Categories
فکشن

نعمت خانہ: اکتیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اور اِسی شور میں، میری کھوپڑی میں، وہ زہریلا سانپ موجود تھا جس نے ایک طرح سے، کچھ معاملوں میں میرے اوپر چودہ طبق روشن کر رکھے تھے۔ یہ سانپ سر میں کلبلاتا، دل میں گھبراہٹ ہوتی اور پیر کانپنے لگتے۔ میری بدقسمتی کے اس مرض نے یہاں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔

میں دو دو قتل بھول گیا۔ میں بڑے ماموں کی موت بھول گیا، میں بہت جلد، نہ جانے کیا کیا بھول گیا مگر باورچی خانے سے آتی ہوئی، کسی خوشبو یا بدبو کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟ میں یہ نہیں بھولا۔

میں اپنی اس پرُاسرار صلاحیت سے ہاتھ دھو بیٹھنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکا۔
ہوسٹل میں جہاں میرا کمرہ تھا۔ وہاں راہداری ختم ہوجاتی تھی۔ یوں دیکھیں تو آخری کمرہ تھا جس کے بعد میس کی عمارت شروع ہو جاتی تھی۔ یعنی باورچی خانے کی حکومت۔

دن بھر میرے کمرے میں، طرح طرح کے کھانوں کی خوشبوئیں یا کبھی کبھی بدبوئیں بھی آتی رہتی تھیں اور میں اُنہیں ایک کتّے کی مانند سونگھنے پر مجبور تھا۔ کچھ دنوں سے طلبا، ہوسٹل کے کھانے سے مطمئن نہیں نظر آرہے تھے۔

میرے کمرے میں ترپاٹھی اور اِدریس بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔

’’یار حفیظ۔۔۔ اب ایسے کام نہیں چلے گا۔‘‘ اِدریس نے سگریٹ سُلگایا۔

’’کیا ہوا؟‘‘
’’کل سالوں نے بریانی کے نام پر دھوبی پُلاؤ زہر مار کرا دیا۔

ترپاٹھی نے ایک زبردست قہقہہ لگایا اور پان مسالہ منھ میں ڈال کر بے ہنگم انداز میں چبانے لگا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ کھانے کے بارے میں، ویدوں یا اُپنشدوں سے کوئی نکتہ یا فقرہ نکال کر لائے گا ترپاٹھی کو قدیم ہندوستانی فلسفے پر پر خاصا عبور حاصل ہو گیا تھا۔ مگر ٹھیک اُسی وقت مجھے اپنی ناک میں ایک سڑاندھ کا احساس ہوا۔ میں نے نتھنے پھلائے تو علاؤ الدین ہنس کر بولا۔ ’گوبھی ہے، گوبھی۔‘‘

’’بڑی بدبو ہوتی ہے یار جب گوبھی پکتی ہے۔‘‘

’’یہ اصل میں گندھک کی وجہ سے ہے، گوبھی میں گندھک یعنی سلفر بہت پایا جاتا ہے۔‘‘ ترپاٹھی نے اپنی علمیت کا اظہار شروع کر دیا۔
’’پتہ ہے یار— ‘‘ علاؤ الدین نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔ ’’اس کی کھیتی میں بطور کھاد تازہ تازہ انسانی فضلہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘
’’دیکھ بھائی علاؤالدین — تونے Food Cycle پڑھی ہے؟ ‘‘ ترپاٹھی نے پوچھا۔

علاؤ الدین نے نفی میں سر ہلایا۔

’’میرے پاس ہائی اسکول میں سائنس تھی، میں نے پڑھی ہے۔ سارا کھیل نائیٹروجن اور ایمونیا کا ہے۔ چیزیں وہیں سے شروع ہوتی ہیں جہاں پر ختم ہوتی ہیں۔ یہ آنتوں سے آنتوں تک کی یاترا ہے۔ انسان کی آنت میں گیا کھانا، رنگ روپ، بدل کر باہر آتا ہے، اور دوبارہ اُس کی آنتوں کے لیے خود کو مٹا کر سڑا کر نیا کھانا تیار کرتا ہے۔ اسی لیے یجروید میں اُس یگیہ کی بہت اہمیت ہے، جس میں صرف منتر کے ذریعے، آنتوں کی بھوک مٹ جائے اور کھانا محض علامتوں میں بدل جائے۔‘‘ ترپاٹھی آگے بھی کچھ کہہ رہا تھا مگر میں نے نہیں سنا۔

میرے ہاتھ پیر کانپنے سے لگے۔

وہ کالا جادو یہاں بھی چلا آیا تھا۔ میرے پیچھے پیچھے۔ اپنے گھر سے اس شہر تک۔ میں نے دو ندیاں پار کیں، مگر جادو نہیں کٹا۔ لیکن پھر مجھے ایک کمینی اور چھچھوری مسرّت کا احساس ہوا۔ یہ جادو میرا دشمن نہیں ہے۔ یہ تو میری طاقت ہے۔ ایک ایسی کالی طاقت جس کا علم کسی کو نہیں، میری چھٹی حس جو اپنی وسعت میں ایک دن اس نیلگوں آسمان کو بھی سمیٹ لے گی۔ مجھے اپنی جیومیٹری کی ساری اشکال، اُن کے زاویے اور آپسی محور یاد تھے۔ اس کمینی اور چھچھوری مسرّت کا احساس ہوتے ہی میرے ہاتھ پیر کانپنا بند ہو گئے۔

’’آج گوبھی کا پکنا اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ میں نے مسکرا کر اپنے لفظوں کو تولتے ہوئے کہا۔
’’ارے یار گوبھی پکنا تو کسی بھی دن اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ ترپاٹھی بیزاری سے بولا۔
میں فخریہ انداز میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔
’’چلو، ڈائننگ ہال میں چلیں دو بج رہے ہیں۔ بھوک لگنے لگی۔‘‘علاؤ الدین اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’تم لوگ جاؤ، میں کمرے میں ہی کھانا کھاؤں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ابے سالے پڑھاکو— تیرے جیسوں کا ہی بیڑہ غرق ہوتا ہے۔ مت بن کتابی کیڑا، مت بن۔‘‘ ترپاٹھی نے پھر اپنی تقریر شروع کی۔
میں نے اُسے دکھانے کے لیے، ایک جماہی لی اور چادر اوڑھ کر لیٹ گیا۔

علاؤ الدین اور ترپاٹھی کمرے سے چلے گئے تھے۔ نومبر کا مہینہ تھا جو کوئی مہینہ نہیں ہوتا۔ اس کی اپنی کوئی شناخت، کوئی پہچان نہیں ہوتی۔ اس لیے اسے اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے، اور اپنی تاریخیں یاد کرانے کے لیے بھیانک واقعات یاحادثات کی ضرورت پڑتی ہے۔ دوپہر تین بجے سے ہی اندھیرا سا پھیلنے لگا۔ کیونکہ دھوپ کا گزر نہیں تھا۔ ڈائننگ ہال سے شور کی آوازیں آ رہی تھیں۔ میں نے چادر سے منھ نکال کر غور سے سننے کی کوشش کی۔ یہ شور کھانے کے بارے میں یا کھاتے وقت کا عمومی شور تو نہ تھا۔ اب مجھے بھی کچھ بھوک لگ رہی تھی۔ بیرا نہ جانے کب کا میز پر کھانا رکھ کر چلا گیا تھا۔ مگر میں سوچ رہا تھا کہ پہلے کوئی برُی خبر سن لوں۔ پھر آرام سے کھانا کھاوں گا۔ کسی طالب علم کی خبر آتی ہے یا کسی پروفیسر کی یا پھر جلّاد پرنسپل کی—؟ اتنا تو مجھے یقین تھا کہ آج، اس وقت ہوسٹل کے میس میں گوبھی پکنا غلط تھا، اور بدشگونی کی علامت تھا۔

ڈائننگ ہال سے شور بڑھتا ہوا گیلری کی طرف آنے لگا۔ میں بستر سے اُٹھ کر کمرے کے دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا۔ تیز تیز بھاگتا ہوا، ترپاٹھی مجھے دور سے ہی نظر آ گیا۔

’’حفیظ—حفیظ— غضب ہوگیا۔‘‘ وہ دور سے ہی چلّانے لگا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ میں اندر ہی اندر اپنی صلاحیت کا معترف ہونے لگا۔
’’اِندرا گاندھی کو قتل کر دیا گیا۔‘‘
اب مجھے واقعی سکتہ سا طاری ہونے لگا۔ اس نوعیت کی خبر کی مجھے خواب تک میں توقع نہ تھی۔

طلبا اور پروفیسر افراتفری میں اِدھر اُدھر جاتے ہوئے نظر آئے۔ کئی لوگ کان پر ٹرانسسٹر لگائے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ کل تک کے لیے کلاسز ملتوی کر دلیے گئے ہیں۔

نہ جانے کب شام ہو گئی۔ اکتوبر کے آخر اور نومبر میں سورج اتنی تیزی سے ڈوب جاتا ہے کہ کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی۔ ہر جانب ایک سنّاٹا تھا۔ سڑکیں سنسان اور دہشت زدہ سی نظر آرہی تھیں۔ لوگ یا توبھیڑ بناکر ایک جگہ اکٹھا ہوکر چہ میگوئیاں کر رہے تھے یا پھر بہت تیزی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے۔ سرکاری دفاتر کے بند کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ میں کالج کے آس پاس کی سڑکوں اور کتابوںکی چند دوکانوں پر بھٹکتا رہا۔ مجھے اپنے قصبے میں کسی کی کہی ہوئی بات یاد آرہی تھی کہ جب ملک کا کوئی بڑا سیاسی رہنما یا قائد مرتا ہے تو سارا ملک سائیں سائیں کرتا ہے۔ ہر طرف ویرانی ہی ویرانی پھیل جاتی ہے۔ اور یقینا ایسا ہی تھا۔ وزیر اعظم اِندرا گاندھی کویہاں سے چار سو پچاس کلومیٹر دور — دہلی میں اپنے گھر کے قریب، اُن کے اپنے ہی باڈی گارڈوں یا محافظوں کے ذریعہ گولیوں سے چھلنی کیا گیاتھا۔ مگر ویرانی یہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ممکن ہے کہ اُس میں نومبر کی بے رنگ شام کا بھی کچھ حصّہ مل گیا ہو۔

میں چلتے چلتے پرساد ٹاکیز کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں امیتابھ بچن اور دھرمیندر کے بڑے بڑے پوسٹر لٹک رہے تھے۔ فلم شعلے چل رہی تھی۔ شعلے اس ٹاکیز میں گذشتہ آٹھ سال سے چل رہی تھی۔ اور آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو یقین کیجیے پرساد ٹاکیز میں آج بھی شعلے دکھائی جا رہی ہے۔ آج جب میری عمر اڑسٹھ سال کی ہو چکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ امیتابھ بچن اور دھرمیندر کی شکلیں بھی اب بوڑھی اور قابل رحم نظر آتی تھیں۔ مگر ٹاکیز خالی تھا۔ اُس پر تالہ لٹکا ہوا تھا۔ شہرکے سارے سنیما ہال بند کر دئیے گئے تھے۔ میں فلم دیکھنے نہیں گیا تھا۔ مگر سنیما ہال کو ویران دیکھ کر، اُس پر ایک منحوس تالہ لٹکا ہوا دیکھ کر، میرے دل کو سخت دھکا پہنچا۔

پوسٹر میں، میں نے سنجیو کمار کی انتقام میں جلتی سلگتی ہوئی آنکھیں دیکھیں اور سوچا کہ آج شام کے اور رات کے شو میں، سنجیو کمار کا انتقام فلم کی ایک خاموش اندھیری رِیل میں بند رہے گا۔ وہ باہرنہیں آئے گا۔ جس طرح ہر انتقام، بلکہ ہر جذبہ وقت کے فریم میں بہتا ہے اور کبھی — شاید رُک جاتا ہے بالکل اس طرح جیسے کسی کے دل کی رگوں میں بہتا ہوا خون جم جاتا ہے اور حرکتِ قلب بند ہو جاتی ہے۔

وہ انتقام کا زمانہ تھا۔ اینگری ینگ مینوں کا زمانہ۔ راجیش کھنہ کی قربانیوں، المیوں اور محبتّوں کا زمانہ ابھی بس حال ہی میں گزرا تھا۔ مگر اب اُس کے نشان بھی باقی نہ تھے۔ اب انتقام کا رُخ انفرادی تھا۔ اور اِس انفرادی انتقام کواجتماعی شعور نہ صرف پسند کرتا تھا بلکہ اس پر پھول برساتا تھا اور تالیاں بجاتا تھا۔

انتقام جس کی پیداوار یا جس کی جڑوں کا ایک کیڑا خود میں بھی تو تھا اور اِندرا گاندھی کا قتل—؟
سورن مندر پر گولیاں چلائے جانے کا بدلہ اورخالصتان کو سیاسی طور پر قبول نہ کرنے کی سزا۔

سنیما ہال کے سامنے کھڑے کھڑے پولیس کی گاڑیاں سائرن دیتے ہوئی نکل گئیں۔ دفعہ 144 لگا دی گئی تھی۔ ریڈیو پر خبر آئی کہ دہلی میں سکھّوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ بازاروں کو آگ لگادی گئی ہے۔ سکھّوں کے گھر پھونک دئے گئے ہیں۔ اب اِندرا گاندھی کے قتل کا بدلہ لیا جارہا ہے۔

31؍ اکتوبر کی یہ شام اب جاڑوں کی رات میں بدلنے لگی۔ ویرانی کا احساس اور بڑھ گیا اور خوف و دہشت کا بھی۔
میں واپس ہوسٹل اپنے کمرے میں آیا۔
گیلری میں میرے احباب میرا انتظار کر رہے تھے۔ وہ سب میرے کمرے میں چلے آئے۔
کمرے میں، گوبھی کی بو بری طرح بھری ہوئی تھی۔
مجھے اپنی ناک پر ہاتھ رکھنا پڑا۔

اُس رات میرے کمرے میں دوستوں کا آنا جانا لگا رہا۔ ہیٹر پر چائے بنتی رہی اور سیاسی بحثیں ہوتی رہیں۔ حالانکہ ہم سب کی عمر اُن دنوں سیاسی یا سماجی شعور کے معاملے میں صرف بچکانہ رویّوں یا خیالات کے مناسب ہی ہو سکتی تھی۔ پھر بھی بہت بکواس ہوتی اور بکواس کے درمیان کہیں کہیں کوئی ایسا جملہ بھی چمک اُٹھتا تھا جس کی معنویت آج مجھے پہلے سے بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ جہاں تک میرا سوال ہے، مجھے نہ اُن دنوں کوئی سیاسی شعور تھا اور نہ اب ہے۔ میرے سامنے دوسرے سوال تھے اور یہ سوال خود میرے وجود کی آہٹیں مجھ سے ہی کرتی تھیں۔ میرے ساتھ ایک ماضی تھا جس سے خون کی بو آتی تھی۔ اگرچہ میں اس ماضی کو بڑی بے شرمی کے ساتھ بھول گیا تھا مگر دراصل ہم بھُولتے کچھ بھی نہیں ہیں۔ پیڑ سے گرا ایک پتّہ تمھارے جوتے کے تلے میں چپک جاتا ہے، تم چلتے چلتے کچھ دیر تک پتّے کی سڑک پر رگڑ کی آواز سنتے ہو، پھر دنیا کے شور اور اُس کی بے ہنگم آوازوں میں پتّے کی رگڑ دب کر معدوم ہوجاتی ہے۔

مگر ایک دن آتا ہے جب تم اپنے جوتے کی صفائی کرنے اور اس پر پالش کرنے بیٹھتے ہو۔
بس وہی دن ۔۔۔ دوبارہ تمھیں تمھارے گناہ یاد دلاتا ہے۔ وہ دن تمھیں یاددلاتا ہے کہ تم نے اپنے کتنے گندے کپڑے دھوبی کو دھلنے کے لیے دیے تھے، تم اپنی جیب سے وہ فہرست نکالتے ہو اور پڑھتے ہو اور پھر ملاتے ہو۔۔۔ کپڑے سے کپڑا۔۔۔ اور یہ بھی کہ کون سا کپڑا مسک کر، پھٹ کر، دھوبی کے یہاں سے واپس آیا ہے اور کون سا کپڑا گم ہو گیا، ہمیشہ کے لیے۔ تو بس اتنا ہی تھا اور یہاں شہر آکر، محض ایک گوبھی پکنے کی بُو نے مجھے ایک بار پھر اپنے اندر بیٹھے خوفناک بن مانس کا احساس دلا دیا۔ مجھے سب کُچھ بڑی شدّت کے ساتھ یاد آ گیا۔ اتنی شدّت کے ساتھ کہ کاغذ پر اس لفظ ’’یاد‘‘ کو لکھنے سے زیادہ مضحکہ خیز اس وقت اور کچھ نہیں ہو گا۔

میرے سوال سیاسی غلطیوں کے بارے میں نہیں تھے۔ میں اندرا گاندھی کی سیاسی غلطیوں کے بارے میں گفتگو کرنے کا اہل ہی نہ تھا۔ میں تو مگر، جرم، سزا اور انصاف کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنے سر کے بائیں حصّے کو ہمیشہ کشمکش میں مبتلا کر تا رہتا تھا۔ اور وہ حصّہ پھوڑے کی طرح دُکھنے لگتا تھا۔

جرم کس سے سرزد ہوتا ہے؟
سزا کیسی ہوتی ہے؟ سزا کا چہرہ کیا قتل سے ملتا جلتا ہوتا ہے؟
پھانسی کے تختے کی طرف مجرم کو لے جاتے ہوئے جلّاد کون سا گیت گاتا ہے۔

اور انصاف—؟ انصاف کس عدالت میں ہوتا ہے؟ عدالت آخر ہے کہاں؟ سزا اور انصاف میں کیا فرق ہے؟ کیا سزا کے دانت اُتنے ہی بڑے بڑے اور نُکیلے ہیں جتنے کہ انصاف کے دانت۔ سزا اورانصاف کے چہرے آپس میں کتنے مشابہ ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر وہ ہاتھ، جو انصاف کی خون جیسی لال روشنائی میں اپنی انگلیاں ڈبو کر، انسان کی پیٹھ پر سزا کے منحوس عدد لکھتا ہے، وہ ہاتھ کس کا ہے؟
وہ ہاتھ کس کا ہے؟
ریڈیونے بتایا کہ دلّی میں سکھّوں کے پورے کے پورے علاقے پھونک دیئے گئے اور گرودواروں میں آگ لگا دی گئی۔ سکھّوں کا قتل عام تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ بہت بعد میں شاید، راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ ’’جب ایک— بڑا اور گھنا پیڑ گرتا ہے۔۔۔۔ تو؟‘‘

پتہ نہیں آگے کچھ کہا تھا۔ مگر میرے لیے اُسے اِس وقت یاد کرنا اور وہ بھی ذہن پر زور دے کر محض ایک رائیگاں اور بے معنی سی تکلیف دہ حرکت ہے۔
اُس رات میں نے اپنا فیصلہ بدل لیا۔ اگلا سال میرے بی۔اے کا سال دوئم ہو گا اور میں جو ایم۔اے پالیٹیکل سائنس میں کرنے کے بعد ریسرچ کرنا چاہتا تھا اور کسی یونیورسٹی میں پروفیسر بننا چاہتا تھا۔۔۔ اچانک بدل گیا۔

میں نے حتمی فیصلہ کر لیا کہ میں قانون پڑھوں گا۔ اگلے سال میں ایل۔ایل۔بی۔ میں داخلہ لوں گا۔ مجھے یاد ہے کہ دل میں یہ فیصلہ کرتے ہی مجھے وقتی طور پر بہت سکون حاصل ہوا — رات گزر گئی تھی، پو پھٹ رہی تھی۔
میری ہی نہیں، ہم سب کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔
نیند میں اونگھتے ہوئے،میرے کان میں ریڈیو پر آتی ہوئی خبر سنائی دی۔
’’راجیو گاندھی کو وزیر اعظم بنا دیاگیا۔‘‘

یہ خبر میرے لیے ایک لوری کی طرح تھی۔ اچانک مجھے بہت گہری نیند کا غلبہ محسوس ہوا۔ نومبر کی اِس بے ہنگم صبح کی ہوا میں ایک بدمزہ اور خشک سی خنکی تھی۔ میں نے چادر کو منھ تک اوڑھ لیا۔
(جاری ہے)

Categories
فکشن

نعمت خانہ: تیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

محمد ساجد
یس سر
عبدل معید
یس سر
شاہکار عالم وارثی
یس سر
انیل کمار سنگھ
یس سر
صابر علی صدیقی
یس سر
ہرش سچدیو
’’حفیظ الدین بابر‘‘
’’یس سر۔‘‘ میں کھڑے ہوکر جواب دیتا ہوں۔

پروفیسر ایس پی یادو اپنی آنکھوں سے چشمہ اُتارتے ہیں۔ اُن کی دو لال لال ویران آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔
’’تمھارا نام حفیظ الدین بابر ہے۔‘‘ وہ مجھے غور سے دیکھ کر کہتے ہیں۔

’’جی۔‘‘
’’والد کا نام۔‘‘
’’ظہیر الدین بابر۔‘‘
’’کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’جی، وہ اب اس دنیا میں نہیں۔‘‘
’’اوہ مجھے افسوس ہے۔‘‘ پروفیسر یادو دوبارہ اپنی لال لال آنکھوں پر چشمہ لگا لیتے ہیں۔
میں چاہوں بھی تو اس منظرسے میرا پیچھا کبھی نہیں چھوٹ سکتا۔ یہ مجھے یاد ہی رہتا ہے۔ ہمیشہ یاد، بلکہ اِسے یاد رہنا بھی کیسے کہا جائے؟
کیا مجھے اپنا گُھٹنا، اپنا ناخن، اپنے کان کا میل یاد رہتا ہے؟مگر وہ ہیں میرے ساتھ۔ میرے جسم کے ساتھ، بالکل اسی طرح شہر میں۔ کالج کے پہلے دن کا یہ منظر میرے ذہن کے ساتھ ہے۔ بے وجہ اور — بغیر کسی مقصد کے ساتھ۔

یہ پالیٹیکل سائنس کی بی۔اے کی کلاس تھی۔ شہر کا یہ سب سے اچھا کالج تھا۔ اس کی عمارت لال رنگ کی اور گوتھک طرز کی بنی ہوئی تھی۔ یہ بہت قدیم کالج تھا اور کسی زمانے میں کلکتہ یونیورسٹی سے منسلک رہ چکا تھا۔ اس کالج کا ہوسٹل دور دور مشہور تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ چند بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اس کالج کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔ مجھے بہت آسانی سے ہوسٹل میں کمرہ الاٹ ہو گیا تھا۔

یہ بڑا شہر، ہمارے اُس قصبے نما چھوٹے سے شہر سے بہت دور نہ تھا۔ راستے میں صرف دو ندیاں پڑتی تھیں— ایک تو شہر چھوڑتے ہی قلعہ کی ندی اور دوسری، کچھ ا ٓگے جاکر رام گنگا۔

مگر یہاں آکر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت دور آگیا ہوں۔ جیسے میرا گھر، بہت دور تھا۔ گزرے ہوئے واقعات مجھے اب ایسے بھیانک خواب کی طرح محسوس ہوتے تھے، جنہیں صبح کو جاگ جانے پر، ہنس کر بھلا دیا جائے۔

یہ کچھ قابل تعجب بات تھی۔ شہر آکر میں جیسے ایک ایسی آندھی کی زد میں تھا جو میرے آس پاس کی تمام اشیا یعنی وہ تمام یادیں جو میں اپنے گھر سے اپنے بدن پر چپکائے ہوئے لایا تھا، دھول کے پرُاسرار غبار میں اُڑاتی ہوئی بھیانک تیزی کے ساتھ، مجھ سے دور لے جارہی تھی۔
اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے کوئی افسوس بھی نہ تھا۔ شاید میرے لاشعور میں دبی ہوئی خواہش تھی کہ میں وہ سب بھول جائوں۔ وہ سب—؟

اور حقیقتاً، اُن دنوں، شہر میں نیا نیا اور کالج میں نیانیا میں تقریباً سب بہت بے رحمی کے ساتھ بھولنے لگا۔ کچھ دنوں بعد تو میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ مجھے گھر پر گڈّو میاں کہا جاتا تھا۔ اب میں حفیظ الدین بابر تھا یا حفیظ الدین۔ یا پھر صرف حفیظ۔ مگر اب میں کسی کے لیے گڈّو میاں نہ تھا۔

یہاں آکر میرے دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ میری شخصیت کا رُخ ہی بدل کر رہ گیا۔ میں چند ذہین لڑکوں کے گروپ میں شامل ہوگیا۔ کالج میں، لڑکیاں بھی ساتھ پڑھتی تھیں۔ اور لڑکوں کے ساتھ اُن کے معاشقے بھی چلتے تھے۔ مگر پابندیاں بہت تھیں۔ آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں (کیا واقعی لکھ رہاہوں؟) تو مجھے حیرت ہے کہ ساٹھ کی دہائی ہر لحاظ سے کتنی مختلف تھی اور زمانہ کسی قدر تیزی کے ساتھ بدلا ہے۔

مگر ٹھہریے! مجھے اپنی یادداشتیں اس طرح نہیں لکھنی چاہئیں۔ یہ تو محض بیان ہیں۔ اور بیان سے میرا کام نہیں چل سکتا۔ مجھے یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ میں اپنی سوانح وغیرہ نہیں لکھ رہا ہوں۔ میں تو دراصل کچھ عرض داشتیں، کچھ اپیلیں وغیرہ لکھ رہا ہوں۔ میرا مقصد تو اپنی عدالت کی تلاش ہے۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر مجھے ڈھنگ کی ایک بھی سطر لکھنا آتی یا ایک تخلیقی جملہ بھی لکھ سکتا تو پھر تو میں ناول کا صدر دروازہ تیار کر ہی لیتا۔ پھر تو مجھے اور کہیں جانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ میں اپنے ناول کے اندر ہی رہتا۔ میرا مقدمہ، میری عدالت، میرا انصاف اور میرا گھر سب ناول کے اندر رہتے۔ ناول چیز ہی ایسی ہے۔ بس آپ کو لکھنا آنا چاہئیے۔ اس کے بعد تو، سزا جزا، جنت، جہنم سب ناول کے اندر ہی مل جائیں گے۔

مگر ایک بار پھر افسوس اور صدہا افسوس کہ اس معاملے میں انتہائی بنجر واقع ہوا ہوں۔ اس لیے جو لکھ رہا ہوں، وہ ایک کے بعد ایک عرضیوں کی ڈھیریاں بنتی جارہی ہیں۔ عرض داشتوں کا پُلندہ لگتا جارہا ہے۔ مگر چونکہ ہر اپیل اور ہر عرض داشت میں کوئی نہ کوئی پہلو تو داخلی نوعیت کا ہوتا ہی ہے، بلکہ شاید سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن پہلو تو لکھنے والے کی داخلی شخصیت ہی ہوتی ہے۔ قابل رحم انداز میں، بھیک کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑے ہونے میں ہی ایک عظیم آرٹ پوشیدہ ہے۔ اس لیے میں ہر اُس بیان سے کترا رہاہوں جہاں میری اپنی ذات ایک فعال کردار نہ بن سکے۔ اور عرضیاں، اپیلیں سب میں الفاظ کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ لفظوں کا پابند رہنا پڑتا ہے اگر لفظ زیادہ ہو جائیں یا بہت کم ہوں تو وہ کاغذ کے یہ ورق پھاڑ کر دھجّیاں دھجّیاں کرکے — تمھارے منھ پر مار دیتے ہیں اور تمھارے بس میں کچھ نہیںرہتا، سوائے اس کے کہ تم کاغذ کے ان چیتھڑوں کو فرش سے بین بین کر اُٹھائو اور خود ہی وہاں رکھے ایک بڑے اور منحوس کوڑے دان میں ڈال دو۔ اپنی عرض داشتوں کے ساتھ لگے ہوئے بیانِ حلفی اور اُن پر چسپاں ٹکٹ۔ لیجیے ایک ذرا سی غلطی پر سب گئے اُس کوڑے دان میں۔

وہ کوڑے دان تو اب ایک آرکائیو، ایک ریکارڈروم ہی بنتا جارہا ہے۔

اسی لیے میں غیر ضروری تفصیلات سے دامن بچانے پر مجبور ہوں۔ حالانکہ مجھے یہ احساس ہے کہ اس سے پہلے میں نے بے وجہ، غیر ضروری تفصیلات اوربے معنی جزئیات سے کام لیا ہے۔ مگر اتنے سنجیدہ قانونی معاملات میں، یہ شوقِ فضول بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کا احسا س بہرحال مجھے ہے۔
بی۔اے میں میرے مضمون تھے معاشیات، سیاسیات، فلسفہ اور انگریزی ادب۔

میری ذہانت میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ میں کسرِنفسی سے کام کیوں لُوں؟ اور وہ بھی اب جبکہ زندگی کی شام دُھند اور غبار میں لپٹی ہوئی سامنے ہی نظر آرہی ہے۔

میں اپنے — بی۔اے کے ساتھیوں سے بہت کم گفتگو کرتا، زیادہ تر ایم۔اے کے طلبا اور ریسرچ اسکالروں کے ساتھ ہی اُٹھتا بیٹھتا اور بحثیں کرتا۔

بحث، مباحثہ، کرنے کی تو بہت برُی لت پڑ گئی تھی مجھے۔ فلسفے میں منطق نے اس عادت کو اور بھی جلا بخشی تھی۔ حالانکہ فلسفے میں، میری دلچسپی اور مضامین کے مقابلے بہت کم تھی۔ کیونکہ سوائے مجرّد خیالات کے، وہاں کچھ تھا ہی نہیں، خاص طور پر مغربی فلسفہ تو بے ہنگم تصوّرات اور بچکانہ خیالات کے مجموعۂ اضداد کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا۔

ہاں! مگر ہندوستانی فلسفے میں بعض باتیں اور بعض نکات ایسے تھے کہ جن پر ہمیشہ میں نے بہت سنجیدگی سے غور کیا۔ خاص طور پر روح اور جسم کے معاملات، حیات بعد الموت کے نظریات اور بہت سی چیزیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی فلسفے میں نیائے درشن نے جو ترک شاستر پیش کیا ہے، ارسطو اُس کے عشر عشیر بھی کچھ نہ کر سکا۔

روح اور جسم کے باہمی رشتے اور تعلقات انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم نہیں رہے۔ اس لئیے میری دلچسپی مجرّد خیالات میں نہ ہوکر، انسانوں میں رہی، میں دوسرے مضامین بہت لگن اور جی توڑ محنت سے پڑھتا رہا۔ اب جاسوسی ناولوں کا شوق بہت کم ہوگیا تھا۔ مگر روح اور جسم کا تعلق مجھے ہمیشہ ایک جاسوسی ناول کا پلاٹ محسوس ہوتا رہا اور اب — میں جو لکھ رہا ہوں، کاش کہ زمانۂ طالب علمی میں ہی اُسے سمجھ لیتا۔ ایک بار، پھر اُن سطروں کو لکھنے کو جی چاہ رہا ہے جو اِس سے پہلے بھی لِکھ چُکا ہوں۔

یہ دنیا ایک حقیر نقطے سے شروع ہوئی تھی۔ اب یہ کیسا شیطانی روپ اور حجم اختیار کر چکی ہے اوراس میں مرنے اور جینے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ روح ایک ہوا کی مانند جسم کے اندر رہتی ہے۔ پھر ایک دن جسم کو چھوڑ کر ایک بے حد بے مروت اور خود غرض مہمان کی طرح وہاں سے چل دیتی ہے۔ اپنے اُس آبائی گھر کو چھوڑ کر جس میں اُس کا اتنا خیرمقدم کیا گیا۔ سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ کتنی خاطر، کتنی تواضع کی گئی، کتنے ناز نخرے اُٹھائے گئے۔ مگر روح کی آنکھوں میں سور کے بال ہیں۔ وہ جسم کو چھوڑ کر اُسے زمانۂ گزشتہ کا واقعہ سمجھ کر رخصت ہوجاتی ہے۔ ایک دوسرے عالم کے لیے، شاید عالم لافانی کے لیے۔

مگر اُس کی روح ایسا نہیں کرے گی۔ وہ اپے میزبان کے گھر کو، بلکہ اپنے گھر کو نہیں بھولے گی۔ وہ عالم بالا کی طرف رُخ نہیں کرے گی، وہ اس دنیا سے، اس گھر سے، اپنے لوگوں سے رابطہ قائم رکھے گی۔

ممکن ہے کہ یہ اس کی روح کے لیے بڑی بدنامی کی اور ذلیل بات ہو جس کے لیے اُس پر لعنت ملامت کی جائے، جھاڑ پھونک کی جائے۔عاملوں کا سہارا لیا جائے، تعویذ اورگنڈے استعمال کیے جائیں۔

مگر اُس کی روح لعنت کے اس طوق کو، اپنی صلیب بناکر، اپنے گناہوں اور اپنے جرائم کواپنے غیر مرئی کاندھوں پر لاد کر، ادھر—یہیں جی ہاں، ادھر ہی بھٹکے گی۔ وہ کسی عالم لافانی کی طرف کوچ نہیں کرے گی۔ اِس کرب، بے چینی اور گھبراہٹ کو وہ اپنا دائمی مقدّر تسلیم کرے گی۔ اور ایک قندیل کی طرح ہوا میں اُڑتی بھٹکتی پھرے گی۔

روح اور جسم کے آپسی گٹھ بندھن نے ہی خوفِ مرگ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ دنیا جو ایک حقیرنقطے سے شروع ہوئی تھی، انسان کے لیے ایک معمہ بن کر رہ گئی۔

مگر اُس کے لیے یہ معمہ نہیں ہے۔ یہ کوئی سوال نہیں ہے، یہ محض ایک بے تُکے نقطے کا بے ہنگم انداز میںپھیلتے رہنا ہے، ایک مرض— ایک کینسر کی مانند۔

یہ دنیا جس میں انسان رہتے ہیں، بچّے رہتے ہیں اور ایک باورچی خانہ بھی اِسی نقطے میں چھپا رہتا ہے۔

ہاں، باورچی خانہ۔ ایک انتہائی — بھیانک اور خطرناک جگہ۔ اس شیطانی نقطے کو بڑھانے اور پھیلانے میں شاید سب سے زیادہ مدد اِسی باورچی خانے نام کے مقام نے کی ہے۔ یہی تو وہ جگہ تھی جہاںسے اُسے مستقبل کی تمام بدشگونیوں کی علامتیں اس طرح حاصل ہوتی تھیں، جیسے سرپر بارش ہورہی ہو۔

مگر یہ ’’اُس‘‘ کی کہانی ہے جو ابھی اپنے ’’میں‘‘ سے کٹ کر یا نکل کر باہر نہیں آیا۔ مگر یہ اُس ’’میں‘‘ کے صیغۂ غائب میں ایک حلفیہ بیان تو مانا ہی جاسکتا ہے۔ اور مناسب وقت آنے پر، اس کا جائز استعمال ہونے کے امکان سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ ابھی ’’اُس‘‘ کی کہانی سنانا یا بات سننا ذرا مشکل ہے۔ ابھی بڑا شور برپا ہے۔ ’’میں‘‘ نے بھیانک شور شرابا اور ہنگامہ برپا کرر کھا ہے۔ ابھی رُکی ہوئی ہوائوں اور سنّاٹوں کی آوازوں کو کوئی نہیں سن پائے گا۔ ابھی شور ہے، بہت شور

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 7 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

لال فیتہ شاہی کے چلتے ’’ایک پریوار، ایک کمرہ‘‘ کی سرکاری پالیسی نے کئی سارے ریفیوجی پریواروں کو پہلے کاغذ پر، پھر حقیقت میں توڑ ڈالا۔ ہمارا پریوار بھی اس کا شکار ہوا۔ یہاں آنے تک ایک گھر، ایک پریوار، زیادہ کشادہ جگہ حاصل کرنے کے چکر میں ٹوٹ کر تین گھروں میں بٹ گیا۔ اس بکھرتے پریوار کی مالی حالت بھی کنگالی کے کگار تک جا پہنچی تھی۔ یہاں تک آتے آتے کچھ دن سرکاری راشن کا آسرا رہا تو کچھ گھر کے برتن بھانڈے بیچ کر گزر ہوتا رہا۔ ہاتھ کی نقدی، زیور زٹا کچھ بھی باقی نہ بچا تھا۔ گھر کی غریبی کی اس حقیقت کو پریوار کا ہر فرد دل ہی دل میں محسوس کرتا تھا لیکن زبانی طور پر سویکار نہیں کرتا تھا۔ ہمیشہ خود کو دوسروں کی مثالیں دے کر بہتر بتاتے۔ اپنے سے زیادہ بدحال لوگوں کی باتیں کرتے ہوے اپنی غریبی کو ڈھارس بندھاتے رہتے۔ دادا پوری جان لگا کر گھر کی مالی حالت سدھارنے کی کوشش میں صبح سے کرائے کی سائیکل لے کر نکل جاتے تھے۔ اخباروں کے لیے رپورٹنگ کے بدلے ملنے والا پیسہ بہت کم تھا۔ پڑھے لکھے انسان ہو کر سڑک پر بھجیے [پکوڑے] یا شکر بیچنے میں جھجک تھی۔ سو اپنی بی اے کی ڈگری کی مدد سے ایک وکیل کے ساتھ کچھ دن کام کر کے، بنا ایل ایل بی والے وکیل ہو گئے۔ مگر سندھی وکیل کے پاس کیس کہاں سے آتے۔ اور آتے تو غریب سندھیوں کے، جو فیس کے نام پر دام کم اور دعائیں زیادہ دیتے تھے۔

اس ماحول میں بھی وکیل صاحب کے ادھار کے بھروسے کھانے پینے اور صاف ستھرے رہنے کے شوق کے چلتے کبھی کبھی باہر والوں کے ساتھ ساتھ خود گھر والوں کو بھی اپنی خوشحالی کا یقین ہونے لگتا۔ لیکن تقاضے کی بڑھتی آوازوں سے خواب ٹوٹ جاتا۔ گھر کے دوسرے مرد بھی ہر دن کمائی بڑھانے کی نئی نئی تجویزوں پر بات کرتے۔ کچھ پر عمل کرتے۔ کبھی کامیاب، کبھی ناکام ہوتے۔ اِدھر مہیلائیں اپنی اپنی طرح سے اسی دِشا میں کام کرتیں۔ ماں اور اس کی بہنیں کپڑے سیتے وقت تو ہنستے بولتے، قہقہے لگاتے کام کرتیں لیکن اکیلے ہوتے ہی غریبی، بھوت کے سائے کی طرح پیچھے لگی ہی رہتی۔

ماں نے ایک دن تاج محل میں رہنے والی اپنی ایک سہیلی شیلا کے تیزی سے بدلتے حالات کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔ معمولی سے ٹھیکیدار کے منشی سے اس کا باپ ٹھیکیدار ہو گیا۔ اپنا گھر بھی بنا لیا۔ ایک ایمبیسیڈر کار بھی خرید لی۔ ڈرائیور بھی رکھ لیا۔ بھوک کو ٹھینگا دکھا کر گھر میں دعوتوں کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ ایک دن شیلا اپنی کار سے ماں کو اپنے گھر بھی لے گئی۔ اس کی خوشحالی دیکھ کر ماں کو رشک ہوا۔ بات چیت میں شیلا نے گھر میں لگا ایک بڑا سا پھلتا پھولتا منی پلانٹ دکھایا۔ مذاق مذاق میں یہ بھی کہہ دیا که یہ پودا ایک بوتل میں تاج محل والے گھر میں لگایا تھا، یہاں آ کر خوب پھل پھول رہا ہے۔ ماں نے اسی دن اس کے گھر سے ایک شاخ توڑ کر، آ کر اپنے گھر میں لگا لی۔ ایک بوتل میں۔ ہر دن صبح اٹھ کر سب سے پہلے پودے پر نظر ڈالتی۔ اکثر ہمیں بلا بلا کر دکھاتی، ’’دیکھو بڑھ رہا ہے نا؟ یہ دیکھو ایک نیا پتّا نکل رہا ہے۔‘‘

خدا جانے کیوں اور کیسے، ماں کا یہ منی پلانٹ کبھی سرسبز نہ ہوا۔ کبھی دھوپ میں، کبھی ایک دم چھاؤں میں۔ کبھی مندر کے پاس۔ پر جو وہ نہ پنپا تو نہ پنپا۔ محلے کی عورتوں میں اس کو لے کر ایک چھیڑ بھی بن گئی۔ طنز بھرے انداز میں ماں سے دریافت کرتیں، ’’کیسا ہے تمھارا منی پلانٹ؟‘‘ پھر خود ہی آگے بڑھ کر اس دم توڑتے چار پتے والے پودے کو دیکھ کر صلاح دیتیں، ’’پانی بدلو اس کا، پانی گندا ہو گیا ہے۔‘‘ کوئی صلاح دیتا، ’’اسے زمین میں لگاؤ۔‘‘ اور سب سے لاجواب صلاح یہ تھی که ’’دیکھو کرشنا، یہ مانگے کا پودا ہے۔ مانگ کر لایا ہوا پودا نہیں پنپے گا۔ اسے تو چپ چاپ چوری سے کسی اچھے پنپے ہوے گھر سے توڑ کر لگاؤ، تبھی پنپتا ہے۔‘‘

اس منی پلانٹ کی وجہ سے گھر کی غریبی پر تو کوئی اثر نہ پڑا البتہ ماں کا مذاق بنانے والی تین چار عورتوں کے گھروں میں منی پلانٹ کی لٹکتی بوتلیں ضرور نظر آنے لگیں۔ کچھ کی بیل بھی بنی، پر اس بیل کے باوجود ان گھروں میں جینے کے لیے ہر روز بیلے جانے والے پاپڑ کبھی بند نہ ہوے۔ سلائی مشینیں کبھی نہ رکیں۔

حویلی کے ان آٹھ پریواروں کے مرد ہر روز صبح صبح گھروں سے نکل پڑتے تو گھر کی عورتیں کام کرتے کرتے کفایت شعاری سے جیون کو بہتر بنانے کے اپنے اپنے تجربے ایک دوسرے سے بانٹتیں۔ نتیجہ یہ که کپڑے تو پہلے ہی گھر پر دھلتے تھے لیکن اب صابن بھی گھر پر ہی بننے لگا۔ شہر بھر میں گھوم گھوم کر پاپڑ بیچنے والی ساوتری مائی ہر دوسرے چوتھے دن کوئی نیا آئیڈیا لے کر آتی اور پوری حویلی کی کشش کا مرکز بن جاتی۔ اس دور کے چلن کے مطابق ساوتری مائی کو اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے بیٹے گھنشیام عرف ’گنو‘ کے نام سے جوڑ کر ’گنو ماؤ‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اس کا مطلب تھا، گنو کی ماں۔

ایک دن یہی ساوتری مائی بڑی زبردست خبر لائی۔ سب سے پہلے اپنے گھر گئی اور ہاتھ میں ایک بڑی بالٹی لی۔ پھر دھیرے سے ایک ایک کر سب کو بالٹی لے کر چلنے کی دعوت دی۔ یہ دعوت تھی گھر سے کچھ دور منگلوارا میں نئے نئے کھلے صابن کارخانے کا صابن والا پانی لانے کی دعوت، جسے کارخانے والے پائپ کے ذریعے پیچھے بنے نالے میں بہا دیتے تھے۔ اب یہاں آئیڈیا یہ تھا که کپڑے دھونے کے لیے صابن خرچ کرنے کے بجاے صابن کے اس پانی کا استعمال کیا جائے جو مفت میں مل رہا ہے۔

محلے بھر کی عورتوں کے چہرے یکایک کھل اٹھے۔ اس طرح کی مفت یا سستے کی جگاڑ سے یہ چہرے ہمیشہ ہی چمک اٹھتے تھے۔ انھی کوششوں کے نتیجے میں چولھا جلانے کے لیے ضروری ایندھن کو لے کر بھی کئی کامیاب ناکام تجربے ہو چکے تھے۔ سب سے پہلے جلاؤ لکڑی کے بجاے لکڑی کٹائی کے دوران پیٹھے پر اِدھر اُدھر بکھرنے والے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں (چھپٹیوں) کا استعمال۔ کافی سستی پڑنے والی ان چھپٹیوں کو کسی ٹوکری یا تگاڑی میں پورے پیٹھے میں گھوم گھوم کر خریدار کو خود ہی بیننا پڑتا تھا۔ پھر انھیں بڑی لکڑی کے بیچ پھنسا کر چولھے سلگائے جاتے تھے۔ کچھ گھروں میں لکڑی کے بھوسے سے جلنے والی لوہے کی سِگڑیاں بھی آ گئی تھیں۔ اس بھوسے کے لیے انھیں چھاؤنی میں آباد آرا مشینوں کے چکر لگانے پڑتے تھے، جبکہ چھپٹیاں محلے میں ہی تین تین پیٹھوں سے مل جاتی تھیں۔

سٹیشن کے پاس رہنے والی میری بوا کے لڑکے گرمُکھ اور جےپال ریل پٹریوں سے سٹیم انجن سے گرنے والا کوئلہ بین کر لے آتے تھے۔ کوئلہ بیننے کے دوران ہونے والی مشکلوں، لڑائی جھگڑوں اور پولیس کے پنگوں کی کہانیاں سن سن کر کوئلہ بیننے کو من بہت للچاتا تھا، لیکن ماں اسے چوری بتاتی تھی جو پاپ ہو جاتا ہے۔ سو بس ایک بار کے بعد پھر کبھی نہ گیا۔ آج ساوتری مائی ایک نئی رومانچک کھوج لے کر آئی تھی۔ اس دن بس دو اور گھروں سے گنو کی اس امّاں کے ساتھ لوگ بھری دھوپ میں بالٹیاں بھرنے نکلے۔ اب حویلی میں نل ایک ہی تھا۔ سو جس گھر کو کپڑے دھونے ہوتے، وہ شام میں ہی اس ارادے کا اعلان کر دیتا که کوئی اور کپڑے دھونے کی تیاری نہ کر لے، کیونکہ نہانے دھونے اور پینے کا پانی بھرتے بھرتے ہی نل بند ہو جاتے تھے۔ غنیمت یہ تھا که ان دنوں شام کو ایک بار پھر پانی آتا تھا که جس سے کسی ایک گھر کے کپڑے دھل پاتے تھے۔

اب تک حویلی میں کپڑے دھونے کے لیے رات میں ٹین کے بڑے ڈبوں میں پانی کے ساتھ کاسٹک سوڈا اور صابن کے چُورے کو ملا کر کپڑے ڈال دیے جاتے تھے۔ چھوٹے کپڑوں کے لیے آنے دو آنے میں ملنے والے مالتی گھی کے خالی ڈبے اور بڑے کپڑوں کے لیے بال وہار کے لوہاروں کے بنائے گئے ٹین کے بڑے ڈبے استعمال ہوتے تھے۔ دھوبی کی بھٹی کی طرح آنگن کے ایک کونے میں بنی سِگڑی پر خوب اُبال آنے تک گرم کیا جاتا تھا۔ ایک ڈبا ابل گیا تو دوسرا یا تیسرا۔ اس نئی کوشش کا مطلب تھا صابن کے چورے کا خرچ بچانا۔ اگلے دن جب ساوتری مائی موگری سے پیٹ پیٹ کر کپڑے دھو رہی تھی تو اسکی آواز کی طرف حویلی بھر کے سارے گھروں کی عورتوں کے کان لگے ہوے تھے۔ بیچ بیچ میں اپنا کام چھوڑ کر بھی کوئی کوئی دیکھنے چلا جاتا که کپڑے دھل کیسے رہے ہیں۔ آخری نتیجہ تو بہرحال کپڑے سوکھنے کے بعد ہی آنا تھا۔

ساوتری کی یہ کوشش خاصی کامیاب رہی۔ حالانکہ سب مہیلائیں ایک رائے نہیں تھیں که کپڑے ایک دم صاف دھلے ہیں لیکن اس بات پر سب سہمت تھے که بچت اچھی ہو جائے گی۔ اس اکیلی بات نے دھیرے دھیرے سب کو کوئی ڈیڑھ دو فرلانگ کی دوری پر صابن کارخانے کے نالے سے بالٹیاں بھر کر لانا سکھا دیا۔ ایک دن جب میری باری آئی تو میرے ساتھ میرا وہی دوست للّن بھی گیا، جس کی بہن سے پہلے جھگڑا ہوا تھا اور پھر وہ میری بہن بن گئی تھی۔

للّن بہت تیز دماغ تھا۔ وہ بھاگ کر گھر گیا اور خاصا موٹا اور مضبوط بانس لے آیا۔ دونوں بالٹیوں کو بانس کے بیچ ڈال کر ہم دونوں گاتے مسکراتے چل پڑے صابن فیکٹری کی طرف۔ ایک سرا میرے ہاتھ اور دوسرا للن کے ہاتھ میں۔ میں للن کی اس ہوشیاری سے بہت خوش تھا۔ میری یہ خوشی نہایت وقتی ثابت ہوئی۔ کارخانے کے پچھواڑے پہنچے تو دیکھا که نالے کے پاس ڈنڈا لیے ایک آدمی بٹھا دیا گیا تھا۔ پائپ کا پانی جمع کرنے کے لیے ڈرم رکھے ہوے تھے۔ ڈنڈے والے آدمی نے ہماری بالٹیاں دیکھتے ہی للکارا: ’’پیسے لاؤ ہو؟‘‘

میں نے حیرت سے پوچھا، ’’پیسے؟‘‘
وہ بولا، ’’ہاں، پیسے۔ جاؤ جاؤ پیسے لاؤ۔ نہیں تو چلتے نظر آؤ۔‘‘

للن مجھ سے عمر میں دو ایک سال بڑا تھا۔ بات بات پر تھوک کو پچکاری کی طرح استعمال کرتا اِدھر اُدھر پھینکتا رہتا تھا۔ اور غصہ آ جائے تو اس کی رفتار ایک دم بڑھ جاتی تھی۔ اس گھڑی بھی یہی ہوا۔ ایک پچکاری چھوڑکر بولا، ’’چلو خاں لالو، یاں تو اندھے کے آنکھ نکل آئی ہیں!‘‘

بیوپاری نے کمائی کی گنجائش تاڑ لی تھی، اب اس سے جیتنا مشکل تھا۔ لیکن ہر روز کے حالات سے ٹکراتے ٹکراتے اس کمسنی کے دور میں بھی دل دماغ میں غصہ اور زبان پر زہر جب تب اتر کر آنے لگا تھا۔ اس وقت بھی غصہ اپنے اوج پر چڑھ کر زبان کی نوک پر اتر ہی آیا۔ اسی غصے میں میں نے کہہ دیا، ’’رکھ لو سمھال کے۔ گانڈ دھونے کے کام آئے گا۔‘‘

ڈنڈے والے کا ہاتھ ڈنڈے تک پہنچتا اور ہم پر چل جاتا، اس سے پہلے ہی للن نے بانس میں پھنسی بالٹیاں نکال کر ہاتھ میں تھام لیں اور میں نے نیچے گرا بانس کا ڈنڈا اٹھا کر دوڑ لگا دی۔

گھر پہنچ کر ماں کے سامنے غصے بھرے انداز میں اپنی ناکامی بیان کرتے ہوے اس صابن فیکٹری کے مالک کو ایک ہلکی سی گالی بھی دے ڈالی۔ ماں نے حیرت اور صدمے سے بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔ ایسا بالکل نہ تھا که اسے میری بدزبانی اور بداخلاقی کا اندازہ ہی نہ تھا۔ میری گالیوں کی عادت سے وہ واقف تھی، لیکن آج سیدھے اسی کے سامنے ہی منھ سے گالی نکل آئی تو وہ گھبرا گئی۔

گھبرا تو میں بھی گیا، بلکہ بہت بری طرح گھبرا گیا۔ اب تک صرف باپ کے منھ سے سنتا آیا تھا که میں مسلمانوں کی سنگت میں غنڈا بن گیا ہوں۔ لیکن ماں کو اپنے ایشور پر اور اپنی بھکتی پر بڑا بھروسا تھا که میں ابھی بہت چھوٹا ہوں اور دھیرے دھیرے سدھر جاؤں گا۔ آج اس بھروسے کو چوٹ لگی تھی۔ میں نے ماں کی آنکھوں میں جو کچھ اس گھڑی دیکھا وہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں گھر سے بھاگ کر پائیگاہ کی طرف چل پڑا۔ تالا لگے بڑے دروازے کے پاس والی ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے راستے اندر گھس گیا۔

نظروں کی حد سے باہر تک پھیلی پائیگاہ کے بھیتر چاروں اور نوابی خاندان کے جانوروں کے باندھنے کے باڑے بنے ہوے تھے، اور بیچ میں تھا وشال سا خالی میدان۔ باڑے تو برسوں سے یوں ہی خالی پڑے تھے لیکن میدان بارش کے پانی سے اگ آئی گھاس سے پوری طرح ڈھکا ہوا تھا۔ میں گھاس کا ایک تنکا توڑ کر باڑے والے حصے کے بھیتر جا کر بیٹھ گیا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے ایک تنکے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑتا کچھ سوچتا جاتا تھا۔ حالانکہ کسی نے مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا تھا لیکن پھر بھی میں بہت ڈرا ہوا تھا۔ باربار یہی سوچ سوچ کر شرمندہ ہوتا رہا که میں نے ماں کے سامنے گالی بک دی۔ مجھے رونا آ رہا تھا مگر میں رو نہیں رہا تھا۔ پھر خود پر غصہ آنے لگا۔ اسی غصے میں خود کو کس کر چار چھ تماچے مار لیے۔ اب رونا بھی شروع ہو گیا۔ روتے روتے منھ سے باربار ایک ہی لفظ نکلتا تھا: ماں۔۔۔

کچھ دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے ساری پائیگاہ میں یہی لفظ گونج رہا ہے: ماں۔ میں ڈر گیا، رونا بند کر کے اس گونج کو سننے کی کوشش کرنے لگا۔ اب ایسی کوئی گونج نہیں تھی۔ بس ہوا کے جھونکوں میں ضرور کچھ تیزی آ گئی تھی جس نے اب تک میری طرح اداس کھڑے گھاس کے تنکوں پر گدگدی کا سا کام کر دکھایا۔ گھاس کے یہ ہزاروں تنکے ایک ساتھ جھوم جھوم کر ہواوٴں کی سنگت میں ناچتے گاتے سے معلوم ہونے لگے۔ اس سنگت میں سنگیت بھی آ شامل ہوا اور پورب کی طرف سے سیٹی سی بجاتا پچھم کو چھیڑنے لگا۔

میری خوفزدہ آنکھوں کے سامنے ہو رہے اس رومانی بدلاؤ نے چند لمحوں کے لیے میرے بھیتر کے سارے دکھ درد کو ایک مسکان میں بدل دیا۔ میں سب کچھ بھول اس جادوئی بیار [ہوا] کے ساتھ بہنے سا لگا۔ تبھی لیلیٰ بُرج والی دِشا سے ہوا میں تیزی سے اڑتا ایک پتھر آ کر پائیگاہ کے بھیتر کے ایک ٹین کے دروازے سے ٹکرایا اور اس ماحول میں ایک نہایت بےسُرا رنگ بھر دیا۔

میری نظریں قدرت کے اس کھیل سے ہٹ کر اِدھر اُدھر گھومنے لگیں۔ نظروں کو کہیں کچھ بھی بدلاؤ نظر نہیں آیا لیکن پھر اچانک ہی یوں لگنے لگا جیسے کوئی اور بھی یہاں موجود ہے، جس نے مجھے روتے ہوے دیکھ لیا ہے۔ نظروں نے ایک بار پھر چاروں طرف کی تلاشی لی لیکن کوئی نہیں تھا۔
میں نے جلدی جلدی اپنے گالوں پر پھیل چکے آنسوؤں کو جیسے تیسے پونچھ کر پوری ہمت سے ایک بار پھر گھوم گھوم کر اِدھر اُدھر تلاش شروع کر دی۔
کوئی بھی تو نہیں تھا۔

تو پھر کون تھا؟

اب تک میری ساری بہادری چیں بول چکی تھی۔ اس تیزی سے دوڑ لگائی که اگلے ہی پل میں اسی ٹوٹی کھڑکی کے پاس پہنچ گیا جو برسوں سے بند پڑے دروازے کے بدلے یہاں آنے جانے کے راستے کا کام دیتی تھی۔

گلی میں اس وقت کوئی خاص چہل پہل نہیں تھی۔ میں بھی دھیرے دھیرے گھر کی طرف قدم بڑھاتا چل پڑا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – پچیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اس بات کی رتّی برابر بھی پروا کیے بغیر کہ جمعرات کی شام، جبکہ دونوں وقت گلے مل رہے تھے، اور مُردے اپنی اپنی قبروں میں فاتحے کے کھانے کا بے چارگی کے ساتھ انتظار کر رہے ہوں گے، میں ایک کے بعد ایک قبریں پھلانگتا ہوا انجم آپا کے گھر کی طرف دوڑا چلا جارہا تھا۔
وہ باورچی خانے میں ہی ایک پٹلی پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔ دُبلی اور پہلے سے زیادہ کالی۔مجھے دیکھ کر وہ اُٹھ کر کھڑی ہو گئیں۔ اُن کا قد پہلے سے زیادہ ٹھگنا محسوس ہوا۔ وہ ایک ایسی پتھّر کی مُورت لگیں جس کے پیر اور پنجے آہستہ آہستہ گھس رہے ہوں۔

انجم آپا کی آنکھیں سونی پڑی تھیں۔ مگر شاید یہ آنسوؤں کے آنے سے پہلے کا سونا پن تھا۔ یا آنسو راستہ بھٹک گئے تھے کیونکہ اُن کی ناک سے لگاتار پانی بہہ رہاتھا۔

’’انجم آپا ؟‘‘
’’گڈّو میاں۔‘‘

’’انجم آپا، انجم آپا۔‘‘ میں نے دہرایا۔

’’گڈّو میاں۔‘‘ اُنھوں نے خلا میں ہاتھ بڑھائے۔ شاید وہ ٹٹول رہی تھیں اور تب میں نے غور کیا کہ اُن کی آنکھیں سونی ہونے کے علاوہ ساکت وجامد بھی تھیں۔

میں اُن کے بالکل قریب چلا آیا۔ ان کے کپڑوں سے مسالوں کی خوشبو آرہی تھی، جو زیادہ تر باورچی خانے میں وقت گزارنے والی ہر گھریلو عورت کے بدن سے آتی ہے۔

انھوں نے میرے بال چھوئے۔ میرا سر سہلایا۔

’’سنا ہے تم بہت بیمار ہو گئے تھے۔‘‘ اُن کی آواز کی ترنگوں میں کسی ایک ارتعاش کی کمی تھی۔ ایک بہت جانا پہچانا اور مانوس ارتعاش جو اب غائب تھا۔

’’ہاں۔‘‘
’’میں تمھیں دیکھنے نہ آسکی، مجھے معاف کر دو۔‘‘

’’ارے چھوڑو انجم آپا۔ پتہ ہے ایک نیا ہیبت ناک ناول آیا ہے، ’’آسیبی بلّی۔‘‘ کل تمھارے لیے لے کر آؤں گا۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا نے سسکی لی۔
’’کیوں؟ تمھیں تو بھیانک اور ہیبت ناک ناول بہت پسند تھے۔‘‘
’’تو پھر۔۔۔ تمھیں پڑھ کر سنانا ہوگا۔‘‘ انجم آپا کی آوازبہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’کیونکہ میں اندھی ہوچکی ہوں۔‘‘

اوراب پہلی بار مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا۔ مجھے بہت پہلے ہی یہ جان لینا چاہئیے تھا کہ وہ اندھی ہو چکی ہیں۔
’’میں کل آؤںگا۔‘‘ غیر اضطراری طور پر گھبرا کر پیچھے ہٹتے ہوئے میں نے کہا۔

’’اچھّا۔‘‘

انجم آپا کے گھر سے میں بہت سست قدموں کے ساتھ واپس آیا۔ گھر پر چھوٹے ماموں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ انجم آپا کا شوہر انتہائی ظالم اور ناہنجار آدمی نکلا۔ اُس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ دن رات جُوا کھیلتا رہتا ہے اور شراب کے نشے میں چور رہتا ہے۔ انجم آپا کو مار پیٹ کر وہ اُنہیں اپنے باپ سے پیسے مانگنے پر مجبور کرتا رہتا۔ ایک دن اُس نے شراب کے نشے میں انجم آپا کی آنکھوں میں جلتے ہوئے سگریٹ کی تمباکو جھونک دی۔ وہ بے زبان لڑکی اندھی ہو گئی، مگر کوئی کچھ بھی نہ کر سکا۔ اُس کی وجہ یہ کہ خود انجم آپا کے باپ اب اِسں عمر میں دوسری شادی کرنے جارہے ہیں۔ پولیس، مقدمہ اور طلاق ولاق کے چکر میں وہ نہیں پڑنا چاہتے۔ اُنھیں تو اَب گھر میں انجم آپا کا رہنا بھی گوارہ نہیں۔ دوسرے یہ بھی کہ انجم آپا کا شوہر شہر کے چھٹے ہوئے بدمعاشوں سے میل جول رکھتا ہے، اس لیے وہ اُس سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں۔ وہ اکثر ان کی راشن کی دوکان پر جاکر اُنہیں گالیاں دیتا رہتا ہے اور وہ خامو ش سنتے رہتے ہیں۔

چھوٹے ماموں نے یہ بھی بتایا کہ وہ چھپ چھپ کر انجم آپا کے گھر بھی آتا جاتا رہتا ہے، اور وہاں بھی اُنھیں زدوکوب کرتا ہے۔
’’کوئی کچھ کہتا نہیں؟‘‘ میں نے پوچھا تھا۔

’’کسی کو کیا پڑی ہے، کسی کے معاملے میں دخل دینے کی، جب انجم آپا کے باپ ہی کچھ نہیں کہتے۔‘‘ چھوٹے ماموں بولے۔

مارچ کا مہینہ تھا، ایک اُداس، بڑے صدر دروازے جیسا مہینہ جس میں سے ہوکر ہوائیں آتی اور جاتی رہتی ہیں۔ کم از کم مجھے تو مارچ کا مہینہ کسی کھنڈر کے ایک ویران، گردآلود اکیلے صدر دروازے کی مانند ہی لگتا ہے۔

میں بہت دیر تک مارچ کے اس سنّاٹے میں چپ چاپ کھڑا رہا، اس سناٹے میں اگر کوئی آہٹ تھی تو وہ سردیوں کے واپس جاتے ہوئے قدموں کی تھی۔

یونہی چپ چاپ کھڑے کھڑے، اچانک میرے اندر اُسی پرانے تاریک دیو ہیکل غصّے نے ایک پھنکار ماری۔ وہی کالا غصہ جو ایک زہریلے سانپ کی طرح کنڈلی مار کر، سکڑ کر، میرے وجود کے نادیدہ ریشوںمیں کہیں چھپ کر بیٹھ گیا تھا۔ ایک بار پھر، میری روح کے خلیوں اور اُس کی جھلّیوں کو توڑتا ہوا باہر آنا چاہتا تھا۔

میں ڈر گیا۔ اپنے اندر کے اُس پرُاسرار کالے سانپ سے میں ڈر گیا اور مجھے یہ بھی یاد آیا کہ ابھی کل ہی شام تو اندر والے دالان کے کونے میں، میں نے سانپ کی اُتاری ہوئی کینچلی پڑی دیکھی تھی۔