Categories
نان فکشن

رشتے کا ایک برس

موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں اچھا اور برا، آسان اور مشکل دن نہیں دیکھا۔ زندگی انہیں گورے، کالے سورجوں سے چڑھتی ،بڑھتی اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور اک روز آتا ہے جب ہم سب زندگی کے ایک ایسے روشن مستقبل کی آغوش میں کہیں کھو جاتے ہیں جہا ں سے ہماری سانسوں کی حرارت کا سراغ تک نہیں ملتا۔ میں نے کئی بارشیں دیکھی ہیں، کئی راتوں کی الجھنوں کا سکون پیا ہے اور کتنے ہی ان دیکھے خوابوں کی ہوا کا جھونکا اپنے بدن کی مٹی سے لگتا ہوا محسوس کیا ہے۔ مگر میں نےکوئی پانی کی بوند ایسی نہیں دیکھی جس میں خاک کا عکس نہ ہو، کوئی کپاس کا ریشہ ایسا نہیں چھوا جس میں پتھر کی سلیں نہ ہوں اور کوئی راکھ کی آندھی ایسی نہیں دیکھی جس میں گلابوں کی خوشبووں کا مہکتا رنگ نہ ہو۔ اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھنے اور بہت کچھ نہ دیکھنے کے احساس میں میں دور تک گیا ہوں، انجان گلیوں کی خاک چھانتا، نمکین پسینوں کا دھواں تلاشتا اور نئے پتوں کی سرسراہٹ کا نغمہ سنتا، کوئی تھا جو وقت کی اس ریت پر، مجھے ہمیشہ ایک تازگی محسوس کرواتا رہا، میری آنکھوں سے اوجھل، میرے ماضی سے دور اور حال سے آگے۔ کس کو علم ہوتا ہے کہ اس کے خواب کی تعبیر زمین کے کس حصے کی مٹی تلے دفن اس کو پکار رہی ہے۔ وقت گزرتا ہے اور ہم زندگی کے نئے منظر کی نذر ہوتے چلےجاتے ہیں۔وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوپاتا کہ کب آنکھوں کے پیالوں نے اپنا چراغ خود بجھا دیا، کب بدن کی توانائی کو حالات کی دیمک نے چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کر دیا اور کب ان سرمئی اور معصوم خواہشوں کو ہوس کے ناگوں نے نگل لیا جن سے زندگی میں ٹھنڈی ہواؤں کے لچکتے ہوئے تھپیڑوں نے اک رمق پیدا کر دی تھی۔ کئی دن کا خواب ایک دن میں چور ہوتا ہوا دیکھا تو لگا کہ غالبا اب زندگی دوبارہ موقع نہیں دے گی۔ کون اٹھنا چاہتا ہے اس ریت پر سے جس کے ٹیلوں پر بادلوں کا سایہ ہو اور جس کی آغوش میں پانی کی وہی میٹھی کلکاریاں ہوں جن سے جلتے ہوئے جسموں کا دھواں بجھ کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا، بس خاموش نظروں سے اس پیالے کو دیکھا اور دیکھتا رہا کہ وقت کی ریت اسی پیالے میں اک روز میرے نورانی دھندلے خوابوں کو سجانے والی ہے۔ دونوں جانب ایک ہلکی سی خاموشی تھی ، جس کے زیر زمیں کئی آوازیں روز بیان کا پتا دیتی ہوئی اپنی زندگی کا اثبات کروانے میں لگی ہوئی تھی۔ میں نے وقت کو ایک سفید گھوڑے پر سوار کیا اور اس کی دم پر ایک آہنی تازیانہ لگا کر اسے ہوا کے سپرد کر دیا۔ اس کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ اسی سے ہمیں تسکین مل سکتی ہے۔ پھر وہ سب ہوا جس کا ہم دونوں کو انتظار تھا۔ کچھ سورج میری چھاتی سے اگے، کچھ اس کی ناف کے اندھے غاروں میں مدغم ہوگئے۔ کبھی چاندنی کا دھواں ہماری رانوں کے دمیان کلبلایا تو کبھی ارتعاش اور محبت کے ہوس ناک تیر ہم دونوں کے کلیجوں میں اترتے چلے گئے۔ درمیان میں کنوئیں آئے، جھیلیں پڑیں اور ان جھیلوں سے اچھلتی، کودتی مچھلیوں نے ہمارے منہ چومے، کوئی نہنگ ہماری قدموں کو چھوتا ہوا گزر گیا اور کسی ویل نے ہماری سانسوں کا ریشم نوچ کھنسوٹ دیا۔ ہم سمندر کی گہرائی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ آسمان کی تیسری منزل سے کسی نے ہاتھ دے کر ہمیں اوپر اٹھا لیا، کون جانتا تھا کہ رگ جاں کا تصور اسی نارنگی اور سرمئی آستینوں سے لپٹا ہوا ہے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ نور کے سائبان تلے ایک خاموش بستی ہےجس میں ہم دونوں کو ایک روز دفن ہو جانا ہے۔ اس نے ذرا سا زور لگایا اور میری پلکوں کا پانی جھڑ کر اس کے شاخ شاخ بدن پر تیر گیا اور میں نے تھوڑی سی کوشش کی اور اس کے پہاڑوں میں سوراخ ہوگئے۔ وہ دن بھی آیا جب میں ہانپتی کانپنی زلفوں کو سہلاتا ہوا ، افشاں کے باریک روشن نکات کو چومتا ہوا گیلی مٹی پر اوندھے منہ سو گیا اور وہ رات بھی آئی جس میں برف کی چٹانوں نے میرے لہوکو مجھ میں جما دیا ۔کبھی کوئی راہ گیر میرا ہمسایہ بنا اور کبھی کوئی جانور میرے قدموں تلے روندا گیا۔ کسی نے پیاس کی شدت میں پانی کا ایک گھونٹ دیتے ہوئے اپنے احسان کی چھریاں میرے گلے پر رکھ دیں اور کبھی یوں بھی ہوا کہ ایک اجنبی خیال نے میرے لبوں پر مسکان دوڑا دی۔ کسی موسم کا میں خواہش مند نہیں، کسی فکر کے الجھاوے کا اسیر بھی نہیں ،لیکن ایک آنکھ نے مجھے ایسا باندھا اور ابرو نے مجھے ایسا کھینچا کہ میں زمین کی آخری پرت تک اترتا چلا گیا اور سویا تو صدیوں کے لیے سوتا ہی رہا کہ سکون کی نیند ابدی تھی اور جاگا تو آسمانوں کی سیر کر لی کہ وقت کا بھنور یہ ہی تھا۔ نہ کوئی لمس ، نہ کوئی چشمہ، نہ کوئی لٹ اور نہ کوئی صدائے دلبر ، ایک برس جس میں تیرتے ہوئے بادلوں کا احساس تھا، جھومتی ہوئی ندیوں کا سرور، کھیلتے ہوئے بچوں کی شرارت اور ناچتے ہوئے مور کی تشنگی،اس کا ہاتھ میری کلائی سے بندھا رہا اور میں اہراموں سے اونچا ہوا کی تاریکی میں معلق ہوتا چلا گیا۔اس کی پلکیوں کی چاندنی میرے کندھوں پر بکھری رہی اور میں رات کے کلیجے سے لگا نیند کی نازکی کو محسوس کرتا رہا۔ ایک دبیز سی لہر، ایک گدگداتی ہوئی موج ،میرے اندر کہیں سفر کرتی اور مجھے ان حقائق سے دور لے جاتی جن کی مشعلوں سے میں برسوں تپتا رہا، اپنی ہی انگلیوں سے اپنے اندرون کو نوچ نوچ کر پارہ پارہ کرتا رہا۔ سب کھو گیا، وقت ہوا ہوا، احساس بجھ گیے ،مگر وہ ایک برس جو ریت کی طرح آیاتھا وہ میری پیشانی کی خواب آور لکیروں میں کہیں جذب ہوگیااورمیرے ستاروں میں شامل ہو کر زندہ جاوید ہو گیا۔

Categories
نان فکشن

کیا آپ نے ہندوستانی یونیورسٹیز میں رائج اردو کا نصاب دیکھا ہے؟

مجھے تو اس وقت بھی حیرت ہی ہوتی تھی جب میں بی-اے سال اول کا طالب علم تھا کہ آخر یہ کن باتوں پر اردو زبان و ادب کی بنیاد قائم کی جارہی ہے جس کو پڑھ کر اردو کے طلبہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کا ذہن کسی طرح کے اکتسابی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اگر آپ نے ہندوستانی ہونیور سٹیز میں رائج اردو زبان و ادب کا نصاب نہیں دیکھا ہے تو ایک بار اس کو دیکھنے کی کوشش کر لیجیے۔ نہایت افسوس کے ساتھ آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ اردو کے زوال کا اولین سبب ہندوستان میں یہ ہی نصاب ہے۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ اردو میں اس نصاب میں غزل اور نظم کی جو تنقید ہے اور جس طر ح کے افسانے ، ناول اور تنقیدی مباحث یہاں پڑھائے جاتے ہیں اسے کوئی بھی معمولی درجے کا نصاب پڑھنے والا پڑھا سکتا ہے ، لیکن ہماری یونیورسٹیز میں اس بات پر بہت زور دیا جاتا ہے کہ اس نصاب کو پڑھنے کے بعد طلبہ کی بصیرتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ تیسرے درجے کی ادبی اور علمی لیاقت رکھنے والے لوگوں کے ذریعے تیار کیے ہوئے اس نصاب میں سوائے پرانی ، فرسودہ اور رٹی رٹائی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ وہی عام سوال و جواب پر مبنی تنقیدی کتابیں ، وہیں ہزار بار کی پڑھی ہوئی غزلیں اور نظمیں اور وہی قصیدے۔ اردو کے نصاب میں اس درجہ اسفل اور سطحی چیزیں شامل ہیں جس کو پڑھ کر کوئی بھی سال اول یا دوئم کا طالب علم ذرا سی کوشش کرے تو نقاد بن سکتا ہے اور صورت حال بھی کچھ یہ ہی ہے کہ ہماری یونیورسٹیز سے ایسے ہی نقاد پیدا ہو رہے ہیں۔

آپ کو جان کر حیرت ہو گی ہندوستانی یونیورسٹیز میں اردو کے نصاب میں سال اول سے سال آخر تک (بی-اےمیں) اور اس کے بعد ایم-اے کے دونوں برسوں میں غزل اور نظم کی تعاریف پر سولات کیے جاتے ہیں ، نظم کیا ہے؟ اس کی بہت ہی سطحی بحث ہوتی ہے۔ افسانوں کے نام پر منٹو ، بیدی ، کرشن چند اور عصمت یا عینی کے دو ، دو ، چار ، چار افسانے پڑھائے جاتے ہیں ۔ناول میں ہادی رسوا کا امراو جان اور باغ و بہار یا فسانہ عجائب کی تلخیص کو روا رکھا ہوا ہے اور تنقید کے نام پر وہی الٹے سیدھے فاروقی ، نارنگ اور دوسرے درجے کے مباحث چھیڑنے والے نقاد ،جن میں کسی بھی شعر کو کسی بھی طرح سے بیان کر دینے کی صلاحیت موجود ہے۔کے مباحث پڑھائے جاتے ہیں۔ ڈرامے کے نام پر آغا حشر اور حبیب تنویر کی کچھ نگارشات اور تاریخ میں نور الحسن نقوی کی چھوٹی سی تاریخ ادب اردو سے کوئی بھی طالب علم پانچ برسوں میں اردو ادب پر با آسانی اچھے نمبروں سے ہاتھ صاف کر لیتا ہے۔ جن کتابوں کو اردو نصاب میں معاونت کے نام پر شامل کیا جاتا ہے ان میں زیادہ تر اردو کے پروفیسروں کی کتابیں ہوتی ہیں جو انہوں نے انہیں الٹے سیڈھے ناقدین کی کتابوں کو پڑھ کر لکھی ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ جو کچھ ہوتی ہیں جن میں گیان چند جین اور محمد حسن جیسے اساتذہ کی کتب کو شامل کیا جاتا ہے جو نصاب کے نام پر یوں بھی ناقص ہوتی ہیں اور المیہ یہ ہے کہ خود اساتذہ نے بھی ان کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا اور اگر کیا بھی ہوتا ہے تو بہت سرسری۔ اردو کے نصاب کی ہی یہ دین ہے کہ کوئی بھی شخص یونیورسٹی میں استاد کی حیثیت سے بحال ہو جاتا ہے ، کیوں کہ پی ۔ایچ ۔ڈی تک پہنچتے پہنچتے اردو کے ہر طالب علم میں اس کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ جس طرح گزشتہ کئی برسوں سے ہمارے استاذ ہمیں زبان و ادب کے نام پر بے وقوف بناتے ہوئے جو کور چشم باتیں پڑھا اور سمجھا رہے ہیں وہ کس طرح ہمیں اگلوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے حاصل کے طور پر یونیو رسٹیز میں جو اگلی نسل آتی ہے وہ اس سے زیادہ کور چشم ہوتی ہے۔ لہذا غزل میں محبوب کی باتیں اور نظم کے نام پر اخترالایمان یا فیض کی یا حالی اور نظیر اکبر آبادی کی بہت مشہور نظموں کے دو چار اشعار پر ایک دوسرے سے بات کرنے کو زبان و ادب کی خدمت سمجھتی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ وہ لوگ جن کا یونیورسٹیز سے کوئی تعلق نہیں صرف یونیورسٹیز کے چند اساتذہ کے ساتھ جن کا اٹھنا بیٹھنا ہے وہ تک اردو و زبان و ادب کے نام پر چند ایک مشہور شاعروں اور ادبیوں اور نقادوں پر پندہ ، بیس لوگوں سے مضمون لکھوا کر ادب کی خدمت کا دم بھر نے لگتے ہیں ۔ ہندوستان میں اردو کے نصاب کی پیدا کی ہوئی کور چشم عوام کا ایسا راج ہے کہ اردو ادب کے نام پر نہایت بھونڈی کتابیں آئے دن سامنے آتی ہیں ۔ نئے افسانہ نگار اور نئے ادیب بھی اردو میں وہی ہوتے ہیں جنہوں نے اس مردہ اور بے جان نصاب سے فیض حاصل کیا ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ کی اردو ادب کا یہ نصاب پڑھنے کی وجہ سے یہ حالت ہے کہ وہ کسی بھی اچھے اور پڑھے لکھے ادیب سے رائی برابر واقف نہیں ہوتے۔ ذرا مشکل ادب تک ان کی رسائی نہیں ہوتی اور کسی بھی نظم کے پیچیدہ شاعر کو تو وہ اٹھا کر ہی نہیں دیکھتے۔ اس کے علاوہ ادب کے ساتھ شاعری اور افسانہ نگاری سے باہر قدم رکھنا تو ان کی شریعت میں حرام ہوتا ہے۔ ٹیکنکل ہینڈ اتنا کمزور کہ کسی بھی ویب سائیٹ کو کس طرح اوپن کرنا ہے۔ اس سے کس طرح استفادہ کرنا ہے اور اردو میں کس طرح نئے تکنیکی خیالات شامل کرنا ہے اس سے ذرا واقفیت نہیں ہوتی۔ ہندوستانی یونیورسٹیز میں صرف ایک شخص خواجہ اکرام کو اگر نکال دیا جائے تو کوئی شخص اردو کے نئے تکنیکی ارتقا سے واقف نہیں ۔ بعض اساتذہ کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنی ای –میل آئی ڈی تک اوپن نہیں کر سکتے۔

یہ تمام باتیں کہیں نہ کہیں اردو کے اس فرسودہ نصاب سے ہی لگا کھاتی ہیں جن کو پڑھ پڑھ کر اور پڑھا پڑھا کر اردو کے اساتذہ اور طلبہ دونوں کور چشم ہو چکے ہیں ۔ ذرا سا نیا خیال اور نئی صورت حال ہمارے طلبہ اور اساتذہ کو کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ اردو کے بہت سےطلبہ اور اساتذہ ہندوستان میں ایسے ہیں جنہوں نے کشور ناہید، فہمیدہ ریاض ، سعید الدین، نیر مسعود، سی-ایم نعیم ، اجمل کمال، محمد خالد اختر ، افضال احمد سید اور ذیشان ساحل وغیرہ جیسے کتنے شاعروں افسانہ نگاروں اور ادیبوں کا نام تک نہیں سنا۔ کسی بھی نئے اور اچھے لکھنے والے کو تو دور اردو کی یونیورسٹیز کے نصاب میں کھوئے ہوئے طلبہ اور اساتذہ اردو کی اچھی نثر اور نظم لکھنے والوں کی ہوا تک سے محروم ہیں ۔ ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ نصاب میں بھی شامل کتابوں کو اردو والے ڈھنگ سے نہیں پڑھتے جن میں کہیں کہیں حالی اور شبلی کے یہاں ایک دو باتیں کام کی مل جاتی ہیں یا سر سید اور خطوط غالب میں کچھ رمق موجود ہے اس تک بھی ان کی رسائی نہیں۔

اردو نصاب کی صورت حال تو ابتر ہے ہی اس کو تیار کرنے اور رائج کرنے والوں کی حالت اس سے بھی خراب ہے۔ ادب کے نام پر تاریخ کے دو چار ادیبوں کے کارناموں کو رٹنے کے علاوہ اردو کے اساتذہ اور طلبہ نے گزشتہ کئی برسوں سے کچھ نہیں کیا ہے۔ جس سے بہت ہی خراب صورت حال یہ ابھر کے آئی ہے کہ نئے طلبہ سرے سے کورے ہوتے ہیں اور کھل کربات کرنے اور علمی انداز میں اختلاف مباحث کے آداب سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں نئے نصاب کے طور پر اردو میں جو چیز یں اور کتابیں رائج ہونا چاہیے ان کی طرف کسی بھی شخص کی نگاہ نہیں۔ ادب کے تنقیدی مباحث سے گریز کرنے کا بھی کوئی خیال نہیں اور تحقیق کے پرانے خیالات کو القط کرنے کا بھی نہیں۔ جہاں ہندوستان کی یونیورسٹیز کے نئے شعبوں میں ادب اور آرٹ کی نئی معنویت پر بہت غور و فکر کیا جا رہا ہے اس میں آزاد ی رائے اور آزاد ی خیال اور طرز حیات پر غور کر کے بہت فری ماحول پیدا کیا جا رہا ہے وہیں ہندوستان کی یونیورسٹیز اردو کے شعبوںمیں بہت پچھڑے ہوئے ماحول کو ہوا دی جا رہی ہے اور اس کو رائج رکھنے کی کوشش میں دن رات محنت ہو رہی ہے۔ اردو زبان و ادب کے ایسے دور میں یونیورسٹیز کے نصاب کو سرے سے کاٹ کر نئے طور پر مرتب کرنے کی ازحد ضرورت ہے اور نئے ذہنوں کو ہندوستانی یونیو رسٹیز کے شعبوں میں جگہ دینے کی اور پرانے اور فرسودہ ذہن جو گدیوں پر براج مان ہیں ان کی از سر نوذہنی تربیت کر نے کی۔

Categories
نان فکشن

ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری

یہ دونوں باتیں بنیادی طور پر متضاد ہیں ، مثلا ً ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری میں جب ادیب کی سر پرستی کا تصور ابھرتا ہے تو واضح طور پر ان تمام تاریخی روایات پہ یکبارگی نگاہ چلی جاتی ہے جہاں سرکاروں درباروں سے متعلق ادبا اور شعرا اپنے فن پارے ترتیب دے رہے تھے ، جن کی بنیاد میں بادشاہ وقت یا اسی نوع کے کسی دوسرے پروردہ صفت شخص کی منشا یا خوشنودی شامل تھی۔ یہ ایک واضح تصور ہے ، حالاں کہ اس کے علاوہ بھی اور بہت سی باتیں اس خیال کے پیچھے چھپی ہوتی ہیں ، اس کے بر عکس جب ادیب کی خود مختاری کی بات ہوتی ہے تو ان فن پاروں کی طرف ذہن جاتا ہے جو کسی بھی طرح کی سرپروستی (یعنی دربار سرکار کی وابستگی ) قطع نظر آزادانہ طور پر تخلیق کئے جا رہے تھے۔ یہ باتیں ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری کے ذیل میں سب سے پہلے ذہن میں آتی ہیں۔ اس کے بعد اس کے مشتقات پرغور کیا جائے تو اولین صورت میں ان اشکالات کی جانب ذہن جاتا ہے کہ:

ادیب اگر کسی نوع کی سرپرستی سے اپنا ادب ترتیب دے رہا ہے تو وہ کتنی فی صد خود مختاری کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟ ادبی سر پرستی میں کس نوع کا ادب وجود میں آتا ہے؟ادبی سر پرستی کی اقسام کتنی ہیں ؟خود مختاری کیا ادیب کا مقدر ہو سکتی ہے ؟ اور ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری کے مثبت اور منفی پہلو کیا کیا ہیں ؟

ان اشکالات پر کچھ کہنے سے قبل اس حوالے سے مزید چند ایک سوالات کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو بہتر ہے ،جو محمد حسن صاحب نے جو کہ اردو زبان میں ادبی سماجیات کے حوالے سے خشت اول کی حیثیت رکھتے ہیں اپنی کتاب میں گنوائے ہیں :

“ادبی سماجیات کا دوسرا دبستان وہ تھا جس نے ادب کا جمالیاتی فن پارے کے بجائے مال تجارت کی حیثیت سے مطالعہ کیا۔ان کے نزدیک اہم مسئلہ یہ تھا کہ کسی دور میں ادب کی سر پرستی کن طبقوں کے ہاتھ میں ہے اور کیوں؟ادب کی اشاعت کا صرفہ کتنا ہے اور اس پر کس طبقے کا قبضہ ہےیا اس کی نوعیت کیا ہے ؟ذرائع ترسیل عامہ کا اس میں کتنا حصہ ہے؟ اس سلسلے میں مشہور فرانسسی ادبی سماجیات کے ماہر رابرٹ اسکاٹ نے نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں ۔”
(ص:12،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)

محمد حسن صاحب کے سوالات بہت بنیادی ہیں ۔ اس کے جوابات پر غور کیا جائے تو سیدھے طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہماری تاریخ (ہماری سے مراد اردو زبان و ادب کی) اس بات کی شاہد ہے کہ جس عہد میں اردو زبان کا ادب ہندوستان میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا تھا اسی عہد سے صوفیوں اور سنتوں نے اس زبان کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اگر ہم واضح طور پر اس کا حوالہ تلاش کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بارہویں صدی عیسوی ایک طرف دہلی اور پنجاب میں امیر خسرو اور مسعود سعد سلمان جیسے تصوف کی تعلیمات کے پروردہ اشخاص اس زبان کو میسر آئے تو دوسری جانب ہندوستانی زمین اور مزاج سے جڑے ہوئے ناتھ پنتھی سادھوں نے اس زبان کا خمیر تیار کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اردو کے باطن میں مذہبی عقائد سے جڑی اصطلاحات کاعنصر جس گہرائی سے بیٹھا ہوا ہے اس کا راست تعلق اسی مذہبی اور صوفیانہ سر پرستی سے ہے جو اس زبان کو اپنی اولین صورت میں نصیب ہوا تھا۔ یہ سر پرستی حالاں کہ خالص لسانی قسم کی ہے لیکن بعد کے زمانے میں ادب کی تشکیل کا کام جب واضح طور پر ہونے لگا تو اس لسانی حقیقت نے ادبی حقیقت نگاری میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہ بات کچھ معمولی نہیں کہ اردو کا اولین شاعر ہم آج بھی خسرو کو تسلیم کرتے ہیں اس کے اولین نظمیہ نقوش ہمیں کربل کتھا اور مذہبی گیتوں کی صورت میں ملتے ہیں ۔ اس کی نثر کا آغاز معراج العاشقین جیسی کتابوں سے ہوتا ہے یا شمال سے دکن تک اس کو اپنی پہلی منزل پر گیسو دارز بندہ نواز، میراں جی شمس العشاق، امین الدین اعلی اور اسی نوع کے وہ تمام دکنی صوفیہ جن کی پچاسوں کتابیں محی الدین قادری زور نے مخطوطات دکن میں گنوائی ہیں ایسی شخصیات نصیب ہوتی ہیں ۔ دراصل یہ ایک مستقل سلسلہ ہے جو اردو کو ہر طرح کی سرپرستی بخشنے والے طبقے سے متعلق ہے۔ایسی صورت میں اگر کوئی ادیب صوفیانہ تعلیمات سے قطع نظر اگر کوئی الگ راہ نکالتا ہے تو اس کو ادیب کی خود مختاری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سیدھی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان جو ایک خاص قسم کی معاشرتی فضا میں ترتیب پا رہی تھی اس کا مزاج یہ تھا کہ اس میں اگر اس سر پرستی کو قبول کرتے ہوئے جس ذہنی سر پرستی کو ہندوستانی مذہبی طبقے نے وضع کیا تھا کوئی فن پارہ ترتیب دیا جاتا تو اس میں فن پارے کی تشکیل کے امکانات بہت تھے۔ تحسین کے امکانات بہت تھے اور انعام و اکرام کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اس فضا سے قطع نظر کوئی ایسا فن پارہ تشکیل دیا جائے جس میں ان سارے لوازمات سے اجتناب برتا جائے تو اس کے لئے ادیب کو نہ صرف یہ کے اپنی معاشرتی فضا سے بغاوت کرنی پڑے گی بلکہ اس لسانی ڈھانچے سے بھی بغاوت کرنا ہوگی جو ایک خاص قسم کی لغت اور اصطلاحی نظام سے وضع ہو اہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شمالی ہند میں ہمیں سترویں صدی میں ایک ایسی واضح مثال ملتی ہے جس نے کسی نوع کی سر پرستی کے بر عکس خود مختاری کو چنا اور حاصل کے طور پر اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ وہ مثال جعفر زٹلی کی ہے ۔ جعفر کے کلا م کو بغور پڑھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اس شخص نے فرخ سیر کے عہد میں کتنی جرات اور اجتحادی صلاحتیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردو کے جدید نظام لغت کو وضع کرنے کی سعی کی تھی ۔ جو لغت اس نے خالص ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ کو اردو کے خمیر میں گوندھ کر تیار کی تھی ۔ جعفر زٹلی اردو کی ادبی تاریخ میں اتنا سراہا اس لئے نہیں گیا کیوں کہ اس سے سترہویں صدی میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا تھا جو عام مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ یہ ہی اس کی ادبی خود مختاری تھی۔

محمد حسن صاحب نے جو سوالات قائم کیے ہیں اس میں ادب اشاعت کے صرفے سے متعلق جو سوال ہے وہ بہت اہم ہے، کیوں کہ ادبی سر پرستی میں اس بات کا بہت زیادہ خیا ل رکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی ایسا لٹریچر جو ایک حاکم یا ایک بادشاہ یا پھر کسی نوع کی Super Power کے افکار و نظریات کی تائید میں لکھا جاتا ہے اس کو اشاعت کے مرحلے سے گزرنے میں پریشانیوں کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا جس کے برعکس کوئی ایسا فن پارہ جو اس طاقت کے تردید کر نے کے لیے لکھا جاتا ہے یا تردید سے قطع نظر صرف اس صورت میں ہو جو اس عہد کی عظیم طاقت کی تائید میں نہ ہو تو اس کی اشاعت کے لیے صرفے کا سوال قائم ہو جاتا ہے۔ لفظ صرفہ کی یہ خاصیت ہے کہ جب اس لفظ کو خرچ کے معنی میں برتا جاتا ہے تو اس میں منافع کے معنی از خود در آتے ہیں ۔ اس لیے یہ جاننا زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ وہ ادب کس طبقے یعنی Divisionسے تعلق رکھتا ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے۔ اسی لئے محمد حسن صاحب نے ان تینوں باتوں کو ایک ساتھ پیش کیا ہے۔

ادبی سر پرستی کے تعلق سے یہ بات بھی کم لائق توجہ نہیں کہ یہ مال تجارت کی نوع کی چیز ہے ۔ اگر کسی طرح کی سرپرستی میں کوئی ادب لکھا جاتا ہے تو وہ ایک خاص طبقے کی حظ ، تکلفات ، اشتہار ، تہذیب ، تفخر اور شان علویت سے متعلق ہوتا ہے اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری سے جو فن پارہ سامنے آتا ہے اس میں تکلفات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی وہ یکسر تنقیدی نوعیت کا ہوتا ہے۔ خالص احساسات ترجمان ہوتا ہے ، کسی پولیسی پر کھرا نہ اترنے والا اور واحد الاصل ہوتا ہے ۔ اس کی نظیر اپنے عہد میں کم ملتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس کی قبولیت کا گراف بھی بہت کم ہوتا ہے۔ ادبی سر پرستی سے ادیب کی خود مختاری تک معیار کا سوال بالکل الگ نوعیت سے پہنچتا ہے ۔ مثلاً یہ ایک واحد ایسی چیز ہے جس پر ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری دونوں راست انداز میں اثر نہیں ڈال پاتے ۔ معیاری کلام خواہ وہ کسی بھی اعتبار سے ہو وہ ادبی سر پرستی سے بھی ترتیب پا سکتا ہے اور ادیب کی خود مختاری سے بھی ، حالاں کہ ہندوستانی تاریخ جس استادی اور شاگردی کے فلسفے سے ایک عرصے سے چمٹی ہوئی ہےاس روایت کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ادب جو کسی نوع کی سر پرستی سے وجود میں آیا ہے اس میں متاثر کن لوازمات زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ جبکہ خود مختاری سے بہت کم فن پارے اس درجے کو پہنچتے ہیں جن کو فن پارہ تسلیم کرنے میں تامل نہیں برتا جاتا۔ اس کی واضح مثال ہمارے یہاں غالب اور ذوق کی ہے ۔ غالب کا کوئی استاد نہ تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں غزل کے جتنے شعر کہے وہ ہر طرح کی ادبی سر پرستی سے آزاد قرار دیئے جا سکتے ہیں ،جبکہ ذوق کے معاملے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی ۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو ذوق ، نصیر کے شاگر بھی تھے دوسرے دربار مغلیہ سے وابستہ بھی تھے اس لئے انہیں غزل کا شعر کہتے ہوئے دو پابندیوں کو ملحوظ رکھنا پڑتا تھا۔ اس میں ایک اہم عنصر اس بات کا بھی شامل ہو جاتا ہے کہ ذوق کو شعر کہتے وقت اپنی استادانہ حیثیت کے تکلفات کو بھی نظر رکھنا پڑتا ہوگا ، جبکہ غالب ان سارے تکلفات سے غزل کی حد آزاد تھے۔

یہ سب باتیں تو پھر بھی صنعتی انقلاب سے پہلے کی ہیں لیکن صنعتی انقلاب کے وجود میں آنے کے بعد اس سلسلے میں جو اہم سوالات قائم ہوئے یعنی ادبی سر پر ستی کے ذیل ا س میں ادیب کی حیثیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا۔ مثلا ً صنعتی انقلاب سے پہلے ادیب اور ادب یہ دونوں خواہ رزیر پرستی ہوں یا اس سے جدا پر یہ دونو ں دو خانوں میں نہیں بٹے تھے۔ لیکن یہ صورت حال نئی دنیا میں یکسر تبدیل ہو گئی یہاں میں اس کی ایک واضح مثال اس ضمن میں پیش کر رہا ہوں جو محمد حسن صاحب نے اپنی کتاب ادبی سماجیات میں اس حوالے سے پیش کی ہے ۔ فرماتے ہیں :

“اس ضمن میں ادیب اور اس کی تخلیق اور اس تخلیق کے ذریعے اس کے قاری تک اس کے نتیجے تک پہنچنے کے مسائل بھی سامنے آئے اور بیگانگی کا سوال بھی اٹھا ۔ ادیب صنعتی دور میں اپنے فن پارے سے بڑی حد تک کٹ کر رہ گیا ہے اور غیر متعلق اور بیگانہ ہو گیا ہے ، اس کی تخلیق صنعتی دور کے ذرائع ترسیل عامہ میں یکسر اس کی ذات کا اظہار نہیں رہ جاتی بلکہ اس کی ذات سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ اس کی سب سے واضح مثال فلم کے لئے گانا لکھنے والے شاعر کی تخلیق ہے ، یہ گانا اکثر اپنی ذات کے اظہار یا اپنے جذبات و احساسات کے لئے بلکہ دی ہوئی صورت حال پر پروڈیوسر یا ڈائرکٹر کی فرمایش کے مطابق لکھتا ہے ۔ جس کی دھن اکثر میوزک ڈائرکٹر پہلے ہی فراہم کر دیتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاعر جب اپنا گیت مکمل کر کے لائے تو میوزک ڈائر کٹر یا صلاح کاروں کے مشورہ سے گیت کے بولوں میں تبدیلی کر دی جائے یا ایک دومصرعوں یا لفظوں کا اضافہ کر دیا جائے ۔ جب یہ گیت پردہ سیمیں پر پیش ہوگا تو شاعر کا گیت کوئی اداکار یا اداکارہ کسی دوسری گلو کار مغنیہ کی آواز میں میوزک ڈائرکٹر کی دھن پر گا رہا ہوگا۔ یا گارہی ہوگی اور اس کا گیت اب صرف اس کا اپنا نہیں ہوگا اس میں بہت سے دوسرے فن کار بھی شامل ہوں گے اور شاعر کی شخصیت اس منزل تک پہنچتے پہنچتے گیت سے تقریبا بے گانہ ہو چکی ہو گی گویا گیت اب اس کے لئے ذریعہ اظہار نہیں مال تجارت بن چکا ہوگا۔”
(ص:13،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)

یہ صنعتی انقلاب کے بعد کے ادب کی جو صورت حال ہے اس کی سب سے بہتر مثال قرار دی جاسکتی ہے۔ جس میں ادبی سر پرستی کا دائرہ اتنا زیادہ پھیل گیا ہے کہ اب Imperial Supervisionکا تصور مستحسن معلوم ہونے لگتا ہے۔ وہاں زیادہ سے زیادہ تعین قدر کا مسئلہ تھا یا پھر شناخت کے حصول کا لیکن اس طرح توادیب کی حیثیت اتنی Secondary ہوجاتی ہے کہ شناخت کا مسئلہ ہی نہیں رہ جاتا ۔ ا س کا اگلا اقتباس بھی ملاحظہ کیجیے تاکہ بات مکمل صورت میں سامنے آجائے ۔ آگے فرماتے ہیں :

“ظاہر ہے یہ سوال محض ادب کی سر پرستی کا نہیں ہے بلکہ پورے تخلیقی عمل کو متاثر کرنے کا ہے اور اس کی جڑیں ادبی تنقید کے بنیادی مباحث تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس نظریہ کی بنا پر ماں ؔہیم نے ادیبوں کو ایک گھومنے پھرنے والی ایسی دانش ورانہ مخلوق قرار دیا تھا جو اپنی جڑوں سے کٹ چکی ہے اور جس کی ادبی تخلیق اب مال تجارت بن چکی ہے ۔ اس کے بر خلاف لیوسؔی گولڈ مان نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ یہ صورت حال صرف ادنی درجے کے ادیبوں کو پیش آتی ہے جب کہ اعلی ادیب کبھی بازار کے لیے نہیں لکھتا اور اس طرح وہ ناشر ، مصنف ، قاری کے جبر سے نکل جاتا ہے اور اپنی تخلیقات کو مال تجارت نہیں بننے دیتا۔ ”
(ص:13،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)

بس لیوسی گولڈ مان نے جو بات کہی ہے ادیبوں کا ایک بڑا طبقہ اسی کے ساتھ ہے اور یہ بات کسی طور فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اعلی اور ادنی ادب کی جدید تعریف انہیں واقعات کی روشنی میں متعین ہوتی ہے ۔ یہ ہی وہ خود مختار ادیب ہے جس کو گولڈمان نے اپنے بیان کے ذریعے بازار سے دور بتایا ہے ۔ معیار کا جو جدید تصور ہے وہ بھی اسی سے طے ہوتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صنعتی انقلاب سے پہلے معیار کی وہ بحث جو شاہی نظام کے تحت فروغ پاتی نظر آتی ہے ۔ جس میں لفظ کی صحت اور بلاغت کلام کو زیادہ معنویت حاصل تھی وہ صنعتی انقلاب کے بعد یکسر تبدیل ہو گئی ۔خود مختار ادیب کی حیثیت اس لیے بھی اس دور میں زیادہ با وقار معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس عہد میں ادب کی حفاظت کا ذمہ لے رہا ہے جہاں ادب کی حفاظت سے اسے سوائے خسارے کچھ نصیب نہیں ہوگا۔

Categories
نان فکشن

کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر

اسید الحق قادری کے متعلق یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انھیں خدا نے شعر کہنے کی صلاحیت بھی عطا کی تھی۔یہ بات الگ ہے کہ موزونی طبع کے باوجود شعر و شاعری کو انھوں نے کل وقتی مشغلہ نہیں بنایا اور بہت کم شعر کہے۔ لیکن ان کے جتنے اشعار ہمیں دستاب ہیں اس سے ان کی شعری صلاحیتوں کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔اسید الحق صاحب کا جتنا کلام اس وقت میرے سامنے ہے اس میں ایک حمد،چار نعتیں ،ایک منقبت اور چھ دیگر نظموں کا شمار ہوتا ہے۔شاعری ان کے معمولات زندگی میں ثانوی حیثیت رکھتی تھی ،لیکن اس ثانویت کہ باوجودجتنا کلام وہ زینت قرطاس بنا گئے وہ ایسا انتخاب ہے جو بڑے سے بڑے حمد ،نعت اور منقبت نگاروں کے کلیات پر بھاری ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ کلام بھی انھوں نے اپنے اس عہد میں کہا تھا جس دوران وہ اکتساب فیض کر رہے تھے اور ان کا تعلیمی سفر جاری تھا ۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد ان کا سارا دھیال دینی علوم اور اپنے اکابرین کی کار گزاریوں کی طرف مبذول ہو گیا ۔پھر اس کام میں وہ ایسے مصروف ہوئے کہ ’غالب خستہ کہ بغیر کون سے کام بند ہیں ‘کے مماثل شاعری کی جانب نگاہ کرنا ہی چھوڑ دی۔جن جن لوگوں نے اسید الحق قاردی سے ملاقات کی ہے وہ اس بات کا اعتراف کریں گے کہ اسیدالحق صاحب مزاجاً ایک قادر الکلام شاعر معلوم ہوتے تھے۔ خود میں نے کئی بار اس بات کا ذکر ان سے کیا تھا کہ آپ کو اس کوچہ جاناناں کی سیر میں ہمہ وقت مصروف رہنا چاہئے کیوں کہ آپ کو اللہ نے شعر کہنے کی جس صلاحیت سے آراستہ کیا ہے آ پ اس کا حق ادا کر سکیں ،اس کے جواب میں وہ اپنے مخصوص تبسم کے ساتھ کیا فرماتے تھے ،اس بات کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں لیکن یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اسیدالحق قادری ایک ایسی شخصیت کا نام تھا جو’ کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر‘ کہا جا سکتا ہے۔

اسید الحق کا ادبی مطالعہ بہت وسیع تھا۔ انھوں نے عربی اور فارسی ادب کا مطالعہ تو کیا ہی تھا لیکن اردو ادب پر بھی ان کی گہری نگاہ تھی ۔اردو کے کئی کلاسکی شعرا کا کلام ان کی نوک زبان پر رہتا تھا ۔حالاں کہ اسید الحق نئی نسل کے نمائندے تھے لیکن جس علمی اور ادبی سر زمین(بدایوں) اور خانقاہ(عالیہ قادریہ، بدایوں) سے ان کا تعلق تھا اس سے بعید از قیاس نہیں کہ انھیں اتنے اشعار کیسے یاد ہو گئے ہوں گے۔پرانے شعرا ایک دوسرے کو شاعر تسلیم کرانے کے لئے جس کلیہ کو ایک دو سرے پر منطبق کرتے تھے کہ’ اس وقت تک سامنے والے کو شاعر تسلیم نہیں کیا جاسکتا جب تک اسے پانچ ہزار شعر یاد نہ ہوں ۔‘اس کلیہ کو آج کے شعرا پر منطبق کیا جائے تو صف اول کے بہت سے شعرااس حلقے سے باہر ہو جائیں گے ۔یہ کلیہ کہا ں تک درست ہے ؟یہ ایک الگ بحث ہے۔لیکن اسید صاحب کی شخصیت اس عہد میں میرے علم کے مطابق ان دو چار حضرات میں شمار ہوتی ہے، جسے پانچ ہزار نہیں تو اس کے اریب قریب اشعار تو یاد ہی ہوں گے۔ اس سے ان کی موزوں طبیعت کا علم ہوتا ہے ۔اکثر اوقات وہ شکوہ شکایت بھی شعر یا مصروں کے ذریعے کیا کرتے تھے ۔جس دوران دہلی میں اسید الحق صاحب اور خوشتر نورانی کی علامہ فضل حق خیرآبادی پرکتابوں کی رسم اجراعمل میں آئی اس کے بعد ان سے چھ ،سات مہینے تک میری کوئی گفتگو نہ رہی۔میں اپنے کاموں میں مصروف تھا وہ اپنے کاموں میں کہ اچانک ایک روز انھوں نے فیس بک پر مجھے میسج کیا کہ ’میں وہی ہوں مومن مبتلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘میں بہت شرمندہ ہوا اور فوراً ان کا حال احوال طلب کیا۔‘ اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ انھیں موضوع کے مطابق کتنے اشعار یاد تھے۔بہر کیف مجھے ان کو شاعر ماننے میں کچھ کلام نہیں۔ لیکن شاعری کوئی تمغہ نہیں ہے جسے عطا کر کے یہ کہہ دیا جائے کہ فلاں صاحب شاعر ہیں کیوں کہ ان کے پاس شعر کہنے کی سند ہے۔ہر شاعر اپنے کلام سے اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ اس میں شعر کہنے کی کتنی صلاحیت پوشیدہ ہے ۔وہ کس معیار کے اشعار کہہ سکتا ہے ،اس کا کلام اپنے بعد آنے والی نسلوں کو اور خود اس کے معاصرین کو کس حد تک متاثر کرتا ہے ۔اسید الحق قادری کی شاعری پر بھی بہت سے سوال قائم ہوتے ہیں مثلاً وہ شاعر تھے تو کس معیارکے اشعار ان کے وہاں پائے جاتے ہیں؟ ان کے اشعار آفاقی تناظر میں شعر کی تعریف سے کتنے قریب ہیں؟ ان کے کلام میں کس جذبے کی مقدار زیادہ ہے؟اور کیا انھیں ایسا شاعر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ان کے کلام سے کسی نوع کا ادبی ، علمی،فکری،جذباتی اور مشاہداتی استفادہ کیا جا سکے؟یا انفرادی طور پر ان کے کلام کی اپنی کوئی اہمیت ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

شعر کو کن بنیادوں پر شعر تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اس پر بہت سے مفکرین اور شعرا نے اپنی آراء درج کی ہیں۔جن میں اصمعیؔ ،ابن رشیقؔ اور ملٹنؔ کی رائے میرے نزدیک زیادہ معتبر ہیں ۔اصمعی ؔ کہتا ہے:

’شعر وہ ہیں جس کے معنی الفاظ سے پہلے ذہن میں آجائیں ‘
ابن رشیق ؔ فرماتے ہیں:

’ شعر وہ ہے کہ جب پڑھا جائے تو ہر شخص کو یہ خیال ہو کہ میں بھی ایسا کہہ سکتا ہوں ۔مگر جب ویسا کہنے کا ارادہ کیا جائے تو معجز بیان عاجز ہو جائیں۔‘
اور بقول ملٹنؔ :

’شعر وہ ہے،جوسادہ ہو ،جوش سے بھرا ہوا ہو، اور اصلیت پر مبنی ہو‘

ان تینوں بنیا دوں پر کھرا اترنے کے باوجود بھی اگر شعر، شعر نہیں ہے تو اس کے متعلق کسی اور رائے پر غور کیا جائے گا ۔اس بات کی وضاحت یہاں ضروری ہے کہ جن اشعار میں کسی قسم کا عیب یا سقم موجود ہو یہاں ایسے اشعار کی گفتگو نہیں ہو رہی بلکہ جوا شعار اپنی مبادیاتی سطح سے ہر طور کامیاب ہو کر اس صف میں شامل ہوجائیں جس پر علویت کے ساتھ شعر اور غیر شعر ہونے کی بحث ملحوظ ہو ۔یہاں ایسے اشعار کی بات ہو رہی ہے۔اب اسید صاحب ان شرائط پر کس حد تک کھرے اترتے ہیں اس کا فیصلہ ان کی شاعری سے کیا جا سکتا ہے۔ان کی ایک نظم ’نالۂ درد‘ کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے جس سے سادہ اسلوب،جوش بیان،اصلیت پسندی،اصمعی کی رائے اور ابن رشیق کے خیال کی ترجمانی ہوتی ہے۔اس نظم کا مطلع ہے:

مجھ سے احباب یہ کہتے ہیں قصیدہ لکھو
عید کا دن ہے مسرت کا ترانہ لکھو

اب اشعار ملاحظہ کیجیے:

مگر افسوس میں کس دل سے کروں یار کی بات
کس زباں سے میں کروں زلف ترحدار کی بات
کس قلم سے لکھو رعنائی گلزار کی بات
کیسے لکھوں گل و بلبل لب و رخسار کی بات
مجھ کو آتا ہے فلسطین کے بچوں کا خیال
ان کے سینوں میں اترتے ہوئے نیزوں کا خیال
نوجواں بیٹوں کو روتی ہوئی ماؤں کا خیال
خون سے بھیگی ہوئی ان کی رداؤں کا خیال
غرب اردن کے شہیدوں کا خیال آتا ہے
کبھی غزہ کے یتیموں کا خیال آتا ہے
ان کی مایوس نگاہوں کا خیال آتا ہے
گریہ کرتی ہوئی آنکھوں کا خیال آتا ہے
میرے بغداد پہ چھائے ہیں قضا کے بادل
ظلم کے جور کے وحشت کے جفا کے بادل
فقر و افلاس کے فاقے کے وبا کے بادل
آفت و رنج و مصیبت کے عنا کے بادل
میرے گجرات میں انسانوں کے کٹتے ہوئے سر
بے کسوں مفلسوں مجبوروں کے کٹتے ہوئے سر
بھوک اور پیاس سے بچوں کے بلکنے کا خیال
خاک اور خون میں لاشوں کے تڑپنے کا خیال
میرے کشمیر سے رونے کی صدا آتی ہے
میرے قندھار سے آواز بکا آتی ہے
میرے کابل میں مکانوں سے دھواں اٹھتا ہے
میرے شیشان کی گلیوں میں لہو بہتا ہے
پھر بھی احباب یہ کہتے ہیں قصیدہ لکھوں
عید کا دن ہے کوئی شوخ سا نغمہ لکھوں

ان اشعار کے مطالعے سے خود اندازہ ہو جا تا ہے کہ شاعر نے کس شدید جذبے کو اپنے الفاظ کے ذریعے کامیابی سے بیان کیا ہے ۔اک عجیب سا تسلسل ہے جو کہیں منقطع نہیں ہوتا ،ایسامحسوس ہوتا ہے کہ شاعر کو ان تمام علاقوں میں اور ان تمام بستوں میں ہونے والے حادثات اپنے گھر میں ہوتے معلوم ہو رہے ہیں۔ایک گہرا کرب ہے جس میں ڈوب کر وہ ان اشعار تک رسائی حاصل کر رہا ہے ۔اس نظم میں اسید صاحب نے اپنی جود ت طبع سے اس بات کا احساس بھی دلایا ہے کہ شاعر کتنا حساس ہوتا ہے ۔نظم کا کردار جو بنیادی طور پر شاعر ہے اس سے اس کے احباب مطالبہ کر رہے ہیں کہ عید کا موقع ہے اسے اس خوشی کہ موقعے پر کوئی قصیدہ رقم کرنا چاہئے ۔اس میں بھی کئی پہلو پوشیدہ ہیں کہ شاعر یہ پیغام دے رہا ہے کہ قصیدہ جو شاعری کی ایک صنف ہے اس کا کہنا اس دور میں یا اس عہد میں درست نہیں کیوں کہ ہماری قوم پوری دنیا میں جس ظلم و استبداد کا شکار ہو رہی ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم کچھ عملی کام کریں نہ کہ قصائد اور غزل خوانی میں اپنا وقت ذائع کیا جائے۔

بہر کیف ہم شاعر کے حساس ہونے کی بات کر رہے تھے ۔ظاہر ہے کہ جو احباب شاعر سے قصیدہ رقم کرنے کو کہہ رہے ہیں وہ خود قصیدہ کہنے کی صلا حیت نہیں رکھتے لہٰذا وہ غیر شاعر ہیں اور شاعر جو اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے وہ اپنے دوستوں کو ان کی بے حسی پر شرمندہ کر رہا ہے کہ تم جس دن کوخوشی کا دن سمجھ رہے ہو حقیقتاً وہ غم کا دن ہے کہ ہماری قوم پر ہر طرف سے مصیبت کے بادل چھا تے چلے جا رہے ہیں ،جس کا ہم لوگوں کو رائی برابر احساس نہیں ۔ یہ وقت اس کا نہیں کہ خوشیاں منائی جائیں یہ تو تدابیر کا وقت ہے اپنے احتساب کاوقت ہے، جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ آخر ہم اتنے مظالم کا شکار کیوں ہو رہے ہیں۔یہ اور اس طرح کے کئی پہلو اس نظم میں پوشیدہ ہیں جس کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس ایک نظم پر طویل سے طویل تر گفتگو کی جا سکتی ہے ۔ایک اہم بات اور ہے کہ شاعر کی لفظیات پر غور کیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس کو الفاظ کے برتنے کے فن پر کتنی قدرت حاصل تھی۔مثلاًزلف ترحدار،رعنائی گلزار،گل و بلبل ،لب و رخسار،آفت و رنج و مصیبت اور آواز بکا یہ ایسی تراکیب ہیں جو ہماری کلاسکی شاعری میں کثرت سے استعمال ہوئی ہیں اور ہم کئی حوالوں سے ان تراکیب کا مطالعہ کر چکے ہیں ۔پھر بھی اسید صاحب کے کلام میں یہ مختلف انداز میں نہ صحیح تو اتنی بر محل نظر آتی ہیں کہ ایسے الفاظ بھی جن سے نئی شاعری کے خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے اس کے بر عکس ان تراکیب کے استعمال سے یہ اشعار بھلے محسوس ہوتے ہیں ۔اسی طرح دوسرے الفاظ بھی اتنے تنوع اور جامعیت کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں کہ نظم میں پر فیکشن پیدا ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی شاعر نے احوال شہر کو اسی ترتیب سے باندھا ہے جس ترتیب سے ان شہروں کے غمو ں کا احساس کسی حساس شخص کو مغموم کر سکتا ہے۔ہم شعری آہنگ کو نظر میں رکھیں تو شاعر نے جس ترتیب سے شہروں کو بیان کیا ہے اس کی حکمت بھی ہماری سمجھ میں آ جائے گی ۔مثلاً فلسطین،اردن ،غزہ، بغداد، گجرات ،کشمیر ،قندھار ، کابل اور شیشان یہ ترتیب نظم میں اس طرح استعما ل ہوئی ہے کہ شعر کا آہنگ اس سے بتدریج بلند ہوتا جا رہا ہے اور المیے میں جس قسم کے آہنگ کی ضرورت ہوتی ہے یہ اسماء اس آہنگ کو پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں ۔دیگر الفاظ پر نظر کیجئے تو آپ کو اندازہ ہو جائے کا کہ کس طرح شاعر اسماء اور الفاظ کے اشتراک سے اس نظم میں المیے کی کیفیت کو بام عروج تک لے جاتا ہے ۔ہر نئے شہر کا نام اس جگہ استعمال میں آیا ہے جس جگہ شاعر کو اس بات کا خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب واقعے کو بدلنے کی ضرورت ہے ورنہ بحث میں تاثیر قائم نہ رہے گی ۔یہ ہی ایک شاعر کی پہچان ہے کہ وہ اپنے کلام کے ذریعے قاری کو باندھنا جانتا ہے ۔اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ کس حد تک ایک قاری کا ذہن کسی واقعے سے محظوظ و منغض ہو تاہے اور کس مقام پہ طبیعت کو تغیر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ شاعر کا کوئی فعل مصلحت سے خالی نہیں ہوتا لیکن وہ مصلحت اتنی تیزی سے عمل میں آتی ہے کہ اس کے شعوری ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔یہ سب شاعر کی ذہنی کار کر دگیوں اور اس کی ذہنی اپج کی قوت کا کمال ہے اور اسی سے کسی شاعر کے اعلی و ادنی ہونے میں تمیز کیا جا سکتا ہے ۔اسید صاحب کے ذہن پرخیالات کا بہت تیزی سے نزول ہوتا ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔بڑی بات یہ ہے کہ وہ اس آمد کو اسی سلیقے سے تر تیب دینے کے فن سے آشنا ہیں جس تیزی سے وہ خیالات ان پر اتر تے ہیں۔

یہ بات صرف ان کی نظموں ہی میں نہیں ہے ۔بلکہ دیگر اصناف میں بھی وہ اسی قدرت کے ساتھ شعر کہتے ہیں ۔زندگی نے اسید صاحب کا ساتھ بہت جلد چھوڑ دیا ورنہ مجھے یقین تھا کہ ایک نہ ایک روز اسید صاحب اس فن کے لئے بھی وقت نکالیں گے اور کسے معلوم کتنے اشعار وہ روز کہتے ہوں جسے یہاں وہاں لکھ کر چھوڑ گئے ہوں یا صرف ذہن میں ان اشعار کا نقش محفوظ ہو جو صاحب ذہن کے ساتھ ہمیشہ کے لئے ہم سے دور ہو گیا ۔میں اوپر گنوا چکا ہوں کہ ان کا کتنا کلام مجھ تک پہنچا ہے ۔لیکن اس قلیل عرصے میں وہ تین اصناف پر طبع آزمائی کر چکے تھے اور ان تینوں اصناف کے ذریعے با مقصد اشعار کا انتخاب ہم تک منتقل کیا ۔اسید صاحب کو غزل سے بھی لگاؤ تھا لیکن صرف ایسی غزل جو فنی اعتبار سے مکمل ہو ۔انھیں اپنے سے پیشتر شعرا میں احمد فراز کی بعض غزلوں نے متا ثر کیا جس میں سے احمد فراز کی ایک مشہور غزل کی ردیف پر انھوں نے چند نعتیہ اشعار کہے اس میں سے دو شعر ملاحظہ کیجئے:

خرام ناز پہ نبض جہاں ٹھہرتی ہے
فرشتے عرش کے پہلو بدل کے دیکھتے ہیں
وہ بخش دیتے ہیں قدموں پہ گرنے والوں کو
سو ہم بھی قدموں پہ ان کے مچل کے دیکھتے ہیں

یہ اشعاراس بات کا ثبوت ہیں کہ اسید صاحب کو نعت و منقبت سے جو لگاو تھا وہ دیگر اصناف سے نہ تھا۔ایک اور منقبت جو ’استمداد بحضور غوث الثقلین‘کے عنوان سے انھوں نے کہی ہے اس میں ایک مقام پر اپنے چار مصروں کے ساتھ شاہ حمزہ عینی مارہروی کے مشہور شعر کی جو تضمین کی ہے وہ اس خیال کو تقوت پہنچاتی ہے۔اشعار دیکھئے:

تو بھی گر چاہتا ہے غم کا مداوا یوں کر
ایک جملے میں علاج غم فردا یوں کر
دل بیمار کو اک آن میں اچھا یوں کر
آ در غوث پہ اور عرض تمنا یوں کر
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلہ جاں مددے کعبہ ایماں مددے

اسید الحق قادری کا شعر مزاج ان کے آباو اجداد کی شاعری سے ملتا جلتا ہے ۔وہ اپنے خاندانی بزرگ شعرا کے شعری اسلوب سے ہم آہنگی کو اپنے لئے باعث افتخارسمجھتے ہیں جس کا اعتراف انھوں نے اپنی ایک نظم ’میں اپنی عظمت رفتہ تلاش کرتا ہوں‘ میں کیا ہے ۔یہ بات صرف شعر و شاعری کی حد تک محدود نہیں ۔بلکہ جملہ اوصاف کو وہ اپنے خانوادے سے اخذ کرنا چاہتے ہیں اور عادات و اطوار سے لے کر علوم و فنون تک ہر ایک چیز کے لئے دست بہ دعا ہیں کہ اپنے اکابرین سے کچھ حصہ ان کو بھی نصیب ہو ۔مذکورہ نظم کو پڑھتے وقت ایسا لگتا ہے کہ شاعر کی پر ورش جس ماحول میں ہوئی ہے اس نے شاعر کو اس بات کا احساس دلا دیا ہے کہ یہاں زندگی کو آراستہ و پیراستہ کر نے کی ہر شئے موجود ہے ۔بس ان اوصاف کو اپنے باطن میں روشن کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک با وقار اور پر سکون زندگی حاصل کی جا سکتی ہے ۔لیکن یہ ان کی حقیقت پسندی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے او صاف حمیدہ کو اپنے اندر جتنا بھی پاتے ہیں وہ نا کے برابر ہے ۔انھیں کسی طرح کی خوش فہمی نہیں ہے کہ نسل در نسل وہ اوصاف سب میں منتقل ہوتے چلے گئے ہیں ۔بلکہ وہ اسے انفرادی ارتقا کے زمرے میں شمار کرتے ہیں ۔انھیں اطمنا ن ہے کہ ان اوصاف سے جس طرح ان کے دیگر اہلہ خانہ متصف ہیں وہ بھی ایک دن اپنی کوشش سے ان اوصاف کو خود میں روشن کر لیں گے ۔یہ حقیقت پسندی ہی انھیں دوسروں سے الگ کرتی ہے ۔اس نظم کا پہلا قطع دیکھئے جس میں وہ کس امید اوربھروسے کے ساتھ ان چیزوں کو تلاش کر رہے ہیں جو ان کے خون میں شامل ہیں۔

میں تیز دھوپ میں سایہ تلاش کرتا ہوں
سیاہ شب میں اجالا تلاش کرتا ہوں
نشان پائے مسیحا تلاش کرتا ہوں
ہلال عید تمنا تلاش کرتا ہوں
میں زندگی کا قرینہ تلاش کرتا ہوں
میں اپنی عظمت رفتہ تلاش کرتا ہوں

دیکھئے کہ شاعر کسی باہری دنیا سے کچھ حاصل کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کر رہا ہے اور اسے اس بات کا بھر پور احساس ہے کہ جو عظمت اور جو زندگی کا قرینہ اسے تلاش کرنا ہے وہ اس کا اپنا اثاثہ ہے۔ یہ اظہار ہمیں دھوکے میں ڈال سکتا ہے لیکن یہ کمال شعر ہے کہ ایک ہی مصرعے میں شاعر اپنی اس شئے کو تلاش کرنے کی بات کر رہا ہے جو خود اس کی اپنی ہے ۔ظاہر ہے کہ عظمت رفتہ کوئی لکڑی کا کھلونا نہیں ہے نہ ہی کوئی ایسی چیز ہے جسے کوئی چرا سکے ۔وہ تو صرف ایک احساس ہے جو رد عمل کی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے ۔جس کا حصول شاعر کو ان اعمال کی طر ف ڈھکیل رہا ہے جہاں اسے اپنے مقصد میں کامیابی مل سکتی ہے ۔ایک بات اور غور طلب ہے کہ شاعر کو اس بات کا شکوہ نہیں ہے کہ وہ اپنی بے تو جہی کی وجہہ سے اس عظمت کو کھو چکا ہے بلکہ اسے اس یہ خیال پر یشان کر رہا ہے کہ یہی وہ عمر ہے جس عمر میں اپنے اجداد کے ورثے کو خود میں منتقل کیا جا سکتا ہے ۔یہی وہ زمانہ ہے جس زمانے میں اپنے مشاہدات اور مجاہدات سے اس عظمت کے حصول کی طرف قدم بڑھا یا جا سکتا ہے ۔جس میں سخاو ت عثمان ،حضور غوث کے فیضان،معین حق کے قلم دان ،جناب شیخ کے دامان اور نگاہ مقتد آقاوغیرہ جیسی بیش قیمتی اشیاء محفوظ ہیں ۔جو اس بات کی منتظر ہیں کہ ان کا وارث انھیں حاصل کر کے زمانے میں اپنی مثال قائم کرے۔اسید صاحب کی شاعری اتنی جذباتی اور معنی خیز ہے کہ اس پر سیر حاصل گفتگو کی جاسکتی ہے ۔اس کم سے کم کلام میں اتنے سر چشمے پو شیدہ ہیں جو ایک متلاشی کو حیران کر دیں گے ۔ اسیدصاحب ایسے شاعر نہیں ہیں جن کی شاعری سے صرف محظوظ ہوا جا سکے یا کسی نوع کی ذہنی آسودگی حاصل کی جاسکے بلکہ ان کے اشعار ذہن کو سوتے سے جگاتے ہیں ۔فکر کی دعوت دیتے ہیں ،جھنجھوڑتے ہیں اور اپنے مقصد زندگی کی طرف مائل کرتے ہیں ۔ان کے کلام سے ایسے لوگ ہر گز محظوظ نہیں ہو سکتے جو شاعری کو صرف تفنن طبع کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس کے بر عکس ان کی شاعری کو ایسے اشخاص اپنی پلکوں پر اٹھا تے پھریں گے جو بامقصد زندگی گزارنہ چاہتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے اشعار کا بغور مطالعہ کیا جائے ان کی زندگی کے ہر ہر پہلو سے آشنا ہوا جائے۔ اس عہد میں انفرادیت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے لہٰذا انفرادی سطح پر اپنے اعمال کا احتساب کرنے والوں اور اجتماعی سطح پر ایک متحرک کی مانند اپنے مزاج کو تشکیل دینے والوں کے نزدیک اس طرح کی شاعری اہم قرار پاتی ہے ۔اپنی ایک چھوٹی سی نظم ’دوستی کا ہاتھ ‘ میں جو پیغام انھوں نے دیا ہے وہ اس بات کا ضامن ہے کہ ایسی شاعری بہت کار آمد ثابت ہو سکتی ہے جو تالیف قلب کا کام انجام دے ۔احمد فراز کے شعر پر ختم ہونے والی اس نظم میں شاعر نے جس اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ایک بڑے ذہن کی علامت ہے ۔ یہاں نظم کے اقتباس سے بات سمجھ میں نہیں آئے گی لہٰذا پوری نظم ملاحظہ فرمائیں:

مرے عزیز مرے دوست میرے ہم سایہ
ہمارے بیچ جدائی کو اک صدی گذری
نہ تم کو مجھ پہ بھروسہ نہ مجھ کو تم پہ یقیں
اسی نفاق و عداوت میں زندگی گذری
وہ جس کا نقشے کف پا ہمارے سینے میں
اسی کی یاد سے آباد تیرا سینہ ہے
وہ جس کے فیض سے ہم نے بلندیاں پائیں
اسی کا نام مبارک ترا وظیفہ ہے
ہماری کشت پہ برسا ہے جو سحاب کرم
اسی کے فیض کی بارش تمھارے آنگن میں
وہ جس کی بو سے معطر مشام جاں ہے مرا
اسی گلاب کی رنگت تمہارے گلشن میں
وہ بادہ خانہ جہاں ہم نے مئے گساری کی
شراب تم بھی اسی میکدے کی پیتے ہو
ہے جس نگاہ کی مستی ہماری آنکھوں میں
اسی نگاہ سے مخمور تم بھی رہتے ہو
جو عندلیب مرے باغ میں چہکتا ہے
اسی کی نغمہ سرائی ترے گلستاں میں
وہ شمع جس سے منور ہے طاق دل میری
سی کی ضو سے اجالا ترے شبستاں میں
وہ بجلیاں جو مرے آشیاں کو تکتی ہیں
وہی حریف تمہارے نگار خانے کی
تمہارا گلشن صد رنگ جس کی زد پر ہے
وہی خزا ہے عدو میرے آشیانے کی
غرض کہ فرق نہیں کوئی ہم میں بنیادی
نہ فکر میں نہ عقیدے نہ دین و مذہب میں
نہ اختلاف خیالات کا نہ مسلک کا
نہ کوئی فرق ہمارے تمہارے مشرب میں
اگر یہ سچ ہے تو اے محترم حریف مرے
کوئی جواز نہیں ہم میں دشمنی کے لئے
’اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لئے‘

میں اس بات سے آشنا ہوں کہ اسید صاحب نے کس اعلی ظرفی کا مظاہرہ اس نظم میں کیا ہے لیکن پھر بھی اس کے اظہار سے پیغام کو محدود نہیں کرنا چاہتا ۔یہ نظم ہر اس شحص ہر اس جماعت اور ہر اس ملک کے لئے سبق آموز ہے جو کسی بھی قسم کی عداوت اور نفاق میں مبتلہ رہتاہے اور صرف اپنی انا کی بنیاد پر اس لڑائی کو نسل در نسل منتقل کرتاچلا جاتا ہے ۔یہ آفاقی تناظر اور آسان زبان میں کہی گئی ایک ایسی نظم ہے جس سے ہر رنگ و نسل کے اذہان مستفید ہو سکتے ہیں ۔ایک بات اور غور طلب ہے کہ جس شخص کو کسی طرح کا سبق حاصل کرنا ہے یا اپنی زندگی کو کسی اصول سے مزین کرنا ہے تو اس کے لئے ایک واقعہ ہی کافی ہے اور جسے کسی طرح کی نصیحت درکار نہیں اس کے لئے پند و نصح کی تمام کتب بیکار محض ہیں۔اسید صاحب کی اس نظم سے جن لوگوں کو سبق حاصل کرنا ہے وہ کر لیں گے اور جنہیں نہیں کرنا وہ صرف اسے تنقید کا نشانہ بنا کر آگے بڑھ جائیں گے۔

(۲)

میر نے ہر صنف میں شعر کہے ہیں ۔اس لئے بھی انھیں اردو کا بڑا شاعر تسلیم کیا جاتا ہے ۔لیکن جن شعرا کے یہاں اس احتمام کا فقدان ہے ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کی عظمت پو شیدہ ہے ۔ ایسے شاعر اپنی اسی صنف کے حوالے سے مشہور ہوئے ہیں جس میں انھوں نے کمال دکھایا ۔مثلاً انیس کو دنیا مرثیے کے حوالے سے جانتی ہے۔سوداؔ کوقصائد کے حوالے سے میر حسن ؔ کو مثنوی کے حوالے سے اورامجد حیدرآبادی کا رباعی کی وجہ سے۔یہ بات الگ ہے کہ ان شعرا نے من جملہ نہ سہی دیگر کچھ اور اصناف میں بھی اشعار کہے ہیں لیکن یہ تمام شعرا کسی ایک صنف کے حوالے سے زیادہ مقبول ہیں ۔میرؔ نے بھی اپنی غزل کے ذریعے جو شہرت حاصل کی وہ دوسری اصناف سے انھیں حاصل نہ ہو سکی ۔لیکن نعت اور منقبت میں اس قد کے شعرا بہت کم نظر آتے ہیں۔نعت کے حوالے سے اگر محسنؔ کاکوروی کو اردو ادب کی تاریخ سے نکال دیا جائے تو ہمارے لئے دوسرا نام تلاش کرنامشکل ہو جائے گا۔اس کی کیا وجوہات ہیں اس سے قطع نظر یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو شاعری محسن کاکوروی کو چھوڑ کر حمد و نعت و منقبت کے حوالے سے ہوئی ہے اوربہت! اور بہت اچھی ہوئی ہے۔جس کا مطالعہ کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ جس طرح عشق کے حقیقی جذبے کے بنا غزل اور قصیدہ نہیں کہا جا سکتا اسی طرح حمد ،نعت اور منقبت بھی نہیں کہی جا سکتی ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ایک طرف عشق مجازی ہے تو دوسری طرف عشق حقیقی۔جب ہم غزل میں اس تخصیص کے قائل ہیں کہ مجازی کا اطلاق حقیقی کے معنی پر بھی کیا جا سکتا ہے تو جو اشعار کلیتاً اس بو قلمونی سے آراستہ ہیں ان کو اتنی اہمیت کیوں نہ دی جائے۔انسان کی ذہنی و دلی وابستگی جس شئے سے ہوتی ہے وہ اسی کی جانب مائل ہوتا ہے ۔ اسید الحق نے جو نعتیہ کلام اپنے پیچھے چھوڑا ہے وہ کسی طور ایک اچھے غزل گو یا ایک اچھے نظم نگار سے کم رتبہ نہیں ۔یہ ان کے رجحان کی بات ہے کہ انھوں نے اپنی صلاحیت کو ایک مقدس ہستی سے منسلک کیا اور اپنے اشعار میں ان کی مدح سرائی کو اپنے لئے بہتر جانا ں۔صرف اس لئے اگر کسی شاعر کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جائے کہ اس نے محدود دائرے میں رہ کر شعر کہے ہیں یا کسی فرد واحد سے منسلک ہو کر اس فن میں طبع آزمائی کی ہے تو دنیا کی کئی زبانوں میں ہونے والی شاعری کا ایک بڑا ذخیرہ بے کار ہو جائے گا جو اس انفرادیت کو ملحوظ رکھ کر کہا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے۔ ہر محدود نقطہ نظر میں اک آفاقیت پو شیدہ ہوتی ہے اور اسیدالحق عاصم القادری کی شاعری اسی آفاقیت کا خزینہ ہے ۔جو ایک محور تک محیط ہے لیکن اس احاطے میں ایسے مذہبی و ثقافتی اصول پوشیدہ ہیں جو انسانی زندگی میں بہت کار آمد ثابت ہوئے ہیں ۔ان کے چند نعتیہ اشعار ملا حظہ کیجئے ۔ان اشعار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسید الحق جیسے اذہان جس سمت اپنی فکر کو موڑ دیں وہاں کیا کیا گل کھلا سکتے ہیں:

رسول وہ جو رسولوں کا تاجدار ہوا
وہ جس کا ذکر دوائے دل فگار ہوا
رسول وہ جسے محبوب کردگار کہیں
رسول وہ جسے قدرت کا شاہ کار کہیں


جب تصور میں بسالیں آنکھیں
ساری دنیا سے اٹھالیں آنکھیں
خاک طیبہ ہے خبر دار قمر
اس کی آنکھوں میں جو ڈالی آنکھیں


سنا ہے لالہ طیبہ کی تازہ کاری کو
لباس گل سے شگوفے نکل کے دیکھتے ہیں
خرام ناز پہ نبض جہاں ٹھہرتی ہے
فرشتے عرش کے پہلو بدل کے دیکھتے ہیں


تابانی در عدن رخشانی لعل یمن
دندان انور کی ضیا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
تاج سر کسریٰ کہاں پیشانی زہرہ کہا
نعلین پاک مصطفی یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں


بصارت کر رہی ہو گی طواف گنبد خضرا
بصیرت کی جبیں پر عکس روئے مصطفی ہوگا
بوصری، جامعی و قدسی قصائد لکھ رہے ہوں گے
کوئی حسان نعت سرور دیں پڑھ رہا ہوگا

اسید صاحب اس میدان میں جس شاعر سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں وہ امام احمد رضا خاں بریلوی کی ذات ہے ۔اس کے علاوہ ان کی کل شاعری لہجے کے مطابق علامہ اقبال ؔ اور جوش ؔ سے قریب نظر آتی ہے۔ اس بات کو میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ اسید الحق جس عہد میں شعر کہہ رہے تھے وہ ان کا عہد طالب علمی تھا ۔اس عہد میں زیادہ تر لوگ انھیں شعرا سے متاثر ہوتے ہیں ۔لہٰذا اسید صاحب بھی اسی رنگ میں شعر کہتے نظر آتے ہیں ۔لیکن یہ اشعار تجرباتی نوعیت کے ہیں پھر بھی ان میں اتنا بلند آہنگ پایا جاتا ہے۔ اگر وہ مسلسل شعر کہتے رہتے تو یقیناًاپنے عہد کے بڑے شعرا میں ان کا شمار ہوتا۔

اخیر میں اس بات کا اظہار کرنا بھی میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اسید الحق جتنے اچھے شاعر تھے اس سے کہیں زیادہ اچھے انسان تھے ۔اچھا شعر کہنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا ایک اچھا انسان کہلانا ہے ۔اسید الحق صاحب نے جیسے اشعار کہہ ویسے یا اس سے بہتر اشعار کہے جا سکتے ہیں میرا طلسم اس دن ٹوٹے گا جس دن میں ان سے بہتر انسان دیکھوں گا۔

Categories
نقطۂ نظر

میں گہری مایوسی میں ہوں

ایسا کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔یہ کوئی طے شدہ معاملہ نہیں ہے۔ یعنی کھاتے وقت، کہیں سفر کے دوران، اپنے بستر پر آرام کرتے وقت یا ان احباب کے بیچ جن کے ساتھ میں زور زور سے ٹھٹھے مار کر ہنس رہا ہوتا ہوں ۔ میری مایوسی ایک عجیب و غریب سرور کی طرح ہے، جو ایک لذت کی طرح مجھ پر اترنا شروع ہوتی ہے۔ مجھے بہت اہم چیزوں سے یا اپنے آس پاس کے ان کار آمد اشخاص سے انجان کرنے لگتی ہے اور پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ میں جو کہ محفل میں شان جمانے میں ماہر ہوں، لوگوں کے لبوں پر ہنسی بکھیرنے میں مشاق بس ایک طرح کے اندھیر ے میں اترتا چلاتا جاتا ہوں۔ اس کو دو اور دو چار کی طرح بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن یہ کچھ ایسی غائب شئے بھی نہیں جس کا ادراک مشکل ہو۔ میں نے گھنٹوں ، نہیں! بلکہ دنوں ، ہفتوں اور مہینوں اس پر غور کیا ہے۔ آپ نے سورج دیکھا ہے۔ یہ مایوسی بالکل سورج کی مانند ہے۔ وہ شباب کے وقت کا سورج ۔ مثلا! ً یہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ میں !بارہ بجے دن کے کسی کو سورج کی طرف دیکھ کر یا دکھا کر یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ موجود ہے۔ کیوں کہ اس کے ہونے کا اثبات اتنا شدید ہے کہ مجھے اس عمل سے گزرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ بس سب اچانک یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ سورج ہے۔ اسی طرح ،بالکل اسی شکل میں، میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہنستے بولتے، لڑتے لڑاتے، کھیلتے گاتے مایوس ہو جاتا ہوں۔ پھر وہ مجھ سے یہ نہیں پوچھتے کہ تم مایوس ہو۔ بس انہیں محسوس ہو جاتا ہے۔ میں اس معاملے میں بھی اللہ جانے کس مخلوق پر پڑا ہوں کہ اپنی مایوسی کے اثبات سے اپنے اطراف کے لوگوں کو نا بلد نہیں رکھ پاتا۔ مجھے اس کا کچھ خاص قلق نہیں ،مگر کسی شاعر کا شعر پڑھا تھا جس کا مفہوم کچھ یہ تھا کہ اگر تم نے اپنی مایوسی کو لوگوں پر ظاہر کر دیا تو یقین جانو کہ تم مایوس ہونے کا بس ڈھونگ کر رہے ہو۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ ایک پیچیدہ سوال ۔ کیا کوئی مایوس ہونے کا ڈھونگ کر سکتا ہے؟ بھلا اس میں بھی کسی نوع کی کامیابی ہے؟ یہ تو بس زندگی کا ایک پژمردہ احساس ہی ہو سکتا ہے کہ انسان مایوس ہو جائے۔ نہ اس کی کوئی قواعد ہے اور نہ اس کے ظہور کی کوئی نشانی اور پھر اس سے انسانی مفاد کی کوئی لہر بھی تو وابستہ نظر نہیں آتی۔ پھر اس میں ڈھونگ کا سوال چہ معنی دارد۔ عین ممکن ہے ڈھونگ ہی ہوتا ہو۔ انسان جو خود اپنے عرفان سے نا بلد ہے اس کو کسی بھی شئے کے ڈھونگ ہونے میں کچھ کلام نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ جانے کسی دن کوئی آسمانی ندا آ جائے اور ہم سب کو جو ایک دوسرے کو بہت رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ایک دوسرے سے جلتے، لڑتے اور ایک دوسرے پر قابض ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، معلوم ہو کہ ہم تو ہم ہیں ہی نہیں بلکہ ایک نوع کا ڈھونگ ہیں ۔بہر کیف اگر میں اپنی مایوسی کو ایسا کوئی لفظ سمجھ بھی لوں تو کیا اس سے اضمحلال کا اثر جاتا رہے گا۔ میری مایوسی بعض اوقات بہت بڑھ جاتی ہے۔ اتنی کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح، بس کسی طرح اس کا گلا گھونٹ دوں، پھر خواہ اس کے لیے مجھے کوئی غیر فطری عمل ہی کیوں نہ کرنا پڑے یا کسی مضحکہ خیز صورت حال سے ہی کیوں نہ گزرنا پڑے۔ مگر اس کا فوت ہونا شرط ہے۔ مجھے گناہوں سے مایوسی کا علاج معلوم ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ایک عدد گناہ جس کو میرا اطراف یا وہ ضمیر کی آواز جس سے میں اکثر اپنی آنکھیں چراتا ہوں وہ منٹوں ، سکنڈوں میں میری مایوسی کا علاج کر دے گی۔ جز وقتی ہی سہی اور جز وقتی میں ایسی کچھ قباہت بھی تو نہیں کہ مایوسی تو خود جز وقتی ہے۔ یہ تو ابھی گہری ہو رہی ہے۔ گہری ،پھری مزید گہری اور پھر مزید گہری۔مجھے بازار میں بھی وحشت ہو سکتی ہے اور تنہائی میں بھی ۔محبوب کے پہلو میں بھی اور وصل کے عین عالم شباب پر بھی۔ کوئی ایسا لمحہ نہیں جو اس کمبخت روگ سے بچا ہوا ہو۔ دس برس قبل یہ صرف راتوں میں اس وقت ہوا کرتی تھی جب میں ایک حرارت مائل سفید پانی سے شرمندہ ہو جاتا تھا۔ پھر ان لمحوں میں بھی ہونے لگی جب شام کے وقت کوئی چھت پر شور مچائے اور میں اپنے گھر کے باہری کمرے میں آرام سے ٹی وی نہ دیکھ پاوں۔ اس وقت تک میری مایوسی کے اسباب تھے اور میں اس صورت حال سے اتنا ناخوش بھی نہیں تھا کہ اس کی وجہ سے واقف تھا۔ مگر پھر دس برس انہیں الجھنوں اور وجوہات کے جھگڑوں میں گزر گئے۔ایک روز جب میں اپنے بھائی کے چشمے کا یا شائد وہ میرا اپنا ہی چشمہ تھا اس کا ٹوٹا ہوا کانچ لگوا رہا تھا کہ اس نے، مایوسی نے ،بے وقت حملہ بولا۔ میں حیران ہوا، پھر خوش ہوا اور پھر مزید حیران ہوا۔ اس روز سے ایسا کئی بار ہوا۔ یہ سلسلہ راتوں کی نیندوں سے بھاگنے کا ایک بہانا بھی بننے لگا۔ پھر لوگوں کے درمیان مذاق بننے کا۔ پھر معاشرے سے کٹنے کا، پھر اپنے اندر سے بھاگ کر کہیں تاریکی میں چھ جانے کا۔ مذہب نے میری اس مایوسی کو ابھارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ بات کسی کو سمجھ میں نہ آئے لیکن اگر کسی دن دنیا میں یہ خبر عام ہو جائے کہ کشمیر اور فلسطین ان دونوں نے ایک ساتھ اپنی ہار تسلیم کر لی ہے تو شائد میری مایوسی میں کچھ کمی آ جائے۔ یا اگر کسی صبح میری آنکھ کھلے اور مجھے یہ معلوم ہوکہ دنیا بھر کے تمام یہودیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو بھی ممکن ہے اس مایوسی کا کچھ علاج ہو جائے۔ایسے ہزاروں چٹکلے ہیں۔ اسی طرح جس طرح ہم سائنس کے آئے دن نئے نئے چٹکلے سنتے رہتے ہیں۔ میں ان چٹکلوں کو اپنی مایوسی کا ایک چھوٹا علاج ہی تصور کرتا ہوں۔ انسان بھی بڑا حمق ہے اسے اس بات کو جاننے میں زیادہ دلچسپی ہے کہ اس کے اعتراف کی کہکشاوں میں دنیائیں آباد ہیں کہ نہیں جبکہ وہ اپنی دنیا سے خود اتنا اکتایا اور گھبرایا ہوا ہے کہ اس کا بس چلے تو اسے کسی بلیک ہول کی نذر کر دے۔ میں اللہ سےیا رسول سےمایوس نہیں میں ان کے ماننے والوں سے مایوس ہوں۔ شنکر اور ہنومان سے سے نہیں بلکہ ان کے نام پر لوگوں کو ہتھیار بنانے والوں سے مایوس ہوں۔ اچھی کہانیاں نہ پڑھنے والوں سے اور برے شعروں پر داد دینے والوں سے۔ میں ہر اس شخص سے مایوس ہوں جو بنا سوچے سمجھے اور بنا اپنے آپ کو جانے جیتا چلا جا رہا ہے اور ان سے بھی جو اپنے آپ کو جاننے اور جنوانے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔میری ایک دوست ہے، چھوٹا قد ، سانولارنگ، بھدی شکل صورت اور بد صورت چال چلن والی۔ مگر میں اس کی قدر کرتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ وہ میری مایوسی کی طرح اس دنیا میں بے معنی ہے،بلکہ اس لیے کہ وہ خود سے مایوس نہیں۔ خوش ہے۔ ایک غیر مانوس اور انجان چیزوں سے ہی صحیح مگر خوش۔ اس کو کسی چیز سے کچھ شکائت نہیں۔ وہ ہنستی ہے۔ کھلکھلا کے اور بعض اوقات گاتی بھی ہےجیسے کوئی پوکیوپائن چیخ چیخ کر نکی مناج کی پال البم گا رہا ہو اور بلا وجہ ناچ بھی لیتی ہے۔ مایوس نہیں نظر آتی ۔ پھر میں اس کو خود سے بہتر مان لیتا ہوں اور مزید مایوس ہو جاتا ہوں۔ میں کسی ایک خاص وجہ سے مایوس نہیں بس مایوس ہوں۔ خود سے اپنے اطراف سے۔ دنیا سےاس کو بگاڑنے والوں سے ہر اس شخص سے جو مر رہا ہے اور ہر انسان سے جو پیدا ہونے کوشش میں لگا ہے۔ ان سب کی وجہ سے میں مایوسی میں ہو۔گہری اور تیزی ہوتی ہوئی مایوسی میں۔
Image: Edward Munch

Categories
نان فکشن

نئے ذہنوں کو خوش آمدید

نئےذہن کسی بھی تہذیب، زبان اور ادب کے لیے بہت اہم  سرمایہ ہوتے ہیں، جس سرمائے کی قدر ہر وہ شخص کرتا ہے جو ان کی اہمیت کو جانتا ہے اور ان کے ذریعے وجود میں آنے والے نئے انقلابات کی آہٹ کو بہت پہلے سن لیتا ہے ۔ جو قوم اور تہذیب اپنے نئے لوگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔اس کے برعکس جن اقوام میں نئے اذہان کی خوش آمدید کا ماحول نہیں ہوتا وہ کبھی کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے پاتیں ۔ نیا ذہن ایک نعمت سے کسی طور کم نہیں ہوتا جس میں ہزاروں ،لاکھوں طرح کی نئی روشنیوں کو اخذ کرنے  کی طاقت ہوتی ہے۔ جس کی بنیاد پر وہ مستقبل کو ماضی سے بالکل جداگانہ انداز میں تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ نئے ذہن میں نئی امنگوں اور خواہشوں کا وفور ہوتا ہے اوروہ نئی بلندیوں کے تصور سے سجا ہوتاہے ۔ اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ زندگی کا نیا معمار بن سکے اور تہذیب کی بے معنی جدلیات کو ازکار رفتہ بنا کر حسن کی نئی کائنات کا تصور پیش کرسکے ۔ کسی بھی قوم اور تہذیب کا ہر نیا ذہن ایک نئے انقلاب کی پہلی آہٹ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی قدر کرنا اپنے آنے والے لمحات کو بہتر اور خوش حال بنانے کے مترادف ہے ۔ ادب، تاریخ ، سیاست ، فنون لطیفہ، زبان اور مذہب زندگی کے ان تمام شعبوں میں نیا ذہن ہی نئی وسعتیں اور نئے راستے بناتا ہے۔ جس کے ہاتھ میں پرانے آلات کا ہنر مند ہتھیار بھی ہوتا ہے اور سوچنے کے لیے امید سے زیادہ رنگین دماغ  بھی،جس کی بنیاد پر وہ ان چاہی خواہشوں کے فراق میں ایک نیا منظر تراشتا ہے۔

نئے ذہن کا استقبال دنیا کو نئی راحتوں کا معیار بخشتا ہے۔اس کے تانوں بابوں کو بنتا ہے اور اس کی افشاں کو آسمان میں بکھیرتا ہے۔ نیا ذہن تعصبات کے پیمانوں سے خالی ہوتا ہے اور ماضی کے گدلے پانی سے پاک ۔ اس میں سڑے ہوئے بوسیدہ خیالات کی بساند نہیں ہوتی اور فرسودہ روایات کا جالا نہیں لگا ہوتا ۔ لہذا وہ نئی اور غیر جانب دار آنکھ سے دنیا کو دیکھتا ہے اور اپنے  چاروں جانب لطیف آب و ہوا کا تصور باندھ کر اس سے ایک حسین کائنات بنانے کا ہنر رکھتا ہے ۔ نیاذہن پرانے اذہان سے ہر طور بہتر ہوتا ہے ، اس لیے بھی کہ اس میں پرانے کی طرح کے مادی تصورات کا غلبہ نہیں ہوتا ۔ وہ چیزوں کو اور خیالات کو ، سچ اور جھوٹ، اچھائی اور برائی کے دو دو خانوں میں تقسیم کرنے کا مجاز نہیں ہوتا ۔ نیا ذہن ایک ستھرا، نور کا پیکر ہوتا ہے، جس میں پرانے الفاظ و نظریات کی کجی کی نہیں ہوتی ۔جس کے باعث وہ ایک ایسی دیوار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو سیدھی ہو اور ثریا تک جا سکے۔

نئے ذہن کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ چیزوں کو الٹ کر دیکھنے کا ہنر جانتا ہے ۔ اس میں سیدھے اور الٹے کے کوئی واضح پیمانے نہیں ہوتے ۔وہ تصویر کے ایک رخ کو اس کا اول اور دوسرے کو اس کا آخر نہیں گردانتا ، وہ بہتا ہے اس سیال کی طرح جو ہر طرف سے چاروں جانب بہہ رہا ہے ، کسی سمت کا تعین اور کسی معراج کا خواب اس کے یہاں نہیں ہوتا ۔ وہ خوش اور صحت مند حالت میں سفر کرتا ہے، جس سے کسی طرح کے خطرے اور بیمار تصور کے جنم لینے کا خدشہ نہیں ہوتا ۔ نیا ذہن لفظوں کی ترتیب اور خیالات کی تعظیم سے معرا ہوتا ہے ۔ اس کے یہاں اصول کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ،کسی دوڑ کا کوئی تصور نہیں ہوتا ،اس کے باطن سے ظاہر تک ایک طرح کا اجلا عکس جاری رہتا ہے جس میں بہت سی چیزیں اپنی دلچسپیوں اور تازگیوں کے ساتھ زندہ رہتی ہیں ۔ ان میں بیمار اور تہذیب و لسان کی سطح پر اکھڑے اور اڑے ہوئے نظریات کا گز ر نہیں ہوتا۔ وہ چیزوں کو جوڑ توڑ کر ان میں زندہ رہنے اور رحم و امن کے ساتھ زندہ رہنے والےوسیلے تلاش کرنا جانتا ہے۔نئے ذہنوں کو خوش آمدید کہنے میں ہمیں اس لیے بھی خوش اسلوبی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیوں کہ ان میں کوئی ذاتی یا الہامی دوئی نہیں پائی جاتی۔ ان کے ہونے کے تصور کو مزید مستحکم کرنے میں ہمیں یوں بھی کوشاں ہونا چاہیے کہ نیاذہن ان چاہی تبدیلیوں کو مرقع ہوتا ہے ۔

نئے ذہنوں میں دنیا اور کائنات کے نئے تصورات ہوتے ہیں، پھر خواہ وہ کتنے ہی نا قابل قبول معلوم ہوں مگروہ پرانے سے ہزار گنا بہتر ہوتے ہیں ۔ نئے ذہن کی جس نا تجربے کاری کو ہم اس کا سقم سمجھتے ہیں وہ ہی اس کا سب سے بڑا مثبت نکتہ ہے ۔ جو آسمان کو آسمان اور زمین کو زمین نہیں سمجھتا ۔ جو سورج کو صرف آگ پھینکے والا گولا اور زندگی کو قائم رکھنے والا خدا نہیں سمجھتا  جو بارش کو صرف ایک طرح کا موسماتی عمل نہیں جانتا اور جو سردی ،گرمی ،بہار اور خزاں کو چند دنوں اور مہینوں تک محدود رکھنے والا کوئی قدرتی کھیل نہیں جانتا۔ نیا ذہن مشرق اور مغرب کے جھگڑوں سے اور ماکس اور موسی کی حکایات سے افضل ہوتا ہے ۔ اس میں اللہ ،رسول کے ناصحانہ تصورات کی بھیڑ نہیں ہوتی یا معاشی ، اقتصادی اور سماجیاتی تفریقات کا طے شدہ نظام نہیں پایا جاتا ۔ وہ سرحد سے پاک اور تصنعات سے جدا ہوتا ہے ۔ جس کی معصوم ہنسی اور عیار مسکراہٹ میں دنیا کو نئے سرے سے سجانے کی صلاحیت چھپی ہوتی ہے ۔ نئے ذہن کی خوشی اور اس کا استعجاب ہی اس کا سب سے اہم پہلو ہے جس میں حیرتوں کا ٹھاٹھے مارتا سمندر موجزن ہوتا ہے اور جو کہیں اور کسی بھی ساحل کو اپنا کنارہ تصور کر کے اس کی ریت کو نم کردینااپنا فرض سمجھتا ہے ۔ نیا ذہن نئی قدر اور نئی فضا کے ساتھ جنم لیتا ہے۔ اس کا استقبال نئی رسموں ، رواجوں ، مذہبوں ، تہذیبوں، زبانوں اور خیالوں سے زیادہ پرتپاک انداز میں کیا جانا چاہیے۔ ان کو مذہبوں اور زبانوں کی تقسیم میں بانٹنے کی جلدی میں خود کو ان کے آگے کسی دیوار کی طرح پیوست کرنے ے بجائے ان کی سادگی اور تازہ کاری سے خود کو صیقل کرنے کی سعی کرنا چاہیے ۔ نئے ذہنوں سے نئی روشنی حاصل کرنے کے لیے پرانے اذہان کو ان کے آگے پر امید نگاہوں سے تاکتے رہنا چاہیے۔ ان کے اذہان پر اپنی کائی زدہ فکر کو جمانے کے بجانے ان کے خیال کے پانی سے خود کے زنگ آلود نظریات کو صاف و شفاف کرنا چاہیے ۔ نیا ذہن نئی عمارت کی طرح اجلا اور با رونق ہوتا ہے جس کی دیواروں پر بوسیدہ اورر پرانے خیالات کی سیلن نہیں ہوتی ۔ جس پر جھوٹے رنگوں کا لیپ نہیں ہوتا۔ اس کا رنگ وہی ہوتا ہے جو اولین صورت میں قدرت  نے اسے عطاکیا ہوتا ہے ۔ وہ ان بوسیدہ عمارتوں کی مانند نہیں ہوتا جس پر عقائد ونظر یات کابدبودار روغن چڑھا ہوتا ہے اور جن کے منہ پہ وقت کی کھینچی ہوئی خراشوں کو چھپانے کے لیے مذہبی رسومات کا مسالا بھرا جاتا ہے۔نیا ذہن اس کچی مٹی کی طرح ہوتا ہے جس سے سوندھی سوندھی اور مدہوش کر دینے والی مہک اٹھتی رہتی ہے اور جس میں قبولیت کا ایسا لوچ پایا جاتا ہے کہ کسی حسین تصور کو قبول کرنے کے لیے اسےکسی کی اجازت نہیں لینی پڑتی ۔ نئے ذہن میں جوش جذبہ اور طمانیت تو ہوتی ہی ہے ساتھ ہی ساتھ اس میں انکسار ،حلم اورمحبوبیت بھی بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے ۔ نئے ذہن کا استقبال نئی قوموں اور نئے دنیاوں کے عروج کی موجب ہے ۔ ان کی تعظیم نئی کائنات  کےروشن نظاروں کی ضامن ہے۔ ہمیں نئے ذہن کا استقبال کرنا چاہئے اور اس  کی آمد کے جشن کو اپنی ذات کا مسئلہ تصور کرنا چاہیے۔

Categories
نان فکشن

میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں

ابھی بس ذہن میں ایک موہوم سا خاکہ ہے کہ مجھے کچھ لکھنا ہے۔ کیا؟ اس کا علم نہیں اور جہاں تک میں اپنے لکھنے کے مزاج سے واقف ہوں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ابھی بہت دیر تک مجھ پر یہ واضح نہیں ہو پائے گا کہ میں آخر کیا لکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ کون سی تحریک ہے جو مجھے اندر سے بار بار کچوکا لگاتی ہے کہ کچھ لکھو۔ ایسا ہر وقت تو نہیں مگر ہر اس وقت ہوتا ہے جب میں سنجیدگی سے کچھ پڑھنے بیٹھتا ہوں یا ان اوقات میں بھی جب میں تنہا ایک کونے میں پڑا اپنے پرانے احباب اور اطراف اور محبوباوں کے بارے میں سوچا کرتا ہوں۔ کچھ لکھنے کا عمل میرے لیے بہت زیادہ لطف اندوز ہوتا ہے ایسا کہ مجھے اس میں وصل کی سی لذت محسوس ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے وصل کا مزا نہیں چکھا ہے وہ اس سوندھی خوشبو کے سونگھنے سے بھی اس لذت کے متعلق جان سکتے ہیں جو کچی مٹی پر پانی کے پڑنے سے اٹھتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کچھ زیادہ الجھی ہوئی تعبیر ہو لیکن مجھے اس وقت اس سے بہتر تعبیر یاد نہیں آتی۔ کچھ لکھنے سے مجھے ایک قسم کی تقویت ملتی ہے، خواہ وہ کچھ بھی ہو۔ اب اس کے معنی یہ نہیں کہ میں کسی دکان دار کا کھاتا لکھنے میں بھی تقویت ہی محسوس کروں گا۔ میری مراد کچھ ایسا لکھنے سے ہے جو میرے ماضی، میرے تعلیمی رشتے یا روحانی تجربے سے جڑا ہو ۔کسی پر تنقید یا تحقیق لکھنے میں بھی مجھے کچھ خاص لطف نہیں آتا۔ مگر میں یہ بھی ٹھیک ٹھیک نہیں بتا سکتا کہ کیا کیا لکھنا مجھے پسند ہے ۔ میرے ذہن میں ہزاروں چیزیں چلتی ہیں ، ہر وقت اور میں ان میں سے اپنے مضامین یا اپنے لکھنے کے موضوعات کو چنتا رہتا ہوں۔ بہت سے موضوعات میرے ذہن سے مہینوں چمٹے رہتے ہیں مگر میں ان پر نہیں لکھ پاتا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں خود کو ان موضوعات کے قابل جان کر بھی ان پر لکھنے سے گریز کرتا رہتا ہوں یا پھر یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ لکھنے کے عین وقت وہ موضوعات خود مجھ سے کہیں دور چلے جاتے ہیں ۔جن موضوعات سے مجھے عشق ہے میں ان پر بھی نہیں لکھ پاتا۔ میں لکھنے کے لیے اکثر خود کو تیار رکھتا ہوں اور کچھ لکھنے کی خواہش میں ان موضوعات تک پہ لکھ جاتا ہوں جو میری دانست میں ابھی لکھے جانے کے لیے مزید وقت چاہتے تھے۔ مگر میں ان سے لکھنے کے دوران ایسے چمٹا رہتا ہوں جیسے میں ان کے ساتھ وصل کی حالت میں ہوں۔ لکھنا میرے لیے ایک طرح کی غذا ہے اور میں اس کو اپنے لیے ناگزیر تصور کرتا ہوں حالاں کہ مجھے اپنے اطراف میں کئی لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو مجھ سے بہتر لکھتے ہیں یا مجھ سے بہتر لکھنے کے متعلق جانتے ہیں مگر لکھتے وقت میں اپنے ان تمام احباب سے نہ خائف ہوتا ہوں اور نہ ان سے کسی اثر کے قبول کرنے کا خواہش مند۔ میں اپنے ذہن پر لکھنے کے اوقات میں بس ایک روحانی اثر محسوس کرتا ہوں اور اس کے زیر اثر لکھتا چلا جاتا ہوں۔

ادھوری تحریر لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے میں جتنا لکھتا ہوں یا پھر یہ کہوں کہ جتنا لکھے کو ایک مکمل صورت عطا کرپاتا ہوں اس سے پچاس گنا زیادہ میں ایسی ادھوری تحریریں لکھتا ہوں جن میں نہ میرا کوئی واضح موقف ہوتا ہے اور نہ داخلی اظہار۔ ان تحریروں کو میں لکھ کر کاٹتا نہیں بلکہ ایک خالی بکس میں بند کر دیتا ہوں۔ یہ خالی بکس میری ہزاروں نا مکمل تحریروں سے بھرا ہوا ہے جو مجھے مکمل تحریروں کے بالمقابل زیادہ لطف عطا کرتی ہیں۔ لکھنے کی خواہش میں میں اکثر موضوعات کا تعین کیے بنا ہی لکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور اکثر ایسی تحریریں بھی لکھ کر اٹھتا ہوں جو بلا سر ،پیر مکمل تحریر ہونے کا دعوی کرتی ہیں ۔ میں اپنے لکھنے سے کبھی بیزار نہیں ہوتا بلکہ اس کو میں اپنے لیے ایک قسم کا طلسم تصور کرتا ہوں جس کے کونوں میں میری روح کے ٹکڑے بکھرے ہوتے ہیں ۔ جب جب میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں تو میرے اندر سے ایک قسم کا اضمحلال جنم لیتا ہے ، ایسا کہ جس سے مجھے مسرت محسوس ہوتی ہے اور جب میں لکھنے کی شروعات کرتا ہوں تو دھیرے دھیرے میرا اضمحلال ایک قسم کی تازگی میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور جب مجھے اپنے لکھنے کے عمل سے اکتاہٹ یا بیزاری محسوس ہونے لگتی ہے یا میں کسی تحریر کو مکمل کر لیتا ہوں تو میں لکھنا فوری طور پر بند کر دیتا ہوں ۔ لکھنا میری ذات کا اسم اعظم ہے جس سے میں اپنا ادراک حاصل کرتا ہوں ۔ مجھے جب تک لکھنے کے عمل سے عشق نہیں ہوا تھا میں پڑھنے کے متعلق اسی قسم کے سحر میں گرفتار تھا مگر جب سے لکھنے کی عادت نے میرے بدن میں پیر پھیلائے ہیں میں لکھنے کو پڑھنے کی اگلی منزل سے تعبیر کرنے لگا ہوں۔

میں ہزاروں موضوعات پر لکھنا چاہتا ہوں ایسے موضوعات جو میرے ذہن کی سرنگوں میں کلبلا رہے ہیں، جن میں لاکھوں طرح کی رنگ برنگی روشن لکیریں ہیں ،جس میں سورج کے مانند حرارت ہے اور خواب کے مانند سحر انگیزی ۔ ایسے موضوعات مجھے مستقل اپنی جانب بلاتے ہیں اور میرے ذریعے صفحہ قرطاس پر بکھرنے کو بے چین رہتے ہیں ۔ لکھنا میرے لیے الہام نہیں نہ یہ کوئی وحی کی طرح کا غائب نکتہ ہے ،بلکہ لکھنا مجھے اپنے حق میں زندگی سے معمور اور حقیقتوں سے آشنا نظر آتا ہے ۔ اس لیے میں لکھنے کے عمل کو ایک رنگین خواب کا عمل سمجھتا ہوں جس میں تعبیر کی ایسی گنجائشیں پائی جاتی ہیں جو ہماری زندگیوں کو راست طور پر متاثر کرتی ہیں ۔ لکھنے کے عمل سے گزرنے سے پہلے جب مجھ میں موضوعات کا وفور ہوتا ہے تو مجھے لکھنا اپنی محتاجی معلوم ہونے لگتا ہے ۔ ایسا کچھ کہ کوئی نوائے سروش ہے جو صریر خامہ کی جانب مجھے کھینچے لیے جا رہی ہے ۔ لکھتے وقت میں خود کو ایک انجان سی طاقت میں گھرا ہوا پاتا ہوں اس لیے بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ میرا لکھا میرا اپنا نہیں بلکہ ایک غیرمرئی قوت کا اظہار ہے۔ مجھے لکھنے کے لیے زبان کا تصنع اور اظہار کی باریکیوں کا سراغ لگانا بھی ضروری معلوم نہیں ہوتا بلکہ سلیس اور سادہ طرز اور اسلوب جس میں اپنے باطن کا عکس اتر آئے زیادہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے ۔ جب جب میں لکھنا چاہتا ہوں تب تب میں خود کو انسانوں کے دکھ درد اور خیالات اور نظریات سے قریب پاتا ہوں ،ایک ہیجانی کیفیت میں گرفتار جس میں تاریخ ، سیاسیات ، مذہب ، معاشرتی علوم اور سائنس کی مختلف جہات مجھے انسانی محررومیوں سے آگاہ کراتی ہیں، اس لمحے میں کسی بلا تکان بولنے والے مشاق مقرر کی مانند خود کے باطن میں داخل ہو کر چیخنے لگتا ہوں۔ خود کو الگ الگ موضوعات پر بولتے ہوئے انسان کے دکھوں کے درمیان پھنسا لیتا ہوں اور ان کی تکلیفوں سے گھر کر ان کا مداوا تلاش کرنے کا مشتاق بنا لیتا ہوں۔ لکھتے وقت میں خود میں ہٹلر اور مسولینی ، مارکس اور لینن، محمد اور موسی، کرشن اور ارجن، رام اور بدھ، کبیر اور خسرو، نانک اور جائسی، سارتر اور روسو، ملٹن اور ابوالمعالی ، حالی اور سر سید ،داغ اور امیر مینائی اور غالب، میر اور فیض سبھی کو یکجا پاتا ہوں۔ کسی کو کسی سے دور اور قریب ، ادنی اور اعلی سمجھے بنا میں ان سب کو اپنا دوست ، رقیب اور ہم منصب سمجھنے لگتا ہوں ۔ لکھنے کی خواہش مجھے اند ر سےایک اوتار بنا دیتی ہے یا یوں کہوں کہ ایک انسان جو خود میں سب سے بڑا اوتار ہے۔

میں جتنا کچھ خود سے بولتا ہوں یا خود کو جتنے بولے ہوئے کی گردش میں گھرا پاتا ہوں اس کا ایک فی صد بھی لکھ نہیں پاتا ۔ میں جانتا ہوں کہ میرے اندر کا وہ شور جو مجھے لکھنے پر مجبور کرتا ہے وہ میرے اندر کا ایک انوکھا طلسم ہے جو مجھے اظہار سے تحریر کی وادی تک لاتے لاتے ارسال سےبے بہرہ کر دیتا ہے ، میرے وجود کی گتھیوں سے کھیل کر مجھے کتاب کے اندھے صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے ، پھر بھی میں لکھتا ہوں کیوں کہ لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے اور میں اس عمل کے تئیں خود کی نکیل کو تھامے رکھتا ہوں ۔ میں لکھنے کو خود سے بہتر اور خود کو لکھنے کے برابر بنانے کے عمل میں سر گرداں رکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ میں ایک ایسی بات لکھ دینا چاہتا ہوں جس کی تکرار میرے باطن میں کہیں دور تک اور دیر تک کھنکتی رہتی ہے ۔ اسی لیے میں لکھتا ہوں اور اسی لیے میں لکھتے رہنا چاہتا ہوں۔

میں اپنے لکھے سے کبھی پوری طرح مطمئن بھی نہیں ہوتا کیوں کہ مکمل اطمینان مجھے لکھنے سے دور کرتا ہے۔ ایک منز ل سے دوسری منزل کی جانب جانے سے روکتا ہے ۔ لکھنے کے عمل کو اسی لیے میں مینڈک کی چھلانگ سے تعبیر کرتا ہوں جس میں ابدی اچھال نہیں پایا جاتا ۔ میں جب جب کچھ لکھنے کی شروعات کرتا ہو تو مجھ میں ایسی ہی توانائی جمع ہوتی ہے جیسی ایک مینڈک میں اچھلنے سے پہلے پائی جاتی ہے اس توانائی کا انقطاع مجھے ایک تحریر سے دوسری تحریر کی جانب بڑھنے پر مہمیز کرتا ہے اور اسی سے میں اپنے موضوعات کے تنوع کا سراغ بھی لگا پاتا ہوں۔ ایسی ہزاروں باتیں جو میں لکھنے کے درمیان اور اس سے قبل یا بعد میں محسوس کرتا ہوں انہی باتوں سے مجھے اپنے لکھے پر خوش یا دکھی ہونے کا حوصلہ ملتا ہے ۔ جب میں اپنے کسی لکھے سے بہت زیادہ خوش یا بہت زیادہ دکھی ہوتا ہوں تو میں اس کو قلم زد کر دیتا ہوں کیوں کہ مجھے اس میں اعتدال کا پرتو نظر نہیں آتا ۔ حالاں کہ میں اس زار سے بھی اچھی طرح واقف ہوں کے کسی لکھے کو کبھی کاٹا نہیں جا سکتا ۔ میں لکھنے کی چال بازیوں کو لکھنے کا سب سے گہرا وار کرنے والا ہتھیار سمجھتا ہوں ۔ جو ایسا نوکیلا ہے کہ ایک بار وجود میں آ کر کبھی عدم کا سفر نہیں کرتا۔ دنیا میں جتنے لکھنے والے گزرے ہیں میں ان سے کچھ الگ نہیں لکھنا چاہتا اور نہ ہی مجھ میں کچھ نیا لکھنے کی خواہش ہے ،لکھنے کے حوالے سے میں صرف ایک امر کو سب سے زیادہ معنی خیز سمجھتا ہوں اور وہ امر خود لکھنے کا عمل ہے۔ مجھے لکھنے کی تاریک دنیائیں اپنی طرف بلاتی ہیں اور میں اس بیمار بوڑھے شخص کی طرح تیزی سے اس کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں جو موت کی جانب سفر کرتا ہے۔ لکھنے کے لیے مجھے نئی دنیاوں اور نئی کہانیوں کی یا نئی مثالوں کی بھی جستجو نہیں ہوتی میں تو بس ایک ایسی بات لکھنے کو ہی سب سے بہتر سمجھتا ہوں جو انسان کی عقلوں کے عین مطابق ہو۔ مجھے زندگی اور لکھنا ایک سکے کے دو رخ معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ جب تک انسان لکھنے کے عمل سے واقف نہیں ہوتا وہ زندگی کے نہا خانہ وحشت سے بھی آشنا نہیں ہوپاتا۔ میں لکھنے کی سعی میں خود سے ہزاروں جھوٹ بولتا ہوں جن کو اپنی عیاریوں اور مکاریوں سے خود پر سچ بنا کر نازل کرتا ہوں اور اس سچایوں کی دیواروں سے لگ کو روتے ہوئے نوشتہ دیوار تحریر کرنے میں سر گرداں ہو جاتا ہوں ۔ میں تقدیر سے بہتر اور تعبیر سے گہرا فن پارہ لکھنے کی خواہش میں الجھا رہتا ہوں اور ایسے میں میں کچھ بھی لکھ جانے کو بے کار نہیں سمجھتا اور قاعدوں سے الگ رہ کر لکھنے کو ہر لکھے سے اعلی جانتا ہوں، لہذا !میں ایسا ہی کچھ لکھنا چاہتا ہوں ۔

Categories
نان فکشن

میں ادب کیوں پڑھتا ہوں؟

مجھے اس بات کا علم ہے کہ یہ جملہ مجھ سے پہلے ہزاروں لوگ کہہ چکے ہیں کہ ادب پڑھنا اور سمجھنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور اس سے بڑی ذمہ داری ہے ادب کو تخلیق کرنا لیکن میں اس سوال کو اپنے معاشرے اور عہد کے تناظر میں یا پھر اس تاریخی پس منظر میں جس میں عہد بہ عہد اس سوال پر غور کیا گیابہت مختلف اور جداجدا پاتا ہوں۔ ادب ایک بڑا شعبہ ہے۔ زندگی کا بھی اور موت کا بھی۔ لہذا اس کو پڑھنا بھی ہر شخص اور جماعت کے نزدیک ایک الگ تقاضہ رکھتا ہے۔ ہمارے اکابرین نے جب ادب کو پڑھا،سمجھا اور تخلیق کیا تو زندگی کے تقاضے دیگر تھے اور آج کے لوگ جس ادب کو پڑھتے،سمجھتےیا تخلیق کرتے ہیں اس کے تقاضے دیگر ہیں۔ حالاں کہ اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی شخص یا جماعت کس طرح کا ادب پڑھتی ہے یا کیوں پڑھتی ہے مگر انفرادی طور پر ہر اس شخص کو ایک بار ضرور اس بات پر غور کرنا چاہیے جو ادب کا مستقل قاری ہے کہ وہ ادب کیوں پڑھتا ہے؟

میں نے گزشتہ کئی برسوں میں اس سوال پر غور کیا ہے اور کئی مرتبہ کیا ہے۔ اول بات تو یہ کہ تاریخ،مذہب اور سیاسیات کی طرح ادب کو پڑھنا مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آیا۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ ہر مضمون خواہ وہ کسی بھی راہ علم و عمل سے متعلق ہو ایک نوع کے ذاتی مزاج کے ساتھ ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ جس میں ریاضی سے لے کر سائنس، ادب اور جغرافیہ تک تمام مضامین کا شمار ہوتا ہےاور یہ اس ذاتی مزاج کی ہی دین ہے کہ ایک مضمون کو دیگر مضامین سے ممیز کیا جاتا ہے۔ مثلاً جس طرح علم رابطہ (Communications)کا مطالعہ تفسیر البیانات (Data Interpretation)کی طرح نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح علمیات کا مطالعہ ساختیات کی طرح نہیں کیا جا سکتا۔ ہر علم کا ایک طریقہ تحصیل اور طریقہ استفادہ ہے۔ ادب بھی اسی طرح ایک طریقہ علم کے تحت ہی پڑھا، سمجھا اور لکھا جا سکتا ہے۔

ایک مرتبہ مجھ سے مرحوم کمال احمد صدیقی نے تاکیدا یہ کہا تھا کہ اگر ادب پڑھنا چاہتے ہو اور دور تک اس سے محظوظ ہونا چاہتے ہو تو ہر علم کو اپنے مطالعے میں شامل کر لو خواہ کہ وہ مبادیات ہی تک کیوں نہ محدود رہے۔ ان کی یہ بات مجھے خاصی پسند آئی تھی۔جس وقت انہوں نے مجھے یہ نیک مشورہ دیا تھااس وقت میری عمر تقریبا بیس برس تھی۔حالاں کہ اس وقت تک میں کلیات اقبال، مقالات مسعود، اشرف صبوحی، امتیاز علی تاج، عربی ادب کی تاریخ اور اردو اور فارسی ادب کی کئی ایک چھوٹی بڑی کتابیں پڑھ چکا تھا مگر میں نے ان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے شعبہ زندگی سے متعلق مختلف طرح کے علوم کی کتابوں کو اپنے معمولات زندگی میں شامل کیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان میں سے بشریات اور تاریخ، سماجیات اور تصوف کی کتابوں سے مجھے دیگر کے بالمقابل زیادہ لطف ملنے لگا تو میں نے ادب کو ثانوی درجے پر رکھ کر انہیں کا مطالعہ شروع کر دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب تصوف کی الٹی سیدھی اور بے سر پیر کی باتوں سے اور ہندوستانی تاریخ میں میمنہ اور میسرہ کی بکواس سے دل اکتانے لگا تو پھر ادب کی طرف لوٹا لیکن اس بار میں نے ادب کی جو جو کتابیں پڑھیں ان میں مجھے ایک الگ ہی نوعیت کا حسن اور دلچسپی نظر آئی۔ مثلاً کلیات اقبال، مراثی میر انیس، قصائد ذوق، دیوان غالب و میر،دیوان درد سے لے کر جدید شعرا کے کلام تک، ترقی پسندی، مابعد جدیدیت اور نارنگ صاحب کے جلے ہوئے کاغذات تک، آواز دوست، لوح ایام، کئی چاند تھے سر آسماں اور قبض زماں سے ممنوعہ محبت کی کہانی تک ادب کی دنیا میرے لیے بہت مختلف ہو چکی تھی۔ میری دیگر کتب کے مطالعے نے مجھے اس فعل میں کیا کچھ عطا کیا اس کا ادراک مجھے کمال صاحب کے مشورے کے پانچ برس بعد ہوا جب میں نے ادب کو دوسرے دور میں پڑھنا شروع کیا۔لیکن یہ سوال میرے لیے اب بھی خاصہ اہمیت کا حامل رہا کہ میں ادب کیوں پڑھتا ہوں ؟
تاریخ پڑھتے وقت میرے ذہن میں ہمیشہ اس بات کا کہیں نہ کہیں احساس موجود رہا کہ اگر میں کسی بھی نوع کی تاریخ پڑھ رہا ہوں تو اس سے مجھے انسانی زندگی کے گزرے ہوئے حالات کا علم ہو رہا ہے۔ ایسا علم جو مجھے اپنی موجودہ اور آنے والی زندگی میں نئی تہذیب کا ادراک کرواتا ہے۔ یہ ایک نوع کا علم نافع ہے جس کو وقت کا زیاں نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے بالمقابل عصمت چغتائی کا ایک ناول یا منٹو کی ایک کہانی،عین المعارف کی ایک غزل اور آہنگ کی ایک نظم سوائے ذرا دیر کی تسکین کے یا اس حظ اور اضطراب کے کیا دے سکتی ہے جس سے میرا اور انسانیت کا کچھ بھلا نہیں ہوتا۔یہ ہی وجہ ہے کہ ادب کے مطالعے نے مجھے ہمیشہ سائنس کی اہمیت کا احساس دلایا۔ سائنس کی نئی نئی ایجادات اور معجزات سے میں ادب کے مقابلے میں ہمیشہ زیادہ متحیر ہوا ہوں۔ ابھی چند روز قبل کی بات ہے کہ میں نے Jet Packپر پون گھنٹے کی ایک ڈاکیو مینٹری دیکھی جس میں Nick Macomberکی کارستانیوں کو دیکھ کرمجھے انسانی عقل کے ارتقا کی حیرت انگیز مثال ملی۔ اسی طرح ہالی ووڈ کی ایک موویThe Walkدیکھ کر بھی میں متحیر ہواکہ انسان کس کس طرح سے اپنے وجود پر قابو پانے کے قابل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب جبکہ میرے محظوظ ہونے کا عمل ترقی کر کے چشم دید حالات تک پہنچ گیا ہے اور میں انسان کی عقلی معراج کے زندہ کرشموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں تو ایسے میں یہ سوال میرے لیے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ آخر میں ادب کیوں پڑھ رہا ہوں۔

اس سوال کا جواب ادھر میں نے خود کو کچھ یوں دینا شروع کیا ہے کہ ادب پڑھنا میرے لیے ایک قسم کے ذہنی ارتقا کا باعث رہا ہے۔ میں نے جب جب ادب کے مطالعے کو اپنے لیے غیر اہم تصور کیا ہے تب تب ادب نے کسی نہ کسی طرح مجھے اپنے سحر میں لینے کی کوئی نہ کوئی ادا وضع کر لی ہے۔ ادب کیا ہے؟ اس سوال کا جواب خواہ ہم شعوری طور پر نہ دے سکیں مگر اس کو ہم اپنے لاشعور میں تحلیل ہوتے ہوئے انبساط سے تو حاصل کر ہی سکتے ہیں کیوں کہ جب تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ ادب آخر ہے کیا بلا تب تک ہم اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں اور کیوں پڑھ رہے ہیں۔ میں نے اس سوال پر غور کر کے اب تک کی زندگی میں یہ جانا ہے کہ ادب ایک ایسی غیر اصولی ترتیب جمالیات ہے جو ہمیں سوائے اپنے احساسات کے کہیں اور نظر نہیں آ سکتی۔ انسانی احساسات کی دنیا جتنی متنوع ہے ادب بھی اتنا ہی نوع بہ نوع ہے۔ جس طرح اشیاء کی خارجی حالت خواہ وہ باطن در باطن ہو اس کا تجزیہ اور ادراک سائنس ہے۔ اسی طرح انسانی احساسات کی باطنی حالت خواہ وہ ظاہر ترین ہو ادب ہے۔ میں نے ادب کو جب سے اس اصول کے تحت سمجھنا شروع کیا ہے اس کے مطالعے کا احساس جمال مجھ میں مزید بڑھا ہے۔ انسانی احساسات کو سمجھنا یہ کوئی کمال نہیں کہ اس کی قدرت تو انسانی جبلیت کا حصہ ہے۔ اپنے احساسات کا اظہار یہ کمال فن ہے۔ ادب کو میں نے جب جب اور جہاں جہاں سے پڑھا ہے اور پڑھ رہا ہوں۔ مجھے ہمیشہ حیرت ہوئی ہے کہ انسان نے دھیرے دھیرے اپنے خیالات کو کتنے دلچسپ انداز میں بیان کرنا سیکھا ہے۔ ادب کے مطالعے کا ایک فسوں مجھ پر اکثر یہ بھی کھلا ہے کہ یہ قدیم نہیں ہوتا۔کیا ہی عجیب بات ہے کہ سائنس کی کوئی بھی تھیوری یا تو ماضی ہوتی ہے یا حال۔ مثلاً متذکرہ بالا Jet Packکی ہی مثال لے لیجیے کہ جس حال میں وہ 1961 میں تھا اسی طرح آج بھی ہے 26 سیکنڈ کی اڑان میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ لیکن ادب کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ماضی اور حال کے بالمقابل مستقبل ہوتا ہے۔ چاسر یا شیکسپر کی کوئی عبارت ایسی ہو سکتی ہے کہ وہ سلمان رشدی سے بہتر نہ ہو،لیکن یہ ایک عجیب بات ہے کہ ادب میں اکثر اس صورت حال کی تقلیب نظر آتی ہے۔ غالب کی زیادہ تر شاعری راشد یا میراجی سے اچھی نہیں میں اس بات کو نہیں مان سکتا یا فیض اور فراق، جمال احسانی اور فرحت احساس سے بڑھے ہوئے نہیں اس کو بھی نہیں۔ ادب کا ایک فسوں یہ بھی ہے کہ یہ ماضی میں حال سے بہتر ہوتا ہے۔ اس کی ایک زندہ مثال یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو نیاز فتح پوری من جملہ کتب ادبیات کے بالمقابل دیوان مومن پر اکتفا کرنے کا مژدہ نہ سناتے۔

میں ادب کو اس لیے بھی دیگر تمام علوم کے بالمقابل زیادہ اہم سمجھتا ہوں یا اس سے تسکین حاصل کرتا ہوں کیوں کہ اس میں تفریق نہیں پائی جاتی۔ ادب انسان کو اصولوں کے باہر جینا سکھاتا ہے۔ ہمارے ادب کی صورت حال اس سے بظاہر خواہ کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو، لیکن یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ ادب ایک واحد ایسا متن ہے جس کو غیر اصولی طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔ سماجی،سیاسی اور سائنسی علوم کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو ادب کی طرح پڑھا جا سکتا ہو۔ مثلا ً اگر ہمیں ریاضی کا علم حاصل کرنا ہے یا سیاسیات کا یا کمسٹری کا تو اولین صورت میں ہمیں اس کی مبادیات سے واقف ہونا پڑتا ہے۔ جب کہ ادب کی مبادیات خود انسان وجود اور اس کے احساسات ہیں۔ میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ ادب کا کوئی طالب علم خواہ وہ ٹالسٹائی سے اپنا سفر شروع کرے یا کافکا سے۔ چی خف کوپہلے پڑھے یا گوگول کو، غالب، کیٹس اور کالی داس کو اولیت دے یا حبیب جالب اور نزارقبانی کو پہنچتا ایک ہی جگہ ہے۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ انسانی احساس جمال ترقی کرتا ہے اور انحطاط کا شکار بھی ہوتا ہے لیکن ادب میں اس کے دائرے دیگر علوم کے بالمقابل بالکل جدا ہیں۔ کب کسی شخص کو متبنی اور امروالقیس پسند آئیں اور کب ابھیشیک شکلا اس کا کوئی تعین نہیں ہے۔ ادب کی جمالیات کی کوئی قواعد نہیں۔ حالاں کہ جہاں مجھے اپنے تجربے سے ایک طرف یہ بات سمجھ میں آئی ہے وہیں دوسری طرف میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ انسانی علم کے ساتھ ساتھ اس کے احساس جمال میں بھی وسعت اور معیار پیدا ہوتا ہے۔ ابھی چند روز قبل کی بات ہے کہ میں اپنے ایک عزیز علی اکبر ناطق کی ایک نظم پڑھ رہا تھا کہ مجھے کئی ایک تاریخی واقعات یا د آ گئے اسی طرح جب میں راغب اختر کی ان نظموں کو پڑھتا ہوں جن میں اسلامی تلمحیات نظم ہوئی ہیں تو بھی کئی ایک واقعات کو ان سے جوڑ دیتا ہوں۔ صدف فاطمہ کی کہانی ذائقہ اور منٹو کی کہانی ٹھنڈا گوشت ان دونوں کے حالات اور واقعات کو تاریخی اور سیاسی حالات سے جوڑنے میں مجھے لمحہ بھر نہیں لگتا۔ اس کی ایک واضح مثال ظفر سید کا قائم کردہ وہ فیس بک ادبی فورم حاشیہ ہے جس پر مختلف شعرا کی مختلف نظموں کا احباب نے مختلف انداز سے جائزہ لیا اور اس کی تشریحات پیش کیں۔ ادب کا میرے نزدیک یہ ہی فائدہ ہے کہ وہ انسانی ذہن کے ارتقا کو کسی طے شدہ دائرے کے تحت ترقی نہیں بخشتا جس طرح دیگر علوم عطا کرتے ہیں بلکہ وہ انسانی فکر اور احساس جمال کو غیر اصولی طور پر بڑھاتا ہے۔

میرے ادب پڑھنے کی ایک بڑی وجہ جھوٹ اور سچ، لیاقت اور عدم لیاقت، شناخت اور عدم شناخت یا اوصاف کی دو طرفہ تقسیم کے قضائے بھی ہیں۔ادبی متن کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ تاریخ کی طرح فیصلے نہیں سناتا یا تہذیبی علوم کی مانند جھوٹ اور سچ کی دو الگ خانوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ یہاں کسی بھی لیاقت کا کوئی دخل نہیں اگر ہوتا تو ہم کبیر کو سر آنکھوں پر نہیں بٹھاتے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ادب صرف علم ہے تو یہ بھی سراسر غلط ہی محسوس ہوتا ہے کہ ادب کا جتنا تعلق لکھنے، پڑھنے سے ہے اتنا ہی بولنے اور سننے سے بھی ہے۔ ایک اچھا ادیب اور تخلیق کار ہمیشہ لکھنا اور پڑھنا جانتا ہویہ ضروری نہیں۔ اس کی بھی زندہ مثال قرآن ہے جو کہ عربی مبین میں ہے۔ ادب سےمیں نے انسانی اوصاف کی حمیدہ اور رذیلہ تقسیم کو مٹتا ہوا دیکھا ہے۔ جس کی جارہانہ تقسیم علم کلام میں نظر آتی ہے۔ اس کی مثال خلیل جبران کا ڈراما شیطان ہے جس میں ایک پادری اور شیطان کے مکالمے سے ادب کا حقیقی معیار واضح ہوتا ہے۔ میں نے ادب کو مختلف معیارات سے دنیا کے دیگر علوم جن سے میں اپنے محدود دائرہ علم میں اب تک واقف ہوا ہوں بہتر ہی جانا ہے۔ ابھی مزید جان رہا ہوں اور اس جاننے کے اس عمل سے ہی ادب کی مزید فہم بھی پیدا ہو گی جس کو زیر تحریر لانا میں نہایت ضروری سمجھتا ہوں۔ آخر میں اطہر فاروقی سے متعلق ایک دلچسپ واقعے کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ ایک صاحب کے تعلق سے جب میں ان سے گفتگو کر رہا تھا جو بقول خود ایک ڈاکٹر ہوتے ہوئے گزشتہ بیس برس سے روز آنہ پندرہ گھنٹے ادبی متن کا مطالعہ کرتے ہیں اور آئے دن تنقید کی کوئی نہ کوئی کتاب سامنے لاتے رہتے ہیں تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ اگر وہ تنقید کو ادب سمجھتے ہوئے پندرہ گھنٹے ادب کے بجائے علم معالجہ کو وقت دیتے تو بے شک کوئی بڑا کارنامہ انجام دیتے۔ مجھے اظہر فاروقی سے صد فی صد اتفاق ہے کہ تنقید ہی ادب کی ایک ایسی شاخ ہے جس پر سائنس کیا انسانی علوم کے کسی بھی شعبے کو ہزار گنا ترجیح دی جاسکتی ہے۔

Image: Jeanie Tomanek

Categories
نان فکشن

سرور صاحب سے ایک اور ملاقات

جے این یو کی لائبریری اردو کی کتابوں کے تعلق سے کچھ خاص نہیں ، بہت خراب اور غیر ضروری کتابوں کا ایک چھوٹا سا ڈھیر ہے جس میں کہیں کہیں کام کی کوئی کتاب رکھی نظر آجاتی ہے، حالاں کہ نئے پڑھنے والوں کے لئے تو ندا فاضلی کا شعری دیوان بھی کسی نعمت سے کم نہیں مگر جب کوئی کہنہ مشق پڑھاکو شخصیت جے این یو کی لائبریری میں نظرآجائے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ صاحب یہاں کیا کر رہے ہیں۔میں خود جے این یو کی لائبریری سے گزشتہ ایک برس میں کچھ خاص استفادہ نہ کرسکا ،بس میر امعمول تو یہ ہے کہ صدف کے ہمراہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر لائبریری کے ائر کنڈیشن روم میں آکربیٹھ جاتا ہو ں اورریختہ ڈاٹ کام پر اپنی محبوب کتابوں کا مطالعہ کر تا رہتا ہوں ، آج صبح جب میں حسب روایت لائبریری میں داخل ہوا تو کتابوں کی دو الماریوں کے درمیان ڈاکٹر سرور الہدی کھڑے نظر آئے، جب میری نظر ان پر پڑی تو وہ کوئی کتاب دیکھنے میں مصروف تھے، میں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کےموجودہ دور کے کثیر المطالعہ شخص کو جے این یو کی لائبریری میں دیکھا تو پہلے چونکا، پھر جے این یو سے سرور صاحب کے پرانے تعلق کا خیال آتے ہی سنبھل گیا کہ یہ تو وہ ہی لائبریری ہے جہاں بیٹھ بیٹھ کر انہوں نے فغاں سے امداد امام اثر تک کا سفر طے کیا ہے۔ سرور صاحب کو دیکھ کر جیسے ہی میں نے ان کی جانب قدم بڑھائے انہوں نے بھی مجھے دیکھ لیا اور ہمیشہ کی طرح پر تپاک انداز میں ملے۔ ان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ نوجوانوں سے اکثر بہت محبت سے ملا کرتے ہیں اور خاص کر وہ نوجوان جو اردو زبان و ادب سے کسی طرح کی دلچسپی رکھتے ہوں، یہ ہی وجہ ہے کہ میرا ایک دوست حسین ایاز جو کہ بالکل نووارد ادیب ہے اس سے بھی سرور صاحب بہت محبت کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ ثاقب فریدی، ضیا، نوشاد منظر اور اسی طرح کے دوسرے نوجوان ان سے چمٹے رہتے ہیں اور سرور صاحب بھی ان سے خوب گفتگو کرتے ہیں ۔

بہر کیف ان کے اس طرح اچانک ملنے سے مجھے خوشی اور حیرت ہوئی ،میں نے اور سرور صاحب نے لائبریر ی میں کتابوں کی الماری کے ارد گرد گھوم گھوم کر گفتگو کا سلسلہ شروع کردیا ، مجھے سرور صاحب کی یہ بات بہت پسند ہے کہ وہ کبھی اپنے سے کم عمر لوگوں پر اپنا رعب نہیں جماتے ، ان سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرتے ہیں ، جہاں اتفاق ظاہر کرنا ہوتا ہے وہاں اتفاق ظاہر کرتے ہیں اور اگر کسی بات سے اختلاف ہوتا ہے تو اپنے مخصوص انداز میں برا سا منہ بنا کر صاف انکار کر دیتے ہیں ۔ میری بھی بہت سی باتوں سے انہوں اختلاف کیا ہے ، مگر میں ہمیشہ ان کے اختلاف کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہوں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اختلاف میں ایک قسم کی منطق ہوتی ہے ، خواہ اس منطق سے کسی تیسرے شخص کو اتفاق ہو نہ ہو مگر وہ ایسی نہیں ہوتی جس کو یک بارگی نظر انداز کر دیا جائے۔ میں نے سرور صاحب سے لائبریری میں کتابوں کی شیلف کے درمیان ٹہلتے ہوئے اپنی موجودہ مصروفیات کے بارے میں بتا یا تو انہوں نے اس کو خاموشی سے سنا اور فوراً کلیم عاجز کا شعری مجموعہ شیلف سے نکال کر اس پر گفتگو کرنا شروع کر دی۔ یہ ان کی عادتوں میں شمار ہے کہ وہ کسی بھی شخص کی ذات پر نہ زیادہ سنتے ہیں اور نہ زیادہ بولتے ہیں ، ادیبوں شاعروں کی ہر طرح کی بات کرتے ہیں ، ان کی برائی بھی کرتے ہیں اور تعریف بھی لیکن سب کی سب ان کے ادبی کاموں، کارناموں اور کوتاہیوں سے متعلق ہوتی ہیں ۔ کلیم عاجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مجھے ان کی ایک غزل پر اپنے تاثرات تحریر کرکے دینے کو کہا اور ساتھ ہی اسلم پرویز کی کتاب گھنے سائے اور خلیل الرحمان اعظمی کی مضامین کے تعلق سے بھی ایک ایک مضمون لکھنے کی ہدایت دی۔دراصل سرور صاحب کا اوڑھنا بچونا یہ ہی ساری چیزیں ہیں ، میں ان سے جب جب ملتا ہوں تو اردو کے پرانے سے پرانے ادیبوں شاعروں سے لے کر موجودہ دور تک کے ادبا پر مختلف حوالے سے گفتگو ہوتی ہے۔ مجھے بعض مرتبہ تو حیرت بھی ہوتی ہے کہ میں جو چیزیں یہ سمجھ کر پڑھتا ہوں کہ غالبا کوئی اردو والا جلدی ان چیزوں تک نہیں پہنچے گا سرور صاحب ان پر بھی بے تکان بول لیتے ہیں ۔ اس سے ان کے مطالعے کا علم ہوتا ہے۔ حسین ایا ز نے مجھے آج سے تقریباً دو برس پہلے یہ بات کہی تھی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں اگر کوئی شخص صبح کے نو بجے سے شام کے پانچ بجے تک ادب ادب کرتا رہتا ہے تو وہ سرور الہدی ہی ہیں ۔اکثر تو میں نے سرور صاحب سے امتحاناً بھی بہت سی باتوں کے متعلق دریافت کیا ہے ، مگر وہ ان کا جواب بھی بہت اطمینان سے دیتے ہیں ۔ آج بھی لائبریری کی الماریوں کے درمیان طواف کرتے ہوئے ان سے کلیم عاجز، لطف الرحمان، شکیل الرحمان، شمس الرحمان فاروقی ،علی اکبر ناطق ، ادریس بابر، ریاض مجید ، اسلم پرویز ، جمال احسانی، غالب اور چکبست کے حوالے سے باتیں ہوئیں ۔ سرور صاحب کی ایک عجیب و غیریب بات یہ بھی ہے کہ وہ اردو کےسیمیناراور سمپوزیمس کو بہت زیادہ نظر انداز کرتے ہیں اور شاذ و نادر ہی ان میں شرکت کرتے ہیں، اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر انہیں اردو کے مختلف موضوعات پر ہونے والے سیمیناروں کی پوری خبر رہتی ہے ۔ اردو کے ان لکھنے والوں کو بھی جانتے ہیں جو بالکل جدید ہیں اور ان کو بھی جو مابعد جدید ہیں ۔ لائبریری کی شیلف میں عزیز نبیل کی فراق گورکھ پوری پر ترتیب کردہ کتاب پر ہاتھ رکھ بولے” یہ دیکھئے آپ کے دوست کا کام”اور جب میں نے ان سے کہا کہ عزیز نبیل ان دنوں پہلے سے بہتر شعر کہنے لگے ہیں ،بس مشاعروں کے چکر میں زیادہ پڑ گئے ہیں تو خاموشی سے دوسری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے سرور صاحب سے ہمیشہ نئے لوگوں کی تعریف اور پرانے لوگوں کی تذکیر سنی ہے۔ وہ ہمیشہ بتاتے رہتے ہیں کہ شہر یار کیسے تھے ، محمد حسن کیا کرتے تھے،وحید اختر کے کیا خیالات تھے، محمود ہاشمی نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے، وارث علوی، باقر مہدی، شمیم حنفی ، شمس الحق عثمانی اور بلراج مین را ان کے فنی کارنامے کیا کیا ہیں ۔

ابھی میں نے گزشتہ دنوں فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں میں نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ بہت سے لوگ اپنے مطالعے کو وسیع اور کثیر جتانے کے لئے حافظ، سعدی ، رومی، انوری، خسرو، بیدل ،امرالقیس اور متبی وغیرہ کی باتیں کرتے ہیں ، کبھی وہاں سے اچانک مغربی ادب پر کود جاتے ہیں اور کبھی ہندی اور سنسکرت کے ادیبوں کا تذکرہ چھیڑ دیتے ہیں ۔ سرور صاحب کو میں نے کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا ۔ ان کا ایک مخصوص رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے دائرہ علم کے اندر رہ کر گفتگو کرتے ہیں ، بلا وجہ لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے انگریزی، جرمنی، فرانسسی اور رشین ادیبوں کا نام نہیں لیتے۔ امداد امام اثر اگر ان کا موضوع ہیں تو ان کا زیادہ تر وقت انہیں پر گفتگو کرتے ہوئے گزرے گا، کبھی جدیدیت کی بات نکلے گی تو الف سے لے کر بڑی ے تک تمام جدیدیوں کے خیالات کو آپ کے سامنے رکھ دیں گے، مابعد جدیدیت یا ترقی پسندوں کی بات کریں گے تو از اول تا آخر سب کا تذکرہ کر جائیں گے۔ حالاں کہ اگر وہ چاہیں تو دنیا کی دوسری زبانوں میں ادب لکھنے والوں پر بھی ایک ، دو کتابیں پڑھ کر بول سکتے ہیں ، مگر میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ وہ کبھی اپنے میدان سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرتے ۔ میں نے بھی کبھی ان سے فاوسٹ، دانتے، بولو، لانجوئنس ، ٹالسٹائی، دوستو فسکی، پیرڈائز لوسٹ، پیر کرم شاہ ازہری ، اسماعیل دہلوی، امام احمد رضا ، اوشا سانیہال اور وارث مظہری کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی ہے تو انہوں نے ہاں ہوں کر کے چھوڑ دیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کبھی اس بات کی شعوری کوشش نہیں کرتے کہ سامنے والا انہیں قابل سمجھے ۔ ان کے مطالعے کومیرے بہت سے احباب اکثر محدود کہتے ہیں ، مگر مجھے یہ بات زیادہ اہم لگتی ہے کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ انہیں کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا ہے۔ ان کے یہاں مطالعے کا ایک نظام بنا ہوا ہے جو اردو کے بہت کم ادیبوں کے یہاں نظر آتا ہے۔ میں خود بھی اسی مرض کا شکار ہوں کہ گھوم گھوم کے چیزوں کا مطالعہ کرتا ہوں ، جب کہ سرور صاحب مطالعے کی ایک سیدھ میں چل رہے ہیں ، جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ اتنے کام کر پاتے ہیں ۔

لائبریری میں کتابوں کی الماریو ں کے درمیان چکر لگاتے لگاتے جب میں اور سرور صاحب تھکنے لگے تو انہوں نے مجھ سے قریب کے ایک کینٹین میں چلنے کو کہا،ہم وہاں پہنچے تو ان کا ایک شاگرد نثار اور دو ایک لوگ اور بھی مل گئے ، وہیں انہوں نے جے این یو کے ایک اور رسرچ اسکالر ضیا کو بھی بلوا لیا اور پھر وہاں نئے سرے سے گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا، ہم نے اسی دوران ہیں بیٹھ کر کھانا کھایا جس میں میری عزیز دوست صدف فاطمہ بھی شامل تھیں ۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے چائے پی اور امداد امام اثر پہ گفتگو ہونے لگی۔ ان دنوں سرور صاحب نےان پر ایک ضخیم کتاب ترتیب دی ہے جو تقریبا دسمبر تک منظر عام پر آئے گی ۔ سرور صاحب اردو گھر سے نکلنے والے ایک پرچے اردو ادب کے معاون مدیر بھی ہیں اس لئے انہوں نے مجھے اس بار کا وہ پرچہ بھی دکھایا جو شمس الرحمان فاروقی کے بیاسی سال کے ہو جانے پر خصوصی شمارے کے طور پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں فاروقی صاحب کا بھی ایک مضمون تھا جس میں فاروقی صاحب نے سرور صاحب کی امداد امام اثر پر آنے والی کتاب کی زبان و بیان کو بہت سراہا ہے۔ غالبا فاروقی صاحب نے اس کتاب پر دیباچہ یا پیش لفظ لکھا ہے۔ مگر مجھے فاروقی صاحب کا مضمون پڑھتےہوئے اس بات پر حیرت ہوئی کہ انہوں نے ایک جگہ سرور صاحب کی گرفت کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ سرور صاحب نے کاشف الحقائق کے نظر انداز کئے جانے کی وجوہات پر بات نہیں کی ہے ، میں نے فاروقی کا یہ جملہ پڑھ کے جب سرور صاحب سے اس سے متعلق استفسار کیا تو وہ مسکرا کر خاموش ہو گئے ، جب میں نے مزید اسرار کیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ آپ نے ایک پوری کتاب ترتیب دے دی اور اتنی سامنے کی بات کو نظر انداز کر دیا ، تو انہوں نے کہا کہ میں فاروقی صاحب پر اس عمر میں تنقید نہیں کرنا چاہتا ، لیکن جب آپ وہ کتاب پڑھیں گے تو آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ جس بات کے فقدان کی بات فاروقی صاحب کر رہے ہیں وہ کتنی جگہوں پر موجود ہے ۔ میں ان کا یہ جملہ سنتے ہی ہنس دیا۔ یہ ایک عجیب رویہ ہمارے ناقدین کا ہے کہ جو باتیں وہ دوسروں کو کرنے سے روکتے ہیں اس کو خود بڑی کثرت سے سر انجام دیتے ہیں ۔ سرسری مطالعے کا رونہ مجھے شمس الرحمان فاروقی، گوپی چند نارنگ ، ظفر اقبال وغیرہ سے بہت زیادہ رہا ہے ۔ مثلا ً یہ بات میں نے سرور صاحب سے بھی کہی کہ نارنگ صاحب کی کتاب کاغذ آتش زدہ ایسی ہے کہ اس کو انہیں جلا ہی دینا چاہئے تھا، مگر انہوں سے اسے چھپوایا۔ خود تو ابواللیث صدیقی کو لکھنو کا دبستان شاعری پر لعن طعن کیا ہے اور یوسف سلیم چشتی کو برا کہتے نہیں تھکے ہیں اور اپنی اتنی ہلکی کتاب کو بھی ضخیم بنا کر سجا سنوار کر سامنے لے آئے ، اگر یہ ہی کتاب جو کہ نارنگ صاحب کی کاوش قلم کا نتیجہ ہے اگر ابوالکلام قاسمی ، شہپر رسول ، ابن کنول ، خواجہ اکرام الدین یا انور پاشا کی ہوتی تو نارنگ صاحب اس کی لاکھ برایاں کرتے ۔ مگر چونکہ وہ ان کی خود کی ہے اس لئے کسی نابغے سے کم نہیں ۔ یہ ہی فاروقی صاحب کا حال ہے کہ تفہیم غالب سے لے کر شعر شور انگیز تک کئی ایک کتابوں میں بلا کا جھول ہے ، مگر اس پر نگاہ ہی نہیں جاتی۔ سرور صاحب جب محمد حسن ، وحید اختر ، محمود ہاشمی اور باقر مہدی کی باتیں کرتے ہیں تو فاروقی کی شخصیت بونا دکھائی دیتی ہے ، مگر یہ ان کا مزاج ہے کہ وہ کبھی فاروقی کے تعلق کوئی تنقیدی جملہ نہیں کہتے۔ بس زیادہ ہوا تو ناصر عباس نیر، خالد جاوید، بورخیس ، عتیق اللہ، نصیر صاحب، عبدالحق اورجے این یو کی پرانی باتوں کا پٹارا کھول دیتے ہیں جس میں سے قہقہے لگانے والی بے شمار کہانیاں کود کود کر باہر آنے لگتی ہیں۔

Categories
تبصرہ

سر سید کے مذہبی عقائد و افکار: ایک مکالمہ

sir-syed

نام کتاب : سر سید کے مذہبی عقائد و افکار:ایک مکالمہ
صفحات: 102
مولف: خو شتر نورانی
مبصر: سید تالیف حیدر

 

متذکرہ بالہ کتاب مولانا خو شتر نورانی کی تالیف ہے۔ جس کو انھوں نے عالمانہ انداز میں تر تیب دیا ہے۔ اس کتاب میں سر سید کے مذہبی عقائد وافکار پر ایک مختصر مکالمہ پیش کیا گیا ہے۔ جس میں اہل سنت و جماعت کی تین بر گزیدہ شخصیات پیر علی شاہ محدث علی پوری، حامد حسن قادری اور علامہ ارشد القادری کے افکار شامل ہیں۔یہ مکالمہ الفقیہ ہفت روزہ،امرتسرمیں قسط وار شائع ہوا۔ یہ اخبار 1918 سے مسلسل 38برسوں یعنی تقریباً1953تک نکلتارہااوراس اخبار میں سنی و حنفی مسلک کے ان تمام مسائل سے بحث کی جاتی تھی جس کا برا ہ راست تعلق سواد اعظم سے ہوتا تھااور جس کو اہل سنت و جماعت کا اپنے عہد کا کم وبیش سب سے بڑا اخبارکہا جا سکتا ہے۔ اس اخبار میں اس مکالمے کی شمولیت اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ یہ مباحثہ کتنا اہم اور ضروری ہوگاجو الفقیہ جیسے بڑے اخبار میں اپنی جگہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ الفقیہ اخبار کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے کہ کس کس طرح اس اخبار نے نہ صرف مسلکی بلکہ ملی و قومی سطح پہ کیسی کیسی خدمات انجام دی ہیں۔ قیام پاکستان میں اس اخبار کا بڑا رول رہا ہے اور اس اخبار کے مدیر جناب معراج الدین احمد جو اپنے عہد کی بہت متحرک شخصیت تھی، انھوں نے اس اخبار کے ذریعے مسلم لیگ اور سنی سیاست داں حضرات کے خیالات کی نشر و اشاعت جیسابڑاکانامہ انجام دیا ہے۔

 

مولانا خوشتر نورانی جو عہد حاضر کے با صلاحیت نوجوان علما میں شمار کئے جاتے ہیں اور جن کی تحقیقی و تنقیدی کاوشوں پر اس عہد کی معتبر شخصیات (جن میں صف اول کے علما،ادبا اور شعرا کا شمار ہوتا ہے) نے ان کی پیٹھ تھپتھپائی ہے۔ انھوں نے اس نادر مباحثے کی تالیف سے اس بات کی مزید وضاحت کر دی ہے کہ کوئی بھی اہم تالیفی کا م کن کن امور کا متقاضی ہوتا ہے۔خو شتر صاحب نے الفقیہ کے اس مکالمے کو جو اپنی بوسیدہ فائلوں میں دبا خاک کی نذر ہو رہا تھا از سر نو ترتیب دے کر اپنے علمی، فکری، صحافتی،تہذیبی، قومی، ملی و مسلکی فرائض کی ادائیگی کی ہے۔ان کی تالیف جو بصورت تحقیق ہمارے سامنے ہے اس سے بہت سے تاریک باب روشن ہوتے ہیں۔ ہمارے مکالموں کی خوبیاں و خامیاں سامنے آتی ہیں اور علمی مباحث کا طرز اجاگر ہوتا ہے۔

 

اس مختصر کتابچے کے مشمولات چار ابواب پر مشتمل ہیں۔ابتدائیہ، تقدیم، سر سید کے مذہبی عقائد و افکار:ایک مکالمہ اور ان اشخاص کی فہرست جن کا ذکر حواشی میں کیا گیا ہے۔ان چاروں ابواب کا مطالعہ اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ مولف نے اس کتاب کی تالیف سے اپنے تحقیقی مزاج کا ثبوت پیش کیا ہے۔ میں نے اس ضمن میں ابتدائیہ کو بھی اس لئے شامل رکھا ہے کیوں کہ اس ابتدائیہ سے ہی ہمیں علم ہوتا ہے کہ مولانا کو اس مسودے کاحصول کیوں کر ہوا۔ ان چاروں ابواب میں سب سے اہم مضمون وہ ہے جو ‘تقدم ‘کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔یہ مضمون اگر نہ ہوتا تو اس پورے مکالمے کی وہ صورت ہر گز سامنے نہ آتی جس سے اس مکالمے کے حسن و قبح کے نقوش اجاگر ہوتے ہیں۔ سر سید کے مذہبی عقائد و افکا ر پر اصل بحث ہمیں اسی مقدمے میں ملتی ہے۔ جس میں تیرہ ذیلی عناوین میں سے چھ عنوانات سر سید کی شخصیت کے مختصر ترین تعارف ان کے ہمعصراوران کے احباب کے ان سے اختلافات، ان کے مذہبی عقائد،علما کے ان سے اختلافات اور اسی طرح کی دیگر بحثوں پر مشتمل ہیں۔اسی طرح باقی سات عناوین کے ذیل میں مقدمہ نگار نے ان تنیوں اشخاص(جنہوں نے اس مکالمے میں حصہ لیا) اس اخبار اور مدیر اخبار کی مختصر مگر جامع تاریخ پیش کی ہے،جن کا تعلق اس مکالمے سے ہے۔ان ہی سات عنواوین میں مقدمہ نگار نے ایک عنوان فکری انتہا پسندی کے نام سے بھی رقم کیا ہے جس کے ذیل میں موصوف نے ایسی بصیرت افروز گفتگو کی ہے کہ جس کا مطالعہ کر کے صاحب مقدمہ کے تفکرات تک رسائی حاصل ہوتی ہے کہ کس دقیقہ رسی سے وہ مشرقی طرز تنقید کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کا علانیہ اظہار فرماتے چلے جاتے ہیں۔اس مختصر گفتگو سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمایئے اور ایمان داری سے فیصلہ کیجئے کہ کیا یہ طرز انتقاد مشرقی تنقید کا خاصہ نہیں:

 

ہندو پاک میں حمایت و مخالفت کا پیمانہ عموماً فکری انتہا پسندی پر استوار ہے۔ ہم جب کسی کی حمایت کرتے ہیں تو اس کی تمام خامیوں اور عیوب کو نہ صرف نظر انداز کردیتے ہیں بلکہ انہیں صحیح ٹھہرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں، یونہی جب کسی کی مخالفت پر اترتے ہیں تو ا س کی خوبیوں کو پس پشت ڈال کر اس کی خامیوں کی اشاعت ہی اپنی زندگی کا ہدف بنا لیتے ہیں۔ برصغیر ہندو پاک میں حمایت و مخالفت کے یہ مظاہر عام ہیں جو بلا شبہ سیاسی تغلب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ انداز فکر و نظر سراسر غیر علمی بھی ہے اور غیر اسلامی بھی۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ علم و فن اور خدمات کا اعتراف اور عقیدہ و عمل کا احتساب دو الگ الگ چیزیں ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے جاہلی شاعر امراؤ القیس کو الشعرشعرالعرب بھی فرمایا ہے اور حامل نواءھم الی النار بھی۔ پہلا جملہ امراؤ القیس کی فنی عظمت کا تعارف ہے اور دوسرا جملہ اس کی گمراہی فکر و عمل پر مہر۔

 

میں مولانا کی اس تالیف کو ان کی تحقیق اس لئے بھی سمجھتا ہوں کیوں کہ انھوں نے اپنے موضوعات سے بحث کرتے ہوئے ان ماخذات تک رسائی حاصل کی ہے جہاں تک مولفین پہنچنا اپنا فرض نہیں سمجھتے۔ مثلاً وہ سر سید کے عقائد کی مخالفت میں تحریر کئے گئے نادر رسائل کا تذکرہ اپنے مقدمے میں کراتے ہیں اور نہ صرف اسی تذکرے پر اکتفا کرتے ہیں بلکہ ان تنیوں رسائل جن میں مولانا غلام دستگیر قصوری کا ’جواہر مضیہ رد نیچریہ‘، ڈپٹی مولوی امداد لعلی کا ’امداد الافاق بر جم اہل النفاق بجواب پرچہ تہذیب الاخلاق‘ اور مفتی محمد لدھیانوی کا ’نصرۃ الابرار‘ شامل ہیں، مختصر تعارف بھی پیش کرتے ہیں جو در حقیقت ان کا حاصل مطالعہ ہے۔ ان رسائل کو حاصل کرنا ان کا مطالعہ کرنا اور صرف اخفائے حال سے واقفیت حاصل کر کے مقدمہ نگاری کرنا اس عہد میں بہت کم مولفین کا شیوہ ہے۔پھر ایسی شخصیات کا ذکر جن کا اصل بحث سے کوئی تعلق نہیں لیکن مقدمے میں ان کا تذکرہ دلیل واقعہ کی صورت میں ملتا ہے اس سے بھی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔مثلاً مولانا حمید الدین برادر مولانا شبلی نعمانی کا اور مولانا حبیب، مدیر روزنامہ ’غازی‘ وغیرہ کا تذکرہ اسی ضمن میں آتا ہے۔

 

تقدیم کے بعد اصل ’مکالمہ‘ آتا ہے جس میں سات عنوان شامل ہیں یہ ہی وہ مکالمہ ہے جو شمارہ 21 تا 28 جنوری 1946 سے شروع ہو کر شمارہ 21 تا 28 ستمبر تک چلا ہے اور جس کی ابتداء پیر سیدجماعت علی شاہ محدث علی پوری کے فرمان مبارک (مسلم لیگ شرعی حیثیت سے) سے ہوئی اور اختتام علامہ ارشد القادری کے استفسار کا تحقیقی جواب قسط سوم پر ہوا۔اس مکالمے کے ذیل میں یہ فہرست شامل ہے۔

 

مسلم لیگ شرعی حیثیت سے پیر سیدجماعت علی شاہ محدث علی پوری
بریلوی علام جواب دیں! سلامت اللہ ولی بھائی کاٹھیاواڑی
اذکرو اموتاکم بالخیر پروفیسر حامد حسن قادری
مقام حیرت علامہ ارشد القادری
استفسار نامہ نگار
حیرت پر حیرت پروفیسر حامد حسن قادری
استفسار کا تحقیقی جواب(1) علامہ ارشد القادری
استفسار کا تحقیقی جواب(2) علامہ ارشد القادری
استفسار کا تحقیقی جواب(3) علامہ ارشد القادری

 

اس فہرست سے مکالمے کی ترتیب مثلاً فتویٰ،استفسار،جواب،جواب الجوب مزید سولات اور اس سوالات کے مزید جوابات وغیرہ کا علم ہوتا ہے۔ مکالمے میں مدلل گفتگو سوائے علامہ ارشد القادری کے کسی نے نہیں کی ہے۔ پرو فیسر حامد حسن کے معروضات،مفرضات نظر آتے ہیں اور ایک ضمنی اعتراض جو علامہ ارشد القادری کی گفتگو پر ایک ایسے شخص کی طرف سے پیش کیا گیا ہے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اس کا مدلل جواب علامہ نے طویل مضمون میں دیا ہے۔ تمام مکالمے میں ایک بڑی غلط فہمی کی فضا مسلسل قائم رہی ہے جس کی نشان دہی مولانا خوشتر نورانی نے اپنے مقدمے میں کی ہے۔ایک حدیث اذکرو اموتاکم بالخیر جس کو حامد حسن صاحب نے اپنے مضمون کا موضوع بنایا ہے اور جس پر پورے مکالمے میں بحث ہوتی چلی آئی۔ صاحب مقدمہ نے یہ انکشاف فرمایہ ہے کہ در اصل ایسی کوئی حدیث موجود ہی نہیں ہے۔ اس انکشاف سے ایسے مکالموں پر ایک بڑا سوال قائم ہوتا ہے۔ مکالمہ دیگر معنوں میں بھی کافی معلوماتی اور اہم ہے لیکن پورے مکالمے پر علامہ ارشد القادری کا استدالی رویہ اور حامد حسن صاحب کا خندۂ استہزا دو متضاد صورتوں میں نظر آتا ہے۔ جس سے حامد حسن صاحب کے تحقیقی اور استدالالی منصب کی نشان دہی ہوتی ہے۔

 

کتاب کے اخیر میں مولف نے کتابیات کے عنوان سے ان تمام کتب و رسائل کا اجمالی تذکرہ ایک جدول کی صورت میں پیش کر دیا ہے جس سے ہر کوئی ان تمام کتب تک بہ آسائی رسائی حاصل کر سکتا ہے جس کا تذکرہ اس کتابچے میں موجود ہے۔
Categories
نان فکشن

گیلے ہونٹوں کا خشک جہان

میں نے ان لبوں کا ذائقہ چکھا ہے۔ وہ لب جو نیم سرخ اور نیم گلابی ہیں۔جن کی گدازی اور غیر معمولی ملائمیت بلا کی حیرت انگیز ہے۔ میں ان لبوں کا پر ستار،ان کا محافظ، ان کے قرب و جوار سے آگاہ، ان کی سرحدوں کا نگہ بان ہوں۔ جب کبھی ان لبوں کی زمین پر اپنے ہونٹوں کے ہمراہ اترتا ہوں تو وادئ رنگ و نور کی پر کیف فضا میں آشفتہ خاطر بھٹکتارہتا ہوں۔ایک عجیب و غریب بے چینی کےساتھ، جس میں اضطراب کی دبیز لہر،تسکین کا متزلزل وجود ہوتا ہے اور طالع بیداری کا موہوم احساس ہوتا ہے۔ میں ان لبوں کے ساحلوں پر گشت کرتا ہوں۔ ان کو چھوتا ہوں،چھیڑتا ہوں۔ ان کی سرخ زمین پر دور تک سفر کرتا ہوں۔ ان کے پیچیدہ اور کھردرے نقش و نگار کا نظارہ کرتا ہوں۔ اپنے لبوں کے دریا سے ان کی سطح زمین کی گلاب مٹی کو شفاف کرتا ہوں۔ میں ان لبوں کی شناخت قائم کرنے میں اپنے دن رات، صبح و شام صرف کرتا رہتا ہوں۔ لمحوں اور صدیوں کی تقسیم کے فرسودہ تصورات کو ان لبوں کی ہمسایگی سے منقطع کرتا ہوا۔میں ان دلدلی ریگستانوں میں چند ساعتوں میں ہزاروں سال کی مسافت طے کرتا ہوں۔ان کے طلول بلد اور عرض بدل کی تمام لکیروں کواپنے قدموں تلے روندتا ہوا گزرتا چلا جاتا ہوں۔ وہ لب میرے وجود کو ایک قسم کا تحرک بخشتے ہیں۔ میں ان پر سفر کرتا ہوا ان کی سطح زمین کو اپنے ہونٹوں کی طلسماتی صفات سے لپیٹتا ہوا ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر گردش کرتا رہتا ہوں۔

 

وہ لب جو میرا حاصل زندگی ہیں۔جن کو میں اپنی خردبیں نگاہوں سے آٹھوں پہر تکتا رہتا ہوں۔جس کی رنگت اور تمازت،شفقت اور تمکنت، روشنی اور نورانیت، بے قراری اور سکونت کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ جن کی شاہراہ عام پر میں حیراں و پریشاں، مضمحل اور تنہا کھڑا کائنات کی رنگینوں کا مظاہرہ کرتا رہتا ہوں۔ وہ لب میرے دونوں جہانوں کی الجھی ہوئی گتھی کو مزید الجھا کر اپنی بساط کی دو رنگی چادر پر پھیلا دیتے ہیں اور میں ان میں کبھی زمین سے آسمان اور آسمان سے زمین کے چکر لگاتا ہوا اپنی ژولیدہ نگاہی کے نخچیر میں مقید ہو جاتا ہوں۔

 

میں جب کبھی ان لبوں کی کائنات میں بہتے آبشاروں، خشک ہو تے دریاوں، پھٹتی اور ادھٹرتی زمینوں، بے رنگ پانیوں اور ریگستانی ہواوں کے بے ترتیب جھکڑوں کو بنتے بڑگڑتے دیکھتا ہوں تو ان کی وسیع و عریض اور مختلف المزاج شناخت پر مخنونانہ انداز میں چیخ پڑتا ہوں۔ ایک تیز آواز جس سے ان لبوں کی سطح زمین متزلز ل ہو جاتی ہے۔ اس کے آتش فشاں پھوٹ پڑتے ہیں اس کے آسمان پر چاروں پر تاریک دھواں منتشر ہو جاتا ہے اور میں اس کائنات نما ہونٹوں کودوبارہ زندگی سے آشنا کرانے کے لیے اپنی زبان کی نمکین چارد کے ریشمی جال کو ان کے چو طرفہ وجود پر پھیلانےمیں مصروف ہو جاتا ہوں، جس سے ان ہوٹنوں کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب دوبارہ اسی آب و تاب سے جی اٹھتے ہیں۔

 

میں ان لبوں کوجن کے اندر ایک ناقابل فہم رمز پایا جاتا ہے اپنے ہوٹنوں سے کچلتا ہوں۔ ان کی بے ترتیب بستوں کو ملیا میٹ کرتا ہوں۔ ان پر اپنے خدا نمائی قہر کو برساتا ہوں۔ ان ہوٹنوں کی دنیا میں موجود وحشت ناک قوموں کو موت کی ہیبت سے آشنا کرواتا ہوں۔ ان کے حشو و زوائد کو تراشتا ہوں۔ ان پر اپنی اجارہ داری قائم کرتا ہوں۔ ان کی زندگی کے آداب مرتب کرتا ہوں۔ان کو زندگی کے اصل معنی سے روشناس کرواتا ہوں۔ میں ان کا آقا بن کر ان پر براجمان ہو جاتا ہوں۔ ان کی دنیا میں پانی برسا کر ان کی قوموں سے اپنے حصے کا خراج وصول کرتا ہوں۔ ان کی سانسوں کو اپنے خدا نمائی لبوں کی زنجیر میں قید رکھتا ہوں۔ ان پر جبر کرتا ہوں اور ان پر قابض ہو کر اس وقت تک انہیں اسی طرح تڑپاتا اور ستتا رہتا ہوں جب تک وہ اپنی سنانسوں کےحصول کی استعدا نہیں کرتے۔جب تک وہ میرے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک کر میرے ہونے کو اپنے ہونے پر مقدم نہیں جانتے۔جب تک وہ اپنی زندگی کو میری زندگی پر قربان کرنے کا عزم نہیں کرتے۔

 

میں ان ہونٹوں کی دنیا میں رحم اور ظلم، وفا اور جفا،جنت اور دوزخ، کفر اور ایمان، زہر اور قند، اچھائی اور برائی ان تمام تصورات کو قائم رکھتا ہوں۔ان کے ویران جزیروں پر عذاب نازل کرتا ہوا ان کی آباد بستیوں پر رحم بھیجتا ہوں۔ ان کو اعتدال کے معنی عطا رتا ہوں اور اپنے خدائی وجود کو ان پر نازل کر کے ان کے اعتقادات سے اپنی زندگی کو قائم اور دائم بنا لیتا ہوں۔ میں ان ہوٹنوں کی دنیا کا حاکم ہوں۔ ان کا فرشتہ ان کا عزازیل ان کا شاعر ان کا نغمہ نگار ان کا مالک اور ان کا بندہ ہوں۔

 

میں ان سے اپنے ہونے کا ادراک حاصل کرتا ہوں۔ وہ ہونٹ جو میرے ہوٹنوں سے مس ہوتے ہی کانپنے اور لرزنے لگتے ہیں۔ پھیلنے اور سکڑنے لگتے ہیں۔ بننے اور بگڑنے لگتے ہیں۔ بھیگنے اور خشک ہونے لگتے ہیں۔ میں ان سے اپنے ہوٹنوں کی سردی مائل حرارت اخذ کرتا ہوں۔ وہ لب مجھ سے مل کر مجھ سے جدا ہوتے ہیں،بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنے شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے ملا کر خود سے الگ کر لیتے ہیں۔ میں ان کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان اپنے لبوں کے خشک جزیروں کا جہان آباد کرتا ہوں اور ان لبوں کے شمال سے اپنے لبوں پر آباد قوموں کے لیے پانی وصول کرتا ہوں اور جنوب سے ان کا اناج حاصل کرتا ہوں۔ وہ اناج جو انہیں اپنے جنوبی دیوتا کی کھردری اور ادھڑی ہوئی زمین سے حاصل ہوتا ہے۔ میرے لبوں کی دنیا ان لبوں کی کائنات کے بگھرے ہوئے خداوں کی حمد و ثنا کرتی ہے۔

 

ان لبوں کے اندھے غاروں سے آنے والے گرم ہوا کے جھوکے میرے لبوں کے شہر سراوں میں آباد ضعیف العقیدہ عوام کو اپنے آگے سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ میں ان لبو ں کو زندگی کی آخری علامت جانتا ہوں کیوں کہ میرا وجود ان میں آباد ہے۔ میرے خدا ان سے قائم ہیں۔ میرے دیوتا ان میں جیتے ہیں۔میرے شاعر ان پر اپنے نغمے لکھتے ہیں۔میرے مصور ان پر اپنی رنگینی تراشتے ہیں۔میرے لوہار ان پر تلوریں بناتے ہیں۔میرے سنار ان پہ اپنے زیورات تیار کرتے ہیں۔ وہ لب میرے لب ہیں۔ وہ ہونٹ میرے معبود ہیں۔ میں ان کا بندہ ہوں اور وہ میرے منتشر وجود کو مرتب کرنے والے، میرے اجزائے بدن کو تشکیل دینے والے میرے آقا ہیں۔میری حرارتوں کو زندگی بخشنے والے میرے سب سے قیمتی دو جام ہیں۔ جن جاموں کو پیتے ہوئے میرے ذہن میں اختر حسین جعفری کے یہ مصرعے رقص کرتے رہتے ہیں کہ:

 

عجیب وہ سیل تھا کہ جس نے
کنار دریا کی سرحدوں میں نئے اضافے کیے ہیں تازہ زمین
آباد کر گیا ہے
عجیب وہ دھوپ تھی جو پیش از سحر کی ساعت کے گھر میں اتری

Image: Hue Bucket

Categories
نقطۂ نظر

طلبہ اسلامیہ اور اردو زبان و ادب

یونیور سٹی اور کالجز میں روز بروز مدارس کے طلبہ کی تعداد میں جو اضافہ ہو رہا ہے، اس سے مدارسِ اسلامیہ کے فارغین کی حصول علم کے تئیں دلچسپی اور سنجیدگی کا اظہار بخوبی ہوتاہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ(دہلی)،علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی(علی گڑھ،یوپی) اور مولانا آزاد(حیدرآباد) وغیرہ کے ساتھ ساتھ دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی(دہلی) جیسے تعلیمی اداروں میں بھی ان طلبہ کا ریشو بتدریج ارتقا کی منزلوں سے ہم کنار ہو تا نظر آ رہا ہے ۔یہ ایک خوش آئند بات ہے ،لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان میں اکثریت ایسے بچوں کی ہے جو صر ف اسلامیات کی کلاسوں کے ڈویژن میں دیکھے جاتے ہیں،البتہ کچھ دور اندیش طلبہ دوسرے مضامین کا انتخاب بھی کرتے ہیں ۔یہ ایک دیگر بحث ہے کہ ان طلبہ کو کون سے مضامین کی جانب توجہ کرنا چاہئے یا وہ کیوں کرتے یا نہیں کرتے ہیں۔لیکن جہاں مذکورہ بالاطلبہ دوسرے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں انھیں میں ایک بڑی جماعت ان طلبہ کی ہوتی ہے جو’ اردوادب‘کی جانب اپنے کاروانِ علم کا رخ موڑ دیتے ہیں۔

 

اردو چونکہ مدارس کی اول زبان ہے اس لئے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اپنی ابتدائی سطح پر’ منہاج العربیہ‘ پڑھتے پڑھتے اور’ تسہیل المصادر‘ رٹتے رٹتے ہی ان بچوں کی اردو بحیثیت محرر و مقرر اتنی اچھی ہو جاتی ہے جو عام طور پر اسکولوں کے دسویں، بارہویں جماعت کے طالب علموں کی بھی نہیں ہوتی ،لیکن یہ موازنہ اسی حد تک قائم رہتا ہے، کیوں کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اسکولوں سے نکلے ہوئے وہ سنجیدہ طلبہ جو B.A(Urdu)میں داخلہ لیتے ہیں وہ کہیں نہ کہیں اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ اسکولنگ کے زمانے میں انھوں نے زبان کو سیکھنے میں جوبے توجہی برتی ہے اسے پورا کرنے میں اب کو تاہی کی گئی تو ان کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس لئے وہ سنجیدگی سے زبان و ادب کا مطالعہ شروع کر دیتے ہیں ،اور جلد ہی ’دیر آید درست آید‘کے مصداق وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں جہاں ان کا مستقبل تو محفوظ ہوتا ہی ہے ساتھ ہی انھیں ادب میں بھی ایک اعلی مقام حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس اردو کے اولین حقدار جو اپنے تئیں ایک خاص قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کا حال وہی ہوتا ہے جو’ کچھوے اور خر گوش ‘والی کہانی میں خرگوش کا ہواتھا۔اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم دو ہیں ۔اول یہ ہے کہ اردو زبان جسے وہ بچپن سے پڑھتے اور لکھتے چلے آتے ہیں اور جسے وہ عربی اور فارسی کے توسط سے سیکھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں، اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ اردو نہ تو عربی کی قواعد کے ذریعے سیکھی جا سکتی ہے نہ فارسی کی،بلکہ اس کے کچھ اپنے قوانین ہیں جن کو اگر بغور نہ پڑھا گیا تو لاکھ عربی،فارسی میں مہارت حاصل کر لی جائے اردو نہیں آ سکتی ۔ایک بات کی وضاحت یہاں اور ضروری ہے کہ جس نوع کی اردو یہ طلبہ اپنے مدارس کےاساتذہ سے پڑھتے ہیں ، انھیں اس بات کا گمان ہی نہیں گزرتا کہ وہ ایک ایسے استاد سے اردو زبان پڑھ رہے ہیں جس نے خود کبھی با قاعدہ زبان سیکھنے کی غرض سے اردو کے ادبی متن کا مطالعہ نہیں کیا بلکہ اسی اٹکل پچو سے یہ اردو زبان سیکھی ہے جس طرح اس کے طلبہ سیکھ رہے ہیں۔میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا ہوں کہ جس اردو سے مدارس کے اساتذہ اور طلبہ اپنا کام نکالتے ہیں وہ اردو ہی نہیں یا جو زبان ’مدارس اسلامیہ ‘کی قوم بولتی ہے اسے اردو سے ہٹ کر کوئی تیسری زبان کہا جائے گا۔ میرا موقف صرف اتنا ہے کہ یہ حضرات’ اسلامیات ‘کا مطالعہ کرنے کے لئے اردو زبان کا مطالعہ کرتے ہیں نہ کہ’ زبان ‘سے انھیں کچھ علاقہ ۔ یہ کوئی برا فعل نہیں کہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جو بچے اردو میں’ تاریخ ‘پڑھتے ہیں یا ’جغرافیہ‘ پڑھتے ہیں انھیں بھی زبان کا علم نہیں ہوتا اور جب وہ اس زبان میں ان مضامین کا پرچہ حل کرتے ہیں تو ان پرچوں کو جانچنے والا بھی زبان کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتا ،بلکہ جواب کی جانب اپنی توجہ مرکوز کردیتا ہے اور اسی کی بنیاد پر طلبہ کو نمبر دیتا ہے۔ بالکل یہی عمل مدارس میں ہوتا ہے مثلاً’فقہ‘ جو مدارس میں ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جاتا ہے۔ اس کا استاد پرچہ جانچتے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ فلاں لفظ جو حقیقتاً مذکر ہے وہ طالب علم نے لکھنے کی رو میں مونث کر دیا، یا فلاں مونث، مذکر، وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ البتہ کی جگہ کیونکہ لکھا ہے یا کیونکہ کی جگہ لیکن ،اسے اس سے بھی بحث نہیں کہ گانو کا املہ گاؤں ہے یا گاؤ۔اس لیے مدارس کی حد تک تو یہ طلبہ معصوم گردانے جا سکتے ہیں،لیکن اس متواتر عمل کی وجہ میں زبان سے آنکھ مچولی کھیلنے کی اگلی منزل ان کے حق میں کافی خطر ناک ثابت ہوتی ہے ۔کیوں کہ یہ فعل عمل متواتر کی وجہ سے ان کے یہاں اتنا پختہ ہو جا تا ہے کہ وہ ان کی تحریر اور تقریر کا حصہ بن جاتا ہے،یہ زبان کی ایک ایسی کمزوری ہے جس کو دور کرنے کے لیے مدارس کے طلبہ کو شدید محنت درکار ہوتی ہےجو مدارس کے طلبہ اس میدان میں بہت کم کرتے ہیں ۔کیونکہ غلط لکھتے لکھتے اور پڑھتے پڑھتے ان کے دل و دماغ میں یہ بات گھر کر جاتی ہے کہ انھوں نے اپنے اساتذہ سے جو سنا اور پڑھا یا جس طرح وہ لکھتے پڑھتے آ رہے ہیں وہی درست ہے۔چاہیں لغات ہزار چیخیں کہ بھیا یہ لفظ یوں نہیں یوں ہے، مگر وہ اپنے ڈھرے سے رائی برابر نہیں کھسکتے۔کیونکہ بچپن سے اردو پڑھنے کا جو غلغلہ ان کے ذہنوں پہ طاری ہوتا ہے وہ انھیں اپنے ہی آگے surrender کرنے سے روک دیتا ہے ۔لہٰذاایسے طلبہ ادب تک پہنچنے کے سیڑھی یعنی’زبان کے صحیح علم‘ سے ہی محروم ہو جاتے ہیں، جس کا نتیجہ لا حاصل مطالعے کی صورت میں ان کی مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 

قواعد سے نا واقفیت کی بنیاد پر دوسرے بھی کئی مسائل ان کی بول چال کی زبان میں در آتے ہیں ۔مثلاً صوتیات کا وہ قاعدہ جو عربی میں مستعمل ہے یہ طلبہ اسے اردو میں بھی روا رکھتے ہیں ،یعنی ’ع ‘جو عربی میں حلق کے درمیانی حصے سے نکلتا ہے یہ طلبہ حسب عادت اسے اردو میں بھی اسی طرح پڑھتے ہیں،اردو میں مصوتوں اور مصمتوں کے استعمال، ان کی قرات اور ان کی تعداد سے بھی واقف نہیں ہوتے۔املہ کے پیچیدہ مسائل کا علم ہونا تو درکنار اپنی تعلیم مکمل ہونے کے کئی کئی سالوں تک ہاے مختفی کے صحیح استعمال سے بھی واقف نہیں ہو پاتے۔یہ اور اسی قسم کی بنیادی باتیں مدارس کے طلبہ میں اردو زبان سے لا علمی کے سبب پیداہوتی ہیں۔جس سے ان کی تحریر اور تقریر تو متاثر ہوتی ہے ساتھ ہی وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اردو ،عربی یا فارسی کے قاعدوں کے مطابق نہیں چلتی اسی لئے اردو کو یونیوسٹیز میں بحیثیت زبان چننے کے بعد اگر یہ طلبہ تھوڑی سی توجہ اس طرف کر یں تو یہ بہت جلد ان کمیوں کو دور کرسکتے ہیں اور پھر عربی ،فارسی اور اردو سے واقفیت کی بنیاد پر وہ جو کام کر سکیں گے کوئی اچھے سے اچھے اور بڑے سے بڑے اسکول کا اسٹوڈنٹ نہیں کر سکتا۔لیکن اس کے لئے انھیں اپنی بنیادوں کو تلاش کرنا پڑے گا اور اس خشت اول کو درست کر نا ہوگا جو معمار کی غلطی سے کجی کا شکار ہوئی ہے۔

 

یہ تو تھی زبان کی بات اب دوسرا اور سب سے اہم مسئلہ ادب کا ہے ۔ادب کے متعلق مدارس کے طلبہ کا کیا رویہ ہے اس پہ کچھ کہنے سے پہلے میں کچھ اہم باتوں کی جانب آپ کی توجہ مرکوز کرانا چاہوں گا۔ یہ بات تو ’ ادب‘ کا ہر وہ قاری جانتا ہے جو ادب کو تھوڑا بہت پڑھ چکا ہے کہ اس تین حرفی لفظ کی تشریح کے لئے مشرق سے لے کر مغرب تک کے کئی intellectuals نے اپنے کئی کئی صفحات کالے کئے ہیں اور اپنی تمام تر معلومات کی روشنی میں What is literature ? کی پہلی کو سلجھانے کی کوششیں کیں ہیں۔ سب کی نہ صحیح لیکن بیشتر اہم مصنفین کی باتوں کو دنیا نے تسلیم بھی کیا اور ایک مدت کے بعد اس نظریے کو رد کرنے میں دیر بھی نہ لگائی ۔اسی طرح اردو ادب کی تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ ہمارے یہاں بھی ادب کے متعلق کئی نظریے قائم ہوئے اور پھر نئے نظریے کی روشنی میں اسے رد بھی کیا گیا،چونکہ ادب کا واسطہ براہ راست تحریر اور تقریر سے ہے،اس لئے اس کی دو Main streamsنثر اور نظم ہیں۔منثور ، منظوم پیراے میں ہر تحریر یا تقریر ادب میں شمار نہیں ہوتی ۔کسی بھی تحریر یا تقریر کو ادب قرار دینے کے کچھ ضابطے ہیں جن کی بنیاد وں پر انھیں ادبی اور غیر ادبی ملصقات سے مزین کیا جاتا ہے،پھر اس پر الگ الگ نظریوں سے مباحثے ہوتے ہیں۔
from the very beginning ہمارے یہاں جن تصورات کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا گیا وہ متصوفین کے ارشادات و ملفوظات تھے،ان ملفوظات نے حتی المقدور مشرقی زندگی کو ایک lifestyle دینے کی کوشش کی اور اس کی یہ سب سے بڑی انفرادیت ہے کہ یہ lifestyle انھوں نے کسی سے مستعار نہیں لیا ،بلکہ اسلامیات اور ویدک تعلیمات نے نسلاًبعد نسلاِِ زندگی کا attitude اورaptitude ان کے وجدان میں پھونکا جس سے یہ طرز زندگی وجود میں آیا۔چونکہ ادب کا real phenomenaزندگی کا ارتقا ہے اس لئے ان صوفیانہ اقوال کوزندگی کے ہر شعبے میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ایک سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح زندگی پہ کبھی جمودطاری نہیں ہوتا اور وہ مسلسل اپنے مرکز سے آگے کی جانب متحرک رہتی ہے۔اسی طرح یہ اقوال بھی زندگی کی قدروں کے مطابق اپنا چولا(اسلوب اوررویہ) بدلتے رہتے ہیں۔مثلاً’کتاب اللمع‘کے مصنف یا مقرر نے اپنے گرد و پیش کے جن معاملات کی جانب نگاہ کی اور اسے آگے کی سمت دھکیلا’ کشف المحجوب‘ اور’ فوائد الفوائد ‘کے مقرروں نے اسے اور ارتقا سے ہم کنار کیا۔اسی طرح تلسی داس،نام دیو اور کبیر وغیرہ نے بھی اپنا اپنا کردار نبھایا۔آج ہم جس ادب کا مطالعہ کر رہے ہیں وہ ایک ،دو دن کا کھیل نہیں بلکہ صدیوں کی چمن بندی کا ثمرہ ہے۔انھیں مخلصین کی کاوشوں نے ولی ؔ کو پیدا کیااور پھر بتدریج میرؔ ،سوداؔ ،دردؔ ، مظہرؔ ،صہبائیؔ ،مومن ؔ اور غالبؔ سے اس گلستان کی رونق میں بیش بہا اضافہ ہوا۔ادبیات کے مطالعہ کی حیثیت سے اس طالب علم کو کبھی ادب کا پوراطالب علم نہیں کہا جا سکتا جس نے اپنے اساطیر یا دیومالائی ادب کا کچھ مطالعہ نہ کیا ہو اور ساتھ ہی ساتھ جدید ادب پر بھی اس کی اچھی نگاہ نہ ہو۔آئے اب ہم ان طلبہ کا جائزہ لیں جو مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد Urdu honors کرتے ہیں اورB.A ہی نہیں بلکہ M.AاورPhDتک ان کے کیا حالت رہتی ہے۔

 

سب سے پہلی بات یہ کہ یہ طلبہ جن درسگاہوں میں اپنی تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں ان کا نظام تعلیم اتنا خراب اور یک رخی ہوتا ہے کہ روایتی و مذہبی معلومات کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کا ہاتھ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ یہ کسی قابل نہیں رہتے ۔ اگر یہ اپنی پوری زندگی اسی ایک علم کے نام کر دیں تب تو شاید ان کا کچھ بن جاے۔ لیکن جب یہ اس مذہبی دنیا سے باہر نکلتے ہیں اور کسی دوسرے دروازے کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں پھر سے ایک نئی شروعات کرنا پڑتی ہے۔اس میں ایک اہم کمزوری ان بچوں کے والدین کی ہوتی ہے کہ انھیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بچوں کو مستقبل میں کیا بننا چاہیے یا کس طرح کی تعلیم ان کے مستقبل کو روشن کرے گی۔اس لئے ان کی غلطی کی وجہ سے ان بچوں کو دو، دو مرتبہ اپنی تعلیمی زندگی کی شروعات کرنا پڑتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا جھگڑا ہے اس لئے اس موقع پر اسے نہ چھیڑنا ہی بہتر ہے۔بہر کیف یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ادب حیات پہ زیادہ توجہ دیتا ہے نہ کہ بعدالممات پر،اور مذہبی تعلیمات میں حیات سے زیادہ بعد الممات پر دھیان دیا جاتا ہے۔ مذہب میں زندگی کا ہر عمل بعد الممات کے فلسفے سے پیوست ہے جب کہ ادب میں اس تصور کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔اسی طرح ادب اور مذہب کی مبادیات میں بہت سے اختلافات ہیں جنہیں یہ طلبہ نہیں سمجھ پاتے اور اپنی جانب سے ادب اور مذہب کی تعلیمات کو ایسا خلط ملط کرتے ہیں کہ نہ ان کا شمار ہیوں میں ہوتا ہے نہ شیعوں میں۔منطق اور قدیم فلسفہ جو انھیں مدارس کے نیم پختہ علما مار کوٹ کے پڑھا دیتے ہیں ۔اس نہج پر وہ اپنی گزشتہ تعلیم کے اس حصے کو بے کار سمجھ کر پیچھے ڈال دیتے ہیں اور ان فلسفیانہ مباحث کا اطلاق ادبی مباحث کے ذیل میں کرنے کہ بجائے ادب کی معلومات کو اتنا ہلکا سمجھنے لگتے ہیں کہ میرؔ کی شاعری بھی ان کی نظر میں کوڑا ہو جاتی ہے۔ وہ اس بے جا زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ جب ہم نے ’’حصول الاشیاء با نفسھا و با شباحھا‘‘ جیسے مسائل کوپڑھ لیا تو ا دب کیا چیز ہے ۔لہذا جب ان سے ادبی نوعیت کی گفتگو کی جائے تو یہ طلبہ اس کے متعلق دو جملے بھی ٹھیک سے نہیں بول پاتے ۔کیونکہ اسے پڑھیں تبھی تو اس کی اہمیت کا اندازہ ہو اس کو بنا پڑھے ہی جب یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ یہ اعلی اور یہ ادنی ہے تو پھر کیسے بات بن سکتی ہے۔معیار اور غیر معیار کا فرق تو انھیں چھو کر نہیں گزرتا ہر اس کلام کو شعر سمجھتے ہیں جو کلام موزوں ہو ۔میر ؔ اور غالب ؔ اورفیضؔ کی شاعری میں کیا فرق ہے ؟اختر ؔ شیرانی کی کیا خاصیت ہے ؟میراؔ جی اور ن م راشد کو دنیا نے کیوں سر پہ اٹھا رکھا ہے؟اقبال کے کلام میں کیا کیا کمزوریا ہیں؟ قدیم اور جدید شاعری میں کیا فرق ہے؟ اردو شاعری میں عشق کا کیا تصور ہے؟ عصرے حاضر میں کون اچھی شاعری کر رہا ہے؟ مشاعرہ بازی کے کیا نقصانات ہیں؟ وغیرہ وغیرہ جیسے سوالات کی جانب ان کا دھیان ہی نہیں جاتا۔اردو تنقید ،تاریخ وادب کا مطالعہ اتنا کم ہوتا ہے کہ کوئی بھی ڈھنگ کا آدمی ان سے بات تک نہیں کرنا چاہتا ۔نثر کے اسالیب اور بیان کا ذکر تو دور کی بات داستان، ناول اور افسانے کے اجزائے ترکیبی تک کا علم ان حضرات کو نہیں ہوتا۔ نوٹس رٹ رٹ کے ایم اے ،ایم فل تک پہنچ تو جاتے ہیں، لیکن وہاں پہنچ کر ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں کے سن کربہت افسوس ہوتا ہے۔اگر ایمانداری سے پوری لگن کے ساتھ ادب کے اہم مصنفین کی کچھ تصانیف کا یہ حضرات مطالعہ کر لیں تو کم سے کم ایم فل اور پی ایچ ڈی میں ان مو ضوعات کا انتخاب کرنے میں آسانی ہو جائے جو ابھی تک ان چھوئے ہیں۔صرف ایک ایک، دو دوکتابیں بھی یہ طلبہ گیان چند جین ،رشید حسن خاں،مسعود حسن رضوی ادیب،جمیل جالبی،شمس الر حمان فاروقی ،سلیم احمد اور گوپی چند نارنگ جیسے مصنفین کی پڑھ لیں تو اپنے اندر ادب غیر ادب کو پرکھنے کی اچھی خاصی استطاعت پیدا کر سکتے ہیں۔ان طلبہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لوہار کا کام سنار اور سنار کا کام لوہار نہیں کر سکتا اگر آپ لوہاری ترک کر کے سناری میں جٹے ہیں تو پوری مستعدی سے ادب کو پڑھنے کا عزم کیجئے۔ اسلامیات کتنا ہی اچھا subjectہو پر یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کے کہ وہ آپ کا پرانا انتخاب تھا اور ادب نیا انتخاب ہے۔
Categories
نان فکشن

اپنی ہم جماعت کے نام ایک خط

کل جب کئی دنوں بعد تم سے دوبارہ بات ہوئی تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ بہت سی باتیں جو مجھے، تم سےاپنی روز کی شام کی بیٹھک میں کرنا تھیں، یا کلاس ختم ہو جانے کے بعد یا پھر یوں ہی تم کیمپس میں کہیں ٹہلتی نظر آ جاتیں تو وہ باتیں ہو جاتیں جو میں نے صرف تم سے کہنے کے لیے بچا رکھی تھیں، مگرپھر اچانک یوں ہوا کہ تم کہیں غائب ہو گئی۔ کچھ لوگوں کی باتیں سن کر اور کچھ مجھ سے بد گمان ہو کر۔ یہ لوگ بھی عجیب ہیں ایسی ایسی باتیں بناتے ہیں کہ انسان بھونچکا رہ جائے، اب یہ ہی بات لے لو کہ ایک روز کسی نے مجھے تمہارے ساتھ کیمپس کی گلیاروں میں بھٹکتے کیا دیکھ لیا کہ فوراً یہ خبر عام کر دی کہ میں تمہارا عاشق زار ہوں اور تم سے اپنے عشق کا اظہار کر چکا ہوں، جب کے رد عمل میں تم نے انکار کیا یا اثبات اس سے انہیں کوئی غرض نہیں، حالاں کہ نہ کبھی ایسا ہوا اور نہ ہونے کا تصور ہے۔ تم سے میں نے اول روز ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ تمہاری ذات میں دوستی کی صفت پائی جاتی ہے، عشق ایک مختلف جذبہ ہے، جبکہ دوستی اس کے مقابلے میں بہت بھروسے مند چیز ہے، خیر پھر تم مجھ سے خدا معلوم کہ اس طرح کی باتوں میں آ کر کیوں کر خفا ہو گئیں۔ لوگوں نے تمہاری خفگی کے بعد بھی اتنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کے علاوہ بھی کئی ایک باتیں اڑائیں۔ مجھے ان سے کچھ خاص گلہ نہیں کہ یہ تو لوگوں کا کام ہے۔ اگر لوگوں کے کچھ کہنے کا تصور ہمارے معاشرے میں اتنا عام نہ ہوتا تو لڑکیوں کو اتنا سمٹ کے نہ رہنا پڑتا۔

 

پیاری میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لڑکیاں اپنی ابتدائی زندگی میں اکثر بہت زیادہ صاف گو اور سچ سننے اور کہنے والی ہوتی ہیں، لیکن یہ لوگ ہی ہیں جو اپنا ڈر ان پر بٹھانے کے لئے انہیں جھوٹ کی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں، ان میں بہت سی ایسی ہوتی ہیں جو یا تو مستقل جھوٹ کا سہارا لینے لگتی ہیں یا پھر اس طرح کی پر اسرار صفت بن جاتی ہیں کہ ان کی زندگی کا سچ ظاہر ہی نہیں ہوپاتا۔ یہ لوگ آج سے نہیں ہزاروں برس سے اس معاشرے میں موجود ہیں اور تمہیں اور تمہاری ہی طرح کی دوسری لڑکیوں کے پر کاٹنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ ان سے یہ بات دیکھی ہی نہیں جاتی کہ تم خوش ہو، تم ہنس رہی ہو یا تم زندگی کے کسی ایسے فیز میں داخل ہو رہی ہو جس میں تم اپنے فیصلے خود لے سکو گی۔ تمہاری زندگی کی ڈور یہ لوگ اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں، ان کو کچھ غرض نہیں کہ تم ان کی کیا لگتی ہو اور کیا نہیں، ان کا تو بس ایک ہی مسئلہ ہے کہ یہ تمہارے فیصلوں کی کتاب اپنی خواہش کی روشنائی سے لکھیں گے۔

 

[blockquote style=”3″]

پیاری میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لڑکیاں اپنی ابتدائی زندگی میں اکثر بہت زیادہ صاف گو اور سچ سننے اور کہنے والی ہوتی ہیں، لیکن یہ لوگ ہی ہیں جو اپنا ڈر ان پر بٹھانے کے لئے انہیں جھوٹ کی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں

[/blockquote]

مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جب کیمس میں یہ خبر عام ہوئی کہ میں اور تم کسی طرح کے عشق میں مبتلا ہو گئے ہیں اور میں اسی احمق شخص کی طرح تمہارے لیے دن رات آنسو بہا رہا ہوں، جس نے تم سے کیمپس میں داخل ہوتے ہی اپنے عشق کا اظہار کر دیا تھا (حالاں کہ میں تو اسی کو تمہارا سچا عاشق سمجھتا ہوں جسے تم خود سے عشق کرنے پر الاچہ بیگ تصور کرتی ہو۔) اور وہ کم ظرف اس بات پر مصر ہوگیا کہ تم بھی اس سے عشق کرو (حماقت کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔) تو اس کے فوراً بعد مجھے ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی ملی، بلا کی ذہین اور ایسی نادرالحسن کہ میں اس کے حسن کے دام اثر میں آئے بغیر نہ رہ سکا، اس نے ایک بار مسکرا کر مجھ سے بات کیا کی کہ میرا وہ عاشق جو تقریباً پانچ برس پہلے ہی کافی شور و غل مچا کر اور اپنی ناکامی سے تھک ہار کر سو گیا تھا، دوبارہ جاگ اٹھا، حالاں کہ اس پری پیکر نے مجھے اپنی زندگی کے بہت سے قیمتی لمحات عطا کیے، مگر مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب اس نے صرف اس وجہ سے مجھ سے کیمپس میں کھلے عام ملنے سے منع کر دیا کہ میں تمہارے ساتھ ایک مرتبہ اسی طرح رات کے بارہ بجے ٹہلتا ہوا پایا گیا تھا (جب کہ یہ واقعہ کب پیش آیا اس کا علم میرے فرشتوں کو بھی نہیں ہے۔) جس کی پاداش میں میں اور تم کیمپس میں کہانیوں کا ایسا سوتا بن گئے جہاں سے عشق کی داستانیں پھوٹتی ہیں۔ ایک مرتبہ تو جلال بھی آیا کہ اس سے تو بہتر یہ تھا کہ میں تم سے عشق ہی کر لیتا، اگر بھولے چوکے تم بھی ہاں کر دیتیں تو اس پری پیکر تک پہنچنے کی نوبت ہی نہ آتی۔

 

خیر میں نے تمہارے ان خیر خواہوں کو جو غالباً خود تمہارے خیر خواہ بن گئے ہیں کبھی یہ سمجھانے کی کوشش بھی نہیں کی کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ تم میری ایک اچھی دوست ہو جس کی میں بے انتہا قدر کرتا ہوں اور عزت بھی۔

 

ابھی ادھر ایک صاحب نے مجھ سے بھی یہ سوال کیا تھا کہ کیا ایسا بھی کچھ ہے؟ میں نے انہیں ٹکا سا جواب دیا کہ اگر ہے بھی تو آپ کے پیٹ میں کیوں درد ہوتا ہے، میں عشق کروں، وصل مناوں، کسی سے شادی کروں، بھاگ جاوں، مر جاوں یہ سب میرا مسئلہ ہے یا اس لڑکی کا جو میرے ساتھ کسی طرح سے وابستہ ہے آپ کو اس سے کیا غرض، لیکن انہوں نے اپنا معاشرتی کردار پوری طرح ادا کرتے ہوئے بڑی محبت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پر خلوص انداز میں کہا کہ: میں آپ کا خیر خواہ ہوں۔ اس لیے پوچھ لیا ورنہ مجھے کیا غرض۔

 

عجیب سی بات ہے کیا یہ دوسرا خیال انہیں پہلے نہیں آ سکتا تھا کہ انہیں کیا غرض۔ لوگ خیر خواہی کا جھولا کاندھے پر ڈال کر کیوں گھومتے پھرتے ہیں مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آیا۔ تمہارے ساتھ ایک عدد چائے اور پانچ سو قدم کی واک لوگوں کے لئے اتنی دلچسپ ثابت ہو گی میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جس دن میں اور تم پہلی بار سنسان راستے پر دور تک ٹہلتے چلے جا رہے تھے اور میں تم سے کبھی غالب، کبھی میر، کبھی فیض، فراق اور جوش کی باتیں کر رہا تھا اسی دن میں نے تمہاری ذہانت کا اندازہ لگا لیا تھا اور سوچا تھا کہ اگلے کچھ دنوں تک کیمپس میں آنے کا بہانہ مل گیا۔ ایک اچھی دوست سے ادبی گفتگو کرنے کا سلسلہ اگر بن جائے تو اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، میں نے اسی واک کے دوران یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں نے اپنی گذشتہ زندگی میں جو کچھ پڑھا ہے اس کا راگ دھیرے دھیرے تمہارے سامنے الاپوں گا اور تمہیں کسی طرح اپنے علم کا معترف ہونے پر مجبور کر دوں گا، حالاں کہ تم اتنی جلدی قائل ہونے والی تو نہ تھیں کیوں کہ جس وقت میں نے تمہیں خسرو کا یہ شعر سنایا تھا کہ:

 

درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای
باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہو شیار باش

 

[blockquote style=”3″]

جان لوکہ ہم اگر دوبارہ دوستوں کی طرح پیش آئیں گے تو تمہارے اور ہمارے ان خیر خواہوں کے پیٹ میں پھر درد ہونا شروع ہو جائے گا، جس درد کا علاج نہ تمہارے پاس ہے نہ میرے پاس، تو یا تو تم ان سے ڈر جاوں اور مجھ سے بد گمان ہو جاو یا ان کی پروا کرنا چھوڑ دو

[/blockquote]

تو تم اس شعرکا پہلا مصرع سن کر ہی اپنا سر ہلانے لگی تھیں اور شعر ختم ہونے کے بعد بڑی معصومیت سے تم نے مجھے بتایا تھا کہ یہ شعر تم اپنے والدسے کئی بار سن چکی ہو۔ تم نے اس واک کے دوران مجھے اور ہمارے ہی کلاس کے ایک نہایت ہی شریف النفس شخص کو اپنے والد سے ملوانے کی بات بھی کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اسلامی مسائل سے متعلق میں نے اپنے ذہن میں جو مقدمات قائم کئے ہوئے ہیں ان کو سمجھنے کے لیے مجھے،تم اپنے والد سے ضرور ملواؤ گی۔لہٰذا میں نے بھی اسی وقت یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں تمہارے والد سے ضرور ملوں گا۔ ان سے اسلامی معاملات پربڑی لمبی چوڑی گفتگو کروں گا اور پھر اسی گفتگوکے دوران چپکے سےان پر اپنی علمیت کا اظہار بھی کر جاوں گا۔ ان سے طرح طرح کے سوالات کروں گا اور بیچ بیچ میں اسلامیات سے متعلق موٹی موٹی کتابوں کا نام لوں گا۔ کبھی امام شافعی،کبھی امام مالک اور کبھی امام حنبل کی بات کروں گا، (امام ابو حنیفہ نہیں کیوں کہ وہ بہت عام ہیں۔) کبھی فقہ جعفری سے کوئی سوال ٹھونک دوں گا، کبھی نہج البلاغہ کا کوئی جملہ نکال لاوں گا اورکبھی امام ابن تیمیہ، امام رازی، حافظ ابن قیم، امام جوزی وغیرہ کا تذکرہ چھیڑدوں گا، کبھی بہجتہ الاسرار، احیا العلوم الدین، کتاب اللمع، مجموع السلوک اور فوائد الفواد کی باتیں کروں گا، یاپھر مسلکی نوعیت کے ائمہ جو انیسویں صدی کے ابتدائی حصے میں چپکے سے اسلام میں داخل ہو گئے ان کا ذکر کرتے ہوئے، سید احمد رائے بریلوی، عبدالحئی بڈھانوی، اسماعیل دہلوی، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیر، شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین کی کتابوں کے اوراق ان کے سامنے کھول دوں گا اوریہ بھی کہوں گا کہ اس ایک گھر نے پورے ہندوستان کی مذہبی تاریخ کا چہرہ بدل کے رکھ دیا۔ ان کی بالمقابل پارٹی جن میں علامہ فضل حق، فضل رسول بدایونی اور مفتی صدرالدین وغیرہ آتے ہیں ان کے حوالے بھی پیش کروں گا۔ ان سارے علاماوں، شلاماوں کا ذکر کرتے ہوئے تان احمد رضا خاں بریلوی اور اشرف علی تھانوی پہ توڑوں گا۔ اس کے بعد بھی اگر ان کے متاثر ہونے میں کچھ کمی رہ گئی تو پھر مودوی وغیرہ کو کھینچ لاوں گا۔لیکن یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد صرف ایک ہی ہوگا کہ جب تم چائے لے کر کمرے میں داخل ہو اور باری باری ہم سب میں چائے تقسیم کر رہی ہو تو میری باتوں سے مرعوب ہو جاو اور تمہیں یہ گمان گذرنے لگے کہ اس شخص سے دوستی کر کے میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ پر کیا پتہ خدا کو کیا منظور تھا کہ سب دھرا کا دھرا رہ گیا۔ میرے ان رنگین خوابوں کو تمہارے خیر خواہوں نےاتنی صفائی سے اچک لیا کہ مجھے خبر بھی نہ ہو سکی۔

 

اب جبکہ تمہیں ان ساری بد گمانیوں کے متعلق یہ یقین ہو گیا ہے کہ میں اس معاملے میں آخری حد تک معصوم ہوں اور میری کہیں سے کہیں تک کوئی غلطی نہیں ہے، تو تم نے مجھ پر یہ التفات کیا ہے کہ مجھ سے دوبارہ بات کر لی ہے۔ حالاں کہ اب میں اتنی جلدی کوئی خواب تو نہیں بنوں گا پر یہ جان لو کہ ہم اگر دوبارہ دوستوں کی طرح پیش آئیں گے تو تمہارے اور ہمارے ان خیر خواہوں کے پیٹ میں پھر درد ہونا شروع ہو جائے گا، جس درد کا علاج نہ تمہارے پاس ہے نہ میرے پاس، تو یا تو تم ان سے ڈر جاوں اور مجھ سے بد گمان ہو جاو یا ان کی پروا کرنا چھوڑ دو اور جب دوبارہ کبھی کوئی الٹی سیدھی بات تمہارے کانوں تک پہنچے تو اپنا لیپ ٹاپ آن کرو، گوگل کھولو اور اس پر کشور کمار کا یہ گاناسرچ کر کے فل والیوم میں سنو کہ:

 

کچھ تو لوگ کہیں گے
لوگوں کا کام ہے کہنا
چھوڑوں ایسی باتوں میں
کہیں بیت نہ جائیں رئینا۔

 

تمہارا دوست
تالیف حیدر

Image: Nick Bantock

Categories
نان فکشن

صندلی ہاتھوں کا سحرستان

حسن کا تصور جتنا پیچیدہ ہے اتنا ہی سلجھا ہوا بھی ہے، کنول، گلاب، ہرن، مور،بارش،ریت،خشک تالاب اور ویران راستہ۔حسن کی لاکھوں علامتیں ہیں۔ ان میں سے ہر کسی کو حسن کی آخری علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ حسن کی سادگی ہے۔بدن، ہاتھ، بازو، بال اور چہرہ ان کے حسن کا ادراک اتنا آسان نہیں، یہ حسن کی پیچیدگی ہے۔ میں نے لاکھوں چہرے دیکھے ہیں اور لاکھوں ہاتھ، پر میں ان میں سے کتنو ں کو جانتا ہوں ؟کتنوں کو یاد رکھتا ہوں؟ اور کتنوں کو بھلا نہیں پاتا؟ چہرے کے معاملے میں تو یہ خیال کیا جا سکتا ہےکہ اس کو جاننے اور یاد رکھنے میں یادداشت پر کم زور دینا پڑے، پر ہاتھ؟ایسا توبہت کم ہوتا ہے کہ کسی کے ہاتھوں کے کھردرے نقوش دماغ کے گلایوں سے چمٹ جائیں، اس کو جھنجوڑیں، ہلائیں اور ایک دائرہ خیال تک محدود رکھیں۔ ایسے ہاتھوں کو دیکھنا، جاننا اور اس کی لکیروں کے گہرے دریا میں ڈوب جانا خوش بختی کی علامت ہے۔ میں نے ایسے دو ہاتھ دیکھے ہیں۔ وہ دو ہاتھ جوایک طرح کی عجلت صناعی کا زائیدہ ہیں۔ جو قدر ت کا کرشما نہیں، بلکہ خدا کی جلد بازی کا مظاہرہ کہے جا سکتے ہیں۔ خدا جس نے ان ہاتھوں کو موسم گرما کے آخری پہر کی حرارت بخشی ہے اور وہ، اس حرارت کے خمار میں اس کی خراشوں کو تمکنت دینا بھول گیا، اس نے انہیں نخوت سے پاک رکھا اور زندگی سے معمور کر دیا۔ اس کے تقدس کو جلا بخشی اور تفخر کو کالعد م کر دیا۔وہ ہاتھ مجھے زندگی سے زیادہ بامعنی لگتے ہیں، ان میں ایک طرح کا رمز ہے، ایک عیاری ہے۔ جو مجھے کسی باریک جال کی مانند لگتی ہے۔ ان ہاتھوں میں جتنی لکیریں ہیں اتنی ہی داستانیں بھی ہیں۔

 

ان ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو جب میں غور سے دیکھتا ہوں تو مجھے ان پر پھیلی ہوئی ریت کی بے ترتیب بستیاں دنیا کی عظیم جنگوں کی یاد دلاتی ہیں۔ ان پر ہاری ہوئی فوجوں کے لاکھوں سپاہی اپنے زخمی جسموں کے ساتھ تڑپتے نظر آتے ہیں۔ وہ ہاتھ مجھے فراط اور دجلہ کی داستان سناتے ہیں،کربلا کا منظر دکھاتے ہیں اور نیل کے ساحل سے کاشغر کی خاک تک پھیلے ہوئے انسانی وجود کے اضطراب سے دو چار کرواتے ہیں۔ میں جب کبھی ان میں ایک معصوم دنیا کو تلاش کرتا ہوں تو ان ہتھیلیوں کے چو طرفہ کنارے مجھے اس جستجو کے تاریخ دان میں قید کر لیتے ہیں، جہاں مجھ جیسے لاکھوں قیدی سفیدی مائل سرخ نور کے آبشار تلے اس دست حنائی کی معصومیت کے دیدار میں محو نظر آتے ہیں۔ نازکی کے تصور سے علیحدہ، رنگوں کی قید سے آزاداور تقابل کے جھڑے سے جدا وہ ہاتھ میری مضطرب راتوں کے بیدار خوابوں کی مانند ہیں، جن میں حقیقت اور مجاز کے الف لیلوی سحر ستان آباد ہیں۔ ان ہاتھوں میں ایک طرح کی تمثیلیت مضمر ہے، جس تمثیلیت کو اس کے جھوٹے کرداروں نے حقیقت بخشی ہے۔ وہ کردار جومایوسی سے بھرپور اور نرگسیت سے معمور ہیں، ان کے مضمحل اور بیزار چہروں نے ان ہاتھوں کی سطح آب کو ایک طرح کی زرد سیمابیت عطا کر دی ہے۔ میں جب انہیں بغور دیکھتا ہوں تو صندل کے پانی اور کچی مٹی کے ذرات سے گوندھ کر تیار کیے گئے ان ہاتھوں کالمس مجھے اپنی سیاہ پتلیوں میں دور تک اترتا ہوا معلوم ہوتا ہے، میری کتھئی آنکھوں کے سیاہ تالاب میں ان ہاتھوں پر دوڑتی ہزاروں مچھلیوں کی حکومت قائم ہے۔ یہ مچھلیاں میرے جسم کے کاغذی پیرہن سے اپنا خراج وصول کرتی ہیں اورمیر ےاندرون میں پھیلے سبز رسیوں کےجال کو کمند بدن کی مانند تھامے رکھتی ہیں۔ میں جو خود کو دشت اور دریاوں کا سفیر، خیالستان کا باشندہ اور کتھا نگر کا سر براہ اعلی جاتنا ہوں،ان ہتھیلیوں کی زمین پر پڑی بٹی ہوئی ناریل کی رسیوں میں خود کو جکڑا ہوا پاتا ہوں۔ اس ویران جزیرے پر میں زنجیر بدست، ان علم نما انگلیوں کی بارہ دری کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتا رہتا ہوں کہ ان کھڑکیوں سے کبھی تو کوئی جھانکے گا اور میری فریاد پر کان دھرے گا۔ پر یہ در و بام ویران قلعوں کی مانند اپنی ہی تنہائی کا سوگ مناتے رہتے ہیں،اپنے نقش و نگار کو خود سرہاتے ہیں اور خود ہی ایک دوسرے کو داد طلب نگاہوں سے دیکھ کر ساکت ہو جاتے ہیں۔ ان دلکش ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں پر یہ تماشہ روز ہوتا ہے،صبح و شام ہوتا ہے،اور میں ایک ویران جزیرے پر پھنسے انجان مسافر کی طرح مستقل یہ نظارہ دیکھتا رہتا ہوں اور سردار کے یہ مصرعے بے ساختہ میری زباں پر جاری ہو جاتے ہیں :

 

اعجاز ہے یہ ان ہاتھوں کا، ریشم کو چھوئیں تو آنچل ہے
پتھر کو چھوئیں تو بت کر دیں، کالکھ کو چھوئیں تو کاجل ہے
مٹی کو چھوئیں تو سونا ہے، چاندی کو چھوئیں تو پایل ہے
ان ہاتھوں کی تعظیم کرو۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

جدید ادبی اظہاریہ اور تصوف کے فقدان کی گاتھا

وحید اختر نے خواجہ میر درد پر تحریر کردہ اپنی کتاب کے مقدمے میں تصوف کے متعلق یہ اعتراف کیا ہے کہ :

 

“میں نے جن صاحب کی نگرانی میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی، ان سے ملاقات ہونے سے قبل میں تصوف کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا، جس کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ مجھےتصوف کے متعلق یہ ادراک حاصل نہیں تھا کہ اس میں دنیا بھر کا فلسفہ پوشیدہ ہے۔”

 

اردو کی وہ روایت جس کو تاریخ کے حوالے سے اردو ادب کی سب سے مستحکم روایت کہا جا سکتا ہے وہ تصوف کی روایت ہی ہے
گزشتہ ایک صدی سے اردو ادب کی جو صورت حال ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اردو زبان میں تصوف کو صحیح طرح سے جاننے اور اس علم کی گیرائیت پر نگاہ رکھنے والے دن بدن ہمارے درمیان سے اٹھتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اردو ادب تصوف کی معنی خیز دنیا سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے، اردو ادب سے تصوف کے مضامین کے دور ہونے کے دو واضح نشانات ہمیں اردو ادب کی تاریخ کے حوالے سے ملتے ہیں ۔

 

تقریباً اسی ،پچاسی سال قبل اردو ادب کے منظر نامہ پر ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق ان دو تحریکوں کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے اردو ادب میں تخلیقی سطح پر تصوف کا عمل دخل کم ہوتا گیا، لیکن اس سے ما قبل کے ادب کا اگر ہم ایک جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق کی ادبی کارگزاریوں سے پہلے جس طرح کی شاعری ہماری زبان میں ہورہی تھی اس میں تصوف کے عناصر واضح اور معیاری انداز میں نظر آتے تھے۔یہاں یہ نکتہ ہمیں سوجھائی دیتا ہے کہ سن 1936 جو اردو ادب کی تاریخ کا ایک یاد گار برس ہے وہ کئی ایک وجوہات کی بنا پر اس زبان اور اس کے ادب کا Turning Pointکہا جا سکتا ہے، جس سن میں بعض سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے اردو والوں میں سے چند ایک لوگوں نے اس زبان کے ادب کو نیا رخ دینے کے لئے ایک تحریک کا آغاز کیا اور اس کے ذریعے اردو زبان اور اس کے ادب کو از سر نو مرتب کرنے کی بنا ڈالی، ترقی پسند تحریک نے آزادی سے قبل اپنے سیاسی اور ادبی منشور کی جس طرح تشہیر کی اس سے اردو ادب تخلیق کرنے والوں کی ایک بڑی جماعت نے اس تحریک کے افکار و نظریات کو وقت کی اہم ضرورت تسلیم کرتے ہوئے اس کو اپنی کاوشات کا محور بنا لیا، یہ سلسلہ آزادی ہند کے چند روز بعد تک چلا اور پھر جدیدیت کی نئی ترجمانی کے تحت اردو کا ادب ترقی پسندیت کے منشور سے الگ ہٹ کر ایک نئی راہ پر چل نکلا، اردو کی ان دوتحریکوں سے قبل اردو زبان میں ادب کی تخلیقی سطح جس نوع کی تھی کیا وجوہات ہیں کہ اس ادبی سطح پر تخلیق کیا جانے والا ادب آج بھی اردو زبان کا اصل اور قیمتی اثاثہ تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اس ادب میں تصوف کی روایت بدرجہ اتم موجود تھی جبکہ ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق کی جدید حکمتوں کے سبب اردو زبان و ادب سے تصوف کی روایت تقریباً خاتم ہوتی چلی گئی۔

 

اردو کی کلاسیکل مثنویات ہوں یا قصائد ،رباعیات ہوں یا قطعات، نظم ہو یا نثر ہر میدان میں ہمیں تصوف کی اصطلاحات سر گرداں نظر آتی ہیں
یہاں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اردو کی وہ روایت جس کو تاریخ کے حوالے سے اردو ادب کی سب سے مستحکم روایت کہا جا سکتا ہے وہ تصوف کی روایت ہی ہے، حالاں کہ اردو ادب میں اور بھی کئی ایک روایتیں ہیں جو اس روایت کے ہم پلا نظر آتی ہیں، لیکن شمالی ہند دکن، گجرات، بہاراوریوپی وغیرہ کی قدیم ادبی روایات پر نگاہ کی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ تصوف سے زیادہ قدیم اور متواتر کوئی روایت نہیں۔ علی گڑھ تحریک جس عہد میں منظر عام پر آئی اس عہد میں بھی تصوف کو فروغ نصیب ہوا، کیوں کہ معاشرے کو جس انداز میں well cultured اور well Behavedبنانے کی باتیں اصلاحی اور نیچری تحریک کے تحت کی گئیں ان کو تصوف کی تعلیمات سے الگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق سےما قبل اردو زبان کا واحد ایک مرکز ایسا تھا جہاں تصوف کے مضامین خال خال بندھے ہیں اور وہ ہے لکھنو، لیکن پھر بھی وہاں کے بعض شعرا کے یہاں تصوف کی اصطلاحات نظم ہوتی نظر آجاتی ہیں، وہ بھی اس عہد میں جب کہ لکھنو تمام تر عیاشیوں کا گڑھ بنا ہوا تھا اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اردو زبان کا اس روایت سے بہت گہرا تعلق ہے، لہذا یہ حاصل آتا ہے کہ تصوف نے 1936 سے قبل اردو کی تمام تخلیقات پر حکمرانی کی ہے،اس برس سے قبل تصوف کی اثر آفرینی کا یہ عالم تھا کہ اردو کی کلاسیکل مثنویات ہوں یا قصائد، رباعیات ہوں یا قطعات، نظم ہو یا نثر ہر میدان میں ہمیں تصوف کی اصطلاحات سر گرداں نظر آتی ہیں، گیسو دار ز بندہ نواز سے لے کر اصغر گونڈوی تک اردو کی ایک لمبی تاریخ ہے جس میں تصوف کی تعلیمات اور اس کے افکار و نظریات نے طرح طرح سے ادب میں خود کو زندہ رکھا ہے، صوفیانہ فکر نے اردو کی تقریباً تین سو سالہ تاریخ پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں جس کے بر عکس اسی، پچاسی سالوں میں اردو کی ادبی افق سے تصوف دھیرے دھیرے غائب ہوتا جا رہا ہے۔

 

اردو ادب میں تصوف کے اثرات جوں جوں ختم ہوئے، تصوف کی اصطلاحات کے بر عکس جنسیات کی اصطلاحیں ادبی تخلیقات کا حصہ بنانا شروع ہو گئیں
جہاں ایک طرف ترقی پسند تحریک نے تصوف کو اپنے سیاسی نعرے کے تحت دبایا تو دوسری جانب حلقہ ارباب ذوق نے اس کی عملی تردید کی۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اردو ادب میں تصوف کے اثرات جوں جوں ختم ہوئے، تصوف کی اصطلاحات کے بر عکس جنسیات کی اصطلاحیں ادبی تخلیقات کا حصہ بنانا شروع ہو گئیں، اردو میں جنسیت کے مضامین احیا عشق کے مضامین کو دبانے اور ختم کرنے کے لئے وجود میں آتے گئے، عشق کا مضمون جو کئی سو برسوں سےاردو شاعری کا یا پھر یہ کہہ لیا جائے کہ غزل کا بنیادی خیال رہا ہےوہ جنسیت کا لبادہ اوڑھ کر منظر نامے کی صورت اختیار کرتاگیا، غزل کے بالمقابل جنسیات کے لئے نظم جیسی صنف کوعروج ملنا شروع ہوا، اس لئے بھی حلقہ ارباب ذوق نے نظم کے ارتقا پر زیادہ زور دیا۔ میراجی کی شاعری جس کو اردو کی جنسی شاعری کا نقطہ عروج قرار دیا جا سکتا ہے، اس نے اردو زبان و ادب میں جس عشق کی روایت کا غیر شعوری انداز میں انقطا ع کیا، اس نے اردو کی نئی شعریات کو تصوف کے افکار سے دور کرنے کا بنیادی کارنامہ انجام دیا ہے۔ میرا جی اور ن۔ م راشد سے یہ سلسلہ شروع ہوا تو بعد ازاں اردو شاعری کا نقطہ ارتکاز بن گیا، اس نے اردو کی بعد کی نسل میں اس چلن کو عام کر کے ادب کو خالص جنسی مضامین کی آماجگاہ بنا دیا۔ میرا جی اور راشد کے تتبع نے اردو کے کئی ایک تخلیق کاروں کو جنسیات کی نذر کر دیا جس سے تصوف کے مضامین تو اردو شاعری سے عنقا ہوئے ہی، عوام کا ذوق بھی بدلتا چلا گیا، اس بات کی دلیل اس سے ملتی ہے کہ وہ عوام جو کبھی دلی اور حیدر آباد کے مشاعروں میں تصوف کی اصطلاحات پر سر دھنتی تھی وہ ان حضرات کی شاعری کے چلن کے بعد بدنیات کے مضامین سے مسرور ہونے لگی۔ جس زمانے میں یہ رواج اپنے عروج پر تھا ہم دیکھتے ہیں کہ غزل کہیں پردے میں چھپتی چلی جا رہی تھی، جنسیات سے فحشیات اور فحشیات سے زٹلیات جیسے ادبی مضامین جو کبھی اردو زبان میں اکثریت میں نہیں رہے تھے تصوف کے پس پردہ جاتے ہی بڑھتے چلے گئے اور جلد ہی اردو میں ایک دبستان کی حیثیت سے نمایاں ہوئے۔ تصوف جو اصلاح باطن، تکلف، رواداری، عشق اور خلوص نیت کی بات کرتا تھا اس کو فرسودہ ٹھہرا کر اردو میں ایک نئے باب کی بنا ڈالی گئی، اس طرح دوسرے راستے سے تصوف کو اردو ادب سے دور کئے جانے کا سامان مہیہ ہوا۔ اس بات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ ادب کے بڑے ذہن ہر عہد میں جس طور کو ادب میں رائج کرتے ہیں آنے والا زمانہ انہیں تصورات پر عمل پیرا ہو جاتا ہے، ویسے بھی اردو ادب میں اجتہاد کی روایت کم ہی رہی ہے اور تقلید کا گراف اتنا بڑھا ہو اہے کہ اگر کوئی اچھا شاعر بھی کسی خاص نظریہ کے زمانہ عروج میں کچھ الگ انداز میں بات کہنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو ہمارے یہاں قابل قبول تسلیم نہیں کیا جاتا، بہر کیف اردو کو تصوف سے دور کرنے میں ان دونوں چیزوں نے بہت اہم رول ادا کیا ہے، جس میں پہلی ہے ترقی پسند تحریک اور دوسری میراجی اور ن۔ م راشد کی تخلیقات کی نقل جلی۔

 

میرا جی اور راشد کے تتبع نے اردو کے کئی ایک تخلیق کاروں کو جنسیات کی نذر کر دیا جس سے تصوف کے مضامین تو اردو شاعری سے عنقا ہوئے ہی، عوام کا ذوق بھی بدلتا چلا گیا
تیسری ایک سب سے بڑھی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان میں لکھنے والوں میں مطالعے کا ذوق ختم ہوتا چلا گیا، اس وجہ سے بھی تصوف کیا ہے؟ اس کا ادراک لوگوں کو نہ ہو سکا۔ تصوف جیسے عمیق فلسفے کو وہ لوگ سمجھنے سے بھی قاصر تھے جنہوں نے اردو کے کلاسیکل ادب تک کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ اس نئے ادبی طرز نے جہاں تصوف کو ادب سے ختم کرنے میں ایک کلیدی کردار نبھایا وہیں ادب اور تصوف ان دونوں کی معنویت سے عدم واقفیت نے بھی اہم رول ادا کیا ہے۔ یہاں میں ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ نئی نظم کی صورت میں اردو ادب کو جو ہئیت نصیب ہوئی تھی اس ہئیت میں مواد کی جلوہ سامانیوں سے تصوف کے مضامین کی انشراح کو مزید فروغ نصیب ہو سکتا تھا، جس سے اردو کی نئی شاعری کو اور ہماری ایک مستحکم روایت کو عروج حاصل ہوتا، لیکن افسوس کہ اردو والوں نے اس جانب نگاہ نہ کی، اب سے چند برسوں قبل راقم نے اس ضمن میں پیش قدمی کی تھی جس سلسلے کا آغاز کرتے ہوئے ساقی فاروقی کی ایک نظم جس کا عنوان تھا “خالی بورے میں زخمی بلا” اس کی صوفیانہ تشریح کی تاکہ تصوف اور ادب کا رشتہ بحال ہونے کے امکانات پیدا ہو سکیں۔

Image: Haku Shah