رشتے کا ایک برس

تالیف حیدر: موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔
کیا آپ نے ہندوستانی یونیورسٹیز میں رائج اردو کا نصاب دیکھا ہے؟

تالیف حیدر: یونیورسٹیز کے نصاب کو سرے سے کاٹ کر نئے طور پر مرتب کرنے کی ازحد ضرورت ہے اور نئے ذہنوں کو ہندوستانی یونیو رسٹیز کے شعبوں میں جگہ دینے کی اور پرانے اور فرسودہ ذہن جو گدیوں پر براج مان ہیں ان کی از سر نوذہنی تربیت کر نے کی۔
ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری

تالیف حیدر: اگر کسی طرح کی سرپرستی میں کوئی ادب لکھا جاتا ہے تو وہ ایک خاص طبقے کی حظ ، تکلفات ، اشتہار ، تہذیب ، تفخر اور شان علویت سے متعلق ہوتا ہے اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری سے جو فن پارہ سامنے آتا ہے اس میں تکلفات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی
کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر

تالیف حیدر: اسید صاحب اس میدان میں جس شاعر سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں وہ امام احمد رضا خاں بریلوی کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کل شاعری لہجے کے مطابق علامہ اقبال ؔ اور جوش ؔ سے قریب نظر آتی ہے۔
میں گہری مایوسی میں ہوں

تالیف حیدر: میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہنستے بولتے، لڑتے لڑاتے، کھیلتے گاتے مایوس ہو جاتا ہوں۔ پھر وہ مجھ سے یہ نہیں پوچھتے کہ تم مایوس ہو۔ بس انہیں محسوس ہو جاتا ہے۔
نئے ذہنوں کو خوش آمدید

تالیف حیدر: نئے ذہن کا استقبال نئی قوموں اور نئے دنیاوں کے عروج کی موجب ہے ۔ ان کی تعظیم نئی کائنات کےروشن نظاروں کی ضامن ہے۔ ہمیں نئے ذہن کا استقبال کرنا چاہئے اور اس کی آمد کے جشن کو اپنی ذات کا مسئلہ تصور کرنا چاہیے۔
میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں

تالیف حیدر: ادھوری تحریر لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے میں جتنا لکھتا ہوں یا پھر یہ کہوں کہ جتنا لکھے کو ایک مکمل صورت عطا کرپاتا ہوں اس سے پچاس گنا زیادہ میں ایسی ادھوری تحریریں لکھتا ہوں جن میں نہ میرا کوئی واضح موقف ہوتا ہے اور نہ داخلی اظہار۔
میں ادب کیوں پڑھتا ہوں؟

تالیف حیدر: ادب ایک بڑا شعبہ ہے۔ زندگی کا بھی اور موت کا بھی۔ لہذا اس کو پڑھنا بھی ہر شخص اور جماعت کے نزدیک ایک الگ تقاضہ رکھتا ہے۔
سرور صاحب سے ایک اور ملاقات

تالیف حیدر: بہت سے لوگ اپنے مطالعے کو وسیع اور کثیر جتانے کے لئے حافظ، سعدی ، رومی، انوری، خسرو، بیدل ،امرالقیس اور متبی وغیرہ کی باتیں کرتے ہیں ، کبھی وہاں سے اچانک مغربی ادب پر کود جاتے ہیں اور کبھی ہندی اور سنسکرت کے ادیبوں کا تذکرہ چھیڑ دیتے ہیں ۔ سرور صاحب کو میں نے کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا ۔
سر سید کے مذہبی عقائد و افکار: ایک مکالمہ

گیلے ہونٹوں کا خشک جہان

طلبہ اسلامیہ اور اردو زبان و ادب

اپنی ہم جماعت کے نام ایک خط

صندلی ہاتھوں کا سحرستان

جدید ادبی اظہاریہ اور تصوف کے فقدان کی گاتھا
