ہوتے ہوئے بھی میں نے خود ان کوخط لکھ کر دلی مبارکباد دی تھی۔

‘جلتی نشانی’ کی غیرمتوقع کامیابی کی وجہ سے سٹوڈیو کےسبھی لوگ بہت خوشیاں منا رہے تھے۔ لیکن میں اندر ہی اندر سنجیدہ ہوتاجا رہا تھا۔ ‘جلتی نشانی‘ کی لوگ کافی تعریف کیے جا رہے تھے۔ اسے دیکھنے کے لیے بھیڑ روز بروز بڑھتی ہی جا رہی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی امیدیں بھی بڑھ رہی تھیں۔ توقعات بھی کافی اونچی اٹھتی جا رہی تھیں۔ ‘پربھات’ کو پیار دینے والےان ناظرین کو اب اور نیا، اور اچھا دیں تو کیا دیں؟ اسی کی فکر میں میں کھو گیا تھا۔ باربار جی کرنے لگا کہ اب کی بار کوئی سماجی فلم بناؤں اور اس کے ذریعے سے کسی سُلگتی سماجی فکر کو پیش کروں۔

انھیں دنوں مراٹھی کے مقبول ڈرامہ نگار ماما وریرکر کا ‘وِدھوا کماری’ ناول میں نے پڑھا۔ مجھے وہ ناول بہت ہی پسند آیا۔ پھر تو وریرکرجی کے دیگر ناول اور ناٹک بھی میں نے پڑھ ڈالے۔ ان سب کا میرے من پر کافی اچھا اثر پڑا۔ میں نے انھیں بمبئی سے بلوا لیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے معاصر سماجی مسئلے پر ایک اچھی سی کہانی لکھ کر دیں۔

انہوں نے قبول کیا۔ کہانی لکھنا شروع بھی کیا۔ ایک مہینہ بیت گیا۔ بعد میں انھوں نے مجھے وہ کہانی سنائی۔ لیکن کہانی سن کر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ انھوں نے ناٹک کے اسلوب میں پوری کہانی مکالموں کی صورت پیش کی تھی۔ میں نے اس کہانی پر ان کےساتھ تفصیل سے بحث کی اور ایک فلم ڈائریکٹر کے طور پر میں صحیح صحیح کیاچاہتا ہوں، انہیں سمجھا کر بتا دیا۔ انہوں نے اگرچہ جتایا کہ انہیں میری بات سمجھ میں آ گئی ہے، پھر بھی وہ مجھ سے کچھ ناراض بھی ہو گئے، کیونکہ میں نے ان کی کہانی جوں کی توں قبول نہیں کی تھی۔ میں نے ماما صاحب سے کہا کہ جلدی کی کوئی بات نہیں ہے، وہ آرام سے ممبئی جا کر کہانی کو پورا کر سکتے ہیں۔

لگ بھگ اسی وقت ہمارے جنوبی بھارت کے ڈسٹری بیوٹر جنیتی لال ٹھاکر کولہاپور آئے۔ انہوں نے ہمیں یہ خوشخبری دی کہ بنگلور، مدراس وغیرہ سبھی شہروں میں ‘جلتی نشانی’ کا اچھا استقبال ہو رہا ہے۔ ہماری آئندہ فلم کون سی ہے، اس کی بھی انھوں نے پوچھ تاچھ کی۔ میں نے نئی کہانی کے بارے میں اپنی کٹھنائی انھیں بتا دی۔

انھوں نے یوں ہی باتوں باتوں میں بتایا کہ گووند راؤ ٹیمبے اپنی شِوراج ناٹک منڈلی کی طرف سے ‘سِدھ سنسار’ نامی ایک ناٹک پیش کیا کرتے تھے اور اس پر ایک اچھی فلم بنائی جا سکتی ہے۔ چونکہ اصل ناٹک پر مبنی فلم بنانے کی میری کوئی خواہش نہیں تھی، میں نے ان کی باتوں کی طرف خاص دھیان نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے زبردستی اس ناٹک کی کہانی کا کچھ حصہ سنایا۔ یہ کہانی ناتھ برادری کے سادھوں کے گرو مچھندر ناتھ کے جیون کے ایک غیرمعمولی واقعے پر مبنی تھی۔

مچھندر ناتھ ستری(عورت) ریاست میں جاتا ہے۔ اس ستری (عورت) ریاست کی رانی کِلوتلا انسانوں سے نفرت کرنے والی ہوتی ہے۔ مچھندر ناتھ کو حاصل غیرفطری طاقتوں اور اس کے دکھائے جانے والے چمتکاروں کا اس پر اثر پڑتا ہے۔ کِلوتلا مچھندر ناتھ سے شادی کر لیتی ہے۔ مچھندر ناتھ اس ستری (عورت) ریاست میں رہنے لگتا ہے۔ اسے اس محبت کے جال سے مُکت کرانے کے لیے اس کا خاص شاگرد گورکھ ناتھ مرِدنگ بجانے والے کا بھیس بنا کر اس ستری(عورت) راج میں جاتا ہے۔ کِلوتلا اور مچھندر ناتھ جب بسنت تہوار کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں، گورکھ ناتھ مردنگ بجانا شروع کرتا ہے۔ مردنگ سے گمبھیر آواز نکلتی ہے، “چلو مچھندر، گورکھ آیا، چلو مچھندر، گورکھ آیا”- مردنگ کے ان بولوں کو سن کر مچھندر ناتھ بےچین ہو اٹھتا ہے۔ کَلوتلا اسے چھوڑتی نہیں، گورکھ ناتھ برہم ہو کر چلا جاتا ہے اور سیدھا مچھندر ناتھ کی غار میں جا پہنچتا ہے۔ وہاں دیکھتا کیا ہے کہ مچھندر ناتھ تو سمادھی جمائے بیٹھے ہیں۔ گورکھ ناتھ کا غصہ دور ہو جاتا ہے۔ حقیقت اس کی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ یہ تو سب اپنے گرو کی مایا ہے۔

اس کہانی کو فلم کی نظر سے میں نے کافی مضبوط پایا۔ بس میں نے طے کر لیا کہ آئندہ فلم اسی کہانی پر بنائی جائے۔ اپنے ساتھیوں اور گووند راؤ کو میں نے یہ بات بتائی۔ ‘سدھ سنسار’ ناٹک کے مکمل حقوق گووند راؤ ٹیمبے کے پاس محفوظ تھے، انھوں نے ہی فورا پتر لکھ کر ناٹک کے حقیقی لکھاری سے فلم بنانے کے لیے اجازت حاصل کر لی۔ لیکن ناٹک کہیں بھی چَھپا ہوا نہیں تھا، لہٰذا اس کے مکالمے وغیرہ کیسے ہیں، معلوم کرنا مشکل تھا۔ لیکن یہ کٹھنائی بھی منٹوں میں دور ہو گئی۔ ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں راجارام بابو نامی ایک آرگن پلیئر تھے۔ وہ کسی زمانے میں شِوراج ناٹک منڈلی میں کام کیا کرتے تھے۔ انھیں یہ ناٹک پورا یاد تھا۔ ہم نے ان سے ‘سِدھ سنسار’ ناٹک منظم طور پر لکھوا لیا اور اس سکرپٹ سے میں نے فلم کی کہانی اپنے من سے لکھنی شروع کی۔

اس فلم کے لیے اداکاروں کا انتخاب شروع کیا۔ مچھندر ناتھ اور کلوتلا کا کردار کرنے کے لیے پھر ‘ایودھیچا راجا’ کے ہیرو ہیروئن کی جوڑی کو ہی پسند کیا۔ گووند راؤ ٹیمبے اور دُرگا بائی کھوٹے کو وہ کام دیے گئے۔ گورکھ ناتھ ونائک کو بنایا گیا۔ فلم کا نام رکھا ‘مایا مچھندر’۔ شوٹنگ شروع ہو گئی۔

اور ایک دن مجھے بخار ہو گیا۔ بات یہ ہوئی تھی کہ دو تین دنوں سے میں بخار میں ہی شوٹنگ کرتا رہا، جس کا نتیجہ تھا کہ اب بخارکچھ زیادہ ہو گیا تھا۔ ہمارے خاندان کے ڈاکٹر پادھیے نے میری صحت کو اچھی طرح سے دیکھا بھالا، معائنہ کیا اور تشخیص کی کہ ٹائیفائڈ ہے۔ اُن دنوں آج کے طرح ٹائیفائڈ کی اکسیر دوائیاں نہیں نکلی تھیں۔ یہ بیماری کافی لوگوں کی جان لے لیتی تھی۔ عام آدمی کے لیے تو یہ بیماری جان لیوا ہی مانی جاتی تھی۔ فطری طور پر گھر کے لوگوں کے تو ہوش اڑ گئے۔ کمپنی میں بھی گھبراہٹ پھیل گئی۔ ‘مایا مچھندر’ کی شوٹنگ پورا کرنے کا کام میں نے دھایبر اور دیگر ساتھیوں کو سونپ دیا اور اس کے بعد کیا ہوا، میں نہیں جانتا۔

مجھے کچھ آرام ہو جانے کے بعد اپنی بیماری کا قصہ معلوم ہوا۔ میں کافی دن بےہوش پڑا تھا۔ ایسے میں ہی ایک دن تو میری صحت گمبھیر روپ سے گر گئی۔ ڈاکٹروں کو نبض کا پتا تک نہیں چل پا رہا تھا۔ سبھی بےحد فکرمند تھے۔ کمپنی کے سب لوگ میرے گھر کے باہر رات بھر جاگتے رہے تھے۔ لیکن وہ گھڑی ٹل گئی! دوسرے دن سےدھیرے دھیرے بخار کم ہونے لگا۔ لیکن میں بےحد کمزور ہو چکا تھا۔

کچھ صحت پکڑتے ہی میں پھر کمپنی میں جانے لگا اور ہمیشہ کی طرح جلدی جلدی کام نبٹانے میں لگ گیا۔ لیکن اب کمپنی میں میری باتوں کو لوگ مانتے نہیں تھے۔ دوپہر کے چار بجے نہیں کہ سب لوگ اپنا اپنا میک اپ اتار کر گھر جانے کی تیاری کرنے لگتے۔ دھایبر، فتے لال جی اور داملےجی کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈر بند کر دیتے۔ پھر تو میں مجبور ہو جاتا اور جلد ہی گھر لوٹ جاتا۔

میرے ہر دن کی غذا میں ثابت موٹھ، مٹر، چنے چھولے وغیرہ کی بہتات ہوتی تھی۔ یہ چیزیں مجھے بہت ہی مزےدار بھی لگتی تھیں۔ لیکن اب بیماری کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے وہ غذا لینے کو منع کر دیا تھا۔ ان کی اس مناہی پر بہت سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ کمپنی میں دوپہر میں ہم سب لوگ ایک ساتھ بھوجن کرنے بیٹھتے تھے۔ کسی کے ڈبے میں میرے من چاہے چٹپٹے چھولے، مٹر وغیرہ ہوتے تو گووند راؤ مجھے باربار ہدایت دیتے، “شانتارام بابو، آپ کو وہ کھانا منع ہے۔”

لیکن مجھے چھولے کھانا منع کرتے کرتے گووند راؤ کے منھ میں چھولے لفظ اس طرح بیٹھ گیا تھا کہ ایک دن شوٹنگ کرتے وقت ہمیں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو کر شوٹنگ کو بیچ ہی میں روک دینا پڑا۔

اُس دن بسنت تہوار کے سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ گورکھ ناتھ کےظاہر ہوتے ہی کِلوتلا غصے میں اس پر برس پڑتی ہے اور اس کی سمت دوڑ پڑتی ہے۔ تب مچھندرناتھ کہتا ہے، “کِلوتلے، تمھارا سوبھاؤ تو بس اچانک شعلہ برساتا ہے۔” لیکن گووند راؤ عادت سے لاچار ہو کر کہہ بیٹھے، “کِلوتلے، تمہارا سوبھاؤ تو بس اچانک چھولے برساتا ہے۔‘‘

اس طرح ہنستے ہنساتے، لیکن ہمیشہ کے برعکس کچھ دھیمی رفتار سے، ساری شوٹنگ مکمل ہو گئی۔ ایڈیٹنگ کے کام بھی پورے ہو گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر فلم کی ایک کاپی لے کر بمبئی سنسر کے پاس گئے۔ فلم کی پیشکش اس کے آٹھ دس دنوں بعد کی جانے والی تھی۔

بیماری کے بعد مجھے آرام کرنے کی ضرورت تھی، لہذا میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بابوراؤ پینڈھارکر اکیلے بمبئی گئے اور دوسرے ہی دن مجھے ان کا تار ملا: “شام کی گاڑی سے بمبئی چلے آؤ، ضروری کام آ پڑا ہے۔‘‘ تار کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ داملےجی سے پوچھا تو کہہ دیا، “آپ ہی جائیے، میں نہیں جاؤں گا۔” بات سمجھاتے ہوئے داملےجی نے کہا، “نہیں، جانا تو آپ ہی کو ہو گا، کیونکہ آپ کو بلایا ہے۔”

جیسے تیسے میں بمبئی جانے کے لیے تیار ہو گیا۔

بمبئی پہنچتے ہی میں اسی دن سویرے بابوراؤ پینڈھارکر کے دفتر گیا۔ وہاں ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ بہت ہی گمبھیر انداز میں بیٹھے تھے۔ سب سے میں نے اس طرح فوراً بمبئی بلانے کا کارن جاننا چاہا، لیکن ایک نے بھی صاف جواب نہیں دیا۔ پینڈھارکر نے کہا، “چلیے، پہلے ہم لوگ تھئیٹر میں جا کر ‘مایا مچھندر’ دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

اُن دنوں تھئیٹروں میں صبح کے شو نہیں ہوا کرتے تھے۔ تھئیٹر جاتے جاتے راستے میں میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟ سب کے اس طرح منہ لٹکے ہوئے کیوں ہیں؟”

میری تنک مزاجی اور ہٹِیلے سوبھاؤ سے واقف ہونے کے کارن بابوراؤ نے کچھ جھجکتے ہوئے بتایا، “سب کی رائے ہے کہ اس فلم میں دو ایک اور اچھے سین اور ایک دو گیت ڈالےجائیں، اور بعد میں ہی اسے ریلیز کیا جائے۔ کل فلم دیکھنے کے بعد گووندراؤ ٹیمبے، دُرگا بائی، تورنے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ سب کی یہی رائے رہی۔ اس حالت میں فلم اثردار نہیں لگتی۔”

“لیکن میں اس رائے کو نہیں مانتا۔ میری رائے میں فلم آج جیسی ہے، ویسی ہی کافی اثردار ہے۔ یعنی آپ لوگوں کی رائے کا مطب یہ ہوا کہ میں نے بِنا سوچے سمجھے ہی فلم یہاں بھیج دی، کیوں؟”

بابوراؤ نے شانت رویے سے کہا، “آپ ‘مایامچھندر’ کو ایک بار پھر دیکھیے تو سہی، پھر ہم لوگ بیٹھ کر بحث کریں گے۔”

ممبئی کے ‘کرشن ناٹک گرہ’ کے سنیماگھرمیں تبدیلیاں کی جانے والی تھیں، اور نئے روپ میں اس سنیماگھر کا افتتاح ہماری ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز سے ہونے والا تھا۔ ہم سب نے وہاں اپنی فلم دیکھنی شروع کی۔

فلم کے پہلے تین حصے دیکھنے کے بعد میں اٹھ کر باہر چلا آیا۔ باقی سب لوگ بھی میرے پیچھےپیچھے باہر آ گئے۔ میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “ابھی اسی وقت اس فلم کو میجِسٹک سنیما میں دیکھنےکا بندوبست کیجیے۔”

بابوراؤ پینڈھارکر نے فوراً وہ بندوبست کر دیا۔

ہم لوگ میجسٹک میں ‘مایا مچھندر’ دیکھنے لگے۔ مجھے فلم اثردار معلوم ہو رہی تھی۔ اس کی کامیابی کے بارے میں یقین ہوتا جا رہا تھا۔ فلم ختم ہوئی۔ ہم سب لوگ باہر آ گئے۔ سب کی نظریں مجھ پر لگی تھیں۔ ان کی نظروں میں امید تھی، توقع تھی۔ میں نے سب سے سوال کیا، “آپ لوگوں نے یہ فلم پہلےکرشن سنیما میں اور اب یہاں میجسٹک سنیما میں دیکھی ہے۔ اب بتائیے، کچھ فرق لگا؟ اسی فلم کو اس تھئیٹر میں دیکھنے کے بعد آپ کو کیسا لگا؟”

سب نے گووندراؤ ٹیمبےکو جواب دینے کے لیے آگے کیا۔ گووند راؤ نے کہا، “یہاں ہم لوگوں کو فلم کے گیت اور مکالمے زیادہ اچھی طرح سنائی دیے۔ لیکن، شانتارام بابو۔۔۔”

ان کی بات کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر)، آپ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ کرشن سنیما میں ساؤنڈ سسٹم اچھا نہیں ہے۔ وہاں کا ساؤنڈ سسٹم ُسدھارا نہیں جاتا، تب تک آپ ہماری فلم کو وہاں ریلیز نہ کریں۔ اور آپ سب لوگ اچھی طرح سے سُن لیں، میری رائے میں اس فلم میں نئے سین جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس میں کچھ بھی جوڑتوڑ کرنے والا نہیں ہوں! اسے جیسی ہے ویسی ہی ریلیز کرنا ہو گا!” پھر بابوراؤ پینڈھارکر کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ، آج شام کی گاڑی سے میرے کولہاپور لوٹنے کا بندوبست کروا دیجیے۔”

ہو سکتا ہے، میرے اس طرح کے بول سے میرے ساتھیوں کے دل کو ٹھیس لگی ہو، لیکن اسے سمجھنے کی کوشش میں نے نہیں کی۔

جس دن صبح بمبئی پہنچا تھا، اسی دن شام کی دکن کوئین پکڑ کر میں بمبئی سے کولہاپور کی جانب چل دیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) اور پینڈھارکر دونوں مجھے رخصت کرنے کے لیے اسٹیشن پر آئے تھے۔ دونوں میرا منہ تک رہے تھے۔ میں اپنے ہی خیالوں میں کھو گیا تھا۔ گاڑی چل پڑی۔ میں ان کی طرف دیکھ کر سوکھا سا مسکرا دیا۔ وہ بھی عجیب کشمکش میں پڑ کر محض ہنس دیے۔ صبح کے سین کو لے کر میرے من میں وچاروں کا طوفان برپا ہو گیا تھا۔ میری ضد کیا صحیح تھی؟ ٹھیک تھی؟ کیا مجھے سب کی رائے مان نہیں لینی چاہیے تھی؟ میری اس ہٹ دھرمی کے کارن کل کو ‘مایا مچھندر’ نہیں چلی تو؟ کیا میرے ساجھےدار اور یہی سب لوگ میری ہٹ دھرمی کو ہی دوش نہیں دیں گے؟ اس ناکامی کا دوش میرے ہی متھے مڑھا جائےگا۔ کیا واقعی میں یہ ضدی پن یا ہٹ دھرمی تھی؟ اگرچہ نہیں! وہ تو میرے اپنے خیال میں اٹوٹ اعتماد کی علامت تھا۔ دوسروں کی بات پر میں اپنے فیصلوں کو بدلنے لگ جاؤں، تو میں اپنی خوداعتمادی کھو بیٹھوں گا اور ہمیشہ کے لیے ذہنی اپاہج پن کا شکار ہو جاؤں گا۔ خوداعتمادی کے ساتھ راستے پر چلتے چلتے ٹھوکر کھا جاؤں تو بھی ہرج نہیں، لہولہان ہو جاؤں تو بھی پروا نہیں، لیکن دوسروں کی رائےکی بیساکھیاں لے کر میں کبھی نہیں چلوں گا۔ اس کارن ‘مایا مچھندر’ کی ناکامی کا دوش میرے متھے مڑھا جانے والا ہو تو مڑھا جائے، اپنی بلا سے!

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 10: بھیری گونج اٹھی (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب پیچھے رہنے سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ اپنی ہی بات پر بے سود اڑے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا۔  فلمی دنیا میں بولتی فلموں کے وجود کو قبول کرنےکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بولتی فلموں کے مقبول ہونے کے دو کارن تھے۔ پہلا تھا ہمارے دیس میں بےانتہا ناخواندگی۔ ان دنوں ممکنہ طورپراسّی نوےفیصد لوگ ان پڑھ تھے۔ خاموش فلموں میں مکالموں کی جو تختیاں دکھائی جاتی تھیں،اَن پڑھ عوام انہیں پڑھ نہیں پاتی تھی۔اس لئے وہ خاموش فلموں کا آدھےسےزیادہ لطف نہیں لےپاتی تھی۔ اس کے برعکس بولتی فلموں کے سبھی مکالمےسیدھاسنائی دینےکی بدولت وہی اَن پڑھ عوام بولتی فلموں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہوتی تھی۔ اس کےعلاوہ بولتی فلموں میں دوسرا چارم تھا سنگیت کا۔ سنگیت بھارتی جیون کے ساتھ اس طرح گُھلا ہے کہ گھر گھر میں جنم سے لےکرموت تک ہر موقع پر گائے جانے والے گیت ہر صوبےکی زبان میں ہوتےہیں۔ خوشی کے موقع پر تو گانےاور ناچنے کا انعقاد بھارتی ثقافت کی رِیت رہا ہے۔ لہذاہم نے بھی اپنی فلموں کو ‘آواز’ دینے کا فیصلہ کیا۔

ایک بار فیصلہ کر لینے کے بعد پھر تاخیر کرنا ہمیں پسند نہیں تھا۔ہم نےفوراًاپنے ڈسٹری بیوٹرزسے کہا اورامریکہ سےطرح طرح کی ساؤنڈ مشینوں کی معلومات منگوالیں۔ بھارت میں جو پہلی بولتی فلم ‘عالم آرا’ بنائی گئی تھی، اس میں اوردیگر بولتی فلموں میں بھی، منظر فلمانےکے کیمرے میں ہی فلم کے ایک کنارے پر ساؤنڈ ریکارڈربھی ہوتا تھا۔ لہذا بولنے والوں کے ہونٹوں کی حرکات کے ساتھ ہی ان کی آواز بھی بے عیب میل کھاتی تھی۔اس میں کوئی غلطی نہیں ہو پاتی تھی۔ لیکن اس میں ایک خرابی یہ تھی کہ ایڈیٹرکو پوری آزادی نہیں مل پاتی تھی۔ ہم نے سوچا کہ اچھا ہواگر ساؤنڈریکارڈ کا انتظام کیمرے میں ہی نہ ہو،الگ ہو۔ شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈ الگ الگ فلموں پر کیا جائے تاکہ ڈائریکشن اورایڈیٹنگ میں کافی آزادی مل سکے۔ اسی لئے ہم لوگوں نے طے کیا کہ ساؤنڈ ریکارڈنگ کی آزاد سہولت والی’آڈیو کمیکس’ نامی مشین منگوائی جائے۔ اس نظام میں سہولت یہ تھی کہ ساؤنڈ ریکارڈر اورکیمرہ ایک ہی ساتھ، ایک ہی رفتار میں چلائے جا سکتے تھے اور اس طرح دوگنی رفتار یعنی اِنٹرلاک موٹرزہمیں دستیاب ہوتے تھے۔

داملے ممبئی گئے۔ وہاں انہوں نے آڈیو کیمیکس ساؤنڈ ریکارڈر کے بارےمیں باریکی سےپوچھا اور ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکرسے ساری مشینری امریکہ سے منگوانے کے لیے کہا۔ وہ مشینری جہاز کے ذریعے بھارت میں آنے میں چار مہینے لگنے والےتھے، خوش قسمتی سے اسی وقت کولہاپورمیں بجلی آ گئی، شہرکی مخصوص امیر بستیوں میں اورہائی وے پر بجلی کے دیپ روشن ہوگئےتھے۔ ہمارانیا کیمرہ اور ساؤنڈ ریکارڈر چلانے کے لیے ضروری بجلی بالکل صحیح وقت پر دستیاب ہو گئی تھی۔

اب تو کمپنی کا کام کافی بڑھ گیا تھا۔ پرانا ٹھکانہ اب ناکافی ہونے لگاتھا۔ وہ مقام بھی کولہاپور کی بیچ کی بستی میں تھا۔ وہاں ہمیشہ شوروغل ہوتا ہی رہتاتھا۔ اب ہمیں بولتی فلموں کو فلمانا تھا۔ یعنی کرداروں کے مکالمےاورگانے بھی ریکارڈ کرنے تھے۔ لہذافلمانے کے لئے شانت احاطے کی ضرورت تھی۔

مہاراشٹر فلم کمپنی کی پہلی ساجھےدارشریمنت تانی بائی کاگلکرکےگاؤں کےباہر کافی بڑے احاطے والا ایک بنگلہ تھا۔  ہمیں وہ ہرنقطہ نظر سے بہت ہی با سہولت لگا۔ اس بیچ تانی بائی نے مہاراشٹر فلم کمپنی سے اپنی ساجھےداری ہٹا لی تھی۔ پھر وہ ہمارے کیشوراؤ دھایبرکی نزدیکی رشتےدار بھی تھیں۔ نتیجتا ًوہ جگہ ہمیں مناسب کرائے پر مل گئی۔

فوراً ہی نئی جگہ پر ہم نے اپنا نیا سٹوڈیو بنانے کا کام پرشروع کر دیا۔ اس بار ہم نے سٹوڈیو پر کپڑے کی چھت نہیں ڈالی، اُس کے بجائے دھندلے شیشوں کا استعمال کیا۔ سین کھڑے کرنے والے بڑھئیوں کے لئے ایک بڑی سی جگہ پرچھت لگوا دی۔ مرکزی بنگلے میں میک اپ روم اور کاسٹیوم کےلئے الگ کمرے طے کر دیئے۔ کیمیکل روم، ایک اچھا بڑا سا کارخانہ، بابوراؤ پینڈھارکر کے لئے ایک مینجمنٹ روم، اداکاری اور سنگیت کی مشق کرنے کے لئےدودیوان خانوں وغیرہ کا بھی پربندوبست کردیا۔ اس کے علاوہ میوزک ڈائریکشن کے لئے ایک الگ کمرہ دیا۔ اس طرح سے وہ نیا بنگلہ ہم نے اپنی کمپنی کے متنوع کاموں کے لئے آراستہ کیا۔

ہماری پہلی بولتی فلم کے لیے موضوع زیر بحث آیا۔ بچپن میں، میں نے حق پرست راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی’ستوپریکشا’ نامی ایک ناٹک دیکھا تھا۔اس کہانی نے مجھے بہت ہی متاثرکیا تھا۔ معصوم من پراس کی انمٹ چھاپ پڑی تھی۔ بعدمیں خاموش فلموں کے نقش اول داداصاحب فالکے کی بنائی’راجا ہریش چندر’فلم بھی میں نے دیکھی تھی۔ اس وقت تو وہ مجھے بہت ہی ڈھیلی لگی تھی۔ اب میں سوچنے لگا کہ ایک ہی کہانی پر لکھے گئے ناٹک اور بنائی گئ خاموش فلم کا متضاداثر میرے من پر کیوں پڑا تھا؟ میں اسی نتیجہ پرپہنچاکہ ناٹک میں مکالمےتھے، اسی لئے اس کا اثر پڑتا تھا۔ خاموش فلم میں لکھے ہوئے مکالمے ناظرین کو پڑھنے پڑتے تھے، جن کا کوئی اثر ذہن پر نہیں پڑتا تھا، پڑنا ممکن بھی نہیں تھا۔ لہذاراجا ہریش چندر کی حق پرستی کو بولتی فلم کے ذریعے موثرروپ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس نتیجہ پر پہنچتے ہی میں نے اسی کہانی کا انتخاب ہماری پہلی بولتی فلم کے لئے کیا۔ ایسے حق پرست راجا ہریش چندر کا آدرش لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے سماجی فلموں کے آغاز کے ہمارے مقصد کواور بھی تقویت ملنےوالی تھی۔

ہم نے طے کیا کہ ہماری یہ پہلی بولتی فلم مراٹھی اور ہندی دونوں ورژن میں بنائی جائے۔ کہانی کے انتخاب کے بعد پھر ایک بارکرداروں کے انتخاب کا سوال کھڑاہوا۔ آج تک خاموش فلموں میں کامیاب رہے ہمارے کلاکاربولتی فلموں کے لئے بیکار ہوگئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لِلابائی چندر گڑی اور بابوراؤپینڈھارکرکےعلاوہ باقی سارے کلاکاران پڑھ ہی تھے۔ ان کے لئے رواں مکالمہ بولنا ناممکن ہی تھا۔ پھر بولتی فلموں کے اہم کرداروں کے لئے ایسے کلاکاروں کا انتخاب کرنا ضروری تھا،جو گائیکی میں بھی قابل ہوں۔

ہم اسی سوچ میں پڑے تھے کہ ایک دن مائی نے مجھے بلا بھیجا۔ اس طرح خاص بلاوا بھیجنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔مجھے دیکھتے ہی مائی نے ساڑی کا پلو آنکھوں سے لگا لیا اور لگاتار بولتی ہی گئیں، بولتی ہی گئیں۔ اس کے تیسرے بیٹے وِنائک نے کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی،اورکسی اعلی آدرش سے متاثر ہوکر کولھاپورکےودیاپیٹھ ہائی سکول میں بغیرتنخواہ پڑھانے کا کام شروع کیا تھا۔ مائی کا کہنا تھا، “ارے، ہم کوئی زمیندارجاگیردارتھوڑے ہی ہیں، جو یہ دیوانہ خیراتی کام کر رہا ہے؟ گھر میں تو کئی بار دو وقت کھانے کے لالے پڑ جاتے ہیں، اور اس کے یہ ڈھنگ! شانتارام، تم ذرا اسے بلا کر اچھی طرح ڈانٹواور پوچھواس سے کہ یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے۔ اور ہاں، تم اسے اپنی فلم کمپنی میں کوئی کام دے دو۔” وِنائک پر مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے
بابوراؤسےپوچھا، “تم کیوں نہیں اسے آڑےہاتھوں لیتے؟”بابوراؤ نے کہا، “وہ میری کچھ نہیں سنےگا۔ وہ تو، مجھے بھی آدرشوں کی اونچی اونچی باتیں سناتا رہتا ہے۔”

وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔

میں نے وِنائک کو بلا بھیجا۔ اسےکافی پھٹکارااورکھری کھری سنا دیں۔ ونائک شروع سے ہی بہت جذباتی فطرت کاآدمی تھا۔ صحیح وقت کا بیان میں نے کافی بے رحمی کے ساتھ اس کے سامنے کیا۔ میری پھٹکار بھی ممتا سے بھری ہے، مائی سے مجھے بےحد پیاراور عزت ہے، یہ باتیں اس کے دھیان میں آ گئیں اور وہ جذبات سے مغلوب ہوکر رونے لگا۔ آخر اس نے ودیاپیٹھ میں قبول کیا ہوا کام کسی اور کےذمے کر دیا اور وہ پربھات فلم کمپنی میں کام کے لئے آ گیا۔

وِنائک کی آمد سے نہ صرف پربھات کو، بلکہ پوری فلمی دنیا کو ایک ملٹی ٹیلنٹڈ اور قابل فن کار مل گیا۔ وہ گاتا بھی اچھا تھا۔ شروع میں تو وہ بطوراداکار کمپنی میں آیا۔ لیکن گائیکی میں اس کی قابلیت کی وجہ سے گائیک اداکارکےروپ میں اس نےاپنی پہلی ہی بولتی فلم میں اچھی خاصی کمائی کی۔ ‘ایودھیا کا راجا’ فلم میں وہ لڑکی بنا تھا۔ اس میں اس کا گایا گیا گانا ‘آدپرش نارائن’ گیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ میں نے اسے بطورمعاون ہدایت کار کام پر لے لیا۔ میں جو بھی کام بتاتا، اسے وہ پوری اطاعت سے نبھاتا۔ میری ڈائریکشن کی شوٹنگ سے اچھی طرح واقف ہونے کےبعد کئی بار ڈائریکشن کےمعاملات میں وہ کچھ سجھاؤ بھی میرے سامنےرکھنے لگا۔ میں نےپایا کہ اس کے مخصوص سجھاؤ بہت ہی عملی اورمکمل ہوتے تھے۔

گووندراو ٹیمبے

بولتی فلموں کے کارن اب فلمی دنیا میں میوزک ڈائریکشن کی ایک نئی پوسٹ تیار ہو گئی تھی۔اسے نبھانےوالےکسی اہل شخص کی ہمیں تلاش تھی۔ مشہور ہارمونیم پلیئر اور موسیقارگووندراؤٹیمبے گندھرو ناٹک منڈلی سے کافی پہلے ہی الگ ہوگئےتھے انہوں نے اپنی ایک شِوراج سنگیت ناٹک منڈلی چلائی تھی، لیکن وہ بھی اب بند ہو گئی تھی۔ لہذاکولہاپورمیں ٹیمبے جی صرف آرام کرتے تھے۔ وہ باذوق آدمی تھے، شاعر تھےاورگیتوں کو بڑی ہی مدھردُھنیں دینےمیں ماہر بھی۔ لیکن دِقت یہ تھی کہ انہیں پربھات فلم کمپنی میں مدعو کریں تو کیسے، اور کون مدعوکرے؟ بات یہ تھی کہ انہیں گووندراؤٹیمبےکی گندھرو ناٹک کمپنی میں میں کبھی نوکر تھا، اور وہ میرےمالک۔ آج پربھات فلم کمپنی میں وہ میوزک ڈائریکٹر بن کرآتے بھی ہیں، تو وہ میرے نوکر ہو جاتے۔ کیا وہ اسے قبول کریں گے ؟ دِقت یہی تھی۔ آخر کافی سوچ وچار کے بعد انہیں مدعو کرنے کا کٹھن کام ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر پر چھوڑدیا۔ انہوں نے اس نازک گتھی کو بخوبی سلجھالیا۔ گووندراؤنےمیوزک ڈائریکشن کی ذمہ داری بخوشی قبول کی۔ وہ کمپنی میں حسب معمول آنے لگے۔ہم لوگ بھی انہیں وہی عزت واحترام دیتے تھے،جو ناٹک کمپنی کے مالک ہونے وقت انہیں ملتا تھا۔

گووند راؤ جی ٹیمبے کے واقف شری بھولے نامی ایک گائیک اداکار کو ہم نے پونا سے ہریش چندر کا کام کرنے کے لئے بلا لیا۔ اس وقت لِلابائی کی صحت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے تارامتی کے کام کے لئے کسی اور کو لینا ضروری ہو گیا تھا۔ تبھی اخباروں میں دُرگا کھوٹے نامی ایک نوجوان لڑکی کے نام کی چرچا میں نے پڑھی تھی۔ بمبئی میں”ٹریپڈ’ نامی فلم میں اس نے کام کیا تھا۔ یہ بولتی فلم فیل ہو گئی تھی،لیکن درگا کھوٹے کے کام کی سبھی اخباروں نے بڑی تعریف کی تھی۔ مجھے اس کا خیال آیا۔

درگا کھوٹے کے والد سالسیٹرلاڈ سے گووندراؤ کا اچھا تعارف تھا۔ ان کے ساتھ میں بمبئی میں لاڈ صاحب کے گھر گیا۔ مجھے باہر کے کمرےمیں بیٹھاکرگووند راؤ درگابائی سے باتیں کرنے کے لئےاندر چلے گئے۔ درگا بائی نے ہماری کمپنی کی فلم میں کام کرنا قبول کر لیا۔تب گووندر راؤ نے مجھے اندر بلا لیا۔ میں نے انہیں کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھ لیا، ان کا ڈیل ڈول اور شکل و صورت رانی تارامتی کے کام کے لئے ایک دم موزوں معلوم ہوئی۔ لین دین کا معاملہ اور شرائط ہم نے اسی بیٹھک میں طے کر لیں۔ رانی تارامتی کے کام کے لئے تین مہینوں کے لئے ہم نے انہیں ڈھائی ہزار روپے دینا قبول کیا۔

ہم دونوں درگابائی کے گھر سے باہر آ گئے۔گووند راؤ کہنے لگے، “درگابائی پوچھ رہی تھی اس بولتی فلم کی ڈائریکشن کون کرنے والا ہے؟” تب میں نے بتا دیا، “وہ جوباہر بیٹھے ہیں نہ، وہ کریں گے۔” اس پر انہوں نے کہا، “کون؟ وہ؟ باہر بیٹھا چھوکرا؟”

اور گووند راؤ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔

ان کی یہ باتیں سن کر میں نے کہا، “اب آئندہ بولتی فلم کے لئے کسی بھی اداکارا کے یہاں جانا ہو، تو میں کمپنی سے گھنی مونچھیں اورداڑھی لگوا کرہی آؤں گا،تاکہ آپ کی طرح رعب دار دکھائی دوں۔”

ان دنوں مہاراشٹر میں ہر جگہ مہاراشٹر ‘کٹمب مالا’ نامی کتھا مالا کافی مشہور ہو چکی تھی۔ اس مشہور کتھامالا کے ایڈیٹر تھے، ن۔ وی۔ کلکرنی۔ میں نےانہیں ہماری بولتی فلم کی کہانی لکھنےکی دعوت دی۔ گیت نگاری گووندراؤنےہی کی۔

نئے سٹوڈیو کا قیام، نئے ساؤنڈسسٹم کی خرید، بولتی فلم کے لئے ضروری دیگر سازو سامان کی انسٹالیشن وغیرہ میں بولتی فلموں کے لیے ہمارا خرچ، ہماری پونجی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ لہذا مزید ہمت نہ دکھاتے ہوئے ہم نے بمبئی میں اس سے پہلے سے ریلیز اور مشہور ہو چکے بولتی فلموں کی طرح راجا ہریش چندر کی کہانی بھی اسی ناٹک نما اسلوب میں لکھ کر تیار کی۔ ہندی ورژن کے مکالمے لکھنے کے لئے ایک اردو ناٹک کار کوبمبئی سے بلا لیا۔ ان صاحب نے دیگرتمام کمپنیوں کی طرح ہندی سکرپٹ میں شعروشاعری کی بھرمار کر دی۔ مکمل ریہرسل کےوقت انہوں نےہمارے کلاکاروں کواردو شعرو شاعری پیش کرنے کا طریقہ ٹھیک اسی ڈھنگ سے سکھایا، جیساکہ سٹیج پر خاص جوشیلی ادا میں کن الفاظ پر،زور دیا جاتاہے۔ بیچارے ہریش چندر،تارامتی، اور برہم رشی وشوامتر کو بھی ہم نے اردو میں اپنے مکالمے بولنے کے لئے مجبور کیا۔

‘گوپال کرشن’ کے بعد کے زمانے میں دھارا کے الٹ تیرنے والے ماہر تیراک کی مانند میں تیزی سے ہاتھ مارتے آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ لیکن اس بار پھر ایک بار کمپنی کے وجود کا سوال منہ کھولے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔ لہذا منجدھارمیں مالی بدحالی کے بھنور کو ٹال کر آگے نکل جانے میں ہی عقل مندی تھی۔ اس لئے کچھ دیرتک پر دھارا کے ساتھ بہتے جانا ہی ضابطہ تھا، ضروری بھی تھا۔ میرے تخلیقی من کو اس کا خاص قلق ہوتا تھا۔

بولتی فلم کے خاص منظروں کی مکمل ریہرسل شروع ہو گئیں۔ درگابائی بہت ہی کھلے من کی اچھی پڑھی لکھی اورکھاتے پیتے گھرانے کی تھیں۔ پھر بھی کمپنی کے ہر چھوٹے بڑے کارکن کے ساتھ وہ ملنساری سے پیش آتیں۔ کام سیکھنے میں ذرا بھی نہ ہچکچاتیں۔ مکمل ریہرسل کے وقت اپنے کام کی ساری خوبیوں کو خاص ڈھنگ سے سیکھتیں اور کوئی انہیں ان کی غلطی سمجھا دیتا تواس غلطی کو سدھارنے کی دلی کوشش کرتیں۔گانا وانا انہیں خاص نہیں آتا تھا پھر بھی گانے کا ریاض اتنا من لگا کر کرتی تھیں کہ اس فلم میں ان کی گائی لوری ’بالاکا جھوپ ییئی نہ’، (منے، کاہے نہ آوے نندیا) فلم کی نمایاں خوبی بن گئی تھی۔

اس کے برعکس ہریش چندر کا کام کرنے والے گائیک اداکار گولے ریہرسل کےوقت ایک دم ہمت ہار جاتے تھے۔ میں انہیں کافی دلاسہ دیتا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ آخر انہوں نے وِنائک کے ذریعے مجھے کہلوا بھیجا، “مجھے نہیں لگتا،فلم میں کام کرنا میرے بس کا روگ ہے۔” میں نے انہیں سمجھانے بجھانے کی کافی کوشش کی، لیکن وہ ایک دم بد دل ہو گئے اور واپس پونا چلے ہی گئے۔اب پھر سے ایک نئی دقت آ پڑی۔ ہریش چندر کا کام کون کرے؟ فوراً خیال آیاکہ گووند راؤخود تو سٹیج کے مشہور اداکار تھے اور منجھے ہوئے گائیک بھی۔وہ فلم میں کام کرنا قبول کرتے ہیں، تو کیا ہی کہنا، سونے پرسہاگہ ہو جائےگا۔ گووند راؤ کو بابوراؤنے راضی کر لیا۔ پھر نئے سرے سے ریہرسل ہونے لگی۔

گووند راؤ کی تعریف میں کہنا ہوگا کہ اگرچہ وہ عمرمیں مجھ سے کافی بڑے تھے اورمیں عمرمیں ان سے بہت چھوٹا تھا، بطورایک ڈائریکٹرمیرے دئیے گئے سبھی احکامات کو وہ کھلے من سے قبول کرتےاوران کےمطابق ہی برابر کام کرتے تھے۔گووند راؤ کی یہ کھلی شخصیت ان ریہرسلزکےوقت اور بھی،زیادہ اجاگرہو گئی تھی۔ ہم دونوں کے بیچ ہنسی مذاق بھی ہونے لگا تھا۔ایک شام ہم لوگ اپنے اپنے گھر جا رہے تھے، انہوں نے سہج انداز سے مجھ سے پوچھا،

“شانتارام بابو، سگریٹ پیو گے؟”
“نہیں۔”
ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے دوسرا سوال کیا، “اچھا، تھوڑی شراب تو چلتی ہے نا؟”
“نہیں! نہیں!بالکل نہیں!”

“اور سنا ہے عورت کے بارے میں آپ ایک دم سادھو ہیں؟ کیسے انسان ہیں آپ! یہ ناک کی سیدھ میں جانے والا جیون بھی کوئی جیون ہے؟ یہ تو ایک دم بجلی کے سیدھے کھمبےکا سا جیون ہوا! ورنہ مجھے دیکھو، میرا جیون ہے بے رحم فطرت کےکسی درخت کی طرح۔ ادھر سے پتے پھوٹ رہے ہیں، ادھر سے ٹہنیاں بڑھ رہی ہیں، سیدھی ہوں، ٹیڑھی ہوں، لیکن ہیں سبھی ایک دم سہج اور فطرت کے اصول کے مطابق!”

گووند راؤ کےان سہج اورفطری رنگ ڈھنگ سےاچھی طرح واقف ہونے کی وجہ میں اپنی ہنسی دبا نہیں سکا۔ سب سےمزے کی بات یہ کہ گووندراؤبھی جی کھول کر میرےساتھ ہنسنے لگے۔

آڈیو کمیکس کمپنی کا ساؤنڈریکارڈر،اس کے ساؤنڈ سسٹم کا سارا سازوسامان، ساؤنڈ اور سین شوٹنگ کی فلم پٹیوں کی ایڈیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والی ‘مووی اولا’ مشین وغیرہ سبھی مشینری لےکر داملے جی کولھاپورپہنچے۔ ہماری یہ ساری مشینری منگوائے جانے کی خبر ملتے ہی، اردیشِرایرانی نے ایک دندناتابیان دیا کہ اس دوہرے نظام کے ذریعے کی گئی شوٹنگ میں ہونٹوں کی جنبش اورآوازکامیل ناممکن ہے۔ سچ کہوں تو ایسے کھرے پن کی وجہ سے ہم لوگ بھی سٹپٹاہی گئےتھے۔

شوٹنگ کیمرے کے ساتھ ساتھ ساؤنڈ ریکارڈرکا ٹیسٹ کرنے کے لیے ہم نے پانچ چھ شاٹس ڈرتےڈرتےلےلیے۔ ان پر ہمارےکیمیکل روم میں کیمیائی عمل کیااوربعد میں انہیں مووی اولا پر چڑھا کرپردے پر دیکھنا شروع کیا۔ اردیشِرایرانی کی طرف سے ظاہر کیا گیا خدشہ ایک دم بے بنیاد ثابت ہوا۔ تصویراورآوازدوالگ الگ پٹیوں پرنقش کئےتھےاور اس کے باوجود کرداروں کےہونٹوں کی جنبش اوران کی آوازمیں پوراتال میل تھا۔ کہیں پرتھوڑا بھی جھول نہیں آیا تھا۔ اس سے ہمارا جوش کافی بڑھ گیا۔

لیکن ادھر معاشی کٹھنائیوں نے ہمیں گھیرلیا تھا۔ خرچہ پوراہوتاہی نہیں تھا۔ مشینری کے آلات خریدنے کے لیے قرض لیا تھا، کاریگروں اورکلاکاروں کی تنخواہ رُکی پڑی تھی، اس پر فلم میکنگ کا روزانہ خرچ۔۔۔ مختلف مصیبتیں تھیں۔ کم سےکم شوٹنگ کی نگیٹو پر ہونےوالاخرچ کم کرنے کے لیے ہم اس کا ایک انچ بھی ضائع نہ ہونے دیتے۔ اس کے لیے شوٹنگ سے پہلے میں سبھی کلاکاروں اورتکنیک کاروں سے کڑی مکمل ریہرسل کروا لیتا تھا۔ جہاں تک ہو سکے دوبارہ شاٹ لینا نہ پڑے،اس کا یہی مقصد رہتا تھا۔ اس سے فلم کا خرچ کم سے کم رکھنے میں مدد ملتی تھی۔ سمے کی بچت کے لیے ہم لوگ ہر شاٹ پہلے مراٹھی میں اور اس کے فورابعد ہندی نہیں، اردو میں لے لیا کرتے تھ۔

اس زمانے میں گانے کی ساؤنڈ ریکارڈنگ اور سین کی شوٹنگ ایک ساتھ کرنا پڑتی تھی۔ فلم میں کام کرنے والے کلاکارخود گاتےاوراداکاری بھی کیا کرتے-اہم موسیقار کرداروں کا گروہ سٹوڈیو میں ہی کیمرے کی نظر سے ہٹ کر کسی اوٹ میں کھڑا ہوتا تھا اوروہیں سے گانے والے کی سنگت کرتا تھا۔ گیت شروع ہونے اور اس کے ختم ہونے تک شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں کیمرے چلتے رہتے تھے۔ صرف شوٹنگ کیمرے کو ٹرالی پر رکھ کر درمیانے شاٹ، کبھی فل لینتھ، تو کبھی کلوزاپ کی ضرورت کے لیےآگے پیچھے کیا جاتا تھا۔ ہلچل بس یہی ہوتی تھی۔چار ساڑھے چار منٹ کے چلنے والے اس شروع کے شاٹ میں،کیمرہ والا، گانےوالا یا کردار تھوڑی بھی غلطی کرتا، تو پھر شروع سے آخر تک وہی سلسلہ چلانا پڑتا تھا۔

ایک دن گووندراؤ ٹیمبے کا ہریش چندر کا گیت فلمانا تھا۔ گووندراؤ اعلی پائے کے گائیک تھے۔ انہیں اسٹیج پر وقت کی قید نہ مانتے ہوئے جتنی دیر چاہا گانے کی عادت تھی۔ لیکن یہاں فلمی دنیا میں وقت کی قید بہت معانی رکھتی تھی۔ میں نے گووندراؤ کو گانا وقت پر ختم کرنے کے بارے میں اچھی طرح سے سمجھایا تھا، کہا تھا، “میں کیمرے کے پاس کھڑا رہوں گا۔ ہر ایک منٹ کے بعد میں آپ کو ایک، دو، اس طرح انگلیاں دکھا کر اشارہ کرتا رہوں گا۔ میری چار انگلیاں دکھائی جاتے ہی آپ اپنا گانا مناسب ڈھنگ سے ختم کیجئے۔”

انہوں نے میری باتیں دھیان سے سن لیں۔ اُن کو من ہی من دہرا لیا اور میری ہدایات کو اچھی طرح سے سمجھ لیا۔ اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ اب گووندراؤوقت کے بارے میں کوئی جھنجھٹ کھڑا نہیں کریں گے۔

گانے کی ریہرسل ہو گئی۔ کیمرے کی سرگرمی بھی پکی ہو گئی۔ گووندراؤنے اپنی سنہرے فریم والی عینک اتار کر ایک طرف رکھ دی۔ میں نے چِلا کر سب کو ‘خاموش’ رہنے کا حکم دیا۔ سب لوگ اپنی اپنی مقررہ جگہ پر ٹھیک کھڑے ہوگئے۔”سٹارٹ”، میں نے اشارہ کیا۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈنگ الگ دونوں کیمرے چالو ہو گئے۔ وِنائک نے سین نمبر اور شاٹ نمبر کہہ کر ‘کلیپ’ماری۔ خاص سنگیت بھی شروع ہو گیا۔ گووندراؤ کا سُر بہت ہی بڑھیا لگا تھا۔ کیمرے کی حرکت میرے خاموش اشاروں کے مطابق ہونے لگی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ میں نے ایک منٹ ختم ہونے کا اشارہ دیا۔ مجھے لگا کہ گووندراؤ نے اسے دیکھ لیا ہے۔ وہ گانے میں ایک دم کھو گئے تھے۔ گانے کے بھاؤ کے مطابق ان کی اداکاری بھی بہت ٹھیک سے چل رہی تھی۔ دو منٹ ہو گئے۔ میں بہت خوش تھا۔ تیسرا منٹ بیتا۔۔۔چارمنٹ ہو گئے۔ میں نے گانا ختم کرنے کا اشارہ گووندراؤ کو کیا۔ لیکن وہ گانے میں اتنے کھو گئے تھے کہ میرے اشاروں کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں تھا۔ اس لئے گاتے گاتے ان کی نظر جس طرف بھی جاتی، اسی سمت میں کتھک نرتک کی طرح اچھل کود کر میں انہیں گیت ختم کرنے کے اشارے کرتا گیا۔ لیکن بھگوان کا نام لو، پانچ منٹ ہوگئے، گووندراؤرکنےکا نام ہی نہیں لےرہے تھے۔میراکتھک ناچ اب تانڈو میں بدل گیا تھا۔ لیکن میں جتنا بھی کودتا پھاندتا، گووندراؤ کا گانا اور رسیلا بنتا جا رہا تھا۔ میری ساری کوششیں بیکار گئیں۔ہار کر سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر میں مایوس ہوکر دھم سے نیچے بیٹھ گیا۔ تبھی کیمرا چلانے والے فتے لال زور سے چلائے “فلم ختم ہوگئی۔”گووندراؤ چونک کر رک گئے اور غصے میں آکر بولے، “یہ کیا مذاق بنا رکھا ہے آپ نے؟ اب جاکر کہیں میری آواز فلم کے مطابق سدھ گئی تھی، اور ادھر آپ کی فلم ختم ہو گئی؟کہاں ہے وہ شانتارام بابو؟” میں تو ان کے سامنے ہی کیمرے کے پاس گردن لٹکا کر سرتھامے بیٹھا تھا۔ گم سم، چپ!مجھے دیکھنے کے لیے گووندراؤنے اپنی عینک منگوا لی۔

ایودھیا کا راجہ کا ایک منظر

اسےوہ آنکھوں پر رکھنے جا ہی رہے تھے کہ میں نے فوراً اٹھ کر، جیسے کچھ بھی نہیں ہوا ایسے انداز سے کہا، “واہ گووندراؤ! آج تو آپ کی آواز ایک دم بڑھیا سدھی تھی۔ آپ کا گانا بےمثال رہا!”

یہ سن کر ان کا غصہ شانت ہو گیا، بولے، “تبھی تو! عینک لگی نہ ہونے کے کارن آپ کا چہرہ مجھے صاف نظر نہیں آرہا تھا، لیکن آپ ہاتھ اٹھاتے ضرور تھے، اس سے میں سمجھ گیا کہ آپ میرے گانے کی داد دے رہے ہیں اور اسی لئے میں گاتا چلا گیا۔”

میں نے من ہی من کہا، “کرم پھوٹےمیرے!”

ہماری شوٹنگ انیس دن چلتی رہی۔ شوٹنگ اور ساؤنڈ ریکارڈ دونوں کی فلموں پر کیمیکل روم میں روز کیمیائی عمل کیے جاتے تھے۔ دھایبرجی نے ان کے پرنٹس تیار کئے۔ دوسرے سین کی شوٹنگ کرنے تیاریاں ہونے تک میں نے سوچا، تصویر اور آواز پٹیوں کو ٹھیک سے ساتھ ساتھ جمع کرکے ان کی ایڈیٹنگ کیوں نہ پوری کر لی جائے۔ مووی اؤلا پر میں ایڈیٹنگ کے لیے بیٹھ گیا۔

تصویر اورآوازپٹیوں کےالگ الگ ر ولوں کو مووی اولا پر چڑھایا۔ شوٹنگ سکرپٹ کے مطابق کس شاٹ کو کہاں کاٹنا ہے، طےکرلیااورنشان بھی لگا لیے۔ پہلے ہی شاٹ میں کرداروں کےہونٹوں کی حرکت اورآواز کاتال میل نہیں بیٹھا تھا۔ مجھے لگا کہ شاید ایڈیٹنگ مشین پر رول چڑھانے میں مجھ سے کوئی بھول ہو گئی ہے۔ میں نے رول اتار لیے اورپھرٹھیک سے چڑھا دیے۔ دونوں پٹیوں کا ٹیسٹ پھرشروع کیا۔لیکن دونوں پٹیوں میں قطعی کوئی میل نہیں بیٹھتا تھا۔ ہونٹوں کی شروعات حرکت کے ساتھ آواز کو ملا لینے پر دونوں پٹیوں کی لمبائی میں فرق آ جاتا۔ میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ اردیشرایرانی جیسے تجربہ کار فلم ڈائریکٹرنے یہ سسٹم غلط ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ صحیح تھا؟ نہیں!

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ شاید ایک ادھ شاٹ غلط ہو گیا ہوگا۔ من میں پھر تھوڑی امید جاگی۔ اگلا شاٹ ٹھیک سے دیکھا۔ لیکن وہی حال۔ پاگل کی طرح میں ایک کے بعد ایک شاٹ اور ایک کے بعد ایک رول جانچتا گیا۔ لیکن ایک بھی شاٹ میں تصویراورآوازکا میل نہیں بیٹھ پارہا تھا۔ میرے تو دیوتا کوچ کر گئے۔

تبھی داملے وہاں آ پہنچے۔ میں نے انہیں کچھ شاٹس دکھائے۔ انہیں دیکھتے ہی داملے ایسے بیٹھ گئے جیسے ہذیان ہو گیا ہو۔ کچھ دیر بعد پتہ نہیں انہوں نے کیا سوچا، وہ مشینری روم میں گئے۔ کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈرایک ساتھ چالو ہوں اس کے لیے وہاں جو اوربجلی پر چلنے والےدیگرآلات رکھے تھے،ان کا داملے ٹھیک ٹھیک معائنہ کرنے لگے۔

کچھ لمحوں بعد میں بھی اس کمرے میں پہنچ گیا۔ داملے پسینے پسینے ہو گئے تھے۔انہوں نے ساری مشینری کی پھر جانچ پڑتال کی، دیکھا بھالا۔ کسی میں کوئی نقص نظر نہیں آ رہا تھا۔داملے جی نے مجھے بے چینی سے پوچھا، “شانتا راما بابو، ہم نے تجربے کے لیے جو شروع کے شاٹس لیے تھے، ان میں تصویراورآوازکی فلمیں ایک سی لمبائی کی تو تھیں نا؟ ان میں ہونٹوں کی ہلچل کا آواز کے ساتھ برابر تال میل بیٹھا تھا نا؟”

میں نے “ہاں” کہہ تو دیا لیکن میں بھی کچھ سٹپٹاہٹ میں ہی تھا۔

ہم دونوں ایڈیٹنگ روم میں گئے۔ وہاں نئی شاٹس کی فلموں کو ہم نے پھر مووی اولا پر چڑھایا۔ ان فوٹوزمیں تصویر اور آواز کا ایک دم ٹھیک تال میل بیٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر داملے نے کہا، “اچھا، اب آپ گھر جائیے۔ ان انٹرلاک موٹرز میں کیا خرابی آ گئی ہے، میں دیکھ لیتا ہوں۔”

میں گھر گیا۔ رات بھر سو نہیں سکا۔ کمرے میں ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر چکر کاٹتا رہا۔ مجھے اس طرح پریشان دیکھ کر وِمل نے پوچھا بھی، بات کیا ہے، لیکن میں نے کچھ ٹال مٹول جواب دے دیا۔ دن بھر کے کام کے مارے تھکی ماندی ہونے کے کارن وہ سو گئی۔ میں کمرے میں ٹہلتا تھا۔ بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ انیس دن کی محنت، وقت، شوٹنگ، سب کچھ بے کارہوگیاتھا۔ اس کے علاوہ شوٹنگ کی گیارہ ہزار فٹ اور ساؤنڈ ریکارڈر کی بھی اتنی ہی لمبائی کی فلم بیکار گئی تھی۔ یعنی بائیس ہزار فٹ فلم ہم نے برباد کر ڈالی تھی۔ ادھر ایک ایک پیسے کے لیے کمپنی ترس رہی تھی۔ ہم بھی فلم کے ہر فٹ کاپورااستعمال کرنے کی احتیاط برت رہے تھے۔ اور ایسے میں یہ بربادی! کیا آڈیوکمیکس ساؤنڈریکارڈرکاہماراانتخاب غلط تھا؟ اگر تھا،تواب شوٹنگ اورساؤنڈ ریکارڈنگ دونوں ایک ساتھ کر سکنے والا نیا کیمرا کہاں سے لایا جائے؟ اس کےلیے ضروری رقم کہاں سے حاصل کی جائے؟ پھر نیا کیمرا لانا بھی ہو، تو امریکہ سےمنگوانا پڑےگا۔اس کے آنے میں تین چار ماہ لگ جائیں گے۔ یعنی تب تک کیا کمپنی کے لوگوں کو بنا کسی کام کے تنخواہ دی جائے گی؟ ویسے ہی پیسے کے لالے پڑرہے تھے۔ تو کیا کمپنی کو تین چار مہینے بند رکھنا ہوگا؟ میرے من میں وچاروں کا انبار لگا تھا۔ کھڑکی سے باہر کہیں دور دیکھنے کی میں کوشش کر رہا تھا۔ لیکن باہر گھنا اندھیرا چھا گیا تھا۔ میں کب بستر پر آکر لیٹ گیا اور کب آنکھ لگی، معلوم نہیں۔

سپنے میں ایک پاگل سا نوجوان سر جھکائے آگے پیچھے ڈول رہا تھا۔ اسے ہم نے اپنے بچپن میں کئی بار دیکھا تھا۔ اس کا نام تھا نیل کنٹھ۔۔ بعد میں وہ کولہاپور کی کمہار گلی میں دت سوامی کے مندر میں بیٹھا رہتا تھا۔ کسی نے کھانے کے لیے کچھ دے دیا تو کھا لیتا تھا، ورنہ بھوکا رہ کر دن بھر بس اسی طرح ڈولتا رہتا تھا۔ لوگ اسے ‘نیلو مہاراج’ کہنے لگے تھے۔ اس نیلو مہاراج کی حال ہی میں وفات ہو چکی تھی۔ سپنے میں اسی نیل کنٹھ نے سر اٹھا کر میری اور دیکھا، اور وہ کہنے لگا،”بے کار کی الجھن میں کیوں پڑتے ہو؟ فکر نہ کرو، سب کچھ ایک دم ٹھیک ہونےوالا ہے!”

یہ لفظ سن کر میں جاگ اٹھا۔ سپنے میں بات یاملاقات وغیرہ ہونے پر میرا قطعی یقین نہیں تھا، لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جو ہوتا ہے! مجھے بھی اس سپنے نے ہمت بندھائی۔نہانے دھونے سے نبٹ کر میں فوراً مشینری روم میں پہنچا۔ داملےجی بہاں رات بھر مشین میں آئی خرابی کھوجتے رہے۔ کوشش تو وہ پوری کر رہے تھے، لیکن غلطی پکڑ میں نہیں آ رہی تھی۔سٹوڈیو میں ہریش چندر کے محل کا منظر کھڑا کیا جا رہا تھا۔ میں نے اس کام کو پہلے بند کروایا۔ اتنے دنوں سے جاری شوٹنگ سب کا سب بیکار ہو جانے کی بات کانوں کان ہر جگہ پھیل گئی تھی۔ ساری کمپنی پرڈپریشن بری طرح چھا گیا تھا۔ میں بھی ایک کمرے میں گہری فکر میں کھو گیا۔

کچھ دیر بعدایک چھوکرا بھاگتے بھاگتے مجھے کھوجتا ہوا آیا۔ اس کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس نے کہا، “داملے ماما نے کہلا بھیجا ہے کہ آلے میں جو خامی تھی، اس کا پتہ چل گیا ہے۔ دونوں موٹریں اب ٹھیک چل رہی ہیں۔”

سن کر میں دوڑ کر مشینری روم میں گیا۔ داملے سارا کام ختم کر پسینہ پونچھ رہے تھے۔ میں نے داملے کو کس کر گلے لگا لیا۔ ان کے چہرے پر رات بھر کام کرنے کے کارن تھکان صاف دکھائی تو دے رہی تھی،لیکن سکون اس سے بھی زیادہ جھلک رہا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “خاص کوئی بات نہیں تھی، شانتارام بابو۔ صرف ایک سوئچ ذرا ڈھیلا ہو گیا تھا، اسی کے کارن یہ سارا جھمیلا ہو گیا!”میں نے انہیں آرام کرنے کے لیے گھر بھیج دیا اور میں اسی دن بمبئی گیا۔

بمبئی پہنچتے ہی پہلا کام میں نے یہ کیا کہ آگفا کمپنی میں گیا۔ ریگےجی سے ملا۔ بے جھجک ہوکر انہیں سارا معاملہ بتایا۔ انہوں نے میری پیٹھ سہلاتے ہوئے ہمت بندھائی، “کوئی بات نہیں! فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کو آپ کی بولتی فلم کوپورا کرنے کے لیے جتنی بھی کچی فلم لگے، ہم آپ کو ادھار دے دیں گے۔” سن کرمیرا حوصلہ کچھ بڑھا۔ پھر میں نے ہمارے ڈسٹری بیوٹربابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ سوچ بچار اورمشورہ کرکےکچھ رقم کابندوبست کرلیا۔

میں کولہاپور واپس آ گیا۔ ہریش چندر کے محل کی شوٹنگ پھرسےشروع کر دی۔ اب پہلے سے بھی زیادہ احتیاط برت کرمیں ہردن شوٹنگ پوری کرنے کے بعد رات بارہ ایک بجے تک بیٹھ کراس دن کی شوٹنگ کی ایڈیٹنگ بھی پورا کر لیتا تھا۔ مقصد یہ ہوتا کہ مان لو پھر کہیں کوئی غلطی ہو بھی گئی ہو، تو فورا اسی دن اسے ٹھیک کر لیا جا سکے۔

سٹوڈیو کے باہر کے کھلے میدان میں کاشی کے غلاموں کے بازار کا منظر تیارکیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کو کاشی کے گنگاناتھ مہاجن کا کردار دیا۔ تہذیب کے نام پر صفائی کے ساتھ بُرے کام کرنے والے وِلن سامنے لانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ میری یہ سوچ میں نے بابوراؤ کو بتائی۔ انہیں وہ بہت پسند آئی۔ اس خیال کو انہوں نے ڈھال لیا اور اپنی اداکارانہ مہارت سے اس میں ایسی جان ڈال دی کہ (فلم میں) گنگاناتھ مہاجن یادگاربن گیا۔

غلاموں کے بازار کی شوٹنگ ختم ہوئی۔ پھرمرگھٹ کا منظربنایاجانےلگا۔ ہریش چندر کے مرگھٹ کے مناظر کو فلمایا جانے لگا۔ ہریش چندر کا ڈوم مالک مرگھٹ کا بھی سردار تھا۔ اس ڈوم کے یہاں ایک بار ناچ گانے والوں کا ایک گروہ آتا ہے اور گانا گاتا ہے۔ اس سین کو فلماتے سمے ہی کولہاپورمیں ڈوم مداریوں کی ایک تماشہ پارٹی آئی ہوئی تھی۔ انہیں ہم نے کمپنی میں بلوا لیا اورسیدھا شوٹنگ کے لیے کھڑا کر دیا۔ ان میں ایک لڑکی سے وہیں کچھ لوک گیت سن لیے۔ ان لوک گیتوں میں سے ایک ٹھیٹھ دیہاتی،چٹخداراورپھڑکتی دھن کا لوک گیت چن لیا۔ اس گیت کی دھن پر وہ لوگ ناچنے لگے۔ لیکن فلم کے لیے مخصوص وقت کا اندازہ انہیں نہیں تھا۔ گووندراؤ ٹیمبے کی گائیکی کے بارے میں جو بُرا تجربہ ہوگیا تھا، من میں تازہ تھا۔ اس لئے ان دیہاتی فنکاراؤں کو ٹھیک وقت پر کیسے روکا جائے، ایک الجھن ہی تھی۔

میں نے اپنا ڈائریکٹر کا پہناوا بدل لیا۔ پھٹی دھوتی اور سر پر ایک مٹ میلی دھجی باندھ کر میں بھی ان میں سےایک ڈوم بن گیا۔ میں کیمرے کی طرف پیٹھ کئے کھڑا رہا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹی گھڑی چھپا لی۔ ناچتے ناچتے بیچ بیچ میں میری طرف دیکھتے رہنے کی ہدایت انہیں دی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ میرے ہاتھوں کا اشارہ سمجھ کر گیت گانا بند کرنا۔ شوٹنگ چالو ہو گئی۔ گانا اچھا تھا۔ رقص بھی چٹخدارتھا۔ کمپنی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے کلاکار اور کاریگر ‘پربھات’ کا سخت ڈسپلن توڑ کررقص گیت کے تماشے کو دیکھنے کے لیے شوٹنگ کی جگہ پہ جمع ہو گئے تھے۔ اصل مراٹھی کے لوک گیت کے الفاظ تھے بھی بڑے مزیدار، جن کا مطلب تھا۔۔۔

“کودو کٹکی جیو نار کے لیے بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے۔۔۔”

فلم کی شوٹنگ اور مراٹھی ہندی ورژن کا کام پورا ہوا۔ مراٹھی میں اس بولتی فلم کا نام “ایودھیچا راجہ” اور ہندی میں “ایودھیا کا راجہ” رکھا گیا۔

فلم کو پہلے ٹرائل روپ میں آپس میں ہی دیکھنے کا دن طے ہوا۔ رات ہو گئی۔ فلم کی مکمل کاپی تیار ہو رہی تھی۔ ہم سب لوگ بے حد اتاولے ہو رہے تھے۔ ذہنی تناؤ تو اتنا بڑھ گیا تھا کہ بیچ میں ملے وقت میں بھی ہم لوگ کسی سے بات نہیں کر رہے۔ مکمل فلم کو تیار کرتے کرتے بھور ہو گئی تھی۔ سبھی چپ چاپ بیٹھے فلم تیار کی جانے کا انتظارکر رہے تھے۔

کمپنی کے باہر والے کھلے احاطے میں ہم لوگ اپنی پہلی بولتی فلم دیکھنے کے لیے تیار ہوکر بیٹھ گئے۔ پربھات کے لوگو کا پہلا شاٹ چالو ہو گیا۔ تانپورے کی آواز سنائی دینے لگی۔ اسی جھنکار کی لے پر پربھات دیوی نے اپنی بھیری اٹھائی، وہ اسے اپنے ہونٹوں تک لے گئیں۔ اور بھیری سے نکلی دیسی راگ کی سریلی دھن نے سارے ماحول کو بھر دیا۔

خاموش فلم کے لیے بنایا گیا وہ لوگو ساؤنڈ ریکارڈ یعنی بولتی فلموں کے لیے اتنا مناسب ثابت ہوگا، کسی نے سوچا نہیں تھا۔ بھیری کو سر مل گئے۔ ہماری ‘پربھات’ کی بھیری سامنے لگے پردے پر گونج رہی تھی۔ اس خاموش لوگو سے پرزوراور پہلی سُریلی لہر سے میرا تن من پر جوش ہو گیا۔ اسی لمحے ہمارے منتخب ناظرین کےگروہ نے والہانہ داد دی، “واہ واہ!” ساتھ ہی سارااحاطہ تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔ آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔

بولتی فلم پوری ہو گئی۔ آخرمیں پھر سے ‘پربھات’ کا لوگوپردے پر آیا۔ پربھات کی بھیری پھر ایک بار اپنا سریلا سُر ماحول میں بکھیر رہی تھی۔ میں نے پورب کی طرف دیکھا۔ مشرقی افق بھی اس وقت پربھات کی لالی سے لال لال ہو رہا تھا۔

بولتی فلم واقعی میں بہترین بنی تھی۔ اس کے مکالمے،گیت، سب کچھ بہت اچھا فلم ہو گیا تھا۔ سبھی کلاکاروں اور تکنیک کاروں نے اپنا کام پورے دل سے کیا تھا۔ لیکن۔۔۔۔من میں اتنے دن سے دبی پڑی وہی بے چینی پھر ابھر آئی۔ میری رائے میں ‘ایودھیا کا راجا’ حقیقت میں ایک فلم نہیں تھی۔ وہ ناٹک فلم تھی۔ سین اور اداکاری کے مقابلےوہ مکالموں اورگیتوں سے کھچاکھچ بھراپڑا تھا،لدا لدا سا لگ رہا تھا۔حقیقی معنی میں وہ صرف ‘بولتی فلم’ تھی۔ لیکن اس الجھے خیال کے کارن کہ اس طرح کی بولتی فلم بنائے بنا وہ کامیاب ہو ہی نہ سکےگی، میں نے پربھات فلم کمپنی کی معاشی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے وہ ناٹک کی طرز کی بولتی فلم پورا کی تھی۔

ہندی ورژن ‘ایودھیا کا راجا’ تو سو فی صدی ڈرامائی تھی۔ مراٹھی ورژن کچھ کم ناٹکی تھا۔ بچوں کی کہانی ہوتی ہے نا، ٹھیک ویسی ہی تھی ان دو ورژن کی کہانی : ایک تھا راجا۔ اس کی دو رانیاں تھیں۔ ایک تھی اس کی چہیتی اور دوسری تھی اَن چاہی : لیکن میرے بارے میں یہ کہانی تھوڑی سی مختلف تھی ہندی ورژن بالکل ہی اَن چاہا تھا، تو مراٹھی ورژن تھا تواَن چاہا ہی، لیکن تھوڑا کم اَن چاہاتھا۔

میں سوچ رہا تھا کہ کیا دیکھنے والے ان دونوں ان چاہی رانیوں کو پسند کریں گے؟کمپنی کی بگڑی گرہستی (گھر)کو کیا یہ رانیاں پھر ٹھیک سے بسائیں گی؟

Categories
نان فکشن

شانتا راما باب 8: شانتا راما ٹچ کا بننا (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

……………..

‘ شانتارام، او شانتارام!’پکار بالکل کھلے من سےآئی تھی۔ میرے قدموں کی رفتار دھیمی ہو گئی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا، بابا گزبر آوازدیتے چلے آ رہے تھے، “کیا کمپنی میں جا رہے ہو؟” اور پھر انہوں نے ہماری نئی کمپنی کا حال پوچھا۔ باتوں باتوں میں کہہ گئے، “بابوراو پینٹر تمہارے بارے میں کہہ رہے تھے کہ اور سارے مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہوتے، تو بھی مجھے خاص کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا،لیکن شانتارام کو میرے ساتھ ہی رہنا چاہئیے تھا ! میرے لئے اس کا بہت فائدہ تھا!’
سن کر میں صرف اداسی سے ہنس پڑا۔

بابا کچھ دیر تو چپ رہے، بعد میں بات بدل کر کہنے لگے، “ارے، شانتارام، مہاراشٹر فلم کمپنی میں ابھی ابھی تو تم اچھی تنخواہ پانے لگے تھے۔۔۔ “ان کی بات کو بیچ ہی میں کاٹ کر میں نے کہا، “بابا، ویسے دیکھا جائے تو آج بھی ہم سب کو اچھی تنخواہ مل ہی رہی ہے! ہم میں سے ہر ایک گھر خرچ کےلئے ساٹھ روپے لیتا ہے۔” “لیکن بھائی میرے، تم نے کمپنی چھوڑ دی تب میرے خیال سے تمہیں پورے ایک سو تیس روپےلے رہے تھے ۔اتنی تنخواہ پانے کے لئے تمہیں کمپنی میں نو سال کھپنا پڑا تھا۔ اب پھر،اتنی تنخواہ پانے کے لئے تمہیں یہاں بھی۔۔۔۔”

“اتنے سال نہیں لگیں گے، مجھے یقین ہے!” میں نے ان کا جملہ پورا کیا اور آگے کہا، ‘الٹے، ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتے ہوئے ہم لوگ جس جوش خروش کے ساتھ کام میں لگے ہیں، اسے دیکھ کر نو سال تو کیا نو مہینے بھی نہیں لگیں گے مجھے ایک سو تیس روپے پانے کے لئے۔ اور چلو مان لیتے ہیں کہ نو سال لگ جاتے ہیں، اور تب تک ہمیں آج جیسی ہی حالت میں گزارا کرنا پڑتا ہے، تو کیا ہوا؟ اپنے پاؤں پر کھڑےہوکر ، آزادی کے ساتھ کچھ نیا کام کرنے کی ہماری کوشش ہے، یہ سکون پیسوں سے زیادہ قیمتی لگتا ہے ہمیں!”

میری ایسی خود اعتمادی بھری باتیں سن کر بابا نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔

لیکن اس کے بعد انہوں نے مجھے بہت ہی پس وپیش میں ڈالنے والا سوال کیا، ‘مان لو، بابوراو پینٹر مہاراشٹر فلم کمپنی کو چھوڑ کر تمہارے پاس آ جاتے ہیں، تو کیاانہیں قبول کر لوگے؟ وہ وہاں کے ساجھے داروں کے مارے تنگ آ گئے ہیں۔ انہوں نے ہی یہ پیشکش لےکر مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔”میں سن کر دنگ رہ گیا، ساکت رہ گیا۔ سوچنے لگا ، بابوراو پینٹر میرے گرو ہیں،بڑے کلاکار ہیں، میرے لئے پوجنے لائق ہیں۔ ان کی اس پیشکش کو رد کرناناممکن ہے۔ رد نا ممکن تو تھا، لیکن قبول کرنا بھی مشکل تھا۔یہ تو انہی کی بےعملی کانتیجہ تھا کہ مہاراشٹر فلم کمپنی اتنی نہیں پنپی، جتنی پنپنی چاہئیے تھی یا پنپ سکتی تھی۔

الجھن سے اپنے آپ کو ابھارنے کے کوشش میں ایک ایک لفظ کھوجتے ہوئے دھیرےدھیرے میں نےکہا، “آپ جاکر سیٹھ سے پوچھئے کہ آج تک مہاراشٹر فلم کمپنی میں ہم لوگ ان کی ہر بات مانتے تھے، لیکن اب اگر وہ ہماری کمپنی میں آتے ہیں، تو کیا ہمارےپروگرام کے مطابق وہ چل سکیں گے؟ اگر ہاں کہتے ہیں تو مجھے آ کر بتائیے، میرے دیگر ساتھیوں سے صلاح کر کے میں آپ کو بتاؤں گا۔”

میرا یہ ٹکا سا جواب سن کر بابا بھی خاموش رہ گئے۔ پھر بھی میں نے دیکھا کہ میری بات انہیں بھی جچ گئی تھی۔ انہیں وہیں چھوڑ کر میں کمپنی کی طرف تیزی سے چلا گیا۔

اتنی ہی تیزی سے من میں وچاروں کا چکر گھومنے لگا تھا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی کوچھوڑ کر نکل آنا صحیح تھا یا غلط، یہ خیال اب بےمعانی ہو چکا تھا، پہلےمہاراشٹر فلم کمپنی میں کام کرتے وقت من میں بس صرف ایک ہی خیال آتا تھا کہ جو کام مجھے سونپا گیا ہے، یا کرنے کو ملا ہے، اچھے سے اچھے ڈھنگ سے کس طرح پورا کیا جائے۔ لیکن اب ‘پربھات’ کے قیام کے بعد، اتنی ساری کٹھنائیوں کوپار کرتے وقت میرے من میں آج تک کا سویا عزم جاگ گیا تھا۔ میرے سپنوں کا افق وسیع ہو گیا تھا۔ اب توصرف ایک ہی دھن سوار تھی : ‘پربھات کواچھے ڈھنگ سے کس طرح فعال کیا جائے۔ عمدہ فلموں کا بنانا ہی اس کا ایک جواب تھا!

تیزی سے ڈاگ بھرتا ہوا میں کمپنی میں آ پہنچا۔ دن بھر بالکل شام ہونے تک اپنے آپ کو مختلف کاموں میں لگائے رکھا۔ شام کو ہم چاروں ساجھے دار اپنے چھوٹے سے کارخانے میں اکٹھے ہوئے۔ میں نے انہیں سویرے بابا گزبر سے ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔

داملےجی نے زور دےکر کہا، “سیٹھ کی پیشکش کا جوجواب آپ نے دیا، وہ ایک دم مناسب تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کے باوجود اب وہ ہماری کمپنی میں آئیں گے!” بابوراو پینٹر کو وہ مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتے تھے۔

لیکن بیچ ہی میں فتے لال جی نے شبہ ظاہر کیا، “سچ کہتا ہوں، ایک بات ضرور سوچنے لائق ہے کہ کہیں ہماری کمپنی کا بھی وہی حال نہ ہو جو اتنے سال کام کرنے کے بعد بھی مہاراشٹر فلم کمپنی کا ہو گیا ہے۔”میں نے فوراکہا، “ہمارا حال ویسا کبھی نہیں ہوگا، ہرگز نہیں۔ جو غلطیاں سیٹھ کرتے تھے، اگر ان سے بچنے کی کی کوشش ہم نے کی، تو ہم اچھی طرح کامیاب ہو جائیں گے۔”

“لیکن ان کے لوگ ہماری پربھات کمپنی کو دہی چاول کمپنی جو کہتے ہیں،اس کا کیا؟’ دھائبر نے کہا۔”دہی چاول؟” میں نے جوش سے کہا، ٹھیک ہے، ہماری اس طرح کھلی اڑانے والےجلد ہی جان جائیں گے کہ ہماری ‘پربھات فلم کمپنی’ ایک آدرشی فلم ادارہ ہے۔ ہم لوگ ‘پربھات’ کی پرورش کر کے اسے بڑابنائیں گے۔ آج کی اس چھوٹی سی جگہ سے اس کا گھر سنسار کافی بڑے احاطے میں لے جا کر بسائیں گے۔ہالی ووڈ کی یونیورسل کمپنی کاجیسےایک اپنا نگر بنا ہے، اسی طرح ہم لوگ بھی اپنی اس پربھات فلم کمپنی کا ‘پربھات نگر’ بنائیں گے!”

بیچ ہی میں داملے بولے اجی!اجی! شانتارام بابو،اجی جاگئے، مہاراج جاگئے ! میرے سپنوں کی فلم ٹوٹ گئی داملے جی کہے جا رہے تھے، آپ ذرا سپنے کی دنیا سے جاگ کر دھرتی پر قدم رکھئے۔

“پربھات نگر بسانے کا وچار کرنے سے پہلے ہم لوگوں کو اپنے خاندان نگری کا وچار کرنا چاہئیے!”میں نے تین دن کے سلطان کی ادا سے ان سے سوال کیا۔ اچھا، بتائیے ہم میں سے ہر ایک کے پاس کتنا روپیہ ہونا چاہئیے، تاکہ کسی کوخاندان نگری کی فکرہی نہ رہے؟ بتائیے! ”

ہرایک کے پاس ایک ایک لاکھ روپے ہو جائیں، تو ہم لوگ ایک دم بے فکر ہوجائیں گے۔ اس کا انتظام کیجیے، بعد میں آرام سے اپنے سپنوں کی دنیا دھرتی پربسانے میں لگ جائیے، ہم میں سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا!”

ادھر اصل میں تو تھوڑا ہی کام ہوا تھا۔ سٹوڈیو کے لئے لوہے کے شہتیر کھڑےکئے جا چکے تھے۔ کیمیکل روم بن گیا تھا، میں اپ کے لئے کمرے تیار کر لئے گئےتھے۔ حساب کتاب لکھنے کے لئے ایک چھوٹے سے کمرے کا انتظام کر دیا گیا تھا۔ ہمارےپیچھے پیچھے ہمارے باپو کو بھی مہاراشٹر فلم کمپنی سے ہٹنا پڑا۔ انہیں کو ہم نےاپنی کمپنی کا لیکھا جوکھا اور پیسے کا سارا کام سنبھالنے کا کام سونپا۔

پہلی فلم کے لئے کہانی کے انتخاب کا وچار شروع ہو گیا۔ ہم لوگ چاہتے تھےکہ ہماری پہلی فلم اونچی قسم کی اور مقبول ہو، اس لئے ہم نے عام آدمی کے پسندیدہ شری کرشن کے بچپن کے مدھر منظروں پرمبنی کہانی طے کی،اندردیو کے غصے کے کارن اپیدا ہوئے طوفان میں شری کرشن گووردھن پروتن اٹھاکربرج واسیوں کی حفاظت کرتا ہے، یہ تھا ہماری فلم کا نقطہ عروج۔

فلم کاموڈ پر کیا اثر پڑے گا، میں نے پہلے سے ہی سوچ لیا تھا۔اس لئے میں چاہتا تھا کہ ‘گوپال کرشن جیسا موضوع صرف شاستروں پرانوں کے دائرے میں ہی سمٹا نہ رہے، بلکہ آج کے زمانے کے مطابق سماج اور دیس کے لئے کچھ پیغام دینے والا ہو۔ دیس میں سیاسی تحریک زور پکڑتی جا رہی تھی ۔ ہماری کولہاپر ریاست میں بھی خبریں آنے لگی تھیں کہ خودمختاری کے لئے مہاتما گاندھی زوردار تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس لئے میں نے اس ‘گوپال کرشن’ فلم کوسیاست کا ہلکا ٹچ دینے کا فیصلہ کیا۔

متھرا کے راجا کنس کو میں نے برٹش راج طاقت کا اور شری کرشن کو عوام کارہنما بنا کرفلمانے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات بھی میں نے بالواسطہ روپ میں اور اصل لیجنڈری کہانی کے منظروں کو تھوڑا سابھی نقصان پہنچائے بنا فلم میں رکھا۔ یعنی سیاست کو کھلم کھلا فلمانا مشکل تھا۔ کیونکہ یہ ہماری پہلی فلم تھی اور ہم اسے سینسر کی قینچی سے بچا کرعوام کے سامنے پیش کرناچاہتے تھے۔ یہ ضروری بھی تھا۔ اس لئے میں نے اپنی آدرش پسندی اورعمل پسندی کے بیچ تال میل بٹھانے کے لئے کچھ سمجھوتے ضرور کر لئے تھے۔

ہماری کمپنی کا سارا کاروبار ہی نیا تھا۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نئے سرے سے جٹانی پڑ رہی تھی۔ سب سے بڑا سردرد تھا قابل اداکاروں اور اداکاراوں کواکٹھاکرنے کا۔ گیانوبا مانے نامی ایک سڈول اور کسے جسم کے شحض کوکنس کا کام کرنے کے لئے چنا۔ سانگولے دیہات کے ایک پیارے لڑکے سریش کو شری کرشن کا کردار ادا کرنے کے لئے ڈھونڈ کر لائے تھے۔ شوٹنگ کی مدت میں وہ ہمارے گھر پر ہی کھانے کے لئے آتا۔ دیگر چھوٹے موٹے کاموں کے لئے کمپنی کے آس پاس کے گلی کوچوں میں رہنے والے ان پڑھ، اور تھوڑا سا ہی لکھ پڑھ لینے والے بیکار لوگوں کو بہت ہی معمولی پیسوں پر رکھ لیا۔

اب پرشن (سوال) تھا نئے لوگوں کا! مہاراشٹر فلم کمپنی کی ہیروئن کملا دیوی(گلاب بائی) کو فتے لال جی سے کافی پہلے ہی پیار ہو گیا تھا اور وہ بھی مہاراشٹرفلم کمپنی چھوڑ کر ہمارے ساتھ آ گئی تھیں۔ ان کا انتخاب شری کرشن کی ماتا یشودا کےکردار کے لئے کیا گیا۔ ان دنوں خاندانی عورتیں سینما میں کام کرنےنہیں آتی تھیں۔ اس لئے بہنابائی نامی ایک گوری چٹی ادھیڑ عمرکی مدد سےطوائف کا کاروبار کرنیوالی کچھ ادھیڑ عمرکی عورتوں کو لے آیا گیا۔ لیکن سوال تھا نوجوان لڑکیوں کو لانے کا۔ خصوصا رادھا کا اہم کردار کرنے کے لئےچست چالاک لڑکی ی کی ہمیں تلاش تھی۔

انہی دنوں کولہاپور میں ایک تماشا پارٹی آئی تھی۔ اس میں اہم نرتکیوں میں سے ایک لڑکی کے کافی چست و چالاک ہونے کی خبر مجھے ملی وہ ذات کی مدارن تھی۔ ہم نےاسے کمپنی میں بلا لیا۔ وہ ایک دم پکے کالے رنگ روپ کی تھی، لیکن اس ڈیل ڈول اور ناک نقشہ اچھا تھا۔ اسے بیس روپے تنخواہ پر ہم لوگوں نے رادھاکےکردارکے لئے طے کیا۔ جیسا کہ ان دنوں کا رواج تھا، فلم کے مختلف منظروں کی تعلیم دینا میں نے شروع کیا۔ ایک کملا دیوی کے علاوہ خاص سبھی لوگ ایک دم نئے ہونے کے کارن انہیں اداکاری بالکل شروع سے سکھانی پڑتی تھی۔ لہذا تعلیم ہر روز پانچ پانچ اور چھ چھ گھنٹے چلتی تھی۔ آہستہ آہستہ منتخب کئے گئےسبھی لوگوں میں اداکار اور اداکاراؤں کچھ کچھ نکھارآنے لگا۔ تھوڑے ہی دنوں میں شروع کرنا طے ہوا اور ایک دن ہمارے فلم کی رادھااچانک غائب ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے! ہم سب لوگ ماتھا تھامے بیٹھ گئے۔

پھر سے کھوج، ایک ہیروئین کی! اب کی باربہنابائی نے خودآگے آ کرہماری مدد کی۔ وہ ٹھیک ٹھاک ڈیل ڈول کی اور اچھے ناک نقشے کی ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کمپنی میں لے آئی۔پھر سے تعلیم شروع ہو گئی، جو واقعی میں چست تھی۔ وہ اپنا کام بہت ہی پھرتی کے ساتھ سیکھتی گئی۔

سب کا کہنا تھا کہ کوئی اچھا مہورت دیکھ کر فلمانا شروع کیا جائے۔بات یہ تھی کہ اچھا مہورت دیکھ کر کام شروع کرنے پر گوپال کرشن’ خوب چلے گی اور ہماری آئندہ لامحدود پریشانیاں کم ہو جائیں گی،لہذا سیتارام پنت کی پہچان سےکولہاپورکے ایک جوتشی کو بلایاگیا۔ انہوں نے آتے ہی ہم پانچوں ساجھےداروں کی جنم پتریاں دیکھنے کے لئے منگوائیں۔ گئے مارے! ہرایک کے نو نو یعنی ہم پانچوں کے ملا کر پورے پینتالیس گرہن کشتروں (گھروں) کا ہیل میل جس دن ہو گا، اسی دن کام پرشروع ہو سکےگا یعنی پانچ سال تو ایسا ہونا ناممکن تھا!

میں نے کچھ سوچ کر جوتشی کو سجھاؤ دیا، “پنڈت جی، اس کی توقع آپ ایسے کیجئے، جس دن ہماری یہ پربھات کمپنی شروع ہوئی، اس دن، اس وقت اورکمپنی کا نام لےکر آپ کمپنی کی ہی کنڈلی بنا لیجیے اور اس کے لئے جومبارک ہو، ایسا مہورت نکالیے۔ مہورت کمپنی کے لئے بھی تو شبھ ہونا چاہئیے۔ سبھی ساجےداروں کو میری بات پسند آئی۔ اب پینتالیس کے بجائے صرف نو گرہوں کی ہی گنتی دیکھی جانے والی تھی، لیکن وہ نو گرہ بھی پورے ٹھیک نکلے۔ پنڈت جی نے بتایا، “آج سے پیتالیسویں دن ایک دم جگ کیسری یوگ ہے۔ اس سے بڑھیا مہورت کیا ہو سکتا ہے۔ اسی دن کام شروع کیجئے۔

سب کے چہرے سوکھ گئے۔ سبھی چپ تھے۔ ہم تو پینتالیس دنوں میں ساری شوٹنگ مکمل کرنا چاہتے تھے۔ ڈیڑھ مہینہ رکنے کا مطلب ہوتا کمپنی کی کمر توڑ کر رکھ دینا! سبھی اداکاروں کو اور دیگرلوگوں کو ڈیڑھ مہینہ مفت میں تنخواہ دیتے رہیں، توپھر ہو گیا فائدہ کمپنی کا! پہلے ہی ہماری پونجی محدود، وہ یوں ہی ختم ہو جاتی اور فلم کبھی نہ بن پاتی!

اچھا بھلا کام شروع کرنے جا رہے تھے، پتہ نہیں کیا سوجھی جو اس پنڈت کو بلالائے۔ گھر بیٹھے ایک مصیبت ہی مول لے لی۔ اب کیا کیا جائے۔ کسی کو سوجھتا نہیں تھا، مہورت وہورت کی بات کو دھتکارنا بھی ممکن نہیں تھا، کیونکہ سنسکاری من پرمہورت، شبھ گھڑی وغیرہ باتوں کا اثر تھا ہی۔ میں تو اتنی اتاولی فطرت کاآدمی تھا کہ پینتالیس گھنٹے بھی کام کو روکنا مجھے منظور نہیں تھا۔ آخر میں ہمت بٹور کر میں نے کہا، “دیکھیئے، ہم نیک کام کرنے جا رہے ہیں۔ تو نیکی میں پوچھ پاچھ کیسی؟ اتنی مصیبتوں سے راہ نکالتے نکالتے ہم لوگ شوٹنگ شروع کرنے کی تیاری پوری کر چکے ہیں۔ بھگوان ہمارا سرپرست ہے،لہذا اب اور دیری نہ کی جائے۔شبھسیہ شیگھرم (جلدخوش قسمتی آئے)! کل سے ہی کام شروع کریں ۔

سیتارام پنت اور داملےجی نہ تھوڑی بحث بازی کرنی چاہی۔ کنتو(لیکن) میں بھی اپنی ضد پر اٹل رہا۔ میرا خیال ہے، میری عملی دلیل منظور تو سبھی کو تھی، اسی لئے سب نے میری بات رکھ لی اور دوسرے ہی دن صبح’پربھات’ کے لوگو کی شوٹنگ سے ہمارا کام شروع ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘گوپال کرشن’ ریلیز ہونے تک اپنے اس ضدی فیصلے پر میں کافی پریشان رہتاتھا۔ ذرا فرصت ملی کہ دنیاداری کے ریتی رواجوں کے خلاف جاکر، وقت نا وقت کا خیال نہ کرتے ہوئے شروع کئے گئے اس فلم کی کامیابی، ناکامی کے وچاروں کی گھٹائیں من میں گھر گھر کر آتیں اور مجھے بہت ہی پریشان کرتی تھیں ۔

پربھات فلم کمپنی کا لوگو

شوٹنگ کا آغازہم نے ‘پربھات’ کے لوگو سے ہی کیا۔ فتےلال جی نے پیچھےایک پردہ لگایا، جس سے دکھائی دیتا تھا کہ سورج کی کرنیں نیچے کے افق سے اوپرکو اٹھتی آ رہی ہیں۔ پردے کے سامنے پاس ہی انہوں نے لکڑی کے ایک نیم دائرے کاچبوترہ رکھا۔ سڈول ڈیل کی گلاب بائی پربھات کا لوگو بن کر تیار ہوکرآئی۔ فتےلال جی کی بنائی گئی چتر کےمطابق انہوں ڈریسنگ کی تھی۔ گھٹنوں تک پہنی، تن چھوتی ساڑی، اس پر کمربند، بازو میں ایک چھوٹا، نیچےلٹکتا جھولتا دوپٹہ، صرف عروجوں کو ہی ڈھکنے والی انگیا، پیٹھ پر اس انگیا کی گانٹھ کا کچھ لمبا سرا، سر پر ایک نازک تاج اور پیچھے ناگن سی لمبی بل کھاتی چوٹی، ایسی سج دھج میں بن ٹھن کر آئی گلاب بائی اس چبوترےپر کھڑی ہو گئی۔ کسی نے مہورت کا ناریل پھوڑا۔ میں نے کیمرے کو ‘سٹارٹ’ کا حکم دیا۔ فتے لال جی بیل اینڈ ہاویل کیمرے کا ہینڈل گھمانے لگے۔ میں گلاب بائی کواونچی آواز میں ہدایات دینے لگا، “گلاب بائی، اب آپ ہاتھ میں تھامی بھیری کودھیرے دھیرے اوپر کو اٹھائیے اور پیچھے کمر کی طرف جھک کر اسے زور سے پھونکئے۔”

شوٹنگ خاموش فلم کی تھی۔ اس لئے کیمرے کی آواز بھی آتی اور ڈائریکٹر بھی نٹ نٹیوں کو چلا چلا کراداکاری کے بارے میں ہدایات دیتا تھا۔

گلاب بائی ایک سدھی ہوئی اداکارہ تھیں۔ انہوں نے بہت ہی شان کے ساتھ سارا کام کیا۔ میں نے زور سے ‘کٹ’ کہا۔ کیمرہ رکا۔ مہالکشمی کے مندر سے لائے گئے کولہاپور کے خاص پھیکے پیڑے سب کو بانٹے گئےڈھیر ساری مٹھائی ہم پانچوں ساجھےداروں نے ہمارےاس کارخانے میں بیٹھ کر صاف کر دی۔

دوسرے دن سٹوڈیو میں بنائے گئے کنس کے عالی شان محل کی شوٹنگ شروع کی۔ پہلوان گیانوبا مانے کمپنی میں کافی دنوں سے آئے تھے۔ لہذاانہیں اداکاری کی مکمل مشق کافی اچھی ہو گئی تھی۔ نتیجتااس سیٹ پر پینٹ کئے جانےوالے منظروں کی شوٹنگ لگ بھگ پانچ چھ دنوں میں پورا ہو گئی۔ داملے ہر روز اس شوٹنگ کے نیگیٹو کو ہمارے نئےکیمیکل روم میں کیمیکل سے دھوتے تھے۔ دھائبرانکی مدد کرتے تھے۔ کیمیائی عمل کے بعد ان کا پرنٹ نکال کر ہم نے اسےپروجیکٹر پر چڑھایا۔ شوٹنگ نہایت تسلی بخش ہوئی تھی ۔ فورا ہی اگلے سین کی شوٹنگ کے لئے ہم لوگوں نے رادھا کے گھر کا سین کھڑا کرنا شروع کیا۔

شوٹنگ کے دنوں اگلے دن کس سین کی شوٹنگ کیسے کرنی ہے، ہر رات اس کا ایک خاکہ میں لکھ کر کھینچ لیتا تھا۔شام کو گھر آنے کے بعد آدھی رات جاگ کر میں اس سوچ بچار کو لکھنے بیٹھتا تھا۔ اس رات لکھنا پورا نہ ہو سکتا،تو دوسرے دن منہ اندھیرے چار بجے اٹھ کر لکھنے بیٹھتا اور دن نکلتے ہی نہانے دھونے سے نبٹ کر بنا کچھ کھائے پیئے سٹوڈیو چلا جاتا۔ اس جھمیلے میں گھرگرہستھی اور خاص ومل سے غفلت رہنے لگی۔ دو باتیں کرنے کے لیے اس سےمیں فرصت میں نہیں مل پاتا تھا۔

ایک دن سویرے ہی میں سٹوڈیو جانے کو نکل رہا تھا کہ وِمل راستہ روک کرکھڑی ہو گئی اور بولی، “آپ کو یاد بھی ہے کہ گھر میں آپکی ایک پتنی ہے؟ مجھے دومنٹ بات کرنے کی بھی فرصت نہیں تھی، تو شادی کیوں کی ؟اس کی یہ حرکت دیکھ کر میں غصے میں آگ بگولاہو گیا۔ کوئی جواب تو میں نے نہیں دیا، لیکن اسکا ہاتھ زور سے ہٹا کر اس کی بھری آنکھوں کی طرف دیکھے بنا ہی باہر چل دیا۔ راستے میں رہ رہ کر وِمل کے آج کے طرز عمل پر سوچتا گیا۔ کیا وِمل کی بات صحیح نہیں تھی؟ جب دیکھو، میں صرف گوپال کرشن، پربھات اور سٹوڈیو کی ہی سوچتا تھا، حال ہی میں ایک بیٹے کا پتا بن چکا تھا۔ اسکا نام بھی پربھات کمپنی کے نام پر ہی میں نے پربھات کمار رکھا تھا۔ گھر خاندام، پتنی، اکلوتا منا،کسی کی طرف میرا قطعی دھیان نہیں تھا۔ میرا گھروالوں کے ساتھ اس طرح پیش آناغلط ہے، یہ بات من ہی من مجھے سوجنے لگی۔ آکھر وِمل اس گھر کی نئی نویلی بہو ہے۔ اسے کوئی دقت آ جائے، تو میرے سوا اور کس سے بات کر سکتی ہے وہ؟۔۔۔
جیسے جیسے کمپنی کے پاس آتا گیا، ان وچاروں کی جگہ آج کی شوٹنگ نےلینا شروع کر دی۔

اتفاق کی بات تھی کہ رادھا اور اس کے پتی انیے کے بیچ لگ بھگ اسی طرح کےمنظر کی شوٹنگ اس دن کرنی تھی۔ انیے کو متھرا میں کنس کے پاس جانا ہوتا ہے۔وہ رادھا کو ویسا بتا بھی دیتا ہے۔ منظرایک دم سیدھا سادہ لکھا گیا تھا۔ تبھی میرےاندر کا ڈائریکٹرجاگ اٹھا۔ میں نے سوچا، آج وِمل کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی ہی ہوبہو شوٹنگ آج ہوئی تو ناطرین کو گھریلو جھگڑے کی آپ بیتی دیکھنے کا لطف آئے گا اور وہ اسے بہت پسند کریں گے ۔ مجھے اپنے اس وچار پر ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ اس لئے کہ کارگزاری کے پیچھے ہاتھ دھوکر لگے آدمی کا بھی کیا ہی عجیب حال ہوتا ہے۔ اور غصہ اس بات پر کہ میں بھی کتنا مطلبی ہوں ! اپنے گھر کی اس بات کو، گمبھیر و نہایت نجی منظر کو ایک دم بے شرمی سے اپنے کام میں استمعال کرنے کی سوچ رہا ہوں! لیکن میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ آخر گھر میں اور باہر ہونے والے ایسے دل کو چھو لینے والے منظرہی تو ڈائریکشن کے لئے میری پونجی ہیں !اسی زاد راہ کے ساتھ ہی آگے کا سفر کرتے جانا ہے۔

اس دن کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد میں رات گھر لوٹا، اور یہ ہی ساری باتیں ہنستے ہنستے وِمل کو سنا دیں۔ سن کر وہ اور بھی زیادہ غصہ ہو بیٹھی لگ بھگ آٹھ دن تک اس نے مجھ سے ایک بھی بات نہیں کی۔ آٹھ دنوں بعد میں نے اس سے کہا،” وِمل، تم روٹھ تو گئی ہو، لیکن پتہ ہے، اس کی وجہ سے دوسرے دنوں کےسین لکھ لینےکے لئے مجھے کافی وقت مل گیا۔”

میری اس بات پر اس کا غصہ جاتا رہا۔ وہ میرے پاس آئی۔ میرے ہاتھ سے کاغذ،اور پینسل چھین کر اسے دور پھینک دیئے اور میری گود میں بیٹھ کر بولی، “ہوں ،لکھیئے نے کیا لکھنا ہے۔” – ہر روز کمپنی آنے بعد میرا پہلا کام ہوتا تھا سب کا میک اپ کرنا، اس کام میں مدد کرنے کے لیے میں نے شنکر گوڑ نامی ایک لڑکے کو رکھ لیا تھا۔ اداکاروں اور اداکاراؤں کے چہرے پر رنگ لگانے کاکام میں نے اسے سکھایا تھا۔ میں ٹھیک پونے نو بجے سفید پینٹ، سفید قمیص پہن کر شوٹنگ کے لئے تیار ہوجاتا، فتےلال، داملے اور دھائبروغیرہ لوگ بھی بنا چوکے ٹھیک وقت پر آتےاور اپنے اپنے کام پورے کر شوٹنگ کے لئے تیار رہتے ہیں۔
سبھی کلاکار ٹھیک نو بجے سیٹ پر حاضر رہ سکنے کے لئے سویرے سات بجے سے ہی میک اپ کے لئے سٹوڈیو میں آ جاتے تھے، کمپنی کے پاس ہی ایک لمبے کمرے،گلیارہ نما کمرےمیں ٹین کی پارٹیشن ڈال کر دو حصے بنائے گئے تھے شوٹنگ کے سیٹ پر جب کام نہیں ہوتا، تب اداکاراور اداکارائیں اسی جگہ پر آرام کیا کرتے تھے سویرے سب سے پہلے میں اداکاروں کو داڑھی مونچھیں وغیرہ لگاتا اورمیک اپ بھی کر دیتا تھا۔ اس کے بعد وہ سب لوگ جاکر سٹوڈیو کے کام میں داملے اور فتے لال جی کی مدد کرتے تھے کون سا ریفلیکٹر کہاں رکھنا، چھوٹی موٹی چیزیں ادھر سے ادھر لے جاکر رکھنا، وغیرہ کام وہ لوگ تب کرتے، جب سامنے جاری شوٹنگ میں ان کا کام نہیں ہوتا۔ صرف عورتیں ہی اپنے کمرے میں بیٹھ کرپان تمباکو کھاتیں، گپیں لڑاتیں۔ پان چبانے تک کی آواز مجھے سنائی نہ دے، اس وجہ سے وہ دانت بھینچ لیتی۔

ایک دن صرف ایک گوپی اور کرشن کے سین کی ہی شوٹنگ کرنا تھی۔ سبھی مرد اداکار باہر سٹوڈیو میں مختلف کاموں میں مدد کرنے چلے گئے تھے ۔کرشن کا میک اپ کر کے میں نے اسے کرشن کا بھیس بدلنے کے لئے فتے لال جی کے پاس بھیج دیا۔گوپی کا میک اپ کرنے کے لئے میں عورتوں کے کمرے کی طرف گیا اور کواڑ پردستک دے کر ہمیشہ کی عادت کے مطابق پوچھا کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اندر سے’ آئیے’ کا جواب آیا۔ میں کواڑ دھکیل کر اندر گیا۔ سارا کمراخالی پڑا تھا۔پھر ‘آئیے’ کس نے کہا تھا؟ میں نے مڑ کر دیکھا اور۔۔۔۔

ایلورا غار کی ایک سیڈول لڑکی کی طرح کوئی شلپا کرتی(مورتی) میرے سامنے کھڑی تھی! وہ کرافٹڈ مورتی نہیں تھی، وہ واقعی میں ایک جیتی جاگتی تھی۔ اپنی مدہوش جوانی کے ابھرتے ڈیل ڈول کی نمائش کرتے ہوئے وہ کھڑی تھی ہماری ‘دوسری ہیروئین۔’ اس کے تن پر رتی بھر چولی بھی نہیں تھی۔

میری تو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ وہ مسکرا کر ایک انداز سے اپنا روپ مجھ پر بکھیررہی تھی۔ حیرت کے پہلے دھچکے سے سنبھلتے ہی میں نے غصے میں اسے دیکھا۔ فورا ہی اپنے کھلے عروجوں کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپتی ہوئی وہ ڈر کے مارےنیچے بیٹھ گئی۔ میں نے ایک دم روکھی آواز میں کہا، ‘کپڑے کر لو، اور فورا کمرے کےباہر آ کر میں نے کواڑ بند کر دیئے۔

باہر آتے ہی من میں خیالات کا طوفان اٹھا ۔کیوں کھڑی رہی وہ میرے سامنے، اس طرح بے لباس ہوکر؟ مجھے لبھانے کے لئے؟ یہ کس کی سوجھ ہو سکتی ہے؟ اس کی اپنی یا بہنابائی کی؟ یا کسی اور کی؟ اگرایسا ہے، تو ان کا مقصد ایک ہی ہوگا مجھے ہوس کا شکار بنانا۔ لیکن ایسا کرنے سے انہیں کیا ملتا؟ کیا وہ مجھے عورت بازوں کی قطار میں شامل ہوا دیکھنا چاہتی تھیں؟ پھر میں اپنی نظر سےسوچنے لگا۔ مدہوش جوانی کو بے لباس سامنے کھڑا دیکھ کر بھی میں بے حس کیسے رہ سکا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے من میں ہوس کا جوش آیا تو تھا، لیکن میں نے اس پر فورا قابو پا لیا؟ لیکن، ویسا نہیں تھا۔ بس ایک ہی دھن سوار تھی: ‘گوپال کرشن’ ایک دم سب سے اچھی فلم بنے ! ہماری ‘پربھات فلم کمپنی ‘ کا نام سارے بھارت میں روشن ہو! پربھات کا ایک فنکارانہ اور مستحکم ‘پربھات نگر’ بسائیں! بس یہی دھن مجھ پر ایسی چھا گئی تھی کہ تن من اسی میں ڈوبا تھا۔ کسی دوسری شکایت کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔ اس لیےاس کے ایسے طرز عمل پر مجھے غصہ آگیا۔ سوچا، اس کو فورا کمپنی سے چلے جانے کے لیے کہہ دوں۔ لیکن یہ کیسے ممکن تھا؟ ‘کرشن گوپال، میں اس کے کئی سین فلمانا کمپنی کی محدود پونجی میں نا ممکن تھا۔ اس سے بھی بڑی دقت یہ تھی کہ وہ کام کرنے کے لئے پھر کسی قابل لڑکی کاملنا مشکل تھا۔ میں ایک طرح کی گھٹن محسوس کرنے لگا۔ آخر میں نے من کے احساسات کا بہاؤ روک دیا اورروپے کے خیال سے اپنے غصے کو ٹھنڈا کیا۔

میں نے باہر سے ہی پھر آواز دی، ”اندر آ سکتا ہوں؟ اس بار اندر سے ڈری سی ‘ہاں’ سنائی دی۔ وہ کپڑے پہن کر بیٹھی شرم سے گڑی جا رہی تھی۔

میں نے اس کا میک اپ پورا کیااس لیے کہ اپنے کئے پر اسے شرمندہ سا نہ رہنا پڑے، کچھ ڈانٹتے ہوئے میں نےکہا، “سنو، پھر ایسا کبھی نہ کرنا۔ فوراً اپنا کاسٹیوم پہن کر سٹوڈیو میں آجاؤ! میری بات سن کر اس نے راحت کی سانس لی ہوگی۔

دوسرے دن میں میک اپ کرنے کے لئے گیا، تو بہنابائی وغیرہ ساری عورتیں مجرم سی بنی بیٹھی تھیں۔مجھے آتا دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئیں ۔ سب نے میرے چرنوں پر ماتھا ٹیکا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر معافی مانگتے ہوئی کہنے لگیں “غلطی تو ہم سب کی ہے۔ ہم نے ہی اسے ایسا گندہ کام کرنے کے لئے اکسایا تھا کل!”

غلطی ہماری تھی! آپ تو واقعی دیوتا آدمی ہیں!” لیکن کیا میں سچ مچ دیوتا آدمی تھا؟

‘گوپال کرشن’ کی باہر شوٹنگ کے لئے ہم لوگ کولہاپر سے کوئی چالیس میل دور گڈہنگلس نامی گاؤں گئے۔ وہاں ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی۔ اسے ہی ہم نے’گووردھن’ پہاڑ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن شام کو وہاں موسلادھار بارش ہونےلگی۔ ندی نالے باڑھ سے بھر گئے۔ ہم فورا کیمرہ لےکر شوٹنگ کے لئے چل پڑے۔ سبھی اداکاروں اوراداکاراؤں نے پانی میں قدم رکھا ۔ وہ واقعی میں باڑھ کے پانی میں بہنے لگے۔ میں اور فتے لال جی کیمرہ کے پاس رہ کر شوٹنگ کرنے لگے۔ داملے اوردھا ئبر آگے جاکر باڑھ میں ڈوبتےابھرتے لوگوں کو باہر نکالنے لگے۔ بےموسم آئی وہ بارش ہمارے لئے ایک خوش قسمتی کی بات تھی۔ لیکن اس کی وجہ سے فلم میں بارش کے سین ایک دم اصلی بن سکے۔ برسات ہی ہماری فلم کا اہم سین تھا۔ اس کو ہم لوگ غیر متوقع روپ سے ایک دم اصلی ماحول میں فلما سکے۔شوٹنگ کے لئے ہمیں اچھی موٹی تازی اور ہری بھری گایوں کی تلاش تھی۔ ویسی گائیں کولہاپور دربار کی گئوشالہ میں تھیں۔ شوٹنگ کے لئے انہیں دستیاب کرانےکی درخواست ہم نے دربار سے کی تھی۔ کافی دن ہو چکے تھے۔ ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں آیا تھا۔ لہذا ہم نے کہیں اور کوشش کرنا شروع کیا تھا۔ دھائبر جت ریاست کی راج ماتا سے اچھی طرح سے متعارف تھے۔ نے راج ماتا صاحبہ سے گائیں شوٹنگ کے لئے دینے کی درخواست کی۔ جسے انہوں نے فورا قبول کرلیا۔ ہم لوگ فورا جت پہنچ گئے اور چار پانچ دن میں گایوں کے سبھی منظروں کی شوٹنگ پوری کر کولہاپر واپس آ گئے۔

گوپال کرشن کی شوٹنگ اب لگ بھگ پوری ہونے کو آئی تھی ۔ صرف ایک منظرفلمانا باقی تھا۔ ہم نے طے کیا کہ اس سین کی شوٹنگ ندی کنارے پیروباغ میں کیا جائے۔ اسی باغیچے میں ‘سریکھا ہرن’ کی شوٹنگ کے لئے کیمرہ پیٹھ پر لادےمیں ایک ہمال کی طرح جاتا تھا۔ سین تھا وہاں کے ایک پیڑ پر باندھے جھولے پر کرشن بیٹھا ہے۔ پیندیا اور اسکے ساتھی اسے جھولا جھلا رہے ہیں، ناچ رہے ہیں، گا رہے ہیں، خوشی سے کودتےپھاندتے جا رہے ہیں، مستی میں مست ہو گئے ہیں۔
اس منظرمیں کرشن کا ایک چار پانچ سال کا ننھا ساتھی آنند سے تالیاں بجاتا، ناچتا ہوا اپنی خوشی ظاہر کر رہا ہے، ایسا ہی ایک سین میں فلمارہا تھا ناچتے ناچتے اس لڑکے کی لنگوٹی ایک طرف ہٹ گئی۔ میں کیمرے کے پاس سےچلایا، ‘ابے انتیا کے بچے، تیری تلی لیلی ہو گئی ہے۔ لنگوٹی ٹھیک کر۔”اس نےلنگوٹی ٹھیک کر لی۔ میں پھر چلایا، “ناچو، ناچو، تالیاں پیٹتے ناچنے رہو۔”میرے کہنے کے مطابق وہ پھر ناچنے لگا۔ شاٹ پورا ہو گیا۔ ہنسی کے مارے ہم سب لوگ لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔

‘گوپال کرشن’ کی ایڈیٹنگ کو میں فائنل روپ دے رہا تھا۔ اس لڑکے کی لنگوٹی ہٹ کر جو ‘تلی لیلی’ ہو گئی تھی، اس کا سین فلم میں رکھیں یا نہ رکھیں، میں کشمکش میں پڑا تھا۔ وہ زمانا ایسا تھا کہ فلم میں ننگا بچہ دکھایا تو جاتا تھا، لیکن اس کی شرم گاہ بخوبی کیمرے میں نہیں آنے دی جاتی تھی۔ اگر وہ دکھایا گیا، تولوگ فحش فحش کی چیخ وپکار مچاتے۔ اس لئے میں نے بھی اس سین کوکاٹ دیا۔ پھر سوچا کہ یہ منظرواقعی میں یہ منظر ایک دم قدرتی بہاؤ سے آیا ہے، اس میں کہیں پر کوئی بناوٹ نہیں ہے، جیسا آسانی سے ہو گیا، ویسا ہی، اتنی ہی آسانی سےفلما لیا گیا ہے۔ اسے رہنے دیا جائے، تو کیا ہرج ہے؟ میں نے اس سین کو فلم میں پھر جوڑ دیا۔

جب ہم لوگوں نے آپس میں ‘گوپال کرشن’ کا پرنٹ دیکھا، تو سب کی رائے تھی کہ اس سین کو فلم میں نہ رکھا جائے۔ دیکھنے والے ناراض ہو جا ئیں گے اور فلم کی مقبولیت پر اس کا بڑا اثرپڑےگا۔ آخر سب کی رائے کے مطابق اس سین کو نکال دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

‘گوپال کرشن’ کا پہلی ٹرائل دیکھنے کے بعد سب کو اطمینان ہو رہا تھا کہ ہم نےایک بہترین فلم تیار کی ہے۔ لیکن مجھے؟ مجھے کیا لگ رہا تھا؟ میں بھی سطحی اطمینان حاصل کر رہا تھا، لیکن گہرائی سے دیکھنے پر مجھے اس فلم میں مجھ سے ہوئیں موٹی موٹی بھولیں دکھائی دے رہی تھیں۔ میں حیران تھا کہ اتنی موٹی بھولیں شوٹنگ کےوقت میرے دھیان میں کیسے نہیں آئیں۔ ساری بھولیں ڈائریکشن کی ہی تھیں۔ میں اپنے آپ کوکوسنے لگا، قصور پانے لگا۔ اندر ہی اندر غصہ تھا۔

گھر پر تنہائی میں میرے آنسو بہہ نکلے۔ وِمل نے اس کا کارن جاننا چاہا، میں نےکہا، “میں واقعی مہامورکھ ہوں۔ ذرا زیادہ سوچتا تو آج اس ‘گوپال کرشن’ میں رہ گئی کتنی ہی معمولی غلطیاں وقت پر ٹھیک کر سکتا تھا، ان کو ٹال بھی سکتا تھا۔ اور میں اپنی سسکیوں کو روک نہیں سکا۔

بیچاری وِمل! اس کی سمجھ میں میری ایک بھی بات نہیں آ سکی۔ فلم کیا ہوتی ہے، ان میں غلطیاں ہوتی ہیں یعنی کیا ہو جاتا ہے؟ وہ غلطیاں رہ بھی گئیں تو کون ساآسمان پھٹنے والا ہے؟ یہ سب باتیں اس کی سمجھ کے پرے تھیں۔ وہ تو بس اتنا جان گئی کہ میں بےچین ہوں۔ اس نے ماں کی ممتا سے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور پتی ورتا ہے اس لیے وہ بھی روتی رہی۔

دوسرے دن میں نے اپنا درد دھائبر، فتے لال جی ، داملے کو بتایا۔ وہ تو مجھےباربار یہی سمجھاتے رہے کہ ‘گوپال کرشن’ بہت اچھی بن گئی ہے۔ پھر فلم بمبئی میں پیشکش کرنے کی تاریخ بھی طے ہو چکی تھی، صرف پندرہ دن ہی باقی تھے۔لہذا یہ طے کیا گیا کہ ‘گوپال کرشن’ جیسی ہے اسی حالت میں، غلطیوں کو سدھارےبنا ہی، بمبئی میں ریلیز کی جائے۔ پرنٹ کو بمبئی لے جانے سے پہلے میں نے انتیا کی تلیلیلی ہونے کا سین چپ چاپ اس میں جوڑ دیا۔ سوچا، پہلے شو میں تو دکھا ہی دیتے ہیں۔ لوگوں نے چھی چھا کی، تو ترنت (فورا)کاٹ دیں گے۔ممبئی کے گر گاؤں حصے میں میجیسٹک سنیما کے باہر گوپال کرشن’ کے خاص کرداروں کے چہروں کے فنکارانہ ڈھنگ سے بنے بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے تھے۔ سڑک سے جاتے آتےلوگ ان پوسٹرز کو دیکھنے کے لئے رکتے، لوگ پوسٹرز کو دیکھنے کے لئے آنے بھی لگے۔پربھات کی ‘گوپال کرشن’ فلم جمعہ کو ریلیز ہونے والی تھی۔ شو تھا دوپہر ساڑھے تین بجے کا۔ میں دو بجے سے ہی میجیسٹک تھیٹر پر پہنچ گیا۔ لگتاتھا، گھڑی کی سوئیوں نے چلنا بند کر دیا ہے۔ جیسے وقت تھم گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعدناظرین آنے لگے۔ یہاں تو دل کی دھڑکن کا برا حال ہونے لگا۔ حال آدھے سے زیادہ بھر گیا تھا۔ ہماری کمپنی کا نام نیا تھا۔ لہذا پہلے دن ناظرین کی اتنی بھیڑ جمع نہ ہونا قدرتی تھا۔آخر ساڈھے تین بجے۔ فلم چالو ہو گئی۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھنے لگی،رنگ اور رس چھننے لگے۔ ناظرین بھی جہاں انہیں کوئی بات بھا جاتی، داد دینے لگے۔ کرشن کے مکالمے کے کچھ ٹائٹلز پڑھ کر ناظرین تالیاں بجانے لگے۔ اس سے مجھے لگا کہ کرشن کو متنوع سماج کا اور کنس کو برٹش راج کے نمائندہ پینٹ کرنےمیں میرا جو بالواسطہ ارادہ تھا، ناظرین کی بھی سمجھ میں آ گیا ہے۔

اور بعد میں وہ انتیا کی ‘تلی لیلی’ ہونے کا شاٹ آیا۔ دل تھام کر میں دیکھنےلگا کہ اب ناظرین کے تاثرات کیا ہوتے ہیں ۔ اب چھی چھی تھو تھو مچے گی یا ۔۔۔ تبھی سارا تھئیٹر ناظرین کی طوفانی ہنسی سے گونج اٹھا۔ تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے بیچ ناظرین نے اس شاٹ کی بھی داد دی تھی۔ میری جان میں جان آ گئی۔ سچ بتاتا ہوں، اپنےبولڈ فیصلہ کو من ہی من میں نے کافی کو کافی سراہا۔

بعد میں جب بارش ہوتی ہے اور شری کرشن گووردھن پہاڑ کو اٹھا لیتا ہے، یہ پرسنگ دیکھتے وقت تو ناطرین جذباتی ہو گئے اور تھرتھرا اٹھے۔ آخر میں پردے پر پربھات دیوی بھیری بجا رہی ہے، یہ پربھات کا لوگو دکھائی دیتے ہی ناظرین نے پھر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی، ‘گوپال کرشن’ پر اپنی پسند کی مہر ہی جیسے لگا دی۔ تھیٹر سےباہر آتے وقت ناظرین ‘گوپال کرشن’ کے خاص منظروں، فوٹوگرافی اور خاص طور سے میری ہدایتکاری کے سٹائل کی بہت بہت تعریف کر رہے تھے، جسے سن کر ہم سب لوگ فخر سے پھولے نہیں سمائے۔ خوشی سے ہم نہال ہو گئے تھے۔

پربھات کے ڈسٹری بیوٹر دادا تورنے اور بابورائو راو تھیٹر سے باہر آئے۔ دادا نے مجھے شاباشی دی، بولے، “بھائی کیا بڑھیا تصور اور ہمت ہے آپ کی، مان گئےآپ کو!”میں نے پوچھا، کیسے تصور؟ کیسی ہمت؟” کچھ دادا خوش ہو کر بولے، “اجی، اس بچے کی ‘تلی لیلی’ ہونے کا وہ شاٹ!اتنا سہج، اتنا قدرتی اور اتنا جاندا تھا وہ شاٹ کہ اسی سے آپکی ڈائریکشن کانرالاپن صاف دکھائی دیا۔ وہ شاٹ یعنی خاص آپ کا ہی ‘ٹچ ہے!”شانتارام ٹچ!”