Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اپنے گھروں سے بےدخل ہوکر نئے شہر میں ایک مخالف ماحول کے بیچ اپنے لیے زمین ڈھونڈتی قوم کے کردار میں عدم تحفظ کا احساسٴ سرایت کر جانا قدرتی تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر انسان کے بھیتر دو دھارے بہنے لگتے ہیں۔ ایک دھارا ہوتا ہے خوف کا، جو باہری ماحول میں پھیلے ہوے خطرے سے پیدا ہوتا ہے، اور دوسرا دھارا ہوتا ہے باہری ردعمل والے دھارے کے ردعمل میں جنما جوابی دھارا۔ یہی دھارا ہوتا ہے جس سے اثر لے کر انسان کی تمام اندرونی قوتیں اپنے وجود کے بچاؤ میں ایک جُٹ ہو کر اسے اس کی تمام جسمانی قوتوں سے زیادہ طاقتور ہونے کا بھروسا دلاتی ہیں۔ وہ اپنی اسی اندرونی طاقت کے بھروسے ان باہری خطروں سے ٹکراتا ہے جن سے اسے ڈر لگتا ہے۔

بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی اس اندرونی طاقت کو نہ ٹھیک سے پہچان پاتے ہیں اور نہ ہی اسے ایک جٹ کر پاتے ہیں۔ ایسے لوگ، اپنی حفاظت کے لیے دوسرے انسانوں میں اپنا تحفظ ڈھونڈے ہیں۔

ایسی ہی دوِدھا سے جوجھتے، ایک دوراہے پر کھڑے بے یارومددگار سندھی طبقے میں بھی ایک اور بٹوارا ہوا۔ دھیرے دھیرے اکھڑے ہوے لوگوں میں سے گنتی کے چند ایسے لوگ منچ پر ابھرنے لگے جو ہر روز کی لعنت ملامت سے عاجز آ چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی زندگی سے بھی عاجز آ چکے تھے۔ ان لوگوں کی بولی ہی ان کے اپمان کا ہتھیار بن گئی تھی۔ یہ زبان سے چلنے والی کسی پچکاری کی طرح کا ہتھیار تھا، جس سے ’’اے سندھی!‘‘، ’’بھینڑاں کھپو‘‘، ’’لکھ جی لعنت‘‘، ’’وڑی سائیں‘‘ جیسے سندھی کے کچھ چنندہ لفظ ہلاک ہو کر مسخ روپ میں باہر نکلتے اور برچھی کی طرح راہ چلتے بچے بوڑھوں کو نشانہ بناتے۔

ایسے ہی مخالف ماحول میں جینے کے راستے ڈھونڈتے ان رفیوجیوں میں سے کچھ لوگ ’’کم لاگت، کم منافع، لیکن ٹرن اوور زیادہ‘‘ والا فارمولا لے کر بازار میں اترے۔ بیوپاری مفادات کا ٹکراو ہوا تو شہر کے پرانے بیوپاریوں نے ان نئے نئے بیوپاریوں کو ملاوٹ خور اور ڈنڈی مار والے تمغے دے کر بازار میں ہرانے کی حکمت عملی اپنا لی۔ دو بیوپاریوں کی اس جنگ کی زد میں آ کر وہ لوگ بھی زخمی ہونے لگے جو نہ تو سڑک پر خالی شکر کے بورے کے منافعے پر شکر بیچ رہے تھے اور نہ جنھوں نے دال چانول کی کوئی دکان لگائی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہر صبح، ہر شام طرح طرح کے جھوٹے الزام جھیل رہے تھے۔

یہ بیکار سے گھومتے بیروزگار لوگوں کا گروہ تھا جس کے لیے زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ سو جینے مرنے کی پروا کو پیچھے چھوڑ، اس نہایت چھوٹے سے حصے نے اینٹ کا جواب پتھر والا راستہ چن لیا اور ڈرانے والے نتیجوں کو الگنی پر ٹانگ کر بےخوف سینہ تان کر نکلنا شروع کر دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اونچی آواز میں اپنے گھر چھوڑ بےگھر ہونے کو وطن کے لیے دی گئی قربانی مانتے تھے اور نئے بندوبست میں اپنے لئے عزت کی جگہ چاہتے تھے۔ اور جو یہ حق حق کی طرح نہ ملے تو آگے بڑھ کر چھین لینے والے فلسفے کے ساتھ سامنے آ گئے۔

لیکن دوسرے راستے پر چلنے والوں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ یہ لوگ مل جل کر صلح کل والے انداز میں جینے کی تمنا رکھتے تھے۔ اتنی بڑی اتھل پتھل کے بعد کسی طرح تھوڑے بہت سمجھوتے کی راہ لے کر سکون سے جینا چاہتے تھے۔ اس طبقے نے شہر کی سِکھ سمودائے [برادری] اور ان کی بہادری کو اپنی طاقت مان لیا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ صدیوں سے سندھی سماج سِکھی پرمپرا [روایت] سے جڑا رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو که جس گھر میں گرو نانک دیو یا دوسرے سِکھ گروؤں کی تصویریں نہ لگتی ہوں۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر رہا ہو گا جس میں گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہ ہوتا ہو۔ اور تو اور، سندھی کہاوتوں میں بھی گرو نانک دیو کا ستھان اتنا اونچا رہا ہے که وہ اپنے گھر کو بھی گرو کی چھاؤں کی طرح مانتے تھے۔ باربار یہی ایک جملہ سنائی دیتا تھا: ’’گھر گُرو جو در۔‘‘ ہر تیسرے چوتھے سندھی گھر میں ایک بیٹے کا سِکھ ہونا ایک عام بات تھی۔ اس ناتے وہ ہمیشہ سے سِکھوں کو اپنا بھائی، اپنا ہمزاد مانتے ہی آئے تھے۔ اور سکھ سمودائے نے بھی ہمیشہ اس رشتے کو وہی سمّان دیا ہے۔

ایک دن کی گھٹنا نے اس پوری بات کو ایک نئی اڑان دے دی۔ ایک دن دو سکھ عورتیں گھر سے کچھ دوری پر آباد اِبّا چوڑی والے کی باخل سے ماں کے پاس کپڑے سلوا نے آئیں۔ انھوں نے اپنی کسی جاننے والی کا حوالہ دیا جس کے لیے ماں نے کپڑے سیے تھے۔ ماں کے چہرے پر اپنی تعریف سن کر ایک مسکراہٹ سی آئی۔ اس نے اٹھ کر دونوں کو پانی پلایا اور بڑے پیار سے کپڑوں کی سلائی کے بارے میں بات کی۔ باتوں باتوں میں ہی ماں نے ان سے دریافت کیا که شہر میں گورودوارہ کہاں ہے۔ گورودوارے کی بات سن کر دونوں کے چہرے پر ایک مسکان سی پھیل گئی۔ انھوں نے بتایا که شہر میں کل جمع ایک ہی گورودوارہ ہے جو شہر سے کافی دور رجمنٹ روڈ پر ہے۔

ان دو میں سے ایک عورت خاصی بزرگ تھیں۔ ماں نے جب اس بات پر حیرانی اور نراشا ظاہر کی تو اس بزرگ مہیلا نے اپنے پنجابی لہجے میں جواب دیا، ’’او نا جی، جیہڑا نواب سی نہ بھوپال دا، اُناں دی فوج وچ پٹیالے دے جیالے سکھ سپاہی تھے۔ کوڑاں والی فوج (گھڑسوار فوجی دستہ) بنانے کے لیے اُناں نے خاص طور سے پٹیالہ مہاراج نوں دوستی دا واسطہ دے کے، پنج سو سپاہیاں نوں بلایا سی۔ سو بس اُناں دے واسطے ای وہ گورودوارہ بھی بنایا سی۔‘‘
رجمنٹ روڈ شہر خاص سے واقعی دور دراز کا علاقہ تھا۔ یہ بھوپال ریاست کی فوج سلطانیہ انفنٹری والی بیرکس کی طرف آنے جانے کا راستہ تھا۔ اس دوری کے باوجود گورودوارے پہنچنے والوں کی کمی نہ تھی۔ ساجھے کا تانگہ اس کے لیے بڑی مفید چیز تھا۔

ماں نے حویلی کے سارے گھروں سے ان دو مہیلاؤں کا تعارف ایسے کروایا جیسے کوئی رشتےدار ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ که سارے لوگوں نے اسی طرح کی خوشی ظاہر کی۔ ماں نے آخر میں گھر کے اندر ایک آلے میں بنے مندر، اس میں کانچ والے فریم میں جڑی گرو نانک دیو کی تصویر اور گرو گرنتھ صاحب کے درشن بھی کروا دیے۔ کپڑے سلنے سے پہلے ہی ایک نیا اور مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ اس کے بعد شروع ہوا تیج تیوہار پر گورودوارے جانے کا سلسلہ۔

دادا پو پھٹے ہی حویلی کے اکلوتے غسلخانے میں پانی کی بالٹی لے کر گھس جاتے۔ جنیؤ ہاتھ میں لے کر کچھ بُدبُداتے اور پھر نہا دھو کر نکل پڑتے گھر سے کچھ دور خزانچی گلی میں بنے مندر کی طرف۔ ماں کا پوجا پاٹھ گھر پر ہی ہو جاتا۔ امرت ویلے کی اس کی پوجا میں سُکھمنی صاحب کا پاٹھ ضروری ہوتا تھا۔ جب بھی موقع ملتا، ماں مجھے بھی ساتھ بٹھا کر گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ سناتی۔ اس کا مطلب سمجھاتی۔ میں منترمُگدھ سا ماں کو پاٹھ کرتے سننے سے بھی زیادہ اسے دیکھتا رہتا تھا۔ گیت والے انداز میں پاٹھ کرتی ماں کی اس دھیمی اور کبھی مدھم سی آواز میں کسی کسی شبد پر ایک سیٹی سی سنائی دے جاتی تھی اور میں چمتکرِت سا اس کے ہونٹوں کو دیکھتا رہتا که کس طرح اوپر نیچے ہوتے ہوتے اچانک کیسے ایک حالت ایسی آتی ہے که کسی کسی شبد پر وہ ذرا گول ہو جاتے ہیں اور سیٹی کی سی آواز سنائی دے جاتی ہے۔ جس گھڑی ایسا ہوتا تو مارے رومانچ کے میرے پورے بدن میں ایک پھرپھری سی اٹھتی اور چہرے پر خوشی کا انوکھا بھاوٴ آ جاتا۔

ایک دن ماں نے، پڑوسن پتلی بائی سے کہہ کر میرے لیے ایک چھوٹی سی پُستک بازار سے منگوائی: ’’بال بودھ‘‘۔ اسی کتاب کے ذریعے وہ مجھے گرمکھی پڑھنا سکھانا چاہتی تھی که میں خود بھی گرو گرنتھ صاحب اور دسمیس درشن جیسی پوتر کتابیں پڑھ سکوں۔

ماں کی پہلی کوشش کچھ کامیاب نہ ہو سکی۔ میرا رجحان ذرا دوسری طرف ہی بنا رہا۔ لیکن ماں کی لگاتار کوششوں اور پاٹھ کے دوران بجنے والی سیٹی نے مجھے گرمکھی سیکھنے پر آمادہ کر ہی لیا۔ میں گرمکھی سیکھا تو گرو گرنتھ صاحب کو پڑھنے کا چسکا سا لگ گیا۔ اب مجھے اس سیٹی وِیٹی کی یاد بھی نہ آتی تھی۔ میری زندگی میں اس گرنتھ نے ایک ایسا بیج بویا جو میرے بھیتر پوری طرح بلوان ہو کر مجھے باغیانہ فطرت کی راہ پر لے جانے والے رجحان کے ساتھ ٹکرانے لگا تھا۔ اندر ہی اندر کشمکش کی ایک ایسی کیفیت بننے لگی تھی جو مجھے باربار بےچینی اور خفتگی کے ساتھ خود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

صحبت اور حالات سے پیدا ہوا باغیانہ تیور سماج میں غنڈئی والے کھاتے میں درج ہوتا ہے۔ لہٰذا عمربھر میرے بھیتر یہ باغی اور یہ امرت بیج ساتھ ساتھ پلتے رہے۔ میں جب جب کرودھ میں کوئی ایسا کارنامہ کر گزرتا جو مہذب سماج کے بچوں کے لیے ممنوع مانا جاتا تھا، تب تب کسی اور کی انگلی اٹھنے سے پہلے ہی یہ امرت بیج میرے بھیتر کوئی ایسا مادّہ پیدا کر دیتا که میں خود اپنے کو قصوروار مان کر لہولہان کر، سزا دینے کی کوشش کرنے لگتا۔

اس کوشش کی شروعات ہوتی تھی دادا کے پورٹیبل ریمنگٹن ٹائپ رائٹر کے ساتھ رکھے کاربن پیپر اور کاغذوں کے ساتھ رکھی آل پن کی ڈبی سے۔ ایک پن نکال کر میں خود کو باربار سوئی چبھوتا اور چبھن کے درد کے ساتھ نکلتی خون کی ننھی سی بوند کو دیکھتا، ماں کی طرح ہی خاموش آنسو بہاتا اور چپ چپ رُلائی کرتا رہتا۔ جس دن سوئی سے نکلی خون کی بوندوں سے بھی جی ہلکا نہ ہوتا، اس دن اٹھ کر اتوارے کے ٹرانسپورٹ علاقے میں آباد ایک ننھے سے باغیچے میں پھولوں کے اردگرد لگی کانٹےدار باڑھ کے اُبھرے کانٹوں سے اپنی انگلیاں زخمی کر لیتا۔ جب خون بہتا تو دبی دبی چیخ بھی نکلتی لیکن اس خون کے ساتھ ہی دل میں اٹھا درد بھی ضرور کچھ بہہ جاتا۔ جی ہلکا ہو جاتا۔

اس ساری کسرت میں بہتے آنسو چہرے پر طرح طرح کے نقشے بھی بنا جاتے، جو سوکھ کر بخوبی ابھر کر صاف دکھائی دینے لگتے تھے۔ چہرے پر پھیلا عجب سا چپچپاپن محسوس ہوتا۔ جب ہاتھ لگا کر دیکھتا تو ہاتھ کو ذرا سے خراش نما کھردرےپن کا احساس ہوتا۔ اپنے چہرے کی حالت اور ہاتھ کی انگلیوں پر آنسوؤں کی طرح سوکھ چکا خون دیکھ کر اپنی جہالتوں پر خود ہی ہنسی آنے لگتی تھی، جو چہرے تک آتے آتے محض ایک مسکان بھر ہی رہ جاتی تھی۔

میں بغیا کی بنچ سے اٹھ کر سامنے نندا چائے والے کی دکان تک پہنچ جاتا۔ باہر ٹرے میں رکھے پانی کے گلاسوں میں سے ایک گلاس اٹھا کر منھ دھوتا۔ اُدھر سے گدی پر بیٹھے نندا سیٹھ کی آواز آتی: ’’ابے او ڈھور! یہ گاہکوں کے پینے کا پانی ہے۔ منھ دھونا ہو تو نل پہ جاؤ۔‘‘
میں مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا۔ سنی ان سنی کر، واپس گھر کی طرف چل پڑتا۔

٭٭٭

بٹوارا – کہنا آسان اور نبھانا بہت مشکل ہے۔ ایک پریوار کے بیچ کے بٹوارے میں اکثر گھر کے آنگن میں دیوار کھڑی کر کے اس کام کو تمام مان لیا جاتا ہے۔ لیکن بہتر زندگی کی تلاش میں بٹے ہوے دیوار کے دونوں طرف کے انسانوں کا بیشتر وقت زندگی سے یکایک گم ہوئی چیزوں کو ڈھونڈنے میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔ ان گمشدہ چیزوں میں برتن بھانڈوں سے لے کر ہاتھ سے پھسلتے رشتوں کی کمی کا اثر جتنا دل کو دکھاتا ہے اتنا ہی ذہن کو مشتعل بھی کرتا ہے۔ یہی اشتعال اور یہی جوش انسان کو اپنی کھوئی ہوئی چیز حاصل کرنے کے لیے پرتشدد بھی بنا دیتا ہے۔

ملک کا بٹوارا ہوا تو یہاں بٹنے والوں کے بیچ محض ایک چھوٹی سی دیوار نہیں تھی که جس کے آرپار رہنے والوں کو ایک دوسرے کے سکھ دکھ کی آوازیں سنائی دے جاتی ہیں۔ یہ سیاسی حصہ بانٹ تھی۔ اس طرح کے بٹوارے میں چیزوں کو ایک دوسرے کی نظر سے دور رکھنے کے لیے دیوار کی جگہ انسانیت کے کل قد سے اونچا ایک پہاڑ کھڑا کیا جاتا ہے جسے عام زبان میں سرحد کہا جاتا ہے۔

ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھی دونوں طرف کے لوگوں کے من میں برسوں برس ایک ہی سنگھرش جاری رہا – ’’میں اِدھر جاؤں، یا اُدھر جاؤں؟‘‘ اِدھر آ چکے لوگ ایک دن پھر واپس جانے کے سپنے دیکھتے تھے، تو اُدھر جا بسے لوگوں کو بھی گھر کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ نتیجہ یہ که اُدھر رہ کر بھی اِدھر ہی رہ گئے اور اِدھر آ کر بھی اُدھر لوٹنے کی آس لیے رہے۔

شروعات میں دونوں طرف آنا جانا آسان تھا۔ بنا روک ٹوک آنے جانے کی سہولت تھی۔ اس آسانی کا نتیجہ یہ ہوا که ہندوستان میں بسے بسائے گھربار چھوڑ کر پاکستان جا پہنچے لوگ بڑی تعداد میں واپس لوٹنے لگے۔ اس کی خاص وجہ تھی مقامی لوگوں کا رویہ۔ اپنوں کے بیچ اچانک ہزاروں ہزار انجانے لوگوں کی بڑھتی تعداد نے انسانی ذہن میں وہی خوف پیدا کر دیا تھا جو ہندوستان میں آئے ہوے بےگھروں کو دیکھ کر مقامی لوگوں میں پیدا ہو رہا تھا۔ نتیجے میں اپنے گھروں کی قربانی دے کر آئے ان لوگوں کے ماتھے پر مہاجر کا ٹھپہ لگا دیا۔ اسی غیردوستانہ رویے اور افراتفری کے ماحول میں اپنے لیے جگہ بنانے میں ناکام ہو کر پاکستان سے واپس لوٹنے والوں کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں میں ہونے لگی۔ ان لوٹنے والوں میں سب سے بڑی تعداد تھی دہلی سے گئے ہوے لوگوں کی۔ اس کے بعد نمبر تھا اتر پردیش کا، اور پھر دوسرے علاقوں کا۔ ان لوٹنے والوں میں زیادہ تر لوگ وہ تھے جو جاتے وقت پیچھے اچھی خاصی جائیداد چھوڑ کر گئے تھے۔

دہلی میں ان ہزاروں لوگوں کی واپسی سے ایک بڑی گمبھیر سمسیا کھڑی ہو گئی تھی۔ ان مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی عمارتوں پر پاکستان سے بےگھر ہو کر آئے سِکھوں اور پنجابیوں نے قانونی اور غیرقانونی، دونوں طریقوں سے قبضہ کر لیا تھا۔ اب پاکستان سے لوٹ کر اپنی زمین جائیداد واپس حاصل کرنے کی کوشش میں آئے دن مار کاٹ کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔

انھی حالات میں آنے جانے کے لیے ایک پرمٹ سسٹم لاگو کر دیا گیا۔ نوکرشاہوں کے ہاتھ میں یہ پرمٹ سسٹم ان کے لیے سونے کی ٹکسال بن گیا۔ مصیبت کے مارے لوگوں کے خون سے بننے والا سونا۔ ایسے سسٹم کو ناکام ہونا تو تھا، سو ہوا۔

اس پرمٹ کی جگہ اب دونوں ملکوں کی سہمتی سے دنیا کے باقی تمام ملکوں کی طرح ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لیے پاسپورٹ والا انتظام لاگو کر دیا گیا۔ 15 اکتوبر 1952 سے لاگو ہونے والا یہ پاسپورٹ انتظام دنیا بھر کے ملکوں کے لیے جاری ہونے والے انٹرنیشنل پاسپورٹ سے الگ، صرف دو دیشوں – ہندستان پاکستان – کے بیچ سفر کا پاسپورٹ تھا۔

اس پاسپورٹ بندوسبت کی بنیاد یہ تھی که 19 جولائی 1948 تک پاکستان چھوڑ کر ہندوستان میں آنے والے فطری طور سے ہندوستانی شہری مانے جائیں گے۔ اس تاریخ کے بعد آنے والا ہر شخص ’’باہری‘‘ ہو گا اور اسے ہندوستانی شہریت کے لیے باقاعدہ درخواست دے کر تمام سارے مرحلوں سے گزرنا ہو گا۔ اسی طرح کا بندوبست پاکستان میں بھی لاگو ہو گیا۔

ان پیچیدہ قانونوں اور اس کے پروسیجر کی زد میں آ کر دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ ’’پاکستانی جاسوس‘‘ یا ’’ہندستانی جاسوس‘‘ قرار دے دیے گئے۔ ہزاروں لوگ برسوں برس لگ بھگ پوری طرح بےوطن بنے رہے که دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی بنا دستاویزی ثبوت انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہ تھا۔
اسی غیریقینی سے بھرے ماحول والے دنوں میں ہی ایک گھٹنا ہوئی۔ ایک صبح اچانک ہی حویلی کے دروازے پر حویلی کا پرانا مالک غیاث الدین پٹھان حویلی کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 7 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

لال فیتہ شاہی کے چلتے ’’ایک پریوار، ایک کمرہ‘‘ کی سرکاری پالیسی نے کئی سارے ریفیوجی پریواروں کو پہلے کاغذ پر، پھر حقیقت میں توڑ ڈالا۔ ہمارا پریوار بھی اس کا شکار ہوا۔ یہاں آنے تک ایک گھر، ایک پریوار، زیادہ کشادہ جگہ حاصل کرنے کے چکر میں ٹوٹ کر تین گھروں میں بٹ گیا۔ اس بکھرتے پریوار کی مالی حالت بھی کنگالی کے کگار تک جا پہنچی تھی۔ یہاں تک آتے آتے کچھ دن سرکاری راشن کا آسرا رہا تو کچھ گھر کے برتن بھانڈے بیچ کر گزر ہوتا رہا۔ ہاتھ کی نقدی، زیور زٹا کچھ بھی باقی نہ بچا تھا۔ گھر کی غریبی کی اس حقیقت کو پریوار کا ہر فرد دل ہی دل میں محسوس کرتا تھا لیکن زبانی طور پر سویکار نہیں کرتا تھا۔ ہمیشہ خود کو دوسروں کی مثالیں دے کر بہتر بتاتے۔ اپنے سے زیادہ بدحال لوگوں کی باتیں کرتے ہوے اپنی غریبی کو ڈھارس بندھاتے رہتے۔ دادا پوری جان لگا کر گھر کی مالی حالت سدھارنے کی کوشش میں صبح سے کرائے کی سائیکل لے کر نکل جاتے تھے۔ اخباروں کے لیے رپورٹنگ کے بدلے ملنے والا پیسہ بہت کم تھا۔ پڑھے لکھے انسان ہو کر سڑک پر بھجیے [پکوڑے] یا شکر بیچنے میں جھجک تھی۔ سو اپنی بی اے کی ڈگری کی مدد سے ایک وکیل کے ساتھ کچھ دن کام کر کے، بنا ایل ایل بی والے وکیل ہو گئے۔ مگر سندھی وکیل کے پاس کیس کہاں سے آتے۔ اور آتے تو غریب سندھیوں کے، جو فیس کے نام پر دام کم اور دعائیں زیادہ دیتے تھے۔

اس ماحول میں بھی وکیل صاحب کے ادھار کے بھروسے کھانے پینے اور صاف ستھرے رہنے کے شوق کے چلتے کبھی کبھی باہر والوں کے ساتھ ساتھ خود گھر والوں کو بھی اپنی خوشحالی کا یقین ہونے لگتا۔ لیکن تقاضے کی بڑھتی آوازوں سے خواب ٹوٹ جاتا۔ گھر کے دوسرے مرد بھی ہر دن کمائی بڑھانے کی نئی نئی تجویزوں پر بات کرتے۔ کچھ پر عمل کرتے۔ کبھی کامیاب، کبھی ناکام ہوتے۔ اِدھر مہیلائیں اپنی اپنی طرح سے اسی دِشا میں کام کرتیں۔ ماں اور اس کی بہنیں کپڑے سیتے وقت تو ہنستے بولتے، قہقہے لگاتے کام کرتیں لیکن اکیلے ہوتے ہی غریبی، بھوت کے سائے کی طرح پیچھے لگی ہی رہتی۔

ماں نے ایک دن تاج محل میں رہنے والی اپنی ایک سہیلی شیلا کے تیزی سے بدلتے حالات کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔ معمولی سے ٹھیکیدار کے منشی سے اس کا باپ ٹھیکیدار ہو گیا۔ اپنا گھر بھی بنا لیا۔ ایک ایمبیسیڈر کار بھی خرید لی۔ ڈرائیور بھی رکھ لیا۔ بھوک کو ٹھینگا دکھا کر گھر میں دعوتوں کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ ایک دن شیلا اپنی کار سے ماں کو اپنے گھر بھی لے گئی۔ اس کی خوشحالی دیکھ کر ماں کو رشک ہوا۔ بات چیت میں شیلا نے گھر میں لگا ایک بڑا سا پھلتا پھولتا منی پلانٹ دکھایا۔ مذاق مذاق میں یہ بھی کہہ دیا که یہ پودا ایک بوتل میں تاج محل والے گھر میں لگایا تھا، یہاں آ کر خوب پھل پھول رہا ہے۔ ماں نے اسی دن اس کے گھر سے ایک شاخ توڑ کر، آ کر اپنے گھر میں لگا لی۔ ایک بوتل میں۔ ہر دن صبح اٹھ کر سب سے پہلے پودے پر نظر ڈالتی۔ اکثر ہمیں بلا بلا کر دکھاتی، ’’دیکھو بڑھ رہا ہے نا؟ یہ دیکھو ایک نیا پتّا نکل رہا ہے۔‘‘

خدا جانے کیوں اور کیسے، ماں کا یہ منی پلانٹ کبھی سرسبز نہ ہوا۔ کبھی دھوپ میں، کبھی ایک دم چھاؤں میں۔ کبھی مندر کے پاس۔ پر جو وہ نہ پنپا تو نہ پنپا۔ محلے کی عورتوں میں اس کو لے کر ایک چھیڑ بھی بن گئی۔ طنز بھرے انداز میں ماں سے دریافت کرتیں، ’’کیسا ہے تمھارا منی پلانٹ؟‘‘ پھر خود ہی آگے بڑھ کر اس دم توڑتے چار پتے والے پودے کو دیکھ کر صلاح دیتیں، ’’پانی بدلو اس کا، پانی گندا ہو گیا ہے۔‘‘ کوئی صلاح دیتا، ’’اسے زمین میں لگاؤ۔‘‘ اور سب سے لاجواب صلاح یہ تھی که ’’دیکھو کرشنا، یہ مانگے کا پودا ہے۔ مانگ کر لایا ہوا پودا نہیں پنپے گا۔ اسے تو چپ چاپ چوری سے کسی اچھے پنپے ہوے گھر سے توڑ کر لگاؤ، تبھی پنپتا ہے۔‘‘

اس منی پلانٹ کی وجہ سے گھر کی غریبی پر تو کوئی اثر نہ پڑا البتہ ماں کا مذاق بنانے والی تین چار عورتوں کے گھروں میں منی پلانٹ کی لٹکتی بوتلیں ضرور نظر آنے لگیں۔ کچھ کی بیل بھی بنی، پر اس بیل کے باوجود ان گھروں میں جینے کے لیے ہر روز بیلے جانے والے پاپڑ کبھی بند نہ ہوے۔ سلائی مشینیں کبھی نہ رکیں۔

حویلی کے ان آٹھ پریواروں کے مرد ہر روز صبح صبح گھروں سے نکل پڑتے تو گھر کی عورتیں کام کرتے کرتے کفایت شعاری سے جیون کو بہتر بنانے کے اپنے اپنے تجربے ایک دوسرے سے بانٹتیں۔ نتیجہ یہ که کپڑے تو پہلے ہی گھر پر دھلتے تھے لیکن اب صابن بھی گھر پر ہی بننے لگا۔ شہر بھر میں گھوم گھوم کر پاپڑ بیچنے والی ساوتری مائی ہر دوسرے چوتھے دن کوئی نیا آئیڈیا لے کر آتی اور پوری حویلی کی کشش کا مرکز بن جاتی۔ اس دور کے چلن کے مطابق ساوتری مائی کو اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے بیٹے گھنشیام عرف ’گنو‘ کے نام سے جوڑ کر ’گنو ماؤ‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اس کا مطلب تھا، گنو کی ماں۔

ایک دن یہی ساوتری مائی بڑی زبردست خبر لائی۔ سب سے پہلے اپنے گھر گئی اور ہاتھ میں ایک بڑی بالٹی لی۔ پھر دھیرے سے ایک ایک کر سب کو بالٹی لے کر چلنے کی دعوت دی۔ یہ دعوت تھی گھر سے کچھ دور منگلوارا میں نئے نئے کھلے صابن کارخانے کا صابن والا پانی لانے کی دعوت، جسے کارخانے والے پائپ کے ذریعے پیچھے بنے نالے میں بہا دیتے تھے۔ اب یہاں آئیڈیا یہ تھا که کپڑے دھونے کے لیے صابن خرچ کرنے کے بجاے صابن کے اس پانی کا استعمال کیا جائے جو مفت میں مل رہا ہے۔

محلے بھر کی عورتوں کے چہرے یکایک کھل اٹھے۔ اس طرح کی مفت یا سستے کی جگاڑ سے یہ چہرے ہمیشہ ہی چمک اٹھتے تھے۔ انھی کوششوں کے نتیجے میں چولھا جلانے کے لیے ضروری ایندھن کو لے کر بھی کئی کامیاب ناکام تجربے ہو چکے تھے۔ سب سے پہلے جلاؤ لکڑی کے بجاے لکڑی کٹائی کے دوران پیٹھے پر اِدھر اُدھر بکھرنے والے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں (چھپٹیوں) کا استعمال۔ کافی سستی پڑنے والی ان چھپٹیوں کو کسی ٹوکری یا تگاڑی میں پورے پیٹھے میں گھوم گھوم کر خریدار کو خود ہی بیننا پڑتا تھا۔ پھر انھیں بڑی لکڑی کے بیچ پھنسا کر چولھے سلگائے جاتے تھے۔ کچھ گھروں میں لکڑی کے بھوسے سے جلنے والی لوہے کی سِگڑیاں بھی آ گئی تھیں۔ اس بھوسے کے لیے انھیں چھاؤنی میں آباد آرا مشینوں کے چکر لگانے پڑتے تھے، جبکہ چھپٹیاں محلے میں ہی تین تین پیٹھوں سے مل جاتی تھیں۔

سٹیشن کے پاس رہنے والی میری بوا کے لڑکے گرمُکھ اور جےپال ریل پٹریوں سے سٹیم انجن سے گرنے والا کوئلہ بین کر لے آتے تھے۔ کوئلہ بیننے کے دوران ہونے والی مشکلوں، لڑائی جھگڑوں اور پولیس کے پنگوں کی کہانیاں سن سن کر کوئلہ بیننے کو من بہت للچاتا تھا، لیکن ماں اسے چوری بتاتی تھی جو پاپ ہو جاتا ہے۔ سو بس ایک بار کے بعد پھر کبھی نہ گیا۔ آج ساوتری مائی ایک نئی رومانچک کھوج لے کر آئی تھی۔ اس دن بس دو اور گھروں سے گنو کی اس امّاں کے ساتھ لوگ بھری دھوپ میں بالٹیاں بھرنے نکلے۔ اب حویلی میں نل ایک ہی تھا۔ سو جس گھر کو کپڑے دھونے ہوتے، وہ شام میں ہی اس ارادے کا اعلان کر دیتا که کوئی اور کپڑے دھونے کی تیاری نہ کر لے، کیونکہ نہانے دھونے اور پینے کا پانی بھرتے بھرتے ہی نل بند ہو جاتے تھے۔ غنیمت یہ تھا که ان دنوں شام کو ایک بار پھر پانی آتا تھا که جس سے کسی ایک گھر کے کپڑے دھل پاتے تھے۔

اب تک حویلی میں کپڑے دھونے کے لیے رات میں ٹین کے بڑے ڈبوں میں پانی کے ساتھ کاسٹک سوڈا اور صابن کے چُورے کو ملا کر کپڑے ڈال دیے جاتے تھے۔ چھوٹے کپڑوں کے لیے آنے دو آنے میں ملنے والے مالتی گھی کے خالی ڈبے اور بڑے کپڑوں کے لیے بال وہار کے لوہاروں کے بنائے گئے ٹین کے بڑے ڈبے استعمال ہوتے تھے۔ دھوبی کی بھٹی کی طرح آنگن کے ایک کونے میں بنی سِگڑی پر خوب اُبال آنے تک گرم کیا جاتا تھا۔ ایک ڈبا ابل گیا تو دوسرا یا تیسرا۔ اس نئی کوشش کا مطلب تھا صابن کے چورے کا خرچ بچانا۔ اگلے دن جب ساوتری مائی موگری سے پیٹ پیٹ کر کپڑے دھو رہی تھی تو اسکی آواز کی طرف حویلی بھر کے سارے گھروں کی عورتوں کے کان لگے ہوے تھے۔ بیچ بیچ میں اپنا کام چھوڑ کر بھی کوئی کوئی دیکھنے چلا جاتا که کپڑے دھل کیسے رہے ہیں۔ آخری نتیجہ تو بہرحال کپڑے سوکھنے کے بعد ہی آنا تھا۔

ساوتری کی یہ کوشش خاصی کامیاب رہی۔ حالانکہ سب مہیلائیں ایک رائے نہیں تھیں که کپڑے ایک دم صاف دھلے ہیں لیکن اس بات پر سب سہمت تھے که بچت اچھی ہو جائے گی۔ اس اکیلی بات نے دھیرے دھیرے سب کو کوئی ڈیڑھ دو فرلانگ کی دوری پر صابن کارخانے کے نالے سے بالٹیاں بھر کر لانا سکھا دیا۔ ایک دن جب میری باری آئی تو میرے ساتھ میرا وہی دوست للّن بھی گیا، جس کی بہن سے پہلے جھگڑا ہوا تھا اور پھر وہ میری بہن بن گئی تھی۔

للّن بہت تیز دماغ تھا۔ وہ بھاگ کر گھر گیا اور خاصا موٹا اور مضبوط بانس لے آیا۔ دونوں بالٹیوں کو بانس کے بیچ ڈال کر ہم دونوں گاتے مسکراتے چل پڑے صابن فیکٹری کی طرف۔ ایک سرا میرے ہاتھ اور دوسرا للن کے ہاتھ میں۔ میں للن کی اس ہوشیاری سے بہت خوش تھا۔ میری یہ خوشی نہایت وقتی ثابت ہوئی۔ کارخانے کے پچھواڑے پہنچے تو دیکھا که نالے کے پاس ڈنڈا لیے ایک آدمی بٹھا دیا گیا تھا۔ پائپ کا پانی جمع کرنے کے لیے ڈرم رکھے ہوے تھے۔ ڈنڈے والے آدمی نے ہماری بالٹیاں دیکھتے ہی للکارا: ’’پیسے لاؤ ہو؟‘‘

میں نے حیرت سے پوچھا، ’’پیسے؟‘‘
وہ بولا، ’’ہاں، پیسے۔ جاؤ جاؤ پیسے لاؤ۔ نہیں تو چلتے نظر آؤ۔‘‘

للن مجھ سے عمر میں دو ایک سال بڑا تھا۔ بات بات پر تھوک کو پچکاری کی طرح استعمال کرتا اِدھر اُدھر پھینکتا رہتا تھا۔ اور غصہ آ جائے تو اس کی رفتار ایک دم بڑھ جاتی تھی۔ اس گھڑی بھی یہی ہوا۔ ایک پچکاری چھوڑکر بولا، ’’چلو خاں لالو، یاں تو اندھے کے آنکھ نکل آئی ہیں!‘‘

بیوپاری نے کمائی کی گنجائش تاڑ لی تھی، اب اس سے جیتنا مشکل تھا۔ لیکن ہر روز کے حالات سے ٹکراتے ٹکراتے اس کمسنی کے دور میں بھی دل دماغ میں غصہ اور زبان پر زہر جب تب اتر کر آنے لگا تھا۔ اس وقت بھی غصہ اپنے اوج پر چڑھ کر زبان کی نوک پر اتر ہی آیا۔ اسی غصے میں میں نے کہہ دیا، ’’رکھ لو سمھال کے۔ گانڈ دھونے کے کام آئے گا۔‘‘

ڈنڈے والے کا ہاتھ ڈنڈے تک پہنچتا اور ہم پر چل جاتا، اس سے پہلے ہی للن نے بانس میں پھنسی بالٹیاں نکال کر ہاتھ میں تھام لیں اور میں نے نیچے گرا بانس کا ڈنڈا اٹھا کر دوڑ لگا دی۔

گھر پہنچ کر ماں کے سامنے غصے بھرے انداز میں اپنی ناکامی بیان کرتے ہوے اس صابن فیکٹری کے مالک کو ایک ہلکی سی گالی بھی دے ڈالی۔ ماں نے حیرت اور صدمے سے بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔ ایسا بالکل نہ تھا که اسے میری بدزبانی اور بداخلاقی کا اندازہ ہی نہ تھا۔ میری گالیوں کی عادت سے وہ واقف تھی، لیکن آج سیدھے اسی کے سامنے ہی منھ سے گالی نکل آئی تو وہ گھبرا گئی۔

گھبرا تو میں بھی گیا، بلکہ بہت بری طرح گھبرا گیا۔ اب تک صرف باپ کے منھ سے سنتا آیا تھا که میں مسلمانوں کی سنگت میں غنڈا بن گیا ہوں۔ لیکن ماں کو اپنے ایشور پر اور اپنی بھکتی پر بڑا بھروسا تھا که میں ابھی بہت چھوٹا ہوں اور دھیرے دھیرے سدھر جاؤں گا۔ آج اس بھروسے کو چوٹ لگی تھی۔ میں نے ماں کی آنکھوں میں جو کچھ اس گھڑی دیکھا وہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں گھر سے بھاگ کر پائیگاہ کی طرف چل پڑا۔ تالا لگے بڑے دروازے کے پاس والی ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے راستے اندر گھس گیا۔

نظروں کی حد سے باہر تک پھیلی پائیگاہ کے بھیتر چاروں اور نوابی خاندان کے جانوروں کے باندھنے کے باڑے بنے ہوے تھے، اور بیچ میں تھا وشال سا خالی میدان۔ باڑے تو برسوں سے یوں ہی خالی پڑے تھے لیکن میدان بارش کے پانی سے اگ آئی گھاس سے پوری طرح ڈھکا ہوا تھا۔ میں گھاس کا ایک تنکا توڑ کر باڑے والے حصے کے بھیتر جا کر بیٹھ گیا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے ایک تنکے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑتا کچھ سوچتا جاتا تھا۔ حالانکہ کسی نے مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا تھا لیکن پھر بھی میں بہت ڈرا ہوا تھا۔ باربار یہی سوچ سوچ کر شرمندہ ہوتا رہا که میں نے ماں کے سامنے گالی بک دی۔ مجھے رونا آ رہا تھا مگر میں رو نہیں رہا تھا۔ پھر خود پر غصہ آنے لگا۔ اسی غصے میں خود کو کس کر چار چھ تماچے مار لیے۔ اب رونا بھی شروع ہو گیا۔ روتے روتے منھ سے باربار ایک ہی لفظ نکلتا تھا: ماں۔۔۔

کچھ دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے ساری پائیگاہ میں یہی لفظ گونج رہا ہے: ماں۔ میں ڈر گیا، رونا بند کر کے اس گونج کو سننے کی کوشش کرنے لگا۔ اب ایسی کوئی گونج نہیں تھی۔ بس ہوا کے جھونکوں میں ضرور کچھ تیزی آ گئی تھی جس نے اب تک میری طرح اداس کھڑے گھاس کے تنکوں پر گدگدی کا سا کام کر دکھایا۔ گھاس کے یہ ہزاروں تنکے ایک ساتھ جھوم جھوم کر ہواوٴں کی سنگت میں ناچتے گاتے سے معلوم ہونے لگے۔ اس سنگت میں سنگیت بھی آ شامل ہوا اور پورب کی طرف سے سیٹی سی بجاتا پچھم کو چھیڑنے لگا۔

میری خوفزدہ آنکھوں کے سامنے ہو رہے اس رومانی بدلاؤ نے چند لمحوں کے لیے میرے بھیتر کے سارے دکھ درد کو ایک مسکان میں بدل دیا۔ میں سب کچھ بھول اس جادوئی بیار [ہوا] کے ساتھ بہنے سا لگا۔ تبھی لیلیٰ بُرج والی دِشا سے ہوا میں تیزی سے اڑتا ایک پتھر آ کر پائیگاہ کے بھیتر کے ایک ٹین کے دروازے سے ٹکرایا اور اس ماحول میں ایک نہایت بےسُرا رنگ بھر دیا۔

میری نظریں قدرت کے اس کھیل سے ہٹ کر اِدھر اُدھر گھومنے لگیں۔ نظروں کو کہیں کچھ بھی بدلاؤ نظر نہیں آیا لیکن پھر اچانک ہی یوں لگنے لگا جیسے کوئی اور بھی یہاں موجود ہے، جس نے مجھے روتے ہوے دیکھ لیا ہے۔ نظروں نے ایک بار پھر چاروں طرف کی تلاشی لی لیکن کوئی نہیں تھا۔
میں نے جلدی جلدی اپنے گالوں پر پھیل چکے آنسوؤں کو جیسے تیسے پونچھ کر پوری ہمت سے ایک بار پھر گھوم گھوم کر اِدھر اُدھر تلاش شروع کر دی۔
کوئی بھی تو نہیں تھا۔

تو پھر کون تھا؟

اب تک میری ساری بہادری چیں بول چکی تھی۔ اس تیزی سے دوڑ لگائی که اگلے ہی پل میں اسی ٹوٹی کھڑکی کے پاس پہنچ گیا جو برسوں سے بند پڑے دروازے کے بدلے یہاں آنے جانے کے راستے کا کام دیتی تھی۔

گلی میں اس وقت کوئی خاص چہل پہل نہیں تھی۔ میں بھی دھیرے دھیرے گھر کی طرف قدم بڑھاتا چل پڑا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 5 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

جب ساری پوجا پاٹھ کے بعد ماں اٹھنے لگتی تو میں کہتا، “ارے امّاں! تو نے بھگوان کے بال تو بنائے ہی نہیں۔” ماں گال پر ہلکی سی چپت لگاتی اور مسکراتے ہوے کہتی، “بھگوان تیری طرح گھڑی گھڑی اپنے بال نہیں بگاڑتے۔ چل۔”

یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن ماں کا قدم قدم پر پاپ اور پُن کو لے کر اصرار کبھی کبھی جھنجھلاہٹ سے بھر دیتا تھا۔ دروازے پر روٹی کی صدا دیتا فقیر ہو کہ حویلی میں پاخانے صاف کرنے آنے والی چندا مہترانی، ماں سب کام چھوڑ کر ان کے کھانے کو روٹی یا چانول جو بھی ہو، نکال لاتی اور میرے ہاتھ میں تھما دیتی کہ میں انھیں دے دوں۔

“بیٹا، پیاسے کو پانی اور بھوکے کو روٹی دینا پُن کا کام ہے۔”

یہاں تک تو غنیمت لیکن بات تب بگڑتی جب ماں بات بات پر ٹوکتی کہ یہ پاپ ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ کتے کو پتھر مار دیا – پاپ ہے۔ پتاجی کی جیب سے ایک ادھ آنہ نکال لیا – پاپ لگتا ہے۔ جھوٹ بولا – پاپ لگتا ہے۔ معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کا ہر دوسرا کام پاپ ہے۔

ماں کی اس ٹوکاٹاکی سے چِڑتے ہوے بھی نہ جانے کب میرے بھیتر ایک عجب سا اندرونی تنتر پیدا ہو چلا تھا جو دن میں سو بار ٹوکتا تھا کہ “یہ تو پاپ ہے۔” اس پاپ لگنے کے ڈر نے مجھے کئی بار اَپمان سہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مجھے ماں پر غصہ آنے لگا تھا۔ مجھے محلے کے دوستوں کی بےخوف دلیری نے اس پاپ پُن کے دُش چکر سے نہ جانے کب نکال لیا۔ میں ایک ایسی راہ پر چل نکلا تھا جہاں ہر اینٹ کا جواب رائے سین کا پتھر تھا۔ ایک انگلی کا جواب گھونسا تھا۔ آخر ایک دن میری یہ صورت بھی ماں کے سامنے آ ہی گئی۔

ہوا یوں کہ شروعاتی برسوں کے شک شبہوں اور نفرت کی دیواروں کو لانگھ کر اس محلے میں ہماری موجودگی کو سویکرتی [قبولیت] مل گئی تھی۔ ہم لوگ کبڈی، کھوکھو، چھپم چھپیّا، ساتم تالی جیسا ہر کھیل ساتھ کھیلتے تھے۔ کھیلنے کے دوران کئی بار ہار جیت، آؤٹ ناٹ آؤٹ کو لے کر حجت ہو جاتی، رونٹئی کے الزام لگ جاتے تھے۔ کبھی کبھار جھوماجھٹکی بھی ہو جاتی تھی۔ لیکن یہ سب بھی کھیل کا حصہ ہی ہوتا تھا، اور پھر رات گئی، بات گئی کی طرح اگلے دن کا کھیل شروع ہو جاتا تھا۔

اس کھیل میں ایک لڑکی ایسی بھی ہوتی تھی جسے نہ جانے کیوں اکیلے مجھ سے ہی کُھنّس تھی۔ ناحق ہی مجھے خالص مردانہ گالیاں بکتی۔ اس نہایت خوبصورت لڑکی کا نام تھا رابعہ عرف ربّو، جو میرے دوست للّن کی چھوٹی بہن تھی۔ للّن کی موجودگی میں تو جھگڑا سستے میں نپٹ جاتا تھا لیکن اس کی غیرحاضری ایک دن قہر بن گئی۔

ربّو نے اس دن پھر جھگڑا شروع کیا ایک گندی گالی سے: “کتے کا مُوت، سالا حرامی، سِندی کا بچہ۔” پہلے ہلّے میں مَیں گالی سن کر چپ سا کھڑا رہ گیا۔ اسی گھڑی دوسرے بچوں کی ہنسی کی آوازیں کانوں تک پہنچی تو اپمان اورغصے سے منھ لال ہو گیا۔ اسی غصے میں میں نے پلٹ کر گالی دے دی: “سالی کتیا تُو، تیرا باپ!”

مانو اس سے بھی دل نہ بھرا تو آخر میں اچھل اچھل کر، زور زور سے چلّانا شروع کر دیا: “ربو ڈاکن۔۔۔ ڈاکن۔”

اس غیرمتوقع حملہ آور جواب سے تلملا کر ربو نے ایک منٹ کے سناٹے کے بعد میری ہی طرح اچھل اچھل کر ایک تک بندی اچھالی۔

اوپر سے گری چِندی
سب مر گئے سِندی

ربو ہمیشہ سندھی کو سندی ہی بولتی تھی۔ خدا کی رحمت کہ اسی وقت نہ جانے کس طرح اس دور میں پرچلِت [رائج] ایک مسلمان مخالف ہندو مہاسبھائی نعرہ یاد آ گیا، جسے میں نے تالی بجا بجا کر گانا شروع کر دیا:

مسلمان بڑے بےایمان، بڑ کے نیچے سوتے ہیں
ہندوؤں نے لات ماری تو اللہ اللہ کر کے روتے ہیں

میری اس ایک جہالت نے پورا ماحول بگاڑ دیا۔ کھیل میں شامل باقی سارے مسلمان بچے ایک دم بھڑک گئے اور مجھے کوٹنا شروع کر دیا۔ میری اس حالت کا فائدہ اٹھا کر ربو نے بھی مجھے ایک ہاتھ مار دیا۔ میں نے پوری جان لڑا کر خود کو چھڑاتے ہوے، مجھے پٹتے دیکھ ہنس ہنس تالیاں بجاتی ربو کو ایک زور کا دھکا دے دیا۔ وہ سیدھے جلیل بھائی کے گھر کے باہر لگے پٹیے کے نکیلے کونے سے جا ٹکرائی۔ اس کا سر پھوٹ گیا۔ خون بھل بھل کر کے بہنے لگا۔ افراتفری اور چیخ پکار کے اس ماحول کے بیچ سے میں یہ جا اور وہ جا والے انداز میں چھومنتر ہو کر گھر کے اندر چھپ گیا۔ چوٹ مجھے بھی لگی تھی۔ خون میرے سر سے بھی چُو رہا تھا۔ لیکن اس وقت اس بات کی فکر کسے تھی۔ فکر تھی تو اس بات کی کہ اب کیا ہو گا؟ گھر میں دادا کی مار پڑے گی اور باہر دوستوں کی۔ یا پھر بڑوں میں بھی جھگڑا پھیل جائے گا؟ اتنا طے تھا کہ جو ہو گا وہ بہت خطرناک ہی ہو گا۔

اس حالت میں میرا چھوٹا بھائی جے میرے ساتھ ہمدرد بن کر بیٹھا رہا اور دلاسا دیتا رہا۔ لیکن ہونی تو ہو کر رہی۔ دادا کے ہاتھوں خوب مار پڑی۔ مجھے آنگن میں لگے جامن کے پیڑ کے ساتھ رسیوں سے باندھ دیا۔ بھوک کے مارے برا حال تھا۔ اس پر آتے جاتے ہر کسی کے اُپدیشوں سے بپھر کر میں نے بھی بنا کسی کا نام لیے شہر بھر کی فحش گالیاں بکنا شروع کر دیں۔ گالیوں کی گونج سن کر کرودھ میں اُپھنتے دادا نے بنا گنے پہلے تو تڑاتڑ تماچے جڑ دیے اور پھر منھ میں لال مرچ بھر دی۔ اس کے بعد تو میری چیخیں اور گنجائش بھر گالیاں آسمان تک پہنچنے لگیں۔ ادھر مجھے کسی طرح چھڑانے میں ناکام ہو چکی ماں گھر میں ہمیشہ کی طرح خاموشی سے رونے کا اپنا چلن چھوڑ کر “ہاں۔۔۔” جیسے کسی الاپ کے ساتھ رو رہی تھی۔

پتا نہیں آسمان میری چیخوں سے پگھلا کہ میری ماں کے چِیتکار بھرے الاپ سے، حویلی میں بابا یعنی میرے داداجی کی آمد ہو گئی۔ میری حالت دیکھ کر بابا نے ایک ہُنکار بھرکر اپنے بیٹے پر اس ظلم کے لیے لعنت بھیجی اور مجھے پُچکارتے ہوے رسیوں سے آزاد کرا کر اپنے گھر کی طرف لے گئے۔ سب سے پہلے کُلّے کے لیے ایک گلاس پانی اور پھر مرچ کے کرودھ کو شانت کرنے کے لیے ایک چمچ شکر کھلا دی۔

خداجانے کس طرح بزرگوں نے مل بیٹھ کر سارے معاملے کو شانت کیا۔ اس سمجھوتے کے تحت مجھے گلی کے اسی مقام پر، جہاں جھگڑا ہوا تھا، کھڑا کر کے سب کے سامنے کان پکڑ کر پانچ اٹھک بیٹھک لگانے کی سزا دی گئی۔ معافی مل گئی اور سمجھائش دی گئی کہ سب مل جل کر بھائی بہن کی طرح رہو۔ لڑائی جھگڑا بری بات ہے۔ جلیل بھائی کے ساتویں نمبر کے بھائی منے میاں دن بھر سائیکل پر طرح طرح کے کرتب کی پریکٹس کرتے رہتے تھے اور بنا سکول گئے ہی انگریزی کے جملے بولتے رہتے تھے۔ محلے میں مشہور تھا کہ منے میاں کو انگریزی سے جتنی محبت تھی سکول سے اتنی ہی نفرت۔ سو ایک دن انہوں نے اللہ میاں سے بنا سکول گئے انگریزی سکھانے کے لیے ہاتھ اٹھ کر دعا مانگی اور گانے لگے کہ “اللہ میری جھولی میں چھم سے وہ آ جائے! اللہ میری جھولی میں چھم سے وہ آ جائے۔” اللہ نے ان کی دعا قبول کرتے ہوے ان کی جھولی میں انگریزی ڈال دی تھی۔ صلح کے اس موقعے پر منے بھائی نے آ کر سب سے اونچی صلاح دی: “لالو میاں! رِیڈ اینڈ رائٹ، ڈو ناٹ فائٹ۔” ٹھہاکے گونجے اور ماحول خوشگوار ہو گیا۔

لیکن گھر پر میری کلاس لگنا ابھی باقی تھی۔ سو ماں کی پاپ پُن والی کلاس شروع ہوئی۔ ماں نے سمجھانا شروع کیا کہ ’نیانی‘ (بیٹی) کو مارنا پاپ ہے۔ میں نے ربو کو مار کر پاپ کیا ہے۔ اب اس کا پرائشچت یہ ہے کہ میں اس سے جا کر معافی مانگوں اور راکھی بندھوا کر اسے بہن بنا لوں۔ “ایسا نہیں کروگے تو پاپ لگےگا۔”

اب تک ساری مشکلوں سے گزر کر میں تھوڑا ضدی اور تھوڑا سخت جان بھی ہو چکا تھا۔ میں نے جگہ جگہ سے دُکھتے جسم سے اٹھتے درد کو درکنار کر، ماں سے ایک مسکراہٹ کے ساتھ سوال کیا کہ چلو اب اس کا جواب دے کر بتاؤ۔ “ماں، یہ بتاؤ کہ یہ جو پاپ ہے وہ لگتا کیسے ہے؟”

ماں کو مجھ سے شاید اس سوال کی امید نہیں تھی۔ پھر بھی اس نے اسی طرح کی ننھی سی مسکان کے ساتھ جواب دیا، “بس ویسے ہی جیسے سمجھو چوٹ لگتی ہے تو کتنا درد ہوتا ہے۔ کتنی جلن مچانے والی دوائی لگتی ہے۔ ہے کہ نہیں؟”

آج میں مُنڈی ہلا کر سب کچھ یوں ہی مان جانے والے موڈ میں نہ تھا۔ میں نے سوال کیا، “مطلب جھوٹ بولنے سے چوٹ لگتی ہے۔ پر کھیلنے سے بھی تو چوٹ لگتی ہے، تو کیا کھیلنا بھی پاپ ہے؟”

آج جب ماں کی ڈرا کر مجھے سداچاری بنانے والی تجویز ناکام ہوتی سی دِکھی تو وہ تھوڑی بےچین سی ہو گئی۔ اس کے صبر اور خاموشی بھرے چہرے سے مسکراہٹ گم سی ہوتی ہوئی لگی۔ تھوڑا تھوڑا غصہ چہرے پر نمایاں ہونے لگا تھا۔ پھر چہرے پر پریشانی کا سایہ بھی دکھائی دینے لگا۔ وہ شاید اس بات سے پریشان تھی کہ بچہ اگر ڈر سے بھی ڈرنا چھوڑ دے گا تو نتیجہ کیا ہو گا۔

اسی پریشانی کے عالم میں تھوڑا تیز لہجے میں جواب دیا، “بس ہر بات میں بحث کرنا سیکھ گیا ہے۔ ارے یہ تو ایک مثال ہے۔ اس کا مطلب یہ تھوڑی ہی ہے کہ پاپ لگنے کا مطلب چوٹ لگنا ہی ہوتا ہے۔”

“تو پھر ٹھیک سے بتاؤ کہ یہ سالا پاپ لگتا کیسے ہے؟”

اس بار جواب زبان نے نہیں بلکہ ہاتھ نے دیا۔ ایک تھپڑ پہلے سے ہی لال پیلے ہو چکے گال پر آ پڑا۔ ایسا کر کے ماں نے وہی رونا شروع کر دیا اور آنکھوں سے شار شار آنسو بہنا شروع ہو گئے۔

اب میں ہار گیا۔ مجھے ماں کا رونا کسی حال برداشت نہ تھا۔ میں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ معافی مانگتے ہوے وعدہ کیا کہ اب کبھی بحث نہیں کروں گا۔ ربو سے معافی مانگ لوں گا اور اس سے راکھی بھی بندھوا لوں گا۔

ماں نے زمین پر بیٹھے بیٹھے ہی مجھے اپنی گود کی طرف کھینچ لیا اور پیچھے کی دیوار سے پیٹھ ٹکا کر روتے اور آنسو بہاتے، میرے آنسو پونچھ کر گالوں کو چومنا شروع کر دیا۔ گھگھی بندھی آواز میں وہ بھی سنائی دے گیا جو ماں اب تک میرے جسم کو پیار سے سہلاتے ہاتھوں سے محسوس ہو رہا تھا: “مت کیا کرے میرے راجا ایسی حرکتیں۔ دیکھ کتنی مار پڑی ہے تجھے۔”

ایسا کہہ کر ماں نے دھیرے سے میرے سر میں ہاتھ ڈال کر بالوں کے بیچ انگلیاں پھیرنا شروع کر دیں۔ میرے بکھرے، ریت مٹی سے بھرے بالوں کے بیچ ماں کی دوڑتی انگلیوں کا سپرش سات آسمانوں کی سیر کے برابر تھا۔ میں آنکھ بند کر کے ان ساتوں آسمانوں میں قہقہے لگاتا دوڑنا شروع کر دیتا تھا، جو میں اس وقت بھی کر رہا تھا۔
(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 1 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اس گلی کا نام باجے والی گلی کب اور کیسے پڑا، یہ بات کسی اور کو بھلے معلوم ہو لیکن یہاں رہنے والوں میں سے یہ بات شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ سواے اس ایک بوڑھے بدّو میاں کے، جس کے پاس بدن پر ایک جوڑ میلے کپڑے اور قصے کہانیوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ چہرے کی جھرّیوں اور جسم پر موجود خستہ حال کپڑوں کی گواہی سے یوں معلوم ہوتا کہ یہ شخص شہر بھوپال سے بھی پرانا بھوپالی ہے۔ دیکھنے میں ہر دم اکیلا، لیکن اس اکیلے کے وجود میں اس شہر کی ہر زندہ مردہ داستان سمائی ہوئی ہے۔ بس ایک تار چھیڑنے بھر کی دیر ہے کہ فقیر کے سُر آبِ ہفت دریا کی طرح بہہ نکلتے ہیں اور ہر بار “رہے نام اللہ کا!” پر جا کر ہی رکتے ہیں۔

اس کے پاس رہنے کو دوسروں کی طرح گھر نہیں ہے۔ پوری کی پوری گلی ہے ۔۔ باجے والی گلی۔ یہاں پر ہر گھر کے باہر نکلے ہوئے پٹیوں پر آپ کبھی، کسی بھی پٹیے پر بدو میاں کو بیٹھے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ لیٹے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ کھانستے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ کبھی کبھی روتے ہوئے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ وہ کیوں روتے ہیں کسی کو پتا نہیں ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح یہاں رہنے والوں میں سے کسی کو یہ پتا نہیں ہے کہ اس گلی کا نام باجے والی گلی کیوں ہے، جو کہ بدو میاں کو معلوم ہے۔ ان کو تو اپنے رونے کی وجہ بھی معلوم ہے لیکن ان سے کبھی کسی نے پوچھا نہیں کہ وہ روتے کیوں ہیں اور انھوں نے بھی کسی کو بتایا نہیں کہ وہ روتے کیوں ہیں۔

ایک بار میں نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تھی۔ جواب میں انھوں نے پہلے مجھے خوب گھور کر دیکھا۔ کچھ دیر تک مسکراتے رہے۔ پھر ایک دم اپنی گردن اوپر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگے، ’’کیوں خاں! بتا دوں؟‘‘ اور پھر زور کا ٹھہاکا لگا کر ہنسنے لگے۔ ایک بار پھر اوپر دیکھتے ہوئے کہنے لگے، ’’چل رین دیتے ہیں۔ ابھی بچہ ہے۔ زرا سا بڑا ہون دو۔ سب بتا دوں گا۔‘‘

میں عجب سے بھری آنکھوں سے کبھی ان کو اور کبھی آسمان کو دیکھنے لگا تھا۔ مجھے تو آسمان میں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آخر یہ بدو میاں بات کس سے کر رہے ہیں۔ سو میں نے سیدھے سوال ہی کر لیا، ’’کون ہے؟ کس سے بات کرے ہو؟‘‘

جواب تو مجھے نہیں ملا لیکن اس بار انھوں نے میرے دونوں گالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر لیا اور پھر سے رونے لگے۔ اس بار ان کے رونے سے میں ڈر گیا۔

میں تب بہت چھوٹا تھا۔ کچھ سال پہلے ہی اسی گلی میں سارے بچوں کی طرح اُواں اُواں کرتا پیدا ہوا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ آمد کی اس اذان کو بھی اس دنیا میں رونا کہا جاتا ہے۔

حقیقت میں رونے سے میری اصل پہچان ماں کے کارن ہی ہوئی۔ ماں بھی دن میں دوچار بار تو روتی ہی تھی۔ وہ بھی بنا آواز ۔ کبھی پتاجی سے جھگڑے کے نتیجے میں۔ کبھی حویلی کے اندر لگے اکلوتے نل پر حویلی کے آٹھ گھروں کی بھیڑ سے ہار کر اپنی خالی بالٹی کے ساتھ روتی تھی۔ کبھی کبھی اسی حویلی کے اندر کے دوسرے گھر میں رہنے والی اپنی ساس کی وجہ سے اور کبھی کسی ایسی بات پر جو میری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔
مجھے ماں کا رونا ذرا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ میں اس کے پاس جا کر اس سے رونے کی وجہ پوچھتا۔ ’’ماں، روتی کیوں ہیں؟‘‘ جواب میں وہ مجھے اپنی اور کھینچ کر سینے سے لگا لیتی اور پھر زور سے سُبکنے لگتی۔ کبھی کبھی صرف میرے گالوں کو ہاتھوں میں تھام لیتی اور بنا جواب دیے صرف مجھے چوم کر چھوڑ دیتی، کھیلنے کے لئے۔

اس وقت بدو میاں نے بھی میرے گال پکڑ لیے تھے اور جواب نہیں دیا تھا۔ بس پیار سے پچکارتے ہوے اتنا بھر کہا تھا، ’’میری جان! ذرا بڑے ہو جاؤ۔ سب بتا دوں گا۔ ابھی جاؤ اور جا کے کھیلو۔‘‘

میں چپ چاپ اٹھ کر چلا آیا تھا۔ گھر پہنچ کر ماں سے ضرور کہا تھا کہ بدو میاں آج پھر رو رہے تھے۔ ماں نے گھبرا کر مجھے پکڑ لیا اور پوچھا، ’’تو وہاں کیا کر رہا تھا؟ تجھے کتنی بار سمجھایا ہے کہ وہ پاگل ہے۔ تیری سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ تیرے پتاجی کو بتا دیا تو سمجھ لینا کیا ہوگا۔ سمجھے؟ پاگل آدمی سے دور ہی رہنا چاہیے۔ پتا نہیں کب کیا کر دے۔ سمجھ گئے نا؟‘‘

ٹھیک سے تو یاد نہیں کس عمر میں جا کر ان باتوں کو سمجھا کہ کسی کو پاگل کیوں قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ اُس گھڑی بھی میں نے ماں کے سامنے سہمتی میں گردن اس طرح ہلائی تھی مانو واقعی سب کچھ سمجھ گیا۔

٭٭٭٭٭٭

یوں تو ز مانے بھر کے تمام شہر اپنی شکل صورت، سڑک عمارت، مقامی لوگوں کے کھانے پہننے سے، اپنی زبان سے اور سب سے اوپر لوگوں کے کردار سے اپنی اپنی الگ پہچان پاتے ہیں۔ لیکن یہ شہر تو کچھ نرالا سا ہی ہے۔ نرالا بھی کیا، مستانہ سا شہر ہے۔ ایک دم پہلی نظر میں تو یہ دنیا کا سب سے پرانا شہر سا معلوم ہوتا ہے۔ مانو بابا آدم،اماں حوا کے ساتھ آسمان سے ٹپکے تو سیدھے یہیں آ کر دم لیا ہو۔

اُس گزرے دور میں جب کی میں کہانی کہتا ہوں، تب تو محل ہو کہ مٹی کا گھروندا، حالت دونوں کی یکساں تھی۔ چند ہنستی مسکراتی عمارتوں کے بیچ یہاں سے وہاں تک کے درو دیوار زخمی حالت میں کھڑے کھڑے، چراغِ سحر کی طرح بجھنے کو بیتاب دکھائی دیتے تھے۔ لیکن واہ رے خدا کی کرامت اور انسان کی حکمت، دونوں کی جُگل بندی نے اس شہر کو نہ جانے الہ دین کی کس غار میں باندھ چھوڑا تھا کہ نہ یہ چراغ پوری طرح بجھتے تھے اور نہ شہر کی اور نہ شہر کے باشندوں کی زندگی میں کوئی بڑا بدلاؤ آتا تھا۔

یوں نہیں کہ شہر بھر کی حالت ہی ایسی ہو۔ چند آسودہ اور خوش خرم لوگوں نے بڑے شوق سے دومنزلہ عمارتیں بھی تعمیر کی ہوئی تھیں، جو جگنوؤں کی روشنی کے مقابل آنکھوں کو چندھیاتی ٹیوب لائٹ کی روشنی سی نظر آتی تھیں۔ لیکن واہ رے اس شہر کے لوگ اور ان کا کردار۔ ان جگمگ عمارتوں پر اپنے ہنر کا مظاہرہ کرتے ہوے کوئلے اور اینٹ کے ڈھیلوں سے ایسے ایسے قیامت خیز جملے لکھ چھوڑے تھے کہ اس کے بعد نظر عمارت پر کم اور جملوں پر زیادہ ٹکتی تھی۔ مثلاً ایک ایسی ہی چمکدار عمارت کی دیوار پر لکھا ایک جملہ یاد آتا ہے: ’’او زُہرہ جمال / تیری چھوکری کمال!‘‘
جنھیں لکھنا نہ آتا ہو گا وہ دوچار آڑی کہ کھڑی لکیریں کھینچ کر اپنی ذمےداری نبھانے کی کوشش کرتے۔ اور جو ان دونوں نعمتوں سے محروم رہے تو انھوں نے پان کی پیک سے بننے والی قدرتی پینٹنگز بنا کر اپنا فرض پورا کر رکھا تھا۔ اور جو کچھ کسر باقی رہ جاتی تو کاروباری اشتہار لکھنے والے پوری کر جاتے۔
اب دیوار پر اتنی ساری جگہ گھِر جانے کے بعد جب کہیں کچھ اور لکھنے کی گنجائش نہ ہوتی تب صرف ایک ہی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ کاغذ پر چھپے اشتہار یا ننھے سے ہینڈبل ان سب کے اوپر کہیں بھی چپکا دیے جائیں۔ اور یہی ہوتا بھی تھا۔ سو دیوار پر ذرا نیچے کی طرف ’’جواں مردوں کی پسند – پہلوان چھاپ بیڑی‘‘ کا اشتہار لکھا ہے تو ٹھیک بیچ سے اس کو کاٹتا ہوا انھی جواں مردوں کی توجہ کا طلبگار تازہ تازہ لئی سے چپکا پوسٹر ہے: ’’اجمیر والے حکیم وِیرومل آریہ پریمی‘‘ کا جس پر مردانگی کے خفیہ مسئلوں کے علاج کی گارنٹی ہے: ’’ناامید نہ ہوں۔ حکیم صاحب پورے سات دن کے لیے یہاں سرائے سکندری میں ٹھہرے ہیں۔ آ کر ملیں۔‘‘ ملنے کا وقت تو لکھا ہوا لیکن فیس کا کوئی ذکر نہیں۔

اُدھر ایک دوسری گلی کی ایک دیوار پر کسی دل جلے نے دیوار کے سب سے اوپری حصے پر گویا سیڑھی لگا کر کوئلے سے خوب موٹے حروف میں لکھ چھوڑا ہے: ’’شبو کے دانت گندے ہیں۔‘‘ اسی کے نیچے بریکٹ میں ایک چنوتی بھی لکھی ہوئی ہے: ’’(اب مٹا کے بتاؤ۔)‘‘

اس سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شبو اور ناراض مجنوں میاں یہیں کہیں رہتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ اس ناکام عاشق نے پہلے بھی اسی طرح کا کوئی جملہ یہیں کہیں لکھا تھا جسے شبو یا اس کے کسی ہمدرد نے مٹا دیا تھا۔ شاید اسی لیے اس بار اس کھُنّس کا اعلان اتنی اونچی جگہ پر لکھا گیا ہے کہ جہاں تک آسانی سے ہاتھ نہ پہنچ سکے۔ اس جملے کی بےداغ موجودگی ہی اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت تھی کہ شبو اور شبو کے ہمدردوں کے نہ تو ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ اتنے اوپر تک پہنچ سکیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی اونچی سیڑھی ہے۔ کل ملا کر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شبو غریب ہے، جسے کوئی سیڑھی کی اوقات والا لمڈا پریشان کر ریا ہے گا۔

اب آپ خدا کے واسطے مجھے اس بات پر نہ ٹوکیں کہ میں اچھی بھلی بات کرتے کرتے یہ رِیا پھِیا کیا کرنے لگا۔ اب جو زبان اپنی اوقات پر آ ہی گئی ہے تو میں کھل کے بتا ای دیتا ہوں کہ یہ اس شہر کی زبان ہے، جس میں دو ماترے والے حروف کی ایک ماترا حلق میں ای رے جاتی ہے اور جو ایک ماترا ہوئی تو سمجھو اس کا خدا حافظ۔ نتیجتاً گیہوں ذرا ہلکا ہو کر گہوں رہ جاتا ہے۔ چھوٹا اُو بچارا مڑ کر چھوٹا اِی رہ جاتا ہے، سو مُحلہ مِحلہ اور مُجھے مِجھے ہو جاتا ہے۔ اور ’’ہ‘‘ اس لیے گم ہو جاتا ہے گا کہ جاں بِنا وِسکے ای کام چل سکتا ہے تو پھر کائیکو اس بڑھاپے میں وِسے یہاں وہاں اَڑانا۔ اور آزادخیالی کا عالم یہ ہے کہ یہاں خان کا نون گم ہو کر غنّہ میں بدل کر خاں ہو جاتا ہے۔ جیسے اشرف خاں، مظہر خاں۔ سو حضور بھول چوک لینی دینی۔ اس قاعدے والی مادری زبان کے ساتھ بیچ بیچ میں یہ ‘پھادری‘ زبان تو آتی ریگی۔ اچھا، اس ‘پھادری’ کا پھنڈا بعد میں بتاؤں گا، پہلے ذرا بیچ میں لٹکی اس بیچاری شبو کی بات پوری کر لوں۔

تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ لگتا ہے کہ شبو بچاری غریب ہے اور صاحب، غریب کی پریشانی سے کسی کو کیا لینا اور کسی کا کیا دینا۔ الغرض نتیجہ یہ کہ شہر میں آپ کو ڈھیر سارے بےداغ لوگ بھلے مل جائیں لیکن بےداغ دیواریں ذرا کم کم ہی ہیں۔ اور ہاں، گھروں کے باہر پتھر کے خاصے چوڑے پٹیے ضرور دکھائی دے جاتے ہیں۔ ان پٹیوں کی چمک دیکھ کر ہی بڑی آسانی سے کوئی بھی جان سکتا ہے کہ ان کا استعمال اور دیکھ بھال خوب ہے۔ دن ڈھلتے ہی اس کے زندہ ثبوت بھی ملنے لگ جاتے ہیں۔ رات کی تیاری میں شام کو ہی محلے کا پکھالی (بھشتی) گلی میں موجود بمبے (نل) سے اپنا پکھال بھر کر حکم کے مطابق پٹیے پر پانی ڈال کر صاف کر دیتا ہے۔ مالک اگر زیادہ مالدار ہوا تو سڑک پر بھی چھڑکاؤ ہو جاتا ہے۔ اس گھڑی اُٹھتی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو آس پاس پھیل جاتی ہے۔
(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔